08 حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 8
میں جس کا مولا ہو ں علی بھی اُس کا مولا ہے ، مومن اور منافق کی پہچان، حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ، رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی محبت ، اﷲ اِس کے ذریعے مسلمانوں میں صلح کرائے گا، حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کی سواری، صبر اور برد باری، دشمن بھی تعریف کرتے تھے
میں جس کا مولا ہو ں علی بھی اُس کا مولا ہے
خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ اپنے بچپن سے لیکر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال تک آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ رہے ۔آپ رضی اﷲ عنہ کی زندگی کا ایک ایک دن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی نگرانی میں گزرا ہے ۔امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں :امام ترمذی نے حضرت ابو سریحہ اور حضرت زید بن ارقم سے روایت کی ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں جس کا صاحب ( مولا ) ہوں علی بھی اُس کا صاحب ( مولا ) ہے ۔“ اِس حدیث کو امام احمد بن حنبل اور امام طبرانی نے بھی بیان کیا ہے ) بعض راویوں کا کہنا ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا : ” اے اﷲ ! جو شخص علی رضی اﷲ عنہ سے محبت کرتا ہے تُو بھی اُس سے محبت رکھ اور جو علی رضی اﷲ عنہ سے بغض رکھے تُو بھی اُس سے بغض رکھ ۔“ امام احمد بن حنبل نے ابو الطفیل سے روایت کی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲعنہ نے ایک وسیع مقام پر لوگوں کو جمع کر کے فرمایا: ” میں تم سے قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ بتاو¿ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ” یوم غدیر خم “ کے موقع پر میرے بارے میں کیافرمایا تھا ؟ “ اس مجمع سے تیس آدمی کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا : ” ہم گواہی دیتے ہیں کہ ہمارے سامنے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں جس کا بھی مولا ہوں علی رضی اﷲ عنہ بھی اُس کا مولا ہے ۔اے اﷲ ! جو علی رضی اﷲ عنہ سے محبت رکھے اُس سے تُو بھی محبت فرما اور جو علی رضی اﷲ عنہ سے بغض رکھے اُس سے تُو بھی دشمنی فرما ۔ “
مومن اور منافق کی پہچان
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق بعد کے زمانے میں صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم مومن اور منافق کو پہچانتے تھے ۔امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں : امام مسلم بن حجاج اپنی صحیح مسلم میں حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کی روایت پیش کرتے ہیں کہ آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” مجھے اُس ذات کی قسم جس نے دانہ اُگایا اور جان پید اکی مجھ سے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مومن تم سے محبت رکھے گا اور منافق بغض رکھے گا ۔“ امام ترمذی نے حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہ سے روایت کی ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہ فرمایا کرتے تھے : ” ہم منافق کو حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ سے بغض رکھنے کی وجہ سے پہچان لیتے تھے ۔“ امام طبرانی نے اُم المومنین سیدہ اُم سلمہ رضی اﷲ عنہا سے روایت کی ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس نے علی رضی اﷲ عنہ کو محبوب رکھا اُس نے مجھے محبوب رکھا اور جس نے مجھے محبوب رکھا اُس نے اﷲ کو محبوب رکھا ۔جس نے علی رضی اﷲ عنہ سے دشمنی کی گویا اُس نے مجھ سے دشمنی کی اور جس نے مجھ سے دشمنی کی اُس نے اﷲ سے دشمنی کی ۔ “ امام احمد بن حنبل اُم المومنین سیدہ اُم سلمہ رضی اﷲ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے علی رضی اﷲ عنہ کو بُرا کہا اُس نے مجھے بُرا کہا ۔“
حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ
حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ ماہ ِ رمضان المبارک 3 ہجری میں مدینۂ منورہ میں پیدا ہوئے ۔آپ رضی اﷲ عنہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے بہت زیادہ مشابہہ ( ملتے جُلتے ) تھے ۔آپ رضی اﷲ عنہ کا نام ” حسن “ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہی رکھا ہے ۔امام بخاری نے حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے روایت کی ہے کہ ” حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے بہت زیادہ مشابہہ تھے اور سوائے حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کے کسی اور کی صورت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے نہیں ملتی تھی ۔“ امام مفضل بیان کرتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ نے ”حسن “ اور ” حسین “ نام پوشیدہ رکھے تھے اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ دونوں نام اپنے نواسوں کے لئے تجویز فرمائے ۔
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی محبت
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اپنے دونوں نواسوں سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے ۔حضرت براءبن عازب رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو اِس حالت میں دیکھا کہ حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم اپنے کاندھے پر اُٹھائے ہوئے ہیں اور فرما رہے ہیں : ” اے اﷲ ! میں اِس سے محبت کرتا ہوں تُو بھی اِس سے محبت فرما ۔“ ( صحیح بخاری ، صحیح مسلم ) حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرات حسنین ( حضرات حسن اور حسین ) رضی اﷲ عنہم کو اپنے کاندھے پر بٹھایا ہوا تھا اور ارشاد فرمایا : ” یہ دونوں میرے بیٹے یعنی میری بیٹی کے فرزند ہیں ۔اے اﷲ ! میں اِن سے محبت کرتا ہوں تُو بھی اِن سے محبت فرما اور جو اِن سے محبت کرے اُسے بھی تُو اپنا محبوب بنا لے ۔“ ( جامع ترمذی ) حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ کسی شخص نے رسو ل اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے عرض کیا : ” یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ! آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو اپنے اہل بیت میں سے سب سے زیادہ کس سے محبت ہے ؟ “ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حسن اور حسین رضی اﷲ عنہم سے ۔“
اﷲ اِس کے ذریعے مسلمانوں میں صلح کرائے گا
اﷲ تعالیٰ نے پہلے سے ہی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو اُمت پر پیش آنے والے حالات بتا دیئے تھے اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ضرورت کے مطابق اُمت کو بھی بتا دیا کرتے تھے ۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو منبر پر اِس حال میں بیٹھے دیکھا کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی گود میں حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ بیٹھے ہیں ۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کبھی لوگوں کو دیکھتے اور کبھی حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کو دیکھتے اور فرماتے : ” میرا یہ بیٹا ” سید “ ہے اور اﷲ تعالیٰ اِس کے ذریعے مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا ۔“ ( صحیح بخاری ) حضرت عبد اﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” حسن اور حسین رضی اﷲ عنہم میری دنیا کے پھول ہیں ۔“ ( صحیح بخاری ) حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” حسن اور حسین رضی اﷲ عنہم جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں ۔“ ( جامع ترمذی ، المستدرک حاکم )
حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کی سواری
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اپنے دونوں نواسوں سے بہت زیادہ محبت فرماتے تھے ۔ حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اپنے مبارک کاندھوں پر حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کو بٹھائے ہوئے تھے ۔ کسی شخص نے یہ دیکھ کر کہا : ” صاحبزادے ! تمھاری سواری بہت اچھی ہے ۔“ یہ سن کر رسول اﷲ صلی ا ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ تو دیکھو کہ سوار کتنا اچھا ہے ۔“ ( المستدرک ،امام حاکم ) امام محمد بن سعد لکھتے ہیں : حضرت عبد اﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے تمام لوگوں کے مقابلے میں حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ بہت مشابہہ تھے اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اُن سے بہت زیادہ محبت فرماتے تھے ۔میں نے خود دیکھا ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سجدے میں ہوتے تھے اور حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ آپ صلی اﷲعلیہ وسلم کی گردن یا پیٹھ پر آ کر بیٹھ جاتے تھے اور جب تک وہ خود نہیں اُترتے تھے تب تک حضور صلی اﷲ علیہ وسلم اُن کو نہیں اُتارتے تھے ۔میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم رکوع کی حالت میں تھے اور حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ لائے اور حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاہائے مبارک کے اندر سے ہو کر نکل گئے ۔ امام نے حاکم زہیر بن ارقم کے حوالہ سے لکھا ہے کہ ایک روز حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے تو قبیلہ اذد شنوہ کا ایک شخص کھڑا ہوا اور اُس نے کہا : ” میں اِس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کو گود میں اُٹھائے ہوئے فرما رہے تھے : ” مجھ سے محبت کرنے والے کو چاہیئے کہ اِس ( حسن بن علی رضی اﷲ عنہ ) سے بھی محبت کرے اور جو لوگ یہاں موجود ہیں وہ میری یہ بات اُن لوگوں تک پہنچا دیں جو یہاں موجود نہیں ہیں ۔“ اُس شخص نے آگے کہا : ” اگر مجھے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے فرمان کی اطاعت منظور نہیں ہوتی تو میں یہ بات زبان پر نہیں لاتا۔“
صبر اور برد باری
حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ بہت ہی صبردار اور برد بار تھے ۔امام محمد بن سعد عُمر بن اسحاق سے روایت کرتے ہیں کہ جب مروان بن حکم مدینہ¿ منورہ کا حاکم تھا تو وہ منبر پر علی الاعلان حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کو سب و شتم کرتا تھا اور حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ ( کمال صبر و تحمل کے ساتھ ) اُس کی اِن گستاخیوں کو سنا کرتے تھے اور خاموش رہا کرتے تھے ۔ایک دن مروان بن حکم نے ایک شخص کو حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں ایسے ایسے گستاخی کے الفاظ کہلا بھیجا جن کو لکھنے سے قلم قاصر ہے ۔ مروان بن حکم کے فرستادہ کی باتیں سن کر حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ نے جواب دیا : ” جاو¿ ! مروان سے کہہ دینا کہ اﷲ کی قسم ! تمہاری باتیں مجھے یاد رہیں گی ۔حالانکہ تم کو یقین تھا کہ میں تمہاری گالیوں کے جواب تم کو بھی گالیاں دوں گا لیکن میں صبر کرتا ہوں ۔قیامت آنے والی ہے اگر تم سچے ہو تو اﷲ تمہیں جزائے خیر دے اور اگر تم جھوٹے ہوئے تو اﷲ تعالیٰ کا انتقام اور اُس کی گرفت بڑی سخت ہے ۔ “ ( طبقات ابن سعد )
دشمن بھی تعریف کرتے تھے
حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کی تعریف آپ رضی اﷲ عنہ کے دشمن بھی کرتے تھے ۔ امام محمد بن سعد لکھتے ہیں : زریق بن اسود سے روایت ہے کہ مروان بن حکم اور حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کے درمیان گفتگو ہو رہی تھی کہ مروان نے آپ رضی اﷲ عنہ کو گالیاں دینی شروع کردی اور حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ خاموش رہے ۔ اِس دوران میں مروان بن حکم نے اپنے سیدھے ہاتھ سے ناک صاف کی ۔حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” افسوس ! تجھے اتنا بھی نہیں معلوم کہ سیدھا ہاتھ دھونے کے لئے ہے اور بایاں ہاتھ بول و براز کے مقامات کے لئے ہے ۔“ ( تجھے بائیں ہاتھ سے ناک صاف کرنا چاہیئے تھی ) یہ سن کر مروان بن حکم خاموش ہو گیا ۔( طبقات ابن سعد ) امام ابن عساکر نے جویریہ بن اسماءکے حوالہ سے لکھا ہے کہ حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کے جنازے میں جب مروان بن حکم زور زور سے رونے لگا تو حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ نے اُس سے فرمایا : ” اب تُو کیوں رو رہا ہے ؟ جبکہ اُن کی زندگی میں تُونے اُن کے ساتھ کیا کچھ نہیں کیا اور کیا کچھ نہیں کہا ۔“ یہ سن کر مروان نے کہا : ” آپ رضی اﷲ عنہ کو معلوم ہے میں ایسا اُس شخص کے ساتھ کرتا تھا جو اِس پہاڑ سے بھی زیادہ حلیم اور بُرد بار تھا ۔“
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!









