منگل، 24 اکتوبر، 2023

سلطنت امیہ قسط نمبر 65 Khilafat e Umayya Episode 65



65 سلطنت امیہ


تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی


قسط نمبر 65


خاندان امیہ کے مختلف حکمرانوں کا دورِ حکومت، ابراہیم بن یزید ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کا حکمراں اور مروان بن محمد کا حملہ،سلیمان بن ہشام کی شکست

مروان بن محمد کا دمشق پر قبضہ،مروان ثانی بن محمد ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کا حکمراں،اہل حمص اور اہل غوطہ کی بغاوت،ثابت بن نعیم کی بغاوت اور قتل،مروان بن محمد کے ‘‘ولی عہد’’،ابو مسلم خراسانی ابراہیم بن محمد کی خدمت میں،127 ھجری کا اختتام،128 ھجری :ابو مسلم خراسانی ،خراسان میں،128 ھجری کا اختتام،129 ھجری : ابو مسلم خراسانی کو ‘‘تحریک عباسیہ’’ کا اعلان کرنے کاحکم،سلطنت ِ عباسیہ’’ کی تحریک کا اعلان،ابو مسلم خراسانی کا نصر بن سیار کو خط،بنو اُمیہ اور بنو عباس کی پہلی جنگ،ابراہیم بن محمد کی گرفتاری،ابراہیم بن محمد کی گرفتاری، 129 ھجری کا اختتام



خاندان امیہ کے مختلف حکمرانوں کا دورِ حکومت 


ابراہیم بن یزید ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کا حکمراں اور مروان بن محمد کا حملہ


126 ھجری آخر میں اور 127 ھجری کے شروع میں ابراہیم بن یزید ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کا حکمراں بنا ۔علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : 20 ذی الحجہ 126 ھجری کو یزید بن ولیدکا اپنی حکومت کے پانچویں مہینہ میں مقام دمشق میں انتقال ہوگیا اور بیان کیا جاتا ہے کہ یہ قدریہ تھا ۔ اِس کے مرنے کے بعد مسلمانوں نے اِس کے بھائی ابراہیم بن ولید کے ہاتھ پر بیعت کی لیکن اکثر مسلمانوں نے اِس سے اختلاف کیا اور بیعت عامہ نہیں ہونے پائی ۔ کبھی یہ امیرالمومنین کے لقب سے پکارا جاتا اور کبھی نہیں غرض اِسی تذبذب کی حالت میں تقریباً تین مہینے گذر گئے ۔پھر مروان بن محمد نے اس سے ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کی حکمرانی چھین لی اور ۱۳۲ ؁ ھجری میں اس کا انتقال ہوگیا تھا ۔ جس وقت مسلمانوں نے ابراہیم بن ولید کو حکمراں بنایا اُسی وقت مروان بن محمد فوج لیکر جنگ کے ارادے سے دمشق کی طرف چل پڑا تھا ۔رفتہ رفہ وہ قنسرین پہنچا تو اُن دنوں بشیر بن ولید قنسرین کا گورنر تھا اور اُس کے ساتھ اُس کا بھائی مسرور بن ولید بھی تھا ۔ مروان بن محمد نے ان دونوں کو اپنی بیعت کرنے کا حکم دیا تو انہوں نے انکار کر دیا ۔ جنگ کے لئے صفیں مرتب ہوئیں لیکن یزید بن عمرو بن ہبیرہ نے غداری کی اور مروان بن محمد سے مل گیا اور دونوں بھائیوں کو گرفتار کر کے مروان بن محمد کے حوالے کر دیا ۔ اُس نے دونوں کو قید کر لیا اور مروان بن محمد ‘‘حمص’’ کی طرف روانہ ہوا۔


سلیمان بن ہشام کی شکست


مروان بن محمد سے پہلے عبدالعزیز بن حجاج ‘‘حمص’’ کا محاصرہ کئے ہوئے تھا ۔علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : مروان بن محمد اپنے لشکر کے ساتھ اہل قنسرین کے لشکر کو بھی لیکر ‘‘حمص’’ کی طرف بڑھا۔ اُن دنوں عبدالعزیز بن حجاج دمشق کی فوج کے ساتھ ‘‘حمص’’ کا محاصرہ کئے ہوئے تھا کیونکہ اہل حمص نے ابراہیم بن ولید کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا تھا ۔ مگر جوں ہی مروان بن محمد کا لشکر حمص کے قریب پہنچا تو عبدالعزیز بن حجاج اپنا لشکر لیکر فرار ہوگیا اور اہل حمص نے مروان بن محمد کے ہاتھ پر بیعت کر لی ۔ ابراہیم بن ولید کو اِن حالات سے آگاہی ہوئی تو اُس نے سلیمان بن ہشام کو ایک لاکھ بیس ہزار کا لشکر دیکر مروان بن محمد سے مقابلے کے لئے بھیجا ۔ اُس وقت مروان بن محمد کے پاس اسی ہزار کا لشکر تھا ۔جنگ چھڑنے سے پہلے مروان بن محمد نے اِس شرط پر صلح کا پیغام دیا کہ ہم ولید بن یزید کے خون کے معاوضے سے دست کش ہوتے ہیں اور تم اُس کے بیٹوں حکم بن ولی اور عثمان بن ولید کو رہا کر دو۔ سلیمان بن ہشام نے انکار کیا اور جنگ شروع ہو گئی ۔صبح سے لیکر عصر تک بڑے زورو شور سے جنگ ہوتی رہی اور اِسی دوران میں مروان بن محمد نے تین ہزار سواروں کے ساتھ سلیمان بن ہشام کے لشکر کے پیچھے سے حملہ کر دیا ۔ دمشقی لشکر اِس اچانک حملے سے گھبرا گیا اور بھاگ کھڑا ہوا ۔ اہل حمص نے تقریباً سترہ ہزار کو قتل کر ڈالا اور لگ بھگ اتنے ہی قید ہوئے ۔


مروان بن محمد کا دمشق پر قبضہ


سلیمان بن ہشام کے لشکر کو شکست دینے کے بعد مروان بن محمد دمشق کی طرف بڑھا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : جنگ کے خاتمے کے بعد مروان بن محمد نے دمشق کا رخ کیا اور تمام لوگوں سے ولید بن یزید کے بیٹوں حکم اور عثمان کی بیعت لے لی ۔ جب اہل دمشق کو اُس کے لشکر کے آنے کی اطلاع ملی تو یزید بن خالد قسری اور عبدالعزیز بن حجاج نے جمع ہوکر مشورہ کیا کہ جن کی بیعت مروان بن محمد نے لی ہے انہیں قتل کر دیا جائے اور کہیں ایسا نہ ہو کہ مروان بن محمد انہیں لڑ کر قید خانے سے آزاد نہ کرالے اور یہ دونوں کہیں اپنے باپ کے خون کا قصاص نہ مانگیں۔مشورے کے بعد یزید بن خالد کو اُن دونوں کے قتل پر مامور کیا گیا ۔اُس نے اپنے آزاد کردہ غلام ابواسد کو متعین کیا جس نے قیدخانے میں جا کر اُن دونوں کو قتل کر دیا اور اُن کے ساتھ قید یوسف بن عُمر کو بھی قتل کردیا ۔ جب مروان بن محمد دمشق کے بالکل قریب پہنچ گیا تو ابراہیم اور اُس کے کل ساتھی بھاگ کھڑے ہوئے اور جاتے جاتے سلیمان بن ہشام نے بیت المال میں جو کچھ تھا وہ بھی لے گیا ۔ 


مروان ثانی بن محمد ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کا حکمراں


دمشق میں آنے بعد جب یہ معلوم ہوا کہ ولید بن یزید کے دونوں بیٹوں کو قتل کر دیا گیا ہے تو مروان ثانی بن محمد کو ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کا حکمراں بنا دیا گیا اور یہ ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کا آخری حکمراں ثابت ہوا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : مروان بن محمد اپنی کامیاب فوج کو لیکر دمشق میں دخل ہوا تو حکم بن ولید اور عثمان بن ولید کی لاش اور یوسف بن عُمر کی لاش اُس کے سامنے پیش کی گئی ۔ اُس نے نہایت افسوس کے ساتھ اُن کی نماز جنازہ پڑھائی اور دفن کر دیا ۔اِس کے بعد ابو محمد سفیانی جو قید میں تھے وہ حاضر کئے گئے تو مروان بن محمد نے اسے کہا: ‘‘ تمہیں حکمرانی مبارک ہو۔’’ ابو محمد سفیانی نے کہا: ‘‘ نہیں! اِن دونوں ولی عہدوں نے اپنے بعد تمہیں ہی حکمراں مقرر کیا تھا۔’’ مروان بن محمد یہ سن کر خاموش ہوگیا اور ابو محمد سفیانی اور تمام حاضرین دربار نے مروان بن محمد کی بیعت کر لیاور معاویہ بن حصین اور اہل حمص پہلے ہی بیعت کر چکے تھے ۔ تکمیل بیعت کے بعد مروان بن محمد اپنی جائے قیام ‘‘حران’’ چلا گیا اور چند صلح جو لوگوں نے درمیان میں پڑ کر ابراہیم بن ولید اور سلیمان بن ہشام کے لئے بھی امان حاصل کر لی ۔ اِس کے بعد سلیمان بن ہشام اپنے بھائی ، لڑکوں ،عورتوں اور خادموں کے ساتھ تدمر سے مروان بن محمد کی خدمت میں آیا اور بیعت کر لی ۔


اہل حمص اور اہل غوطہ کی بغاوت


مروان بن محمد نے دمشق میں قیام نہیں کیا بلکہ واپس ‘‘حران’’ چلا گیا تو اہل حمص اور اہل غوطہ نے بغاوت کر دی ۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: جب مروان بن محمد نے ‘‘حران’’ میں تین مہینے قیام کیا تو اہل شام اور اہل حمص نے بیعت توڑ دی ۔اُس نے اہل حمص کی طرف فوج روانہ کی جو اِس سال عیدالفطر کی رات اچانک پہنچ گئی اور خود مروان بن محمد بھی تین دن بعد پہنچ گیا ۔اُس کے ساتھ ابراہیم بن ولید اور سلیمان بن ہشام بھی تھے اور وہ ان کی عزت کرتا تھا ۔ اُس نے اہل حمص کا محاصرہ کیا تو انہوں نے شہر پناہ کی فصیل سے پکار کر کہا: ‘‘ ہم تیری اطاعت میں ہیں۔’’ اُس نے کہا :‘‘ پھر درواز کھول دو ۔’’ انہوں نے دروازہ کھول دیا ۔پھر بھی کچھ اہل شہر نے جنگ کی اور اُن کے پانچ سو آدمی قتل ہوئے ۔انہیں مروان بن محمد کے حکم سے شہر کے ارد گرد صلیب دیا گیا ۔اِسی دوران اہل غوطہ نے دمشق پر قبضہ کر لیا اور اہل دمشق پر ظلم کرنے لگے ۔ اُن کا سپہ سالار یزید بن خالد تھا ۔مروان بن محمد نے حمص سے دمشق کی طرف دس ہزار کی فوج روانہ کی اور اِس فوج نے اہل غوطہ کو شکست دی اور یزید بن خالد کو قتل کر کے اُس کا سر امیرالمومنین کے پاس بھیج دیا ۔


ثابت بن نعیم کی بغاوت اور قتل


اِس سال ثابت بن نعیم نے اہل فلسطین کے ساتھ ملکر بغاوت کی ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 127 ھجری میں ثابت بن نعیم نے اہل فلسطین کے ساتھ ملکر امیرالمومنین کے خلاف بغاوت کی اور امیرالمومنین مروان بن محمد نے اُن کی طرف فوج روانہ کی جس نے انہیں شکست دی اور ثابت بن نعیم فرار ہو گیا اور سپہ سالار ابوالورود نے اُس کا تعاقب کر کے دوبارہ شکست دی اور اُس کے تین لڑکوں کو قید کر لیا اور انہیں زخمی حالت میں امیر المومنین کے پاس بھیج دیا جس نے اُن کا علاج کروایا ۔ پھر امیر المومنین نے فلسطین کے گورنر رماحس بن عبدالعزیز کنانی کو حکم دیا کہ وہ ثابت بن نعیم کی تلاش کرے ۔وہ مسلسل اُسے تلاش کرتا رہا آخر کار دومہینے کی تلاش کے بعد اُسے گرفتار کر کے امیرالمومنین کے پاس بھیج دیا ۔اُس نے اُس کے دونوں ہاتھ پاؤں کٹوا کر دمشق بھیج دیا اور مسجد کے دروازے پر کھڑا کر دیا ۔یہ اِس لئے کہ اہل دمشق نے افواہ اُڑائی تھی کہ ثابت بن نعیم ملک مصر چلا گیا ہے اور اُس نے مروان بن محمد کے گورنر کو قتل کر دیا ہے ۔ 


مروان بن محمد کے ‘‘ولی عہد’’


اِس سال ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کے حکمراں مروان بن محمد نے اپنے ‘‘ولی عہد’’ کا اعلان کردیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال مروان بن محمد نے اپنے دونوں بیٹوں عبداﷲ بن مروان اورعبیداﷲ بن مروان کی ‘‘ولی عہدی’’ کی بیعت لے لی اور ہشام بن عبدالملک کی بیٹیوں اُم ہشام اور عائشہ سے اُن کی شادی کر دی ۔اِس تقریب میں اُس نے اپنے تمام خاندان والوں کو جمع کیا ۔ اِن میں عبدالملک بن مروان کے بیٹوں میں محمد ، سعید اور بکار تھے ۔اِسی طرح سلیمان بن ہشام اور یزید بن ہشام اور دوسرے قریش اور عرب کے سردار جمع تھے ۔ 


ابو مسلم خراسانی ابراہیم بن محمد کی خدمت میں


اِس سال ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کے حکمراں مروان بن محمد کا زیادہ تر وقت بغاوتوں کو دبانے اور باغیوں کی سرکوبی کرنے میں گذرا جس کی وجہ سے ‘‘تحریک عباسیہ’’ کے داعیوں کو اپنا کام کرنے کا بھر پور موقع مل گیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِ س سال 127 ھجری میں سیلیمان بن کثیر ،اہز بن قریظ اور قحطبہ بن شبیب مکۂ مکرمہ آکراور ‘‘تحریک عباسیہ’’ کے رہنما ابراہیم بن محمد سے ملے اور انہیں بیس ہزار دینا اور دو لاکھ درہم اور بہت سا سامان بھی دیا اور ابومسلم خراسانی کو بھی ساتھ لائے تھے ۔سلیمان بن کثیر نے ابراہیم بن محمد سے کہا: ‘‘ یہ آپ کا خدمت گار ہے۔’’ اِس طرح ابومسلم خراسانی اُن کی تحویل میں آگیا ۔اِس سال بکیر بن ماہان نے ابراہیم بن محمد کو خط لکھا :‘‘ آج میرا دنیا میں آخری اور آخرت میں پہلا دن ہے ۔میں نے حفص بن سلیمان کو اپنا جانشین بنا دیا ہے اور یہ ہماری تحریک کے لئے بہت موزوں ہے ۔ ’’اِس سال ابراہیم بن محمد نے ابوسلمہ کو خراسان میں ‘‘تحریک عباسیہ’’ کو امیر بنا کر بھیجااور اہل خراسان کو لکھا: ‘‘ میں نے ابو سلمہ کو تمہارا امیر مقرر کر دیا ہے ۔’’ ابوسلمہ خراسان آیا تو خراسان کے لوگوں نے اُسے اپنی آمدنی کا پانچواں حصہ اور چندے وغیرہ دیئے ۔ 


127 ھجری کا اختتام


127 ھجری کے اختتام پر مملکت اسلامیہ میں جابجا شورشیں اور بغاوتیں ہورہی تھیں اور امیرالمومنین مروان بن محمد باغیوں کی سرکوبی میں مصروف تھا ۔ خاندان اُمیہ آپس میں خانہ جنگی میں مصروف تھے اور سلیمان بن ہشام اور دوسرے لوگوں نے بغاوت کر دی تھی جنہیں مروان بن محمد نے شکست دی ۔ انہی بغاوتوں کی وجہ سے مملکت اسلامیہ کے صوبوں کے گورنر مسلسل تبدیل ہورہے تھے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : نصر بن عرشی ملک عراق کا گورنر تھا اور عبداﷲ بن عمر اور ضحاک خارجی سے جنگ میں مصروف تھا نصر بن سیار خراسان کا گورنر تھا اور حارث بن شریح اُس کی مخالفت کر رہا تھا ۔ مکۂ مکرمہ ، مدنۂ منورہ اور طائف کا گورنر عبدالعزیز بن عُمر بن عبدالعزیز تھا اور اُسی نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔ 


128 ھجری :ابو مسلم خراسانی ،خراسان میں


128 ھجری میں ‘‘سلطنت اُمیہ’’ میں لگ بھگ ہر صوبہ میں بغاوت ہورہی تھی اور مروان بن محمد اور اُس کے گورنر ان بغاوتوں کو دبانے میں مصروف تھے کہ ‘‘تحریک عباسیہ’’ کے رہنما ابراہیم بن محمد نے ابو مسلم خراسانی کو ‘‘تحریک عباسیہ’’ کا قائد بنا کر خراسان بھیجا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال ۱۲۸ ؁ ھجری میں ابراہیم بن محمد نے ابومسلم خراسانی کو خراسان بھیجا اور ‘‘تحریک عباسیہ’’ کے حامیوں کو لکھا :‘‘ میں نے ابو مسلم خراسانی کو اپنے حکم سے تمہارا ‘‘قائد’’ بنایا ہے ۔اِس لئے تم سب اس کے حکم کی تعمیل کرو اور وہ جو کہے اُسے مانو۔میں نے اسے پورے خراسان کا اور جن جن علاقوں پر وہ غلبہ حاصل کرے گا سب کا قائد مقرر کر دیا ہے ۔’’ مگر کسی نے اُس کی بات نہیں سنی اور جب خراسان کے لوگ حج کے لئے مکۂ مکرمہ آئے اور ابومسلم خراسانی بھی اُن کے ساتھ تھا ۔ جب وہ سب ابراہیم بن محمد سے ملے تو ابو مسلم خراسانی نے کہا: ‘‘ اِن لوگوں نے آپ کی ہدایات کی تعمیل نہیں کی اور نہ آپ کے خط کو تسلیم کیا ۔’’ ابراہیم بن محمد نے اہل خراسان سے کہا: ‘‘ ابومسلم خراسانی کو مقرر کرنے سے پہلے میں نے سلیمان بن کثیر کو خراسان پر مقرر کرنا چاہا لیکن اُس نے معذرت کر لی ۔پھر میں نے ابراہیم بن مسلمہ کو خراسان پر مقرر کر نا چاہا تو اُس نے بھی معذرت کرلی ۔اِس لئے آخر کار میں نے ابومسلم خراسانی کو تمہارا ‘‘قائد’’ مقرر کیا ہے اور تم لوگ اس کے احکام و ہدایات کی دل و جان سے تعمیل کرنا ۔’’ پھر انہوں نے ابومسلم خراسانی کو بھی ہدایات دیں۔


128 ھجری کا اختتام


128 ھجری کا پورا سال ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کے حکمراں مروان بن محمد کے لئے باغیوں کی سرکوبی میں ہی گذرا۔ مملکت اسلامیہ میں ہر جگہ بغاوتیں ہورہی تھیں ۔باغیوں کے علاوہ خارجیوں نے بھی بغاوت شروع کر دی تھی ۔مروان بن محمد کے لئے ‘‘سلطنت اُمیہ’’ میں امن قائم کرنا ناممکن ہو رہا تھا اور اُس کے ساتھ اُسکے گورنر بھی باغیوں اور خارجیوں سے جنگ کرنے میں مصروف تھے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال مروان بن محمد نے حمص کی بغاوت ختم کر کے فتح حاصل کی اور اُس کی شہرپناہ کی فصیل گرا دی ،نعیم بن ثابت کو گرفتار کر کے قتل کر دیا ۔اِس سال ہر جگہ بغاوتیں ہورہی تھیں ملک عراق میں ضحاک اور عبداﷲ بن عمر کے گورنر تھے بصرہ کے قاضی تمامہ بن عبداﷲ تھے ۔نصر بن سیار خراسان کا گورنر تھا لیکن وہاں بھی بغاوت کی آگ پھیلی ہوئی تھی ۔ مکۂ مکرمہ ، مدینۂ منورہ اور طائف کا گورنر عبدالعزیز بن عمر بن عبدالعزیز تھا اور اُسی نے مسلمانوں کو حج کرایا۔


129 ھجری : ابو مسلم خراسانی کو ‘‘تحریک عباسیہ’’ کا اعلان کرنے کاحکم


129 ھجری میں بھی ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کی وہی حالت تھی اور مروان بن محمد اور اُس کے گورنر مسلسل باغیوں سے برسر ِ پیکار رہے ۔ ایسے وقت میں ‘‘تحریک عباسیہ’’ کے رہنما ابراہیم بن محمد نے ابو مسلم خراسانی کو حکم دیا کہ وہ ‘‘تحریک عباسیہ’’ کا کھلے عام اعلان کردو۔علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : ابومسلم خراسانی کو ۱۲۹ ؁ ھجری میں ابراہیم بن محمد نے مکۂ مکرمہ آنے کا حکم دیا ۔ خراسان سے ابومسلم خراسانی مکۂ مکرمہ کی طرف روانہ ہوا اور راستے میں لوگوں کو ‘‘تحریک عباسیہ’’ کی خفیہ تبلیغ کرتا جا رہا تھا اور لوگ اُس کے حامی بھی ہوتے جارہے تھے کہ راستے میں ابراہیم بن محمد کا خط ملا اور ساتھ ہی حکم دیا کہ خراسان واپس جاؤ اور اپنی ‘‘تحریک’’ کا کھلے عام اعلان کر دو۔ ابو مسلم خراسانی خظ لیکر ایک رمضان المبارک کو خراسان واپس آیا اور سلیمان بن کثیر کو ابراہیم بن محمد کا خط دیا ۔ جس میں لکھا تھا :‘‘ اب انتظار نہ کرو اور اپنی دعوت کا اظہار کرو۔’’انہوں نے ابو مسلم خراسانی کو ‘‘بنو عباس’’ کا داعی بنا کر آگے کیا اور اُس نے اپنے داعیوں کو ملک خراسان کے تمام شہروں میں بھیجا۔خراسان کا گورنر نصر بن سیار اُن دنوں باغیوں سے لڑائی میں مشغول تھا ۔


سلطنت ِ عباسیہ’’ کی تحریک کا اعلان


سلطنت عباسیہ کی تحریک کا خراسان میں باقاعدہ اعلان کر دیا گیا اور ابومسلم خراسانی کو خراسان میں اِس تحریک کا ‘‘قائد’’ بنا دیا گیا ۔ خراسان کا گورنر بغاوتوں کو دبانے میں لگا ہوا تھا اِس لئے اُس نے اِن کی طرف کوئی توجہ نہیں دی ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں :ماہ رمضان المبارک کے ختم ہونے میں پانچ راتیں باقی تھیں کہ ابراہیم بن محمد کے بھیجے ہوئے جھنڈوں کو ابومسلم خراسانی نے باندھا ۔ ایک جھنڈا جسے ابراہیم بن محمد نے ‘‘ظل’’ کا نام دیا تھا چودہ گز لانبے بانس پر باندھ کر بلند کیا ۔دوسرے جھنڈے کا نام ابراہیم بن محمد نے ‘‘سحاب’’رکھا تھا اُسے تیرہ گز لانبے بانس پر باندھ کر بلند کیا اور یہ آیت تلاوت کر رہا تھا ۔ ترجمہ:‘‘ اجازت دی گئی اُن لوگوں کو جو لڑ رہے ہیں اس لئے کہ اُن پر ظلم کیا گیا ہے اور بیشک اﷲ اُن کی مدد پر قادر ہے۔’’اُس نے ‘‘ظل’’اور ‘‘سحاب’’ ناموں کی یہ تاویل کی کہ جس طرح ‘‘سحاب’’ بادل زمین پر چھا جاتا ہے اُسی طرح ‘‘بنو عباس’’ کی حکومت کی دعوت ہر جگہ چھا جائے گی ۔ اور ‘‘ظل’’ نام اِس لئے رکھا ہے کہ زمین بغیر سایہ کے کبھی نہیں رہتی اُسی طرح اب ہمیشہ کے لئے ‘‘بنو عباس’’ کی حکومت دنیا پر قائم رہے گی۔ عیدالفطر کے دن ابومسلم خراسانی نے خالد بن ابراہیم کے گاؤں میں اپنی تحریک کا اعلان کیا ۔قاسم بن مجاشع مرائی نے نماز عید پڑھائی ۔ ابو مسلم یہاں سے روانہ ہو کر ‘‘نالین’’ یا ‘‘ خزامہ’’ کے قریہ ‘‘لین’’ آیا ۔ایک دن میں ساٹھ آدمی اُس کے پاس آئے اور یہ بیالس دن تک یہاں مقیم رہا ۔ابومسلم خراسانی کو سب سے پہلی فتح کی خوشخبری موسیٰ بن کعب کی جانب سے جو ‘‘بیرود’’ میں حاصل ہوئی تھی ملی۔ پھر ‘‘مروزور’’ سے فتح کی خوشخبری ملی۔


ابو مسلم خراسانی کا نصر بن سیار کو خط


ابو مسلم خراسانی نے خراسان کے گورنر نصر بن سیار کو خط لکھا ۔علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : ابومسلم خراسانی نے نصر بن سیار کو خط لکھا اور اُس کے سرنامے پر اپنا نام لکھنے کے بعد یہ لکھا: ‘‘ اما بعد! بے شک اﷲ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ایک قوم کو بدل دیا ہے ۔پس ارشاد کیا اور قسم کھاتے تھے اﷲ کی! تاکید کی قسمیں کہ اگر ان کے پاس کوئی ڈر سنانے والا آئے گا تو اور اُمتوں کی بہ نسبت بے شک ہم بہتر راہ چلیں گے ۔ پھر جب ان کے پاس ڈر سنانے والا آیا تو بڑھ گئی اُن کی نفرت اور غرور کرنا ۔ملک میں برے اور برے کام میں داؤں کرنا اور برائی کا داؤں برائی کرنے والوں پرپلٹے گا ۔ پس کیا اب وہی اگلوں کا سا دستور دیکھنا چاہتے ہیں۔پس تُو اﷲ کا دستور بدلتا نہ پائے گا اور نہ اﷲ کا دستور ٹلتا ہے۔’’نصر بن سیار یہ خط پڑھ کر آبگولا ہوگیا اور اس خط کا جواب بھیجنے کے بجائے اپنے غلام یزید کو ابومسلم خراسانی سے جنگ کرنے کے لئے فوج دیکر روانہ کیا ۔


بنو اُمیہ اور بنو عباس کی پہلی جنگ


ملک خراسان کے گورنر نے اپنے غلام کو ایک فوج دیکر روانہ کیا اور اُس کے مقابلے پر ابو مسلم خراسانی نے ایک فوج روانہ کی اور یہ بنو اُمیہ اور بنو عباس کی پہلی جنگ تھی ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : ابو مسلم خراسانی نے اس کے مقابلے کے لئے مالک بن ہیثم خزاعی کو فوج دیکر روانہ کیا ۔جنگ چھڑنے سے پہلے مالک بن ہیثم نے یزید کو ‘‘بنو عباس’’ کی حمایت کی دعوت دی تو یزید نے انکار کر دیا ۔مالک بن ہیثم نے حملہ کرنے کا حکم دے دیا اور اُس وقت اُس کے پاس صرف دو سو

 افراد تھے ۔ پورا دن زور و شور سے لڑائی ہوتی رہی ۔اتفاق سے ابومسلم خراسانی کے پاس صالح بن سلیمان ،ابراہیم بن یزید اور زیاد بن عیسیٰ اپنے ساتھیوں کے ساتھ آگئے اور اُس نے انہیں مالک بن ہیثم کی کمک پر بھیج دیا ۔جس سے مالک بن ہیثم کی طاقت بڑھ گئی اور و ہ لوگ ایک تازہ جوش سے لڑنے لگے ۔عبداﷲ بن طائی نے یزید پر اچانک حملہ کر کے قید کر لیا اور اُس کے قید ہوتے ہی اُس کے ساتھی بھاگ کھڑے ہوئے ۔ یزید کو ابومسلم خراسانی کے پاس بھیج دیا گیا ۔ اُس نے اُسے عزت و احترام سے رکھا اور جب اُس کے زخم اچھے ہوگئے تو کہا: ‘‘ اگر تمہارا جی چاہے تو میرے پاس رہو اﷲ تعالیٰ اِس کا اجر دے گا اور اگر چاہوتو اپنے آقا کے پاس واپس لوٹ جاؤ مگر اِس شرط پر کہ آئندہ ہمارے مقابلے پر نہیں آؤگے اور ہم پر جھوٹی تہمت نہیں لگاؤ گے ۔’’یزید اپنے آقا نصر بن سیار کے پاس واپس آگیا اور وہ تاڑ گیا کہ ابومسلم خراسانی نے اس سے ضرور کچھ نہ کچھ اقرار لیا ہوگا ۔ یزید نے کہا: ‘‘ اﷲ کی قسم! تمہارا خیال صحیح ہے ۔اُس نے مجھ سے حلف لیا کہ میں اُن پر جھوٹی تہمت نہ لگاؤں ۔بے شک وہ لوگ نماز کو اُس کے مقررہ اوقات میں پڑھتے ہیں اور ‘‘بنو عباس’’ یعنی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے خاندان کی حکومت قائم کرنے کی دعوت دیتے ہیں اور میرا خیال ہے کہ ایک نہ ایک دن یہ ضرور کامیاب ہوں گے ۔اگر تم میرے آقا نہیں ہوتے تو میں اُن کے پا س ہی رہتا ۔ حالانکہ بہت سے لوگ ان پر بت پرستی اور اسحلام حرام کی جھوٹی تہمت لگاتے ہیں۔’’ 


ابراہیم بن محمد کی گرفتاری


ابو مسلم خراسانی نے ‘‘تحریک عباسیہ’’ کی دعوت خراسان میں زور و شور سے شروع کر دی تھی اور لوگ اُس کی طرف مائل بھی ہو رہے تھے کہ تحریک کے رہنما ابراہیم بن محمد کو گرفتار کر لیا گیا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: جس وقت ابو مسلم خراسانی‘‘سلطنت ِ عباسیہ’’ کی علانیہ دعوت دینے لگا تو جس طرف نظر اُٹھتی تھی آدمی ہی آدمی آتے جاتے نظر آتے تھے۔اہل مرو کی بھی اس کے یہاں آمدو رفت تھی اور نصر بن سیار اتنا مجبور تھا کہ اُن کو منع نہیں کرسکتا تھا ۔ خوارج بھی ابومسلم خراسانی کے فعل سے ناراض نہیں تھے کیونکہ وہ مروان بن محمد کی حکومت کے دشمن تھے ۔ عوام الناس کا میلان بھی ابومسلم خراسانی کی طرف تھا اور اُس کے دروازے پر نہ کوئی محافظ تھا اور نہ ہی حاجب تھا اور نہ ہی امراء و بادشاہوں کی طرح دربانوں کی سختیاں تھیں بلکہ بے روک ٹوک جس کا جی چاہتا آتا تھا۔اسی دوران ‘‘امام’’ ابراہیم بن محمد نے ابومسلم خراسانی کو خط لکھا اور اتفاق سے یہ خط مروان بن محمد کے اہلکاروں کے ہاتھ پڑ گیا ۔اُس خط میں لکھا تھا: ‘‘ موقع اور قابو مل جانے پر اگر تم نے نصر بن سیارر اور کرمانی کا قتل نہیں کیا تو یہ سخت نالائقی کی بات ہے اور دیکھو خبرادار! خراسان پر قابو پانے کے بعد کسی عربی بولنے والے کو باقی نہ رکھنا۔’’ مروان بن محمد اِس خط کو پڑھ کر بہت برہم ہوا اور اپنے گورنر کو حکم دیا کہ ابراہیم بن محمد کو گرفتار کر کے بیڑیاں پہنا کرمیرے پاس بھیج دو۔’’ اُس کے گورنر نے حکم کے مطابق ابراہیم بن محمد کو قید کر دیا ۔ 


129 ھجری کا اختتام


129 ھجری کے اختتام تک مروان بن محمد اور اُس کے گورنر باغیوں اور خوارجوں سے جنگ میں اُلجھے ہوئے تھے اور ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کا نظام جیسے تیسے چل رہا تھا ۔ اِس کا سب سے بڑا فائدہ ‘‘تحریک عباسیہ’’ کو ہو رہا تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اِس سال ۱۲۹ ؁ھجری کے اختتام پر یزید بن عمرو بن ہبیرہ ملک عراق اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر اور ناظم اعلیٰ تھا۔ حجاج بن حاربی کوفہ کے قاضی تھے اور عیاض بن منصور بصرہ کے قاضی تھے ۔نصر بن یسار یا سیار خراسان کا گورنرتھا اور وہاں بغاوت کی آگ لگی ہوئی تھی ۔ مکۂ مکرمہ ، مدینۂ منورہ اور طائف کا گورنر عبدالواحد بن سلیمان بن عبدالملک تھا اور اُسی نے مسلمانوں کو حج کرایا۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

پیر، 4 ستمبر، 2023

حضرت عیسیٰ علیہ السلام مکمل پی ڈی ایف ڈاؤنلوڈ Hazrat Iesa AS PDF Download in Urdu


حضرت عیسیٰ علیہ السلام مکمل پی ڈی ایف ڈاؤنلوڈ

   Hazrat Iesa AS PDF Download






 

حضرت زکریا و یحییٰ علیہما السلام مکمل پی ڈی ایف ڈاؤنلوڈ Hazrat Zakariya and Yahya AS PDF Download in Urdu



حضرت زکریا و یحییٰ علیہما السلام مکمل پی ڈی ایف ڈاؤنلوڈ 

 Hazrat Zakariya and Yahya AS PDF Download





 

حضرت شعیا و ارمیاہ علیہما السلام مکمل پی ڈی ایف ڈاؤنلوڈ Hazrat Shayaa and Armiyaah AS PDF Download




حضرت شعیا و ارمیاہ علیہما السلام مکمل پی ڈی ایف ڈاؤنلوڈ

   Hazrat Shayaa and Armiyaah AS PDF Download






 

حضرت یونس و حزقیل علیہما السلام مکمل پی ڈی ایف ڈاؤنلوڈ Hazrat Yunis and Hazqeel AS PDF Download in Urdu



حضرت یونس و حزقیل علیہما السلام مکمل پی ڈی ایف ڈاؤنلوڈ 

 Hazrat Yunis and Hazqeel AS PDF Download







 

حضرت الیاس و یسع علیہما السلام مکمل پی ڈی ایف ڈاؤنلوڈ Hazrat Ilyaas and Yasa AS PDF Download in Urdu



حضرت الیاس و یسع علیہما السلام مکمل پی ڈی ایف ڈاؤنلوڈ۔ 

 Hazrat Ilyaas and Yasa AS PDF Download





 

حضرت سلیمان علیہ السلام مکمل پی ڈی ایف ڈاؤنلوڈ Hazrat Sulemaan AS PDF Download in Urdu



حضرت سلیمان علیہ السلام مکمل پی ڈی ایف ڈاؤنلوڈ 

 Hazrat Sulemaan AS PDF Download  

حضرت شموئیل و داؤد علیہما السلام مکمل پی ڈی ایف ڈاؤنلوڈ Hazrat Shamuel and Dawood AS PDF Download in Urdu




حضرت یوشع علیہ السلام مکمل پی ڈی ایف ڈاؤنلوڈ Hazrat Yusha AS PDF Download in Urdu



حضرت یوشع علیہ السلام مکمل پی ڈی ایف ڈاؤنلوڈ 

 Hazrat Yusha AS PDF Download






 

حضرت موسیٰ و ہارون علیہما السلام مکمل پی ڈی ایف ڈاؤنلوڈ Hazrat Musa and Haroon AS PDF Download in Urdu



حضرت موسیٰ و ہارون علیہما السلام مکمل پی ڈی ایف ڈاؤنلوڈ

   Hazrat Musa and Haroon AS PDF Download





 

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں