جمعہ، 6 ستمبر، 2024

Saltanat e Umayya part 03

 03 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 3

ھ47 ہجری، ھ48 ہجری، ھ49 ہجری، حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت، زہر نے آنتوں کو کاٹ دیا، زہر کس نے کس کے کہنے پر دیا، بقیع میں دفن کیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے مشابہت، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی محبت، اے اللہ ! اس سے محبت رکھ، جو اس سے محبت رکھے، اُس سے میں بھی محبت رکھتا ہوں، حضرات حسنین رضی اللہ عنہم سے محبت، جنت کے نو جوانوں کے سردار، تم جس سے صلح کرو گے میں بھی صلح کروں گا، خلفائے راشدین کی محبت، ھ50 ہجری: کوفہ میں زیاد کا استقبال، 



ھ47 ہجری


اس سال حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے پوری مملکت اسلامیہ میں تمام گورنر وہی رکھے اور صرف ملک مصر میں گورنر کو تبدیل کیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اس سال سے 47 ہجری میں حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو ملک مصر کی گورنری سے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے معزول کر دیا اور اُن کی جگہ ملک مصر کا گورنر معاویہ بن خدیج کو بنا دیا۔ اس سال بلاد روم میں مسلمانوں کے لشکر کا سپہ سالار مالک بن ہیر ہ تھا اور انطاکیہ میں لشکر کا سپہ سالا را بوعبدالرحمن قینی تھا۔ اس سال زیاد نے حضرت حکم بن عمر و غفاری کو خراسان کا گورنر بنا کر روانہ کیا ۔ انہوں نے کوہستان غور و فراوندہ میں جنگ کی اور فتح حاصل کی ۔ بے شمار مال غنیمت اور قیدی ہاتھ آئے وہاں سے واپسی میں حضرت حکم بن عمرو کا مرد میں انتقال ہو گیا۔ اس سال عقبہ بن ابی سفیان یا غیبہ بن ابی سفیان نے لوگوں کو حج کرایا۔


ھ48 ہجری


اس سال بھی تمام مملکت اسلامیہ کے گورنر وہی رہے۔ صرف خراسان کے گورنر کو زیاد نے تبدیل کیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اس سال 48 ہجری میں ابو عبد الرحمن قینی انطاکیہ کا سپہ سالار رہا اور عبداللہ بن قیس گزاری نے گرمیوں میں جہاد کیا۔ مالک بن ہبیر و سکونی نے بحری جنگ کی ۔ عقبہ بن عامر جہنی نے بھی اہل مصر کو لیکر بحری جنگ کی اور اس لشکر میں اہل مدینہ منورہ بھی تھے اور اُن کا کمانڈر منذر بن زہیر تھا اور سب سے بڑے سپہ سالار خالد بن عبدالرحمن بن خالد بن ولید تھے۔ بعض مورخین کا قول ہے کہ اس سال زیاد نے حضرت غالب بن فضالہ لیٹی کو خراسان کا گورنر بنا کر روانہ کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے ہیں۔ اس سال حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے مروان بن حکم پر عتاب کیا اور پہلے جو اُسے فدک کے باغات دیئے تھے وہ واپس لے لئے ۔ اس سال مروان بن حکم نے لوگوں کو حج کرایا۔


ھ49 ہجری


اس سال بھی پوری مملکت اسلامیہ میں وہی گورنر رہے صرف مدینہ منورہ کا گورنر تبدیل کیا گیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اس سال 49 ہجری میں مالک بن ہبیرہ نے نے سرزمین روم میں جاڑ ابسر کیا۔ فضالہ بن عبید نے جزیہ میں جنگ کی اور جاڑا وہیں کاٹا فتح حاصل ہوئی اور بہت سے قیدی ہاتھ آئے ۔ عبداللہ بن کوزی بجلی نے گرمیوں میں چڑھائی کی۔ حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ نے بحری جنگ کی اور ملک مصر میں جاڑا بسر کیا۔ اس سال مروان بن حکم کو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے ربیع الاول میں معزول کر دیا اور سعید بن عاص کو ربیع الاخر میں مدینہ منورہ کا گورنر بنا دیا۔ مروان بن حکم آٹھ سال اور دو مہینے مدینہ منورہ کا گورنر رہا۔ مروان بن حکم نے حضرت عبد اللہ بن حارث بن نوفل کو مدینہ کا قاضی بنایا تھا۔ سعید بن عاص نے انہیں معزول کر کے حضرت ابو سلمہ بن عبد الرحمن بن عوف کو قاضی بنا دیا۔ اس سال کوفہ میں طاعون پھیلا اور اس کی وجہ سے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال ۵۰ ہجری میں ہوا۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے زیاد کوکوفہ کا بھی گورنر بنا دیا۔ اس طرح زیاد پہلا شخص ہے جو کو فہ اور بصرہ دونوں کا گورنر بنا۔ زیاد چھ مہینہ کوفہ میں رہتا اور چھ مہینہ بصرہ میں رہتا تھا۔ اس سال سعید بن عاص نے لوگوں کو حج کرایا۔ 


حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت


اسی سال 49 ہجری میں حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ شہید ہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہ کی شہادت زہر سے ہوئی اور آپ رضی اللہ عنہ کوکئی بارز ہر دیا گیا۔ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں، عمیر بن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ میں اور قریش کا ایک اور شخص حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو آپ رضی اللہ عنہ بیت الخلاء " گئے اور جب باہر آئے تو فرمایا: ” میرے جگر کا ایک ٹکڑا کٹ کر گر پڑا تھا اور میں نے اُسے  لکڑی سے اُلٹ پلٹ کر دیکھا۔ مجھے کئی بار زہر پلایا گیا ہے مگر اس با رسب سے زیادہ سخت زہر پلایا گیا ہے ۔ راوی بیان کرتا ہے کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مجھ سے اگر کوئی بات پوچھنی ہو تو پوچھ لو اس سے پہلے کہ میں کچھ بتانے کے قابل نہ رہوں ۔ میں نے عرض کیا: ” مجھے آپ رضی اللہ عنہ سے کچھ نہیں پوچھتا ہے بس اللہ تعالیٰ آپ رضی اللہ عنہ کو صحت عطا فرمائے ۔ راوی بیان کرتا ہے۔ اس کے بعد ہم وہاں سے چلے آئے پھر دوسرے دن ہمیں معلوم ہوا کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ بازار میں بے ہوش پڑے ہیں فورا وہاں پہنچے تو دیکھا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ آپ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہیں اور فرمایا: ”اے بھائی جان! آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ یہ کام کس نے کیا ہے؟ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” کیا تم اُسے قتل کرنا چاہتے ہو؟ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” ہاں ۔ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ”اگر میرے ساتھ یہ کام کرنے والا وہی ہے جسے میں خیال کر رہا ہوں تو اللہ تعالیٰ اسے سخت سزا دے گا ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ سخت عذاب اور سزادینے والا ہے اور جسے میں خیال کرتا ہوں اگر وہ نہیں ہے تو میں یہ پسند نہیں کرتا کہ میرے بدلے میں تم کسی بے گناہ کو قتل کر دو“ حضرت عبداللہ بن جعفر طیار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ام بکر بنت مسور نے کہا: حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کوکئی بارز ہر پلایا گیا اور ہر بار آپ رضی اللہ عنہ بیچے جاتے تھے ۔ آخری بار کے زہر نے آپ رضی اللہ عنہ کے جگر کے ٹکڑے کر دیئے اور آپ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے۔


زہر نے آنتوں کو کاٹ دیا


حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو ایسا ہر دیا گیا تھا کہ جس کی وجہ سے انتڑیاں اور پیٹ میں موجود لگ بھگ ہر شئے کٹ گئی اور ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی۔ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں: اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ عورتوں سے بہت نکاح کرنے والے تھے اور وہ بہت کم آپ رضی اللہ عنہ کے پاس رہنے پاتی تھیں۔ پھر بھی ہر عورت آپ رضی اللہ عنہ سے بے پناہ محبت کرتی تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ کو زہر پلایا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ بچ گئے ، پھر پلایا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ پھر بچ گئے اور پھر پلایا گیا تو ایک طبیب کو بلایا گیا جو ہمیشہ آیا کرتا تھا۔ اُس نے آپ رضی اللہ عنہ کا معائنہ کرنے کے بعد کہا: ” ان کی آنتوں کو زہر نے کاٹ دیا ہے ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "اے بھائی جان! مجھے بتائیے! آپ رضی اللہ عنہ کو کس نے زہر پلایا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے میرے بھائی! تم ایسا کیوں پوچھ رہے ہو؟ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم میں آپ رضی اللہ عنہ کو فن کرنے سے پہلے اسے قتل کر دوں گا اور میں اُس پر قابو نہیں پاسکوں گا تو میں مشقت برداشت کر کے اُس کے پاس جاؤں گا ۔ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے میرے پیارے بھائی ! یہ دنیا فانی ہے۔ اس کو چھوڑ دو یہاں تک کہ میں اور وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ملاقات کریں ۔ اور آپ رضی اللہ عنہ نے نام بتانے سے انکار کر دیا۔


زہر کس نے کس کے کہنے پر دیا


حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے یہ کسی کو نہیں بتایا کہ انہیں کس نے زہر دیا؟ کس کے کہنے پر دیا؟ اس بارے میں کئی روایات ہیں۔اب پتہ نہیں ان میں سے کوئی روایت صحیح ہے بھی یا نہیں؟ یہ تو اللہ ہی بہتر جانتے ہیں۔ واللہ اعلم۔ علامہ عمادالدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں: امام محمد بن سعد نے بیان کیا ہے کہ یحی بن جمال نے ہمیں بتایا کہ ابو عوانہ نے مغیرہ سے بحوالہ أم موسیٰ ہمیں خبر دی کہ جعدہ بنت اشعث بن ولیس نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو زہر پلایا جس سے آپ رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے۔ راوی بیان کرتا ہے کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے نیچے طشت رکھا جاتا تھا جب وہ خون سے بھر جاتا تھا تو دوسرا رکھ کر پہلا اُٹھایا جاتا تھا۔ اس طرح چالیس دن تک طشت رکھا اور اُٹھایا گیا۔ بعض نے روایت کی ہے کہ یزید بن معاویہ نے جعدہ بنت اشعث کو پیغام بھیجا کہ وہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو ہر دیدے اور میں تجھ سے شادی کرلوں گا۔ اُس نے زہر دے دیا اور جب حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے تو جعدہ بنت اشعث نے یزید بن معاویہ کو پیغام بھیجا۔ اُس نے کہا: اللہ کی قسم ! ہم نے تو تجھے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے لئے بھی پسند نہیں کیا تو کیا ہم تجھے اپنے لئے پسند کر سکتے ہیں؟“


بقیع میں دفن کیا


حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ کے بقیع قبرستان میں دفن کیا گیا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: " جس دن حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ شہید ہوئے اُس دن ہم نے دیکھا اور قریب تھا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور مروان بن حکم کے درمیان جنگ چھڑ جاتی کیونکہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی کو وصیت کی تھی کہ مجھے میرے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بازو میں دفن کرنا اور اگر اس بارے میں جنگ یا شر کا خدشہ ہو تو بقیع میں دفن کر دینا۔ مروان بن حکم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بازو میں دفن کرنے سے صاف انکار کر دیا اور لڑائی پر آمادہ ہو گیا۔ مروان بن حکم اُن دنوں معزول تھا اور وہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کوخوش کرنا چاہتا تھا اور مروان بن حکم ہمیشہ بنو ہاشم کا دشمن رہا ہے یہاں تک کہ مر گیا۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں میں نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے گفتگو کی اور کہا: "اے ابو عبد اللہ ( حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے ) اللہ سے ڈرو اور فتنہ نہ بڑھاؤ۔ بے شک تمہارا بھائی اس بات کو پسند نہیں کرتا تھا جو تم دیکھ رہے ہو۔ انہیں اپنی والدہ محترمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ بقیع میں دفن کر دو“ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے انہیں بقیع میں دفن کر دیا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی قسم کی روایت ہے اور ایک روایت میں ہے کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے اجازت طلب کرنے کے لئے آدمی بھیجا تو آپ رضی اللہ عنہا نے اجازت دے دی اور جب حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے تو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے ہتھیار پہن لئے اور بنو امیہ نے بھی ہتھیار لگا لئے اور بولے : ”ہم حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دفن نہیں ہونے دیں گے۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ تو بقیع میں دفن ہوں اور حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ حجرہ میں دفن ہوں ؟ ایسا نہیں ہو سکتا ۔ اور جب لوگوں کو اندیشہ ہو گیا کہ جنگ ہو جائے گی تو حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ، حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ملکر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو مشورہ دیا کہ آپ رضی اللہ عنہ جنگ نہ کریں تو انہوں نے بات مان لی اور اپنے بھائی کو اپنی والدہ محترمہ کے بازو میں بقیع میں دفن کر دیا ۔ ابو حازم کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے جنازے کی نماز پڑھانے کے لئے سعید بن عاص کو آگے کیا اور فرمایا: اگر یہ سنت نہ ہوتی تو میں انہیں آگے نہیں کرتا ۔ سعید بن عاص نے جنازے کی نماز پڑھائی۔


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے مشابہت


حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کا چہرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے بہت مشابہت رکھتا تھا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کنیت ابومحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی سیدہ فاطمتہ الزہراء رضی اللہ عنہا کے بیٹے اور مخلوق میں سب سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے مشابہت رکھنے والے ہیں۔ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ ماہ رمضان المبارک ۳ ہجری میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو گھٹی دی اور آپ رضی اللہ عنہ کا نام حسن رکھا۔ آپ رضی اللہ عنہ اپنے والدین کے سب سے بڑے بیٹے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ رضی اللہ عنہ سے شدید محبت کرتے تھے حتی کہ چھوٹی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے ہونٹوں کو بوسہ دیتے اور بسا اوقات اپنی زبان انہیں چوساتے اور گلے لگا لیتے اور خوش طبعی کرتے ۔ بسا اوقات نماز کے دوران حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ آتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں سجدے میں ہوتے تو آپ رضی اللہ عنہ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت مبارک پر چڑھ جاتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی حالت میں رہتے اور حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی وجہ سے سجدے کو طویل کر دیتے اور بسا اوقات آپ رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر چڑھ جاتے ۔ حدیث میں ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن بن علی اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہم کو آتے ہوئے دیکھا کہ وہ دونوں لڑکھڑاتے ہوئے آرہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ روک دیا اور اُن دونوں کے پاس جا کر دونوں کو گود میں اٹھا لیا اور اپنے ساتھ منبر پر لے آئے اور فرمایا: اللہ نے بیچ فرمایا کہ میں نے ان دونوں کو چلتے اور لڑکھڑاتے دیکھا تو اپنے آپ پر قابو نہیں رکھ سکا اور ان کے پاس چلا گیا۔ پھر فرمایا: ” بے شک تم اللہ کی رحمت ہو اور تمہاری تعظیم کی جاتی ہے اور تم سے محبت کی جاتی ہے۔


حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی محبت


حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی بہت زیادہ محبت کرتے تھے۔ علامہ عمادالدین ابن کثر لکھتے ہیں صحیح بخاری میں حضرت عقبہ بن حارث سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عصر کی نماز پڑھائی اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ باہر نکلے تو حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا۔ خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو اٹھا کر اپنے کاندھے پر بٹھا لیا اور فرمایا: اللہ کی تم اتم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ ہو اور حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کے مشابہ نہیں ہو ۔ راوی بیان کرتا ہے کہ حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ دونوں کو دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔


اے اللہ ! اس سے محبت رکھ


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو دیکھتے تو بے حد محبت اور شفقت سے پیش آتے آپ رضی اللہ عنہ کے لئے اللہ سے دعائیں کرتے تھے۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے پکڑ کر اپنی ایک ران پر بٹھا لیتے اور حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو دوسری ران پر بٹھا لیتے پھر ہمیں گلے سے لگاتے اور فرماتے : ”اے اللہ ان دونوں پر رحم فرما، بے شک میں ان دونوں پر رحم کرتا ہوں ۔ اور ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اے اللہ ! میں اِن دونوں سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان دونوں سے محبت رکھ ۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کاندھے پر تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے : اے اللہ ! میں اس سے محبت رکھتا ہوں تو بھی اس سے محبت رکھ ۔ اور ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے فرمایا: ” اور جو اس سے محبت رکھے اُس سے بھی محبت رکھے ۔“


جو اس سے محبت رکھے اُس سے بھی محبت رکھتا ہوں 


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے نواسے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے اتنی محبت رکھتے ہیں کہ جو اُن سے محبت رکھتا ہے اُس سے بھی محبت رکھتے ہیں۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نواسے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کولیکر فرمایا: ”اے اللہ! میں اس سے محبت رکھتا ہوں تو بھی اس سے محبت رکھ اور جو اس سے محبت رکھے اُس سے بھی رکھ ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں مدینہ منورہ کے ایک بازار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ پھر ہم واپس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے صحن میں آکر آواز لگائی : اے بیٹے ، اے بیٹے ، اسے بیٹے ۔ مگر کوئی جواب نہیں آیا پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے صحن میں آگئے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے۔ اتنے میں حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ آگئے اور میں نے سمجھا کہ سیدہ فاطمتہ الزہراء رضی اللہ عنہ نے انہیں تیار کر کے بھیجا۔ جب وہ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو گلے سے لگالیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ ! میں اس سے محبت رکھتا ہوں اور جو اس سے محبت رکھے اُس سے بھی محبت رکھتا ہوں ۔ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمائی۔ مسنداحمد میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاتھ کا سہارا لئے بنو قینقاع کے بازار کی طرف گئے اور اُس کا چکر لگایا پھر واپس آکر مسجد میں گوٹھ مار کر بیٹھ گئے اور آواز لگائی: ”اے بیٹے ! میرے بیٹے کو میرے پاس لاؤ۔ یہ سن کر حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ دوڑتے ہوئے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گوٹھ میں چھلانگ مار دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے چہرے کا بوسہ لیا اور فرمایا: ” اے اللہ ! میں اس سے محبت رکھتا ہوں تو بھی اس سے محبت رکھ اور جو اس سے محبت رکھتا ہے اُس سے بھی محبت رکھ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ فرمائی۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” میں نے جب بھی حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کودیکھا تو میری آنکھیں اشک بار ہوگئیں اور میں رو پڑا ۔ حضرت عمیر بن اسحاق فرماتے ہیں کہ میں حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جارہا تھا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ملے اور حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”مجھے اپنی قیص کی وہ جگہ چومنے دو جہاں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چومتے دیکھا تھا۔ راوی بیان کرتا ہے کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے وہ جگہ دکھائی تو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی اُس جگہ کو چوما۔ ( مسند احمد بن حنبل)


حضرات حسنین رضی اللہ عنہم سے محبت


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرات حسنین ( حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : مسند احمد بن حنبل میں ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو ایک کندھے پر اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو دوسرے کندھے پر بٹھایا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ ایک کا بوسہ لیتے اور دوسری دفعہ دوسرے کا بوسہ لیتے۔ اس طرح باری باری دونوں کا بوسہ لیتے ۔ ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ” یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں سے بہت محبت کرتے ہیں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ان دونوں سے محبت کی اُس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سے نفرت کی اُس نے مجھے سے نفرت کی ۔“ ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے کہ حضرت حسن بن علی اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ آگئے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو یہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر سوار ہو جاتے ۔ لوگوں نے ان دونوں کو روکنا چاہا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو لوگوں سے فرمایا: ” یہ دونوں میرے بیٹے ہیں۔ جس نے ان دونوں سے محبت کی اُس نے مجھ سے محبت کی ۔ (سنن نسائی ) ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسن بن علی اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہم کو اُن کے والدین سمیت اپنی چادر میں چھپا لیا اور فرمایا: ”اے اللہ! یہ میرے اہل بیت ہیں، ان سے ناپاکی کو دور کر دے اور انہیں اچھی طرح پاک کر


جنت کے نو جوانوں کے سردار


حضرات حسنین یعنی حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ جنت میں نوجوانوں کے سردار ر ہیں گے ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ج جنتی نو جوانوں کے سردار کو دیکھ کر خوش ہونا چاہتا ہے وہ حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو دیکھ لے۔ حضرت ابو سعید خدری اور حضرت بریدہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” حسن بن علی اور حسین بن علی رضی اللہ عنہم جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں اور اُن کے والد محترم اُن سے بہتر ہیں ۔ “ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں نواسوں حضرت حسن بن علی اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہم کو اپنی پیٹھ پر بٹھائے ہوئے تھے اور چار پاؤں پر چل رہے تھے۔ میں نے کہا: تم دونوں کو اٹھانے والی سواری کتنی اچھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اور یہ دونوں سوار بھی تو کتنے اچھے ہیں (جامع ترمذی) 


تم جس سے صلح کرو گے میں بھی صلح کروں گا


حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کے اتحاد کرنے کے لئے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے صلح کی اور پوری امت مسلمہ متحد ہوگئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشنگوئی پوری ہوئی۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت حسن رضی اللہ عنہ، حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کی طرف دیکھا اور فرمایا: تم جس سے جنگ کرو گے میں بھی اُس سے جنگ کروں گا اور تم جس سے صلح کرو گے میں بھی اُس سے صلح کروں گا۔ ( مسند احمد بن حنبل) حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بے شک میرا یہ بیٹا سردار ہے اور ضرور اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو عظیم گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا۔ (مسند احمد بن حنبل)


خلفائے راشدین کی محبت


حضرات حسنین رضی اللہ عنہم یعنی حسن بن علی رضی رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے خلفائے راشدین بھی بہت محبت کرتے تھے ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم کا بہت اعزاز و اکرام کرتے تھے اور آپ رضی اللہ عنہم سے محبت کرتے تھے اور آپ رضی اللہ عنہم پر فدا ہوتے تھے اور خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا بھی یہی حال تھا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جب وظیفہ خواروں کا رجسٹر بنایا تو حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم کے لئے اہل بدر کے برابر پانچ ہزار درہم مقرر کئے ۔ اسی طرح خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ بھی حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم کا بہت اکرام کرتے تھے اور اُن سے محبت کرتے تھے۔ اور یوم الدار کو جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ محصور تھے تو حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ بھی آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تلوار لئے موجود تھے اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا بچاؤ کر رہے تھے ۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو اندیشہ ہوا کہ کہیں حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے تو انہوں قسم دے کر انہیں گھر واپس بھیجا۔ خلیفہ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ بھی اپنے بیٹے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کا بہت اعزاز و اکرام کرتے تھے۔ ایک دن آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میرے بیٹے ! کیا آپ رضی اللہ عنہ تقریر نہیں کریں گے کہ میں اُسے سنوں؟ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ”ابا جان! آپ رضی اللہ عنہ کو دیکھتے ہوئے تقریر کرنے میں جھجھک محسوس کرتا ہوں ۔ یہ سُن کر حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ ایسی جگہ جا کر بیٹھ گئے جہاں سے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ انہیں نہیں دیکھ سکتے تھے۔ پھر حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر تقریر کی اور اُن کے والد محترم حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سُن رہے تھے ۔ پس آپ رضی اللہ عنہ نے انتہائی فصیح و بلیغ تقریر کی اور جب تقریر ختم کر کے واپس آئے تو حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بعض بعض کی اولاد ہیں اور اللہ سنے اور جاننے والا ہے۔“ 


ھ50 ہجری: کوفہ میں زیاد کا استقبال


حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد زیاد کو بصرہ ، خراسان اور بجستان کے ساتھ ساتھ کوفہ کا بھی گورنر بنا دیا۔ زیاد جب کوفہ آیا تو کوفیوں نے اُس کا استقبال کنکروں سے کیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت مغیرہ بن شعبہ کے انتقال کے بعد زیادہ نے بصرہ میں سمرہ بن جندب کو اپنا نائب بنایا اور کوفہ آیا۔ وہ چھ مہینے کوفہ میں رہتا تھا اور چھ مہینے بصرہ میں رہتا تھا ۔ جب وہ کوفہ آیا تو منبر پر جا کرحمد وثنا کی اور بولا: میں بصرہ میں تھا جب مجھے کوفہ کی گورنری ملی۔ میں نے ارادہ کیا کہ بصرہ سے دو ہزار سپاہیوں کے ساتھ آؤں پھر مجھے خیال آیا کہ تم لوگ اہل حق ہو تمہارے حق نے بہت دفعہ باطل کو دفع کیا ہے۔ اس لئے فقط اپنے گھر والوں کے ساتھ تمہارے پاس چلا آیا۔الحمدللہ لوگوں نے جتنا مجھے پست کیا تھا اُس اللہ تعالیٰ نے اتنا ہی مجھے بلند کر دیا اور لوگوں نے جس بات کو ضائع کر دیا تھا اللہ نے اُس کی حفاظت کی ۔ خطبہ سے فارغ ہونے کے بعد منبر سے اترنے ہی والا تھا کہ اسے لوگوں نے سنگریزے( کنکریاں ) مارے۔ جب تک سنگریزے آتے رہے وہ منبر پر بیٹھا رہا اور جب وہ آنا بند ہو گئے تو اُس نے اپنے خاص لوگوں کو بلا کر حکم دیا کہ مسجد کے سب دروازوں کو بند کر دیں پھر کہا: میں ہر شخص کو حکم دیتا ہوں کہ وہ اپنے پاس والے آدمی کو پکڑلے اور ہرگز ہر گز کوئی یہ نہ کہے کہ میں نہیں جانتا کہ میرے پاس کون بیٹھا تھا۔ “ اس کے بعد اپنے لئے ایک کرسی مسجد کے صدر دروازے پر رکھوائی۔ پھر چار چار شخصوں کو بلا کر قسم لی کہ ہم میں سے کسی نے ڈھیلا نہیں مارا۔ جس نے قسم کھالی اُسے چھوڑ دیا جس نے قسم نہیں کھائی اُسے علیحدہ روک لیا۔ یہ سب تھیں (30) آدمی تھے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اسی (80) آدمی تھے۔ زیاد کے حکم سے اُسی جگہ اُن سب کے ہاتھ کاٹ دیئے گئے ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں 50 ہجری میں زیاد کوفہ، بصرہ، خراسان، بجستان، فارس ،سندھ ، ہند اور مشرقی سرحد کا گورنر تھا۔


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!


Saltanat e Umayya part 04

 04 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 4

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کو ہٹانے کی کوشش، قیروان شہر آباد کیا گیا ہے، حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ کی معزولی، أم المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال، حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت عثمان بن ابی عاص ثقفی رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت عمرو بن حمق کا ہن خزاعی رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت کعب بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ، ام المومنین سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کا انتقال، ھ51 ہجری، ریخ کی فتح، حضرت جریر بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت جعفر بن ابی سفیان بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کا انتقال



رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کو ہٹانے کی کوشش


اس سال 50 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کو اس کی جگہ سے ہٹانے کی کوشش کی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اس سال 50 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کو اٹھا کر ملک شام لے جائیں۔ منبر کو ذرا سی حرکت دی گئی تو سورج کو گہن لگ گیا اور مدینہ منورہ میں اتنا اندھیرا چھا گیا کہ دن میں تارے دکھائی دینے لگے۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے امر کو سب لوگوں نے امر عظیم سمجھا۔ اس پر آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: " میرا ارادہ یہ نہیں تھا کہ منبر اٹھایا جائے۔ مجھے اندیشہ یہ ہوا کہ دیمک لگ گئی ہوگی اس لئے میں نے خود دیکھ لیا۔ پھر اسی دن منبر پر پوشش ڈال دی ۔ خود حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میری رائے یہ تھی کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے منبر اور عصا کو مدینہ منورہ میں نہیں چھوڑ نا چاہیئے وہاں کے لوگ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے قاتل اور دشمن ہیں ۔ جب حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ تشریف لائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عصائے مبارک حضرت سعد قرض کے پاس تھا۔ اُن سے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے عصائے مبارک منگوایا۔ حضرت ابو ہریرہ اور حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم یہ سن کر اُن کے پاس آئے اور فرمایا: ”اے امیر المومنین رضی اللہ عنہ اللہ کے واسطے ایسا نہ کریں۔ یہ بات مناسب نہیں ہے کہ جس جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود منبر رکھا ہے وہاں سے آپ رضی اللہ عنہ منبر کو اٹھا کر ملک شام لے جائیں۔ پھر ایسا ہو گا کہ مسجد کو بھی یہاں سے لے جایا جائے گا۔ آخر کار حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے ارادہ ترک کر دیا اور اور منبر میں چھ زینے بڑھا دیئے۔ اس زمانے میں ( علامہ محمد بن جریر طبری کے زمانے میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منبر آٹھ زمینوں کا ہے اور اس باب میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے بہت معذرت کی ۔ علامہ عمادالدین ابن اکثیر لکھتے ہیں : حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کو مدینہ منورہ سے دمشق منتقل کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا اور یہ کہ وہ عصا پکڑلیں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے وقت پکڑا کرتے تھے اور وہ بھی اُس عصا کو پکڑ کر منبر پر کھڑے ہوں یہاں تک کہ حضرت ابو ہریرہ اور حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم نے فرمایا: ”اے امیر المومنین رضی اللہ عنہ ! ہم آپ کو ایسا کرنے سے اللہ کی یاد دلاتے ہیں ۔ یہ مناسب نہیں ہے کہ منبر کو اُس جگہ سے ہٹایا جائے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھا ہے اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عصائے مبارک مدینہ منورہ سے باہر لے جایا جائے ۔ پس حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے اس ارادے کو ترک کر دیا لیکن منبر میں چھ سیڑھیوں کا اضافہ کر دیا اور لوگوں کے پاس معذرت کی۔


قیروان شہر آباد کیا گیا ہے


جب حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ حکمراں بنے تھے تو اہم 42 ہجری میں حضرت عقبہ بن نافع فہری رضی اللہ عنہ کو افریقہ ( یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ آج کا جو شمالی افریقہ ہے اُس زمانے میں اُس علاقے کو افریقہ کہا جاتا تھا ) کا سپہ سالار بنا کر بھیجا تھا اور انہوں نے افریقہ کے بہت سے علاقے فتح کر کے وہاں ایک نیا شہر قیروان بسایا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے حضرت عقبہ بن نافع فہری رضی اللہ عنہ کو لشکر دے کر افریقہ کی طرف روانہ کیا۔ انہوں نے افریقہ فتح کیا اور شہر قیروان کی بنیاد ڈالی ۔ اُس مقام پر درندے اور سانپوں سے بھرا ہوا ایسا جنگل تھا کہ وہاں جانے کی کسی کو جرات نہیں ہوتی تھی۔ حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ نے جانوروں کے لئے بھاگ جانے کی دعا کی تو سب کے سب وہاں سے بھاگ گئے۔ حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ نے پکار کر کہا: ”اب ہم لوگ یہاں آگئے ہیں اس لئے تم سب غول کے غول متفرق ہو جاؤ ۔“ یہ سنتے ہی سوراخوں سے نکل نکل کر سب بھاگے ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عقبہ بن نافع فہری رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے حکم سے بلاد افریقہ کو فتح کیا اور قیروان کی حد بندی کی اور وہ ایک جنگل تھا جس میں درندے، جنگلی جانور اور بڑے بڑے سانپ پناہ لیتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اللہ سے دعا کی تو اُن میں کوئی بھی وہاں باقی نہیں رہا۔ حتی کہ درندے وہاں سے اپنے بچوں کو اُٹھا کر لے گئے اور سانپ بلوں سے نکل بھاگے۔ بربریوں میں سے بہت سے لوگ مسلمان ہو گئے اور حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ نے اُس جگہ قیروان کی تعمیر کی۔ 


حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ کی معزولی


اس سال یعنی 50 درخت۔  ہجری میں حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ کو معزول کر دیا گیا۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں : ایک شخص جو حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ کے لشکر میں اُن کے ساتھ افریقہ گیا تھا کہتا ہے کہ حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ سب سے پہلے شخص ہیں جنہوں نے قیروان کی بنیاد ڈالی ۔ لوگوں کو رہنے اور گھر بنانے کے لئے زمینیں دیں اور وہاں کی مسجد انہوں نے خود بنوائی ۔ اُن کے معزول ہونے تک ہم سب اُن کے ساتھ رہے۔ حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ بہترین گورنروں میں سے ہیں۔ اس سال ۵۰ ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے ملک مصر کے گورنر معاویہ بن خدیج کو معزول کر دیا اور ملک مصر کا گورنر مسلمہ بن مخلد کو بنا دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلمہ بن مخلد کے ماتحت افریقہ کا علاقہ بھی کر دیا۔ اُس نے حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ کو معزول کر دیا اور اپنے غلام ابو المہاجر کو افریقہ کا گورنر بنا دیا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: اہل افریقہ نے یہ وطیرہ اختیار کر لیا تھا کہ جب اسلامی لشکر اُن کی سرکوبی کو آجاتا تو فورا مطیع ہو جاتے اور جب وہ کوچ کر جاتا تو باغی و خود مختار ہو جاتے تھے ۔ اس لئے افریقہ میں مسلمانوں نے یہ فیصلہ کیا کہ اسلامی لشکر کے لئے کوئی کیمپ بنایا جائے تا کہ اہل افریقہ کی آئے دن کی بغاوت اور سرکشی سے نجات ملے اور مسلمان اہل افریقہ کے شرو فساد سے محفوظ و مامون رہیں ۔ اسی لئے مقام قیروان کو منتخب کر کے خس و خاشاک صاف کیا، اونچی نیچی زمین کو ہموار کیا۔ جامع مسجد بنوائی ہشکریوں کے رہنے کے لئے مکانات تیار کرائے۔ ہر قبیلہ کی الگ الگ مسجد بنائی ۔ جامع مسجد کا طول تین ہزار ذراع اور عرض چھ سو ذراع کا تھا۔ پانچ سال میں قیروان شہر کی تعمیر ہوئی اور اس دوران مسلسل جہاد کرتے رہے۔ انہیں ایام میں اکثر بربر نے بھی اسلام قبول کر لیا اور مسلمانوں کی قوت اور طاقت بڑھ گئی اور اُس اسلامی لشکر کے بازو مضبوط ہو گئے جو قیروان میں مقیم تھا ۔ اس کے بعد حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ کو معزول کر دیا گیا۔


أم المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال


اس سال 50 هجری میں اُم المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا۔ یہودیوں کے جو قبائل مدینہ منورہ کے آس پاس آباد تھے اُن میں سے ایک قبیلے کے سردار کی بیٹی سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: ام المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا سلسلہ نسب اس طرح ہے۔ سیدہ صفیہ بنت حی بن اخطب بن ثعلبہ بن عبد بن کعب بن خزرج بن ابی ایہب بن نصیر بن نحام بن تحوم ہے۔ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا سلسلہ نسب حضرت ہارون علیہ السلام سے جا کر ملتا ہے۔ اس طرح آپ رضی اللہ عنہا حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور اپنے باپ اور چا کے ساتھ مدینہ منورہ کے مضافات میں رہتی تھیں ۔ آپ رضی اللہ عنہا کے باپ اور شوہر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دھو کہ بازی کی اور قتل کر دیے گئے ۔ آپ رضی اللہ عنہا غزوہ خیبر کے قیدیوں میں تھیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ سیدہ صفیہ ایک سردار کی بیٹی ہیں ۔ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کر دیا تو آپ رضی اللہ عنہا نے اسلام قبول کر لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا سے نکاح کر لیا۔ واپسی میں جب مقام صبا پر پڑاؤ ڈالا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق زوجت ادا کیا۔ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا اپنے چازاد بھائی کنانہ بن حقیق سے بیاہی ہوئی تھیں جو جنگ میں مارا گیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا کے رُخسار پر تھپڑ کا نشان دیکھا تو اس کے بارے میں دریافت فرمایا : یہ کیسا نشان ہے ؟ آپ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ” میں نے خواب دیکھا تھا کہ گویا چاند یثرب (مدینہ منورہ) سے آکر میری گود میں آگرا ہے۔ میں نے یہ خواب اپنے شوہر کو بیان کیا تو اُس نے مجھے تھپڑ مارا اور بولا: "ٹو یثرب کے بادشاہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) سے نکاح کرنا چاہتی ہے؟ یہ نشان اس تھپڑ کا ہے ۔ ام المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا عبادت ، تقویٰ، زہد نیکی اور صدقہ کے لحاظ سے ”سیدات النساء تھیں۔


حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 50 ہجری میں حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں جو غزوہ اُحد کے بعد مسلمان ہوئے اور سب سے پہلے بیئر معونہ کی جنگ میں شرکت کی ۔ آپ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ڈاکیہ ہونے کا شرف حاصل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُم المومنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کے سلسلے میں حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کو ملک حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے پاس بھیجا تھا او حکم دیا تھا کہ ملک حبشہ سے مسلمانوں کو لیکر آئیں نجاشی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق ام المومنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کر دیا اور دعوت ولیمہ بھی کی۔ اس کے بعد حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کے ساتھ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو اور ملک حبشہ میں بسے مسلمانوں کو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیج دیا۔ حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کے افعال و آثار قابل تعریف ہیں اور آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں ہوا۔


حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 50 ہجری میں حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت دحیہ بن خلیفہ کلبی رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ بہت خوب صورت تھے اسی وجہ سے جبرائیل علیہ السلام اکثر آپ رضی اللہ عنہ کی صورت میں آتے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو سلطنت روم کے قیصر کی طرف اسلام کی دعوت دینے کے لئے بھیجا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے بہت پہلے اسلام قبول کیا تھا لیکن غزوہ بدر میں شامل نہیں ہو سکے تھے۔ پھر اس کے بعد کے ہر معرکے میں شامل رہے۔ پھر ملک شام جہاد کے لئے گئے اور جنگ یرموک میں شامل ہوئے۔ وہاں فتح حاصل ہونے کے بعد دمشق کے مغرب میں مقام مرۃ میں رہائش اختیار کر لی۔ یہاں تک کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں انتقال ہو گیا۔


حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 50 ہجری میں حضرت عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کا بھی انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عبدالرحمن بن سمرہ بن حبیب بن عبد شمس بیشمی رضی اللہ عنہ نے فتح مکہ کے روز اسلام قبول کیا۔ بعض کا قول ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ معرکہ موتہ میں بھی شامل ہوئے۔ اس کے علاوہ خراسان میں جنگ کی اور بجستان اور کابل وغیرہ کو فتح کیا۔ زمانہ جاہلیت میں آپ رضی اللہ عنہ کا نام عبد الکلال تھا اور بعض کے مطابق عبد کلوب تھا اور بعض عبد الکعبہ بھی بیان کرتے ہیں۔ جب آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کا نام بدل کر عبد الرحمن رکھ دیا۔ دمشق میں آپ رضی اللہ عنہ کا ایک گھر تھا اور بصرہ میں بھی ایک گھر تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ اُن دوسفیروں میں سے ایک ہیں جنھوں نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے درمیان صلح کرائی۔ آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں ہوا۔


حضرت عثمان بن ابی عاص ثقفی رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 50 ہجری میں حضرت عثمان بن عاص ثقفی رضی اللہ عنہ کا بھی انتقال ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عثمان بن عاص ثقفی رضی اللہ عنہ کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت حاصل ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ طائف کے وفد بنو ثقیف کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کوطائف کا گورنر مقررفرما دیا۔ چاروں خلفائے راشدین نے آپ رضی اللہ عنہ کو اس عہدے پر برقرار رکھا۔ آپ رضی اللہ عنہ طویل عرصے تک طائف کے گورنر رہے یہاں تک کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا۔


حضرت عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 50 ہجری میں خلیفہ چہارم حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کے بڑے بھائی حضرت عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ دوسرے نمبر کے بیٹے ہیں ۔ حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ سب سے چھوٹے بھائی ہیں۔ اُن سے دس سال بڑے حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں۔ اُن سے دس سال بڑے حضرت عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں ۔ اُن سے دس سال کا بڑا طالب ہے۔ طالب کے علاوہ تینوں بھائیوں نے اسلام قبول کیا ہے۔ حضرت عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے صلح حدیبیہ سے پہلے اسلام قبول کیا اور جنگ موتہ میں شامل ہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہ قریش کے بڑے نساب دانوں میں سے ہیں ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں انتقال ہوا۔


حضرت عمرو بن حمق کا ہن خزاعی رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 50 ہجری میں حضرت عمرو بن حمق خزاعی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت عمرو بن حمق کا ہن خزاعی نے فتح مکہ سے قبل اسلام قبول کیا اور ہجرت کی ۔ بعض کا قول ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے حجتہ الوداع کے سال اسلام قبول کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کے لئے دعا کی تھی کہ اللہ تعالی آپ رضی اللہ عنہ کو شباب سے شاد کام کرے۔ اس دعا کا اثر یہ ہوا کہ آپ رضی اللہ عنه ای سال تک زندہ رہے اور آپ رضی اللہ عنہ کا ایک بال بھی سفید نہیں ہوا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ جمل اور جنگ صفین میں شرکت کی اور حجر بن عدی کے مددگاروں میں تھے زیاد نے تلاش کیا تو آپ رضی اللہ عنہ ” موصل" چلے گئے ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے موصل کے گورنر کو حکم دیا کہ آپ رضی اللہ عنہ کو تلاش کیا جائے ۔ آپ رضی اللہ عنہ ایک غار میں چھپ گئے جہاں ایک سانپ نے ڈس لیا اور انتقال ہو گیا۔


حضرت کعب بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 50 ہجری میں حضرت کعب بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ کا بھی انتقال ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ کے اولین اسلام قبول کرنے والوں میں سے ہیں اور بیعت عقبہ میں بھی شامل رہے۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت کعب بن مالک انصاری سلمی رضی اللہ عنہ شاعر اسلام ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے بہت پہلے اسلام قبول کیا اور بیعت عقبہ میں شامل ہوئے اور غزوہ بدر میں شامل نہیں ہوئے ۔ صحیحین ( صحیح بخاری اور صحیح مسلم ) میں آپ رضی اللہ عنہ کی توبہ کی قبولیت کے بارے میں بہت تفصیل سے ذکر ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ ان تین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک ہیں جو غزوہ تبوک میں شامل نہیں ہو سکے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب عذر دریافت کیا تو ان تینوں نے تسلیم کیا کہ ہمارے نہیں شامل ہونے کا کوئی عذر نہیں ہے اور اللہ ہی ہمیں معاف کر سکتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تینوں کے بائیکاٹ کا حکم دے دیا ۔ آخر کار اللہ تعالیٰ نے ان تینوں کو معاف کر دیا قرآن پاک میں ان تینوں کی توبہ کی قبولیت کی آیات نازل فرمائی۔


حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا انتقال 


اس سال 50 ہجری میں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا بھی انتقال ہوا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت مغیرہ بن شعبہ بن عامر بن مسعود ثقفی رضی اللہ عنہ طائف کے ہیں اور حضرت عروہ بن مسعود ثقفی رضی اللہ عنہ آپ رضی اللہ عنہ کے باپ کے چا ہیں۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ ملک عرب کے دانش مندوں اور صاحب الرائے لوگوں میں سے ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے بنو ثقیف کے تیرہ آدمیوں کو مقوقس کے پاس سے واپس آنے پر قتل کر کے اُن کے اموال کو لے لیا اور مدینہ منورہ آکر اسلام قبول کر لیا تھا۔ اُن کی دیات کا تاوان حضرت عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ادا کیا۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے صلح حدیبیہ میں شرکت کی اور صلح کے روز آپ رضی اللہ عنہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر تلوار سونتے کھڑے رہے ۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل طائف کے اسلام قبول کرنے کے بعد آپ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو سفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور ان دونوں نے طائف کے بُت ”لات“ کوتوڑ دیا۔ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو شکر دے کر بحرین کی طرف بھیجا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے یمامہ اور یرموک کی جنگوں میں بھی شرکت کی اور اُس روز آپ رضی اللہ عنہ کی آنکھ ضائع ہو گئی ۔ آپ رضی اللہ عنہ جنگ قادسیہ میں بھی شامل تھے۔ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو بہت سی فتوحات پر مقرر کیا جن میں ہمدان اور میسان شامل ہیں۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے جنگ قادسیہ سے پہلے آپ رضی اللہ عنہ کوہی اپنا ایچی بنا کر فارسیوں (ایرانیوں) کے سپہ سالار رستم کے پاس بھیجا تھا اور آپ رضی اللہ عنہ نے اُس سے انتہائی فصیح و بلیغ گفتگوکی تھی۔ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو بصرہ کا گورنرمقر فرمایا تھا۔ حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد جب حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے درمیان صلح ہوگئی اور حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ مملکت اسلامیہ کے حکمراں بن گئے تو انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کوکوفہ کا گورنر بنا دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ انتقال کے وقت بھی کوفہ کے گورنر تھے۔


ام المومنین سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کا انتقال


اس سال 50 ہجری میں اُم المومنین سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کا بھی انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ رضی اللہ عنہا غزوہ مریسیع میں قیدی بن کر آئیں اور یہی غزوہ مصطلق ہے۔ آپ رضی اللہ عنہا کے والد اُس قبیلے کے سردار تھے۔ آپ رضی اللہ عنہا نے اسلام قبول کرلیا تو سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا کو آزاد کردیا اور نکاح کر لیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپس میں کہا کہ اس قبیلے کے لوگ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ دار ہو گئے ۔ پس اُن کے قبضے میں بنو مصطلق کے جتنے بھی قیدی تھے سب کو آزاد کر دیا۔ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اس غزوہ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھیں ۔ آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر ایسی کسی عورت کو نہیں دیکھا جو اپنے قبیلے والوں کے لئے اتنی با برکت ثابت ہوئی ہو۔“ أم المؤمنین سیدہ جو رہ رضی اللہ عنہا کا نام اسلام قبول کرنے سے پہلے برہ تھا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا کا نام جو یہ یہ رکھ دیا۔ آپ رضی اللہ عنہا بہت ہی شیریں کلام عورت تھیں۔


ھ51 ہجری


ھ51 ہجری میں حضرت حجر بن عدی کی دردناک شہادت کا واقعہ پیش آیا۔ انہیں اُن کے ساتھیوں سمیت شہید کر دیا گیا تھا۔ حضرت حجر بن عدی کھلے عام خلیفہ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی حمایت کرتے تھے ۔ انہیں زیاد کے حکم سے اُن کے ساتھیوں سمیت شہید کر دیا گیا علامہ محمد بن جریر طبری اور علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر نے حضرت حجر بن عدی کی شہادت کے واقعہ کو بہت تفصیل سے بیان کیا ہے۔ اس  معاملے میں ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے اپنی ناراضگی کا اظہار بھی کیا تھا۔ ہم نے یہاں انتہائی مختصر بیان کیا ہے تفصیل کے لئے تاریخ کی معتبر کتابوں سے رجوع کریں۔


ریخ کی فتح


او پر ہم بیان کر چکے ہیں کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے زیاد ( ابن سمیہ ) کو کوفہ اور بصرہ کے ساتھ ساتھ خراسان اور آس پاس کے تمام علاقوں کا گورنر بنا دیا تھا۔ یوں سمجھ لیں کہ آج کے ملک عراق اور ملک ایران اور آس پاس کے تمام علاقوں کا اُس وقت زیاد گورنر تھا علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اس سال ۵۱ ہجری میں زیاد نے ربیع بن زیاد حارثی کو خراسان کا گورنر بنا کر روانہ کیا۔ حکم بن عمرو نے اپنے انتقال کے وقت انس بن ابی انس کو خضر اسان کا گورنر بنایا تھا اور زیاد کو اس کی اطلاع دے دی تھی۔ زیاد نے انس کو معزول کر کے اُس کی جگہ خلید بن عبد اللہ کو گورنر بنا دیا۔ ایک مہینے کے بعد زیاد نے خلید کو بھی معزول کر دیا اور خراسان کا گورنر ربیع کو بنادیا۔ وہ اپنے اہل وعیال سمیت خراسان میں جا کر بس گیا۔ ربیع بن زیاد حارثی نے بلخ کا محاصرہ کر لیا۔ اس سے پہلے احنف بن قیس سے اہل بلخ نے صلح کی تھی لیکن شہر کے دروازے نہیں کھولے تھے ۔ ربیع نے حملہ شروع کیا تو اہل بلخ نے صلح کی درخواست کی جسے ربیع نے قبول کر لیا اور صلح کے بعد انہوں نے شہر کے دروازے کھول دیئے ۔ قہستان کو بھی ربیع نے جنگ کر کے فتح کیا اُس کے اضلاع میں ترکوں کو قتل کر کے انہیں شکست دی۔ ایک ترک طرخان باقی رہ گیا تھا اُسے قتیبہ بن مسلمہ نے اپنی سپہ سالاری کے دور میں قتل کیا ۔ جس کا ذکر انشاء اللہ آگے آئے گا۔ ربیع اپنے غلام فرخ اور کنیز شریفہ کو ساتھ لئے ہوئے لڑتا ہوا نہ ترکستان ( ماوراء النہر) کو صحیح و سالم عبور کر گیا۔ فرخ اس سے پہلے نہر پار کر چکا تھا۔ ربیع نے اُسے غلامی سے آزاد کر دیا۔ اس سال یزید بن معاویہ نے مسلمانوں کو حج کرایا۔


حضرت جریر بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 51 ہجری میں حضرت جریر بن عبداللہ بلی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ سورہ المائدہ کے نزول کے بعد مسلمان ہوئے آپ رضی اللہ عنہ نے ماہ رمضان المبارک 10 ہجری میں اسلام قبول کیا۔ جب آپ رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ آئے تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے کے دوران فرمایا: ” اس راستے سے تمہارے پاس یمن والوں کا ایک بہترین شخص آ رہا ہے اور اس کے چہرے پر شاہی نشان ہے ۔“ جب حضرت جریر بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ آئے تو لوگوں نے آپ رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق پایا۔ لوگوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت کی خبر دی تو آپ رضی اللہ عنہ نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ روایت ہے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جب اُن کے ساتھ بیٹھے تو اُن کے لئے اپنی چادر بچھادی اور فرمایا : " جب تمہارے پاس کسی قوم کا سردار آئے تو اُس کی عزت کیا کرو ، صحیحین ( صحیح بخاری اور صحیح مسلم ) میں ہے کہ حضرت جریر بن عبد اللہ بجلی نے فرمایا: ” جب سے میں نے اسلام قبول کیا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے حجاب اختیار نہیں کیا اور مجھے دیکھ کر تبسم فرماتے تھے اور خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے : ” حضرت جریر رضی اللہ عنہ اس اُمت کے یوسف ہیں اور عبدالملک بن عمیر نے بیان کیا ہے کہ میں نے حضرت جریر بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ کودیکھا تو آپ رضی اللہ عنہ کا چہرہ چاند کا ٹکڑا معلوم ہوتا تھا خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو ہدان کا گورنر بنایا تھا۔ وہاں پر جنگ میں آپ رضی اللہ عنہ کی ایک آنکھ ضائع ہوگئی حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد آپ رضی اللہ عنہ غیر جانب دار رہے اور ہمیشہ الجزیرہ میں ہی مقیم رہے یہاں تک کے 51 ہجری میں آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا۔


حضرت جعفر بن ابی سفیان بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 51 ہجری میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے چازاد بھائی حضرت جعفر بن ابی سفیان بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ۔ یادر ہے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے والد ابو سفیان بن حرب ہیں اور حضرت جعفر بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے والد ابوسفیان بن عبدالمطلب ہیں۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت جعفر بن ابی سفیان بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ نے فتح مکہ کے سال جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ فتح مکہ کے لئے تشریف لا رہے تھے تب آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے والد محترم حضرت ابوسفیان بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان راستے میں مل کر اسلام قبول کیا۔ جب دونوں باپ بیٹے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے بات نہیں کی اور چہرہ مبارک پھیر لیا۔ یہ دیکھ کر حضرت ابوسفیان بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کی قسم ! اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے معاف نہیں کیا تو میں اپنے اس بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر زمین میں ایسی جگہ چلا جاؤں گا کہ کچھ معلوم نہیں ہو گا کہ میں کہاں گیا ہوں ۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ سن کر آپ رضی اللہ عنہ کو معاف فرمادیا اور دونوں باپ بیٹے نے اسلام قبول کر لیا۔ اس کے بعد دونوں باپ بیٹے بہت اچھے مسلمان ثابت ہوئے اور غزوہ حنین میں شامل ہوئے اور اُس میں ثابت قدم رہنے والوں میں شامل تھے۔ حضرت ابو سفیان بن عبد المطلب اُس غزوے میں سید الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی لگام پکڑے ہوئے تھے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!


جمعرات، 5 ستمبر، 2024

Saltanat e Umayya part 05

 05 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 5

حضرت حارثہ بن نعمان انصاری رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت عبد اللہ بن اُنیس رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت ابوبکر فیع بن حارث رضی اللہ عنہ کا انتقال، ام المومنین سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کا انتقال، ھ52 ہجری، حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا انتقال، ھ53 ہجری: جزیره رودس کی فتح، حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی دعا، ابن سمیہ ( زیاد بن ابی سفیان ) کا انتقال، ا53 ہجری کے خاتمے پر مملکت اسلامیہ کے گورنر، حضرت معصعہ بن ناجیہ رضی اللہ عنہ کا انتقال، ھ53 ہجری: سعید بن عاص کی معزولی، عبید اللہ بن زیاد خراسان کا گورنر، ترکوں سے جنگ، 



حضرت حارثہ بن نعمان انصاری رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 51 ہجری میں حضرت حارثہ بن نعمان انصاری رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت حارثہ بن نعمان انصاری رضی اللہ عنہ انصار میں سے اولین اسلام قبول کرنے والوں میں سے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ غزوہ بدر، احد ، خندق اور دوسرے معرکوں میں شامل ہوئے ۔ آپ رضی اللہ جلیل القدر فضلاء صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ہیں۔ روایت ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے جبرئیل علیہ السلام کو رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ خیبر کے بعد مقاعد“ میں گفتگو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ نیز آپ رضی اللہ عنہ نے غزوہ بنو قریظہ کے روز جبرئیل علیہ السلام کو انسانی شکل میں حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کی شکل میں دیکھا ہے۔ اور صحیح میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو جنت میں قرآت کرتے ہوئے سنا ہے۔


حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے چچا زاد بھائی ہیں اور وہی بہنوئی ہیں جن کے گھر جا کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے انہیں مارا تھا اور پھر اسلام قبول کیا تھا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت سید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے چچازاد بھائی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ کی بہن عاتکہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی بیوی ہیں اور اُن کی بہن سیدہ فاطمہ حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کی بیوی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کی بیوی نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے پہلے اسلام قبول کیا تھا اور دونوں نے ساتھ ہجرت بھی کی تھی۔ حضرت سید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سادات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے غزوہ بدر میں شرکت نہیں کی کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اور حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کو اپنے سے آگے قریش کے حالات معلوم کرنے کے لئے بھیجا تھا۔ جب یہ دونوں واپس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ بدر سے فارغ ہو چکے تھے ۔ اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر کے مال غنیمت میں ان دونوں کا بھی حصہ لگایا۔ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کومجلس شوری میں اس لئے شامل نہیں کیا کہ کہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے رشتہ داری کی وجہ سے آپ رضی اللہ عنہ کی طرف داری نہ کی جائے اور انہیں خلیفہ مقرر کر دیا جائے۔ اس لئے آپ رضی اللہ عنہ کا نام مجلس شوریٰ میں نہیں رکھا۔ آپ رضی اللہ عنہ ہمیشہ اسی حالت میں رہے یہاں تک کہ انتقال ہو گیا۔ 


حضرت عبد اللہ بن اُنیس رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 51 ہجری میں حضرت عبد اللہ بن اُنہیں جہنی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عبد اللہ بن انیس جہنی رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے بیعت عقبہ میں شرکت کی اور غزوہ بدر میں شامل نہیں ہوئے اور اس کے بعد کے معرکوں میں شامل رہے۔ آپ رضی اللہ عنہ اور حضرت معاذ رضی اللہ عنہ انصار کے بت توڑا کرتے تھے صحیح میں آپ رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث ہے کہ لیلتہ القدر تئیس کی رات کو ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ کوہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن سفیان ہذلی کی طرف بھیجا تو آپ رضی اللہ عنہ نے عرفہ میں اُسے قتل کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو اپنی چھڑی عطا فرمائی اور فرمایا: ” میرے اور تمہارے درمیان جو تعلق ہے یہ چھڑی قیامت کے دن اس کی نشانی ہوگی ۔ پس آپ رضی اللہ عنہ کی وصیت کے مطابق وہ چھڑی آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہی دفن کی گئی۔ 


حضرت ابوبکر فیع بن حارث رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 51 ہجری میں حضرت ابوبکر فیع بن حارث کا بھی انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت ابو بکر نفیح بن حارث بن کلدہ بن عمرو بن علاج بن ابی سلمہ ثقفی رضی اللہ عنہ صحابی ہیں۔ کہتے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ کا نام "مسروح تھا اور آپ رضی اللہ عنہ کو ابوبکر ہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ غزوہ طائف میں چرخی سے شہر پناہ (فصیل) سے نیچے اترے تھے ( کیونکہ شہر پناہ کے دروازے بند تھے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو اور اس دن جتنے بھی غلام طائف کی شہر پناہ پار کر کے اُترے تھے سب کو آزاد کر دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کی ماں کا نام مسمیہ ہے اور یہ زیاد کی بھی ماں ہے ( جسے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے کوفہ، بصرہ اور خراسان وغیرہ کا گورنر بنایا تھا ) حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد آپ رضی اللہ عنہ غیر جانب دار رہے۔ ا۵ ہجری میں انتقال ہوا اور آپ رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے پڑھائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کے درمیان مواخات کرائی تھی۔ 


ام المومنین سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کا انتقال


اس سال اُم المومنین سیدہ میمونہ بنت حارث ہلالیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اس سال 51 ہجری میں اُم المومنین سیدہ میمونہ بنت حارث ہلالیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے سات کے ہجری میں عمرۃ القضاء میں آپ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے ( آپ رضی اللہ عنہ ام المومنین سیدہ میمونہ بن حارث رضی اللہ عنہا کی بہن ام الفضل لبابہ بنت حارث کے بیٹے ہیں ) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کھول دینے کے بعد (نمر مکمل ہو جانے کے بعد ) نکاح کیا ہے۔ اور صحیح مسلم میں حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے یہ بات ثابت ہے کہ دونوں حلال تھے (یعنی عمر مکمل کر چکے تھے )۔ پہلے آپ رضی اللہ عنہا کا نام ”برہ تھارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدل کر میمونہ رکھ دیا۔ آپ رضی اللہ عنہا نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان اُس جگہ جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق زوجیت ادا فر مایا تھا وہاں انتقال ہوا اور آپ رضی اللہ عنہا کے بھانجے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے جنازے کی نماز پڑھائی۔


ھ52 ہجری


اس سال یعنی 52 ہجری میں ایسا کوئی خاص واقعہ پیش نہیں آیا جسے ذکر کیا جا سکے۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ بدستور مملکت اسلامیہ پر حکمرانی کرتے رہے اور تمام مملکت اسلامیہ میں تمام گورنر بھی وہی رکھے جو پچھلے سال تھے۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں ۔ بعض مورخین کہتے ہیں کہ سفیان بن عوف از دی نے سرزمین روم پر اس سال جہاد کیا اور وہیں جاڑوں میں قیام کیا اور وہیں وفات پائی۔ ونہوں نے عبداللہ بن مسعدہ فرازی کو اپنی جگہ مقررکیا۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سال سرزمین روم پرنسر بن ارطاۃ نے لوگوں کے ساتھ جاڑا ابسر کیا انہیں لوگوں میں سفیان بن عوف از دی بھی تھے ۔ اسی سال محمد بن عبد اللہ ثقفی نے جنگ صائفہ کی۔ (سرزمین روم میں اکثر فصیل صیف ہی میں جنگ ہوا کرتی تھی اس وجہ سے عرب اس جنگ کو جنگ صائفہ کہتے تھے ۔) اس سال سعید بن عاص نے مسلمانوں کو حج کرایا۔ اور تمام علاقوں کے گورنر وہی رہے جو پچھلے سال تھے۔


حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا انتقال


حضرت ابو ایوب انصاری نام حضرت خالد بن زید بن کلیب انصاری خزرجی ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے میزبان ہیں اور مسجد نبی کی تعمیر مکمل ہونے تک سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے گھر میں تشریف فرما ر ہے۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت ابوایوب انصاری خزرجی رضی اللہ عنہ نے بیعت عقبہ، غزوہ بدر اور تمام معرکوں میں شمولیت کی اور حروریہ کے ساتھ جنگ میں حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کے ساتھ شامل تھے ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ آئے تو آپ رضی اللہ عنہ ہی کے گھر میں فروکش ہوئے اور آپ رضی اللہ عنہ کے یہاں ایک مہینے تک قیام کیا حتی کہ مسجد اور اُس کے ارد گرد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہائش گا ہیں تعمیر ہو گئیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان رہائش گاہوں میں منتقل ہو گئے۔ حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر کے نچلے حصے میں اُتارا۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے گناہ سے بچنے کے لئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم او پر چلے جائیں اور میں اور اُم ایوب نیچے رہیں گے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کی بات قبول کر لی ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بصرہ میں میرے پاس آئے اور میں بصرہ کا گورنر تھا تو میں اُن کی خاطر اپنے گھر سے نکل کر شہر سے باہر آیا اور استقبال کیا اور جب حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے واپسی کا ارادہ کیا تو بہت سے تحائف اور چالیس خادم دیئے ۔ جب اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائی گئی تو حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی بیوی نے کہا: ” کیا آپ ان باتوں کو نہیں سنتے ہیں جو لوگ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں کہہ رہے ہیں؟“ آپ رضی اللہ عنہا نے اپنی بیوی ام ایوب رضی اللہ عنہا سے فرمایا: کیا میں یہ کر رہا ہوں یا اُم ایوب کر رہی ہے؟ وہ بولیں : اللہ کی قسم ! ہم نہیں کر رہے ہیں ۔ " حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” اللہ کی قسم! ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا تجھ سے بہت بہتر ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ کی وفات اس سال یعنی 52 ہجری میں بلا دروم میں قسطنطنیہ کی فصیل کے نزدیک ہوئی۔


حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 52 ہجری میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت ابو موسیٰ نام عبد اللہ بن قیس بن سلیم بن حضار بن حرب بن عامر بن غزبن بکر بن عامر بن عذر بن وائل بن ناجیہ بن جماہر بن اشعر اشعری رضی اللہ عنہ ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ملک یمن میں اسلام قبول کیا اور خیبر کے سال حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے اصحاب کے ساتھ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے ساتھ آپ رضی اللہ عنہ کو بھی ملک یمن کا گورنر مقرر فرمایا۔ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بصرہ کا گورنر بنایا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ” تستر“ کو فتح کیا۔ خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے بھی آپ رضی اللہ عنہ کو کوفہ کا گورنر بنایا۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو حکم ( فیصلہ کرنے والا ) بنایا ۔ آپ رضی اللہ عنہ قراء اور فقہاء صحابہ رضی اللہ عنہم سے تھے اور اپنے زمانے میں سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے زیادہ خوش آواز تھے ۔ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اکثر فرماتے تھے: ”اے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ! ہمیں ہمارا رب یاد دلا دو ۔ پس آپ رضی اللہ عنہ قرآن پاک کی تلاوت شروع کر دیتے تو وہ سنتے تھے۔ شہادت کے وقت خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنی وصیت میں لکھا: ” حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے سوا میرے کسی بھی گورنر کو ایک سال سے زیادہ برقرار نہیں رکھا جائے۔“ 


حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 52 ہجری میں حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کا بھی انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عمران بن حصین بن عبید خزاعی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ خیبر کے سال اسلام قبول کیا۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے ہر غزوہ میں شمولیت کی۔ آپ رضی اللہ عنہ سادات صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے ہیں۔ خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں جب عبد اللہ بن عامر بصرہ کا گورنر تھا تو اس نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کو قاضی کے عہدے پر مقرر کیا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے کافی دن وہاں پر فیصلے کئے پھر قاضی کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور وہیں بصرہ میں رہائش پذیر ہو گئے اور یہیں انتقال ہوا۔


ھ53 ہجری: جزیره رودس کی فتح


اس سال 53 ہجری میں مسلمانوں نے بلادِ روم میں ایک ایسا جزیرہ فتح کیا جہاں سے وہ رومیوں کو بڑے اطمینان سے سمندر میں آگے بڑھنے سے روک سکتے تھے اور اسلامی سرحدوں کی حفاظت کر سکتے تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اس سال ۵۳ ہجری میں عبد الرحمن بن اُم حکم ثقفی نے سرزمین روم میں جاڑا بسر کیا ۔ اسی سال جنادہ بن ابی اُمیہ از دی نے جزیره رودس کو فتح کیا ۔ مسلمان وہاں رہائش پذیر ہو گئے ، زراعت کی ، زمینیں اور مویشی خریدے اور اپنی زمینوں کے گرد مویشی چرایا کرتے تھے ۔ جب شام ہو جاتی تو سب جانوروں کو قلعہ کے اندر لے جاتے تھے۔ اُن لوگوں کے باس ایک مالی تھا جو دریائی دشمنوں کے مکر و فریب سے ہوشیار کر دیتا تھا۔ یہ مسلمان رومیوں پر بہت غضب کے دلیر تھے سمندروں میں ہی رومیوں کو روک لیتے تھے اور مال غنیمت حاصل کرتے تھے۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے اُن کے لئے عطیات اور تنخواہیں مقرر کر دی تھیں اور دشمن پر اُن کا خوف چھایا ہوا تھا۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے بعد جب یزید حکمراں بنا تو انہیں واپس بلالیا۔


حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی دعا


حجاز کا علاقہ (جس میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ بھی ہیں ) زیاد نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے اپنی ماتحتی میں مانگا تو آ پ رضی اللہ عنہ نے حجاز کا علاقہ بھی اُسے دے دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: زیاد نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ ملک عراق کا نظم نق تو میرے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے اور میرا داہنا ہاتھ تو خالی ہی رہتا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے اس بات پر یمامہ اور اُس کے اضلاع بھی زیاد کے ماتحت کر دیئے اور ایک روایت میں ہے کہ ملک حجاز اُس کے داہنے ہاتھ میں دے دیا اور یہ فرمان لکھ کر ہیثم بن اسودیشی کے ہاتھ سے روانہ کیا۔ اہل حجاز کو جب یہ خبر معلوم ہوئی تو کچھ لوگ حضرت عبد اللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور اُن سے مصیبت بیان کی ۔ انہوں نے فرمایا : ” میں اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا کہ تمہیں اس مصیبت سے نجات دلائے ۔“ یہ فرما کر آپ رضی اللہ عنہ قبلہ رو ہوئے اور اللہ عالی سے دعا کی۔ اس کے بعد زیاد طاعون میں مبتلا ہو گیا ۔ حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس کی بیماری کی خبرسنی تو فرمایا: ”جادور ہو ابن سمیہ اند دنیا تیرے پاس رہی اور نہ ہی آخرت تجھے ملی ۔ 


ابن سمیہ ( زیاد بن ابی سفیان ) کا انتقال


ھ53 ہجری میں زیاد کا انتقال ہوا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: طاعون اُس کی انگلی میں نکلا اپنے قاضی حضرت شریح کو بلوایا اور کہا: دیکھو! میں اس بیماری میں مبتلا ہو گیا ہوں اور لوگ کہتے ہیں کہ اس ہاتھ کو کٹوالو تم کیا مشورہ دیتے ہو؟ حضرت شریح نے کہا: ” مجھے اندیشہ ہے کہ زخم تیرے ہاتھ پر لگے گا اور صدمہ تیرے دل کو پہنچے گا اور اگر تیری موت قریب آچکی ہو تو تو اللہ تعالیٰ سے کئے ہوئے ہاتھ کے ساتھ ملاقات کرے گا اور اگر تو نے ہاتھ اس لئے کاٹا ہو کہ اللہ سے ملاقات کی ہمت تجھ میں نہیں ہے اور اگر تیری موت ٹل جائے تو کیا تو اپنے کٹے ہوئے ہاتھ کے ساتھ جئے گا اور اپنی اولاد کے لئے عیب کا باعث بنے گا ؟ زیاد نے یہ سنا تو ہاتھ کٹانے میں تامل کیا۔ حضرت شریح جب باہر نکلے تو لوگوں نے پوچھا تب حضرت شریح نے اپنا مشورہ بیان کر دیا۔ لوگوں نے کہا: ” تم نے ہاتھ کاٹنے کا مشورہ کیوں نہیں دیا ؟ حضرت شریح نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مشورہ دینے والا مل اعتماد ہے ۔ آخر کار زیاد نے کہا: یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ میں اور طاعون ایک ہی لحاف میں سوئیں ۔ اور اُس نے ہاتھ کٹوانے کا مصمم ارادہ کر لیا۔ جب اُس کے سامنے ہاتھ کاٹنے کے بعد زخم کو داغنے کے لئے آگ جلائی گئی اور داغنے کے سامان سامنے لائے گئے تو وہ مضطرب ہو گیا اور ہاتھ کٹانے سے انکار کر دیا۔ جب مرنے کا وقت قریب آیا تو اُس کے بیٹے نے کہا: ”بابا ! میں نے آپ کے کفن کے لئے ساٹھ کپڑے تیار کر رکھے ہیں ۔ یہ سُن کر اُس نے کہا: ”بیٹا ! تیرے باپ کے لئے اب ایسا وقت آیا ہے کہ یا تو اُسے اس سے بہتر لباس ملے یا پھر یہ کپڑے بھی اُتر جائیں۔ جب وہ مر گیا تو اُسے کوفہ کے ایک مقام تو یہ میں دفن کیا گیا اور حجاز کی حکومت کے لئے یزید روانہ ہوا۔ اس سال سعید بن عاص نے مسلمانوں کو حج کرایا۔


ھ53 ہجری کے خاتمے پر مملکت اسلامیہ کے گورنر


ھ53 ہجری میں زیاد نے انتقال کے وقت عبداللہ بن خالد کو کوفہ کا گورنر بنا دیا تھا اور بصرہ کا گورنرسمرہ بن جندب تھا اور خراسان کا گورنر خلید بن عبداللہ حنفی تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اسی سال ۵۳ ہجری میں ربیع بن زیاد ھارٹی جسے زیاد نے خراسان کا گورنر بنایا تھا دو سال اور چند مہینے حکومت کرنے کے بعد انتقال ہوا۔ اُس نے مرتے وقت اپنی جگہ اپنے بیٹے عبداللہ بن ربیع کو خراسان کا گورنر بنادیا۔ دو مہینے بعد عبد اللہ بن ربیع کا بھی انتقال ہو گیا۔ اُس کی موت خبر کی زیاد کے پاس اُس وقت پہنچی جب وہ دفن کیا جارہا تھا۔ عبد اللہ بن ربیع نے اپنی جگہ خراسان کا گورنر خلید بن عبداللہ حنفی کو بنا دیا تھا۔ زیاد کے انتقال کے چھ مہینے بعد حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے سمرہ بن جندب کو معزول کر دیا اور اُس کے کچھ دنوں بعد کسی نے سمرہ بن جندب کو قتل کر دیا۔


حضرت معصعہ بن ناجیہ رضی اللہ عنہ کا انتقال


ا43 ہجری میں جلیل القدر صحابی حضرت صعصعہ بن ناجیہ رضی اللہ عہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت صعصعہ بن ناجیہ بن عفان بن سفیان بن مجاشع بن دارم رضی اللہ عنہ کا انتقال ۵۳ ہجری میں ہوا۔ زمانہ جاہلیت میں آپ رضی اللہ عنہ اپنے قبیلے اور علاقے کے سردار تھے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے تین سو ساٹھ (360) لڑکیوں کو زندہ درگور ہونے سے بچایا ہے۔ بعض علماء نے چار سولڑ کیاں اور بعض علماء نے چھیانوے لڑکیاں بیان کیں ہیں۔ (ملک عرب میں پہلے زمانے میں ایسا تھا کہ اگر لڑ کی پیدا ہوتی تھی تو اُسے زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔ حضرت صعصعہ بن ناجیہ رضی اللہ عنہ نے ہر لڑکی کے بدلے میں دو اونٹ اُس کے باپ کو دے کر لڑکی کو بچالیا کرتے تھے ) جب آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: "یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا مجھے اس کا اجر ملے گا ؟ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں اس کا اجر یہ ملاکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اسلام کی نعمت سے سرفراز فرمایا۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میری دو اونٹیاں بدک کر بھاگ گئی تھیں۔ اُن کو تلاش کرتے کرتے رات ہوگئی اور میں تلاش میں لگا ہی رہا۔ میں نے ایک آگ کو دیکھا جو کافی دور تھی اور کبھی روشن ہوتی اور کبھی اتنی دھیمی ہو جاتی کہ دکھائی نہیں دیتی تھی اور میں راستہ بھول جاتا تھا۔ میں نے دعا کی: اے اللہ! تیرا یہ مجھ پر احسان ہوگا کہ تو مجھے اُس آگ تک پہنچا دے اور اگر میں نے وہاں کسی پر ظلم ہوتا دیکھا تو اسے ظلم سے بچاؤں گا ۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ” میں آگ کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ ایک شخص آگ جلا رہا ہے اور وہاں کچھ عورتیں موجود ہیں ۔ میں اُن سے قیام کی وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ ایک عورت کو بچہ پیدا ہونے والا ہے۔ اُس شخص نے کہا: تم کہاں جارہے ہو؟ میں نے کہا: میں اپنی دو بد کی ہوئی اونٹوں کی تلاش میں ہوں ۔ اس شخص نے کہا: ” تمہاری بد کی ہوئی اونٹنیاں میرے پاس ہیں ۔ میں اپنے اونٹ سے اتر پڑا اور اُس شخص کے پاس بیٹھ گیا۔ اتنے میں اندر سے ایک عورت نے آکر خبر دی کہ لڑکی پیدا ہوئی ہے۔ اس شخص نے کہا: ” اُسے اُسی گڑھے میں زندہ دفن کر دو جو میں نے پہلے سے کھود کر رکھا ہوا ہے ۔ ( زمانہ جاہلیت میں ملک عرب میں بچہ پیدا ہونے سے پہلے باپ گڑھا کھود کر رکھتے تھے اور اگر بیٹی پیدا ہوتی تھی تو اُسے زندہ دفن کر دیتے تھے ) میں نے جلدی سے کہا: تم اپنی بچی کو کیوں قتل کرتے ہو اور اس کا رزق تو اللہ کے ذمہ ہے ۔ اس شخص نے کہا: ” مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے ۔ میں نے کہا: ” میں اسے تجھ سے چھٹکارہ دلاتا ہوں اور اُسے تمہارے پاس ہی چھوڑتا ہوں حتی کہ وہ تجھ سے جدا ہو جائے یا مر جائے ۔ اُس نے کہا: ” کتنے میں؟“ میں نے کہا: ” ایک اوٹنی کے عوض ۔ “ اس نے کہا: نہیں ۔ میں نے کہا: ”دونوں اُونٹنیوں کے عوض ۔“ اس نے کہا: ”اگر و دواونٹنیوں کے ساتھ اپنا یہ اونٹ بھی مجھے دیدے تو میں اُس بچی کو زندہ چھوڑ دوں گا اور بے شک میں اُسے (اونٹ کو) خوش رنگ نو جوان پاتا ہوں ۔ میں نے کہا: ”اچھا ٹھیک ہے !مگر شرط یہ ہے کہ تو مجھے میرے قبیلے تک پہنچادے۔ اُس نے کہا: ” بہت اچھا۔ اس کے بعد میں نے اللہ سے عہد کر لیا کہ جو بھی لڑکی مجھے ایسی ملے گی جسے زندہ دفن کیا جا رہا ہو گا اُسے میں فدیہ دے کر ضرور چھڑاؤں گا جس طرح میں نے اس لڑکی کو چھڑایا ہے ۔ ابھی اسلام نہیں آیا تھا کہ میں چھیانوے (96) لڑکیوں کو چھڑا چکا تھا۔ پھر اس کے بعد قرآن پاک میں مسلمانوں پر اس عمل کی تحریم نازل ہوئی ۔“ 


ھ53 ہجری: سعید بن عاص کی معزولی


اس سال 53 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ کا گورنر دوبارہ مروان بن حکم کو بنا دیا اور سعید بن عاص کو معزول کر دیا۔ علامہ عمادالدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں: حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے 53 ہجری میں سعید بن عاص کو معزول کر دیا اور مروان بن حکم کو دوبارہ مدینہ منورہ کا گورنر بنا دیا اور اُسے لکھا کہ وہ سعید بن عاص کا گھر منہدم کروادے اور سرزمین حجاز میں جو اموال و جائدا ہیں انہیں ضبط کر لے۔ مروان بن حکم اُس کا گھر گرانے کے لئے آیا تو سعید بن عاص نے کہا: " تجھے یہ کام نہیں کرنا چاہیئے ۔ "مروان بن حکم نے کہا: " امیر المومنین نے مجھے اس کے بارے میں حکم دیا ہے اور اگر وہ آپ کو میرے گھر کے بارے میں لکھتے تو آپ بھی ایسا ہی کرتے ۔ سعید بن عاص نے مروان بن حکم کو وہ خط دکھایا جو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے اُسے گورنر بناتے اور مروان بن حکم کو معزول کرتے وقت لکھا تھا ۔ اُس خط میں لکھا تھا کہ مروان بن حکم کے گھر کوگرادو اور اس کے مال و جائداد پر قبضہ کر لو۔ یہ خط دینے کے بعد سعید بن عاص نے کہا: ” اس حکم کے باوجود میں نے ہمیشہ تمہارا بچاؤ کیا ہے۔ خط پڑھنے کے بعد مروان بن حکم نے سعید بن عاص کا گھر نہیں گرایا اور اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا۔


عبید اللہ بن زیاد خراسان کا گورنر


اس سال 53 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے زیاد بن ابی سفیان یا ابن سمیہ کے بیٹے عبید اللہ بن زیاد کوخراسان کا گورنر بنایا۔ یہ عبید اللہ بن زیاد وہی ” ابن زیاد ہے جسے یزید نے کوفہ کا گورنر بنایا تھا اورحکم دیا تھا کہ کسی بھی طرح حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ کورو کے اور ابن زیاد نے حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تھا اور ایک لشکر حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو روکنے کے لئے بھیجا تھا اور حکم دیا تھا کہ انہیں ہر قیمت پر کوفہ پہنچے نہیں دینا چاہے اس کے لئے انہیں شہید ہی کیوں نہ کرنا پڑے ) علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: زیاد کے مرنے کے بعد اُس کا بیٹا عبید اللہ بن زیاد ملک شام میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اُس وقت اُس کی عُمر چھپیس (25) سال کی تھی ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ” تیرے باپ نے کوفہ اور بصرہ کا گورنر کسے بنایا ہے؟‘ عبید اللہ بن زیاد کو جو معلوم تھا اُس نے بتا دیا۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے کہا: "اگر تیرا باپ تجھے گورنر بنا جاتا تو میں تجھے بحال رکھتا۔ عبید اللہ بن زیاد نے کہا: ” میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کے بعد کوئی مجھے یہ کہے کہ اگر تیرا باپ یا تیرا چا ( یعنی حضرت معاویہ تجھے گورنری دے جاتے تو میں بھی بحال رکھتا۔ یہ سن کر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ ہنس پڑے اور اُسے خراسان کا گورنر بنا دیا اور روانگی کے وقت یہ صیحتیں کیں ۔ اللہ سے ڈرتے رہنا اور اُس کے خوف پر کسی چیز کو غالب ہونے نہیں دینا کیونکہ اس سے ڈرنے میں کثیر منافع ہے اور اپنی عزت بچائے رکھنا۔ اگر کسی سے عہد و پیمان کرنا تو اُسے پورا کرنا تھوڑی چیز ( دنیا) کے عوض بڑی چیز (آخرت) کو فروخت نہیں کرنا ، جب تک کسی کام کا مصمم ارادہ نہیں کر لیتا تب تک زبان سے اظہار نہیں کرنا کیونکہ جب تم کسی بات کو زبان سے نکال چکے ہو گے تو اُس کو واپس نہیں لے سکو گے۔“


ترکوں سے جنگ


ملک شام سے رخصت ہو کر عبید اللہ بن زیاد خراسان کی طرف روانہ ہو گیا: علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے عبید اللہ بن زیاد کو خراسان روانہ کرتے وقت یہ بھی نصیحت کی کہ جب دشمنوں سے صف آرائی ہو تو جو لوگ تم سے بڑے ہوں اُن کو ذمہ دار بنانا اور کتاب اللہ پر بیعت لیتا۔ عبید اللہ بن زیاد ۵۳ ہجری کے اول میں ملک شام سے رخصت ہو کر خراسان روانہ ہوا اور وہاں جا کر انتظام سنبھالا۔ وہ شکرلیکر ترکوں کی طرف بڑھا اور نہر عبور کر کے جبال بخارا کی طرف چڑھائی کی ۔ راستے میں لسف اور بیکند کو جنگ کر کے فتح کیا ۔ پھر ترکوں سے جنگ کی اور متعدد لڑائیوں کے بعد ترک میدان جنگ سے بھاگ کھڑے ہوئے ۔ ترکوں کے بادشاہ کے ساتھ اُس کی ملکہ بھی تھی ۔ وہ ایک ہی پاؤں میں جوتی پہنے پائی تھی کہ مسلمانوں نے پہنچ کر اسے گرفتار کر لیا اور دولاکھ درہم میں فروخت کر ڈالا۔ عبداللہ بن زیاد خود اس جنگ میں شریک تھا اور اُس کے ایک ہاتھ میں لشکر کا جھنڈا تھا اور دوسرے ہاتھ میں نیزہ تھا۔ وہ لڑتے لڑتے لوگوں کی نظروں سے غائب ہو جاتا تھا پھر یکا یک اپنے جھنڈے کو بلند کرتا تھا جس سے خون ٹپکتا تھا۔ یہ لڑائی خراسان کی مشہور لڑائیوں میں شمار کی جاتی ہے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں؛ ۵۳ ہجری میں مروان بن حکم نے مسلمانوں کو حج کروایا اور مدینہ منورہ کا گورنروہی تھا، کوفہ کا گورز عبداللہ بن خالد تھا۔ بعض مورخین ضحاک بن قیس کا نام لیتے ہیں اور بصرہ کا گورنر عمرو بن غیلان تھا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!


Saltanat e Umayya part 06

 06 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 6

حضرت اسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت ثوبان بن مجدد رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت حويطب بن عبد العزی رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت معبد بن مر بوع بن عنکہ رضی اللہ عنہ کا انتقال، أم المؤمنین سیدہ سودہ بنت زمعہ کا انتقال، ھ55 ہجری: بصرہ کے گورنر کی معزولی، عبید اللہ بن زیاد خراسان کے ساتھ ساتھ بصرہ کا بھی گورنر، حضرت ارقم بن ابی الارقم رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا انتقال، میرے ماں باپ تم پر قربان، 

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پہریدار، وہ جنتی ہو گا ہے، اے اللہ ! اس کی دعا کو قبول فرما، حضرت سعد رضی اللہ عنہ " مستجاب الدعوات تھے، عشرہ مبشرہ میں سے سب سے آخر میں انتقال


حضرت اسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 54 ہجری میں حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت اسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ جن کی کنیت ابومحمد ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام کے بیٹے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب کے بیٹے ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ کے والد محترم غلام بن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نو عمری میں آئے تھے۔ اُن کے والد حارثہ انہیں لینے کے لئے آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اختیار دیا کہ چاہیں تو اپنے والد کے ساتھ چلے جائیں یا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہیں ۔ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے والد کے ساتھ جانا گوارہ نہیں کیا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنا گوارہ کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کر دیا پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان نبوت فرمایا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا۔ جوان ہونے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کا نکاح اپنی آبائی کنیز سیدہ اُم ایمن رضی اللہ عنہا سے کر دیا۔ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی والدہ محترمہ یہی سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا ہیں ۔ صحیح بخاری میں آپ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ایک ران پر حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو بٹھاتے تھے اور دوسری ران پر حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو بٹھاتے تھے اور فرماتے تھے : ” اے اللہ! میں اِن دونوں سے محبت رکھتا ہوں تو بھی ان سے محبت رکھ ۔“ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو حضرت اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی عمر انیس (19) سال تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی سپہ سالاری میں سلطنت روم سے لڑنے کے لئے لشکر روانہ فرمایا تھا جو دینہ منورہ کے قریب ہی تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خلیفہ بنتے ہی سب سے پہلے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو سپہ سالار بنا کر سلطنت روم کی طرف لشکر دے کر روانہ کیا۔ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا جب بھی حضرت اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سامنا ہوتا تھا تو خلیفہ دوم رضی اللہ عنہ فرماتے تھے : ”اے امیر ! السلام علیک “ حضرت اسامہ بن زید کے انتقال کے بارے میں مورخین کی کئی رائے ہیں۔ حقیقت کا علم صرف اللہ تعالی کو ہی ہے۔ 


حضرت ثوبان بن مجدد رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 54 ہجری میں حضرت ثوبان بن محمد درضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت ثوبان بن مجد درضی اللہ عنہ اصل عرب سے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ قید ہو گئے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو خرید کر آزاد کر دیا تھا۔ آزاد ہونے کے بعد بھی آپ رضی اللہ عنہ مسلسل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے اور خدمت کرتے رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے رملہ میں رہائش اختیار کر لی۔ پھر حمص، منتقل ہو گئے اور وہاں ایک گھر بنایا اور آخری وقت تک وہیں رہائش پذیر رہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بارے میں کئی روایتیں ہیں ۔ حقیقت کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ 


حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 54 ہجری میں حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ کا نام حارث بن ربعی ہے، امام واقدی نے نعمان بن ربعی بیان کیا ہے اور دیگر مورخین کے مطابق عمر و بن ربعی نام ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ انصار ہیں اور اسلام کے بہترین شہسوار ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ غزوہ اُحد اور اُس کے بعد کے تمام معرکوں میں شریک رہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے غزوہ ذی قرد میں ایسا قابل تعریف کام کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” آج کے ہمارے بہترین شہوار حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ ہیں اور آج کے ہمارے بہترین پیدل حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ ہیں۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے جو مجھ سے بہت بہتر ہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تمہیں ایک باغی گروہ شہید کرے گا۔ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کا انتقال کس سال ہوا اس بارے میں مورخین کا اختلاف ہے۔


حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 54 ہجری میں اُم الومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بھتیجے حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : ” حضرت حکیم بن حزام بن خویلد بن اسد بن عبد العزیٰ بن قصی بن کلاب یہاں آکر آپ رضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مل جاتا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ فاختہ بنت زہیر بن حارث بن اسد بن عبد العزیٰ ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ کی پھوپھی اُم المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ واقعہ اصحاب فیل تیرہ سال پہلے پیدا ہوئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ رضی اللہ عنہ بہت محبت کرتے تھے ۔ جب قریش نے بنو ہاشم اور بنو عبد عبد المطلب کو شعب ابو طالب کی گھائی میں تین سال کے لئے قید کر دیا تھا اور اُن سے خرید وفروخت نہیں کرتے تھے تو آپ رضی اللہ عنہ ملک شام سے آنے والے قافلے سے ملتے تھے اور پورا کہ پورا خرید لیتے تھے اور اُسے لے جا کر سامان لدے ہوئے اُونٹوں کو شعب ابی طالب کی گھائی کے پاس لے جا کر مار مار کر اندر بھیج دیتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ہی حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو خریدا تھا اور اپنی پھوپھی اُم المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو دے دیا تھا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو آزاد کر دیا تھا۔ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے ذویزن کا ایک حلہ خرید کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے زیب تن فرمایا۔ آپ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اس ملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا۔ اس کے باوجود آپ رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کی سب اولاد نے فتح مکہ میں اسلام قبول کیا۔ امام بخاری وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ زمانہ جاہلیت میں ساٹھ (60) سال اور اسلام میں ساٹھ (60) سال زندہ رہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ حنین میں شرکت کی اور مال غنیمت میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو سواونٹ دیئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پھر مانگا تو سو اونٹ اور دیئے اور پھر مانگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سو اونٹ اور دیئے اور فرمایا: ”اے حکیم بن حزام ! یہ مال بظاہر شیریں اور اچھا ہے جس نے اسے فیاضی سے لیا اُس کے لئے برکت ہوگی اور جس نے اسراف نفس سے لیا اُس کے لئے برکت نہیں ہوگی اور وہ اُس شخص کی ماند د ہوگا جو کھاتا ہے اور سیر نہیں ہوتا ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اقسم ہے اس ذات کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے ، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کا احسان قبول نہیں کروں گا ۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے کسی کا احسان نہیں لیا۔ یہاں تک کہ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق اور خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہم بھی کوئی چیز آپ رضی اللہ عنہ ک عطا کرنا چاہتے تھے تو آپ رضی اللہ عنہ نہیں لیتے تھے۔ ایک سو بیس (120) سال کی عمر میں آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔


حضرت حويطب بن عبد العزی رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 54 ہجری میں حضرت حو یطب بن عبد العزیٰ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت حو يطب بن عبد العزئی عامری رضی اللہ عنہ نے فتح مکہ میں اسلام قبول کیا اور لمبی عمر پائی۔ آپ رضی اللہ عنہ قریش کی طرف سے غزوہ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف لڑے اور اُس روز آپ رضی اللہ عنہ نے زمین و آسمان کے درمیان فرشتوں کو دیکھا اور پھر صلح غریبیہ میں شامل ہوئے اور صلح کی کوشش کی ۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے بدر کے وقت صلح حدیبیہ کے وقت اور عمرۃ القضاہ کے وقت اسلام قبول کرنے کا ارادہ کیا مگر ہوتا وہی ہے جو اللہ کومنظور ہوتا ہے۔ جب فتح مکہ ہوا تو میں شدید خوفزدہ ہو گیا اور بھاگ گیا۔ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ جو زمانہ جاہلیت میں میرے دوست تھے۔ وہ مجھے ملے اور فرمایا: ”اے جو طب ! تجھے کیا ہو گیا ہے جو اسلام قبول نہیں کرتا ہے؟“ میں نے کہا: ”میں بہت خوفزدہ ہوں انہوں نے فرمایا : ” کچھ خوف نہ کرو اور تم تو بڑا احسن سلوک کرنے والے اور صلہ رحمی کرنے والے ہو اور میں تمہارا پڑوسی ہوں۔ میرے ساتھ آؤ“ میں اُن کے ساتھ واپس آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وادی بھیا میں تشریف فرما تھے اور حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہم بھی موجود تھے۔ حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا کہ میں السلام علیک ایہا النبی ورحمتہ اللہ وبر کاتہ کہوں ۔ میں نے جب یہ کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” و یطب ہے ؟ میں نے عرض کیا: ”ہاں! میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس اللہ کا شکر ہے کہ جس نے تمہیں ہدایت دی ہے ۔ “ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے۔ اس کے بعد میں غزوہ حنین اور غزوہ طائف میں شریک ہوا۔ پھر میں مدینہ منورہ میں رہائش پذیر ہوگیا اور وہیں اپنا گھر بنالیا۔ جب مروان بن حکم مدینہ منورہ کا گورنر مقرر ہوا تو میں اُس سے ملنے گیا اور میرے ساتھ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ اور حضرت مخرمہ بن نوفل رضی اللہ عنہ بھی تھے ۔ ہم نے اُسے سلام کیا اور اس سے باتیں کرنے لگے ۔ پھر جب وہ دونوں اُٹھ کر چلے گئے تو مروان بن حکم نے مجھ سے میری عمر کے بارے میں پوچھا تو میں نے اپنی عمر بتائی۔ اُس نے کہا: ”اے شیخ (اے بڑے میاں ) ا تم نے تو بہت بعد میں اسلام قبول کیا اور تم پر نو جوان لوگ سبقت لے گئے ۔ میں نے اُس سے کہا : اللہ ہی سے مدد مانگی جاسکتی ہے۔ اللہ کی قسم جب بھی میں نے اسلام قبول کرنے کا ارادہ کیا تو تمہارا باپ حکم ہی مجھے روکتا رہا اور کہتا رہا: خم ایک نئے دین کے لئے اپنے شرف وعزت کو ضائع کر دو گے اور اپنے باپ دادا کے دین کو چھوڑ دو گے؟ اور کسی اور کے تابع ہو جاؤ گے؟ میری بات سن کر مروان بن حکم پشیمان ہوا اور خاموش ہو گیا۔ پھر میں نے اُس سے کہا: ” کیا تیرے باپ حکم نے نہیں بتایا کہ خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کے بعد تیرا باپ حکم انہیں کیسی کیسی تکلیفیں اور اذیتیں دیا کرتا تھا ؟ بین مروان نے آپ رضی اللہ عنہ سے معافی مانگی۔ آپ رضی اللہ عنہ کا ایک سو بیس (120) سال عمر میں انتقال ہوا۔


حضرت معبد بن مر بوع بن عنکہ رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 54 ہجری میں حضرت معبد بن یربوع بن عنکہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت معبد بن سر بوع بن عنکثہ بن عامر بن مخزوم رضی اللہ عنہ نے فتح مکہ کے روز اسلام قبول کیا اور غزوہ حنین میں شامل ہوئے اور مال غنیمت میں پچاس اُونٹ ملے ۔ اسلام قبول کرنے سے پہلے آپ رضی اللہ عنہ کا نام ”صرم تھا۔ ایک روایت میں اصرم بھی بیان ہوا ہے۔ جب آپ رضی اللہ وعنہ نے اسلام قبول کیا تو رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کا نام ” معبد رکھا۔ آپ رضی اللہ عنہ اُن لوگوں میں شامل ہیں جنہیں خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے انصاب حرم کی تجدید کا حکم دیا تھا۔ آخری عمر میں آپ رضی اللہ عنہ کی بینائی چلی گئی تھی تو خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ خود چل کر تسلی دینے کے لئے آئے تھے ۔ بعض مورخین کے مطابق آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال مدینہ منورہ میں ہوا اور بعض کے مطابق مکہ مکرمہ میں ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ایک سو بیس سال سے زیادہ عمر پائی تھی۔


أم المؤمنین سیدہ سودہ بنت زمعہ کا انتقال


اس سال 54 ہجری میں اُم المومنین سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : ام المومنین سیدہ سودہ بنت زمعہ قبیلہ قریش کے خاندان بنو عامر کی ہیں اس لئے القرشیہ العامر یہ کہلاتی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُم المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے انتقال کے بعد آپ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا۔ اس سے پہلے آپ رضی اللہ عنہا سہیل بن عمرو کے بھائی سکران بن عمرو کی بیوی تھیں۔ آپ رضی اللہ عنہا نے مدینہ منورہ ہجرت کی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا سے علحیدگی کا ارادہ فرمایا تو آپ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ مجھے اپنی بیوی رہنے دیں اور میں اپنی باری کا دن بھی اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو دیتی ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات قبول کر لی اور آپ رضی اللہ عنہا بدستور ام المومنین رہیں۔ آپ رضی اللہ عنہا بڑی عبادت گزار، زہد اختیار کرنے والی اور پر ہیز گار تھیں۔ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: مجھے کسی خاتون کی جماعت میں شامل ہونا پسند نہیں آیا مگر میں آپ رضی اللہ عنہا کی جماعت میں شامل ہونا پسند کرتی ہوں کیونکہ آپ رضی اللہ عنہ میں تیزی تھی جس سے آپ رضی اللہ عنہا جلد رجوع کر لیتی تھیں ۔“ امام ابن جوزی نے آپ رضی اللہ عنہا کی وفات اِس سال میں بیان کی ہے اور امام ابن خیثمہ نے بیان کیا ہے کہ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت کے آخری دنوں میں آپ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا ہے۔


ھ55 ہجری: بصرہ کے گورنر کی معزولی


اس سال 55 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے بصرہ کے گورنرعبداللہ بن عمرو بن غیلان کو معزول کر کے عبید اللہ بن زیاد کو خراسان کے ساتھ ساتھ بصرہ کا بھی گورنر بنا دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اسی سال یعنی ۵۵ ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے بصرہ کے گورنر عبداللہ بن عمرو بن غیلان کو معزول کر کے عبید اللہ بن زیاد کو بصرہ کا گور بنا دیا۔ اس کی وجہ یہ ہوئی کہ عبداللہ بن عمرو بن غیلان بصرہ کی جامع مسجد کے منبر پر خطبہ پڑھ رہا تھا تو بنوبہ میں سے یا بنوضرار میں سے ایک شخص جس کا نام خیبر بن ضحاک ہے اُسے کنکریاں پھینک کر ماریں تو عبداللہ بن عمرو بن غیلان نے اُس کا ہاتھ کٹوا دیا۔ بنوضبہ نے آکر کہا کہ ہماری برادری کے ایک شخص سے جو خطا ہونے والی تھی وہ ہو گئی اور آپ نے اسے قرار واقعی سزا بھی دے دی لیکن ہمیں اندیشہ ہے کہ یہ خبر اگر امیر المومنین کو ہوئی تو وہاں سے بھی اُس شخص پر یا ہمارے قبیلے پر کوئی سزا نازل نہ ہو جائے ۔ اس لئے آپ مناسب سمجھیں تو خود ہی امیر المومنین کے نام ایک خط لکھ کر ہمیں دے دیکھیئے تا کہ ہم اسے اپنے کسی آدمی کے ہاتھ امیر المومنین کے پاس بھیج دیں۔ مطلب یہ ہوا کہ شبہ میں ہاتھ کاٹا گیا ہے اور جرم واضح نہیں ہے۔ عبداللہ بن عمرو بن غیلان نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے نام خط لکھ کر دے دیا۔ وہ خط سال بھر یا چھ مہینے پڑا رہا۔ اس کے بعد عبد اللہ بن عمرو بن غیلان خود حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے پاس گیا یا پھر یہ واقعہ لکھ کر روانہ کر دیا اور بنو ہبہ بھی امیر المومنین کے پاس پہنچے اور انہوں نے کہا: ”اے امیر المومنین! عبد اللہ نے ہمارے ایک بھائی کا ہاتھ ناحق کٹو اڈالا اور یہ اُن کا لکھا ہوا خط آپ کے نام موجود ہے ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میرے مقرر کئے ہوئے گورنر سے قصاص لیا جائے یہ تو درست نہیں ہے اور کسی طرح ایسا نہیں ہو سکتا۔ ہاں اگر تم کہو تو میں تمہیں دیت دلوا دوں؟“ بنوضہ کے لوگ دیت پر راضی ہو گئے تو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے انہیں بیت المال سے دیت ادا کر دی اور عبداللہ بن عمرو بن غیلان کو معزول کر دیا۔


عبید اللہ بن زیاد خراسان کے ساتھ ساتھ بصرہ کا بھی گورنر


اس سال 55 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عمرو بن غیلان کا بصرہ کی گورنری سے معزول کر کے عبید اللہ بن زیاد کو خراسان کے ساتھ ساتھ بصرہ کا بھی گورنر بنا دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے بنوضبہ سے کہا : " جس کو تم پسند کرو اُسی کو میں تمہارا گورنر بنا دوں ۔ انہوں نے کہا: ” امیر المومنین جسے چاہیں ہمارا گورنر مقرر کر دیں ۔ اور عبداللہ بن عامر کے باب میں اہل بصرہ کی جو رائے تھی وہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو پہلے سے معلوم تھی پھر بھی اُن سے پوچھا: ” کیا تم ابن عامر کو پسند کرتے ہو؟ وہ تو ایسا شخص ہے جس کی عفت وطہارت و شرف سے تم خوب واقف ہو ۔ سب نے کہا: ”امیر المومنین ہم سے زیادہ واقف ہیں ۔“ اُن لوگوں کو آزمانے کے لئے بار بار اُن کے سامنے سامنے دہرایا پھر کہا: ” تو لو میں نے اپنے بھتیجے عبیداللہ بن زیاد کو تمہارا گورنر مقرر کیا۔ خراسان کے ساتھ ساتھ بصرہ کا بھی گورنر بنے کے بعد عبید اللہ بن زیاد نے اسلم بن زرعہ کو خراسان کا گورنر مقرر کیا اور پہلے زرارہ بن اوفی کو قاضی کا عہدہ دیا اور پھر ضحاک بن قیس فہری کو اُس کی جگہ مقرر کیا۔ اس سال بھی مروان بن حکم نے مسلمانوں کو حج کرایا۔ 


حضرت ارقم بن ابی الارقم رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 55 ہجری میں حضرت ارقم بن ابی الارقم رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اعلان نبوت فرمایا تو اُس وقت مکہ مکرمہ میں مسلمانوں پر بہت ظلم ہوتا تھا اور مسلمانوں کے جمع ہونے کے لئے کوئی مرکز نہیں تھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو مسلمانوں کو جمع کرنے کے لئے اپنا گھر ” دار ارقم “ دے دیا تھا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت ارقم بن ابی الا رقم بن اسد بن عبد اللہ بن عمر بن مخزوم رضی اللہ عنہ نے بہت پہلے سے اسلام قبول کیا تھا اور آپ رضی اللہ عنہ "السابقون الاولون میں سے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ اسلام قبول کرنے والے ساتویں مسلمان ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ کا گھر مسلمانوں کی پناہ گاہ تھا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش میں سے مسلمان ہونے والے لوگ پناہ لیا کرتے تھے ۔ آپ رضی اللہ عنہ کا گھر کوہ صفا کے پاس تھا جو بعد ازاں مہدی کی ملکیت میں آگیا جسے اُس کی بیوی نے خیر زاں کو بخش دیا جو ہادی اور ہارون رشید کی والدہ تھی۔ اُس نے اُسے از سرنو تعمیر کیا اور وہ گھر اُسی کے نام سے مشہور ہو گیا پھر وہ گھر کسی اور کے پاس چلا گیا۔ حضرت ارقم رضی اللہ عنہ غزوہ بدر اور اُس کے بعد کے معرکوں میں شامل ہوئے اور آپ رضی اللہ عنہ نے 55 ہجری میں اسی (80) سال کی عمر میں مدینہ منورہ میں وفات پائی۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے وصیت کے مطابق آپ رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی۔ 


حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 55 ہجری میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ السابقون الاولون میں سے ہیں اور عشرہ مبشرہ میں سے ہیں۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت سعد بن ابی وقاص نام مالک بن اہیب بن عبد مناف بن زہرہ بن کلاب رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں اور خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے مقرر کئے اُن چھ اصحاب شوری میں سے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے راضی تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے بہت پہلے اسلام قبول کیا۔، ورخین کا بیان ہے کہ جس روز آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا اُس وقت آپ رضی اللہ عنہ کی عمر سترہ (17) سال تھی۔ صحیح میں آپ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اسلام قبول کرنے والا سا تواں ہوں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے کوفہ آکر وہاں سے اعاجم کو جلا وطن کیا اور آپ رضی اللہ عنہ مستجاب الدعوات" تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ ہجرت کی اور غزوہ بدر اور اُس کے بعد کے معرکوں میں شامل ہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہ اللہ کے راستے میں تیر چلانے والے پہلے شخص ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے امراء اور بہادر شہسوار تھے۔ خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں معظم تھے اور خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے تو آپ رضی اللہ عنہ کو سلطنت فارس کے خلاف سپہ سالار اعظم بنا دیا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ فاتح عراق و ایران“ ہیں۔


میرے ماں باپ تم پر قربان


حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو یہ خصوصی اعزاز حاصل ہے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن پر اپنے ماں باپ کو جمع فرمایا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں پہلا شخص ہوں جس نے مشرکین کو تیر مارا اور مجھ سے قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے والدین کو کسی کے لئے جمع نہیں کیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے سنا ہے: ”اے سعد! تیر اندازی کرو! میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں ۔ " حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فرمايا: " غزوہ اُحد کے روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے اپنے ماں باپ کو جمع کیا ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تیر اندازی کرو! میرے ماں باپ تم پر قربان ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تیراندازی کر و تم طاقت ور لڑکے ہو ۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے سوا کسی پر اپنے ماں باپ کو قربان کرتے نہیں سنا اور میں نے غزوہ اُحد میں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”اے سعد! تیراندازی کرو! میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں۔ ( صحیح بخاری) ایک روایت میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی بیٹی سیدہ عائشہ بنت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں اُس مہاجر کی بیٹی ہوں جس پر رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے اپنے ماں باپ کو قربان کیا ہے۔ (مصنف عبدالرزاق ) ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں غزوہ اُحد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں اور بائیں سفید لباس میں دو آدمی دیکھے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے سخت جنگ کر رہے تھے۔ میں نے اُن دونوں کو نہ اس تو پہلے کبھی دیکھا تھا اور نہ اس کے بعد کبھی دیکھا۔“ 


سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پہریدار


حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو ایک اور خصوصی اعزاز حاصل ہے۔ وہ یہ ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پہریدار بھی رہ چکے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو پہریداری سے منع فرما دیا تھا لیکن اللہ کی طرف سے حفاظت کا وعدہ آنے سے پہلے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہریداری کرتے تھے۔ اُنہیں دنوں میں ایک مرتبہ سفر کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جگہ قیام فرمایا اور اتفاق سے کوئی پہریدار مقرر نہیں فرمایا تھا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ” ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بے خوابی کی حالت میں گزاری اور فرمایا: " کاش کوئی صالح آدمی آج رات میری پہریداری کرتا ۔ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آگے فرماتی ہیں: 'اچانک ہم نے خیمے کے باہر ہتھیاروں کی آواز سنی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون ہے؟ خیمے کے باہر سے آواز آئی: میں سعد بن ابی وقاص ہوں ۔ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہریداری کروں گا ۔ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آگے فرماتی ہیں: "اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خراٹوں کی آوازسنی ۔ ایک اور روایت میں اتنازیادہ ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے لئے دعا کی اور پھر آرام سے سو گئے۔


وہ جنتی ہو گا ہے


حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں شامل ہیں۔ یعنی اُن دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک ہیں جنہیں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا میں ہی فرما دیا تھا کہ یہ دس لوگ جنتی ہیں۔ اس کے علاوہ بھی آپ رضی اللہ عنہ کوجنتی ہونے کا ایک اور خصوصی اعزاز حاصل ہے۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اس دروازے سے جو شخص داخل ہوگا وہ جنتی ہو گا ۔ پس حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اُس دروازے سے اندر داخل ہوئے ۔ حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس دروازے سے ایک جنتی شخص اندر داخل ہوگا۔ حضرت عبد اللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کی تمنا تھی کی اُس دروازے سے اُس کے گھر کا کوئی آدمی داخل ہو۔ پھر ہم سب نے دیکھا کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اس دروازے سے اندر داخل ہوئے ۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ابھی تمھارے پاس ایک جنتی شخص آئے گا ۔ پس ہم نے دیکھا کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ آئے ۔ پھر جب دوسرا دن ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی فرمایا تو پھر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ آئے ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے تو حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ سے دریافت کیا : ” آپ رضی اللہ عنہ وہ کون سا عمل کرتے ہیں جس کی وجہ سے آپ رضی اللہ عنہ جنتی ہیں ؟ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں ایسا کوئی خاص عمل تو نہیں کرتا ہوں ، ہاں اتا ہے کہ میں اپنے دل میں کسی مسلمان کے خلاف کوئی برائی نہیں رکھتا ہوں اور نہ اس کے لئے برائی کا کوئی ارادہ رکھتا ہوں اور نہ میں اُسے کوئی بری بات کہتا ہوں۔“


اے اللہ ! اس کی دعا کو قبول فرما


حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو ایک اور خصوصی اعزاز حاصل ہے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کے لئے خصوصی دعا کی ۔ علامہ عمادالدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں: سیدہ عائشہ بن سعد روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے والد محترم حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی پیشانی پر اپنا مبارک ہاتھ رکھا اور پھر دست مبارک اُن کے چہرے، سینے اور پیٹ پر پھیرا اور فرمایا: ” اے اللہ اسعد کو شفا دے اور اُن کی ہجرت کو مکمل کر “ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ہمیشہ ہی خیال کرتا رہا کہ میں اُس ٹھنڈک کو اپنے جگر پر محسوس کرتا ہوں۔ ( مسند احمد ) حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم عیادت کے لئے آئے اور آپ رضی اللہ عنہ کے لئے دعا فرمائی: ”اے اللہ ! اس سے تکلیف کو دور کر لوگوں کے معبود، لوگوں کے بادشاہ ، تو شافی ہے اور تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں ہے۔ میں اللہ کے نام سے تم کو ہر اس چیز سے جو تمہیں ایذا دینے والی ہے اور حسد سے اور نظر بد سے اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں اے اللہ ! اس کے جسم کو اور دل کو صحت دے اور اس کی بیماری کو دور کر اور اس کی دعا کو قبول فرما۔ ایک اور روایت میں ہے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ اس کی تیراندازی کو درست کر اور اس کی دعا کو قبول فرما۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: ”اے اللہ! اس کے تیر کوسیدھا کر اور اس کی دعا کو قبول فرما اور اسے اپنے بندوں کا محبوب بنا دے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی : 'یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ وہ میری دعا کا جواب دیا کرے ۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی دعا اُس وقت تک قبول نہیں کرتا جب تک وہ اپنے رزق کو پاکیزہ نہ کر لے ۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے دعا فرما ئیں کہ وہ میرے رزق کو پاک کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی : ”اے اللہ! اس کے رزق کو پاک کر دے۔“ 


حضرت سعد رضی اللہ عنہ " مستجاب الدعوات تھے


حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی دعا اللہ تعالیٰ قبول فرمایا کرتے تھے ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ مستجاب الدعوات تھے اور جونہی آپ رضی اللہ عنہ دعا کرتے تھے وہ قبول ہو جاتی تھی ۔ صحیحین ( صحیح بخاری اور صحیح مسلم ) میں حضرت جابر بن سلمہ سے روایت ہے کہ (جب حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کوفہ کے گورنر تھے تو خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے بارے میں کچھ شکایت پہنچی تو خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے تحقیق کے لئے کوفہ آدمی بھیجے ۔ انہوں نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ شکایت ہے کہ نماز ز چھی طرح نہیں پڑھاتے ہیں۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھانے میں کو تا ہی نہیں کرتا ہوں۔ میں پہلی دورکعتوں کو طویل کرتا ہوں اور آخری دور کعتوں کو چھوٹی کرتا ہوں ۔ محقق نے کہا: ”ہاں یہی صحیح ہے ۔ پھر تحقیق کرنے والے نے کوفہ کے لوگوں سے آپ رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا تو تمام کوفہ کے لوگوں نے آپ رضی اللہ عنہ کی تعریف کی اور صرف بنو عبس کے ابو سعدة اسامہ بن قتادہ نامی شخص نے کہا: ” حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سریہ (جنگ) میں نہیں جاتے اور نہ برابر تقسیم کرتے ہیں اور رعایا کے معاملے میں عدل سے کام نہیں لیتے ہیں ۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو اس شخص کے بارے میں اطلاع ملی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "اے اللہ ! اگر تیرا یہ بندہ ریا کاری اور شہرت کے لئے کھڑا ہوا ہے تو اس کی عمر کو دراز کر دے اور اس کو ہمیشہ تنگدست رکھا اور اس کی انکھ کو اندھا کر دے اور اسے فتنوں کا نشانہ بنا۔ راوی بیان کرتا ہے کہ میں نے اُس کے بعد اُس شخص کو بہت بوڑھے کی حالت میں دیکھا تو اُس کے ابرواس کی آنکھوں پر گر گئے تھے اور وہ راستے پر کھڑا ہو کر لڑکیوں کو ہاتھوں سے ٹولنا۔ اُس سے پوچھا جاتا تو وہ کہتا: " پاگل بوڑھا جسے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی بد دعا لگی ہے۔“


عشرہ مبشرہ میں سے سب سے آخر میں انتقال


حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سب سے آخر میں انتقال کرنے والے ہیں ۔ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : جب حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا انتقال ہونے لگا تو آپ رضی اللہ عنہ نے ایک پرانا جبہ نکلوایا اور فرمایا : ” مجھے اس میں کفن دینا ، میں نے غزوہ بدر کے روز اسے پہن کر مشرکوں سے جنگ کی تھی اور میں نے اسی دن کے لئے اسے چھپا کر رکھا ہوا تھا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا مدینہ منورہ کے مضافات کے ایک مقام حقیقی پر انتقال ہوا۔ اور آپ رضی اللہ عنہ کو لوگوں کی گردنوں پر مدینہ منورہ لایا گیا اور مروان بن حکم نے آپ رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی اور آپ رضی اللہ عنہ کو بقیع میں دفن کیا گیا۔ انتقال کے وقت آپ رضی اللہ عنہ کی عمر اسی (80) سال تھی۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!


D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں