بدھ، 11 ستمبر، 2024

Spen (Haspaniya) Madrid mein Islam

 ملک اسپین میں اسلام کی روشنی




اسپین میں گاتھ حکومت


   ملک اسپین میں جب اسلام کی روشنی پہنچی تو وہاں گاتھ خاندان کی حکومت تھی ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: اُندلس (اِسپین) بحیرۂ روم کے شمالی کنارہ پر مغرب کی جانب واقع ہے ۔ اِس ملک کو عرب ”اندلوسیہ عظمیٰ“ کے نام سے موسوم کرتے ہیں ۔ یہاں پر ملک فرانس کا ایک گروہ رہتا تھا اور ان میں زیادہ تر سخت اور کثیر تعداد میں ”جلالقہ“ تھے ۔ لیکن ”قوط“ (گاتھ) نے اسلام سے چار سوسال پہلے لاطینیوں سے متعدد لڑائیاں لڑ کر اِس ملک پر قبضہ حاصل کیا تھا ۔ اِنہیں لڑائیوں میں قوط (گاتھ) نے روم کا بھی محاصرہ کرلیا تھا ۔ اہل روم نے صلح کا پیغام دیا اور آخرکار اِس بات پر مصالحت ہوگئی کہ گاتھ ”اُندلس“ واپس چلے جائیں ۔ اِسی لئے انہوں نے ملک اسپین کا رُخ کیا اور قابض ہوگئے ۔ پھر رومیوں اور لاطینیوں نے ”لیلہ نصرانیہ“ کو لے لیا تو دوسری طرف سے فراسیسی بہادر بھی گھس پڑے ۔ اُس وقت خاندان گاتھ کے قبضۂ اقتدار میں یہاں کی حکومت تھی ۔ خاندان گاتھ نے عیسائی مذہب اختیار کرلیا ۔


اسپین میں اسلام کی روشنی


   اِسپین یا اُندلس یا ہسپانیہ میں اسلام پہلی صدی ھجری کے اواخر یعنی 92 ھجری میں ہی پہنچ گیا تھا۔ یہ ”سلطنتِ اُمیہ“ کا زمانہ تھا اور اُس وقت ”سلطنتِ اُمیہ“ کا حکمراں ولید بن عبدالملک تھا اور اُس کا خاص سپہ سالار اور گورنر حجاج بن یوسف تھا ۔ولید بن عبدالملک کے دورِ حکومت میں مسلمان لگ بھگ ہر طرف پیش قدمی کررہے تھے ۔ جنوب میں ملک سندھ (حالیہ ہندوستان ، پاکستان ، بنگلہ دیش ، سری لنکا اور نیپال)میں محمد بن قاسم مسلسل فتوحات حاصل کرتے ہوئے آگے بڑھ رہا تھا ۔ مشرق میںقتیبہ بن مسلم فتوحات حاصل کرتے کرتے ملک چین تک پہنچ گیا تھا ۔ مغرب میں موسیٰ بن نصیر اور طارق بن زیاد پورا افریقہ (حالیہ شمالی افریقہ) فتح کر چکے تھے اور آگے بڑھ کر سمندر پار کر کے شمال مغرب میں ملک اُندلس یعنی اسپین یا ہسپانیہ میں داخل ہوچکے تھے اور مسلسل فتوحات حاصل کر رہے تھے ۔ انہیں دونوں مجاہدین کے ذریعے اسپین میں اسلام پہنچا ۔ ملک اسپین میں اسلام پہنچنے کی وجہ ایک واقعہ بنااور اِس واقعہ نے ملک اسپین کی قسمت پلٹ دی ۔


سبتہ ، سبطہ یا سبوٹا“کا گورنر کاونٹ جولین


   جس وقت موسیٰ بن نصیر اور طارق بن زیاد شمالی افریقہ میں مسلسل فتوحات حاصل کررہے تھے اُس وقت شمالی افریقہ کے شمالی ملک ”مراکش“ کے ساحلی شہروں پر بھی ملک اسپین کے گاتھ خاندان کی حکومت تھی اور یہ دونوں مجاہدین اُن عیسائی گورنروں کو شکست دے رہے تھے۔ ملک مراکش کے ساحلی شہر ”سبتہ یا سبطہ“ کا گورنر کاونٹ جولین مسلسل اِن دونوں مجاہدین سے مقابلہ کررہا تھا اور اُس کے شہر کی حفاظت کررہا تھا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: خاندان ِ گاتھ کے بادشاہوں کا دارالحکومت ”طلیطلہ“ (ٹولیڈو)تھا ۔ اِسی حالت میں خاندان گاتھ نے لگ بھگ چار سو (400) سال حکمرانی کی حتیٰ کی آفتاب ِ اسلام سے دھیرے دھیرے پوری دنیا منور ہونے لگی اور مسلمانوں کی فتح مند موجیں ”بحرظلمات“ (بحراوقیانوس) اور افریقہ کے ساحلوں پر پرچم لہراتی نظر آنے لگیں ۔ اُس وقت ملک اسپین کا بادشاہ ”لرزیق“ (راڈرک) تھا ۔ لرزیق ملک اسپین کے بادشاہوں کا لقب ہوتا تھا جیسے صقلیہ کے بادشاہوں کا لقب ”جرجیر“ ہوا کرتا تھا ۔ بحیرۂ روم کے جنوبی ساحل کے اِس پار (شمالی افریقہ) پر بھی گاتھ خاندان کا قبضہ تھا ۔ جس کی حدود اِدھر سے ”طنجہ“ اور اُدھر سے ”بلاد بربر“ (بربروں کے شہروں) سے ملی ہوئی تھیں ۔ یلیان (جولین) نامی شخص انہی کے مذہب کا تھا اور اِن کا ماتحت تھا ۔ موسیٰ بن نصیر ”سلطنتِ اُمیہ“ کے حکمراں ولید بن عبدالملک کی طرف سے افریقہ(شمالی افریقہ) کا گورنر تھا اور اُس کا دارالحکومت ”قیروان“ تھا ۔ مسلمان مجاہدین نے موسیٰ بن نصیر کی سپہ سالاری میں پورے افریقہ (حالیہ شمالی افریقہ)کو فتح کرلیا تھا اور ”طنجہ“ فتح کرتے ہوئے بحیرۂ زقاق (بحیرۂ روم) تک پہنچ گئے تھے اور صرف ایک شہر غمارہ (سبتہ ، سبطہ)جس پر یلیان (جولین) حکمرانی کررہا تھا وہی مسلمانوں سے مقابلہ پر اڑا ہوا تھا اور مستقل مزاجی سے مسلسل لڑ رہا تھا ۔


سبتہ “ عیسائیوں کی فوجی چھاؤنی


   لگ بھگ پورا شمالی افریقہ مسلمانوں کے قبضہ میں آگیا تھا اور صرف ملک مراکش کا ایک ساحلی شہر ”سبتہ“ ملک اسپین کے گورنر کاونٹ جولین کے قبضہ میں تھا اور وہ مسلسل مسلمانوں سے مقابلہ کر رہا تھا ۔ ”سبتہ“ (Ceuta) ملک مراکش کے شمالی ساحل پر واقع ہے ۔ ملک اسپین کے گاتھ خاندان نے اِس پر کافی پہلے قبضہ کرلیا تھا ۔ ”سبتہ“ ایک بندرگاہ اور فوجی چھاو¿نی کے طور پر گاتھ خاندان استعمال کرتے تھے جو آبنائے ”جبل الطارق“ (جبرالٹر) کے دہانے پر واقع ہے ۔ پانچویں صدی قبل مسیح میں اہل قرطاجنہ ملک مراکش کے سواحل پر جو سات نوآبادیاں قائم کی تھیں اُن میں سے ایک ”سپتم“ (Septem ) یا ”سبتہ“ بھی تھا ۔ ”سبتہ“ پر اسپینیوں سے پہلے پرتگالیوں کا قبضہ تھا ۔ ”سبتہ“ ملک مراکش کا ایک حصہ ہے لیکن چونکہ ساحل پر واقع ہے اور بہت خوبصورت علاقہ ہے ۔ اِسی لئے ملک اسپین کے حکمراںچودہ(۴۱) کلومیٹر چوڑی ”آبنائے جبل الطارق“ پار کر کے آئے اور ملک مراکش کے لگ بھگ تمام سواحلی علاقوں پر قابض ہوگئے تھے جن میں ”سبتہ“ اور ”طنجہ“ سرفہرست ہیں۔


طنجہ کا گورنر طارق بن زیاد


   ”سلطنتِ اُمیہ“ کی طرف سے شمالی افریقہ کے گورنر موسیٰ بن نصیر کے ساتھ اُس کا آزاد کردہ غلام طارق بن زیاد بھی بربروں سے لڑ رہا تھا اور یہ موسیٰ بن نصیر کی فوج کا سب سے بہترین کمانڈر تھا ۔ جب تمام شمالی افریقہ فتح ہوگیا اور صرف کاونٹ جولین کا ”سبتہ“ شہر رہ گیا تو موسیٰ بن نصیر نے طارق بن زیاد کو ”طنجہ“ اور اُس کے آس پاس کے تمام علاقوں کا گورنر بنا دیا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: افریقہ کے گورنر موسیٰ بن نصیر یلیان (جولین) سے ”سلطنتِ اُمیہ“ کی اطاعت قبول کرنے کے سلسلے میں نامہ و پیام کررہا تھا اور اپنے آزاد کردہ غلام طارق بن زیاد کو ”طنجہ“ کی حکومت پر مامور کردیا ۔ اتفاق سے انہی دنوں میں یلیان (جولین) اور لرزیق (نام راڈرک) گاتھ بادشاہ کے درمیان دشمنی ہوگئی ۔ اِس کا سبب یہ ہوا کہ ملک اسپین کے گاتھ بادشاہ لرزیق نے یلیان (جولین) کی بیٹی فلورنڈا کی عصمت پر اپنے محل سرا میں حملہ کر کے اُس کی پاک دامنی کو اپنی ہوا و ہوس اور شہوت پرستی اور عیش پسند طبیعت کا شکار بنا ڈالا تھا ۔ اُس وقت ملک اسپین کی چھوٹی چھوٹی ریاستوں کا یہ دستور تھا کہ اپنے بچوں کو دربار، شاہی میں آداب ِ بزم و تہذیب سیکھنے کی غرض سے بھیج دیا کرتے تھے ۔ اِسی لئے یلیان یعنی جولین نے اِسی دستور کے مطابق اپنی بیٹی فلورنڈا کو ”طلیطلہ“(ٹولیڈو) بھیجا تھا ۔ یلیان (جولین) اِس شرمناک خبر کو سننے کے بعد بہت برہم ہوگیا اور فوراً سامان سفر درست کر کے ملک اسپین روانہ ہوا اور وہاں پہنچ کر لرزیق سے ملاقات کی اور اپنی مظلومہ بیٹی کو لیکر ”سبتہ“ واپس آیا اور اپنے دشمن طارق بن زیاد سے جس سے وہ مسلسل کئی جنگیں لڑ چکا تھا ملاقات کی ۔ اُس نے طارق بن زیاد کو اپنی مظلوم بیٹی کے پیش آنے والا دردناک واقعہ بیان کیا تو طارق بن زیاد تڑپ اُٹھا ۔ اس کے بعد ملک اسپین کی سرسبزی و شادابی اور وسعت سے واقف کرا کراور وہاں کی عوام پر ہونے والے ظلم کے بارے میں بتا کر حملہ کرنے کا اتنا شوق دلایا کہ طارق بن زیاد ملک اسپین میں اسلام کا نور پہنچانے کے لئے بے چین ہوگیا ۔


اسپین پر مسلمانوں کا پہلا حملہ


   ملک اسپین پر پہلا حملہ تو خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے دورِ خلافت میں ہی ہوگیا تھا لیکن خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ کی شہادت کی وجہ سے معاملہ رُک گیا ۔ اس کے بعد امیرالمومنین حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کے زمانے میں بھی حملہ ہوا لیکن اُن کے بعد یزید کے دورِ حکومت میں معاملہ پھر رک گیا۔ اِس کے بعد ”سلطنتِ اُمیہ“ کے حکمراں ولید بن عبدالملک کے دورِ حکومت میں افریقہ کے گورنر موسیٰ بن نصیر اور طارق بن زیاد نے ملک اسپین پر ایسے حملے کئے جن کی وجہ سے ملک اسپین میں ”آفتابِ اسلام“ منور ہوگیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری ”تاریخ اُمم والملوک“ میں اور علامہ ابن اثیر ”تاریخ الکامل“ میں لکھتے ہیں: خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے حضرت عبداﷲ بن نافع بن حصین اور حضرت عبداﷲ بن نافع بن عبدالقیس کو ملک افریقہ کے راستے سے اُندلس (اسپین) ہر حملہ کرنے کے لئے بھیجااور یہ مجاہدین بحری راستے سے اُندلس (اسپین) پر حملہ آور ہوئے ۔ خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے انہیں لکھا تھا :” اُندلس (اسپین) کے راستے سے ”قسطنطنیہ“ آسانی سے فتح کیا جاسکتا ہے اور تم لوگ اِس سعادت کو حاصل کر کے اُس اجر کے مستحق ہوسکتے ہو جس کی بشارت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ”قسطنطنیہ“ فتح کرنے والوں کو دی ہے ۔ یہ مجاہد ین بربری فوج لیکر ا‘ندلس پر حملہ آور ہوئے اور اُس کے سواحلی شہروں پر قابض ہوگئے لیکن یہ قبضہ مستقل نہیں رہا ۔


ملک اسپین پر دوسرا حملہ


   سلطنتِ اُمیہ“ کے حکمراں امیرالمومنین ولید بن عبدالملک کے دورِ حکومت میں افریقہ کے گورنر موسیٰ بن نصیر اپنے لائق کمانڈر کے ساتھ لگ بھگ پورا شمالی افریقہ فتح کرچکا تھا کہ سبتہ کا حکمراں کاونٹ جولین ”طنجہ“ کے گورنر طارق بن زیاد کے پاس پہنچا اور اسپین پر حملہ کرنے کی گزارش کی ۔ طارق بن زیاد اپنے سربراہ موسیٰ بن نصیر کے پاس ”قیروان“ پہنچا اور اُسے کاونٹ جولین کی درخواست کے بارے میں بتایا ۔ موسیٰ بن نصیر نے امیرالمومنین ولید بن عبدالملک کے پاس ملک اسپین پر حملہ کرنے کے لئے ”دمشق“قاصد بھیج کر اجازت طلب کی ۔ موسیٰ بن نصیر کے خط کے جواب میں امیرالمومنین ولید بن عبدالملک نے لکھا :” مسلمانوں کو خشکی تک محدود رکھو اور انہیں سمندر کے خطرات میں نہ ڈالو ۔“ موسیٰ بن نصیر نے جواب میں لکھا :” سمندر زیادہ وسیع نہیں ہے اور وہ صرف ایک خلیج (آبنائے) ہے ۔جو ماوراء(براعظم یورپ) کو الگ کرتی ہے ۔“ امیرالمومنین ولید بن عبدالملک نے لکھا : ” اگر صورتِ حال ویسی ہی ہے جیسی تم نے بیان کی ہے تو چھاپہ مار دستے بھیج کر وہاں کی معلومات حاصل کرو۔“(تاریخ الکامل امام ابن اثیر) امیرالمومنین کی ہدایت کے مطابق افریقہ کے گورنر موسیٰ بن نصیر نے اپنے آزاد کردہ غلام ابوزرعہ طریف بن مالک نخعی کو پانچ سو (500) مجاہدین کی فوج دے کر جن میں سو گھڑ سوار بھی تھے روانہ کئے تاکہ کاونٹ جولین کے بیان کی سچائی کا اندازہ ہوسکے اور پھر مسلمان بڑی یلغار کرسکیں ۔ یہ فوج چار کشتیوں پر سوار ہوکر ملک اسپین کے ساحل پر ماہِ رمضان المبارک 91 ھجری میں جس مقام پراُتری اُسے ”جزیرۂ طریف“ کہا جانے لگا اور اب اسے ”طریفہ“ کہا جاتا ہے ۔ اِس فوج نے سواحلی علاقوں پر کئی کامیاب حملے کئے اور کثیر مال غنیمت کے ساتھ موسیٰ بن نصیر کے پاس واپس آئے اور کاونٹ جولین کی فراہم کردہ معلومات کو صحیح بتایا۔


طارق بن زیاد کی ملک اسپین روانگی


   افریقہ کے گورنر موسیٰ بن نصیر کے پاس طریف بن مالک نخعی کامیاب مہم سے واپس آیا اور کاونٹ جولین کی تصدیق کی تو موسیٰ بن نصیر نے افریقہ میں اُندلس (اسپین) میں جہاد کے لئے فوج بھیجنے کا اعلان کردیا ۔ طریف بن مالک کی کامیابی نے مسلمانوں کے حوصلے بلند کردیئے تھے اور مسلمان خوشی خوشی ملک اسپین میں جہاد کے لئے جانے کی تیاری کرنے لگے ۔ لگ بھگ سات ہزار کی فوج تیار ہوگئی جس میں اکثریت بربروں کی تھی اور تین سو عرب مجاہد تھے ۔ افریقہ کے گورنر موسیٰ بن نصیر نے اپنے لائق کمانڈر اور ”طنجہ“ کے گورنر طارق بن زیاد کو اِس فوج کا سپہ سالار بنایا اور وہ مسلمان مجاہدین کو لیکرچار بحری جہازوں پر سوار ہوکر ”طنجہ“ سے ملک اسپین کی طرف روانہ ہوا ۔ طارق بن زیاد نے پوری ”آبنائے جبل الطارق“ کی لمبائی پار کی اور ملک اسپین کے جنوب میں ”جبل کالپی“ (Calpe ) یعنی کالپی کے پہاڑ کے پاس لنگر انداز ہوا اور ساحل پر اُترا ۔ اُس وقت سے اِس پہاڑ کا نام ”جبل الطارق“ (طارق کا پہاڑ) پڑ گیا ۔ آج کل اِس کا بگڑا ہوا تلفظ ”جبرالٹر“ مشہور ہے ۔ طارق بن زیاد کچھ دنوں تک وہیں مقیم رہا اور اپنے جاسوس بھیج کر ملک اسپین کی اور وہاں کے بادشاہ کی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات حاصل کرتا رہا ۔ اِسی دوران افریقہ کے گورنر موسیٰ بن نصیر نے طریف بن مالک کے ساتھ پانچ ہزار مجاہدین کی اور فوج بھیج دی اور طارق بن زیاد کے پاس بارہ ہزار مجاہدین کی فوج ہوگئی ۔


رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی بشارت


   طارق بن زیاد جب اپنی فوج کے ساتھ ”آبنائے جبل الطارق“ میں سفر کررہا تھا تو اُس نے خواب میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو دیکھا جو اُس کی حوصلہ افزائی کر رہے تھے اور ملک اسپین میں آگے بڑھنے کی تلقین کر رہے تھے ۔ ایک روایت میں ہے کہ راستے میں طارق بن زیاد نے ایک خواب دیکھا ۔ جس میں اُسے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ، مہاجرین و انصاررضی اﷲ عنہم کی معیت میں تشریف فرما دکھائی دیئے ۔ صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم تلوریں لٹکائے اور مونڈھوں پر کمانیں چڑھائے ہیں اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم طارق بن زیاد سے فرما رہے ہیں :” طارق اِسی شان سے قدم آگے بڑھائے جاو¿۔“ پھر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے طارق بن زیاد کو مسلمانوں کے ساتھ نرمی سے پیش آنے اور اپنے وعدوں کو پورا کرنے کی ہدایت فرمائی ۔ اِس کے بعد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ اپنے صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کے ساتھ چلتے ہوئے ملک اسپین میں داخل ہوئے اور طارق بن زیاد اپنی فوج کے ساتھ اُن کے پیچھے ملک اسپین میں داخل ہوا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ اُندلس ( ملک اسپین) کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے ایک رات طارق بن زیاد نے خواب دیکھا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اپنے چاروں خلفائے راشدین کے ساتھ پانی پر چلتے ہوئے دکھائی دیئے ۔ وہ طارق بن زیاد کے پاس سے گزرنے لگے تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے طارق بن زیاد کو فتح کی بشارت دی اور حکم دیا کہ مسلمانوں سے نرمی اختیار کرنا اور عہد پورا کرنا۔ (وفیات الاعیان : 321/5 )


ملک اسپین میں پہلی بندرگاہ


   طارق بن زیاد جب ملک اسپین میں اپنی فوج کے ساتھ اُترا تو اُس وقت ملک اسپین کا بادشاہ راڈرک (لرزیق) شمالی اسپین میں ”پمپلونہ“کے علاقے میں باغیوں سے لڑ رہا تھا ۔ اِدھر جنوبی اسپین میں طارق بن زیاد اپنی فوج کو ایک ایسے مقام پر لے گیاجس کے گرد پہاڑوں کی ایک دیوار تھی جسے ”سدالعرب“ کا نام دیا گیا ۔ طارق بن زیاد نے وہاں پر ملک مراکش کے ساحلی شہر ”سبتہ“ سے آنے والے جہازوں کے لئے ایک بندر گاہ بنائی ۔ یہ مقام مسلمانوں کے لئے جنگی نقطہ¿ نظر سے بہت موزوں تھا جو ایک طرف سمندر کے ذریعے افریقہ کے ساحلی شہر ”سبتہ“ سے ملا ہوا تھا اور دوسری طرف اسے پہاڑوں نے گھیر رکھا تھا جسے عبور کرنا گاتھ فوج کے لئے بہت مشکل تھا ۔ اِس کے بعد طارق بن زیاد آگے بڑھا اور جنوبی اسپین کے ساحلی شہر ”قرطایہ“ (Crteyo ) کو فتح کر کے قبضہ کرلیا ۔ اِس کے وہ اپنی فوج کے ساتھ مغرب کی طرف آگے بڑھا اور ”جزیرة الخضرائ“ پر بھی فتح حاصل کر کے قبضہ کر لیا ۔ اِسی دوران رڈارک کو خبر ملی کہ جنوبی اسپین پر مسلمانوں نے حملہ کردیا ہے ۔تب تک طارق بن زیاد نے جنوبی اسپین کے لگ بھگ تمام ساحلی علاقے پر قبضہ جما لیا تھا جو تقریباً اسی (80) کلومیٹر کی لمبائی میں اور پندرہ (15) کلو میٹر کی چوڑائی میں افریقی ساحل کے مقابل پھیلا ہوا تھا ۔


دونوں فوجوں کا سامنا


   ملک اسپین کے بادشاہ راڈرک یعنی لرزیق کو جب مسلمانوں کی ملک اسپین کے جنوب میں آگے بڑھنے کی اطلاع ملی تو فوراً واپس پلٹا اور ”قرطبہ“( Cordoba ) آیا اور ملک سپین کے دوسرے علاقوں سے بھی فوج کو جمع کیا جس کی تعداد چالیس ہزار (40,000) سے لیکر ایک لاکھ تک تھی ۔ اِدھر طارق بن زیاد اپنے بارہ ہزار مجاہدین کے ساتھ آگے بڑھ رہا تھا جن میں سے اکثریت کے پاس گھوڑے بھی نہیں تھے اور ہتھیار بھی مکمل نہیں تھے ۔ اُدھر ”قرطبہ“ سے ملک اسپین کا عیسائی بادشاہ اپنی زبردست فوج کو لیکر تیزی سے آگے بڑھا ۔ تب تک طارق بن زیاد اپنی فوج کے ساتھ ”دریائے برباط“ کے کنارے پہنچ چکا تھا اور ”وادی¿ بیکا یا بکہ “ میں قیام پذیر تھا ۔ راڈرک بھی اپنی فوج کے ساتھ وہاں پہنچ گیا اور مسلمانوں کے سامنے پڑاؤ ڈال دیا ۔ اُس کی عیسائیوں کی عظیم الشان فوج کے سامنے مسلمانوں کی چھوٹی سی فوج بہت حقیر معلوم ہورہی تھی ۔ مسلمانوں کی چھوٹی سی فوج کو دیکھ کر عیسائی سپاہی اور بادشاہ راڈرک اُن کا مذاق اُڑانے لگے ۔راڈرک کے لگ بھگ ایک لاکھ سپاہی سب گھڑ سوار تھے اور قیمتی اسلحہ سے آراستہ تھے ۔ جبکہ طارق بن زیاد کے پاس صرف بارہ ہزار مجایدین تھے جو حالانکہ جنگجو اور بہادر ہونے کے ساتھ ساتھ اسلام کی دولت سے مالامال تھے لیکن اُن کے پاس نہ گھوڑے تھے اور نہ ہی مکمل اسلحہ تھے ۔ کسی کے پاس صرف تلوار تھی اور کسی کے پاس صرف نیزہ تھا اور زیادہ تر کے پاس زرہ بکتر بھی نہیں تھی ۔ فوج کی تعداد اور اسلحہ کے لحاظ سے اِن دونوں فوجوں کا کوئی مقابلہ نہیں تھا ۔ اسپینی فوج میں اپنے وطن اور مذہب کی مدافعت کا جذبہ تھا جبکہ مسلمانوں کے اندر صرف اﷲ کے لئے شہید ہونے کا جذبہ تھا ۔


طارق بن زیاد کا خطبہ


   ملک اسپین میں مسلمان فوج اور عیسائی فوج ایکدوسرے کے سامنے صف آرا ہونے سے پہلی رات کو طارق بن زیاد نے مسلمان مجاہدین کے سامنے خطبہ دیا ۔ اُس نے حمد و ثناءکے بعد کہا :” امابعد: مسلمانو! یہ خوب سمجھ لو! اب تمہارے بھاگنے کی جگہ کوئی نہیں ہے ۔ سمندر تمہارے پیچھے ہے اور دشمن تمھارے آگے ہے۔ اﷲ کی قسم! اب پامردی اور استقلال کے سوا تمھارے لئے کوئی چارہ نہیں ہے اور یہی دو طاقتیں ہیں جو مغلوب نہیں ہوسکتیں ۔ یہی دونوں فتح مند قوتیں ہیں جنہیں فوج کی قلت تعداد نقصان نہیں پہنچا سکتی اور کسی فوج کی کثرت تعداد ، بزدلی ، سستی ، نامردی ، اختلاف اور غرور کے ساتھ فائدہ نہیں پہنچا سکتی ۔ سمجھ لو! تم اِس ملک میں ایسے ہو جیسے یغمائی بخیلوں کے دستر خوان پر ہوتے ہیں ۔ تمہارے دشمن اپنی فوج اور جنگ کے سامان کے ساتھ تمہارے سامنے آچکے ہیں ۔ اُن کے پاس کھانے کا سامان وافر مقدار میں ہے مگر تمہارے پاس تمہاری تلواروں کے سواکوئی سامان نہیں ہے ۔ ہاں تمہارے پاس ایک راستہ ہے اور وہ یہ ہے کہ تم دشمن سے کھانے کا سامان چھین کر حاصل کرلو ۔ اگر تم نے کوتاہی کی اور کچھ حاصل نہیں کیا تو تمہاری ہوا اُکھڑ جائے گی اور تمہارے دشمنوں کے دلوں میں تمہارا رعب پیدا ہونے کے بجائے تم سے مقابلہ کرنے کی ہمت پیدا ہوجائے گی ۔ اِس لئے تم اپنے آپ کو ایسی رسوائی میں پڑنے سے پہلے (دشمن کو) زیر کرکے اپنے آپ کو بچا لوجو قلعہ بند شہر سے تمہارے مقابلے پر آیا ہے ۔ اگر تم اپنی جانوں پر کھیل جاو¿ تو کامیابی تمہارے قدم چومنے کو تیار ہے ۔ میں تمہیں کوئی ایسی دعوت نہیں دے رہا ہوں جو میں قبول کرنے کو تیار نہیں ہوں ۔ میں تمہیں ایسے مقام پر لایا ہوں جہاں سب سے سستی چیز انسان کی جانیں ہیں اور سب سے پہلے میں اپنے آپ سے شروع کرتا ہوں ۔ یہ خوب یقین رکھو کہ اگر تھوڑی دیر کی تکلیف اُٹھا لوگے تو اس کے بدلے میں (آخرت کی) عرصہ دراز تک عیش و راحت اُٹھاؤ گے ۔ تم اپنی جانوں کو میری جان سے زیادہ قیمتی نہ بناؤ ،تمہارا اور میرا حصہ برابر ہے ۔ اِس وقت اِس ملک میں جو ہے وہ سب کچھ تمہارا ہے ۔ امیرالمومنین ولید بن عبدالملک نے تم جیسے بہادروں کو منتخب کیا ہے کہ تم اِس ملک کے تاجداروں اور رئیسوں کے داماد بن جاؤ ۔ تم اِس ملک اُندلس میں اﷲ کے دین کو سر بلند کرنے کے لئے آئے ہو اور اِس کا اجر پاؤ گے اور یہاں کا مال غنیمت صرف تمہارے واسطے ہے ۔ تم اِس عزم پر قائم رہو گے تو اﷲ تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا اور دونوں جہانوں میں تمہارا نام باقی رہے گا ۔ “


فوج کو وصیت


   طارق بن زیاد اپنی فوج کے سامنے خطبہ دے رہا تھا اور فوج میں جوش بڑھتا جا رہا تھا ۔ طارق بن زیاد نے آگے کہا :” اے مجاہدین! یہ خوب سمجھ لو! میں تمہیں جودعوت دے رہا ہوں اُس پر عمل کرنے والا سب سے پہلا شخص میں ہی ہوں ۔ مجھے تم جو کچھ کرتے دیکھو اُسی کی پیروی کرو ۔ اگر میں حملہ کروں تو تم بھی ٹوٹ پڑو ۔ اگر میں رُک جاؤں تو تم بھی ٹھٹھک کر رُک جاؤ ۔ میدان جنگ میں سب مل کر ایک ”شخص ِ واحد“ کی ہیئت اختیار کرلو ۔ جس وقت دونوں فوجیں ٹکرائیں گی اُس وقت میں خاص طور پر اس سرکش (راڈرک) کی طرف رُخ کروں گا ۔ اگر میں اس سرکش کو قتل کرنے کے بعد مارا جاو¿ں تو میں تمہارے کام کو پورا کرجاؤں گا ۔ تم بہادر اور عقلمند ہو اور اس کے بعد اپنے کاموں کو سنبھال سکتے ہو۔ اگر میں اُس تک پہنچنے سے پہلے ہی مارا جاؤں تو تم میرے اِس عزم کو پورا کرنا اور اُس پر حملہ آور ہوکر اُسے قتل کر دینا ۔ اس کے بعد اِس پورے ملک اندلس کو مکمل طریقے سے فتح کرنا کیونکہ اس کے قتل کے بعد عیسائیوں کی ہمتیں ٹوٹ جائیں گی ۔ اگر میں قتل ہوجاؤں تو غمگین نہیں ہونا ، رنج و ملال نہیں کرنا اور آپس نہیں نہیں لڑنا کیونکہ آپس میں لڑنے سے تمہاری ہوا اُکھڑ جائے گی اور تم دشمنوں کے سامنے پیٹھ دو گے اور قتل و گرفتار ہو کر برباد ہو جاؤ گے ۔ خبردار! خبردار! پستی کو قبول نہیں کرنا اور اپنے آپ کو دشمنوں کے حوالے نہیں کرنا ۔ تمہارے لئے مشقت و جفاکشی کے ذریعہ شرف و عزت ، راحت و آرام اور حصولِ شہادت کے ذریعہ آخرت کا ثواب لکھ دیا گیا ہے ۔ اِن سعادتوں کو حاصل کرنے کے لئے آگے بڑھو ۔ اگر تم نے یہ کر لیا تو اﷲ کا فضل و احسان تمہارے ساتھ ہے ۔ وہ تمہیں آئندہ ہونے والے گھاٹے سے اور کل کو اپنے جاننے والے مسلمانوں کے درمیان برے لفظوں سے یاد کئے جانے سے بچائے گا ۔ پس اب میں حملہ آور ہوں گا اور اُس پر چھا جاؤں گا ۔ میرے حملہ آور ہوتے ہی بہادرو! تم بھی جھپٹ پڑنا ۔“


مسلمان مجاہدین کا عزم


   طارق بن زیاد کے خطبہ سے مسلمان مجاہدین میں بہت جوش پیدا ہوگیا اور انہوں نے نئے سرے سے اپنے عزم کا اظہار کیا ۔ اِس پُر جوش خطبے نے مجاہدین کے اندر عزم ، جوش و خروش بھر دیا اور ان میں سے بعض نوجوان آگے بڑھے اور کہا: ” اگر اب سے پہلے ہمارے دلوں میں کوئی بات اِس کے برخلاف تھی جس کا آپ نے عزم کیا ہے تو اب ہم نے اِس کو اپنے دلوں سے دور کردیا ہے ۔ اب آپ قدم اُٹھائیں ہم آپ کے ساتھ اور آپ کے تابع فرمان ہیں۔“


ملک اسپین میں پہلی فیصلہ کن فتح


   ابھی تک مسلمان ملک اسپین پر چھوٹے چھوٹے حملے کر رہے تھے اور اب ملک اسپین کا عیسائی بادشاہ خود مسلمانوں سے جنگ کرنے کے لئے آیا ہواتھا اور یہ جنگ فیصلہ کرے گی کہ مسلمان ملک اسپین میں اﷲ کے دین کو پھیلانے میں کامیاب ہوں گے یا نہیں۔ جب صبح کا سپیدۂ سحر نمودار ہوا تو دونوں فوجیں ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہوگئیں ۔ یہ ستائیس (27) رمضان المبارک 92 ھجری کا دن تھا ۔ راڈرک نے اپنی فوج کی صف بندی کی۔ میمنہ اور میسرہ پر اپنے شہزادوں کو رکھا اور قلب کی فوج کی کمان خود سنبھالی ۔ وہ فوج کے درمیان اپنے دو گھوڑوں کے قیمتی تخت پر سوار تھا جس میں موتی ، یاقوت اور زبرجد جڑے ہوئے تھے اور اُس کے اوپر قیمتی چھت بنی تھی ۔ اُس نے قیمتی لعل و جواہر سے مزین لباس پہنا ہوا تھا ۔ اِدھر طارق بن زیاد نے اپنے بارہ ہزار مجاہدین کی صف بندی کر لی اور سب سے آگے آگے تھا ۔ مسلمان مجاہدین سفید عمامے باندھے ہوئے ، ایک ہاتھ میں عربی کمانیں لئے ہوئے اور دوسرے ہاتھ میں تلواریں اور نیزے لئے ہوئے تیار تھے ۔ حملے کی پہل عیسائیوں نے کی اور اس کے بعد تو گھمسان کی جنگ ہونے لگی ۔ اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد کی اور اُن کی ایمانی طاقت اور ہمت کو بڑھا دیا اور عیسائیوں کے دل میں رعب ڈال دیا ۔ یہ انسانی تاریخ کا انتہائی حیران کن منظر تھا کہ بارہ ہزار کی چھوٹی سی فوج اپنے سے کہیں زیادہ بڑی فوج کو دوڑا دوڑا کر مار رہی تھی اورعیسائیوں کے پیر اُکھڑ گئے تھے ۔ اِس کی صرف ایک وجہ تھی کہ طارق بن زیاد پوری طاقت سے حملہ کرتا ہوا راڈرک تک پہنچا اور اُس پر اتنا شدید حملہ کیا کہ وہ اپنے تخت سے گر پڑ ا۔ اِس کے بعد کسی نے راڈرک کو نہیں دیکھا اور نہ ہی اس کی لاش ملی ۔ اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی اور عیسائیوں کا بادشاہ راڈرک لاپتہ ہوگیا اور صرف اُس کا موزہ ”دریائے برباط“ کے کنارے پڑا ملا ۔


موسیٰ بن نصیر کو فتح کی خوشخبری


   طارق بن زیاد کو فوج لیکر ملک اسپین گئے ہوئے کافی دن ہوچکے تھے لیکن موسیٰ بن نصیر کو کوئی تفصیلی خبر نہیں ملی تھی ۔ جب راڈرک کی فوج کو شکست ہوگئی اور مسلمانوں کو ملک اسپین میں ایک فیصلہ کن فتح حاصل ہوگئی تو طارق بن زیاد نے مال غنیمت کے ساتھ اِس فتح کی خوش خبری اپنے اُستاد موسیٰ بن نصیر کو بھیجی ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: طارق بن زیاد نے فرصت اور موقع پاکر 92 ھجری میں اپنے اُستاد موسیٰ بن نصیر سے اجازت حاصل کی اور تین سو عربی سپاہ کی جمیعت کے ساتھ ”آبنائے“ عبور کر کے سواحل اُندلس پر حملہ آور ہوا ۔ طارق بن زیاد کے ہمراہ تین سو عربی فوج کے علاوہ تقریباً دس ہزار بربری فوج بھی تھی ۔ اُس نے اُن کو بھی فوجی لباس پہنا کر اچھی خاصی فوج بنا لی تھی اور فتح مندی کا جھنڈا لئے ہوئے ”جبل الفتح“ موسوم” جبل الطارق“ (جبرالٹر) تک پہنچ گیا ۔ دوسری طرف سے طریف بن مالک نخعی اُندلس (اسپین) میں گھس کر فتح حاصل کرتا ہوا اُس سے آ ملا ۔ جو علاقہ اُس نے فتح کیا تھا اُس علاقے کا نام اُس کے نام کی مناسبت سے ” طاریفا“ کہا گیا ۔ اِن مقامات کے فتح ہونے کے بعد اُندلس کے اندرونی حصے کی طرف مسلمان مجاہدین نے پیش قدمی شروع کی ۔ لرزیق (راڈرک) کو اِس کی خبر ملی تو اُس نے ملک اسپین کے مختلف گروہوں اور عیسائیوں کو جمع کر کے چالیس ہزار (40,000) کی فوج لیکر مسلمان مجاہدین سے لڑنے کے لئے نکلا ۔ دونوں فوجوں کا ایک وادی میں جسے عربی مؤرخ ”بیکا“ کہتے ہیں مقابلہ ہوا۔ (وادیٔ بیکا(وادیٔ بکہ) سے لگ کر دریا برباط بہتا ہے اور اس کے دوسری طرف ”وادیٔ لیت“ (وادیٔ لطہ) ہے اور اس کے دوسری طرف سے جو دریا بہتا ہے وہ ”طاریفا“ سے ہو کر سمندر میں گر جاتا ہے) مسلمانوں کو اِس جنگ میں فتح حاصل ہوئی اور بے شمار لونڈی اور غلام ہاتھ لگے ۔ طارق بن زیاد نے مال غنیمت کا خمس نکال کر فتح کی خوشخبری کے ساتھ افریقہ کے گورنر موسیٰ بن نصیر کے پاس بھیجا ۔


پورا ملک اسپین فتح کرنے کا منصوبہ


   طارق بن زیاد کو فتح ملنے کے بعد بے اندازہ مال غنیمت حاصل ہوا ۔ جنگ سے پہلے یہ حال تھا کہ مسلمان مجاہدین کی اکثریت پیدل تھی لیکن جنگ میں فتح حاصل ہونے کے بعد مسلمانوں کو اتنے گھوڑے حاصل ہوئے کہ مال غنیمت کا خمس نکالنے کے بعد ہر مسلمان مجاہد کے حصے میں تین تین گھوڑے اور تین تین لونڈی اور غلام آئے ۔ اِس کے علاوہ مال و دولت اتنا حاصل ہوا کہ تمام مسلمان مجاہدین بہت زیادہ امیر ہوگئے ۔ اِس جنگ میں بیس ہزار سے زیادہ عیسائی قتل ہوئے تھے اور تین ہزار مسلمان مجاہدین شہید ہوئے ۔ طارق بن زیاد نے جو مال غنیمت کا خمس نکال کر بھیجا وہ اتنا زیادہ تھا کہ افریقہ کے گورنر موسیٰ بن نصیر نے پورے ملک اسپین کو فتح کرنے کا منصوبہ بنایا اور اُس نے طارق بن زیاد کو حکم دیا کہ جہاں ہو ابھی وہیں ٹھہر جاؤ اور مسلمان مجاہدین کو مصیبت میں نہ ڈالو۔ موسیٰ بن نصیر کو اندازہ نہیں تھا کہ اگر طارق بن زیاد مسلمان مجاہدین کے ساتھ وہیں اپنے گورنر کے انتظار میں رُکا رہا تو ملک اسپین کے عیسائیوں پر سے مسلمانوں کی ہوا اُکھڑ جائے گی ۔ اِسلئے طارق بن زیاد نے حکم نہیں مانا اور آگے بڑھتا گیا اور فتوحات حاصل کرتا گیا۔


موسیٰ بن نصیر ملک اسپین میں


   افریقہ کے گورنر موسیٰ بن نصیر نے اپنے شاگرد طارق بن زیاد کو حکم دیا تھا کہ ملک اسپین میں جہاں ہو وہیں ٹھہرو لیکن طارق بن زیاد آگے بڑھتا رہا ۔ اس کے بعد جب موسیٰ بن نصیر فوج لیکر ملک اسپین پہنچا تو طارق بن زیاد نے اُسے حالات سے واقف کرایا اور حکم عدولی کے لئے معافی مانگی ۔ موسیٰ بن نصیر بھی ایک بہت ہی بہترین جنگی سپہ سالار تھا اِس لئے اُس نے طارق بن زیاد کی مجبوری کو سمجھتے ہوئے اُسے معاف کردیا ۔ اِس کے بعد دونوں نے الگ الگ سمتوں سے ملک اسپین میں فتوحات حاصل کرتے ہوئے آگے بڑھنے لگے ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: موسیٰ بن نصیر کو طارق بن زیاد کی اِس غیر متوقع فتح سے بہت خوشی ہوئی اور اُس نے طارق بن زیاد کوحکم دیا :” تم جہاں بھی ہو وہیں رُک جاو¿ اور جب تک میں پہنچ نہ جاو¿ں تم آگے نہیں بڑھنا ۔“ پھر اُس نے ”قیروان“ میں اپنی جگہ اپنے بیٹے عبداﷲ بن موسیٰ کو افریقہ کا گورنر بنایا اور خود ایک عظیم فوج لیکر 93 ھجری میں ملک اسپین کی طرف روانہ ہوا ۔ اُس نے اپنی عظیم فوج کے ساتھ ”آبنائے جبل اطارق“ کو ملک مراکش کے ساحلی شہر ”طنجہ“ سے ملک اسپین کے ساحلی شہر ر ”جزیرة الخضرائ“ کے درمیان سے عبور کیا اور ملک اسپین میں قدم رکھا ۔ اُس کا شاگرد طارق بن زیاد بھی اپنی فوج کے ساتھ اُس سے آملا اور مطیع و منقاد ہو کر اُس کے ساتھ ملکر ملک اُندلس فتح کرنے لگا ۔


مکمل ملک اسپین کی فتح


   طارق بن زیاد کے پاس لگ بھگ صرف نو ہزار مسلمان مجاہدین تھے ۔ اِس کے باوجود وہ ملک اسپین میں مسلسل فتوحات حاصل کررہا تھا ۔ آخر کار لگ بھگ چودہ مہینے بعد افریقہ کا گورنر موسیٰ بن نصیر مسلمان مجاہدین کی اٹھارہ ہزار (18,000) کی ایک عظیم فوج لیکر ملک اسپین میں داخل ہوا ۔طارق بن زیاد بھی اپنی فوج کے ساتھ اُس سے آ کر مل گیا ۔ موسیٰ بن نصیر نے فوج کو دوحصوں میں تقسیم کیا اور آدھی فوج طارق بن زیاد کو دی اور آدھی فوج خود لی ۔ اِس کے بعد دونوں سپہ سالار اپنی اپنی فوجوں کو لیکر ملک اسپین میں الگ الگ سمتوں سے فتوحات حاصل کرتے ہوئے آگے بڑھنے لگے ۔ طارق بن زیاد آگے بڑھا اور شہر ”شذونہ“ پر حملہ کر کے اُسے فتح کر لیا ۔ پھر اُس نے ”المدور“ (Almodovar ) پر کامیاب یلغار کی اور فتح حاصل کر کے وہاں سے ”قرمونہ“ (Carmona )آیا اور اُس پر قبضہ کرنے کے بعد اُس نے ”اشبیلیہ“ (Sevilla ) کا رُخ کیا تو اہل اشبیلیہ نے جزیہ کی شرط پر صلح کر لی ۔ اِس دوران گاتھ دستے قلعہ ”استجہ“ (Ecija ) میں جمع ہوچکے تھے ۔ طارق بن زیاد نے آگے بڑھ کر ”استجہ“ بھی فتح کر لیا ۔ اِس کے بعد طارق بن زیاد نے امیرالمومنین ولید بن عبدالملک کے آزاد کردہ غلام مغیث رومی کو سات سو (700) گھڑ سواروں کی ایک فوج کا سپہ سالار بنا کر ”قرطبہ“ کی طرف بھیجا ۔اُس نے تین مہینے کے محاصرے کے بعد ”قرطبہ“ فتح کرلیا ۔ ددسری فوج کاونٹ جولین کے ایک سپہ سالار کو دے کر ”مالقہ یا ملاگا ‘ ‘ (Malaga ) کی طرف بھیجا جسے اُس نے فتح کرلیا ۔ تیسری فوج اُس نے ”البیرہ“ (Elvira ) کی طرف روانہ کی اور اُس نے اس شہر پر قبضہ کر لیا ۔ اِس کے بعد طارق بن زیاد نے اصل فوج کے ساتھ قوطی(گاتھی) دارالحکومت ”طلیطلہ“ کی طرف پیش قدمی کی ۔ وہ ”جیان “ (Jean کی طرف بڑھا اور ”وادیٔ الکبیر“ کو ”منجبار“ (Menjibar ) کے مقام سے عبور کر کے منزلیں طے کرتے ہوئے ”طلیطلہ“ جا پہنچا ۔ اہل شہر فرار ہوگئے اور مسلمان بغیر کسی مزاحمت کے ”طلیطلہ“ میں داخل ہوگئے ۔


ملک اسپین میں موسیٰ بن نصیر کی فتوحات


   ایک طرف سے طارق بن زیاد ملک اسپین کو فتح کرتے ہوئے آگے بڑھتا جا رہا تھا اور دوسری طرف سے اُس کا اُستاد موسیٰ بن نصیر ملک اسپین کو فتح کرتا ہواآگے بڑھتا جا رہا تھا ۔ موسیٰ بن نصیر منزلیں طے کرتا ہوا ”شذونہ“ پہنچا ، پھر اُس نے قلعہ ”رعواق“ فتح کیا جسے ”وادیٔ ابرہ یا قلعہ جابو“ بھی کہا جاتا ہے ۔ ہسپانوی زبان میں اس کا نام Alcala de Guadiara ہے ۔ اِس کے بعد موسیٰ بن نصیر نے ”قرمونہ“ (Carmona ) پر قبضہ کیا اور پھر آگے بڑھ کر ”اشبیلیہ“ پہنچا اور وہاں سے ”ماردہ“ (Merida ) پر حملہ کر کے اُسے فتح کیا ۔ پھر ”لقنت“ (Alicante ) کو فتح کیا ۔ اِسی وجہ سے ”لقنت“ اور ”ماردہ“ کی درمیانی شاہراہ ”فج موسیٰ“ کے نام سے مشہور ہوئی ۔ ”ماردہ“ میں عیسائیوں کی فوج جمع تھی اور ایک روایت کے مطابق اُس فوج کی قیادت راڈرک کر رہا تھا ۔ موسیٰ بن نصیر نے اسے محاصرے کے بعد شوال المکرم 94 ھجری میں فتح کیا ۔


جنوبی فرانس پر حملہ


   مسلمان مجاہدین کے ساتھ موسیٰ بن نصیر اور طارق بن زیاد ملک اسپین میں مسلسل فتوحات حاصل کرتے ہوئے آگے بڑھتے جارہے تھے ۔ دھیرے دھیرے پورا ملک اسپین فتح ہوتا جارہا تھا اور دونوں سپہ سالار اپنی اپنی فوجوں کے ساتھ ”سر قسطہ“ میں آ کر ملے اور اس کے بعد دونوں ملکر کر فتوحات حاصل کرتے ہوئے جنوبی فرانس کی طرف بڑھنے لگے ۔ ۴۹ ھجری کے اواخر تک پورا ملک اسپین فتح ہوچکا تھا اور صرف شمالی اسپین کا پہاڑی علاقہ عیسائیوں کے قبضہ میں رہ گیا تھا ۔ دونوں سپہ سالاروں نے اِس علاقے کی ناکہ بندی کردی اور پھر دونوں سپہ سالار جنوبی فرانس میں داخل ہوگئے ۔ مسلمانوں کو لگ بھگ ہر مورچے پر عیسائیوں سے زبردست مقابلہ کرنا پڑ ا۔ اِس کے باوجود وہ انہیں شکست دیتے ہوئے آگے بڑھتے رہے اور ایک سال میں جنوبی فرانس پر بھی قبضہ کرلیا ۔ اِسی دوران سردی کا موسم آگیا اور فرانس میں چونکہ بہت شدید سردی پڑتی ہے اِس لئے دونوں سپہ سالار اپنی فوج کو لیکر ”طلیطلہ“ واپس آگئے اور سردیوں کے گزرنے کا انتظار کرنے لگے ۔


فتوحات رُک گئیں


   ملک اسپین کے دونوں فاتح موسیٰ بن نصیر اور طارق بن زیاد کا ارادہ تھا کہ پورے ملک فرانس پر قبضہ کر لیا جائے اور اِسی لئے وہ دونوں ”طلیطلہ“ میں سردیاں ختم ہونے کے انتظار میں رُکے ہوئے تھے لیکن اﷲ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا ۔ اِسی دوران ملک شام میں ”دمشق“ میں امیرالمومنین ولید بن عبدالملک کا انتقال ہو گیا اور اُس کی جگہ اُس کا چھوٹا بھائی سلیمان بن عبدالملک ”سلطنتِ اُمیہ“ کا حکمراں بنا ۔ اُس نے حکمراں بنتے ہی ملک اسپین سے اِن دونوں کو واپس بلا لیا اور موسیٰ بن نصیر اور طارق بن زیاد کا ملک فرانس پر قبضہ کرنے کا خواب ادھورا رہ گیا ۔ اِس طرح ملک اسپین کے ساتھ ساتھ ملک فرانس میں بھی مسلمانوں کی فتوحات رُک گئیں ۔علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: موسیٰ بن نصیر نے ملک اسپین کی فتح کی تکمیل کی اور اُندلس کو شرقاً ”برشلونہ“ تک اوسطاً ”اربونہ“ تک غرباً ”صنم قادس“تک فتح کر لیا تھا ۔ تمام ممالک ہسپانیہ (ملک اسپین) کو زیر و زبر کر کے بہت سا مال غنیمت حاصل کیا اور مشرق کی طرف سے ”قسطنطنیہ“ کو سر کرتا ہوا ملک شام میں داخل ہونے اور اِن ممالک کے درمیان میں جتنے عجمی اور نصرانی ممالک (فرانس ، اٹلی ، یونان وغیرہ) اُن کو فتح کرتے ہوئے دارالحکومت ”دمشق“ حاضر ہونے کا ارادہ تھا ۔


ملک اسپین کا پہلا گورنر: عبدالعزیز بن موسیٰ


   سلطنتِ اُمیہ“ کے حکمراں نے موسیٰ بن نصیر اور طارق بن زیاد کو ملک اسپین سے واپس بلا لیا ۔ انہیں ولید بن عبدالملک نے بلایا تھا یا اُس کے بعد ”سلطنتِ اُمیہ“ کے حکمراں بننے والے سلیمان بن عبدالملک نے بلایا تھا ؟ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : امیرالمومنین ولید بن عبدالملک کا مسلمان مجاہدین کا ”دارالسلام“ سے اِتنی دور دراز نکل جانا اور ”دارالکفر“ میں جاکر اِس قدر منہمک ہوجانا شاق گزرا اور اُس نے موسیٰ بن نصیر کو واپس آنے کی تاکید کی ۔ اِس حکم کے بعد موسیٰ بن نصیر نے آگے فتوحات حاصل کرنے کا ارادہ ختم کردیا اور امیرالمومنین کے حکم کے مطابق اپنے شاگرد طارق بن زیاد کے ساتھ واپسی کی تیاری کرنے لگا ۔ موسیٰ بن نصیر نے اپنے بیٹے عبدالعزیز بن موسیٰ کو بلادِ ہسپانیہ (ملک اسپین) میں دشمنان اسلام سے جہاد کرنے کی ہدایت دی اور ملک اسپین کی حکومت اور انتظام اُسی کے سپرد کیا اور ”قرطبہ“ کو دارالحکومت بنانے کا حکم دیا اور پھر واپس روانہ ہوگیا ۔ اِس طرح عبدالعزیز بن موسیٰ ملک اسپین کا پہلا گورنر ہے ۔ 95 ھجری میں موسیٰ بن نصیر افریقہ کے دارالحکومت ”قیروان“ میں داخل ہوا ۔افریقہ کا گورنر اپنے بیٹے عبداﷲ بن موسیٰ کو بنایا ۔ اِس کے بعد 96 ھجری میں ملک اسپین سے حاصل ہوئے مال غنیمت اور بے شمار خزانے لیکر ”دمشق“ آیا اور اُس کے ساتھ تیس ہزار سوار غلامی کے حلقہ میں تھے ۔ اُس وقت تک ”سلطنتِ اُمیہ“ کے حکمراں ولید بن عبدالملک کا انتقال ہوچکا تھا اور اُس کا بھائی سلیمان بن عبدالملک ”سلطنتِ اُمیہ“ کا حکمراں بن چکا تھا ۔ جب موسیٰ بن نصیر یہ سب کچھ لیکر سلیمان بن عبدالملک کی خدمت میں حاضر ہوا تو اُس نے اس کی تعریف کرنے کے بجائے اُسے مسلمان مجاہدین کو خطرے میں ڈالنے پر ڈانٹ ڈپٹ کی اور قید میں ڈال دیا ۔اس کے بعد سلیمان بن عبدالملک جب حج کرنے مکۂ مکرمہ گیا تو موسیٰ بن نصیر کو بھی قیدی کی حالت میں اپنے ساتھ لے گیا اور مکۂ مکرمہ میں ہی اِس عظیم مجاہد کا انتقال ہوگیا ۔


ملک اسپین کا دوسرا گورنر: حرب بن عبدالرحمن


   ملک اسپین کا پہلا گورنر ”فاتح اسپین“ موسیٰ بن نصیر کا بیٹا عبدالعزیز بن موسیٰ تھا ۔ اُس نے دوسال تک ملک اسپین پر حکومت کی اور اپنے والد ِ محترم کے ادھورے کام کو آگے بڑھایا ۔ موسیٰ بن نصیر اور طارق بن زیاد نے مکمل ملک اسپین فتح کرلیا تھا لیکن بہت سے مضافات ایسے بھی تھے جہاں ابھی بھی گاتھ خاندان اور عیسائی حاوی تھے ۔ عبدالعزیز بن موسیٰ نے ملک اسپین سے گاتھ خاندان اور جلابقہ کی حکومت مکمل طور سے ختم کردی ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : مسلمان گورنروں نے ملک اندلس کو اِس سرے سے اُس سرے تک فتح کرلیا اور تمام جزیرہ نما اندلس کو چھان ڈالا ۔ مشرق میں برشلونہ اور بشتالہ کے قلعوں پر قابض ہوگئے اور وسط میں ”بسایطہ “ پر قبضہ کرلیا تھا ۔ اِس طرح رفتہ رفتہ قوم گاتھ اور جلالقہ کا گروہ معدوم ہوگیا اور اُن کی حکومت صفحہ دنیا سے مٹ گئی ۔ کچھ لوگ جو مسلمان مجاہدین سے بچ گئے تھے وہ ”فشالہ“ کے پہاڑوں اور ”اربونہ“ کے سرحدی پہاڑی دروں میں جا کر پناہ گزین ہوگئے تھے ۔ جنوبی فرانس کے جو علاقے مسلمانوں کے قبضہ میں تھے اُن علاقوں پرکبھی فرانس کے عیسائی قبضہ کرلیتے تھے اور کبھی مسلمان ان سے واپس چھین لیتے تھے ۔ لگ بھگ دو سال تک عبدالعزیز بن موسیٰ نے ملک اسپین پر بہترین حکومت کی ۔ اِس کے بعد اُس کے والد کے پھوپھی زاد بھائی ایوب بن حبیب نے اُسے قتل کردیا اور خود ملک اسپین کا گورنر بن گیا ۔ اُدھر ”سلطنتِ عباسیہ“ کے حکمراں سلیمان بن عبدالملک نے موسیٰ بن نصیر کے بیٹے عبداﷲ بن موسیٰ کو افریقہ کی گورنری سے معزول کر کے محمد بن یزید کو افریقہ کا گورنر بنا دیا تھا ۔ اُسے جب عبدالعزیز بن موسیٰ کے قتل کی خبر ملی تو اُس نے حرب بن عبدالرحمن بن عثمان کو ملک اُندلس کی سندِ حکومت دے کر یعنی ملک اسپین کا گورنر بنا کر روانہ کیا ۔ یہ ملک اندلس پہنچا اور ایوب بن حبیب کو معزول کر کے خود ملک اسپین کا گورنر بن گیا ۔ ایوب بن حبیب نے چھ مہینہ ملک اسپین پر حکومت کی ۔


ملک اسپین کا تیسرا گورنر: سخم بن مالک خولانی


   ملک اسپین کے دوسرے گورنر حرب بن عبدالرحمن نے بہت بہترین طریقے سے ملک اسپین کا انتظام سنبھالا لیکن اُس نے جنوبی فرانس کے علاقے پر کوئی توجہ نہیں کی ۔ لگ بھگ دوسال کے بعد ”سلطنتِ اُمیہ“ کے حکمراں امیرالمومنین عُمر بن عبدالعزیز نے اسے معزول کردیا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: حرب بن عبدالرحمن بن عثمان نے ملک اندلس پر لگ بھگ دو سال آٹھ مہینے حکومت کی تھی کہ امیرالمومنین عُمر بن عبدالعزیز نے سخم بن مالک خولانی کو ملک اندلس کا گورنربنا کر 100 ھجری میں روانہ کیا اور اُسے حکم دیا کہ ملک اندلس کی سالانہ آمدنی کا خمس دارالحکومت روانہ کرے ۔ اُس نے ملک اسپین آ کر انتظام سنبھالا اور حکم کی تعمیل کی ۔ لگ بھگ دوسال اس نے ملک اسپین پر حکومت کی اور ۲۰۱ ھجری میں اِس نے جنوبی فرانس پر حملے کے لئے فوجیں مرتب کیں اور نہایت مردانگی سے جنوبی فرانس پر حملہ آور ہوا ۔ اہل فرانس سے زبردست جنگ ہوئی اور اِس جنگ میں سخم بن مالک خولانی شہید ہوگیا ۔


ملک اسپین میں مختلف گورنر


   سخم بن مالک خولانی کے شہید ہونے کے بعد ملک اسپین کے مسلمانوں نے ”سلطنتِ اُمیہ“ کی طرف سے مقرر کردہ گورنر کے آنے تک خود ہی اپنا گورنر چن لیا تھا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: اہل اندلس نے سخم بن مالک خولانی کی جگہ عبدالرحمن بن عبداﷲ خافقی کو اپنا گورنر بنا لیا تھا ۔ حتیٰ کہ عنیسہ بن شجم کلبی کو افریقہ کے گورنر یزید بن مسلم نے ملک اندلس کا گورنر بنا کر بھیجا ۔ پھر عنیسہ بنشجم کے قتل کے بعد اہل اندلس کی درخواست پر افریقہ کے گورنر حنظلہ بن صفوان کلبی نے یحییٰ بن سلمہ کلبی کو ملک اندلس کا گورنر بنا کر روانہ کیا ۔ ۷۰۱ ھجری میں یحییٰ بن سلمہ ملک اندلس میں داخل ہوا ۔ لگ بھگ ڈھائی سال اُس نے حکومت کی اور اپنے دورِ حکومت میں اُس نے کوئی جہاد نہیں کیا ۔ اس کے بعد عثمان بن ابی عبیدہ بن عبدالرحمن سلمی ملک اندلس کا گورنر بن کر آیا ۔ پھر پانچ مہینے بعد اسے معزول کردیا گیا اور حذیفہ بن اخوص کو ملک اندلس کا 110 ھجری میںگورنر بنا کر بھیجا گیا ۔ اس نے ملک اسپین پر دوسال حکومت کی اور اس کے بعد اسے بھی معزول کردیا گیا ۔ مو¿رخین کا اختلاف کے ہے کہ عثمان پہلے آیا تھا یا حذیفہ آیا تھا ۔ بہر حال اسکے بعد افریقہ کے گورنر عبیدہ بن عبدالرحمن نے 111 ھجری میں ہشیم بن عبید کلابی کو ملک اندلس کا گورنر بنا کر بھیجا ۔ اُس نے سرزمین ”مقرشہ“ پر عیسائیوں سے جہاد کیا اور اسے فتح کر کے دس مہینہ تک وہاں قیام کیا اور حکومت کے انتظامات درست کرتا رہا ۔ دو سال حکومت کرنے کے بعد اس کا 113 ھجری میں انتقال ہوگیا ۔


عبیداﷲ بن حجاب ملک اسپین کا گورنر


   ہشیم بن عبید کلابی کے انتقال کے بعد افریقہ کے گورنر نے عبیداﷲ بن حجاب کو ملک اسپین کا گورنر بنا کر بھیجا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: اِس کے بعد افریقہ کے گورنر کی طرف سے عبیداﷲ بن حجاب ملک اندلس کا گورنر بن کر آیا ۔ اُس نے ملک اندلس کا انتظام بہت بہترین طریقے سے سنبھالا اور اِس کے ساتھ ساتھ فرانس سے بھی مقابلہ کرتا رہا ۔ 113 ھجری میں اُس نے جنوبی فرانس میں جہاد کیا ور بڑے بڑے نمایاں کام کئے ۔ دوسال حکومت کی اور امام واخذی نے لکھا کہ چار سال ملک اندلس کا گورنر رہا ۔ یہ ظالم سخت گیر اور رعب داب والا شخص تھا ۔ 115 ھجری میں سرزمین ”شبکنش“ پر جہاد کیا اور کمال مردانگی سے اُن پر حملہ آور ہوا ۔ اِس جنگ میں مسلمانوں کے ہاتھ بہت سا مال غنیمت آیا اور پھر 116 ھجری میں اسے معزول کردیا گیا ۔


عتبہ بن حجاج سلوبی ملک اسپین کا گورنر


   اسے معزول کرنے کے بعد ”سلطنتِ اُمیہ“ کی طرف سے عتبہ بن حجاج سلوبی ملک اسپین کا گورنر بن کر آیا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: افریقہ کے گورنر نے عبیداﷲ بن حجاب کی جگہ عتبہ بن حجاج سلوبی کو ملک اندلس کا گورنربنا کر بھیجا ۔یہ 117 ھجری میں ملک اندلس پہنچا اور پانچ سال تک نہایت نیک سیرتی ، فتح مندی اور کافروں پر جہاد کرنے کے ساتھ ساتھ حکمرانی کرتا رہا ۔ اِس کے دورِ حکومت میں اسلامی فتوحات کا سیلاب ”ارمونہ“ تک پہنچ گیا تھا اور مسلمانوں کی بودو باش ”نہر ودونہ“ تک پھیلی ہوئی تھی ۔ اِس کے بعد 121 ھجری میں عبدالملک بن قطن فہری نے بغاوت کی اور عتبہ بن حجاج کو قتل کردیا ۔ یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ عبدالملک بن قطن نے عتبہ بن حجاج کو ملک اندلس سے نکال کر حکومت اپنے ہاتھ میں لے لی تھی ۔ یہاں تک کہ 124 ھجری میں بلخ بن بشر شامی فوج لیکر ملک اندلس میں داخل ہوا اور عبدالملک بن قطن کی حکومت ختم کرکے تقریباً ایک سال تک ملک اندلس پر حکومت کی ۔ امام رازی کہتے ہیں: اہل اندلس نے 123 ھجری میں ”سلطنتِ اُمیہ“ کے حکمراں ہشام بن عبدالملک کے دورِ حکومت میں عتبہ بن حجاج کے خلاف بغاوت کی تھی اور اُس کی جگہ عبدالرحمن بن قطن کو اپنا گورنر بنا لیا تھا ۔ اِس حساب سے عتبہ بن حجاج کا دورِ حکومت چھ سال اور چار مہینے رہا ۔ بہر حال ”سرقومہ“ کے مقام پر 123 ھجری میں اس کا انتقال ہوگیا۔


بلخ بن بشر اور ثعلبہ بن سعد


   عتبہ بن حجاج کے بعد عبدالرحمن بن قطن نے ملک اسپین کی حکومت سنبھالی ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: عتبہ بن حجاج کے مرنے کے بعد عبدالملک بن قطن کے قدم استقلال و استحکام کے ساتھ ملک اندلس میں جم گئے ۔ پھر بلخ بن بشر اہل شام کی فوج کے ساتھ ملثوم بن عیاض اور بربر کے واقعہ کے بعد ملک اندلس پہنچا اور اُس نے عبدالملک بن قطن کو قتل کردیا اور ملک اندلس پر اپنی حکومت قائم کرلی ۔ اِس سے فہریوں کا گروہ دب گیا لیکن درپردہ وہ اپنی گزری ہوئی حالتوں کو درست کرتے رہے ۔ یہاں تک کہ سب کے سب جمع ہو کر بلخ بن بشر سے لڑنے کے لئے کھڑے ہوگئے اور عبدالملک بن قطن کے خون کا بدلہ لینے کے لئے میدانِ جنگ میں آگئے ۔ اُس وقت فہریوں پر عبدالملک بن قطن کے دونوں بیٹے قطن اور اُمیہ حکمرانی کر رہے تھے ۔ اِس معرکہ میں اتفاق سے فہریوں کو شکست ہوگئی مگر بلخ بن بشر بھی مارا گیا ۔ یہ واقعہ 124 ھجری کا ہے جبکہ بلخ بن بشر کو ملک اندلس پر حکومت کرتے ہوئے ایک سال گزر چکا تھا ۔ بلخ بن بشر کے بعد حکومتِ اندلس پر ثعلبہ بن سلامی غالب ہوا اور فہریوں نے کنارہ کشی اختیار کرلی لیکن وہ اس کی حکومت سے منحرف رہے ۔ دو سال اُس نے نہایت عدل و انصاف کے ساتھ حکومت کی ۔ آخرکار یمانی قبائل والوں نے مخالفت شروع کی جس کی وجہ سے اس کی حکومت کمزوری کا شکار ہوگئی اور فتنہ و فساد کی گرم بازاری ہوگئی ۔


ابوخطاب حسام بن ضرار : ملک اسپین کا گورنر


   ملک اسپین کے گورنر کے خلاف بغاوت برپا ہوگئی تھی اِسی لئے ”سلطنتِ اُمیہ“ کے افریقہ کے گورنر نے ملک اسپین میں نیا گورنر بھیج دیا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: اِسی دوران میں افریقہ کے گورنر حنظلہ بن صفوان نے ابوخطاب حسام بن ضرار کلبی کو ملک اندلس کا گورنر بنا کر بھیجا ۔ وہ 125 ھجری میں ملک اندلس آیا اور اہل اندلس نے اُس کی اطاعت قبول کر لی ۔ ثعلبہ بن سعد اور عبدالملک بن قطن کے بیٹے بھی اُس سے ملنے آئے اور اپنی اطاعت کا اظہار کیا ۔ اُس نے اُن کا پُر تپاک خیر مقدم کیا اور استقلال سے ملک اندلس پر حکمرانی کرنے لگا ۔ یہ نہایت شجاع ، کریم ، صاحبِ رائے اور عالی حوصلہ تھا ۔ اِس کے دورِ حکومت میں اتنی کثرت سے اہل شام آکر ملک اسپین میں رہائش پذیر ہوئے کہ ”قرطبہ“ جیسا وسیع شہر اُن کے لئے کافی نہیں ہوا ۔ اِس نے اہل شام کو مختلف شہروں میں آباد کیا ۔ اہل دمشق کو مشابہت کی وجہ سے ”بیرہ“ ( گریناڈیا) میں بسایا اور اسے ”دمشق“ کے نام سے موسوم کیا ۔ اہل حمص کو اشبیلیہ میں آباد کیا اور آب و ہوا کی مناسبت سے ”حمص“ نام رکھا ۔ اہل قنسرین کو ”حسان“ میں بسایا اور اسے” قنسرین“ کے نام سے موسوم کیا ۔اہل اردن کو ”ریہ“ یعنی ”مالکہ“ میں آباد کیا اور اِسی مناسبت سے ”اردن“ پکارنے کا حکم دیا ۔ اہل فلسطین کو ”شدونہ“ (شیڈونیا یا شریش) میں بسایا اور اسے ”فلسطین“ کا نام دیا ۔ اہل مصر کے لئے مکانات ”تدمیر“ (مرسیہ) میں بنوائے اور سرسبزی و شادابی کی وجہ سے ”مصر“ کے نام سے موسوم کیا ۔ اِس کے بعد ثعلبہ بن سعد واپس آگیا اور ”سلطنتِ اُمیہ“ کے آخری حکمراںامیرالمومنین مروان بن محمد کی خدمت میں حاضر ہو کر اُس کے ساتھ ”سلطنتِ عباسیہ“ سے لڑائیوں میں مصروف ہوگیا ۔ ابوخطاب حسام بن ضرار عرب کے ایک دیہات کا رہنے والا تھا اور مزاج میں قومی عصبیت اور طرفداری زیادہ تھی جس کی وجہ سے ملک اسپین میں شورش برپا ہوگئی اور 128 ھجری میں ابوخطاب حسام بن ضرار نے ملک اندلس کی گورنری سے علحیدگی کر لی اور واپس چلا گیا ۔


ثعلبہ بن سلامہ ملک اسپین کا گورنر


   ابوخطاب کی علحیدگی کے بعد اہل اسپین نے افریقہ کے گورنر سے ملک اسپین کا گورنر بھیجنے کی درخواست کی ۔ اُس وقت ”سلطنتِ اُمیہ“ انتہائی کمزور ہوگئی تھی اور ”سلطنتِ عباسیہ“ عروج پر آرہی تھی ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں:اہل اُندلس کی درخواست پر افریقہ کے گورنر عبدالرحمن بن حبیب نے ثعلبہ بن سلامہ کو ملک اندلس کا گورنر بنا کر بھیجا ۔ یہ 128 ھجری میں ملک اسپین آیا اور حکومت اپنے ہاتھ میں لے لی اور بہترین طریقے سے حکومت کی ۔ لگ بھگ دوسال حکومت کرنے کے بعد 129 ھجری میں اِس کا انتقال ہوگیا ۔ یہ وہ وقت تھا کہ عالم اسلام پر ”خاندان اُمیہ“ کی حکومت ختم ہوتی جارہی تھی اور ”خاندان عباسیہ“ تمام علاقوں پر قبضہ کرتے جارہے تھے ۔ دھیرے دھیرے 132 ھجری تک ”سلطنتِ اُمیہ“ کا مکمل خاتمہ ہوگیا اور ”سلطنتِ عباسیہ“ قائم ہوگئی ۔ ”خاندان عباسیہ“ نے ”خاندان اُمیہ“ کے شہزادوں کو چُن چُن کر قتل کرنا شروع کردیا جس کی وجہ سے ”خاندان اُمیہ“ کے شہزادے اِدھر اُدھر بھاگ کر رُوپوش ہوگئے ۔


ملک اسپین میں مختلف حکمراں


   مشر ق ِوسطیٰ میں جب ”خاندان اُمیہ“ اور ”خاندان عباسیہ“ میں جنگیں شروع ہوئیں تو ”سلطنتِ اُمیہ“ کی توجہ ملک اسپین پر سے ہٹ گئی اور اہل اسپین نے خود اپنے حکمراں مقرر کرنے شروع کردیئے ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: مشرق وسطیٰ میں ”سلطنتِ اُمیہ“ بہت کمزور ہوچکی تھی اور ”سلطنتِ عباسیہ“ سے جنگ میں مصروف تھی ۔ اِسی وجہ سے وہ ملک اندلس کے انتظام سے غافل ہوگئے ۔ یہ دیکھ کر اہل اندلس خود اپنے حکمراں مقرر کرنے لگے ۔ پہلے انہوں نے عبدالرحمن بن کثیر کو ملک اسپین کا حکمراں بنایا پھر ملک اندلس کی مسلم فوجوں نے یہ رائے قائم کی کہ ملک اندلس کی حکومت کو ”مضریہ“ اور ”یمنیہ“ میں نصفا نصف تقسیم کردی جائے اور ایک ایک سال دونوں فوجوں کو حکمرانی کا موقع دیا جائے ۔ ”مضریہ“ نے اپنے حکمراں کے طور پر یوسف بن عبدالرحمن فہری کو 129 ھجری میں منتخب کیا ۔ ایک سال تک وہ حکومت کرتا رہا ۔ پھر قاعدے کے مطابق ”یمینہ“ کا حکمراں ضمیل بن حاکم ”دارالامارت“ میں داخل ہوا لیکن یوسف بن عبدالرحمن نے ”یمینہ“ کی فوجوں پر شب خون مارا اور ملک اندلس میں 130 ھجری میں خانہ جنگی شروع ہوگئی ۔ یہ خانہ جنگی لگ بھگ آٹھ سال تک چلتی رہی اور اِس دوران ملک اندلس کئی چھوٹی چھوٹی حکومتیں وجود میں آگئیں اور ہر علاقے کا ایک حکمراں ہوگیا ۔ یہ خانہ جنگی اُس وقت ختم ہوئی جب ”خاندان اُمیہ“ کے ایک شہزادے عبدالرحمن بن معاویہ نے ملک اسپین آکر 138 ھجری میں قبضہ کرلیا اور تمام چھوٹی چھوٹی حکومتوں کو ختم کر کے پورے اسپین پر ”خاندانِ اُمیہ“ کی حکومت ”سلطنتِ اُمیہ اسپین“ قائم کردی ۔

ہفتہ، 7 ستمبر، 2024

Ispeen Madrid ke Shahroon ka Taaruf

 ملک اندلس (اسپین، میڈرڈ) کے شہروں کا تعارف

شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی ۔مالیگاوں

ملک اسپین کی جغرافیائی حدود، آبنائے ”جبل الطارق“ (جبرالٹر) ، ملک اسپین کے نام، ملک اسپین کے چند شہروں کا تعارف، ملک اسپین کے شہر ”قرطبہ“ کا تعارف، ملک اسپین کے شہر ”طلیطلہ“ کا تعارف، ملک اسپین کے شہر ”جزیرة الخضرأ“ کا تعارف، ملک اسپین کے ”دریائے وادیٔ بکہ“ کا تعارف، ملک اسپین کے دریا ”وادیٔ الکبیر“ کا تعارف، ملک اسپین کے شہر ”اشبیلیہ“ کا تعارف، ملک اسپین کے شہر ”مالقہ“ کا تعارف، ملک اسپین کے صوبہ اورشہر ”قشتالہ“ کا تعارف، ملک اسپین صوبہ اور شہر ”سرقسطہ“ کا تعارف، ملک اسپین کے شہروں ”شذونہ“ اور ماردہ“ کا تعارف، ملک اسپین کے شہر ”برشلونہ کا تعارف، ملک اسپین کے شہر ”مرسیہ“ کا تعارف، ملک اسپین کے شہر ”سبتہ“ کا تعارف



   ملک اسپین میں مسلمان حکومتوں کا تفصیلی ذکر کرنے سے پہلے ہم آپ کی خدمت میں ملک اسپین اور اُس کے چند خاص شہروں کا تعارف پیش کررہے ہیں تاکہ جب آگے آپ کے سامنے ملک اسپین اور اُس کے شہروں کا ذکر آئے تو سمجھنے میں آسانی ہو ۔ ہم نے حتی الامکان آسان طریقے سے ملک اسپین کی جغرافیائی حدود اور اُس کے شہروں کے بارے میں بتانے کی کوشش کی ہے ۔ اِس کو اچھی طرح سمجھنے کے لئے آپ مطالعہ کرتے وقت اپنے موبائل پر ”گوگل میپ“ پر ملک اسپین اور بحیرۂ روم“ وغیرہ کا نقشہ سامنے رکھیں گے تو انشاءاﷲ بہت لطف آئے گا ۔


ملک اسپین کی جغرافیائی حدود


   ملک اسپین ”جزیرہ نما“ ہے اِس کے تین سمتوں میں سمندر ہے ۔ مشرق اور جنوب میں بحیرۂ روم ہے جسے ”بحر متوسط ، بحرشام اور بحر مشرق“ بھی کہتے ہیں ۔ جنوب میں آبنائے ”جبل الطارق“ ہے جسے آج کل آبنائے ”جبرالٹر“ کہا جاتا ہے اور اِسے عرب ”بحر زقاق“ بھی کہتے ہیں۔ ”آبنائے جبل الطارق“ ملک اسپین کے جنوبی گوشہ اور براعظم افریقہ کے شمالی گوشہ میں ہے ۔ یہی آبنائے براعظم یورپ کو براعظم افریقہ سے الگ کرتی ہے کیونکہ ملک اسپین براعظم یورپ کا حصہ ہے ۔ ملک اسپین کے جنوب مغرب میں ، مغرب میں اور شمال مغرب میں اور شمال میں ”بحر اوقیانوس“ ہے ۔ جسے عرب ”بحر محیط ، بحر ظلمات ، بحر مظلم اور بحر اعظم“ بھی کہتے ہیں۔ آج کل اِس کا نام ”بحر اٹلانٹک“ بھی ہے۔ ملک اسپین براعظم یورپ کے جنوب مغرب میں واقع ہے اور شمالی افریقہ کے شمال مغرب میں واقع ہے ۔ شمالی افریقہ کے ملک ”مراکش“ اور ملک اسپین کے درمیان سمندر ایک چھوٹی سی ”آبنائے“ میں تبدیل ہوگیا ہے ۔ بحیرۂ روم براعظم یورپ کے جنوب میں اور براعظم افریقہ کے شمال میں واقع ہے ۔ بحیرۂ روم کے مشرق میں ملک شام اور ملک ترکی واقع ہے ۔ اگر ہم ملک شام سے بحیرۂ روم میں مغرب کی طرف آگے بڑھیں گے تو شمال میں ہمیں ملک ترکی ملے گااور جنوب میں فلسطین اور ملک مصر ملیں گے ۔ جب ہم مغرب کی طرف اور آگے بڑھیں گے تو شمال میں ملک یونان ملے گااور جنوب میں ملک لیبیا ملے گا ۔ جب ہم بحیرۂ روم میں مغرب کی طرف اور آگے بڑھیں گے تو شمال میں ملک اٹلی ملے کا جس کے ایک شہر ”روم“ کے نام پر اِس چھوٹے سمندر کا نام ”بحیرۂ روم“ رکھا گیا ہے اور جنوب میں ملک تیونس ملے گا۔ جب ہم بحیرہ¿ روم میں مغرب کی طرف اور آگے بڑھیں گے تو ہمیں شمال میں ملک فرانس ملے گا اور جنوب میں ملک الجیریا ملے گا ۔ جب ہم بحیرۂ روم میں مغرب کی طرف اور آگے بڑھیں گے تو ہمیں شمال میں ملک اسپین (اندلس ، ہسپانیہ) ملے گا اور مغرب میں ملک مراکش ملے گا ۔ اب ہم بحیرہ روم میں جیسے جیسے مغرب کی طرف آگے بڑھتے جائیں گے تو ملک اسپین اور ملک مراکش ایکدوسرے سے قریب آتے جائیں گے اور بحیرۂ روم شمال اور مغرب میں کم ہوتا جائے گا یہاں تک کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ بحیرۂ روم ایک چھوٹی سی” آبنائے“ میں تبدیل ہوجائے گا ۔یہ” آبنائے جبل الطارق“ (جرالٹر) ہے جس کی چوڑائی چودہ (14) کلو میٹر ہے۔ یہاں براعظم افریقہ اور براعظم یورپ دونوں ایکدوسرے کے بے حد قریب آگئے ہیں ۔ اِس کے بعد جب ہم بحیرہ¿ روم میں مغرب کی طرف اور آگے بڑھیں گے تو کچھ دور چلنے کے بعد اچانک یہ آبنائے ختم ہوجائے گی اور ہم ایک بہت ہی بڑے اور بہت ہی وسیع سمندر ”بحراوقیانوس“ میں داخل ہوجائیں گے ۔ ملک اسپین ایک ”جزیرہ نما“ ملک ہے ۔ اِس کے شمال مشرق میںملک فرانس ہے اور جنوب مغرب میں ملک پرتگال ہے ۔ پرتگال کے مغرب میں ”بحراوقیانوس“ ہے ۔ ملک اسپین کے شمال میں ”بحر اوقیانوس“ کی ”خلیج بیکس“ ہے اور شمال مغرب میں ”بحر اوقیانوس“ ہے ۔ ملک اسپین کے مشرق میں ”بحیرہ¿ روم“ ہے اور یہی ملک اسپین کے جنوب میں بھی ہے جو ایک وقت چھوٹی سی” آبنائے“ بن گیا ہے ۔” آبنائے“ کے آگے ملک اسپین کے جنوب مغرب میں ”بحراوقیانوس“ ہے۔ ملک اسپین کے شمال مشرق میں ملک فرانس ہے اور صرف یہی ایک ملک ہے جس کی زمینی سرحد ملک اسپین کی زمینی سرحد سے ملتی ہے ۔ اِس کے علاوہ ملک اسپین کے مغرب میں ایک چھوٹا سا ملک ”پرتگال“ ہے جس کے بھی تین اطراف سمندر ہے اور صرف ایک طرف ملک اسپین کی سرحد ہے ۔ یوں سمجھ لیں کہ ملک پرتگال ملک اسپین کا ”بغل بچہ“ ہے جو اُس 

کے جنوب مغرب میں واقع ہے ۔



آبنائے ”جبل الطارق“ (جبرالٹر) 




   شمالی افریقہ کے شمالی ملک مراکش کے شمال میں اور ملک اسپین جنوب میں ایک چھوٹی سی آبنائے ”جبل الطارق“ (جرالٹر) ہے ۔ اِس” آبنائے“ کا نام عربوں نے عالم اسلام کے عظیم سپہ سالار طارق بن زیاد کے نام پر ”جبل الطارق“ رکھا ۔ جسے بعد میں عیسائیوں نے ”جبرالٹر“ کر دیا ۔ اِس آبنائے کا نام ”جبل الطارق“ عربوں نے اِس لئے رکھا کہ جب طارق بن زیاد ملک اسپین کے جس ساحل پر اپنی فوج کے ساتھ اُترا تھا وہاں ایک بہت بڑا پہاڑ ہے جسے ”طارق کا پہاڑ“ یعنی ”جبل الطارق“ کہا گیا جو اِس” آبنائے“ کے کنارے واقع ہے ۔ اِسی لئے اِس ”آبنائے“ کو بھی ”جبل الطارق“ کہا جانے لگا ۔ ”آبنائے جبل الطارق“ دو بڑے براعظموں افریقہ اور یورپ کو ایکدوسرے سے جدا کرتی ہے اور ”بحیرہ روم“ کو ”بحر اوقیانوس یا اٹلانٹک“ سے ملاتی ہے ۔



 اِس ”آبنائے“ کی چوڑائی چودہ (14) کلومیٹر ہے اور لمبائی پچاس (50) کلومیٹر ہے ۔ جنوبی اسپین میں جزیرہ نما ”جبل الطارق“ (جبرالٹر) نام کا ایک شہر بھی آباد ہے۔ اِس شہر ”جبل الطارق“ کا دوسرا نام ”مدینة الفتح“ بھی ہے ۔ یہ نام ”سلطنتِ موحدین“ کے بانی عبدالمومن نے 555 ھجری میں دیا ۔ ”قشتلہ“ کے عیسائی حکمراں فرڈی ننڈ چہارم نے شہر ”جبل الطارق“ کو 709 ھجری میں فتح کرلیا۔ لیکن پھرملک مراکش کے بنو مرین نے 733 ھجری میں اِس پر قبضہ کرلیا اور اُن سے اہل غرناطہ نے اِس شہر کو چھین لیا ۔ اِس کے بعد 866 ھجری میں ”قشتلہ“ کے عیسائی حکمراں ہنری چہارم نے قبضہ جما لیا ۔ اِس کے بعد 1138 ھجری میں شہر ”جبل الطارق“ پر برطانیہ نے قبضہ کرلیا جو آج بھی برقرار ہے ۔


ملک اسپین کے نام


   ملک اسپین بہت ہی خوبصورت اور ہرا بھرا ملک ہے ۔ اِس ملک میں حسین وادیاں بھی ہیں اور ہرے بھرے ، پتھریلے اور برف سے ڈھکے اونچے پہاڑ بھی ہیں۔ اِس حسین ملک میں بڑے بڑے دریا بھی ہیں اور بہت ساری ندیاں بھی ہیں ۔ مجموعی طور پر ملک اسپین دنیا میں ”جنت“ کا ایک چھوٹا سا نمونہ ہے ۔ یہاں ہر قسم کے پھل ، پھول ، میوہ جات اور اناج وغیرہ اُگتے ہیں ۔ ملک اسپین کے کئی نام ہیں ۔ ملک اسپین کا ایک نام ”اسپانا“ Espana ہے ، ایک نام ”ہسپانیہ“ ہے ، ایک نام ”اسپین“ ہے اور عربی لوگ اِس ملک کو ”اُندلس“ کہتے ہیں ۔ ”اُندلس“ دراصل ملک اسپین کے جنوبی حصے کو کہا جاتا تھا کیونکہ عربی لوگ زیادہ تر ملک اسپین کے اسی علاقے میں سمندر کے ذریعے آیا جایا کرتے تھے ۔ جنوبی اسپین میں کافی عرصے تک ”وندال“ قوم آباد رہی ہے اور انہوں نے اپنے علاقے کا نام ”وندالیسیہ“ Vandalicia رکھ دیا ۔ اِسی کو عربوں نے ”اُندلس“ کہنا شروع کردیا ۔ آج کل ملک اسپین کے جنوبی حصے کا نام ”اندلوسیہ“ Andlucia ہے جس میں قرطبہ ، اشبیلیہ اور غرناطہ جیسے تاریخی شہر واقع ہیں ۔ علامہ ابن اثیر ”اُندلس“ اور ”اسپین“ نام کی وجوہات ِ تسمیہ کے حوالے سے لکھتے ہیں : سب سے پہلے جس قوم نے یہ سرزمین (ملک اسپین) آباد کی وہ ”اندلش“ کہلاتی تھی ۔ اِسی لئے اِن کے نام سے یہ ملک موسوم ہوا پھر یہ نام معرب ہوکر ”اُندلس“ کہلایا ۔ نصاریٰ (عیسائی) اِس ملک کو ”اشبانس“ کے نام پر ”اشبانیہ“ Espana کہتے ہیں جسے یہاں سُولی دی گئی تھی ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ ایک بادشاہ اشبان بن طیطس کے نام سے موسوم ہے جو بطلیموس کے زمانے میں یہاں حکمراں تھا ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اِس ملک کا نام ا‘ندلس بن یافث بن نوح کے نام پر رکھا گیا جو یہاں کا پہلا آباد کار تھا ۔ ( تاریخ الکامل، امام ابن اثیر)



ملک اسپین کے چند شہروں کا تعارف


ملک اسپین کے شہر ”قرطبہ“ کا تعارف





   قرطبہ“ ملک اسپین کا بہت ہی اہم شہر ہے اور مسلمانوں کی مرکزی حکومت ”سلطنتِ اُمیہ اسپین“ کا دورالحکومت کافی عرصے تک رہا ہے ۔ ”قرطبہ“ ہسپانوی زبان میں Cordoba اور انگریزی میں Cordova کہلاتا ہے ۔ اِس شہر کو اہل قرطاجنہ نے ”دریائے وادیٔ الکبیر (Guadalqivir ) کے کنارے آباد کیا تھا ۔ دوسری ”کارتھیجی جنگ“ کے بعد ”قرطبہ“ (Cordubense ) ایک اہم تجارتی مرکز بن گیا اور ”کارڈوبا“ (Corduba ) کہلانے لگا ۔ 125 قبل مسیح میں رومی قبضے کے بعد یہ شہر Colonia Paticra کے نام سے صوبہ ”ہسپانیہ ا±قصیٰ“ کا دارالحکومت بن گیا ۔ 121 ھجری میں پورے ملک اسپین پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا تھا اور انہوں نے ”قرطبہ“ فتح کرلیا تھا تب بھی تین سوگاتھ مسیحی تین مہینے تک قلعہ بند کلیسا میں مزاحمت کرتے رہے تھے ۔ مسلمانوں کی طرف سے مقرر کردہ ملک اسپین کے گورنر سمح بن مالک نے100 ھجری میں ”قرطبہ“ کو دارالحکومت یعنی ”مسلمانوں کا مرکز“ بنایا ۔ ملک اسپین کی مرکزی حکومت ”سلطنتِ اُمیہ اسپین“ کے زوال کے بعد ملک اسپین میں مسلمانوں کی بہت سی چھوٹی چھوٹی مسلم حکومتیں قائم ہوگئی تھیں ۔ تب لگ بھگ 140 ھجری میں ”قرطبہ“ میں خاندان حمود نے ”سلطنتِ حمودیہ “ قائم کی لیکن پھر 422 ھجری میں ”قرطبہ“ میں خاندان جہور نے ”سلطنتِ جہوریہ “ قائم کرلی تھی ۔ اِس کے بعد ”قرطبہ“ خاندان مرابطین اور خاندان مواحدین کے قبضہ میں رہا ۔ لگ بھگ 646 ھجری میں ”قشتالہ“ کے عیسائی حکمراں فرڈی نند ثالث نے ”قرطبہ“ پر قبضہ کرلیا اور یہاں کی تاریخی مسجد”جامع مسجد قرطبہ“ کو ”گرجا گھر“ بنا دیا ۔”قرطبہ“ میں مسلمانوں کی مرکزی حکومت ”سلطنتِ اُمیہ اسپین“ کے پہلے حکمراں عبدالرحمن الداخل اول نے اِس تاریخی مسجد کی بنیاد رکھی اور تعمیر شروع کی تھی جسے اُس کے بعد کے مسلمان حکمرانوں نے مکمل کی تھی ۔ ”جامع مسجد قرطبہ“ کا بیرونی احاطہ ”صحن نارنگیاں“ (patio de los Naranjos ) ، مسجد کے بے شمار ستون اور نام La Mazquita یعنی ”المسجد“ آج بھی اس کی یاد دلاتے ہیں۔ عبد الرحمن ثالث ناصر نے ”قرطبہ“ کے شمال میں ”مدینة الزہرائ“ تعمیر کرایا تھا ۔ اُس کے دورِ حکومت میں دس لاکھ آبادی والا ”قرطبہ“ شہر وادی¿ الکبیر کے کنارے چوبیس (24) میل تک پھیلا ہوا تھا لیکن اب ”قرطبہ“ کی آبادی لگ بھگ سواتین لاکھ ہے ۔ جبکہ ملک ارجنٹینا کے وسطی شہر ”کارڈوبا“ کی آبادی لگ بھگ بارہ (12) لاکھ ہے ۔ اِس کے علاوہ وسطی امریکہ کے ملک نکاراگوا کے ”سکے“ کا نام بھی ”کارڈوبا“ ہے جو ”قرطبہ“ سے تعلق رکھنے والے ہسپانوی گورنر فرنانڈس ڈی کارڈوبا کے نام پر ہے ۔


ملک اسپین کے شہر ”طلیطلہ“ کا تعارف





   ملک اسپین کا ایک مشہور شہر ”طلیطلہ“ ہے۔ یہ شہر ”میڈرڈ“ کے جنوب میں دریائے تاجہ (Tagus ) پر واقع ہے ۔ یہ شہر مسلمانوں کے دورِ حکومت ( 92 ھجری سے 897 تک) میں بہت مشہور رہا ہے ۔ پانچویں صدی ھجری میں جب ملک اسپین میں مسلمانوں کی مرکزی حکومت ”سلطنتِ اُمیہ اسپین“ کا زوال ہوا تو ملک اسپین میں چھوٹی چھوٹی مسلم حکومتیں قائم ہوئیں تو ”طلیطلہ“ خاندان ذوالنون کی ”سلطنتِ ذوالنونیہ“ کا دارالحکومت رہا ۔ رومیوں نے ”طلیطلہ“ کو 139 قبل مسیح میں فتح کیا اور اُن کے دورِ حکومت میں ملک اسپین میں مسیحیت (عیسائی مذہب) کا دور دورہ ہوا۔ 418 عیسوی میں ”طلیطلہ“ پر فسیقوطی (Visigoth ) قابض ہوئے ۔ انہوں نے ”طلیطلہ“ کو ”دارالحکومت“ بنایا اور جب ان کے بادشاہ ”رکارڈ“ نے 587 عیسوی میں مسیحیت (عیسائی مذہب) قبول کیا تو یہ شہر جزیرہ نما آئیبیریا کا مذہبی صدر مقام بن گیا ۔ ملک اسپین سے مسلمانوں کا نام و نشان مٹ چکا ہے اور فی الحال ”طلیطلہ“ میں جو دس مسجدیں تھیں اُن میں سے صرف ایک ہی مسجد ”مسجد مسیح نور“ کے کھنڈرات باقی بچے ہے ۔ مسلمانوں کے دورِ حکومت میں ”طلیطلہ“ میں عیسائی بھی آباد تھے اور یہ مسجد مسلمانوں کی آبادی ”مدینہ“ میں واقع تھی اور ”مسجد باب المردوم“ کہلاتی تھی ۔ کوفی رسم الخط میں اِس مسجد کے صدر دروازے پر آج بھی یہ تحریر ”بسم اﷲ الرحمن الرحیم“ نمایاں ہے ۔ احمد بن حدیدی نے اپنے سرمایہ سے یہ مسجد تعمیر کرائی تھی اور اِس کے لئے اُس نے جنت کی دعا کی تھی ۔ اِس مسجد کو ماہر تعمیرات (بلڈنگ انجینئر) موسیٰ بن علی نے بنائی اور 390 ھجری میں اِس کی تعمیر مکمل ہوئی ۔ 459 ھجری میں عیسائی حکمراں الفانسو ششم نے ”طلیطلہ“ فتح کیا تو اِس مسجد کو ”گرجا گھر“ (عیسائیوں کی عبادت گاہ) بنا دیا ۔ 496 ھجری میں الفانسو ہشتم نے یہ مسجد سینٹ جان کے نائٹس کو دے دی اور پھر اِس کا نام ”کلیسائے صلیب مقدس“ (Ermita de la santa cruz ) رکھ دیا ۔


ملک اسپین کے شہر ”جزیرة الخضرأ“ کا تعارف




   جزیرة الخضرأ“(ہرا بھرا سر سبز جزیرہ) شہر اِن دنوں ”الجسیراس“ (Algeciras ) کہلاتا ہے ۔ اِس کا عربی نام ”جزیرة الخضرائ“ یعنی سبز جزیرہ lsla Verda سے ماخوذ ہے ۔ رومی عہد میں اِِس کا نام ”ایڈ پورٹم ایلبم“ تھا ۔یہ علاقہ ملک اسپین کے جنوب میں ”آبنائے جبل الطارق“ (جبرالٹر) کے قریب واقع ہے ۔ مسیحی مآخذ میں ”الجیسراس“ نام کے دو شہروں کا ذکر ہے ۔ پہلا شہر تو جزیرے میں واقع تھا جو بعد میں ویران ہوگیا ۔ دوسرا شہر اندرون ملک ”آبنائے جبل الطارق“ سے اٹھارہ (18) میل ہٹ کر تھا جس کی اہمیت اور نام برقرار رہا ۔ ”جزیرة الخضرائ“ ایک پہاڑی پر آباد ہے جو سمندر کے ساحل تک چلی گئی ہے ۔ ”وادی¿ العسل“ (شہد کی وادی یا دریا) شہر کے درمیان سے بہتا ہے اور اِس کا نام ہسپانوی زبان میں باقی ہے ۔ ”جزیرة الخضرائ“ کے جنوب مشرق میں سمندر کے ساحل پر مسلمانوں نے ایک مسجد بنائی تھی اور اس کا نام ”مسجد الزایات“ رکھا تھا کیونکہ یہاں طارق بن زیاد کی سپہ سالاری میں عرب اور بربر قبائل کے مسلمان اپنے اپنے جھنڈوں کے نیچے جمع ہوتے تھے ۔ نارمنوں نے 245 ھجری میں اِس مسجد کو جلا دیا تھا ۔ 743 ھجری میں الفانسو یازدہم (قشتالہ کا حکمراں) نے بیس مہینے کی شدید جنگ کے بعد ”جزیرة الخضرأ“ کو فتح کرلیا ۔ 771 ھجری میں غرناطہ کے مسلمان حکمراں نے ”جزیرة الخضرأ“ دوبارہ فتح کیا مگر چند سال بعد عیسائیوں نے پھر سے قبضہ کرکے مسلمانوں کا بنایا ہوا شہر منہدم کردیا ۔


ملک اسپین کے ”دریائے وادیٔ بکہ“ کا تعارف




   ملک اسپین کے جنوب میں د ودریا بہتے ہے جن میں سے ایک کا نام ”دریائے لکہ“ یا ”دریائے لطہ“ (Guadalete ) ہے ۔ دوسرا دریائے برباط (Barabate ) یا دریائے بکہ ہے جس کے راستے میں ”جھیل لاجنڈا“ آتی ہے ۔ اِس دریا کے کنارے دو بڑے شہر آباد ہیں ۔ ایک شہر کا نام ”برباط“ ہے اور دوسرے شہر کا نام ”بکہ“ ہے جسے ہسپانوی Vejer کہتے ہیں ۔ اِسی لئے اِس دریا کے دونام پڑ گئے ہیں ۔ اِس دریا کے کنارے”جھیل لاجنڈا“ کے قریب وادی¿ برباط یا وادیٔ بکہ میں طارق بن زیاد اور ملک اسپین کے عیسائی حکمراں راڈرک کے درمیان جنگ ہوئی تھی ۔ گاتھوں کو عرب مسلمان ”قوط“ کہتے ہیں اور راڈرک کو ”رزریق یا لرزیق“ کہتے ہیں۔ جھیل لاجنڈا کا نام دراصل ”جنڈا“ ہے چونکہ ہسپانوی زبان میں ”لا“ حرف تعریف ہے اِس لئے ”لاجنڈا“ ہوگیا ۔ اِسی طرح عربی زبان میں ”وادی“ یا ”واد“ کے معنی ”وادی“ کے علاوہ ”دریا“ بھی ہے ۔


ملک اسپین کے دریا ”وادیٔ الکبیر“ کا تعارف




   وادیٔ الکبیر“ ملک اسپین کا مشہور دریا ہے ”واد“ یا ”وادی“ (ہسپانوی زبان میں Guad یا Guadi) ملک اسپین کے متعدد دریاو¿ں یا شہروں کے نام میں آتا ہے مثلاً ”وادیٔ الکبیر“ (Guadalquivir ) ، ”وادیٔ آنہ“ (Guadiana ) ، ”وادیٔ الرمان“ (Guadroman ) ، ”وادی¿ آش“ (Guadix ) وغیرہ ۔ ”وادیٔ الکبیر“ ملک اسپین کے شمال مشرق سے جنوب مغرب کو بہتے ہوئے ”بحر اوقیانوس“ یا ”بحر ظلمات“ یا ”بحر اٹلانٹک“ میں جاگرتا ہے ۔ ”وادیٔ احمر“ (Guadalimor ) ، وادیٔ شوس (Guadajoz ) اور ”غرناطہ“ ، لوشہ اور استجہ“ سے آنے والا”دریائے شنیل“ (Genil )اِس دریا کے معاون دریا ہیں ۔ ”وادیٔ الکبیر“ کے کنارے ”القلعیہ“ (Alcolia ) ، ”قرطبہ ، عبیدہ“ (Ubeda ) ”حصن المدور“ (Almadover ) ”حصن لورد“ (Lora del Rio ) ، ”اشبیلیہ اور حصن القصر“ (Aznalcozar ) نامی شہر واقع ہیں ۔ علامہ اقبال نے ملک اسپین کا دورہ کرنے کے بعد ”قرطبہ“ کے بارے میں ”بال جبریل“ میں ایک نظم لکھی جس میں ”دریائے وادیٔ الکبیر“ کا ذکر ہے ۔


ملک اسپین کے شہر ”اشبیلیہ“ کا تعارف





   ملک اسپین کے شہر ”اشبیلیہ“ کا قدیم نام ”ہسپالس“ (Hispalis ) تھا ۔ یہ ”دریائے وادی¿ الکبیر“ کے کنارے سمندر سے لگ بھگ ساٹھ (60) میل کے فاصلے پر واقع ہے ۔ جولیس سیزر نے 45 قبل مسیح میں ”اشبیلیہ“ کو فتح کرکے ”جولیس کی رومی نوآبادی“ (Colonia julia Romula ) کا نام دیا ۔ اِس دوران یہ شہر صوبہ ”قرطبہ“ کا صدر مقام (دارالحکومت) رہا ۔ 411 عیسوی میں ”اشبیلیہ“ ”سلطنتِ وندال“ کا ”دارالحکومت“ بن گیا ۔ طارق بن زیاد کے ساتھ اُس کے اُستاد موسیٰ بن نصیر نے بھی ملک اسپین فتح کیا تو اپنے بیٹے عبدالعزیز بن موسیٰ کو ملک اسپین کا گورنر بنا دیا تھا ۔ اُس نے ”اشبیلیہ“ کو ملک اسپین کا صدر مقام (دارالحکومت) بنایا ۔ یہیں پر ”سلطنتِ اُمیہ دمشق “ کے حکمراں امیرالمومنین سلیمان بن عبدالملک کے حکم سے عبدالعزیز بن موسیٰ کو 97 ھجری میں قتل کردیا گیا ۔ مسلمانوں کے دورِ حکومت میں ”اشبیلیہ“ کو ”حمص“ کا نام بھی دیا گیا تھا ۔ 414 ھجری میں جب ملک اسپین کی مرکزی حکومت ”سلطنتِ اُمیہ اسپین“ کا زوال ہوا تو ملک اسپین میں چھوٹی چھوٹی مسلم حکومتیں وجود میں آگئیں تھیں ۔ تب خاندان عبادیہ نے ”اشبیلیہ“ میں ”سلطنتِ عبادیہ“ قائم کرلی تھی ۔ خاندان عبادیہ کے تیسرے حکمراں ”معتمد“ کی درخواست پر شمالی افریقہ کے ملک مراکش کے خاندان مرابطین کا حکمراں یوسف بن تاشقین فوج لیکر ملک اسپین آیا اور ”قشتالہ“ کے عیسائی حکمراں الفانسو ششم کو 479 ھجری میں ”جنگ زلاقہ“ میں شکست دی اور ملک اسپین پر مرابطین کی حکومت قائم کردی ۔ اِس کے بعد مواحدین کا دورِ حکومت آیا اور اُن کے ایک حکمراں نے ”اشبیلیہ“ کو ”دارالحکومت“ بنایا ۔ لگ بھگ 652 ھجری میں مواحدین کی حکومت ختم ہوگئی ۔ تب لگ بھگ 654 ھجری میں عیسائی حکمراں فرڈی ننڈ سوم (فرنانڈو) نے ”اشبیلیہ“ کا محاصرہ کرلیا اور سولہ مہینے کی زبردست جنگ کے بعد اِس پر قبضہ کرلیا ۔ 674 ھجری سے لیکر 690 ھجری تک ملک مراکش کے حکمراں ”مرینی سلطان“ نے ”اشبیلیہ“ کے کئی محاصرے کئے لیکن عیسائیوں سے واپس لینے میںکامیاب نہیں ہوا ۔ ”اشبیلیہ“ میں مسلمانوں کی یادگاروں میں سے ایک یادگار ایک شاندار مسجد کا تین سو فٹ اونچا مینار Giralda اور ”القصر“ (Alcazar ) باقی ہیں اور عیسائیوں نے اِس کا نام ”جیرالڈ“ رکھ دیا ہے ۔ امام محدث ابن عربی اور شیخ اکبر ابن عربی ”اشبیلیہ“ کے ہی ہیں ۔


ملک اسپین کے شہر ”مالقہ“ کا تعارف




   مالقہ“ ملک اسپین کا ساحلی شہر ہے اور یہ ”جبل الفارہ“ (Gibrafaro ) کے دامن میں ”بحیرۂ روم“ کے ساحل واقع ہے اور ملک اسپین کا ایک بڑ اشہر اور بڑی بندگاہ ہے ۔ اِس شہر میں ”دریائے رمبلہ“ (عربی میں دریائے رملہ) گزرتا ہے جسے ”وادیٔ المدینہ“ کہتے ہیں ۔ ”مالقہ“ ملاگا (Malaga ) کا معرب ہے اور اِس کی بنیاد فونیقیوں نے ڈالی تھی ۔ ملک اسپین میں مسلمانوں کی مرکزی حکومت ”سلطنتِ اُمیہ اسپین“ کا جب زوال ہوا تو ملک اسپین میں چھوٹی چھوٹی مسلم حکومتیں وجود میں آگئیں تھیں ۔ تب خاندان حمود نے ”مالقہ“ میں ”سلطنتِ حمودیہ“ قائم کرلی تھی ۔ 449 ھجری میں غرناطہ کے مسلم حکمراں نے قبضہ کرلیا ۔ اِس کے بعد مرابطین اور مواحدین کی یہاں حکومت رہی ۔ آخرکار لگ بھگ 880 ھجری میں فرڈی ننڈ اور اُس کی ملکہ ازابیلا نے سخت ناکہ بندی کرکے مسلمانوں سے ”مالقہ“ چھین لیا ۔ اِس شہر میں مسلمانوں نے پانچ دالانوں والی وسیع جامع مسجد ”القصبہ“ (Alcazaba ) بنائی تھی جسے عیسائیوں نے ”گرجا گھر“ (کلیسا) میں تبدیل کردیا جو آج بھی مسلمانوں کی یادگار ہے ۔


ملک اسپین کے صوبہ اورشہر ”قشتالہ“ کا تعارف




   قشتالہ“ ملک اسپین کے وسط میں واقع ہے اور ملک اسپین کا صوبہ بھی ہے اور شہر بھی ہے ۔ اِس شہر کے کئی نام ”قشتالہ ، قشتلہ ، قشتالیہ اور کاستیلا“ (Castilla ) ہیں ۔ ”قشتالہ“ کو پہاڑوں نے دوحصوں میں تقسیم کررکھا ہے ۔ قدیم ”قشتالہ“ میں ”برگوس ، بلنسیہ (Valencia ) ، شتوبیہ ، صوریہ ، اور بلد الولید“ (Vailadolid ) شامل تھے ۔ جنھیں ”دریائے دویرو“ (Duero ) سیراب کرتا ہے ۔ آج کا جدید ”قشتالہ“ وادیٔ الحجارہ ، میڈریڈ ، طلیطلہ (Toledo ) وغیرہ پر مشتمل ہے جہاں ”دریائے تاجہ“ اور دریائے گوڈیانا“ بہتے ہیں ۔


ملک اسپین صوبہ اور شہر ”سرقسطہ“ کا تعارف






   سرقسطہ“ کا نام ”ساراگوسا“ (Saragossa ) بھی ہے ۔ ملک اسپین میں اِس نام کا ایک صوبہ ہے اور اِسی نام کا شہر بھی ہے جو اِس صوبے کا صدر مقام ہے ۔ ”سرقسطہ“ نام کا شہر ”دریائے ابرہ“ کے دائیں کنارے آباد ہے ۔ اِس صوبہ کی جغرافیائی حالت کی بنا پر عرب مسلمانوں نے اِسے ”الثغرالاعلیٰ“ کا نام دیا ۔ ملک اسپین میں مسلمانوں کی مرکزی حکومت ”سلطنتِ اُمیہ اسپین “ کا جب زوال ہوا تو ملک اسپین میں چھوٹی چھوٹی مسلم حکومتیں وجود میں آگئیں تھیں ۔ تب خاندان ہود نے ”سرقسطہ“ میں ”سلطنتِ ہودیہ“ قائم کرلی تھی ۔ لگ بھگ 503 ھجری میں مرابطین نے قبضہ کرلیا لیکن 512 ھجری میں ”سرقسطہ“ پر عیسائیوں نے قبضہ کرلیا اور تب سے مسلسل عیسائی یہاں حاوی رہے ۔ ”سرقسطہ“ میں ”لاسیو“ میں مسلمانوں نے بہت بڑی اور بہترین جامع مسجد بنائی تھی جسے عیسائیوں نے ”کیتھیڈرل ڈیل سالویڈور“ (کلیسائے منجی) بنا دیا ۔ ”سلطنتِ ہودیہ“ کے دورِ حکومت میں خاندان ہود کے چوتھے حکمراں ابوجعفر مقتدر نے ”’سرقسطہ“ میں ”قصر جعفریہ“ نام کی مسجد بنوائی جو پچیس (25) مربع گز پر بنی ہے اور جس پر پینتالیس (45) فٹ بلند بہت ہی حسین گنبد بنا ہوا ہے ۔ مسجد کے قریب ہی اسی (80) فٹ بلند ایک خوبصورت مینار بھی ہے ۔


ملک اسپین کے شہروں ”شذونہ“ اور ماردہ“ کا تعارف





   شذونہ“ ملک اسپین کے جنوب مغرب میں ”صوبہ قادس“ کا ایک شہر ہے جو ”جزیرة الخضرأ“ اور ”الشریش“ سے لگ بھگ برابر فاصلے پر واقع ہے ۔ مسلمانوں کے دور میں اِسی صوبے کا یہ شہر ”صدر مقام“ تھا ۔ ملک اسپین کا ایک اور شہر ”ماردہ“ (Merida ) ہے ۔ اِس شہر کا یہ نام لاطینی نام ”امریتا“ (Emerita )سے ماخوذ ہے ۔ شہر ”ماردہ“ ملک اسپین کے جنوب مغرب میں ”صوبہ بادجوز“ (Badjoz ) میں واقع ہے ۔ یہ ”دریائے گاڈیانا“ (وادیٔ آنہ) کے دائیں کنارے پر واقع ہے ۔ قدیم ”سلطنتِ لوزینانیا“ کی بنیاد تیئس (23) قبل مسیح میں ملک اسپین میں ڈالی گئی اور”ماردہ“ اس کا دارالحکومت تھا ۔ لگ بھگ 638 ھجری میں ملک اسپین میں ”لیون“ کے عیسائی حکمراں الفانسو نہم نے ”ماردہ“ مسلمانوں سے چھین لیا تھا اور تب سے لیکر آج تک یہ انہیں کے قبضے میں ہے ۔


ملک اسپین کے شہر ”برشلونہ کا تعارف





   برشلونہ“ (Barcelona ) ملک اسپین کے کا ایک اہم ساحلی شہر اور اہم بندرگاہ ہے جوملک اسپین کے جنوب مشرق میں ”بحیرہ¿ روم“ کے شمال مغربی ساحل پر واقع ہے ۔ ”برشلونہ“ یا ”بارسلونا“ ملک اسپین کے ”صوبہ کیٹا لزنیا“ کا دارالحکومت“ ہے اور اس کی آبادی چالیس (40) لاکھ سے بھی زیادہ ہے ۔ یہ ملک اسپین کا سب سے بڑا صنعتی شہر ہے ۔ 230 ھجری میں برشلونہ کے عیسائیوں نے وہاں کے مسلمان گورنر اور فوج کو قتل کرکے جنوب مغربی اسپین کی طرف پیش قدمی شروع کی ۔ اُس وقت کی ملک اسپین کی مرکزی حکومت ”سلطنتِ اُمیہ اسپین“ کے حکمراں عبدالرحمن ثانی کے سپہ سالار عبدالکریم نے 231 ھجری میں اہل برشلونہ کو شکست دی اور اطاعت کا اقرار لیکر وہاں مسلمان گورنر مقرر کردیا ۔ اِس کے بعد 350 ھجری میں ”سلطنتِ اُمیہ اسپین“ کے حکمراں حکم ثانی کے دورِ حکومت میں عیسائیوں نے پھر سے بغاوت کی تو وہاں کے مسلمان گورنر یعلی بن محمد نے اُن کی سرکوبی کی اور اطاعت پر مجبور کردیا ۔ ”برشلونہ“ کو ”فاتح اسپین“ موسیٰ بن نصیر کے بیٹے عبدالعزیز بن موسیٰ نے 97 ھجری میں فتح کیا ۔ 185 ھجری میں فرانس کے حکمراں ”شارلیمان“ (Charlemagne ) کے بیٹے ”لوئی“ نے مسلمانوں سے چھین لیا تھا ۔ اِس کے بعد پھر سے مسلمانوں نے اِسے واپس حاصل کیا ۔ 377 ھجری میں ”برشلونہ“ پر پھر سے عیسائیوں نے قبضہ کرلیا اور تب سے لیکر آج تک یہ انہیں کے قبضے میں ہے ۔ 1992 عیسوی میں ”برشلونہ“یا ”بارسلونا“ میں عالمی اولمپک کھیل منعقد ہوئے تھے ۔


ملک اسپین کے شہر ”مرسیہ“ کا تعارف





   مرسیہ“ ملک اسپین کے جنوب مشرق میں ”دریائے سگورہ“ (شقورہ) کی وادی میں واقع ہے ۔ اِس کے جنوب مشرق میں لگ بھگ چالیس (40) میل دور ”بحیرۂ روم“ کے ساحل پر ملک اسپین کی ”قرطاجنہ“ (کارتاجینا) نام کا ساحلی شہر اور بندرگاہ واقع ہے ۔ ملک اسپین کی مسلمانوں کی مرکزی حکومت ”سلطنتِ اُمیہ اسپین“ کے دور میں ”صوبہ تدمیر“ کا دارالحکومت ”مرسیہ“ تھا ۔ یہ شہر ”سلطنتِ اُمیہ اسپین“ کے حکمراں عبدالرحمن ثانی کے دورِ حکومت میں 210 ھجری فتح ہوا ۔ مسلمانوں کی مرکزی حکومت ”سلطنتِ اُمیہ اسپین“ کے زوال کے بعد ”مرسیہ“ ایک چھوٹی سی حکومت کا ”دارالحکومت“ بنا اور ”صقالیہ“ (Slavs ) کے حکمراں کے قبضے میں رہا ۔ پھر کچھ عرصہ ”بلنسیہ“ (Valencia ) سے ملحق رہا ۔ 484 ھجری میں ”مرسیہ“ پر مرابطین نے قبضہ کرلیا ۔ اِس کے بعد مواحدین کے قبضہ میں رہا ۔ اِس کے بعد ”مرسیہ“ ہسپانوی نژاد ابن مردنیش اور بنو احمر (بنو نصر) کے قبضے میں رہا یہاں تک کہ 640 ھجری میں ”مرسیہ“ پر عیسائیوں نے قبضہ کرلیا اور تب سے لیکر آج تک انہیں کے قبضے میں ہے ۔


ملک اسپین کے شہر ”سبتہ“ کا تعارف





   ”سبتہ“ (Ceuta ) دراصل ملک مراکش کا ایک ساحلی شہر ہے ۔ یہ ساحلی شہربحیرۂ روم کے ”آبنائے جبل الطارق“ (جبرالٹر) کے ساحل پر واقع ہے ۔ ملک اسپین کے باب میں ”سبتہ“ کا ذکر اِس لئے ہم کر رہے ہیں کیونکہ جس وقت مسلمانوں نے اﷲ کی مدد سے ملک اسپین میں اسلام کی روشنی پھیلائی تو اُس وقت ”سبتہ“ بھی ملک اسپین کا ایک مقبوضہ شہر تھا ۔ یہی شہر ملک اسپین میں اسلام کی روشنی پہنچنے کا سبب بنا ۔اِس شہر پر ملک اسپین کے عیسائیوں نے 580 عیسیوی میں قبضہ کیا تھا ۔ ”سبتہ“ پانچویں صدی قبل مسیح میں ملک اسپین کے اہل قرطاجنہ نے آباد کیا تھا ۔ پانچویں صدی قبل مسیح میں انہوں نے ملک مراکش کے ساحلوں پر سات ساحلی شہر آباد کئے تھے جن میں سے ایک ”سبتہ“ ہے ۔ یہ شہر سینکڑوں سال تک مسلمانوں کی رونق کا گہوارا رہا ۔ جس وقت ملک اسپین سے مسلمانوں کا عیسائی صفایا کررہے تھے اُسی وقت لگ بھگ 825 ھجری میں پرتگال نے قبضہ کرلیا ۔ اِس کے بعد ملک اسپین کے عیسائیوں نے لگ بھگ 990 ھجری میں ”سبتہ“ پر قبضہ کرلیا ۔ ”سبتہ“ آج بھی حقیقت میں ملک مراکش کا ایک شہر ہے لیکن مغربی طاقتوں کی پشت پناہی کی وجہ سے اِس پر ملک اسپین کے عیسائیوں کا قبضہ ہے۔

جمعہ، 6 ستمبر، 2024

Saltanat e Umayya part 01

 01 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 1

حضرت امیر معاویہ کا دور حکومت

حضرت معاویہ بن ابی سفیان، سلسلہ نسب اور خاندان، قبول اسلام، رسول اللہ ﷺ کی بشارت، خلافت مدینہ منورہ میں، بادشاہت ملک شام میں، حضرت حسن بن علی کی مدینہ منورہ روانگی، گورنروں کا تقرر، مسلمانوں کا مرکز دمشق، 41 ہجری اور 42 ہجری کے واقعات، 43 ہجری: کابل کی فتح، زابلستان ( غزنی) کی فتح )، میعان (قیقان) پر حملہ، قیس بن ہیثم اور عبداللہ بن خازم، حضرت معاویہ بن ابی سفیان کی طلبی، خوارج کی شکست


حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ


حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے خلافت سے دستبردار ہونے کے ساتھ ہی خلافت راشدہ مکمل ہوگئی اور پھر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کی باگ ڈور سنبھالی۔ آپ رضی اللہ عنہ خلیفہ تھے یا بادشاہ تھے؟ اس میں علمائے کرام کی مختلف رائے ہیں۔ کچھ علمائے کرام کے مطابق آپ رضی اللہ عنہ خلیفہ تھے اور کچھ علمائے کرام کے مطابق آپ رضی اللہ عنہ بادشاہ تھے۔ اب حقیقت کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے ۔ واللہ اعلم۔


سلسلہ نسب اور خاندان


حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسب اس طرح ہے۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان ( نام صخر ) بن حرب بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف ۔ یہاں آکر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلہ نسب سے مل گیا ہے ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا خاندان بنو امیہ" ہے۔ عبد مناف کے جڑواں بیٹے پیدا ہوئے۔ ایک کا نام عمرو رکھا۔ ان کا لقب ہاشم ہے۔ اور دوسرے کا عبد شمس ۔ یہاں سے عبد مناف کی اولاد میں دو خاندان ہو گئے ۔ ایک خاندان ہاشمی خاندان کہلایا۔ عبد شمس کے ایک بیٹے کا نام امیہ ہے۔ اسی اُمیہ کے نام پر عبد شمس کے خاندان کا نام ”اُمیہ خاندان پڑ گیا۔ اب بنو ہاشم اور بنو امیہ قریش کے دوالگ الگ خاندان یا شاخ تھے۔ بنو ہاشم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ ہیں اور بنو امیہ میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ ہیں۔


قبول اسلام


حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام کے بارے میں عام طور سے یہی مشہور ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فتح مکہ کے وقت اسلام قبول کیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک روایت یہ بھی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے عمرۃ القضاء " ( صلح حدیبیہ کے بعد معاہدے کے مطابق دوسرے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کرنے آئے تھے اور تین دنوں تک مکہ مکرمہ میں تشریف فرما تھے۔ اس عمرہ کو عمرۃ القضاء “ کہا جاتا ہے ) میں اسلام قبول کیا تھا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں نے عمرۃ القضاء کے روز اسلام قبول کیا تھا لیکن فتح مکہ کے دن تک اپنے اسلام کو چھپائے رکھا۔“


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت 


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو بادشاہ بنے کی بشارت دی تھی۔ علامہ عمادالدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : اس سے پہلے ہم یہ حدیث بیان کر چکے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت میں (30) سال ہوگی پھر بادشاہت ہوگی اور حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی خلافت سے دستبرداری کے ساتھ ہی خلافت کے تمہیں (30) سال مکمل ہو گئے ۔ پس حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا زمانہ حکومت کا آغاز ہے اور آپ رضی اللہ عنہ اسلام کے پہلے اور بہترین بادشاہ ہیں۔ ( یہاں ہم تمیں سال والی ایک اور حدیث پیش کر رہے ہیں ) حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: ” بے شک یہ امر ( کام ) رحمت اور نبوت سے شروع ہوا ہے پھر یہ خلافت اور رحمت بن جائے گا۔ پھر کاٹ کھانے والی حکومت بن جائے گا، پھر جبر وتکبر اور فساد فی الارض بن جائے گا۔ وہ حریرہ فروج اور شراب کو حلال کریں گے۔ اس کے باوجود انہیں رزق اور مدددی جائے گی حتی کہ وہ اللہ تعالی سے ملاقات کریں گے (احجم طبرانی ) آگے علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! مجھے خلافت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول نے آمادہ کیا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اے معاویہ بن ابی سفیان ! اگر تو بادشاہ بنے تو نیکی کرنا‘ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ چھا گل لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل پڑے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی طرف دیکھ کر فرمایا: ”اے معاویہ بن ابی سفیان ! اگر تو بادشاہ بنے تو اللہ سے ڈرنا اور عدل کرنا ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” میں ہمیشہ ہی پر یقین رہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کی وجہ سے آزمائش میں پڑوں گا“ ( سنن بیہقی ) حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے ) فرمایا: ”اگر تو نے لوگوں کی کمزوریوں کی جستجو کی تو تو اُن کو خراب کر دے گا۔“


خلافت مدینہ منورہ میں، بادشاہت ملک شام میں


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملک شام کے بارے میں کئی باتیں بتائی ہیں۔ اُن میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ خلافت مدینہ منورہ میں ہوگی اور بادشاہت ملک شام میں ہوگی۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” خلافت مدینہ منورہ میں ہوگی اور بادشاہت ملک شام میں ہوگی ۔ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میں سویا ہوا تھا کہ میں نے ایک خط دیکھا جو میرے سر کے نیچے سے اُٹھایا گیا تو میں نے خیال کیا کہ اسے لے جایا جائے گا۔ پس میری نگاہ نے اُس کا پیچھا کیا تو اسے ملک شام لے جایا گیا۔ بے شک جب فتنہ پڑے گا تو ایمان ملک شام میں ہوگا۔“ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے نور کے ایک بلند ستون کو اپنے سر کے نیچے سے نکلتے دیکھا حتی کہ وہ ملک شام میں جا کر ٹک گیا۔


حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی مدینہ منورہ روانگی


اس سے پہلے ہم ” خلافت راشدہ میں بتا چکے ہیں کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ خلافت سے دستبردار ہو گئے تھے اور اُسے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو اس شرط پر سونپ دیا تھا کہ اُن کے بعد حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوں گے۔ ابھی حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کوفہ میں ہی مقیم تھے کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اہل بیت کو لیکر مدینہ منورہ روانہ ہو گئے اُن میں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں صلح ہو جانے کے بعد مسکن کے مقام سے حضرت حسن بن علی، حضرت حسین بن علی اور حضرت عبد اللہ بن جعفر طیار رضی اللہ عنہم اپنے اہل بیت ( اہل و عیال) کے ساتھ کو فہ روانہ ہوئے ۔ جب حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اہل بیت کے ساتھ کوفہ پہنچے تو اُن کا زخم اچھا ہو گیا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ کوفہ کی مسجد میں آئے اور فرمایا: ”اے اہل کوفہ! اپنے ہمسایہ، اپنے مہمان اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کے بارے میں جس سے اللہ نے نجاست کو دور کر دیا ہے اور طیب و طاہر کیا ہے تمہیں اللہ کا خوف کرنا چاہیئے ۔“ یہ سن کر اہل کوفہ رونے لگے۔ اس کے بعد حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اہل بیت کے ساتھ مدینہ منورہ روانہ ہو گئے۔


گورنروں کا تقرر


تمام مملکت اسلامیہ کے بلا شرکت غیرے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ حاکم بن گئے اور بلا دشام میں تو پہلے ہی سے آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے گورنر مقرر کر رکھے تھے ۔ اب بلاد عراق، ایران اور حجاز میں اپنے گورنر مقرر کئے ۔ ملک مصر پہلے ہی ملک شام کے ماتحت تھا اور اُس پر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے پہلے ہی سے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو گورنر مقرر کر رکھا تھا۔ کوفہ میں اُن کے بیٹے حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو گورنر بنایا تو حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اس طرح آپ شیر کے دو دانتوں کے درمیان آگئے ۔ یہ سن کر انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو کوفہ کا گورنر بنا دیا۔ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو جب معلوم ہوا تو انہوں نے رائے دی کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھانے پر متعین کیا جائے ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے انہیں صرف نماز کا امام بنا دیا۔ کثیر بن شہاب کو رے کا گورنر بنایا۔ بصرہ کا گورنر بشر بن ارطاۃ کو بنایا۔ کچھ عرصے بعد اسے بصرہ کی گورنری سے معزول کر کے عبداللہ بن عامر کو بصرہ کا گورنر بنا دیا۔ ساتھ ہی خراسان اور بجستان کا گورنر بھی بنا دیا۔ مروان بن حکم کو مدینہ منورہ کا گورنر بنایا۔ خالد بن عاص بن ہشام کو مکہ مکرمہ کا گورنر بنایا۔


مسلمانوں کا مرکز دمشق


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے اور مدینہ منورہ کو مسلمانوں کا مرکز بنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بھی مسلمانوں کا مرکز مدینہ منورہ ہی رہا۔ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ارتداد کے خاتمے کے بعد ملک شام سب سے پہلے جو چار لشکر بھیجے اُن میں سے ایک لشکر کا سپہ سالار حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو بنایا۔ اُن کے ساتھ اُن کے بھائی حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بھی مسلمانوں کا مرکز مدینہ منورہ ہی رہا۔ خلیفہ دوم رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں پورا ملک شام فتح ہو گیا اور انہوں نے حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو ایک علاقے کا گورنر بنا دیا۔ جب حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا تو خلیفہ دوم رضی اللہ عنہ نے اُن کے بھائی حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو اس علاقے کا گورنر بنا دیا۔ خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بھی مسلمانوں کا مرکز مدینہ منورہ ہی رہا۔ خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو پورے ملک شام کا گورنر بنا دیا اور وہ بارہ سال سے زیادہ عرصے تک پورے ملک شام کے گورنر رہے۔ خلیفہ چہارم حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بھی مسلمانوں کا مرکز مدینہ منورہ ہی رہا۔ خلیفہ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد جب حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے صلح کر لی تو پوری مملکت اسلامیہ کے اکیلے حکمراں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ بن گئے ۔ پچھلے لگ بھگ پچھیں (۲۵) سال سے آپ رضی اللہ عنہ ملک شام میں دمشق میں رہ رہے تھے۔ اس لئے آپ رضی اللہ عنہ نے دارلخلافہ دمشق کو بنایا اور مسلمانوں کا مرکز مدینہ منورہ سے دمشق آ گیا۔


ا41 ہجری اور 42 ہجری کے واقعات


ا41 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ پوری مملکت اسلامیہ کے حکمراں بنے ۔ اس سال اور اگلے سال یعنی 42 ہجری میں آپ رضی اللہ عنہ مملکت اسلامیہ سے خانہ جنگی کے خاتمہ کی بھر پور کوشش کرتے رہے۔ ان دو برسوں میں خوارج نے مسلسل آپ رضی اللہ عنہ کے خلاف جنگ جاری رکھی اور آپ رضی اللہ عنہ اپنی حکمت عملی سے ان پر قابو پاتے رہے۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں : اس سال یعنی 42 ہجری میں مسلمانوں نے لان اور روم سے جہاد کیا اور اُن کو شکست فاش دی اور بطریقوں کی ایک جماعت کو قتل کیا گیا۔ اس سال حجاج بن یوسف پیدا ہوا۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے اس سال مروان بن حکم کو مدینہ منورہ کا گورنر مقرر کیا اور مروان بن حکم نے عبداللہ بن حارث بن نوفل کو قاضی مقرر کیا ۔ مکہ مکرمہ پر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے خالد بن عاص بن ہشام کو گورنر بنایا۔ بصرہ، خراسان اور بجستان کا گورنر عبد اللہ بن عامر کو بنایا اور عبد اللہ بن عامر نے خراسان کا گورنر قیس کو بنایا۔


ا43 ہجری: کابل کی فتح


حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ مملکت اسلامیہ سے خانہ جنگی کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور اس کے ساتھ ساتھ مملکت اسلامیہ کی سرحد پر بھی اسلامی لشکروں کو روانہ کر رہے تھے ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: عبداللہ بن عامر نے 43 ہجری میں اپنی طرف سے عبد الرحمن بن سمرہ کو بجستان کا گورنر بنا کر روانہ کیا اور پولیس افسر عباد بن حصین کو بنایا اور عمر بن عبد اللہ بن معمر جیسے اشراف کو اُن کے ساتھ روانہ کیا ۔ اس اطراف میں چونکہ بغاوت پھوٹ پڑی تھی اس لئے عبد الرحمن بن سمرہ اور عباد بن حصین باغیوں سے جنگ کرتے ہوئے داخل ہوئے اور اکثر شہروں کو فتح کر لیا۔ رفتہ رفتہ شہر کابل تک پہنچ گئے مہینوں محاصرہ کئے رہے منجیقیں نصب کیں ،سنگباری کرتے رہے ۔ متعددلڑائیاں ہوئیں اور شہر پناه (فصیل ) کا ایک حصہ ٹوٹ گیا۔ مشرکین اس کو نہیں بنا سکے، تمام رات عباد بن حصین مع اپنی رکاب کی فوج کے ساتھ پہرہ دیتے رہے۔ صبح ہوتے ہی مشرکین نے شہر سے باہر نکل کر مقابلہ کیا اور مسلمانوں نے پہلے ہی حملہ میں انہیں پسپا کر دیا اور بزور شمشیر کا بل کو فتح کر لیا۔


زابلستان ( غزنی) کی فتح )


کابل فتح کرنے کے بعد مسلمان آگے بڑھے ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اس کے بعد نسف کی طرف بڑھے اور اس پر بھی جنگ کر کے قبضہ کرتے ہوئے خشک تک جاپہنچے ۔ اہل خشک نے مصالحت کر لی۔ پھر مسلمانوں نے آگے بڑھ کر ” رج“ کا محاصرہ کر لیا، شدید جنگ ہوئی اور آخر کار مسلمانوں کو فتح ہوئی۔ اس سے فارغ ہو کر مسلمانوں کا لشکر زابلستان (جس کو غزنی کہا جاتا ہے ) کا رخ کیا اور محاصرہ کر لیا۔ غزنی والوں نے بھی زبردست مقابلہ کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی۔ اس کے بعد مسلمانوں نے غزنی کے آس پاس کے مضافات پر قبضہ کیا اور جب اس کے بعد کا بل واپس لوٹے تو کابل میں بغاوت ہو چکی تھی ۔ عبد الرحمن بن سمرہ نے زبردست مقابلہ کر کے اُن کی زبر دست بغاوت کو ختم کیا اور کا بل پھر سے فتح کیا۔


میعان (قیقان) پر حملہ


حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے مملکت اسلامیہ کی سرحدوں پر ہر طرف اسلامی لشکروں کو روانہ کیا ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: ہند ( ہندوستان کو ہند کہا جاتا تھا اور اُس وقت ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال ۔ یہ سب ایک ہی ملک تھے اور ان سب کے مجموعہ کو "ہند“ کہا جاتا تھا۔ ) کی سرحد پر عبداللہ بن عامر نے عبدالرحمن بن سوار عبدی کو مقرر کیا تھا۔ ایک روایت کے مطابق خود حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے عبد الرحمن بن سوار عبدی کو مقرر کیا تھا۔ بہر حال انہوں نے تیعان (قیقان) پر حملہ کیا اور فتح حاصل کی ۔ بہت سا مال غنیمت ہاتھ آیا۔ عبد الرحمن بن سوار عبدی خود مال غنیمت لیکر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور قیقانی گھوڑے پیش کئے ۔ اس کے بعد قیقان واپس آئے تو اہل قیقان نے ترکوں سے مدد حاصل کر کے جنگ کی تیاری کر لی تھی ۔ دونوں لشکروں میں شدید جنگ ہوئی اور قیقان فتح ہوا لیکن اس جنگ میں عبدالرحمن بن سوار عبدی شہید ہو گئے۔


قیس بن ہیثم اور عبداللہ بن خازم


قیس بن ہیثم کو عبد اللہ بن عامر نے خراسان کا گورنر بنایا لیکن کچھ دنوں بعد معزول کر دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عبد اللہ بن عامر نے قیس بن ہیثم کو خراسان کا گورنر مقرر کیا تھا۔ اس پر عبد اللہ بن خازم نے کہا کہ آپ نے ایک بزدل انسان کو خراسان کا گورنر بنایا ہے۔ مجھے اندیشہ ہے کہ اگر جنگ پیش آئے گی تو یہ لوگوں کے ساتھ بھاگ کھڑا ہوگا۔ اس میں مال بھی ضائع ہو گا اور آپ کی ننھیال والے بدنام ہو جائیں گے۔ عبد اللہ بن عامر نے پوچھا کہ پھر کیا مناسب ہے؟ اُس نے کہا مجھے خراسان کا گورنر بنا کر ایک فرمان لکھ دیں۔ اگر وہ دشمن کے مقابلے سے منہ پھیرے گا تو میں اُس کی جگہ آکھڑا ہو جاؤں گا۔ عبداللہ بن عامر نے اُس کے نام فرمان لکھ دیا۔ اُدھر مخلارستان کے لوگوں نے سرکشی کی تو قیس بن ہیثم نے عبد اللہ بن خازم سے اس معاملے میں مشورہ کیا۔ اُس نے رائے دی کہ تم یہاں سے سرک جاؤ اور ابھی تمام اطراف و جوانب کے لوگوں کو جمع کرو۔ یہ سن کر قیس بن ہیثم اطراف و جوانب میں روانہ ہو گیا۔ وہ کوئی منزل دو منزل کے فاصلے پر پہنچا ہوگا کہ عبداللہ بن خازم نے اپنا گورنری کا فرمان لوگوں کو بتایا اور سب کا سپہ سالار بن کر دشمن کا مقابلہ کیا اور شکست دی۔ یہ خبر کوفہ اور بصرہ پہنچی اور ملک شام بھی پہنچی۔ قیس کے ساتھی بہت خفا ہوئے اور عبد اللہ بن خازم سے کہا کہ تم نے قیس بن ہیثم کو دھوکا دیا اور عبداللہ بن عامر کو بھی۔ اس بات نے طول پکڑا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان سے جا کر شکایت کی۔


حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی طلبی


حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو اس معاملے کی خبر لی تو انہوں نے عبداللہ بن خازم کو ملک شام طلب کیا۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں : حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن خازم کو ملک شام بلا بھیجا۔ وہ آیا اور معذرت کی ، انہوں نے فرمایا: کل صبح تم لوگوں کے سامنے کھڑے ہو کر اپنا عذر پیش کرنا ۔ عبداللہ بن خازم نے اپنے اصحاب کے سامنے ذکر کیا کہ خطاب کرنے کا حکم ہوا ہے اور مجھے بات کرنا نہیں آتی۔ کل تم سب منبر کو گھیر کو بیٹھنا اور جو کچھ میں کہوں اُس کی تصدیق کرتے جاتا۔ دوسری صبح کو عبد اللہ بن خازم خطاب کرنے کھڑا ہوا پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کی پھر کہا: ” خطبہ پڑھنا تو امام کا منصب ہے جسے اس کے سوا چارہ ہی نہیں ہے یا احمق کا کام ہے جس کا دماغ چل گیا ہو جو منہ میں آئے بکتا چلا جائے۔ میں نہ تو امام ہوں اور نہ احمق ہوں۔ جو لوگ مجھے جانتے ہیں وہ اس بات سے خوب واقف ہیں کہ میں بڑا آزمودہ کار ہوں محل وقوع کو تاڑ لیتا ہوں اورفورا ! دوڑ پڑتا ہوں ، جان جوکھم کے مقام سے قدم نہیں ہٹاتا لشکر میں چالاک تقسیم غنیمت میں انصاف پسند ہوں یتم کو اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ جو اس بات کو جانتا ہو وہ میری تصدیق کرے ۔ منبر کے گرد جو اُس کے ساتھی بیٹھے ہوئے تھے سب نے کہا: " بے شک ایسا ہی ہے ۔ پھر اُس نے کہا: ”امیر المومنین! آپ کو بھی میں نے قسم دی ہے آپ بھی جو کچھ جانتے ہوں کہہ دیجیئے ۔ “ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ایسا ہی ہے ۔ اور عبداللہ بن خازم کی جان بچ گئی۔


خوارج کی شکست


حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے حکمراں بنتے ہی ملک عراق میں خوارج یعنی خارجیوں نے سر اُٹھایا تھا جسے آپ رضی اللہ عنہ اپنی حکمت عملی سے مسلسل دبائے ہوئے تھے۔ لگ بھگ دو سال بعد آپ رضی اللہ عنہ کی ملک عراق پر پکڑ کافی مضبوط ہوگئی تو خوارج پر حملہ کر کے اُن کو شکست دی۔ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : اس سال 43 ہجری میں خوارج اور کوفی لشکر کے درمیان عظیم معرکہ ہوا اور یہ اس وجہ سے ہوا کھرا نہ وریا نے اس وقت لوگوں کے خلاف بغاوت کرنے کا پختہ ارادہ کیا ہوا تھا جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں ۔ پس مستورد بن علقمہ کی قیادت سے ہوا۔ اس کے بعد دونوں لشکر اپنے امین شعبہ اللہ عہ اُن سے مقابلہکے لئے تین ہزار کا شکر تیارکیا۔ ہو کر ان کے مقابلے رہ روع کو تین سو کا ہر اول ( مقدمتہ الجیش ) دے کر آگے بھیجا۔ ابوالروع نے ”المزار کے مقام پر ان غروب ہونے کے بعد ایل او یا سب رات اور خوارج کو شکست ہوئی۔ انہوں نے دوبارہ حملہ کیا تو خوارج نے انہیں شکست دی لیکن کوئی آدمی قتل نہیں ہوا۔ اس کے بعد دونوں لشکر اپنے اپنے پڑاؤ میں واپس آگئے اور ابوالروع اپنے سپہ سالار معقل بن قیس کی آمد کا انتظار کرنے لگے ۔ مگر وہ سورج غروب ہونے کے بعد آیا اور اُس نے اتر کر اپنے اور ابوالروع کے لشکر کو مغرب کی نماز پڑھائی ۔ پھر ابوالروع سے تمام حالات معلوم کئے ۔ ابوالروع نے کہا: اے سپہ سالار ! خوار جوں کے حملے بڑے سخت ہیں۔ آپ لوگوں کے مددگار بنیں اور سواروں کا حکم دیں کہ وہ آپ کے آگے جنگ کریں ۔ معقل بن قیس نے کہا: ” آپ کی رائے بہت اچھی ہے۔ اور ابھی اُس نے اتنی ہی بات کہی تھی کہ خوارج نے اُن کے لشکر پر حملہ کر دیا اور معقل بن قیس کے اکثر ساتھی اسے چھوڑ کر بھاگ گئے۔ اس موقع پر معقل بن قیس نے پیدل ہو کر کہا: اے مسلمانو! زمین پر چلو از مین پر چلو“ دوسو سواروں نے اُس کا ساتھ دیا اور پیدل ہو گئے اُن میں ابوالروع بھی تھا۔ مستور بن علقمہ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ اُن پر حملہ کیا اور انہوں نے نیزوں اور تلواروں سے اُس کا سامنا کیا اور بقیہ لشکر نے بعض سواروں کو آکر تباہ کیا اور انہیں راہ فرار اختیار کرنے پر ملامت کی۔ یہ سن کر لوگ معقل بن قیس کے پاس واپس آگئے جو اپنے ساتھیوں کے ساتھ خوارج سے شدید جنگ کر رہا تھا۔ لوگ رات میں بھی واپس آرہے تھے۔ معقل نے میمنہ اور میسرہ میں اُن کی صف بندی کر دی اور اُن کو منتظم کر کے کہا: ” اپنے میدان کارزار پر ڈٹے رہو چتی کہ ہم صبح اُن پر حملہ کریں گے اور ابھی صبح ہوئی ہی تھی کہ خوارج کو شکست ہو گئی اور وہ جہاں سے واپس آئے تھے وہیں چلے گئے۔ معقل بن قیس اُن کی تلاش میں گیا اور اس نے اپنے آگے ابو الروع کو چھ سو جوانوں کے ساتھ بھیجا اور وہ طلوع آفتاب کے وقت اُن سے جا پکڑا اور خوارج نے اُن پر حملہ کر دیا اور ایک ساعت تک ایکدوسرے سے مبارزت کی ۔ پھر انہوں نے یکبارگی حملہ کر دیا اور ابوالروع اپنے ساتھیوں سمیت اُن کے سامنے ڈٹا رہا اور وہ انہیں تباہ کرنے لگا اور انہیں بھاگنے پر ملامت کرنے لگا اور صبر کی ترغیب دینے لگا، پس وہ مردانہ وارڈٹ گئے حتی کہ انہوں نے خوارج کو پیچھے دھکیل دیا اور جب خوارج نے یہ کیفیت دیکھی تو وہ معقل سے ڈر گئے اور اُن کا قتل عام شروع ہو گیا اور وہ دجلہ پار کر کے نہر شیر یا بہر سیر کے علاقے میں داخل ہو گئے ۔ ابوالردع اور معقل بن قیس دونوں خوارج کے قدیم شہر پہنچ گئے اور مدائن کا گورنر شریک بن عبید بھی لشکر لیکر آ گیا اور خوارج کا خاتمہ ہو گیا۔ اس سال مدینہ منورہ کے گورنر مروان بن حکم نے لوگوں کو حج کرایا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں