جمعرات، 5 ستمبر، 2024

Saltanat e Umayya part 14

 14 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 14

ھ61 ہجری کوفہ کے پہلے لشکر کا سامنا، حر کے لشکر کو پانی پلایا، تم کو میرا آنا ناگوار لگا ہو تو واپس چلا جاؤں، عبید اللہ بن زیاد کے پاس جانے سے انکار، تیسرے مقام کی طرف روانگی، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے پھر سمجھایا، حضرت زہیر بن قین کی حق پرستی، حضرت قیس بن مسہر صیدادی کی شہادت کی اطلاع، اب ہم واپس نہیں جاسکتے ہے، 


ھ61 ہجری کوفہ کے پہلے لشکر کا سامنا


ھ60 ہجری کا اختتام ہوا اور 61 ہجری کی شروعات ہوئی اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا کوفہ کی جانب سفر جاری تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ بن عقبہ سے آگے بڑھے اور مقام اشراف پر قیام پذیر ہوئے۔ پھر صبح کے وقت وہاں سے روانہ ہوئے اور مسلسل سفر کرتے رہے یہاں تک کہ دو پہر کے وقت قافلے کے آگے والے شخص نے بلند آواز سے اللہ اکبر پکارا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے بھی اللہ اکبر فرمایا پھر اس سے دریافت فرمایا کہ تم نے اللہ اکبر" کیوں کہا؟ اُس نے کہا: " مجھے خرمے ( کچی کھجور ) کے درخت دکھائی دے رہے ہیں ۔ یہ سن کر بنو اسد کے دو اشخاص نے کہا: ”ہم تو یہاں سے اکثر گزرتے ہیں لیکن کبھی یہاں خرمے کے درخت دکھائی نہیں دیے ۔ پھر غور سے دیکھنے کے بعد کہا: یہ تو کسی لشکر کا مقدمہ الجیش ( ہر اول ، پہلا رسالہ ) معلوم ہوتا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” مجھے بھی ایسا ہی معلوم ہوتا ہے۔ کیا ہمارے لئے یہاں کوئی ایسی جگہ مل سکتی ہے جس کو پشت پر رکھ کر ہم ان لوگوں سے ایک ہی رخ پر سامنا کریں؟ دونوں شخصوں نے کہا: آپ رضی اللہ عنہ کے پہلو میں مقام ذ وحسم یا ذو حشم موجود ہے آپ رضی اللہ عنہ بائیں جانب مڑ جائیے ان لوگوں سے پہلے وہاں پہنچ جائیں گے اور جو چیز چاہتے ہیں وہ حاصل ہو جائے گی ۔ آپ رضی اللہ عنہ بائیں جانب مڑے ہی تھے کہ لشکر کے رسالے کے سوار بھی آپہنچے۔ انہوں نے جود دیکھا کہ آپ رضی اللہ عنہ راستے کو چھوڑ کر بائیں جانب جا رہے ہیں تو وہ بھی اُسی طرف مڑ گئے ۔ اُن کے برچھیوں کے پھل شہد کی مکھیوں کے غول کی طرح دکھائی دے رہے تھے اور اُن کے علموں (جھنڈوں) کی بیر قیں گدھ کے پروں کی طرح پھیلی ہوئی تھیں ۔ آپ رضی اللہ پہلے ذو حسم یا زوحشم پہنچ گئے اور خیمے نصب کرنے کا حکم دیا اور قیام پذیر ہو گئے۔


حر کے لشکر کو پانی پلایا


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے جب کوفہ کی طرف آنے کی خبر عبید اللہ بن زیاد کو ملی تو اس نے حصین بن نمیر کو ناکہ بندی کرنے کے لئے بھیجا تو اس نے قادسیہ میں آکر پڑاؤ ڈال دیا اور اطراف و جوانب میں لشکروں کو دوڑا دیا۔ اُن میں سے ایک لشکر سے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا سامنا ہو گیا۔ اس لشکر کا سپہ سالارحر بن یزید تمیمی تھا۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں: ہزار سواروں کا رسالہ لئے ہوئے حربن یزید تمیمی اس جلتی دوپہر میں آپ رضی اللہ عنہ کے مقابل آکر ٹھہرا۔ اُس نے دیکھا کہ آپ رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھی عمامے باندھے ہوئے ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا: " پورے لشکر والوں کو پانی پلا کر اُن کی پیاس بجھاؤ اور گھوڑوں کو بھی پانی پلاؤ “ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں نے لشکر والوں کو پانی پلا پلا کر سیراب کر دیا۔ پھر کا سے کڑے طشت بھر بھر کر گھوڑوں کے سامنے لے گئے۔ گھوڑا جب تین یا چار بار پانی میں منہ ڈال چکتا تو ظرف ہٹا کر دوسرے گھوڑے کو پانی پلاتے تھے اسی طرح سب گھوڑوں کو پانی پلایا۔ حربن یزید تمیمی کے لشکر کا ایک سپاہی پیچھے رہ گیا تھا۔ وہ بیان کرتا ہے: ”حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے جب مجھے اور میرے گھوڑے کی بری حالت کو دیکھا تو فرمایا: ” رادیہ کو بٹھاؤ۔ میں مشک کو رادیہ سمجھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے بیٹے ! اونٹ کو بٹھاؤ میں نے اونٹ کو بٹھایا تو مجھے پانی دیا اور فرمایا: ”لو پیو “ میں جب پانی پینے لگا تو مشک (مشکیزے) سے پانی گرنے لگا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "مشک کے دہانے کو اُلٹ دو“ مجھ سے الٹتے نہیں بنا تو آپ رضی اللہ عنہ خود کھڑے ہوئے اور دہانہ کو الٹ دیا۔ پھر میں نے اور میرے گھوڑے نے پانی پیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کی طرف حربن یزید تمیمی کے لشکر لیکر آنے کا سبب یہ ہوا کہ عبید اللہ بن زیاد کو جب یہ خبر ملی کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ آرہے ہیں تو اُس نے حصین بن نمیر کو جو پولیس محکمے کا سر براہ تھا روانہ کیا اور حکم دیا کہ قادسیہ میں ٹھہرے اور قطقطانہ سے حقائق تک مورچے باندھے اور حر کو ایک ہزار سوار کا لشکر دے کر اُس کے آگے روانہ کیا کہ وہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے مزاحمت کرے۔ حربن یزید تمیمی نے آپ رضی اللہ عنہ کورو کے رکھا۔


تم کو میرا آنا ناگوار لگا ہو تو واپس چلا جاؤں


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ ذو سم یاز و حشم میں قیام پذیر تھے اور سامنے ایک ہزار کا لشکر لیکر حر بن یزید تمیمی قیام پذیر تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: یہاں تک کہ ظہر کا وقت آگیا۔ اب آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت حجاج بن مسروق بعضی کو حکم دیا کہ اذان دیں۔ انہوں نے اذان دی اور اقامت کی باری آئی تو آپ رضی اللہ عنہ تہبند اور چادر پہنے ہوئے نکلے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا پھر فرمایا: "اے لوگو! اللہ تعالیٰ سے اور تم سب لوگوں سے میں ایک عذر کرتا ہوں کہ جب تک تمہارے قاصد تمہارے خطوط اور تمہارے یہ پیغام لیکر نہیں آئے کہ آپ رضی اللہ عنہ آئیے ، ہمارا کوئی امام نہیں ہے ۔ شاید آپ رضی اللہ عنہ کے سبب اللہ تعالیٰ ہم سب لوگوں کو ہدایت پر متفق کر دے، اُس وقت تک میں تمہارے پاس نہیں آیا۔ اب اگر تم اسی قول پر ڈٹے ہو تو لو میں تمہارے پاس آ گیا ہوں۔ تم مجھ سے عہد و پیمان کر لو جس سے مجھے اطمینان ہو جائے تو میں تمہارے شہر چلوں۔ اور اگر ایسا نہیں کرتے ہو اور تم کو میرا آنا ناگوار گزرا ہوتو میں جہاں سے آیا ہوں وہیں واپس چلا جاؤں گا یہ سن کر سب خاموش رہے تو آپ رضی اللہ عنہ نے مؤذن سے فرمایا: ” اقامت کہو ۔ اُس نے اقامت کہی تو آپ رضی اللہ عنہ نے حربن یزید تمیمی سے فرمایا: ”تم لوگ الگ نماز پڑھو گے؟" حربن یزید نے کہا: نہیں ! ہم سب بھی آپ رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز ادا کریں گے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے سب کو نماز پڑھائی اور اپنے خیمہ میں چلے گئے اور آپ رضی اللہ عنہ کے اہل و عیال اور خاندان والے آپ رضی اللہ عنہ کے پاس جمع ہو گئے۔


عبید اللہ بن زیاد کے پاس جانے سے انکار


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے حربن یزید تمیمی سے فرمایا تھا کہ اگر تم لوگوں کو میرا یہاں آنا نا گوار گزرا ہو تو مجھے واپس جانے دو تو اُس نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حربن یزید تمیمی اپنے لشکر میں واپس چلا گیا۔ اُس کے لئے خیمہ نصب کیا جا چکا تھا وہ اُس میں چلا گیا۔ اُس کے لشکر کے کچھ لوگ اُس کے پاس جمع ہو گئے اور باقی اپنی اپنی صفوں میں چلے گئے اور پھر سے صفیں لگا لیں۔ پھر ہر شخص نے اپنے اپنے گھوڑے کی باگ پکڑ لی اور اُس کے سایے میں اتر کر بیٹھ گئے ۔ عصر کی نماز کا وقت ہوا آپ رضی اللہ عنہ خیمہ سے نکلے اور مؤذن کو حکم دیا تو اُس نے اذان دی اور پھر اقامت کہی۔ آپ رضی اللہ آگے بڑھے اور سب کو نماز پڑھائی سلام پھیرا۔ پھر سب کی طرف چہرہ مبارک کر کے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا پھر فرمایا: اے لوگو! اگر تم اللہ کا خوف کرو گے اور حق داروں کے حق کو پہچا نو گے تو یہ اللہ کی خوشنودی کا باعث ہوگا۔ ہم اہل بیت ہیں اور یہ لوگ جو تم پر حکومت کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں جس کا انہیں حق نہیں ہے اور تمہارے ساتھ ظلم و تعدی سے پیش آتے ہیں۔ اس امر کے لئے ان سے ہمیں اولی ہے۔ اگر تم کو ہم سے کراہت ہے اور ہمارے حق سے تم واقف نہیں ہو اور اپنے خطوں اور پیغاموں کی زبانی تم نے جو کچھ مجھ سے کہلا بھیجا ہے اب وہ تمہاری رائے نہیں رہ گئی ہے تو میں تمہارے پاس سے واپس چلا جاؤں گا ۔ حر بن یزید نے جواب میں کہا : اللہ کی قسم! مجھے نہیں معلوم وہ خطوط کیسے تھے جن کا آپ رضی اللہ عنہ ذکر فرمارہے ہیں ۔“ یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت عقبہ بن سمعان سے فرمایا: ” وہ دونوں تھیلے جن میں ان لوگوں کے خطوط ہیں لے آؤ۔“ حضرت عقبہ بن سمعان دونوں تھیلے لے کر آئے جو خطوط سے بھرے ہوئے تھے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے سب کے سامنے اُن خطوط کو بکھیر دیا۔ حربن یزید تمیمی نے کہا: ” جن لوگوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو خطوط لکھے ہیں ، ہم اُن میں سے نہیں ہیں اور ہم کو حکم ملا ہے کہ اگر ہم آپ رضی اللہ عنہ کو پا جائیں تو عبیداللہ بن زیاد کے پاس لے جائے بغیر نہ چھوڑیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” یہ کام کرنے سے بہتر تمہارے لئے مرجاتا ہے۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: ”اٹھ سوار ہو جاؤ ۔ سب سوار ہو گئے اور انتظار کرنے لگے کہ مستورات بھی سوار ہو جائیں۔


تیسرے مقام کی طرف روانگی


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ عنہ واپس جانا چاہتے تھے اور حربن یزید تمیمی آپ رضی اللہ عنہ کو وہ عبید اللہ بن زیاد کے پاس لے جانا چاہتا تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے رہبروں سے فرمایا: ”ہم سب کو واپس لے چلو۔“ جب آپ رضی اللہ عنہ واپس جانے لگے تو حربن یزید نے اپنے لشکر کے ساتھ راستہ روک لیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میری والدہ تجھ پر روئے ! آخر تیرا کیا مطلب ہے؟ حر بن یزید نے کہا: اللہ کی قسم ! اگر عرب میں سے کسی نے یہ کلمہ مجھ سے کہا ہوتا تو میں بھی اُس کی والدہ کے رونے کا ذکر کئے بغیر نہیں رہتا لیکن میری مجال نہیں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ محترمہ کا ذکر حد درجہ عظیم کے سوا کسی اور طریقے سے کروں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” پھر تیرا کیا ارادہ ہے؟ حربن یزید نے کہا: اللہ کی قسم! میرا ارادہ یہ ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کو عبید اللہ بن زیاد کے پاس لے جاؤں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں تیرے ساتھ نہیں جاؤں گا ۔ حر بن یزید نے کہا: اللہ کی قسم ! میں آپ رضی اللہ عنہ کونہیں چھوڑوں گا ۔ دونوں نے یہی بات تین تین مرتبہ کہی ۔ جب تکرار بڑھ گئی تو حربن یزید نے کہا: " مجھے آپ رضی اللہ عنہ کوشہید کرنے کا حکم نہیں ملا ہے بلکہ مجھے صرف اتنا حکم ملا ہے کہ جب تک آپ رضی اللہ عنہ کو کوفہ عبید اللہ بن زیاد کے پاس نہ لے جاؤں تب تک آپ رضی اللہ عنہ کے پاس سے نہیں ہٹوں ۔ اگر آپ رضی اللہ عنہ میری بات نہیں مان رہے ہیں تو کسی ایسے راستے پر چلیئے جو کوفہ کی طرف جاتا ہو نہ مدینہ منورہ کی طرف جاتا ہو۔ میں عبید اللہ بن زیاد کو تمام حالات لکھ کر بھیج دوں گا۔ اگر آپ رضی اللہ عنہ کا دل چاہے تو آپ رضی اللہ عنہ یزید کو لکھئے یا پھر عید اللہ بن زیاد کولکھیئے۔ شاید اللہ تعالی ایسی صورت نکال دے کہ میں آپ رضی اللہ عنہ کے بارے میں کوئی سخت قدم اُٹھانے سے بچ جاؤں۔ آپ رضی اللہ عنہ ایسا کریں کہ عذیب اور قادسیہ کے راستے سے بائیں طرف مڑ جائیں۔ اُس وقت عذیب اڑتیس میل کے فاصلے پر تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ راو نہ ہوئے اور حر بن یزید اپنا لشکر لیکر ساتھ ساتھ چلا۔


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے پھر سمجھایا


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اپنے اہل وعیال اور خاندان والوں کے ساتھ تیسرے راستے پر سفر کر رہے تھے اور حربن یزید بھی اپنے لشکر کے ساتھ سفر کر رہا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے مقام بیضہ میں پڑاؤ ڈال دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: مقام بیضہ میں آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے اور حربن یزید کے اصحاب کے درمیان خطبہ دیا۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: آپ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو مخاطب کر کے اللہ کی حمد و ثناء کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا اور فرمایا: ”اے لوگو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس شخص نے ظالم بادشاہ کو دیکھا کہ وہ اللہ کے حرام کردہ کو حلال کرتا ہے۔ اس کے عہد کو توڑتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی نہیں کرتا ہے۔ اللہ کی مخلوق میں ظلم اور گناہ کے کام کرتا ہے۔ پھر اس شخص نے کسی قسم کی قولی یا عملی دست اندازی نہیں کی تو اللہ تعالیٰ اس کو بھی اُس ( ظالم بادشاہ) کے ساتھ شمار کرے گا۔ آگاہ ہو جاؤ ! اِن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت چھوڑ کر شیطان کی تابعداری شروع کر دی ہے۔ فتنہ و فساد برپا کر دیا ہے۔ میں ان لوگوں سے زیادہ صاحب الامر ہونے کا مستحق ہوں۔ تمہارے خطوط اور قاصد میرے پاس آئے اور تم نے مجھے بیعت کرنے کے لئے بلایا۔ اب تم مجھے رسوا نہ کرو، اگر بیعت کے اقرار پر قائم رہو گے تو حق کا راستہ پا جاؤ گے۔ میں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا بیٹا ہوں اور میری والدہ محترمہ سیدہ فاطمہ زہرہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی ہیں ۔ میری جان تمہاری جان کے ساتھ ہے اور میرے اہل و عیال تمہارے اہل وعیال کے ساتھ ہیں تم کو میرے ساتھ بھلائی کرنی چاہئے اور اگر تم نے ایسا نہیں کیا اور میرے ساتھ عہد شکنی کی تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ تم نے میرے والد محترم حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، میرے بھائی حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اور میرے چچا زاد بھائی حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے ساتھ بد عہدی کی ہے۔ افسوس کہ تم لوگ مجھے دھوکا دے کر دین مین اپنا حق اور حصہ ضائع کر رہے ہو۔ پس جو شخص بدعہدی کرے گا اپنے لئے کرے گا اور اللہ تعالیٰ مجھ کو تم سے بے پرواہ کر دے گا ۔ والسلام “


حضرت زہیر بن قین کی حق پرستی


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا خطبہ سن کر حضرت زہیر بن قین نے آپ رضی اللہ عنہ کا ہر حال میں ساتھ نبھانے کا ارادہ ظاہر کیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: یہ سن کر حضرت زہیر بن قین کھڑے ہوئے اور اپنے ساتھ کے لوگوں سے کہا: ” تم کچھ کہتے ہو یا میں کہوں؟ انہوں نے کہا: ” آپ ہی کہیئے ۔ “ حضرت زہیر بن قین نے پہلے للہ تعالیٰ کی حمدو ثناء کی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا پھر عرض کیا: اے آل رسول رضی اللہ عنہ اہداک اللہ ! آپ رضی اللہ عنہ کے ارشاد کو ہم قبول کرتے ہیں۔ اللہ کی قسم ! اگر دنیا ہمیشہ باقی رہنے والی ہوتی اور ہم اُس میں ہمیشہ رہنے والے ہوتے اور اُس وقت بھی ہمیں آپ رضی اللہ عنہ کی نصرت اور غمخواری کے لئے دنیا کو چھوڑنا پڑتا تو ہم اس دنیا میں رہنے کے بجائے آپ رضی اللہ عنہ کا ساتھ دے کر دنیا چھوڑ نا پسند کرتے ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اُن کے لئے دعائے خیر کی ۔ حربن یزید بھی آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسلسل سفر کر رہا تھا اور بولتا جارہا تھا: اے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ! میں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ اپنی جان کا خیال کیجیئے ۔ میں کہتا ہوں کہ آپ رضی اللہ عنہ حملہ کریں گے تو شہید ہو جائیں گے یا آپ رضی اللہ عنہ پر حملہ ہو گا تب بھی شہید ہو جائیں گے مجھے تو ایسا ہی لگتا ہے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” تو مجھے مرنے سے ڈرا رہا ہے؟ کیا نوبت یہاں تک پہنچے گی کہ تم لوگ مجھے شہید کر دو گے؟ اس بات کے جواب میں وہی بات کہوں گا جو بنو اوس کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے اپنے چچازاد سے کہی تھی ۔ وہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی نصرت کو جارہے تھے تو اس نے کہا: ” کہاں جا رہے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا: ”میں جاؤں گا اور موت سے اُس شخص کو کا ہے شرم ۔ جس نے حق کی نیت کی ہو اور مسلم ہو کر جہاد کیا ہو ۔ جس نے اپنی جان سے اللہ کے صالح بندوں کی غمخواری کی ہو۔ جس نے ہلاک ہونے والے خائن سے کنارہ کیا ہو۔ حر بن یزید نے جب یہ بات سنی تو خاموشی سے اپنے لشکر کی طرف لوٹ گیا ۔ وہ اپنے لشکر کے ساتھ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلے سے تھوڑی دور پر چل رہا تھا۔


حضرت قیس بن مسہر صیدادی کی شہادت کی اطلاع


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو فہ اور مدینہ منورہ کے علاوہ تیسرے راستے پر رواں دواں تھے کہ حضرت قیس بن مسہر میدادی کے شہید ہونے کی اطلاع ملی ۔ اس سے پہلے حضرت عبداللہ بن بقطر رضی اللہ عنہ کی شہادت کی اطلاع آپ رضی اللہ عنہ کو ملی تھی اب حضرت قیس بن مسہر صیدادی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی اطلاع ملی۔ ہو سکتا ہے کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے الگ الگ وقت میں دونوں کو الگ الگ کوفہ کی طرف قاصد بنا کر بھیجا ہواور عبیداللہ بن زیاد نے دونوں کو ایک ہی طریقے سے شہید کیا ہو۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: چلتے چلتے مقام عذیب الہجانات تک پہنچے ۔ (ہجانات اونٹنیوں کو کہتے ہیں ) یہاں نعمان کی اونٹنیاں چرا کرتی تھیں ۔ جب اس مقام پر آپ رضی اللہ عنہ پہنچے تو کوفہ سے چار شخص اونٹوں پر سوار نافع بن بلال کا مشہور گھوڑا کوتل دوڑاتے ہوئے آئے۔ ان کا راہ نما طرماح بن عدی تھا۔ حضرت حسین علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہی اُس نے عرض کیا: ”اے سانڈنی میرے جھڑ کنے سے گھبرانہ جا۔ صبح ہونے سے پہلے ان سواروں کولیکر روانہ ہو جا۔ یہ تما م سواروں میں اور سفر کرنے والوں میں سب سے بہتر ہیں۔ ان کو لئے ہوئے تو اُس شخص کے پاس جا کر ٹھہر جا۔ جو کریم النسب اور صاحب محمد داور کشادہ دل ہیں۔ جنہیں اللہ تعالیٰ ایک امر خیر (بھلائی کے کام کے لئے یہاں لایا ہے۔ رہتی دنیا تک ان کو اللہ سلامت رکھے ۔ “ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم میں بھی جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی مثیت میں لوگوں کا قتل ہونا یا فتح مند ہونا دونوں طرح سے امرخیز“ ہے حربن یزید اُن چاروں کو گرفتار کرنے کے لئے آگے بڑھا تو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اُسے ڈانٹ دیا اور وہ خاموشی سے واپس چلا گیا ۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے اُن چاروں سے فرمایا: ”جہاں سے تم آرہے ہو ، وہاں کی کیا خبر ہے؟ مجھ سے بیان کرو۔“ اُن میں سے ایک شخص مجمع بن عبد اللہ عائذی نے عرض کیا: ” بڑے بڑے لوگوں کا تو یہ حال ہے کہ اُن کو بڑی بڑی رشوتیں دی گئیں ہیں، اُن کے تھیلے بھر دیئے گئے ہیں۔ اُن کو بلا رہے ہیں اور اپنا خیر خواہ بنارہے ہیں، وہ سب لوگ آپ رضی اللہ عنہ کے خلاف متفق ہیں ۔ رہے عام لوگ ! تو اُن کا یہ حال ہے کہ اُن کے دل آپ کی طرف ہیں لیکن کل یہی لوگ آپ رضی اللہ عنہ پر تلواریں کھینچے ہوئے چڑھائی کر دیں گے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میرا ایک قاصد حضرت قیس بن مسهر صیدادی تمہارے پاس آیا تھا ۔ انہوں نے عرض کیا: ”ہاں ! اُن کو حصین بن نمیر نے گرفتار کر کے عبید اللہ بن زیاد کے پاس بھیج دیا تھا۔ پھر اُن کے شہید ہونے کا واقعہ تفصیل سے بیان کیا۔ پورا واقعہ سن کر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی آنکھیں ڈبڈبا آئیں اور آپ رضی اللہ عنہ آنسوؤں کو ضبط نہیں کر سکے اور یہ آیت تلاوت فرمائی: ” ان میں سے کوئی گزر گیا کوئی انتظار کر رہا ہے اور ان لوگوں نے ذرا تغیر و تبدل نہیں کیا ۔ پھر آگے فرمایا : اے اللہ تعالی! ہم کو اور ان کو جنت کی نعمتیں عطافرما اور ہم کو اوران کو اپنی جوار رحمت میں اور اپنے ثواب کے ذخیرہ بخشش میں یکجا کر دے۔“


اب ہم واپس نہیں جاسکتے ہے


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے کوفہ سے آنے والے چاروں سواروں سے کوفہ کے حالات دریافت کئے تو معلوم ہوا کہ کوفہ کے تمام لوگ آپ رضی اللہ عنہ کے خلاف ہو گئے ہیں۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: طرماح بن عدی آپ رضی اللہ عنہ کے قریب آیا اور عرض کیا : ”اللہ کی قسم ! میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کوئی نہیں ہے۔ جو شکر آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ چل رہا ہے ۔ صرف اسی سے مقابلہ ہوگا تو آپ رضی اللہ عنہ اور اہل وعیال اور ساتھی کافی ہیں ۔ حالانکہ جب میں آپ رضی اللہ عنہ کے پاس آنے کے لئے کوفہ سے نکلا تو اس سے ایک دن پہلے میں نے سپاہیوں کی ایسی کثرت دیکھی کہ اتنا بڑا لشکر ابھی تک میری نظر سے نہیں گذرا ہے۔ میں نے اس اجتماع کا سبب پوچھا تو بتایا گیا کہ یہ اجتماع تو عرض کے لئے ہے۔ عرض سے فارغ ہونے کے بعد یہ لشکر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے مقابلے پر روانہ ہو گا۔ اب میں آپ رضی اللہعنہ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ اگر ممکن ہوتو ایک قدم بھی اُس طرف جانے کے لئے نہیں اُٹھائیے۔ اگر آپ رضی اللہ عنہ کسی ایسے شہر میں جانا چاہتے ہوں جہاں اللہ آپ رضی اللہ عنہ کی حفاظت کرے اور آپ رضی اللہ عنہ کوئی رائے قائم کرلیں اور جو کام کرنا چاہتے ہیں اُسے اچھی طرح سوچ سمجھ کر لیں تو چلیئے میں آپ رضی اللہ عنہ کو اپنے بلند پہاڑ کوہ اجا" پر لے چلوں۔ اللہ کی قسم! ہم لوگ اُسی پہاڑ پر غسان اور حمیر کے باشاہوں اور نعمان بن منذر اور ہر اسود احمر سے محفوظ رہے ہیں۔ اللہ کی قسم ! ہم کو کبھی یہ لوگ مطیع نہیں کر سکے ہیں۔ میں آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ چلتا ہوں اور موضع قریہ میں آپ رضی اللہ عنہ کو قیام پذیر کر دوں گا۔ پھر کو ہستان اجاد سلملی میں بنوطے میں جو لوگ ہیں اُن کو کہلا بھیجوں گا۔ اللہ کی تم اس دن کے اندر اندر آپ رضی اللہ عنہ کے پاس بنوطے کے پیارے اور سوار جمع ہو جائیں گے ۔ آپ رضی اللہ عنہ کا جب تک جی چاہے گا ہم لوگوں کے درمیان رہ سکتے ہیں۔ اگر آپ رضی اللہ عنہ کو کوئی واقعہ پیش آئے تو میں بنوطے کے بیس ہزار مجاہدین کو جمع کرنے کا ذمہ میں لیتا ہوں جو آپ رضی اللہ عنہ کے آگے سے، پیچھے سے، دائیں سے اور بائیں سے شمشیر زنی کریں گے۔ جب تک ان میں سے ایک شخص بھی زندہ رہے گا آپ رضی اللہ عنہ کو کوئی ضر نہیں پہنچنے دے گا ۔ آپ رضی اللہ عنہ مسکرائے اور فرمایا: اللہ تجھے اور تیرے قبیلے کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ بات یہ ہے کہ ہم میں اور ان میں ( حربن یزید کے لشکر میں) ایک قول ہو چکا ہے جس کے سبب ہم واپس نہیں جاسکتے اور ہمیں نہیں معلوم کہ ہمار اور ان کا کیا انجام ہو گا ۔“


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!


Saltanat e Umayya part 15


 15 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 15

طرماح بن عدی مدد نہیں کر سکا، ہم حق پر ہیں، عبید اللہ بن زیاد کا حکم، تیرا امام جہنم میں لے جائے گا، میں جنگ کی ابتدا نہیں کروں گا، عقر ( کربلا ) میں قیام، عمر بن سعد کا انکار کرنے کے بعد اقرار، عمر و یا عمر بن سعد کا قاصد، دوسرا قاصد، یزید کی بیعت کرنے کا کہو، 

طرماح بن عدی مدد نہیں کر سکا

حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے طرماح بن عدی کا شکر یہ ادا کیا اور فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ نہیں جاسکتا۔ طرماح بن عدی نے عرض کیا کہ میں اپنے گھر والوں کے لئے راشن لے کر جارہا تھا وہ انہیں دے کر آپ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوتا ہوں اور پھر چاہے جو ہو میں آپ رضی اللہ عنہ کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: طرماح بن عدی نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: " اللہ تعالیٰ آپ رضی اللہ عنہ کو تمام عالم کے جن وانس کے شرسے بچائے۔ میں کوفہ سے کچھ غلہ وغیرہ اپنے اہل وعیال کے لئے لیکر چلا ہوں ۔ آپ رضی اللہ عنہ اجازت دیں تو یہ سامان اور خرچ کے لئے کچھ دے دوں اور وہاں جا کر یہ سب چیزیں انہیں دے کر انشاء اللہ جلد ہی واپس آؤں گا اور اللہ کی قسم! میں بھی آپ رضی اللہ عنہ کے انصار میں شامل ہو جاؤں گا ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: " رحمک اللہ ! اگر تیرا یہی ارادہ ہے تو جلدی کر طرماح بن عدی کہتے ہیں: ” اس سے معلوم ہوا کہ آپ رضی اللہ عنہ چاہتے تھے کہ اس امر میں لوگ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ شریک ہوں جب ہی تو مجھے جلدی کرنے کو فرمایا ۔ میں اپنے اہل و عیال میں پہنچا اور جن چیزوں کی انہیں ضرورت تھی وہ اُن کو دے کر میں نے وصیت کی۔ سب کہنے لگے : ” اس مرتبہ اس طرح رخصت ہو رہے ہیں کہ اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا۔ میں نے اپنے ارادے سے انہیں مطلع کیا اور بنو شعول کے راستے سے روانہ ہوا۔ عذیب الہجانات تک ہی پہنچا تھا کہ سماعہ بن بدر نے بتایا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ شہید کر دئیے گئے ۔ یہ سن کر میں واپس آگیا۔


ہم حق پر ہیں


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا سفر جاری تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ قصر بنو مقاتل میں قیام پذیر ہوئے پھر آگے روانہ ہو گئے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: ایک ساعت بھر چلے تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ ذرا اونگھ گئے پھر چونک کر انا للہ وانا الیہ راجعون والحمد اللہ رب العالمین فرمایا اور یہ کلمہ آپ رضی اللہ عنہ نے دو یا تین مرتبہ کہا۔ یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ کے بیٹے حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہ گھوڑا بڑھا کر آگے آئے اور عرض کیا: ابو جان ! میں آپ رضی اللہ عنہ پر فدا ہو جاؤں ، اس وقت آپ رضی اللہ عنہ نے یہ کلمہ کیوں فرمایا ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے میرے پیارے بیٹے ذرا میری آنکھ جھپک گئی تھی تو میں ایک سوار کو اپنے گھوڑے پر دیکھا۔ اُس نے کہا: یہ لوگ تو چلے جارہے ہیں اور موت ان کی طرف آرہی ہے۔ اس سے میں سمجھ گیا کہ ہمیں خبر مرگ سنائی گئی ہے۔ بیٹے نے عرض کیا: "ابو جان ! اللہ تعالی آپ رضی اللہ عنہ کو ہر بلا سے محفوظ رکھے کیا ہم لوگ حق پر نہیں ہیں؟“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قسم ہے اُس اللہ کی جس کے پاس سب کو لوٹ کر جانا ہے ہم حق پر ہیں ۔ “ حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ” پھر ہمیں کچھ پرواہ نہیں ہے۔ مریں گے تو حق پر مریں گے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” جزاک اللہ ! والد کی طرف سے فرزند کو جو بہترین جزامل سکتی ہے وہ تم کو ملے ۔“


عبید اللہ بن زیاد کا حکم


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سفر کر رہے تھے اور حر بن یزید اپنے لشکر کے ساتھ اُن کے آس پاس ہی چل رہا تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حر بن یزید جب آپ رضی اللہ عنہ کو کوفہ کی طرف جانے کے لئے مجبور کرتا تو آپ رضی اللہ عنہ نہیں مانتے تھے اور آگے بڑھ جاتے تھے یہاں تک کہ مقام نینوا میں پہنچے تو وہیں پر قیام پذیر ہو گئے ۔ اتنے میں ایک سانڈنی (اونٹ) سوار ہتھیار لگائے کمان شانہ پر ڈالے کوفہ کی طرف سے آتا دکھائی دیا۔ سب کے سب اُس کے انتظار میں ٹھہر گئے۔ وہ آیا اور حربن یزید اور اُس کے لشکر کو سلام کیا اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور اُن کے ساتھیوں کو سلام نہیں کیا۔ حربن یزید کو عبید اللہ بن زیاد کا خط دیا۔ اُس میں لکھا تھا: ”میرا قاصد اور میرا خط جب تمہیں ملے تو (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) کو بہت تنگ کرنا ۔ اُن کو ایسی جگہ پڑاؤ ڈالنے دینا جہاں چٹیل میدان ہو اور کوئی پناہ کی جگہ نہیں ہو اور پانی بھی نہیں ہو۔ دیکھو قاصد کو میں نے حکم دے دیا ہے کہ وہ تم پر نگران رہے تمہارا ساتھ نہ چھوڑے جب تک کہ میرے پاس ہ خبر نہ لیکر آئے کہ تم نے میرے حکم کو پورا کر دیا ہے۔ والسلام - حربن یزید نے خط پڑھ کر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں سے کہا: یہ خط گورنر عبید اللہ بن زیاد کا ہے ۔ مجھے حکم دیا ہے کہ جس مقام پر مجھے یہ خط لے و ہیں تم لوگوں کو بہت تنگ کروں اور دیکھو شخص قاصد ہے اس کو حکم ہے کہ میرے پاس سے اُس وقت تک نہ ہے جب تک یہ نہ دیکھ لے کہ میں نے امیر ( گورنر ) کی رائے پر عمل کر لیا اور اُس کے حکم کو جاری کر دیا ہے۔“


تیرا امام جہنم میں لے جائے گا


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کوحر بن یزید نے وہیں روک لیا اور اپنے گورنر عبید اللہ بن زیاد کا فرمان سنایا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: یہ سن کر قاصد کی طرف بنو کندہ کے حضرت ابو شعنا یزید بن مہاجر آگے بڑھے اور قاصد کو دیکھ کر کہا: ” کیا تم بنوکندہ کے مالک بن نسیر ہو؟“ اس نے کہا: ہاں! میں وہی ہوں ۔ " ابو شعراء نے کہا: ”تیرابر ہو تو کیا پیغام لیکر آیا ہے؟“ قاصد نے کہا: ” جو پیغام میں لایا ہوں اُس میں اپنے امام کی میں نے اطاعت کی ہے اور اپنی بیعت کو پورا کیا ہے ۔ ابو شعراء نے کہا: تو نے اپنے اللہ کی نافرمانی کی ہے اور اپنے امام کی اطاعت کر کے خود کو ہلاک کیا ہے ۔ تو نے اپنے عارو نار کو اختیار کیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (ترجمہ) ہم نے کچھ امام ان میں پیدا کر دیئے ہیں جو کہ جہنم میں لے جانے کو پکارتے ہیں۔ قیامت کے روزان کی مدد نہیں کی جائے گی ۔ بس ایسا ہی تیرا امام بھی ہے۔“


میں جنگ کی ابتدا نہیں کروں گا


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ پر ایک کھلے میدان میں پڑاؤ ڈالنے کے لئے حربن یزید مجبور کرنے لگا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اب حربن یزید نے سب لوگوں کو اُس جگہ پڑاؤ ڈالنے پر مجبور کرنا شروع کر دیا جہاں پانی نہیں تھا اور کوئی بستی بھی نہیں تھی ۔ اُن لوگوں نے کہا: ” ہمیں نینوا میں یا غاضریہ میں شفیہ میں پڑاؤ ڈالنے دو حربن یزید نے کہا: اللہ کی قسم میں ایسا نہیں کر سکتا۔ دیکھو یہ شخص جاسوسی کرنے کے لئے میرے پاس بھیجا گیا ہے ۔ اُس وقت حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: "اے آل رسول رضی اللہ عنہ ! ہمیں اس وقت ان لوگوں سے لڑلینا آسان ہے بہ نسبت اُن لوگوں کے جو ان کے بعد لڑنے کے لئے آئیں گے ۔ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ان کے بعد اتنے لوگ ہم سے لڑنے کے لئے آئیں گے جن کا ہم مقابلہ نہیں کر سکتے ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں جنگ کی ابتدا نہیں کروں ۔“ حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ”اچھا اس قریہ میں چلیئے ، ہم سب وہیں قیام کریں گے وہ مقام محفوظ بھی ہے اور دریائے فرات کے کنارے بھی ہے ۔ یہ لوگ ہمیں وہاں جانے سے روکیں گے تو اس بات پر ہم ان سے لڑیں گے۔ ان سے لڑ لینا اُن لوگوں کے مقابلے میں آسان ہے جو ان کے بعد آنے والے ہیں ۔ “ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: حربن یزید نے عبید اللہ بن زیاد کا خط پڑھ کر کہا: یہ خط امیر ( گورنر ) کا آیا ہے۔ جس میں مجھے ہدایت ملی ہے کہ میں آپ رضی اللہ عنہ کو ایک کھلے میدان میں ٹھہراؤں اور تحمیل حکم تک یہ قاصد مجھ سے علیحدہ نہیں ہوگا لہذا آپ رضی اللہ عنہ نینوا سے پڑاؤ اُٹھا کر ایسے میدان میں پڑاؤ ڈالیں جہا نہ سایہ ہو اور نہ پانی ہو ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : " ہم کو تم اب زیادہ تکلیف نہ دو اور نینوا میں ہی رہنے دو یا پھر ہمیں غاضریہ مافیہ میں جا کر قیام کرنے دو ۔ حر بن یزید نے کہا: ” میں ایسا نہیں کر سکتا کیونکہ عبید اللہ بن زیاد نے مجھ پر اس شخص کو اس کام کی نگرانی کے لئے مقرر کیا ہے ۔ حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اللہ کی قسم! اس کے بعد جو (لشکر) آئے گا وہ اس سے زیادہ سخت ہو گا۔ اے آل رسول رضی اللہ عنہ! اس وقت ان سے لڑ جانا آسان ہے بہ نسبت اُس (لشکر) کے جو آئندہ آنے والا ہے ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں جنگ کی ابتدا نہیں کروں گا ۔“


عقر ( کربلا ) میں قیام


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے جنگ کی ابتدا اپنی طرف سے کرنا مناسب نہیں سمجھا اور حضرت زہیر بن قین کے مشورے کو نہیں مانا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہ کون سا قریہ ہے؟ لوگوں نے بتایا: ” اس کا نام ”عقر ( زخم ) ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے اللہ تعالیٰ ! عقر سے مجھ کو بچانا۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے وہیں پڑاؤ ڈالنے کا حکم دے دیا۔ یہ دو (2) محرم الحرام 11 ہجری پینج شنبہ کا دن تھا۔ اس کے دوسرے دن صبح عمر ودیا عمر بن سعد ( یہ مشہور صحابی حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا بیٹا ہے اور اس کا عمر دیا عمر ہے۔ علامہ محمد بن جریر طبری نے عمر ولکھا ہے اور علامہ ابن کثیر اور ابن خلدون نے عمر بن سعد لکھا ہے ) چار ہزار (4000) کا لشکر لیکر کوفہ سے یہاں پہنچا۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ پر عمر بن سعد کے لشکر کشی کرنے کی وجہ یہ ہوئی کہ فرقہ دیلم نے موضع وسشٹمی پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہ خبرسن کر عبید اللہ بن زیاد نے ملک ”رنے کا فرمان عمر بن سعد کے نام لکھا ( یعنی اسے وہاں کا گورنر بنا دیا) اور حکم دیا کہ اس طرف روانہ ہو جاؤ۔ عمر بن سعد شکر کو ساتھ لیکر روانہ ہو حمام اعین میں لشکر گاہ مقرر کی۔ جب حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کوفہ کی طرف متوجہ ہوئے تو عبد اللہ بن زیاد نے عمر بن سعد کو بلا بھیجا او حکم دیا کہ پہلے (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) کی طرف متوجہ ہو۔ ہمارے اور اُن کے درمیان جو معاملہ ہے اُس کا پہلے فیصلہ ہو جائے پھر فرقہ دیلم کی طرف جانا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو رائے دی : ” آپ رضی اللہ عنہ اس قریے میں ہمارے ساتھ تشریف لے چلیں ۔ وہ ایک محفوظ مقام ہے اور دریائے فرات سے لگ کر ہے ۔ اگر یہ لوگ روکیں گے تو ہم لڑ پڑیں گے اور اس لشکر سے جنگ کرنا آسان ہے بہ نسبت اس لشکر کے جو اس کے بعد آئے گا ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اس مقام کا نام دریافت کیا تو بتایا گیا: " کر بلا نام ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” یہ زمین کرب و بلا کی ہے ۔“ 


عمر بن سعد کا انکار کرنے کے بعد اقرار


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ طرف لشکر لے کر جانے کا جب عمر بن سعد کو حکم ہوا تو عبد اللہ بن زیاد کے پاس آیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: عمر بن سعد نے کہا: اللہ آپ کا بھلا کرے! اگر مناسب سمجھیں تو مجھے اس کام سے معاف رکھیئے ۔ عبداللہ بن زیاد نے کہا: اس شرط پر کہ رے ( کی گورنری) کا فرمان واپس کر دو ۔ عمر بن سعد نے اس بارے میں غور وفکر کرنے کے لئے ایک دن کی مہلت مانگی۔ وہاں سے واپس آکر اپنے احباب اور رشتہ داروں میں سے جس جس سے مشورہ کیا، اس نے اس حرکت کے کرنے سے منع کیا۔ خود اس کے بھانجے حمزہ بن مغیرہ بن شعبہ نے اُس سے کہا: "ماموں جان ! اللہ کے واسطے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے مقابلہ کرنے کا قصد نہیں کرنا ۔ اس میں اللہ کی معصیت بھی ہے اور قطع رحم بھی ہے۔ اللہ کی قسم ! اگر تمام روئے زمین کی سلطنت اور تمام دنیا کے مال و دولت سے تم محروم ہو جاؤ تو وہ اس سے بہتر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے خون سے آلودہ ہو کر تم کو جانا پڑے۔ عمر بن سعد نے کہا: ”انشاء اللہ میں یہی کروں گا۔ اس کے بعد وہ عبد اللہ بن بیمار جمنی کے پاس آیا اور بولا: "امیر ( گورنر ) عبید اللہ بن زیاد نے مجھے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے مقابلے پر جانے کا حکم دیا ہے اور میں نے انکار کر دیا ہے عبداللہ بن یسار نے کہا: اللہ تعالیٰ نے تجھے ثواب کا راستہ دکھا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ تجھ کو ہدایت کی توفیق دے ، اس بلا کو ٹال دے اور ایسا کام نہیں کر اور اس کام کے لئے روانہ نہیں ہوتا ۔ عبد اللہ بن بیار یہ کہ کر چلا آیا۔ پھر کسی نے خبر دی کہ عمرو بن سعد حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ پر چڑھائی کرنے کے لئے لشکر جمع کر رہا ہے۔ یہ سن کر وہ عمر بن سعد کے پاس گیا تو اُس نے دیکھتے ہی منہ پھیر لیا عبداللہ بن سیار سمجھ گیا کہ اب اس نے لشکر کشی کا مصم ارادہ کر لیا ہے۔ عمر بن سعد نے عبد اللہ بن زیاد سے کہا تھا: ”اللہ آپ کا بھلا کرے! آپ نے مجھے خدمت کا موقع دیا اور میرے نام ( گورنری) کا فرمان لکھ کر دیا۔ سب نے اسے سنا پھر اب آپ کی رائے ہو تو اس حکم کو نافذ کر دیجیئے اور یہ شکر جو اشراف کو فہ کا ہے اس پر کسی ایسے شخص کو مقرر کر دیجیئے جس کو کاروائی اور جنگ کے فن سے آگاہی ہو ۔ مجھے اس پر کوئی تفوق نہ ہو مقرر کر کے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے مقابلہ پر بھیج دیجئے ۔ یہ کہہ کر عمر بن سعد نے کوفہ کے کچھ اشراف لوگوں کے نام لئے۔ عبید اللہ بن زیاد نے کہا: ” اشراف کوفہ کے نام تم مجھے کیا بتاتے ہو؟ میں تم سے مشورہ نہیں چاہتا ہوں کہ کس کو مقرر کروں؟ تم اگر لشکر لیکر جاتے ہو تو ٹھیک ہے ورنہ میرا ( گورنری کا فرمان واپس کر دو ۔ عمر بن سعد نے جب عبید اللہ بن زیاد کا یہ اصرار دیکھا تو بولا : ٹھیک ہے! میں جاتا ہوں۔“


عمر و یا عمر بن سعد کا قاصد


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نینوا کے ایک مقام عقرہ ( کربلا) میں قیام پذیر تھے کہ عمرو بن سعد چار ہزار (4000) کا لشکر لیکر وہاں پہنچ گیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عمر بن سعد چار ہزار (4000) کا لشکر کے ساتھ نکلا اور جس دن حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نینوا میں قیام پذیر ہوئے اُس کے دوسرے دن صبح آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے آکر اپنے لشکر کے ساتھ قیام پذیر ہوگیا۔ پھر اس نے عزرہ بن قیس اسی کو حکم دیا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور پوچھو کہ وہ یہاں کیوں آئے ہیں؟ عزرہ بن قیس اُن لوگوں میں سے تھا جنہوں نے آپ رضی اللہ عنہ کوخط لکھ کر بلایا تھا اس لئے اُسے آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے جاتے ہوئے شرم آرہی تھی ۔ عمرو بن سعد نے لشکر کے رئیسوں ( کمانڈروں) سے بھی جنہوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو خط لکھے تھے پیام لے جانے کو کہا لیکن سب نے انکار کر دیا۔ یہ دیکھ کر کثیر بن عبداللہ شعمی اٹھ کھڑا ہوا۔ یہ بڑا دلیر شہسوار تھا اور ہر بات میں نہایت بے باک تھا۔ اُس نے کہا: ” میں (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) کے پاس جاتا ہوں اور آپ کہیں تو اللہ کی قسم ! اچانک ایک ہی وار میں اُن کا کام تمام کر دوں گا ۔ عمر بن سعد نے کہا: میں یہ نہیں کہتا کہ تم اُن کو اچانک قتل کرو۔ ہاں اُن کے پاس جا کر یہ پوچھو کہ اُن کے آنے کا کیا سبب ہے؟ کثیر بن عبداللہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلے کی طرف بڑھا۔ حضرت ابو ثمامہ صائدی نے اُسے آتے دیکھ کر عرض کیا : ”اے ابوعبداللہ ( حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے اللہ آپ رضی اللہ عنہ کا بھلا کرے ! جو شخص آپ رضی اللہ عنہ کے پاس آ رہا ہے وہ دنیا بھر کا سفاک اور شریر ہے ۔ یہ کہہ کر حضرت ابو ثمامہ کھڑے ہوئے اور اُس سے کہا: ”اپنی تلوار رکھ دے۔ اُس نے کہا: اللہ کی قسم ! میں ایسا نہیں کروں گا اور اس میں کسی کا لحاظ نہیں کروں گا۔ میں فقط قاصد کی حیثیت سے آیا ہوں۔ تم لوگ میری بات سنو گے تو جو پیام لیکر آیا ہوں پہنچا دوں گا۔ اگر نہیں سنتے تو میں واپس چلا جاؤں گا ۔ حضرت ابو ثمامہ نے کہا: ” میں تیری تلوار کے قبضہ پر ہاتھ رکھے رہوں گا ۔ پھر جو کچھ تجھے کہنا ہو کہ لینا۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم ! یہ بھی نہیں ہوگا اور قبضہ کو ہاتھ نہیں لگانا “ حضرت ابو ثمامہ نے کہا: ” پھر تجھے جو کچھ کہنا ہے یہیں کہہ دے۔ میں جا کر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے عرض کا دوں گا۔ تو ایک بدکار شخص ہے۔ دونوں میں بحث اور تو تو میں میں ہوئی اور وہ واپس چلا گیا۔ اور عمر بن سعد سے پورا حال بیان کر دیا۔


دوسرا قاصد


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس سے بغیر بات چیت کئے عمر بن سعد کا پہلا قاصد واپس آ گیا تھا۔ اس کے بعد اُس نے دوسرا قاصد بھیجا۔ علامہ محمد جریر طبری لکھتے ہیں : عمر بن سعد نے اب ورہ بن قیس حنظلی کو بلا کر کہا: " قرہ اتم ذرا ( حضرت ) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) سے مل کر پوچھو کہ وہ کیوں آئے ہیں اور اُن کا کیا ارادہ ہے؟ قرہ وہاں سے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلے کی طرف چلا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اُسے آتا ہوا دیکھ کر اپنے ساتھیوں سے پوچھا: ” اس شخص کو جانتے ہو؟ حضرت حبیب بن مظاہر نے عرض کیا: ”ہاں! میں اسے پہچا نتا ہوں ۔ یہ بنو حنظلہ سے ہے اور تمیمی ہے۔ ہماری بہن کا بیٹا ہے ، میں تو اسے خوش عقیدہ سمجھتا تھا۔ میں جانتا تھا کہ یہ ان لوگوں کے ساتھ آئے گا ۔ اتنے میں قرہ بن قیس آپہنچا۔ آپ رضی اللہ عنہ کو سلام کیا اور عمر بن سعد کا بیام پہنچا دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے جواب میں فرمایا: ” تمہارے شہر والوں نے مجھے لکھا کہ آپ رضی اللہ عنہ یہاں آجائے ۔ اب اگر میرا آنا انہیں نا گوار ہے تو میں واپس چلا جاؤں گا۔ حضرت حبیب بن مظاہر نے کہا : " قرہ ! کیا تو ان ظالموں میں پھر واپس چلا جائے گا ؟ تجھے چاہیئے کہ آپ رضی اللہ عنہ کی نصرت کرے جن کے بزرگوں کی بدولت اللہ تعالیٰ نے تجھے اور ہمیں کرامت عطا فرمائی ہے ۔ قرہ بن قیس نے کہا میں جس کے ساتھ ہوں اُس کے پیام کا جواب اُسے پہنچانے کو واپس جاؤں گا اور پھر جیسی میری رائے ہوگی وہ کروں گا ۔ یہ کہ کر وہ عمر بن سعد کے پاس گیا اور سب حال بیان کر دیا۔


یزید کی بیعت کرنے کا کہو


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا جواب سن کر عمر بن سعد نے عبید اللہ بن زیاد کو ایک خط لکھا اور اگلا حکم مانگا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عمر بن سعد نے کہا: ”امید تو ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھ کو اُن سے لڑنے اور اُن کے ساتھ کشت و خون کرنے سے محفوظ رکھے گا ۔ پھر اس نے عبید اللہ بن زیاد کو خط لکھا: ”بسمہ اللہ الرحمن الرحیم جب میں یہاں آکر ( حضرت ) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) کے مقابل اتر اتو ایک قاصد کو اُن کے پاس بھیجا اور اُن سے میں یہاں آنے کا سبب پوچھا اور یہ پوچھا کہ وہ کیا چاہتے ہیں کس چیز کے طلب گار ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ اس شہر کے لوگوں نے مجھے خط لکھے، میرے پاس اُن کے قاصد آئے اور اس بات کے درخواست گزار ہوئے کہ میں یہاں چلا آؤں۔ میں چلا آیا۔ اب میرا آنا اُن کو ناگوار ہے اور قاصدوں سے جو کچھ انہوں نے کہلا بھیجا تھا اب اُس کے خلاف اُن کی رائے ہو گئی ہے تو میں واپس چلا جاؤں گا۔ عبید اللہ بن زیاد نے اس خط کے جواب میں کہا: ” جب ہمارے پنجہ میں پھنس گئے ہیں تو نکلنا چاہتے ہیں۔ اب تو اُن کے لئے کوئی مفر نہیں ہے۔“ اس کے بعد عمر بن سعد کے خط کا جواب میں خط لکھا: ”بسمہ اللہ الرحمن الرحیم !تمہارا خط ملا ! جو کچھ تم نے لکھا وہ معلوم ہوا ۔ (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ) سے کہو کہ وہ اپنے اہل وعیال اور ساتھیوں کے ساتھ امیر المومنین یزید کی بیعت کریں۔ اگر انہوں نے بیعت کر لی تو پھر ہم جیسا مناسب سمجھیں گے کریں گے۔“


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!

منگل، 3 ستمبر، 2024

Saltanat e Umayya part 16

 16 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 16

پانی بند کر دینے کا حکم، عبد اللہ بن ابی حسین کی گستاخی اور انجام، پانی کے لئے جد و جہد، حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور عمر بن سعد کی ملاقات، شمر بن ذی جوشن کی دشمنی، عبید اللہ بن زیاد کا جنگ کرنے کا حکم، عبید اللہ بن زیاد کی امان لینے سے انکار، عمر بن سعد کا حملہ کرنے کا حکم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت، حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ کی گفتگو، حضرت زہیر بن قین اور حضرت حبیب بن مظاہر کی حق گوئی، 



پانی بند کر دینے کا حکم


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تمہارے شہر والوں نے مجھے بلا تھا۔ اب اگر انہیں میرا آنا گوار گذر رہا ہے تو میں واپس چلا جاتا ہوں۔ اس کے جواب میں عبید اللہ بن زیاد نے عمر بن سعد کو حکم دیا کہ یزید کی بیعت اُن سے لے لو۔ اس کے فوراً بعد دوسرا خط آیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: عمر بن سعد کو جب عبید اللہ بن زیاد کا یہ خط ملا تو وہ بولا : میں سمجھ گیا کہ عبید اللہ بن زیاد کو عافیت منظور نہیں ہے ۔“ اس کے بعد ایک اور خط عبید اللہ بن زیاد کا عمر بن سعد کو آیا۔ اُس میں یہ لکھا تھا: ”نہر کے اور (حضرت) حسین (رضی اللہ عنہ ) کے درمیان حائل ہو جاؤ۔ ایک بوند پانی بھی وہ لوگ نہیں پی سکیں ۔ جو سلوک تقی وز کی مظلوم امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا گیا تھا۔ اس خط کو پڑھ کر عمر بن سعد نے عمرو بن حجاج کو پانچ سو (500) سواروں کا سپہ سالار بنا کر روانہ کیا۔ یہ لوگ نہر پر جا کر ٹھہرے اور نہر اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلے کے درمیان حائل ہو گئے۔ تا کہ وہ بوند بھر پانی اس سے نہیں پینے پائیں۔ یہ سات (7) محرم الحرام 61 ہجری کا دن تھا۔ 


عبد اللہ بن ابی حسین کی گستاخی اور انجام


حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے قافلے والوں کو پانی لینے سے روک دیا گیا اور عمر بن سعد کے لشکر کے پانچ سوسپاہیوں نے نہر پر پہرہ لگا دیا تا کہ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کو پانی نہیں مل سکے۔ سات (۷) محرم الحرام اللہ ہجری کے دن ایک شخص عمر بن سعد کے لشکر سے نکل کر آیا اور آپ رضی اللہ عنہ سے گستاخی کی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں؛ یہ واقعہ آپ رضی اللہ عنہ کے شہید ہونے سے تین دن پہلے کا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے آکر عبد اللہ بن ابی حصین از دی جو بنوبجیلہ میں شمار ہوتا تھا۔ وہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پڑاؤ کے سامنے آیا اور پکارا: ”اے (حضرت) حسین! ( رضی اللہ عنہ ) ذرا پانی کی طرف دیکھو! کیسا اُس کا آسمانی رنگ بھلا معلوم ہوتا ہے۔ اللہ کی قسم ! تم پیا سے مرجاؤ گے۔ ایک قطرہ بھی تم کو نہیں ملے گا ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر فرمایا: اے اللہ! اس شخص کو پیاس کی ایذا دے کر قتل کر اور کبھی اس کی مغفرت نہ ہو۔“ اس کے بعد حمید بن مسلم اُس کی بیماری میں عیادت کو گیا تھا۔ اُس کا بیان ہے : "قسم ہے اُس اللہ وحدہ لاشریک کی ! میں اُسے ( عبداللہ بن حصین کو ) دیکھا کہ پانی پی رہا تھا اور پیاس پیاس کہتا جارہا تھا۔ پھر قے (اُلٹی) کر دیتا تھا، پھر پانی پیتا تھا پھر پیاسا ہو جاتا تھا۔ پیاس نہیں بجھتی تھی ۔ یہی حالت اُس کی مسلسل رہی آخر کار مر گیا۔“


پانی کے لئے جد و جہد


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلے پر عمرو بن سعد کے لشکر نے پانی بند کر دیا تھا اور دریا پر پہرہ بٹھا دیا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ کے قافلے کی عورتیں اور بچے پیاس سے بے حال ہوئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے پانی حاصل کرنے کا حکم دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ پر اور آپ رضی اللہ عنہ کے قافلے والوں پر پیاس کا غلبہ ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی حضرت عباس بن علی رضی اللہ عہ کو بلایا اور میں سوار ہیں پیدل کو بیس مشکیں دے کر دریا سے پانی لانے کے لئے روانہ کیا۔ یہ لوگ رات کے وقت دریا پر پہنچے۔ حضرت نافع بن حلال جعلی علم (جھنڈا) لئے ہوئے سب سے آگے بڑھ گئے ۔ عمرو بن حجاج کہنے لگا : ”کون ہے؟ کیوں آئے ہو؟ حضرت نافع بن ہلال نے فرمایا: ”ہم تو یہ پانی پینے آئے ہیں جس سے تم نے ہمیں محروم کر دیا ہے ۔ اس نے کہا: ” پی لو۔“ حضرت نافع بن ہلال نے جب دیکھا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور اُن کے اہل و عیال پیاسے ہیں تو فرمایا: اللہ کی قسم! ان لوگوں کے بغیر ایک قطر بھی نہیں پیوں گا ۔ اتنے میں باقی لوگ بھی آگئے۔ عمرو بن حجاج نے کہا: ” ان لوگوں کو پانی نہیں دے سکتا۔ ہم کو اس مقام پر اسی لئے متعین کیا گیا ہے کہ ان کو پانی نہیں لینے دیں۔“ حضرت نافع بن ہلال کے ساتھ والے جب آگئے تو انہوں نے پیدل لوگوں سے کہا: ” اپنی اپنی مشکیں بھر لو ۔ پیدل افراد تیزی سے دوڑ پڑے اور سب نے مشکیں بھر لیں ۔ عمرو بن حجاج نے اپنے سپاہیوں کے ساتھ اُن پر حملہ کر دیا۔ حضرت نافع بن ہلال اور حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ نے اُن کا مقابلہ کیا اور انہیں پیچھے تک دھکیل دیا۔ پھر اپنے خیموں کی طرف واپس جانے لگے اور پیدل افراد سے کہا: ” نکل جاؤ اور خود دشمنوں کو روکنے کے لئے ٹھہرے رہے۔ عمرو بن حجاج اپنے سپاہیوں کے ساتھ پھر اُن کی طرف تیزی سے آگے آیا اور پھر حملہ کر دیا۔ اس کے ایک سپاہی پر حضرت نافع بن بلال رضی اللہ عنہ نے نیزہ کا وار کیا اور سمجھا کہ وار او چھا پڑا ہے لیکن بعد میں اُس کا زخم پھٹ گیا اور وہ مر گیا۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھی مشکیں لئے ہوئے آئے اور آپ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کر دیں۔


حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور عمر بن سعد کی ملاقات


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کربلا میں قیام پذیر تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے عمر بن سعد کو حکم دیا کہ وہ ملاقات کرے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عمرو بن قرظہ انصاری رضی اللہ عنہ کو عمر بن سعد کے پاس بھیجا کہ آج رات میرے قافلے اور تمہارے لشکر کے درمیان مجھ سے ملاقات کرو۔ عمر بن سعد ہمیں سواروں کے ساتھ لشکر سے نکلا اور آپ رضی اللہ عنہ بھی ہیں سواروں کے ساتھ اپنے قافلے سے نکلے ۔ جب ملاقات ہوئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: ” سب پیچھے ہٹ جائیں ۔ عمر بن سعد نے بھی اپنے سپاہیوں سے پیچھے ہٹ جانے کو کہا۔ سب وہاں سے اتنی دور ہٹ گئے جہاں اُن دونوں کی کوئی آواز اور کوئی بات نہیں سنائی دے رہی تھی ۔ دونوں بہت دیر تک بات چیت کرتے رہے اور اچھی خاصی رات گزرگئی۔ پھر اپنے اپنے ساتھیوں کے ساتھ واپس لوٹ گئے ۔ لوگوں نے اپنے اپنے وہم و گمان سے کہنا شروع کر دیا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے عمر بن سعد سے کہا کہ تو میرے ساتھ یزید کے پاس چل دونوں اکیلے چلتے ہیں۔ عمر بن سعد نے کہا کہ میرا گھر خود ڈالا جائے گا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں بنوادوں گا۔ اُس نے کہا کہ میری جاگیر میں چھن جائیں گی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس سے بہتر میں تجھے اپنے مال میں سے دوں گا جو حجاز میں ہے۔ عمر بن سعد نے اسے گوارا نہیں کیا۔ لوگوں میں اسی بات کا چرچا تھا اور بغیر اس کے کہ کچھ سنا ہو یا کچھ جانتے ہوں ایک دوسرے سے یہی ذکر کرتے تھے اور محدثین کی ایک جماعت کا بیان ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تین باتوں میں سے ایک میرے لئے اختیار کر۔ یا تو یہ کہ جہاں سے میں آیا ہوں وہیں جانے دے۔ یا یہ کہ میں اپنا ہاتھ یزید کے ہاتھ میں دے دوں اور وہ میرے اور اپنے درمیان جو بھی فیصلہ کرے۔ یا پھر مجھے مملکت اسلامیہ کیسی کسی بھی سرحد کی طرف جانے دے اور میں اُن لوگوں کا ایک شخص بن کر رہوں گا اور میرا نفع و نقصان اُن کے ضمن میں ہوگا۔ یہ بھی روایت ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے ایسی بات ہر گز نہیں کہی جیسا کہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ اپنا ہاتھ یزید کے ہاتھ میں دیدیں گے۔ یا یہ کہ مجھے بلاد اسلام کی کسی سرحد کی طرف جانے دے۔ بلکہ آپ رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا تھا کہ مجھے اس وسیع و عریض زمین میں کسی طرف نکل جانے دے اور میں دیکھوں کہ انجام کیا ہوتا ہے؟


شمر بن ذی جوشن کی دشمنی


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے بات چیت کرنے کے بعد عمر بن سعد نے کوفہ کے گورنر عبید اللہ بن زیاد کو خط لکھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عمر بن سعد نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے تین چار ملاقاتیں کیں اور پھر اس کے بعد عبید اللہ بن زیاد کے پاس خط لکھ کر بھیجا " اللہ تعالیٰ نے (جنگ کی) آگ کے شعلہ کو بجھا دیا ہے۔ اختلاف کو دفع کیا ہے اور قوم کی بہتری چاہی ہے۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اس بات پر راضی ہیں کہ جہاں سے آئے ہیں وہیں چلے جائیں یا مملکت اسلامیہ کی سرحدوں میں سے کسی بھی سرحد کی طرف چلے جائیں۔ یا پھر امیر المومنین یزید کے پاس جا کر اُس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیدیں اور اپنے اور اُن کے درمیان جو فیصلہ چاہے وہ کرے۔ اس میں آپ کی بھی خوشنودی ہے اور اُمت کی بھی بہتری ہے۔ عبید اللہ بن زیاد نے خط پڑھ کر کہا: یہ خط ایسے شخص کا ہے جو اپنے امیر (حاکم) کا خیر خواہ اور اپنی قوم کا شفیق ہے اچھا میں نے قبول کیا ۔ " یہ سن کر شمر بن ذی جوشن اُٹھ کر کھڑا ہوا اور بولا : ” تو یہ بات قبول کرتا ہے؟ ارے وہ تو تیری زمین پر اترے ہوئے ہیں ، تیرے پہلو میں موجود ہیں۔ اللہ کی قسم ! تیری اطاعت کئے بغیر وہ تیرے شہر سے چلے گئے تو قوت و غلبہ اُن کو ملے گا اور عاجزی و کمزوری تجھے ملے گی۔ یہ موقع اُن کو نہیں دینا چاہئے ، اس میں تیری ذلت ہے۔ ہونا تو یہ چاہیئے کہ وہ اور ان کے سب ساتھی تیرے حکم پر سر جھکا دیں۔ اگر تو سزا دے تو تجھے سزا دینے کا حق ہے اور اگر معاف کر دے تو تجھ کو اختیار ہے۔ اللہ کی قسم! میں تو یہ سنتا ہوں کہ (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) اور عمر بن سعد دونوں لشکروں کے درمیان رات رات بھر بیٹھے ہوئے باتیں کرتے ہیں۔ عبید اللہ بن زیاد نے کہا: ”سٹو نے کیا ہی اچھی رائے دی ہے، رائے تو بس یہی ہے۔“


عبید اللہ بن زیاد کا جنگ کرنے کا حکم


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے عمر بن سعد سے گفتگو کی اور وہ مصالحت پر تیار ہو گیا اور عبید اللہ بن زیاد کو بھی مصالحت کا مشورہ دیا جسے اُس نے قبول کر لیا تھا لیکن شمر بن ذی جوشن کی فتنہ انگیزی کے سبب اُس نے وہ غلط فیصلہ کیا جس کی وجہ سے تینوں کی آخرت برباد ہو گئی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: پھر عبید اللہ بن زیاد نے ایک خط لکھ کر شمر بن ذی جوش کو دیا اور کہا: یہ خط لیکر عمر بن سعد کے پاس جا۔ اُسے چاہیئے کہ (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) اور اُن کے ساتھیوں سے کہے کہ وہ سب میرے حکم پر سر جھکا دیں ۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو اُن سب کو اطاعت گزاروں کی طرح میرے پاس بھیج دے۔ اگر وہ اس حکم کو نہیں ما نہیں تو اُن سے قتال (جنگ) کرنا۔ اگر عمر بن سعد نے ایسا کہ کیا تو تو بھی اُس کی اطاعت کرنا اور اُس کی بات کو ماننا۔ اگر اُس نے انکار کر دیا تو اُن لوگوں سے تو قتال (جنگ) کرنا اور تو اُس وقت لشکر کا سپہ سالار ہو گا اور عمر بن سعد کوقتل کر دینا اور اُس کی گردن مار دینا اور اُس کا سر میرے پاس بھیج دینا۔ عبید اللہ بن زیاد نے عمر بن سعد کو جو خط لکھا اُس کا مضمون یہ تھا: ” میں نے تجھے (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) کے مقابلے پر اس لئے نہیں بھیجا تھا کہ تو اُن کو بچانے کی فکر کرے یا اُن پر احسان کرے یا اُن کی سلامتی کی فکر کرے یا میرے سامنے اُن کا سفارشی بن بیٹھے۔ سُن ! اگر (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) اور ان کے ساتھی میرے حکم پر سر جھکا دیں اور گردنیں خم کر دیں تو سب کو اطاعت گزاروں کی طرح میرے پاس بھیج دے۔ اگر وہ نہیں ما نہیں تو اُن پر لشکر کشی (حملہ ) اس طرح کر کہ سب قتل ہو جائیں اور سب کے سر کاٹ لے کیونکہ وہ وہ سب اسی کے سزاوار ہیں۔ جب (حضرت) حسین بن علی ( رضی اللہ عنہ ) ( نعوذ باللہ ) قتل ہو جائیں تو اُن کے سینہ پر اور پشت پر سواروں کو دوڑادے کہ وہ نافرمان مخالف خود سر ظالم ہیں۔ میری دل کی یہ بات نہیں ہے کہ مرنے کے بعد اُن کو کوئی ایذا پہنچے گی لیکن میں انہیں قتل کرتا تو اُن کے ساتھ یہی سلوک کرتا۔ اگر تو اُن کے بارے میں ہمارے حکم کو جاری کرے گا تو تجھے کو وہ عوض ملے گا جو ایک فرمانبردار اطاعت گزار کوملنا چاہئے اور اگر تجھے یہ منظور نہیں ہے تو ہماری خدمت سے اور ہمارے لشکر سے علیحدہ ہو جا۔لشکر کا سپہ سالار شمر بن ذی جوشن کو بنادے۔ ہم نے اُسے اپنے احکام بتا دیے ہیں۔ والسلام


عبید اللہ بن زیاد کی امان لینے سے انکار


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے جنگ کرنے کا حکم عبید اللہ بن زیاد نے دے دیا اور وہ خط شمر بن جوشن کو دیا اور حکم دیا کہ عمر بن سعد کو لے جا کر دو اور اگر وہ حکم نہیں مانے تو اُسے قتل کرو اور تم سپہ سالار ہو گے۔ اُس کے بھانجے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ اُن کے قافلے میں تھے ۔ اُن کے لئے اُس نے عبید اللہ بن زیاد سے امان مانگی جو اُس نے لکھ کر دے دی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: شمر بن ذی جوشن کو جب عبید اللہ بن زیاد نے یہ خط دیا تو اُس کے ساتھ جانے کے لئے عبداللہ بن ابی محل بن حزام بھی تیار ہو گیا۔ اُس کی پھوپھی ام البنین بنت حزام رضی اللہ عنہا، خلیفہ چہارم حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی زوجہ تھیں اور اُن سے حضرت عباس، حضرت عبداللہ ، حضرت جعفر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم پیدا ہوئے۔ عبداللہ بن ابی محل بن حزام نے کہا: اللہ ہمارے امیر ( گورنر، حاکم ) کا بھلا کرے! ہماری بہن کے بیٹے (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) کے ساتھ ہیں۔ اگر مناسب سمجھو تو اُن کے لئے امان لکھ دو ۔ عبید اللہ بن زیاد نے کہا: ” بسر و چشم ۔ اور اُس نے امان کا فرمان لکھ دیا۔ عبداللہ بن ابی محمل نے اپنے آزاد غلام کرمان کو امان نامہ دے کر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلے میں بھیجا۔ اُس نے وہاں جا کر اُن کو بلایا اور کہا: ”تمہارے ماموں نے تمہارے لئے عبید اللہ بن زیاد سے امان لے لی ہے ۔ اور امان نامہ دکھایا۔ اُن جوانوں رضی اللہ عنہم نے فرمایا: ” ہمارے ماموں کو جا کر سلام کہنا اور کہ دینا کہ تم لوگوں کی امان ہمیں نہیں چاہیئے ۔ شمیہ کے بیٹے کے بیٹے (عبید اللہ بن زیاد کا باپ زیاد کے باپ کا نام نہیں معلوم تھا اور لوگ اُسے اُس کی ماں سمیہ کے نام پر ابن سمیہ کہتے تھے ) کی امان سے بہت بہتر اللہ تعالیٰ کی امان ہے


عمر بن سعد کا حملہ کرنے کا حکم کی


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں عبید اللہ بن زیاد کا حکم اور خط لیکر شمر بن ذی جوشن کر بلا آیا اور عمر بن سعد کو خط دیا اور اپنے گورنر کا حکم سنایا۔ علامہ حمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : شمر بن ذی جوشن جب عبید اللہ بن زیاد کو خط لیکر عمر بن سعد کے پاس آیا اور اس نے خط پڑھا تو شمر بن ذی جوشن سے کہا: 'وائے ہو تجھ پر تو نے یہ کیا حرکت کی ؟ اللہ تیرے ہمسایہ ( پڑوس) سے بچائے۔ اللہ تجھے غارت کرے، تو یہ کیا میرے پاس لیکر آیا ہے؟ اللہ کی قسم! میرا یہی گمان ہے کہ تو نے ہی عبید اللہ بن زیاد کو رائے دی ہے کہ میری تحریر کو نہیں مانے ۔ جس معاملہ میں اصلاح کی ہم کو امید تھی تو نے اُسے بگاڑ دیا ہے۔ اللہ کی قسم ! (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ) گردن جھکانے والے شخص نہیں ہیں۔ اُن کے پہلو میں وہ دل ہے جو برداشت نہیں کر سکتا ۔ شمر بن ذی جوشن نے کہا: تو یہ بتاتیرا کیا ارادہ ہے؟ اپنے امیر (گورنر) کے حکم پر چلے گا اور اس کے دشمن کو قتل کرے گا؟ یا پھر لشکر کی قیادت مجھے دے گا؟ عمر بن سعد نے کہا: نہیں ! تجھے لشکر کی قیادت نہیں ملے گی۔ میں یہ کام خود کروں گا۔ شمر بن ذی جوشن نے کہا: " ٹھیک ہے ! پھر تم ہی کرو۔“ اس کے بعد عمر بن سعد اپنے لشکر کولیکر آگے بڑھا اور صف آرا کیا۔ یہ نو (۹) محرم الحرام پنجشنبہ کا دن تھا اور شام کا وقت تھا شمر بن ذی جوشن آگے بڑھا اور بلند آواز سے پکارا : ”ہم لوگوں کی بہن کے بیٹے کہاں ہیں؟ یہ سن کر حضرات عباس جعفر، عثمان اور عبد اللہ رضی اللہ عنہم آگے بڑھے اور فرمایا: " تجھے ہم سے کیا کام ہے اور تو کیا کہ رہا ہے؟ اس نے کہا: ”اے میری بہن کے بیٹو! تمہارے لئے امان ہے ۔ اُن سب جوانوں رضی اللہ عنہم نے فرمایا : اللہ کی تجھ پر لعنت ہو اور تیری امان پر بھی لعنت ہو، تو جو ہمارا ماموں ہے ( عرب میں نھیال کے تمام قبیلے والوں کو ماموں“ کہا جاتا ہے ) تو ہم کو امان دیتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کو امان نہیں دیتا ہے ۔ عمر بن سعد نے یہ سن کر بلند آواز سے پکارا : ”اے سپاہیو! اللہ کے سوار و! گھوڑوں پر چڑھو اور خوش رہو۔ نماز عصر کے بعد اُس نے اپنے لشکر کے ساتھ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے قافلے پر حملہ کر دیا۔


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلے پر حملہ کرنے کا حکم عمر بن سعد نے دے دیا اور اُس کے لشکر نے چڑھائی کر دی ۔ اُس وقت حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اپنے خیمے کے سامنے تشریف فرما تھے ۔ عمر بن سعد کے لشکر کے گھوڑوں کے دوڑنے کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی یہاں تک کہ خیموں میں موجود پردہ نشین خواتین نے بھی یہ آواز سنی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: نماز عصر کے بعد عمر بن سعد نے اپنے لشکر کے ساتھ اُن لوگوں پر چڑھائی کر دی ۔ اُسوقت حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اپنے خیمہ کے سامنے اس حالت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ دونوں گھٹنوں بلند تھے اور تلوار پر ٹکے ہوئے تھے اور گھٹنوں پر سر رکھا ہوا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ کی بہن سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا نے شور کی آواز سنی تو بھائی کے پاس آئیں اور فرمایا: ” بھائی ! آپ رضی اللہ عنہ نے سنا ! لوگوں کی آوازیں قریب آرہی ہیں ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے زانو سے سر اٹھایا اور فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا کہ مجھ سے فرما رہے ہیں تم ہمارے پاس آجاؤ گے ۔‘ بین کر بہن نے کہا: ”وائے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بہن! تم پر وائے نہیں ہے (دشمنوں پر وائے ہے ) بہن !اللہ تم پر اپناحم فرمائے چپ رہو ۔ “ ( اور یہ بات کسی کو ابھی نہیں بتانا )


حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ کی گفتگو


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اپنے خیمے کے سامنے بیٹھے عمر بن سعد کے لشکر کو آتا اور صف بندی کرتے ہوئے دیکھ رہے تھے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے بھائی حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ”بھائی! وہ لوگ آپڑے ہیں ۔ یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ اُٹھ کھڑے ہوئے۔ حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ”بھائی ! میں آپ رضی اللہ عنہ پر فدا ہو جاؤں ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بھائی ! گھوڑے پر سوار ہو اور اُن لوگوں سے جا کر ملو اور پوچھو کہ اُن کا ارادہ کیا ہے اور ادھر آنے کا کیا سبب ہے؟ حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ میں سواروں کو ساتھ لیکر جن میں حضرت زہیر بن قین اور حضرت حبیب بن مظاہر رضی اللہ عنہم بھی تھے اُن لوگوں کے پاس آئے اور پوچھا: ” تمہارا کیا ارادہ ہے اور تمہارے جی میں کیا آئی ہے؟ ان لوگوں نے کہا: ”امیر ( گورنر عبداللہ بن زیاد ) کا یہ حکم آیا ہے کہ تم لوگوں سے کہہ دیں کہ اُس کے حکم پر سر جھکا دو نہیں تو ہم تم سے لڑیں گے ۔ حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ذرا ٹھہرو! میں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے پوچھ کر آتا ہوں اور وہ جو کچھ تم کہ رہے ہو اُن سے عرض کر دوں ۔ یہ لوگ ٹھہر گئے اور بولے : ”جاؤ! اُن کو خبر کردو اور آکر بیان کرو کہ وہ کیا کہتے ہیں؟ حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ گھوڑا دوڑا کر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس چلے گئے اور اُن کے ساتھی وہیں ٹھہرے رہے۔


حضرت زہیر بن قین اور حضرت حبیب بن مظاہر کی حق گوئی


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس اُن کے بھائی حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ جواب لینے کے لئے گئے ۔ اسی دوران اُن کے ساتھی و ہیں عمر بن سعد کے لشکر کے پاس ٹھہرے رہے اور گفتگو کرتے رہے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت حبیب بن مظاہر رضی اللہ عنہ نے حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ سے کہا: ”چا ہو تو تم ان سے گفتگو کر دیا پھر میں کچھ کہوں؟ حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تمہیں نے یہ ذکر نکالا ہے تو تمہیں گفتگو کرو ۔ حضرت حبیب بن مظاہر رضی اللہ عنہ نے لشکریوں نے مخاطب ہو کر کہا: ” ستوکل کے دن جو لوگ آئیں گے اللہ کی قسم اوہی بہت برے لوگ ٹھہریں گے۔ جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذریت (آل ) کو، اُن کی عزت کو، اُن کے اہل بیت کو اُن کے شہر کے عابدوں کو شہید کریں گے ۔ جن کی صبح عبادت میں گذرتی ہے، جن کی زبان پر اللہ کا ذکر جاری رہتا ہے ۔ یہ سن کر عزرہ بن قیس بولا : " تم سے جہاں تک ہو سکے اپنے نفس کو پاک رکھو۔ حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ نے کہا: ” اے عزرہ ! اللہ تعالیٰ نے اُن کے نفس کو پاک کیا ہے اور انہیں ہدایت عطا فرمائی ہے۔ اے عزرہ ! اللہ سے ڈرا میں تیری خیر خواہی کا کلمہ کہتا ہوں ۔ اے عزرہ ! اللہ کے واسطے ان نفوس قدسیہ کو شہید کرنے میں ان لوگوں کے ساتھ شریک نہ ہو جو ضلالت کے بانی ہیں ۔ عزرہ بن قیس نے کہا: اے زہیر ! ان لوگوں کے حامیوں میں ہم تجھے نہیں جانتے تھے بلکہ تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ والوں میں سے تھا۔ حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: " مجھے اس مقام پر دیکھ کر بھی کیا تو نہیں سمجھ رہا ہے کہ میں انہیں لوگوں میں سے ہوں ۔ سُن ! اللہ کی قسم! میں نے کبھی کوئی خط ان کو نہیں لکھا ہے اور نہ ہی کبھی کوئی قاصد ان کے پاس بھیجا نہ بھی ان سے نصرت کا وعدہ کیا ۔ ہوا یہ کہ راستے میں اِن سے ملاقات ہو گئی۔ ان کو دیکھ کر مجھ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یاد آ گئے اور ان کا جو مرتبہ اُن کے رشتہ سے ہے اُس کا خیال آگیا اور میں سمجھ گیا کہ یہ کن دشمنوں میں اور تمہارے جرگہ کے لوگوں میں جارہے ہیں۔ بس میری یہ رائے ہوئی کہ ان کی نصرت کروں اور ان کے جرگہ میں شامل ہو جاؤں۔ اپنی جان اِن کی جان پر فدا کر دوں تا کہ اللہ کے جس حق کو اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے جس حق کو تم نے ضائع کر دیا ہے اُن کی حفاظت کروں۔


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!


Saltanat e Umayya part 17

 17 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 17

ایک رات کی مہلت، ساتھیوں کو جانے کی اجازت، آل عقیل کی جاں نثاری، حضرت مسلم بن عوسجہ اور حضرت سعد بن عبد اللہ کی جاں نثاری،حضرت زہیر بن قین اور دوسرے ساتھیوں کی جاں نثاری،  سیده زینب بنت علی رضی اللہ عنہا کی بے قراری، بہن کو تسلی، ایک بد بخت کی گستاخی، قافلے اور لشکر کی صف بندی، شمر بن ذی جوشن کی گستاخی، دشمنوں کو پھر سے سمجھانا ہے، 

ایک رات کی مہلت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے بات کرنے اُن کے بھائی حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ گئے ہوئے تھے۔ انہوں نے واپس آکر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا پیغام عمر بن سعد کو دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اتنے میں حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ گھوڑے کو ایڑ لگاتے ہوئے اُن لوگوں تک آپہنچے اور فرمایا: ”اے لوگو! حضرت حسین علی رضی اللہ عنہ تم سے اس بات کا سوال کرتے ہیں کہ اس وقت تم سب واپس چلے جاؤ۔ یہ ایسی بات ہے کہ ابھی تک تمہارے اور اُن کے درمیان اس باب میں گفتگو نہیں ہوئی تھی۔ کل صبح کو انشاء اللہ پھر ہم لوگ ملیں گے، یا تو جس بات کو تم چاہتے ہو اور جو سلوک کرنا چاہتے ہو ہم اس پر راضی ہو جائیں گے یا ہمیں یہ بات ناگوار ہوگی تو ہم انکار کر دیں گے ۔“ اس سے آپ رضی اللہ عنہ کا مطلب یہ تھا کہ اس وقت اُن لوگوں کو ٹال دیا جائے اور جو کہنا سننا ہوسن لیں۔ اپنے اہل بیت سے وصیت کر لیں ۔ حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ نے جب یہ بات آکر کہی تو عمر بن سعد نے شمر بن ذی جوشن سے پوچھا: ” تیری کیا رائے ہے؟ شمر بن ذی جوشن نے کہا: ” تو امیر لشکر یعنی لشکر کا سپہ سالار ہے تیری جو رائے ہوگی بس میری بھی وہی رائے ہوگی۔ عمر بن سعد نے لشکریوں سے کہا: ”تمہاری کیا رائے ہے؟ بین کر عمرو بن حجاج زبیدی نے کہا: "سبحان اللہ ! اگر یہ لوگ کفار دیلم سے ہوتے اور تجھ سے یہی سوال کرتے تو اللہ کی قسم اتجھے قبول کر لینا چاہیئے تھا۔“ قیس بن اشعث نے کہا: ”اُن کی یہ بات مان لے۔ میں اپنی جان کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ کل صبح کو یہ لوگ تجھ سے لڑنے کے لئے آمادہ رہیں گے ۔“ عمر بن سعد نے کہا: ” اگر یہ بات مجھ کو یقینی معلوم ہو جائے کہ یہ لوگ لڑیں گے تو میں اس وقت مہلت نہیں دوں گا ۔“ حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ نے آکر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ عمر بن سعد ایسا کہتا ہے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” تم پھر پلٹ کر جاؤ اور ہو سکے تو اُن کو صبح تک کے لئے ٹال دو اور آج شام کے لئے اُن کو ہم سے دفع کرو۔ آج کی رات ہم اپنے پروردگار کی عبادت کر لیں ، اُس سے دعا کرلیں، اُس سے مغفرت طلب کر لیں۔ اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ اُس کی عبادت کو، اُس کی کتاب قرآن پاک کی تلاوت کو اور دعا و استغفار کی کثرت کو میں کتنا دوست رکھتا ہوں ۔ حضرت علی (اوسط) بن حسین رضی اللہ عنہ (امام زین العابدین) فرماتے ہیں: ” عمر بن سعد کے پاس سے ایک قاصد ہم لوگوں کے پاس آیا اور ایسے مقام پر کھڑ ہو گیا جہاں سے آواز سنائی دیتی تھی اور کہا: ”ہم نے تم لوگوں کو کل صبح تک کی مہلت دی ہے۔ اگر اطاعت کر لوگے تو تم کو امیر ( گورنر ، حاکم ) عبید اللہ بن زیاد کے پاس روانہ کر دیں گے اور اگرتم انکار کرو گے تو پھر ہم تم کو نہیں چھوڑیں گے ۔“


ساتھیوں کو جانے کی اجازت


حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو جمع کر کے انہیں جانے کی اجازت دے دی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب عمر بن سعد اپنے لشکر کولیکر واپس چلا گیا تو اس وقت شام ہونے والی تھی۔ تب حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو جمع کیا۔ حضرت علی (اوسط ) بن حسین (امام زین العابدین ) فرماتے ہیں: یہ دیکھ کر میں آپ رضی اللہ عنہ کے قریب چلا گیا کہ سنوں کیا فرماتے ہیں؟ اور میں بیمار تھا ۔ میں نے سنا کہ میرے والد محترم رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: ” میں اللہ تعالیٰ کی بہترین حمدوثنا کرتا ہوں اور راحت و مصیبت میں اُس کا شکر ادا کرتا ہوں، اے اللہ تعالیٰ ! میں تیرا شکر بجا لاتا ہوں کہ تو نے ہم لوگوں کو نبوت کی کرامت دی، بٹو نے ہم کو قرآن کی تعلیم دی ، تو نے ہم کو علم دین عطا فرمایا، تو نے ہم کو سماعت و بصارت اور دل عطا فرمایا ، تو نے ہم کو مشرکوں میں شمار نہیں ہونے دیا۔ اس کے بعد مجھے یہ کہنا ہے کہ اپنے ساتھیوں سے افضل و بہتر ساتھی اور اپنے اہل بیت سے زیادہ وفادار اور فرمانبردار اہل بیت میں نے نہیں دیکھے۔ سنو میں سمجھ چکا ہوں کہ ان دشمنوں کے ہاتھوں صبح ہم لوگوں کی قضا ہے ۔ سنو ! تم سب کے سب لوگوں کے بارے میں میری یہ رائے ہو چکی ہے کہ تم سب واپس چلے جاؤ۔ اس لئے میری طرف سے تم سب کو اجازت ہے کہ تم سب واپس چلے جاؤ۔ میری طرف سے کوئی روک ٹوک نہیں ہے۔ دیکھو رات کی تاریکی چھائی ہوئی ہے اسے غنیمت جانو اور واپس چلے جاؤ۔“


آل عقیل کی جاں نثاری


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے سب لوگوں کو جانے کی اجازت دے دی لیکن کوئی بھی ہلنے کو تیار نہیں ہوا۔ یہ دیکھ کر آپ رضی اللہ عنہ ایک ایک کو پکڑ کر سمجھانے لگے کہ انہیں میری جان چاہئے اور وہ تمہیں کچھ نہیں کہیں گے اس لئے تم سب چلے جاؤ ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: جب رات آئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” دیکھو رات کی تاریکی چھائی ہوئی ہے، اسے غنیمت سمجھو اور تم میں سے ایک ایک شخص میرے اہل بیت میں سے ایک ایک شخص کا ہاتھ پکڑلے اور یہاں سے چلا جائے۔ پھر جب اطمینان ہو جائے تو تم سب اپنے اپنے قصبوں ،شہروں کی طرف نکل جانا۔ یہ لوگ صرف میرے طلب گار ہیں۔ مجھے شہید کر لیں گے تو پھر کسی اور کا خیال نہیں کریں گے۔ یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ کے بھائی، بیٹے بھیجے اور بھانجے سب کہنے لگے : ”ہم سے یہ نہیں ہوگا کہ آپ رضی اللہ عنہ کے بعد ہم زندہ رہیں اور اللہ ہمیں وہ دن نہیں دکھائے ۔ سب سے پہلے حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ نے یہ کلمہ کہا۔ پھر سب ہی نے ایسے ہی کلام کہے ان میں آل عقیل سب سے آگے آگے تھے ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” اے آل عقیل ! حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کا شہید ہونا ہی تمہارے لئے کافی ہے۔ تم چلے جاؤ! میں اجازت دیتا ہوں ۔ “ آل عقیل نے عرض کیا : لوگ کیا کہیں ؟ یہی کہیں گے کہ ہم اپنے بزرگ اپنے سردار اور اُن کے ساتھ اپنے چچا کو جو بہترین چچا تھے چھوڑ کر چلے آئے ۔ نہ تو اُن کے ساتھ شریک ہو کر برچھی کا کوئی وار کیا اور نہ ہی تلوار کا ہاتھ مارا۔ یہ بھی معلوم نہیں ہوا کہ اُن پر کیا گزری؟ ہر گز نہیں۔ اللہ کی قسم ہم سے یہ نہیں ہوگا بلکہ ہم اپنی جانیں، اپنا مال اور اپنے اہل و عیال کو بھی آپ رضی اللہ عنہ پر فدا کر دیں گے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ شریک ہو کر قتال کریں گے جو آپ رضی اللہ عنہ کا حال ہوگا وہی ہمارا بھی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہم کو وہ زندگی نہ دے جو آپ رضی اللہ عنہ کے بغیر ہو۔“


حضرت مسلم بن عوسجہ اور حضرت سعد بن عبد اللہ کی جاں نثاری


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں اور اہل بیت کو سمجھارہے تھے لیکن کوئی بھی جانے کو تیار نہیں تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت مسلم بن عوسجہ اسدی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا : ” کیا ہم آپ رضی اللہ عنہ کو چھوڑ کر چلے جائیں اور ابھی اللہ کے سامنے آپ رضی اللہ عنہ کے حق سے ہم ادا بھی نہیں ہوئے ہیں۔ ہاں ! اللہ کی قسم ! جب تک میری برچھی اُن لوگوں کے سینہ میں ٹوٹ کر نہ رہ جائے ۔ جب تک تلوار کا قبضہ میرے ہاتھ میں ہے اور اُن کو تلوار میں مار نہ لوں ، تب تک میں آپ رضی اللہ عنہ سے جدا نہیں ہوں گا ۔ اگر ان سے لڑنے کے لئے میرے پاس ہتھیار نہیں ہوتے تو میں آپ رضی اللہ عنہ کی نصرت میں انہیں پتھر مار مار کر آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہی مرجاتا ۔ “ حضرت سعد بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کی قسم ! ہم آپ رضی اللہ عنہ کو چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔ اللہ تعالی یہ تو دیکھ لے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہم نے آپ رضی اللہ عنہ کی کیسی حفاظت کی ۔ اللہ کی قسم! اگر میں یہ جانتا کہ میں شہید ہونے کے بعد پھر زندہ کیا جاؤں گا۔ پھر زندہ جلادیا جاؤں گا اور پھر میری خاک اُڑا دی جائے گی۔ ستر (70) مرتبہ یہی حالت مجھ پر گزرے گی تب بھی جب تک آپ رضی اللہ عنہ کی نصرت میں مجھے موت نہیں آجاتی تب تک میں آپ رضی اللہ عنہ سے جدا نہیں ہوتا اور اب تو ایک ہی دفعہ میں شہید ہو جاتا ہے اور اس میں وہ شرف و کرامت ہے جسے ابد تک زوال نہیں ہے۔ پھر میں اسے حاصل کیوں نہیں کروں؟“ 


حضرت زہیر بن قین اور دوسرے ساتھیوں کی جاں نثاری


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے اہل بیت اور ساتھیوں میں سے کوئی بھی آپ رضی اللہ عنہ کو چھوڑنے کو تیار نہیں تھا اور ہر کوئی آپ رضی اللہ عنہ پر جاں شمار کرنے کے لئے بے تاب تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اللہ کی قسم! میں تو چاہتا ہوں کہ شہید کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر شہید کیا جاؤں۔ اسی طرح ہزار دفعہ میں شہید کیا جاؤں اور اللہ تعالیٰ آپ رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے اہل بیت کو بچالے۔ اسی طرح کے ایک ہی طرز کلام آپ رضی اللہ عنہ کے تمام ساتھیوں نے کئے اور کہتے تھے: اللہ کی قسم ! ہم آپ رضی اللہ عنہ کو چھوڑ کر نہیں جائیں گے بلکہ اپنی جانیں آپ رضی اللہ عنہ پر فدا کریں گے۔ ہم اپنے ہاتھوں سے اپنی گردنوں سے اور اپنی پیشانیوں سے آپ رضی اللہ عنہ کو بچائیں گے۔ ہم شہید ہو جائیں گے تو وہ حق جو ہم پر لازم ہے وہ وفا ہو جائے گا۔“


سیده زینب بنت علی رضی اللہ عنہا کی بے قراری


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی بہت کوششوں کے باوجود کوئی بھی آپ رضی اللہ عنہ کا ساتھ چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے سب کا شکریہ ادا کر کے آرام کرنے کی اجازت دے دی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت علی (اوسط) بن حسین (امام زین العابدین ) فرماتے ہیں : ” اُسی شام کا ذکر ہے جسکی صبح کو میرے والد محترم شہید کئے جانے والے تھے ۔ میں بیٹھا ہوا تھا اور میری پھوپھی سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا میری تیمار داری میں مصروف تھیں جبکہ میرے والد محترم نے اپنے ساتھیوں سے باتیں کرنے کے بعد اپنے خیمے میں تخلیہ میں تھے اور اُس وقت حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ” حولی آپ رضی اللہ عنہ کے پاس تلوار کی دیکھ بھال کر رہے تھے۔ اُس وقت میرے والد محترم نے یہ شعر پڑھا: ” اے دہ نا پائیدار! تجھ پر وائے ہو۔ کیا ہی برا دوست ہے تو ۔ کہ ہر صبح و شام کسی دوست یا دشمن کو مار رکھتا ہے ایک کے عوض میں دوسرے کو قبول نہیں کرتا اور یہ سب اللہ کے حکم سے ہوتا ہے اور جو زندہ ہے اُسے اس راستہ جاتا ہے ۔ ان اشعار کو آپ رضی اللہ عنہ نے دو تین بار پڑھا۔ میں سمجھ گیا اور اس ارادے کے بارے میں جان گیا جو آپ رضی اللہ عنہ نے کیا تھا۔ مجھے بے اختیار رونا آگیا لیکن میں نے آنسوؤں کو ضبط کر لیا اور خاموش رہا۔ مگر میری پھوپھی نے بھی ان اشعار کو سن لیا۔ عورتوں کی طبیعت میں رقت اور بے صبری ہوتی ہے، خود کو سنبھال نہیں سکیں ۔ بر ہنہ سر دوڑیں اور چادر کو کھنچتی ہوئی آپ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچیں اور بولی :’ وامصیحا ! ارے آج مجھے موت آگئی ہوتی اے بزرگوں کے جانشین ، اے در ماندوں کے شفیق، بس آج میری والدہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رحلت کر گئیں ۔ میرے والد محترم حضرت علی رضی اللہ عنہ اور میرے بھائی حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے بھی آج رحلت کی ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اُن کی طرف دیکھا اور فرمایا: "اے میری پیاری بہن ! دیکھو! کہیں شیطان تمہارے علم کو زائل نہ کر دے۔ کہنے لگیں: ”اے میرے بھائی رضی اللہ عنہ ! میرے ماں باپ تم پر خدا ! میری جان تم پر خدا ! تم نے شہید ہونا گوارا کر لیا۔


بہن کو تسلی


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی بہن سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا سمجھ گئیں کہ آپ رضی اللہ عنہ نے شہادت کے مرتبہ پر فائز ہونے  کا فیصلہ کر لیا ہے اور آپ رضی اللہ عنہ کی جدائی کے خیال سے بے چین ہو گئیں تو آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں تسلی دی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت علی (اوسط) بن حسین (امام زین العابدین) رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ” یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی طبیعت کو سنبھالا اور آنکھوں میں آئے آنسوؤں کو ضبط کر کے فرمایا: ”موت نے چین سے بیٹھنے نہیں دیا ۔ بہن سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا نے یہ سن کر فرمایا: " ہائے بھائی ! کیا تمہیں مجبور کریں گے؟ اس سے تو اور بھی میرا کلیجہ ٹکڑے ہوا جاتا ہے۔ میرے دل کو سخت قلق گذر رہا ہے ۔ “ یہ کہہ کر رونے لگیں اور خش کھا کر گر پڑیں۔ بہن کا یہ حال دیکھ کر آپ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور اُن کے پاس آکر چہرہ پر پانی چھڑکا اور فرمایا: ”پیاری بہن ! اللہ کا خوف کرو، اللہ کے لئے صبر کرو۔ اس بات کو سمجھو کہ روئے زمین پر سب مرنے والے ہیں۔ اہل آسمان بھی باقی نہیں رہیں گے۔ اُس اللہ کی ذات کے سوا جس نے اپنی قدرت سے اس زمین کو پیدا کیا اور جو پھر سے مخلوق کو زندہ کرے گا اور سب کے سب واپس آجائیں گے اور جو یگانہ دوتہا ہے۔ سب چیزیں مٹ جانے والی ہیں۔ میرے ماں باپ مجھ سے بہتر تھے۔ میری والدہ تم سے بہتر تھیں۔ میرے بھائی مجھ سے بہتر تھے اور مجھے اُن سب کو اور ہر مسلمان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حال سے تسکین ہونی چاہیئے ۔ اسی طرح کافی دیر تک آپ رضی اللہ عنہ بہن کو تسلی دیتے رہے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” پیاری بہن! میں تم کو قسم دیتا ہوں اور میری قسم کوتم پورا کرنا ۔ میں شہید ہو جاؤں تو اپنے گریباں کو چاک نہیں کرنا، منہ کو نہیں پیٹنا اور ہلاکت اور موت کو نہیں پکارنا۔ یہ فرما کر آپ رضی اللہ عنہ میری پھوپھی کو لیکر میرے پاس آئے اور میرے پاس بٹھا کر چلے گئے ۔ اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ خیموں کو قریب قریب اس طرح نصب کریں کہ طنابوں کے اندرطنا ہیں آجائیں۔ ( خیموں کا حلقہ بن جائے ) سب لوگ خود اس حلقہ کے درمیان رہیں۔ بس ایک رخ جدھر سے دشمن آنے والے ہیں کھلا رہنے دیں۔


ایک بد بخت کی گستاخی


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ رات بھر عبادت اور استغفار میں گزارتے رہے ۔ اسی دوران دشمنوں کے پہریداروں کا گشتی رسالہ اُدھر سے گزرا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ” حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور اُن کے ساتھی پوری رات بیدار رہے اور سب نمازیں پڑھ رہے تھے اور استغفار کر رہے تھے۔ اسی دوران سواروں کا ایک رسالہ جو اُن کی نگہبانی کرنے کو دشمن کی طرف سے مقرر ہوا تھا اُدھر سے گذرا۔ اُس وقت آپ رضی اللہ عنہ یہ آیت تلاوت کر رہے تھے : ترجمہ ”ہاں جو لوگ کافر ہو گئے وہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم جو انہیں ڈھیل دے رہے ہیں اس میں اُن کے لئے بہتری ہے۔ ہم تو اس لئے انہیں ڈھیل دے رہے ہیں کہ وہ اور بھی گناہوں میں مبتلا ہو جا ئیں۔ اُن کے لئے تو ذلیل کر دینے والا عذاب ہے۔ اللہ یہ نہیں کرے گا کہ تم لوگ جس حال میں ہو اُسی میں مومنین کو رہنے دے۔ وہ پاک اور نا پاک دونوں کو جدا کر کے رہے گا ۔ اس آیت کو رسالہ کے لوگوں نے بھی سنا۔ اُن میں سے ایک بد بخت شخص نے کہا: قسم ہے رب کعبہ کی ! ہم ہی لوگ پاک ہیں اور تم لوگوں سے جدا کر لئے گئے ہیں۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں سے ایک شخص نے حضرت بریر بن خضیر رضی اللہ عنہ سے پوچھا آپ جانتے ہیں یہ شخص کون ہے؟ حضرت بریر بن خضیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نہیں جانتا۔“ اس شخص نے بتایا: ” یہ ابو حرب سبیعی ہے اور یہ شخص بڑا اہنسی مذاق کرنے والا اور بے ہودہ شرفاء میں بڑا دلیر وسفاک ہے۔ سعید بن قیس نے اسے خون کرنے پر کبھی قید بھی کیا تھا۔ حضرت بریر رضی اللہ عنہ نے اُس کا نام سن کر اُسے پکارا : او فاسق ! تجھے کو اللہ نے پاک لوگوں میں شمار کیا ہے ؟ اس نے پوچھا: ” تو کون ہے؟ انہوں نے فرمایا د میں بریر بن خضیر ہوں ۔ اس بدبخت نے کہا: ”انا للہ ! یہ بات مجھ پر شاق ہے۔ اے بریر! اللہ کی قسم ! تو ہلاک ہوا۔ اللہ کی قسم ! تو ہلاک ہوا۔“ حضرت بریر بن خضیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” اے ابو حرب ! اللہ کے سامنے اپنے کبیرہ گناہوں سے توبہ کر لینے کا ہی موقع ہے۔ سُن ! اللہ کی قسم ! ہم سب پاک لوگوں میں ہیں اور تم سب ناپاک ہو ۔ ابو حرب نے تمسخر سے کہا: ہاں ہاں! میں بھی گواہوں میں ہوں ۔ ایک شخص نے کہا: ”وائے ہو تجھ پر ا جان کر بھی تو نہیں سمجھ رہا ہے ۔“ 


قافلے اور لشکر کی صف بندی


دوسرے دن یعنی دس محرم الحرام عاشورہ کے دن حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اپنے قافلے کے مردوں کی صف بندی کی جن کی تعداد اسی 80 سے بھی کم تھی اور ادھر عمر بن سعد نے چار ہزار ۴۰۰۰ سے زیادہ کے لشکر کی صف بندی کی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: عمر بن سعد عاشورہ کے روز شنبہ کا دن تھا یا جمعہ کا دن تھا صبح کی نماز پڑھ چکا تو اپنے لشکر کولیکر نکلا۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی اور اُن کی صف بندی کی ۔ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بتیس 32 سوار اور چالیس 40 پیدل تھے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے میمنہ پر حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ کو میسرہ پر حضرت حبیب بن مظاہر رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا اور علم ( جھنڈا ) اپنے بھائی حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ کو دیا خیموں کو پشت پر رکھا اور خیموں کے پیچھے آپ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ لکڑیاں اور بانس جمع کر کے اُس میں آگ لگا دی جائے۔ خوف یہ تھا کہ دشمن پیچھے سے حملہ نہ کر دیں۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے خیموں کے پیچھے زمین پست تھی جیسے ایک پتیلی نہر کھدی ہوئی ہو۔ اس کو رات کے وقت سب نے خود کر خندق کی طرح بنا لیا تھا اور اس میں لکڑیاں اور بانس ڈال دیئے تھے کہ جب صبح دشمن حملہ کریں تو اس میں آگ لگا دیں گے تا کہ دشمن سے ایک ہی رخ سے مقابلہ کیا جاسکے اور دشمن پیچھے سے حملہ نہیں کر سکے۔ یہی احتیاط انہوں نے کی اور یہ اُن کے کام آئی۔ عمر بن سعد نے بھی اپنے لشکر کی صف بندی کی۔ اُس کے ساتھ ایک ربع اہل مدینہ تھے اور اُن کا کمانڈر عبداللہ بن زہیر از دی تھا۔ ایک ربع قبیلہ بنو ند حج اور بنو اسد کے لوگ تھے اور اُن کا کمانڈر عبدالرحمن بن ابی سیرہ تھا۔ ایک ربع قبیلہ بنور بیعہ اور بنوکندہ کے لوگ تھے اور اُن کا کمانڈ رقیسا بن اشعث تھا۔ ایک ربع قبیلہ بنو تمیم اور بنو ہمدان کے لوگ تھے اور اُن کا کمانڈر حربن یزید تھا۔ حربن یزید کے سوا سب لوگ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے میں شریک تھے۔ صرف ایک حربن یزید تھا کہ ان لوگوں سے جدا ہو کر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی طرف چلا آیا تھا اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ شہید ہوا ۔ عمر بن سعد نے میمنہ پر عمر بن حجاج کو کمانڈر مقرر کیا ۔ میسرہ پر شمر بن ذی جوشن کو کمانڈر مقرر کیا ۔ رسالہ عزرہ بن قیس کو دیا اور پیدل کا کمانڈر شبٹ بن ربعی کو بنایا اور اپنے غلام آزاد در ید کو شکر کا علم (جھنڈا ) دیا۔ 


شمر بن ذی جوشن کی گستاخی


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اپنے قافلے کے ساتھ صف بندی کئے کھڑے اللہ سے دعا کر رہے تھے کہ دشمنوں کا ایک کمانڈر شمر بن ذی جوشن گھوڑا دوڑا تا ہوا آیا اور آپ رضی اللہ عنہ سے گستاخی کی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عاشورہ کے دن صبح کے وقت جب دشمن کا لشکر سامنے صف آرا ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے دونوں ہاتھ اُٹھائے اور اللہ تعالٰی سے یہ دعا کی : ”اے اللہ تعالیٰ ! ہر مصیبت میں مجھے تجھ پر ہی بھروسہ ہے۔ ہر سختی میں مجھے تجھ ہی سے اُمید ہے۔ جو بلا مجھ پر نازل ہو، اس میں تیرا ہی سہارا ہے ۔ تجھ ہی پر بھروسہ ہے کتنی ہی آفتیں اس طرح پیش آئیں جس میں دل بیٹھ جائے ، جس کا کوئی چارہ کار نہ ہو، جس میں دوست ساتھ نہ دے اور جس میں دشمن خوشی منائے ۔ میں نے تجھ پرہی بھروسہ کیا اور تجھ سے اپنا درد دل کہا۔ تیرے سوا کسی سے کہنے کو دل نہیں چاہتا۔ تو نے آفتوں کو ٹال دیا اور دفع کر دیا۔ بس ہر نعمت کا بخشنے والا، ہر نیکی کا عطا کرنے والا اور ہر مراد کا دینے والا تو ہی ہے ۔ عمر بن سعد کے لشکر کے لوگوں نے دیکھا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی پشت پر آگ جل رہی ہے تو ایک شخص گھوڑا دوڑاتا ہوا اُدھر سے گذرا۔ اُس نے کسی سے کچھ بات نہیں کی بلکہ سیدھا خیموں کی طرف گیا تو دیکھا کہ آگ کے شعلوں کی وجہ سے خیمے دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ وہاں سے پلٹا اور بلند آواز سے پکار کر بولا: "اے (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) قیامت سے پہلے دنیا میں ہی تم نے آگ میں جانے کی جلدی کی ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا : یہ کون شخص ہے؟ شاید یہی شمر بن ذی جوشن ہے۔ لوگوں نے جواب دیا ”ہاں! اللہ تعالیٰ آپ رضی اللہ عنہ کو سلامت رکھے۔ یہ بد بخت وہی ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اُسے بلند آواز سے فرمایا: ”ادبکریاں چرانے والی کے بچے آگ میں جلنے کا تو زیادہ حقدار ہے ۔ حضرت مسلم عوسجہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ”اے آل رسول رضی اللہ عنہ! میں آپ رضی اللہ عنہ پر فدا ہو جاؤں ایہ بد بخت میرے تیر کی زد پر ہے، حکم دیں تو اسے تیر مار دوں؟ تیر خطا نہیں کرے گا اور یہ فاسق بہت بڑے جباروں میں سے ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تیر نہیں مارنا، ہماری طرف سے ابتداء کرنا مجھے گوارا نہیں ہے۔“


دشمنوں کو پھر سے سمجھانا ہے


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے ایک بار پھر دشمنوں کو سمجھانے کی کوشش کی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک گھوڑا تھا جس کا نام لاحق تھا۔ اُس گھوڑے پر آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے بڑے بیٹے علی (اکبر ) بن حسین رضی اللہ عنہ کو سوار کیا۔ جب دشمن آگے بڑھے تو آپ رضی اللہ عنہ نے ایک اونٹ منگوایا اور اس پر سوار ہو کر آگے بڑھے اور بلند آواز سے جسے سب لوگوں نے سنا دشمنوں سے فرمایا: ”اے لوگو! میری بات سن لو! میرے ساتھ جلدی نہ کرو اور جو باتمیں تم سے کہنا ضروری ہیں مجھے کہہ لینے دو۔ تم لوگوں کے پاس آنے کا مجھے عذر کر لینے دو۔ اگر تم میرا عذر مان لو گے، میری بات کو سچ سمجھو گے، میرے ساتھ انصاف کرو گے تو تم نیکی کرو گے اور اگر میرا عذر نہیں مانتے اور میرے ساتھ انصاف نہیں کرتے تو پھر مجھ پر الزام نہیں دھر سکو گے ۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ” پھر جو تمہارا ارادہ ہو اُس پر آمادہ ہو جاؤ۔ اپنے شرکاء کو پکارو اور اچھی طرح سمجھ لو کہ اب کوئی تر دو تو تم کو نہیں ہے۔ پھر میرے ساتھ جو سلوک کرنا چاہتے ہو کر گذرو اور مجھے ذرا بھی مہلت نہ دو۔ میرا سہارا تو صرف اللہ تعالیٰ پر ہی ہے جس نے کتاب کو نازل کیا ہے۔ وہی تو نیک بندوں کو دوست رکھتا ہے ۔“ آپ رضی اللہ عنہ کی بات جب آپ رضی اللہ عنہ کی بہنوں نے سنا تو چلا چلا کر رونے لگیں۔ اُن کی آواز سن کر آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ اور بیٹے حضرت علی (اکبر ) بن حسین رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ” انہیں چپ کر اؤ ، ابھی تو انہیں بہت رونا ہے ۔ وہ دونوں حضرات عورتوں کی طرف گئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کیا بات کہی تھی ۔ یعنی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے آپ رضی عنہ کو منع کیا تھا کہ اپنے اہل و عیال کو لیکر نہ جائیں ۔ اب اُن کے رونے کی آواز سن کر آپ رضی اللہ عنہ کو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا وہ کہنا یاد آ گیا۔ 


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!


Saltanat e Umayya part 18

 18 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 18

حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا حجت قائم کرنا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نواسہ ہوں، تم لوگوں نے ہی مجھے بلایا ہے، حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ کا حجت قائم کرنا، تم نے حضرت موسیٰ کے مرد مومن کی طرح اپنی قوم کی خیر خواہی کی، حربن یزید کی کشمکش اور صحیح فیصلہ، حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ کی تو بہ، حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ کا سمجھانا اور حجت قائم کرنا، عمر بن سعد کا تیر اور حضرت عبداللہ بن عمیر، 


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا حجت قائم کرنا


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اپنے دشمنوں کو سمجھا رہے تھے اور اُن پر حجت قائم کر رہے تھے تا کہ کل قیامت کے دن وہ یہ نہ کہ کیں کہ اگر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ ہمیں سمجھاتے تو ہم مان جاتے لیکن انہوں نے ہمیں سمجھایا ہی نہیں ہے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب اہل وعیال کے رونے کی آواز بند ہو گئی تو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کی اور اُس کی شان کے لائق اُس کا ذکر کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، انبیائے کرام علیہم السلام اور فرشتوں پر درود وسلام بھیجا۔ حمد ونعت کو آپ رضی اللہ عنہ نے اتنی تفصیل سے بیان کیا کہ طوالت کے خوف سے یہاں ذکر نہیں کر رہے ہیں ۔ راوی کہتا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے ایسی فصیح و بلیغ تقریر کی جیسی اس سے پہلے کبھی نہیں سنی تھی اور نہ اس کے بعد کبھی سنی ۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میرے خاندان کا خیال کرو کہ میں کون ہوں؟ پھر اپنے دل سے پوچھو اور غور کرو کہ مجھے شہید کرنا اور میری ہتک حرمت کرنا کیا تم لوگوں کے لئے حلال ہے؟ کیا میں رسول اللہ صلی اللہصلی اللہ علیہ وسلم کا نواسہ نہیں ہوں ؟ کیا میں اُن کے وصی اور اُن کے چازاد بھائی کا بیٹا نہیں ہوں جو سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں سے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے پاس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو احکام لیکر آئے انہوں نے تصدیق کی۔ کیا سید شہدا حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ میرے والد محترم کے چانہیں ہیں؟ کیا حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ شہید ذوالجناحین میرے چانہیں ہیں؟ کیا تم نے نہیں سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور میرے بھائی حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: یہ دونوں جنت کے نو جوانوں کے سردار ہیں ۔ جو کچھ میں تم سے کہ رہا ہوں ، یہ حق بات ہے اگر تم میری تصدیق کرو گے تو سُن لو! اللہ کی قسم جب سے مجھے اس بات کا علم ہوا ہے کہ جھوٹ بولنے والے سے اللہ بیزار ہو جاتا ہے اور جھوٹ بنانے والے کو اُس کے جھوٹ سے ضرور پہنچاتا ہے۔ میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا ہے۔ اگر تم مجھے جھوٹا سمجھ رہے ہو تو سنو تم میں ایسے لوگ ابھی بھی موجود ہیں اُن سے جا کر پوچھو تو وہ بیان کریں گے ۔ حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ ، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ، حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ۔ یہ سب حضرات رضی اللہ عنہم تمہارے درمیان ابھی بھی ہیں۔ جاؤ! اور جا کر اُن سے پوچھو! وہ سب لوگ بیان کریں گے کہ انہوں نے میرے اور میرے بھائی کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا کہتے سنا ہے؟ کیا یہ امر (یعنی اہم بات ) بھی میرا خون بہانے میں تم لوگوں کو مانع نہیں ہے؟ 


میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نواسہ ہوں


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ دشمنوں کو سمجھا رہے تھے اور حجت قائم کر رہے تھے لیکن وہ بد بخت اپنی دنیا بنانے کی فکر میں اپنی آخرت برباد کرنے پر تلے ہوئے تھے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی بات سن کر شمر بن ذی جوشن نے کہا: ”یہ اللہ کی عبادت ایک ہی رُخ سے کرتے ہیں۔ اللہ جانے کیا کہہ رہے ہیں؟ حضرت حبیب بن مظاہر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم ! میں سمجھتا ہوں کہ تو اللہ عبادت ستر رخ سے کرتا ہے۔ بے شک تو سچ کہہ رہا ہے تیری سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کیا فرمارہے ہیں؟ بے شک اللہ نے تیرے دل پر مہر لگا دی ہے ۔ اس کے بعد حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے دشمنوں سے فرمایا: ”تمہیں اس بات میں اگر شک ہے تو کیا اس امر میں بھی شک ہے کہ میں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کا نواسہ ہوں ؟ اللہ کی قسم اس وقت مشرق سے لیکر مغرب تک میرے سوا کوئی شخص تم میں سے ہو یا تمہارے سوا ہو کسی نبی کا نواسہ نہیں ہے اور میں تو خاص تمہارے اور سب کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کا نواسہ ہوں ۔ یہ تو بتاؤ! کیا تم مجھے اس لئے شہید کرنا چاہتے ہو کہ میں نے تم میں سے کسی کوقتل کیا ہو؟ یا تمہارے کسی مال کو ہڑپ کر لیا ہو؟ یا میں نے کسی کو زخمی کیا ہو؟ اور تم مجھ سے اس کا قصاص چاہتے ہو۔ یہ سن کر کسی نے آپ رضی اللہ عنہ کوکوئی جواب نہیں دیا۔


تم لوگوں نے ہی مجھے بلایا ہے


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ انہیں سمجھا رہے تھے اور اُن سے پوچھ رہے تھے کہ آخر تم لوگ مجھے شہید کیوں کرنا چاہتے ہو؟ اُن لوگوں سے کوئی جواب نہیں بن پڑرہا تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے دشمنوں کو مخاطب کر کے فرمایا: ”اے شبت بن ربعی ! اے تجار بن جبرا اے قیس بن اشعث ! اے یزید بن حارث اتم لوگوں نے مجھے خطوط نہیں لکھے کہ میوے پک گئے ہیں، باغ سرسبز ہور ہے ہیں، تالاب چھلک رہے ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نصرت کے لئے لشکر لیکر یہاں آجائیے ۔ اُن لوگوں نے جواب دیا : ”ہم نے نہیں لکھا تھا“۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” نہیں اللہ کی قسم اتم نے ہی لکھا تھا۔ اے لوگو! اگر میرا یہاں آنا تمہیں ناگوار گذرا ہو تو مجھے دنیا کے کسی بھی گوشتہ امن کی طرف چلا جانے دو ۔ قیس بن اشعث نے کہا: ” آپ (رضی اللہ عنہ ) اپنے قربت داروں کے حکم پر سرکیوں نہیں جھکا دیتے ؟ یہ سب آپ (رضی اللہ عنہ ) سے اُسی طرح پیش آئیں گے جیسا آپ (رضی اللہ عنہ ) چاہتے ہیں۔ ان کی طرف سے کوئی ایسا کام نہیں ہوگا جس کی وجہ سے آپ (رضی اللہ عنہ ) کو ناگواری ہو ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: " آخر تو محمد بن اشعث کا بھائی ہے اور اب تو چاہتا ہے کہ جس طرح حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے تیرے بھائی کی امان پر بھروسہ کر کے دھوکا کھایا تھا میں بھی تجھ پر اعتبار کر کے دھو کہ کھاؤں اور حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے خون سے بڑھ کر بنو ہاشم کی طرف سے تجھ سے مطالبہ ہو۔ اللہ کی قسم ! میں ذلت کے ساتھ تم لوگوں کے ہاتھ میں ہاتھ دینے والا نہیں ہوں اور نہ ہی غلاموں کی طرح اطاعت کا اقرار کرنے والا ہوں ۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ترجمہ " اے اللہ کے بندو! میں اپنے اور تمہارے رب (پروردگار ) سے اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ تم مجھے سنگسار کرو۔ میں اپنے اور تمہارے رب (پروردگار ) سے ہر ایسے ظالم سے پناہ مانگتا ہوں پناہ مانگتا ہوں جو روز حساب پر ایمان نہیں رکھتا ہے ۔ اتنا فرما کر آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے اونٹ کو بٹھا دیا اور حضرت عقبہ بن سمعان رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اس اونٹ کو باندھ دو۔


حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ کا حجت قائم کرنا


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اپنی جگہ واپس آگئے تو حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور انہیں سمجھانے لگے اور حجت قائم کرنے لگے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ ایک تیار گھوڑے پر سوار ہتھیار لگائے آگے بڑھے اور دشمنوں سے فرمایا: "اے اہل کوفہ ! اللہ کے عذاب سے ڈرو! اللہ کے عذاب سے۔ سنو! ہر مسلمان کو اپنے مسلمان بھائی کی خیر خواہی کرنا واجب ہے ۔ ہمارے اور تمہارے درمیان جب تک تلوار نہیں آئے گی تب تک ہم اور تم بھائی بھائی ہیں، ایک ہی دین اور ایک ہی ملت پر ہیں اور ہماری خیر خواہی کے تم لائق ہو ۔ ہاں جب تلوار ہمارے درمیان میں آجائے گی تب مروت منقطع ہو جائے گی ۔ سنو! اللہ تعالیٰ نے ہمیں اور تمہیں اپنے نبی محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی ذریت کے باب میں آزمائش کے مرحلے میں ڈالا ہے تا کہ اللہ دیکھ لے کہ ہم کیا کرتے ہیں اور تم کیا کرتے ہو؟ ۔ ہم لوگ تم سب لوگوں کو اس امر کی طرف بلاتے ہیں کہ زیاد کے مردود بیٹے عبید اللہ بن زیاد کا ساتھ چھوڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذریت کی نصرت کرو ۔ کل تم اُن دونوں یزید اور عبید اللہ) کے عہد میں برائی کے سوا کچھ نہیں دیکھو گے۔ یہ تم لوگوں کی آنکھیں نکلوالیتے ہیں، ہاتھ کٹوالتے ہیں، پاؤں قطع کرتے ہیں، گوش بینی و سرکاٹ لیتے ہیں۔ تمہاری لاشوں کو ٹنڈ درختوں پر یہ لٹکا دیتے ہیں تمہارے بزرگوں کو تمہارے قاریوں کو حضرت حجر بن عدی کو اور اُن کے ساتھیوں کو اور ہانی بن عروہ کو اُن جیسے لوگوں کو یہ قتل کرتے ہیں۔


تم نے حضرت موسیٰ کے مرد مومن کی طرح اپنی قوم کی خیر خواہی کی


یہ سن کر دشمنوں نے حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ کو سخت کلمے کہے اور عبید اللہ بن زیاد کی ثنا کی اور اُسے دعا دی اور کہا: ” جب تک ہم لوگ تمہارے سردار اور اُن کے ساتھیوں کوقتل نہیں کرلیں گے یا جب تک اُن کو اور اُن کے ساتھیوں کو گرفتار کر کے امیر عبید اللہ بن زیاد کے پاس بھیج نہیں لیں گے تب تک ہم یہاں سے قدم پیچھے نہیں ہٹائیں گئے ۔ حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے اللہ کے بندو! سیدہ فاطمہ زہرہ رضی اللہ عنہا کے کی اولا د شمیہ کے بیٹے (عبد اللہ کے باپ زیاد کے باپ کا نام کسی کو نہیں معلوم تھا اس لئے اُسے اُس کی ماں سمیہ کے نام سے نمیہ کا بیٹا کہتے تھے ) سے زیادہ نصرت اور مودت کا حق رکھتی ہے۔ اگر تم اُن کی نصرت نہیں کرتے ہوتو اللہ کے واسطے اُن کے قتل سے باز آجاؤ۔ اُن کو اُن کے چازاد یزید کی رائے پر چھوڑ دو۔ میں قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ یزید تمہاری اطاعت گزاری سے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کوشہید کئے بغیر راضی رہے گا۔ یہ سن کر شمر بن ذی جوشن نے ایک تیر حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ کی طرف مار کر کہا: ” خاموش ! اللہ تیری بک بک کو ہمیشہ کے لئے خاموش کر دے تو نے ہم لوگوں کا دماغ پریشان کر دیا ہے۔ حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے اس باپ کے بیٹے جس کا پیشاب ایڑیوں تک بہ کر آتا تھا! میں تجھ سے خطاب نہیں کر رہا ہوں۔ تو تو ڈھور ہے۔ اللہ کی قسم! میں جانتا ہوں کہ تو اللہ کی کتاب کی دو آیات کو سمجھ نہیں سکتا ہے۔ لے ! قیامت کی رسوائی اور عذاب الیم تجھے مبارک ہو ۔ شمر بن ذی جوشن نے کہا: ”اللہ تجھ کو اور تیرے سردار کو ابھی قتل کرے گا ۔ حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: " تو مجھے موت سے ڈراتا ہے۔ اللہ کی قسم ! حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ مرجان تم لوگوں کے ساتھ ہمیشہ زندہ رہنے سے زیادہ بہتر سمجھتا ہوں“۔ اتنا فرمانے کے بعد حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ نے با آواز بلند سب لوگوں سے خطاب کر کے فرمایا: اے اللہ کے بندو! اس سفلہ پاچی کی باتوں پر اپنے دین سے نہیں پھر جانا۔ اللہ کی قسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت اُن لوگوں کو نہیں ملے گی جنہوں نے اُن کی ذریت کا خون بہایا ہوگا اور ان کی نصرت کرنے والوں اور اُن کے اہل بیت کے بچانے والوں کوقتل کیا ہوگا ۔ اسی دوران میں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے ایک شخص نے بلند آواز سے حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ سے کہا: ” حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ تم سے فرمارہے ہیں کہ اب واپس چلے آؤ اور فرمارہے ہیں کہ میری جان کی قسم ! اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت کے آل فرعون کے ”مرد مومن نے اپنی قوم کی خیر خواہی کی تھی اور انہیں حق کی طرف بلانے میں انتہا کر دی تھی تو تم نے بھی ان لوگوں کی خیر خواہی کی انتہا کر دی ۔ کاش! تمہاری خیر خواہی اور انتہا کی کوشش انہیں فائدہ پہنچاتی“۔


حربن یزید کی کشمکش اور صحیح فیصلہ


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ کے سمجھانے کا کوئی اثر عمر بن سعد پر نہیں ہوا اور اُس نے حملے کی تیاری شروع کر دی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: جب عمر بن سعد حملہ کرنے کے لئے آگے بڑھنے لگا تو حر بن یزید نے پوچھا اللہ تیرا بھلا کرے! تو اُن سے لڑے گا؟ عمر بن سعد نے کہا: ”ہاں! اللہ کی قسم ! لڑوں گا اور لڑنا بھی ایسا لڑنا ہو گا جس میں کم سے کم سر اڑیں گے اور ہاتھ قلم ہونگے ۔ حربن یزید نے کہا: ” کیا اُن کی باتوں میں سے کسی ایک بات کو بھی تم لوگ نہیں مانو گے؟ عمر بن سعد نے کہا: اللہ کی قسم! اگر میرا اختیار ہوتا تو میں اُن کی بات مان لیتا لیکن تیرا امر عبد اللہ بن زیاد سے نہیں مان رہا ہے ۔ یہ سن کر حر بن یزید ایک طرف ہو گیا اور اپنی برادری کے ایک شخص قرہ بن قیس سے بولا : " قرہ تم آج اپنے گھوڑے کو پانی پلا چکے ہو؟ اس نے کہا: نہیں میں نے ابھی تک پانی نہیں پلایا ہے ۔ قرہ کہتا ہے: "مجھے یہ گمان ہوا کہ یہ کنارہ کرنا چاہتا ہے اور جنگ میں شریک نہیں ہوگا اور چاہتا ہے کہ میں اس بات سے بے خبر رہوں اور اسے مجھ سے ڈر ہے کہ کہیں میں اس کا راز فاش نہ کر دوں ۔ اس خیال سے میں نے کہا: ”ہاں ! ابھی تک گھوڑے کو میں نے پانی نہیں پلایا ہے، ابھی جا کر پلاتا ہوں “۔ یہ کہ میں وہاں سے سرک گیا۔ اگر حر بن یزید نے مجھے اپنے ارادے سے مطلع کیا ہوتا تو اللہ کی قسم ! میں بھی اُس کے ساتھ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس چلا جاتا۔ اب حربن یزید نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلے کی طرف بڑھنا شروع کر دیا۔ اُس کی برادری کے ایک شخص مہاجر بن اوس نے اُسے آگے بڑھتے دیکھا تو بولا: "اے حربن یزید! تمہارا کیا ارادہ ہے؟ کیا تم حملہ کرنا چاہتے ہو؟“ حر بن یزید یہ سن کر خاموش رہا اور اُس کے ہاتھ اور پاؤں میں تھر تھری کی پیدا ہوگئی۔ یہ دیکھ کر مہاجر بن اوس نے کہا: اللہ کی قسم تمہارا یہ حال دیکھ کر مجھے شبہ ہورہا ہے۔ اللہ کی قسم! میں نے کسی مقام پر تمہاری ایسی حالت نہیں دیکھی جیسی ابھی دیکھ رہا ہوں۔ مجھ سے اگر کوئی پوچھے کہ اہل کوفہ میں سب سے بڑھ کر کون بہادر اور جری ہے؟ تو میں تمہارا ہی نام لوں گا۔ پھر میں تمہاری یہ کیا حالت دیکھ رہا ہوں؟ حربن یزید نے جواب دیا : اللہ کی قسم ! میں اپنے دل سے پوچھ رہا ہوں کہ جہنم میں جانا چاہتا ہے یا جنت میں جانا چاہتا ہے اور اللہ کی قسم ! اگر میرے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جائیں اور میں زندہ جلا دیا جاؤں تب بھی میں جنت کو نہیں چھوڑوں گا“۔ یہ کہہ کر حر بن یزید نے اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور اُسے تیزی سے دوڑاتا ہوا حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں جا پہنچا۔


حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ کی تو بہ


حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ تیزی سے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پہنچے اور توبہ کی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اے آل رسول رضی اللہ عنہ میں آپ رضی اللہ عنہ پر فدا ہو جاؤں ! میں وہی شخص ہوں جس نے آپ رضی اللہ عنہ کو واپس نہیں جانے دیا اور جو راستہ بھر آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ساتھ پھرا کیا ۔ جس نے آپ رضی اللہ عنہ کو اس جگہ پر ٹھہرنے پر مجبور کیا، قسم ہے اللہ وحدہ لاشریک کی! میں ہرگز یہ نہیں سمجھا تھا کہ جتنی باتیں آپ رضی اللہ عنہ ان لوگوں کے سامنے پیش کریں گے، یہ اُن میں سے کسی امر کو نہیں مانیں گے اور نوبت یہاں تک پہنچ جائے گی ۔ میں تو دل میں یہ سوچے ہوئے تھا کہ بعض باتوں میں ان کی اطاعت کروں گا تو کوئی مضائقہ نہیں ہے اور یہ لوگ یہ نہ سمجھیں کہ میں نے ان کی اطاعت سے انحراف کیا ہے۔ بہت ہوگا تو یہی ہوگا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ جن باتوں کو پیش کریں گے یہ اُن باتوں کو مان لیں گے۔ اللہ کی قسم ! اگر میں یہ جانتا ہوتا کہ یہ لوگ آپ رضی اللہ عنہ کی کسی بات کو قبول نہیں کریں گے میں اس امر کا ( آپ رضی اللہ عنہ کو روکنے کا ) مرتکب نہیں ہوتا۔ مجھ سے جو قصور سرزد ہو گیا ہے میں اللہ تعالیٰ کے سامنے اُس قصور کی توبہ کرنے اور اپنی جان آپ رضی اللہ عنہ کی نصرت میں فدا کرنے کے لئے آیا ہوں۔ میں نے آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے جان دینے کا عزم مصمم کر لیا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ مجھے یہ بتائیں کہ کیا اللہ تعالیٰ اس طرح میری توبہ قبول فرمائے گا ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہاں! اللہ تعالیٰ تمہاری توبہ قبول کرے گا اور تمہیں بخش دے گا۔ تمہارا نام کیا ہے؟ اس نے عرض کیا: "میرا نام حربن یزید ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "حر ( آزاد ) تم آزاد ہو، تمہاری والدہ نے جس طرح تمہارا نام آزاد رکھا ہے، ان شاء اللہ تم دنیا اور آخرت میں آزاد ہو۔ اب گھوڑے سے اترو ۔ حضرت حر بن یزید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ” اے آل رسول رضی اللہ عنہ! میرا گھوڑے پر رہنا اُترنے سے بہتر ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ ان لوگوں سے مسلسل جنگ کرتا رہوں اور جب میرا آخری وقت آئے تو تب میں گھوڑے سے اتروں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اچھا! جو تمہارا دل چاہے وہی کرو اللہ تمہیں اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھئے۔


حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ کا سمجھانا اور حجت قائم کرنا


حضرت حسین علی رضی اللہ کی خدمت میں حاضر ہونے کے بعد حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ اہل کوفہ کے لشکر کے سامنے آئے اور انہیں سمجھانے کی کوشش کی اور اُن پر حجت قائم کر دی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ یمن کر اہل کوفہ کے لشکر کی طرف بڑھے اور فرمایا: "اے لوگو ! حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے جو باتیں پیش کیں ہیں اُن میں سے کسی بات کو تم کیوں نہیں مان رہے ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ان کے ساتھ جنگ و جدال سے بچالے؟ اہل کوفہ کے لشکریوں نے کہا: ” ہمارا امیر (سپہ سالار ) عمر بن سعد موجود ہے اُس سے گفتگو کرو۔ حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر وہی گفتگو عمر بن سعد سے پھر کی جو پہلے کر چکے تھے اور جو گفتگو اہل کوفہ سے کی تھی ۔ عمر بن سعد نے کہا: "میری خواہش بھی یہی تھی اگر ہوسکتا تو میں یہی کرتا “۔ اب حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ نے اہل کوفہ کی طرف خطاب کر کے فرمایا : اللہ تم کو ہلاک اور تباہ کرے کہ تم نے انہیں یہاں بلایا اور جب یہ یہاں چلے آئے تو انہیں دشمنوں کے حوالے کر دیا۔ تم کہتے تھے کہ ان پر اپنی جان نثار کریں گے اور اب انہیں شہید کرنے کے لئے حملہ کرنے جارہے ہو۔ ان کو تم نے گرفتار کر لیا، ان کا پانی بند کر دیا ، ان کو چہار جانب سے گھیر لیا اور ان کو اللہ کی بنائی ہوئی وسیع و عریض زمین میں کسی طرف نکل جانے نہیں دیا کہ وہ اور اُن کے اہل بیت امن سے رہتے۔ اب وہ ایک قیدی کی طرح تمہارے ہاتھ آگئے ہیں، اپنے نفس کے لئے اچھا یا برا کچھ نہیں کر سکتے تم نے ان کو ، ان کے اہل بیت کو ، ان کے بچوں کو اور ان کے ساتھیوں کو دریائے فرات کے بہتے ہوئے پانی سے روکا ہے۔ دریائے فرات کا پانی جسے یہودی، مجوسی اور نصرانی پیا کرتے ہیں اور اس میدان کے خنزیر اور کتے اس میں لوٹا کرتے ہیں لیکن تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل کو پانی لینے سے روک دیا ہے۔ اب پیاس کی شدت نے ان سب لوگوں کو ہلاک کر رکھا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل کے ساتھ اُن کے بعد تم نے کیا برا سلوک کیا ہے۔ اگر آج کے دن اسی وقت تم اپنے ارادے سے باز نہ آجاؤ اور تم تو بہ نہ کرو تو اللہ تعالیٰ تمہیں میدان حشر کی تشنگی میں سیراب نہ کرے۔


عمر بن سعد کا تیر اور حضرت عبداللہ بن عمیر


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ دشمنوں کو سمجھارہے تھے لیکن وہ نہیں مانے اور عمر بن سعد نے جنگ کی شروعات کر دی ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اس کے بعد عمر بن سعد آگے بڑھا اور کمان سے تیر جوڑ کر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی طرف مارکر بولا : ”لوگو! گواہ رہنا! سب سے پہلے میں نے ہی تیر چلایا ہے ۔ یہ سن کر لشکریوں نے بھی ایک باڑھ تیر کی چلائی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : یہ سن کر پیادوں کے لشکر نے حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ پر تیر برسانے شروع کر دیئے۔ وہ وہاں سے پلٹے اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس آکر کھڑے ہو گئے۔ عمرو بن سعد لڑنے کے لئے نکلا اور پکار کا کہا: "اے ذوید ! نشان کو بڑھا“۔ اس کے بعد عمر بن سعد نے تیر کمان میں جوڑا اور کہا: ” تم سب گواہ رہنا کہ سب سے پہلے میں نے تیر مارا ہے ۔ قبیلہ بنوکلب کی شاخ بو علیم سے ایک شخص حضرت عبداللہ بن عمیر رضی اللہ عنہ ایک یا دو دن پہلے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلے میں آکر شامل ہوئے تھے۔ وہ قبیلہ ہمدان میں جعد کے کنویں کے پاس اپنے گھر والوں کے ساتھ قیام پذیر تھے ۔ اُن کی بیوی اُم وہب خاندان نمر بن فاسط کی اُن کے ساتھ تھیں ۔ حضرت عبداللہ بن عمیر رضی اللہ عنہ نے مقام نخیلہ میں دیکھا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ پر لشکر کشی کرنے والے لشکر کا سامان رسد جارہا ہے ۔ انہوں نے دریافت کیا: "یہ کیا ماجرا ہے؟ کسی نے کہا: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آل حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ پر لشکر نے حملہ کیا ہے یہ اس کا سامان رسد ہے“۔ حضرت عبداللہ بن عمیر رضی اللہ عنہ کی مدت سے آرزو تھی کی مشرکین سے جہاد کریں۔ خیال آیا کہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے پر جولوگ لشکر کشی کر رہے ہیں اُن سے جہاد کرنا بھی اللہ کی طرف سے جہاد مشرکین کے ثواب سے کم نہیں ہے۔ یہ سوچ کر اپنی بیوی ام و ہب کے پاس آئے اور انہیں ساری بات بتائی تو انہوں نے فرمایا: ” کیا اچھی بات آپ نے کہی ہے۔ اللہ آپ کی بہترین تمنا پوری کرے۔ چلو اور مجھے بھی ساتھ لیتے چلو “ حضرت عبد اللہ بن عمیر رضی اللہ عنہ راتوں رات اپنی بیوی کو لئے ہوئے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلے میں آگئے اور وہیں قیام پذیر ہو گئے۔ جب عمر بن سعد نے قریب آکر تیر مارا تو زیاد بن سمیہ یا ابوسفیان کا آزاد کردہ غلام بیار اور عبید اللہ بن زیاد کا آزاد کردہ غلام سالم یہ دونوں صفوں سے باہر نکلے اور مقابلے کے لئے آواز لگائی۔ یہ سن کر حضرت حبیب بن مظاہر رضی اللہ عنہ اور حضرت بریر بن حضیر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، مگر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ۔ یہ دیکھ کر حضرت عبداللہ بن عمیر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور عرض کی : ”اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آل رضی اللہ عنہ مجھے ان دونوں سے لڑنے کی اجازت دیں“۔


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!


D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں