ا36 سلطنت امیہ
تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 36
ھ74 : حجاج بن یوسف مدینۂ منورہ کا گورنر، خانہ کعبہ کی تعمیر نو، خارجیوں سے جنگ، اُمیہ بن عبداﷲ خراسان کا گورنر، 74 ھجری کا خاتمہ، 74 ھجری کا خاتمہ، حضرت رافع بن خدیج انصاری رضی اﷲ عنہ کا انتقال، حضرت ابو سعید خُدری انصاری رضی اﷲ عنہ کا انتقال، حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا انتقال، حضرت ابوجحیفہ رضی اﷲ عنہ کا انتقال، حضرت سلمہ بن اکوع انصاری رضی اﷲ عنہ کا انتقال، حضرت عبید بن عُمیر تابعی کا انتقال، تین جلیل القدرتابعی کا انتقال، ھ75 ھجری : حجاج بن یوسف ملک عراق کا گورنر، کوفہ میں حجاج بن یوسف کی آمد، اہل کوفہ کو الٹی میٹم، اہل کوفہ پر ظالم حکمراں مسلط،
ھ74 : حجاج بن یوسف مدینۂ منورہ کا گورنر
ھ74 ھجری کے خاتمے تک عبدالملک بن مروان نے حجاج بن یوسف کو مدینۂ منورہ کے ساتھ مکۂ مکرمہ کا بھی گورنر بنا دیا تھا بلکہ پورے ملک حجاز کا گورنر بنادیا تھا ۔کوفہ اور بصرہ کا گورنر بشر بن مروان تھا اور خراسان کا گورنر اُمیہ بن عبداﷲ تھا ۔ کوفہ کا قاضی شریح بن حارث تھا اور بصرہ کا قاضی ہشام بن ہبیرہ تھا ۔ اِس سال حجاج بن یوسف نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔ اُس نے عبداﷲ بن قیس کو مدینۂ منورہ کا قاضی مقرر کیا ۔ ملک مصر کا گورنر عبدالعزیز بن مروان تھا ۔
ھ74 : حجاج بن یوسف مدینۂ منورہ کا گورنر
ھ73 ہجری کے آخری دنوں میں حجاج بن یوسف نے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو شہید کیا اور 74 ھجری میں عبدالملک بن مروان نے طارق بن عمرو کو معزول کر کے حجاج بن یوسف کو مدینۂ منورہ کا گورنر بنادیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 74 ھجری میں عبدالملک بن مروان نے طارق بن عمرو کو معزول کر کے حجاج بن یوسف کو مدینۂ منورہ کا گورنر بنا دیا ۔ حجاج بن یوسف مدینۂ منورہ آیا ،ایک مہینہ قیام کیا اور پھر عمرہ کرنے روانہ ہو گیا ۔ پھر ماہ صفر المظفر میں مدینۂ منورہ واپس آیا اور اِس مرتبہ تین مہینہ مقیم رہا ۔ وہ اہل مدینہ کے ساتھ بے عزتی سے پیش آتا تھا اور انہیں تکالیف پہنچاتا تھا ۔ محلہ بنو سلمہ میں اُس نے ایک مسجد بنائی جو مسجد حجاج کے نام سے ہی مشہور ہوئی ۔ حجاج بن یوسف کی بد تمیزی اور توہین سے صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم بھی نہیں بچے اور اُس نے اُن کی گردنوں پر داغ لگوائے ۔ حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ پر داغ لگائے اور حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ کی گردن پر داغ لگائے ۔ اِس سے مقصد اُن کی توہین و تذلیل تھی ۔ حجاج بن یوسف نے حضرت سہل بن سعد رضی اﷲ عنہ کو بلوایا اور کہا : ‘‘ تُو نے کیوں امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی اہانت کی ؟’’ انہوں نے فرمایا ‘‘ میں نے تو اُن کی ضرور مدد کی ہے۔’’ حجاج بن یوسف نے کہا : ‘‘ تم جھوٹ بولتے ہو ۔’’ اور پھر سیسہ گرم کر کے اُن کی گردن پر داغ لگائے ۔
خانہ کعبہ کی تعمیر نو
حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ سے جنگ کرنے میں حجاج بن یوسف نے مکۂ مکرمہ پر اتنے پتھر برسائے تھے کہ خانہ کعبہ کی دیواریں شکستہ ہو گئیں تھیں۔ یزید کے حکم سے شامی لشکر نے جب ۶۴ ھجری میں مکۂ مکرمہ پر حملہ کیا تھا تو تب بھی خانۂ کعبہ کی دیواریں شکستہ ہو گئی تھیں ۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے خانۂ کعبہ کی تعمیر نو کی تھی اور اُس کو ویسا بنا دیا تھا جیسا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے بنایا تھا۔ عبدالملک بن مروان نے حجاج بن یوسف کو حکم دیا کہ خانہ کعبہ کو مسمار کر کے پھر اُسی طرح بنادے جیسا قریش نے بنایا تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں :حجاج بن یوسف نے خانۂ کعبہ کی دیواروں کو جنھیں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے بنایا تھا منہدم کرادیا ۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے ‘‘حجر’’ کو خانۂ کعبہ میں شامل کر لیا تھا اور اُس کے دو دروازے بنا دیئے تھے ۔ مگر حجاج بن یوسف نے خانۂ کعبہ کو پھر اُسی صورت میں بنا دیا جس میں قریش نے بنایا تھا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں :‘‘ 74 ھجری میں عبدالملک بن مروان نے طارق بن عمرو کو معزول کر کے حجاج بن یوسف کو وہاں کا گورنر بنا دیا ۔ اِسی سال میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے بنائے ہوئے خانۂ کعبہ کو منہدم کر کے حجر اسود کو خانۂ کعبہ سے باہر کر دیا اور اُس بنیاد پر بنایا جس پر قریش نے بنایا تھا ۔ عبدالملک بن مروان اکثر کہا کرتا تھا کہ عبداﷲ بن زبیر( رضی اﷲ عنہ) اس روایت میں جس کو اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت کی ہے صادق نہیں تھا ۔ پس جب عبدالملک بن مروان کو اس روایت کی صحت کی تصدیق ہوگئی تو اُس نے کہا: ‘‘ مجھے یہی پسند آیا کہ میں عبداﷲ بن زبیر (رضی اﷲ عنہ) کی بنیاد کعبہ کو توڑ دوں۔’’
خارجیوں سے جنگ
ھ74 ھجری میں عبدالملک بن مروان نے بصرہ اور کوفہ کا گورنر اپنے بھائی بشر بن مروان کو بنا دیا ۔علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: جب عبدالملک بن مروان نے خالد بن عبداﷲ کو بصرہ کی گورنری سے معزول کیا اور اُس کی جگہ اپنے بھائی بشر بن مروان کو گورنر بنا دیا تو یہ حکم صادر کیا کہ مہلب بن ابی صفرہ کو خارجیوں سے جنگ کرنے کے لئے ‘‘ازارقہ’’ پر مامور کیا جائے ۔ اور اہل بصرہ اور اہل کوفہ میں سے جسے چاہے روانہ کر ے تاکہ خارجیوں کو چُن چُن کر ہلاک کیا جائے ۔ مہلب بن ابی صفرہ بصرہ کالشکر لیکر خوارج سے جنگ کرنے روانہ ہو گیا بشر بن مروان کو یہ ناگوارگزرا اور اُس نے عبدالرحمن بن محنف کو بلا کر کوفہ کا لشکر دیکر کہا :‘‘ تم کو معلوم ہی ہے کہ میں تمہاری کتنی عزت کرتا ہوں ۔ میں نے تمہیں اِس لئے بلایا کہ کوفہ کے لشکر کا سپہ سالار بنا کر جنگ ازارقہ پر روانہ کروں ۔ تم میرے حسن ظن کے مطابق اِس کام کے لئے موزوں ہو ، دیکھنا خبردار! مہلب بن ابی صفرہ کے فقروں میں نہ آجانااور اُس کی رائے اور مشورہ سے کوئی کام نہیں کرنا۔’’ عبدالرحمن بن محنف لشکر لیکر روانہ ہوا ۔ رام ہرمز میں پہنچ کر مہلب بن ابی صفرہ کے لشکر سے ایک میل کے فاصلے اپنے لشکر کا پڑاؤ ڈالا کہ دونوں لشکر ایکدوسرے کو دیکھ سکتے تھے اور خوارج سے خندق کھود کر جنگ چھیڑ دی ۔ رام ہرمز میں آئے عبد الرحمن بن محنف کو دس دن ہی گذرے تھے کہ بشر بن مروان کے مرنے کی اطلاع ملی اور یہ معلوم ہوا کہ مرتے وقت اُس نے خالد بن عبداﷲ کو گورنر بنا دیا ہے ۔ اِس خبر کا مشہور ہونا تھا کہ کوفہ کی فوجیں منتشر ہو کر اپنے شہر کی طرف واپس لوٹ آئیں اور اہواز پہنچ کر قیام کیا۔ خالد بن عبداﷲ نے بہت ڈرایا دھمکایا لیکن وہ لوگ مہلب بن ابی صفرہ کی طرف واپس نہیں گئے ۔اور رات کو چھپ چھپا کر شہر میں داخل ہوگئے ۔
اُمیہ بن عبداﷲ خراسان کا گورنر
ھ74 ھجری میں عبدالملک بن مروان نے اُمیہ بن عبداﷲ کو خراسان کا گورنر بنایا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : 72 ھجری میں عبداﷲ بن خازم کو قتل کیا گیا تو اُس کا سر بھیجنے کے معاملے میں بکیر بن وشاح اور بحیر میں اختلاف ہوگیا ۔ بکیر بن وشاح خراسان کا گورنر تھا اُس نے بحیر کو قید کر دیا ۔ اُس وقت خراسان میں قبیلہ بنو تمیم تھا اور اُن میں خصومت ہو گئی ۔بنو مقاعس اور دوسرے قبیلے والے بکیر بن وشاح سے نفرت کرنے لگے ۔اِس وجہ سے خراسانیوں کو یہ ڈر پیدا ہوا کہ اگر یہی صورت حال رہی تو نتیجہ فساد اور تباہی ہوگا اور دشمن ہماری خانہ جنگی کا فائدہ اُٹھا کر ہمیں زیر کر لیں گے ۔ اِسی لئے انہوں نے عبدالملک بن مروان کو اِس واقعات کی اطلاع دی اور لکھا کہ اگر اِسی طرح بکیر اور بحیر جھگڑتے رہیں گے ۔ اِس لئے کسی قریشی کو گورنر بناؤ جس سے لوگ حسد اور تعصب نہ کریں ۔مروان بن عبدالملک نے اپنے ارباب ِ سیاست سے مشورہ کیا اور اُمیہ بن عبداﷲ کو خراسان کا گورنر بنا کر روانہ کیا ۔ اُمیہ بن عبداﷲ کے خراسان پہنچنے سے پہلے بکیر بن وشاح نے بحیر سے صلح کر لی ۔
ھ74 ھجری کا خاتمہ
ھ74 ھجری کے خاتمے تک عبدالملک بن مروان نے حجاج بن یوسف کو مدینۂ منورہ کے ساتھ مکۂ مکرمہ کا بھی گورنر بنا دیا تھا بلکہ پورے ملک حجاز کا گورنر بنادیا تھا ۔کوفہ اور بصرہ کا گورنر بشر بن مروان تھا اور خراسان کا گورنر اُمیہ بن عبداﷲ تھا ۔ کوفہ کا قاضی شریح بن حارث تھا اور بصرہ کا قاضی ہشام بن ہبیرہ تھا ۔ اِس سال حجاج بن یوسف نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔ اُس نے عبداﷲ بن قیس کو مدینۂ منورہ کا قاضی مقرر کیا ۔ ملک مصر کا گورنر عبدالعزیز بن مروان تھا ۔
حضرت رافع بن خدیج انصاری رضی اﷲ عنہ کا انتقال
اِس سال 74 ھجری میں حضرت رافع بن خدیج رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت رافع بن خدیج بن رافع رضی اﷲ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے غزوۂ اُحد اور بعد کی سب جنگوں میں شرکت کی ۔ جنگ صفین میں حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ رہے ۔ 74ھجری میں انتقال ہوا ۔ کل اٹھہتر (78) احادیث اِن سے مروی ہیں ۔ غزوۂ اُحد میں آپ رضی اﷲ عنہ کی ہنسلی میں ایک تیر پیوست ہو گیا تھا ۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اُن کو اختیار دیا تھا کہ وہ چاہیں تو تیر کو نکال دیا جائے اور چاہیں تو اس کو یوں ہی چھوڑ دیا جائے جواُن کے لئے قیامت کے دن بطور شہادت کام آئے گا ۔ حضرت رافع بن خدیج رضی اﷲ عنہ نے آخری صورت قبول کی اور آخری عُمر میں تیر کے زخم کی وجہ سے ہی انتقال ہوا۔
حضرت ابو سعید خُدری انصاری رضی اﷲ عنہ کا انتقال
اِس سال 74 ھجری میں حضرت ابو سعید خُدری رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہ کا نام سعد بن مالک بن سنان انصاری خزرجی ہے ۔ یہ جلیل القدر فقہائے صحابہ میں ہیں ۔ غزوۂ اُحد میں عُمر کم ہونے کی وجہ سے واپس کر دیئے گئے تھے اور غزوۂ خندق میں پہلی بار حصہ لیا ۔ اِس کے بعد کے تمام معرکوں میں شریک رہے ۔ اِن سے بہت سی احادیث مروی ہیں ۔انہوں نے صحابۂ کرام کی مقتدربہ جماعت سے سے بھی روایات کی ہیں اور صحابۂ کرام اور تابعین کی بڑی تعداد نے بھی اِس سے احادیث روایت کی ہیں ۔ آپ رضی اﷲ عنہ کا شمار عالم و فاضل صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم میں ہوتا ہے ۔ واقدی وغیرہ کے مطابق آپ رضی اﷲ عنہ کا انتقال ۷۴ ھجری میں ہوا ہے لیکن بعض دوسرے علماء کے مطابق دس سال پہلے انتقال ہوا ہے ۔ واﷲ و اعلم۔
حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا انتقال
اِس سال 74 ھجری میں حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے بیٹے حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ہے ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عبداﷲ بن عُمر بن خطاب قریشی مہاجر نے اپنے والد محترم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے ساتھ ہی اسلام قبول کیا ۔ اُس وقت آپ رضی اﷲ عنہ کی عُمر دس سال سے بھی کم تھی ۔ اِس کے باوجود اپنے والد ِ محترم کے ساتھ ہجرت کی اور غزوۂ اُحد کے وقت کم عُمر ہونے کی وجہ سے واپس بھیج دیئے گئے تھے ۔غزوۂ خندق میں شریک ہوئے کیونکہ اُس وقت عُمر پندرہ سال ہو چکی تھی اور اس کے بعد کے تمام معرکوں میں شریک رہے ۔ اُم المومنین سیدہ حفصہ رضی اﷲ عنہا کے سگے بھائی ہیں ۔ خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے انہیں عہدۂ قضا دینا چاہا تو آپ رضی اﷲ عنہ نے معذرت کر لی ۔ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ کے شہید ہونے کے وقت ان کی عُمر بائیس (22) سال تھی ۔ حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے کئی بار بصرہ ، فارس اور مدائن کا دورہ کیا ایک مرتبہ آپ رضی اﷲ عنہ نے چالیس ہزارمیں ایک غلام خریدا اور اُس کو آزاد کر دیا ۔اُس غلام نے کہا: ‘‘ اے میرے آقا! آپ نے مجھے آزاد کر دیا مگر زندگی بسر کرنے کے لئے بھی کچھ عنایت ہو تو مہر بانی ہوگی تو آپ رضی اﷲ عنہ نے اُس غلام کو چالیس ہزار دیئے ۔ حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ فضل و کمال میں اپنے والد کی مانند تھے ۔اُن کی عُمر ساٹھ سال ہو گئی تھی پھر بھی لوگ دور دراز سے فتٰاوی حاصل کرنے کے لئے آتے تھے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے بہت سی احادیث روایت کی ہیں ۔ صحیح حدیث میں اُم المومنین سیدہ حفصہ رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛‘‘ اگر عبداﷲ بن عُمر فاروق ‘‘قائم اللیل’’ ہوں تو ‘‘مرد صالح’’ ہیں۔’’ اِس کے بعد سے آپ رضی اﷲ عنہ ہمیشہ ‘‘قائم اللیل’’ ہی رہے ۔ حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں :‘‘ حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سب سے زیادہ اپنے نفس پر قابو پانے والے ہیں۔’’ حضرت سعید بن مسیب رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں :‘‘ حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے زیادہ ‘‘حسن عمل’’ کا ذخیرہ کوئی شخص نہیں لے کر گیا ہے ۔’’ امام زہری فرماتے ہیں :‘‘ حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ متوازن و مصمم ارادہ کے مالک تھے ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد ساٹھ سال تک زندہ رہے پھر بھی صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم سے کلیتاً واقفیت رکھتے تھے ۔ امام مالک فرماتے ہیں :‘‘ حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی عُمر چھیاسی (86) سال ہوگئی تھی اور وہ ساٹھ (60) سال تک ‘‘اِفتاء’’ کے فرائض انجام دیتے رہے اور اُن کے پاس دور دور سے وفود آیا کرتے تھے ۔ ’’
حضرت ابوجحیفہ رضی اﷲ عنہ کا انتقال
اِس سال 74 ھجری میں حضرت ابو جحیفہ رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت ابو جحیفہ رضی اﷲ عنہ کا نام حضرت عبداﷲ سوائی رضی اﷲ عنہ ہے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ بزرگ صحابی ہے ہیں ۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو اپنی بلوغت سے قبل وصال کے وقت دیکھا ۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے کئی احادیث روایت کی ہیں اور حضرت علی المرتضیٰ اور حضرت براء بن عازب رضی اﷲ عنہم سے بھی رویات کی ہیں اور تابعین کی ایک بڑی جماعت نے آپ رضی اﷲ عنہ سے احادیث نقل کی ہیں ۔ آپ رضی اﷲ عنہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے ساتھیوں میں سے تھے اور جب خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ خطبہ دیتے تھے تو آپ ر ضی اﷲ اُن کے پیچھے کھڑے رہتے تھے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے کوفہ میں اپنا مکان بنایا اور وہیں ۷۴ ھجری میں انتقال ہوا ۔
حضرت سلمہ بن اکوع انصاری رضی اﷲ عنہ کا انتقال
اِس سال 74 ھجری میں حضرت سلمہ بن اکوع انصاری رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔ آپ رضی اﷲ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں ۔ آپ رضی اﷲ عنہ بہت ہی ماہر تیر انداز تھے ۔ ایک مرتبہ دشمنوں نے مدینۂ منورہ کی چراگاہ پر حملہ کیا اور اونٹوں کو لیکر بھاگنے لگے تو حضرت سلمہ بن اکوع رضی اﷲ عنہ نے مدینۂ منورہ والوں کو بلند آواز سے حملے کے بارے میں خبر دی اور انتظار کرنے کے بجائے تیر کمان لیکر دشمنوں کے پیچھے پیدل ہی بھاگے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ بھاگتے بھاگتے تیر چلاتے جارہے تھے اور ہر تیر پر ایک دشمن گھوڑے پر سے گر پڑتا تھا۔ یہاں تک کے دشمن اچھے خاصے اونٹ چھوڑ کر بھاگے ۔ اِسی دوران رسول اﷲصلی اﷲ علیہ وسلم اپنے صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کے ساتھ پہنچ گئے تو حضرت سلمہ بن اکوع رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا :‘‘ یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم مجھے ایک گھوڑا اور چند سوار دیں تو میں دشمنوں سے باقی اُونٹ بھی واپس لے آؤں گا ۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے انہیں چند سوار دیئے تو انہوں نے تیزی سے دشمنوں کا پیچھا کیا اور باقی اونٹ بھی والس لے آئے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ ‘‘بیعت رضوان’’ میں بھی شامل ہوئے اور آپ رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے دست مبارک پر تین مرتبہ بیعت کی ۔ ایک مرتبہ پہلے پھر درمیان میں اور پھر سب سے آخر میں ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت سلمہ بن اکوع بن عمرو سنان انصاری رضی اﷲ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں ۔ آپ رضی اﷲ عنہ ‘‘بیعت رضوان’’ کرنے والوں میں شامل ہیں ۔ آپ رضی اﷲ عنہ صحابۂ کرام میں سے بہت اچھے شہسوار اور علماء میں سے شمار ہوتے ہیں ۔ مدینۂ منورہ میں فتوے دیا کرتے تھے اور مدینۂ منورہ میں ہی انتقال ہوا۔
حضرت عبید بن عُمیر تابعی کا انتقال
اِس سال 74 ھجری میں مشہور تابعی حضرت عبید بن عُمیر کا انتقال ہوا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عبید بن عُمیر بن قتادہ بن سعد بن عامر لیثی مسلم بن حجاج کے قول کے مطابق رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے سامنے پیدا ہوئے ۔ حضرت عبید بن عُمیر نے اپنے والد محترم سے روایات نقل کی ہیں ۔ ان کے علاوہ آپ نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ ، حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ ، حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ ، حضرت عبداﷲ بن عباس ، حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہم اور اُم المومنین سیدہ اُم سلمہ رضی اﷲ عنہا سے بھی روایات نقل کی ہیں ۔ آپ سے تابعین کی ایک جماعت نے بھی رویات نقل کی ہیں ۔ حضرت عبید بن عمیر کے حلقۂ صحبت میں حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ بھی تھے جب وہ آپ کے وعظ و نصیحت سنتے تو اتنا متاثر ہوتے تھے کہ اُن کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو نکل آتے تھے ۔ امام بخاری نے امام ابن جریج کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ حضرت عبید بن عُمیر کا انتقال حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے پہلے ہوگیا تھا ۔
تین جلیل القدرتابعی کا انتقال
اِس سال 74 ھجری میں تین جلیل القدر تابعی کا انتقال ہوا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت ملک بن عامر مدنی کا انتقال ہوا ۔ آپ نے صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کی ایک جماعت سے روایات نقل کی ہیں ۔بڑے عالم و فاضل تھے اور انتقال مدینۂ منورہ میں ہوا ۔دوسرے تابعی حضرت ابو عبدالرحمن اہل کوفہ کے مہمان نوازوں میں شمار ہوتے تھے ۔ آپ کا نام عبداﷲ بن حبیب ہے ۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ ، حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ اور حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ کا آپ قرآن سنا چکے تھے اور صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کی کثیر جماعت سے قرآن سن چکے تھے ۔ خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے دورِ خلافت سے لیکر حجاج بن یوسف کی گورنری تک آپ کوفہ کے سب سے بڑے ‘‘قاری’’ تھے اور انتقال بھی کوفہ میں ہوا ۔ تیسرے تابعی حضرت ابو معرض اسدی ہیں۔ ان کا نام حضرت مغیرہ بن عبداﷲ کوفی ہے ۔ یہ عبدالملک بن مروان کے دربار کے شاعر بھی تھے ان کا انتقا ل اسی (80) سال کی عُمر میں کوفہ میں ہوا ۔
ھ75 ھجری : حجاج بن یوسف ملک عراق کا گورنر
ھ74 ھجری میں کوفہ اور بصرہ کے گورنر بشر بن مروان کا انتقال ہو گیا تھا اور اُس نے اپنی جگہ خالد بن عبداﷲ کو گورنر بنا دیا تھا ۔ 75 ھجری میں عبدالملک بن مروان نے حجاج بن یوسف کو کوفہ اور بصرہ کے ساتھ ساتھ پورے ملک عراق اور آس پاس کے علاقوں کا گورنر بنا دیا ۔ یحییٰ بن حکم کو ملک ھجاز کا گورنر بنا دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 75 ھجری میں محمد بن مروان نے موسم گرما کی مہم کے ساتھ رومیوں سے جہاد کیا جبکہ وہ رومی مرعش کی طرف بڑھے تھے ۔ اِس سال عبدالملک بن مروان نے یحییٰ بن حکم کو مدینۂ منورہ کا گورنر مقرر کیا اور حجاج بن یوسف کو پورے ملک عراق کا سوائے خراسان اور سجستان کے گورنر مقرر کیا ۔ حجاج بن یوسف مدینۂ منورہ میں مقیم تھا کہ عبدالملک بن مروان کا حکم ملا کہ ملک عراق جاؤ کیونکہ وہاں کے گورنر بشر بن مروان کا انتقال ہو چکا ہے ۔ حجاج بن یوسف بارہ سو سواروں کا لشکر لیکر نہایت اعلیٰ اور تیز رفتار اونٹنیوں پر سوار ہو کر کوفہ پہنچا۔
کوفہ میں حجاج بن یوسف کی آمد
مکۂ مکرمہ اور مدینۂ منورہ میں آفت مچانے کے بعد اب حجاج بن یوسف کوفہ کی طرف اپنے بارہ سو (1200) کے لشکر کے ساتھ رواں دواں تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حجاج بن یوسف جس وقت کوفہ پہنچا تو دن چڑھ آیا تھا اور اُس کا کوفہ آنا اچانک ہوا کیونکہ کسی کو اُس کے آنے کا علم نہیں تھا ۔ اُس وقت مہلب بن ابی صفرہ ازارقہ میں خوارج سے جنگ کی حالت میں تھا ۔ حجاج بن یوسف سب سے پہلے کوفہ کی جامع مسجد میں آیا اور منبر پر چڑھا۔ اُس نے ایک باریک سُرخ کپڑے کے عمامے سے اپنے چہرے کو چھپا رکھا تھا ۔ اُس نے بلند آواز سے لوگوں کو پکارا :‘‘ میرے سامنے آؤ تاکہ میں تقریر کروں ۔ لوگوں نے پہلے تو اسے اور اُس کے ساتھیوں کو خارجی خیال کیا اور اُس کے قتل کرنے کیا ٹھان لی ۔ مگر لوگ جب جمع ہو گئے تو اس نے اپنا چہرہ بے نقاب کردیا اور بولا :‘‘ میں وہ آفتاب ہوں جو پردۂ ظلمت کو چاک کر دیتا ہے اور میں گھاٹیوں پر چڑھنے والا ہوں ۔ جب میں اپنا عمامہ اُتاروں گا تب تم مجھے پہچان لو گے ۔اﷲ کی قسم! میں شر (برائی) کو اس کے کجاوہ پر لاد دیتا ہوں اور اس کو ایسے ہی نعل لگاتا ہوں اور جو جیسا کرتا ہے ویسے ہی اُس کا بدلہ دیتا ہوں ۔میں بہت سے سروں کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ پک گئے ہیں اور اُن کو توڑ لینے کا وقت قریب آگیا ہے اور میں عماموں اور داڑھیوں کو خون سے زعفرانی دیکھ رہا ہوں ۔’’
اہل کوفہ کو الٹی میٹم
اہل کوفہ کو اندازہ نہیں تھا کہ وہ کس مصبیت میں آچکے ہیں ۔اہل کوفہ کے سامنے حجاج بن یوسف کوفہ کی جامع مسجد میں خطبہ دے رہا تھا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ھجاج بن یوسف نے آگے کہا :‘‘اے ملک عراق کے لوگو!اچھی طرح جان لو کہ میں انجیر کی طرح دبایا نہیں جا سکتا اور نہ ہی بوسیدہ خشک مشک سے ڈرایا جا سکتا ہوں ۔ میرا تقرر نہایت دانائی سے کیا گیا ہے اور مجھے بڑے فرائض انجام دینا ہے ۔
امیر المومنین عبدالملک بن مروان نے اپنے ترکش سے تیر نکالے ہیں اور اُن سب کی لکڑیوں کو دانت سے کاٹا ہے اور مجھ کو ہی سب سے زیادہ مضبوط اور ٹوٹنے میں سخت پایا ہے ۔ اِسی لئے انہوں نے مجھے تمہاری طرف بھیجا ہے کیونکہ عرصۂ دراز سے فتنہ و فساد تمہارا شیوہ ہو گیا ہے اور بغاوت تمہارا دستور العمل۔ مگر سمجھ لو کہ میں تمہاری اِس طرح کھال اُدھیڑ لوں گا جس طرح لکڑی کی چھال اُتاری جاتی ہے اور تمہیں اِس طرح کاٹ ڈالوں گا جس طرح خشک کانٹے دار ببول کے درخت کو کاٹ ڈالا جاتا ہے اور اِس طرح تمہیں پیٹوں گا جس طرح ایک اجنبی اونٹ پیٹا جاتا ہے ۔ اﷲ کی قسم! اگر میں وعدہ کرتا ہوں تو وفا کرتا ہوں اور جب میں کسی کام کے کرنے کا ارادہ کرتا ہوں تو اُسے پورا کرتا ہوں ۔ اِس لئے مجھ سے اور ان جماعتوں سے ڈرو اور قیل و قال سے بچو اور جس حالت میں تم اب ہو اُس سے اپنے آپ کو نکالو ۔ اﷲ کی قسم! تم لوگ راہ ِ راست پر آجاؤ ورنہ یاد رکھو کہ جو لوگ مہلب بن ابی صفرہ کے محاذ سے بھاگ کر آئے ہیں وہ اگر آج سے تین دن کے بعد یہاں سے نہیں گئے تو انہیں قتل کر ڈالوں گا اور اُن کی جائداد ضبط کر لوں گا ۔ ’’ اِس قدر خطبہ دینے کے بعد حجاج اپنی قیام گاہ کی طرف چلا گیا ۔
اہل کوفہ پر ظالم حکمراں مسلط
اہل کوفہ پر پہلے زیاد نے سختی کی لیکن وہ نہیں سُدھرے ۔پھر اُس کے بیٹے عبیداﷲ بن زیاد نے سختی کی لیکن اُن کی وہی روش رہی لیکن اب اُن دونوں سے زیادہ ظالم شخص کوفہ کا گورنر بن کر آیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب حجاج دیر تک خاموش بیٹھا رہا تومحمد بن عُمیر نے کچھ کنکریاں ہاتھ میں اُٹھا لیں تھیں اور ارادہ کیا تھا کہ حجاج بن یوسف کو مارے اور یہ بھی کہا :‘‘ اﷲ اِسے ہلاک کرے یہ کس قدر کریہہ المنظر اور بد شکل ہے معلوم ہوتا ہے جو یہ کہے گا وہ بھی ایسا ہی ہوگا جیسا اِس کی ظاہری شکل و صورت ہے ۔’’جب حجاج بن یوسف نے خطبہ شروع کیا تو اُس کا اِس قدر اثر ہوا کہ کنکریاں خود بخود اُس کے ہاتھ سے نیچے گرنے لگیں اور محمد بن عُمیر کو اِس کی خبر بھی نہیں ہوئی ۔ حجاج بن یوسف نے آگے کہا :‘‘ شاھت الموجوہ یعنی تمہارے چہرے بگڑ جائیں ۔’’پھر قرآن پاک کی تلاوت کی اور آگے بولا:‘‘ اﷲتعالیٰ نے اُن لوگوں کی مثال اُس قریہ سے دی ہے جو نہایت امن و سکون میں تھا ۔ ہر جگہ سے نہات اطمینان و صبر کے ساتھ ماکولات پہنچا کرتی تھیں ۔ انہوں نے اﷲ تعالیٰ کی ناشکری کی ،پس اﷲ تعالیٰ نے اُس قریہ کو بھوک اور خوف کا لباس پہنا دیا اور انہیں کیاعمال اِس کے ذمہ دار تھے ۔تم لوگ بھی اُس قریہ کے باشندوں کی طرح ہو ۔بہتر ہے کہ اپنی حالت درست کر لو اور راہ راست پر آجاؤ ورنہ یاد رکھو کہ میں تمہیں ایسی ذلت کا مزہ چکھاؤں گا کہ تم باز آجاؤ گے اور تمہیں خشک کانٹے دار ببول کے درخت کی طرح کاٹوں گا پھر تم مطیع و منقاد ہو جاؤ گے ۔ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یا تم میرے ہاتھوں انصاف قبول کرو اور فتنہ و فساد اور جھوٹی افواہوں سے باز آجاؤ ورنہ معمولی ‘‘قطع و برید’’ کیا شئے ہے؟ میں تلوار سے تمہاری ایسی ‘‘قطع وبرید’’ کروں گا کہ تمہاری عورتیں بیوہ اور تمہارے بچے یتیم ہو جائیں گے اور جب تک تم اِن غیر آئینی باتوں کو ترک نہیں کرو گے اور اِن باتوں سے باز نہیں رہو گے تو میں اور میرے سپاہی تمہارا یہی حال کرتے رہیں گے ۔ میری اجازت کے بغیر صرف تنہا آدمی سوار ہو سکتا ہے اور کئی گھڑ سوار ایک ساتھ نہیں ہونے چاہیئیں ۔ یاد رکھو! اگر باغیوں کو اُن کی بغاوت راس آگئی اور وہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہو گئے تو نہ تو خراج وصول ہوگا اور نہ ہی دشمنوں سے کوئی لڑنے والا ہو گا اور نہ ہی سرحد کی حفاظت ہو سکے گی ۔ اگر تم لوگ زبردستی جہاد میں شریک نہیں ہو گے تو خوشی سے کبھی بھی شریک نہیں ہو گے ۔ مجھے خبر ملی ہے کہ تم لوگ مہلب بن ابی صفرہ کو ازارقہ کے مہاذ پر چھوڑ کر بھاگ آئے ہو ۔ میں قسم کھا کر تمہیں کہتا ہوں کہ آج سے تین دن کے بعد جس شخص کو میں یہاں دیکھوں گا اُس کی گردن اُڑا دوں گا ۔’’اِس کے بعد حجاج بن یوسف نے تمام سربرآوردہ لوگوں کو بلایا اور انہیں حکم دیا :‘‘ تم تمام بھگوڑوں کو مہلب بن ابی صفرہ کے پاس پہنچاؤ اور اِس کا مجھے تحریری ثبوت دو کہ وہ سب اپنی منزل ِ مقصود تک پہنچ گئے ہیں ۔ اِس مدت کے ختم ہونے تک شہر کے اور
پُل کے دروازے رات دن کھلے رہیں گے ۔’’
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!




