جمعرات، 5 ستمبر، 2024

Saltanat e Umayya part 11

 11 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 11

عبید اللہ بن زیاد کوفہ میں، حضرت نعمان بن بشیر کی معزولی، عبید اللہ بن زیاد کا اعلان، حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی تلاش، ہانی بن عروہ کی گرفتاری، عبید اللہ بن زیاد کے محل کا محاصرہ، کوفیوں کی بد عہدی اور غداری، حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے انکاونٹر کا اعلان، حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی خبر، حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی گرفتاری، کاش کوئی حضرت حسین علی رضی اللہ عنہ کو خبر دے،حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی وصیت



عبید اللہ بن زیاد کوفہ میں


حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کا حکم یزید نے جاری کر دیا تھا اور یزید کی خوشنودی پانے کے لئے عبید اللہ بن زیاد بصرہ نے نکل کر کوفہ اپنے ساتھیوں کو لیکر آیا اور اس حال میں کوفہ میں داخل ہوا کہ اُس نے اور اُس کے ساتھیوں نے ڈاکوؤں کی طرح چہرے پر ڈھاٹا باندھا ہوا تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: عبید اللہ بن زیاد اپنے رؤسائے بصرہ کے ساتھ ڈھانٹا باندھے ہوئے کوفہ میں داخل ہوا۔ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ کو فہ کے جس مجمع سے بھی گزرتا تھا تو اسلام علیکم کہتا تھا۔ اُس کے جواب میں لوگ واعلیکم السلام یا ابن بنت رسول کہتے تھے۔ اُن کو شبہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا تھا۔ ( یعنی لوگ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے انتظار میں تھے اس لئے عبید اللہ بن زیاد کے چہرہ چھپانے سے دھوکا کھا گئے علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: پھر یزید نے عبید اللہ بن زیاد کولکھا: ” جب تم کو فہ جانا تو (حضرت) مسلم بن عقیل ( رضی اللہ عنہ ) کو طلب کرنا اور اُن پر قابو پانا تو قتل کر دینا یا جلا وطن کر دینا اور اس نے مسلم بن عمرو باہلی کو یہ خط دیکر بھیجا۔ خط ملتے ہی عبید اللہ بن زیاد بصرہ سے کوفہ روانہ ہو گیا اور کوفہ میں سیاہ عمامے کا ڈھاٹا باندھ کر داخل ہوا اور لوگوں کی جس اشراف جماعت کے پاس سے گزرتا تھا تو انہیں اسلام اعلیکم کہتا اور وہ وعلیکم السلام خوش آمدید اے پسر رسول کہتے ۔ وہ خیال کرتے تھے کہ یہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ ہیں کیونکہ وہ آپ رضی اللہ عنہ کے منتظر تھے اور اُس کے پاس لوگوں کا جمگھٹا ہو گیا اور وہ کوفہ میں سترہ آدمیوں کے ساتھ آیا تھا۔ مسلم بن عمر و باہلی نے بلند آواز سے کہا: ” پیچھے ہٹ جاؤ یہ گورنر عبید اللہ بن زیاد ہے ۔“ جب عوام کو یقین ہوا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ تشریف نہیں لائے ہیں بلکہ ظالم عبداللہ بن زیاد کوفہ کا گورنر بن کر آیا ہے تو اُن پر دل شکستگی اور شدید غم چھا گیا۔


حضرت نعمان بن بشیر کی معزولی


حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت نعمان بن بشیر نے نرمی کا رویہ اختیار کیا جس کی سزا یہ ملی کہ یزید نے اُسے معزول کر دیا اور عبید اللہ بن زیاد کوکوفہ کا گورنر بنا دیا۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: عبید اللہ بن زیاد اپنے ساتھ مسلم بن عمرو اور شریک بن اعور حارثی اور اپنے ساتھیوں کولیکر کوفہ روانہ ہوا۔ راستے میں کوفہ کے قریب پہنچ کر وہ اپنے ساتھیوں سے الگ ہو گیا اور تنہا ڈھاٹا باندھے ہوئے کوفہ میں داخل ہوا جن لوگوں کے پاس سے وہ گزرتا تھا تو وہ لوگ اُسے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سمجھ کر اٹھ کھڑے ہوتے تھے اور جوش مسرت سے مرحبا یا ابن رسول اللہ کہتے تھے لیکن عبد اللہ بن زیاد کوئی جواب نہیں دے رہا تھا بلکہ چپ چاپ چلا جار ہا تھا۔ رفتہ رفتہ نعمان بن بشیر تک پہنچا اور اُس کے پیچھے پیچھے ایک انبوہ کثیر خوشی کے نعرے بلند کرتا ہوا چلا آرہا تھا۔ حضرت نعمان بن بشیر نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے شبہ میں دروازہ بند کر لیا اور اندر سے بلند آواز میں کہا: ” میں تمکو اللہ کی قسم دیتا ہوں تم میری طرف مائل نہیں ہوتا، میں اپنی امانت ، اپنا مال تمہاری کسی جنگی ضرورت کے لئے نہیں دوں گا ۔ عبید اللہ بن زیاد نے دروازے کے قریب جا کر چہرہ کھولا اور بلند آواز سے بولا: "دروازہ کھول دو، ورنہ زبر دستی کھول دیا جائے گا۔“ ایک شخص جو اُس کے پیچھے کھڑا ہو تھا پہچان کر بولا: یہ تو ابن مرجانہ عبید اللہ بن زیاد ہے ۔ یہ سنتے ہی لوگ بھاگ کھڑے ہوئے۔


عبید اللہ بن زیاد کا اعلان


حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر لگ بھگ اٹھارہ ہزار کوفیوں نے بیعت کی تھی لیکن اُن میں سے اکثر دنیا کی محبت میں مبتلا ہو گئے تھے ۔ اسی لئے جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ ظالم عبید اللہ بن زیاد کو یزید نے اُن کا گورنر بنا دیا ہے تو سب بھاگ کھڑے ہوئے ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : عبید اللہ بن زیاد دار الامارت میں داخل ہوا ۔ صبح ہوئی تو منبر پر گیا اور اعلان کیا : ”اے اہل کوفہ ! امیر المومنین یزید نے تمہارے شہر اور احکام شرعی اور مال غنیمت اور بیت المال کا گورنر مجھے بنایا ہے اور مجھے تمہارے مظلوموں کی دادرسی تمہارے محروموں کو دینے ، تمہارے فرمانبرداروں کے ساتھ احسان کرنے ، تمہارے نافرمانوں اور باغیوں کو گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے۔ میں بے شک تم پر اُس کے احکام جاری کروں گا۔ میں تم پر تمہارے والد سے بھی زیادہ مہربان ہوں گا اور تمہارے شفیق بھائی سے بڑھ کر تمہاری اطاعت کروں گا لیکن جو شخص میرے حکم کی مخالفت کرے گا اُس کی گردن اور پیٹھ پر میر ادرہ ( کوڑا) ہوگا۔ اتنا کہ کر وہ منبر سے اترا اور اپنے واقف کاروں اور شہر کے عہدے داروں سے بولا: ”لوگو! امیرالمومنین یزید کے حامیوں کی اور اُن لوگوں کی صحیح صحیح تعداد مجھے بتاؤ جن کے دلوں میں اختلاف اور بغاوت کا مادہ بھرا ہوا ہے پس جو شخص صاف صاف لکھ کر دے گا وہ بری ہے اور جو شخص لکھ کر نہ دے گا وہ اس کا ( بغاوت کا ذمہ دار سمجھا جائے گا۔ اگر اتفاق سے اُس کے دوستوں اور آشناؤں میں سے کسی نے ہماری مخالفت کی یا ہم سے باغی ہوا تو ہم اس سے بری الذمہ ہوں گے اور اُس کا خون اور مال ہم پر مباح ہوگا ۔جس کے علم میں کوئی شخص امیر المؤمنین یزید کا باغی اور مخالف ہوا اور اُس نے ظاہر نہیں کیا تو ہم اسے سولی ( پھانسی ) دے دیں گے اور اُس کا وظیفہ ضبط کرلیں گے۔“


حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی تلاش


کوفہ کے لوگوں کے درمیان اعلان کرنے کے بعد عبید اللہ بن زیاد نے حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی تلاش شروع کر دی۔ ادھر آپ رضی اللہ عنہ کو جب عبید اللہ بن زیاد کے کوفہ کا گورنر بنے اور اُس کے اعلان کے بارے میں معلوم ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فوراً اپنا ٹھکانہ بدل دیا جس کی وجہ سے عبید اللہ بن زیاد آپ رضی اللہ عنہ کو آسانی سے تلاش نہیں کر سکا۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے کانوں تک عبید اللہ بن زیاد کے احکامات پہنچے تو آپ رضی اللہ عنہ مختار کے مکان سے نکل کر ہانی بن عروہ مرادی کے مکان پر پہنچے اور دستک دی۔ ہانی بن عروہ نکلا اور آپ رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر ناک بھوں چڑھائی۔ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں تمہارے پاس پناہ گزین اور تمہارا مہمان بن کر آیا ہوں ۔ ہانی بن عروہ نے جواب دیا: ” تم نے مجھے سخت تکلیف میں ڈال دیا، اگر میرے گھر پر نہیں آتے تو میں یہ پسند کرتا کہ اس سے پہلے کہ میں کسی جرم میں ماخوذ کیا جاؤں تم میرے پاس سے واپس چلے جاؤ۔ خیر آؤ! میں حتی الامکان تمہیں پناہ دینے کی کوشش کروں گا۔“ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ اس کو غنیمت جان کر ہانی بن عروہ کے مکان میں مقیم ہو گئے۔ آپ رضی اللہ عنہ اچانک کسی کو بتائے بغیر وہاں مقیم ہو گئے تھے اس لئے یزید اور عبید اللہ بن زیاد کے حامیوں کو نہیں معلوم ہو سکا کہ آپ رضی اللہ عنہ اچانک کہاں غائب ہو گئے ہیں۔ آخر کار عبید اللہ بن زیاد نے ایک چال چلی اور معلوم کر لیا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: جب عبید اللہ بن زیاد نے کوفہ پر اپنا کنٹرول قائم کر لیا تو اُس نے حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی تلاش شروع کی۔ اُس نے ابورھم کے غلام اور بعض کا قول ہے کہ اپنے غلام معقل کو تین ہزار درہم کے ساتھ بلا حمص سے آنے والے کی صورت میں بھیجا اور یہ کہ وہ صرف بیعت کرنے کے لئے آیا ہے۔ پس یہ غلام گیا اور مسلسل اُس گھر کا پتہ معلوم کرنے کی کوشش کرتا رہا جہاں لوگ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی بیعت کر رہے تھے حتی کہ وہ اُس گھر میں داخل ہو گیا اور وہ ہانی بن عروہ کا گھر تھا جس میں آپ رضی اللہ عنہ پہلے گھر سے وہاں منتقل ہو گئے تھے۔ پس اُس نے بیعت کی اور وہ اسے حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئے اور وہ کئی روز آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا حتی کہ اسے مکمل یقین ہو گیا کہ آپ رضی اللہ عنہ یہیں مقیم ہیں۔


ہانی بن عروہ کی گرفتاری


حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی تلاش میں عبید اللہ بن زیاد نے خفیہ طور سے اپنے ایک غلام کو بھیجا اور اس نے مکمل تحقیق کرنے کے بعد آکر بتایا کہ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ، ہانی بن عروہ کے گھر میں چھپے ہوئے ہیں اور خفیہ طور سے بیعت کر رہے ہیں۔ عبید اللہ بن زیاد نے مکمل معلومات حاصل کرنے کے بعد ہانی بن عروہ کو بلوایا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اُدھر عبیداللہ بن زیاد نے کوفہ کے عہدے داروں سے پوچھا کہ سب لوگوں کے ساتھ ہانی بن عروہ میرے پاس کیوں نہیں آیا ؟ ۔ یہ سن کر محمد بن اشعث اپنی برادری کے لوگوں کو لئے ہوئے ہانی بن عروہ کے پاس آیا تو دیکھا کہ دروازہ کے باہر ہی موجود ہے۔ اُس سے کہا کہ حاکم عبید اللہ بن زیاد نے ابھی تمہارا ذکر کیا تھا اور کہا کہ انہوں نے آنے میں بہت تاخیر کر دی اس لئے تم کو اُس کے پاس جانا چاہیئے ۔ یہ لوگ مسلسل اصرار کرتے رہے۔ آخر کا رہانی بن عروہ اُن لوگوں کے ساتھ عبید اللہ بن زیاد کے پاس آیا۔ اُسوقت قاضی شرح بھی موجود تھے، ہانی کو دیکھ کر عبید اللہ بن زیاد نے کہا: " لو! اجل گرفتہ خود ہمارے پاس چلا آیا۔ ہانی بن عروہ نے اسے سلام کیا تو اُس نے کہا: 'بتاؤ (حضرت) مسلم بن عقیل (رضی اللہ عنہ ) کہاں ہیں؟ ہانی بن عروہ نے کہا: ”میں نہیں جانتا ہوں ۔ عبید اللہ بن زیاد نے اُس غلام کو بلایا جو جھوٹی بیعت کرنے گیا تھا۔ اسے دیکھ کر ہانی بن عروہ متحیر ہو گیا اور بولا : ”اللہ ہمارے گورنر کا بھلا کرے ! اللہ کی قسم! میں نے حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو اپنے گھر نہیں بلایا تھا بلکہ وہ خود آئے تھے اور زبردستی میرے مہمان بن گئے ۔ عبید اللہ بن زیاد نے کہا: ” انہیں ہمارے حوالے کر دو ہانی بن عروہ نے کہا: اللہ کی قسم ! اگر وہ میرے پاؤں کے نیچے چھپے ہوتے تو میں وہاں سے اپنے پیر نہیں ہٹاتا ۔ عبید اللہ بن زیاد نے حکم دیا کہ اسے میرے پاس لاؤ۔ جب ہانی بن عروہ کو اس کے پاس لایا گیا تو اس نے ایسی ضرب لگائی کہ جھوں اُن کی زہر آلود ہوگئی ۔ ہانی بن عروہ نے ایک سپاہی کی تلوار کی طرف ہاتھ بڑھایا کہ اُسے میان سے نکال لیں مگر لوگوں نے انہیں پکڑ لیا۔ عبید اللہ بن زیاد نے کہا: ”اب تمہارا قتل کرنا اللہ نے ہمارے لئے حلال کر دیا ہے ۔ یہ کہ کر اس نے ہانی بن عروہ کو قید کرنے کا حکم دیا تو انہیں اسی محل کے قید خانے میں قید کر دیا گیا۔


عبید اللہ بن زیاد کے محل کا محاصرہ


حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ ہانی بن عروہ کے گھر میں پناہ گزین تھے۔ جب آپ رضی اللہ عنہ کو اس کی گرفتاری اور قید کی خبر ملی تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ عبید اللہ بن زیاد کے محل کا محاصرہ کر لیا۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے یہ واقعات سن کر اپنے اصحاب میں یا منصور امتہ “ کا اعلان کر دیا۔ اُس وقت تک آپ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر اٹھارہ ہزار سے زیادہ آدمی بیعت کر چکے تھے جن میں سے چار ہزار اُس وقت وہاں موجود تھے۔ تھوڑی دیر میں ایک انبوہ کثیر جمع ہو گیا۔ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عزیز کندی کو بنوکندہ پر مامور کر کے آگے بڑھنے کا حکم دیا اور مسلم بن عوسجہ اسدی کو بنو مذحج بنو اسد پر، ابی شمائلہ سائدی کو بنو تمیم اور بنو ہمدان پر اور عباس بن جعدہ جدلی کو بن مدینہ پر مامور کر کے انہیں لیکر آپ رضی اللہ عنہ عبید اللہ بن زیاد کے محل کی طرف روانہ ہوئے اور محاصرہ کر لیا عبید اللہ بن زیاد نے اپنے محل کے دروازے بند کر لئے اُس وقت اُس کے پاس پولیس کے صرف تیں آدمی تھے اور میں خدام تھے اور کوفہ کے چند عہدے داران تھے۔


کوفیوں کی بد عہدی اور غداری


حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے اٹھارہ ہزار 18,000 سے زیادہ کوفیوں کے ساتھ ملکر عبد اللہ بن زیاد کے محل کا محاصرہ کر لیا تھا اور قریب تھا کہ عبید اللہ بن زیاد گرفتار کرلیا جا تا یاقتل کر دیا جاتا لیکن اُس نے چالاکی سے ایک سیاسی حربہ استعمال کیا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : تب عبید اللہ بن زیاد نے اُن کو منتشر کرنے کی یہ تدبیر نکالی کہ کثیر بن شہاب حارثی کو بنو مذحج کی طرف محمد بن اشعث کو بنو کندہ کی طرف ، قعقاع بن شور دہلی کو ہنو ہمدان کی طرف ، اور شیت بن ربعی تمیمی کو بنو تمیم کی طرف اور حجاز بن جبر رجلی اور شمر بن ذی جوش وغیرہ کوحکم دیا کہ محل کی کھڑکیوں اور بالا خانوں (بالکنیوں ) سے لوگوں کو سمجھا بجھا کر حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ سے الگ ہونے کو کہو اور اعلان کر دو کہ جو شخص اس وقت اُن سے علیحدگی اختیار کرے گا اُس کو امان دی جائے گی اور جو شخص ہمارے حکم سے سرتابی کرے گا وہ گرفتار کیا جائے گا اور اُسے بری طرح سزادی جائے گی ۔ کوفیوں نے جب یہ اعلان سنا تو ایک ایک، دو دو، پانچ پانچ اور دس دس کر کے علیحدہ ہونے لگے۔ آخر کار نوبت یہاں تک پہنچی کہ عورتیں بھی گھروں سے نکل پڑیں اور اپنے بیٹوں اور بھائیوں کو بلا کر لے گئیں ۔ اب حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے پاس صرف تمہیں آدمی رہ گئے تھے ۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں: حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے مقدمہ الجیش کو آگے بڑھایا، میمنہ اور میسرہ کو درست کیا اور خود قلب لشکر میں عبید اللہ بن زیاد کے محل کا رخ کیا۔ اُدھر عبید اللہ بن زیاد نے اہل کوفہ کے عہدے داروں کا بلا کر اپنے محل میں جمع کیا۔ جب حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ حل کے پاس پہنچے تو تمام عہدے داروں نے محل پر چڑھ کر اپنے اپنے قبیلے اور برادری والوں کے سامنے آئے اور انہیں سمجھا بجھا کر واپس کرنے لگے۔ اب لوگ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے پاس سے سرکنے لگے اور شام ہونے تک صرف پانچ سو 500 آدمی رہ گئے ۔ جب رات کی تاریکی ہوئی تو وہ بھی ساتھ چھوڑ کر چلے گئے۔ 


حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے انکاونٹر کا اعلان


حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے ساتھ صرف تمیں آدمی رہ گئے تھے تو آپ رضی اللہ عنہ باب بنوکندہ کی طرف بڑھے اور وہاں تک پہنچنے میں وہ تمیں آدمی بھی غائب ہو گئے اور آپ رضی اللہ عنہ تن تنہا رہ گئے ۔ اُدھر عبید اللہ بن زیاد اپنے محل سے نکل آیا اور اعلان کیا کہ تمام لوگ عشاء کی نماز جامع مسجد میں پڑھیں ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: مجمع منتشر ہونے کے بعد عبید اللہ بن زیاد اپنے احباب اور عہدے داروں کے ساتھ باہر آیا اور ہر محلہ میں اعلان کر دیا: سب لوگوں کا قصور معاف کر دیا گیا ہے اور کسی پر کوئی الزام باقی نہیں ہے اور عشاء کی نماز جامع مسجد میں آکر پڑھو۔ تھوڑی دیر میں مسجد آدمیوں سے بھر گئی ۔ عبید اللہ بن زیاد نے جماعت کے ساتھ نماز پڑھی اور منبر پر کھڑے ہو کر بولا: " (حضرت) مسلم بن عقیل ( رضی اللہ عنہ ) نے تم لوگوں میں اختلاف اور نفاق پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ جس کے گھر میں ہم اس کو پائیں گے وہ بری الذمہ ہے اور جو شخص اُسے گرفتار کر کے لائے گا ہم اُس کو انعام دیں گے ۔ اس کے بعد محکمہ پولیس کے سر براہ حصین بن تمیم کوحکم دیا کہ اسی وقت کوفہ کی ناکہ بندی کر لو اور صبح ہوتے ہی تمام مکانات کی تلاشی لینا۔


حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی خبر


حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ تنہا کوفہ کی گلیوں میں بھٹک رہے تھے اور باب بنو کندہ کی طرف جارہے تھے اور اسی درمیان میں عبید اللہ بن زیاد نے اپنی کاروائی مکمل کر لی۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ تمیں لوگوں کے ساتھ باب بنوکندہ کی طرف روانہ ہوئے۔ بنو کندہ کے دروازے تک پہنچتے پہنچتے یہ میں لوگ بھی علیحدہ ہو گئے اور آپ رضی اللہ عنہ تن تنہا بھٹکتے ہوئے بنو کندہ کی ایک عورت کے مکان پر پہنچے ( جس کا نام طوعہ تھا اور اس کا لڑکا سپاہی تھا) طوعہ باہر آئی اور پوچھا تو حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے اُس سے پانی طلب کیا اور اُس نے پانی پلایا۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ اُسی کے دروازے پر بیٹھ گئے ۔ طوعہ نے کہا: "اے اللہ کے بندے! کیا تم نے پانی نہیں پیا آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہاں ! پانی پیا۔ طوعہ نے کہا: ” پھر یہاں کیوں بیٹھے ہو؟ اپنے گھر جاؤ“ اس نے تین مرتبہ کہا لیکن آپ رضی اللہ عنہ نے کوئی جواب نہیں دیا اور خاموش بیٹھے رہے۔ تب طوعہ بولی : "سبحان اللہ! میں تم کو گھر جانے کا کہتی ہوں اور تم خاموش بیٹھے ہو ، اُٹھو اپنے گھر جاؤ، مجھے تمہارا یہاں بیٹھنا پسند نہیں ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ایک سرد آہ بھر فرمایا: ” اس شہر میں میرا کوئی مکان نہیں ہے اور نہ ہی کوئی عزیز اور رشتہ دار ہے۔ کیا تم مجھے پناہ دے سکتی ہو؟ اور میرے ساتھ کچھ بھلائی کرسکتی ہو؟ شاید اس کے بعد میں کبھی تم کو اس کا معاوضہ دے سکوں ۔ طوعہ نے کہا: ” آپ کون ہیں؟“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں مسلم بن عقیل ہوں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا چا زاد بھائی ! مجھے کوفہ والوں نے دھوکا دیا ہے ۔ " طوعہ نے کہا: ”اچھا آپ رضی اللہ عنہ میرے مکان میں تشریف لائے ۔ اُس نے آپ رضی اللہ عنہ کو اپنے مکان کے اندورنی احاطے میں ٹھہرایا ، کھا نالائی لیکن آپ رضی اللہ عنہ نے کھانا نہیں کھایا۔ اسی دوران طوعہ کا بیٹا آگیا تو اُس سے بڑے اصرار سے طوعہ نے عہد و پیمان اور وعدہ لیا اور آپ رضی اللہ عنہ کے بارے میں بتایا۔ اُس وقت تو بلال (علامہ محمد بن جریر طبری نے ہلال لکھا ہے ) خاموش رہا لیکن جب صبح عبید اللہ بن زیاد نے حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی گرفتاری کے لئے ایک جلسہ عام منعقد کیا تو بلال نے حاضر ہو کر عبدالرحمن بن محمد بن اشعث کو آپ رضی اللہ عنہ کے بارے میں بتایا۔ عبد الرحمن نے اپنے باپ محمد بن اشعث کو بتایا۔ محمد بن اشعث نے بھرے دربار میں عبید اللہ بن زیاد کو بتایا تو اُس نے محمد بن اشعث کو ستر سپاہی دے کر حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو گرفتار کرنے کے لئے بھیجا اُن میں عمرو بن عبید اللہ بن عباس سلمی بھی تھا


حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی گرفتاری


حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ طوعہ کے گھر میں پناہ لیئے ہوئے تھے اور طوعہ کے بیٹے نے آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ دھوکا کر دیا اور عبید اللہ بن زیاد کو آپ رضی اللہ عنہ کے بارے میں خبر دے دی ۔ عبید اللہ بن زیاد نے آپ رضی اللہ عنہ کو گرفتار کرنے کے لئے ستر سپاہیوں کا بھیجا۔ اُن سب نے طوعہ کے گھر کا محاصرہ کر لیا اور اُس سے کہا کہ تم حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو ہمارے حوالے کرو لیکن وہ انکار کرنے لگی ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ ان لوگوں کی آواز سن کر تلوار کھینچ کر نکل آئے اور نہایت مردانگی سے مقابلہ کرتے ہوئے انہیں گھر سے باہر نکال دیا۔ بار بار وہ لوگ حملہ آور ہوتے تھے اور آپ رضی اللہ عنہ انہیں باہر دھکیل دیتے تھے۔ بکیر بن حمران احمدی نے تلوار چلائی تو آپ رضی اللہ عنہ کا اوپر کا ہونٹ کٹ گیا، دو دانت ٹوٹ گئے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے بھی بڑھ کر اُس کے سر پر تلوار کا وار کیا اور دوسرا وار اُس کے کندھے پر کیا وہ منہ کے بل گر گیا۔ اُس کے ساتھی پاس پڑوس کے گھروں کی چھتوں پر چڑھ گئے اور آپ رضی اللہ عنہ کو پھر پھینک پھینک کر مارنے لگے۔ یہاں آپ رضی اللہ عنہ مجبور ہو گئے۔ پھر بھی تلوار سے پتھروں کو روکنے کی کوشش کرتے رہے اور جو بھی قریب آنے کی کوشش کرتا تھا اُس پر حملہ کر دیتے تھے۔ محمد بن اشعث نے دور سے چلا کر کہا: ” تم کو امان دی جاتی ہے اس لئے لڑنا بند کر دو “ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہر شخص ایک روز موت کے پنجہ میں گرفتار ہوگا اور مجھے خوف ہے کہ میں جھٹلایا، دھوکا دیا جاؤں گا۔ محمد بن اشعث بولا : " تم جھٹلائے نہیں جاؤ گے اور تم کو دھوکا نہیں دیا جائے گا۔ آپ رضی اللہ عنہ پر اتنے زیادہ پتھر برس چکے تھے کہ پورے جسم پر زخم ہو گئے تھے اور اُن سے خون نکلنے جی وجہ سے کمزوری آتی جارہی تھی ۔ پھر بھی آپ رضی اللہ عنہ تن کر کھڑے تھے لیکن دھیرے دھیرے جنگ کرنے کی تاب نہ رہی تو آپ رضی اللہ عنہ احاطے کی دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے۔ محمد بن اشعث نے سب لوگوں کے ساتھ آپ رضی اللہ عنہ کو امان دی اور صرف عمرو بن عبید اللہ نے امان نہیں دی۔ جب آپ رضی اللہ عنہ کو خچر پر سوار کرا کر عبداللہ بن زیاد کی طرف لے کر چلے تو عمرو بن عبید اللہ نے آپ رضی اللہ عنہ کی تلوار لے لی۔ اس پر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ پہلی بدعہدی ہے ۔ محمد بن اشعث نے کہا: " تم مطلق خوف نہ کرو کسی قسم کا اندیشہ نہیں ہے۔“ 


کاش کوئی حضرت حسین علی رضی اللہ عنہ کو خبر دے


حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو جب گرفتار کر کے لے چلے تو سب سے پہلے آپ رضی اللہ عنہ سے تلوار چھین لی گئی ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ بد عہدی ہے تو آپ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ اندیشہ یا خوف نہ کریں۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے : حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” اندیشے کی کیا اور کوئی صورت ہوتی ہے؟ اور تمہاری امان کہاں ہے؟ تم نے میری تلوار لے لی اور اب میں بے دست و پا ہوں ۔“ اتناہی فرما پائے تھے کہ گلہ رندھ گیا اور آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ عمر بن عبید اللہ بولا اب کیوں روتے ہو؟ تم نے جو کچھ کیا ہے تو اس پر تمہارے ساتھ یہی ہونے والا تھا۔ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں اپنے لئے نہیں رورہا ہوں بلکہ مجھے اپنے اہل وعیال اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور آل حسین پر رونا آرہا ہے جو تمہاری طرف آنے والے ہیں۔ کاش کوئی حضرت حسین بن علی کو بر دیتا کہ آپ رضی اللہ عنہ یہاں نہیں آئیں ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم ! میں اپنے لئے نہیں رورہا ہوں اور نہ ہی میں رحم کی کوئی اُمید رکھتا ہوں۔ میں تو حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور آل حسین کے لئے رو رہا ہوں ۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے محمد بن اشعث کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ” اے اللہ کے بندے اللہ کی قسم! مجھے معلوم ہے کہ تو میری وصیت کو پورا کرنے سے عاجز ہے پھر بھی میں تجھ سے کہ رہا ہوں اگر تو کسی شخص کو بھیجنے کی طاقت رکھتا ہے تو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ تک میرا یہ پیغام پہنچادے۔ مجھے معلوم ہے کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور اُن کے اہل بیت آج یا کل کو فہ آنے کے لئے روانہ ہو چکے ہیں اور اسی وجہ سے تو مجھے گھبراہٹ میں مبتلا دیکھ رہا ہے۔ انہیں کہنا کہ مجھے (حضرت) مسلم بن عقیل (رضی اللہ عنہ ) نے آپ رضی اللہ عنہ کی جانب بھیجا ہے اور وہ لوگوں کی قید میں ہیں اور انہیں معلوم نہیں ہے کہ وہ صبح کو قتل کئے جائیں گے یا شام کو اور وہ آپ رضی اللہ عنہ سے کہتے ہیں کہ اپنے اہل وعیال کے ساتھ واپس لوٹ جائیں اور اہل کوفہ آپ رضی اللہ عنہ کو دھوکہ نہ دے سکیں۔ بے شک اہل کوفہ نے آپ رضی اللہ عنہ کی تکذیب کی اور مجھے جھٹلایا اور جھوٹے کی کوئی رائے نہیں ہوتی ہے۔“


حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی وصیت


حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کوگرفتار کر کے لے جایا جارہا تھا تو آپ رضی اللہ عنہ کی سب سے بڑی تمنا اُس وقت یہی تھی کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کوفہ نہ آئیں۔ اس کے بارے میں انہوں نے محمد بن اشعث سے کہا کہ کسی بھی طرح انہیں یہ خبر پہنچا دو۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: اس کے بعد حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے محمد بن اشعث سے مخاطب ہو کر فرمایا: ” میں دیکھ رہا ہوں کہ تم مجھے امان دینے سے مجبور ہو۔ خیر جو کچھ ہوا اچھا ہوا۔ اب تم میرا ایک کام کر سکتے ہو؟ کیا تم میں اتنی طاقت ہے کہ کسی شخص کے ذریعے سے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس یہ خبر بھیج دو اور میری طرف سے یہ کہلا بھیجو کہ وہ اپنے اہل بیت کے ساتھ واپس چلے جائیں ۔ محمد بن اشعث نے وعدہ کر لیا اور حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد ایک قاصد کے ذریعے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو بر بھی بھیجی اور وہ قاصد آپ رضی اللہ عنہ سے مقام زبالہ میں ملا اور حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر دی اور وصیت کا ذکر کیا کہ آپ رضی اللہ عنہ واپس چلے جائیں لیکن حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ واپس نہیں ہوئے اور فرمایا: ” جو مقدر میں ہے وہ ضرور ہونے والا ہے ۔ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کولیکر محمد بن اشعث محل میں پہنچا اور آپ رضی اللہ عنہ کو دروازے پر بٹھا کر اندر عبید اللہ بن زیاد کے پاس گیا اور تمام واقعہ بتا کر کہا کہ میں نے انہیں امان دی ہے۔ یہ سن کر عبید اللہ بن زیاد غصہ میں آگیا اور بولا : ” کو اور امان دے رہا ہے؟ میں نے تجھے اُس کو گرفتار کر کے لانے کے لئے بھیجا تھا یا امان دینے کے لئے ؟ محمد بن اشعث دم بخودرہ گیا اور جب حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ و عبید اللہ بن زیاد کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ سے سلام نہیں کیا ۔ جسی از دی نے کہا: ” تم نے امیر کو سلام نہیں کیا۔ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر یہ امیر میرے قتل کا ارادہ رکھتا ہے تو میر اسلام کس کام کا ؟ اور اگر یہ میرے قتل کا ارادہ نہیں رکھتا ہے تو بہت سلام ہو جائیں ۔ عبید اللہ بن زیاد بولا : ” میں تمہیں ضرور بالضر وقتل کروں گا۔ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں بھی یہی خیال کرتا ہوں۔ اچھا تم مجھے اجازت دو کہ میں اپنے لوگوں کے لئے کچھ وصیت کر دوں ۔ عبید اللہ بن زیاد نے اجازت دے دی۔ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے عمر بن سعد یہ مشہور صحابی حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا بیٹا ہے ) کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”میری اور تمہاری رشتہ داری ہے اور میں تم سے اکیلے میں کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں ۔ عمر بن سعد نے عبید اللہ بن زیاد کی طرف دیکھا تو اُس نے کہا: ”جاؤ کیلے میں اُس کی باتیں سن لو، میں تم کو تمہارے ابن عم کی بات سننے سے نہیں روکوں گا ۔ دونوں اُٹھ کر ایک گوشے میں چلے گئے تو حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں کوفہ میں فلاں شخص سے سات سو درہم قرض لئے تھے اسے تم میری طرف سے ادا کر دینا اور میرے قتل ہونے کے بعد میری لاش کو اجازت لے کر دفن کر دینا اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس کسی قاصد کو بھیج کر پیغام دینا کہ وہ کوفہ نہیں آئیں ۔“


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!


Saltanat e Umayya part 12

 12 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 12

حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی شہادت، حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کا سر یزید کے پاس، یزید کا حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں حکم، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی کوفہ جانے کی تیاری، حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا مشورہ، حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی رائے، یمن جانے کا مشورہ، میں وہ مینڈھا نہیں بننا چاہتا ہے، شہادت میرا مقدر ہے، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی کوفہ کی طرف روانگی، اے شہید! اللہ کے سپرد کرتا ہوں، استقامت کی راہ، جو واپس جانا چا ہے چلا جائے، دل آپ کے ساتھ ہے اور تلوار میں بنوامیہ کے ساتھ ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم


حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی شہادت 


حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک رشتہ دار عمر بن سعد کو جو ایک جلیل القدر صحابی رضی اللہ عنہ کا بیٹا تھا لیکن دنیا میں مبتلا ہوکر اپنی آخرت خراب کر رہا تھا اُسے اکیلے میں وصیت کی لیکن اُس بد بخت نے تمام بات عبید اللہ بن زیاد کو بتادی۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں ب عمر بن سعد نے یہ باتیں عبید اللہ بن زیاد کو بتا دیں۔ اُس نے کہا: " تم امین ہو اس میں خیانت نہ کرو ۔ مال کی بابت تم کو اختیار ہے جو چاہو کرو ۔ (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ) کے بارے میں یہ کہتا ہوں کہ اگر وہ میری طرف آنے کا ارادہ نہیں کریں گے تو میں بھی اُن کا قصد نہیں کروں گا۔ باقی رہا ان کی لاش کا تو اس کے بارے میں تمہاری سفارش نہیں سنوں گا۔ اس کے بعد عبید اللہ بن زیاد نے حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ سے مخاطب ہو کر کہا: ” کیوں (حضرت) مسلم بن عقیل (رضی اللہ عنہ ) ! تم نے کوفہ میں آکر گروہ بندی کی ، لوگوں کو ہماری مخالفت پر جمع کیا اور اُن میں نفاق ڈالنے کی کوشش کی ۔ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ایسا ہر گز نہیں ہوا ہے۔ البتہ یہاں کے باشندوں نے خیال کیا تھا کہ تمہارے باپ ( زیادہ بن شمیہ یا ابی سفیان) نے اُن کے اچھوں کو مار ڈالا ہے خون ریزی کی ہے اور اُن کے ساتھ قیصر و کسری کے سے برتاؤ کئے ہیں ۔ ہم اُن کے بلانے سے اُن کے پاس اس غرض سے آئے تھے کہ ان میں عدل و انصاف کریں اور کتاب وسنت پر عمل کرنے کی ہدایت کریں۔ عبید اللہ بن زیاد نے کہا: ” تو ! اور یہ کام؟ کیا ان میں عدل و انصاف نہیں کیا گیا ہے؟ اور جو تو مدینہ میں شراب پیتا تھا اب انصاف کرنے آیا ہے؟ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں شراب پیتا تھا؟ اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ یہ خوب جانتا ہے کہ تو جھوٹا ہے ۔ میں ایسا نہیں ہوں جیسا تو کہہ رہا ہے میرے بجائے شراب پینے کا وہ مستحق ہے جو مسلمانوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگتا ہے اور اللہ کے بندوں کو غضب وعداوت سے قتل کرتا ہے ۔ اس کو اُس نے لہو لعب سمجھ لیا ہے ۔ عبید اللہ بن زیاد نے کہا: ”مجھے اللہ مارے اگر میں تجھے اس طرح قتل نہ کروں کہ آج تک ۔ اسلام میں اس طرح کوئی قتل نہیں کیا گیا ہو ۔ “ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” بے شک یہ لیاقت تجھ میں ہی ہے کہ اسلام میں بدعات اور بد خلقی اور خباثت کا موجد ہو۔ عبید اللہ بن زیاد یہ سن کو جھلا اُٹھا اور اُن کو اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہم کو سخت سست کہنے لگا۔ اس کے بعد اُس نے حکم دیا کہ محل کے اوپر لے جا کر حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کا سر اڑا دیا جائے اور اُن کی لاش بے گور و کفن پھینک دی جائے۔ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر تو نے مجھے امان نہیں دی ہوتی تو میں اس کے ہاتھ بالکل نہیں آتا ، اب تو تلوار اٹھا تو بری الذمہ ہو گیا ہے ۔ محمد بن اشعث نے کوئی جواب نہیں دیا۔ سپاہی آپ رضی اللہ عنہ کوحل کے اوپر لے گئے ۔ آپ رضی اللہ عنہ استغفار پڑھتے ہوئے اور تسبیح کرتے ہوئے گئے ۔ مقام حدا ئین“ کے مقابل شہید کئے گئے ۔ شہید کرنے والا بکیر بن حمران تھا جس نے آپ رضی اللہ عنہ پر تلوار چلائی اور سر کے ساتھ لاش کو بھی نیچے پھینک دیا۔ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی شہادت کو نہ پہنچنے کے آٹھ یا نو دن بعد 60 ہجری میں ہوئی۔


حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کا سر یزید کے پاس 


حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کوشہید کرنے کے بعد عبید اللہ بن زیاد نے ہانی بن عروہ کو بھی قتل کر دیا اور دونوں کا سر یزید کے پاس بھیجا علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اب حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ اور ہانی بن عروہ کے سروں کو عبید اللہ بن زیاد نے ہانی بن ابی حیہ اور زبیر بن اروح کے ساتھ یزید کے پاس بھیج دیا اور ساتھ ہی ایک خط بھی بھیجا جس میں لکھا تھا: "الحمد للہ! اللہ نے امیر المومنین کے حق کو محفوظ رکھا اور دشمن کی فکر سے بچالیا۔ میں امیر المومنین یزید کو خبر دیتا ہوں کہ (حضرت) مسلم بن عقیل (رضی اللہ عنہ ) نے ہانی بن عروہ کے گھر پناہ لی تھی ۔ میں نے اُن دونوں پر جاسوس مقرر کئے ۔ کچھ لوگ فریب سے اُن کے پاس بھیجے اور اُن سے مکر و فریب کر کے آخر دونوں کو باہر نکالا اور اللہ کے فضل سے دونوں میرے قابو میں آگئے۔ میں نے دونوں کی گردن ماردی اور اُن کے سرہانی بن ابی حیہ اور زبیر بن اروح کے ساتھ بھیج رہا ہوں ۔ یہ دونوں شخص تابع و فرمانبردار ہیں۔ امیر المومنین جس بات کو بھی چاہیں ان دونوں سے دریافت کر سکتے ہیں دونوں واقف کار، راست گو، صاحب فہم اور پر ہیز گار ہیں۔ والسلام


یزید کا حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں حکم


حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کا سر دیکھ کر یزید بہت ہی خوش ہوا اور پھر اس نے عبید اللہ بن زیاد کو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں حکم دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : یزید نے جواب میں لکھا: ” میں جو چاہتا تھا وہی تو نے کیا۔ تُو نے عاقلانہ کام اور دلیرانہ حملہ کیا اور مجھے مطمئن اور بے فکر کر دیا۔ میں تجھے جیسا سمجھتا تھا اور تیری نسبت میری جو رائے تھی تو نے اپنے آپ کو بالکل ویسا ہی ثابت کیا ۔ دونوں قاصدوں کو میں نے بلا کر ان سے کچھ پوچھا اور کچھ راز کی با تیں کیں ۔ جیسا تو نے اُن کے فضل و فہم کے بارے میں لکھا ہے ویسا ہی اُن کو پایا۔ مجھے خبر ملی ہے کہ (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) عراق کی طرف آرہے ہیں۔ نگران مورچے تیار رکھ ۔ جس سے بدگمانی ہوا سے حراست میں لے اور جس پر شک ہو اُسے گرفتار کر لے۔ ہاں جو تجھ سے جنگ نہ کرے اُسے قتل نہیں کرنا اور جو جو واقعہ پیش آئے اُس کا حال مجھے لکھتا رہ۔ والسلام


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی کوفہ جانے کی تیاری


حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا تھا کہ کوفہ کے لوگ آپ رضی اللہ عنہ کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں اور آپ رضی اللہ عنہ جلدی سے یہاں آ جائیے۔ جس وقت حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کا خط حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو ملا اُس وقت تک حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے ساتھ کو فیوں یعنی اہل کوفہ نے بد عہدی کر دی تھی اور آپ رضی اللہ عنہ شہید کئے جاچکے تھے ۔ اُدھر کوفہ میں یہ ہو رہا تھا اور ادھر مکہ مکرمہ میں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو فہ جانے کی تیاری کر رہے تھے۔ بہت سارے لوگ آپ رضی اللہ نہ کو کوفہ نہیں جانے کا مشورہ دے رہے تھے اور بتارہے تھے کہ اہل کوفہ نے آپ رضی اللہ عنہ کے والد محترم اور بڑے بھائی کو دھوکا دیا ہے اور وہ آپ رضی اللہ عنہ کو بھی دھوکا دیں گے۔ اس کے باوجود حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو فہ جانے کی تیاری کر رہے تھے کیونکہ آپ رضی اللہ عنہ جانتے تھے کہ بچپن میں نا ناجان صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے بارے میں جو پیشگوئی کی تھی وہ اب پوری ہونے والی ہے۔ میرے والد محترم اور بڑے بھائی تو شہید ہو چکے ہیں اب میری شہید ہونے کی باری ہے۔ بس اللہ سے یہی دعا ہے کہ وہ مجھے استقامت پر قائم رکھے اور نانا جان صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشنگوئی پوری ہو۔


حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا مشورہ


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو بہت لوگ سمجھا رہے تھے پھر بھی آپ رضی اللہ عنہ اپنے اہل وعیال اور خاندان کے ساتھ کوفہ جانے کی تیاری کر رہے تھے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ جو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے والد محترم حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے چچازاد بھائی ہیں اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے چاہیں انہوں بھی سمجھایا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ”حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی روانگی کا ذکر سنا تو اُن کے پاس آئے اور فرمایا: "لوگوں میں یہ چر چاہے کہ آپ رضی اللہ عنہ ملک عراق کی طرف روانہ ہونے والے ہیں؟ مجھ سے بیان کیجیئے کہ آپ رضی اللہ عنہ کیا قصد رکھتے ہیں؟ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: انشاء اللہ دو دنوں کے اندر ہی روانہ ہو جاؤں گا۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں آپ رضی اللہ عنہ کواللہ کا واسطہ دیتا ہوں ایسا نہ کریں۔ اللہ آپ رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے! مجھے یہ تو بتائیے کیا انہوں نے اپنے حاکم کو قتل کر ڈالا اپنے شہروں کا انتظام کر چکے ہیں اور اپنے دشمن کو وہاں سے نکال چکے ہیں؟ اگر یہ سب پہلے ہی وہ کر چکے ہیں تو بے شک آپ رضی اللہ عنہ جائیے ۔ لیکن اگر بات یہ ہے کہ انہوں نے فقط آپ رضی اللہ عنہ کو بلایا ہے اور اُن کا حاکم اُسی طرح اُن پر مسلط ہے اور اُس کے عہدے دار اُسی طرح شہروں سے خراج وصول کر رہے ہیں تو یہ لوگ آپ رضی اللہ عنہ کو جنگ و جدال کے لئے بلا رہے ہیں۔ مجھے یہ اندیشہ ہو رہا ہے کہ یہ لوگ آپ رضی اللہ عنہ کو دھوکا دیں گے ، آپ رضی اللہ عنہ کو جھٹلائیں گے، آپ رضی اللہ عنہ کی مخالفت کریں گے ، آپ رضی اللہ عنہ کا ساتھ چھوڑ دیں گے اور اگر آپ رضی اللہ عنہ پر حملہ کریں گے تو اُن کا حملہ سب سے سخت تر ہوگا۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں اللہ سے خیر کا طالب ہوں اور دیکھو کیا ہوتا ہے ۔“ 


حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی رائے


حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اپنی سمجھ کے مطابق سمجھا کر چلے گئے تو حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ملنے کے لئے آئے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ وہاں سے اُٹھ کر چلے گئے تو حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ آئے اور کچھ دیر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے باتیں کیں پھر فرمایا : ” میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اس قوم کو ہم کیوں چھوڑ دیں کیوں ان سے باز رہیں ۔ ہم تو مہاجرین کی اولاد ہیں اور اُن سے بڑھ کر ریاست کے حقدار ہیں۔ یہ تو بتائیے آپ رضی اللہ عنہ کا کیا ارادہ ہے؟ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میرا دل تو یہی کہتا ہے کہ کوفہ چلا جاؤں ۔ وہاں کے اشراف اور میرے حامیوں نے مجھے خط لکھے ہیں اور میں اللہ سے خیر کا خواستگار ہوں یہ سن کر حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”آپ رضی اللہ عنہ کے حامیوں کی طرح اگر میرے لوگ وہاں ہوتے تو میں اس سے انحراف نہیں کرتا۔ یہ فرما کر حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو اندیشہ ہوا کہ کہیں مجھ سے بدگمان نہ ہوں تو فرمایا: "اگر آپ رضی اللہ عنہ حجاز میں ہی رہ کر ریاست کا ارادہ کریں تو کوئی بھی انشاء اللہ آپ رضی اللہ عنہ کی مخالفت نہیں کرے گا ۔ اس کے بعد حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اُٹھ کر چلے گئے۔


یمن جانے کا مشورہ


حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو بے چینی ہو رہی تھی اسی لئے آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو ایک اور مشورہ دیا۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں: پھر اُسی دن شام کو یا دوسرے دن صبح حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ آئے اور فرمایا: "برادر! میں چاہتا ہوں کہ صبر کروں مگر مجھے صبر نہیں آرہا ہے اور اس راستے میں مجھے آپ رضی اللہ عنہ کے ہلاک اور تباہ ہونے کا اندیشہ ہے۔ اہل عراق دعا کرنے والے لوگ ہیں ہرگز اُن کے پاس نہ جائے بلکہ اسی شہر میں قیام کریں ۔ آپ رضی اللہ عنہ اہل حجاز کے سردار ہیں اگر اہل عراق آپ رضی اللہ عنہ کو بلاتے ہیں تو انہیں لکھ کر حکم دیں کہ وہ اپنے دشمن سے پیچھا چھڑا لیں پھر اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ جائیں۔ اگر آپ رضی اللہ عنہ اس بات کو نہیں مانتے اور یہاں سے نکل جانا ہی منظور ہے تو ملک یمن چلے جائیں ۔ وہاں قلعے ہیں، درہ کوہ ہیں ، ایک طویل و عریض ملک ہے اور آپ رضی اللہ عنہ کے حامی بھی وہاں موجود ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ سب سے الگ رہ کر لوگوں سے خط و کتابت کریں ، اپنے قاصدوں کو بھیجیں۔ اس طریقہ سے امید ہے کہ جو بات آپ رضی اللہ عنہ چاہتے ہیں وہ امن و عافیت سے حاصل ہو جائے گی ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” برادر! اللہ کی قسم! میں جانتا ہوں کہ تم خیر خواہ اور شفیق ہو لیکن میں روانگی کا معم ارادہ کر چکا ہوں ۔ “ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "اگر آپ رضی اللہ عنہ جاناہی چاہتے ہیں تو عورتوں اور بچوں کو ساتھ نہ لیکر جائیں۔ اللہ کی قسم ! مجھے ڈر ہے کہ کہیں خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی طرح آپ رضی اللہ عنہ کو بھی عورتوں اور بچوں کے سامنے شہید نہ کیا جائے ۔“


میں وہ مینڈھا نہیں بننا چاہتا ہے


حضرت حسین بن علی کو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روکنے کی بھر پور کوشش کر رہے تھے اور اُن کے ساتھ اس کوشش میں حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی ملاقات حجر اسود اور خانہ کعبہ کے درمیان ہوئی تو حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” اگر آپ رضی اللہ عنہ یہاں رہنا چاہتے ہیں تو رہئے اور حکومت کو اپنے ہاتھ میں لے لیجیئے ۔ ہم آپ رضی اللہ عنہ سے بیعت کریں گے اور معین اور شریک اور مطیع رہیں گے ۔“ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں نے اپنے والد محترم سے حدیث سنی ہے کہ ایک مینڈھا مکہ مکرمہ کی حرمت کو حلال کر دے گا۔ میں وہ مینڈھا نہیں بنا چاہتا ۔ یہ سن کر حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اچھا آپ رضی اللہ عنہ یہیں رہئے اور حکومت میرے حوالے کر دیجیئے ، آپ رضی اللہ عنہ کی اطاعت کی جائے گی اور کوئی بات آپ رضی اللہ عنہ کے خلاف نہیں ہونے پائے گی ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” مجھے یہ بھی منظور نہیں ہے۔ پھر دونوں حضرات رضی اللہ عنہم چپکے چپکے ظہر کے وقت تک باتیں کرتے رہے پھر ظہر کی نماز پڑھ کر لوگ منی کی طرف چلے گئے اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے خانہ کعبہ کا طواف کیا۔ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی اور بال منڈوائے اور عمرہ سے فارغ ہو کر کوفہ کی طرف روانہ ہو گئے۔


شہادت میرا مقدر ہے


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ جانتے تھے کہ اب میرے نانا جان صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشنگوئی پوری ہونے اور میرے شہید ہونے کا وقت قریب آ گیا ہے اور میں چاہے کہیں بھی رہوں میرے نانا جان کی اُمت کے چند گمراہ لوگ مجھے شہید کر دیں گے ۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں : بعض لوگوں کا بیان ہے کہ انہوں نے مکہ مکرمہ میں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو کھڑے دیکھا۔ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے سیدہ فاطمہ زہرہ کے بیٹے رضی اللہ عنہ ! میری بات سنیئے “ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اُن کی طرف متوجہ ہوئے اور دونوں نے چپکے چپکے باتیں کیں پھر ہم لوگوں کی طرف مڑ کر فرمایا: " تم سمجھے ! حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کیا کہہ رہے ہیں؟ ہم لوگوں نے عرض کیا ”ہم سب آپ رضی اللہ عنہ پر فدا ہو جائیں !اہم کچھ نہیں سمجھے ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” یہ کہتے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ مسجد الحرام میں رہئے اور میں آپ رضی اللہ عنہ کی نصرت (مدد) کے لئے لوگوں کو جمع کرلوں گا ۔“ اس کے بعد حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے آگے فرمایا: ” اگر ایک بالشت بھر اس مسجد کے باہر قتل کیا جاؤں تو اللہ کی قسم ! میں اسے اس بات سے بہتر سمجھتا ہوں کہ ایک بالشت بھر مسجد کے اندر قتل کیا جاؤں ۔ ( مطلب یہ کہ میں مسجد یعنی حرم شریف یعنی مکہ مکرمہ کے اندر بھی رہوں گا تو مجھے شہید کر دیا جائے گا اور یہ مجھے پسند نہیں ہے اس لئے میں مکہ مکرمہ کے باہر جارہا ہوں) اللہ کی قسم ! اگر میں حشرات الارض ( کیڑے مکوڑوں) کے کسی سوراخ میں بھی چھپوں گا تو لوگ مجھے وہاں سے بھی نکالیں گے اور جو سلوک میرے ساتھ کرنا چاہتے ہیں وہ ضرور کریں گے اور اللہ کی قسم! مجھ پر وہ لوگ ایسا ظلم کریں گے جیسا یہود نے سبت کے روز کیا تھا۔“


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی کوفہ کی طرف روانگی


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو کوئی علم نہیں تھا کہ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو کوفہ والوں نے دھوکہ دے دیا ہے اور آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کیا جاچکا ہے۔ اس کے برعکس آپ رضی اللہ عنہ کوفہ کے سفر کی تیاریاں مکمل کر کے اپنے اہل وعیال اور خاندان کو لیکر کوفہ کی طرف روانہ ہو گئے ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : جب اہل عراق کی طرف سے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو مسلسل اور متواتر خطوط آنے لگے اور اُن کے اور آپ رضی اللہ عنہ کے درمیان بار بار ایلچی آنے لگے تو حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کا خط بھی آیا کہ آپ رضی اللہ عنہ اپنے اہل وعیال اور خاندان کے ساتھ کوفہ آجائیں۔ اسی دوران میں حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کا وقوعہ ہو گیا اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو اس کا کچھ علم نہیں تھا بلکہ آپ رضی اللہ عنہ کوفہ کی طرف روانہ ہونے اور اُن کے پاس پہنچنے کا پختہ ارادہ کر چکے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کی مکہ مکرمہ سے روانگی سے ایک روز پہلے حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا۔ جب آپ رضی اللہ عنہ کی کوفہ روانگی کا لوگوں کو علم ہوا تو وہ آپ رضی اللہ عنہ پر رحم کھانے لگے اور کوفہ جانے سے روکنے لگے لیکن آپ رضی اللہ عنہ کوفہ روانہ ہو گئے ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: یزید کی طرف سے عمرو بن سعید بن عاص حجاز کا گورنر تھا۔ اُس کے آدمیوں نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور اُن کے اہل وعیال اور خاندان کو کوفہ روانہ ہونے سے روکا۔ بحث و تکرار ہوئی اور لڑائی کی نوبت بھی آئی لیکن آپ رضی اللہ عنہ نہیں رکے اور آگے بڑھتے ہی رہے۔


اے شہید! اللہ کے سپرد کرتا ہوں


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ سے کوفہ کی طرف اپنے اہل بیت اور خاندان کو لے کر روانہ ہو گئے ۔ جب آپ رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ سے باہر آ کر کچھ دور پہنچے تھے تو حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ وہاں تیزی سے پہنچے اور آپ رضی اللہ عنہ کو روکنے کی کوشش کرنے لگے۔ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عبد اللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں تھے جب آپ رضی اللہ عنہ کو اطلاع ملی کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کوفہ کی طرف روانہ ہو گئے ہیں تو آپ رضی اللہ عنہ تیزی سے سفر کر کے تین دن کی مسافت پر اُن سے جا کر ملے اور فرمایا: ” اے آل رسول رضی اللہ عنہ ! آپ رضی اللہ عنہ کہاں جانا چاہتے ہیں؟ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” ملک عراق جا رہا ہوں اور یہ اُن کے خطوط اور بیعت ہے۔ اتنا فرما کر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو فہ سے آئے خطوط بتائے ۔ حضرت عبد اللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” اے آل رسول رضی اللہ عنہ! میں آپ رضی اللہ عنہ کو ایک حدیث بتاتا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جبرئیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور عرض کیا: اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا اور آخرت کے درمیان اختیار دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخرت کو اختیار کر لیا اور دنیا کونہیں چاہا اور آپ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم کا ٹکڑا ہیں۔ اللہ کی قسم ! آپ میں سے کوئی بھی ایک شخص بھی کبھی دنیا کا حکمراں نہیں ہوگا اور اللہ تعالیٰ نے آپ رضی اللہ عنہ کو اس سے ہٹا کر اُس چیز کی طرف پھیر دیا ہے جو آپ رضی اللہ عنہ کے لئے بہتر ہے۔ (حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ جانتے تھے کہ وہاں جا کر شہید کر دیئے جائیں گے اور اللہ تعالٰی کا ارادہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشن گوئی پورے ہوں گے ) حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے واپس مکہ مکرمہ آنے سے انکار کر دیا۔ حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو گلے سے لگا لیا اور رونے لگے اور روتے روتے فرمایا : ”اے شہید رضی اللہ عنہ! میں آپ رضی اللہ عنہ کواللہ کے سپر د کرتا ہوں۔“


استقامت کی راہ


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے استقامت کی راہ اپنائی ۔ اُس وقت ایک رخصت کی راہ تھی کہ نہ تو مخالفت کی جائے اور نہ ہی حمایت کی جائے۔ دوسری ” استقامت کی راہ تھی کہ حق پر جم جائے۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ جانتے تھے کہ استقامت کی راہ پر جان جانے کا زیادہ اندیشہ ہے اس کے باوجود آپ رضی اللہ عنہ نے استقامت کی راہ کو اپنایا کیونکہ آپ رضی اللہ عنہ جانتے تھے کہ رخصت کی راہ اپنا کر دنیا ملے گی اور استقامت کی راہ اپنا کر آخرت ملے گی۔ اسی لئے آپ رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے نانا جان صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح آخرت کو ہی چنا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت مسیب بن عقبہ فزاری اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ رضی اللہ عنہ کو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو معزول کرنے کی دعوت دی اور عرض کیا : ”ہمیں آپ رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے بھائی کی رائے کا علم ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے بھائی رضی اللہ عنہ کو جنگ سے رکنے کو پسند کرنے کی وجہ سے اُن کی نیت کے مطابق اجر دے گا اور مجھے ظالمین کے ساتھ جہاد کو پسند کرنے کی وجہ سے میری نیت کے مطابق مجھے اجر دے گا۔


جو واپس جانا چا ہے چلا جائے


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ اُن کے اہل وعیال اور اونٹوں کو چلانے والے اور خدام بھی ساتھ تھے جب مقام تنعیم پر پہنچے تو سب کو اجازت دے دی کہ جو چاہے ساتھ چل سکتا ہے اور جو چاہے واپس جا سکتا ہے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ جب مقام تنعیم پر پہنچے تو ایک قافلہ ملا جو ملک یمن سے آرہا تھا۔ یمن کے گورنر بحیر بن ریان نے یزید کے پاس اہل قافلہ کے ہاتھ درس اور ریشمی قمیص روانہ کئے تھے ( درس زعفران سے مشابہ ایک خوشبودار چیز ہے ) یہاں پر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اونٹ والوں سے کہا: ” میں کسی پر جبر نہیں کروں گا۔ تم میں سے جو کوئی میرے ساتھ ملک عراق چلے گا میں اسے وہاں تک کا کرایہ دوں گا اور اچھی طرح سے پیش آؤں گا اور جو کوئی یہیں سے واپس جانا چاہے گا اُسے یہیں تک کا کرایہ دوں گا اور وہ واپس جاسکتا ہے۔ اُن میں سے جو واپس جانے لگے تو انہیں پوری اجرت دی اور جو ساتھ چلے تو انہیں اجرت بھی دی اور لباس بھی دیا۔ 


دل آپ کے ساتھ ہے اور تلوار میں بنوامیہ کے ساتھ ہیں


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ مقام تنعیم سے آگے بڑھے تو مقام صفاح پر ملک عراق سے آنے والے ایک قافلے کے ساتھ فرزوق بن غالب ملا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: فرزوق بن غالب بیان کرتا ہے کہ میں اپنی والدہ محترمہ کے ساتھ حج کرنے کے لئے مکہ مکرمہ جا رہا تھا۔ یہ حج کے دن تھے اور 60 ہجری کا واقعہ ہے کہ میں جب حرم کے قریب پہنچے لگا تو دیکھا کہ مکہ مکرمہ سے ایک قافلہ آرہا ہے۔ میں نے دیکھا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ تلواریں اور ڈھالوں کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ میں آپ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور عرض کیا: ”اے آل رسول رضی اللہ عنہ ! میرے ماں باپ آپ رضی اللہ عنہ پر فدا ہو جائیں ایسی بھی کیا جلدی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ حج کو چھوڑ کر جارہے ہیں؟“ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں جلدی نہیں کرتا تو گرفتار کر لیا جاتا ۔ پھر مجھ سے دریافت فرمایا: ” تم کون شخص ہو؟ میں نے عرض کیا : ملک عراق سے آرہا ہوں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”جن لوگوں کے درمیان سے تم آرہے ہو اُن کا حال مجھ سے بیان کرو ۔ میں عرض کیا : ” لوگوں کے دل آپ کے ساتھ ہیں اور تلواریں بنوامیہ کے ساتھ ہیں اور حکم اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے ۔ یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” تم نے سچ کہا۔ اس کے بعد میں نے کچھ باتیں اعمال حج کے بارے میں دریافت کیں وہ سب آپ رضی اللہ عنہ نے بتادیں۔ 


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا مکہ مکرمہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہونے ایک سب سے بڑا سبب یہ ہوا کہ آپ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں حکم دیا تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہ ( حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے تین بیٹیوں کے نام علی اکبر علی اوسط اور علی اصغر ہیں۔ علی اکبر اور علی اصغر تو کربلا میں شہید ہو گئے تھے علی اوسط کا نام یا لقب زین العابدین ہے ) بیان کرتے ہیں: ” جب ہم لوگ مکہ مکرمہ سے نکلے تو حضرت عبد اللہ بن جعفر طیار رضی اللہ عنہ نے اپنے دو بیٹوں عون اور محمد کے ہاتھ ایک خط حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا جس میں لکھا تھا: ” میں آپ رضی اللہ عنہ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ میرا خط پڑھتے ہی واپس چلے آئیے۔ مجھے خوف ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ جہاں جا رہے ہیں وہاں آپ رضی اللہ عنہ اور اہل بیت ہلاک نہ ہو جائیں ۔ اگر آپ رضی اللہ عنہ ہلاک ہوئے تو دنیا میں اندھیرا ہو جائے گا۔ اہل ہدایت کے رہنما اور اہل ایمان کا سہارا آپ رضی اللہ عنہ کی ہی ذات ہے۔ روانگی میں جلدی نہ کریں اس خط کے پیچھے میں بھی آرہا ہوں ۔ والسلام - حضرت عبداللہ بن جعفر طیار رضی اللہ عنہ عمرو بن سعید کے پاس گئے اور اُس سے فرمایا: ” حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو ایک خط لکھو جس میں انہیں امان دینے کا اور اُن کے ساتھ نیکی اور احسان کرنے کا وعدہ ہو اور اُن کو لکھو کہ واپس چلے آئیں ۔ شاید اُن کو تمہارے خط سے اطمینان ہو جائے اور وہ اُس راہ سے پلٹ آئیں ۔ عمرو بن سعید بن عاص نے کہا: ” جو آپ رضی اللہ عنہ کا جی چاہے لکھ کر لے آئیں ، میں اُس پر مہر کر دوں گا۔ عبداللہ بن جعفر طیار رضی اللہ عنہ نے خط لکھ کر دیا اورفرمایا: اس پر مہر لگا کر اپنے بھائی یحییٰ بن سعید بن عاص کے ہاتھ سے روانہ کرو کیونکہ اس کے جانے سے اُن کو اطمینان ہو جائے گا اور وہ سمجھ جائیں گے کہ جو کچھ تم نے لکھا ہے دل سے لکھا ہے ۔ عمرو بن سعید بن عاص مکہ مکرمہ میں یزید کی طرف سے گورنر تھا اُس نے ایسا ہی کیا اور حضرت عبداللہ بن جعفر طیار رضی اللہ عنہ اور یحییٰ دونوں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے ۔ یحییٰ نے خط دیا اور دونوں شخصوں نے واپسی پر بہت اصرار کیا۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں نے میرے نانا جان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا ہے اور انہوں نے جو حکم مجھے دیا ہے میں اُسے پورا کرنے جارہا ہوں ۔ مجھے اس سے کوئی غرض نہیں ہے کہ میرا نفع ہوتا ہے یا نقصان ۔ دونوں نے پوچھا:” وہ خواب کیا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے اسے کسی سے بیان نہیں کیا اور نہ ہی کسی سے آگے بیان کروں گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرلوں گا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا اور آپ رضی اللہ عنہ کو اہل عراق کے متعلق انتباہ کیا اور اللہ کا واسطہ دیا کہ اُن کی طرف نہ جائیں ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو جواب میں لکھا: میں نے ایک خواب دیکھا ہے اور میں نے اپنے نانا جان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک حکم دیا ہے اور میں اُسے کر گزرنے والا ہوں اور میں اس خواب کے متعلق کسی کو نہیں بتاؤں گا یہاں تک کہ میں اپنے اللہ سے ملاقات کروں ۔


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!


Saltanat e Umayya part 13

 13 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 13

یزید کا عبید اللہ بن زیاد کو حکم، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو روکنے کی تیاریاں، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا قاصد، قاصد کی شہادت، کوفہ کے لوگ پیمان شکن اور بد عہد، زہیر بن قین کا جذبہ شہادت، حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر، آل عقیل کے اصرار پر عزم کو فہ، حضرت عبد اللہ بن یقطر کی شہادت کی اطلاع، بطن عقبہ میں قیام اور 60 ہجری کا اختتام 



یزید کا عبید اللہ بن زیاد کو حکم


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہوئے تو یزید کو اس کی خبرمل گئی کیونکہ اُس نے دمشق سے مکہ مکرمہ تک ہر منزل پر اپنے آدمیوں کو مقرر کر رکھا تھا جو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی ہر حرکت کے بارے میں اطلاع کرتے رہتے تھے۔ یزید نے کوفہ اور بصرہ کے گورنر عبید اللہ بن زیاد کو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں حکم دیا۔ علامہ عمادالدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : یزید نے عبید اللہ بن زیاد کو لکھا: ” مجھے اطلاع ملی ہے کہ (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) کوفہ کی طرف روانہ ہو چکے ہیں اور زمانوں میں سے تمہارے زمانے کو اور شہروں میں سے تمہارے شہر کو اور اُمراء ( گورنروں ، حاکموں) میں سے تجھ سے اُن کا پالا پڑ گیا ہے۔ اب اس موقع پر تو آزاد ہو جائے گا یا پھر غلاموں کی طرح دوبارہ غلام بن جائے گا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ یزید نے عبید اللہ بن زیاد کو لکھا: ” مجھے معلوم ہوا ہے کہ (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) عراق کی طرف روانہ ہو چکے ہیں۔ پس دیکھنے کی جگہیں اور میگزین تیار کرو اور محفوظ رہو اور تہمت پر قید کرو اور پکڑو اور جو تجھ سے جنگ کرے صرف اُسے قتل کرو اور جو صورت حال پیدا ہو اُس کے متعلق مجھے لکھو۔ والسلام “


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو روکنے کی تیاریاں


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ مسلسل کو فہ کی طرف رواں دواں تھے اور ادھر کوفہ میں عبید اللہ بن زیاد اپنے حکمراں یزید کے حکم کے مطابق آپ رضی اللہ عنہ کو روکنے کے لئے اپنے سپاہیوں اور پولیس افسروں کا بھیج رہا تھا۔ اسی دوران مقام "زبالہ میں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کا پیغام ملا کہ آپ رضی اللہ عنہ واپس چلے جائیں۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : محمد بن اشعث نے ایاس طائی کو جو کہ قبیلہ بنوطے کا ایک شاعر تھا اور اُس کے پاس بہت آیا جایا کرتا تھا۔ اس سے کہا: ” تم حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس روانہ ہو جاؤ اور یہ خط اُن تک پہنچا دو۔ خط میں جو جو باتیں حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے شہید ہونے سے پہلے فرمائی تھیں وہ سب اُس نے لکھ دیں اور کہا: لو یہ زاد راہ ہے اور یہ سامان سفر ہے اور یہ تمہارے اہل وعیال کے لئے ہے ۔ “ ایاس نے کہا: ”میرے پاس اونٹ بھی نہیں ہے کیونکہ میرا اونٹ بہت بوڑھا ہو چکا ہے ۔ محمد بن اشعث نے اسے ایک اونٹ پالان سمیت دیا اور حکم دیا کہ جلد از جلد حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ تک یہ خط پہنچا دو۔ ایاس تیزی سے روانہ ہوا اور چار دن کا سفر کر کے مقام زبالہ پر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے جا کر ملا اور وہ خط آپ رضی اللہ عنہ کو دے دیا ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے خط پڑھا اور فرمایا: ” جو مقدر میں ہونے والا ہے وہ ہوگا اور اپنی اپنی جانوں کے تلف ہونے اور قوم کی برائی کرنے کو ہم نے اللہ تعالیٰ پر چھوڑ رکھا ہے۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ آگے روانہ ہو گئے ۔ ادھر عبیداللہ بن زیاد نے حکم دیا کہ ملک شام اور بصرہ اور کوفہ تک کے راستوں کی ناکہ بندی کر دی جائے اور کسی کو اس راستے سے آنے اور جانے نہیں دیا جائے ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو ان باتوں کی مطلق خبر نہیں تھی اور وہ اس طرف آرہے تھے ۔ راستے میں کچھ اعرابی (دیہاتی) ملے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اُن سے حالات معلوم کئے تو انہوں نے بتایا کہ ہمیں تو کچھ نہیں معلوم سوائے اس کے کہ ہم کہیں آجا نہیں سکتے ہیں۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: عبید اللہ بن زیاد کو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی روانگی کا حال معلوم ہوا تو اس نے محکمہ پولیس کے سربراہ حصین بن نمیر تمیمی کو روانہ کیا۔ اس نے مقام " قادسیہ پر پہنچ کر پڑاؤ ڈال دیا اور اپنے سواروں یعنی پولیس والوں کو قادسیہ سے خفان تک ایک جانب اور قادسیہ سے قطفطانہ اور کوہ لعلع تک دوسری جانب پھیلا دیا۔ 


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا قاصد


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کوفہ کی طرف آرہے تھے اور آپ رضی اللہ عنہ کو روکنے کے لئے ہر طرف سے ناکہ بندی کر لی گئی تھی ۔ راستے میں ایک مقام حاج پر آپ رضی اللہ عنہ نے قیام کیا اور کوفہ والوں کے نام ایک خط لکھ کر اپنے قاصد کے ذریعے روانہ کیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: عبید اللہ بن زیاد کو جب معلوم ہوا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کوفہ کی طرف آرہے ہیں تو اُس نے اپنے پولیس کے سربراہ حصین بن نمیر کو روانہ کیا۔ وہ قادسیہ میں اُترا اور آس پاس کے تمام علاقوں کی ناکہ بندی کر لی۔ لوگوں نے یہ دیکھ کر کہا کہ یہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی عراق کی طرف آمد کا اشارہ ہے بطن الرمہ میں جو مقام حاج ہے وہاں پہنچ کر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اہل کوفہ کو ایک خط لکھا اور اپنے قاصد حضرت قیس بن مسہر صیدا دی کے ہاتھ روانہ کیا: " بسمہ اللہ الرحمن الرحیم (حضرت) حسین بن علی ( رضی اللہ عنہ ) کی طرف سے اُن کے برادران ایمانی اور اسلامی کو اسلام وعلیکم ! میں تم سے اللہ کی حمد کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کا خط مجھے ملا۔ تم لوگوں کے حسن عقیدہ اور تم سب کی مدد پر اور میرے حق کی طلب پر متفق ہونے کا حال معلوم ہوا ۔ میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ ہم پر احسان کرے اور تم لوگوں کو اس بات کا اجر عظیم دے۔ میں تمہارے پاس آنے کے لئے آٹھ (8) ذی الحجہ کو مکہ مکرمہ سے روانہ ہو چکا ہوں ۔ جب میرا قاصد تمہارے پاس پہنچے تو اپنے کام میںجلدی کرو اور کوشش کرو۔ میں انہیں دنوں میں تمہارے پاس ان شاء اللہ آجاؤں گا۔ والسلام علیکم ورحمتہ الله وبركاته


قاصد کی شہادت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قاصد حضرت قیس بن مسہر میدادی جب کوفہ پہنچے تو انہیں گرفتار کر کے عبید اللہ بن زیاد کے سامنے پیش کیا گیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا خط لیکر حضرت قیس بن مسہر صیدادی رضی اللہ عنہ کوفہ روانہ ہوئے۔ جب قادسیہ پہنچے تو حصین بن نمیر نے آپ کوگرفتار کر لیا اورعبداللہ بن زیاد کے پاس بھیج دیا۔ عبداللہ بن زیاد نے اُن سے کہا: "قصر (محل) پر چڑھ جا اور کذاب کو سب و شتم کر" یہ حضرت قیس بن مہر چڑھ گئے اور بلند آواز سے فرمایا: "اے لوگو! حضرت حسین بن علی رضہ اللہ عنہ اس وقت مخلوق میں سب سے بہتر ہیں۔ سیدہ فاطمہ زہرہ رضی اللہ عنہا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی ہیں اُن کے بیٹے ہیں۔ ان کا قاصد بن کر تمہارے پاس آیا ہوں۔ میں نے مقام حاجز پران کو چھوڑا ہے۔ تم سب اُن کی نصرت کے لئے جاؤ اتنا فرما کر حضرت قیس بن صیدادی نے عبیداللہ بن زیاد اور اس کے باپ پر لعنت کی، ان کو سب و شتم  کیا اور حضرت علی بن ابی طالب کے لئے مغفرت کی دعا کی۔ عبید اللہ بن زیاد نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ اُن کو نیچے پھینک دو۔ حضرت قیس بن مسہر میدادی رضی اللہ عنہ کو نیچے پھینک دیا گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پیرٹوٹ گئے اور سر میں ایسی چوٹ آئی کہ آپ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے ۔ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : عبیداللہ بن زیاد نے اُن نے کہا: محل کی چوٹی پر چڑھ کر ( نعوذ باللہ ) کذاب بن کذاب علی بن ابی طالب اور اُن کے بیٹے حسین کو (نعوذ باللہ ) گالیاں دو ۔ “ حضرت قیس بن مسہر صیدادی رضی اللہ عنہ محل پر چڑھے اور بلند آواز سے فرمایا: "اے لوگو! بے شک حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اللہ کی مخلوق میں اس وقت سب سے بہترین آدمی ہیں اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم کی بیٹی سیدہ فاطمہ زہرہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے ہیں اور میں تمہاری طرف اُن کا ایلچی ( قاصد ) ہوں اور میں وادی ذوالرحمہ کی بلند جگہ پر اُن سے جدا ہوا ہوں ۔ وہ آرہے ہیں، انہیں جواب دو اور اُن کی سمع و طاعت کرو ۔ پھر انہوں نے عبید اللہ بن زیاد اور اُس کے باپ پر لعنت کی اور حضرت علی بن ابی طالب اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہم کے لئے بخشش طلب کی ۔ عبد اللہ بن زیاد کے حکم سے آپ رضی اللہ عنہ کومحل کی چوٹی سے نیچے پھینک دیا گیا جس سے ہڈیاں ٹوٹ گئیں اور آخری سانس باقی رہ گئی تھی کہ عبد الملک بن عمیر بجلی نے تلوار سے گردن اڑادی اور بولا : ”میں نے اسے تکلیف سے آرام دے دیا ، بعض کا قول ہے کہ وہ شخص عبدالملک بن عمیر سے مشابہ تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ جو شخص حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قاصد تھے آپ رضی اللہ عنہ کے رضاعی بھائی عبداللہ بن یقطر تھے۔ واللہ اعلم۔


کوفہ کے لوگ پیمان شکن اور بد عہد


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو فہ کی طرف سفر جاری رکھے ہوئے تھے کہ ایک نخلستان میں عبد اللہ بن مطیع عددی سے ملاقات ہوئی وہ اپنے قافلے کے ساتھ وہاں ٹھہرا ہوا تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو فہ کی طرف جاتے ہوئے ایک چشمہ کے پاس پہنچے تو وہاں عبداللہ بن مطیع عددی اپنے قافلے ساتھ پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ بھی اپنے قافلے کے ساتھ وہیں پڑاؤ ڈالنے لگے تو وہ آیا اور آپ رضی اللہ عنہ کی مدد کر نے لگا۔ اس کے بعد اُس نے عرض کیا : ”اے آل رسول رضی اللہ عنہ ! میرے والدین آپ رضی اللہ عنہ پر فدا ہوں ، ادھر آنے کا سبب کیا ہے ؟ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے تمام حالات بتائے اور بتایا کہ کوفہ جارہا ہوں ۔ یہ سنتے ہیں عبد اللہ بن مطیع نے عرض کیا: "اے آل رسول رضی اللہ عنہ ! میں آپ رضی اللہ عنہ کواللہ کی قسم دیتا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت کا خیال رکھیں اور عرب کی حرمت کا خیال رکھیں ۔ اگر بنوامیہ سے تعرض کریں گے تو وہ آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کردیں گے اور پھر اس کے بعد وہ کسی کی پرواہ نہیں کریں گے اللہ کی قسم ! کہیں ایسانہ ہو کہ حرمت اسلام ، حرمت قریش اور حرمت عرب ضائع نہ ہو جائے ۔ آپ رضی اللہ عنہ کوفہ نہ جائیں اور بنو امیہ سے تعرض نہ کریں ۔ لیکن آپ رضی اللہ عنہ نے کوفہ جانے کے علاوہ کسی بات کو نہیں مانا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: عبداللہ بن مطیع نے عرض کیا: " اے آل رسول رضی اللہ عنہا اللہ کے واسطے کو فہ نہ جائیں۔ یہ لوگ بڑے پیمان شکن اور بد عہد ہیں۔ ان میں اسلام کی ہتک ، قریش کی آبرو اور عرب کی عزت کا خیال باقی نہیں رہا ہے۔ اللہ کی قسم ! آپ رضی اللہ عنہ بنوامیہ سے تعرض نہ کریں ورنہ وہ آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیں گے اور پھر کسی سے نہیں ڈریں گے ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اس کے باوجود کوفہ کی طرف اپنی پیش قدمی جاری رکھی اور آرام کرنے کے بعد روانہ ہو گئے


زہیر بن قین کا جذبہ شہادت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ سے نکلے تھے تو ایک شخص اپنے قافلے کے ساتھ روانہ ہوا اور مسلسل آپ رضی اللہ عنہ کے تعاقب میں رہا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: زہیر بن قین بجلی اپنے قافلے کے ساتھ مکہ مکرمہ سے نکلا تو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے روانہ ہو گیا لیکن وہ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ قیام نہیں کرتا تھا۔ جب آپ رضی اللہ عنہ آگے بڑھتے تھے تو وہ قیام کرتا تھا اور جب آپ رضی اللہ عنہ اگلی منزل پر قیام کرتے تھے تو وہ آگے بڑھتا تھا۔ بنوفزارہ کا ایک شخص جوز ہیر بن قین کے قافلے میں تھا بیان کرتا ہے کہ ایک منزل پر ایسا اتفاق ہوا کہ ہمیں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ قیام کرنا پڑا۔ ہم سب بیٹھے کھانا کھا رہے تھے کہ ایک شخص آیا اور سلام کرنے کے بعد بولا : ”اے زہیر بن قین ! مجھے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے بھیجا ہے اور وہ تمہیں بلا رہے ہیں ذرا چل کر اُن کی بات سن لو۔“ یہ سن کر زہیر بن قین سوچ میں پڑ گئے تو اُن کی بیوی نے کہا: سبحان اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے تمہیں بلا رہے ہیں اور تم سوچ میں بیٹھے ہوئے ہو، چلے جاؤ اور اُن کی بات سن کر چلے آؤ۔ زہیر بن قین آپ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور کچھ دیر بعد خوش خوش اور بشاش چہرہ لئے ہوئے آئے اور اپنا خیمہ اور سارا مال و اسباب حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی طرف بھیج دیا اور اپنی بیوی سے بولے : ” میں تمہیں آزاد کرتا ہوں، تم اپنی برادری میں چلی جاؤ۔ میں نہیں چاہتا کہ میری طرف سے نیکی کے سوا کوئی برائی تمہارے لئے ہو۔ پھر اپنے قافلے والوں سے کہا: ”تم میں سے جو چاہے میرے ساتھ آجائے ورنہ یہ سمجھ لے کہ یہ ہماری آخری ملاقات ہے۔ میں تم کو ایک حدیث بیان کرتا ہوں ۔ جنگ بنجر میں اللہ تعالیٰ نے ہم کو فتح دی اور بہت سارا مال غنیمت ہاتھ آیا تھا۔ ہمارے ساتھ حضرت سلمان فاری رضی اللہ عنہ تھے انہوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو فتح دی ہے اور مال غنیمت جو ملا ہے اُس سے تم خوش ہو گئے ہو؟ ہم نے کہا: ”ہاں ہمیں خوشی تو ہوئی ہے ۔ انہوں نے فرمایا: ” جوانان آل محمد کا زمانہ تمہیں ملے گا اور اُن کی نصرت (مدد) میں تم قتال کرو گے تو اس مال غنیمت سے زیادہ تمہیں خوشی حاصل ہوگی ۔ مجھ سے پوچھو تو میں تمہیں اللہ حافظ کہتا ہوں ۔“ اس کے بعد حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ مسلسل حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہے یہاں تک کہ کربلا میں شہید ہو گئے۔ 


حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو ابھی تک حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی شہادت اور حضرت قیس بن مسہر صیدادی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر نہیں ملی تھی اور آپ رضی اللہ عنہ بدستور کوفہ کی طرف رواں دواں تھے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : بنو اسد کے دو شخص عبداللہ اور ندری حج کو گئے ہوئے تھے وہ بیان کرتے ہیں : ”ہم حج سے فارغ ہوئے تو ہمیں یہ فکر ہوئی کہ ہم جلد از جلد حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے جا کر ملیں اور دیکھیں کہ کیا واقعہ پیش آیا اسی لئے ہم اپنے ناقوں (اونٹوں) کو دوڑاتے ہوئے چلے اور مقام روڈ تک پہنچے تو کوفہ کی طرف سے ایک شخص کو آتے ہوئے دیکھا۔ اس نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو راستہ بدل دیا۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اسے دیکھ کر رک گئے گویا آپ رضی اللہ عنہ اس سے ملنا چاہتے تھے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ روانہ ہو گئے اور ہم دونوں اُس شخص کے پاس گئے اور اسے سلام کیا تو اُس نے جواب دیا۔ ہم نے اس کے قبیلہ کے بارے میں پوچھا تو اُس نے بتایا کہ وہ بنو اسد کا ہے تو ہم نے بتایا کہ ہم بھی بنو اسد کے ہیں۔ پھر ہم نے اُس کا نام پوچھا تو اس نے بکیر بن شعبہ بتایا۔ پھر ہم نے کوفہ کے حالات معلوم کئے تو اُس نے بتایا کہ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ اور حضرت ہانی بن عروہ رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ہے اور میں دیکھا کہ اُن دونوں کی لاشوں کے پیر پکڑ کر بازاروں میں گھسیٹا جار ہا تھا۔ یہ خبرسن کر ہم دونوں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلہ سے آکر ملے جب آپ رضی اللہ عنہ نے مقام تعلبیہ" میں قیام کیا تو ہم آپ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور سلام کیا اور آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا ہم نے عرض کیا : اللہ تعالیٰ آپ رضی اللہ عنہ کو اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے ! ہم کچھ خبر آپ رضی اللہ عنہ کو دینا چاہتے ہیں کہئے تو ایسے ہی بتادیں یا پھر چپکے سے آپ رضی اللہ عنہ کو بتادیں۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اپنے اہل وعیال اور خاندان والوں کو دیکھا اور پھر فرمایا: ” ان لوگوں سے چھپانے والی کوئی بات نہیں ہے۔ ہم نے عرض کیا: ”کل شام کو آپ رضی اللہ عنہ نے ایک سوار کو کوفہ سے آتے دیکھا تھا ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہاں میں نے دیکھا تھا اور میں اُس سے کوفہ کے حالات معلوم کرنا چاہتا تھا۔ ہم نے عرض کیا: ”ہم نے اُس سے معلوم کر لیا ہے اُس نے بیان کیا کہ اس کے سامنے حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ اور حضرت ہانی بن عروہ رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا اور اُن دونوں کی لاشوں کے پیر پکڑ کر بازاروں میں گھسیٹا جارہا تھا ۔ یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "انا للہ وانا الیہ راجعون! اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اُن دونوں پر نازل ہوں ۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ بار بار یہی کہتے رہے۔ ہم نے عرض کیا: ” ہم آپ رضی اللہ عنہ کو اللہ کی قسم دیتے ہیں اپنی جان کا اپنے اہل بیت کا خیال کریں اور اسی جگہ سے واپس چلے جائیں۔ کوفہ میں آپ رضی اللہ عنہ کا کوئی مددگار نہیں ہے بلکہ ہمیں تو اس بات کا خوف ہے کہ وہ لوگ آپ رضی اللہ عنہ کی مخالفت کریں گے ۔“


آل عقیل کے اصرار پر عزم کو فہ


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو جب یہ معلوم ہوا کہ اہل کوفہ نے غداری اور بد عہدی کی ہے تو آپ رضی اللہ عنہ نے ارادہ بدل لیا اور واپسی کا ارادہ بنایا تھا کہ آل عقیل کے اصرار پر آپ رضی اللہ عنہ نے پھر کوفہ کی طرف بڑھنے کا عزم کر لیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: یہ سن کر حضرت عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے بیٹے کھڑے ہوئے اور فرمایا: اللہ کی قسم ! جب تک ہم حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے خون کا قصاص نہیں لیں گے یا ہمارا بھی وہی حال ہوگا جو حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کا ہوا ہے تب تک ہم واپس نہیں جائیں گے ۔“ یہ سن کر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے ہم سے فرمایا : ” ان لوگوں کے بعد زندگی کا کوئی لطف نہیں ہوگا ۔ ہم سمجھ گئے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے کوفہ جانے کا مصمم ارادہ کر لیا ہے۔ ہم نے عرض کیا: اللہ تعالیٰ آپ رضی اللہ عنہ کے لئے بہتری کرے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ آپ دونوں کو اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے ۔ آپ رضی اللہ عنہ کے بعض انصار نے عرض کیا : ” کوفہ میں آپ رضی اللہ عنہ جائیں گے تو سب آپ رضی اللہ عنہ کی طرف دوڑیں گے ۔ آپ رضی اللہ عنہ صبح کا انتظار کرتے رہے جب وقت سحر ہوا تو خادموں سے فرمایا: ” جتنا پانی لے سکو لے لو ۔ “ اُن سب نے

پانی بھر لیا اور بہت زیادہ بھرا۔ پھر سب وہاں سے روانہ ہو گئے اور چلتے چلتے منزل ” ہالہ میں پہنچے۔ 


حضرت عبد اللہ بن یقطر کی شہادت کی اطلاع


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ آگے بڑھے تو آپ رضی اللہ عنہ کو اپنے قاصد کی شہادت کی اطلاع ملی ۔ آپ رضی اللہ عنہ کے قاصد حضرت قیس بن مسهر میدادی رضی اللہ عنہ تھے یا پھر حضرت عبد اللہ بن بقطر رضی اللہ عنہ تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری نے ایک روایت میں حضرت قیس بن صیدادی رضی اللہ عنہ کا نام بیان کیا ہے اور دوسری روایت میں حضرت عبد اللہ بن بقطر رضی اللہ عنہ کا نام بیان کیا ہے اور دونوں روایتوں میں دونوں کی شہادت کا واقعہ ایک ہی طرح بیان کیا ہے۔ جب حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو اپنے قاصد کی شہادت کی اطلاع ملی تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے اہل وعیال ، خاندان اور ساتھیوں کو جمع کیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب یہ خبر آپ رضی اللہ عنہ کولی تو آپ رضی اللہ عنہ نے سب لوگوں کو جمع کرکے فرمایا: بسمہ اللہ الرحمن الرحیم ! ایک بہت ہی سخت واقعہ کی خبر مجھے ملی ہے۔ حضرت مسلم بن عقیل ، حضرت ہانی بن عروہ اور میرے قاصد ( حضرت قیس بن مسہر یا حضرت عبداللہ بن بقطر ) رضی اللہ عنہم شہید کر دیئے گئے ہیں ۔ ہمارے حامیوں نے ہمارا ساتھ چھوڑ دیا ہے ۔ اس لئے تم میں جو واپس جانا چاہے وہ چلا جائے میں نے تم پر سے اپناذ مہ اُٹھا لیا ہے۔ یہ سنتے ہی سب لوگ اپنے اپنے گھروں کی طرف لوٹ گئے اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ صرف وہی لوگ رہ گئے جو مدینہ منورہ سے آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ چلے تھے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں جانے کی اجازت اس لئے دی تھی کیونکہ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بہت سے اعرابی اس لئے چل رہے تھے کہ انہوں نے یہ سمجھا ہوا تھا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ ایسے شہر میں جارہے ہیں جہاں سب اُن کی بات مانیں گے اور اطاعت کریں گے اسی لئے آپ رضی اللہ عنہ نے یہ مناسب نہیں سمجھا کہ انہیں لاعلمی میں رکھ کر موت کے منہ میں لے جایا جائے۔ آپ رضی اللہ عنہ کو یقین تھا کہ جب لوگوں کو مفصل حال معلوم ہو جائے گا تو وہی لوگ میرا ساتھ دیں گے جو میرے ساتھ شہید ہونے کا عزم رکھتے ہیں باقی سب واپس چلے جائیں گے اور ایسا ہی ہوا۔ اب آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ اہل وعیال، خاندان کے لوگ ہی رہ گئے تھے۔


بطن عقبہ میں قیام اور 60 ہجری کا اختتام 


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو مکہ مکرمہ سے روانہ ہوئے لگ بھگ بیس دن سے زیادہ ہو چکے تھے اور جب آپ رضی اللہ عنہ نے مقام بطن عقبہ میں قیام کیا تو ذی الحجہ 60 ہجری کا اختتام ہو گیا اور محرم الحرام 61 ہجری کی شروعات ہوئی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: صبح ہوئی تو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ پانی زیادہ سے زیادہ ساتھ لے لو اور انہوں نے ایسا ہی کیا اور روانہ ہوئے اور ” بطن عقبہ میں جا کر قیام پذیر ہوئے ۔ وہاں پر بنو عکرمہ کے ایک شخص نے آپ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا : " آپ رضی اللہ عنہ کہاں تشریف لے جارہے ہیں؟“ آپ رضی اللہ عنہ نے تمام حالات بیان کر دیئے۔ اُس نے عرض کیا: ” میں آپ رضی اللہ عنہ کواللہ کی قسم دیتا ہوں یہیں سے واپس چلے جائیے۔ اللہ کی قسم ! آپ رضی اللہ عنہ برچھیوں اور تلواروں کے نیچے جارہے ہیں۔ جن لوگوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو بلایا ہے اگر وہ آپ رضی اللہ عنہ کو جنگ و جدال کی زحمت سے بچا لیتے تو خود ہی سب کام درست کر چکے ہوتے اور اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ جاتے تو یہ درست ہوتا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے جو حالات بیان کئے ہیں۔ ایسی صورت میں تو میں یہی عرض کروں گا کہ آپ رضی اللہ عنہ یہیں سے واپس لوٹ جائیے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” اے اللہ کے بندے ! تم نے جو رائے دی ہے وہ ( دنیاوی لحاظ سے) بالکل درست ہے لیکن اللہ کی مشیت کے آگے کوئی چارہ نہیں ہے ۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ آگے روانہ ہو گئے ۔ اس سال 60 ہجری میں یزید نے مدینہ منورہ کے گورنر ولید بن عقبہ کو معزول کر دیا اور عمرو بن سعید بن عاص کو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ دونوں جگہوں کا گورنر بنادیا ۔ کوفہ کے گورنر حضرت نعمان بن بشیر کو معزول کر کے عبید اللہ بن زیاد کو بصرہ کے ساتھ ساتھ کوفہ کا بھی گورنر بنادیا۔


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!


Saltanat e Umayya part 14

 14 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 14

ھ61 ہجری کوفہ کے پہلے لشکر کا سامنا، حر کے لشکر کو پانی پلایا، تم کو میرا آنا ناگوار لگا ہو تو واپس چلا جاؤں، عبید اللہ بن زیاد کے پاس جانے سے انکار، تیسرے مقام کی طرف روانگی، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے پھر سمجھایا، حضرت زہیر بن قین کی حق پرستی، حضرت قیس بن مسہر صیدادی کی شہادت کی اطلاع، اب ہم واپس نہیں جاسکتے ہے، 


ھ61 ہجری کوفہ کے پہلے لشکر کا سامنا


ھ60 ہجری کا اختتام ہوا اور 61 ہجری کی شروعات ہوئی اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا کوفہ کی جانب سفر جاری تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ بن عقبہ سے آگے بڑھے اور مقام اشراف پر قیام پذیر ہوئے۔ پھر صبح کے وقت وہاں سے روانہ ہوئے اور مسلسل سفر کرتے رہے یہاں تک کہ دو پہر کے وقت قافلے کے آگے والے شخص نے بلند آواز سے اللہ اکبر پکارا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے بھی اللہ اکبر فرمایا پھر اس سے دریافت فرمایا کہ تم نے اللہ اکبر" کیوں کہا؟ اُس نے کہا: " مجھے خرمے ( کچی کھجور ) کے درخت دکھائی دے رہے ہیں ۔ یہ سن کر بنو اسد کے دو اشخاص نے کہا: ”ہم تو یہاں سے اکثر گزرتے ہیں لیکن کبھی یہاں خرمے کے درخت دکھائی نہیں دیے ۔ پھر غور سے دیکھنے کے بعد کہا: یہ تو کسی لشکر کا مقدمہ الجیش ( ہر اول ، پہلا رسالہ ) معلوم ہوتا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” مجھے بھی ایسا ہی معلوم ہوتا ہے۔ کیا ہمارے لئے یہاں کوئی ایسی جگہ مل سکتی ہے جس کو پشت پر رکھ کر ہم ان لوگوں سے ایک ہی رخ پر سامنا کریں؟ دونوں شخصوں نے کہا: آپ رضی اللہ عنہ کے پہلو میں مقام ذ وحسم یا ذو حشم موجود ہے آپ رضی اللہ عنہ بائیں جانب مڑ جائیے ان لوگوں سے پہلے وہاں پہنچ جائیں گے اور جو چیز چاہتے ہیں وہ حاصل ہو جائے گی ۔ آپ رضی اللہ عنہ بائیں جانب مڑے ہی تھے کہ لشکر کے رسالے کے سوار بھی آپہنچے۔ انہوں نے جود دیکھا کہ آپ رضی اللہ عنہ راستے کو چھوڑ کر بائیں جانب جا رہے ہیں تو وہ بھی اُسی طرف مڑ گئے ۔ اُن کے برچھیوں کے پھل شہد کی مکھیوں کے غول کی طرح دکھائی دے رہے تھے اور اُن کے علموں (جھنڈوں) کی بیر قیں گدھ کے پروں کی طرح پھیلی ہوئی تھیں ۔ آپ رضی اللہ پہلے ذو حسم یا زوحشم پہنچ گئے اور خیمے نصب کرنے کا حکم دیا اور قیام پذیر ہو گئے۔


حر کے لشکر کو پانی پلایا


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے جب کوفہ کی طرف آنے کی خبر عبید اللہ بن زیاد کو ملی تو اس نے حصین بن نمیر کو ناکہ بندی کرنے کے لئے بھیجا تو اس نے قادسیہ میں آکر پڑاؤ ڈال دیا اور اطراف و جوانب میں لشکروں کو دوڑا دیا۔ اُن میں سے ایک لشکر سے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا سامنا ہو گیا۔ اس لشکر کا سپہ سالارحر بن یزید تمیمی تھا۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں: ہزار سواروں کا رسالہ لئے ہوئے حربن یزید تمیمی اس جلتی دوپہر میں آپ رضی اللہ عنہ کے مقابل آکر ٹھہرا۔ اُس نے دیکھا کہ آپ رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھی عمامے باندھے ہوئے ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا: " پورے لشکر والوں کو پانی پلا کر اُن کی پیاس بجھاؤ اور گھوڑوں کو بھی پانی پلاؤ “ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں نے لشکر والوں کو پانی پلا پلا کر سیراب کر دیا۔ پھر کا سے کڑے طشت بھر بھر کر گھوڑوں کے سامنے لے گئے۔ گھوڑا جب تین یا چار بار پانی میں منہ ڈال چکتا تو ظرف ہٹا کر دوسرے گھوڑے کو پانی پلاتے تھے اسی طرح سب گھوڑوں کو پانی پلایا۔ حربن یزید تمیمی کے لشکر کا ایک سپاہی پیچھے رہ گیا تھا۔ وہ بیان کرتا ہے: ”حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے جب مجھے اور میرے گھوڑے کی بری حالت کو دیکھا تو فرمایا: ” رادیہ کو بٹھاؤ۔ میں مشک کو رادیہ سمجھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے بیٹے ! اونٹ کو بٹھاؤ میں نے اونٹ کو بٹھایا تو مجھے پانی دیا اور فرمایا: ”لو پیو “ میں جب پانی پینے لگا تو مشک (مشکیزے) سے پانی گرنے لگا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "مشک کے دہانے کو اُلٹ دو“ مجھ سے الٹتے نہیں بنا تو آپ رضی اللہ عنہ خود کھڑے ہوئے اور دہانہ کو الٹ دیا۔ پھر میں نے اور میرے گھوڑے نے پانی پیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کی طرف حربن یزید تمیمی کے لشکر لیکر آنے کا سبب یہ ہوا کہ عبید اللہ بن زیاد کو جب یہ خبر ملی کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ آرہے ہیں تو اُس نے حصین بن نمیر کو جو پولیس محکمے کا سر براہ تھا روانہ کیا اور حکم دیا کہ قادسیہ میں ٹھہرے اور قطقطانہ سے حقائق تک مورچے باندھے اور حر کو ایک ہزار سوار کا لشکر دے کر اُس کے آگے روانہ کیا کہ وہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے مزاحمت کرے۔ حربن یزید تمیمی نے آپ رضی اللہ عنہ کورو کے رکھا۔


تم کو میرا آنا ناگوار لگا ہو تو واپس چلا جاؤں


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ ذو سم یاز و حشم میں قیام پذیر تھے اور سامنے ایک ہزار کا لشکر لیکر حر بن یزید تمیمی قیام پذیر تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: یہاں تک کہ ظہر کا وقت آگیا۔ اب آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت حجاج بن مسروق بعضی کو حکم دیا کہ اذان دیں۔ انہوں نے اذان دی اور اقامت کی باری آئی تو آپ رضی اللہ عنہ تہبند اور چادر پہنے ہوئے نکلے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا پھر فرمایا: "اے لوگو! اللہ تعالیٰ سے اور تم سب لوگوں سے میں ایک عذر کرتا ہوں کہ جب تک تمہارے قاصد تمہارے خطوط اور تمہارے یہ پیغام لیکر نہیں آئے کہ آپ رضی اللہ عنہ آئیے ، ہمارا کوئی امام نہیں ہے ۔ شاید آپ رضی اللہ عنہ کے سبب اللہ تعالیٰ ہم سب لوگوں کو ہدایت پر متفق کر دے، اُس وقت تک میں تمہارے پاس نہیں آیا۔ اب اگر تم اسی قول پر ڈٹے ہو تو لو میں تمہارے پاس آ گیا ہوں۔ تم مجھ سے عہد و پیمان کر لو جس سے مجھے اطمینان ہو جائے تو میں تمہارے شہر چلوں۔ اور اگر ایسا نہیں کرتے ہو اور تم کو میرا آنا ناگوار گزرا ہوتو میں جہاں سے آیا ہوں وہیں واپس چلا جاؤں گا یہ سن کر سب خاموش رہے تو آپ رضی اللہ عنہ نے مؤذن سے فرمایا: ” اقامت کہو ۔ اُس نے اقامت کہی تو آپ رضی اللہ عنہ نے حربن یزید تمیمی سے فرمایا: ”تم لوگ الگ نماز پڑھو گے؟" حربن یزید نے کہا: نہیں ! ہم سب بھی آپ رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز ادا کریں گے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے سب کو نماز پڑھائی اور اپنے خیمہ میں چلے گئے اور آپ رضی اللہ عنہ کے اہل و عیال اور خاندان والے آپ رضی اللہ عنہ کے پاس جمع ہو گئے۔


عبید اللہ بن زیاد کے پاس جانے سے انکار


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے حربن یزید تمیمی سے فرمایا تھا کہ اگر تم لوگوں کو میرا یہاں آنا نا گوار گزرا ہو تو مجھے واپس جانے دو تو اُس نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حربن یزید تمیمی اپنے لشکر میں واپس چلا گیا۔ اُس کے لئے خیمہ نصب کیا جا چکا تھا وہ اُس میں چلا گیا۔ اُس کے لشکر کے کچھ لوگ اُس کے پاس جمع ہو گئے اور باقی اپنی اپنی صفوں میں چلے گئے اور پھر سے صفیں لگا لیں۔ پھر ہر شخص نے اپنے اپنے گھوڑے کی باگ پکڑ لی اور اُس کے سایے میں اتر کر بیٹھ گئے ۔ عصر کی نماز کا وقت ہوا آپ رضی اللہ عنہ خیمہ سے نکلے اور مؤذن کو حکم دیا تو اُس نے اذان دی اور پھر اقامت کہی۔ آپ رضی اللہ آگے بڑھے اور سب کو نماز پڑھائی سلام پھیرا۔ پھر سب کی طرف چہرہ مبارک کر کے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا پھر فرمایا: اے لوگو! اگر تم اللہ کا خوف کرو گے اور حق داروں کے حق کو پہچا نو گے تو یہ اللہ کی خوشنودی کا باعث ہوگا۔ ہم اہل بیت ہیں اور یہ لوگ جو تم پر حکومت کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں جس کا انہیں حق نہیں ہے اور تمہارے ساتھ ظلم و تعدی سے پیش آتے ہیں۔ اس امر کے لئے ان سے ہمیں اولی ہے۔ اگر تم کو ہم سے کراہت ہے اور ہمارے حق سے تم واقف نہیں ہو اور اپنے خطوں اور پیغاموں کی زبانی تم نے جو کچھ مجھ سے کہلا بھیجا ہے اب وہ تمہاری رائے نہیں رہ گئی ہے تو میں تمہارے پاس سے واپس چلا جاؤں گا ۔ حر بن یزید نے جواب میں کہا : اللہ کی قسم! مجھے نہیں معلوم وہ خطوط کیسے تھے جن کا آپ رضی اللہ عنہ ذکر فرمارہے ہیں ۔“ یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت عقبہ بن سمعان سے فرمایا: ” وہ دونوں تھیلے جن میں ان لوگوں کے خطوط ہیں لے آؤ۔“ حضرت عقبہ بن سمعان دونوں تھیلے لے کر آئے جو خطوط سے بھرے ہوئے تھے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے سب کے سامنے اُن خطوط کو بکھیر دیا۔ حربن یزید تمیمی نے کہا: ” جن لوگوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو خطوط لکھے ہیں ، ہم اُن میں سے نہیں ہیں اور ہم کو حکم ملا ہے کہ اگر ہم آپ رضی اللہ عنہ کو پا جائیں تو عبیداللہ بن زیاد کے پاس لے جائے بغیر نہ چھوڑیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” یہ کام کرنے سے بہتر تمہارے لئے مرجاتا ہے۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: ”اٹھ سوار ہو جاؤ ۔ سب سوار ہو گئے اور انتظار کرنے لگے کہ مستورات بھی سوار ہو جائیں۔


تیسرے مقام کی طرف روانگی


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ عنہ واپس جانا چاہتے تھے اور حربن یزید تمیمی آپ رضی اللہ عنہ کو وہ عبید اللہ بن زیاد کے پاس لے جانا چاہتا تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے رہبروں سے فرمایا: ”ہم سب کو واپس لے چلو۔“ جب آپ رضی اللہ عنہ واپس جانے لگے تو حربن یزید نے اپنے لشکر کے ساتھ راستہ روک لیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میری والدہ تجھ پر روئے ! آخر تیرا کیا مطلب ہے؟ حر بن یزید نے کہا: اللہ کی قسم ! اگر عرب میں سے کسی نے یہ کلمہ مجھ سے کہا ہوتا تو میں بھی اُس کی والدہ کے رونے کا ذکر کئے بغیر نہیں رہتا لیکن میری مجال نہیں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ محترمہ کا ذکر حد درجہ عظیم کے سوا کسی اور طریقے سے کروں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” پھر تیرا کیا ارادہ ہے؟ حربن یزید نے کہا: اللہ کی قسم! میرا ارادہ یہ ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کو عبید اللہ بن زیاد کے پاس لے جاؤں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں تیرے ساتھ نہیں جاؤں گا ۔ حر بن یزید نے کہا: اللہ کی قسم ! میں آپ رضی اللہ عنہ کونہیں چھوڑوں گا ۔ دونوں نے یہی بات تین تین مرتبہ کہی ۔ جب تکرار بڑھ گئی تو حربن یزید نے کہا: " مجھے آپ رضی اللہ عنہ کوشہید کرنے کا حکم نہیں ملا ہے بلکہ مجھے صرف اتنا حکم ملا ہے کہ جب تک آپ رضی اللہ عنہ کو کوفہ عبید اللہ بن زیاد کے پاس نہ لے جاؤں تب تک آپ رضی اللہ عنہ کے پاس سے نہیں ہٹوں ۔ اگر آپ رضی اللہ عنہ میری بات نہیں مان رہے ہیں تو کسی ایسے راستے پر چلیئے جو کوفہ کی طرف جاتا ہو نہ مدینہ منورہ کی طرف جاتا ہو۔ میں عبید اللہ بن زیاد کو تمام حالات لکھ کر بھیج دوں گا۔ اگر آپ رضی اللہ عنہ کا دل چاہے تو آپ رضی اللہ عنہ یزید کو لکھئے یا پھر عید اللہ بن زیاد کولکھیئے۔ شاید اللہ تعالی ایسی صورت نکال دے کہ میں آپ رضی اللہ عنہ کے بارے میں کوئی سخت قدم اُٹھانے سے بچ جاؤں۔ آپ رضی اللہ عنہ ایسا کریں کہ عذیب اور قادسیہ کے راستے سے بائیں طرف مڑ جائیں۔ اُس وقت عذیب اڑتیس میل کے فاصلے پر تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ راو نہ ہوئے اور حر بن یزید اپنا لشکر لیکر ساتھ ساتھ چلا۔


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے پھر سمجھایا


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اپنے اہل وعیال اور خاندان والوں کے ساتھ تیسرے راستے پر سفر کر رہے تھے اور حربن یزید بھی اپنے لشکر کے ساتھ سفر کر رہا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے مقام بیضہ میں پڑاؤ ڈال دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: مقام بیضہ میں آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے اور حربن یزید کے اصحاب کے درمیان خطبہ دیا۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: آپ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو مخاطب کر کے اللہ کی حمد و ثناء کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا اور فرمایا: ”اے لوگو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس شخص نے ظالم بادشاہ کو دیکھا کہ وہ اللہ کے حرام کردہ کو حلال کرتا ہے۔ اس کے عہد کو توڑتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی نہیں کرتا ہے۔ اللہ کی مخلوق میں ظلم اور گناہ کے کام کرتا ہے۔ پھر اس شخص نے کسی قسم کی قولی یا عملی دست اندازی نہیں کی تو اللہ تعالیٰ اس کو بھی اُس ( ظالم بادشاہ) کے ساتھ شمار کرے گا۔ آگاہ ہو جاؤ ! اِن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت چھوڑ کر شیطان کی تابعداری شروع کر دی ہے۔ فتنہ و فساد برپا کر دیا ہے۔ میں ان لوگوں سے زیادہ صاحب الامر ہونے کا مستحق ہوں۔ تمہارے خطوط اور قاصد میرے پاس آئے اور تم نے مجھے بیعت کرنے کے لئے بلایا۔ اب تم مجھے رسوا نہ کرو، اگر بیعت کے اقرار پر قائم رہو گے تو حق کا راستہ پا جاؤ گے۔ میں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا بیٹا ہوں اور میری والدہ محترمہ سیدہ فاطمہ زہرہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی ہیں ۔ میری جان تمہاری جان کے ساتھ ہے اور میرے اہل و عیال تمہارے اہل وعیال کے ساتھ ہیں تم کو میرے ساتھ بھلائی کرنی چاہئے اور اگر تم نے ایسا نہیں کیا اور میرے ساتھ عہد شکنی کی تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ تم نے میرے والد محترم حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، میرے بھائی حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اور میرے چچا زاد بھائی حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے ساتھ بد عہدی کی ہے۔ افسوس کہ تم لوگ مجھے دھوکا دے کر دین مین اپنا حق اور حصہ ضائع کر رہے ہو۔ پس جو شخص بدعہدی کرے گا اپنے لئے کرے گا اور اللہ تعالیٰ مجھ کو تم سے بے پرواہ کر دے گا ۔ والسلام “


حضرت زہیر بن قین کی حق پرستی


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا خطبہ سن کر حضرت زہیر بن قین نے آپ رضی اللہ عنہ کا ہر حال میں ساتھ نبھانے کا ارادہ ظاہر کیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: یہ سن کر حضرت زہیر بن قین کھڑے ہوئے اور اپنے ساتھ کے لوگوں سے کہا: ” تم کچھ کہتے ہو یا میں کہوں؟ انہوں نے کہا: ” آپ ہی کہیئے ۔ “ حضرت زہیر بن قین نے پہلے للہ تعالیٰ کی حمدو ثناء کی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا پھر عرض کیا: اے آل رسول رضی اللہ عنہ اہداک اللہ ! آپ رضی اللہ عنہ کے ارشاد کو ہم قبول کرتے ہیں۔ اللہ کی قسم ! اگر دنیا ہمیشہ باقی رہنے والی ہوتی اور ہم اُس میں ہمیشہ رہنے والے ہوتے اور اُس وقت بھی ہمیں آپ رضی اللہ عنہ کی نصرت اور غمخواری کے لئے دنیا کو چھوڑنا پڑتا تو ہم اس دنیا میں رہنے کے بجائے آپ رضی اللہ عنہ کا ساتھ دے کر دنیا چھوڑ نا پسند کرتے ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اُن کے لئے دعائے خیر کی ۔ حربن یزید بھی آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسلسل سفر کر رہا تھا اور بولتا جارہا تھا: اے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ! میں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ اپنی جان کا خیال کیجیئے ۔ میں کہتا ہوں کہ آپ رضی اللہ عنہ حملہ کریں گے تو شہید ہو جائیں گے یا آپ رضی اللہ عنہ پر حملہ ہو گا تب بھی شہید ہو جائیں گے مجھے تو ایسا ہی لگتا ہے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” تو مجھے مرنے سے ڈرا رہا ہے؟ کیا نوبت یہاں تک پہنچے گی کہ تم لوگ مجھے شہید کر دو گے؟ اس بات کے جواب میں وہی بات کہوں گا جو بنو اوس کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے اپنے چچازاد سے کہی تھی ۔ وہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی نصرت کو جارہے تھے تو اس نے کہا: ” کہاں جا رہے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا: ”میں جاؤں گا اور موت سے اُس شخص کو کا ہے شرم ۔ جس نے حق کی نیت کی ہو اور مسلم ہو کر جہاد کیا ہو ۔ جس نے اپنی جان سے اللہ کے صالح بندوں کی غمخواری کی ہو۔ جس نے ہلاک ہونے والے خائن سے کنارہ کیا ہو۔ حر بن یزید نے جب یہ بات سنی تو خاموشی سے اپنے لشکر کی طرف لوٹ گیا ۔ وہ اپنے لشکر کے ساتھ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلے سے تھوڑی دور پر چل رہا تھا۔


حضرت قیس بن مسہر صیدادی کی شہادت کی اطلاع


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو فہ اور مدینہ منورہ کے علاوہ تیسرے راستے پر رواں دواں تھے کہ حضرت قیس بن مسہر میدادی کے شہید ہونے کی اطلاع ملی ۔ اس سے پہلے حضرت عبداللہ بن بقطر رضی اللہ عنہ کی شہادت کی اطلاع آپ رضی اللہ عنہ کو ملی تھی اب حضرت قیس بن مسہر صیدادی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی اطلاع ملی۔ ہو سکتا ہے کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے الگ الگ وقت میں دونوں کو الگ الگ کوفہ کی طرف قاصد بنا کر بھیجا ہواور عبیداللہ بن زیاد نے دونوں کو ایک ہی طریقے سے شہید کیا ہو۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: چلتے چلتے مقام عذیب الہجانات تک پہنچے ۔ (ہجانات اونٹنیوں کو کہتے ہیں ) یہاں نعمان کی اونٹنیاں چرا کرتی تھیں ۔ جب اس مقام پر آپ رضی اللہ عنہ پہنچے تو کوفہ سے چار شخص اونٹوں پر سوار نافع بن بلال کا مشہور گھوڑا کوتل دوڑاتے ہوئے آئے۔ ان کا راہ نما طرماح بن عدی تھا۔ حضرت حسین علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہی اُس نے عرض کیا: ”اے سانڈنی میرے جھڑ کنے سے گھبرانہ جا۔ صبح ہونے سے پہلے ان سواروں کولیکر روانہ ہو جا۔ یہ تما م سواروں میں اور سفر کرنے والوں میں سب سے بہتر ہیں۔ ان کو لئے ہوئے تو اُس شخص کے پاس جا کر ٹھہر جا۔ جو کریم النسب اور صاحب محمد داور کشادہ دل ہیں۔ جنہیں اللہ تعالیٰ ایک امر خیر (بھلائی کے کام کے لئے یہاں لایا ہے۔ رہتی دنیا تک ان کو اللہ سلامت رکھے ۔ “ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم میں بھی جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی مثیت میں لوگوں کا قتل ہونا یا فتح مند ہونا دونوں طرح سے امرخیز“ ہے حربن یزید اُن چاروں کو گرفتار کرنے کے لئے آگے بڑھا تو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اُسے ڈانٹ دیا اور وہ خاموشی سے واپس چلا گیا ۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے اُن چاروں سے فرمایا: ”جہاں سے تم آرہے ہو ، وہاں کی کیا خبر ہے؟ مجھ سے بیان کرو۔“ اُن میں سے ایک شخص مجمع بن عبد اللہ عائذی نے عرض کیا: ” بڑے بڑے لوگوں کا تو یہ حال ہے کہ اُن کو بڑی بڑی رشوتیں دی گئیں ہیں، اُن کے تھیلے بھر دیئے گئے ہیں۔ اُن کو بلا رہے ہیں اور اپنا خیر خواہ بنارہے ہیں، وہ سب لوگ آپ رضی اللہ عنہ کے خلاف متفق ہیں ۔ رہے عام لوگ ! تو اُن کا یہ حال ہے کہ اُن کے دل آپ کی طرف ہیں لیکن کل یہی لوگ آپ رضی اللہ عنہ پر تلواریں کھینچے ہوئے چڑھائی کر دیں گے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میرا ایک قاصد حضرت قیس بن مسهر صیدادی تمہارے پاس آیا تھا ۔ انہوں نے عرض کیا: ”ہاں ! اُن کو حصین بن نمیر نے گرفتار کر کے عبید اللہ بن زیاد کے پاس بھیج دیا تھا۔ پھر اُن کے شہید ہونے کا واقعہ تفصیل سے بیان کیا۔ پورا واقعہ سن کر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی آنکھیں ڈبڈبا آئیں اور آپ رضی اللہ عنہ آنسوؤں کو ضبط نہیں کر سکے اور یہ آیت تلاوت فرمائی: ” ان میں سے کوئی گزر گیا کوئی انتظار کر رہا ہے اور ان لوگوں نے ذرا تغیر و تبدل نہیں کیا ۔ پھر آگے فرمایا : اے اللہ تعالی! ہم کو اور ان کو جنت کی نعمتیں عطافرما اور ہم کو اوران کو اپنی جوار رحمت میں اور اپنے ثواب کے ذخیرہ بخشش میں یکجا کر دے۔“


اب ہم واپس نہیں جاسکتے ہے


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے کوفہ سے آنے والے چاروں سواروں سے کوفہ کے حالات دریافت کئے تو معلوم ہوا کہ کوفہ کے تمام لوگ آپ رضی اللہ عنہ کے خلاف ہو گئے ہیں۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: طرماح بن عدی آپ رضی اللہ عنہ کے قریب آیا اور عرض کیا : ”اللہ کی قسم ! میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کوئی نہیں ہے۔ جو شکر آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ چل رہا ہے ۔ صرف اسی سے مقابلہ ہوگا تو آپ رضی اللہ عنہ اور اہل وعیال اور ساتھی کافی ہیں ۔ حالانکہ جب میں آپ رضی اللہ عنہ کے پاس آنے کے لئے کوفہ سے نکلا تو اس سے ایک دن پہلے میں نے سپاہیوں کی ایسی کثرت دیکھی کہ اتنا بڑا لشکر ابھی تک میری نظر سے نہیں گذرا ہے۔ میں نے اس اجتماع کا سبب پوچھا تو بتایا گیا کہ یہ اجتماع تو عرض کے لئے ہے۔ عرض سے فارغ ہونے کے بعد یہ لشکر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے مقابلے پر روانہ ہو گا۔ اب میں آپ رضی اللہعنہ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ اگر ممکن ہوتو ایک قدم بھی اُس طرف جانے کے لئے نہیں اُٹھائیے۔ اگر آپ رضی اللہ عنہ کسی ایسے شہر میں جانا چاہتے ہوں جہاں اللہ آپ رضی اللہ عنہ کی حفاظت کرے اور آپ رضی اللہ عنہ کوئی رائے قائم کرلیں اور جو کام کرنا چاہتے ہیں اُسے اچھی طرح سوچ سمجھ کر لیں تو چلیئے میں آپ رضی اللہ عنہ کو اپنے بلند پہاڑ کوہ اجا" پر لے چلوں۔ اللہ کی قسم! ہم لوگ اُسی پہاڑ پر غسان اور حمیر کے باشاہوں اور نعمان بن منذر اور ہر اسود احمر سے محفوظ رہے ہیں۔ اللہ کی قسم ! ہم کو کبھی یہ لوگ مطیع نہیں کر سکے ہیں۔ میں آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ چلتا ہوں اور موضع قریہ میں آپ رضی اللہ عنہ کو قیام پذیر کر دوں گا۔ پھر کو ہستان اجاد سلملی میں بنوطے میں جو لوگ ہیں اُن کو کہلا بھیجوں گا۔ اللہ کی تم اس دن کے اندر اندر آپ رضی اللہ عنہ کے پاس بنوطے کے پیارے اور سوار جمع ہو جائیں گے ۔ آپ رضی اللہ عنہ کا جب تک جی چاہے گا ہم لوگوں کے درمیان رہ سکتے ہیں۔ اگر آپ رضی اللہ عنہ کو کوئی واقعہ پیش آئے تو میں بنوطے کے بیس ہزار مجاہدین کو جمع کرنے کا ذمہ میں لیتا ہوں جو آپ رضی اللہ عنہ کے آگے سے، پیچھے سے، دائیں سے اور بائیں سے شمشیر زنی کریں گے۔ جب تک ان میں سے ایک شخص بھی زندہ رہے گا آپ رضی اللہ عنہ کو کوئی ضر نہیں پہنچنے دے گا ۔ آپ رضی اللہ عنہ مسکرائے اور فرمایا: اللہ تجھے اور تیرے قبیلے کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ بات یہ ہے کہ ہم میں اور ان میں ( حربن یزید کے لشکر میں) ایک قول ہو چکا ہے جس کے سبب ہم واپس نہیں جاسکتے اور ہمیں نہیں معلوم کہ ہمار اور ان کا کیا انجام ہو گا ۔“


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!


Saltanat e Umayya part 15


 15 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 15

طرماح بن عدی مدد نہیں کر سکا، ہم حق پر ہیں، عبید اللہ بن زیاد کا حکم، تیرا امام جہنم میں لے جائے گا، میں جنگ کی ابتدا نہیں کروں گا، عقر ( کربلا ) میں قیام، عمر بن سعد کا انکار کرنے کے بعد اقرار، عمر و یا عمر بن سعد کا قاصد، دوسرا قاصد، یزید کی بیعت کرنے کا کہو، 

طرماح بن عدی مدد نہیں کر سکا

حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے طرماح بن عدی کا شکر یہ ادا کیا اور فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ نہیں جاسکتا۔ طرماح بن عدی نے عرض کیا کہ میں اپنے گھر والوں کے لئے راشن لے کر جارہا تھا وہ انہیں دے کر آپ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوتا ہوں اور پھر چاہے جو ہو میں آپ رضی اللہ عنہ کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: طرماح بن عدی نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: " اللہ تعالیٰ آپ رضی اللہ عنہ کو تمام عالم کے جن وانس کے شرسے بچائے۔ میں کوفہ سے کچھ غلہ وغیرہ اپنے اہل وعیال کے لئے لیکر چلا ہوں ۔ آپ رضی اللہ عنہ اجازت دیں تو یہ سامان اور خرچ کے لئے کچھ دے دوں اور وہاں جا کر یہ سب چیزیں انہیں دے کر انشاء اللہ جلد ہی واپس آؤں گا اور اللہ کی قسم! میں بھی آپ رضی اللہ عنہ کے انصار میں شامل ہو جاؤں گا ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: " رحمک اللہ ! اگر تیرا یہی ارادہ ہے تو جلدی کر طرماح بن عدی کہتے ہیں: ” اس سے معلوم ہوا کہ آپ رضی اللہ عنہ چاہتے تھے کہ اس امر میں لوگ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ شریک ہوں جب ہی تو مجھے جلدی کرنے کو فرمایا ۔ میں اپنے اہل و عیال میں پہنچا اور جن چیزوں کی انہیں ضرورت تھی وہ اُن کو دے کر میں نے وصیت کی۔ سب کہنے لگے : ” اس مرتبہ اس طرح رخصت ہو رہے ہیں کہ اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا۔ میں نے اپنے ارادے سے انہیں مطلع کیا اور بنو شعول کے راستے سے روانہ ہوا۔ عذیب الہجانات تک ہی پہنچا تھا کہ سماعہ بن بدر نے بتایا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ شہید کر دئیے گئے ۔ یہ سن کر میں واپس آگیا۔


ہم حق پر ہیں


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا سفر جاری تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ قصر بنو مقاتل میں قیام پذیر ہوئے پھر آگے روانہ ہو گئے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: ایک ساعت بھر چلے تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ ذرا اونگھ گئے پھر چونک کر انا للہ وانا الیہ راجعون والحمد اللہ رب العالمین فرمایا اور یہ کلمہ آپ رضی اللہ عنہ نے دو یا تین مرتبہ کہا۔ یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ کے بیٹے حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہ گھوڑا بڑھا کر آگے آئے اور عرض کیا: ابو جان ! میں آپ رضی اللہ عنہ پر فدا ہو جاؤں ، اس وقت آپ رضی اللہ عنہ نے یہ کلمہ کیوں فرمایا ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے میرے پیارے بیٹے ذرا میری آنکھ جھپک گئی تھی تو میں ایک سوار کو اپنے گھوڑے پر دیکھا۔ اُس نے کہا: یہ لوگ تو چلے جارہے ہیں اور موت ان کی طرف آرہی ہے۔ اس سے میں سمجھ گیا کہ ہمیں خبر مرگ سنائی گئی ہے۔ بیٹے نے عرض کیا: "ابو جان ! اللہ تعالی آپ رضی اللہ عنہ کو ہر بلا سے محفوظ رکھے کیا ہم لوگ حق پر نہیں ہیں؟“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قسم ہے اُس اللہ کی جس کے پاس سب کو لوٹ کر جانا ہے ہم حق پر ہیں ۔ “ حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ” پھر ہمیں کچھ پرواہ نہیں ہے۔ مریں گے تو حق پر مریں گے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” جزاک اللہ ! والد کی طرف سے فرزند کو جو بہترین جزامل سکتی ہے وہ تم کو ملے ۔“


عبید اللہ بن زیاد کا حکم


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سفر کر رہے تھے اور حر بن یزید اپنے لشکر کے ساتھ اُن کے آس پاس ہی چل رہا تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حر بن یزید جب آپ رضی اللہ عنہ کو کوفہ کی طرف جانے کے لئے مجبور کرتا تو آپ رضی اللہ عنہ نہیں مانتے تھے اور آگے بڑھ جاتے تھے یہاں تک کہ مقام نینوا میں پہنچے تو وہیں پر قیام پذیر ہو گئے ۔ اتنے میں ایک سانڈنی (اونٹ) سوار ہتھیار لگائے کمان شانہ پر ڈالے کوفہ کی طرف سے آتا دکھائی دیا۔ سب کے سب اُس کے انتظار میں ٹھہر گئے۔ وہ آیا اور حربن یزید اور اُس کے لشکر کو سلام کیا اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور اُن کے ساتھیوں کو سلام نہیں کیا۔ حربن یزید کو عبید اللہ بن زیاد کا خط دیا۔ اُس میں لکھا تھا: ”میرا قاصد اور میرا خط جب تمہیں ملے تو (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) کو بہت تنگ کرنا ۔ اُن کو ایسی جگہ پڑاؤ ڈالنے دینا جہاں چٹیل میدان ہو اور کوئی پناہ کی جگہ نہیں ہو اور پانی بھی نہیں ہو۔ دیکھو قاصد کو میں نے حکم دے دیا ہے کہ وہ تم پر نگران رہے تمہارا ساتھ نہ چھوڑے جب تک کہ میرے پاس ہ خبر نہ لیکر آئے کہ تم نے میرے حکم کو پورا کر دیا ہے۔ والسلام - حربن یزید نے خط پڑھ کر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں سے کہا: یہ خط گورنر عبید اللہ بن زیاد کا ہے ۔ مجھے حکم دیا ہے کہ جس مقام پر مجھے یہ خط لے و ہیں تم لوگوں کو بہت تنگ کروں اور دیکھو شخص قاصد ہے اس کو حکم ہے کہ میرے پاس سے اُس وقت تک نہ ہے جب تک یہ نہ دیکھ لے کہ میں نے امیر ( گورنر ) کی رائے پر عمل کر لیا اور اُس کے حکم کو جاری کر دیا ہے۔“


تیرا امام جہنم میں لے جائے گا


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کوحر بن یزید نے وہیں روک لیا اور اپنے گورنر عبید اللہ بن زیاد کا فرمان سنایا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: یہ سن کر قاصد کی طرف بنو کندہ کے حضرت ابو شعنا یزید بن مہاجر آگے بڑھے اور قاصد کو دیکھ کر کہا: ” کیا تم بنوکندہ کے مالک بن نسیر ہو؟“ اس نے کہا: ہاں! میں وہی ہوں ۔ " ابو شعراء نے کہا: ”تیرابر ہو تو کیا پیغام لیکر آیا ہے؟“ قاصد نے کہا: ” جو پیغام میں لایا ہوں اُس میں اپنے امام کی میں نے اطاعت کی ہے اور اپنی بیعت کو پورا کیا ہے ۔ ابو شعراء نے کہا: تو نے اپنے اللہ کی نافرمانی کی ہے اور اپنے امام کی اطاعت کر کے خود کو ہلاک کیا ہے ۔ تو نے اپنے عارو نار کو اختیار کیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (ترجمہ) ہم نے کچھ امام ان میں پیدا کر دیئے ہیں جو کہ جہنم میں لے جانے کو پکارتے ہیں۔ قیامت کے روزان کی مدد نہیں کی جائے گی ۔ بس ایسا ہی تیرا امام بھی ہے۔“


میں جنگ کی ابتدا نہیں کروں گا


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ پر ایک کھلے میدان میں پڑاؤ ڈالنے کے لئے حربن یزید مجبور کرنے لگا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اب حربن یزید نے سب لوگوں کو اُس جگہ پڑاؤ ڈالنے پر مجبور کرنا شروع کر دیا جہاں پانی نہیں تھا اور کوئی بستی بھی نہیں تھی ۔ اُن لوگوں نے کہا: ” ہمیں نینوا میں یا غاضریہ میں شفیہ میں پڑاؤ ڈالنے دو حربن یزید نے کہا: اللہ کی قسم میں ایسا نہیں کر سکتا۔ دیکھو یہ شخص جاسوسی کرنے کے لئے میرے پاس بھیجا گیا ہے ۔ اُس وقت حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: "اے آل رسول رضی اللہ عنہ ! ہمیں اس وقت ان لوگوں سے لڑلینا آسان ہے بہ نسبت اُن لوگوں کے جو ان کے بعد لڑنے کے لئے آئیں گے ۔ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ان کے بعد اتنے لوگ ہم سے لڑنے کے لئے آئیں گے جن کا ہم مقابلہ نہیں کر سکتے ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں جنگ کی ابتدا نہیں کروں ۔“ حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ”اچھا اس قریہ میں چلیئے ، ہم سب وہیں قیام کریں گے وہ مقام محفوظ بھی ہے اور دریائے فرات کے کنارے بھی ہے ۔ یہ لوگ ہمیں وہاں جانے سے روکیں گے تو اس بات پر ہم ان سے لڑیں گے۔ ان سے لڑ لینا اُن لوگوں کے مقابلے میں آسان ہے جو ان کے بعد آنے والے ہیں ۔ “ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: حربن یزید نے عبید اللہ بن زیاد کا خط پڑھ کر کہا: یہ خط امیر ( گورنر ) کا آیا ہے۔ جس میں مجھے ہدایت ملی ہے کہ میں آپ رضی اللہ عنہ کو ایک کھلے میدان میں ٹھہراؤں اور تحمیل حکم تک یہ قاصد مجھ سے علیحدہ نہیں ہوگا لہذا آپ رضی اللہ عنہ نینوا سے پڑاؤ اُٹھا کر ایسے میدان میں پڑاؤ ڈالیں جہا نہ سایہ ہو اور نہ پانی ہو ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : " ہم کو تم اب زیادہ تکلیف نہ دو اور نینوا میں ہی رہنے دو یا پھر ہمیں غاضریہ مافیہ میں جا کر قیام کرنے دو ۔ حر بن یزید نے کہا: ” میں ایسا نہیں کر سکتا کیونکہ عبید اللہ بن زیاد نے مجھ پر اس شخص کو اس کام کی نگرانی کے لئے مقرر کیا ہے ۔ حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اللہ کی قسم! اس کے بعد جو (لشکر) آئے گا وہ اس سے زیادہ سخت ہو گا۔ اے آل رسول رضی اللہ عنہ! اس وقت ان سے لڑ جانا آسان ہے بہ نسبت اُس (لشکر) کے جو آئندہ آنے والا ہے ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں جنگ کی ابتدا نہیں کروں گا ۔“


عقر ( کربلا ) میں قیام


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے جنگ کی ابتدا اپنی طرف سے کرنا مناسب نہیں سمجھا اور حضرت زہیر بن قین کے مشورے کو نہیں مانا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہ کون سا قریہ ہے؟ لوگوں نے بتایا: ” اس کا نام ”عقر ( زخم ) ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے اللہ تعالیٰ ! عقر سے مجھ کو بچانا۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے وہیں پڑاؤ ڈالنے کا حکم دے دیا۔ یہ دو (2) محرم الحرام 11 ہجری پینج شنبہ کا دن تھا۔ اس کے دوسرے دن صبح عمر ودیا عمر بن سعد ( یہ مشہور صحابی حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا بیٹا ہے اور اس کا عمر دیا عمر ہے۔ علامہ محمد بن جریر طبری نے عمر ولکھا ہے اور علامہ ابن کثیر اور ابن خلدون نے عمر بن سعد لکھا ہے ) چار ہزار (4000) کا لشکر لیکر کوفہ سے یہاں پہنچا۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ پر عمر بن سعد کے لشکر کشی کرنے کی وجہ یہ ہوئی کہ فرقہ دیلم نے موضع وسشٹمی پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہ خبرسن کر عبید اللہ بن زیاد نے ملک ”رنے کا فرمان عمر بن سعد کے نام لکھا ( یعنی اسے وہاں کا گورنر بنا دیا) اور حکم دیا کہ اس طرف روانہ ہو جاؤ۔ عمر بن سعد شکر کو ساتھ لیکر روانہ ہو حمام اعین میں لشکر گاہ مقرر کی۔ جب حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کوفہ کی طرف متوجہ ہوئے تو عبد اللہ بن زیاد نے عمر بن سعد کو بلا بھیجا او حکم دیا کہ پہلے (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) کی طرف متوجہ ہو۔ ہمارے اور اُن کے درمیان جو معاملہ ہے اُس کا پہلے فیصلہ ہو جائے پھر فرقہ دیلم کی طرف جانا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو رائے دی : ” آپ رضی اللہ عنہ اس قریے میں ہمارے ساتھ تشریف لے چلیں ۔ وہ ایک محفوظ مقام ہے اور دریائے فرات سے لگ کر ہے ۔ اگر یہ لوگ روکیں گے تو ہم لڑ پڑیں گے اور اس لشکر سے جنگ کرنا آسان ہے بہ نسبت اس لشکر کے جو اس کے بعد آئے گا ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اس مقام کا نام دریافت کیا تو بتایا گیا: " کر بلا نام ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” یہ زمین کرب و بلا کی ہے ۔“ 


عمر بن سعد کا انکار کرنے کے بعد اقرار


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ طرف لشکر لے کر جانے کا جب عمر بن سعد کو حکم ہوا تو عبد اللہ بن زیاد کے پاس آیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: عمر بن سعد نے کہا: اللہ آپ کا بھلا کرے! اگر مناسب سمجھیں تو مجھے اس کام سے معاف رکھیئے ۔ عبداللہ بن زیاد نے کہا: اس شرط پر کہ رے ( کی گورنری) کا فرمان واپس کر دو ۔ عمر بن سعد نے اس بارے میں غور وفکر کرنے کے لئے ایک دن کی مہلت مانگی۔ وہاں سے واپس آکر اپنے احباب اور رشتہ داروں میں سے جس جس سے مشورہ کیا، اس نے اس حرکت کے کرنے سے منع کیا۔ خود اس کے بھانجے حمزہ بن مغیرہ بن شعبہ نے اُس سے کہا: "ماموں جان ! اللہ کے واسطے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے مقابلہ کرنے کا قصد نہیں کرنا ۔ اس میں اللہ کی معصیت بھی ہے اور قطع رحم بھی ہے۔ اللہ کی قسم ! اگر تمام روئے زمین کی سلطنت اور تمام دنیا کے مال و دولت سے تم محروم ہو جاؤ تو وہ اس سے بہتر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے خون سے آلودہ ہو کر تم کو جانا پڑے۔ عمر بن سعد نے کہا: ”انشاء اللہ میں یہی کروں گا۔ اس کے بعد وہ عبد اللہ بن بیمار جمنی کے پاس آیا اور بولا: "امیر ( گورنر ) عبید اللہ بن زیاد نے مجھے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے مقابلے پر جانے کا حکم دیا ہے اور میں نے انکار کر دیا ہے عبداللہ بن یسار نے کہا: اللہ تعالیٰ نے تجھے ثواب کا راستہ دکھا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ تجھ کو ہدایت کی توفیق دے ، اس بلا کو ٹال دے اور ایسا کام نہیں کر اور اس کام کے لئے روانہ نہیں ہوتا ۔ عبد اللہ بن بیار یہ کہ کر چلا آیا۔ پھر کسی نے خبر دی کہ عمرو بن سعد حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ پر چڑھائی کرنے کے لئے لشکر جمع کر رہا ہے۔ یہ سن کر وہ عمر بن سعد کے پاس گیا تو اُس نے دیکھتے ہی منہ پھیر لیا عبداللہ بن سیار سمجھ گیا کہ اب اس نے لشکر کشی کا مصم ارادہ کر لیا ہے۔ عمر بن سعد نے عبد اللہ بن زیاد سے کہا تھا: ”اللہ آپ کا بھلا کرے! آپ نے مجھے خدمت کا موقع دیا اور میرے نام ( گورنری) کا فرمان لکھ کر دیا۔ سب نے اسے سنا پھر اب آپ کی رائے ہو تو اس حکم کو نافذ کر دیجیئے اور یہ شکر جو اشراف کو فہ کا ہے اس پر کسی ایسے شخص کو مقرر کر دیجیئے جس کو کاروائی اور جنگ کے فن سے آگاہی ہو ۔ مجھے اس پر کوئی تفوق نہ ہو مقرر کر کے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے مقابلہ پر بھیج دیجئے ۔ یہ کہہ کر عمر بن سعد نے کوفہ کے کچھ اشراف لوگوں کے نام لئے۔ عبید اللہ بن زیاد نے کہا: ” اشراف کوفہ کے نام تم مجھے کیا بتاتے ہو؟ میں تم سے مشورہ نہیں چاہتا ہوں کہ کس کو مقرر کروں؟ تم اگر لشکر لیکر جاتے ہو تو ٹھیک ہے ورنہ میرا ( گورنری کا فرمان واپس کر دو ۔ عمر بن سعد نے جب عبید اللہ بن زیاد کا یہ اصرار دیکھا تو بولا : ٹھیک ہے! میں جاتا ہوں۔“


عمر و یا عمر بن سعد کا قاصد


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نینوا کے ایک مقام عقرہ ( کربلا) میں قیام پذیر تھے کہ عمرو بن سعد چار ہزار (4000) کا لشکر لیکر وہاں پہنچ گیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عمر بن سعد چار ہزار (4000) کا لشکر کے ساتھ نکلا اور جس دن حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نینوا میں قیام پذیر ہوئے اُس کے دوسرے دن صبح آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے آکر اپنے لشکر کے ساتھ قیام پذیر ہوگیا۔ پھر اس نے عزرہ بن قیس اسی کو حکم دیا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور پوچھو کہ وہ یہاں کیوں آئے ہیں؟ عزرہ بن قیس اُن لوگوں میں سے تھا جنہوں نے آپ رضی اللہ عنہ کوخط لکھ کر بلایا تھا اس لئے اُسے آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے جاتے ہوئے شرم آرہی تھی ۔ عمرو بن سعد نے لشکر کے رئیسوں ( کمانڈروں) سے بھی جنہوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو خط لکھے تھے پیام لے جانے کو کہا لیکن سب نے انکار کر دیا۔ یہ دیکھ کر کثیر بن عبداللہ شعمی اٹھ کھڑا ہوا۔ یہ بڑا دلیر شہسوار تھا اور ہر بات میں نہایت بے باک تھا۔ اُس نے کہا: ” میں (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) کے پاس جاتا ہوں اور آپ کہیں تو اللہ کی قسم ! اچانک ایک ہی وار میں اُن کا کام تمام کر دوں گا ۔ عمر بن سعد نے کہا: میں یہ نہیں کہتا کہ تم اُن کو اچانک قتل کرو۔ ہاں اُن کے پاس جا کر یہ پوچھو کہ اُن کے آنے کا کیا سبب ہے؟ کثیر بن عبداللہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلے کی طرف بڑھا۔ حضرت ابو ثمامہ صائدی نے اُسے آتے دیکھ کر عرض کیا : ”اے ابوعبداللہ ( حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے اللہ آپ رضی اللہ عنہ کا بھلا کرے ! جو شخص آپ رضی اللہ عنہ کے پاس آ رہا ہے وہ دنیا بھر کا سفاک اور شریر ہے ۔ یہ کہہ کر حضرت ابو ثمامہ کھڑے ہوئے اور اُس سے کہا: ”اپنی تلوار رکھ دے۔ اُس نے کہا: اللہ کی قسم ! میں ایسا نہیں کروں گا اور اس میں کسی کا لحاظ نہیں کروں گا۔ میں فقط قاصد کی حیثیت سے آیا ہوں۔ تم لوگ میری بات سنو گے تو جو پیام لیکر آیا ہوں پہنچا دوں گا۔ اگر نہیں سنتے تو میں واپس چلا جاؤں گا ۔ حضرت ابو ثمامہ نے کہا: ” میں تیری تلوار کے قبضہ پر ہاتھ رکھے رہوں گا ۔ پھر جو کچھ تجھے کہنا ہو کہ لینا۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم ! یہ بھی نہیں ہوگا اور قبضہ کو ہاتھ نہیں لگانا “ حضرت ابو ثمامہ نے کہا: ” پھر تجھے جو کچھ کہنا ہے یہیں کہہ دے۔ میں جا کر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے عرض کا دوں گا۔ تو ایک بدکار شخص ہے۔ دونوں میں بحث اور تو تو میں میں ہوئی اور وہ واپس چلا گیا۔ اور عمر بن سعد سے پورا حال بیان کر دیا۔


دوسرا قاصد


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس سے بغیر بات چیت کئے عمر بن سعد کا پہلا قاصد واپس آ گیا تھا۔ اس کے بعد اُس نے دوسرا قاصد بھیجا۔ علامہ محمد جریر طبری لکھتے ہیں : عمر بن سعد نے اب ورہ بن قیس حنظلی کو بلا کر کہا: " قرہ اتم ذرا ( حضرت ) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) سے مل کر پوچھو کہ وہ کیوں آئے ہیں اور اُن کا کیا ارادہ ہے؟ قرہ وہاں سے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلے کی طرف چلا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اُسے آتا ہوا دیکھ کر اپنے ساتھیوں سے پوچھا: ” اس شخص کو جانتے ہو؟ حضرت حبیب بن مظاہر نے عرض کیا: ”ہاں! میں اسے پہچا نتا ہوں ۔ یہ بنو حنظلہ سے ہے اور تمیمی ہے۔ ہماری بہن کا بیٹا ہے ، میں تو اسے خوش عقیدہ سمجھتا تھا۔ میں جانتا تھا کہ یہ ان لوگوں کے ساتھ آئے گا ۔ اتنے میں قرہ بن قیس آپہنچا۔ آپ رضی اللہ عنہ کو سلام کیا اور عمر بن سعد کا بیام پہنچا دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے جواب میں فرمایا: ” تمہارے شہر والوں نے مجھے لکھا کہ آپ رضی اللہ عنہ یہاں آجائے ۔ اب اگر میرا آنا انہیں نا گوار ہے تو میں واپس چلا جاؤں گا۔ حضرت حبیب بن مظاہر نے کہا : " قرہ ! کیا تو ان ظالموں میں پھر واپس چلا جائے گا ؟ تجھے چاہیئے کہ آپ رضی اللہ عنہ کی نصرت کرے جن کے بزرگوں کی بدولت اللہ تعالیٰ نے تجھے اور ہمیں کرامت عطا فرمائی ہے ۔ قرہ بن قیس نے کہا میں جس کے ساتھ ہوں اُس کے پیام کا جواب اُسے پہنچانے کو واپس جاؤں گا اور پھر جیسی میری رائے ہوگی وہ کروں گا ۔ یہ کہ کر وہ عمر بن سعد کے پاس گیا اور سب حال بیان کر دیا۔


یزید کی بیعت کرنے کا کہو


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا جواب سن کر عمر بن سعد نے عبید اللہ بن زیاد کو ایک خط لکھا اور اگلا حکم مانگا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عمر بن سعد نے کہا: ”امید تو ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھ کو اُن سے لڑنے اور اُن کے ساتھ کشت و خون کرنے سے محفوظ رکھے گا ۔ پھر اس نے عبید اللہ بن زیاد کو خط لکھا: ”بسمہ اللہ الرحمن الرحیم جب میں یہاں آکر ( حضرت ) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) کے مقابل اتر اتو ایک قاصد کو اُن کے پاس بھیجا اور اُن سے میں یہاں آنے کا سبب پوچھا اور یہ پوچھا کہ وہ کیا چاہتے ہیں کس چیز کے طلب گار ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ اس شہر کے لوگوں نے مجھے خط لکھے، میرے پاس اُن کے قاصد آئے اور اس بات کے درخواست گزار ہوئے کہ میں یہاں چلا آؤں۔ میں چلا آیا۔ اب میرا آنا اُن کو ناگوار ہے اور قاصدوں سے جو کچھ انہوں نے کہلا بھیجا تھا اب اُس کے خلاف اُن کی رائے ہو گئی ہے تو میں واپس چلا جاؤں گا۔ عبید اللہ بن زیاد نے اس خط کے جواب میں کہا: ” جب ہمارے پنجہ میں پھنس گئے ہیں تو نکلنا چاہتے ہیں۔ اب تو اُن کے لئے کوئی مفر نہیں ہے۔“ اس کے بعد عمر بن سعد کے خط کا جواب میں خط لکھا: ”بسمہ اللہ الرحمن الرحیم !تمہارا خط ملا ! جو کچھ تم نے لکھا وہ معلوم ہوا ۔ (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ) سے کہو کہ وہ اپنے اہل وعیال اور ساتھیوں کے ساتھ امیر المومنین یزید کی بیعت کریں۔ اگر انہوں نے بیعت کر لی تو پھر ہم جیسا مناسب سمجھیں گے کریں گے۔“


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں