اتوار، 17 مارچ، 2024

56 سلطنت امیہ Saltanat e Umayya part 56


 سلطنت امیہ56

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 56

ا103 ھجری : سعید خذینہ کی معزولی، خراسان کے نئے گورنر کا خوف، اہل سغد ‘‘درۂ عصام’’ میں آباد، 103 ھجری کا اختتام، 103 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان، اہل سغد پر حملہ، اہل سغد کا قتل عام، سیدہ فاطمہ بنت حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہا کی فریاد، عبدالواحد بن عبداﷲبن بشر نضری مدینۂ منورہ کا گورنر، عبدالرحمن بن ضحاک کا انجام، سلطنت ِ عباسیہ کے پہلے حکمراں کی پیدائش، 104 ھجری کا اختتام، 104 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان، 105 ھجری : رومیوں اور ترکوں سے جہاد، یزید بن عبدالملک کا انتقال، 


ا103 ھجری : سعید خذینہ کی معزولی


مسلمہ بن عبدالملک نے سعیدخذینہ کو خراسان کا گورنر بنایا تھا لیکن جب اُس کی جگہ ملک عراق اور خراسان کا گورنر عمرو بن ہبیرہ بنا تو اُس نے سعید خذینہ کو معزول کر کے اپنا گورنر مقرر کیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 103 ھجری میں عمرو بن ہبیر ہ نے سعید خذینہ کو خراسان کی گورنری سے معزول کر دیا اور اُس کی جگہ سعید بن عمرو بن اسود بن مالک بن کعب حرشی کو خراسان کا گورنر مقرر کیا ۔ سعید خذینہ کو پنی برطرفی کی اطلاع اُس وقت ملی جب وہ سمر قند کے دروازے پر جہاد میں مصروف تھا ۔ برطرفی کے بعد وہ واپس پلٹ آیا اور ایک ہزار شہسوار سمرقند میں چھوڑ دیئے ۔سعید خذینہ نے صوبہ خراسان میں جن علاقوں پر اپنے گورنر مقرر کر رکھے تھے انہیں سعید بن عمرو حرشی نے معزول نہیں کیا بلکہ سب کو گورنری پر برقرار رکھا ۔


خراسان کے نئے گورنر کا خوف


سعید بن عمرو حرشی جب خراسان کا گورنر بن کر آیا تو اُس وقت پچھلا گورنر سمرقند کے دروازے پر اہل فرغانہ اور ترکوں سے جنگ کر رہا تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب عمرو بن ہبیرہ ملک عراق کا گورنر بنا تو اُس نے یزید بن عبدالملک کو اُن لوگوں کے نام لکھ کر بھیجے جنہوں نے یزید بن مہلب کے خلاف ‘‘جنگ عقر’’ میں شجاعت اور جوانمردی کا مظاہرہ کیا تھا ۔ خط پڑھ کر یزید بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ عمر بن ہبیرہ نے سعید بن عمرو حرشی کا ذکر کیوں نہیں کیا ؟’’ پھر اُسے لکھا: ‘‘ سعید بن عمرو حرشی کو خراسان کا گورنر مقرر کر دو۔’’ اُس نے سعید بن عمرو حرشی کو گورنر کی سند دیکر خراسان روانہ کیا ۔ جب سعید بن عمرو حرشی خراسان آیا تو اُس وقت مسلمان دشمن کے مقابلہ پر تھے اور انہیں دشمنوں کے مقابلہ میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تھا ۔ سعید بن عمرو حرشی نے اُن کے سامنے تقریر کی اور جہاد پر اُبھارا اور کہا: ‘‘ تم اسلام کے دشمنوں سے تعداد اور سامان جنگ کی وجہ سے نہیں فتح حاصل کرتے ہو بلکہ اﷲ کی مدد اور اسلام کی عزت کی وجہ سے تمہیں فتح حاصل ہوتی ہے ۔اِس لئے لا حول ولا قوۃ الاباﷲصرف اﷲ ہی کو طاقت اور قوت حاصل ہے ۔’’ اِس کے بعد اُس نے حملہ کیا تو دشمنوں کو شکست ہوئی ۔ اہل سغد اپنے شہروں کو چھوڑ کر فرغانہ چلے گئے اور وہاں کے بادشاہ سے مسلمانوں کے مقابلہ میں امداد کے طالب ہوئے ۔ اہل سغد نے سعید خذینہ کے خلاف جنگوں میں ترکوں کی امداد کی تھی ۔ اِسی لئے سعید بن عمرو حرشی کے خلاف انہیں اپنی جانوں کا خوف ہوا اور اُن کے سرداروں نے اپنے ملک سے چلے جانے کا ارادہ کر لیا ۔ مگر اُن کے بادشاہ نے کہا: ‘‘ ایسا نہ کرو! یہیں رہو اور پچھلے سال کا خراج لیکر خراسان کے نئے گورنر کے پاس جاؤ اور اگلے سالوں کے خراج کی ضمانت دے دو اور وعدہ کرو کہ زمینوں کو آباد کریں گے اور اگر وہ چاہے تو ہم اُس کے ساتھ جہاد میں شریک ہوں گے ۔ اپنے گذشتہ طرز عمل کی معذرت کرو اور اپنے یرغمال اُس کے حوالے کر دو۔’’ 


اہل سغد ‘‘درۂ عصام’’ میں آباد


اہل سغد کو بادشاہ نے جو مشورہ دیا اُسے انہوں نے قبول نہیں کیا اور فرغانہ کے بادشاہ سے امداد طلب کی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : مگر رعایا نے کہا: ‘‘ ہمیں ڈر ہے کہ وہ خوش نہیں ہوگا اور نہ ہی ہماری بات کو قبول کرے گا ۔ ہم خجندہ چلے جاتے ہیں اور اُس کے بادشاہ کے پاس پناہ لیں گے ۔ ’’ بادشاہ نے کہا: ‘‘ میں بھی تم میں سے ہی ہوں اور جو مشورہ میں نے تمہیں دیا تھا وہ تمہاری بھلائی کے لئے دیا تھا ۔’’ مگر انہوں نے بادشاہ کا کہنا نہیں مانا اور خجندہ کی طرف چلے ۔ کاعزنج ، کشین ، بمیارکث اور ثابت باشندگان ِ اشتخن کو لے کر نکلے اور فرغانہ کے بادشاہ ‘‘طاؤ’’ کو لکھا کہ آپ ہماری حفاظت کریں اور ہمیں اپنے شہروں میں رہنے کی جگہ دیں ۔ اُس کی والدہ نے کہا: ‘‘ اِس شیطانوں کو اپنے دارالسلنطت میں نہیں رہنے دینا بلکہ اِن کے لئے کوئی قصبہ خالی کرادو جہاں یہ لوگ رہیں۔’’ بادشاہ نے اُن کو کہلا بھیجا: ‘‘ کسی قصبہ کو تم بتاؤ ! میں اُسے تمہارے لئے خالی کرا دیتا ہوں اور اِس کے لئے مجھے چالیس دن کی مہلت دواور اگر تم چاہو تو میں ‘‘درہ ٔعصام’’ (عصام بن عبداﷲ باہلی کو قتیبہ بن مسلم نے اس درے کا گورنر بنایا تھا ) کو تمہارے لئے خالی کرادو۔’’ اُن لوگوں نے فرغانہ کے بادشاہ کی اِس تجویز کو پسند کیا اور کہا: ‘‘ ٹھیک ہے! آپ ‘‘درۂ عصام’’ کو ہمارے لئے خالی کرادیں۔’’فرغانہ کے اُس وقت کے بادشاہ کا نا م‘‘بلا د،یا ، بیلاذ ، ابوانوجور’’ تھا اور اُس کے ولی عہد کا نام ‘‘رستاق’’ تھا۔ 


ا103 ھجری کا اختتام


اِس سال کے اختتام تک مملکت اسلامیہ کے کئی گورنر تبدیل ہو چکے تھے ۔ خراسان کا گورنر سعید بن عمرو حرشی تھا ۔ ملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر اور ناظم ِ اعلیٰ عمروہ بن ہبیرہ تھا ۔ افریقہ کا گورنر محمد بن یزید انصار تھا ۔قاسم بن عبدالرحمن کوفہ کے قاضی تھے اور عبدالملک بن یعلی بصرہ کے قاضی تھے ۔عبدالرحمن بن عبداﷲ نضری طائف کا گورنر تھا ۔اِس سال یزید بن عبدالملک نے مکۂ مکرمہ کے گورنرعبدالعزیز بن عبداﷲ کو معزول کر دیا اور عبدالرحمن بن ضحاک کو مدینۂ منورہ کے ساتھ ساتھ مکۂ مکرمہ کا بھی گورنر بنا دیا اور اُسی نے مسلمانوں کو اِس سال حج کرایا۔


ا103 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان


اِس سال جن کا انتقال ہوا اُن میں سے کچھ کے نام یہ ہیں۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 103 ھجری میں یزید بن مسلم کا انتقال ہوا ۔ یہ جلیل القدر تابعی ہیں اور کئی صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم سے روایات بیان کی ہیں ۔ متعدد آئمہ نے ان کے ثقہ ہونے کی تصدیق کی ہے ۔ اسکندریہ میں انتقال ہوا۔ اِس سال مجاہد بن جبیر مکی کا انتقال ہوا ۔ یہ اپنے زمانے میں تفسیر کے سب سے زیادہ ماہر عالم مانے جاتے تھے ۔ اُس دورمیں امام طاؤس کے علاوہ کوئی ان کے پایہ کا نہیں تھا ۔امام مجاہد نے حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے تفسیر کا علم حاصل کیا ہے ۔ آپ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ کے سب سے بہترین شاگردوں میں سے ہیں اور اُن کو دو مرتبہ قرآن پاک ایک ایک آیت کو پڑھ کر سمجھا اور یاد کیا اور سنایا ہے اور اس کے متعلق سوالات بھی کئے ہیں ۔ امام مجاہد نے حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق ، حضرت عبداﷲ بن عباس ، حضرت ابو ہریرہ ، حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہم سے روایات بیان کی ہیں ۔ اِس سال مصعب بن سعد بن ابی وقاص کا انتقال ہوا ۔ یہ جلیل القدر تابعی ہیں ۔ 


اہل سغد پر حملہ


اِس سال سعید بن عمرو حرشی نے اہل سغد پر حملہ کیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : 104 ھجری میں سعید بن عمرو حرشی جہاد کے لئے روانہ ہوا اور دریا کو عبور کر کے اپنی فوج کا باقاعدہ معائنہ کر رہا تھا کہ فرغانہ کا بادشاہ کا چچیرا بھائی نیلان اُس کے پاس آیا اور کہا: ‘‘ اہل سغد خجندہ میں فروکش ہیں ۔اِس سے پہلے کہ وہ ‘‘درہٌ عصام’’ میں داخل ہوں آپ اُن پر حملہ کر دیں کیونکہ ا’س وقت ہم پر اُن کی حفاظت کی ذمہ داری نہیں ہے ہاں اگر وہ ‘‘درہ ٔعصام’’ میں داخل ہو گئے تو ہماری ذمہ داری میں آجائیں گے ۔’’سعید بن عمرو حرشی نے نیلان کے ساتھ عبدالرحمن قشیری اور اُس کے بیٹے زیدہ بن عبدالرحمن قشیری کو ‘‘مقدمۃ الجیش’’ کا کمانڈر بنا کر روانہ کیا اور اپنی فوج لیکر اُن کے پیچھے روانہ ہوا۔ اُس نے اشرونہ میں قیام کیا اور وہاں کے باشندوں نے خراج پر صلح کرلی ۔ اِس کے بعد روانہ ہوا تو تیسرے دن اپنے ‘‘مقدمۃ الجیش’’ سے جا ملا ۔ اِس کے بعد سعید بن عمرو حرشی نے خجندہ کا محاصرہ کر لیا ۔ محاصرہ کافی دن چلا ۔ایک دن ایک عرب نے خجندہ کے پھاٹک کو گرز کی ضربوں سے توڑ کر کھول دیا۔ اہل خجندہ نے یہ ترکیب کی تھی کہ شہر کے اگلے دروازے کے نیچے چھتہ میں ایک خندق کھود کر اسے سر کنڈوں سے پاٹ کر اس پر مٹی بچھا دی تھی تاکہ اگر انہیں شکست ہو تو وہ معلوم دروازے سے پسپا ہو کر شہر کے اندر چلے جائیں گے اور مسلمان لا علمی میں اس خندق میں گر پڑیں گے مگر یہ تدبیر انہی پر اُلٹی پڑ گئی۔ جب اُس عرب نے شہر کے دروازے کو توڑا تو اہل خجندہ اور اہل سغد نے شہر سے نکل کر مسلمانوں کا مقابلہ کیا اور جب شکست کھا کر پسپا ہوئے تو راستہ بھول گئے اور اُسی خندق میں گرنے لگے ۔ خندق گرنے والوں میں سے چالیس آدمی ایسے نکالے گئے جنہوں نے دو دو زرہیں پہن رکھی تھیں ۔ اہل سغد نے فرغانہ کے بادشاہ کے پاس پیغام بھیجا کہ تم نے ہمارے ساتھ دھوکہ کیا ہے اب ہماری مدد کرو ۔ فرغانہ کے بادشاہ نے کہا: ‘‘ چالیس دن کی مدت سے پہلے مسلمانوں نے تم پر حملہ کر دیا ہے اِس لئے تم خود اپنی حفاظت کرو۔ ’’ جب اُس کی امداد سے مایوس ہو گئے تو سعید

 بن عمرو حرشی سے امان کی درخواست کی اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ہمیں سغد واپس بھیج دیا جائے ۔ 


اہل سغد کا قتل عام


سعید بن عمرو حرشی نے اہل سغد کی کی درخواست قبول کر لی لیکن انہوں نے بدعہدی کی جس کے نتیجہ میں مسلمانوں نے اُن کا قتل عام کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: سعید بن عمرو نے اِس شرط پر اُنہیں امان دی کہ وہ عربوں کے عورتوں اور بچوں کو واپس کردیں گے اور وہ تمام خراج جو انہوں نے ادا نہیں کیا وہ بھی ادا کریں اور کسی مسلمان پر دھوکہ سے حملہ نہیں کریں گے اور اہل سغد میں سے کوئی بھی شخص خجند میں نہیں رہے گا ۔ اگر اِن میں سے کوئی بھی بات اہل سغد کی طرف سے معاہدے کے خالف ہو گی تو مسلمانوں پر اہل سغد کا خون حلال ہو جائے گا ۔ صلح ہوجانے کے بعد مسلمانوں نے اہل سغد کو اُن کے محفوظ مقام تک پہنچانے کے لئے ایک سو پچاس مجاہدین کی نگرانی میں روانہ کر دیا ۔ راستے میں اہل سغد نے اُن سب کو شہید کر دیا اور اُن مسلمانوں میں سے ایک غلام جیسے تیسے جان بچا کر بھاگا آیا اور مسلمانوں کی شہادت کی اطلاع دی ۔ اِس کے بعد سعید بن عمرو حرشی نے اہل سغد کے قتل عام کا حکم دے دیا ۔ مسلمانوں نے تمام جنگجو مردوں کو قتل کردیا جن کی تعداد لگ بھگ تین ہزار تھی ۔ مسلمانوں کو مال غنیمت ملا اُس کا خمس نکال کر باقی مسلمانوں میں تقسیم کر دیا اور خمس یزید بن عبدالملک کے پاس بھیج دیا اور ساتھ ہی تمام حلات بھی لکھ کر بھیج دیئے ۔ 


سیدہ فاطمہ بنت حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہا کی فریاد


اِس سال مدینہ منورہ کے گورنر عبدالرحمن بن ضحاک نے ‘‘اہل بیت’’ پر ظلم کیا جس کی فریاد سیدہ فاطمہ بنت حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہا نے امیر المومنین یزید بن عبدالملک کے دربار میں کی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عبدالرحمن بن ضحاک نے حضرت امام حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کی بیٹی سیدہ فاطمہ بن حسین رضی اﷲ عنہا کو نکاح کا پیغام دیا جو آپ نے قبول نہیں کیا اور انکار کر دیا۔ مگر عبدالرحمن بن ضحاک مسلسل اصرار کرتا رہا اور آپ رضی اﷲ عنہا کو یہ دھمکی دی : ‘‘ اگر تم مجھ سے نکاح نہیں کرو گی تو میں تمہارے بڑے بیٹے کو شراب نوشی کے الزام میں کوڑے لگواؤں گا ۔’’ اُسی دوران مدینۂ منورہ کا میر منشی ایک شامی ابن ہرمز کو امیر المومنین یزید بن عبدالملک نے لکھا: ‘‘ میرے پاس آکر حساب پیش کرو ۔’’ ابن ہرمز جب ملک شام جانے لگا تو سیدہ فاطمہ بنت امام حسین رضی اﷲ عنہا سے ملنے آیا اور بولا: ‘‘ اگر کوئی ضرورت ہو تو فرمایئے۔’’ آپ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا: ‘‘ عبدالرحمن بن ضحاک کی حرکت کے بارے میں امیر المومنین کو بتا دینا۔’’ اِس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہا نے ایک خط میں تمام واقعہ لکھ کر ایک قاصد کو دیا اور فرمایا: ‘‘ امیرالمومنین کو یہ خط دے دینا۔’’ اتفاق سے ابن ہرمز اور قاصد آگے پیچھے ملک شام میں دربار میں پہنچے ۔ ابن ہرمز جب دربار میں یزید بن عبدالملک کے سامنے گیا تو اُس نے کہا: ‘‘ مدینۂ منورہ میْں کوئی عجیب واقعہ تو پیش نہیں آیا ہے نا؟’’ ابن ہرمز نے کہا: ‘‘ نہیں کوئی عجیب واقعہ پیش نہیں آیا ہے ۔’’ اتنے میں دربان نے بلند آواز سے سیدہ فاطمہ بنت امام حسین رضی اﷲ عنہا کے قاصد کے آنے کیا اطلاع دی تو یزید بن عبدالملک نے دربار میں حاضر ہونے کا حکم دیا ۔ اب ابن ہرمز نے کہا :‘‘ امیرالمومنین جس روز میں مدینۂ منورہ سے روانہ ہوا تھا تو سیدہ فاطمہ بنت امام حسین رضی اﷲ عنہا نے مجھے یہ پیغام دیا تھا ۔ ’’ یزید بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ اﷲ تمہارا برا کرے! میں نے تم سے سوال نہیں کیا تھا کہ کوئی عجبیب خبر ہو تو بتاؤ مگر تم نے بیان نہیں کی ۔’’ ابن ہرمز نے کہا: ‘‘ امیرالمومنین! میں بھول گیا تھا ۔’’


عبدالواحد بن عبداﷲبن بشر نضری مدینۂ منورہ کا گورنر


سیدہ فاطمہ بنت امام حسین رضی اﷲ عنہا کے قاصد نے آپ رضی اﷲ عنہا کا خط یزید بن عبدالملک کو دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : یزید بن عبدالملک تخت سے اُتر آیا اور قاصد کو اندر آنے کی اجازت دی اور اُس نے سیدہ فاطمہ بنت امام حسین رضی اﷲ عنہا کا خط یزید بن عبدالملک کو دیا ۔ اُس نے خط لیا اور خود پڑھنے لگا ۔ اُس وقت اُس کے

 ہاتھ میں ایک بید تھا اسے زمین پر مارتا جاتا تھا اور کہتا جاتاتھا :‘‘ اﷲ اکبر! ابن ضحاک کی یہ جرأت۔کیا کوئی ایسا شخص ہے جو ابن ضحاک کو ایسی سخت سزا دے کہ اُس کے چیخنے کی آواز میں اپنے بستر پر لیٹا ہوا سن لوں ۔’’ درباریوں نے عبدالواحد بن عبداﷲ بن بشر نضری کا نام لیا ۔ یزید بن عبدالملک نے کاغذ منگوایا اور اپنے ہاتھ سے عبدالواح بن عبداﷲ کو لکھا جو اس وقت طائف میں تھا :‘‘ السلام علیکم! امابعد! میں نے تمہیں مدینۂ منورہ کا گورنر مقرر کر دیا ہے ۔ جس وقت تمہیں میرا خط ملے تم اُسی وقت عبدالرحمن بن ضحاک کو معزول کردو اور چالیس ہزار دینار اُس پر جرمانہ عائد کرو اور اُسے ایسی سخت تکلیف اور سزا دو کہ میں بستر پر لیٹا ہوا اُس کی آواز سنوں۔’’ قاصد یہ خط لیکر مدینۂ منورہ آیا اور عبدالرحمن بن ضحاک کے پاس نہیں گیا مگر ابن ضحاک کے دل میں خطرہ پیدا ہوگیا تھا ۔اُس نے قاصد کو بلوایا اور اپنی مسند کا ایک کونہ ہٹا کر بتایا تو وہاں ایک ہزار دینار رکھے ہوئے تھے ۔عبدالرحمن بن ضحاک نے کہا: ‘‘ اگر تم وہ بات جانتے ہو جس کے لئے بھیجے گئے ہو تو میں تمہیں ایک ہزار دینار دوں گا اور اِس کا کسی سے ذکر نہیں کروں گا۔’’ قاصد نے وہ بات اُسے بتا دی ۔ عبدالرحمن بن ضحاک نے اُسے تین دن اپنے پاس ٹھہرایا پھر اُسے مدینۂ منورہ سے باہر بھیج دیا ۔


عبدالرحمن بن ضحاک کا انجام


قاصد سے اصل بات اُگلوا لینے کے بعد عبدالرحمن بن ضحاک اپنے بچاؤ کی فکر میں لگ گیا لیکن اُس نے ‘‘آل رسول’’ کی شان میں جو گستاخی کی تھی اﷲ تعالیٰ نے اُسے اُس کی سزا دی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عبدالرحمن بن ضحاک مدینۂ منورہ سے روانہ ہوا اور تیز رفتاری سے منزلیں طے کرتا ہوا مسلمہ بن عبدالملک کے پاس پہنچا۱ اور اُس سے کہا: ‘‘ میں آپ کی حمایت میں ہوں اور آپ میری مدد کیجیئے۔’’ مسلمہ بن عبدالملک دوسرے دن یزید بن عبدالملک کے پاس گیا اور اِدھر اُدھر کی میٹھی باتیں کرنے کے بعد عرض پرداز ہوا :‘‘ میں ایک غرض لیکر حاضر ہوا ہوں ۔’’ یزید بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ عبدالرحمن بن ضحاک کے علاوہ تمہاری ہر درخواست مجھے منظور ہے ۔’’ مسلمہ بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ مجھے اُسی کے بارے میں عرض کرنا ہے ۔’’ یزید بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ اُس نے آل رسول کی شان میں گستاخی کر کے ایسی نا شائستہ حرکت کی ہے کہ میں اُسے کبھی معاف نہیں کر سکتا۔ ’’ یزید بن عبدالملک نے عبدالرحمن بن ضحاک کو سپاہیوں کی نگرانی میں مدینۂ منورہ بھیج دیا ۔ عبداﷲ بن محمد کہتے ہیں :‘‘ میں نے عبدالرحمن بن ضحاک کو مدینۂ منورہ میں ایسی حالت میں دیکھا کہ پشمینہ کا جبہ پہنے وہ لوگوں سے بھیک مانگتا پھرتا تھا ۔عبدالواحد بن عبداﷲ بن بشر نضری نے اُس پر طرح طرح کی سختیاں کی تھیں اور اُس کا بہت ہی برا حال ہوگیا تھا۔’’


سلطنت ِ عباسیہ کے پہلے حکمراں کی پیدائش


ا104 ھجری میں ‘‘خاندان ِ بنو عباس’’ میں وہ شخص پیدا ہوا جو ‘‘سلطنت ِ عباسیہ’’ کا پہلا حکمراں بنا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال ۱۰۴ ؁ ھجری میں ‘‘سفاح’’ پیدا ہوا جو بنو عباس کا پہلا حکمراں بنا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال ‘‘ابوالعباس عبداﷲ بن محمد بن علی ’’ پیدا ہوا ۔ ( جس کا لقب ‘‘سفاح’’ تھا)اِس سال ابومحمد صادق اور اُس کے چندخراسان کے دوست محمد بن علی کے پاس آئے اور ابوالعباس اِس ملاقات سے چند روز پہلے پیدا ہو چکا تھا ۔ محمد بن علی ایک خرقہ میں ابوالعباس کو اُن کے پاس لایا اور کہا: ‘‘ اﷲ کی قسم! اِس کام کو یہ لڑکا پورا کرے گا یہاں تک کہ تم اپنے دشمنوں سے بدلہ لے لو گے ۔’’ 


ا104 ھجری کا اختتام


ا104 ھجری کا اختتام ہوا اور اِس سال بھی کئی گورنر تبدیل ہوئے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اِس سال آذربائیجان اور آرمینیہ کے گورنرجراح بن عبد حکمی نے ترکوں سے جہاد کیا اور قلعہ بلنجر کو فتح کیا اور ترکوں کو شکست دی اور اُن کے متعلقین کو پانی میں غرق کر دیا ۔ بہت سے لونڈی اور غلام قید کئے اور وہ قلعے بھی جو بلنجر کے قریب تھے اُس نے فتح کر لئے اور اُن کے باشندوں کو جلا وطن کر دیا ۔ اِس سال عمرو بن ہبیرہ نے سعید بن عمرو حرشی کو خراسان کی گورنری سے معزول کردیا اور اُس کی جگہ مسلم بن سعید بن اسلم بن زرعۃ کلابی کو گورنر بنایا ۔ اِس سال کے اختتام پرعمرو بن ہبیرہ ملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر تھا ۔ بصرہ کے قاضی عبدالملک بن یعلیٰ تھے اور کوفہ کے قاضی حسین بن حسن کندی تھے ۔ مکۂ مکرمہ ، مدینۂ منورہ اور طائف کا گورنر عبدالواحد بن عبداﷲ نضری تھا اور اُسی نے مسلمانوں کو حج کرایا۔ 


ا104 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان


ا104 ھجری میں جن کا انتقال ہوا اُن میں سے چند حضرات یہ ہیں ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 104 ھجری میں خالد بن سعدان کلاعی کا انتقال ہوا ۔ یہ جلیل القدر تابعی ہیں اور چند مشہور علماء اور آئمہ میں شمار ہوتے تھے ۔ آپ نے بہت سے صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم سے روایات بیان کی ہیں ۔ جب یہ روزہ رکھتے تھے تو اُس دن چالیس ہزار تسبیح پڑھتے تھے۔ یہ اہل حمص کے امام تھے اور ماہ رمضان میں تراویح پڑھاتے تھے تو ایک دن میں تہائی قرآن ختم کر لیتے تھے ۔ اِس سال عامر بن سعد بن ابی وقاص کا انتقال ہوا ۔ یہ جلیل القدرصحابی رضی اﷲ عنہ کے بیٹے ہیں اور جلیل القدر تابعی ہیں اور ثقہ ہیں۔ اِس سال عامر بن شراحیل شعبی کا انتقال ہوا۔اِن کی کنیت ابوعمرو ہے ۔یہ اہل کوفہ کی شناخت و علامت تھے اور اپنے زمانے کے امام ، حافظ اور صاحب ِ فنون بزرگ تھے ۔انہوں نے بہت سے صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم سے روایات بیان کی ہیں۔ابو مجاوز نے کہا: ‘‘ میں نے امام شعبی سے بڑا فقیہ نہیں دیکھا ۔ یہ کوفہ میں قاضی رہ چکے ہیں۔ اِس سال ابوبردہ بن ابوموسیٰ اشعری کا انتقال ہوا ۔ یہ امام شعبی سے بھی سے بھی پہلے کوفہ کے قاضی کے عہدہ مامور رہ چکے ہیں۔ امام شعبی کو تو حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ نے انے دور ِ حکومت میں قاضی کے عہدہ پر مامور کیا تھا جبکہ امام ابوبردہ ابوموسیٰ اشعری حجاج بن یوسف کی گورنری کے دور میں قاضی رہ چکے تھے ۔ یہ بہت بڑے عالم ، حافظ اور فقیہ تھے اور اِن سے بہت سی روایات مشہور ہیں۔اِس سال ابو قلادہ جرمی کا انتقال ہوا ۔ اِن کا نام عبداﷲ بن یزید بصری ہے ۔ان سے کثیر روایات مروی ہیں اور صحابۂ مرام رضی اﷲ عنہم کے علاوہ بہت سے تابعین نے بھی اِن سے روایات بیان کی ہیں۔ یہ کبار آئمہ اور فقہا میں سے تھے ۔


ا105 ھجری : رومیوں اور ترکوں سے جہاد


اِس سال مسلمانوں نے رومیوں اور ترکوں سے جہاد کیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 105 ھجری میں جراح بن عبداﷲ حکمی نے لان میں جہاد کیا اور اس سے بھی آگے بڑھ کر اُن شہروں اور قلعوں کو فتح کیا جو ‘‘ماورالنہر’’ میں واقع تھے ۔ اِن میں سے بعض کو اُس نے فتح کرلیا اور وہاں کے باشندوں کو جلا وطن کردیا اور بہت سا مال غنیمت حاصل کیا ۔ اِس سال سعید بن عبدالملک نے رومیوں کے علاقے میں جہاد کیا اور ایک ہزار سپاہیوں کی فوج بھیجی جو سب کے سب دشمن کے ہاتھوں مارے گئے ۔ اِس سال مسلم بن سعید نے ترکوں سے جہاد کیا مگر کوئی فتح حاصل نہیں کرسکا ۔ اِس کے بعد سغد کے ایک ‘‘فشینہ’’ پر حملہ کیا اور اُس کے بادشاہ نے صلح کر لی ۔ اِس کے بعد مسلم بن سعید اِس سال کے آخر میں پھر ترکوں سے جہاد کرنے گیا مگر بغیر کامیابی کے لوٹ آیا اور ترکوں نے مسلمانوں کا تعاقب کیا اور جب مسلمان دریائے بلخ عبور کر رہے تھے تو ترک فوجی پہنچ گئے ۔اُس وقت لشکر کے ‘‘ساقہ’’ پر بنو تمیم تھے ۔انہوں نے دشمنوں کی یلغار کو روکا اور مسلمانوں نے حفاظت سے دریا عبور کر لیا ۔ اِسی دوران میں مملکت اسلامیہ کے حکمراں یزید بن عبدالملک کا انتقال ہوگیا ۔ اُس وقت مسلم بن سعید شہر ‘‘افشین’’ کا محاصرہ کئے ہوئے تھا ۔افشین کے بادشاہ نے چھ ہزار راس پر صلح کر لی اور قلعہ مسلم بن سعید کے حوالے کردیا ۔ مسلم بن سعید اِس مہم سے فراغت پا کر 105 ھجری کے اختتام اپنے دارالحکومت ‘‘مرو’’ واپس آیا ۔ 


یزید بن عبدالملک کا انتقال


اِس سال مملکت اسلامیہ کے حکمراں یزید بن عبدالملک کا انتقال ہوگیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 105 ھجری میں یزید بن عبدالملک کا ماہ شعبان ختم ہونے میں ابھی پانچ راتیں باقی تھیں کہ انتقال ہو گیا ۔ امام واقدی کہتے ہیں کہ یزید بن عبدالملک کا انتقال اڑتیس (38) سال کی عُمر میں دمشق کے نواح ‘‘بلقاء’’ انتقال ہوا۔ بعض راویوں نے چالیس سال عُمر بیان کی اور بعض نے چھتیس سال بیان کی ہے ۔ امام ابی معشر ، ہشام بن محمد اور علی بن محمد کے مطابق یزید بن عبدالملک نے چار سال ایک مہینے حکومت کی ہے مگر امام واقدی کے مطابق چار سال حکومت کی ۔ اُس کے پندہ سالہ لڑکے ولید بن یزید نے نماز جنازہ پڑھائی ۔ اُس دن ہشام بن عبدالملک ‘‘حمص’’ میں تھا ۔ہشام بن محمد کے مطابق یزید بن عبدالملک کا انتقال تینتیس (33) کی عُمر میں ہوا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

ہفتہ، 9 مارچ، 2024

57 سلطنت امیہ / Saltanat e Umayya part 57


57 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 57

ہشام بن عبدالملک کا دورِ حکومت، ہشام بن عبدالملک ‘‘سلطنت ِ اُمیہ’’ کا حکمراں، تحریک عباسیہ کی امداد، گورنروں کی تبدیلی، 105ھجری کا اختتام، 106 ھجری : رومیوں سے جہاد، ترکوں کی شکست، اسد بن عبداﷲ قسری خراسان کا گورنر، 106 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان، 107 ھجری : رومیوں سے بحری اور بری جنگ، اسد بن عبداﷲ قسری کا ترکوں سے جہاد، بلخ کو فوجی چھاونی بنا یا، 107 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان، ترکوں سے جہاد، خاقان کی شکست، 108 ھجری میں انتقال کرنے والے

ہشام بن عبدالملک ‘‘سلطنت ِ اُمیہ’’ کا حکمراں

105 ھجری میں ‘‘سلطنتِ اُمیہ’’ کا حکمراں ہشام بن عبدالملک بنا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال ماہ شعبان کے ختم ہونے میں دو راتیں باقی تھیں کہ ہشام بن عبدالملک ‘‘سلطنت ِ اُمیہ’’ کا حکمراں بنا ۔ یہ اُس سال پیدا ہوا جس سال حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ شہید ہوئے ۔ ہشام بن عبدالملک زیتونہ میں اپنے مکان کے ایک کمرہ میں تھا کہ اُس کے اُس کے بھائی یزید بن عبدالملک کے انتقال کی خبر ملی اور اُس کے ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کے حکمراں ہونے کی خوشخبری بھی ملی ۔ ہشام بن عبدالملک رصافہ پر سوار ہو کر دمشق آیا اور‘‘ قصر امارت’’ میں فروکش ہوا ۔ 

تحریک عباسیہ کی امداد

سلطنت اُمیہ میں خاندان عباسیہ خاموشی سے اپنی تحریک چلا رہا تھا ۔اُن کا ارادہ ‘‘اُمیہ خاندان’’ سے حکومت چھین کر ‘‘عباسیہ خاندان’’ کی حکومت قائم کرنا تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 105 ھجری میں بکیر بن ماہان ملک سندھ (ہندوستان) سے آیا ۔ یہ ملک سندھ میں جنید بن عبدالرحمن کا ترجمان تھا ۔ جب جنید بن عبدالرحمن کو معزول کر دیا گیا تو بکیر بن ماہان کوفہ واپس آگیا ۔ اُس کے پاس چاندی کی چار اینٹیں اور سونے کی ایک اینٹ تھی ۔ یہ ابوعکرمہ صادق میسرہ ، محمد بن نتیس ، سالم اعین اور ابو یحییٰ بنو سلمہ کے آزاد غالم سے ملا ۔ اُن لوگوں نے اُس سے کہا: ‘‘ خاندان بنو ہاشم ( بنو عباس) کے لئے جو تحریک چلائی جا رہی ہے تم اُس میں شریک ہو جاؤ۔ بکیر بن ماہان نے اُن کی رائے کو قبول کیا اور جو کچھ اُس کے پاس تھا سب تحریک کی کامیابی کے لئے دے دیا اور محمد بن علی کے پاس آیا ۔ اِسی دوران میسرہ کا انتقال ہو گیا اور محمد بن علی نے میسرہ کی جگہ بکیر بن ماہان کو ملک عراق کا ‘‘تحریک کا داعی’’ مقرر کر دیا ۔ 

گورنروں کی تبدیلی

سلطنت اُمیہ کا حکمراں بننے کے بعد ہشام بن عبدالملک نے گورنروں کی تبدیلی کی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : 105 ھجری میں مملکت اسلامیہ کا حکمراں بننے کے بعد ہشام بن عبدالملک نے ہبیرہ بن عمرو کو معزول کر دیا اور خالد بن عبداﷲ قسری کوملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر بنا دیا ۔ خالد بن عبداﷲ قسری نے زیاد بن عبداﷲ کو ‘‘رے’’ کا گورنر مقرر کردیا ۔ 

105ھجری کا اختتام

105 ھجری کا اختتام ہوا اور اِس سال بھی مملکت اسلامیہ میں کئی گورنروں کی تبدیلی ہوئی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال کے اختتام پر ہشام بن عبدالملک نے خالد بن عبداﷲ کو ملک عراق و ایران اور خراسان کا گورنر مقرر کیا ۔ خراسان کا گورنر مسلم بن سعید تھا ۔ افریقہ اور اسپین کا گورنر وہی تھا جو پچھلے سال تھا ۔ ملک مصر کا گورنر بھی پچھلے سال کا ہی تھا ۔ مکۂ مکرمہ ، مدینۂ منورہ اور طائف کا گورنر عبدالواحد بن عبداﷲ نضری تھا ۔ کوفہ کے قاضی حسین بن حسن کندی تھے اور بصرہ کے قاضی موسیٰ بن انس تھے ۔ اِس سال ابراہیم بن ہشام بن اسماعیل نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔ جب وہ حج کرنے گیا تو عطاء بن رباح سے پوچھوایا:‘‘ میں مکۂ مکرمہ میں کس وقت خطبہ پڑھوں؟’’ عطا بن رباح نے کہا:‘‘ ظہر کی نماز کے بعد ذی الحجہ کی دسویں تاریخ سے ایک دن پہلے ۔’’ ابراہیم بن ہشام نے ظہر سے پہلے ہی خطبہ پڑھ دیا اور کہا: ‘‘ میرے قاصد کے ذریعہ عطاء بن رباح نے ایسا ہی حکم دیا تھا ۔’’ عطاء بن رباح نے کہا: ‘‘ نہیں! میں نے ایسا نہیں کہا تھا ۔’’ اِس کی وجہ سے ابراہیم بن ہشام جھینپ گیا اور مسلمانوں نے اُس کے اِس فعل کو ناواقفیت پر محمول کیا تھا ۔

106 ھجری : رومیوں سے جہاد

اِس سال مسلمانوں نے سعید بن عبدالملک کی قیادت میں رومیوں سے جہاد کیا ۔ ہشام بن عبدالملک نے اِس سال حرمین شریفین کے گورنر کو تبدیل کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 106 ھجری میں سعید بن عبدالملک موسم گرما میں مسلمانوں کو لیکر رومیوں سے جہاد کرنے گیا اور حجاج بن عبدالملک نے ‘‘لان’’ پر حملہ کر کے اُس کے باشندوں سے صلح کر لی اور انہوں نے جزیہ ادا کر دیا ۔ اِس سال ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کے حکمراں ہشام بن عبدالملک نے مکۂ مکرمہ ، مدینۂ منورہ اور طائف کے گورنر عبدالواحد بن عبداﷲ نضری کو معزول کر دیا اور اُس کی جگہ اپنے ماموں ابراہیم بن ہشام بن اسماعیل کو گورنر بنایا ۔ 

106 ھجری : ترکوں سے جہاد

106 ھجری میں ایک بار پھر مسلم بن سعید نے ترکوں سے جہاد کرنے کے لئے لشکر جمع کیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال مسلم بن سعید اپنی فوج لیکر ترکوں کی طرف روانہ ہوا اورجب بخارا پہنچا تو اُسے ملک عراق کے گورنر خالد بن قسری کا خط ملا جس میں خالد بن عبداﷲ قسری کے ملک عراق کا گورنر بننے کا ذکر لکھا تھا اور اُس نے حکم دیا : ‘‘ تم اِس جہاد کو پورا کر لو۔’’ مسلم بن سعید اپنی فوج لیکر فرغانہ کی طرف بڑھا ۔ اِس موقع پر ابوضحاک رواحی جو قبیلہ بنو عبس کے خاندان رواحہ کا تھا نے اعلان کر دیا :‘‘ اِس سال جو شخص پیچھے رہ جائے گا اُس پر کوئی جرم نہیں۔’’ یہ سن کر چار ہزار مجاہدین مسلم بن سعید کو چھوڑ کر واپس چلے گئے ۔جب وہ اپنا لشکر لیکر فرغانہ پہنچا تو اُسے معلوم ہوا کہ ترک خاقان اُس کے مقابلے کے لئے ایک بہت ہی بڑا لشکر جرار لیکر آیا ہے ۔ وادئ سیوح عبور کرتے ہیں خاقان اپنے لشکر کے ساتھ سامنے آگیا ۔ مسلم بن سعید کے لشکر کے ‘‘مقدمۃ الجیش’’ کے کمانڈر عبداﷲ بن ابی عبداﷲ نے مشہور شہسواروں کو دشمن کو روکنے کے لئے اُتار دیا ۔ ترکوں نے اُن پر حملہ کیا اور سب کو شہید کر ڈالا ۔اِس معرکہ میں مسیب بن بشر اور براء جو آل مہلب کے مشہور بہادر سرداروں میں سے تھے شہید ہو گئے اور ترک بادشاہ غورک خان کا بھائی بھی میدان جنگ میں مارا گیا لیکن ترک مسلمانوں کے پڑاؤ میں داخل ہو گئے ۔ 

ترکوں کی شکست

ترکوں کا بادشاہ خاقان ایک بہت ہی بڑا لشکر لیکر مسلمانوں کے مقابلے پر آیا تھا اور پہلے حملے میں مسلمانوں کو پیچھے دھکیل دیا اور پھر مسلمانوں کے پورے لشکر کو گھیر ے میں لے لیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : مگر اب مسلمان ترکوں پر جھپٹ پڑے اور انہیں مسلمانوں کے پڑاؤ سے نکال دیا ۔ مسلم بن سعید نے لشکر کا جھنڈا عامر بن مالک حمانی کو دیا اور لشکر لیکر واپس ہوا ۔ ترک لشکر مسلمانوں کے لشکر کو گھیرے ہوئے تھا ۔ آٹھ روز تک برابر چلتے رہے مگر ترک بھی برابر مسلمانوں کو گھیرے رہے ۔ جب نویں رات ہوئی تو مسلم بن سعید نے قیام کا ارادہ کیا اور مسلمانوں سے اِس بارے میں مشورہ لیا تو سب نے قیام کا مشورہ دیا اور کہا: ‘‘ صبح کے وقت ہم پانی کے پاس جا کر اُتریں گے اور اگر ہم نے پہاڑ کے درے میں پڑاؤ ڈالا تو دشمن ہماری فرو گاہ کو لوٹ کر لے جاسکتا ہے ۔ ’’ مسلم بن سعید نے پڑاؤ ڈالنے کا حکم دے دیا رات میں مسلمانوں کو حکم دیا کہ برتنوں اور دوسرے سامان جن کی وجہ سے بوجھ بڑھ گیا ہے سب جلا ڈالو۔ مسلمانوں نے اُس رات دس لاکھ کی قیمت کا سامان جلا ڈالا۔ صبح ہوتے ہی مسلم بن سعید نے مسلمانوں کو کوچ کا حکم دیا اور پانی کے قریب جا کر پڑاؤ ڈال دیا اور صف بندی کر لی ۔ وہاں دیکھا کہ اہل فرغانہ اور اہل شاش دریا کے آگے مزاحمت کے لئے مستعد ہیں ۔ اُس وقت مسلم بن سعید نے مجاہدین کو حکم دیا کہ اب دشمن پر حملہ کرو ۔ سب نے حکم کی تعمیل کی جہاں تک نظر جاتی تھی مسلمانوں کی تلواریں ہی تلواریں نظر آتی تھیں ۔ اُس دن مسلمان اپنی جگہ قیام پذیر رہے اور

 دوسرے دن مسلم بن سعید کے حکم سے دریا عبور کیا ۔ خاقان کے ایک بیٹے نے مسلمانوں کا تعاقب کیا ۔ حمید بن عبداﷲ جو مسلمانوں کا ‘‘ساقہ’’ کا کمانڈر تھا ۔اُس نے مسلم بن سعید سے کہا : ‘‘ذرا دیر رک جاؤ ۔’’ پھر ساقہ کے ساتھ ترکوں پر ٹوٹ پڑا اور انہیں شکست دیکر پیچھے دھکیل دیا اور اُن کے سات سرداروں کو قید کر لیا ۔ ایک تیر اُسے آکر لگا اور وہ شہید ہو گیا ۔اِس کے بعد مسلمانوں نے ترکوں پر ایسا شدید حملہ کیا کہ انہیں شکست ہوئی اور وہ میدان چھوڑ کر بھاگے ۔

اسد بن عبداﷲ قسری خراسان کا گورنر

اِس سال ہشام بن عبدالملک نے ملک عراق وایران اور تمام مشرقی ممالک کے گورنر خالد بن عبداﷲ کو حکم دیا کہ مسلم بن سعید کو خراسان کی گورنری سے معزول کر دو اور اپنے بھائی اسد بن عبداﷲ قسری و خراسان کا گورنر بنا دو۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اِس سال 106 ھجری میں خالد بن عبداﷲ قسری ملک عراق کا گورنر مقرر ہو کر کوفہ آیا اور اپنے بھائی اسد بن عبداﷲ کو خراسان صوبہ کا گورنر بنایا۔علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اِسی اثناء میں دارالخلافہ سے ایک فرمان آپہنچا جس میں اسد بن عبداﷲ قسری کو خراسان کی گورنری اور عبدالرحمن بن نعیم کو اُس کی نیابت دی گئی تھی ۔ مسلم بن سعید نے فرمان کو آنکھوں سے لگا کر پڑھا اور بسرو چشم اس کی تعمیل کی ۔ جس وقت خالد بن عبداﷲ قسری نے اپنے بھائی اسد بن عبداﷲ قسری کو خراسان کی گورنری کی ‘‘سند’’ دی اور وہ خراسان کی طرف روانہ ہوا تو اُن دنوں مسلم بن سعید فرغانہ میں تھا ۔ نہر پر پہنچ کر اسد بن عبداﷲ قسری نے نہر عبور کرنے کا قصد کیا تو اشہب بنعبداﷲ تمیمی جو آمد کا ‘‘امیرالبحر’’ تھا عبور کرنے سے مانع ہوا ۔ اسد بن عبدا قسری نے ‘‘سندِ گورنری’’ دکھلائی تو اشہب بن عبداﷲ نے نہر عبور کرنے کی اجازت دے دی ۔ نہر عبور کرنے کے بعد اسد بن عبداﷲ قسری ‘‘مرج’’ میں آکر ٹھہر گیا ۔ سمرقند کے گورنر ہانی بن ہانی نے اُس کی آمد کی خبر سن کر شہر کے رؤساء کے ساتھ آیا اور کمال عزت و احترام سے سمرقند لے گیا ۔ اسد بن عبداﷲ قسری نے سمرقند سے لشکر کی سپہ سالاری کی سند عبدالرحمن بن نعیم کے نام ایک شخص کی معرفت روانہ کی تو وہ مجاہدین کو لیکر سمرقند آیا ۔ اِس کے بعد ہانی بن ہانی کو معزول کر کے اُس کی جگہ سمر قند کا گورنر حسن بن ابی عمرطہ کندی کو بنایا ۔ 

106 ھجری کا اختتام

106 ھجری کے اختتام پر مملکت ِ اسلامیہ کے کئی گورنر تبدیل ہو چکے تھے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال کے اختتام پر ملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر اور ناظم اعلیٰ خالد بن عبداﷲ قسری تھا ۔ بصرہ میں خالد بن عبداﷲ کی طرف سے عبد بن عبدالاعلیٰ نماز کے امام مقرر تھے ۔ مالک بن منذر کوتوال تھا ۔ثمامہ بن عبداﷲ بصرہ کے قاضی تھے ۔ اسد بن عبداﷲ قسری خراسان کا گورنر تھا ۔ افریقہ ، اسپین اور ملک مصر کے گورنر وہی تھے جو پچھلے سال تھے ۔ مکۂ مکرمہ ، مدینۂ منورہ اور طائف کا گورنر ابراہیم بن ہشام تھا ۔علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال ۱۰۶ ؁ھجری میں ہشام بن عبدالملک نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔ اور ابوزناد کو حکم دیا کہ اُس کے مدینۂ منورہ میں داخل ہونے سے پہلے وہ اُس سے مل لے اور مناسک حج کی تعلیم دے ۔ اِس کی تعمیل کی گئی اور لوگوں نے مدینۂ منورہ کے راستے میں احکام حج سیکھے ۔ 

106 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان

اِس سال جن کا انتقال ہوا اُن میں سے چند اعیان یہ ہیں۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 106 ھجری میں حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے بیٹے سالم بن عبداﷲ بن عُمر بن خطاب کا انتقال ہوا ۔ اِن کی کنیت ‘‘ابو عمرو ’’ تھی ۔ یہ بڑے زبردست فقیہ اور عالم تھے ۔ انہوں نے اپنے والد ِ محترم حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے بہت سی روایات بیان کی ہیں اور اِن کا شمار عابدوں اور زاہدوں میں ہوتا تھا ۔ ہشام بن عبدالملک اپنی حکمرانی کے زمانے میں حج کرنے گیا تو اِن سے کہا: ‘‘ مجھ سے کچھ مانگیں۔’’ انہوں نے فرمایا :‘‘ دنیا مانگوں یا آخرت؟’’ ہشام بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ دنیا کی کوئی چیز مانگیں۔’’ انہوں نے فرمایا: ‘‘ جس نے دنیا بنائی ہے اُسے میں نے دنیا نہیں مانگی تو تم سے کیا مانگوں؟’’ آپ ہمیشہ دو موٹے ٹاٹ کے کپڑے پہنتے تھے اور کبھی کسی حکمراں سے کچھ نہیں لیا ۔ اِس سال امام طاوؤس بن کیسان یمانی کا انتقال ہوا ۔ یہ جلیل القدر تابعی تھے اور حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ کے خاص شاگردوں میں سے ہیں۔انہوں نے بہت سے صحابۂ کرام سے روایات بیان کی ہیں۔ یہ فقہ کے بہت بڑے امام تھے اور اِن سے بڑے بڑے تابعین نے روایات لی ہیں ۔ جن میں امام مجاہد ، امام عطاع ، عمرو بن دینا ، عبدالکریم بن مخارق ، ابراہیم ، ابن میسرہ ، امام زہری (محمد بن منذر) حبیب بن ثابت ، ضحاک بن مزاحم عبدالملک بن میسرہ اور وہب بن منبہ اور اُن کے بیٹے عبداﷲ بن طاوؤس وغیرہ ہیں ۔ آپ کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ حج کرتے ہوئے انتقال ہوا اور ہشام بن عبدالملک نے نماز جنازہ پڑھائی ۔ 

107 ھجری : رومیوں سے بحری اور بری جنگ

اِس سال مسلمانوں نے رومیوں سے بری اور بحری دونوں جنگ کی یعنی مسلمان رومیوں سے زمین پر بھی لڑے اور پانی پر بھی لڑے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال معاویہ بن ہشام موسم گرما کی مہم لیکر جہاد کے لئے روانہ ہوا ۔ میمون بن مہران ملک شام کی فوج کا سپہ سالار تھا ۔ معاویہ بن ہشام نے سمندر کو طے کیا اور جزیرہ ‘‘قبرص’’ پر آیا ۔ اُس کے ساتھ وہ امدادی فوج تھی جس کی بھرتی کا ہشام نے ۱۰۶ ؁ ھجری میں حکم دیا تھا اور اِن کی تنخواہیں 107 ھجری میں باقاعدہ مقرر کی گئی تھیں۔ اِن میں سے آدھے لوگ جہاد کے لئے گئے اور آدھے ملک شام میں رہے ۔ اِس سال مسلمہ بن عبدالملک نے خشکی پر رومیوں سے جہاد کیا ۔ اِس سال ملک شام میں شدید طاعون کی وباء پھیلی تھی ۔

خراسان میں تحریک عباسیہ کے کارکنوں کا قتل

خاندان ِ بنو عباسیہ کی خفیہ تحریک خاموشی سے چل رہی تھی لیکن خراسان کے گورنر اسد بن عبداﷲ کو اِس خفیہ تحریک کے بارے میں پتہ چل گیا تو اُس نے خراسان کے تمام کارکنوں کا قتل کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 107 ھجری میں بکیرہ بن ماہان نے ابو عکرمہ ، ابو محمد صادق ، محمف بن خنیساور عمار عبادی کو کچھ اپنے طرف داروں کے ساتھ جن کے ہمراہ زیادہ ولید ارزق کا ماموں بھی تھا ۔اپنے اغراض و مقاصد کی اشاعت و تبلیغ کے لئے خراسان بھیجا ۔ بنو کندہ کے ایک شخص نے خراسان کے گورنر اسد بن عبداﷲ قسری کے سامنے ان کی چغلی کردی ۔ ابو عکرمہ ، محمد بن خنیس اور اُن کے تمام ساتھیوں کو گرفتار کر کے اسد بن عبداﷲ قسری کے سامنے لایا گیا لیکن عمار عبدی بچ کر نکل گیا ۔ جو لوگ قبضے میں آگئے تھے اُن کے ہاتھوں اور پاؤں کو کاٹ کر سولی پر لٹکا دیا گیا ۔ عمار عبدی واپس بکیر بن ماہان کے پاس آیا اور پوری سرگذشت سنائی ۔ بکیر بن ماہان نے تمام ماجرا علی بن محمد کو لکھ بھیجا ۔ محمد بن علی نے جواب دیا : ‘‘ تما م تعریف اُسی اﷲ کے لئے ہے جس نے تمہاری خبر اور دعوت کو سچ کیا ہے ۔ تم میں سے جو بچ گئے ہیں وہ بھی عنقریب مارے جائیں گے ۔’’ 

اسد بن عبداﷲ قسری کا ترکوں سے جہاد

اِس سال خرسان کا گورنر لشکر لیکر ترکوں سے جہاد کرنے کے لئے گیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 107 ھجری میں اسد بن عبداﷲ قسری نے نمرون کے پہاڑوں اور علاقہ غرشستان پر جو طالقان کے پہاڑوں سے متصل تھے جہاد کیا ۔ نمرون کے بادشاہ نے اُس سے صلح کر لی اور اُسی کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا ۔ یہاں کے باشندے آج تک ( علامہ محمد بن جریر طبری کے زمانہ تک ) یمنیوں کے موالی ہیں ۔(اسد بن عبداﷲ قسری یمنی تھا) اِس کے بعد اسد بن عبداﷲ قسری نے ‘‘غور’’ پر جو ‘‘ہرات’’ کا پہاڑی علاقہ ہے جہاد کیا ۔ جب اُس نے غور پر چڑھائی کی تو وہاں کے تمام باشندوں نے اپنے تمام مال و متاع کو ایک ایسے عمیق غار میں ڈال دیا جہاں تک پہنچان غیر ممکن تھا ۔ اسد بن عبداﷲ نے صندوق بنوائے اور اُن میں آدمیوں کو بٹھا کر رسیوں کے ذریعہ نیچے اُتارا اور یہ لوگ جس قدر مال و متاع نکال سکے نکال لائے ۔ 

بلخ کو فوجی چھاونی بنا یا

اِس سال اسد بن عبداﷲ نے مسلمانوں کی فوجی چھاونی کو بلخ میں منتقل کر دیا ۔ اِس کی وجہ یہ تھی کہ بلخ ترکی سرحد سے زیادہ قریب تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال اسد بن عبداﷲ قسری نے بروقان کی متعنہ فوج کو بلخ میں منتقل کر دیا اور جن جن لوگوں کے بروقان میں مکان تھے انہیں بلخ میں مکانات بنوا کر دیئے اور جن کے نہیں تھے اُن کو بھی بنوا کر دیئے اور ارادہ کیا کہ اپنی فوج کو پانچ الگ الگ حصوں میں تقسیم کر کے علیحدہ علیحدہ بسا دے لیکن اُس کے دوستوں نے ایسا کرنے سے منع کیا اور کہا: ‘‘ اِس طرح اُن میں گروہ بندی ہو جائے گی جس سے جھگڑے پیدا ہوں گے ۔’’ اِسی لئے اُس نے سب کو خلط ملط کر کے بسا دیا ۔ شہر کی تعمیر کے لئے اُس نے معمار اور مزدور مقرر کئے اور خالد بن برمک کے باپ کو شہر کی تعمیر کا مہتمم (انجنیئر) مقرر کر دیا ۔ بروقان میں زیادہ تر کمانڈر اور روساء رہتے تھے ۔ اُس کے اور بلخ کے درمیان دو فرسخ کا فاصلہ تھا ۔ 

107 ھجری کا اختتام

107 ھجری کا اختتام ہوا ۔ اِس سال کے اختتام پر مملکت اسلامیہ میں تمام گورنر وہی رہے جو پچھلے سال کے اختتام پر تھے ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال ملک یمن میں ایک شخص عباد رعینی نے خوارج کا مذہب اختیار کیا اور اُس کی اتباع میں اچھی خاصی تعداد میں لوگوں نے اُس مذہب کو اختیار کر لیا ۔ اِن لوگوں سے ملک یمن کے گورنر یوسف بن عمر نے قتال کیا اور اُس کو اُس کے تین سو ساتھیوں کے ساتھ قتل کر ڈالا۔ اِس سال مکۂ مکرمہ ، مدینۂ منورہ اور طائف کے گورنر ابراہیم بن ہشام نے مسلمانوں کو حج کرایا۔

107 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان

اِس سال جن کا انتقال ہوا اُن میں سے چند اعیان یہ ہیں ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 107 ھجری میں سلیمان بن یسار کا انتقال ہوا۔ یہ عطاء بن یسار کے بھائی ہیں اور اِن سے بہت سی روایات منقول ہیں ۔ عبادت میں مجتہدین میں شمار ہوتے تھے ۔ اِس سال عکرمہ مولیٰ ابن ابن عباس کا انتقال ہوا ۔ یہ تابعی ہیں اور مفکر و مکثر ہونے کے علاوہ علماء ربانین میں شمار ہوتے تھے ۔ اِن کی کنیت ابو عبادﷲ تھی ۔ انہوں نے صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کی کثیر تعداد سے روایات بیان کی ہیں ۔ یہ صاحب ِ علم و فن تھے اور اپنے آقا حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ کی زندگی میں فتوے بھی دیا کرتے تھے ۔ عکرمہ کہتے ہیں کہ میں نے چالیس سال علم حاصل کیا ۔ مشہور ہے کہ سفیان ثوری کا قول ہے کہ مناسک لینا ہے تو وہ سعید بن جبیر ، مجاہد اور عکرمہ سے لو اور تفسیر لینا ہے تو چار آدمیوں سعید بن جبیر ، مجاہد ، عکرہ اور ضحاک سے لو۔ 

108 ھجری : رومیوں سے جنگ

108 ھجری میں مسلمانوں نے رومیوں کے کئی علاقوں پر حملہ کیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال مسلمہ بن عبدالملک نے رومیوں سے جہاد کیا اور شہر قیساریہ تک جو جزیرہ سے متصل واقع ہے جا پہنچا ۔ اﷲ تعالیٰ نے اِس شہر کو اُس کے ہاتھوں فتح کرایا ۔ اِس سال ابراہیم بن ہشام نے بھی رومیوں کے خلاف جہاد کیا اور اُن کے ایک قلعہ کو فتح کر لیا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال ۱۰۸ ؁ ھجری میں معاویہ بن ہشام بن عبدالملک نے بھی ارض روم پر جہاد کا سلسلہ جاری رکھا اور اُس نے بڑے بڑے بہادروں کو بھی لشکر کے ساتھ روانہ کیا ۔ انہوں حنجرہ فتح کیا اور بہت سا مال غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ آیا ۔ 

ترکوں سے جہاد

اِس سال 108 ھجری میں اسد بن عبداﷲ نے پھر ترکوں سے جہاد کیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال اسد بن عبداﷲ نے ختل سے جہاد کیا ۔ علی بن محمد بیان کرتے ہیں کہ خاقان نے اسد بن عبداﷲ کو آلیا مگر پھر اسد بن عبداﷲ ‘‘قواریان’’ کی طرف پلٹ گیا اور

 دریا کو عبور بھی کر آیا اِس لئے ان دونوں میں کوئی جنگ نہیں ہوسکی ۔مگر ابوعبیدہ بیان کرتے ہیں کہ ترکوں نے اسد بن عبداﷲ کو شکست دی اور اُس کا سخت نقصان کیا ۔واپسی میں اسد بن عبداﷲ نے ظاہر کیا کہ وہ ‘‘سرخ درہ’’ میں موسم سرما بسر کرنا چاہتا ہے مگر پھر اُس نے لوگوں کو کوچ کا حکم دیا اور سب چل پڑے ۔ اسد بن عبداﷲ بن اپنے جھنڈے سامنے بڑھادیئے ۔ فوج نے تکبیر کہنا شروع کر دیا ۔ اسد بن عبداﷲ نے پوچھا : ‘‘ یہ کیا ہے؟’’ لوگوں نے کہا: ‘‘ عربیوں کا شیوہ ہے کہ جب وہ واپس پلٹتے ہیں تو تکبیر کہتے ہیں۔’’ اِس پر اسد بن عبداﷲ نے فوج کے نقیب عروہ سے کہا کہ اعلان کردو کہ امیر ‘‘غوریان’’ جانا چاہتے ہیں۔ ’’ جب مسلمان غوریان پہنچ گئے تب خاقان آیا ۔ اسد بن عبداﷲ نے دریا عبور کر لیا اور نہ مسلمانوں نے ترکوں کا سامنا کیا اور نہ ترکوں نے انہیں چھیڑا۔

خاقان کی شکست

اِس سال خاقان نے آذربائیجان پر حملہ کیا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 108 ھجری میں خاقان آذربائیجان کی طرف بڑھا اور اُس نے شہر ‘‘ورثان’’ کا محاصرہ کر لیا اور اُس پر منجنیقوں سے سنگ باری کی تو اُس کی سرکوبی کے لئے اس علاقہ کے گورنر مسلمہ بن عبدالملک نے کمانڈر عمرو بن حارث کو فوج دیکر سپہ سالار بنا کر بھیجا ۔ اُس کی خاقان سے جنگ ہوئی اور زبردست مقابلے کے بعد مسلمانوں نے خاقان کے بہت سے سپاہیوں کو قتل کر دیا ۔ جب خاقان کے بہت سے سپاہی مارے گئے تو وہ بھی فرار ہو گیا لیکن اِس جنگ میں حارث بن عنرو بھی شہید ہو گیا ۔

108 ھجری کا اختتام

108 ھجری کے اختتام پر ملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر خالد بن قسری تھا ۔ ملک یمن کا گورنر یوسف بن عمر تھا ۔ افریقہ ملک مصر اور اسپین کے گورنر وہی تھے جو پچھلے سال تھے ۔ مکۂ مکرمہ ، مدینۂ منورہ اور طائف کا گورنر ابراہیم ہشام تھا اور اُسی نے مسلمانوں کو حج کرایا۔

108 ھجری میں انتقال کرنے والے

اِس سال میں انتقال کرنے والے چند اعیان یہ ہیں ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 108 ھجری میں ابوبکر بن عبداﷲ بصری کا انتقال ہوا ۔ یہ عالم و عابد و زاہد اور متواض انسان تھے ۔ یہ ‘‘قلیل الکلام’’ مشہور تھے اور انہوں نے بہت سے صحابہ اور تابعین سے روایات بیان کی ہیں ۔ اِس سال راشد بن سعد متوانی حمصی کا انتقال ہوا ۔ یہ طویل عرصہ زندہ رہے اور کثیر صحابہ رضی اﷲ عنہم کے راوی ہیں ۔ یہ عابد و زاہد اور صالح انسان تھے ان کی سیرت بڑی طویل ہے ۔ اِس سال محمد بن کعب قرضی کا انتقال ہوا اور صحابہ رضی اﷲ عنہم کی متعددبہ جماعت سے روایات کے ناقل ہیں ۔ یہ عالم ، عابد اور صالح انسان تھے اور قرآن پاک کے اچھے مفسر تھے ۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

ہفتہ، 2 مارچ، 2024

اللہ تعالیٰ تم کو بہتر بدلہ دے Jazakallah khair




اللہ تعالیٰ تم کو بہتر بدلہ دے



حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے ساتھ کوئی نیکی کا سلوک کیا گیا اور اس نے  اس نیکی کرنے والے سے «جزاك الله خيراً» ”اللہ تعالیٰ تم کو بہتر بدلہ دے“ کہا اس نے اس کی پوری پوری تعریف کر دی“  

جامہ ترمذی جلد ١ ، ٢١٠١  -حسن 


حضرت عمر‌ فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر لوگوں کو جزاك الله خيراً کہنے کا ثواب معلوم ہو جائے تو وہ  ایک دوسرے کو یہ بہت زیادہ کہنے لگ جائے 

مصنفه ابنُ أبي شيبة  ٢٦٥١٩ 


 ایک بار اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے  جزاك الله خيراً یعنی الله آپ کو اچّھا صلہ عطا فرماۓ  کہا تو ان کے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے  وَأَنْتُمْ فَجَزَاكُمُ اللَّهُ خَيْرًا یعنی  آپ کو بھی ، الله آپ کو  بھی اچّھا صلہ عطا فرماۓ کہا  

صحيح ابن حبان  ٧٤٣٦-حسن


نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا اللہ کا ( بھی ) شکر ادا نہیں کرتا ۔

سنن ابی داؤد جلد ۳ ۱۳۸۳ صحیح








 

جمعرات، 29 فروری، 2024

بے منزل مسافر، اسلامک تاریخی ناول Be Manzil Musafir/ Islamic History Novel

بے منزل مسافر



بے منزل مسافر پی ڈی ایف ڈاؤنلوڈ


Be Manzil Musafir 


 

رسول اللہ ﷺ کی خاص دعا Rasool Allah ki Dua



رسول اللہ ﷺ کی خاص دعا



اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ إِلَهِي لاَ إِلَهَ لِي غَيْرُكَ (صحیح بخاری جلد ٧ حدیث ٧٣٨٥)


اے اللہ ! میں نے تیرے ہی سامنے سر جھکا دیا ‘ میں تجھ ہی پر ایما ن لایا ‘ میں نے تیرے ہی اوپر بھروسہ کیا اور تیری ہی طرف رجوع کیا ۔ میں نے تیری ہی مدد کے ساتھ مقابلہ کے اور میں تجھی سے انصاف کا طلب گار ہوں ۔ پس تو میری مغفرت کر ‘ ان تمام گناہوں میں جو میں پہلے کر چکا ہوں اور جو بعد میں مجھ سے صادر ہوں جو میں نے چھپا رکھے ہیں اور جن کا میں نے اظہار کیا ہے ‘ تو ہی میرا معبود ہے اور تیرے سوا اور کوئی معبود نہیں ۔ “ اور ہم سے ثابت بن محمد نے بیان کیا اور کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے پھر یہی حدیث بیان کی اور اس میں یوں ہے کہ تو حق ہے اور تیرا کلام حق ہے “ ۔(صحیح بخاری جلد۔ 3 حدیث نمبر 7385) 

منگل، 27 فروری، 2024

رمضان المبارک रमज़ान मुबारक Ramzaan Mubarak



🌹ماہ رمضان المبارک🌹

🌹فضیلت، احکام و مسائل🌹

مرتب: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

الحمدللہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علیٰ سید الانبیاء و المرسلین ﷺ

🌹باب نمبر 1🌹

🌹روزہ ، کب کیوں کیسے؟🌹

🌹روزہ کیا ہے؟🌹

اللہ تعالیٰ نے ہم مسلمانوں کو ایک ایسی عبادت عطا فرمائی ہے جس کا ثواب طے نہیں کیا ہے اور اللہ تعالیٰ خود اپنے بندے کو اس کا ثواب قیامت کے دن عطا فرمائے گا۔اُس عبادت کا نام ”روزہ“ ہے۔ روزہ کو عربی لغت میں ”صوم“ اور ”صیام“ کہتے ہیں، جس کے معنی ”امساک“ کے ہیں یعنی ”مطلقاً رکنا“۔ اصطلاح شریعت میں اس کا مفہوم یہ ہے کہ فجر سے غروب آفتاب تک روزہ کی نیت کے ساتھ کھانے پینے، جماع کرنے اور بدن کے اس حصے میں جو “اندر” کے حکم میں ہو، کسی چیز کے داخل کرنے سے رکے رہنا، نیز روزہ دار کا مسلمان اور حیض و نفاس سے پاک ہونا اس کے صحیح ہونے کی شرائط میں سے ہے۔ صبح صادق سے لیکر غروب آفتاب تک تین چیزوں سے بچنے کا نام روزہ ہے- وہ تین چیزیں یہ ہیں کہ بندہ کھانے سے، پینے سے اور بیوی کے قرب سے بچا رہے-ماہ رمضان المبارک میں سب سے اہم عبادت روزہ ہے- روزہ ہر عاقل، بالغ، مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے- روزہ نہ رکھنے کی صورت میں اس کی قضاءضروری ہے- اگر کوئی شخص قضاءکرنے کی بھی سکت نہ رکھتا ہو تو پھر ان روزوں کا فدیہ ادا کرے-

🌹روزہ کے لئے نیت کرنا فرض ہے🌹

 اگر نیت کے بغیر سارا دن کھانے پینے وغیرہ سے بچا رہا، تو اس روزہ کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا بلکہ اس روزہ کی قضاءکرنی ہوگی-روزہ کی نیت رات سے ضحوہ کبری سے پہلے پہلے کرنے سے اس نیت کا اعتبار ہوگا، زوال سے تقریبا پونہ گھنٹہ پہلے ضحوہ کبری کا وقت ہوتا ہے، ضحوہ کبری ہونے کے بعد اگر نیت کی تو اس روزہ کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا-

🌹 روزہ کی نیت کرنے کے تین طریقے 🌹

(1)سب سے افضل اور بہتر طریقہ یہ ہے کہ انسان اپنی زبان سے نیت کرے کہ : ”اے اللہ! میں آئندہ کل کا روزہ رکھ رہا ہوں“(2)اگر زبان سے نیت نہیں کی، لیکن دل میں نیت کرلی تب بھی نیت کا اعتبار ہوگا اور روزہ ادا ہوجائے گا-(3)تیسرا طریقہ یہ ہے کہ اگر کسی نے زبان سے بھی نیت نہیں کی اور دل میں باقاعدہ ارادہ بھی نہیں کیا کہ روزہ رکھوں گا، لیکن سحری کرنے میں اس کا ارادہ یہی ہے کہ وہ آئندہ کل کا روزہ رکھے گا، تو چونکہ سحری کرنا یہ نیت ہی کے قائم مقام ہے، تب بھی روزہ ادا ہوجائے گا- عام طور پر لوگ روزہ کی نیت ان الفاظ سے کرتے ہیں “وبِصومِ غدٍ نویت من شہرِ رمضانَ “ یہ الفاظ سنت نبوی سے ثابت نہیں بلکہ مشائخ سے سہولت کے لئے منقول ہیں، واضح رہے کہ نیت دل کے ارادے کو کہتے ہیں، اگر کوئی شخص دل سے ارادہ کرلے کہ کل رمضان کا روزہ رکھوں گا تو بھی درست ہوجائے گا، زبان سے تلفظ کرلینا بہتر ہے، نیز زبان سے تلفظ کرتے وقت انہیں الفاظ سے نیت کرنا ضروری نہیں، یہ الفاظ عام آدمیوں کی سہولت کے لئے ہے کہ وہ عربی میں نیت کرلیں۔

🌹 روزہ کی نیت کب کرے ؟🌹

صبح صادق کا وقت ہونے سے پہلے اگر کسی نے روزہ کی نیت کرلی لیکن وقت ہونے کی صورت میں نیت کے بعد بھی اگر کچھ کھانا پینا چاہے، تو اس کی گنجائش ہے-مثلاً : صبح صادق کا وقت 4:30 بجے ہواور کسی نے 4:00 بجے سحری کھا کر روزہ کی نیت کرلی، تو اب اگر وہ کھانا پینا چاہے تو 4:30بجے سے پہلے پہلے تک اس کی اجازت ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے-سیدہ حفصہ بنت عمر فاروق رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص روزے کی نیت فجر سے پہلے نہ کرے تو اس کا روزہ کامل نہیں ہوتا۔ (ترمذی، ابوداؤد) امام ابوداؤد فرماتے ہیں کہ راوی نے اس روایت کو امام زہری سے نقل کیا ہے اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا پر موقوف کیا ہے یعنی اس حدیث کو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کا قول کہا ہے۔ فائدہ : اس حدیث سے بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر روزہ کی نیت رات ہی سے نہ کی جائے تو روزہ درست نہیں ہوتا خواہ روزہ فرض ہو یا واجب ہو یا نفل، لیکن اس بارے میں کچھ تفصیل ہے :اگر رمضان کا روزہ ہو یا نفل روزہ ہو یا نذر معین کا روزہ ہو تو ”نصف النہار“ شرعی یعنی زوالِ آفتاب سے پہلے پہلے نیت کرلینی جائز ہے، لیکن اگر قضاءروزہ ہو یا کفارہ کا روزہ ہو یا نذرمطلق کا روزہ ہو تو اس کے لئے رات ہی سے نیت کرنی شرط ہے، کیونکہ پہلی صورت میں رمضان کے روزہ اور نذر معین کی تعیین تو موجود ہے،جبکہ دوسری صورت میں تعیین کی ضرورت ہے۔

🌹نصف النہار کیا ہے ؟🌹

”نصف النہار“ عربی لفظ ہے،”نصف“ کا معنی ہے آدھا اور ”النہار“ کا معنی ہے دن، گویا نصف النہار کا معنی ہوا دن کا آدھا یا نصف وقت، نصف النہار کو عام طور پر ”زوال“ سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے، البتہ نصف النہار کی نصف النہار کی دو قسمیں ہیں جن سے ہمارے شرعی احکام متعلق ہیں 1- نصف النہار شرعی 

🌹 ماہ رمضان المبارک کب فرض ہوا ؟🌹

ماہ رمضان المبارک کے روزے ہجرت کے اٹھارہ ماہ بعدشعبان کے مہینے میں تحویل قبلہ کے دس روز بعد فرض کئے گئے۔ بعض حضرات کہتے ہیں کہ اس سے قبل کوئی روزہ فرض نہیں تھا اور بعض حضرات کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی کچھ ایام کے روزے فرض تھے جو اس ماہ رمضان المبارک کے روزے کی فرضیت کے بعد منسوخ ہو گئے۔ بعض حضرات کے نزدیک تو عاشورہ محرم کی دسویں تاریخ کا روزہ فرض تھا۔ بعض حضرات کا قول یہ ہے کہ ایام بیض(قمری مہینے کی تیرہویں، چودھویں اور پندرہویں راتوں کے دن) کے روزے فرض تھے۔ماہ رمضان المبارک کے ایک مہینے کے مسلسل روزے مرض ہونے کے بعد یہ تمام روزے نفل بن گئے۔ رمضان کے روزے کی فرضیت کے ابتدائی دنوں میں بعض احکام بہت سخت تھے مثلاً غروب آفتاب کے بعد سونے سے پہلے کھانے پینے کی اجازت تھی مگر سونے کے بعد کچھ بھی کھانے پینے کی اجازت نہیں تھی۔ چاہے کوئی شخص بغیر کھائے پئے ہی کیوں نہ سو گیا ہو۔ اسی طرح جماع کسی بھی وقت اور کسی بھی حالت میں جائز نہ تھا مگر جب یہ احکام مسلمانوں پر بہت شاق گزرے اور ان احکام کی وجہ سے کئی واقعات بھی پیش آئے تو یہ احکام منسوخ کر دئیے گئے اور کوئی سختی باقی نہ رہی۔

🌹ماہِ رمضان کے روزے فرض ہیں🌹

اﷲ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا : ترجمہ ”اے ایمان والو ! تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا تاکہ تم ”تقویٰ “ اختیار کرو ۔ ( سورہ البقرہ آیت نمبر 183) اﷲ تعالیٰ نے پھر آگے فرمایا : ترجمہ ”ماہِ رمضان وہ ہے جس میں قرآن پاک نازل کیا گیا جو لوگوں کو ہدایت کرنے والاہے اور جس میں ہدایت کی اور حق و باطل کی تمیز کی نشانیاں ہیں تم میں جو شخص اِس مہینے کو پائے اُسے روزہ رکھنا چاہیئے ،ہاں جو بیمار ہو ں یا مسافر ہو اُسے دوسرے دنوں میں یہ گنتی پوری کرنی چاہیئے۔اﷲ تعالیٰ کا ارادہ تمہارے ساتھ آسانی کا ہے سختی کا نہیں ۔وہ چاہتا ہے کہ تم گنتی پوری کر لو اور اﷲ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت پر اُس کی بڑائیاں بیان کرو اور اُس کا شکر ادا کرو ۔“( سورہ البقرہ آیت نمبر 185)اِن آیات میں اﷲ تعالیٰ نے ہم مسلمانوں پر ماہِ رمضان المبارک کے مہینے فرض کئے ہیں اور ہمیں کوشش کرنی چاہیئے کہ ہم ماہِ رمضان کے پورے روزے رکھیں۔یہاں ایک بات اچھی طرح سمجھ لیں کہ ماہِ رمضان کے روزے ہمیں ہر حال میں پورے رکھنے ہیں۔ اگر ہم کسی بیماری یا کسی مجبوری کی وجہ سے ماہِ رمضان میں پورے روزے نہیں رکھ سکے ہیں تو ہمیں اگلے گیارہ مہینوں کے اندر چھوٹ گئے روزوں کو رکھنا پڑے گا اور ماہِ رمضان کے روزوں کی گنتی کو پورا کرنا پڑے گا۔ اب ہر مسلمان کا یہ فرض ہے کہ وہ ماہِ رمضان کے روزے پورے رکھنے کی کوشش کرے۔ جو مسلمان جان بوجھ کر ماہِ رمضان میں روزے نہیں رکھتا ہے تو وہ بہت ہی بڑا گناہ کرتا ہے کیونکہ ماہِ رمضان میں جب نیکیوں کا ثواب ستر گُنا بڑھ جاتا ہے تو گُناہ کی سزا بھی ستر گُنا بڑھ جاتی ہے۔ اِس لئے ہمیں چاہیئے کہ ہم ماہِ رمضان کے روزے پورے رکھیں۔

🌹رسول اللہ ﷺ کی دعا🌹

حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم جب ماہِ رجب المرجب کا مہینہ آتا تو یہ دعا مانگتے تھے:” اَللَّھُمَّ بَارِک لَنَا فِی رَجَّبَ وَشَعبَانَ وَبَلِغّنَا رَمَضَان (ترجمہ) ”اے اﷲ! ہمارے لئے ماہِ رجب اور ماہِ شعبان میں برکت ڈال اور ہمیں ماہِ رمضان تک پہنچا۔“( شعب الایمان امام بیہقی،معجم اوسط امام طبرانی)اﷲ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اُس نے ہمیں اپنے حبیب صلی اﷲ علیہ وسلم کی اُمت میں پید ا فرمایا ۔ماہِ رمضان المبارک کی آمد آمد ہے اﷲ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم سب کو مکمل ماہِ رمضان المبارک نصیب فرمائے ۔ہمارے پیارے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم جب بھی ماہِ رجب المرجب کا چاند دیکھتے تھے تو ماہِ رمضان المبارک تک پہنچنے کی دعا مانگتے تھے اور یہ دعا فرماتے تھے :” اے اﷲ تعالیٰ ! ہمارے لئے ماہِ رجب المرجب اور ماہِ شعبان المعظم میں برکتیں عطا فرما یئے اور ہمیں ماہِ رمضان المبارک تک پہنچا دیجیئے ۔“ ( مشکوٰ ة ) یہ دعا وہ مانگتے تھے جو” سید الاولین و الآخرین صلی اﷲ علیہ وسلم ہیں جو سب سے پہلے جنت کا دروازہ کھلوائیں گے ۔جن کو خبر دے دی گئی کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی ” شفاعت “ کے بغیر کوئی جنت میں نہیں جائے گا اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم ”شافع محشر “ اور ” صاحب مقام محمود “ ہیں اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم بھی دعا مانگتے تھے کہ اے اﷲ تعالیٰ ! جب ہمیں ماہِ رجب المرجب تک پہنچا دیا ہے تو ہمیں ماہ ِ رمضان المبارک تک بھی پہنچا دے ۔اِس کا مطلب یہ ہوا کہ یقینا ماہِ رمضان المبارک بہت ہی اہم مہینہ ہے اور ہمیں اِس ماہِ مبارک تک پہنچنے کی دعا کرنی چاہیئے ۔ جب یہ ماہِ مبارک ہمیں مل جائے تو ہمیں کوشش کرنی چاہیئے کہ ہم ماہِ رمضان المبارک کے پورے روزے رکھیں ۔زیادہ سے زیادہ لوگوں کی مدد کریں ۔اپنے رشتہ داروں ، پڑوسیوں ، محلہ والوں ، شہرو والوں اور غیر مسلم بھائیوں کے ساتھ اچھے سے اچھا سلوک کریں یعنی جب جس کے ساتھ جیسا موقع پیش آجائے تو اُس کے ساتھ اچھا سلوک کریں اور زیادہ سے زیادہ نیکیاں کریں 

🌹رمضان کی تیاری🌹

🌻رمضان المبارک آنے سے پہلے رمضان کا پلانر بنا لیں

🌻 گھر کے کام سکول و آفس کے کاموں کیلئے وقت ترتیب دیں

🌻تاکہ آپ اپنی عبادات کیلئے وقت نکال سکیں

🌻آج سے ہی اپنی روٹین کو ترتیب دیں تاکہ رمضان المبارک میں آپ کو پریشانی نہ ہو

🌹ﷲ کا مہینہ🌹

حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جنت ایک سال سے دوسرے سال تک ماہِ رمضان کے لئے مزین (سجائی) کی جاتی ہے ۔ حوریں ایک سال سے دوسرے سال تک ماہِ رمضان کے روزہ داروں کے لئے مزین (سجائی) کی جاتی ہیں۔ جب ماہِ رمضان آتا ہے تو جنت کہتی ہے :” اے اﷲ! میرے لئے اِس مہینہ میں کچھ اپنے بندوں میں سے کردے ۔“ ہرحور کہتی ہے:” اے اﷲ! میرے لئے اِس مہینہ میں اپنے بندوں میں سے میرا سرتاج بنا دے۔“ جس نے کسی مسلمان پر بہتان نہ لگایا ہو اور نہ ہی نشہ آور چیز استعمال کی تو اﷲ تعالیٰ اُس کے گناہ مٹا دے گا اور جس نے اِس مہینہ میں کسی مسلمان پر بہتان لگایا یا پھر نشہ آور چیز استعمال کی تو اﷲ تعالیٰ اُس کے اِس سال کی نیکیاں ضائع کر دے گا۔ رمضان کے مہینہ سے ڈرو کیونکہ یہ اﷲ کا مہینہ ہے ۔ اﷲ تعالیٰ نے گیارہ مہینے بنائے ہیں جن میں تم کھاتے ، پیتے اور لطف اندوز ہوتے ہو اور اُس نے یہ ایک مہینہ اپنے لئے بنایا ہے ۔پس رمضان کے مہینے سے ڈرو کیونکہ یہ اﷲ کا مہینہ ہے ۔“ (شعب الایمان،امام بیہقی) اِس حدیث میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہمیں کئی خوشخبریاں سنائی ہیں ۔ پہلی خوشخبری یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ پورے گیارہ مہینہ ہم روزہ داروں کے لئے جنت کو سجاتا رہتا ہے ۔ دوسری خوشخبری یہ ہے کہ جنت خود اﷲ تعالیٰ سے درخواست کرتی ہے کہ روزہ داروں کو میرے اندر داخل فرمانا۔تیسری خوشخبری یہ ہے کہ جنت کی حوریں اﷲ تعالیٰ سے درخواست کرتی ہیں کہ روزہ داروں سے اُن کا نکاح کردے ۔اِس کے بعد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ باقی گیارہ مہینے تم کھاتے پیتے اوردنیا کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے رہتے ہو ۔ ماہِ رمضان المبارک کا پورا مہینہ اب تمہیں اﷲ کے حکم کو پورا کرنے کے لئے اِن نعمتوں کو اُتنی دیر تک چھوڑ دینا ہے جتنی دیر تک تمہیں اﷲ تعالیٰ چھوڑنے کا حکم دے رہا ہے ۔ 

🌹مہینوں کا سردار🌹

حضرت ابوسعید خدری رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مہینوں کا سردار رمضان کا مہینہ ہے اور ازروئے حرمت کے عظیم ذی الحجہ کا مہینہ ہے ۔“ (سنن بیہقی )حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں: ” مہینوں کا سردار رمضان کا مہینہ ہے اور دنوں کا سردار جمعہ کا دن ہے ۔“ حضرت کعب فرماتے ہیں:” اﷲ تعالیٰ نے دن اور رات کی گھڑیوں کا چناو¿ کیا اور اُن میں فرض نمازوں کومقرر فرمایا۔ پھر دنوں کو منتخب فرمایا اور ان میں سے جمعہ کو منتخب کیا۔ پھر مہینوں کو منتخب کیا اور اُن میں سے ماہِ رمضان کو منتخب کیا۔ پھر راتوں کومنتخب کیا اور اُن میں سے ”لیلة القدر“ کومنتخب کیا۔ پھر زمین پر مقامات کو منتخب کیا اور اُن میں مساجد بنائی۔“(مصنف ابن ابی شیبہ، سنن بیہقی)رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ نے ماہِ رمضان المبارک کو تمام مہینوں کا سردار فرمایا ہے ۔اﷲ تعالیٰ نے بھی اِس ماہِ مبارک کو خصوصی اہمیت دی ہے ۔اِس ماہِ مبارک میں اﷲ تعالیٰ نے اپنی تمام کتابوں کا نزول فرمایا ہے ۔اِس ماہِ بارک میں اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کا ثواب بڑھا دیا ہے بلکہ ”نیکیوں کا سیل“ لگا دیا ہے ۔اِس ماہِ مبارک میں اﷲ تعالیٰ نے ایک ایسی رات رکھی ہے کہ جس میں عبادت کرنے کا ثواب مسلسل ایک ہزار مہینہ عبادت کرنے کے برابر ہے ۔اﷲ تعالیٰ نے ماہِ رمضان المبارک کو یہ ”خصوصی اعزاز“ عطا فرمایا ہے کہ اِس مہینے میں بھوکے پیاسے رہنے پر مسلمانوں کو جو ثواب عطا فرماتا ہے وہ ثواب عام دنوں میں نہیں عطا فرماتا ہے ۔ اِس مہینے میں مسلمان بندے کے بھوکے پیاسے رہنے پر اﷲ تعالیٰ خوش ہوتا ہے اور فرشتوں کے درمیان ”روزہ داربندے“ پر فخر فرماتا ہے کہ دیکھو میرا بندہ شدید بھوکا ہے اور شدید پیاسا ہے لیکن وہ کھانا نہیں کھا رہا ہے اور پانی نہیں پی رہا ہے لیکن جیسے ہی میرا حکم ہوگا کہ ”اب کھاؤ اور پیو ٔ“ تو وہ فوراً کھانے اور پینے لگے گا ۔ دیکھو میرا بندہ کتنی محبت سے میری اطاعت کر رہا ہے ۔

🌹منافقین کے لئے مصیبتوں کا مہینہ🌹

حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم پر یہ مہینہ پہنچ چکا ہے (یعنی ماہِ رمضان آچکا ہے ۔)اﷲ کی قسم! مسلمانوں پر اِس سے بہتر اور اچھا مہینہ نہیں گزرا ہے اور منافقین پر اِس سے بُرا مہینہ نہیں گزرا ہے ۔ اﷲ کی قسم! اﷲ تعالیٰ اِس کا اجرو ثواب اِس کے داخل ہونے سے لکھتا ہے اور اس کے داخل ہونے سے پہلے اِس کا بوجھ اور شقاوت لکھتا ہے ۔ یہ اِس لئے کہ مومن عبادت پر تو قوت حاصل کرنے کے لئے اِس میں نفقہ تیار کرتا ہے اور منافق اِس میں مومنین کی غیبت اور اُن کے عیب تلاش کرتا ہے ۔ یہ مہینہ مومنین کے لئے غنیمت ہے اور منافقین اور فاجروں کے لئے مصیبت ہے۔“(مصنف ابن ابی شیبہ ، صحیح ابن خزیمہ ، سنن بیہقی ، الترغیب امام اصبہانی)حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ جب رمضان کا مہینہ آتا تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم فرماتے : ” سبحان اﷲ! تم کس کا استقبال کر رہے ہو؟ اور تمہارا کون استقبال کر رہا ہے؟ “حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا: ” یارسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم! میرے ماں باپ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم پر قربان! کیا وحی نازل ہوئی ہے یا پھر دشمن پہنچ چکا ہے ؟“ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ” نہیں! بلکہ رمضان کا مہینہ (آچکا ہے)۔ اِس کی پہلی رات کو اﷲ تعالیٰ تمام قبلہ والوں (مومنوں) کی مغفرت فرماتا ہے۔“ ایک شخص اپنے سر کو حرکت دے رہا تھا اور کہہ رہا تھا :” واہ واہ۔“ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ” یہ سن کر تیرا سینہ تنگ ہو رہا ہے کیا؟“ اُس نے کہا: ” نہیں! اﷲ کی قسم یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ! ایسانہیں ہے بلکہ میں منافق کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔“ (کہ کیا اُس کی بھی مغفرت ہو جائے گی؟) آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ” منافق کافر ہے اور کافر کے لئے اِس میں کچھ نہیں ہے۔“ (صحیح ابن خزیمہ، سنن بیہقی ، الترغیب) مومن کو روزہ رکھنے میں بہت مزہ آتا ہے اور منافق کے لئے روزہ رکھنا بہت بڑی مصیبت ہوتا ہے ۔ اب ہم یہ فیصلہ کریں کہ ہم مومن ہیں یا منافق؟۔

🌹اﷲ کی رحمت سے محروم🌹

حضرت عبادہ بن صامت رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں :” ماہِ رمضان کا مہینہ آچکا تھا تب رسول اﷲ صلی علیہ وسلم نے فرمایا: ” تمہارے پاس برکت کا مہینہ آچکا ہے ۔ اﷲ تعالیٰ تمہیں اِس مہینہ میں اپنی رحمت سے ڈھانپ لے گا ، رحمت نازل ہوگی ، گناہ ساقط ہوں کے اور اِس میں دعا قبول ہوگی ۔ اﷲ تعالیٰ تمہاری نیکیوں کے مقابلے کو دیکھے گا اور فرشتوں میں تمہارے ذریعے فخر و مباہات فرمائے گا۔ پس تم اﷲ تعالیٰ کو اپنی نیکیاں دکھاو¿۔شقی (بدبخت) وہ ہے جو اِس مہینہ میں رحمت سے محروم ہے۔“ (معجم طبرانی) حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا :” ماہِ رمضان تمہارے پاس آچکا ہے ۔ اِس میں جنت کے دروازے کھولے جائیں گے اور اِس میں جہنم کے دروازے بند کئے جائیں گے اوراِس میں شیاطین کو جکڑ دیا جائے گا ۔ ہلاکت ہے اُس کے لئے جس نے ماہِ رمضان پایا اور پھر اپنی بخشش نہیں کرا پایا ۔ جب ماہِ رمضان میں اُس کی بخشش نہیں ہوئی تو کب ہوگی؟“(معجم اوسط طبرانی ،مصنف ابن ابی شیبہ)اِس حدیث میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم مسلمانوں کو روزہ رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں اور خوشخبریاں سنا رہے ہیں۔ پہلی خوشخبری یہ ماہِ رمضان میں اﷲ تعالیٰ رحمتیں اتنی زیادہ بڑھا دیتا ہے کہ اﷲ کی رحمتیں مسلمانوں کو ڈھانپ لیتی ہیں۔ دوسری خوشخبری یہ ہے کہ جو مسلمان روزہ رکھے گا اور اپنے آپ کو ہر قسم کی برائیوں سے بچائے گا اور نیک کام کرے گا تو اﷲ تعالیٰ اِس اجر تو عطا فرمائے گا ۔ساتھ ہی ساتھ ہمارے پچھلے گناہوں کو مٹاتا بھی جائے گا ۔ تیسری خوشخبری یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ روزآنہ ہماری دعا قبول فرمائے گا ۔ چوتھی خوشخبری یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ ہماری نیکیوں کو دیکھے گا اور اور ہماری نیکیاں فرشتوں کو بتا کر ہمارے اوپر فخر فرمائے گا۔ اب اگر ہم نے ماہِ رمضان میں روزہ نہیں رکھا اور برائیوں نے نہیں بچے اور نیک کام نہیں کئے تو ہم اﷲ کی رحمت محروم رہ جائیں گے اور اِس سے بڑی بد بختی کیا ہوگی کہ بندہ اﷲ کی رحمت سے محروم رہ جائے ۔

🌹روزہ کا مقصد ”تقویٰ “🌹

اﷲ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا : ترجمہ ”اے ایمان والو ! تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا تاکہ تم ”تقویٰ “ اختیار کرو ۔ ( سورہ البقرہ آیت نمبر 183 )اِس آیت میں اﷲ تعالیٰ نے روزے کا مقصد ”تقویٰ “ پیدا کرنا بتایا ہے ۔یعنی یہ روزے اِس لئے فرض کئے گئے ہیں تاکہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہو جائے اور تقویٰ کس طرح پیدا ہوتا ہے ؟اِس بارے میں بعض علمائے کرام نے فرمایا کہ روزے سے ”تقویٰ “ اِس طرح پیدا ہوتا ہے کہ روزہ انسان کی قوت ِحیوانیہ اور قوت ِ بہیمیہ کو توڑتا ہے ، جب انسان بھوکا رہے گا تو اس کی وجہ سے اُس کی حیوانی خواہشات اور حیوانی تقاضے کچلے جائیں گے جس کے نتیجے میں گناہوں پر اقدام کرنے کا داعیہ اور جذبہ سست پڑ جائے گا ۔بعض علمائے کرام نے ”تقویٰ کے معنی ”اﷲ کی عظمت کے استحضار سے گناہوں سے بچنا “ یا ” گناہوں سے بچنا “ معنی بھی بیان کیا ہے ۔یعنی یہ سوچ کر کہ میں اﷲ تعالیٰ کا بندہ ہوں اور اﷲ تعالیٰ مجھے دیکھ رہا ہے اور اﷲ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہو کر مجھے جواب دینا ہے ۔یہ سوچ کر جب بندہ گناہوں سے بچتا ہے یا گناہوں کو چھوڑ دیتا ہے اور زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرتا ہے تو اِسی کا نام ”تقویٰ “ہے ۔اِس کو اِس مثال سے سمجھیں کہ ایک انسان صاف ستھرے کپڑے پہنے اپنے مالک یا آقا سے ملنے جا رہا ہے اور ایک باریک پگڈنڈی پر چل رہا ہے جس کے دونوں طرف کانٹے دار جھاڑیاں اُگی ہوئی ہیں ۔اگر وہ شخص ذرا سی بھی لاپرواہی سے چلے گا تو اُس کے کپڑے کانٹے دار جھاڑیوں میں اُلجھ کر پھٹ جائیں گے اور میلے ہو جائیں گے جبکہ وہ شخص اپنے مالک یا آقا کے پاس اُسی طرح صاف ستھرے اور اچھے محفوظ کپڑوں میں پہنچنا چاہتا ہے تو وہ ہر ممکن طریقے سے کانٹوں سے بچنے کی کوشش کرے گا اور اپنے کپڑوں کو بھی کانٹوں سے بچانے کی کوشش کرے گا اور سنبھل سنبھل کر چلے گا ۔اِسی طرح ہمارا ایمان بھی ایسا لباس ہے اور اﷲ تعالیٰ اور اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کی اطاعت ایک ایسی پگڈنڈی ہے جس پر دونوں طرف ہر جگہ گناہو ں کے بے شمار کانٹے دار جھاڑیاں ہیں ۔اب ہمیں اپنے ایمان کو محفوظ اور سلامت لیکر اِس پگڈنڈی پر چلنا ہے اور گناہوں سے اپنے ایمان کو بچاتے ہوئے صحیح سلامت اور بہت سی نیکیاں لیکر اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے اور اِس میں روزہ ہماری مدد کرتا ہے ۔

🌹ماہِ رمضان میں روزہ دار کے گناہ جل جاتے ہیں🌹

حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ماہِ رمضان کا یہ نام اِس لئے ہے کیونکہ اِس مہینے میں (روزہ دارکے) گناہ جل جاتے ہیں۔“ (الترغیب)اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا :” یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم! رمضان کیا ہے؟“ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اِس مہینے میں اﷲ تعالیٰ (روزہ دار) مومنین کے گناہ جلا دیتا ہے اور اُن کے گناہ معاف کر دیتا ہے ۔“ پھر عرض کیا گیا: ” یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم! شوال کیا ہے؟“ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اِس مہینے میں (خاص طور سے عیدالفطر کی شکرانے کی نماز کے وقت) لوگوں کے گناہ اُٹھائے جاتے ہیں ۔پس ہر گناہ معاف کر دیا جاتا ہے۔“(الترغیب امام اصبہانی)حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں:” ماہِ رمضان کا یہ نام اِس لئے ہے کیونکہ اِس میں (روزہ دارکے) گناہ جل جاتے ہیں اور ماہِ شوال کا یہ نام اِس لئے ہے کہ گناہ اِس میں اُٹھائے جاتے ہیں جس طرح اُونٹنی دُم اُٹھاتی ہے۔“ ( تاریخ ابن عساکر) ماہِ رمضان المبارک کو اﷲ تعالیٰ نے ہمارے لئے واقعی بہت ہی مبارک مہینہ بنایا ہے ۔اِس مہینے میں اﷲ تعالیٰ ہمیں بے شمار نیکیاں تو عطا فرماتا ہی ہے ۔اِس کے علاوہ ہمارے پچھلے گناہوں کو بھی معاف فرمادیتا ہے ۔ یعنی جلا دیتا ہے یا ختم کر دیتا ہے یا مٹا دیتا ہے ۔روزہ واحد ایسا عمل ہے جس میں کوئی ریا کاری یا دکھاوا نہیں ہوتا ہے بلکہ مسلمان بندہ اپنے اﷲ کو راضی کرنے کے لئے دن بھر کھانے ، پینے، غیبت کرنے ، جھوٹ بولنے ، گالی گلوچ کرنے اور مار پیٹ اور جھگڑا کرنے سے اپنے آپ کو روکے رکھتا ہے ۔ جبکہ اِن چیزوں سے اُسے روکنے والا کوئی نہیں ہوتا ہے ۔ وہ چاہے تو اکیلے کمرے میں بیٹھ کر کچھ بھی کھا پی سکتا ہے لیکن یہ وہ نہیں کرتا کیونکہ اُسے ہر لمحہ یہ احساس رہتا ہے کہ کوئی نہیں دیکھ رہا ہے تو میرا اﷲ تو دیکھ رہا ہے اور میں روزہ تو اُسی کو خوش کرنے کے لئے رکھ رہا ہوں ۔ یہ احساس بندے کے اندر صرف روزہ ہی پیدا کرتا ہے اور اﷲ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ ہر عمل کرنے کے دوران بندے کے اندر یہ احسا س رہے کہ اﷲ مجھے دیکھ رہا ہے ۔جب ہمارے اندر یہ احساس ہمیشہ رہے گا تو انشاءاﷲ ہم خود بخود اپنے آپ کو گناہوں سے روک لیں گے۔

🌹روزہ گناہوں کا کفارہ🌹

حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیںکہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ” پانچوں نمازوں کے درمیان اور جمعہ سے جمعہ تک اور ماہِ رمضان سے ماہِ رمضان تک جتنے صغیرہ گناہ ہوتے ہیںیہ سب چیزیں اُن کاکفارہ ہیں جبکہ انسان کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرے۔“ ( صحیح مسلم ، سنن بیہقی)حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ” فرض نماز دوسری فرض نماز تک کفارہ ہے اور جمعہ اپنے سے پہلے والے جمعہ تک جو گناہ ہوئے ان کا کفارہ ہے اور ایک ماہِ رمضان اپنے سے پہلے والے دوسرے ماہِ رمضان کے درمیان ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہے سوائے تین گناہوں کے۔(1) شرک کرنا ،اﷲ کا شریک ٹھہرانا۔ (2) سنت کا ترک کرنا ۔ (3) عہد کو توڑنا۔میں نے عرض کیا: ” یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم! ہم نے اﷲ کا شریک ٹھہرانا تو پہچان لیا ہے ۔یہ عہد توڑنا اور سنت کا ترک کرنا کیا ہے؟“ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عہد توڑنا یہ ہے کہ ایک شخص بیعت کرے اور پھر اُس کی مخالفت کرے اور اُسے اپنی تلوار سے قتل کرے اور سنت کا ترک کرنا جماعت سے نکل جانا ہے ۔“ (سنن بیہقی) حضرت ابوسعید خدری رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے ماہِ رمضان کے روزے رکھے اور اس کی حدود کو پہچانا اور جن چیزوں سے روزے کی حفاظت ضروری ہے اُس سے حفاظت کرے تو پہلے کے سب گناہوں کا کفارہ ہوگا۔“ ( صحیح ابن حبان، سنن بیہقی)حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ماہِ رمضان کا ذکر کیا اورفرمایا: ” یہ ایسا مہینہ ہے جس کے روزے اﷲ نے تم پر فرض کئے ہیں اور میں نے اِس میں قیام سنت بنایا ہے ۔ جو ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے ماہِ رمضان کا روزہ رکھے گا اور رات کو قیام کرے گا تو وہ گناہوں سے اِس طرح نکل جائے گا جیسا اپنی پیدائش کے دن ہوتا ہے تو اُس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ہے۔“(سنن ابن ماجہ ، سنن نسائی ، سنن بیہقی ، مصنف ابن ابی شیبہ) یہ اﷲ تعالیٰ کی ہم مسلمانوں پر بہت بڑی مہربانی ہے کہ ہمیں روزہ پر ثواب تو عطا فرماتا ہی ہے اِس کے علاوہ روزہ کو ہمارے گناہوں کا کفارہ بھی بنا دیتا ہے ۔ اب اگر اِس کے بعد بھی ہم روزہ نہیں رکھیں گے تو ہم سے بڑا بد نصیب کوئی نہیں ہوگا۔

🌹آگ سے آزادی🌹

حضرت ابوامامہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہر افطاری کے وقت اﷲ کے لئے چند (روزہ دار) لوگ آگ سے آزاد کئے جاتے ہیں ۔“ ( مسند احمد ، سنن بیہقی ، معجم طبرانی) حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہر افطار کے وقت اﷲ کے لئے کچھ (روزہ دار) لوگ آگ سے آزاد ہوتے ہیں اور ہر رات کو بھی آگ سے آزاد ہوتے ہیں۔“( سنن ابن ماجہ)حضرت حسن سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اﷲ کے لئے ماہِ رمضان کی ہر رات چھ ہزار (روزہ دار) آگ سے آزاد کئے جاتے ہیں اور جب آخری رات ہوتی ہے تو گزشتہ تمام راتوں کی تعداد کے برابر آزاد کئے جاتے ہیں۔“ ( شعب الایمان امام بیہقی ، الترغیب امام اصبہانی)حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب ماہِ رمضان کی پہلی رات آتی ہے تو جنتوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور پورا مہینہ ان میں سے کوئی ایک بند نہیں کیا کیا جاتا اور ہر رات صبح کے طلوع ہونے تک (اﷲ تعالیٰ کی طرف سے) منادی اعلان کرتا رہتا ہے :” اے خیر کو تلاش کرنے والو! عمل کرو اور خوش ہو۔ اے شر کو تلاش کرنے والو! رُک جاؤ۔“ پھر پکارتا ہے :” کیا کوئی ہے مغفرت طلب کرنے والاکہ ہم(اﷲ) اُس کو بخش دیں؟ کیا ہے کوئی توبہ کرنے والا کہ ہم (اﷲ) اُس کی توبہ قبول قبول فرما لیں؟کیا کوئی ہے دعا کرنے والا کہ ہم اُس کی دعا قبول فرما لیں؟ کیا ہے کوئی سوال کرنے والا کہ ہم اُس کا سوال پورا کر دیں؟“ ہر افطاری کے وقت ماہِ رمضان میں اﷲ تعالیٰ کے لئے آگ سے ساٹھ ہزار (روزہ دار) افراد آزاد ہوتے ہیں۔ جب عید کا دن ہوتا تو جتنے پورے مہینے میں آزاد کئے گئے ہوتے ہیں اُن کی مثل اُس دن آزاد کئے جاتے ہیں یعنی تیس مرتبہ ساٹھ ساٹھ ہزار آزاد کئے جاتے ہیں۔“ (سنن بیہقی)یہ اﷲ تعالیٰ کا ہم مسلمانوں پر بہت ہی بڑا احسان اور کرم ہے کہ ہمیں جہنم کی آگ سے ماہِ رمضان میں آزاد کر دیتا ہے اور آگ سے آزادی بہت ہی بڑی کامیابی ہے ۔ اﷲ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم تمام مسلمانوں کو ماہِ رمضان کے پورے روزے رکھنے کی توفیق عطا فرمائے اور روزوں کی حفاظت کرنے کی توفیق بھی عطا فرمائے اور ہمیں ”آگ سے آزادی“ عطا فرمائے۔آمین۔

🌹روزہ دار کے لئے پانچ خوشخبریاں🌹

حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:” میری اُمت کو ماہِ رمضان کے پانچ خصائل دیئے گئے ہیں جو پہلے کسی اُمت کو نہیں عطا کئے گئے ہیں۔ (1) روازہ دار کے منہ کی بُو اﷲ تعالیٰ کے نزدیک کستوری سے زیادہ پاکیزہ ہے۔ (2) روز داروں کے لئے فرشتے استغفار کرتے رہتے ہیں۔(3) اﷲ تعالیٰ ہر روز اپنی جنت کو مزین کرواتا ہے پھر فرماتا ہے :” ہوسکتا ہے میرے نیک بندے دنیا میں تکلیف اور مشقت اُٹھائیں اور وہ تیری طرف لوٹ آئیں۔“ (4) ماہِ رمضان میں شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے ۔ (5) جتنی (آگ سے) خلاصی اِس مہینہ میں کی جاتی ہے اُتنی اور کسی مہینہ میں نہیں کی جاتی ہے اور انہیں ”آخری رات“ معاف کر دیا جاتا ہے۔“ عرض کیا گیا :” یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم! کیا یہ لیلة القدر ہے؟“آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ” نہیں! بلکہ عامل کو پورا اجر دیا جاتا ہے جب وہ اپنا عمل پوراکر لیتا ہے۔“ حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میری اُمت کو ماہِ رمضان میں پانچ ایسی چیزیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں کی گئیں۔ (1) جب ماہِ رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو اﷲ تعالیٰ میری اُمت کی طرف دیکھتا ہے اور جس کی طرف اﷲ تعالیٰ دیکھے اُسے کبھی عذاب نہیں دے گا۔(2) روزہ داروں کے مونہوں کی بُو شام کے وقت اﷲ کے نزدیک کستوری سے زیادہ پاک ہوتی ہے۔ (3) ملائکہ (فرشتے) ہر صبح اور ہر شام روزہ داروں کے لئے استغفار کرتے ہیں۔ (4) اﷲ تعالیٰ جنت کو حکم دیتا ہے کہ وہ تیار ہوجائے اور میرے بندوں کے لئے مزین ہوجائے ۔ہوسکتا ہے میرے بندے (روزے رکھ کر) دنیا کی تھکاوٹ سے آرام حاصل کرنے کے لئے میرے گھر اور میری کرامت میں آجائیں۔ (5) جب ”آخری رات“ ہوتی ہے تو اﷲ تعالیٰ تمام (روزہ رکھنے والوں) کی مغفرت فرما دیتا ہے۔“ ایک شخص نے عرض کیا :” یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم! کیا یہ لیلة القدر ہے؟“ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ” نہیں! کیا تم مزدوروں کی طرف نہیں دیکھتے جو کام کرتے ہیں۔ جب وہ کام سے فارغ ہوجاتے ہیں تو انہیں پورا پورا اجر دیا جاتا ہے ۔“ (سنن بیہقی)

🌹جو ماہ ِ رمضان پائے اور مغفرت نہ کراسکے🌹

حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے لئے منبر بنایا گیا تو اُس کی تین سیڑھیاں تھیں۔ جب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پہلی سیڑھی پر چڑھے تو فرمایا : ”آمین۔“ پھر دوسری سیڑھی پر چڑھے تو فرمایا: ” آمین۔“ حتیٰ کہ جب تیسری سیڑھی پر چڑھے تو فرمایا: ” آمین۔“صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم نے عرض کیا :” یارسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم! ہم دیکھ رہے ہیں کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم آمین آمین آمین کہہ رہے ہیں لیکن ہمیں کوئی دعا کرنے والا نہیں دکھائی دے رہا ہے ۔“رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب میںنے پہلی سیڑھی پر قدم رکھا تو جبرئیل علیہ السلام آئے اور عرض کیا : ” یارسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم! جس نے اپنے والدین کو یا ایک کو پایا اور اپنی مغفرت نہیں کراسکا تو اﷲ اُسے تباہ و برباد کرے ۔“ میں نے کہا: ” آمین۔“ جب میں دوسری سیڑھی پر چڑھا تو جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا: ” جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور اپنی مغفرت نہیں کراسکا تو اﷲ اُسے ہلاک کرے ۔“ میں نے کہا: ” آمین۔“ جب میں تیسری سیڑھی پر چڑھا تو جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا: ” جس کے سامنے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کاذکر ہو اور وہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم پر درود نہ بھیجے اور پھر مر جائے تو اُسے بھی اﷲ تباہ و برباد کرے ۔“ میں نے کہا: ” آمین۔“ ( سنن بیہقی )حضرت حسن بن مالک سے روایت ہے کہ جب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم منبر کی پہلی سیڑھی پر چڑھے تو فرمایا: ”آمین۔“ پھر دوسری سیڑھی پر چڑھے تو فرمایا:©” آمین۔“ پھر تیسری سیڑھی پر چڑھے تو فرمایا: ” آمین۔“اِس کے بعد آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:” میرے پاس جبرئیل علیہ السلام آئے اور عرض کیا:” جو شخص ماہِ رمضان کو پائے اور پھر اُس کی بخشش نہ ہو تو اﷲ تعالیٰ اُسے ہلاک کرے۔“ میں نے کہا: ” آمین۔“ پھر جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا: ” جس نے اپنے والدین کو یا ایک کو پایا اور اپنی بخشش نہ کراسکا تو اﷲ اُسے بھی ہلاک کرے ۔“ میں کہا: ” آمین۔“ پھر جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا: ” جس کے سامنے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا ذکر ہو اور وہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم پر درود نہ پڑھے تو اﷲ اُسے بھی تباہ کرے ۔“ میں نے کہا: ” آمین۔“(صحیح ابن حبان)حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ منبر پر چڑھے اور فرمایا:” آمین ، آمین، آمین۔“آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:” جبرئیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور عرض کیا جو رمضان کا مہینہ پائے اور پھر اپنی مغفرت نہ کراسکے تو اﷲ اُسے ہلاک کرے ۔“ میں کہا: ” آمین۔“ ( صحیح ابن خزیمہ ، صحیح ابن حبان)

🌹روزہ کی حفاظت جنت کی ضمانت🌹

حضرت ابوسعید خدری رضی ا ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ” رمضان کا مہینہ میری اُمت کا مہینہ ہے ۔اُن کا مریض جب بیمار ہوتا ہے وہ اُس کی بیمار پرسی کرتے ہیں۔ جب مسلمان روزہ رکھتا ہے تو جھوٹ نہیں بولتا ہے اور غیبت بھی نہیں کرتا ہے اور اس کا افطار کرنا اچھا ہے ۔ وہ اپنے فرائض کی حفاظت کے لئے عشاءکی نماز کی طرف کوشش کرتا ہے تو وہ گناہوں سے اِس طرح نکل جاتا ہے جس طرح سانپ اپنی کینچلی میں سے نکل جاتا ہے۔“ (الثواب ابوالشیخ) حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ماہِ رمضان کا روزہ رکھا اور تین چیزوں ( کی برائی)سے اپنے آپ کو محفوظ رکھا تو میں اُس کو جنت کی ضمانت دیتا ہوں ۔“ حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا :” یارسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم! وہ تین چیزیں کیا ہیں؟“ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:” اُس کی زبان، اُس کا پیٹ اور اُس کی فرج (شرم گاہ)۔“ (الترغیب)رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اِن احادیث میں روزہ دار مسلمان کو بہت ہی بڑی بشارت دی ہے ۔جب ہم روزہ رکھتے ہیں تو ہمیں شدید بھوک اور پیاس لگی ہوئی ہوتی ہے اور ہمارا مزاج چڑچڑا ہو جاتا ہے ۔ ہمیں اچھی بات بھی خراب لگتی ہے اور ہم بات بات پر اپنے سے چھوٹوں کو جھڑکنے لگتے ہیں ۔اگر کوئی ذرا سی تلخ بات کہہ دیتا ہے تو ہم اُس سے لڑ پڑتے ہیں ۔ماہِ رمضان میں تیسرے پہر میں افطاری کے لئے مسلمان خریدی کرنے بازار جاتے ہیں۔وہاں بہت زیادہ بھیڑ اور ٹریفک ہوتی جس کی وجہ سے لگ بھگ سبھی مسلمانوں کو پریشانی ہوتی ہے ۔ اِس پریشانی کے وقت میں اکثر ایسے نظارے دیکھنے میں آتے ہیں کہ دو روزہ دار مسلمان ایکدوسرے سے اُلجھ پڑے اور عجیب عجیب الفاظ سے ایک دوسرے کو نوازنے لگتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ اِس طرح ہماری دن بھر کی محنت ضائع ہو رہی ہے ۔ اِس لئے اِس بات کا خصوصی خیال رکھیں کہ ہم اپنی زبان کو قابو میں رکھیں اور اپنے غصے کو بھی قابو میں رکھیں ۔

🌹ماہِ رمضان المبارک میں اﷲ کی خصوصی مدد🌹

اﷲ تعالیٰ کا یہ ہم پر بہت بڑا احسان ہے کہ وہ ہر وقت ہماری مدد کے لئے تیار رہتے ہیں اور مدد کرتے رہتے ہیں ۔ماہِ رمضان میں بھی جب ہم خالص اﷲ کے لئے روزہ رکھتے ہیں تو اﷲ تعالیٰ بھی ہماری خصوصی طور سے مدد فرماتے ہیں ۔حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ کی روایت کردہ حدیث جو ہم نے قسط نمبر ۲ میں بیان کی ہے اُس میں آگے ہے کہ ”( اس رات میں ) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:” اے رضوان ! جنت کے دروازے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کے روزہ داروں کے لئے کھول دو اور اے مالک ! دوزخ کے دربان !دوزخ کے دروازے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ داروں کے لئے بند کر دو۔ اے جبرئیل !( علیہ السلام ) تم زمین پر جاﺅ اور سر کش شیاطین کو باندھ کر طوق پہنا دو اور اُن کو سمندر کی موجوں میں پھینک دو کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے روزہ داروں میں فساد ( برائیاں) نہ پھیلا سکیں اور ان کے روزوں کو خراب نہ کر سکیں۔“( شعب الایمان ، امام بیہقی )حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب رمضان کی پہلی رات آتی ہے تو شےاطےن اور وہ جنّات جو برائی پھیلانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ یہ سب باندھ دےئے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دئےے جاتے ہیں اور پھر( مہینہ بھر) ان میں سے کوئی دروازہ کھولا نہیں جاتااور جنت کے دروازے کھول دئےے جاتے ہیں اور پھر ان میں سے (مہینہ بھر) کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتاہے (جامع ترمذی ، سنن ابن ماجہ )ماہِ رمضان المبارک میں اﷲ تعالیٰ کی یہ خصوصی مدد ہمارے ساتھ ہوتی ہے ہمیں بہکانے والے شیاطین کو قید کردیا جاتا ہے ۔اِس لئے اِس مہینے میں گناہوں سے بچنا آسان ہو جاتا ہے اور شیطان کی طرف سے گناہ کرنے کے وسوسے اور تقاضے ختم ہو جاتے ہیں ۔اب اگر ہم کوئی برائی یا غلط کام کریں گے تو شیطان پر الزام نہیں لگا سکتے بلکہ اب ہم خود ذمہ دار ہوں گے ۔اِس لئے کوشش کریں کہ ماہِ رمضان میں اﷲ تعالیٰ کی خصوصی مدد سے فائدہ اُٹھا لیں اور ماہِ رمضان کے پورے روزے رکھنے کے ساتھ ساتھ اُن کی حفاظت بھی کریں۔

🌹اللہ کو حاجت نہیں🌹

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اگر کسی شخص نے روزے کی حالت میں جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہیں چھوڑا تو اللہ کو کوئی حاجت نہیں ہے کہ وہ اپنا کھانا اور پینا چھوڑ دے۔ “ ( صحیح بخاری )حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کتنے ہی روزہ دار ایسے ہیں جنہیں اپنے روزوں سے سوائے پیاس کے کچھ حاصل نہیں ہوتا اور کتنے ہی راتوں کو کھڑے ہوکر عبادت کرنے والے ایسے ہیں جنھےں اپنی عبادت سے رات کی نیند سے محرومی کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ “ ( سنن دارمی)۔اﷲ کے فضل و کرم سے جب ہمارے اند ر” تقویٰ“ پیداہو جائے گا تو ماہِ رمضان کے روزوں کی حفاظت بھی کر سکیں گے اور اگر ہمارے اند ر ”تقویٰ“ نہیں پیدا ہو سکا تو ہمارا روزہ ضائع بھی ہو سکتا ہے ۔اکثر ڈاکٹر حضرات فرماتے ہیں کہ ”علاج سے بہتر پرہیز ہے“ اُسی طرح علاج کے ساتھ ساتھ پرہیز بھی ضروری ہے ۔اﷲ تعالیٰ نے ہم سے روزہ اِس لئے رکھوایا کہ ہمارے اندر ”تقویٰ “ پیدا ہو لیکن ”تقویٰ “اُس وقت پیدا ہوگا جب ہم اﷲ تعالیٰ کی نافرمانیوں اور ناراض کرنے والے اعمال سے پرہیز کریں گے اور اﷲ تعالیٰ کی اطاعت اور خوش کرنے والے اعمال کریں گے ۔اب اگر ہم روزہ رکھ کر بھی ”متقی “ نہ بن سکے تو ہمارے روزے سے ہمیں کچھ حاصل نہیں ہو سکے گا ۔اِس کی مثال یوں سمجھیں کہ ہم نے کمرہ ٹھنڈا کرنے کے لئے ائیر کنڈیشنر لگایا اور اُس کا کام یہ ہے کہ وہ پورے کمرے کو ٹھنڈا کردے ۔ اب ہم نے اُسے آن (چالو)کر دیا لیکن ساتھ ہی اس کمرہ کی کھڑکیاں اور دروازے بھی کھول دیئے اِدھر ایئر کنڈیشنر سے ٹھنڈک نکل کرکمرے میں آ رہی ہے اور کھڑکیوں اور دروازے سے باہر نکل جا رہی ہے تو ہمارا کمرہ ٹھنڈا نہیں ہو گا ۔بالکل اِسی طرح ہم روزہ تو رکھ لیں گے لیکن ساتھ میں اﷲ کی نافرمانی اور ناراض کرنے والے اعمال کریں گے تو ہم اپنے روزے کی حفاظت نہیں کر سکیں گے ۔

🌹روزہ اﷲ کی اطاعت کا مظاہرہ🌹

حضرت سہل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیںکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ ( اس وقت تک) بھلائی پر رہیں گے جب تک افطار کرنے میں جلدی کرتے رہیں گے۔“ ( صحیح بخاری ، صحیح مسلم)حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب رات اُس طرف ( مشرق) سے آنی شروع ہو اور دن اُس طرف ( مغرب ) سے پلٹنا شروع ہو اور سورج ڈوب جائے تو روزہ دار کے روزہ کھولنے کا وقت ہو گیا ۔“( صحیح بخاری ، صحیح مسلم)حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیںکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ مجھے اپنے بندوں میں سے سب سے زیادہ پسند ( وہ بندے ہیں ) جو افطار میں جلدی کرتے ہیں۔“ ( جامع ترمذی)حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیںکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” یہ دین نمایاں اور غالب رہے گا جب تک کہ لوگ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے۔ کیوں کہ یہود اور نصاریٰ افطار کرنے میں تاخیر کرتے ہیں۔“ ( ُسنن ابو داﺅد ، سنن ابن ماجہ)اﷲ تعالیٰ کی بہترین اطاعت کا مظاہرہ روزہ ہے ۔روزہ ہمیں اﷲ تعالیٰ اور سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم کی بہترین اطاعت کرنا سکھاتا ہے کہ وہ جب کہیں کہ کھاؤ تو اُس وقت کھانا” دین“ ہے اور جب کہیں کہ ”مت کھاؤ “ تو اُس وقت نہیں کھانا ” دین “ہے ۔اﷲ تعالیٰ نے اپنی اطاعت کرنے کا یہ نظام بنایا ہے کہ سارا دن تو روزہ رکھنے کا حکم دیا اور اِس پر بڑا اجرو ثواب رکھا ،لیکن اِدھر سورج غروب ہوا اور اُدھر یہ حکم آگیا کہ اب افطار میں جلدی کرو اور افطار میں جلدی کرنے کو مستحب قرار دیا اور بلاوجہ افطار میں تاخیر کرنا مکروہ اور ناپسندیدہ ہے ،کیوں ناپسندیدہ ہے ؟اِس لئے کہ سورج غروب ہو گیا تو ہمارا حکم آگیا کہ اب کھاؤ ،اگر نہیں کھاو¿ گے اور بھوکے رہو گے تو یہ بھوک کی حالت ہمیں پسند نہیں ہے اِس لئے کہ اصل کام ہماری اطاعت ہے اپنا شوق پورا کرنا نہیں ہے ۔عام حالات میں کھانا پینا حلال ہے لیکن اﷲنے روزہ میں حکم دیا کہ کھانا پینا سحری سے افطار تک حرام ہے تو اطاعت یہی ہے کہ سحری سے افطار تک کھانے کو اپنے اوپر حرام کر لے اور جب افطار کا حکم ہو جائے تو کھانا پینا حلال ہو گیا تو اب اﷲ کا حکم پورا کرنے یعنی افطار کرنے میں جلدی کرے ۔سورج ڈوبنے سے پہلے تو یہ حکم تھا کہ ایک ذرہ بھی معدے میں چلا گیا تو گناہ بھی لازم ہے اور کفارہ بھی لازم ۔ مثلاً سات بجے سورج غروب ہو رہا ہے ،اب کسی شخص نے چھ بج کر پچپن منٹ پر ایک چنے کا دانہ کھا لیا ۔اب بتایئے کہ روزے میں کتنی کمی آئی ؟ صرف پانچ منٹ کی ۔پانچ منٹ پہلے روزہ توڑا لیکن اِس پانچ منٹ کے روزے کا کفارہ ساٹھ دن کا روزہ رکھنا واجب ہے ۔اِس لئے بات صرف پانچ منٹ یا ایک چنے کی نہیں ہے ۔بات دراصل اﷲ کا حکم توڑنے کی ہے اﷲ کا حکم تھا کہ جب تک کہ سورج ڈوب نہ جائے تب تک کھانا جائز نہیں ہے لیکن تم نے حکم توڑ دیا ہے اِس لئے خلاف ورزی کی سزا میں ساٹھ دن کے روزے رکھو ۔ پھر جیسے ہی سورج ڈوب گیا تو اﷲ کا حکم آگیا کہ اب جلدی سے کھاؤ ،اگر اب بلاوجہ تاخیر کر دو گے تو گنہ گار ہو گے ،کیوں گنہ گار ہوں گے ؟ وہ اِس لئے کہ اب اﷲ کا حکم ہو گیا ہے کہ ”کھاؤ “ تو اب کھانا ضروری ہے ۔

🌹روزہ اور قرآن پاک مدد کریں گے🌹

حضرت عبد اﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ” روزہ اور قرآن پاک دونوں بندے کی سفارش کرتے ہیں ۔روزہ کہتا ہے :” اے میرے رب ! میں نے اِس کو دن کے وقت کھانے پینے اور نفسانی خواہشات سے روکے رکھا ،اِس لئے آپ اِس کے بارے میں میری سفارش قبول فرما لیجیئے“ اور قرآن پاک کہتا ہے :” اے میرے رب ! میں نے اِس کو رات کے وقت سونے سے اور آرام کرنے سے روکے رکھا ، اِس لئے آپ اِس کے بارے میں میری سفارش قبول فرما لیجیئے “۔پس دونوں کی سفارش قبول کر لی جائے گی ۔“ (مشکوٰة ) حضرت ابوسعید خدری رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ماہِ رمضان کے ہر دن اور ہر رات میں (روزہ دار) اﷲ کے لئے (جہنم سے) آزاد ہوتے ہیں اور ہر دن میں اور ہر رات میں ہر (روزہ دار)مسلمان کی ایک دعا قبول ہوتی ہے۔“ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ماہِ رمضان میں اﷲ کا ذکر کرنے والا مغفور (بخشا ہوا) ہے اور ماہِ رمضان میں اﷲ سے سوال کرنے والا کبھی نامراد نہیں رہتا۔“(معجم اوسط ، امام طبرانی، سنن بیہقی )یہ اﷲ تعالیٰ کا ہم پر بہت بڑا احسان ہے کہ ہم جو روزے رکھتے ہیں اور قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہیں اُس پر تو ثواب عطا فرماتے ہی ہیں اِس کے علاوہ ہم پر اور بھی خصوصی مہر بانی یہ کی کہ اِن دونوں اعمال کو ہماری بخشش کا ذریعہ بنا دیا ۔کتنے خوش نصیب ہوں گے وہ روزہ دار اور قرآن پاک کی تلاوت کرنے والے جن کے روزے کی اور نوافل ( تراویح اور تہجد ) میں اُن کے پڑھے ہوئے یا سنے ہوئے قرآن پاک کی سفارش قبول ہوگی ۔

🌹روزہ دار کے لئے بشارت🌹

حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب ماہِ رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو اﷲ تعالیٰ اپنی مخلوق کی طرف نظر فرماتا ہے اور جب اﷲ تعالیٰ اپنے کسی بندے کی طرف دیکھتا ہے تو اُس کو کبھی عذاب نہیں دیتا اور ہر روز اﷲ کے لئے ایک لاکھ (روزہ دار) آگ سے آزاد کئے جاتے ہیں ۔جب (ماہِ رمضان کی) آخری رات ہوتی ہے تو اﷲ تعالیٰ اُس رات پورے مہینے کی تعداد کے برابر (روزہ دار کو) آگ سے آزاد فرماتا ہے ۔جب عیدالفطر کی رات (چاند رات) ہوتی ہے تو ملائکہ (فرشتے) ڈرے ہوئے ہوتے ہیں اور اﷲ جبار اپنے نور کے ساتھ تجلی فرماتا ہے اور اُس کی کیفیت اور وصف بیان کرنے والے بیان نہیں کر سکتے ہیں ۔اﷲ اپنے ملائکہ سے ارشاد فرماتا ہے جب کہ (روزہ دار) کل عید منائیں گے :” اے فرشتوکے گروہ! مزدور کی کیا جزاءہے جب کہ وہ پوری مزدوری کرے؟“ فرشتے عرض کرتے ہیں: ” اُس کو پورا اجر ملنا چاہیئے ۔“ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے :” میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان کی مغفرت کر دی۔“ (الترغیب)اﷲ تعالیٰ ماہِ رمضان میں بہت زیادہ ،بہت ہی زیادہ اپنے بندوں پر مہربان ہو جاتے ہیں اور پورا مہینہ اپنے بندوں کو دوزخ یعنی جہنم سے آزادی کا پروانہ عطا فرماتے رہتے ہیں ۔ اِس ماہِ مبارک میں اﷲ تعالیٰ کی رحمت بہت زیادہ جوش میں ہوتی ہے ۔اِس مہینے میںایک فرض ادا کرنے کا ثواب غیر رمضان میں ستر ( 70 ) فرض ادا کرنے کے برابر ہے ۔ اِس ماہِ مبارک کا پہلا عشرہ ( پہلے دس رات دن ) ”رحمت “ کا ہے دوسرا عشرہ ”مغفرت “ کا ہے اور آخری اور تیسرا عشرہ ” نجات “یعنی دوزخ یا جہنم سے آزادی کا ہے ۔اِسی لئے سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:” اِس ماہِ مبارک میں اپنے رب کو راضی کرنے کے لئے کلمہ¿ طیبہ اور استغفار کثرت سے پڑھا کرو اور جنت کی طلب کرو اور دوزخ کی آگ سے پناہ مانگا کرو ۔“یہ اﷲ تعالیٰ ہم مسلمانوں پر بے انتہا مہربانی ہے کہ وہ ہمیں بخشنے کے مواقع ڈھونڈتا رہتا ہے اور ہمارے پیارے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کی مہربانی ہے کہ انہوں نے ہمیں بخشوانے کے بہت سارے مواقع کے بارے میں بتایا ہے ۔

🌹ماہِ رمضان نیکیوں کا سیل🌹

حضرت ابوسعید خدری رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں: رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب ماہِ رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور پھر کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا ہے یہاں تک کہ ماہِ رمضان کی آخری رات آجاتی ہے ۔ اِس مہینے کی رات میں جب بندہ¿ مومن نماز پڑھتا ہے تو اﷲ تعالیٰ اُس کے ہر سجدہ کے بدلے میں ڈیڑھ ہزار نیکیاں لکھتا ہے اور اُس کے لئے جنت میں سُرخ یاقوت سے گھر بناتا ہے جس کے سات ہزار دروازے ہوں گے ۔ اُس میں سونے کا ایک محل ہوگا جو سُرخ یاقوت سے مرصہ ہوگا ۔ جب بندہ ماہِ رمضان کے پہلے دن کا روزہ رکھتا ہے تو اُس کے پچھلے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں ۔ ماہِ رمضان کے اُس دن اُس کے لئے ستر ہزار فرشتے صبح سے شام تک استغفار کرتے رہتے ہیںاور ماہِ رمضان میں دن یا رات کے وقت وہ جو بھی سجدہ کرتا ہے اُس کے بدلے ایک درخت ہوگا جس کے سایہ میں پانچ سو سال تک سوار چلے گا۔“ (سنن بیہقی)اﷲ تعالیٰ اپنے بندوں پر ماہِ رمضان میں بے حد مہربان ہوجاتے ہیں اور روزہ دار بندے کے ہر سجدے کے بدلے میں اُس کی اُمید سے زیادہ ثواب عطا فرماتے ہیں ۔ جب ہم ماہِ رمضان کے پورے روزے رکھیں گے اور اُن روزوں کو پوری حفاظت کریں گے تو انشاءاﷲ اس کے بدلے میں اﷲ تعالیٰ ہمیں ایسی ایسی نعمتیں عطا فرمائے گا کہ اُن نعمتوں کا گمان بھی نہیں کر سکتے۔اِس لئے ہمیں چاہیئے کہ ہم پورے خلوص اور سچے دل سے ماہِ رمضان میں اپنے گناہوں سے توبہ کریں اور اﷲ تعالیٰ سے دعا مانگیں کہ وہ ہمیں جھوٹ ، غیبت ، چغل خوری اور تمام چھوٹی بڑی برائیوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری پیشانیوں کے بال پکڑ کر ہمیں سیدھے راستے پر چلائے ۔ یہ دعا مسلسل کرتے رہیں اور سیدھے راستے پر چلنے کی کوشش کرتے رہیں ۔ جب ہم مسلسل سیدھے راستے پر چلنے کی کوشش کرتے رہیں گے تو اﷲ تعالیٰ بے شک ہماری مدد فرمائے گا اور ہمارے لئے سیدھے راستے پر چلنا آسان کر دے گا اور ماہِ رمضان میں اﷲ تعالیٰ نے جو ”نیکیوں کا سیل“ لگایا ہے اُس سے ہم پوری طرح فائدہ اُٹھا سکیں گے۔

🌹باب نمبر 2🌹

🌹شب قدر، کب کیوں کیسے؟🌹

🌹شبِ قدر🌹

اﷲ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا : ترجمہ ”بے شک ہم نے ( اِس قرآن پاک کو ) قدر کی رات (شب ِ قدر )میں نازل کیا ہے ۔اور کیا آپ کو معلوم ہے کہ قدر کی رات( شب ِ قدر ) کیا ہے ؟ قدر کی رات ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے ۔فرشتے اور روح ( جبرئیل علیہ السلام ) اپنے رب کے حکم سے ہر خیر اور بھلائی کے فیصلے کو لیکر اُترتے ہیں ۔سلامتی ہی سلامتی ( کو لیکر ) فجر کے طلوع ہونے تک ( یہ سلسلہ جاری رہتا ہے )۔“(سورہ القدر مکمل) اﷲ تعالیٰ نے اِس سورہ میں شب ِ قدر کے بارے میں بتایا کہ یہ بہت عظیم رات ہے اتنی عظیم رات ہے کہ اِس کا ہم اندازہ ہی نہیں کر سکتے ۔اِس کی عظمت یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اِس رات میں قرآن پاک نازل فرمایا اور اِس رات میں بہت سے فیصلے بھی اﷲ تعالیٰ نازل فرماتے ہیں ۔حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ” میں تمہیں خوشخبری سناتا ہوں کہ تمہارے پاس ماہِ رمضان کا مبارک مہینہ آچکا ہے جس کے روزے اﷲ تعالیٰ نے تم پر فرض کئے ہیں ۔اِس میں جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کئے جاتے ہیں۔ شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے اور اِس میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے اور جو اِس کی خیر سے محروم رہ گیا وہ محروم ہوگیا۔“ ( مصنف ابن ابی شیبہ، سنن نسائی ، سنن بیہقی)حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ جب ماہِ رمضان المبارک آیا تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”یہ مہینہ تمہارے پاس آیا ہے ۔ اِس مہینے میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے اور جو اِس رات سے محروم رہا وہ تمام بھلائیوں سے محروم رہا اور اِس کی خیر سے صرف وہی محروم رہتا ہے جو ازلی محروم ہو۔“ (سنن ابن ماجہ)یہ اﷲ تعالیٰ کا ہم مسلمانوں پر بہت بڑا احسان ہے کہ اُس نے ہمیں ایک ایسی رات عطا فرمائی جس کا ثواب ایک ہزار مہینے کی مسلسل عبادت سے زیادہ ہے ۔ اگر ہمیں اپنی پوری زندگی میں دس ”شبِ قدر“ بھی مل گئی تو ہمارے اعمال نامے میں د س ہزار راتوں سے زیادہ راتوں میں مسلسل عبادت کرنے کا ثواب لکھا جائے گا۔

🌹شبِ قدر میں قرآن پاک کا نزول 🌹

اﷲ تعالیٰ نے شبِ ِ قدر میں قرآن پاک نازل فرمایا ۔سورہ القدر کی پہلی آیت میں اﷲ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ اُس نے قرآن پاک کو ایک با عزت اور خیرو برکت والی رات میں نازل کیا ہے ۔پورا قرآن پاک ‘‘لیلۃ القدر ’’ ( شب قدر ) میں لوح محفوظ سے آسمان ِ دنیا ( پہلے آسمان ) پر نازل ہوا ،پھر وہیں سے جستہ جستہ( تھوڑ ا تھوڑا ) ضرورت کے مطابق رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پر نازل ہوتا رہا اور تیئس(23) سال میں اِس کے نزول کی تکمیل ہوئی ۔اِن آیات میں قرآن پاک کی بہت بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے جس کی تعبیر اِن الفاظ میں کی گئی ہے کہ ہم نے قرآن پاک کی عظمت و اہمیت کے پیش نظر اسے ایک نہایت ہی معظم و مکرم اور با برکت رات میں نازل کیا ہے اِس مضمون کو اﷲ تعالیٰ نے سورہ الدخان آیت نمبر 3 میں یوں بیان فرمایا ہے : ترجمہ ‘‘ بے شک ہم نے قرآن پاک کو ایک با برکت رات میں نازل کیا ہے ،بے شک ہم ڈرانے والے تھے ْ’’ اور یہ رات ماہِ رمضان المبارک میں تھی جس کی تصریح اﷲ تعالیٰ نے سورہ البقرہ کی آیت نمبر 185 میں فرما دی ہے : ترجمہ ‘‘ ماہِ رمضان المبارک وہ مہینہ ہے جس میں قرآن پاک نازل کیا گیا ۔’’

🌹شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر 🌹

اﷲ تعالیٰ نے شب ِ قدر کو ہزار مہینوں سے بہتر فرمایا ہے۔اﷲ تعالیٰ نے لیلۃ القدر ( شب ِ قدر ) کی عظمت و اہمیت کو بیان کر نے کے لئے سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا : ‘‘آپ صلی اﷲ کو علیہ وسلم کو کیا معلوم کہ لیلۃ القدر کیا ہے ؟ لیلۃ القدر ایسے ہزار مہینوں سے بہتر ہے جن میں کوئی لیلۃ القدر نہ ہو ،یعنی ایک لیلۃ القدر تیراسی ( 83) سال اور چار مہینے سے بہتر ہوتی ہے ۔اِس لئے کہ اِس میں فرشتے اور جبرئیل علیہ السلام اپنے رب کے حکم سے آسمان سے زمین پر اُترتے ہیں ،اِسلئے کہ اُن کے پاس آنے والے سال سے متعلق سے رب العالمین کے تمام فیصلے اور احکام ہوتے ہیں ۔جیسا کہ سورہ الدخان آیت نمبر 4 اور 5) میں آیا ہے :ترجمہ اِسی رات میں ہر پُر حکمت کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے ،ہمارے پاس سے حکم ہو کر ،ہم ہی رسول بنا کر بھیجنے والے ہیں ۔’’ لیلۃ القدر ( شب ِ قدر ) سراسر سلامتی اور خیر ہی خیر ہوتی ،اِس میں کوئی شر نہیں ہوتا اور یہ خیر و سلامتی غروب آفتاب سے طلوع فجر تک باقی رہتی ہے ۔بعض لوگوں نے ‘‘سلامتی والی رات ’’ کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ مومنین اِس رات کو شیاطین کے شر سے محفوظ رہتے ہیں یا یہ کہ فرشتے مومنوں اور مومنات کو سلام کرتے ہیں

🌹شب ِ قدر تقدیر ساز ہے 🌹

سورہ القدر کی آیت نمبر ایک میں قرآن پاک کا صراحتہً ذکر نہیں لیکن ‘‘انزلنا ’’ کی ضمیر مفعول کا مرجع بالاتفاق قرآن پاک ہی ہے ۔فرمایا قرآن پاک فرشتے یا کسی انسان کا کلام نہیں نہ اِن میں سے کسی ایک فرد یا مجمع اعلیٰ کی تصنیف ہے ۔ اِس کو اُتارنے والے ہم ( اﷲ ) ہیں یہ ہمارا کلام ہے اِس میں کسی غیر کے اختراع کا کوئی وجود نہیں اور ہم نے اِس کو اُ س رات میں اُتاراہے جو قدرو منزلت کے اعتبار سے بے مثل رات ہے یا اُس رات میں اُتارا جو تقدیر ساز ہے ، جس کی برکت سے صرف اہل مکہ اور ساکنان حجاز کے مقدر کا ستارہ ہی طلوع نہیں ہوا بلکہ ساری انسانیت کا بخت خفتہ بیدار ہوگیا ۔اس رات میں ایسی کتاب نازل ہوئی جس میں بنی نوع انسان کو اپنی پہچان اور اپنے خالق کا عرفان عطا فرمایا ۔علامہ قرطبی نے اِس رات کو لیلۃ القدر کہنے کی وجہ یوں بیان کی ہے ۔‘‘اسے شبِ قدر اِس لئے کہتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ نے اِس میں ایک بڑی قدرو منزلت والی کتاب ،بڑے قدرو منزلت والے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم پر اور بڑی قدرو منزلت والی اُمت کے لئے نازل فرمائی ہے ۔اِس کی شان ِ نزول یہ بیان کی گئی کہ سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنی اُمت کی عُمروں کو مختصر پایا اور خیال ہوا کہ وہ مختصر عُمر میں اتنے اعمال ِ صالح نہ کر سکیں گے جتنے پہلی اُمتوں نے اپنی طویل عمروں میں کئے ہیں تو اﷲ تعالیٰ نے اپنے رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کو ‘‘لیلۃ القدر ’’ عطا فرمائی جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے ۔

🌹خیر کثیر کی رات 🌹

اﷲ تعالیٰ نے سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کو ایک بہت ہی خیر کثیر والی رات عطا فرمائی ہے ۔ جو تحفہ اﷲ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کو مرحمت فرمایا ،اب اُس کی جلالت ِ شان کا بیان ہو رہا ہے ،خود ہی سوال کیا ،خود ہی جواب دیا ۔فرمایا ‘‘بھلا تم کیا جانتے ہو لیلۃ القدر کیا ہے ؟’’ خود ہی جواب دیا کہ یہ ایک رات ایک ہزار مہینہ سے بھی افضل ہے ۔یہ بہتری اور افضلیت کس اعتبار سے ہے ؟ اکثر مفسرین کا یہ قول ہے کہ اِس ایک رات میں جو عمل کیا جاتا ہے وہ ایک ہزار مہینے کے عمل سے بہتر ہے جس میں لیلۃ القدر نہ ہو ۔علامہ قرطبی نے اپنی رائے اِن الفاظ میں بیان کی ہے کہ اِس رات میں اتنی ‘‘خیر کثیر ’’تقسیم کی جاتی ہے جتنی ایک ہزار مہینوں میں بھی تقسیم نہیں ہوتی اور یہ بھی مفہوم ہو سکتا ہے کہ انسان کی اصلاح اور فلاح کے لئے جو کام (نزول ِ قرآن پاک) اِس ایک رات میں ہوا یہ ہزار مہینے کی کوششوں سے بھی بہتر ہے ۔

🌹شبِ قدر کے متعلق احادیث 🌹

شب قدر کے متعلق بہت زیادہ احادیث آئی ہیں اور اِن میں اِس رات کی بہت فضیلتیں آئی ہیں ۔ چند احادیث پیش خدمت ہیں ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص شب ِ قدر میں عبادت کے لئے کھڑا رہا اُس کے پچھلے گنا ہ معاف کر دیئے جاتے ہیں ۔“ ( صحیح بخاری ،صحیح مسلم ) حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شب ِ قدر میں وہ تمام فرشتے جن کا مقام ”سدرة المنتہیٰ ہے وہ جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ دنیا پر اُترتے ہیں ۔جو مومن مرد اور مومن عورت اس رات عبادت میں مشغول ہوتے ہیں وہ اُن سے مصافحہ کرتے گزرتے ہیں ۔لیکن شراب پینے والے ، خنزیر کھانے والے اس سعادت سے محروم رہتے ہیں ۔اسی طرح دوسری احادیث میں فرمایا گیا کہ شب ِ قدر میں جبرئیل علیہ السلام فرشتوں کی جماعت کے ساتھآتے ہیں اور جو شخص بھی قیام و قعود اور عبادت میں مشغول ہوتا ہے تو وہ اُس کےلئے رحمت و سلامتی کی دعائیں کرتے ہیں ۔شب ِ قدر وہ رات ہے جس میں توبہ قبول کی جاتی ہے ۔آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور ہر عبادت گذار کو اﷲ کے یہ فرشتے سلام کرتے ہیں ۔اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شب ِ قدر کی رات کو ماہِ رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو ۔“ ( صحیح بخاری ، صحیح مسلم )اﷲ تعالیٰ نے شب ِ قدر متعین نہیں فرمائی اور اِس کو متعین نہ فرمانے میں بھی کئی حکمتیں ہیں تاکہ مسلمان اِس رات کی تلاش میں زیادہ نہیں تو کم از کم پانچ طاق راتیں اﷲ تعالیٰ کے ذکر اور عبادت میں گزاریں ۔اگر رات متعین کر دی جاتی تو لوگ صرف اِسی ایک رات کو ہی جاگتے اور عبادت کرتے ۔نیز اِس رات کو اگر مقرر کر دیا جاتا تو اِسے ذکر و عبادت میں گزارنے والے تو اجر عظیم کے مستحق قرار پاتے لیکن اِسے گناہوں میں گزارنے والے بھی سنگین سزا میں مبتلا کئے جاتے ۔کیونکہ انہوں نے ”شب ِ قدر “ کو پہچانتے ہوئے اسے اﷲ کی نافرمانی میں ضائع کردیا ۔اِس لئے رحمت کا تقاضا یہی ہے کہ اِسے مستور رکھا جائے تاکہ اگر کوئی بے نصیب بے خبری میں اِس رات کو گناہوں کی بھینٹ چڑھاتا ہے تو اسے گناہ ایک عام رات کا ملے اور جاگنے والے زیادہ جاگتے رہیں ۔حقیقت تو یہ ہے کہ جو رات اپنے مالک ِ حقیقی کی یاد میں بسر ہوتی ہے اہل عشق کے لئے وہ بھی لیلۃ القدر ہے ۔

🌹شب ِ قدر میں فرشتوں کا نزول🌹

اﷲ تعالیٰ نے سورہ القدر میں فرمایا : ترجمہ ”فرشتے اور روح ( جبرئیل علیہ السلام ) اپنے رب کے حکم سے ہر خیر اور بھلائی کے فیصلے کو لیکر اُترتے ہیں ۔ (سورہ القدر آیت نمبر 4) اِس آیت میں اﷲ تعالیٰ نے بتایا کہ شبِ قدر میں اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ہر خیر اور بھلائی کے فیصلے لیکر جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ فرشتے زمین پر اُترتے ہیں اور وہ تمام فیصلے زمین پر نافذ کرتے ہیں۔ شبِ قدر کے فضائل میں بہت ساری احادیث ہیں ۔علامہ محمد بن احمد بن ابوبکر قرطبی لکھتے ہیں ۔صحیحین ( بخاری و مسلم ) میں حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ؛” جس نے بھی لیلۃ القدر کو ایمان کی حالت میں ثواب کے ارادے سے عبادت کی اﷲ تعالیٰ اُس کے پچھلے گناہ بخش دیتا ہے ۔“ حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب لیلۃ القدر ہوتی ہے تو وہ فرشتے نازل ہوتے ہیں جو ”سدرة المنتہیٰ “ کے مکین ہوتے ہیں ۔اُن کے ساتھ میں جبرئیل امین علیہ السلام ہوتے ہیں،اُن کے ساتھ جھنڈے ہوتے ہیں اُن میںسے ایک جھنڈا میری قبر پر ، ایک جھنڈا بیت المقدس پر ، ایک جھنڈا خانہ¿ کعبہ پر ، ایک جھنڈا کوہ ِ طور پر لگا دیا جاتا ہے ۔وہ ہر مومن مرد اور عورت کو ( جو اﷲ کی عبادت میں مصروف ہوتا ہے ) سلام کرتے ہیں لیکن ( اُن لوگوں کو چھوڑ دیتے ہیں ) جو ہمیشہ شراب نوشی کرتا ہے ،خنزیر کھاتا ہے اور زعفران میں لتھڑا رہتا ہے ۔حدیث میں ہے کہ شیطان اُس رات میں نہیں نکلتا یہاں تک کہ اُس کی فجر روشن ہو جاتی ہے وہ طاقت نہیں رکھتا کہ کسی کو فتنے میں اور فساد میں ڈالے اور اِس ( رات ) کسی جادوگر کا جادو اثر نہیں کرتا ۔ (تفسیر الاجامع الاحکام القرآن )شبِ قدر کی رات بہت ہی عظیم رات ہے اور ہمیں یہ کوشش کرنی چاہیئے کہ اُس رات ہم زیادہ سے زیادہ عبادت اور تلاوت میں گزاریں تاکہ اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ہمارے لئے پورا سال کے لئے صرف خیر اور بھلائی کے ہی فیصلے نافذ ہوں اور ہمارا پورا سال خیر اور بھلائی میں ہی گزرے۔ جو مسلمان اِس رات کو اہمیت نہیں دیتے ہیں اُن کے لئے دعا ہے کہ اﷲ تعالیٰ اُنہیں اِس رات کی اہمیت سمجھنے اور نیک عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

🌹شب قدر کی نشانیاں🌹

رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم مسلسل شبِ قدر کو حاصل کرنے کے لئے جد وجہد کرتے رہتے تھے ۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے شبِ قدر کی نشانیاں بتائی ہیں اور جن جن صحابۂ کرام کو شبِ قدر ملی ہے انہوں نے بھی اس کی نشانیاں بتائی ہیں ۔ اِس کے علاوہ پچھلے چودہ سو سال سے اِس اُمت کے علمائے کرام بھی مسلسل شب قدر کی تلاش کرتے رہے ہیںاورشب قدر کی کئی نشانیاں بتائی گئیں ہیں ۔حضرت عبادہ بن صامت رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے ”شب ِ قدر “ کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ ماہِ رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں ہے ۔ وہ کسی طاق رات میں ہوتی ہے اکیسویں یا تئیس ویں ، پچیسویں یا ستائیسویں یا اُنتیسویں یا پھر ماہِ رمضان المبارک کی آخری رات میں ۔جس نے ایمان و اخلاص کے ساتھ اِس رات میں عبادت کی اُس کے پچھلے گناہوں کی مغفرت کر دی جائے گی ۔اِس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ یہ رات انتہا ئی راحت بخش ، پُر سکون اور خاموش ہوتی ہے ،نہ زیادہ گرم ہوتی ہے اور نہ زیادہ ٹھنڈی ، اِس میں چاند روشن ہوتا ہے ،اِس رات میں صبح تک کسی ستارے کے لئے ٹوٹنے کی اجازت نہیں ہوتی اور اِس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس کی صبح کو سورج طلوع ہوتا ہے تو اُس کی شعاعیں نہیں ہوتیں ،وہ بالکل برابر ہوتا ہے گویا کہ وہ چودھویں رات کا چاند ہے اور اﷲ تعالیٰ نے شیطان پر حرام قرار دیا ہے کہ اُس دن وہ اس کے ساتھ نکلے ۔“ (مسند احمد ) علامہ محمد بن احمد بن ابو بکر قرطبی لکھتے ہیں ۔اِس کی ( شب ِ قدر کی ) نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ سورج اس کی صبح سفید طلوع ہوتا ہے اِس کی کوئی شعاع نہیں ہوتی ۔حضرت حسن بصری نے کہا : ” رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے لیلۃ القدر کے بارے میں فرمایا : ”اِس کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ رات نہ گرم اور نہ ٹھنڈی ہوتی ہے اِس کی صبح سورج طلوع ہوتا ہے جس کی شعاع نہیں ہوتی ۔“ عبید بن عمیر نے کہا : ” میں نے ستائیسویں رات کو سمندر میں تھا ،میں نے اُس کا پانی لیا تو میں نے اسے میٹھا اور خوشگوارپایا ۔ ( تفسیر الجامع الاحکام القرآن )

🌹شبِ قدر : قدرو منزلت والی عظیم رات 🌹

اﷲ تعالیٰ نے آخری اُمت کو ایک قدرو منزلت والی عظیم رات عطا فرمائی ہے ۔ قرآن پاک اﷲ تعالیٰ کا کلام ہے ۔اﷲ تعالیٰ نے اِس کو ایک ایسی عظیم رات میں نازل کیا ہے جو ایک ہزار مہینوں کی راتوں سے بھی زیادہ افضل و بہتر ہے ۔ یہ وہ” عظیم رات“ ہے جس میں کلام اِلٰہی پر عمل کرنے والے بندے بھی ”عظمتوں کے پیکر“ بن جاتے ہیں ۔اِسی لئے کہا گیا ہے کہ جس آدمی کی اِس سے پہلے کوئی قدرو قیمت نہیں تھی اِس رات میں وہ توبہ و استغفار اور عبادت کے ذریعے”صاحب ِ قدر و منزلت “ بن جاتا ہے ۔اﷲ تعالیٰ نے اِسی رات میں رسول صلی اﷲ علیہ وسلم پر سورہ علق کی پانچ آیتیں نازل کر کے ”نزول ِ قرآن “ کا سلسلہ شروع فرمایا تاکہ سیدھے راستے سے بھٹکی ہوئی انسانیت کو ”صراط مستقیم “ پر چلایا جا سکے ۔پورا قرآن پاک ”لوح ِ محفوظ “ میں موجود ہے ۔اﷲ تعالیٰ نے ” شب ِ قدر “ میں اِس پورے قرآن پاک کو لوح محفوظ سے آسمان دنیا ( پہلے آسمان) پر اُتارا ،پھر جبرئیل علیہ السلام تھوڑا تھوڑا کلام لیکر آتے رہے جس کا سلسلہ تقریباً تیئس ( 23 ) سال میں تکمیل تک پہنچا ۔قرآن پاک سے پہلے جتنے صحیفے اور کتابیں نازل کی گئیں وہ بھی ماہِ رمضان المبارک میں نازل ہوئیں ۔حضرت ابو ذر غفاری رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ”صحیفہ ٔ ابراہیم تین (3 ) رمضان المبارک کو ، توریت چھ ( 6) رمضان المبارک کو ، انجیل تیرہ ( 13 ) رمضان المبارک کو اور زبور آٹھارہ ( 18 ) رمضان المبارک کو نازل کی گئیں ۔یہ ساری کتابیں چند دنوں میں نازل کی گئیں کیونکہ قدرت نے اِن کو ایک مخصوص زمانے تک کے لئے نازل کیا تھا اورچونکہ قرآن پاک آخری کتاب ہے جس کو قیامت تک محفوظ رکھنا تھا اِس لئے اُس کو چند دنوں میں نہیں بلکہ تیئس ( 23 ) سال میں تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا گیا تاکہ ہر شخص قرآن پاک کو یاد کر لے اور اپنے سینے میں محفوظ کر لے ۔اِس لئے نزول قرآن کے دوران ہی سینکڑوں حافظان ِ قرآن پیدا ہو چکے تھے اور آج تک حافظ قرآن کا سلسلہ جاری ہے اور انشاءاﷲ قیامت تک جاری رہے گا ۔خلاصہ یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے شب قدر میں قرآن پاک کو نازل کیا وہ شب ِقدر جو ایک ہزار مہینوں کی راتوں سے زیادہ بہتر ہے ۔

🌹عظیم اجرو ثواب حاصل کرنے والی رات 🌹

اﷲ تعالیٰ شبِ قدر میں بے حد عظیم اجرو ثواب عطا فرماتے ہیں ۔یہ وہ رات ہے جس میں جبرئیل اور سدرۃ المنتہیٰ کے وہ خاص فرشتے جو کبھی دنیا میں نہیں آئے وہ بھی اُس رات دنیا میں آتے ہیں ۔اُس رات اﷲ کے یہ فرشتے اتنی کثرت سے آتے ہیں کہ پوری زمین خیرو برکت اور روحانی فضاؤں سے بھر جاتی ہے ۔جو لوگ اُس رات اپنے اندر روحانیت بیدار کرنے کے لئے اﷲ کی عبادت و بندگی کرتے ہیں ،رکوع ،سجدوں اور تلاوت ِ قرآن پاک کے ذریعے اﷲ تعالیٰ سے مانگتے ہیں اُن میں غیر معمولی روحانی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے ۔دنیا اور آخرت مانگنے والوں کے دامن ِ مراد کو بھر دیا جاتا ہے ۔اُن کے وہ تمام عمل جو عام زندگی میں ثواب کا درجہ رکھتے ہیں اُس کی عبادت سے وہ ایک خاص سکون حاصل کر کے عظیم اجرو ثواب کے مستحق بن جاتے ہیں ۔یہ خیر و برکت والی رات ہے جو اِس رات بھی خیر و برکت حا صل کرنے سے محروم رہا ،وہ ہر خیر سے محروم رہے گا ۔

🌹فیصلے نافذ کرنے والی رات 🌹

اﷲ تعالیٰ اپنے سارے حکیمانہ فیصلے ‘‘شب ِ قدر ’’ میں نافذ فرماتے ہیں۔ یہاں فرمایا گیا ہے کہ ہم نے قرآن پاک کو شب ِ قدر میں نازل کیا ہے اور سورہ البقرہ میں ارشاد ہوا ہے : ترجمہ ‘‘ ماہِ رمضان المبارک وہ مہینہ ہے جس میں قرآن پاک نازل کیا گیا ۔’’ ( سورہ البقرہ آیت نمبر 185) اِس سے معلوم ہوا کہ وہ رات جس میں پہلی مرتبہ اﷲ تعالیٰ کا فرشتہ غار ِ حرا میں سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس وحی لیکر آیا تھا وہ ماہِ رمضان المبارک کی ایک رات تھی ۔اس رات کو یہاں ‘‘شب ِ قدر ’’ کہا گیا ہے اور سورہ الدخان میں اِسی کو مبارک رات فرمایا گیا ہے : ترجمہ ‘‘ ہم نے اِ سے ایک برکت والی رات میں نازل کیا ہے ۔’’ ( سورہ الدخان آیت نمبر 3) اِس رات میں قرآن پاک نازل کرنے کے دو مطلب ہو سکتے ہیں ۔ایک یہ کہ اِس رات پورا قرآن پاک حامل ِ وحی فرشتوں کے حوالے کر دیا گیا اور پھر واقعات اور حالات کے مطابق وقتاً فوقتاً تیئس (23) سال کے دوران میں جبرئیل علیہ السلام اﷲ تعالیٰ کے حکم سے اِس کی آیات اور سورتیں سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم پر نازل کرتے رہے ۔یہ مطلب حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ نے بیان کیا ہے ۔(ابن جریر طبری ،ابن المنذر ، ابن ابی حاتم ،حاکم ، ابن مردویہ اور بیہقی ) دوسرا مطلب یہ ہے کہ قرآن پاک کے نزول کی ابتدا ء اِس رات سے ہوئی ۔یہ امام شعبی کا قول ہے ،اگرچہ اُنہوں نے بھی دوسرا قول وہی منقول کیاہے جو حضرت عبد اﷲ بن عبا س رضی اﷲ عنہ کا اوپر گزرا ہے ۔(ابن جریر طبری ) بہر حال دونوں صورتوں میں بات ایک ہی رہتی ہے کہ سیدا لانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم پر قرآن پاک کے نزول کا سلسلہ اِسی رات کو شروع ہوا اور یہی رات تھی جس میں سورہ علق کی ابتدائی پانچ آیتیں نازل کی گئیں ۔تاہم یہ بات اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن پاک کی آیات اور سورتیں اﷲ تعالیٰ اُسی وقت تصنیف نہیں فرماتا تھا جب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اور آپ کی دعوت ِ اسلامی کو کسی واقعہ یا معاملہ میں ہدایت کی ضرورت پیش آتی تھی بلکہ کائنات کی تخلیق سے بھی پہلے ازل میں اﷲ تعالیٰ کے ہاں زمین پر نوع انسانی کی پیدائش ، اس میں انبیائے کرام علیہم السلام کی بعثت ،انبیاء پر نازل کی جانے والی کتابوں اور تمام انبیاء کے بعد آخر میں سید الانبیاء صلی علیہ وسلم کو مبعوث فرمانے اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم پر قرآن پاک نازل کرنے کا پورا منصوبہ موجود تھا ۔ شبِ قدر میں صرف یہ کام ہوا کہ اس منصوبے کے آخری حصے پر عمل در آمد شروع ہو گیا ۔اُس وقت اگر پورا قرآن پاک حاملین َ وحی کے حوالے کردیا گیا ہو تو کوئی قابل تعجب امر نہیں ہے ۔‘‘قدر ’’ کے معنی بعض مفسرین نے ‘‘تقدیر ’’ کے لئے ہیں ۔یعنی یہ وہ رات ہے جس میں اﷲ تعالیٰ تقدیر کے فیصلے ‘‘نافذ کرنے ’’ کے لئے فرشتوں کے سپرد کردیتا ہے ۔اِس کی تائید سورہ الدخان کی یہ آیت کرتی ہے : ترجمہ ‘‘ اِس رات میں ہر معاملے کا حکیمانہ فیصلہ صادر کر دیا جاتا ہے ۔’’ ( سورہ الدخان آیت نمبر ۵ ؂) بخلاف اِس کے امام زہری کہتے ہیں کہ ‘‘قدر ’’ کے معنی ‘‘عظمت و شرف ’’ کے ہیں یعنی وہ بڑی عظمت والی رات ہے ۔اِس معنی کی تائید اِس سورہ کے اِن الفاظ سے ہوتی ہے کہ ‘‘شب ِ قدر ’’ ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے ۔’’

🌹شب ِ قدر میں ہم کیا کریں 🌹

اﷲ تعالیٰ نے ہمیں شب ِ قدر کی تلاش کا حکم دیا ہے اِس لئے ہمیں اسے ماہِ رمضان المبارک میں تلاش کرنا چاہیئے ۔ ہمیں شب ِ قدر میں کیا کرنا چاہیئے ؟اِس کے بارے میں اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا : ” یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم !اگر میں لیلۃ القدر کو پالوں تو میں کیا دعا کروں ؟ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم کہنا: ترجمہ :”اے اﷲ !تُو معاف کرنے والا ہے ،معاف کرنے کو پسند کرتا ہے ،مجھے معاف کردے ۔“( سنن ابن ماجہ ، جامع ترمذی )جب شب ِ قدر آئے تو بہتر یہی ہے کہ اُس رات کی سعادت حاصل کرنے کے لئے اﷲ کا ذکر ، تلاوت ِ قرآن پاک یا دوسرے ایسے شغل میں مصروف رہے جو دین اسلام نے اُس کو سکھائے ہیں ۔ لیکن اگر کوئی شخص تھکا ماندہ ہو اور اُس میں پوری رات عبادت کرنے کی طاقت نہ ہو تو وہ عشاءاور فجر کی نمازیں جماعت سے ادا کر لے انشاءاﷲ اُس کو پوری رات عبادت کرنے کا ثواب مل جائے گا ۔حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے عشاءکی نماز جماعت کے ساتھ ادا کی تو اُس کو آدھی رات کا اور جس نے فجر کی نماز جماعت سے ادا کی تو اُس کو بقیہ رات کی عبادت کا ثواب عطا کیا جائے گا ۔“( صحیح مسلم ) یعنی پوری رات عباد ت کرنے کا ثواب ملے گا ۔ اﷲ تعالیٰ شبِ قدر میں بے حد عظیم اجرو ثواب عطا فرماتے ہیں ۔ یہ وہ رات ہے جس میں جبرئیل اور سدرة المنتہیٰ کے وہ خاص فرشتے جو کبھی دنیا میں نہیں آئے وہ بھی اُس رات دنیا میں آتے ہیں ۔اُس رات اﷲ کے یہ فرشتے اتنی کثرت سے آتے ہیں کہ پوری زمین خیرو برکت اور روحانی فضاؤں سے بھر جاتی ہے ۔جو لوگ اُس رات اپنے اندر روحانیت بیدار کرنے کے لئے اﷲ کی عبادت و بندگی کرتے ہیں ،رکوع ،سجدوں اور تلاوت ِ قرآن پاک کے ذریعے اﷲ تعالیٰ سے مانگتے ہیں اُن میں غیر معمولی روحانی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے ۔دنیا اور آخرت مانگنے والوں کے دامن ِ مراد کو بھر دیا جاتا ہے ۔اُن کے وہ تمام عمل جو عام زندگی میں ثواب کا درجہ رکھتے ہیں اُس کی عبادت سے وہ ایک خاص سکون حاصل کر کے عظیم اجرو ثواب کے مستحق بن جاتے ہیں ۔یہ خیر و برکت والی رات ہے جو اِس رات بھی خیر و برکت حا صل کرنے سے محروم رہا ،وہ ہر خیر سے محروم رہے گا ۔

🌹ہم شب ِ قدر حاصل کرنے کی کوشش کریں 🌹

اﷲ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول صلی اﷲ علیہ وسلم اور اُن کی اُمت کو ماہِ رمضان المبارک میں شب ِ قدر عطا فرمائی ہے ۔یہ اِس اُمت پر اﷲ تعالیٰ کی طرف سے خصوصی عنایات میںسے ایک عنایت ہے ۔قرآن پاک میں اِس رات کو ہزار مہینوں سے افضل قرار دیا گیا ہے ۔ہزار مہینوں کے تیراسی سال اور چار مہینے بنتے ہیں ،جس خوش نصیب نے اِس کو عبادت میں گزار دیا اُس نے گویا تیراسی سال اور چار مہینے سے زیادہ زمانہ عبادت میں گزارا ۔پہلی اُمتوں کی عُمریں سینکڑوں سال ہوتی تھیں ،اگر کوئی اعمال ِ صالحہ میں اُن کی برابری کرنا بھی چاہے تو یہ اُس کے لئے ممکن نہیں تھا ۔مگر اﷲ تعالیٰ نے ”خیر الاُمم “ کو یہ مقدس شب ”شب ِ قدر “ مرحمت فرما کر پچھلی اُمتوں کے ساتھ عبادت میں برابری بلکہ آگے بڑھ جانے کا سامان پیدا فرما دیا ۔اگر کسی خوش بخت کو زندگی بھر میں صرف دس راتیں ہی عبادت میں گزارنے کی توفیق نصیب ہو جائے تو گویا اُسے آٹھ سو تینتیس ( 833) سال چار مہینے سے بھی زیادہ زمانہ ”کامل عبادت“ میں گزارنے کا ثواب حاصل ہو جائے گا ۔کیا اِس ”رحمت “ کا کوئی ٹھکانہ ہے ؟ پھر بھی اگر ہم اِس رات کی اِس عظیم فضیلت کو حاصل کرنے کی کوشش نہ کریں اور مہینہ بھر غفلت میں گزار دیں تو کسی کا کیا نقصان ہو گا ؟ اپنی ہی بد نصیبی و محرومی ہے ۔سال بھر دنیاوی منافع حاصل کرنے میں ایکدوسرے سے سبقت لے جانے کی تگ و دو میں لگے رہتے ہیں ۔اگر یہ ایک مہینہ دنیاوی جھمیلوں سے الگ ہو کریکسو ہو کراﷲ تعالیٰ کو راضی کرنے اور اُس کی عبادت میں گزار دیں تو کیا قیامت آ جائے گی ؟ معمولی سی مشقت اور اجر و ثواب کا اتنا بڑا ذخیرہ ۔کیا ہم اسے حاصل کرنے کی کوشش کریں گے ؟ یا پھر ہمیشہ کی طرح اِس عظیم رات کو بھی ہوٹلوں ، چوک اور بیٹھکوں میں بیٹھ کر ایکدوسرے سے فضول باتیں کرنے میں گزار دیں گے ۔ ہم مسلمانوں میں یہ ایک بات دیکھی گئی ہے کہ ہم عملی طور سے تو ملک کے حالات کو سدھارنے کی بالکل کوشش نہیں کرتے ہیں ۔ ہاں جب ہم آپس میں مل بیٹھتے ہیں توسیاست پر اِس طرح بات کرتے ہیں جیسے پورے ملک کے سب سے ماہر سیاست دان ہم ہی ہیں ۔ اﷲ ہمیں اِن سب فضولیات سے بچائے اور شبِ قدر کی عظیم رات کو حاصل کرنے کی کوشش کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

🌹تقویٰ “ کو ہمیشہ کے لئے اختیار کریں 🌹

اﷲ تعالیٰ نے ہماری خصوصی مدد فرمادی تاکہ ہمیں ‘‘تقویٰ ’’ اختیار کرنے میں آسانی رہے اور ہم گناہوں سے بچنے کے ساتھ ساتھ زیادہ سے زیادہ نیکیاں بھی کرتے جائیں اور روزہ رکھنے سے جو ہم میں یہ ‘‘تقویٰ ’’ پیدا ہوا ہے کہ‘‘ اﷲ تعالیٰ ہمیں دیکھ رہا ہے ۔’’یہ ہمیشہ کے لئے پیدا ہوجائے اور ہمیں ہمیشہ یاد رہے کہ‘‘ اﷲ تعالیٰ ہمیں دیکھ رہا ہے ’’ تو انشاء اﷲ ہم ‘‘متقی ’’ بن جائیں گے ۔اِسی لئے جب ہم نے روزہ کے ذریعے ‘‘ متقی ’’ بننے کی شروعات کر دی ہے تو ہمیں اسے پختہ کرنا چاہیئے ۔جس طرح ہم پیاس کی شدت کے باوجود اﷲ کی فرماں برداری و اطاعت میں ،اﷲ کی نارضگی کے ڈر اور خوف سے یا اﷲ کی محبت کی وجہ سے پانی پینے سے رک گئے تھے ۔اِسی طرح جب ہم کاروبار ِ زندگی میں نکلیں ،اپنے رشتہ داروں ، دوست احباب ، تعلقات والوں سے ملیں ،بات چیت کریں ، کاروبار کریں ، لین دین کریں اور وہاں ہمارے اندر اﷲ کی نافرمانی اور غلط کام کرنے کا خیال پیدا ہو تو اُسی وقت اﷲ کی محبت یا خوف کی وجہ سے غلط کام کرنے سے رک جائیں اور پورے مہینے اِس بات کا خصوصی خیال رکھیں کہ ہمارے اندر جو ‘‘تقویٰ ’’ پیدا ہوا ہے اُس میں ترقی ہی ہوتی جائے ۔ایسا نہ ہو کہ اﷲ کی محبت یا خوف کی وجہ سے ہم پانی پینے سے تو رُک گئے اور جب کاروبارِ زندگی میں نکلے تو ہماری آنکھ غلط جگہ پڑ رہی ہے ، کان غلط باتیں سن رہے ہیں ،زبان سے غلط باتیں نکل رہی ہیں اور ہم لوگو ں کو اپنے ہاتھوں اور زبان سے تکلیف دے رہے ہیں ۔ اِس طرح ہم مکمل ‘‘متقی ’’ نہیں بن پائیں گے اور ہمارا روزہ تو ہو جائے گا لیکن اُس کے ثواب کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے اور سب سے بڑا نقصان یہ ہو گا کہ ہمارے ‘‘تقویٰ ’’ میں ترقی نہیں ہو گی بلکہ جو پیدا ہوا تھا وہ بھی خطرے میں پڑ جائے گا ۔اِس لئے پورے ماہِ رمضان ہم اﷲ تعالیٰ کی خصوصی مہر بانی کا فائدہ اُٹھا کراپنے ‘‘تقویٰ ’’ میں اتنی ترقی کر لیں کہ ماہِ رمضان ختم ہونے کے بعد بھی ہمارے اندر باقی گیارہ مہینے بھی ‘‘تقویٰ ’’ قائم رہے اور ہمیں ہر وقت ہر لمحہ یہ احساس رہے کہ ‘‘اﷲ ہمیں دیکھ رہا ہے ۔’’کہیں وہ ہمارے اِس عمل سے ناراض نہ ہوجائے تو انشاء اﷲ ہم ‘‘متقی ’’ بن جائیں گے ۔

🌹روزے کی حفاظت 🌹

اﷲ کے فضل و کرم سے جب ہمارے اند ر‘‘ تقویٰ’’ پیداہو جائے گا تو ماہِ رمضان کے روزوں کی حفاظت بھی کر سکیں گے اور اگر ہمارے اند ر ‘‘تقویٰ نہیں پیدا ہو سکا تو ہمارا روزہ ضائع بھی ہو سکتا ہے ۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‘‘ اگر کسی شخص نے روزے کی حالت میں جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہیں چھوڑا تو اللہ کو کوئی حاجت نہیں ہے کہ وہ اپنا کھانا اور پینا چھوڑ دے۔ ’’ ( صحیح بخاری )حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ‘‘ کتنے ہی روزہ دار ایسے ہیں جنہیں اپنے روزوں سے سوائے پیاس کے کچھ حاصل نہیں ہوتا اور کتنے ہی راتوں کو کھڑے ہوکر عبادت کرنے والے ایسے ہیں جنھیں اپنی عبادت سے رات کی نیند سے محرومی کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ( سنن دارمی)اکثر ڈاکٹر حضرات فرماتے ہیں کہ ‘‘علاج سے بہتر پرہیز ہے’’ اُسی طرح علاج کے ساتھ ساتھ پرہیز بھی ضروری ہے ۔اﷲ تعالیٰ نے ہم سے روزہ اِس لئے رکھوایا کہ ہمارے اندر ‘‘تقویٰ ’’ پیدا ہو لیکن ‘‘تقویٰ ’’اُس وقت پیدا ہوگا جب ہم اﷲ تعالیٰ کی نافرمانیوں اور ناراض کرنے والے اعمال سے پرہیز کریں گے اور اﷲ تعالیٰ کی اطاعت اور خوش کرنے والے اعمال کریں گے ۔اب اگر ہم روزہ رکھ کر بھی ‘‘متقی ’’ نہ بن سکے تو ہمارے روزے سے ہمیں کچھ حاصل نہیں ہو سکے گا ۔اِس کی مثال یوں سمجھیں کہ ہم نے کمرہ ٹھنڈا کرنے کے لئے ائیر کنڈیشنر لگایا اور اُس کا کام یہ ہے کہ وہ پورے کمرے کو ٹھنڈا کردے ۔ اب ہم نے اُسے آن (چالو)کر دیا لیکن ساتھ ہی اس کمرہ کی کھڑکیاں اور دروازے بھی کھول دیئے اِدھر ایئر کنڈیشنر سے ٹھنڈک نکل کرکمرے میں آ رہی ہے اور کھڑکیوں اور دروازے سے باہر نکل جا رہی ہے تو ہمارا کمرہ ٹھنڈا نہیں ہو گا ۔بالکل اِسی طرح ہم روزہ تو رکھ لیں گے لیکن ساتھ میں اﷲ کی نافرمانی اور ناراض کرنے والے اعمال کریں گے تو ہم اپنے روزے کی حفاظت نہیں کر سکیں گے ۔

🌹اﷲ کی اطاعت میں زبردست کامیابی🌹

اﷲ تعالیٰ کی بہترین اطاعت کا ثبوت روزہ ہے ۔ہم اﷲ تعا لیٰ اور اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کے حکم سے کھانا پینا بند کرتے ہیں اور اُن کے حکم پر کھانا اور پینا شروع کرتے ہیں ۔حضرت سہل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‘‘لوگ ( اس وقت تک) بھلائی پر رہیں گے جب تک افطار کرنے میں جلدی کرتے رہیں گے۔’’ ( صحیح بخاری ، صحیح مسلم)حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‘‘ جب رات اُس طرف ( مشرق) سے آنی شروع ہو اور دن اُس طرف ( مغرب ) سے پلٹنا شروع ہو اور سورج ڈوب جائے تو روزہ دار کے روزہ کھولنے کا وقت ہو گیا ۔’’( صحیح بخاری ، صحیح مسلم)حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‘‘ اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ مجھے اپنے بندوں میں سے سب سے زیادہ پسند ( وہ بندے ہیں ) جو افطار میں جلدی کرتے ہیں۔’’ ( جامع ترمذی)حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‘‘ یہ دین نمایاں اور غالب رہے گا جب تک کہ لوگ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے۔ کیوں کہ یہود اور نصاریٰ افطار کرنے میں تاخیر کرتے ہیں۔’’ ( سنن ابو داؤد ، سنن ابن ماجہ)روزہ ہمیں اﷲ تعالیٰ اور سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کی بہترین اطاعت کرنا سکھاتا ہے کہ وہ جب کہیں کہ کھاؤ تو اُس وقت کھانا‘‘ دین’’ ہے اور جب کہیں کہ ‘‘مت کھاؤ ’’ تو اُس وقت نہیں کھانا ‘‘ دین ’’ہے ۔اﷲ تعالیٰ نے اپنی اطاعت کرنے کا یہ نظام بنایا ہے کہ سارا دن تو روزہ رکھنے کا حکم دیا اور اِس پر بڑا اجرو ثواب رکھا ،لیکن اِدھر سورج غروب ہوا اور اُدھر یہ حکم آگیا کہ اب افطار میں جلدی کرو اور افطار میں جلدی کرنے کو مستحب قرار دیا اور بلاوجہ افطار میں تاخیر کرنا مکروہ اور ناپسندیدہ ہے ،کیوں ناپسندیدہ ہے ؟اِس لئے کہ سورج غروب ہو گیا تو ہمارا حکم آگیا کہ اب کھاؤ ،اگر نہیں کھاؤ گے اور بھوکے رہو گے تو یہ بھوک کی حالت ہمیں پسند نہیں ہے اِس لئے کہ اصل کام ہماری اطاعت ہے اپنا شوق پورا کرنا نہیں ہے ۔عام حالات میں کھانا پینا حلال ہے لیکن اﷲنے روزہ میں حکم دیا کہ کھانا پینا سحری سے افطار تک حرام ہے تو اطاعت یہی ہے کہ سحری سے افطار تک کھانے کو اپنے اوپر حرام کر لے اور جب افطار کا حکم ہو جائے تو کھانا پینا حلال ہو گیا تو اب اﷲ کا حکم پورا کرنے یعنی افطار کرنے میں جلدی کرے ۔سورج ڈوبنے سے پہلے تو یہ حکم تھا کہ ایک ذرہ بھی معدے میں چلا گیا تو گناہ بھی لازم ہے اور کفارہ بھی لازم ۔ مثلاً سات بجے سورج غروب ہو رہا ہے ،اب کسی شخص نے چھ بج کر اُنسٹھ منٹ پر ایک چنے کا دانہ کھا لیا ۔اب بتایئے کہ روزے میں کتنی کمی آئی ؟ صرف ایک منٹ کی ۔ایک منٹ پہلے روزہ توڑا لیکن اِس ایک منٹ کے روزے کا کفارہ ساٹھ دن کا روزہ رکھنا واجب ہے ۔اِس لئے بات صرف ایک منٹ یا ایک چنے کی نہیں ہے ۔بات دراصل اﷲ کا حکم توڑنے کی ہے اﷲ کا حکم تھا کہ جب تک کہ سورج ڈوب نہ جائے تب تک کھانا جائز نہیں ہے لیکن تم نے حکم توڑ دیا ہے اِس لئے خلاف ورزی کی سزا میں ساٹھ دن کے روزے رکھو ۔ پھر جیسے ہی سورج ڈوب گیا تو اﷲ کا حکم آگیا کہ اب جلدی سے کھاؤ ،اگر اب بلاوجہ تاخیر کر دو گے تو گنہ گار ہو گے ،کیوں گنہ گار ہوں گے ؟ وہ اِس لئے کہ اب اﷲ کا حکم ہو گیا ہے کہ ‘‘کھاؤ ’’ تو اب کھانا ضروری ہے ۔

🌹ماہِ رمضان کی ہر رات مغفرت کی رات ہے🌹

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‘‘ بے شک ماہِ رمضان میں رات کا ایک تہائی حصہ گزرنے کے بعد ( اللہ تعالیٰ کی طرف سے ) ایک اعلان کرنے والا اعلان کرتا ہے یا رات کے آخر تہائی میں اعلان کرتا ہے : ‘‘ ہے کوئی سوال کرنے والا؟ کہ اللہ تعالیٰ اس کا سوال پورا کرے؟ ہے کوئی بخشش مانگنے والا ؟ کہ اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرما دے؟ ہے کوئی توبہ کرنے والا کہ اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمالے۔’’ ( شُعب الایمان )اس حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو بہت بڑی بشارت ( خوش خبری ) دی ہے کہ اللہ تعالیٰ ماہِ رمضان میں مسلمان روزہ داروں پر اتنے زیادہ مہربان ہو جاتے ہیں کہ ہر رات اعلان کرواتے ہیں اور پوری طرح اپنے بندوں کی طرف متوجہ رہتے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے بے انتہا محبت کرتے ہیں۔ اس دنیا میں ماں کی مثال دی جاتی ہے کہ ماں اپنی اولاد سے اتنی محبت کرتی ہے کہ کہ کوئی بھی کسی سے اتنی محبت نہیں کرتا۔ یہ محبت اللہ تعالیٰ نے ہر ماں میں ودیعت کر دی ہے اور اسی محبت کی وجہ سے ہر ماں اپنی اولاد کے لئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہو جاتی ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے ستر 70ماؤں سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔ یعنی ایک ماں اپنی اولاد سے جتنی محبت کرتی ہے اس سے ستر 70گنا زیادہ محبت اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ تو بندے کو دوزخ سے بچانے کا بہانہ چاہتے ہیں لیکن بندہ غفلت میں پڑا رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو بھولا رہتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ ایک لمحے کے لئے بندے کو بھول جائیں تو وہ لمحہ بندے کے لئے مصیبت بن جائے گا۔اللہ تعالیٰ تو ہم کو دوزخ سے بچانا چاہتا ہے اور اسی لئے ہم پر رحم فرما کر ہمیں ماہِ رمضان عطا فرمایا اور اس مہینے میں ہر وقت اور خاص طور سے رات کے وقت اپنے روزہ دار بندوں کی طرف متوجہ رہتا ہے کہ جب بھی میرا بندہ اپنے گناہوں پر شرمندہ ہو کر معافی مانگے گا تو میں اسے معاف کر دوں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی اور رحمت اپنے روزہ دار بندوں پر ہے کہ وہ پورے ماہ رمضان اپنے بندوں کو معاف کر تا رہتا ہے اور مغفرت کرتا رہتا ہے ۔

🌹دوزخ ( جہنم ) سے آزادی کا پروانہ🌹

حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ کی اوپر ذکر کی گئی حدیث میں آگے ہے ۔ ‘‘ پھرماہِ رمضان کی ہر رات ( اللہ تعالیٰ کی طرف سے ) اعلان کرنے والا اعلان کرتا ہے اور ہر رات تین مرتبہ اعلان کرتا ہے ۔ ‘‘ہے کوئی سوال کرنے والا ؟ کہ اس کے سوال کو اللہ تعالیٰ پورا کرے ؟ہے کوئی توبہ کرنے والا ؟ کہ اس کی توبہ کو اللہ تعالیٰ قبول کرے؟ اور ہے کوئی معافی مانگنے والا ؟ کہ اللہ تعالیٰ اسے معاف فرمائے۔ پھر اللہ تعالیٰ رمضان کے ہر دن افطا رکے وقت ایک لاکھ ( روزہ داروں) کو دوزخ سے آزادی کا پروانہ عطا فرماتا ہے اور وہ سب ایسے ہوتے ہیں کہ اُن پر دوزخ واجب ہو چکی ہو تی ہے۔ پھر جب جمعہ کی رات آتی ہے تو اس رات کی ہر ساعت میں اللہ تعالیٰ ایک لاکھ ( روزہ داروں) کو دوزخ سے آزادی کا پروانہ عطا فرماتا ہے۔ اور یہ وہ لوگ ہوتے ہیں کہ ان پر دوزخ واجب ہو چکی ہوتی ہے۔ پھر رمضان کا آخری دن ہوتا ہے۔ اس دن اللہ تعالیٰ اتنے لوگوں کو دوزخ سے آزاد کرتا ہے جتنے اس نے ماہِ رمضان کی پہلی رات سے لے کر آخری دن تک جتنے لوگوں کو دوزخ سے آزاد کر چکا ہوتا ہے ۔ ( شعب الایمان امام بیہقی )ایک روایت میں ہے کہ اﷲ تعالیٰ ہر افطار کے وقت ساٹھ ہزار روزہ داروں کو دوزخ سے آزادی کا پروانہ عطا فرماتے ہیں ۔ایک اور روایت میں ہے کہ اﷲ تعالیٰ ہر رات چھ لاکھ روزہ داروں کو دوزخ سے آزادی کا پروانہ عطا فرماتے ہیں اور ایک روایت میں تو یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ ہر افطار کے وقت دس لاکھ روزہ داروں کو دوزخ سے آزادی کا پروانہ عطا فرماتے ہیں اور پورے مہینے جتنے روزہ داروں کو دوزخ سے آزاد فرماتے ہیں اُن سب سے کئی گنا زیادہ روزہ داروں کو عید الفطر کی رات ( چاند رات ) کو دوزخ سے آزادی کا پروانہ عطا فرماتے ہیں ۔

🌹دوزخ سے آزادی کا پروانہ حاصل کرنے کے لئے ہم کیا کریں🌹

اﷲ تعالیٰ ماہِ رمضان میں بہت زیادہ ،بہت ہی زیادہ اپنے بندوں پر مہربان ہو جاتے ہیں اور پورا مہینہ اپنے بندوں کو دوزخ یعنی جہنم سے آزادی کا پروانہ عطا فرماتے رہتے ہیں ۔ اِس ماہِ مبارک میں اﷲ تعالیٰ کی رحمت بہت زیادہ جوش میں ہوتی ہے ۔اِس مہینے میں ایک فرض ادا کرنے کا ثواب غیر رمضان میں ستر ( 70 ) فرض ادا کرنے کے برابر ہے ۔ اِس ماہِ مبارک کا پہلا عشرہ ( پہلے دس رات دن ) ‘‘رحمت ’’ کا ہے دوسرا عشرہ ‘‘مغفرت ’’ کا ہے اور آخری اور تیسرا عشرہ ‘‘ نجات ’’یعنی دوزخ یا جہنم سے آزادی کا ہے ۔اِسی لئے سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ اِس ماہِ مبارک میں اپنے رب کو راضی کرنے کے لئے کلمۂ طیبہ اور استغفار کثرت سے پڑھا کرو اور جنت کی طلب کرو اور دوزخ کی آگ سے پناہ مانگا کرو ۔اِسی لئے ہمیں چاہیئے کہ ماہِ رمضان ا لمبارک میں ہم اِن چند باتوں کا اہتمام کریں ۔ ( 1) ماہِ رمضان المبارک کا چاند دیکھ کر اِس ماہِ مبارک کے ملنے پر اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کریں اور دو رکعت شکرانے کی نفل ادا کریں اور اﷲ تعالیٰ سے تمام مسلمانوں کے لئے رحم و کرم کی دعا کریں ۔( 2) روزآنہ زیادہ سے زیادہ قرآن پاک کی تلاوت کا اہتمام کریں ۔ ( 3) کلمۂ طیبہ لَا اِلٰہَ اِلَّااﷲ ُ مُحَمَّدُرَّسُوْلُ اﷲِ کا کثرت سے ورد کریں ۔( 4) کثرت سے استغفار اَسْتَغْفِرُ اﷲ َ رَبِّیْ مِنْ کُلِّ ذَنْبِ وَّاَتُوْبُ اِلَیْہِ پڑھ کر اﷲ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں ۔( 5)اِس رحمتوں بھرے مہینے میں اَللّٰھُمَ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ الْجَنَّۃَ پڑھیں اور اﷲ تعالیٰ سے جنت طلب کریں ۔ (6)اِس ماہِ مبارک میں اَللّٰھُمَّ اَجِرْنِی مِنَ النَّارِ پڑھیں اور اﷲ تعالیٰ سے دوزخ ( جہنم ) کی آگ سے پناہ مانگیں ۔یہ چاروں اذکار ایک ساتھ اِس طرح پڑھے جاسکتے ہیں لَا اِلٰہَ اِلَّا ا ﷲ ُ نَسْتَغْفِرُ ا ﷲ َ نَسْئَلُکَ الْجَنَّۃَ وَنَعُوْذْبِکَ مِنَ النَّارِ ( 7) اﷲ تعالیٰ سے اِن الفاظ اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ العَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ یَاغَفُوْرُ میں دعا مانگیں ۔سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم یہ دعا خاص طور سے ‘‘شب قدر ’’ میں پڑھتے تھے ۔ ( 8 ) ماہِ رمضان المبارک میں فرض روزے ،پانچ وقت کی فرض نمازیں اور مسنون تراویح بغیر کسی شرعی عذر کے ہرگز نہ چھوڑیں ۔ ( 9) اﷲ تعالیٰ کی رحمتوں میں سے زیادہ سے زیادہ حصہ حاصل کرنے کے لئے عشاء کی نماز اور تراویح کے بعد انتہائے سحر سے پہلے مسنون نماز ‘‘ تہجد ’’ پڑھنے کی عادت ڈالیں ۔ ( 10) پانچ وقت کی فرض نمازوں کے علاوہ مسنون نوافل ‘‘اشراق ، چاشت اور اوّابین ’’ بھی پڑھنے کی کوشش کریں ۔( 11) ہر فرض نماز کے بعد جہاں تک ہو سکے مسنون اذکار بھی پڑھیں ۔ ( 12) اِس ماہِ مبارک کا ہر لمحہ اﷲ تعالیٰ سے رحم اور کرم کی التجا کرنے میں گزاریں ۔اﷲ تعالیٰ ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ 

🌹باب نمبر 3🌹

🌹اعتکاف، کب کیوں کیسے؟🌹

🌹اعتکاف🌹

اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری دس دنوں میں اعتکاف کیا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی جوارِ رحمت میں بلا لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہما اعتکاف کیا کرتی تھیں۔ ’’( صحیح بخاری ، صحیح مسلم)حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‘‘ اعتکاف کرنے والا چونکہ گناہوں سے رکا رہتا ہے۔ اس لئے اس کے حق میں وہ تمام نیکیاں لکھی جاتی ہیں جو اس شخص کے حق میں لکھی جاتی ہیں جو (اعتکاف سے باہر رہ کر ) نیکیاں کرتا رہتا ہے۔ ’’( سنن ابن ماجہ)

🌹اعتکاف کے فضائل🌹

اعتکاف مرد حضرات مسجد میں کر سکتے ہیں۔ مسجد میں ایک کونے میں پردہ ڈال کر خلوت اختیار کی جا سکتی ہے اور خواتین اپنے گھر میں الگ کمرے میں اعتکاف کر سکتی ہیں۔ اعتکاف کے معنی اپنے آپ کو روکے رکھنا۔ کسی چیز پر قائم رہنا اور اس سے وابستہ رہنا ہے۔ عام طور سے شریعت کی اصطلاح میں اعتکاف کا معنی مسجد میں قیام کرنے کو لیا جاتا ہے اور یہ درست ہے ۔یہ اعتکاف کی ظاہری شکل ہے۔اعتکاف کی باطنی شکل یہ ہے کہ معتکف اپنے آپ کو مسجد تک محدود کر کے دنیا کے گناہوں سے رکا رہے۔ اس لئے اعتکاف کا باطنی معنی ہو ا اپنے آپ کو گناہوں سے روکنا۔ اسی کی طرف دوسری حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اعتکاف کرنے والا گناہوں سے رکا رہتا ہے۔ یہ اعتکاف کا بہت بڑا فائدہ ہے کہ اعتکاف کرنے والا دس دنوں تک گناہ کرنے سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد جو معنی آیا ہے کہ کسی چیز پر قائم رہنا اور اس سے وابستہ ہو جانا ۔اعتکاف کرنے والا اللہ تعالیٰ کی عبادت اور ذکرو اذکار پر دس دنوں کے قائم ہو جاتا ہے اور اپنے آپ کو خالص اللہ کے لئے وابستہ کر دیتا ہے۔ اس کا ہر سیکنڈ اللہ تعالیٰ کی یاد میں گزر تا ہے۔ کبھی وہ اللہ کی تسبیح کرتا ہے ۔ کبھی تلاوت قرآن کرتا ہے۔ کبھی ( فرض نماز کے علاوہ ) نفل نمازیں پڑھتا ہے۔ غرض یہ کہ اس کا ہر وقت اللہ کے لئے گزرتا ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ سوتا ہے تو اسے بھی اللہ تعالیٰ عبادت کے باب میں لکھوا دیتا ہے تو اس طرح اعتکاف کرنے والا اپنے آپ کو پوری طرح اللہ تعالیٰ سے وابستہ کر دیتا ہے۔

🌹اعتکاف کی شرائط 🌹

اعتکاف کے لئے درج ذیل شرائط کا ہونا ضروری ہے ۔ (1) مسلمان ہونا ،کافر کا اعتکاف نہیں ہے ۔(2) عاقل ہونا ،مجنون کا اعتکاف نہیں ہے ۔بالغ ہونا شرط نہیں ہے اِس لئے نابالغ سمجھ دار بچہ بھی اعتکاف بیٹھ سکتا ہے ۔(3) جنابت سے پاک ہونا ، ناپاک شخص کا مسجد میں داخلہ ممنوع ہے ۔ (4) اعتکاف کی نیت کرنا ، بغیر نیت کے مسجد میں بیٹھنے سے اعتکاف نہیں ہو گا ۔ (5) جس جگہ اعتکاف بیٹھے وہ جگہ شرعی مسجد ہو ۔(6) سنت اور واجب اعتکاف میں روزہ سے ہونا ۔

🌹مسجد کی حد 🌹

مسجد سے مراد زمین کا وہ خاص حصہ جو نماز کے لئے تیار کیا گیا ہو ،یعنی اندر کا کمرہ ، برامدہ اور صحن ۔باقی جو حصہ اس سے خارج ہے وہ مسجد کے حکم میں نہیں ہے ،چاہے وہ ضروریات مسجد ہی کے لئے ہو ،جیسے امام کا حجرہ ، مسجد سے ملحق مدرسہ ، جنازہ گاہ ، وضو خانہ ، غسل خانہ اور استنجا خانے ۔یہ تمام جگہیں مسجد سے خارج ہیں ،اگر معتکف نے بلا ضرورت اِن میں قدم رکھا تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا ۔

🌹مسجد کی چھت یا زینہ چڑھنا 🌹

مسجد کی چھت کا بھی وہی حکم ہے جو مسجد کا ہے ،اِسی طرح مسجد کئی منزلہ ہو تو اوپر نیچے کی تمام منزلوں کا ایک ہی حکم ہے ،معتکف سب میں آ جاسکتا ہے ۔بشرطیکہ آنے جانے کا زینہ حدود مسجد کے اندر ہو ۔

🌹مسجد سے نکلنے کی حد 🌹

مسجد سے باہر نکلے کا حکم تب لگے گا جب دونوں پاؤں مسجد سے باہر ہوں اور دیکھنے والے یہی سمجھیں کہ یہ مسجد سے باہر ہے ،صرف مسجد سے سر باہر نکالنے سے اعتکاف نہیں ٹوٹے گا ۔

🌹حدود مسجد سے لاپرواہی 🌹

اِس مسئلہ میں بہت سے معتکف کوتاہی کا شکار ہو کر اپنا اعتکاف توڑ بیٹھتے ہیں ،اِسی لئے معتکف کو چاہیئے کہ اعتکاف میں بیٹھنے سے پہلے متولی مسجد سے پوچھ کر مسجد کی حدود پوری طرح معلوم کرلے ۔

🌹اعتکاف کی قسمیں 🌹

(1) واجب …… : جس کی منت مان لی جائے ،چاہے منت کسی شرط پر موقوف ہو ، مثلاً میرا فلاں کام ہو گیا تو اتنے دن کا اعتکاف کروں گا ۔ یا منت کسی شرط کے بغیر ہو مثلاً اﷲ تعالیٰ کے لئے اتنے دنوں کا اعتکاف میرے ذمہ ہے ۔ منت کا اعتکاف اِس صورت میں واجب ہوتا ہے کہ زبان سے الفاظ ادا کر کے اپنے ذمہ واجب کر لے ۔صرف دل میں نیت کرنے سے منت نہیں ہوتی ۔

(2) مسنون …… : ماہِ رمضان المبارک کے آخری عشرے کا اعتکاف سنت مؤکدہ علی الکفایہ ہے ۔

(3) مستحب …… : اِن دو قسموں کے علاوہ جو اعتکاف کیا جائے وہ مستحب ہے ۔

🌹اعتکاف ہر محلہ میں سنت کفایہ ہے 🌹

ماہِ رمضان المبارک کے آخری عشرے کا اعتکاف شہر کے ہر محلہ کے حق میں ‘‘ سنت علی الکفایہ ’’ ہے یعنی ہر محلہ کی مسجد میں ایک آدمی ضرور اعتکاف میں بیٹھے ورنہ پورا محلہ تارک سنت ہو گا ۔

🌹اعتکاف کس مسجد میں افضل ہے 🌹

اعتکاف کے لئے سب سے افضل جگہ ‘‘مسجد حرام ’’ ( خانۂ کعبہ کے اطراف بنی مسجد ) اس کے بعد مسجد نبوی ،پھر مسجد اقصیٰ ( بیت المقدس ) ،پھر بڑی مسجد جس میں نمازی زیادہ آتے ہوں ،بشرطیکہ اُس میں پانچوں وقت جماعت ہوتی ہو ،ورنہ اہنے محلہ کی مسجد افضل ہے ۔

🌹مسنون اعتکاف کس وقت سے شروع ہوتا ہے 🌹

مسنون اعتکاف میں بیٹھنے کے لئے ضروری ہے کہ ۲۰ رمضان المبارک کو سورج ڈوبنے سے پہلے پہلے مسجد میں داخل ہو جائے اور اعتکاف کی نیت بھی سورج ڈوبنے سے پہلے کر لے ،چاہے مسجد میں داخل ہوتے وقت کرے یا داخل ہونے کے بعد کرے ۔اگر سورج ڈوبنے کے بعد مسجد میں داخل ہوا یا مسجد میں پہلے سے موجود تھا مگر نیت سورج ڈوبنے کے بعد کی تو یہ اعتکاف مسنون نہیں ہوگا بلکہ مستحب ہو جائے گا ،اِس لئے کہ یہ پورے عشرہ کا اعتکاف نہیں ہوگا۔

🌹اعتکاف میں پردے لٹکانا 🌹

سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم سے اعتکاف میں پردے لٹکانا ثابت ہے ۔معتکف کو چاہیئے کہ دل جمعی و یکسوئی کے لئے پردے لٹکا لے اور اِس خلوت خانے میں دعا و عبادت کا مشغلہ رکھے اور نمازوں کے اوقات میں اگر ضرورت ہو تو پردے اُٹھا لئے جائیں ۔

🌹معتکف کے لئے مستحب امور 🌹

اعتکاف میں بیٹھنے والے کے لئے درج ذیل کام مستحب ہیں ۔ (1) لا یعنی (فضول ) باتوں سے اپنے آپ کو بچائے ،زبان سے صرف کلمۂ خیر ( اچھی بات ) نکالے ۔(2) قرآن پاک کی تلاوت کثرت سے کرے ۔ سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ ،حضرات انبیائے کرام علیہم السلام کے پاکیزہ حالات اور سلف صالحین کے واقعات و ملفو ظات کا مطالعہ کرے ۔(3) اِس درمیان ( اعتکاف کے دوان) مسائل دینیہ ( اہل حضرات یا مستند کتب کی مدد سے ) سیکھنے پر خصوصی توجہ دے ۔ (4) نفل نمازوں (تحیۃ الوضو ، تحیۃ المسجد ، اشراق ، چاشت ، اوّابین اور تہجد ) کی حتی الامکان پابندی رکھے ۔(5) تمام اذکارِ مسنونہ پابندی سے پڑھے ۔ (6) درود شریف ، کلمۂ طیبہ اور استغفار کا ورد کثرت سے کرے ۔(7) شب ِ قدر کی پانچوں راتوں میں ممکن ہو تو رات بھر بیدار رہے اور انہیں مختلف قسم کی عبادات میں بسر کرے ،نوافل اور ذکر و تلاوت کے علاوہ دعا کثرت سے کرے ۔(8) اپنے لئے دعا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے والدین ،رشتہ دروں ، دوست احباب ، ملک و ملت بلکہ پوری اُمت کے حق میں دعا کرے ۔(9) شب ِ قدر کی راتوں میں یہ دعا خصوصی اہتمام سے کرے ﴿ اَ للّٰھُمَّ اِ نَّکَ عَفُوٌّ ، تُحِبُّ العَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ ﴾ ترجمہ ‘‘ اے اﷲ ! بے شک آپ معاف کرنے والے ہیں ،معافی کو پسند کرتے ہیں ،پس مجھے بھی معاف فرما دیں ۔’’ سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم شب ِ قدر میں اِس دعا کا خاص اہتمام فرماتے تھے ( جامع ترمذی ، مسند احمد بن حنبل ، سنن ابن ماجہ ) 

🌹معتکف کے لئے جائز و ناجائز امور 🌹

درج ذیل کام صرف معتکف کے لئے مباح ( جائز ) ہیں ۔ (1) مسجد میں کھانا پینا ،لیٹنا اور آرام کرنا ۔(2) لباس تبدیل کرنا اور تیل لگانا جائز ہے ۔مگر تیل لگانے میں یہ احتیاط ضروری ہے کہ مسجد کی چٹائی ، دری یا مسجد کی کوئی اور چیز تیل سے آلودہ نہ ہونے پائے ،نہ بال مسجد میں گرنے پائیں ، اِس لئے کوئی چادر وغیرہ بچھا لیں ،پھر اسے مسجد سے باہر مناسب جگہ جھڑوا لیں یا کسی تھیلی وغیرہ میں رکھ لیں ،بعد میں کسی مناسب جگہ ڈلوا دیں ۔(3) جگہ تبدیل کرنا ، یعنی مسجد میں ایک جگہ اعتکاف بیٹھنے کے بعد اُٹھ کر دوسری جگہ بیٹھ جانا ۔نفل اعتکاف بیٹھنے والے کے لئے یہ کام بلا کراہت مسجد میں جائز ہے ۔

🌹مسجد میں معتکف کا خرید و فروخت 🌹

اپنی بیوی بچوں کی ضرورت سے مسجد میں کسی چیز کی خرید و فروخت کرنا جائز ہے ،مگر سودا سلف مسجد میں رکھنا جائز نہیں ہے ۔ہاں اگر ہلکی پھلکی چیز ہو جو مسجد میں جگہ نہ گھیرے تو اُسے لانے کی گنجائش ہے اور جو چیز اپنی یا اہل و عیال کی ضرورت کی نہ ہو یا تجارت کی نیت سے اس کی خرید و فروحت کی جائے تو وہ ناجائز ہے ،چاہے زبانی ہی کیوں نہ ہو ۔یعنی اپنی اور اپنے گھر والوں کی شدید ضرورت کی چیزوں کے علاوہ ہر قِسم کی زبانی خرید و فروخت بھی اعتکاف کی حالت میں ناجائز ہے ۔

🌹مباح باتیں کرنا 🌹

ضرورت کے مطابق معتکف کے لئے مباح باتیں کرنا درست ہے ۔بالکل خاموش رہنا بھی جائز ہے جبکہ اسے ثواب و قربت نہ سمجھے ۔البتہ بات چیت کی محفل جما کر اس کے لئے بیٹھک کرنا بہر حال مکروہ ِ تحریمی ہے ۔گفتگو کرنے میں یہ احتیاط ضروری ہے کہ کسی دوسرے معتکف یا نمازی کی راحت و عبادت میں خلل نہ آنے پائے ، ورنہ یہ گفتگو ناجائز ہو گی 

🌹معتکف کا مسجد میں سر وغیرہ دھونا 🌹

سر مسجد سے باہر نکال کر سر اور داڑھی وغیرہ دھونا بھی جائز ہے ،چاہے خود دھوئے یا کسی سے دھلوائے ،اِسی طرح مستعمل پانی کے لئے کوئی بڑا برتن رکھ کر ہاتھ منہ یا سر مسجد میں دھو نا چاہے بلکہ وضو بھی کرنا چاہے تو مضائقہ نہیں ، بشرطیکہ پانی مسجد میں نہ گرنے پائے ۔

🌹معتکف کے لئے نسوار یاسگریٹ کا استعمال 🌹

حقہ اور سگریٹ مسجد میں بیٹھ کر پینا جائز نہیں ہے اور معتکف کے لئے مسجد سے باہر جانا بھی جائز نہیں ہے ۔ اگر معتکف اِن چیزوں کا عادی ہے تو اسے اعتکاف کی مدت کے دوران اِن چیزوں کو چھوڑ دینا چاہیئے ۔اگر کسی کو شدید تقاضا ہو تو وہ کسی ضرورت کے موقع پر جب مسجد سے باہر نکلے تو راستہ میں سگریٹ ، بیڑی ، نسوار استعمال کر لے ،مگر اس کے فوراً بعد منہ سے بدبو زائل کر دے ۔

🌹معتکف کا ضرورت کے وقت محرم عورت سے ملنا 🌹

کوئی ضروری کام در پیش ہو تو بیوی یا کوئی اور محرم خاتون ( ماں ، بیٹی ، بہن ، بھتیجی وغیرہ ) مسجد میں آکر معتکف سے مل سکتی ہے ،لیکن ضروری ہے کہ ایسے وقت آئے جب مسجد میں عام لوگ نہ ہوں اور با پردہ آئے ،اور اگر ایسے موقع پر کسی دوسرے شخص کی نظر پڑ جائے تو فوراً اُس کے سامنے وضاحت کر دے کہ یہ میری بیوی ہے یا فلاں محرم خاتون ہے تاکہ بد گمانی کا موقع نہ رہے ۔

🌹معتکف کا علاج کرنا 🌹

معتکف کا ضرورت کے مطابق مسجد میں ٹہلنا جائز ہے ۔مسجد میں مریض کا حال سن کر یا معائنہ کر کے اُس کا بغیر معاوضہ کے دوا یا علاج بتانا یا نسخہ لکھ کر دینا جائز ہے ۔

🌹معتکف کا مسجد میں حجامت بنوانا🌹

اپنی حجامت خود بنانا جائز ہے اور حجام سے بنوانے کی تفصیل یہ ہے کہ اگر بغیر معاوضے کے کرتا ہے تو مسجد کے اندر جائز ہے اور اگر معاوضہ لیکر کرتا ہے تو معتکف مسجد کے اندر رہے اور حجام مسجد کے باہر بیٹھ کر حجامت بنائے ۔مسجد کے اندر اُجرت یا معاوضے سے کام کرنا جائز نہیں ہے ۔

🌹معتکف کا مسجد میں کپڑے سینا یا دھونا 🌹

معتکف کے لئے ضرورت کے وقت اپنے کپڑے سینا اور دھونا جائز ہے ، مگر احتیاط ضروری ہے کہ پانی مسجد میں گرنے نہ پائے ۔واضح رہے کہ کپڑے دھونے کے لئے مسجد سے نکلنا جائز نہیں ہے ۔ 

🌹معتکف اذان کے لئے نکل سکتا ہے 🌹

اذان دینے کی جگہ ( مثلاً منارہ ، حجرہ وغیرہ ) اگر مسجد کی حدود کے اندر ہے تو معتکف کو اِس میں جاکر اذان دینا بلا کراہت جائز ہے ، بلکہ اذان کے علاوہ کسی دوسرے مقصد سے وہاں جانا چاہے تو بھی کوئی مضائقہ نہیں اور اگر یہ مسجد سے باہر ہے لیکن اس میں جانے کادروازہ مسجد کے اندر سے ہے تو اس میں بھی اذان یا کسی دوسرے مقصد سے جانا جائز ہے ،مگر احتیاط اِس میں ہے کہ اذان کے سوا کسی دوسرے کام کے لئے اس میں نہ جائے ۔اور اگر یہ منارہ ،حجرہ وغیرہ مسجد کی حدود سے باہر ہے تو معتکف اس میں صرف اذان دینے کے لئے جاسکتا ہے اور تینوں صورتوں میں یہ معتکف موذن ہو ( یعنی اذان دینا اُس کی ذمہ داری ہو ) یا غیر موذن ،دونوں کا ایک ہی حکم ہے ۔

🌹حاجات طبعیہ کے لئے نکلنا 🌹

حاجات طبعیہ کے لئے اُس وقت نکلنا درست ہے ،جیسے پیشاب ،پاخانہ اور غسل جنابت وغیرہ ،جب مسجد کی حدود میں غسل کرنا ممکن نہ ہو کہ مستعمل پانی کا کوئی قطرہ مسجد میں گرنے نہ پائے ۔

🌹بلغم یا ناک ڈالنے کے لئے مسجد سے نکلنا 🌹

بلغم یا ناک صاف کرنے کے لئے مسجد سے نکلنا جائز نہیں ،ضرورت کے وقت اِس مقصد کے لئے معتکف اپنے پاس اگالدان مسجد میں رکھے یا مسجد میں کھڑے ہو کر بلغم اور رینٹ باہر ڈال دے ۔

🌹وضو کے لئے مسجد سے باہر جانا 🌹

اگر مسجد کے اندر بیٹھ کر وضو کرنے کی ایسی جگہ ہو کہ پانی مسجد سے باہر گرے تو مسجد سے باہر وضو کے لئے جانا جائز نہیں ہے ،اور اگر انتظام نہ ہو تو باہر جانا جائز ہے ۔وضو چاہے فرض نما ز کے لئے ہو یا نفل یا تلاوت یا ذکر کے لئے ،سب کے لئے یہی حکم ہے ۔

🌹معتکف کا کھانا لانے کے لئے مسجد سے نکلنا 🌹

گھر سے کوئی کھانا لانے والا نہ ہو تو ایسی مجبوری میں معتکف خود جا کر کھانا لاسکتا ہے ،مگر وقت سے پہلے نکلنا جائز نہیں ،اِس لئے سورج ڈوبنے کے بعد جائز ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ کھانا لیکر فوراً واپس آجائے اور مسجد میں کھانا کھائے ۔

🌹حاجات ِشرعیہ کے لئے مسجد سے نکلنا 🌹

حاجات ِ شرعیہ کے لئے نکلنا بھی جائز ہے ، مثلاً کوئی ایسی مسجد میں اعتکاف بیٹھا ہے جس میں جمعہ نہیں ہوتا ہو تو جمعہ کے لئے نکلنا جائز ہے اور اندازہ کر کے اذان ثانی سے اتنی دیر پہلے نکلے کہ جامع مسجد میں پہنچ کر دورکعت تحیۃ الوضو ء اور چار رکعت سنت اطمینان سے پڑھ کر اذان خطبہ سن سکے ۔اگر اندازہ کرنے میں غلطی لگ گئی اور اس سے پہلے پہنچ گیا تو بھی مضائقہ نہیں ہے اور جمعہ کے فرض سے سلام پھر کر اطمینان سے چھ رکعت سنت پڑھ کر اپنی مسجد میں واپس آجائے ۔اگر اس سے زیادہ وقت جامع مسجد میں ٹھہر گیا یا جمعہ کے بعد نکلا ہی نہیں اور اعتکاف کے بقیہ ایام جامع مسجد میں ہی بیٹھ کر پورے کر لئے تب بھی جائز ہے ،مگر ایسا کرنا مکروہ ہے ۔

🌹گاؤں کی مسجد میں اعتکاف کرنے والوں لئے 🌹

معتکف اگر گاؤں کی مسجد میں اعتکاف میں بیٹھا ہے تو جمعہ کے لئے شہر میں آنا جانا جائز نہیں ہے ،ورنہ اعتکاف فاسد ہو جائے گا ۔

🌹معتکف حاجت ضروریہ قریب سے پوری کرے 🌹

کسی طبعی یا شرعی حاجت کے لئے نکلے تو حتی الامکان ایسی جگہ حاجت پوری کر کے لوٹے جو مسجد سے نزدیک ہو ،مثلاً مسجد کے بیت الخلاء اور غسل خانے نزدیک ہوں اور گھر کے دور ،یا کسی کے دوگھر ہوں ،ایک مسجد سے نزدیک اور دوسرا گھر سے دور ،تو نزدیک جا کر ضرورت پوری کرے ۔البتہ نزدیک والی جگہ سے طبیعت مانوس نہ ہو یا اور کوئی روکاوٹ حائل ہو ،چاہے طبعی ہو یا شرعی ، تو دور کی جگہ جانے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔کسی حاجت کے لئے نکلنے کے بعد یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ تیز رفتاری سے چلے ،بلکہ طبعی رفتار سے چلتے ہوئے اطمینان سے حاجت پوری کرے ۔

🌹معتکف کا نماز جنازہ اور عیادت کے لئے نکلنا🌹

اعتکاف منذور کی نذر مانتے وقت جنازہ ، عیادت ِ مریض اور مجلس علم میں حاضری کے لئے خروج کا استثناء صحیح ہے اور نکلنا جائز ہے ،چاہے زبان سے استثناء کرے یادل میں اس کی نیت کرے ۔مگر مسنون اعتکاف میں یہ نیت کرے گا تو وہ نفل اعتکاف ہو جائے گا اور سنت ادا نہیں ہو گی ۔مسنون اعتکاف صرف وہی ہے جس میں کوئی استثناء نہ کیا ہو ۔اِس اعتکاف میں نکلنا مفسد ہے ،البتہ قضائے حاجت جیسی ضرورت کے لئے نکلنے پر دیکھا کہ راستہ ہی میں نماز ِجنازہ شروع ہو رہی ہے تو اس میں شریک ہو سکتا ہے ،نمازِجنازہ سے قبل انتظار اور نمازِجنازہ کے بعد وہاں ٹھہرنا جائز نہیں ،اسی طرح قضائے حاجت کے لئے اپنے راستے پر چلتے چلتے عیادت کر سکتا ہے ،عیادت اور نماز ِ جنازہ کے لئے راستہ سے کسی جانب مڑنا اور ٹھہرنا جائز نہیں ہے ۔

🌹بیت الخلاء خالی ہونے کے لئے انتظار کرنا 🌹

معتکف اگر قضائے حاجت کے لئے نکلا لیکن بیت الخلاء خالی نہیں تھا تو اس کے لئے وہیں انتظار کرنا درست ہے ،اِس سے اعتکاف فاسد نہیں ہوگا ۔

🌹معتکف اگر قضائے حاجت کے لئے نکلا تو غسل نہیں کر سکتا 🌹

معتکف قضائے حاجت کے لئے نکلا تو صفائی کے لئے غسل نہیں کر سکتا ہے ۔اِس سے اعتکاف فاسد ہو جائے گا ،البتہ اگر غسل خانہ بیت الخلاء کے ساتھ ہی ہو اور نہانے میں وضوء سے زیادہ دیر نہ لگے تو قضائے حاجت کے بعد غسل کی اجازت ہے ۔اِس کی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ مسجد ہی میں کپڑے اُتار کر صرف لنگی میں چلا جائے اور نل کھول کر بدن پر پانی بہا کر نکل آئے ،نہ صابن لگائے اور نہ زیادہ ملے ۔اِس طرح صفائی تو نہیں ہو گی لیکن ٹھنڈک حاصل ہو جائے گی ۔

🌹معتکف کے لئے مکروہ امور 🌹

جو باتیں اعتکاف سے باہر حرام یا مکروہ ہیں جیسے گالم گلوچ ،فضو ل گفتگو،غیبت و عیب جوئی ، ریا کاری ، کسی بدبو دار چیز کا استعمال ،روزہ کی حالت میں اور خصوصاً اعتکاف کے دورا ن ان کی حرمت اور کراہیت اور بھی بڑھ جاتی ہے ،البتہ اس سے اعتکاف فاسد نہیں ہوگا ۔

🌹تصویر والا اخبار یا رسالہ 🌹

ایسا اخبار یا رسالہ دیکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں جو جاندار کی تصوریر سے پاک ہو اور اس کے مضامین بھی درست ہوں ،لیکن اخبار کا کوئی بھی صفحہ تصاویر اور جھوٹی خبروں سے پاک نہیں ہوتا ،اِس لئے اسے مسجد میں لانا کراہیت سے خالی نہیں ہے ۔بالخصوص اگر معتکف دینی مقتداء ہے تو عوام اس کے عمل سے غلط استدلال کریں گے ۔

🌹اجرت پر تعلیم دینا 🌹

معتکف کے لئے اُجرت لیکر تعلیم دینا مکروہ ہے ، چاہے دینی ہو یا دنیاوی ،اجرت پر کوئی اور عمل کرنا بھی مکروہ ہے ۔اِسی طرح معتکف کا بالکل خاموشی اختیار کر لینا بھی مکروہ ہے جبکہ وہ اسے اپنی عبادت تصور کرے ،اور اگر زبان کے گناہوں سے بچنے کے لئے خاموش رہے تو یہ اعلیٰ درجہ کی عبادت ہے ۔سامان مسجد میں لاکر فروخت کرنا یا بلا ضرورت صرف تجارت اور مال بڑھانے کے لئے خرید و فروخت کرنا مکروہ ہے ،چاہے وہ سامان مسجد میں نہ لائے ۔یعنی زبانی خرید و فرو خت کرے تو بھی مکروہ ہے ۔

🌹اعتکاف کن امور سے فاسد ہوتا ہے 🌹

طبعی اور شرعی حاجات ( جن کی تفصیل اوپر مباحات کے ذیل میں گزر چکی ہے ) کے سوا کسی بھی سبب سے مسجد سے باہر نکلنا اعتکاف توڑ دیتا ہے ۔چاہے یہ نکلنا لمحہ بھر کے لئے ہی کیوں نہ ہو اور جان بوجھ کر ہو یا انجانے میں ،خوشی سے ہو یا مجبوری سے ، البتہ مجبوری سے اعتکاف توڑا تو گناہ نہیں ہوگا ،مثلاً بیماری کے عذر سے نکلنا ۔اگر مسجد گرنے لگی تو نکل آیا یا جبراً نکال دیا گیا یا سامان تلف ہونے کا اندیشہ تھا اور نکلتے ہی فوراً دوسری مسجد میں چلا گیا تو اعتکاف نہیں ٹوٹا ۔ پیشاب کے لئے نکلا تھا مگر قرض خواہ نے پکڑ کر روک لیا یا جنازہ کے لئے نکلا یا اعتکاف یاد نہ رہا اور بھول کر نکل گیا تو ان تمام صورتو ں میں نکلنے پر کوئی گناہ نہیں لیکن اعتکاف ٹوٹ جائے گا ۔

🌹کن صورتوں پر اعتکاف توڑنا واجب ہے 🌹

بعض صورتوں میں اعتکاف توڑ دینا واجب ہے ،مثلاً انسان ڈوب رہا ہے یا جل رہا ہے ،اُسے بچانے کے لئے یا جنازہ تیار ہے اور اس پر نماز پڑھانے والا کوئی نہیں ہے یا ایسی گواہی کے لئے نکلنا جو اس کے ذمہ واجب ہے اور اس کے بغیر کسی کا حق مارا جا رہا ہو ۔

🌹کھانے کے بعد ہاتھ دھونے کے لئے نکلنا 🌹

معتکف کو کھانے کے بعد ہاتھ دھونے کے لئے نکلنا جائز نہیں ہے ،مسجد میں کسی برتن میں دھولے ۔منجن یا مسواک وغیرہ وضو کے ساتھ کرسکتا ہے ،صرف منجن وغیرہ کے لئے نکلنا جائز نہیں ،اگر نکلا تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا ۔وضو سے قبل یا بلا قصد وضو خانہ پر بیٹھ کر صابن سے ہاتھ دھونا بھی جائز نہیں ہے اِسی طرح وضو کے بعد وضوخانہ پر کھڑے ہو کر رومال سے وضو کا پانی خشک کرنا بھی جائز نہیں ہے ،اِن صورتوں میں بھی اعتکاف ٹوٹ جائے گا ۔جس طبعی یا شرعی ضرورت کے لئے نکلے ،اُس سے فارغ ہوتے ہی فوراً مسجد میں لوٹ آئے ورنہ اعتکاف ٹوٹ جائے گا ۔بے ہوشی یا جنون اگر مسلسل اتنا وقت طاری رہے جس میں ایک روزہ قضا ء ہو جائے تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا ،اس سے کم مقدار میں ہو تو نہیں ٹوٹے گا ۔

🌹احتلام ہوجانا🌹

احتلام ہوجانے سے اعتکاف نہیں ٹوٹتا ہے ۔احتلام کے بعد معتکف کو چاہیئے کہ بیدار ہوتے ہی پہلے تیمم کر لے ،پھر فورا! مسجد سے نکل جائے ،جسے احتلام کا اندیشہ ہو اس کے لئے بہتر ہے کہ اس سے پہلے اپنے ساتھ کوئی ڈھیلا وغیرہ رکھ لے ،ورنہ مسجد کی زمین پر ہی تیمم کر لے ۔اگر کسی ضرر کا اندیشہ ہو یا پانی ملنے میں کچھ دیر ہو یا پانی گرم ہو رہا ہو تو اسی تیمم کے ساتھ مسجد میں بیٹھ کر انتظار کرے ۔

🌹اعتکاف ٹوٹنے پر قضا کا حکم 🌹

نفل اعتکاف کی قضا ء واجب نہیں ،اِس لئے کہ وہ مسجد سے نکلنے سے ٹوٹتا نہیں بلکہ ختم ہوجاتا ہے ۔اعتکاف منذور اگر ٹوٹ جائے ،چاہے نذر معین ہو یا غیر معین ،تو سب ایام کی قضا ء واجب ہے ۔نئے سرے سے اتنے دن پورے کرے کیونکہ ان میں تتابع ( مسلسل رکھنا ) لازم ہے اور ماہِ رمضان کے عشرہ اخیرہ کا اعتکاف ٹوٹ جائے تو صرف اُس دن کی قضاء واجب ہے جس میں اعتکاف ٹوٹا ۔فساد کے بعد یہ اعتکاف نفل ہو گیا ،ایک دن کی قضا چاہے ماہِ رمضان میں ہی کر لے یا ماہِ رمضان کے بعد نفل روزہ کے ساتھ کر لے ۔ایک دن کی قضا میں رات دن دونوں کی قضا واجب ہے یا صرف دن کی ؟ قواعد سے یوں مفہوم ہوتا ہے کہ اعتکاف دن میں فاسد ہوا تو صرف دن کی قضا واجب ہو گی ،صبح صادق سے قبل شروع کر کے غروب آفتاب تک کرے اور اگر رات میں اعتکاف فاسد ہوا تو رات دن دونوں کی قضا واجب ہوگی ۔ سورج ڈوبنے سے پہلے شروع کرے اور دوسرے دن سورج ڈوبنے کے بعد ختم کرے ۔

🌹باب نمبر 4🌹

🌹عورت کا اعتکاف، کب کیوں کیسے؟🌹

🌹عورت کا اعتکاف 🌹

عورت گھر کی مسجد ( یعنی نماز کی مخصوص جگہ ) میں اعتکاف کرے اور یہ جگہ اس کے حق میں مسجد کی طرح ہو گی ۔یعنی کھانا ،پینا ،لیٹنا اسی جگہ ہوگا اور کسی طبعی یا شرعی ضرورت کے بغیر اس جگہ سے باہر نکلنے پر اعتکاف ٹوٹ جائے گا ۔اگر گھر میں پہلے سے نماز کی مخصوص جگہ موجود ہو تو اسی میں اعتکاف کرے ،اس سے ہٹ کر گھر میں دوسری جگہ اعتکاف جائز نہیں ہے اور پہلے سے کوئی جگہ نماز کے لئے مخصوص نہیں ہے تو اب مخصوص کرلے اور اسی میں اعتکاف کرے ۔گھر کے بجائے مسجد میں اعتکاف کرنا عورت کے لئے مکروہ ہے ۔

🌹اعتکاف کے دوران عورت کا گھر کا کام کرنا 🌹

بیت الخلاء کے تقاضے اور وضو کے علاوہ اعتکاف کی جگہ سے باہر نکلنے سے اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے ۔اِس لئے ایسی عورت جس کے گھر میں کوئی اور کام کاج کے لئے نہ ہو وہ مسنون اعتکاف کے لئے نہ بیٹھے ۔ہاں وہ ایسا کرسکتی ہے کہ اپنے کاموں سے فارغ ہو کر اُس مخصوص جگہ پر ذکر و تلاوت و عبادت کے ذریعے ماہِ رمضان المبارک سے فائدہ اُٹھا سکتی ہے ۔

🌹شوہر کی اجازت ضروری 🌹

عورت کو اعتکاف میں بیٹھنے کے لئے شوہر سے اجازت حاصل کرنا ضروری ہے اور شوہر اسے اعتکاف سے منع بھی کر سکتا ہے ، لیکن جب ایک بار اجازت دے دی تو اب منع نہیں کر سکتا ہے ۔شوہر نے جب اجازت دے دی تو اب اس کے لئے بیوی سے ہم بستر ہونا ، بوس و کنار کرنا یا اِس ارادہ سے بیوی کی اعتکاف گاہ میں داخل ہونا جائز نہیں ہے ۔اگر اُس نے ہم بستری کر لی تو بیوی کا اعتکاف فاسد ہو گیا ،ہم بستری کے سوا دوسری باتوں سے اعتکاف نہیں ٹوٹتا ۔

🌹نا بالغ بچوں کو اعتکاف میں بٹھانا🌹

اعتکاف عاقل بالغ مسلمانوں کے لئے مسنون ہے ،بچوں کے لئے نہیں ۔سمجھ دار بچے کا اعتکاف میں بیٹھنا حالانکہ جائز ہے مگر اِس زمانے میں بچوں کے اعتکاف بیٹھنے میں بہت سے مفاسداور خرابیاں ہیں جن کے ہوتے ہوئے بچوں کو اعتکاف بٹھانا جائز نہیں ۔

🌹مسنون اعتکاف کب ختم ہوگا 🌹

جب ماہِ شوا ل المکرم کا چاند نظر آئے تو اعتکاف پورا ہوجاتا ہے ۔معتکف اگر چاہے تو اُسی وقت مسجد سے گھر چلا جائے ،لیکن افضل یہ ہے کہ رات مسجد میں ہی گزارے اور صبح عید کی نماز کے لئے مسجد ہی سے جائے ،پھر عید کی نماز کے بعد گھر جائے 

🌹ماہِ رمضان میں کرنے کی کچھ خاص دعائیں 🌹

اﷲ تعالیٰ نے ماہِ رمضان کو خاص مقبولیت والا مہینہ بنایا ہے اور اِس میں ہم جتنی بھی جائز دعائیں مانگیں وہ انشاء اﷲضرور قبول ہوگی ۔اگر اﷲ تعالیٰ ہماری مانگی ہوئی دعا کو اُسی شکل میں قبول نہیں کرتے ہیں تو ہماری مانگی ہوئی چیز سے بہتر چیز عطا فرماتے ہیں یا پھر آخرت کے لئے محفوظ کر لیتے ہیں اور جب اﷲ تعالیٰ ہمیں آخرت میں ہماری دعا کا بدلہ عطا فرمائیں گے تو ہم کہیں گے کہ کاش اﷲ تعالیٰ ہماری ہر دعا کو آخرت کے لئے محفوظ کر لیتے ۔ماہِ رمضان المبارک میں کرنے والی کچھ خاص دعائیں یہ ہیں ۔

🌹اے اﷲ ! ہمارے گناہوں کو معاف کردے ،ہمارے ماں باپ ، بھائی بہن ، بیوی بچے اور ساری اُمت کے گناہوں کو معاف فرمادے …… 

🌹اے اﷲ ! ماہِ رمضان المبارک کی حقیقی قدر دانی ہمیں نصیب فرما …… 

🌹اے اﷲ ! گناہوں سے نفرت دلوں میں ڈال دے اور نیکیوں کا شوق اور جذبہ پید فرما دے …… 

🌹اے اﷲ ! آپ کی محبت دل میں پیدا فرما اور اسی پر زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرما دے …… 

🌹اے اﷲ سنتوں کو سکھا کر اُن پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما دے …… ہمارے دلوں اور سینوں کو سنتوں کے انوارات سے منور فرما …… 

🌹اے اﷲ ! ہمارے دلوں سے حسد ، کینہ ، بغض ،عداوت کو دور فرما دے ……

🌹اے اﷲ ! عافیت سے ہمارے دلوں اور زندگیوں سے یہود و نصاریٰ کے ناپاک طریقوں کو ختم فرما اور اُن طریقوں کی نفرت ڈال دے ……

🌹 اے اﷲ !بیماروں کو شفا عطا فرما …… 

🌹اے اﷲ !ہم سب کو حلال ، پاک اور برکت والی روزی عطا فرما …… اے اﷲ ! ہمیں تقویٰ ، ہدایت ، پاکدامنی اور ساری مخلوق سے بے نیازی عطا فرما دے ……

🌹اے اﷲ ! ہمیں اپنی ذات کا محتاج بنا کر ساری مخلوقات سے بے نیاز کردے اور ہمیں مخلوق کا محتاج نہ بنا …… 

🌹اے اﷲ ! آپ ہمیں اپنی ذات ِ کامل پر مکمل یقین نصیب فرما دے اور مخلوق کا یقین دل سے نکال دے …… 

🌹اے اﷲ ! ہمیں علم نافع ، وسعت والا رزق اور ہر بیماری سے شفا عطا فرما ……

🌹اے اﷲ ! ہماری اولاد کو نیک اور صالح بنا ،انہیں ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کے چین و سکون کا ذریعہ بنا اور انہیں علوم نافعہ ،اعمال صالحہ ، اخلاق فاضلہ اور عقائد حقہ کی دولت ِ عظمیٰ سے مالا مال فرما اور اپنی شان ربوبیت سے اُن کی بہترین تربیت فرما …… 

🌹اے اﷲ ! قرآن پاک کی تلاوت کی حلاوت نصیب فرما ،ذکر کی لذت نصیب فرما …… 

🌹اے اﷲ ! اپنی ذات کے ساتھ خاص قرب نصیب فرما …… 

🌹اے اﷲ ! اسلام اور اہل اسلام کی حفاظت فرما ،کفر و شرک کا خاتمہ فرما ، اسلام اور اہل اسلام کو غالب فرما …… 

🌹اے اﷲ میرے دل کو نفاق سے پاک کر دے اور میرے عمل کو ریا سے پاک کر دے اور میری زبان کو جھوٹ سے اور میری آنکھ کو خیانت سے پاک کردے کیونکہ آپ آنکھوں کی چوری اور سینوں کے راز سے خوب واقف ہیں …… 

🌹اے اﷲ ! میں آپ کی پناہ لیتا ہوں ایسے مکار دوست سے جس کی آنکھیں مجھے دیکھے اور جس کا دل میری ٹوہ میں لگا رہے اور اگر کوئی نیکی دیکھے تو چھپا لے اور برائی دیکھے تو اُس کو پھیلاتا پھرے …… 

🌹اے اﷲ ! مجھے فقر اور تنگ دستی سے بچا لے …… 

🌹اے اﷲ ! ہمیں صحت ، عفت ، امانت ، حسن اخلاق اور تقدیر پر رضامندی نصیب فرما …… 

🌹اے اﷲ ! مجھے علم دے کر مخلوق سے بے نیاز کر دے اور برد باری سے سرفراز فرما کر زینت بخش اور تقویٰ نصیب فرما …… 

🌹اے اﷲ ! جو مقروض ہیں انہیں عافیت اور عزت کے ساتھ سبکدوش فرما …… 

🌹اے اﷲ ! ہر بلا سے عافیت نصیب فرما ،میرے والدین اور دنیا کے معاملے میں اور میرے اہل ،مال و اولاد کے معاملے میں عافیت نصیب فرما..

🌹اے اﷲ ! ہم سے راضی ہوجایئے اور اپنی رضامندی والے اعمال میں ہمیں لگا دے اور ناراضگی والے کاموں سے ہماری حفاظت فرما …… 

🌹اے اﷲ ! میں ایسی مالداری سے پناہ مانگتا ہوں جو مجھے تکبر پر اُبھارے اور ایسے فقر سے پناہ مانگتا ہوں جو ذلت میں ڈال دے …… 

🌹اے اﷲ ! موت سے پہلے پہلے موت کی تیاری کی توفیق عطا فرما ،جب ہم دنیا سے رخصت ہو رہے ہوں تو ہماری زبان پر کلمہ ٔ طیبہ جاری ہو اور آپ سے ملاقات کا شوق غالب ہو ،ایسے فیصلے فرما …… 

🌹اے اﷲ ! قبر کی سختی اور عذاب سے حفاظت فرما …… 

🌹اے اﷲ ! پل صراط پر بجلی کی طرح پار فرما …… 

🌹اے اﷲ ! عرش کے سایہ کے نیچے جگہ نصیب فرما …… ا

🌹ے اﷲ ! جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرما ۔

🌹عشروں کے اختتام پر دعا 🌹

🌹جب پہلا‘‘رحمت ’’ کا عشرہ ختم ہونے لگے تو یہ دعا مانگیں 🌹

🌹اے اﷲ ! ماہِ رمضان المبارک کا رحمت کا یہ عشرہ ختم ہونے والا ہے ۔ہم نے کوئی ایسا عمل نہیں کیا جس کو آپ کی بارگاہ میں پیش کر کے ہم رحمت کے مستحق بن سکیں …… 

🌹اے اﷲ ! اِس عشرے میں جو کوتاہیاں ہوئیں ، اپنے فضل سے در گزر فرما کر ہمیں بھی رحمت کا مستحق بنادے …… 

🌹اے اﷲ ! جب آپ اپنے برگزیدہ بندوں پر رحمت برسائیں تو ہم گنہگاروں کو محروم نہ فرمانا اور آپ بلا استحقاق ہمیں بھی اپنی رحمت میں ڈھانپ لیں ……’’ 

🌹جب دوسرا ‘‘مغفرت ’’ کا عشرہ ختم ہونے لگے تو یہ دعا مانگیں  🌹

🌹اے اﷲ ! ماہِ رمضان المبارک کا مغفرت کا عشرہ ختم ہونے والا ہے ۔ہم نے ایسا کوئی عمل نہیں کیا جو ہمیں آپ کی مغفرت کا مستحق بنا سکے ۔

🌹اے اﷲ ! بغیر استحقاق کے محض اپنے فضل و کرم سے ہمیں اور اور ہمارے اہل و عیال کو ‘‘مغفرت ’’ کا پروانہ عطا فرما ……’’

🌹جب آخری عشرہ ختم ہونے لگے تو یہ دعا مانگیں : ‘‘ 🌹

🌹اے اﷲ ! اِس آخری عشرے میں آپ بے شمار مخلوق کو دوزخ ( جہنم ) سے آزادی عطا فرمائیں گے ۔

🌹اے اﷲ ! ہمارے والدین ، اہل و عیال اور تمام اُمت کو دوزخ سے آزادی کا پروانہ عطا فرما …… 

🌹اے اﷲ ! ہم نے تو اپنے گناہوں سے اپنے آپ کو دوزخ کا حقدار بنا لیا ہے ،

🌹اے اﷲ ! ہم میں دوزخ کا عذاب سہنے کی طاقت نہیں ہے ۔اگر آپ نے ہمیں دوزخ میں ڈال دیا تو بچانے والا کوئی نہیں ہے ،محض اپنے فضل و کرم سے بغیر استحقاق کے ہمارے اور ساری اُمت کے لئے دوزخ سے آزادی کا فیصلہ فرما ۔ آمین 

🌹کوشش کریں ہم ایسے نہ ہوں 🌹

اﷲ تعالیٰ جب ہمیں ماہِ رمضان المبارک عطا فرمائیں تو ہم یہ کوشش کریں کہ ہماری مغفرت ہو جائے اور ہم ایسے لوگوں میں سے نہ ہوں جن کی ماہ رمضان المبارک میں مغفرت نہیں ہوسکی ۔ ہم غور کریں کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ ہم اُن لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ‘‘ بہت سے روزے رکھنے والے ایسے ہیں کہ اُن کے روزہ کے بدلے میں فاقہ کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا اور بہت سے ( تراویح میں ) رات کو جاگنے والے ایسے ہیں کہ اُن کے لئے جاگنے کی مشقت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔’’ یہ اِس لئے کہ انہوں نے گناہوں کو نہیں چھوڑا ،کبائر سے توبہ نہیں کی ،ماہِ رمضان المبارک آیا مگر وہ بدستور کبیرہ گناہوں میں مبتلا رہے ۔ماہِ رمضان المبارک گزرتا رہا اور وہ گناہوں کو چھوڑنے کی طرف متوجہ نہیں ہوئے ۔بعض نے تسبیح تو پڑھ لی اور ‘‘ استغفر اﷲ ، استغفر اﷲ ’’ کہا اور جھوٹ موٹ کی توبہ کر لی لیکن روح نے توبہ حاصل نہیں کی ۔یاد رکھیں اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں حقیقت معتبر ہوتی ہے اﷲ تعالیٰ سب کے دلوں کا حال جانتے ہیں کہ کس نے سچے دل سے گناہوں کو چھوڑنے کی نیت کی ہے اور چھوڑنا چاہتا ہے ؟کس کے دل میں سچا جذبہ ہے اور کون سچے دل سے اپنے کئے پر نادم اور شرمندہ ہے ؟ کم تولنا ، کم ناپنا ، جھوٹ بولنا ،غیبت کرنا ،بد نظری کرنا ، غیر محرم خواتین کو شہوت کی نگاہ سے دیکھنا ،گالی گلوچ کرنا ، چغلخوری کرنا اور لوگوں میں صلح کرانے کے بجائے اُنہیں بھڑکا کر آپس میں لڑوانا۔یہ سب ایسے گناہ ہیں جنہیں کر کے ہم اﷲ کی مغفرت کے اُمید وار نہیں ہوسکتے ۔

🌹کہیں ہم ایسا تو نہیں سوچ رہے ہیں 🌹

یہ ہم مسلمانوں کا بہت بڑا المیہ ہے کہ ہم صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم اور علمائے کرام کو اور نیک لوگوں کو اپنا ‘‘آئیڈیل ’’ بنانے کے بجائے ناچنے گانے والوں اور خرافات پھیلانے والوں کو اپنا ‘‘آئیڈیل ’’ بناتے ہیں اور خاص طور سے نوجوا ن حضرات تو اُن کی طرح داڑھی منڈانا خوب صورتی کی علامت سمجھتے ہیں ۔بعض نوجوان ایسے ہوتے ہیں ماہِ رمضان میں گناہوں کو چھوڑ دیا ،پانچ وقت کے نمازی ہو گئے اور تھوڑی سی داڑھی بھی بڑھا لی لیکن دل میں یہ ہے کہ جیسے ہی ماہِ رمضان المبارک گزرے گا تو عید کی رات ( چاند رات ) میں ہی داڑھی مونڈوانی ہے اور چاند رات میں ہی وہ سب گناہ کرنے ہیں جو ماہِ رمضان المبارک سے پہلے جاری و ساری تھے ۔ یہ تو اﷲ تعالیٰ کو نہیں بلکہ اپنے آپ کو دھوکا دینے والی بات ہے کیونکہ اﷲ تعالیٰ جانتے ہیں کہ ہمارے دل میں کیا ہے ۔توبہ مخلوق کے سامنے نہیں بلکہ اﷲ تعالیٰ کے سامنے ہوتی ہے اور سچی توبہ یہ ہے کہ انسان ہمیشہ کے لئے اُس گناہ کو چھوڑ دے اور کوشش کرے کہ آئندہ کبھی سرزد نہ ہو ۔ہاں انجانے میں ہوا تو اُمید ہے کہ اﷲ تعالیٰ معاف فرما دیں گے ۔اِس لئے ابھی بھی وقت ہے کہ ہم اپنے آپ کو بدلنے کی کوشش کریں اورسچے دل سے توبہ کر کے آئندہ ہر قسم کے گناہوں سے پرہیز کریں اور ایسے ‘‘ متقی ’’ بن جائیں جیسا اﷲ تعالیٰ چاہتے ہیں ۔


 ماہ رمضان المبارک مکمل




D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں