جمعرات، 5 ستمبر، 2024

Saltanat e Umayya part 06

 06 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 6

حضرت اسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت ثوبان بن مجدد رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت حويطب بن عبد العزی رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت معبد بن مر بوع بن عنکہ رضی اللہ عنہ کا انتقال، أم المؤمنین سیدہ سودہ بنت زمعہ کا انتقال، ھ55 ہجری: بصرہ کے گورنر کی معزولی، عبید اللہ بن زیاد خراسان کے ساتھ ساتھ بصرہ کا بھی گورنر، حضرت ارقم بن ابی الارقم رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا انتقال، میرے ماں باپ تم پر قربان، 

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پہریدار، وہ جنتی ہو گا ہے، اے اللہ ! اس کی دعا کو قبول فرما، حضرت سعد رضی اللہ عنہ " مستجاب الدعوات تھے، عشرہ مبشرہ میں سے سب سے آخر میں انتقال


حضرت اسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 54 ہجری میں حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت اسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ جن کی کنیت ابومحمد ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام کے بیٹے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب کے بیٹے ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ کے والد محترم غلام بن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نو عمری میں آئے تھے۔ اُن کے والد حارثہ انہیں لینے کے لئے آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اختیار دیا کہ چاہیں تو اپنے والد کے ساتھ چلے جائیں یا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہیں ۔ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے والد کے ساتھ جانا گوارہ نہیں کیا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنا گوارہ کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کر دیا پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان نبوت فرمایا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا۔ جوان ہونے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کا نکاح اپنی آبائی کنیز سیدہ اُم ایمن رضی اللہ عنہا سے کر دیا۔ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی والدہ محترمہ یہی سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا ہیں ۔ صحیح بخاری میں آپ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ایک ران پر حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو بٹھاتے تھے اور دوسری ران پر حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو بٹھاتے تھے اور فرماتے تھے : ” اے اللہ! میں اِن دونوں سے محبت رکھتا ہوں تو بھی ان سے محبت رکھ ۔“ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو حضرت اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی عمر انیس (19) سال تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی سپہ سالاری میں سلطنت روم سے لڑنے کے لئے لشکر روانہ فرمایا تھا جو دینہ منورہ کے قریب ہی تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خلیفہ بنتے ہی سب سے پہلے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو سپہ سالار بنا کر سلطنت روم کی طرف لشکر دے کر روانہ کیا۔ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا جب بھی حضرت اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سامنا ہوتا تھا تو خلیفہ دوم رضی اللہ عنہ فرماتے تھے : ”اے امیر ! السلام علیک “ حضرت اسامہ بن زید کے انتقال کے بارے میں مورخین کی کئی رائے ہیں۔ حقیقت کا علم صرف اللہ تعالی کو ہی ہے۔ 


حضرت ثوبان بن مجدد رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 54 ہجری میں حضرت ثوبان بن محمد درضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت ثوبان بن مجد درضی اللہ عنہ اصل عرب سے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ قید ہو گئے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو خرید کر آزاد کر دیا تھا۔ آزاد ہونے کے بعد بھی آپ رضی اللہ عنہ مسلسل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے اور خدمت کرتے رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے رملہ میں رہائش اختیار کر لی۔ پھر حمص، منتقل ہو گئے اور وہاں ایک گھر بنایا اور آخری وقت تک وہیں رہائش پذیر رہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بارے میں کئی روایتیں ہیں ۔ حقیقت کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ 


حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 54 ہجری میں حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ کا نام حارث بن ربعی ہے، امام واقدی نے نعمان بن ربعی بیان کیا ہے اور دیگر مورخین کے مطابق عمر و بن ربعی نام ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ انصار ہیں اور اسلام کے بہترین شہسوار ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ غزوہ اُحد اور اُس کے بعد کے تمام معرکوں میں شریک رہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے غزوہ ذی قرد میں ایسا قابل تعریف کام کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” آج کے ہمارے بہترین شہوار حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ ہیں اور آج کے ہمارے بہترین پیدل حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ ہیں۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے جو مجھ سے بہت بہتر ہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تمہیں ایک باغی گروہ شہید کرے گا۔ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کا انتقال کس سال ہوا اس بارے میں مورخین کا اختلاف ہے۔


حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 54 ہجری میں اُم الومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بھتیجے حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : ” حضرت حکیم بن حزام بن خویلد بن اسد بن عبد العزیٰ بن قصی بن کلاب یہاں آکر آپ رضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مل جاتا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ فاختہ بنت زہیر بن حارث بن اسد بن عبد العزیٰ ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ کی پھوپھی اُم المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ واقعہ اصحاب فیل تیرہ سال پہلے پیدا ہوئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ رضی اللہ عنہ بہت محبت کرتے تھے ۔ جب قریش نے بنو ہاشم اور بنو عبد عبد المطلب کو شعب ابو طالب کی گھائی میں تین سال کے لئے قید کر دیا تھا اور اُن سے خرید وفروخت نہیں کرتے تھے تو آپ رضی اللہ عنہ ملک شام سے آنے والے قافلے سے ملتے تھے اور پورا کہ پورا خرید لیتے تھے اور اُسے لے جا کر سامان لدے ہوئے اُونٹوں کو شعب ابی طالب کی گھائی کے پاس لے جا کر مار مار کر اندر بھیج دیتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ہی حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو خریدا تھا اور اپنی پھوپھی اُم المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو دے دیا تھا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو آزاد کر دیا تھا۔ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے ذویزن کا ایک حلہ خرید کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے زیب تن فرمایا۔ آپ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اس ملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا۔ اس کے باوجود آپ رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کی سب اولاد نے فتح مکہ میں اسلام قبول کیا۔ امام بخاری وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ زمانہ جاہلیت میں ساٹھ (60) سال اور اسلام میں ساٹھ (60) سال زندہ رہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ حنین میں شرکت کی اور مال غنیمت میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو سواونٹ دیئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پھر مانگا تو سو اونٹ اور دیئے اور پھر مانگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سو اونٹ اور دیئے اور فرمایا: ”اے حکیم بن حزام ! یہ مال بظاہر شیریں اور اچھا ہے جس نے اسے فیاضی سے لیا اُس کے لئے برکت ہوگی اور جس نے اسراف نفس سے لیا اُس کے لئے برکت نہیں ہوگی اور وہ اُس شخص کی ماند د ہوگا جو کھاتا ہے اور سیر نہیں ہوتا ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اقسم ہے اس ذات کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے ، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کا احسان قبول نہیں کروں گا ۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے کسی کا احسان نہیں لیا۔ یہاں تک کہ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق اور خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہم بھی کوئی چیز آپ رضی اللہ عنہ ک عطا کرنا چاہتے تھے تو آپ رضی اللہ عنہ نہیں لیتے تھے۔ ایک سو بیس (120) سال کی عمر میں آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔


حضرت حويطب بن عبد العزی رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 54 ہجری میں حضرت حو یطب بن عبد العزیٰ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت حو يطب بن عبد العزئی عامری رضی اللہ عنہ نے فتح مکہ میں اسلام قبول کیا اور لمبی عمر پائی۔ آپ رضی اللہ عنہ قریش کی طرف سے غزوہ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف لڑے اور اُس روز آپ رضی اللہ عنہ نے زمین و آسمان کے درمیان فرشتوں کو دیکھا اور پھر صلح غریبیہ میں شامل ہوئے اور صلح کی کوشش کی ۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے بدر کے وقت صلح حدیبیہ کے وقت اور عمرۃ القضاہ کے وقت اسلام قبول کرنے کا ارادہ کیا مگر ہوتا وہی ہے جو اللہ کومنظور ہوتا ہے۔ جب فتح مکہ ہوا تو میں شدید خوفزدہ ہو گیا اور بھاگ گیا۔ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ جو زمانہ جاہلیت میں میرے دوست تھے۔ وہ مجھے ملے اور فرمایا: ”اے جو طب ! تجھے کیا ہو گیا ہے جو اسلام قبول نہیں کرتا ہے؟“ میں نے کہا: ”میں بہت خوفزدہ ہوں انہوں نے فرمایا : ” کچھ خوف نہ کرو اور تم تو بڑا احسن سلوک کرنے والے اور صلہ رحمی کرنے والے ہو اور میں تمہارا پڑوسی ہوں۔ میرے ساتھ آؤ“ میں اُن کے ساتھ واپس آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وادی بھیا میں تشریف فرما تھے اور حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہم بھی موجود تھے۔ حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا کہ میں السلام علیک ایہا النبی ورحمتہ اللہ وبر کاتہ کہوں ۔ میں نے جب یہ کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” و یطب ہے ؟ میں نے عرض کیا: ”ہاں! میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس اللہ کا شکر ہے کہ جس نے تمہیں ہدایت دی ہے ۔ “ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے۔ اس کے بعد میں غزوہ حنین اور غزوہ طائف میں شریک ہوا۔ پھر میں مدینہ منورہ میں رہائش پذیر ہوگیا اور وہیں اپنا گھر بنالیا۔ جب مروان بن حکم مدینہ منورہ کا گورنر مقرر ہوا تو میں اُس سے ملنے گیا اور میرے ساتھ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ اور حضرت مخرمہ بن نوفل رضی اللہ عنہ بھی تھے ۔ ہم نے اُسے سلام کیا اور اس سے باتیں کرنے لگے ۔ پھر جب وہ دونوں اُٹھ کر چلے گئے تو مروان بن حکم نے مجھ سے میری عمر کے بارے میں پوچھا تو میں نے اپنی عمر بتائی۔ اُس نے کہا: ”اے شیخ (اے بڑے میاں ) ا تم نے تو بہت بعد میں اسلام قبول کیا اور تم پر نو جوان لوگ سبقت لے گئے ۔ میں نے اُس سے کہا : اللہ ہی سے مدد مانگی جاسکتی ہے۔ اللہ کی قسم جب بھی میں نے اسلام قبول کرنے کا ارادہ کیا تو تمہارا باپ حکم ہی مجھے روکتا رہا اور کہتا رہا: خم ایک نئے دین کے لئے اپنے شرف وعزت کو ضائع کر دو گے اور اپنے باپ دادا کے دین کو چھوڑ دو گے؟ اور کسی اور کے تابع ہو جاؤ گے؟ میری بات سن کر مروان بن حکم پشیمان ہوا اور خاموش ہو گیا۔ پھر میں نے اُس سے کہا: ” کیا تیرے باپ حکم نے نہیں بتایا کہ خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کے بعد تیرا باپ حکم انہیں کیسی کیسی تکلیفیں اور اذیتیں دیا کرتا تھا ؟ بین مروان نے آپ رضی اللہ عنہ سے معافی مانگی۔ آپ رضی اللہ عنہ کا ایک سو بیس (120) سال عمر میں انتقال ہوا۔


حضرت معبد بن مر بوع بن عنکہ رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 54 ہجری میں حضرت معبد بن یربوع بن عنکہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت معبد بن سر بوع بن عنکثہ بن عامر بن مخزوم رضی اللہ عنہ نے فتح مکہ کے روز اسلام قبول کیا اور غزوہ حنین میں شامل ہوئے اور مال غنیمت میں پچاس اُونٹ ملے ۔ اسلام قبول کرنے سے پہلے آپ رضی اللہ عنہ کا نام ”صرم تھا۔ ایک روایت میں اصرم بھی بیان ہوا ہے۔ جب آپ رضی اللہ وعنہ نے اسلام قبول کیا تو رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کا نام ” معبد رکھا۔ آپ رضی اللہ عنہ اُن لوگوں میں شامل ہیں جنہیں خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے انصاب حرم کی تجدید کا حکم دیا تھا۔ آخری عمر میں آپ رضی اللہ عنہ کی بینائی چلی گئی تھی تو خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ خود چل کر تسلی دینے کے لئے آئے تھے ۔ بعض مورخین کے مطابق آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال مدینہ منورہ میں ہوا اور بعض کے مطابق مکہ مکرمہ میں ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ایک سو بیس سال سے زیادہ عمر پائی تھی۔


أم المؤمنین سیدہ سودہ بنت زمعہ کا انتقال


اس سال 54 ہجری میں اُم المومنین سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : ام المومنین سیدہ سودہ بنت زمعہ قبیلہ قریش کے خاندان بنو عامر کی ہیں اس لئے القرشیہ العامر یہ کہلاتی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُم المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے انتقال کے بعد آپ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا۔ اس سے پہلے آپ رضی اللہ عنہا سہیل بن عمرو کے بھائی سکران بن عمرو کی بیوی تھیں۔ آپ رضی اللہ عنہا نے مدینہ منورہ ہجرت کی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا سے علحیدگی کا ارادہ فرمایا تو آپ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ مجھے اپنی بیوی رہنے دیں اور میں اپنی باری کا دن بھی اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو دیتی ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات قبول کر لی اور آپ رضی اللہ عنہا بدستور ام المومنین رہیں۔ آپ رضی اللہ عنہا بڑی عبادت گزار، زہد اختیار کرنے والی اور پر ہیز گار تھیں۔ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: مجھے کسی خاتون کی جماعت میں شامل ہونا پسند نہیں آیا مگر میں آپ رضی اللہ عنہا کی جماعت میں شامل ہونا پسند کرتی ہوں کیونکہ آپ رضی اللہ عنہ میں تیزی تھی جس سے آپ رضی اللہ عنہا جلد رجوع کر لیتی تھیں ۔“ امام ابن جوزی نے آپ رضی اللہ عنہا کی وفات اِس سال میں بیان کی ہے اور امام ابن خیثمہ نے بیان کیا ہے کہ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت کے آخری دنوں میں آپ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا ہے۔


ھ55 ہجری: بصرہ کے گورنر کی معزولی


اس سال 55 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے بصرہ کے گورنرعبداللہ بن عمرو بن غیلان کو معزول کر کے عبید اللہ بن زیاد کو خراسان کے ساتھ ساتھ بصرہ کا بھی گورنر بنا دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اسی سال یعنی ۵۵ ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے بصرہ کے گورنر عبداللہ بن عمرو بن غیلان کو معزول کر کے عبید اللہ بن زیاد کو بصرہ کا گور بنا دیا۔ اس کی وجہ یہ ہوئی کہ عبداللہ بن عمرو بن غیلان بصرہ کی جامع مسجد کے منبر پر خطبہ پڑھ رہا تھا تو بنوبہ میں سے یا بنوضرار میں سے ایک شخص جس کا نام خیبر بن ضحاک ہے اُسے کنکریاں پھینک کر ماریں تو عبداللہ بن عمرو بن غیلان نے اُس کا ہاتھ کٹوا دیا۔ بنوضبہ نے آکر کہا کہ ہماری برادری کے ایک شخص سے جو خطا ہونے والی تھی وہ ہو گئی اور آپ نے اسے قرار واقعی سزا بھی دے دی لیکن ہمیں اندیشہ ہے کہ یہ خبر اگر امیر المومنین کو ہوئی تو وہاں سے بھی اُس شخص پر یا ہمارے قبیلے پر کوئی سزا نازل نہ ہو جائے ۔ اس لئے آپ مناسب سمجھیں تو خود ہی امیر المومنین کے نام ایک خط لکھ کر ہمیں دے دیکھیئے تا کہ ہم اسے اپنے کسی آدمی کے ہاتھ امیر المومنین کے پاس بھیج دیں۔ مطلب یہ ہوا کہ شبہ میں ہاتھ کاٹا گیا ہے اور جرم واضح نہیں ہے۔ عبداللہ بن عمرو بن غیلان نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے نام خط لکھ کر دے دیا۔ وہ خط سال بھر یا چھ مہینے پڑا رہا۔ اس کے بعد عبد اللہ بن عمرو بن غیلان خود حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے پاس گیا یا پھر یہ واقعہ لکھ کر روانہ کر دیا اور بنو ہبہ بھی امیر المومنین کے پاس پہنچے اور انہوں نے کہا: ”اے امیر المومنین! عبد اللہ نے ہمارے ایک بھائی کا ہاتھ ناحق کٹو اڈالا اور یہ اُن کا لکھا ہوا خط آپ کے نام موجود ہے ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میرے مقرر کئے ہوئے گورنر سے قصاص لیا جائے یہ تو درست نہیں ہے اور کسی طرح ایسا نہیں ہو سکتا۔ ہاں اگر تم کہو تو میں تمہیں دیت دلوا دوں؟“ بنوضہ کے لوگ دیت پر راضی ہو گئے تو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے انہیں بیت المال سے دیت ادا کر دی اور عبداللہ بن عمرو بن غیلان کو معزول کر دیا۔


عبید اللہ بن زیاد خراسان کے ساتھ ساتھ بصرہ کا بھی گورنر


اس سال 55 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عمرو بن غیلان کا بصرہ کی گورنری سے معزول کر کے عبید اللہ بن زیاد کو خراسان کے ساتھ ساتھ بصرہ کا بھی گورنر بنا دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے بنوضبہ سے کہا : " جس کو تم پسند کرو اُسی کو میں تمہارا گورنر بنا دوں ۔ انہوں نے کہا: ” امیر المومنین جسے چاہیں ہمارا گورنر مقرر کر دیں ۔ اور عبداللہ بن عامر کے باب میں اہل بصرہ کی جو رائے تھی وہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو پہلے سے معلوم تھی پھر بھی اُن سے پوچھا: ” کیا تم ابن عامر کو پسند کرتے ہو؟ وہ تو ایسا شخص ہے جس کی عفت وطہارت و شرف سے تم خوب واقف ہو ۔ سب نے کہا: ”امیر المومنین ہم سے زیادہ واقف ہیں ۔“ اُن لوگوں کو آزمانے کے لئے بار بار اُن کے سامنے سامنے دہرایا پھر کہا: ” تو لو میں نے اپنے بھتیجے عبیداللہ بن زیاد کو تمہارا گورنر مقرر کیا۔ خراسان کے ساتھ ساتھ بصرہ کا بھی گورنر بنے کے بعد عبید اللہ بن زیاد نے اسلم بن زرعہ کو خراسان کا گورنر مقرر کیا اور پہلے زرارہ بن اوفی کو قاضی کا عہدہ دیا اور پھر ضحاک بن قیس فہری کو اُس کی جگہ مقرر کیا۔ اس سال بھی مروان بن حکم نے مسلمانوں کو حج کرایا۔ 


حضرت ارقم بن ابی الارقم رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 55 ہجری میں حضرت ارقم بن ابی الارقم رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اعلان نبوت فرمایا تو اُس وقت مکہ مکرمہ میں مسلمانوں پر بہت ظلم ہوتا تھا اور مسلمانوں کے جمع ہونے کے لئے کوئی مرکز نہیں تھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو مسلمانوں کو جمع کرنے کے لئے اپنا گھر ” دار ارقم “ دے دیا تھا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت ارقم بن ابی الا رقم بن اسد بن عبد اللہ بن عمر بن مخزوم رضی اللہ عنہ نے بہت پہلے سے اسلام قبول کیا تھا اور آپ رضی اللہ عنہ "السابقون الاولون میں سے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ اسلام قبول کرنے والے ساتویں مسلمان ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ کا گھر مسلمانوں کی پناہ گاہ تھا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش میں سے مسلمان ہونے والے لوگ پناہ لیا کرتے تھے ۔ آپ رضی اللہ عنہ کا گھر کوہ صفا کے پاس تھا جو بعد ازاں مہدی کی ملکیت میں آگیا جسے اُس کی بیوی نے خیر زاں کو بخش دیا جو ہادی اور ہارون رشید کی والدہ تھی۔ اُس نے اُسے از سرنو تعمیر کیا اور وہ گھر اُسی کے نام سے مشہور ہو گیا پھر وہ گھر کسی اور کے پاس چلا گیا۔ حضرت ارقم رضی اللہ عنہ غزوہ بدر اور اُس کے بعد کے معرکوں میں شامل ہوئے اور آپ رضی اللہ عنہ نے 55 ہجری میں اسی (80) سال کی عمر میں مدینہ منورہ میں وفات پائی۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے وصیت کے مطابق آپ رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی۔ 


حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 55 ہجری میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ السابقون الاولون میں سے ہیں اور عشرہ مبشرہ میں سے ہیں۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت سعد بن ابی وقاص نام مالک بن اہیب بن عبد مناف بن زہرہ بن کلاب رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں اور خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے مقرر کئے اُن چھ اصحاب شوری میں سے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے راضی تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے بہت پہلے اسلام قبول کیا۔، ورخین کا بیان ہے کہ جس روز آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا اُس وقت آپ رضی اللہ عنہ کی عمر سترہ (17) سال تھی۔ صحیح میں آپ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اسلام قبول کرنے والا سا تواں ہوں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے کوفہ آکر وہاں سے اعاجم کو جلا وطن کیا اور آپ رضی اللہ عنہ مستجاب الدعوات" تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ ہجرت کی اور غزوہ بدر اور اُس کے بعد کے معرکوں میں شامل ہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہ اللہ کے راستے میں تیر چلانے والے پہلے شخص ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے امراء اور بہادر شہسوار تھے۔ خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں معظم تھے اور خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے تو آپ رضی اللہ عنہ کو سلطنت فارس کے خلاف سپہ سالار اعظم بنا دیا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ فاتح عراق و ایران“ ہیں۔


میرے ماں باپ تم پر قربان


حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو یہ خصوصی اعزاز حاصل ہے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن پر اپنے ماں باپ کو جمع فرمایا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں پہلا شخص ہوں جس نے مشرکین کو تیر مارا اور مجھ سے قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے والدین کو کسی کے لئے جمع نہیں کیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے سنا ہے: ”اے سعد! تیر اندازی کرو! میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں ۔ " حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فرمايا: " غزوہ اُحد کے روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے اپنے ماں باپ کو جمع کیا ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تیر اندازی کرو! میرے ماں باپ تم پر قربان ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تیراندازی کر و تم طاقت ور لڑکے ہو ۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے سوا کسی پر اپنے ماں باپ کو قربان کرتے نہیں سنا اور میں نے غزوہ اُحد میں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”اے سعد! تیراندازی کرو! میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں۔ ( صحیح بخاری) ایک روایت میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی بیٹی سیدہ عائشہ بنت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں اُس مہاجر کی بیٹی ہوں جس پر رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے اپنے ماں باپ کو قربان کیا ہے۔ (مصنف عبدالرزاق ) ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں غزوہ اُحد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں اور بائیں سفید لباس میں دو آدمی دیکھے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے سخت جنگ کر رہے تھے۔ میں نے اُن دونوں کو نہ اس تو پہلے کبھی دیکھا تھا اور نہ اس کے بعد کبھی دیکھا۔“ 


سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پہریدار


حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو ایک اور خصوصی اعزاز حاصل ہے۔ وہ یہ ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پہریدار بھی رہ چکے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو پہریداری سے منع فرما دیا تھا لیکن اللہ کی طرف سے حفاظت کا وعدہ آنے سے پہلے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہریداری کرتے تھے۔ اُنہیں دنوں میں ایک مرتبہ سفر کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جگہ قیام فرمایا اور اتفاق سے کوئی پہریدار مقرر نہیں فرمایا تھا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ” ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بے خوابی کی حالت میں گزاری اور فرمایا: " کاش کوئی صالح آدمی آج رات میری پہریداری کرتا ۔ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آگے فرماتی ہیں: 'اچانک ہم نے خیمے کے باہر ہتھیاروں کی آواز سنی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون ہے؟ خیمے کے باہر سے آواز آئی: میں سعد بن ابی وقاص ہوں ۔ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہریداری کروں گا ۔ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آگے فرماتی ہیں: "اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خراٹوں کی آوازسنی ۔ ایک اور روایت میں اتنازیادہ ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے لئے دعا کی اور پھر آرام سے سو گئے۔


وہ جنتی ہو گا ہے


حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں شامل ہیں۔ یعنی اُن دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک ہیں جنہیں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا میں ہی فرما دیا تھا کہ یہ دس لوگ جنتی ہیں۔ اس کے علاوہ بھی آپ رضی اللہ عنہ کوجنتی ہونے کا ایک اور خصوصی اعزاز حاصل ہے۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اس دروازے سے جو شخص داخل ہوگا وہ جنتی ہو گا ۔ پس حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اُس دروازے سے اندر داخل ہوئے ۔ حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس دروازے سے ایک جنتی شخص اندر داخل ہوگا۔ حضرت عبد اللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کی تمنا تھی کی اُس دروازے سے اُس کے گھر کا کوئی آدمی داخل ہو۔ پھر ہم سب نے دیکھا کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اس دروازے سے اندر داخل ہوئے ۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ابھی تمھارے پاس ایک جنتی شخص آئے گا ۔ پس ہم نے دیکھا کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ آئے ۔ پھر جب دوسرا دن ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی فرمایا تو پھر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ آئے ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے تو حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ سے دریافت کیا : ” آپ رضی اللہ عنہ وہ کون سا عمل کرتے ہیں جس کی وجہ سے آپ رضی اللہ عنہ جنتی ہیں ؟ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں ایسا کوئی خاص عمل تو نہیں کرتا ہوں ، ہاں اتا ہے کہ میں اپنے دل میں کسی مسلمان کے خلاف کوئی برائی نہیں رکھتا ہوں اور نہ اس کے لئے برائی کا کوئی ارادہ رکھتا ہوں اور نہ میں اُسے کوئی بری بات کہتا ہوں۔“


اے اللہ ! اس کی دعا کو قبول فرما


حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو ایک اور خصوصی اعزاز حاصل ہے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کے لئے خصوصی دعا کی ۔ علامہ عمادالدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں: سیدہ عائشہ بن سعد روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے والد محترم حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی پیشانی پر اپنا مبارک ہاتھ رکھا اور پھر دست مبارک اُن کے چہرے، سینے اور پیٹ پر پھیرا اور فرمایا: ” اے اللہ اسعد کو شفا دے اور اُن کی ہجرت کو مکمل کر “ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ہمیشہ ہی خیال کرتا رہا کہ میں اُس ٹھنڈک کو اپنے جگر پر محسوس کرتا ہوں۔ ( مسند احمد ) حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم عیادت کے لئے آئے اور آپ رضی اللہ عنہ کے لئے دعا فرمائی: ”اے اللہ ! اس سے تکلیف کو دور کر لوگوں کے معبود، لوگوں کے بادشاہ ، تو شافی ہے اور تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں ہے۔ میں اللہ کے نام سے تم کو ہر اس چیز سے جو تمہیں ایذا دینے والی ہے اور حسد سے اور نظر بد سے اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں اے اللہ ! اس کے جسم کو اور دل کو صحت دے اور اس کی بیماری کو دور کر اور اس کی دعا کو قبول فرما۔ ایک اور روایت میں ہے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ اس کی تیراندازی کو درست کر اور اس کی دعا کو قبول فرما۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: ”اے اللہ! اس کے تیر کوسیدھا کر اور اس کی دعا کو قبول فرما اور اسے اپنے بندوں کا محبوب بنا دے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی : 'یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ وہ میری دعا کا جواب دیا کرے ۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی دعا اُس وقت تک قبول نہیں کرتا جب تک وہ اپنے رزق کو پاکیزہ نہ کر لے ۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے دعا فرما ئیں کہ وہ میرے رزق کو پاک کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی : ”اے اللہ! اس کے رزق کو پاک کر دے۔“ 


حضرت سعد رضی اللہ عنہ " مستجاب الدعوات تھے


حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی دعا اللہ تعالیٰ قبول فرمایا کرتے تھے ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ مستجاب الدعوات تھے اور جونہی آپ رضی اللہ عنہ دعا کرتے تھے وہ قبول ہو جاتی تھی ۔ صحیحین ( صحیح بخاری اور صحیح مسلم ) میں حضرت جابر بن سلمہ سے روایت ہے کہ (جب حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کوفہ کے گورنر تھے تو خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے بارے میں کچھ شکایت پہنچی تو خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے تحقیق کے لئے کوفہ آدمی بھیجے ۔ انہوں نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ شکایت ہے کہ نماز ز چھی طرح نہیں پڑھاتے ہیں۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھانے میں کو تا ہی نہیں کرتا ہوں۔ میں پہلی دورکعتوں کو طویل کرتا ہوں اور آخری دور کعتوں کو چھوٹی کرتا ہوں ۔ محقق نے کہا: ”ہاں یہی صحیح ہے ۔ پھر تحقیق کرنے والے نے کوفہ کے لوگوں سے آپ رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا تو تمام کوفہ کے لوگوں نے آپ رضی اللہ عنہ کی تعریف کی اور صرف بنو عبس کے ابو سعدة اسامہ بن قتادہ نامی شخص نے کہا: ” حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سریہ (جنگ) میں نہیں جاتے اور نہ برابر تقسیم کرتے ہیں اور رعایا کے معاملے میں عدل سے کام نہیں لیتے ہیں ۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو اس شخص کے بارے میں اطلاع ملی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "اے اللہ ! اگر تیرا یہ بندہ ریا کاری اور شہرت کے لئے کھڑا ہوا ہے تو اس کی عمر کو دراز کر دے اور اس کو ہمیشہ تنگدست رکھا اور اس کی انکھ کو اندھا کر دے اور اسے فتنوں کا نشانہ بنا۔ راوی بیان کرتا ہے کہ میں نے اُس کے بعد اُس شخص کو بہت بوڑھے کی حالت میں دیکھا تو اُس کے ابرواس کی آنکھوں پر گر گئے تھے اور وہ راستے پر کھڑا ہو کر لڑکیوں کو ہاتھوں سے ٹولنا۔ اُس سے پوچھا جاتا تو وہ کہتا: " پاگل بوڑھا جسے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی بد دعا لگی ہے۔“


عشرہ مبشرہ میں سے سب سے آخر میں انتقال


حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سب سے آخر میں انتقال کرنے والے ہیں ۔ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : جب حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا انتقال ہونے لگا تو آپ رضی اللہ عنہ نے ایک پرانا جبہ نکلوایا اور فرمایا : ” مجھے اس میں کفن دینا ، میں نے غزوہ بدر کے روز اسے پہن کر مشرکوں سے جنگ کی تھی اور میں نے اسی دن کے لئے اسے چھپا کر رکھا ہوا تھا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا مدینہ منورہ کے مضافات کے ایک مقام حقیقی پر انتقال ہوا۔ اور آپ رضی اللہ عنہ کو لوگوں کی گردنوں پر مدینہ منورہ لایا گیا اور مروان بن حکم نے آپ رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی اور آپ رضی اللہ عنہ کو بقیع میں دفن کیا گیا۔ انتقال کے وقت آپ رضی اللہ عنہ کی عمر اسی (80) سال تھی۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!


Saltanat e Umayya part 07

 07 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 7

تین اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا انتقال، ھ56 ہجری: یزید کی جانشینی کا اعلان، یزید کی جانشینی کے بارے میں زیاد سے مشورہ، ولی عہدی ( جانشینی ) کے اعلان کو روک دیا، پانچ حضرات رضی اللہ عنہم نے بیعت سے انکار کیا ہے، مروان بن حکم کی صحابی رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی، وفود سے مشورہ، حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ کا مشورہ، مدینہ منورہ میں، حضرت سعید بن عثمان غنی خراسان کے سپہ سالار، اہل صغد سے مقابلہ، ھ57 ہجری، 



تین اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا انتقال


اس سال 55 ہجری میں تین اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت فضالہ بن عبید انصاری رضی اللہ عنہ انصار کے قبیلہ اوس کے ہیں۔ غزوہ اُحد آپ رضی اللہ عنہ کا پہلا معرکہ ہے اور آپ رضی اللہ عنہ نے بیعت رضوان“ میں شمولیت کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد ملک شام چلے گئے اور حضرت معاویہ بن ابی سفیان کے زمانے میں حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے دمشق میں قاضی کا محکمہ سنبھالا اور ابن جوزی کے مطابق اس سال 55 ہجری میں انتقال ہوا۔ دوسرے صحابی حضرت قسم بن عباس بن عبد المطلب ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ، سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے چازاد بھائی ہیں اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت مشابہ تھے ۔ آپ رضی اللہ عنہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں مدینہ منورہ کے گورنر تھے۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ سمرقند کی فتح میں شامل ہوئے اور وہیں ۵۵ ہجری میں شہید ہو گئے ۔ تیسرے صحابی حضرت کعب بن عمر و ابو الیسر انصاری ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ انصار کے قبیلہ بنو سلمہ کے ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ بیعت عقبہ اور غزوہ بدر میں شامل ہوئے اور اُس غزوہ میں آپ رضی اللہ عنہ نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس بن عبد المطلب کو قیدی بنایا تھا۔ اس کے بعد کے تمام معرکوں میں سید الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔ اس سال ۵۵ ہجری میں انتقال ہوا اور آپ رضی اللہ عنہ اہل بدر میں سے وفات پانے والے آخری صحابی ہیں۔ 


ھ56 ہجری: یزید کی جانشینی کا اعلان


اس سال 56 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے یزید کی جانشینی کا اعلان کر دیا کہ میرے بعد میرا بیٹا یزید مملکت اسلامیہ کا حکمراں بنے گا۔ یزید کی ولی عہدی یا جانشینی کا مشورہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو 50 ہجری میں دیا تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اس سال 56 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے یزید کو ولی عہد ( جانشین ) بنانے کا اعلان کیا اور لوگوں سے بیعت لی ۔ اس کا سبب یہ ہوا کے ۵۰ ہجری میں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور اپنی ضعیفی کے بارے میں بتا کر کوفہ کی گورنری سے استعفیٰ دے دیا جسے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے قبول کر لیا اور سعید بن عاص کو اُن کی جگہ مقرر کرنا چاہا۔ یہ خبر حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے کا تب ابن نئیس کو ملی تو وہ سعید بن عاص کے پاس پہنچا اور اُس سے پورا حال بیان کر دیا اُس وقت سعید کے پاس ربیع یا ربیعہ بیٹھا ہوا تھا اس نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر کہا: ” میں سمجھتا ہوں کہ امیر المومنین تم سے کچھ ناراض ہیں۔ میں نے تمہارے کا تب ابن نئیس کو سعید بن عاص کے پاس دیکھا اور وہ کہہ رہا تھا کہ امیر المومنین تمہیں کوفہ کا گورنر بنانے والے ہیں۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اُسے تو یہ کہنا چاہئے تھا کہ مغیرہ (رضی اللہ عنہ ) پھر بڑے استحکام سے واپس آنے والا ہے ٹھہرو میں یزید کے پاس جاتا ہوں ۔ “ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ یزید کے پاس جا کر جا نشینی کا ذکر کیا تو یزید نے اپنے والد حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے کیا۔ اس کے بعد اسی سال 50 ہجری میں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: علامہ طبری نے یہ سند لکھا ہے کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ ملک شام میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ضعف کی شکایت کی اور معذوری کی وجہ سے استعفیٰ دیدیا جو منظور ہو گیا۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی علیحدگی پر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے سعید بن عاص کو گورنر بنانے کا قصد کیا۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے شناسا کہنے لگے : ” تم کو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے نکال دیا ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: ” اس تذکرہ کو چھوڑو میں نے خود علیحدگی اختیار کی ہے۔“ جواب دینے کو تو دے دیا لیکن دل پر چوٹ لگی اور اُسی وقت بحالی کی فکر ہوگئی۔ اسی غور و خوض میں ایک دن یزید کے پاس جا پہنچے اور اُس سے کہا: ” تم اپنے والد محترم سے ولی عہدی (جانشینی) کی بیعت لینے کو کیوں نہیں کہتے ؟ کیونکہ بزرگ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور سرداران و بزرگان قریش انقال کر چکے ہیں، اب اُن کی اولادیں باقی ہیں اور تم ان لوگوں سے رائے وسیاست میں افضل ہو، میرے نزدیک امیر المومنین کو تمہاری ولی عہدی کی بیعت لینے میں کوئی امر مانع نہیں ہوگا ۔ یزید نے اپنے والد محترم سے جا کر یہی بات کہی تو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا اور اس بات پر رائے طلب کی ۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”امیر المومنین! آپ نے ملاحظہ فرمایا ہے کہ امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بعد کس قدر خون ریزیاں اور اختلافات ہوئے ہیں اور یزید تو آپ کا بیٹا ہے، آپ اُس کی ولی عہدی کی بیعت لوگوں سے لے لیجیئے ۔ آپ کے بعد وہ مسلمانوں کاما داوطلب ہوگا اور اس میں کوئی فتنہ نہیں ہوگا اور نہ فساد ہوگا۔ میں اس کام کی انجام دہی کے لئے کوفہ میں کافی ہوں اور زیاد بصرہ میں ہے اور ان دونوں شہروں کے بعد پھر کوئی ایسا شہر نہیں ہے جو آپ کے حکم کی مخالفت کرے ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو کوفہ کی گورنری پر بحالی کی سند دی اور دوبارہ کوفہ کی طرف روانہ کر کے یزید کی ولی عہدی کی کاروائی کرنے کا حکم دیا۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کوفہ واپس آئے اور لوگوں کو راضی کر کے ایک وفد دمشق روانہ کیا۔ اُس وفد نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان کی خدمت میں حاضر ہو کر یزید کی ولی عہدی کی درخواست پیش کی ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ” کیا تم لوگ راضی ہو؟ انہوں نے کہا: ”ہم سب اور ہمارے سوا اور جتنے آدمی ہیں سب اس سے راضی ہیں ۔“ (اس کے کچھ مہینوں بعد حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا )


یزید کی جانشینی کے بارے میں زیاد سے مشورہ


اُس وقت یعنی 50 ہجری میں زیاد بصرہ کا گورنر تھا۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے زیاد کو خط لکھا اور یزید کو جانشین بنانے کے بارے میں مشورہ مانگا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے زیاد کو خط لکھ کر اس باب میں اُس سے مشورہ کیا۔ زیادہ نے عبید بن کعب نمیری کو بلا کر اس سے مشورہ کیا اور کہا: ”امیر المومنین نے یزید کے لئے بیعت لینے کا مصمم ارادہ کر لیا ہے اور لوگوں کے بیزار ہونے کا بھی خوف ہے اور اُن کے اتفاق کرنے کی بھی آرزو ہے اور اس باب میں مجھ سے مشورہ طلب کیا ہے لیکن اسلام کا تعلق اور ذمہ داری بہت بڑی چیز ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ یزید کی طبیعت میں کا ہلی وسہل نگاری بہت ہے اس پر طرہ یہ ہے کہ وہ شکار کا گرویدہ ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ تم میری طرف سے امیر المومنین کے پاس جاؤ اور یزید کے جو حالات میں نے بیان کئے ہیں وہ اُن سے بیان کر دو اور یہ کہو کہ ابھی تامل کریں۔ آپ جو چاہتے ہیں یہ بات ہو کر رہے گی ، جلدی نہ کریں۔ جس تاخیر میں مطلب ہو وہ اس تجھیل سے بہتر ہے جس میں مقصود کے فوت ہو جانے کا اندیشہ ہو ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اس کے بعد حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے زیاد کو کل حالات لکھ بھیجے اور اُس سے مشورہ طلب کیا۔ زیاد نے عبید بن کعب نمیریکو بلا کر کہا: ”امیر المومنین نے مجھے یہ خط لکھا اور یزید کی ولی عہدی کی بابت مشورہ طلب کیا ہے کیونکہ وہ لوگوں کے تنفر سے خائف ہیں اور چاہتے ہیں کہ لوگ اس امر میں اُن کی اطاعت کریں لیکن مسلمانوں کا یزید کی بیعت پر راضی ہوتا ایک اہم امر ہے، یزید میں آوارگی ، بیہودگی ، بد دیانتی اور نا اہلی ہے۔ میرے نزدیک تو یہ ہے کہ تم امیر المومنین سے جا کر ملو اور یزید کے افعال سے مطلع کرو اور صاف صاف کہ دو کہ یہ کام ہونا دشوار ہے اور اگر آپ یہ کام انجام دیتا ہی چاہتے ہیں تو عجلت نہ کریں۔ کسی کام میں تاخیر ہونا بہتر ہے یہ نسبت اس کے کہ عجلت میں وہ فوت ہو جائے ۔ عبید نے کہا: ” کیا آپ اس کے سوا کوئی اور رائے نہیں دے سکتے ؟‘ زیاد نے کہا: ” اور کیا کہوں؟“


ولی عہدی ( جانشینی ) کے اعلان کو روک دیا


حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے زیاد سے یزید کی جانشینی پر مشورہ مانگا تو زیاد نے مشورہ دیا کہ ابھی ولی عہدی (جانشینی ) کا اعلان نہ کریں بلکہ مناسب موقع کا انتظار کریں ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عید بن کعب نمیری نے زیاد سے کہا: ” کیا اس کے علاوہ کوئی اور بات آپ کے خیال میں نہیں ہے؟ زیاد نے کہا: ” اور کیا بات ہو سکتی ہے؟ عبید نے کہا: ” آپ کو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی رائے سے اعتراض نہیں کرنا چاہیئے اور اُن کے بیٹے کی طرف سے اُن کو نفرت دلا نا مناسب نہیں ہے۔ میں یزید سے اکیلے میں ملاقات کروں گا اور اُسے تمہاری طرف سے کہوں گا کہ امیر المومنین نے تمہاری بیعت کے باب میں مجھ سے مشورہ طلب کیا ہے اور میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے بعض کاموں سے لوگ بیزار ہیں مجھے اندیشہ ہے کہ تمہاری بیعت میں وہ مخالفت کریں گے ۔ میری رائے یہ ہے کہ جن باتوں سے لوگ بیزار میں تمہیں چاہیئے کہ وہ سب باتیں ترک کر دو۔ اس سے امیر المومنین کی بات بالا ہو جائے گی اور تم جو چاہتے ہو وہ کام بھی آسانی سے ہو جائے گا ۔ اس طرح کرنے سے آپ یزید کے خیر خواہ کہلائیں گے اور امیر المومنین بھی آپ سے خوش رہیں گے اور ذمہ داری اُمت اسلام کا جو خوف آپ کو ہے اُس سے بھی بچ جائیں گے ۔ زیاد نے کہا: ” تمہاری رائے بالکل درست ہے۔ بس اب خیر و برکت کے ساتھ روانہ ہو جاؤ۔ اگر بہتری ہوئی تو کیا پوچھنا اور اگر چوک ہو گئی تو بھی یہ فعل بے لاگ ہوگا اور اللہ نے چاہا تو خطا سے محفوظ رہے گا۔ عبید نے کہا: ” آپ اپنی رائے سے یہ بات کہہ رہے ہیں اور اللہ کو جو منظور ہے وہ غیب میں ہے۔ عبید بن کعب یزید کے پاس پہنچا اور اُس سے گفتگو کی اور زیاد نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو ولی عہدی کے لئے مناسب وقت کا انتظار کرنے کے کہا اور جلدی کرنے سے منع کیا۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے اُس کی بات کو مان لیا اور یزید نے اکثر افعال کو ترک کر دیا۔ عبید جب زیاد کے پاس واپس آیا تو زیاد نے اُسے جاگیر عطا کی ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں عبید نے کہا: ” کیا آپ اس کے سوا کوئی اور رائے نہیں دے سکتے ؟ زیاد نے کہا: ” اور کیا کہوں؟ عبید نے کہا: ” مناسب یہ ہے کہ امیر المومنین کی رائے کی مخالفت نہ کرو اور نہ ہی اُس کے بیٹے کو بدخواہ بناؤ، میں جا کر یزید سے ملتا ہوں اور اُس کو آگاہ کرتا ہوں کہ امیر المومنین نے زیاد کو خط لکھ کر مشورہ طلب کیا ہے لیکن زیادلوگوں کی مخالفت سے ڈر رہا ہے کیونکہ عوام تمہارے افعال و کردار سے ناراض ہیں۔ اگر مناسب سمجھو تو ان افعال و حرکات کو چھوڑ دو تا کہ لوگوں کو قائل کرنے کا زیاد کو موقع مل جائے اور جو تم چاہتے ہو وہ کام ہو جائے ۔ زیاد نے یہ رائے پسند کی۔ عبید رخصت ہو کر یزید کے پاس پہنچا اور اس کو سمجھایا۔ ادھر زیاد نے لکھ بھیجا کہ "بالفعل محبت نہ کریں ورنہ لوگ بھڑک اُٹھیں گے اور یہ کام فوت ہو جائے گا ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ خاموش ہو گئے۔


پانچ حضرات رضی اللہ عنہم نے بیعت سے انکار کیا ہے


یہ تمام واقعات 50 ہجری میں پیش آئے تھے اور اُس وقت حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے خاموشی اختیار کر لی لیکن 56 ہجری میں آپ رضی اللہ عنہ نے یزید کی ولی عہدی کا اعلان کر دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: زیاد جب مر گیا تو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے ایک تحریر نکالی اور لوگوں کے سامنے پڑھی۔ اس میں یزید کو جانشین کرنے کا مضمون تھا کہ اگر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی موت واقع ہوئی تو یزید ولی عہد ہو گا ۔ یہ سن کر پانچ حضرات رضی اللہ عنہم کے سوا سب لوگ یزید کی بیعت کرنے پر تیار ہو گئے ۔ ان پانچ حضرات رضی اللہ عنہم کے نام یہ ہیں۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ، حضرت عبد اللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ، حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ، حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: پھر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ کے گورنر مروان بن حکم کو لکھا: ”میری عمر زیادہ ہوگئی ہے اور میری ہڈیاں کمزور ہوگئی ہیں ۔ مجھے اندیشہ ہے کہ میرے بعد محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں اختلاف پڑ جائے گا۔ اس وجہ سے میں چاہتا ہوں کہ کسی کو اپنا ولی عہد بنالوں لیکن تمہارے اور اُن لوگوں کے جو تمہارے پاس ہیں مشورے کے بغیر اس کام کو نہیں کر سکتا ہوں۔ تم میری طرف سے اس امر کو اہل مدینہ کے سامنے پیش کرو اور جو خیال وہ ظاہر کریں اُس سے مجھے مطلع کرو ۔ مروان بن حکم نے لوگوں کو جمع کر کے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے خط کے مضمون سے آگاہ کیا ۔ لوگوں نے متفق ہو کر کہا: ” بہتر ہے کہ امیر المومنین کسی کو ہمارے لئے منتخب کر جائیں ۔ مروان بن حکم نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں مطلع کیا تو انہوں نے جواب میں لکھا ”میں یزید کو اپنے بعد ولی عہد ( جانشین) مقرر کرتا ہوں“ مروان بن حکم نے اہل مدینہ کو جمع کر کے خط کا مضمون سنا دیا۔ یہ سن کر حضرت عبدالرحمن بن ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا: ” اے مردان ابی محمد صل اللہ علیہ وسلم کی اُمت کے لئے بہتری نہیں ہے اور تم اور حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ خلافت کو حکومت ہر قلیہ بنانا چاہتے ہو کہ ایک ہرقل مر جائے تو اُس کی جگہ دوسرا ہر قل قائم ہو۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ، حضرت عبد اللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے بھی حضرت عبد الرحمن بن ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تائید کی اور جلسہ درہم برہم ہو گیا۔ مروان بن حکم نے پورا واقعہ لکھ کر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے بھیج دیا۔ 


مروان بن حکم کی صحابی رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی


مدینہ منورہ کے گورنر مروان بن حکم نے خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بیٹے حضرت عبد الرحمن بن ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی کی ۔ امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں بھیج بخاری میں اور سنن نسائی میں ہے اور امام ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ جس زمانے میں مروان بن حکم حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی طرف سے مدینہ منورہ کا گورنر تھا تو اس نے ایک بار خطبہ میں کہا: ” امیر المومنین حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ اپنے بیٹے یزید کو خلیفہ بنانے میں بالکل حق پر ہیں کیونکہ یہی حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہم کی سنت ہے۔ یہ سن کر حضرت عبد الرحمن بن ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نہیں نہیں ! بلکہ یہ ہر قتل اور کسریٰ کا طریقہ ہے کیونکہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اللہ کی قسم اپنی کسی اولاد کو ولی عہد نامزد نہیں کیا تھا اور اپنے خاندان میں سے کسی کو بھی نہیں خلیفہ بنایا تھا۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ ایسا شفقت پدری کے باعث کر رہے ہیں ۔ یہ سن کر مروان بن حکم نے کہا: تو وہی شخص ہے جس کے لئے قرآن شریف میں نازل ہوا کہ "تم اپنے والدین کو اُف تک نہ کہو کیونکہ تم نے ہی اپنے والد سے مقابلہ کیا تھا جب ہی یہ حکم نازل ہوا ۔“ یہ سن کر حضرت عبد الرحمن بن ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” کیا تو ابن لعین نہیں ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرے باپ پر لعنت کی ہے۔ جب یہ روئیداد ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا تک پہنچی تو انہوں نے فرمایا: ” مروان بن حکم جھوٹا ہے۔ یہ آیت تم اپنے والدین کو اُف تک نہ کہو فلاں شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ البتہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے مروان کے باپ حکم پر ضرور لعنت بھیجی ہے اور اُس وقت مروان اپنے باپ کی طلب میں تھا۔ پس مروان پر بھی یہ لعنت پڑی ہے ۔ “ ( تاریخ الخلفاء)


وفود سے مشورہ


مملکت اسلامیہ میں اپنے گورنروں کو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے یزید کی ولی عہدی کی خبر دے دی اور پوری مملکت اسلامیہ سے وفود ملک شام آنے لگے آپ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہونے لگے ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: اُس وقت حضرت معاویہ بن ابی افیان رضی اللہ عنہ نے اپنے گورنروں کا لکھ بھیجا کہ "تم لوگ یزید کی شنا و صفت لوگوں میں بیان کرو اور اطراف و جوانب کے بلادِ اسلامیہ میں سے یزید کی ولی عہدی کی درخواست پیش کرنے کی غرض سے وفود بھیجو۔ اسی لئے مملکت اسلامیہ سے وفود ملک شام میں حاضر ہوئے اور ان میں مدینہ منورہ سے عمرو بن حزم اور کوفہ سے حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ کی سربراہی میں وفود آئے۔ وفود کے جمع ہو جانے پر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے ضحاک بن فہری سے کہا: میں تمہیداً کچھ بیان کروں گا ، جس وقت میں تقریر کر کے بیٹھوں تو تم کھڑے ہو کر یزید کی ولی عہدی اور بیعت کی تقریر کرنا اور لوگوں کو اس امر پر آمادہ کرنا ۔ اس کے بعد حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور اسلام کے فضائل ، خلافت کے فرائض و حقوق مسلمانوں کے اتفاق واطاعت خلافت کو اجمالاً بیان کر کے بیٹھ گئے اور ضحاک اُٹھا اور کہنے لگا: اے امیر المومنین! آپ کے بعد لوگوں کو ایک امیر کی ضرورت ہوگی، اگر آپ کی موجودگی میں ہم کسی کو اپنا ولی عہد بنا ئیں نہیں بنائیں گے تو بڑے بڑے مصائب میں گرفتار ہوں گے ، خون ریزیاں ہوں گی، امن کے راستے بند ہو جائیں گے دن بدن ابتری کا زمانہ آتا جائے گا، اچھے آدمی کمیاب ہوتے جائیں گے ، ہمارے نزدیک آپ کا بیٹا یزید نہایت راست باز ، خوش خو، ملک داری کے آئین سے واقف ہے اور جیسا کہ لوگ اور آپ جانتے ہیں کہ وہ ہم سے علم و حلم ورائے میں افضل ہے، پس آپ اُس کو اپنا ولی عہد (جانشین) بنائیے اور اپنے بعد اُس کو ہمارا پیشوا مقر رکیجیئے ، جس کے سایہ امن میں ہم پناہ گزین ہوں ۔ عمرو بن سعید الا شدق نے اس کی تائید کی اور یزید بن مقتنع عذری نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: یہ امیر المومنین ہیں اور جو شخص اس کے خلاف کرے گا تو ( تلواروں کی طرف اشارہ کر کے ) یہ ہے ۔ امیر المومنین نے یزید بن مقتع سے کہا: ” بیٹھ جاؤ تم خطیبوں کے سردار ہو۔ اس کے بعد وفود عرض و معروض کرنے لگے۔


حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ کا مشورہ


وفود میں آئے سب لوگ یزید کی ولی عہدی کی درخواست کر رہے تھے لیکن حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ خاموش بیٹھے کسی گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے تھے۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ خاموش بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے اُن سے فرمایا: ” تمہاری کیا رائے ہے؟ حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” مجھے خوف ہے کہ میں جو کہوں گا اُس کی آپ تصدیق کریں گے اور اللہ کا خوف کے کہ وہ تکذیب کرے گا۔ اے امیر المومنین ! تم یزید کے روز مرہ کے حالات سے بخوبی واقف ہو ، اس کے ظاہر و باطن ، آمد و رفت سے کما حقہ آگاہ ہو، اگر آپ جانتے ہو کہ اس میں اللہ تعالٰی و محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی بہتری ہے تو کسی سے مشورہ نہ کریں اور اگر آپ اس کے خلاف سمجھتے ہوں تو دنیا کی زیادہ فکر نہ کریں کیونکہ سفر آخرت قریب ہے، باقی رہے ہم تو ہمارا فرض یہ ہے کہ آپ جو کہیں گے اُس کو ہم بسر و چشم منظور کر لیں گے ۔ قیس کی اس تقریر کے ختم ہوتے ہی ایک شامی شخص نے کھڑے ہو کر کہا: ہم کچھ نہیں کہہ سکتے کہ یہ معدیہ عراقیہ کیا بک رہا ہے؟ ہم تو امیر المومنین کے احکام کی بسروچشم تحمیل کریں گے اور یہ تلوار ہمارے پاس ہے جو اس کے خلاف کرے گا اُس سے ہم نپٹ لیں گے ۔ اس شامی شخص کے کھڑے ہوتے ہیں جلسہ برخاست ہو گیا لوگ منتشر ہو گئے ۔ حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ کی تقریر کا چرچا ہونے لگا اور بظاہر یہ معلوم ہوا کہ اب یہ کام نہیں ہو سکے گا لیکن حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ برابر اپنی کوشش میں لگے رہے اور ہر شخص سے مدارات و اچھا سلوک کرتے رہے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تھوڑے ہی دنوں بعد اہل عراق اور اہل شام کے اکثر آدمیوں نے یزید کی ولی عہدی کی بیعت کر لی۔


مدینہ منورہ میں


مدینہ منورہ میں پانچ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے یزید کو ولی عہد ماننے سے انکار کر دیا تھا اور انہیں منانے کے لئے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سفر کر کے مدینہ منورہ آئے تو وہ پانچوں صحابہ رضی اللہ عنہم مکہ مکرمہ چلے گئے تھے ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ بھی مکہ مکرمہ گئے اور انہیں منانے کی کوشش کی ۔ اسے مورخین نے بہت تفصیل سے بیان کیا ہے اور آپ تاریخ امم والملوک المعروف تاریخ طبری، البدایہ والنہایہ المعروف تاریخ ابن کثیر اور تاریخ ابن خلدون میں پڑھ سکتے ہیں۔ مورخین نے اسے بہت تفصیل سے بیان کیا ہے لیکن ہمارا قلم اسے لکھنے سے قاصر ہے۔ اس لئے ہم یہاں پر صرف اتنے پر ہی پر اکتفا کرتے ہیں۔


حضرت سعید بن عثمان غنی خراسان کے سپہ سالار


اس سال 56 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے حضرت سعید بن عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو خراسان کا گورنر بنایا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت سعید بن عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے خراسان کی گورنری طلب کی تو انہوں نے کہا: ”وہاں کا گورنر تو عبید اللہ بن زیاد ہے۔ حضرت سعید بن عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے امیر المومنین ! آپ سے میرے والد محترم ( خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ) نے اتنا اچھا سلوک کیا اور آپ کو اتنا بلند کیا کہ آپ اُن کے سلوک کے سبب اُس مقام پر پہنچ گئے جسے کوئی نہیں پا سکتا ہے اور نہ کوئی برابری کر سکتا ہے۔ آپ نے اُن کی جانفشانی کا کچھ عوض اور اُن کے احسانوں کا کوئی خیال نہیں کیا اور مجھ پر اس کو یعنی یزید کو مقدم کر دیا اور اس کی ولی عہدی کے لئے لوگوں سے بیعت لے لی۔ اللہ کی قسم ! میرے والد محترم اس کے والد سے اور میری والدہ محترمہ اس کی والدہ سے بہتر ہے اور میں خود اس سے ( یزید سے ) بہتر ہوں ۔ " حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” تمہارے والد محترم کی جانفشانی کا عوض کرنا مجھ پر واجب ہے۔ یہ بھی تو اُس کا عوض تھا کہ میں نے اُن کے خون کا بدلہ لیا یہاں تک کہ تمام اُمور سلجھ گئے اور اپنے اس طرح آمادہ ہونے پر مجھے کچھ پشیمانی نہیں ہوئی۔ اپنے والد محترم کو جو تم نے اس کے والد سے افضل ہونے کا کہا تو اللہ کی قسم ! تمہارے والد محترم مجھ سے بہتر ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب تر ہیں۔ اپنی والدہ محترمہ کا جو تم نے اس کی والدہ سے بہتر ہونے کا کہا تو اس سے بھی انکار نہیں ہو سکتا۔ زن قریشیہ بہتر ہے زن کلبیہ سے تم خود کو جو اس سے بہتر کہہ رہے ہو تو میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ تم جیسا شخص یزید کے معاملہ میں خرابی ڈالے۔ یہ سن کر یزید نے کہا: "امیر المومنین ! یہ تو آپ کے چازاد بھائی کا بیٹا ہے اور آپ سے بڑھ کر کون اس کے حال پر نظر التفات کر سکتا ہے۔ میرے بارے میں یہ آپ سے خفا ہے تو اس کو راضی کر لیئے ۔ اس پر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے حضرت سعید بن عثمان غنی کو خراسان کا سپہ سالار بنا کر روانہ کیا۔


اہل صغد سے مقابلہ


حضرت سعید بن عثمان غنی رضی اللہ عنہ خراسان پہنچے تو اُن کا مقابلہ اہل صفد سے ہوا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں پلطن بلخ کے مقام پر اعرابیوں کا ایک گروہ قافلہ خارج کی رہزنی کیا کرتا تھا۔ لوگوں نے حضرت سعید بن عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ یہاں ایک گروہ ہے جو قافلہ کی رہزنی کیا کرتا ہے ان کے سبب سے راہ پر خطر ہو گئی ہے اُن کو بھی اپنے ساتھ لیتے جاؤ۔ حضرت سعید بن عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اُن لوگوں کو اپنے ساتھ لے لیا یہ سب بنو تمیم کے تھے انہیں لوگوں میں مالک بن زیب مازنی بھی تھا۔ اس کے ساتھ ایسے ایسے جوان تھے جن کے باب میں چند شعر کسی نے کہے تھے۔ حضرت سعید بن عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے سمرقند تک نہر کو قطع کیا یہاں اہل صفہ مقابلہ کو نکلے۔ شام تک سب اپنے اپنے مقام پر جمے رہے پھر بغیر جنگ کے پڑاؤ میں واپس آگئے ۔ اس پر مالک بن زیب مازنی نے حضرت سعید بن عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہا: ” اہل صغر کے مقابلہ میں دن بھر ٹو بزدلی سے کھڑا کا خپتا رہا۔ مجھے تو خوف ہوا کہ کہیں تو عیسائی نہ ہو جائے ۔ دوسرے دن حضرت سعید بن عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے صف آرائی کی اور اہل صفہ سے جنگ شروع کر دی ۔ دشمنوں کو شکست دی اور بھاگ کر شہر میں چلے گئے اور شہر پناہ کے دروازے بند کر دیئے۔ حضرت سعید بن عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے شہر کا محاصرہ کر لیا۔ آخر کا راہل صفد نے صلح کی درخواست کی اور امراء وعمائدین کے پچاس لڑکوں کو بطور یر غمال بھیجا۔ حضرت سعید بن عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اپنے لشکر کے ساتھ نمبر کو بور کر کے ترند میں قیام کیا۔ پھر اس کے لئے کہ اُن کے لوگوں کے ساتھ ایفائے عہد کریں اُن سب لڑکوں کو لیکر مدینہ منورہ چلے آئے۔ اس کی وجہ یہ ہوئی کہ حضرت سعید بن عثمان غنی رضی اللہ عنہ جب خراسان میں داخل ہوئے تو یہاں اسلم بن ذرعہ کلابی کو عبید اللہ بن زیاد نے خراسان کا گورنر بنایا ہوا تھا۔ ابھی اسلم اپنی جگہ سے ہٹا بھی نہیں تھا کہ عبید اللہ بن زیاد کی طرف سے یہ حکم نامہ آیا کہ اسلم ہی خراسان کا گورنر رہے گا۔ یہ حکم نامہ دیکھ کر حضرت سعید بن عثمان غنی رضی اللہ عنہ خراسان سے واپس مدینہ منورہ آگئے ۔ اس سال مدینہ منورہ کا گورنر مروان بن حکم رہا، کوفہ کا گورنر ضحاک بن قیس رہا، بصرہ کا گورنرعبیداللہ بن زیا درہا۔


ھ57 ہجری


ا57 ہجری میں کوئی قابل ذکر واقعہ پیش نہیں آیا اور مملکت اسلامیہ میں وہی گورنر ر ہے جو پچھلے سال تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اس سال عبداللہ بن قیس نے سرزمین روم میں جاڑا بسر کیا اور ذی القعدہ میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے مروان بن حکم کو مدینہ منورہ کی گورنری سے معزول کر کے ولید بن عقبہ بن ابی سفیان کو گورنر بنایا۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سال بھی مروان بن حکم ہی مدینہ منورہ کا گورنر رہا۔( یہ غلط نہی اس لئے ہوئی کے ۵۷ ہجری کے گیارہویں مہینے میں مروان کو معزول کیا گیا) کوفہ کا گورنر ضحاک بن قیس تھا اور بصرہ کا گورنر عبید اللہ بن زیاد تھا۔ ایک روایت کے مطابق خراسان کے گورنر حضرت سعید بن عثمان غنی رضی اللہ عنہ تھے یا پھر کچھ دنوں تک گورنر رہنے کے بعد مدینہ منورہ واپس آگئے اور عبید اللہ بن زیاد نے اسلم بن زرعہ کو دوبارہ خراسان کا گورنر بنا دیا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!


Saltanat e Umayya part 08

 08 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 8

ھ58 ہجری: خوارج کا اجتماع، خوارج کی سرکوبی، عروہ کے بھائی کا خروج، سعید بن عاص کا انتقال، شداد بن اوس کا انتقال، عبداللہ بن عامر کا انتقال، حضرت عبد الرحمن بن ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت عبید اللہ بن عباس بن عبد المطلب کا انتقال، أم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا انتقال، ھ59 ہجری عبد الرحمن بن زیاد خراسان کا گورنر، عبید اللہ بن زیاد کی معزولی اور بحالی کے، ھ59 ہجری کے گورنر ، 52 ہجری سے لیکر 60 ہجری تک کی بیرونی مہمات، حضرت عبد اللہ بن مالک بن قشب کا انتقال، حضرت قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ، حضرت معقل بن یسار مزنی رضی اللہ عنہ کا انتقال



ھ58 ہجری: خوارج کا اجتماع


اس سال 58 ہجری میں کوفہ میں قید خوارج کی رہائی عمل میں آئی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اس سال 58 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے کوفہ کے گورنر ضحاک بن قیس کو معزول کر دیا اور اپنے بھانجے عبد الرحمن بن عبد اللہ ثقفی کو کوفہ کا گورنر بنایا۔ یہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی بہن ام حکم کا بیٹا ہے۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ جب کوفہ کے گورنر تھے تو انہوں نے تمام خوارج کو گرفتار کر کے قید میں ڈال دیا تھا لیکن آپ رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد ضحاک بن قیس کے زمانے میں یہ سب خوارج رہا ہو گئے اور عبد الرحمن بن عبداللہ ثقفی کے زمانے میں انہوں نے خروج کیا اور حیان بن ظبیان مسلمی کے ہاتھ پر جنگ کے لئے بیعت کی اور خوارج کا اجتماع حلوان میں ہونے لگا۔ اس کے بعد مقابلہ کے لئے چلے لیکن سب کے سب قتل ہو گئے ۔ ادھر کوفہ میں عبد الرحمن بن حکم نے ایسی ایسی بد اطواری کی کہ اہل کوفہ نے اُسے نکال دیا تو وہ اپنے ماموں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے اُسے ملک مصر کی گورنری کی سند دے کر ملک مصر کی طرف روانہ کیا ۔ ملک مصر کے گورنر معاویہ بن خدیج کو اُس کے آنے کی خبر ملی تو وہ ملک مصر سے با ہر آیا اور اس سے مل کر بولا: ” جا یہیں سے اپنے ماموں کے پاس واپس چلا جا۔ ہمارے کوفی بھائیوں کے ساتھ تو نے جو بدسلوکی کی ہے وہ ہمارے ساتھ نہیں کر سکتا ہے۔ یہ حالات دیکھ کر عبدالرحمن بن عبد اللہ ثقفی یہیں سے واپس چلا گیا۔


خوارج کی سرکوبی


اس سال 58 ہجری میں عبید اللہ بن زیاد خوارج کی طرف متوجہ ہو گیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اس سال عبید اللہ بن زیاد نے خوارج پر بہت شدت کی ۔ ایک انبوہ کثیر کو گرفتار کر کے قتل کیا ایک جماعت کو جنگ میں قتل کیا ۔ اس کا سبب یہ ہوا کہ ابن زیاد اپنی گھڑ دوڑ میں آیا گھوڑوں کے انتظار میں بیٹھا ہوا تھا۔ اچھی خاصی عوام جمع تھی اُن میں ابو بلال مرد اس کا بھائی عروہ بن ادبیہ آیا اور عبد اللہ بن زیاد سے کہنے لگا: ”ہم سے پہلی جو تو میں گزریں اُن میں پانچ خصلتیں تھیں جو ہم میں آگئیں۔ یعنی کیا ہر زمین پر تم کھیل کھیل کر ایک نشانی چھوڑو گے اور قلعے بنا رہے ہو ؟ شاید کہ تم حیا کر گے اور جب حملہ کرو گے تو جباروں کا ساحملہ کرو گے ۔ دو باتیں اور جو راوی کو یاد نہ رہیں ۔ یہ سن کر عبید اللہ بن زیاد کو بہ ہوا کہ اس کے ساتھ کوئی جماعت اس کے اصحاب کی ضرور ہے ورنہ یہ میرے ساتھ اِس طرح کی گستاخی نہیں کرتا ۔ گھر دوڑ کو چھوڑ کر ابن زیاد اُٹھ کھڑا ہوا اور اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر عروہ کی تلاش میں نکلا۔ عروہ سے لوگوں نے کہا: تم نے وہ حرکت کی ہے کہ ابن زیاد تمہیں ضرور قتل کرے گا۔ بین کر عروہ روپوش ہو گیا اور عبید اللہ بن زیاد مسلسل اُس کی تلاش میں لگارہا اور کوفہ میں اُسے گرفتار کر لیا گیا اور ابن زیاد کے سامنے پیش کیا گیا۔ عبید اللہ بن زیاد نے اُس کے دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں کاٹ ڈالنے کا حکم دیا۔ پھر اس کے بعد اُسے بلا کر پوچھا: ”کہو کیسا مزاج ہے؟“ عروہ نے کہا: تو نے میری دنیا خراب کی اور اپنی آخرت خراب کر لی ۔ یہ بات سن کر عبید اللہ بن زیاد نے اُسے قتل کر دیا۔ پھر کسی کو اُس کی بیٹی کے پاس بھیجا اور اسے بھی قتل کر دیا۔


عروہ کے بھائی کا خروج


کوفہ کے قید خانے میں عروہ بن ادریہ کا بھائی ابو بلال مرد اس بن اد یہ قید تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: عروہ کا بھائی ابو بلال مرداس بن اد یہ خوارج کے ساتھ عبد اللہ بن زیاد کی قید میں تھا۔ قید خانے کا نگران ( جیلر ) اُس کی عبادت وریاضت دیکھ کر اُسے رات کو گھر جانے کی اجازت دے دیتا تھا۔ مرد اس گھر چلا جاتا تھا اور صبح قید خانے میں واپس آجا تا تھا۔ مرد اس کے دوستوں میں سے ایک شخص عبید اللہ بن زیاد کی صحبت میں بیٹھتا تھا۔ ایک رات اُس نے دیکھا کہ ابن زیاد کے سامنے خوارج کا ذکر ہوا تو اُس نے ارادہ کر لیا کہ صبح انہیں قتل کر دے گا۔ وہ شخص وہاں سے سیدھے مرد اس کے پاس آیا اور بولا: " صبح عبد اللہ بن زیاد قیدخانے کے سب خوارج کو قتل کرنے والا ہے اس لئے تم قید خانے میں نہ جاؤ اور اپنا وصی کسی کو بنا دو تا کہ وہ قتل کیا جائے ۔ قید خانے کے نگران ( جیلر ) کو بھی اس بات کی خبر ہو گئی اور اُسے تشویش گزری کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مرد اس کو خبر ہو جائے اور وہ قید خانے میں واپس نہ آئے لیکن ابو بلال مرد اس بن اد یہ مقررہ وقت پر واپس قید خانے میں آگیا۔ جیلر نے اُس سے کہا: ”تمہیں معلوم ہے صبح تمہیں قتل کر دیا جائے گا ؟ اس نے کہا: ہاں ! مجھے معلوم ہے ۔ جیلر نے کہا: پھر بھی تم چلے آئے؟“ مرد اس نے کہا: ” تمہارے احسان کا بدلہ یہ نہیں ہو سکتا کہ اس کے بدلہ میں تمہیں سزا ملے ، صبح ہوتے ہی عبید اللہ بن زیاد نے قید خانے میں قید خوارج کو قتل کرنا شروع کر دیا ۔ مرد اس کو حاضر کیا گیا تو جیلر نے دوڑ کر ابن زیاد کے پیر پکڑ لیئے اور کہا: ”اس شخص کو بخش دو ۔ پھر سارا قصہ سنایا۔ عبید اللہ بن زیاد نے اُسے بخش دیا اور زندہ چھوڑ دیا۔ رہا ہوتے ہی مرد اس نے اپنے ساتھ چالیس خوارج کو جمع کیا اور اہواز میں جا کر خروج کیا۔ عبید اللہ بن زیاد نے ایک لشکر اب حصن تمیمی کی سپہ سالاری میں بھیجی۔ خوارج نے اُس کے ساتھیوں کو قتل کر کے اُسے شکست دی۔ اس سال کوفہ کا گورنر ضحاک بن قیس یا عبدالرحمن بن عبد اللہ ثقفی تھا اور بصرہ کا گورنر عبید اللہ بن زیاد تھا۔


سعید بن عاص کا انتقال


ن پھر بن عقبہ کوکونہ کی اس سال 58 ہجری میں سعید بن عاص کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : ” اس سال 58 ہجری میں سعید بن عاص بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف کا انتقال ہوا۔ سعید نے خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی گود میں پرورش پائی اور جس روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا اُس روز سعید بن عاص کی عمر نو (9) سال تھی۔ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سعید بن عاص کو مضافات کا گورنر بنایا تھا۔ خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے جب پوری ملت اسلامی میں بھیجنے کے لئے حضرت  ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے لکھوائے قرآن کی نقول تیار کرائیں تو سعید بن عاص کو فصاحت کی وجہ سے اُن نقول کے لکھنے والے باره اشخاص میں شامل ہیں جو قرآن حل کرتے اور اسے سکھاتے اور لکھتے تھے ۔ خلیفۂ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ولید بن عتبہ کو کوفہ کی گورنزی سے معزول کیا تو سعید بن عاص کو کوفہ کا گورنر بنایا۔ انہوں نے طبرستان، جرجان اور آذربائجان فتح کیا۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں سعید بن عاص غیر جانب دار رہے۔ پھر جب حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ حکمراں بنے تو دو بار سعید بن عاص کو مدینہ منورہ کا گورنر بنایا اور دو بار معزول کر کے مروان بن حکم کو گورنر بنایا۔ اس سال 58 ہجری میں مدینہ منورہ میں انتقال ہوا۔


شداد بن اوس کا انتقال


اس سال 58 ہجری میں شداد بن اوس کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: شداد بن اوس بن منذر بن حرام انصاری انصار کے قبیلہ بنو خزرج کے ہیں اور حضرت حسان بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے بھیجے ہیں۔ شداد بن اوس جب بھی بستر پر سونے جاتے تھے تو اُس پر یوں بیچ دبل کھاتے کیسے سانپ بیچ ویل کھاتا ہے اور فرماتے تھے: ”اے اللہ تعالیٰ ! بے شک مجھے دوزخ کے خوف نے مضطرب کر دیا ہے۔ پھر نماز کے لئے تیار ہو جاتے ۔ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” شداد ان لوگوں میں سے ہیں جنہیں علم اور حلم دیا گیا ہے ۔ شداد بن اوس فلسطین اور بیت المقدس میں رہائش پذیر ہو گئے تھے اور وہیں اِس سال 75 سال کی عمر میں انتقال ہوا۔ بعض کے قول کے مطابق 64 سال کی عمر میں انتقال ہوا اور بعض کے قول کے مطابق 41 سال کی عمر میں انتقال ہوا۔


عبداللہ بن عامر کا انتقال


اس سال 58 ہجری میں عبداللہ بن عامر کا انتقال ہوا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: عبد اللہ بن عامر بن کریز بن ربیعہ بن حبیب بن عبد شمس بن عبد مناف بن قصی خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے خالہ زاد بھائی ہیں۔ جب پیدا ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لعاب دہن اُن کے منہ میں ڈالا تھا اور جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لعاب دہن کو نگلنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بے شک یہ بہت سیراب ہے ۔ خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عامر کو حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے بعد بصرہ کا گورنر بنایا اور عثمان بن ابی العاص کے بعد پورے بلاد فارس ( عراق و ایران ) کا گورنر بنادیا۔ اُس وقت عبداللہ بن عامر کی عمر پچیس (25) سال تھی۔ اُس نے پورے خراسان، فارس کے اطراف سجستان، کرمان اور غزنی کو فتح کیا اور شہنشاہ کسری کا قتل بھی اسی دوران ہوا جس کا نام یزدگر دتھا۔ پھر عبداللہ بن عامر نے اسی علاقے سے اللہ کا شکر ادا کرنے کے لئے حج کا احرام باندھا اور اہل مدینہ میں بہت سا مال تقسیم کیا۔ عبداللہ بن عامر بصرہ میں ریشم پہننے والے پہلے شخص ہیں ۔ جب خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو عبد اللہ بن عامر بصرہ کے گورنر تھے۔ خلیفہ چہارم کے زمانہ خلافت میں کنارہ کشی اختیار کر لی پھر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے اپنے دور حکومت میں عبداللہ بن عامرکو بصرہ کا گورنر بنادیا۔ اس سال 58 ہجری میں میدان عرفات میں انتقال ہوا۔


حضرت عبد الرحمن بن ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 58 ہجری میں خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بیٹے حضرت عبد الرحمن بن ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عبد الرحمن اپنے والد محترم حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے سب سے بڑے بیٹے ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ اور ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا والدہ ام رومان رضی اللہ عنہا ہیں اور آپ رضی اللہ عنہ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے سگے بھائی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ غزوہ بدر میں مشرکین مکہ کے ساتھ تھے اور گرفتار ہوئے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے غزوہ بدر میں حملہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہمیں اپنے آپ سے فائدہ پہنچاؤ " آپ رضی اللہ عنہ کے والد محترم حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور بیٹے سے مقابلہ کیا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے اپنے والد محترم سے عرض کیا: ” ابو جان ! آپ رضی اللہ عنہ غزوہ بدر میں میری تلوار کی زد میں آگئے تھے لیکن میں نے والد کا احترام کرتے ہوئے آپ رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا ۔ “ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بیٹے! اگر تم میری تلوار کی زد میں ہوتے تو میں بیٹے کا لحاظ نہ کرتے ہوئے تمہیں قتل کر دیتا ۔ حضرت عبد الرحمن بن ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فتح مکہ سے قبل ہجرت کی اور اسلام قبول کیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت آپ رضی اللہ عنہ اپنی بہن سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو ہاتھ میں تازی مسواک تھی ۔ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے سینے کا سہارا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لئے ہوئے تھے ۔ آپ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تھامی ہوئی تازی مسواک کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت غور سے دیکھ رہے تھے ۔ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ مسواک کریں گے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاں میں سر ہلایا ۔ حضرت عبد الرحمن بن ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مسواک لیکر اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے چبا کر نرم کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسواک کی اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللھم الرفیق الاعلی اور وصال ہو گیا۔ حضرت عبد الرحمن بن ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جنگ یمامہ میں شریک تھے اور آپ رضی اللہ عنہ نے سات آدمیوں کو قتل کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے مسلیمہ کذاب کے باطل پرست دوست محکم بن طفیل کو جو اپنے باغ کی دیوار کے شگاف میں کھڑا تھا اور اپنے ساتھیوں کو بچانے کی کوشش کر رہا ایسا تیر مارا کہ وہ وہیں گر کر مر گیا اور مسلمان اس شگاف سے اندر داخل ہو کر مسلیمہ کذاب تک پہنچ گئے اور اُسے قتل کر دیا۔ حضرت عبد الرحمن بن ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یزید کی ولی عہدی کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور مکہ مکرمہ چلے گئے۔ وہیں 58 ہجری میں آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا۔


حضرت عبید اللہ بن عباس بن عبد المطلب کا انتقال


اس سال 58 ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی حضرت عبید اللہ بن عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عبید اللہ بن عباس بن عبد المطلب ہاشمی قریشی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ محترمہ سیدہ ام الفضل لبابہ بنت حارث ہیں۔ حضرت عبید اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بہت خوبرو اور سخی تھے اور خوبصورتی میں اپنے والدین کے مشابہ تھے۔ رسول اللہ صل اللہ علیہ سلم عبداللہ عبیداللہ اور کثیر کو ایک قطار میں کھڑا کرتے اور فرماتے تھے: ”جوسب سے پہلے میرے پاس آئے گا اسے یہ انعام ملے گا ۔ پس وہ سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دوڑتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے اور پشت مبارک پر بیٹھ جاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں چومتے رہتے اور اپنے گلے سے لگا لیتے تھے ۔ خلیفہ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں آپ رضی اللہ عنہ کو یمن کا گورنر مقرر کیا تھا اور آپ رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کو 36 ھ اور 37 ہجری کا حج کروایا۔ 


أم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا انتقال


اس سال 58 ہجری میں اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ بنت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے پیاری بیوی ہیں۔ ان کی سات آسمانوں کے اوپر سے پاکدامنی کی گواہی آئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا کے سوا کسی دوشیزہ سے نکاح نہیں کیا۔ یعنی تمام امہات المومنین رضی اللہ عنہا میں سے صرف اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہی کنواری تھیں باقی تمام امہات المومنین رضی اللہ عنہمایا تو بیوہ تھیں یا پھر طلاق شدہ تھیں ۔ واقعہ افک میں آپ رضی اللہ عنہا پر بہتان لگایا گیا تو اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں دس آیات آپ رضی اللہ عنہا کی پاکدامنی پر نازل فرمائی (جن کی پچھلے چودہ سو سال سے مسلمان تلاوت کر رہے ہیں ) ۔ آپ رضی اللہ عنہا کو یہ شرف حاصل ہے کہ وصال کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ رضی عنہا کے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری وقت میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ رضی اللہ عنہا کے لعاب دہن کو اکٹھا کر دیا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں ہی دفن ہوئے ۔ آپ رضی اللہ عنہا کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ اس اُمت کی سب سے بڑی عالمہ ہیں۔ امام زہری کہتے ہیں کہ اگر اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے علم کو تمام عورتوں کے علم سے ملا دیا جائے تو آپ رضی اللہ عنہا کا علم سب سے زیادہ اور افضل ہو گا۔ آپ رضی اللہ عنہا کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ عورتوں اور مردوں میں سے سب سے زیادہ احادیث روایت کی ہیں۔ صرف حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہا سے زیادہ احادیث روایت کی ہیں۔ صحیح بخاری میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مردوں میں سے بہت سے کامل ہوئے مگر عورتوں میں سے سیدہ مریم بنت عمران ،سیدہ خدیجہ بنت خویلد سیدہ آسیہ فرعون کی بیوی کے سوا کوئی کامل نہیں ہوا اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو عورتوں پر ایسی فضیلت حاصل ہے جیسے زید کو دوسرے کھانوں پر ہوتی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہا کا انتقال اس سال 58 ہجری میں ہوا اور بعض کا قول ہے کہ ایک سال پہلے ہوا اور بعض کا قول ہے کہ ایک سال بعد ہوا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے جنازے کی نماز پڑھائی اور آپ رضی اللہ عنہا کی وصیت کے مطابق رات کے وقت جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔ انتقال کے وقت آپ رضی اللہ عنہا کی عمر 67 سال تھی


ھ59 ہجری عبد الرحمن بن زیاد خراسان کا گورنر


اس سال 59 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے عبید اللہ بن زیاد کے بھائی عبدالرحمن بن زیاد کو خراسان کا گورنر بنایا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اس سال عبد الرحمن بن زیاد بن سمیہ کو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے خراسان کا گورنر بنایا۔ اس کا سبب یہ ہوا کہ عبد الرحمن بن زیاد ملک شام میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا: ”اے امیر المومنین! کیا میرا آپ پر کوئی حق نہیں ہے ؟ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں ضرور ہے ۔ اُس نے کہا: ” پھر کیا خدمت آپ مجھے دیتے ہیں؟“ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” کوفہ کا گورنر و عمان ہے جو ایک لائق شخص ہے اور عباد بن زیاد بجستان کو گورنر ہے اور عبید اللہ بن زیاد بصرہ اور خراسان کا گورنر ہے۔ ہاں مجھے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ تمہیں تمہارے بھائی عبید اللہ بن زیاد کے ساتھ شریک کر دوں ۔ “عبدالرحمن بن زیاد نے کہا: ” پھر مجھے اپنے بھائی کے ساتھ ہی شریک کر دیں کیونکہ اُس کے پاس وسیع ملک ہے اور اُس میں شرکت کی گنجائش بھی ہے ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے اُسے خراسان کی گورنری کی سند دے کر روانہ کر دیا۔ اُس نے اپنے سے آگے قیس بن ہیثم سلمی کو بھیجا جس نے خراسان کے گورنر اسلم بن زرعہ کو گرفتار کر کے قید کر لیا۔ اس کے بعد حضرت یزید کے حکمراں بنے تک عبدالرحمن بن زیاد خراسان کا گورنر رہا۔


عبید اللہ بن زیاد کی معزولی اور بحالی


اس سال میں عبید اللہ بن زیاد کی معزولی اور بحالی کا واقعہ پیش آیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اس سال ۵۹ ہجری میں عبید اللہ بن زیاد شرفائے عراق کو اپنے ساتھ لیکر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے عبید اللہ بن زیاد سے کہا کہ اپنے ساتھیوں کو اُن کی قدرومنزلت کے مطابق حاضر ہونے کا حکم دے۔ اُس نے سب لوگوں کو بلایا اور سب سے آخر میں حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ کو بلایا اور عید اللہ بن زیاد کے نزدیک اُن کی کوئی قدرو منزلت نہیں تھی۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ کو دیکھتے ہی اُٹھ کر خیر مقدم کیا اور اپنے تخت پر اپنے پاس بٹھایا ۔ اب لوگوں نے عرض و معروض شروع کی اور عبید اللہ بن زیاد کی سب نے تعریف کی۔ حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ خاموش بیٹھے رہے۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے ابا بکر (حضرت احف کی کنیت ) ! تم کیوں نہیں کچھ بول رہے ہو ؟ انہوں نے کہا: میں کچھ کہوں گا تو سب کے خلاف کہوں گا ۔“ یہ سنتے ہی حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” عبید اللہ بن زیاد کو میں نے معزول کر دیا اور اب تم سب اپنی مرضی کا گورنر ڈھونڈو۔“ حضرت معاویہ بن ابی سفیان کے حکم پر کوئی شخص ایسا نہیں تھا جو بنو امیہ یا اشراف اہل شام کے پاس نہ گیا ہو۔ سب لوگ جستجو میں مصروف تھے اور حضرت احنف بن قیس اپنی جگہ بیٹھے رہے اور کسی کے پاس نہیں گئے ۔ کچھ دن یونہی گزر گئے پھر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے سب کو جمع کیا اور فرمایا: تم لوگوں نے کیسے انتخاب کیا ؟ اُن لوگوں میں اختلاف ہو گیا اور اُن میں سے ہر فریق نے الگ الگ ایک ایک شخص کا نام لیا۔ اور صرف حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ کا موش بیٹھے رہے۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابابکر تم کیوں نہیں کچھ بولتے ؟ حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر اپنے خاندان والوں ( بنوامیہ ) میں سے ہی کسی کو گورنر بنانا ہے تو ہم عبد اللہ بن زیاد کے برابر کسی کونہیں سمجھتے اور اگر کسی غیر کو گورنر بنانا چاہتے ہو تو اچھی طرح سے سوچ سمجھ لو۔ یہ سن کر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے یہیں کر فرمایا: ”لو میں عبید اللہ بن زیاد کو ہی تمہارا گورنر مقرر کرتا ہوں ۔ اور یہ کہا کہ احنف کے سوا کوئی بھی عبید اللہ بن زیاد کا دوست نہیں نکلا۔


ھ59 ہجری کے گورنر کے


اس سال 59 ہجری کے اختتام پر مملکت اسلامیہ کے زیادہ تر گورنر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے رشتہ دار تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اس سال 59 ہجری میں عثمان بن محمد بن ابی سفیان امیر حج تھا اور مدینہ منورہ کا گورنر ولید بن عقبہ بن ابی سفیان تھا۔ کوفہ کے گورنر حضرت نعمان بن بشیر تھے۔ بصرہ کا گورنر عبید اللہ بن زیاد تھا۔ خراسان کا گورنر عبدالرحمن بن زیاد تھا اور بجستان کا گورنر عباد بن زیاد تھا۔ کرمان عبید اللہ بن زیاد کے ماتحت تھا اور اُس نے شریک بن اعور کو وہاں کا گورنر بنایا تھا۔ 


ھ52 ہجری سے لیکر 60 ہجری تک کی بیرونی مہمات


ھ52 ہجری تک ہم نے بیرونی مہمات کا ذکر کیا تھا اس کے بعد سے لیکر 60 ہجری تک کی بیرونی مہات کا مختصر ذکر پیش کر رہے ہیں۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: 52 ہجری میں بشر بن اراطا سرزمین روم میں اعلاء کلمۃ اللہ جہاد کرتے ہوئے داخل ہوئے ۔ ایام سرما وہیں گزارے بعض کا بیان ہے کہ واپس آئے۔ اس ہی دنوں میں واجس پر سفیان بن عوف از دی بھی اترے ہوئے تھے اور انہوں نے بھی ایام سرما اس سرزمین پر گزارے اور یہیں انتقال بھی کیا۔ لشکر صائفہ کی سر کردگی کرتے ہوئے محمد بن عبداللہ ثقفی نے بلا دروم پر لشکر کشی کی ۔ اس کے بعد 53 ہجری میں عبد الرحمن بن حکم سرزمین روم میں جہاد کرتے ہوئے داخل ہوئے ۔ اسی سال میں جنادہ بن ابی امیہ ازدی نے جزیره رودس کو جنگ کے ذریعہ فتح کیا اور وہیں ڈیرے ڈال دیئے جس کی وجہ سے رومیوں کو بہت صدمہ ہوا۔ آئے دن یہ اُن کی کشتیاں گرفتار کر لیتے تھے اور حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ انہیں انعام واکرام دیا کرتے تھے۔ رفتہ رفتہ مسلمانوں سے رومی ڈرنے لگے اور جب حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا تو یزید نے ہجری میں اُن کو جزیره رودس سے واپس بلا لیا۔ ۵۳ ہجری میں محمد بن مالک مملکت روم میں داخل ہوا اور شکر صائفہ پر ( معن بن یزید سلمی کو مامور کیا۔ اسلامی لشکر نے جنادہ بن امیہ کی قیادت میں جزیرہ از دی (ارداد) جو قسطنطنیہ سے متصل ہے فتح کیا۔ سات سال اس پر قابض رہے اس کے بعد یزید نے ہجری میں اُن سب کو واپس بلالیا۔ 55 ہجری میں سفیان بن عوف از دی اور بعض علماء کے مطابق عمر بن محرز اور بعض کے مطابق عبد اللہ بن قیس اور 56 ہجری میں جنادہ بن ابی امیہ اور بعض مورخین کے مطابق عبد الرحمن بن مسعود اور بعض کے مطابق دریا کے راستے یزید بن ابی سمرہ نے اور خشکی پر عیاض بن حارث نے جہاد کیا 57 ہجری میں عبداللہ بن قیس، مالک بن عبداللہ شعمی نے ارض روم پر خشکی پر اور عمر بن زید چمنی نے دریا کے راستے جہاد کیا 58 ہجری میں عمر بن مرة اجمنی نے خشکی سے اور جنادہ بن ابی امیہ نے دریا کے راستے رومیوں پر حملہ کیا۔ اسی سال میں عمیر بن حباب کی زیر قیادت اسلامی لشکر نے قلعہ کنج (بلا دروم) پر حملہ کیا اور میر بن حباب تن تنہا اس قلعے کی فصیل پر چڑھ گئے اور پہرے داروں کو قتل کر کے قلعے کا دروازہ کھول دیا اور اسلامی لشکر نے قلعے پر قبضہ کر لیات ہجری میں مالک بن سویہ نے خشکی سے اور جنادہ بن ابی اُمیہ نے دریا کے راستے رومیوں سے جہاد کیا۔


حضرت عبد اللہ بن مالک بن قشب کا انتقال


اس سال 59 ہجری میں حضرت عبد اللہ بن مالک بن قشب رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: آپ رضی اللہ عنہ کا نام جندب بن نصلہ بن عبداللہ بن رافع از دی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو محمد ہے اور آپ رضی اللہ عنہ بنوعبدالمطلب کے حلیف ہیں اور ابن حسینہ کے نام سے مشہور ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ محتر نہ حسینہ بنت ارت ہیں اور نام حارث بن عبد المطلب بن عبد مناف ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے بہت پہلے اسلام قبول کیا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ بڑے عبادت گزار اور روزے دار تھے اور آپ رضی اللہ عنہ اُن لوگوں میں سے تھے جو تمام عمر لگا تار روزے رکھتے تھے۔ امام ابن سعد نے بیان کیا کہ آپ رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ سے تین میل کے فاصلے پر وادی ریم میں اترا کرتے تھے اور آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال 53 ہجری سے 58 ہجری کے درمیان مروان بن حکم کے دوسری مرتبہ گورنر بنے کے بعد ہوئی اور عجیب بات ہے کہ امام ابن جوزی نے امام محمد بن سعد کے اس کلام کو نقل کیا اور پھر آپ رضی اللہ عنہ کے انقال کا سنہ 59 هجری بیان کیا ۔ واللہ اعلم ۔


حضرت قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کا انتقال 


اس سال 59 ہجری میں حضرت قیس بن سعد بن عبادہ خزرجی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : آپ رضی اللہ عنہ اپنے والد محترم حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی طرح ایک جلیل القدر صحابی ہیں۔ صحیحین میں آپ رضی اللہ عنہ کی ایک حدیث جنازہ کے لئے کھڑا ہونے کے بارے میں ہے نیز المسند میں ایک حدیث عاشورہ کے روزے کے بارے میں ہے اور آپ رضی اللہ عنہ کے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فضل کرنے کے بارے میں بھی ایک حدیث ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے دس سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی اور صحیح بخاری میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں وہی مقام حاصل تھا جو ہمارے یہاں سپرنٹنڈنٹ پولیس کو حاصل ہوتا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے بعض غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا اُٹھایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو صدقہ کا امیر مقرر کیا تھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کی زیر قیادت تین سو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ایک لشکر بھیجا تو انہیں سخت بھوک نے آلیا تو حضرت قیس بن سعد رضی اللہ عنہ نے اُن کے لئے نو اونٹ ذبح کر دیے یہاں تک کہ انہیں ساحل سمندر پر ایک بہت بڑی مچھلی ملی اور اُسے ایک مہینے تک کھایا اور وہیں قیام کیا حتی کہ وہ سب فربہ ہو گئے ۔ حضرت قیس بن سعد رضی اللہ عنہ شجاع، کریم اور قابل تعریف سردار تھے۔ خلیفہ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو ملک مصر کا گورنر بنایا تو آپ رضی اللہ عنہ نے نہایت دانشمندی اور حیلہ گری اور سیاست سے حضرت معاویہ بن ابی سفیان اور حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم کا مقابلہ کیا کرتے تھے۔


حضرت معقل بن یسار مزنی رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 59 ہجری میں حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت معقل بن یسار مزنی رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں۔ آپ رضی اللہ عن صلح حدیبیہ میں اور بیعت رضوان میں شامل تھے اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بیعت لے رہے تھے تو آپ رضی اللہ عنہ ہی درخت کی شاخوں کو رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے ہٹا ر ہے تھے اور وہ بول کا درخت تھا۔ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں آپ رضی اللہ عنہ کو بصرہ کا گورنر بنایا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے وہاں ایک نہر کھدوائی جو نہر معقل“ کے نام سے مشہور ہے اور بصرہ میں آپ رضی اللہ عنہ کی حویلی بھی ہے۔ حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جب حضرت معقل بن سیار رضی اللہ عنہ ” مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو عبید اللہ بن زیاد اُن کی عیادت کرنے آیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے عبید اللہ بن زیاد سے فرمایا: "میں تجھ سے ایک ایسی حدیث بیان کرتا ہوں جو میں اگر اچھی حالت میں ہوتا نہیں بیان کرتا۔ وہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے اللہ تعالیٰ اپنی رعیت کا رکھوالا بنائے اور وہ اُن کی خیر خواہی اور اُن کی صحیح دیکھ بھال نہ کرے تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا اور بے شک جنت کی خوشبو ایک سو (100) سال کی مسافت سے محسوس ہوتی ہے۔“

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!

 

Saltanat e Umayya part 09

 09 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 9

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا انتقال، سب سے زیادہ احادیث کے راوی، آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ کا قبول اسلام، یادداشت تیز ہوگئی، رات کے تین حصے، ھ60 ہجری: حضرت معاویہ بن ابی سفیان کی وصیت، مرض الموت، حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا انتقال، یزید جنازے میں شریک نہیں ہوا، یزید مملکت اسلامیہ کا بادشاہ، یزید کا ولید بن عقبہ کو حکم، مروان بن حکم کا مشورہ، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا بلاوا، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا بلاوا، یزید کی حکمرانی کے لئے بیعت طلبی، مروان بن حکم کی گستاخی، حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی مکہ مکرمہ روانگی



حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 59 ہجری میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ سے سب زیادہ احادیث مروی ہیں۔ آپ رضی اللہ عند اکثر فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ ! مجھے ساٹھ ہجری کے آنے سے پہلے اپنی بارگاہ میں بلالے کیونکہ ساٹھ 60 ہجری میں بہت بڑا فتنہ برپا ہونے والا ہے۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے نام کے بارے میں علمائے کرام میں بہت اختلاف ہے۔ (ابو ہریرہ کنیت ہے )۔ سب سے زیادہ مشہور روایت کے مطابق آپ رضی اللہ عنہ کا نام ” عبد الرحمن بن صحر“ ہے اور آپ رضی اللہ نہ قبیلہ ازد کی شاخ بنو دوس سے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے بچپن میں ایک جنگلی بلی دیکھی تو اُس کے بچوں کو اُٹھا کر لے آیا۔ میرے والد نے مجھ سے پوچھا کہ تیری گود میں کیا ہے؟ میں نے بتایا کہ یہ بلی کے بچے ہیں تو میرے والد نے کہا: تو ابوہریرہ (بلی کا باپ ) ہے ۔ اور صحیح میں روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ سے فرمایا : یا ابا ھر اور ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا ابا ہریرہ“ آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ محترمہ کا نام میمونہ بنت صحیح بن حارث بن ابی صعب بن ہبتہ بن ثعلبہ ہے۔ انہوں نے اسلام قبول کیا۔


سب سے زیادہ احادیث کے راوی


حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے قبیلے کے سردار حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ کی دعوت پر اسلام قبول کیا اور پھر اُن کے ساتھ مدینہ منورہ ہجرت کر کے آئے۔ اُس وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ خیبر پر کئے ہوئے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خیبر میں سید الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث بیان کی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ حفاظ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق ، حضرت عمر فاروق ، حضرت اسامہ بن زید، حضرت نضرة بن ابي نضرة ، حضرت فضل بن عباس، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہم اور ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے سے بھی روایت بیان کیں ہیں ۔ امام بخاری کے مطابق آپ رضی اللہ عنہ سے تقریباً آٹھ سو صحابہ اور تابعین نے روایت کی ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے غزوہ خیبر کے سال میں اسلام قبول کیا اور رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں غزوہ خیبر میں لوگوں کے جنگ سے فارغ ہونے کے بعد آیا۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے باہر گئے ہوئے تھے اور حضرت سباع بن عرفہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ میں اپنا نائب بنا کر گئے تھے ۔ میں مدینہ منورہ آیا تو میں نے صبح کی نماز حضرت سباع بن عرفہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے پڑھی۔ انہوں نے پہلی رکعت میں اور مریم اور دوسری رکعت میں ویل للمطفین پڑھی ۔ میں نے دل اور اور میں اپنی قوم کے ایک شخص کے بارے میں سوچا جوناپنے کے دو آلے رکھتا تھا۔ ایک سے وہ لینے کے وقت نا پتا تھا اور دوسرے سے دینے کے وقت نا پتا تھا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد آپ رضی اللہ نہ زیادہ تر وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کو حدیث سننے اور سمجھنے کی بہت رغبت تھی۔


آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ کا قبول اسلام


حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی والدہ کے قبول اسلام کا واقعہ خود حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : مسند احمد بن حنبل میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میری والدہ محترمہ نے اسلام قبول نہیں کیا تھا اور میں انہیں اسلام کی دعوت اکثر دیا کرتا تھا اور وہ میری بات نہیں مانتی تھیں۔ ایک روز انہوں نے مجھے اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کچھ ایسی باتیں کہہ دیں جنہیں میں پسند نہیں کرتا تھا تو میں روتا ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اپنی والدہ کو اکثر اسلام کی دعوت دیتا ہوں آج میں نے انہیں اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے اسلام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ایسی باتیں کیں کہ مجھے رونا آگیا ہے۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری والدہ محترمہ کے لئے اللہ سے دعا فرما ئیں کہ وہ انہیں ہدایت دیدے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی: ”اے اللہ! ابو ہریرہ کی والدہ کو ہدایت عطا فرمادے ۔ میں دوڑتا ہوا باہر نکلا کہ اپنی والدہ محترمہ کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے بارے میں بشارت دے دوں۔ جب میں اپنے گھر کے دروازے پر آیا تو دیکھا کہ دروازہ بند ہے ۔ میں نے اپنی والدہ محترمہ کو آواز دی تو انہوں نے اندر سے کہا: ”اے ابو ہریرہ ! تھوڑی دیر کو کچھ دیر بعد انہوں نے دروازہ کھولا اور تو میں نے دیکھا کہ انہوں نے اپنا ڈوپٹہ اوڑھا ہوا تھا اور بولیں: میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں گواہی دیتی ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں ۔ میں جس طرح غم کے باعث پہلے روتا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا اسی طرح  خوشی سے روتا ہوا اب حاضر ہوا اور عرض کیا: "یا رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کو قبول فرمالیا ہے اور میری والدہ محترمہ نے اسلام قبول کر لیا ہے ۔ پھر میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ مجھے اور میری والدہ محترمہ کو مومن بندوں کا محبوب بنادے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: ”اے اللہ! ابو ہریرہ اور اس کی والدہ محترمہ کو اپنے مومن بندوں کا محبوب بنا دے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ آگے بیان کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے جس مومن کو بھی پیدا کیا ہے اور وہ میرے متعلق اور میری ماں کے متعلق سنتا ہے اور مجھے اور میری ماں کو دیکھتا ہے یا نہیں دیکھتا ہے پھر بھی مجھ سے اور میری ماں سے محبت کرتا ہے ۔ ( مسند احمد بن حنبل) صحیح مسلم میں دوسرے راوی نے یہ حدیث بیان کی ہے۔


یادداشت تیز ہوگئی


حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے سب سے زیادہ احادیث بیان کی ہیں۔ اس کی کئی وجہ تھیں ۔ پہلی وجہ یہ کہ آپ رضی اللہ عنہ کی یاداشت بہت اچھی تھی ۔ دوسری وجہ یہ کہ آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کرنے کے بعد زیادہ تر وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزارا تیسری وجہ یہ کہ ۵۹ ہجری تک آپ رضی اللہ عنہ زندہ رہے اور بہت زیادہ تابعین سے ملاقات کی اور انہیں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث بیان کیں۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت سی احادیث سنتا ہوں اور انہیں بھول جاتا ہوں ۔ “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی چادر پھیلاؤ میں نے اپنی چادر پھیلا دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اب اسے لپیٹ لو ۔ میں نے اسے لپیٹ لیا تب سے میں کوئی حدیث نہیں بھولا۔ ( صحیح بخاری ) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے تابعین سے فرمایا: ”تم خیال کرتے ہو کہ ابو ہریرہ رسول اللہ صل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت زیادہ احادیث بیان کرتا ہے۔ دراصل میں کمانے کھانے کی فکر چھوڑ کر ہر وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر رہتا تھا جبکہ مہاجرین رضی اللہ عنہم بازاروں میں تجارت میں اور انصار رضی اللہ عنہم اپنی زمینوں کی دیکھ بھال اور زراعت میں مصروف رہتے تھے ۔ ایک روز میں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص میری بات ختم ہونے تک اپنی چادر پھیلائے رکھے گا اور پھر اسے لپیٹ لے گا تو وہ مجھ سے سنی ہوئی کسی بات کو ہر گز نہیں بھولے گا ۔ پس میں نے اپنی چادر پھیلا دی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات مکمل کر لی پھر میں نے اپنی چادر کو لپیٹ لیا اللہ کی تم اس کے بعد سے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ بھی سنا اسے کبھی نہیں بھولا ۔ ( مسند احمد بن حنبل ) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے علاوہ کوئی شخص مجھ سے زیادہ احادیث روایت کرنے والا نہیں تھا ، حضرت عبد اللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ حدیث کولکھ لیا کرتے تھے اور میں یاد کر لیا کرتا تھا۔“


رات کے تین حصے


حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی رات کو تین حصوں میں تقسیم کر رکھا تھا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: ” حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو صدق ، حفظ ، دیانت ، عبادت، زہد، اور عمل صالح میں بڑا مقام حاصل تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ ایک تہائی شب قیام کرتے تھے اور پھر اُن کی بیوی ایک تہائی شب قیام کرتی تھی اور پھر اُن کی بیٹی ایک تہائی شب قیام کرتی تھی ۔ صحیحین میں آپ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ : ”مجھے میرے خلیل نے ہر مہینے تین دن روزے رکھنے کی اور چاشت کی نماز کی دورکعت پڑھنے اور سونے سے پہلے وتر پڑھنے کی وصیت کی ہے ۔ " حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں رات کے تین حصے کرتا ہوں۔ ایک حصہ قرآن پاک کی تلاوت اور سمجھنے میں لگا تا ہوں ۔ ایک حصے میں سوتا ہوں اور ایک حصے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو یاد کرنے (آموختہ کرنے ) میں گزارتا ہوں ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں ہر روز اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بارہ ہزار (12,000) مرتبہ تو بہ واستغفار کرتا ہوں اور یہ میری دیت کے برابر ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک دھاگا تھا جس میں بارہ ہزار (12,000) گر ہیں تھیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ سونے سے پہلے اس کے ذریعہ تسبیح کرتے تھے اور ایک روایت میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کے دھاگے میں ایک ہزار (1,000) گر ہیں تھیں اور آپ رضی اللہ عنہ اس کے ساتھ تسبیح کئے بغیر سوتے نہیں تھے ۔ جب آپ رضی اللہ عنہ کے انتقال کا وقت قریب آیا تو رونے لگے۔ لوگوں نے پوچھا کہ کیوں روتے ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اس دنیا پر نہیں رورہا ہوں بلکہ اپنے سفر ( آخرت ) کی دوری اور اپنے زاد (اعمال) کی کمی پر رورہا ہوں اور میں جنت اور دوزخ کی ترائی اور چڑھائی میں ہوں اور مجھے نہیں معلوم کہ مجھے پکڑ کر کس طرف لے جایا جائے گا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب تم اپنی مساجد کو نقش و نگار سے مزین کرو گے اور اپنے مصاحف کو آراستہ کرو گے تو تم پر ہلاکت آئے گی۔ 


ھ60 ہجری: حضرت معاویہ بن ابی سفیان کی وصیت


اس سال 60 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے یزید کے لئے وصیت لکھوائی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: جب حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی موت کا وقت قریب آیا اور یہ واقعہ 60 ہجری کا ہے اور یزید اس وقت موجود نہیں تھا تو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے اپنے صاحب شرط ضحاک بن قیس فہری کو اور مسلم بن عقبہ کو بلوایا اور ان دنوں شخصوں سے وصیت کی اور کہا: ” میری وصیت یزید کو پہنچا دینا کہ اہل حجاز کے حال پر نظر رکھنا وہ تیری قوم کے لوگ ہیں۔ اُن میں سے جو کوئی تیرے پاس آئے اُس کا اکرام کرنا اور جو دور ہوں اُن کا خیال رکھنا اور اہل عراق کے حال پر نظر رکھنا۔ اگر تجھ سے روز روز وہ سوال کریں کہ اُن کے حاکم کو بدل دے تو بدل دیا کرنا۔ اُن کو ہمراز اور دم ساز بنائے رکھنا۔ اگر دشمن کی طرف سے کوئی مہم درپیش ہو تو اُن کے ذریعہ سے انتقام لینا۔ جب ظفر مند ہو جانا تو اہل شام کو اُن کے وطن کی طرف واپس کر دینا۔ غیر شہروں میں وہ رہیں گے تو وہیں کی باتیں سیکھیں گے اور قریش میں سے تین شخصوں کے سوا مجھے کسی کا خوف نہیں ہے (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) ، (حضرت) عبد اللہ بن عمر فاروق (رضی اللہ عنہ ) اور (حضرت) عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ) ۔ عبد اللہ بن عمر فاروق (رضی اللہ عنہ ) کو تو دینداری نے مارا ہے وہ تجھ سے کسی بات کا طلب گار نہیں ہوگا۔ ( حضرت ) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) سبک وضع آدمی ہے اور مجھے امید ہے کہ جن لوگوں نے اُس کے باپ کو قتل کیا ہے اور اُس کے بھائی کا ساتھ چھوڑ دیا ہے اللہ انہیں لوگوں کے ذریعہ سے تجھے حسین بن علی (رضی اللہ عنہ) کی فکر سے نجات دے گا اور اس میں شک نہیں ہے کہ اُس کو قربت قربیہ حاصل ہے۔ بہت بڑا حق ہے اُس کا اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے یگانوں کا ۔ میرا گمان ہے کہ اہل عراق اُس کو خروج پر آمادہ کئے بغیر نہیں چھوڑیں گے اُس پر قابو پانا تو معاف کر دینا ۔ میرے پاس کوئی ایسا شخص آتا تو میں بھی معاف ہی کر دیتا۔ ہاں عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ) پر فریب اور کینه توز ہے۔ اُس کے مقابلہ کے لئے تیار رہنا۔ اگر وہ صلح کا طالب ہو تو مان لیتا۔ جہاں تک تجھ سے ممکن ہو سکے اپنی قوم میں خونریزی نہیں ہونے دینا۔


مرض الموت


اس سال 60 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ جب آپ رضی اللہ عنہ اس بیماری میں مبتلا ہوئے جس میں آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو لوگوں نے کہا کہ یہ مرض الموت ہے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں ؛ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو جب مرض الموت ہوا تو لوگ کہنے لگے یہ مرض الموت ہے تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر والوں سے کہا: ” میری آنکھوں میں سرمہ لگا دو اور میرے سر میں تیل ڈال دو۔ ایسا ہی کیا گیا اور تیل لگا کر اُن کا چہرہ چکنا کر دیا گیا۔ اس کے بعد اُن کے لئے فرش ( دری یا چٹائی یا قالین بچھا دیا گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: ” مجھے تکیہ لگا کر بٹھا دو اور لوگوں کو بلاؤ اور کہنا کہ کھڑے کھڑے سلام کریں اور کوئی بیٹھے نہیں ۔ “ لوگ آتے تھے کھڑے کھڑے سلام کرتے تھے دیکھتے تھے کہ سرمہ لگائے ہوئے ہیں اور تیل ڈالے ہوئے ہیں تو کہتے کہ ہم سنتے تھے کہ اُن کا آخری وقت ہے جبکہ یہ تو سب سے زیادہ تندرست ہیں ۔ جب سب لوگ باہر چلے گئے تو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” جہاں انسان موت کے پنجہ میں آیا تو پھر میں نے دیکھا کہ کوئی تعویذ نفع نہیں بخشتا ۔“


حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 60 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا اسی مرض میں انتقال ہو گیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو کھنکار میں خون آنے لگا اور اسی میں انتقال ہوا ۔ اس مرض میں آپ رضی اللہ عنہ کی دونوں بیٹیاں انہیں کروٹ بدلواتی تھیں ۔ انہوں نے اپنی دونوں بیٹیوں سے فرمایا: ” تم اُس شخص کو اُلٹ پلٹ کر رہی ہو جو دنیا کو الٹ پلٹ کرنے میں اُستاد تھا ۔ شباب سے لیکر بڑھاپے تک مال جمع کیا پتہ نہیں جنت میں جائے گایا۔ اس کے بعد فرمایا: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی ایک قمیص پہنے کے لئے دی تھی۔ میں نے اسے سنبھال کر رکھا ہوا ہے اور ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناخن تراشے تھے تو میں نے وہ کترن اُٹھالی تھی اور اسے ایک شیشی میں سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔ جب میرا انتقال ہو جائے تو وہ قمیص مجھے کفن کے طور پر پہنا دینا اور اس کترن کو ریزہ ریزہ کر کے میری آنکھوں میں اور میرے منہ میں چھڑک دینا۔ اُمید ہے کہ ان کی برکت سے اللہ تعالیٰ مجھ پر رحم فرمائے گا۔ اس کے بعد بے ہوشی طاری ہوگئی ۔ پھر ہوش آیا تو جو لوگ موجود تھے اُن سے فرمایا: اللہ سے ڈرتے رہو، جو کوئی اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے تو اللہ سے محفوظ رکھتا ہے اور جو کوئی اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا ہے تو اُسے کوئی بچا نہیں سکتا ہے ۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا۔ ولید نے امام زہری سے خلفاء کے سن کو پوچھا تو انہوں نے کہا کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا انتقال پچھتر (75) سال کی عمر میں ہوا۔ ولید نے کہا واہ واہ کیا عُمر تھی ۔ ایک روایت میں تہتر (73) ایک اور روایت میں اٹھہتر (78) اور ایک روایت میں پچاسی (85) سال کی عمر میں انتقال ہوا۔


یزید جنازے میں شریک نہیں ہوا


حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے انتقال کے وقت یزید وہاں موجود نہیں تھا اور جب وہ آیا تو اُس کے والد کو دفن کیا چکا تھا علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے انتقال کے وقت یزید موجود نہیں تھا۔ ضحاک بن قیس فہری نے نماز جنازہ پڑھائی۔ آپ رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد ضحاک بن قیس با ہر نکل کر آیا اور اس نے اپنے دونوں ہاتھوں میں وہ قمیص رکھی ہوئی تھی جس کا کفن بنانے کا آپ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا تھا۔ وہ منبر پر گیا اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرنے کے بعد کہا کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ عرب کے سردار تھے اور اُن سے عرب کی شان و شوکت تھی۔ اللہ تعالٰی نے اُن کے ذریعے فتنہ و فساد و قطع کیا اور اپنے بندوں کا بادشاہ بنایا اور اُن کے ہاتھوں ملک فتح ہوئے۔ سنو اُن کا انتقال ہو گیا ہے دیکھو یہ اُن کا کفن ہے۔ یہی کفن اب ہم انہیں پہنادیں گے اور انہیں قبر میں سلا دیں گے اور انہیں اُن کے اعمال کے ساتھ چھوڑ دیں گے پھر قیامت تک برزخ کا زمانہ ہو گا۔ تم لوگوں میں سے جو بھی جنازہ اور کفن دفن میں شامل ہونا چاہے وہ پہلی نماز کے وقت حاضر ہو جائے ۔ یزید مقام حوارین میں تھا۔ اُسے اُس کے والد کی بیماری کا حال لکھ کر بھیج دیا گیا تھا لیکن وہ اُس وقت آیا جب آپ رضی اللہ عنہ کو دفن کیا جا چکا تھا۔ قبر پر جا کر اس نے دعا پڑھی پھر گھر واپس آیا۔


باب نمبر 2 


یزید کا دور حکومت


یزید مملکت اسلامیہ کا بادشاہ


حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد یزید مملکت اسلامیہ کا بادشاہ بنا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: ماہ رجب المرجب 60 ہجری میں یزید مملکت اسلامیہ کا بادشاہ بنا۔ اس کی پیدائش 26 ہجری میں ہوئی اور جس روز اُس کی بیعت کی گئی اُس کی عمر تئیس (23) سال کچھ مہینے تھی۔ اس نے اپنے باپ کے گورنروں کو برقرار رکھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اسی سال 60 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد یزید سے لوگوں نے بیعت کی۔ یہ واقعہ ماہ رجب المرجب کی پندرہویں یا بائیسویں تاریخ کا ہے۔ یزید جس وقت حکمراں بنا اُس وقت عبید اللہ بن زیاد بصرہ کا گورنر تھا، نعمان بن بشیر کوفہ کے گورنر تھے۔ مدینہ منورہ کا گورنر ولید بن عقبہ بن ابوسفیان تھا اور مکہ مکرمہ کا گورنر عمر بن سعید بن عاص تھا۔ حکمراں بننے کے بعد سب سے پہلے اُسے جو فکر ہوئی وہ یہ کہ جن لوگوں نے اُس کی ولی عہدی کی بیعت نہیں کی تھی اُن لوگوں سے حکمرانی کی بیعت لی جائے اور اُن کی طرف سے فراغت حاصل کی جائے۔


یزید کا ولید بن عقبہ کو حکم


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ، حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے یزید کی ولی عہدی کی بیعت نہیں کی تھی۔ یزید نے حکمراں بننے کے بعد سب سے پہلا حکم مدینہ منورہ کے گورنر ولید بن عقبہ بن ابی سفیان کو جاری کیا کہ وہ ان چاروں حضرات رضی اللہ عنہم سے بیعت لے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اسی بناء پر یزید نے ولید بن عقبہ کو یہ خط لکھا: بسمہ اللہ الرحمن الرحیم ۔ امیر المومنین یزید کی طرف سے ولید بن عتبہ کو معلوم ہو کہ معاویہ رضی اللہ عنہ اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ تھے ۔ اللہ نے اُن کو کرامت و خلافت و عطا یا حکومت سے سرفراز کیا تھا۔ جتنی عمر اُن کی لکھی ہوئی تھی اس وقت تک وہ زندہ رہے اور جب مدت پوری ہو گئی تو مر گئے ۔ اللہ اُن پر رحم کرے کہ زندگی بھر لائق ستائش رہے اور نیکو کار و پر ہیز گار ہو کر مرے۔ والسلام ۔ ایک اور رقعہ میں اُسے لکھا کہ حضرت حسین بن علی عبد اللہ بن عمر فاروق اور عبداللہ بن زبیر سے بیعت لینے میں تشددکرواور جب تک بیعت نہ کر لیں انہیں ذرا بھی مہلت نہ دو۔“


مروان بن حکم کا مشورہ


حضرت حسین بن علی وغیرہ سے اپنی حکمرانی کی بیعت لینے کا حکم یزید نے ولید بن عقبہ کو دیا تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت معاویہ بن ابی سفیان کے انتقال کی خبر سے ولید بن عتبہ کو تشویش ہو گئی اور اُس نے مروان بن حکم کے پاس کسی کو بھیج کر بلوایا۔ ولید بن عتبہ جس روز مدینہ منورہ کا گورنر بن کر آیا اور مروان بن حکم کو معزولی کا حکم نامہ دیا تھا تو اس نے ولید کو گالیاں دی تھیں اور پھر اُس سے ملنا ترک کر دیا تھا اور قطع تعلق کر لیا تھا۔ ولید کو جب اُن لوگوں سے بیعت لینے کا حکم ہوا تو اس نے مروان بن حکم سے مشورہ کرنا ضروری سمجھا اور اُسے بلا بھیجا۔ جب اُس نے یزید کا خط مروان بن حکم کو پڑھ کر سنایا اور بیعت لینے کے حکم کے بارے میں بتایا اور اس سے مشورہ مانگا اور پوچھا: ” تمہاری کیا رائے ہے کہ ہم کو کیا کرنا چاہیئے ؟ مروان بن حکم نے کہا: ”میری رائے یہ ہے کہ اسی وقت اُن لوگوں کو بلا بھیجو۔ جب وہ آئیں تو اُن سے یزید کی بیعت اور اطاعت گزاری کا اقرار لے لو۔ اگر وہ مان جائیں تو تم بھی مان جانا اور اگر انکار کریں تو سب کی گردن مار دینا ۔ اُن کو معاویہ بن ابی سفیان کے مرنے کی خبر نہ ہونے پائے۔ اگر انہیں یہ بات معلوم ہوگئی کہ معاویہ بن ابی سفیان مرگئے ہیں تو اُن میں سے ہر شخص کسی طرف سے کھڑا ہوگا ور مخالفت و مقابلہ پر کمر باندھ لے گا اور کیا معلوم کہ کہ لوگوں کو اپنی اطاعت پر آمادہ کرے لیکن عبد اللہ بن عمر کو میں نہیں سمجھتا کہ جدال و قتال کو پسند کریں گے یا حکومت کی اُن کو خواہش ہو۔ ہاں بن مانگے یہ حکومت اُن کے سر ڈال دی جائے تو اور بات ہے۔“


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا بلاوا


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو بلانے کے لئے ولید بن عتبہ نے اپنا ایک آدمی بھیجا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: ولید بن عقبہ نے عبداللہ بن عمر بن عثمان نام کے ایک نوجوان کو دو شخصوں (حضرت حسین بن علی اور حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم) کو بلانے کے لئے بھیجا ۔ اُس نے اُن دونوں کو مسجد میں پایا تو اُس نے اُن دونوں سے کہا: ”امیر ولید بن عتبہ نے آپ دونوں کو بلایا ہے ۔ یہ وقت ایسا تھا کہ ولید بن عتبہ اس وقت لوگوں سے نہیں ملتا تھا۔ دونوں نے جواب دیا: ” تم جاؤ! ہم ابھی آتے ہیں ۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اب حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا : ” اس وقت تو ولید کسی سے ملتا نہیں ہے، آپ بتائیے کہ کیوں ہم کو بلایا ہے؟ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں سمجھتا ہوں کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ہے اور ہم کو اسی لئے بلا بھیجا ہے کہ اس خبر کے فاش ہونے سے پہلے ہی ہم سے بیعت لے لی جائے ۔ “ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں بھی یہی سمجھتا ہوں ۔ پھر عرض کیا: ” اب آپ رضی اللہ عنہ کا کیا ارادہ ہے؟ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” اپنے جوانوں کو لیکر ولید کے پاس جاؤں گا ، دروازے پر انہیں روک دوں گا اور خود اُس کے پاس جاؤں گا ۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ” اگر آپ رضی اللہ عنہ اس کے پاس گئے تو مجھے آپ رضی اللہ عنہ کی جان کا اندیشہ ہے۔“ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” میں اس طرح جاؤں گا کہ نکل بھی سکوں۔ یہ فرما کر آپ رضی اللہ عنہ اُٹھ کھڑے ہوئے۔


یزید کی حکمرانی کے لئے بیعت طلبی


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ مسجد میں اُٹھ کر اپنے گھر والوں اور خاندان والوں کے پاس آئے اور انہیں لیکر ولید بن عقبہ کی طرف روانہ ہوئے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اپنے رشتہ داروں اور خادموں کو ساتھ لے کر چلے اور جب ولید بن عقبہ کے دروازے پر پہنچے تو اُن لوگوں نے فرمایا: ” میں اندر جاتا ہوں، اگر میں تم کو پکاروں یا تم سنو کہ ولید نے بلند آواز میں بات کی تو تم سب کے سب اندر چلے آنا اور دوسری صورت میں جب تک میں باہر نہ آؤں تم سب اپنی جگہ موجود رہنا ۔ یہ فرما کر آپ رضی اللہ عنہ اندر داخل ہوئے اور سلام کیا مروان بن حکم کو دیکھا کہ ولید بن عتبہ کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اُن دونوں کو ساتھ بیٹھا دیکھ کر فرمایا: مل کر رہنا ترک تعلقات سے بہتر ہے لگتا ہے اللہ تعالیٰ نے تم دونوں کے درمیان صفائی کرا دی ہے؟ دونوں نے آپ رضی اللہ عنہ کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا اور جب آ پ رضی اللہ عنہ آ کر بیٹھ گئے تو ولید نے خط پڑھ کر سنایا۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے انتقال کی خبر دی اور یزید کی حکمرانی کی بیعت کا طالب ہوا۔


مروان بن حکم کی گستاخی


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے ولید بن عتبہ نے یزید کی حکمرانی کے لئے بیعت طلب کی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تمہیں چاہئے کہ بھرے مجمع میں کھلے عام بیعت کی مانگ کرو۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے انتقال کی خبر سن کر اناللہ وانا اللہ راجعون پڑھا اور فرمایا : اللہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے اور تمہارا اجر زیادہ کرے۔ بیعت کا جو تم نے مجھ سے سوال کیا ہے تو میں پوشیدہ طور پر بیعت نہیں کروں گا اور میں نہیں سمجھتا کہ تم ایسی احمقانہ حرکت کرو گے بلکہ تمہیں لوگوں کے سامنے مجھ سے بیعت لینی چاہیئے ۔ ولید بن عتبہ نے کہا: ” اچھا۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب تم لوگوں سے بیعت لو گے تو اُسی وقت مجھ سے بھی بیعت لے لینا ایک ہی بات ہے ۔ ولید بن عقبہ کا مزاج عافیت پسند تھا اُس نے کہا: "بسمہ اللہ ! آپ رضی اللہ عنہ تشریف لے جائیں اور سب لوگوں کے مجمع عام میں ہم سے ملئے گا ۔ مروان بن حکم بول اٹھا: ”اگر یہ اس وقت تمہارے پاس سے بغیر بیعت کئے چلے گئے تو اللہ کی قسم ! جب تک تم میں شدت سے کشت خون نہیں ہوگا تب تک یہ تمہارے قابو میں نہیں آئیں گے ۔ اللہ کی قسم! انہیں ابھی قید کر لو اور یہ تمہارے پاس سے نکلنے نہ پائیں ۔ بیعت کریں تو کریں نہیں تو تم ان کی گردن مار دو۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور فرمایا: ” اے ابن زرقاء! کیا تو مجھے قتل کرے گا یا یہ میل کرے گا؟ اللہ کی قسم ! تو نے جھوٹ بکا ہے۔ یہ فرما کر آپ رضی اللہ عنہ نکل کر اپنے رشتہ داروں اور خادموں کے پاس آئے اور سب کو ساتھ لیکر اپنے مکان پر چلے آئے ۔ مروان بن حکم نے ولید بن عقبہ سے کہا: " تم نے میرا کہنا نہیں مانا۔ حسین بن علی کے لئے اب تمہیں کبھی ایسا موقعہ نہیں ملے گا ۔ ولید نے کہا: ”سنواے مروان بن حکم اکسی اور ہی کو ملامت کرو تم مجھے ایسا مشورہ دے رہے ہو جس میں میرے دین کی تباہی تھی۔ اللہ کی قسم ! حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو قتل کر کے ساری دنیا کا مال و متاع جہاں تک سورج طلوع اور غروب ہوتا ہے مجھ کومل جائے تب بھی مجھے منظور نہیں ہے۔ سبحان اللہ! حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو ایک بیعت نہ کرنے پر قتل کروں؟ اللہ کی قسم! میں تو یہ بھتا ہوں کہ جس شخص سے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قتل کی باز پرس ہو وہ قیامت کے دن اللہ کے سامنے " خفیف المیزان ٹھہرے گا ۔ مروان بن حکم نے کہا اگر تمہاری یہی رائے ہے تو جو کچھ تم نے کیا بہت ہی اچھا کام کیا۔ یہ بات مروان بن حکم نے ولید کی رائے کو نا پسند کر کے کہا تھا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: مروان بن حکم بولا : ” ان کو بغیر بیعت کئے جانے نہ دور نہ ان سے بیعت اُس وقت تک نہیں لے سکو گے جب تک تم میں اور ان میں خون کا دریا رواں نہیں ہوگا اور اگر تم ایسا نہیں کر سکو تو میں لپک کر ان کی گردن اڑا دیتا ہوں۔ یہ بات سنتے ہی حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے ڈانٹ کر فرمایا: ” کو یاوہ مجھے قتل کرے گا؟ اللہ کی قسم ! تو جھوٹا ہے۔ مروان یہ سن کر دب گیا اور خاموش بیٹھ گیا اور آپ رضی اللہ عنہ لوٹ کو اپنے گھر تشریف لے آئے ۔ مروان بن حکم ولید بن عقبہ کو ملامت کرنے لگا تو اُس نے کہا: ”اے مروان ! اللہ کی قسم! مجھے یہ گوارا نہیں ہے کہ میں حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو بیعت نہیں کرنے پر قتل کروں، چاہے اس کے بدلے میں مجھے تمام عالم کا مال ہی کیوں نہ مل جائے یا میں اس کا مالک ہی کیوں نہ بن جاؤں۔“


حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی مکہ مکرمہ روانگی


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ تو ولید سے ملاقات کر کے چلے آئے لیکن حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ملاقات کے لئے نہیں گئے بلکہ اپنے گھر جا کر بیٹھ گئے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ مسجد سے اُٹھ کر اپنے گھر آئے اور وہیں رہے۔ ولید بن عتبہ نے اُن کے پاس بھیجا تو معلوم ہوا کہ انہوں نے اپنے اصحاب کو جمع کر کے اپنی حفاظت کرلی ہے۔ اس پر ولید بن عتبہ نے اور زیادہ اصرار کیا اور پے در پے اپنے آدمیوں کو اُن کے پاس بھیجا اور کہا: ” حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ ے تو یہ کہا کہ شہر و تم بھی غور کر لو اور ہم بھی غور کرلیں، تم بھی سوچو اور ہمیں بھی سوچنے دو “ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میرے ساتھ جلدی نہ کرو اور مجھے ذرا مہلت دو ۔“ اس کے بعد اُن دونوں کو ولید نے اپنے خادموں کو بھیج بھیج کر بہت پریشان کیا اور اصرار کرتا رہا۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو زیادہ پریشان نہیں کیا لیکن حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو بہت زیادہ پریشان کیا اور مسلسل خادموں کو بھیجتا رہا۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” تم لوگوں کے پے در پے آنے سے اور میرے پاس اتنے لوگوں کو بھیجنے سے اللہ کی قسم مجھے کھٹکا ہو گیا ہے۔ تم لوگ میرے ساتھ جلدی نہ کرو، میں خود ولید کے پاس کسی کو بھیجتا ہوں کہ اُن کی رائے معلوم ہو۔“ یہ کہ کر انہوں نے اپنے بھائی جعفر بن زبیر رضی اللہ عنہ کو ولید کے پاس بھیجا۔ انہوں نے جا کر کہا: اللہ کے واسطے عبداللہ پر شدت کرنے سے باز آجائیے۔ آپ نے پے در پے لوگوں کو بھیج کر انہیں اندیشہ مند و خائف کر دیا ہے۔ اپنے لوگوں کو حکم دیں کہ ہمارے مکان سے چلے جائیں۔ ولید نے اپنے لوگوں کو واپس بلا لیا۔ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ رات ہی کو گھر سے نکل کر فرع کی طرف روانہ ہوئے اور اُن کے بھائی حضرت جعفر بن زبیر رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی شخص ساتھ نہیں تھا۔ تعاقب کے خوف سے عام راستے کو چھوڑ دیا اور مہ مکرمہ کی طرف روانہ ہو گئے۔ صبح ہوئی تو ولید نے اُن کے پاس کسی کو بھیجا تو معلوم ہوا کہ وہ نکل گئے ۔ مروان بن حکم نے کہا: ” میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ عبداللہ بن زبیر مکہ مکرمہ کی طرف جانے سے ہر گز نہیں چوکے گا ۔ لوگوں کو حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے تعاقب میں روانہ کیا۔ بنوامیہ کے خادموں میں سے ایک سوار کو اسی (80) سواروں کے ساتھ اس کام کے لئے بھیجا۔ وہ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو ڈھونڈتے پھرے لیکن نہیں پاسکے اور واپس چلے آئے۔ 


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!


D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں