جمعہ، 30 اگست، 2024

Saltanat e Umayya part 36


 ا36 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 36

ھ74 : حجاج بن یوسف مدینۂ منورہ کا گورنر، خانہ کعبہ کی تعمیر نو، خارجیوں سے جنگ، اُمیہ بن عبداﷲ خراسان کا گورنر، 74 ھجری کا خاتمہ، 74 ھجری کا خاتمہ، حضرت رافع بن خدیج انصاری رضی اﷲ عنہ کا انتقال، حضرت ابو سعید خُدری انصاری رضی اﷲ عنہ کا انتقال، حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا انتقال، حضرت ابوجحیفہ رضی اﷲ عنہ کا انتقال، حضرت سلمہ بن اکوع انصاری رضی اﷲ عنہ کا انتقال، حضرت عبید بن عُمیر تابعی کا انتقال، تین جلیل القدرتابعی کا انتقال، ھ75 ھجری : حجاج بن یوسف ملک عراق کا گورنر، کوفہ میں حجاج بن یوسف کی آمد، اہل کوفہ کو الٹی میٹم، اہل کوفہ پر ظالم حکمراں مسلط، 


ھ74 : حجاج بن یوسف مدینۂ منورہ کا گورنر


ھ74 ھجری کے خاتمے تک عبدالملک بن مروان نے حجاج بن یوسف کو مدینۂ منورہ کے ساتھ مکۂ مکرمہ کا بھی گورنر بنا دیا تھا بلکہ پورے ملک حجاز کا گورنر بنادیا تھا ۔کوفہ اور بصرہ کا گورنر بشر بن مروان تھا اور خراسان کا گورنر اُمیہ بن عبداﷲ تھا ۔ کوفہ کا قاضی شریح بن حارث تھا اور بصرہ کا قاضی ہشام بن ہبیرہ تھا ۔ اِس سال حجاج بن یوسف نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔ اُس نے عبداﷲ بن قیس کو مدینۂ منورہ کا قاضی مقرر کیا ۔ ملک مصر کا گورنر عبدالعزیز بن مروان تھا ۔



ھ74 : حجاج بن یوسف مدینۂ منورہ کا گورنر


ھ73 ہجری کے آخری دنوں میں حجاج بن یوسف نے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو شہید کیا اور 74 ھجری میں عبدالملک بن مروان نے طارق بن عمرو کو معزول کر کے حجاج بن یوسف کو مدینۂ منورہ کا گورنر بنادیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 74 ھجری میں عبدالملک بن مروان نے طارق بن عمرو کو معزول کر کے حجاج بن یوسف کو مدینۂ منورہ کا گورنر بنا دیا ۔ حجاج بن یوسف مدینۂ منورہ آیا ،ایک مہینہ قیام کیا اور پھر عمرہ کرنے روانہ ہو گیا ۔ پھر ماہ صفر المظفر میں مدینۂ منورہ واپس آیا اور اِس مرتبہ تین مہینہ مقیم رہا ۔ وہ اہل مدینہ کے ساتھ بے عزتی سے پیش آتا تھا اور انہیں تکالیف پہنچاتا تھا ۔ محلہ بنو سلمہ میں اُس نے ایک مسجد بنائی جو مسجد حجاج کے نام سے ہی مشہور ہوئی ۔ حجاج بن یوسف کی بد تمیزی اور توہین سے صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم بھی نہیں بچے اور اُس نے اُن کی گردنوں پر داغ لگوائے ۔ حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ پر داغ لگائے اور حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ کی گردن پر داغ لگائے ۔ اِس سے مقصد اُن کی توہین و تذلیل تھی ۔ حجاج بن یوسف نے حضرت سہل بن سعد رضی اﷲ عنہ کو بلوایا اور کہا : ‘‘ تُو نے کیوں امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی اہانت کی ؟’’ انہوں نے فرمایا ‘‘ میں نے تو اُن کی ضرور مدد کی ہے۔’’ حجاج بن یوسف نے کہا : ‘‘ تم جھوٹ بولتے ہو ۔’’ اور پھر سیسہ گرم کر کے اُن کی گردن پر داغ لگائے ۔ 


خانہ کعبہ کی تعمیر نو


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ سے جنگ کرنے میں حجاج بن یوسف نے مکۂ مکرمہ پر اتنے پتھر برسائے تھے کہ خانہ کعبہ کی دیواریں شکستہ ہو گئیں تھیں۔ یزید کے حکم سے شامی لشکر نے جب ۶۴ ؁ ھجری میں مکۂ مکرمہ پر حملہ کیا تھا تو تب بھی خانۂ کعبہ کی دیواریں شکستہ ہو گئی تھیں ۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے خانۂ کعبہ کی تعمیر نو کی تھی اور اُس کو ویسا بنا دیا تھا جیسا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے بنایا تھا۔ عبدالملک بن مروان نے حجاج بن یوسف کو حکم دیا کہ خانہ کعبہ کو مسمار کر کے پھر اُسی طرح بنادے جیسا قریش نے بنایا تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں :حجاج بن یوسف نے خانۂ کعبہ کی دیواروں کو جنھیں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے بنایا تھا منہدم کرادیا ۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے ‘‘حجر’’ کو خانۂ کعبہ میں شامل کر لیا تھا اور اُس کے دو دروازے بنا دیئے تھے ۔ مگر حجاج بن یوسف نے خانۂ کعبہ کو پھر اُسی صورت میں بنا دیا جس میں قریش نے بنایا تھا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں :‘‘ 74 ھجری میں عبدالملک بن مروان نے طارق بن عمرو کو معزول کر کے حجاج بن یوسف کو وہاں کا گورنر بنا دیا ۔ اِسی سال میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے بنائے ہوئے خانۂ کعبہ کو منہدم کر کے حجر اسود کو خانۂ کعبہ سے باہر کر دیا اور اُس بنیاد پر بنایا جس پر قریش نے بنایا تھا ۔ عبدالملک بن مروان اکثر کہا کرتا تھا کہ عبداﷲ بن زبیر( رضی اﷲ عنہ) اس روایت میں جس کو اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت کی ہے صادق نہیں تھا ۔ پس جب عبدالملک بن مروان کو اس روایت کی صحت کی تصدیق ہوگئی تو اُس نے کہا: ‘‘ مجھے یہی پسند آیا کہ میں عبداﷲ بن زبیر (رضی اﷲ عنہ) کی بنیاد کعبہ کو توڑ دوں۔’’


خارجیوں سے جنگ


ھ74 ھجری میں عبدالملک بن مروان نے بصرہ اور کوفہ کا گورنر اپنے بھائی بشر بن مروان کو بنا دیا ۔علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: جب عبدالملک بن مروان نے خالد بن عبداﷲ کو بصرہ کی گورنری سے معزول کیا اور اُس کی جگہ اپنے بھائی بشر بن مروان کو گورنر بنا دیا تو یہ حکم صادر کیا کہ مہلب بن ابی صفرہ کو خارجیوں سے جنگ کرنے کے لئے ‘‘ازارقہ’’ پر مامور کیا جائے ۔ اور اہل بصرہ اور اہل کوفہ میں سے جسے چاہے روانہ کر ے تاکہ خارجیوں کو چُن چُن کر ہلاک کیا جائے ۔ مہلب بن ابی صفرہ بصرہ کالشکر لیکر خوارج سے جنگ کرنے روانہ ہو گیا بشر بن مروان کو یہ ناگوارگزرا اور اُس نے عبدالرحمن بن محنف کو بلا کر کوفہ کا لشکر دیکر کہا :‘‘ تم کو معلوم ہی ہے کہ میں تمہاری کتنی عزت کرتا ہوں ۔ میں نے تمہیں اِس لئے بلایا کہ کوفہ کے لشکر کا سپہ سالار بنا کر جنگ ازارقہ پر روانہ کروں ۔ تم میرے حسن ظن کے مطابق اِس کام کے لئے موزوں ہو ، دیکھنا خبردار! مہلب بن ابی صفرہ کے فقروں میں نہ آجانااور اُس کی رائے اور مشورہ سے کوئی کام نہیں کرنا۔’’ عبدالرحمن بن محنف لشکر لیکر روانہ ہوا ۔ رام ہرمز میں پہنچ کر مہلب بن ابی صفرہ کے لشکر سے ایک میل کے فاصلے اپنے لشکر کا پڑاؤ ڈالا کہ دونوں لشکر ایکدوسرے کو دیکھ سکتے تھے اور خوارج سے خندق کھود کر جنگ چھیڑ دی ۔ رام ہرمز میں آئے عبد الرحمن بن محنف کو دس دن ہی گذرے تھے کہ بشر بن مروان کے مرنے کی اطلاع ملی اور یہ معلوم ہوا کہ مرتے وقت اُس نے خالد بن عبداﷲ کو گورنر بنا دیا ہے ۔ اِس خبر کا مشہور ہونا تھا کہ کوفہ کی فوجیں منتشر ہو کر اپنے شہر کی طرف واپس لوٹ آئیں اور اہواز پہنچ کر قیام کیا۔ خالد بن عبداﷲ نے بہت ڈرایا دھمکایا لیکن وہ لوگ مہلب بن ابی صفرہ کی طرف واپس نہیں گئے ۔اور رات کو چھپ چھپا کر شہر میں داخل ہوگئے ۔ 


اُمیہ بن عبداﷲ خراسان کا گورنر


ھ74 ھجری میں عبدالملک بن مروان نے اُمیہ بن عبداﷲ کو خراسان کا گورنر بنایا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : 72 ھجری میں عبداﷲ بن خازم کو قتل کیا گیا تو اُس کا سر بھیجنے کے معاملے میں بکیر بن وشاح اور بحیر میں اختلاف ہوگیا ۔ بکیر بن وشاح خراسان کا گورنر تھا اُس نے بحیر کو قید کر دیا ۔ اُس وقت خراسان میں قبیلہ بنو تمیم تھا اور اُن میں خصومت ہو گئی ۔بنو مقاعس اور دوسرے قبیلے والے بکیر بن وشاح سے نفرت کرنے لگے ۔اِس وجہ سے خراسانیوں کو یہ ڈر پیدا ہوا کہ اگر یہی صورت حال رہی تو نتیجہ فساد اور تباہی ہوگا اور دشمن ہماری خانہ جنگی کا فائدہ اُٹھا کر ہمیں زیر کر لیں گے ۔ اِسی لئے انہوں نے عبدالملک بن مروان کو اِس واقعات کی اطلاع دی اور لکھا کہ اگر اِسی طرح بکیر اور بحیر جھگڑتے رہیں گے ۔ اِس لئے کسی قریشی کو گورنر بناؤ جس سے لوگ حسد اور تعصب نہ کریں ۔مروان بن عبدالملک نے اپنے ارباب ِ سیاست سے مشورہ کیا اور اُمیہ بن عبداﷲ کو خراسان کا گورنر بنا کر روانہ کیا ۔ اُمیہ بن عبداﷲ کے خراسان پہنچنے سے پہلے بکیر بن وشاح نے بحیر سے صلح کر لی ۔ 


ھ74 ھجری کا خاتمہ


ھ74 ھجری کے خاتمے تک عبدالملک بن مروان نے حجاج بن یوسف کو مدینۂ منورہ کے ساتھ مکۂ مکرمہ کا بھی گورنر بنا دیا تھا بلکہ پورے ملک حجاز کا گورنر بنادیا تھا ۔کوفہ اور بصرہ کا گورنر بشر بن مروان تھا اور خراسان کا گورنر اُمیہ بن عبداﷲ تھا ۔ کوفہ کا قاضی شریح بن حارث تھا اور بصرہ کا قاضی ہشام بن ہبیرہ تھا ۔ اِس سال حجاج بن یوسف نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔ اُس نے عبداﷲ بن قیس کو مدینۂ منورہ کا قاضی مقرر کیا ۔ ملک مصر کا گورنر عبدالعزیز بن مروان تھا ۔


حضرت رافع بن خدیج انصاری رضی اﷲ عنہ کا انتقال


اِس سال 74 ھجری میں حضرت رافع بن خدیج رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت رافع بن خدیج بن رافع رضی اﷲ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے غزوۂ اُحد اور بعد کی سب جنگوں میں شرکت کی ۔ جنگ صفین میں حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ رہے ۔ 74ھجری میں انتقال ہوا ۔ کل اٹھہتر (78) احادیث اِن سے مروی ہیں ۔ غزوۂ اُحد میں آپ رضی اﷲ عنہ کی ہنسلی میں ایک تیر پیوست ہو گیا تھا ۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اُن کو اختیار دیا تھا کہ وہ چاہیں تو تیر کو نکال دیا جائے اور چاہیں تو اس کو یوں ہی چھوڑ دیا جائے جواُن کے لئے قیامت کے دن بطور شہادت کام آئے گا ۔ حضرت رافع بن خدیج رضی اﷲ عنہ نے آخری صورت قبول کی اور آخری عُمر میں تیر کے زخم کی وجہ سے ہی انتقال ہوا۔ 


حضرت ابو سعید خُدری انصاری رضی اﷲ عنہ کا انتقال


اِس سال 74 ھجری میں حضرت ابو سعید خُدری رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہ کا نام سعد بن مالک بن سنان انصاری خزرجی ہے ۔ یہ جلیل القدر فقہائے صحابہ میں ہیں ۔ غزوۂ اُحد میں عُمر کم ہونے کی وجہ سے واپس کر دیئے گئے تھے اور غزوۂ خندق میں پہلی بار حصہ لیا ۔ اِس کے بعد کے تمام معرکوں میں شریک رہے ۔ اِن سے بہت سی احادیث مروی ہیں ۔انہوں نے صحابۂ کرام کی مقتدربہ جماعت سے سے بھی روایات کی ہیں اور صحابۂ کرام اور تابعین کی بڑی تعداد نے بھی اِس سے احادیث روایت کی ہیں ۔ آپ رضی اﷲ عنہ کا شمار عالم و فاضل صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم میں ہوتا ہے ۔ واقدی وغیرہ کے مطابق آپ رضی اﷲ عنہ کا انتقال ۷۴ ؁ ھجری میں ہوا ہے لیکن بعض دوسرے علماء کے مطابق دس سال پہلے انتقال ہوا ہے ۔ واﷲ و اعلم۔


حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا انتقال


اِس سال 74 ھجری میں حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے بیٹے حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ہے ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عبداﷲ بن عُمر بن خطاب قریشی مہاجر نے اپنے والد محترم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے ساتھ ہی اسلام قبول کیا ۔ اُس وقت آپ رضی اﷲ عنہ کی عُمر دس سال سے بھی کم تھی ۔ اِس کے باوجود اپنے والد ِ محترم کے ساتھ ہجرت کی اور غزوۂ اُحد کے وقت کم عُمر ہونے کی وجہ سے واپس بھیج دیئے گئے تھے ۔غزوۂ خندق میں شریک ہوئے کیونکہ اُس وقت عُمر پندرہ سال ہو چکی تھی اور اس کے بعد کے تمام معرکوں میں شریک رہے ۔ اُم المومنین سیدہ حفصہ رضی اﷲ عنہا کے سگے بھائی ہیں ۔ خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے انہیں عہدۂ قضا دینا چاہا تو آپ رضی اﷲ عنہ نے معذرت کر لی ۔ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ کے شہید ہونے کے وقت ان کی عُمر بائیس (22) سال تھی ۔ حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے کئی بار بصرہ ، فارس اور مدائن کا دورہ کیا ایک مرتبہ آپ رضی اﷲ عنہ نے چالیس ہزارمیں ایک غلام خریدا اور اُس کو آزاد کر دیا ۔اُس غلام نے کہا: ‘‘ اے میرے آقا! آپ نے مجھے آزاد کر دیا مگر زندگی بسر کرنے کے لئے بھی کچھ عنایت ہو تو مہر بانی ہوگی تو آپ رضی اﷲ عنہ نے اُس غلام کو چالیس ہزار دیئے ۔ حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ فضل و کمال میں اپنے والد کی مانند تھے ۔اُن کی عُمر ساٹھ سال ہو گئی تھی پھر بھی لوگ دور دراز سے فتٰاوی حاصل کرنے کے لئے آتے تھے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے بہت سی احادیث روایت کی ہیں ۔ صحیح حدیث میں اُم المومنین سیدہ حفصہ رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛‘‘ اگر عبداﷲ بن عُمر فاروق ‘‘قائم اللیل’’ ہوں تو ‘‘مرد صالح’’ ہیں۔’’ اِس کے بعد سے آپ رضی اﷲ عنہ ہمیشہ ‘‘قائم اللیل’’ ہی رہے ۔ حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں :‘‘ حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سب سے زیادہ اپنے نفس پر قابو پانے والے ہیں۔’’ حضرت سعید بن مسیب رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں :‘‘ حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے زیادہ ‘‘حسن عمل’’ کا ذخیرہ کوئی شخص نہیں لے کر گیا ہے ۔’’ امام زہری فرماتے ہیں :‘‘ حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ متوازن و مصمم ارادہ کے مالک تھے ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد ساٹھ سال تک زندہ رہے پھر بھی صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم سے کلیتاً واقفیت رکھتے تھے ۔ امام مالک فرماتے ہیں :‘‘ حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی عُمر چھیاسی (86) سال ہوگئی تھی اور وہ ساٹھ (60) سال تک ‘‘اِفتاء’’ کے فرائض انجام دیتے رہے اور اُن کے پاس دور دور سے وفود آیا کرتے تھے ۔ ’’


حضرت ابوجحیفہ رضی اﷲ عنہ کا انتقال


اِس سال 74 ھجری میں حضرت ابو جحیفہ رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت ابو جحیفہ رضی اﷲ عنہ کا نام حضرت عبداﷲ سوائی رضی اﷲ عنہ ہے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ بزرگ صحابی ہے ہیں ۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو اپنی بلوغت سے قبل وصال کے وقت دیکھا ۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے کئی احادیث روایت کی ہیں اور حضرت علی المرتضیٰ اور حضرت براء بن عازب رضی اﷲ عنہم سے بھی رویات کی ہیں اور تابعین کی ایک بڑی جماعت نے آپ رضی اﷲ عنہ سے احادیث نقل کی ہیں ۔ آپ رضی اﷲ عنہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے ساتھیوں میں سے تھے اور جب خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ خطبہ دیتے تھے تو آپ ر ضی اﷲ اُن کے پیچھے کھڑے رہتے تھے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے کوفہ میں اپنا مکان بنایا اور وہیں ۷۴ ؁ ھجری میں انتقال ہوا ۔


حضرت سلمہ بن اکوع انصاری رضی اﷲ عنہ کا انتقال


اِس سال 74 ھجری میں حضرت سلمہ بن اکوع انصاری رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔ آپ رضی اﷲ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں ۔ آپ رضی اﷲ عنہ بہت ہی ماہر تیر انداز تھے ۔ ایک مرتبہ دشمنوں نے مدینۂ منورہ کی چراگاہ پر حملہ کیا اور اونٹوں کو لیکر بھاگنے لگے تو حضرت سلمہ بن اکوع رضی اﷲ عنہ نے مدینۂ منورہ والوں کو بلند آواز سے حملے کے بارے میں خبر دی اور انتظار کرنے کے بجائے تیر کمان لیکر دشمنوں کے پیچھے پیدل ہی بھاگے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ بھاگتے بھاگتے تیر چلاتے جارہے تھے اور ہر تیر پر ایک دشمن گھوڑے پر سے گر پڑتا تھا۔ یہاں تک کے دشمن اچھے خاصے اونٹ چھوڑ کر بھاگے ۔ اِسی دوران رسول اﷲصلی اﷲ علیہ وسلم اپنے صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کے ساتھ پہنچ گئے تو حضرت سلمہ بن اکوع رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا :‘‘ یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم مجھے ایک گھوڑا اور چند سوار دیں تو میں دشمنوں سے باقی اُونٹ بھی واپس لے آؤں گا ۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے انہیں چند سوار دیئے تو انہوں نے تیزی سے دشمنوں کا پیچھا کیا اور باقی اونٹ بھی والس لے آئے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ ‘‘بیعت رضوان’’ میں بھی شامل ہوئے اور آپ رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے دست مبارک پر تین مرتبہ بیعت کی ۔ ایک مرتبہ پہلے پھر درمیان میں اور پھر سب سے آخر میں ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت سلمہ بن اکوع بن عمرو سنان انصاری رضی اﷲ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں ۔ آپ رضی اﷲ عنہ ‘‘بیعت رضوان’’ کرنے والوں میں شامل ہیں ۔ آپ رضی اﷲ عنہ صحابۂ کرام میں سے بہت اچھے شہسوار اور علماء میں سے شمار ہوتے ہیں ۔ مدینۂ منورہ میں فتوے دیا کرتے تھے اور مدینۂ منورہ میں ہی انتقال ہوا۔


حضرت عبید بن عُمیر تابعی کا انتقال


اِس سال 74 ھجری میں مشہور تابعی حضرت عبید بن عُمیر کا انتقال ہوا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عبید بن عُمیر بن قتادہ بن سعد بن عامر لیثی مسلم بن حجاج کے قول کے مطابق رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے سامنے پیدا ہوئے ۔ حضرت عبید بن عُمیر نے اپنے والد محترم سے روایات نقل کی ہیں ۔ ان کے علاوہ آپ نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ ، حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ ، حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ ، حضرت عبداﷲ بن عباس ، حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہم اور اُم المومنین سیدہ اُم سلمہ رضی اﷲ عنہا سے بھی روایات نقل کی ہیں ۔ آپ سے تابعین کی ایک جماعت نے بھی رویات نقل کی ہیں ۔ حضرت عبید بن عمیر کے حلقۂ صحبت میں حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ بھی تھے جب وہ آپ کے وعظ و نصیحت سنتے تو اتنا متاثر ہوتے تھے کہ اُن کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو نکل آتے تھے ۔ امام بخاری نے امام ابن جریج کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ حضرت عبید بن عُمیر کا انتقال حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے پہلے ہوگیا تھا ۔ 


تین جلیل القدرتابعی کا انتقال


اِس سال 74 ھجری میں تین جلیل القدر تابعی کا انتقال ہوا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت ملک بن عامر مدنی کا انتقال ہوا ۔ آپ نے صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کی ایک جماعت سے روایات نقل کی ہیں ۔بڑے عالم و فاضل تھے اور انتقال مدینۂ منورہ میں ہوا ۔دوسرے تابعی حضرت ابو عبدالرحمن اہل کوفہ کے مہمان نوازوں میں شمار ہوتے تھے ۔ آپ کا نام عبداﷲ بن حبیب ہے ۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ ، حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ اور حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ کا آپ قرآن سنا چکے تھے اور صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کی کثیر جماعت سے قرآن سن چکے تھے ۔ خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے دورِ خلافت سے لیکر حجاج بن یوسف کی گورنری تک آپ کوفہ کے سب سے بڑے ‘‘قاری’’ تھے اور انتقال بھی کوفہ میں ہوا ۔ تیسرے تابعی حضرت ابو معرض اسدی ہیں۔ ان کا نام حضرت مغیرہ بن عبداﷲ کوفی ہے ۔ یہ عبدالملک بن مروان کے دربار کے شاعر بھی تھے ان کا انتقا ل اسی (80) سال کی عُمر میں کوفہ میں ہوا ۔ 


ھ75 ھجری : حجاج بن یوسف ملک عراق کا گورنر


ھ74 ھجری میں کوفہ اور بصرہ کے گورنر بشر بن مروان کا انتقال ہو گیا تھا اور اُس نے اپنی جگہ خالد بن عبداﷲ کو گورنر بنا دیا تھا ۔ 75 ھجری میں عبدالملک بن مروان نے حجاج بن یوسف کو کوفہ اور بصرہ کے ساتھ ساتھ پورے ملک عراق اور آس پاس کے علاقوں کا گورنر بنا دیا ۔ یحییٰ بن حکم کو ملک ھجاز کا گورنر بنا دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 75 ھجری میں محمد بن مروان نے موسم گرما کی مہم کے ساتھ رومیوں سے جہاد کیا جبکہ وہ رومی مرعش کی طرف بڑھے تھے ۔ اِس سال عبدالملک بن مروان نے یحییٰ بن حکم کو مدینۂ منورہ کا گورنر مقرر کیا اور حجاج بن یوسف کو پورے ملک عراق کا سوائے خراسان اور سجستان کے گورنر مقرر کیا ۔ حجاج بن یوسف مدینۂ منورہ میں مقیم تھا کہ عبدالملک بن مروان کا حکم ملا کہ ملک عراق جاؤ کیونکہ وہاں کے گورنر بشر بن مروان کا انتقال ہو چکا ہے ۔ حجاج بن یوسف بارہ سو سواروں کا لشکر لیکر نہایت اعلیٰ اور تیز رفتار اونٹنیوں پر سوار ہو کر کوفہ پہنچا۔ 


کوفہ میں حجاج بن یوسف کی آمد


مکۂ مکرمہ اور مدینۂ منورہ میں آفت مچانے کے بعد اب حجاج بن یوسف کوفہ کی طرف اپنے بارہ سو (1200) کے لشکر کے ساتھ رواں دواں تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حجاج بن یوسف جس وقت کوفہ پہنچا تو دن چڑھ آیا تھا اور اُس کا کوفہ آنا اچانک ہوا کیونکہ کسی کو اُس کے آنے کا علم نہیں تھا ۔ اُس وقت مہلب بن ابی صفرہ ازارقہ میں خوارج سے جنگ کی حالت میں تھا ۔ حجاج بن یوسف سب سے پہلے کوفہ کی جامع مسجد میں آیا اور منبر پر چڑھا۔ اُس نے ایک باریک سُرخ کپڑے کے عمامے سے اپنے چہرے کو چھپا رکھا تھا ۔ اُس نے بلند آواز سے لوگوں کو پکارا :‘‘ میرے سامنے آؤ تاکہ میں تقریر کروں ۔ لوگوں نے پہلے تو اسے اور اُس کے ساتھیوں کو خارجی خیال کیا اور اُس کے قتل کرنے کیا ٹھان لی ۔ مگر لوگ جب جمع ہو گئے تو اس نے اپنا چہرہ بے نقاب کردیا اور بولا :‘‘ میں وہ آفتاب ہوں جو پردۂ ظلمت کو چاک کر دیتا ہے اور میں گھاٹیوں پر چڑھنے والا ہوں ۔ جب میں اپنا عمامہ اُتاروں گا تب تم مجھے پہچان لو گے ۔اﷲ کی قسم! میں شر (برائی) کو اس کے کجاوہ پر لاد دیتا ہوں اور اس کو ایسے ہی نعل لگاتا ہوں اور جو جیسا کرتا ہے ویسے ہی اُس کا بدلہ دیتا ہوں ۔میں بہت سے سروں کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ پک گئے ہیں اور اُن کو توڑ لینے کا وقت قریب آگیا ہے اور میں عماموں اور داڑھیوں کو خون سے زعفرانی دیکھ رہا ہوں ۔’’


اہل کوفہ کو الٹی میٹم


اہل کوفہ کو اندازہ نہیں تھا کہ وہ کس مصبیت میں آچکے ہیں ۔اہل کوفہ کے سامنے حجاج بن یوسف کوفہ کی جامع مسجد میں خطبہ دے رہا تھا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ھجاج بن یوسف نے آگے کہا :‘‘اے ملک عراق کے لوگو!اچھی طرح جان لو کہ میں انجیر کی طرح دبایا نہیں جا سکتا اور نہ ہی بوسیدہ خشک مشک سے ڈرایا جا سکتا ہوں ۔ میرا تقرر نہایت دانائی سے کیا گیا ہے اور مجھے بڑے فرائض انجام دینا ہے ۔

 امیر المومنین عبدالملک بن مروان نے اپنے ترکش سے تیر نکالے ہیں اور اُن سب کی لکڑیوں کو دانت سے کاٹا ہے اور مجھ کو ہی سب سے زیادہ مضبوط اور ٹوٹنے میں سخت پایا ہے ۔ اِسی لئے انہوں نے مجھے تمہاری طرف بھیجا ہے کیونکہ عرصۂ دراز سے فتنہ و فساد تمہارا شیوہ ہو گیا ہے اور بغاوت تمہارا دستور العمل۔ مگر سمجھ لو کہ میں تمہاری اِس طرح کھال اُدھیڑ لوں گا جس طرح لکڑی کی چھال اُتاری جاتی ہے اور تمہیں اِس طرح کاٹ ڈالوں گا جس طرح خشک کانٹے دار ببول کے درخت کو کاٹ ڈالا جاتا ہے اور اِس طرح تمہیں پیٹوں گا جس طرح ایک اجنبی اونٹ پیٹا جاتا ہے ۔ اﷲ کی قسم! اگر میں وعدہ کرتا ہوں تو وفا کرتا ہوں اور جب میں کسی کام کے کرنے کا ارادہ کرتا ہوں تو اُسے پورا کرتا ہوں ۔ اِس لئے مجھ سے اور ان جماعتوں سے ڈرو اور قیل و قال سے بچو اور جس حالت میں تم اب ہو اُس سے اپنے آپ کو نکالو ۔ اﷲ کی قسم! تم لوگ راہ ِ راست پر آجاؤ ورنہ یاد رکھو کہ جو لوگ مہلب بن ابی صفرہ کے محاذ سے بھاگ کر آئے ہیں وہ اگر آج سے تین دن کے بعد یہاں سے نہیں گئے تو انہیں قتل کر ڈالوں گا اور اُن کی جائداد ضبط کر لوں گا ۔ ’’ اِس قدر خطبہ دینے کے بعد حجاج اپنی قیام گاہ کی طرف چلا گیا ۔ 


اہل کوفہ پر ظالم حکمراں مسلط


اہل کوفہ پر پہلے زیاد نے سختی کی لیکن وہ نہیں سُدھرے ۔پھر اُس کے بیٹے عبیداﷲ بن زیاد نے سختی کی لیکن اُن کی وہی روش رہی لیکن اب اُن دونوں سے زیادہ ظالم شخص کوفہ کا گورنر بن کر آیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب حجاج دیر تک خاموش بیٹھا رہا تومحمد بن عُمیر نے کچھ کنکریاں ہاتھ میں اُٹھا لیں تھیں اور ارادہ کیا تھا کہ حجاج بن یوسف کو مارے اور یہ بھی کہا :‘‘ اﷲ اِسے ہلاک کرے یہ کس قدر کریہہ المنظر اور بد شکل ہے معلوم ہوتا ہے جو یہ کہے گا وہ بھی ایسا ہی ہوگا جیسا اِس کی ظاہری شکل و صورت ہے ۔’’جب حجاج بن یوسف نے خطبہ شروع کیا تو اُس کا اِس قدر اثر ہوا کہ کنکریاں خود بخود اُس کے ہاتھ سے نیچے گرنے لگیں اور محمد بن عُمیر کو اِس کی خبر بھی نہیں ہوئی ۔ حجاج بن یوسف نے آگے کہا :‘‘ شاھت الموجوہ یعنی تمہارے چہرے بگڑ جائیں ۔’’پھر قرآن پاک کی تلاوت کی اور آگے بولا:‘‘ اﷲتعالیٰ نے اُن لوگوں کی مثال اُس قریہ سے دی ہے جو نہایت امن و سکون میں تھا ۔ ہر جگہ سے نہات اطمینان و صبر کے ساتھ ماکولات پہنچا کرتی تھیں ۔ انہوں نے اﷲ تعالیٰ کی ناشکری کی ،پس اﷲ تعالیٰ نے اُس قریہ کو بھوک اور خوف کا لباس پہنا دیا اور انہیں کیاعمال اِس کے ذمہ دار تھے ۔تم لوگ بھی اُس قریہ کے باشندوں کی طرح ہو ۔بہتر ہے کہ اپنی حالت درست کر لو اور راہ راست پر آجاؤ ورنہ یاد رکھو کہ میں تمہیں ایسی ذلت کا مزہ چکھاؤں گا کہ تم باز آجاؤ گے اور تمہیں خشک کانٹے دار ببول کے درخت کی طرح کاٹوں گا پھر تم مطیع و منقاد ہو جاؤ گے ۔ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یا تم میرے ہاتھوں انصاف قبول کرو اور فتنہ و فساد اور جھوٹی افواہوں سے باز آجاؤ ورنہ معمولی ‘‘قطع و برید’’ کیا شئے ہے؟ میں تلوار سے تمہاری ایسی ‘‘قطع وبرید’’ کروں گا کہ تمہاری عورتیں بیوہ اور تمہارے بچے یتیم ہو جائیں گے اور جب تک تم اِن غیر آئینی باتوں کو ترک نہیں کرو گے اور اِن باتوں سے باز نہیں رہو گے تو میں اور میرے سپاہی تمہارا یہی حال کرتے رہیں گے ۔ میری اجازت کے بغیر صرف تنہا آدمی سوار ہو سکتا ہے اور کئی گھڑ سوار ایک ساتھ نہیں ہونے چاہیئیں ۔ یاد رکھو! اگر باغیوں کو اُن کی بغاوت راس آگئی اور وہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہو گئے تو نہ تو خراج وصول ہوگا اور نہ ہی دشمنوں سے کوئی لڑنے والا ہو گا اور نہ ہی سرحد کی حفاظت ہو سکے گی ۔ اگر تم لوگ زبردستی جہاد میں شریک نہیں ہو گے تو خوشی سے کبھی بھی شریک نہیں ہو گے ۔ مجھے خبر ملی ہے کہ تم لوگ مہلب بن ابی صفرہ کو ازارقہ کے مہاذ پر چھوڑ کر بھاگ آئے ہو ۔ میں قسم کھا کر تمہیں کہتا ہوں کہ آج سے تین دن کے بعد جس شخص کو میں یہاں دیکھوں گا اُس کی گردن اُڑا دوں گا ۔’’اِس کے بعد حجاج بن یوسف نے تمام سربرآوردہ لوگوں کو بلایا اور انہیں حکم دیا :‘‘ تم تمام بھگوڑوں کو مہلب بن ابی صفرہ کے پاس پہنچاؤ اور اِس کا مجھے تحریری ثبوت دو کہ وہ سب اپنی منزل ِ مقصود تک پہنچ گئے ہیں ۔ اِس مدت کے ختم ہونے تک شہر کے اور

 پُل کے دروازے رات دن کھلے رہیں گے ۔’’


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

Saltanat e Umayya part 37


 ا37 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 37

کوفہ میں حجاج بن یوسف کا پہلا قتل، حجاج بن یوسف کا رعب، حکم بن ایوب ثقفی بصرہ کا گورنر، حجاج بن یوسف بصرہ میں، بغاوت کو سختی سے کچل دیا، ھ75 ھجری کا اختتام، حضرت عرباض بن ساریہ رضی اﷲ عنہ کا انتقال، حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اﷲ عنہ کا انتقال، حضرت اسود بن یزید تابعی کا انتقال، خوارج کا حملہ، اسلامی سکہ کا اجرا، ھ76 ھجری کا اختتام، حضرت زہیر بن قیس بلوی کا انتقال، ھ77 ھجری :شبیب بن یزید خارجی کی پیش قدمی، حضرت زہرہ بن حویہ رضی اﷲ عنہ کا مشورہ، 


کوفہ میں حجاج بن یوسف کا پہلا قتل


اہل کوفہ کو حجاج بن یوسف نے تین دن کی مہلت دی تھی ۔ جب دو دن پورے ہو گئے تو تیسرے دن حجاج بن یوسف نے پھر سے خطبہ دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : تیسرے دن حجاج بن یوسف نے بازار میں تکبیر کی آواز سنی تو اپنے گھر نکل کر منبر پر بیٹھا اور اہل کوفہ جمع ہو گئے ۔حجاج بن یوسف نے کہا: ‘‘ ا ے ملک عراق کے باشندو! باغیو اور منافقو اور بُرے اخلاق والو! میں نے ایک تکبیر کی آواز سنی ہے مگر یہ وہ تکبیر نہیں ہے جس کے ذریعے اﷲ کے راستے میں ترغیب و تحریص دلائی جاتی ہو ۔ بلکہ اس کا مقصد لوگوں کو خوفزدہ کرنا ہے اور میں نے خوب جان لیا ہے کہ یہ ایک غبار ہے جس کے پردے میں سخت و تیز آندھی آنے والی ہے ۔ اے بے وقوف لونڈی کے جنوں! اور بندگی اور سرکشی و نافرمانی اور اے بیوہ اور لاوارث عورتوں کے بیٹو! کیا تم میں کوئی بھی ایسا شخص نہیں جو اپنی کمزوری و ضعف کے باوجود خاموشی اور اطمینان سے بیٹھے اور اپنے خون کو مفت نہ بہائے اور پھونک پھونک کر قدم دھرے ۔میں اﷲ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ عنقریب میں تمہیں ایسی سخت سزا دوں گا جو اگلوں کے لئے عذاب اور آئندہ نسلوں کے لئے عبرت ہوگی ۔’’ اِس تقریر کے بعد عُمیر بن ضابی تمیمی کھڑا ہوا اور بولا: ‘‘ اﷲ امیر کے کاموں کی ہمیشہ اصلاح کرتا رہے ۔میں بھی اس مہم میں شریک تھا اور اس سے متعلق ہوں مگر میں بیمار اور ضعیف سن رسیدہ ہوں ۔ یہ میرا لڑکا بالکل نوجوان ہے یہ میرے بدلے حاضر ہے ۔’’ حجاج بن یوسف نے پوچھا :‘‘ تم کون ہو؟’’ اُس نے اپنا نام بتایا تو حجاج بن یوسف نے کہا: ‘‘ کیا تم نے کل میری تقریر سنی تھی ؟’’ عمیر نے کہا: ‘‘ ہاں۔’’ حجاج بن یوسف نے کہا: ‘‘ کیا تم وہی شخص نہیں ہو جس نے امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سے جنگ کی تھی ؟’’ عُمیر بن ضابی نے اِس کا اقرار کیا ۔ حجاج بن یوسف نے پھر پوچھا :‘‘ کس بنا پر تم نے ایسا کیا تھا ۔’’ عمیر بن ضابی نے کہا: ‘‘ حالانکہ میرا باپ بوڑھا شخص تھا پھر بھی حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے اُسے جیل میں ڈال دیا تھا ۔’’ یہ سن کر حجاج بن یوسف نے اُس کی گردن اُڑا دینے کا حکم دے دیا اور اُس کے قتل کے بعد اُس کے مال و دولت پر قبضہ کر لیا ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ عنبسہ بن سعید نے حجاج بن یوسف سے پوچھا: ‘‘ کیا آپ اِس شخص کو جانتے ہیں ؟’’ اُس نے کہا : ‘‘ نہیں ۔’’ تب عنبسہ بن سعید نے کہا : ‘‘ یہ شخص بھی حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے قاتلوں میں سے ہے ۔’’ اِس پر حجاج بن یوسف نے عُمیر بن ضابی سے مخاطب ہو کر کہا : ‘‘ اے اﷲ کے دشمن!تُو نے امیر المومنین کے پاس اپنی طرف سے کیوں نہ کسی اورشخص کو بھیجا ؟اُس وقت بھی اپنے معاوضہ میں کسی اور کو بھیج دیا ہوتا ۔’’ پھر اُس کے قتل کا حکم دے دیا اور بعد میں اعلان کرادیا کہ عُمیر بن ضابی نے ہمارا حکم سن لینے کے باوجود اُس کی تعمیل نہیں کی اور تین دن کے بعد حاضر ہوا اِسلئے ہم نے اُسے قتل کر ڈالا ۔’’


حجاج بن یوسف کا رعب


اہل کوفہ بہت زیادہ مصیبت میں پڑ گئے تھے کیونکہ اُن پر ایک ظالم حکمراں مسلط ہو گیا تھا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عُمیر بن ضابی کے قتل کے بعد حجاج بن یوسف نے اعلان کیا :‘‘ تمام لوگوں کو اطلاع دی جاتی ہے کہ جو لوگ مہلب بن ابی صفرہ کے ساتھ جنگ پر تھے اُن میں سے کوئی شخص آج رات یہاں بسر کرے گا تو وہ اپنی جان کو خطرے میں سمجھے۔ ’’ اِس اعلان کو سنتے ہی تمام لوگ پُل پر جمع ہو گئے ۔ تمام سربرآوردہ لوگ مہلب بن ابی صفرہ کے پاس پہنچے جو اُس وقت رام ہرمز میں اپنے لشکر کے ساتھ پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا اور وہاں جا کر اُس سے اپنے پاس پہنچنے کی باقاعدہ رسیدیں حاصل کیں ۔ اِس پر مہلب بن ابی صفرہ نے کہا: ‘‘ آج ملک عراق میں وہ شخص آیا ہے جو اپنے زمانہ کا جواں مرد ہے اب دشمن قتل ہو جائیں گے۔ ’’ابو عبیدہ کی روایت میں ہے کہ اُس رات صرف بنو مذحج کے چار ہزار آدمیوں نے پُل کو پار کیا ۔ مہلب بن ابی صفرہ نے کہا: ‘‘ اب ملک عراق میں ایک جواں مرد آیا ہے۔ ’’ اِس کے بعد عبدالملک بن مروان نے ملک عراق والوں کے نام، حجاج بن ہوسف کے نام خط بھیجا۔ حجاج بن یوسف نے عوام کو جمع کیا اور خط پڑھنے کا حکم دیا ۔ جب عبدالملک بن مروان کا خط لوگوں کے سامنے پڑھا جانے لگا تو پڑھنے والے نے پڑھا: ‘‘ اما بعد! اسلام علیکم! میں تمہارے سامنے اﷲ کی تعریف کرتا ہوں ۔’’ اِس پر حجاج بن یوسف نے کہا: ‘‘ چُپ رہ اے نافرمان غلام! بھلا امیر المومنین تو تم پر سلامتی بھیجیں اور تم میں سے کسی شخص کو یہ توفیق نہ ہو کہ اُن کے سلام کا جواب دے ۔یہ اخلاق اموی عورت کے لونڈوں کا ہے ،ٹھہرو!اﷲ کی قسم! اب میں تمہیں اخلاق سکھاؤں گا ۔’’ اور جو شخص خط کو پڑھ رہا تھا اُسے حکم دیا کہ پھر ابتداء سے پڑھے ۔پھر جب پڑھنے والا اسلام علیکم پر پہنچا تو سب نے بلا استثناء کہا :‘‘ وعلیک امیر المومنین السلام و رحمتہ اﷲ۔’’


حکم بن ایوب ثقفی بصرہ کا گورنر


کوفہ کے لوگوں کو ٹھیک کرنے کے بعد حجاج بن یوسف بصرہ کی طرف متوجہ ہوا اور اپنے قبیلے کے ایک شخص کو بصرہ کا گورنر بنا کر بھیجا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حجاج بن یوسف نے حکم بن ایوب ثقفی کو بصرہ کا گورنر مقرر کر کے روانہ کیا اور حکم دیا کہ خالد بن عبداﷲ پر تشدد کرنا ۔ جب خالد بن عبداﷲ کو علم ہوا تو وہ حکم بن ایوب ثقفی کے بصرہ پہنچنے سے پہلے ہی وہاں سے نکل گیا اور مقام ‘‘جلحاء’’ میں قیام پذیر ہوا ۔اہل بصرہ اُس کے ساتھ ہو لئے اور جب تک اُس نے ہر شخص کو ہزار ہزار درہم نہیں دیئے تب تک وہ واپس نہیں گئے ۔ 


حجاج بن یوسف بصرہ میں


اِس سال 75 ھجری میں حجاج بن یوسف کے خلاف اہل بصرہ نے بغاوت کر دی تو وہ بصرہ آیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اِس سال 75  ھجری میں بصرہ کے لوگوں نے حجاج بن یوسف کے خلاف بغاوت کی ۔ عُمیر بن ضابی کے قتل کے بعد حجاج بن یوسف کوفہ سے بصرہ آیا ۔کوفہ میں اُس نے ابو یعفور عروہ بن مغیرہ کو نائب بنا دیا ۔ حجاج بن یوسف نے جس طرح کی تقریر اہل کوفہ کے سامنے کی تھی اُسی قسم کی یہاں بھی کی ۔بنو یشکر کا ایک شخص اُس کے سامنے پیش کیا گیا کہ یہ شخص جنگ پر سے بھاگ آیا ہے ۔ اُس نے کہا : ‘‘ مجھے فتق کا عارضہ ہے اور بشر بن مروان نے خود دیکھا تھا اور میرے اس عذر کو بھی قبول کر لیا تھا ۔جو کچھ مجھے بیت المال سے تنخواہ ملتی ہے وہ یہ موجود ہے واپس لے لی جائے ۔’’ حجاج بن یوسف نے اُس کی ایک نہیں سنی اور قتل کرواڈالا ۔ اہل بصرہ اِس واقعہ سے بہت پریشان ہوئے اور بصرہ سے روانہ ہو کر رام ہرمز کے پل پر فوجی معائنے کے لئے باقاعدہ طور پر آگے پیچھے کھڑے ہو گئے ۔ اِس پر مہلب بن ابی صفرہ نے کا :‘‘ اب اِن لوگوں پر ایک جواں مرد شخص سردار مقرر ہو کر آیا ہے ۔ ’’


بغاوت کو سختی سے کچل دیا


بصرہ آکر حجاج بن یوسف نے سب جوانوں کو مہلب کے پاس محاذ پر روانہ کیا اور اس کے بعدخود لشکر لیکر رستقباذ آیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: بصرہ میں حجاج بن یوسف نے لوگوں کو حکم دیا کہ تم سب مہلب بن ابی صفرہ سے جا کر مل جاؤتو وہ سب روانہ ہو گئے ۔ اب حجاج بن یوسف بھی بصرہ سے نکلا اور آخر شعبان میں رستقباذ میں مقام ‘‘وستوی’’ کے قریب پڑاؤ ڈالا ۔ اُس کے ساتھ بصرہ کے اکابرین اور عمائدین بھی تھے ۔ مہلب بن ابی صفرہ اور اُس کے درمیان اٹھارہ فرسخ کا فاصلہ تھا ۔ اِس مقام پر حجاج بن یوسف تقریر کرنے کے لئے کھڑا ہوا اور اُس نے کہا: ‘‘ تمہاری تنخواہوں میں عبداﷲ بن زبیر ( رضی اﷲ عنہ) نے جو اضافہ کیا تھا وہ ایک فاسق اور منافق کا اضافہ تھا جسے اب میں جائز نہیں رکھ سکتا ۔’’ یہ سن کر عبداﷲ بن جارود کھڑا ہوا اور بولا: ‘‘ یہ اضافہ کسی فاسق اور منافق نے نہیں کیا تھا بلکہ امیر المومنین عبدالملک بن مروان نے اِس کی توثیق کی ہے اور اِس اضافے کو ہمارے لئے بال رکھا ہے ۔’’ مگر حجاج بن یوسف نے اُسے جھٹلا دیا اور دھمکایا تو عبداﷲ بن جارود حجاج بن یوسف پر جھپٹ پڑا ۔ جتنے عمائدین و اکابر تھے وہ بھی عبداﷲ بن جارود کے ساتھ ہوگئے اور دونوں جماعتوں میں شدید معرکہ جدال و قتال گرم ہوا ۔ آخر کار حجاج بن یوسف نے عبداﷲ اور اُس کے ساتھیوں کو قتل کر ڈالا اور اُس کا اُس کے ساتھیوں کا سر کاٹ کر مہلب بن ابی صفرہ

 کے پاس بھیج دیا اور خود بصرہ آگیا ۔ حجاج بن یوسف نے اٹھارہ سر رام ہرمز میں نصب کرنے کے لئے روانہ کئے اور اِس ترکیب سے مسلمانوں کی حالت مضبوط ہو گئی ۔ مگر خارجیوں کو یہ بات بہت ناگوار گذری کیونکہ انہیں توقع تھی کہ ہمارے دشمنوں میں پھوٹ پڑ جائے گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ 

ھ75 ھجری کا اختتام


اِس سال 75 ھجری کا اختتام خوارج کے ساتھ جنگ سے ہوا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں :‘‘ حجاج بن یوسف نے مہلب بن ابی صفرہ اور عبدالرحمن بن محنف کو حکم دیا کہ خوارج پر ایک فیصلہ کُن حملہ کرو ۔یہ حکم سنتے ہی دونوں نے اپنے اپنے لشکر کے ساتھ خوارج پر حملہ کر دیا ۔ خوارج منظم طریقے سے پسپا ہوئے اور رام ہرمز کو چھوڑ کر پیچھے ہٹ گئے اور مقام ‘‘سابور’’ میں جا کر مورچہ بند ہو گئے ۔ دونوں مسلمان سپہ سالار اُن کے تعاقب میں گئے اور سابور میں صف بندی کر لی ۔ مہلب نے اپنے اطراف خندق کھود لی جبکہ عبدالرحمن نے خندق کھودنے سے انکار کر دیا ۔ خارجی خندق کی وجہ سے مہلب بن ابی صفرہ کے لشکر کا کچھ نہیں بگاڑ سکے لیکن عبدالرحمن بن محنف پر اچانک حملہ کردیا اور زبردست جنگ کے بعد عبدالرحمن بن محنف قتل ہو گیا اور اُس کے لشکر کے زیادہ تر مارے گئے ۔ مہلب بن ابی صفرہ نے مقتولین کو دفن کیا اورعبدالملک بن مروان اور حجاج بن یوسف کو خبر دی اورمسلسل خوارج سے جنگ کرتا رہا ۔ حجاج بن یوسف نے عتاب بن ورقا کو عبدالرحمن بن محنف کی جگہ سپہ سالار بنا کر بھیجا لیکن وہ بھی مہلب بن ابی صفرہ سے الجھ گیا ۔ حجاج بن یوسف کو جب معلوم ہوا تو اُس نے عتاب بن ورقا کو حکم دیا کہ اپنا لشکر مہلب بن ابی صفرہ کو دیکر واپس آجاؤ ۔ اِس سال عبدالملک بن مروان نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔ حج کے دوران صالح بن مسرح اور شبیب بن یزید اور اِسی قسم کے کئی خوارج سردار تھے اور عبدالملک بن مروان پر حملہ کرنا چاہتے تھے لیکن کامیاب نہیں ہوسکے ۔ عبدالملک بن مروان کو معلوم ہوا تو اُس نے حجاج بن یوسف کو حکم دیا کہ صالح بن مسرح اور شبیب بن یزید کی خبر لے ۔ حجاج بن یوسف اُن پر سختی سے نظر رکھنے لگا ۔ اِس سال ملک مصر کا گورنر عبدالعزیز بن مروان تھا جبکہ ملک عراق کا گورنر ھجاج بن یوسف تھا ۔ 


حضرت عرباض بن ساریہ رضی اﷲ عنہ کا انتقال


اِس سال 75 ھجری میں حضرت عرباض بن ساریہ رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 75 ھجری میں جن لوگوں کا انتقال ہوا اُن میں حضرت عرباض بن ساریہ رضی اﷲ عنہ بھی ہیں ۔آپ رضی اﷲ عنہ کی کنیت ابو الحجیع ہے اور حمص کے باشندے ہیں ۔ یہ بڑے جلیل القدر صحابی ہیں اور شروع میں ہی اسلام قبول کیا تھا اور ‘‘اہل صفہ’’ میں سے شمار ہوتے تھے اور اُن معذور لوگوں میں شامل تھے جن کے بارے میں اﷲ تعالیٰ نے سورہ توبہ میں ‘‘ولا علی الذین اذا ما اتوک لتحملھم ……آیت کے آخر تک۔آیت نازل ہوئی ۔ یہ سب تعداد میں نو (9) تھے ۔ حضرت عرباض بن ساریہ رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا جس کو سن کر دلوں میں خوف پیدا ہو گیا اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ ایک اور روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پہلی صف والوں کو تین بار مرحبا کہتے تھے اور دوسری صف والوں کو ایک بار۔ حضرت عرباض بن ساریہ رضی اﷲ عنہ بڑے بزرگ تھے اور دل سے پسند کرتے تھے کہ اﷲ انہیں دنیا سے اُٹھا لے اور وہ اکثر دعا کرتے تھے :‘‘ اے اﷲ! میں بوڑھا ہو گیا ہوں اور میری ہڈیاں بوسیدہ ہو گئی ہیں پس تو اپنی طرف اُٹھا لے ۔’’ انہوں نے متعدد احادیث بھی روایت کی ہیں ۔


حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اﷲ عنہ کا انتقال


اِس سال 75 ھجری میں حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اﷲ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں ۔آپ رضی اﷲ عنہ کو ‘‘بیعت رضوان’’ میں شامل ہونے کا شرف حاصل ہے اور غزوۂ حنین میں بھی شریک ہوئے ۔ مسلمانوں کے لشکر کے ساتھ ملک شام پہنچے اور دمشق کی فتح کے بعد اُس کے مغربی حصہ میں قیام پذیر ہو گئے ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دمشق کے مشرقی حصہ ‘‘بلاط’’ میں قیام پذیر رہے ۔ اُن کے نام اور اُن کے والد کے نام کے بارے میں قدرے اختلاف ہے اور اُن کا سب سے مشہور نام ‘‘ جرتوم بن اثر’’ ہے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے متعدد احادیث روایت کی ہیں اور صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کی ایک جماعت سے بھی روایت کی ہیں اور خود اُن سے بہت سے تابعین نے روایات نقل کی ہیں جن میں حضرت سعید بن مسیب ، مکحول ، الشامی ، ادریش خولانی اور ابو قلابہ جرمی شامل ہیں ۔ آپ رضی اﷲ عنہ حضرت کعب احبار کے ہم نشینوں میں سے ہیں ۔ کبھی رات کو گھر سے نکلتے تو آسمان کی طرف دیکھ کر غورو فکر کرتے اور پھر گھر آ کر سجدہ ریز ہو جاتے اور زبان سے کہتے جاتے تھے :‘‘ مجھے اُمید ہے اﷲ مجھے ایسی اذیت اور تنگی کی موت نہیں دے گا جیسا تم لوگ مجھے تنگی اور اذیت دیتے ہو ۔’’ ایک رات نماز پڑھ رہے تھے کہ سجدہ کی حالت میں روح قبض کر لی گئی ۔ اُن کی بیٹی نے خواب دیکھا کہ والد محترم کا انتقال ہو گیا ہے تو خوف زدہ ہو کر بیدار ہوئیں اور گھبرا کر والدہ محترمہ کے پاس آئیں اور کہا : ‘‘ میرے والد محترم کہا ہیں؟’’ والدہ محترمہ نے جواب دیا : ‘‘ مصلے پر ہیں ۔’’ بیٹی نے پکارا تو کوئی جواب نہیں ملا ۔ قریب آ کر ہلایا تو پہلو کے بل گر گئے ،اُن کی روح قفس عنصری سے پرواز کر چکی تھی۔


حضرت اسود بن یزید تابعی کا انتقال


اِس سال 75 ھجری مشہور تابعی حضرت اسود بن یزید کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت اسود بن یزید نخعی کبارتابعین میں سے ہیں اور حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ کے اہل کوفہ کے شاگرد ہیں ۔‘‘صائم الدھر ’’ اور کثرت سے روزے رکھنے کے باعث ایک آنکھ ضائع ہو گئی تھی ۔ اسی (80) حج اور عُمرے کئے تھے ۔ یہ کوفہ میں ہی احرام باندھ کر تسبیح و تہلیل میں مشغول ہو جاتے تھے ۔ سفر میں ہوں یا حضر میں روزہ کبھی قضا نہیں کرتے تھے ۔حضرمیں ہوتے تو روتے رہتے تھے ،لوگ اُن سے رونے کی وجہ دریافت کرتے تو فرماتے :‘‘ میں کیوں نہ گھبراؤں اور مجھ سے زیادہ اس کا کون حقدار ہے ؟ فرمایا کرتے تھے :‘‘ اگر مجھے اپنی مغفرت کا علم ہو جائے تو میں اپنی بقیہ عمر بھی اس کے عوض دے ڈالوں ۔ اگر کسی انسان کا چھوٹا سا گناہ بھی بخش دیا جائے تو یہ اس کی زندگی لازوال بنانے کے لئے کافی ہے۔اِس سال حضرت حمران بن ابان کا بھی انتقال ہوا ۔آپ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے غلام تھے جن کو حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے ‘‘عین التمر’’ کی قید سے رہا کرا کر خرید لیا تھا ۔ یہ لوگوں کو حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سے ملاقات کراتے تھے ۔ 


خوارج کا حملہ

ھ 76 ھجری کا پورا سال حجاج بن یوسف خوارج سے لڑتا رہا ۔ خوراج سے مہلب بن ابی صفرہ تو ‘‘نیشا پور’’ میں جنگ کر ہی رہا تھا کہ مسلمانوں میں سے دو شخص صالح بن مسرح اور شبیب بن یزید نے عبدالملک بن مروان اور حجاج بن یوسف کے خلاف بغاوت کی اور مملکت اسلامیہ کے علاقوں پر قبضہ کر نا شروع کر دیا ۔ حجاج بن یوسف مسلسل اُن کے مقابلے پر لشکر بھیجتا رہا اور جنگ ہوتی رہی لیکن وہ دونوں مسلسل علاقوں پر قبضہ کرتے جارہے تھے ۔ پھر انہوں نے خوارج سے دوستی کر لی اورخوارج میں شامل ہو گئے ۔ حجاج بن یوسف نے کئی لشکر اور کئی سپہ سالار اُن دونوں سے جنگ کے لئے بھیجے ۔آخر کار صالح بن مسرح مارا گیا لیکن شبیب بن یزید مسلسل حملے کرتا رہا اور مسلم علاقوں پر قبضہ کرتا رہا ۔ ایک وقت تو ایسا بھی آیا تھا کہ شبیب بن یزید نے کوفہ پر بھی حملہ کیا اور حجاج بن یوسف اپنے قصر سے اُس کا مقابلہ کرتا رہا ۔اِس طرح پورا 76 ھجری گذر گیا ۔ 


اسلامی سکہ کا اجرا


اِس سال 76 ھجری میں عبدالملک بن مروان نے اسلامی سکہ ڈھلوایا اور پوری مملکت اسلامیہ میں ‘‘اسلامی سکہ’’ کو پھیلایا۔ اِس سے پہلے مملکت اسلامیہ میں ‘‘رومی سکہ’’ چلتا تھا اور رومی روپئے اور پیسے سے لین دین ہوتا تھا ۔ عبدالملک بن مروان نے مسلمانوں کا اپنا خود کا ‘‘روپیہ اور پیسہ’’ بنا کر ڈھالا اور رائج کیا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : عبدالملک بن مروان روم کے بادشاہ کے پاس ایک خط بھیجا جس میں ‘‘قل ھو اﷲ احد’’ اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا اِسم ِ مبارک تاریخ کے ساتھ لکھا ۔ روم کے بادشاہ کو یہ شاق گذرا اور اُس نے لکھ بھیجا ‘‘ عنوان خط پر ایسے مضامین نہ لکھو ورنہ ہم درہم اور دینار پر تمہارے نبی کا ذکر ( نعوذ باﷲ) ایسے طور پر لکھیں گے کہ تم کو ناگوار ہوگا ۔’’ عبدالملک بن مروان نے خط پڑھا تو اُسے تردد ہوا اور اُس نے مسلمانوں سے مشورہ کیا ۔ خالد بن یزید نے رائے دی کہ رومیوں کے درہم اور دینار کو ترک کر دیا جائے اور خود ہم ہمارے درہم اور دینار ڈھال کر رائج کریں ۔ عبدالملک بن مروان نے ایسا ہی کیا اور ‘‘اسلامی سکے’’ ڈھال کر پوری مملکت اسلامیہ میں رائج کیا ۔ بعد ازاں حجاج بن یوسف نے درہم اور دینار پر ‘‘قل ھو اﷲ احد’’ منقش کروایا ۔ مسلمانوں نے اِس کو اِس لئے ناپسند کیونکہ ‘‘سکوں’’ کو لوگ ناپاکی کی حالت میں بھی ہاتھ میں لیتے ہیں ۔ پھر ‘‘اسلامی سکہ’’ کو خالص اور کھرا بنانے کی کوشش کی گئی اور ابن ہیبرہ نے یزید بن عبدالملک کے زمانۂ حکومت میں اور خالد قسری نے ہشام بن عبدالملک کے زمانۂ حکومت میں ‘‘سکوں’’ کو خالص کرنے کا اہتمام کیا ۔ اِس کے بعد یوسف بن عمر نے سب سے زیادہ ‘‘سکوں’’ کو خالص کیا اور کھرے کھوٹے کا امتحان مقرر کیا ۔ اِس اعتبار سے ‘‘ہیبریہ سکے’’ اور ‘‘خالدیہ سکے’’ اور ‘‘ یوسفیہ سکے’’ خالص ترین ‘‘نقوذبنو اُمیہ’’ شمار کئے جاتے تھے ۔ منصور نے اپنے عہد حکومت میں یہ فرمان جاری کیا کہ خراج میں سوائے اِن سکوں کے اور سکے قبول نہ کئے جائیں اور وہ پہلاسکہ‘‘ مکروہیہ’’ کے نام سے موسوم ہوا ۔اِس کی وجہ یہ ہے کہ وہ خالص نہیں تھا اور اِس وجہ سے بھی کہ اُس پر ‘‘قل ھو اﷲ احد’’منقش تھا اور لوگ اس کو ‘‘مکروہ’’ سمجھتے تھے ۔ عجمیوں کے درہم مختلف اقسام کے تھے ۔بعض چھوٹے اور بعض بڑے تھے اورمثقال کا کوئی وزن مقرر نہیں تھا ۔ بعض بیس قیراط کے تھے اور بعض بارہ قیراط کے تھے اور بعض دس قیراط کے تھے ۔ اِس سب کو جمع کرنے پر بیالیس قیراط ہوتے تھے ۔ پس اس کے ‘‘ثلث’’ یعنی چودہ قیراط پر عربی درہم مضروب ہوا ۔ اس حساب سے ہر دس درہم سات مثقال کے برابر ہوئے ۔ بعض کا بیان ہے کہ حضرت مصعب بن زبیر نے اپنے بھائی حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے دور ِ حکومت میں درہم مضروب کرائے تھے لیکن صحیح یہی ہے کہ عبدالملک بن مروان نے ہی اسلام میں سب سے پہلا ‘‘اسلامی سکہ’’ جاری کیا ۔ 

ھ76 ھجری کا اختتام

ھ 76 ھجری ختم ہوا تو عبدالملک بن مروان اور حجاج بن یوسف دونوں کے لئے شبیب بن یزید خارجی ہوا بنا ہوا تھا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِ س سال مروان بن محمد بن مروان بن حکم پیدا ہوا جو ‘‘مروان الحمار’’ کہلاتا تھا ۔ یہ بنو اُمیہ کا آخری بادشاہ ثابت ہوا تھا کیونکہ اِسی کے عہد میں خاندان ‘‘بنو عباس’’ نے خاندان ‘‘بنو اُمیہ ’’ سے حکومت چھین لی تھی جیسا کہ انشاء اﷲ آگے ذکر آئے گا ۔ اِس سال عبد الملک بن مروان نے ماہ رجب المرجب میں ابان بن عثمان بن عفان کو مدینۂ منورہ کا گورنر بنایا اور اُس نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔ ملک عراق کا گورنر حجاج بن یوسف تھا اور خراسان کا گورنر امیہ بن عبداﷲ تھااور ملک مصر کا گورنر عبدالعزیز بن مروان تھا۔ 


حضرت زہیر بن قیس بلوی کا انتقال


اِس سال 76 ھجری میں حضرت زہیر بن قیس بلوی شہید ہوئے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں :حضرت زہیر بن قیس بلوی ملک مصر کی فتح میں شامل تھے اور ایک مدت تک وہیں قیام پذیر رہے ۔ ملک مصر کے گورنر عبدالعزیز بن مروان نے برقہ میں پڑاؤ ڈالا اور وہیں اپنے لشکر کو رومیوں سے جنگ کرنے کا حکم دے دیا ۔ اِس حکم کے مطابق حضرت زہیر بن قیس اپنے چالیس ساتھیوں کو لیکر رومیوں کی طرف بڑھے ۔ پھر انہوں نے اپنے لشکر کے آنے تک رُکنے کا ارادہ کیا تو اُن کے ساتھیوں نے کہا : ‘‘ انتظار کی ضرورت نہیں ہے اور ہمیں ہی پہل کرنی چاہیئے ۔’’ بہر حال انہوں نے دشمن پر حملہ کردیا اور پورے چالیس

 شہید ہو گئے ۔ اِن کے سپہ سالار حضرت زہیر بن قیس بھی شہید ہو گئے ۔

ھ77 ھجری :شبیب بن یزید خارجی کی پیش قدمی


اِس سال 77 ھجری کا پورا سال عبدالملک بن مروان اور حجاج بن یوسف خوارج سے لڑتے رہے ۔ ایک طرف نیشا پور میں خوارج مسلسل مسلمانوں سے جنگ کر رہے تھے اور مہلب بن ابی صفرہ مسلسل اُن کے ساتھ حالت جنگ میں تھا ۔ دوسری طرف شبیب بن یزید خارجی مسلسل مملکت اسلامیہ کے علاقوں پر اپنی پیش قدمی جاری رکھے ہو ئے تھا اور اُس کی وجہ سے حجاج بن یوسف بہت زیادہ پریشان تھا ۔ وہ مسلسل لشکر پر لشکر شبیب بن یزید کے مقابلے پر بھیج رہا تھا اور اُسے مسلسل شکست کی اطلاع مل رہی تھی ۔ یہاں تک کہ حجاج بن یوسف نے عبدالملک بن مروان سے شامی لشکر بھیجنے کی درخواست کی ۔ عبدالملک بن مروان نے بھی شامی لشکر بھیج دیا ۔ 


حضرت زہرہ بن حویہ رضی اﷲ عنہ کا مشورہ


حجاج بن یوسف مسلسل خارجیوں کی سرکوبی میں مصروف تھا اور مسلمانوں کو جمع کر کے شبیب بن یزید سے لڑنے کے لئے اُبھا رہا تھا کہ حضرت زہرہ بن حویہ رضی اﷲ عنہ جن کی عُمر سو سال سے زیادہ ہو چکی تھی نے اُسے مشورہ دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت زہرہ بن حویہ رضی اﷲ عنہ جو ایک انتہائی بزرگ آدمی تھے اور بغیر سہارے کے کھڑے نہیں ہو سکتے تھے ۔( حضرت زہرہ بن حویہ رضی اﷲ عنہ آپ کو یاد ہوں گے ۔ جب خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کو سپہ سالار اعظم بنا کر ملک عراق بھیجا تھا تو اُس لشکر کے ‘‘مقدمۃ الجیش’’ کے کمانڈر حضرت زہرہ بن حویہ رضی اﷲ عنہ تھے ۔ انہوں نے پورے ‘‘سلطنت فارس’’ کی فتح میں اہم کردار ادا کیا تھا اور ہر جنگ میں آگے آگے تھے ۔ یہ وہی حضرت زہرہ بن حویہ ہیں) کھڑے ہوئے اور فرمایا: ‘‘ اے سردار! اﷲ آپ کو نیک توفیق دے ! اِس وقت جس قدر لشکر آپ نے دشمن کے مقابلے پر روانہ کئے ہیں وہ چھوٹے چھوٹے تھے ۔ اب آپ یہاں سے ایک بڑا لشکر دشمن کے مقابلے پر بھیجیں اور ایسے شخص کو سپہ سالار بنائیں جو بہادر ، صابر ، تجربہ کار اور میدان جنگ سے بھاگنے کو ذلت و عار سمجھتا ہو اور ثابت قدم رہنے والے کی بزرگی کو سمجھنے والا ہو۔’’


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!


Saltanat e Umayya part 38


 ا38 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 38

حضرت زہرہ بن حویہ کی شہادت، شبیب خارجی کے مقابلے پر حجاج بن یوسف، شبیب بن یزید کی شکست، شبیب بن یزید کا قتل، خوارج کی پسپائی، خوارج میں اختلاف، خوارج کی کرمان سے پسپائی، ا77 ھجری کا اختتام، ا78 ھجری کی شروعات، مہلب بن ابی صفرہ کی عزت افزائی، مہلب بن ابی صفرہ خراسان کا گورنر، حضرت جابر بن عبداﷲ انصاری رضی اﷲ عنہ کا انتقال، قاضی حضرت شریح بن حار ث کا انتقال، چند اور اعیان کا انتقال، ا79 ھجری : ترک بادشاہ رتبیل پر حملہ، چند اور اعیان کا انتقال، ا79 ھجری : ترک بادشاہ رتبیل پر حملہ، شریح بن ہانی کی شہادت 


حضرت زہرہ بن حویہ کی شہادت


جو سپہ سالار ہو گا اُس کے ساتھ ساتھ رہوں گا اور اُسے مشورہ دیتا رہوں گا۔ ’’ حجاج بن یوسف نے کہا: ‘‘ اﷲ آپ کو اول اور آخر اسلام میں نیک جزائے خیر عطا فرمائے ۔ آپ نے نہایت ہی مخلصانہ بات کی ہے اور سچ کہا ۔ میں ابھی ایک بڑے لشکر کو بھیجتا ہوں ۔ اے لوگ! تم سب کے سب روانہ ہو جاؤ ۔ تمام لوگ روانہ ہو گئے لیکن کسی کو معلوم نہیں تھا کہ سپہ سالار کون ہے۔ ھجاج بن یوسف نے اِس لشکر کا سپہ سالار عتاب بن ورقہ کو بنا کر بھیجا ۔ جب شبیب بن یزید خارجی سے مقابلہ ہوا تو زبردست جنگ ہوئی اور حضرت زہرہ بن حویہ اور عتاب بن ورقا کے اکثر ساتھی میدان چھوڑ کر بھا گ گئے تو عتاب بن ورقہ نے کہا: ‘‘ کاش اِس تمام لشکر کے بجائے میرے پاس پانچ سو تمیمی بہادر ہوتے تو پھر میں دشمنوں کو مزا چکھاتا ۔کیا اِن میں سے ایک بھی نہیں ہے جو دشمن کے مقابلے پر ثابت قدم رہے ،کیا ایک بھی اپنی جان کی قربانی کے لئے تیار نہیں؟’’ مگر کسی نے کچھ نہیں کہا اور اُسے دشمن کے نرغے میں چھوڑ کر بھاگ گئے ۔حضرت زہرہ بن حویہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا: ‘‘ اے عتاب بن ورقا! تم نے وہی کیا جو ایک اولوالعزم کو کرنا چاہیئے ۔مجھے توقع ہے کہ اﷲ تعالیٰ ہمیں شہادت کے درجہ پر فائز کرنا چاہتا ہے ۔’’ اِسی دوران شبیب بن یزید نے زبردست حملہ کیا اور عتاب بن ورقا لڑتے ہوئے شہید ہو گیا ۔ حضرت زہرہ بن حویہ رضی اﷲ عنہ نے بھی مقابلہ کیا لیکن بہت ضعیفی وجہ سے دشمن پر حاوی نہیں ہو سکے اور دشمنوں نے چاروں طرف سے وار کر کے شہید کر دیا ۔ 


شبیب خارجی کے مقابلے پر حجاج بن یوسف


حضرت زہرہ بن حویہ رضی اﷲ عنہ اور عتاب بن ورقا کی شہادت کا حجاج بن یوسف کو بہت غم ہوا اور اِسی دوران ملک شام سے بھی لشکر آگیا تو حجاج بن یوسف خود شبیب بن یزید کے مقابلے پر نکلا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اب حجاج بن یوسف نے خود جنگ لڑنے کا فیصلہ کر لیا ۔اِسی دوران شبیب بن یزید بھی چلکر ‘‘صراط’’ کے مقام پر پہنچ گیا تھا ۔ حجاج بن یوسف شامیوں کا لشکر لیکر نکلا ۔ جب دونوں فریقوں کا سامنا ہوا تو حجاج بن یوسف نے اہل شام کے لشکر کو مخاطب کر رکے کہا: ‘‘ اے اہل شام! تم اطاعت گذار ہو ، احکام کو سننے اور ماننے والو ہو ، صبرو یقین کے حامل ہو ۔ اِن مردود اور حق کو نہ ماننے والے باطل پرستوں کو تم پر غالب نہیں آنا چاہیئے ۔ پس اپنی سواریوں پر جمے رہو اور نیزے لیکر آگے بڑھو۔’’ یہ سن کر شامی لشکر آگے بڑھا ۔ اب شبیب بن یزید نے اپنے لشکر کے تین حصے کئے ۔ ایک حصہ اپنے پاس رکھا ، دوسرے حصے کا کمانڈر سوید بن اسلم کو بنایا اور تیسرے حصے کا کمانڈر مجلل بن وائل کو بنایا اور سب سے پہلے سوید کو حملہ کرنے کا حکم دیا تو اُس نے حجاج بن یوسف کے لشکر پر حملہ کر دیا ۔ شامیوں نے قریب آنے دیا اور ایک ساتھ حملہ کر دیا تو سوید بن اسلم کو پیچھے ہٹنا پڑا ۔ اِس پر حجاج بن یوسف نے بلند آواز سے کہا: ‘‘ اے اہل شام! تم بات سننے والے اور اطاعت کرنے والے ہو ،اِسی طرح حملہ کرتے رہو۔ ’’ اِس کے بعد حجاج بن یوسف ایک کرسی پر آگے آیا تو شبیب بن یزید نے اپنے دوسرے کمانڈر مجلل بن وائل کو حملہ کرنے کا حکم دیا لیکن حجاج بن یوسف کے لشکر نے ثابت قدمی سے مقابلہ کیا اور چاروں طرف تیروں اور نیزوں کی بارش ہونے لگی اور زبردست جنگ ہونے لگی ۔اِسی دوران شبیب بن یزید نے بھی اپنے لشکر کے ساتھ حملہ کر دیا لیکن اہل شام نے اتنی زبردست تیر اندازی کی کہ شبیب بن یزید اور مجلل بن وائل کے لشکر کو پیچھے ہٹنا پڑا ۔ 


شبیب بن یزید کی شکست


میدان جنگ میں زبردست مقابلہ ہو رہا تھا اور دونوں سپہ سالار نئے نئے داؤ چل رہے تھے ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : جب شبیب بن یزید نے اہل شام کا صبر و اسقلال دیکھا تو اُس نے سوید بن اسلم سے کہا کہ اپنے گھوڑوں سے حجاج بن یوسف کے لشکر کے عقب سے حملہ کرو اور ہم اُس کے سامنے سے حملہ کریں گے ۔ سوید نے ایسا ہی کیا لیکن کامیاب نہیں ہوسکا ۔ اِس کی وجہ یہ تھی کہ حجاج بن یوسف نے پہلے ہی سے تین سو سوار کا دستہ دے کر عروہ بن مغیرہ کو تعینات کر رکھا تھا ۔ حجاج بن یوسف خود بھی ایک ‘‘ماہر حرب’’ تھا اور وہ اِن جنگی داؤ پیچ اور گھات سے خوب واقف تھا ۔ یہ دیکھ کر شبیب نے اپنے لشکر کو حملہ کے لئے حکم دیا جسے حجاج بن یوسف بھانپ گیا تھا ۔اِس لئے اُس نے اہل شام کی ہمت بڑھائی اور ایک ساتھ حملہ کرنے کا حکم دیا اور انہوں نے ایسا ہی کیا اور شبیب کے لشکر پر شدید حملہ کیا ۔جس کی وجہ سے شبیب نے اپنے ساتھیوں کو گھوڑے سے اُتر کر جنگ کرنے کا حکم دیا ۔ حجاج اپنی جگہ سے دونوں لشکروں کو دیکھ رہا تھا ۔ پھر اُس نے خالد بن عتاب کو حکم دیا کہ خاص شبیب پر حملہ کرے اور وہ چار ہزار کا لشکر لیکر شبیب بن یزید پر ٹوٹ پڑا ۔ اور شبیب بن یزید کی بیوی غزالہ کو اور اُس کے بھائی مصاد کو قتل کر دیا ۔ اِس موقع پر شبیب کا لشکر دو حصوں میں منقسم ہو کر رہ گیا ۔ یہ دیکھ کر شبیب نے اپنے لشکر کو فرار کا حکم دیا ۔


شبیب بن یزید کا قتل


شبیب بن یزید کو شکست ہوئی اور وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ فرار ہوا اور حجاج بن یوسف کے لشکر نے تعاقب کیا لیکن شبیب بن یزید کے ساتھیوں نے ہی اُسے قتل کر دیا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : شبیب بن یزید کے لشکر کے فرار پر حجاج بن یوسف نے حکم دیا کہ جہاں بھی یہ لوگ جائیں اُن کا تعاقب کیا جائے اور اُن پر سخت دباؤ ڈال کر ہزیمت پر مجبور کیا جائے ۔ شبیب بن یزید کو اب لوگوں کی پہلی جیسی حمایت حاصل نہیں رہ گئی تھی ۔ بہر حال وہ سب فرار ہوئے اور حجاج کے سپاہی اُن کے پیچھے لگے رہے ۔ شبیب بن یزید مسلسل بھاگ رہا تھا اور اُس کے ساتھیوں کے کہنے سننے کی بھی پرواہ نہیں کر رہا تھا اور اِسی انداز میں بھاگتا رہا ۔ جب حجاج نے دیکھا کہ وہ رُک ہی نہیں رہا ہے تو اپنے لشکر سے کہا کہ شبیب بن یزید جہنم میں جائے ۔اب واپس چلو اور حجاج بن یوسف لشکر لیکر کوفہ واپس آگیا ۔ یہ دیکھ کر شبیب بن یزید پلٹ کر آیا اور کوفہ پر حملہ کردیا ۔ تین دن تک جنگ ہوتی رہی اور شبیب ہی اہل کوفہ پر حاوی تھا کئی دن کی جنگ کے بعد ایک دن صبح شبیب بن یزید اپنے ایک مخصوص دستے کے ساتھ ندی پار کر کے آنے کے لئے پل پر سے گذرنے لگا تو اُس کے لشکر کے ایک قبیلے والوں نے پل کی رسیاں کاٹ دیں اور شبیب بن یزید اپنے مخصوص دستے کے ساتھ غرق ہو گیا ۔ ڈوبنے سے پہلے اُس نے کئی غوطے کھائے اور کبھی پانی کے اوپر آتا اور کبھی نیچے چلا جاتا تھا ۔ جب خوارج کو اُس کے غرق ہو نے کا یقین ہو گیا تو انہوں نے نعرۂ تکبیر بلند کیا اور منتشر ہو کر مختلف شہروں کی طرف کوچ کر گئے ۔ حجاج بن یوسف کے کمانڈر نے شبیب بن یزید کی لاش کو پانی سے نکلوایا اور اُس کے جسم پر جو زرہ تھی اُسے اُتروا کر سینہ چاک کیا اور اُس کے مردہ ہونے کا یقین کیا۔ 


خوارج کی پسپائی


اِدھر شبیب بن یزید مسلسل حجاج بن یوسف کو پریشان کئے ہوئے تھا اور اُدھر مہلب بن ابی صفرہ مسلسل خوارج سے جنگ میں مصروف تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب حجاج بن یوسف نے عتاب بن ورقا کو مہلب بن ابی صفرہ کے لشکر سے واپس بلا لیا تو مہلب بن ابی صفرہ مسلسل ‘‘سابور’’ میں خوارج سے جنگ میں مصروف رہااور تقریباً ایک سال تک برابر خارجیوں کا مقابلہ کرتا رہا ۔ پھر مہلب بن ابی صفرہ اور خارجیوں کے درمیان ‘‘بستان’’ میں جنگ ہوئی جس میں مہلب نے انہیں کافی نقصان پہنچایا ۔ کرمان پر خارجیوں کا قبضہ تھا اور فارس پر مہلب بن ابی صفرہ کا قبضہ تھا ۔ چونکہ فارس کے علاقہ سے خارجیوں کو سامانِ خوراک نہیں مل پا رہا تھا اور وہ اپنے شہروں سے بہت دور ہو گئے تھے ۔ اِس لئے وہ سخت دقت میں مبتلا تھے اور اب اُن کی حالت ناقابل برداشت ہو گئی تھی ۔ اِس لئے انہیں مجبوراً کرمان آنا پڑا ۔ مہلب بن ابی صفرہ اُن کے تعاقب میں روانہ ہوا اور کرمان کے ایک قصبہ ‘‘جیرفت’’ میں پڑاؤ ڈالا اور اِس مقام پر وہ سال بھر سے زیادہ برابر خوارج سے جنگ کرتا رہا اور فارس کے تمام علاقے سے انہیں نکال دیا ۔ جب یہ تمام علاقہ مہلب بن ابی صفرہ کے قبضہ میں آگیا تو حجاج بن یوسف نے اِن علاقوں کو مہلب بن ابی صفرہ سے لیکر اپنے گورنر کو دے دیئے ۔ اِس قضیہ کی اطلاع عبدالملک بن مروان کو ہوئی تو اُس نے حجاج بن یوسف کو خط لکھا کہ فارس کے کوہستانی علاقے کا خراج مہلب بن ابی صفرہ کے ہاتھ میں دے دوکیونکہ لشکر کے لئے اخراجات کی ضرورت ہے اور سپہ سالار کی بھی اسی طرح امداد کرنا ضروری ہے ۔ اِس کے علاوہ فساء اور ورد ، ابجرد اور اصطخر کی جاگیریں بھی دے دی جائیں ۔ حجاج بن یوسف نے اِس حکم کی تعمیل میں یہ سب علاقے مہلب بن ابی صفرہ کے حوالے کر دیئے اور اُس نے اُن علاقوں میں اپنے گورنر بھیج دیئے ۔ یہ سب علاقے دشمن سے مقابلہ کے لئے اُن کی ضروریات پوری کرتے تھے ۔ 


خوارج میں اختلاف


خوارج سے مہلب بن ابی صفرہ مقابلہ کر رہا تھا کہ خوارج میں آپس میں اختلاف ہو گیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : مہلب بن ابی صفرہ مسلسل آٹھ مہینوں تک وہیں خوراج سے مقابلہ کرتا رہا ۔ جب بھی خوارج نے مہلب بن ابی صفرہ اور اُس کے لشکر پر اپنی کمین گاہ سے حملہ کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے ہمیشہ تیروں اور تلواروں سے انہیں زک دی ۔ خوارج کا سربراہ ‘‘قطری’’ تھا اور اُس کی طرف سے کرمان پر

 مقرر گورنر نے خوارج کے ایک بہادر سردار کو قتل کردیا ۔ تمام خوارج نے اپنے سربراہ قطری سے مطالبہ کیا کہ اُس گورنر کو ہمارے حوالے کردو تاکہ ہم اپنے ساتھی کے بدلہ میں اُسے قتل کر ڈالیں ۔ قطری نے اُس گورنرکو اُن کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا اور یہ واقعہ خوارج میں اختلاف کا سبب بنا۔ خوارج نے قطری کو چھوڑ دیا ‘‘عبد رب کبیر’’ کو اپنا سربراہ بنا لیا۔ ایک جماعت نے قطری کا ساتھ دیا ۔ اب خوارج کے دونوں گروپ آپس میں لڑنے لگے ۔ یہ مقابلہ لگ بھگ ایک مہینے تک چلتا رہا ۔


خوارج کی کرمان سے پسپائی


ایک مہینے تک خوارج کے دونوں گروپ میں شدید جنگ ہوتی رہی اور مہلب بن ابی صفرہ خاموشی سے تماشا دیکھتا رہا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : خوارج کی آپسی جنگ کی اطلاع مہلب بن ابی صفرہ نے حجاج بن یوسف کو دی تو اُس نے کہا کہ اچھا موقع ہے تم بھی خوارج پر حملہ کردو ۔ لیکن مہلب نے کہا کہ جب یہ دونوں آپس میں لڑ کر کمزور ہو جائیں گے تب حملہ کروں گا ۔ حجاج بن یوسف خاموش ہو گیا اور مہلب بن ابی صفرہ بھی خاموش بیٹھا تماشا دیکھتا رہا ۔ خوارج اِسی طرح ایک مہینے تک جنگ میں مصروف رہے ۔ اِس کے بعد قطری اپنے ساتھیوں کو لیکر ‘‘طبرستان’’چلا گیا ۔ باقی کے خوارج پر مہلب بن ابی صفرہ نے زبردست حملہ کر دیا ۔ خوارج آپسی لڑائی میں بہت کمزور ہو چکے تھے پھر بھی ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہا لیکن انہیں شکست ہوئی اور بہت سے قتل ہوئے اور تھوڑے بہت بچے تو وہ کرمان چھوڑ کر بھاگ گئے ۔ اُدھر قطری اپنے ساتھیوں کے ساتھ طبرستان پہنچا تو حجاج بن یوسف نے سفیان بن ادبر کو لشکر دیکر اُس کے مقابلے پر روانہ کیا ۔ اُس نے طبرستان میں قطری خارجی کے لشکر پر حملہ کردیا اور اُسے فتح ہوئی ۔ قطری خارجی بھاگ گیا لیکن ایک گنوار نے اُسے قتل کردیا ۔


ا77 ھجری کا اختتام


ا77 ھجری کے خاتمے پر پوری مملکت اسلامیہ میں وہی گورنر تھے جو پچھلے سال تھے ۔ اِس سال کے اختتام تک خوارج کی اچھی خاصی تعداد قتل ہو چکی تھی اور وہ منتشر ہو کر الگ الگ شہروں میں چلے گئے تھے لیکن ابھی اُن کی طاقت مکمل طور سے ختم نہیں ہوئی تھی ۔ 


ا78 ھجری کی شروعات


ا78 ھجری کی شرعات تک مہلب بن ابی صفرہ خوارج سے فارغ ہو چکا تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِ س سال 78 ھجری میں ولید بن عبدالملک موسم گرما کی مہم لیکر رومیوں سے جہاد کرنے گیا ۔ اِس سال عبدالملک بن مروان نے امیہ بن عبداﷲ کو خراسان کی گورنری سے برطرف کر دیا اور خراسان اور سجستان کا گورنر بھی حجاج بن یوسف کو بنا دیا اور اُس نے دونوں صوبوں پر اپنے ،اتحت گورنر مقرر کر دیئے ۔


مہلب بن ابی صفرہ کی عزت افزائی


کئی سال تک مسلسل خوارج سے جنگ کرنے کے بعد اِس سال  78 ھجری میں مہلب بن ابی صفرہ فاتح کی حیثیت سے اپنا لشکر لیکر کوفہ واپس آیا ۔حجاج بن یوسف نے مہلب بن ابی صفرہ کا شاندار استقبال کیا اور اپنے برابر تخت پر بٹھایا ۔ حجاج بن یوسف نے حکم دیا کہ مہلب بن ابی صفرہ کے لشکر میں سے جن جن لوگوں نے دشمن کے مقابلے میں نمایاں اور قابل قدر خدمات انجام دی ہیں انہیں میرے سامنے پیش کیا جائے ۔ مہلب بن ابی صفرہ لوگوں کو پیش کرتا جاتا تھا اور جس شخص کی تعریف کرتا تھا تو حجاج بن یوسف اُس کی تصدیق کرتا جاتا تھا ۔ اُس نے اُن لوگوں کو انعام دیا ،تنخواہوں میں اضافہ کیا اور سواریاں بھی عطا کیں اور کہا: ‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے عمل سے سلطنت کی حمایت کی ہے اور یہ اِس بات کے مستحق ہیں کہ انہیں انعام و اکرام دیا جائے ۔ یہ سرحدوں کے محافظ ہیں اور وہ بہادر ہیں جن سے دشمن جلتے اور خار کھاتے ہیں ۔’’ 


مہلب بن ابی صفرہ خراسان کا گورنر


مہلب بن ابی صفرہ کی خدمات کے صلہ میں حجاج بن یوسف نے اُسے خراسان کا گورنر بنا دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حجاج بن یوسف نے مہلب بن ابی صفرہ کو خراسان اور سجستان کا گورنر مقرر کر دیا ۔ اِس پر مہلب بن ابی صفرہ نے کہا : ‘‘ میں آپ کو ایک ایسا شخص بتاتا ہوں جو سجستان کے حالات سے مجھ سے زیادہ واقف ہے اور جو کابل اور زاہل کا عامل رہ چکا ہے ۔ وہ اِن صوبوں کا افسر مال تھا اور ان سے لڑ بھی چکا ہے اور صلح بھی کر چکا ہے ۔ حجاج بن یوسف نے پوچھا: ‘‘ کہیئے ! وہ کون شخص ہے؟’’ مہلب نے کہا : ‘‘ عبید اﷲ بن ابی بکرہ ۔’’ حجاج بن یوسف نے اُس کی تجویز منظور کر لی اور مہلب بن ابی صفرہ کو خراسان کا اور عبید اﷲ بن ابی بکرہ کو سجستان کا گورنر بنا دیا ۔ اُس وقت خراسان اور سجستان کا گورنر امیہ بن خالد تھا ۔ یہ براہ راست عبدالملک بن مروان کے ماتحت تھا اور حجاج کا کوئی دخل نہیں تھا ۔ لیکن اب عبدالملک بن مروان نے امیہ بن خالد کو معزول کر دیا اور دونوں علاقے حجاج بن یوسف کے ماتحت کر دیئے تھے ۔ پھر مہلب بن ابی صفرہ خراسان روانہ ہو گیا ۔ 


ا78 ھجری کا اختتام


ا78 ھجری میں کوئی ایسا بڑا خاص وقعہ پیش نہیں آیا اور مملکت اسلامیہ میں عام طور سے امن رہا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 78 ھجری میں مسلمانوں کو رومی شہروں میں جنگیں کرنا پڑیں ۔ سب سے پہلے انہوں نے اس علاقہ میں ‘‘اعقیلہ’’ فتح کیا اور جب اُس کو فتح کر کے واپس آرہے تھے اُن کو سخت ژالہ باری اور شدید بارش کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے سردی بڑھ گئی اور بہت سے مسلمان مجاہدین اس کی بھینٹ چڑھ گئے ۔ اِس سال عبدالملک بن مروان نے موسیٰ بن نصیر کو ‘‘کُل بلاد مغرب ’’ میں جنگوں کا سپہ سالار اور انچارج بنا کر ‘‘طنجہ’’ بھیجا اور اُس نے اِس مہم کے ‘‘مقدمۃ الجیش’’ یعنی ہر اول کا کمانڈر طارق بن زیاد کو بنایا ۔ اِس سال عبدالملک بن مروان نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔ 


حضرت جابر بن عبداﷲ انصاری رضی اﷲ عنہ کا انتقال


اِس سال 78 ھجری میں مشہور صحابی حضرت جابر بن عبداﷲ انصاری رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا۔آپ رضی اﷲعنہ کی کئی روایتیں امام بخاری نے اپنی صحیح میں بیان کی ہیں ۔حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ کے والد محترم بھی صحابی ہیں۔ آپ رضی اﷲ عنہ کی پھوپھی ، پھوپھا اور پھوپھا ذاد بھائی بھی صحابی ہیں ۔ آپ رضی اﷲ عنہ اور آپ رضی اﷲ عنہ کے والد ِ محترم نے ساتھ میں اسلام قبول کیا ۔ غزوہ اُحد میں دونوں باپ بیٹے شریک ہوئے تھے اور اُن کے والد ِ محترم حضرت عبداﷲ بن عمرو بن حرام رضی اﷲ عنہ نے غزوۂ اُحد سے ایک دن پہلے اُن سے فرمایا: ‘‘ بیٹے مجھے لگتا ہے کہ کل میں شہید ہو جاؤں گا ۔ اِس لئے کل تم جنگ میں حصہ نہیں لینا اور اپنی بہنوں کا خیال رکھنا۔’’ حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ کی سات یا نو بہینیں تھیں ۔ غزوۂ اُحد کے وقت آپ رضی اﷲ عنہ بالکل نوعُمر تھے اور اُسی غزوہ میں اُن کے والدِ محترم شہید ہوگئے تو اُن کی لاش کا کافروں نے مُثلہ کیا تھا ۔ ایسی حالت دیکھ کر آپ رضی اﷲ عنہ رونے لگے تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے انہیں گلے سے لگایا اور فرمایا: ‘‘ اﷲ تعالیٰ نے تمھارے والدِ محترم کو ایک ‘‘خصوصی اعزاز’’ یہ عطا فرمایا ہے کہ ہر ایک سے پردے میں بات کرتا ہے لیکن تمہارے والدِ محترم سے بے پردہ بات کی ہے۔’’ اپنی بہنوں کی دیکھ بھال کے لئے آپ رضی اﷲ عنہ نے بڑی عُمر کی عورت سے نکاح کیا ۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم بڑی محبت سے پیش آتے تھے اور آپ رضی اﷲ عنہ کا اونٹ چالیس درہم میں خریدا اور پھر اونٹ تحفے میں آپ رضی اﷲ عنہ کو دے دیا ۔ اُن چالس درہم میں اﷲ تعالیٰ نے بہت زیادہ برکت عطا فرمائی ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 78 ھجری میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے صحابی حضرت جابر بن عبداﷲ بن عمرو بن حرام انصاری سلمی کا انتقال ہوا۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے بہت سی احادیث بھی روایت کی ہیں ۔آپ رضی اﷲ عنہ ‘‘بیعت عقبہ’’ میں موجود تھے اور غزوۂ بدر میں شرکت کے خواہش مند تھے مگر اُن کے والدِ محترم نے اُن کو شرکت سے منع کر دیا تھا ۔ آپ رضی اﷲ عنہ کے نو بہن بھائی تھے ۔ یہ کہا جاتا ہے کہ انتقال سے قبل بصرہ چلے گئے تھے ۔ حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ کا انتقال مدینۂ منورہ میں ہوا اور اُس وقت آپ رضی اﷲ عنہ کی عُمر چورانوے(94) سال تھی ۔ آپ رضی اﷲ عنہ سے ایک ہزار بانچ سو چالیس (1540) احادیث کی روایت منسوب ہے ۔


قاضی حضرت شریح بن حار ث کا انتقال


اِس سال مشہور قاضی تابعی حضرت شریح بن حارث کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : یہ قیس بن ابو امیہ کندی کے بیٹے ہیں اور کوفہ کے ‘‘عہدۂ قضا’’(سُپریم کور ٹ کے جج کا عہدہ) پر مامور تھے یعنی قاضی تھے ۔ خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے زمانے میں کوفہ کے قاضی بنے اور خلیفۂ سُوم اور خلیفۂ چہارم کے دورِ خلافت میں بھی کوفہ کے قاضی رہے ۔ بعد میں خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے انہیں معزول کر دیا تھا لیکن حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے اپنے دورِ حکومت میں انہیں پھر سے کوفہ کا قاضی بنا دیا اور آپ اپنے انتقال تک قاضی رہے ۔ مشہور ہے کہ آپ کو ‘‘منصب قضا’’ کی تنخواہ سو درہم ملتی تھی لیکن کچھ مورخین کے مطابق پانچ سو درہم ملتی تھی ۔ جب آپ فیصلہ کرنے کے لئے گھر سے نکلتے تھے تو یہ فرماتے جاتے تھے :‘‘ اب ظالم کو پتہ چل جائے گا کہ اُس نے کس کا حق مارا ہے ۔’’ یہ بھی مشہور ہے کہ جب فیصلہ کرنے بیٹھتے تھے تو قرآن پاک کی یہ آیت تلاوت فرماتے تھے :‘‘ ترجمہ؛ ہم نے تجھے زمین پر خلیفہ بنایا ۔پس تُو لوگوں کے مابین انصاف سے فیصلہ کر اور اپنی خواہش کی پیروی نہ کر۔’’ وہ یہ بھی کہا کرتے تھے :‘‘ ظالم سزا کا منتظر ہے اور مظلوم مدد کا منتظر ہے۔’’ کہا جاتا ہے کہ آپ ستر سال تک ‘‘عہدۂ قضا’’ پر مامور رہے لیکن بعض لوگوں کے مطابق انہوں نے اپنے انتقال سے پہلے استعفیٰ دے دیا تھا ۔واﷲ و اعلم۔آپ اصلاً ایرانی النسل تھے جن کے اسلاف یمن میں آکر آباد ہو گئے تھے اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے بعد شریح بن حارث مدینۂ منورہ آگئے تھے لیکن انتقال کوفہ میں ایک سو آٹھ سال کی عُمر میں ہوا۔


چند اور اعیان کا انتقال


اِس سال 78 ھجری میں عبداﷲ بن اشعری کا انتقال ہوا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں :‘‘‘ عبداﷲ بن اشعری فلسطینی مہمان تھے ۔ صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کی ایک جماعت سے انہوں نے احادیث کی روایت کی ہیں ۔ ان کے متعلق یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اِن کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی صحبت کا شرف حاصل تھا ۔ اِن کو خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے ملک شام کی طرف بھیج دیا تاکہ وہاں کے لوگوں کو فقہ کی تعلیم دیں ۔ یہ صالحین اور متقی لوگوں میں سے تھے ۔ اِس سال 78 ھجری میں جنادہ بن امیہ ازدی کا انتقال ہوا ۔ یہ ملک مصر کی فتح میں شامل تھے اور حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے کی طرف سے بحری جنگ میں سپہ سالار تھے ۔ یہ شجاکانہ کارناموں اور سخاوت کے لئے بھی مشہور تھے ۔ اِن کا ملک شام میں اسی (80) سال کی عُمر میں انتقال ہوا ۔ 78 ھجری میں علا بن زیاد بصری کا بھی انتقال ہوا ۔ یہ بصرہ کے صالحین میں سے شمار ہوتے تھے ۔ اِن میں اﷲ کا خوف اور تقویٰ بہت تھا ۔ اپنے گھر میں ہی زیادہ تر اپنا وقت تنہائی میں گزارتے تھے اور بہت کم لوگوں سے ملتے تھے ۔ ہر وقت روتے رہتے تھے حتٰی کہ زیادہ رونے کی وجہ سے اندھے ہو گئے تھے ۔ 


ا79 ھجری : ترک بادشاہ رتبیل پر حملہ


اِس سال 79 ھجری میں عبیداﷲ بن ابی بکرہ نے رتبل پر حملہ کیا ۔ اِس کی وجہ یہ ہوئی کہ رتبیل مسلمانوں کو جو خراج دیتا تھا وہ اُس نے دینا بندکر دی تھی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : رتبل سے مسلمانوں کی صلح تھی اور وہ مسلمانوں کو خراج ادا کیا کرتا تھا ۔اکثر وہ خراج دینا بند کردیتا تھا ۔ اِس بار جب اُس نے خراج ادا نہیں کیا تو حجاج بن یوسف نے سجستان کے گورنر عبیداﷲ بن ابی بکرہ کو حکم دیا کہ وہ رتبیل پر حملہ کرے اور جب تک اُس کے علاقوں کو فتح نہ کر لینا تب تک واپس نہیں آئے۔ عبیداﷲ بن ابی بکرہ لشکر لیکر روانہ ہوا ۔اُن میں اہل کوفہ کا کمانڈر شریح بن ہانی تھا اور اہل بصرہ کا سپہ سالار خود عبیداﷲ بن ابی بکرہ تھا ۔ عبیداﷲ بن ابی بکرہ اپنے لشکر کو لیکر رتبیل کے علاقے میں گھسا اور

 جس قدر مویشی اور دوسرے مال و متاع ہاتھ لگے اُن سب پر قبضہ کر لیا ۔ قلعوں اور قلعہ بند شہروں کی فصیلوں کو توڑ دیا ۔ اور رتبیل کے اکثر علاقوں پر قبضہ کر لیا ۔ رتبیل کے لشکر میں ترک تھے انہوں نے یہ طرز عمل اختیار کیا کہ مسلمانوں کے علاقہ میں مسلسل پیچھے ہٹے چلے گئے اور علاقہ پر علاقہ خالی کرتے چلے گئے ۔ اِس طرح جب مسلمانوں کا لشکر بہت دور اندرون ملک میں ایسے مقام پر پہنچ گیا جہاں سے ترکوں کا دارالحکومت صرف اٹھارہ فرسخ کے فاصلہ پر تھا تو اب ترکوں نے مسلمانوں کو پہاڑوں کے دروں میں اور پُر پیچ گھاٹیوں میں گھیر لیا اور تمام تجارتی منڈیاں اور قصبات مسلمانوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیئے اور تمام قصبات نے مسلمانوں کے سامنے سر اطاعت خم کر دیا ۔ 


شریح بن ہانی کی شہادت 


مسلمانوں کو ترکوں نے چاروں طرف سے گھیر لیا تھا جس کی وجہ سے وہ پریشان ہو گئے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اب مسلمانوں کو یہ خیال پیدا ہوا کہ ہم اِن پہاڑوں میں گھر چکے ہیں اور ہماری تباہی یقینی ہے ۔ اِس خطرہ کو محسوس کر کے عبیداﷲ بن ابی بکرہ نے رتبیل سے سات لاکھ درہم پرصلح کر لی ۔ یہ دیکھ کر شریح بن ہانی نے :‘‘ تم نے جو زر تاوان ادا کیا ہے ۔امیرالمومنین اسے تم لوگوں کی تنخواہوں میں سے کاٹ لیں گے ۔’’ عبیداﷲ بن ابی بکرہ نے کہا: ‘‘ اگر ہم زندہ ہی نہ رہے تو ہماری تنخواہیں بند ہو جائیں گی تو ہم اپنی تنخواہوں کے بند ہونے کے بجائے وضع کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔’’ شریح نے کہا: ‘‘ میری عُمر پوری ہو چکی ہے اور میرے لئے زندگی کا کوئی مزہ نہیں باقی رہا ۔میں عرصہ دراز سے شہادت کا خواہشمند رہا ہوں اور اگر آج مجھے شہادت نصیب نہیں ہو گی تو میں سمجھتا ہوں کہ پھر یہ درجہ کبھی نہیں حاصل نہیں ہو گا ۔’’اِس کے بعد شریح بن ہانی نے مسلمانوں کو مخاطب کر کے پکارا :‘‘ دشمن پر حملہ کرو۔’’ عبیداﷲ بن ابی بکرہ نے کہا: ‘‘ تم تو بوڑھے ہو گئے ہو اور سٹھیا گئے ہو۔’’ شریح بن ہانی نے کہا :‘‘ بس اب تم خاموش رہو ۔کیا تم یہ پسند کروگے کہ لوگ کہیں کہ یہ عبیداﷲ کا باغ ہے اور یہ اُس کا حمام ہے۔’’ اِس کے بعد شریح بن ہانی نے مسلمانوں سے کہا: ‘‘ جو لوگ شہادت کا درجہ حاصل کرنا چاہتے ہوں وہ میرے پاس آجائیں ۔’’ کچھ مسلمان اُس کے ساتھ ہوگئے اور دشمن سے جنگ میں مصروف ہو گئے اور لگ بھگ سبھی شہید ہو گئے ۔اِن میں سے جو زندہ بچے وہ علاقہ چھوڑ کر واپس جیسے تیسے مسلمانوں کے علاقے میں آئے ۔ مسلمانوں نے انہیں کھانا دیا تو جس نے بھی پیٹ بھر کا کھانا کھایا وہ مر گیا ۔ اِس لئے مسلمان انہیں کھانا دینے سے ڈرنے لگے ۔ پھر انہیں تھوڑا تھوڑا مکھن کھلاتے رہے اور جب اُن کی قوت ہاضمہ عود کر آئی تو کھانا دیا ۔ 

Saltanat e Umayya part 39


 ا39 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 39

ترک بادشاہ رتبیل کے متعلق خط، 79 ھجری کا اختتام، 80 ھجری : مکۂ مکرمہ میں سیلاب، کش پر حملہ، یزید بن مہلب کی واپسی، حبیب بن مہلب کا حملہ، اہل کش سے صلح، عبد الملک بن مروان کا رتبیل کے خلاف فرمانِ جہاد، عبدالرحمن بن اشعث سپہ سالار، عبدالرحمن بن اشعث کا رتبیل پر حملہ، عبدالرحمن بن اشعث کی دور اندیشی، عبدالرحمن بن اشعث سجستان کا گورنر، 80 ھجری کا اختتام، حضرت عبداﷲ بن جعفر بن ابی طالب رضی اﷲعنہ کا انتقال، 80 ھجری میں انتقال کرنے والی اہم شخصیات، حجاج بن یوسف کا جنگ جاری رکھنے پر اصرا ر، عبدالرحمن بن اشعث کا لشکر سے خطاب، 



ترک بادشاہ رتبیل کے متعلق خط


مسلمان رتبیل کے علاقوں میں سے بہت پریشانیوں سے واپس آئے اور جب حجاج بن یوسف کو اِس کی اطلاع ملی تو اُس نے عبدالملک بن مروان کو خط لکھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حجاج بن یوسف کو جب اِن واقعات کی اطلاع پہنچی تو اُسے رتبیل کی اگلی پچھلی حرکتیں یاد آگئیں اور یہ واقعہ تو حد کو پہنچ گیا تھا ۔ اِس لئے حجاج بن یوسف نے عبدالملک بن مروان کو حسب ذیل خط لکھا:‘‘ حمد و ثناء کے بعد! میں امیر المومنین کو مطلع کرتا ہوں کہ آپ کی جتنی فوج سجستان میں تھی وہ سب تباہ ہو گئی ہے ۔ بہت تھوڑے آدمی اُس میں سے بچے ہیں ،دشمن کو فتح حاصل ہوئی ہے ۔ اِس کی وجہ سے اُس کے حوصلے مسلمانوں کے خلاف اور بڑھ گئے ہیں۔وہ مسلمانوں کے علاقے میں گھس آیا ہے اور اُس نے مسلمانوں کے تمام قلعوں اور مستحکم قصروں پر قبضہ کر لیا ہے ۔ میرا ارادہ تھا کہ اہل بصرہ اور اہل کوفہ کی ایک زبردست فوج اُس کی سرکوبی کے لئے بھیج دوں ۔ مگر میں مناسب سمجھا کہ پہلے آپ کی رائے معلوم کی جائے ۔ پس اگر آپ لشکر بھیجنے کی اجازت فرمائیں تو میں اپنی رائے پر عمل کروں گا اور اگر آپ کا ارادہ مزید مہم بھیجنے کا نہ ہو تو آپ اپنی فوج کے مالک و مختار ہیں ۔کسی کو دخل دینے کا کیا موقع ہو سکتا ہے مگر مجھے خوف ہے کہ اگر رتبیل اور اُس کے ساتھ جو اور مشرکین کی جماعت ہے اُن کی سرکوبی کے لئے زبردست مہم نہ بھیجی گئی تو وہ اس مقام اور علاقہ پر قبضہ کر لیں گے ۔ ’’


ا79 ھجری کا اختتام


ا79 ھجری کے اختتام پر حجاج بن یوسف ملک عراق اور تمام ممالک مشرقیہ کا گورنر تھا ۔ مہلب بن ابی صفرہ خراسان کا گورنر تھا ۔ملک مصرکا گورنر عبدالعزیز بن مروان تھا ۔ مدینۂ منورہ کا گورنر ابان بن عثمان بن عفان تھا اور اِسی نے مسلمانوں کو حج کرایا۔ اِس سال کوفہ کا قاضی ابوبردہ بن موسیٰ تھا اور بصرہ کا قاضی موسیٰ بن انس تھا ۔ اِس سال ملک شام میں طاعون کی وبا اتنی شدت سے پھیلی کہ ایسا لگا کہ پوری آبادی فنا ہو جائے گی ۔ اِس وجہ سے کوئی مہم جہاد کے لئے نہیں بھیجی گئی ۔اِسی سال رومیوں نے باشندگان ِ انطاکیہ پر حملہ کر کے انہیں لوٹا اور تباہ برباد کیا ۔


ا80 ھجری : مکۂ مکرمہ میں سیلاب


اِس سال 80 ھجری میں مکۂ مکرمہ میں بہت ہی زبردست سیلاب آیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 80 ھجری میں مکۂ مکرمہ میں ایک زبردست سیلاب آیا جو تمام حجاج کو بہا لے گیا اور مکۂ مکرمہ کے تمام مکانات غرق ہو گئے ۔ اِسی وجہ سے لوگوں نے اِس سال کا نام ‘‘عام المحجاف’’ رکھا کیونکہ جہاں تک سیلاب کی رسائی تھی وہ ہر شئے کو بہا کر لے گیا ۔ ایک صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں نے اونٹ دیکھے جن پر سامان اور مرد اور عورتیں سوار تھے اور پانی انہیں بہائے لے جارہا تھا اور اُن کی بچنے کی کوئی تدبیر نہیں تھی ۔ پانی بڑھتے بڑھتے رکن کعبہ تک پہنچ گیا تھا ۔ امام واقدی کے مطابق اِس سال بصرہ میں طاعون پھیلا تھا ۔ 


کش پر حملہ


اِس سال مہلب بن ابی صفرہ نے کش پر حملہ کیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 80 ھجری میں مہلب بن ابی صفرہ نے دریائے بلخ عبور کیا اور کش پر حملہ کیا ۔ اُس کے لشکر میں زیاد بن عمرو زمانی ‘‘مقدمۃ الجیش’’ کا کمانڈر تھا اور اُس کے دستے میں تین ہزار مجاہدین تھے حالانکہ اُن کے دشمن کی تعداد پانچ ہزار تھی ۔ مگر اپنی شجاعت ، خیر خواہی اور عقل مندی کی وجہ سے زیاد بن عمرو زمانی اکیلا دو ہزار کو بھاری تھا ۔ جس وقت مہلب بن ابی صفرہ کش کا محاصرہ کئے ہوئے تھا تو اُس کے پاس ختل کے بادشاہ کا چچیرا بھائی آیا اور اُس نے بادشاہ ختل سے لڑنے کی استدعا کی ۔ مہلب بن ابی صفرہ نے اپنے بیٹے یزید بن مہلب کو اُس شہزادے کے ساتھ روانہ کر دیا ۔ 


یزید بن مہلب کی واپسی


مہلب بن ابی صفرہ نے اپنے بیٹے یزید بن مہلب کو لشکر دے کر اُس شہزادے کے ساتھ بھیجا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : یزید بن مہلب ایک مقام پر خیمہ زن ہو گیا اور ختل کے بادشاہ ( جس کانام ‘‘سبل’’ تھا)کا چچیرا بھائی دوسرے مقام پر خیمہ زن ہوا ۔ سبل نے اپنے چچرے بھائی پر شب خون مارا اور اُس کے پڑاؤ میں آکر نعرۂ تکبیر کہنا شروع کر دیا ۔ چونکہ نعرۂ تکبیر مسلمانوں کا ‘‘نعرۂ جنگ’’ تھا ۔ اِسی وجہ سے سبل کے چچرے بھائی کو خیال ہوا کہ مسلمانوں نے میرے ساتھ دھوکا کیا ۔ جبکہ واقعہ یہ تھا کہ جب شہزادے نے مسلمانوں کے لشکر سے الگ پڑاؤ ڈالا تو اُس وقت مسلمانوں کو اُس سے دھوکے کا خطرہ تھا ۔ سبل اپنے چچرے بھائی کو گرفتار کر کے قلعہ میں لے گیا اور قتل کر دیا ۔ یزید بن مہلب نے سبل کے قلعہ کا محاصرہ کر لیا ، مگر چند دن کے محاصرے کے بعد سبل نے صلح کر لی اور یزید بن مہلب نے خراج لیکر محاصرہ اُٹھا لیا اور اپنے والد مہلب بن ابی صفرہ کے پاس واپس آگیا ۔


حبیب بن مہلب کا حملہ


مہلب بن ابی صفرہ کش کا محاصرہ کئے ہوئے تھا اور اُس نے اپنے دوسرے بیٹے کو ربنجن پر حملہ کرنے کے لئے بھیجا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : مہلب بن ابی صفرہ نے اپنے ایک اور بیٹے حبیب بن مہلب کو ‘‘ربنجن’’ پر حملہ کرنے کے لئے لشکر دیکر بھیجا ۔ اُس کے مقابلہ کے لئے ‘‘بخارا’’ کا بادشاہ چالیس ہزار کا لشکر لیکر آیا ۔ کافروں میں سے جس نے بھی مبارز طلب کیا اُس کے مقابلے پر حبیب بن مہلب کا آزاد کردہ غلام ‘‘جبلہ’’ آیا اور ہر کافر کو قتل کردیا ۔ پھر جنگ شروع ہوئی اور دشمنوں کے تین سو کافروں کو قتل کردیا تو دشمن پسپا ہو گئے ۔ مسلمانوں نے اُن کا تعاقب جاری رکھا اور جب انہوں نے ایک گاؤں میں پڑاؤ ڈالا تو حبیب بن مہلب اپنے لشکر کے ساتھ اُن پر ٹوٹ پڑا اور دشمنوں کو شکست دی ۔ حبیب بن مہلب کے آزاد کردہ غلام نے گاؤں میں آگ لگا دی اور حبیب بن مہلب اپنا لشکر اور مال غنیمت لیکر واپس آگیا ۔ اِسی وجہ سے اِس مہم کا نام لوگوں نے ‘‘متحرقہ’’ رکھ دیا ۔ 


اہل کش سے صلح


مہلب بن ابی صفرہ کش کا محاصرہ کئے ہوئے تھا ۔ طویل محاصرے کے بعد اہل کش نے صلح کی درخواست کی جو مہلب بن ابی صفرہ نے قبول کر لی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : مہلب بن ابی صفرہ اپنے لشکر کے ساتھ کش کا محاصرہ کئے ہوئے تھا ، ایک روز دشمن کی فوج میں سے ایک شخص تنہا نکلا اور مسلمانوں کو لڑنے کے لئے للکارا۔ اُس کے مقابلہ پر ہریم بن عدی نکلا وہ اپنے خود پر عمامہ باندھے ہوئے تھا ۔ دونوں ایک نہر کے پاس مقابل ہوئے اور وہ مشرک کچھ دیر تک کاوا دے کر ہریم بن عدی پر حملہ کرتا رہا مگر آخر کار ہرین بن عدی نے اُسے قتل کر دیا اور اُس کے تمام ہتھیار اور لباس پر قبضہ کر لیا ۔ اِس پر مہلب بن ابی صفرہ نے کہا : ‘‘ اگر تم مارے جاتے اور تمہارے عوض دشمن کے ایک ہزار سپاہی قتل کر دیئے جاتے تو بھی وہ ایک ہزار تمہارا خوں بہا نہیں ہوتے ۔ اِسی مقام پر مہلب بن ابی صفرہ نے بنو مضر کے کچھ لوگوں سے خطرہ محسوس کیا تو انہیں قید کر لیا ۔ اہل کش نے صلح کی درخواست کی تو اُس نے قبول کر لی اور صلح کے بعد جب اپنا لشکر لیکر واپس آنے لگا تو قیدیوں کو رہا کر دیا ۔ حجاج بن یوسف کو جب اِس واقعہ کی اطلاع ملی تو اُس نے مہلب بن ابی صفرہ کو لکھا: ‘‘ اگر تم نے اُن کو کسی جرم پر قید کیا تھا تو اُن کا رہا کر دینا خلاف مصلحت ہے اور اگر بلا وجہ قید کیا تو یہ ظلم ہے ۔’’ مپہب بن ابی صفرہ نے جواباً لکھا: ‘‘ جب مجھے اُن کی جانب سے خطرہ محسوس ہوا تو میں نے قید کر لیا تھا ۔’’ قیدیوں میں عبدالملک بن ابی الشیخ قشیری بھی تھے ۔ 


عبد الملک بن مروان کا رتبیل کے خلاف فرمانِ جہاد


پچھلے سال کے آخر میں حجاج بن یوسف نے عبدالملک بن مروان سے ترک بادشاہ رتبیل کے خلاف جنگ کی اجازت مانگی تھی ۔ پچھلے سال ملک شام میں طاعون کی وبا کی وجہ سے عبدالملک بن مروان اِس معاملے پر توجہ نہیں دے سکا تھا لیکن اِس سال ۸۰ ؁ھجری میں اُس نے رتبیل کے خلاف ‘‘اعلان جہاد’’ کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال ۸۰ ؁ ھجری میں حجاج بن یوسف نے عبدالرحمن بن اشعث کو ترکوں کے بادشاہ رتبیل سے جہاد کر نے کے لئے بھیجا ۔ جب حجاج بن یوسف نے عبدالملک بن مروان کو عبیداﷲ بن ابی بکرہ کے لشکر کی تباہی کی اطلاع لکھ کر بھیجی اور جنگ کی اجازت مانگی تو اُس کے جواب میں عبدالملک بن مروان نے اپنا ‘‘فرمانِ جہاد’’ لکھ کر بھیجا :‘‘ حمد و ثناء کے بعد! مجھے تمہارا خط ملا جس میں تم نے علاقہ سجستان میں مسلمانوں کی تباہی کی اطلاع دی ہے ۔ اُسکے متعلق سنو! مسلمانوں پر جہاد تو فرض ہی ہے ۔ وہ اپنی خوب گاہوں میں چلے گئے اور اﷲ تعالیٰ انہیں اجر دینے والا ہے اور تم نے اُس علاقہ میں جو مزیز لشکر بھیجنے کے متعلق میری رائے دریافت کی ہے کہ وہ بھیجا جائے یا نہیں؟ اُس کے متعلق مجھے تمہاری رائے سے اتفاق ہے ۔ تم ضرور جہاد کے لئے لشکر بھیجو۔’’


عبدالرحمن بن اشعث سپہ سالار


عبدالملک بن مروان کا فرمان پڑھ کر حجاج بن یوسف نے جہاد کے لئے لشکر بھیجنے کی تیاری زور و شور سے شروع کر دی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اب حجاج بن یوسف نے بیس ہزار فوج اہل کوفہ کی اور بیس ہزار فوج اہل بصرہ کی تیار کرنی شروع کر دی ۔ تما مجاہدین کو پوری پوری تنخواہ دے دی ۔ خوبصورت گھوڑے اور پورے ہتھیار دیئے اور تمام فوج کا خود ہی معائنہ شروع کیا ۔ جس شخص کی شجاعت کی تعریف اُس کے سامنے کی جاتی تھی اُسے انعام و اکرام بھی دیتا تھا ۔ جب یہ دونوں فوجیں کیل و کانٹے سے پوری طرح لیس ہو گئیں تو حجاج بن یوسف نے ایک فوج کا کمانڈر عطارد بن عُمر تمیمی کوبنا کر روانہ کیا اور وہ اپنے لشکر کے ساتھ ‘‘اہواز’’ میں آکر قیام پذیر ہو گیا ۔ اِس کے بعد حجاج بن یوسف نے عبدالرحمن بن اشعث کو پورے لشکر کا ‘‘سپہ سالار اعظم’’ مقررکیا اور وہ پورا لشکر لیکر ۸۰ ؁ ھجری میں سجستان پہنچا ۔ وہاں پہنچ کر اُسنے وہاں کے تمام باشندوں کو بلایا اور اُن کے اور اپنے لشکر کے سامنے تقریر کی : ‘‘ اے لوگ! حجاج بن یوسف نے تمہارے سرحدی علاقوں کی حفاظت اور تمہارے دشمنوں سے جنہوں نے تمہارے شہروں کو لوٹا ، تمہارے افرا دکا قتل عام کیا ہے ۔اُن سے جہاد کے لئے تمہیں مقرر کیا ہے ۔تم لوگوں کو چاہیئے کہ تم میں سے کوئی بھی اہل فوج سے پیچھے نہ رجائے ورنہ وہ سزا کا حقدار ہو گا ۔ اب سب اپنی اپنی فوجی قیام گاہوں میں حاضر ہو جائیں ۔’’


عبدالرحمن بن اشعث کا رتبیل پر حملہ


سجستان میں عبدالرحمن بن اشعث نے زور شور سے حملے کی تیاری شروع کر دی ۔ ترک بادشاہ رتبیل نے جب اتنی بڑی جنگی تیاری دیکھی تو صلح کی پیش کش کی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : تمام لوگوں نے عبدالرحمن بن اشعث کے حکم کی تعمیل کی اور اُن کے لئے بازار لگا دیئے اور اب لوگوں نے جنگ کی تیاری شروع کر دی۔ اِس تیاری کی خبر ترک بادشاہ رتبیل کو ہوئی تو اُس نے خوف زدہ ہو کر عبدالرحمن بن اشعث کو خط لکھا ۔ جس میں اُس نے مسلمانوں کی پچھلی مرتبہ کی تباہی پر معذرت کی اور لکھا کہ مسلمانوں نے مجھے جنگ پر مجبور کر دیا تھا ۔ میں آپ سے صلح کی درخواست کرتا ہوں اور خراج دینے پر آمادہ ہوں ۔ عبدالرحمن بن اشعث نے اُس کی درخواست قبول نہیں کی اور خراج لینا پسند نہیں کیا بلکہ اپنی فوج کے ساتھ اُس کے علاقہ پر حملہ شروع کر دیا ۔ جب وہ اپنے لشکر کے ساتھ پہلے شہر میں داخل ہوا تو رتبیل نے اپنی تمام فوج اپنے پاس بلا لی اور تمام علاقہ ، تجارتی منٖڈیاں اور قلعے مسلمانوں کے لئے چھوڑ دیئے ۔ 


عبدالرحمن بن اشعث کی دور اندیشی


عبدالرحمن بن اشعث کے لشکر کے لئے بھی ترک بادشاہ رتبیل نے وہی جال بچھایا جو عبیداﷲ بن ابی بکرہ کے لشکر کے لئے بچھایا تھا لیکن عبدالرحمن بن اشعث بہت دور اندیش سپہ سالار تھا ۔ اُس نے ترک بادشاہ رتبیل کی چال کو ناکام بنا دیا اور عبیداﷲ بن ابی بکرہ کی طرح مسلسل ترکوں کے اندرون علاقے میں گھستا نہیں چلا گیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عبدالرحمن بن اشعث جس شہر پر قبضہ کرتا تھا اُس پر اپنا ایک گورنر مقرر کر دیتا تھا اور اُس کی حفاظت کے لئے فوج کے دستے چھوڑ دیتا تھا ۔ اِس کے علاوہ اُس نے مفتوحہ شہروں میں ڈاک کا سلسلہ قائم کر دیا جس کی وجہ سے تمام شہر ایکدوسرے سے جُڑے رہے ، پہاڑ درّوں اور گھاٹیوں میں پہرے قائم کر دیئے اور ایسی جگہوں پر جہاں سے خطرہ کا احتمال تھا فوجی چوکیاں قائم کر دیں ۔جب اُس نے ترکوں کے بڑے وسیع علاقے پر قبضہ کر لیا اور مویشیوں اور بہت سا مال غنیمت اپنے قبضہ میں کر لیا تو اپنی فوج کو پیش قدمی کرنے سے روک دیا اور کہا: ‘‘ اِس سال اتنی فتح ہی ہمارے لئے کافی و دافی ہے ۔ اب ہمیں جو مل چکا ہے اُس میں سے خراج وصول کریں اورلگان مشخص کریں ۔ تاکہ اِس دوران مسلمان یہاں کے راستوں سے نڈر ہو جائیں اور پھر آئندہ سال ہم آگے بڑھیں گے ۔ ہر سال ہم ترک بادشاہ رتبیل کے علاقوں پر رفتہ رفتہ قبضہ کرتے جائیں گے اور اِس طرح دھیرے دھیرے ایک دن اُس کے پورے ملک اور تمام خزانوں پر قبضہ کر لیں گے ۔ اُن کے بعید ترین شہروں اور مضبوط ترین قلعوں پر قابض ہو جائیں گے اور پھر جب تک اﷲ تعالی اِن کافروں کو بالکل تباہ نہیں کردے گا تب تک ہم یہاں سے نہیں ٹلیں گے ۔’’ 


عبدالرحمن بن اشعث سجستان کا گورنر


عبدالرحمن بن اشعث نے جو فتوحات حاصل کیں اُن کی تفصیل اور اپنا آگے کا ارادہ حجاج بن یوسف کو لکھ بھیجا تو حجاج بن یوسف نے اُسے سیجستان کا گورنر بنا دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں :پھر عبدالرحمن بن اشعث نے حجاج بن یوسف کو لکھا کہ اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں پر احسان کیا اور اِن تمام فتوحات کی اطلاعات تفصیل سے لکھ

 بھیجیں اور ساتھ ہی وہ رائے بھی لکھ بھیج جس پر وہ آئندہ عمل کرنے والا تھا ۔ اِسی دوران سجستان کے گورنر عبیداﷲ بن ابو بکرہ کا انتقال ہوگیا تو حجاج بن یوسف نے عبدالرحمن بن اشعث کو سجستان کا گورنر بنا دیا اور اس کے لئے باقاعدہ فرمان لکھ دیا ۔ اِس کے علاوہ حجاج بن یوسف نے ایک اور لشکر سجستان بھیجنے کے لئے تیار کیا اور تنخواہوں کے علاہ بیس لاکھ درہم اِس لشکر پر خرچ کئے ۔ لوگ اِس لشکر کو ‘‘جیش الطواولیس’’ ( موروں کا لشکر) کہنے لگے ۔


ا80 ھجری کا اختتام


ا80 ھجری کا اختتام ہوا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 80 ھجری میں مدینۂ منورہ کے گورنر ابان بن عثمان بن عفان نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔ مگر بعض ارباب سیر نے بیان کیا ہے کہ سلیمان بن عبدالملک نے اِس سال مسلمانوں کو حج کرایا ۔ ملک عراق اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر حجاج بن یوسف تھا اور اُس کی طرف سے خراسان کا گورنر مہلب بن ابی صفرہ تھا ۔ ملک مصر کا گورنر عبد العزیز بن مروان تھا ۔ ابوبردہ بن ابی موسیٰ کوفہ کے قاضی تھے اور موسیٰ بن انس بصرہ کے قاضی تھے ۔ اِس سال عبدالملک بن مروان نے اپنے بیٹے یزید بن عبدالملک کو جہاد کے لئے بھیجا ۔ 


حضرت عبداﷲ بن جعفر بن ابی طالب رضی اﷲعنہ کا انتقال


اِس سال 80 ھجری میں حضرت عبداﷲ بن جعفر بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت عبداﷲ بن جعفر بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ ملک حبشہ میں پیدا ہوئے ۔(اُس وقت اُن کے والدین حضرت جعفر طیار بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ اور والدہ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اﷲ عنہا ہجرت کر کے ملک حبشہ گئے تھے اور کئی سال وہیں مقیم تھے پھر ہجرت کر کے مدینۂ منورہ آئے تھے )آپ رضی اﷲ عنہ بنو ہاشم خاندان کے آخری فرد ہیں جنہوں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو دیکھا تھا ۔ اِن کے والدِ محترم جنگ موتہ میں شہید ہوگئے تھے تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ان کی والدہ محترمہ کے پاس تشریف لائے اور اُن سے فرمایا: ‘‘ میرے بھائی کے بیٹے کو میرے پاس لاؤ ۔’’انہیں آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو چوزے کی مانند کمزور تھے ۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے نائی کو بلوایا اور ان کا سر منڈوایا اور پھر ان کے لئے دعا فرمائی :‘‘اے اﷲ! جعفر کے گھر کو اُس کے وارث سے رونق دے اور اس کی زندگی میں برکت عطا کر ۔’’ ان کی والدہ محترمہ فرمانے لگیں :‘‘ان کے پاس تو اب کچھ نہیں رہ گیا ہے ۔’’اِس پر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ‘‘ میں اِن کے والدِ محترم کی جگہ ہوں ۔’’ حضرت عبداﷲ بن جعفر بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ اور حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہم نے سات سال کی عُمر میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے بیعت کی جب کہ ایسا کسی اور کے ساتھ نہیں ہوا ۔ حضرت عبداﷲ بن جعفر بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ نہایت سخی اور فیاض تھے ۔ وہ لوگوں کو بڑی فراخ دلی سے دینا اور دلانا رکھتے تھے ۔ایک مرتبہ ایک شخص سرکہ لے کر مدینۂ منورہ آیا جس کا کوئی خریدار نہیں ملا ۔ حضرت عبداﷲ بن جعفر بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ نے اُس شخص کا پورا سرکہ خرید کر لوگوں کو ہدیہ کر دیا ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ حج کرنے کے لئے آئے تو مدینۂ منورہ بھی آئے اور مروان بن حکم کے گھر ٹھہرے ۔ انہوں نے دربان سے کہا: ‘‘ دیکھو ! اگر تمہیں حسن ، حسین یا عبداﷲ بن جعفر وغیرہ ملیں تو انہیں میرے پاس لاؤ ۔’’ دربان باہر نکلا اور واپس آکر بتایا :‘‘ سب لوگ حضرت عبداﷲجعفر بن ابی طالب رضی عنہ کے یہاں صبح کے ناشتے پر موجود ہیں ۔’’ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے کہا :‘‘ ہم بھی انہی میں سے ایک ہیں۔’’ اور پھر لاٹھی ٹیکتے ہوئے حضرت عبداﷲ بن جعفر بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ کے گھر پہنچ گئے اور اندر آنے کی اجازت طلب کی۔ حضرت عبداﷲ بن جعفر بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ نے احترام سے انہیں صدر مقام پر بٹھایا ۔حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے پوچھا: ‘‘ اے ابن جعفر! تمہارے ناشتہ و کھانے کا سامان کہاں ہے ؟’’ حضرت عبداﷲ بن جعفر بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ نے فرمایا: ‘‘ آپ کیا کھانا چاہتے ہیں؟جو خواہش ہو وہ منگوا دوں۔’’ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے کہا : ‘‘ ہمیں مغز(بھیجا) کھلاؤ۔’’ انہوں نے اپنے غلام کو حکم دیا تو اُس نے تین پلیٹیں ایک کے بعد ایک مغز کی پیش کیں۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کو بڑا تعجب ہوا اور بولے ؛‘‘ تم لوگوں کو اتنی کثرت سے کِھلاتے ہوئے تھکتے نہیں ہو؟’’حضرت عبداﷲ بن جعفر بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ سے تیرہ احادیث کی روایات منسوب کی جاتی ہیں ۔ 


ا80 ھجری میں انتقال کرنے والی اہم شخصیات


اِس سال کئی اہم شخصیات کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 80 ھجری میں حضرت ابن اسلم کا انتقال ہوا ۔آپ خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے غلام تھے ۔آپ کا پورا نام زید بن اسلم ہے ۔ یہ ‘‘عین التمر’’ کے قیدیوں میں سے تھے ۔ جب حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے 11 ھجری میں حج کیا تو اِن کو مکۂ مکرمہ میں خرید لیا ۔ انہوں نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے متعدد احادیث روایت کی ہیں ، بعض احادیث انہوں نے حضرت عِمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے ہم نشینوں سے بھی کی ہیں ۔ انتقال کے وقت آپ کی عُمر ایک سو چودہ سال تھی ۔ اِس سال 80 ھجری میں حضرت جبیر بن نفیر کا انتقال ہوا ۔ آپ کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی صحبت کا شرف بھی حاصل ہے ۔ کچھ احادیث انہوں نے روایت کی ہیں ۔ آپ اہل شام کے علماء میں سے تھے اور اپنی عبادت اور علم کے لئے شہرت رکھتے تھے ۔ آپ کا انتقال ملک شام میں ایک سو بیس سال کی عُمر میں ہوا ۔ اِس سال ۸۰ ؁ ھجری میں ابو ادریس خولانی کا انتقال ہوا ۔ اِن کا نام عائذاﷲ بن عبداﷲ ہے ۔ اِن کا قول ہے کہ میلے کچیلے کپڑوں میں ایک پاکیزہ دل صاف ستھرے کپڑوں میں گندے دل سے بہتر ہے ۔ آپ دمشق کے ‘‘عہدۂ قضا’’(سپریم کورٹ) پر بھی مامور رہے ۔


حجاج بن یوسف کا جنگ جاری رکھنے پر اصرا ر


عبدالرحمن بن اشعث نے اپنا آگے کا رادہ لکھ کر حجاج بن یوسف کو بھیج دیا تھا لیکن اُس نے جنگ جاری رکھنے کا حکم دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حجاج بن یوسف نے عبدالرحمن بن اشعث کے خط کے جواب میں لکھا: ‘‘ حمدو ثناء کے بعد! تمہارا خط ملا ،جو کچھ تم نے لکھا تھا اُسے میں نے سمجھا مگر تمہارا خط دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خط ایک ایسے شخص نے لکھا ہے جو صلح و آتشی کا بدل و جان متمنی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ اُس نے اُس ذلیل و حقیر دشمن سے تعلقات پیدا کر لئے ہیں جس نے مسلمانوں کی ایک جرار اور بہادر فوج کو ہلاک کیا تھا ۔ اے عبدالرحمن کی ماں کے بیٹے! یاد رکھو! اگر تم نے میری فوج اور میرے صریح احکام کی موجودگی میں دشمن سے اجتناب کیا تو تمہارا حشر وہی ہوگا جیسا کہ اور مسلمانوں کا ہو چکا ہے ۔ میں تمہاری اِس رائے کو جسے تم ٍفوجی چال سمجھ رہے ہو ہر گز ایسا خیال نہیں کرتا ہوں بلکہ یہ محض تمہاری کاہلی اور بزدلی کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے ۔ اِس لئے اب میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ تم میری پہلی ہدایت پر عمل کرو اور دشمن کے ملک میں آگے بڑھتے چلے جاؤ ۔ اُس کے قلعوں کو مسمار کرو ،جنگ میں سپاہیوں کو قتل کرو اور اہل و عیال اور متعلقین کو لونڈی اور غلام بنا لو ۔’’اِس کے فوراً بعد ہی دوسرا خط بھیجا : ‘‘ حمد و ثناء کے بعد! جو مسلمان تمہارے پاس ہیں انہیں احکام دے دو کہ جب تک اﷲ کی مدد سے اس تمام علاقہ کو مسلمان فتح نہ کرلیں تم برابر مفتوحہ علاقہ میں مقیم رہو اور زراعت شروع کر دو۔ ’’اِس کے فوراً بعد پھر تیسرا خط لکھ بھیجا: ‘‘ حمد و ثناء کے بعد! میں نے دشمن کے علاقے میں آگے بڑھنے کا تمہیں جو حکم دیا تھا فورا! اِس کی تعمیل کرو ،ورنہ تم علیحدہ ہو جاؤ اور اسحٰق بن محمد تمہاری جگہ سپہ سالار مقرر کیا جاتا ہے ۔’’ 


عبدالرحمن بن اشعث کا لشکر سے خطاب


حجاج بن یوسف باربار خط بھیج کر آگے بڑھنے پر اصرار کر رہا تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : خط پڑھ کر عبدالرحمن بن اشعث نے کہا: ‘‘ میں خود اسحٰق بن محمد کو سپہ سالار بنا دیتا ہوں۔’’ اسحٰق بن محمد نے کہا: ‘‘ آپ ایسا نہ کریں ۔’’ اِس کے بعد عبدالرحمن بن اشعث نے تمام لشکر کو جمع کر کے خطبہ دیا : ‘‘ حمد و ثناء کے بعدکہا! آپ لوگ واقف ہیں کہ میں آپ سب کا خیر خواہ ہوں اور اسیا کام کرنے کے لئے تیار ہوں جس سے آپ کو نفع پہنچے ۔ دشمن کے مقابلے میں جو طرز ِ عمل میں نے آپ کے لئے تجویز کیا تھا ۔اُس کے بارے میں آپ کے ارباب ِ عقل اور تجربہ رکھنے والوں سے مشورہ لیا تھا ۔ میری اُس رائے کو اُن صاحبوں نے آپ کے لئے اس وقت اور آئندہ کے لئے مناسب سمجھا تھا ۔ اِس معاملے کی اطلاع میں نے امیر حجاج بن یوسف کو بھی کر دی تھی ۔ اِس کے جواب میں حجاج بن یوسف نے مجھے یہ خط لکھا ۔ جس میں مجھے بزدل اور کمزور بتایا ہے اور حکم دیا ہے کہ میں فوراً آپ کو لیکر دشمن کے ملک میں آگے بڑھتا جاؤں ۔ یہ وہی علاقہ ہے جس میں حال ہی میں آپ کے دوسرے بھائی تباہ ہو چکے ہیں ۔ مگر پھر بھی چونکہ میں بھی آپ کا ایک فرد ہوں اِس لئے اگر آپ اِس حکم پر عمل کرنا چاہتے ہوں تو میں بھی تیار ہوں اور اگر آپ اِس پر عمل پیرا نہیں ہونا چاہتے تو بھی میں آپ کے ساتھ ہوں ۔’’ 


حجاج بن یوسف کی مخالفت


عبدالرحمن بن اشعث نے اپنے سپاہیوں سے مشورہ مانگا تو انہوں نے حجاج بن یوسف کی مخالفت کرنے کا مشورہ دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عبدالرحمن بن اشعث کے جواب میں عامر بن واثلہ کنانی کھڑا ہوا اور حمد و ثناء کے بعد کہا: ‘‘ حجاج بن یوسف کی مثال اُس شخص کی سی ہے جس نے سب سے پہلے اپنے بھائی سے کہا تھا کہ تُو اپنے غلام کو گھوڑے پر سوار کر ۔ اگر یہ ہلاک ہو جائے تو تجھے کیا پرواہ ؟ اور اگر یہ زندہ بچ گیا تو بھی تُو اس کا مالک ہے ۔ حجاج بن یوسف شمہ برابر تمہاری پرواہ نہیں کرتا ہے اور اِسی وجہ سے اُس نے تمہیں ایسے پُر خطر ممالک میں بھیجا ہے ۔ اگر تمہیں فتح ہوئی تو مال غنیمت تم حاصل کرو گے مگر اس علاقہ کی آمدنی اُس کی ہے ۔ اِس طرح اُس کی طاقت اور دبدبہ میں اضافہ ہو گا اور اگر دشمنوں نے تم پر فتح پائی تو اُس وقت حجاج بن یوسف کے نزدیک ایسے ہو جاؤ گے جن کی تکالیف کا کچھ خیال نہیں کیا جاتا ہے اور جن پر مطلقاً رحم نہیں کیا جاتا ہے ۔ اِس لئے آپ لوگ حجاج بن یوسف کو چھوڑ دیں اور عبدالرحمن بن اشعث کو اپنا امیر بنا لیں اور میں اِس کی ابتدا کرتا ہوں اور آپ سب کو گواہ بناتا ہوں ۔’’ اِس تقریر کے ختم ہوتے ہی ہر طرف سے صدائیں آنے لگیں ۔ہم آپ کی رائے پر عمل کرتے ہیں اور حجاج بن یوسف کو چھوڑتے ہیں۔اِس کے بعد عبدالمومن بن شبث ربعی تمیمی جو عبدالرحمن بن اشعث کے محافظ دستے کا سردار تھا تقریر کرنے کھڑا ہوا اور بولا: ‘‘ اے اﷲ کے بندو!خوب سمجھ لو ! اگر تم نے حجاج بن یوسف کے احکام کی تعمیل کی تو وہ حکم دے کہ پوری زندگی تم اِس علاقہ کو اپنا وطن سمجھو اور جس طرح فرعون نے فوجوں کو دشمن کے علاقہ میں عرصہ تک مقیم رکھا تھا اُسی طرح یہ بھی تمہیں یہیں رکھے گا ۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ حجاج بن یوسف نے سب سے پہلے اُس فوج کو جو مہم پر بھیجی جاتی ہے مستقل طریقہ پر دشمن کے ملک میں حکماً اور جبراً رہنے کا حکم دیا ۔ اِس طرح تمہیں کبھی موقع نہیں ملے گا کہ اپنے اعزا و احباب سے مل سکو اور یوں اِس دنیا سے چل بسو گے ۔ بہتر ہے کہ اپنے اِس امیر کے ہاتھ پر بیعت کر لو اور پھر دشمن پر پلٹ پڑو اور اپنے ملک سے نکال دو ۔’’


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

جمعرات، 29 اگست، 2024

Saltanat e Umayya part 40



 ا40 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 40

عبدالرحمن بن اشعث اور ترک بادشاہ رتبیل میں صلح، عبدالرحمن بن اشعث کا حجاج بن یوسف پر حملہ، مہلب بن ابی صفرہ نے دونوں کو سمجھایا، عبدالملک بن مروان کا اہل شام سے خطاب، حجاج بن یوسف کی پیش قدمی، حجاج بن یوسف کے مقدمۃ الجیش کی شکست، حجاج بن یوسف کی بصرہ واپسی، حجاج بن یوسف کی پہلی شکست، عبدلرحمن بن اشعث کا بصرہ پر قبضہ، 81 ھجری کا اختتام، حضرت محمد بن علی (حنیفہ) رضی اﷲ عنہ کا انتقال، جنگ زاویہ اور عبدالرحمن بن اشعث کی شکست، عبد الرحمن بن اشعث کا کوفہ پر قبضہ، عبد الملک بن مروان کی پیش کش اور حجاج بن یوسف کی چال، جنگ جماجم، یزید بن مہلب ‘‘مرو’’ کا گورنر، 


عبدالرحمن بن اشعث اور ترک بادشاہ رتبیل میں صلح


اِس کے بعد عبدالرحمن بن اشعث نے ترک بادشاہ رتبیل سے صلح کر لی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس تقریر کے بعد تمام لوگ عبدالرحمن بن اشعث کے ہاتھ پر بیعت کرنے لگے ۔ عبدالرحمن بن اشعث نے کہا: ‘‘ آپ لوگ میرے ہاتھ پر اِس بات کے لئے بیعت کریں کہ ہمارا حجاج بن یوسف سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ دوسرے یہ کہ اُس کے مقابلے میں آپ میری مدد و حمایت کریں گے تاکہ ہم اُسے ملک عراق سے نکال دیں ۔ ’’ اِس کے بعد اُس نے ترک بادشاہ رتبیل کے پاس صلح کرنے کے لئے سفیر بھیجا اور دونوں میں اِس بات پر صلح ہو گئی کہ اگر عبدالرحمن بن اشعث حجاج بن یوسف کے مقابلے میں کامیاب ہوا تو رتبیل اُسے آگے خراج نہیں دے گا اور اگر عبدالرحمن ناکام ہوا تو وہ رتبیل کے پا س آجائے گا اور وہ اُسے پناہ دے گا ۔


عبدالرحمن بن اشعث کا حجاج بن یوسف پر حملہ


اِس کے بعد عبد الرحمن بن اشعث اپنے لشکر کو لیکر حجاج بن یوسف سے مقابلے کے لئے روانہ ہوا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عبدالرحمن بن اشعث سجستان سے ملک عراق کی طرف روانہ ہوا تو اُس نے عطیہ بن عمرو کو ‘‘مقدمۃ الجیش’’ کا کمانڈر مقرر کر کے آگے بھیجا ۔ حجاج بن یوسف نے اُس کے مقابلے کے لئے اپنا ‘‘مقدمۃ الجیش’’ بھیجا اور اُسے عطیہ بن عمرو نے شکست دے دی ۔ اِس پر حجاج بن یوسف نے پوچھا : ‘‘ ہمارے مقابلے میں کون شخص ہے ؟ ’’ لوگوں نے کہا: ‘‘ عطیہ ہے ۔’’ عبد الرحمن بن اشعث آگے بڑھتا ہوا ‘‘کرمان’’ تک پہنچا تو حجاج بن یوسف نے خرشہ بن عُمر تمیمی کو ‘‘ مقدمۃ الجیش’’ کا کمانڈر بنا کر روانہ کیا ۔ جب تمام لشکر سر زمین فارس میں داخل ہوا تو لوگوں نے آپس میں مشورہ شروع کر دیا کہ ہم نے حجاج بن یوسف کے خلاف بغاوت کا عَلَم بلند کیا ہے تو گویا ہم نے عبدالملک بن مروان کے خالف بغاوت کی ہے ۔سب لوگ عبدالرحمن بن اشعث کے پاس جمع ہوئے اور عبدالملک بن مروان کی اطاعت سے انکار کر دیا اور عبدالرحمن بن اشعث کی بیعت کر لی ۔ جب حجاج بن یوسف کو اِن واقعات کی اطلاع ہوئی تو اُس نے عبد الرحمن بن اشعث کی بغاوت کے بارے میں عبدالملک بن مروان کو خط کے ذریعہ اطلاع دی اور درخواست کی کہ آپ میری امداد کے لئے فوج روانہ فرمایئے ۔ اِس کاروائی کے بعد حجاج بن یوسف بصرہ آگیا ۔ 


مہلب بن ابی صفرہ نے دونوں کو سمجھایا


حجاج بن یوسف اور عبدالرحمن بن اشعث آپس میں لڑ رہے تھے ۔جب مہلب بن ابی صفرہ کو اِس کی اطلاع ملی تو اُس نے دونوں کو سمجھایا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں :مہلب بن ابی صفرہ کو عبدالرحمن بن اشعث کی بغاوت کا اُسی وقت علم ہو چکا تھا جب عبدالرحمن بن اشعث سجستان میں تھا ۔اُسے مہلب بن ابی صفرہ نے خط لکھا: ‘‘ حمدو ثناء کے بعد! اے عبدالرحمن بن اشعث! تم نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی اُمت کے خلاف اپنا پاؤں سخت گمراہی و ضلالت کی رکاب میں رکھا ہے ۔ دیکھو خوامخواہ اپنی عزیز جان کو ورطۂ ہلاکت میں نہ ڈالو اور مسلمانوں کے قیمتی خون کو نہ بہاؤ۔ اتحاد اُمت میں تفرقہ نہ ڈالو اور اپنے عہد و اطاعت و وفا داری کو نہ توڑو۔اگر تم یہ کہو کہ میں اپنے ساتھیوں سے خوفزدہ ہوں کہ مبادا میری جان کے درپے نہ ہو ں جائیں تو اﷲ تعالیٰ اُن لوگوں کے مقابلہ میں اس کا زیادہ مستحق ہے کہ تم اُس سے ڈرو ۔ اِس لئے خون بہا کر یا محرمات کو حلال سمجھ کر تم اپنی جان کو اﷲ کے سامنے مجرم نہ بناؤ ۔والسلام علیک۔’’اِسی طرح مہلب بن ابی صفرہ نے حجاج بن یوسف کو بھی خط لکھا: ‘‘ حمد و صلاۃ کے بعد! اہل عراق آپ کی طرف پیش قدمی کر رہے ہیں ۔اُن کی مثال ایک ایسے سیلاب کی ہے جو بلندی سے پستی کی طرف آرہا ہو اور جب تک وہ ہموار سطح تک نہیں پہنچ جاتا کوئی شئے اُس کی روانی کو نہیں روک سکتی ۔ بالکل یہی مثال اہل عراق کی ہے ،کاروائی کی ابتداء میں ان میں بہت زیادہ جوش و خروش ہوتا ہے اور اپنے اہل و عیال سے ملنے کا جنون اُن کے سروں پر سوار اور اِس جوش کی حالت میں کوئی چیز انہیں نہیں روک سکتی ہے ۔ البتہ جب وہ اپنے اہل و عیال میں پہنچ جائیں اور ان میں گھل مل جائیں تو اُس وقت آپ اُن کے خلاف کاروائی کریں اور انشاء اﷲ ایسی صورت میں اﷲ تعالیٰ آپ کو ان پر فتح دینے والا ہے ۔’’ حجاج بن یوسف نے اِس خط کو پڑھ کر کہا: ‘‘ اﷲ تعالیٰ جو کرتا ہے وہی ہوتا ہے اور اُس کے سوا کچھ نہیں ۔ حالانکہ میں مہلب بن ابی صفرہ کا ہم خیال نہیں ہو سکتا مگر اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس کا مشورہ خیر خواہانہ ہے ۔’’ 


عبدالملک بن مروان کا اہل شام سے خطاب


عبدالرحمن بن اشعث کی بغاوت سے پوری مملکت اسلامیہ پر اثر پڑا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب حجاج بن یوسف کا خط عبدالملک بن مروان کے پاس پہنچا تو اُسے سخت تشویش پیدا ہوئی اور وہ اپنے تخت پر سے اُتر پڑا ۔ اُس نے خالد بن یزید بن معاویہ کو بلوا بھیجا اور خط پڑھوایا۔ خالد بن یزید بن معاویہ نے عبدالملک بن مروان کو خوف و ہراس میں دیکھ کر کہا :‘‘ امیر المومنین! اگر یہ فتنہ سجستان کی سمت سے رونما ہوا ہے تو آپ ہر گز خوف نہ کریں ۔ البتہ اگر یہ فتنہ خراسان سے اُٹھا ہوتا تو آپ کے لئے تشویش کا باعث ہو سکتا تھا ۔ ’’عبدالملک بن مروان اپنے قصر سے باہر آیا اور رعایا کے سامنے تقریر کرنے کھڑا ہوااور حمد و صلاۃ کے بعد بولا: ‘‘ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اہل عراق پر میری زندگی دوبھر ہو گئی ہے اور انہوں نے میری طاقت کا اندازہ لگانے میں جلد بازی سے کام لیا ہے ۔ اے اﷲ! تُو ان پر اہل شام کی تلواروں کو مسلط کردے تاکہ وہ پھر تیری خوشنودی کے حلقہ میں آجائیں اور جب وہ تیری خوشنودی حاصل کر لیں تو پھر ایسا کوئی فعل نہ کریں جو تیری ناراضگی کا باعث ہو ۔’’ یہ تقریر ختم کر کے عبدلملک بن مروان منبر سے اُتر آیا ۔ 


حجاج بن یوسف کی پیش قدمی


اِدھر عبدالرحمن بن اشعث اپنی فوج لیکر حجاج بن یوسف کی طرف بڑھ رہا تھا اور اُدھر حجاج بن یوسف کے پاس ملک شام سے لشکر پہنچ رہا تھا اور وہ مقابلے کی تیاری کر رہا تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حجاج بن یوسف ابھی تک بصرہ میں ہی مقیم تھا اور عبدالرحمن بن اشعث سے مقابلہ کی تیاریاں کرنے لگا اور مہلب بن ابی صفرہ کی رائے پر عمل کرنے کا خیال ترک کر دیا ۔ ملک شام سے؂ عبدالملک بن مروان روزآنہ حجاج بن یوسف کے پاس پچاس پچاس ، دس و بیس اور اس کے کم تعداد میں شہسوار بھیجنے لگا ۔ اِسی طرح حجاج بن یوسف نے عبدالملک بن مروان تک روزآنہ کے خطوط کی ڈاک کا انتظام کر دیا جس میں عبدالرحمن بن اشعث کی پل پل کی نقل و حرکت کہ آج وہ کس مقام پر مقیم ہے اور کہاں سے کوچ کیا اور کون کون سی جماعتیں اُس کے ساتھ شامل ہوتی جارہی ہیں مندرج ہوتی رہیں ۔ فضیل بن خدیج بیان کرتا ہے :‘‘ میں اُس وقت کرمان کی فوجی چھاؤنی پر تعینات تھا اور اس میں چار ہزار کوفہ اور بصرہ کے سوار متعین تھے ۔ جب عبد الرحمن بن اشعث کا اس مقام سے گذر ہوا تو یہ تمام فوج اُس کے ہمراہ ہو گئی ۔ حجاج بن یوسف نے فیصلہ کیا کہ وہ خود آگے بڑھ کر عبدالرحمن بن اشعث کا مقابلہ کرے ۔ اِسی غرض سے وہ شامی فوج لیکر مقام ‘‘تستر’’ پر آیا مطہر بن حرعکی یا جذامی اور عبداﷲ بن رمیثیہ کو ‘‘مقدمۃ الجیش’’ کے طور پر آگے روانہ کیا اور مطہر کو دونوں فوج کا سپہ سالار بنایا ۔ 


حجاج بن یوسف کے مقدمۃ الجیش کی شکست


اِدھر سے حجاج بن یوسف نے اپنے مقدمۃ الجیش کو بھیجا اور اُدھر سے عبدالرحمن بن اشعث نے اپنے مقدمۃ الجیش کو بھیجا ۔ دونوں میں جنگ ہوئی تو حجاج بن یوسف کے مقدمۃ الجیش کو شکست ہوئی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حجاج بن یوسف کا مقدمۃ الجیش دریائے قارن تک پہنچا تو اُس پار عبدالرحمن بن اشعث کا مقدمۃ الجیش پہنچا ۔ اُس نے عبدالرحمن بن ابان حارثی کو اپنے مقدمۃ الجیش کا کمانڈر بنایا تھا تاکہ وہ عبدالرحمن بن اشعث اور اُس کی اصل فوج کے لئے بیرونی چوکی کے فرائض انجام دے ۔ جب مطہر بن حر اُس کے قریب پہنچا تو اُس نے عبداﷲ بن رمیثیہ طائی کو حملہ کرنے کا حکم دیا ۔ اُس نے حملہ کیا مگر اُسے شکست ہوئی اور وہ واپس مطہر بن حر کے پاس آگیا ۔ اِس جھڑپ میں اُس کے کئی ساتھی زخمی ہو گئے ۔ ابو زبیر ہمدانی اُس وقت عبدالرحمن بن اشعث کی فوج میں تھا بیان کرتا ہے کہ عبدالرحمن بن اشعث نے ہمیں حکم دیا کہ اِسی جگہ سے دریا عبور کرو ۔ ہم نے دریا میں گھوڑے ڈال دیئے اور پلک مارتے ہمارے رسالہ کے بیشتر حصہ نے دریا عبور کر لیا ۔ ابھی پوری فوج نے دریا عبور بھی نہیں کیا تھا کہ ہم نے مطہر بن حر اور عبداﷲ بن رمیثیہ طائی پر حملہ کر دیا اور یوم الاضحی ۸۱ ؁ ھجری میں ہم نے اُن دونوں کو شکست دی اور اُن کو جانی نقصان پہنچائے اور اُن کے تمام لشکر گاہ کو مال غنیمت کے طور پر حاصل کر لیا ۔ 


حجاج بن یوسف کی بصرہ واپسی


حجاج بن یوسف آگے بڑھ رہا تھا اور ایک جگہ پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا کہ اُسے اپنے ‘‘مقدمۃ الجیش’’ کی شکست کی خبر ملی ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حجاج بن یوسف تقریر کر رہا تھا کہ اُسے اِس شکست کی خبر ملی ۔ اِس پر حجاج بن یوسف نے اپنے لشکر سے کہا :‘‘ یہاں سے بصرہ چلو کونکہ وہاں فوجی صدر مرکذ ہے اور مورچے میں تمام ضرریات زندگی مہیا ہیں ۔ ہم جس مقام پر پڑاؤ ڈالے ہوئے ہیں وہ اتنی بڑی فوج کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتا ۔’’ اِس کے بعد حجاج بن یوسف اپنی فوج کے ساتھ بصرہ واپس آنے لگا ۔ عبدالرحمن بن اشعث کا ‘‘مقدمۃ الجیش’’ اُس کے تعاقب میں چلا ۔ حجاج بن یوسف کی فوج میں سے جس کسی ایک دو سپاہیوں کویہ پاتے تو قتل کر ڈالتے اور جو کچھ ان کے پاس ہوتا اُس پر قبضہ کر لیتے تھے ۔ حجاج بن یوسف کی یہ کیفیت تھی کہ وہ کسی طرف توجہ ہی نہیں کر رہا تھا بلکہ سیدھا بصرہ کا رُخ کئے چلا جا رہا تھا ۔ جب اُس نے ‘‘زاویہ ’’ میں قیام کیا تو حکم دیا کہ تاجروں کے پاس جتنا غلہ اُس پر قبضہ کر لیا جائے ۔ یہ لوگ غلہ پر قبضہ کر کے زاویہ لے آئے اور بصرہ کو عبد الرحمن بن اشعث کے لئے چھوڑ دیا ۔ اُس وقت حجاج بن یوسف کی طرف سے حکم بن ایوبب ثقفی بصرہ کا گورنر تھا ۔ 


حجاج بن یوسف کی پہلی شکست


حجاج بن یوسف بصرہ کے قریب سے اپنا لشکر لیکر عبدالرحمن بن اشعث سے مقابلے کے لئے آگے بڑھا ہی تھا کہ وہ سر پر آ پہنچا اور دونوں لشکروں کا سامنا ہو گیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب باغیوں کے مقابلے میں حجاج بن یوسف کو پہلی مرتبہ زک اُٹھانی پڑی اور اُس نے پسپائی شروع کی تو مہلب بن ابی صفرہ کے خط کو منگوا کر پڑھا اور بولا : ‘‘ مہلب بن ابی صفرہ ایک تجربہ کار فوجی افسر ہے اور اُس نے ہمیں جو مشورہ دیا تھا کہ ہم بھی اہل عراق سے مزاحمت نہ کریں ۔مگر افسوس ہے کہ ہم نے نہیں مانا ۔’’ اُس زمانے میں عبداﷲ بن عامر بن مسمع پولیس کے اعلیٰ افسر اعلیٰ تھا ۔حجاج بن یوسف اپنی فوج کو لیکر ‘‘رستقباز’’ میں قیام پذیر ہو ا۔ یہ مقام ‘‘اہواز’’کے ذیلی علاقوں میں شامل ہے اور مقابلہ کے لئے فوجی انتظامات کئے ۔ دوسری طرف عبدالرحمن بن اشعث نے تستر میں آ کر پڑاؤ ڈالااور دونوں کے درمیان صرف ایک دریا حائل تھا ۔ حجاج بن یوسف نے مطہر بن حر کو دو ہزار کی فوج دیکر روانہ کیا ۔اُس نے عبد الرحمن بن اشعث کی چوکی پر چھا پا مارا ۔مگر عبد الرحمن بن اشعث فوراً مقابلہ کے لئے جھپٹا اور اہل عراق نے شامیوں کے پندرہ سو آدمی قتل کئے ۔ باقی شکست کھا کر حجاج بن یوسف کے پاس واپس آ گئے ۔ اُس روز حجاج بن یوسف کے پاس دیڑھ لاکھ کا لشکر تھا ۔ اُس نے اِس فوج کو اپنے کمانڈروں کے زیر قیادت کر دیا اور بصرہ کی طرف پسپائی شروع کی ۔ 


عبدلرحمن بن اشعث کا بصرہ پر قبضہ


حجاج بن یوسف کو شکست دینے کے بعد عبد الرحمن بن اشعث بصرہ کی طرف بڑھا اور اُس نے بصرہ پر قبضہ کر لیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عبدالرحمن بن اشعث نے اپنی فوج کے سامنے تقریر کی اور کہا: ‘‘ حجاج بن یوسف کیا چیز ہے ؟ ہم تو عبدالملک بن مروان سے لڑنا چاہتے ہیں ۔ بصرہ کے باشندوں کو جب یہ معلوم ہوا کہ حجاج بن یوسف کو شکست ہوئی ہے تو انہوں نے خوشیاں منائیں ۔ پھر جب عبدالرحمن بن اشعث بصرہ میں داخل ہوا تو اُس کے ہاتھ پر حجاج بن یوسف کے مقابلہ میں لڑنے کے لئے اور عبدالملک بن مروان کی اطاعت سے نکلنے کے لئے بصرہ کے تمام باشندوں نے جس میں عابد و زاہد اور ادھیڑ عُمر کے تمام لوگ بھی شریک تھے بیعت کی۔حجاج بن یوسف نے اپنے گرد خندق کھود لی اور عبدالرحمن بن اشعث نے بھی بصرہ کے چاروں طرف خندق کھود لی ۔ عبدالرحمن بن اشعث 81 ھجری کے آخری مہینے ذی الحجہ میں بصرہ میں داخل ہوا ۔ 


ا81 ھجری کا اختتام


ا81 ھجری کا اختتام ہوا تو حجاج بن یوسف اور عبدالرحمن بن اشعث ایکدوسرے کے مقابل صف آرا تھے ۔علامہ محمد بن جری طبری لکھتے ہیں: اِ س سال 81 ھجری میں سلیمان بن عبدالملک نے مسلمانوں کو حج کرایا اور اِسی سال ابن ابی ذئب پیدا ہوا۔ ابان بن عثمان بن عفان مدینۂ منورہ کا گورنر تھا ملک عراق ، رستمان اور دوسرے مشرقی صوبہ جات کا گورنر حجاج بن یوسف تھا ۔ مہلب بن ابی صفرہ خراسان کا گورنر تھا اور اُس کا بیٹا مغیرہ بن مہلب خراسان کا افسر مال تھا ۔ ابو بردہ بن ابی موسیٰ کوفہ کے قاضی تھے اور عبدالرحمن بن اُژنیہ بصرہ کے قاضی تھے ۔ 


حضرت محمد بن علی (حنیفہ) رضی اﷲ عنہ کا انتقال


اِس سال حضرت حسن بن علی اور حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے بھائی محمد بن علی ( حنیفہ) کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: اِن کی کنیتہ ابوالقاسم اور ابوعبداﷲ تھی اور کنیت کے اعتبار سے ‘‘ابن حنیفہ’’ کہے جاتے تھے اور لوگ انہیں محمد بن حنیفہ کہتے تھے ۔ اِن کی والدہ کا انام خولہ ہے جن کا تعلق قبیلہ بنو حنیفہ سے تھا ۔ محمد بن علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دور ِ خلافت میں پیدا ہوئے ۔ یہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ اور عبدالملک بن مروان کے پاس بھی گئے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے ہی مروان بن حکم کو ‘‘جنگ جمل’’میں پٹک دیا تھا اور اُس کے سینے پر چڑھ بیٹھے تھے اور اُس کے قتل کا ارادہ کر چکے تھے کہ مروان بن حکم نے اﷲ تعالیٰ کی دہائی دی اور بہت عاجزی کی تو انہوں نے اس کو چھوڑ دیا ۔ جب آپ رضی اﷲ عنہ عبدالملک بن مروان کے پاس حاضر ہوئے تو اُس نے آپ رضی اﷲ عنہ کو وہ واقعہ یاد دلایا تو انہوں نے کہا:‘‘ چاہو تو سزا دے دو یا پھر چاہو تو معاف کر دو۔ ’’ اُس نے معاف کر دیا اور آپ رضی اﷲ عنہ کو بہت کچھ دیا ۔ آپ رضی اﷲ عنہ سادات قریش میں سے ہیں اور مشہور بہادروں میں شمار ہوتے تھے اور بہت طاقتور اور شہ زور سمجھے جاتے تھے ۔حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے جب مکۂ مکرمہ میں لگ بھگ گیارہ (11) سال حکومت کی تو انہوں نے آپ رضی اﷲ عنہ پر بیعت کے لئے بہت دباؤ ڈالا لیکن آپ رضی اﷲ عنہ نے بیعت نہیں کی ۔ 81 ھجری میں انتقال ہوا اور جنت البقیع میں دفن ہوئے ۔ 


جنگ زاویہ اور عبدالرحمن بن اشعث کی شکست


ا82 ھجری کی شروعات میں حجاج بن یوسف اور عبدالرحمن بن اشعث میں شدید جنگ ہوئی لیکن آخر میں حجاج بن یوسف کو فتح حاصل ہوئی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : مقام زاویہ پر حجاج بن یوسف اور عبدالرحمن بن اشعث کے درمیان جنگ ہوئی ۔ ماہ محرم الحرام 82 ھجری میں اُن دونوں درمیان جنگ ہوتی رہی ۔ ایک دن فریقوں کے درمیان شدید جدال و قتال گرم ہوا مگر آخر کار عراقیوں نے شامیوں کو شکست دے دی اور شامی فوج پسپا ہو کر حجاج بن یوسف کے قریب آ گئی ۔ عراقی پیش قدمی کرتے ہوئے اُن کی خندقوں تک جا پہنچے اور یہاں بھی جنگ ہوئی ۔ تمام قریش اور بنو ثقیف شکست کھا کر پیچھے ہٹ گئے ۔اِسی طرح پھر دونوں فریقوں میں ماہ محرم الحرام کے آخری دنوں میں ایک اور زبردست مقابلہ ہوا اور اِس جنگ میں عراقیوں نے شامیوں کو شکست دی اور شامیوں کا میمنہ اور میسرہ اُلٹ گیا ۔ اُن کے نیزے منتشر ہو گئے اور تمام صفیں درہم برہم ہو گئیں اور دشمن بڑھتے بڑھتے اُس جگہ پہنچ گیا جہاں ہم لوگ حجاج بن یوسف کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے ۔ حجاج بن یوسف لڑائی کا رنگ دیکھتے ہی دونوں گھٹنوں کے بل کھڑا ہو گیا اور تقریباً بالشت اُس نے نیام سے کھینچ لی تھی اور بولا: ‘‘ سخت خطرہ اور مصیبت کے وقت حضرت مصعب بن زبیر نے کس دلیری اور بہادری کا اظہار کیا تھا ۔اﷲ کے لئے اُن کی خوبیاں ہیں ۔’’راوی کہتا ہے اِس جملہ سے میں نے سمجھ لیا کہ حجاج بن یوسف کا بھاگنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے ۔ میں نے اپنے والد کی جانب آنکھ ماری کہ اگر وہ اجازت دیں تو میں حجاج بن یوسف کا خاتمہ کر دوں مگر انہوں نے اُسی طرح آنکھ کے اشارے سے منع کر دیا ۔ میں خاموش ہو گیا اور میں نے مڑ کر دیکھا کہ سفیان بن ابرد کلبی نے عراقیوں پر حملہ کر کے دشمن کو پیچھے ہٹا دیا ہے ۔ میں حجاج بن یوسف سے کہا: ‘‘ جناب والا کو خوش خبری ہو کہ دشمن پیچھے ہٹ گیا ہے ۔’’اِس پر حجاج بن یوسف نے مجھے سے کہا : ‘‘ کھڑے ہو کر دیکھو۔’’میں نے کھڑے ہو کر دیکھا اور کہا :‘‘ بے شک اﷲ تعالیٰ نے دشمنوں کو شکست دی اور وہ بصرہ چھوڑ کر جا رہے ہیں ۔’’ پھر حجاج بن یوسف نے زیاد کو حکم دیا : ‘‘ تم کھڑے ہو کر دیکھو۔’’ زیاد کھڑا ہوا اور دیکھ کر بولا: ‘‘ بے شک دشمن کو شکست ہوگئی ہے اور وہ بھاگ رہے ہیں۔’’ یہ سنتے ہی حجاج بن یوسف سجدہ میں گر پڑا۔ جب میں واپس پلٹا تو میرے والد نے مجھے ڈانٹا اور بولے :‘‘ تُو نے تو میری اور میرے خاندان کی تباہی کا ارادہ کیا تھا ۔’’


عبد الرحمن بن اشعث کا کوفہ پر قبضہ


بصرہ میں شکست کھانے کے بعد عبدالرحمن بن اشعث کوفہ روانہ ہوا اور اُس پر قبضہ کر لیا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : شروع محرم الحرام 82 ھجری میں حجاج بن یوسف اور عبدالرحمن بن اشعث میں جنگ چھڑ گئی ۔ فریقین نے ایکدوسرے پر سختی کے ساتھ متعدد حملے کئے ۔ کبھی عبدالرحمن بن اشعث غالب آجاتا تھا اور کبھی حجاج بن یوسف غالب آجاتا تھا ۔ لیکن آخری جنگ جو ۲۹ محرم الحرام کو ہوئی اُس میں اہل عراق بھاگ کھڑے ہوئے اور اپنے سپہ سالار عبد الرحمن بن اشعث کے ساتھ کوفہ کا قصد کیا ۔ شکست کے دوران ایک ہزار آدمی قتل ہوئے اور تمام قصبات و دیہات میں قتل عام کا بازار گرم ہو گیا ۔ حجاج بن یوسف نے فتح حاصل کرنے کے بعد دس ہزار آدمیوں کو قتل کرایا ۔اِس جنگ کا نام ‘‘جنگ زاویہ’’ ہے ۔ عبد الرحمن بن اشعث کے کوفہ پہنچنے سے پہلے عبداﷲ بن عامر حضرمی جسے حجاج بن یوسف نے کوفہ کا گورنر بنایا تھا مطر بن ناجیہ تمیمی نے نکال کر ‘‘قصر امارت’’ پر قبضہ کر لیا تھا ۔ جب اہل کوفہ کو عبدالرحمن بن اشعث کی آمد کی اطلاع ہوئی تو وہ لوگ اُس کے استقبال کے لئے آئے اور نہایت احترام کے ساتھ اُسے کوفہ میں لے گئے ۔ چونکہ ہمدان نے مطر سے سازش کر لی تھی اور قصر امارت پر پورے طور پر وہی قابض تھے اِسی لئے مطر نے اُس کے کہنے پر عبد الرحمن بن اشعث کو قصر امارت میں داخل ہونے سے روکا ۔ عبد الرحمن بن اشعث نے کمند کے ذریعے اپنے سپاہوں کو چڑھایا جو اُس کو گرفتار کر کے لائے ۔ عبد الرحمن بن اشعث نے اُس کو قید کر لیا اور خود قصر امارت پر قابض ہو گیا ۔ 


عبد الملک بن مروان کی پیش کش اور حجاج بن یوسف کی چال


حجاج بن یوسف بصرہ میں انتظامات کر کے کوفہ روانہ ہوا اور عبدالرحمن بن اشعث کے سامنے صف بندی کر لی ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : جنگ کے خاتمے کے بعد حجاج بن یوسف بصرہ میں داخل ہوا اور حکیم بن ایوب ثقفی کو بصرہ کا گورنر مقرر کر کے کوفہ کی طرف بڑھا اور مقام ‘‘دویر منیر’’ میں پڑاؤ ڈال دیا ۔ عبدالرحمن بن اشعث نے کوفہ سے نکل کر ‘‘دیر جماجم ’’میں مورچہ بندی کر لی ۔ فریقین کی امدادی فوجیں آگئیں اور خندقیں کھود کر دُھس اور دمدمے باندھ دیئے گئے ۔ جنگ شروع ہو گئی اور روزآنہ دونوں فریق لڑتے ہوئے ایکدوسرے کو خندقوں تک دھکیلتے اور پھر نااُمید واپس آجاتے تھے ۔ اِسی دوران عبدالملک بن مروان نے اپنے لڑکے عبداﷲ بن عبدالملک اور بھائی محمد بن مروان کو ایک عظیم الشان لشکر کے ساتھ کوفہ روانہ کیا اور اہل عراق سے کہلا بھیجا کہ ہم حجاج بن یوسف کو معزول کئے دیتے ہیں اور اہل شام کی طرح تمہارے وظائف بھی جاری کر دیں گے اور عبدالرحمن بن اشعث جس صوبہ کو پسند کرے گا ہم اُس کا اُسے گورنر بنا دیں گے ۔ حجاج بن یوسف کو اِس پیام سے بہت صدمہ ہوا ۔اُس نے شاہی فرمان چھپا لیا اور ایک عریضہ عبدالملک بن مروان کے پاس روانہ کیا :‘‘ اِس طرح اہل عراق کی ہمت بڑھ جائے گی اور وہ کبھی مطیع نہیں ہوں گے ۔ کیا آپ کو حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ اور سعید بن عاص کا قصہ یاد نہیں ہے؟ ’’ عبدالملک بن مروان نے اِس رائے کو پسند نہیں کیا اور عبداﷲ بن عبدالملک اور محمد بن مروان نے اہل عراق کو عبدالملک بن مروان کا پیام دیا تو اہل عراق آپس میں مشورہ کرنے لگے ۔ عبدالرحمن بن اشعث نے کہا: ‘‘ عبدالملک بن مروان کی پیشکش قبول کرلو ۔اِس میں تمہاری بہتری ہے ۔’’ لیکن اہل عراق نے مخالفت میں صدائیں بلند کیں اور عبدالملک بن مروان سے جنگ کرنے کے لئے تیار ہو گئے ۔ 


جنگ جماجم


عبدالملک بن مروان کی پیشکش ٹھکرا کر عراقیوں نے خود اپنے پیر پر کلہاڑی مار لی ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : عبدالملک بن مروان کی طرف سے عبداﷲ بن عبدالملک اور محمد بن مروان نے پیش کش کی تو اہل عراق نے ٹھکرا دیا ۔ جب نوبت یہاں تک پہنچ گئی تو عبداﷲ بن عبدالملک اور محمد بن مروان دونوں نے حجاج بن یوسف سے کہا: ‘‘ اب معاملہ تم پر منحصر ہے جو چاہو کرو ،ہم تمہاری اطاعت کریں گے جیسا کہ امیر المومنین عبدالملک بن مروان کا حکم ہے ۔ عبدالملک بن مروان کو جب معلوم ہوا کہ اہل عراق نے اُس کی پیشکش ٹھکرا دی ہے تو اُس نے جنگ کے تمام اختیارا حجاج بن یوسف کو سونپ دیئے ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : عراقی اور شامی فوجیں پھر جنگ کرنے پر تُل گئیں ۔ حجاج بن یوسف نے میمنہ پر عبدالرحمن بن سُلیم کلبی کوکمانڈر بنایا ، میسرہ پر عمارہ بن تمیم لحمی کو کمانڈر بنایا ، سواروں کا کمانڈر عبدالرحمن بن عباس کو بنایا پیادوں کا کمانڈر محمد بن سعد کو بنایا ۔قلب کا کمانڈر عبداﷲ بن رزم کو بنایا ۔ لشکر مرتب ہونے کے بعد جنگ شروع ہو گئی ۔فریقین اپنے اپنے مورچے سے نکل کر ایکدوسرے پر صبح کو حملہ کرتے ۔دن بھر جنگ ہوتی رہتی اور شام کو واپس چلے جاتے ۔ عبدالرحمن بن اشعث کے سواروں نے نہایت مردانگی و استقلال سے جنگ کو جاری رکھا اور ۸۲ ؁ ھجری کا بقیہ پورا سال یہ جنگ چلتی رہی ۔ 


یزید بن مہلب ‘‘مرو’’ کا گورنر


خراسان میں مہلب بن ابی صفرہ خراسان کا گورنر تھا اور اُس کا بیٹا مغیرہ بن مہلب ‘‘مرو’’ کا گورنر تھا ۔ جس وقت حجاج بن یوسف کوفہ میں عبدالرحمن بن اشعث سے جنگ میں مصروف تھا تو اسی دوران مغیرہ بن مہلب کا انتقال ہوگیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال مغیرہ بن مہلب کا انتقال ہوا ۔ اِس کی خبر اُس کے والد مہلب بن ابی صفرہ کو ہوئی تو اُس نے اپنے دوسرے بیٹے یزید بن مہلب کو ‘‘مرو’’ کا گورنر بنا کر روانہ کیا ۔جب وہ ‘‘مرو’’ کی طرف روانہ ہوا تو اُس کے ساتھ ستر سوار تھے ۔ ایک لق و دق صحرا میں پانچ سو ترکوں سے سامنا ہوا۔ ترکوں نے دریافت کیا: ‘‘ تم کون ہو؟’’ اُن لوگوں نے کہا: ‘‘ ہم تاجر ہیں۔’’ ترکوں نے کہا: ‘‘ تمہارا مال تجارت کہاں ہے ؟’’ مسلمانوں نے کہا: ‘‘ ہم نے آگے روانہ کر دیا ہے ۔’’ اِس پر ترکوں نے کہا: ‘‘ ہمیں بھی کچھ دو۔’’ یزید بن مہلب نے دینے سے بالکل انکار کر دیا ۔ مگر اُس کے ایک ساتھی مجاعۃ نے کچھ باریک ململ کے کپڑے کے تھان اور ایک کمان انہیں دیئے اور ترک لے کر واپس چلے گئے ۔ 


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!


D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں