جمعرات، 5 ستمبر، 2024

Saltanat e Umayya part 12

 12 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 12

حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی شہادت، حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کا سر یزید کے پاس، یزید کا حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں حکم، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی کوفہ جانے کی تیاری، حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا مشورہ، حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی رائے، یمن جانے کا مشورہ، میں وہ مینڈھا نہیں بننا چاہتا ہے، شہادت میرا مقدر ہے، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی کوفہ کی طرف روانگی، اے شہید! اللہ کے سپرد کرتا ہوں، استقامت کی راہ، جو واپس جانا چا ہے چلا جائے، دل آپ کے ساتھ ہے اور تلوار میں بنوامیہ کے ساتھ ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم


حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی شہادت 


حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک رشتہ دار عمر بن سعد کو جو ایک جلیل القدر صحابی رضی اللہ عنہ کا بیٹا تھا لیکن دنیا میں مبتلا ہوکر اپنی آخرت خراب کر رہا تھا اُسے اکیلے میں وصیت کی لیکن اُس بد بخت نے تمام بات عبید اللہ بن زیاد کو بتادی۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں ب عمر بن سعد نے یہ باتیں عبید اللہ بن زیاد کو بتا دیں۔ اُس نے کہا: " تم امین ہو اس میں خیانت نہ کرو ۔ مال کی بابت تم کو اختیار ہے جو چاہو کرو ۔ (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ) کے بارے میں یہ کہتا ہوں کہ اگر وہ میری طرف آنے کا ارادہ نہیں کریں گے تو میں بھی اُن کا قصد نہیں کروں گا۔ باقی رہا ان کی لاش کا تو اس کے بارے میں تمہاری سفارش نہیں سنوں گا۔ اس کے بعد عبید اللہ بن زیاد نے حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ سے مخاطب ہو کر کہا: ” کیوں (حضرت) مسلم بن عقیل (رضی اللہ عنہ ) ! تم نے کوفہ میں آکر گروہ بندی کی ، لوگوں کو ہماری مخالفت پر جمع کیا اور اُن میں نفاق ڈالنے کی کوشش کی ۔ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ایسا ہر گز نہیں ہوا ہے۔ البتہ یہاں کے باشندوں نے خیال کیا تھا کہ تمہارے باپ ( زیادہ بن شمیہ یا ابی سفیان) نے اُن کے اچھوں کو مار ڈالا ہے خون ریزی کی ہے اور اُن کے ساتھ قیصر و کسری کے سے برتاؤ کئے ہیں ۔ ہم اُن کے بلانے سے اُن کے پاس اس غرض سے آئے تھے کہ ان میں عدل و انصاف کریں اور کتاب وسنت پر عمل کرنے کی ہدایت کریں۔ عبید اللہ بن زیاد نے کہا: ” تو ! اور یہ کام؟ کیا ان میں عدل و انصاف نہیں کیا گیا ہے؟ اور جو تو مدینہ میں شراب پیتا تھا اب انصاف کرنے آیا ہے؟ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں شراب پیتا تھا؟ اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ یہ خوب جانتا ہے کہ تو جھوٹا ہے ۔ میں ایسا نہیں ہوں جیسا تو کہہ رہا ہے میرے بجائے شراب پینے کا وہ مستحق ہے جو مسلمانوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگتا ہے اور اللہ کے بندوں کو غضب وعداوت سے قتل کرتا ہے ۔ اس کو اُس نے لہو لعب سمجھ لیا ہے ۔ عبید اللہ بن زیاد نے کہا: ”مجھے اللہ مارے اگر میں تجھے اس طرح قتل نہ کروں کہ آج تک ۔ اسلام میں اس طرح کوئی قتل نہیں کیا گیا ہو ۔ “ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” بے شک یہ لیاقت تجھ میں ہی ہے کہ اسلام میں بدعات اور بد خلقی اور خباثت کا موجد ہو۔ عبید اللہ بن زیاد یہ سن کو جھلا اُٹھا اور اُن کو اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہم کو سخت سست کہنے لگا۔ اس کے بعد اُس نے حکم دیا کہ محل کے اوپر لے جا کر حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کا سر اڑا دیا جائے اور اُن کی لاش بے گور و کفن پھینک دی جائے۔ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر تو نے مجھے امان نہیں دی ہوتی تو میں اس کے ہاتھ بالکل نہیں آتا ، اب تو تلوار اٹھا تو بری الذمہ ہو گیا ہے ۔ محمد بن اشعث نے کوئی جواب نہیں دیا۔ سپاہی آپ رضی اللہ عنہ کوحل کے اوپر لے گئے ۔ آپ رضی اللہ عنہ استغفار پڑھتے ہوئے اور تسبیح کرتے ہوئے گئے ۔ مقام حدا ئین“ کے مقابل شہید کئے گئے ۔ شہید کرنے والا بکیر بن حمران تھا جس نے آپ رضی اللہ عنہ پر تلوار چلائی اور سر کے ساتھ لاش کو بھی نیچے پھینک دیا۔ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی شہادت کو نہ پہنچنے کے آٹھ یا نو دن بعد 60 ہجری میں ہوئی۔


حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کا سر یزید کے پاس 


حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کوشہید کرنے کے بعد عبید اللہ بن زیاد نے ہانی بن عروہ کو بھی قتل کر دیا اور دونوں کا سر یزید کے پاس بھیجا علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اب حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ اور ہانی بن عروہ کے سروں کو عبید اللہ بن زیاد نے ہانی بن ابی حیہ اور زبیر بن اروح کے ساتھ یزید کے پاس بھیج دیا اور ساتھ ہی ایک خط بھی بھیجا جس میں لکھا تھا: "الحمد للہ! اللہ نے امیر المومنین کے حق کو محفوظ رکھا اور دشمن کی فکر سے بچالیا۔ میں امیر المومنین یزید کو خبر دیتا ہوں کہ (حضرت) مسلم بن عقیل (رضی اللہ عنہ ) نے ہانی بن عروہ کے گھر پناہ لی تھی ۔ میں نے اُن دونوں پر جاسوس مقرر کئے ۔ کچھ لوگ فریب سے اُن کے پاس بھیجے اور اُن سے مکر و فریب کر کے آخر دونوں کو باہر نکالا اور اللہ کے فضل سے دونوں میرے قابو میں آگئے۔ میں نے دونوں کی گردن ماردی اور اُن کے سرہانی بن ابی حیہ اور زبیر بن اروح کے ساتھ بھیج رہا ہوں ۔ یہ دونوں شخص تابع و فرمانبردار ہیں۔ امیر المومنین جس بات کو بھی چاہیں ان دونوں سے دریافت کر سکتے ہیں دونوں واقف کار، راست گو، صاحب فہم اور پر ہیز گار ہیں۔ والسلام


یزید کا حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں حکم


حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کا سر دیکھ کر یزید بہت ہی خوش ہوا اور پھر اس نے عبید اللہ بن زیاد کو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں حکم دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : یزید نے جواب میں لکھا: ” میں جو چاہتا تھا وہی تو نے کیا۔ تُو نے عاقلانہ کام اور دلیرانہ حملہ کیا اور مجھے مطمئن اور بے فکر کر دیا۔ میں تجھے جیسا سمجھتا تھا اور تیری نسبت میری جو رائے تھی تو نے اپنے آپ کو بالکل ویسا ہی ثابت کیا ۔ دونوں قاصدوں کو میں نے بلا کر ان سے کچھ پوچھا اور کچھ راز کی با تیں کیں ۔ جیسا تو نے اُن کے فضل و فہم کے بارے میں لکھا ہے ویسا ہی اُن کو پایا۔ مجھے خبر ملی ہے کہ (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) عراق کی طرف آرہے ہیں۔ نگران مورچے تیار رکھ ۔ جس سے بدگمانی ہوا سے حراست میں لے اور جس پر شک ہو اُسے گرفتار کر لے۔ ہاں جو تجھ سے جنگ نہ کرے اُسے قتل نہیں کرنا اور جو جو واقعہ پیش آئے اُس کا حال مجھے لکھتا رہ۔ والسلام


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی کوفہ جانے کی تیاری


حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا تھا کہ کوفہ کے لوگ آپ رضی اللہ عنہ کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں اور آپ رضی اللہ عنہ جلدی سے یہاں آ جائیے۔ جس وقت حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کا خط حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو ملا اُس وقت تک حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے ساتھ کو فیوں یعنی اہل کوفہ نے بد عہدی کر دی تھی اور آپ رضی اللہ عنہ شہید کئے جاچکے تھے ۔ اُدھر کوفہ میں یہ ہو رہا تھا اور ادھر مکہ مکرمہ میں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو فہ جانے کی تیاری کر رہے تھے۔ بہت سارے لوگ آپ رضی اللہ نہ کو کوفہ نہیں جانے کا مشورہ دے رہے تھے اور بتارہے تھے کہ اہل کوفہ نے آپ رضی اللہ عنہ کے والد محترم اور بڑے بھائی کو دھوکا دیا ہے اور وہ آپ رضی اللہ عنہ کو بھی دھوکا دیں گے۔ اس کے باوجود حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو فہ جانے کی تیاری کر رہے تھے کیونکہ آپ رضی اللہ عنہ جانتے تھے کہ بچپن میں نا ناجان صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے بارے میں جو پیشگوئی کی تھی وہ اب پوری ہونے والی ہے۔ میرے والد محترم اور بڑے بھائی تو شہید ہو چکے ہیں اب میری شہید ہونے کی باری ہے۔ بس اللہ سے یہی دعا ہے کہ وہ مجھے استقامت پر قائم رکھے اور نانا جان صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشنگوئی پوری ہو۔


حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا مشورہ


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو بہت لوگ سمجھا رہے تھے پھر بھی آپ رضی اللہ عنہ اپنے اہل وعیال اور خاندان کے ساتھ کوفہ جانے کی تیاری کر رہے تھے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ جو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے والد محترم حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے چچازاد بھائی ہیں اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے چاہیں انہوں بھی سمجھایا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ”حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی روانگی کا ذکر سنا تو اُن کے پاس آئے اور فرمایا: "لوگوں میں یہ چر چاہے کہ آپ رضی اللہ عنہ ملک عراق کی طرف روانہ ہونے والے ہیں؟ مجھ سے بیان کیجیئے کہ آپ رضی اللہ عنہ کیا قصد رکھتے ہیں؟ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: انشاء اللہ دو دنوں کے اندر ہی روانہ ہو جاؤں گا۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں آپ رضی اللہ عنہ کواللہ کا واسطہ دیتا ہوں ایسا نہ کریں۔ اللہ آپ رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے! مجھے یہ تو بتائیے کیا انہوں نے اپنے حاکم کو قتل کر ڈالا اپنے شہروں کا انتظام کر چکے ہیں اور اپنے دشمن کو وہاں سے نکال چکے ہیں؟ اگر یہ سب پہلے ہی وہ کر چکے ہیں تو بے شک آپ رضی اللہ عنہ جائیے ۔ لیکن اگر بات یہ ہے کہ انہوں نے فقط آپ رضی اللہ عنہ کو بلایا ہے اور اُن کا حاکم اُسی طرح اُن پر مسلط ہے اور اُس کے عہدے دار اُسی طرح شہروں سے خراج وصول کر رہے ہیں تو یہ لوگ آپ رضی اللہ عنہ کو جنگ و جدال کے لئے بلا رہے ہیں۔ مجھے یہ اندیشہ ہو رہا ہے کہ یہ لوگ آپ رضی اللہ عنہ کو دھوکا دیں گے ، آپ رضی اللہ عنہ کو جھٹلائیں گے، آپ رضی اللہ عنہ کی مخالفت کریں گے ، آپ رضی اللہ عنہ کا ساتھ چھوڑ دیں گے اور اگر آپ رضی اللہ عنہ پر حملہ کریں گے تو اُن کا حملہ سب سے سخت تر ہوگا۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں اللہ سے خیر کا طالب ہوں اور دیکھو کیا ہوتا ہے ۔“ 


حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی رائے


حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اپنی سمجھ کے مطابق سمجھا کر چلے گئے تو حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ملنے کے لئے آئے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ وہاں سے اُٹھ کر چلے گئے تو حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ آئے اور کچھ دیر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے باتیں کیں پھر فرمایا : ” میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اس قوم کو ہم کیوں چھوڑ دیں کیوں ان سے باز رہیں ۔ ہم تو مہاجرین کی اولاد ہیں اور اُن سے بڑھ کر ریاست کے حقدار ہیں۔ یہ تو بتائیے آپ رضی اللہ عنہ کا کیا ارادہ ہے؟ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میرا دل تو یہی کہتا ہے کہ کوفہ چلا جاؤں ۔ وہاں کے اشراف اور میرے حامیوں نے مجھے خط لکھے ہیں اور میں اللہ سے خیر کا خواستگار ہوں یہ سن کر حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”آپ رضی اللہ عنہ کے حامیوں کی طرح اگر میرے لوگ وہاں ہوتے تو میں اس سے انحراف نہیں کرتا۔ یہ فرما کر حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو اندیشہ ہوا کہ کہیں مجھ سے بدگمان نہ ہوں تو فرمایا: "اگر آپ رضی اللہ عنہ حجاز میں ہی رہ کر ریاست کا ارادہ کریں تو کوئی بھی انشاء اللہ آپ رضی اللہ عنہ کی مخالفت نہیں کرے گا ۔ اس کے بعد حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اُٹھ کر چلے گئے۔


یمن جانے کا مشورہ


حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو بے چینی ہو رہی تھی اسی لئے آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو ایک اور مشورہ دیا۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں: پھر اُسی دن شام کو یا دوسرے دن صبح حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ آئے اور فرمایا: "برادر! میں چاہتا ہوں کہ صبر کروں مگر مجھے صبر نہیں آرہا ہے اور اس راستے میں مجھے آپ رضی اللہ عنہ کے ہلاک اور تباہ ہونے کا اندیشہ ہے۔ اہل عراق دعا کرنے والے لوگ ہیں ہرگز اُن کے پاس نہ جائے بلکہ اسی شہر میں قیام کریں ۔ آپ رضی اللہ عنہ اہل حجاز کے سردار ہیں اگر اہل عراق آپ رضی اللہ عنہ کو بلاتے ہیں تو انہیں لکھ کر حکم دیں کہ وہ اپنے دشمن سے پیچھا چھڑا لیں پھر اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ جائیں۔ اگر آپ رضی اللہ عنہ اس بات کو نہیں مانتے اور یہاں سے نکل جانا ہی منظور ہے تو ملک یمن چلے جائیں ۔ وہاں قلعے ہیں، درہ کوہ ہیں ، ایک طویل و عریض ملک ہے اور آپ رضی اللہ عنہ کے حامی بھی وہاں موجود ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ سب سے الگ رہ کر لوگوں سے خط و کتابت کریں ، اپنے قاصدوں کو بھیجیں۔ اس طریقہ سے امید ہے کہ جو بات آپ رضی اللہ عنہ چاہتے ہیں وہ امن و عافیت سے حاصل ہو جائے گی ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” برادر! اللہ کی قسم! میں جانتا ہوں کہ تم خیر خواہ اور شفیق ہو لیکن میں روانگی کا معم ارادہ کر چکا ہوں ۔ “ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "اگر آپ رضی اللہ عنہ جاناہی چاہتے ہیں تو عورتوں اور بچوں کو ساتھ نہ لیکر جائیں۔ اللہ کی قسم ! مجھے ڈر ہے کہ کہیں خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی طرح آپ رضی اللہ عنہ کو بھی عورتوں اور بچوں کے سامنے شہید نہ کیا جائے ۔“


میں وہ مینڈھا نہیں بننا چاہتا ہے


حضرت حسین بن علی کو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روکنے کی بھر پور کوشش کر رہے تھے اور اُن کے ساتھ اس کوشش میں حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی ملاقات حجر اسود اور خانہ کعبہ کے درمیان ہوئی تو حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” اگر آپ رضی اللہ عنہ یہاں رہنا چاہتے ہیں تو رہئے اور حکومت کو اپنے ہاتھ میں لے لیجیئے ۔ ہم آپ رضی اللہ عنہ سے بیعت کریں گے اور معین اور شریک اور مطیع رہیں گے ۔“ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں نے اپنے والد محترم سے حدیث سنی ہے کہ ایک مینڈھا مکہ مکرمہ کی حرمت کو حلال کر دے گا۔ میں وہ مینڈھا نہیں بنا چاہتا ۔ یہ سن کر حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اچھا آپ رضی اللہ عنہ یہیں رہئے اور حکومت میرے حوالے کر دیجیئے ، آپ رضی اللہ عنہ کی اطاعت کی جائے گی اور کوئی بات آپ رضی اللہ عنہ کے خلاف نہیں ہونے پائے گی ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” مجھے یہ بھی منظور نہیں ہے۔ پھر دونوں حضرات رضی اللہ عنہم چپکے چپکے ظہر کے وقت تک باتیں کرتے رہے پھر ظہر کی نماز پڑھ کر لوگ منی کی طرف چلے گئے اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے خانہ کعبہ کا طواف کیا۔ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی اور بال منڈوائے اور عمرہ سے فارغ ہو کر کوفہ کی طرف روانہ ہو گئے۔


شہادت میرا مقدر ہے


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ جانتے تھے کہ اب میرے نانا جان صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشنگوئی پوری ہونے اور میرے شہید ہونے کا وقت قریب آ گیا ہے اور میں چاہے کہیں بھی رہوں میرے نانا جان کی اُمت کے چند گمراہ لوگ مجھے شہید کر دیں گے ۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں : بعض لوگوں کا بیان ہے کہ انہوں نے مکہ مکرمہ میں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو کھڑے دیکھا۔ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے سیدہ فاطمہ زہرہ کے بیٹے رضی اللہ عنہ ! میری بات سنیئے “ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اُن کی طرف متوجہ ہوئے اور دونوں نے چپکے چپکے باتیں کیں پھر ہم لوگوں کی طرف مڑ کر فرمایا: " تم سمجھے ! حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کیا کہہ رہے ہیں؟ ہم لوگوں نے عرض کیا ”ہم سب آپ رضی اللہ عنہ پر فدا ہو جائیں !اہم کچھ نہیں سمجھے ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” یہ کہتے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ مسجد الحرام میں رہئے اور میں آپ رضی اللہ عنہ کی نصرت (مدد) کے لئے لوگوں کو جمع کرلوں گا ۔“ اس کے بعد حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے آگے فرمایا: ” اگر ایک بالشت بھر اس مسجد کے باہر قتل کیا جاؤں تو اللہ کی قسم ! میں اسے اس بات سے بہتر سمجھتا ہوں کہ ایک بالشت بھر مسجد کے اندر قتل کیا جاؤں ۔ ( مطلب یہ کہ میں مسجد یعنی حرم شریف یعنی مکہ مکرمہ کے اندر بھی رہوں گا تو مجھے شہید کر دیا جائے گا اور یہ مجھے پسند نہیں ہے اس لئے میں مکہ مکرمہ کے باہر جارہا ہوں) اللہ کی قسم ! اگر میں حشرات الارض ( کیڑے مکوڑوں) کے کسی سوراخ میں بھی چھپوں گا تو لوگ مجھے وہاں سے بھی نکالیں گے اور جو سلوک میرے ساتھ کرنا چاہتے ہیں وہ ضرور کریں گے اور اللہ کی قسم! مجھ پر وہ لوگ ایسا ظلم کریں گے جیسا یہود نے سبت کے روز کیا تھا۔“


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی کوفہ کی طرف روانگی


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو کوئی علم نہیں تھا کہ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو کوفہ والوں نے دھوکہ دے دیا ہے اور آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کیا جاچکا ہے۔ اس کے برعکس آپ رضی اللہ عنہ کوفہ کے سفر کی تیاریاں مکمل کر کے اپنے اہل وعیال اور خاندان کو لیکر کوفہ کی طرف روانہ ہو گئے ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : جب اہل عراق کی طرف سے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو مسلسل اور متواتر خطوط آنے لگے اور اُن کے اور آپ رضی اللہ عنہ کے درمیان بار بار ایلچی آنے لگے تو حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کا خط بھی آیا کہ آپ رضی اللہ عنہ اپنے اہل وعیال اور خاندان کے ساتھ کوفہ آجائیں۔ اسی دوران میں حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کا وقوعہ ہو گیا اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو اس کا کچھ علم نہیں تھا بلکہ آپ رضی اللہ عنہ کوفہ کی طرف روانہ ہونے اور اُن کے پاس پہنچنے کا پختہ ارادہ کر چکے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کی مکہ مکرمہ سے روانگی سے ایک روز پہلے حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا۔ جب آپ رضی اللہ عنہ کی کوفہ روانگی کا لوگوں کو علم ہوا تو وہ آپ رضی اللہ عنہ پر رحم کھانے لگے اور کوفہ جانے سے روکنے لگے لیکن آپ رضی اللہ عنہ کوفہ روانہ ہو گئے ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: یزید کی طرف سے عمرو بن سعید بن عاص حجاز کا گورنر تھا۔ اُس کے آدمیوں نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور اُن کے اہل وعیال اور خاندان کو کوفہ روانہ ہونے سے روکا۔ بحث و تکرار ہوئی اور لڑائی کی نوبت بھی آئی لیکن آپ رضی اللہ عنہ نہیں رکے اور آگے بڑھتے ہی رہے۔


اے شہید! اللہ کے سپرد کرتا ہوں


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ سے کوفہ کی طرف اپنے اہل بیت اور خاندان کو لے کر روانہ ہو گئے ۔ جب آپ رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ سے باہر آ کر کچھ دور پہنچے تھے تو حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ وہاں تیزی سے پہنچے اور آپ رضی اللہ عنہ کو روکنے کی کوشش کرنے لگے۔ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عبد اللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں تھے جب آپ رضی اللہ عنہ کو اطلاع ملی کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کوفہ کی طرف روانہ ہو گئے ہیں تو آپ رضی اللہ عنہ تیزی سے سفر کر کے تین دن کی مسافت پر اُن سے جا کر ملے اور فرمایا: ” اے آل رسول رضی اللہ عنہ ! آپ رضی اللہ عنہ کہاں جانا چاہتے ہیں؟ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” ملک عراق جا رہا ہوں اور یہ اُن کے خطوط اور بیعت ہے۔ اتنا فرما کر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو فہ سے آئے خطوط بتائے ۔ حضرت عبد اللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” اے آل رسول رضی اللہ عنہ! میں آپ رضی اللہ عنہ کو ایک حدیث بتاتا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جبرئیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور عرض کیا: اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا اور آخرت کے درمیان اختیار دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخرت کو اختیار کر لیا اور دنیا کونہیں چاہا اور آپ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم کا ٹکڑا ہیں۔ اللہ کی قسم ! آپ میں سے کوئی بھی ایک شخص بھی کبھی دنیا کا حکمراں نہیں ہوگا اور اللہ تعالیٰ نے آپ رضی اللہ عنہ کو اس سے ہٹا کر اُس چیز کی طرف پھیر دیا ہے جو آپ رضی اللہ عنہ کے لئے بہتر ہے۔ (حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ جانتے تھے کہ وہاں جا کر شہید کر دیئے جائیں گے اور اللہ تعالٰی کا ارادہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشن گوئی پورے ہوں گے ) حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے واپس مکہ مکرمہ آنے سے انکار کر دیا۔ حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو گلے سے لگا لیا اور رونے لگے اور روتے روتے فرمایا : ”اے شہید رضی اللہ عنہ! میں آپ رضی اللہ عنہ کواللہ کے سپر د کرتا ہوں۔“


استقامت کی راہ


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے استقامت کی راہ اپنائی ۔ اُس وقت ایک رخصت کی راہ تھی کہ نہ تو مخالفت کی جائے اور نہ ہی حمایت کی جائے۔ دوسری ” استقامت کی راہ تھی کہ حق پر جم جائے۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ جانتے تھے کہ استقامت کی راہ پر جان جانے کا زیادہ اندیشہ ہے اس کے باوجود آپ رضی اللہ عنہ نے استقامت کی راہ کو اپنایا کیونکہ آپ رضی اللہ عنہ جانتے تھے کہ رخصت کی راہ اپنا کر دنیا ملے گی اور استقامت کی راہ اپنا کر آخرت ملے گی۔ اسی لئے آپ رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے نانا جان صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح آخرت کو ہی چنا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت مسیب بن عقبہ فزاری اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ رضی اللہ عنہ کو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو معزول کرنے کی دعوت دی اور عرض کیا : ”ہمیں آپ رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے بھائی کی رائے کا علم ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے بھائی رضی اللہ عنہ کو جنگ سے رکنے کو پسند کرنے کی وجہ سے اُن کی نیت کے مطابق اجر دے گا اور مجھے ظالمین کے ساتھ جہاد کو پسند کرنے کی وجہ سے میری نیت کے مطابق مجھے اجر دے گا۔


جو واپس جانا چا ہے چلا جائے


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ اُن کے اہل وعیال اور اونٹوں کو چلانے والے اور خدام بھی ساتھ تھے جب مقام تنعیم پر پہنچے تو سب کو اجازت دے دی کہ جو چاہے ساتھ چل سکتا ہے اور جو چاہے واپس جا سکتا ہے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ جب مقام تنعیم پر پہنچے تو ایک قافلہ ملا جو ملک یمن سے آرہا تھا۔ یمن کے گورنر بحیر بن ریان نے یزید کے پاس اہل قافلہ کے ہاتھ درس اور ریشمی قمیص روانہ کئے تھے ( درس زعفران سے مشابہ ایک خوشبودار چیز ہے ) یہاں پر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اونٹ والوں سے کہا: ” میں کسی پر جبر نہیں کروں گا۔ تم میں سے جو کوئی میرے ساتھ ملک عراق چلے گا میں اسے وہاں تک کا کرایہ دوں گا اور اچھی طرح سے پیش آؤں گا اور جو کوئی یہیں سے واپس جانا چاہے گا اُسے یہیں تک کا کرایہ دوں گا اور وہ واپس جاسکتا ہے۔ اُن میں سے جو واپس جانے لگے تو انہیں پوری اجرت دی اور جو ساتھ چلے تو انہیں اجرت بھی دی اور لباس بھی دیا۔ 


دل آپ کے ساتھ ہے اور تلوار میں بنوامیہ کے ساتھ ہیں


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ مقام تنعیم سے آگے بڑھے تو مقام صفاح پر ملک عراق سے آنے والے ایک قافلے کے ساتھ فرزوق بن غالب ملا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: فرزوق بن غالب بیان کرتا ہے کہ میں اپنی والدہ محترمہ کے ساتھ حج کرنے کے لئے مکہ مکرمہ جا رہا تھا۔ یہ حج کے دن تھے اور 60 ہجری کا واقعہ ہے کہ میں جب حرم کے قریب پہنچے لگا تو دیکھا کہ مکہ مکرمہ سے ایک قافلہ آرہا ہے۔ میں نے دیکھا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ تلواریں اور ڈھالوں کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ میں آپ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور عرض کیا: ”اے آل رسول رضی اللہ عنہ ! میرے ماں باپ آپ رضی اللہ عنہ پر فدا ہو جائیں ایسی بھی کیا جلدی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ حج کو چھوڑ کر جارہے ہیں؟“ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں جلدی نہیں کرتا تو گرفتار کر لیا جاتا ۔ پھر مجھ سے دریافت فرمایا: ” تم کون شخص ہو؟ میں نے عرض کیا : ملک عراق سے آرہا ہوں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”جن لوگوں کے درمیان سے تم آرہے ہو اُن کا حال مجھ سے بیان کرو ۔ میں عرض کیا : ” لوگوں کے دل آپ کے ساتھ ہیں اور تلواریں بنوامیہ کے ساتھ ہیں اور حکم اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے ۔ یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” تم نے سچ کہا۔ اس کے بعد میں نے کچھ باتیں اعمال حج کے بارے میں دریافت کیں وہ سب آپ رضی اللہ عنہ نے بتادیں۔ 


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا مکہ مکرمہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہونے ایک سب سے بڑا سبب یہ ہوا کہ آپ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں حکم دیا تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہ ( حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے تین بیٹیوں کے نام علی اکبر علی اوسط اور علی اصغر ہیں۔ علی اکبر اور علی اصغر تو کربلا میں شہید ہو گئے تھے علی اوسط کا نام یا لقب زین العابدین ہے ) بیان کرتے ہیں: ” جب ہم لوگ مکہ مکرمہ سے نکلے تو حضرت عبد اللہ بن جعفر طیار رضی اللہ عنہ نے اپنے دو بیٹوں عون اور محمد کے ہاتھ ایک خط حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا جس میں لکھا تھا: ” میں آپ رضی اللہ عنہ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ میرا خط پڑھتے ہی واپس چلے آئیے۔ مجھے خوف ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ جہاں جا رہے ہیں وہاں آپ رضی اللہ عنہ اور اہل بیت ہلاک نہ ہو جائیں ۔ اگر آپ رضی اللہ عنہ ہلاک ہوئے تو دنیا میں اندھیرا ہو جائے گا۔ اہل ہدایت کے رہنما اور اہل ایمان کا سہارا آپ رضی اللہ عنہ کی ہی ذات ہے۔ روانگی میں جلدی نہ کریں اس خط کے پیچھے میں بھی آرہا ہوں ۔ والسلام - حضرت عبداللہ بن جعفر طیار رضی اللہ عنہ عمرو بن سعید کے پاس گئے اور اُس سے فرمایا: ” حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو ایک خط لکھو جس میں انہیں امان دینے کا اور اُن کے ساتھ نیکی اور احسان کرنے کا وعدہ ہو اور اُن کو لکھو کہ واپس چلے آئیں ۔ شاید اُن کو تمہارے خط سے اطمینان ہو جائے اور وہ اُس راہ سے پلٹ آئیں ۔ عمرو بن سعید بن عاص نے کہا: ” جو آپ رضی اللہ عنہ کا جی چاہے لکھ کر لے آئیں ، میں اُس پر مہر کر دوں گا۔ عبداللہ بن جعفر طیار رضی اللہ عنہ نے خط لکھ کر دیا اورفرمایا: اس پر مہر لگا کر اپنے بھائی یحییٰ بن سعید بن عاص کے ہاتھ سے روانہ کرو کیونکہ اس کے جانے سے اُن کو اطمینان ہو جائے گا اور وہ سمجھ جائیں گے کہ جو کچھ تم نے لکھا ہے دل سے لکھا ہے ۔ عمرو بن سعید بن عاص مکہ مکرمہ میں یزید کی طرف سے گورنر تھا اُس نے ایسا ہی کیا اور حضرت عبداللہ بن جعفر طیار رضی اللہ عنہ اور یحییٰ دونوں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے ۔ یحییٰ نے خط دیا اور دونوں شخصوں نے واپسی پر بہت اصرار کیا۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں نے میرے نانا جان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا ہے اور انہوں نے جو حکم مجھے دیا ہے میں اُسے پورا کرنے جارہا ہوں ۔ مجھے اس سے کوئی غرض نہیں ہے کہ میرا نفع ہوتا ہے یا نقصان ۔ دونوں نے پوچھا:” وہ خواب کیا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے اسے کسی سے بیان نہیں کیا اور نہ ہی کسی سے آگے بیان کروں گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرلوں گا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا اور آپ رضی اللہ عنہ کو اہل عراق کے متعلق انتباہ کیا اور اللہ کا واسطہ دیا کہ اُن کی طرف نہ جائیں ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو جواب میں لکھا: میں نے ایک خواب دیکھا ہے اور میں نے اپنے نانا جان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک حکم دیا ہے اور میں اُسے کر گزرنے والا ہوں اور میں اس خواب کے متعلق کسی کو نہیں بتاؤں گا یہاں تک کہ میں اپنے اللہ سے ملاقات کروں ۔


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!


Saltanat e Umayya part 13

 13 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 13

یزید کا عبید اللہ بن زیاد کو حکم، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو روکنے کی تیاریاں، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا قاصد، قاصد کی شہادت، کوفہ کے لوگ پیمان شکن اور بد عہد، زہیر بن قین کا جذبہ شہادت، حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر، آل عقیل کے اصرار پر عزم کو فہ، حضرت عبد اللہ بن یقطر کی شہادت کی اطلاع، بطن عقبہ میں قیام اور 60 ہجری کا اختتام 



یزید کا عبید اللہ بن زیاد کو حکم


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہوئے تو یزید کو اس کی خبرمل گئی کیونکہ اُس نے دمشق سے مکہ مکرمہ تک ہر منزل پر اپنے آدمیوں کو مقرر کر رکھا تھا جو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی ہر حرکت کے بارے میں اطلاع کرتے رہتے تھے۔ یزید نے کوفہ اور بصرہ کے گورنر عبید اللہ بن زیاد کو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں حکم دیا۔ علامہ عمادالدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : یزید نے عبید اللہ بن زیاد کو لکھا: ” مجھے اطلاع ملی ہے کہ (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) کوفہ کی طرف روانہ ہو چکے ہیں اور زمانوں میں سے تمہارے زمانے کو اور شہروں میں سے تمہارے شہر کو اور اُمراء ( گورنروں ، حاکموں) میں سے تجھ سے اُن کا پالا پڑ گیا ہے۔ اب اس موقع پر تو آزاد ہو جائے گا یا پھر غلاموں کی طرح دوبارہ غلام بن جائے گا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ یزید نے عبید اللہ بن زیاد کو لکھا: ” مجھے معلوم ہوا ہے کہ (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) عراق کی طرف روانہ ہو چکے ہیں۔ پس دیکھنے کی جگہیں اور میگزین تیار کرو اور محفوظ رہو اور تہمت پر قید کرو اور پکڑو اور جو تجھ سے جنگ کرے صرف اُسے قتل کرو اور جو صورت حال پیدا ہو اُس کے متعلق مجھے لکھو۔ والسلام “


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو روکنے کی تیاریاں


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ مسلسل کو فہ کی طرف رواں دواں تھے اور ادھر کوفہ میں عبید اللہ بن زیاد اپنے حکمراں یزید کے حکم کے مطابق آپ رضی اللہ عنہ کو روکنے کے لئے اپنے سپاہیوں اور پولیس افسروں کا بھیج رہا تھا۔ اسی دوران مقام "زبالہ میں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کا پیغام ملا کہ آپ رضی اللہ عنہ واپس چلے جائیں۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : محمد بن اشعث نے ایاس طائی کو جو کہ قبیلہ بنوطے کا ایک شاعر تھا اور اُس کے پاس بہت آیا جایا کرتا تھا۔ اس سے کہا: ” تم حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس روانہ ہو جاؤ اور یہ خط اُن تک پہنچا دو۔ خط میں جو جو باتیں حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے شہید ہونے سے پہلے فرمائی تھیں وہ سب اُس نے لکھ دیں اور کہا: لو یہ زاد راہ ہے اور یہ سامان سفر ہے اور یہ تمہارے اہل وعیال کے لئے ہے ۔ “ ایاس نے کہا: ”میرے پاس اونٹ بھی نہیں ہے کیونکہ میرا اونٹ بہت بوڑھا ہو چکا ہے ۔ محمد بن اشعث نے اسے ایک اونٹ پالان سمیت دیا اور حکم دیا کہ جلد از جلد حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ تک یہ خط پہنچا دو۔ ایاس تیزی سے روانہ ہوا اور چار دن کا سفر کر کے مقام زبالہ پر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے جا کر ملا اور وہ خط آپ رضی اللہ عنہ کو دے دیا ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے خط پڑھا اور فرمایا: ” جو مقدر میں ہونے والا ہے وہ ہوگا اور اپنی اپنی جانوں کے تلف ہونے اور قوم کی برائی کرنے کو ہم نے اللہ تعالیٰ پر چھوڑ رکھا ہے۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ آگے روانہ ہو گئے ۔ ادھر عبیداللہ بن زیاد نے حکم دیا کہ ملک شام اور بصرہ اور کوفہ تک کے راستوں کی ناکہ بندی کر دی جائے اور کسی کو اس راستے سے آنے اور جانے نہیں دیا جائے ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو ان باتوں کی مطلق خبر نہیں تھی اور وہ اس طرف آرہے تھے ۔ راستے میں کچھ اعرابی (دیہاتی) ملے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اُن سے حالات معلوم کئے تو انہوں نے بتایا کہ ہمیں تو کچھ نہیں معلوم سوائے اس کے کہ ہم کہیں آجا نہیں سکتے ہیں۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: عبید اللہ بن زیاد کو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی روانگی کا حال معلوم ہوا تو اس نے محکمہ پولیس کے سربراہ حصین بن نمیر تمیمی کو روانہ کیا۔ اس نے مقام " قادسیہ پر پہنچ کر پڑاؤ ڈال دیا اور اپنے سواروں یعنی پولیس والوں کو قادسیہ سے خفان تک ایک جانب اور قادسیہ سے قطفطانہ اور کوہ لعلع تک دوسری جانب پھیلا دیا۔ 


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا قاصد


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کوفہ کی طرف آرہے تھے اور آپ رضی اللہ عنہ کو روکنے کے لئے ہر طرف سے ناکہ بندی کر لی گئی تھی ۔ راستے میں ایک مقام حاج پر آپ رضی اللہ عنہ نے قیام کیا اور کوفہ والوں کے نام ایک خط لکھ کر اپنے قاصد کے ذریعے روانہ کیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: عبید اللہ بن زیاد کو جب معلوم ہوا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کوفہ کی طرف آرہے ہیں تو اُس نے اپنے پولیس کے سربراہ حصین بن نمیر کو روانہ کیا۔ وہ قادسیہ میں اُترا اور آس پاس کے تمام علاقوں کی ناکہ بندی کر لی۔ لوگوں نے یہ دیکھ کر کہا کہ یہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی عراق کی طرف آمد کا اشارہ ہے بطن الرمہ میں جو مقام حاج ہے وہاں پہنچ کر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اہل کوفہ کو ایک خط لکھا اور اپنے قاصد حضرت قیس بن مسہر صیدا دی کے ہاتھ روانہ کیا: " بسمہ اللہ الرحمن الرحیم (حضرت) حسین بن علی ( رضی اللہ عنہ ) کی طرف سے اُن کے برادران ایمانی اور اسلامی کو اسلام وعلیکم ! میں تم سے اللہ کی حمد کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کا خط مجھے ملا۔ تم لوگوں کے حسن عقیدہ اور تم سب کی مدد پر اور میرے حق کی طلب پر متفق ہونے کا حال معلوم ہوا ۔ میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ ہم پر احسان کرے اور تم لوگوں کو اس بات کا اجر عظیم دے۔ میں تمہارے پاس آنے کے لئے آٹھ (8) ذی الحجہ کو مکہ مکرمہ سے روانہ ہو چکا ہوں ۔ جب میرا قاصد تمہارے پاس پہنچے تو اپنے کام میںجلدی کرو اور کوشش کرو۔ میں انہیں دنوں میں تمہارے پاس ان شاء اللہ آجاؤں گا۔ والسلام علیکم ورحمتہ الله وبركاته


قاصد کی شہادت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قاصد حضرت قیس بن مسہر میدادی جب کوفہ پہنچے تو انہیں گرفتار کر کے عبید اللہ بن زیاد کے سامنے پیش کیا گیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا خط لیکر حضرت قیس بن مسہر صیدادی رضی اللہ عنہ کوفہ روانہ ہوئے۔ جب قادسیہ پہنچے تو حصین بن نمیر نے آپ کوگرفتار کر لیا اورعبداللہ بن زیاد کے پاس بھیج دیا۔ عبداللہ بن زیاد نے اُن سے کہا: "قصر (محل) پر چڑھ جا اور کذاب کو سب و شتم کر" یہ حضرت قیس بن مہر چڑھ گئے اور بلند آواز سے فرمایا: "اے لوگو! حضرت حسین بن علی رضہ اللہ عنہ اس وقت مخلوق میں سب سے بہتر ہیں۔ سیدہ فاطمہ زہرہ رضی اللہ عنہا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی ہیں اُن کے بیٹے ہیں۔ ان کا قاصد بن کر تمہارے پاس آیا ہوں۔ میں نے مقام حاجز پران کو چھوڑا ہے۔ تم سب اُن کی نصرت کے لئے جاؤ اتنا فرما کر حضرت قیس بن صیدادی نے عبیداللہ بن زیاد اور اس کے باپ پر لعنت کی، ان کو سب و شتم  کیا اور حضرت علی بن ابی طالب کے لئے مغفرت کی دعا کی۔ عبید اللہ بن زیاد نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ اُن کو نیچے پھینک دو۔ حضرت قیس بن مسہر میدادی رضی اللہ عنہ کو نیچے پھینک دیا گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پیرٹوٹ گئے اور سر میں ایسی چوٹ آئی کہ آپ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے ۔ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : عبیداللہ بن زیاد نے اُن نے کہا: محل کی چوٹی پر چڑھ کر ( نعوذ باللہ ) کذاب بن کذاب علی بن ابی طالب اور اُن کے بیٹے حسین کو (نعوذ باللہ ) گالیاں دو ۔ “ حضرت قیس بن مسہر صیدادی رضی اللہ عنہ محل پر چڑھے اور بلند آواز سے فرمایا: "اے لوگو! بے شک حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اللہ کی مخلوق میں اس وقت سب سے بہترین آدمی ہیں اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم کی بیٹی سیدہ فاطمہ زہرہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے ہیں اور میں تمہاری طرف اُن کا ایلچی ( قاصد ) ہوں اور میں وادی ذوالرحمہ کی بلند جگہ پر اُن سے جدا ہوا ہوں ۔ وہ آرہے ہیں، انہیں جواب دو اور اُن کی سمع و طاعت کرو ۔ پھر انہوں نے عبید اللہ بن زیاد اور اُس کے باپ پر لعنت کی اور حضرت علی بن ابی طالب اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہم کے لئے بخشش طلب کی ۔ عبد اللہ بن زیاد کے حکم سے آپ رضی اللہ عنہ کومحل کی چوٹی سے نیچے پھینک دیا گیا جس سے ہڈیاں ٹوٹ گئیں اور آخری سانس باقی رہ گئی تھی کہ عبد الملک بن عمیر بجلی نے تلوار سے گردن اڑادی اور بولا : ”میں نے اسے تکلیف سے آرام دے دیا ، بعض کا قول ہے کہ وہ شخص عبدالملک بن عمیر سے مشابہ تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ جو شخص حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قاصد تھے آپ رضی اللہ عنہ کے رضاعی بھائی عبداللہ بن یقطر تھے۔ واللہ اعلم۔


کوفہ کے لوگ پیمان شکن اور بد عہد


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو فہ کی طرف سفر جاری رکھے ہوئے تھے کہ ایک نخلستان میں عبد اللہ بن مطیع عددی سے ملاقات ہوئی وہ اپنے قافلے کے ساتھ وہاں ٹھہرا ہوا تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو فہ کی طرف جاتے ہوئے ایک چشمہ کے پاس پہنچے تو وہاں عبداللہ بن مطیع عددی اپنے قافلے ساتھ پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ بھی اپنے قافلے کے ساتھ وہیں پڑاؤ ڈالنے لگے تو وہ آیا اور آپ رضی اللہ عنہ کی مدد کر نے لگا۔ اس کے بعد اُس نے عرض کیا : ”اے آل رسول رضی اللہ عنہ ! میرے والدین آپ رضی اللہ عنہ پر فدا ہوں ، ادھر آنے کا سبب کیا ہے ؟ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے تمام حالات بتائے اور بتایا کہ کوفہ جارہا ہوں ۔ یہ سنتے ہیں عبد اللہ بن مطیع نے عرض کیا: "اے آل رسول رضی اللہ عنہ ! میں آپ رضی اللہ عنہ کواللہ کی قسم دیتا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت کا خیال رکھیں اور عرب کی حرمت کا خیال رکھیں ۔ اگر بنوامیہ سے تعرض کریں گے تو وہ آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کردیں گے اور پھر اس کے بعد وہ کسی کی پرواہ نہیں کریں گے اللہ کی قسم ! کہیں ایسانہ ہو کہ حرمت اسلام ، حرمت قریش اور حرمت عرب ضائع نہ ہو جائے ۔ آپ رضی اللہ عنہ کوفہ نہ جائیں اور بنو امیہ سے تعرض نہ کریں ۔ لیکن آپ رضی اللہ عنہ نے کوفہ جانے کے علاوہ کسی بات کو نہیں مانا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: عبداللہ بن مطیع نے عرض کیا: " اے آل رسول رضی اللہ عنہا اللہ کے واسطے کو فہ نہ جائیں۔ یہ لوگ بڑے پیمان شکن اور بد عہد ہیں۔ ان میں اسلام کی ہتک ، قریش کی آبرو اور عرب کی عزت کا خیال باقی نہیں رہا ہے۔ اللہ کی قسم ! آپ رضی اللہ عنہ بنوامیہ سے تعرض نہ کریں ورنہ وہ آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیں گے اور پھر کسی سے نہیں ڈریں گے ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اس کے باوجود کوفہ کی طرف اپنی پیش قدمی جاری رکھی اور آرام کرنے کے بعد روانہ ہو گئے


زہیر بن قین کا جذبہ شہادت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ سے نکلے تھے تو ایک شخص اپنے قافلے کے ساتھ روانہ ہوا اور مسلسل آپ رضی اللہ عنہ کے تعاقب میں رہا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: زہیر بن قین بجلی اپنے قافلے کے ساتھ مکہ مکرمہ سے نکلا تو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے روانہ ہو گیا لیکن وہ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ قیام نہیں کرتا تھا۔ جب آپ رضی اللہ عنہ آگے بڑھتے تھے تو وہ قیام کرتا تھا اور جب آپ رضی اللہ عنہ اگلی منزل پر قیام کرتے تھے تو وہ آگے بڑھتا تھا۔ بنوفزارہ کا ایک شخص جوز ہیر بن قین کے قافلے میں تھا بیان کرتا ہے کہ ایک منزل پر ایسا اتفاق ہوا کہ ہمیں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ قیام کرنا پڑا۔ ہم سب بیٹھے کھانا کھا رہے تھے کہ ایک شخص آیا اور سلام کرنے کے بعد بولا : ”اے زہیر بن قین ! مجھے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے بھیجا ہے اور وہ تمہیں بلا رہے ہیں ذرا چل کر اُن کی بات سن لو۔“ یہ سن کر زہیر بن قین سوچ میں پڑ گئے تو اُن کی بیوی نے کہا: سبحان اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے تمہیں بلا رہے ہیں اور تم سوچ میں بیٹھے ہوئے ہو، چلے جاؤ اور اُن کی بات سن کر چلے آؤ۔ زہیر بن قین آپ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور کچھ دیر بعد خوش خوش اور بشاش چہرہ لئے ہوئے آئے اور اپنا خیمہ اور سارا مال و اسباب حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی طرف بھیج دیا اور اپنی بیوی سے بولے : ” میں تمہیں آزاد کرتا ہوں، تم اپنی برادری میں چلی جاؤ۔ میں نہیں چاہتا کہ میری طرف سے نیکی کے سوا کوئی برائی تمہارے لئے ہو۔ پھر اپنے قافلے والوں سے کہا: ”تم میں سے جو چاہے میرے ساتھ آجائے ورنہ یہ سمجھ لے کہ یہ ہماری آخری ملاقات ہے۔ میں تم کو ایک حدیث بیان کرتا ہوں ۔ جنگ بنجر میں اللہ تعالیٰ نے ہم کو فتح دی اور بہت سارا مال غنیمت ہاتھ آیا تھا۔ ہمارے ساتھ حضرت سلمان فاری رضی اللہ عنہ تھے انہوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو فتح دی ہے اور مال غنیمت جو ملا ہے اُس سے تم خوش ہو گئے ہو؟ ہم نے کہا: ”ہاں ہمیں خوشی تو ہوئی ہے ۔ انہوں نے فرمایا: ” جوانان آل محمد کا زمانہ تمہیں ملے گا اور اُن کی نصرت (مدد) میں تم قتال کرو گے تو اس مال غنیمت سے زیادہ تمہیں خوشی حاصل ہوگی ۔ مجھ سے پوچھو تو میں تمہیں اللہ حافظ کہتا ہوں ۔“ اس کے بعد حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ مسلسل حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہے یہاں تک کہ کربلا میں شہید ہو گئے۔ 


حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو ابھی تک حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی شہادت اور حضرت قیس بن مسہر صیدادی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر نہیں ملی تھی اور آپ رضی اللہ عنہ بدستور کوفہ کی طرف رواں دواں تھے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : بنو اسد کے دو شخص عبداللہ اور ندری حج کو گئے ہوئے تھے وہ بیان کرتے ہیں : ”ہم حج سے فارغ ہوئے تو ہمیں یہ فکر ہوئی کہ ہم جلد از جلد حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے جا کر ملیں اور دیکھیں کہ کیا واقعہ پیش آیا اسی لئے ہم اپنے ناقوں (اونٹوں) کو دوڑاتے ہوئے چلے اور مقام روڈ تک پہنچے تو کوفہ کی طرف سے ایک شخص کو آتے ہوئے دیکھا۔ اس نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو راستہ بدل دیا۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اسے دیکھ کر رک گئے گویا آپ رضی اللہ عنہ اس سے ملنا چاہتے تھے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ روانہ ہو گئے اور ہم دونوں اُس شخص کے پاس گئے اور اسے سلام کیا تو اُس نے جواب دیا۔ ہم نے اس کے قبیلہ کے بارے میں پوچھا تو اُس نے بتایا کہ وہ بنو اسد کا ہے تو ہم نے بتایا کہ ہم بھی بنو اسد کے ہیں۔ پھر ہم نے اُس کا نام پوچھا تو اس نے بکیر بن شعبہ بتایا۔ پھر ہم نے کوفہ کے حالات معلوم کئے تو اُس نے بتایا کہ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ اور حضرت ہانی بن عروہ رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ہے اور میں دیکھا کہ اُن دونوں کی لاشوں کے پیر پکڑ کر بازاروں میں گھسیٹا جار ہا تھا۔ یہ خبرسن کر ہم دونوں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلہ سے آکر ملے جب آپ رضی اللہ عنہ نے مقام تعلبیہ" میں قیام کیا تو ہم آپ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور سلام کیا اور آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا ہم نے عرض کیا : اللہ تعالیٰ آپ رضی اللہ عنہ کو اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے ! ہم کچھ خبر آپ رضی اللہ عنہ کو دینا چاہتے ہیں کہئے تو ایسے ہی بتادیں یا پھر چپکے سے آپ رضی اللہ عنہ کو بتادیں۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اپنے اہل وعیال اور خاندان والوں کو دیکھا اور پھر فرمایا: ” ان لوگوں سے چھپانے والی کوئی بات نہیں ہے۔ ہم نے عرض کیا: ”کل شام کو آپ رضی اللہ عنہ نے ایک سوار کو کوفہ سے آتے دیکھا تھا ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہاں میں نے دیکھا تھا اور میں اُس سے کوفہ کے حالات معلوم کرنا چاہتا تھا۔ ہم نے عرض کیا: ”ہم نے اُس سے معلوم کر لیا ہے اُس نے بیان کیا کہ اس کے سامنے حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ اور حضرت ہانی بن عروہ رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا اور اُن دونوں کی لاشوں کے پیر پکڑ کر بازاروں میں گھسیٹا جارہا تھا ۔ یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "انا للہ وانا الیہ راجعون! اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اُن دونوں پر نازل ہوں ۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ بار بار یہی کہتے رہے۔ ہم نے عرض کیا: ” ہم آپ رضی اللہ عنہ کو اللہ کی قسم دیتے ہیں اپنی جان کا اپنے اہل بیت کا خیال کریں اور اسی جگہ سے واپس چلے جائیں۔ کوفہ میں آپ رضی اللہ عنہ کا کوئی مددگار نہیں ہے بلکہ ہمیں تو اس بات کا خوف ہے کہ وہ لوگ آپ رضی اللہ عنہ کی مخالفت کریں گے ۔“


آل عقیل کے اصرار پر عزم کو فہ


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو جب یہ معلوم ہوا کہ اہل کوفہ نے غداری اور بد عہدی کی ہے تو آپ رضی اللہ عنہ نے ارادہ بدل لیا اور واپسی کا ارادہ بنایا تھا کہ آل عقیل کے اصرار پر آپ رضی اللہ عنہ نے پھر کوفہ کی طرف بڑھنے کا عزم کر لیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: یہ سن کر حضرت عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے بیٹے کھڑے ہوئے اور فرمایا: اللہ کی قسم ! جب تک ہم حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے خون کا قصاص نہیں لیں گے یا ہمارا بھی وہی حال ہوگا جو حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کا ہوا ہے تب تک ہم واپس نہیں جائیں گے ۔“ یہ سن کر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے ہم سے فرمایا : ” ان لوگوں کے بعد زندگی کا کوئی لطف نہیں ہوگا ۔ ہم سمجھ گئے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے کوفہ جانے کا مصمم ارادہ کر لیا ہے۔ ہم نے عرض کیا: اللہ تعالیٰ آپ رضی اللہ عنہ کے لئے بہتری کرے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ آپ دونوں کو اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے ۔ آپ رضی اللہ عنہ کے بعض انصار نے عرض کیا : ” کوفہ میں آپ رضی اللہ عنہ جائیں گے تو سب آپ رضی اللہ عنہ کی طرف دوڑیں گے ۔ آپ رضی اللہ عنہ صبح کا انتظار کرتے رہے جب وقت سحر ہوا تو خادموں سے فرمایا: ” جتنا پانی لے سکو لے لو ۔ “ اُن سب نے

پانی بھر لیا اور بہت زیادہ بھرا۔ پھر سب وہاں سے روانہ ہو گئے اور چلتے چلتے منزل ” ہالہ میں پہنچے۔ 


حضرت عبد اللہ بن یقطر کی شہادت کی اطلاع


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ آگے بڑھے تو آپ رضی اللہ عنہ کو اپنے قاصد کی شہادت کی اطلاع ملی ۔ آپ رضی اللہ عنہ کے قاصد حضرت قیس بن مسهر میدادی رضی اللہ عنہ تھے یا پھر حضرت عبد اللہ بن بقطر رضی اللہ عنہ تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری نے ایک روایت میں حضرت قیس بن صیدادی رضی اللہ عنہ کا نام بیان کیا ہے اور دوسری روایت میں حضرت عبد اللہ بن بقطر رضی اللہ عنہ کا نام بیان کیا ہے اور دونوں روایتوں میں دونوں کی شہادت کا واقعہ ایک ہی طرح بیان کیا ہے۔ جب حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو اپنے قاصد کی شہادت کی اطلاع ملی تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے اہل وعیال ، خاندان اور ساتھیوں کو جمع کیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب یہ خبر آپ رضی اللہ عنہ کولی تو آپ رضی اللہ عنہ نے سب لوگوں کو جمع کرکے فرمایا: بسمہ اللہ الرحمن الرحیم ! ایک بہت ہی سخت واقعہ کی خبر مجھے ملی ہے۔ حضرت مسلم بن عقیل ، حضرت ہانی بن عروہ اور میرے قاصد ( حضرت قیس بن مسہر یا حضرت عبداللہ بن بقطر ) رضی اللہ عنہم شہید کر دیئے گئے ہیں ۔ ہمارے حامیوں نے ہمارا ساتھ چھوڑ دیا ہے ۔ اس لئے تم میں جو واپس جانا چاہے وہ چلا جائے میں نے تم پر سے اپناذ مہ اُٹھا لیا ہے۔ یہ سنتے ہی سب لوگ اپنے اپنے گھروں کی طرف لوٹ گئے اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ صرف وہی لوگ رہ گئے جو مدینہ منورہ سے آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ چلے تھے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں جانے کی اجازت اس لئے دی تھی کیونکہ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بہت سے اعرابی اس لئے چل رہے تھے کہ انہوں نے یہ سمجھا ہوا تھا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ ایسے شہر میں جارہے ہیں جہاں سب اُن کی بات مانیں گے اور اطاعت کریں گے اسی لئے آپ رضی اللہ عنہ نے یہ مناسب نہیں سمجھا کہ انہیں لاعلمی میں رکھ کر موت کے منہ میں لے جایا جائے۔ آپ رضی اللہ عنہ کو یقین تھا کہ جب لوگوں کو مفصل حال معلوم ہو جائے گا تو وہی لوگ میرا ساتھ دیں گے جو میرے ساتھ شہید ہونے کا عزم رکھتے ہیں باقی سب واپس چلے جائیں گے اور ایسا ہی ہوا۔ اب آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ اہل وعیال، خاندان کے لوگ ہی رہ گئے تھے۔


بطن عقبہ میں قیام اور 60 ہجری کا اختتام 


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو مکہ مکرمہ سے روانہ ہوئے لگ بھگ بیس دن سے زیادہ ہو چکے تھے اور جب آپ رضی اللہ عنہ نے مقام بطن عقبہ میں قیام کیا تو ذی الحجہ 60 ہجری کا اختتام ہو گیا اور محرم الحرام 61 ہجری کی شروعات ہوئی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: صبح ہوئی تو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ پانی زیادہ سے زیادہ ساتھ لے لو اور انہوں نے ایسا ہی کیا اور روانہ ہوئے اور ” بطن عقبہ میں جا کر قیام پذیر ہوئے ۔ وہاں پر بنو عکرمہ کے ایک شخص نے آپ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا : " آپ رضی اللہ عنہ کہاں تشریف لے جارہے ہیں؟“ آپ رضی اللہ عنہ نے تمام حالات بیان کر دیئے۔ اُس نے عرض کیا: ” میں آپ رضی اللہ عنہ کواللہ کی قسم دیتا ہوں یہیں سے واپس چلے جائیے۔ اللہ کی قسم ! آپ رضی اللہ عنہ برچھیوں اور تلواروں کے نیچے جارہے ہیں۔ جن لوگوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو بلایا ہے اگر وہ آپ رضی اللہ عنہ کو جنگ و جدال کی زحمت سے بچا لیتے تو خود ہی سب کام درست کر چکے ہوتے اور اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ جاتے تو یہ درست ہوتا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے جو حالات بیان کئے ہیں۔ ایسی صورت میں تو میں یہی عرض کروں گا کہ آپ رضی اللہ عنہ یہیں سے واپس لوٹ جائیے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” اے اللہ کے بندے ! تم نے جو رائے دی ہے وہ ( دنیاوی لحاظ سے) بالکل درست ہے لیکن اللہ کی مشیت کے آگے کوئی چارہ نہیں ہے ۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ آگے روانہ ہو گئے ۔ اس سال 60 ہجری میں یزید نے مدینہ منورہ کے گورنر ولید بن عقبہ کو معزول کر دیا اور عمرو بن سعید بن عاص کو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ دونوں جگہوں کا گورنر بنادیا ۔ کوفہ کے گورنر حضرت نعمان بن بشیر کو معزول کر کے عبید اللہ بن زیاد کو بصرہ کے ساتھ ساتھ کوفہ کا بھی گورنر بنادیا۔


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!


Saltanat e Umayya part 14

 14 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 14

ھ61 ہجری کوفہ کے پہلے لشکر کا سامنا، حر کے لشکر کو پانی پلایا، تم کو میرا آنا ناگوار لگا ہو تو واپس چلا جاؤں، عبید اللہ بن زیاد کے پاس جانے سے انکار، تیسرے مقام کی طرف روانگی، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے پھر سمجھایا، حضرت زہیر بن قین کی حق پرستی، حضرت قیس بن مسہر صیدادی کی شہادت کی اطلاع، اب ہم واپس نہیں جاسکتے ہے، 


ھ61 ہجری کوفہ کے پہلے لشکر کا سامنا


ھ60 ہجری کا اختتام ہوا اور 61 ہجری کی شروعات ہوئی اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا کوفہ کی جانب سفر جاری تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ بن عقبہ سے آگے بڑھے اور مقام اشراف پر قیام پذیر ہوئے۔ پھر صبح کے وقت وہاں سے روانہ ہوئے اور مسلسل سفر کرتے رہے یہاں تک کہ دو پہر کے وقت قافلے کے آگے والے شخص نے بلند آواز سے اللہ اکبر پکارا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے بھی اللہ اکبر فرمایا پھر اس سے دریافت فرمایا کہ تم نے اللہ اکبر" کیوں کہا؟ اُس نے کہا: " مجھے خرمے ( کچی کھجور ) کے درخت دکھائی دے رہے ہیں ۔ یہ سن کر بنو اسد کے دو اشخاص نے کہا: ”ہم تو یہاں سے اکثر گزرتے ہیں لیکن کبھی یہاں خرمے کے درخت دکھائی نہیں دیے ۔ پھر غور سے دیکھنے کے بعد کہا: یہ تو کسی لشکر کا مقدمہ الجیش ( ہر اول ، پہلا رسالہ ) معلوم ہوتا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” مجھے بھی ایسا ہی معلوم ہوتا ہے۔ کیا ہمارے لئے یہاں کوئی ایسی جگہ مل سکتی ہے جس کو پشت پر رکھ کر ہم ان لوگوں سے ایک ہی رخ پر سامنا کریں؟ دونوں شخصوں نے کہا: آپ رضی اللہ عنہ کے پہلو میں مقام ذ وحسم یا ذو حشم موجود ہے آپ رضی اللہ عنہ بائیں جانب مڑ جائیے ان لوگوں سے پہلے وہاں پہنچ جائیں گے اور جو چیز چاہتے ہیں وہ حاصل ہو جائے گی ۔ آپ رضی اللہ عنہ بائیں جانب مڑے ہی تھے کہ لشکر کے رسالے کے سوار بھی آپہنچے۔ انہوں نے جود دیکھا کہ آپ رضی اللہ عنہ راستے کو چھوڑ کر بائیں جانب جا رہے ہیں تو وہ بھی اُسی طرف مڑ گئے ۔ اُن کے برچھیوں کے پھل شہد کی مکھیوں کے غول کی طرح دکھائی دے رہے تھے اور اُن کے علموں (جھنڈوں) کی بیر قیں گدھ کے پروں کی طرح پھیلی ہوئی تھیں ۔ آپ رضی اللہ پہلے ذو حسم یا زوحشم پہنچ گئے اور خیمے نصب کرنے کا حکم دیا اور قیام پذیر ہو گئے۔


حر کے لشکر کو پانی پلایا


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے جب کوفہ کی طرف آنے کی خبر عبید اللہ بن زیاد کو ملی تو اس نے حصین بن نمیر کو ناکہ بندی کرنے کے لئے بھیجا تو اس نے قادسیہ میں آکر پڑاؤ ڈال دیا اور اطراف و جوانب میں لشکروں کو دوڑا دیا۔ اُن میں سے ایک لشکر سے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا سامنا ہو گیا۔ اس لشکر کا سپہ سالارحر بن یزید تمیمی تھا۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں: ہزار سواروں کا رسالہ لئے ہوئے حربن یزید تمیمی اس جلتی دوپہر میں آپ رضی اللہ عنہ کے مقابل آکر ٹھہرا۔ اُس نے دیکھا کہ آپ رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھی عمامے باندھے ہوئے ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا: " پورے لشکر والوں کو پانی پلا کر اُن کی پیاس بجھاؤ اور گھوڑوں کو بھی پانی پلاؤ “ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں نے لشکر والوں کو پانی پلا پلا کر سیراب کر دیا۔ پھر کا سے کڑے طشت بھر بھر کر گھوڑوں کے سامنے لے گئے۔ گھوڑا جب تین یا چار بار پانی میں منہ ڈال چکتا تو ظرف ہٹا کر دوسرے گھوڑے کو پانی پلاتے تھے اسی طرح سب گھوڑوں کو پانی پلایا۔ حربن یزید تمیمی کے لشکر کا ایک سپاہی پیچھے رہ گیا تھا۔ وہ بیان کرتا ہے: ”حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے جب مجھے اور میرے گھوڑے کی بری حالت کو دیکھا تو فرمایا: ” رادیہ کو بٹھاؤ۔ میں مشک کو رادیہ سمجھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے بیٹے ! اونٹ کو بٹھاؤ میں نے اونٹ کو بٹھایا تو مجھے پانی دیا اور فرمایا: ”لو پیو “ میں جب پانی پینے لگا تو مشک (مشکیزے) سے پانی گرنے لگا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "مشک کے دہانے کو اُلٹ دو“ مجھ سے الٹتے نہیں بنا تو آپ رضی اللہ عنہ خود کھڑے ہوئے اور دہانہ کو الٹ دیا۔ پھر میں نے اور میرے گھوڑے نے پانی پیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کی طرف حربن یزید تمیمی کے لشکر لیکر آنے کا سبب یہ ہوا کہ عبید اللہ بن زیاد کو جب یہ خبر ملی کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ آرہے ہیں تو اُس نے حصین بن نمیر کو جو پولیس محکمے کا سر براہ تھا روانہ کیا اور حکم دیا کہ قادسیہ میں ٹھہرے اور قطقطانہ سے حقائق تک مورچے باندھے اور حر کو ایک ہزار سوار کا لشکر دے کر اُس کے آگے روانہ کیا کہ وہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے مزاحمت کرے۔ حربن یزید تمیمی نے آپ رضی اللہ عنہ کورو کے رکھا۔


تم کو میرا آنا ناگوار لگا ہو تو واپس چلا جاؤں


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ ذو سم یاز و حشم میں قیام پذیر تھے اور سامنے ایک ہزار کا لشکر لیکر حر بن یزید تمیمی قیام پذیر تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: یہاں تک کہ ظہر کا وقت آگیا۔ اب آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت حجاج بن مسروق بعضی کو حکم دیا کہ اذان دیں۔ انہوں نے اذان دی اور اقامت کی باری آئی تو آپ رضی اللہ عنہ تہبند اور چادر پہنے ہوئے نکلے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا پھر فرمایا: "اے لوگو! اللہ تعالیٰ سے اور تم سب لوگوں سے میں ایک عذر کرتا ہوں کہ جب تک تمہارے قاصد تمہارے خطوط اور تمہارے یہ پیغام لیکر نہیں آئے کہ آپ رضی اللہ عنہ آئیے ، ہمارا کوئی امام نہیں ہے ۔ شاید آپ رضی اللہ عنہ کے سبب اللہ تعالیٰ ہم سب لوگوں کو ہدایت پر متفق کر دے، اُس وقت تک میں تمہارے پاس نہیں آیا۔ اب اگر تم اسی قول پر ڈٹے ہو تو لو میں تمہارے پاس آ گیا ہوں۔ تم مجھ سے عہد و پیمان کر لو جس سے مجھے اطمینان ہو جائے تو میں تمہارے شہر چلوں۔ اور اگر ایسا نہیں کرتے ہو اور تم کو میرا آنا ناگوار گزرا ہوتو میں جہاں سے آیا ہوں وہیں واپس چلا جاؤں گا یہ سن کر سب خاموش رہے تو آپ رضی اللہ عنہ نے مؤذن سے فرمایا: ” اقامت کہو ۔ اُس نے اقامت کہی تو آپ رضی اللہ عنہ نے حربن یزید تمیمی سے فرمایا: ”تم لوگ الگ نماز پڑھو گے؟" حربن یزید نے کہا: نہیں ! ہم سب بھی آپ رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز ادا کریں گے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے سب کو نماز پڑھائی اور اپنے خیمہ میں چلے گئے اور آپ رضی اللہ عنہ کے اہل و عیال اور خاندان والے آپ رضی اللہ عنہ کے پاس جمع ہو گئے۔


عبید اللہ بن زیاد کے پاس جانے سے انکار


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے حربن یزید تمیمی سے فرمایا تھا کہ اگر تم لوگوں کو میرا یہاں آنا نا گوار گزرا ہو تو مجھے واپس جانے دو تو اُس نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حربن یزید تمیمی اپنے لشکر میں واپس چلا گیا۔ اُس کے لئے خیمہ نصب کیا جا چکا تھا وہ اُس میں چلا گیا۔ اُس کے لشکر کے کچھ لوگ اُس کے پاس جمع ہو گئے اور باقی اپنی اپنی صفوں میں چلے گئے اور پھر سے صفیں لگا لیں۔ پھر ہر شخص نے اپنے اپنے گھوڑے کی باگ پکڑ لی اور اُس کے سایے میں اتر کر بیٹھ گئے ۔ عصر کی نماز کا وقت ہوا آپ رضی اللہ عنہ خیمہ سے نکلے اور مؤذن کو حکم دیا تو اُس نے اذان دی اور پھر اقامت کہی۔ آپ رضی اللہ آگے بڑھے اور سب کو نماز پڑھائی سلام پھیرا۔ پھر سب کی طرف چہرہ مبارک کر کے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا پھر فرمایا: اے لوگو! اگر تم اللہ کا خوف کرو گے اور حق داروں کے حق کو پہچا نو گے تو یہ اللہ کی خوشنودی کا باعث ہوگا۔ ہم اہل بیت ہیں اور یہ لوگ جو تم پر حکومت کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں جس کا انہیں حق نہیں ہے اور تمہارے ساتھ ظلم و تعدی سے پیش آتے ہیں۔ اس امر کے لئے ان سے ہمیں اولی ہے۔ اگر تم کو ہم سے کراہت ہے اور ہمارے حق سے تم واقف نہیں ہو اور اپنے خطوں اور پیغاموں کی زبانی تم نے جو کچھ مجھ سے کہلا بھیجا ہے اب وہ تمہاری رائے نہیں رہ گئی ہے تو میں تمہارے پاس سے واپس چلا جاؤں گا ۔ حر بن یزید نے جواب میں کہا : اللہ کی قسم! مجھے نہیں معلوم وہ خطوط کیسے تھے جن کا آپ رضی اللہ عنہ ذکر فرمارہے ہیں ۔“ یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت عقبہ بن سمعان سے فرمایا: ” وہ دونوں تھیلے جن میں ان لوگوں کے خطوط ہیں لے آؤ۔“ حضرت عقبہ بن سمعان دونوں تھیلے لے کر آئے جو خطوط سے بھرے ہوئے تھے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے سب کے سامنے اُن خطوط کو بکھیر دیا۔ حربن یزید تمیمی نے کہا: ” جن لوگوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو خطوط لکھے ہیں ، ہم اُن میں سے نہیں ہیں اور ہم کو حکم ملا ہے کہ اگر ہم آپ رضی اللہ عنہ کو پا جائیں تو عبیداللہ بن زیاد کے پاس لے جائے بغیر نہ چھوڑیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” یہ کام کرنے سے بہتر تمہارے لئے مرجاتا ہے۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: ”اٹھ سوار ہو جاؤ ۔ سب سوار ہو گئے اور انتظار کرنے لگے کہ مستورات بھی سوار ہو جائیں۔


تیسرے مقام کی طرف روانگی


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ عنہ واپس جانا چاہتے تھے اور حربن یزید تمیمی آپ رضی اللہ عنہ کو وہ عبید اللہ بن زیاد کے پاس لے جانا چاہتا تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے رہبروں سے فرمایا: ”ہم سب کو واپس لے چلو۔“ جب آپ رضی اللہ عنہ واپس جانے لگے تو حربن یزید نے اپنے لشکر کے ساتھ راستہ روک لیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میری والدہ تجھ پر روئے ! آخر تیرا کیا مطلب ہے؟ حر بن یزید نے کہا: اللہ کی قسم ! اگر عرب میں سے کسی نے یہ کلمہ مجھ سے کہا ہوتا تو میں بھی اُس کی والدہ کے رونے کا ذکر کئے بغیر نہیں رہتا لیکن میری مجال نہیں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ محترمہ کا ذکر حد درجہ عظیم کے سوا کسی اور طریقے سے کروں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” پھر تیرا کیا ارادہ ہے؟ حربن یزید نے کہا: اللہ کی قسم! میرا ارادہ یہ ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کو عبید اللہ بن زیاد کے پاس لے جاؤں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں تیرے ساتھ نہیں جاؤں گا ۔ حر بن یزید نے کہا: اللہ کی قسم ! میں آپ رضی اللہ عنہ کونہیں چھوڑوں گا ۔ دونوں نے یہی بات تین تین مرتبہ کہی ۔ جب تکرار بڑھ گئی تو حربن یزید نے کہا: " مجھے آپ رضی اللہ عنہ کوشہید کرنے کا حکم نہیں ملا ہے بلکہ مجھے صرف اتنا حکم ملا ہے کہ جب تک آپ رضی اللہ عنہ کو کوفہ عبید اللہ بن زیاد کے پاس نہ لے جاؤں تب تک آپ رضی اللہ عنہ کے پاس سے نہیں ہٹوں ۔ اگر آپ رضی اللہ عنہ میری بات نہیں مان رہے ہیں تو کسی ایسے راستے پر چلیئے جو کوفہ کی طرف جاتا ہو نہ مدینہ منورہ کی طرف جاتا ہو۔ میں عبید اللہ بن زیاد کو تمام حالات لکھ کر بھیج دوں گا۔ اگر آپ رضی اللہ عنہ کا دل چاہے تو آپ رضی اللہ عنہ یزید کو لکھئے یا پھر عید اللہ بن زیاد کولکھیئے۔ شاید اللہ تعالی ایسی صورت نکال دے کہ میں آپ رضی اللہ عنہ کے بارے میں کوئی سخت قدم اُٹھانے سے بچ جاؤں۔ آپ رضی اللہ عنہ ایسا کریں کہ عذیب اور قادسیہ کے راستے سے بائیں طرف مڑ جائیں۔ اُس وقت عذیب اڑتیس میل کے فاصلے پر تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ راو نہ ہوئے اور حر بن یزید اپنا لشکر لیکر ساتھ ساتھ چلا۔


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے پھر سمجھایا


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اپنے اہل وعیال اور خاندان والوں کے ساتھ تیسرے راستے پر سفر کر رہے تھے اور حربن یزید بھی اپنے لشکر کے ساتھ سفر کر رہا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے مقام بیضہ میں پڑاؤ ڈال دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: مقام بیضہ میں آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے اور حربن یزید کے اصحاب کے درمیان خطبہ دیا۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: آپ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو مخاطب کر کے اللہ کی حمد و ثناء کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا اور فرمایا: ”اے لوگو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس شخص نے ظالم بادشاہ کو دیکھا کہ وہ اللہ کے حرام کردہ کو حلال کرتا ہے۔ اس کے عہد کو توڑتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی نہیں کرتا ہے۔ اللہ کی مخلوق میں ظلم اور گناہ کے کام کرتا ہے۔ پھر اس شخص نے کسی قسم کی قولی یا عملی دست اندازی نہیں کی تو اللہ تعالیٰ اس کو بھی اُس ( ظالم بادشاہ) کے ساتھ شمار کرے گا۔ آگاہ ہو جاؤ ! اِن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت چھوڑ کر شیطان کی تابعداری شروع کر دی ہے۔ فتنہ و فساد برپا کر دیا ہے۔ میں ان لوگوں سے زیادہ صاحب الامر ہونے کا مستحق ہوں۔ تمہارے خطوط اور قاصد میرے پاس آئے اور تم نے مجھے بیعت کرنے کے لئے بلایا۔ اب تم مجھے رسوا نہ کرو، اگر بیعت کے اقرار پر قائم رہو گے تو حق کا راستہ پا جاؤ گے۔ میں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا بیٹا ہوں اور میری والدہ محترمہ سیدہ فاطمہ زہرہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی ہیں ۔ میری جان تمہاری جان کے ساتھ ہے اور میرے اہل و عیال تمہارے اہل وعیال کے ساتھ ہیں تم کو میرے ساتھ بھلائی کرنی چاہئے اور اگر تم نے ایسا نہیں کیا اور میرے ساتھ عہد شکنی کی تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ تم نے میرے والد محترم حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، میرے بھائی حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اور میرے چچا زاد بھائی حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے ساتھ بد عہدی کی ہے۔ افسوس کہ تم لوگ مجھے دھوکا دے کر دین مین اپنا حق اور حصہ ضائع کر رہے ہو۔ پس جو شخص بدعہدی کرے گا اپنے لئے کرے گا اور اللہ تعالیٰ مجھ کو تم سے بے پرواہ کر دے گا ۔ والسلام “


حضرت زہیر بن قین کی حق پرستی


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا خطبہ سن کر حضرت زہیر بن قین نے آپ رضی اللہ عنہ کا ہر حال میں ساتھ نبھانے کا ارادہ ظاہر کیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: یہ سن کر حضرت زہیر بن قین کھڑے ہوئے اور اپنے ساتھ کے لوگوں سے کہا: ” تم کچھ کہتے ہو یا میں کہوں؟ انہوں نے کہا: ” آپ ہی کہیئے ۔ “ حضرت زہیر بن قین نے پہلے للہ تعالیٰ کی حمدو ثناء کی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا پھر عرض کیا: اے آل رسول رضی اللہ عنہ اہداک اللہ ! آپ رضی اللہ عنہ کے ارشاد کو ہم قبول کرتے ہیں۔ اللہ کی قسم ! اگر دنیا ہمیشہ باقی رہنے والی ہوتی اور ہم اُس میں ہمیشہ رہنے والے ہوتے اور اُس وقت بھی ہمیں آپ رضی اللہ عنہ کی نصرت اور غمخواری کے لئے دنیا کو چھوڑنا پڑتا تو ہم اس دنیا میں رہنے کے بجائے آپ رضی اللہ عنہ کا ساتھ دے کر دنیا چھوڑ نا پسند کرتے ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اُن کے لئے دعائے خیر کی ۔ حربن یزید بھی آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسلسل سفر کر رہا تھا اور بولتا جارہا تھا: اے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ! میں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ اپنی جان کا خیال کیجیئے ۔ میں کہتا ہوں کہ آپ رضی اللہ عنہ حملہ کریں گے تو شہید ہو جائیں گے یا آپ رضی اللہ عنہ پر حملہ ہو گا تب بھی شہید ہو جائیں گے مجھے تو ایسا ہی لگتا ہے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” تو مجھے مرنے سے ڈرا رہا ہے؟ کیا نوبت یہاں تک پہنچے گی کہ تم لوگ مجھے شہید کر دو گے؟ اس بات کے جواب میں وہی بات کہوں گا جو بنو اوس کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے اپنے چچازاد سے کہی تھی ۔ وہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی نصرت کو جارہے تھے تو اس نے کہا: ” کہاں جا رہے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا: ”میں جاؤں گا اور موت سے اُس شخص کو کا ہے شرم ۔ جس نے حق کی نیت کی ہو اور مسلم ہو کر جہاد کیا ہو ۔ جس نے اپنی جان سے اللہ کے صالح بندوں کی غمخواری کی ہو۔ جس نے ہلاک ہونے والے خائن سے کنارہ کیا ہو۔ حر بن یزید نے جب یہ بات سنی تو خاموشی سے اپنے لشکر کی طرف لوٹ گیا ۔ وہ اپنے لشکر کے ساتھ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلے سے تھوڑی دور پر چل رہا تھا۔


حضرت قیس بن مسہر صیدادی کی شہادت کی اطلاع


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو فہ اور مدینہ منورہ کے علاوہ تیسرے راستے پر رواں دواں تھے کہ حضرت قیس بن مسہر میدادی کے شہید ہونے کی اطلاع ملی ۔ اس سے پہلے حضرت عبداللہ بن بقطر رضی اللہ عنہ کی شہادت کی اطلاع آپ رضی اللہ عنہ کو ملی تھی اب حضرت قیس بن مسہر صیدادی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی اطلاع ملی۔ ہو سکتا ہے کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے الگ الگ وقت میں دونوں کو الگ الگ کوفہ کی طرف قاصد بنا کر بھیجا ہواور عبیداللہ بن زیاد نے دونوں کو ایک ہی طریقے سے شہید کیا ہو۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: چلتے چلتے مقام عذیب الہجانات تک پہنچے ۔ (ہجانات اونٹنیوں کو کہتے ہیں ) یہاں نعمان کی اونٹنیاں چرا کرتی تھیں ۔ جب اس مقام پر آپ رضی اللہ عنہ پہنچے تو کوفہ سے چار شخص اونٹوں پر سوار نافع بن بلال کا مشہور گھوڑا کوتل دوڑاتے ہوئے آئے۔ ان کا راہ نما طرماح بن عدی تھا۔ حضرت حسین علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہی اُس نے عرض کیا: ”اے سانڈنی میرے جھڑ کنے سے گھبرانہ جا۔ صبح ہونے سے پہلے ان سواروں کولیکر روانہ ہو جا۔ یہ تما م سواروں میں اور سفر کرنے والوں میں سب سے بہتر ہیں۔ ان کو لئے ہوئے تو اُس شخص کے پاس جا کر ٹھہر جا۔ جو کریم النسب اور صاحب محمد داور کشادہ دل ہیں۔ جنہیں اللہ تعالیٰ ایک امر خیر (بھلائی کے کام کے لئے یہاں لایا ہے۔ رہتی دنیا تک ان کو اللہ سلامت رکھے ۔ “ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم میں بھی جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی مثیت میں لوگوں کا قتل ہونا یا فتح مند ہونا دونوں طرح سے امرخیز“ ہے حربن یزید اُن چاروں کو گرفتار کرنے کے لئے آگے بڑھا تو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اُسے ڈانٹ دیا اور وہ خاموشی سے واپس چلا گیا ۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے اُن چاروں سے فرمایا: ”جہاں سے تم آرہے ہو ، وہاں کی کیا خبر ہے؟ مجھ سے بیان کرو۔“ اُن میں سے ایک شخص مجمع بن عبد اللہ عائذی نے عرض کیا: ” بڑے بڑے لوگوں کا تو یہ حال ہے کہ اُن کو بڑی بڑی رشوتیں دی گئیں ہیں، اُن کے تھیلے بھر دیئے گئے ہیں۔ اُن کو بلا رہے ہیں اور اپنا خیر خواہ بنارہے ہیں، وہ سب لوگ آپ رضی اللہ عنہ کے خلاف متفق ہیں ۔ رہے عام لوگ ! تو اُن کا یہ حال ہے کہ اُن کے دل آپ کی طرف ہیں لیکن کل یہی لوگ آپ رضی اللہ عنہ پر تلواریں کھینچے ہوئے چڑھائی کر دیں گے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میرا ایک قاصد حضرت قیس بن مسهر صیدادی تمہارے پاس آیا تھا ۔ انہوں نے عرض کیا: ”ہاں ! اُن کو حصین بن نمیر نے گرفتار کر کے عبید اللہ بن زیاد کے پاس بھیج دیا تھا۔ پھر اُن کے شہید ہونے کا واقعہ تفصیل سے بیان کیا۔ پورا واقعہ سن کر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی آنکھیں ڈبڈبا آئیں اور آپ رضی اللہ عنہ آنسوؤں کو ضبط نہیں کر سکے اور یہ آیت تلاوت فرمائی: ” ان میں سے کوئی گزر گیا کوئی انتظار کر رہا ہے اور ان لوگوں نے ذرا تغیر و تبدل نہیں کیا ۔ پھر آگے فرمایا : اے اللہ تعالی! ہم کو اور ان کو جنت کی نعمتیں عطافرما اور ہم کو اوران کو اپنی جوار رحمت میں اور اپنے ثواب کے ذخیرہ بخشش میں یکجا کر دے۔“


اب ہم واپس نہیں جاسکتے ہے


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے کوفہ سے آنے والے چاروں سواروں سے کوفہ کے حالات دریافت کئے تو معلوم ہوا کہ کوفہ کے تمام لوگ آپ رضی اللہ عنہ کے خلاف ہو گئے ہیں۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: طرماح بن عدی آپ رضی اللہ عنہ کے قریب آیا اور عرض کیا : ”اللہ کی قسم ! میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کوئی نہیں ہے۔ جو شکر آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ چل رہا ہے ۔ صرف اسی سے مقابلہ ہوگا تو آپ رضی اللہ عنہ اور اہل وعیال اور ساتھی کافی ہیں ۔ حالانکہ جب میں آپ رضی اللہ عنہ کے پاس آنے کے لئے کوفہ سے نکلا تو اس سے ایک دن پہلے میں نے سپاہیوں کی ایسی کثرت دیکھی کہ اتنا بڑا لشکر ابھی تک میری نظر سے نہیں گذرا ہے۔ میں نے اس اجتماع کا سبب پوچھا تو بتایا گیا کہ یہ اجتماع تو عرض کے لئے ہے۔ عرض سے فارغ ہونے کے بعد یہ لشکر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے مقابلے پر روانہ ہو گا۔ اب میں آپ رضی اللہعنہ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ اگر ممکن ہوتو ایک قدم بھی اُس طرف جانے کے لئے نہیں اُٹھائیے۔ اگر آپ رضی اللہ عنہ کسی ایسے شہر میں جانا چاہتے ہوں جہاں اللہ آپ رضی اللہ عنہ کی حفاظت کرے اور آپ رضی اللہ عنہ کوئی رائے قائم کرلیں اور جو کام کرنا چاہتے ہیں اُسے اچھی طرح سوچ سمجھ کر لیں تو چلیئے میں آپ رضی اللہ عنہ کو اپنے بلند پہاڑ کوہ اجا" پر لے چلوں۔ اللہ کی قسم! ہم لوگ اُسی پہاڑ پر غسان اور حمیر کے باشاہوں اور نعمان بن منذر اور ہر اسود احمر سے محفوظ رہے ہیں۔ اللہ کی قسم ! ہم کو کبھی یہ لوگ مطیع نہیں کر سکے ہیں۔ میں آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ چلتا ہوں اور موضع قریہ میں آپ رضی اللہ عنہ کو قیام پذیر کر دوں گا۔ پھر کو ہستان اجاد سلملی میں بنوطے میں جو لوگ ہیں اُن کو کہلا بھیجوں گا۔ اللہ کی تم اس دن کے اندر اندر آپ رضی اللہ عنہ کے پاس بنوطے کے پیارے اور سوار جمع ہو جائیں گے ۔ آپ رضی اللہ عنہ کا جب تک جی چاہے گا ہم لوگوں کے درمیان رہ سکتے ہیں۔ اگر آپ رضی اللہ عنہ کو کوئی واقعہ پیش آئے تو میں بنوطے کے بیس ہزار مجاہدین کو جمع کرنے کا ذمہ میں لیتا ہوں جو آپ رضی اللہ عنہ کے آگے سے، پیچھے سے، دائیں سے اور بائیں سے شمشیر زنی کریں گے۔ جب تک ان میں سے ایک شخص بھی زندہ رہے گا آپ رضی اللہ عنہ کو کوئی ضر نہیں پہنچنے دے گا ۔ آپ رضی اللہ عنہ مسکرائے اور فرمایا: اللہ تجھے اور تیرے قبیلے کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ بات یہ ہے کہ ہم میں اور ان میں ( حربن یزید کے لشکر میں) ایک قول ہو چکا ہے جس کے سبب ہم واپس نہیں جاسکتے اور ہمیں نہیں معلوم کہ ہمار اور ان کا کیا انجام ہو گا ۔“


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!


Saltanat e Umayya part 15


 15 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 15

طرماح بن عدی مدد نہیں کر سکا، ہم حق پر ہیں، عبید اللہ بن زیاد کا حکم، تیرا امام جہنم میں لے جائے گا، میں جنگ کی ابتدا نہیں کروں گا، عقر ( کربلا ) میں قیام، عمر بن سعد کا انکار کرنے کے بعد اقرار، عمر و یا عمر بن سعد کا قاصد، دوسرا قاصد، یزید کی بیعت کرنے کا کہو، 

طرماح بن عدی مدد نہیں کر سکا

حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے طرماح بن عدی کا شکر یہ ادا کیا اور فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ نہیں جاسکتا۔ طرماح بن عدی نے عرض کیا کہ میں اپنے گھر والوں کے لئے راشن لے کر جارہا تھا وہ انہیں دے کر آپ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوتا ہوں اور پھر چاہے جو ہو میں آپ رضی اللہ عنہ کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: طرماح بن عدی نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: " اللہ تعالیٰ آپ رضی اللہ عنہ کو تمام عالم کے جن وانس کے شرسے بچائے۔ میں کوفہ سے کچھ غلہ وغیرہ اپنے اہل وعیال کے لئے لیکر چلا ہوں ۔ آپ رضی اللہ عنہ اجازت دیں تو یہ سامان اور خرچ کے لئے کچھ دے دوں اور وہاں جا کر یہ سب چیزیں انہیں دے کر انشاء اللہ جلد ہی واپس آؤں گا اور اللہ کی قسم! میں بھی آپ رضی اللہ عنہ کے انصار میں شامل ہو جاؤں گا ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: " رحمک اللہ ! اگر تیرا یہی ارادہ ہے تو جلدی کر طرماح بن عدی کہتے ہیں: ” اس سے معلوم ہوا کہ آپ رضی اللہ عنہ چاہتے تھے کہ اس امر میں لوگ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ شریک ہوں جب ہی تو مجھے جلدی کرنے کو فرمایا ۔ میں اپنے اہل و عیال میں پہنچا اور جن چیزوں کی انہیں ضرورت تھی وہ اُن کو دے کر میں نے وصیت کی۔ سب کہنے لگے : ” اس مرتبہ اس طرح رخصت ہو رہے ہیں کہ اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا۔ میں نے اپنے ارادے سے انہیں مطلع کیا اور بنو شعول کے راستے سے روانہ ہوا۔ عذیب الہجانات تک ہی پہنچا تھا کہ سماعہ بن بدر نے بتایا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ شہید کر دئیے گئے ۔ یہ سن کر میں واپس آگیا۔


ہم حق پر ہیں


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا سفر جاری تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ قصر بنو مقاتل میں قیام پذیر ہوئے پھر آگے روانہ ہو گئے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: ایک ساعت بھر چلے تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ ذرا اونگھ گئے پھر چونک کر انا للہ وانا الیہ راجعون والحمد اللہ رب العالمین فرمایا اور یہ کلمہ آپ رضی اللہ عنہ نے دو یا تین مرتبہ کہا۔ یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ کے بیٹے حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہ گھوڑا بڑھا کر آگے آئے اور عرض کیا: ابو جان ! میں آپ رضی اللہ عنہ پر فدا ہو جاؤں ، اس وقت آپ رضی اللہ عنہ نے یہ کلمہ کیوں فرمایا ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے میرے پیارے بیٹے ذرا میری آنکھ جھپک گئی تھی تو میں ایک سوار کو اپنے گھوڑے پر دیکھا۔ اُس نے کہا: یہ لوگ تو چلے جارہے ہیں اور موت ان کی طرف آرہی ہے۔ اس سے میں سمجھ گیا کہ ہمیں خبر مرگ سنائی گئی ہے۔ بیٹے نے عرض کیا: "ابو جان ! اللہ تعالی آپ رضی اللہ عنہ کو ہر بلا سے محفوظ رکھے کیا ہم لوگ حق پر نہیں ہیں؟“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قسم ہے اُس اللہ کی جس کے پاس سب کو لوٹ کر جانا ہے ہم حق پر ہیں ۔ “ حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ” پھر ہمیں کچھ پرواہ نہیں ہے۔ مریں گے تو حق پر مریں گے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” جزاک اللہ ! والد کی طرف سے فرزند کو جو بہترین جزامل سکتی ہے وہ تم کو ملے ۔“


عبید اللہ بن زیاد کا حکم


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سفر کر رہے تھے اور حر بن یزید اپنے لشکر کے ساتھ اُن کے آس پاس ہی چل رہا تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حر بن یزید جب آپ رضی اللہ عنہ کو کوفہ کی طرف جانے کے لئے مجبور کرتا تو آپ رضی اللہ عنہ نہیں مانتے تھے اور آگے بڑھ جاتے تھے یہاں تک کہ مقام نینوا میں پہنچے تو وہیں پر قیام پذیر ہو گئے ۔ اتنے میں ایک سانڈنی (اونٹ) سوار ہتھیار لگائے کمان شانہ پر ڈالے کوفہ کی طرف سے آتا دکھائی دیا۔ سب کے سب اُس کے انتظار میں ٹھہر گئے۔ وہ آیا اور حربن یزید اور اُس کے لشکر کو سلام کیا اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور اُن کے ساتھیوں کو سلام نہیں کیا۔ حربن یزید کو عبید اللہ بن زیاد کا خط دیا۔ اُس میں لکھا تھا: ”میرا قاصد اور میرا خط جب تمہیں ملے تو (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) کو بہت تنگ کرنا ۔ اُن کو ایسی جگہ پڑاؤ ڈالنے دینا جہاں چٹیل میدان ہو اور کوئی پناہ کی جگہ نہیں ہو اور پانی بھی نہیں ہو۔ دیکھو قاصد کو میں نے حکم دے دیا ہے کہ وہ تم پر نگران رہے تمہارا ساتھ نہ چھوڑے جب تک کہ میرے پاس ہ خبر نہ لیکر آئے کہ تم نے میرے حکم کو پورا کر دیا ہے۔ والسلام - حربن یزید نے خط پڑھ کر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں سے کہا: یہ خط گورنر عبید اللہ بن زیاد کا ہے ۔ مجھے حکم دیا ہے کہ جس مقام پر مجھے یہ خط لے و ہیں تم لوگوں کو بہت تنگ کروں اور دیکھو شخص قاصد ہے اس کو حکم ہے کہ میرے پاس سے اُس وقت تک نہ ہے جب تک یہ نہ دیکھ لے کہ میں نے امیر ( گورنر ) کی رائے پر عمل کر لیا اور اُس کے حکم کو جاری کر دیا ہے۔“


تیرا امام جہنم میں لے جائے گا


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کوحر بن یزید نے وہیں روک لیا اور اپنے گورنر عبید اللہ بن زیاد کا فرمان سنایا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: یہ سن کر قاصد کی طرف بنو کندہ کے حضرت ابو شعنا یزید بن مہاجر آگے بڑھے اور قاصد کو دیکھ کر کہا: ” کیا تم بنوکندہ کے مالک بن نسیر ہو؟“ اس نے کہا: ہاں! میں وہی ہوں ۔ " ابو شعراء نے کہا: ”تیرابر ہو تو کیا پیغام لیکر آیا ہے؟“ قاصد نے کہا: ” جو پیغام میں لایا ہوں اُس میں اپنے امام کی میں نے اطاعت کی ہے اور اپنی بیعت کو پورا کیا ہے ۔ ابو شعراء نے کہا: تو نے اپنے اللہ کی نافرمانی کی ہے اور اپنے امام کی اطاعت کر کے خود کو ہلاک کیا ہے ۔ تو نے اپنے عارو نار کو اختیار کیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (ترجمہ) ہم نے کچھ امام ان میں پیدا کر دیئے ہیں جو کہ جہنم میں لے جانے کو پکارتے ہیں۔ قیامت کے روزان کی مدد نہیں کی جائے گی ۔ بس ایسا ہی تیرا امام بھی ہے۔“


میں جنگ کی ابتدا نہیں کروں گا


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ پر ایک کھلے میدان میں پڑاؤ ڈالنے کے لئے حربن یزید مجبور کرنے لگا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اب حربن یزید نے سب لوگوں کو اُس جگہ پڑاؤ ڈالنے پر مجبور کرنا شروع کر دیا جہاں پانی نہیں تھا اور کوئی بستی بھی نہیں تھی ۔ اُن لوگوں نے کہا: ” ہمیں نینوا میں یا غاضریہ میں شفیہ میں پڑاؤ ڈالنے دو حربن یزید نے کہا: اللہ کی قسم میں ایسا نہیں کر سکتا۔ دیکھو یہ شخص جاسوسی کرنے کے لئے میرے پاس بھیجا گیا ہے ۔ اُس وقت حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: "اے آل رسول رضی اللہ عنہ ! ہمیں اس وقت ان لوگوں سے لڑلینا آسان ہے بہ نسبت اُن لوگوں کے جو ان کے بعد لڑنے کے لئے آئیں گے ۔ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ان کے بعد اتنے لوگ ہم سے لڑنے کے لئے آئیں گے جن کا ہم مقابلہ نہیں کر سکتے ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں جنگ کی ابتدا نہیں کروں ۔“ حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ”اچھا اس قریہ میں چلیئے ، ہم سب وہیں قیام کریں گے وہ مقام محفوظ بھی ہے اور دریائے فرات کے کنارے بھی ہے ۔ یہ لوگ ہمیں وہاں جانے سے روکیں گے تو اس بات پر ہم ان سے لڑیں گے۔ ان سے لڑ لینا اُن لوگوں کے مقابلے میں آسان ہے جو ان کے بعد آنے والے ہیں ۔ “ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: حربن یزید نے عبید اللہ بن زیاد کا خط پڑھ کر کہا: یہ خط امیر ( گورنر ) کا آیا ہے۔ جس میں مجھے ہدایت ملی ہے کہ میں آپ رضی اللہ عنہ کو ایک کھلے میدان میں ٹھہراؤں اور تحمیل حکم تک یہ قاصد مجھ سے علیحدہ نہیں ہوگا لہذا آپ رضی اللہ عنہ نینوا سے پڑاؤ اُٹھا کر ایسے میدان میں پڑاؤ ڈالیں جہا نہ سایہ ہو اور نہ پانی ہو ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : " ہم کو تم اب زیادہ تکلیف نہ دو اور نینوا میں ہی رہنے دو یا پھر ہمیں غاضریہ مافیہ میں جا کر قیام کرنے دو ۔ حر بن یزید نے کہا: ” میں ایسا نہیں کر سکتا کیونکہ عبید اللہ بن زیاد نے مجھ پر اس شخص کو اس کام کی نگرانی کے لئے مقرر کیا ہے ۔ حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اللہ کی قسم! اس کے بعد جو (لشکر) آئے گا وہ اس سے زیادہ سخت ہو گا۔ اے آل رسول رضی اللہ عنہ! اس وقت ان سے لڑ جانا آسان ہے بہ نسبت اُس (لشکر) کے جو آئندہ آنے والا ہے ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں جنگ کی ابتدا نہیں کروں گا ۔“


عقر ( کربلا ) میں قیام


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے جنگ کی ابتدا اپنی طرف سے کرنا مناسب نہیں سمجھا اور حضرت زہیر بن قین کے مشورے کو نہیں مانا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہ کون سا قریہ ہے؟ لوگوں نے بتایا: ” اس کا نام ”عقر ( زخم ) ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے اللہ تعالیٰ ! عقر سے مجھ کو بچانا۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے وہیں پڑاؤ ڈالنے کا حکم دے دیا۔ یہ دو (2) محرم الحرام 11 ہجری پینج شنبہ کا دن تھا۔ اس کے دوسرے دن صبح عمر ودیا عمر بن سعد ( یہ مشہور صحابی حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا بیٹا ہے اور اس کا عمر دیا عمر ہے۔ علامہ محمد بن جریر طبری نے عمر ولکھا ہے اور علامہ ابن کثیر اور ابن خلدون نے عمر بن سعد لکھا ہے ) چار ہزار (4000) کا لشکر لیکر کوفہ سے یہاں پہنچا۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ پر عمر بن سعد کے لشکر کشی کرنے کی وجہ یہ ہوئی کہ فرقہ دیلم نے موضع وسشٹمی پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہ خبرسن کر عبید اللہ بن زیاد نے ملک ”رنے کا فرمان عمر بن سعد کے نام لکھا ( یعنی اسے وہاں کا گورنر بنا دیا) اور حکم دیا کہ اس طرف روانہ ہو جاؤ۔ عمر بن سعد شکر کو ساتھ لیکر روانہ ہو حمام اعین میں لشکر گاہ مقرر کی۔ جب حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کوفہ کی طرف متوجہ ہوئے تو عبد اللہ بن زیاد نے عمر بن سعد کو بلا بھیجا او حکم دیا کہ پہلے (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) کی طرف متوجہ ہو۔ ہمارے اور اُن کے درمیان جو معاملہ ہے اُس کا پہلے فیصلہ ہو جائے پھر فرقہ دیلم کی طرف جانا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو رائے دی : ” آپ رضی اللہ عنہ اس قریے میں ہمارے ساتھ تشریف لے چلیں ۔ وہ ایک محفوظ مقام ہے اور دریائے فرات سے لگ کر ہے ۔ اگر یہ لوگ روکیں گے تو ہم لڑ پڑیں گے اور اس لشکر سے جنگ کرنا آسان ہے بہ نسبت اس لشکر کے جو اس کے بعد آئے گا ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اس مقام کا نام دریافت کیا تو بتایا گیا: " کر بلا نام ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” یہ زمین کرب و بلا کی ہے ۔“ 


عمر بن سعد کا انکار کرنے کے بعد اقرار


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ طرف لشکر لے کر جانے کا جب عمر بن سعد کو حکم ہوا تو عبد اللہ بن زیاد کے پاس آیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: عمر بن سعد نے کہا: اللہ آپ کا بھلا کرے! اگر مناسب سمجھیں تو مجھے اس کام سے معاف رکھیئے ۔ عبداللہ بن زیاد نے کہا: اس شرط پر کہ رے ( کی گورنری) کا فرمان واپس کر دو ۔ عمر بن سعد نے اس بارے میں غور وفکر کرنے کے لئے ایک دن کی مہلت مانگی۔ وہاں سے واپس آکر اپنے احباب اور رشتہ داروں میں سے جس جس سے مشورہ کیا، اس نے اس حرکت کے کرنے سے منع کیا۔ خود اس کے بھانجے حمزہ بن مغیرہ بن شعبہ نے اُس سے کہا: "ماموں جان ! اللہ کے واسطے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے مقابلہ کرنے کا قصد نہیں کرنا ۔ اس میں اللہ کی معصیت بھی ہے اور قطع رحم بھی ہے۔ اللہ کی قسم ! اگر تمام روئے زمین کی سلطنت اور تمام دنیا کے مال و دولت سے تم محروم ہو جاؤ تو وہ اس سے بہتر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے خون سے آلودہ ہو کر تم کو جانا پڑے۔ عمر بن سعد نے کہا: ”انشاء اللہ میں یہی کروں گا۔ اس کے بعد وہ عبد اللہ بن بیمار جمنی کے پاس آیا اور بولا: "امیر ( گورنر ) عبید اللہ بن زیاد نے مجھے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے مقابلے پر جانے کا حکم دیا ہے اور میں نے انکار کر دیا ہے عبداللہ بن یسار نے کہا: اللہ تعالیٰ نے تجھے ثواب کا راستہ دکھا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ تجھ کو ہدایت کی توفیق دے ، اس بلا کو ٹال دے اور ایسا کام نہیں کر اور اس کام کے لئے روانہ نہیں ہوتا ۔ عبد اللہ بن بیار یہ کہ کر چلا آیا۔ پھر کسی نے خبر دی کہ عمرو بن سعد حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ پر چڑھائی کرنے کے لئے لشکر جمع کر رہا ہے۔ یہ سن کر وہ عمر بن سعد کے پاس گیا تو اُس نے دیکھتے ہی منہ پھیر لیا عبداللہ بن سیار سمجھ گیا کہ اب اس نے لشکر کشی کا مصم ارادہ کر لیا ہے۔ عمر بن سعد نے عبد اللہ بن زیاد سے کہا تھا: ”اللہ آپ کا بھلا کرے! آپ نے مجھے خدمت کا موقع دیا اور میرے نام ( گورنری) کا فرمان لکھ کر دیا۔ سب نے اسے سنا پھر اب آپ کی رائے ہو تو اس حکم کو نافذ کر دیجیئے اور یہ شکر جو اشراف کو فہ کا ہے اس پر کسی ایسے شخص کو مقرر کر دیجیئے جس کو کاروائی اور جنگ کے فن سے آگاہی ہو ۔ مجھے اس پر کوئی تفوق نہ ہو مقرر کر کے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے مقابلہ پر بھیج دیجئے ۔ یہ کہہ کر عمر بن سعد نے کوفہ کے کچھ اشراف لوگوں کے نام لئے۔ عبید اللہ بن زیاد نے کہا: ” اشراف کوفہ کے نام تم مجھے کیا بتاتے ہو؟ میں تم سے مشورہ نہیں چاہتا ہوں کہ کس کو مقرر کروں؟ تم اگر لشکر لیکر جاتے ہو تو ٹھیک ہے ورنہ میرا ( گورنری کا فرمان واپس کر دو ۔ عمر بن سعد نے جب عبید اللہ بن زیاد کا یہ اصرار دیکھا تو بولا : ٹھیک ہے! میں جاتا ہوں۔“


عمر و یا عمر بن سعد کا قاصد


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نینوا کے ایک مقام عقرہ ( کربلا) میں قیام پذیر تھے کہ عمرو بن سعد چار ہزار (4000) کا لشکر لیکر وہاں پہنچ گیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عمر بن سعد چار ہزار (4000) کا لشکر کے ساتھ نکلا اور جس دن حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نینوا میں قیام پذیر ہوئے اُس کے دوسرے دن صبح آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے آکر اپنے لشکر کے ساتھ قیام پذیر ہوگیا۔ پھر اس نے عزرہ بن قیس اسی کو حکم دیا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور پوچھو کہ وہ یہاں کیوں آئے ہیں؟ عزرہ بن قیس اُن لوگوں میں سے تھا جنہوں نے آپ رضی اللہ عنہ کوخط لکھ کر بلایا تھا اس لئے اُسے آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے جاتے ہوئے شرم آرہی تھی ۔ عمرو بن سعد نے لشکر کے رئیسوں ( کمانڈروں) سے بھی جنہوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو خط لکھے تھے پیام لے جانے کو کہا لیکن سب نے انکار کر دیا۔ یہ دیکھ کر کثیر بن عبداللہ شعمی اٹھ کھڑا ہوا۔ یہ بڑا دلیر شہسوار تھا اور ہر بات میں نہایت بے باک تھا۔ اُس نے کہا: ” میں (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) کے پاس جاتا ہوں اور آپ کہیں تو اللہ کی قسم ! اچانک ایک ہی وار میں اُن کا کام تمام کر دوں گا ۔ عمر بن سعد نے کہا: میں یہ نہیں کہتا کہ تم اُن کو اچانک قتل کرو۔ ہاں اُن کے پاس جا کر یہ پوچھو کہ اُن کے آنے کا کیا سبب ہے؟ کثیر بن عبداللہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلے کی طرف بڑھا۔ حضرت ابو ثمامہ صائدی نے اُسے آتے دیکھ کر عرض کیا : ”اے ابوعبداللہ ( حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے اللہ آپ رضی اللہ عنہ کا بھلا کرے ! جو شخص آپ رضی اللہ عنہ کے پاس آ رہا ہے وہ دنیا بھر کا سفاک اور شریر ہے ۔ یہ کہہ کر حضرت ابو ثمامہ کھڑے ہوئے اور اُس سے کہا: ”اپنی تلوار رکھ دے۔ اُس نے کہا: اللہ کی قسم ! میں ایسا نہیں کروں گا اور اس میں کسی کا لحاظ نہیں کروں گا۔ میں فقط قاصد کی حیثیت سے آیا ہوں۔ تم لوگ میری بات سنو گے تو جو پیام لیکر آیا ہوں پہنچا دوں گا۔ اگر نہیں سنتے تو میں واپس چلا جاؤں گا ۔ حضرت ابو ثمامہ نے کہا: ” میں تیری تلوار کے قبضہ پر ہاتھ رکھے رہوں گا ۔ پھر جو کچھ تجھے کہنا ہو کہ لینا۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم ! یہ بھی نہیں ہوگا اور قبضہ کو ہاتھ نہیں لگانا “ حضرت ابو ثمامہ نے کہا: ” پھر تجھے جو کچھ کہنا ہے یہیں کہہ دے۔ میں جا کر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے عرض کا دوں گا۔ تو ایک بدکار شخص ہے۔ دونوں میں بحث اور تو تو میں میں ہوئی اور وہ واپس چلا گیا۔ اور عمر بن سعد سے پورا حال بیان کر دیا۔


دوسرا قاصد


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس سے بغیر بات چیت کئے عمر بن سعد کا پہلا قاصد واپس آ گیا تھا۔ اس کے بعد اُس نے دوسرا قاصد بھیجا۔ علامہ محمد جریر طبری لکھتے ہیں : عمر بن سعد نے اب ورہ بن قیس حنظلی کو بلا کر کہا: " قرہ اتم ذرا ( حضرت ) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) سے مل کر پوچھو کہ وہ کیوں آئے ہیں اور اُن کا کیا ارادہ ہے؟ قرہ وہاں سے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلے کی طرف چلا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اُسے آتا ہوا دیکھ کر اپنے ساتھیوں سے پوچھا: ” اس شخص کو جانتے ہو؟ حضرت حبیب بن مظاہر نے عرض کیا: ”ہاں! میں اسے پہچا نتا ہوں ۔ یہ بنو حنظلہ سے ہے اور تمیمی ہے۔ ہماری بہن کا بیٹا ہے ، میں تو اسے خوش عقیدہ سمجھتا تھا۔ میں جانتا تھا کہ یہ ان لوگوں کے ساتھ آئے گا ۔ اتنے میں قرہ بن قیس آپہنچا۔ آپ رضی اللہ عنہ کو سلام کیا اور عمر بن سعد کا بیام پہنچا دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے جواب میں فرمایا: ” تمہارے شہر والوں نے مجھے لکھا کہ آپ رضی اللہ عنہ یہاں آجائے ۔ اب اگر میرا آنا انہیں نا گوار ہے تو میں واپس چلا جاؤں گا۔ حضرت حبیب بن مظاہر نے کہا : " قرہ ! کیا تو ان ظالموں میں پھر واپس چلا جائے گا ؟ تجھے چاہیئے کہ آپ رضی اللہ عنہ کی نصرت کرے جن کے بزرگوں کی بدولت اللہ تعالیٰ نے تجھے اور ہمیں کرامت عطا فرمائی ہے ۔ قرہ بن قیس نے کہا میں جس کے ساتھ ہوں اُس کے پیام کا جواب اُسے پہنچانے کو واپس جاؤں گا اور پھر جیسی میری رائے ہوگی وہ کروں گا ۔ یہ کہ کر وہ عمر بن سعد کے پاس گیا اور سب حال بیان کر دیا۔


یزید کی بیعت کرنے کا کہو


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا جواب سن کر عمر بن سعد نے عبید اللہ بن زیاد کو ایک خط لکھا اور اگلا حکم مانگا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عمر بن سعد نے کہا: ”امید تو ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھ کو اُن سے لڑنے اور اُن کے ساتھ کشت و خون کرنے سے محفوظ رکھے گا ۔ پھر اس نے عبید اللہ بن زیاد کو خط لکھا: ”بسمہ اللہ الرحمن الرحیم جب میں یہاں آکر ( حضرت ) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) کے مقابل اتر اتو ایک قاصد کو اُن کے پاس بھیجا اور اُن سے میں یہاں آنے کا سبب پوچھا اور یہ پوچھا کہ وہ کیا چاہتے ہیں کس چیز کے طلب گار ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ اس شہر کے لوگوں نے مجھے خط لکھے، میرے پاس اُن کے قاصد آئے اور اس بات کے درخواست گزار ہوئے کہ میں یہاں چلا آؤں۔ میں چلا آیا۔ اب میرا آنا اُن کو ناگوار ہے اور قاصدوں سے جو کچھ انہوں نے کہلا بھیجا تھا اب اُس کے خلاف اُن کی رائے ہو گئی ہے تو میں واپس چلا جاؤں گا۔ عبید اللہ بن زیاد نے اس خط کے جواب میں کہا: ” جب ہمارے پنجہ میں پھنس گئے ہیں تو نکلنا چاہتے ہیں۔ اب تو اُن کے لئے کوئی مفر نہیں ہے۔“ اس کے بعد عمر بن سعد کے خط کا جواب میں خط لکھا: ”بسمہ اللہ الرحمن الرحیم !تمہارا خط ملا ! جو کچھ تم نے لکھا وہ معلوم ہوا ۔ (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ) سے کہو کہ وہ اپنے اہل وعیال اور ساتھیوں کے ساتھ امیر المومنین یزید کی بیعت کریں۔ اگر انہوں نے بیعت کر لی تو پھر ہم جیسا مناسب سمجھیں گے کریں گے۔“


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!

منگل، 3 ستمبر، 2024

Saltanat e Umayya part 16

 16 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 16

پانی بند کر دینے کا حکم، عبد اللہ بن ابی حسین کی گستاخی اور انجام، پانی کے لئے جد و جہد، حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور عمر بن سعد کی ملاقات، شمر بن ذی جوشن کی دشمنی، عبید اللہ بن زیاد کا جنگ کرنے کا حکم، عبید اللہ بن زیاد کی امان لینے سے انکار، عمر بن سعد کا حملہ کرنے کا حکم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت، حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ کی گفتگو، حضرت زہیر بن قین اور حضرت حبیب بن مظاہر کی حق گوئی، 



پانی بند کر دینے کا حکم


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تمہارے شہر والوں نے مجھے بلا تھا۔ اب اگر انہیں میرا آنا گوار گذر رہا ہے تو میں واپس چلا جاتا ہوں۔ اس کے جواب میں عبید اللہ بن زیاد نے عمر بن سعد کو حکم دیا کہ یزید کی بیعت اُن سے لے لو۔ اس کے فوراً بعد دوسرا خط آیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: عمر بن سعد کو جب عبید اللہ بن زیاد کا یہ خط ملا تو وہ بولا : میں سمجھ گیا کہ عبید اللہ بن زیاد کو عافیت منظور نہیں ہے ۔“ اس کے بعد ایک اور خط عبید اللہ بن زیاد کا عمر بن سعد کو آیا۔ اُس میں یہ لکھا تھا: ”نہر کے اور (حضرت) حسین (رضی اللہ عنہ ) کے درمیان حائل ہو جاؤ۔ ایک بوند پانی بھی وہ لوگ نہیں پی سکیں ۔ جو سلوک تقی وز کی مظلوم امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا گیا تھا۔ اس خط کو پڑھ کر عمر بن سعد نے عمرو بن حجاج کو پانچ سو (500) سواروں کا سپہ سالار بنا کر روانہ کیا۔ یہ لوگ نہر پر جا کر ٹھہرے اور نہر اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلے کے درمیان حائل ہو گئے۔ تا کہ وہ بوند بھر پانی اس سے نہیں پینے پائیں۔ یہ سات (7) محرم الحرام 61 ہجری کا دن تھا۔ 


عبد اللہ بن ابی حسین کی گستاخی اور انجام


حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے قافلے والوں کو پانی لینے سے روک دیا گیا اور عمر بن سعد کے لشکر کے پانچ سوسپاہیوں نے نہر پر پہرہ لگا دیا تا کہ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کو پانی نہیں مل سکے۔ سات (۷) محرم الحرام اللہ ہجری کے دن ایک شخص عمر بن سعد کے لشکر سے نکل کر آیا اور آپ رضی اللہ عنہ سے گستاخی کی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں؛ یہ واقعہ آپ رضی اللہ عنہ کے شہید ہونے سے تین دن پہلے کا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے آکر عبد اللہ بن ابی حصین از دی جو بنوبجیلہ میں شمار ہوتا تھا۔ وہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پڑاؤ کے سامنے آیا اور پکارا: ”اے (حضرت) حسین! ( رضی اللہ عنہ ) ذرا پانی کی طرف دیکھو! کیسا اُس کا آسمانی رنگ بھلا معلوم ہوتا ہے۔ اللہ کی قسم ! تم پیا سے مرجاؤ گے۔ ایک قطرہ بھی تم کو نہیں ملے گا ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر فرمایا: اے اللہ! اس شخص کو پیاس کی ایذا دے کر قتل کر اور کبھی اس کی مغفرت نہ ہو۔“ اس کے بعد حمید بن مسلم اُس کی بیماری میں عیادت کو گیا تھا۔ اُس کا بیان ہے : "قسم ہے اُس اللہ وحدہ لاشریک کی ! میں اُسے ( عبداللہ بن حصین کو ) دیکھا کہ پانی پی رہا تھا اور پیاس پیاس کہتا جارہا تھا۔ پھر قے (اُلٹی) کر دیتا تھا، پھر پانی پیتا تھا پھر پیاسا ہو جاتا تھا۔ پیاس نہیں بجھتی تھی ۔ یہی حالت اُس کی مسلسل رہی آخر کار مر گیا۔“


پانی کے لئے جد و جہد


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلے پر عمرو بن سعد کے لشکر نے پانی بند کر دیا تھا اور دریا پر پہرہ بٹھا دیا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ کے قافلے کی عورتیں اور بچے پیاس سے بے حال ہوئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے پانی حاصل کرنے کا حکم دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ پر اور آپ رضی اللہ عنہ کے قافلے والوں پر پیاس کا غلبہ ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی حضرت عباس بن علی رضی اللہ عہ کو بلایا اور میں سوار ہیں پیدل کو بیس مشکیں دے کر دریا سے پانی لانے کے لئے روانہ کیا۔ یہ لوگ رات کے وقت دریا پر پہنچے۔ حضرت نافع بن حلال جعلی علم (جھنڈا) لئے ہوئے سب سے آگے بڑھ گئے ۔ عمرو بن حجاج کہنے لگا : ”کون ہے؟ کیوں آئے ہو؟ حضرت نافع بن ہلال نے فرمایا: ”ہم تو یہ پانی پینے آئے ہیں جس سے تم نے ہمیں محروم کر دیا ہے ۔ اس نے کہا: ” پی لو۔“ حضرت نافع بن ہلال نے جب دیکھا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور اُن کے اہل و عیال پیاسے ہیں تو فرمایا: اللہ کی قسم! ان لوگوں کے بغیر ایک قطر بھی نہیں پیوں گا ۔ اتنے میں باقی لوگ بھی آگئے۔ عمرو بن حجاج نے کہا: ” ان لوگوں کو پانی نہیں دے سکتا۔ ہم کو اس مقام پر اسی لئے متعین کیا گیا ہے کہ ان کو پانی نہیں لینے دیں۔“ حضرت نافع بن ہلال کے ساتھ والے جب آگئے تو انہوں نے پیدل لوگوں سے کہا: ” اپنی اپنی مشکیں بھر لو ۔ پیدل افراد تیزی سے دوڑ پڑے اور سب نے مشکیں بھر لیں ۔ عمرو بن حجاج نے اپنے سپاہیوں کے ساتھ اُن پر حملہ کر دیا۔ حضرت نافع بن ہلال اور حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ نے اُن کا مقابلہ کیا اور انہیں پیچھے تک دھکیل دیا۔ پھر اپنے خیموں کی طرف واپس جانے لگے اور پیدل افراد سے کہا: ” نکل جاؤ اور خود دشمنوں کو روکنے کے لئے ٹھہرے رہے۔ عمرو بن حجاج اپنے سپاہیوں کے ساتھ پھر اُن کی طرف تیزی سے آگے آیا اور پھر حملہ کر دیا۔ اس کے ایک سپاہی پر حضرت نافع بن بلال رضی اللہ عنہ نے نیزہ کا وار کیا اور سمجھا کہ وار او چھا پڑا ہے لیکن بعد میں اُس کا زخم پھٹ گیا اور وہ مر گیا۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھی مشکیں لئے ہوئے آئے اور آپ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کر دیں۔


حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور عمر بن سعد کی ملاقات


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کربلا میں قیام پذیر تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے عمر بن سعد کو حکم دیا کہ وہ ملاقات کرے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عمرو بن قرظہ انصاری رضی اللہ عنہ کو عمر بن سعد کے پاس بھیجا کہ آج رات میرے قافلے اور تمہارے لشکر کے درمیان مجھ سے ملاقات کرو۔ عمر بن سعد ہمیں سواروں کے ساتھ لشکر سے نکلا اور آپ رضی اللہ عنہ بھی ہیں سواروں کے ساتھ اپنے قافلے سے نکلے ۔ جب ملاقات ہوئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: ” سب پیچھے ہٹ جائیں ۔ عمر بن سعد نے بھی اپنے سپاہیوں سے پیچھے ہٹ جانے کو کہا۔ سب وہاں سے اتنی دور ہٹ گئے جہاں اُن دونوں کی کوئی آواز اور کوئی بات نہیں سنائی دے رہی تھی ۔ دونوں بہت دیر تک بات چیت کرتے رہے اور اچھی خاصی رات گزرگئی۔ پھر اپنے اپنے ساتھیوں کے ساتھ واپس لوٹ گئے ۔ لوگوں نے اپنے اپنے وہم و گمان سے کہنا شروع کر دیا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے عمر بن سعد سے کہا کہ تو میرے ساتھ یزید کے پاس چل دونوں اکیلے چلتے ہیں۔ عمر بن سعد نے کہا کہ میرا گھر خود ڈالا جائے گا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں بنوادوں گا۔ اُس نے کہا کہ میری جاگیر میں چھن جائیں گی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس سے بہتر میں تجھے اپنے مال میں سے دوں گا جو حجاز میں ہے۔ عمر بن سعد نے اسے گوارا نہیں کیا۔ لوگوں میں اسی بات کا چرچا تھا اور بغیر اس کے کہ کچھ سنا ہو یا کچھ جانتے ہوں ایک دوسرے سے یہی ذکر کرتے تھے اور محدثین کی ایک جماعت کا بیان ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تین باتوں میں سے ایک میرے لئے اختیار کر۔ یا تو یہ کہ جہاں سے میں آیا ہوں وہیں جانے دے۔ یا یہ کہ میں اپنا ہاتھ یزید کے ہاتھ میں دے دوں اور وہ میرے اور اپنے درمیان جو بھی فیصلہ کرے۔ یا پھر مجھے مملکت اسلامیہ کیسی کسی بھی سرحد کی طرف جانے دے اور میں اُن لوگوں کا ایک شخص بن کر رہوں گا اور میرا نفع و نقصان اُن کے ضمن میں ہوگا۔ یہ بھی روایت ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے ایسی بات ہر گز نہیں کہی جیسا کہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ اپنا ہاتھ یزید کے ہاتھ میں دیدیں گے۔ یا یہ کہ مجھے بلاد اسلام کی کسی سرحد کی طرف جانے دے۔ بلکہ آپ رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا تھا کہ مجھے اس وسیع و عریض زمین میں کسی طرف نکل جانے دے اور میں دیکھوں کہ انجام کیا ہوتا ہے؟


شمر بن ذی جوشن کی دشمنی


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے بات چیت کرنے کے بعد عمر بن سعد نے کوفہ کے گورنر عبید اللہ بن زیاد کو خط لکھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عمر بن سعد نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے تین چار ملاقاتیں کیں اور پھر اس کے بعد عبید اللہ بن زیاد کے پاس خط لکھ کر بھیجا " اللہ تعالیٰ نے (جنگ کی) آگ کے شعلہ کو بجھا دیا ہے۔ اختلاف کو دفع کیا ہے اور قوم کی بہتری چاہی ہے۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اس بات پر راضی ہیں کہ جہاں سے آئے ہیں وہیں چلے جائیں یا مملکت اسلامیہ کی سرحدوں میں سے کسی بھی سرحد کی طرف چلے جائیں۔ یا پھر امیر المومنین یزید کے پاس جا کر اُس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیدیں اور اپنے اور اُن کے درمیان جو فیصلہ چاہے وہ کرے۔ اس میں آپ کی بھی خوشنودی ہے اور اُمت کی بھی بہتری ہے۔ عبید اللہ بن زیاد نے خط پڑھ کر کہا: یہ خط ایسے شخص کا ہے جو اپنے امیر (حاکم) کا خیر خواہ اور اپنی قوم کا شفیق ہے اچھا میں نے قبول کیا ۔ " یہ سن کر شمر بن ذی جوشن اُٹھ کر کھڑا ہوا اور بولا : ” تو یہ بات قبول کرتا ہے؟ ارے وہ تو تیری زمین پر اترے ہوئے ہیں ، تیرے پہلو میں موجود ہیں۔ اللہ کی قسم ! تیری اطاعت کئے بغیر وہ تیرے شہر سے چلے گئے تو قوت و غلبہ اُن کو ملے گا اور عاجزی و کمزوری تجھے ملے گی۔ یہ موقع اُن کو نہیں دینا چاہئے ، اس میں تیری ذلت ہے۔ ہونا تو یہ چاہیئے کہ وہ اور ان کے سب ساتھی تیرے حکم پر سر جھکا دیں۔ اگر تو سزا دے تو تجھے سزا دینے کا حق ہے اور اگر معاف کر دے تو تجھ کو اختیار ہے۔ اللہ کی قسم! میں تو یہ سنتا ہوں کہ (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) اور عمر بن سعد دونوں لشکروں کے درمیان رات رات بھر بیٹھے ہوئے باتیں کرتے ہیں۔ عبید اللہ بن زیاد نے کہا: ”سٹو نے کیا ہی اچھی رائے دی ہے، رائے تو بس یہی ہے۔“


عبید اللہ بن زیاد کا جنگ کرنے کا حکم


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے عمر بن سعد سے گفتگو کی اور وہ مصالحت پر تیار ہو گیا اور عبید اللہ بن زیاد کو بھی مصالحت کا مشورہ دیا جسے اُس نے قبول کر لیا تھا لیکن شمر بن ذی جوشن کی فتنہ انگیزی کے سبب اُس نے وہ غلط فیصلہ کیا جس کی وجہ سے تینوں کی آخرت برباد ہو گئی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: پھر عبید اللہ بن زیاد نے ایک خط لکھ کر شمر بن ذی جوش کو دیا اور کہا: یہ خط لیکر عمر بن سعد کے پاس جا۔ اُسے چاہیئے کہ (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) اور اُن کے ساتھیوں سے کہے کہ وہ سب میرے حکم پر سر جھکا دیں ۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو اُن سب کو اطاعت گزاروں کی طرح میرے پاس بھیج دے۔ اگر وہ اس حکم کو نہیں ما نہیں تو اُن سے قتال (جنگ) کرنا۔ اگر عمر بن سعد نے ایسا کہ کیا تو تو بھی اُس کی اطاعت کرنا اور اُس کی بات کو ماننا۔ اگر اُس نے انکار کر دیا تو اُن لوگوں سے تو قتال (جنگ) کرنا اور تو اُس وقت لشکر کا سپہ سالار ہو گا اور عمر بن سعد کوقتل کر دینا اور اُس کی گردن مار دینا اور اُس کا سر میرے پاس بھیج دینا۔ عبید اللہ بن زیاد نے عمر بن سعد کو جو خط لکھا اُس کا مضمون یہ تھا: ” میں نے تجھے (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) کے مقابلے پر اس لئے نہیں بھیجا تھا کہ تو اُن کو بچانے کی فکر کرے یا اُن پر احسان کرے یا اُن کی سلامتی کی فکر کرے یا میرے سامنے اُن کا سفارشی بن بیٹھے۔ سُن ! اگر (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) اور ان کے ساتھی میرے حکم پر سر جھکا دیں اور گردنیں خم کر دیں تو سب کو اطاعت گزاروں کی طرح میرے پاس بھیج دے۔ اگر وہ نہیں ما نہیں تو اُن پر لشکر کشی (حملہ ) اس طرح کر کہ سب قتل ہو جائیں اور سب کے سر کاٹ لے کیونکہ وہ وہ سب اسی کے سزاوار ہیں۔ جب (حضرت) حسین بن علی ( رضی اللہ عنہ ) ( نعوذ باللہ ) قتل ہو جائیں تو اُن کے سینہ پر اور پشت پر سواروں کو دوڑادے کہ وہ نافرمان مخالف خود سر ظالم ہیں۔ میری دل کی یہ بات نہیں ہے کہ مرنے کے بعد اُن کو کوئی ایذا پہنچے گی لیکن میں انہیں قتل کرتا تو اُن کے ساتھ یہی سلوک کرتا۔ اگر تو اُن کے بارے میں ہمارے حکم کو جاری کرے گا تو تجھے کو وہ عوض ملے گا جو ایک فرمانبردار اطاعت گزار کوملنا چاہئے اور اگر تجھے یہ منظور نہیں ہے تو ہماری خدمت سے اور ہمارے لشکر سے علیحدہ ہو جا۔لشکر کا سپہ سالار شمر بن ذی جوشن کو بنادے۔ ہم نے اُسے اپنے احکام بتا دیے ہیں۔ والسلام


عبید اللہ بن زیاد کی امان لینے سے انکار


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے جنگ کرنے کا حکم عبید اللہ بن زیاد نے دے دیا اور وہ خط شمر بن جوشن کو دیا اور حکم دیا کہ عمر بن سعد کو لے جا کر دو اور اگر وہ حکم نہیں مانے تو اُسے قتل کرو اور تم سپہ سالار ہو گے۔ اُس کے بھانجے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ اُن کے قافلے میں تھے ۔ اُن کے لئے اُس نے عبید اللہ بن زیاد سے امان مانگی جو اُس نے لکھ کر دے دی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: شمر بن ذی جوشن کو جب عبید اللہ بن زیاد نے یہ خط دیا تو اُس کے ساتھ جانے کے لئے عبداللہ بن ابی محل بن حزام بھی تیار ہو گیا۔ اُس کی پھوپھی ام البنین بنت حزام رضی اللہ عنہا، خلیفہ چہارم حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی زوجہ تھیں اور اُن سے حضرت عباس، حضرت عبداللہ ، حضرت جعفر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم پیدا ہوئے۔ عبداللہ بن ابی محل بن حزام نے کہا: اللہ ہمارے امیر ( گورنر، حاکم ) کا بھلا کرے! ہماری بہن کے بیٹے (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) کے ساتھ ہیں۔ اگر مناسب سمجھو تو اُن کے لئے امان لکھ دو ۔ عبید اللہ بن زیاد نے کہا: ” بسر و چشم ۔ اور اُس نے امان کا فرمان لکھ دیا۔ عبداللہ بن ابی محمل نے اپنے آزاد غلام کرمان کو امان نامہ دے کر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلے میں بھیجا۔ اُس نے وہاں جا کر اُن کو بلایا اور کہا: ”تمہارے ماموں نے تمہارے لئے عبید اللہ بن زیاد سے امان لے لی ہے ۔ اور امان نامہ دکھایا۔ اُن جوانوں رضی اللہ عنہم نے فرمایا: ” ہمارے ماموں کو جا کر سلام کہنا اور کہ دینا کہ تم لوگوں کی امان ہمیں نہیں چاہیئے ۔ شمیہ کے بیٹے کے بیٹے (عبید اللہ بن زیاد کا باپ زیاد کے باپ کا نام نہیں معلوم تھا اور لوگ اُسے اُس کی ماں سمیہ کے نام پر ابن سمیہ کہتے تھے ) کی امان سے بہت بہتر اللہ تعالیٰ کی امان ہے


عمر بن سعد کا حملہ کرنے کا حکم کی


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں عبید اللہ بن زیاد کا حکم اور خط لیکر شمر بن ذی جوشن کر بلا آیا اور عمر بن سعد کو خط دیا اور اپنے گورنر کا حکم سنایا۔ علامہ حمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : شمر بن ذی جوشن جب عبید اللہ بن زیاد کو خط لیکر عمر بن سعد کے پاس آیا اور اس نے خط پڑھا تو شمر بن ذی جوشن سے کہا: 'وائے ہو تجھ پر تو نے یہ کیا حرکت کی ؟ اللہ تیرے ہمسایہ ( پڑوس) سے بچائے۔ اللہ تجھے غارت کرے، تو یہ کیا میرے پاس لیکر آیا ہے؟ اللہ کی قسم! میرا یہی گمان ہے کہ تو نے ہی عبید اللہ بن زیاد کو رائے دی ہے کہ میری تحریر کو نہیں مانے ۔ جس معاملہ میں اصلاح کی ہم کو امید تھی تو نے اُسے بگاڑ دیا ہے۔ اللہ کی قسم ! (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ) گردن جھکانے والے شخص نہیں ہیں۔ اُن کے پہلو میں وہ دل ہے جو برداشت نہیں کر سکتا ۔ شمر بن ذی جوشن نے کہا: تو یہ بتاتیرا کیا ارادہ ہے؟ اپنے امیر (گورنر) کے حکم پر چلے گا اور اس کے دشمن کو قتل کرے گا؟ یا پھر لشکر کی قیادت مجھے دے گا؟ عمر بن سعد نے کہا: نہیں ! تجھے لشکر کی قیادت نہیں ملے گی۔ میں یہ کام خود کروں گا۔ شمر بن ذی جوشن نے کہا: " ٹھیک ہے ! پھر تم ہی کرو۔“ اس کے بعد عمر بن سعد اپنے لشکر کولیکر آگے بڑھا اور صف آرا کیا۔ یہ نو (۹) محرم الحرام پنجشنبہ کا دن تھا اور شام کا وقت تھا شمر بن ذی جوشن آگے بڑھا اور بلند آواز سے پکارا : ”ہم لوگوں کی بہن کے بیٹے کہاں ہیں؟ یہ سن کر حضرات عباس جعفر، عثمان اور عبد اللہ رضی اللہ عنہم آگے بڑھے اور فرمایا: " تجھے ہم سے کیا کام ہے اور تو کیا کہ رہا ہے؟ اس نے کہا: ”اے میری بہن کے بیٹو! تمہارے لئے امان ہے ۔ اُن سب جوانوں رضی اللہ عنہم نے فرمایا : اللہ کی تجھ پر لعنت ہو اور تیری امان پر بھی لعنت ہو، تو جو ہمارا ماموں ہے ( عرب میں نھیال کے تمام قبیلے والوں کو ماموں“ کہا جاتا ہے ) تو ہم کو امان دیتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کو امان نہیں دیتا ہے ۔ عمر بن سعد نے یہ سن کر بلند آواز سے پکارا : ”اے سپاہیو! اللہ کے سوار و! گھوڑوں پر چڑھو اور خوش رہو۔ نماز عصر کے بعد اُس نے اپنے لشکر کے ساتھ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے قافلے پر حملہ کر دیا۔


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلے پر حملہ کرنے کا حکم عمر بن سعد نے دے دیا اور اُس کے لشکر نے چڑھائی کر دی ۔ اُس وقت حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اپنے خیمے کے سامنے تشریف فرما تھے ۔ عمر بن سعد کے لشکر کے گھوڑوں کے دوڑنے کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی یہاں تک کہ خیموں میں موجود پردہ نشین خواتین نے بھی یہ آواز سنی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: نماز عصر کے بعد عمر بن سعد نے اپنے لشکر کے ساتھ اُن لوگوں پر چڑھائی کر دی ۔ اُسوقت حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اپنے خیمہ کے سامنے اس حالت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ دونوں گھٹنوں بلند تھے اور تلوار پر ٹکے ہوئے تھے اور گھٹنوں پر سر رکھا ہوا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ کی بہن سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا نے شور کی آواز سنی تو بھائی کے پاس آئیں اور فرمایا: ” بھائی ! آپ رضی اللہ عنہ نے سنا ! لوگوں کی آوازیں قریب آرہی ہیں ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے زانو سے سر اٹھایا اور فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا کہ مجھ سے فرما رہے ہیں تم ہمارے پاس آجاؤ گے ۔‘ بین کر بہن نے کہا: ”وائے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بہن! تم پر وائے نہیں ہے (دشمنوں پر وائے ہے ) بہن !اللہ تم پر اپناحم فرمائے چپ رہو ۔ “ ( اور یہ بات کسی کو ابھی نہیں بتانا )


حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ کی گفتگو


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اپنے خیمے کے سامنے بیٹھے عمر بن سعد کے لشکر کو آتا اور صف بندی کرتے ہوئے دیکھ رہے تھے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے بھائی حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ”بھائی! وہ لوگ آپڑے ہیں ۔ یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ اُٹھ کھڑے ہوئے۔ حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ”بھائی ! میں آپ رضی اللہ عنہ پر فدا ہو جاؤں ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بھائی ! گھوڑے پر سوار ہو اور اُن لوگوں سے جا کر ملو اور پوچھو کہ اُن کا ارادہ کیا ہے اور ادھر آنے کا کیا سبب ہے؟ حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ میں سواروں کو ساتھ لیکر جن میں حضرت زہیر بن قین اور حضرت حبیب بن مظاہر رضی اللہ عنہم بھی تھے اُن لوگوں کے پاس آئے اور پوچھا: ” تمہارا کیا ارادہ ہے اور تمہارے جی میں کیا آئی ہے؟ ان لوگوں نے کہا: ”امیر ( گورنر عبداللہ بن زیاد ) کا یہ حکم آیا ہے کہ تم لوگوں سے کہہ دیں کہ اُس کے حکم پر سر جھکا دو نہیں تو ہم تم سے لڑیں گے ۔ حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ذرا ٹھہرو! میں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے پوچھ کر آتا ہوں اور وہ جو کچھ تم کہ رہے ہو اُن سے عرض کر دوں ۔ یہ لوگ ٹھہر گئے اور بولے : ”جاؤ! اُن کو خبر کردو اور آکر بیان کرو کہ وہ کیا کہتے ہیں؟ حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ گھوڑا دوڑا کر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس چلے گئے اور اُن کے ساتھی وہیں ٹھہرے رہے۔


حضرت زہیر بن قین اور حضرت حبیب بن مظاہر کی حق گوئی


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس اُن کے بھائی حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ جواب لینے کے لئے گئے ۔ اسی دوران اُن کے ساتھی و ہیں عمر بن سعد کے لشکر کے پاس ٹھہرے رہے اور گفتگو کرتے رہے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت حبیب بن مظاہر رضی اللہ عنہ نے حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ سے کہا: ”چا ہو تو تم ان سے گفتگو کر دیا پھر میں کچھ کہوں؟ حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تمہیں نے یہ ذکر نکالا ہے تو تمہیں گفتگو کرو ۔ حضرت حبیب بن مظاہر رضی اللہ عنہ نے لشکریوں نے مخاطب ہو کر کہا: ” ستوکل کے دن جو لوگ آئیں گے اللہ کی قسم اوہی بہت برے لوگ ٹھہریں گے۔ جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذریت (آل ) کو، اُن کی عزت کو، اُن کے اہل بیت کو اُن کے شہر کے عابدوں کو شہید کریں گے ۔ جن کی صبح عبادت میں گذرتی ہے، جن کی زبان پر اللہ کا ذکر جاری رہتا ہے ۔ یہ سن کر عزرہ بن قیس بولا : " تم سے جہاں تک ہو سکے اپنے نفس کو پاک رکھو۔ حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ نے کہا: ” اے عزرہ ! اللہ تعالیٰ نے اُن کے نفس کو پاک کیا ہے اور انہیں ہدایت عطا فرمائی ہے۔ اے عزرہ ! اللہ سے ڈرا میں تیری خیر خواہی کا کلمہ کہتا ہوں ۔ اے عزرہ ! اللہ کے واسطے ان نفوس قدسیہ کو شہید کرنے میں ان لوگوں کے ساتھ شریک نہ ہو جو ضلالت کے بانی ہیں ۔ عزرہ بن قیس نے کہا: اے زہیر ! ان لوگوں کے حامیوں میں ہم تجھے نہیں جانتے تھے بلکہ تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ والوں میں سے تھا۔ حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: " مجھے اس مقام پر دیکھ کر بھی کیا تو نہیں سمجھ رہا ہے کہ میں انہیں لوگوں میں سے ہوں ۔ سُن ! اللہ کی قسم! میں نے کبھی کوئی خط ان کو نہیں لکھا ہے اور نہ ہی کبھی کوئی قاصد ان کے پاس بھیجا نہ بھی ان سے نصرت کا وعدہ کیا ۔ ہوا یہ کہ راستے میں اِن سے ملاقات ہو گئی۔ ان کو دیکھ کر مجھ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یاد آ گئے اور ان کا جو مرتبہ اُن کے رشتہ سے ہے اُس کا خیال آگیا اور میں سمجھ گیا کہ یہ کن دشمنوں میں اور تمہارے جرگہ کے لوگوں میں جارہے ہیں۔ بس میری یہ رائے ہوئی کہ ان کی نصرت کروں اور ان کے جرگہ میں شامل ہو جاؤں۔ اپنی جان اِن کی جان پر فدا کر دوں تا کہ اللہ کے جس حق کو اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے جس حق کو تم نے ضائع کر دیا ہے اُن کی حفاظت کروں۔


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!


D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں