بدھ، 29 مارچ، 2023



خلاصۃ القرآن، پارہ نمبر 20

مرتب : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

رکوع نمبر 1

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں اپنی ربوبیت کی نشانیاں بتائیں کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین بنائے اور بارش برسائی اور باغ اُگائے۔ کیا تمہاری طاقت ہے کہ ایک درخت یا پیڑ یا پودا اگا سکو؟ اور اللہ تعالیٰ نے رہنے کے لئے زمین بنائی اور اُس میں دریا اور ندیاں اور سمندر بنائے۔ اللہ تعالیٰ نے تخلیق کی ابتدا ء فرمائی تو وہ تمہیں مارنے کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا اور اللہ تعالی آسمان اور زمین سے روزی دیتا ہے۔ اب کا فر بتا ئیں کہ جن کی وہ عبادت کرتے ہیں، کیا وہ یہ سب کر سکتے ہیں؟ بالکل نہیں کر سکتے تو پھر اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیوں کرتے ہیں؟ 

رکوع نمبر 2 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں پچھلے رکوع کا سلسلہ کلام جاری رکھا کہ یہ کافر کہتے ہیں کہ جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے تو پھر کیسے زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے ؟ ایسا نہیں ہو سکتا۔ آپ ﷺ ہمیں کہانیاں سنارہے ہیں۔ تو آپ ﷺ ان کا فروں سے کہئے کہ زمین پر چل پھر کر دیکھو اور غور کرو کہ مجرموں کا کیا انجام ہوا؟ اور آپ ﷺ سے پوچھتے ہیں کہ قیامت کب آئے گی ؟ ان سے کہو ! وہ بہت قریب آچکی ہے۔ اس کے بعد بنی اسرائیل کے بارے میں بتایا کہ وہ آپس میں اختلاف میں مبتلا ہو گئے۔ اگر وہ اسلام قبول کر لیں تو اُن کے سارے اختلاف ختم ہو جائیں گے لیکن ان اہل کتاب اور کافروں کے دل مردہ ہیں، نہ وہ سنتے ہیں اور نہ دیکھتے ہیں۔ 

رکوع نمبر 3

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالی اگلے اور پچھلے تمام کافروں کو جمع کرے گا اور پوچھے گا کہ تم نے میری آیتوں کو جھٹلایا تھا تو وہ کوئی جواب نہیں دے سکیں گے اور جب صور پھونکا جائے گا تو پہاڑ ہوا میں اڑیں گے اور تمام لوگ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی کرتے ہوئے حاضر ہوں گے۔ جو ایمان والے نیک اعمال لے کر آئیں گے وہ گھبراہٹ سے امان پائیں گے اور کافر اور مجرم برائیاں لے کر آئیں گے تو وہ اوندھے منہ دوزخ میں ڈالے جائیں گے ۔ آپ ﷺ ان سے کہہ دیں کہ مجھے تو حکم ہوا ہے کہ میں ایک اللہ تعالی کی عبادت کروں اور قرآن پاک کی تلاوت کروں اور میں صاف صاف ڈر سنانے والا ہوں ۔

(سورہ النمل مکمل )

سوره القصص 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 4

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ فرعون نے بنی اسرائیل کو غلام بنا لیا تھا اور لڑکوں کو قتل کر دیتا تھا اور لڑکیوں کو زندہ چھوڑ دیتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کو الہام فرمایا کہ جب تمہیں اندیشہ ہو تو بچے کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دینا ۔ آپ علیہ السلام کو فرعون کی گھر والی نے اٹھا لیا۔ آپ علیہ السلام نے کسی دائی کا دودھ نہیں پیا تو آپ علیہ السلام کی والدہ کو بلایا گیا۔ آپ علیہ السلام نے اپنی والدہ کا دودھ پیا۔ 

رکوع نمبر 5

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر جاری رکھا کہ آپ علیہ السلام جوان ہوئے تو معلوم ہوا کہ آپ علیہ السلام بنی اسرائیل سے ہیں ۔ ایک دن آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کو ایک مصری سے لڑتے دیکھا۔ بنی اسرائیل کے شخص نے آپ علیہ السلام کو مدد کے لئے بلایا۔ آپ علیہ السلام نے مصری کو ایک گھونسہ مارا تو وہ مر گیا۔ یہ دیکھ کر بنی اسرائیل کا شخص بھاگ گیا۔ دوسرے دن پھر وہ شخص ایک مصری سے لڑ رہا تھا۔ اس نے پھر آپ علیہ السلام کو مدد کے لئے بلایا تو آپ علیہ السلام نے اسے ڈانٹا۔ اس شخص نے کہا کہ کل آپ علیہ السلام نے جس طرح اس مصری کو قتل کیا تو کیا آج مجھے قتل کرنے والے ہیں؟ اس طرح خبر فرعون تک پہنچ گئی۔ اُس نے اپنے سپاہی آپ علیہ السلام کی گرفتاری کے لئے بھیجے ۔ آپ علیہ السلام نے مصر چھوڑ دیا۔ 

رکوع نمبر 6: 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں سلسلہ کلام کو آگے بڑھایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام مصر سے باہر آنے کے بعد اللہ تعالی کے علم سے مدین کی طرف چلے۔ مدین کے قریب ایک کنویں پر پہنچے تو دیکھا کہ دو لڑکیاں اپنی بکریوں کو لئے کر ایک طرف کھڑی ہیں۔ آپ علیہ السلام نے پوچھا تم بکریوں کو پانی کیوں نہیں پلاتیں ؟ تو انھوں نے کہا: جب سب چلے جائیں گے تب ہم پانی پلائیں گے ۔ آپ علیہ السلام نے اُن کی بکریوں کو پانی پلا دیا اور وہ دونوں چلی گئیں اور آپ علیہ السلام و ہیں آرام کرنے لگے۔ کچھ دیر بعد ایک لڑکی آئی اور کہا: میرے والد آپ کو بلا رہے ہیں ۔ آپ علیہ السلام لڑکی کے گھر پہنچے تو حضرت شعیب علیہ السلام سے ملاقات ہوئی اور انھوں نے فرمایا: میں اپنی ایک بیٹی کا نکاح آپ سے کر دیتا ہوں اور مہر کے طور پر آپ علیہ السلام آٹھ برس میری بکریاں چرائیں۔ اگر دس برس کر دیں تو آپ علیہ السلام کی مہربانی ہوگی۔ اس طرح دونوں میں اقرار ہو گیا۔ 

رکوع نمبر 7

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بھی سلسلہ کلام جاری رکھا اور بتایا کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مہر کی مقررہ مدت پوری کر لی تو اپنی بیوی اور بچوں کو لے کر مصر کی طرف چلے۔ راستے میں رات میں کوہ طور کے دامن میں قیام کیا تو کوہ طور پر ایک آگ دیکھی ۔ آگ لینے کے لئے وہاں پہنچے تو آواز آئی۔ اے موسیٰ! میں تمہارا اور سارے جہان کا رب اللہ تعالیٰ ہوں، اپنا عصا زمین پر ڈال دو۔ وہ اژدھا بن گیا۔ پھر فرمایا: اسے پکڑلو۔ اسے پکڑ لیا تو واپس عصا بن گیا۔ پھر حکم دیا: اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر نکالو تو وہ نور کی طرح چمکنے لگا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اب جاؤ اور اپنے بھائی ہارون کے ساتھ مل کر فرعون اور اس کی قوم کو اسلام کی دعوت دو ۔ آپ علیہ السلام نے فرعون کو اسلام کی دعوت دی اور معجزے بتائے تو اُس نے کہا یہ جادو ہے اور میرے سوا کوئی خدا نہیں ہے۔ اے ہامان ! میرے لئے گارا پکا اور اونچا محل بنا تا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے خدا کو دیکھوں ، فرعون اور اس کے ساتھیوں نے بہت بڑا ظلم کیا اور اللہ تعالیٰ نے سب کو غرق کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں جہنمیوں کا امام بنایا۔ 

رکوع نمبر 8

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ بنی اسرائیل نے توریت میں ملاوٹ کر دی اور ایک طرح سے اصل توریت کا انکار کر دیا اور اب قرآن پاک کا انکار کر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو جادو ہے اور ہم ان دونوں کے منکر ہیں ۔ پھر اللہ تعالی نے آپ ﷺ سے فرمایا: ان سے کہو کہ تم لوگ اللہ تعالیٰ کے پاس سے ایسی کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں کتابوں ( توریت اور قرآن پاک) سے بہتر ہو، یہ صرف اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں اور وہ بڑا گمراہ ہے جس نے اپنی خواہشات کی پیروی کی۔ 

رکوع نمبر 9

اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں اہل کتاب (یہودیوں اور عیسائیوں ) میں سے جنھوں نے اسلام قبول کیا اور صحابیت کا درجہ پایا، ان کو بشارت دی اور اس کے بعد فرمایا: آپ ﷺ جسے پسند کریں اسے ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کسے ہدایت دینا ہے اور کیسے گمراہ رہنے دینا ہے ۔ اس کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالٰی جب تک کسی بستی میں نبی یا رسول نہیں بھیج دیتا تب تک اس بستی کو ہلاک نہیں کرتا اور دنیا کی زندگی تو دھوکے میں ڈالنے والی ہے اور آخرت میں جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ دنیا سے ہزاروں گنا بہتر ہے تو تم عقل سے کام کیوں نہیں لیتے۔

رکوع نمبر :10

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ قیامت کے دن کا فرجن کی عبادت کرتے تھے وہ ان کافروں سے بیزاری ظاہر کریں گے اور کہیں گے: ہم خود گمراہ تھے اور جب کا فر انھیں پکاریں گے تو وہ کوئی جواب نہیں دیں گے اور جب ان سے پوچھا جائے گا کہ تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا دنیا میں؟ تو وہ کوئی جواب نہیں دے سکیں گے ۔ اس کے بعد فرمایا کہ اگر اللہ تعالی ہمیشہ تم پر رات رکھے تو کون ہے جو تمھیں دن کی روشنی دے سکے ؟ اور اگر اللہ تعالیٰ ہمیشہ دن رکھے تو کون ہے جو تمھیں رات دے سکے؟ تو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت تم پر کی اور تمھارے لئے دن اور رات بنائے تا کہ تم رات میں آرام کرو اور دن میں اللہ تعالی کا فضل اور رزق تلاش کر سکو۔ 

رکوع نمبر :11

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم میں ایک بے انتہا امیرشخص قارون تھا۔ اس نے اپنی دولت پر گھمنڈ کیا اور وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتا تھا۔ اس کی قوم کے لوگوں نے اسے بہت سمجھایا لیکن وہ گھمنڈ اور تکبر پر اڑا رہا ۔ اس کا عیش و آرام دیکھ کر دنیا پرست لوگوں نے رشک کیا لیکن توریت کا علم رکھنے والوں نے کہا کہ آخرت، دنیا کی زندگی سے ہزاروں گنا بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے گھمنڈ اور تکبر کی یہ سزادی کہ اسے زمین میں اور اسکے گھر اور خزانوں کے ساتھ دھنسا دیا تو لوگوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے اور جس پر چاہتا ہے روزی تنگ کر دیتا ہے۔ 

رکوع نمبر 12

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ گھمنڈی اور متکبر لوگوں کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے اور آخرت کی کامیابی انہی کے لئے ہے جو گھمنڈ اور تکبر نہیں کرتے اور نہ فساد ( برائیاں) پھیلاتے ہیں تو آخرت میں جو جتنے نیک اعمال لے کر آئے گا، اتنا اسے اجر ملے گا اور جو جتنی برائی لے کر آئے گا اسے اتنی ہی سزاملے گی۔

 (سورہ القصص مکمل ) 

سوره العنكبوت

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 

رکوع نمبر 13

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا کہ کیا لوگ اس گمان میں ہیں کہ صرف زبان سے کہہ دیں کہ ہم ایمان لائے تو ایمان والے تسلیم کر لئے جائیں گے؟ ہر گز نہیں! اللہ تعالیٰ ہر ایک کے ایمان کو جانچے گا جیسے پہلے کے لوگوں کو آزمایا اور جواللہ تعالیٰ کے لئے لڑتا ہے تو اس کا فائدہ ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا اس میں کوئی فائدہ نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ تو ہر قسم کے فائدے اور نقصان سے بے نیاز ہے اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تاکید کی کہ ہر حال میں والدین کی بات مانو اور ان کی خدمت کرو۔ ہاں جب وہ شرک کرنے کو کہیں تو ان کی بات نہ مانو ۔ اس کے بعد منافقین کے بارے میں بتایا۔ رکوع کے آخر میں بتایا کہ کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔

رکوع نمبر 14

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ دونوں حضرات نے اسلام کی دعوت اپنی قوم کو دی اور انھیں جھٹلا دیا گیا۔ اس کے بعد فرمایا کہ رسول کے ذمہ تو صاف پیغام پہنچا دینا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو بنایا پھر اس کو اس کے عروج تک پہنچایا اور اللہ تعالی کے لئے یہ آسان ہے کہ وہ دوبارہ بنائے اور اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا ہے رحم فرماتا ہے اور جسے چاہتا ہے عذاب دیتا ہے اور کوئی بھی اللہ تعالیٰ کے قابو سے نہیں نکل سکتا

رکوع نمبر 15

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی تو انھوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا جب آپ علیہ السلام کے دلائل کا جواب ان سے نہ بن پڑا تو بولے کہ ابراھیم (علیہ السلام) کو جلا دو اور اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو آگ سے بچا لیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: تم لوگ بتوں کی پوجا کرتے ہو ۔ آخرت میں یہ تمھارے کام نہیں آئیں گے اور تم سب کا ٹھکانا جہنم ہے اور میں اپنے رب (اللہ تعالی ) کے حکم سے ہجرت کر رہا ہوں تو حضرت لوط علیہ السلام نے صرف اسلام قبول کیا اور اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حضرت اسحاق علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام عطا فرمائے اور آپ علیہ السلام کی اولاد بنی اسماعیل اور بنی اسرائیل میں نبوت اور کتاب رکھی اور حضرت لوط علیہ السلام نے اپنی قوم کو سمجھایا لیکن قوم نہیں مانی اور کہا کہ اگرتم سچے ہو تو ہم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب لے آؤ۔ 

رکوع نمبر 16

اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ جب فرشتے حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کو عذاب دینے جارہے تھے تو راستے میں حضرت ابراہیم علیہ کے گھر کے پاس رک کر آپ علیہ السلام کو حضرت اسحاق علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام کی بشارت دی۔ اس کے بعد حضرت لوط علیہ السلام کے گھر نوجوان لڑکوں کی شکل میں پہنچے اور حضرت لوط علیہ السلام اور ان کی بیٹیوں کو بچالیا اور پوری قوم کو بلاک کر ڈالا۔ اس میں عقل والوں کے لئے نشانی ہے اور مدین والوں کو حضرت شعیب علیہ السلام نے اسلام کی دعوت دی تو انھوں نے آپ علیہ السلام کو جھٹلایا تو اللہ تعالی نے انھیں تباہ کر دیا اور عاد اور ثمود کا بھی یہی حال ہوا اور شیطان نے ان کے برے اعمال کو بھلا بنا کر پیش کیا تھا اور قارون اور ہامان اور فرعون کا بھی یہی حال ہوا۔ جب کہ حضرت موسی علیہ السلام ان کے پاس روشن نشانیاں لے کر آئے تھے تو انھوں نے گھمنڈ اور تکبر کیا تو اللہ تعالی نے ہر ایک کو اس کے گناہ پر پکڑا کسی پر پتھراؤ کیا، کسی پر چنگھاڑ آئی، کسی کو زمین میں دھنسا دیا اور کسی کو غرق کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ خود ان لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے کو معبود بنالئے تو وہ مکڑی کی طرح ہیں ۔ جو جالے بناتی ہے اور وہ بہت کمزور ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی عزت والا اور حکمت والا ہے۔

 (پارہ نمبر 20 مکمل) 

خلاصۃ القرآن پارہ 19 Khulasa e Quran


 19خلاصۃ القرآن، پارہ نمبر

مرتب : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

رکوع نمبر 1

اللہ تعالی نے اس رکوع میں بھی کافروں کا انجام بتایا اور مومنوں کو بشارت دی کہ جب آسمان پھٹ جائے گا اور فرشتے اتارے جائیں گے جو انسانوں کو گھیرے میں لے لیں گے ۔ اُس دن ہر کوئی اللہ تعالیٰ کی بادشاہت دیکھے گا اور اسے اپنا بادشاہ مانے گا۔ تو اس دن مؤمنین کا اچھا ٹھکانہ ہوگا۔ حساب کے بعد اچھی آرام کی جگہ جنت ملے گی اور اُس دن صدمے اور سوچ و بچار میں کافر اپنے ناخنوں اور انگلیوں کے ساتھ ہاتھ تک چبا ڈالیں گے اور کہیں گے ہائے ہماری خرابی ! ہم نے شیطان کو دوست بنایا اور اس کے بہکاوے میں آئے تو شیطان انسان کو بے یار و مددگار چھوڑ دیتا ہے۔ پھر کافروں کو جہنم میں منہ کے بل دھکیلا جائے گا۔

رکوع نمبر 2

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں فرعون اور اس کی قوم، قوم نوح قوم عاد، قوم ثمود اور کنوئیں والی قوم کے بارے میں بتایا کہ ان لوگوں نے اللہ تعالٰی کے نبیوں اور رسولوں کو جھٹلایا اور اُن کا مذاق اڑایا اور کفر اور شرک پر اڑے رہے تو اللہ تعالی نے انھیں تباہ و ہلاک کر کے رکھ دیا اور یہ کافر آپ ﷺ کی باتوں کو ماننے کے بجائے آپ ﷺ کا مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر ہم صبر نہ کرتے تو رسول اللہ ﷺ ہمیں گمراہ کر کے ہمارے خداؤں سے دور کر دیتے ۔ تو قیامت کے دن کافردیکھیں گے کہ کون گمراہ ہے؟ یہ کا فر تو آپ ﷺ کی باتوں کو سمجھتے ہی نہیں ہیں اور یہ جانوروں جیسے ہیں بلکہ جانوروں سے بھی زیادہ نا سمجھ اور گمراہ ہیں۔ 

رکوع نمبر 3 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ سورج کو تمہارے فائدے کے لئے بنایا اور رات کو اس لئے بنایا تا کہ تم آرام کرو اور دن کواس لئے بنایا تاکہ اس میں اللہ تعالی کا فضل اور اپنے لئے رزق تلاش کرو اور اللہ تعالی بارش برساتا ہے تاکہ اس صاف اور پاک پانی سے انسان اور دوسرے جاندار فائدہ اٹھا ئیں اور اللہ تعالی نے دو سمندر ساتھ ساتھ بنائے کہ ایک کا پانی میٹھا ہے اور دوسرے کا کھارا ۔ دونوں ملے ہوئے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اُن کے درمیان ایسی آڑ بنائی ہے جو انسانوں کو دکھائی نہیں دیتی اور انسان کو بنایا اور اس کے رشتہ دار اور سرال بنائی۔ اس کے باوجود انسان کفر کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے شریک بناتا ہے اور اللہ تعالی نے زمین اور آسمان اور جو کچھ دونوں کے درمیان ہے یہ سب چھ دن میں بنائے اور عرش پر اپنی شان کے مطابق جلوہ افروز ہوا۔ اتنی مہربانیوں کے باوجود کافر اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرنے سے بد کتے ہیں۔ 

رکوع نمبر4 

اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان میں بُرج بنائے اور ان میں چراغ ( سورج ) رکھا اور چاند بنایا اور دن اور رات بنائے۔ اس کے بعد مؤمنین کی خصوصیات بیان فرمائیں کہ زمین پر آہستہ آہستہ چلتے ہیں اور جاہلوں سے بحث کرنے کی بجائے سلام کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں اور رات میں نماز پڑھتے ہیں اور جہنم کے عذاب سے پناہ مانگتے ہیں اور نہ کم خرچ کرتے ہیں نہ زیادہ بلکہ اعتدال سے خرچ کرتے ہیں اور اللہ تعالی کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے اور ناحق قتل نہیں کرتے اور بدکاری نہیں کرتے اور جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور بے ہودہ باتوں سے پر ہیز کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اللہ تعالی جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے گا۔ وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے اور وہاں اُن کی عزت افزائی ہوگی ۔

 (سورہ الفرقان مکمل) 

سوره الشعراء 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 5

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ قرآن پاک ایک روشن کتاب ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی کہ اگر یہ کافر ایمان نہیں لاتے تو اس میں آپ ﷺ کا کوئی قصور نہیں ہے ۔ آپ ﷺ تو اپنا کام بہت اچھے طریقہ سے اور خوبی کے ساتھ کر رہے ہیں اور ان کافروں کے غم میں اپنی جان کو تکلیف میں نہ ڈالیں۔ اگر یہ ایمان نہیں لاتے تو ان کا قصور ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے منہ پھیر لیتے ہیں اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ 

رکوع نمبر 6

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کوہ طور پر نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا۔ ساتھ ہی حضرت ہارون علیہ السلام کو بھی نبوت سے سرفراز فرمایا ۔ فرعون کو اسلام کی دعوت دینے کا حکم دیا۔ آپ علیہ السلام نے فرعون کو اسلام کی دعوت دی تو اُس نے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور خود خدائی کا دعویدار بن گیا ۔ آپ علیہ السلام نے اُسے اللہ تعالی کی عطا کی ہوئی نشانیاں بتائیں۔ 

رکوع نمبر 7

اللہ تعالی نے اس رکوع میں بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذکر کو جاری رکھا کہ فرعون نے اللہ تعالی کی نشانیوں کو دیکھنے کے بعد آپ علیہ السلام کو جادوگر سمجھا اور اپنے جادوگروں کو آپ علیہ السلام سے مقابلہ کے لئے بلایا ۔ مقابلہ میں تمام جادوگر آپ علیہ السلام سے شکست کھا گئے اور اللہ تعالیٰ کی نشانی کو پہچان لیا تو تمام جادوگروں نے اسلام قبول کر لیا۔ فرعون نے جادوگروں سے کہا: تم لوگ میری اجازت کے بغیر موسیٰ (علیہ السلام ) کے خدا پر ایمان لے آئے ، میں تمہیں دردناک سزا دوں گا۔ جادوگر بولے: ہم تو اللہ تعالی پر ایمان لے آئے ہیں، اب تجھے جو بھی کرتا ہے کر لے۔ 

رکوع نمبر 8

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے نکل گئے تو فرعون نے اپنے لشکر کے ساتھ اُن کا پیچھا کیا۔ اللہ تعالی کے حکم سے آپ علیہ السلام نے دریا پر عصا مارا تو راستہ بن گیا۔ بنی اسرائیل دریا پار کر گئے ۔ فرعون اور اس کا لشکر پیچھا کرتا ہوا دریا میں اتر گیا تو اللہ تعالی نے اُن سب کو غرق کر دیا۔ اس میں ضرور نشانی ہے اور ان میں سے اکثر کافر تھے۔ 

رکوع نمبر 9 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر فرمایا۔ جب انھوں نے اپنے باپ آذر کو اسلام کی دعوت دی تو اس نے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: میں ان بتوں سے بیزار ہوں اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہوں جو مجھے بیماری سے شفا دیتا ہے اور جب قیامت آئے گی تو ابلیس اور اس کے بہکاوے میں آنے والے سب کے سب جہنم میں ہوں گے۔ تو اس میں نشانی ہے اور اُن سے اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے۔ اللہ تعالیٰ تو عزت والا اور مہربان ہے۔ 

رکوع نمبر 10

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت نوح علیہ السلام کا ذکر فرمایا کہ جب آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی تو انھوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا اور کہا: تمہارے ساتھ تو غریب اور ایسے لوگ ہیں جن کی ہماری نظروں میں کوئی وقعت نہیں ہے اور اگر تم اسلام کی دعوت سے باز نہیں آؤ گے تو ہم تمہیں پتھر مار مار کر ہلاک کر دیں گے ۔ اللہ تعالی نے آپ علیہ السلام اور مسلمانوں کو بچالیا اور باقی سب کو غرق کر دیا۔ اس میں ایک نشانی ہے اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے اور اللہ تعالیٰ عزت والا اور مہربان ہے۔

رکوع نمبر :11

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت ہود علیہ السلام کا ذکر فرمایا کہ آپ علیہ السلام نے قوم عاد کو اسلام کی دعوت دی اور فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہیں بہت طاقت ور بنایا۔ تم اپنی طاقت کا غلط استعمال نہ کرو ۔ اس نے تمہیں چشموں اور پھلوں کا بہترین رزق عطا فرمایا ہے، اس لئے تم صرف اللہ تعالیٰ کی ہی عبادت کرو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آ

جائے لیکن قوم عاد نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کی مانگ کی تو اللہ تعالیٰ نے انھیں ہلاک کر دیا۔ اس میں (عبرت کی) نشانی ہے اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے اور اللہ تعالیٰ تو عزت والا اور مہربان ہے۔ 

رکوع نمبر 12

اللہ تعالی نے اس رکوع میں حضرت صالح علیہ السلام کا ذکر فر مایا کہ جب حضرت صالح علیہ السلام نے قوم ثمود کو اسلام کی دعوت دی تو انھوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا اور اللہ تعالیٰ کی نشانی کے طور پر حاملہ اونٹی کی مانگ کی۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: اس اونٹنی کو نقصان نہ پہنچاتا ورنہ اللہ تعالیٰ کا عذاب آجائے گا تو انھوں نے اونٹنی کوقتل کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اُن سب کو ہلاک کر دیا۔ اس میں نشانی ہے اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے اور اللہ تعالٰی عزت والا اور مہربان ہے۔ 

رکوع نمبر 13

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت لوط علیہ السلام کا ذکرفرمایا کہ جب آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کو بُرے عمل سے روکا تو وہ نہیں مانے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ہلاک کر دیا۔ اس میں نشانی ہے۔ 

رکوع نمبر :14

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت شعیب علیہ السلام کا ذکر فرمایا کہ آپ علیہ السلام نے بن والوں کو اسلام کی دعوت دی تو انھوں نے جھٹلا دیا اور اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ آپ علیہ السلام پر جادو کیا گیا ہے اور اگر آپ علیہ السلام سچے ہیں تو ہم پر آسمان سے کوئی ٹکڑا گرا دیں تو اُن پر سائبان کے دن کا عذاب آیا اور وہ سب ہلاک ہو گئے ۔ اس میں نشانی ہے اور اُن میں اکثر ایمان والے نہیں تھے۔ اللہ تعالیٰ عزت والا مہربان ہے۔

رکوع نمبر 15

اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ یہ قرآن پاک اللہ تعالیٰ کی طرف سے جبرئیل علیہ السلام لے کر آپ ﷺ کی طرف آئے اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ ﷺ پر نازل ہوا۔ شیطان (جنات) اس قابل ہیں ہی نہیں کہ وہ قرآن پاک جیسی عظیم اور حکمت والی چیز لاتے اور نہ وہ ایسا کر سکتے ہیں بلکہ وہ تو ہر سننے کی جگہ ( آسمانوں) سے دور کر دیئے گئے ہیں اور شیطان تو ہر بڑے بہتان لگانے والے گنہگار پر اترتے ہیں اور شیطان اپنی سنی ہوئی باتیں انھیں بتاتے ہیں اور ان میں اکثر جھوٹے ہیں اور شاعروں کی پیروی گمراہ لوگ کرتے ہیں۔

 (سورہ الشعراء مکمل)

سوره النمل

رکوع نمبر 16

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں مؤمنین کی خصوصیات بتائیں۔ اس کے بعد کافروں کے بارے میں بتایا کہ عذاب اور خسارہ انہی کے لئے ہے۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو کو وطور پر نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا اور معجزے عطا فرمائے اور حکم دیا کہ فرعون اور اس کی قوم کو اسلام کی دعوت دو۔ جب آپ علیہ السلام نے فرعون کو اسلام کی دعوت دی تو اس نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا پھر آپ علیہ السلام نے اپنے معجزے دکھائے تو فرعون نے کہا یہ تو جادو ہےاور انکارکر دیا تو فسادیوں نے ظلم اور تکبر کیا، ان کا بہت برا انجام ہوا۔ 

رکوع نمبر 17 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ اللہ تعالی نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو حضرت داؤدعلیہ السلام کا وارث بنایا اور پرندوں کی بولی سکھائی۔ انسانوں اور جنات کا حاکم بنایا۔ ایک دن آپ علیہ السلام اپنے لشکر کے ساتھ جارہے تھے تو انھوں نے چیونٹی کی آواز سنی جو کہہ رہی تھی کہ تمام چیونٹیاں گھروں میں داخل ہو جاؤ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا لشکر تمہیں کچل ڈالے۔ یہ سن کر آپ علیہ السلام نے اللہ تعالی کا شکر ادا کیا اور جب تمام پرندوں کو دیکھا تو ہد ہد غائب تھا۔ جب وہ آیا تو اس نے بتایا کہ میں شہر سبا سے آیا ہوں ۔ وہاں ایک عورت حکمرانی کر رہی ہے اور وہ لوگ سورج کو سجدہ کرتے ہیں ۔ شیطان نے اُن کے اعمال اُن کی نگاہ میں اچھے کر دیئے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کوسجدہ نہیں کرتے تو آپ علیہ السلام نے خط لکھ کر اُسے دیا اور فرمایا : یہ لے جا کر وہاں ڈال دے اور دیکھ وہ کیا کرتے ہیں تو حکمراں عورت نے اپنے درباریوں سے کہا۔ میرے پاس ایک عزت والا خط حضرت سلیمان علیہ السلام کی طرف سے آیا ہے، لکھا ہے : بسم اللہ الرحمن الرحیم ، تم میرے مقابلہ میں زور آزمائی نہ کرو اور مسلمان ہونے کیلئے میری خدمت میں حاضر ہو جاؤ۔ 

رکوع نمبر 18

اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ اس حکمراں عورت نے اپنے درباریوں سے رائے مانگی تو انھوں نے کہا: ہم بھی کسی سے کم نہیں ہیں ۔ باقی تمہاری مرضی ، تو اس حکمراں عورت نے کہا: جب بادشاہ کسی علاقہ پر قبضہ کرتے ہیں تو اس علاقہ والوں کو ذلیل ہونا پڑتا ہے۔ میں حضرت سلیمان علیہ السلام کو قیمتی تحفے بھیجتی ہوں اور دیکھتے ہیں کہ وہ کیا کرتے ہیں۔ تو جب تمام تحفے لے کر ایلچی آیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: ہمیں لالچ دیتے ہو؟ واپس جاؤ ؟ ہم وہ لشکر لے کر حملہ کریں گے کہ اُس کا مقابلہ کرنے کی تم میں طاقت نہیں ہو گی۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام نے فرمایا: اے درباریو! کون ہے جو ملکہ کے آنے سے پہلے اس کا تخت لے آئے؟ تو ایک خبیث جن بولا: آپ علیہ اسلام کا دربارختم ہونے سے پہلے میں وہ تخت لے آؤں گا تو ایک شخص جسے کتاب کا علم تھا۔ اس نے کہا: آپ علیہ السلام کے پلک جھپکانے سے پہلے حاضر کر دوں گا تو آپ علیہ السلام نے وہ تخت اپنے پاس رکھا دیکھا تو فرمایا: یہ میرے رب کا فضل ہے اور تخت میں تھوڑی سی تبدیلی کروا دی۔ جب ملکہ آئی تو اسے تخت دکھایا اور پوچھا تمہارا تخت کیسا ہے ؟ تو اُس نے کہا: بالکل ایسا ہی ہے۔ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: یہ وہی تخت ہے اور یہ اللہ تعالی کے فضل سے میرے پاس آیا تو ملکہ نے اسلام قبول کر لیا۔

رکوع نمبر 19

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت صالح علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ السلام کا ذکر فرمایا کہ انہوں نے اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی لیکن اُن کی قوم نے اُن کو جھٹلایا اور اللہ کا حکم مانے سے انکار کر دیا اور گنا ہوں پر اڑے اور اُن سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کی مانگ کی تو اللہ تعالی نے دونوں قوموں پر عذاب بھیج کر انہیں ہلاک کر دیا اور دنیا والوں کیلئے نشانی بنا دیا۔ 

(پارہ نمبر 19 مکمل) 

منگل، 28 مارچ، 2023

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 18 Khulasa e Quran


خلاصۃ القرآن، پاره نمبر 18 

مرتب شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سوره المؤمنون 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 1: 

اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں مؤمنوں کی چند خوبیاں بتائیں کہ وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں، نماز میں اللہ تعالی کے سامنے گڑگڑاتے ہیں اور بے ہودہ باتوں پر دھیان نہیں دیتے اور زکوۃ ادا کرتے ہیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ امانتوں کو ادا کرتے ہیں، جو وعدہ اور عہد کرتے ہیں اسے پورا کرتے ہیں۔ اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں ۔ اس کے بعد بتایا کہ اللہ تعالی پانی کی بوند کوخون کی پھٹکی بناتا ہے۔ پھر اس کو گوشت کی بوٹی بناتا ہے۔ پھر گوشت کی بوٹی کو ہڈیاں بناتا ہے اور پھر ہڈیوں پر گوشت اور کھال چڑھاتا ہے اور اسے خوب صورت انسان کی شکل میں دنیا میں لاتا ہے اور اللہ تعالی سب سے بہتر بنانے والا ہے۔ اس کے بعد زمین اور اس کی نعمتوں کا ذکر فر مایا اور جانوروں کے پیٹ سے دودھ نکالتا ہے۔ یہ سب اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لئے کیا۔ 

رکوع نمبر 2: 

اللہ تعالی نے اس رکوع میں حضرت نوح علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی تو قوم نے اسلام قبول کرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ تم تو ہماری طرح ایک انسان ہو اور بس ۔ اور ہمیں دیوانے لگتے ہو، ہم تمہارے صحت مند ہونے کا انتظار کریں گے ۔ انہوں نے آپ علیہ السلام کا مذاق اڑایا تو آپ علیہ السلام نے دعا کی کہ اے اللہ! میری مددفرما! تو اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کوکشتی بنانے کا حکم دیا۔ پھر جب طوفان کا وقت آیا تو اللہ تعالٰی کے حکم سے آپ علیہ السلام ایمان والوں کے ساتھ کشتی پر سوار ہو گئے اور اللہ تعالیٰ نے کشتی والوں کو محفوظ رکھا اور تمام کافروں کو غرق کر دیا۔,

رکوع نمبر 3 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بھی ایک رسول اور آپ علیہ السلام کی قوم کے بارے میں بتایا کہ جب رسول نے انھیں اسلام کی دعوت دی تو انھوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ تم تو ہمارے جیسے آدمی ہو ، ہماری طرح کھاتے اور پیتے ہو۔ اگر ہم تمہاری بات مانیں گے تو نقصان میں رہیں گے اور ہم مرکر مٹی میں مل جائیں گے اور مرنے کے بعد آخرت کی کوئی زندگی نہیں ہے۔ جو کچھ ہے اسی دنیا میں ہے اور تم جس قیامت کی بارے میں بتارہے ہو وہ کب آئے گی؟ تو رسول نے دعا کی کہ اے اللہ! ان لوگوں نے مجھے جھٹلایا تو میری مدد کر ۔ تو اللہ تعالیٰ نے ایک چنگھاڑ بھیجی اور سب کو کوڑا بنا کر رکھ دیا۔ اس کے بعد کئی قوموں کا حال بتایا۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کا ذکر کیا اور فرعون اور اس کی قوم کا انجام بتایا۔ 

رکوع نمبر 4

پچھلے رکوع کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کا ذکر فرمایا تھا۔ اس رکوع میں اُن کا ذکر جاری رکھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی والدہ کو نشانی بنایا اور ہر نبی اور رسول اور امتوں کا ایک ہی دین ہے اور وہ اسلام ہے لیکن بہت سی امتوں نے اس میں تبدیلی کر لی اور ٹکڑوں میں بٹ گئے اور ہر گروہ اپنے آپ کو حق پر سمجھتا ہے تو انھیں اُن کے حال پر چھوڑ دو اور ایمان والے صرف ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں اور نیکیوں میں جلدی کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کسی پر اُس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ اس قرآن پاک میں حق ہے اور کا فر غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور حق کو چھوڑ کر بیٹھے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کو نہیں پہچانا جو حق لے کر آئے اور حق کا فروں کو بُرا لگتا ہے۔

رکوع نمبر 5 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بنایا اور اسے کان اور آنکھیں اور دل عطا فرمائے، مگر کا فرحق کو نہیں مانتے اور اللہ تعالیٰ نے ہی زمین کو پھیلایا، وہی زندہ کرتا ہے پھر مارتا ہے اور پھر زندہ کرے گا۔ اس کے بعد آپ ﷺ سے فرمایا: ان سے پوچھو! زمین کا مالک کون ہے؟ تو کہیں گے: اللہ تعالیٰ ۔ تو ان سے کہو ، پھر کیوں نہیں سوچتے ؟ ان سے پوچھو! ساتوں آسمان کا ، عرش عظیم کا کون مالک ہے؟ تو کہیں گے: اللہ تعالیٰ۔ تو ان سے کہو ، پھر کیوں نہیں ڈرتے ؟ ان سے پوچھو، کون ہے جس کے قابو میں ہر شئے ہے اور وہی پناہ دیتا ہے؟ تو کہیں گے: اللہ تعالیٰ ۔ تو ان سے کہو کس فریب میں پڑے ہوئے ہو؟ اور اللہ تعالیٰ کی نہ کوئی اولاد ہے اور نہ کوئی دوسرا خدا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہر خدا اپنی اپنی مخلوق لے جاتا ۔ 

رکوع نمبر 6: 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا کہ سب سے اچھی بھلائی سے برائی کو دفع کرو۔ جب ان کافروں میں سے کسی کی موت آتی ہے تو کہتا ہے۔ اے میرے رب ! مجھے دنیا میں واپس بھیج دیں ۔ شاید میں اب نیکی کما کر آؤں ۔ تو جب صور پھونکا جائے گا اور سب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جمع ہوں گے تو کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا اور کافر ہمیشہ جہنم میں رہیں گے ۔ وہ کہیں گے : اے ہمارے رب! ہمیں ایک موقع اور دے۔ تو اُن سے کہا جائے گا: تم دنیا میں ایمان والوں کا مذاق اڑاتے تھے اور اللہ تعالیٰ کو بھول گئے تھے تو آج ایمان والے کامیاب ہیں اور جب اُن سے پوچھا جائے گا کہ دنیا میں کتنا وقت رہے؟ تو کہیں گے: ایک دن یا دن کا ایک حصہ رہے۔ 

(سورہ المؤمنون مکمل) 

سوره النور 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 7 اور 8 

اللہ تعالیٰ نے ان دو رکوع میں نکاح اور زنا کے احکامات بیان فرمائے اور اُم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا پر لگے الزام کو جھوٹا ثابت کیا اور بتایا کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پاک وصاف اور بے قصور ہیں اور منافقوں نے افواہیں پھیلا کر جھوٹا الزام لگا کر بد نام کرنا چاہا ہے اور فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور رحمت آپ ﷺ پر ہے

رکوع نمبر 9 

اللہ تعالی نے اس رکوع میں مسلمانوں سے فرمایا کہ شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو کیوں کہ وہ صرف اور صرف بے حیائی اور بُری بات ہی سکھلائے گا۔ اس کے بعد فرمایا کہ معاف کر دیا کرو اور نظر انداز کر دیا کرو۔ کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ اللہ تعالی تمہاری بخشش کر دے اور جو پاک و صاف اور بے قصور ایمان والوں پر جھوٹ الزام لگاتے ہیں ۔ ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت ہے اور قیامت کے دن بڑا عذاب ہے۔ اُس دن ان کی زبانیں ، ہاتھ اور پاؤں اس بات کی گواہی دیں گے جو یہ کرتے رہے۔ 

رکوع نمبر 10

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں مسلمانوں سے فرمایا کہ بغیر اجازت لئے دوسروں کے گھروں میں نہ جاؤ اور پہلے سلام کرو اور مسلمان مرد اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور مسلمان عورتیں بھی اپنی نگا ہیں نیچی رکھیں اور اپنی عزت کی حفاظت کریں اور اپنا سنگھار حتی الامکان چھپانے کی کوشش کریں۔ اس کے بعد عورت کے پردے کے بارے میں احکامات دیئے اور فرمایا کہ پاؤں زور سے زمین پر نہ مارو کہ زیور کی آواز پیدا ہو۔ اس کے بعد نکاح کے بارے میں احکامات دیئے۔ 

رکوع نمبر 11

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں اپنے نور کی مثال بیان فرمائی ۔ اس کے بعد مؤمنین کا ذکر فرمایا جو اسلام کی روشنی میں چلتے ہیں کہ صبح وشام اللہ تعالی کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور کسی سوداگری یا کاروبار یا خرید و فروخت کی وجہ سے اللہ تعالی کی یاد سے غافل نہیں ہوتے اور نماز قائم کرتے ہیں اور زکوۃ دیتے ہیں اور قیامت کے دن سے ڈرتے رہتے ہیں اور کافر کے بارے میں بتایا کہ کفر کے اندھیروں میں بھٹکتے پھرتے ہیں اور انہیں کوئی راستہ دکھائی نہیں پڑتا یہاں تک کہ قیامت کے دن تک پہنچ جائیں گے اور تب انھیں معلوم ہوگا کہ وہ دھو کے میں پڑے ہوئے تھے۔

رکوع نمبر 12

اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو اس رکوع میں فرمایا کہ کیا تم غور نہیں کرتے کہ زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے سب اللہ تعالی کی تسبیح کر رہے ہیں اور ہر جاندار کواپنی تسبیح اور نماز معلوم ہے اور زمین و آسمان کی سلطنت اللہ تعالیٰ کی ہے اور پھر بادل اور بارش کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد بتایا کہ اللہ تعالی نے کسی جاندار کو زمین پر پیٹ کے بل چلنے والا بنایا، کسی کو دو پیر پر چلنے والا اور کس کو چار پیروں والا بنایا تو اللہ جو چاہے کر سکتا ہے۔ اس کے بعد منافقین کے بارے میں بتایا کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اور جب انھیں فیصلے کے لئے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف بلایا جاتا ہے تو منہ پھیر لیتے ہیں۔ ان کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے اور یہ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔ 

رکوع نمبر 13

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بھی منافقوں کے راز کوکھولا ہے۔ رکوع کے شروع میں مسلمانوں کے بارے میں بتایا کہ مسلمانوں کو جب اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کی طرف فیصلہ کے لئے بلایا جاتا ہے تو وہ خوشی سے آتے ہیں اور سچے دل سے اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کے فیصلے کو قبول کرتے ہیں اور یہی کامیاب لوگ ہیں اور منافق قسمیں کھاتے ہیں کہ ہم ضرور اللہ تعالیٰ کے لئے لڑنے کو نکلیں گے لیکن دل سے جانا نہیں چاہتے ۔ آپ اُن سے کہیں کہ تم قسمیں نہ کھاؤ۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو اور آپ کے ذمہ تو صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا پیغام صاف صاف لوگوں تک پہنچا دیں اور جو ایمان لائے اور نیک عمل کریں گے تو اللہ تعالی ضرور انھیں زمین کی خلافت عطا فرمائے گا اور کا فر اللہ تعالیٰ کے قابو سے نکل نہیں سکتے اور اُن کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ 

رکوع نمبر 14

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں مسلمانوں کو احکامات دیئے کہ کس وقت کون بغیر اجازت کے گھر میں آسکتا ہے اور کس کو اجازت لے کر آنا چاہئے اور کن عورتوں کو کس طرح پردہ کرنا چاہیے اور کس کس کے گھر کھانا کھا سکتے ہیں ۔ رکوع کے آخر میں فرمایا کہ جب کسی کے گھر میں جاؤ تو پہلے سلام کر لو اور یہ آپس میں ملنے کے وقت بہت پاکیزہ اور مبارک دعا ہے۔ 

رکوع نمبر 15

اللہ تعالی نے رکوع میں مسلمانوں کو رسول اللہ ﷺ کا ادب کرنا سکھایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی مجلس سے بغیر اجازت نہ چلے جایا کرو بلکہ آپ ﷺ سے اجازت لے کر جایا کرو۔ اس کے بعد فرمایا کہ جس طرح آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو تو اس طرح رسول اللہ ﷺ کو نہ پکارو بلکہ انتہائی ادب سے اور بہترین القاب سے مخاطب کیا کرو۔ 

(سورہ نور مکمل)

سوره الفرقان 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 16 

اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ قرآن پاک اپنے بندہ و رسول ﷺ پر نازل فرمایا ہے اور تمام جہان والوں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانے کا حکم دیا ہے اور زمین اور آسمانوں پر اللہ تعالی ہی کی بادشاہت ہے اور اس کی کوئی اولاد نہیں اور نہ ہی کائنات بنانے میں اس کا کوئی ساجھی شریک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اکیلے ہر چیز کی تخلیق کی اور ٹھیک اندازے پر رکھا اور لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا ایسوں کو معبود بناتے ہیں جو نہ تو انھیں فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی نقصان ۔ وہ تو خود اپنے بھلے اور برے کے مالک نہیں ہیں اور نہ اُن کو جینے کا کچھ اختیار ہے اور نہ مرنے کا اور کا فر لوگ رسول اللہ ﷺ پر الزام لگاتے ہیں کہ (نعوذ باللہ ) یہ قرآن پاک خود بنا لیا ہے یا دوسرے لوگوں نے اُن کی مدد کی ہے۔ تو یہ بہت بڑا جھوٹ بولتے ہیں اور کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہماری طرح کھاتے پیتے اور بازاروں میں چلتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم اُن کی پیروی نہیں کریں گے (نعوذ باللہ ) ان پر جادو ہوا ہے۔ یہ سب کہہ کر وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کر رہے ہیں ۔ 

رکوع نمبر 17 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں کافروں کا انجام بتایا کہ اُن کے لئے اللہ تعالیٰ نے جہنم تیار کر رکھی ہے۔ تو جہنم کی آگ کو دور سے دیکھیں گے کہ جوش مار رہی اور چنگھاڑ رہی ہے۔ اس کے بعد مؤمنوں کو جنت کی بشارت دی اور وہ جنت میں عیش و آرام میں رہیں گے ۔ اس کے بعد بتایا کہ کافرجن کو معبود مانتے ہیں اُن سے اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ تم نے ان کا فروں کو گمراہ کر دیا تو وہ کہیں گے کہ ہم نے تو ایسا کبھی نہیں کہا۔ اے اللہ ! تو نے ان کافروں کو دنیا کا عیش و آرام دیا تو یہ خود تجھے بھول گئے اور شرک میں مبتلا ہو گئے ۔ تو کافر جن کو معبود مانتے ہیں وہ خود انکار کر دیں گے۔ تو ہم کافروں کو زبردست عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔ 

(پارہ نمبر 18 مکمل) 

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 17 Khulasa e Quran

 

خلاصۃ القرآن، پارہ نمبر 17

سوره الانبياء 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 1

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ حساب کا وقت قریب آگیا ہے اور لوگ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور جب کا فروں کے پاس کوئی نصیحت آتی ہے تو کا مذاق اڑاتے ہیں اور اُن کے دل دنیا میں مگن ہیں اور یہ بدبخت رسول اللہ ﷺ کے بارے میں کہتے ہیں کہ (نعوذ باللہ ) آپ ﷺ جادوگر ہیں ۔ شاعر ہیں اور من گھڑت باتیں کرتے ہیں اور ہماری طرح آدمی ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے جب بھی کسی بستی میں اپنا رسول بھیجا تو آدمی ہی کو بھیجا۔ 

رکوع نمبر 2: 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے بہت سی ایسی بستیوں کو تباہ کر دیا جو اللہ تعالیٰ کا انکار کرتی ہیں ۔ جب اُن پر ہمارا عذاب آیا تو وہ اس سے بھاگنے لگے۔ اُن سے کہا گیا کہ بھا گو نہیں بلکہ اپنے دنیاوی عیش و آرام میں لوٹ جاؤ تو انھوں نے کہا: ہائے ہماری خرابی! بے شک ہم ظالم تھے، تو وہ یہی بار بار کہتے رہے اور انھیں تباہ کر دیا گیا۔ اس کے بعد بتایا کہ زمین اور آسمان میں جو کچھ ہے ، سب اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے ہیں اور اس میں ذرا بھی سستی نہیں کرتے اور اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ سے پہلے جتنے رسول بھیجے وہ سب اسلام کی دعوت دیتے تھے۔ 

رکوع نمبر 3: 

اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ کافر یہ کیوں غور نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان بنائے اور ہر جاندار چیز کو بنایا اور زمین میں (پہاڑوں کے ) لنگر ڈالے اور راستے بنائے اور آسمان کو چھت بنایا اور رات اور دن بنائے اور سورج اور چاند بنائے کہ وہ اپنے اپنے مدار پر گردش کر رہے ہیں تو اس دنیا میں ہمیشہ کوئی نہیں رہے گا اور ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ کا فرآپ ﷺ کا مذاق اڑاتے ہیں اور آدمی بہت جلد باز ہے اور قیامت کب آئے گی ؟ یہ پوچھتے ہیں تو جب وہ آئے گی تو اسے کوئی روک نہیں سکتا۔ وہ اچانک آئے گی۔ تو جن لوگوں نے رسولوں کا مذاق اڑایا ہوگا تو قیامت میں وہ خود مذاق بن جائیں گے۔

رکوع نمبر 4: 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ ان کا فروں سے کہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کون ہے جو ہر وقت تمہاری نگہبانی کرتا ہے؟ کیا اُن کے کچھ خدا ہیں؟ وہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب سے بچاتے ہیں۔ وہ تو خود اپنے آپ کو کسی تکلیف سے نہیں بچا سکتے اور اللہ تعالیٰ نے کافروں اور اُن کے باپ دادا کو دنیا میں ایک مقررہ وقت تک مہلت دی ہے اور قیامت کے دن کسی پر رائی کے دانے کے برابر بھی ظلم نہیں ہوگا اور جس نے رائی کے دانے کے برابر بھی کوئی عمل کیا ہوگا تو اللہ تعالی اس کے عمل کو سامنے لے آئے گا۔

رکوع نمبر 5

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ آذر اور اپنی قوم کے کافروں کو اسلام کی دعوت دی تو انھوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا : میں ضرور تمہارے بتوں کو توڑوں گا اور آپ علیہ السلام نے مناسب موقع دیکھ کر حکمت کے ساتھ تمام بتوں کوتوڑ دیا اور سب سے بڑے بت کو چھوڑ دیا۔ کافروں نے آپ علیہ السلام سے پوچھا کہ تم نے ہمارے خداؤں کو توڑا ہے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: اگر یہ بولتے ہیں تو ابھی سے پو چھ لو ۔ انھوں نے کہا: ہم سے مذاق کرتے ہو، یہ بول نہیں سکتے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: پھر یہ کیسے تمھارے خدا ہو سکتے ہیں ؟ کیا اب بھی تمھیں عقل نہیں آئی تو کافروں نے کہا: اپنے خداؤں کی مدد کرو اور ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈال دو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے آگ! ٹھنڈی ہو جا اور ابراہیم کے لئے سلامتی بن جا۔ پھر ابراہیم علیہ السلام اور لوط علیہ السلام نے برکت والی زمین کی طرف ہجرت کی اور اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو اسحاق علیہ السلام بیٹا اور یعقوب علیہ السلام پوتا عطا فرمایا اور یہ سب اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے ہیں۔

رکوع نمبر 6

اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ حضرت نوح علیہ السلام کی دعا کو اللہ تعالیٰ نے سنا اور آپ علیہ السلام اور ایمان والوں کو نجات دی اور کافروں کو غرق کر دیا۔ اس کے بعد حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ اللہ تعالی نے اُن دونوں کو علم اور حکومت عطا فرمائی تھی اور حضرت داؤد علیہ السلام کے ساتھ پہاڑ اور پرندے بھی اللہ تعالی کی تسبیح کرتے تھے اور آپ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے زرہ بنانی سکھائی اور اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو تیز ہوا پر قابو دیا تھا اور وہ آپ علیہ السلام کے حکم سے چلتی تھی اور شیطان بھی آپ علیہ السلام کے قابو میں تھے ۔ اس کے بعد حضرت ایوب علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی دعا سن لی اور صحت اور گھر والے عطا کئے اور حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت ادریس علیہ السلام اور حضرت ذوالکفل علیہ السلام یہ سب صبر کرنے والے تھے اور ذوالنون ( حضرت یونس علیہ السلام) نے مچھلی کے پیٹ میں سے پکارا تو اللہ تعالی نے آپ علیہ السلام کو نجات دی اور حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا سنی اور بڑھاپے میں آپ علیہ السلام کو ایک بیٹا حضرت یحییٰ علیہ السلام عطا فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے سیدہ مریم رضی اللہ عنہا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سارے جہان کے لئے اللہ تعالیٰ کی نشانی بنایا اور دین تو صرف ایک ہی ہے اور وہ اسلام ہے اور اللہ تعالیٰ تمہارا رب ہے تو صرف اسی کی عبادت کرو اور سب کو اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ 

رکوع نمبر 7

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ ایمان والے جو بھی نیک اعمال کریں گے اللہ تعالی ان کی پوری قدر کرے گا۔ اس کے بعد بتایا کہ یا جوج ماجوج آزاد کئے جائیں گے اور پھر قیامت آئے گی ۔ قیامت کے دن کافر اور جن کو وہ پوجتے ہیں، سب جہنم میں ہوں گے۔ اگر یہ خدا ہوتے تو جہنم میں نہ ہوتے ۔ اس کے بعد نیک ایمان والوں کے بارے میں بتایا کہ وہ جہنم سے دور رکھے جائیں گے اور جنت میں عیش و آرام سے رہیں گے ۔ اس کے بعد آپ ﷺ سے فرمایا کہ اللہ تعالی نے آپ ﷺ کو تمام عالموں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ 

(سورہ الانبیاء مکمل )

سورہ الحج

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 8

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں تمام انسانوں کو مخاطب کر کے قیامت کی ہولناکیوں کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد بتایا کہ بہت سے لوگ شیطان کے بہکاوے میں آکر اس کی بات مانتے ہیں اور شیطان لوگوں کو گمراہی کی طرف لے جاتا ہے۔ اس کے بعد تمام انسانوں کو اپنی بناوٹ پر غور کرنے کی دعوت دی اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا۔ پھر پانی کی بوند سے پھر خون کی پھٹکی بنائی پھر گوشت کی بوٹی بنائی پھر ہاتھ ، پیر، کان ، ناک اور چہرہ وغیرہ بنایا اور ایک مقررہ وقت تک تمہاری والدہ کے پیٹ میں رکھا، پھر بچہ بنا کر نکالا پھر تمہیں جوانی تک پہنچایا اور تم میں سے کوئی پہلے مرجاتا ہے اور کوئی معذوری کی عمر تک پہنچایا جاتا ہے۔ اس کے بعد زمین سے اللہ تعالی جو کچھ اُگاتا ہے اس پر غور کرنے کی ترغیب دی پھر فرمایا: اب جو قیامت کے آنے پر شک کرے گا تو وہ نقصان میں ہوگا۔ 

رکوع نمبر 9

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ لوگ ایسوں کی پوجا کرتے ہیں جو انھیں نہ تو فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ نقصان اور ایسے ہی لوگ دور کی گمراہی اور نقصان میں ہیں اور جو ایمان لائے اور نیک اعمال کئے تو اللہ تعالیٰ انھیں جنت میں عیش و آرام میں رکھے گا ۔ جو یہ سوچتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کی دنیا اور آخرت میں مدد نہیں فرمائے گا تو حسد اور جلن کی وجہ سے اپنے آپ کو بلاک کرلے، اور مسلمان، یہودی ، عیسائی اور ستاروں کی پوجا کرنے والے اور آگ کی پوجا کرنے والے اور مشرک (بتوں کی پوجا کرنے والے ) ان سب کے درمیان اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فیصلہ فرمادے گا اور تم دیکھو کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور چوپائے اور بہت سے لوگ اللہ تعالیٰ کو سجدے کرتے ہیں تو کافروں کو آگ کا کپڑا پہنایا جائے گا اور کھولتا ہوا پانی پینے کو دیا جائے گا۔ جس سے ان کی کھالیں تک گل جائیں گی۔ 

رکوع نمبر 10

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ جو ایمان لائے اور نیک اعمال کئے تو اللہ تعالیٰ انھیں جنت میں سونے کے کنگن پہنائے گا اور موتی اور ریشم کے کپڑے پہنائے گا اور جو کفر کرے گا اور اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکے گا تو اللہ تعالیٰ اسے دردناک عذاب دے گا۔

رکوع نمبر 11

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام جب خانہ کعبہ کی تعمیر مکمل کر چکے تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ لوگوں میں حج کا اعلان کر دو اور خانہ کعبہ کو طواف کرنے والوں، اعتکاف کرنے والوں اور رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لئے پاک وصاف رکھو اور لوگ حج کرنے آئیں اور پھر اپنا میل کچیل اتاریں اور جو اللہ تعالیٰ کی حرمتوں کی تعظیم کرے گا تو وہی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کامیاب ہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرائے گا تو وہ نہ دنیا کا رہا اور نہ آخرت کا۔ 

رکوع نمبر 12 

اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر امت کے لئے ایک قربانی مقرر فرمائی تھی۔ اس کے بعد قربانی اور قربانی کے جانور کے بارے میں احکامات دیئے۔ اس کے بعد فرمایا کہ قربانی کا گوشت تم خود بھی کھاؤ اور ضرورت مندوں اور مستحق لوگوں کو بھی دو اور اللہ تعالیٰ کے پاس تمہاری قربانی کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا بلکہ تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے اور اللہ تعالیٰ مسلمانوں پر سے بلائیں ٹالتا ہے اور دغا باز اور ناشکرے کو پسند نہیں کرتا۔ 

رکوع نمبر 13

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں مسلمانوں کو کافروں سے لڑنے کی اجازت دی اور بتایا کہ کا فربے گناہ مسلمانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ یہ صرف اس لئے کہ وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور اللہ تعالٰی اگر مسلمانوں کے ذریعے کافروں کو نہیں ہٹاتا تو مسجدوں، خانقاہوں ، گر جاؤں اور کلیساؤں کو گرا دیا جاتا۔ اللہ تعالیٰ جب مسلمانوں کو زمین پر قابو دیتا ہے تو نماز قائم کرتے ہیں، زکوۃ دیتے ہیں، بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہیں۔ یہ کا فر آپ ﷺ کو جھٹلاتے ہیں ( اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ) آپ ﷺ سے پہلے حضرت نوح علیہ السلام ، حضرت ہود علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت لوط علیہ السلام، حضرت شعیب علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھی کا فرلوگ جھٹلا چکے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے یہاں کا ایک دن تمہارے یہاں کے ہزار سال کے برابر ہے۔

رکوع نمبر :14

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ کے کلمات جو رسولوں اور نبیوں پر نازل ہوتے تھے، ان میں شیطان ملاوٹ کرنے کی کوشش کرتا تھا تو مسلمان سیدھی راہ کو پہچان کر اس پر چلتے ہیں اور کا فر گمراہیوں میں بھٹکتے رہتے ہیں یہاں تک کہ قیامت آجائے گی۔

رکوع نمبر 15

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ جن لوگوں نے اللہ تعالی کے لئے ہجرت کی اور اللہ تعالی کے لئے لڑے اور مارے یا مرے تو اللہ تعالیٰ انھیں جنت میں عیش و آرام سے رکھتا ہے اور بہترین رزق عطا فرماتا ہے اور یہ کافر جن کو پوجتے ہیں وہ سب باطل ہے اور اللہ تعالی ہی کا ہے جو کچھ زمین اور آسمان میں ہے اور وہ ہر ایک سے بے نیاز ہے۔ وہ کسی کامحتاج نہیں اور سب اس کے محتاج ہیں۔ 

رکوع نمبر 16 

اللہ تعالٰی نے اس رکوع کے شروع میں انسان کو غور و فکر کرنے کا حکم دیا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کی نعمتیں انسان کو عطا فرما ئیں اور وہ آسمان کو روکے ہوئے ہے۔ تو اللہ تعالیٰ انسانوں پر بہت مہربان ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہر جاندار کو زندہ کیا پھر وہی مارتا ہے اور پھر سب کو زندہ کرے گا اور اس کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر امت کے لئے عبادت کرنے کے قاعدے بنا دیے ہیں اور کا فر ایسوں کو پوجتے ہیں جن کی کوئی سند نہیں ہے اور جب کافروں پر قرآن پاک کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو غصہ سے آگ بگولہ ہو جاتے ہیں۔ اس سے خطرناک وہ آگ ہے جس میں کافر ڈالے جائیں گے۔ 

رکوع نمبر 17: 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں کافروں کو چیلنج کیا کہ جن کی تم عبادت کرتے ہو اُن سے کہو کہ ایک مکھی بنا کر دکھا ئیں تو وہ سب مل کر ایک مکھی نہیں بنا سکیں گے اور اگر مکھی اُن سے کچھ چھین کے لے جائے تو وہ اُس سے واپس نہیں لے سکیں گے۔ انسانوں نے اللہ تعالی کی ویسی قدر نہیں کی جیسی کی جانی چاہئے ۔ اس کے بعد مسلمانوں کو حکم دیا کہ اللہ تعالی کی بندگی کرو اور اس کی بارگاہ میں رکوع اور سجدہ کرو ۔ اللہ تعالیٰ کے لئے کافروں سے لڑو ۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں پسند کیا ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دین (یعنی اسلام ) عطا فرمایا اور پہلے کی آسمانی کتابوں اور اس قرآن پاک میں تمہارا نام مسلمان رکھا۔ تو تم نماز قائم کرواور زکوۃ دو اور اللہ تعالیٰ کی رسی ( قرآن پاک ) کو مضبوطی سے تھام لو۔ اللہ تعالیٰ ہی تمہارا مولیٰ اور مددگار ہے۔ 

(سورہ الحج و پارہ نمبر 17 مکمل)

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 16 Khulasa e Quran


خلاصۃ القرآن، پارہ نمبر 16

مرتب : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

رکوع نمبر 1 

اس رکوع کی چار آیات پارہ نمبر 15 میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کے واقعہ کو جاری رکھا کہ دونوں ساتھ چلے۔ راستے میں دریا پار کرنے لگے تو حضرت خضر علیہ السلام نے کشتی کو عیب دار بنا دیا ۔ اس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انھیں ٹوکا تو انھوں نے فرمایا: اب آپ مجھ سے الگ ہو جائیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی درخواست پر ساتھ لیا۔ دونوں آگے بڑھے تو ایک لڑکا ملا۔ حضرت خضر علیہ السلام نے اسے قتل کر دیا تو پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ٹوکا۔ حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا: اب آپ علیہ السلام مجھ سے الگ ہو جائیں تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: اب اگر میں نوکوں تو ضرور مجھے الگ کر دینا ۔ دونوں آگے بڑھے اور ایک گنواروں کے گاؤں میں پہنچے ۔ گاؤں والوں نے نہ انھیں کھانا دیا نہ پانی۔ اس گاؤں میں ایک دیوار گرنے والی تھی ۔ حضرت خضر علیہ السلام نے اُس دیوار کو نئے سرے سے تعمیر کر دیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: اس کام کی اُن سے مزدوری لے لیتے تو حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا: بس آپ کا میرا ساتھ یہیں تک ہے لیکن میں آپ کو اُن کاموں کی حقیقت بتادوں جن پر آپ نے صبر نہیں کیا۔ کشتی کو میں نے عیب دار اس لئے بنایا کیوں کہ وہ غریب لوگوں کی ہے اور اُن کا ظالم بادشاہ ہر اچھی کشتی کو چھین لیتا ہے اور عیب دار کشی کو چھوڑ دیتا ہے۔ جس بچہ کو میں نے قتل کیا اس کے والدین مسلمان ہیں اور وہ بچہ بڑا ہو کر اپنے والدین کو کفر و شرک میں مبتلا کر دیتا اس لئے اُسے قتل کر دیا۔ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے والدین کو نیک اولاد عطا فرمائے گا۔ رہی بات دیوار کی، تو وہ دیوار دو یتیم بچوں کی ہے اور اس دیوار کے نیچے اُن یتیم بچوں کے والد نے اُن کے لئے دولت دبا رکھی ہے، میں نے اللہ تعالی کے حکم سے دیوار کی تعمیر کر دی تا کہ یتیم بچے بڑے ہوں تو انھیں یہ دولت مل جائے اور یہ سب کام میں نے اللہ تعالی کے حکم سے کئے۔

رکوع نمبر 2: 

اللہ تعالی نے اس رکوع میں ذوالقرنین کا ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو اس کے قابو میں کر دیا تھا اور بہت سا سامان عطا فرمایا تھا۔ اس نے ایک سفر کی تیاری کی اور سفر پر چلا۔ یہاں تک کہ سورج ڈوبنے کی جگہ پہنچا تو وہاں ایک قوم ملی جس نے اس کی اطاعت اختیار کرلی۔ ذوالقرنین نے اُن سے کہا: جو ظلم کرے گا میں اسے سزا دوں گا اور پھر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹے گا اور جو ایمان لائے اور نیک کام کرے تو اس کا بدلہ بھلائی ہے۔ اس کے بعد ذوالقرنین دوسرے سفر پر چلا اور سورج نکلنے کی جگہ پہنچا، وہاں اسے ایک قوم ملی جس نے اطاعت قبول کر لی۔ اس کے بعد ذوالقرنین نے تیسرا سفر کیا تو دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا۔ وہاں ایک قوم ملی اور اس قوم نے کہا کہ یا جوج ماجوج پہاڑ کے اُس طرف سے آتے ہیں اور ہم پر بہت ظلم کرتے ہیں ۔ آپ اُن سے ہمیں بچا ئیں تو ذوالقرنین نے دونوں پہاڑوں کے درمیان لو ہے، تانبے اور پیتل کی ایک دیوار تعمیر کر دی اور کہا جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا یہ دیوار قائم رہے گی اور جب اللہ تعالیٰ چاہے گا تو ٹوٹ جائے گی۔ رکوع کے آخر میں فرمایا کہ قیامت کے دن سب کو جمع کیا جائے گا اور دوزخ کافروں کے سامنے لائی جائے گی۔ 

رکوع نمبر 3

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ یہ کا فرشرک کر کے بچ نہیں سکتے ، اُن کے استقبال کے لئے دوزخ تیار ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ سے فرمایا: ان سے کہو کہ سب سے ناقص عمل اُن کے ہیں جو دنیا میں مگن ہیں اور دنیا کے لئے ساری جدو جہد اور کوشش کرتے ہیں تو آخرت میں اُن کے لئے کوئی حصہ نہیں ہے۔ اس کے بعد مومنوں کے بارے میں فرمایا کہ اُن کے استقبال کے لئے جنت تیار ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں اور جنت میں ہمیشہ رہیں گے۔ اس کے بعد فرمایا: ان سے کہہ دو کہ اگر پورے سمندر کی سیاہی بنا کر اللہ تعالیٰ کی باتیں لکھی جائیں تو سمند رختم ہو جائیں گے لیکن اللہ تعالیٰ کی با تیں ختم نہیں ہوں گی

(سورہ الکہف مکمل)

سوره مریم

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 4 

اللہ تعالی نے اس رکوع میں حضرت زکریا علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کا ذکر کیا کہ حضرت ذکریا علیہ السلام نے اللہ تعالی سے دعا کی کہ اے اللہ ! میں بوڑھا ہو گیا ہوں ، تو مجھے ایسا کوئی بیٹا عطا فرما جو میرے کام ( بنی اسرائیل کو اسلام کی تعلیم ) کو سنبھال سکے تو اللہ تعالیٰ نے بشارت دی کہ تجھے ایک لڑکا ہوگا جس کا نام یحییٰ (علیہ السلام ) ہوگا۔ آپ علیہ السلام نے عرض کیا: میں بوڑھا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے، مجھے اولاد کیسے ہوگی؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بے شک ایسا ہی ہوگا اور حضرت یحییٰ علیہ السلام پیدا ہوئے۔ 

رکوع نمبر 5 

اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کے پاس بشارت دینے کے لئے فرشتہ کو بھیجا تو سیدہ مریم رضی اللہ عنہا نے کہا: مجھے تو کسی مرد نے چھوا تک نہیں تو ایسا کیسے ہوگا؟ تو فرشتہ نے کہا: ایسا ہی ہوگا۔ اللہ تعالی جو چاہے کر سکتا ہے۔ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا وقت آیا تو آپ رضی اللہ عنہا جنگل میں چلی گئیں اور وہیں آپ علیہ السلام کی پیدائش ہوئی۔ اللہ تعالی نے سیدہ مریم رضی اللہ عنہا سے فرمایا تم سے جب کوئی اس بچے کے متعلق پوچھے تو بچے کی طرف اشارہ کر دینا۔ بستی والوں نے آپ رضی اللہ عنہا سے بچے کے بارے میں پوچھا تو سیدہ مریم رضی اللہ عنہا نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام (جو ابھی شیر خوار بچہ تھے ) کی طرف اشارہ کیا کہ اس سے پوچھو، وہ بولے تم ہم سے مذاق کرتی ہو، اس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام (حیرت انگیز طریقہ پر) بول پڑے میں اللہ تعالی کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ اُس نے مجھے کتاب دی اور مجھے بابرکت بنایا اور مجھے نماز اور زکوۃ کا حکم دیا اور ماں سے اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی لیکن اُن کے بعد ان لوگوں ( بنی اسرائیل) نے اختلاف کیا اور ان کی مختلف جماعتیں بن گئیں۔

رکوع نمبر 6 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکرفرمایا کہ انھوں نے اپنے باپ کو اسلام کی دعوت دی تو آپ علیہ السلام کے باپ نے انکار کر دیا اور کفر پر اڑا رہا تو آپ علیہ السلام نے اس سے کنارہ کر لیا اور اللہ تعالی نے آپ علیہ السلام کو حضرت اسحاق علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام عطا فرمائے۔ 

رکوع نمبر 7

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے کوہ طور پر آنے کے بارے میں بتایا اور حضرت ہارون علیہ السلام کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ وعدے کے سچے تھے، رسول تھے اور اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوۃ کا حکم دیتے تھے اور اللہ تعالی کو پسند تھے ۔ حضرت ادریس علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ وہ رسول تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں بلندی پر اٹھا لیا تو یہ وہ ہیں جن پر اللہ تعالی کا انعام ہوا۔ آگے فرمایا : حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد میں سے اللہ تعالیٰ نے نبی اور رسول اٹھائے ۔ نیک لوگ بھی ہوئے ۔ پھر ان کے بعد نا خلف لوگ بھی آئے جنھوں نے نمازیں گنوائیں اور اپنی خواہشوں کے مطابق چلے اور جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے اللہ تعالی نے ان کے لئے جنت کو سجایا ہے۔ 

رکوع نمبر8

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ آدمی کہتا ہے: اللہ تعالی دوبارہ مجھے کیسے بنائے گا ؟ تو آدمی غور کرے کہ جس طرح اللہ تعالٰی نے اسے پہلی مرتبہ زندہ کیا تھا بس ایسے ہی دوبارہ زندہ کرے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ سب انکار کرنے والوں کو دوزخ کے پاس حاضر کرے گا۔ آگے فرمایا: ہر انسان کو دوزخ پر سے (جس پر پل صراط رکھا ہوگا اور اس) پر سے گزرنا ہے۔ نیک اعمال کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ بچالے گا اور ظالموں ( کافروں، منافقوں اور گنہ گاروں ) کو اس میں ( جہنم میں ) گٹھنوں کے بل چھوڑ دے گا اور کافروں کو دنیا میں مال و دولت اور عیش و آرام عطا کر کے اللہ تعالیٰ ڈھیل دیتا ہے اور قیامت کے دن انھیں سخت عذاب دے گا۔ 

رکوع نمبر 9

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس دنیا میں ایک مقررہ مدت تک مہلت دی ہے۔ اس کے بعد قیامت کے روز ایمان والوں اور نیک لوگوں کو مہمان بنائے گا اور مجرموں کو جہنم کی طرف پیاسا ہانک دے گا اور یہ کافر اللہ تعالیٰ کی اولاد بنا کر اتنا بڑا جھوٹ بولتے ہیں کہ اس جھوٹ کی وجہ سے آسمان پھٹ سکتا ہے۔ زمین پھٹ سکتی ہے اور پہاڑ گر سکتے ہیں۔ واقعہ یہ ہیکہ اللہ تعالی اولاد سے پاک ہے اور تمام لوگ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس کے بندے بن کر حاضر ہوں گے، جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے تو اللہ تعالیٰ انھیں اپنی محبت عطا فرمائے گا۔ 

(سورہ مریم مکمل)

سوره طه

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 10

اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ اللہ تعالی نے یہ قرآن پاک آپ ﷺ پر اس لئے نہیں اتارا کہ اس کی وجہ سے آپ ﷺ مشقت میں پڑ جائیں بلکہ اس لئے اتارا ہے کہ آپ ﷺ اس کے ذریعہ مسلمانوں کو بشارت دیں اور کافروں کو ڈرائیں۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ آپ علیہ السلام اپنے بیوی بچوں کے ساتھ مصر واپس جارہے تھے تو کوہ طور پر آپ علیہ السلام کو اللہ تعالی نے نبوت ورسالت اور معجزات عطا فرمائے۔

رکوع نمبر :11

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ نبوت و رسالت اور معجزات کے ملنے کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دعا کی کہ میرے بھائی ہارون علیہ السلام کو میرا مددگار بنا دے تو اللہ تعالیٰ نے قبول کر لیا۔ اس کے بعد بتایا کہ اللہ تعالی نے آپ علیہ السلام کی والدہ کو الہام کیا کہ وہ آپ علیہ السلام کو صندوق میں ڈال کر دریا میں بہا دیں ۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام کو تمام باتیں تفصیل سے بتانے کے بعد اللہ تعالی نے حکم دیا کہ تم اور تمھارا بھائی دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور اسلام کی دعوت دو ۔ دونوں حضرات علیہما السلام نے فرعون کے دربار میں جا کر اسے اسلام کی دعوت دی۔ 

رکوع نمبر 12: 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ فرعون نے اسلام کی دعوت قبول نہیں کی اور انکار کر دیا اور کہا: یہ تو جادو ہے اور جشن کے دن کو جادوگروں اور آپ علیہ السلام کے مقابلہ کا دن مقرر کر دیا ۔ تمام جادوگروں نے اپنا جادو دکھایا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معجزے نے تمام جادو کو ختم کر دیا۔ یہ دیکھ کر تمام جادوگروں نے اسلام قبول کر لیا اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہو گئے۔ فرعون نے جادوگروں سے کہا: میری اجازت کے بغیر تم نے موسیٰ (علیہ السلام) کے خدا کو مان لیا ، میں تمہیں سزا دوں گا ۔ جادوگروں نے کہا: اب ہم اللہ تعالی پر ایمان لا چکے ہیں ۔ اب تجھے جو کرنا ہے کر لے ۔ ہم اسلام کو نہیں چھوڑیں گے اور مجرموں کے لئے جہنم تیار ہے کہ اُس میں سکون سے نہ زندہ رہ سکیں گے نہ مریں گے۔ ایمان والے اور نیک لوگ اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں ، وہ ہمیشہ جنت میں عیش و آرام سے رہیں گے۔ 

رکوع نمبر 13

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات دلائی اور ” من وسلوئی کھانے کے لئے اتارا اور جب حضرت موسیٰ علیہ السلام چالیس راتوں کے لئے کوہ طور پر حاضر ہوئے تو سامری نے اس دوران سونے کا بچھڑا بنا کر بنی اسرائیل کو اس کی عبادت کی دعوت دی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو بتایا کہ تمہاری غیر موجودگی میں بنی اسرائیل شرک میں مبتلا ہو گئے ہیں تو آپ علیہ السلام جلال کے عالم میں واپس لوٹے۔ 

رکوع نمبر 14

اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے واپس آکر اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام سے فرمایا کہ تم نے انھیں شرک سے کیوں نہیں روکا۔ حضرت ہارون علیہ السلام نے بتایا کہ میں نے انہیں سمجھایا تو انھوں نے کہا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واپس آنے تک ہم بچھڑے کی پوجا کرتے رہیں گے اور میں نے یہ سوچ کر اُن پر سختی نہیں کی کہ کہیں آپ علیہ السلام یہ نہ سوچیں کہ میں نے آپ علیہ السلام کی غیر موجودگی میں بنی اسرائیل کے درمیان تفرقہ ڈال دیا۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے سامری سے پوچھا۔ تو سامری نے کہا۔ میرے دل کو یہی اچھا لگا کہ سونے کا بچھڑا بنا کر اس کی عبادت کروں ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: تیری سزا یہ ہے کہ اب تو لوگوں سے کہے گا مجھے مت چھونا اور اس بچھڑے کے بت کو ریزہ ریزہ کر کے جلا دوں گا ۔ اللہ تعالیٰ نے رکوع کے آخر میں فرمایا : جس دن صور پھونکا جائے گا تو اس دن مجرموں کی آنکھیں نیلی ہوں گی اور وہ آپس میں کہیں گے : دنیا میں ہم دس رات رہے تو اُن میں سے بہتر رائے والا کہے گا نہیں ! ہم صرف ایک دن رہے۔ 

رکوع نمبر 15

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں قیامت کے دن کے بارے میں بتایا کہ اُس دن پہاڑ ریزہ ریزہ کر کے اڑا دیئے جائیں گے ۔ زمین ہموار کر دی جائے گی اور لوگ صاف صاف پکارسن کر اس کی طرف دوڑیں گے اور کوئی بھی اللہ تعالی کی بارگاہ میں شفاعت نہیں کر سکے گا۔ صرف وہی شفاعت کر سکے گا جس کو اللہ تعالیٰ اجازت دے گا اور ظلم کرنے والے ( کافر، منافق اور گنبگار ) نقصان میں ہوں گے اور ایمان والے نیک لوگ فائدے میں ہوں گے۔ 

رکوع نمبر 16 

اللہ تعالی نے اس رکوع میں فرشتوں کے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے اور ابلیس کی نافرمانی کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد ابلیس شیطان نے کس طرح آپ علیہ السلام اور سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کو بہکا کر جنت سے نکلوایا، اس کے بارے میں بتایا اور بتایا کہ دنیا میں انسان اور شیطان ہمیشہ ایک دوسرے کے دشمن رہیں گے اور دنیا میں اللہ تعالی اپنے رسول بھیجے گا جو اُن کا کہنا مانے گا۔ وہ کامیاب ہوگا اور جو شیطان کا کہنا مانے گا تو اللہ تعالی اسے قیامت کے دن اندھا اٹھائے گا ، وہ کہے گا: اے اللہ دنیا کی زندگی میں تو میری آنکھیں تھیں ، یہاں کیوں میں اندھا ہوں؟ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ دنیا میں میری نشانیاں دیکھنے کے بعد بھی تو اندھا بنا رہا تو آج اللہ تعالی نے تجھے اندھا بنا دیا اور بے شک اس میں عقل والوں کے لئے نشانی ہے۔ 

رکوع نمبر 17 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا فروں کے لئے ایک متعین وقت دنیا میں رہنا مقرر دیا ہے۔ ایسا نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ کا عذاب انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیتا۔ اس کے بعد پانچوں وقت کی نماز کے اوقات بتائے اور فرمایا کہ کافروں کے مال و دولت اور عیش و آرام کو دیکھ کر انھیں کامیاب نہ سمجھو ۔ یہ سب تو ہم نے انھیں اس لئے دیا کہ یہ اور زیادہ فتنہ میں مبتلا ہو جا ئیں اور نماز قائم کرو اور اپنے گھر والوں کو بھی نماز کا حکم دو۔

 (سوره طه مکمل ) ( پارہ نمبر 16)

 

پیر، 27 مارچ، 2023

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 15 Khulasa e Quran para 15


خلاصۃ القرآن، پارہ نمبر 15

مرتب : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سوره بنی اسرائیل

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 1 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ راتوں رات خانہ کعبہ سے مسجد اقصی تک لے گیا ۔ اس کے بعد بنی اسرائیل کے بارے میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کتاب (توریت ) عطا فرمائی اور بنی اسرائیل کو ہدایت دی کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا۔ آگے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو بتا دیا تھا کہ تم لوگ دو مرتبہ زمین پر بہت بڑا فساد ( برائیاں) پھیلاؤ گے اور غرور کرو گے تو پہلے فساد کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے اُن پر سخت لوگوں کو مسلط کر دیا جو انھیں تلاش کر کے مارتے تھے ۔ اس کے بعد پھر بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے مال اور اولاد سے نوازا تو پھر انھوں نے زمین پر فساد پھیلایا ( جن میں سب سے بڑا گناہ حضرت عیسی علیہ السلام کو سازش کر کے صلیب پر چڑھوانا تھا) تو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ایسا ذلیل کیا کہ وہ جان بچانے کے لئے پوری دنیا میں پھیل گئے ۔ اس کے بعد بنی اسرائیل سے فرمایا کہ اگر اب بھی تم شرارت کرو گے تو پھر ہم تمہیں عذاب دیں گے۔ 

رکوع نمبر 2 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالی کسی بستی کو اس وقت تک ہلاک نہیں کرتا جب تک انھیں اپنا حکم نہ پہونچا دے اور جب وہ حکم نہیں مانتے اور انکار کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ انھیں تباہ کر دیتا ہے۔ اس کے بعد بتایا کہ جو دنیا چاہتا ہے تو اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے دنیا عطا کرتا ہے اور جو آخرت کی کامیابی چاہتا ہے اور ایمان والا ہے تو اسے اس کی اچھی کوشش کا انعام ضرور دیا جائے گا اور اللہ تعالی دنیا میں تو کافر اور مسلمان سب کو دیتا ہے اور اسے کوئی روک نہیں سکتا۔ کسی کو مال عطا کرتا ہے اور کسی کو علم عطا کرتا ہے لیکن آخرت میں وہی کامیاب ہو گا جو ایمان والا ہو اور گناہوں سے بچے اور نیک عمل کرے۔ 

رکوع نمبر 3

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں والدین کی خدمت کے احکام دیئے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اگر تمہارے سامنے دونوں یا کوئی ایک بڑھاپے کی عمر تک پہونچ جائے تو اُن سے اُف تک نہ کہتا اور نہ ہی انھیں جھڑکنا بلکہ ادب اور تعظیم کرنا اور نرمی اور محبت سے بات کرنا اور اُن کے لئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی سے روتے ہوئے دعا کرنا کہ اے اللہ ! میرے والدین پر رحم فرما جیسا رحم انھوں نے مجھ پر اس وقت ( یعنی میری پیدائش اور میرے بچپن میں ) کیا تھا ، جب میں کسی لائق نہ تھا۔ اس کے بعد صدقہ اور خیرات کے احکامات دیئے اور فرمایا: اپنا مال فضول خرچی میں مت اڑاؤ کیوں کہ فضول خرچ شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا ناشکرا ہے۔ اس کے بعد بتایا: اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے میں کنجوسی نہ کرو لیکن اتنا زیادہ بھی خرچ نہ کرو کہ تم خود محتاج ہو جاؤ۔ 

رکوع نمبر 4

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں اولاد کے قتل سے منع فرمایا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ انھیں اور تمہیں سب کو رزق عطا فرماتا ہے اور زنا سے منع فرمایا اور فرمایا کہ یہ بہت بڑی بے حیائی ہے اور کسی کو قتل کرنے سے منع فرمایا اور مقتول کے وارث کو قصاص کا حق دیا اور یتیم کا مال کھانے سے منع فرمایا۔ ہاں جو اسے پال رہا ہے تو اس کے جوان ہونے تک صرف ضرورت کے مطابق لے سکتا ہے اور برابر کا وزن کرنے کا حکم دیا اور بتایا کہ قیامت کے دن تمہارے کان ، آنکھ اور دل سے سوال کیا جائے گا اور وہ جواب دیں گے اور زمین پر اترا کر چلنے سے منع فرمایا اور فرمایا: جو کفر کرے گا وہ جہنم میں دہکا دیا جائیگا رکوع کے آخر میں فرمایا: یہ کافر (نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں بناتے ہیں کیا اللہ تعالیٰ انھیں بیٹے دے گا اور اپنے لئے بیٹیاں رکھے گا۔ بے شک کا فر اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا جھوٹ باندھتے ہیں۔ 

رکوع نمبر 5 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس قرآن پاک میں جگہ جگہ الگ الگ طرح سے کافروں کو سمجھایا لیکن ہر مرتبہ ان کافروں کی نفرت بڑھتی جاتی ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ زمین اور آسمان اور جو کچھ ان کے درمیان ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے ہیں لیکن انسان اسے سمجھ نہیں سکتا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ سے فرمایا کہ

جب آپ ﷺ قرآن پاک کی تلاوت فرماتے ہیں تو یہ کا فر چھپ کر سنتے ہیں ( کیوں کہ انھیں اچھا لگتا ہے ) لیکن اس کے باوجود ایمان نہیں لاتے ۔ وہ اس لئے کہ یہ گھمنڈ اور تکبر میں مبتلا ہیں اور جب آپس میں بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پر نعوذ باللہ جادو ہواہے اور یہ کافر کہتے ہی کہ اللہ تعالی ہماری ریزہ ریزہ ہڈیوں کو کیسے نئے سرے سے بنائے گا تو ان سے کہو کہ تم پتھر اور لوہا بن جاؤ گے تب بھی اللہ تعالی تمہیں دوبارہ پیدا کرے گا۔ 

رکوع نمبر 6 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں آپ ﷺ سے فرمایا: مسلمانوں سے کہو کہ جب بھی بات کریں تو ایسی بات کریں جو سب سے اچھی ہو اور شیطان انسانوں میں فساد ڈال دیتا ہے اور وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ اس کے بعد پورے رکوع میں کا فرقوموں کی تباہی اور کافروں پر واقع ہونے والے عذاب کے بارے میں بتایا۔ 

رکوع نمبر 7

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت آدم علیہ السلام کو فرشتوں کے سجدہ کرنے اور ابلیس شیطان کے تکبر کرنے اور انسانوں کو بہکانے کے لئے مہلت مانگنے کا واقعہ تفصیل سے بیان فرمایا۔ اس کے بعد کافروں کے کفر کا ذ کر کیا اور بتایا کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو کافروں کو زمین میں دھنسا دے یا اُن پر پتھروں کی بارش کرے یا انھیں غرق کر دے اور اسے روکنے والا کوئی نہیں ہوگا ۔ اس کے بعد رکوع کے آخر میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم (انسان) کو زمین اور پانی پر سوار کیا اور ان کو پاک روزی دی اور تمام مخلوق سے افضل بنایا۔

رکوع نمبر 8 اور رکوع نمبر 9 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں قیامت کے بارے میں بتایا کہ اس دن اللہ تعالیٰ ہر جماعت، ہر قوم اور ہر امت کو اس کے امام کے ساتھ بلائے گا تو جس کو اس کا نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ کامیاب ہوگا اور جو دنیا کی زندگی میں اندھا ( انکار کرنے والا) ہوگا وہ آخرت میں اور زیادہ گمراہ ہو گا۔ اس کے بعد آپ ﷺ سے فرمایا کہ پانچ وقت نماز کا اہتمام کرو (یہ حکم مسلمانوں کو بھی ہے ) اور فجر میں تلاوت قرآن کا اہتمام کرو کہ اس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور تہجد کا اہتمام کرو اور بہت جلد اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو " مقام محمود ( جہاں ہر کوئی آپ ﷺ کی تعریف کرے گا ) عطا فرمائے گا اور یہ قرآن ایمان والوں کے لئے شفاء اور رحمت ہے اور کا فرخود اپنے آپ کو نقصان میں ڈالتے ہیں

رکوع نمبر 10: 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا کہ یہ لوگ آپ ﷺ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں ۔ ان سے کہو ؛ روح اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک چیز ہے۔ اس کے بعد چیلنج کیا کہ تمام انسان اور جنات مل کر قرآن پاک جیسی کوئی کتاب لے آئیں تو سب مل کر بھی نہیں لاسکیں گے اور اللہ تعالیٰ نے اس قرآن پاک میں طرح طرح سے مثال دے کر سمجھایا ہے لیکن اکثر انسان اسے نہیں مانتے اور کفر کرتے ہیں۔ اس کے بعد کافروں کی عجیب عجیب فرمائشوں کا ذکر کیا اور بتایا کہ یہ اس کے بعد بھی ایمان نہیں لائیں اور آپ ﷺ سے فرمایا کہ ان سے کہو اللہ پاک ہے اور میں اس کی طرف سے بھیجا ہوا ایک رسول ہوں۔ 

رکوع نمبر 11

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت آجانے کے بعد بھی یہ اس لئے ایمان نہیں لا رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایک انسان کو رسول بنا کر بھیجا تو اگر زمین پر فرشتے رہتے اور بستے تو اللہ تعالیٰ فرشتہ کو رسول بنا کر بھیجتا اور اللہ تعالیٰ جسے ہدایت دے وہی سیدھی راہ پر ہے اور جسے گمراہ کرے تو کوئی بھی اس کی حمایت کرنے والا نہ ہوگا اور کا فرقیامت کے دن منہ کے بل چلتے ہوں گے۔ اندھے، بہرے اور گونگے اور اُن کا ٹھکانہ جہنم ہوگی اور کہتے ہیں کہ جب ہماری ہڈیاں ریزہ ریزہ ہو جائیں گی تو ہم کیسے دوبارہ اٹھا لئے جائیں گے تو جو اللہ تعالی زمین و آسمان بنا سکتا ہے تو وہ دوبارہ زندہ بھی کر سکتا ہے۔ 

رکوع نمبر 12

اللہ تعالٰی نے اس رکوع کے شروع میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کے بارے بتایا۔ اس کے بعد آپ ﷺ سے فرمایا کہ یہ قرآن پاک اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ پر بتدریج اتارا تا کہ اسے ٹھہر ٹھہر کر سکون سے اور سمجھ سمجھ کر پڑھا جائے اور فرمایا: اہل کتاب میں ایسے مؤمن ہیں (جیسے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ ) جن پر یہ قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدے میں گر جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتے ہیں۔ اس کے بعد فرمایا: اللہ کہہ کر پکارو یا رحمٰن کہہ کر پکارو ۔ سب اللہ ہی کے نام ہیں اور نماز نہ بہت بلند آواز سے پڑھو اور نہ بہت آہستہ بلکہ ان دونوں کے درمیان کا راستہ اختیار کرو۔ 

(سورہ بنی اسرائیل مکمل)

سوره الكهف

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 13 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ اللہ تعالٰی نے یہ کتاب (قرآن پاک ) رسول اللہ ﷺ پر اس لئے اتاری تا کہ آپ ﷺ کافروں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرائیں اور مسلمانوں کو اُن کے نیک اعمال پر بشارت دیں اور یہ کافر اللہ تعالیٰ کی ( نعوذ باللہ ) اولاد بناتے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا جھوٹ باندھتے ہیں ۔ اس کے بعد رسول الله ﷺ کوتسلی دی کہ اس غم میں آپ ﷺ کہیں اپنے آپ کو اتنا نہ گھلا لیں کہ جان پر بن آئے ۔ اگر یہ کا فر ایمان نہیں لا رہے ہیں تو اس میں اُن کا قصور ہے۔ آپ ﷺ تو اپنا کام ( اسلام کی دعوت دینے کا ) برابر کر رہے ہیں ۔ اس کے بعد اصحاب کہف کے واقعہ کے بارے میں بتایا۔ 

رکوع نمبر 14

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ اصحاب کہف کچھ نو جوان ہیں جنھوں نے (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعوت پر) اسلام قبول کیا اور اپنی بستی ( جس میں سب کافر تھے ) میں اپنے اسلام کا اعلان کردیا بستی والے اُن کی جانوں کے دشمن بن گئے تو وہ نو جوان اپنی جان بچا کر بستی سے نکلے اور ایک غار میں پناہ لی، تو اللہ تعالیٰ نے انھیں سلا دیا اور سورج جب نکلتا تو وہ داہنی طرف سے چلا جاتا اور جب غروب ہوتا تو بائیں طرف چلا جاتا حالانکہ وہ غار کے کھلے میدان میں تھے اور یہ اللہ تعالیٰ کی صاف نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ 

رکوع نمبر 15 اور رکوع نمبر 16 

اللہ تعالٰی نے اس رکوع میں اصحاب کہف کے بارے میں بتانے کا سلسلہ جاری رکھا اور بتایا کہ اگر کوئی اُن کو دیکھتا تو یہ سمجھتا کہ وہ سورہے ہیں اور اللہ تعالیٰ انھیں دائیں اور بائیں کروٹ بدلوا تا تھا اور اُن کا کتا غار دہانے پر بیٹھا ہوا تھا ( اُن کے سونے کے دوران اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ماننے والوں کو عروج دیا اور اسلام پھیلتے پھیلتے اس بستی تک پہنچ گیا اور اس وقت کے مسلمانوں (جنھوں نے اپنے آپ کو بعد میں عیسائی کہنا شروع کر دیا ) کے سامنے یہ مسئلہ پیدا ہو گیا کہ اللہ تعالی موت کے بعد دوبارہ کیسے زندہ کر کے اٹھائے گا؟ تب اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کو جگایا ) جب وہ سو کر اٹھے تو ایک نے پوچھا کہ ہم یہاں کتنی دیر تک سوئے ؟ تو دوسرے نے کہا: ایک دن یا اُس سے کچھ کم ۔ تیسرے نے کہا یہ تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ ہم کتنی دیر سوئے؟ تو ان میں سے ایک کو پیسہ دے کر بستی میں بھیجا کہ وہ کھانا لے آئے اور کہا کہ ہوشیار رہنا کہیں ہماری بستی والے تمہاری جان نہ لے لیں یا اسلام چھوڑنے پر مجبور نہ کر دیں (وہ بستی میں آیا تو حیران رہ گیا کیونکہ سب کچھ بدل گیا تھا اور لوگ اس کے لباس اور پیسے کو دیکھ کر حیران ہو رہے تھے تو اس نے سبب پوچھا تو اسے بتایا گیا ۔ اسے سمجھ میں آیا کہ وہ لوگ لگ بھگ تین سو سال تک سوئے رہے۔ بادشاہ کو معلوم ہوا ( وہ مسلمان تھا) اس نے اس سے تفصیل پوچھی اور پوری بستی والوں کو ساتھ لے کر اس کے ساتھ غار تک پہنچے ۔ تمام اصحاب کہف کو جب پوری بات معلوم ہوئی تو وہ پھر جا کر غار میں لیٹ گئے اور اُن کی روح قبض ہو گئی۔ اس طرح اللہ تعالی نے اصحاب کہف کے ذریعہ دنیا والوں کو بتایا کہ موت کے بعد اللہ تعالیٰ دوبارہ کیسے زندہ کرے گا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ سے فرمایا کہ آپ ﷺ اُن لوگوں پر توجہ کریں جو اسلام کو سمجھنا چاہتے ہیں۔

رکوع نمبر 17

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں دو مردوں کی مثال بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں بہترین باغ عطا فرمائے اور بہترین پھلوں سے رزق دیا۔ ایک اپنے باغ اور پھلوں پر اترانے لگا اور گھمنڈ کرنے لگا کہ قیامت تک میرا باغ ایسے ہی ہرا بھرا اورپھل دیتا رہے گا۔ دوسرے نے اسے سمجھایا کہ اللہ تعالیٰ نے تجھے یہ سب عطا فرمایا ہے، اس کا شکر ادا کر اور گھمنڈ نہ کر لیکن وہ نہ مانا تو اللہ تعالیٰ نے اس کا باغ تباہ کر دیا اور وہ ہاتھ ملتا رہ گیا۔ 

رکوع نمبر 18 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں دنیا کی مثال بیان فرمائی کہ اللہ تعالی نے بارش برسائی ، اس سے گھنی ہری بھری گھاس اگائی اور پھر گھاس سوکھ کر ہوا میں اڑ گئی۔ دنیا کی حقیقت بس اتنی ہی ہے اور مال اور اولاد دنیا تک محدود ہیں۔ اصل چیز نیک اعمال ہیں جن کا بدلہ اس دن ملے گا جس دن اللہ تعالی پہاڑوں کو روئی کی طرح اڑائے گا تو سب اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے اور بالکل اسی حالت میں ہوں گے جیسے پیدائش کے وقت تھے۔ پھر مجرموں کے تمام گناہ سامنے آئیں گے اور اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔

رکوع نمبر 19

اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں ابلیس کی نافرمانیوں کے بارے میں بتایا اور فرمایا تم اللہ تعالی کے مقابلہ میں شیطان ابلیس اور اس کی اولاد کو دوست بناتے ہو۔ جب کہ وہ تمہارے دشمن ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اس پوری کائنات کی تخلیق تنہا کی ہے اور اس کی شان نہیں کہ اپنی تخلیق میں کسی کو ساتھی بنائے تو مجرم ضرور جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ 

رکوع نمبر 20

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا کہ اللہ تعالی نے اس قرآن پاک میں طرح طرح سے ہر قسم کی مثالیں بیان فرما ئیں لیکن انسان اس کے باوجود کفر کرتا ہے اور وہ بہت جھگڑالو ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ وہ کون سی چیز ہے جو صاف ہدایت آجانے کے بعد بھی ان کافروں کو روک رہی ہے؟ انھیں چاہیئے تھا کہ اسلام قبول کرتے اور اللہ تعالی سے معافی مانگتے اور اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو صرف اسی لئے بھیجا کہ وہ ایمان والوں کو بشارت دیں اور کافروں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرائیں اور کافروں اور اہل کتاب نے قرآن پاک کا مذاق بنا لیا۔ یہ بہت بڑے ظالم ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے منہ پھیرتے ہیں، تو اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگادی ہے اور کانوں کو بند کر دیا ہے۔ 

رکوع نمبر :21 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کی ملاقات کا ذکر فرمایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اُن کی تلاش میں چلے اور اللہ تعالی کی بتائی ہوئی نشانی کے مطابق آپ علیہ السلام کی حضرت خضر علیہ السلام سے ملاقات ہوئی ۔ آپ علیہ السلام نے ساتھ رہنے کی درخواست کی تو حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا: میں جو کچھ کروں گا آپ اُس پر صبر نہیں کر سکیں گے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: میں صبر کرنے کی کوشش کروں گا۔ 

(پارہ نمبر 15 مکمل) 

 

اتوار، 26 مارچ، 2023

Khulasa e Quran خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 14


 خلاصۃ القرآن، پاره نمبر 14

مرتب: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سوره الحجر 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 1

اس رکوع کی ایک آیت پارہ نمبر 13 میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں کافروں کے بارے میں بتایا کہ قیامت میں کافر آرزو کریں گے کہ کاش ہم مسلمان ہوتے تو کافروں کو دنیا میں اُن کے حال پر چھوڑ دو کہ یہ دنیا کے عیش و آرام میں مگن رہیں اور اللہ تعالی نے جس بستی کو بھی ہلاک کیا تو اس کے مقررہ وقت پر کیا اور کا فر رسول اللہ ﷺ کو ( نعوذ باللہ ) مجنوں کہتے ہیں اور فرشتوں کے اترنے کی مانگ کرتے ہیں۔ اگر فرشتے آ جاتے تو انھیں مہلت ہی نہیں ملتی اور یہ قرآن پاک اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے اور اللہ تعالی ہی اس کی حفاظت کرے گا اور جتنے بھی رسول آئے اُن سب کا مذاق اڑایا گیا۔ اگر ان کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیئے جائیں اور یہ صبح و شام چڑھیں اتریں تب بھی ایمان نہیں لائیں گے اور اسے جادو کہیں گے۔

رکوع نمبر 2

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہی یہ کائنات بنائی ہے اور وہی اس کا انتظام چلا رہا ہے۔ اللہ تعالی نے بتایا کہ میں نے آسمان کو ستاروں سے سجایا اور شیطانوں سے محفوظ رکھا اور زمین پھیلائی اور اس میں ہر چیز اُگائی۔ جنھیں تم کھاتے ہو اور ان سے دوسرے فائدے اٹھاتے ہو اور ہوائیں بھیجیں، بادلوں کو بنایا اور آسمان سے پانی اتارا تم پیتے ہو اور اللہ تعالیٰ ہی پیدا کرتا ہےاور اللہ تعالیٰ ہی مارتا ہےاور اللہ تعالیٰ آگے بڑھنے والوں اور پیچھے رہنے والوں کو جانتا ہے اور اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سب کو جمع کرے گا۔

رکوع نمبر 3

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے کیچڑ سے بنایا اور جنات کو اس سے پہلے بغیر دھویں والی آگ سے بنایا اور جب اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام کے جسم میں روح پھونکی تو اللہ تعالی کے حکم سے تمام فرشتوں نے آپ علیہ السلام کو سجدہ کیا اور شیطان نے نہیں کیا ۔ اس نے کہا کہ میں آگ سے بنا ہوں اور یہ مٹی سے تو میں اس سے بہتر ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے اسے دھتکار دیا تو اس نے کہا کہ اس انسان کی وجہ سے تو مجھے دھتکارتا ہے تو میں اسے گمراہ کروں گا اور جہنم کی طرف لے جاؤں گا لیکن نیک بندوں پر میرا زور نہیں چلے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جو بھی تیری بات مانے گا تو میں جہنم کو تجھ سے اور اُس سے بھر دوں گا اور جہنم کے سات دروازے ہیں۔ 

رکوع نمبر 4

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں جنتی لوگوں کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مہمانوں کے بارے میں بتایا کہ انھوں نے آپ علیہ السلام کو حضرت اسحاق علیہ السلام کی بشارت دی اور بتایا کہ ہم حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کو عذاب دینے جا رہے ہیں ۔ 

رکوع نمبر 5 

اللہ تعالٰی نے اس رکوع میں حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر عذاب کے بارے میں بتایا کہ فرشتے نوجوان لڑکوں کی شکل میں آپ علیہ السلام کے پاس پہنچے اور آپ علیہ السلام سے کہا کہ اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات نکل جاؤ پھر آپ علیہ السلام کی قوم پر ایسا عذاب آیا کہ نیچے کا حصہ اوپر اور بستی کے اوپر کا حصہ نیچے کر دیا اور پتھروں کی بارش کی گئی اور یہ بستی بڑے راستے پر ہے اور اس میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں ۔ 

رکوع نمبر 6

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں حجر والوں پر عذاب کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد آپ ﷺ سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو سات آیتیں (سورہ الفاتحہ ) عطا فرمائی ہے جو نماز میں بار بار دہرائی جاتی ہے تو تم کو کافروں کو نظر انداز کر دو اور مسلمانوں پر اپنی نظر کرم رکھو اور جن لوگوں (اہل کتاب) نے اللہ تعالیٰ کے کلام ( یعنی توریت اور انجیل ) کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا اللہ تعالیٰ اُن سے پوچھے گا تو تم اپنے اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرو اور مرتے دم تک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔ 

(سورہ حجر مکمل ہوئی )

سورة النحل 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 7 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ پوری کائنات کا خالق اور مالک ہے۔ اس نے انسان کو بنایا جو اللہ تعالی کے شریک بناتا ہے اور کفر کرتا ہے۔ اس کے بعد بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے فائدے کے لئے جانوروں اور مویشیوں کو بنایا ہے تو انسان اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے فائدہ اٹھاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو ماننے سے انکار کرتا ہے۔ 

رکوع نمبر 8

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ انسان کے لئے بارش برساتا ہے۔ اس نے درخت اُگائے۔ اناج اگائے اور ہر قسم کے پھل اگائے اور رات اور دن بنائے اور سورج اور چاند اور ستاروں کو بنایا اور ندیاں ، دریا اور سمندر بہائے تا کہ انسان اس میں سے گوشت کھائے ۔ یہ تمام چیزیں انسانوں کے فائدے کے لئے بنائے اور ایسی نعمتیں عطا فرمائیں کہ انسان ان نعمتوں کو گن نہیں سکتا۔ اس کے باوجود انسان کفر کرتا ہے اور جن کو وہ اللہ تعالٰی کے سوا معبود بناتے ہیں وہ کچھ نہیں کر سکتے کیوں کہ وہ خود بنائے گئے ہیں اور انھیں یہ معلوم نہیں کہ قیامت کب آئے گی۔ 

رکوع نمبر 9 اور رکوع نمبر :10

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں کافروں کے اعمال کے بارے میں بتایا اور یہ بتایا کہ جب فرشتے کافروں کی روح قبض کرتے ہیں تو انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب کے لئے تیار رہنے کو کہتے ہیں۔ اس کے بعد مومنوں کے بارے میں بتایا کہ انھیں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی بھلائی ملے گی اور جب فرشتے مؤمنوں کی روح قبض کرتے ہیں تو انھیں سلام کرتے ہیں اور جنت کی بشارت دیتے ہیں۔

الله رکوع نمبر 11

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ کافر کہتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ہم دوسروں کو نہ پوجتے نہ ہمارے باپ دادا، تو ایسی ہی بے تکی بات اُن سے پہلے کے کافروں نے بھی کی تھی اور رسولوں کا کام تو صرف پیغام پہونچا دینا ہے اور اللہ تعالی نے ہر قوم میں رسول بھیجے ہیں۔ اسلام کی دعوت دی اور شیطان سے بچنے کی ہدایت کی تو کچھ نے اسلام قبول کیا اور اکثر گمراہ رہے۔ اللہ تعالیٰ کا قیامت کا وعدہ سچا ہے اور کافر جھوٹے ہیں۔ 

رکوع نمبر 12

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں مہاجرین کو دنیا اور آخرت میں کامیابی کی بشارت دی۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ یہ قرآن پاک اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ پر نازل فرمایا ہے ۔ اسے لوگوں کے سامنے بیان کرو۔ اب اس کے بعد جو کفر کرے گا اس کے لئے درد ناک عذاب ہے ۔ انسان غور کرے کہ اس کی پرچھا ئیں دائیں اور بائیں سجدہ کرتی ہے اور اس کے علاوہ زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے۔ سب اللہ تعالی کو سجدے کرتے ہیں۔ 

رکوع نمبر 13

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ کافر اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کو استعمال کرتے ہیں اور اس کا دیا ہوا رزق کھاتے ہیں پھر بھی کفر کرتے ہیں اور اللہ تعالی کی ( نعوذ باللہ) بیٹیاں بناتے ہیں جب کہ اللہ تعالی ان سب سے پاک ہے اور جب کافروں کو بیٹی پیدا ہوتی ہے تو اُن کے منہ غصہ سے کالے ہو جاتے ہیں اور لوگوں سے چھپتے پھرتے ہیں اور اُن کا بس چلے تو بیٹی کو زندہ دفن کر دیں۔ 

رکوع نمبر 14

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ اگر اللہ تعالی لوگوں کے اعمال پر پکڑ کرنا شروع کر دے تو اس زمین پر بسنے والا کوئی بھی جاندار نہیں بچ سکے گا لیکن اللہ تعالیٰ ایک مقررہ وقت تک ہر ایک کو مہلت دیتا ہے اور جب اس کا وقت پورا ہو گا تو نہ ایک لمحہ آگے ہوگا نہ پیچھے۔ رکوع کے آخر میں فرمایا: یہ قرآن پاک مؤمنوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔ 

رکوع نمبر 15

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ ہم چوپایوں کے پیٹ میں گوبر اور خون کے درمیان سے بہترین دودھ نکالتے ہیں اور کھجور اور انگور اور تمہارے لئے بہترین رزق اللہ تعالیٰ دیتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے شہد کی مکھی کو الہام کیا تو وہ بہترین شہد بناتی ہے جس سے تم لوگوں کو طاقت اور شفا ملتی ہے۔ عقل والوں اور غور و فکر کرنے والوں کے لئے ان میں نشانیاں ہیں۔

رکوع نمبر :16

اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم میں سے بہت سوں کو رزق ( مال و دولت ) زیادہ عطا فرمایا تو کیا وہ اپنا مال و دولت دے کر اپنے غلاموں کو اپنے برابر کھڑا کرنا پسند کریں گے؟ نہیں...! ، تو پھر وہ اللہ تعالیٰ کے شریک کیوں بناتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں عورتیں ، بیٹے پوتے اور نواسے عطا فرمائے اور بہترین پاک رزق عطا فرمایا۔ پھر کیوں اللہ تعالیٰ کا انکار کرتے ہو۔ اس کے بعد دو مثالوں کے ذریعے بتایا کہ مومن اور کافر برابر نہیں ہو سکتے۔ 

رکوع نمبر 17

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ اس نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹ سے پیدا کیا اور کان اور ناک اور دل عطا فرمائے اور پرندوں کو دیکھو کہ آسمان کی فضا میں اڑتے پھرتے ہیں اور تمہیں رہنے کے لئے گھر عطا فرمائے اور جانوروں کی کھال سے خیمے بنانا سکھائے اور اون اور ببیری ( یعنی اونٹ کے بال ) عطا فرمائے اور درخت اور بادلوں سے سائے عطا فرمائے اور پہاڑوں میں پناہ لینے کی جگہیں عطا فرمائیں۔ ان سب میں عقل والوں اور غور و فکر کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں ۔ اب اس کے بعد بھی کافر اپنے کفر پر اڑے رہیں تو آپ ﷺ اور مسلمانوں کا کام صرف صاف صاف بات پہنچا دینا ہے۔ 

رکوع نمبر 18

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ قیامت کے دن کافروں کو بہت سخت عذاب ہوگا جن کو وہ اللہ تعالیٰ کا شریک بناتے ہیں وہ بھی دوزخ میں کافروں کے ساتھ ہوں گے اور دونوں ایک دوسرے کو برا بھلا کہیں گے اور ایک دوسرے سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔ رکوع کے آخر میں فرمایا کہ قیامت کے دن ہر نبی اور رسول اپنی اپنی امت کی گواہی دیں گے اور رسول اللہ ﷺ تمام نبیوں اور رسولوں کی گواہی دیں گے اور یہ قرآن پاک مسلمانوں کے لئے ہدایت ، رحمت اور بشارت ہے۔

رکوع نمبر 19

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں مسلمانوں کو عدل و انصاف کرنے ، نیکی کرنے اور رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا اور بے حیائی کرنے ، بری بات اور برے اعمال کرنے اور اللہ کے خلاف سرکشی کرنے کو منع فرمایا۔ اس کے بعد سوت کاتنے والی عورت کی مثال دے کر سمجھایا کہ اس کی طرح اپنے اعمال برباد نہ کر لینا۔ اس کے بعد فرمایا کہ مسلمان مرد ہو یا عورت جو بھی اچھے اور نیک اعمال کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کا بھر پور صلہ عطا فرمائے گا۔ رکوع کے آخر میں فرمایا کہ قرآن پاک کی تلاوت سے پہلے شیطان مردود سے پناہ مانگو اور مسلمانوں اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے والوں پر اس کا قابو نہیں ہے لیکن کافروں پر اس کا پورا قابو ہے۔ 

رکوع نمبر 20

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ اس قرآن پاک کو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ پر نازل فرمایا تو مسلمان اس کی وجہ سے ثابت قدمی پر قائم ہوتے ہوئے ہدایت اور بشارت حاصل کرتے ہیں اور کا فر آپ ﷺ پر الزام لگاتے ہیں کہ ( نعوذ باللہ ) آپ ﷺ نے اسے اپنے من سے بنالیا ہے یا کوئی آدمی آپ ﷺ کو سکھاتا ہے۔ یہ اللہ تعالی پر اور آپ ﷺ پر جھوٹا الزام لگاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں، کانوں اور آنکھوں پر مہر لگا دی ہے اور وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور آخرت میں اُن کا برا انجام ہے۔ اس کے بعد مہاجرین کو دنیا اور آخرت میں کامیابی کی بشارت دی۔ 

رکوع نمبر 21 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں قیامت کے بارے میں بتایا کہ ہر ایک کو اس کے عمل کا پورا بدلہ دیا جائے گا اور کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں ہو گا۔ اس کے بعد ایک بستی کی مثال بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ہر طرح سے بھر پور رزق عطا فر مایا تھا۔ ان کے پاس رسول آئے تو انھوں نے جھٹلایا اور انکار کر دیا تو اللہ کا عذاب اُن پر آیا۔ اُن کا تمام رزق چھین لیا گیا اور وہ بھوک اور ڈر میں مبتلا ہو گئے۔ اس کے بعد بتایا کہ مسلمان پر مردار، خون اور خنزیر (سور ) کا گوشت حرام ہے۔ اب جو انھیں حلال کہے گا تو اس نے در حقیقت اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا۔ اس کے بعد بتایا کہ یہودیوں پر بھی یہ حرام تھا لیکن انھوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ( یعنی اسے حلال کر لیا) اس کے بعد بتایا کہ اگر کوئی برائی کر بیٹھے اور توبہ کرلے ( یعنی اس گناہ پر نادم ہو کر اسے چھوڑ دے اور آئندہ اس کام کے بالکل نہ کرنے کا عزم کرلے) تو اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا مہربان ہے۔ 

رکوع نمبر 22 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اوصاف بیان فرمائے کہ آپ علیہ السلام دنیا کے امام ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فرماں بردار تھے اور مشرک بالکل نہیں تھے ۔ اللہ تعالیٰ کے احسان پر شکر کرنے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں منتخب کر لیا اور وہ سیدھی راہ پر تھے اور اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیا میں بھلائی عطا فرمائی اور آخرت میں اُن کی شان کے مطابق عطا کیا جائے گا۔ اب تم ابراہیم علیہ السلام کے دین (اسلام) کی پیروی کرو۔ اس کے بعد آپ ﷺ اور مسلمانوں کو ہدایت دی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف حکمت اور اچھے طریقے سے لوگوں کو بلاؤ اور سب سے بہتر طریقہ سے اُن سے بحث کرو۔ اس کے بعد فر مایا کہ اگرتم سزا دو تو اتنی ہی سزا دو جتنی تھیں تکلیف پہونچائی گئی ہو اور اگر صبر کرو تو یہ بہت ہی اچھا ہے اور اللہ تعالیٰ اُن کے ساتھ ہے جو برائی کرنے سے ڈرتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرتے ہیں ۔

 (سورہ النحل مکمل ) 

( پارہ نمبر 14 مکمل)

Khulasa e Quran خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 13


خلاصۃ القرآن، پارہ نمبر 13

مرتب : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

رکوع نمبر 1

اس رکوع کی دس آیتیں پارہ نمبر 12 میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ بادشاہ نے خواب دیکھا اور اس کی تعبیر اپنے عالموں سے پوچھی تو وہ نہ بتا سکے۔ بادشاہ کو پریشان دیکھ کر بچ جانے والے خدمتگار نے پریشانی کی وجہ پوچھی تو بادشاہ نے اپنا خواب بیان کردیا۔خدمت گار نے کہا: جیل میں ایک شخص ہے جو اس خواب کی صحیح تعبیر بتا سکتا ہے۔ اس خدمت گار نے آپ علیہ السلام سے تعبیر پوچھی، آپ علیہ السلام نے بادشاہ کے خواب کی تعبیر بتا دی ۔ ساتھ ہی پیش آنے والے مشکل حالات سے آگاہ کر کے اس سے بچنے کی تدبیر بھی بتا دی۔ بادشاہ بہت متاثر ہوا اور اس نے آپ علیہ السلام کو بلانے کے لئے ایلچی بھیجا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: واپس جاؤ اور بادشاہ سے کہو ( وہ تحقیق کرے ) کہ اُن عورتوں کا کیا معاملہ ہے جنھوں نے اپنے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے تو بادشاہ نے تحقیق کر کے اس عورت سے پوچھا تو اس عورت نے اپنی غلطی تسلیم کر لی ۔ پھر بادشاہ نے آپ علیہ السلام سے پیش آمدہ مسائل و مشکلات کے حل کے بارے میں مشورہ کیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: حکومت کا انتظام مجھے دے دیں، بادشاہ نے آپ علیہ السلام کو ذمہ دار بنا دیا۔ 

2رکوع نمبر 

اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ آپ علیہ السلام نے سات سال تک مصر کا انتظام اتنی اچھی طرح سنبھالا کہ جب قحط پڑا تو مصر کے آس پاس کے علاقوں میں اناج ختم ہو گیا لیکن مصر میں کئی برسوں کا اتنا اناج تھا کہ وہ آس پاس کے علاقوں کے لوگوں بھی دے رہے تھے۔ آپ علیہ السلام کے بھائی اناج لینے کے لئے آئے تو آپ علیہ السلام نے انھیں پہچان لیا لیکن انجان بنے رہے۔ ان کو اناج دیا اور حال چال پوچھا اور جب انھوں نے بتایا کہ ایک بھائی ہمارا اور ہے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا اگلی مرتبہ اسے بھی لے آتا تو تمہارا ایک حصہ اور بڑھ جائے گا اور اُن کے روپئے ان کی لاعلمی میں ان کے سامان میں رکھ دیئے۔ تمام بھائی اناج لے کر حضرت یعقوب علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ اگلی مرتبہ بنیامین کو بھی بھیجیں گے تو اس کے حصے کا اناج بڑھ جائے گا اور جب اناج کے تھیلے کھولے تو اپنے روپے دیکھ کر حیران رہ گئے اور اپنے والد سے بن یامین کو بھی بھیجنے کا اصرار کرنے لگے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: اگر تم لوگ اپنی جان سے بڑھ کر بن یامین کی حفاظت کرنے کا وعدہ کرو تو میں بھیج سکتا ہوں ۔ تمام بھائیوں نے ایسا ہی کرنے کا وعدہ کیا ۔ چنانچہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے بن یا مین کو ان کے ساتھ مصر بھیج دیا۔ 

رکوع نمبر 3

اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ تمام بھائی جب حضرت یوسف علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ علیہ السلام نے انھیں مہمان خانے میں ٹھہرایا اور اکیلے میں بن یامین سے ملاقات کر کے بتایا کہ میں یوسف ہوں ( تمہارا بھائی) لیکن ابھی تمام بھائیوں کو یہ بات نہ بتانا۔ پھر جب اناج لے کر تمام بھائی جانے لگے تو اعلان ہوا کہ بادشاہ کا ، اناج ناپنے کا پیمانہ نہیں مل رہا ہے۔ اس لئے سب تلاشی دیں اور تمام بھائیوں سے پوچھا: تمہارے یہاں چور کی کیا سزا ہے؟ تو انھوں نے کہا چوری کرنے والا ، سامان کے مالک کا غلام ہو جاتا ہے ۔ جب تلاشی لی گئی تو پیمانہ بن یامین کے سامان میں ملا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: اب تم لوگ جاؤ، یہ میرے پاس رہے گا۔ تمام بھائی آپ علیہ السلام کی خوشامد کرنے لگے لیکن حضرت یوسف علیہ السلام اپنے فیصلہ پر قائم رہے۔ 

رکوع نمبر 4

اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ جب تمام بھائی بن یامین کو چھڑانے میں ناکام رہے تو بڑے بھائی نے تمام بھائیوں سے کہا کہ ہم نے ابا جان سے بن یا مین کی حفاظت کا وعدہ کیا تھا۔ اس سے پہلے ہم یوسف کے معاملے میں ابا جان کے ساتھ دھو کہ کر چکے ہیں اس لئے اب میں تو یہیں رک جاؤں گا اور بن یامین کی رہائی کی کوشش کرتا رہوں گا ، ہو سکتا ہے اللہ تعالی اس بارے میں کوئی فیصلہ کرے اور وہ بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔ دوسرے تمام بھائی حضرت یعقوب علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تمام حال بتایا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا تم نے یوسف کے معاملے میں بھی ایسا ہی کیا تھا۔ تمام بھائی بولے: آپ کب تک یوسف کو یاد کرتے رہیں گے؟ حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا: اے میرے بیٹو! جاؤ، یوسف اور بن یامین کے لئے کوشش کرو۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس تو صرف کا فر ہوتے ہیں۔ تمام بھائی حضرت یوسف علیہ السلام کی خدمت میں دوبارہ حاضر ہوئے اور کہنے لگے : ہم پر بڑی مصیبت آن پڑی ہے ۔ یہ تھوڑے سے پیسے لے کر ہمیں پورا اناج خیرات سمجھ کر دے دیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: تم جانتے ہو، تم نے یوسف اور اس کے سگے بھائی کے ساتھ کیا کیا۔ اس پر انہوں نے غور سے آپ علیہ السلام کو دیکھا تو پہچان گئے اور بولے ! بے شک اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو فضیلت عطا فرمائی اور بے شک ہم نے بہت بڑی خطا کی ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: آج تم پر کوئی ملامت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہیں معاف فرمائے۔ یہ میری قمیص ہے ، اسے لے جاؤ اور ابا جان کے چہرے پر ڈال دینا۔ ابا جان کی بینائی لوٹ آئے گی پھر گھر کے سب لوگوں کو لے کر میرے پاس آجاؤ۔ 

رکوع نمبر 5 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ تمام بھائی حضرت یوسف علیہ السلام کی قمیص لے کر حضرت یعقوب علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسے حضرت یعقوب علیہ السلام کے چہرے پر ڈال دیا تو آپ علیہ السلام دیکھنے لگے۔ بھائیوں نے انہیں حضرت یوسف علیہ السلام کے مصر کا بادشاہ ہونے کی خوشخبری سنائی اور درخواست کی کہ ہمارے لئے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں پھر آپ علیہ السلام کو لے کر مصر پہنچے تو حضرت یوسف علیہ السلام استقبال کے لئے مصر کے باہر موجود تھے۔ سب کو ساتھ لے کر محل میں پہنچے اپنی والدہ اور والد کو دائیں بائیں بٹھایا اور تمام گیارہ بھائیوں نے اس زمانے کے دستور کے مطابق آداب شاہی پیش کیا: حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا: ابا جان ! یہ ہے میرے اس خواب کی تعبیر جو میں نے بچپن میں دیکھا تھا، آج چاند ( یعنی ماں) اور سورج (یعنی باپ ) میرے دائیں اور بائیں ہیں اور گیارہ ستارے ( یعنی گیارہ بھائی ) مجھے آداب پیش کر رہے ہیں ۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان کیا ہے اور شیطان نے ہم بھائیوں کو الگ کرنے کی بھر پور کوشش کی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے ہماری مدد کی۔ مجھے خوابوں کی تعبیر سکھلائی اور سلطنت عطا فرمائی۔ 

رکوع نمبر 6

اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ لوگ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں دیکھنے کے باوجود بھی شرک کرتے ہیں۔ ان سے کہو ، میری اتباع کریں اور آپ ﷺ سے پہلے جتنے رسول بھیجے وہ سب مرد تھے اور جب رسولوں اور مسلمانوں کو ظاہری طور سے ناکام ہوتا دکھائی دیا اور کافر سمجھے کہ رسولوں نے (نعوذ باللہ ) غلط کہا تب اللہ تعالیٰ کی مدد آئی۔ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو بچالیا اور کافروں کو دردناک سزا دی۔ بے شک اُن کے واقعات میں عقلمندوں کے لئے نشانی ہے اور ان خبروں سے اُن کی آنکھیں کھلتی ہیں۔ 

(سورہ یوسف مکمل ہوئی)

سوره الرعد

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 7

اس رکوع سے سورہ الرعد کی شروعات ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے رکوع کے شروع میں فرمایا: یہ قرآن پاک کی آیتیں ہیں جو آپ ﷺ پر نازل کیا گیا ہے اور برحق ہے۔ مگر اکثر لوگ اسے قبول نہیں کرتے ۔ اس کے بعد بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے بغیر ستون اور سہارے کے آسمانوں کو بلند اور قائم کیا اور عرش کو بنایا اور اپنی شان کے مطابق جلوہ افروز ہوا اور سورج اور چاند بنائے ۔ ہر ایک اپنے مقررہ راستے پر چل رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کو پھیلایا اور اس میں پہاڑ اور دریا بنائے اور ہر قسم کے پھل دو دو طرح کے بنائے ۔ رات اور دن بنائے ۔ بے شک غور و فکر کرنے والوں کے لئے اس میں نشانیاں ہیں اور زمین کے مختلف حصے بنائے اور ان میں باغ ہیں ۔ کھیتیاں ہیں ۔ کھجور کے پیڑ ہیں۔ سب کو ایک ہی پانی دیا جاتا ہے اور اُن کے ذائقے الگ الگ ہیں ۔ بے شک عقل مندوں کے لئے اس میں نشانیاں ہیں۔ عجیب بات تو کافر کرتے ہیں کہ ہم دوبارہ نہیں اٹھائے جائیں گے۔ یہ ہیں انکار کرنے والے۔ یہ جہنم میں ہوں گے اور ہمیشہ اسی میں رہیں گے ۔ اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا اور آپ ﷺ تو صرف اللہ کے عذاب سے ) ڈرانے والے ہیں اور ہر قوم کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک بادی ( راہ دکھانے والا ) مقرر کیا ہے۔ 

رکوع نمبر 8

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ماں کے پیٹ میں کیا ہے؟ اور اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کا اندازہ مقرر کر دیا ہے۔ ہر چھپی اور کھلی چیز کو جانتا ہے۔ دھیرے کہو یا زور سے وہ سب سنتا ہے اور رات میں چھپی ہوئی اور دن میں کھلی ہوئی ہر چیز کو جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان پر فرشتے مقرر کر رکھے ہیں جو اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں اور ( فجر اور عصر کے وقت ) اُن کی بدلی ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت بدلنا نہ چاہیں اور اللہ تعالیٰ ہی بھاری بادلوں کو اٹھاتا ہے اور بجلیاں چمکاتا ہے اور بادل اس کے حکم سے گرجتے ہیں اور ( بجلی کی ) کڑک بھیجتا ہے اور کافروں نے اللہ تعالیٰ کے سوا اپنے معبود بنالئے جب کہ وہ اُن کی کچھ بھی نہیں سنتے اور جو لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے وہ کامیاب ہوئے ۔ بے شک اندھے اور آنکھ والے برابر نہیں ہو سکتے۔

رکوع نمبر 9 

اللہ تعالی نے اس رکوع میں مومنین کے بارے میں بتایا اور جنت کی بشارت دی اور کافروں کی عادتیں اور ان کی بداخلاقیوں کو اجاگر کیا اور ان کی سزا اور ان کا آخری انجام بیان فرمایا ۔ مؤمنین کی خصوصیات میں بتایا کہ یہ آنکھ والے ہیں، عقل والے ہیں، نصیحت قبول کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ سے جو عبد کیا ہےاسے پورا کرتے ہیں، اللہ تعالی نے جن سے جڑنے کا حکم دیا اُن سے جڑتے ہیں۔ اللہ تعالی کے سامنے کھڑے ہونے کا ڈر رہتا ہے اور حساب کا اندیشہ رکھتے ہیں اور صبر کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے نماز قائم کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے عطا کئے ہوئے رزق میں سے خرچ کرتے ہیں اور برائی کا بدلہ بھلائی سے دیتے ہیں۔ یہ جنت میں اپنے نیک والدین ، نیک بیویوں اور نیک اولاد کے ساتھ ہوں گے (جن مومن خواتین کے اندر یہ صفات اور عادات ہوں گی وہ جنت میں اپنے نیک شوہروں کے ساتھ ہوں گی ) اور فرشتے ان کو سلام کرنے آئیں گے ۔ کافروں کی صفات اور عادات کے بارے میں بتایا کہ یہ اللہ تعالی سے پکا عہد کر کے اسے توڑ دیتے ہیں (یعنی تو حید کو چھوڑ کر شرک جیسے قبیح اور ناقابل معافی جرم کا ارتکاب کرتے ہیں ) اور جن سے جڑنے کا اللہ تعالیٰ حکم دیتے ہیں اُن سے تعلق اور رشتہ ناطہ توڑتے ہیں اور زمین میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور گناہ کے کام کر کے فساد پھیلاتے ہیں ۔ ان پر لعنت ہے اور یہ برے گھر ( یعنی جہنم) میں ہوں گے اور اللہ تعالیٰ جسے چاہے کشادہ رزق دیتا ہے اور جسے چاہے تنگ دیتا ہے ۔ کافر اپنے عیش و عشرت پر اتراتے ہیں اور دنیا کی زندگی آخرت کی زندگی کے مقابلہ میں بہت ہی تھوڑی ہے۔

رکوع نمبر 10

اس رکوع میں بھی مومنوں اور کافروں کا ذکر جاری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ کافر کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پراللہ تعالی کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتری ؟ تو اللہ تعالی انکار کرنے والوں کو اسی طرح گمراہ کرتا ہے جب کہ مومنوں کے دل اللہ تعالیٰ کی یاد ہی سے چین وسکون پاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی یاد ہی میں در حقیقت دلوں کا چین وسکون ہے، ایمان والے کامیاب ہوئے اور جو انکار کرنے والے (کافر) ہیں اُن کے سامنے پہاڑ ہل جائیں یا زمین پھٹ جائے یا مردے باتیں کرنے لگیں، جب بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ اللہ تعالی اگر چاہتا تو سب کو ہدایت دے دیتا لیکن پھر امتحان کہاں سے ہوتا ؟ بس کا فروں پر اللہ تعالی کی لعنت ہو گی یہاں تک کہ قیامت آجائے۔ 

رکوع نمبر 11

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں مؤمنوں اور کافروں کے ساتھ ساتھ اہل کتاب کا بھی ذکر کیا۔ رکوع کے شروع میں فرمایا: آپ ﷺ سے پہلے جتنے رسول آئے اُن سب کا مذاق اڑایا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے کافروں کو کچھ دنوں کی مہلت دی اور پھر اللہ تعالیٰ کے عذاب نے انھیں پکڑ لیا اور کافروں کی نگاہوں میں اُن کے اعمال انھیں اچھے لگتے ہیں اور جسے اللہ تعالی گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا اور کافروں کے لئے دنیا اور آخرت دونوں جگہ عذاب ہے اور مومنوں کے لئے جنت کا وعدہ ہے جس میں نہریں بہتی ہیں اور میوے اور سایہ ہے اور اہل کتاب کو تو چاہیئے تھا کہ آپ ﷺ پر ایمان لاتے اور قرآن پاک کو حق مانتے لیکن ان بد بختوں نے بھی انکار کیا تو آپ ﷺ ان سے کہہ دیجئے کہ میں تو ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہوں اور مسلمانوں سے فرمایا: اگر کافروں اور اہل کتاب کی خواہشوں کے مطابق چلو گے تو تمہیں اللہ تعالیٰ کے غضب سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔ 

رکوع نمبر :12

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں آپ ﷺ سے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے آپ ﷺ سے پہلے بھی رسول بھیجے اور وہ بھی بیویاں اور بچے رکھتے تھے اور کوئی بھی رسول اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہی کوئی نشانی پیش کر سکتا ہے تو آپ ﷺ کے ذمہ اللہ تعالی کا پیغام پہنچا دیتا ہے اور حساب لینا اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے اور اللہ تعالی کو حساب لیتے دیر نہیں لگتی ۔ 

(سورہ الرعد مکمل ہوئی )

سوره ابراہیم 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 13 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں آپ ﷺ سے فرمایا : یہ قرآن پاک اللہ تعالی نے آپ ﷺ پر نازل فرمایا تا کہ آپ ﷺ اس کے ذریعے لوگوں کو اندھیرے سے اجالے میں لائیں۔ اس کے بعد بتایا کہ کافروں کو دنیا کی زندگی پیاری ہے ۔ وہ اللہ تعالی کی راہ (یعنی صراط مستقیم ) سے روکتے ہیں اور گمراہی میں مبتلا ہیں۔ آگے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر رسول کو اسی کی قوم میں سے بھیجا جو ان ہی کی زبان میں باتیں کرتا تھا۔ رکوع کے آخر میں بتایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کا احسان یاد دلایا۔ 

رکوع نمبر 14

اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر جاری رکھا کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر پوری دنیا کے لوگ کا فر ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ اس کے بعد بتایا کہ قوم نوح، قوم عاد اور قوم ثمود اور بہت سی قوموں کے پاس انھیں میں سے رسول آئے لیکن انھوں نے انکار کیا اور کہا کہ تم یہ چاہتے ہو کہ ہمارے باپ دادا جن کی عبادت کرتے تھے ہم اُن کی عبادت نہ کریں تو تم اپنی رسالت کی سند بتاؤ تو رسولوں نے کہا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر سند نہیں لا سکتے اور ہم تو اللہ تعالیٰ پر ہی بھروسہ کرتے ہیں۔ 

رکوع نمبر 15

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ کافروں نے رسولوں سے بدتمیزی کی اور اسلام کی دعوت روکنے کی بھر پور کوشش کی تو اللہ تعالیٰ نے رسولوں سے فرمایا کہ ہم ضرور ان ظالموں کو ہلاک کریں گے اور ضرور تم کو زمین میں بسائیں گے۔ اس کے بعد کافروں کے بارے میں بتایا کہ جہنم میں انھیں پینے کے لئے پیپ دیا جائے گا جو گھونٹ گھونٹ کر کے پی سکے گا اور پھر بھی گلے سے اترنا مشکل ہوگا۔ اس کے بعد تمام انسانوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہی حق کے ساتھ زمین اور آسمان بنائے اور اگر وہ چاہے تو تمہیں تباہ کر کے نئے لوگوں کو لے آئے اور یہ اس کے لئے کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔ اس کے بعد بتایا کہ جہنم میں کافر اپنے سرداروں سے کہیں گے کہ ہم پر سے تکلیف کو کچھ ٹال دو تو سردار کہیں گے: ہم بھی اسی تکلیف میں مبتلا ہیں۔ اب ہم چاہے بے قراری سے برداشت کریں یا صبر سے ، ہمارے لئے کوئی پناہ نہیں ہے۔ 

رکوع نمبر 16

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں جہنم کا ذکر جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ ان کافروں سے شیطان کہے گا: بے شک اللہ تعالیٰ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا اور میں نے تم سے جھوٹا وعدہ کیا تھا اور میں نے تم پر زبردستی نہیں کی تھی ، میں نے تو صرف تم کو بہکایا تھا اور تم مان گئے ۔ تو اب مجھ پر نہیں خود پر الزام رکھو۔ اور پھر مؤمنوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ وہ جنت میں ہوں گے ۔ جہاں اُن پر سلام ہوگا اور اُن کا اکرام ہوگا۔ اس کے بعد کلمہ طیبہ کی مثال بیان کی کہ یہ ایک پاکیزہ درخت کی مانند ہے جس کی جڑ گہری قائم ہے اور شاخیں آسمان تک پھیلی ہوئی ہیں اور وہ اپنا پھل اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہر وقت ہر موسم میں دیتا رہتا ہے اور کفر کی مثال ایسی ہے کہ وہ ایک گندے پیڑ کی طرح ہے جس کو اکھاڑ کر زمین پر رکھ دیا گیا ہو۔ اب اس کا کوئی ٹھکانہ نہیں اور اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو دنیا اور آخرت میں حق پر قائم رکھتا ہے۔

رکوع نمبر :17

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں کافروں کے بارے میں بتایا کہ ان لوگوں نے (رسولوں کو جھٹلا کر) اللہ تعالی کی نعمت کا انکار کیا اور ہلاکت تک پہنچ گئے۔ پھر مؤمنوں کے بارے میں بتایا کہ وہ اللہ تعالی پر اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے دیئے رزق میں سے اللہ تعالی کے لئے خرچ کرتے ہیں۔ اس دن (یعنی قیامت) کے آنے سے پہلے جس دن نہ دوست کام آئیں گے اور نہ کوئی سودا۔ اس کے بعد بتایا کہ اللہ تعالی ہی نے زمین اور آسمان تمہارے لئے بنائے اور بارش برسائی اور تمہارے کھانے کے لئے پھل پیدا کئے اور کشتیاں عطا فرمائیں جو سمندروں میں چلتی ہیں اور چاند اور سورج کو تمہارے لئے بنایا جو اپنے مقررہ راستے پر چل رہے ہیں اور تمہیں اتنی نعمتیں عطا فرما ئیں جن کو تم گن نہیں سکو گے۔

رکوع نمبر 18

اللہ تعالی نے اس پورے رکوع میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کا ذکر فرمایا کہ آپ علیہ السلام نے دعا مانگی کہ اے اللہ اس شہر (مکہ مکرمہ) کوامن کا شہر بنا اور مجھے اور میری اولا د کو شرک سے بچا اور میں نے اپنی اولاد کو حرمت والے گھر (خانہ کعبہ ) کے پاس بسا دیا ہے تا کہ وہ نماز قائم کریں اور لوگوں کے دل اُن کی طرف مائل کر دے اور اُن کو پھلوں کا رزق عطا فرما تا کہ تیرا شکر ادا کریں ۔ زمین اور آسمان میں ہر کھلے اور چھپے کو تو جانتا ہے اور تو نے مجھے اسماعیل اور اسحاق عطا فرمائے اور مجھے نماز قائم کرنے والا رکھ اور میرے والدین اور سب مسلمانوں کو بخش دے حساب کے دن ۔ 

رکوع نمبر 19

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں قیامت کے بارے میں بتایا اور کافروں کی کیا کیفیت ہوگی اسے تفصیل سے بتایا کہ کافر اپنا داؤ چل رہے ہیں اور وہ ناکام ہوں گے، اس دن جب زمین اور آسمان بدل دیئے جائیں گے اور جب اللہ تعالی کے سامنے سب جمع ہوں گے اور کا فر بیڑیوں میں جکڑے ہوئے ہوں گے اور آگ اُن کے چہروں کو ڈھانکے ہوئے ہوگی اور اللہ تعالی حساب لے گا اور اللہ تعالیٰ کو حساب لیتے دیر نہیں لگتی۔ 

(سورہ ابراہیم مکمل ہوئی) 

( پارہ نمبر 13 مکمل) 

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں