منگل، 3 ستمبر، 2024

Saltanat e Umayya part 16

 16 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 16

پانی بند کر دینے کا حکم، عبد اللہ بن ابی حسین کی گستاخی اور انجام، پانی کے لئے جد و جہد، حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور عمر بن سعد کی ملاقات، شمر بن ذی جوشن کی دشمنی، عبید اللہ بن زیاد کا جنگ کرنے کا حکم، عبید اللہ بن زیاد کی امان لینے سے انکار، عمر بن سعد کا حملہ کرنے کا حکم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت، حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ کی گفتگو، حضرت زہیر بن قین اور حضرت حبیب بن مظاہر کی حق گوئی، 



پانی بند کر دینے کا حکم


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تمہارے شہر والوں نے مجھے بلا تھا۔ اب اگر انہیں میرا آنا گوار گذر رہا ہے تو میں واپس چلا جاتا ہوں۔ اس کے جواب میں عبید اللہ بن زیاد نے عمر بن سعد کو حکم دیا کہ یزید کی بیعت اُن سے لے لو۔ اس کے فوراً بعد دوسرا خط آیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: عمر بن سعد کو جب عبید اللہ بن زیاد کا یہ خط ملا تو وہ بولا : میں سمجھ گیا کہ عبید اللہ بن زیاد کو عافیت منظور نہیں ہے ۔“ اس کے بعد ایک اور خط عبید اللہ بن زیاد کا عمر بن سعد کو آیا۔ اُس میں یہ لکھا تھا: ”نہر کے اور (حضرت) حسین (رضی اللہ عنہ ) کے درمیان حائل ہو جاؤ۔ ایک بوند پانی بھی وہ لوگ نہیں پی سکیں ۔ جو سلوک تقی وز کی مظلوم امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا گیا تھا۔ اس خط کو پڑھ کر عمر بن سعد نے عمرو بن حجاج کو پانچ سو (500) سواروں کا سپہ سالار بنا کر روانہ کیا۔ یہ لوگ نہر پر جا کر ٹھہرے اور نہر اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلے کے درمیان حائل ہو گئے۔ تا کہ وہ بوند بھر پانی اس سے نہیں پینے پائیں۔ یہ سات (7) محرم الحرام 61 ہجری کا دن تھا۔ 


عبد اللہ بن ابی حسین کی گستاخی اور انجام


حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے قافلے والوں کو پانی لینے سے روک دیا گیا اور عمر بن سعد کے لشکر کے پانچ سوسپاہیوں نے نہر پر پہرہ لگا دیا تا کہ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کو پانی نہیں مل سکے۔ سات (۷) محرم الحرام اللہ ہجری کے دن ایک شخص عمر بن سعد کے لشکر سے نکل کر آیا اور آپ رضی اللہ عنہ سے گستاخی کی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں؛ یہ واقعہ آپ رضی اللہ عنہ کے شہید ہونے سے تین دن پہلے کا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے آکر عبد اللہ بن ابی حصین از دی جو بنوبجیلہ میں شمار ہوتا تھا۔ وہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پڑاؤ کے سامنے آیا اور پکارا: ”اے (حضرت) حسین! ( رضی اللہ عنہ ) ذرا پانی کی طرف دیکھو! کیسا اُس کا آسمانی رنگ بھلا معلوم ہوتا ہے۔ اللہ کی قسم ! تم پیا سے مرجاؤ گے۔ ایک قطرہ بھی تم کو نہیں ملے گا ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر فرمایا: اے اللہ! اس شخص کو پیاس کی ایذا دے کر قتل کر اور کبھی اس کی مغفرت نہ ہو۔“ اس کے بعد حمید بن مسلم اُس کی بیماری میں عیادت کو گیا تھا۔ اُس کا بیان ہے : "قسم ہے اُس اللہ وحدہ لاشریک کی ! میں اُسے ( عبداللہ بن حصین کو ) دیکھا کہ پانی پی رہا تھا اور پیاس پیاس کہتا جارہا تھا۔ پھر قے (اُلٹی) کر دیتا تھا، پھر پانی پیتا تھا پھر پیاسا ہو جاتا تھا۔ پیاس نہیں بجھتی تھی ۔ یہی حالت اُس کی مسلسل رہی آخر کار مر گیا۔“


پانی کے لئے جد و جہد


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلے پر عمرو بن سعد کے لشکر نے پانی بند کر دیا تھا اور دریا پر پہرہ بٹھا دیا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ کے قافلے کی عورتیں اور بچے پیاس سے بے حال ہوئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے پانی حاصل کرنے کا حکم دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ پر اور آپ رضی اللہ عنہ کے قافلے والوں پر پیاس کا غلبہ ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی حضرت عباس بن علی رضی اللہ عہ کو بلایا اور میں سوار ہیں پیدل کو بیس مشکیں دے کر دریا سے پانی لانے کے لئے روانہ کیا۔ یہ لوگ رات کے وقت دریا پر پہنچے۔ حضرت نافع بن حلال جعلی علم (جھنڈا) لئے ہوئے سب سے آگے بڑھ گئے ۔ عمرو بن حجاج کہنے لگا : ”کون ہے؟ کیوں آئے ہو؟ حضرت نافع بن ہلال نے فرمایا: ”ہم تو یہ پانی پینے آئے ہیں جس سے تم نے ہمیں محروم کر دیا ہے ۔ اس نے کہا: ” پی لو۔“ حضرت نافع بن ہلال نے جب دیکھا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور اُن کے اہل و عیال پیاسے ہیں تو فرمایا: اللہ کی قسم! ان لوگوں کے بغیر ایک قطر بھی نہیں پیوں گا ۔ اتنے میں باقی لوگ بھی آگئے۔ عمرو بن حجاج نے کہا: ” ان لوگوں کو پانی نہیں دے سکتا۔ ہم کو اس مقام پر اسی لئے متعین کیا گیا ہے کہ ان کو پانی نہیں لینے دیں۔“ حضرت نافع بن ہلال کے ساتھ والے جب آگئے تو انہوں نے پیدل لوگوں سے کہا: ” اپنی اپنی مشکیں بھر لو ۔ پیدل افراد تیزی سے دوڑ پڑے اور سب نے مشکیں بھر لیں ۔ عمرو بن حجاج نے اپنے سپاہیوں کے ساتھ اُن پر حملہ کر دیا۔ حضرت نافع بن ہلال اور حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ نے اُن کا مقابلہ کیا اور انہیں پیچھے تک دھکیل دیا۔ پھر اپنے خیموں کی طرف واپس جانے لگے اور پیدل افراد سے کہا: ” نکل جاؤ اور خود دشمنوں کو روکنے کے لئے ٹھہرے رہے۔ عمرو بن حجاج اپنے سپاہیوں کے ساتھ پھر اُن کی طرف تیزی سے آگے آیا اور پھر حملہ کر دیا۔ اس کے ایک سپاہی پر حضرت نافع بن بلال رضی اللہ عنہ نے نیزہ کا وار کیا اور سمجھا کہ وار او چھا پڑا ہے لیکن بعد میں اُس کا زخم پھٹ گیا اور وہ مر گیا۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھی مشکیں لئے ہوئے آئے اور آپ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کر دیں۔


حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور عمر بن سعد کی ملاقات


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کربلا میں قیام پذیر تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے عمر بن سعد کو حکم دیا کہ وہ ملاقات کرے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عمرو بن قرظہ انصاری رضی اللہ عنہ کو عمر بن سعد کے پاس بھیجا کہ آج رات میرے قافلے اور تمہارے لشکر کے درمیان مجھ سے ملاقات کرو۔ عمر بن سعد ہمیں سواروں کے ساتھ لشکر سے نکلا اور آپ رضی اللہ عنہ بھی ہیں سواروں کے ساتھ اپنے قافلے سے نکلے ۔ جب ملاقات ہوئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: ” سب پیچھے ہٹ جائیں ۔ عمر بن سعد نے بھی اپنے سپاہیوں سے پیچھے ہٹ جانے کو کہا۔ سب وہاں سے اتنی دور ہٹ گئے جہاں اُن دونوں کی کوئی آواز اور کوئی بات نہیں سنائی دے رہی تھی ۔ دونوں بہت دیر تک بات چیت کرتے رہے اور اچھی خاصی رات گزرگئی۔ پھر اپنے اپنے ساتھیوں کے ساتھ واپس لوٹ گئے ۔ لوگوں نے اپنے اپنے وہم و گمان سے کہنا شروع کر دیا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے عمر بن سعد سے کہا کہ تو میرے ساتھ یزید کے پاس چل دونوں اکیلے چلتے ہیں۔ عمر بن سعد نے کہا کہ میرا گھر خود ڈالا جائے گا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں بنوادوں گا۔ اُس نے کہا کہ میری جاگیر میں چھن جائیں گی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس سے بہتر میں تجھے اپنے مال میں سے دوں گا جو حجاز میں ہے۔ عمر بن سعد نے اسے گوارا نہیں کیا۔ لوگوں میں اسی بات کا چرچا تھا اور بغیر اس کے کہ کچھ سنا ہو یا کچھ جانتے ہوں ایک دوسرے سے یہی ذکر کرتے تھے اور محدثین کی ایک جماعت کا بیان ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تین باتوں میں سے ایک میرے لئے اختیار کر۔ یا تو یہ کہ جہاں سے میں آیا ہوں وہیں جانے دے۔ یا یہ کہ میں اپنا ہاتھ یزید کے ہاتھ میں دے دوں اور وہ میرے اور اپنے درمیان جو بھی فیصلہ کرے۔ یا پھر مجھے مملکت اسلامیہ کیسی کسی بھی سرحد کی طرف جانے دے اور میں اُن لوگوں کا ایک شخص بن کر رہوں گا اور میرا نفع و نقصان اُن کے ضمن میں ہوگا۔ یہ بھی روایت ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے ایسی بات ہر گز نہیں کہی جیسا کہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ اپنا ہاتھ یزید کے ہاتھ میں دیدیں گے۔ یا یہ کہ مجھے بلاد اسلام کی کسی سرحد کی طرف جانے دے۔ بلکہ آپ رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا تھا کہ مجھے اس وسیع و عریض زمین میں کسی طرف نکل جانے دے اور میں دیکھوں کہ انجام کیا ہوتا ہے؟


شمر بن ذی جوشن کی دشمنی


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے بات چیت کرنے کے بعد عمر بن سعد نے کوفہ کے گورنر عبید اللہ بن زیاد کو خط لکھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عمر بن سعد نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے تین چار ملاقاتیں کیں اور پھر اس کے بعد عبید اللہ بن زیاد کے پاس خط لکھ کر بھیجا " اللہ تعالیٰ نے (جنگ کی) آگ کے شعلہ کو بجھا دیا ہے۔ اختلاف کو دفع کیا ہے اور قوم کی بہتری چاہی ہے۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اس بات پر راضی ہیں کہ جہاں سے آئے ہیں وہیں چلے جائیں یا مملکت اسلامیہ کی سرحدوں میں سے کسی بھی سرحد کی طرف چلے جائیں۔ یا پھر امیر المومنین یزید کے پاس جا کر اُس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیدیں اور اپنے اور اُن کے درمیان جو فیصلہ چاہے وہ کرے۔ اس میں آپ کی بھی خوشنودی ہے اور اُمت کی بھی بہتری ہے۔ عبید اللہ بن زیاد نے خط پڑھ کر کہا: یہ خط ایسے شخص کا ہے جو اپنے امیر (حاکم) کا خیر خواہ اور اپنی قوم کا شفیق ہے اچھا میں نے قبول کیا ۔ " یہ سن کر شمر بن ذی جوشن اُٹھ کر کھڑا ہوا اور بولا : ” تو یہ بات قبول کرتا ہے؟ ارے وہ تو تیری زمین پر اترے ہوئے ہیں ، تیرے پہلو میں موجود ہیں۔ اللہ کی قسم ! تیری اطاعت کئے بغیر وہ تیرے شہر سے چلے گئے تو قوت و غلبہ اُن کو ملے گا اور عاجزی و کمزوری تجھے ملے گی۔ یہ موقع اُن کو نہیں دینا چاہئے ، اس میں تیری ذلت ہے۔ ہونا تو یہ چاہیئے کہ وہ اور ان کے سب ساتھی تیرے حکم پر سر جھکا دیں۔ اگر تو سزا دے تو تجھے سزا دینے کا حق ہے اور اگر معاف کر دے تو تجھ کو اختیار ہے۔ اللہ کی قسم! میں تو یہ سنتا ہوں کہ (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) اور عمر بن سعد دونوں لشکروں کے درمیان رات رات بھر بیٹھے ہوئے باتیں کرتے ہیں۔ عبید اللہ بن زیاد نے کہا: ”سٹو نے کیا ہی اچھی رائے دی ہے، رائے تو بس یہی ہے۔“


عبید اللہ بن زیاد کا جنگ کرنے کا حکم


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے عمر بن سعد سے گفتگو کی اور وہ مصالحت پر تیار ہو گیا اور عبید اللہ بن زیاد کو بھی مصالحت کا مشورہ دیا جسے اُس نے قبول کر لیا تھا لیکن شمر بن ذی جوشن کی فتنہ انگیزی کے سبب اُس نے وہ غلط فیصلہ کیا جس کی وجہ سے تینوں کی آخرت برباد ہو گئی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: پھر عبید اللہ بن زیاد نے ایک خط لکھ کر شمر بن ذی جوش کو دیا اور کہا: یہ خط لیکر عمر بن سعد کے پاس جا۔ اُسے چاہیئے کہ (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) اور اُن کے ساتھیوں سے کہے کہ وہ سب میرے حکم پر سر جھکا دیں ۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو اُن سب کو اطاعت گزاروں کی طرح میرے پاس بھیج دے۔ اگر وہ اس حکم کو نہیں ما نہیں تو اُن سے قتال (جنگ) کرنا۔ اگر عمر بن سعد نے ایسا کہ کیا تو تو بھی اُس کی اطاعت کرنا اور اُس کی بات کو ماننا۔ اگر اُس نے انکار کر دیا تو اُن لوگوں سے تو قتال (جنگ) کرنا اور تو اُس وقت لشکر کا سپہ سالار ہو گا اور عمر بن سعد کوقتل کر دینا اور اُس کی گردن مار دینا اور اُس کا سر میرے پاس بھیج دینا۔ عبید اللہ بن زیاد نے عمر بن سعد کو جو خط لکھا اُس کا مضمون یہ تھا: ” میں نے تجھے (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) کے مقابلے پر اس لئے نہیں بھیجا تھا کہ تو اُن کو بچانے کی فکر کرے یا اُن پر احسان کرے یا اُن کی سلامتی کی فکر کرے یا میرے سامنے اُن کا سفارشی بن بیٹھے۔ سُن ! اگر (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) اور ان کے ساتھی میرے حکم پر سر جھکا دیں اور گردنیں خم کر دیں تو سب کو اطاعت گزاروں کی طرح میرے پاس بھیج دے۔ اگر وہ نہیں ما نہیں تو اُن پر لشکر کشی (حملہ ) اس طرح کر کہ سب قتل ہو جائیں اور سب کے سر کاٹ لے کیونکہ وہ وہ سب اسی کے سزاوار ہیں۔ جب (حضرت) حسین بن علی ( رضی اللہ عنہ ) ( نعوذ باللہ ) قتل ہو جائیں تو اُن کے سینہ پر اور پشت پر سواروں کو دوڑادے کہ وہ نافرمان مخالف خود سر ظالم ہیں۔ میری دل کی یہ بات نہیں ہے کہ مرنے کے بعد اُن کو کوئی ایذا پہنچے گی لیکن میں انہیں قتل کرتا تو اُن کے ساتھ یہی سلوک کرتا۔ اگر تو اُن کے بارے میں ہمارے حکم کو جاری کرے گا تو تجھے کو وہ عوض ملے گا جو ایک فرمانبردار اطاعت گزار کوملنا چاہئے اور اگر تجھے یہ منظور نہیں ہے تو ہماری خدمت سے اور ہمارے لشکر سے علیحدہ ہو جا۔لشکر کا سپہ سالار شمر بن ذی جوشن کو بنادے۔ ہم نے اُسے اپنے احکام بتا دیے ہیں۔ والسلام


عبید اللہ بن زیاد کی امان لینے سے انکار


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے جنگ کرنے کا حکم عبید اللہ بن زیاد نے دے دیا اور وہ خط شمر بن جوشن کو دیا اور حکم دیا کہ عمر بن سعد کو لے جا کر دو اور اگر وہ حکم نہیں مانے تو اُسے قتل کرو اور تم سپہ سالار ہو گے۔ اُس کے بھانجے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ اُن کے قافلے میں تھے ۔ اُن کے لئے اُس نے عبید اللہ بن زیاد سے امان مانگی جو اُس نے لکھ کر دے دی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: شمر بن ذی جوشن کو جب عبید اللہ بن زیاد نے یہ خط دیا تو اُس کے ساتھ جانے کے لئے عبداللہ بن ابی محل بن حزام بھی تیار ہو گیا۔ اُس کی پھوپھی ام البنین بنت حزام رضی اللہ عنہا، خلیفہ چہارم حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی زوجہ تھیں اور اُن سے حضرت عباس، حضرت عبداللہ ، حضرت جعفر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم پیدا ہوئے۔ عبداللہ بن ابی محل بن حزام نے کہا: اللہ ہمارے امیر ( گورنر، حاکم ) کا بھلا کرے! ہماری بہن کے بیٹے (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) کے ساتھ ہیں۔ اگر مناسب سمجھو تو اُن کے لئے امان لکھ دو ۔ عبید اللہ بن زیاد نے کہا: ” بسر و چشم ۔ اور اُس نے امان کا فرمان لکھ دیا۔ عبداللہ بن ابی محمل نے اپنے آزاد غلام کرمان کو امان نامہ دے کر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلے میں بھیجا۔ اُس نے وہاں جا کر اُن کو بلایا اور کہا: ”تمہارے ماموں نے تمہارے لئے عبید اللہ بن زیاد سے امان لے لی ہے ۔ اور امان نامہ دکھایا۔ اُن جوانوں رضی اللہ عنہم نے فرمایا: ” ہمارے ماموں کو جا کر سلام کہنا اور کہ دینا کہ تم لوگوں کی امان ہمیں نہیں چاہیئے ۔ شمیہ کے بیٹے کے بیٹے (عبید اللہ بن زیاد کا باپ زیاد کے باپ کا نام نہیں معلوم تھا اور لوگ اُسے اُس کی ماں سمیہ کے نام پر ابن سمیہ کہتے تھے ) کی امان سے بہت بہتر اللہ تعالیٰ کی امان ہے


عمر بن سعد کا حملہ کرنے کا حکم کی


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں عبید اللہ بن زیاد کا حکم اور خط لیکر شمر بن ذی جوشن کر بلا آیا اور عمر بن سعد کو خط دیا اور اپنے گورنر کا حکم سنایا۔ علامہ حمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : شمر بن ذی جوشن جب عبید اللہ بن زیاد کو خط لیکر عمر بن سعد کے پاس آیا اور اس نے خط پڑھا تو شمر بن ذی جوشن سے کہا: 'وائے ہو تجھ پر تو نے یہ کیا حرکت کی ؟ اللہ تیرے ہمسایہ ( پڑوس) سے بچائے۔ اللہ تجھے غارت کرے، تو یہ کیا میرے پاس لیکر آیا ہے؟ اللہ کی قسم! میرا یہی گمان ہے کہ تو نے ہی عبید اللہ بن زیاد کو رائے دی ہے کہ میری تحریر کو نہیں مانے ۔ جس معاملہ میں اصلاح کی ہم کو امید تھی تو نے اُسے بگاڑ دیا ہے۔ اللہ کی قسم ! (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ) گردن جھکانے والے شخص نہیں ہیں۔ اُن کے پہلو میں وہ دل ہے جو برداشت نہیں کر سکتا ۔ شمر بن ذی جوشن نے کہا: تو یہ بتاتیرا کیا ارادہ ہے؟ اپنے امیر (گورنر) کے حکم پر چلے گا اور اس کے دشمن کو قتل کرے گا؟ یا پھر لشکر کی قیادت مجھے دے گا؟ عمر بن سعد نے کہا: نہیں ! تجھے لشکر کی قیادت نہیں ملے گی۔ میں یہ کام خود کروں گا۔ شمر بن ذی جوشن نے کہا: " ٹھیک ہے ! پھر تم ہی کرو۔“ اس کے بعد عمر بن سعد اپنے لشکر کولیکر آگے بڑھا اور صف آرا کیا۔ یہ نو (۹) محرم الحرام پنجشنبہ کا دن تھا اور شام کا وقت تھا شمر بن ذی جوشن آگے بڑھا اور بلند آواز سے پکارا : ”ہم لوگوں کی بہن کے بیٹے کہاں ہیں؟ یہ سن کر حضرات عباس جعفر، عثمان اور عبد اللہ رضی اللہ عنہم آگے بڑھے اور فرمایا: " تجھے ہم سے کیا کام ہے اور تو کیا کہ رہا ہے؟ اس نے کہا: ”اے میری بہن کے بیٹو! تمہارے لئے امان ہے ۔ اُن سب جوانوں رضی اللہ عنہم نے فرمایا : اللہ کی تجھ پر لعنت ہو اور تیری امان پر بھی لعنت ہو، تو جو ہمارا ماموں ہے ( عرب میں نھیال کے تمام قبیلے والوں کو ماموں“ کہا جاتا ہے ) تو ہم کو امان دیتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کو امان نہیں دیتا ہے ۔ عمر بن سعد نے یہ سن کر بلند آواز سے پکارا : ”اے سپاہیو! اللہ کے سوار و! گھوڑوں پر چڑھو اور خوش رہو۔ نماز عصر کے بعد اُس نے اپنے لشکر کے ساتھ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے قافلے پر حملہ کر دیا۔


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلے پر حملہ کرنے کا حکم عمر بن سعد نے دے دیا اور اُس کے لشکر نے چڑھائی کر دی ۔ اُس وقت حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اپنے خیمے کے سامنے تشریف فرما تھے ۔ عمر بن سعد کے لشکر کے گھوڑوں کے دوڑنے کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی یہاں تک کہ خیموں میں موجود پردہ نشین خواتین نے بھی یہ آواز سنی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: نماز عصر کے بعد عمر بن سعد نے اپنے لشکر کے ساتھ اُن لوگوں پر چڑھائی کر دی ۔ اُسوقت حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اپنے خیمہ کے سامنے اس حالت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ دونوں گھٹنوں بلند تھے اور تلوار پر ٹکے ہوئے تھے اور گھٹنوں پر سر رکھا ہوا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ کی بہن سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا نے شور کی آواز سنی تو بھائی کے پاس آئیں اور فرمایا: ” بھائی ! آپ رضی اللہ عنہ نے سنا ! لوگوں کی آوازیں قریب آرہی ہیں ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے زانو سے سر اٹھایا اور فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا کہ مجھ سے فرما رہے ہیں تم ہمارے پاس آجاؤ گے ۔‘ بین کر بہن نے کہا: ”وائے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بہن! تم پر وائے نہیں ہے (دشمنوں پر وائے ہے ) بہن !اللہ تم پر اپناحم فرمائے چپ رہو ۔ “ ( اور یہ بات کسی کو ابھی نہیں بتانا )


حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ کی گفتگو


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اپنے خیمے کے سامنے بیٹھے عمر بن سعد کے لشکر کو آتا اور صف بندی کرتے ہوئے دیکھ رہے تھے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے بھائی حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ”بھائی! وہ لوگ آپڑے ہیں ۔ یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ اُٹھ کھڑے ہوئے۔ حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ”بھائی ! میں آپ رضی اللہ عنہ پر فدا ہو جاؤں ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بھائی ! گھوڑے پر سوار ہو اور اُن لوگوں سے جا کر ملو اور پوچھو کہ اُن کا ارادہ کیا ہے اور ادھر آنے کا کیا سبب ہے؟ حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ میں سواروں کو ساتھ لیکر جن میں حضرت زہیر بن قین اور حضرت حبیب بن مظاہر رضی اللہ عنہم بھی تھے اُن لوگوں کے پاس آئے اور پوچھا: ” تمہارا کیا ارادہ ہے اور تمہارے جی میں کیا آئی ہے؟ ان لوگوں نے کہا: ”امیر ( گورنر عبداللہ بن زیاد ) کا یہ حکم آیا ہے کہ تم لوگوں سے کہہ دیں کہ اُس کے حکم پر سر جھکا دو نہیں تو ہم تم سے لڑیں گے ۔ حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ذرا ٹھہرو! میں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے پوچھ کر آتا ہوں اور وہ جو کچھ تم کہ رہے ہو اُن سے عرض کر دوں ۔ یہ لوگ ٹھہر گئے اور بولے : ”جاؤ! اُن کو خبر کردو اور آکر بیان کرو کہ وہ کیا کہتے ہیں؟ حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ گھوڑا دوڑا کر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس چلے گئے اور اُن کے ساتھی وہیں ٹھہرے رہے۔


حضرت زہیر بن قین اور حضرت حبیب بن مظاہر کی حق گوئی


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس اُن کے بھائی حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ جواب لینے کے لئے گئے ۔ اسی دوران اُن کے ساتھی و ہیں عمر بن سعد کے لشکر کے پاس ٹھہرے رہے اور گفتگو کرتے رہے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت حبیب بن مظاہر رضی اللہ عنہ نے حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ سے کہا: ”چا ہو تو تم ان سے گفتگو کر دیا پھر میں کچھ کہوں؟ حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تمہیں نے یہ ذکر نکالا ہے تو تمہیں گفتگو کرو ۔ حضرت حبیب بن مظاہر رضی اللہ عنہ نے لشکریوں نے مخاطب ہو کر کہا: ” ستوکل کے دن جو لوگ آئیں گے اللہ کی قسم اوہی بہت برے لوگ ٹھہریں گے۔ جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذریت (آل ) کو، اُن کی عزت کو، اُن کے اہل بیت کو اُن کے شہر کے عابدوں کو شہید کریں گے ۔ جن کی صبح عبادت میں گذرتی ہے، جن کی زبان پر اللہ کا ذکر جاری رہتا ہے ۔ یہ سن کر عزرہ بن قیس بولا : " تم سے جہاں تک ہو سکے اپنے نفس کو پاک رکھو۔ حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ نے کہا: ” اے عزرہ ! اللہ تعالیٰ نے اُن کے نفس کو پاک کیا ہے اور انہیں ہدایت عطا فرمائی ہے۔ اے عزرہ ! اللہ سے ڈرا میں تیری خیر خواہی کا کلمہ کہتا ہوں ۔ اے عزرہ ! اللہ کے واسطے ان نفوس قدسیہ کو شہید کرنے میں ان لوگوں کے ساتھ شریک نہ ہو جو ضلالت کے بانی ہیں ۔ عزرہ بن قیس نے کہا: اے زہیر ! ان لوگوں کے حامیوں میں ہم تجھے نہیں جانتے تھے بلکہ تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ والوں میں سے تھا۔ حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: " مجھے اس مقام پر دیکھ کر بھی کیا تو نہیں سمجھ رہا ہے کہ میں انہیں لوگوں میں سے ہوں ۔ سُن ! اللہ کی قسم! میں نے کبھی کوئی خط ان کو نہیں لکھا ہے اور نہ ہی کبھی کوئی قاصد ان کے پاس بھیجا نہ بھی ان سے نصرت کا وعدہ کیا ۔ ہوا یہ کہ راستے میں اِن سے ملاقات ہو گئی۔ ان کو دیکھ کر مجھ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یاد آ گئے اور ان کا جو مرتبہ اُن کے رشتہ سے ہے اُس کا خیال آگیا اور میں سمجھ گیا کہ یہ کن دشمنوں میں اور تمہارے جرگہ کے لوگوں میں جارہے ہیں۔ بس میری یہ رائے ہوئی کہ ان کی نصرت کروں اور ان کے جرگہ میں شامل ہو جاؤں۔ اپنی جان اِن کی جان پر فدا کر دوں تا کہ اللہ کے جس حق کو اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے جس حق کو تم نے ضائع کر دیا ہے اُن کی حفاظت کروں۔


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!


Saltanat e Umayya part 17

 17 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 17

ایک رات کی مہلت، ساتھیوں کو جانے کی اجازت، آل عقیل کی جاں نثاری، حضرت مسلم بن عوسجہ اور حضرت سعد بن عبد اللہ کی جاں نثاری،حضرت زہیر بن قین اور دوسرے ساتھیوں کی جاں نثاری،  سیده زینب بنت علی رضی اللہ عنہا کی بے قراری، بہن کو تسلی، ایک بد بخت کی گستاخی، قافلے اور لشکر کی صف بندی، شمر بن ذی جوشن کی گستاخی، دشمنوں کو پھر سے سمجھانا ہے، 

ایک رات کی مہلت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے بات کرنے اُن کے بھائی حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ گئے ہوئے تھے۔ انہوں نے واپس آکر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا پیغام عمر بن سعد کو دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اتنے میں حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ گھوڑے کو ایڑ لگاتے ہوئے اُن لوگوں تک آپہنچے اور فرمایا: ”اے لوگو! حضرت حسین علی رضی اللہ عنہ تم سے اس بات کا سوال کرتے ہیں کہ اس وقت تم سب واپس چلے جاؤ۔ یہ ایسی بات ہے کہ ابھی تک تمہارے اور اُن کے درمیان اس باب میں گفتگو نہیں ہوئی تھی۔ کل صبح کو انشاء اللہ پھر ہم لوگ ملیں گے، یا تو جس بات کو تم چاہتے ہو اور جو سلوک کرنا چاہتے ہو ہم اس پر راضی ہو جائیں گے یا ہمیں یہ بات ناگوار ہوگی تو ہم انکار کر دیں گے ۔“ اس سے آپ رضی اللہ عنہ کا مطلب یہ تھا کہ اس وقت اُن لوگوں کو ٹال دیا جائے اور جو کہنا سننا ہوسن لیں۔ اپنے اہل بیت سے وصیت کر لیں ۔ حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ نے جب یہ بات آکر کہی تو عمر بن سعد نے شمر بن ذی جوشن سے پوچھا: ” تیری کیا رائے ہے؟ شمر بن ذی جوشن نے کہا: ” تو امیر لشکر یعنی لشکر کا سپہ سالار ہے تیری جو رائے ہوگی بس میری بھی وہی رائے ہوگی۔ عمر بن سعد نے لشکریوں سے کہا: ”تمہاری کیا رائے ہے؟ بین کر عمرو بن حجاج زبیدی نے کہا: "سبحان اللہ ! اگر یہ لوگ کفار دیلم سے ہوتے اور تجھ سے یہی سوال کرتے تو اللہ کی قسم اتجھے قبول کر لینا چاہیئے تھا۔“ قیس بن اشعث نے کہا: ”اُن کی یہ بات مان لے۔ میں اپنی جان کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ کل صبح کو یہ لوگ تجھ سے لڑنے کے لئے آمادہ رہیں گے ۔“ عمر بن سعد نے کہا: ” اگر یہ بات مجھ کو یقینی معلوم ہو جائے کہ یہ لوگ لڑیں گے تو میں اس وقت مہلت نہیں دوں گا ۔“ حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ نے آکر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ عمر بن سعد ایسا کہتا ہے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” تم پھر پلٹ کر جاؤ اور ہو سکے تو اُن کو صبح تک کے لئے ٹال دو اور آج شام کے لئے اُن کو ہم سے دفع کرو۔ آج کی رات ہم اپنے پروردگار کی عبادت کر لیں ، اُس سے دعا کرلیں، اُس سے مغفرت طلب کر لیں۔ اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ اُس کی عبادت کو، اُس کی کتاب قرآن پاک کی تلاوت کو اور دعا و استغفار کی کثرت کو میں کتنا دوست رکھتا ہوں ۔ حضرت علی (اوسط) بن حسین رضی اللہ عنہ (امام زین العابدین) فرماتے ہیں: ” عمر بن سعد کے پاس سے ایک قاصد ہم لوگوں کے پاس آیا اور ایسے مقام پر کھڑ ہو گیا جہاں سے آواز سنائی دیتی تھی اور کہا: ”ہم نے تم لوگوں کو کل صبح تک کی مہلت دی ہے۔ اگر اطاعت کر لوگے تو تم کو امیر ( گورنر ، حاکم ) عبید اللہ بن زیاد کے پاس روانہ کر دیں گے اور اگرتم انکار کرو گے تو پھر ہم تم کو نہیں چھوڑیں گے ۔“


ساتھیوں کو جانے کی اجازت


حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو جمع کر کے انہیں جانے کی اجازت دے دی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب عمر بن سعد اپنے لشکر کولیکر واپس چلا گیا تو اس وقت شام ہونے والی تھی۔ تب حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو جمع کیا۔ حضرت علی (اوسط ) بن حسین (امام زین العابدین ) فرماتے ہیں: یہ دیکھ کر میں آپ رضی اللہ عنہ کے قریب چلا گیا کہ سنوں کیا فرماتے ہیں؟ اور میں بیمار تھا ۔ میں نے سنا کہ میرے والد محترم رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: ” میں اللہ تعالیٰ کی بہترین حمدوثنا کرتا ہوں اور راحت و مصیبت میں اُس کا شکر ادا کرتا ہوں، اے اللہ تعالیٰ ! میں تیرا شکر بجا لاتا ہوں کہ تو نے ہم لوگوں کو نبوت کی کرامت دی، بٹو نے ہم کو قرآن کی تعلیم دی ، تو نے ہم کو علم دین عطا فرمایا، تو نے ہم کو سماعت و بصارت اور دل عطا فرمایا ، تو نے ہم کو مشرکوں میں شمار نہیں ہونے دیا۔ اس کے بعد مجھے یہ کہنا ہے کہ اپنے ساتھیوں سے افضل و بہتر ساتھی اور اپنے اہل بیت سے زیادہ وفادار اور فرمانبردار اہل بیت میں نے نہیں دیکھے۔ سنو میں سمجھ چکا ہوں کہ ان دشمنوں کے ہاتھوں صبح ہم لوگوں کی قضا ہے ۔ سنو ! تم سب کے سب لوگوں کے بارے میں میری یہ رائے ہو چکی ہے کہ تم سب واپس چلے جاؤ۔ اس لئے میری طرف سے تم سب کو اجازت ہے کہ تم سب واپس چلے جاؤ۔ میری طرف سے کوئی روک ٹوک نہیں ہے۔ دیکھو رات کی تاریکی چھائی ہوئی ہے اسے غنیمت جانو اور واپس چلے جاؤ۔“


آل عقیل کی جاں نثاری


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے سب لوگوں کو جانے کی اجازت دے دی لیکن کوئی بھی ہلنے کو تیار نہیں ہوا۔ یہ دیکھ کر آپ رضی اللہ عنہ ایک ایک کو پکڑ کر سمجھانے لگے کہ انہیں میری جان چاہئے اور وہ تمہیں کچھ نہیں کہیں گے اس لئے تم سب چلے جاؤ ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: جب رات آئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” دیکھو رات کی تاریکی چھائی ہوئی ہے، اسے غنیمت سمجھو اور تم میں سے ایک ایک شخص میرے اہل بیت میں سے ایک ایک شخص کا ہاتھ پکڑلے اور یہاں سے چلا جائے۔ پھر جب اطمینان ہو جائے تو تم سب اپنے اپنے قصبوں ،شہروں کی طرف نکل جانا۔ یہ لوگ صرف میرے طلب گار ہیں۔ مجھے شہید کر لیں گے تو پھر کسی اور کا خیال نہیں کریں گے۔ یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ کے بھائی، بیٹے بھیجے اور بھانجے سب کہنے لگے : ”ہم سے یہ نہیں ہوگا کہ آپ رضی اللہ عنہ کے بعد ہم زندہ رہیں اور اللہ ہمیں وہ دن نہیں دکھائے ۔ سب سے پہلے حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ نے یہ کلمہ کہا۔ پھر سب ہی نے ایسے ہی کلام کہے ان میں آل عقیل سب سے آگے آگے تھے ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” اے آل عقیل ! حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کا شہید ہونا ہی تمہارے لئے کافی ہے۔ تم چلے جاؤ! میں اجازت دیتا ہوں ۔ “ آل عقیل نے عرض کیا : لوگ کیا کہیں ؟ یہی کہیں گے کہ ہم اپنے بزرگ اپنے سردار اور اُن کے ساتھ اپنے چچا کو جو بہترین چچا تھے چھوڑ کر چلے آئے ۔ نہ تو اُن کے ساتھ شریک ہو کر برچھی کا کوئی وار کیا اور نہ ہی تلوار کا ہاتھ مارا۔ یہ بھی معلوم نہیں ہوا کہ اُن پر کیا گزری؟ ہر گز نہیں۔ اللہ کی قسم ہم سے یہ نہیں ہوگا بلکہ ہم اپنی جانیں، اپنا مال اور اپنے اہل و عیال کو بھی آپ رضی اللہ عنہ پر فدا کر دیں گے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ شریک ہو کر قتال کریں گے جو آپ رضی اللہ عنہ کا حال ہوگا وہی ہمارا بھی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہم کو وہ زندگی نہ دے جو آپ رضی اللہ عنہ کے بغیر ہو۔“


حضرت مسلم بن عوسجہ اور حضرت سعد بن عبد اللہ کی جاں نثاری


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں اور اہل بیت کو سمجھارہے تھے لیکن کوئی بھی جانے کو تیار نہیں تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت مسلم بن عوسجہ اسدی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا : ” کیا ہم آپ رضی اللہ عنہ کو چھوڑ کر چلے جائیں اور ابھی اللہ کے سامنے آپ رضی اللہ عنہ کے حق سے ہم ادا بھی نہیں ہوئے ہیں۔ ہاں ! اللہ کی قسم ! جب تک میری برچھی اُن لوگوں کے سینہ میں ٹوٹ کر نہ رہ جائے ۔ جب تک تلوار کا قبضہ میرے ہاتھ میں ہے اور اُن کو تلوار میں مار نہ لوں ، تب تک میں آپ رضی اللہ عنہ سے جدا نہیں ہوں گا ۔ اگر ان سے لڑنے کے لئے میرے پاس ہتھیار نہیں ہوتے تو میں آپ رضی اللہ عنہ کی نصرت میں انہیں پتھر مار مار کر آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہی مرجاتا ۔ “ حضرت سعد بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کی قسم ! ہم آپ رضی اللہ عنہ کو چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔ اللہ تعالی یہ تو دیکھ لے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہم نے آپ رضی اللہ عنہ کی کیسی حفاظت کی ۔ اللہ کی قسم! اگر میں یہ جانتا کہ میں شہید ہونے کے بعد پھر زندہ کیا جاؤں گا۔ پھر زندہ جلادیا جاؤں گا اور پھر میری خاک اُڑا دی جائے گی۔ ستر (70) مرتبہ یہی حالت مجھ پر گزرے گی تب بھی جب تک آپ رضی اللہ عنہ کی نصرت میں مجھے موت نہیں آجاتی تب تک میں آپ رضی اللہ عنہ سے جدا نہیں ہوتا اور اب تو ایک ہی دفعہ میں شہید ہو جاتا ہے اور اس میں وہ شرف و کرامت ہے جسے ابد تک زوال نہیں ہے۔ پھر میں اسے حاصل کیوں نہیں کروں؟“ 


حضرت زہیر بن قین اور دوسرے ساتھیوں کی جاں نثاری


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے اہل بیت اور ساتھیوں میں سے کوئی بھی آپ رضی اللہ عنہ کو چھوڑنے کو تیار نہیں تھا اور ہر کوئی آپ رضی اللہ عنہ پر جاں شمار کرنے کے لئے بے تاب تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اللہ کی قسم! میں تو چاہتا ہوں کہ شہید کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر شہید کیا جاؤں۔ اسی طرح ہزار دفعہ میں شہید کیا جاؤں اور اللہ تعالیٰ آپ رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے اہل بیت کو بچالے۔ اسی طرح کے ایک ہی طرز کلام آپ رضی اللہ عنہ کے تمام ساتھیوں نے کئے اور کہتے تھے: اللہ کی قسم ! ہم آپ رضی اللہ عنہ کو چھوڑ کر نہیں جائیں گے بلکہ اپنی جانیں آپ رضی اللہ عنہ پر فدا کریں گے۔ ہم اپنے ہاتھوں سے اپنی گردنوں سے اور اپنی پیشانیوں سے آپ رضی اللہ عنہ کو بچائیں گے۔ ہم شہید ہو جائیں گے تو وہ حق جو ہم پر لازم ہے وہ وفا ہو جائے گا۔“


سیده زینب بنت علی رضی اللہ عنہا کی بے قراری


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی بہت کوششوں کے باوجود کوئی بھی آپ رضی اللہ عنہ کا ساتھ چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے سب کا شکریہ ادا کر کے آرام کرنے کی اجازت دے دی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت علی (اوسط) بن حسین (امام زین العابدین ) فرماتے ہیں : ” اُسی شام کا ذکر ہے جسکی صبح کو میرے والد محترم شہید کئے جانے والے تھے ۔ میں بیٹھا ہوا تھا اور میری پھوپھی سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا میری تیمار داری میں مصروف تھیں جبکہ میرے والد محترم نے اپنے ساتھیوں سے باتیں کرنے کے بعد اپنے خیمے میں تخلیہ میں تھے اور اُس وقت حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ” حولی آپ رضی اللہ عنہ کے پاس تلوار کی دیکھ بھال کر رہے تھے۔ اُس وقت میرے والد محترم نے یہ شعر پڑھا: ” اے دہ نا پائیدار! تجھ پر وائے ہو۔ کیا ہی برا دوست ہے تو ۔ کہ ہر صبح و شام کسی دوست یا دشمن کو مار رکھتا ہے ایک کے عوض میں دوسرے کو قبول نہیں کرتا اور یہ سب اللہ کے حکم سے ہوتا ہے اور جو زندہ ہے اُسے اس راستہ جاتا ہے ۔ ان اشعار کو آپ رضی اللہ عنہ نے دو تین بار پڑھا۔ میں سمجھ گیا اور اس ارادے کے بارے میں جان گیا جو آپ رضی اللہ عنہ نے کیا تھا۔ مجھے بے اختیار رونا آگیا لیکن میں نے آنسوؤں کو ضبط کر لیا اور خاموش رہا۔ مگر میری پھوپھی نے بھی ان اشعار کو سن لیا۔ عورتوں کی طبیعت میں رقت اور بے صبری ہوتی ہے، خود کو سنبھال نہیں سکیں ۔ بر ہنہ سر دوڑیں اور چادر کو کھنچتی ہوئی آپ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچیں اور بولی :’ وامصیحا ! ارے آج مجھے موت آگئی ہوتی اے بزرگوں کے جانشین ، اے در ماندوں کے شفیق، بس آج میری والدہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رحلت کر گئیں ۔ میرے والد محترم حضرت علی رضی اللہ عنہ اور میرے بھائی حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے بھی آج رحلت کی ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اُن کی طرف دیکھا اور فرمایا: "اے میری پیاری بہن ! دیکھو! کہیں شیطان تمہارے علم کو زائل نہ کر دے۔ کہنے لگیں: ”اے میرے بھائی رضی اللہ عنہ ! میرے ماں باپ تم پر خدا ! میری جان تم پر خدا ! تم نے شہید ہونا گوارا کر لیا۔


بہن کو تسلی


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی بہن سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا سمجھ گئیں کہ آپ رضی اللہ عنہ نے شہادت کے مرتبہ پر فائز ہونے  کا فیصلہ کر لیا ہے اور آپ رضی اللہ عنہ کی جدائی کے خیال سے بے چین ہو گئیں تو آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں تسلی دی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت علی (اوسط) بن حسین (امام زین العابدین) رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ” یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی طبیعت کو سنبھالا اور آنکھوں میں آئے آنسوؤں کو ضبط کر کے فرمایا: ”موت نے چین سے بیٹھنے نہیں دیا ۔ بہن سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا نے یہ سن کر فرمایا: " ہائے بھائی ! کیا تمہیں مجبور کریں گے؟ اس سے تو اور بھی میرا کلیجہ ٹکڑے ہوا جاتا ہے۔ میرے دل کو سخت قلق گذر رہا ہے ۔ “ یہ کہہ کر رونے لگیں اور خش کھا کر گر پڑیں۔ بہن کا یہ حال دیکھ کر آپ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور اُن کے پاس آکر چہرہ پر پانی چھڑکا اور فرمایا: ”پیاری بہن ! اللہ کا خوف کرو، اللہ کے لئے صبر کرو۔ اس بات کو سمجھو کہ روئے زمین پر سب مرنے والے ہیں۔ اہل آسمان بھی باقی نہیں رہیں گے۔ اُس اللہ کی ذات کے سوا جس نے اپنی قدرت سے اس زمین کو پیدا کیا اور جو پھر سے مخلوق کو زندہ کرے گا اور سب کے سب واپس آجائیں گے اور جو یگانہ دوتہا ہے۔ سب چیزیں مٹ جانے والی ہیں۔ میرے ماں باپ مجھ سے بہتر تھے۔ میری والدہ تم سے بہتر تھیں۔ میرے بھائی مجھ سے بہتر تھے اور مجھے اُن سب کو اور ہر مسلمان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حال سے تسکین ہونی چاہیئے ۔ اسی طرح کافی دیر تک آپ رضی اللہ عنہ بہن کو تسلی دیتے رہے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” پیاری بہن! میں تم کو قسم دیتا ہوں اور میری قسم کوتم پورا کرنا ۔ میں شہید ہو جاؤں تو اپنے گریباں کو چاک نہیں کرنا، منہ کو نہیں پیٹنا اور ہلاکت اور موت کو نہیں پکارنا۔ یہ فرما کر آپ رضی اللہ عنہ میری پھوپھی کو لیکر میرے پاس آئے اور میرے پاس بٹھا کر چلے گئے ۔ اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ خیموں کو قریب قریب اس طرح نصب کریں کہ طنابوں کے اندرطنا ہیں آجائیں۔ ( خیموں کا حلقہ بن جائے ) سب لوگ خود اس حلقہ کے درمیان رہیں۔ بس ایک رخ جدھر سے دشمن آنے والے ہیں کھلا رہنے دیں۔


ایک بد بخت کی گستاخی


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ رات بھر عبادت اور استغفار میں گزارتے رہے ۔ اسی دوران دشمنوں کے پہریداروں کا گشتی رسالہ اُدھر سے گزرا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ” حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور اُن کے ساتھی پوری رات بیدار رہے اور سب نمازیں پڑھ رہے تھے اور استغفار کر رہے تھے۔ اسی دوران سواروں کا ایک رسالہ جو اُن کی نگہبانی کرنے کو دشمن کی طرف سے مقرر ہوا تھا اُدھر سے گذرا۔ اُس وقت آپ رضی اللہ عنہ یہ آیت تلاوت کر رہے تھے : ترجمہ ”ہاں جو لوگ کافر ہو گئے وہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم جو انہیں ڈھیل دے رہے ہیں اس میں اُن کے لئے بہتری ہے۔ ہم تو اس لئے انہیں ڈھیل دے رہے ہیں کہ وہ اور بھی گناہوں میں مبتلا ہو جا ئیں۔ اُن کے لئے تو ذلیل کر دینے والا عذاب ہے۔ اللہ یہ نہیں کرے گا کہ تم لوگ جس حال میں ہو اُسی میں مومنین کو رہنے دے۔ وہ پاک اور نا پاک دونوں کو جدا کر کے رہے گا ۔ اس آیت کو رسالہ کے لوگوں نے بھی سنا۔ اُن میں سے ایک بد بخت شخص نے کہا: قسم ہے رب کعبہ کی ! ہم ہی لوگ پاک ہیں اور تم لوگوں سے جدا کر لئے گئے ہیں۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں سے ایک شخص نے حضرت بریر بن خضیر رضی اللہ عنہ سے پوچھا آپ جانتے ہیں یہ شخص کون ہے؟ حضرت بریر بن خضیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نہیں جانتا۔“ اس شخص نے بتایا: ” یہ ابو حرب سبیعی ہے اور یہ شخص بڑا اہنسی مذاق کرنے والا اور بے ہودہ شرفاء میں بڑا دلیر وسفاک ہے۔ سعید بن قیس نے اسے خون کرنے پر کبھی قید بھی کیا تھا۔ حضرت بریر رضی اللہ عنہ نے اُس کا نام سن کر اُسے پکارا : او فاسق ! تجھے کو اللہ نے پاک لوگوں میں شمار کیا ہے ؟ اس نے پوچھا: ” تو کون ہے؟ انہوں نے فرمایا د میں بریر بن خضیر ہوں ۔ اس بدبخت نے کہا: ”انا للہ ! یہ بات مجھ پر شاق ہے۔ اے بریر! اللہ کی قسم ! تو ہلاک ہوا۔ اللہ کی قسم ! تو ہلاک ہوا۔“ حضرت بریر بن خضیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” اے ابو حرب ! اللہ کے سامنے اپنے کبیرہ گناہوں سے توبہ کر لینے کا ہی موقع ہے۔ سُن ! اللہ کی قسم ! ہم سب پاک لوگوں میں ہیں اور تم سب ناپاک ہو ۔ ابو حرب نے تمسخر سے کہا: ہاں ہاں! میں بھی گواہوں میں ہوں ۔ ایک شخص نے کہا: ”وائے ہو تجھ پر ا جان کر بھی تو نہیں سمجھ رہا ہے ۔“ 


قافلے اور لشکر کی صف بندی


دوسرے دن یعنی دس محرم الحرام عاشورہ کے دن حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اپنے قافلے کے مردوں کی صف بندی کی جن کی تعداد اسی 80 سے بھی کم تھی اور ادھر عمر بن سعد نے چار ہزار ۴۰۰۰ سے زیادہ کے لشکر کی صف بندی کی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: عمر بن سعد عاشورہ کے روز شنبہ کا دن تھا یا جمعہ کا دن تھا صبح کی نماز پڑھ چکا تو اپنے لشکر کولیکر نکلا۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی اور اُن کی صف بندی کی ۔ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بتیس 32 سوار اور چالیس 40 پیدل تھے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے میمنہ پر حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ کو میسرہ پر حضرت حبیب بن مظاہر رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا اور علم ( جھنڈا ) اپنے بھائی حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ کو دیا خیموں کو پشت پر رکھا اور خیموں کے پیچھے آپ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ لکڑیاں اور بانس جمع کر کے اُس میں آگ لگا دی جائے۔ خوف یہ تھا کہ دشمن پیچھے سے حملہ نہ کر دیں۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے خیموں کے پیچھے زمین پست تھی جیسے ایک پتیلی نہر کھدی ہوئی ہو۔ اس کو رات کے وقت سب نے خود کر خندق کی طرح بنا لیا تھا اور اس میں لکڑیاں اور بانس ڈال دیئے تھے کہ جب صبح دشمن حملہ کریں تو اس میں آگ لگا دیں گے تا کہ دشمن سے ایک ہی رخ سے مقابلہ کیا جاسکے اور دشمن پیچھے سے حملہ نہیں کر سکے۔ یہی احتیاط انہوں نے کی اور یہ اُن کے کام آئی۔ عمر بن سعد نے بھی اپنے لشکر کی صف بندی کی۔ اُس کے ساتھ ایک ربع اہل مدینہ تھے اور اُن کا کمانڈر عبداللہ بن زہیر از دی تھا۔ ایک ربع قبیلہ بنو ند حج اور بنو اسد کے لوگ تھے اور اُن کا کمانڈر عبدالرحمن بن ابی سیرہ تھا۔ ایک ربع قبیلہ بنور بیعہ اور بنوکندہ کے لوگ تھے اور اُن کا کمانڈ رقیسا بن اشعث تھا۔ ایک ربع قبیلہ بنو تمیم اور بنو ہمدان کے لوگ تھے اور اُن کا کمانڈر حربن یزید تھا۔ حربن یزید کے سوا سب لوگ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے میں شریک تھے۔ صرف ایک حربن یزید تھا کہ ان لوگوں سے جدا ہو کر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی طرف چلا آیا تھا اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ شہید ہوا ۔ عمر بن سعد نے میمنہ پر عمر بن حجاج کو کمانڈر مقرر کیا ۔ میسرہ پر شمر بن ذی جوشن کو کمانڈر مقرر کیا ۔ رسالہ عزرہ بن قیس کو دیا اور پیدل کا کمانڈر شبٹ بن ربعی کو بنایا اور اپنے غلام آزاد در ید کو شکر کا علم (جھنڈا ) دیا۔ 


شمر بن ذی جوشن کی گستاخی


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اپنے قافلے کے ساتھ صف بندی کئے کھڑے اللہ سے دعا کر رہے تھے کہ دشمنوں کا ایک کمانڈر شمر بن ذی جوشن گھوڑا دوڑا تا ہوا آیا اور آپ رضی اللہ عنہ سے گستاخی کی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عاشورہ کے دن صبح کے وقت جب دشمن کا لشکر سامنے صف آرا ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے دونوں ہاتھ اُٹھائے اور اللہ تعالٰی سے یہ دعا کی : ”اے اللہ تعالیٰ ! ہر مصیبت میں مجھے تجھ پر ہی بھروسہ ہے۔ ہر سختی میں مجھے تجھ ہی سے اُمید ہے۔ جو بلا مجھ پر نازل ہو، اس میں تیرا ہی سہارا ہے ۔ تجھ ہی پر بھروسہ ہے کتنی ہی آفتیں اس طرح پیش آئیں جس میں دل بیٹھ جائے ، جس کا کوئی چارہ کار نہ ہو، جس میں دوست ساتھ نہ دے اور جس میں دشمن خوشی منائے ۔ میں نے تجھ پرہی بھروسہ کیا اور تجھ سے اپنا درد دل کہا۔ تیرے سوا کسی سے کہنے کو دل نہیں چاہتا۔ تو نے آفتوں کو ٹال دیا اور دفع کر دیا۔ بس ہر نعمت کا بخشنے والا، ہر نیکی کا عطا کرنے والا اور ہر مراد کا دینے والا تو ہی ہے ۔ عمر بن سعد کے لشکر کے لوگوں نے دیکھا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی پشت پر آگ جل رہی ہے تو ایک شخص گھوڑا دوڑاتا ہوا اُدھر سے گذرا۔ اُس نے کسی سے کچھ بات نہیں کی بلکہ سیدھا خیموں کی طرف گیا تو دیکھا کہ آگ کے شعلوں کی وجہ سے خیمے دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ وہاں سے پلٹا اور بلند آواز سے پکار کر بولا: "اے (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) قیامت سے پہلے دنیا میں ہی تم نے آگ میں جانے کی جلدی کی ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا : یہ کون شخص ہے؟ شاید یہی شمر بن ذی جوشن ہے۔ لوگوں نے جواب دیا ”ہاں! اللہ تعالیٰ آپ رضی اللہ عنہ کو سلامت رکھے۔ یہ بد بخت وہی ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اُسے بلند آواز سے فرمایا: ”ادبکریاں چرانے والی کے بچے آگ میں جلنے کا تو زیادہ حقدار ہے ۔ حضرت مسلم عوسجہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ”اے آل رسول رضی اللہ عنہ! میں آپ رضی اللہ عنہ پر فدا ہو جاؤں ایہ بد بخت میرے تیر کی زد پر ہے، حکم دیں تو اسے تیر مار دوں؟ تیر خطا نہیں کرے گا اور یہ فاسق بہت بڑے جباروں میں سے ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تیر نہیں مارنا، ہماری طرف سے ابتداء کرنا مجھے گوارا نہیں ہے۔“


دشمنوں کو پھر سے سمجھانا ہے


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے ایک بار پھر دشمنوں کو سمجھانے کی کوشش کی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک گھوڑا تھا جس کا نام لاحق تھا۔ اُس گھوڑے پر آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے بڑے بیٹے علی (اکبر ) بن حسین رضی اللہ عنہ کو سوار کیا۔ جب دشمن آگے بڑھے تو آپ رضی اللہ عنہ نے ایک اونٹ منگوایا اور اس پر سوار ہو کر آگے بڑھے اور بلند آواز سے جسے سب لوگوں نے سنا دشمنوں سے فرمایا: ”اے لوگو! میری بات سن لو! میرے ساتھ جلدی نہ کرو اور جو باتمیں تم سے کہنا ضروری ہیں مجھے کہہ لینے دو۔ تم لوگوں کے پاس آنے کا مجھے عذر کر لینے دو۔ اگر تم میرا عذر مان لو گے، میری بات کو سچ سمجھو گے، میرے ساتھ انصاف کرو گے تو تم نیکی کرو گے اور اگر میرا عذر نہیں مانتے اور میرے ساتھ انصاف نہیں کرتے تو پھر مجھ پر الزام نہیں دھر سکو گے ۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ” پھر جو تمہارا ارادہ ہو اُس پر آمادہ ہو جاؤ۔ اپنے شرکاء کو پکارو اور اچھی طرح سمجھ لو کہ اب کوئی تر دو تو تم کو نہیں ہے۔ پھر میرے ساتھ جو سلوک کرنا چاہتے ہو کر گذرو اور مجھے ذرا بھی مہلت نہ دو۔ میرا سہارا تو صرف اللہ تعالیٰ پر ہی ہے جس نے کتاب کو نازل کیا ہے۔ وہی تو نیک بندوں کو دوست رکھتا ہے ۔“ آپ رضی اللہ عنہ کی بات جب آپ رضی اللہ عنہ کی بہنوں نے سنا تو چلا چلا کر رونے لگیں۔ اُن کی آواز سن کر آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ اور بیٹے حضرت علی (اکبر ) بن حسین رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ” انہیں چپ کر اؤ ، ابھی تو انہیں بہت رونا ہے ۔ وہ دونوں حضرات عورتوں کی طرف گئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کیا بات کہی تھی ۔ یعنی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے آپ رضی عنہ کو منع کیا تھا کہ اپنے اہل و عیال کو لیکر نہ جائیں ۔ اب اُن کے رونے کی آواز سن کر آپ رضی اللہ عنہ کو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا وہ کہنا یاد آ گیا۔ 


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!


Saltanat e Umayya part 18

 18 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 18

حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا حجت قائم کرنا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نواسہ ہوں، تم لوگوں نے ہی مجھے بلایا ہے، حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ کا حجت قائم کرنا، تم نے حضرت موسیٰ کے مرد مومن کی طرح اپنی قوم کی خیر خواہی کی، حربن یزید کی کشمکش اور صحیح فیصلہ، حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ کی تو بہ، حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ کا سمجھانا اور حجت قائم کرنا، عمر بن سعد کا تیر اور حضرت عبداللہ بن عمیر، 


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا حجت قائم کرنا


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اپنے دشمنوں کو سمجھا رہے تھے اور اُن پر حجت قائم کر رہے تھے تا کہ کل قیامت کے دن وہ یہ نہ کہ کیں کہ اگر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ ہمیں سمجھاتے تو ہم مان جاتے لیکن انہوں نے ہمیں سمجھایا ہی نہیں ہے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب اہل وعیال کے رونے کی آواز بند ہو گئی تو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کی اور اُس کی شان کے لائق اُس کا ذکر کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، انبیائے کرام علیہم السلام اور فرشتوں پر درود وسلام بھیجا۔ حمد ونعت کو آپ رضی اللہ عنہ نے اتنی تفصیل سے بیان کیا کہ طوالت کے خوف سے یہاں ذکر نہیں کر رہے ہیں ۔ راوی کہتا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے ایسی فصیح و بلیغ تقریر کی جیسی اس سے پہلے کبھی نہیں سنی تھی اور نہ اس کے بعد کبھی سنی ۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میرے خاندان کا خیال کرو کہ میں کون ہوں؟ پھر اپنے دل سے پوچھو اور غور کرو کہ مجھے شہید کرنا اور میری ہتک حرمت کرنا کیا تم لوگوں کے لئے حلال ہے؟ کیا میں رسول اللہ صلی اللہصلی اللہ علیہ وسلم کا نواسہ نہیں ہوں ؟ کیا میں اُن کے وصی اور اُن کے چازاد بھائی کا بیٹا نہیں ہوں جو سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں سے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے پاس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو احکام لیکر آئے انہوں نے تصدیق کی۔ کیا سید شہدا حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ میرے والد محترم کے چانہیں ہیں؟ کیا حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ شہید ذوالجناحین میرے چانہیں ہیں؟ کیا تم نے نہیں سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور میرے بھائی حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: یہ دونوں جنت کے نو جوانوں کے سردار ہیں ۔ جو کچھ میں تم سے کہ رہا ہوں ، یہ حق بات ہے اگر تم میری تصدیق کرو گے تو سُن لو! اللہ کی قسم جب سے مجھے اس بات کا علم ہوا ہے کہ جھوٹ بولنے والے سے اللہ بیزار ہو جاتا ہے اور جھوٹ بنانے والے کو اُس کے جھوٹ سے ضرور پہنچاتا ہے۔ میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا ہے۔ اگر تم مجھے جھوٹا سمجھ رہے ہو تو سنو تم میں ایسے لوگ ابھی بھی موجود ہیں اُن سے جا کر پوچھو تو وہ بیان کریں گے ۔ حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ ، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ، حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ۔ یہ سب حضرات رضی اللہ عنہم تمہارے درمیان ابھی بھی ہیں۔ جاؤ! اور جا کر اُن سے پوچھو! وہ سب لوگ بیان کریں گے کہ انہوں نے میرے اور میرے بھائی کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا کہتے سنا ہے؟ کیا یہ امر (یعنی اہم بات ) بھی میرا خون بہانے میں تم لوگوں کو مانع نہیں ہے؟ 


میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نواسہ ہوں


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ دشمنوں کو سمجھا رہے تھے اور حجت قائم کر رہے تھے لیکن وہ بد بخت اپنی دنیا بنانے کی فکر میں اپنی آخرت برباد کرنے پر تلے ہوئے تھے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی بات سن کر شمر بن ذی جوشن نے کہا: ”یہ اللہ کی عبادت ایک ہی رُخ سے کرتے ہیں۔ اللہ جانے کیا کہہ رہے ہیں؟ حضرت حبیب بن مظاہر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم ! میں سمجھتا ہوں کہ تو اللہ عبادت ستر رخ سے کرتا ہے۔ بے شک تو سچ کہہ رہا ہے تیری سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کیا فرمارہے ہیں؟ بے شک اللہ نے تیرے دل پر مہر لگا دی ہے ۔ اس کے بعد حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے دشمنوں سے فرمایا: ”تمہیں اس بات میں اگر شک ہے تو کیا اس امر میں بھی شک ہے کہ میں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کا نواسہ ہوں ؟ اللہ کی قسم اس وقت مشرق سے لیکر مغرب تک میرے سوا کوئی شخص تم میں سے ہو یا تمہارے سوا ہو کسی نبی کا نواسہ نہیں ہے اور میں تو خاص تمہارے اور سب کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کا نواسہ ہوں ۔ یہ تو بتاؤ! کیا تم مجھے اس لئے شہید کرنا چاہتے ہو کہ میں نے تم میں سے کسی کوقتل کیا ہو؟ یا تمہارے کسی مال کو ہڑپ کر لیا ہو؟ یا میں نے کسی کو زخمی کیا ہو؟ اور تم مجھ سے اس کا قصاص چاہتے ہو۔ یہ سن کر کسی نے آپ رضی اللہ عنہ کوکوئی جواب نہیں دیا۔


تم لوگوں نے ہی مجھے بلایا ہے


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ انہیں سمجھا رہے تھے اور اُن سے پوچھ رہے تھے کہ آخر تم لوگ مجھے شہید کیوں کرنا چاہتے ہو؟ اُن لوگوں سے کوئی جواب نہیں بن پڑرہا تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے دشمنوں کو مخاطب کر کے فرمایا: ”اے شبت بن ربعی ! اے تجار بن جبرا اے قیس بن اشعث ! اے یزید بن حارث اتم لوگوں نے مجھے خطوط نہیں لکھے کہ میوے پک گئے ہیں، باغ سرسبز ہور ہے ہیں، تالاب چھلک رہے ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نصرت کے لئے لشکر لیکر یہاں آجائیے ۔ اُن لوگوں نے جواب دیا : ”ہم نے نہیں لکھا تھا“۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” نہیں اللہ کی قسم اتم نے ہی لکھا تھا۔ اے لوگو! اگر میرا یہاں آنا تمہیں ناگوار گذرا ہو تو مجھے دنیا کے کسی بھی گوشتہ امن کی طرف چلا جانے دو ۔ قیس بن اشعث نے کہا: ” آپ (رضی اللہ عنہ ) اپنے قربت داروں کے حکم پر سرکیوں نہیں جھکا دیتے ؟ یہ سب آپ (رضی اللہ عنہ ) سے اُسی طرح پیش آئیں گے جیسا آپ (رضی اللہ عنہ ) چاہتے ہیں۔ ان کی طرف سے کوئی ایسا کام نہیں ہوگا جس کی وجہ سے آپ (رضی اللہ عنہ ) کو ناگواری ہو ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: " آخر تو محمد بن اشعث کا بھائی ہے اور اب تو چاہتا ہے کہ جس طرح حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے تیرے بھائی کی امان پر بھروسہ کر کے دھوکا کھایا تھا میں بھی تجھ پر اعتبار کر کے دھو کہ کھاؤں اور حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے خون سے بڑھ کر بنو ہاشم کی طرف سے تجھ سے مطالبہ ہو۔ اللہ کی قسم ! میں ذلت کے ساتھ تم لوگوں کے ہاتھ میں ہاتھ دینے والا نہیں ہوں اور نہ ہی غلاموں کی طرح اطاعت کا اقرار کرنے والا ہوں ۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ترجمہ " اے اللہ کے بندو! میں اپنے اور تمہارے رب (پروردگار ) سے اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ تم مجھے سنگسار کرو۔ میں اپنے اور تمہارے رب (پروردگار ) سے ہر ایسے ظالم سے پناہ مانگتا ہوں پناہ مانگتا ہوں جو روز حساب پر ایمان نہیں رکھتا ہے ۔ اتنا فرما کر آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے اونٹ کو بٹھا دیا اور حضرت عقبہ بن سمعان رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اس اونٹ کو باندھ دو۔


حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ کا حجت قائم کرنا


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اپنی جگہ واپس آگئے تو حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور انہیں سمجھانے لگے اور حجت قائم کرنے لگے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ ایک تیار گھوڑے پر سوار ہتھیار لگائے آگے بڑھے اور دشمنوں سے فرمایا: "اے اہل کوفہ ! اللہ کے عذاب سے ڈرو! اللہ کے عذاب سے۔ سنو! ہر مسلمان کو اپنے مسلمان بھائی کی خیر خواہی کرنا واجب ہے ۔ ہمارے اور تمہارے درمیان جب تک تلوار نہیں آئے گی تب تک ہم اور تم بھائی بھائی ہیں، ایک ہی دین اور ایک ہی ملت پر ہیں اور ہماری خیر خواہی کے تم لائق ہو ۔ ہاں جب تلوار ہمارے درمیان میں آجائے گی تب مروت منقطع ہو جائے گی ۔ سنو! اللہ تعالیٰ نے ہمیں اور تمہیں اپنے نبی محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی ذریت کے باب میں آزمائش کے مرحلے میں ڈالا ہے تا کہ اللہ دیکھ لے کہ ہم کیا کرتے ہیں اور تم کیا کرتے ہو؟ ۔ ہم لوگ تم سب لوگوں کو اس امر کی طرف بلاتے ہیں کہ زیاد کے مردود بیٹے عبید اللہ بن زیاد کا ساتھ چھوڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذریت کی نصرت کرو ۔ کل تم اُن دونوں یزید اور عبید اللہ) کے عہد میں برائی کے سوا کچھ نہیں دیکھو گے۔ یہ تم لوگوں کی آنکھیں نکلوالیتے ہیں، ہاتھ کٹوالتے ہیں، پاؤں قطع کرتے ہیں، گوش بینی و سرکاٹ لیتے ہیں۔ تمہاری لاشوں کو ٹنڈ درختوں پر یہ لٹکا دیتے ہیں تمہارے بزرگوں کو تمہارے قاریوں کو حضرت حجر بن عدی کو اور اُن کے ساتھیوں کو اور ہانی بن عروہ کو اُن جیسے لوگوں کو یہ قتل کرتے ہیں۔


تم نے حضرت موسیٰ کے مرد مومن کی طرح اپنی قوم کی خیر خواہی کی


یہ سن کر دشمنوں نے حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ کو سخت کلمے کہے اور عبید اللہ بن زیاد کی ثنا کی اور اُسے دعا دی اور کہا: ” جب تک ہم لوگ تمہارے سردار اور اُن کے ساتھیوں کوقتل نہیں کرلیں گے یا جب تک اُن کو اور اُن کے ساتھیوں کو گرفتار کر کے امیر عبید اللہ بن زیاد کے پاس بھیج نہیں لیں گے تب تک ہم یہاں سے قدم پیچھے نہیں ہٹائیں گئے ۔ حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے اللہ کے بندو! سیدہ فاطمہ زہرہ رضی اللہ عنہا کے کی اولا د شمیہ کے بیٹے (عبد اللہ کے باپ زیاد کے باپ کا نام کسی کو نہیں معلوم تھا اس لئے اُسے اُس کی ماں سمیہ کے نام سے نمیہ کا بیٹا کہتے تھے ) سے زیادہ نصرت اور مودت کا حق رکھتی ہے۔ اگر تم اُن کی نصرت نہیں کرتے ہوتو اللہ کے واسطے اُن کے قتل سے باز آجاؤ۔ اُن کو اُن کے چازاد یزید کی رائے پر چھوڑ دو۔ میں قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ یزید تمہاری اطاعت گزاری سے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کوشہید کئے بغیر راضی رہے گا۔ یہ سن کر شمر بن ذی جوشن نے ایک تیر حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ کی طرف مار کر کہا: ” خاموش ! اللہ تیری بک بک کو ہمیشہ کے لئے خاموش کر دے تو نے ہم لوگوں کا دماغ پریشان کر دیا ہے۔ حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے اس باپ کے بیٹے جس کا پیشاب ایڑیوں تک بہ کر آتا تھا! میں تجھ سے خطاب نہیں کر رہا ہوں۔ تو تو ڈھور ہے۔ اللہ کی قسم! میں جانتا ہوں کہ تو اللہ کی کتاب کی دو آیات کو سمجھ نہیں سکتا ہے۔ لے ! قیامت کی رسوائی اور عذاب الیم تجھے مبارک ہو ۔ شمر بن ذی جوشن نے کہا: ”اللہ تجھ کو اور تیرے سردار کو ابھی قتل کرے گا ۔ حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: " تو مجھے موت سے ڈراتا ہے۔ اللہ کی قسم ! حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ مرجان تم لوگوں کے ساتھ ہمیشہ زندہ رہنے سے زیادہ بہتر سمجھتا ہوں“۔ اتنا فرمانے کے بعد حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ نے با آواز بلند سب لوگوں سے خطاب کر کے فرمایا: اے اللہ کے بندو! اس سفلہ پاچی کی باتوں پر اپنے دین سے نہیں پھر جانا۔ اللہ کی قسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت اُن لوگوں کو نہیں ملے گی جنہوں نے اُن کی ذریت کا خون بہایا ہوگا اور ان کی نصرت کرنے والوں اور اُن کے اہل بیت کے بچانے والوں کوقتل کیا ہوگا ۔ اسی دوران میں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے ایک شخص نے بلند آواز سے حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ سے کہا: ” حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ تم سے فرمارہے ہیں کہ اب واپس چلے آؤ اور فرمارہے ہیں کہ میری جان کی قسم ! اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت کے آل فرعون کے ”مرد مومن نے اپنی قوم کی خیر خواہی کی تھی اور انہیں حق کی طرف بلانے میں انتہا کر دی تھی تو تم نے بھی ان لوگوں کی خیر خواہی کی انتہا کر دی ۔ کاش! تمہاری خیر خواہی اور انتہا کی کوشش انہیں فائدہ پہنچاتی“۔


حربن یزید کی کشمکش اور صحیح فیصلہ


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ کے سمجھانے کا کوئی اثر عمر بن سعد پر نہیں ہوا اور اُس نے حملے کی تیاری شروع کر دی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: جب عمر بن سعد حملہ کرنے کے لئے آگے بڑھنے لگا تو حر بن یزید نے پوچھا اللہ تیرا بھلا کرے! تو اُن سے لڑے گا؟ عمر بن سعد نے کہا: ”ہاں! اللہ کی قسم ! لڑوں گا اور لڑنا بھی ایسا لڑنا ہو گا جس میں کم سے کم سر اڑیں گے اور ہاتھ قلم ہونگے ۔ حربن یزید نے کہا: ” کیا اُن کی باتوں میں سے کسی ایک بات کو بھی تم لوگ نہیں مانو گے؟ عمر بن سعد نے کہا: اللہ کی قسم! اگر میرا اختیار ہوتا تو میں اُن کی بات مان لیتا لیکن تیرا امر عبد اللہ بن زیاد سے نہیں مان رہا ہے ۔ یہ سن کر حر بن یزید ایک طرف ہو گیا اور اپنی برادری کے ایک شخص قرہ بن قیس سے بولا : " قرہ تم آج اپنے گھوڑے کو پانی پلا چکے ہو؟ اس نے کہا: نہیں میں نے ابھی تک پانی نہیں پلایا ہے ۔ قرہ کہتا ہے: "مجھے یہ گمان ہوا کہ یہ کنارہ کرنا چاہتا ہے اور جنگ میں شریک نہیں ہوگا اور چاہتا ہے کہ میں اس بات سے بے خبر رہوں اور اسے مجھ سے ڈر ہے کہ کہیں میں اس کا راز فاش نہ کر دوں ۔ اس خیال سے میں نے کہا: ”ہاں ! ابھی تک گھوڑے کو میں نے پانی نہیں پلایا ہے، ابھی جا کر پلاتا ہوں “۔ یہ کہ میں وہاں سے سرک گیا۔ اگر حر بن یزید نے مجھے اپنے ارادے سے مطلع کیا ہوتا تو اللہ کی قسم ! میں بھی اُس کے ساتھ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس چلا جاتا۔ اب حربن یزید نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلے کی طرف بڑھنا شروع کر دیا۔ اُس کی برادری کے ایک شخص مہاجر بن اوس نے اُسے آگے بڑھتے دیکھا تو بولا: "اے حربن یزید! تمہارا کیا ارادہ ہے؟ کیا تم حملہ کرنا چاہتے ہو؟“ حر بن یزید یہ سن کر خاموش رہا اور اُس کے ہاتھ اور پاؤں میں تھر تھری کی پیدا ہوگئی۔ یہ دیکھ کر مہاجر بن اوس نے کہا: اللہ کی قسم تمہارا یہ حال دیکھ کر مجھے شبہ ہورہا ہے۔ اللہ کی قسم! میں نے کسی مقام پر تمہاری ایسی حالت نہیں دیکھی جیسی ابھی دیکھ رہا ہوں۔ مجھ سے اگر کوئی پوچھے کہ اہل کوفہ میں سب سے بڑھ کر کون بہادر اور جری ہے؟ تو میں تمہارا ہی نام لوں گا۔ پھر میں تمہاری یہ کیا حالت دیکھ رہا ہوں؟ حربن یزید نے جواب دیا : اللہ کی قسم ! میں اپنے دل سے پوچھ رہا ہوں کہ جہنم میں جانا چاہتا ہے یا جنت میں جانا چاہتا ہے اور اللہ کی قسم ! اگر میرے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جائیں اور میں زندہ جلا دیا جاؤں تب بھی میں جنت کو نہیں چھوڑوں گا“۔ یہ کہہ کر حر بن یزید نے اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور اُسے تیزی سے دوڑاتا ہوا حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں جا پہنچا۔


حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ کی تو بہ


حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ تیزی سے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پہنچے اور توبہ کی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اے آل رسول رضی اللہ عنہ میں آپ رضی اللہ عنہ پر فدا ہو جاؤں ! میں وہی شخص ہوں جس نے آپ رضی اللہ عنہ کو واپس نہیں جانے دیا اور جو راستہ بھر آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ساتھ پھرا کیا ۔ جس نے آپ رضی اللہ عنہ کو اس جگہ پر ٹھہرنے پر مجبور کیا، قسم ہے اللہ وحدہ لاشریک کی! میں ہرگز یہ نہیں سمجھا تھا کہ جتنی باتیں آپ رضی اللہ عنہ ان لوگوں کے سامنے پیش کریں گے، یہ اُن میں سے کسی امر کو نہیں مانیں گے اور نوبت یہاں تک پہنچ جائے گی ۔ میں تو دل میں یہ سوچے ہوئے تھا کہ بعض باتوں میں ان کی اطاعت کروں گا تو کوئی مضائقہ نہیں ہے اور یہ لوگ یہ نہ سمجھیں کہ میں نے ان کی اطاعت سے انحراف کیا ہے۔ بہت ہوگا تو یہی ہوگا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ جن باتوں کو پیش کریں گے یہ اُن باتوں کو مان لیں گے۔ اللہ کی قسم ! اگر میں یہ جانتا ہوتا کہ یہ لوگ آپ رضی اللہ عنہ کی کسی بات کو قبول نہیں کریں گے میں اس امر کا ( آپ رضی اللہ عنہ کو روکنے کا ) مرتکب نہیں ہوتا۔ مجھ سے جو قصور سرزد ہو گیا ہے میں اللہ تعالیٰ کے سامنے اُس قصور کی توبہ کرنے اور اپنی جان آپ رضی اللہ عنہ کی نصرت میں فدا کرنے کے لئے آیا ہوں۔ میں نے آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے جان دینے کا عزم مصمم کر لیا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ مجھے یہ بتائیں کہ کیا اللہ تعالیٰ اس طرح میری توبہ قبول فرمائے گا ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہاں! اللہ تعالیٰ تمہاری توبہ قبول کرے گا اور تمہیں بخش دے گا۔ تمہارا نام کیا ہے؟ اس نے عرض کیا: "میرا نام حربن یزید ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "حر ( آزاد ) تم آزاد ہو، تمہاری والدہ نے جس طرح تمہارا نام آزاد رکھا ہے، ان شاء اللہ تم دنیا اور آخرت میں آزاد ہو۔ اب گھوڑے سے اترو ۔ حضرت حر بن یزید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ” اے آل رسول رضی اللہ عنہ! میرا گھوڑے پر رہنا اُترنے سے بہتر ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ ان لوگوں سے مسلسل جنگ کرتا رہوں اور جب میرا آخری وقت آئے تو تب میں گھوڑے سے اتروں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اچھا! جو تمہارا دل چاہے وہی کرو اللہ تمہیں اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھئے۔


حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ کا سمجھانا اور حجت قائم کرنا


حضرت حسین علی رضی اللہ کی خدمت میں حاضر ہونے کے بعد حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ اہل کوفہ کے لشکر کے سامنے آئے اور انہیں سمجھانے کی کوشش کی اور اُن پر حجت قائم کر دی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ یمن کر اہل کوفہ کے لشکر کی طرف بڑھے اور فرمایا: "اے لوگو ! حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے جو باتیں پیش کیں ہیں اُن میں سے کسی بات کو تم کیوں نہیں مان رہے ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ان کے ساتھ جنگ و جدال سے بچالے؟ اہل کوفہ کے لشکریوں نے کہا: ” ہمارا امیر (سپہ سالار ) عمر بن سعد موجود ہے اُس سے گفتگو کرو۔ حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر وہی گفتگو عمر بن سعد سے پھر کی جو پہلے کر چکے تھے اور جو گفتگو اہل کوفہ سے کی تھی ۔ عمر بن سعد نے کہا: "میری خواہش بھی یہی تھی اگر ہوسکتا تو میں یہی کرتا “۔ اب حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ نے اہل کوفہ کی طرف خطاب کر کے فرمایا : اللہ تم کو ہلاک اور تباہ کرے کہ تم نے انہیں یہاں بلایا اور جب یہ یہاں چلے آئے تو انہیں دشمنوں کے حوالے کر دیا۔ تم کہتے تھے کہ ان پر اپنی جان نثار کریں گے اور اب انہیں شہید کرنے کے لئے حملہ کرنے جارہے ہو۔ ان کو تم نے گرفتار کر لیا، ان کا پانی بند کر دیا ، ان کو چہار جانب سے گھیر لیا اور ان کو اللہ کی بنائی ہوئی وسیع و عریض زمین میں کسی طرف نکل جانے نہیں دیا کہ وہ اور اُن کے اہل بیت امن سے رہتے۔ اب وہ ایک قیدی کی طرح تمہارے ہاتھ آگئے ہیں، اپنے نفس کے لئے اچھا یا برا کچھ نہیں کر سکتے تم نے ان کو ، ان کے اہل بیت کو ، ان کے بچوں کو اور ان کے ساتھیوں کو دریائے فرات کے بہتے ہوئے پانی سے روکا ہے۔ دریائے فرات کا پانی جسے یہودی، مجوسی اور نصرانی پیا کرتے ہیں اور اس میدان کے خنزیر اور کتے اس میں لوٹا کرتے ہیں لیکن تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل کو پانی لینے سے روک دیا ہے۔ اب پیاس کی شدت نے ان سب لوگوں کو ہلاک کر رکھا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل کے ساتھ اُن کے بعد تم نے کیا برا سلوک کیا ہے۔ اگر آج کے دن اسی وقت تم اپنے ارادے سے باز نہ آجاؤ اور تم تو بہ نہ کرو تو اللہ تعالیٰ تمہیں میدان حشر کی تشنگی میں سیراب نہ کرے۔


عمر بن سعد کا تیر اور حضرت عبداللہ بن عمیر


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ دشمنوں کو سمجھارہے تھے لیکن وہ نہیں مانے اور عمر بن سعد نے جنگ کی شروعات کر دی ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اس کے بعد عمر بن سعد آگے بڑھا اور کمان سے تیر جوڑ کر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی طرف مارکر بولا : ”لوگو! گواہ رہنا! سب سے پہلے میں نے ہی تیر چلایا ہے ۔ یہ سن کر لشکریوں نے بھی ایک باڑھ تیر کی چلائی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : یہ سن کر پیادوں کے لشکر نے حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ پر تیر برسانے شروع کر دیئے۔ وہ وہاں سے پلٹے اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس آکر کھڑے ہو گئے۔ عمرو بن سعد لڑنے کے لئے نکلا اور پکار کا کہا: "اے ذوید ! نشان کو بڑھا“۔ اس کے بعد عمر بن سعد نے تیر کمان میں جوڑا اور کہا: ” تم سب گواہ رہنا کہ سب سے پہلے میں نے تیر مارا ہے ۔ قبیلہ بنوکلب کی شاخ بو علیم سے ایک شخص حضرت عبداللہ بن عمیر رضی اللہ عنہ ایک یا دو دن پہلے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلے میں آکر شامل ہوئے تھے۔ وہ قبیلہ ہمدان میں جعد کے کنویں کے پاس اپنے گھر والوں کے ساتھ قیام پذیر تھے ۔ اُن کی بیوی اُم وہب خاندان نمر بن فاسط کی اُن کے ساتھ تھیں ۔ حضرت عبداللہ بن عمیر رضی اللہ عنہ نے مقام نخیلہ میں دیکھا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ پر لشکر کشی کرنے والے لشکر کا سامان رسد جارہا ہے ۔ انہوں نے دریافت کیا: "یہ کیا ماجرا ہے؟ کسی نے کہا: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آل حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ پر لشکر نے حملہ کیا ہے یہ اس کا سامان رسد ہے“۔ حضرت عبداللہ بن عمیر رضی اللہ عنہ کی مدت سے آرزو تھی کی مشرکین سے جہاد کریں۔ خیال آیا کہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے پر جولوگ لشکر کشی کر رہے ہیں اُن سے جہاد کرنا بھی اللہ کی طرف سے جہاد مشرکین کے ثواب سے کم نہیں ہے۔ یہ سوچ کر اپنی بیوی ام و ہب کے پاس آئے اور انہیں ساری بات بتائی تو انہوں نے فرمایا: ” کیا اچھی بات آپ نے کہی ہے۔ اللہ آپ کی بہترین تمنا پوری کرے۔ چلو اور مجھے بھی ساتھ لیتے چلو “ حضرت عبد اللہ بن عمیر رضی اللہ عنہ راتوں رات اپنی بیوی کو لئے ہوئے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلے میں آگئے اور وہیں قیام پذیر ہو گئے۔ جب عمر بن سعد نے قریب آکر تیر مارا تو زیاد بن سمیہ یا ابوسفیان کا آزاد کردہ غلام بیار اور عبید اللہ بن زیاد کا آزاد کردہ غلام سالم یہ دونوں صفوں سے باہر نکلے اور مقابلے کے لئے آواز لگائی۔ یہ سن کر حضرت حبیب بن مظاہر رضی اللہ عنہ اور حضرت بریر بن حضیر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، مگر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ۔ یہ دیکھ کر حضرت عبداللہ بن عمیر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور عرض کی : ”اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آل رضی اللہ عنہ مجھے ان دونوں سے لڑنے کی اجازت دیں“۔


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!


Saltanat e Umayya part 19

 19 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 19

حضرت عبد اللہ بن عمیر اور ام وہب رضی اللہ عنہم کی جاں شاری، ایک گستاخ کا انجام، حضرت بریر بن حضیر رضی اللہ عنہ مباہلہ میں کا میاب، حضرت بریر بن حضیر رضی اللہ عنہ کی شہادت، حربن یزید کی بہادری، دشمنوں کا ایک ساتھ حملہ، حضرت عمر بن خالد ، سعد اور جابر بن حارث کی شہادت، حضرت مسلم بن عوسجہ اسدی کی وصیت اور شہادت، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ، تیراندازوں کا حملہ، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھی پیدل ہو گئے، 




حضرت عبد اللہ بن عمیر اور ام وہب رضی اللہ عنہم کی جاں شاری


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حضرت عبداللہ بن عمیر رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور جنگ کی اجازت مانگی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے نظر جو اُٹھائی تو دیکھا کہ ایک شخص گندمی رنگ، دراز قامت، قوی باز و اور قوی ہیکل سامنے کھڑا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میرے خیال سے یہ شخص اقران ہے، اچھا تم لڑنا چاہتے ہو تو میری طرف سے تمہیں اجازت ہے“۔ حضرت عبد اللہ بن عمیر رضی اللہ عنہ دونوں کے مقابلے پر نکلے۔ دونوں نے پوچھا: ”تم کون ہو؟ انہوں نے اپنا نسب اور خاندان اور قبیلہ کے بارے میں بتایا تو اُن دونوں نے کہا: "ہم تمہیں نہیں جانتے ہیں۔ تم جاؤ اور زہیر بن قین یا حبیب بن مظاہر یا بریر بن حضیر کو ہمارے مقابلے پر بھیجو۔ سیار اس وقت سالم سے آگے تھا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: " او فاحشہ عورت کے بیٹے کسی شخص سے مقابلہ کرنے میں تجھے عار ہے اور تیرے مقابلے میں وہی شخص آئے جو تجھ سے بہتر ہے۔ یہ فرماتے ہوئے آپ رضی اللہ عنہ نے بسیار پر ایسی تلوار ماری کہ وہ و ہیں ٹھنڈا ہو گیا ۔ آپ رضی اللہ عنہ ابھی بسیار پر وار کرنے میں ہی مشغول تھے کہ سالم نے حملہ کر دیا اور آگے بڑھ کر آپ رضی اللہ عنہ پر تلوار سے وار کیا حضرت عبداللہ بن عمیر رضی اللہ عنہ نے اُس کی تلوار کے دار کو بائیں ہاتھ پر روکا جس کی وجہ سے اُس ہاتھ کی انگلیاں اُڑ گئیں ۔ اس کے بعد انہوں نے مڑ کر اُس پر بھی وار کیا اور دونوں کو قتل کر کے یہ اشعار پڑھتے ہوئے آگے بڑھے " تم لوگ مجھے نہیں پہچانتے ہو، سنو! میں خاندان بنو کلب سے ہوں اور یہ فخر میرے لئے کافی ہے کہ میرا گھر قبیلہ علیم میں ہے ۔ میں صاحب قوت و نصرت ہوں ۔ مصیبت پڑے تو بد دل نہیں ہو جاتا۔ اے اُم وہب ! میں اس بات کا ذمہ لیتا ہوں کہ بڑھ بڑھ کر تلواروں کے اور برچھیوں کے وار ان لوگوں پر کروں گا ۔ جو شیوہ اللہ کے مانے والوں کو ہوتا ہے ۔ سیدہ ام وہب رضی اللہ عنہ نے یہ سن کو ایک عود اپنے ہاتھ میں لیا اور اپنے شوہر کی طرف یہ کہتے ہوئے بڑھیں :” میرے ماں باپ تم پر فدا ہو جائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل کی طرف سے لڑے جاؤ ۔ حضرت عبد اللہ بن عمیر کلبی رضی اللہ عنہ اپنی بیوی کی آواز سن کر پلٹ پڑے کہ انہیں عورتوں میں لے جا کر بٹھا ئیں۔ سیدہ اُم وہب رضی اللہ عنہ اُن سے لپٹ گئیں اور بولیں : ” تمہارے سامنے جب تک میرا دم نہیں نکل جائے گا میں تم کو نہیں چھوڑوں گی۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے پکار کر فرمایا: ” اہل بیت کی طرف سے تم دونوں کو اللہ تعالی جزائے خیر عطا فرمائے بی بی ! عورتوں میں واپس چلی آؤ اور اُن کے پاس بیٹھی رہو، عورتوں کو قتل نہیں کرنا چاہئے ۔ سیدہ ام وہب رضی اللہ عنہا یہ حکم سنکر عورتوں میں واپس لوٹ گئیں۔ علامہ عمادالدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں: پس سیدہ ام وہب رضی اللہ عنہا ایک لوہے کا ڈنڈا لیکر اپنے شوہر کے پاس آئیں اور بولیں : ”اے میرے سرتاج ! میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک باز اولادوں کی حفاظت میں جنگ کرتے رہو۔ حضرت عبداللہ بن عمیر کلبی رضی اللہ عنہ انہیں خواتین کی طرف لیکر جانے لگے تو انہوں نے کہا: ”چھوڑو مجھے ! میں تمہارے ساتھ رہوں گی“۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بی بی ! خواتین میں واپس آجاؤ، خواتین پر جنگ فرض نہیں ہے۔


ایک گستاخ کا انجام


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھی آپ رضی اللہ عنہ پر اپنی جان شار کر رہے تھے۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں : عمر بن سعد کے میمنہ پر عمرو بن حجاج کمانڈر تھا۔ وہ اپنے پورے رسالے کو لیکر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کی طرف بڑھا۔ جب یہ رسالہ آپ رضی اللہ عنہ کے قریب آیا تو آپ رضی اللہ عنہ کے تمام ساتھی گھٹنوں کے بل اُس کو روکنے کے لئے کھڑے ہو گئے اور اپنی برچھیوں کی سنانیں اُن سب کی طرف کردیں۔ دشمنوں کے سوار ان سنانوں کی طرف نہیں بڑھ سکے اور واپس جانے لگے تو آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں نے انہیں تیر مارے کچھ لوگوں کوگراد یا اور کچھ لوگوں کو زخمی کیا۔ ان میں ایک شخص جس کا نام عبداللہ بن حوزہ تھا بڑھتا ہوا آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے آیا اور اے حسین اے حسین “ کہہ کر آپ رضی اللہ عنہ کو پکارا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” کیا کہہ رہا ہے؟ اس بد بخت نے کہا: ” جہنم کی آگ مبارک ہو"۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں تو اپنے پروردگار رحیم اور اپنے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جارہا ہوں۔ یہ فرما کر آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یہ کون ہے؟ ساتھیوں نے عرض کیا : " شخص عبداللہ بن حوزہ ہے ۔ آپ رضی نے فرمایا: "اے اللہ ! اسے آگ کا مزہ چکھا۔ اُس کا گھوڑا اُسے لیکر بھاگا اور یہ گرا تو اس کا پاؤں رکاب میں پھنسا رہ گیا اور سرزمین پر آرہا۔ گھوڑا بھڑکا اور اُسی طرح اُسے لیکر بھاگا اور اُس کا سر پتھروں اور جھاڑیوں سے ٹکرا تا رہا اور آخر کار مر گیا۔ مسروق بن وائل بھی عمرو بن حجاج کے اُن سواروں میں آگے آگے تھا۔ وہ کہتا ہے : ” میں اس لئے آگے آگے تھا کہ شاید (حضرت) حسین بن علی ( رضی اللہ عنہ ) کا سر مجھے مل جائے اور عبید اللہ بن زیاد کی نظر میں میری منزلت ہو ۔ ہم لوگ جب (حضرت) حسین بن علی رضی اللہ عنہ) پہنچے تو عبد اللہ بن حوزہ نے آگے بڑھ کر پوچھا: ”تم لوگوں میں (حضرت ) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) ہیں؟ انہوں نے آگے بڑھ کر اسے جواب دیا تو اُس نے دوبارہ اسی طرح پوچھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے سب کو خاموش رہنے کا حکم دیا۔ جب اُس نے تیسری مرتبہ کہا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو نے جھوٹ بکا ہے! میں تو غفور الرحیم اللہ کے پاس اور اپنے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جارہا ہوں ، تو کون شخص ہے ؟ اس نے کہا: ” میں عبداللہ بن حوزہ ہوں“۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے دونوں ہاتھ بلند کئے یہاں تک کہ قمیص کی سفیدہ عبا کی بغلوں میں دکھائی دینے لگیں اور فرمایا: ” اے اللہ ! اسے آگ میں داخل کر عبداللہ بن حوزہ نے غصہ سے اپنی گھوڑی کو آپ رضی اللہ عنہ پر چڑھانا چاہا۔ لیکن آپ رضی اللہ عنہ اور اس کے درمیان خندق حائل تھی ۔ اُس کا پاؤں رکاب میں پھنس گیا اور گھوڑی اسے لے بھاگی اور یہ پشت کے بل گرا۔ اُس کا ایک پاؤں، پنڈلی اور ران سے الگ ہو گیا اور آدھا دھڑ رکاب میں اٹکا رہا۔ یہ دیکھ کر میں (مسروق ) رسالے سے الگ ہو کر چلا گیا اور جب میرے بھائی عبد الجبار نے الگ ہونے کا سبب پوچھا تو میں نے اُسے بتایا کہ ہاشمی خاندان کے لوگوں کی ایسی بات میرے دیکھنے میں آئی ہے کہ میں کبھی اُن سے قتل نہیں کروں گا۔


حضرت بریر بن حضیر رضی اللہ عنہ مباہلہ میں کا میاب


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھی مستقل مزاجی سے ڈٹے ہوئے تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اس کے بعد دشمنوں کے لشکر سے یزید بن معقل نکلا اور بلند آواز سے پکار کر بولا : کیوں بریر بن خضیر ! تم نے دیکھ لیا کہ اللہ نے تمہارے ساتھ کیا کیا ؟ حضرت بریر بن حضیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے میرے ساتھ بھلائی کی ہے اور تیرے حق میں برائی کی ہے ۔ اُس نے کہا: ” تم نے جھوٹ بولا اتم تو کبھی جھوٹ نہیں بولتے تھے۔ تم کو یاد ہوگا کہ بنو لوفان میں تمہارے ساتھ پھر رہاتھا اور تم کہتے جاتے تھے کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اپنے نفس سے اسراف کیا اور حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ گمراہ اور گمراہ کنندہ ہیں اور حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ حق پر ہیں حضرت بریر بن حضیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہاں ہاں ! یہی میرا عقیدہ اور میرا قول ہے ۔ یزید بن معقل بولا " اس میں کوئی شک نہیں کہ تو گمراہ ہے۔ حضرت بریر بن خضیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” آؤ ہم تم مباہلہ کریں اور پہلے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگیں کہ وہ جھوٹے پر لعنت کرے اور گمراہ کو قتل کرے، اس کے بعد ہم دونوں لڑیں۔ اب وہ دونوں آگے آئے اور اوپر کی طرف ہاتھوں کو بلند کر کے یہ دعا کی کہ جھوٹے پر عذاب نازل ہو اور جو سچا ہو وہ گمراہ کوقتل کر دے۔ اس کے بعد دونوں نے ایکدوسرے پر حملہ کر دیا۔ دو دو چوٹیں ہوئیں تھیں کہ یزید بن معتقل کا ایک اوچھا وار حضرت بریر بن حضیر رضی اللہ عنہ پر پڑا ۔ جس سے انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا، انہوں نے پلٹ کر جو تلوار ماری تو وہ یزید بن معقل کے سر کو کاٹتی ہوئی دماغ تک پہنچی اور وہ اس طرح گرا کہ معلوم ہوا پہاڑ سے نیچے آرہا ہو اور حضرت بریر بن خضیر رضی اللہ عنہ کی تلوار اُسی طرح یزید بن معقل کی کھوپڑی میں پھنسی ہوئی تھی ۔ آپ رضی اللہ عنہ تلوار کو کال ہی رہے تھے کہ رضی بن منقذ عبدی نے حملہ کر دیا اور لپٹ گیا۔ 


حضرت بریر بن حضیر رضی اللہ عنہ کی شہادت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے حضرت بریر بن حضیر رضی اللہ عنہ لڑ رہے تھے کہ اچانک رضی بن منقد عبدی نے حملہ کر دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : کچھ دیر دونوں میں کشتی ہوتی رہی اور حضرت بریر بن حضیر رضی اللہ عنہ اسے پٹک کر اُس کی چھاتی پر چڑھ بیٹھے تو رضی بن منقذ عبدی چلانے لگا: ”بہادر و! کمک کرنے والو! دوڑو ۔ یہ سن کر کعب ازدی نے حضرت بریر بن حضیر رضی اللہ عنہ پر حملہ کرنے آگے بڑھا تو دوسرے شخص نے اُسے جتادیا کہ حضرت بریر بن حضیر رضی اللہ عنہ قرآن کے قاری ہیں اور ہم لوگوں کو مسجد میں قرآن پڑھاتے ہیں لیکن پھر بھی کعب از دی نے نیزے سے آپ رضی اللہ عنہ پر وار کیا اور نیزے کی سنان پیٹھ پر لگی۔ حضرت بریر بن خضیر رضی اللہ عنہ برچھی لگنے کے بعد عبدی پر گر پڑے تو انہوں نے عبدی کی ناک دانتوں سے کاٹ لی اور اُس کے چہرے کو زخمی کر دیا۔ پھر کعب نے نیزے کا ایسا وار کیا کہ نیزہ حضرت بریر بن حضیر رضی اللہ عنہ کی پیٹھ سے گھسا اور سینے سے باہر نکل گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ عبدی کے اوپر سے زمیں پر گر پڑے اور شہید ہو گئے ۔ رضی بن منقذ عبدی خاک جھاڑتا ہوا اٹھا اور کعب ازدی سے بولا : " تم نے مجھ پر ایسا احسان کیا ہے جسے میں زندگی بھر نہیں بھولوں گا ۔ کعب از دی جب میدان جنگ سے واپس اپنے گھر آیا تو اُس کی بیوی یا بہن نے اُس سے کہا: تو نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے کے مقابلے میں کمک کی اور تو نے سید قارئین کو شہید کیا ہے اور تو کیسے امر عظیم کا مرتکب ہوا۔ اللہ کی قسم ! میں تجھ سے کبھی بات نہیں کروں گی۔


حربن یزید کی بہادری


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں پر عمر بن سعد کے لشکر نے حملہ کر دیا اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھی بھی بڑی جاں شاری سے مقابلہ کر رہے تھے۔ اسی دوران حضرت عمرو بن قرظہ انصاری رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے اور اُن کا بھائی علی بن قرطہ نے جو دشمنوں کے لشکر میں تھا آپ رضی اللہ عنہ سے بدتمیزی کی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت عمرو بن قرظہ انصاری رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور دشمنوں پر حملہ کر دیا اور بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے ۔ اُن کا بھائی علی بن قرظہ ، عمر بن سعد کے لشکر میں تھا۔ جب اُس نے دیکھا کہ حضرت عمرو بن قرطہ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے ہیں تو اُس نے بلند آواز سے پکار کر کہا: "اے حسین بن علی ! ( نعوذ باللہ ) کذاب بن کذاب !تم نے میرے بھائی کو گمراہ کیا اور اسے دھوکا دیا اور اسے تمہیں نے قتل کیا ہے ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ نے تیرے بھائی کو گراہ نہیں کیا بلکہ اسے ہدایت دی ہے اور تجھے گمراہ کیا ہے ۔ یہ ن کر وہ بولا: یا تو میں تمہیں قتل کروں گا یا پھر اسی بات کے پیچھے اپنی جان دے دوں گا۔ اگر ایسا نہ کروں تو اللہ مجھے مارے یہ کہہ کر اس نے آپ رضی اللہ عنہ پرحملہ کر دیا۔ حضرت نافع بن ہلال مرادی رضی اللہ عنہ نے اُس کا وار روک کر ایک ایسی برچھی ماری کہ وہ الٹ گیا۔ اُس کے لشکر والے جلدی سے اُسے بچانے آئے اور اُٹھا لے گئے ۔ جنگ کے دوران حضرت حر بن یزید رضی اللہ عنہ بڑھ بڑھ کرحملہ کر رہے تھے۔ اُن کے گھوڑے کے چھرے پر تلوار میں پڑ رہی تھیں اور اُس کا خون بہہ رہا تھا۔ اُس وقت یزید بن سفیان نے حصین بن تمیم سے ( جو عبید اللہ بن زیاد کا پولیس محکمہ کا سربراہ تھا اور اُسی کو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو گر فتار کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا اور جسے عمر بن سعد نے زرہ پوش سواروں کا کمانڈر بنا دیا تھا) پوچھا: ”اس حربن یزید کوقتل کرنے کی تم نے آرزو کی تھی؟ حصین بن تمیم نے کہا: ”ہاں“۔ یہ سن کر یزید بن سفیان آگے بڑھا اور حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ کولکار کر کہا: ”مجھ سے لڑنا چاہتے ہو؟ حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہاں! میں تجھ سے لڑوں گا “۔ یہ فرما کر حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ آگے آئے ۔ انہیں دیکھ کر حصین بن تمیم نے کہا: اللہ کی قسم! ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کے حریف کی جان اس کی مٹھی میں ہے ۔ اس کی بات پوری ہوئی ہی تھی کہ حضرت حربن یزیدرضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر ایسا تلور کا وارکیا کہ یزید بن سفیان کی گردن اڑگئی اور اُس کا سر اچھل کر کافی دور جا گرا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : شامی فوجیں اپنے جواں مردوں کے پیہم مارے جانے سے سہم گئیں اور اُن دلیروں کے مقابلے پر جانے سے ہر کوئی جی چرارہا تھا اور اب کسی کی انفرادی مقابلے کی ہمت نہیں پڑ رہی تھی۔


دشمنوں کا ایک ساتھ حملہ


ابھی تک انفرادی یعنی ایک ایک، دو دو یا تین تین کے مقابلے ہو رہے تھے اور زیادہ تر دشمنوں کے سپاہی قتل ہورہے تھے ۔ یہ دیکھ کر دشمنوں کے میمنہ کے کمانڈر عمر بن حجاج نے ایک ساتھ حملہ کرنے کا مشورہ دیا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: شامی فو جیں اپنے جواں مردوں کے پیہم مارے جانے سے سہم گئیں اور اُن دلیروں کے مقابلے پر جانے سے ہر کوئی بھی چمدار ہا تھا اور اب کسی کی انفرادی مقابلے کی ہمت نہیں پڑ رہی تھی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت نافع بن ہلال رضی اللہ عنہ آگے بڑھے تو مزاحم بن حریث اُن کے مقابلے پر آیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اُس پر زبر دست حملہ کیا اور اسے قتل کر دیا۔ یہ دیکھ کر میمنہ کے کمانڈر عمرو بن حجاج نے بلند آواز سے کہا: "اے احمقو! اے اہل کوفہ ! تم نہیں جانتے کس سے لڑ رہے ہو؟ یہ وہ لوگ ہیں جو جان دینے پر آمادہ ہیں۔ ایک ایک کر کے ان سے ہرگز نہ لڑو بلکہ ایک ساتھ حملہ کرو۔ یہ تھوڑے سے لوگ ہیں اور تھوڑی ہی دیر میں فنا ہو جائیں گے۔ اللہ کی قسم! اگر تم انہیں صرف پتھر اُٹھا اُٹھا کر مارو گے تو سب کو قتل کر لو گے“۔ عمر بن سعد نے کہا: ” تم سچ کہہ رہے ہو ۔ اس کے بعد اپنے سپاہیوں کو ایک ایک کر کے لڑنے سے منع کر دیا۔ عمرو بن حجاج نے بلند آواز سے اپنے سپاہیوں سے کہا: ”اے اہل کوفہ ! اپنی طاعت و جماعت کو نہیں چھوڑنا اور جس نے دین کو چھوڑ دیا اور امام کے خلاف کیا اُس شخص کو قتل کرنے میں تامل نہ کرو۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اُس کی یہ بکواس سن کر اُس سے فرمایا: ” اے عمرو بن حجاج ! تو مجھے شہید کرنے پر لوگوں کو ابھار رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ ہم لوگوں نے دین کو چھوڑ دیا ہے اور تم لوگ دین پر قائم ہو۔ اللہ کی قسم اروح قبض ہونے کے بعد ان افعال کے ساتھ مرنے پر تم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ کس نے دین چھوڑ دیا ہے اور کون جہنم کا حقدار ہے۔ اس کے بعد عمر و بن حجاج نے میمنہ کے ساتھ دریائے فرات کی طرف سے حملہ کیا اور ایک ساعت تک جنگ ہوتی رہی۔


حضرت عمر بن خالد ، سعد اور جابر بن حارث کی شہادت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ زبردست مقابلہ کر رہے تھے اور دشمن بھی بار بار حملہ کر رہے تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں سے حضرت عمر بن خالد صیدادی رضی اللہ عنہ اور اُن کے آزاد کردہ غلام حضرت سعد رضی اللہ عنہ اور حضرت جابر بن حارث رضی اللہ عنہ اور مجمع بن عبد اللہ عائدی رضی اللہ عنہ نے لڑائی شروع ہوتے ہی حملہ کر دیا تھا اور تلواریں کھینچے ہوئے دشمنوں کے اوپر پر ٹوٹ پڑے۔ دشمنوں کو مسلسل کاٹتے ہوئے دور تک نکل گئے۔ جب واپس پلٹے تو دشمنوں کے سپاہی انہیں گھیرنے لگے اور اُن کے اور اُن کے ساتھیوں کے درمیان حائل ہو گئے۔ یہ دیکھ کر حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ نے دشمنوں پر حملہ کر دیا اور ان لوگوں کو دشمنوں کے نرغہ سے نکال لائے۔ سب زخمی ہو چکے تھے۔ دشمنوں نے پھر سے اچانک حملہ کیا تو وہ پھر تلواریں کھینچ کھینچ کر دشمنوں پر جاپڑے اور انہیں قتل کرنے لگے اور آخر کار یہ سب ایک ہی جگہ شہید ہو گئے ۔


حضرت مسلم بن عوسجہ اسدی کی وصیت اور شہادت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلے پر عمر بن سعد کے لشکر کے میمنہ کے کمانڈر عمرو بن حجاج نے حملہ کر دیا اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں نے بہادری اور جوانمردی سے اُن کا مقابلہ کیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ” اس حملے میں حضرت مسلم بن عوسجہ اسدی رضی اللہ عنہ زخمی ہو کر گرے۔ عمرو بن حجاج جب حملہ کر کے واپس پلٹا اور گرد و غبار پھٹا تو دیکھا کہ حضرت مسلم بن عوسجہ اسدی رضی اللہ عنہ زمین پر پڑے ہوئے ہیں۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اُن کے پاس آئے۔ ابھی ذرا جان باقی تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اُن کا سر اپنے زانو پر رکھا اور چہرے کی مٹی صاف کرنے لگے اور فرمایا: ”اے مسلم بن عوسجہ رضی اللہعنہا اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے! مجاہدوں میں سے کسی نے اپنی جان فدا کر دی ہے اور کوئی انتظار کر رہا ہے۔ حضرت حبیب بن مظاہر رضی اللہ عنہ نے قریب آکر فرمایا: ”اے ابن عوسجہ رضی اللہ عنہ اتم سے بچھڑنے کا مجھے شدید قلق ہے، تمہیں جنت مبارک ہو"۔ حضرت مسلم بن عوسجہ رضی اللہ عنہ نے دھیمی آواز میں فرمایا: اللہ تعالیٰ تم کو بھی خیر و خوبی مبارک کرے ۔ حضرت حبیب بن مظاہر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں جانتا ہوں کہ تمہارے پیچھے پیچھے میں بھی آنے والا ہوں ۔ ورنہ میں کہتا کہ جو جی چاہے وصیت مجھے کرو کہ تم سے قرابت واخوت دینی کا جو مقتضی ہے اُسی کے مطابق تمہاری وصیت کو بجالاؤں گا“۔ حضرت مسلم بن عوسجہ نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: ” بس اِن کے بارے میں تم سے وصیت کرتا ہوں کہ ان پر اپنی جان فدا کرنا ۔ اُدھر عمرو بن حجاج کے ساتھی خوشی منانے لگے کہ ہم نے حضرت مسلم بن عوسجہ اسدی کو شہید کر دیا۔ ثبت نے یہ سن کر اپنے پاس کے لوگوں سے کہا: ” تم کو موت آئے! اپنے عزیزوں کو اپنے ہاتھوں سے قتل کر رہے ہو اور غیروں کے سامنے خود کو ذلیل کر رہے ہو۔ حضرت مسلم بن عوسجہ جیسے شخص کو شہید کر کے خوش ہو رہے ہو؟ سنو! اللہ کی قسم ! مسلمانوں کے ساتھ اُن کو میں نے بڑے بڑے معرکوں میں بڑی شان کے ساتھ دیکھا ہے۔ آذربائیجان کی جنگ میں میں نے دیکھا کہ انہوں نے چھ کافروں کوقتل کیا اور ابھی مسلمانوں کے سوار آنے بھی نہیں پائے تھے ۔ بھلا ایسا شخص تم میں سے قتل ہو جائے اور تم خوش ہورہے ہو ۔ حضرت مسلم بن عوسجہ رضی اللہ عنہ کو کا مسلم بن ضبابی اور عبدالرحمن بجلی نے شہید کیا۔ حضرت عبد اللہ بن عمیر کلبی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ


قافلے کے میمنہ پر عمرو بن سعد کے لشکر کے میمنہ کے کمانڈر نے اپنے سپاہیوں کے ساتھ حملہ کیا تھا ۔ اس کے بعد میسرہ کا کمانڈر اپنے سپاہیوں کے ساتھ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے قافلے کے میسرہ پرحملہ کیا۔ علامہ حمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عمر بن سعد کے میسرہ کے کمانڈر شمر بن ذی جوشن نے اپنے سپاہیوں کے ساتھ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے میسرہ پر حملہ کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھی اپنی جگہ پر ڈٹے رہے اور شمر بن ذی جوشن کے سپاہیوں کو برچھیاں مارنے لگے۔ اب وہ لوگ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں پر ہر طرف سے حملہ آور ہو گئے۔ اس حملہ میں حضرت عبداللہ بن عمیر کلبی رضی اللہ عنہ شہید ہوئے ۔ آپ رضی اللہ عنہ بہت بہادری سے لڑے اور پہلے دو شخصوں کو قتل کیا اور پھر دو اور شخصوں کو قتل کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ بڑی شدت اور جرأت سے حملہ کر رہے تھے اور مسلسل دشمنوں کو قتل کرتے جا رہے تھے کہ ہانی بن ثبیت حضرمی اور بکیر بن جی تمیمی نے ایک ساتھ مل کر آپ رضی اللہ عنہ پر پیچھے سے حملہ کر دیا اور شہید کر دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں سے دوسرے شہید ہیں۔


تیراندازوں کا حملہ


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھی بڑی دلیری اور جرات سے دشمنوں سے مقابلہ کر رہے تھے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اب حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں نے بڑی شدت و قوت سے جنگ کی۔ ادھر قافلے کے صرف بتیس (32) سوار تھے اور انہوں نے جس طرف بھی رخ کیا تو اہل کوفہ کے سواروں کو شکست دی۔ عزرہ بن قیس اہل کوفہ کا کمانڈر تھا۔ اُس نے جب دیکھا کہ اُس کے رسالہ کے سوار ہر طرف سے پسپا ہو رہے ہیں تو اُس نے عمر بن سعد کے پاس یہ کہلا بھیجا تو دیکھ رہا ہے کہ ان چند سواروں کے مقابلے میں میرا رسالہ کتنی دیر سے منتشر ہو رہا ہے۔ اب ان کے لئے پیادوں (پیدلوں) کو اور تیر اندازوں کو جلدی بھیج دئے ۔ عمر بن سعد نے شبث بن ربعی کوحکم دیا: ” تم اُن سے لڑنے کے لئے اپنے تیر اندازوں کولیکر جاؤ ۔ شبث بن ربعی نے کہا: "سبحان اللہ ! اس شخص کو جو قوم عرب کا اور تمام شہروں کا بزرگ ہے۔ تم چاہتے ہوں کہ اُس کے مقابلے پر تیر اندازوں کو لیکر جائے تمہیں کوئی دوسرا نہیں ملتا جو اس کام کی حامی بھرے اور میری ضرورت نہ ہو۔“ اس کے بعد اُس نے کہا: اہل کوفہ کواللہ تعالیٰ کبھی خیر و خوبی نصیب نہیں کرے گا اور اُن کو کبھی راہ راست کی توفیق نہیں دے گا۔ تعجب کی بات ہے کہ ہم لوگ پانچ سال تک حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہے اور پھر اُن کے بیٹے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہے۔ پھر اب ہم یزید اور سمیہ فاحشہ کے بیٹے کے ساتھ ملکر ان کے دوسرے بیٹے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو جو اس وقت روئے زمین پر سب سے افضل ہیں شہید کریں؟ ہائے ہماری گمراہی اور زیاں کاری“۔ غرض اسی طرح شبث بن ربعی حملہ کرنے سے پہلو تہی کرتا رہا۔ پھر عمر بن سعد نے حصین بن نمیر تمیمی کو حکم دیا اور وہ اپنے تمام زرہ پوشوں اور پانچ سو تیر اندازوں کے ساتھ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کے سامنے آیا اور تیر برسانے لگا تھوڑی ہی دیر میں آپ رضی اللہ عنہ کے تمام ساتھی پیدل ہو گئے۔


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھی پیدل ہو گئے


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے تمام ساتھی بہت ہی دلیری اور جرات سے لڑ رہے تھے۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : شمر بن ذی جوشن نے اپنے میسرہ کو لیکرحملہ کیا۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھی نہایت استقلال سے جی تو ڑ کر جواب دینے لگے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ حالانکہ صرف بتیس (33) سوار تھے لیکن وہ جس طرف بھی رخ کرتے تھے تو صف کی صف اُلٹ جاتی تھی اور لوگ تتر بتر ہو کر ادھر ادھر بھاگ کھڑے ہوتے تھے۔ سواران کوفہ اُن کے مقابلے پر جانے سے جی چراتے تھے۔ عزرہ بن قیس جو سواروں کا کمانڈ رتھا اُس نے جنگ کا عنوان بگڑتا دیکھا تو عمر بن سعد کے پاس کہلا بھیجا کہ ان چند سواروں نے ہمارے سواروں کے چھکے چھڑا دیئے ہیں اور اگر جنگ کا یہی عنوان رہا تو عنقریب ہم بھاگ کھڑے ہوں گے۔ اس لئے مناسب ہے کہ تیر اندازوں اور پیادوں کو آگے بڑھنے کا حکم دو ۔ عمر بن سعد نے شبث بن ربعی کو تیر اندازی کرنے کا حکم دیا لیکن اُس نے انکار کر دیا۔ تب حصین بن نمرہ کو پانچ سو تیر اندازوں کے ساتھ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلے پر تیر باری کرنے کے لئے بھیجا۔ وہ اپنے پانچ سو تیر اندازوں کے ساتھ قریب پہنچ کر آپ رضی اللہ عنہ کے سواروں پر تیر برسانے لگا۔ تھوڑی ہی دیر میں آپ رضی اللہ عنہ کے سواروں کے تمام گھوڑے زخمی ہو گئے اور آپ رضی اللہ عنہ کے تمام ساتھی پیدل ہو کر جنگ لڑنے لگے۔ حضرت حر بن یزید رضی اللہ عنہ کا گھوڑا بھی مرگیا اور وہ بھی پیدل ہی لڑنے لگے۔


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!


Saltanat e Umayya part 20

 20 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 20

خیموں کو آگ لگانے کی کوشش، حضرت حبیب بن مظاہر کی شہادت، حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ کی شہادت، نماز خوف اور حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ کی شہادت، حضرت نافع بن بلال رضی اللہ عنہ کی گرفتاری اور شہادت، حضرت حنظلہ بن اسعد شامی رضی اللہ عنہ کی شہادت، ساتھیوں کی جاں نثاری، حضرت شوذب اور حضرت عابس بن شبیب کی شہادت، حضرت یزید بن مہاجر زیا درضی اللہ عنہ کی شہادت، حضرت یزید بن مہاجر زیا درضی اللہ عنہ کی شہادت، 



خیموں کو آگ لگانے کی کوشش


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلے والے سو سے بھی کم تھے اس کے باوجود چار ہزار سے زیادہ کے لشکر کا مردانہ وار مقابلہ کر رہے تھے۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: دوپہر تک لڑائی نہایت تیزی اور سختی سے جاری رہی اور ملک شام کا لشکر کشیر ہونے کے باوجود اُن لوگوں کے حملے کا جواب نہیں دے پار ہا تھا اور نہ ہی اُن کے قریب پہنچ کر حملہ آور ہو پارہا تھا۔ عمر بن سعد نے مجبور ہو کر چند سپاہیوں کو آپ رضی اللہ عنہ کے خیموں کی طرف سے حملہ کرنے کے لئے بھیجا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں میں سے صرف چار افراد کو مخالفین کو روکنے کے لئے متعین کیا جو بھی دستہ یا فوج سواروں یا پیادوں کا ملک شام کے لشکر سے نکل کر خیموں کی طرف بڑھتا تھا۔ اُسے خیمہ تک پہنچنا تو دور کی بات ہے راستے میں ڈھیر ہو جانا پڑتا تھا۔ تب عمر بن سعد نے خیموں پر دور سے ہی آگ برسانے کا حکم دیا۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم لوگ مجھ سے لڑ رہے ہو تو مجھ ہی سے لڑو، خیموں میں عورتوں اور بچوں کے سوا کوئی مرد نہیں ہے۔ وہ غریب نکل کر بھاگ نہیں سکیں گی اور اور ہم خیموں کے جلنے کے بعد تم سے لڑ نہیں سکیں گے۔ عمر بن سعد یہ سن کر خاموش ہو گیا۔ اس کے بعد شمر بن ذی جوشن حملہ کر کے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے خیمے تک پہنچ گیا اور بولا : ”اگر میں اس خیمے کو نہیں جلا دوں تو مجھے جہنم میں جلنا نصیب ہو“۔ یہ سن کو عورتیں چلا کر خیموں سے باہر آ گئیں ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے شمر کو ڈانٹ کر فرمایا: 'سٹو میرے خیمے کو جلائے گا جس میں میرے اہل بیت ہیں؟ اللہ مجھے جلائے“ شمر بن ذی جوشن نے اس کا کچھ جواب نہیں دیا۔ حمین بن مسلم اور شبت بن ربعی نے اُس کو اس فعل شنیع سے روکنے کی کوشش کی لیکن وہ بد بخت نہیں مان رہا تھا اور برابر خیمے کی طرف آگ لگانے کے بڑھتا جارہا تھا۔ حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ نے اپنے دس ساتھیوں کے ساتھ الگ ہو کر شمر بن ذی جوشن اور اُس کے دستے پر حملہ کر دیا۔ شمر کے ساتھیوں میں سے ایک ابوغرہ ضیابی اور بہت سے سپاہی مارے گئے اور آخر کار اسے مجبور ہو کر واپس جانا پڑا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اسی حالت میں سیدہ ام وہب رضی اللہ عنہا اپنے شوہر حضرت عبد اللہ بن عمر کلبی رضی اللہ عنہ کی لاش کے پاس آئیں اور اُن کا سر اپنے زانو پر رکھ لیا اور گردوغبار اُن کے چہرہ سے صاف کرتی جاتی تھیں اور فرماتی جاتی تھیں : " تم کو جنت میں جانا مبارک ہو ۔ شمر بن ذی جوشن نے آپ رضی اللہ عنہا کو یہ فرماتے سنا تو اپنے ایک غلام رستم سے کہا: ” اس عورت کے سر پر ایک لٹھ مار ۔ اُس بد بخت نے سیدہ ام و ہب رضی اللہ عنہا کے سر پر ایسا لٹھ مارا کہ سر پاش پاش ہو گیا اور آپ رضی اللہ عنہا و ہیں شہید ہو کر شوہر کی لاش پر گر گئیں۔ 


حضرت حبیب بن مظاہر کی شہادت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ انتہائی جوانمردی اور دلیری اور بہادری سے دشمنوں کا مقابلہ کر رہے تھے کہ اس دوران ظہر کی نماز کا وقت آگیا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: چونکہ شامیوں (اہل کوفہ ) کے لشکر کی تعداد زیادہ تھی اور کثرت کی وجہ سے دو، چار، پانچ ، دس اور بیس کا مارا جاتا انہیں کچھ بھی محسوس نہیں ہوتا تھا۔ جبکہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کو اُن کی قلت کی وجہ سے ایک ساتھی کے شہید ہونے کا بھی انہیں شدت سے احساس ہوتا تھا۔ لڑائی اسی شدت سے چل رہی تھی کہ ظہر کی نماز کا وقت آگیا۔ حضرت ابو ثمامہ صائدی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”میں آپ رضی اللہ عنہ پر فدا ہو جاؤں ، میں دیکھ رہا ہوں کہ دشمن آپ رضی اللہ عنہ سے زیادہ قریب ہو گئے ہیں۔ اللہ کی قسم ! جب تک میں زندہ ہوں انشاء اللہ آپ رضی اللہ عنہ پر کوئی آنچ نہیں آنے دوں گا۔ میں چاہتا ہوں کہ اپنے رب سے ہم اُس وقت میں جب ہم اس وقت کی نماز پڑھ لیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں دعائے خیر دی اور فرمایا: ہاں ! یہ نماز کا اول وقت ہے ۔ پھر عمر بن سعد اور شمر بن ذی جوشن کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: ” ان لوگوں سے کہو کہ تھوڑی دیر کے لئے جنگ کو ملتوی کر دیں تا کہ ہم نماز پڑھ سکیں“۔ حضرت ابو ثمامہ رضی اللہ عنہ اور باقی ساتھیوں نے دشمنوں سے جنگ بندی کی درخواست کی۔ حصین بن نمیر بولا : ” تمہاری یہ نماز قبول نہیں کی جائے گی“۔ حضرت حبیب بن مظاہر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” کیوں سگِ دنیا! ( دنیا کے کتے ! تیارا خیال ہے کہ تیری نماز قبول ہوگی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل کی نماز قبول نہیں ہوگی ؟ حصین بن نمیر نے یہ سن کر طیش میں آکر حضرت حبیب بن مظاہر رضی اللہ عنہ پرگھوڑا چڑھانا چاہا۔ حضرت حبیب بن مظاہر رضی اللہ عنہ نے لپک کر اُس کے گھوڑے پر تلوار کا وار کیا اور گھوڑا اُلٹ کر گر پڑا اور حصین بن نمیر بھی منہ کے بل گر پڑا ۔ اُس کے ساتھیوں نے دوڑ کر اُسے اُٹھایا اور حضرت حبیب بن مظاہر رضی اللہ عنہ نہایت بہادری سے اُن سب سے لڑنے لگے۔ اور بنو جیم کے ایک شخص بدیل بن مریم کو قتل کر دیا۔ ایک دوسرے شخص نے آپ رضی اللہ عنہ پر نیزے کا وار کیا لیکن آپ رضی اللہ عنہ نے اُس کا وار خالی کر دیا اور اُس پر دار کیا ہی تھا کہ پیچھے سے حصین بن نمیر نے تلوار کا وار کر دیا جس سے آپ رضی اللہ عنہ گر پڑے اور اُس نے آپ رضی اللہ عنہ کا سرکاٹ لیا اور شہید کر دیا۔


حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ کی شہادت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اپنے کمانڈر کو شہید ہوتے دیکھا تو آپ رضی اللہ عنہ خود میدان جنگ میں جانے کے لئے تیار ہو گئے ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: حضرت حبیب بن مظاہر رضی اللہ عنہ کے شہید ہونے سے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کوسخت صدمہ ہوا اور آپ رضی اللہ عنہ بہ نفس نفیس میدان میں جانے کے لئے تیار ہو گئے ۔ یہ دیکھ کر حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ اور حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور عرض کیا : ” ہم آپ رضی اللہ عنہ پر سینہ سپر ہو کر فدا ہونے کے لئے موجود ہیں اور ہمارے ہوتے ہوئے آپ رضی اللہ عنہ میدان جنگ میں تشریف نہ لے جائے ۔ اُن دونوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو روک دیا اور خود میدان جنگ میں پہنچ گئے اور دونوں نے ملک شام کے لشکر پر ایک ساتھ حملہ کر دیا۔ جب ایک شخص لڑتے لڑتے دشمنوں میں گھر جاتا تو دوسراختی اور تیزی سے حملہ کر دیتا اور اپنے ساتھی کو دشمنوں کے نرغے سے نکال لاتا۔ تھوڑی دیر تک یہ دونوں حضرات اسی طرح لڑتے رہے اور دشمنوں کے بیسوں سپاہیوں کوقتل کر دیا۔ حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ تو بہت ہی دلیری اور جانبازی سے لڑ رہے تھے۔ عمر بن سعد نے پیدل سپاہیوں کو حکم دیا تو انہوں نے چاروں طرف سے حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ کو گھر لیا۔ حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ کافی پیچھے رہ گئے اور حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ مسلسل دشمنوں کو قتل کرتے کرتے کافی آگے بڑھ گئے ۔ آخر کار حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب حضرت حبیب بن مظاہر رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے تو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا دل ٹوٹ گیا اور آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں نے اپنے نفس اور اپنے ساتھیوں کو اللہ کے حوالے کیا ۔ اب حضرت حر بن یزید رضی اللہ عنہ نے رجز پڑھنا شروع کیا اور اُن کے ساتھ شریک ہو کر حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ بھی شدید قتال کیا۔ اُن دونوں میں سے ایک شخص حملہ کرتا تھا اور جب وہ دشمنوں میں گھر جاتا تھا تو دوسرا حملہ کر کے اُسے چھڑا لیتا تھا۔ ایک ساعت تک دونوں اسی طرح شمشیر زنی کرتے رہے۔ اس کے بعد پیادوں کے جم غفیر نے ہجوم کر کے حضرت حربن یزید رضی اللہعنہ کو شہید کر دیا ۔ حضرت ابو ثمامہ صائدی رضی اللہ عنہ نے اپنے چچا زاد کو جودشمنوں کے ساتھ تھا قتل کر دیا۔


نماز خوف اور حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ کی شہادت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھی آپ رضی اللہ عنہ پر اپنی جانیں فدا کر رہے تھے اور ایک ایک کر کے شہید ہوتے جارہے تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اس کے بعد سب نے نماز ظہر پڑھی۔ یہ صلوۃ الخوف ( نماز خوف ) تھی جو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ پڑھی۔ ظہر کی نماز کے بعد پھر سے جنگ ہونے لگی اور دشمن حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ تک پہنچ گئے ۔ یہ دیکھ کر حضرت حنفی رضی اللہ عنہ آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے آکر کھڑے ہو گئے اور آپ رضی اللہ عنہ کو بچانے کے لئے خود تیروں کا نشانہ بن گئے ۔ وہ آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے ڈٹ کر کھڑے رہے اور دائیں اور بائیں جانب اور سامنے سے مسلسل تیرا نہیں آ آ کر لگتے رہے۔ آخر کار تیر کھاتے کھاتے گر گئے ۔ حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ رجز پڑھتے جا رہے تھے اور دشمنوں کے سامنے آپ رضی اللہ عنہ کی ڈھال بنے کھڑے تھے۔ انہوں نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو پوری طرح ڈھانپ رکھا تھا اور اُن سے عرض کیا : اے مہدی ہادی پڑھیئے! اپنے جد اعلی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اپنے والد محترم حضرت علی رضی اللہ عنہ، اپنے بھائی حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ ، اپنے چچا حضرت جعفر بن ابی طالب طیار رضی اللہ عنہ اور اللہ کے شیر حضرت حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے ملاقات کیجیے۔ اسی حالت میں کثیر بن عبداللہ تھی اور مہاجر بن اوس نے حملہ کر کے حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا۔


حضرت نافع بن بلال رضی اللہ عنہ کی گرفتاری اور شہادت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھی مسلسل آپ رضی اللہ عنہ پر اپنی جانیں فدا کرتے جارہے تھے اور اللہ تعالیٰ نے آپ رضی اللہ عنہ کو اتنی ہمت عطا فرمائی کہ آپ رضی اللہ عنہ انتہائی صبر سے ایک ایک کر کے اپنے ساتھیوں کو شہید ہوتے دیکھ رہے تھے اور دشمنوں سے مقابلہ بھی کرتے جارہے تھے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت نافع بن ہلال جملی رضی اللہ عنہ زہر میں بجھے ہوئے تیر اپنی کمان پر لگا لگا کر چلاتے جارہے تھے اور فرماتے جا رہے تھے : میں جملی ہوں اور حضرت علی بن ابی طالب اور اُن کے بیٹے کے ساتھیوں میں سے ہوں۔ دشمنوں کے بارہ سپاہیوں کو آپ رضی اللہ عنہ قل کیا اور کچھ لوگوں کو بھی بھی کیا۔ دشمنوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور ہر طرف سے وار کرنے لگے۔ آپ رضی اللہ عنہ ہر طرف گھوم گھوم کر مقابلہ کرتے رہے۔ پہلے ایک بازو کٹا پھر دوسرا باز بھی کٹ گیا تو دشمنوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو گر فتار کر لیا۔ شمر بن ذی جوشن اور اُس کے ساتھی آپ رضی اللہ عنہ کو دھکیلتے ہوئے عمر بن سعد کے پاس لائے تو اُس نے پوچھا: ”اے نافع اتم نے اپنے نفس کے ساتھ ایسی برائی کیوں کی ؟ حضرت نافع بن ہلال رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میرے ارادے کا حال اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے“۔ اُن کی داڑھی سے خون بہتا جارہا تھا اور وہ فرماتے جارہے تھے : ”میں نے تیرے بارہ سپاہیوں کو قتل کیا ہے اور مجھے ذرا بھی پشیمانی نہیں ہے۔ میرے بازو اگر کٹ نہیں گئے ہوتے تو تم مجھے گرفتار نہیں کر سکتے تھے ۔ شمر بن ذی جوشن نے عمر بن سعد سے کہا: اللہ آپ کو سلامت رکھے! اسے قتل کر دیجیے ۔ عمر بن سعد نے کیا: تو ہی ان کو لیکر آیا ہے اگر قتل کرنا چاہتا ہے تو تو ہی قتل کر دے۔ شمر بن ذی جوشن نے تلوار کھینچی تو حضرت نافع بن بلال رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کا شکر ہے کہ جو لوگ بدترین مخلوق میں سے ہیں اُن کے ہاتھوں ہماری موت اُس نے مقدر کی ہے۔ اس کے بعد شمر بن ذی جوشن نے آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا۔


حضرت حنظلہ بن اسعد شامی رضی اللہ عنہ کی شہادت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کوگھیر لیا گیا تھا اور ہر طرف سے حملے ہورہے تھے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اسی دوران حضرت حنظلہ بن اسعد شامی رضی اللہ عنہ آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے آکر ڈھال بن کر کھڑے ہو گئے اور بلند آواز سے پکار پکار کر فرمانے لگے: ”اے میری قوم والو! مجھے ڈر ہے کہ تم لوگوں پر جنگ احزاب کا ساعذاب نازل ہوگا ۔ جیسا کہ قوم نوح اور قوم عاد اور قوم ثمود پر اور اُن کے بعد والوں پر نازل ہوا اور اللہ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرنا چاہتا۔ اے میری قوم کے لوگو! مجھے تمہارے لئے قیامت کے دن کا ڈر ہے جس روز تم پیٹھ پھیرے ہوئے بھاگتے پھرو گے اور اللہ کی طرف سے تمہارا کوئی بچانے والا نہیں ہوگا۔ اور سنو! جسے اللہ گراہ کرتا ہے اُسے راہ پر لگانے والا کوئی نہیں ملتا۔ اے میری قوم کے لوگو! حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو شہید نہ کرو ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ اپنا عذاب نازل کر کے تمہیں تباہ کر دے۔ اور سنو! جس نے اللہ پر بہتان لگا یا وہ زیاں کا رہے۔ حضرت حنظلہ بن اسعد شامی رضی اللہ عنہ کا یہ کلام سن کر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے حنظلہ بن اسعد رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے۔ یہ لوگ اُسی وقت اللہ کے عذاب کے سزاوار ہو چکے تھے جب تم نے انہیں حق کی طرف پکارا تھا اور انہوں نے تمہارے قول کو رد کر دیا تھا۔ تمہارا اور تمہارے ساتھیوں کا خون بہانے پر آمادہ ہو گئے اور اب تو یہ لوگ تمہارے صالح بھائیوں کو شہید بھی کر چکے ہیں ۔ حضرت حنظلہ بن اسعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ” میں آپ رضی اللہ عنہ پر فدا ہو جاؤں ! آپ رضی اللہ عنہ نے بیچ فرمایا ہے اور آپ رضی اللہ عنہ مجھ سے زیادہ افقہ ہیں اور اس منصب کے احق ہیں۔ کیا ابھی بھی ہم اپنے صالح بھائیوں سے ملنے کو نہ جائیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے اجازت دے دی اور فرمایا: ”جاؤ اُس دار البقا“ کی طرف جو دنیا و مافیہا سے بہت بہتر ہے ۔ حضرت حنظلہ بن اسعد شامی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : "السلام علیکم یا اباعبد اللہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے ) رضی اللہ عنہ! اللہ تعالیٰ آپ رضی اللہ عنہ پر اور آپ رضی اللہ عنہ کے اہل بیت پر صلوٰۃ بھیجے اور ہم کو آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنت میں ملائے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر دو مرتبہ آمین فرمایا۔ اس کے بعد حضرت حنظلہ بن اسعد رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور دشمنوں پر زبردست حملہ کیا اور زبردست شمشیر زنی کرتے رہے یہاں تک کہ شہید ہو گئے اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ پر فدا ہو گئے۔


ساتھیوں کی جاں نثاری


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے تمام ساتھی آپ رضی اللہ عنہ پر اپنی جانیں فدا کر رہے تھے۔ بڑے تو بڑے یہاں تک کہ نوجوان بھی آپ رضی اللہ عنہ پر اپنی جانیں نچھاور کر رہے تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اب شمر بن ذی جوشن رجز پڑھتا ہوا حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کی طرف بڑھا۔ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں نے جب یہ دیکھا کہ قاتلوں کا بڑا ہجوم ہے اور اب نہ تو وہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو بچا سکتے ہیں اور نہ ہی خود کو بچا سکتے ہیں تو سب کی یہی آرزو ہوئی کہ آپ رضی اللہ عنہ پر اپنی جانیں نچھاور کر دیں اور آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے ہی شہید ہو جائیں۔ عزرہ غفاری کے دونوں بیٹے حضرت عبداللہ اور حضرت عبدالرحمن آپ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور عرض کیا: ”اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے رضی اللہ عنہ! السلام علیکم دوشمن نے ہمیں آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ گھیر لیا ہے اور ہماری آرزو ہے کہ ہم آپ رضی اللہ عنہ پر اپنی جان نچھاور کر دیں اور آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے شہید ہوتے جائیں اور آپ رضی اللہ عنہ کو دشمنوں سے بچاتے جائیں اور اُن کے نرغہ کو ہٹاتے جائیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” مرحبا میرے بچو! آؤ! میرے قریب آجاؤ“ دونوں آپ رضی اللہ عنہ کے قریب آگئے اور رجز پڑھ پڑھ کر بڑھ بڑھ کر شمشیر زنی کرنے لگے۔ حضرت سیف بن حارث اور حضرت مالک بن عبد رضی اللہ عنہم دونوں چازاد بھائی ہیں۔ ماں دونوں کی ایک تھی۔ یہ دونوں نوجوان روتے ہوئے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میرے بچو ا تم رو کیوں رہے ہو؟ اللہ کی قسم! میں جانتا ہوں کہ اب تھوڑی دیر میں ہی تم خوش ہو جاؤ گے ۔ انہوں نے عرض کیا: ” ہم آپ رضی اللہ عنہ پر فدا ہو جائیں ! ہم اپنے لئے نہیں رور ہے ہیں بلکہ ہمیں آپ رضی اللہ عنہ کے حال پر رونا آرہا ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ دشمنوں کے نرغے میں ہیں اور ہم آپ رضی اللہ عنہ کو بچا نہیں سکتے ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "میری حالت پر غمگین ہونے کی جزا اور میرے ساتھ ہمدردی کرنے کا عوض اے بیٹو! اللہ تعالیٰ تمہیں ضرور ایسا ثواب عطا فرمائے گا جیسا ثواب وہ اپنے نیک بندوں کو عطا فرماتا ہے ۔ اس کے بعد یہ دونوں نو جوان آگے بڑھے اور مڑ مڑ کر کہتے جاتے تھے : "اسلام علیکم ! اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے رضی اللہ عنہ ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : ”وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ۔ اس کے بعد اُن دونوں نے دشمنوں پر زبر دست حملہ کیا اورکئی دشمنوں کو قتل کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔


حضرت شوذب اور حضرت عابس بن شبیب کی شہادت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھی آپ رضی اللہ عنہ کو بچانے کی بھر پور کوشش کر رہے تھے اور اپنی اپنی جانیں آپ رضی اللہ عنہ پر فدا کر رہے تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت عابس بن ابی شعیب شاکری رضی اللہ عنہ بھی حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور اُن کے ساتھ اُن کے آزاد کردہ غلام حضرت شوذب رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ انہوں نے حضرت شوذب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ” کہو کیا ارادہ ہے؟ حضرت شوذب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی سیدہ فاطمہ زہرہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے میں بھی لڑنا چاہتا ہوں اور اُن پر اپنی جان فدا کرنا چاہتا ہوں۔ حضرت عابس بن شعیب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” مجھے تم سے یہی اُمید تھی ۔ پھر جب اپنی جان اُن پر فدا کرنا ہی ہے تو آؤ میں تمہیں حضرت ابو عبد اللہ ( حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے ) رضی اللہ عنہ کے سامنے رخصت کروں ۔ اگر اس وقت تجھ سے بھی بڑھ کر میرا کوئی رشتہ دار ہوتا تو میری یہی خوشی تھی کہ میں اُسے رخصت کرتا ۔ آج کا دن وہ دن ہے کہ جتنا ہم سے ہو سکے ہم ثواب لوٹ لیں ۔ بس آج کے بعد عمل خیر کا موقع نہیں ہے بلکہ حساب کا دن آنے والا ہے ۔ حضرت شوذب رضی اللہ عنہ نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سلام کر کے لڑنے کے لئے آگے بڑھے اور کئی دشمنوں کو قتل کرتے ہوئے شہید ہو گئے ۔ حضرت عابس بن شبیب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ” اے ابوعبداللہ رضی اللہعنہا اللہ کی قسم ! آپ رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر اس روئے زمین پر مجھے کوئی عزیز نہیں ہے۔ اگر آپ رضی اللہ عنہ پر اپنی جان فدا کرنے اور اپنا خون بہا دینے سے بڑھ کر بھی کوئی ایسی بات ہوتی جس سے میں آپ رضی اللہ عنہ کو اس مصیبت سے بچا سکتا تو میں وہ بھی کر گزرتا ۔ السلام علیکم یا ابوعبداللہ رضی اللہ عنہ! میں اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ آپ رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے والد محترم حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہدایت پر ہیں ۔یہ فرما کر وہ تلوار کھینچے ہوئے دشمنوں کی طرف چلے ۔ اُن کی پیشانی پر زخم کا نشان تھا۔ ربیع بن تمیم نے اُن کو آتے دیکھ کر پہچان لیا کیونکہ وہ انہیں اور بھی کئی معرکوں میں دیکھ چکا تھا اور جانتا تھا کہ یہ بہت بہادر ہیں۔ ربیع بن تمیم نے اپنے ساتھیوں سے کہا: یہ شخص میدان جنگ کا شیر ہے۔ یہ عابس بن شبیب ہے اور تم میں سے کوئی ایک شخص اس سے لڑنے کے لئے ہر گز نہ جائے۔ حضرت عابس بن شبیب رضی اللہ عنہ نے میدان میں آکر دشمنوں کو پکارا : " کیا ایک کے مقابلے میں کوئی ایک بھی نہیں نکلے گا ؟ عمر بن سعد نے کہا: ” دور سے پتھر مار مار کر اس شخص کو زخموں سے چور چور کر دو ۔ دشمنوں نے چاروں طرف سے آپ رضی اللہ عنہ پر پتھر برسانے شروع کر دیئے۔ یہ دیکھ کر آپ رضی اللہ عنہ نے زرہ اور مغر کو اتار ڈالا اور تلوار لیکر ان لوگوں پر حملہ کیا۔ ربیع کہتا ہے : اللہ کی قسم ! ہم دوسو سے زیادہ آدمی تھے لیکن جب انہوں نے ہم پر حملہ کیا تو ہم سب بھاگ کھڑے ہوئے۔ پھر پلٹ کر اُن پر ہر طرف سے حملہ کر دیا۔ وہ بہت بہادری سے ہم سے مقابلہ کرتے رہے اور ہم میں سے کئی لوگوں کوقتل کر دیا لیکن ہم اتنے زیادہ تھے کہ انہیں گھیر کر شہید کر دیا ۔


حضرت یزید بن مہاجر زیا درضی اللہ عنہ کی شہادت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ پر اُن کے ساتھی مسلسل اپنی جان فدا کر رہے تھے۔ ان میں حضرت یزید بن زیاد رضی اللہ عنہ بھی ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے جب دیکھا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے اطراف اُن کے ساتھی شہید ہو گئے ہیں تو خود ان کے آگے آکر سینہ سپر ہو گئے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: بنو بہدلہ کے حضرت ابو شعنا یزید بن زیاد درضی اللہ عنہ اُس وقت تک دشمنوں پر تیر چلا رہے تھے۔ یہ عمر بن سعد کے ساتھ لشکر میں تھے لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ عمر بن سعد آپ رضی اللہ عنہ کی کسی بات کو نہیں مان رہا ہے تو آپ رضی اللہ عنہ آ کر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے مل گئے اور اُن کی طرف سے اہل کوفہ کے لشکر کے خلاف لڑے۔ اب وہ آکر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے آگے دوزانو ہو کر کھڑے ہو گئے اور دشمنوں پر تیر چلانا شروع کر دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے لگ بھگ سو تیر چلائے جس میں سے صرف پانچ ہی خطا ہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہ تیر چلاتے جا رہے تھے اور یہ فرماتے جا رہے تھے : ” میرا نام یزید ہے، میرے والد محترم کا نام مہاجر ہے۔ میں شیر بیشہ شجاعت ہوں ، اے اللہ ! میں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا ناصر ہوں اور عمر بن سعد کا ساتھ میں نے چھوڑ دیا ہے ۔ جب آپ رضی اللہ عنہ کے پاس تیر ختم ہو گئے تو تلوار لیکر دشمنوں پر ٹوٹ پڑے اور زبردست بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!


D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں