04 سلطنتِ امیہ
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 4
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کو ہٹانے کی کوشش، قیروان شہر آباد کیا گیا ہے، حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ کی معزولی، أم المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال، حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت عثمان بن ابی عاص ثقفی رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت عمرو بن حمق کا ہن خزاعی رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت کعب بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ، ام المومنین سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کا انتقال، ھ51 ہجری، ریخ کی فتح، حضرت جریر بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت جعفر بن ابی سفیان بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کا انتقال
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کو ہٹانے کی کوشش
اس سال 50 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کو اس کی جگہ سے ہٹانے کی کوشش کی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اس سال 50 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کو اٹھا کر ملک شام لے جائیں۔ منبر کو ذرا سی حرکت دی گئی تو سورج کو گہن لگ گیا اور مدینہ منورہ میں اتنا اندھیرا چھا گیا کہ دن میں تارے دکھائی دینے لگے۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے امر کو سب لوگوں نے امر عظیم سمجھا۔ اس پر آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: " میرا ارادہ یہ نہیں تھا کہ منبر اٹھایا جائے۔ مجھے اندیشہ یہ ہوا کہ دیمک لگ گئی ہوگی اس لئے میں نے خود دیکھ لیا۔ پھر اسی دن منبر پر پوشش ڈال دی ۔ خود حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میری رائے یہ تھی کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے منبر اور عصا کو مدینہ منورہ میں نہیں چھوڑ نا چاہیئے وہاں کے لوگ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے قاتل اور دشمن ہیں ۔ جب حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ تشریف لائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عصائے مبارک حضرت سعد قرض کے پاس تھا۔ اُن سے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے عصائے مبارک منگوایا۔ حضرت ابو ہریرہ اور حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم یہ سن کر اُن کے پاس آئے اور فرمایا: ”اے امیر المومنین رضی اللہ عنہ اللہ کے واسطے ایسا نہ کریں۔ یہ بات مناسب نہیں ہے کہ جس جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود منبر رکھا ہے وہاں سے آپ رضی اللہ عنہ منبر کو اٹھا کر ملک شام لے جائیں۔ پھر ایسا ہو گا کہ مسجد کو بھی یہاں سے لے جایا جائے گا۔ آخر کار حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے ارادہ ترک کر دیا اور اور منبر میں چھ زینے بڑھا دیئے۔ اس زمانے میں ( علامہ محمد بن جریر طبری کے زمانے میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منبر آٹھ زمینوں کا ہے اور اس باب میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے بہت معذرت کی ۔ علامہ عمادالدین ابن اکثیر لکھتے ہیں : حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کو مدینہ منورہ سے دمشق منتقل کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا اور یہ کہ وہ عصا پکڑلیں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے وقت پکڑا کرتے تھے اور وہ بھی اُس عصا کو پکڑ کر منبر پر کھڑے ہوں یہاں تک کہ حضرت ابو ہریرہ اور حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم نے فرمایا: ”اے امیر المومنین رضی اللہ عنہ ! ہم آپ کو ایسا کرنے سے اللہ کی یاد دلاتے ہیں ۔ یہ مناسب نہیں ہے کہ منبر کو اُس جگہ سے ہٹایا جائے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھا ہے اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عصائے مبارک مدینہ منورہ سے باہر لے جایا جائے ۔ پس حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے اس ارادے کو ترک کر دیا لیکن منبر میں چھ سیڑھیوں کا اضافہ کر دیا اور لوگوں کے پاس معذرت کی۔
قیروان شہر آباد کیا گیا ہے
جب حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ حکمراں بنے تھے تو اہم 42 ہجری میں حضرت عقبہ بن نافع فہری رضی اللہ عنہ کو افریقہ ( یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ آج کا جو شمالی افریقہ ہے اُس زمانے میں اُس علاقے کو افریقہ کہا جاتا تھا ) کا سپہ سالار بنا کر بھیجا تھا اور انہوں نے افریقہ کے بہت سے علاقے فتح کر کے وہاں ایک نیا شہر قیروان بسایا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے حضرت عقبہ بن نافع فہری رضی اللہ عنہ کو لشکر دے کر افریقہ کی طرف روانہ کیا۔ انہوں نے افریقہ فتح کیا اور شہر قیروان کی بنیاد ڈالی ۔ اُس مقام پر درندے اور سانپوں سے بھرا ہوا ایسا جنگل تھا کہ وہاں جانے کی کسی کو جرات نہیں ہوتی تھی۔ حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ نے جانوروں کے لئے بھاگ جانے کی دعا کی تو سب کے سب وہاں سے بھاگ گئے۔ حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ نے پکار کر کہا: ”اب ہم لوگ یہاں آگئے ہیں اس لئے تم سب غول کے غول متفرق ہو جاؤ ۔“ یہ سنتے ہی سوراخوں سے نکل نکل کر سب بھاگے ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عقبہ بن نافع فہری رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے حکم سے بلاد افریقہ کو فتح کیا اور قیروان کی حد بندی کی اور وہ ایک جنگل تھا جس میں درندے، جنگلی جانور اور بڑے بڑے سانپ پناہ لیتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اللہ سے دعا کی تو اُن میں کوئی بھی وہاں باقی نہیں رہا۔ حتی کہ درندے وہاں سے اپنے بچوں کو اُٹھا کر لے گئے اور سانپ بلوں سے نکل بھاگے۔ بربریوں میں سے بہت سے لوگ مسلمان ہو گئے اور حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ نے اُس جگہ قیروان کی تعمیر کی۔
حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ کی معزولی
اس سال یعنی 50 درخت۔ ہجری میں حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ کو معزول کر دیا گیا۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں : ایک شخص جو حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ کے لشکر میں اُن کے ساتھ افریقہ گیا تھا کہتا ہے کہ حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ سب سے پہلے شخص ہیں جنہوں نے قیروان کی بنیاد ڈالی ۔ لوگوں کو رہنے اور گھر بنانے کے لئے زمینیں دیں اور وہاں کی مسجد انہوں نے خود بنوائی ۔ اُن کے معزول ہونے تک ہم سب اُن کے ساتھ رہے۔ حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ بہترین گورنروں میں سے ہیں۔ اس سال ۵۰ ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے ملک مصر کے گورنر معاویہ بن خدیج کو معزول کر دیا اور ملک مصر کا گورنر مسلمہ بن مخلد کو بنا دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلمہ بن مخلد کے ماتحت افریقہ کا علاقہ بھی کر دیا۔ اُس نے حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ کو معزول کر دیا اور اپنے غلام ابو المہاجر کو افریقہ کا گورنر بنا دیا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: اہل افریقہ نے یہ وطیرہ اختیار کر لیا تھا کہ جب اسلامی لشکر اُن کی سرکوبی کو آجاتا تو فورا مطیع ہو جاتے اور جب وہ کوچ کر جاتا تو باغی و خود مختار ہو جاتے تھے ۔ اس لئے افریقہ میں مسلمانوں نے یہ فیصلہ کیا کہ اسلامی لشکر کے لئے کوئی کیمپ بنایا جائے تا کہ اہل افریقہ کی آئے دن کی بغاوت اور سرکشی سے نجات ملے اور مسلمان اہل افریقہ کے شرو فساد سے محفوظ و مامون رہیں ۔ اسی لئے مقام قیروان کو منتخب کر کے خس و خاشاک صاف کیا، اونچی نیچی زمین کو ہموار کیا۔ جامع مسجد بنوائی ہشکریوں کے رہنے کے لئے مکانات تیار کرائے۔ ہر قبیلہ کی الگ الگ مسجد بنائی ۔ جامع مسجد کا طول تین ہزار ذراع اور عرض چھ سو ذراع کا تھا۔ پانچ سال میں قیروان شہر کی تعمیر ہوئی اور اس دوران مسلسل جہاد کرتے رہے۔ انہیں ایام میں اکثر بربر نے بھی اسلام قبول کر لیا اور مسلمانوں کی قوت اور طاقت بڑھ گئی اور اُس اسلامی لشکر کے بازو مضبوط ہو گئے جو قیروان میں مقیم تھا ۔ اس کے بعد حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ کو معزول کر دیا گیا۔
أم المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال
اس سال 50 هجری میں اُم المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا۔ یہودیوں کے جو قبائل مدینہ منورہ کے آس پاس آباد تھے اُن میں سے ایک قبیلے کے سردار کی بیٹی سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: ام المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا سلسلہ نسب اس طرح ہے۔ سیدہ صفیہ بنت حی بن اخطب بن ثعلبہ بن عبد بن کعب بن خزرج بن ابی ایہب بن نصیر بن نحام بن تحوم ہے۔ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا سلسلہ نسب حضرت ہارون علیہ السلام سے جا کر ملتا ہے۔ اس طرح آپ رضی اللہ عنہا حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور اپنے باپ اور چا کے ساتھ مدینہ منورہ کے مضافات میں رہتی تھیں ۔ آپ رضی اللہ عنہا کے باپ اور شوہر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دھو کہ بازی کی اور قتل کر دیے گئے ۔ آپ رضی اللہ عنہا غزوہ خیبر کے قیدیوں میں تھیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ سیدہ صفیہ ایک سردار کی بیٹی ہیں ۔ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کر دیا تو آپ رضی اللہ عنہا نے اسلام قبول کر لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا سے نکاح کر لیا۔ واپسی میں جب مقام صبا پر پڑاؤ ڈالا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق زوجت ادا کیا۔ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا اپنے چازاد بھائی کنانہ بن حقیق سے بیاہی ہوئی تھیں جو جنگ میں مارا گیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا کے رُخسار پر تھپڑ کا نشان دیکھا تو اس کے بارے میں دریافت فرمایا : یہ کیسا نشان ہے ؟ آپ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ” میں نے خواب دیکھا تھا کہ گویا چاند یثرب (مدینہ منورہ) سے آکر میری گود میں آگرا ہے۔ میں نے یہ خواب اپنے شوہر کو بیان کیا تو اُس نے مجھے تھپڑ مارا اور بولا: "ٹو یثرب کے بادشاہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) سے نکاح کرنا چاہتی ہے؟ یہ نشان اس تھپڑ کا ہے ۔ ام المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا عبادت ، تقویٰ، زہد نیکی اور صدقہ کے لحاظ سے ”سیدات النساء تھیں۔
حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کا انتقال
اس سال 50 ہجری میں حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں جو غزوہ اُحد کے بعد مسلمان ہوئے اور سب سے پہلے بیئر معونہ کی جنگ میں شرکت کی ۔ آپ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ڈاکیہ ہونے کا شرف حاصل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُم المومنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کے سلسلے میں حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کو ملک حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے پاس بھیجا تھا او حکم دیا تھا کہ ملک حبشہ سے مسلمانوں کو لیکر آئیں نجاشی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق ام المومنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کر دیا اور دعوت ولیمہ بھی کی۔ اس کے بعد حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کے ساتھ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو اور ملک حبشہ میں بسے مسلمانوں کو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیج دیا۔ حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کے افعال و آثار قابل تعریف ہیں اور آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں ہوا۔
حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کا انتقال
اس سال 50 ہجری میں حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت دحیہ بن خلیفہ کلبی رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ بہت خوب صورت تھے اسی وجہ سے جبرائیل علیہ السلام اکثر آپ رضی اللہ عنہ کی صورت میں آتے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو سلطنت روم کے قیصر کی طرف اسلام کی دعوت دینے کے لئے بھیجا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے بہت پہلے اسلام قبول کیا تھا لیکن غزوہ بدر میں شامل نہیں ہو سکے تھے۔ پھر اس کے بعد کے ہر معرکے میں شامل رہے۔ پھر ملک شام جہاد کے لئے گئے اور جنگ یرموک میں شامل ہوئے۔ وہاں فتح حاصل ہونے کے بعد دمشق کے مغرب میں مقام مرۃ میں رہائش اختیار کر لی۔ یہاں تک کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں انتقال ہو گیا۔
حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کا انتقال
اس سال 50 ہجری میں حضرت عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کا بھی انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عبدالرحمن بن سمرہ بن حبیب بن عبد شمس بیشمی رضی اللہ عنہ نے فتح مکہ کے روز اسلام قبول کیا۔ بعض کا قول ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ معرکہ موتہ میں بھی شامل ہوئے۔ اس کے علاوہ خراسان میں جنگ کی اور بجستان اور کابل وغیرہ کو فتح کیا۔ زمانہ جاہلیت میں آپ رضی اللہ عنہ کا نام عبد الکلال تھا اور بعض کے مطابق عبد کلوب تھا اور بعض عبد الکعبہ بھی بیان کرتے ہیں۔ جب آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کا نام بدل کر عبد الرحمن رکھ دیا۔ دمشق میں آپ رضی اللہ عنہ کا ایک گھر تھا اور بصرہ میں بھی ایک گھر تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ اُن دوسفیروں میں سے ایک ہیں جنھوں نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے درمیان صلح کرائی۔ آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں ہوا۔
حضرت عثمان بن ابی عاص ثقفی رضی اللہ عنہ کا انتقال
اس سال 50 ہجری میں حضرت عثمان بن عاص ثقفی رضی اللہ عنہ کا بھی انتقال ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عثمان بن عاص ثقفی رضی اللہ عنہ کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت حاصل ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ طائف کے وفد بنو ثقیف کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کوطائف کا گورنر مقررفرما دیا۔ چاروں خلفائے راشدین نے آپ رضی اللہ عنہ کو اس عہدے پر برقرار رکھا۔ آپ رضی اللہ عنہ طویل عرصے تک طائف کے گورنر رہے یہاں تک کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا۔
حضرت عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا انتقال
اس سال 50 ہجری میں خلیفہ چہارم حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کے بڑے بھائی حضرت عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ دوسرے نمبر کے بیٹے ہیں ۔ حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ سب سے چھوٹے بھائی ہیں۔ اُن سے دس سال بڑے حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں۔ اُن سے دس سال بڑے حضرت عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں ۔ اُن سے دس سال کا بڑا طالب ہے۔ طالب کے علاوہ تینوں بھائیوں نے اسلام قبول کیا ہے۔ حضرت عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے صلح حدیبیہ سے پہلے اسلام قبول کیا اور جنگ موتہ میں شامل ہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہ قریش کے بڑے نساب دانوں میں سے ہیں ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں انتقال ہوا۔
حضرت عمرو بن حمق کا ہن خزاعی رضی اللہ عنہ کا انتقال
اس سال 50 ہجری میں حضرت عمرو بن حمق خزاعی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت عمرو بن حمق کا ہن خزاعی نے فتح مکہ سے قبل اسلام قبول کیا اور ہجرت کی ۔ بعض کا قول ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے حجتہ الوداع کے سال اسلام قبول کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کے لئے دعا کی تھی کہ اللہ تعالی آپ رضی اللہ عنہ کو شباب سے شاد کام کرے۔ اس دعا کا اثر یہ ہوا کہ آپ رضی اللہ عنه ای سال تک زندہ رہے اور آپ رضی اللہ عنہ کا ایک بال بھی سفید نہیں ہوا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ جمل اور جنگ صفین میں شرکت کی اور حجر بن عدی کے مددگاروں میں تھے زیاد نے تلاش کیا تو آپ رضی اللہ عنہ ” موصل" چلے گئے ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے موصل کے گورنر کو حکم دیا کہ آپ رضی اللہ عنہ کو تلاش کیا جائے ۔ آپ رضی اللہ عنہ ایک غار میں چھپ گئے جہاں ایک سانپ نے ڈس لیا اور انتقال ہو گیا۔
حضرت کعب بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ کا انتقال
اس سال 50 ہجری میں حضرت کعب بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ کا بھی انتقال ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ کے اولین اسلام قبول کرنے والوں میں سے ہیں اور بیعت عقبہ میں بھی شامل رہے۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت کعب بن مالک انصاری سلمی رضی اللہ عنہ شاعر اسلام ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے بہت پہلے اسلام قبول کیا اور بیعت عقبہ میں شامل ہوئے اور غزوہ بدر میں شامل نہیں ہوئے ۔ صحیحین ( صحیح بخاری اور صحیح مسلم ) میں آپ رضی اللہ عنہ کی توبہ کی قبولیت کے بارے میں بہت تفصیل سے ذکر ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ ان تین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک ہیں جو غزوہ تبوک میں شامل نہیں ہو سکے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب عذر دریافت کیا تو ان تینوں نے تسلیم کیا کہ ہمارے نہیں شامل ہونے کا کوئی عذر نہیں ہے اور اللہ ہی ہمیں معاف کر سکتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تینوں کے بائیکاٹ کا حکم دے دیا ۔ آخر کار اللہ تعالیٰ نے ان تینوں کو معاف کر دیا قرآن پاک میں ان تینوں کی توبہ کی قبولیت کی آیات نازل فرمائی۔
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا انتقال
اس سال 50 ہجری میں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا بھی انتقال ہوا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت مغیرہ بن شعبہ بن عامر بن مسعود ثقفی رضی اللہ عنہ طائف کے ہیں اور حضرت عروہ بن مسعود ثقفی رضی اللہ عنہ آپ رضی اللہ عنہ کے باپ کے چا ہیں۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ ملک عرب کے دانش مندوں اور صاحب الرائے لوگوں میں سے ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے بنو ثقیف کے تیرہ آدمیوں کو مقوقس کے پاس سے واپس آنے پر قتل کر کے اُن کے اموال کو لے لیا اور مدینہ منورہ آکر اسلام قبول کر لیا تھا۔ اُن کی دیات کا تاوان حضرت عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ادا کیا۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے صلح حدیبیہ میں شرکت کی اور صلح کے روز آپ رضی اللہ عنہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر تلوار سونتے کھڑے رہے ۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل طائف کے اسلام قبول کرنے کے بعد آپ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو سفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور ان دونوں نے طائف کے بُت ”لات“ کوتوڑ دیا۔ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو شکر دے کر بحرین کی طرف بھیجا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے یمامہ اور یرموک کی جنگوں میں بھی شرکت کی اور اُس روز آپ رضی اللہ عنہ کی آنکھ ضائع ہو گئی ۔ آپ رضی اللہ عنہ جنگ قادسیہ میں بھی شامل تھے۔ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو بہت سی فتوحات پر مقرر کیا جن میں ہمدان اور میسان شامل ہیں۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے جنگ قادسیہ سے پہلے آپ رضی اللہ عنہ کوہی اپنا ایچی بنا کر فارسیوں (ایرانیوں) کے سپہ سالار رستم کے پاس بھیجا تھا اور آپ رضی اللہ عنہ نے اُس سے انتہائی فصیح و بلیغ گفتگوکی تھی۔ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو بصرہ کا گورنرمقر فرمایا تھا۔ حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد جب حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے درمیان صلح ہوگئی اور حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ مملکت اسلامیہ کے حکمراں بن گئے تو انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کوکوفہ کا گورنر بنا دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ انتقال کے وقت بھی کوفہ کے گورنر تھے۔
ام المومنین سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کا انتقال
اس سال 50 ہجری میں اُم المومنین سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کا بھی انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ رضی اللہ عنہا غزوہ مریسیع میں قیدی بن کر آئیں اور یہی غزوہ مصطلق ہے۔ آپ رضی اللہ عنہا کے والد اُس قبیلے کے سردار تھے۔ آپ رضی اللہ عنہا نے اسلام قبول کرلیا تو سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا کو آزاد کردیا اور نکاح کر لیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپس میں کہا کہ اس قبیلے کے لوگ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ دار ہو گئے ۔ پس اُن کے قبضے میں بنو مصطلق کے جتنے بھی قیدی تھے سب کو آزاد کر دیا۔ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اس غزوہ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھیں ۔ آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر ایسی کسی عورت کو نہیں دیکھا جو اپنے قبیلے والوں کے لئے اتنی با برکت ثابت ہوئی ہو۔“ أم المؤمنین سیدہ جو رہ رضی اللہ عنہا کا نام اسلام قبول کرنے سے پہلے برہ تھا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا کا نام جو یہ یہ رکھ دیا۔ آپ رضی اللہ عنہا بہت ہی شیریں کلام عورت تھیں۔
ھ51 ہجری
ھ51 ہجری میں حضرت حجر بن عدی کی دردناک شہادت کا واقعہ پیش آیا۔ انہیں اُن کے ساتھیوں سمیت شہید کر دیا گیا تھا۔ حضرت حجر بن عدی کھلے عام خلیفہ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی حمایت کرتے تھے ۔ انہیں زیاد کے حکم سے اُن کے ساتھیوں سمیت شہید کر دیا گیا علامہ محمد بن جریر طبری اور علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر نے حضرت حجر بن عدی کی شہادت کے واقعہ کو بہت تفصیل سے بیان کیا ہے۔ اس معاملے میں ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے اپنی ناراضگی کا اظہار بھی کیا تھا۔ ہم نے یہاں انتہائی مختصر بیان کیا ہے تفصیل کے لئے تاریخ کی معتبر کتابوں سے رجوع کریں۔
ریخ کی فتح
او پر ہم بیان کر چکے ہیں کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے زیاد ( ابن سمیہ ) کو کوفہ اور بصرہ کے ساتھ ساتھ خراسان اور آس پاس کے تمام علاقوں کا گورنر بنا دیا تھا۔ یوں سمجھ لیں کہ آج کے ملک عراق اور ملک ایران اور آس پاس کے تمام علاقوں کا اُس وقت زیاد گورنر تھا علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اس سال ۵۱ ہجری میں زیاد نے ربیع بن زیاد حارثی کو خراسان کا گورنر بنا کر روانہ کیا۔ حکم بن عمرو نے اپنے انتقال کے وقت انس بن ابی انس کو خضر اسان کا گورنر بنایا تھا اور زیاد کو اس کی اطلاع دے دی تھی۔ زیاد نے انس کو معزول کر کے اُس کی جگہ خلید بن عبد اللہ کو گورنر بنا دیا۔ ایک مہینے کے بعد زیاد نے خلید کو بھی معزول کر دیا اور خراسان کا گورنر ربیع کو بنادیا۔ وہ اپنے اہل وعیال سمیت خراسان میں جا کر بس گیا۔ ربیع بن زیاد حارثی نے بلخ کا محاصرہ کر لیا۔ اس سے پہلے احنف بن قیس سے اہل بلخ نے صلح کی تھی لیکن شہر کے دروازے نہیں کھولے تھے ۔ ربیع نے حملہ شروع کیا تو اہل بلخ نے صلح کی درخواست کی جسے ربیع نے قبول کر لیا اور صلح کے بعد انہوں نے شہر کے دروازے کھول دیئے ۔ قہستان کو بھی ربیع نے جنگ کر کے فتح کیا اُس کے اضلاع میں ترکوں کو قتل کر کے انہیں شکست دی۔ ایک ترک طرخان باقی رہ گیا تھا اُسے قتیبہ بن مسلمہ نے اپنی سپہ سالاری کے دور میں قتل کیا ۔ جس کا ذکر انشاء اللہ آگے آئے گا۔ ربیع اپنے غلام فرخ اور کنیز شریفہ کو ساتھ لئے ہوئے لڑتا ہوا نہ ترکستان ( ماوراء النہر) کو صحیح و سالم عبور کر گیا۔ فرخ اس سے پہلے نہر پار کر چکا تھا۔ ربیع نے اُسے غلامی سے آزاد کر دیا۔ اس سال یزید بن معاویہ نے مسلمانوں کو حج کرایا۔
حضرت جریر بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ کا انتقال
اس سال 51 ہجری میں حضرت جریر بن عبداللہ بلی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ سورہ المائدہ کے نزول کے بعد مسلمان ہوئے آپ رضی اللہ عنہ نے ماہ رمضان المبارک 10 ہجری میں اسلام قبول کیا۔ جب آپ رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ آئے تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے کے دوران فرمایا: ” اس راستے سے تمہارے پاس یمن والوں کا ایک بہترین شخص آ رہا ہے اور اس کے چہرے پر شاہی نشان ہے ۔“ جب حضرت جریر بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ آئے تو لوگوں نے آپ رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق پایا۔ لوگوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت کی خبر دی تو آپ رضی اللہ عنہ نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ روایت ہے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جب اُن کے ساتھ بیٹھے تو اُن کے لئے اپنی چادر بچھادی اور فرمایا : " جب تمہارے پاس کسی قوم کا سردار آئے تو اُس کی عزت کیا کرو ، صحیحین ( صحیح بخاری اور صحیح مسلم ) میں ہے کہ حضرت جریر بن عبد اللہ بجلی نے فرمایا: ” جب سے میں نے اسلام قبول کیا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے حجاب اختیار نہیں کیا اور مجھے دیکھ کر تبسم فرماتے تھے اور خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے : ” حضرت جریر رضی اللہ عنہ اس اُمت کے یوسف ہیں اور عبدالملک بن عمیر نے بیان کیا ہے کہ میں نے حضرت جریر بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ کودیکھا تو آپ رضی اللہ عنہ کا چہرہ چاند کا ٹکڑا معلوم ہوتا تھا خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو ہدان کا گورنر بنایا تھا۔ وہاں پر جنگ میں آپ رضی اللہ عنہ کی ایک آنکھ ضائع ہوگئی حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد آپ رضی اللہ عنہ غیر جانب دار رہے اور ہمیشہ الجزیرہ میں ہی مقیم رہے یہاں تک کے 51 ہجری میں آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا۔
حضرت جعفر بن ابی سفیان بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کا انتقال
اس سال 51 ہجری میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے چازاد بھائی حضرت جعفر بن ابی سفیان بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ۔ یادر ہے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے والد ابو سفیان بن حرب ہیں اور حضرت جعفر بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے والد ابوسفیان بن عبدالمطلب ہیں۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت جعفر بن ابی سفیان بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ نے فتح مکہ کے سال جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ فتح مکہ کے لئے تشریف لا رہے تھے تب آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے والد محترم حضرت ابوسفیان بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان راستے میں مل کر اسلام قبول کیا۔ جب دونوں باپ بیٹے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے بات نہیں کی اور چہرہ مبارک پھیر لیا۔ یہ دیکھ کر حضرت ابوسفیان بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کی قسم ! اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے معاف نہیں کیا تو میں اپنے اس بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر زمین میں ایسی جگہ چلا جاؤں گا کہ کچھ معلوم نہیں ہو گا کہ میں کہاں گیا ہوں ۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ سن کر آپ رضی اللہ عنہ کو معاف فرمادیا اور دونوں باپ بیٹے نے اسلام قبول کر لیا۔ اس کے بعد دونوں باپ بیٹے بہت اچھے مسلمان ثابت ہوئے اور غزوہ حنین میں شامل ہوئے اور اُس میں ثابت قدم رہنے والوں میں شامل تھے۔ حضرت ابو سفیان بن عبد المطلب اُس غزوے میں سید الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی لگام پکڑے ہوئے تھے۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!



