ہفتہ، 7 ستمبر، 2024

Ispeen Madrid ke Shahroon ka Taaruf

 ملک اندلس (اسپین، میڈرڈ) کے شہروں کا تعارف

شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی ۔مالیگاوں

ملک اسپین کی جغرافیائی حدود، آبنائے ”جبل الطارق“ (جبرالٹر) ، ملک اسپین کے نام، ملک اسپین کے چند شہروں کا تعارف، ملک اسپین کے شہر ”قرطبہ“ کا تعارف، ملک اسپین کے شہر ”طلیطلہ“ کا تعارف، ملک اسپین کے شہر ”جزیرة الخضرأ“ کا تعارف، ملک اسپین کے ”دریائے وادیٔ بکہ“ کا تعارف، ملک اسپین کے دریا ”وادیٔ الکبیر“ کا تعارف، ملک اسپین کے شہر ”اشبیلیہ“ کا تعارف، ملک اسپین کے شہر ”مالقہ“ کا تعارف، ملک اسپین کے صوبہ اورشہر ”قشتالہ“ کا تعارف، ملک اسپین صوبہ اور شہر ”سرقسطہ“ کا تعارف، ملک اسپین کے شہروں ”شذونہ“ اور ماردہ“ کا تعارف، ملک اسپین کے شہر ”برشلونہ کا تعارف، ملک اسپین کے شہر ”مرسیہ“ کا تعارف، ملک اسپین کے شہر ”سبتہ“ کا تعارف



   ملک اسپین میں مسلمان حکومتوں کا تفصیلی ذکر کرنے سے پہلے ہم آپ کی خدمت میں ملک اسپین اور اُس کے چند خاص شہروں کا تعارف پیش کررہے ہیں تاکہ جب آگے آپ کے سامنے ملک اسپین اور اُس کے شہروں کا ذکر آئے تو سمجھنے میں آسانی ہو ۔ ہم نے حتی الامکان آسان طریقے سے ملک اسپین کی جغرافیائی حدود اور اُس کے شہروں کے بارے میں بتانے کی کوشش کی ہے ۔ اِس کو اچھی طرح سمجھنے کے لئے آپ مطالعہ کرتے وقت اپنے موبائل پر ”گوگل میپ“ پر ملک اسپین اور بحیرۂ روم“ وغیرہ کا نقشہ سامنے رکھیں گے تو انشاءاﷲ بہت لطف آئے گا ۔


ملک اسپین کی جغرافیائی حدود


   ملک اسپین ”جزیرہ نما“ ہے اِس کے تین سمتوں میں سمندر ہے ۔ مشرق اور جنوب میں بحیرۂ روم ہے جسے ”بحر متوسط ، بحرشام اور بحر مشرق“ بھی کہتے ہیں ۔ جنوب میں آبنائے ”جبل الطارق“ ہے جسے آج کل آبنائے ”جبرالٹر“ کہا جاتا ہے اور اِسے عرب ”بحر زقاق“ بھی کہتے ہیں۔ ”آبنائے جبل الطارق“ ملک اسپین کے جنوبی گوشہ اور براعظم افریقہ کے شمالی گوشہ میں ہے ۔ یہی آبنائے براعظم یورپ کو براعظم افریقہ سے الگ کرتی ہے کیونکہ ملک اسپین براعظم یورپ کا حصہ ہے ۔ ملک اسپین کے جنوب مغرب میں ، مغرب میں اور شمال مغرب میں اور شمال میں ”بحر اوقیانوس“ ہے ۔ جسے عرب ”بحر محیط ، بحر ظلمات ، بحر مظلم اور بحر اعظم“ بھی کہتے ہیں۔ آج کل اِس کا نام ”بحر اٹلانٹک“ بھی ہے۔ ملک اسپین براعظم یورپ کے جنوب مغرب میں واقع ہے اور شمالی افریقہ کے شمال مغرب میں واقع ہے ۔ شمالی افریقہ کے ملک ”مراکش“ اور ملک اسپین کے درمیان سمندر ایک چھوٹی سی ”آبنائے“ میں تبدیل ہوگیا ہے ۔ بحیرۂ روم براعظم یورپ کے جنوب میں اور براعظم افریقہ کے شمال میں واقع ہے ۔ بحیرۂ روم کے مشرق میں ملک شام اور ملک ترکی واقع ہے ۔ اگر ہم ملک شام سے بحیرۂ روم میں مغرب کی طرف آگے بڑھیں گے تو شمال میں ہمیں ملک ترکی ملے گااور جنوب میں فلسطین اور ملک مصر ملیں گے ۔ جب ہم مغرب کی طرف اور آگے بڑھیں گے تو شمال میں ملک یونان ملے گااور جنوب میں ملک لیبیا ملے گا ۔ جب ہم بحیرۂ روم میں مغرب کی طرف اور آگے بڑھیں گے تو شمال میں ملک اٹلی ملے کا جس کے ایک شہر ”روم“ کے نام پر اِس چھوٹے سمندر کا نام ”بحیرۂ روم“ رکھا گیا ہے اور جنوب میں ملک تیونس ملے گا۔ جب ہم بحیرہ¿ روم میں مغرب کی طرف اور آگے بڑھیں گے تو ہمیں شمال میں ملک فرانس ملے گا اور جنوب میں ملک الجیریا ملے گا ۔ جب ہم بحیرۂ روم میں مغرب کی طرف اور آگے بڑھیں گے تو ہمیں شمال میں ملک اسپین (اندلس ، ہسپانیہ) ملے گا اور مغرب میں ملک مراکش ملے گا ۔ اب ہم بحیرہ روم میں جیسے جیسے مغرب کی طرف آگے بڑھتے جائیں گے تو ملک اسپین اور ملک مراکش ایکدوسرے سے قریب آتے جائیں گے اور بحیرۂ روم شمال اور مغرب میں کم ہوتا جائے گا یہاں تک کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ بحیرۂ روم ایک چھوٹی سی” آبنائے“ میں تبدیل ہوجائے گا ۔یہ” آبنائے جبل الطارق“ (جرالٹر) ہے جس کی چوڑائی چودہ (14) کلو میٹر ہے۔ یہاں براعظم افریقہ اور براعظم یورپ دونوں ایکدوسرے کے بے حد قریب آگئے ہیں ۔ اِس کے بعد جب ہم بحیرہ¿ روم میں مغرب کی طرف اور آگے بڑھیں گے تو کچھ دور چلنے کے بعد اچانک یہ آبنائے ختم ہوجائے گی اور ہم ایک بہت ہی بڑے اور بہت ہی وسیع سمندر ”بحراوقیانوس“ میں داخل ہوجائیں گے ۔ ملک اسپین ایک ”جزیرہ نما“ ملک ہے ۔ اِس کے شمال مشرق میںملک فرانس ہے اور جنوب مغرب میں ملک پرتگال ہے ۔ پرتگال کے مغرب میں ”بحراوقیانوس“ ہے ۔ ملک اسپین کے شمال میں ”بحر اوقیانوس“ کی ”خلیج بیکس“ ہے اور شمال مغرب میں ”بحر اوقیانوس“ ہے ۔ ملک اسپین کے مشرق میں ”بحیرہ¿ روم“ ہے اور یہی ملک اسپین کے جنوب میں بھی ہے جو ایک وقت چھوٹی سی” آبنائے“ بن گیا ہے ۔” آبنائے“ کے آگے ملک اسپین کے جنوب مغرب میں ”بحراوقیانوس“ ہے۔ ملک اسپین کے شمال مشرق میں ملک فرانس ہے اور صرف یہی ایک ملک ہے جس کی زمینی سرحد ملک اسپین کی زمینی سرحد سے ملتی ہے ۔ اِس کے علاوہ ملک اسپین کے مغرب میں ایک چھوٹا سا ملک ”پرتگال“ ہے جس کے بھی تین اطراف سمندر ہے اور صرف ایک طرف ملک اسپین کی سرحد ہے ۔ یوں سمجھ لیں کہ ملک پرتگال ملک اسپین کا ”بغل بچہ“ ہے جو اُس 

کے جنوب مغرب میں واقع ہے ۔



آبنائے ”جبل الطارق“ (جبرالٹر) 




   شمالی افریقہ کے شمالی ملک مراکش کے شمال میں اور ملک اسپین جنوب میں ایک چھوٹی سی آبنائے ”جبل الطارق“ (جرالٹر) ہے ۔ اِس” آبنائے“ کا نام عربوں نے عالم اسلام کے عظیم سپہ سالار طارق بن زیاد کے نام پر ”جبل الطارق“ رکھا ۔ جسے بعد میں عیسائیوں نے ”جبرالٹر“ کر دیا ۔ اِس آبنائے کا نام ”جبل الطارق“ عربوں نے اِس لئے رکھا کہ جب طارق بن زیاد ملک اسپین کے جس ساحل پر اپنی فوج کے ساتھ اُترا تھا وہاں ایک بہت بڑا پہاڑ ہے جسے ”طارق کا پہاڑ“ یعنی ”جبل الطارق“ کہا گیا جو اِس” آبنائے“ کے کنارے واقع ہے ۔ اِسی لئے اِس ”آبنائے“ کو بھی ”جبل الطارق“ کہا جانے لگا ۔ ”آبنائے جبل الطارق“ دو بڑے براعظموں افریقہ اور یورپ کو ایکدوسرے سے جدا کرتی ہے اور ”بحیرہ روم“ کو ”بحر اوقیانوس یا اٹلانٹک“ سے ملاتی ہے ۔



 اِس ”آبنائے“ کی چوڑائی چودہ (14) کلومیٹر ہے اور لمبائی پچاس (50) کلومیٹر ہے ۔ جنوبی اسپین میں جزیرہ نما ”جبل الطارق“ (جبرالٹر) نام کا ایک شہر بھی آباد ہے۔ اِس شہر ”جبل الطارق“ کا دوسرا نام ”مدینة الفتح“ بھی ہے ۔ یہ نام ”سلطنتِ موحدین“ کے بانی عبدالمومن نے 555 ھجری میں دیا ۔ ”قشتلہ“ کے عیسائی حکمراں فرڈی ننڈ چہارم نے شہر ”جبل الطارق“ کو 709 ھجری میں فتح کرلیا۔ لیکن پھرملک مراکش کے بنو مرین نے 733 ھجری میں اِس پر قبضہ کرلیا اور اُن سے اہل غرناطہ نے اِس شہر کو چھین لیا ۔ اِس کے بعد 866 ھجری میں ”قشتلہ“ کے عیسائی حکمراں ہنری چہارم نے قبضہ جما لیا ۔ اِس کے بعد 1138 ھجری میں شہر ”جبل الطارق“ پر برطانیہ نے قبضہ کرلیا جو آج بھی برقرار ہے ۔


ملک اسپین کے نام


   ملک اسپین بہت ہی خوبصورت اور ہرا بھرا ملک ہے ۔ اِس ملک میں حسین وادیاں بھی ہیں اور ہرے بھرے ، پتھریلے اور برف سے ڈھکے اونچے پہاڑ بھی ہیں۔ اِس حسین ملک میں بڑے بڑے دریا بھی ہیں اور بہت ساری ندیاں بھی ہیں ۔ مجموعی طور پر ملک اسپین دنیا میں ”جنت“ کا ایک چھوٹا سا نمونہ ہے ۔ یہاں ہر قسم کے پھل ، پھول ، میوہ جات اور اناج وغیرہ اُگتے ہیں ۔ ملک اسپین کے کئی نام ہیں ۔ ملک اسپین کا ایک نام ”اسپانا“ Espana ہے ، ایک نام ”ہسپانیہ“ ہے ، ایک نام ”اسپین“ ہے اور عربی لوگ اِس ملک کو ”اُندلس“ کہتے ہیں ۔ ”اُندلس“ دراصل ملک اسپین کے جنوبی حصے کو کہا جاتا تھا کیونکہ عربی لوگ زیادہ تر ملک اسپین کے اسی علاقے میں سمندر کے ذریعے آیا جایا کرتے تھے ۔ جنوبی اسپین میں کافی عرصے تک ”وندال“ قوم آباد رہی ہے اور انہوں نے اپنے علاقے کا نام ”وندالیسیہ“ Vandalicia رکھ دیا ۔ اِسی کو عربوں نے ”اُندلس“ کہنا شروع کردیا ۔ آج کل ملک اسپین کے جنوبی حصے کا نام ”اندلوسیہ“ Andlucia ہے جس میں قرطبہ ، اشبیلیہ اور غرناطہ جیسے تاریخی شہر واقع ہیں ۔ علامہ ابن اثیر ”اُندلس“ اور ”اسپین“ نام کی وجوہات ِ تسمیہ کے حوالے سے لکھتے ہیں : سب سے پہلے جس قوم نے یہ سرزمین (ملک اسپین) آباد کی وہ ”اندلش“ کہلاتی تھی ۔ اِسی لئے اِن کے نام سے یہ ملک موسوم ہوا پھر یہ نام معرب ہوکر ”اُندلس“ کہلایا ۔ نصاریٰ (عیسائی) اِس ملک کو ”اشبانس“ کے نام پر ”اشبانیہ“ Espana کہتے ہیں جسے یہاں سُولی دی گئی تھی ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ ایک بادشاہ اشبان بن طیطس کے نام سے موسوم ہے جو بطلیموس کے زمانے میں یہاں حکمراں تھا ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اِس ملک کا نام ا‘ندلس بن یافث بن نوح کے نام پر رکھا گیا جو یہاں کا پہلا آباد کار تھا ۔ ( تاریخ الکامل، امام ابن اثیر)



ملک اسپین کے چند شہروں کا تعارف


ملک اسپین کے شہر ”قرطبہ“ کا تعارف





   قرطبہ“ ملک اسپین کا بہت ہی اہم شہر ہے اور مسلمانوں کی مرکزی حکومت ”سلطنتِ اُمیہ اسپین“ کا دورالحکومت کافی عرصے تک رہا ہے ۔ ”قرطبہ“ ہسپانوی زبان میں Cordoba اور انگریزی میں Cordova کہلاتا ہے ۔ اِس شہر کو اہل قرطاجنہ نے ”دریائے وادیٔ الکبیر (Guadalqivir ) کے کنارے آباد کیا تھا ۔ دوسری ”کارتھیجی جنگ“ کے بعد ”قرطبہ“ (Cordubense ) ایک اہم تجارتی مرکز بن گیا اور ”کارڈوبا“ (Corduba ) کہلانے لگا ۔ 125 قبل مسیح میں رومی قبضے کے بعد یہ شہر Colonia Paticra کے نام سے صوبہ ”ہسپانیہ ا±قصیٰ“ کا دارالحکومت بن گیا ۔ 121 ھجری میں پورے ملک اسپین پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا تھا اور انہوں نے ”قرطبہ“ فتح کرلیا تھا تب بھی تین سوگاتھ مسیحی تین مہینے تک قلعہ بند کلیسا میں مزاحمت کرتے رہے تھے ۔ مسلمانوں کی طرف سے مقرر کردہ ملک اسپین کے گورنر سمح بن مالک نے100 ھجری میں ”قرطبہ“ کو دارالحکومت یعنی ”مسلمانوں کا مرکز“ بنایا ۔ ملک اسپین کی مرکزی حکومت ”سلطنتِ اُمیہ اسپین“ کے زوال کے بعد ملک اسپین میں مسلمانوں کی بہت سی چھوٹی چھوٹی مسلم حکومتیں قائم ہوگئی تھیں ۔ تب لگ بھگ 140 ھجری میں ”قرطبہ“ میں خاندان حمود نے ”سلطنتِ حمودیہ “ قائم کی لیکن پھر 422 ھجری میں ”قرطبہ“ میں خاندان جہور نے ”سلطنتِ جہوریہ “ قائم کرلی تھی ۔ اِس کے بعد ”قرطبہ“ خاندان مرابطین اور خاندان مواحدین کے قبضہ میں رہا ۔ لگ بھگ 646 ھجری میں ”قشتالہ“ کے عیسائی حکمراں فرڈی نند ثالث نے ”قرطبہ“ پر قبضہ کرلیا اور یہاں کی تاریخی مسجد”جامع مسجد قرطبہ“ کو ”گرجا گھر“ بنا دیا ۔”قرطبہ“ میں مسلمانوں کی مرکزی حکومت ”سلطنتِ اُمیہ اسپین“ کے پہلے حکمراں عبدالرحمن الداخل اول نے اِس تاریخی مسجد کی بنیاد رکھی اور تعمیر شروع کی تھی جسے اُس کے بعد کے مسلمان حکمرانوں نے مکمل کی تھی ۔ ”جامع مسجد قرطبہ“ کا بیرونی احاطہ ”صحن نارنگیاں“ (patio de los Naranjos ) ، مسجد کے بے شمار ستون اور نام La Mazquita یعنی ”المسجد“ آج بھی اس کی یاد دلاتے ہیں۔ عبد الرحمن ثالث ناصر نے ”قرطبہ“ کے شمال میں ”مدینة الزہرائ“ تعمیر کرایا تھا ۔ اُس کے دورِ حکومت میں دس لاکھ آبادی والا ”قرطبہ“ شہر وادی¿ الکبیر کے کنارے چوبیس (24) میل تک پھیلا ہوا تھا لیکن اب ”قرطبہ“ کی آبادی لگ بھگ سواتین لاکھ ہے ۔ جبکہ ملک ارجنٹینا کے وسطی شہر ”کارڈوبا“ کی آبادی لگ بھگ بارہ (12) لاکھ ہے ۔ اِس کے علاوہ وسطی امریکہ کے ملک نکاراگوا کے ”سکے“ کا نام بھی ”کارڈوبا“ ہے جو ”قرطبہ“ سے تعلق رکھنے والے ہسپانوی گورنر فرنانڈس ڈی کارڈوبا کے نام پر ہے ۔


ملک اسپین کے شہر ”طلیطلہ“ کا تعارف





   ملک اسپین کا ایک مشہور شہر ”طلیطلہ“ ہے۔ یہ شہر ”میڈرڈ“ کے جنوب میں دریائے تاجہ (Tagus ) پر واقع ہے ۔ یہ شہر مسلمانوں کے دورِ حکومت ( 92 ھجری سے 897 تک) میں بہت مشہور رہا ہے ۔ پانچویں صدی ھجری میں جب ملک اسپین میں مسلمانوں کی مرکزی حکومت ”سلطنتِ اُمیہ اسپین“ کا زوال ہوا تو ملک اسپین میں چھوٹی چھوٹی مسلم حکومتیں قائم ہوئیں تو ”طلیطلہ“ خاندان ذوالنون کی ”سلطنتِ ذوالنونیہ“ کا دارالحکومت رہا ۔ رومیوں نے ”طلیطلہ“ کو 139 قبل مسیح میں فتح کیا اور اُن کے دورِ حکومت میں ملک اسپین میں مسیحیت (عیسائی مذہب) کا دور دورہ ہوا۔ 418 عیسوی میں ”طلیطلہ“ پر فسیقوطی (Visigoth ) قابض ہوئے ۔ انہوں نے ”طلیطلہ“ کو ”دارالحکومت“ بنایا اور جب ان کے بادشاہ ”رکارڈ“ نے 587 عیسوی میں مسیحیت (عیسائی مذہب) قبول کیا تو یہ شہر جزیرہ نما آئیبیریا کا مذہبی صدر مقام بن گیا ۔ ملک اسپین سے مسلمانوں کا نام و نشان مٹ چکا ہے اور فی الحال ”طلیطلہ“ میں جو دس مسجدیں تھیں اُن میں سے صرف ایک ہی مسجد ”مسجد مسیح نور“ کے کھنڈرات باقی بچے ہے ۔ مسلمانوں کے دورِ حکومت میں ”طلیطلہ“ میں عیسائی بھی آباد تھے اور یہ مسجد مسلمانوں کی آبادی ”مدینہ“ میں واقع تھی اور ”مسجد باب المردوم“ کہلاتی تھی ۔ کوفی رسم الخط میں اِس مسجد کے صدر دروازے پر آج بھی یہ تحریر ”بسم اﷲ الرحمن الرحیم“ نمایاں ہے ۔ احمد بن حدیدی نے اپنے سرمایہ سے یہ مسجد تعمیر کرائی تھی اور اِس کے لئے اُس نے جنت کی دعا کی تھی ۔ اِس مسجد کو ماہر تعمیرات (بلڈنگ انجینئر) موسیٰ بن علی نے بنائی اور 390 ھجری میں اِس کی تعمیر مکمل ہوئی ۔ 459 ھجری میں عیسائی حکمراں الفانسو ششم نے ”طلیطلہ“ فتح کیا تو اِس مسجد کو ”گرجا گھر“ (عیسائیوں کی عبادت گاہ) بنا دیا ۔ 496 ھجری میں الفانسو ہشتم نے یہ مسجد سینٹ جان کے نائٹس کو دے دی اور پھر اِس کا نام ”کلیسائے صلیب مقدس“ (Ermita de la santa cruz ) رکھ دیا ۔


ملک اسپین کے شہر ”جزیرة الخضرأ“ کا تعارف




   جزیرة الخضرأ“(ہرا بھرا سر سبز جزیرہ) شہر اِن دنوں ”الجسیراس“ (Algeciras ) کہلاتا ہے ۔ اِس کا عربی نام ”جزیرة الخضرائ“ یعنی سبز جزیرہ lsla Verda سے ماخوذ ہے ۔ رومی عہد میں اِِس کا نام ”ایڈ پورٹم ایلبم“ تھا ۔یہ علاقہ ملک اسپین کے جنوب میں ”آبنائے جبل الطارق“ (جبرالٹر) کے قریب واقع ہے ۔ مسیحی مآخذ میں ”الجیسراس“ نام کے دو شہروں کا ذکر ہے ۔ پہلا شہر تو جزیرے میں واقع تھا جو بعد میں ویران ہوگیا ۔ دوسرا شہر اندرون ملک ”آبنائے جبل الطارق“ سے اٹھارہ (18) میل ہٹ کر تھا جس کی اہمیت اور نام برقرار رہا ۔ ”جزیرة الخضرائ“ ایک پہاڑی پر آباد ہے جو سمندر کے ساحل تک چلی گئی ہے ۔ ”وادی¿ العسل“ (شہد کی وادی یا دریا) شہر کے درمیان سے بہتا ہے اور اِس کا نام ہسپانوی زبان میں باقی ہے ۔ ”جزیرة الخضرائ“ کے جنوب مشرق میں سمندر کے ساحل پر مسلمانوں نے ایک مسجد بنائی تھی اور اس کا نام ”مسجد الزایات“ رکھا تھا کیونکہ یہاں طارق بن زیاد کی سپہ سالاری میں عرب اور بربر قبائل کے مسلمان اپنے اپنے جھنڈوں کے نیچے جمع ہوتے تھے ۔ نارمنوں نے 245 ھجری میں اِس مسجد کو جلا دیا تھا ۔ 743 ھجری میں الفانسو یازدہم (قشتالہ کا حکمراں) نے بیس مہینے کی شدید جنگ کے بعد ”جزیرة الخضرأ“ کو فتح کرلیا ۔ 771 ھجری میں غرناطہ کے مسلمان حکمراں نے ”جزیرة الخضرأ“ دوبارہ فتح کیا مگر چند سال بعد عیسائیوں نے پھر سے قبضہ کرکے مسلمانوں کا بنایا ہوا شہر منہدم کردیا ۔


ملک اسپین کے ”دریائے وادیٔ بکہ“ کا تعارف




   ملک اسپین کے جنوب میں د ودریا بہتے ہے جن میں سے ایک کا نام ”دریائے لکہ“ یا ”دریائے لطہ“ (Guadalete ) ہے ۔ دوسرا دریائے برباط (Barabate ) یا دریائے بکہ ہے جس کے راستے میں ”جھیل لاجنڈا“ آتی ہے ۔ اِس دریا کے کنارے دو بڑے شہر آباد ہیں ۔ ایک شہر کا نام ”برباط“ ہے اور دوسرے شہر کا نام ”بکہ“ ہے جسے ہسپانوی Vejer کہتے ہیں ۔ اِسی لئے اِس دریا کے دونام پڑ گئے ہیں ۔ اِس دریا کے کنارے”جھیل لاجنڈا“ کے قریب وادی¿ برباط یا وادیٔ بکہ میں طارق بن زیاد اور ملک اسپین کے عیسائی حکمراں راڈرک کے درمیان جنگ ہوئی تھی ۔ گاتھوں کو عرب مسلمان ”قوط“ کہتے ہیں اور راڈرک کو ”رزریق یا لرزیق“ کہتے ہیں۔ جھیل لاجنڈا کا نام دراصل ”جنڈا“ ہے چونکہ ہسپانوی زبان میں ”لا“ حرف تعریف ہے اِس لئے ”لاجنڈا“ ہوگیا ۔ اِسی طرح عربی زبان میں ”وادی“ یا ”واد“ کے معنی ”وادی“ کے علاوہ ”دریا“ بھی ہے ۔


ملک اسپین کے دریا ”وادیٔ الکبیر“ کا تعارف




   وادیٔ الکبیر“ ملک اسپین کا مشہور دریا ہے ”واد“ یا ”وادی“ (ہسپانوی زبان میں Guad یا Guadi) ملک اسپین کے متعدد دریاو¿ں یا شہروں کے نام میں آتا ہے مثلاً ”وادیٔ الکبیر“ (Guadalquivir ) ، ”وادیٔ آنہ“ (Guadiana ) ، ”وادیٔ الرمان“ (Guadroman ) ، ”وادی¿ آش“ (Guadix ) وغیرہ ۔ ”وادیٔ الکبیر“ ملک اسپین کے شمال مشرق سے جنوب مغرب کو بہتے ہوئے ”بحر اوقیانوس“ یا ”بحر ظلمات“ یا ”بحر اٹلانٹک“ میں جاگرتا ہے ۔ ”وادیٔ احمر“ (Guadalimor ) ، وادیٔ شوس (Guadajoz ) اور ”غرناطہ“ ، لوشہ اور استجہ“ سے آنے والا”دریائے شنیل“ (Genil )اِس دریا کے معاون دریا ہیں ۔ ”وادیٔ الکبیر“ کے کنارے ”القلعیہ“ (Alcolia ) ، ”قرطبہ ، عبیدہ“ (Ubeda ) ”حصن المدور“ (Almadover ) ”حصن لورد“ (Lora del Rio ) ، ”اشبیلیہ اور حصن القصر“ (Aznalcozar ) نامی شہر واقع ہیں ۔ علامہ اقبال نے ملک اسپین کا دورہ کرنے کے بعد ”قرطبہ“ کے بارے میں ”بال جبریل“ میں ایک نظم لکھی جس میں ”دریائے وادیٔ الکبیر“ کا ذکر ہے ۔


ملک اسپین کے شہر ”اشبیلیہ“ کا تعارف





   ملک اسپین کے شہر ”اشبیلیہ“ کا قدیم نام ”ہسپالس“ (Hispalis ) تھا ۔ یہ ”دریائے وادی¿ الکبیر“ کے کنارے سمندر سے لگ بھگ ساٹھ (60) میل کے فاصلے پر واقع ہے ۔ جولیس سیزر نے 45 قبل مسیح میں ”اشبیلیہ“ کو فتح کرکے ”جولیس کی رومی نوآبادی“ (Colonia julia Romula ) کا نام دیا ۔ اِس دوران یہ شہر صوبہ ”قرطبہ“ کا صدر مقام (دارالحکومت) رہا ۔ 411 عیسوی میں ”اشبیلیہ“ ”سلطنتِ وندال“ کا ”دارالحکومت“ بن گیا ۔ طارق بن زیاد کے ساتھ اُس کے اُستاد موسیٰ بن نصیر نے بھی ملک اسپین فتح کیا تو اپنے بیٹے عبدالعزیز بن موسیٰ کو ملک اسپین کا گورنر بنا دیا تھا ۔ اُس نے ”اشبیلیہ“ کو ملک اسپین کا صدر مقام (دارالحکومت) بنایا ۔ یہیں پر ”سلطنتِ اُمیہ دمشق “ کے حکمراں امیرالمومنین سلیمان بن عبدالملک کے حکم سے عبدالعزیز بن موسیٰ کو 97 ھجری میں قتل کردیا گیا ۔ مسلمانوں کے دورِ حکومت میں ”اشبیلیہ“ کو ”حمص“ کا نام بھی دیا گیا تھا ۔ 414 ھجری میں جب ملک اسپین کی مرکزی حکومت ”سلطنتِ اُمیہ اسپین“ کا زوال ہوا تو ملک اسپین میں چھوٹی چھوٹی مسلم حکومتیں وجود میں آگئیں تھیں ۔ تب خاندان عبادیہ نے ”اشبیلیہ“ میں ”سلطنتِ عبادیہ“ قائم کرلی تھی ۔ خاندان عبادیہ کے تیسرے حکمراں ”معتمد“ کی درخواست پر شمالی افریقہ کے ملک مراکش کے خاندان مرابطین کا حکمراں یوسف بن تاشقین فوج لیکر ملک اسپین آیا اور ”قشتالہ“ کے عیسائی حکمراں الفانسو ششم کو 479 ھجری میں ”جنگ زلاقہ“ میں شکست دی اور ملک اسپین پر مرابطین کی حکومت قائم کردی ۔ اِس کے بعد مواحدین کا دورِ حکومت آیا اور اُن کے ایک حکمراں نے ”اشبیلیہ“ کو ”دارالحکومت“ بنایا ۔ لگ بھگ 652 ھجری میں مواحدین کی حکومت ختم ہوگئی ۔ تب لگ بھگ 654 ھجری میں عیسائی حکمراں فرڈی ننڈ سوم (فرنانڈو) نے ”اشبیلیہ“ کا محاصرہ کرلیا اور سولہ مہینے کی زبردست جنگ کے بعد اِس پر قبضہ کرلیا ۔ 674 ھجری سے لیکر 690 ھجری تک ملک مراکش کے حکمراں ”مرینی سلطان“ نے ”اشبیلیہ“ کے کئی محاصرے کئے لیکن عیسائیوں سے واپس لینے میںکامیاب نہیں ہوا ۔ ”اشبیلیہ“ میں مسلمانوں کی یادگاروں میں سے ایک یادگار ایک شاندار مسجد کا تین سو فٹ اونچا مینار Giralda اور ”القصر“ (Alcazar ) باقی ہیں اور عیسائیوں نے اِس کا نام ”جیرالڈ“ رکھ دیا ہے ۔ امام محدث ابن عربی اور شیخ اکبر ابن عربی ”اشبیلیہ“ کے ہی ہیں ۔


ملک اسپین کے شہر ”مالقہ“ کا تعارف




   مالقہ“ ملک اسپین کا ساحلی شہر ہے اور یہ ”جبل الفارہ“ (Gibrafaro ) کے دامن میں ”بحیرۂ روم“ کے ساحل واقع ہے اور ملک اسپین کا ایک بڑ اشہر اور بڑی بندگاہ ہے ۔ اِس شہر میں ”دریائے رمبلہ“ (عربی میں دریائے رملہ) گزرتا ہے جسے ”وادیٔ المدینہ“ کہتے ہیں ۔ ”مالقہ“ ملاگا (Malaga ) کا معرب ہے اور اِس کی بنیاد فونیقیوں نے ڈالی تھی ۔ ملک اسپین میں مسلمانوں کی مرکزی حکومت ”سلطنتِ اُمیہ اسپین“ کا جب زوال ہوا تو ملک اسپین میں چھوٹی چھوٹی مسلم حکومتیں وجود میں آگئیں تھیں ۔ تب خاندان حمود نے ”مالقہ“ میں ”سلطنتِ حمودیہ“ قائم کرلی تھی ۔ 449 ھجری میں غرناطہ کے مسلم حکمراں نے قبضہ کرلیا ۔ اِس کے بعد مرابطین اور مواحدین کی یہاں حکومت رہی ۔ آخرکار لگ بھگ 880 ھجری میں فرڈی ننڈ اور اُس کی ملکہ ازابیلا نے سخت ناکہ بندی کرکے مسلمانوں سے ”مالقہ“ چھین لیا ۔ اِس شہر میں مسلمانوں نے پانچ دالانوں والی وسیع جامع مسجد ”القصبہ“ (Alcazaba ) بنائی تھی جسے عیسائیوں نے ”گرجا گھر“ (کلیسا) میں تبدیل کردیا جو آج بھی مسلمانوں کی یادگار ہے ۔


ملک اسپین کے صوبہ اورشہر ”قشتالہ“ کا تعارف




   قشتالہ“ ملک اسپین کے وسط میں واقع ہے اور ملک اسپین کا صوبہ بھی ہے اور شہر بھی ہے ۔ اِس شہر کے کئی نام ”قشتالہ ، قشتلہ ، قشتالیہ اور کاستیلا“ (Castilla ) ہیں ۔ ”قشتالہ“ کو پہاڑوں نے دوحصوں میں تقسیم کررکھا ہے ۔ قدیم ”قشتالہ“ میں ”برگوس ، بلنسیہ (Valencia ) ، شتوبیہ ، صوریہ ، اور بلد الولید“ (Vailadolid ) شامل تھے ۔ جنھیں ”دریائے دویرو“ (Duero ) سیراب کرتا ہے ۔ آج کا جدید ”قشتالہ“ وادیٔ الحجارہ ، میڈریڈ ، طلیطلہ (Toledo ) وغیرہ پر مشتمل ہے جہاں ”دریائے تاجہ“ اور دریائے گوڈیانا“ بہتے ہیں ۔


ملک اسپین صوبہ اور شہر ”سرقسطہ“ کا تعارف






   سرقسطہ“ کا نام ”ساراگوسا“ (Saragossa ) بھی ہے ۔ ملک اسپین میں اِس نام کا ایک صوبہ ہے اور اِسی نام کا شہر بھی ہے جو اِس صوبے کا صدر مقام ہے ۔ ”سرقسطہ“ نام کا شہر ”دریائے ابرہ“ کے دائیں کنارے آباد ہے ۔ اِس صوبہ کی جغرافیائی حالت کی بنا پر عرب مسلمانوں نے اِسے ”الثغرالاعلیٰ“ کا نام دیا ۔ ملک اسپین میں مسلمانوں کی مرکزی حکومت ”سلطنتِ اُمیہ اسپین “ کا جب زوال ہوا تو ملک اسپین میں چھوٹی چھوٹی مسلم حکومتیں وجود میں آگئیں تھیں ۔ تب خاندان ہود نے ”سرقسطہ“ میں ”سلطنتِ ہودیہ“ قائم کرلی تھی ۔ لگ بھگ 503 ھجری میں مرابطین نے قبضہ کرلیا لیکن 512 ھجری میں ”سرقسطہ“ پر عیسائیوں نے قبضہ کرلیا اور تب سے مسلسل عیسائی یہاں حاوی رہے ۔ ”سرقسطہ“ میں ”لاسیو“ میں مسلمانوں نے بہت بڑی اور بہترین جامع مسجد بنائی تھی جسے عیسائیوں نے ”کیتھیڈرل ڈیل سالویڈور“ (کلیسائے منجی) بنا دیا ۔ ”سلطنتِ ہودیہ“ کے دورِ حکومت میں خاندان ہود کے چوتھے حکمراں ابوجعفر مقتدر نے ”’سرقسطہ“ میں ”قصر جعفریہ“ نام کی مسجد بنوائی جو پچیس (25) مربع گز پر بنی ہے اور جس پر پینتالیس (45) فٹ بلند بہت ہی حسین گنبد بنا ہوا ہے ۔ مسجد کے قریب ہی اسی (80) فٹ بلند ایک خوبصورت مینار بھی ہے ۔


ملک اسپین کے شہروں ”شذونہ“ اور ماردہ“ کا تعارف





   شذونہ“ ملک اسپین کے جنوب مغرب میں ”صوبہ قادس“ کا ایک شہر ہے جو ”جزیرة الخضرأ“ اور ”الشریش“ سے لگ بھگ برابر فاصلے پر واقع ہے ۔ مسلمانوں کے دور میں اِسی صوبے کا یہ شہر ”صدر مقام“ تھا ۔ ملک اسپین کا ایک اور شہر ”ماردہ“ (Merida ) ہے ۔ اِس شہر کا یہ نام لاطینی نام ”امریتا“ (Emerita )سے ماخوذ ہے ۔ شہر ”ماردہ“ ملک اسپین کے جنوب مغرب میں ”صوبہ بادجوز“ (Badjoz ) میں واقع ہے ۔ یہ ”دریائے گاڈیانا“ (وادیٔ آنہ) کے دائیں کنارے پر واقع ہے ۔ قدیم ”سلطنتِ لوزینانیا“ کی بنیاد تیئس (23) قبل مسیح میں ملک اسپین میں ڈالی گئی اور”ماردہ“ اس کا دارالحکومت تھا ۔ لگ بھگ 638 ھجری میں ملک اسپین میں ”لیون“ کے عیسائی حکمراں الفانسو نہم نے ”ماردہ“ مسلمانوں سے چھین لیا تھا اور تب سے لیکر آج تک یہ انہیں کے قبضے میں ہے ۔


ملک اسپین کے شہر ”برشلونہ کا تعارف





   برشلونہ“ (Barcelona ) ملک اسپین کے کا ایک اہم ساحلی شہر اور اہم بندرگاہ ہے جوملک اسپین کے جنوب مشرق میں ”بحیرہ¿ روم“ کے شمال مغربی ساحل پر واقع ہے ۔ ”برشلونہ“ یا ”بارسلونا“ ملک اسپین کے ”صوبہ کیٹا لزنیا“ کا دارالحکومت“ ہے اور اس کی آبادی چالیس (40) لاکھ سے بھی زیادہ ہے ۔ یہ ملک اسپین کا سب سے بڑا صنعتی شہر ہے ۔ 230 ھجری میں برشلونہ کے عیسائیوں نے وہاں کے مسلمان گورنر اور فوج کو قتل کرکے جنوب مغربی اسپین کی طرف پیش قدمی شروع کی ۔ اُس وقت کی ملک اسپین کی مرکزی حکومت ”سلطنتِ اُمیہ اسپین“ کے حکمراں عبدالرحمن ثانی کے سپہ سالار عبدالکریم نے 231 ھجری میں اہل برشلونہ کو شکست دی اور اطاعت کا اقرار لیکر وہاں مسلمان گورنر مقرر کردیا ۔ اِس کے بعد 350 ھجری میں ”سلطنتِ اُمیہ اسپین“ کے حکمراں حکم ثانی کے دورِ حکومت میں عیسائیوں نے پھر سے بغاوت کی تو وہاں کے مسلمان گورنر یعلی بن محمد نے اُن کی سرکوبی کی اور اطاعت پر مجبور کردیا ۔ ”برشلونہ“ کو ”فاتح اسپین“ موسیٰ بن نصیر کے بیٹے عبدالعزیز بن موسیٰ نے 97 ھجری میں فتح کیا ۔ 185 ھجری میں فرانس کے حکمراں ”شارلیمان“ (Charlemagne ) کے بیٹے ”لوئی“ نے مسلمانوں سے چھین لیا تھا ۔ اِس کے بعد پھر سے مسلمانوں نے اِسے واپس حاصل کیا ۔ 377 ھجری میں ”برشلونہ“ پر پھر سے عیسائیوں نے قبضہ کرلیا اور تب سے لیکر آج تک یہ انہیں کے قبضے میں ہے ۔ 1992 عیسوی میں ”برشلونہ“یا ”بارسلونا“ میں عالمی اولمپک کھیل منعقد ہوئے تھے ۔


ملک اسپین کے شہر ”مرسیہ“ کا تعارف





   مرسیہ“ ملک اسپین کے جنوب مشرق میں ”دریائے سگورہ“ (شقورہ) کی وادی میں واقع ہے ۔ اِس کے جنوب مشرق میں لگ بھگ چالیس (40) میل دور ”بحیرۂ روم“ کے ساحل پر ملک اسپین کی ”قرطاجنہ“ (کارتاجینا) نام کا ساحلی شہر اور بندرگاہ واقع ہے ۔ ملک اسپین کی مسلمانوں کی مرکزی حکومت ”سلطنتِ اُمیہ اسپین“ کے دور میں ”صوبہ تدمیر“ کا دارالحکومت ”مرسیہ“ تھا ۔ یہ شہر ”سلطنتِ اُمیہ اسپین“ کے حکمراں عبدالرحمن ثانی کے دورِ حکومت میں 210 ھجری فتح ہوا ۔ مسلمانوں کی مرکزی حکومت ”سلطنتِ اُمیہ اسپین“ کے زوال کے بعد ”مرسیہ“ ایک چھوٹی سی حکومت کا ”دارالحکومت“ بنا اور ”صقالیہ“ (Slavs ) کے حکمراں کے قبضے میں رہا ۔ پھر کچھ عرصہ ”بلنسیہ“ (Valencia ) سے ملحق رہا ۔ 484 ھجری میں ”مرسیہ“ پر مرابطین نے قبضہ کرلیا ۔ اِس کے بعد مواحدین کے قبضہ میں رہا ۔ اِس کے بعد ”مرسیہ“ ہسپانوی نژاد ابن مردنیش اور بنو احمر (بنو نصر) کے قبضے میں رہا یہاں تک کہ 640 ھجری میں ”مرسیہ“ پر عیسائیوں نے قبضہ کرلیا اور تب سے لیکر آج تک انہیں کے قبضے میں ہے ۔


ملک اسپین کے شہر ”سبتہ“ کا تعارف





   ”سبتہ“ (Ceuta ) دراصل ملک مراکش کا ایک ساحلی شہر ہے ۔ یہ ساحلی شہربحیرۂ روم کے ”آبنائے جبل الطارق“ (جبرالٹر) کے ساحل پر واقع ہے ۔ ملک اسپین کے باب میں ”سبتہ“ کا ذکر اِس لئے ہم کر رہے ہیں کیونکہ جس وقت مسلمانوں نے اﷲ کی مدد سے ملک اسپین میں اسلام کی روشنی پھیلائی تو اُس وقت ”سبتہ“ بھی ملک اسپین کا ایک مقبوضہ شہر تھا ۔ یہی شہر ملک اسپین میں اسلام کی روشنی پہنچنے کا سبب بنا ۔اِس شہر پر ملک اسپین کے عیسائیوں نے 580 عیسیوی میں قبضہ کیا تھا ۔ ”سبتہ“ پانچویں صدی قبل مسیح میں ملک اسپین کے اہل قرطاجنہ نے آباد کیا تھا ۔ پانچویں صدی قبل مسیح میں انہوں نے ملک مراکش کے ساحلوں پر سات ساحلی شہر آباد کئے تھے جن میں سے ایک ”سبتہ“ ہے ۔ یہ شہر سینکڑوں سال تک مسلمانوں کی رونق کا گہوارا رہا ۔ جس وقت ملک اسپین سے مسلمانوں کا عیسائی صفایا کررہے تھے اُسی وقت لگ بھگ 825 ھجری میں پرتگال نے قبضہ کرلیا ۔ اِس کے بعد ملک اسپین کے عیسائیوں نے لگ بھگ 990 ھجری میں ”سبتہ“ پر قبضہ کرلیا ۔ ”سبتہ“ آج بھی حقیقت میں ملک مراکش کا ایک شہر ہے لیکن مغربی طاقتوں کی پشت پناہی کی وجہ سے اِس پر ملک اسپین کے عیسائیوں کا قبضہ ہے۔

جمعہ، 6 ستمبر، 2024

Saltanat e Umayya part 01

 01 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 1

حضرت امیر معاویہ کا دور حکومت

حضرت معاویہ بن ابی سفیان، سلسلہ نسب اور خاندان، قبول اسلام، رسول اللہ ﷺ کی بشارت، خلافت مدینہ منورہ میں، بادشاہت ملک شام میں، حضرت حسن بن علی کی مدینہ منورہ روانگی، گورنروں کا تقرر، مسلمانوں کا مرکز دمشق، 41 ہجری اور 42 ہجری کے واقعات، 43 ہجری: کابل کی فتح، زابلستان ( غزنی) کی فتح )، میعان (قیقان) پر حملہ، قیس بن ہیثم اور عبداللہ بن خازم، حضرت معاویہ بن ابی سفیان کی طلبی، خوارج کی شکست


حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ


حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے خلافت سے دستبردار ہونے کے ساتھ ہی خلافت راشدہ مکمل ہوگئی اور پھر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کی باگ ڈور سنبھالی۔ آپ رضی اللہ عنہ خلیفہ تھے یا بادشاہ تھے؟ اس میں علمائے کرام کی مختلف رائے ہیں۔ کچھ علمائے کرام کے مطابق آپ رضی اللہ عنہ خلیفہ تھے اور کچھ علمائے کرام کے مطابق آپ رضی اللہ عنہ بادشاہ تھے۔ اب حقیقت کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے ۔ واللہ اعلم۔


سلسلہ نسب اور خاندان


حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسب اس طرح ہے۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان ( نام صخر ) بن حرب بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف ۔ یہاں آکر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلہ نسب سے مل گیا ہے ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا خاندان بنو امیہ" ہے۔ عبد مناف کے جڑواں بیٹے پیدا ہوئے۔ ایک کا نام عمرو رکھا۔ ان کا لقب ہاشم ہے۔ اور دوسرے کا عبد شمس ۔ یہاں سے عبد مناف کی اولاد میں دو خاندان ہو گئے ۔ ایک خاندان ہاشمی خاندان کہلایا۔ عبد شمس کے ایک بیٹے کا نام امیہ ہے۔ اسی اُمیہ کے نام پر عبد شمس کے خاندان کا نام ”اُمیہ خاندان پڑ گیا۔ اب بنو ہاشم اور بنو امیہ قریش کے دوالگ الگ خاندان یا شاخ تھے۔ بنو ہاشم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ ہیں اور بنو امیہ میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ ہیں۔


قبول اسلام


حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام کے بارے میں عام طور سے یہی مشہور ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فتح مکہ کے وقت اسلام قبول کیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک روایت یہ بھی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے عمرۃ القضاء " ( صلح حدیبیہ کے بعد معاہدے کے مطابق دوسرے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کرنے آئے تھے اور تین دنوں تک مکہ مکرمہ میں تشریف فرما تھے۔ اس عمرہ کو عمرۃ القضاء “ کہا جاتا ہے ) میں اسلام قبول کیا تھا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں نے عمرۃ القضاء کے روز اسلام قبول کیا تھا لیکن فتح مکہ کے دن تک اپنے اسلام کو چھپائے رکھا۔“


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت 


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو بادشاہ بنے کی بشارت دی تھی۔ علامہ عمادالدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : اس سے پہلے ہم یہ حدیث بیان کر چکے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت میں (30) سال ہوگی پھر بادشاہت ہوگی اور حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی خلافت سے دستبرداری کے ساتھ ہی خلافت کے تمہیں (30) سال مکمل ہو گئے ۔ پس حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا زمانہ حکومت کا آغاز ہے اور آپ رضی اللہ عنہ اسلام کے پہلے اور بہترین بادشاہ ہیں۔ ( یہاں ہم تمیں سال والی ایک اور حدیث پیش کر رہے ہیں ) حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: ” بے شک یہ امر ( کام ) رحمت اور نبوت سے شروع ہوا ہے پھر یہ خلافت اور رحمت بن جائے گا۔ پھر کاٹ کھانے والی حکومت بن جائے گا، پھر جبر وتکبر اور فساد فی الارض بن جائے گا۔ وہ حریرہ فروج اور شراب کو حلال کریں گے۔ اس کے باوجود انہیں رزق اور مدددی جائے گی حتی کہ وہ اللہ تعالی سے ملاقات کریں گے (احجم طبرانی ) آگے علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! مجھے خلافت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول نے آمادہ کیا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اے معاویہ بن ابی سفیان ! اگر تو بادشاہ بنے تو نیکی کرنا‘ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ چھا گل لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل پڑے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی طرف دیکھ کر فرمایا: ”اے معاویہ بن ابی سفیان ! اگر تو بادشاہ بنے تو اللہ سے ڈرنا اور عدل کرنا ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” میں ہمیشہ ہی پر یقین رہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کی وجہ سے آزمائش میں پڑوں گا“ ( سنن بیہقی ) حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے ) فرمایا: ”اگر تو نے لوگوں کی کمزوریوں کی جستجو کی تو تو اُن کو خراب کر دے گا۔“


خلافت مدینہ منورہ میں، بادشاہت ملک شام میں


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملک شام کے بارے میں کئی باتیں بتائی ہیں۔ اُن میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ خلافت مدینہ منورہ میں ہوگی اور بادشاہت ملک شام میں ہوگی۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” خلافت مدینہ منورہ میں ہوگی اور بادشاہت ملک شام میں ہوگی ۔ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میں سویا ہوا تھا کہ میں نے ایک خط دیکھا جو میرے سر کے نیچے سے اُٹھایا گیا تو میں نے خیال کیا کہ اسے لے جایا جائے گا۔ پس میری نگاہ نے اُس کا پیچھا کیا تو اسے ملک شام لے جایا گیا۔ بے شک جب فتنہ پڑے گا تو ایمان ملک شام میں ہوگا۔“ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے نور کے ایک بلند ستون کو اپنے سر کے نیچے سے نکلتے دیکھا حتی کہ وہ ملک شام میں جا کر ٹک گیا۔


حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی مدینہ منورہ روانگی


اس سے پہلے ہم ” خلافت راشدہ میں بتا چکے ہیں کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ خلافت سے دستبردار ہو گئے تھے اور اُسے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو اس شرط پر سونپ دیا تھا کہ اُن کے بعد حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوں گے۔ ابھی حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کوفہ میں ہی مقیم تھے کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اہل بیت کو لیکر مدینہ منورہ روانہ ہو گئے اُن میں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں صلح ہو جانے کے بعد مسکن کے مقام سے حضرت حسن بن علی، حضرت حسین بن علی اور حضرت عبد اللہ بن جعفر طیار رضی اللہ عنہم اپنے اہل بیت ( اہل و عیال) کے ساتھ کو فہ روانہ ہوئے ۔ جب حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اہل بیت کے ساتھ کوفہ پہنچے تو اُن کا زخم اچھا ہو گیا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ کوفہ کی مسجد میں آئے اور فرمایا: ”اے اہل کوفہ! اپنے ہمسایہ، اپنے مہمان اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کے بارے میں جس سے اللہ نے نجاست کو دور کر دیا ہے اور طیب و طاہر کیا ہے تمہیں اللہ کا خوف کرنا چاہیئے ۔“ یہ سن کر اہل کوفہ رونے لگے۔ اس کے بعد حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اہل بیت کے ساتھ مدینہ منورہ روانہ ہو گئے۔


گورنروں کا تقرر


تمام مملکت اسلامیہ کے بلا شرکت غیرے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ حاکم بن گئے اور بلا دشام میں تو پہلے ہی سے آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے گورنر مقرر کر رکھے تھے ۔ اب بلاد عراق، ایران اور حجاز میں اپنے گورنر مقرر کئے ۔ ملک مصر پہلے ہی ملک شام کے ماتحت تھا اور اُس پر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے پہلے ہی سے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو گورنر مقرر کر رکھا تھا۔ کوفہ میں اُن کے بیٹے حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو گورنر بنایا تو حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اس طرح آپ شیر کے دو دانتوں کے درمیان آگئے ۔ یہ سن کر انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو کوفہ کا گورنر بنا دیا۔ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو جب معلوم ہوا تو انہوں نے رائے دی کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھانے پر متعین کیا جائے ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے انہیں صرف نماز کا امام بنا دیا۔ کثیر بن شہاب کو رے کا گورنر بنایا۔ بصرہ کا گورنر بشر بن ارطاۃ کو بنایا۔ کچھ عرصے بعد اسے بصرہ کی گورنری سے معزول کر کے عبداللہ بن عامر کو بصرہ کا گورنر بنا دیا۔ ساتھ ہی خراسان اور بجستان کا گورنر بھی بنا دیا۔ مروان بن حکم کو مدینہ منورہ کا گورنر بنایا۔ خالد بن عاص بن ہشام کو مکہ مکرمہ کا گورنر بنایا۔


مسلمانوں کا مرکز دمشق


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے اور مدینہ منورہ کو مسلمانوں کا مرکز بنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بھی مسلمانوں کا مرکز مدینہ منورہ ہی رہا۔ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ارتداد کے خاتمے کے بعد ملک شام سب سے پہلے جو چار لشکر بھیجے اُن میں سے ایک لشکر کا سپہ سالار حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو بنایا۔ اُن کے ساتھ اُن کے بھائی حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بھی مسلمانوں کا مرکز مدینہ منورہ ہی رہا۔ خلیفہ دوم رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں پورا ملک شام فتح ہو گیا اور انہوں نے حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو ایک علاقے کا گورنر بنا دیا۔ جب حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا تو خلیفہ دوم رضی اللہ عنہ نے اُن کے بھائی حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو اس علاقے کا گورنر بنا دیا۔ خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بھی مسلمانوں کا مرکز مدینہ منورہ ہی رہا۔ خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو پورے ملک شام کا گورنر بنا دیا اور وہ بارہ سال سے زیادہ عرصے تک پورے ملک شام کے گورنر رہے۔ خلیفہ چہارم حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بھی مسلمانوں کا مرکز مدینہ منورہ ہی رہا۔ خلیفہ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد جب حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے صلح کر لی تو پوری مملکت اسلامیہ کے اکیلے حکمراں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ بن گئے ۔ پچھلے لگ بھگ پچھیں (۲۵) سال سے آپ رضی اللہ عنہ ملک شام میں دمشق میں رہ رہے تھے۔ اس لئے آپ رضی اللہ عنہ نے دارلخلافہ دمشق کو بنایا اور مسلمانوں کا مرکز مدینہ منورہ سے دمشق آ گیا۔


ا41 ہجری اور 42 ہجری کے واقعات


ا41 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ پوری مملکت اسلامیہ کے حکمراں بنے ۔ اس سال اور اگلے سال یعنی 42 ہجری میں آپ رضی اللہ عنہ مملکت اسلامیہ سے خانہ جنگی کے خاتمہ کی بھر پور کوشش کرتے رہے۔ ان دو برسوں میں خوارج نے مسلسل آپ رضی اللہ عنہ کے خلاف جنگ جاری رکھی اور آپ رضی اللہ عنہ اپنی حکمت عملی سے ان پر قابو پاتے رہے۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں : اس سال یعنی 42 ہجری میں مسلمانوں نے لان اور روم سے جہاد کیا اور اُن کو شکست فاش دی اور بطریقوں کی ایک جماعت کو قتل کیا گیا۔ اس سال حجاج بن یوسف پیدا ہوا۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے اس سال مروان بن حکم کو مدینہ منورہ کا گورنر مقرر کیا اور مروان بن حکم نے عبداللہ بن حارث بن نوفل کو قاضی مقرر کیا ۔ مکہ مکرمہ پر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے خالد بن عاص بن ہشام کو گورنر بنایا۔ بصرہ، خراسان اور بجستان کا گورنر عبد اللہ بن عامر کو بنایا اور عبد اللہ بن عامر نے خراسان کا گورنر قیس کو بنایا۔


ا43 ہجری: کابل کی فتح


حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ مملکت اسلامیہ سے خانہ جنگی کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور اس کے ساتھ ساتھ مملکت اسلامیہ کی سرحد پر بھی اسلامی لشکروں کو روانہ کر رہے تھے ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: عبداللہ بن عامر نے 43 ہجری میں اپنی طرف سے عبد الرحمن بن سمرہ کو بجستان کا گورنر بنا کر روانہ کیا اور پولیس افسر عباد بن حصین کو بنایا اور عمر بن عبد اللہ بن معمر جیسے اشراف کو اُن کے ساتھ روانہ کیا ۔ اس اطراف میں چونکہ بغاوت پھوٹ پڑی تھی اس لئے عبد الرحمن بن سمرہ اور عباد بن حصین باغیوں سے جنگ کرتے ہوئے داخل ہوئے اور اکثر شہروں کو فتح کر لیا۔ رفتہ رفتہ شہر کابل تک پہنچ گئے مہینوں محاصرہ کئے رہے منجیقیں نصب کیں ،سنگباری کرتے رہے ۔ متعددلڑائیاں ہوئیں اور شہر پناه (فصیل ) کا ایک حصہ ٹوٹ گیا۔ مشرکین اس کو نہیں بنا سکے، تمام رات عباد بن حصین مع اپنی رکاب کی فوج کے ساتھ پہرہ دیتے رہے۔ صبح ہوتے ہی مشرکین نے شہر سے باہر نکل کر مقابلہ کیا اور مسلمانوں نے پہلے ہی حملہ میں انہیں پسپا کر دیا اور بزور شمشیر کا بل کو فتح کر لیا۔


زابلستان ( غزنی) کی فتح )


کابل فتح کرنے کے بعد مسلمان آگے بڑھے ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اس کے بعد نسف کی طرف بڑھے اور اس پر بھی جنگ کر کے قبضہ کرتے ہوئے خشک تک جاپہنچے ۔ اہل خشک نے مصالحت کر لی۔ پھر مسلمانوں نے آگے بڑھ کر ” رج“ کا محاصرہ کر لیا، شدید جنگ ہوئی اور آخر کار مسلمانوں کو فتح ہوئی۔ اس سے فارغ ہو کر مسلمانوں کا لشکر زابلستان (جس کو غزنی کہا جاتا ہے ) کا رخ کیا اور محاصرہ کر لیا۔ غزنی والوں نے بھی زبردست مقابلہ کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی۔ اس کے بعد مسلمانوں نے غزنی کے آس پاس کے مضافات پر قبضہ کیا اور جب اس کے بعد کا بل واپس لوٹے تو کابل میں بغاوت ہو چکی تھی ۔ عبد الرحمن بن سمرہ نے زبردست مقابلہ کر کے اُن کی زبر دست بغاوت کو ختم کیا اور کا بل پھر سے فتح کیا۔


میعان (قیقان) پر حملہ


حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے مملکت اسلامیہ کی سرحدوں پر ہر طرف اسلامی لشکروں کو روانہ کیا ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: ہند ( ہندوستان کو ہند کہا جاتا تھا اور اُس وقت ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال ۔ یہ سب ایک ہی ملک تھے اور ان سب کے مجموعہ کو "ہند“ کہا جاتا تھا۔ ) کی سرحد پر عبداللہ بن عامر نے عبدالرحمن بن سوار عبدی کو مقرر کیا تھا۔ ایک روایت کے مطابق خود حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے عبد الرحمن بن سوار عبدی کو مقرر کیا تھا۔ بہر حال انہوں نے تیعان (قیقان) پر حملہ کیا اور فتح حاصل کی ۔ بہت سا مال غنیمت ہاتھ آیا۔ عبد الرحمن بن سوار عبدی خود مال غنیمت لیکر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور قیقانی گھوڑے پیش کئے ۔ اس کے بعد قیقان واپس آئے تو اہل قیقان نے ترکوں سے مدد حاصل کر کے جنگ کی تیاری کر لی تھی ۔ دونوں لشکروں میں شدید جنگ ہوئی اور قیقان فتح ہوا لیکن اس جنگ میں عبدالرحمن بن سوار عبدی شہید ہو گئے۔


قیس بن ہیثم اور عبداللہ بن خازم


قیس بن ہیثم کو عبد اللہ بن عامر نے خراسان کا گورنر بنایا لیکن کچھ دنوں بعد معزول کر دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عبد اللہ بن عامر نے قیس بن ہیثم کو خراسان کا گورنر مقرر کیا تھا۔ اس پر عبد اللہ بن خازم نے کہا کہ آپ نے ایک بزدل انسان کو خراسان کا گورنر بنایا ہے۔ مجھے اندیشہ ہے کہ اگر جنگ پیش آئے گی تو یہ لوگوں کے ساتھ بھاگ کھڑا ہوگا۔ اس میں مال بھی ضائع ہو گا اور آپ کی ننھیال والے بدنام ہو جائیں گے۔ عبد اللہ بن عامر نے پوچھا کہ پھر کیا مناسب ہے؟ اُس نے کہا مجھے خراسان کا گورنر بنا کر ایک فرمان لکھ دیں۔ اگر وہ دشمن کے مقابلے سے منہ پھیرے گا تو میں اُس کی جگہ آکھڑا ہو جاؤں گا۔ عبداللہ بن عامر نے اُس کے نام فرمان لکھ دیا۔ اُدھر مخلارستان کے لوگوں نے سرکشی کی تو قیس بن ہیثم نے عبد اللہ بن خازم سے اس معاملے میں مشورہ کیا۔ اُس نے رائے دی کہ تم یہاں سے سرک جاؤ اور ابھی تمام اطراف و جوانب کے لوگوں کو جمع کرو۔ یہ سن کر قیس بن ہیثم اطراف و جوانب میں روانہ ہو گیا۔ وہ کوئی منزل دو منزل کے فاصلے پر پہنچا ہوگا کہ عبداللہ بن خازم نے اپنا گورنری کا فرمان لوگوں کو بتایا اور سب کا سپہ سالار بن کر دشمن کا مقابلہ کیا اور شکست دی۔ یہ خبر کوفہ اور بصرہ پہنچی اور ملک شام بھی پہنچی۔ قیس کے ساتھی بہت خفا ہوئے اور عبد اللہ بن خازم سے کہا کہ تم نے قیس بن ہیثم کو دھوکا دیا اور عبداللہ بن عامر کو بھی۔ اس بات نے طول پکڑا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان سے جا کر شکایت کی۔


حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی طلبی


حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو اس معاملے کی خبر لی تو انہوں نے عبداللہ بن خازم کو ملک شام طلب کیا۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں : حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن خازم کو ملک شام بلا بھیجا۔ وہ آیا اور معذرت کی ، انہوں نے فرمایا: کل صبح تم لوگوں کے سامنے کھڑے ہو کر اپنا عذر پیش کرنا ۔ عبداللہ بن خازم نے اپنے اصحاب کے سامنے ذکر کیا کہ خطاب کرنے کا حکم ہوا ہے اور مجھے بات کرنا نہیں آتی۔ کل تم سب منبر کو گھیر کو بیٹھنا اور جو کچھ میں کہوں اُس کی تصدیق کرتے جاتا۔ دوسری صبح کو عبد اللہ بن خازم خطاب کرنے کھڑا ہوا پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کی پھر کہا: ” خطبہ پڑھنا تو امام کا منصب ہے جسے اس کے سوا چارہ ہی نہیں ہے یا احمق کا کام ہے جس کا دماغ چل گیا ہو جو منہ میں آئے بکتا چلا جائے۔ میں نہ تو امام ہوں اور نہ احمق ہوں۔ جو لوگ مجھے جانتے ہیں وہ اس بات سے خوب واقف ہیں کہ میں بڑا آزمودہ کار ہوں محل وقوع کو تاڑ لیتا ہوں اورفورا ! دوڑ پڑتا ہوں ، جان جوکھم کے مقام سے قدم نہیں ہٹاتا لشکر میں چالاک تقسیم غنیمت میں انصاف پسند ہوں یتم کو اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ جو اس بات کو جانتا ہو وہ میری تصدیق کرے ۔ منبر کے گرد جو اُس کے ساتھی بیٹھے ہوئے تھے سب نے کہا: " بے شک ایسا ہی ہے ۔ پھر اُس نے کہا: ”امیر المومنین! آپ کو بھی میں نے قسم دی ہے آپ بھی جو کچھ جانتے ہوں کہہ دیجیئے ۔ “ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ایسا ہی ہے ۔ اور عبداللہ بن خازم کی جان بچ گئی۔


خوارج کی شکست


حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے حکمراں بنتے ہی ملک عراق میں خوارج یعنی خارجیوں نے سر اُٹھایا تھا جسے آپ رضی اللہ عنہ اپنی حکمت عملی سے مسلسل دبائے ہوئے تھے۔ لگ بھگ دو سال بعد آپ رضی اللہ عنہ کی ملک عراق پر پکڑ کافی مضبوط ہوگئی تو خوارج پر حملہ کر کے اُن کو شکست دی۔ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : اس سال 43 ہجری میں خوارج اور کوفی لشکر کے درمیان عظیم معرکہ ہوا اور یہ اس وجہ سے ہوا کھرا نہ وریا نے اس وقت لوگوں کے خلاف بغاوت کرنے کا پختہ ارادہ کیا ہوا تھا جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں ۔ پس مستورد بن علقمہ کی قیادت سے ہوا۔ اس کے بعد دونوں لشکر اپنے امین شعبہ اللہ عہ اُن سے مقابلہکے لئے تین ہزار کا شکر تیارکیا۔ ہو کر ان کے مقابلے رہ روع کو تین سو کا ہر اول ( مقدمتہ الجیش ) دے کر آگے بھیجا۔ ابوالروع نے ”المزار کے مقام پر ان غروب ہونے کے بعد ایل او یا سب رات اور خوارج کو شکست ہوئی۔ انہوں نے دوبارہ حملہ کیا تو خوارج نے انہیں شکست دی لیکن کوئی آدمی قتل نہیں ہوا۔ اس کے بعد دونوں لشکر اپنے اپنے پڑاؤ میں واپس آگئے اور ابوالروع اپنے سپہ سالار معقل بن قیس کی آمد کا انتظار کرنے لگے ۔ مگر وہ سورج غروب ہونے کے بعد آیا اور اُس نے اتر کر اپنے اور ابوالروع کے لشکر کو مغرب کی نماز پڑھائی ۔ پھر ابوالروع سے تمام حالات معلوم کئے ۔ ابوالروع نے کہا: اے سپہ سالار ! خوار جوں کے حملے بڑے سخت ہیں۔ آپ لوگوں کے مددگار بنیں اور سواروں کا حکم دیں کہ وہ آپ کے آگے جنگ کریں ۔ معقل بن قیس نے کہا: ” آپ کی رائے بہت اچھی ہے۔ اور ابھی اُس نے اتنی ہی بات کہی تھی کہ خوارج نے اُن کے لشکر پر حملہ کر دیا اور معقل بن قیس کے اکثر ساتھی اسے چھوڑ کر بھاگ گئے۔ اس موقع پر معقل بن قیس نے پیدل ہو کر کہا: اے مسلمانو! زمین پر چلو از مین پر چلو“ دوسو سواروں نے اُس کا ساتھ دیا اور پیدل ہو گئے اُن میں ابوالروع بھی تھا۔ مستور بن علقمہ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ اُن پر حملہ کیا اور انہوں نے نیزوں اور تلواروں سے اُس کا سامنا کیا اور بقیہ لشکر نے بعض سواروں کو آکر تباہ کیا اور انہیں راہ فرار اختیار کرنے پر ملامت کی۔ یہ سن کر لوگ معقل بن قیس کے پاس واپس آگئے جو اپنے ساتھیوں کے ساتھ خوارج سے شدید جنگ کر رہا تھا۔ لوگ رات میں بھی واپس آرہے تھے۔ معقل نے میمنہ اور میسرہ میں اُن کی صف بندی کر دی اور اُن کو منتظم کر کے کہا: ” اپنے میدان کارزار پر ڈٹے رہو چتی کہ ہم صبح اُن پر حملہ کریں گے اور ابھی صبح ہوئی ہی تھی کہ خوارج کو شکست ہو گئی اور وہ جہاں سے واپس آئے تھے وہیں چلے گئے۔ معقل بن قیس اُن کی تلاش میں گیا اور اس نے اپنے آگے ابو الروع کو چھ سو جوانوں کے ساتھ بھیجا اور وہ طلوع آفتاب کے وقت اُن سے جا پکڑا اور خوارج نے اُن پر حملہ کر دیا اور ایک ساعت تک ایکدوسرے سے مبارزت کی ۔ پھر انہوں نے یکبارگی حملہ کر دیا اور ابوالروع اپنے ساتھیوں سمیت اُن کے سامنے ڈٹا رہا اور وہ انہیں تباہ کرنے لگا اور انہیں بھاگنے پر ملامت کرنے لگا اور صبر کی ترغیب دینے لگا، پس وہ مردانہ وارڈٹ گئے حتی کہ انہوں نے خوارج کو پیچھے دھکیل دیا اور جب خوارج نے یہ کیفیت دیکھی تو وہ معقل سے ڈر گئے اور اُن کا قتل عام شروع ہو گیا اور وہ دجلہ پار کر کے نہر شیر یا بہر سیر کے علاقے میں داخل ہو گئے ۔ ابوالردع اور معقل بن قیس دونوں خوارج کے قدیم شہر پہنچ گئے اور مدائن کا گورنر شریک بن عبید بھی لشکر لیکر آ گیا اور خوارج کا خاتمہ ہو گیا۔ اس سال مدینہ منورہ کے گورنر مروان بن حکم نے لوگوں کو حج کرایا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!

Saltanat e Umayya 02

 02 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 2

حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کا انتقال، ھ44 ہجری: بصرہ کے گورنر عبداللہ بن عامر کی شکایت، عبد اللہ بن عامر کی دمشق میں طلبی اور معزولی، زیاد بن سمیہ کو اپنے نسب میں شریک کیا، ام المومنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا انتقال، ھ45 هجری : زیاد بن ابی سفیان بصرہ کا گورنر، اہل بصرہ پرسختی، خراسان کا گورنر، حضرت سلمہ بن سلامہ اور حضرت عاصم بن عدی کا انتقال، أم المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا انتقال، ھ46 ہجری: حضرت عبدالرحمن بن خالد بن ولید کا انتقال، أم المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا انتقال، خوارج کے سرداروں کا قتل، 


حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال یعنی 43 ہجری میں حضرت عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے عمرۃ القضاء“ کے بعد حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ساتھ اسلام قبول کیا تھا۔ اس کے بعد سے مسلسل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہے ۔ اس کے بعد خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں مرتدین کے خلاف جنگ کی ۔ پھر خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے ایک لشکر کا سپہ سالار بنا کر ملک شام بھیج دیا۔ جب خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں بیت المقدس فتح ہوا تو اس لشکر میں آپ رضی اللہ عنہ تھے ۔ اس کے بعد خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو شکر دے کر ملک مصر بھیجا اور مسلسل مہینوں کی شدید جنگ کے بعد پورا ملک مصر آپ رضی اللہ عنہ نے فتح کیا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو ملک مصر کا گورنر بنا دیا۔ خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بھی آپ رضی اللہ عنہ ملک مصر کے گورنر رہے۔ خلیفہ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں آپ رضی اللہ عنہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہے۔ جب حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ مملکت اسلامیہ کے حکمراں بنے تو آپ رضی اللہ عنہ کو پھر ملک مصر کا گورنر بنا دیا اور وہیں آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے اُن کے بیٹے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو ملک مصر کا گورنر بنا دیا۔


حضرت محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 43 ہجری میں حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کا بھی انتقال ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ نے حضرت اُسید بن حضیر اور حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہم سے بھی پہلے حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ غزوہ بدر اور غزوہ تبوک کے سواہر معرکے میں شامل رہے۔ ایک قول کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ میں نائب مقرر کیا تھا اور بعض کا قول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرقرۃ الکدر میں آپ رضی اللہ عنہ کو نائب مقرر کیا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخ کعب بن اشرف کو قتل کیا تھا اور بعض کے قول کے مطابق آپ رضی اللہ عنہ نے غزوہ خیبر میں مرحب کا قتل کیا تھا۔ آخری وقت میں آپ رضی اللہ عنہ ربذہ میں قیام پذیر ہے۔


حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کا انتقال 


اسی سال 43 ہجری میں حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ یہودیوں کے بہت بڑے عالم کے بیٹے ہیں اور خود آپ رضی اللہ عنہ بھی توریت کے بہت بڑے عالم تھے اور جب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ ہجرت کر کے تشریف لائے تو یہودیوں میں سے سب سے پہلے آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تھا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عبداللہ بن سلام کی کنیت ابو یوسف اسرائیلی“ ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ یہودیوں کے بہت بڑے عالم تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ آئے تو لوگ دوڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور میں بھی اُن میں شامل تھا۔ جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک دیکھا تو میں نے سمجھ لیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک کسی جھوٹے شخص کی طرح نہیں ہے اور سب سے پہلی بات جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سی وہ یہ تھی : " لوگو ! سلام کو رواج دو، کھانا کھلاؤ، صلہ رحمی کرو، تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے ۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی سوالات کئے اور سب کے جوابات صحیح پا کر اسلام قبول کر لیا۔ آپ رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں شامل ہیں جن کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی گواہی دی ہے۔


ھ44 ہجری: بصرہ کے گورنر عبداللہ بن عامر کی شکایت


یہ سال مملکت اسلامیہ کے لئے عام طور سے امن کا سال رہا لیکن سرحدوں پر مسلمان مسلسل حالت جنگ میں رہے۔ حضرت عبد الرحمن بن خالد بن ولید اپنے لشکر کے ساتھ سرحد پر رومیوں سے جنگ میں مصروف رہے اور بسر بن ارطاۃ مسلسل بحری جنگ کرتا رہا۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں : اسی سال 44 ہجری میں حضرت عبد الرحمن بن خالد بن ولید مسلمانوں کے ساتھ بلاد روم میں داخل ہوئے اور پوری سردی و ہیں گزاری اور بسر بن ارطاۃ نے دیا میں جنگ کی۔ اس سال حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے بصرہ کے گورنر عبد اللہ بن عامر کو معزول کر دیا۔ اس کا سب یہ ہوا کہ عبداللہ بن عامرنرم دل تھا اور جاہلوں کو دست درازی سے روکتا نہیں تھا جس کی وجہ سے بصرہ میں خرابیاں پھیلنے لگیں۔ عبداللہ بن عامر نے زیاد بن سمیہ سے اہل بصرہ کی شکایت کی تو اس نے کہا: ” تلوار میان سے نکال کر اُن کی خبر لو ۔ اس نے کہا: ” ان کی اصلاح کے لئے میں اپنے نفس کی خرابی کروں یہ مجھے گورا نہیں ہے۔ عبداللہ بن عامر کی حکومت اتنی کمزور تھی کہ وہ کسی کو سزا نہیں دیتا تھا، چور کے ہاتھ نہیں کا تھا تھا۔ لوگوں نے کہا بھی تو اُس نے جواب دیا کہ مجھے لوگوں سے اُلفت ہے۔ جس کے باپ یا بھائی کا ہاتھ میں کاٹوں گا تو پھر اس سے آنکھیں کیسے ملا پاؤں گا ؟ اُسی زمانے میں ابن الکو ملک شام میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان کے پاس گیا۔ انہوں نے بصرہ کا حال پوچھا تو اس نے کہا کہ بصرہ میں جاہلوں کا غلبہ ہے اور وہاں کا گورنر بہت کمزور ہے۔ 


عبد اللہ بن عامر کی دمشق میں طلبی اور معزولی


حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے عبد اللہ بن عامر کو دمشق بلایا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: جب عبد اللہ بن عامر کا بصرہ میں ناقابل ہونا مشہور ہوا تو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے ملاقات کے لئے آنے کا اُسے لکھ بھیجا۔ عبداللہ بن عامر نے اپنی جگہ قیس بن ہیثم کو بصرہ پر نائب بنایا اور خود حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔ انہوں نے اُسے بصرہ کے گورنر کے عہدے پر بحال رکھا اور جب وہ رخصت ہونے لگا تو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے اُس سے کہا: ” میں تین چیزوں کا تم سے سوال کرتا ہوں کہہ دو کہ مجھے منظور ہے ۔ عبداللہ بن عامر نے کہا: ” مجھے منظور ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے تمہیں جو عہد دیا ہے وہ واپس کر دو اور خفا نہیں ہوتا۔“ اُس نے کہا: ” مجھے منظور ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پھر کہا: ”تمہاری جائداد جو عرفہ میں ہے وہ مجھے دے دو ۔‘ اُس نے کہا: ” مجھے منظور ہے ۔“ آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تمہارے جتنے مکان مکہ مکرمہ میں ہیں وہ سب مجھے دے دو۔“ اس نے کہا: ” مجھے منظور ہے ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: " تم نے رشتہ داری کا پاس کیا ۔ اب عبد اللہ بن عامر نے کہا: "اے امیر المومنین رضی اللہ عنہ میں بھی آپ رضی اللہ عنہ سے تین چیزوں کا سوال کروں گا کہہ دیجیئے کہ مجھے منظور ہے ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے کہا: ” مجھے منظور ہے ۔ عبداللہ بن عامر نے کہا: ”میری جو جائداد عرفہ میں ہے وہ مجھے واپس کر دیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: ” مجھے منظور ہے ۔ اُس نے کہا: ” میرے مقرر کردہ کسی گورنر سے حساب نہ لیا جائے اور میرے کسی کام پر اعتراض نہ کیا جائے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” مجھے منظور ہے ۔ اس نے کہا: ” اپنی بیٹی ہند کا مجھ سے نکاح کر دیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: ” مجھے منظور ہے۔ یہ بھی روایت ہے کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے عبد اللہ بن عامر سے کہا: یا تو تم یہ بات قبول کرو کہ ہم تم سے سوال جواب اور تمہارے مال و دولت کا حساب لیں اور اس کے بعد تمہیں تمہارے عہدہ پر بحال کریں یا پھر تم خود گورنری سے دستبردار ہو جاؤ اور جو مال و دولت تم نے حاصل کیا ہے وہ ہم رتمہارے پاس ہی چھوڑ دیں ۔ “ اس پر عبداللہ بن عمر نے بصرہ، خراسان اور بجستان کی گورنری چھوڑ دی اور اپنا مال و دولت بچالیا۔


زیاد بن سمیہ کو اپنے نسب میں شریک کیا


حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے زیاد بن سمیہ کو اپنے نسب میں شریک کیا اور لوگ اُسے زیاد بن ابی سفیان کہنے لگے۔ یہ زیاد وہی شخص ہے جس کے بیٹے نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اسی سال 44 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے زیاد بن شمیہ کو اپنے باپ ابوسفیان کے نسب میں شریک کیا۔ اس کے بعد آگے لکھتے ہیں: روایت ہے کہ جب زیادہ کوفہ میں آیا تو کہنے لگا کہ میں جس کے واسطے تمہارے پاس آیا ہوں اور جس بات کا تم سے طالب ہوں اُس میں تمہاری بہتری ہے۔ سب نے کہا: ”ہم سے تم کیا چاہتے ہو کہو؟ اس نے کہا: ” معاویہ بن ابی سفیان کے نسب میں مجھ شریک کر دو ۔ لوگوں نے کہا ہم جھوٹی گواہی نہیں دے سکتے ۔ اب زیاد بصرہ آیا اور یہی بات کی تو ایک شخص نے اُس کے حق میں گواہی دی۔ 


ام المومنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا انتقال


ا44 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کو حج کرایا۔ علامہ عمادالدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : اس سال یعنی 44 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے حج کرایا اور اس سال آپ رضی اللہ عنہ نے ملک شام میں حجرہ بنوایا اور مدینہ منورہ میں مروان بن حکم نے اسی کی مانند حجرہ بنوایا۔ اس سال اُم المومنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ کا نام رملہ" ہے اور آپ رضی اللہ عنہا حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں۔ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان نبوت کی شروعات میں ہی اپنے شوہر کے ساتھ اسلام قبول کر لیا تھا۔ پھر اپنے شوہر کے ساتھ حبشہ کی طرف ہجرت کی جہاں آپ رضی اللہ عنہا کا شوہر عیسائی ہو گیا اور کچھ عرصے بعد حبشہ ہی میں اُس کا انتقال ہو گیا۔ بیوہ ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کے ذریعے حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے پاس سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کا پیغام بھیجا۔ نجاشی نے آپ رضی اللہ عنہا کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دیا اور حضرت خالد بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہ نے نکاح کا انتظام کیا اور نجاشی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے چار سو دینار مہر دیا اور یے ہجری میں آپ رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیج دیا۔ جب صلح حدیبیہ کا معاہدہ مکہ مکرمہ والوں نے توڑ دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کا ارادہ بنا لیا تھا تب صلح کی تجدید کرانے ابوسفیان مدینہ منورہ آیا تو پہلے اپنی بیٹی کے پاس آیا تو سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر اُسے بیٹھنے نہیں دیا تھا اورفرمایا: ” یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پاک بستر ہے اور تم کفر کی ناپاکی میں مبتلا ہو اس لئے اس بستر پر نہیں بیٹھ سکتے ۔ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ” سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے مجھے انتقال کے وقت بلایا اور بولیں : ”ہمارے درمیان وہ باتیں ہوتی رہیں جو سوکنوں کے درمیان ہوتی ہیں ۔ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ رضی اللہ عنہا کو بخشے اور جو کچھ بھی ہوا میں نے وہ سب معاف کیا اور آپ رضی اللہ عنہا کے لئے جائز قرار دیا تو انہوں نے فرمایا: ” آپ رضی اللہ عنہا نے مجھے خوش کر دیا اللہ آپ رضی اللہ عنہا کو خوش رکھے ۔ پھر سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے اُم المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی طرف بھی پیغام بھیجا تو انہوں نے بھی اس قسم کی بات کہی۔


ھ45 هجری : زیاد بن ابی سفیان بصرہ کا گورنر


حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے 45 ہجری میں زیاد بن ابی سفیان کو بصرہ کا گورنر بنایا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عامر کو معزول کر کے حارث بن عبد اللہ از دی شامی کو بصرہ کا گورنر بنایا اور چار مہینے بعد اُسے معزول کر کے زیاد بن ابی سفیان کو بصرہ کا گورنر مقرر کیا۔ زیاد پہلے کوفہ آیا اور سلمان بن ربیعہ باہلی کے گھر قیام کیا۔ وہاں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا ایک قاصد یہ پیغام لیکر زیاد کے پاس پہنچا کہ تمہیں بصرہ کا گورنر بنا دیا گیا ہے اس لئے تم بصرہ روانہ ہو جاؤ ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے زیاد کو بصرہ کے ساتھ ساتھ خراسان اور بجستان کا بھی گورنر بنا دیا۔ پھر ہند اور بحرین اور عمان بھی اُس کے ماتحت کر دیے ۲۵ ہجری میں زیاد بصرہ میں داخل ہوا۔ اُس وقت فسق و فجور بصرہ میں علاقہ طور پر پھیلا ہوا تھا۔ زیاد نے خطبہ تبراء (جس میں اللہ کی حمد نہ کی جائے) پڑھا۔ یہ بھی کہا گیا کہ اللہ کی حمد کی تھی۔ اُس نے بہت طویل خطبہ پڑھا او سختی سے اللہ کے احکام پر عمل کرنے کا عہد کیا۔


اہل بصرہ پرسختی


اس کے بعد زیاد نے بصرہ کا انتظام سنبھالا اور بہت سختی کی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: زیاد نے کوتوال کا بڑا ( پولیس کا بڑا افسر ) عبد اللہ بن حصن کو بنایا اور لوگوں کو اتنی مہلت دی کہ کوفہ تک خبر پہنچا کر واپس آسکیں۔ روازانہ عشاء کی نماز سب کے ساتھ پڑھتا تھا اور اس کے بعد ایک شخص سے کہتا کہ سورہ بقرہ یا اتنا ہی قرآن پاک کی تلاوت کرے۔ اس سے فارغ ہونے کے بعد اتنا توقف کرتا تھا کہ چلنے والا مقام خربیہ تک پہنچ جائے۔ اس کے بعد کو تو ال (پولیس) کو حکم دیتا کہ باہر نکلے اور جسے بھی پائے اُسے قتل کر دے۔ ایک رات ایک اعرابی (دیہاتی) پکڑا گیا اُس نے فریاد کی کہ اُسے زیاد کا قاعدہ نہیں معلوم تھا۔ اُسے زیاد کے سامنے پیش کیا گیا تو اس نے کہا : " کیا تجھے میرا حکم نہیں معلوم ہے؟“ اس اعرابی نے کہا: میں بصرہ کا نہیں بلکہ ایک اعرابی ہوں اور مجھے آپ کا قاعدہ نہیں معلوم ہے۔ میں تو اپنی اونٹنی لیکر سفر میں تھا راستے میں بصرہ پڑا تو رات گذار نے کے لئے کسی سرائے کی تلاش میں بصرہ میں داخل ہوا تو مجھے پکڑ کر آپ کے سامنے پیش کر دیا گیا۔ زیاد نے کہا: ” مجھے یقین ہے کہ تو سچ کہہ رہا ہے لیکن تجھے قتل کرنے میں ہی اُمت کی بہتری ہے ۔ اور اسے قتل کروا دیا۔ زیاد پہلا شخص ہے جس نے بادشاہ کے حکم کو سختی سے نافذ کیا اور اُس نے ملک عراق اور ایران اور آس پاس کے علاقوں میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی سلطنت کو مستحکم کر دیا۔ اُس نے لوگوں کو آپ رضی اللہ عنہ کی اطاعت گزاری پر مجبور کر دیا اُس نے سزا دینے میں سبقت کی اور تلوار کو برہنہ کیا، اس نے تہمت پر بھی گرفتار کیا اور شبہ پر بھی سزا دی ۔ اُس کے گورنری کے زمانے میں لوگ اُس سے بہت ڈرتے تھے ۔ یہاں تک کہ ایک کو دوسرے سے کچھ کھٹکا نہیں رہا تھا۔ یہاں تک کہ اگر کسی کی کوئی چیز گر پڑتی تھی تو اُسے کوئی نہیں چھوتا تھا اور جس کی چیز گرتی تھی وہی جب آتا تھا تو اُسے اُٹھاتا تھا۔ عورتیں اپنے گھر کا دروازہ بند کئے بغیر بے فکری سے سو جاتی تھیں ۔ اُس نے بصرہ کے ساتھ ساتھ اپنے ماتحت تمام علاقوں پر پولیس کا انتظام اتناسخت رکھا تھا کہ اکثر کہا کرتا تھا: ” بصرہ سے لیکر خراسان تک ایک ڈوری بھی کسی کی چوری ہو جائے تو مجھے معلوم ہو جاتا ہے کہ کس نے چرائی ہے۔ زیاد پہلا شخص ہے جس کے آگے آگے ہاتھوں میں ڈنڈہ لئے ہوئے پولیس والے دوڑا کرتے تھے۔ اُس نے پانچ سو پولیس والے پہرے پر مقرر (باڈی گارڈ) رکھے ہوئے تھے۔


خراسان کا گورنر


اس سال 45 ہجری میں زیاد نے حکم بن عمرو کو خراسان کا گورنر بنایا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: اس سال یعنی ۴۵ ہجری میں زیاد کے خراسان پر مقرر کردہ گورنر حکم بن عمرو نے اُس کے حکم سے جبل الاسل سے جنگ کی اور اُن میں سے بہت سے لوگوں کو قتل کیا اور بہت زیادہ مال غنیمت حاصل کیا۔ زیاد نے اُسے لکھا: ”امیر المومنین کا خط آیا ہے کہ اُن کے لئے اس غنیمت سے سارا سونا اور چاندی اکٹھا کر کے بیت المال کے لئے جمع کر دیا جائے ۔ حکم بن عمرو نے جواب میں لکھا: ”بے شک اللہ کی کتاب قرآن پاک امیر المومنین کے خط پر مقدم ہے اور اللہ کی قسم! اگر زمین و آسمان دشمن کے خلاف ہوں اور وہ اللہ سے ڈرے تو وہ اُس کے نکلنے کا راستہ بنا دے گا۔ پھر اُس نے لوگوں میں اعلان کیا: ”صبح کے وقت مال غنیمت کی تقسیم پر آجاؤ اور اس نے مال غنیمت کا شمس نکال کر اُسے اُن لوگوں میں تقسیم کر دیا اورزیاد کے حکم کی مخالفت کی اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو پورا کیا۔ اس کے بعد دعا کی : اے اللہ تعالیٰ ! اگر تیرے یہاں میرے لئے بھلائی ہے تو مجھے موت دیدے۔ اور خراسان کے شہر مرو میں اُس کا انتقال ہو گیا۔


حضرت زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کا انتقال


ا45 ہجری میں حضرت زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کا تب یعنی " کا تب وجی ہیں ۔ اس کے علاوہ خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے حکم پر آپ رضی اللہ عنہ نے اُمت مسلمہ کے لئے مکمل قرآن پاک ایک مصحف میں لکھا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: ابن جریر طبری نے بیان کیا ہے کہ اس سال مروان بن حکم نے لوگوں کو حج کروایا جو مدینہ منورہ کا گورنر تھا۔ اس سال کاتب وحی حضرت زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ہی خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے حکم پرمکمل قرآن پاک لکھا اور پھر خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے حکم سے اُس کی نقول تیار کیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ بڑے تیز فہم تھے اور آپ رضی اللہ عنہ نے یہودیوں کی زبان اور کتاب صرف پندرہ دن میں سیکھی تھی ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے کسری کے ایچی سے اٹھارہ دن میں فارسی زبان سیکھی تھی اور حبشی قبطی اور رومی زبان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خدام سے سیکھی۔ آپ رضی اللہ عنہ پندرہ (15) سال کی عمر میں اپنی زندگی کے پہلے معر کے غزوہ خندق میں شامل ہوئے۔ بعض علمائے کرام کے مطابق آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال اس سال ہوا اور بعض علمائے کرام کے مطابق 55 ہجری میں ہوا۔


حضرت سلمہ بن سلامہ اور حضرت عاصم بن عدی کا انتقال


اس سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو صحابی رضی اللہ عنہم کا بھی انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: اس سال حضرت سلمہ بن سلامه بن دقش کا ستر (70) سال کی عمر میں انتقال ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے غزوہ بدر اور اُس کے بعد کے معرکوں میں شمولیت فرمائی۔ آپ رضی اللہ عنہ کی کوئی اولاد نہیں ہے ۔ اس سال حضرت عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کا بھی انتقال ہوا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ بدر پر تشریف لے گئے تو آپ رضی اللہ عنہ کو قباء اور العالیہ کے باشندوں پر نائب مقرر کیا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ غزوہ اُحد اور اُس کے بعد کے سب معرکوں میں شامل ہوئے اور ایک سو پچیس (125) سال کی عمر میں انتقال ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ اور حضرت مالک بن دخشم رضی اللہ عنہ کومسجد ضرار (منافقوں کی سازشوں کا مرکز) کی طرف بھیجا اور دونوں نے اُسے جلا دیا۔ 


أم المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا انتقال


اس سال یعنی 45 ہجری میں اُم المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا بھی انتقال ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہا خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی بیٹی ہیں۔ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں: اس سال اُم المومنین سیدہ حفصہ بنت عُمر فاروق رضی اللہ عنہا کا بھی انتقال ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہا کا نکاح پہلے حیس بن حذافہ سہمی سے ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کے ساتھ مدینہ منورہ ہجرت کی ۔ غزوہ بدر کے بعد شوہر کا انتقال ہوگیا اور جب عدت ختم ہوئی تو آپ رضی اللہ عنہا کے والد محترم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے نکاح کی درخواست کی کیونکہ غزوہ بدر کے دوران اُن کی زوجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا تھا۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے منع کر دیا ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنی پریشانی کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو حفصہ رضی اللہ عنہا سے اچھی بیوی ملے گی اور حفصہ رضی اللہ عنہا کو ثمان غنی رضی اللہ عنہ سے بہتر شوہر ملے گا ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا نکاح اپنی بیٹی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے کر دیا اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کر لیا۔ آپ رضی اللہ عنہا بڑی عبادت گزار اور روزے دار تھیں اور اللہ تعالی کے حکم سے جبرئیل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علہ وسلم کو بتایا کہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہیں۔


ھ46 ہجری: حضرت عبدالرحمن بن خالد بن ولید کا انتقال


حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے بیٹے حضرت عبد الرحمن بن خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اپنے والد کے ساتھ ملک شام میں رومیوں سے جنگ میں شمال تھے۔ پھر بعد میں خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں حضرت عبد الرحمن بن خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو الجزیرہ کا گورنر بنایا گیا۔ (الجزیرہ سلطنت روم اور سلطنت فارس کی درمیانی سرحد پر تھا) اس کے بعد سے آپ رضی اللہ عنہ مسلسل وہاں کے گورنر رہے ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں آپ رضی اللہ عنہ مسلسل رومیوں سے حالت جنگ میں رہے اور انہیں یورپ تک سمیٹ دیا اور قسطنطنیہ سے آگے بڑھنے نہیں دیا۔ یہ ہجری میں آپ رضی اللہ عنہ کو ایک عیسائی نے زہر دیا جس کی وجہ سے آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں : اس سال یہ ہجری میں مالک بن عبید اللہ نے رومیوں کی سرزمین پر لشکر کے ساتھ سردی کا موسم گزارا۔ اس معاملے میں عبد الرحمن بن خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور مالک بن ہبیرہ سکونی کا بھی نام لیا گیا ہے۔ اس سال حضرت عبد الرحمن بن خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سرزمین روم سے ملک شام میں حمص میں واپس آئے۔ انہیں ابن اثال نامی ایک نصرانی (عیسائی) نے شربت میں زہر ملا کر دے اور آپ رضی اللہ عنہ نے وہ شربت پی لیا۔ جس کی وجہ سے آپ رضی اللہ عنہ کا حمص میں انتقال ہو گیا۔ عبدالرحمن بن خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا بیٹا خالد جو اُن دنوں مدینہ منورہ آیا ہوا تھا اُس کی ملاقات ایک دن حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور انہوں نے اُسے ابن اثال کے بارے میں بتایا۔ یہ سن کر خالد بن عبد الرحمن بن خالد بن ولید سیدھا ملک شام میں حمص میں آیا اور ابن اثال کی تلاش میں رہنے لگا۔ ایک دن اُسے ابن اثال اپنی سواری پر سوار کہیں جاتا دکھائی دیا۔ خالد بن عبدالرحمن نے آگے بڑھکر تلوار کے ایک ہی دار سے اُس کا سر اڑا دیا۔ یہ خبر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو ہوئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے خالد بن عبدالرحمن کو قید کر لیا لیکن قتل نہیں کیا بلکہ خوں بہا لینے کا حکم دیا اور چھوڑ دیا۔


خوارج کے سرداروں کا قتل


بصرہ ، خراسان اور بجستان پر زیاد بہت سختی سے حکومت کر رہا تھا۔ اس نے خوارج کے بچے کچے گروہ اور اُس کے سرداروں کو بھی قتل کر دیا علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں: اس سال ۴۴ ہجری میں خطیم اور سہم بن غالب نے خروج کیا اور تحکیم کرتے رہے۔ ( خوارج کا ایک فرقہ محکمہ تھا اور لا حکم الا اللہ اُن کا شعار تھا)۔ اس کا سبب یہ ہوا کہ جب زیاد نے سختی کی تو ان پر بھی خوف طاری ہوا۔ سہم بن غالب اہواز چلا گیا اور وہاں بغاوت اور تحکیم کرتا رہا۔ پھر واپس آیا اور چھپ کر زیاد سے امان کا طالب ہوا۔ زیاد نے اُسے امان نہیں دی اور اُسے ڈھونڈ کر نکالا اور گرفتار کرنے کے بعد اپنے دروازے پر اسے پھانسی پر لٹکا دیا عظیم جس کا نام یزید بن مالک باہلی تھا اُسے زیاد نے بحرین کی طرف علاقہ بدر کر دیا۔ پھر اُسے واپس آنے کی اجازت دی۔ وہ آیا تو زیاد نے اُس سے کہا کہ شہر کے باہر نہیں جانا اور مسلم بن عمر و سے کہا کہ تم اس کی ضمانت لو۔ مسلم بن عمرو نے ضمانت لینے سے انکار کر دیا اور یہ کہا کہ اگر یہ اپنے گھر سے باہر کہیں رات کو رہے گا تو میں تمہیں خبر کر دوں گا۔ اس کے بعد ایک رات مسلم نے زیادہ کو آکر خبر دی کہ رات کو خظیم اپنے گھر پر نہیں تھا۔ زیاد نے اُسے قتل کرنے کا حکم دے دیا اور اُس کی لاش کو بابلہ میں پھینک دیا۔ اس سال عقبہ بن ابی سفیان نے لوگوں کو حج کرایا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

Saltanat e Umayya part 03

 03 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 3

ھ47 ہجری، ھ48 ہجری، ھ49 ہجری، حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت، زہر نے آنتوں کو کاٹ دیا، زہر کس نے کس کے کہنے پر دیا، بقیع میں دفن کیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے مشابہت، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی محبت، اے اللہ ! اس سے محبت رکھ، جو اس سے محبت رکھے، اُس سے میں بھی محبت رکھتا ہوں، حضرات حسنین رضی اللہ عنہم سے محبت، جنت کے نو جوانوں کے سردار، تم جس سے صلح کرو گے میں بھی صلح کروں گا، خلفائے راشدین کی محبت، ھ50 ہجری: کوفہ میں زیاد کا استقبال، 



ھ47 ہجری


اس سال حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے پوری مملکت اسلامیہ میں تمام گورنر وہی رکھے اور صرف ملک مصر میں گورنر کو تبدیل کیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اس سال سے 47 ہجری میں حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو ملک مصر کی گورنری سے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے معزول کر دیا اور اُن کی جگہ ملک مصر کا گورنر معاویہ بن خدیج کو بنا دیا۔ اس سال بلاد روم میں مسلمانوں کے لشکر کا سپہ سالار مالک بن ہیر ہ تھا اور انطاکیہ میں لشکر کا سپہ سالا را بوعبدالرحمن قینی تھا۔ اس سال زیاد نے حضرت حکم بن عمر و غفاری کو خراسان کا گورنر بنا کر روانہ کیا ۔ انہوں نے کوہستان غور و فراوندہ میں جنگ کی اور فتح حاصل کی ۔ بے شمار مال غنیمت اور قیدی ہاتھ آئے وہاں سے واپسی میں حضرت حکم بن عمرو کا مرد میں انتقال ہو گیا۔ اس سال عقبہ بن ابی سفیان یا غیبہ بن ابی سفیان نے لوگوں کو حج کرایا۔


ھ48 ہجری


اس سال بھی تمام مملکت اسلامیہ کے گورنر وہی رہے۔ صرف خراسان کے گورنر کو زیاد نے تبدیل کیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اس سال 48 ہجری میں ابو عبد الرحمن قینی انطاکیہ کا سپہ سالار رہا اور عبداللہ بن قیس گزاری نے گرمیوں میں جہاد کیا۔ مالک بن ہبیر و سکونی نے بحری جنگ کی ۔ عقبہ بن عامر جہنی نے بھی اہل مصر کو لیکر بحری جنگ کی اور اس لشکر میں اہل مدینہ منورہ بھی تھے اور اُن کا کمانڈر منذر بن زہیر تھا اور سب سے بڑے سپہ سالار خالد بن عبدالرحمن بن خالد بن ولید تھے۔ بعض مورخین کا قول ہے کہ اس سال زیاد نے حضرت غالب بن فضالہ لیٹی کو خراسان کا گورنر بنا کر روانہ کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے ہیں۔ اس سال حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے مروان بن حکم پر عتاب کیا اور پہلے جو اُسے فدک کے باغات دیئے تھے وہ واپس لے لئے ۔ اس سال مروان بن حکم نے لوگوں کو حج کرایا۔


ھ49 ہجری


اس سال بھی پوری مملکت اسلامیہ میں وہی گورنر رہے صرف مدینہ منورہ کا گورنر تبدیل کیا گیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اس سال 49 ہجری میں مالک بن ہبیرہ نے نے سرزمین روم میں جاڑ ابسر کیا۔ فضالہ بن عبید نے جزیہ میں جنگ کی اور جاڑا وہیں کاٹا فتح حاصل ہوئی اور بہت سے قیدی ہاتھ آئے ۔ عبداللہ بن کوزی بجلی نے گرمیوں میں چڑھائی کی۔ حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ نے بحری جنگ کی اور ملک مصر میں جاڑا بسر کیا۔ اس سال مروان بن حکم کو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے ربیع الاول میں معزول کر دیا اور سعید بن عاص کو ربیع الاخر میں مدینہ منورہ کا گورنر بنا دیا۔ مروان بن حکم آٹھ سال اور دو مہینے مدینہ منورہ کا گورنر رہا۔ مروان بن حکم نے حضرت عبد اللہ بن حارث بن نوفل کو مدینہ کا قاضی بنایا تھا۔ سعید بن عاص نے انہیں معزول کر کے حضرت ابو سلمہ بن عبد الرحمن بن عوف کو قاضی بنا دیا۔ اس سال کوفہ میں طاعون پھیلا اور اس کی وجہ سے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال ۵۰ ہجری میں ہوا۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے زیاد کوکوفہ کا بھی گورنر بنا دیا۔ اس طرح زیاد پہلا شخص ہے جو کو فہ اور بصرہ دونوں کا گورنر بنا۔ زیاد چھ مہینہ کوفہ میں رہتا اور چھ مہینہ بصرہ میں رہتا تھا۔ اس سال سعید بن عاص نے لوگوں کو حج کرایا۔ 


حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت


اسی سال 49 ہجری میں حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ شہید ہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہ کی شہادت زہر سے ہوئی اور آپ رضی اللہ عنہ کوکئی بارز ہر دیا گیا۔ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں، عمیر بن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ میں اور قریش کا ایک اور شخص حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو آپ رضی اللہ عنہ بیت الخلاء " گئے اور جب باہر آئے تو فرمایا: ” میرے جگر کا ایک ٹکڑا کٹ کر گر پڑا تھا اور میں نے اُسے  لکڑی سے اُلٹ پلٹ کر دیکھا۔ مجھے کئی بار زہر پلایا گیا ہے مگر اس با رسب سے زیادہ سخت زہر پلایا گیا ہے ۔ راوی بیان کرتا ہے کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مجھ سے اگر کوئی بات پوچھنی ہو تو پوچھ لو اس سے پہلے کہ میں کچھ بتانے کے قابل نہ رہوں ۔ میں نے عرض کیا: ” مجھے آپ رضی اللہ عنہ سے کچھ نہیں پوچھتا ہے بس اللہ تعالیٰ آپ رضی اللہ عنہ کو صحت عطا فرمائے ۔ راوی بیان کرتا ہے۔ اس کے بعد ہم وہاں سے چلے آئے پھر دوسرے دن ہمیں معلوم ہوا کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ بازار میں بے ہوش پڑے ہیں فورا وہاں پہنچے تو دیکھا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ آپ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہیں اور فرمایا: ”اے بھائی جان! آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ یہ کام کس نے کیا ہے؟ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” کیا تم اُسے قتل کرنا چاہتے ہو؟ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” ہاں ۔ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ”اگر میرے ساتھ یہ کام کرنے والا وہی ہے جسے میں خیال کر رہا ہوں تو اللہ تعالیٰ اسے سخت سزا دے گا ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ سخت عذاب اور سزادینے والا ہے اور جسے میں خیال کرتا ہوں اگر وہ نہیں ہے تو میں یہ پسند نہیں کرتا کہ میرے بدلے میں تم کسی بے گناہ کو قتل کر دو“ حضرت عبداللہ بن جعفر طیار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ام بکر بنت مسور نے کہا: حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کوکئی بارز ہر پلایا گیا اور ہر بار آپ رضی اللہ عنہ بیچے جاتے تھے ۔ آخری بار کے زہر نے آپ رضی اللہ عنہ کے جگر کے ٹکڑے کر دیئے اور آپ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے۔


زہر نے آنتوں کو کاٹ دیا


حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو ایسا ہر دیا گیا تھا کہ جس کی وجہ سے انتڑیاں اور پیٹ میں موجود لگ بھگ ہر شئے کٹ گئی اور ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی۔ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں: اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ عورتوں سے بہت نکاح کرنے والے تھے اور وہ بہت کم آپ رضی اللہ عنہ کے پاس رہنے پاتی تھیں۔ پھر بھی ہر عورت آپ رضی اللہ عنہ سے بے پناہ محبت کرتی تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ کو زہر پلایا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ بچ گئے ، پھر پلایا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ پھر بچ گئے اور پھر پلایا گیا تو ایک طبیب کو بلایا گیا جو ہمیشہ آیا کرتا تھا۔ اُس نے آپ رضی اللہ عنہ کا معائنہ کرنے کے بعد کہا: ” ان کی آنتوں کو زہر نے کاٹ دیا ہے ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "اے بھائی جان! مجھے بتائیے! آپ رضی اللہ عنہ کو کس نے زہر پلایا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے میرے بھائی! تم ایسا کیوں پوچھ رہے ہو؟ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم میں آپ رضی اللہ عنہ کو فن کرنے سے پہلے اسے قتل کر دوں گا اور میں اُس پر قابو نہیں پاسکوں گا تو میں مشقت برداشت کر کے اُس کے پاس جاؤں گا ۔ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے میرے پیارے بھائی ! یہ دنیا فانی ہے۔ اس کو چھوڑ دو یہاں تک کہ میں اور وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ملاقات کریں ۔ اور آپ رضی اللہ عنہ نے نام بتانے سے انکار کر دیا۔


زہر کس نے کس کے کہنے پر دیا


حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے یہ کسی کو نہیں بتایا کہ انہیں کس نے زہر دیا؟ کس کے کہنے پر دیا؟ اس بارے میں کئی روایات ہیں۔اب پتہ نہیں ان میں سے کوئی روایت صحیح ہے بھی یا نہیں؟ یہ تو اللہ ہی بہتر جانتے ہیں۔ واللہ اعلم۔ علامہ عمادالدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں: امام محمد بن سعد نے بیان کیا ہے کہ یحی بن جمال نے ہمیں بتایا کہ ابو عوانہ نے مغیرہ سے بحوالہ أم موسیٰ ہمیں خبر دی کہ جعدہ بنت اشعث بن ولیس نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو زہر پلایا جس سے آپ رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے۔ راوی بیان کرتا ہے کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے نیچے طشت رکھا جاتا تھا جب وہ خون سے بھر جاتا تھا تو دوسرا رکھ کر پہلا اُٹھایا جاتا تھا۔ اس طرح چالیس دن تک طشت رکھا اور اُٹھایا گیا۔ بعض نے روایت کی ہے کہ یزید بن معاویہ نے جعدہ بنت اشعث کو پیغام بھیجا کہ وہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو ہر دیدے اور میں تجھ سے شادی کرلوں گا۔ اُس نے زہر دے دیا اور جب حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے تو جعدہ بنت اشعث نے یزید بن معاویہ کو پیغام بھیجا۔ اُس نے کہا: اللہ کی قسم ! ہم نے تو تجھے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے لئے بھی پسند نہیں کیا تو کیا ہم تجھے اپنے لئے پسند کر سکتے ہیں؟“


بقیع میں دفن کیا


حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ کے بقیع قبرستان میں دفن کیا گیا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: " جس دن حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ شہید ہوئے اُس دن ہم نے دیکھا اور قریب تھا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور مروان بن حکم کے درمیان جنگ چھڑ جاتی کیونکہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی کو وصیت کی تھی کہ مجھے میرے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بازو میں دفن کرنا اور اگر اس بارے میں جنگ یا شر کا خدشہ ہو تو بقیع میں دفن کر دینا۔ مروان بن حکم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بازو میں دفن کرنے سے صاف انکار کر دیا اور لڑائی پر آمادہ ہو گیا۔ مروان بن حکم اُن دنوں معزول تھا اور وہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کوخوش کرنا چاہتا تھا اور مروان بن حکم ہمیشہ بنو ہاشم کا دشمن رہا ہے یہاں تک کہ مر گیا۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں میں نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے گفتگو کی اور کہا: "اے ابو عبد اللہ ( حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے ) اللہ سے ڈرو اور فتنہ نہ بڑھاؤ۔ بے شک تمہارا بھائی اس بات کو پسند نہیں کرتا تھا جو تم دیکھ رہے ہو۔ انہیں اپنی والدہ محترمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ بقیع میں دفن کر دو“ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے انہیں بقیع میں دفن کر دیا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی قسم کی روایت ہے اور ایک روایت میں ہے کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے اجازت طلب کرنے کے لئے آدمی بھیجا تو آپ رضی اللہ عنہا نے اجازت دے دی اور جب حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے تو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے ہتھیار پہن لئے اور بنو امیہ نے بھی ہتھیار لگا لئے اور بولے : ”ہم حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دفن نہیں ہونے دیں گے۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ تو بقیع میں دفن ہوں اور حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ حجرہ میں دفن ہوں ؟ ایسا نہیں ہو سکتا ۔ اور جب لوگوں کو اندیشہ ہو گیا کہ جنگ ہو جائے گی تو حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ، حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ملکر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو مشورہ دیا کہ آپ رضی اللہ عنہ جنگ نہ کریں تو انہوں نے بات مان لی اور اپنے بھائی کو اپنی والدہ محترمہ کے بازو میں بقیع میں دفن کر دیا ۔ ابو حازم کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے جنازے کی نماز پڑھانے کے لئے سعید بن عاص کو آگے کیا اور فرمایا: اگر یہ سنت نہ ہوتی تو میں انہیں آگے نہیں کرتا ۔ سعید بن عاص نے جنازے کی نماز پڑھائی۔


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے مشابہت


حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کا چہرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے بہت مشابہت رکھتا تھا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کنیت ابومحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی سیدہ فاطمتہ الزہراء رضی اللہ عنہا کے بیٹے اور مخلوق میں سب سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے مشابہت رکھنے والے ہیں۔ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ ماہ رمضان المبارک ۳ ہجری میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو گھٹی دی اور آپ رضی اللہ عنہ کا نام حسن رکھا۔ آپ رضی اللہ عنہ اپنے والدین کے سب سے بڑے بیٹے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ رضی اللہ عنہ سے شدید محبت کرتے تھے حتی کہ چھوٹی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے ہونٹوں کو بوسہ دیتے اور بسا اوقات اپنی زبان انہیں چوساتے اور گلے لگا لیتے اور خوش طبعی کرتے ۔ بسا اوقات نماز کے دوران حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ آتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں سجدے میں ہوتے تو آپ رضی اللہ عنہ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت مبارک پر چڑھ جاتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی حالت میں رہتے اور حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی وجہ سے سجدے کو طویل کر دیتے اور بسا اوقات آپ رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر چڑھ جاتے ۔ حدیث میں ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن بن علی اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہم کو آتے ہوئے دیکھا کہ وہ دونوں لڑکھڑاتے ہوئے آرہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ روک دیا اور اُن دونوں کے پاس جا کر دونوں کو گود میں اٹھا لیا اور اپنے ساتھ منبر پر لے آئے اور فرمایا: اللہ نے بیچ فرمایا کہ میں نے ان دونوں کو چلتے اور لڑکھڑاتے دیکھا تو اپنے آپ پر قابو نہیں رکھ سکا اور ان کے پاس چلا گیا۔ پھر فرمایا: ” بے شک تم اللہ کی رحمت ہو اور تمہاری تعظیم کی جاتی ہے اور تم سے محبت کی جاتی ہے۔


حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی محبت


حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی بہت زیادہ محبت کرتے تھے۔ علامہ عمادالدین ابن کثر لکھتے ہیں صحیح بخاری میں حضرت عقبہ بن حارث سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عصر کی نماز پڑھائی اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ باہر نکلے تو حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا۔ خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو اٹھا کر اپنے کاندھے پر بٹھا لیا اور فرمایا: اللہ کی تم اتم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ ہو اور حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کے مشابہ نہیں ہو ۔ راوی بیان کرتا ہے کہ حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ دونوں کو دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔


اے اللہ ! اس سے محبت رکھ


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو دیکھتے تو بے حد محبت اور شفقت سے پیش آتے آپ رضی اللہ عنہ کے لئے اللہ سے دعائیں کرتے تھے۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے پکڑ کر اپنی ایک ران پر بٹھا لیتے اور حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو دوسری ران پر بٹھا لیتے پھر ہمیں گلے سے لگاتے اور فرماتے : ”اے اللہ ان دونوں پر رحم فرما، بے شک میں ان دونوں پر رحم کرتا ہوں ۔ اور ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اے اللہ ! میں اِن دونوں سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان دونوں سے محبت رکھ ۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کاندھے پر تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے : اے اللہ ! میں اس سے محبت رکھتا ہوں تو بھی اس سے محبت رکھ ۔ اور ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے فرمایا: ” اور جو اس سے محبت رکھے اُس سے بھی محبت رکھے ۔“


جو اس سے محبت رکھے اُس سے بھی محبت رکھتا ہوں 


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے نواسے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے اتنی محبت رکھتے ہیں کہ جو اُن سے محبت رکھتا ہے اُس سے بھی محبت رکھتے ہیں۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نواسے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کولیکر فرمایا: ”اے اللہ! میں اس سے محبت رکھتا ہوں تو بھی اس سے محبت رکھ اور جو اس سے محبت رکھے اُس سے بھی رکھ ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں مدینہ منورہ کے ایک بازار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ پھر ہم واپس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے صحن میں آکر آواز لگائی : اے بیٹے ، اے بیٹے ، اسے بیٹے ۔ مگر کوئی جواب نہیں آیا پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے صحن میں آگئے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے۔ اتنے میں حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ آگئے اور میں نے سمجھا کہ سیدہ فاطمتہ الزہراء رضی اللہ عنہ نے انہیں تیار کر کے بھیجا۔ جب وہ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو گلے سے لگالیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ ! میں اس سے محبت رکھتا ہوں اور جو اس سے محبت رکھے اُس سے بھی محبت رکھتا ہوں ۔ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمائی۔ مسنداحمد میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاتھ کا سہارا لئے بنو قینقاع کے بازار کی طرف گئے اور اُس کا چکر لگایا پھر واپس آکر مسجد میں گوٹھ مار کر بیٹھ گئے اور آواز لگائی: ”اے بیٹے ! میرے بیٹے کو میرے پاس لاؤ۔ یہ سن کر حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ دوڑتے ہوئے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گوٹھ میں چھلانگ مار دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے چہرے کا بوسہ لیا اور فرمایا: ” اے اللہ ! میں اس سے محبت رکھتا ہوں تو بھی اس سے محبت رکھ اور جو اس سے محبت رکھتا ہے اُس سے بھی محبت رکھ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ فرمائی۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” میں نے جب بھی حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کودیکھا تو میری آنکھیں اشک بار ہوگئیں اور میں رو پڑا ۔ حضرت عمیر بن اسحاق فرماتے ہیں کہ میں حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جارہا تھا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ملے اور حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”مجھے اپنی قیص کی وہ جگہ چومنے دو جہاں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چومتے دیکھا تھا۔ راوی بیان کرتا ہے کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے وہ جگہ دکھائی تو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی اُس جگہ کو چوما۔ ( مسند احمد بن حنبل)


حضرات حسنین رضی اللہ عنہم سے محبت


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرات حسنین ( حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : مسند احمد بن حنبل میں ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو ایک کندھے پر اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو دوسرے کندھے پر بٹھایا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ ایک کا بوسہ لیتے اور دوسری دفعہ دوسرے کا بوسہ لیتے۔ اس طرح باری باری دونوں کا بوسہ لیتے ۔ ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ” یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں سے بہت محبت کرتے ہیں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ان دونوں سے محبت کی اُس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سے نفرت کی اُس نے مجھے سے نفرت کی ۔“ ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے کہ حضرت حسن بن علی اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ آگئے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو یہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر سوار ہو جاتے ۔ لوگوں نے ان دونوں کو روکنا چاہا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو لوگوں سے فرمایا: ” یہ دونوں میرے بیٹے ہیں۔ جس نے ان دونوں سے محبت کی اُس نے مجھ سے محبت کی ۔ (سنن نسائی ) ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسن بن علی اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہم کو اُن کے والدین سمیت اپنی چادر میں چھپا لیا اور فرمایا: ”اے اللہ! یہ میرے اہل بیت ہیں، ان سے ناپاکی کو دور کر دے اور انہیں اچھی طرح پاک کر


جنت کے نو جوانوں کے سردار


حضرات حسنین یعنی حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ جنت میں نوجوانوں کے سردار ر ہیں گے ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ج جنتی نو جوانوں کے سردار کو دیکھ کر خوش ہونا چاہتا ہے وہ حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو دیکھ لے۔ حضرت ابو سعید خدری اور حضرت بریدہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” حسن بن علی اور حسین بن علی رضی اللہ عنہم جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں اور اُن کے والد محترم اُن سے بہتر ہیں ۔ “ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں نواسوں حضرت حسن بن علی اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہم کو اپنی پیٹھ پر بٹھائے ہوئے تھے اور چار پاؤں پر چل رہے تھے۔ میں نے کہا: تم دونوں کو اٹھانے والی سواری کتنی اچھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اور یہ دونوں سوار بھی تو کتنے اچھے ہیں (جامع ترمذی) 


تم جس سے صلح کرو گے میں بھی صلح کروں گا


حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کے اتحاد کرنے کے لئے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے صلح کی اور پوری امت مسلمہ متحد ہوگئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشنگوئی پوری ہوئی۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت حسن رضی اللہ عنہ، حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کی طرف دیکھا اور فرمایا: تم جس سے جنگ کرو گے میں بھی اُس سے جنگ کروں گا اور تم جس سے صلح کرو گے میں بھی اُس سے صلح کروں گا۔ ( مسند احمد بن حنبل) حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بے شک میرا یہ بیٹا سردار ہے اور ضرور اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو عظیم گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا۔ (مسند احمد بن حنبل)


خلفائے راشدین کی محبت


حضرات حسنین رضی اللہ عنہم یعنی حسن بن علی رضی رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے خلفائے راشدین بھی بہت محبت کرتے تھے ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم کا بہت اعزاز و اکرام کرتے تھے اور آپ رضی اللہ عنہم سے محبت کرتے تھے اور آپ رضی اللہ عنہم پر فدا ہوتے تھے اور خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا بھی یہی حال تھا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جب وظیفہ خواروں کا رجسٹر بنایا تو حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم کے لئے اہل بدر کے برابر پانچ ہزار درہم مقرر کئے ۔ اسی طرح خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ بھی حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم کا بہت اکرام کرتے تھے اور اُن سے محبت کرتے تھے۔ اور یوم الدار کو جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ محصور تھے تو حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ بھی آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تلوار لئے موجود تھے اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا بچاؤ کر رہے تھے ۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو اندیشہ ہوا کہ کہیں حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے تو انہوں قسم دے کر انہیں گھر واپس بھیجا۔ خلیفہ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ بھی اپنے بیٹے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کا بہت اعزاز و اکرام کرتے تھے۔ ایک دن آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میرے بیٹے ! کیا آپ رضی اللہ عنہ تقریر نہیں کریں گے کہ میں اُسے سنوں؟ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ”ابا جان! آپ رضی اللہ عنہ کو دیکھتے ہوئے تقریر کرنے میں جھجھک محسوس کرتا ہوں ۔ یہ سُن کر حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ ایسی جگہ جا کر بیٹھ گئے جہاں سے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ انہیں نہیں دیکھ سکتے تھے۔ پھر حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر تقریر کی اور اُن کے والد محترم حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سُن رہے تھے ۔ پس آپ رضی اللہ عنہ نے انتہائی فصیح و بلیغ تقریر کی اور جب تقریر ختم کر کے واپس آئے تو حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بعض بعض کی اولاد ہیں اور اللہ سنے اور جاننے والا ہے۔“ 


ھ50 ہجری: کوفہ میں زیاد کا استقبال


حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد زیاد کو بصرہ ، خراسان اور بجستان کے ساتھ ساتھ کوفہ کا بھی گورنر بنا دیا۔ زیاد جب کوفہ آیا تو کوفیوں نے اُس کا استقبال کنکروں سے کیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت مغیرہ بن شعبہ کے انتقال کے بعد زیادہ نے بصرہ میں سمرہ بن جندب کو اپنا نائب بنایا اور کوفہ آیا۔ وہ چھ مہینے کوفہ میں رہتا تھا اور چھ مہینے بصرہ میں رہتا تھا ۔ جب وہ کوفہ آیا تو منبر پر جا کرحمد وثنا کی اور بولا: میں بصرہ میں تھا جب مجھے کوفہ کی گورنری ملی۔ میں نے ارادہ کیا کہ بصرہ سے دو ہزار سپاہیوں کے ساتھ آؤں پھر مجھے خیال آیا کہ تم لوگ اہل حق ہو تمہارے حق نے بہت دفعہ باطل کو دفع کیا ہے۔ اس لئے فقط اپنے گھر والوں کے ساتھ تمہارے پاس چلا آیا۔الحمدللہ لوگوں نے جتنا مجھے پست کیا تھا اُس اللہ تعالیٰ نے اتنا ہی مجھے بلند کر دیا اور لوگوں نے جس بات کو ضائع کر دیا تھا اللہ نے اُس کی حفاظت کی ۔ خطبہ سے فارغ ہونے کے بعد منبر سے اترنے ہی والا تھا کہ اسے لوگوں نے سنگریزے( کنکریاں ) مارے۔ جب تک سنگریزے آتے رہے وہ منبر پر بیٹھا رہا اور جب وہ آنا بند ہو گئے تو اُس نے اپنے خاص لوگوں کو بلا کر حکم دیا کہ مسجد کے سب دروازوں کو بند کر دیں پھر کہا: میں ہر شخص کو حکم دیتا ہوں کہ وہ اپنے پاس والے آدمی کو پکڑلے اور ہرگز ہر گز کوئی یہ نہ کہے کہ میں نہیں جانتا کہ میرے پاس کون بیٹھا تھا۔ “ اس کے بعد اپنے لئے ایک کرسی مسجد کے صدر دروازے پر رکھوائی۔ پھر چار چار شخصوں کو بلا کر قسم لی کہ ہم میں سے کسی نے ڈھیلا نہیں مارا۔ جس نے قسم کھالی اُسے چھوڑ دیا جس نے قسم نہیں کھائی اُسے علیحدہ روک لیا۔ یہ سب تھیں (30) آدمی تھے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اسی (80) آدمی تھے۔ زیاد کے حکم سے اُسی جگہ اُن سب کے ہاتھ کاٹ دیئے گئے ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں 50 ہجری میں زیاد کوفہ، بصرہ، خراسان، بجستان، فارس ،سندھ ، ہند اور مشرقی سرحد کا گورنر تھا۔


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!


D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں