07 سلطنتِ امیہ
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 7
تین اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا انتقال، ھ56 ہجری: یزید کی جانشینی کا اعلان، یزید کی جانشینی کے بارے میں زیاد سے مشورہ، ولی عہدی ( جانشینی ) کے اعلان کو روک دیا، پانچ حضرات رضی اللہ عنہم نے بیعت سے انکار کیا ہے، مروان بن حکم کی صحابی رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی، وفود سے مشورہ، حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ کا مشورہ، مدینہ منورہ میں، حضرت سعید بن عثمان غنی خراسان کے سپہ سالار، اہل صغد سے مقابلہ، ھ57 ہجری،
تین اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا انتقال
اس سال 55 ہجری میں تین اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت فضالہ بن عبید انصاری رضی اللہ عنہ انصار کے قبیلہ اوس کے ہیں۔ غزوہ اُحد آپ رضی اللہ عنہ کا پہلا معرکہ ہے اور آپ رضی اللہ عنہ نے بیعت رضوان“ میں شمولیت کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد ملک شام چلے گئے اور حضرت معاویہ بن ابی سفیان کے زمانے میں حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے دمشق میں قاضی کا محکمہ سنبھالا اور ابن جوزی کے مطابق اس سال 55 ہجری میں انتقال ہوا۔ دوسرے صحابی حضرت قسم بن عباس بن عبد المطلب ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ، سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے چازاد بھائی ہیں اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت مشابہ تھے ۔ آپ رضی اللہ عنہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں مدینہ منورہ کے گورنر تھے۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ سمرقند کی فتح میں شامل ہوئے اور وہیں ۵۵ ہجری میں شہید ہو گئے ۔ تیسرے صحابی حضرت کعب بن عمر و ابو الیسر انصاری ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ انصار کے قبیلہ بنو سلمہ کے ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ بیعت عقبہ اور غزوہ بدر میں شامل ہوئے اور اُس غزوہ میں آپ رضی اللہ عنہ نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس بن عبد المطلب کو قیدی بنایا تھا۔ اس کے بعد کے تمام معرکوں میں سید الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔ اس سال ۵۵ ہجری میں انتقال ہوا اور آپ رضی اللہ عنہ اہل بدر میں سے وفات پانے والے آخری صحابی ہیں۔
ھ56 ہجری: یزید کی جانشینی کا اعلان
اس سال 56 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے یزید کی جانشینی کا اعلان کر دیا کہ میرے بعد میرا بیٹا یزید مملکت اسلامیہ کا حکمراں بنے گا۔ یزید کی ولی عہدی یا جانشینی کا مشورہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو 50 ہجری میں دیا تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اس سال 56 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے یزید کو ولی عہد ( جانشین ) بنانے کا اعلان کیا اور لوگوں سے بیعت لی ۔ اس کا سبب یہ ہوا کے ۵۰ ہجری میں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور اپنی ضعیفی کے بارے میں بتا کر کوفہ کی گورنری سے استعفیٰ دے دیا جسے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے قبول کر لیا اور سعید بن عاص کو اُن کی جگہ مقرر کرنا چاہا۔ یہ خبر حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے کا تب ابن نئیس کو ملی تو وہ سعید بن عاص کے پاس پہنچا اور اُس سے پورا حال بیان کر دیا اُس وقت سعید کے پاس ربیع یا ربیعہ بیٹھا ہوا تھا اس نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر کہا: ” میں سمجھتا ہوں کہ امیر المومنین تم سے کچھ ناراض ہیں۔ میں نے تمہارے کا تب ابن نئیس کو سعید بن عاص کے پاس دیکھا اور وہ کہہ رہا تھا کہ امیر المومنین تمہیں کوفہ کا گورنر بنانے والے ہیں۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اُسے تو یہ کہنا چاہئے تھا کہ مغیرہ (رضی اللہ عنہ ) پھر بڑے استحکام سے واپس آنے والا ہے ٹھہرو میں یزید کے پاس جاتا ہوں ۔ “ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ یزید کے پاس جا کر جا نشینی کا ذکر کیا تو یزید نے اپنے والد حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے کیا۔ اس کے بعد اسی سال 50 ہجری میں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: علامہ طبری نے یہ سند لکھا ہے کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ ملک شام میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ضعف کی شکایت کی اور معذوری کی وجہ سے استعفیٰ دیدیا جو منظور ہو گیا۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی علیحدگی پر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے سعید بن عاص کو گورنر بنانے کا قصد کیا۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے شناسا کہنے لگے : ” تم کو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے نکال دیا ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: ” اس تذکرہ کو چھوڑو میں نے خود علیحدگی اختیار کی ہے۔“ جواب دینے کو تو دے دیا لیکن دل پر چوٹ لگی اور اُسی وقت بحالی کی فکر ہوگئی۔ اسی غور و خوض میں ایک دن یزید کے پاس جا پہنچے اور اُس سے کہا: ” تم اپنے والد محترم سے ولی عہدی (جانشینی) کی بیعت لینے کو کیوں نہیں کہتے ؟ کیونکہ بزرگ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور سرداران و بزرگان قریش انقال کر چکے ہیں، اب اُن کی اولادیں باقی ہیں اور تم ان لوگوں سے رائے وسیاست میں افضل ہو، میرے نزدیک امیر المومنین کو تمہاری ولی عہدی کی بیعت لینے میں کوئی امر مانع نہیں ہوگا ۔ یزید نے اپنے والد محترم سے جا کر یہی بات کہی تو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا اور اس بات پر رائے طلب کی ۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”امیر المومنین! آپ نے ملاحظہ فرمایا ہے کہ امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بعد کس قدر خون ریزیاں اور اختلافات ہوئے ہیں اور یزید تو آپ کا بیٹا ہے، آپ اُس کی ولی عہدی کی بیعت لوگوں سے لے لیجیئے ۔ آپ کے بعد وہ مسلمانوں کاما داوطلب ہوگا اور اس میں کوئی فتنہ نہیں ہوگا اور نہ فساد ہوگا۔ میں اس کام کی انجام دہی کے لئے کوفہ میں کافی ہوں اور زیاد بصرہ میں ہے اور ان دونوں شہروں کے بعد پھر کوئی ایسا شہر نہیں ہے جو آپ کے حکم کی مخالفت کرے ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو کوفہ کی گورنری پر بحالی کی سند دی اور دوبارہ کوفہ کی طرف روانہ کر کے یزید کی ولی عہدی کی کاروائی کرنے کا حکم دیا۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کوفہ واپس آئے اور لوگوں کو راضی کر کے ایک وفد دمشق روانہ کیا۔ اُس وفد نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان کی خدمت میں حاضر ہو کر یزید کی ولی عہدی کی درخواست پیش کی ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ” کیا تم لوگ راضی ہو؟ انہوں نے کہا: ”ہم سب اور ہمارے سوا اور جتنے آدمی ہیں سب اس سے راضی ہیں ۔“ (اس کے کچھ مہینوں بعد حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا )
یزید کی جانشینی کے بارے میں زیاد سے مشورہ
اُس وقت یعنی 50 ہجری میں زیاد بصرہ کا گورنر تھا۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے زیاد کو خط لکھا اور یزید کو جانشین بنانے کے بارے میں مشورہ مانگا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے زیاد کو خط لکھ کر اس باب میں اُس سے مشورہ کیا۔ زیادہ نے عبید بن کعب نمیری کو بلا کر اس سے مشورہ کیا اور کہا: ”امیر المومنین نے یزید کے لئے بیعت لینے کا مصمم ارادہ کر لیا ہے اور لوگوں کے بیزار ہونے کا بھی خوف ہے اور اُن کے اتفاق کرنے کی بھی آرزو ہے اور اس باب میں مجھ سے مشورہ طلب کیا ہے لیکن اسلام کا تعلق اور ذمہ داری بہت بڑی چیز ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ یزید کی طبیعت میں کا ہلی وسہل نگاری بہت ہے اس پر طرہ یہ ہے کہ وہ شکار کا گرویدہ ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ تم میری طرف سے امیر المومنین کے پاس جاؤ اور یزید کے جو حالات میں نے بیان کئے ہیں وہ اُن سے بیان کر دو اور یہ کہو کہ ابھی تامل کریں۔ آپ جو چاہتے ہیں یہ بات ہو کر رہے گی ، جلدی نہ کریں۔ جس تاخیر میں مطلب ہو وہ اس تجھیل سے بہتر ہے جس میں مقصود کے فوت ہو جانے کا اندیشہ ہو ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اس کے بعد حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے زیاد کو کل حالات لکھ بھیجے اور اُس سے مشورہ طلب کیا۔ زیاد نے عبید بن کعب نمیریکو بلا کر کہا: ”امیر المومنین نے مجھے یہ خط لکھا اور یزید کی ولی عہدی کی بابت مشورہ طلب کیا ہے کیونکہ وہ لوگوں کے تنفر سے خائف ہیں اور چاہتے ہیں کہ لوگ اس امر میں اُن کی اطاعت کریں لیکن مسلمانوں کا یزید کی بیعت پر راضی ہوتا ایک اہم امر ہے، یزید میں آوارگی ، بیہودگی ، بد دیانتی اور نا اہلی ہے۔ میرے نزدیک تو یہ ہے کہ تم امیر المومنین سے جا کر ملو اور یزید کے افعال سے مطلع کرو اور صاف صاف کہ دو کہ یہ کام ہونا دشوار ہے اور اگر آپ یہ کام انجام دیتا ہی چاہتے ہیں تو عجلت نہ کریں۔ کسی کام میں تاخیر ہونا بہتر ہے یہ نسبت اس کے کہ عجلت میں وہ فوت ہو جائے ۔ عبید نے کہا: ” کیا آپ اس کے سوا کوئی اور رائے نہیں دے سکتے ؟‘ زیاد نے کہا: ” اور کیا کہوں؟“
ولی عہدی ( جانشینی ) کے اعلان کو روک دیا
حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے زیاد سے یزید کی جانشینی پر مشورہ مانگا تو زیاد نے مشورہ دیا کہ ابھی ولی عہدی (جانشینی ) کا اعلان نہ کریں بلکہ مناسب موقع کا انتظار کریں ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عید بن کعب نمیری نے زیاد سے کہا: ” کیا اس کے علاوہ کوئی اور بات آپ کے خیال میں نہیں ہے؟ زیاد نے کہا: ” اور کیا بات ہو سکتی ہے؟ عبید نے کہا: ” آپ کو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی رائے سے اعتراض نہیں کرنا چاہیئے اور اُن کے بیٹے کی طرف سے اُن کو نفرت دلا نا مناسب نہیں ہے۔ میں یزید سے اکیلے میں ملاقات کروں گا اور اُسے تمہاری طرف سے کہوں گا کہ امیر المومنین نے تمہاری بیعت کے باب میں مجھ سے مشورہ طلب کیا ہے اور میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے بعض کاموں سے لوگ بیزار ہیں مجھے اندیشہ ہے کہ تمہاری بیعت میں وہ مخالفت کریں گے ۔ میری رائے یہ ہے کہ جن باتوں سے لوگ بیزار میں تمہیں چاہیئے کہ وہ سب باتیں ترک کر دو۔ اس سے امیر المومنین کی بات بالا ہو جائے گی اور تم جو چاہتے ہو وہ کام بھی آسانی سے ہو جائے گا ۔ اس طرح کرنے سے آپ یزید کے خیر خواہ کہلائیں گے اور امیر المومنین بھی آپ سے خوش رہیں گے اور ذمہ داری اُمت اسلام کا جو خوف آپ کو ہے اُس سے بھی بچ جائیں گے ۔ زیاد نے کہا: ” تمہاری رائے بالکل درست ہے۔ بس اب خیر و برکت کے ساتھ روانہ ہو جاؤ۔ اگر بہتری ہوئی تو کیا پوچھنا اور اگر چوک ہو گئی تو بھی یہ فعل بے لاگ ہوگا اور اللہ نے چاہا تو خطا سے محفوظ رہے گا۔ عبید نے کہا: ” آپ اپنی رائے سے یہ بات کہہ رہے ہیں اور اللہ کو جو منظور ہے وہ غیب میں ہے۔ عبید بن کعب یزید کے پاس پہنچا اور اُس سے گفتگو کی اور زیاد نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو ولی عہدی کے لئے مناسب وقت کا انتظار کرنے کے کہا اور جلدی کرنے سے منع کیا۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے اُس کی بات کو مان لیا اور یزید نے اکثر افعال کو ترک کر دیا۔ عبید جب زیاد کے پاس واپس آیا تو زیاد نے اُسے جاگیر عطا کی ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں عبید نے کہا: ” کیا آپ اس کے سوا کوئی اور رائے نہیں دے سکتے ؟ زیاد نے کہا: ” اور کیا کہوں؟ عبید نے کہا: ” مناسب یہ ہے کہ امیر المومنین کی رائے کی مخالفت نہ کرو اور نہ ہی اُس کے بیٹے کو بدخواہ بناؤ، میں جا کر یزید سے ملتا ہوں اور اُس کو آگاہ کرتا ہوں کہ امیر المومنین نے زیاد کو خط لکھ کر مشورہ طلب کیا ہے لیکن زیادلوگوں کی مخالفت سے ڈر رہا ہے کیونکہ عوام تمہارے افعال و کردار سے ناراض ہیں۔ اگر مناسب سمجھو تو ان افعال و حرکات کو چھوڑ دو تا کہ لوگوں کو قائل کرنے کا زیاد کو موقع مل جائے اور جو تم چاہتے ہو وہ کام ہو جائے ۔ زیاد نے یہ رائے پسند کی۔ عبید رخصت ہو کر یزید کے پاس پہنچا اور اس کو سمجھایا۔ ادھر زیاد نے لکھ بھیجا کہ "بالفعل محبت نہ کریں ورنہ لوگ بھڑک اُٹھیں گے اور یہ کام فوت ہو جائے گا ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ خاموش ہو گئے۔
پانچ حضرات رضی اللہ عنہم نے بیعت سے انکار کیا ہے
یہ تمام واقعات 50 ہجری میں پیش آئے تھے اور اُس وقت حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے خاموشی اختیار کر لی لیکن 56 ہجری میں آپ رضی اللہ عنہ نے یزید کی ولی عہدی کا اعلان کر دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: زیاد جب مر گیا تو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے ایک تحریر نکالی اور لوگوں کے سامنے پڑھی۔ اس میں یزید کو جانشین کرنے کا مضمون تھا کہ اگر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی موت واقع ہوئی تو یزید ولی عہد ہو گا ۔ یہ سن کر پانچ حضرات رضی اللہ عنہم کے سوا سب لوگ یزید کی بیعت کرنے پر تیار ہو گئے ۔ ان پانچ حضرات رضی اللہ عنہم کے نام یہ ہیں۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ، حضرت عبد اللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ، حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ، حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: پھر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ کے گورنر مروان بن حکم کو لکھا: ”میری عمر زیادہ ہوگئی ہے اور میری ہڈیاں کمزور ہوگئی ہیں ۔ مجھے اندیشہ ہے کہ میرے بعد محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں اختلاف پڑ جائے گا۔ اس وجہ سے میں چاہتا ہوں کہ کسی کو اپنا ولی عہد بنالوں لیکن تمہارے اور اُن لوگوں کے جو تمہارے پاس ہیں مشورے کے بغیر اس کام کو نہیں کر سکتا ہوں۔ تم میری طرف سے اس امر کو اہل مدینہ کے سامنے پیش کرو اور جو خیال وہ ظاہر کریں اُس سے مجھے مطلع کرو ۔ مروان بن حکم نے لوگوں کو جمع کر کے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے خط کے مضمون سے آگاہ کیا ۔ لوگوں نے متفق ہو کر کہا: ” بہتر ہے کہ امیر المومنین کسی کو ہمارے لئے منتخب کر جائیں ۔ مروان بن حکم نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں مطلع کیا تو انہوں نے جواب میں لکھا ”میں یزید کو اپنے بعد ولی عہد ( جانشین) مقرر کرتا ہوں“ مروان بن حکم نے اہل مدینہ کو جمع کر کے خط کا مضمون سنا دیا۔ یہ سن کر حضرت عبدالرحمن بن ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا: ” اے مردان ابی محمد صل اللہ علیہ وسلم کی اُمت کے لئے بہتری نہیں ہے اور تم اور حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ خلافت کو حکومت ہر قلیہ بنانا چاہتے ہو کہ ایک ہرقل مر جائے تو اُس کی جگہ دوسرا ہر قل قائم ہو۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ، حضرت عبد اللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے بھی حضرت عبد الرحمن بن ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تائید کی اور جلسہ درہم برہم ہو گیا۔ مروان بن حکم نے پورا واقعہ لکھ کر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے بھیج دیا۔
مروان بن حکم کی صحابی رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی
مدینہ منورہ کے گورنر مروان بن حکم نے خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بیٹے حضرت عبد الرحمن بن ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی کی ۔ امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں بھیج بخاری میں اور سنن نسائی میں ہے اور امام ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ جس زمانے میں مروان بن حکم حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی طرف سے مدینہ منورہ کا گورنر تھا تو اس نے ایک بار خطبہ میں کہا: ” امیر المومنین حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ اپنے بیٹے یزید کو خلیفہ بنانے میں بالکل حق پر ہیں کیونکہ یہی حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہم کی سنت ہے۔ یہ سن کر حضرت عبد الرحمن بن ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نہیں نہیں ! بلکہ یہ ہر قتل اور کسریٰ کا طریقہ ہے کیونکہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اللہ کی قسم اپنی کسی اولاد کو ولی عہد نامزد نہیں کیا تھا اور اپنے خاندان میں سے کسی کو بھی نہیں خلیفہ بنایا تھا۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ ایسا شفقت پدری کے باعث کر رہے ہیں ۔ یہ سن کر مروان بن حکم نے کہا: تو وہی شخص ہے جس کے لئے قرآن شریف میں نازل ہوا کہ "تم اپنے والدین کو اُف تک نہ کہو کیونکہ تم نے ہی اپنے والد سے مقابلہ کیا تھا جب ہی یہ حکم نازل ہوا ۔“ یہ سن کر حضرت عبد الرحمن بن ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” کیا تو ابن لعین نہیں ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرے باپ پر لعنت کی ہے۔ جب یہ روئیداد ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا تک پہنچی تو انہوں نے فرمایا: ” مروان بن حکم جھوٹا ہے۔ یہ آیت تم اپنے والدین کو اُف تک نہ کہو فلاں شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ البتہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے مروان کے باپ حکم پر ضرور لعنت بھیجی ہے اور اُس وقت مروان اپنے باپ کی طلب میں تھا۔ پس مروان پر بھی یہ لعنت پڑی ہے ۔ “ ( تاریخ الخلفاء)
وفود سے مشورہ
مملکت اسلامیہ میں اپنے گورنروں کو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے یزید کی ولی عہدی کی خبر دے دی اور پوری مملکت اسلامیہ سے وفود ملک شام آنے لگے آپ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہونے لگے ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: اُس وقت حضرت معاویہ بن ابی افیان رضی اللہ عنہ نے اپنے گورنروں کا لکھ بھیجا کہ "تم لوگ یزید کی شنا و صفت لوگوں میں بیان کرو اور اطراف و جوانب کے بلادِ اسلامیہ میں سے یزید کی ولی عہدی کی درخواست پیش کرنے کی غرض سے وفود بھیجو۔ اسی لئے مملکت اسلامیہ سے وفود ملک شام میں حاضر ہوئے اور ان میں مدینہ منورہ سے عمرو بن حزم اور کوفہ سے حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ کی سربراہی میں وفود آئے۔ وفود کے جمع ہو جانے پر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے ضحاک بن فہری سے کہا: میں تمہیداً کچھ بیان کروں گا ، جس وقت میں تقریر کر کے بیٹھوں تو تم کھڑے ہو کر یزید کی ولی عہدی اور بیعت کی تقریر کرنا اور لوگوں کو اس امر پر آمادہ کرنا ۔ اس کے بعد حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور اسلام کے فضائل ، خلافت کے فرائض و حقوق مسلمانوں کے اتفاق واطاعت خلافت کو اجمالاً بیان کر کے بیٹھ گئے اور ضحاک اُٹھا اور کہنے لگا: اے امیر المومنین! آپ کے بعد لوگوں کو ایک امیر کی ضرورت ہوگی، اگر آپ کی موجودگی میں ہم کسی کو اپنا ولی عہد بنا ئیں نہیں بنائیں گے تو بڑے بڑے مصائب میں گرفتار ہوں گے ، خون ریزیاں ہوں گی، امن کے راستے بند ہو جائیں گے دن بدن ابتری کا زمانہ آتا جائے گا، اچھے آدمی کمیاب ہوتے جائیں گے ، ہمارے نزدیک آپ کا بیٹا یزید نہایت راست باز ، خوش خو، ملک داری کے آئین سے واقف ہے اور جیسا کہ لوگ اور آپ جانتے ہیں کہ وہ ہم سے علم و حلم ورائے میں افضل ہے، پس آپ اُس کو اپنا ولی عہد (جانشین) بنائیے اور اپنے بعد اُس کو ہمارا پیشوا مقر رکیجیئے ، جس کے سایہ امن میں ہم پناہ گزین ہوں ۔ عمرو بن سعید الا شدق نے اس کی تائید کی اور یزید بن مقتنع عذری نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: یہ امیر المومنین ہیں اور جو شخص اس کے خلاف کرے گا تو ( تلواروں کی طرف اشارہ کر کے ) یہ ہے ۔ امیر المومنین نے یزید بن مقتع سے کہا: ” بیٹھ جاؤ تم خطیبوں کے سردار ہو۔ اس کے بعد وفود عرض و معروض کرنے لگے۔
حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ کا مشورہ
وفود میں آئے سب لوگ یزید کی ولی عہدی کی درخواست کر رہے تھے لیکن حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ خاموش بیٹھے کسی گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے تھے۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ خاموش بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے اُن سے فرمایا: ” تمہاری کیا رائے ہے؟ حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” مجھے خوف ہے کہ میں جو کہوں گا اُس کی آپ تصدیق کریں گے اور اللہ کا خوف کے کہ وہ تکذیب کرے گا۔ اے امیر المومنین ! تم یزید کے روز مرہ کے حالات سے بخوبی واقف ہو ، اس کے ظاہر و باطن ، آمد و رفت سے کما حقہ آگاہ ہو، اگر آپ جانتے ہو کہ اس میں اللہ تعالٰی و محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی بہتری ہے تو کسی سے مشورہ نہ کریں اور اگر آپ اس کے خلاف سمجھتے ہوں تو دنیا کی زیادہ فکر نہ کریں کیونکہ سفر آخرت قریب ہے، باقی رہے ہم تو ہمارا فرض یہ ہے کہ آپ جو کہیں گے اُس کو ہم بسر و چشم منظور کر لیں گے ۔ قیس کی اس تقریر کے ختم ہوتے ہی ایک شامی شخص نے کھڑے ہو کر کہا: ہم کچھ نہیں کہہ سکتے کہ یہ معدیہ عراقیہ کیا بک رہا ہے؟ ہم تو امیر المومنین کے احکام کی بسروچشم تحمیل کریں گے اور یہ تلوار ہمارے پاس ہے جو اس کے خلاف کرے گا اُس سے ہم نپٹ لیں گے ۔ اس شامی شخص کے کھڑے ہوتے ہیں جلسہ برخاست ہو گیا لوگ منتشر ہو گئے ۔ حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ کی تقریر کا چرچا ہونے لگا اور بظاہر یہ معلوم ہوا کہ اب یہ کام نہیں ہو سکے گا لیکن حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ برابر اپنی کوشش میں لگے رہے اور ہر شخص سے مدارات و اچھا سلوک کرتے رہے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تھوڑے ہی دنوں بعد اہل عراق اور اہل شام کے اکثر آدمیوں نے یزید کی ولی عہدی کی بیعت کر لی۔
مدینہ منورہ میں
مدینہ منورہ میں پانچ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے یزید کو ولی عہد ماننے سے انکار کر دیا تھا اور انہیں منانے کے لئے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سفر کر کے مدینہ منورہ آئے تو وہ پانچوں صحابہ رضی اللہ عنہم مکہ مکرمہ چلے گئے تھے ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ بھی مکہ مکرمہ گئے اور انہیں منانے کی کوشش کی ۔ اسے مورخین نے بہت تفصیل سے بیان کیا ہے اور آپ تاریخ امم والملوک المعروف تاریخ طبری، البدایہ والنہایہ المعروف تاریخ ابن کثیر اور تاریخ ابن خلدون میں پڑھ سکتے ہیں۔ مورخین نے اسے بہت تفصیل سے بیان کیا ہے لیکن ہمارا قلم اسے لکھنے سے قاصر ہے۔ اس لئے ہم یہاں پر صرف اتنے پر ہی پر اکتفا کرتے ہیں۔
حضرت سعید بن عثمان غنی خراسان کے سپہ سالار
اس سال 56 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے حضرت سعید بن عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو خراسان کا گورنر بنایا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت سعید بن عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے خراسان کی گورنری طلب کی تو انہوں نے کہا: ”وہاں کا گورنر تو عبید اللہ بن زیاد ہے۔ حضرت سعید بن عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے امیر المومنین ! آپ سے میرے والد محترم ( خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ) نے اتنا اچھا سلوک کیا اور آپ کو اتنا بلند کیا کہ آپ اُن کے سلوک کے سبب اُس مقام پر پہنچ گئے جسے کوئی نہیں پا سکتا ہے اور نہ کوئی برابری کر سکتا ہے۔ آپ نے اُن کی جانفشانی کا کچھ عوض اور اُن کے احسانوں کا کوئی خیال نہیں کیا اور مجھ پر اس کو یعنی یزید کو مقدم کر دیا اور اس کی ولی عہدی کے لئے لوگوں سے بیعت لے لی۔ اللہ کی قسم ! میرے والد محترم اس کے والد سے اور میری والدہ محترمہ اس کی والدہ سے بہتر ہے اور میں خود اس سے ( یزید سے ) بہتر ہوں ۔ " حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” تمہارے والد محترم کی جانفشانی کا عوض کرنا مجھ پر واجب ہے۔ یہ بھی تو اُس کا عوض تھا کہ میں نے اُن کے خون کا بدلہ لیا یہاں تک کہ تمام اُمور سلجھ گئے اور اپنے اس طرح آمادہ ہونے پر مجھے کچھ پشیمانی نہیں ہوئی۔ اپنے والد محترم کو جو تم نے اس کے والد سے افضل ہونے کا کہا تو اللہ کی قسم ! تمہارے والد محترم مجھ سے بہتر ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب تر ہیں۔ اپنی والدہ محترمہ کا جو تم نے اس کی والدہ سے بہتر ہونے کا کہا تو اس سے بھی انکار نہیں ہو سکتا۔ زن قریشیہ بہتر ہے زن کلبیہ سے تم خود کو جو اس سے بہتر کہہ رہے ہو تو میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ تم جیسا شخص یزید کے معاملہ میں خرابی ڈالے۔ یہ سن کر یزید نے کہا: "امیر المومنین ! یہ تو آپ کے چازاد بھائی کا بیٹا ہے اور آپ سے بڑھ کر کون اس کے حال پر نظر التفات کر سکتا ہے۔ میرے بارے میں یہ آپ سے خفا ہے تو اس کو راضی کر لیئے ۔ اس پر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے حضرت سعید بن عثمان غنی کو خراسان کا سپہ سالار بنا کر روانہ کیا۔
اہل صغد سے مقابلہ
حضرت سعید بن عثمان غنی رضی اللہ عنہ خراسان پہنچے تو اُن کا مقابلہ اہل صفد سے ہوا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں پلطن بلخ کے مقام پر اعرابیوں کا ایک گروہ قافلہ خارج کی رہزنی کیا کرتا تھا۔ لوگوں نے حضرت سعید بن عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ یہاں ایک گروہ ہے جو قافلہ کی رہزنی کیا کرتا ہے ان کے سبب سے راہ پر خطر ہو گئی ہے اُن کو بھی اپنے ساتھ لیتے جاؤ۔ حضرت سعید بن عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اُن لوگوں کو اپنے ساتھ لے لیا یہ سب بنو تمیم کے تھے انہیں لوگوں میں مالک بن زیب مازنی بھی تھا۔ اس کے ساتھ ایسے ایسے جوان تھے جن کے باب میں چند شعر کسی نے کہے تھے۔ حضرت سعید بن عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے سمرقند تک نہر کو قطع کیا یہاں اہل صفہ مقابلہ کو نکلے۔ شام تک سب اپنے اپنے مقام پر جمے رہے پھر بغیر جنگ کے پڑاؤ میں واپس آگئے ۔ اس پر مالک بن زیب مازنی نے حضرت سعید بن عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہا: ” اہل صغر کے مقابلہ میں دن بھر ٹو بزدلی سے کھڑا کا خپتا رہا۔ مجھے تو خوف ہوا کہ کہیں تو عیسائی نہ ہو جائے ۔ دوسرے دن حضرت سعید بن عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے صف آرائی کی اور اہل صفہ سے جنگ شروع کر دی ۔ دشمنوں کو شکست دی اور بھاگ کر شہر میں چلے گئے اور شہر پناہ کے دروازے بند کر دیئے۔ حضرت سعید بن عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے شہر کا محاصرہ کر لیا۔ آخر کا راہل صفد نے صلح کی درخواست کی اور امراء وعمائدین کے پچاس لڑکوں کو بطور یر غمال بھیجا۔ حضرت سعید بن عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اپنے لشکر کے ساتھ نمبر کو بور کر کے ترند میں قیام کیا۔ پھر اس کے لئے کہ اُن کے لوگوں کے ساتھ ایفائے عہد کریں اُن سب لڑکوں کو لیکر مدینہ منورہ چلے آئے۔ اس کی وجہ یہ ہوئی کہ حضرت سعید بن عثمان غنی رضی اللہ عنہ جب خراسان میں داخل ہوئے تو یہاں اسلم بن ذرعہ کلابی کو عبید اللہ بن زیاد نے خراسان کا گورنر بنایا ہوا تھا۔ ابھی اسلم اپنی جگہ سے ہٹا بھی نہیں تھا کہ عبید اللہ بن زیاد کی طرف سے یہ حکم نامہ آیا کہ اسلم ہی خراسان کا گورنر رہے گا۔ یہ حکم نامہ دیکھ کر حضرت سعید بن عثمان غنی رضی اللہ عنہ خراسان سے واپس مدینہ منورہ آگئے ۔ اس سال مدینہ منورہ کا گورنر مروان بن حکم رہا، کوفہ کا گورنر ضحاک بن قیس رہا، بصرہ کا گورنرعبیداللہ بن زیا درہا۔
ھ57 ہجری
ا57 ہجری میں کوئی قابل ذکر واقعہ پیش نہیں آیا اور مملکت اسلامیہ میں وہی گورنر ر ہے جو پچھلے سال تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اس سال عبداللہ بن قیس نے سرزمین روم میں جاڑا بسر کیا اور ذی القعدہ میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے مروان بن حکم کو مدینہ منورہ کی گورنری سے معزول کر کے ولید بن عقبہ بن ابی سفیان کو گورنر بنایا۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سال بھی مروان بن حکم ہی مدینہ منورہ کا گورنر رہا۔( یہ غلط نہی اس لئے ہوئی کے ۵۷ ہجری کے گیارہویں مہینے میں مروان کو معزول کیا گیا) کوفہ کا گورنر ضحاک بن قیس تھا اور بصرہ کا گورنر عبید اللہ بن زیاد تھا۔ ایک روایت کے مطابق خراسان کے گورنر حضرت سعید بن عثمان غنی رضی اللہ عنہ تھے یا پھر کچھ دنوں تک گورنر رہنے کے بعد مدینہ منورہ واپس آگئے اور عبید اللہ بن زیاد نے اسلم بن زرعہ کو دوبارہ خراسان کا گورنر بنا دیا۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!



