منگل، 3 ستمبر، 2024

Saltanat e Umayya part 17

 17 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 17

ایک رات کی مہلت، ساتھیوں کو جانے کی اجازت، آل عقیل کی جاں نثاری، حضرت مسلم بن عوسجہ اور حضرت سعد بن عبد اللہ کی جاں نثاری،حضرت زہیر بن قین اور دوسرے ساتھیوں کی جاں نثاری،  سیده زینب بنت علی رضی اللہ عنہا کی بے قراری، بہن کو تسلی، ایک بد بخت کی گستاخی، قافلے اور لشکر کی صف بندی، شمر بن ذی جوشن کی گستاخی، دشمنوں کو پھر سے سمجھانا ہے، 

ایک رات کی مہلت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے بات کرنے اُن کے بھائی حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ گئے ہوئے تھے۔ انہوں نے واپس آکر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا پیغام عمر بن سعد کو دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اتنے میں حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ گھوڑے کو ایڑ لگاتے ہوئے اُن لوگوں تک آپہنچے اور فرمایا: ”اے لوگو! حضرت حسین علی رضی اللہ عنہ تم سے اس بات کا سوال کرتے ہیں کہ اس وقت تم سب واپس چلے جاؤ۔ یہ ایسی بات ہے کہ ابھی تک تمہارے اور اُن کے درمیان اس باب میں گفتگو نہیں ہوئی تھی۔ کل صبح کو انشاء اللہ پھر ہم لوگ ملیں گے، یا تو جس بات کو تم چاہتے ہو اور جو سلوک کرنا چاہتے ہو ہم اس پر راضی ہو جائیں گے یا ہمیں یہ بات ناگوار ہوگی تو ہم انکار کر دیں گے ۔“ اس سے آپ رضی اللہ عنہ کا مطلب یہ تھا کہ اس وقت اُن لوگوں کو ٹال دیا جائے اور جو کہنا سننا ہوسن لیں۔ اپنے اہل بیت سے وصیت کر لیں ۔ حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ نے جب یہ بات آکر کہی تو عمر بن سعد نے شمر بن ذی جوشن سے پوچھا: ” تیری کیا رائے ہے؟ شمر بن ذی جوشن نے کہا: ” تو امیر لشکر یعنی لشکر کا سپہ سالار ہے تیری جو رائے ہوگی بس میری بھی وہی رائے ہوگی۔ عمر بن سعد نے لشکریوں سے کہا: ”تمہاری کیا رائے ہے؟ بین کر عمرو بن حجاج زبیدی نے کہا: "سبحان اللہ ! اگر یہ لوگ کفار دیلم سے ہوتے اور تجھ سے یہی سوال کرتے تو اللہ کی قسم اتجھے قبول کر لینا چاہیئے تھا۔“ قیس بن اشعث نے کہا: ”اُن کی یہ بات مان لے۔ میں اپنی جان کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ کل صبح کو یہ لوگ تجھ سے لڑنے کے لئے آمادہ رہیں گے ۔“ عمر بن سعد نے کہا: ” اگر یہ بات مجھ کو یقینی معلوم ہو جائے کہ یہ لوگ لڑیں گے تو میں اس وقت مہلت نہیں دوں گا ۔“ حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ نے آکر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ عمر بن سعد ایسا کہتا ہے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” تم پھر پلٹ کر جاؤ اور ہو سکے تو اُن کو صبح تک کے لئے ٹال دو اور آج شام کے لئے اُن کو ہم سے دفع کرو۔ آج کی رات ہم اپنے پروردگار کی عبادت کر لیں ، اُس سے دعا کرلیں، اُس سے مغفرت طلب کر لیں۔ اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ اُس کی عبادت کو، اُس کی کتاب قرآن پاک کی تلاوت کو اور دعا و استغفار کی کثرت کو میں کتنا دوست رکھتا ہوں ۔ حضرت علی (اوسط) بن حسین رضی اللہ عنہ (امام زین العابدین) فرماتے ہیں: ” عمر بن سعد کے پاس سے ایک قاصد ہم لوگوں کے پاس آیا اور ایسے مقام پر کھڑ ہو گیا جہاں سے آواز سنائی دیتی تھی اور کہا: ”ہم نے تم لوگوں کو کل صبح تک کی مہلت دی ہے۔ اگر اطاعت کر لوگے تو تم کو امیر ( گورنر ، حاکم ) عبید اللہ بن زیاد کے پاس روانہ کر دیں گے اور اگرتم انکار کرو گے تو پھر ہم تم کو نہیں چھوڑیں گے ۔“


ساتھیوں کو جانے کی اجازت


حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو جمع کر کے انہیں جانے کی اجازت دے دی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب عمر بن سعد اپنے لشکر کولیکر واپس چلا گیا تو اس وقت شام ہونے والی تھی۔ تب حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو جمع کیا۔ حضرت علی (اوسط ) بن حسین (امام زین العابدین ) فرماتے ہیں: یہ دیکھ کر میں آپ رضی اللہ عنہ کے قریب چلا گیا کہ سنوں کیا فرماتے ہیں؟ اور میں بیمار تھا ۔ میں نے سنا کہ میرے والد محترم رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: ” میں اللہ تعالیٰ کی بہترین حمدوثنا کرتا ہوں اور راحت و مصیبت میں اُس کا شکر ادا کرتا ہوں، اے اللہ تعالیٰ ! میں تیرا شکر بجا لاتا ہوں کہ تو نے ہم لوگوں کو نبوت کی کرامت دی، بٹو نے ہم کو قرآن کی تعلیم دی ، تو نے ہم کو علم دین عطا فرمایا، تو نے ہم کو سماعت و بصارت اور دل عطا فرمایا ، تو نے ہم کو مشرکوں میں شمار نہیں ہونے دیا۔ اس کے بعد مجھے یہ کہنا ہے کہ اپنے ساتھیوں سے افضل و بہتر ساتھی اور اپنے اہل بیت سے زیادہ وفادار اور فرمانبردار اہل بیت میں نے نہیں دیکھے۔ سنو میں سمجھ چکا ہوں کہ ان دشمنوں کے ہاتھوں صبح ہم لوگوں کی قضا ہے ۔ سنو ! تم سب کے سب لوگوں کے بارے میں میری یہ رائے ہو چکی ہے کہ تم سب واپس چلے جاؤ۔ اس لئے میری طرف سے تم سب کو اجازت ہے کہ تم سب واپس چلے جاؤ۔ میری طرف سے کوئی روک ٹوک نہیں ہے۔ دیکھو رات کی تاریکی چھائی ہوئی ہے اسے غنیمت جانو اور واپس چلے جاؤ۔“


آل عقیل کی جاں نثاری


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے سب لوگوں کو جانے کی اجازت دے دی لیکن کوئی بھی ہلنے کو تیار نہیں ہوا۔ یہ دیکھ کر آپ رضی اللہ عنہ ایک ایک کو پکڑ کر سمجھانے لگے کہ انہیں میری جان چاہئے اور وہ تمہیں کچھ نہیں کہیں گے اس لئے تم سب چلے جاؤ ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: جب رات آئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” دیکھو رات کی تاریکی چھائی ہوئی ہے، اسے غنیمت سمجھو اور تم میں سے ایک ایک شخص میرے اہل بیت میں سے ایک ایک شخص کا ہاتھ پکڑلے اور یہاں سے چلا جائے۔ پھر جب اطمینان ہو جائے تو تم سب اپنے اپنے قصبوں ،شہروں کی طرف نکل جانا۔ یہ لوگ صرف میرے طلب گار ہیں۔ مجھے شہید کر لیں گے تو پھر کسی اور کا خیال نہیں کریں گے۔ یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ کے بھائی، بیٹے بھیجے اور بھانجے سب کہنے لگے : ”ہم سے یہ نہیں ہوگا کہ آپ رضی اللہ عنہ کے بعد ہم زندہ رہیں اور اللہ ہمیں وہ دن نہیں دکھائے ۔ سب سے پہلے حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ نے یہ کلمہ کہا۔ پھر سب ہی نے ایسے ہی کلام کہے ان میں آل عقیل سب سے آگے آگے تھے ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” اے آل عقیل ! حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کا شہید ہونا ہی تمہارے لئے کافی ہے۔ تم چلے جاؤ! میں اجازت دیتا ہوں ۔ “ آل عقیل نے عرض کیا : لوگ کیا کہیں ؟ یہی کہیں گے کہ ہم اپنے بزرگ اپنے سردار اور اُن کے ساتھ اپنے چچا کو جو بہترین چچا تھے چھوڑ کر چلے آئے ۔ نہ تو اُن کے ساتھ شریک ہو کر برچھی کا کوئی وار کیا اور نہ ہی تلوار کا ہاتھ مارا۔ یہ بھی معلوم نہیں ہوا کہ اُن پر کیا گزری؟ ہر گز نہیں۔ اللہ کی قسم ہم سے یہ نہیں ہوگا بلکہ ہم اپنی جانیں، اپنا مال اور اپنے اہل و عیال کو بھی آپ رضی اللہ عنہ پر فدا کر دیں گے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ شریک ہو کر قتال کریں گے جو آپ رضی اللہ عنہ کا حال ہوگا وہی ہمارا بھی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہم کو وہ زندگی نہ دے جو آپ رضی اللہ عنہ کے بغیر ہو۔“


حضرت مسلم بن عوسجہ اور حضرت سعد بن عبد اللہ کی جاں نثاری


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں اور اہل بیت کو سمجھارہے تھے لیکن کوئی بھی جانے کو تیار نہیں تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت مسلم بن عوسجہ اسدی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا : ” کیا ہم آپ رضی اللہ عنہ کو چھوڑ کر چلے جائیں اور ابھی اللہ کے سامنے آپ رضی اللہ عنہ کے حق سے ہم ادا بھی نہیں ہوئے ہیں۔ ہاں ! اللہ کی قسم ! جب تک میری برچھی اُن لوگوں کے سینہ میں ٹوٹ کر نہ رہ جائے ۔ جب تک تلوار کا قبضہ میرے ہاتھ میں ہے اور اُن کو تلوار میں مار نہ لوں ، تب تک میں آپ رضی اللہ عنہ سے جدا نہیں ہوں گا ۔ اگر ان سے لڑنے کے لئے میرے پاس ہتھیار نہیں ہوتے تو میں آپ رضی اللہ عنہ کی نصرت میں انہیں پتھر مار مار کر آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہی مرجاتا ۔ “ حضرت سعد بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کی قسم ! ہم آپ رضی اللہ عنہ کو چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔ اللہ تعالی یہ تو دیکھ لے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہم نے آپ رضی اللہ عنہ کی کیسی حفاظت کی ۔ اللہ کی قسم! اگر میں یہ جانتا کہ میں شہید ہونے کے بعد پھر زندہ کیا جاؤں گا۔ پھر زندہ جلادیا جاؤں گا اور پھر میری خاک اُڑا دی جائے گی۔ ستر (70) مرتبہ یہی حالت مجھ پر گزرے گی تب بھی جب تک آپ رضی اللہ عنہ کی نصرت میں مجھے موت نہیں آجاتی تب تک میں آپ رضی اللہ عنہ سے جدا نہیں ہوتا اور اب تو ایک ہی دفعہ میں شہید ہو جاتا ہے اور اس میں وہ شرف و کرامت ہے جسے ابد تک زوال نہیں ہے۔ پھر میں اسے حاصل کیوں نہیں کروں؟“ 


حضرت زہیر بن قین اور دوسرے ساتھیوں کی جاں نثاری


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے اہل بیت اور ساتھیوں میں سے کوئی بھی آپ رضی اللہ عنہ کو چھوڑنے کو تیار نہیں تھا اور ہر کوئی آپ رضی اللہ عنہ پر جاں شمار کرنے کے لئے بے تاب تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اللہ کی قسم! میں تو چاہتا ہوں کہ شہید کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر شہید کیا جاؤں۔ اسی طرح ہزار دفعہ میں شہید کیا جاؤں اور اللہ تعالیٰ آپ رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے اہل بیت کو بچالے۔ اسی طرح کے ایک ہی طرز کلام آپ رضی اللہ عنہ کے تمام ساتھیوں نے کئے اور کہتے تھے: اللہ کی قسم ! ہم آپ رضی اللہ عنہ کو چھوڑ کر نہیں جائیں گے بلکہ اپنی جانیں آپ رضی اللہ عنہ پر فدا کریں گے۔ ہم اپنے ہاتھوں سے اپنی گردنوں سے اور اپنی پیشانیوں سے آپ رضی اللہ عنہ کو بچائیں گے۔ ہم شہید ہو جائیں گے تو وہ حق جو ہم پر لازم ہے وہ وفا ہو جائے گا۔“


سیده زینب بنت علی رضی اللہ عنہا کی بے قراری


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی بہت کوششوں کے باوجود کوئی بھی آپ رضی اللہ عنہ کا ساتھ چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے سب کا شکریہ ادا کر کے آرام کرنے کی اجازت دے دی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت علی (اوسط) بن حسین (امام زین العابدین ) فرماتے ہیں : ” اُسی شام کا ذکر ہے جسکی صبح کو میرے والد محترم شہید کئے جانے والے تھے ۔ میں بیٹھا ہوا تھا اور میری پھوپھی سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا میری تیمار داری میں مصروف تھیں جبکہ میرے والد محترم نے اپنے ساتھیوں سے باتیں کرنے کے بعد اپنے خیمے میں تخلیہ میں تھے اور اُس وقت حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ” حولی آپ رضی اللہ عنہ کے پاس تلوار کی دیکھ بھال کر رہے تھے۔ اُس وقت میرے والد محترم نے یہ شعر پڑھا: ” اے دہ نا پائیدار! تجھ پر وائے ہو۔ کیا ہی برا دوست ہے تو ۔ کہ ہر صبح و شام کسی دوست یا دشمن کو مار رکھتا ہے ایک کے عوض میں دوسرے کو قبول نہیں کرتا اور یہ سب اللہ کے حکم سے ہوتا ہے اور جو زندہ ہے اُسے اس راستہ جاتا ہے ۔ ان اشعار کو آپ رضی اللہ عنہ نے دو تین بار پڑھا۔ میں سمجھ گیا اور اس ارادے کے بارے میں جان گیا جو آپ رضی اللہ عنہ نے کیا تھا۔ مجھے بے اختیار رونا آگیا لیکن میں نے آنسوؤں کو ضبط کر لیا اور خاموش رہا۔ مگر میری پھوپھی نے بھی ان اشعار کو سن لیا۔ عورتوں کی طبیعت میں رقت اور بے صبری ہوتی ہے، خود کو سنبھال نہیں سکیں ۔ بر ہنہ سر دوڑیں اور چادر کو کھنچتی ہوئی آپ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچیں اور بولی :’ وامصیحا ! ارے آج مجھے موت آگئی ہوتی اے بزرگوں کے جانشین ، اے در ماندوں کے شفیق، بس آج میری والدہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رحلت کر گئیں ۔ میرے والد محترم حضرت علی رضی اللہ عنہ اور میرے بھائی حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے بھی آج رحلت کی ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اُن کی طرف دیکھا اور فرمایا: "اے میری پیاری بہن ! دیکھو! کہیں شیطان تمہارے علم کو زائل نہ کر دے۔ کہنے لگیں: ”اے میرے بھائی رضی اللہ عنہ ! میرے ماں باپ تم پر خدا ! میری جان تم پر خدا ! تم نے شہید ہونا گوارا کر لیا۔


بہن کو تسلی


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی بہن سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا سمجھ گئیں کہ آپ رضی اللہ عنہ نے شہادت کے مرتبہ پر فائز ہونے  کا فیصلہ کر لیا ہے اور آپ رضی اللہ عنہ کی جدائی کے خیال سے بے چین ہو گئیں تو آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں تسلی دی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت علی (اوسط) بن حسین (امام زین العابدین) رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ” یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی طبیعت کو سنبھالا اور آنکھوں میں آئے آنسوؤں کو ضبط کر کے فرمایا: ”موت نے چین سے بیٹھنے نہیں دیا ۔ بہن سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا نے یہ سن کر فرمایا: " ہائے بھائی ! کیا تمہیں مجبور کریں گے؟ اس سے تو اور بھی میرا کلیجہ ٹکڑے ہوا جاتا ہے۔ میرے دل کو سخت قلق گذر رہا ہے ۔ “ یہ کہہ کر رونے لگیں اور خش کھا کر گر پڑیں۔ بہن کا یہ حال دیکھ کر آپ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور اُن کے پاس آکر چہرہ پر پانی چھڑکا اور فرمایا: ”پیاری بہن ! اللہ کا خوف کرو، اللہ کے لئے صبر کرو۔ اس بات کو سمجھو کہ روئے زمین پر سب مرنے والے ہیں۔ اہل آسمان بھی باقی نہیں رہیں گے۔ اُس اللہ کی ذات کے سوا جس نے اپنی قدرت سے اس زمین کو پیدا کیا اور جو پھر سے مخلوق کو زندہ کرے گا اور سب کے سب واپس آجائیں گے اور جو یگانہ دوتہا ہے۔ سب چیزیں مٹ جانے والی ہیں۔ میرے ماں باپ مجھ سے بہتر تھے۔ میری والدہ تم سے بہتر تھیں۔ میرے بھائی مجھ سے بہتر تھے اور مجھے اُن سب کو اور ہر مسلمان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حال سے تسکین ہونی چاہیئے ۔ اسی طرح کافی دیر تک آپ رضی اللہ عنہ بہن کو تسلی دیتے رہے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” پیاری بہن! میں تم کو قسم دیتا ہوں اور میری قسم کوتم پورا کرنا ۔ میں شہید ہو جاؤں تو اپنے گریباں کو چاک نہیں کرنا، منہ کو نہیں پیٹنا اور ہلاکت اور موت کو نہیں پکارنا۔ یہ فرما کر آپ رضی اللہ عنہ میری پھوپھی کو لیکر میرے پاس آئے اور میرے پاس بٹھا کر چلے گئے ۔ اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ خیموں کو قریب قریب اس طرح نصب کریں کہ طنابوں کے اندرطنا ہیں آجائیں۔ ( خیموں کا حلقہ بن جائے ) سب لوگ خود اس حلقہ کے درمیان رہیں۔ بس ایک رخ جدھر سے دشمن آنے والے ہیں کھلا رہنے دیں۔


ایک بد بخت کی گستاخی


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ رات بھر عبادت اور استغفار میں گزارتے رہے ۔ اسی دوران دشمنوں کے پہریداروں کا گشتی رسالہ اُدھر سے گزرا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ” حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور اُن کے ساتھی پوری رات بیدار رہے اور سب نمازیں پڑھ رہے تھے اور استغفار کر رہے تھے۔ اسی دوران سواروں کا ایک رسالہ جو اُن کی نگہبانی کرنے کو دشمن کی طرف سے مقرر ہوا تھا اُدھر سے گذرا۔ اُس وقت آپ رضی اللہ عنہ یہ آیت تلاوت کر رہے تھے : ترجمہ ”ہاں جو لوگ کافر ہو گئے وہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم جو انہیں ڈھیل دے رہے ہیں اس میں اُن کے لئے بہتری ہے۔ ہم تو اس لئے انہیں ڈھیل دے رہے ہیں کہ وہ اور بھی گناہوں میں مبتلا ہو جا ئیں۔ اُن کے لئے تو ذلیل کر دینے والا عذاب ہے۔ اللہ یہ نہیں کرے گا کہ تم لوگ جس حال میں ہو اُسی میں مومنین کو رہنے دے۔ وہ پاک اور نا پاک دونوں کو جدا کر کے رہے گا ۔ اس آیت کو رسالہ کے لوگوں نے بھی سنا۔ اُن میں سے ایک بد بخت شخص نے کہا: قسم ہے رب کعبہ کی ! ہم ہی لوگ پاک ہیں اور تم لوگوں سے جدا کر لئے گئے ہیں۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں سے ایک شخص نے حضرت بریر بن خضیر رضی اللہ عنہ سے پوچھا آپ جانتے ہیں یہ شخص کون ہے؟ حضرت بریر بن خضیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نہیں جانتا۔“ اس شخص نے بتایا: ” یہ ابو حرب سبیعی ہے اور یہ شخص بڑا اہنسی مذاق کرنے والا اور بے ہودہ شرفاء میں بڑا دلیر وسفاک ہے۔ سعید بن قیس نے اسے خون کرنے پر کبھی قید بھی کیا تھا۔ حضرت بریر رضی اللہ عنہ نے اُس کا نام سن کر اُسے پکارا : او فاسق ! تجھے کو اللہ نے پاک لوگوں میں شمار کیا ہے ؟ اس نے پوچھا: ” تو کون ہے؟ انہوں نے فرمایا د میں بریر بن خضیر ہوں ۔ اس بدبخت نے کہا: ”انا للہ ! یہ بات مجھ پر شاق ہے۔ اے بریر! اللہ کی قسم ! تو ہلاک ہوا۔ اللہ کی قسم ! تو ہلاک ہوا۔“ حضرت بریر بن خضیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” اے ابو حرب ! اللہ کے سامنے اپنے کبیرہ گناہوں سے توبہ کر لینے کا ہی موقع ہے۔ سُن ! اللہ کی قسم ! ہم سب پاک لوگوں میں ہیں اور تم سب ناپاک ہو ۔ ابو حرب نے تمسخر سے کہا: ہاں ہاں! میں بھی گواہوں میں ہوں ۔ ایک شخص نے کہا: ”وائے ہو تجھ پر ا جان کر بھی تو نہیں سمجھ رہا ہے ۔“ 


قافلے اور لشکر کی صف بندی


دوسرے دن یعنی دس محرم الحرام عاشورہ کے دن حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اپنے قافلے کے مردوں کی صف بندی کی جن کی تعداد اسی 80 سے بھی کم تھی اور ادھر عمر بن سعد نے چار ہزار ۴۰۰۰ سے زیادہ کے لشکر کی صف بندی کی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: عمر بن سعد عاشورہ کے روز شنبہ کا دن تھا یا جمعہ کا دن تھا صبح کی نماز پڑھ چکا تو اپنے لشکر کولیکر نکلا۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی اور اُن کی صف بندی کی ۔ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بتیس 32 سوار اور چالیس 40 پیدل تھے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے میمنہ پر حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ کو میسرہ پر حضرت حبیب بن مظاہر رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا اور علم ( جھنڈا ) اپنے بھائی حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ کو دیا خیموں کو پشت پر رکھا اور خیموں کے پیچھے آپ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ لکڑیاں اور بانس جمع کر کے اُس میں آگ لگا دی جائے۔ خوف یہ تھا کہ دشمن پیچھے سے حملہ نہ کر دیں۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے خیموں کے پیچھے زمین پست تھی جیسے ایک پتیلی نہر کھدی ہوئی ہو۔ اس کو رات کے وقت سب نے خود کر خندق کی طرح بنا لیا تھا اور اس میں لکڑیاں اور بانس ڈال دیئے تھے کہ جب صبح دشمن حملہ کریں تو اس میں آگ لگا دیں گے تا کہ دشمن سے ایک ہی رخ سے مقابلہ کیا جاسکے اور دشمن پیچھے سے حملہ نہیں کر سکے۔ یہی احتیاط انہوں نے کی اور یہ اُن کے کام آئی۔ عمر بن سعد نے بھی اپنے لشکر کی صف بندی کی۔ اُس کے ساتھ ایک ربع اہل مدینہ تھے اور اُن کا کمانڈر عبداللہ بن زہیر از دی تھا۔ ایک ربع قبیلہ بنو ند حج اور بنو اسد کے لوگ تھے اور اُن کا کمانڈر عبدالرحمن بن ابی سیرہ تھا۔ ایک ربع قبیلہ بنور بیعہ اور بنوکندہ کے لوگ تھے اور اُن کا کمانڈ رقیسا بن اشعث تھا۔ ایک ربع قبیلہ بنو تمیم اور بنو ہمدان کے لوگ تھے اور اُن کا کمانڈر حربن یزید تھا۔ حربن یزید کے سوا سب لوگ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے میں شریک تھے۔ صرف ایک حربن یزید تھا کہ ان لوگوں سے جدا ہو کر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی طرف چلا آیا تھا اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ شہید ہوا ۔ عمر بن سعد نے میمنہ پر عمر بن حجاج کو کمانڈر مقرر کیا ۔ میسرہ پر شمر بن ذی جوشن کو کمانڈر مقرر کیا ۔ رسالہ عزرہ بن قیس کو دیا اور پیدل کا کمانڈر شبٹ بن ربعی کو بنایا اور اپنے غلام آزاد در ید کو شکر کا علم (جھنڈا ) دیا۔ 


شمر بن ذی جوشن کی گستاخی


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اپنے قافلے کے ساتھ صف بندی کئے کھڑے اللہ سے دعا کر رہے تھے کہ دشمنوں کا ایک کمانڈر شمر بن ذی جوشن گھوڑا دوڑا تا ہوا آیا اور آپ رضی اللہ عنہ سے گستاخی کی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عاشورہ کے دن صبح کے وقت جب دشمن کا لشکر سامنے صف آرا ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے دونوں ہاتھ اُٹھائے اور اللہ تعالٰی سے یہ دعا کی : ”اے اللہ تعالیٰ ! ہر مصیبت میں مجھے تجھ پر ہی بھروسہ ہے۔ ہر سختی میں مجھے تجھ ہی سے اُمید ہے۔ جو بلا مجھ پر نازل ہو، اس میں تیرا ہی سہارا ہے ۔ تجھ ہی پر بھروسہ ہے کتنی ہی آفتیں اس طرح پیش آئیں جس میں دل بیٹھ جائے ، جس کا کوئی چارہ کار نہ ہو، جس میں دوست ساتھ نہ دے اور جس میں دشمن خوشی منائے ۔ میں نے تجھ پرہی بھروسہ کیا اور تجھ سے اپنا درد دل کہا۔ تیرے سوا کسی سے کہنے کو دل نہیں چاہتا۔ تو نے آفتوں کو ٹال دیا اور دفع کر دیا۔ بس ہر نعمت کا بخشنے والا، ہر نیکی کا عطا کرنے والا اور ہر مراد کا دینے والا تو ہی ہے ۔ عمر بن سعد کے لشکر کے لوگوں نے دیکھا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی پشت پر آگ جل رہی ہے تو ایک شخص گھوڑا دوڑاتا ہوا اُدھر سے گذرا۔ اُس نے کسی سے کچھ بات نہیں کی بلکہ سیدھا خیموں کی طرف گیا تو دیکھا کہ آگ کے شعلوں کی وجہ سے خیمے دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ وہاں سے پلٹا اور بلند آواز سے پکار کر بولا: "اے (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) قیامت سے پہلے دنیا میں ہی تم نے آگ میں جانے کی جلدی کی ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا : یہ کون شخص ہے؟ شاید یہی شمر بن ذی جوشن ہے۔ لوگوں نے جواب دیا ”ہاں! اللہ تعالیٰ آپ رضی اللہ عنہ کو سلامت رکھے۔ یہ بد بخت وہی ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اُسے بلند آواز سے فرمایا: ”ادبکریاں چرانے والی کے بچے آگ میں جلنے کا تو زیادہ حقدار ہے ۔ حضرت مسلم عوسجہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ”اے آل رسول رضی اللہ عنہ! میں آپ رضی اللہ عنہ پر فدا ہو جاؤں ایہ بد بخت میرے تیر کی زد پر ہے، حکم دیں تو اسے تیر مار دوں؟ تیر خطا نہیں کرے گا اور یہ فاسق بہت بڑے جباروں میں سے ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تیر نہیں مارنا، ہماری طرف سے ابتداء کرنا مجھے گوارا نہیں ہے۔“


دشمنوں کو پھر سے سمجھانا ہے


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے ایک بار پھر دشمنوں کو سمجھانے کی کوشش کی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک گھوڑا تھا جس کا نام لاحق تھا۔ اُس گھوڑے پر آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے بڑے بیٹے علی (اکبر ) بن حسین رضی اللہ عنہ کو سوار کیا۔ جب دشمن آگے بڑھے تو آپ رضی اللہ عنہ نے ایک اونٹ منگوایا اور اس پر سوار ہو کر آگے بڑھے اور بلند آواز سے جسے سب لوگوں نے سنا دشمنوں سے فرمایا: ”اے لوگو! میری بات سن لو! میرے ساتھ جلدی نہ کرو اور جو باتمیں تم سے کہنا ضروری ہیں مجھے کہہ لینے دو۔ تم لوگوں کے پاس آنے کا مجھے عذر کر لینے دو۔ اگر تم میرا عذر مان لو گے، میری بات کو سچ سمجھو گے، میرے ساتھ انصاف کرو گے تو تم نیکی کرو گے اور اگر میرا عذر نہیں مانتے اور میرے ساتھ انصاف نہیں کرتے تو پھر مجھ پر الزام نہیں دھر سکو گے ۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ” پھر جو تمہارا ارادہ ہو اُس پر آمادہ ہو جاؤ۔ اپنے شرکاء کو پکارو اور اچھی طرح سمجھ لو کہ اب کوئی تر دو تو تم کو نہیں ہے۔ پھر میرے ساتھ جو سلوک کرنا چاہتے ہو کر گذرو اور مجھے ذرا بھی مہلت نہ دو۔ میرا سہارا تو صرف اللہ تعالیٰ پر ہی ہے جس نے کتاب کو نازل کیا ہے۔ وہی تو نیک بندوں کو دوست رکھتا ہے ۔“ آپ رضی اللہ عنہ کی بات جب آپ رضی اللہ عنہ کی بہنوں نے سنا تو چلا چلا کر رونے لگیں۔ اُن کی آواز سن کر آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ اور بیٹے حضرت علی (اکبر ) بن حسین رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ” انہیں چپ کر اؤ ، ابھی تو انہیں بہت رونا ہے ۔ وہ دونوں حضرات عورتوں کی طرف گئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کیا بات کہی تھی ۔ یعنی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے آپ رضی عنہ کو منع کیا تھا کہ اپنے اہل و عیال کو لیکر نہ جائیں ۔ اب اُن کے رونے کی آواز سن کر آپ رضی اللہ عنہ کو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا وہ کہنا یاد آ گیا۔ 


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!


Saltanat e Umayya part 18

 18 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 18

حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا حجت قائم کرنا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نواسہ ہوں، تم لوگوں نے ہی مجھے بلایا ہے، حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ کا حجت قائم کرنا، تم نے حضرت موسیٰ کے مرد مومن کی طرح اپنی قوم کی خیر خواہی کی، حربن یزید کی کشمکش اور صحیح فیصلہ، حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ کی تو بہ، حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ کا سمجھانا اور حجت قائم کرنا، عمر بن سعد کا تیر اور حضرت عبداللہ بن عمیر، 


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا حجت قائم کرنا


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اپنے دشمنوں کو سمجھا رہے تھے اور اُن پر حجت قائم کر رہے تھے تا کہ کل قیامت کے دن وہ یہ نہ کہ کیں کہ اگر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ ہمیں سمجھاتے تو ہم مان جاتے لیکن انہوں نے ہمیں سمجھایا ہی نہیں ہے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب اہل وعیال کے رونے کی آواز بند ہو گئی تو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کی اور اُس کی شان کے لائق اُس کا ذکر کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، انبیائے کرام علیہم السلام اور فرشتوں پر درود وسلام بھیجا۔ حمد ونعت کو آپ رضی اللہ عنہ نے اتنی تفصیل سے بیان کیا کہ طوالت کے خوف سے یہاں ذکر نہیں کر رہے ہیں ۔ راوی کہتا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے ایسی فصیح و بلیغ تقریر کی جیسی اس سے پہلے کبھی نہیں سنی تھی اور نہ اس کے بعد کبھی سنی ۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میرے خاندان کا خیال کرو کہ میں کون ہوں؟ پھر اپنے دل سے پوچھو اور غور کرو کہ مجھے شہید کرنا اور میری ہتک حرمت کرنا کیا تم لوگوں کے لئے حلال ہے؟ کیا میں رسول اللہ صلی اللہصلی اللہ علیہ وسلم کا نواسہ نہیں ہوں ؟ کیا میں اُن کے وصی اور اُن کے چازاد بھائی کا بیٹا نہیں ہوں جو سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں سے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے پاس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو احکام لیکر آئے انہوں نے تصدیق کی۔ کیا سید شہدا حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ میرے والد محترم کے چانہیں ہیں؟ کیا حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ شہید ذوالجناحین میرے چانہیں ہیں؟ کیا تم نے نہیں سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور میرے بھائی حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: یہ دونوں جنت کے نو جوانوں کے سردار ہیں ۔ جو کچھ میں تم سے کہ رہا ہوں ، یہ حق بات ہے اگر تم میری تصدیق کرو گے تو سُن لو! اللہ کی قسم جب سے مجھے اس بات کا علم ہوا ہے کہ جھوٹ بولنے والے سے اللہ بیزار ہو جاتا ہے اور جھوٹ بنانے والے کو اُس کے جھوٹ سے ضرور پہنچاتا ہے۔ میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا ہے۔ اگر تم مجھے جھوٹا سمجھ رہے ہو تو سنو تم میں ایسے لوگ ابھی بھی موجود ہیں اُن سے جا کر پوچھو تو وہ بیان کریں گے ۔ حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ ، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ، حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ۔ یہ سب حضرات رضی اللہ عنہم تمہارے درمیان ابھی بھی ہیں۔ جاؤ! اور جا کر اُن سے پوچھو! وہ سب لوگ بیان کریں گے کہ انہوں نے میرے اور میرے بھائی کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا کہتے سنا ہے؟ کیا یہ امر (یعنی اہم بات ) بھی میرا خون بہانے میں تم لوگوں کو مانع نہیں ہے؟ 


میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نواسہ ہوں


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ دشمنوں کو سمجھا رہے تھے اور حجت قائم کر رہے تھے لیکن وہ بد بخت اپنی دنیا بنانے کی فکر میں اپنی آخرت برباد کرنے پر تلے ہوئے تھے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی بات سن کر شمر بن ذی جوشن نے کہا: ”یہ اللہ کی عبادت ایک ہی رُخ سے کرتے ہیں۔ اللہ جانے کیا کہہ رہے ہیں؟ حضرت حبیب بن مظاہر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم ! میں سمجھتا ہوں کہ تو اللہ عبادت ستر رخ سے کرتا ہے۔ بے شک تو سچ کہہ رہا ہے تیری سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کیا فرمارہے ہیں؟ بے شک اللہ نے تیرے دل پر مہر لگا دی ہے ۔ اس کے بعد حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے دشمنوں سے فرمایا: ”تمہیں اس بات میں اگر شک ہے تو کیا اس امر میں بھی شک ہے کہ میں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کا نواسہ ہوں ؟ اللہ کی قسم اس وقت مشرق سے لیکر مغرب تک میرے سوا کوئی شخص تم میں سے ہو یا تمہارے سوا ہو کسی نبی کا نواسہ نہیں ہے اور میں تو خاص تمہارے اور سب کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کا نواسہ ہوں ۔ یہ تو بتاؤ! کیا تم مجھے اس لئے شہید کرنا چاہتے ہو کہ میں نے تم میں سے کسی کوقتل کیا ہو؟ یا تمہارے کسی مال کو ہڑپ کر لیا ہو؟ یا میں نے کسی کو زخمی کیا ہو؟ اور تم مجھ سے اس کا قصاص چاہتے ہو۔ یہ سن کر کسی نے آپ رضی اللہ عنہ کوکوئی جواب نہیں دیا۔


تم لوگوں نے ہی مجھے بلایا ہے


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ انہیں سمجھا رہے تھے اور اُن سے پوچھ رہے تھے کہ آخر تم لوگ مجھے شہید کیوں کرنا چاہتے ہو؟ اُن لوگوں سے کوئی جواب نہیں بن پڑرہا تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے دشمنوں کو مخاطب کر کے فرمایا: ”اے شبت بن ربعی ! اے تجار بن جبرا اے قیس بن اشعث ! اے یزید بن حارث اتم لوگوں نے مجھے خطوط نہیں لکھے کہ میوے پک گئے ہیں، باغ سرسبز ہور ہے ہیں، تالاب چھلک رہے ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نصرت کے لئے لشکر لیکر یہاں آجائیے ۔ اُن لوگوں نے جواب دیا : ”ہم نے نہیں لکھا تھا“۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” نہیں اللہ کی قسم اتم نے ہی لکھا تھا۔ اے لوگو! اگر میرا یہاں آنا تمہیں ناگوار گذرا ہو تو مجھے دنیا کے کسی بھی گوشتہ امن کی طرف چلا جانے دو ۔ قیس بن اشعث نے کہا: ” آپ (رضی اللہ عنہ ) اپنے قربت داروں کے حکم پر سرکیوں نہیں جھکا دیتے ؟ یہ سب آپ (رضی اللہ عنہ ) سے اُسی طرح پیش آئیں گے جیسا آپ (رضی اللہ عنہ ) چاہتے ہیں۔ ان کی طرف سے کوئی ایسا کام نہیں ہوگا جس کی وجہ سے آپ (رضی اللہ عنہ ) کو ناگواری ہو ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: " آخر تو محمد بن اشعث کا بھائی ہے اور اب تو چاہتا ہے کہ جس طرح حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے تیرے بھائی کی امان پر بھروسہ کر کے دھوکا کھایا تھا میں بھی تجھ پر اعتبار کر کے دھو کہ کھاؤں اور حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے خون سے بڑھ کر بنو ہاشم کی طرف سے تجھ سے مطالبہ ہو۔ اللہ کی قسم ! میں ذلت کے ساتھ تم لوگوں کے ہاتھ میں ہاتھ دینے والا نہیں ہوں اور نہ ہی غلاموں کی طرح اطاعت کا اقرار کرنے والا ہوں ۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ترجمہ " اے اللہ کے بندو! میں اپنے اور تمہارے رب (پروردگار ) سے اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ تم مجھے سنگسار کرو۔ میں اپنے اور تمہارے رب (پروردگار ) سے ہر ایسے ظالم سے پناہ مانگتا ہوں پناہ مانگتا ہوں جو روز حساب پر ایمان نہیں رکھتا ہے ۔ اتنا فرما کر آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے اونٹ کو بٹھا دیا اور حضرت عقبہ بن سمعان رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اس اونٹ کو باندھ دو۔


حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ کا حجت قائم کرنا


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اپنی جگہ واپس آگئے تو حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور انہیں سمجھانے لگے اور حجت قائم کرنے لگے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ ایک تیار گھوڑے پر سوار ہتھیار لگائے آگے بڑھے اور دشمنوں سے فرمایا: "اے اہل کوفہ ! اللہ کے عذاب سے ڈرو! اللہ کے عذاب سے۔ سنو! ہر مسلمان کو اپنے مسلمان بھائی کی خیر خواہی کرنا واجب ہے ۔ ہمارے اور تمہارے درمیان جب تک تلوار نہیں آئے گی تب تک ہم اور تم بھائی بھائی ہیں، ایک ہی دین اور ایک ہی ملت پر ہیں اور ہماری خیر خواہی کے تم لائق ہو ۔ ہاں جب تلوار ہمارے درمیان میں آجائے گی تب مروت منقطع ہو جائے گی ۔ سنو! اللہ تعالیٰ نے ہمیں اور تمہیں اپنے نبی محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی ذریت کے باب میں آزمائش کے مرحلے میں ڈالا ہے تا کہ اللہ دیکھ لے کہ ہم کیا کرتے ہیں اور تم کیا کرتے ہو؟ ۔ ہم لوگ تم سب لوگوں کو اس امر کی طرف بلاتے ہیں کہ زیاد کے مردود بیٹے عبید اللہ بن زیاد کا ساتھ چھوڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذریت کی نصرت کرو ۔ کل تم اُن دونوں یزید اور عبید اللہ) کے عہد میں برائی کے سوا کچھ نہیں دیکھو گے۔ یہ تم لوگوں کی آنکھیں نکلوالیتے ہیں، ہاتھ کٹوالتے ہیں، پاؤں قطع کرتے ہیں، گوش بینی و سرکاٹ لیتے ہیں۔ تمہاری لاشوں کو ٹنڈ درختوں پر یہ لٹکا دیتے ہیں تمہارے بزرگوں کو تمہارے قاریوں کو حضرت حجر بن عدی کو اور اُن کے ساتھیوں کو اور ہانی بن عروہ کو اُن جیسے لوگوں کو یہ قتل کرتے ہیں۔


تم نے حضرت موسیٰ کے مرد مومن کی طرح اپنی قوم کی خیر خواہی کی


یہ سن کر دشمنوں نے حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ کو سخت کلمے کہے اور عبید اللہ بن زیاد کی ثنا کی اور اُسے دعا دی اور کہا: ” جب تک ہم لوگ تمہارے سردار اور اُن کے ساتھیوں کوقتل نہیں کرلیں گے یا جب تک اُن کو اور اُن کے ساتھیوں کو گرفتار کر کے امیر عبید اللہ بن زیاد کے پاس بھیج نہیں لیں گے تب تک ہم یہاں سے قدم پیچھے نہیں ہٹائیں گئے ۔ حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے اللہ کے بندو! سیدہ فاطمہ زہرہ رضی اللہ عنہا کے کی اولا د شمیہ کے بیٹے (عبد اللہ کے باپ زیاد کے باپ کا نام کسی کو نہیں معلوم تھا اس لئے اُسے اُس کی ماں سمیہ کے نام سے نمیہ کا بیٹا کہتے تھے ) سے زیادہ نصرت اور مودت کا حق رکھتی ہے۔ اگر تم اُن کی نصرت نہیں کرتے ہوتو اللہ کے واسطے اُن کے قتل سے باز آجاؤ۔ اُن کو اُن کے چازاد یزید کی رائے پر چھوڑ دو۔ میں قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ یزید تمہاری اطاعت گزاری سے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کوشہید کئے بغیر راضی رہے گا۔ یہ سن کر شمر بن ذی جوشن نے ایک تیر حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ کی طرف مار کر کہا: ” خاموش ! اللہ تیری بک بک کو ہمیشہ کے لئے خاموش کر دے تو نے ہم لوگوں کا دماغ پریشان کر دیا ہے۔ حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے اس باپ کے بیٹے جس کا پیشاب ایڑیوں تک بہ کر آتا تھا! میں تجھ سے خطاب نہیں کر رہا ہوں۔ تو تو ڈھور ہے۔ اللہ کی قسم! میں جانتا ہوں کہ تو اللہ کی کتاب کی دو آیات کو سمجھ نہیں سکتا ہے۔ لے ! قیامت کی رسوائی اور عذاب الیم تجھے مبارک ہو ۔ شمر بن ذی جوشن نے کہا: ”اللہ تجھ کو اور تیرے سردار کو ابھی قتل کرے گا ۔ حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: " تو مجھے موت سے ڈراتا ہے۔ اللہ کی قسم ! حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ مرجان تم لوگوں کے ساتھ ہمیشہ زندہ رہنے سے زیادہ بہتر سمجھتا ہوں“۔ اتنا فرمانے کے بعد حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ نے با آواز بلند سب لوگوں سے خطاب کر کے فرمایا: اے اللہ کے بندو! اس سفلہ پاچی کی باتوں پر اپنے دین سے نہیں پھر جانا۔ اللہ کی قسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت اُن لوگوں کو نہیں ملے گی جنہوں نے اُن کی ذریت کا خون بہایا ہوگا اور ان کی نصرت کرنے والوں اور اُن کے اہل بیت کے بچانے والوں کوقتل کیا ہوگا ۔ اسی دوران میں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے ایک شخص نے بلند آواز سے حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ سے کہا: ” حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ تم سے فرمارہے ہیں کہ اب واپس چلے آؤ اور فرمارہے ہیں کہ میری جان کی قسم ! اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت کے آل فرعون کے ”مرد مومن نے اپنی قوم کی خیر خواہی کی تھی اور انہیں حق کی طرف بلانے میں انتہا کر دی تھی تو تم نے بھی ان لوگوں کی خیر خواہی کی انتہا کر دی ۔ کاش! تمہاری خیر خواہی اور انتہا کی کوشش انہیں فائدہ پہنچاتی“۔


حربن یزید کی کشمکش اور صحیح فیصلہ


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ کے سمجھانے کا کوئی اثر عمر بن سعد پر نہیں ہوا اور اُس نے حملے کی تیاری شروع کر دی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: جب عمر بن سعد حملہ کرنے کے لئے آگے بڑھنے لگا تو حر بن یزید نے پوچھا اللہ تیرا بھلا کرے! تو اُن سے لڑے گا؟ عمر بن سعد نے کہا: ”ہاں! اللہ کی قسم ! لڑوں گا اور لڑنا بھی ایسا لڑنا ہو گا جس میں کم سے کم سر اڑیں گے اور ہاتھ قلم ہونگے ۔ حربن یزید نے کہا: ” کیا اُن کی باتوں میں سے کسی ایک بات کو بھی تم لوگ نہیں مانو گے؟ عمر بن سعد نے کہا: اللہ کی قسم! اگر میرا اختیار ہوتا تو میں اُن کی بات مان لیتا لیکن تیرا امر عبد اللہ بن زیاد سے نہیں مان رہا ہے ۔ یہ سن کر حر بن یزید ایک طرف ہو گیا اور اپنی برادری کے ایک شخص قرہ بن قیس سے بولا : " قرہ تم آج اپنے گھوڑے کو پانی پلا چکے ہو؟ اس نے کہا: نہیں میں نے ابھی تک پانی نہیں پلایا ہے ۔ قرہ کہتا ہے: "مجھے یہ گمان ہوا کہ یہ کنارہ کرنا چاہتا ہے اور جنگ میں شریک نہیں ہوگا اور چاہتا ہے کہ میں اس بات سے بے خبر رہوں اور اسے مجھ سے ڈر ہے کہ کہیں میں اس کا راز فاش نہ کر دوں ۔ اس خیال سے میں نے کہا: ”ہاں ! ابھی تک گھوڑے کو میں نے پانی نہیں پلایا ہے، ابھی جا کر پلاتا ہوں “۔ یہ کہ میں وہاں سے سرک گیا۔ اگر حر بن یزید نے مجھے اپنے ارادے سے مطلع کیا ہوتا تو اللہ کی قسم ! میں بھی اُس کے ساتھ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس چلا جاتا۔ اب حربن یزید نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلے کی طرف بڑھنا شروع کر دیا۔ اُس کی برادری کے ایک شخص مہاجر بن اوس نے اُسے آگے بڑھتے دیکھا تو بولا: "اے حربن یزید! تمہارا کیا ارادہ ہے؟ کیا تم حملہ کرنا چاہتے ہو؟“ حر بن یزید یہ سن کر خاموش رہا اور اُس کے ہاتھ اور پاؤں میں تھر تھری کی پیدا ہوگئی۔ یہ دیکھ کر مہاجر بن اوس نے کہا: اللہ کی قسم تمہارا یہ حال دیکھ کر مجھے شبہ ہورہا ہے۔ اللہ کی قسم! میں نے کسی مقام پر تمہاری ایسی حالت نہیں دیکھی جیسی ابھی دیکھ رہا ہوں۔ مجھ سے اگر کوئی پوچھے کہ اہل کوفہ میں سب سے بڑھ کر کون بہادر اور جری ہے؟ تو میں تمہارا ہی نام لوں گا۔ پھر میں تمہاری یہ کیا حالت دیکھ رہا ہوں؟ حربن یزید نے جواب دیا : اللہ کی قسم ! میں اپنے دل سے پوچھ رہا ہوں کہ جہنم میں جانا چاہتا ہے یا جنت میں جانا چاہتا ہے اور اللہ کی قسم ! اگر میرے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جائیں اور میں زندہ جلا دیا جاؤں تب بھی میں جنت کو نہیں چھوڑوں گا“۔ یہ کہہ کر حر بن یزید نے اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور اُسے تیزی سے دوڑاتا ہوا حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں جا پہنچا۔


حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ کی تو بہ


حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ تیزی سے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پہنچے اور توبہ کی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اے آل رسول رضی اللہ عنہ میں آپ رضی اللہ عنہ پر فدا ہو جاؤں ! میں وہی شخص ہوں جس نے آپ رضی اللہ عنہ کو واپس نہیں جانے دیا اور جو راستہ بھر آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ساتھ پھرا کیا ۔ جس نے آپ رضی اللہ عنہ کو اس جگہ پر ٹھہرنے پر مجبور کیا، قسم ہے اللہ وحدہ لاشریک کی! میں ہرگز یہ نہیں سمجھا تھا کہ جتنی باتیں آپ رضی اللہ عنہ ان لوگوں کے سامنے پیش کریں گے، یہ اُن میں سے کسی امر کو نہیں مانیں گے اور نوبت یہاں تک پہنچ جائے گی ۔ میں تو دل میں یہ سوچے ہوئے تھا کہ بعض باتوں میں ان کی اطاعت کروں گا تو کوئی مضائقہ نہیں ہے اور یہ لوگ یہ نہ سمجھیں کہ میں نے ان کی اطاعت سے انحراف کیا ہے۔ بہت ہوگا تو یہی ہوگا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ جن باتوں کو پیش کریں گے یہ اُن باتوں کو مان لیں گے۔ اللہ کی قسم ! اگر میں یہ جانتا ہوتا کہ یہ لوگ آپ رضی اللہ عنہ کی کسی بات کو قبول نہیں کریں گے میں اس امر کا ( آپ رضی اللہ عنہ کو روکنے کا ) مرتکب نہیں ہوتا۔ مجھ سے جو قصور سرزد ہو گیا ہے میں اللہ تعالیٰ کے سامنے اُس قصور کی توبہ کرنے اور اپنی جان آپ رضی اللہ عنہ کی نصرت میں فدا کرنے کے لئے آیا ہوں۔ میں نے آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے جان دینے کا عزم مصمم کر لیا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ مجھے یہ بتائیں کہ کیا اللہ تعالیٰ اس طرح میری توبہ قبول فرمائے گا ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہاں! اللہ تعالیٰ تمہاری توبہ قبول کرے گا اور تمہیں بخش دے گا۔ تمہارا نام کیا ہے؟ اس نے عرض کیا: "میرا نام حربن یزید ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "حر ( آزاد ) تم آزاد ہو، تمہاری والدہ نے جس طرح تمہارا نام آزاد رکھا ہے، ان شاء اللہ تم دنیا اور آخرت میں آزاد ہو۔ اب گھوڑے سے اترو ۔ حضرت حر بن یزید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ” اے آل رسول رضی اللہ عنہ! میرا گھوڑے پر رہنا اُترنے سے بہتر ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ ان لوگوں سے مسلسل جنگ کرتا رہوں اور جب میرا آخری وقت آئے تو تب میں گھوڑے سے اتروں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اچھا! جو تمہارا دل چاہے وہی کرو اللہ تمہیں اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھئے۔


حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ کا سمجھانا اور حجت قائم کرنا


حضرت حسین علی رضی اللہ کی خدمت میں حاضر ہونے کے بعد حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ اہل کوفہ کے لشکر کے سامنے آئے اور انہیں سمجھانے کی کوشش کی اور اُن پر حجت قائم کر دی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ یمن کر اہل کوفہ کے لشکر کی طرف بڑھے اور فرمایا: "اے لوگو ! حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے جو باتیں پیش کیں ہیں اُن میں سے کسی بات کو تم کیوں نہیں مان رہے ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ان کے ساتھ جنگ و جدال سے بچالے؟ اہل کوفہ کے لشکریوں نے کہا: ” ہمارا امیر (سپہ سالار ) عمر بن سعد موجود ہے اُس سے گفتگو کرو۔ حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر وہی گفتگو عمر بن سعد سے پھر کی جو پہلے کر چکے تھے اور جو گفتگو اہل کوفہ سے کی تھی ۔ عمر بن سعد نے کہا: "میری خواہش بھی یہی تھی اگر ہوسکتا تو میں یہی کرتا “۔ اب حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ نے اہل کوفہ کی طرف خطاب کر کے فرمایا : اللہ تم کو ہلاک اور تباہ کرے کہ تم نے انہیں یہاں بلایا اور جب یہ یہاں چلے آئے تو انہیں دشمنوں کے حوالے کر دیا۔ تم کہتے تھے کہ ان پر اپنی جان نثار کریں گے اور اب انہیں شہید کرنے کے لئے حملہ کرنے جارہے ہو۔ ان کو تم نے گرفتار کر لیا، ان کا پانی بند کر دیا ، ان کو چہار جانب سے گھیر لیا اور ان کو اللہ کی بنائی ہوئی وسیع و عریض زمین میں کسی طرف نکل جانے نہیں دیا کہ وہ اور اُن کے اہل بیت امن سے رہتے۔ اب وہ ایک قیدی کی طرح تمہارے ہاتھ آگئے ہیں، اپنے نفس کے لئے اچھا یا برا کچھ نہیں کر سکتے تم نے ان کو ، ان کے اہل بیت کو ، ان کے بچوں کو اور ان کے ساتھیوں کو دریائے فرات کے بہتے ہوئے پانی سے روکا ہے۔ دریائے فرات کا پانی جسے یہودی، مجوسی اور نصرانی پیا کرتے ہیں اور اس میدان کے خنزیر اور کتے اس میں لوٹا کرتے ہیں لیکن تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل کو پانی لینے سے روک دیا ہے۔ اب پیاس کی شدت نے ان سب لوگوں کو ہلاک کر رکھا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل کے ساتھ اُن کے بعد تم نے کیا برا سلوک کیا ہے۔ اگر آج کے دن اسی وقت تم اپنے ارادے سے باز نہ آجاؤ اور تم تو بہ نہ کرو تو اللہ تعالیٰ تمہیں میدان حشر کی تشنگی میں سیراب نہ کرے۔


عمر بن سعد کا تیر اور حضرت عبداللہ بن عمیر


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ دشمنوں کو سمجھارہے تھے لیکن وہ نہیں مانے اور عمر بن سعد نے جنگ کی شروعات کر دی ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اس کے بعد عمر بن سعد آگے بڑھا اور کمان سے تیر جوڑ کر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی طرف مارکر بولا : ”لوگو! گواہ رہنا! سب سے پہلے میں نے ہی تیر چلایا ہے ۔ یہ سن کر لشکریوں نے بھی ایک باڑھ تیر کی چلائی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : یہ سن کر پیادوں کے لشکر نے حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ پر تیر برسانے شروع کر دیئے۔ وہ وہاں سے پلٹے اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس آکر کھڑے ہو گئے۔ عمرو بن سعد لڑنے کے لئے نکلا اور پکار کا کہا: "اے ذوید ! نشان کو بڑھا“۔ اس کے بعد عمر بن سعد نے تیر کمان میں جوڑا اور کہا: ” تم سب گواہ رہنا کہ سب سے پہلے میں نے تیر مارا ہے ۔ قبیلہ بنوکلب کی شاخ بو علیم سے ایک شخص حضرت عبداللہ بن عمیر رضی اللہ عنہ ایک یا دو دن پہلے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلے میں آکر شامل ہوئے تھے۔ وہ قبیلہ ہمدان میں جعد کے کنویں کے پاس اپنے گھر والوں کے ساتھ قیام پذیر تھے ۔ اُن کی بیوی اُم وہب خاندان نمر بن فاسط کی اُن کے ساتھ تھیں ۔ حضرت عبداللہ بن عمیر رضی اللہ عنہ نے مقام نخیلہ میں دیکھا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ پر لشکر کشی کرنے والے لشکر کا سامان رسد جارہا ہے ۔ انہوں نے دریافت کیا: "یہ کیا ماجرا ہے؟ کسی نے کہا: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آل حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ پر لشکر نے حملہ کیا ہے یہ اس کا سامان رسد ہے“۔ حضرت عبداللہ بن عمیر رضی اللہ عنہ کی مدت سے آرزو تھی کی مشرکین سے جہاد کریں۔ خیال آیا کہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے پر جولوگ لشکر کشی کر رہے ہیں اُن سے جہاد کرنا بھی اللہ کی طرف سے جہاد مشرکین کے ثواب سے کم نہیں ہے۔ یہ سوچ کر اپنی بیوی ام و ہب کے پاس آئے اور انہیں ساری بات بتائی تو انہوں نے فرمایا: ” کیا اچھی بات آپ نے کہی ہے۔ اللہ آپ کی بہترین تمنا پوری کرے۔ چلو اور مجھے بھی ساتھ لیتے چلو “ حضرت عبد اللہ بن عمیر رضی اللہ عنہ راتوں رات اپنی بیوی کو لئے ہوئے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلے میں آگئے اور وہیں قیام پذیر ہو گئے۔ جب عمر بن سعد نے قریب آکر تیر مارا تو زیاد بن سمیہ یا ابوسفیان کا آزاد کردہ غلام بیار اور عبید اللہ بن زیاد کا آزاد کردہ غلام سالم یہ دونوں صفوں سے باہر نکلے اور مقابلے کے لئے آواز لگائی۔ یہ سن کر حضرت حبیب بن مظاہر رضی اللہ عنہ اور حضرت بریر بن حضیر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، مگر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ۔ یہ دیکھ کر حضرت عبداللہ بن عمیر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور عرض کی : ”اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آل رضی اللہ عنہ مجھے ان دونوں سے لڑنے کی اجازت دیں“۔


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!


Saltanat e Umayya part 19

 19 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 19

حضرت عبد اللہ بن عمیر اور ام وہب رضی اللہ عنہم کی جاں شاری، ایک گستاخ کا انجام، حضرت بریر بن حضیر رضی اللہ عنہ مباہلہ میں کا میاب، حضرت بریر بن حضیر رضی اللہ عنہ کی شہادت، حربن یزید کی بہادری، دشمنوں کا ایک ساتھ حملہ، حضرت عمر بن خالد ، سعد اور جابر بن حارث کی شہادت، حضرت مسلم بن عوسجہ اسدی کی وصیت اور شہادت، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ، تیراندازوں کا حملہ، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھی پیدل ہو گئے، 




حضرت عبد اللہ بن عمیر اور ام وہب رضی اللہ عنہم کی جاں شاری


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حضرت عبداللہ بن عمیر رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور جنگ کی اجازت مانگی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے نظر جو اُٹھائی تو دیکھا کہ ایک شخص گندمی رنگ، دراز قامت، قوی باز و اور قوی ہیکل سامنے کھڑا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میرے خیال سے یہ شخص اقران ہے، اچھا تم لڑنا چاہتے ہو تو میری طرف سے تمہیں اجازت ہے“۔ حضرت عبد اللہ بن عمیر رضی اللہ عنہ دونوں کے مقابلے پر نکلے۔ دونوں نے پوچھا: ”تم کون ہو؟ انہوں نے اپنا نسب اور خاندان اور قبیلہ کے بارے میں بتایا تو اُن دونوں نے کہا: "ہم تمہیں نہیں جانتے ہیں۔ تم جاؤ اور زہیر بن قین یا حبیب بن مظاہر یا بریر بن حضیر کو ہمارے مقابلے پر بھیجو۔ سیار اس وقت سالم سے آگے تھا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: " او فاحشہ عورت کے بیٹے کسی شخص سے مقابلہ کرنے میں تجھے عار ہے اور تیرے مقابلے میں وہی شخص آئے جو تجھ سے بہتر ہے۔ یہ فرماتے ہوئے آپ رضی اللہ عنہ نے بسیار پر ایسی تلوار ماری کہ وہ و ہیں ٹھنڈا ہو گیا ۔ آپ رضی اللہ عنہ ابھی بسیار پر وار کرنے میں ہی مشغول تھے کہ سالم نے حملہ کر دیا اور آگے بڑھ کر آپ رضی اللہ عنہ پر تلوار سے وار کیا حضرت عبداللہ بن عمیر رضی اللہ عنہ نے اُس کی تلوار کے دار کو بائیں ہاتھ پر روکا جس کی وجہ سے اُس ہاتھ کی انگلیاں اُڑ گئیں ۔ اس کے بعد انہوں نے مڑ کر اُس پر بھی وار کیا اور دونوں کو قتل کر کے یہ اشعار پڑھتے ہوئے آگے بڑھے " تم لوگ مجھے نہیں پہچانتے ہو، سنو! میں خاندان بنو کلب سے ہوں اور یہ فخر میرے لئے کافی ہے کہ میرا گھر قبیلہ علیم میں ہے ۔ میں صاحب قوت و نصرت ہوں ۔ مصیبت پڑے تو بد دل نہیں ہو جاتا۔ اے اُم وہب ! میں اس بات کا ذمہ لیتا ہوں کہ بڑھ بڑھ کر تلواروں کے اور برچھیوں کے وار ان لوگوں پر کروں گا ۔ جو شیوہ اللہ کے مانے والوں کو ہوتا ہے ۔ سیدہ ام وہب رضی اللہ عنہ نے یہ سن کو ایک عود اپنے ہاتھ میں لیا اور اپنے شوہر کی طرف یہ کہتے ہوئے بڑھیں :” میرے ماں باپ تم پر فدا ہو جائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل کی طرف سے لڑے جاؤ ۔ حضرت عبد اللہ بن عمیر کلبی رضی اللہ عنہ اپنی بیوی کی آواز سن کر پلٹ پڑے کہ انہیں عورتوں میں لے جا کر بٹھا ئیں۔ سیدہ اُم وہب رضی اللہ عنہ اُن سے لپٹ گئیں اور بولیں : ” تمہارے سامنے جب تک میرا دم نہیں نکل جائے گا میں تم کو نہیں چھوڑوں گی۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے پکار کر فرمایا: ” اہل بیت کی طرف سے تم دونوں کو اللہ تعالی جزائے خیر عطا فرمائے بی بی ! عورتوں میں واپس چلی آؤ اور اُن کے پاس بیٹھی رہو، عورتوں کو قتل نہیں کرنا چاہئے ۔ سیدہ ام وہب رضی اللہ عنہا یہ حکم سنکر عورتوں میں واپس لوٹ گئیں۔ علامہ عمادالدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں: پس سیدہ ام وہب رضی اللہ عنہا ایک لوہے کا ڈنڈا لیکر اپنے شوہر کے پاس آئیں اور بولیں : ”اے میرے سرتاج ! میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک باز اولادوں کی حفاظت میں جنگ کرتے رہو۔ حضرت عبداللہ بن عمیر کلبی رضی اللہ عنہ انہیں خواتین کی طرف لیکر جانے لگے تو انہوں نے کہا: ”چھوڑو مجھے ! میں تمہارے ساتھ رہوں گی“۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بی بی ! خواتین میں واپس آجاؤ، خواتین پر جنگ فرض نہیں ہے۔


ایک گستاخ کا انجام


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھی آپ رضی اللہ عنہ پر اپنی جان شار کر رہے تھے۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں : عمر بن سعد کے میمنہ پر عمرو بن حجاج کمانڈر تھا۔ وہ اپنے پورے رسالے کو لیکر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کی طرف بڑھا۔ جب یہ رسالہ آپ رضی اللہ عنہ کے قریب آیا تو آپ رضی اللہ عنہ کے تمام ساتھی گھٹنوں کے بل اُس کو روکنے کے لئے کھڑے ہو گئے اور اپنی برچھیوں کی سنانیں اُن سب کی طرف کردیں۔ دشمنوں کے سوار ان سنانوں کی طرف نہیں بڑھ سکے اور واپس جانے لگے تو آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں نے انہیں تیر مارے کچھ لوگوں کوگراد یا اور کچھ لوگوں کو زخمی کیا۔ ان میں ایک شخص جس کا نام عبداللہ بن حوزہ تھا بڑھتا ہوا آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے آیا اور اے حسین اے حسین “ کہہ کر آپ رضی اللہ عنہ کو پکارا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” کیا کہہ رہا ہے؟ اس بد بخت نے کہا: ” جہنم کی آگ مبارک ہو"۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں تو اپنے پروردگار رحیم اور اپنے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جارہا ہوں۔ یہ فرما کر آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یہ کون ہے؟ ساتھیوں نے عرض کیا : " شخص عبداللہ بن حوزہ ہے ۔ آپ رضی نے فرمایا: "اے اللہ ! اسے آگ کا مزہ چکھا۔ اُس کا گھوڑا اُسے لیکر بھاگا اور یہ گرا تو اس کا پاؤں رکاب میں پھنسا رہ گیا اور سرزمین پر آرہا۔ گھوڑا بھڑکا اور اُسی طرح اُسے لیکر بھاگا اور اُس کا سر پتھروں اور جھاڑیوں سے ٹکرا تا رہا اور آخر کار مر گیا۔ مسروق بن وائل بھی عمرو بن حجاج کے اُن سواروں میں آگے آگے تھا۔ وہ کہتا ہے : ” میں اس لئے آگے آگے تھا کہ شاید (حضرت) حسین بن علی ( رضی اللہ عنہ ) کا سر مجھے مل جائے اور عبید اللہ بن زیاد کی نظر میں میری منزلت ہو ۔ ہم لوگ جب (حضرت) حسین بن علی رضی اللہ عنہ) پہنچے تو عبد اللہ بن حوزہ نے آگے بڑھ کر پوچھا: ”تم لوگوں میں (حضرت ) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) ہیں؟ انہوں نے آگے بڑھ کر اسے جواب دیا تو اُس نے دوبارہ اسی طرح پوچھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے سب کو خاموش رہنے کا حکم دیا۔ جب اُس نے تیسری مرتبہ کہا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو نے جھوٹ بکا ہے! میں تو غفور الرحیم اللہ کے پاس اور اپنے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جارہا ہوں ، تو کون شخص ہے ؟ اس نے کہا: ” میں عبداللہ بن حوزہ ہوں“۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے دونوں ہاتھ بلند کئے یہاں تک کہ قمیص کی سفیدہ عبا کی بغلوں میں دکھائی دینے لگیں اور فرمایا: ” اے اللہ ! اسے آگ میں داخل کر عبداللہ بن حوزہ نے غصہ سے اپنی گھوڑی کو آپ رضی اللہ عنہ پر چڑھانا چاہا۔ لیکن آپ رضی اللہ عنہ اور اس کے درمیان خندق حائل تھی ۔ اُس کا پاؤں رکاب میں پھنس گیا اور گھوڑی اسے لے بھاگی اور یہ پشت کے بل گرا۔ اُس کا ایک پاؤں، پنڈلی اور ران سے الگ ہو گیا اور آدھا دھڑ رکاب میں اٹکا رہا۔ یہ دیکھ کر میں (مسروق ) رسالے سے الگ ہو کر چلا گیا اور جب میرے بھائی عبد الجبار نے الگ ہونے کا سبب پوچھا تو میں نے اُسے بتایا کہ ہاشمی خاندان کے لوگوں کی ایسی بات میرے دیکھنے میں آئی ہے کہ میں کبھی اُن سے قتل نہیں کروں گا۔


حضرت بریر بن حضیر رضی اللہ عنہ مباہلہ میں کا میاب


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھی مستقل مزاجی سے ڈٹے ہوئے تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اس کے بعد دشمنوں کے لشکر سے یزید بن معقل نکلا اور بلند آواز سے پکار کر بولا : کیوں بریر بن خضیر ! تم نے دیکھ لیا کہ اللہ نے تمہارے ساتھ کیا کیا ؟ حضرت بریر بن حضیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے میرے ساتھ بھلائی کی ہے اور تیرے حق میں برائی کی ہے ۔ اُس نے کہا: ” تم نے جھوٹ بولا اتم تو کبھی جھوٹ نہیں بولتے تھے۔ تم کو یاد ہوگا کہ بنو لوفان میں تمہارے ساتھ پھر رہاتھا اور تم کہتے جاتے تھے کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اپنے نفس سے اسراف کیا اور حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ گمراہ اور گمراہ کنندہ ہیں اور حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ حق پر ہیں حضرت بریر بن حضیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہاں ہاں ! یہی میرا عقیدہ اور میرا قول ہے ۔ یزید بن معقل بولا " اس میں کوئی شک نہیں کہ تو گمراہ ہے۔ حضرت بریر بن خضیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” آؤ ہم تم مباہلہ کریں اور پہلے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگیں کہ وہ جھوٹے پر لعنت کرے اور گمراہ کو قتل کرے، اس کے بعد ہم دونوں لڑیں۔ اب وہ دونوں آگے آئے اور اوپر کی طرف ہاتھوں کو بلند کر کے یہ دعا کی کہ جھوٹے پر عذاب نازل ہو اور جو سچا ہو وہ گمراہ کوقتل کر دے۔ اس کے بعد دونوں نے ایکدوسرے پر حملہ کر دیا۔ دو دو چوٹیں ہوئیں تھیں کہ یزید بن معتقل کا ایک اوچھا وار حضرت بریر بن حضیر رضی اللہ عنہ پر پڑا ۔ جس سے انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا، انہوں نے پلٹ کر جو تلوار ماری تو وہ یزید بن معقل کے سر کو کاٹتی ہوئی دماغ تک پہنچی اور وہ اس طرح گرا کہ معلوم ہوا پہاڑ سے نیچے آرہا ہو اور حضرت بریر بن خضیر رضی اللہ عنہ کی تلوار اُسی طرح یزید بن معقل کی کھوپڑی میں پھنسی ہوئی تھی ۔ آپ رضی اللہ عنہ تلوار کو کال ہی رہے تھے کہ رضی بن منقذ عبدی نے حملہ کر دیا اور لپٹ گیا۔ 


حضرت بریر بن حضیر رضی اللہ عنہ کی شہادت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے حضرت بریر بن حضیر رضی اللہ عنہ لڑ رہے تھے کہ اچانک رضی بن منقد عبدی نے حملہ کر دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : کچھ دیر دونوں میں کشتی ہوتی رہی اور حضرت بریر بن حضیر رضی اللہ عنہ اسے پٹک کر اُس کی چھاتی پر چڑھ بیٹھے تو رضی بن منقذ عبدی چلانے لگا: ”بہادر و! کمک کرنے والو! دوڑو ۔ یہ سن کر کعب ازدی نے حضرت بریر بن حضیر رضی اللہ عنہ پر حملہ کرنے آگے بڑھا تو دوسرے شخص نے اُسے جتادیا کہ حضرت بریر بن حضیر رضی اللہ عنہ قرآن کے قاری ہیں اور ہم لوگوں کو مسجد میں قرآن پڑھاتے ہیں لیکن پھر بھی کعب از دی نے نیزے سے آپ رضی اللہ عنہ پر وار کیا اور نیزے کی سنان پیٹھ پر لگی۔ حضرت بریر بن خضیر رضی اللہ عنہ برچھی لگنے کے بعد عبدی پر گر پڑے تو انہوں نے عبدی کی ناک دانتوں سے کاٹ لی اور اُس کے چہرے کو زخمی کر دیا۔ پھر کعب نے نیزے کا ایسا وار کیا کہ نیزہ حضرت بریر بن حضیر رضی اللہ عنہ کی پیٹھ سے گھسا اور سینے سے باہر نکل گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ عبدی کے اوپر سے زمیں پر گر پڑے اور شہید ہو گئے ۔ رضی بن منقذ عبدی خاک جھاڑتا ہوا اٹھا اور کعب ازدی سے بولا : " تم نے مجھ پر ایسا احسان کیا ہے جسے میں زندگی بھر نہیں بھولوں گا ۔ کعب از دی جب میدان جنگ سے واپس اپنے گھر آیا تو اُس کی بیوی یا بہن نے اُس سے کہا: تو نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے کے مقابلے میں کمک کی اور تو نے سید قارئین کو شہید کیا ہے اور تو کیسے امر عظیم کا مرتکب ہوا۔ اللہ کی قسم ! میں تجھ سے کبھی بات نہیں کروں گی۔


حربن یزید کی بہادری


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں پر عمر بن سعد کے لشکر نے حملہ کر دیا اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھی بھی بڑی جاں شاری سے مقابلہ کر رہے تھے۔ اسی دوران حضرت عمرو بن قرظہ انصاری رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے اور اُن کا بھائی علی بن قرطہ نے جو دشمنوں کے لشکر میں تھا آپ رضی اللہ عنہ سے بدتمیزی کی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت عمرو بن قرظہ انصاری رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور دشمنوں پر حملہ کر دیا اور بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے ۔ اُن کا بھائی علی بن قرظہ ، عمر بن سعد کے لشکر میں تھا۔ جب اُس نے دیکھا کہ حضرت عمرو بن قرطہ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے ہیں تو اُس نے بلند آواز سے پکار کر کہا: "اے حسین بن علی ! ( نعوذ باللہ ) کذاب بن کذاب !تم نے میرے بھائی کو گمراہ کیا اور اسے دھوکا دیا اور اسے تمہیں نے قتل کیا ہے ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ نے تیرے بھائی کو گراہ نہیں کیا بلکہ اسے ہدایت دی ہے اور تجھے گمراہ کیا ہے ۔ یہ ن کر وہ بولا: یا تو میں تمہیں قتل کروں گا یا پھر اسی بات کے پیچھے اپنی جان دے دوں گا۔ اگر ایسا نہ کروں تو اللہ مجھے مارے یہ کہہ کر اس نے آپ رضی اللہ عنہ پرحملہ کر دیا۔ حضرت نافع بن ہلال مرادی رضی اللہ عنہ نے اُس کا وار روک کر ایک ایسی برچھی ماری کہ وہ الٹ گیا۔ اُس کے لشکر والے جلدی سے اُسے بچانے آئے اور اُٹھا لے گئے ۔ جنگ کے دوران حضرت حر بن یزید رضی اللہ عنہ بڑھ بڑھ کرحملہ کر رہے تھے۔ اُن کے گھوڑے کے چھرے پر تلوار میں پڑ رہی تھیں اور اُس کا خون بہہ رہا تھا۔ اُس وقت یزید بن سفیان نے حصین بن تمیم سے ( جو عبید اللہ بن زیاد کا پولیس محکمہ کا سربراہ تھا اور اُسی کو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو گر فتار کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا اور جسے عمر بن سعد نے زرہ پوش سواروں کا کمانڈر بنا دیا تھا) پوچھا: ”اس حربن یزید کوقتل کرنے کی تم نے آرزو کی تھی؟ حصین بن تمیم نے کہا: ”ہاں“۔ یہ سن کر یزید بن سفیان آگے بڑھا اور حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ کولکار کر کہا: ”مجھ سے لڑنا چاہتے ہو؟ حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہاں! میں تجھ سے لڑوں گا “۔ یہ فرما کر حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ آگے آئے ۔ انہیں دیکھ کر حصین بن تمیم نے کہا: اللہ کی قسم! ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کے حریف کی جان اس کی مٹھی میں ہے ۔ اس کی بات پوری ہوئی ہی تھی کہ حضرت حربن یزیدرضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر ایسا تلور کا وارکیا کہ یزید بن سفیان کی گردن اڑگئی اور اُس کا سر اچھل کر کافی دور جا گرا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : شامی فوجیں اپنے جواں مردوں کے پیہم مارے جانے سے سہم گئیں اور اُن دلیروں کے مقابلے پر جانے سے ہر کوئی جی چرارہا تھا اور اب کسی کی انفرادی مقابلے کی ہمت نہیں پڑ رہی تھی۔


دشمنوں کا ایک ساتھ حملہ


ابھی تک انفرادی یعنی ایک ایک، دو دو یا تین تین کے مقابلے ہو رہے تھے اور زیادہ تر دشمنوں کے سپاہی قتل ہورہے تھے ۔ یہ دیکھ کر دشمنوں کے میمنہ کے کمانڈر عمر بن حجاج نے ایک ساتھ حملہ کرنے کا مشورہ دیا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: شامی فو جیں اپنے جواں مردوں کے پیہم مارے جانے سے سہم گئیں اور اُن دلیروں کے مقابلے پر جانے سے ہر کوئی بھی چمدار ہا تھا اور اب کسی کی انفرادی مقابلے کی ہمت نہیں پڑ رہی تھی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت نافع بن ہلال رضی اللہ عنہ آگے بڑھے تو مزاحم بن حریث اُن کے مقابلے پر آیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اُس پر زبر دست حملہ کیا اور اسے قتل کر دیا۔ یہ دیکھ کر میمنہ کے کمانڈر عمرو بن حجاج نے بلند آواز سے کہا: "اے احمقو! اے اہل کوفہ ! تم نہیں جانتے کس سے لڑ رہے ہو؟ یہ وہ لوگ ہیں جو جان دینے پر آمادہ ہیں۔ ایک ایک کر کے ان سے ہرگز نہ لڑو بلکہ ایک ساتھ حملہ کرو۔ یہ تھوڑے سے لوگ ہیں اور تھوڑی ہی دیر میں فنا ہو جائیں گے۔ اللہ کی قسم! اگر تم انہیں صرف پتھر اُٹھا اُٹھا کر مارو گے تو سب کو قتل کر لو گے“۔ عمر بن سعد نے کہا: ” تم سچ کہہ رہے ہو ۔ اس کے بعد اپنے سپاہیوں کو ایک ایک کر کے لڑنے سے منع کر دیا۔ عمرو بن حجاج نے بلند آواز سے اپنے سپاہیوں سے کہا: ”اے اہل کوفہ ! اپنی طاعت و جماعت کو نہیں چھوڑنا اور جس نے دین کو چھوڑ دیا اور امام کے خلاف کیا اُس شخص کو قتل کرنے میں تامل نہ کرو۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اُس کی یہ بکواس سن کر اُس سے فرمایا: ” اے عمرو بن حجاج ! تو مجھے شہید کرنے پر لوگوں کو ابھار رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ ہم لوگوں نے دین کو چھوڑ دیا ہے اور تم لوگ دین پر قائم ہو۔ اللہ کی قسم اروح قبض ہونے کے بعد ان افعال کے ساتھ مرنے پر تم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ کس نے دین چھوڑ دیا ہے اور کون جہنم کا حقدار ہے۔ اس کے بعد عمر و بن حجاج نے میمنہ کے ساتھ دریائے فرات کی طرف سے حملہ کیا اور ایک ساعت تک جنگ ہوتی رہی۔


حضرت عمر بن خالد ، سعد اور جابر بن حارث کی شہادت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ زبردست مقابلہ کر رہے تھے اور دشمن بھی بار بار حملہ کر رہے تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں سے حضرت عمر بن خالد صیدادی رضی اللہ عنہ اور اُن کے آزاد کردہ غلام حضرت سعد رضی اللہ عنہ اور حضرت جابر بن حارث رضی اللہ عنہ اور مجمع بن عبد اللہ عائدی رضی اللہ عنہ نے لڑائی شروع ہوتے ہی حملہ کر دیا تھا اور تلواریں کھینچے ہوئے دشمنوں کے اوپر پر ٹوٹ پڑے۔ دشمنوں کو مسلسل کاٹتے ہوئے دور تک نکل گئے۔ جب واپس پلٹے تو دشمنوں کے سپاہی انہیں گھیرنے لگے اور اُن کے اور اُن کے ساتھیوں کے درمیان حائل ہو گئے۔ یہ دیکھ کر حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ نے دشمنوں پر حملہ کر دیا اور ان لوگوں کو دشمنوں کے نرغہ سے نکال لائے۔ سب زخمی ہو چکے تھے۔ دشمنوں نے پھر سے اچانک حملہ کیا تو وہ پھر تلواریں کھینچ کھینچ کر دشمنوں پر جاپڑے اور انہیں قتل کرنے لگے اور آخر کار یہ سب ایک ہی جگہ شہید ہو گئے ۔


حضرت مسلم بن عوسجہ اسدی کی وصیت اور شہادت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلے پر عمر بن سعد کے لشکر کے میمنہ کے کمانڈر عمرو بن حجاج نے حملہ کر دیا اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں نے بہادری اور جوانمردی سے اُن کا مقابلہ کیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ” اس حملے میں حضرت مسلم بن عوسجہ اسدی رضی اللہ عنہ زخمی ہو کر گرے۔ عمرو بن حجاج جب حملہ کر کے واپس پلٹا اور گرد و غبار پھٹا تو دیکھا کہ حضرت مسلم بن عوسجہ اسدی رضی اللہ عنہ زمین پر پڑے ہوئے ہیں۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اُن کے پاس آئے۔ ابھی ذرا جان باقی تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اُن کا سر اپنے زانو پر رکھا اور چہرے کی مٹی صاف کرنے لگے اور فرمایا: ”اے مسلم بن عوسجہ رضی اللہعنہا اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے! مجاہدوں میں سے کسی نے اپنی جان فدا کر دی ہے اور کوئی انتظار کر رہا ہے۔ حضرت حبیب بن مظاہر رضی اللہ عنہ نے قریب آکر فرمایا: ”اے ابن عوسجہ رضی اللہ عنہ اتم سے بچھڑنے کا مجھے شدید قلق ہے، تمہیں جنت مبارک ہو"۔ حضرت مسلم بن عوسجہ رضی اللہ عنہ نے دھیمی آواز میں فرمایا: اللہ تعالیٰ تم کو بھی خیر و خوبی مبارک کرے ۔ حضرت حبیب بن مظاہر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں جانتا ہوں کہ تمہارے پیچھے پیچھے میں بھی آنے والا ہوں ۔ ورنہ میں کہتا کہ جو جی چاہے وصیت مجھے کرو کہ تم سے قرابت واخوت دینی کا جو مقتضی ہے اُسی کے مطابق تمہاری وصیت کو بجالاؤں گا“۔ حضرت مسلم بن عوسجہ نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: ” بس اِن کے بارے میں تم سے وصیت کرتا ہوں کہ ان پر اپنی جان فدا کرنا ۔ اُدھر عمرو بن حجاج کے ساتھی خوشی منانے لگے کہ ہم نے حضرت مسلم بن عوسجہ اسدی کو شہید کر دیا۔ ثبت نے یہ سن کر اپنے پاس کے لوگوں سے کہا: ” تم کو موت آئے! اپنے عزیزوں کو اپنے ہاتھوں سے قتل کر رہے ہو اور غیروں کے سامنے خود کو ذلیل کر رہے ہو۔ حضرت مسلم بن عوسجہ جیسے شخص کو شہید کر کے خوش ہو رہے ہو؟ سنو! اللہ کی قسم ! مسلمانوں کے ساتھ اُن کو میں نے بڑے بڑے معرکوں میں بڑی شان کے ساتھ دیکھا ہے۔ آذربائیجان کی جنگ میں میں نے دیکھا کہ انہوں نے چھ کافروں کوقتل کیا اور ابھی مسلمانوں کے سوار آنے بھی نہیں پائے تھے ۔ بھلا ایسا شخص تم میں سے قتل ہو جائے اور تم خوش ہورہے ہو ۔ حضرت مسلم بن عوسجہ رضی اللہ عنہ کو کا مسلم بن ضبابی اور عبدالرحمن بجلی نے شہید کیا۔ حضرت عبد اللہ بن عمیر کلبی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ


قافلے کے میمنہ پر عمرو بن سعد کے لشکر کے میمنہ کے کمانڈر نے اپنے سپاہیوں کے ساتھ حملہ کیا تھا ۔ اس کے بعد میسرہ کا کمانڈر اپنے سپاہیوں کے ساتھ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے قافلے کے میسرہ پرحملہ کیا۔ علامہ حمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عمر بن سعد کے میسرہ کے کمانڈر شمر بن ذی جوشن نے اپنے سپاہیوں کے ساتھ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے میسرہ پر حملہ کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھی اپنی جگہ پر ڈٹے رہے اور شمر بن ذی جوشن کے سپاہیوں کو برچھیاں مارنے لگے۔ اب وہ لوگ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں پر ہر طرف سے حملہ آور ہو گئے۔ اس حملہ میں حضرت عبداللہ بن عمیر کلبی رضی اللہ عنہ شہید ہوئے ۔ آپ رضی اللہ عنہ بہت بہادری سے لڑے اور پہلے دو شخصوں کو قتل کیا اور پھر دو اور شخصوں کو قتل کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ بڑی شدت اور جرأت سے حملہ کر رہے تھے اور مسلسل دشمنوں کو قتل کرتے جا رہے تھے کہ ہانی بن ثبیت حضرمی اور بکیر بن جی تمیمی نے ایک ساتھ مل کر آپ رضی اللہ عنہ پر پیچھے سے حملہ کر دیا اور شہید کر دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں سے دوسرے شہید ہیں۔


تیراندازوں کا حملہ


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھی بڑی دلیری اور جرات سے دشمنوں سے مقابلہ کر رہے تھے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اب حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں نے بڑی شدت و قوت سے جنگ کی۔ ادھر قافلے کے صرف بتیس (32) سوار تھے اور انہوں نے جس طرف بھی رخ کیا تو اہل کوفہ کے سواروں کو شکست دی۔ عزرہ بن قیس اہل کوفہ کا کمانڈر تھا۔ اُس نے جب دیکھا کہ اُس کے رسالہ کے سوار ہر طرف سے پسپا ہو رہے ہیں تو اُس نے عمر بن سعد کے پاس یہ کہلا بھیجا تو دیکھ رہا ہے کہ ان چند سواروں کے مقابلے میں میرا رسالہ کتنی دیر سے منتشر ہو رہا ہے۔ اب ان کے لئے پیادوں (پیدلوں) کو اور تیر اندازوں کو جلدی بھیج دئے ۔ عمر بن سعد نے شبث بن ربعی کوحکم دیا: ” تم اُن سے لڑنے کے لئے اپنے تیر اندازوں کولیکر جاؤ ۔ شبث بن ربعی نے کہا: "سبحان اللہ ! اس شخص کو جو قوم عرب کا اور تمام شہروں کا بزرگ ہے۔ تم چاہتے ہوں کہ اُس کے مقابلے پر تیر اندازوں کو لیکر جائے تمہیں کوئی دوسرا نہیں ملتا جو اس کام کی حامی بھرے اور میری ضرورت نہ ہو۔“ اس کے بعد اُس نے کہا: اہل کوفہ کواللہ تعالیٰ کبھی خیر و خوبی نصیب نہیں کرے گا اور اُن کو کبھی راہ راست کی توفیق نہیں دے گا۔ تعجب کی بات ہے کہ ہم لوگ پانچ سال تک حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہے اور پھر اُن کے بیٹے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہے۔ پھر اب ہم یزید اور سمیہ فاحشہ کے بیٹے کے ساتھ ملکر ان کے دوسرے بیٹے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو جو اس وقت روئے زمین پر سب سے افضل ہیں شہید کریں؟ ہائے ہماری گمراہی اور زیاں کاری“۔ غرض اسی طرح شبث بن ربعی حملہ کرنے سے پہلو تہی کرتا رہا۔ پھر عمر بن سعد نے حصین بن نمیر تمیمی کو حکم دیا اور وہ اپنے تمام زرہ پوشوں اور پانچ سو تیر اندازوں کے ساتھ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کے سامنے آیا اور تیر برسانے لگا تھوڑی ہی دیر میں آپ رضی اللہ عنہ کے تمام ساتھی پیدل ہو گئے۔


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھی پیدل ہو گئے


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے تمام ساتھی بہت ہی دلیری اور جرات سے لڑ رہے تھے۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : شمر بن ذی جوشن نے اپنے میسرہ کو لیکرحملہ کیا۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھی نہایت استقلال سے جی تو ڑ کر جواب دینے لگے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ حالانکہ صرف بتیس (33) سوار تھے لیکن وہ جس طرف بھی رخ کرتے تھے تو صف کی صف اُلٹ جاتی تھی اور لوگ تتر بتر ہو کر ادھر ادھر بھاگ کھڑے ہوتے تھے۔ سواران کوفہ اُن کے مقابلے پر جانے سے جی چراتے تھے۔ عزرہ بن قیس جو سواروں کا کمانڈ رتھا اُس نے جنگ کا عنوان بگڑتا دیکھا تو عمر بن سعد کے پاس کہلا بھیجا کہ ان چند سواروں نے ہمارے سواروں کے چھکے چھڑا دیئے ہیں اور اگر جنگ کا یہی عنوان رہا تو عنقریب ہم بھاگ کھڑے ہوں گے۔ اس لئے مناسب ہے کہ تیر اندازوں اور پیادوں کو آگے بڑھنے کا حکم دو ۔ عمر بن سعد نے شبث بن ربعی کو تیر اندازی کرنے کا حکم دیا لیکن اُس نے انکار کر دیا۔ تب حصین بن نمرہ کو پانچ سو تیر اندازوں کے ساتھ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلے پر تیر باری کرنے کے لئے بھیجا۔ وہ اپنے پانچ سو تیر اندازوں کے ساتھ قریب پہنچ کر آپ رضی اللہ عنہ کے سواروں پر تیر برسانے لگا۔ تھوڑی ہی دیر میں آپ رضی اللہ عنہ کے سواروں کے تمام گھوڑے زخمی ہو گئے اور آپ رضی اللہ عنہ کے تمام ساتھی پیدل ہو کر جنگ لڑنے لگے۔ حضرت حر بن یزید رضی اللہ عنہ کا گھوڑا بھی مرگیا اور وہ بھی پیدل ہی لڑنے لگے۔


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!


Saltanat e Umayya part 20

 20 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 20

خیموں کو آگ لگانے کی کوشش، حضرت حبیب بن مظاہر کی شہادت، حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ کی شہادت، نماز خوف اور حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ کی شہادت، حضرت نافع بن بلال رضی اللہ عنہ کی گرفتاری اور شہادت، حضرت حنظلہ بن اسعد شامی رضی اللہ عنہ کی شہادت، ساتھیوں کی جاں نثاری، حضرت شوذب اور حضرت عابس بن شبیب کی شہادت، حضرت یزید بن مہاجر زیا درضی اللہ عنہ کی شہادت، حضرت یزید بن مہاجر زیا درضی اللہ عنہ کی شہادت، 



خیموں کو آگ لگانے کی کوشش


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلے والے سو سے بھی کم تھے اس کے باوجود چار ہزار سے زیادہ کے لشکر کا مردانہ وار مقابلہ کر رہے تھے۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: دوپہر تک لڑائی نہایت تیزی اور سختی سے جاری رہی اور ملک شام کا لشکر کشیر ہونے کے باوجود اُن لوگوں کے حملے کا جواب نہیں دے پار ہا تھا اور نہ ہی اُن کے قریب پہنچ کر حملہ آور ہو پارہا تھا۔ عمر بن سعد نے مجبور ہو کر چند سپاہیوں کو آپ رضی اللہ عنہ کے خیموں کی طرف سے حملہ کرنے کے لئے بھیجا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں میں سے صرف چار افراد کو مخالفین کو روکنے کے لئے متعین کیا جو بھی دستہ یا فوج سواروں یا پیادوں کا ملک شام کے لشکر سے نکل کر خیموں کی طرف بڑھتا تھا۔ اُسے خیمہ تک پہنچنا تو دور کی بات ہے راستے میں ڈھیر ہو جانا پڑتا تھا۔ تب عمر بن سعد نے خیموں پر دور سے ہی آگ برسانے کا حکم دیا۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم لوگ مجھ سے لڑ رہے ہو تو مجھ ہی سے لڑو، خیموں میں عورتوں اور بچوں کے سوا کوئی مرد نہیں ہے۔ وہ غریب نکل کر بھاگ نہیں سکیں گی اور اور ہم خیموں کے جلنے کے بعد تم سے لڑ نہیں سکیں گے۔ عمر بن سعد یہ سن کر خاموش ہو گیا۔ اس کے بعد شمر بن ذی جوشن حملہ کر کے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے خیمے تک پہنچ گیا اور بولا : ”اگر میں اس خیمے کو نہیں جلا دوں تو مجھے جہنم میں جلنا نصیب ہو“۔ یہ سن کو عورتیں چلا کر خیموں سے باہر آ گئیں ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے شمر کو ڈانٹ کر فرمایا: 'سٹو میرے خیمے کو جلائے گا جس میں میرے اہل بیت ہیں؟ اللہ مجھے جلائے“ شمر بن ذی جوشن نے اس کا کچھ جواب نہیں دیا۔ حمین بن مسلم اور شبت بن ربعی نے اُس کو اس فعل شنیع سے روکنے کی کوشش کی لیکن وہ بد بخت نہیں مان رہا تھا اور برابر خیمے کی طرف آگ لگانے کے بڑھتا جارہا تھا۔ حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ نے اپنے دس ساتھیوں کے ساتھ الگ ہو کر شمر بن ذی جوشن اور اُس کے دستے پر حملہ کر دیا۔ شمر کے ساتھیوں میں سے ایک ابوغرہ ضیابی اور بہت سے سپاہی مارے گئے اور آخر کار اسے مجبور ہو کر واپس جانا پڑا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اسی حالت میں سیدہ ام وہب رضی اللہ عنہا اپنے شوہر حضرت عبد اللہ بن عمر کلبی رضی اللہ عنہ کی لاش کے پاس آئیں اور اُن کا سر اپنے زانو پر رکھ لیا اور گردوغبار اُن کے چہرہ سے صاف کرتی جاتی تھیں اور فرماتی جاتی تھیں : " تم کو جنت میں جانا مبارک ہو ۔ شمر بن ذی جوشن نے آپ رضی اللہ عنہا کو یہ فرماتے سنا تو اپنے ایک غلام رستم سے کہا: ” اس عورت کے سر پر ایک لٹھ مار ۔ اُس بد بخت نے سیدہ ام و ہب رضی اللہ عنہا کے سر پر ایسا لٹھ مارا کہ سر پاش پاش ہو گیا اور آپ رضی اللہ عنہا و ہیں شہید ہو کر شوہر کی لاش پر گر گئیں۔ 


حضرت حبیب بن مظاہر کی شہادت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ انتہائی جوانمردی اور دلیری اور بہادری سے دشمنوں کا مقابلہ کر رہے تھے کہ اس دوران ظہر کی نماز کا وقت آگیا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: چونکہ شامیوں (اہل کوفہ ) کے لشکر کی تعداد زیادہ تھی اور کثرت کی وجہ سے دو، چار، پانچ ، دس اور بیس کا مارا جاتا انہیں کچھ بھی محسوس نہیں ہوتا تھا۔ جبکہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کو اُن کی قلت کی وجہ سے ایک ساتھی کے شہید ہونے کا بھی انہیں شدت سے احساس ہوتا تھا۔ لڑائی اسی شدت سے چل رہی تھی کہ ظہر کی نماز کا وقت آگیا۔ حضرت ابو ثمامہ صائدی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”میں آپ رضی اللہ عنہ پر فدا ہو جاؤں ، میں دیکھ رہا ہوں کہ دشمن آپ رضی اللہ عنہ سے زیادہ قریب ہو گئے ہیں۔ اللہ کی قسم ! جب تک میں زندہ ہوں انشاء اللہ آپ رضی اللہ عنہ پر کوئی آنچ نہیں آنے دوں گا۔ میں چاہتا ہوں کہ اپنے رب سے ہم اُس وقت میں جب ہم اس وقت کی نماز پڑھ لیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں دعائے خیر دی اور فرمایا: ہاں ! یہ نماز کا اول وقت ہے ۔ پھر عمر بن سعد اور شمر بن ذی جوشن کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: ” ان لوگوں سے کہو کہ تھوڑی دیر کے لئے جنگ کو ملتوی کر دیں تا کہ ہم نماز پڑھ سکیں“۔ حضرت ابو ثمامہ رضی اللہ عنہ اور باقی ساتھیوں نے دشمنوں سے جنگ بندی کی درخواست کی۔ حصین بن نمیر بولا : ” تمہاری یہ نماز قبول نہیں کی جائے گی“۔ حضرت حبیب بن مظاہر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” کیوں سگِ دنیا! ( دنیا کے کتے ! تیارا خیال ہے کہ تیری نماز قبول ہوگی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل کی نماز قبول نہیں ہوگی ؟ حصین بن نمیر نے یہ سن کر طیش میں آکر حضرت حبیب بن مظاہر رضی اللہ عنہ پرگھوڑا چڑھانا چاہا۔ حضرت حبیب بن مظاہر رضی اللہ عنہ نے لپک کر اُس کے گھوڑے پر تلوار کا وار کیا اور گھوڑا اُلٹ کر گر پڑا اور حصین بن نمیر بھی منہ کے بل گر پڑا ۔ اُس کے ساتھیوں نے دوڑ کر اُسے اُٹھایا اور حضرت حبیب بن مظاہر رضی اللہ عنہ نہایت بہادری سے اُن سب سے لڑنے لگے۔ اور بنو جیم کے ایک شخص بدیل بن مریم کو قتل کر دیا۔ ایک دوسرے شخص نے آپ رضی اللہ عنہ پر نیزے کا وار کیا لیکن آپ رضی اللہ عنہ نے اُس کا وار خالی کر دیا اور اُس پر دار کیا ہی تھا کہ پیچھے سے حصین بن نمیر نے تلوار کا وار کر دیا جس سے آپ رضی اللہ عنہ گر پڑے اور اُس نے آپ رضی اللہ عنہ کا سرکاٹ لیا اور شہید کر دیا۔


حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ کی شہادت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اپنے کمانڈر کو شہید ہوتے دیکھا تو آپ رضی اللہ عنہ خود میدان جنگ میں جانے کے لئے تیار ہو گئے ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: حضرت حبیب بن مظاہر رضی اللہ عنہ کے شہید ہونے سے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کوسخت صدمہ ہوا اور آپ رضی اللہ عنہ بہ نفس نفیس میدان میں جانے کے لئے تیار ہو گئے ۔ یہ دیکھ کر حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ اور حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور عرض کیا : ” ہم آپ رضی اللہ عنہ پر سینہ سپر ہو کر فدا ہونے کے لئے موجود ہیں اور ہمارے ہوتے ہوئے آپ رضی اللہ عنہ میدان جنگ میں تشریف نہ لے جائے ۔ اُن دونوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو روک دیا اور خود میدان جنگ میں پہنچ گئے اور دونوں نے ملک شام کے لشکر پر ایک ساتھ حملہ کر دیا۔ جب ایک شخص لڑتے لڑتے دشمنوں میں گھر جاتا تو دوسراختی اور تیزی سے حملہ کر دیتا اور اپنے ساتھی کو دشمنوں کے نرغے سے نکال لاتا۔ تھوڑی دیر تک یہ دونوں حضرات اسی طرح لڑتے رہے اور دشمنوں کے بیسوں سپاہیوں کوقتل کر دیا۔ حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ تو بہت ہی دلیری اور جانبازی سے لڑ رہے تھے۔ عمر بن سعد نے پیدل سپاہیوں کو حکم دیا تو انہوں نے چاروں طرف سے حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ کو گھر لیا۔ حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ کافی پیچھے رہ گئے اور حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ مسلسل دشمنوں کو قتل کرتے کرتے کافی آگے بڑھ گئے ۔ آخر کار حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب حضرت حبیب بن مظاہر رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے تو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا دل ٹوٹ گیا اور آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں نے اپنے نفس اور اپنے ساتھیوں کو اللہ کے حوالے کیا ۔ اب حضرت حر بن یزید رضی اللہ عنہ نے رجز پڑھنا شروع کیا اور اُن کے ساتھ شریک ہو کر حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ بھی شدید قتال کیا۔ اُن دونوں میں سے ایک شخص حملہ کرتا تھا اور جب وہ دشمنوں میں گھر جاتا تھا تو دوسرا حملہ کر کے اُسے چھڑا لیتا تھا۔ ایک ساعت تک دونوں اسی طرح شمشیر زنی کرتے رہے۔ اس کے بعد پیادوں کے جم غفیر نے ہجوم کر کے حضرت حربن یزید رضی اللہعنہ کو شہید کر دیا ۔ حضرت ابو ثمامہ صائدی رضی اللہ عنہ نے اپنے چچا زاد کو جودشمنوں کے ساتھ تھا قتل کر دیا۔


نماز خوف اور حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ کی شہادت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھی آپ رضی اللہ عنہ پر اپنی جانیں فدا کر رہے تھے اور ایک ایک کر کے شہید ہوتے جارہے تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اس کے بعد سب نے نماز ظہر پڑھی۔ یہ صلوۃ الخوف ( نماز خوف ) تھی جو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ پڑھی۔ ظہر کی نماز کے بعد پھر سے جنگ ہونے لگی اور دشمن حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ تک پہنچ گئے ۔ یہ دیکھ کر حضرت حنفی رضی اللہ عنہ آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے آکر کھڑے ہو گئے اور آپ رضی اللہ عنہ کو بچانے کے لئے خود تیروں کا نشانہ بن گئے ۔ وہ آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے ڈٹ کر کھڑے رہے اور دائیں اور بائیں جانب اور سامنے سے مسلسل تیرا نہیں آ آ کر لگتے رہے۔ آخر کار تیر کھاتے کھاتے گر گئے ۔ حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ رجز پڑھتے جا رہے تھے اور دشمنوں کے سامنے آپ رضی اللہ عنہ کی ڈھال بنے کھڑے تھے۔ انہوں نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو پوری طرح ڈھانپ رکھا تھا اور اُن سے عرض کیا : اے مہدی ہادی پڑھیئے! اپنے جد اعلی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اپنے والد محترم حضرت علی رضی اللہ عنہ، اپنے بھائی حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ ، اپنے چچا حضرت جعفر بن ابی طالب طیار رضی اللہ عنہ اور اللہ کے شیر حضرت حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے ملاقات کیجیے۔ اسی حالت میں کثیر بن عبداللہ تھی اور مہاجر بن اوس نے حملہ کر کے حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا۔


حضرت نافع بن بلال رضی اللہ عنہ کی گرفتاری اور شہادت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھی مسلسل آپ رضی اللہ عنہ پر اپنی جانیں فدا کرتے جارہے تھے اور اللہ تعالیٰ نے آپ رضی اللہ عنہ کو اتنی ہمت عطا فرمائی کہ آپ رضی اللہ عنہ انتہائی صبر سے ایک ایک کر کے اپنے ساتھیوں کو شہید ہوتے دیکھ رہے تھے اور دشمنوں سے مقابلہ بھی کرتے جارہے تھے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت نافع بن ہلال جملی رضی اللہ عنہ زہر میں بجھے ہوئے تیر اپنی کمان پر لگا لگا کر چلاتے جارہے تھے اور فرماتے جا رہے تھے : میں جملی ہوں اور حضرت علی بن ابی طالب اور اُن کے بیٹے کے ساتھیوں میں سے ہوں۔ دشمنوں کے بارہ سپاہیوں کو آپ رضی اللہ عنہ قل کیا اور کچھ لوگوں کو بھی بھی کیا۔ دشمنوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور ہر طرف سے وار کرنے لگے۔ آپ رضی اللہ عنہ ہر طرف گھوم گھوم کر مقابلہ کرتے رہے۔ پہلے ایک بازو کٹا پھر دوسرا باز بھی کٹ گیا تو دشمنوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو گر فتار کر لیا۔ شمر بن ذی جوشن اور اُس کے ساتھی آپ رضی اللہ عنہ کو دھکیلتے ہوئے عمر بن سعد کے پاس لائے تو اُس نے پوچھا: ”اے نافع اتم نے اپنے نفس کے ساتھ ایسی برائی کیوں کی ؟ حضرت نافع بن ہلال رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میرے ارادے کا حال اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے“۔ اُن کی داڑھی سے خون بہتا جارہا تھا اور وہ فرماتے جارہے تھے : ”میں نے تیرے بارہ سپاہیوں کو قتل کیا ہے اور مجھے ذرا بھی پشیمانی نہیں ہے۔ میرے بازو اگر کٹ نہیں گئے ہوتے تو تم مجھے گرفتار نہیں کر سکتے تھے ۔ شمر بن ذی جوشن نے عمر بن سعد سے کہا: اللہ آپ کو سلامت رکھے! اسے قتل کر دیجیے ۔ عمر بن سعد نے کیا: تو ہی ان کو لیکر آیا ہے اگر قتل کرنا چاہتا ہے تو تو ہی قتل کر دے۔ شمر بن ذی جوشن نے تلوار کھینچی تو حضرت نافع بن بلال رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کا شکر ہے کہ جو لوگ بدترین مخلوق میں سے ہیں اُن کے ہاتھوں ہماری موت اُس نے مقدر کی ہے۔ اس کے بعد شمر بن ذی جوشن نے آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا۔


حضرت حنظلہ بن اسعد شامی رضی اللہ عنہ کی شہادت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کوگھیر لیا گیا تھا اور ہر طرف سے حملے ہورہے تھے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اسی دوران حضرت حنظلہ بن اسعد شامی رضی اللہ عنہ آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے آکر ڈھال بن کر کھڑے ہو گئے اور بلند آواز سے پکار پکار کر فرمانے لگے: ”اے میری قوم والو! مجھے ڈر ہے کہ تم لوگوں پر جنگ احزاب کا ساعذاب نازل ہوگا ۔ جیسا کہ قوم نوح اور قوم عاد اور قوم ثمود پر اور اُن کے بعد والوں پر نازل ہوا اور اللہ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرنا چاہتا۔ اے میری قوم کے لوگو! مجھے تمہارے لئے قیامت کے دن کا ڈر ہے جس روز تم پیٹھ پھیرے ہوئے بھاگتے پھرو گے اور اللہ کی طرف سے تمہارا کوئی بچانے والا نہیں ہوگا۔ اور سنو! جسے اللہ گراہ کرتا ہے اُسے راہ پر لگانے والا کوئی نہیں ملتا۔ اے میری قوم کے لوگو! حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو شہید نہ کرو ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ اپنا عذاب نازل کر کے تمہیں تباہ کر دے۔ اور سنو! جس نے اللہ پر بہتان لگا یا وہ زیاں کا رہے۔ حضرت حنظلہ بن اسعد شامی رضی اللہ عنہ کا یہ کلام سن کر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے حنظلہ بن اسعد رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے۔ یہ لوگ اُسی وقت اللہ کے عذاب کے سزاوار ہو چکے تھے جب تم نے انہیں حق کی طرف پکارا تھا اور انہوں نے تمہارے قول کو رد کر دیا تھا۔ تمہارا اور تمہارے ساتھیوں کا خون بہانے پر آمادہ ہو گئے اور اب تو یہ لوگ تمہارے صالح بھائیوں کو شہید بھی کر چکے ہیں ۔ حضرت حنظلہ بن اسعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ” میں آپ رضی اللہ عنہ پر فدا ہو جاؤں ! آپ رضی اللہ عنہ نے بیچ فرمایا ہے اور آپ رضی اللہ عنہ مجھ سے زیادہ افقہ ہیں اور اس منصب کے احق ہیں۔ کیا ابھی بھی ہم اپنے صالح بھائیوں سے ملنے کو نہ جائیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے اجازت دے دی اور فرمایا: ”جاؤ اُس دار البقا“ کی طرف جو دنیا و مافیہا سے بہت بہتر ہے ۔ حضرت حنظلہ بن اسعد شامی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : "السلام علیکم یا اباعبد اللہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے ) رضی اللہ عنہ! اللہ تعالیٰ آپ رضی اللہ عنہ پر اور آپ رضی اللہ عنہ کے اہل بیت پر صلوٰۃ بھیجے اور ہم کو آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنت میں ملائے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر دو مرتبہ آمین فرمایا۔ اس کے بعد حضرت حنظلہ بن اسعد رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور دشمنوں پر زبردست حملہ کیا اور زبردست شمشیر زنی کرتے رہے یہاں تک کہ شہید ہو گئے اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ پر فدا ہو گئے۔


ساتھیوں کی جاں نثاری


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے تمام ساتھی آپ رضی اللہ عنہ پر اپنی جانیں فدا کر رہے تھے۔ بڑے تو بڑے یہاں تک کہ نوجوان بھی آپ رضی اللہ عنہ پر اپنی جانیں نچھاور کر رہے تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اب شمر بن ذی جوشن رجز پڑھتا ہوا حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کی طرف بڑھا۔ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں نے جب یہ دیکھا کہ قاتلوں کا بڑا ہجوم ہے اور اب نہ تو وہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو بچا سکتے ہیں اور نہ ہی خود کو بچا سکتے ہیں تو سب کی یہی آرزو ہوئی کہ آپ رضی اللہ عنہ پر اپنی جانیں نچھاور کر دیں اور آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے ہی شہید ہو جائیں۔ عزرہ غفاری کے دونوں بیٹے حضرت عبداللہ اور حضرت عبدالرحمن آپ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور عرض کیا: ”اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے رضی اللہ عنہ! السلام علیکم دوشمن نے ہمیں آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ گھیر لیا ہے اور ہماری آرزو ہے کہ ہم آپ رضی اللہ عنہ پر اپنی جان نچھاور کر دیں اور آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے شہید ہوتے جائیں اور آپ رضی اللہ عنہ کو دشمنوں سے بچاتے جائیں اور اُن کے نرغہ کو ہٹاتے جائیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” مرحبا میرے بچو! آؤ! میرے قریب آجاؤ“ دونوں آپ رضی اللہ عنہ کے قریب آگئے اور رجز پڑھ پڑھ کر بڑھ بڑھ کر شمشیر زنی کرنے لگے۔ حضرت سیف بن حارث اور حضرت مالک بن عبد رضی اللہ عنہم دونوں چازاد بھائی ہیں۔ ماں دونوں کی ایک تھی۔ یہ دونوں نوجوان روتے ہوئے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میرے بچو ا تم رو کیوں رہے ہو؟ اللہ کی قسم! میں جانتا ہوں کہ اب تھوڑی دیر میں ہی تم خوش ہو جاؤ گے ۔ انہوں نے عرض کیا: ” ہم آپ رضی اللہ عنہ پر فدا ہو جائیں ! ہم اپنے لئے نہیں رور ہے ہیں بلکہ ہمیں آپ رضی اللہ عنہ کے حال پر رونا آرہا ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ دشمنوں کے نرغے میں ہیں اور ہم آپ رضی اللہ عنہ کو بچا نہیں سکتے ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "میری حالت پر غمگین ہونے کی جزا اور میرے ساتھ ہمدردی کرنے کا عوض اے بیٹو! اللہ تعالیٰ تمہیں ضرور ایسا ثواب عطا فرمائے گا جیسا ثواب وہ اپنے نیک بندوں کو عطا فرماتا ہے ۔ اس کے بعد یہ دونوں نو جوان آگے بڑھے اور مڑ مڑ کر کہتے جاتے تھے : "اسلام علیکم ! اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے رضی اللہ عنہ ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : ”وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ۔ اس کے بعد اُن دونوں نے دشمنوں پر زبر دست حملہ کیا اورکئی دشمنوں کو قتل کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔


حضرت شوذب اور حضرت عابس بن شبیب کی شہادت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھی آپ رضی اللہ عنہ کو بچانے کی بھر پور کوشش کر رہے تھے اور اپنی اپنی جانیں آپ رضی اللہ عنہ پر فدا کر رہے تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت عابس بن ابی شعیب شاکری رضی اللہ عنہ بھی حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور اُن کے ساتھ اُن کے آزاد کردہ غلام حضرت شوذب رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ انہوں نے حضرت شوذب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ” کہو کیا ارادہ ہے؟ حضرت شوذب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی سیدہ فاطمہ زہرہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے میں بھی لڑنا چاہتا ہوں اور اُن پر اپنی جان فدا کرنا چاہتا ہوں۔ حضرت عابس بن شعیب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” مجھے تم سے یہی اُمید تھی ۔ پھر جب اپنی جان اُن پر فدا کرنا ہی ہے تو آؤ میں تمہیں حضرت ابو عبد اللہ ( حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے ) رضی اللہ عنہ کے سامنے رخصت کروں ۔ اگر اس وقت تجھ سے بھی بڑھ کر میرا کوئی رشتہ دار ہوتا تو میری یہی خوشی تھی کہ میں اُسے رخصت کرتا ۔ آج کا دن وہ دن ہے کہ جتنا ہم سے ہو سکے ہم ثواب لوٹ لیں ۔ بس آج کے بعد عمل خیر کا موقع نہیں ہے بلکہ حساب کا دن آنے والا ہے ۔ حضرت شوذب رضی اللہ عنہ نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سلام کر کے لڑنے کے لئے آگے بڑھے اور کئی دشمنوں کو قتل کرتے ہوئے شہید ہو گئے ۔ حضرت عابس بن شبیب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ” اے ابوعبداللہ رضی اللہعنہا اللہ کی قسم ! آپ رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر اس روئے زمین پر مجھے کوئی عزیز نہیں ہے۔ اگر آپ رضی اللہ عنہ پر اپنی جان فدا کرنے اور اپنا خون بہا دینے سے بڑھ کر بھی کوئی ایسی بات ہوتی جس سے میں آپ رضی اللہ عنہ کو اس مصیبت سے بچا سکتا تو میں وہ بھی کر گزرتا ۔ السلام علیکم یا ابوعبداللہ رضی اللہ عنہ! میں اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ آپ رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے والد محترم حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہدایت پر ہیں ۔یہ فرما کر وہ تلوار کھینچے ہوئے دشمنوں کی طرف چلے ۔ اُن کی پیشانی پر زخم کا نشان تھا۔ ربیع بن تمیم نے اُن کو آتے دیکھ کر پہچان لیا کیونکہ وہ انہیں اور بھی کئی معرکوں میں دیکھ چکا تھا اور جانتا تھا کہ یہ بہت بہادر ہیں۔ ربیع بن تمیم نے اپنے ساتھیوں سے کہا: یہ شخص میدان جنگ کا شیر ہے۔ یہ عابس بن شبیب ہے اور تم میں سے کوئی ایک شخص اس سے لڑنے کے لئے ہر گز نہ جائے۔ حضرت عابس بن شبیب رضی اللہ عنہ نے میدان میں آکر دشمنوں کو پکارا : " کیا ایک کے مقابلے میں کوئی ایک بھی نہیں نکلے گا ؟ عمر بن سعد نے کہا: ” دور سے پتھر مار مار کر اس شخص کو زخموں سے چور چور کر دو ۔ دشمنوں نے چاروں طرف سے آپ رضی اللہ عنہ پر پتھر برسانے شروع کر دیئے۔ یہ دیکھ کر آپ رضی اللہ عنہ نے زرہ اور مغر کو اتار ڈالا اور تلوار لیکر ان لوگوں پر حملہ کیا۔ ربیع کہتا ہے : اللہ کی قسم ! ہم دوسو سے زیادہ آدمی تھے لیکن جب انہوں نے ہم پر حملہ کیا تو ہم سب بھاگ کھڑے ہوئے۔ پھر پلٹ کر اُن پر ہر طرف سے حملہ کر دیا۔ وہ بہت بہادری سے ہم سے مقابلہ کرتے رہے اور ہم میں سے کئی لوگوں کوقتل کر دیا لیکن ہم اتنے زیادہ تھے کہ انہیں گھیر کر شہید کر دیا ۔


حضرت یزید بن مہاجر زیا درضی اللہ عنہ کی شہادت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ پر اُن کے ساتھی مسلسل اپنی جان فدا کر رہے تھے۔ ان میں حضرت یزید بن زیاد رضی اللہ عنہ بھی ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے جب دیکھا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے اطراف اُن کے ساتھی شہید ہو گئے ہیں تو خود ان کے آگے آکر سینہ سپر ہو گئے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: بنو بہدلہ کے حضرت ابو شعنا یزید بن زیاد درضی اللہ عنہ اُس وقت تک دشمنوں پر تیر چلا رہے تھے۔ یہ عمر بن سعد کے ساتھ لشکر میں تھے لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ عمر بن سعد آپ رضی اللہ عنہ کی کسی بات کو نہیں مان رہا ہے تو آپ رضی اللہ عنہ آ کر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے مل گئے اور اُن کی طرف سے اہل کوفہ کے لشکر کے خلاف لڑے۔ اب وہ آکر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے آگے دوزانو ہو کر کھڑے ہو گئے اور دشمنوں پر تیر چلانا شروع کر دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے لگ بھگ سو تیر چلائے جس میں سے صرف پانچ ہی خطا ہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہ تیر چلاتے جا رہے تھے اور یہ فرماتے جا رہے تھے : ” میرا نام یزید ہے، میرے والد محترم کا نام مہاجر ہے۔ میں شیر بیشہ شجاعت ہوں ، اے اللہ ! میں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا ناصر ہوں اور عمر بن سعد کا ساتھ میں نے چھوڑ دیا ہے ۔ جب آپ رضی اللہ عنہ کے پاس تیر ختم ہو گئے تو تلوار لیکر دشمنوں پر ٹوٹ پڑے اور زبردست بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!


Saltanat e Umayya part 21


 21 سلطنتِ امیہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 21

حضرت علی (اکبر ) بن حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت، حضرت عبد اللہ بن مسلم، حضرت عون اور حضرت محمد رضی اللہ عنہم کی شہادت، حضرت قاسم بن حسن رضی اللہ عنہ کی شہادت، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ پر حملہ، حضرت عبد الله ( علی اصغر ) بن حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے چار اور بھائیوں کی شہادت، خیموں پر حملہ کی کوشش، بھتیجے کی جاں نثاری، بحر بن کعب کا انجام، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ پر تیروں کی بارش، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شجاعت، 



حضرت علی (اکبر ) بن حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے تمام ساتھی ایک ایک کر کے آپ رضی اللہ عنہ پر اپنی جانیں فدا کرتے چلے گئے ۔ یہاں تک کہ اب کوئی ساتھی نہیں بچا تھا۔ اب حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے بڑے بیٹے حضرت علی اکبر بن حسین رضی اللہ عنہ آگے بڑھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اولا د ابو طالب میں سے سب سے پہلے حضرت علی اکبر بن حسین رضی اللہ عنہ شہید ہوئے ۔ آپ رضی عنہ کی والدہ محترمہ سیدہ لیلی بنت ابومرہ ثقفی ہیں۔ یہ دشمنوں پر حملہ کرنے لگے اور ساتھ ہی فرماتے جارہے تھے : ”میرا نام علی بن حسین ہے قسم کعبہ کی! ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب تر ہیں۔ اللہ کی قسم اسمیہ کے بیٹے کے حکم کو ہم نہیں مانیں گئے ۔ مرہ بن منقد عبدی نے اُن کی طرف دیکھ کر کہا: ” یہ جوان میری طرف سے اسی طرح لڑتا ہوا اور یہ کلمہ کہتا ہوا گذرے اور میں اسکے باپ کو نہ دلاؤں تو سارے عرب کی پھٹکار ہے مجھے پڑ ۔ حضرت علی اکبر بن حسین رضی اللہ عنہ دشمنوں کو مارتے کاٹتے اور لڑتے ہوئے اُس کے پاس سے گذرے تو اُس بد بخت مرہ بن منقد عبدی نے سامنے اچانک آکر ایسی برچھی ماری کہ وہ گھوڑے سے گر پڑے۔ دشمنوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو گھیر لیا اور تلواریں مار مار کر ٹکڑے کر ڈالے اور شہید کر دیا۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : غرض جب تمام ساتھی شہید ہو گئے تو حضرت علی اکبر بن حسین رضی اللہ عنہ اپنے والد محترم سے اجازت لیکر میدان جنگ میں آئے اور سب سے پہلے ”آل ابی طالب میں سے یہی شہید ہوئے۔ انہوں شیروں کی کمال مردانگی سے مسلسل پیہم حملے کئے اور مخالفین کو اپنے پُر زور حملوں سے بار بار منتشر کر دیا لیکن ٹڈی دل ( بہت بڑا) لشکر کے مقابلے میں تن تنہا شخص کیا کر سکتا ہے؟ بالآخر مرہ بن منقذ عبدی نے پیچھے سے نیزہ مارا اور وہ چکرا کر گرے۔ دشمن سپاہیوں نے دوڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر کے شہید دیا۔


حضرت عبد اللہ بن مسلم، حضرت عون اور حضرت محمد رضی اللہ عنہم کی شہادت


حضرت علی اکبر بن حسین رضی اللہ شہید ہو گئے تو انہیں اُٹھا کر لایا گیا۔ علامہ حمد بن جریرطبری لکھتے ہیں : حمید بن مسلم کا بیان ہے کہ میں نے اپنے کان سے سنا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ فرمارہے تھے ۔ اللہ ان لوگوں کو قتل کرے اے بیٹے ! جنہوں نے تجھے شہید کیا ہے۔ اللہ پر اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آبروریزی پر کس قدر ان کی جرات بڑھی ہوئی ہے۔ بس تیرے بعد دنیا پر خاک ہے“۔ میں نے دیکھا کہ ایک بی بی خیمے سے نکل کر دوڑ کر آئیں تو ایسا لگا جیسے چاند نکل آیا ہو۔ وہ کپکپا رہی تھیں اور فرمارہی تھیں: ”اے میرے بھیا! اے میرے بھتیجے ۔ میں نے لوگوں سے اُن کے بارے میں پوچھا تو معلوم ہوا کہ سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا ہیں یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ک بیٹی سیدہ فاطمہ زہرہ رضی اللہ عنہا کی بیٹی ہیں ۔ وہ آئیں اور حضرت علی اکبر بن حسین رضی اللہ عنہ کی لاش پر گر پڑیں ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اُن کا ہاتھ تھاما اور انہیں خیمے میں لے گئے اور لڑکوں کو ساتھ لیکر آئے اور حکم دیا کہ لاش کو اٹھاؤ۔ لڑکے لاش میدان جنگ سے اُٹھا کر لے جا کر اُس خیمے کے سامنے لٹا دیا جس کے سامنے میدان جنگ تھا۔ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے بیٹے حضرت عبد اللہ بن مسلم رضی اللہ عنہ کوعمرو بن صبیح صدائی نے تیر مارا۔ حضرت عبد اللہ بن مسلم رضی اللہ عنہ نے ہاتھ پر ہاتھ کو رکھ لیا کہ سرکو تیر سے بچائیں۔ تیر ہاتھ کو چھیدتا ہواما تھے تک پہنچ گیا۔ اب ہاتھ کو جنبش بھی نہیں دے سکتے تھے۔ پھر اس بدبخت نے ہٹ کر دوسرا تیرول پر مارا۔ جس سے آپ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے۔ اب چاروں طرف سے دشمنوں نے ہجوم کر کے حملہ کر دیا۔ عبداللہ بن قطبہ طائی نے حضرت عون بن عبداللہ بن جعفر طیار رضی اللہ عنہ پر حملہ کر کے شہید کر دیا اور عامر بن نہشل نے اُن کے بھائی محمد بن عبداللہ بن جعفر طیار رضی اللہ عنہ پر حملہ کر کے شہید کر دیا ۔ حضرت عبد الرحمن بن عقیل رضی اللہ عنہ پر عثمان بن خالد جہنی اور بشر بن سوط ہمدانی نے ایک ساتھ حملہ کر دیا اور شہید کر دیا۔


حضرت قاسم بن حسن رضی اللہ عنہ کی شہادت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے تمام ساتھی اپنی جانیں آپ رضی اللہ عنہ پر فدا کر چکے تھے اور اب آپ رضی اللہ عنہ کے اہل بیت شہید  ہورہے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے بڑے بیٹے حضرت علی اکبر بن حسین رضی اللہ عنہ شہید ہو چکے تھے اور اب میدان جنگ میں آپ رضی اللہ عنہ کے بھیجے حضرت قاسم بن حسن رضی اللہ عنہ لڑ رہے تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حمید بن مسلم کہتا ہے میں نے ایک طفل ( نوجوان ) کو دیکھا جیسے چاند کا ٹکڑا ہاتھ میں تلوار لئے میدان جنگ کی طرف بڑھا۔ اُس کے گلے میں قمیص تھی پاؤں میں پاجامہ تھا اور مجھے خوب اچھی طرح یاد ہے کہ اُس کے جوتوں میں سے بائیں پاؤں کے جوتے کا تسمہ ٹوٹا ہوا تھا۔ اُس پیارے نوجوان کو دیکھ کر عمرو بن سعید از دی مجھے سے کہنے لگا: اللہ کی قسم! اسے تو میں قتل کروں گا ۔ میں نے کہا: "سبحان اللہ! اس نوجوان کو قتل کرنے میں تیرا کیا مقصد ہے؟ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کو تم نے گھیر کر شہید کر دیا ہے بس یہی تمہارے لئے کافی ہے ۔ اس نے جواب دیا : اللہ کی قسم! اسے تو میں ضرور قتل کروں گا ۔ یہ کہ کر اس نے حملہ کیا اور اُس نوجوان کے سر پر تلوار مار کا پلٹا۔ وہ نوجوان بچہ منہ کے بل گر پڑا اور چاچا کہ کر پکارا۔ یہ سن کر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ شاہین کی طرح جھپٹ کر آئے اور شیر کی طرح غضبناک ہو کر عمرو بن سعید از دی پر حملہ کیا اور تلوار ماری۔ اُس نے تلوار کو بازو پر روکا تو ہاتھ کہنی سے کٹ کر الگ ہو گیا۔ وہ چلایا اور وہاں سے بھاگ کر ہٹ گیا۔ اہل کوفہ کے سوار دوڑے کہ عمرہ کو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے بچا کر لے جائیں۔ گھوڑے اُس کی طرف پلٹ پڑے اور اُن کے قدم اُٹھ گئے اور آخر کا ر انہیں کے گھوڑوں نے عمرو بن سعید از دی کو کچل کر رکھ دیا جس سے وہ مرگیا۔ غبار ہٹا تو میں نے دیکھا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اُس نو جوان بچے کے سرہانے کھڑے ہوئے ہیں اور وہ ایڑیاں رگڑ رہا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ فرمارہے تھے : ”اللہ سمجھے ان لوگوں سے، جنہوں نے تجھے شہید کیا ہے۔ جن سے قیامت کے دن تیرے والد محترم حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ خون کا دعوی کریں گے۔ اللہ کی قسم ! چا پر یہ امر شاق ہے کہ تو پکارے اور وہ جواب نہیں دے سکے اور جواب دے بھی تو اُس سے تجھے کچھ نفع نہ ہو۔ اللہ کی قسم ! تیرے چا کے دشمن بہت ہیں اور مددگار کم رہ گئے ہیں۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اُس نو جوان بچے کو گود میں اٹھالیا۔ میں نے دیکھا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اُسے سینے سے لگائے ہوئے تھے اور دونوں پاؤں اُس کے گھٹتے ہوئے جارہے تھے۔ میں نے اپنے دل میں سوچا کہ انہوں نے گود میں کیوں اٹھایا ہے؟ دیکھا کہ اُس کی لاش کو اپنے بڑے بیٹے حضرت علی اکبر بن حسین رضی اللہ عنہ کے پہلو میں اور جولوگ اُن کے خاندان کے شہید ہوئے تھے اُن کی لاشوں میں لٹا دیا۔ میں لوگوں سے پوچھا کہ یہ نوجوان بچہ کون ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ حضرت قاسم بن حسن رضی اللہ عنہ ہے۔


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ پر حملہ


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے تمام ساتھی شہید ہو چکے تھے اور اب آپ رضی اللہ عنہ کے اہل بیت ایک ایک کر کے شہید ہوتے جارہے تھے۔ خود آپ رضی اللہ عنہ پر بھی اب حملے ہونے لگے تھے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ” حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اس دن پہروں ایسی حالت میں رہے کہ جو شخص آپ رضی اللہ عنہ کی طرف بڑھتا تھا اور آپ رضی اللہ عنہ کے قریب پہنچ کر واپس چلا جاتا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے اور اس گناہ عظیم کو اپنے سر پر لینے سے جھجھک جاتا تھا۔ اسی دوران مالک بن نسیر کندی بد بخت آیا اور آپ رضی اللہ عنہ کے سر پر تلوار ماری آپ رضی اللہ عنہ کلاہ برنس پہنے ہوئے تھے۔ تلورا برنس کو کاٹتی ہوئی سر تک پہنچ گئی اور زخم کے خون سے ٹوپی لبریز ہوگئی ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” اس ضرب کا نفع تجھے یہ ملے کہ کھانا پینا نصیب نہ ہو اور اللہ تعالیٰ تیرا حشر ظالموں کے ساتھ کرئے“۔ یہ فرما کر آپ رضی اللہ عنہ نے ٹوپی کو اُتارا، زخم پر پٹی باندھی اور دوسری ٹوپی منگوا کر پہنی اور عمامہ باندھ لیا۔ مالک بن نسیر کندی نے آکر آپ رضی اللہ عنہ کی ٹوپی اُٹھالی اور جنگ کے بعد جب یہ ٹوپی لیکر اپنے گھر گیا اور اُس میں لگا خون دھونے لگا تو اس کی بیوی اُم عبد بنت حر نے کہا: "ہائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی رضی اللہ عنہا کے بیٹے رضی اللہ عنہ کی ٹوپی ٹوٹ کر تم میرے گھر لائے ہو۔ لے جاؤ اسے یہاں سے۔ لوگ کہتے ہیں کہ مالک بن نسیر سخت محتاجی میں مبتلا رہا اور دانے دانے کو تر ستارہا اور اسی حالت میں مرگیا۔


حضرت عبد الله ( علی اصغر ) بن حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے اہل بیت اب شہید ہوتے جارہے تھے اور آپ رضی اللہ عنہ پر بھی حملے ہونے لگے تھے۔ اسی حملے میں آپ رضی اللہ عنہ کے سب سے چھوٹے بیٹے حضرت عبداللہ (علی اصغر ) بن حسین رضی اللہ عنہ جو کہ دودھ پیتے بچے تھے اور پیاس سے تڑپ رہے تھے وہ بھی شہید ہو گئے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: ” حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو کسی نے ایک بچہ لا کر آپ رضی اللہ عنہ کو دیا اور آپ رضی اللہ عنہ نے اُسے گود میں لے لیا۔ یہ بچہ حضرت عبداللہ ( علی اصغر ) بن حسین رضی اللہ عنہ تھا۔ بنو اسد کے ایک شخص نے نشانہ لگا کر ایسا تیر مارا کہ وہ تیر بچے کے حلق میں اتر گیا اور بچہ ذبح ہو گیا۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اُس کے زخم پر چلوں گا دیا تو چلوخون سے بھر گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے خون زمین پر پھینک دیا اور فرمایا: "اے اللہ تعالیٰ ! تو نے اگر آسمان سے نصرت نہیں نازل کی تو جو اُس سے بہتر ہے وہ ہم کو عطا فرمادے اور ان ظالموں سے ہمارا انتقام لئے ۔ اس کے بعد ابن عقبہ غنوی نے حضرت ابو بکر بن حسن رضی اللہ عنہ کو تیر مارکر شہید کر دیا۔ اسی کے بارے میں کسی شاعر نے کہا ہے : ”ہمارے خون کی ایک وند قبیلہ بونی کی گردن پر اور دوسری بوند قبیلہ بنو اسد کی گردن پر ہے جس کا ذکر ہوتا رہے گا“۔ 


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے چار اور بھائیوں کی شہادت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے اہل بیت کو بے دردی سے شہید کیا جارہا تھا۔ اُس دوران حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے چار اور بھائی شہید ہو گئے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ” حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے بھائی حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائیوں حضرت عبداللہ بن علی ، حضرت جعفر بن علی، حضرت عثمان بن علی حضرت محمد بن علی رضی اللہ عنہم سے فرمایا: "اے میرے ماں جائے بھائیو! ( ان پانچوں بھائیوں کی والدہ ایک ہیں اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی والدہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ہیں جبکہ ان سب چھ بھائیوں کے والد حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں ) تم سب مجھ سے پہلے ہی جاؤ، تاکہ میں تمہارا وارث ہو جاؤں ۔ تمہاری کوئی اولاد نہیں ہے کہ اس حکم کو بجا لائے ۔ یہ سب بھائی میدان جنگ میں پہنچے اور زبردست مقابلہ کرنے لگے لیکن دشمن اتنے زیادہ تھے کہ کچھ دیر بعد تینوں شہید ہو گئے ۔ حضرت عبد اللہ بن علی رضی اللہ عنہ کو بانی حضرمی نے شہید کیا۔ اُس کو شہید کرنے کے بعد اُس نے حضرت جعفر بن علی رضی اللہ عنہ پر حملہ کر دیا اور انہیں بھی شہید کر کے سرکاٹ لیا۔ حضرت عثمان بن علی رضی اللہ عنہ کو خولی بن یزید اسمی نے تیر مارا اور بنو دارم کے ایک شخص نے اُن پر حملہ کر کے شہید کر دیا اور سر کاٹ لیا۔ پھر ایک شخص ساری نے حضرت محمد بن علی رضی اللہ عنہ کو تیر مار کر شہید کیا اور اُن کا سرکاٹ کر لے آیا۔


خیموں پر حملہ کی کوشش


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے اہل وعیال اور اہل بیت بھی شہید ہوتے جارہے تھے اور ساتھ ہی آپ رضی اللہ عنہ پر بھی حملے ہو رہے تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ سمر بن ذی جوشن کو فیوں میں سے دس پیادوں کو لیکر اس خیمے کی طرف بڑھا جس میں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اپنے اہل وعیال کے ساتھ تھے۔ یہ لوگ آگے بڑھے تو آپ رضی اللہ عنہ ان کے اور خیمے کے درمیان حائل ہو گئے اور فرمایا: ”وائے ہو تم پر! اگر تم لوگوں کا کوئی دین نہیں ہے اور قیامت کا کوئی خوف نہیں ہے تو کم سے کم دنیاوی طور پر تو اچھے انسانوں کا طریقہ اختیار کرو۔ میرے گھر کو اور میرے اہل و عیال کو جاہلوں اور نالائقوں سے بچاؤ شمر بن ذی جوشن نے کہا: ”اچھا اے فاطمہ زہرہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے ! ایسا ہی ہوگا“۔ اب وہ پیادوں کو لیکر آپ رضی اللہ عنہ کی طرف بڑھا۔ اُن لوگوں میں اب جنوب بعضی اور قشم بن عمر و علی صالح بن وہب یزنی ،سنان بن انس شخصی اور خولی بن یزید سجی تھے ۔ شمر بن ذی جوشن انہیں آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے پر آمادہ کرنے لگا اور ابو جندب کے پاس آیا۔ یہ سر سے پیر تک سلاح جنگی لگائے ہوئے تھا اس سے کہا: "حسین بن علی کی طرف بڑھ اور حملہ کر۔ ابو جندب نے کہا: تو خود کیوں نہیں بڑھتا اورحملہ کرتا ؟ شمر بن زی جوشن کہا: تو اور میرے ساتھ اس طرح بات کر رہا ہے ؟ ابو جندب بہت دلیر تھا بولا: اللہ کی قسم ! تیری آنکھ کو برچھی کی نوک سے گھنگول ڈالوں گا ۔ شمر بن ذی جوشن یہ سن کر وہاں سے سرک گیا اور کہتا جارہا تھا: اللہ کی قسم مجھے موقع ملا تو تجھ سے سمجھ لوں گا ۔ اور حملہ کرنے کی نیت سے آپ رضی اللہ عنہ کی طرف بڑھا۔ وہ سب آپ رضی اللہ عنہ کو گھیر نے کی کوشش کر رہے تھے ۔ آپ رضی اللہ عنہ حملہ کرتے تو سب بھاگ جاتے تھے یہاں تک کہ سب نے آپ رضی اللہ عنہ کو گھیر لیا 


بھتیجے کی جاں نثاری


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو دشمنوں نے گھیرے میں لے لیا تھا کہ اُسی وقت ایک حیرتناک واقعہ پیش آیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اس کے بعد دشمنوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو سب طرف سے گھیر لیا۔ یہ دیکھ کر ایک لڑکا یے سے نکلا اور بھاگ کر آپ رضی اللہ عنہ کے پاس آنے لگا۔ آپ رضی اللہ عنہ کی بہن سیدہ زینب رضی اللہ عنہا اس لڑکے کے پیچھے دوڑیں کہ اُسے روکیں۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے پکار کر فرمایا: ”زینب! اسے روکو لڑکا نہیں مانا اور دوڑتا ہوا آپ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ گیا اور پہلو میں کھڑا ہو گیا۔ بحر بن کعب نے آپ رضی اللہ عنہ پر تلوار اُٹھائی کہ وار کرے تو لڑکے نے کہا: ” او خبیث ! تو میرے چا پر حملہ کر رہا ہے؟ اس نے لڑکے پر وار کر دیا تو لڑکے نے تلوار کو روکنے کے لئے اپنا ہاتھ آگے کیا تو ہا تھ کٹ کر لٹک گیا اور صرف ایک تسمہ لگا رہ گیا۔ لڑکا ” اماں ، اماں“ کہ کر چلایا تو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اُس کو اپنے سینے سے لپٹا لیا اور فرمایا: ”اے میرے بھائی کے لخت جگر! اس مصیبت پر صبر کر اور اسے اپنے حق میں بہتر سمجھے اللہ تعالیٰ اب تجھ کو تیرے بزرگوں سے ملوا دے گا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت علی بن ابی طالب ، حضرت حمزہ بن عبد المطلب ، حضرت جعفر بن ابی طالب اور حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہم کے پاس پہنچا دے گا ۔ حمید بن مسلم کہتا ہے : " اُس دن میں نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اے اللہ! ان لوگوں کو آسمان کی بارش سے، زمین کی برکتوں سے محروم کر دے اور اگر تو ان کو مہلت دے تو ان میں تفرقہ ڈال دے۔ ان کو فرقہ فرقہ کر کے متفرق کر دے۔ ان کے حکام کو ان سے کبھی راضی نہ ہونے دے۔ انہوں نے ہمیں بلایا تھا نصرت کرنے کو اور ہمیں پر حملہ کرنے دوڑ پڑے اور انہوں نے ہمیں شہید کیا ۔ اس کے بعد جو پیادوں نے آپ رضی اللہ عہ کو گھر رکھا تھا اُن پر حملہ کیا اور سب کے سب پسپا ہو گئے۔


بحر بن کعب کا انجام


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ جانتے تھے کہ یہ بد بخت مجھے شہید کرنے کے بعد میری لاش کے ساتھ بہت برا سلوک کریں گے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے اہل بیت میں سے تین یا چار شخص باقی رہ گئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے ایک مضبوط برویمانی پاجامہ منگایا جس کی بناوٹ میں روئی کے بونڈروں کے ریزے دکھائی دے رہے تھے ۔ پھر اُسے چاک کر کے پھاڑ ڈالا۔ آپ رضی اللہ عنہ کو اندیشہ تھا کہ شہید کرنے کے بعد مجھے برہنہ نہ کر دیں۔ یہ دیکھ کر کسی نے کہا کہ اس کے نیچے جانگیہ بھی ہوتی تو اچھا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ بہت ذلیل لباس ہے مجھے نہیں پہنا چاہیئے ۔ اُن بدبختوں میں سے بحر بن کعب نے آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کے بعد پاجامہ اُتار کر برہنہ ڈال دیا تھا۔ جس کی وجہ سے اُس بدبخت کے ہاتھ ایسے ہو گئے تھے کہ جاڑوں میں دونوں ہاتھوں سے پانی پکا کرتا تھا اور گرمیوں میں لکڑی کی طرح سوکھ جایا کرتے تھے۔ وہ بد بخت اسی تکلیف میں مبتلا رہا اور تڑپ تڑپ کر مر گیا۔ 


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ پر تیروں کی بارش


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھی اور اہل بیت اپنی اپنی جانیں آپ رضی اللہ عنہ پر فدا کر چکے تھے اور اب آپ رضی اللہ عنہ تنہا میدان جنگ میں بہادری کے جوہر دکھا رہے تھے۔ کسی کی ہمت نہیں پڑتی تھی کہ آپ رضی اللہ عنہ کا سامنا کر سکے کیونکہ آپ رضی اللہ عنہ کی تلوار کے سامنے جو بھی آتا تھا اس کا سر ہوا میں اُڑتا ہوا دکھائی دیتا تھا۔ آخر کا ر اُن بدبختوں نے آپ رضی اللہ عنہ پر تیروں کی بارش کر دی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلے پر جب دشمنوں نے غلبہ حاصل کر لیا تو آپ رضی اللہ عنہ مسنات پر سوار ہوئے اور دشمنوں سے مقابلہ کرتے ہوئے آگے بڑھنے لگے۔ پیاس کی شدت غالب ہوئی تو آپ رضی اللہ عنہ پانی کی طرف آئے تو حصین بن تمیم نے آپ رضی اللہ عنہ کو تیر مارا جو دہانہ پر آ کر لگا۔ آپ رضی اللہ عنہ خون کو منہ سے ہاتھ میں لیتے جاتے تھے اور آسمان کی طرف پھینکتے جاتے تھے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور حمدوثنا کی پھر دونوں ہاتھوں کو ملا کر فرمایا: ” اے اللہ! ان سے گن گن کر بدلہ لے، ان کو چن چن کر ان میں سے کسی کو روئے زمین پر نہ چھوڑ“۔ جب آپ رضی اللہ عنہ نے دریائے فرات کی طرف رخ کیا تو بنو ابان میں سے ایک شخص نے پکار کا کہا: ” ارے ندی اور اُن کے درمیان حائل ہو جاؤ ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور لوگ دوڑ کر آپ رضی اللہ عنہ اور دریائے فرات کے درمیان حائل ہو گئے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ابانی کے بارے میں فرمایا: ”اے اللہ ! اسے تشنگی میں مبتلا کر۔ ابانی نے ایک تیر ایسا چلایا جو آپ رضی اللہ عنہ کی ٹھوڑی کے نیچے پیوست ہو گیا ۔ اُس تیر کو آپ رضی اللہ عنہ نے کھینچ کر نکالا اور زخم کے نیچے دونوں ہاتھوں سے چلو لگا دیئے۔ خون دونوں چلوؤں میں بھر گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” اے اللہ ! تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کے ساتھ جو سلوک کیا جارہا ہے میں اس کی فریاد تجھی سے کرتا ہوں“۔ بہت کم زمانہ گذرا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ابانی کو پیاس میں مبتلا کیا۔ کسی طرح اُس کی تشنگی بجھتی ہی نہیں تھی۔ پانی ٹھنڈا کیا جا تا تھا اور اس میں شکر ڈالی جاتی تھی۔ دودھ کے قدمے بھرے ہوئے تھے اور پانی کے مٹکے بھرے ہوئے تھے اور وہ یہی کہے جاتا تھا: ”ارے پانی پلاؤ۔ یہ پیاس مجھے مارے ڈالے جارہی ہے ۔ ایک مٹکا یا ایک قدح جس سے سارے گھر کی پیاس بجھ جاتی تھی اُسے دیا جاتا تھا اور وہ غٹاغٹ پی جاتا تھا اور برتن منہ سے ہٹا کر بولتا تھا: ”ارے پانی پلاؤ ، پیاس مجھے مارے ڈال رہی ہے۔ قاسم بن اصبغ نے یہ تماشہ دیکھا تھا وہ کہتا ہے : اللہ کی قسم اتھوڑے ہی دنوں میں اُس کا پیٹ اس طرح تڑک گیا جیسے اونٹ کا پیٹ“۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: اسی اثناء میں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ لڑتے بھڑتے دریائے فرات تک پہنچ گئے اور قریب تھا کہ آپ رضی اللہ عنہ پانی سے اپنے خشک حلق کو تر کر لیتے کہ اچانک حصین بن نمیر نے ایک تیر مارا جو آپ رضی اللہ عنہ کے منہ میں لگا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے تیر نکال کر پھینک دیا اور ہاتھ سے خون پو نچھتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے: "اے اللہ میں تجھ سے عرض کرتا ہوں کہ جو یہ لوگ تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کے ساتھ کر رہے ہیں، تو اُن زیادتیوں کو دیکھ۔ پھر شمر بن ذی جوشن تقریبا دس سپاہیوں کے ساتھ خواتین کے خیموں کی طرف بڑھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے دریائے فرات کو چھوڑ کر اُسے روکا اور فرمایا: ” تف ہو تجھ پر ! اگر تجھ میں دین داری نہیں ہے اور تو آخرت کا خوف نہیں رکھتا ہے تو شرافت کیوں چھوڑ رہا ہے؟ اپنے سپاہیوں کو روک اور میرے اہل وعیال کو اُن کی بے ہودگیوں سے بچا ۔ جب کسی نے کوئی جواب نہیں دیا تو آپ رضی اللہ عنہ تلوار کھینچ کر جھپٹے۔ دوسری طرف شمر بن ذی جوشن نے اپنے سپاہیوں کو للکارا تو سب نے آپ رضی اللہ عنہ کوگھیر لیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کایہ حال تھا کہ بجلی بنے ہوئے تھے اور آپ رضی اللہ عنہ جس طرف بھی رخ کرتے تھے تو لوگ جان بچا بچا کر ایک دوسرے پر منہ کے بل گرتے پڑتے بھاگ کھڑے ہوتے تھے اور پھر جھرمٹ باندھ کر ہر طرف سے گھیر کر دائیں بائیں آگے پیچھے سے مجموعی قوت سے حملہ آور ہوتے تھے۔


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شجاعت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے جسم مبارک پر جگہ جگہ تیر دھنسے ہوئے تھے ۔ پھر بھی آپ رضی اللہ عنہ بہت بہادری اور شجاعت سے مقابلہ کر رہے تھے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عبد اللہ بن عمار پر لوگوں نے عتاب کیا کہ تو بھی حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے والوں میں شامل تھا۔ عبداللہ نے کہا: میں نے تو بنو ہاشم پر احسان کیا۔ لوگوں نے پوچھا: تو نے کس طرح احسان کیا ؟ اس نے کہا: میں نے برچھی تان کر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ پر حملہ کیا اور اُن کے قریب پہنچا اور اللہ کی قسم ! میں انہیں برچھی مارہی دیتا لیکن پھر میں پیچھے ہٹ گیا۔ میں نے دل میں کہا کہ میں کیوں انہیں شہید کروں کوئی اور شہید کرے تو کرے۔ میں نے دیکھا کہ اُن کے دائیں بائیں سے جو پیادے نرغے میں لئے ہوئے تھے انہوں نے آپ رضی اللہ عنہ پرحملہ کر دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے دائیں طرف کے پیادوں پر حملہ کر کے سب کو منتشر کر دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ عمامہ باندھے ہوئے تھے اور خنز کا قمیص گلے میں تھا۔ اللہ کی قسم کسی ایسے بے کس اور بے بس کو جس کی اولاد اور اہل بیت اور ساتھی سب شہید ہو چکے ہوں اس دل سے اور اس حواس سے اور اس جرات سے لڑتے ہوئے میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ اللہ کی قسم نہ ان سے پہلے اُن کی مثل دیکھنے میں آیا اور نہ ہی اُن کے بعد دیکھنے میں آیا۔ وہ لوگوں پر شدید حملہ کر رہے تھے اور لوگ دائیں یا بائیں اس طرح بھاگ رہے تھے جیسے گرگ کے حملہ کے وقت بکریاں بھاگتی ہیں۔ اسی حالت میں اُن کی بہن سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا خیمہ سے نکل کر آئیں ۔ اللہ کی قسم! اُن کے کان کے بندے ہلتے ہوئے اب تک میری نگاہوں میں ہیں۔ وہ کہ رہی تھیں: "ہائے! آسمان زمین پر پھٹ نہیں پڑتا ۔ اسی وقت عمر بن سعد بھی حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قریب آیا تو اُس سے کہنے لگیں: ”اے عمر بن سعد ! حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ شہید ہورہے ہیں اور تو دیکھ رہا ہے ۔ میں نے دیکھا کہ عمر بن سعد کے آنسو نکل آئے اور داڑھی تک بہتے چلے گئے اور اُس نے سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا کی طرف سے منہ پھیر لیا۔ 


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں