21 سلطنتِ امیہ
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 21
حضرت علی (اکبر ) بن حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت، حضرت عبد اللہ بن مسلم، حضرت عون اور حضرت محمد رضی اللہ عنہم کی شہادت، حضرت قاسم بن حسن رضی اللہ عنہ کی شہادت، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ پر حملہ، حضرت عبد الله ( علی اصغر ) بن حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے چار اور بھائیوں کی شہادت، خیموں پر حملہ کی کوشش، بھتیجے کی جاں نثاری، بحر بن کعب کا انجام، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ پر تیروں کی بارش، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شجاعت،
حضرت علی (اکبر ) بن حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے تمام ساتھی ایک ایک کر کے آپ رضی اللہ عنہ پر اپنی جانیں فدا کرتے چلے گئے ۔ یہاں تک کہ اب کوئی ساتھی نہیں بچا تھا۔ اب حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے بڑے بیٹے حضرت علی اکبر بن حسین رضی اللہ عنہ آگے بڑھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اولا د ابو طالب میں سے سب سے پہلے حضرت علی اکبر بن حسین رضی اللہ عنہ شہید ہوئے ۔ آپ رضی عنہ کی والدہ محترمہ سیدہ لیلی بنت ابومرہ ثقفی ہیں۔ یہ دشمنوں پر حملہ کرنے لگے اور ساتھ ہی فرماتے جارہے تھے : ”میرا نام علی بن حسین ہے قسم کعبہ کی! ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب تر ہیں۔ اللہ کی قسم اسمیہ کے بیٹے کے حکم کو ہم نہیں مانیں گئے ۔ مرہ بن منقد عبدی نے اُن کی طرف دیکھ کر کہا: ” یہ جوان میری طرف سے اسی طرح لڑتا ہوا اور یہ کلمہ کہتا ہوا گذرے اور میں اسکے باپ کو نہ دلاؤں تو سارے عرب کی پھٹکار ہے مجھے پڑ ۔ حضرت علی اکبر بن حسین رضی اللہ عنہ دشمنوں کو مارتے کاٹتے اور لڑتے ہوئے اُس کے پاس سے گذرے تو اُس بد بخت مرہ بن منقد عبدی نے سامنے اچانک آکر ایسی برچھی ماری کہ وہ گھوڑے سے گر پڑے۔ دشمنوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو گھیر لیا اور تلواریں مار مار کر ٹکڑے کر ڈالے اور شہید کر دیا۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : غرض جب تمام ساتھی شہید ہو گئے تو حضرت علی اکبر بن حسین رضی اللہ عنہ اپنے والد محترم سے اجازت لیکر میدان جنگ میں آئے اور سب سے پہلے ”آل ابی طالب میں سے یہی شہید ہوئے۔ انہوں شیروں کی کمال مردانگی سے مسلسل پیہم حملے کئے اور مخالفین کو اپنے پُر زور حملوں سے بار بار منتشر کر دیا لیکن ٹڈی دل ( بہت بڑا) لشکر کے مقابلے میں تن تنہا شخص کیا کر سکتا ہے؟ بالآخر مرہ بن منقذ عبدی نے پیچھے سے نیزہ مارا اور وہ چکرا کر گرے۔ دشمن سپاہیوں نے دوڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر کے شہید دیا۔
حضرت عبد اللہ بن مسلم، حضرت عون اور حضرت محمد رضی اللہ عنہم کی شہادت
حضرت علی اکبر بن حسین رضی اللہ شہید ہو گئے تو انہیں اُٹھا کر لایا گیا۔ علامہ حمد بن جریرطبری لکھتے ہیں : حمید بن مسلم کا بیان ہے کہ میں نے اپنے کان سے سنا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ فرمارہے تھے ۔ اللہ ان لوگوں کو قتل کرے اے بیٹے ! جنہوں نے تجھے شہید کیا ہے۔ اللہ پر اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آبروریزی پر کس قدر ان کی جرات بڑھی ہوئی ہے۔ بس تیرے بعد دنیا پر خاک ہے“۔ میں نے دیکھا کہ ایک بی بی خیمے سے نکل کر دوڑ کر آئیں تو ایسا لگا جیسے چاند نکل آیا ہو۔ وہ کپکپا رہی تھیں اور فرمارہی تھیں: ”اے میرے بھیا! اے میرے بھتیجے ۔ میں نے لوگوں سے اُن کے بارے میں پوچھا تو معلوم ہوا کہ سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا ہیں یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ک بیٹی سیدہ فاطمہ زہرہ رضی اللہ عنہا کی بیٹی ہیں ۔ وہ آئیں اور حضرت علی اکبر بن حسین رضی اللہ عنہ کی لاش پر گر پڑیں ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اُن کا ہاتھ تھاما اور انہیں خیمے میں لے گئے اور لڑکوں کو ساتھ لیکر آئے اور حکم دیا کہ لاش کو اٹھاؤ۔ لڑکے لاش میدان جنگ سے اُٹھا کر لے جا کر اُس خیمے کے سامنے لٹا دیا جس کے سامنے میدان جنگ تھا۔ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے بیٹے حضرت عبد اللہ بن مسلم رضی اللہ عنہ کوعمرو بن صبیح صدائی نے تیر مارا۔ حضرت عبد اللہ بن مسلم رضی اللہ عنہ نے ہاتھ پر ہاتھ کو رکھ لیا کہ سرکو تیر سے بچائیں۔ تیر ہاتھ کو چھیدتا ہواما تھے تک پہنچ گیا۔ اب ہاتھ کو جنبش بھی نہیں دے سکتے تھے۔ پھر اس بدبخت نے ہٹ کر دوسرا تیرول پر مارا۔ جس سے آپ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے۔ اب چاروں طرف سے دشمنوں نے ہجوم کر کے حملہ کر دیا۔ عبداللہ بن قطبہ طائی نے حضرت عون بن عبداللہ بن جعفر طیار رضی اللہ عنہ پر حملہ کر کے شہید کر دیا اور عامر بن نہشل نے اُن کے بھائی محمد بن عبداللہ بن جعفر طیار رضی اللہ عنہ پر حملہ کر کے شہید کر دیا ۔ حضرت عبد الرحمن بن عقیل رضی اللہ عنہ پر عثمان بن خالد جہنی اور بشر بن سوط ہمدانی نے ایک ساتھ حملہ کر دیا اور شہید کر دیا۔
حضرت قاسم بن حسن رضی اللہ عنہ کی شہادت
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے تمام ساتھی اپنی جانیں آپ رضی اللہ عنہ پر فدا کر چکے تھے اور اب آپ رضی اللہ عنہ کے اہل بیت شہید ہورہے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے بڑے بیٹے حضرت علی اکبر بن حسین رضی اللہ عنہ شہید ہو چکے تھے اور اب میدان جنگ میں آپ رضی اللہ عنہ کے بھیجے حضرت قاسم بن حسن رضی اللہ عنہ لڑ رہے تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حمید بن مسلم کہتا ہے میں نے ایک طفل ( نوجوان ) کو دیکھا جیسے چاند کا ٹکڑا ہاتھ میں تلوار لئے میدان جنگ کی طرف بڑھا۔ اُس کے گلے میں قمیص تھی پاؤں میں پاجامہ تھا اور مجھے خوب اچھی طرح یاد ہے کہ اُس کے جوتوں میں سے بائیں پاؤں کے جوتے کا تسمہ ٹوٹا ہوا تھا۔ اُس پیارے نوجوان کو دیکھ کر عمرو بن سعید از دی مجھے سے کہنے لگا: اللہ کی قسم! اسے تو میں قتل کروں گا ۔ میں نے کہا: "سبحان اللہ! اس نوجوان کو قتل کرنے میں تیرا کیا مقصد ہے؟ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کو تم نے گھیر کر شہید کر دیا ہے بس یہی تمہارے لئے کافی ہے ۔ اس نے جواب دیا : اللہ کی قسم! اسے تو میں ضرور قتل کروں گا ۔ یہ کہ کر اس نے حملہ کیا اور اُس نوجوان کے سر پر تلوار مار کا پلٹا۔ وہ نوجوان بچہ منہ کے بل گر پڑا اور چاچا کہ کر پکارا۔ یہ سن کر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ شاہین کی طرح جھپٹ کر آئے اور شیر کی طرح غضبناک ہو کر عمرو بن سعید از دی پر حملہ کیا اور تلوار ماری۔ اُس نے تلوار کو بازو پر روکا تو ہاتھ کہنی سے کٹ کر الگ ہو گیا۔ وہ چلایا اور وہاں سے بھاگ کر ہٹ گیا۔ اہل کوفہ کے سوار دوڑے کہ عمرہ کو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے بچا کر لے جائیں۔ گھوڑے اُس کی طرف پلٹ پڑے اور اُن کے قدم اُٹھ گئے اور آخر کا ر انہیں کے گھوڑوں نے عمرو بن سعید از دی کو کچل کر رکھ دیا جس سے وہ مرگیا۔ غبار ہٹا تو میں نے دیکھا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اُس نو جوان بچے کے سرہانے کھڑے ہوئے ہیں اور وہ ایڑیاں رگڑ رہا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ فرمارہے تھے : ”اللہ سمجھے ان لوگوں سے، جنہوں نے تجھے شہید کیا ہے۔ جن سے قیامت کے دن تیرے والد محترم حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ خون کا دعوی کریں گے۔ اللہ کی قسم ! چا پر یہ امر شاق ہے کہ تو پکارے اور وہ جواب نہیں دے سکے اور جواب دے بھی تو اُس سے تجھے کچھ نفع نہ ہو۔ اللہ کی قسم ! تیرے چا کے دشمن بہت ہیں اور مددگار کم رہ گئے ہیں۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اُس نو جوان بچے کو گود میں اٹھالیا۔ میں نے دیکھا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اُسے سینے سے لگائے ہوئے تھے اور دونوں پاؤں اُس کے گھٹتے ہوئے جارہے تھے۔ میں نے اپنے دل میں سوچا کہ انہوں نے گود میں کیوں اٹھایا ہے؟ دیکھا کہ اُس کی لاش کو اپنے بڑے بیٹے حضرت علی اکبر بن حسین رضی اللہ عنہ کے پہلو میں اور جولوگ اُن کے خاندان کے شہید ہوئے تھے اُن کی لاشوں میں لٹا دیا۔ میں لوگوں سے پوچھا کہ یہ نوجوان بچہ کون ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ حضرت قاسم بن حسن رضی اللہ عنہ ہے۔
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ پر حملہ
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے تمام ساتھی شہید ہو چکے تھے اور اب آپ رضی اللہ عنہ کے اہل بیت ایک ایک کر کے شہید ہوتے جارہے تھے۔ خود آپ رضی اللہ عنہ پر بھی اب حملے ہونے لگے تھے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ” حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اس دن پہروں ایسی حالت میں رہے کہ جو شخص آپ رضی اللہ عنہ کی طرف بڑھتا تھا اور آپ رضی اللہ عنہ کے قریب پہنچ کر واپس چلا جاتا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے اور اس گناہ عظیم کو اپنے سر پر لینے سے جھجھک جاتا تھا۔ اسی دوران مالک بن نسیر کندی بد بخت آیا اور آپ رضی اللہ عنہ کے سر پر تلوار ماری آپ رضی اللہ عنہ کلاہ برنس پہنے ہوئے تھے۔ تلورا برنس کو کاٹتی ہوئی سر تک پہنچ گئی اور زخم کے خون سے ٹوپی لبریز ہوگئی ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” اس ضرب کا نفع تجھے یہ ملے کہ کھانا پینا نصیب نہ ہو اور اللہ تعالیٰ تیرا حشر ظالموں کے ساتھ کرئے“۔ یہ فرما کر آپ رضی اللہ عنہ نے ٹوپی کو اُتارا، زخم پر پٹی باندھی اور دوسری ٹوپی منگوا کر پہنی اور عمامہ باندھ لیا۔ مالک بن نسیر کندی نے آکر آپ رضی اللہ عنہ کی ٹوپی اُٹھالی اور جنگ کے بعد جب یہ ٹوپی لیکر اپنے گھر گیا اور اُس میں لگا خون دھونے لگا تو اس کی بیوی اُم عبد بنت حر نے کہا: "ہائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی رضی اللہ عنہا کے بیٹے رضی اللہ عنہ کی ٹوپی ٹوٹ کر تم میرے گھر لائے ہو۔ لے جاؤ اسے یہاں سے۔ لوگ کہتے ہیں کہ مالک بن نسیر سخت محتاجی میں مبتلا رہا اور دانے دانے کو تر ستارہا اور اسی حالت میں مرگیا۔
حضرت عبد الله ( علی اصغر ) بن حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے اہل بیت اب شہید ہوتے جارہے تھے اور آپ رضی اللہ عنہ پر بھی حملے ہونے لگے تھے۔ اسی حملے میں آپ رضی اللہ عنہ کے سب سے چھوٹے بیٹے حضرت عبداللہ (علی اصغر ) بن حسین رضی اللہ عنہ جو کہ دودھ پیتے بچے تھے اور پیاس سے تڑپ رہے تھے وہ بھی شہید ہو گئے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: ” حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو کسی نے ایک بچہ لا کر آپ رضی اللہ عنہ کو دیا اور آپ رضی اللہ عنہ نے اُسے گود میں لے لیا۔ یہ بچہ حضرت عبداللہ ( علی اصغر ) بن حسین رضی اللہ عنہ تھا۔ بنو اسد کے ایک شخص نے نشانہ لگا کر ایسا تیر مارا کہ وہ تیر بچے کے حلق میں اتر گیا اور بچہ ذبح ہو گیا۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اُس کے زخم پر چلوں گا دیا تو چلوخون سے بھر گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے خون زمین پر پھینک دیا اور فرمایا: "اے اللہ تعالیٰ ! تو نے اگر آسمان سے نصرت نہیں نازل کی تو جو اُس سے بہتر ہے وہ ہم کو عطا فرمادے اور ان ظالموں سے ہمارا انتقام لئے ۔ اس کے بعد ابن عقبہ غنوی نے حضرت ابو بکر بن حسن رضی اللہ عنہ کو تیر مارکر شہید کر دیا۔ اسی کے بارے میں کسی شاعر نے کہا ہے : ”ہمارے خون کی ایک وند قبیلہ بونی کی گردن پر اور دوسری بوند قبیلہ بنو اسد کی گردن پر ہے جس کا ذکر ہوتا رہے گا“۔
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے چار اور بھائیوں کی شہادت
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے اہل بیت کو بے دردی سے شہید کیا جارہا تھا۔ اُس دوران حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے چار اور بھائی شہید ہو گئے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ” حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے بھائی حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائیوں حضرت عبداللہ بن علی ، حضرت جعفر بن علی، حضرت عثمان بن علی حضرت محمد بن علی رضی اللہ عنہم سے فرمایا: "اے میرے ماں جائے بھائیو! ( ان پانچوں بھائیوں کی والدہ ایک ہیں اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی والدہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ہیں جبکہ ان سب چھ بھائیوں کے والد حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں ) تم سب مجھ سے پہلے ہی جاؤ، تاکہ میں تمہارا وارث ہو جاؤں ۔ تمہاری کوئی اولاد نہیں ہے کہ اس حکم کو بجا لائے ۔ یہ سب بھائی میدان جنگ میں پہنچے اور زبردست مقابلہ کرنے لگے لیکن دشمن اتنے زیادہ تھے کہ کچھ دیر بعد تینوں شہید ہو گئے ۔ حضرت عبد اللہ بن علی رضی اللہ عنہ کو بانی حضرمی نے شہید کیا۔ اُس کو شہید کرنے کے بعد اُس نے حضرت جعفر بن علی رضی اللہ عنہ پر حملہ کر دیا اور انہیں بھی شہید کر کے سرکاٹ لیا۔ حضرت عثمان بن علی رضی اللہ عنہ کو خولی بن یزید اسمی نے تیر مارا اور بنو دارم کے ایک شخص نے اُن پر حملہ کر کے شہید کر دیا اور سر کاٹ لیا۔ پھر ایک شخص ساری نے حضرت محمد بن علی رضی اللہ عنہ کو تیر مار کر شہید کیا اور اُن کا سرکاٹ کر لے آیا۔
خیموں پر حملہ کی کوشش
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے اہل وعیال اور اہل بیت بھی شہید ہوتے جارہے تھے اور ساتھ ہی آپ رضی اللہ عنہ پر بھی حملے ہو رہے تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ سمر بن ذی جوشن کو فیوں میں سے دس پیادوں کو لیکر اس خیمے کی طرف بڑھا جس میں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اپنے اہل وعیال کے ساتھ تھے۔ یہ لوگ آگے بڑھے تو آپ رضی اللہ عنہ ان کے اور خیمے کے درمیان حائل ہو گئے اور فرمایا: ”وائے ہو تم پر! اگر تم لوگوں کا کوئی دین نہیں ہے اور قیامت کا کوئی خوف نہیں ہے تو کم سے کم دنیاوی طور پر تو اچھے انسانوں کا طریقہ اختیار کرو۔ میرے گھر کو اور میرے اہل و عیال کو جاہلوں اور نالائقوں سے بچاؤ شمر بن ذی جوشن نے کہا: ”اچھا اے فاطمہ زہرہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے ! ایسا ہی ہوگا“۔ اب وہ پیادوں کو لیکر آپ رضی اللہ عنہ کی طرف بڑھا۔ اُن لوگوں میں اب جنوب بعضی اور قشم بن عمر و علی صالح بن وہب یزنی ،سنان بن انس شخصی اور خولی بن یزید سجی تھے ۔ شمر بن ذی جوشن انہیں آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے پر آمادہ کرنے لگا اور ابو جندب کے پاس آیا۔ یہ سر سے پیر تک سلاح جنگی لگائے ہوئے تھا اس سے کہا: "حسین بن علی کی طرف بڑھ اور حملہ کر۔ ابو جندب نے کہا: تو خود کیوں نہیں بڑھتا اورحملہ کرتا ؟ شمر بن زی جوشن کہا: تو اور میرے ساتھ اس طرح بات کر رہا ہے ؟ ابو جندب بہت دلیر تھا بولا: اللہ کی قسم ! تیری آنکھ کو برچھی کی نوک سے گھنگول ڈالوں گا ۔ شمر بن ذی جوشن یہ سن کر وہاں سے سرک گیا اور کہتا جارہا تھا: اللہ کی قسم مجھے موقع ملا تو تجھ سے سمجھ لوں گا ۔ اور حملہ کرنے کی نیت سے آپ رضی اللہ عنہ کی طرف بڑھا۔ وہ سب آپ رضی اللہ عنہ کو گھیر نے کی کوشش کر رہے تھے ۔ آپ رضی اللہ عنہ حملہ کرتے تو سب بھاگ جاتے تھے یہاں تک کہ سب نے آپ رضی اللہ عنہ کو گھیر لیا
بھتیجے کی جاں نثاری
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو دشمنوں نے گھیرے میں لے لیا تھا کہ اُسی وقت ایک حیرتناک واقعہ پیش آیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اس کے بعد دشمنوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو سب طرف سے گھیر لیا۔ یہ دیکھ کر ایک لڑکا یے سے نکلا اور بھاگ کر آپ رضی اللہ عنہ کے پاس آنے لگا۔ آپ رضی اللہ عنہ کی بہن سیدہ زینب رضی اللہ عنہا اس لڑکے کے پیچھے دوڑیں کہ اُسے روکیں۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے پکار کر فرمایا: ”زینب! اسے روکو لڑکا نہیں مانا اور دوڑتا ہوا آپ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ گیا اور پہلو میں کھڑا ہو گیا۔ بحر بن کعب نے آپ رضی اللہ عنہ پر تلوار اُٹھائی کہ وار کرے تو لڑکے نے کہا: ” او خبیث ! تو میرے چا پر حملہ کر رہا ہے؟ اس نے لڑکے پر وار کر دیا تو لڑکے نے تلوار کو روکنے کے لئے اپنا ہاتھ آگے کیا تو ہا تھ کٹ کر لٹک گیا اور صرف ایک تسمہ لگا رہ گیا۔ لڑکا ” اماں ، اماں“ کہ کر چلایا تو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اُس کو اپنے سینے سے لپٹا لیا اور فرمایا: ”اے میرے بھائی کے لخت جگر! اس مصیبت پر صبر کر اور اسے اپنے حق میں بہتر سمجھے اللہ تعالیٰ اب تجھ کو تیرے بزرگوں سے ملوا دے گا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت علی بن ابی طالب ، حضرت حمزہ بن عبد المطلب ، حضرت جعفر بن ابی طالب اور حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہم کے پاس پہنچا دے گا ۔ حمید بن مسلم کہتا ہے : " اُس دن میں نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اے اللہ! ان لوگوں کو آسمان کی بارش سے، زمین کی برکتوں سے محروم کر دے اور اگر تو ان کو مہلت دے تو ان میں تفرقہ ڈال دے۔ ان کو فرقہ فرقہ کر کے متفرق کر دے۔ ان کے حکام کو ان سے کبھی راضی نہ ہونے دے۔ انہوں نے ہمیں بلایا تھا نصرت کرنے کو اور ہمیں پر حملہ کرنے دوڑ پڑے اور انہوں نے ہمیں شہید کیا ۔ اس کے بعد جو پیادوں نے آپ رضی اللہ عہ کو گھر رکھا تھا اُن پر حملہ کیا اور سب کے سب پسپا ہو گئے۔
بحر بن کعب کا انجام
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ جانتے تھے کہ یہ بد بخت مجھے شہید کرنے کے بعد میری لاش کے ساتھ بہت برا سلوک کریں گے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے اہل بیت میں سے تین یا چار شخص باقی رہ گئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے ایک مضبوط برویمانی پاجامہ منگایا جس کی بناوٹ میں روئی کے بونڈروں کے ریزے دکھائی دے رہے تھے ۔ پھر اُسے چاک کر کے پھاڑ ڈالا۔ آپ رضی اللہ عنہ کو اندیشہ تھا کہ شہید کرنے کے بعد مجھے برہنہ نہ کر دیں۔ یہ دیکھ کر کسی نے کہا کہ اس کے نیچے جانگیہ بھی ہوتی تو اچھا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ بہت ذلیل لباس ہے مجھے نہیں پہنا چاہیئے ۔ اُن بدبختوں میں سے بحر بن کعب نے آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کے بعد پاجامہ اُتار کر برہنہ ڈال دیا تھا۔ جس کی وجہ سے اُس بدبخت کے ہاتھ ایسے ہو گئے تھے کہ جاڑوں میں دونوں ہاتھوں سے پانی پکا کرتا تھا اور گرمیوں میں لکڑی کی طرح سوکھ جایا کرتے تھے۔ وہ بد بخت اسی تکلیف میں مبتلا رہا اور تڑپ تڑپ کر مر گیا۔
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ پر تیروں کی بارش
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھی اور اہل بیت اپنی اپنی جانیں آپ رضی اللہ عنہ پر فدا کر چکے تھے اور اب آپ رضی اللہ عنہ تنہا میدان جنگ میں بہادری کے جوہر دکھا رہے تھے۔ کسی کی ہمت نہیں پڑتی تھی کہ آپ رضی اللہ عنہ کا سامنا کر سکے کیونکہ آپ رضی اللہ عنہ کی تلوار کے سامنے جو بھی آتا تھا اس کا سر ہوا میں اُڑتا ہوا دکھائی دیتا تھا۔ آخر کا ر اُن بدبختوں نے آپ رضی اللہ عنہ پر تیروں کی بارش کر دی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلے پر جب دشمنوں نے غلبہ حاصل کر لیا تو آپ رضی اللہ عنہ مسنات پر سوار ہوئے اور دشمنوں سے مقابلہ کرتے ہوئے آگے بڑھنے لگے۔ پیاس کی شدت غالب ہوئی تو آپ رضی اللہ عنہ پانی کی طرف آئے تو حصین بن تمیم نے آپ رضی اللہ عنہ کو تیر مارا جو دہانہ پر آ کر لگا۔ آپ رضی اللہ عنہ خون کو منہ سے ہاتھ میں لیتے جاتے تھے اور آسمان کی طرف پھینکتے جاتے تھے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور حمدوثنا کی پھر دونوں ہاتھوں کو ملا کر فرمایا: ” اے اللہ! ان سے گن گن کر بدلہ لے، ان کو چن چن کر ان میں سے کسی کو روئے زمین پر نہ چھوڑ“۔ جب آپ رضی اللہ عنہ نے دریائے فرات کی طرف رخ کیا تو بنو ابان میں سے ایک شخص نے پکار کا کہا: ” ارے ندی اور اُن کے درمیان حائل ہو جاؤ ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور لوگ دوڑ کر آپ رضی اللہ عنہ اور دریائے فرات کے درمیان حائل ہو گئے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ابانی کے بارے میں فرمایا: ”اے اللہ ! اسے تشنگی میں مبتلا کر۔ ابانی نے ایک تیر ایسا چلایا جو آپ رضی اللہ عنہ کی ٹھوڑی کے نیچے پیوست ہو گیا ۔ اُس تیر کو آپ رضی اللہ عنہ نے کھینچ کر نکالا اور زخم کے نیچے دونوں ہاتھوں سے چلو لگا دیئے۔ خون دونوں چلوؤں میں بھر گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” اے اللہ ! تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کے ساتھ جو سلوک کیا جارہا ہے میں اس کی فریاد تجھی سے کرتا ہوں“۔ بہت کم زمانہ گذرا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ابانی کو پیاس میں مبتلا کیا۔ کسی طرح اُس کی تشنگی بجھتی ہی نہیں تھی۔ پانی ٹھنڈا کیا جا تا تھا اور اس میں شکر ڈالی جاتی تھی۔ دودھ کے قدمے بھرے ہوئے تھے اور پانی کے مٹکے بھرے ہوئے تھے اور وہ یہی کہے جاتا تھا: ”ارے پانی پلاؤ۔ یہ پیاس مجھے مارے ڈالے جارہی ہے ۔ ایک مٹکا یا ایک قدح جس سے سارے گھر کی پیاس بجھ جاتی تھی اُسے دیا جاتا تھا اور وہ غٹاغٹ پی جاتا تھا اور برتن منہ سے ہٹا کر بولتا تھا: ”ارے پانی پلاؤ ، پیاس مجھے مارے ڈال رہی ہے۔ قاسم بن اصبغ نے یہ تماشہ دیکھا تھا وہ کہتا ہے : اللہ کی قسم اتھوڑے ہی دنوں میں اُس کا پیٹ اس طرح تڑک گیا جیسے اونٹ کا پیٹ“۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: اسی اثناء میں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ لڑتے بھڑتے دریائے فرات تک پہنچ گئے اور قریب تھا کہ آپ رضی اللہ عنہ پانی سے اپنے خشک حلق کو تر کر لیتے کہ اچانک حصین بن نمیر نے ایک تیر مارا جو آپ رضی اللہ عنہ کے منہ میں لگا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے تیر نکال کر پھینک دیا اور ہاتھ سے خون پو نچھتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے: "اے اللہ میں تجھ سے عرض کرتا ہوں کہ جو یہ لوگ تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کے ساتھ کر رہے ہیں، تو اُن زیادتیوں کو دیکھ۔ پھر شمر بن ذی جوشن تقریبا دس سپاہیوں کے ساتھ خواتین کے خیموں کی طرف بڑھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے دریائے فرات کو چھوڑ کر اُسے روکا اور فرمایا: ” تف ہو تجھ پر ! اگر تجھ میں دین داری نہیں ہے اور تو آخرت کا خوف نہیں رکھتا ہے تو شرافت کیوں چھوڑ رہا ہے؟ اپنے سپاہیوں کو روک اور میرے اہل وعیال کو اُن کی بے ہودگیوں سے بچا ۔ جب کسی نے کوئی جواب نہیں دیا تو آپ رضی اللہ عنہ تلوار کھینچ کر جھپٹے۔ دوسری طرف شمر بن ذی جوشن نے اپنے سپاہیوں کو للکارا تو سب نے آپ رضی اللہ عنہ کوگھیر لیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کایہ حال تھا کہ بجلی بنے ہوئے تھے اور آپ رضی اللہ عنہ جس طرف بھی رخ کرتے تھے تو لوگ جان بچا بچا کر ایک دوسرے پر منہ کے بل گرتے پڑتے بھاگ کھڑے ہوتے تھے اور پھر جھرمٹ باندھ کر ہر طرف سے گھیر کر دائیں بائیں آگے پیچھے سے مجموعی قوت سے حملہ آور ہوتے تھے۔
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شجاعت
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے جسم مبارک پر جگہ جگہ تیر دھنسے ہوئے تھے ۔ پھر بھی آپ رضی اللہ عنہ بہت بہادری اور شجاعت سے مقابلہ کر رہے تھے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عبد اللہ بن عمار پر لوگوں نے عتاب کیا کہ تو بھی حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے والوں میں شامل تھا۔ عبداللہ نے کہا: میں نے تو بنو ہاشم پر احسان کیا۔ لوگوں نے پوچھا: تو نے کس طرح احسان کیا ؟ اس نے کہا: میں نے برچھی تان کر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ پر حملہ کیا اور اُن کے قریب پہنچا اور اللہ کی قسم ! میں انہیں برچھی مارہی دیتا لیکن پھر میں پیچھے ہٹ گیا۔ میں نے دل میں کہا کہ میں کیوں انہیں شہید کروں کوئی اور شہید کرے تو کرے۔ میں نے دیکھا کہ اُن کے دائیں بائیں سے جو پیادے نرغے میں لئے ہوئے تھے انہوں نے آپ رضی اللہ عنہ پرحملہ کر دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے دائیں طرف کے پیادوں پر حملہ کر کے سب کو منتشر کر دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ عمامہ باندھے ہوئے تھے اور خنز کا قمیص گلے میں تھا۔ اللہ کی قسم کسی ایسے بے کس اور بے بس کو جس کی اولاد اور اہل بیت اور ساتھی سب شہید ہو چکے ہوں اس دل سے اور اس حواس سے اور اس جرات سے لڑتے ہوئے میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ اللہ کی قسم نہ ان سے پہلے اُن کی مثل دیکھنے میں آیا اور نہ ہی اُن کے بعد دیکھنے میں آیا۔ وہ لوگوں پر شدید حملہ کر رہے تھے اور لوگ دائیں یا بائیں اس طرح بھاگ رہے تھے جیسے گرگ کے حملہ کے وقت بکریاں بھاگتی ہیں۔ اسی حالت میں اُن کی بہن سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا خیمہ سے نکل کر آئیں ۔ اللہ کی قسم! اُن کے کان کے بندے ہلتے ہوئے اب تک میری نگاہوں میں ہیں۔ وہ کہ رہی تھیں: "ہائے! آسمان زمین پر پھٹ نہیں پڑتا ۔ اسی وقت عمر بن سعد بھی حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قریب آیا تو اُس سے کہنے لگیں: ”اے عمر بن سعد ! حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ شہید ہورہے ہیں اور تو دیکھ رہا ہے ۔ میں نے دیکھا کہ عمر بن سعد کے آنسو نکل آئے اور داڑھی تک بہتے چلے گئے اور اُس نے سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا کی طرف سے منہ پھیر لیا۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!




