19 سلطنتِ امیہ
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 19
حضرت عبد اللہ بن عمیر اور ام وہب رضی اللہ عنہم کی جاں شاری، ایک گستاخ کا انجام، حضرت بریر بن حضیر رضی اللہ عنہ مباہلہ میں کا میاب، حضرت بریر بن حضیر رضی اللہ عنہ کی شہادت، حربن یزید کی بہادری، دشمنوں کا ایک ساتھ حملہ، حضرت عمر بن خالد ، سعد اور جابر بن حارث کی شہادت، حضرت مسلم بن عوسجہ اسدی کی وصیت اور شہادت، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ، تیراندازوں کا حملہ، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھی پیدل ہو گئے،
حضرت عبد اللہ بن عمیر اور ام وہب رضی اللہ عنہم کی جاں شاری
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حضرت عبداللہ بن عمیر رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور جنگ کی اجازت مانگی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے نظر جو اُٹھائی تو دیکھا کہ ایک شخص گندمی رنگ، دراز قامت، قوی باز و اور قوی ہیکل سامنے کھڑا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میرے خیال سے یہ شخص اقران ہے، اچھا تم لڑنا چاہتے ہو تو میری طرف سے تمہیں اجازت ہے“۔ حضرت عبد اللہ بن عمیر رضی اللہ عنہ دونوں کے مقابلے پر نکلے۔ دونوں نے پوچھا: ”تم کون ہو؟ انہوں نے اپنا نسب اور خاندان اور قبیلہ کے بارے میں بتایا تو اُن دونوں نے کہا: "ہم تمہیں نہیں جانتے ہیں۔ تم جاؤ اور زہیر بن قین یا حبیب بن مظاہر یا بریر بن حضیر کو ہمارے مقابلے پر بھیجو۔ سیار اس وقت سالم سے آگے تھا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: " او فاحشہ عورت کے بیٹے کسی شخص سے مقابلہ کرنے میں تجھے عار ہے اور تیرے مقابلے میں وہی شخص آئے جو تجھ سے بہتر ہے۔ یہ فرماتے ہوئے آپ رضی اللہ عنہ نے بسیار پر ایسی تلوار ماری کہ وہ و ہیں ٹھنڈا ہو گیا ۔ آپ رضی اللہ عنہ ابھی بسیار پر وار کرنے میں ہی مشغول تھے کہ سالم نے حملہ کر دیا اور آگے بڑھ کر آپ رضی اللہ عنہ پر تلوار سے وار کیا حضرت عبداللہ بن عمیر رضی اللہ عنہ نے اُس کی تلوار کے دار کو بائیں ہاتھ پر روکا جس کی وجہ سے اُس ہاتھ کی انگلیاں اُڑ گئیں ۔ اس کے بعد انہوں نے مڑ کر اُس پر بھی وار کیا اور دونوں کو قتل کر کے یہ اشعار پڑھتے ہوئے آگے بڑھے " تم لوگ مجھے نہیں پہچانتے ہو، سنو! میں خاندان بنو کلب سے ہوں اور یہ فخر میرے لئے کافی ہے کہ میرا گھر قبیلہ علیم میں ہے ۔ میں صاحب قوت و نصرت ہوں ۔ مصیبت پڑے تو بد دل نہیں ہو جاتا۔ اے اُم وہب ! میں اس بات کا ذمہ لیتا ہوں کہ بڑھ بڑھ کر تلواروں کے اور برچھیوں کے وار ان لوگوں پر کروں گا ۔ جو شیوہ اللہ کے مانے والوں کو ہوتا ہے ۔ سیدہ ام وہب رضی اللہ عنہ نے یہ سن کو ایک عود اپنے ہاتھ میں لیا اور اپنے شوہر کی طرف یہ کہتے ہوئے بڑھیں :” میرے ماں باپ تم پر فدا ہو جائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل کی طرف سے لڑے جاؤ ۔ حضرت عبد اللہ بن عمیر کلبی رضی اللہ عنہ اپنی بیوی کی آواز سن کر پلٹ پڑے کہ انہیں عورتوں میں لے جا کر بٹھا ئیں۔ سیدہ اُم وہب رضی اللہ عنہ اُن سے لپٹ گئیں اور بولیں : ” تمہارے سامنے جب تک میرا دم نہیں نکل جائے گا میں تم کو نہیں چھوڑوں گی۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے پکار کر فرمایا: ” اہل بیت کی طرف سے تم دونوں کو اللہ تعالی جزائے خیر عطا فرمائے بی بی ! عورتوں میں واپس چلی آؤ اور اُن کے پاس بیٹھی رہو، عورتوں کو قتل نہیں کرنا چاہئے ۔ سیدہ ام وہب رضی اللہ عنہا یہ حکم سنکر عورتوں میں واپس لوٹ گئیں۔ علامہ عمادالدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں: پس سیدہ ام وہب رضی اللہ عنہا ایک لوہے کا ڈنڈا لیکر اپنے شوہر کے پاس آئیں اور بولیں : ”اے میرے سرتاج ! میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک باز اولادوں کی حفاظت میں جنگ کرتے رہو۔ حضرت عبداللہ بن عمیر کلبی رضی اللہ عنہ انہیں خواتین کی طرف لیکر جانے لگے تو انہوں نے کہا: ”چھوڑو مجھے ! میں تمہارے ساتھ رہوں گی“۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بی بی ! خواتین میں واپس آجاؤ، خواتین پر جنگ فرض نہیں ہے۔
ایک گستاخ کا انجام
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھی آپ رضی اللہ عنہ پر اپنی جان شار کر رہے تھے۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں : عمر بن سعد کے میمنہ پر عمرو بن حجاج کمانڈر تھا۔ وہ اپنے پورے رسالے کو لیکر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کی طرف بڑھا۔ جب یہ رسالہ آپ رضی اللہ عنہ کے قریب آیا تو آپ رضی اللہ عنہ کے تمام ساتھی گھٹنوں کے بل اُس کو روکنے کے لئے کھڑے ہو گئے اور اپنی برچھیوں کی سنانیں اُن سب کی طرف کردیں۔ دشمنوں کے سوار ان سنانوں کی طرف نہیں بڑھ سکے اور واپس جانے لگے تو آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں نے انہیں تیر مارے کچھ لوگوں کوگراد یا اور کچھ لوگوں کو زخمی کیا۔ ان میں ایک شخص جس کا نام عبداللہ بن حوزہ تھا بڑھتا ہوا آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے آیا اور اے حسین اے حسین “ کہہ کر آپ رضی اللہ عنہ کو پکارا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” کیا کہہ رہا ہے؟ اس بد بخت نے کہا: ” جہنم کی آگ مبارک ہو"۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں تو اپنے پروردگار رحیم اور اپنے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جارہا ہوں۔ یہ فرما کر آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یہ کون ہے؟ ساتھیوں نے عرض کیا : " شخص عبداللہ بن حوزہ ہے ۔ آپ رضی نے فرمایا: "اے اللہ ! اسے آگ کا مزہ چکھا۔ اُس کا گھوڑا اُسے لیکر بھاگا اور یہ گرا تو اس کا پاؤں رکاب میں پھنسا رہ گیا اور سرزمین پر آرہا۔ گھوڑا بھڑکا اور اُسی طرح اُسے لیکر بھاگا اور اُس کا سر پتھروں اور جھاڑیوں سے ٹکرا تا رہا اور آخر کار مر گیا۔ مسروق بن وائل بھی عمرو بن حجاج کے اُن سواروں میں آگے آگے تھا۔ وہ کہتا ہے : ” میں اس لئے آگے آگے تھا کہ شاید (حضرت) حسین بن علی ( رضی اللہ عنہ ) کا سر مجھے مل جائے اور عبید اللہ بن زیاد کی نظر میں میری منزلت ہو ۔ ہم لوگ جب (حضرت) حسین بن علی رضی اللہ عنہ) پہنچے تو عبد اللہ بن حوزہ نے آگے بڑھ کر پوچھا: ”تم لوگوں میں (حضرت ) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) ہیں؟ انہوں نے آگے بڑھ کر اسے جواب دیا تو اُس نے دوبارہ اسی طرح پوچھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے سب کو خاموش رہنے کا حکم دیا۔ جب اُس نے تیسری مرتبہ کہا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو نے جھوٹ بکا ہے! میں تو غفور الرحیم اللہ کے پاس اور اپنے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جارہا ہوں ، تو کون شخص ہے ؟ اس نے کہا: ” میں عبداللہ بن حوزہ ہوں“۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے دونوں ہاتھ بلند کئے یہاں تک کہ قمیص کی سفیدہ عبا کی بغلوں میں دکھائی دینے لگیں اور فرمایا: ” اے اللہ ! اسے آگ میں داخل کر عبداللہ بن حوزہ نے غصہ سے اپنی گھوڑی کو آپ رضی اللہ عنہ پر چڑھانا چاہا۔ لیکن آپ رضی اللہ عنہ اور اس کے درمیان خندق حائل تھی ۔ اُس کا پاؤں رکاب میں پھنس گیا اور گھوڑی اسے لے بھاگی اور یہ پشت کے بل گرا۔ اُس کا ایک پاؤں، پنڈلی اور ران سے الگ ہو گیا اور آدھا دھڑ رکاب میں اٹکا رہا۔ یہ دیکھ کر میں (مسروق ) رسالے سے الگ ہو کر چلا گیا اور جب میرے بھائی عبد الجبار نے الگ ہونے کا سبب پوچھا تو میں نے اُسے بتایا کہ ہاشمی خاندان کے لوگوں کی ایسی بات میرے دیکھنے میں آئی ہے کہ میں کبھی اُن سے قتل نہیں کروں گا۔
حضرت بریر بن حضیر رضی اللہ عنہ مباہلہ میں کا میاب
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھی مستقل مزاجی سے ڈٹے ہوئے تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اس کے بعد دشمنوں کے لشکر سے یزید بن معقل نکلا اور بلند آواز سے پکار کر بولا : کیوں بریر بن خضیر ! تم نے دیکھ لیا کہ اللہ نے تمہارے ساتھ کیا کیا ؟ حضرت بریر بن حضیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے میرے ساتھ بھلائی کی ہے اور تیرے حق میں برائی کی ہے ۔ اُس نے کہا: ” تم نے جھوٹ بولا اتم تو کبھی جھوٹ نہیں بولتے تھے۔ تم کو یاد ہوگا کہ بنو لوفان میں تمہارے ساتھ پھر رہاتھا اور تم کہتے جاتے تھے کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اپنے نفس سے اسراف کیا اور حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ گمراہ اور گمراہ کنندہ ہیں اور حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ حق پر ہیں حضرت بریر بن حضیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہاں ہاں ! یہی میرا عقیدہ اور میرا قول ہے ۔ یزید بن معقل بولا " اس میں کوئی شک نہیں کہ تو گمراہ ہے۔ حضرت بریر بن خضیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” آؤ ہم تم مباہلہ کریں اور پہلے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگیں کہ وہ جھوٹے پر لعنت کرے اور گمراہ کو قتل کرے، اس کے بعد ہم دونوں لڑیں۔ اب وہ دونوں آگے آئے اور اوپر کی طرف ہاتھوں کو بلند کر کے یہ دعا کی کہ جھوٹے پر عذاب نازل ہو اور جو سچا ہو وہ گمراہ کوقتل کر دے۔ اس کے بعد دونوں نے ایکدوسرے پر حملہ کر دیا۔ دو دو چوٹیں ہوئیں تھیں کہ یزید بن معتقل کا ایک اوچھا وار حضرت بریر بن حضیر رضی اللہ عنہ پر پڑا ۔ جس سے انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا، انہوں نے پلٹ کر جو تلوار ماری تو وہ یزید بن معقل کے سر کو کاٹتی ہوئی دماغ تک پہنچی اور وہ اس طرح گرا کہ معلوم ہوا پہاڑ سے نیچے آرہا ہو اور حضرت بریر بن خضیر رضی اللہ عنہ کی تلوار اُسی طرح یزید بن معقل کی کھوپڑی میں پھنسی ہوئی تھی ۔ آپ رضی اللہ عنہ تلوار کو کال ہی رہے تھے کہ رضی بن منقذ عبدی نے حملہ کر دیا اور لپٹ گیا۔
حضرت بریر بن حضیر رضی اللہ عنہ کی شہادت
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے حضرت بریر بن حضیر رضی اللہ عنہ لڑ رہے تھے کہ اچانک رضی بن منقد عبدی نے حملہ کر دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : کچھ دیر دونوں میں کشتی ہوتی رہی اور حضرت بریر بن حضیر رضی اللہ عنہ اسے پٹک کر اُس کی چھاتی پر چڑھ بیٹھے تو رضی بن منقذ عبدی چلانے لگا: ”بہادر و! کمک کرنے والو! دوڑو ۔ یہ سن کر کعب ازدی نے حضرت بریر بن حضیر رضی اللہ عنہ پر حملہ کرنے آگے بڑھا تو دوسرے شخص نے اُسے جتادیا کہ حضرت بریر بن حضیر رضی اللہ عنہ قرآن کے قاری ہیں اور ہم لوگوں کو مسجد میں قرآن پڑھاتے ہیں لیکن پھر بھی کعب از دی نے نیزے سے آپ رضی اللہ عنہ پر وار کیا اور نیزے کی سنان پیٹھ پر لگی۔ حضرت بریر بن خضیر رضی اللہ عنہ برچھی لگنے کے بعد عبدی پر گر پڑے تو انہوں نے عبدی کی ناک دانتوں سے کاٹ لی اور اُس کے چہرے کو زخمی کر دیا۔ پھر کعب نے نیزے کا ایسا وار کیا کہ نیزہ حضرت بریر بن حضیر رضی اللہ عنہ کی پیٹھ سے گھسا اور سینے سے باہر نکل گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ عبدی کے اوپر سے زمیں پر گر پڑے اور شہید ہو گئے ۔ رضی بن منقذ عبدی خاک جھاڑتا ہوا اٹھا اور کعب ازدی سے بولا : " تم نے مجھ پر ایسا احسان کیا ہے جسے میں زندگی بھر نہیں بھولوں گا ۔ کعب از دی جب میدان جنگ سے واپس اپنے گھر آیا تو اُس کی بیوی یا بہن نے اُس سے کہا: تو نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے کے مقابلے میں کمک کی اور تو نے سید قارئین کو شہید کیا ہے اور تو کیسے امر عظیم کا مرتکب ہوا۔ اللہ کی قسم ! میں تجھ سے کبھی بات نہیں کروں گی۔
حربن یزید کی بہادری
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں پر عمر بن سعد کے لشکر نے حملہ کر دیا اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھی بھی بڑی جاں شاری سے مقابلہ کر رہے تھے۔ اسی دوران حضرت عمرو بن قرظہ انصاری رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے اور اُن کا بھائی علی بن قرطہ نے جو دشمنوں کے لشکر میں تھا آپ رضی اللہ عنہ سے بدتمیزی کی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت عمرو بن قرظہ انصاری رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور دشمنوں پر حملہ کر دیا اور بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے ۔ اُن کا بھائی علی بن قرظہ ، عمر بن سعد کے لشکر میں تھا۔ جب اُس نے دیکھا کہ حضرت عمرو بن قرطہ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے ہیں تو اُس نے بلند آواز سے پکار کر کہا: "اے حسین بن علی ! ( نعوذ باللہ ) کذاب بن کذاب !تم نے میرے بھائی کو گمراہ کیا اور اسے دھوکا دیا اور اسے تمہیں نے قتل کیا ہے ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ نے تیرے بھائی کو گراہ نہیں کیا بلکہ اسے ہدایت دی ہے اور تجھے گمراہ کیا ہے ۔ یہ ن کر وہ بولا: یا تو میں تمہیں قتل کروں گا یا پھر اسی بات کے پیچھے اپنی جان دے دوں گا۔ اگر ایسا نہ کروں تو اللہ مجھے مارے یہ کہہ کر اس نے آپ رضی اللہ عنہ پرحملہ کر دیا۔ حضرت نافع بن ہلال مرادی رضی اللہ عنہ نے اُس کا وار روک کر ایک ایسی برچھی ماری کہ وہ الٹ گیا۔ اُس کے لشکر والے جلدی سے اُسے بچانے آئے اور اُٹھا لے گئے ۔ جنگ کے دوران حضرت حر بن یزید رضی اللہ عنہ بڑھ بڑھ کرحملہ کر رہے تھے۔ اُن کے گھوڑے کے چھرے پر تلوار میں پڑ رہی تھیں اور اُس کا خون بہہ رہا تھا۔ اُس وقت یزید بن سفیان نے حصین بن تمیم سے ( جو عبید اللہ بن زیاد کا پولیس محکمہ کا سربراہ تھا اور اُسی کو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو گر فتار کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا اور جسے عمر بن سعد نے زرہ پوش سواروں کا کمانڈر بنا دیا تھا) پوچھا: ”اس حربن یزید کوقتل کرنے کی تم نے آرزو کی تھی؟ حصین بن تمیم نے کہا: ”ہاں“۔ یہ سن کر یزید بن سفیان آگے بڑھا اور حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ کولکار کر کہا: ”مجھ سے لڑنا چاہتے ہو؟ حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہاں! میں تجھ سے لڑوں گا “۔ یہ فرما کر حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ آگے آئے ۔ انہیں دیکھ کر حصین بن تمیم نے کہا: اللہ کی قسم! ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کے حریف کی جان اس کی مٹھی میں ہے ۔ اس کی بات پوری ہوئی ہی تھی کہ حضرت حربن یزیدرضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر ایسا تلور کا وارکیا کہ یزید بن سفیان کی گردن اڑگئی اور اُس کا سر اچھل کر کافی دور جا گرا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : شامی فوجیں اپنے جواں مردوں کے پیہم مارے جانے سے سہم گئیں اور اُن دلیروں کے مقابلے پر جانے سے ہر کوئی جی چرارہا تھا اور اب کسی کی انفرادی مقابلے کی ہمت نہیں پڑ رہی تھی۔
دشمنوں کا ایک ساتھ حملہ
ابھی تک انفرادی یعنی ایک ایک، دو دو یا تین تین کے مقابلے ہو رہے تھے اور زیادہ تر دشمنوں کے سپاہی قتل ہورہے تھے ۔ یہ دیکھ کر دشمنوں کے میمنہ کے کمانڈر عمر بن حجاج نے ایک ساتھ حملہ کرنے کا مشورہ دیا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: شامی فو جیں اپنے جواں مردوں کے پیہم مارے جانے سے سہم گئیں اور اُن دلیروں کے مقابلے پر جانے سے ہر کوئی بھی چمدار ہا تھا اور اب کسی کی انفرادی مقابلے کی ہمت نہیں پڑ رہی تھی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت نافع بن ہلال رضی اللہ عنہ آگے بڑھے تو مزاحم بن حریث اُن کے مقابلے پر آیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اُس پر زبر دست حملہ کیا اور اسے قتل کر دیا۔ یہ دیکھ کر میمنہ کے کمانڈر عمرو بن حجاج نے بلند آواز سے کہا: "اے احمقو! اے اہل کوفہ ! تم نہیں جانتے کس سے لڑ رہے ہو؟ یہ وہ لوگ ہیں جو جان دینے پر آمادہ ہیں۔ ایک ایک کر کے ان سے ہرگز نہ لڑو بلکہ ایک ساتھ حملہ کرو۔ یہ تھوڑے سے لوگ ہیں اور تھوڑی ہی دیر میں فنا ہو جائیں گے۔ اللہ کی قسم! اگر تم انہیں صرف پتھر اُٹھا اُٹھا کر مارو گے تو سب کو قتل کر لو گے“۔ عمر بن سعد نے کہا: ” تم سچ کہہ رہے ہو ۔ اس کے بعد اپنے سپاہیوں کو ایک ایک کر کے لڑنے سے منع کر دیا۔ عمرو بن حجاج نے بلند آواز سے اپنے سپاہیوں سے کہا: ”اے اہل کوفہ ! اپنی طاعت و جماعت کو نہیں چھوڑنا اور جس نے دین کو چھوڑ دیا اور امام کے خلاف کیا اُس شخص کو قتل کرنے میں تامل نہ کرو۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اُس کی یہ بکواس سن کر اُس سے فرمایا: ” اے عمرو بن حجاج ! تو مجھے شہید کرنے پر لوگوں کو ابھار رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ ہم لوگوں نے دین کو چھوڑ دیا ہے اور تم لوگ دین پر قائم ہو۔ اللہ کی قسم اروح قبض ہونے کے بعد ان افعال کے ساتھ مرنے پر تم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ کس نے دین چھوڑ دیا ہے اور کون جہنم کا حقدار ہے۔ اس کے بعد عمر و بن حجاج نے میمنہ کے ساتھ دریائے فرات کی طرف سے حملہ کیا اور ایک ساعت تک جنگ ہوتی رہی۔
حضرت عمر بن خالد ، سعد اور جابر بن حارث کی شہادت
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ زبردست مقابلہ کر رہے تھے اور دشمن بھی بار بار حملہ کر رہے تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں سے حضرت عمر بن خالد صیدادی رضی اللہ عنہ اور اُن کے آزاد کردہ غلام حضرت سعد رضی اللہ عنہ اور حضرت جابر بن حارث رضی اللہ عنہ اور مجمع بن عبد اللہ عائدی رضی اللہ عنہ نے لڑائی شروع ہوتے ہی حملہ کر دیا تھا اور تلواریں کھینچے ہوئے دشمنوں کے اوپر پر ٹوٹ پڑے۔ دشمنوں کو مسلسل کاٹتے ہوئے دور تک نکل گئے۔ جب واپس پلٹے تو دشمنوں کے سپاہی انہیں گھیرنے لگے اور اُن کے اور اُن کے ساتھیوں کے درمیان حائل ہو گئے۔ یہ دیکھ کر حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ نے دشمنوں پر حملہ کر دیا اور ان لوگوں کو دشمنوں کے نرغہ سے نکال لائے۔ سب زخمی ہو چکے تھے۔ دشمنوں نے پھر سے اچانک حملہ کیا تو وہ پھر تلواریں کھینچ کھینچ کر دشمنوں پر جاپڑے اور انہیں قتل کرنے لگے اور آخر کار یہ سب ایک ہی جگہ شہید ہو گئے ۔
حضرت مسلم بن عوسجہ اسدی کی وصیت اور شہادت
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلے پر عمر بن سعد کے لشکر کے میمنہ کے کمانڈر عمرو بن حجاج نے حملہ کر دیا اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں نے بہادری اور جوانمردی سے اُن کا مقابلہ کیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ” اس حملے میں حضرت مسلم بن عوسجہ اسدی رضی اللہ عنہ زخمی ہو کر گرے۔ عمرو بن حجاج جب حملہ کر کے واپس پلٹا اور گرد و غبار پھٹا تو دیکھا کہ حضرت مسلم بن عوسجہ اسدی رضی اللہ عنہ زمین پر پڑے ہوئے ہیں۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اُن کے پاس آئے۔ ابھی ذرا جان باقی تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اُن کا سر اپنے زانو پر رکھا اور چہرے کی مٹی صاف کرنے لگے اور فرمایا: ”اے مسلم بن عوسجہ رضی اللہعنہا اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے! مجاہدوں میں سے کسی نے اپنی جان فدا کر دی ہے اور کوئی انتظار کر رہا ہے۔ حضرت حبیب بن مظاہر رضی اللہ عنہ نے قریب آکر فرمایا: ”اے ابن عوسجہ رضی اللہ عنہ اتم سے بچھڑنے کا مجھے شدید قلق ہے، تمہیں جنت مبارک ہو"۔ حضرت مسلم بن عوسجہ رضی اللہ عنہ نے دھیمی آواز میں فرمایا: اللہ تعالیٰ تم کو بھی خیر و خوبی مبارک کرے ۔ حضرت حبیب بن مظاہر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں جانتا ہوں کہ تمہارے پیچھے پیچھے میں بھی آنے والا ہوں ۔ ورنہ میں کہتا کہ جو جی چاہے وصیت مجھے کرو کہ تم سے قرابت واخوت دینی کا جو مقتضی ہے اُسی کے مطابق تمہاری وصیت کو بجالاؤں گا“۔ حضرت مسلم بن عوسجہ نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: ” بس اِن کے بارے میں تم سے وصیت کرتا ہوں کہ ان پر اپنی جان فدا کرنا ۔ اُدھر عمرو بن حجاج کے ساتھی خوشی منانے لگے کہ ہم نے حضرت مسلم بن عوسجہ اسدی کو شہید کر دیا۔ ثبت نے یہ سن کر اپنے پاس کے لوگوں سے کہا: ” تم کو موت آئے! اپنے عزیزوں کو اپنے ہاتھوں سے قتل کر رہے ہو اور غیروں کے سامنے خود کو ذلیل کر رہے ہو۔ حضرت مسلم بن عوسجہ جیسے شخص کو شہید کر کے خوش ہو رہے ہو؟ سنو! اللہ کی قسم ! مسلمانوں کے ساتھ اُن کو میں نے بڑے بڑے معرکوں میں بڑی شان کے ساتھ دیکھا ہے۔ آذربائیجان کی جنگ میں میں نے دیکھا کہ انہوں نے چھ کافروں کوقتل کیا اور ابھی مسلمانوں کے سوار آنے بھی نہیں پائے تھے ۔ بھلا ایسا شخص تم میں سے قتل ہو جائے اور تم خوش ہورہے ہو ۔ حضرت مسلم بن عوسجہ رضی اللہ عنہ کو کا مسلم بن ضبابی اور عبدالرحمن بجلی نے شہید کیا۔ حضرت عبد اللہ بن عمیر کلبی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ
قافلے کے میمنہ پر عمرو بن سعد کے لشکر کے میمنہ کے کمانڈر نے اپنے سپاہیوں کے ساتھ حملہ کیا تھا ۔ اس کے بعد میسرہ کا کمانڈر اپنے سپاہیوں کے ساتھ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے قافلے کے میسرہ پرحملہ کیا۔ علامہ حمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عمر بن سعد کے میسرہ کے کمانڈر شمر بن ذی جوشن نے اپنے سپاہیوں کے ساتھ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے میسرہ پر حملہ کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھی اپنی جگہ پر ڈٹے رہے اور شمر بن ذی جوشن کے سپاہیوں کو برچھیاں مارنے لگے۔ اب وہ لوگ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں پر ہر طرف سے حملہ آور ہو گئے۔ اس حملہ میں حضرت عبداللہ بن عمیر کلبی رضی اللہ عنہ شہید ہوئے ۔ آپ رضی اللہ عنہ بہت بہادری سے لڑے اور پہلے دو شخصوں کو قتل کیا اور پھر دو اور شخصوں کو قتل کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ بڑی شدت اور جرأت سے حملہ کر رہے تھے اور مسلسل دشمنوں کو قتل کرتے جا رہے تھے کہ ہانی بن ثبیت حضرمی اور بکیر بن جی تمیمی نے ایک ساتھ مل کر آپ رضی اللہ عنہ پر پیچھے سے حملہ کر دیا اور شہید کر دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں سے دوسرے شہید ہیں۔
تیراندازوں کا حملہ
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھی بڑی دلیری اور جرات سے دشمنوں سے مقابلہ کر رہے تھے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اب حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں نے بڑی شدت و قوت سے جنگ کی۔ ادھر قافلے کے صرف بتیس (32) سوار تھے اور انہوں نے جس طرف بھی رخ کیا تو اہل کوفہ کے سواروں کو شکست دی۔ عزرہ بن قیس اہل کوفہ کا کمانڈر تھا۔ اُس نے جب دیکھا کہ اُس کے رسالہ کے سوار ہر طرف سے پسپا ہو رہے ہیں تو اُس نے عمر بن سعد کے پاس یہ کہلا بھیجا تو دیکھ رہا ہے کہ ان چند سواروں کے مقابلے میں میرا رسالہ کتنی دیر سے منتشر ہو رہا ہے۔ اب ان کے لئے پیادوں (پیدلوں) کو اور تیر اندازوں کو جلدی بھیج دئے ۔ عمر بن سعد نے شبث بن ربعی کوحکم دیا: ” تم اُن سے لڑنے کے لئے اپنے تیر اندازوں کولیکر جاؤ ۔ شبث بن ربعی نے کہا: "سبحان اللہ ! اس شخص کو جو قوم عرب کا اور تمام شہروں کا بزرگ ہے۔ تم چاہتے ہوں کہ اُس کے مقابلے پر تیر اندازوں کو لیکر جائے تمہیں کوئی دوسرا نہیں ملتا جو اس کام کی حامی بھرے اور میری ضرورت نہ ہو۔“ اس کے بعد اُس نے کہا: اہل کوفہ کواللہ تعالیٰ کبھی خیر و خوبی نصیب نہیں کرے گا اور اُن کو کبھی راہ راست کی توفیق نہیں دے گا۔ تعجب کی بات ہے کہ ہم لوگ پانچ سال تک حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہے اور پھر اُن کے بیٹے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہے۔ پھر اب ہم یزید اور سمیہ فاحشہ کے بیٹے کے ساتھ ملکر ان کے دوسرے بیٹے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو جو اس وقت روئے زمین پر سب سے افضل ہیں شہید کریں؟ ہائے ہماری گمراہی اور زیاں کاری“۔ غرض اسی طرح شبث بن ربعی حملہ کرنے سے پہلو تہی کرتا رہا۔ پھر عمر بن سعد نے حصین بن نمیر تمیمی کو حکم دیا اور وہ اپنے تمام زرہ پوشوں اور پانچ سو تیر اندازوں کے ساتھ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کے سامنے آیا اور تیر برسانے لگا تھوڑی ہی دیر میں آپ رضی اللہ عنہ کے تمام ساتھی پیدل ہو گئے۔
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھی پیدل ہو گئے
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے تمام ساتھی بہت ہی دلیری اور جرات سے لڑ رہے تھے۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : شمر بن ذی جوشن نے اپنے میسرہ کو لیکرحملہ کیا۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھی نہایت استقلال سے جی تو ڑ کر جواب دینے لگے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ حالانکہ صرف بتیس (33) سوار تھے لیکن وہ جس طرف بھی رخ کرتے تھے تو صف کی صف اُلٹ جاتی تھی اور لوگ تتر بتر ہو کر ادھر ادھر بھاگ کھڑے ہوتے تھے۔ سواران کوفہ اُن کے مقابلے پر جانے سے جی چراتے تھے۔ عزرہ بن قیس جو سواروں کا کمانڈ رتھا اُس نے جنگ کا عنوان بگڑتا دیکھا تو عمر بن سعد کے پاس کہلا بھیجا کہ ان چند سواروں نے ہمارے سواروں کے چھکے چھڑا دیئے ہیں اور اگر جنگ کا یہی عنوان رہا تو عنقریب ہم بھاگ کھڑے ہوں گے۔ اس لئے مناسب ہے کہ تیر اندازوں اور پیادوں کو آگے بڑھنے کا حکم دو ۔ عمر بن سعد نے شبث بن ربعی کو تیر اندازی کرنے کا حکم دیا لیکن اُس نے انکار کر دیا۔ تب حصین بن نمرہ کو پانچ سو تیر اندازوں کے ساتھ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلے پر تیر باری کرنے کے لئے بھیجا۔ وہ اپنے پانچ سو تیر اندازوں کے ساتھ قریب پہنچ کر آپ رضی اللہ عنہ کے سواروں پر تیر برسانے لگا۔ تھوڑی ہی دیر میں آپ رضی اللہ عنہ کے سواروں کے تمام گھوڑے زخمی ہو گئے اور آپ رضی اللہ عنہ کے تمام ساتھی پیدل ہو کر جنگ لڑنے لگے۔ حضرت حر بن یزید رضی اللہ عنہ کا گھوڑا بھی مرگیا اور وہ بھی پیدل ہی لڑنے لگے۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!




