منگل، 3 ستمبر، 2024

Saltanat e Umayya part 19

 19 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 19

حضرت عبد اللہ بن عمیر اور ام وہب رضی اللہ عنہم کی جاں شاری، ایک گستاخ کا انجام، حضرت بریر بن حضیر رضی اللہ عنہ مباہلہ میں کا میاب، حضرت بریر بن حضیر رضی اللہ عنہ کی شہادت، حربن یزید کی بہادری، دشمنوں کا ایک ساتھ حملہ، حضرت عمر بن خالد ، سعد اور جابر بن حارث کی شہادت، حضرت مسلم بن عوسجہ اسدی کی وصیت اور شہادت، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ، تیراندازوں کا حملہ، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھی پیدل ہو گئے، 




حضرت عبد اللہ بن عمیر اور ام وہب رضی اللہ عنہم کی جاں شاری


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حضرت عبداللہ بن عمیر رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور جنگ کی اجازت مانگی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے نظر جو اُٹھائی تو دیکھا کہ ایک شخص گندمی رنگ، دراز قامت، قوی باز و اور قوی ہیکل سامنے کھڑا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میرے خیال سے یہ شخص اقران ہے، اچھا تم لڑنا چاہتے ہو تو میری طرف سے تمہیں اجازت ہے“۔ حضرت عبد اللہ بن عمیر رضی اللہ عنہ دونوں کے مقابلے پر نکلے۔ دونوں نے پوچھا: ”تم کون ہو؟ انہوں نے اپنا نسب اور خاندان اور قبیلہ کے بارے میں بتایا تو اُن دونوں نے کہا: "ہم تمہیں نہیں جانتے ہیں۔ تم جاؤ اور زہیر بن قین یا حبیب بن مظاہر یا بریر بن حضیر کو ہمارے مقابلے پر بھیجو۔ سیار اس وقت سالم سے آگے تھا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: " او فاحشہ عورت کے بیٹے کسی شخص سے مقابلہ کرنے میں تجھے عار ہے اور تیرے مقابلے میں وہی شخص آئے جو تجھ سے بہتر ہے۔ یہ فرماتے ہوئے آپ رضی اللہ عنہ نے بسیار پر ایسی تلوار ماری کہ وہ و ہیں ٹھنڈا ہو گیا ۔ آپ رضی اللہ عنہ ابھی بسیار پر وار کرنے میں ہی مشغول تھے کہ سالم نے حملہ کر دیا اور آگے بڑھ کر آپ رضی اللہ عنہ پر تلوار سے وار کیا حضرت عبداللہ بن عمیر رضی اللہ عنہ نے اُس کی تلوار کے دار کو بائیں ہاتھ پر روکا جس کی وجہ سے اُس ہاتھ کی انگلیاں اُڑ گئیں ۔ اس کے بعد انہوں نے مڑ کر اُس پر بھی وار کیا اور دونوں کو قتل کر کے یہ اشعار پڑھتے ہوئے آگے بڑھے " تم لوگ مجھے نہیں پہچانتے ہو، سنو! میں خاندان بنو کلب سے ہوں اور یہ فخر میرے لئے کافی ہے کہ میرا گھر قبیلہ علیم میں ہے ۔ میں صاحب قوت و نصرت ہوں ۔ مصیبت پڑے تو بد دل نہیں ہو جاتا۔ اے اُم وہب ! میں اس بات کا ذمہ لیتا ہوں کہ بڑھ بڑھ کر تلواروں کے اور برچھیوں کے وار ان لوگوں پر کروں گا ۔ جو شیوہ اللہ کے مانے والوں کو ہوتا ہے ۔ سیدہ ام وہب رضی اللہ عنہ نے یہ سن کو ایک عود اپنے ہاتھ میں لیا اور اپنے شوہر کی طرف یہ کہتے ہوئے بڑھیں :” میرے ماں باپ تم پر فدا ہو جائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل کی طرف سے لڑے جاؤ ۔ حضرت عبد اللہ بن عمیر کلبی رضی اللہ عنہ اپنی بیوی کی آواز سن کر پلٹ پڑے کہ انہیں عورتوں میں لے جا کر بٹھا ئیں۔ سیدہ اُم وہب رضی اللہ عنہ اُن سے لپٹ گئیں اور بولیں : ” تمہارے سامنے جب تک میرا دم نہیں نکل جائے گا میں تم کو نہیں چھوڑوں گی۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے پکار کر فرمایا: ” اہل بیت کی طرف سے تم دونوں کو اللہ تعالی جزائے خیر عطا فرمائے بی بی ! عورتوں میں واپس چلی آؤ اور اُن کے پاس بیٹھی رہو، عورتوں کو قتل نہیں کرنا چاہئے ۔ سیدہ ام وہب رضی اللہ عنہا یہ حکم سنکر عورتوں میں واپس لوٹ گئیں۔ علامہ عمادالدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں: پس سیدہ ام وہب رضی اللہ عنہا ایک لوہے کا ڈنڈا لیکر اپنے شوہر کے پاس آئیں اور بولیں : ”اے میرے سرتاج ! میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک باز اولادوں کی حفاظت میں جنگ کرتے رہو۔ حضرت عبداللہ بن عمیر کلبی رضی اللہ عنہ انہیں خواتین کی طرف لیکر جانے لگے تو انہوں نے کہا: ”چھوڑو مجھے ! میں تمہارے ساتھ رہوں گی“۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بی بی ! خواتین میں واپس آجاؤ، خواتین پر جنگ فرض نہیں ہے۔


ایک گستاخ کا انجام


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھی آپ رضی اللہ عنہ پر اپنی جان شار کر رہے تھے۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں : عمر بن سعد کے میمنہ پر عمرو بن حجاج کمانڈر تھا۔ وہ اپنے پورے رسالے کو لیکر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کی طرف بڑھا۔ جب یہ رسالہ آپ رضی اللہ عنہ کے قریب آیا تو آپ رضی اللہ عنہ کے تمام ساتھی گھٹنوں کے بل اُس کو روکنے کے لئے کھڑے ہو گئے اور اپنی برچھیوں کی سنانیں اُن سب کی طرف کردیں۔ دشمنوں کے سوار ان سنانوں کی طرف نہیں بڑھ سکے اور واپس جانے لگے تو آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں نے انہیں تیر مارے کچھ لوگوں کوگراد یا اور کچھ لوگوں کو زخمی کیا۔ ان میں ایک شخص جس کا نام عبداللہ بن حوزہ تھا بڑھتا ہوا آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے آیا اور اے حسین اے حسین “ کہہ کر آپ رضی اللہ عنہ کو پکارا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” کیا کہہ رہا ہے؟ اس بد بخت نے کہا: ” جہنم کی آگ مبارک ہو"۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں تو اپنے پروردگار رحیم اور اپنے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جارہا ہوں۔ یہ فرما کر آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یہ کون ہے؟ ساتھیوں نے عرض کیا : " شخص عبداللہ بن حوزہ ہے ۔ آپ رضی نے فرمایا: "اے اللہ ! اسے آگ کا مزہ چکھا۔ اُس کا گھوڑا اُسے لیکر بھاگا اور یہ گرا تو اس کا پاؤں رکاب میں پھنسا رہ گیا اور سرزمین پر آرہا۔ گھوڑا بھڑکا اور اُسی طرح اُسے لیکر بھاگا اور اُس کا سر پتھروں اور جھاڑیوں سے ٹکرا تا رہا اور آخر کار مر گیا۔ مسروق بن وائل بھی عمرو بن حجاج کے اُن سواروں میں آگے آگے تھا۔ وہ کہتا ہے : ” میں اس لئے آگے آگے تھا کہ شاید (حضرت) حسین بن علی ( رضی اللہ عنہ ) کا سر مجھے مل جائے اور عبید اللہ بن زیاد کی نظر میں میری منزلت ہو ۔ ہم لوگ جب (حضرت) حسین بن علی رضی اللہ عنہ) پہنچے تو عبد اللہ بن حوزہ نے آگے بڑھ کر پوچھا: ”تم لوگوں میں (حضرت ) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) ہیں؟ انہوں نے آگے بڑھ کر اسے جواب دیا تو اُس نے دوبارہ اسی طرح پوچھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے سب کو خاموش رہنے کا حکم دیا۔ جب اُس نے تیسری مرتبہ کہا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو نے جھوٹ بکا ہے! میں تو غفور الرحیم اللہ کے پاس اور اپنے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جارہا ہوں ، تو کون شخص ہے ؟ اس نے کہا: ” میں عبداللہ بن حوزہ ہوں“۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے دونوں ہاتھ بلند کئے یہاں تک کہ قمیص کی سفیدہ عبا کی بغلوں میں دکھائی دینے لگیں اور فرمایا: ” اے اللہ ! اسے آگ میں داخل کر عبداللہ بن حوزہ نے غصہ سے اپنی گھوڑی کو آپ رضی اللہ عنہ پر چڑھانا چاہا۔ لیکن آپ رضی اللہ عنہ اور اس کے درمیان خندق حائل تھی ۔ اُس کا پاؤں رکاب میں پھنس گیا اور گھوڑی اسے لے بھاگی اور یہ پشت کے بل گرا۔ اُس کا ایک پاؤں، پنڈلی اور ران سے الگ ہو گیا اور آدھا دھڑ رکاب میں اٹکا رہا۔ یہ دیکھ کر میں (مسروق ) رسالے سے الگ ہو کر چلا گیا اور جب میرے بھائی عبد الجبار نے الگ ہونے کا سبب پوچھا تو میں نے اُسے بتایا کہ ہاشمی خاندان کے لوگوں کی ایسی بات میرے دیکھنے میں آئی ہے کہ میں کبھی اُن سے قتل نہیں کروں گا۔


حضرت بریر بن حضیر رضی اللہ عنہ مباہلہ میں کا میاب


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھی مستقل مزاجی سے ڈٹے ہوئے تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اس کے بعد دشمنوں کے لشکر سے یزید بن معقل نکلا اور بلند آواز سے پکار کر بولا : کیوں بریر بن خضیر ! تم نے دیکھ لیا کہ اللہ نے تمہارے ساتھ کیا کیا ؟ حضرت بریر بن حضیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے میرے ساتھ بھلائی کی ہے اور تیرے حق میں برائی کی ہے ۔ اُس نے کہا: ” تم نے جھوٹ بولا اتم تو کبھی جھوٹ نہیں بولتے تھے۔ تم کو یاد ہوگا کہ بنو لوفان میں تمہارے ساتھ پھر رہاتھا اور تم کہتے جاتے تھے کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اپنے نفس سے اسراف کیا اور حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ گمراہ اور گمراہ کنندہ ہیں اور حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ حق پر ہیں حضرت بریر بن حضیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہاں ہاں ! یہی میرا عقیدہ اور میرا قول ہے ۔ یزید بن معقل بولا " اس میں کوئی شک نہیں کہ تو گمراہ ہے۔ حضرت بریر بن خضیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” آؤ ہم تم مباہلہ کریں اور پہلے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگیں کہ وہ جھوٹے پر لعنت کرے اور گمراہ کو قتل کرے، اس کے بعد ہم دونوں لڑیں۔ اب وہ دونوں آگے آئے اور اوپر کی طرف ہاتھوں کو بلند کر کے یہ دعا کی کہ جھوٹے پر عذاب نازل ہو اور جو سچا ہو وہ گمراہ کوقتل کر دے۔ اس کے بعد دونوں نے ایکدوسرے پر حملہ کر دیا۔ دو دو چوٹیں ہوئیں تھیں کہ یزید بن معتقل کا ایک اوچھا وار حضرت بریر بن حضیر رضی اللہ عنہ پر پڑا ۔ جس سے انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا، انہوں نے پلٹ کر جو تلوار ماری تو وہ یزید بن معقل کے سر کو کاٹتی ہوئی دماغ تک پہنچی اور وہ اس طرح گرا کہ معلوم ہوا پہاڑ سے نیچے آرہا ہو اور حضرت بریر بن خضیر رضی اللہ عنہ کی تلوار اُسی طرح یزید بن معقل کی کھوپڑی میں پھنسی ہوئی تھی ۔ آپ رضی اللہ عنہ تلوار کو کال ہی رہے تھے کہ رضی بن منقذ عبدی نے حملہ کر دیا اور لپٹ گیا۔ 


حضرت بریر بن حضیر رضی اللہ عنہ کی شہادت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے حضرت بریر بن حضیر رضی اللہ عنہ لڑ رہے تھے کہ اچانک رضی بن منقد عبدی نے حملہ کر دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : کچھ دیر دونوں میں کشتی ہوتی رہی اور حضرت بریر بن حضیر رضی اللہ عنہ اسے پٹک کر اُس کی چھاتی پر چڑھ بیٹھے تو رضی بن منقذ عبدی چلانے لگا: ”بہادر و! کمک کرنے والو! دوڑو ۔ یہ سن کر کعب ازدی نے حضرت بریر بن حضیر رضی اللہ عنہ پر حملہ کرنے آگے بڑھا تو دوسرے شخص نے اُسے جتادیا کہ حضرت بریر بن حضیر رضی اللہ عنہ قرآن کے قاری ہیں اور ہم لوگوں کو مسجد میں قرآن پڑھاتے ہیں لیکن پھر بھی کعب از دی نے نیزے سے آپ رضی اللہ عنہ پر وار کیا اور نیزے کی سنان پیٹھ پر لگی۔ حضرت بریر بن خضیر رضی اللہ عنہ برچھی لگنے کے بعد عبدی پر گر پڑے تو انہوں نے عبدی کی ناک دانتوں سے کاٹ لی اور اُس کے چہرے کو زخمی کر دیا۔ پھر کعب نے نیزے کا ایسا وار کیا کہ نیزہ حضرت بریر بن حضیر رضی اللہ عنہ کی پیٹھ سے گھسا اور سینے سے باہر نکل گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ عبدی کے اوپر سے زمیں پر گر پڑے اور شہید ہو گئے ۔ رضی بن منقذ عبدی خاک جھاڑتا ہوا اٹھا اور کعب ازدی سے بولا : " تم نے مجھ پر ایسا احسان کیا ہے جسے میں زندگی بھر نہیں بھولوں گا ۔ کعب از دی جب میدان جنگ سے واپس اپنے گھر آیا تو اُس کی بیوی یا بہن نے اُس سے کہا: تو نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے کے مقابلے میں کمک کی اور تو نے سید قارئین کو شہید کیا ہے اور تو کیسے امر عظیم کا مرتکب ہوا۔ اللہ کی قسم ! میں تجھ سے کبھی بات نہیں کروں گی۔


حربن یزید کی بہادری


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں پر عمر بن سعد کے لشکر نے حملہ کر دیا اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھی بھی بڑی جاں شاری سے مقابلہ کر رہے تھے۔ اسی دوران حضرت عمرو بن قرظہ انصاری رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے اور اُن کا بھائی علی بن قرطہ نے جو دشمنوں کے لشکر میں تھا آپ رضی اللہ عنہ سے بدتمیزی کی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت عمرو بن قرظہ انصاری رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور دشمنوں پر حملہ کر دیا اور بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے ۔ اُن کا بھائی علی بن قرظہ ، عمر بن سعد کے لشکر میں تھا۔ جب اُس نے دیکھا کہ حضرت عمرو بن قرطہ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے ہیں تو اُس نے بلند آواز سے پکار کر کہا: "اے حسین بن علی ! ( نعوذ باللہ ) کذاب بن کذاب !تم نے میرے بھائی کو گمراہ کیا اور اسے دھوکا دیا اور اسے تمہیں نے قتل کیا ہے ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ نے تیرے بھائی کو گراہ نہیں کیا بلکہ اسے ہدایت دی ہے اور تجھے گمراہ کیا ہے ۔ یہ ن کر وہ بولا: یا تو میں تمہیں قتل کروں گا یا پھر اسی بات کے پیچھے اپنی جان دے دوں گا۔ اگر ایسا نہ کروں تو اللہ مجھے مارے یہ کہہ کر اس نے آپ رضی اللہ عنہ پرحملہ کر دیا۔ حضرت نافع بن ہلال مرادی رضی اللہ عنہ نے اُس کا وار روک کر ایک ایسی برچھی ماری کہ وہ الٹ گیا۔ اُس کے لشکر والے جلدی سے اُسے بچانے آئے اور اُٹھا لے گئے ۔ جنگ کے دوران حضرت حر بن یزید رضی اللہ عنہ بڑھ بڑھ کرحملہ کر رہے تھے۔ اُن کے گھوڑے کے چھرے پر تلوار میں پڑ رہی تھیں اور اُس کا خون بہہ رہا تھا۔ اُس وقت یزید بن سفیان نے حصین بن تمیم سے ( جو عبید اللہ بن زیاد کا پولیس محکمہ کا سربراہ تھا اور اُسی کو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو گر فتار کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا اور جسے عمر بن سعد نے زرہ پوش سواروں کا کمانڈر بنا دیا تھا) پوچھا: ”اس حربن یزید کوقتل کرنے کی تم نے آرزو کی تھی؟ حصین بن تمیم نے کہا: ”ہاں“۔ یہ سن کر یزید بن سفیان آگے بڑھا اور حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ کولکار کر کہا: ”مجھ سے لڑنا چاہتے ہو؟ حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہاں! میں تجھ سے لڑوں گا “۔ یہ فرما کر حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ آگے آئے ۔ انہیں دیکھ کر حصین بن تمیم نے کہا: اللہ کی قسم! ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کے حریف کی جان اس کی مٹھی میں ہے ۔ اس کی بات پوری ہوئی ہی تھی کہ حضرت حربن یزیدرضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر ایسا تلور کا وارکیا کہ یزید بن سفیان کی گردن اڑگئی اور اُس کا سر اچھل کر کافی دور جا گرا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : شامی فوجیں اپنے جواں مردوں کے پیہم مارے جانے سے سہم گئیں اور اُن دلیروں کے مقابلے پر جانے سے ہر کوئی جی چرارہا تھا اور اب کسی کی انفرادی مقابلے کی ہمت نہیں پڑ رہی تھی۔


دشمنوں کا ایک ساتھ حملہ


ابھی تک انفرادی یعنی ایک ایک، دو دو یا تین تین کے مقابلے ہو رہے تھے اور زیادہ تر دشمنوں کے سپاہی قتل ہورہے تھے ۔ یہ دیکھ کر دشمنوں کے میمنہ کے کمانڈر عمر بن حجاج نے ایک ساتھ حملہ کرنے کا مشورہ دیا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: شامی فو جیں اپنے جواں مردوں کے پیہم مارے جانے سے سہم گئیں اور اُن دلیروں کے مقابلے پر جانے سے ہر کوئی بھی چمدار ہا تھا اور اب کسی کی انفرادی مقابلے کی ہمت نہیں پڑ رہی تھی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت نافع بن ہلال رضی اللہ عنہ آگے بڑھے تو مزاحم بن حریث اُن کے مقابلے پر آیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اُس پر زبر دست حملہ کیا اور اسے قتل کر دیا۔ یہ دیکھ کر میمنہ کے کمانڈر عمرو بن حجاج نے بلند آواز سے کہا: "اے احمقو! اے اہل کوفہ ! تم نہیں جانتے کس سے لڑ رہے ہو؟ یہ وہ لوگ ہیں جو جان دینے پر آمادہ ہیں۔ ایک ایک کر کے ان سے ہرگز نہ لڑو بلکہ ایک ساتھ حملہ کرو۔ یہ تھوڑے سے لوگ ہیں اور تھوڑی ہی دیر میں فنا ہو جائیں گے۔ اللہ کی قسم! اگر تم انہیں صرف پتھر اُٹھا اُٹھا کر مارو گے تو سب کو قتل کر لو گے“۔ عمر بن سعد نے کہا: ” تم سچ کہہ رہے ہو ۔ اس کے بعد اپنے سپاہیوں کو ایک ایک کر کے لڑنے سے منع کر دیا۔ عمرو بن حجاج نے بلند آواز سے اپنے سپاہیوں سے کہا: ”اے اہل کوفہ ! اپنی طاعت و جماعت کو نہیں چھوڑنا اور جس نے دین کو چھوڑ دیا اور امام کے خلاف کیا اُس شخص کو قتل کرنے میں تامل نہ کرو۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اُس کی یہ بکواس سن کر اُس سے فرمایا: ” اے عمرو بن حجاج ! تو مجھے شہید کرنے پر لوگوں کو ابھار رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ ہم لوگوں نے دین کو چھوڑ دیا ہے اور تم لوگ دین پر قائم ہو۔ اللہ کی قسم اروح قبض ہونے کے بعد ان افعال کے ساتھ مرنے پر تم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ کس نے دین چھوڑ دیا ہے اور کون جہنم کا حقدار ہے۔ اس کے بعد عمر و بن حجاج نے میمنہ کے ساتھ دریائے فرات کی طرف سے حملہ کیا اور ایک ساعت تک جنگ ہوتی رہی۔


حضرت عمر بن خالد ، سعد اور جابر بن حارث کی شہادت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ زبردست مقابلہ کر رہے تھے اور دشمن بھی بار بار حملہ کر رہے تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں سے حضرت عمر بن خالد صیدادی رضی اللہ عنہ اور اُن کے آزاد کردہ غلام حضرت سعد رضی اللہ عنہ اور حضرت جابر بن حارث رضی اللہ عنہ اور مجمع بن عبد اللہ عائدی رضی اللہ عنہ نے لڑائی شروع ہوتے ہی حملہ کر دیا تھا اور تلواریں کھینچے ہوئے دشمنوں کے اوپر پر ٹوٹ پڑے۔ دشمنوں کو مسلسل کاٹتے ہوئے دور تک نکل گئے۔ جب واپس پلٹے تو دشمنوں کے سپاہی انہیں گھیرنے لگے اور اُن کے اور اُن کے ساتھیوں کے درمیان حائل ہو گئے۔ یہ دیکھ کر حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ نے دشمنوں پر حملہ کر دیا اور ان لوگوں کو دشمنوں کے نرغہ سے نکال لائے۔ سب زخمی ہو چکے تھے۔ دشمنوں نے پھر سے اچانک حملہ کیا تو وہ پھر تلواریں کھینچ کھینچ کر دشمنوں پر جاپڑے اور انہیں قتل کرنے لگے اور آخر کار یہ سب ایک ہی جگہ شہید ہو گئے ۔


حضرت مسلم بن عوسجہ اسدی کی وصیت اور شہادت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلے پر عمر بن سعد کے لشکر کے میمنہ کے کمانڈر عمرو بن حجاج نے حملہ کر دیا اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں نے بہادری اور جوانمردی سے اُن کا مقابلہ کیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ” اس حملے میں حضرت مسلم بن عوسجہ اسدی رضی اللہ عنہ زخمی ہو کر گرے۔ عمرو بن حجاج جب حملہ کر کے واپس پلٹا اور گرد و غبار پھٹا تو دیکھا کہ حضرت مسلم بن عوسجہ اسدی رضی اللہ عنہ زمین پر پڑے ہوئے ہیں۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اُن کے پاس آئے۔ ابھی ذرا جان باقی تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اُن کا سر اپنے زانو پر رکھا اور چہرے کی مٹی صاف کرنے لگے اور فرمایا: ”اے مسلم بن عوسجہ رضی اللہعنہا اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے! مجاہدوں میں سے کسی نے اپنی جان فدا کر دی ہے اور کوئی انتظار کر رہا ہے۔ حضرت حبیب بن مظاہر رضی اللہ عنہ نے قریب آکر فرمایا: ”اے ابن عوسجہ رضی اللہ عنہ اتم سے بچھڑنے کا مجھے شدید قلق ہے، تمہیں جنت مبارک ہو"۔ حضرت مسلم بن عوسجہ رضی اللہ عنہ نے دھیمی آواز میں فرمایا: اللہ تعالیٰ تم کو بھی خیر و خوبی مبارک کرے ۔ حضرت حبیب بن مظاہر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں جانتا ہوں کہ تمہارے پیچھے پیچھے میں بھی آنے والا ہوں ۔ ورنہ میں کہتا کہ جو جی چاہے وصیت مجھے کرو کہ تم سے قرابت واخوت دینی کا جو مقتضی ہے اُسی کے مطابق تمہاری وصیت کو بجالاؤں گا“۔ حضرت مسلم بن عوسجہ نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: ” بس اِن کے بارے میں تم سے وصیت کرتا ہوں کہ ان پر اپنی جان فدا کرنا ۔ اُدھر عمرو بن حجاج کے ساتھی خوشی منانے لگے کہ ہم نے حضرت مسلم بن عوسجہ اسدی کو شہید کر دیا۔ ثبت نے یہ سن کر اپنے پاس کے لوگوں سے کہا: ” تم کو موت آئے! اپنے عزیزوں کو اپنے ہاتھوں سے قتل کر رہے ہو اور غیروں کے سامنے خود کو ذلیل کر رہے ہو۔ حضرت مسلم بن عوسجہ جیسے شخص کو شہید کر کے خوش ہو رہے ہو؟ سنو! اللہ کی قسم ! مسلمانوں کے ساتھ اُن کو میں نے بڑے بڑے معرکوں میں بڑی شان کے ساتھ دیکھا ہے۔ آذربائیجان کی جنگ میں میں نے دیکھا کہ انہوں نے چھ کافروں کوقتل کیا اور ابھی مسلمانوں کے سوار آنے بھی نہیں پائے تھے ۔ بھلا ایسا شخص تم میں سے قتل ہو جائے اور تم خوش ہورہے ہو ۔ حضرت مسلم بن عوسجہ رضی اللہ عنہ کو کا مسلم بن ضبابی اور عبدالرحمن بجلی نے شہید کیا۔ حضرت عبد اللہ بن عمیر کلبی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ


قافلے کے میمنہ پر عمرو بن سعد کے لشکر کے میمنہ کے کمانڈر نے اپنے سپاہیوں کے ساتھ حملہ کیا تھا ۔ اس کے بعد میسرہ کا کمانڈر اپنے سپاہیوں کے ساتھ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے قافلے کے میسرہ پرحملہ کیا۔ علامہ حمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عمر بن سعد کے میسرہ کے کمانڈر شمر بن ذی جوشن نے اپنے سپاہیوں کے ساتھ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے میسرہ پر حملہ کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھی اپنی جگہ پر ڈٹے رہے اور شمر بن ذی جوشن کے سپاہیوں کو برچھیاں مارنے لگے۔ اب وہ لوگ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں پر ہر طرف سے حملہ آور ہو گئے۔ اس حملہ میں حضرت عبداللہ بن عمیر کلبی رضی اللہ عنہ شہید ہوئے ۔ آپ رضی اللہ عنہ بہت بہادری سے لڑے اور پہلے دو شخصوں کو قتل کیا اور پھر دو اور شخصوں کو قتل کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ بڑی شدت اور جرأت سے حملہ کر رہے تھے اور مسلسل دشمنوں کو قتل کرتے جا رہے تھے کہ ہانی بن ثبیت حضرمی اور بکیر بن جی تمیمی نے ایک ساتھ مل کر آپ رضی اللہ عنہ پر پیچھے سے حملہ کر دیا اور شہید کر دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں سے دوسرے شہید ہیں۔


تیراندازوں کا حملہ


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھی بڑی دلیری اور جرات سے دشمنوں سے مقابلہ کر رہے تھے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اب حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں نے بڑی شدت و قوت سے جنگ کی۔ ادھر قافلے کے صرف بتیس (32) سوار تھے اور انہوں نے جس طرف بھی رخ کیا تو اہل کوفہ کے سواروں کو شکست دی۔ عزرہ بن قیس اہل کوفہ کا کمانڈر تھا۔ اُس نے جب دیکھا کہ اُس کے رسالہ کے سوار ہر طرف سے پسپا ہو رہے ہیں تو اُس نے عمر بن سعد کے پاس یہ کہلا بھیجا تو دیکھ رہا ہے کہ ان چند سواروں کے مقابلے میں میرا رسالہ کتنی دیر سے منتشر ہو رہا ہے۔ اب ان کے لئے پیادوں (پیدلوں) کو اور تیر اندازوں کو جلدی بھیج دئے ۔ عمر بن سعد نے شبث بن ربعی کوحکم دیا: ” تم اُن سے لڑنے کے لئے اپنے تیر اندازوں کولیکر جاؤ ۔ شبث بن ربعی نے کہا: "سبحان اللہ ! اس شخص کو جو قوم عرب کا اور تمام شہروں کا بزرگ ہے۔ تم چاہتے ہوں کہ اُس کے مقابلے پر تیر اندازوں کو لیکر جائے تمہیں کوئی دوسرا نہیں ملتا جو اس کام کی حامی بھرے اور میری ضرورت نہ ہو۔“ اس کے بعد اُس نے کہا: اہل کوفہ کواللہ تعالیٰ کبھی خیر و خوبی نصیب نہیں کرے گا اور اُن کو کبھی راہ راست کی توفیق نہیں دے گا۔ تعجب کی بات ہے کہ ہم لوگ پانچ سال تک حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہے اور پھر اُن کے بیٹے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہے۔ پھر اب ہم یزید اور سمیہ فاحشہ کے بیٹے کے ساتھ ملکر ان کے دوسرے بیٹے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو جو اس وقت روئے زمین پر سب سے افضل ہیں شہید کریں؟ ہائے ہماری گمراہی اور زیاں کاری“۔ غرض اسی طرح شبث بن ربعی حملہ کرنے سے پہلو تہی کرتا رہا۔ پھر عمر بن سعد نے حصین بن نمیر تمیمی کو حکم دیا اور وہ اپنے تمام زرہ پوشوں اور پانچ سو تیر اندازوں کے ساتھ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کے سامنے آیا اور تیر برسانے لگا تھوڑی ہی دیر میں آپ رضی اللہ عنہ کے تمام ساتھی پیدل ہو گئے۔


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھی پیدل ہو گئے


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے تمام ساتھی بہت ہی دلیری اور جرات سے لڑ رہے تھے۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : شمر بن ذی جوشن نے اپنے میسرہ کو لیکرحملہ کیا۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھی نہایت استقلال سے جی تو ڑ کر جواب دینے لگے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ حالانکہ صرف بتیس (33) سوار تھے لیکن وہ جس طرف بھی رخ کرتے تھے تو صف کی صف اُلٹ جاتی تھی اور لوگ تتر بتر ہو کر ادھر ادھر بھاگ کھڑے ہوتے تھے۔ سواران کوفہ اُن کے مقابلے پر جانے سے جی چراتے تھے۔ عزرہ بن قیس جو سواروں کا کمانڈ رتھا اُس نے جنگ کا عنوان بگڑتا دیکھا تو عمر بن سعد کے پاس کہلا بھیجا کہ ان چند سواروں نے ہمارے سواروں کے چھکے چھڑا دیئے ہیں اور اگر جنگ کا یہی عنوان رہا تو عنقریب ہم بھاگ کھڑے ہوں گے۔ اس لئے مناسب ہے کہ تیر اندازوں اور پیادوں کو آگے بڑھنے کا حکم دو ۔ عمر بن سعد نے شبث بن ربعی کو تیر اندازی کرنے کا حکم دیا لیکن اُس نے انکار کر دیا۔ تب حصین بن نمرہ کو پانچ سو تیر اندازوں کے ساتھ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلے پر تیر باری کرنے کے لئے بھیجا۔ وہ اپنے پانچ سو تیر اندازوں کے ساتھ قریب پہنچ کر آپ رضی اللہ عنہ کے سواروں پر تیر برسانے لگا۔ تھوڑی ہی دیر میں آپ رضی اللہ عنہ کے سواروں کے تمام گھوڑے زخمی ہو گئے اور آپ رضی اللہ عنہ کے تمام ساتھی پیدل ہو کر جنگ لڑنے لگے۔ حضرت حر بن یزید رضی اللہ عنہ کا گھوڑا بھی مرگیا اور وہ بھی پیدل ہی لڑنے لگے۔


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!


Saltanat e Umayya part 20

 20 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 20

خیموں کو آگ لگانے کی کوشش، حضرت حبیب بن مظاہر کی شہادت، حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ کی شہادت، نماز خوف اور حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ کی شہادت، حضرت نافع بن بلال رضی اللہ عنہ کی گرفتاری اور شہادت، حضرت حنظلہ بن اسعد شامی رضی اللہ عنہ کی شہادت، ساتھیوں کی جاں نثاری، حضرت شوذب اور حضرت عابس بن شبیب کی شہادت، حضرت یزید بن مہاجر زیا درضی اللہ عنہ کی شہادت، حضرت یزید بن مہاجر زیا درضی اللہ عنہ کی شہادت، 



خیموں کو آگ لگانے کی کوشش


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلے والے سو سے بھی کم تھے اس کے باوجود چار ہزار سے زیادہ کے لشکر کا مردانہ وار مقابلہ کر رہے تھے۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: دوپہر تک لڑائی نہایت تیزی اور سختی سے جاری رہی اور ملک شام کا لشکر کشیر ہونے کے باوجود اُن لوگوں کے حملے کا جواب نہیں دے پار ہا تھا اور نہ ہی اُن کے قریب پہنچ کر حملہ آور ہو پارہا تھا۔ عمر بن سعد نے مجبور ہو کر چند سپاہیوں کو آپ رضی اللہ عنہ کے خیموں کی طرف سے حملہ کرنے کے لئے بھیجا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں میں سے صرف چار افراد کو مخالفین کو روکنے کے لئے متعین کیا جو بھی دستہ یا فوج سواروں یا پیادوں کا ملک شام کے لشکر سے نکل کر خیموں کی طرف بڑھتا تھا۔ اُسے خیمہ تک پہنچنا تو دور کی بات ہے راستے میں ڈھیر ہو جانا پڑتا تھا۔ تب عمر بن سعد نے خیموں پر دور سے ہی آگ برسانے کا حکم دیا۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم لوگ مجھ سے لڑ رہے ہو تو مجھ ہی سے لڑو، خیموں میں عورتوں اور بچوں کے سوا کوئی مرد نہیں ہے۔ وہ غریب نکل کر بھاگ نہیں سکیں گی اور اور ہم خیموں کے جلنے کے بعد تم سے لڑ نہیں سکیں گے۔ عمر بن سعد یہ سن کر خاموش ہو گیا۔ اس کے بعد شمر بن ذی جوشن حملہ کر کے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے خیمے تک پہنچ گیا اور بولا : ”اگر میں اس خیمے کو نہیں جلا دوں تو مجھے جہنم میں جلنا نصیب ہو“۔ یہ سن کو عورتیں چلا کر خیموں سے باہر آ گئیں ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے شمر کو ڈانٹ کر فرمایا: 'سٹو میرے خیمے کو جلائے گا جس میں میرے اہل بیت ہیں؟ اللہ مجھے جلائے“ شمر بن ذی جوشن نے اس کا کچھ جواب نہیں دیا۔ حمین بن مسلم اور شبت بن ربعی نے اُس کو اس فعل شنیع سے روکنے کی کوشش کی لیکن وہ بد بخت نہیں مان رہا تھا اور برابر خیمے کی طرف آگ لگانے کے بڑھتا جارہا تھا۔ حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ نے اپنے دس ساتھیوں کے ساتھ الگ ہو کر شمر بن ذی جوشن اور اُس کے دستے پر حملہ کر دیا۔ شمر کے ساتھیوں میں سے ایک ابوغرہ ضیابی اور بہت سے سپاہی مارے گئے اور آخر کار اسے مجبور ہو کر واپس جانا پڑا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اسی حالت میں سیدہ ام وہب رضی اللہ عنہا اپنے شوہر حضرت عبد اللہ بن عمر کلبی رضی اللہ عنہ کی لاش کے پاس آئیں اور اُن کا سر اپنے زانو پر رکھ لیا اور گردوغبار اُن کے چہرہ سے صاف کرتی جاتی تھیں اور فرماتی جاتی تھیں : " تم کو جنت میں جانا مبارک ہو ۔ شمر بن ذی جوشن نے آپ رضی اللہ عنہا کو یہ فرماتے سنا تو اپنے ایک غلام رستم سے کہا: ” اس عورت کے سر پر ایک لٹھ مار ۔ اُس بد بخت نے سیدہ ام و ہب رضی اللہ عنہا کے سر پر ایسا لٹھ مارا کہ سر پاش پاش ہو گیا اور آپ رضی اللہ عنہا و ہیں شہید ہو کر شوہر کی لاش پر گر گئیں۔ 


حضرت حبیب بن مظاہر کی شہادت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ انتہائی جوانمردی اور دلیری اور بہادری سے دشمنوں کا مقابلہ کر رہے تھے کہ اس دوران ظہر کی نماز کا وقت آگیا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: چونکہ شامیوں (اہل کوفہ ) کے لشکر کی تعداد زیادہ تھی اور کثرت کی وجہ سے دو، چار، پانچ ، دس اور بیس کا مارا جاتا انہیں کچھ بھی محسوس نہیں ہوتا تھا۔ جبکہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کو اُن کی قلت کی وجہ سے ایک ساتھی کے شہید ہونے کا بھی انہیں شدت سے احساس ہوتا تھا۔ لڑائی اسی شدت سے چل رہی تھی کہ ظہر کی نماز کا وقت آگیا۔ حضرت ابو ثمامہ صائدی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”میں آپ رضی اللہ عنہ پر فدا ہو جاؤں ، میں دیکھ رہا ہوں کہ دشمن آپ رضی اللہ عنہ سے زیادہ قریب ہو گئے ہیں۔ اللہ کی قسم ! جب تک میں زندہ ہوں انشاء اللہ آپ رضی اللہ عنہ پر کوئی آنچ نہیں آنے دوں گا۔ میں چاہتا ہوں کہ اپنے رب سے ہم اُس وقت میں جب ہم اس وقت کی نماز پڑھ لیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں دعائے خیر دی اور فرمایا: ہاں ! یہ نماز کا اول وقت ہے ۔ پھر عمر بن سعد اور شمر بن ذی جوشن کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: ” ان لوگوں سے کہو کہ تھوڑی دیر کے لئے جنگ کو ملتوی کر دیں تا کہ ہم نماز پڑھ سکیں“۔ حضرت ابو ثمامہ رضی اللہ عنہ اور باقی ساتھیوں نے دشمنوں سے جنگ بندی کی درخواست کی۔ حصین بن نمیر بولا : ” تمہاری یہ نماز قبول نہیں کی جائے گی“۔ حضرت حبیب بن مظاہر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” کیوں سگِ دنیا! ( دنیا کے کتے ! تیارا خیال ہے کہ تیری نماز قبول ہوگی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل کی نماز قبول نہیں ہوگی ؟ حصین بن نمیر نے یہ سن کر طیش میں آکر حضرت حبیب بن مظاہر رضی اللہ عنہ پرگھوڑا چڑھانا چاہا۔ حضرت حبیب بن مظاہر رضی اللہ عنہ نے لپک کر اُس کے گھوڑے پر تلوار کا وار کیا اور گھوڑا اُلٹ کر گر پڑا اور حصین بن نمیر بھی منہ کے بل گر پڑا ۔ اُس کے ساتھیوں نے دوڑ کر اُسے اُٹھایا اور حضرت حبیب بن مظاہر رضی اللہ عنہ نہایت بہادری سے اُن سب سے لڑنے لگے۔ اور بنو جیم کے ایک شخص بدیل بن مریم کو قتل کر دیا۔ ایک دوسرے شخص نے آپ رضی اللہ عنہ پر نیزے کا وار کیا لیکن آپ رضی اللہ عنہ نے اُس کا وار خالی کر دیا اور اُس پر دار کیا ہی تھا کہ پیچھے سے حصین بن نمیر نے تلوار کا وار کر دیا جس سے آپ رضی اللہ عنہ گر پڑے اور اُس نے آپ رضی اللہ عنہ کا سرکاٹ لیا اور شہید کر دیا۔


حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ کی شہادت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اپنے کمانڈر کو شہید ہوتے دیکھا تو آپ رضی اللہ عنہ خود میدان جنگ میں جانے کے لئے تیار ہو گئے ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: حضرت حبیب بن مظاہر رضی اللہ عنہ کے شہید ہونے سے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کوسخت صدمہ ہوا اور آپ رضی اللہ عنہ بہ نفس نفیس میدان میں جانے کے لئے تیار ہو گئے ۔ یہ دیکھ کر حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ اور حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور عرض کیا : ” ہم آپ رضی اللہ عنہ پر سینہ سپر ہو کر فدا ہونے کے لئے موجود ہیں اور ہمارے ہوتے ہوئے آپ رضی اللہ عنہ میدان جنگ میں تشریف نہ لے جائے ۔ اُن دونوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو روک دیا اور خود میدان جنگ میں پہنچ گئے اور دونوں نے ملک شام کے لشکر پر ایک ساتھ حملہ کر دیا۔ جب ایک شخص لڑتے لڑتے دشمنوں میں گھر جاتا تو دوسراختی اور تیزی سے حملہ کر دیتا اور اپنے ساتھی کو دشمنوں کے نرغے سے نکال لاتا۔ تھوڑی دیر تک یہ دونوں حضرات اسی طرح لڑتے رہے اور دشمنوں کے بیسوں سپاہیوں کوقتل کر دیا۔ حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ تو بہت ہی دلیری اور جانبازی سے لڑ رہے تھے۔ عمر بن سعد نے پیدل سپاہیوں کو حکم دیا تو انہوں نے چاروں طرف سے حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ کو گھر لیا۔ حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ کافی پیچھے رہ گئے اور حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ مسلسل دشمنوں کو قتل کرتے کرتے کافی آگے بڑھ گئے ۔ آخر کار حضرت حربن یزید رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب حضرت حبیب بن مظاہر رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے تو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا دل ٹوٹ گیا اور آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں نے اپنے نفس اور اپنے ساتھیوں کو اللہ کے حوالے کیا ۔ اب حضرت حر بن یزید رضی اللہ عنہ نے رجز پڑھنا شروع کیا اور اُن کے ساتھ شریک ہو کر حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ بھی شدید قتال کیا۔ اُن دونوں میں سے ایک شخص حملہ کرتا تھا اور جب وہ دشمنوں میں گھر جاتا تھا تو دوسرا حملہ کر کے اُسے چھڑا لیتا تھا۔ ایک ساعت تک دونوں اسی طرح شمشیر زنی کرتے رہے۔ اس کے بعد پیادوں کے جم غفیر نے ہجوم کر کے حضرت حربن یزید رضی اللہعنہ کو شہید کر دیا ۔ حضرت ابو ثمامہ صائدی رضی اللہ عنہ نے اپنے چچا زاد کو جودشمنوں کے ساتھ تھا قتل کر دیا۔


نماز خوف اور حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ کی شہادت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھی آپ رضی اللہ عنہ پر اپنی جانیں فدا کر رہے تھے اور ایک ایک کر کے شہید ہوتے جارہے تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اس کے بعد سب نے نماز ظہر پڑھی۔ یہ صلوۃ الخوف ( نماز خوف ) تھی جو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ پڑھی۔ ظہر کی نماز کے بعد پھر سے جنگ ہونے لگی اور دشمن حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ تک پہنچ گئے ۔ یہ دیکھ کر حضرت حنفی رضی اللہ عنہ آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے آکر کھڑے ہو گئے اور آپ رضی اللہ عنہ کو بچانے کے لئے خود تیروں کا نشانہ بن گئے ۔ وہ آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے ڈٹ کر کھڑے رہے اور دائیں اور بائیں جانب اور سامنے سے مسلسل تیرا نہیں آ آ کر لگتے رہے۔ آخر کار تیر کھاتے کھاتے گر گئے ۔ حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ رجز پڑھتے جا رہے تھے اور دشمنوں کے سامنے آپ رضی اللہ عنہ کی ڈھال بنے کھڑے تھے۔ انہوں نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو پوری طرح ڈھانپ رکھا تھا اور اُن سے عرض کیا : اے مہدی ہادی پڑھیئے! اپنے جد اعلی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اپنے والد محترم حضرت علی رضی اللہ عنہ، اپنے بھائی حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ ، اپنے چچا حضرت جعفر بن ابی طالب طیار رضی اللہ عنہ اور اللہ کے شیر حضرت حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے ملاقات کیجیے۔ اسی حالت میں کثیر بن عبداللہ تھی اور مہاجر بن اوس نے حملہ کر کے حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا۔


حضرت نافع بن بلال رضی اللہ عنہ کی گرفتاری اور شہادت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھی مسلسل آپ رضی اللہ عنہ پر اپنی جانیں فدا کرتے جارہے تھے اور اللہ تعالیٰ نے آپ رضی اللہ عنہ کو اتنی ہمت عطا فرمائی کہ آپ رضی اللہ عنہ انتہائی صبر سے ایک ایک کر کے اپنے ساتھیوں کو شہید ہوتے دیکھ رہے تھے اور دشمنوں سے مقابلہ بھی کرتے جارہے تھے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت نافع بن ہلال جملی رضی اللہ عنہ زہر میں بجھے ہوئے تیر اپنی کمان پر لگا لگا کر چلاتے جارہے تھے اور فرماتے جا رہے تھے : میں جملی ہوں اور حضرت علی بن ابی طالب اور اُن کے بیٹے کے ساتھیوں میں سے ہوں۔ دشمنوں کے بارہ سپاہیوں کو آپ رضی اللہ عنہ قل کیا اور کچھ لوگوں کو بھی بھی کیا۔ دشمنوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور ہر طرف سے وار کرنے لگے۔ آپ رضی اللہ عنہ ہر طرف گھوم گھوم کر مقابلہ کرتے رہے۔ پہلے ایک بازو کٹا پھر دوسرا باز بھی کٹ گیا تو دشمنوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو گر فتار کر لیا۔ شمر بن ذی جوشن اور اُس کے ساتھی آپ رضی اللہ عنہ کو دھکیلتے ہوئے عمر بن سعد کے پاس لائے تو اُس نے پوچھا: ”اے نافع اتم نے اپنے نفس کے ساتھ ایسی برائی کیوں کی ؟ حضرت نافع بن ہلال رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میرے ارادے کا حال اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے“۔ اُن کی داڑھی سے خون بہتا جارہا تھا اور وہ فرماتے جارہے تھے : ”میں نے تیرے بارہ سپاہیوں کو قتل کیا ہے اور مجھے ذرا بھی پشیمانی نہیں ہے۔ میرے بازو اگر کٹ نہیں گئے ہوتے تو تم مجھے گرفتار نہیں کر سکتے تھے ۔ شمر بن ذی جوشن نے عمر بن سعد سے کہا: اللہ آپ کو سلامت رکھے! اسے قتل کر دیجیے ۔ عمر بن سعد نے کیا: تو ہی ان کو لیکر آیا ہے اگر قتل کرنا چاہتا ہے تو تو ہی قتل کر دے۔ شمر بن ذی جوشن نے تلوار کھینچی تو حضرت نافع بن بلال رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کا شکر ہے کہ جو لوگ بدترین مخلوق میں سے ہیں اُن کے ہاتھوں ہماری موت اُس نے مقدر کی ہے۔ اس کے بعد شمر بن ذی جوشن نے آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا۔


حضرت حنظلہ بن اسعد شامی رضی اللہ عنہ کی شہادت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کوگھیر لیا گیا تھا اور ہر طرف سے حملے ہورہے تھے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اسی دوران حضرت حنظلہ بن اسعد شامی رضی اللہ عنہ آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے آکر ڈھال بن کر کھڑے ہو گئے اور بلند آواز سے پکار پکار کر فرمانے لگے: ”اے میری قوم والو! مجھے ڈر ہے کہ تم لوگوں پر جنگ احزاب کا ساعذاب نازل ہوگا ۔ جیسا کہ قوم نوح اور قوم عاد اور قوم ثمود پر اور اُن کے بعد والوں پر نازل ہوا اور اللہ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرنا چاہتا۔ اے میری قوم کے لوگو! مجھے تمہارے لئے قیامت کے دن کا ڈر ہے جس روز تم پیٹھ پھیرے ہوئے بھاگتے پھرو گے اور اللہ کی طرف سے تمہارا کوئی بچانے والا نہیں ہوگا۔ اور سنو! جسے اللہ گراہ کرتا ہے اُسے راہ پر لگانے والا کوئی نہیں ملتا۔ اے میری قوم کے لوگو! حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو شہید نہ کرو ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ اپنا عذاب نازل کر کے تمہیں تباہ کر دے۔ اور سنو! جس نے اللہ پر بہتان لگا یا وہ زیاں کا رہے۔ حضرت حنظلہ بن اسعد شامی رضی اللہ عنہ کا یہ کلام سن کر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے حنظلہ بن اسعد رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے۔ یہ لوگ اُسی وقت اللہ کے عذاب کے سزاوار ہو چکے تھے جب تم نے انہیں حق کی طرف پکارا تھا اور انہوں نے تمہارے قول کو رد کر دیا تھا۔ تمہارا اور تمہارے ساتھیوں کا خون بہانے پر آمادہ ہو گئے اور اب تو یہ لوگ تمہارے صالح بھائیوں کو شہید بھی کر چکے ہیں ۔ حضرت حنظلہ بن اسعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ” میں آپ رضی اللہ عنہ پر فدا ہو جاؤں ! آپ رضی اللہ عنہ نے بیچ فرمایا ہے اور آپ رضی اللہ عنہ مجھ سے زیادہ افقہ ہیں اور اس منصب کے احق ہیں۔ کیا ابھی بھی ہم اپنے صالح بھائیوں سے ملنے کو نہ جائیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے اجازت دے دی اور فرمایا: ”جاؤ اُس دار البقا“ کی طرف جو دنیا و مافیہا سے بہت بہتر ہے ۔ حضرت حنظلہ بن اسعد شامی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : "السلام علیکم یا اباعبد اللہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے ) رضی اللہ عنہ! اللہ تعالیٰ آپ رضی اللہ عنہ پر اور آپ رضی اللہ عنہ کے اہل بیت پر صلوٰۃ بھیجے اور ہم کو آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنت میں ملائے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر دو مرتبہ آمین فرمایا۔ اس کے بعد حضرت حنظلہ بن اسعد رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور دشمنوں پر زبردست حملہ کیا اور زبردست شمشیر زنی کرتے رہے یہاں تک کہ شہید ہو گئے اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ پر فدا ہو گئے۔


ساتھیوں کی جاں نثاری


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے تمام ساتھی آپ رضی اللہ عنہ پر اپنی جانیں فدا کر رہے تھے۔ بڑے تو بڑے یہاں تک کہ نوجوان بھی آپ رضی اللہ عنہ پر اپنی جانیں نچھاور کر رہے تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اب شمر بن ذی جوشن رجز پڑھتا ہوا حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کی طرف بڑھا۔ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں نے جب یہ دیکھا کہ قاتلوں کا بڑا ہجوم ہے اور اب نہ تو وہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو بچا سکتے ہیں اور نہ ہی خود کو بچا سکتے ہیں تو سب کی یہی آرزو ہوئی کہ آپ رضی اللہ عنہ پر اپنی جانیں نچھاور کر دیں اور آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے ہی شہید ہو جائیں۔ عزرہ غفاری کے دونوں بیٹے حضرت عبداللہ اور حضرت عبدالرحمن آپ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور عرض کیا: ”اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے رضی اللہ عنہ! السلام علیکم دوشمن نے ہمیں آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ گھیر لیا ہے اور ہماری آرزو ہے کہ ہم آپ رضی اللہ عنہ پر اپنی جان نچھاور کر دیں اور آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے شہید ہوتے جائیں اور آپ رضی اللہ عنہ کو دشمنوں سے بچاتے جائیں اور اُن کے نرغہ کو ہٹاتے جائیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” مرحبا میرے بچو! آؤ! میرے قریب آجاؤ“ دونوں آپ رضی اللہ عنہ کے قریب آگئے اور رجز پڑھ پڑھ کر بڑھ بڑھ کر شمشیر زنی کرنے لگے۔ حضرت سیف بن حارث اور حضرت مالک بن عبد رضی اللہ عنہم دونوں چازاد بھائی ہیں۔ ماں دونوں کی ایک تھی۔ یہ دونوں نوجوان روتے ہوئے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میرے بچو ا تم رو کیوں رہے ہو؟ اللہ کی قسم! میں جانتا ہوں کہ اب تھوڑی دیر میں ہی تم خوش ہو جاؤ گے ۔ انہوں نے عرض کیا: ” ہم آپ رضی اللہ عنہ پر فدا ہو جائیں ! ہم اپنے لئے نہیں رور ہے ہیں بلکہ ہمیں آپ رضی اللہ عنہ کے حال پر رونا آرہا ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ دشمنوں کے نرغے میں ہیں اور ہم آپ رضی اللہ عنہ کو بچا نہیں سکتے ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "میری حالت پر غمگین ہونے کی جزا اور میرے ساتھ ہمدردی کرنے کا عوض اے بیٹو! اللہ تعالیٰ تمہیں ضرور ایسا ثواب عطا فرمائے گا جیسا ثواب وہ اپنے نیک بندوں کو عطا فرماتا ہے ۔ اس کے بعد یہ دونوں نو جوان آگے بڑھے اور مڑ مڑ کر کہتے جاتے تھے : "اسلام علیکم ! اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے رضی اللہ عنہ ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : ”وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ۔ اس کے بعد اُن دونوں نے دشمنوں پر زبر دست حملہ کیا اورکئی دشمنوں کو قتل کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔


حضرت شوذب اور حضرت عابس بن شبیب کی شہادت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھی آپ رضی اللہ عنہ کو بچانے کی بھر پور کوشش کر رہے تھے اور اپنی اپنی جانیں آپ رضی اللہ عنہ پر فدا کر رہے تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت عابس بن ابی شعیب شاکری رضی اللہ عنہ بھی حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور اُن کے ساتھ اُن کے آزاد کردہ غلام حضرت شوذب رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ انہوں نے حضرت شوذب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ” کہو کیا ارادہ ہے؟ حضرت شوذب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی سیدہ فاطمہ زہرہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے میں بھی لڑنا چاہتا ہوں اور اُن پر اپنی جان فدا کرنا چاہتا ہوں۔ حضرت عابس بن شعیب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” مجھے تم سے یہی اُمید تھی ۔ پھر جب اپنی جان اُن پر فدا کرنا ہی ہے تو آؤ میں تمہیں حضرت ابو عبد اللہ ( حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے ) رضی اللہ عنہ کے سامنے رخصت کروں ۔ اگر اس وقت تجھ سے بھی بڑھ کر میرا کوئی رشتہ دار ہوتا تو میری یہی خوشی تھی کہ میں اُسے رخصت کرتا ۔ آج کا دن وہ دن ہے کہ جتنا ہم سے ہو سکے ہم ثواب لوٹ لیں ۔ بس آج کے بعد عمل خیر کا موقع نہیں ہے بلکہ حساب کا دن آنے والا ہے ۔ حضرت شوذب رضی اللہ عنہ نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سلام کر کے لڑنے کے لئے آگے بڑھے اور کئی دشمنوں کو قتل کرتے ہوئے شہید ہو گئے ۔ حضرت عابس بن شبیب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ” اے ابوعبداللہ رضی اللہعنہا اللہ کی قسم ! آپ رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر اس روئے زمین پر مجھے کوئی عزیز نہیں ہے۔ اگر آپ رضی اللہ عنہ پر اپنی جان فدا کرنے اور اپنا خون بہا دینے سے بڑھ کر بھی کوئی ایسی بات ہوتی جس سے میں آپ رضی اللہ عنہ کو اس مصیبت سے بچا سکتا تو میں وہ بھی کر گزرتا ۔ السلام علیکم یا ابوعبداللہ رضی اللہ عنہ! میں اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ آپ رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے والد محترم حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہدایت پر ہیں ۔یہ فرما کر وہ تلوار کھینچے ہوئے دشمنوں کی طرف چلے ۔ اُن کی پیشانی پر زخم کا نشان تھا۔ ربیع بن تمیم نے اُن کو آتے دیکھ کر پہچان لیا کیونکہ وہ انہیں اور بھی کئی معرکوں میں دیکھ چکا تھا اور جانتا تھا کہ یہ بہت بہادر ہیں۔ ربیع بن تمیم نے اپنے ساتھیوں سے کہا: یہ شخص میدان جنگ کا شیر ہے۔ یہ عابس بن شبیب ہے اور تم میں سے کوئی ایک شخص اس سے لڑنے کے لئے ہر گز نہ جائے۔ حضرت عابس بن شبیب رضی اللہ عنہ نے میدان میں آکر دشمنوں کو پکارا : " کیا ایک کے مقابلے میں کوئی ایک بھی نہیں نکلے گا ؟ عمر بن سعد نے کہا: ” دور سے پتھر مار مار کر اس شخص کو زخموں سے چور چور کر دو ۔ دشمنوں نے چاروں طرف سے آپ رضی اللہ عنہ پر پتھر برسانے شروع کر دیئے۔ یہ دیکھ کر آپ رضی اللہ عنہ نے زرہ اور مغر کو اتار ڈالا اور تلوار لیکر ان لوگوں پر حملہ کیا۔ ربیع کہتا ہے : اللہ کی قسم ! ہم دوسو سے زیادہ آدمی تھے لیکن جب انہوں نے ہم پر حملہ کیا تو ہم سب بھاگ کھڑے ہوئے۔ پھر پلٹ کر اُن پر ہر طرف سے حملہ کر دیا۔ وہ بہت بہادری سے ہم سے مقابلہ کرتے رہے اور ہم میں سے کئی لوگوں کوقتل کر دیا لیکن ہم اتنے زیادہ تھے کہ انہیں گھیر کر شہید کر دیا ۔


حضرت یزید بن مہاجر زیا درضی اللہ عنہ کی شہادت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ پر اُن کے ساتھی مسلسل اپنی جان فدا کر رہے تھے۔ ان میں حضرت یزید بن زیاد رضی اللہ عنہ بھی ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے جب دیکھا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے اطراف اُن کے ساتھی شہید ہو گئے ہیں تو خود ان کے آگے آکر سینہ سپر ہو گئے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: بنو بہدلہ کے حضرت ابو شعنا یزید بن زیاد درضی اللہ عنہ اُس وقت تک دشمنوں پر تیر چلا رہے تھے۔ یہ عمر بن سعد کے ساتھ لشکر میں تھے لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ عمر بن سعد آپ رضی اللہ عنہ کی کسی بات کو نہیں مان رہا ہے تو آپ رضی اللہ عنہ آ کر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے مل گئے اور اُن کی طرف سے اہل کوفہ کے لشکر کے خلاف لڑے۔ اب وہ آکر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے آگے دوزانو ہو کر کھڑے ہو گئے اور دشمنوں پر تیر چلانا شروع کر دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے لگ بھگ سو تیر چلائے جس میں سے صرف پانچ ہی خطا ہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہ تیر چلاتے جا رہے تھے اور یہ فرماتے جا رہے تھے : ” میرا نام یزید ہے، میرے والد محترم کا نام مہاجر ہے۔ میں شیر بیشہ شجاعت ہوں ، اے اللہ ! میں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا ناصر ہوں اور عمر بن سعد کا ساتھ میں نے چھوڑ دیا ہے ۔ جب آپ رضی اللہ عنہ کے پاس تیر ختم ہو گئے تو تلوار لیکر دشمنوں پر ٹوٹ پڑے اور زبردست بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!


Saltanat e Umayya part 21


 21 سلطنتِ امیہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 21

حضرت علی (اکبر ) بن حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت، حضرت عبد اللہ بن مسلم، حضرت عون اور حضرت محمد رضی اللہ عنہم کی شہادت، حضرت قاسم بن حسن رضی اللہ عنہ کی شہادت، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ پر حملہ، حضرت عبد الله ( علی اصغر ) بن حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے چار اور بھائیوں کی شہادت، خیموں پر حملہ کی کوشش، بھتیجے کی جاں نثاری، بحر بن کعب کا انجام، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ پر تیروں کی بارش، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شجاعت، 



حضرت علی (اکبر ) بن حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے تمام ساتھی ایک ایک کر کے آپ رضی اللہ عنہ پر اپنی جانیں فدا کرتے چلے گئے ۔ یہاں تک کہ اب کوئی ساتھی نہیں بچا تھا۔ اب حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے بڑے بیٹے حضرت علی اکبر بن حسین رضی اللہ عنہ آگے بڑھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اولا د ابو طالب میں سے سب سے پہلے حضرت علی اکبر بن حسین رضی اللہ عنہ شہید ہوئے ۔ آپ رضی عنہ کی والدہ محترمہ سیدہ لیلی بنت ابومرہ ثقفی ہیں۔ یہ دشمنوں پر حملہ کرنے لگے اور ساتھ ہی فرماتے جارہے تھے : ”میرا نام علی بن حسین ہے قسم کعبہ کی! ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب تر ہیں۔ اللہ کی قسم اسمیہ کے بیٹے کے حکم کو ہم نہیں مانیں گئے ۔ مرہ بن منقد عبدی نے اُن کی طرف دیکھ کر کہا: ” یہ جوان میری طرف سے اسی طرح لڑتا ہوا اور یہ کلمہ کہتا ہوا گذرے اور میں اسکے باپ کو نہ دلاؤں تو سارے عرب کی پھٹکار ہے مجھے پڑ ۔ حضرت علی اکبر بن حسین رضی اللہ عنہ دشمنوں کو مارتے کاٹتے اور لڑتے ہوئے اُس کے پاس سے گذرے تو اُس بد بخت مرہ بن منقد عبدی نے سامنے اچانک آکر ایسی برچھی ماری کہ وہ گھوڑے سے گر پڑے۔ دشمنوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو گھیر لیا اور تلواریں مار مار کر ٹکڑے کر ڈالے اور شہید کر دیا۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : غرض جب تمام ساتھی شہید ہو گئے تو حضرت علی اکبر بن حسین رضی اللہ عنہ اپنے والد محترم سے اجازت لیکر میدان جنگ میں آئے اور سب سے پہلے ”آل ابی طالب میں سے یہی شہید ہوئے۔ انہوں شیروں کی کمال مردانگی سے مسلسل پیہم حملے کئے اور مخالفین کو اپنے پُر زور حملوں سے بار بار منتشر کر دیا لیکن ٹڈی دل ( بہت بڑا) لشکر کے مقابلے میں تن تنہا شخص کیا کر سکتا ہے؟ بالآخر مرہ بن منقذ عبدی نے پیچھے سے نیزہ مارا اور وہ چکرا کر گرے۔ دشمن سپاہیوں نے دوڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر کے شہید دیا۔


حضرت عبد اللہ بن مسلم، حضرت عون اور حضرت محمد رضی اللہ عنہم کی شہادت


حضرت علی اکبر بن حسین رضی اللہ شہید ہو گئے تو انہیں اُٹھا کر لایا گیا۔ علامہ حمد بن جریرطبری لکھتے ہیں : حمید بن مسلم کا بیان ہے کہ میں نے اپنے کان سے سنا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ فرمارہے تھے ۔ اللہ ان لوگوں کو قتل کرے اے بیٹے ! جنہوں نے تجھے شہید کیا ہے۔ اللہ پر اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آبروریزی پر کس قدر ان کی جرات بڑھی ہوئی ہے۔ بس تیرے بعد دنیا پر خاک ہے“۔ میں نے دیکھا کہ ایک بی بی خیمے سے نکل کر دوڑ کر آئیں تو ایسا لگا جیسے چاند نکل آیا ہو۔ وہ کپکپا رہی تھیں اور فرمارہی تھیں: ”اے میرے بھیا! اے میرے بھتیجے ۔ میں نے لوگوں سے اُن کے بارے میں پوچھا تو معلوم ہوا کہ سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا ہیں یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ک بیٹی سیدہ فاطمہ زہرہ رضی اللہ عنہا کی بیٹی ہیں ۔ وہ آئیں اور حضرت علی اکبر بن حسین رضی اللہ عنہ کی لاش پر گر پڑیں ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اُن کا ہاتھ تھاما اور انہیں خیمے میں لے گئے اور لڑکوں کو ساتھ لیکر آئے اور حکم دیا کہ لاش کو اٹھاؤ۔ لڑکے لاش میدان جنگ سے اُٹھا کر لے جا کر اُس خیمے کے سامنے لٹا دیا جس کے سامنے میدان جنگ تھا۔ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے بیٹے حضرت عبد اللہ بن مسلم رضی اللہ عنہ کوعمرو بن صبیح صدائی نے تیر مارا۔ حضرت عبد اللہ بن مسلم رضی اللہ عنہ نے ہاتھ پر ہاتھ کو رکھ لیا کہ سرکو تیر سے بچائیں۔ تیر ہاتھ کو چھیدتا ہواما تھے تک پہنچ گیا۔ اب ہاتھ کو جنبش بھی نہیں دے سکتے تھے۔ پھر اس بدبخت نے ہٹ کر دوسرا تیرول پر مارا۔ جس سے آپ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے۔ اب چاروں طرف سے دشمنوں نے ہجوم کر کے حملہ کر دیا۔ عبداللہ بن قطبہ طائی نے حضرت عون بن عبداللہ بن جعفر طیار رضی اللہ عنہ پر حملہ کر کے شہید کر دیا اور عامر بن نہشل نے اُن کے بھائی محمد بن عبداللہ بن جعفر طیار رضی اللہ عنہ پر حملہ کر کے شہید کر دیا ۔ حضرت عبد الرحمن بن عقیل رضی اللہ عنہ پر عثمان بن خالد جہنی اور بشر بن سوط ہمدانی نے ایک ساتھ حملہ کر دیا اور شہید کر دیا۔


حضرت قاسم بن حسن رضی اللہ عنہ کی شہادت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے تمام ساتھی اپنی جانیں آپ رضی اللہ عنہ پر فدا کر چکے تھے اور اب آپ رضی اللہ عنہ کے اہل بیت شہید  ہورہے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے بڑے بیٹے حضرت علی اکبر بن حسین رضی اللہ عنہ شہید ہو چکے تھے اور اب میدان جنگ میں آپ رضی اللہ عنہ کے بھیجے حضرت قاسم بن حسن رضی اللہ عنہ لڑ رہے تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حمید بن مسلم کہتا ہے میں نے ایک طفل ( نوجوان ) کو دیکھا جیسے چاند کا ٹکڑا ہاتھ میں تلوار لئے میدان جنگ کی طرف بڑھا۔ اُس کے گلے میں قمیص تھی پاؤں میں پاجامہ تھا اور مجھے خوب اچھی طرح یاد ہے کہ اُس کے جوتوں میں سے بائیں پاؤں کے جوتے کا تسمہ ٹوٹا ہوا تھا۔ اُس پیارے نوجوان کو دیکھ کر عمرو بن سعید از دی مجھے سے کہنے لگا: اللہ کی قسم! اسے تو میں قتل کروں گا ۔ میں نے کہا: "سبحان اللہ! اس نوجوان کو قتل کرنے میں تیرا کیا مقصد ہے؟ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کو تم نے گھیر کر شہید کر دیا ہے بس یہی تمہارے لئے کافی ہے ۔ اس نے جواب دیا : اللہ کی قسم! اسے تو میں ضرور قتل کروں گا ۔ یہ کہ کر اس نے حملہ کیا اور اُس نوجوان کے سر پر تلوار مار کا پلٹا۔ وہ نوجوان بچہ منہ کے بل گر پڑا اور چاچا کہ کر پکارا۔ یہ سن کر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ شاہین کی طرح جھپٹ کر آئے اور شیر کی طرح غضبناک ہو کر عمرو بن سعید از دی پر حملہ کیا اور تلوار ماری۔ اُس نے تلوار کو بازو پر روکا تو ہاتھ کہنی سے کٹ کر الگ ہو گیا۔ وہ چلایا اور وہاں سے بھاگ کر ہٹ گیا۔ اہل کوفہ کے سوار دوڑے کہ عمرہ کو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے بچا کر لے جائیں۔ گھوڑے اُس کی طرف پلٹ پڑے اور اُن کے قدم اُٹھ گئے اور آخر کا ر انہیں کے گھوڑوں نے عمرو بن سعید از دی کو کچل کر رکھ دیا جس سے وہ مرگیا۔ غبار ہٹا تو میں نے دیکھا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اُس نو جوان بچے کے سرہانے کھڑے ہوئے ہیں اور وہ ایڑیاں رگڑ رہا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ فرمارہے تھے : ”اللہ سمجھے ان لوگوں سے، جنہوں نے تجھے شہید کیا ہے۔ جن سے قیامت کے دن تیرے والد محترم حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ خون کا دعوی کریں گے۔ اللہ کی قسم ! چا پر یہ امر شاق ہے کہ تو پکارے اور وہ جواب نہیں دے سکے اور جواب دے بھی تو اُس سے تجھے کچھ نفع نہ ہو۔ اللہ کی قسم ! تیرے چا کے دشمن بہت ہیں اور مددگار کم رہ گئے ہیں۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اُس نو جوان بچے کو گود میں اٹھالیا۔ میں نے دیکھا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اُسے سینے سے لگائے ہوئے تھے اور دونوں پاؤں اُس کے گھٹتے ہوئے جارہے تھے۔ میں نے اپنے دل میں سوچا کہ انہوں نے گود میں کیوں اٹھایا ہے؟ دیکھا کہ اُس کی لاش کو اپنے بڑے بیٹے حضرت علی اکبر بن حسین رضی اللہ عنہ کے پہلو میں اور جولوگ اُن کے خاندان کے شہید ہوئے تھے اُن کی لاشوں میں لٹا دیا۔ میں لوگوں سے پوچھا کہ یہ نوجوان بچہ کون ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ حضرت قاسم بن حسن رضی اللہ عنہ ہے۔


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ پر حملہ


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے تمام ساتھی شہید ہو چکے تھے اور اب آپ رضی اللہ عنہ کے اہل بیت ایک ایک کر کے شہید ہوتے جارہے تھے۔ خود آپ رضی اللہ عنہ پر بھی اب حملے ہونے لگے تھے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ” حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اس دن پہروں ایسی حالت میں رہے کہ جو شخص آپ رضی اللہ عنہ کی طرف بڑھتا تھا اور آپ رضی اللہ عنہ کے قریب پہنچ کر واپس چلا جاتا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے اور اس گناہ عظیم کو اپنے سر پر لینے سے جھجھک جاتا تھا۔ اسی دوران مالک بن نسیر کندی بد بخت آیا اور آپ رضی اللہ عنہ کے سر پر تلوار ماری آپ رضی اللہ عنہ کلاہ برنس پہنے ہوئے تھے۔ تلورا برنس کو کاٹتی ہوئی سر تک پہنچ گئی اور زخم کے خون سے ٹوپی لبریز ہوگئی ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” اس ضرب کا نفع تجھے یہ ملے کہ کھانا پینا نصیب نہ ہو اور اللہ تعالیٰ تیرا حشر ظالموں کے ساتھ کرئے“۔ یہ فرما کر آپ رضی اللہ عنہ نے ٹوپی کو اُتارا، زخم پر پٹی باندھی اور دوسری ٹوپی منگوا کر پہنی اور عمامہ باندھ لیا۔ مالک بن نسیر کندی نے آکر آپ رضی اللہ عنہ کی ٹوپی اُٹھالی اور جنگ کے بعد جب یہ ٹوپی لیکر اپنے گھر گیا اور اُس میں لگا خون دھونے لگا تو اس کی بیوی اُم عبد بنت حر نے کہا: "ہائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی رضی اللہ عنہا کے بیٹے رضی اللہ عنہ کی ٹوپی ٹوٹ کر تم میرے گھر لائے ہو۔ لے جاؤ اسے یہاں سے۔ لوگ کہتے ہیں کہ مالک بن نسیر سخت محتاجی میں مبتلا رہا اور دانے دانے کو تر ستارہا اور اسی حالت میں مرگیا۔


حضرت عبد الله ( علی اصغر ) بن حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے اہل بیت اب شہید ہوتے جارہے تھے اور آپ رضی اللہ عنہ پر بھی حملے ہونے لگے تھے۔ اسی حملے میں آپ رضی اللہ عنہ کے سب سے چھوٹے بیٹے حضرت عبداللہ (علی اصغر ) بن حسین رضی اللہ عنہ جو کہ دودھ پیتے بچے تھے اور پیاس سے تڑپ رہے تھے وہ بھی شہید ہو گئے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: ” حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو کسی نے ایک بچہ لا کر آپ رضی اللہ عنہ کو دیا اور آپ رضی اللہ عنہ نے اُسے گود میں لے لیا۔ یہ بچہ حضرت عبداللہ ( علی اصغر ) بن حسین رضی اللہ عنہ تھا۔ بنو اسد کے ایک شخص نے نشانہ لگا کر ایسا تیر مارا کہ وہ تیر بچے کے حلق میں اتر گیا اور بچہ ذبح ہو گیا۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اُس کے زخم پر چلوں گا دیا تو چلوخون سے بھر گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے خون زمین پر پھینک دیا اور فرمایا: "اے اللہ تعالیٰ ! تو نے اگر آسمان سے نصرت نہیں نازل کی تو جو اُس سے بہتر ہے وہ ہم کو عطا فرمادے اور ان ظالموں سے ہمارا انتقام لئے ۔ اس کے بعد ابن عقبہ غنوی نے حضرت ابو بکر بن حسن رضی اللہ عنہ کو تیر مارکر شہید کر دیا۔ اسی کے بارے میں کسی شاعر نے کہا ہے : ”ہمارے خون کی ایک وند قبیلہ بونی کی گردن پر اور دوسری بوند قبیلہ بنو اسد کی گردن پر ہے جس کا ذکر ہوتا رہے گا“۔ 


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے چار اور بھائیوں کی شہادت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے اہل بیت کو بے دردی سے شہید کیا جارہا تھا۔ اُس دوران حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے چار اور بھائی شہید ہو گئے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ” حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے بھائی حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائیوں حضرت عبداللہ بن علی ، حضرت جعفر بن علی، حضرت عثمان بن علی حضرت محمد بن علی رضی اللہ عنہم سے فرمایا: "اے میرے ماں جائے بھائیو! ( ان پانچوں بھائیوں کی والدہ ایک ہیں اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی والدہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ہیں جبکہ ان سب چھ بھائیوں کے والد حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں ) تم سب مجھ سے پہلے ہی جاؤ، تاکہ میں تمہارا وارث ہو جاؤں ۔ تمہاری کوئی اولاد نہیں ہے کہ اس حکم کو بجا لائے ۔ یہ سب بھائی میدان جنگ میں پہنچے اور زبردست مقابلہ کرنے لگے لیکن دشمن اتنے زیادہ تھے کہ کچھ دیر بعد تینوں شہید ہو گئے ۔ حضرت عبد اللہ بن علی رضی اللہ عنہ کو بانی حضرمی نے شہید کیا۔ اُس کو شہید کرنے کے بعد اُس نے حضرت جعفر بن علی رضی اللہ عنہ پر حملہ کر دیا اور انہیں بھی شہید کر کے سرکاٹ لیا۔ حضرت عثمان بن علی رضی اللہ عنہ کو خولی بن یزید اسمی نے تیر مارا اور بنو دارم کے ایک شخص نے اُن پر حملہ کر کے شہید کر دیا اور سر کاٹ لیا۔ پھر ایک شخص ساری نے حضرت محمد بن علی رضی اللہ عنہ کو تیر مار کر شہید کیا اور اُن کا سرکاٹ کر لے آیا۔


خیموں پر حملہ کی کوشش


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے اہل وعیال اور اہل بیت بھی شہید ہوتے جارہے تھے اور ساتھ ہی آپ رضی اللہ عنہ پر بھی حملے ہو رہے تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ سمر بن ذی جوشن کو فیوں میں سے دس پیادوں کو لیکر اس خیمے کی طرف بڑھا جس میں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اپنے اہل وعیال کے ساتھ تھے۔ یہ لوگ آگے بڑھے تو آپ رضی اللہ عنہ ان کے اور خیمے کے درمیان حائل ہو گئے اور فرمایا: ”وائے ہو تم پر! اگر تم لوگوں کا کوئی دین نہیں ہے اور قیامت کا کوئی خوف نہیں ہے تو کم سے کم دنیاوی طور پر تو اچھے انسانوں کا طریقہ اختیار کرو۔ میرے گھر کو اور میرے اہل و عیال کو جاہلوں اور نالائقوں سے بچاؤ شمر بن ذی جوشن نے کہا: ”اچھا اے فاطمہ زہرہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے ! ایسا ہی ہوگا“۔ اب وہ پیادوں کو لیکر آپ رضی اللہ عنہ کی طرف بڑھا۔ اُن لوگوں میں اب جنوب بعضی اور قشم بن عمر و علی صالح بن وہب یزنی ،سنان بن انس شخصی اور خولی بن یزید سجی تھے ۔ شمر بن ذی جوشن انہیں آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے پر آمادہ کرنے لگا اور ابو جندب کے پاس آیا۔ یہ سر سے پیر تک سلاح جنگی لگائے ہوئے تھا اس سے کہا: "حسین بن علی کی طرف بڑھ اور حملہ کر۔ ابو جندب نے کہا: تو خود کیوں نہیں بڑھتا اورحملہ کرتا ؟ شمر بن زی جوشن کہا: تو اور میرے ساتھ اس طرح بات کر رہا ہے ؟ ابو جندب بہت دلیر تھا بولا: اللہ کی قسم ! تیری آنکھ کو برچھی کی نوک سے گھنگول ڈالوں گا ۔ شمر بن ذی جوشن یہ سن کر وہاں سے سرک گیا اور کہتا جارہا تھا: اللہ کی قسم مجھے موقع ملا تو تجھ سے سمجھ لوں گا ۔ اور حملہ کرنے کی نیت سے آپ رضی اللہ عنہ کی طرف بڑھا۔ وہ سب آپ رضی اللہ عنہ کو گھیر نے کی کوشش کر رہے تھے ۔ آپ رضی اللہ عنہ حملہ کرتے تو سب بھاگ جاتے تھے یہاں تک کہ سب نے آپ رضی اللہ عنہ کو گھیر لیا 


بھتیجے کی جاں نثاری


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو دشمنوں نے گھیرے میں لے لیا تھا کہ اُسی وقت ایک حیرتناک واقعہ پیش آیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اس کے بعد دشمنوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو سب طرف سے گھیر لیا۔ یہ دیکھ کر ایک لڑکا یے سے نکلا اور بھاگ کر آپ رضی اللہ عنہ کے پاس آنے لگا۔ آپ رضی اللہ عنہ کی بہن سیدہ زینب رضی اللہ عنہا اس لڑکے کے پیچھے دوڑیں کہ اُسے روکیں۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے پکار کر فرمایا: ”زینب! اسے روکو لڑکا نہیں مانا اور دوڑتا ہوا آپ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ گیا اور پہلو میں کھڑا ہو گیا۔ بحر بن کعب نے آپ رضی اللہ عنہ پر تلوار اُٹھائی کہ وار کرے تو لڑکے نے کہا: ” او خبیث ! تو میرے چا پر حملہ کر رہا ہے؟ اس نے لڑکے پر وار کر دیا تو لڑکے نے تلوار کو روکنے کے لئے اپنا ہاتھ آگے کیا تو ہا تھ کٹ کر لٹک گیا اور صرف ایک تسمہ لگا رہ گیا۔ لڑکا ” اماں ، اماں“ کہ کر چلایا تو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اُس کو اپنے سینے سے لپٹا لیا اور فرمایا: ”اے میرے بھائی کے لخت جگر! اس مصیبت پر صبر کر اور اسے اپنے حق میں بہتر سمجھے اللہ تعالیٰ اب تجھ کو تیرے بزرگوں سے ملوا دے گا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت علی بن ابی طالب ، حضرت حمزہ بن عبد المطلب ، حضرت جعفر بن ابی طالب اور حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہم کے پاس پہنچا دے گا ۔ حمید بن مسلم کہتا ہے : " اُس دن میں نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اے اللہ! ان لوگوں کو آسمان کی بارش سے، زمین کی برکتوں سے محروم کر دے اور اگر تو ان کو مہلت دے تو ان میں تفرقہ ڈال دے۔ ان کو فرقہ فرقہ کر کے متفرق کر دے۔ ان کے حکام کو ان سے کبھی راضی نہ ہونے دے۔ انہوں نے ہمیں بلایا تھا نصرت کرنے کو اور ہمیں پر حملہ کرنے دوڑ پڑے اور انہوں نے ہمیں شہید کیا ۔ اس کے بعد جو پیادوں نے آپ رضی اللہ عہ کو گھر رکھا تھا اُن پر حملہ کیا اور سب کے سب پسپا ہو گئے۔


بحر بن کعب کا انجام


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ جانتے تھے کہ یہ بد بخت مجھے شہید کرنے کے بعد میری لاش کے ساتھ بہت برا سلوک کریں گے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے اہل بیت میں سے تین یا چار شخص باقی رہ گئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے ایک مضبوط برویمانی پاجامہ منگایا جس کی بناوٹ میں روئی کے بونڈروں کے ریزے دکھائی دے رہے تھے ۔ پھر اُسے چاک کر کے پھاڑ ڈالا۔ آپ رضی اللہ عنہ کو اندیشہ تھا کہ شہید کرنے کے بعد مجھے برہنہ نہ کر دیں۔ یہ دیکھ کر کسی نے کہا کہ اس کے نیچے جانگیہ بھی ہوتی تو اچھا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ بہت ذلیل لباس ہے مجھے نہیں پہنا چاہیئے ۔ اُن بدبختوں میں سے بحر بن کعب نے آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کے بعد پاجامہ اُتار کر برہنہ ڈال دیا تھا۔ جس کی وجہ سے اُس بدبخت کے ہاتھ ایسے ہو گئے تھے کہ جاڑوں میں دونوں ہاتھوں سے پانی پکا کرتا تھا اور گرمیوں میں لکڑی کی طرح سوکھ جایا کرتے تھے۔ وہ بد بخت اسی تکلیف میں مبتلا رہا اور تڑپ تڑپ کر مر گیا۔ 


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ پر تیروں کی بارش


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھی اور اہل بیت اپنی اپنی جانیں آپ رضی اللہ عنہ پر فدا کر چکے تھے اور اب آپ رضی اللہ عنہ تنہا میدان جنگ میں بہادری کے جوہر دکھا رہے تھے۔ کسی کی ہمت نہیں پڑتی تھی کہ آپ رضی اللہ عنہ کا سامنا کر سکے کیونکہ آپ رضی اللہ عنہ کی تلوار کے سامنے جو بھی آتا تھا اس کا سر ہوا میں اُڑتا ہوا دکھائی دیتا تھا۔ آخر کا ر اُن بدبختوں نے آپ رضی اللہ عنہ پر تیروں کی بارش کر دی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلے پر جب دشمنوں نے غلبہ حاصل کر لیا تو آپ رضی اللہ عنہ مسنات پر سوار ہوئے اور دشمنوں سے مقابلہ کرتے ہوئے آگے بڑھنے لگے۔ پیاس کی شدت غالب ہوئی تو آپ رضی اللہ عنہ پانی کی طرف آئے تو حصین بن تمیم نے آپ رضی اللہ عنہ کو تیر مارا جو دہانہ پر آ کر لگا۔ آپ رضی اللہ عنہ خون کو منہ سے ہاتھ میں لیتے جاتے تھے اور آسمان کی طرف پھینکتے جاتے تھے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور حمدوثنا کی پھر دونوں ہاتھوں کو ملا کر فرمایا: ” اے اللہ! ان سے گن گن کر بدلہ لے، ان کو چن چن کر ان میں سے کسی کو روئے زمین پر نہ چھوڑ“۔ جب آپ رضی اللہ عنہ نے دریائے فرات کی طرف رخ کیا تو بنو ابان میں سے ایک شخص نے پکار کا کہا: ” ارے ندی اور اُن کے درمیان حائل ہو جاؤ ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور لوگ دوڑ کر آپ رضی اللہ عنہ اور دریائے فرات کے درمیان حائل ہو گئے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ابانی کے بارے میں فرمایا: ”اے اللہ ! اسے تشنگی میں مبتلا کر۔ ابانی نے ایک تیر ایسا چلایا جو آپ رضی اللہ عنہ کی ٹھوڑی کے نیچے پیوست ہو گیا ۔ اُس تیر کو آپ رضی اللہ عنہ نے کھینچ کر نکالا اور زخم کے نیچے دونوں ہاتھوں سے چلو لگا دیئے۔ خون دونوں چلوؤں میں بھر گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” اے اللہ ! تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کے ساتھ جو سلوک کیا جارہا ہے میں اس کی فریاد تجھی سے کرتا ہوں“۔ بہت کم زمانہ گذرا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ابانی کو پیاس میں مبتلا کیا۔ کسی طرح اُس کی تشنگی بجھتی ہی نہیں تھی۔ پانی ٹھنڈا کیا جا تا تھا اور اس میں شکر ڈالی جاتی تھی۔ دودھ کے قدمے بھرے ہوئے تھے اور پانی کے مٹکے بھرے ہوئے تھے اور وہ یہی کہے جاتا تھا: ”ارے پانی پلاؤ۔ یہ پیاس مجھے مارے ڈالے جارہی ہے ۔ ایک مٹکا یا ایک قدح جس سے سارے گھر کی پیاس بجھ جاتی تھی اُسے دیا جاتا تھا اور وہ غٹاغٹ پی جاتا تھا اور برتن منہ سے ہٹا کر بولتا تھا: ”ارے پانی پلاؤ ، پیاس مجھے مارے ڈال رہی ہے۔ قاسم بن اصبغ نے یہ تماشہ دیکھا تھا وہ کہتا ہے : اللہ کی قسم اتھوڑے ہی دنوں میں اُس کا پیٹ اس طرح تڑک گیا جیسے اونٹ کا پیٹ“۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: اسی اثناء میں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ لڑتے بھڑتے دریائے فرات تک پہنچ گئے اور قریب تھا کہ آپ رضی اللہ عنہ پانی سے اپنے خشک حلق کو تر کر لیتے کہ اچانک حصین بن نمیر نے ایک تیر مارا جو آپ رضی اللہ عنہ کے منہ میں لگا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے تیر نکال کر پھینک دیا اور ہاتھ سے خون پو نچھتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے: "اے اللہ میں تجھ سے عرض کرتا ہوں کہ جو یہ لوگ تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کے ساتھ کر رہے ہیں، تو اُن زیادتیوں کو دیکھ۔ پھر شمر بن ذی جوشن تقریبا دس سپاہیوں کے ساتھ خواتین کے خیموں کی طرف بڑھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے دریائے فرات کو چھوڑ کر اُسے روکا اور فرمایا: ” تف ہو تجھ پر ! اگر تجھ میں دین داری نہیں ہے اور تو آخرت کا خوف نہیں رکھتا ہے تو شرافت کیوں چھوڑ رہا ہے؟ اپنے سپاہیوں کو روک اور میرے اہل وعیال کو اُن کی بے ہودگیوں سے بچا ۔ جب کسی نے کوئی جواب نہیں دیا تو آپ رضی اللہ عنہ تلوار کھینچ کر جھپٹے۔ دوسری طرف شمر بن ذی جوشن نے اپنے سپاہیوں کو للکارا تو سب نے آپ رضی اللہ عنہ کوگھیر لیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کایہ حال تھا کہ بجلی بنے ہوئے تھے اور آپ رضی اللہ عنہ جس طرف بھی رخ کرتے تھے تو لوگ جان بچا بچا کر ایک دوسرے پر منہ کے بل گرتے پڑتے بھاگ کھڑے ہوتے تھے اور پھر جھرمٹ باندھ کر ہر طرف سے گھیر کر دائیں بائیں آگے پیچھے سے مجموعی قوت سے حملہ آور ہوتے تھے۔


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شجاعت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے جسم مبارک پر جگہ جگہ تیر دھنسے ہوئے تھے ۔ پھر بھی آپ رضی اللہ عنہ بہت بہادری اور شجاعت سے مقابلہ کر رہے تھے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عبد اللہ بن عمار پر لوگوں نے عتاب کیا کہ تو بھی حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے والوں میں شامل تھا۔ عبداللہ نے کہا: میں نے تو بنو ہاشم پر احسان کیا۔ لوگوں نے پوچھا: تو نے کس طرح احسان کیا ؟ اس نے کہا: میں نے برچھی تان کر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ پر حملہ کیا اور اُن کے قریب پہنچا اور اللہ کی قسم ! میں انہیں برچھی مارہی دیتا لیکن پھر میں پیچھے ہٹ گیا۔ میں نے دل میں کہا کہ میں کیوں انہیں شہید کروں کوئی اور شہید کرے تو کرے۔ میں نے دیکھا کہ اُن کے دائیں بائیں سے جو پیادے نرغے میں لئے ہوئے تھے انہوں نے آپ رضی اللہ عنہ پرحملہ کر دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے دائیں طرف کے پیادوں پر حملہ کر کے سب کو منتشر کر دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ عمامہ باندھے ہوئے تھے اور خنز کا قمیص گلے میں تھا۔ اللہ کی قسم کسی ایسے بے کس اور بے بس کو جس کی اولاد اور اہل بیت اور ساتھی سب شہید ہو چکے ہوں اس دل سے اور اس حواس سے اور اس جرات سے لڑتے ہوئے میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ اللہ کی قسم نہ ان سے پہلے اُن کی مثل دیکھنے میں آیا اور نہ ہی اُن کے بعد دیکھنے میں آیا۔ وہ لوگوں پر شدید حملہ کر رہے تھے اور لوگ دائیں یا بائیں اس طرح بھاگ رہے تھے جیسے گرگ کے حملہ کے وقت بکریاں بھاگتی ہیں۔ اسی حالت میں اُن کی بہن سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا خیمہ سے نکل کر آئیں ۔ اللہ کی قسم! اُن کے کان کے بندے ہلتے ہوئے اب تک میری نگاہوں میں ہیں۔ وہ کہ رہی تھیں: "ہائے! آسمان زمین پر پھٹ نہیں پڑتا ۔ اسی وقت عمر بن سعد بھی حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قریب آیا تو اُس سے کہنے لگیں: ”اے عمر بن سعد ! حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ شہید ہورہے ہیں اور تو دیکھ رہا ہے ۔ میں نے دیکھا کہ عمر بن سعد کے آنسو نکل آئے اور داڑھی تک بہتے چلے گئے اور اُس نے سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا کی طرف سے منہ پھیر لیا۔ 


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

Saltanat e Umayya part 22

 22 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 22

آخری وقت میں بھی حجت قائم کرنا، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت، معرکہ کربلا کے آخری شہید ہے، علی اوسط ( زین العابدین ) بن حسین رضی اللہ عنہ کو بخش دیا، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے جسم مبارک کے ساتھ سلوک، بد بخت سنان بن انس کا لالچ، شہدائے کربلا کی تدفین، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا سرکوفہ میں، اہل بیت کی کوفہ روانگی، عبید اللہ بن زیاد کی گستاخی، 



آخری وقت میں بھی حجت قائم کرنا


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو دشمنوں نے گھیرا ہوا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ کو کئی تیر لگے ہوئے تھے اور آپ رضی اللہ عنہ تیر نکالے بغیر اسی حالت میں دشمنوں سے لڑ رہے تھے۔ علامہ محمد بن جری طبری لکھتے ہیں: حمید بن مسلم کہتا ہے : ” حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ خزر کا جبہ پہنے ہوئے تھے، عمامہ باندھے ہوئے تھے، دسمہ کا خضاب کئے ہوئے تھے اور پیدل ہو کر قتل کر رہے تھے جیسے کوئی شہسوار فاصلہ سے خود کو بچاتے جائے اور کمین گاہوں سے اپنا موقع ڈھونڈتا جائے اور سواروں پر حملہ کرتا جائے اور شہید ہونے سے پہلے میں نے آپ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا: ”تم لوگ مجھے شہید کرنے پر آمادہ ہو ؟ سن رکھو! اللہ کی قسم ! میرے بعد کسی ایسے بندہ کو اللہ کے بندوں میں سے قتل نہیں کرو گے جس کے قتل پر میرے قتل سے زیادہ اللہ ناراض ہو گا۔ تم سے تو مجھے یہی امید ہے کہ تم مجھے شہید ضرور کرو گے ۔ اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ تمہیں ذلیل کر کے مجھ پر کرم کرے گا۔ پھر میرا انتظام تم سے اس طرح لے گا کہ تم حیران ہو جاؤ گے۔ تم نے مجھے شہید کیا تو اللہ تعالیٰ تم لوگوں میں آپس میں کشت وخون ڈلوادے گا اور تمہاری خون کی ندیاں بہا دے گا اور اسی پر بس نہیں کرے گا۔ یہاں تک کہ عذاب الیم کو تمہارے لئے دو چند کر دے گا اور بہت دیر تک آپ رضی اللہ عنہ اسی حالت میں رہے۔ لوگ آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کرنا چاہتے تو ممکن تھا لیکن ایک کے پیچھے ایک چھتا تھا۔ یہ چاہتا تھا کہ وہ اس کام کو کرے اور وہ چاہتا ہے کہ یہ اس کام کو کرے۔ آخر کار شمر بن ذی جوشن نے پکار کر کہا: ” وائے ہو تم لوگوں پر ! اس شخص کے بارے میں اب کیا انتظار ہے تمہیں ؟ ارے تمہاری  مائیں تم کو روئے اسے قتل کرو۔ اب ہر طرف سے آپ رضی اللہ عنہ پر حملہ ہوا۔ زرعہ بن شریک تمیمی نے دار کیا جس کی ضرب آپ رضی اللہ عنہ کی ہتھیلی پر پڑی۔ پھر سب ہٹ گئے اُس وقت آپ رضی اللہ عنہ اُٹھتے تھے اور پھر گر پڑتے تھے۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کمال سرگرمی سے لڑ رہے تھے۔ شیروں کی طرح سواروں پر جھپٹتے اور پیادوں کی صفوں کو اپنے پر زور حملوں سے اُلٹ پلٹ دیتے تھے اور بار بار فرماتے جاتے تھے: کیا تم لوگ مجھے ہی شہید کرنے کے لئے جمع ہوئے ہو؟ اللہ کی قسم ! میری شہادت سے اللہ تعالیٰ سخت ناراض ہو گیا اور مجھے شہید کرنے سے تم کوکامیابی حاصل نہیں ہوگی اور بے شک اللہ تعالیٰ تم سے میرے خون کا ایسا بدلہ لے گا کہ تم کو خبر بھی نہیں ہوگی۔ اللہ کی قسم ! اگر تم لوگ مجھے شہید کر دو گے تو تم میں خونریزی کا دروازہ کھل جائے گا اور تم پر اللہ اپنا عذاب نازل کرے گا۔ تم لوگ اپنے ہاتھوں کو میرے خون سے نہ رنگو۔ دیکھو! میں بے گناہ ہوں اور مجھے شہید کرنا تمہارے لئے بہتر نہیں ہے۔ کسی شخص نے کوئی جواب نہیں دیا اور آپ رضی اللہ عنہ ان کے حملوں سے اپنے آپ کو بچاتے ہوئے میدان جنگ میں بہادری اور شجاعت کا مظاہرہ کر رہے تھے۔


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو پہلے سے تیر لگے ہوئے تھے پھر بھی آپ رضی اللہ عنہ لڑ رہے تھے ۔ تیروں کے لگنے سے کافی خون بہہ چکا تھا اور جب دشمنوں نے آپ رضی اللہ عنہ پر وار کئے تب بھی آپ رضی اللہ عنہ ہمت پکڑے ہوئے تھے لیکن زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے آپ رضی اللہ عنہ پر غشی طاری ہو رہی تھی اور آپ رضی اللہ عنہ بار بار اٹھتے تھے اور پھر گر جاتے تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: پھر سب ہٹ گئے ، اس وقت آپ رضی اللہ عنہ اُٹھتے تھے اور گر پڑتے تھے۔ پھر اسی حالت میں سنان بن انس شخصی نے آپ رضی عنہ کو برچھی ماری ۔ آپ رضی اللہ عنہ گر پڑے تو اُس نے خوبی بن یزید ابھی سے کہا کہ سرکاٹ لے۔ خولی بن یزید آگے بڑھا مگر اُس سے یہ کام نہیں ہو سکا اور وہ کانپنے لگا۔ سنان بن انس نے کہا: اللہ تیرے بازوؤں کو توڑ دے اور تیرے ہاتھوں کو قطع کرنے“۔ یہ کہہ کر وہ گھوڑے سے اترا اور آپ رضی اللہ عنہ کی طرف بڑھا اور آپ رضی اللہ عنہ کو ذبح کر کے سر کاٹ لیا اور خولی کو دے دیا۔ ذبیح ہونے سے پہلے ہی بہت سی تلوار میں آپ رضی اللہ عنہ پڑ چکی تھیں۔ سر کاٹنے سے پہلے سنان بن انس نے دیکھا کہ یہ حالت تھی کہ جسے دیکھو وہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قریب آرہا تھا اور آپ رضی اللہ عنہ کو تلوار مار رہا تھا۔ یہ دیکھ کر وہ سمجھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دوسرا کوئی سرکاٹ کر لے جائے ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: تقریبا تمام سپاہی آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے سے جی چرا ر ہے تھے اور ہر شخص یہی چاہتا تھا کہ کوئی دوسرا آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کرے۔ شمر بن ذی جوشن نے لشکر کا یہ رنگ دیکھا تو چلا کو بولا : " تمہاری مائیں مرجائیں ! تم لوگ ایک پیدل کو نہیں مار سکتے ہو۔ تف ہے تمہاری مردانگی پر! اگر تم سب مل کر ایک ایک کنکری بھی پھینکو گے تو (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) دب کر مر جائیں گے۔ یہ بسملانہ حرکت کر رہے ہیں اور ان میں کچھ دم باقی نہیں ہے۔ بڑھ بڑھو! اپنے نام اور خاندان کو رسوا نہ کرو۔ سپاہیوں کے دل اس پُر جوش تقریر سے ایک ناجائز جوش بھر گیا اور شمشیر بکف ہو کر پیادوں نے ہر طرف سے حملہ کر دیا اور سواروں نے آپ رضی اللہ عنہ پر تیر برسانے شروع کر دیئے۔ زرعہ بن شریک تمیمی نے لپک کر آپ رضی اللہ عنہ کے بائیں بازو پر پھر کندھے پر تلوار چلائی۔ اس حملے سے آپ رضی اللہ عنہ سنبھلنے بھی نہیں پائے تھے کہ سنان بن انس نخعی نے پہنچ کر نیزہ مارا۔ آپ رضی اللہ عنہ زمین پر گر پڑے۔ خولی بن یزید ابھی سر کاٹنے کے ارادے سے آگے بڑھا لیکن تمام بدن پر رعشہ پڑ گیا۔ سنان بن انس نے اُسے جھڑک دیا اور گھوڑے سے اتر کر آپ رضی اللہ عنہ کے بدن مبارک سے سر الگ کر کے خولی کے حوالے کر دیا۔ قمیص بحر بن کعب نے لے لی ، پاجامہ قیس بن اشعث نے لے لیا جوتے اسود از دی نے لے لئے اور تلوار بنو دارم کے ایک شخص نے لے لی ۔ یہ واقعہ دس (10) محرم الحرام اللہ ہجری جمعہ کے دن کا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے جسم مبارک پر تیروں کے بہت زے زخموں کے علاوہ نیزے کے تینتیس (۳۳) زخم تلوار کے تینتالیس (۴۳) زخم لگے تھے۔


معرکہ کربلا کے آخری شہید ہے


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو بدبختوں نے بے دردی سے شہید کر دیا اور سرکاٹ کر لے گئے۔ ان بد بختوں نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ آپ رضی اللہ عنہ کے جسم مبارک کی اور اہل بیت کی بھی بے حرمتی کی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ جو لباس پہنے ہوئے تھے وہ بھی اُتار لیا گیا اور لوٹ لیا گیا۔ بحر بن کعب نے پاجامہ اُتار لیا۔ قیس بن اشعث نے چادر اُتار لی جس کی وجہ سے اُس کا نام ” قیس قطیفہ یعنی چادر والا قیس مشہور ہو گیا۔ اسود نے آپ رضی اللہ عنہ کے جوتے اتار لئے۔ بونہٹل کے ایک شخص نے آپ رضی اللہ عنہ کی تلوار لے لی جو بعد میں حبیب بن بدیل کے خاندان میں آگئی۔ اس طرح سب نے کچھ نہ کچھ لے لیا۔ پھر سب کے سب اہل بیت کی طرف متوجہ ہوئے اور اُن کے مال و متاع لوٹنے لگے۔ یہ حال تھا کہ ایک بی بی کے سرسے کوئی چادر اتارتا تھا تو دوسرا اُسے چھین لے جاتا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں سے حضرت سوید بن عمرو رضی اللہ عنہ زخموں سے چور ہو کر لاشوں میں غشی کے عالم میں پڑے ہوئے تھے ۔ انہوں نے لوگوں کو یہ کہتے سنا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے تو ذرا چونکے تو دیکھا کہ اُن کی تلوار تو کوئی چھین لے گیا ہے۔ مگر ایک چھری اُن کے پاس موجود تھی اُسی چھری سے وہ کچھ دیرلڑتے رہے۔ آخر عروہ بن بطار تعلمی اور زید بن رقاد جنبی نے مل کر انہیں شہید کر دیا اور یہ سب سے آخر میں شہید ہوئے۔ 


علی اوسط ( زین العابدین ) بن حسین رضی اللہ عنہ کو بخش دیا


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے اہل بیت اور تمام ساتھی شہید ہو چکے تھے اور وہ بد بخت خواتین پر دست درازی کر رہے تھے ۔ خواتین کے خیمے میں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے درمیان والے بیٹے حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ جنہیں امام زین العابدین بھی کہا جاتا ہے بخار میں پھنکتے ہوئے پڑے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کھڑے ہونے کی کوشش کرتے تھے اور جیسے ہی کھڑے ہوتے تھے تو چکرا کر گر پڑتے تھے اور غفلت طاری ہو جاتی تھی ۔ پھر ہوش میں آتے تھے تو اُٹھنے کی کوشش کرتے تھے اور چکرا کر گر پڑتے تھے اور غفلت طاری ہو جاتی تھی ۔ آپ رضی اللہ عنہ کی یہی کیفیت تھی اور اسی دوران میں معرکہ کربلا میں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ شہید ہو چکے تھے۔ اس کے بعد جب وہ بد بخت خواتین کے خیموں کی طرف متوجہ ہوئے تو آپ رضی اللہ عنہ پر بھی حملہ کرنے کی تیاری کرنے لگے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حمید بن مسلم کہتا ہے : ” میں علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا۔ وہ فرش پر بیمار پڑے ہوئے تھے اور بخار میں پھنک رہے تھے۔ شمر بن ذی جوشن اپنے ساتھیوں کے ساتھ پیادوں کو لئے ہوئے ادھر آیا ۔ حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ کے قریب بیٹھی خواتین ان بد بختوں سے کہہ رہی تھیں کہ اس بیار پر رحم کرو اور اسے شہید نہ کرو۔ میں لوگوں سے کہا : "سبحان اللہ یہ تو بہت بیمار ہے اور ابھی بچہ ہے اسے شہید نہ کریں۔ پھر میں وہیں کھڑا ہو گیا اور جو بھی انہیں شہید کرنے کی نیت سے آتا اُسے ٹال دیتا تھا۔ آخر میں عمر بن سعد آیا اور لشکر کو ہدایت کی کہ دیکھو ! عورتوں کے خیمے میں ہرگز کوئی نہیں جائے اور اس بیمارلڑکے سے کوئی بھی تعرض نہ کرے اور جس نے بھی ان کا اسباب لوٹا ہو وہ واپس کر دے لیکن کسی نے بھی کوئی بھی چیز واپس نہیں کی ۔ حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: "اے شخص! اللہ تجھے جزائے خیر عطا فرمائے ، اللہ کی قسم ! تیرے کہنے سے مجھے پر سے آفت ٹل گئی۔ 


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے جسم مبارک کے ساتھ سلوک


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو ن بد بختوں نے شہید کر دیا اور اس کے بعد بھی آپ رضی اللہ عنہ کے جسم مبارک کے ساتھ بھی بہت سلوک کیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اس کے بعد عمر بن سعد نے اپنے لشکر میں اعلان کروا دیا کہ کون کون ہے جو ( حضرت ) حسین بن علی ( رضی اللہ عنہ ) کے جسم مبارک کو پامال کریں گے ؟ سامنے آؤ۔ یہ سن کر دس شخص لشکر میں سے نکل کر آگے آئے۔ اُن میں اسحاق بن حیوہ حضرمی بھی تھا جس نے آپ رضی اللہ عنہ کی قمیص اتار لی تھی اور آخر کار ” مبروص (سفید داغ) ہو گیا تھا۔ ان دس لوگوں میں اجش بن مریم حضرمی بھی تھا۔ یہ دسوں سوار آئے اور اپنے گھوڑوں کو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ ( نعوذ باللہ) کے جسم مبارک پر دوڑانے لگے اور پامال کرنے لگے۔ آپ رضی اللہ عنہ کا جسم مبارک چور چور ہو گیا اور تمام ہڈیاں ٹوٹ پھوٹ گئیں اور سینہ اور پشت مل کر رہ گئے ۔ اس کے بعد اجش بن مرثد کو ایک تیر کہیں سے آکر لگا اور وہ ابھی وہیں میدان جنگ میں ہی تھا۔ تیر اُس کے دل پر جا کر لگا اور وہیں اُس نے بھی دم تو ڑ دیا۔


بد بخت سنان بن انس کا لالچ


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا سر بد بخت سنان بن انس نے کاٹا تھا۔ اس کے بعد وہ بد بخت اپنے اس عمل پر فخر کرنے لگا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں لوگوں نے سنان بن انس سے کہا: ” حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے بیٹے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کو تو نے شہید کیا ہے۔ ملک عرب میں سب سے بڑے مرتبہ والے شخص کو جو اس ارادے سے آیا تھا کہ تمہاری مدد کرے اور تو نے اُسے شہید کر دیا۔ اپنے امیروں کے پاس جا اور اُن سے صلہ مانگ۔ اگر وہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کے عوض میں تجھے اپنے تمام خزانے بھی دے دیں تو وہ کم ہیں ۔ سنان بن انس یہ سن کر اپنے گھوڑے پر سوار ہوا۔ وہ بڑا دلیر تھا اور سکی بھی تھا۔ وہ عمر بن سعد کے خیمے کے دروازے پر آیا اور پکار پکار کر یہ دو شعر کہنے لگا: ” میرے اونٹوں کو چاندی سونے سے لدوا دے۔ میں نے بلند مرتبہ بادشاہ کوقتل کیا ہے۔ جو ماں باپ کی طرف سے بہترین خلق ہے ۔ اور نسب میں سب سے بہتر ہے میں نے اُسے قتل کیا ہے ۔ عمر بن سعد اپنے خیمے سے باہر آیا اور بولا: ” میں اس بات کا گواہ ہوں کہ تو دیوانہ ہے اور کبھی ہوش میں آیا ہی نہیں ہے۔ اسے کوئی میرے پاس لیکر آئے ۔ جب اُسے عمر بن سعد کے سامنے لے گئے تو اُس نے ایک لکڑی اُسے ماری اور کہا: ”او دیوانے یہ کلمہ تو زبان سے نکالتا ہے۔ اللہ کی قسم! عبید اللہ بن زیاد سنتا تو تیری گردن مار دیتا۔


شہدائے کربلا کی تدفین


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کو کوفیوں یا شامیوں نے شہید کر دیا اور آپ رضی اللہ عنہ کے اہل بیت کے سامان کو لوٹ لیا اور اُن کے ساتھ گستاخی کی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ اُن کے بہتر (72) ساتھی بھی شہید ہوئے۔ واقعہ کربلا ہونے کے ایک دن بعد مقام ” غاضریہ میں جو بنو اسد کے لوگ رہتے تھے انہوں نے مل کر اُن لوگوں کو دفن کیا۔ عمر بن سعد کے لشکر میں سے اٹھاسی (88) سپاہی قتل ہوئے۔ ان کے علاوہ زخمی اچھی خاصی تعداد میں تھے۔ عمر بن سعد نے اپنے سپاہیوں کی لاشوں پر نماز جنازہ پڑھی اور انہیں دفن کرنے کے بعد شہدائے کربلا کو اُسی حال میں چھوڑ کر اپنا لشکر اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا سرلیکر چلا گیا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: اس کے بعد عمر بن سعد کے حکم سے دس سواروں نے آپ رضی اللہ عنہ کی لاش کو گھوڑوں کے سموں سے پامال کیا۔ معرکہ کربلا میں آپ رضی اللہ کے ساتھ بہتر (72) ساتھی شہید ہوئے اور عمر بن سعد کے اٹھاسی (88) سپاہی قتل ہوئے۔ عمر بن سعد نے اپنے مقتولوں کو جمع کر کے اُن کی نماز جنازہ پڑھی اور دفن کر کے کوفہ کی طرف روانہ ہو گیا۔ دوسرے دن غاضریہ سے بنو اسد آئے اور انہوں نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور اُن کے ساتھیوں کو کو دفن کیا۔


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا سرکوفہ میں


 حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کے بعد عمر بن سعد نے فوراً آپ رضی اللہ عنہ کا سرکوفہ میں عبید اللہ بن زیاد کے پاس روانہ کر دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے شہید ہوتے ہی اُن کے سرکو اُسی دن خولی بن یزید کے ہاتھ حمید بن مسلم کو ساتھ کر کے عبداللہ بن زیاد کے پاس روانہ کر دیا۔ خولی بن یزید سر کو لئے ہوئے عبید اللہ بن زیاد کے محل گیا تو محل کا دروازہ بند ہو چکا تھا۔ یہ اپنے گھر چلا آیا اور سر کو ایک لگن کے نیچے ڈھانک کر رکھ دیا۔ اُس کی دو عورتیں تھیں ایک بنو اسد کی تھی اور دوسری بن حضرمی سے تھی اور اس کا نام ”نورا تھا۔ یہ رات اُسی کے پاس رہنے کی تھی ۔ جب وہ لیٹنے کے لئے بستر پر آیا تو نورانے پوچھا: ” کیا خبر ہے اور تو کیا لیکر آیا ہے؟ اس نے کہا: ” تمام دنیا کی دولت تیرے پاس لیکر آیا ہوں اور تیرے خیمہ میں (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ) کا سرلیکر آیا ہوں“۔ نورا نے کہا: ” تف ہے تجھ پر الوگ سونا چاندی لیکر آئے ہیں اور تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل رضی اللہ عنہ کا سرلیکر آیا ہے۔ اللہ کی قسم ! میں اور تو دونوں ایک خیمہ میں اب کبھی نہیں رہیں گے ۔ یہ کہ کر نورا بستر سے اُٹھی اور سیدھی اُس جگہ گئی جہاں آپ رضی اللہ عنہ کا سر رکھا ہوا تھا۔ اب اُس نے بنو اسد کی بیوی کو بھی بلا لیا۔ نوار بیٹھی ہوئی سرکو دیکھ رہی تھی۔ وہ کہتی ہے : اللہ کی قسم! آسمان سے ایک نور کا عمود اس لگن تک تھا۔ میں برابر دیکھتی رہی اور سفید سفید پرندے اس کے گرد اڑ رہے تھے۔ صبح ہوئی تو وہ سر عبید اللہ بن زیادہ کے پاس لے گیا۔


اہل بیت کی کوفہ روانگی


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے سر مبارک کو پہلے ہی عمر بن سعد نے کوفہ روانہ کر دیا تھا۔ اس کے بعد وہ اپنے لشکر کے ساتھ آپ رضی اللہ عنہ کے اہل بیت کو لیکر کوفہ کی طرف روانہ ہوا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: عمر بن سعد نے اُس دن وہیں قیام کیا اور دوسرے دن صبح حمید بن یکیر کو حکم دیا کہ لشکر کو کوفہ کی طرف روانہ ہونے کی منادی کر دے۔ پھر وہ اپنے ساتھ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی بہنوں ، بیٹیوں اور بچوں کو ساتھ لیکر چلا اور حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ بیمار تھے۔ یہ خواتین جب آپ رضی اللہ عنہ کی لاش اور اُن کے ساتھیوں کی لاشوں کے پاس سے گزریں تو رونے لگیں اور فریاد کرنے لگیں۔ قرہ بن قیس تمیمی کہتا ہے کہ میں گھوڑا بڑھا کر قریب گیا اور اُن خواتین کو دیکھا۔ میں نے ایسی خواتین پہلے کبھی نہیں دیکھیں۔ اللہ کی قسم! وہ آہو ان صحرائی سے بھی بڑھ کر حسین تھیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے اور میں سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا کا کہنا نہیں بھولوں گا۔ جس وقت اپنے بھائی کی لاش پر پہنچیں تو فرمایا: " وامحمد وامحمد! آسمان کے فرشتوں کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر صلواۃ ہو! حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ میدان میں پڑے ہوئے ہیں ، خون میں ڈوبے ہوئے ہیں، تمام اعضا ٹکڑے ٹکڑے ہیں ۔ یا محمداہ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹیاں قیدی بنائی گئی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذریت شہید کر دی گئی ہے۔ ہوا اُن کی لاش پر خاک پر خاک ڈال رہی ہے اللہ کی قسم! یہ کر دوست دشمن سب رو دیئے۔ پھر باقی لاشوں کے سر جدا کئے گئے ۔ شمر بن ذی جوشن اور قیس بن اشعث اور عمر و بن حجاج کے ساتھ بہتر (72) سر روانہ کئے گئے ۔ اُن لوگوں نے ان سروں کو عبید اللہ بن زیاد کے پاس پہنچا دیا۔ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے اہل بیت اور خواتین اور بچوں کو عمر بن سعد نے محافظوں کے سپرد کیا۔ انہوں نے انہیں اونٹوں کے ہو د جوں پر سوار کرایا اور جب وہ میدان جنگ سے گزرے تو دیکھا کہ وہاں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کی لاشیں پڑی ہوئی ہیں۔ انہیں دیکھ کر خواتین رونے لگیں اور سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہ نے روتے ہوئے فرمایا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !اے محمدصلی اللہ علیہ وسلم! اللہ تعالی اور آسمان کے فرشتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھیں اور یہاں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ خون میں لتھڑے اور مقطوع الاعضاء ہوکر میدان میں پڑے ہوئے ہیں ۔ اے محمدصلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیاں قیدی ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذریت شہید ہوئی پڑی ہے جس پر صبا خاک اُڑا رہی ہے۔


عبید اللہ بن زیاد کی گستاخی


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا سر مبارک عبید اللہ بن زیاد کے پاس لے جایا گیا تو وہ آپ رضی اللہ عنہ کے سرمبارک کے ساتھ گستاخی کرنے لگا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حمید بن مسلم کہتا ہے : عمر بن سعد نے مجھے بلا کر اپنے اہل وعیال کے پاس بھیجا کہ اُن کو خوش خبری سناؤں کہ اللہ تعالیٰ نے اُسے فتح عطا فرمائی ہے اور عافیت سے گزری ۔ میں جا کر سب کو اطلاع کر آیا۔ واپس آیا تو دیکھا کہ عبداللہ بن زیاد لوگوں سے ملنے کے لئے دربار لگائے بیٹھا ہے اور لوگ تہنیت دینے کے لئے آرہے ہیں۔ اُن لوگوں کو بھی اُس نے اندر بلا لیا اور سب کو بھی اذن دے دیا اور اندر جانے والوں کے ساتھ میں بھی اندر چلا گیا۔ کیا دیکھتا ہوں کی حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا سر مبارک اُس کے سامنے رکھا ہوا ہے۔ اُن کے دانتوں کو ایک ساعت تک وہ چھڑی سے کھٹکھٹاتا رہا۔ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے جب دیکھا کہ وہ چھڑی سے کھٹکھٹانا موقوف نہیں کر رہا ہے تو انہوں نے فرمایا: ” ان دانتوں سے چھڑی کو ہٹا! اس وحدہ لاشریک کی قسم! میں نے رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ اپنے ہونٹ مبارک ان دانتوں پر رکھ کر پیار کرتے تھے۔ اتنا فرما کر وہ بزرگ مرد رونے لگے۔ عبید اللہ بن زیاد نے کہا: اللہ تجھے لائے ! اگر تو بوڑھا اور ضعیف نہیں ہوتا جس کی عقل جاتی رہی ہے تواللہ کی قسم! میں تیری گردن ماردیا ۔ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بین کر اُٹھے اور وہاں سے چلے گئے ۔ اُن کے چلے جانے کے بعد لوگوں میں اس بات کا چرچا ہورہا تھا کہ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے ایسی بات کی ہے کہ جسے اگر عبید اللہ بن زیاد سن پاتا تو انہیں قتل کر دیتا۔ میں نے پوچھا: ”انہوں نے کون سی بات کہی ؟ لوگوں نے کہا: ”انہوں نے فرمایا غلام نے غلام کو حاکم بنا دیا اور اس نے اللہ کے بندوں کو اپنا خانہ زاد بنالیا۔ اے قوم عرب ! آج سے تم سب غلام ہو گئے ہم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے کو شہید کیا اور مرجانہ کے بیٹے کو اپنا حاکم بنالیا کہ وہ نیک لوگوں کو چن چن کر قتل کر رہا ہے اور غلام بنا رہا ہے۔ تم نے ذلت کو گوارا کر لیا ہے اور جس نے ذلت کو گوارا کیا اللہ تعالٰی اس کو مارے ۔


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!


Saltanat e Umayya part 23


23 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 23


سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے گستاخی، حضرت علی اوسط (امام زین العابدین) بن حسین کی دلیری، حضرت عبد اللہ بن عفیف ازدی کی شہادت، یزید کے دربار میں اہل بیت، حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کی حق گوئی، یزید کی گستاخی، اہل بیت کے مدینہ منورہ روانگی کے انتظامات، 


سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے گستاخی

حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے اہل و عیال کو عمر بن سعد لیکر عبید اللہ بن زیاد کے پاس آیا تو اُس نے آپ رضی اللہ عنہ کی بہن سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا سے بھی گستاخی کی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے سر کے ساتھ اُن کے اہل و عیال، اُن کی بہنیں اور سب کے سب عبید اللہ بن زیاد کے سامنے لائے گئے۔ سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا بھی اُن میں تھیں اور کنیز میں آپ رضی اللہ عنہا کو گھیرے ہوئے تھیں ۔ جب آپ رضی اللہ عنہا اندر داخل ہوئیں تو بیٹھ گئیں عبداللہ بن زیاد نے پوچھا: یہ جو بیٹھی ہوئی ہے کون عورت ہے؟ آپ رضی اللہ عنہا نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اُس نے تین مرتبہ پوچھا اور ہر مرتبہ آپ رضی اللہ عنہا نے جواب نہیں دیا۔ اب آپ رضی اللہ عنہا کی کنیز نے جواب دیا: "یہ سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا ہیں ۔ عبید اللہ بن زیاد نے کہا: ” اُس اللہ کا شکر ہے جس نے تم لوگوں کو رسوا کیا قبل کیا اور تمہاری کہانیوں کو جھوٹا کر دیا ۔ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ” شکر ہے اُس اللہ کا جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سبب ہم کو عزت دی، ہم کو طیب و طاہر کیا۔ تو نے جو کہا ایسا نہیں ہے۔ رسوا وہ ہوتا ہے جو جھوٹا ہوتا ہے، جو فاسق اور فاجر ہوتا ہے ۔ عبید اللہ بن زیاد نے کہا: ” تم نے دیکھ لیا کہ تمہارے خاندان والوں سے اللہ نے کیا سلوک کیا؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اُن کے مقدر میں شہید ہونا تھاوہ اپنی شہادت گاہ کی طرف چلے آئے۔ اب تو بھی اور وہ لوگ بھی اللہ کے سامنے جائیں گے اور وہیں تم لوگ اپنے اپنے نزاع و خصومت پیش کرو گے“۔ یہ سن کر عبید اللہ بن زیاد بہت غصے میں آگیا۔ عمرو بن حریث نے کہا: اللہ ہمارے امیر کا بھلا کرے! یہ ایک عورت ہے، کیا عورت کی کسی بات پر مواخذہ ہو سکتا ہے؟ کسی بات کا یا سخت زبانی کا عورت سے تو مواخذہ نہیں کیا جاتا۔ عبید اللہ بن زیاد نے سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہ سے کہا: ” تمہارے خاندان کے سرکشوں اور نافرمانوں کی طرف سے اللہ نے میرے دل کو ٹھنڈا کر دیا ہے ۔ یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہا کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اللہ کی قسم! مردوں کو تو نے شہید کیا، میرے خاندان کو تو نے تباہ کر دیا، اس کی شاخوں کو تو نے قطع کیا اور جڑ سے اُکھاڑ ڈالا۔ اگر اسی سے تیرا دل ٹھنڈا ہو سکتا ہے تو بے شک تو نے ٹھنڈا کر لیا ۔ عبیداللہ بن زیاد بولا: ” یہ عورت بڑی دلیر ہے تمہارے باپ بھی تو شاعر اور بڑے دلیر تھے ۔ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”عوت کو دلیری سے کیا واسطہ ! میں دلیری کیا کروں گی جو منہ میں آیا وہ میں نے کہہ دیا۔ 

حضرت علی اوسط (امام زین العابدین) بن حسین کی دلیری

حضرت علی اوسط (امام زین العابدین ) بن حسین رضی اللہ عنہ کو عبید اللہ بن زیاد نے دیکھا تو آپ رضی اللہ عنہ کو بھی شہید کرنے کا حکم دے دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حمید بن مسلم کہتا ہے حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ جب عبید اللہ بن زیاد کے سامنے لائے گئے تو میں اُس کے پاس ہی کھڑا تھا۔ اُس نے پوچھا: ” تمہارا نام کیا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں علی اوسط بن حسین ہوں۔“ اس نے کہا: ”علی بن حسین کو اللہ نے قتل نہیں کیا ؟“ آپ رضی اللہ عنہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ بولا : ” جواب کیوں نہیں دیتے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے بڑے بھائی بھی علی اکبر بن حسین کہلاتے ہیں۔ انہیں لوگوں نے شہید کیا عبید اللہ بن زیاد نے کہا: نہیں! اللہ نے انہیں قتل کیا ہے“۔ آپ رضی اللہ عنہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ بولا : " جواب کیوں نہیں دیتے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جن کی موت کا وقت آتا ہے تو اللہ ہی اُن کو وفات دیتا ہے اور اللہ کے حکم کے بغیر کوئی شخص مر نہیں سکتا ہے۔ عبد اللہ بن زیاد بولا : الہ کی قسم تم بھی انہیں لوگوں میں سے ہو۔ ذراد دیکھنا تو یہ بالغ ہے کیا؟ اللہ کی قسم! میں تو سمجھتا ہوں کہ یہ مردوں میں داخل ہو چکا ہے ۔ مری بن معاذ نے آپ رضی اللہ عنہ کو برہنہ کر کے دیکھا اور بولا : "یہ بالغ ہے۔ عبید اللہ بن زیاد نے حکم دیا: ” اسے قتل کر دو۔ یہ سن کر حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” ان خواتین کی حفاظت کے لئے تم کس کو مقرر کرو گے؟ اُن کی پھوپھی سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہ اُن سے لپٹ گئیں اور فرمایا: اے عبید اللہ بن زیاد ! ہم لوگوں پر جو مصیبت گذر چکی ہے اُسی پر بس کر ۔ کیا ہم لوگوں کا خون بہانے سے ابھی سیری نہیں ہوئی؟ کیا ہم میں سے کسی کو تو نے باقی رکھا ہے؟ یہ فرما کر انہوں نے بھتیجے کے گلے میں باہیں ڈال دیں اور فرمایا: ”اے عبید اللہ بن زیاد! میں تجھے اللہ کا واسطہ دیتی ہوں! اگر تو مومن ہے تو اس کے ساتھ مجھے بھی قتل کر ۔ حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "اے عبید اللہ بن زیاد! اگر تجھ میں ان لوگوں میں قرابت ہے تو کسی پر ہیز گار شخص کو ان خواتین کے ساتھ روانہ کرنا جو مسلمانوں کی طرح ان کے ساتھ رہے۔ عبید اللہ بن زیاد کافی دیر تک سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا کی طرف دیکھتارہا پھر لوگوں کی طرف دیکھ کر بولا: ” اس خون کے جوش پر تعجب ہوتا ہے۔ اللہ کی قسم! میں سمجھتا ہوں کہ انکو یہ آرزو ہے کہ اس لڑکے کو اگر میں قتل کروں تو اس کے ساتھ ان کو بھی قتل کردوں ۔ اچھا لڑکے کو چھوڑ دو ۔ جاؤ اپنے گھر کی عورتوں کے ساتھ تم ہی جاؤ“۔اور عبید اللہ بن زیاد نے حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ کی جاں بخشی کا اعلان کر دیا۔ 

حضرت عبد اللہ بن عفیف ازدی کی شہادت

حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت پر عبد اللہ بن زیاد نے اعلان فتح کیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: عبید اللہ بن زیاد نے ”الصلاۃ الجامعۃ کا اعلان کروایا۔ یعنی نماز کے بعد دربار عام ہو گا۔ جامع مسجد میں لوگ جمع ہو گئے۔ عبید اللہ بن زیاد منبر پر گیا اور بولا:'' اس اللہ کا شکر ہے جس نے حق کو اور اہل حق کو قوی کیا اور امیر المومنین یزید بن معاویہ کی اور اُن کے گروہ والوں کی نصرت کی اور (نعوذ باللہ ) کذاب بن کذاب حسین بن علی کو اور اُن کے گروہ کے لوگوں کو قتل کیا۔ عبید اللہ بن زیاد کی بات ابھی پوری نہیں ہونے پائی تھی کہ حضرت عبداللہ بن عفیف از دی رضی اللہ عنہ اُٹھ کر اُس کی طرف دوڑے۔ آپ رضی اللہ عنہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ جمل اور جنگ صفین میں شامل رہے تھے۔ جنگ جمل میں ان کی بائیں آنکھ جاتی رہی تھی اور جنگ صفین میں ایک ضرب سر پر اور دوسری ضرب بھوں پر لگی تھی جس کی وجہ سے دوسری آنکھ بھی جاتی رہی تھی۔ اس کے بعد سے آپ رضی اللہ عنہ جامع مسجد سے باہر نہیں نکلتے تھے اور صرف رات کو اپنے گھر آتے تھے۔ عبیداللہ بن زیاد کے منہ سے حضرت علی بن ابی طالب اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہم کے متعلق گستاخانہ کلمہ سن کر انہوں نے بلند آواز سے فرمایا: ” اومرجانہ کے بیٹے کذاب ابن کذاب ! تو اور تیرا باپ اور جس نے تجھے حاکم بنایا ، وہ اور اُس کا باپ ! تم لوگ پیغمبروں کے فرزندوں کو شہید کرتے ہو اور سچے راستے پر چلنے والوں کی طرح باتیں کرتے ہو۔ عبید اللہ بن زیاد نے کہا: ”اسے میرے پاس لاؤ۔ سپاہیوں نے حملہ کر کے آپ رضی اللہ عنہ کو گر فتار کر لیا ۔ حضرت عبداللہ بن عفیف ازدی رضی اللہ عنہ نے اپنے قبیلے بنو ازو والوں کو یا مبرور کہہ کر پکارا۔ یہ کلمہ بنو ازد والوں کا شعار تھا۔ عبد الرحمن بن مختف ازدی وہیں بیٹھا ہوا تھا اُس نے کہا: ” تمہارا بھلا نہ ہو! تم نے اپنے آپ کو بھی تباہ کیا اور اپنی قوم کو بھی تباہ کیا ۔ کوفہ میں اُس وقت سات سو ازدی شہسوار موجود تھے۔ چند شخص اُن میں سے دوڑے اور حضرت عبداللہ بن عفیف رضی اللہ عنہ کو چھڑا لائے اور اُن کے گھر پہنچا آئے۔ بعد میں عبید اللہ بن زیاد نے سپاہیوں کو بھیج کر بلوایا اور شہید کردیا اور ان کی لاش کو دار پر چڑھا دیا۔

یزید کا اظہار تاسف

حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے سر کو اور آپ رضی اللہ عنہ کے اہل بیت کو عبید اللہ بن زیاد نے ملک شام روانہ کر دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: پھر عبید اللہ بن زیاد نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا سرکوفہ میں نصب کر دیا اور پورے شہر میں اس کی تشہیر بھی کی۔ اس کے بعد زحر بن قیس کے ساتھ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے سرکو اور آپ رضی اللہ عنہ کے اہل بیت کو اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کے سروں کو یزید کے پاس ملک شام روانہ کر دیا۔ اُس کے ساتھ ابو بردہ بن عوف از دی اور طارق بن ابوظبیان از دی بھی تھے۔ عبید اللہ بن زیاد نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے اہل بیت خواتین اور بچوں کو بھی ملک شام روانہ کیا اور حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ کو اس کے حکم کے مطابق پاؤں سے گلے تک زنجیر میں جکڑ دیا گیا اور محضر بن ثعلبہ عائدی اور شمر بن ذی جوشن کو اُن کے ساتھ روانہ کیا۔ یہ سب لوگ ملک شام میں یزید کے پاس پہنچے راستے میں حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ بالکل خاموش رہے۔ یہ لوگ یہاں سے روانہ ہوئے اور ملک شام پہنچے۔ زخر جب یزید کے سامنے گیا تو یزید نے کہا: ” ارے وہاں کیا ہو رہا ہے؟ اور تو کیا خبر لے کر آیا ہے؟ زحر بن قیس نے کہا: ”اے امیر المومنین! اللہ کے فضل سے فتح و نصرت آپ کو مبارک ہو۔ حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) ہمارے مقابلے پر اپنے اٹھارہ (18) اہل بیت اور ساٹھ (60) ساتھیوں کولیکر آئے تھے ۔ ہم لوگ اُن کے پاس گئے اور اُن سے کہا یا تو اطاعت اختیار کر لیں اور امیر عبداللہ بن زیاد کے حکم پر گردن جھکا دیں یا پھر جنگ کے لئے آمادہ ہو جائیں ۔ انہوں نے اطاعت کرنے کے بجائے جنگ کرنا پسند کیا۔ ہم نے آفتاب نکلتے ہی حملہ کر دیا اور ہر طرف سے انہیں گھیر لیا۔ یہاں تک کہ جب ہماری تلواریں اُن کے سر پر پہنچ گئیں تو بھاگنے لگے اور انہیں پناہ نہیں ملتی تھی ۔ ٹیلوں پر اور غاروں میں وہ ہم سے جان بچاتے پھرتے تھے جیسے کبوتر شاہین سے چھپتے پھرتے ہیں ۔ امیر المومنین !اللہ کی قسم! جتنی دیر میں اونٹ کو صاف کرتے ہیں یا قیلولہ میں جتنی دیر کے لئے آنکھ بند جھپک جاتی ہے بس اتنی ہی دیر میں سب سے آخری شخص کو قتل کر چکے تھے۔ اب اُن کی لاشیں برہنہ پڑی ہیں اور اُن کے کپڑے خون آتو د ہیں اور اُن کے رخسار گردوغبار میں اٹے ہوئے ہیں۔ دھوپ انہیں پکھلائے دیتی ہے اور ہوا انہیں گرد بر دکر رہی ہے اور ایک سنسان بیابان میں شاہین اور گدھ اُن پر اتر رہے ہیں ۔ یہ سن کر یزید رونے لگا اور بولا : میں تمہاری اطاعت سے اُس وقت خوش ہوتا جب تم نے حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) کو قتل نہیں کیا ہوتا۔ اللہ ابن سمیہ ( عبید اللہ بن زیاد کو اور اس کے باپ کو ” ابن سمیہ" کہتے تھے) پر لعنت کرے۔ سنو! اللہ کی قسم اگر حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) کا معاملہ میرے ہاتھ میں ہوتا تو میں اُن کو معاف ہی کر دیتا۔ اللہ حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) پر رحم فرمائے ۔ یزید نے زحر کو کوئی انعام وغیرہ بھی نہیں دیا۔ جب اہل بیت کولیکر محضر بن ثعلبہ یزید کے دروازے پر پہنچا توپکار کر کہا " محضر بن ثعلبہ ( نعوذ باللہ) ان سلامت زدہ بدکاروں کولیکر امیر المومنین یزید بن معاویہ کی خدمت میں حاضر ہوا ہے ۔ یزید نے جواب میں کہا: "محضر کی ماں نے جس بچہ کو جتنا ہے بس وہی سلامت زدہ اور سب سے بدتر ہے۔

یزید کے دربار میں اہل بیت

حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا سر مبارک اور آپ رضی اللہ عنہ کے شہید ساتھیوں کے سر اور آپ رضی اللہ عنہ کے اہل بیت کو یزید کے سامنے دربار میں پیش کیا گیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: یزید کے سامنے جب حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ شہید ہونے والوں کے سر رکھے گئے تو اُس نے کہا: "اے حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) اللہ کی قسم! اگر تمہارا معاملہ میرے ہاتھ میں ہوتا میں تم کو قتل نہیں کرتا ۔ مروان بن حکم کا بھائی بیٹی بن حکم اُس وقت یزید کے پاس موجود تھا۔ اُس نے کہا: ” ایک لشکر کا لشکر عبید اللہ بن زیاد کے قرابت داروں کا جو کہ خاندان کا کمینہ ہے صحرائے طف کے قریب موجود ہے۔ شمیہ کی نسل شمار میں تو سنگ ریزوں کے برابر ہوگئی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی نسل باقی نہیں رہی۔ یزید نے یہ بات سنی تو یحی بن حکم کے سینہ پر ہاتھ مارکو بولا: ” خاموش“۔ اس کے بعد یزید نے در بہار بلوایا اور ملک شام کے بزرگوں کو اپنے ارد گرد بٹھایا۔ پھر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے اہل بیت کو خواتین اور بچوں سمیت بلوایا۔ جب یزید کے دربار میں یہ لٹے پٹے لوگ داخل ہوئے تو سب لوگ بیٹھے دیکھ رہے تھے۔ حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ سے یزید نے کہا: ” تمہارے باپ نے مجھ سے قرابت کو قطع کیا اور میرے حق کو نہیں جانا اور میری سلطنت کو مجھ سے چھینا چاہا۔ دیکھو اللہ تعالیٰ نے اُن کے ساتھ کیا سلوک کیا ؟ حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ نے ایک آیت کی تلاوت فرمائی: ” نہ روئے زمین پر نہ تم لوگوں پر کوئی مصیبت نازل ہوئی ہے جو اس نوشتہ میں نہ ہو جو عالم کی پیدائش سے پہلے لکھا جا چکا ہے“۔ یزید نے اپنے بیٹے خالد بن یزید سے کہا : اس کی بات کو رد کر دے ۔ خالد کی سمجھ میں کوئی بات نہیں آئی جس کو وہ رد کر سکے۔ یزید نے کہا: ” تم کہو کہ تم پر جو مصیبت آئی ہے وہ تمہارے ہی ہاتھوں تمہارے اعمال کے سبب سے آئی ہے اور بہت سی خطائیں اللہ معاف بھی کر دیتا ہے۔ پھر یزید نے خواتین اور بچوں کو آگے بلوایا اور یہ سب سامنے لا کر بٹھا دیئے گئے ۔ یزید نے دیکھا کہ یہ سب بہت ہی برے حال میں ہیں تو بولا : اللہ مرجانہ کے بیٹے کا بڑا کرے! (عبید اللہ بن زیاد کو مرجانہ کا بیٹا بھی کہا جاتا تھا ) اگر اُس میں اور تم لوگوں میں برادری اور قرابت داری ہوتی تو وہ تم سے یہ سلوک نہیں کرتا اور اس حالت میں تم کو یہاں نہیں بھیجتا۔ 

حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کی حق گوئی

حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا سر مبارک اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کے سروں کو یزید کی خدمت میں پیش کیا گیا تو اس نے ان سروں کی نمائش کے لئے دربار عام کا اعلان کیا اور سب لوگ دربار میں حاضر ہوئے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اس کے بعد یزید نے لوگوں کو دربار میں آنے کا اذن دیا۔ لوگ جب دربار میں داخل ہوئے تو کیا دیکھا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا کٹا ہوا سر یزید کے سامنے رکھا ہوا ہے۔ یزید کے ہاتھ میں چھڑی ہے اور وہ آپ رضی اللہ عنہ کے ہونٹ اور دانتوں کو چھیڑ رہا ہے اور کہ رہا ہے : ” میری اور تمہاری مثال وہ ہے جو حصین بن حمام نے کہی ہے کہ ہماری تلواریں اپنے پیاروں کا سر اڑا دیتی ہیں اور وہ بھی تو بڑے نافرمان اور ظالم تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے یہ منظر دیکھا تو فرمایا: اے یزید ! حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ہونٹ اور دانتوں پر تیری چھڑی! ارے کم بخت ! تیری چھڑی کس مقام پر ہے؟ میں نے دیکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس جگہ کو چومتے تھے سن رکھا! قیامت کے دن تیرا حشر عبید اللہ بن زیاد کے ساتھ ہوگا اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوں گے ۔ یہ فرما کر آپ رضی اللہ عنہ اٹھے اور دربار سے چلے گئے۔ 

یزید کی گستاخی

حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے اہل بیت یزید کے دربار میں انتہائی خستہ حالت میں موجود تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی چھوٹی بہن سیدہ فاطمہ بنت علی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ” جب ہم لوگ یزید کے سامنے لے جا کر بٹھائے گئے تو اُسے ترس آگیا اور ہمارے بارے میں اُس نے کسی چیز کا حکم دیا اور ہم پر مہربان ہوا۔ اُس وقت اہل ملک شام میں سے ایک سرخ رنگ کا آدمی یزید کے سامنے آکر کھڑا ہوگیا اور بولا: "اے امیر المومنین ! اس عورت کو ( یعنی میں) مجھے دے دیں۔ میں اُس زمانے میں کمسن دوشیزہ تھی ۔ یہ سن کر میں ڈر کے مارے کپکپانے لگی اور مجھے بدگمانی ہونے لگی کہ یہ بات اُن کے مذہب میں جائز ہوگی۔ میں نے گھبراہٹ میں اپنی بڑی بہن سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا کا دامن پکڑ لیا۔ وہ مجھ سے زیادہ عقل رکھتی تھیں جانتی تھیں کہ ایسا ہو نہیں سکتا ہے ۔ انہوں نے فرمایا: ” جھک مارا تو نے او بیہودہ بدکار! یہ تیری ایسی مجال ہے اور نہ ہی یزید کی ایسی مجال ہے ۔ یزید کو غصہ آ گیا اور وہ بولا : اللہ کی قسم ! تم نے غلط کہا ہے۔ مجھے اختیار ہے کہ میں جو کرنا چاہوں کر سکتا ہوں۔ میری بڑی بہن رضی اللہ عنہانے فرمایا: اللہ کی قسم! ایسا نہیں ہو سکتا؟ اللہ تعالیٰ نے یہ اختیار تجھے نہیں دیا ہے ۔ ہاں ! اگر تو ہمارے مذہب سے نکل جائے اور ہمارے دین کو چھوڑ کر دوسرا دین اختیار کرلے تو دوسری بات ہے ۔ یزید غضبناک ہو گیا اور برہم ہو کر گستاخی سے بولا : تو مجھ سے ایسی گفتگو کر رہی ہے؟ دین سے تیرے باپ ( نعوذ باللہ ) نکل گئے تھے ۔ میری بڑی بہن رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے اور میرے نانا جان صلی اللہ علیہ وسلم اور میرے والد محترم رضی اللہ عنہ اور میرے بھائیوں کے دین سے تو نے اور تیرے والد نے ہدایت پائی ہے ۔ یزید نے بدتمیزی اور گستاخی کرتے ہوئے کہا: "اللہ کی دشمن ! تو جھوٹ کہہ رہی ہے ۔ میری بڑی بہن رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تو حاکم ہے، غالب ہے، ناحق سخت زبانی کر رہا ہے اور اپنی حکومت سے ہمیں دبانا چاہتا ہے۔ اب یزید کو حیا آگئی اور وہ چپ ہو گیا۔ اُس شامی شخص نے پھر یزید سے وہی مطالبہ کیا : ” امیر المومنین ! یہ کنیز میرے حوالے کر دیں“۔ یزید نے کہا: "دور ہو جا! اللہ تجھے موت دے کر تیرا فیصلہ کر دئے“ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا نے اُس شامی شخص سے فرمایا: اللہ کی قسم تو نے جھوٹ بولا ہے اور کمینگی کی ہے۔ یہ بات تیرے لئے اور ( یزید کی طرف اشارہ کر کے ) اس کے لئے جائز نہیں ہے۔ یزید نے غصے سے سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا کو دیکھا اور بولا : تو نے جھوٹ بولا ہے۔ اللہ کی قسم! یہ میرے لئے جائز ہے اور میں کرنا چاہوں تو کر سکتا ہوں“۔ سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہر گز نہیں ! اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے تیرے لئے یہ جائز نہیں کیا ہے سوائے اس کے کہ تو ہماری ملت سے نکل جائے اور ہمارے دین کے سوا کوئی اور دین اختیار کرلے“۔ یزید غصے اور طیش میں آگیا اور بولا : ” کو اس بات سے میرا سامنا کرتی ہے؟ تیرا باپ اور تیرے بھائی ( نعوذ باللہ) دین سے خارج ہو گئے ہیں ۔ سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اللہ کے دین اور میرے نانا صلی اللہ علیہ وسلم کے دین اور میرے والد محترم اور بھائیوں کے دین سے تو نے ، تیرے باپ نے اور تیرے دادا نے ہدایت پائی ہے ۔ یزید نے کہا: "اے اللہ کی دشمن ! تو جھوٹ بولتی ہے “۔ سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تو حکمراں ہے اور کو ظالم ہو کر گالیاں دیتا ہے اور اپنے اقتدار سے ہم پر غالب آنے کی کوشش کرتا ہے ۔ یزید یہ سن کر شرمندہ ہو گیا اور خاموش ہو گیا۔

اہل بیت کے مدینہ منورہ روانگی کے انتظامات

حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے اہل بیت کی روانگی کے انتظامات یزید نے کئے جب تک ان کے ساتھ اچھا سلوک کرتا رہا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : یزید نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے کہا: "اے نعمان بن بشیر ! ان لوگوں کی روانگی کا سامان جیسا مناسب ہو کر دو اور ان کے ساتھ اہل ملک شام میں سے کسی ایسے شخص کو بھیجو جوامانت دار اور نیک کردار کا مالک ہو ۔ اُس کے ساتھ سوار ہوں اور خدام ہوں کہ ان سب کو مدینہ منورہ پہنچا دے۔ اس کے بعد خواتین اور بچوں کو علیحدہ مکان میں ٹھہرایا گیا جہاں ضرورت کی سب چیزیں موجود تھیں اور اُن کے بھائی حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ کو اسی مکان میں ٹھہرایا گیا جس میں وہ سب لوگ ابھی تک تھے۔ یہ سب خواتین جب یزید کے گھر گئے تو آل معاویہ میں سے کوئی عورت ایسی نہیں تھی جو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے لئے روتی ہوئی اور آہ وزاری کرتی ہوئی اُن کے پاس نہ آئی ہو۔ غرض سب نے وہاں صف ماتم بچھا دی۔ یزید صبح و شام کھانے کے وقت حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ کو بلا لیا کرتا تھا۔ ایک دن اُس نے حضرت عمر و بن حسن رضی اللہ عنہ کو بلایا۔ وہ بہت ہی کمسن تھے۔ یزید نے کہا: ” اس جوان یعنی خالد سے لڑو گے؟ حضرت عمرو بن حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ایسے نہیں لڑوں گا بلکہ ایک چھری میرے ہاتھ میں دو اور دوسری خالد کے ہاتھ میں دو پھرلڑوں گا“۔ یزید نے اُن کو اپنی طرف کھینچ کر کہا: وہ طینت کہاں جائے گی ؟ سانپ کا بچہ آخرسپنولیا ہی ہوتا ہے“۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں