جمعرات، 5 ستمبر، 2024

Saltanat e Umayya part 08

 08 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 8

ھ58 ہجری: خوارج کا اجتماع، خوارج کی سرکوبی، عروہ کے بھائی کا خروج، سعید بن عاص کا انتقال، شداد بن اوس کا انتقال، عبداللہ بن عامر کا انتقال، حضرت عبد الرحمن بن ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت عبید اللہ بن عباس بن عبد المطلب کا انتقال، أم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا انتقال، ھ59 ہجری عبد الرحمن بن زیاد خراسان کا گورنر، عبید اللہ بن زیاد کی معزولی اور بحالی کے، ھ59 ہجری کے گورنر ، 52 ہجری سے لیکر 60 ہجری تک کی بیرونی مہمات، حضرت عبد اللہ بن مالک بن قشب کا انتقال، حضرت قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ، حضرت معقل بن یسار مزنی رضی اللہ عنہ کا انتقال



ھ58 ہجری: خوارج کا اجتماع


اس سال 58 ہجری میں کوفہ میں قید خوارج کی رہائی عمل میں آئی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اس سال 58 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے کوفہ کے گورنر ضحاک بن قیس کو معزول کر دیا اور اپنے بھانجے عبد الرحمن بن عبد اللہ ثقفی کو کوفہ کا گورنر بنایا۔ یہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی بہن ام حکم کا بیٹا ہے۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ جب کوفہ کے گورنر تھے تو انہوں نے تمام خوارج کو گرفتار کر کے قید میں ڈال دیا تھا لیکن آپ رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد ضحاک بن قیس کے زمانے میں یہ سب خوارج رہا ہو گئے اور عبد الرحمن بن عبداللہ ثقفی کے زمانے میں انہوں نے خروج کیا اور حیان بن ظبیان مسلمی کے ہاتھ پر جنگ کے لئے بیعت کی اور خوارج کا اجتماع حلوان میں ہونے لگا۔ اس کے بعد مقابلہ کے لئے چلے لیکن سب کے سب قتل ہو گئے ۔ ادھر کوفہ میں عبد الرحمن بن حکم نے ایسی ایسی بد اطواری کی کہ اہل کوفہ نے اُسے نکال دیا تو وہ اپنے ماموں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے اُسے ملک مصر کی گورنری کی سند دے کر ملک مصر کی طرف روانہ کیا ۔ ملک مصر کے گورنر معاویہ بن خدیج کو اُس کے آنے کی خبر ملی تو وہ ملک مصر سے با ہر آیا اور اس سے مل کر بولا: ” جا یہیں سے اپنے ماموں کے پاس واپس چلا جا۔ ہمارے کوفی بھائیوں کے ساتھ تو نے جو بدسلوکی کی ہے وہ ہمارے ساتھ نہیں کر سکتا ہے۔ یہ حالات دیکھ کر عبدالرحمن بن عبد اللہ ثقفی یہیں سے واپس چلا گیا۔


خوارج کی سرکوبی


اس سال 58 ہجری میں عبید اللہ بن زیاد خوارج کی طرف متوجہ ہو گیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اس سال عبید اللہ بن زیاد نے خوارج پر بہت شدت کی ۔ ایک انبوہ کثیر کو گرفتار کر کے قتل کیا ایک جماعت کو جنگ میں قتل کیا ۔ اس کا سبب یہ ہوا کہ ابن زیاد اپنی گھڑ دوڑ میں آیا گھوڑوں کے انتظار میں بیٹھا ہوا تھا۔ اچھی خاصی عوام جمع تھی اُن میں ابو بلال مرد اس کا بھائی عروہ بن ادبیہ آیا اور عبد اللہ بن زیاد سے کہنے لگا: ”ہم سے پہلی جو تو میں گزریں اُن میں پانچ خصلتیں تھیں جو ہم میں آگئیں۔ یعنی کیا ہر زمین پر تم کھیل کھیل کر ایک نشانی چھوڑو گے اور قلعے بنا رہے ہو ؟ شاید کہ تم حیا کر گے اور جب حملہ کرو گے تو جباروں کا ساحملہ کرو گے ۔ دو باتیں اور جو راوی کو یاد نہ رہیں ۔ یہ سن کر عبید اللہ بن زیاد کو بہ ہوا کہ اس کے ساتھ کوئی جماعت اس کے اصحاب کی ضرور ہے ورنہ یہ میرے ساتھ اِس طرح کی گستاخی نہیں کرتا ۔ گھر دوڑ کو چھوڑ کر ابن زیاد اُٹھ کھڑا ہوا اور اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر عروہ کی تلاش میں نکلا۔ عروہ سے لوگوں نے کہا: تم نے وہ حرکت کی ہے کہ ابن زیاد تمہیں ضرور قتل کرے گا۔ بین کر عروہ روپوش ہو گیا اور عبید اللہ بن زیاد مسلسل اُس کی تلاش میں لگارہا اور کوفہ میں اُسے گرفتار کر لیا گیا اور ابن زیاد کے سامنے پیش کیا گیا۔ عبید اللہ بن زیاد نے اُس کے دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں کاٹ ڈالنے کا حکم دیا۔ پھر اس کے بعد اُسے بلا کر پوچھا: ”کہو کیسا مزاج ہے؟“ عروہ نے کہا: تو نے میری دنیا خراب کی اور اپنی آخرت خراب کر لی ۔ یہ بات سن کر عبید اللہ بن زیاد نے اُسے قتل کر دیا۔ پھر کسی کو اُس کی بیٹی کے پاس بھیجا اور اسے بھی قتل کر دیا۔


عروہ کے بھائی کا خروج


کوفہ کے قید خانے میں عروہ بن ادریہ کا بھائی ابو بلال مرد اس بن اد یہ قید تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: عروہ کا بھائی ابو بلال مرداس بن اد یہ خوارج کے ساتھ عبد اللہ بن زیاد کی قید میں تھا۔ قید خانے کا نگران ( جیلر ) اُس کی عبادت وریاضت دیکھ کر اُسے رات کو گھر جانے کی اجازت دے دیتا تھا۔ مرد اس گھر چلا جاتا تھا اور صبح قید خانے میں واپس آجا تا تھا۔ مرد اس کے دوستوں میں سے ایک شخص عبید اللہ بن زیاد کی صحبت میں بیٹھتا تھا۔ ایک رات اُس نے دیکھا کہ ابن زیاد کے سامنے خوارج کا ذکر ہوا تو اُس نے ارادہ کر لیا کہ صبح انہیں قتل کر دے گا۔ وہ شخص وہاں سے سیدھے مرد اس کے پاس آیا اور بولا: " صبح عبد اللہ بن زیاد قیدخانے کے سب خوارج کو قتل کرنے والا ہے اس لئے تم قید خانے میں نہ جاؤ اور اپنا وصی کسی کو بنا دو تا کہ وہ قتل کیا جائے ۔ قید خانے کے نگران ( جیلر ) کو بھی اس بات کی خبر ہو گئی اور اُسے تشویش گزری کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مرد اس کو خبر ہو جائے اور وہ قید خانے میں واپس نہ آئے لیکن ابو بلال مرد اس بن اد یہ مقررہ وقت پر واپس قید خانے میں آگیا۔ جیلر نے اُس سے کہا: ”تمہیں معلوم ہے صبح تمہیں قتل کر دیا جائے گا ؟ اس نے کہا: ہاں ! مجھے معلوم ہے ۔ جیلر نے کہا: پھر بھی تم چلے آئے؟“ مرد اس نے کہا: ” تمہارے احسان کا بدلہ یہ نہیں ہو سکتا کہ اس کے بدلہ میں تمہیں سزا ملے ، صبح ہوتے ہی عبید اللہ بن زیاد نے قید خانے میں قید خوارج کو قتل کرنا شروع کر دیا ۔ مرد اس کو حاضر کیا گیا تو جیلر نے دوڑ کر ابن زیاد کے پیر پکڑ لیئے اور کہا: ”اس شخص کو بخش دو ۔ پھر سارا قصہ سنایا۔ عبید اللہ بن زیاد نے اُسے بخش دیا اور زندہ چھوڑ دیا۔ رہا ہوتے ہی مرد اس نے اپنے ساتھ چالیس خوارج کو جمع کیا اور اہواز میں جا کر خروج کیا۔ عبید اللہ بن زیاد نے ایک لشکر اب حصن تمیمی کی سپہ سالاری میں بھیجی۔ خوارج نے اُس کے ساتھیوں کو قتل کر کے اُسے شکست دی۔ اس سال کوفہ کا گورنر ضحاک بن قیس یا عبدالرحمن بن عبد اللہ ثقفی تھا اور بصرہ کا گورنر عبید اللہ بن زیاد تھا۔


سعید بن عاص کا انتقال


ن پھر بن عقبہ کوکونہ کی اس سال 58 ہجری میں سعید بن عاص کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : ” اس سال 58 ہجری میں سعید بن عاص بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف کا انتقال ہوا۔ سعید نے خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی گود میں پرورش پائی اور جس روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا اُس روز سعید بن عاص کی عمر نو (9) سال تھی۔ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سعید بن عاص کو مضافات کا گورنر بنایا تھا۔ خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے جب پوری ملت اسلامی میں بھیجنے کے لئے حضرت  ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے لکھوائے قرآن کی نقول تیار کرائیں تو سعید بن عاص کو فصاحت کی وجہ سے اُن نقول کے لکھنے والے باره اشخاص میں شامل ہیں جو قرآن حل کرتے اور اسے سکھاتے اور لکھتے تھے ۔ خلیفۂ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ولید بن عتبہ کو کوفہ کی گورنزی سے معزول کیا تو سعید بن عاص کو کوفہ کا گورنر بنایا۔ انہوں نے طبرستان، جرجان اور آذربائجان فتح کیا۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں سعید بن عاص غیر جانب دار رہے۔ پھر جب حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ حکمراں بنے تو دو بار سعید بن عاص کو مدینہ منورہ کا گورنر بنایا اور دو بار معزول کر کے مروان بن حکم کو گورنر بنایا۔ اس سال 58 ہجری میں مدینہ منورہ میں انتقال ہوا۔


شداد بن اوس کا انتقال


اس سال 58 ہجری میں شداد بن اوس کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: شداد بن اوس بن منذر بن حرام انصاری انصار کے قبیلہ بنو خزرج کے ہیں اور حضرت حسان بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے بھیجے ہیں۔ شداد بن اوس جب بھی بستر پر سونے جاتے تھے تو اُس پر یوں بیچ دبل کھاتے کیسے سانپ بیچ ویل کھاتا ہے اور فرماتے تھے: ”اے اللہ تعالیٰ ! بے شک مجھے دوزخ کے خوف نے مضطرب کر دیا ہے۔ پھر نماز کے لئے تیار ہو جاتے ۔ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” شداد ان لوگوں میں سے ہیں جنہیں علم اور حلم دیا گیا ہے ۔ شداد بن اوس فلسطین اور بیت المقدس میں رہائش پذیر ہو گئے تھے اور وہیں اِس سال 75 سال کی عمر میں انتقال ہوا۔ بعض کے قول کے مطابق 64 سال کی عمر میں انتقال ہوا اور بعض کے قول کے مطابق 41 سال کی عمر میں انتقال ہوا۔


عبداللہ بن عامر کا انتقال


اس سال 58 ہجری میں عبداللہ بن عامر کا انتقال ہوا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: عبد اللہ بن عامر بن کریز بن ربیعہ بن حبیب بن عبد شمس بن عبد مناف بن قصی خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے خالہ زاد بھائی ہیں۔ جب پیدا ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لعاب دہن اُن کے منہ میں ڈالا تھا اور جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لعاب دہن کو نگلنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بے شک یہ بہت سیراب ہے ۔ خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عامر کو حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے بعد بصرہ کا گورنر بنایا اور عثمان بن ابی العاص کے بعد پورے بلاد فارس ( عراق و ایران ) کا گورنر بنادیا۔ اُس وقت عبداللہ بن عامر کی عمر پچیس (25) سال تھی۔ اُس نے پورے خراسان، فارس کے اطراف سجستان، کرمان اور غزنی کو فتح کیا اور شہنشاہ کسری کا قتل بھی اسی دوران ہوا جس کا نام یزدگر دتھا۔ پھر عبداللہ بن عامر نے اسی علاقے سے اللہ کا شکر ادا کرنے کے لئے حج کا احرام باندھا اور اہل مدینہ میں بہت سا مال تقسیم کیا۔ عبداللہ بن عامر بصرہ میں ریشم پہننے والے پہلے شخص ہیں ۔ جب خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو عبد اللہ بن عامر بصرہ کے گورنر تھے۔ خلیفہ چہارم کے زمانہ خلافت میں کنارہ کشی اختیار کر لی پھر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے اپنے دور حکومت میں عبداللہ بن عامرکو بصرہ کا گورنر بنادیا۔ اس سال 58 ہجری میں میدان عرفات میں انتقال ہوا۔


حضرت عبد الرحمن بن ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 58 ہجری میں خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بیٹے حضرت عبد الرحمن بن ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عبد الرحمن اپنے والد محترم حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے سب سے بڑے بیٹے ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ اور ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا والدہ ام رومان رضی اللہ عنہا ہیں اور آپ رضی اللہ عنہ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے سگے بھائی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ غزوہ بدر میں مشرکین مکہ کے ساتھ تھے اور گرفتار ہوئے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے غزوہ بدر میں حملہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہمیں اپنے آپ سے فائدہ پہنچاؤ " آپ رضی اللہ عنہ کے والد محترم حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور بیٹے سے مقابلہ کیا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے اپنے والد محترم سے عرض کیا: ” ابو جان ! آپ رضی اللہ عنہ غزوہ بدر میں میری تلوار کی زد میں آگئے تھے لیکن میں نے والد کا احترام کرتے ہوئے آپ رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا ۔ “ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بیٹے! اگر تم میری تلوار کی زد میں ہوتے تو میں بیٹے کا لحاظ نہ کرتے ہوئے تمہیں قتل کر دیتا ۔ حضرت عبد الرحمن بن ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فتح مکہ سے قبل ہجرت کی اور اسلام قبول کیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت آپ رضی اللہ عنہ اپنی بہن سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو ہاتھ میں تازی مسواک تھی ۔ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے سینے کا سہارا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لئے ہوئے تھے ۔ آپ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تھامی ہوئی تازی مسواک کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت غور سے دیکھ رہے تھے ۔ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ مسواک کریں گے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاں میں سر ہلایا ۔ حضرت عبد الرحمن بن ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مسواک لیکر اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے چبا کر نرم کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسواک کی اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللھم الرفیق الاعلی اور وصال ہو گیا۔ حضرت عبد الرحمن بن ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جنگ یمامہ میں شریک تھے اور آپ رضی اللہ عنہ نے سات آدمیوں کو قتل کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے مسلیمہ کذاب کے باطل پرست دوست محکم بن طفیل کو جو اپنے باغ کی دیوار کے شگاف میں کھڑا تھا اور اپنے ساتھیوں کو بچانے کی کوشش کر رہا ایسا تیر مارا کہ وہ وہیں گر کر مر گیا اور مسلمان اس شگاف سے اندر داخل ہو کر مسلیمہ کذاب تک پہنچ گئے اور اُسے قتل کر دیا۔ حضرت عبد الرحمن بن ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یزید کی ولی عہدی کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور مکہ مکرمہ چلے گئے۔ وہیں 58 ہجری میں آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا۔


حضرت عبید اللہ بن عباس بن عبد المطلب کا انتقال


اس سال 58 ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی حضرت عبید اللہ بن عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عبید اللہ بن عباس بن عبد المطلب ہاشمی قریشی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ محترمہ سیدہ ام الفضل لبابہ بنت حارث ہیں۔ حضرت عبید اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بہت خوبرو اور سخی تھے اور خوبصورتی میں اپنے والدین کے مشابہ تھے۔ رسول اللہ صل اللہ علیہ سلم عبداللہ عبیداللہ اور کثیر کو ایک قطار میں کھڑا کرتے اور فرماتے تھے: ”جوسب سے پہلے میرے پاس آئے گا اسے یہ انعام ملے گا ۔ پس وہ سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دوڑتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے اور پشت مبارک پر بیٹھ جاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں چومتے رہتے اور اپنے گلے سے لگا لیتے تھے ۔ خلیفہ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں آپ رضی اللہ عنہ کو یمن کا گورنر مقرر کیا تھا اور آپ رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کو 36 ھ اور 37 ہجری کا حج کروایا۔ 


أم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا انتقال


اس سال 58 ہجری میں اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ بنت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے پیاری بیوی ہیں۔ ان کی سات آسمانوں کے اوپر سے پاکدامنی کی گواہی آئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا کے سوا کسی دوشیزہ سے نکاح نہیں کیا۔ یعنی تمام امہات المومنین رضی اللہ عنہا میں سے صرف اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہی کنواری تھیں باقی تمام امہات المومنین رضی اللہ عنہمایا تو بیوہ تھیں یا پھر طلاق شدہ تھیں ۔ واقعہ افک میں آپ رضی اللہ عنہا پر بہتان لگایا گیا تو اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں دس آیات آپ رضی اللہ عنہا کی پاکدامنی پر نازل فرمائی (جن کی پچھلے چودہ سو سال سے مسلمان تلاوت کر رہے ہیں ) ۔ آپ رضی اللہ عنہا کو یہ شرف حاصل ہے کہ وصال کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ رضی عنہا کے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری وقت میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ رضی اللہ عنہا کے لعاب دہن کو اکٹھا کر دیا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں ہی دفن ہوئے ۔ آپ رضی اللہ عنہا کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ اس اُمت کی سب سے بڑی عالمہ ہیں۔ امام زہری کہتے ہیں کہ اگر اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے علم کو تمام عورتوں کے علم سے ملا دیا جائے تو آپ رضی اللہ عنہا کا علم سب سے زیادہ اور افضل ہو گا۔ آپ رضی اللہ عنہا کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ عورتوں اور مردوں میں سے سب سے زیادہ احادیث روایت کی ہیں۔ صرف حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہا سے زیادہ احادیث روایت کی ہیں۔ صحیح بخاری میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مردوں میں سے بہت سے کامل ہوئے مگر عورتوں میں سے سیدہ مریم بنت عمران ،سیدہ خدیجہ بنت خویلد سیدہ آسیہ فرعون کی بیوی کے سوا کوئی کامل نہیں ہوا اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو عورتوں پر ایسی فضیلت حاصل ہے جیسے زید کو دوسرے کھانوں پر ہوتی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہا کا انتقال اس سال 58 ہجری میں ہوا اور بعض کا قول ہے کہ ایک سال پہلے ہوا اور بعض کا قول ہے کہ ایک سال بعد ہوا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے جنازے کی نماز پڑھائی اور آپ رضی اللہ عنہا کی وصیت کے مطابق رات کے وقت جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔ انتقال کے وقت آپ رضی اللہ عنہا کی عمر 67 سال تھی


ھ59 ہجری عبد الرحمن بن زیاد خراسان کا گورنر


اس سال 59 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے عبید اللہ بن زیاد کے بھائی عبدالرحمن بن زیاد کو خراسان کا گورنر بنایا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اس سال عبد الرحمن بن زیاد بن سمیہ کو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے خراسان کا گورنر بنایا۔ اس کا سبب یہ ہوا کہ عبد الرحمن بن زیاد ملک شام میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا: ”اے امیر المومنین! کیا میرا آپ پر کوئی حق نہیں ہے ؟ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں ضرور ہے ۔ اُس نے کہا: ” پھر کیا خدمت آپ مجھے دیتے ہیں؟“ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” کوفہ کا گورنر و عمان ہے جو ایک لائق شخص ہے اور عباد بن زیاد بجستان کو گورنر ہے اور عبید اللہ بن زیاد بصرہ اور خراسان کا گورنر ہے۔ ہاں مجھے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ تمہیں تمہارے بھائی عبید اللہ بن زیاد کے ساتھ شریک کر دوں ۔ “عبدالرحمن بن زیاد نے کہا: ” پھر مجھے اپنے بھائی کے ساتھ ہی شریک کر دیں کیونکہ اُس کے پاس وسیع ملک ہے اور اُس میں شرکت کی گنجائش بھی ہے ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے اُسے خراسان کی گورنری کی سند دے کر روانہ کر دیا۔ اُس نے اپنے سے آگے قیس بن ہیثم سلمی کو بھیجا جس نے خراسان کے گورنر اسلم بن زرعہ کو گرفتار کر کے قید کر لیا۔ اس کے بعد حضرت یزید کے حکمراں بنے تک عبدالرحمن بن زیاد خراسان کا گورنر رہا۔


عبید اللہ بن زیاد کی معزولی اور بحالی


اس سال میں عبید اللہ بن زیاد کی معزولی اور بحالی کا واقعہ پیش آیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اس سال ۵۹ ہجری میں عبید اللہ بن زیاد شرفائے عراق کو اپنے ساتھ لیکر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے عبید اللہ بن زیاد سے کہا کہ اپنے ساتھیوں کو اُن کی قدرومنزلت کے مطابق حاضر ہونے کا حکم دے۔ اُس نے سب لوگوں کو بلایا اور سب سے آخر میں حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ کو بلایا اور عید اللہ بن زیاد کے نزدیک اُن کی کوئی قدرو منزلت نہیں تھی۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ کو دیکھتے ہی اُٹھ کر خیر مقدم کیا اور اپنے تخت پر اپنے پاس بٹھایا ۔ اب لوگوں نے عرض و معروض شروع کی اور عبید اللہ بن زیاد کی سب نے تعریف کی۔ حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ خاموش بیٹھے رہے۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے ابا بکر (حضرت احف کی کنیت ) ! تم کیوں نہیں کچھ بول رہے ہو ؟ انہوں نے کہا: میں کچھ کہوں گا تو سب کے خلاف کہوں گا ۔“ یہ سنتے ہی حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” عبید اللہ بن زیاد کو میں نے معزول کر دیا اور اب تم سب اپنی مرضی کا گورنر ڈھونڈو۔“ حضرت معاویہ بن ابی سفیان کے حکم پر کوئی شخص ایسا نہیں تھا جو بنو امیہ یا اشراف اہل شام کے پاس نہ گیا ہو۔ سب لوگ جستجو میں مصروف تھے اور حضرت احنف بن قیس اپنی جگہ بیٹھے رہے اور کسی کے پاس نہیں گئے ۔ کچھ دن یونہی گزر گئے پھر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے سب کو جمع کیا اور فرمایا: تم لوگوں نے کیسے انتخاب کیا ؟ اُن لوگوں میں اختلاف ہو گیا اور اُن میں سے ہر فریق نے الگ الگ ایک ایک شخص کا نام لیا۔ اور صرف حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ کا موش بیٹھے رہے۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابابکر تم کیوں نہیں کچھ بولتے ؟ حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر اپنے خاندان والوں ( بنوامیہ ) میں سے ہی کسی کو گورنر بنانا ہے تو ہم عبد اللہ بن زیاد کے برابر کسی کونہیں سمجھتے اور اگر کسی غیر کو گورنر بنانا چاہتے ہو تو اچھی طرح سے سوچ سمجھ لو۔ یہ سن کر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے یہیں کر فرمایا: ”لو میں عبید اللہ بن زیاد کو ہی تمہارا گورنر مقرر کرتا ہوں ۔ اور یہ کہا کہ احنف کے سوا کوئی بھی عبید اللہ بن زیاد کا دوست نہیں نکلا۔


ھ59 ہجری کے گورنر کے


اس سال 59 ہجری کے اختتام پر مملکت اسلامیہ کے زیادہ تر گورنر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے رشتہ دار تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اس سال 59 ہجری میں عثمان بن محمد بن ابی سفیان امیر حج تھا اور مدینہ منورہ کا گورنر ولید بن عقبہ بن ابی سفیان تھا۔ کوفہ کے گورنر حضرت نعمان بن بشیر تھے۔ بصرہ کا گورنر عبید اللہ بن زیاد تھا۔ خراسان کا گورنر عبدالرحمن بن زیاد تھا اور بجستان کا گورنر عباد بن زیاد تھا۔ کرمان عبید اللہ بن زیاد کے ماتحت تھا اور اُس نے شریک بن اعور کو وہاں کا گورنر بنایا تھا۔ 


ھ52 ہجری سے لیکر 60 ہجری تک کی بیرونی مہمات


ھ52 ہجری تک ہم نے بیرونی مہمات کا ذکر کیا تھا اس کے بعد سے لیکر 60 ہجری تک کی بیرونی مہات کا مختصر ذکر پیش کر رہے ہیں۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: 52 ہجری میں بشر بن اراطا سرزمین روم میں اعلاء کلمۃ اللہ جہاد کرتے ہوئے داخل ہوئے ۔ ایام سرما وہیں گزارے بعض کا بیان ہے کہ واپس آئے۔ اس ہی دنوں میں واجس پر سفیان بن عوف از دی بھی اترے ہوئے تھے اور انہوں نے بھی ایام سرما اس سرزمین پر گزارے اور یہیں انتقال بھی کیا۔ لشکر صائفہ کی سر کردگی کرتے ہوئے محمد بن عبداللہ ثقفی نے بلا دروم پر لشکر کشی کی ۔ اس کے بعد 53 ہجری میں عبد الرحمن بن حکم سرزمین روم میں جہاد کرتے ہوئے داخل ہوئے ۔ اسی سال میں جنادہ بن ابی امیہ ازدی نے جزیره رودس کو جنگ کے ذریعہ فتح کیا اور وہیں ڈیرے ڈال دیئے جس کی وجہ سے رومیوں کو بہت صدمہ ہوا۔ آئے دن یہ اُن کی کشتیاں گرفتار کر لیتے تھے اور حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ انہیں انعام واکرام دیا کرتے تھے۔ رفتہ رفتہ مسلمانوں سے رومی ڈرنے لگے اور جب حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا تو یزید نے ہجری میں اُن کو جزیره رودس سے واپس بلا لیا۔ ۵۳ ہجری میں محمد بن مالک مملکت روم میں داخل ہوا اور شکر صائفہ پر ( معن بن یزید سلمی کو مامور کیا۔ اسلامی لشکر نے جنادہ بن امیہ کی قیادت میں جزیرہ از دی (ارداد) جو قسطنطنیہ سے متصل ہے فتح کیا۔ سات سال اس پر قابض رہے اس کے بعد یزید نے ہجری میں اُن سب کو واپس بلالیا۔ 55 ہجری میں سفیان بن عوف از دی اور بعض علماء کے مطابق عمر بن محرز اور بعض کے مطابق عبد اللہ بن قیس اور 56 ہجری میں جنادہ بن ابی امیہ اور بعض مورخین کے مطابق عبد الرحمن بن مسعود اور بعض کے مطابق دریا کے راستے یزید بن ابی سمرہ نے اور خشکی پر عیاض بن حارث نے جہاد کیا 57 ہجری میں عبداللہ بن قیس، مالک بن عبداللہ شعمی نے ارض روم پر خشکی پر اور عمر بن زید چمنی نے دریا کے راستے جہاد کیا 58 ہجری میں عمر بن مرة اجمنی نے خشکی سے اور جنادہ بن ابی امیہ نے دریا کے راستے رومیوں پر حملہ کیا۔ اسی سال میں عمیر بن حباب کی زیر قیادت اسلامی لشکر نے قلعہ کنج (بلا دروم) پر حملہ کیا اور میر بن حباب تن تنہا اس قلعے کی فصیل پر چڑھ گئے اور پہرے داروں کو قتل کر کے قلعے کا دروازہ کھول دیا اور اسلامی لشکر نے قلعے پر قبضہ کر لیات ہجری میں مالک بن سویہ نے خشکی سے اور جنادہ بن ابی اُمیہ نے دریا کے راستے رومیوں سے جہاد کیا۔


حضرت عبد اللہ بن مالک بن قشب کا انتقال


اس سال 59 ہجری میں حضرت عبد اللہ بن مالک بن قشب رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: آپ رضی اللہ عنہ کا نام جندب بن نصلہ بن عبداللہ بن رافع از دی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو محمد ہے اور آپ رضی اللہ عنہ بنوعبدالمطلب کے حلیف ہیں اور ابن حسینہ کے نام سے مشہور ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ محتر نہ حسینہ بنت ارت ہیں اور نام حارث بن عبد المطلب بن عبد مناف ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے بہت پہلے اسلام قبول کیا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ بڑے عبادت گزار اور روزے دار تھے اور آپ رضی اللہ عنہ اُن لوگوں میں سے تھے جو تمام عمر لگا تار روزے رکھتے تھے۔ امام ابن سعد نے بیان کیا کہ آپ رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ سے تین میل کے فاصلے پر وادی ریم میں اترا کرتے تھے اور آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال 53 ہجری سے 58 ہجری کے درمیان مروان بن حکم کے دوسری مرتبہ گورنر بنے کے بعد ہوئی اور عجیب بات ہے کہ امام ابن جوزی نے امام محمد بن سعد کے اس کلام کو نقل کیا اور پھر آپ رضی اللہ عنہ کے انقال کا سنہ 59 هجری بیان کیا ۔ واللہ اعلم ۔


حضرت قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کا انتقال 


اس سال 59 ہجری میں حضرت قیس بن سعد بن عبادہ خزرجی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : آپ رضی اللہ عنہ اپنے والد محترم حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی طرح ایک جلیل القدر صحابی ہیں۔ صحیحین میں آپ رضی اللہ عنہ کی ایک حدیث جنازہ کے لئے کھڑا ہونے کے بارے میں ہے نیز المسند میں ایک حدیث عاشورہ کے روزے کے بارے میں ہے اور آپ رضی اللہ عنہ کے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فضل کرنے کے بارے میں بھی ایک حدیث ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے دس سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی اور صحیح بخاری میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں وہی مقام حاصل تھا جو ہمارے یہاں سپرنٹنڈنٹ پولیس کو حاصل ہوتا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے بعض غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا اُٹھایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو صدقہ کا امیر مقرر کیا تھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کی زیر قیادت تین سو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ایک لشکر بھیجا تو انہیں سخت بھوک نے آلیا تو حضرت قیس بن سعد رضی اللہ عنہ نے اُن کے لئے نو اونٹ ذبح کر دیے یہاں تک کہ انہیں ساحل سمندر پر ایک بہت بڑی مچھلی ملی اور اُسے ایک مہینے تک کھایا اور وہیں قیام کیا حتی کہ وہ سب فربہ ہو گئے ۔ حضرت قیس بن سعد رضی اللہ عنہ شجاع، کریم اور قابل تعریف سردار تھے۔ خلیفہ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو ملک مصر کا گورنر بنایا تو آپ رضی اللہ عنہ نے نہایت دانشمندی اور حیلہ گری اور سیاست سے حضرت معاویہ بن ابی سفیان اور حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم کا مقابلہ کیا کرتے تھے۔


حضرت معقل بن یسار مزنی رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 59 ہجری میں حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت معقل بن یسار مزنی رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں۔ آپ رضی اللہ عن صلح حدیبیہ میں اور بیعت رضوان میں شامل تھے اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بیعت لے رہے تھے تو آپ رضی اللہ عنہ ہی درخت کی شاخوں کو رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے ہٹا ر ہے تھے اور وہ بول کا درخت تھا۔ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں آپ رضی اللہ عنہ کو بصرہ کا گورنر بنایا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے وہاں ایک نہر کھدوائی جو نہر معقل“ کے نام سے مشہور ہے اور بصرہ میں آپ رضی اللہ عنہ کی حویلی بھی ہے۔ حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جب حضرت معقل بن سیار رضی اللہ عنہ ” مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو عبید اللہ بن زیاد اُن کی عیادت کرنے آیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے عبید اللہ بن زیاد سے فرمایا: "میں تجھ سے ایک ایسی حدیث بیان کرتا ہوں جو میں اگر اچھی حالت میں ہوتا نہیں بیان کرتا۔ وہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے اللہ تعالیٰ اپنی رعیت کا رکھوالا بنائے اور وہ اُن کی خیر خواہی اور اُن کی صحیح دیکھ بھال نہ کرے تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا اور بے شک جنت کی خوشبو ایک سو (100) سال کی مسافت سے محسوس ہوتی ہے۔“

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!

 

Saltanat e Umayya part 09

 09 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 9

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا انتقال، سب سے زیادہ احادیث کے راوی، آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ کا قبول اسلام، یادداشت تیز ہوگئی، رات کے تین حصے، ھ60 ہجری: حضرت معاویہ بن ابی سفیان کی وصیت، مرض الموت، حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا انتقال، یزید جنازے میں شریک نہیں ہوا، یزید مملکت اسلامیہ کا بادشاہ، یزید کا ولید بن عقبہ کو حکم، مروان بن حکم کا مشورہ، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا بلاوا، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا بلاوا، یزید کی حکمرانی کے لئے بیعت طلبی، مروان بن حکم کی گستاخی، حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی مکہ مکرمہ روانگی



حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 59 ہجری میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ سے سب زیادہ احادیث مروی ہیں۔ آپ رضی اللہ عند اکثر فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ ! مجھے ساٹھ ہجری کے آنے سے پہلے اپنی بارگاہ میں بلالے کیونکہ ساٹھ 60 ہجری میں بہت بڑا فتنہ برپا ہونے والا ہے۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے نام کے بارے میں علمائے کرام میں بہت اختلاف ہے۔ (ابو ہریرہ کنیت ہے )۔ سب سے زیادہ مشہور روایت کے مطابق آپ رضی اللہ عنہ کا نام ” عبد الرحمن بن صحر“ ہے اور آپ رضی اللہ نہ قبیلہ ازد کی شاخ بنو دوس سے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے بچپن میں ایک جنگلی بلی دیکھی تو اُس کے بچوں کو اُٹھا کر لے آیا۔ میرے والد نے مجھ سے پوچھا کہ تیری گود میں کیا ہے؟ میں نے بتایا کہ یہ بلی کے بچے ہیں تو میرے والد نے کہا: تو ابوہریرہ (بلی کا باپ ) ہے ۔ اور صحیح میں روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ سے فرمایا : یا ابا ھر اور ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا ابا ہریرہ“ آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ محترمہ کا نام میمونہ بنت صحیح بن حارث بن ابی صعب بن ہبتہ بن ثعلبہ ہے۔ انہوں نے اسلام قبول کیا۔


سب سے زیادہ احادیث کے راوی


حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے قبیلے کے سردار حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ کی دعوت پر اسلام قبول کیا اور پھر اُن کے ساتھ مدینہ منورہ ہجرت کر کے آئے۔ اُس وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ خیبر پر کئے ہوئے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خیبر میں سید الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث بیان کی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ حفاظ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق ، حضرت عمر فاروق ، حضرت اسامہ بن زید، حضرت نضرة بن ابي نضرة ، حضرت فضل بن عباس، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہم اور ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے سے بھی روایت بیان کیں ہیں ۔ امام بخاری کے مطابق آپ رضی اللہ عنہ سے تقریباً آٹھ سو صحابہ اور تابعین نے روایت کی ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے غزوہ خیبر کے سال میں اسلام قبول کیا اور رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں غزوہ خیبر میں لوگوں کے جنگ سے فارغ ہونے کے بعد آیا۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے باہر گئے ہوئے تھے اور حضرت سباع بن عرفہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ میں اپنا نائب بنا کر گئے تھے ۔ میں مدینہ منورہ آیا تو میں نے صبح کی نماز حضرت سباع بن عرفہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے پڑھی۔ انہوں نے پہلی رکعت میں اور مریم اور دوسری رکعت میں ویل للمطفین پڑھی ۔ میں نے دل اور اور میں اپنی قوم کے ایک شخص کے بارے میں سوچا جوناپنے کے دو آلے رکھتا تھا۔ ایک سے وہ لینے کے وقت نا پتا تھا اور دوسرے سے دینے کے وقت نا پتا تھا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد آپ رضی اللہ نہ زیادہ تر وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کو حدیث سننے اور سمجھنے کی بہت رغبت تھی۔


آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ کا قبول اسلام


حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی والدہ کے قبول اسلام کا واقعہ خود حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : مسند احمد بن حنبل میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میری والدہ محترمہ نے اسلام قبول نہیں کیا تھا اور میں انہیں اسلام کی دعوت اکثر دیا کرتا تھا اور وہ میری بات نہیں مانتی تھیں۔ ایک روز انہوں نے مجھے اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کچھ ایسی باتیں کہہ دیں جنہیں میں پسند نہیں کرتا تھا تو میں روتا ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اپنی والدہ کو اکثر اسلام کی دعوت دیتا ہوں آج میں نے انہیں اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے اسلام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ایسی باتیں کیں کہ مجھے رونا آگیا ہے۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری والدہ محترمہ کے لئے اللہ سے دعا فرما ئیں کہ وہ انہیں ہدایت دیدے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی: ”اے اللہ! ابو ہریرہ کی والدہ کو ہدایت عطا فرمادے ۔ میں دوڑتا ہوا باہر نکلا کہ اپنی والدہ محترمہ کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے بارے میں بشارت دے دوں۔ جب میں اپنے گھر کے دروازے پر آیا تو دیکھا کہ دروازہ بند ہے ۔ میں نے اپنی والدہ محترمہ کو آواز دی تو انہوں نے اندر سے کہا: ”اے ابو ہریرہ ! تھوڑی دیر کو کچھ دیر بعد انہوں نے دروازہ کھولا اور تو میں نے دیکھا کہ انہوں نے اپنا ڈوپٹہ اوڑھا ہوا تھا اور بولیں: میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں گواہی دیتی ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں ۔ میں جس طرح غم کے باعث پہلے روتا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا اسی طرح  خوشی سے روتا ہوا اب حاضر ہوا اور عرض کیا: "یا رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کو قبول فرمالیا ہے اور میری والدہ محترمہ نے اسلام قبول کر لیا ہے ۔ پھر میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ مجھے اور میری والدہ محترمہ کو مومن بندوں کا محبوب بنادے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: ”اے اللہ! ابو ہریرہ اور اس کی والدہ محترمہ کو اپنے مومن بندوں کا محبوب بنا دے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ آگے بیان کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے جس مومن کو بھی پیدا کیا ہے اور وہ میرے متعلق اور میری ماں کے متعلق سنتا ہے اور مجھے اور میری ماں کو دیکھتا ہے یا نہیں دیکھتا ہے پھر بھی مجھ سے اور میری ماں سے محبت کرتا ہے ۔ ( مسند احمد بن حنبل) صحیح مسلم میں دوسرے راوی نے یہ حدیث بیان کی ہے۔


یادداشت تیز ہوگئی


حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے سب سے زیادہ احادیث بیان کی ہیں۔ اس کی کئی وجہ تھیں ۔ پہلی وجہ یہ کہ آپ رضی اللہ عنہ کی یاداشت بہت اچھی تھی ۔ دوسری وجہ یہ کہ آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کرنے کے بعد زیادہ تر وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزارا تیسری وجہ یہ کہ ۵۹ ہجری تک آپ رضی اللہ عنہ زندہ رہے اور بہت زیادہ تابعین سے ملاقات کی اور انہیں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث بیان کیں۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت سی احادیث سنتا ہوں اور انہیں بھول جاتا ہوں ۔ “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی چادر پھیلاؤ میں نے اپنی چادر پھیلا دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اب اسے لپیٹ لو ۔ میں نے اسے لپیٹ لیا تب سے میں کوئی حدیث نہیں بھولا۔ ( صحیح بخاری ) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے تابعین سے فرمایا: ”تم خیال کرتے ہو کہ ابو ہریرہ رسول اللہ صل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت زیادہ احادیث بیان کرتا ہے۔ دراصل میں کمانے کھانے کی فکر چھوڑ کر ہر وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر رہتا تھا جبکہ مہاجرین رضی اللہ عنہم بازاروں میں تجارت میں اور انصار رضی اللہ عنہم اپنی زمینوں کی دیکھ بھال اور زراعت میں مصروف رہتے تھے ۔ ایک روز میں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص میری بات ختم ہونے تک اپنی چادر پھیلائے رکھے گا اور پھر اسے لپیٹ لے گا تو وہ مجھ سے سنی ہوئی کسی بات کو ہر گز نہیں بھولے گا ۔ پس میں نے اپنی چادر پھیلا دی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات مکمل کر لی پھر میں نے اپنی چادر کو لپیٹ لیا اللہ کی تم اس کے بعد سے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ بھی سنا اسے کبھی نہیں بھولا ۔ ( مسند احمد بن حنبل ) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے علاوہ کوئی شخص مجھ سے زیادہ احادیث روایت کرنے والا نہیں تھا ، حضرت عبد اللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ حدیث کولکھ لیا کرتے تھے اور میں یاد کر لیا کرتا تھا۔“


رات کے تین حصے


حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی رات کو تین حصوں میں تقسیم کر رکھا تھا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: ” حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو صدق ، حفظ ، دیانت ، عبادت، زہد، اور عمل صالح میں بڑا مقام حاصل تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ ایک تہائی شب قیام کرتے تھے اور پھر اُن کی بیوی ایک تہائی شب قیام کرتی تھی اور پھر اُن کی بیٹی ایک تہائی شب قیام کرتی تھی ۔ صحیحین میں آپ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ : ”مجھے میرے خلیل نے ہر مہینے تین دن روزے رکھنے کی اور چاشت کی نماز کی دورکعت پڑھنے اور سونے سے پہلے وتر پڑھنے کی وصیت کی ہے ۔ " حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں رات کے تین حصے کرتا ہوں۔ ایک حصہ قرآن پاک کی تلاوت اور سمجھنے میں لگا تا ہوں ۔ ایک حصے میں سوتا ہوں اور ایک حصے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو یاد کرنے (آموختہ کرنے ) میں گزارتا ہوں ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں ہر روز اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بارہ ہزار (12,000) مرتبہ تو بہ واستغفار کرتا ہوں اور یہ میری دیت کے برابر ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک دھاگا تھا جس میں بارہ ہزار (12,000) گر ہیں تھیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ سونے سے پہلے اس کے ذریعہ تسبیح کرتے تھے اور ایک روایت میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کے دھاگے میں ایک ہزار (1,000) گر ہیں تھیں اور آپ رضی اللہ عنہ اس کے ساتھ تسبیح کئے بغیر سوتے نہیں تھے ۔ جب آپ رضی اللہ عنہ کے انتقال کا وقت قریب آیا تو رونے لگے۔ لوگوں نے پوچھا کہ کیوں روتے ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اس دنیا پر نہیں رورہا ہوں بلکہ اپنے سفر ( آخرت ) کی دوری اور اپنے زاد (اعمال) کی کمی پر رورہا ہوں اور میں جنت اور دوزخ کی ترائی اور چڑھائی میں ہوں اور مجھے نہیں معلوم کہ مجھے پکڑ کر کس طرف لے جایا جائے گا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب تم اپنی مساجد کو نقش و نگار سے مزین کرو گے اور اپنے مصاحف کو آراستہ کرو گے تو تم پر ہلاکت آئے گی۔ 


ھ60 ہجری: حضرت معاویہ بن ابی سفیان کی وصیت


اس سال 60 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے یزید کے لئے وصیت لکھوائی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: جب حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی موت کا وقت قریب آیا اور یہ واقعہ 60 ہجری کا ہے اور یزید اس وقت موجود نہیں تھا تو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے اپنے صاحب شرط ضحاک بن قیس فہری کو اور مسلم بن عقبہ کو بلوایا اور ان دنوں شخصوں سے وصیت کی اور کہا: ” میری وصیت یزید کو پہنچا دینا کہ اہل حجاز کے حال پر نظر رکھنا وہ تیری قوم کے لوگ ہیں۔ اُن میں سے جو کوئی تیرے پاس آئے اُس کا اکرام کرنا اور جو دور ہوں اُن کا خیال رکھنا اور اہل عراق کے حال پر نظر رکھنا۔ اگر تجھ سے روز روز وہ سوال کریں کہ اُن کے حاکم کو بدل دے تو بدل دیا کرنا۔ اُن کو ہمراز اور دم ساز بنائے رکھنا۔ اگر دشمن کی طرف سے کوئی مہم درپیش ہو تو اُن کے ذریعہ سے انتقام لینا۔ جب ظفر مند ہو جانا تو اہل شام کو اُن کے وطن کی طرف واپس کر دینا۔ غیر شہروں میں وہ رہیں گے تو وہیں کی باتیں سیکھیں گے اور قریش میں سے تین شخصوں کے سوا مجھے کسی کا خوف نہیں ہے (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) ، (حضرت) عبد اللہ بن عمر فاروق (رضی اللہ عنہ ) اور (حضرت) عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ) ۔ عبد اللہ بن عمر فاروق (رضی اللہ عنہ ) کو تو دینداری نے مارا ہے وہ تجھ سے کسی بات کا طلب گار نہیں ہوگا۔ ( حضرت ) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) سبک وضع آدمی ہے اور مجھے امید ہے کہ جن لوگوں نے اُس کے باپ کو قتل کیا ہے اور اُس کے بھائی کا ساتھ چھوڑ دیا ہے اللہ انہیں لوگوں کے ذریعہ سے تجھے حسین بن علی (رضی اللہ عنہ) کی فکر سے نجات دے گا اور اس میں شک نہیں ہے کہ اُس کو قربت قربیہ حاصل ہے۔ بہت بڑا حق ہے اُس کا اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے یگانوں کا ۔ میرا گمان ہے کہ اہل عراق اُس کو خروج پر آمادہ کئے بغیر نہیں چھوڑیں گے اُس پر قابو پانا تو معاف کر دینا ۔ میرے پاس کوئی ایسا شخص آتا تو میں بھی معاف ہی کر دیتا۔ ہاں عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ) پر فریب اور کینه توز ہے۔ اُس کے مقابلہ کے لئے تیار رہنا۔ اگر وہ صلح کا طالب ہو تو مان لیتا۔ جہاں تک تجھ سے ممکن ہو سکے اپنی قوم میں خونریزی نہیں ہونے دینا۔


مرض الموت


اس سال 60 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ جب آپ رضی اللہ عنہ اس بیماری میں مبتلا ہوئے جس میں آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو لوگوں نے کہا کہ یہ مرض الموت ہے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں ؛ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو جب مرض الموت ہوا تو لوگ کہنے لگے یہ مرض الموت ہے تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر والوں سے کہا: ” میری آنکھوں میں سرمہ لگا دو اور میرے سر میں تیل ڈال دو۔ ایسا ہی کیا گیا اور تیل لگا کر اُن کا چہرہ چکنا کر دیا گیا۔ اس کے بعد اُن کے لئے فرش ( دری یا چٹائی یا قالین بچھا دیا گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: ” مجھے تکیہ لگا کر بٹھا دو اور لوگوں کو بلاؤ اور کہنا کہ کھڑے کھڑے سلام کریں اور کوئی بیٹھے نہیں ۔ “ لوگ آتے تھے کھڑے کھڑے سلام کرتے تھے دیکھتے تھے کہ سرمہ لگائے ہوئے ہیں اور تیل ڈالے ہوئے ہیں تو کہتے کہ ہم سنتے تھے کہ اُن کا آخری وقت ہے جبکہ یہ تو سب سے زیادہ تندرست ہیں ۔ جب سب لوگ باہر چلے گئے تو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” جہاں انسان موت کے پنجہ میں آیا تو پھر میں نے دیکھا کہ کوئی تعویذ نفع نہیں بخشتا ۔“


حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 60 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا اسی مرض میں انتقال ہو گیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو کھنکار میں خون آنے لگا اور اسی میں انتقال ہوا ۔ اس مرض میں آپ رضی اللہ عنہ کی دونوں بیٹیاں انہیں کروٹ بدلواتی تھیں ۔ انہوں نے اپنی دونوں بیٹیوں سے فرمایا: ” تم اُس شخص کو اُلٹ پلٹ کر رہی ہو جو دنیا کو الٹ پلٹ کرنے میں اُستاد تھا ۔ شباب سے لیکر بڑھاپے تک مال جمع کیا پتہ نہیں جنت میں جائے گایا۔ اس کے بعد فرمایا: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی ایک قمیص پہنے کے لئے دی تھی۔ میں نے اسے سنبھال کر رکھا ہوا ہے اور ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناخن تراشے تھے تو میں نے وہ کترن اُٹھالی تھی اور اسے ایک شیشی میں سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔ جب میرا انتقال ہو جائے تو وہ قمیص مجھے کفن کے طور پر پہنا دینا اور اس کترن کو ریزہ ریزہ کر کے میری آنکھوں میں اور میرے منہ میں چھڑک دینا۔ اُمید ہے کہ ان کی برکت سے اللہ تعالیٰ مجھ پر رحم فرمائے گا۔ اس کے بعد بے ہوشی طاری ہوگئی ۔ پھر ہوش آیا تو جو لوگ موجود تھے اُن سے فرمایا: اللہ سے ڈرتے رہو، جو کوئی اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے تو اللہ سے محفوظ رکھتا ہے اور جو کوئی اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا ہے تو اُسے کوئی بچا نہیں سکتا ہے ۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا۔ ولید نے امام زہری سے خلفاء کے سن کو پوچھا تو انہوں نے کہا کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا انتقال پچھتر (75) سال کی عمر میں ہوا۔ ولید نے کہا واہ واہ کیا عُمر تھی ۔ ایک روایت میں تہتر (73) ایک اور روایت میں اٹھہتر (78) اور ایک روایت میں پچاسی (85) سال کی عمر میں انتقال ہوا۔


یزید جنازے میں شریک نہیں ہوا


حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے انتقال کے وقت یزید وہاں موجود نہیں تھا اور جب وہ آیا تو اُس کے والد کو دفن کیا چکا تھا علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے انتقال کے وقت یزید موجود نہیں تھا۔ ضحاک بن قیس فہری نے نماز جنازہ پڑھائی۔ آپ رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد ضحاک بن قیس با ہر نکل کر آیا اور اس نے اپنے دونوں ہاتھوں میں وہ قمیص رکھی ہوئی تھی جس کا کفن بنانے کا آپ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا تھا۔ وہ منبر پر گیا اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرنے کے بعد کہا کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ عرب کے سردار تھے اور اُن سے عرب کی شان و شوکت تھی۔ اللہ تعالٰی نے اُن کے ذریعے فتنہ و فساد و قطع کیا اور اپنے بندوں کا بادشاہ بنایا اور اُن کے ہاتھوں ملک فتح ہوئے۔ سنو اُن کا انتقال ہو گیا ہے دیکھو یہ اُن کا کفن ہے۔ یہی کفن اب ہم انہیں پہنادیں گے اور انہیں قبر میں سلا دیں گے اور انہیں اُن کے اعمال کے ساتھ چھوڑ دیں گے پھر قیامت تک برزخ کا زمانہ ہو گا۔ تم لوگوں میں سے جو بھی جنازہ اور کفن دفن میں شامل ہونا چاہے وہ پہلی نماز کے وقت حاضر ہو جائے ۔ یزید مقام حوارین میں تھا۔ اُسے اُس کے والد کی بیماری کا حال لکھ کر بھیج دیا گیا تھا لیکن وہ اُس وقت آیا جب آپ رضی اللہ عنہ کو دفن کیا جا چکا تھا۔ قبر پر جا کر اس نے دعا پڑھی پھر گھر واپس آیا۔


باب نمبر 2 


یزید کا دور حکومت


یزید مملکت اسلامیہ کا بادشاہ


حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد یزید مملکت اسلامیہ کا بادشاہ بنا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: ماہ رجب المرجب 60 ہجری میں یزید مملکت اسلامیہ کا بادشاہ بنا۔ اس کی پیدائش 26 ہجری میں ہوئی اور جس روز اُس کی بیعت کی گئی اُس کی عمر تئیس (23) سال کچھ مہینے تھی۔ اس نے اپنے باپ کے گورنروں کو برقرار رکھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اسی سال 60 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد یزید سے لوگوں نے بیعت کی۔ یہ واقعہ ماہ رجب المرجب کی پندرہویں یا بائیسویں تاریخ کا ہے۔ یزید جس وقت حکمراں بنا اُس وقت عبید اللہ بن زیاد بصرہ کا گورنر تھا، نعمان بن بشیر کوفہ کے گورنر تھے۔ مدینہ منورہ کا گورنر ولید بن عقبہ بن ابوسفیان تھا اور مکہ مکرمہ کا گورنر عمر بن سعید بن عاص تھا۔ حکمراں بننے کے بعد سب سے پہلے اُسے جو فکر ہوئی وہ یہ کہ جن لوگوں نے اُس کی ولی عہدی کی بیعت نہیں کی تھی اُن لوگوں سے حکمرانی کی بیعت لی جائے اور اُن کی طرف سے فراغت حاصل کی جائے۔


یزید کا ولید بن عقبہ کو حکم


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ، حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے یزید کی ولی عہدی کی بیعت نہیں کی تھی۔ یزید نے حکمراں بننے کے بعد سب سے پہلا حکم مدینہ منورہ کے گورنر ولید بن عقبہ بن ابی سفیان کو جاری کیا کہ وہ ان چاروں حضرات رضی اللہ عنہم سے بیعت لے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اسی بناء پر یزید نے ولید بن عقبہ کو یہ خط لکھا: بسمہ اللہ الرحمن الرحیم ۔ امیر المومنین یزید کی طرف سے ولید بن عتبہ کو معلوم ہو کہ معاویہ رضی اللہ عنہ اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ تھے ۔ اللہ نے اُن کو کرامت و خلافت و عطا یا حکومت سے سرفراز کیا تھا۔ جتنی عمر اُن کی لکھی ہوئی تھی اس وقت تک وہ زندہ رہے اور جب مدت پوری ہو گئی تو مر گئے ۔ اللہ اُن پر رحم کرے کہ زندگی بھر لائق ستائش رہے اور نیکو کار و پر ہیز گار ہو کر مرے۔ والسلام ۔ ایک اور رقعہ میں اُسے لکھا کہ حضرت حسین بن علی عبد اللہ بن عمر فاروق اور عبداللہ بن زبیر سے بیعت لینے میں تشددکرواور جب تک بیعت نہ کر لیں انہیں ذرا بھی مہلت نہ دو۔“


مروان بن حکم کا مشورہ


حضرت حسین بن علی وغیرہ سے اپنی حکمرانی کی بیعت لینے کا حکم یزید نے ولید بن عقبہ کو دیا تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت معاویہ بن ابی سفیان کے انتقال کی خبر سے ولید بن عتبہ کو تشویش ہو گئی اور اُس نے مروان بن حکم کے پاس کسی کو بھیج کر بلوایا۔ ولید بن عتبہ جس روز مدینہ منورہ کا گورنر بن کر آیا اور مروان بن حکم کو معزولی کا حکم نامہ دیا تھا تو اس نے ولید کو گالیاں دی تھیں اور پھر اُس سے ملنا ترک کر دیا تھا اور قطع تعلق کر لیا تھا۔ ولید کو جب اُن لوگوں سے بیعت لینے کا حکم ہوا تو اس نے مروان بن حکم سے مشورہ کرنا ضروری سمجھا اور اُسے بلا بھیجا۔ جب اُس نے یزید کا خط مروان بن حکم کو پڑھ کر سنایا اور بیعت لینے کے حکم کے بارے میں بتایا اور اس سے مشورہ مانگا اور پوچھا: ” تمہاری کیا رائے ہے کہ ہم کو کیا کرنا چاہیئے ؟ مروان بن حکم نے کہا: ”میری رائے یہ ہے کہ اسی وقت اُن لوگوں کو بلا بھیجو۔ جب وہ آئیں تو اُن سے یزید کی بیعت اور اطاعت گزاری کا اقرار لے لو۔ اگر وہ مان جائیں تو تم بھی مان جانا اور اگر انکار کریں تو سب کی گردن مار دینا ۔ اُن کو معاویہ بن ابی سفیان کے مرنے کی خبر نہ ہونے پائے۔ اگر انہیں یہ بات معلوم ہوگئی کہ معاویہ بن ابی سفیان مرگئے ہیں تو اُن میں سے ہر شخص کسی طرف سے کھڑا ہوگا ور مخالفت و مقابلہ پر کمر باندھ لے گا اور کیا معلوم کہ کہ لوگوں کو اپنی اطاعت پر آمادہ کرے لیکن عبد اللہ بن عمر کو میں نہیں سمجھتا کہ جدال و قتال کو پسند کریں گے یا حکومت کی اُن کو خواہش ہو۔ ہاں بن مانگے یہ حکومت اُن کے سر ڈال دی جائے تو اور بات ہے۔“


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا بلاوا


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو بلانے کے لئے ولید بن عتبہ نے اپنا ایک آدمی بھیجا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: ولید بن عقبہ نے عبداللہ بن عمر بن عثمان نام کے ایک نوجوان کو دو شخصوں (حضرت حسین بن علی اور حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم) کو بلانے کے لئے بھیجا ۔ اُس نے اُن دونوں کو مسجد میں پایا تو اُس نے اُن دونوں سے کہا: ”امیر ولید بن عتبہ نے آپ دونوں کو بلایا ہے ۔ یہ وقت ایسا تھا کہ ولید بن عتبہ اس وقت لوگوں سے نہیں ملتا تھا۔ دونوں نے جواب دیا: ” تم جاؤ! ہم ابھی آتے ہیں ۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اب حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا : ” اس وقت تو ولید کسی سے ملتا نہیں ہے، آپ بتائیے کہ کیوں ہم کو بلایا ہے؟ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں سمجھتا ہوں کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ہے اور ہم کو اسی لئے بلا بھیجا ہے کہ اس خبر کے فاش ہونے سے پہلے ہی ہم سے بیعت لے لی جائے ۔ “ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں بھی یہی سمجھتا ہوں ۔ پھر عرض کیا: ” اب آپ رضی اللہ عنہ کا کیا ارادہ ہے؟ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” اپنے جوانوں کو لیکر ولید کے پاس جاؤں گا ، دروازے پر انہیں روک دوں گا اور خود اُس کے پاس جاؤں گا ۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ” اگر آپ رضی اللہ عنہ اس کے پاس گئے تو مجھے آپ رضی اللہ عنہ کی جان کا اندیشہ ہے۔“ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” میں اس طرح جاؤں گا کہ نکل بھی سکوں۔ یہ فرما کر آپ رضی اللہ عنہ اُٹھ کھڑے ہوئے۔


یزید کی حکمرانی کے لئے بیعت طلبی


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ مسجد میں اُٹھ کر اپنے گھر والوں اور خاندان والوں کے پاس آئے اور انہیں لیکر ولید بن عقبہ کی طرف روانہ ہوئے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اپنے رشتہ داروں اور خادموں کو ساتھ لے کر چلے اور جب ولید بن عقبہ کے دروازے پر پہنچے تو اُن لوگوں نے فرمایا: ” میں اندر جاتا ہوں، اگر میں تم کو پکاروں یا تم سنو کہ ولید نے بلند آواز میں بات کی تو تم سب کے سب اندر چلے آنا اور دوسری صورت میں جب تک میں باہر نہ آؤں تم سب اپنی جگہ موجود رہنا ۔ یہ فرما کر آپ رضی اللہ عنہ اندر داخل ہوئے اور سلام کیا مروان بن حکم کو دیکھا کہ ولید بن عتبہ کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اُن دونوں کو ساتھ بیٹھا دیکھ کر فرمایا: مل کر رہنا ترک تعلقات سے بہتر ہے لگتا ہے اللہ تعالیٰ نے تم دونوں کے درمیان صفائی کرا دی ہے؟ دونوں نے آپ رضی اللہ عنہ کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا اور جب آ پ رضی اللہ عنہ آ کر بیٹھ گئے تو ولید نے خط پڑھ کر سنایا۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے انتقال کی خبر دی اور یزید کی حکمرانی کی بیعت کا طالب ہوا۔


مروان بن حکم کی گستاخی


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے ولید بن عتبہ نے یزید کی حکمرانی کے لئے بیعت طلب کی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تمہیں چاہئے کہ بھرے مجمع میں کھلے عام بیعت کی مانگ کرو۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے انتقال کی خبر سن کر اناللہ وانا اللہ راجعون پڑھا اور فرمایا : اللہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے اور تمہارا اجر زیادہ کرے۔ بیعت کا جو تم نے مجھ سے سوال کیا ہے تو میں پوشیدہ طور پر بیعت نہیں کروں گا اور میں نہیں سمجھتا کہ تم ایسی احمقانہ حرکت کرو گے بلکہ تمہیں لوگوں کے سامنے مجھ سے بیعت لینی چاہیئے ۔ ولید بن عتبہ نے کہا: ” اچھا۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب تم لوگوں سے بیعت لو گے تو اُسی وقت مجھ سے بھی بیعت لے لینا ایک ہی بات ہے ۔ ولید بن عقبہ کا مزاج عافیت پسند تھا اُس نے کہا: "بسمہ اللہ ! آپ رضی اللہ عنہ تشریف لے جائیں اور سب لوگوں کے مجمع عام میں ہم سے ملئے گا ۔ مروان بن حکم بول اٹھا: ”اگر یہ اس وقت تمہارے پاس سے بغیر بیعت کئے چلے گئے تو اللہ کی قسم ! جب تک تم میں شدت سے کشت خون نہیں ہوگا تب تک یہ تمہارے قابو میں نہیں آئیں گے ۔ اللہ کی قسم! انہیں ابھی قید کر لو اور یہ تمہارے پاس سے نکلنے نہ پائیں ۔ بیعت کریں تو کریں نہیں تو تم ان کی گردن مار دو۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور فرمایا: ” اے ابن زرقاء! کیا تو مجھے قتل کرے گا یا یہ میل کرے گا؟ اللہ کی قسم ! تو نے جھوٹ بکا ہے۔ یہ فرما کر آپ رضی اللہ عنہ نکل کر اپنے رشتہ داروں اور خادموں کے پاس آئے اور سب کو ساتھ لیکر اپنے مکان پر چلے آئے ۔ مروان بن حکم نے ولید بن عقبہ سے کہا: " تم نے میرا کہنا نہیں مانا۔ حسین بن علی کے لئے اب تمہیں کبھی ایسا موقعہ نہیں ملے گا ۔ ولید نے کہا: ”سنواے مروان بن حکم اکسی اور ہی کو ملامت کرو تم مجھے ایسا مشورہ دے رہے ہو جس میں میرے دین کی تباہی تھی۔ اللہ کی قسم ! حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو قتل کر کے ساری دنیا کا مال و متاع جہاں تک سورج طلوع اور غروب ہوتا ہے مجھ کومل جائے تب بھی مجھے منظور نہیں ہے۔ سبحان اللہ! حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو ایک بیعت نہ کرنے پر قتل کروں؟ اللہ کی قسم! میں تو یہ بھتا ہوں کہ جس شخص سے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قتل کی باز پرس ہو وہ قیامت کے دن اللہ کے سامنے " خفیف المیزان ٹھہرے گا ۔ مروان بن حکم نے کہا اگر تمہاری یہی رائے ہے تو جو کچھ تم نے کیا بہت ہی اچھا کام کیا۔ یہ بات مروان بن حکم نے ولید کی رائے کو نا پسند کر کے کہا تھا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: مروان بن حکم بولا : ” ان کو بغیر بیعت کئے جانے نہ دور نہ ان سے بیعت اُس وقت تک نہیں لے سکو گے جب تک تم میں اور ان میں خون کا دریا رواں نہیں ہوگا اور اگر تم ایسا نہیں کر سکو تو میں لپک کر ان کی گردن اڑا دیتا ہوں۔ یہ بات سنتے ہی حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے ڈانٹ کر فرمایا: ” کو یاوہ مجھے قتل کرے گا؟ اللہ کی قسم ! تو جھوٹا ہے۔ مروان یہ سن کر دب گیا اور خاموش بیٹھ گیا اور آپ رضی اللہ عنہ لوٹ کو اپنے گھر تشریف لے آئے ۔ مروان بن حکم ولید بن عقبہ کو ملامت کرنے لگا تو اُس نے کہا: ”اے مروان ! اللہ کی قسم! مجھے یہ گوارا نہیں ہے کہ میں حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو بیعت نہیں کرنے پر قتل کروں، چاہے اس کے بدلے میں مجھے تمام عالم کا مال ہی کیوں نہ مل جائے یا میں اس کا مالک ہی کیوں نہ بن جاؤں۔“


حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی مکہ مکرمہ روانگی


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ تو ولید سے ملاقات کر کے چلے آئے لیکن حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ملاقات کے لئے نہیں گئے بلکہ اپنے گھر جا کر بیٹھ گئے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ مسجد سے اُٹھ کر اپنے گھر آئے اور وہیں رہے۔ ولید بن عتبہ نے اُن کے پاس بھیجا تو معلوم ہوا کہ انہوں نے اپنے اصحاب کو جمع کر کے اپنی حفاظت کرلی ہے۔ اس پر ولید بن عتبہ نے اور زیادہ اصرار کیا اور پے در پے اپنے آدمیوں کو اُن کے پاس بھیجا اور کہا: ” حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ ے تو یہ کہا کہ شہر و تم بھی غور کر لو اور ہم بھی غور کرلیں، تم بھی سوچو اور ہمیں بھی سوچنے دو “ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میرے ساتھ جلدی نہ کرو اور مجھے ذرا مہلت دو ۔“ اس کے بعد اُن دونوں کو ولید نے اپنے خادموں کو بھیج بھیج کر بہت پریشان کیا اور اصرار کرتا رہا۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو زیادہ پریشان نہیں کیا لیکن حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو بہت زیادہ پریشان کیا اور مسلسل خادموں کو بھیجتا رہا۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” تم لوگوں کے پے در پے آنے سے اور میرے پاس اتنے لوگوں کو بھیجنے سے اللہ کی قسم مجھے کھٹکا ہو گیا ہے۔ تم لوگ میرے ساتھ جلدی نہ کرو، میں خود ولید کے پاس کسی کو بھیجتا ہوں کہ اُن کی رائے معلوم ہو۔“ یہ کہ کر انہوں نے اپنے بھائی جعفر بن زبیر رضی اللہ عنہ کو ولید کے پاس بھیجا۔ انہوں نے جا کر کہا: اللہ کے واسطے عبداللہ پر شدت کرنے سے باز آجائیے۔ آپ نے پے در پے لوگوں کو بھیج کر انہیں اندیشہ مند و خائف کر دیا ہے۔ اپنے لوگوں کو حکم دیں کہ ہمارے مکان سے چلے جائیں۔ ولید نے اپنے لوگوں کو واپس بلا لیا۔ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ رات ہی کو گھر سے نکل کر فرع کی طرف روانہ ہوئے اور اُن کے بھائی حضرت جعفر بن زبیر رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی شخص ساتھ نہیں تھا۔ تعاقب کے خوف سے عام راستے کو چھوڑ دیا اور مہ مکرمہ کی طرف روانہ ہو گئے۔ صبح ہوئی تو ولید نے اُن کے پاس کسی کو بھیجا تو معلوم ہوا کہ وہ نکل گئے ۔ مروان بن حکم نے کہا: ” میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ عبداللہ بن زبیر مکہ مکرمہ کی طرف جانے سے ہر گز نہیں چوکے گا ۔ لوگوں کو حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے تعاقب میں روانہ کیا۔ بنوامیہ کے خادموں میں سے ایک سوار کو اسی (80) سواروں کے ساتھ اس کام کے لئے بھیجا۔ وہ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو ڈھونڈتے پھرے لیکن نہیں پاسکے اور واپس چلے آئے۔ 


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!


Saltanat e Umayya part 10

 

 10 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 10

حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی مکہ مکرمہ روانگی، حضرت عبد اللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا انکار، یزید کی قسم، مکہ مکرمہ پر لشکر کشی، یزید کے لشکر کی شکست، کوفیوں پر بھروسہ نہ کرنا، اہل کوفہ کا بلاوا اور اصرار، حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی کوفہ روانگی، کو فیوں کا جوش اور حضرت نعمان بن بشیر کی حق گوئی، کوفہ آ جائیے حالات سازگار ہیں، عبید اللہ بن زیاد بصرہ کے ساتھ ساتھ کوفہ کا بھی گورنر، 



حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی مکہ مکرمہ روانگی


حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے مکہ مکرمہ چلے جانے کے بعد ولید بن عتبہ نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو پریشان کرنا شروع کر دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ دن بھر حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو ڈھونڈنے میں وہ لوگ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو بھولے رہے۔ شام کے وقت اُن کے پاس لوگوں کو بھیجا۔ انہوں نے فرمایا: ” صبح ہونے دو پھر دیکھا جائے گا۔ رات بھر کے لئے وہ لوگ خاموش ہو گئے اور اصرار نہیں کیا۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اُسی رات کو یعنی اٹھائیس 28 ماہ رجب المرجب 60 ہجری کی رات کو مدینہ منورہ سے نکل گئے ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اپنے بیٹوں، بھائیوں اور بھتیجوں کو لے کر نکلے اور صرف اپنے ایک بھائی محمد بن حنفیہ کو مدینہ منورہ میں ہی رہنے دیا۔ محمد بن حنفیہ نے کہا: بھائی! تمام خلق میں آپ رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر میں کسی کو عزیز اور دوست نہیں رکھتا ہوں اور خیر خواہی کا کلمہ آپ رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر کسی کے لئے دنیا میں میرے منہ سے نہیں نکلے گا۔ آپ رضی اللہ عنہ اپنے لوگوں کو لیکر یزید اور سب شہریوں سے جہاں تک ہو سکے الگ رہیئے اور اپنے قاصدوں کولوگوں کے پاس بھیجیں کہ وہ آپ رضی اللہ عنہ سے بیعت کریں ۔ اگر لوگ آپ رضی اللہ عنہ کی بیعت کرلیں تو اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے۔ اگر کسی دوسرے کی بیعت پر وہ متفق ہو جائیں تو اس میں آپ رضی اللہ عنہ کے دین و عقل و مروت و فضل کو اللہ تعالیٰ کوئی ضرر نہیں پہنچنے دے گا۔ ان شہروں میں سے کسی شہر میں لوگوں کی کسی جماعت میں آپ رضی اللہ عنہ کے جانے سے مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ ان میں اختلاف پڑ جائے گا۔ ایک گروہ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہوگا اور دوسرا آپ رضی اللہ عنہ کے خلاف ہوگا۔ اگر کشت و خون کی نوبت آئے گی تو سب سے پہلے آپ رضی اللہ عنہ کی طرف برچھیوں کا رُخ ہو جائے گا اور آپ رضی اللہ عنہ جیسے شخص کا جو ذاتی اور خاندانی شرف میں بہترین اسم ہے بہت آسانی سے خون بہایا جائے گا اور سب اہل و عیال بھی تباہی میں مبتلا ہوں گے۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” پھر میں کدھر جاؤں بھائی ؟ محمد بن حنفیہ نے عرض کیا : ” آپ رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں قیام پذیر ہو جائیے وہاں اطمینان حاصل ہو جائے تو بہت ہی اچھی بات ہے اور اگر تشویش کا سامنا ہوتو وہاں ریگستانوں اور کوہستانوں میں نکل جائیے۔ ایک سے دوسرے مقام کی طرف سفر کرتے رہیئے اور یہ دیکھیئے کہ اونٹ کس کل بیٹھتا ہے اور پھر دیکھیئے کہ اس وقت آپ رضی اللہ عنہ کی رائے کیا قرار پاتی ہے۔ تمام امور کو سامنے کے رخ سے دیکھیئے تو زیادہ تر ترین صواب اور مقتضائے عقل کی بات ہے اور اس سے بڑھ کر مشکل کا سماں کسی امر میں نہیں ہے کہ اُلٹے رخ سے اس پر نظر کی جائے ۔“ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بھائی تم نے خیر خواہی اور شفقت کا کلمہ کہا ہے اور اُمید ہے کہ تمہاری رائے درست اور موافق ہوگی ۔ اس کے بعد حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اپنے اہل وعیال کو لیکر مکہ مکرمہ روانہ ہو گئے۔


حضرت عبد اللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا انکار


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ روانہ ہو گئے تو ولید نے حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو یزید کی بیعت کرنے کے لئے پریشان کرنا شروع کر دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اب ولید بن عتبہ نے حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو کو بلا بھیجا اور کہا: ” یزید سے بیعت کرو۔ حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” جب سب بیعت کرلیں گے تو میں بھی بیعت کر لوں گا۔ ایک شخص بول اٹھا: ”تمہیں بیعت کرنے سے کون سا امر مانع ہے؟ تم یہی چاہتے ہو کہ لوگوں کے درمیان اختلاف پیدا ہو جائے ۔ کشت وخون ہو اور سب فنا ہو جائیں ۔ جب مصیبت گزر جائے تو سب یہی کہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی باقی نہیں رہا اس لئے ان سے بیعت کر لو۔ حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نہیں چاہتا کہ کشت وخون ہو اور میں نہیں چاہتا کہ لوگوں میں اختلاف پیدا ہو اور میں یہ نہیں چاہتا کہ سب لوگ فنا ہو جائیں۔ میں تو بس اتنا ہی کہتا ہوں کہ سب لوگ بیعت کر لیں گے اور میرے سوا کوئی باقی نہیں رہے گا تو میں بھی بیعت کرلوں گا۔ یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ کو اُن کے حال پر چھوڑ دیا گیا اور اب کوئی انہیں ڈرا تا اور دھمکا تا نہیں تھا۔


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے پہلے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ روانہ ہوئے تھے اس لئے آپ رضی اللہ عنہ پہلے مکہ مکرمہ پہنچے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ پہنچ گئے ۔ وہاں عمرو بن سعید گورنر تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اُس سے فرمایا: ” میں پناہ لینے آیا ہوں ۔ اور لوگوں کے ساتھ نماز اور اعمال میں شریک نہیں ہوتے تھے بلکہ اپنے ہمراہیوں کے ساتھ کنارے توقف کیا کرتے تھے ۔ سب کے بعد وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ اعمال بجالاتے تھے۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ جب مکہ مکرمہ کی طرف چلے تو یہ آیت تلاوت فرمائی: ترجمہ " حضرت موسیٰ علیہ السلام امید و بیم کی حالت میں شہر سے نکلے اور کہا پر وردگارا ظالم قوم کے ہاتھ سے مجھے نجات دے۔“ (سورہ القصص آیت نمبر (21) جب حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو یہ آیت تلاوت فرمائی : ترجمہ ”جن ( حضرت ) موسیٰ علیہ السلام مدین کی طرف متوجہ ہوئے تو کہا اُمید ہے کہ میرا مالک مجھے سیدھے راستے پر لگا دے گا۔ (سورہ القصص آیت نمبر 22)


یزید کی قسم


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نرمی سے پیش آنے کی پاداش میں یزید نے ولید بن عقبہ کو معزول کر دیا اور عمرو بن سعید کو مدینہ منورہ کا گورنر بنا کر بھیجا۔ اُس نے حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے بھائی عمرو بن زبیر کو مدینہ منورہ کے پولیس محکمے کا سب سے بڑا افسر بنا دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اس سال 60 ہجری ماہ رمضان میں یزید نے ولید بن عقبہ کو معزول کر کے عمر  بن سعید اشدق کو گورنر بنایا۔ وہ ماہ رمضان 60 ہجری میں مدینہ منورہ میں داخل ہوا۔ اہل مدینہ اُس سے ملاقات کرنے گئے۔ اس درمیان یزید اور حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے درمیان قاصدوں کی آمد و رفت جاری رہی۔ آخر کار یزید نے قسم کھالی کہ جب تک (حضرت ) عبد اللہ بن زبیر (رضی اللہ عنہ) زنجیر میں جکڑا ہوا میرے سامنے نہیں آئے گا تب تک میں اُس کی کوئی بات نہیں مانوں گا ۔ عمر بن سعید جب مدینہ منورہ آیا تو اُس نے اس خیال سے عمر و بن زبیر کو پولیس محکمے کا سب سے بڑا افسر مقرر کیا کہ اسے معلوم تھا کہ عمرو بن زبیر اپنے بھائی حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتا ہے۔ عمرو بن زبیر نے جن لوگوں کو حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے بہی خواہوں میں دیکھا اُن سب کو بری طرح پٹوایا۔ منذر بن زبیر اور اُن کے بیٹے محمد بن منذر، عبد الرحمن بن اسود، خبیب بن عبد اللہ بن زبیراور محمد بن عمار بن یاسر۔ ان سب لوگوں کو کسی کو چالیس اور کسی کو ساٹھ کوڑے لگوائے ۔ عبد الرحمن بن عثمان ، عبدالرحمن بن عمرو بن سہل کچھ لوگوں کو لیکر جان بچا کر مکہ مکرمہ چلے گئے ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: عمرو بن سعید 60 ہجری میں داخل مدینہ ہوا اور اس نے پولیس کی افسری عمرو بن زہیر کو دی اس کی وجہ یہ تھی کہ عمرو بن زبیر اور اُس کے بھائی حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ میں کسی وجہ سے نا چاقی اور کشیدگی تھی۔ اسی لئے عمرو بن زبیر نے جو لوگ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا بھلا چاہتے تھے انہیں گرفتار کر کے کسی کو چالیس اور کسی کو ساٹھ درے لگوائے۔


 مکہ مکرمہ پر لشکر کشی


حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں تھے۔ یزید نے اپنی قسم کو پورا کرنے کے لئے عمرو بن سعید کو حکم دیا کہ مکہ مکرمہ ایک لشکر بھیجو جو ( حضرت ) عبد اللہ بن زبیر ( رضی اللہ عنہ ) کو گرفتار کر کے زنجیروں میں جکڑ کر لے آئے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: ادھر مکہ مکرمہ میں حارث بن خالد مخزومی نماز پر مقرر تھے۔ انہیں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے منع کر دیا۔ عمرو بن سعید نے اپنے پولیس کے بڑے افسر عمرو بن زبیر سے پوچھا: "یزید کے حکم کو پورا کرنے کے لئے تمہارے بھائی (حضرت) عبد اللہ بن زبیر ( رضی اللہ عنہ ) کے مقابلہ پر یہاں سے کون شخص جائے گا؟ عمرو بن زبیر نے کہا: ” اُس کی سرکوبی کے لئے مجھ سے بڑھ کر کوئی نہیں ہو سکتا۔ اہل مدینہ میں سے آزاد غلاموں کا ایک انبوہ کثیر عمرو بن زبیر کے ساتھ روانہ ہوا۔ انیس بن عمر واسلمی سات سو جنگجوؤں کا ساتھ لیکر اس سے آملا عمرو بن زبیر نے لشکر کا مقدمہ الجیش “ ( ہر اول) دستہ بنا کر آگے روانہ کیا۔ اس نے مقام ” جرف میں جا کر پڑاؤ ڈال دیا۔ جس وقت عمرو بن زہیراپنے لشکر کولیکر روانہ ہونے لگا تو مروان بن حکم وہاں آیا اور عمرو بن سعید سے بولا: مکہ مکرمہ پر حملہ نہ کرو، اللہ سے ڈرو اور خانہ کعبہ کی بے حرمتی کرنے سے بچو۔ (حضرت) عبد اللہ بن زبیر ( رضی اللہ عنہ ) بوڑھا ہو چکا ہے ساٹھ برس کی عمر ہو چکی ہے اور وہ ضدی آدمی ہے۔ تم اسے قتل نہ کرو وہ تواللہ کی قسم خود ہی مرنے والا ہے۔ اس پر عمرو بن زبیر نے کہا: اللہ کی قسم ! ہم تو خانہ کعبہ میں جدال و قتال کریں گے اور کسی کو ناگوار ہوتو ہماری بلا سے ۔“ مروان بن حکم نے کہا: ” یہ امر بہت ناگوار ہے۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: عمرو بن سعید نے عمرو بن زبیر کو سات سو سواروں کا سپہ سالار جن میں میر اسلمی بھی تھا مکہ مکرمہ روانہ کرنے لگا تو مروان بن حکم آگیا اور بولا : اللہ سے ڈرو اور بیت اللہ کی حرمت کو حلال نہ کرو، ( حضرت ) عبد اللہ بن زبیر ( رضی اللہ عنہ ) کو نظر انداز کر دو اُس کی عمر ساٹھ سال ہو گئی ہے اب وہ کیا کسی مخالفت کرے گا ۔ عمرو بن زبیر بولا: ” میں اُس سے خانہ کعبہ میں لڑوں گا۔ یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ حضرت ابو شریح خزاعی رضی اللہ عنہ آگئے اور عمرو بن سعید کو مخاطب کر کے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھے صرف ایک دن صرف ایک ساعت کے لئے مکہ مکرمہ میں جنگ کرنے کی اجازت ملی ہے اور اس کے بعد اس کی حرمت ویسی ہی ہوگئی جیسی پہلے تھی ۔ عمرو بن زبیر نے گستاخی کرتے ہوئے کہا: "اے بڈھے! ہم تجھ سے زیادہ مکہ مکرمہ کی حرمت کو جانتے ہیں بعض مورخین کے مطابق یزید نے عمرو بن سعید کو حکم دیا تھا کہ عمرو بن زہیر کو ایک لشکر جرار دے کر اُس کے بھائی کی طرف روانہ کرو تو اس نے عمرو بن زبیر کے ساتھ دو ہزار کا لشکر روانہ کیا۔ اور ”مقدمتہ الجیش “ پر انہیں تھا۔


یزید کے لشکر کی شکست


حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کوگرفتار کرنے کے لئے عمرو بن زہیر کی زیر قیادت ایک لشکر مکہ مکرمہ پہنچا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اُنہیں روانہ ہو کر مقام ذی طوی میں اور عمر و بن زہیر مقام ابطح میں قیام پذیر ہوا۔ یہاں سے اُس نے اپنے بھائی حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا لکھا: ” خلیفہ یزید کی قسم کو پورا کرو اور اپنی گردن میں چاندی کی ہلکی سی زنجیر جو دکھائی نہ دیتی ہو ڈال لو اور لوگوں کو آپس میں لڑانے کی معاملے میں اللہ سے ڈرو اور اس بات سے ڈرو کہ تم اُس شہر میں جس میں جنگ اور قتال حرام ہے ۔ “ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: "میرا اور تیرا مقابلہ مسجد الحرام ( خانہ کعبہ کے اطراف بنی مسجد) میں ہوگا ۔ اس کے بعد حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے عبد اللہ بن صفوان تجھی کو شکر دے کر مقام ذی طوی کی طرف اُنیس سے مقابلہ کرنے کے لئے روانہ کیا اور اس کے ساتھ وہ لوگ بھی شامل ہو گئے جو بیرون مکہ میں مقیم تھے۔عبداللہ بن صفوان تھی نے انہیں پر حملہ کیا، زبردست جنگ ہوئی اور انہیں کو شکست فاش ہوئی۔ یہ دیکھ کر عمرو بن زبیر کے لشکر میں سے ایک گروہ نے اُس کا ساتھ چھوڑ دیا تو بھاگ کر علقمہ کے گھر میں چلا گیا۔ اُس کا بھائی عبید اللہ بن زبیر اُس سے ملنے آیا اور اُسے پناہ دی۔ اس کے بعد عبید اللہ بن زبیر مکہ مکرمہ میں داخل ہوا اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آکر بولا : ” میں نے عمرو بن زبیر کو پناہ دے دی ہے حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” تم نے لوگوں پر مظالم کرنے والے کو پناہ دی ہے اور یہ بالکل مناسب نہیں ہے ۔ اس کے بعد حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی عمرو بن زبیر کو زندان عارم “ میں قید کر دیا۔


کوفیوں پر بھروسہ نہ کرنا


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ تشریف لا رہے تھے تو انہیں اُن کے ایک خیر خواہ نے مشورہ دیا کہ کوفیوں پر قطعی بھروسہ نہیں کرنا کیونکہ انہوں نے آپ رضی اللہ عنہ کے والد محترم خلیفہ چہارم رضی اللہ عنہ کے ساتھ اور آپ رضی اللہ عنہ کے بڑے بھائی حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بے وفائی کی تھی ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : جس وقت حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ تشریف لا رہے تھے تو اثناء راہ میں عبد اللہ بن مطیع سے ملاقات ہو گئی۔ انہوں نے عرض کیا ” آپ رضی اللہ عنہ کہاں جارہے ہیں؟“ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: فی الحال تو مکہ مکرمہ جا رہا ہوں، اس کے بعد آگے جہاں اللہ کی مرضی ہوگی ۔ عبد اللہ بن مطیع نے درخواست کی :” اے آل رسول رضی اللہ عنہا ہرگز ہر گز کوفہ کا قصد نہ کیجیئے گا، ان ہی لوگوں نے آپ رضی اللہ عنہ کے والد محترم کو شہید کیا ہے اور آپ رضی اللہ عنہ کے بڑے بھائی کو دھوکا دیا ہے اور یہ کوئی بہت ہی بد عہد اور پیمان شکن ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں ہی قیام پذیر ہیں اور حرم شریف سے بھول کر بھی باہر نہ جائیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ عرب کے سردار ہیں اس لئے جن کو خیر خواہی کرنی ہوگی وہ خود ہی یہاں آئیں گے اور جب تک حجاز کے لوگ آپ رضی اللہ عنہ سے استدعا نہ کریں تب تک حرم شریف کو نہیں چھوڑیے گا ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اُن کی باتیں ذہن نشین کر لیں اور اپنے اہل و عیال اور اہل خاندان کو لیکر مکہ مکرمہ تشریف لے آئے۔ مملکت اسلامیہ سے لوگ آپ رضی اللہ عنہ کے پاس آنے لگے اور ہر علاقے کے لوگ اپنی اپنی رائے دینے لگے ۔ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ خاموشی سے خانہ کعبہ کا طواف کرتے اور نماز پڑھتے تھے جبکہ الگ الگ علاقوں سے لوگ آ آکر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی مجلس میں شریک ہوتے اور تمام حالات حاضرہ کی خبر دے کر مشورہ لیا کرتے تھے۔


اہل کوفہ کا بلاوا اور اصرار


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں قیام پذیر تھے۔ جب اہل کوفہ کے یہ بات معلوم ہوئی کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے یزید کی بیعت نہیں کی ہے تو انہوں نے بھی یزید کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو خط لکھ کر کوفہ آنے کی دعوت دینے لگے جب آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا تو کوفیوں کا اصرار بڑھنے لگا اور مسلسل خطوط بھیجنے لگے۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : جب کو فیوں کو یزید کی بیعت اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے مکہ مکرمہ چلے جانے کا حال معلوم ہوا تو وہ لوگ سلیمان بن صرد کے مکان پر جمع ہوئے اور چند لوگوں جن میں سلیمان بن صرد، مسیتیب بن محمد، رفاعہ بن شداد اور حبیب بن مظاہر بھی تھے کی طرف سے یہ خط لکھا: ”اے آل رسول حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ ! یہاں تشریف لائیے، ہم لوگوں نے نعمان بن بشیر ( کوفہ کے گورنر ) کے ہاتھ پر یزید کی بیعت نہیں کی ہے اور نہ ہی ہم جمعہ اور عیدین کی نماز میں اُن کے ساتھ شریک ہوتے ہیں۔ اگر آپ رضی اللہ عنہ یہاں آجائیں گے تو ہم اُس کو نکال دیں گے ۔“ یہ خط عبد اللہ بن سبع ہمدانی اور عبداللہ بن دال کی معرفت روانہ کیا گیا۔ جس دن یہ خط حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو ملا اس کے دورا توں بعد دوسرا خط آیا جس میں تقریباً دیڑھ سو آدمیوں کی جانب سے یہی مضمون لکھا ہوا تھا۔ پھر تیسری مرتبہ بھی اسی مضمون کا خط روانہ کیا گیا جس کو شبت بن ربعی ، حجاز بن جبر، یزید بن حارث، یزید بن رویم، عروہ بن قیس معمر بن حاج زبیدی اور محمد بن عمر تیمی وغیرہ نے بڑے شدومد کے ساتھ لکھا تھا۔ مسلسل اور متواتر خطوط کے آنے سے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے خیالات میں غیر معمولی تبدیلی آنے لگی اور آپ رضی اللہ عنہ اس معاملے میں غور و فکر کرنے لگے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے بھائی حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو تحقیق کے لئے بھیجنے کا فیصلہ کیا۔


حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی کوفہ روانگی


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے تمام حالات کی تحقیق کرنے کے لئے اپنے چچازاد بھائی حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کوکو نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا اور انہیں ایک خط لکھ کر دیا۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے کوفیوں کو جواب میں لکھا: جو تم لوگوں نے لکھا ہے میں اُسے سمجھ گیا ہوں۔ فی الحال اپنے چچازاد بھائی حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو بھیج رہا ہوں ۔ یہ تمہارے حالات کا مشاہدہ کریں گے اور پھر مجھے اطلاع دیں گے۔ اگر تم اور تمہارے رؤساء ملت نے ویسا ہی اتفاق کیا جیسا کہ تم نے مجھے لکھا ہے اور سب اس بات پر جمع اور متفق ہو گئے تو ان شاء اللہ میں عنقریب آجاؤں گا ۔ اللہ کی قسم ! امام وہی ہے جو کتاب اللہ ( قرآن پاک) پر عمل کرتا ہے اور عدل پر رہتا ہے اور دین حق پر چلتا ہے۔ والسلام ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں تھے کہ اُن کے پاس اہل کوفہ اور اُن لوگوں کے قاصد یہ پیام لے کر آئے کہ ”ہم سب لوگ آپ رضی اللہ عنہ پر بھروسہ کئے بیٹھے ہیں۔ ہم نماز جمعہ میں کوفہ کے گورنر کے ساتھ شریک نہیں ہوتے ۔ آپ رضی اللہ عنہ ہم لوگوں میں آجائے ۔ اُس زمانہ میں نعمان بن بشیر انصاری کوفہ کے گورنر تھے ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اپنے چچا زاد بھائی حضرت مسلم بن عقیل کو بلا بھیجا اور اُن سے فرمایا: ” تم کوفہ روانہ ہو جاؤ اور یہ دیکھو کہ یہ لوگ واقعی سچ کہہ رہے ہیں یا نہیں ؟ اگر یہ بچے ہیں تو میں وہاں چلا جاؤں گا ۔ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ وہاں سے مدینہ منورہ آئے اور اپنے ساتھ راستہ بتانے کے لئے دور ہبروں کو لیکر کوفہ روانہ ہو گئے ۔ دونوں رہبر صحرا کی طرف سے لے چلے، راستے میں ایک رہبر پیاس سے مرگیا۔ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ ایک نخلستان میں قیام پذیر ہو گئے اور حالات لکھ بھیجے اور آگے کے بارے میں حکم مانگا تو آپ رضی اللہ عنہ نے خط لکھا کہ تم کوفہ کے لئے آگے بڑھو۔


کو فیوں کا جوش اور حضرت نعمان بن بشیر کی حق گوئی


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے حکم کے مطابق حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کوفہ پہنچ گئے تو کوفیوں میں بہت جوش و خروش بھر گیا اور کوفہ کے ہزاروں لوگ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہو گئے۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں: حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور آخر کار کوفہ پہنچ گئے۔ وہاں ایک شخص کے یہاں قیام کیا جس کا نام ابن عوسجہ تھا۔ اُن کے آنے کا کوفہ میں چرچا ہوا تو لوگ آ آ کر بیعت کرنے لگے۔ یزید کے حامیوں میں سے ایک شخص نے کھڑے ہو کر حضرت نعمان بن بشیر انصاری سے کہا: "یا تو تم کمزور ہو یا پھر کمزور بن رہے ہو دیکھتے نہیں کہ شہر میں خرابی پھیل رہی ہے ۔ حضرت نعمان بن بشیر نے کہا: "اگر اللہ کی اطاعت کرنے میں کمزور سمجھا جاؤں تو یہ اُس سے بہتر ہے کہ اللہ کی معصیت میں رہ کر ” صاحب قوت“ کہلاؤں ۔ میں ایسا شخص نہیں ہوں کہ جس بات پر اللہ نے پردہ ڈال دیا ہے میں اُس کا پردہ فاش کروں ۔ اُس شخص نے حضرت نعمان بن بشیر کی بات یزید کولکھ کر بھیج دی۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ جب کو فہ میں داخل ہوئے تو مسلم بن عوسجہ اسدی کے یہاں قیام کیا اور بعض کا قول ہے کہ مختار بن عبید ثقفی کے گھر قیام کیا۔ اہل کوفہ نے آپ رضی اللہ عنہ کی آمد کے بارے میں سنا تو آپ رضی اللہ عنہ کے پاس آکر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے لئے بیعت کرنے لگے۔ اہل عراق میں سے بارہ ہزار آدمیوں نے بیعت کی پھر وہ بڑھ کر اٹھارہ ہزار ہوگئی ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ یکم ذی الحجہ 60 ہجری کو کوفہ میں داخل ہوئے۔ کوفیوں کے دلوں میں کھلبلی پڑگئی ، پیٹ میں چوہے دوڑنے لگے ۔ جب ان میں سے چند لوگ اکٹھے ہو جاتے تو حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ انہیں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا خط پڑھ کر سناتے اور وہ لوگ دھاڑیں مار مار کر روتے اور امداد کا وعدہ کرتے تھے ۔ رفتہ رفتہ اس کی خبر نعمان بن بشیر گورنر کوفہ کو پہنچی ۔ چونکہ اس کی طبیعت میں حلم وصلح پسندی تھی اس لئے لوگوں کو جمع کر کے خطبہ دیا اور فتنہ وفساد ہونے سے ڈرایا اور صاف لفظوں میں کہا: ” جب تک مجھ سے کوئی نہیں لڑے گا تب تک میں بھی اُس نے نہیں لڑوں گا اور صرف شہر اور بدگمانی کی وجہ سے کسی کو گرفتار نہیں کروں گا۔ ہاں اگر تم نے ابتدا کی اور (یزید کی بیعت کو منسوخ کیا اور بادشاہ وقت (یزید) کے مخالف ہوئے تو اللہ کی قسم جب تک میرے ہاتھ میں تلوار کا قبضہ رہے گا تم کو برابر مارتا ہوں گا چاہے میرا کوئی معین و مددگار نہیں رہے ۔ تقریر ختم ہونے پر بنو امیہ کے بعض حامیوں نے کہا: ” تم کو اس طرح کی تقریر نہیں کرنی چاہئے تھی کیونکہ تم نے کمزوروں والی بات کی ہے۔ تمہیں دشمنوں کے ساتھ حتی کا برتاؤ کرنا چاہئے تھا ور نہ دشمنوں کی جرات بڑھ جائے گی ۔ نعمان بن بشیر نے کہا: ” مجھے کمزور ہو کر اللہ کی اطاعت میں رہنا زیادہ پسند ہے اس کے مقابلے میں کہ میں اللہ تعالی کا گنہ گار ہوکر عزت والا بنوں ۔ یہ کہ کر نعمان بن بشیر منبر سے اتر آئے ۔ اس کے بعد عبد اللہ بن مسلم ، تارہ بن ولید بن عقبہ اور عمرو بن سعد بن ابی وقاص نے حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے کوفہ آنے اور لوگوں کے اُن کی بیعت کرنے اور نعمان بن بشیر کے خطبہ دینے تک کا حال مکمل تفصیل سے یزید کولکھ کر بھیجا اور ساتھ ہی یہ بھی تحریر کیا کہ اگر تم کو کوفہ کی ضرورت ہے تو کسی طاقتور شخص کو مامور کر وجوتمہارے احکام کو استقلال اور قوت سے نافذ کرے اور تمہارے ملک کی حفاظت اور تمہارے دشمنوں کو زیر کر سکے ۔“


کوفہ آ جائیے حالات سازگار ہیں


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اپنے چچا زاد بھائی حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو حالات کی خبر لینے کے لئے کوفہ بھیجا تھا۔ کوفہ پہنچے کے بعد حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے مختار بن عبید کے گھر قیام کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کی تشریف آوری کی خبر سن کر لوگ جوق در جوق آنے لگے اور بارہ ہزار نے اُسی وقت آپ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے لئے بیعت کر لی اور پھر یہ تعداد بڑھ کر اٹھارہ ہزار سے زیادہ ہوگئی۔ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے اہل کوفہ کی یہ عقیدت دیکھی تو حضرت حسین بن علی رضی اللہ کی خدمت میں ایک خط لکھ کر بھیجا اور اُس میں تمام حالات کی خبر دی اور التماس کیا کہ آپ رضی اللہ عنہ جلد از جلد کوفہ تشریف لے آئیں کیونکہ حالات سازگار ہیں ۔ یہ خط آپ رضی اللہ عنہ نے قاصد کو دے کر مکہ مکرمہ کی طرف روانہ کیا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: مکہ مکرمہ سے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی روانگی کا سبب یہ ہوا کہ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے کوفہ سے لکھا تھا: ” آپ رضی اللہ عنہ یہاں ضرور تشریف لائیے کیونکہ اٹھارہ ہزار آدمی بیعت کر چکے ہیں۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ کے ہاتھ پر اٹھارہ ہزار اہل کوفہ نے بیعت کی تو آپ رضی اللہ عنہ نے عابس بن ابی حبیب کے ہاتھ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے نام خط لکھ کر بھیجا: "پیغا مہر اپنے لوگوں سے جھوٹ نہیں بولتا۔ مجھ سے اٹھارہ ہزار اہل کوفہ نے بیعت کر لی ہے جلدی سے میرے خط کے ملتے ہی اس طرف روانہ ہو جائے ، سب لوگ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہیں آل معاویہ (یزید) سے انہیں کوئی مطلب نہیں ہے اور نہ ہی وہ اُس کی خواہش رکھتے ہیں ۔ والسلام “


عبید اللہ بن زیاد بصرہ کے ساتھ ساتھ کوفہ کا بھی گورنر


حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے بارے میں یزید کو خبر لی تو یزید نے اس بارے میں اپنے ایک آزاد غلام سے مشورہ کیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: یزید نے اپنے آزاد کردہ غلام کو بلایا جس کا نام سر جون تھا اور یزید اُسی سے مشورہ کیا کرتا تھا اور کوفہ کے تمام حالات اُسی سے بیان کیا اور مشورہ مانگا۔ سرجون نے کہا: "اگر تمہارے والد معاویہ زندہ ہوتے تو آپ اُن کی بات قبول کر لیتے ؟ یزید نے کہا: ”ہاں! میں ضرور مانتا اُس نے کہا: ” پھر میری بات مانیئے ، کوفہ کے لئے عبید اللہ بن زیاد سے بہتر کوئی نہیں ہے۔ اُس کو وہاں کا گورنر بنا دیجیئے ۔ اس سے پہلے عبید اللہ بن زیاد سے یزید ناراض تھا اور اُسے بصرہ کی گورنری سے معزول کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ اب اُسے خط لکھ کر بھیجا کہ میں تم سے خوش ہوں اور بصرہ کے ساتھ ساتھ تمہیں کوفہ کا بھی گورنر بنا دیا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ وہ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کا پتہ لگائے اور جب وہ ہاتھ آجائیں تو انہیں شہید کر دے۔


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!


Saltanat e Umayya part 11

 11 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 11

عبید اللہ بن زیاد کوفہ میں، حضرت نعمان بن بشیر کی معزولی، عبید اللہ بن زیاد کا اعلان، حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی تلاش، ہانی بن عروہ کی گرفتاری، عبید اللہ بن زیاد کے محل کا محاصرہ، کوفیوں کی بد عہدی اور غداری، حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے انکاونٹر کا اعلان، حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی خبر، حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی گرفتاری، کاش کوئی حضرت حسین علی رضی اللہ عنہ کو خبر دے،حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی وصیت



عبید اللہ بن زیاد کوفہ میں


حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کا حکم یزید نے جاری کر دیا تھا اور یزید کی خوشنودی پانے کے لئے عبید اللہ بن زیاد بصرہ نے نکل کر کوفہ اپنے ساتھیوں کو لیکر آیا اور اس حال میں کوفہ میں داخل ہوا کہ اُس نے اور اُس کے ساتھیوں نے ڈاکوؤں کی طرح چہرے پر ڈھاٹا باندھا ہوا تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: عبید اللہ بن زیاد اپنے رؤسائے بصرہ کے ساتھ ڈھانٹا باندھے ہوئے کوفہ میں داخل ہوا۔ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ کو فہ کے جس مجمع سے بھی گزرتا تھا تو اسلام علیکم کہتا تھا۔ اُس کے جواب میں لوگ واعلیکم السلام یا ابن بنت رسول کہتے تھے۔ اُن کو شبہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا تھا۔ ( یعنی لوگ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے انتظار میں تھے اس لئے عبید اللہ بن زیاد کے چہرہ چھپانے سے دھوکا کھا گئے علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: پھر یزید نے عبید اللہ بن زیاد کولکھا: ” جب تم کو فہ جانا تو (حضرت) مسلم بن عقیل ( رضی اللہ عنہ ) کو طلب کرنا اور اُن پر قابو پانا تو قتل کر دینا یا جلا وطن کر دینا اور اس نے مسلم بن عمرو باہلی کو یہ خط دیکر بھیجا۔ خط ملتے ہی عبید اللہ بن زیاد بصرہ سے کوفہ روانہ ہو گیا اور کوفہ میں سیاہ عمامے کا ڈھاٹا باندھ کر داخل ہوا اور لوگوں کی جس اشراف جماعت کے پاس سے گزرتا تھا تو انہیں اسلام اعلیکم کہتا اور وہ وعلیکم السلام خوش آمدید اے پسر رسول کہتے ۔ وہ خیال کرتے تھے کہ یہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ ہیں کیونکہ وہ آپ رضی اللہ عنہ کے منتظر تھے اور اُس کے پاس لوگوں کا جمگھٹا ہو گیا اور وہ کوفہ میں سترہ آدمیوں کے ساتھ آیا تھا۔ مسلم بن عمر و باہلی نے بلند آواز سے کہا: ” پیچھے ہٹ جاؤ یہ گورنر عبید اللہ بن زیاد ہے ۔“ جب عوام کو یقین ہوا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ تشریف نہیں لائے ہیں بلکہ ظالم عبداللہ بن زیاد کوفہ کا گورنر بن کر آیا ہے تو اُن پر دل شکستگی اور شدید غم چھا گیا۔


حضرت نعمان بن بشیر کی معزولی


حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت نعمان بن بشیر نے نرمی کا رویہ اختیار کیا جس کی سزا یہ ملی کہ یزید نے اُسے معزول کر دیا اور عبید اللہ بن زیاد کوکوفہ کا گورنر بنا دیا۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: عبید اللہ بن زیاد اپنے ساتھ مسلم بن عمرو اور شریک بن اعور حارثی اور اپنے ساتھیوں کولیکر کوفہ روانہ ہوا۔ راستے میں کوفہ کے قریب پہنچ کر وہ اپنے ساتھیوں سے الگ ہو گیا اور تنہا ڈھاٹا باندھے ہوئے کوفہ میں داخل ہوا جن لوگوں کے پاس سے وہ گزرتا تھا تو وہ لوگ اُسے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سمجھ کر اٹھ کھڑے ہوتے تھے اور جوش مسرت سے مرحبا یا ابن رسول اللہ کہتے تھے لیکن عبد اللہ بن زیاد کوئی جواب نہیں دے رہا تھا بلکہ چپ چاپ چلا جار ہا تھا۔ رفتہ رفتہ نعمان بن بشیر تک پہنچا اور اُس کے پیچھے پیچھے ایک انبوہ کثیر خوشی کے نعرے بلند کرتا ہوا چلا آرہا تھا۔ حضرت نعمان بن بشیر نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے شبہ میں دروازہ بند کر لیا اور اندر سے بلند آواز میں کہا: ” میں تمکو اللہ کی قسم دیتا ہوں تم میری طرف مائل نہیں ہوتا، میں اپنی امانت ، اپنا مال تمہاری کسی جنگی ضرورت کے لئے نہیں دوں گا ۔ عبید اللہ بن زیاد نے دروازے کے قریب جا کر چہرہ کھولا اور بلند آواز سے بولا: "دروازہ کھول دو، ورنہ زبر دستی کھول دیا جائے گا۔“ ایک شخص جو اُس کے پیچھے کھڑا ہو تھا پہچان کر بولا: یہ تو ابن مرجانہ عبید اللہ بن زیاد ہے ۔ یہ سنتے ہی لوگ بھاگ کھڑے ہوئے۔


عبید اللہ بن زیاد کا اعلان


حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر لگ بھگ اٹھارہ ہزار کوفیوں نے بیعت کی تھی لیکن اُن میں سے اکثر دنیا کی محبت میں مبتلا ہو گئے تھے ۔ اسی لئے جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ ظالم عبید اللہ بن زیاد کو یزید نے اُن کا گورنر بنا دیا ہے تو سب بھاگ کھڑے ہوئے ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : عبید اللہ بن زیاد دار الامارت میں داخل ہوا ۔ صبح ہوئی تو منبر پر گیا اور اعلان کیا : ”اے اہل کوفہ ! امیر المومنین یزید نے تمہارے شہر اور احکام شرعی اور مال غنیمت اور بیت المال کا گورنر مجھے بنایا ہے اور مجھے تمہارے مظلوموں کی دادرسی تمہارے محروموں کو دینے ، تمہارے فرمانبرداروں کے ساتھ احسان کرنے ، تمہارے نافرمانوں اور باغیوں کو گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے۔ میں بے شک تم پر اُس کے احکام جاری کروں گا۔ میں تم پر تمہارے والد سے بھی زیادہ مہربان ہوں گا اور تمہارے شفیق بھائی سے بڑھ کر تمہاری اطاعت کروں گا لیکن جو شخص میرے حکم کی مخالفت کرے گا اُس کی گردن اور پیٹھ پر میر ادرہ ( کوڑا) ہوگا۔ اتنا کہ کر وہ منبر سے اترا اور اپنے واقف کاروں اور شہر کے عہدے داروں سے بولا: ”لوگو! امیرالمومنین یزید کے حامیوں کی اور اُن لوگوں کی صحیح صحیح تعداد مجھے بتاؤ جن کے دلوں میں اختلاف اور بغاوت کا مادہ بھرا ہوا ہے پس جو شخص صاف صاف لکھ کر دے گا وہ بری ہے اور جو شخص لکھ کر نہ دے گا وہ اس کا ( بغاوت کا ذمہ دار سمجھا جائے گا۔ اگر اتفاق سے اُس کے دوستوں اور آشناؤں میں سے کسی نے ہماری مخالفت کی یا ہم سے باغی ہوا تو ہم اس سے بری الذمہ ہوں گے اور اُس کا خون اور مال ہم پر مباح ہوگا ۔جس کے علم میں کوئی شخص امیر المؤمنین یزید کا باغی اور مخالف ہوا اور اُس نے ظاہر نہیں کیا تو ہم اسے سولی ( پھانسی ) دے دیں گے اور اُس کا وظیفہ ضبط کرلیں گے۔“


حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی تلاش


کوفہ کے لوگوں کے درمیان اعلان کرنے کے بعد عبید اللہ بن زیاد نے حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی تلاش شروع کر دی۔ ادھر آپ رضی اللہ عنہ کو جب عبید اللہ بن زیاد کے کوفہ کا گورنر بنے اور اُس کے اعلان کے بارے میں معلوم ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فوراً اپنا ٹھکانہ بدل دیا جس کی وجہ سے عبید اللہ بن زیاد آپ رضی اللہ عنہ کو آسانی سے تلاش نہیں کر سکا۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے کانوں تک عبید اللہ بن زیاد کے احکامات پہنچے تو آپ رضی اللہ عنہ مختار کے مکان سے نکل کر ہانی بن عروہ مرادی کے مکان پر پہنچے اور دستک دی۔ ہانی بن عروہ نکلا اور آپ رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر ناک بھوں چڑھائی۔ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں تمہارے پاس پناہ گزین اور تمہارا مہمان بن کر آیا ہوں ۔ ہانی بن عروہ نے جواب دیا: ” تم نے مجھے سخت تکلیف میں ڈال دیا، اگر میرے گھر پر نہیں آتے تو میں یہ پسند کرتا کہ اس سے پہلے کہ میں کسی جرم میں ماخوذ کیا جاؤں تم میرے پاس سے واپس چلے جاؤ۔ خیر آؤ! میں حتی الامکان تمہیں پناہ دینے کی کوشش کروں گا۔“ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ اس کو غنیمت جان کر ہانی بن عروہ کے مکان میں مقیم ہو گئے۔ آپ رضی اللہ عنہ اچانک کسی کو بتائے بغیر وہاں مقیم ہو گئے تھے اس لئے یزید اور عبید اللہ بن زیاد کے حامیوں کو نہیں معلوم ہو سکا کہ آپ رضی اللہ عنہ اچانک کہاں غائب ہو گئے ہیں۔ آخر کار عبید اللہ بن زیاد نے ایک چال چلی اور معلوم کر لیا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: جب عبید اللہ بن زیاد نے کوفہ پر اپنا کنٹرول قائم کر لیا تو اُس نے حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی تلاش شروع کی۔ اُس نے ابورھم کے غلام اور بعض کا قول ہے کہ اپنے غلام معقل کو تین ہزار درہم کے ساتھ بلا حمص سے آنے والے کی صورت میں بھیجا اور یہ کہ وہ صرف بیعت کرنے کے لئے آیا ہے۔ پس یہ غلام گیا اور مسلسل اُس گھر کا پتہ معلوم کرنے کی کوشش کرتا رہا جہاں لوگ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی بیعت کر رہے تھے حتی کہ وہ اُس گھر میں داخل ہو گیا اور وہ ہانی بن عروہ کا گھر تھا جس میں آپ رضی اللہ عنہ پہلے گھر سے وہاں منتقل ہو گئے تھے۔ پس اُس نے بیعت کی اور وہ اسے حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئے اور وہ کئی روز آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا حتی کہ اسے مکمل یقین ہو گیا کہ آپ رضی اللہ عنہ یہیں مقیم ہیں۔


ہانی بن عروہ کی گرفتاری


حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی تلاش میں عبید اللہ بن زیاد نے خفیہ طور سے اپنے ایک غلام کو بھیجا اور اس نے مکمل تحقیق کرنے کے بعد آکر بتایا کہ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ، ہانی بن عروہ کے گھر میں چھپے ہوئے ہیں اور خفیہ طور سے بیعت کر رہے ہیں۔ عبید اللہ بن زیاد نے مکمل معلومات حاصل کرنے کے بعد ہانی بن عروہ کو بلوایا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اُدھر عبیداللہ بن زیاد نے کوفہ کے عہدے داروں سے پوچھا کہ سب لوگوں کے ساتھ ہانی بن عروہ میرے پاس کیوں نہیں آیا ؟ ۔ یہ سن کر محمد بن اشعث اپنی برادری کے لوگوں کو لئے ہوئے ہانی بن عروہ کے پاس آیا تو دیکھا کہ دروازہ کے باہر ہی موجود ہے۔ اُس سے کہا کہ حاکم عبید اللہ بن زیاد نے ابھی تمہارا ذکر کیا تھا اور کہا کہ انہوں نے آنے میں بہت تاخیر کر دی اس لئے تم کو اُس کے پاس جانا چاہیئے ۔ یہ لوگ مسلسل اصرار کرتے رہے۔ آخر کا رہانی بن عروہ اُن لوگوں کے ساتھ عبید اللہ بن زیاد کے پاس آیا۔ اُسوقت قاضی شرح بھی موجود تھے، ہانی کو دیکھ کر عبید اللہ بن زیاد نے کہا: " لو! اجل گرفتہ خود ہمارے پاس چلا آیا۔ ہانی بن عروہ نے اسے سلام کیا تو اُس نے کہا: 'بتاؤ (حضرت) مسلم بن عقیل (رضی اللہ عنہ ) کہاں ہیں؟ ہانی بن عروہ نے کہا: ”میں نہیں جانتا ہوں ۔ عبید اللہ بن زیاد نے اُس غلام کو بلایا جو جھوٹی بیعت کرنے گیا تھا۔ اسے دیکھ کر ہانی بن عروہ متحیر ہو گیا اور بولا : ”اللہ ہمارے گورنر کا بھلا کرے ! اللہ کی قسم! میں نے حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو اپنے گھر نہیں بلایا تھا بلکہ وہ خود آئے تھے اور زبردستی میرے مہمان بن گئے ۔ عبید اللہ بن زیاد نے کہا: ” انہیں ہمارے حوالے کر دو ہانی بن عروہ نے کہا: اللہ کی قسم ! اگر وہ میرے پاؤں کے نیچے چھپے ہوتے تو میں وہاں سے اپنے پیر نہیں ہٹاتا ۔ عبید اللہ بن زیاد نے حکم دیا کہ اسے میرے پاس لاؤ۔ جب ہانی بن عروہ کو اس کے پاس لایا گیا تو اس نے ایسی ضرب لگائی کہ جھوں اُن کی زہر آلود ہوگئی ۔ ہانی بن عروہ نے ایک سپاہی کی تلوار کی طرف ہاتھ بڑھایا کہ اُسے میان سے نکال لیں مگر لوگوں نے انہیں پکڑ لیا۔ عبید اللہ بن زیاد نے کہا: ”اب تمہارا قتل کرنا اللہ نے ہمارے لئے حلال کر دیا ہے ۔ یہ کہ کر اس نے ہانی بن عروہ کو قید کرنے کا حکم دیا تو انہیں اسی محل کے قید خانے میں قید کر دیا گیا۔


عبید اللہ بن زیاد کے محل کا محاصرہ


حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ ہانی بن عروہ کے گھر میں پناہ گزین تھے۔ جب آپ رضی اللہ عنہ کو اس کی گرفتاری اور قید کی خبر ملی تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ عبید اللہ بن زیاد کے محل کا محاصرہ کر لیا۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے یہ واقعات سن کر اپنے اصحاب میں یا منصور امتہ “ کا اعلان کر دیا۔ اُس وقت تک آپ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر اٹھارہ ہزار سے زیادہ آدمی بیعت کر چکے تھے جن میں سے چار ہزار اُس وقت وہاں موجود تھے۔ تھوڑی دیر میں ایک انبوہ کثیر جمع ہو گیا۔ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عزیز کندی کو بنوکندہ پر مامور کر کے آگے بڑھنے کا حکم دیا اور مسلم بن عوسجہ اسدی کو بنو مذحج بنو اسد پر، ابی شمائلہ سائدی کو بنو تمیم اور بنو ہمدان پر اور عباس بن جعدہ جدلی کو بن مدینہ پر مامور کر کے انہیں لیکر آپ رضی اللہ عنہ عبید اللہ بن زیاد کے محل کی طرف روانہ ہوئے اور محاصرہ کر لیا عبید اللہ بن زیاد نے اپنے محل کے دروازے بند کر لئے اُس وقت اُس کے پاس پولیس کے صرف تیں آدمی تھے اور میں خدام تھے اور کوفہ کے چند عہدے داران تھے۔


کوفیوں کی بد عہدی اور غداری


حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے اٹھارہ ہزار 18,000 سے زیادہ کوفیوں کے ساتھ ملکر عبد اللہ بن زیاد کے محل کا محاصرہ کر لیا تھا اور قریب تھا کہ عبید اللہ بن زیاد گرفتار کرلیا جا تا یاقتل کر دیا جاتا لیکن اُس نے چالاکی سے ایک سیاسی حربہ استعمال کیا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : تب عبید اللہ بن زیاد نے اُن کو منتشر کرنے کی یہ تدبیر نکالی کہ کثیر بن شہاب حارثی کو بنو مذحج کی طرف محمد بن اشعث کو بنو کندہ کی طرف ، قعقاع بن شور دہلی کو ہنو ہمدان کی طرف ، اور شیت بن ربعی تمیمی کو بنو تمیم کی طرف اور حجاز بن جبر رجلی اور شمر بن ذی جوش وغیرہ کوحکم دیا کہ محل کی کھڑکیوں اور بالا خانوں (بالکنیوں ) سے لوگوں کو سمجھا بجھا کر حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ سے الگ ہونے کو کہو اور اعلان کر دو کہ جو شخص اس وقت اُن سے علیحدگی اختیار کرے گا اُس کو امان دی جائے گی اور جو شخص ہمارے حکم سے سرتابی کرے گا وہ گرفتار کیا جائے گا اور اُسے بری طرح سزادی جائے گی ۔ کوفیوں نے جب یہ اعلان سنا تو ایک ایک، دو دو، پانچ پانچ اور دس دس کر کے علیحدہ ہونے لگے۔ آخر کار نوبت یہاں تک پہنچی کہ عورتیں بھی گھروں سے نکل پڑیں اور اپنے بیٹوں اور بھائیوں کو بلا کر لے گئیں ۔ اب حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے پاس صرف تمہیں آدمی رہ گئے تھے ۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں: حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے مقدمہ الجیش کو آگے بڑھایا، میمنہ اور میسرہ کو درست کیا اور خود قلب لشکر میں عبید اللہ بن زیاد کے محل کا رخ کیا۔ اُدھر عبید اللہ بن زیاد نے اہل کوفہ کے عہدے داروں کا بلا کر اپنے محل میں جمع کیا۔ جب حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ حل کے پاس پہنچے تو تمام عہدے داروں نے محل پر چڑھ کر اپنے اپنے قبیلے اور برادری والوں کے سامنے آئے اور انہیں سمجھا بجھا کر واپس کرنے لگے۔ اب لوگ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے پاس سے سرکنے لگے اور شام ہونے تک صرف پانچ سو 500 آدمی رہ گئے ۔ جب رات کی تاریکی ہوئی تو وہ بھی ساتھ چھوڑ کر چلے گئے۔ 


حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے انکاونٹر کا اعلان


حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے ساتھ صرف تمیں آدمی رہ گئے تھے تو آپ رضی اللہ عنہ باب بنوکندہ کی طرف بڑھے اور وہاں تک پہنچنے میں وہ تمیں آدمی بھی غائب ہو گئے اور آپ رضی اللہ عنہ تن تنہا رہ گئے ۔ اُدھر عبید اللہ بن زیاد اپنے محل سے نکل آیا اور اعلان کیا کہ تمام لوگ عشاء کی نماز جامع مسجد میں پڑھیں ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: مجمع منتشر ہونے کے بعد عبید اللہ بن زیاد اپنے احباب اور عہدے داروں کے ساتھ باہر آیا اور ہر محلہ میں اعلان کر دیا: سب لوگوں کا قصور معاف کر دیا گیا ہے اور کسی پر کوئی الزام باقی نہیں ہے اور عشاء کی نماز جامع مسجد میں آکر پڑھو۔ تھوڑی دیر میں مسجد آدمیوں سے بھر گئی ۔ عبید اللہ بن زیاد نے جماعت کے ساتھ نماز پڑھی اور منبر پر کھڑے ہو کر بولا: " (حضرت) مسلم بن عقیل ( رضی اللہ عنہ ) نے تم لوگوں میں اختلاف اور نفاق پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ جس کے گھر میں ہم اس کو پائیں گے وہ بری الذمہ ہے اور جو شخص اُسے گرفتار کر کے لائے گا ہم اُس کو انعام دیں گے ۔ اس کے بعد محکمہ پولیس کے سر براہ حصین بن تمیم کوحکم دیا کہ اسی وقت کوفہ کی ناکہ بندی کر لو اور صبح ہوتے ہی تمام مکانات کی تلاشی لینا۔


حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی خبر


حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ تنہا کوفہ کی گلیوں میں بھٹک رہے تھے اور باب بنو کندہ کی طرف جارہے تھے اور اسی درمیان میں عبید اللہ بن زیاد نے اپنی کاروائی مکمل کر لی۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ تمیں لوگوں کے ساتھ باب بنوکندہ کی طرف روانہ ہوئے۔ بنو کندہ کے دروازے تک پہنچتے پہنچتے یہ میں لوگ بھی علیحدہ ہو گئے اور آپ رضی اللہ عنہ تن تنہا بھٹکتے ہوئے بنو کندہ کی ایک عورت کے مکان پر پہنچے ( جس کا نام طوعہ تھا اور اس کا لڑکا سپاہی تھا) طوعہ باہر آئی اور پوچھا تو حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے اُس سے پانی طلب کیا اور اُس نے پانی پلایا۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ اُسی کے دروازے پر بیٹھ گئے ۔ طوعہ نے کہا: "اے اللہ کے بندے! کیا تم نے پانی نہیں پیا آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہاں ! پانی پیا۔ طوعہ نے کہا: ” پھر یہاں کیوں بیٹھے ہو؟ اپنے گھر جاؤ“ اس نے تین مرتبہ کہا لیکن آپ رضی اللہ عنہ نے کوئی جواب نہیں دیا اور خاموش بیٹھے رہے۔ تب طوعہ بولی : "سبحان اللہ! میں تم کو گھر جانے کا کہتی ہوں اور تم خاموش بیٹھے ہو ، اُٹھو اپنے گھر جاؤ، مجھے تمہارا یہاں بیٹھنا پسند نہیں ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ایک سرد آہ بھر فرمایا: ” اس شہر میں میرا کوئی مکان نہیں ہے اور نہ ہی کوئی عزیز اور رشتہ دار ہے۔ کیا تم مجھے پناہ دے سکتی ہو؟ اور میرے ساتھ کچھ بھلائی کرسکتی ہو؟ شاید اس کے بعد میں کبھی تم کو اس کا معاوضہ دے سکوں ۔ طوعہ نے کہا: ” آپ کون ہیں؟“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں مسلم بن عقیل ہوں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا چا زاد بھائی ! مجھے کوفہ والوں نے دھوکا دیا ہے ۔ " طوعہ نے کہا: ”اچھا آپ رضی اللہ عنہ میرے مکان میں تشریف لائے ۔ اُس نے آپ رضی اللہ عنہ کو اپنے مکان کے اندورنی احاطے میں ٹھہرایا ، کھا نالائی لیکن آپ رضی اللہ عنہ نے کھانا نہیں کھایا۔ اسی دوران طوعہ کا بیٹا آگیا تو اُس سے بڑے اصرار سے طوعہ نے عہد و پیمان اور وعدہ لیا اور آپ رضی اللہ عنہ کے بارے میں بتایا۔ اُس وقت تو بلال (علامہ محمد بن جریر طبری نے ہلال لکھا ہے ) خاموش رہا لیکن جب صبح عبید اللہ بن زیاد نے حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی گرفتاری کے لئے ایک جلسہ عام منعقد کیا تو بلال نے حاضر ہو کر عبدالرحمن بن محمد بن اشعث کو آپ رضی اللہ عنہ کے بارے میں بتایا۔ عبد الرحمن نے اپنے باپ محمد بن اشعث کو بتایا۔ محمد بن اشعث نے بھرے دربار میں عبید اللہ بن زیاد کو بتایا تو اُس نے محمد بن اشعث کو ستر سپاہی دے کر حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو گرفتار کرنے کے لئے بھیجا اُن میں عمرو بن عبید اللہ بن عباس سلمی بھی تھا


حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی گرفتاری


حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ طوعہ کے گھر میں پناہ لیئے ہوئے تھے اور طوعہ کے بیٹے نے آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ دھوکا کر دیا اور عبید اللہ بن زیاد کو آپ رضی اللہ عنہ کے بارے میں خبر دے دی ۔ عبید اللہ بن زیاد نے آپ رضی اللہ عنہ کو گرفتار کرنے کے لئے ستر سپاہیوں کا بھیجا۔ اُن سب نے طوعہ کے گھر کا محاصرہ کر لیا اور اُس سے کہا کہ تم حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو ہمارے حوالے کرو لیکن وہ انکار کرنے لگی ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ ان لوگوں کی آواز سن کر تلوار کھینچ کر نکل آئے اور نہایت مردانگی سے مقابلہ کرتے ہوئے انہیں گھر سے باہر نکال دیا۔ بار بار وہ لوگ حملہ آور ہوتے تھے اور آپ رضی اللہ عنہ انہیں باہر دھکیل دیتے تھے۔ بکیر بن حمران احمدی نے تلوار چلائی تو آپ رضی اللہ عنہ کا اوپر کا ہونٹ کٹ گیا، دو دانت ٹوٹ گئے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے بھی بڑھ کر اُس کے سر پر تلوار کا وار کیا اور دوسرا وار اُس کے کندھے پر کیا وہ منہ کے بل گر گیا۔ اُس کے ساتھی پاس پڑوس کے گھروں کی چھتوں پر چڑھ گئے اور آپ رضی اللہ عنہ کو پھر پھینک پھینک کر مارنے لگے۔ یہاں آپ رضی اللہ عنہ مجبور ہو گئے۔ پھر بھی تلوار سے پتھروں کو روکنے کی کوشش کرتے رہے اور جو بھی قریب آنے کی کوشش کرتا تھا اُس پر حملہ کر دیتے تھے۔ محمد بن اشعث نے دور سے چلا کر کہا: ” تم کو امان دی جاتی ہے اس لئے لڑنا بند کر دو “ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہر شخص ایک روز موت کے پنجہ میں گرفتار ہوگا اور مجھے خوف ہے کہ میں جھٹلایا، دھوکا دیا جاؤں گا۔ محمد بن اشعث بولا : " تم جھٹلائے نہیں جاؤ گے اور تم کو دھوکا نہیں دیا جائے گا۔ آپ رضی اللہ عنہ پر اتنے زیادہ پتھر برس چکے تھے کہ پورے جسم پر زخم ہو گئے تھے اور اُن سے خون نکلنے جی وجہ سے کمزوری آتی جارہی تھی ۔ پھر بھی آپ رضی اللہ عنہ تن کر کھڑے تھے لیکن دھیرے دھیرے جنگ کرنے کی تاب نہ رہی تو آپ رضی اللہ عنہ احاطے کی دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے۔ محمد بن اشعث نے سب لوگوں کے ساتھ آپ رضی اللہ عنہ کو امان دی اور صرف عمرو بن عبید اللہ نے امان نہیں دی۔ جب آپ رضی اللہ عنہ کو خچر پر سوار کرا کر عبداللہ بن زیاد کی طرف لے کر چلے تو عمرو بن عبید اللہ نے آپ رضی اللہ عنہ کی تلوار لے لی۔ اس پر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ پہلی بدعہدی ہے ۔ محمد بن اشعث نے کہا: " تم مطلق خوف نہ کرو کسی قسم کا اندیشہ نہیں ہے۔“ 


کاش کوئی حضرت حسین علی رضی اللہ عنہ کو خبر دے


حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو جب گرفتار کر کے لے چلے تو سب سے پہلے آپ رضی اللہ عنہ سے تلوار چھین لی گئی ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ بد عہدی ہے تو آپ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ اندیشہ یا خوف نہ کریں۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے : حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” اندیشے کی کیا اور کوئی صورت ہوتی ہے؟ اور تمہاری امان کہاں ہے؟ تم نے میری تلوار لے لی اور اب میں بے دست و پا ہوں ۔“ اتناہی فرما پائے تھے کہ گلہ رندھ گیا اور آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ عمر بن عبید اللہ بولا اب کیوں روتے ہو؟ تم نے جو کچھ کیا ہے تو اس پر تمہارے ساتھ یہی ہونے والا تھا۔ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں اپنے لئے نہیں رورہا ہوں بلکہ مجھے اپنے اہل وعیال اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور آل حسین پر رونا آرہا ہے جو تمہاری طرف آنے والے ہیں۔ کاش کوئی حضرت حسین بن علی کو بر دیتا کہ آپ رضی اللہ عنہ یہاں نہیں آئیں ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم ! میں اپنے لئے نہیں رورہا ہوں اور نہ ہی میں رحم کی کوئی اُمید رکھتا ہوں۔ میں تو حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور آل حسین کے لئے رو رہا ہوں ۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے محمد بن اشعث کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ” اے اللہ کے بندے اللہ کی قسم! مجھے معلوم ہے کہ تو میری وصیت کو پورا کرنے سے عاجز ہے پھر بھی میں تجھ سے کہ رہا ہوں اگر تو کسی شخص کو بھیجنے کی طاقت رکھتا ہے تو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ تک میرا یہ پیغام پہنچادے۔ مجھے معلوم ہے کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور اُن کے اہل بیت آج یا کل کو فہ آنے کے لئے روانہ ہو چکے ہیں اور اسی وجہ سے تو مجھے گھبراہٹ میں مبتلا دیکھ رہا ہے۔ انہیں کہنا کہ مجھے (حضرت) مسلم بن عقیل (رضی اللہ عنہ ) نے آپ رضی اللہ عنہ کی جانب بھیجا ہے اور وہ لوگوں کی قید میں ہیں اور انہیں معلوم نہیں ہے کہ وہ صبح کو قتل کئے جائیں گے یا شام کو اور وہ آپ رضی اللہ عنہ سے کہتے ہیں کہ اپنے اہل وعیال کے ساتھ واپس لوٹ جائیں اور اہل کوفہ آپ رضی اللہ عنہ کو دھوکہ نہ دے سکیں۔ بے شک اہل کوفہ نے آپ رضی اللہ عنہ کی تکذیب کی اور مجھے جھٹلایا اور جھوٹے کی کوئی رائے نہیں ہوتی ہے۔“


حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی وصیت


حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کوگرفتار کر کے لے جایا جارہا تھا تو آپ رضی اللہ عنہ کی سب سے بڑی تمنا اُس وقت یہی تھی کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کوفہ نہ آئیں۔ اس کے بارے میں انہوں نے محمد بن اشعث سے کہا کہ کسی بھی طرح انہیں یہ خبر پہنچا دو۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: اس کے بعد حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے محمد بن اشعث سے مخاطب ہو کر فرمایا: ” میں دیکھ رہا ہوں کہ تم مجھے امان دینے سے مجبور ہو۔ خیر جو کچھ ہوا اچھا ہوا۔ اب تم میرا ایک کام کر سکتے ہو؟ کیا تم میں اتنی طاقت ہے کہ کسی شخص کے ذریعے سے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس یہ خبر بھیج دو اور میری طرف سے یہ کہلا بھیجو کہ وہ اپنے اہل بیت کے ساتھ واپس چلے جائیں ۔ محمد بن اشعث نے وعدہ کر لیا اور حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد ایک قاصد کے ذریعے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو بر بھی بھیجی اور وہ قاصد آپ رضی اللہ عنہ سے مقام زبالہ میں ملا اور حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر دی اور وصیت کا ذکر کیا کہ آپ رضی اللہ عنہ واپس چلے جائیں لیکن حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ واپس نہیں ہوئے اور فرمایا: ” جو مقدر میں ہے وہ ضرور ہونے والا ہے ۔ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کولیکر محمد بن اشعث محل میں پہنچا اور آپ رضی اللہ عنہ کو دروازے پر بٹھا کر اندر عبید اللہ بن زیاد کے پاس گیا اور تمام واقعہ بتا کر کہا کہ میں نے انہیں امان دی ہے۔ یہ سن کر عبید اللہ بن زیاد غصہ میں آگیا اور بولا : ” کو اور امان دے رہا ہے؟ میں نے تجھے اُس کو گرفتار کر کے لانے کے لئے بھیجا تھا یا امان دینے کے لئے ؟ محمد بن اشعث دم بخودرہ گیا اور جب حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ و عبید اللہ بن زیاد کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ سے سلام نہیں کیا ۔ جسی از دی نے کہا: ” تم نے امیر کو سلام نہیں کیا۔ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر یہ امیر میرے قتل کا ارادہ رکھتا ہے تو میر اسلام کس کام کا ؟ اور اگر یہ میرے قتل کا ارادہ نہیں رکھتا ہے تو بہت سلام ہو جائیں ۔ عبید اللہ بن زیاد بولا : ” میں تمہیں ضرور بالضر وقتل کروں گا۔ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں بھی یہی خیال کرتا ہوں۔ اچھا تم مجھے اجازت دو کہ میں اپنے لوگوں کے لئے کچھ وصیت کر دوں ۔ عبید اللہ بن زیاد نے اجازت دے دی۔ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے عمر بن سعد یہ مشہور صحابی حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا بیٹا ہے ) کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”میری اور تمہاری رشتہ داری ہے اور میں تم سے اکیلے میں کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں ۔ عمر بن سعد نے عبید اللہ بن زیاد کی طرف دیکھا تو اُس نے کہا: ”جاؤ کیلے میں اُس کی باتیں سن لو، میں تم کو تمہارے ابن عم کی بات سننے سے نہیں روکوں گا ۔ دونوں اُٹھ کر ایک گوشے میں چلے گئے تو حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں کوفہ میں فلاں شخص سے سات سو درہم قرض لئے تھے اسے تم میری طرف سے ادا کر دینا اور میرے قتل ہونے کے بعد میری لاش کو اجازت لے کر دفن کر دینا اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس کسی قاصد کو بھیج کر پیغام دینا کہ وہ کوفہ نہیں آئیں ۔“


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!


D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں