جمعہ، 6 ستمبر، 2024

Saltanat e Umayya part 04

 04 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 4

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کو ہٹانے کی کوشش، قیروان شہر آباد کیا گیا ہے، حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ کی معزولی، أم المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال، حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت عثمان بن ابی عاص ثقفی رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت عمرو بن حمق کا ہن خزاعی رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت کعب بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ، ام المومنین سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کا انتقال، ھ51 ہجری، ریخ کی فتح، حضرت جریر بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت جعفر بن ابی سفیان بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کا انتقال



رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کو ہٹانے کی کوشش


اس سال 50 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کو اس کی جگہ سے ہٹانے کی کوشش کی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اس سال 50 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کو اٹھا کر ملک شام لے جائیں۔ منبر کو ذرا سی حرکت دی گئی تو سورج کو گہن لگ گیا اور مدینہ منورہ میں اتنا اندھیرا چھا گیا کہ دن میں تارے دکھائی دینے لگے۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے امر کو سب لوگوں نے امر عظیم سمجھا۔ اس پر آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: " میرا ارادہ یہ نہیں تھا کہ منبر اٹھایا جائے۔ مجھے اندیشہ یہ ہوا کہ دیمک لگ گئی ہوگی اس لئے میں نے خود دیکھ لیا۔ پھر اسی دن منبر پر پوشش ڈال دی ۔ خود حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میری رائے یہ تھی کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے منبر اور عصا کو مدینہ منورہ میں نہیں چھوڑ نا چاہیئے وہاں کے لوگ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے قاتل اور دشمن ہیں ۔ جب حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ تشریف لائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عصائے مبارک حضرت سعد قرض کے پاس تھا۔ اُن سے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے عصائے مبارک منگوایا۔ حضرت ابو ہریرہ اور حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم یہ سن کر اُن کے پاس آئے اور فرمایا: ”اے امیر المومنین رضی اللہ عنہ اللہ کے واسطے ایسا نہ کریں۔ یہ بات مناسب نہیں ہے کہ جس جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود منبر رکھا ہے وہاں سے آپ رضی اللہ عنہ منبر کو اٹھا کر ملک شام لے جائیں۔ پھر ایسا ہو گا کہ مسجد کو بھی یہاں سے لے جایا جائے گا۔ آخر کار حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے ارادہ ترک کر دیا اور اور منبر میں چھ زینے بڑھا دیئے۔ اس زمانے میں ( علامہ محمد بن جریر طبری کے زمانے میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منبر آٹھ زمینوں کا ہے اور اس باب میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے بہت معذرت کی ۔ علامہ عمادالدین ابن اکثیر لکھتے ہیں : حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کو مدینہ منورہ سے دمشق منتقل کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا اور یہ کہ وہ عصا پکڑلیں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے وقت پکڑا کرتے تھے اور وہ بھی اُس عصا کو پکڑ کر منبر پر کھڑے ہوں یہاں تک کہ حضرت ابو ہریرہ اور حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم نے فرمایا: ”اے امیر المومنین رضی اللہ عنہ ! ہم آپ کو ایسا کرنے سے اللہ کی یاد دلاتے ہیں ۔ یہ مناسب نہیں ہے کہ منبر کو اُس جگہ سے ہٹایا جائے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھا ہے اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عصائے مبارک مدینہ منورہ سے باہر لے جایا جائے ۔ پس حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے اس ارادے کو ترک کر دیا لیکن منبر میں چھ سیڑھیوں کا اضافہ کر دیا اور لوگوں کے پاس معذرت کی۔


قیروان شہر آباد کیا گیا ہے


جب حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ حکمراں بنے تھے تو اہم 42 ہجری میں حضرت عقبہ بن نافع فہری رضی اللہ عنہ کو افریقہ ( یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ آج کا جو شمالی افریقہ ہے اُس زمانے میں اُس علاقے کو افریقہ کہا جاتا تھا ) کا سپہ سالار بنا کر بھیجا تھا اور انہوں نے افریقہ کے بہت سے علاقے فتح کر کے وہاں ایک نیا شہر قیروان بسایا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے حضرت عقبہ بن نافع فہری رضی اللہ عنہ کو لشکر دے کر افریقہ کی طرف روانہ کیا۔ انہوں نے افریقہ فتح کیا اور شہر قیروان کی بنیاد ڈالی ۔ اُس مقام پر درندے اور سانپوں سے بھرا ہوا ایسا جنگل تھا کہ وہاں جانے کی کسی کو جرات نہیں ہوتی تھی۔ حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ نے جانوروں کے لئے بھاگ جانے کی دعا کی تو سب کے سب وہاں سے بھاگ گئے۔ حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ نے پکار کر کہا: ”اب ہم لوگ یہاں آگئے ہیں اس لئے تم سب غول کے غول متفرق ہو جاؤ ۔“ یہ سنتے ہی سوراخوں سے نکل نکل کر سب بھاگے ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عقبہ بن نافع فہری رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے حکم سے بلاد افریقہ کو فتح کیا اور قیروان کی حد بندی کی اور وہ ایک جنگل تھا جس میں درندے، جنگلی جانور اور بڑے بڑے سانپ پناہ لیتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اللہ سے دعا کی تو اُن میں کوئی بھی وہاں باقی نہیں رہا۔ حتی کہ درندے وہاں سے اپنے بچوں کو اُٹھا کر لے گئے اور سانپ بلوں سے نکل بھاگے۔ بربریوں میں سے بہت سے لوگ مسلمان ہو گئے اور حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ نے اُس جگہ قیروان کی تعمیر کی۔ 


حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ کی معزولی


اس سال یعنی 50 درخت۔  ہجری میں حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ کو معزول کر دیا گیا۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں : ایک شخص جو حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ کے لشکر میں اُن کے ساتھ افریقہ گیا تھا کہتا ہے کہ حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ سب سے پہلے شخص ہیں جنہوں نے قیروان کی بنیاد ڈالی ۔ لوگوں کو رہنے اور گھر بنانے کے لئے زمینیں دیں اور وہاں کی مسجد انہوں نے خود بنوائی ۔ اُن کے معزول ہونے تک ہم سب اُن کے ساتھ رہے۔ حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ بہترین گورنروں میں سے ہیں۔ اس سال ۵۰ ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے ملک مصر کے گورنر معاویہ بن خدیج کو معزول کر دیا اور ملک مصر کا گورنر مسلمہ بن مخلد کو بنا دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلمہ بن مخلد کے ماتحت افریقہ کا علاقہ بھی کر دیا۔ اُس نے حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ کو معزول کر دیا اور اپنے غلام ابو المہاجر کو افریقہ کا گورنر بنا دیا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: اہل افریقہ نے یہ وطیرہ اختیار کر لیا تھا کہ جب اسلامی لشکر اُن کی سرکوبی کو آجاتا تو فورا مطیع ہو جاتے اور جب وہ کوچ کر جاتا تو باغی و خود مختار ہو جاتے تھے ۔ اس لئے افریقہ میں مسلمانوں نے یہ فیصلہ کیا کہ اسلامی لشکر کے لئے کوئی کیمپ بنایا جائے تا کہ اہل افریقہ کی آئے دن کی بغاوت اور سرکشی سے نجات ملے اور مسلمان اہل افریقہ کے شرو فساد سے محفوظ و مامون رہیں ۔ اسی لئے مقام قیروان کو منتخب کر کے خس و خاشاک صاف کیا، اونچی نیچی زمین کو ہموار کیا۔ جامع مسجد بنوائی ہشکریوں کے رہنے کے لئے مکانات تیار کرائے۔ ہر قبیلہ کی الگ الگ مسجد بنائی ۔ جامع مسجد کا طول تین ہزار ذراع اور عرض چھ سو ذراع کا تھا۔ پانچ سال میں قیروان شہر کی تعمیر ہوئی اور اس دوران مسلسل جہاد کرتے رہے۔ انہیں ایام میں اکثر بربر نے بھی اسلام قبول کر لیا اور مسلمانوں کی قوت اور طاقت بڑھ گئی اور اُس اسلامی لشکر کے بازو مضبوط ہو گئے جو قیروان میں مقیم تھا ۔ اس کے بعد حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ کو معزول کر دیا گیا۔


أم المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال


اس سال 50 هجری میں اُم المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا۔ یہودیوں کے جو قبائل مدینہ منورہ کے آس پاس آباد تھے اُن میں سے ایک قبیلے کے سردار کی بیٹی سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: ام المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا سلسلہ نسب اس طرح ہے۔ سیدہ صفیہ بنت حی بن اخطب بن ثعلبہ بن عبد بن کعب بن خزرج بن ابی ایہب بن نصیر بن نحام بن تحوم ہے۔ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا سلسلہ نسب حضرت ہارون علیہ السلام سے جا کر ملتا ہے۔ اس طرح آپ رضی اللہ عنہا حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور اپنے باپ اور چا کے ساتھ مدینہ منورہ کے مضافات میں رہتی تھیں ۔ آپ رضی اللہ عنہا کے باپ اور شوہر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دھو کہ بازی کی اور قتل کر دیے گئے ۔ آپ رضی اللہ عنہا غزوہ خیبر کے قیدیوں میں تھیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ سیدہ صفیہ ایک سردار کی بیٹی ہیں ۔ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کر دیا تو آپ رضی اللہ عنہا نے اسلام قبول کر لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا سے نکاح کر لیا۔ واپسی میں جب مقام صبا پر پڑاؤ ڈالا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق زوجت ادا کیا۔ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا اپنے چازاد بھائی کنانہ بن حقیق سے بیاہی ہوئی تھیں جو جنگ میں مارا گیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا کے رُخسار پر تھپڑ کا نشان دیکھا تو اس کے بارے میں دریافت فرمایا : یہ کیسا نشان ہے ؟ آپ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ” میں نے خواب دیکھا تھا کہ گویا چاند یثرب (مدینہ منورہ) سے آکر میری گود میں آگرا ہے۔ میں نے یہ خواب اپنے شوہر کو بیان کیا تو اُس نے مجھے تھپڑ مارا اور بولا: "ٹو یثرب کے بادشاہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) سے نکاح کرنا چاہتی ہے؟ یہ نشان اس تھپڑ کا ہے ۔ ام المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا عبادت ، تقویٰ، زہد نیکی اور صدقہ کے لحاظ سے ”سیدات النساء تھیں۔


حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 50 ہجری میں حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں جو غزوہ اُحد کے بعد مسلمان ہوئے اور سب سے پہلے بیئر معونہ کی جنگ میں شرکت کی ۔ آپ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ڈاکیہ ہونے کا شرف حاصل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُم المومنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کے سلسلے میں حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کو ملک حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے پاس بھیجا تھا او حکم دیا تھا کہ ملک حبشہ سے مسلمانوں کو لیکر آئیں نجاشی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق ام المومنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کر دیا اور دعوت ولیمہ بھی کی۔ اس کے بعد حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کے ساتھ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو اور ملک حبشہ میں بسے مسلمانوں کو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیج دیا۔ حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کے افعال و آثار قابل تعریف ہیں اور آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں ہوا۔


حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 50 ہجری میں حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت دحیہ بن خلیفہ کلبی رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ بہت خوب صورت تھے اسی وجہ سے جبرائیل علیہ السلام اکثر آپ رضی اللہ عنہ کی صورت میں آتے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو سلطنت روم کے قیصر کی طرف اسلام کی دعوت دینے کے لئے بھیجا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے بہت پہلے اسلام قبول کیا تھا لیکن غزوہ بدر میں شامل نہیں ہو سکے تھے۔ پھر اس کے بعد کے ہر معرکے میں شامل رہے۔ پھر ملک شام جہاد کے لئے گئے اور جنگ یرموک میں شامل ہوئے۔ وہاں فتح حاصل ہونے کے بعد دمشق کے مغرب میں مقام مرۃ میں رہائش اختیار کر لی۔ یہاں تک کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں انتقال ہو گیا۔


حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 50 ہجری میں حضرت عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کا بھی انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عبدالرحمن بن سمرہ بن حبیب بن عبد شمس بیشمی رضی اللہ عنہ نے فتح مکہ کے روز اسلام قبول کیا۔ بعض کا قول ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ معرکہ موتہ میں بھی شامل ہوئے۔ اس کے علاوہ خراسان میں جنگ کی اور بجستان اور کابل وغیرہ کو فتح کیا۔ زمانہ جاہلیت میں آپ رضی اللہ عنہ کا نام عبد الکلال تھا اور بعض کے مطابق عبد کلوب تھا اور بعض عبد الکعبہ بھی بیان کرتے ہیں۔ جب آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کا نام بدل کر عبد الرحمن رکھ دیا۔ دمشق میں آپ رضی اللہ عنہ کا ایک گھر تھا اور بصرہ میں بھی ایک گھر تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ اُن دوسفیروں میں سے ایک ہیں جنھوں نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے درمیان صلح کرائی۔ آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں ہوا۔


حضرت عثمان بن ابی عاص ثقفی رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 50 ہجری میں حضرت عثمان بن عاص ثقفی رضی اللہ عنہ کا بھی انتقال ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عثمان بن عاص ثقفی رضی اللہ عنہ کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت حاصل ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ طائف کے وفد بنو ثقیف کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کوطائف کا گورنر مقررفرما دیا۔ چاروں خلفائے راشدین نے آپ رضی اللہ عنہ کو اس عہدے پر برقرار رکھا۔ آپ رضی اللہ عنہ طویل عرصے تک طائف کے گورنر رہے یہاں تک کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا۔


حضرت عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 50 ہجری میں خلیفہ چہارم حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کے بڑے بھائی حضرت عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ دوسرے نمبر کے بیٹے ہیں ۔ حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ سب سے چھوٹے بھائی ہیں۔ اُن سے دس سال بڑے حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں۔ اُن سے دس سال بڑے حضرت عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں ۔ اُن سے دس سال کا بڑا طالب ہے۔ طالب کے علاوہ تینوں بھائیوں نے اسلام قبول کیا ہے۔ حضرت عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے صلح حدیبیہ سے پہلے اسلام قبول کیا اور جنگ موتہ میں شامل ہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہ قریش کے بڑے نساب دانوں میں سے ہیں ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں انتقال ہوا۔


حضرت عمرو بن حمق کا ہن خزاعی رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 50 ہجری میں حضرت عمرو بن حمق خزاعی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت عمرو بن حمق کا ہن خزاعی نے فتح مکہ سے قبل اسلام قبول کیا اور ہجرت کی ۔ بعض کا قول ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے حجتہ الوداع کے سال اسلام قبول کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کے لئے دعا کی تھی کہ اللہ تعالی آپ رضی اللہ عنہ کو شباب سے شاد کام کرے۔ اس دعا کا اثر یہ ہوا کہ آپ رضی اللہ عنه ای سال تک زندہ رہے اور آپ رضی اللہ عنہ کا ایک بال بھی سفید نہیں ہوا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ جمل اور جنگ صفین میں شرکت کی اور حجر بن عدی کے مددگاروں میں تھے زیاد نے تلاش کیا تو آپ رضی اللہ عنہ ” موصل" چلے گئے ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے موصل کے گورنر کو حکم دیا کہ آپ رضی اللہ عنہ کو تلاش کیا جائے ۔ آپ رضی اللہ عنہ ایک غار میں چھپ گئے جہاں ایک سانپ نے ڈس لیا اور انتقال ہو گیا۔


حضرت کعب بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 50 ہجری میں حضرت کعب بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ کا بھی انتقال ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ کے اولین اسلام قبول کرنے والوں میں سے ہیں اور بیعت عقبہ میں بھی شامل رہے۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت کعب بن مالک انصاری سلمی رضی اللہ عنہ شاعر اسلام ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے بہت پہلے اسلام قبول کیا اور بیعت عقبہ میں شامل ہوئے اور غزوہ بدر میں شامل نہیں ہوئے ۔ صحیحین ( صحیح بخاری اور صحیح مسلم ) میں آپ رضی اللہ عنہ کی توبہ کی قبولیت کے بارے میں بہت تفصیل سے ذکر ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ ان تین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک ہیں جو غزوہ تبوک میں شامل نہیں ہو سکے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب عذر دریافت کیا تو ان تینوں نے تسلیم کیا کہ ہمارے نہیں شامل ہونے کا کوئی عذر نہیں ہے اور اللہ ہی ہمیں معاف کر سکتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تینوں کے بائیکاٹ کا حکم دے دیا ۔ آخر کار اللہ تعالیٰ نے ان تینوں کو معاف کر دیا قرآن پاک میں ان تینوں کی توبہ کی قبولیت کی آیات نازل فرمائی۔


حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا انتقال 


اس سال 50 ہجری میں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا بھی انتقال ہوا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت مغیرہ بن شعبہ بن عامر بن مسعود ثقفی رضی اللہ عنہ طائف کے ہیں اور حضرت عروہ بن مسعود ثقفی رضی اللہ عنہ آپ رضی اللہ عنہ کے باپ کے چا ہیں۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ ملک عرب کے دانش مندوں اور صاحب الرائے لوگوں میں سے ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے بنو ثقیف کے تیرہ آدمیوں کو مقوقس کے پاس سے واپس آنے پر قتل کر کے اُن کے اموال کو لے لیا اور مدینہ منورہ آکر اسلام قبول کر لیا تھا۔ اُن کی دیات کا تاوان حضرت عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ادا کیا۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے صلح حدیبیہ میں شرکت کی اور صلح کے روز آپ رضی اللہ عنہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر تلوار سونتے کھڑے رہے ۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل طائف کے اسلام قبول کرنے کے بعد آپ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو سفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور ان دونوں نے طائف کے بُت ”لات“ کوتوڑ دیا۔ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو شکر دے کر بحرین کی طرف بھیجا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے یمامہ اور یرموک کی جنگوں میں بھی شرکت کی اور اُس روز آپ رضی اللہ عنہ کی آنکھ ضائع ہو گئی ۔ آپ رضی اللہ عنہ جنگ قادسیہ میں بھی شامل تھے۔ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو بہت سی فتوحات پر مقرر کیا جن میں ہمدان اور میسان شامل ہیں۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے جنگ قادسیہ سے پہلے آپ رضی اللہ عنہ کوہی اپنا ایچی بنا کر فارسیوں (ایرانیوں) کے سپہ سالار رستم کے پاس بھیجا تھا اور آپ رضی اللہ عنہ نے اُس سے انتہائی فصیح و بلیغ گفتگوکی تھی۔ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو بصرہ کا گورنرمقر فرمایا تھا۔ حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد جب حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے درمیان صلح ہوگئی اور حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ مملکت اسلامیہ کے حکمراں بن گئے تو انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کوکوفہ کا گورنر بنا دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ انتقال کے وقت بھی کوفہ کے گورنر تھے۔


ام المومنین سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کا انتقال


اس سال 50 ہجری میں اُم المومنین سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کا بھی انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ رضی اللہ عنہا غزوہ مریسیع میں قیدی بن کر آئیں اور یہی غزوہ مصطلق ہے۔ آپ رضی اللہ عنہا کے والد اُس قبیلے کے سردار تھے۔ آپ رضی اللہ عنہا نے اسلام قبول کرلیا تو سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا کو آزاد کردیا اور نکاح کر لیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپس میں کہا کہ اس قبیلے کے لوگ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ دار ہو گئے ۔ پس اُن کے قبضے میں بنو مصطلق کے جتنے بھی قیدی تھے سب کو آزاد کر دیا۔ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اس غزوہ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھیں ۔ آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر ایسی کسی عورت کو نہیں دیکھا جو اپنے قبیلے والوں کے لئے اتنی با برکت ثابت ہوئی ہو۔“ أم المؤمنین سیدہ جو رہ رضی اللہ عنہا کا نام اسلام قبول کرنے سے پہلے برہ تھا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا کا نام جو یہ یہ رکھ دیا۔ آپ رضی اللہ عنہا بہت ہی شیریں کلام عورت تھیں۔


ھ51 ہجری


ھ51 ہجری میں حضرت حجر بن عدی کی دردناک شہادت کا واقعہ پیش آیا۔ انہیں اُن کے ساتھیوں سمیت شہید کر دیا گیا تھا۔ حضرت حجر بن عدی کھلے عام خلیفہ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی حمایت کرتے تھے ۔ انہیں زیاد کے حکم سے اُن کے ساتھیوں سمیت شہید کر دیا گیا علامہ محمد بن جریر طبری اور علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر نے حضرت حجر بن عدی کی شہادت کے واقعہ کو بہت تفصیل سے بیان کیا ہے۔ اس  معاملے میں ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے اپنی ناراضگی کا اظہار بھی کیا تھا۔ ہم نے یہاں انتہائی مختصر بیان کیا ہے تفصیل کے لئے تاریخ کی معتبر کتابوں سے رجوع کریں۔


ریخ کی فتح


او پر ہم بیان کر چکے ہیں کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے زیاد ( ابن سمیہ ) کو کوفہ اور بصرہ کے ساتھ ساتھ خراسان اور آس پاس کے تمام علاقوں کا گورنر بنا دیا تھا۔ یوں سمجھ لیں کہ آج کے ملک عراق اور ملک ایران اور آس پاس کے تمام علاقوں کا اُس وقت زیاد گورنر تھا علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اس سال ۵۱ ہجری میں زیاد نے ربیع بن زیاد حارثی کو خراسان کا گورنر بنا کر روانہ کیا۔ حکم بن عمرو نے اپنے انتقال کے وقت انس بن ابی انس کو خضر اسان کا گورنر بنایا تھا اور زیاد کو اس کی اطلاع دے دی تھی۔ زیاد نے انس کو معزول کر کے اُس کی جگہ خلید بن عبد اللہ کو گورنر بنا دیا۔ ایک مہینے کے بعد زیاد نے خلید کو بھی معزول کر دیا اور خراسان کا گورنر ربیع کو بنادیا۔ وہ اپنے اہل وعیال سمیت خراسان میں جا کر بس گیا۔ ربیع بن زیاد حارثی نے بلخ کا محاصرہ کر لیا۔ اس سے پہلے احنف بن قیس سے اہل بلخ نے صلح کی تھی لیکن شہر کے دروازے نہیں کھولے تھے ۔ ربیع نے حملہ شروع کیا تو اہل بلخ نے صلح کی درخواست کی جسے ربیع نے قبول کر لیا اور صلح کے بعد انہوں نے شہر کے دروازے کھول دیئے ۔ قہستان کو بھی ربیع نے جنگ کر کے فتح کیا اُس کے اضلاع میں ترکوں کو قتل کر کے انہیں شکست دی۔ ایک ترک طرخان باقی رہ گیا تھا اُسے قتیبہ بن مسلمہ نے اپنی سپہ سالاری کے دور میں قتل کیا ۔ جس کا ذکر انشاء اللہ آگے آئے گا۔ ربیع اپنے غلام فرخ اور کنیز شریفہ کو ساتھ لئے ہوئے لڑتا ہوا نہ ترکستان ( ماوراء النہر) کو صحیح و سالم عبور کر گیا۔ فرخ اس سے پہلے نہر پار کر چکا تھا۔ ربیع نے اُسے غلامی سے آزاد کر دیا۔ اس سال یزید بن معاویہ نے مسلمانوں کو حج کرایا۔


حضرت جریر بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 51 ہجری میں حضرت جریر بن عبداللہ بلی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ سورہ المائدہ کے نزول کے بعد مسلمان ہوئے آپ رضی اللہ عنہ نے ماہ رمضان المبارک 10 ہجری میں اسلام قبول کیا۔ جب آپ رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ آئے تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے کے دوران فرمایا: ” اس راستے سے تمہارے پاس یمن والوں کا ایک بہترین شخص آ رہا ہے اور اس کے چہرے پر شاہی نشان ہے ۔“ جب حضرت جریر بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ آئے تو لوگوں نے آپ رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق پایا۔ لوگوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت کی خبر دی تو آپ رضی اللہ عنہ نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ روایت ہے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جب اُن کے ساتھ بیٹھے تو اُن کے لئے اپنی چادر بچھادی اور فرمایا : " جب تمہارے پاس کسی قوم کا سردار آئے تو اُس کی عزت کیا کرو ، صحیحین ( صحیح بخاری اور صحیح مسلم ) میں ہے کہ حضرت جریر بن عبد اللہ بجلی نے فرمایا: ” جب سے میں نے اسلام قبول کیا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے حجاب اختیار نہیں کیا اور مجھے دیکھ کر تبسم فرماتے تھے اور خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے : ” حضرت جریر رضی اللہ عنہ اس اُمت کے یوسف ہیں اور عبدالملک بن عمیر نے بیان کیا ہے کہ میں نے حضرت جریر بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ کودیکھا تو آپ رضی اللہ عنہ کا چہرہ چاند کا ٹکڑا معلوم ہوتا تھا خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو ہدان کا گورنر بنایا تھا۔ وہاں پر جنگ میں آپ رضی اللہ عنہ کی ایک آنکھ ضائع ہوگئی حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد آپ رضی اللہ عنہ غیر جانب دار رہے اور ہمیشہ الجزیرہ میں ہی مقیم رہے یہاں تک کے 51 ہجری میں آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا۔


حضرت جعفر بن ابی سفیان بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 51 ہجری میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے چازاد بھائی حضرت جعفر بن ابی سفیان بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ۔ یادر ہے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے والد ابو سفیان بن حرب ہیں اور حضرت جعفر بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے والد ابوسفیان بن عبدالمطلب ہیں۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت جعفر بن ابی سفیان بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ نے فتح مکہ کے سال جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ فتح مکہ کے لئے تشریف لا رہے تھے تب آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے والد محترم حضرت ابوسفیان بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان راستے میں مل کر اسلام قبول کیا۔ جب دونوں باپ بیٹے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے بات نہیں کی اور چہرہ مبارک پھیر لیا۔ یہ دیکھ کر حضرت ابوسفیان بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کی قسم ! اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے معاف نہیں کیا تو میں اپنے اس بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر زمین میں ایسی جگہ چلا جاؤں گا کہ کچھ معلوم نہیں ہو گا کہ میں کہاں گیا ہوں ۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ سن کر آپ رضی اللہ عنہ کو معاف فرمادیا اور دونوں باپ بیٹے نے اسلام قبول کر لیا۔ اس کے بعد دونوں باپ بیٹے بہت اچھے مسلمان ثابت ہوئے اور غزوہ حنین میں شامل ہوئے اور اُس میں ثابت قدم رہنے والوں میں شامل تھے۔ حضرت ابو سفیان بن عبد المطلب اُس غزوے میں سید الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی لگام پکڑے ہوئے تھے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!


جمعرات، 5 ستمبر، 2024

Saltanat e Umayya part 05

 05 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 5

حضرت حارثہ بن نعمان انصاری رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت عبد اللہ بن اُنیس رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت ابوبکر فیع بن حارث رضی اللہ عنہ کا انتقال، ام المومنین سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کا انتقال، ھ52 ہجری، حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا انتقال، ھ53 ہجری: جزیره رودس کی فتح، حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی دعا، ابن سمیہ ( زیاد بن ابی سفیان ) کا انتقال، ا53 ہجری کے خاتمے پر مملکت اسلامیہ کے گورنر، حضرت معصعہ بن ناجیہ رضی اللہ عنہ کا انتقال، ھ53 ہجری: سعید بن عاص کی معزولی، عبید اللہ بن زیاد خراسان کا گورنر، ترکوں سے جنگ، 



حضرت حارثہ بن نعمان انصاری رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 51 ہجری میں حضرت حارثہ بن نعمان انصاری رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت حارثہ بن نعمان انصاری رضی اللہ عنہ انصار میں سے اولین اسلام قبول کرنے والوں میں سے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ غزوہ بدر، احد ، خندق اور دوسرے معرکوں میں شامل ہوئے ۔ آپ رضی اللہ جلیل القدر فضلاء صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ہیں۔ روایت ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے جبرئیل علیہ السلام کو رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ خیبر کے بعد مقاعد“ میں گفتگو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ نیز آپ رضی اللہ عنہ نے غزوہ بنو قریظہ کے روز جبرئیل علیہ السلام کو انسانی شکل میں حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کی شکل میں دیکھا ہے۔ اور صحیح میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو جنت میں قرآت کرتے ہوئے سنا ہے۔


حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے چچا زاد بھائی ہیں اور وہی بہنوئی ہیں جن کے گھر جا کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے انہیں مارا تھا اور پھر اسلام قبول کیا تھا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت سید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے چچازاد بھائی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ کی بہن عاتکہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی بیوی ہیں اور اُن کی بہن سیدہ فاطمہ حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کی بیوی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کی بیوی نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے پہلے اسلام قبول کیا تھا اور دونوں نے ساتھ ہجرت بھی کی تھی۔ حضرت سید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سادات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے غزوہ بدر میں شرکت نہیں کی کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اور حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کو اپنے سے آگے قریش کے حالات معلوم کرنے کے لئے بھیجا تھا۔ جب یہ دونوں واپس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ بدر سے فارغ ہو چکے تھے ۔ اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر کے مال غنیمت میں ان دونوں کا بھی حصہ لگایا۔ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کومجلس شوری میں اس لئے شامل نہیں کیا کہ کہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے رشتہ داری کی وجہ سے آپ رضی اللہ عنہ کی طرف داری نہ کی جائے اور انہیں خلیفہ مقرر کر دیا جائے۔ اس لئے آپ رضی اللہ عنہ کا نام مجلس شوریٰ میں نہیں رکھا۔ آپ رضی اللہ عنہ ہمیشہ اسی حالت میں رہے یہاں تک کہ انتقال ہو گیا۔ 


حضرت عبد اللہ بن اُنیس رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 51 ہجری میں حضرت عبد اللہ بن اُنہیں جہنی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عبد اللہ بن انیس جہنی رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے بیعت عقبہ میں شرکت کی اور غزوہ بدر میں شامل نہیں ہوئے اور اس کے بعد کے معرکوں میں شامل رہے۔ آپ رضی اللہ عنہ اور حضرت معاذ رضی اللہ عنہ انصار کے بت توڑا کرتے تھے صحیح میں آپ رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث ہے کہ لیلتہ القدر تئیس کی رات کو ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ کوہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن سفیان ہذلی کی طرف بھیجا تو آپ رضی اللہ عنہ نے عرفہ میں اُسے قتل کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو اپنی چھڑی عطا فرمائی اور فرمایا: ” میرے اور تمہارے درمیان جو تعلق ہے یہ چھڑی قیامت کے دن اس کی نشانی ہوگی ۔ پس آپ رضی اللہ عنہ کی وصیت کے مطابق وہ چھڑی آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہی دفن کی گئی۔ 


حضرت ابوبکر فیع بن حارث رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 51 ہجری میں حضرت ابوبکر فیع بن حارث کا بھی انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت ابو بکر نفیح بن حارث بن کلدہ بن عمرو بن علاج بن ابی سلمہ ثقفی رضی اللہ عنہ صحابی ہیں۔ کہتے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ کا نام "مسروح تھا اور آپ رضی اللہ عنہ کو ابوبکر ہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ غزوہ طائف میں چرخی سے شہر پناہ (فصیل) سے نیچے اترے تھے ( کیونکہ شہر پناہ کے دروازے بند تھے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو اور اس دن جتنے بھی غلام طائف کی شہر پناہ پار کر کے اُترے تھے سب کو آزاد کر دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کی ماں کا نام مسمیہ ہے اور یہ زیاد کی بھی ماں ہے ( جسے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے کوفہ، بصرہ اور خراسان وغیرہ کا گورنر بنایا تھا ) حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد آپ رضی اللہ عنہ غیر جانب دار رہے۔ ا۵ ہجری میں انتقال ہوا اور آپ رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے پڑھائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کے درمیان مواخات کرائی تھی۔ 


ام المومنین سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کا انتقال


اس سال اُم المومنین سیدہ میمونہ بنت حارث ہلالیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اس سال 51 ہجری میں اُم المومنین سیدہ میمونہ بنت حارث ہلالیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے سات کے ہجری میں عمرۃ القضاء میں آپ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے ( آپ رضی اللہ عنہ ام المومنین سیدہ میمونہ بن حارث رضی اللہ عنہا کی بہن ام الفضل لبابہ بنت حارث کے بیٹے ہیں ) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کھول دینے کے بعد (نمر مکمل ہو جانے کے بعد ) نکاح کیا ہے۔ اور صحیح مسلم میں حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے یہ بات ثابت ہے کہ دونوں حلال تھے (یعنی عمر مکمل کر چکے تھے )۔ پہلے آپ رضی اللہ عنہا کا نام ”برہ تھارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدل کر میمونہ رکھ دیا۔ آپ رضی اللہ عنہا نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان اُس جگہ جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق زوجیت ادا فر مایا تھا وہاں انتقال ہوا اور آپ رضی اللہ عنہا کے بھانجے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے جنازے کی نماز پڑھائی۔


ھ52 ہجری


اس سال یعنی 52 ہجری میں ایسا کوئی خاص واقعہ پیش نہیں آیا جسے ذکر کیا جا سکے۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ بدستور مملکت اسلامیہ پر حکمرانی کرتے رہے اور تمام مملکت اسلامیہ میں تمام گورنر بھی وہی رکھے جو پچھلے سال تھے۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں ۔ بعض مورخین کہتے ہیں کہ سفیان بن عوف از دی نے سرزمین روم پر اس سال جہاد کیا اور وہیں جاڑوں میں قیام کیا اور وہیں وفات پائی۔ ونہوں نے عبداللہ بن مسعدہ فرازی کو اپنی جگہ مقررکیا۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سال سرزمین روم پرنسر بن ارطاۃ نے لوگوں کے ساتھ جاڑا ابسر کیا انہیں لوگوں میں سفیان بن عوف از دی بھی تھے ۔ اسی سال محمد بن عبد اللہ ثقفی نے جنگ صائفہ کی۔ (سرزمین روم میں اکثر فصیل صیف ہی میں جنگ ہوا کرتی تھی اس وجہ سے عرب اس جنگ کو جنگ صائفہ کہتے تھے ۔) اس سال سعید بن عاص نے مسلمانوں کو حج کرایا۔ اور تمام علاقوں کے گورنر وہی رہے جو پچھلے سال تھے۔


حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا انتقال


حضرت ابو ایوب انصاری نام حضرت خالد بن زید بن کلیب انصاری خزرجی ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے میزبان ہیں اور مسجد نبی کی تعمیر مکمل ہونے تک سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے گھر میں تشریف فرما ر ہے۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت ابوایوب انصاری خزرجی رضی اللہ عنہ نے بیعت عقبہ، غزوہ بدر اور تمام معرکوں میں شمولیت کی اور حروریہ کے ساتھ جنگ میں حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کے ساتھ شامل تھے ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ آئے تو آپ رضی اللہ عنہ ہی کے گھر میں فروکش ہوئے اور آپ رضی اللہ عنہ کے یہاں ایک مہینے تک قیام کیا حتی کہ مسجد اور اُس کے ارد گرد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہائش گا ہیں تعمیر ہو گئیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان رہائش گاہوں میں منتقل ہو گئے۔ حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر کے نچلے حصے میں اُتارا۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے گناہ سے بچنے کے لئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم او پر چلے جائیں اور میں اور اُم ایوب نیچے رہیں گے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کی بات قبول کر لی ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بصرہ میں میرے پاس آئے اور میں بصرہ کا گورنر تھا تو میں اُن کی خاطر اپنے گھر سے نکل کر شہر سے باہر آیا اور استقبال کیا اور جب حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے واپسی کا ارادہ کیا تو بہت سے تحائف اور چالیس خادم دیئے ۔ جب اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائی گئی تو حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی بیوی نے کہا: ” کیا آپ ان باتوں کو نہیں سنتے ہیں جو لوگ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں کہہ رہے ہیں؟“ آپ رضی اللہ عنہا نے اپنی بیوی ام ایوب رضی اللہ عنہا سے فرمایا: کیا میں یہ کر رہا ہوں یا اُم ایوب کر رہی ہے؟ وہ بولیں : اللہ کی قسم ! ہم نہیں کر رہے ہیں ۔ " حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” اللہ کی قسم! ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا تجھ سے بہت بہتر ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ کی وفات اس سال یعنی 52 ہجری میں بلا دروم میں قسطنطنیہ کی فصیل کے نزدیک ہوئی۔


حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 52 ہجری میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت ابو موسیٰ نام عبد اللہ بن قیس بن سلیم بن حضار بن حرب بن عامر بن غزبن بکر بن عامر بن عذر بن وائل بن ناجیہ بن جماہر بن اشعر اشعری رضی اللہ عنہ ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ملک یمن میں اسلام قبول کیا اور خیبر کے سال حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے اصحاب کے ساتھ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے ساتھ آپ رضی اللہ عنہ کو بھی ملک یمن کا گورنر مقرر فرمایا۔ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بصرہ کا گورنر بنایا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ” تستر“ کو فتح کیا۔ خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے بھی آپ رضی اللہ عنہ کو کوفہ کا گورنر بنایا۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو حکم ( فیصلہ کرنے والا ) بنایا ۔ آپ رضی اللہ عنہ قراء اور فقہاء صحابہ رضی اللہ عنہم سے تھے اور اپنے زمانے میں سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے زیادہ خوش آواز تھے ۔ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اکثر فرماتے تھے: ”اے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ! ہمیں ہمارا رب یاد دلا دو ۔ پس آپ رضی اللہ عنہ قرآن پاک کی تلاوت شروع کر دیتے تو وہ سنتے تھے۔ شہادت کے وقت خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنی وصیت میں لکھا: ” حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے سوا میرے کسی بھی گورنر کو ایک سال سے زیادہ برقرار نہیں رکھا جائے۔“ 


حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 52 ہجری میں حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کا بھی انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عمران بن حصین بن عبید خزاعی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ خیبر کے سال اسلام قبول کیا۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے ہر غزوہ میں شمولیت کی۔ آپ رضی اللہ عنہ سادات صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے ہیں۔ خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں جب عبد اللہ بن عامر بصرہ کا گورنر تھا تو اس نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کو قاضی کے عہدے پر مقرر کیا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے کافی دن وہاں پر فیصلے کئے پھر قاضی کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور وہیں بصرہ میں رہائش پذیر ہو گئے اور یہیں انتقال ہوا۔


ھ53 ہجری: جزیره رودس کی فتح


اس سال 53 ہجری میں مسلمانوں نے بلادِ روم میں ایک ایسا جزیرہ فتح کیا جہاں سے وہ رومیوں کو بڑے اطمینان سے سمندر میں آگے بڑھنے سے روک سکتے تھے اور اسلامی سرحدوں کی حفاظت کر سکتے تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اس سال ۵۳ ہجری میں عبد الرحمن بن اُم حکم ثقفی نے سرزمین روم میں جاڑا بسر کیا ۔ اسی سال جنادہ بن ابی اُمیہ از دی نے جزیره رودس کو فتح کیا ۔ مسلمان وہاں رہائش پذیر ہو گئے ، زراعت کی ، زمینیں اور مویشی خریدے اور اپنی زمینوں کے گرد مویشی چرایا کرتے تھے ۔ جب شام ہو جاتی تو سب جانوروں کو قلعہ کے اندر لے جاتے تھے۔ اُن لوگوں کے باس ایک مالی تھا جو دریائی دشمنوں کے مکر و فریب سے ہوشیار کر دیتا تھا۔ یہ مسلمان رومیوں پر بہت غضب کے دلیر تھے سمندروں میں ہی رومیوں کو روک لیتے تھے اور مال غنیمت حاصل کرتے تھے۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے اُن کے لئے عطیات اور تنخواہیں مقرر کر دی تھیں اور دشمن پر اُن کا خوف چھایا ہوا تھا۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے بعد جب یزید حکمراں بنا تو انہیں واپس بلالیا۔


حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی دعا


حجاز کا علاقہ (جس میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ بھی ہیں ) زیاد نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے اپنی ماتحتی میں مانگا تو آ پ رضی اللہ عنہ نے حجاز کا علاقہ بھی اُسے دے دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: زیاد نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ ملک عراق کا نظم نق تو میرے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے اور میرا داہنا ہاتھ تو خالی ہی رہتا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے اس بات پر یمامہ اور اُس کے اضلاع بھی زیاد کے ماتحت کر دیئے اور ایک روایت میں ہے کہ ملک حجاز اُس کے داہنے ہاتھ میں دے دیا اور یہ فرمان لکھ کر ہیثم بن اسودیشی کے ہاتھ سے روانہ کیا۔ اہل حجاز کو جب یہ خبر معلوم ہوئی تو کچھ لوگ حضرت عبد اللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور اُن سے مصیبت بیان کی ۔ انہوں نے فرمایا : ” میں اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا کہ تمہیں اس مصیبت سے نجات دلائے ۔“ یہ فرما کر آپ رضی اللہ عنہ قبلہ رو ہوئے اور اللہ عالی سے دعا کی۔ اس کے بعد زیاد طاعون میں مبتلا ہو گیا ۔ حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس کی بیماری کی خبرسنی تو فرمایا: ”جادور ہو ابن سمیہ اند دنیا تیرے پاس رہی اور نہ ہی آخرت تجھے ملی ۔ 


ابن سمیہ ( زیاد بن ابی سفیان ) کا انتقال


ھ53 ہجری میں زیاد کا انتقال ہوا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: طاعون اُس کی انگلی میں نکلا اپنے قاضی حضرت شریح کو بلوایا اور کہا: دیکھو! میں اس بیماری میں مبتلا ہو گیا ہوں اور لوگ کہتے ہیں کہ اس ہاتھ کو کٹوالو تم کیا مشورہ دیتے ہو؟ حضرت شریح نے کہا: ” مجھے اندیشہ ہے کہ زخم تیرے ہاتھ پر لگے گا اور صدمہ تیرے دل کو پہنچے گا اور اگر تیری موت قریب آچکی ہو تو تو اللہ تعالیٰ سے کئے ہوئے ہاتھ کے ساتھ ملاقات کرے گا اور اگر تو نے ہاتھ اس لئے کاٹا ہو کہ اللہ سے ملاقات کی ہمت تجھ میں نہیں ہے اور اگر تیری موت ٹل جائے تو کیا تو اپنے کٹے ہوئے ہاتھ کے ساتھ جئے گا اور اپنی اولاد کے لئے عیب کا باعث بنے گا ؟ زیاد نے یہ سنا تو ہاتھ کٹانے میں تامل کیا۔ حضرت شریح جب باہر نکلے تو لوگوں نے پوچھا تب حضرت شریح نے اپنا مشورہ بیان کر دیا۔ لوگوں نے کہا: ” تم نے ہاتھ کاٹنے کا مشورہ کیوں نہیں دیا ؟ حضرت شریح نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مشورہ دینے والا مل اعتماد ہے ۔ آخر کار زیاد نے کہا: یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ میں اور طاعون ایک ہی لحاف میں سوئیں ۔ اور اُس نے ہاتھ کٹوانے کا مصمم ارادہ کر لیا۔ جب اُس کے سامنے ہاتھ کاٹنے کے بعد زخم کو داغنے کے لئے آگ جلائی گئی اور داغنے کے سامان سامنے لائے گئے تو وہ مضطرب ہو گیا اور ہاتھ کٹانے سے انکار کر دیا۔ جب مرنے کا وقت قریب آیا تو اُس کے بیٹے نے کہا: ”بابا ! میں نے آپ کے کفن کے لئے ساٹھ کپڑے تیار کر رکھے ہیں ۔ یہ سُن کر اُس نے کہا: ”بیٹا ! تیرے باپ کے لئے اب ایسا وقت آیا ہے کہ یا تو اُسے اس سے بہتر لباس ملے یا پھر یہ کپڑے بھی اُتر جائیں۔ جب وہ مر گیا تو اُسے کوفہ کے ایک مقام تو یہ میں دفن کیا گیا اور حجاز کی حکومت کے لئے یزید روانہ ہوا۔ اس سال سعید بن عاص نے مسلمانوں کو حج کرایا۔


ھ53 ہجری کے خاتمے پر مملکت اسلامیہ کے گورنر


ھ53 ہجری میں زیاد نے انتقال کے وقت عبداللہ بن خالد کو کوفہ کا گورنر بنا دیا تھا اور بصرہ کا گورنرسمرہ بن جندب تھا اور خراسان کا گورنر خلید بن عبداللہ حنفی تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اسی سال ۵۳ ہجری میں ربیع بن زیاد ھارٹی جسے زیاد نے خراسان کا گورنر بنایا تھا دو سال اور چند مہینے حکومت کرنے کے بعد انتقال ہوا۔ اُس نے مرتے وقت اپنی جگہ اپنے بیٹے عبداللہ بن ربیع کو خراسان کا گورنر بنادیا۔ دو مہینے بعد عبد اللہ بن ربیع کا بھی انتقال ہو گیا۔ اُس کی موت خبر کی زیاد کے پاس اُس وقت پہنچی جب وہ دفن کیا جارہا تھا۔ عبد اللہ بن ربیع نے اپنی جگہ خراسان کا گورنر خلید بن عبداللہ حنفی کو بنا دیا تھا۔ زیاد کے انتقال کے چھ مہینے بعد حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے سمرہ بن جندب کو معزول کر دیا اور اُس کے کچھ دنوں بعد کسی نے سمرہ بن جندب کو قتل کر دیا۔


حضرت معصعہ بن ناجیہ رضی اللہ عنہ کا انتقال


ا43 ہجری میں جلیل القدر صحابی حضرت صعصعہ بن ناجیہ رضی اللہ عہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت صعصعہ بن ناجیہ بن عفان بن سفیان بن مجاشع بن دارم رضی اللہ عنہ کا انتقال ۵۳ ہجری میں ہوا۔ زمانہ جاہلیت میں آپ رضی اللہ عنہ اپنے قبیلے اور علاقے کے سردار تھے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے تین سو ساٹھ (360) لڑکیوں کو زندہ درگور ہونے سے بچایا ہے۔ بعض علماء نے چار سولڑ کیاں اور بعض علماء نے چھیانوے لڑکیاں بیان کیں ہیں۔ (ملک عرب میں پہلے زمانے میں ایسا تھا کہ اگر لڑ کی پیدا ہوتی تھی تو اُسے زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔ حضرت صعصعہ بن ناجیہ رضی اللہ عنہ نے ہر لڑکی کے بدلے میں دو اونٹ اُس کے باپ کو دے کر لڑکی کو بچالیا کرتے تھے ) جب آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: "یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا مجھے اس کا اجر ملے گا ؟ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں اس کا اجر یہ ملاکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اسلام کی نعمت سے سرفراز فرمایا۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میری دو اونٹیاں بدک کر بھاگ گئی تھیں۔ اُن کو تلاش کرتے کرتے رات ہوگئی اور میں تلاش میں لگا ہی رہا۔ میں نے ایک آگ کو دیکھا جو کافی دور تھی اور کبھی روشن ہوتی اور کبھی اتنی دھیمی ہو جاتی کہ دکھائی نہیں دیتی تھی اور میں راستہ بھول جاتا تھا۔ میں نے دعا کی: اے اللہ! تیرا یہ مجھ پر احسان ہوگا کہ تو مجھے اُس آگ تک پہنچا دے اور اگر میں نے وہاں کسی پر ظلم ہوتا دیکھا تو اسے ظلم سے بچاؤں گا ۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ” میں آگ کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ ایک شخص آگ جلا رہا ہے اور وہاں کچھ عورتیں موجود ہیں ۔ میں اُن سے قیام کی وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ ایک عورت کو بچہ پیدا ہونے والا ہے۔ اُس شخص نے کہا: تم کہاں جارہے ہو؟ میں نے کہا: میں اپنی دو بد کی ہوئی اونٹوں کی تلاش میں ہوں ۔ اس شخص نے کہا: ” تمہاری بد کی ہوئی اونٹنیاں میرے پاس ہیں ۔ میں اپنے اونٹ سے اتر پڑا اور اُس شخص کے پاس بیٹھ گیا۔ اتنے میں اندر سے ایک عورت نے آکر خبر دی کہ لڑکی پیدا ہوئی ہے۔ اس شخص نے کہا: ” اُسے اُسی گڑھے میں زندہ دفن کر دو جو میں نے پہلے سے کھود کر رکھا ہوا ہے ۔ ( زمانہ جاہلیت میں ملک عرب میں بچہ پیدا ہونے سے پہلے باپ گڑھا کھود کر رکھتے تھے اور اگر بیٹی پیدا ہوتی تھی تو اُسے زندہ دفن کر دیتے تھے ) میں نے جلدی سے کہا: تم اپنی بچی کو کیوں قتل کرتے ہو اور اس کا رزق تو اللہ کے ذمہ ہے ۔ اس شخص نے کہا: ” مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے ۔ میں نے کہا: ” میں اسے تجھ سے چھٹکارہ دلاتا ہوں اور اُسے تمہارے پاس ہی چھوڑتا ہوں حتی کہ وہ تجھ سے جدا ہو جائے یا مر جائے ۔ اُس نے کہا: ” کتنے میں؟“ میں نے کہا: ” ایک اوٹنی کے عوض ۔ “ اس نے کہا: نہیں ۔ میں نے کہا: ”دونوں اُونٹنیوں کے عوض ۔“ اس نے کہا: ”اگر و دواونٹنیوں کے ساتھ اپنا یہ اونٹ بھی مجھے دیدے تو میں اُس بچی کو زندہ چھوڑ دوں گا اور بے شک میں اُسے (اونٹ کو) خوش رنگ نو جوان پاتا ہوں ۔ میں نے کہا: ”اچھا ٹھیک ہے !مگر شرط یہ ہے کہ تو مجھے میرے قبیلے تک پہنچادے۔ اُس نے کہا: ” بہت اچھا۔ اس کے بعد میں نے اللہ سے عہد کر لیا کہ جو بھی لڑکی مجھے ایسی ملے گی جسے زندہ دفن کیا جا رہا ہو گا اُسے میں فدیہ دے کر ضرور چھڑاؤں گا جس طرح میں نے اس لڑکی کو چھڑایا ہے ۔ ابھی اسلام نہیں آیا تھا کہ میں چھیانوے (96) لڑکیوں کو چھڑا چکا تھا۔ پھر اس کے بعد قرآن پاک میں مسلمانوں پر اس عمل کی تحریم نازل ہوئی ۔“ 


ھ53 ہجری: سعید بن عاص کی معزولی


اس سال 53 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ کا گورنر دوبارہ مروان بن حکم کو بنا دیا اور سعید بن عاص کو معزول کر دیا۔ علامہ عمادالدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں: حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے 53 ہجری میں سعید بن عاص کو معزول کر دیا اور مروان بن حکم کو دوبارہ مدینہ منورہ کا گورنر بنا دیا اور اُسے لکھا کہ وہ سعید بن عاص کا گھر منہدم کروادے اور سرزمین حجاز میں جو اموال و جائدا ہیں انہیں ضبط کر لے۔ مروان بن حکم اُس کا گھر گرانے کے لئے آیا تو سعید بن عاص نے کہا: " تجھے یہ کام نہیں کرنا چاہیئے ۔ "مروان بن حکم نے کہا: " امیر المومنین نے مجھے اس کے بارے میں حکم دیا ہے اور اگر وہ آپ کو میرے گھر کے بارے میں لکھتے تو آپ بھی ایسا ہی کرتے ۔ سعید بن عاص نے مروان بن حکم کو وہ خط دکھایا جو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے اُسے گورنر بناتے اور مروان بن حکم کو معزول کرتے وقت لکھا تھا ۔ اُس خط میں لکھا تھا کہ مروان بن حکم کے گھر کوگرادو اور اس کے مال و جائداد پر قبضہ کر لو۔ یہ خط دینے کے بعد سعید بن عاص نے کہا: ” اس حکم کے باوجود میں نے ہمیشہ تمہارا بچاؤ کیا ہے۔ خط پڑھنے کے بعد مروان بن حکم نے سعید بن عاص کا گھر نہیں گرایا اور اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا۔


عبید اللہ بن زیاد خراسان کا گورنر


اس سال 53 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے زیاد بن ابی سفیان یا ابن سمیہ کے بیٹے عبید اللہ بن زیاد کوخراسان کا گورنر بنایا۔ یہ عبید اللہ بن زیاد وہی ” ابن زیاد ہے جسے یزید نے کوفہ کا گورنر بنایا تھا اورحکم دیا تھا کہ کسی بھی طرح حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ کورو کے اور ابن زیاد نے حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تھا اور ایک لشکر حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو روکنے کے لئے بھیجا تھا اور حکم دیا تھا کہ انہیں ہر قیمت پر کوفہ پہنچے نہیں دینا چاہے اس کے لئے انہیں شہید ہی کیوں نہ کرنا پڑے ) علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: زیاد کے مرنے کے بعد اُس کا بیٹا عبید اللہ بن زیاد ملک شام میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اُس وقت اُس کی عُمر چھپیس (25) سال کی تھی ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ” تیرے باپ نے کوفہ اور بصرہ کا گورنر کسے بنایا ہے؟‘ عبید اللہ بن زیاد کو جو معلوم تھا اُس نے بتا دیا۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے کہا: "اگر تیرا باپ تجھے گورنر بنا جاتا تو میں تجھے بحال رکھتا۔ عبید اللہ بن زیاد نے کہا: ” میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کے بعد کوئی مجھے یہ کہے کہ اگر تیرا باپ یا تیرا چا ( یعنی حضرت معاویہ تجھے گورنری دے جاتے تو میں بھی بحال رکھتا۔ یہ سن کر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ ہنس پڑے اور اُسے خراسان کا گورنر بنا دیا اور روانگی کے وقت یہ صیحتیں کیں ۔ اللہ سے ڈرتے رہنا اور اُس کے خوف پر کسی چیز کو غالب ہونے نہیں دینا کیونکہ اس سے ڈرنے میں کثیر منافع ہے اور اپنی عزت بچائے رکھنا۔ اگر کسی سے عہد و پیمان کرنا تو اُسے پورا کرنا تھوڑی چیز ( دنیا) کے عوض بڑی چیز (آخرت) کو فروخت نہیں کرنا ، جب تک کسی کام کا مصمم ارادہ نہیں کر لیتا تب تک زبان سے اظہار نہیں کرنا کیونکہ جب تم کسی بات کو زبان سے نکال چکے ہو گے تو اُس کو واپس نہیں لے سکو گے۔“


ترکوں سے جنگ


ملک شام سے رخصت ہو کر عبید اللہ بن زیاد خراسان کی طرف روانہ ہو گیا: علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے عبید اللہ بن زیاد کو خراسان روانہ کرتے وقت یہ بھی نصیحت کی کہ جب دشمنوں سے صف آرائی ہو تو جو لوگ تم سے بڑے ہوں اُن کو ذمہ دار بنانا اور کتاب اللہ پر بیعت لیتا۔ عبید اللہ بن زیاد ۵۳ ہجری کے اول میں ملک شام سے رخصت ہو کر خراسان روانہ ہوا اور وہاں جا کر انتظام سنبھالا۔ وہ شکرلیکر ترکوں کی طرف بڑھا اور نہر عبور کر کے جبال بخارا کی طرف چڑھائی کی ۔ راستے میں لسف اور بیکند کو جنگ کر کے فتح کیا ۔ پھر ترکوں سے جنگ کی اور متعدد لڑائیوں کے بعد ترک میدان جنگ سے بھاگ کھڑے ہوئے ۔ ترکوں کے بادشاہ کے ساتھ اُس کی ملکہ بھی تھی ۔ وہ ایک ہی پاؤں میں جوتی پہنے پائی تھی کہ مسلمانوں نے پہنچ کر اسے گرفتار کر لیا اور دولاکھ درہم میں فروخت کر ڈالا۔ عبداللہ بن زیاد خود اس جنگ میں شریک تھا اور اُس کے ایک ہاتھ میں لشکر کا جھنڈا تھا اور دوسرے ہاتھ میں نیزہ تھا۔ وہ لڑتے لڑتے لوگوں کی نظروں سے غائب ہو جاتا تھا پھر یکا یک اپنے جھنڈے کو بلند کرتا تھا جس سے خون ٹپکتا تھا۔ یہ لڑائی خراسان کی مشہور لڑائیوں میں شمار کی جاتی ہے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں؛ ۵۳ ہجری میں مروان بن حکم نے مسلمانوں کو حج کروایا اور مدینہ منورہ کا گورنروہی تھا، کوفہ کا گورز عبداللہ بن خالد تھا۔ بعض مورخین ضحاک بن قیس کا نام لیتے ہیں اور بصرہ کا گورنر عمرو بن غیلان تھا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!


Saltanat e Umayya part 06

 06 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 6

حضرت اسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت ثوبان بن مجدد رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت حويطب بن عبد العزی رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت معبد بن مر بوع بن عنکہ رضی اللہ عنہ کا انتقال، أم المؤمنین سیدہ سودہ بنت زمعہ کا انتقال، ھ55 ہجری: بصرہ کے گورنر کی معزولی، عبید اللہ بن زیاد خراسان کے ساتھ ساتھ بصرہ کا بھی گورنر، حضرت ارقم بن ابی الارقم رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا انتقال، میرے ماں باپ تم پر قربان، 

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پہریدار، وہ جنتی ہو گا ہے، اے اللہ ! اس کی دعا کو قبول فرما، حضرت سعد رضی اللہ عنہ " مستجاب الدعوات تھے، عشرہ مبشرہ میں سے سب سے آخر میں انتقال


حضرت اسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 54 ہجری میں حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت اسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ جن کی کنیت ابومحمد ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام کے بیٹے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب کے بیٹے ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ کے والد محترم غلام بن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نو عمری میں آئے تھے۔ اُن کے والد حارثہ انہیں لینے کے لئے آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اختیار دیا کہ چاہیں تو اپنے والد کے ساتھ چلے جائیں یا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہیں ۔ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے والد کے ساتھ جانا گوارہ نہیں کیا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنا گوارہ کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کر دیا پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان نبوت فرمایا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا۔ جوان ہونے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کا نکاح اپنی آبائی کنیز سیدہ اُم ایمن رضی اللہ عنہا سے کر دیا۔ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی والدہ محترمہ یہی سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا ہیں ۔ صحیح بخاری میں آپ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ایک ران پر حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو بٹھاتے تھے اور دوسری ران پر حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو بٹھاتے تھے اور فرماتے تھے : ” اے اللہ! میں اِن دونوں سے محبت رکھتا ہوں تو بھی ان سے محبت رکھ ۔“ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو حضرت اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی عمر انیس (19) سال تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی سپہ سالاری میں سلطنت روم سے لڑنے کے لئے لشکر روانہ فرمایا تھا جو دینہ منورہ کے قریب ہی تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خلیفہ بنتے ہی سب سے پہلے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو سپہ سالار بنا کر سلطنت روم کی طرف لشکر دے کر روانہ کیا۔ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا جب بھی حضرت اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سامنا ہوتا تھا تو خلیفہ دوم رضی اللہ عنہ فرماتے تھے : ”اے امیر ! السلام علیک “ حضرت اسامہ بن زید کے انتقال کے بارے میں مورخین کی کئی رائے ہیں۔ حقیقت کا علم صرف اللہ تعالی کو ہی ہے۔ 


حضرت ثوبان بن مجدد رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 54 ہجری میں حضرت ثوبان بن محمد درضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت ثوبان بن مجد درضی اللہ عنہ اصل عرب سے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ قید ہو گئے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو خرید کر آزاد کر دیا تھا۔ آزاد ہونے کے بعد بھی آپ رضی اللہ عنہ مسلسل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے اور خدمت کرتے رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے رملہ میں رہائش اختیار کر لی۔ پھر حمص، منتقل ہو گئے اور وہاں ایک گھر بنایا اور آخری وقت تک وہیں رہائش پذیر رہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بارے میں کئی روایتیں ہیں ۔ حقیقت کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ 


حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 54 ہجری میں حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ کا نام حارث بن ربعی ہے، امام واقدی نے نعمان بن ربعی بیان کیا ہے اور دیگر مورخین کے مطابق عمر و بن ربعی نام ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ انصار ہیں اور اسلام کے بہترین شہسوار ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ غزوہ اُحد اور اُس کے بعد کے تمام معرکوں میں شریک رہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے غزوہ ذی قرد میں ایسا قابل تعریف کام کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” آج کے ہمارے بہترین شہوار حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ ہیں اور آج کے ہمارے بہترین پیدل حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ ہیں۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے جو مجھ سے بہت بہتر ہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تمہیں ایک باغی گروہ شہید کرے گا۔ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کا انتقال کس سال ہوا اس بارے میں مورخین کا اختلاف ہے۔


حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 54 ہجری میں اُم الومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بھتیجے حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : ” حضرت حکیم بن حزام بن خویلد بن اسد بن عبد العزیٰ بن قصی بن کلاب یہاں آکر آپ رضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مل جاتا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ فاختہ بنت زہیر بن حارث بن اسد بن عبد العزیٰ ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ کی پھوپھی اُم المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ واقعہ اصحاب فیل تیرہ سال پہلے پیدا ہوئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ رضی اللہ عنہ بہت محبت کرتے تھے ۔ جب قریش نے بنو ہاشم اور بنو عبد عبد المطلب کو شعب ابو طالب کی گھائی میں تین سال کے لئے قید کر دیا تھا اور اُن سے خرید وفروخت نہیں کرتے تھے تو آپ رضی اللہ عنہ ملک شام سے آنے والے قافلے سے ملتے تھے اور پورا کہ پورا خرید لیتے تھے اور اُسے لے جا کر سامان لدے ہوئے اُونٹوں کو شعب ابی طالب کی گھائی کے پاس لے جا کر مار مار کر اندر بھیج دیتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ہی حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو خریدا تھا اور اپنی پھوپھی اُم المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو دے دیا تھا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو آزاد کر دیا تھا۔ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے ذویزن کا ایک حلہ خرید کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے زیب تن فرمایا۔ آپ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اس ملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا۔ اس کے باوجود آپ رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کی سب اولاد نے فتح مکہ میں اسلام قبول کیا۔ امام بخاری وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ زمانہ جاہلیت میں ساٹھ (60) سال اور اسلام میں ساٹھ (60) سال زندہ رہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ حنین میں شرکت کی اور مال غنیمت میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو سواونٹ دیئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پھر مانگا تو سو اونٹ اور دیئے اور پھر مانگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سو اونٹ اور دیئے اور فرمایا: ”اے حکیم بن حزام ! یہ مال بظاہر شیریں اور اچھا ہے جس نے اسے فیاضی سے لیا اُس کے لئے برکت ہوگی اور جس نے اسراف نفس سے لیا اُس کے لئے برکت نہیں ہوگی اور وہ اُس شخص کی ماند د ہوگا جو کھاتا ہے اور سیر نہیں ہوتا ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اقسم ہے اس ذات کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے ، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کا احسان قبول نہیں کروں گا ۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے کسی کا احسان نہیں لیا۔ یہاں تک کہ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق اور خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہم بھی کوئی چیز آپ رضی اللہ عنہ ک عطا کرنا چاہتے تھے تو آپ رضی اللہ عنہ نہیں لیتے تھے۔ ایک سو بیس (120) سال کی عمر میں آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔


حضرت حويطب بن عبد العزی رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 54 ہجری میں حضرت حو یطب بن عبد العزیٰ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت حو يطب بن عبد العزئی عامری رضی اللہ عنہ نے فتح مکہ میں اسلام قبول کیا اور لمبی عمر پائی۔ آپ رضی اللہ عنہ قریش کی طرف سے غزوہ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف لڑے اور اُس روز آپ رضی اللہ عنہ نے زمین و آسمان کے درمیان فرشتوں کو دیکھا اور پھر صلح غریبیہ میں شامل ہوئے اور صلح کی کوشش کی ۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے بدر کے وقت صلح حدیبیہ کے وقت اور عمرۃ القضاہ کے وقت اسلام قبول کرنے کا ارادہ کیا مگر ہوتا وہی ہے جو اللہ کومنظور ہوتا ہے۔ جب فتح مکہ ہوا تو میں شدید خوفزدہ ہو گیا اور بھاگ گیا۔ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ جو زمانہ جاہلیت میں میرے دوست تھے۔ وہ مجھے ملے اور فرمایا: ”اے جو طب ! تجھے کیا ہو گیا ہے جو اسلام قبول نہیں کرتا ہے؟“ میں نے کہا: ”میں بہت خوفزدہ ہوں انہوں نے فرمایا : ” کچھ خوف نہ کرو اور تم تو بڑا احسن سلوک کرنے والے اور صلہ رحمی کرنے والے ہو اور میں تمہارا پڑوسی ہوں۔ میرے ساتھ آؤ“ میں اُن کے ساتھ واپس آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وادی بھیا میں تشریف فرما تھے اور حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہم بھی موجود تھے۔ حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا کہ میں السلام علیک ایہا النبی ورحمتہ اللہ وبر کاتہ کہوں ۔ میں نے جب یہ کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” و یطب ہے ؟ میں نے عرض کیا: ”ہاں! میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس اللہ کا شکر ہے کہ جس نے تمہیں ہدایت دی ہے ۔ “ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے۔ اس کے بعد میں غزوہ حنین اور غزوہ طائف میں شریک ہوا۔ پھر میں مدینہ منورہ میں رہائش پذیر ہوگیا اور وہیں اپنا گھر بنالیا۔ جب مروان بن حکم مدینہ منورہ کا گورنر مقرر ہوا تو میں اُس سے ملنے گیا اور میرے ساتھ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ اور حضرت مخرمہ بن نوفل رضی اللہ عنہ بھی تھے ۔ ہم نے اُسے سلام کیا اور اس سے باتیں کرنے لگے ۔ پھر جب وہ دونوں اُٹھ کر چلے گئے تو مروان بن حکم نے مجھ سے میری عمر کے بارے میں پوچھا تو میں نے اپنی عمر بتائی۔ اُس نے کہا: ”اے شیخ (اے بڑے میاں ) ا تم نے تو بہت بعد میں اسلام قبول کیا اور تم پر نو جوان لوگ سبقت لے گئے ۔ میں نے اُس سے کہا : اللہ ہی سے مدد مانگی جاسکتی ہے۔ اللہ کی قسم جب بھی میں نے اسلام قبول کرنے کا ارادہ کیا تو تمہارا باپ حکم ہی مجھے روکتا رہا اور کہتا رہا: خم ایک نئے دین کے لئے اپنے شرف وعزت کو ضائع کر دو گے اور اپنے باپ دادا کے دین کو چھوڑ دو گے؟ اور کسی اور کے تابع ہو جاؤ گے؟ میری بات سن کر مروان بن حکم پشیمان ہوا اور خاموش ہو گیا۔ پھر میں نے اُس سے کہا: ” کیا تیرے باپ حکم نے نہیں بتایا کہ خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کے بعد تیرا باپ حکم انہیں کیسی کیسی تکلیفیں اور اذیتیں دیا کرتا تھا ؟ بین مروان نے آپ رضی اللہ عنہ سے معافی مانگی۔ آپ رضی اللہ عنہ کا ایک سو بیس (120) سال عمر میں انتقال ہوا۔


حضرت معبد بن مر بوع بن عنکہ رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 54 ہجری میں حضرت معبد بن یربوع بن عنکہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت معبد بن سر بوع بن عنکثہ بن عامر بن مخزوم رضی اللہ عنہ نے فتح مکہ کے روز اسلام قبول کیا اور غزوہ حنین میں شامل ہوئے اور مال غنیمت میں پچاس اُونٹ ملے ۔ اسلام قبول کرنے سے پہلے آپ رضی اللہ عنہ کا نام ”صرم تھا۔ ایک روایت میں اصرم بھی بیان ہوا ہے۔ جب آپ رضی اللہ وعنہ نے اسلام قبول کیا تو رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کا نام ” معبد رکھا۔ آپ رضی اللہ عنہ اُن لوگوں میں شامل ہیں جنہیں خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے انصاب حرم کی تجدید کا حکم دیا تھا۔ آخری عمر میں آپ رضی اللہ عنہ کی بینائی چلی گئی تھی تو خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ خود چل کر تسلی دینے کے لئے آئے تھے ۔ بعض مورخین کے مطابق آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال مدینہ منورہ میں ہوا اور بعض کے مطابق مکہ مکرمہ میں ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ایک سو بیس سال سے زیادہ عمر پائی تھی۔


أم المؤمنین سیدہ سودہ بنت زمعہ کا انتقال


اس سال 54 ہجری میں اُم المومنین سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : ام المومنین سیدہ سودہ بنت زمعہ قبیلہ قریش کے خاندان بنو عامر کی ہیں اس لئے القرشیہ العامر یہ کہلاتی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُم المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے انتقال کے بعد آپ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا۔ اس سے پہلے آپ رضی اللہ عنہا سہیل بن عمرو کے بھائی سکران بن عمرو کی بیوی تھیں۔ آپ رضی اللہ عنہا نے مدینہ منورہ ہجرت کی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا سے علحیدگی کا ارادہ فرمایا تو آپ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ مجھے اپنی بیوی رہنے دیں اور میں اپنی باری کا دن بھی اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو دیتی ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات قبول کر لی اور آپ رضی اللہ عنہا بدستور ام المومنین رہیں۔ آپ رضی اللہ عنہا بڑی عبادت گزار، زہد اختیار کرنے والی اور پر ہیز گار تھیں۔ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: مجھے کسی خاتون کی جماعت میں شامل ہونا پسند نہیں آیا مگر میں آپ رضی اللہ عنہا کی جماعت میں شامل ہونا پسند کرتی ہوں کیونکہ آپ رضی اللہ عنہ میں تیزی تھی جس سے آپ رضی اللہ عنہا جلد رجوع کر لیتی تھیں ۔“ امام ابن جوزی نے آپ رضی اللہ عنہا کی وفات اِس سال میں بیان کی ہے اور امام ابن خیثمہ نے بیان کیا ہے کہ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت کے آخری دنوں میں آپ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا ہے۔


ھ55 ہجری: بصرہ کے گورنر کی معزولی


اس سال 55 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے بصرہ کے گورنرعبداللہ بن عمرو بن غیلان کو معزول کر کے عبید اللہ بن زیاد کو خراسان کے ساتھ ساتھ بصرہ کا بھی گورنر بنا دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اسی سال یعنی ۵۵ ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے بصرہ کے گورنر عبداللہ بن عمرو بن غیلان کو معزول کر کے عبید اللہ بن زیاد کو بصرہ کا گور بنا دیا۔ اس کی وجہ یہ ہوئی کہ عبداللہ بن عمرو بن غیلان بصرہ کی جامع مسجد کے منبر پر خطبہ پڑھ رہا تھا تو بنوبہ میں سے یا بنوضرار میں سے ایک شخص جس کا نام خیبر بن ضحاک ہے اُسے کنکریاں پھینک کر ماریں تو عبداللہ بن عمرو بن غیلان نے اُس کا ہاتھ کٹوا دیا۔ بنوضبہ نے آکر کہا کہ ہماری برادری کے ایک شخص سے جو خطا ہونے والی تھی وہ ہو گئی اور آپ نے اسے قرار واقعی سزا بھی دے دی لیکن ہمیں اندیشہ ہے کہ یہ خبر اگر امیر المومنین کو ہوئی تو وہاں سے بھی اُس شخص پر یا ہمارے قبیلے پر کوئی سزا نازل نہ ہو جائے ۔ اس لئے آپ مناسب سمجھیں تو خود ہی امیر المومنین کے نام ایک خط لکھ کر ہمیں دے دیکھیئے تا کہ ہم اسے اپنے کسی آدمی کے ہاتھ امیر المومنین کے پاس بھیج دیں۔ مطلب یہ ہوا کہ شبہ میں ہاتھ کاٹا گیا ہے اور جرم واضح نہیں ہے۔ عبداللہ بن عمرو بن غیلان نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے نام خط لکھ کر دے دیا۔ وہ خط سال بھر یا چھ مہینے پڑا رہا۔ اس کے بعد عبد اللہ بن عمرو بن غیلان خود حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے پاس گیا یا پھر یہ واقعہ لکھ کر روانہ کر دیا اور بنو ہبہ بھی امیر المومنین کے پاس پہنچے اور انہوں نے کہا: ”اے امیر المومنین! عبد اللہ نے ہمارے ایک بھائی کا ہاتھ ناحق کٹو اڈالا اور یہ اُن کا لکھا ہوا خط آپ کے نام موجود ہے ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میرے مقرر کئے ہوئے گورنر سے قصاص لیا جائے یہ تو درست نہیں ہے اور کسی طرح ایسا نہیں ہو سکتا۔ ہاں اگر تم کہو تو میں تمہیں دیت دلوا دوں؟“ بنوضہ کے لوگ دیت پر راضی ہو گئے تو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے انہیں بیت المال سے دیت ادا کر دی اور عبداللہ بن عمرو بن غیلان کو معزول کر دیا۔


عبید اللہ بن زیاد خراسان کے ساتھ ساتھ بصرہ کا بھی گورنر


اس سال 55 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عمرو بن غیلان کا بصرہ کی گورنری سے معزول کر کے عبید اللہ بن زیاد کو خراسان کے ساتھ ساتھ بصرہ کا بھی گورنر بنا دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے بنوضبہ سے کہا : " جس کو تم پسند کرو اُسی کو میں تمہارا گورنر بنا دوں ۔ انہوں نے کہا: ” امیر المومنین جسے چاہیں ہمارا گورنر مقرر کر دیں ۔ اور عبداللہ بن عامر کے باب میں اہل بصرہ کی جو رائے تھی وہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو پہلے سے معلوم تھی پھر بھی اُن سے پوچھا: ” کیا تم ابن عامر کو پسند کرتے ہو؟ وہ تو ایسا شخص ہے جس کی عفت وطہارت و شرف سے تم خوب واقف ہو ۔ سب نے کہا: ”امیر المومنین ہم سے زیادہ واقف ہیں ۔“ اُن لوگوں کو آزمانے کے لئے بار بار اُن کے سامنے سامنے دہرایا پھر کہا: ” تو لو میں نے اپنے بھتیجے عبیداللہ بن زیاد کو تمہارا گورنر مقرر کیا۔ خراسان کے ساتھ ساتھ بصرہ کا بھی گورنر بنے کے بعد عبید اللہ بن زیاد نے اسلم بن زرعہ کو خراسان کا گورنر مقرر کیا اور پہلے زرارہ بن اوفی کو قاضی کا عہدہ دیا اور پھر ضحاک بن قیس فہری کو اُس کی جگہ مقرر کیا۔ اس سال بھی مروان بن حکم نے مسلمانوں کو حج کرایا۔ 


حضرت ارقم بن ابی الارقم رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 55 ہجری میں حضرت ارقم بن ابی الارقم رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اعلان نبوت فرمایا تو اُس وقت مکہ مکرمہ میں مسلمانوں پر بہت ظلم ہوتا تھا اور مسلمانوں کے جمع ہونے کے لئے کوئی مرکز نہیں تھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو مسلمانوں کو جمع کرنے کے لئے اپنا گھر ” دار ارقم “ دے دیا تھا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت ارقم بن ابی الا رقم بن اسد بن عبد اللہ بن عمر بن مخزوم رضی اللہ عنہ نے بہت پہلے سے اسلام قبول کیا تھا اور آپ رضی اللہ عنہ "السابقون الاولون میں سے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ اسلام قبول کرنے والے ساتویں مسلمان ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ کا گھر مسلمانوں کی پناہ گاہ تھا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش میں سے مسلمان ہونے والے لوگ پناہ لیا کرتے تھے ۔ آپ رضی اللہ عنہ کا گھر کوہ صفا کے پاس تھا جو بعد ازاں مہدی کی ملکیت میں آگیا جسے اُس کی بیوی نے خیر زاں کو بخش دیا جو ہادی اور ہارون رشید کی والدہ تھی۔ اُس نے اُسے از سرنو تعمیر کیا اور وہ گھر اُسی کے نام سے مشہور ہو گیا پھر وہ گھر کسی اور کے پاس چلا گیا۔ حضرت ارقم رضی اللہ عنہ غزوہ بدر اور اُس کے بعد کے معرکوں میں شامل ہوئے اور آپ رضی اللہ عنہ نے 55 ہجری میں اسی (80) سال کی عمر میں مدینہ منورہ میں وفات پائی۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے وصیت کے مطابق آپ رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی۔ 


حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 55 ہجری میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ السابقون الاولون میں سے ہیں اور عشرہ مبشرہ میں سے ہیں۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت سعد بن ابی وقاص نام مالک بن اہیب بن عبد مناف بن زہرہ بن کلاب رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں اور خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے مقرر کئے اُن چھ اصحاب شوری میں سے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے راضی تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے بہت پہلے اسلام قبول کیا۔، ورخین کا بیان ہے کہ جس روز آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا اُس وقت آپ رضی اللہ عنہ کی عمر سترہ (17) سال تھی۔ صحیح میں آپ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اسلام قبول کرنے والا سا تواں ہوں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے کوفہ آکر وہاں سے اعاجم کو جلا وطن کیا اور آپ رضی اللہ عنہ مستجاب الدعوات" تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ ہجرت کی اور غزوہ بدر اور اُس کے بعد کے معرکوں میں شامل ہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہ اللہ کے راستے میں تیر چلانے والے پہلے شخص ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے امراء اور بہادر شہسوار تھے۔ خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں معظم تھے اور خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے تو آپ رضی اللہ عنہ کو سلطنت فارس کے خلاف سپہ سالار اعظم بنا دیا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ فاتح عراق و ایران“ ہیں۔


میرے ماں باپ تم پر قربان


حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو یہ خصوصی اعزاز حاصل ہے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن پر اپنے ماں باپ کو جمع فرمایا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں پہلا شخص ہوں جس نے مشرکین کو تیر مارا اور مجھ سے قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے والدین کو کسی کے لئے جمع نہیں کیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے سنا ہے: ”اے سعد! تیر اندازی کرو! میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں ۔ " حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فرمايا: " غزوہ اُحد کے روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے اپنے ماں باپ کو جمع کیا ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تیر اندازی کرو! میرے ماں باپ تم پر قربان ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تیراندازی کر و تم طاقت ور لڑکے ہو ۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے سوا کسی پر اپنے ماں باپ کو قربان کرتے نہیں سنا اور میں نے غزوہ اُحد میں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”اے سعد! تیراندازی کرو! میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں۔ ( صحیح بخاری) ایک روایت میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی بیٹی سیدہ عائشہ بنت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں اُس مہاجر کی بیٹی ہوں جس پر رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے اپنے ماں باپ کو قربان کیا ہے۔ (مصنف عبدالرزاق ) ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں غزوہ اُحد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں اور بائیں سفید لباس میں دو آدمی دیکھے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے سخت جنگ کر رہے تھے۔ میں نے اُن دونوں کو نہ اس تو پہلے کبھی دیکھا تھا اور نہ اس کے بعد کبھی دیکھا۔“ 


سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پہریدار


حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو ایک اور خصوصی اعزاز حاصل ہے۔ وہ یہ ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پہریدار بھی رہ چکے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو پہریداری سے منع فرما دیا تھا لیکن اللہ کی طرف سے حفاظت کا وعدہ آنے سے پہلے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہریداری کرتے تھے۔ اُنہیں دنوں میں ایک مرتبہ سفر کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جگہ قیام فرمایا اور اتفاق سے کوئی پہریدار مقرر نہیں فرمایا تھا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ” ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بے خوابی کی حالت میں گزاری اور فرمایا: " کاش کوئی صالح آدمی آج رات میری پہریداری کرتا ۔ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آگے فرماتی ہیں: 'اچانک ہم نے خیمے کے باہر ہتھیاروں کی آواز سنی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون ہے؟ خیمے کے باہر سے آواز آئی: میں سعد بن ابی وقاص ہوں ۔ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہریداری کروں گا ۔ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آگے فرماتی ہیں: "اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خراٹوں کی آوازسنی ۔ ایک اور روایت میں اتنازیادہ ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے لئے دعا کی اور پھر آرام سے سو گئے۔


وہ جنتی ہو گا ہے


حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں شامل ہیں۔ یعنی اُن دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک ہیں جنہیں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا میں ہی فرما دیا تھا کہ یہ دس لوگ جنتی ہیں۔ اس کے علاوہ بھی آپ رضی اللہ عنہ کوجنتی ہونے کا ایک اور خصوصی اعزاز حاصل ہے۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اس دروازے سے جو شخص داخل ہوگا وہ جنتی ہو گا ۔ پس حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اُس دروازے سے اندر داخل ہوئے ۔ حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس دروازے سے ایک جنتی شخص اندر داخل ہوگا۔ حضرت عبد اللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کی تمنا تھی کی اُس دروازے سے اُس کے گھر کا کوئی آدمی داخل ہو۔ پھر ہم سب نے دیکھا کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اس دروازے سے اندر داخل ہوئے ۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ابھی تمھارے پاس ایک جنتی شخص آئے گا ۔ پس ہم نے دیکھا کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ آئے ۔ پھر جب دوسرا دن ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی فرمایا تو پھر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ آئے ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے تو حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ سے دریافت کیا : ” آپ رضی اللہ عنہ وہ کون سا عمل کرتے ہیں جس کی وجہ سے آپ رضی اللہ عنہ جنتی ہیں ؟ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں ایسا کوئی خاص عمل تو نہیں کرتا ہوں ، ہاں اتا ہے کہ میں اپنے دل میں کسی مسلمان کے خلاف کوئی برائی نہیں رکھتا ہوں اور نہ اس کے لئے برائی کا کوئی ارادہ رکھتا ہوں اور نہ میں اُسے کوئی بری بات کہتا ہوں۔“


اے اللہ ! اس کی دعا کو قبول فرما


حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو ایک اور خصوصی اعزاز حاصل ہے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کے لئے خصوصی دعا کی ۔ علامہ عمادالدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں: سیدہ عائشہ بن سعد روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے والد محترم حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی پیشانی پر اپنا مبارک ہاتھ رکھا اور پھر دست مبارک اُن کے چہرے، سینے اور پیٹ پر پھیرا اور فرمایا: ” اے اللہ اسعد کو شفا دے اور اُن کی ہجرت کو مکمل کر “ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ہمیشہ ہی خیال کرتا رہا کہ میں اُس ٹھنڈک کو اپنے جگر پر محسوس کرتا ہوں۔ ( مسند احمد ) حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم عیادت کے لئے آئے اور آپ رضی اللہ عنہ کے لئے دعا فرمائی: ”اے اللہ ! اس سے تکلیف کو دور کر لوگوں کے معبود، لوگوں کے بادشاہ ، تو شافی ہے اور تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں ہے۔ میں اللہ کے نام سے تم کو ہر اس چیز سے جو تمہیں ایذا دینے والی ہے اور حسد سے اور نظر بد سے اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں اے اللہ ! اس کے جسم کو اور دل کو صحت دے اور اس کی بیماری کو دور کر اور اس کی دعا کو قبول فرما۔ ایک اور روایت میں ہے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ اس کی تیراندازی کو درست کر اور اس کی دعا کو قبول فرما۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: ”اے اللہ! اس کے تیر کوسیدھا کر اور اس کی دعا کو قبول فرما اور اسے اپنے بندوں کا محبوب بنا دے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی : 'یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ وہ میری دعا کا جواب دیا کرے ۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی دعا اُس وقت تک قبول نہیں کرتا جب تک وہ اپنے رزق کو پاکیزہ نہ کر لے ۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے دعا فرما ئیں کہ وہ میرے رزق کو پاک کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی : ”اے اللہ! اس کے رزق کو پاک کر دے۔“ 


حضرت سعد رضی اللہ عنہ " مستجاب الدعوات تھے


حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی دعا اللہ تعالیٰ قبول فرمایا کرتے تھے ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ مستجاب الدعوات تھے اور جونہی آپ رضی اللہ عنہ دعا کرتے تھے وہ قبول ہو جاتی تھی ۔ صحیحین ( صحیح بخاری اور صحیح مسلم ) میں حضرت جابر بن سلمہ سے روایت ہے کہ (جب حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کوفہ کے گورنر تھے تو خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے بارے میں کچھ شکایت پہنچی تو خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے تحقیق کے لئے کوفہ آدمی بھیجے ۔ انہوں نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ شکایت ہے کہ نماز ز چھی طرح نہیں پڑھاتے ہیں۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھانے میں کو تا ہی نہیں کرتا ہوں۔ میں پہلی دورکعتوں کو طویل کرتا ہوں اور آخری دور کعتوں کو چھوٹی کرتا ہوں ۔ محقق نے کہا: ”ہاں یہی صحیح ہے ۔ پھر تحقیق کرنے والے نے کوفہ کے لوگوں سے آپ رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا تو تمام کوفہ کے لوگوں نے آپ رضی اللہ عنہ کی تعریف کی اور صرف بنو عبس کے ابو سعدة اسامہ بن قتادہ نامی شخص نے کہا: ” حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سریہ (جنگ) میں نہیں جاتے اور نہ برابر تقسیم کرتے ہیں اور رعایا کے معاملے میں عدل سے کام نہیں لیتے ہیں ۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو اس شخص کے بارے میں اطلاع ملی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "اے اللہ ! اگر تیرا یہ بندہ ریا کاری اور شہرت کے لئے کھڑا ہوا ہے تو اس کی عمر کو دراز کر دے اور اس کو ہمیشہ تنگدست رکھا اور اس کی انکھ کو اندھا کر دے اور اسے فتنوں کا نشانہ بنا۔ راوی بیان کرتا ہے کہ میں نے اُس کے بعد اُس شخص کو بہت بوڑھے کی حالت میں دیکھا تو اُس کے ابرواس کی آنکھوں پر گر گئے تھے اور وہ راستے پر کھڑا ہو کر لڑکیوں کو ہاتھوں سے ٹولنا۔ اُس سے پوچھا جاتا تو وہ کہتا: " پاگل بوڑھا جسے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی بد دعا لگی ہے۔“


عشرہ مبشرہ میں سے سب سے آخر میں انتقال


حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سب سے آخر میں انتقال کرنے والے ہیں ۔ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : جب حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا انتقال ہونے لگا تو آپ رضی اللہ عنہ نے ایک پرانا جبہ نکلوایا اور فرمایا : ” مجھے اس میں کفن دینا ، میں نے غزوہ بدر کے روز اسے پہن کر مشرکوں سے جنگ کی تھی اور میں نے اسی دن کے لئے اسے چھپا کر رکھا ہوا تھا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا مدینہ منورہ کے مضافات کے ایک مقام حقیقی پر انتقال ہوا۔ اور آپ رضی اللہ عنہ کو لوگوں کی گردنوں پر مدینہ منورہ لایا گیا اور مروان بن حکم نے آپ رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی اور آپ رضی اللہ عنہ کو بقیع میں دفن کیا گیا۔ انتقال کے وقت آپ رضی اللہ عنہ کی عمر اسی (80) سال تھی۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!


Saltanat e Umayya part 07

 07 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 7

تین اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا انتقال، ھ56 ہجری: یزید کی جانشینی کا اعلان، یزید کی جانشینی کے بارے میں زیاد سے مشورہ، ولی عہدی ( جانشینی ) کے اعلان کو روک دیا، پانچ حضرات رضی اللہ عنہم نے بیعت سے انکار کیا ہے، مروان بن حکم کی صحابی رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی، وفود سے مشورہ، حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ کا مشورہ، مدینہ منورہ میں، حضرت سعید بن عثمان غنی خراسان کے سپہ سالار، اہل صغد سے مقابلہ، ھ57 ہجری، 



تین اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا انتقال


اس سال 55 ہجری میں تین اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت فضالہ بن عبید انصاری رضی اللہ عنہ انصار کے قبیلہ اوس کے ہیں۔ غزوہ اُحد آپ رضی اللہ عنہ کا پہلا معرکہ ہے اور آپ رضی اللہ عنہ نے بیعت رضوان“ میں شمولیت کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد ملک شام چلے گئے اور حضرت معاویہ بن ابی سفیان کے زمانے میں حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے دمشق میں قاضی کا محکمہ سنبھالا اور ابن جوزی کے مطابق اس سال 55 ہجری میں انتقال ہوا۔ دوسرے صحابی حضرت قسم بن عباس بن عبد المطلب ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ، سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے چازاد بھائی ہیں اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت مشابہ تھے ۔ آپ رضی اللہ عنہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں مدینہ منورہ کے گورنر تھے۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ سمرقند کی فتح میں شامل ہوئے اور وہیں ۵۵ ہجری میں شہید ہو گئے ۔ تیسرے صحابی حضرت کعب بن عمر و ابو الیسر انصاری ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ انصار کے قبیلہ بنو سلمہ کے ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ بیعت عقبہ اور غزوہ بدر میں شامل ہوئے اور اُس غزوہ میں آپ رضی اللہ عنہ نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس بن عبد المطلب کو قیدی بنایا تھا۔ اس کے بعد کے تمام معرکوں میں سید الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔ اس سال ۵۵ ہجری میں انتقال ہوا اور آپ رضی اللہ عنہ اہل بدر میں سے وفات پانے والے آخری صحابی ہیں۔ 


ھ56 ہجری: یزید کی جانشینی کا اعلان


اس سال 56 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے یزید کی جانشینی کا اعلان کر دیا کہ میرے بعد میرا بیٹا یزید مملکت اسلامیہ کا حکمراں بنے گا۔ یزید کی ولی عہدی یا جانشینی کا مشورہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو 50 ہجری میں دیا تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اس سال 56 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے یزید کو ولی عہد ( جانشین ) بنانے کا اعلان کیا اور لوگوں سے بیعت لی ۔ اس کا سبب یہ ہوا کے ۵۰ ہجری میں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور اپنی ضعیفی کے بارے میں بتا کر کوفہ کی گورنری سے استعفیٰ دے دیا جسے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے قبول کر لیا اور سعید بن عاص کو اُن کی جگہ مقرر کرنا چاہا۔ یہ خبر حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے کا تب ابن نئیس کو ملی تو وہ سعید بن عاص کے پاس پہنچا اور اُس سے پورا حال بیان کر دیا اُس وقت سعید کے پاس ربیع یا ربیعہ بیٹھا ہوا تھا اس نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر کہا: ” میں سمجھتا ہوں کہ امیر المومنین تم سے کچھ ناراض ہیں۔ میں نے تمہارے کا تب ابن نئیس کو سعید بن عاص کے پاس دیکھا اور وہ کہہ رہا تھا کہ امیر المومنین تمہیں کوفہ کا گورنر بنانے والے ہیں۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اُسے تو یہ کہنا چاہئے تھا کہ مغیرہ (رضی اللہ عنہ ) پھر بڑے استحکام سے واپس آنے والا ہے ٹھہرو میں یزید کے پاس جاتا ہوں ۔ “ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ یزید کے پاس جا کر جا نشینی کا ذکر کیا تو یزید نے اپنے والد حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے کیا۔ اس کے بعد اسی سال 50 ہجری میں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: علامہ طبری نے یہ سند لکھا ہے کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ ملک شام میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ضعف کی شکایت کی اور معذوری کی وجہ سے استعفیٰ دیدیا جو منظور ہو گیا۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی علیحدگی پر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے سعید بن عاص کو گورنر بنانے کا قصد کیا۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے شناسا کہنے لگے : ” تم کو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے نکال دیا ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: ” اس تذکرہ کو چھوڑو میں نے خود علیحدگی اختیار کی ہے۔“ جواب دینے کو تو دے دیا لیکن دل پر چوٹ لگی اور اُسی وقت بحالی کی فکر ہوگئی۔ اسی غور و خوض میں ایک دن یزید کے پاس جا پہنچے اور اُس سے کہا: ” تم اپنے والد محترم سے ولی عہدی (جانشینی) کی بیعت لینے کو کیوں نہیں کہتے ؟ کیونکہ بزرگ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور سرداران و بزرگان قریش انقال کر چکے ہیں، اب اُن کی اولادیں باقی ہیں اور تم ان لوگوں سے رائے وسیاست میں افضل ہو، میرے نزدیک امیر المومنین کو تمہاری ولی عہدی کی بیعت لینے میں کوئی امر مانع نہیں ہوگا ۔ یزید نے اپنے والد محترم سے جا کر یہی بات کہی تو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا اور اس بات پر رائے طلب کی ۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”امیر المومنین! آپ نے ملاحظہ فرمایا ہے کہ امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بعد کس قدر خون ریزیاں اور اختلافات ہوئے ہیں اور یزید تو آپ کا بیٹا ہے، آپ اُس کی ولی عہدی کی بیعت لوگوں سے لے لیجیئے ۔ آپ کے بعد وہ مسلمانوں کاما داوطلب ہوگا اور اس میں کوئی فتنہ نہیں ہوگا اور نہ فساد ہوگا۔ میں اس کام کی انجام دہی کے لئے کوفہ میں کافی ہوں اور زیاد بصرہ میں ہے اور ان دونوں شہروں کے بعد پھر کوئی ایسا شہر نہیں ہے جو آپ کے حکم کی مخالفت کرے ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو کوفہ کی گورنری پر بحالی کی سند دی اور دوبارہ کوفہ کی طرف روانہ کر کے یزید کی ولی عہدی کی کاروائی کرنے کا حکم دیا۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کوفہ واپس آئے اور لوگوں کو راضی کر کے ایک وفد دمشق روانہ کیا۔ اُس وفد نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان کی خدمت میں حاضر ہو کر یزید کی ولی عہدی کی درخواست پیش کی ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ” کیا تم لوگ راضی ہو؟ انہوں نے کہا: ”ہم سب اور ہمارے سوا اور جتنے آدمی ہیں سب اس سے راضی ہیں ۔“ (اس کے کچھ مہینوں بعد حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا )


یزید کی جانشینی کے بارے میں زیاد سے مشورہ


اُس وقت یعنی 50 ہجری میں زیاد بصرہ کا گورنر تھا۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے زیاد کو خط لکھا اور یزید کو جانشین بنانے کے بارے میں مشورہ مانگا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے زیاد کو خط لکھ کر اس باب میں اُس سے مشورہ کیا۔ زیادہ نے عبید بن کعب نمیری کو بلا کر اس سے مشورہ کیا اور کہا: ”امیر المومنین نے یزید کے لئے بیعت لینے کا مصمم ارادہ کر لیا ہے اور لوگوں کے بیزار ہونے کا بھی خوف ہے اور اُن کے اتفاق کرنے کی بھی آرزو ہے اور اس باب میں مجھ سے مشورہ طلب کیا ہے لیکن اسلام کا تعلق اور ذمہ داری بہت بڑی چیز ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ یزید کی طبیعت میں کا ہلی وسہل نگاری بہت ہے اس پر طرہ یہ ہے کہ وہ شکار کا گرویدہ ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ تم میری طرف سے امیر المومنین کے پاس جاؤ اور یزید کے جو حالات میں نے بیان کئے ہیں وہ اُن سے بیان کر دو اور یہ کہو کہ ابھی تامل کریں۔ آپ جو چاہتے ہیں یہ بات ہو کر رہے گی ، جلدی نہ کریں۔ جس تاخیر میں مطلب ہو وہ اس تجھیل سے بہتر ہے جس میں مقصود کے فوت ہو جانے کا اندیشہ ہو ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اس کے بعد حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے زیاد کو کل حالات لکھ بھیجے اور اُس سے مشورہ طلب کیا۔ زیاد نے عبید بن کعب نمیریکو بلا کر کہا: ”امیر المومنین نے مجھے یہ خط لکھا اور یزید کی ولی عہدی کی بابت مشورہ طلب کیا ہے کیونکہ وہ لوگوں کے تنفر سے خائف ہیں اور چاہتے ہیں کہ لوگ اس امر میں اُن کی اطاعت کریں لیکن مسلمانوں کا یزید کی بیعت پر راضی ہوتا ایک اہم امر ہے، یزید میں آوارگی ، بیہودگی ، بد دیانتی اور نا اہلی ہے۔ میرے نزدیک تو یہ ہے کہ تم امیر المومنین سے جا کر ملو اور یزید کے افعال سے مطلع کرو اور صاف صاف کہ دو کہ یہ کام ہونا دشوار ہے اور اگر آپ یہ کام انجام دیتا ہی چاہتے ہیں تو عجلت نہ کریں۔ کسی کام میں تاخیر ہونا بہتر ہے یہ نسبت اس کے کہ عجلت میں وہ فوت ہو جائے ۔ عبید نے کہا: ” کیا آپ اس کے سوا کوئی اور رائے نہیں دے سکتے ؟‘ زیاد نے کہا: ” اور کیا کہوں؟“


ولی عہدی ( جانشینی ) کے اعلان کو روک دیا


حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے زیاد سے یزید کی جانشینی پر مشورہ مانگا تو زیاد نے مشورہ دیا کہ ابھی ولی عہدی (جانشینی ) کا اعلان نہ کریں بلکہ مناسب موقع کا انتظار کریں ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عید بن کعب نمیری نے زیاد سے کہا: ” کیا اس کے علاوہ کوئی اور بات آپ کے خیال میں نہیں ہے؟ زیاد نے کہا: ” اور کیا بات ہو سکتی ہے؟ عبید نے کہا: ” آپ کو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی رائے سے اعتراض نہیں کرنا چاہیئے اور اُن کے بیٹے کی طرف سے اُن کو نفرت دلا نا مناسب نہیں ہے۔ میں یزید سے اکیلے میں ملاقات کروں گا اور اُسے تمہاری طرف سے کہوں گا کہ امیر المومنین نے تمہاری بیعت کے باب میں مجھ سے مشورہ طلب کیا ہے اور میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے بعض کاموں سے لوگ بیزار ہیں مجھے اندیشہ ہے کہ تمہاری بیعت میں وہ مخالفت کریں گے ۔ میری رائے یہ ہے کہ جن باتوں سے لوگ بیزار میں تمہیں چاہیئے کہ وہ سب باتیں ترک کر دو۔ اس سے امیر المومنین کی بات بالا ہو جائے گی اور تم جو چاہتے ہو وہ کام بھی آسانی سے ہو جائے گا ۔ اس طرح کرنے سے آپ یزید کے خیر خواہ کہلائیں گے اور امیر المومنین بھی آپ سے خوش رہیں گے اور ذمہ داری اُمت اسلام کا جو خوف آپ کو ہے اُس سے بھی بچ جائیں گے ۔ زیاد نے کہا: ” تمہاری رائے بالکل درست ہے۔ بس اب خیر و برکت کے ساتھ روانہ ہو جاؤ۔ اگر بہتری ہوئی تو کیا پوچھنا اور اگر چوک ہو گئی تو بھی یہ فعل بے لاگ ہوگا اور اللہ نے چاہا تو خطا سے محفوظ رہے گا۔ عبید نے کہا: ” آپ اپنی رائے سے یہ بات کہہ رہے ہیں اور اللہ کو جو منظور ہے وہ غیب میں ہے۔ عبید بن کعب یزید کے پاس پہنچا اور اُس سے گفتگو کی اور زیاد نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو ولی عہدی کے لئے مناسب وقت کا انتظار کرنے کے کہا اور جلدی کرنے سے منع کیا۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے اُس کی بات کو مان لیا اور یزید نے اکثر افعال کو ترک کر دیا۔ عبید جب زیاد کے پاس واپس آیا تو زیاد نے اُسے جاگیر عطا کی ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں عبید نے کہا: ” کیا آپ اس کے سوا کوئی اور رائے نہیں دے سکتے ؟ زیاد نے کہا: ” اور کیا کہوں؟ عبید نے کہا: ” مناسب یہ ہے کہ امیر المومنین کی رائے کی مخالفت نہ کرو اور نہ ہی اُس کے بیٹے کو بدخواہ بناؤ، میں جا کر یزید سے ملتا ہوں اور اُس کو آگاہ کرتا ہوں کہ امیر المومنین نے زیاد کو خط لکھ کر مشورہ طلب کیا ہے لیکن زیادلوگوں کی مخالفت سے ڈر رہا ہے کیونکہ عوام تمہارے افعال و کردار سے ناراض ہیں۔ اگر مناسب سمجھو تو ان افعال و حرکات کو چھوڑ دو تا کہ لوگوں کو قائل کرنے کا زیاد کو موقع مل جائے اور جو تم چاہتے ہو وہ کام ہو جائے ۔ زیاد نے یہ رائے پسند کی۔ عبید رخصت ہو کر یزید کے پاس پہنچا اور اس کو سمجھایا۔ ادھر زیاد نے لکھ بھیجا کہ "بالفعل محبت نہ کریں ورنہ لوگ بھڑک اُٹھیں گے اور یہ کام فوت ہو جائے گا ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ خاموش ہو گئے۔


پانچ حضرات رضی اللہ عنہم نے بیعت سے انکار کیا ہے


یہ تمام واقعات 50 ہجری میں پیش آئے تھے اور اُس وقت حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے خاموشی اختیار کر لی لیکن 56 ہجری میں آپ رضی اللہ عنہ نے یزید کی ولی عہدی کا اعلان کر دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: زیاد جب مر گیا تو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے ایک تحریر نکالی اور لوگوں کے سامنے پڑھی۔ اس میں یزید کو جانشین کرنے کا مضمون تھا کہ اگر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی موت واقع ہوئی تو یزید ولی عہد ہو گا ۔ یہ سن کر پانچ حضرات رضی اللہ عنہم کے سوا سب لوگ یزید کی بیعت کرنے پر تیار ہو گئے ۔ ان پانچ حضرات رضی اللہ عنہم کے نام یہ ہیں۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ، حضرت عبد اللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ، حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ، حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: پھر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ کے گورنر مروان بن حکم کو لکھا: ”میری عمر زیادہ ہوگئی ہے اور میری ہڈیاں کمزور ہوگئی ہیں ۔ مجھے اندیشہ ہے کہ میرے بعد محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں اختلاف پڑ جائے گا۔ اس وجہ سے میں چاہتا ہوں کہ کسی کو اپنا ولی عہد بنالوں لیکن تمہارے اور اُن لوگوں کے جو تمہارے پاس ہیں مشورے کے بغیر اس کام کو نہیں کر سکتا ہوں۔ تم میری طرف سے اس امر کو اہل مدینہ کے سامنے پیش کرو اور جو خیال وہ ظاہر کریں اُس سے مجھے مطلع کرو ۔ مروان بن حکم نے لوگوں کو جمع کر کے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے خط کے مضمون سے آگاہ کیا ۔ لوگوں نے متفق ہو کر کہا: ” بہتر ہے کہ امیر المومنین کسی کو ہمارے لئے منتخب کر جائیں ۔ مروان بن حکم نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں مطلع کیا تو انہوں نے جواب میں لکھا ”میں یزید کو اپنے بعد ولی عہد ( جانشین) مقرر کرتا ہوں“ مروان بن حکم نے اہل مدینہ کو جمع کر کے خط کا مضمون سنا دیا۔ یہ سن کر حضرت عبدالرحمن بن ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا: ” اے مردان ابی محمد صل اللہ علیہ وسلم کی اُمت کے لئے بہتری نہیں ہے اور تم اور حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ خلافت کو حکومت ہر قلیہ بنانا چاہتے ہو کہ ایک ہرقل مر جائے تو اُس کی جگہ دوسرا ہر قل قائم ہو۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ، حضرت عبد اللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے بھی حضرت عبد الرحمن بن ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تائید کی اور جلسہ درہم برہم ہو گیا۔ مروان بن حکم نے پورا واقعہ لکھ کر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے بھیج دیا۔ 


مروان بن حکم کی صحابی رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی


مدینہ منورہ کے گورنر مروان بن حکم نے خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بیٹے حضرت عبد الرحمن بن ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی کی ۔ امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں بھیج بخاری میں اور سنن نسائی میں ہے اور امام ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ جس زمانے میں مروان بن حکم حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی طرف سے مدینہ منورہ کا گورنر تھا تو اس نے ایک بار خطبہ میں کہا: ” امیر المومنین حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ اپنے بیٹے یزید کو خلیفہ بنانے میں بالکل حق پر ہیں کیونکہ یہی حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہم کی سنت ہے۔ یہ سن کر حضرت عبد الرحمن بن ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نہیں نہیں ! بلکہ یہ ہر قتل اور کسریٰ کا طریقہ ہے کیونکہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اللہ کی قسم اپنی کسی اولاد کو ولی عہد نامزد نہیں کیا تھا اور اپنے خاندان میں سے کسی کو بھی نہیں خلیفہ بنایا تھا۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ ایسا شفقت پدری کے باعث کر رہے ہیں ۔ یہ سن کر مروان بن حکم نے کہا: تو وہی شخص ہے جس کے لئے قرآن شریف میں نازل ہوا کہ "تم اپنے والدین کو اُف تک نہ کہو کیونکہ تم نے ہی اپنے والد سے مقابلہ کیا تھا جب ہی یہ حکم نازل ہوا ۔“ یہ سن کر حضرت عبد الرحمن بن ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” کیا تو ابن لعین نہیں ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرے باپ پر لعنت کی ہے۔ جب یہ روئیداد ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا تک پہنچی تو انہوں نے فرمایا: ” مروان بن حکم جھوٹا ہے۔ یہ آیت تم اپنے والدین کو اُف تک نہ کہو فلاں شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ البتہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے مروان کے باپ حکم پر ضرور لعنت بھیجی ہے اور اُس وقت مروان اپنے باپ کی طلب میں تھا۔ پس مروان پر بھی یہ لعنت پڑی ہے ۔ “ ( تاریخ الخلفاء)


وفود سے مشورہ


مملکت اسلامیہ میں اپنے گورنروں کو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے یزید کی ولی عہدی کی خبر دے دی اور پوری مملکت اسلامیہ سے وفود ملک شام آنے لگے آپ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہونے لگے ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: اُس وقت حضرت معاویہ بن ابی افیان رضی اللہ عنہ نے اپنے گورنروں کا لکھ بھیجا کہ "تم لوگ یزید کی شنا و صفت لوگوں میں بیان کرو اور اطراف و جوانب کے بلادِ اسلامیہ میں سے یزید کی ولی عہدی کی درخواست پیش کرنے کی غرض سے وفود بھیجو۔ اسی لئے مملکت اسلامیہ سے وفود ملک شام میں حاضر ہوئے اور ان میں مدینہ منورہ سے عمرو بن حزم اور کوفہ سے حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ کی سربراہی میں وفود آئے۔ وفود کے جمع ہو جانے پر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے ضحاک بن فہری سے کہا: میں تمہیداً کچھ بیان کروں گا ، جس وقت میں تقریر کر کے بیٹھوں تو تم کھڑے ہو کر یزید کی ولی عہدی اور بیعت کی تقریر کرنا اور لوگوں کو اس امر پر آمادہ کرنا ۔ اس کے بعد حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور اسلام کے فضائل ، خلافت کے فرائض و حقوق مسلمانوں کے اتفاق واطاعت خلافت کو اجمالاً بیان کر کے بیٹھ گئے اور ضحاک اُٹھا اور کہنے لگا: اے امیر المومنین! آپ کے بعد لوگوں کو ایک امیر کی ضرورت ہوگی، اگر آپ کی موجودگی میں ہم کسی کو اپنا ولی عہد بنا ئیں نہیں بنائیں گے تو بڑے بڑے مصائب میں گرفتار ہوں گے ، خون ریزیاں ہوں گی، امن کے راستے بند ہو جائیں گے دن بدن ابتری کا زمانہ آتا جائے گا، اچھے آدمی کمیاب ہوتے جائیں گے ، ہمارے نزدیک آپ کا بیٹا یزید نہایت راست باز ، خوش خو، ملک داری کے آئین سے واقف ہے اور جیسا کہ لوگ اور آپ جانتے ہیں کہ وہ ہم سے علم و حلم ورائے میں افضل ہے، پس آپ اُس کو اپنا ولی عہد (جانشین) بنائیے اور اپنے بعد اُس کو ہمارا پیشوا مقر رکیجیئے ، جس کے سایہ امن میں ہم پناہ گزین ہوں ۔ عمرو بن سعید الا شدق نے اس کی تائید کی اور یزید بن مقتنع عذری نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: یہ امیر المومنین ہیں اور جو شخص اس کے خلاف کرے گا تو ( تلواروں کی طرف اشارہ کر کے ) یہ ہے ۔ امیر المومنین نے یزید بن مقتع سے کہا: ” بیٹھ جاؤ تم خطیبوں کے سردار ہو۔ اس کے بعد وفود عرض و معروض کرنے لگے۔


حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ کا مشورہ


وفود میں آئے سب لوگ یزید کی ولی عہدی کی درخواست کر رہے تھے لیکن حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ خاموش بیٹھے کسی گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے تھے۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ خاموش بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے اُن سے فرمایا: ” تمہاری کیا رائے ہے؟ حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” مجھے خوف ہے کہ میں جو کہوں گا اُس کی آپ تصدیق کریں گے اور اللہ کا خوف کے کہ وہ تکذیب کرے گا۔ اے امیر المومنین ! تم یزید کے روز مرہ کے حالات سے بخوبی واقف ہو ، اس کے ظاہر و باطن ، آمد و رفت سے کما حقہ آگاہ ہو، اگر آپ جانتے ہو کہ اس میں اللہ تعالٰی و محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی بہتری ہے تو کسی سے مشورہ نہ کریں اور اگر آپ اس کے خلاف سمجھتے ہوں تو دنیا کی زیادہ فکر نہ کریں کیونکہ سفر آخرت قریب ہے، باقی رہے ہم تو ہمارا فرض یہ ہے کہ آپ جو کہیں گے اُس کو ہم بسر و چشم منظور کر لیں گے ۔ قیس کی اس تقریر کے ختم ہوتے ہی ایک شامی شخص نے کھڑے ہو کر کہا: ہم کچھ نہیں کہہ سکتے کہ یہ معدیہ عراقیہ کیا بک رہا ہے؟ ہم تو امیر المومنین کے احکام کی بسروچشم تحمیل کریں گے اور یہ تلوار ہمارے پاس ہے جو اس کے خلاف کرے گا اُس سے ہم نپٹ لیں گے ۔ اس شامی شخص کے کھڑے ہوتے ہیں جلسہ برخاست ہو گیا لوگ منتشر ہو گئے ۔ حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ کی تقریر کا چرچا ہونے لگا اور بظاہر یہ معلوم ہوا کہ اب یہ کام نہیں ہو سکے گا لیکن حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ برابر اپنی کوشش میں لگے رہے اور ہر شخص سے مدارات و اچھا سلوک کرتے رہے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تھوڑے ہی دنوں بعد اہل عراق اور اہل شام کے اکثر آدمیوں نے یزید کی ولی عہدی کی بیعت کر لی۔


مدینہ منورہ میں


مدینہ منورہ میں پانچ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے یزید کو ولی عہد ماننے سے انکار کر دیا تھا اور انہیں منانے کے لئے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سفر کر کے مدینہ منورہ آئے تو وہ پانچوں صحابہ رضی اللہ عنہم مکہ مکرمہ چلے گئے تھے ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ بھی مکہ مکرمہ گئے اور انہیں منانے کی کوشش کی ۔ اسے مورخین نے بہت تفصیل سے بیان کیا ہے اور آپ تاریخ امم والملوک المعروف تاریخ طبری، البدایہ والنہایہ المعروف تاریخ ابن کثیر اور تاریخ ابن خلدون میں پڑھ سکتے ہیں۔ مورخین نے اسے بہت تفصیل سے بیان کیا ہے لیکن ہمارا قلم اسے لکھنے سے قاصر ہے۔ اس لئے ہم یہاں پر صرف اتنے پر ہی پر اکتفا کرتے ہیں۔


حضرت سعید بن عثمان غنی خراسان کے سپہ سالار


اس سال 56 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے حضرت سعید بن عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو خراسان کا گورنر بنایا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت سعید بن عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے خراسان کی گورنری طلب کی تو انہوں نے کہا: ”وہاں کا گورنر تو عبید اللہ بن زیاد ہے۔ حضرت سعید بن عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے امیر المومنین ! آپ سے میرے والد محترم ( خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ) نے اتنا اچھا سلوک کیا اور آپ کو اتنا بلند کیا کہ آپ اُن کے سلوک کے سبب اُس مقام پر پہنچ گئے جسے کوئی نہیں پا سکتا ہے اور نہ کوئی برابری کر سکتا ہے۔ آپ نے اُن کی جانفشانی کا کچھ عوض اور اُن کے احسانوں کا کوئی خیال نہیں کیا اور مجھ پر اس کو یعنی یزید کو مقدم کر دیا اور اس کی ولی عہدی کے لئے لوگوں سے بیعت لے لی۔ اللہ کی قسم ! میرے والد محترم اس کے والد سے اور میری والدہ محترمہ اس کی والدہ سے بہتر ہے اور میں خود اس سے ( یزید سے ) بہتر ہوں ۔ " حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” تمہارے والد محترم کی جانفشانی کا عوض کرنا مجھ پر واجب ہے۔ یہ بھی تو اُس کا عوض تھا کہ میں نے اُن کے خون کا بدلہ لیا یہاں تک کہ تمام اُمور سلجھ گئے اور اپنے اس طرح آمادہ ہونے پر مجھے کچھ پشیمانی نہیں ہوئی۔ اپنے والد محترم کو جو تم نے اس کے والد سے افضل ہونے کا کہا تو اللہ کی قسم ! تمہارے والد محترم مجھ سے بہتر ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب تر ہیں۔ اپنی والدہ محترمہ کا جو تم نے اس کی والدہ سے بہتر ہونے کا کہا تو اس سے بھی انکار نہیں ہو سکتا۔ زن قریشیہ بہتر ہے زن کلبیہ سے تم خود کو جو اس سے بہتر کہہ رہے ہو تو میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ تم جیسا شخص یزید کے معاملہ میں خرابی ڈالے۔ یہ سن کر یزید نے کہا: "امیر المومنین ! یہ تو آپ کے چازاد بھائی کا بیٹا ہے اور آپ سے بڑھ کر کون اس کے حال پر نظر التفات کر سکتا ہے۔ میرے بارے میں یہ آپ سے خفا ہے تو اس کو راضی کر لیئے ۔ اس پر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے حضرت سعید بن عثمان غنی کو خراسان کا سپہ سالار بنا کر روانہ کیا۔


اہل صغد سے مقابلہ


حضرت سعید بن عثمان غنی رضی اللہ عنہ خراسان پہنچے تو اُن کا مقابلہ اہل صفد سے ہوا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں پلطن بلخ کے مقام پر اعرابیوں کا ایک گروہ قافلہ خارج کی رہزنی کیا کرتا تھا۔ لوگوں نے حضرت سعید بن عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ یہاں ایک گروہ ہے جو قافلہ کی رہزنی کیا کرتا ہے ان کے سبب سے راہ پر خطر ہو گئی ہے اُن کو بھی اپنے ساتھ لیتے جاؤ۔ حضرت سعید بن عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اُن لوگوں کو اپنے ساتھ لے لیا یہ سب بنو تمیم کے تھے انہیں لوگوں میں مالک بن زیب مازنی بھی تھا۔ اس کے ساتھ ایسے ایسے جوان تھے جن کے باب میں چند شعر کسی نے کہے تھے۔ حضرت سعید بن عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے سمرقند تک نہر کو قطع کیا یہاں اہل صفہ مقابلہ کو نکلے۔ شام تک سب اپنے اپنے مقام پر جمے رہے پھر بغیر جنگ کے پڑاؤ میں واپس آگئے ۔ اس پر مالک بن زیب مازنی نے حضرت سعید بن عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہا: ” اہل صغر کے مقابلہ میں دن بھر ٹو بزدلی سے کھڑا کا خپتا رہا۔ مجھے تو خوف ہوا کہ کہیں تو عیسائی نہ ہو جائے ۔ دوسرے دن حضرت سعید بن عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے صف آرائی کی اور اہل صفہ سے جنگ شروع کر دی ۔ دشمنوں کو شکست دی اور بھاگ کر شہر میں چلے گئے اور شہر پناہ کے دروازے بند کر دیئے۔ حضرت سعید بن عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے شہر کا محاصرہ کر لیا۔ آخر کا راہل صفد نے صلح کی درخواست کی اور امراء وعمائدین کے پچاس لڑکوں کو بطور یر غمال بھیجا۔ حضرت سعید بن عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اپنے لشکر کے ساتھ نمبر کو بور کر کے ترند میں قیام کیا۔ پھر اس کے لئے کہ اُن کے لوگوں کے ساتھ ایفائے عہد کریں اُن سب لڑکوں کو لیکر مدینہ منورہ چلے آئے۔ اس کی وجہ یہ ہوئی کہ حضرت سعید بن عثمان غنی رضی اللہ عنہ جب خراسان میں داخل ہوئے تو یہاں اسلم بن ذرعہ کلابی کو عبید اللہ بن زیاد نے خراسان کا گورنر بنایا ہوا تھا۔ ابھی اسلم اپنی جگہ سے ہٹا بھی نہیں تھا کہ عبید اللہ بن زیاد کی طرف سے یہ حکم نامہ آیا کہ اسلم ہی خراسان کا گورنر رہے گا۔ یہ حکم نامہ دیکھ کر حضرت سعید بن عثمان غنی رضی اللہ عنہ خراسان سے واپس مدینہ منورہ آگئے ۔ اس سال مدینہ منورہ کا گورنر مروان بن حکم رہا، کوفہ کا گورنر ضحاک بن قیس رہا، بصرہ کا گورنرعبیداللہ بن زیا درہا۔


ھ57 ہجری


ا57 ہجری میں کوئی قابل ذکر واقعہ پیش نہیں آیا اور مملکت اسلامیہ میں وہی گورنر ر ہے جو پچھلے سال تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اس سال عبداللہ بن قیس نے سرزمین روم میں جاڑا بسر کیا اور ذی القعدہ میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے مروان بن حکم کو مدینہ منورہ کی گورنری سے معزول کر کے ولید بن عقبہ بن ابی سفیان کو گورنر بنایا۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سال بھی مروان بن حکم ہی مدینہ منورہ کا گورنر رہا۔( یہ غلط نہی اس لئے ہوئی کے ۵۷ ہجری کے گیارہویں مہینے میں مروان کو معزول کیا گیا) کوفہ کا گورنر ضحاک بن قیس تھا اور بصرہ کا گورنر عبید اللہ بن زیاد تھا۔ ایک روایت کے مطابق خراسان کے گورنر حضرت سعید بن عثمان غنی رضی اللہ عنہ تھے یا پھر کچھ دنوں تک گورنر رہنے کے بعد مدینہ منورہ واپس آگئے اور عبید اللہ بن زیاد نے اسلم بن زرعہ کو دوبارہ خراسان کا گورنر بنا دیا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!


D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں