12 سلطنتِ امیہ
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 12
حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی شہادت، حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کا سر یزید کے پاس، یزید کا حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں حکم، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی کوفہ جانے کی تیاری، حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا مشورہ، حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی رائے، یمن جانے کا مشورہ، میں وہ مینڈھا نہیں بننا چاہتا ہے، شہادت میرا مقدر ہے، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی کوفہ کی طرف روانگی، اے شہید! اللہ کے سپرد کرتا ہوں، استقامت کی راہ، جو واپس جانا چا ہے چلا جائے، دل آپ کے ساتھ ہے اور تلوار میں بنوامیہ کے ساتھ ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم
حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی شہادت
حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک رشتہ دار عمر بن سعد کو جو ایک جلیل القدر صحابی رضی اللہ عنہ کا بیٹا تھا لیکن دنیا میں مبتلا ہوکر اپنی آخرت خراب کر رہا تھا اُسے اکیلے میں وصیت کی لیکن اُس بد بخت نے تمام بات عبید اللہ بن زیاد کو بتادی۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں ب عمر بن سعد نے یہ باتیں عبید اللہ بن زیاد کو بتا دیں۔ اُس نے کہا: " تم امین ہو اس میں خیانت نہ کرو ۔ مال کی بابت تم کو اختیار ہے جو چاہو کرو ۔ (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ) کے بارے میں یہ کہتا ہوں کہ اگر وہ میری طرف آنے کا ارادہ نہیں کریں گے تو میں بھی اُن کا قصد نہیں کروں گا۔ باقی رہا ان کی لاش کا تو اس کے بارے میں تمہاری سفارش نہیں سنوں گا۔ اس کے بعد عبید اللہ بن زیاد نے حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ سے مخاطب ہو کر کہا: ” کیوں (حضرت) مسلم بن عقیل (رضی اللہ عنہ ) ! تم نے کوفہ میں آکر گروہ بندی کی ، لوگوں کو ہماری مخالفت پر جمع کیا اور اُن میں نفاق ڈالنے کی کوشش کی ۔ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ایسا ہر گز نہیں ہوا ہے۔ البتہ یہاں کے باشندوں نے خیال کیا تھا کہ تمہارے باپ ( زیادہ بن شمیہ یا ابی سفیان) نے اُن کے اچھوں کو مار ڈالا ہے خون ریزی کی ہے اور اُن کے ساتھ قیصر و کسری کے سے برتاؤ کئے ہیں ۔ ہم اُن کے بلانے سے اُن کے پاس اس غرض سے آئے تھے کہ ان میں عدل و انصاف کریں اور کتاب وسنت پر عمل کرنے کی ہدایت کریں۔ عبید اللہ بن زیاد نے کہا: ” تو ! اور یہ کام؟ کیا ان میں عدل و انصاف نہیں کیا گیا ہے؟ اور جو تو مدینہ میں شراب پیتا تھا اب انصاف کرنے آیا ہے؟ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں شراب پیتا تھا؟ اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ یہ خوب جانتا ہے کہ تو جھوٹا ہے ۔ میں ایسا نہیں ہوں جیسا تو کہہ رہا ہے میرے بجائے شراب پینے کا وہ مستحق ہے جو مسلمانوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگتا ہے اور اللہ کے بندوں کو غضب وعداوت سے قتل کرتا ہے ۔ اس کو اُس نے لہو لعب سمجھ لیا ہے ۔ عبید اللہ بن زیاد نے کہا: ”مجھے اللہ مارے اگر میں تجھے اس طرح قتل نہ کروں کہ آج تک ۔ اسلام میں اس طرح کوئی قتل نہیں کیا گیا ہو ۔ “ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” بے شک یہ لیاقت تجھ میں ہی ہے کہ اسلام میں بدعات اور بد خلقی اور خباثت کا موجد ہو۔ عبید اللہ بن زیاد یہ سن کو جھلا اُٹھا اور اُن کو اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہم کو سخت سست کہنے لگا۔ اس کے بعد اُس نے حکم دیا کہ محل کے اوپر لے جا کر حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کا سر اڑا دیا جائے اور اُن کی لاش بے گور و کفن پھینک دی جائے۔ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر تو نے مجھے امان نہیں دی ہوتی تو میں اس کے ہاتھ بالکل نہیں آتا ، اب تو تلوار اٹھا تو بری الذمہ ہو گیا ہے ۔ محمد بن اشعث نے کوئی جواب نہیں دیا۔ سپاہی آپ رضی اللہ عنہ کوحل کے اوپر لے گئے ۔ آپ رضی اللہ عنہ استغفار پڑھتے ہوئے اور تسبیح کرتے ہوئے گئے ۔ مقام حدا ئین“ کے مقابل شہید کئے گئے ۔ شہید کرنے والا بکیر بن حمران تھا جس نے آپ رضی اللہ عنہ پر تلوار چلائی اور سر کے ساتھ لاش کو بھی نیچے پھینک دیا۔ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی شہادت کو نہ پہنچنے کے آٹھ یا نو دن بعد 60 ہجری میں ہوئی۔
حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کا سر یزید کے پاس
حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کوشہید کرنے کے بعد عبید اللہ بن زیاد نے ہانی بن عروہ کو بھی قتل کر دیا اور دونوں کا سر یزید کے پاس بھیجا علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اب حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ اور ہانی بن عروہ کے سروں کو عبید اللہ بن زیاد نے ہانی بن ابی حیہ اور زبیر بن اروح کے ساتھ یزید کے پاس بھیج دیا اور ساتھ ہی ایک خط بھی بھیجا جس میں لکھا تھا: "الحمد للہ! اللہ نے امیر المومنین کے حق کو محفوظ رکھا اور دشمن کی فکر سے بچالیا۔ میں امیر المومنین یزید کو خبر دیتا ہوں کہ (حضرت) مسلم بن عقیل (رضی اللہ عنہ ) نے ہانی بن عروہ کے گھر پناہ لی تھی ۔ میں نے اُن دونوں پر جاسوس مقرر کئے ۔ کچھ لوگ فریب سے اُن کے پاس بھیجے اور اُن سے مکر و فریب کر کے آخر دونوں کو باہر نکالا اور اللہ کے فضل سے دونوں میرے قابو میں آگئے۔ میں نے دونوں کی گردن ماردی اور اُن کے سرہانی بن ابی حیہ اور زبیر بن اروح کے ساتھ بھیج رہا ہوں ۔ یہ دونوں شخص تابع و فرمانبردار ہیں۔ امیر المومنین جس بات کو بھی چاہیں ان دونوں سے دریافت کر سکتے ہیں دونوں واقف کار، راست گو، صاحب فہم اور پر ہیز گار ہیں۔ والسلام
یزید کا حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں حکم
حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کا سر دیکھ کر یزید بہت ہی خوش ہوا اور پھر اس نے عبید اللہ بن زیاد کو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں حکم دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : یزید نے جواب میں لکھا: ” میں جو چاہتا تھا وہی تو نے کیا۔ تُو نے عاقلانہ کام اور دلیرانہ حملہ کیا اور مجھے مطمئن اور بے فکر کر دیا۔ میں تجھے جیسا سمجھتا تھا اور تیری نسبت میری جو رائے تھی تو نے اپنے آپ کو بالکل ویسا ہی ثابت کیا ۔ دونوں قاصدوں کو میں نے بلا کر ان سے کچھ پوچھا اور کچھ راز کی با تیں کیں ۔ جیسا تو نے اُن کے فضل و فہم کے بارے میں لکھا ہے ویسا ہی اُن کو پایا۔ مجھے خبر ملی ہے کہ (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) عراق کی طرف آرہے ہیں۔ نگران مورچے تیار رکھ ۔ جس سے بدگمانی ہوا سے حراست میں لے اور جس پر شک ہو اُسے گرفتار کر لے۔ ہاں جو تجھ سے جنگ نہ کرے اُسے قتل نہیں کرنا اور جو جو واقعہ پیش آئے اُس کا حال مجھے لکھتا رہ۔ والسلام
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی کوفہ جانے کی تیاری
حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا تھا کہ کوفہ کے لوگ آپ رضی اللہ عنہ کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں اور آپ رضی اللہ عنہ جلدی سے یہاں آ جائیے۔ جس وقت حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کا خط حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو ملا اُس وقت تک حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے ساتھ کو فیوں یعنی اہل کوفہ نے بد عہدی کر دی تھی اور آپ رضی اللہ عنہ شہید کئے جاچکے تھے ۔ اُدھر کوفہ میں یہ ہو رہا تھا اور ادھر مکہ مکرمہ میں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو فہ جانے کی تیاری کر رہے تھے۔ بہت سارے لوگ آپ رضی اللہ نہ کو کوفہ نہیں جانے کا مشورہ دے رہے تھے اور بتارہے تھے کہ اہل کوفہ نے آپ رضی اللہ عنہ کے والد محترم اور بڑے بھائی کو دھوکا دیا ہے اور وہ آپ رضی اللہ عنہ کو بھی دھوکا دیں گے۔ اس کے باوجود حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو فہ جانے کی تیاری کر رہے تھے کیونکہ آپ رضی اللہ عنہ جانتے تھے کہ بچپن میں نا ناجان صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے بارے میں جو پیشگوئی کی تھی وہ اب پوری ہونے والی ہے۔ میرے والد محترم اور بڑے بھائی تو شہید ہو چکے ہیں اب میری شہید ہونے کی باری ہے۔ بس اللہ سے یہی دعا ہے کہ وہ مجھے استقامت پر قائم رکھے اور نانا جان صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشنگوئی پوری ہو۔
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا مشورہ
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو بہت لوگ سمجھا رہے تھے پھر بھی آپ رضی اللہ عنہ اپنے اہل وعیال اور خاندان کے ساتھ کوفہ جانے کی تیاری کر رہے تھے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ جو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے والد محترم حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے چچازاد بھائی ہیں اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے چاہیں انہوں بھی سمجھایا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ”حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی روانگی کا ذکر سنا تو اُن کے پاس آئے اور فرمایا: "لوگوں میں یہ چر چاہے کہ آپ رضی اللہ عنہ ملک عراق کی طرف روانہ ہونے والے ہیں؟ مجھ سے بیان کیجیئے کہ آپ رضی اللہ عنہ کیا قصد رکھتے ہیں؟ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: انشاء اللہ دو دنوں کے اندر ہی روانہ ہو جاؤں گا۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں آپ رضی اللہ عنہ کواللہ کا واسطہ دیتا ہوں ایسا نہ کریں۔ اللہ آپ رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے! مجھے یہ تو بتائیے کیا انہوں نے اپنے حاکم کو قتل کر ڈالا اپنے شہروں کا انتظام کر چکے ہیں اور اپنے دشمن کو وہاں سے نکال چکے ہیں؟ اگر یہ سب پہلے ہی وہ کر چکے ہیں تو بے شک آپ رضی اللہ عنہ جائیے ۔ لیکن اگر بات یہ ہے کہ انہوں نے فقط آپ رضی اللہ عنہ کو بلایا ہے اور اُن کا حاکم اُسی طرح اُن پر مسلط ہے اور اُس کے عہدے دار اُسی طرح شہروں سے خراج وصول کر رہے ہیں تو یہ لوگ آپ رضی اللہ عنہ کو جنگ و جدال کے لئے بلا رہے ہیں۔ مجھے یہ اندیشہ ہو رہا ہے کہ یہ لوگ آپ رضی اللہ عنہ کو دھوکا دیں گے ، آپ رضی اللہ عنہ کو جھٹلائیں گے، آپ رضی اللہ عنہ کی مخالفت کریں گے ، آپ رضی اللہ عنہ کا ساتھ چھوڑ دیں گے اور اگر آپ رضی اللہ عنہ پر حملہ کریں گے تو اُن کا حملہ سب سے سخت تر ہوگا۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں اللہ سے خیر کا طالب ہوں اور دیکھو کیا ہوتا ہے ۔“
حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی رائے
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اپنی سمجھ کے مطابق سمجھا کر چلے گئے تو حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ملنے کے لئے آئے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ وہاں سے اُٹھ کر چلے گئے تو حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ آئے اور کچھ دیر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے باتیں کیں پھر فرمایا : ” میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اس قوم کو ہم کیوں چھوڑ دیں کیوں ان سے باز رہیں ۔ ہم تو مہاجرین کی اولاد ہیں اور اُن سے بڑھ کر ریاست کے حقدار ہیں۔ یہ تو بتائیے آپ رضی اللہ عنہ کا کیا ارادہ ہے؟ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میرا دل تو یہی کہتا ہے کہ کوفہ چلا جاؤں ۔ وہاں کے اشراف اور میرے حامیوں نے مجھے خط لکھے ہیں اور میں اللہ سے خیر کا خواستگار ہوں یہ سن کر حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”آپ رضی اللہ عنہ کے حامیوں کی طرح اگر میرے لوگ وہاں ہوتے تو میں اس سے انحراف نہیں کرتا۔ یہ فرما کر حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو اندیشہ ہوا کہ کہیں مجھ سے بدگمان نہ ہوں تو فرمایا: "اگر آپ رضی اللہ عنہ حجاز میں ہی رہ کر ریاست کا ارادہ کریں تو کوئی بھی انشاء اللہ آپ رضی اللہ عنہ کی مخالفت نہیں کرے گا ۔ اس کے بعد حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اُٹھ کر چلے گئے۔
یمن جانے کا مشورہ
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو بے چینی ہو رہی تھی اسی لئے آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو ایک اور مشورہ دیا۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں: پھر اُسی دن شام کو یا دوسرے دن صبح حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ آئے اور فرمایا: "برادر! میں چاہتا ہوں کہ صبر کروں مگر مجھے صبر نہیں آرہا ہے اور اس راستے میں مجھے آپ رضی اللہ عنہ کے ہلاک اور تباہ ہونے کا اندیشہ ہے۔ اہل عراق دعا کرنے والے لوگ ہیں ہرگز اُن کے پاس نہ جائے بلکہ اسی شہر میں قیام کریں ۔ آپ رضی اللہ عنہ اہل حجاز کے سردار ہیں اگر اہل عراق آپ رضی اللہ عنہ کو بلاتے ہیں تو انہیں لکھ کر حکم دیں کہ وہ اپنے دشمن سے پیچھا چھڑا لیں پھر اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ جائیں۔ اگر آپ رضی اللہ عنہ اس بات کو نہیں مانتے اور یہاں سے نکل جانا ہی منظور ہے تو ملک یمن چلے جائیں ۔ وہاں قلعے ہیں، درہ کوہ ہیں ، ایک طویل و عریض ملک ہے اور آپ رضی اللہ عنہ کے حامی بھی وہاں موجود ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ سب سے الگ رہ کر لوگوں سے خط و کتابت کریں ، اپنے قاصدوں کو بھیجیں۔ اس طریقہ سے امید ہے کہ جو بات آپ رضی اللہ عنہ چاہتے ہیں وہ امن و عافیت سے حاصل ہو جائے گی ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” برادر! اللہ کی قسم! میں جانتا ہوں کہ تم خیر خواہ اور شفیق ہو لیکن میں روانگی کا معم ارادہ کر چکا ہوں ۔ “ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "اگر آپ رضی اللہ عنہ جاناہی چاہتے ہیں تو عورتوں اور بچوں کو ساتھ نہ لیکر جائیں۔ اللہ کی قسم ! مجھے ڈر ہے کہ کہیں خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی طرح آپ رضی اللہ عنہ کو بھی عورتوں اور بچوں کے سامنے شہید نہ کیا جائے ۔“
میں وہ مینڈھا نہیں بننا چاہتا ہے
حضرت حسین بن علی کو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روکنے کی بھر پور کوشش کر رہے تھے اور اُن کے ساتھ اس کوشش میں حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی ملاقات حجر اسود اور خانہ کعبہ کے درمیان ہوئی تو حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” اگر آپ رضی اللہ عنہ یہاں رہنا چاہتے ہیں تو رہئے اور حکومت کو اپنے ہاتھ میں لے لیجیئے ۔ ہم آپ رضی اللہ عنہ سے بیعت کریں گے اور معین اور شریک اور مطیع رہیں گے ۔“ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں نے اپنے والد محترم سے حدیث سنی ہے کہ ایک مینڈھا مکہ مکرمہ کی حرمت کو حلال کر دے گا۔ میں وہ مینڈھا نہیں بنا چاہتا ۔ یہ سن کر حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اچھا آپ رضی اللہ عنہ یہیں رہئے اور حکومت میرے حوالے کر دیجیئے ، آپ رضی اللہ عنہ کی اطاعت کی جائے گی اور کوئی بات آپ رضی اللہ عنہ کے خلاف نہیں ہونے پائے گی ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” مجھے یہ بھی منظور نہیں ہے۔ پھر دونوں حضرات رضی اللہ عنہم چپکے چپکے ظہر کے وقت تک باتیں کرتے رہے پھر ظہر کی نماز پڑھ کر لوگ منی کی طرف چلے گئے اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے خانہ کعبہ کا طواف کیا۔ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی اور بال منڈوائے اور عمرہ سے فارغ ہو کر کوفہ کی طرف روانہ ہو گئے۔
شہادت میرا مقدر ہے
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ جانتے تھے کہ اب میرے نانا جان صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشنگوئی پوری ہونے اور میرے شہید ہونے کا وقت قریب آ گیا ہے اور میں چاہے کہیں بھی رہوں میرے نانا جان کی اُمت کے چند گمراہ لوگ مجھے شہید کر دیں گے ۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں : بعض لوگوں کا بیان ہے کہ انہوں نے مکہ مکرمہ میں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو کھڑے دیکھا۔ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے سیدہ فاطمہ زہرہ کے بیٹے رضی اللہ عنہ ! میری بات سنیئے “ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اُن کی طرف متوجہ ہوئے اور دونوں نے چپکے چپکے باتیں کیں پھر ہم لوگوں کی طرف مڑ کر فرمایا: " تم سمجھے ! حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کیا کہہ رہے ہیں؟ ہم لوگوں نے عرض کیا ”ہم سب آپ رضی اللہ عنہ پر فدا ہو جائیں !اہم کچھ نہیں سمجھے ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” یہ کہتے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ مسجد الحرام میں رہئے اور میں آپ رضی اللہ عنہ کی نصرت (مدد) کے لئے لوگوں کو جمع کرلوں گا ۔“ اس کے بعد حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے آگے فرمایا: ” اگر ایک بالشت بھر اس مسجد کے باہر قتل کیا جاؤں تو اللہ کی قسم ! میں اسے اس بات سے بہتر سمجھتا ہوں کہ ایک بالشت بھر مسجد کے اندر قتل کیا جاؤں ۔ ( مطلب یہ کہ میں مسجد یعنی حرم شریف یعنی مکہ مکرمہ کے اندر بھی رہوں گا تو مجھے شہید کر دیا جائے گا اور یہ مجھے پسند نہیں ہے اس لئے میں مکہ مکرمہ کے باہر جارہا ہوں) اللہ کی قسم ! اگر میں حشرات الارض ( کیڑے مکوڑوں) کے کسی سوراخ میں بھی چھپوں گا تو لوگ مجھے وہاں سے بھی نکالیں گے اور جو سلوک میرے ساتھ کرنا چاہتے ہیں وہ ضرور کریں گے اور اللہ کی قسم! مجھ پر وہ لوگ ایسا ظلم کریں گے جیسا یہود نے سبت کے روز کیا تھا۔“
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی کوفہ کی طرف روانگی
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو کوئی علم نہیں تھا کہ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو کوفہ والوں نے دھوکہ دے دیا ہے اور آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کیا جاچکا ہے۔ اس کے برعکس آپ رضی اللہ عنہ کوفہ کے سفر کی تیاریاں مکمل کر کے اپنے اہل وعیال اور خاندان کو لیکر کوفہ کی طرف روانہ ہو گئے ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : جب اہل عراق کی طرف سے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو مسلسل اور متواتر خطوط آنے لگے اور اُن کے اور آپ رضی اللہ عنہ کے درمیان بار بار ایلچی آنے لگے تو حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کا خط بھی آیا کہ آپ رضی اللہ عنہ اپنے اہل وعیال اور خاندان کے ساتھ کوفہ آجائیں۔ اسی دوران میں حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کا وقوعہ ہو گیا اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو اس کا کچھ علم نہیں تھا بلکہ آپ رضی اللہ عنہ کوفہ کی طرف روانہ ہونے اور اُن کے پاس پہنچنے کا پختہ ارادہ کر چکے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کی مکہ مکرمہ سے روانگی سے ایک روز پہلے حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا۔ جب آپ رضی اللہ عنہ کی کوفہ روانگی کا لوگوں کو علم ہوا تو وہ آپ رضی اللہ عنہ پر رحم کھانے لگے اور کوفہ جانے سے روکنے لگے لیکن آپ رضی اللہ عنہ کوفہ روانہ ہو گئے ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: یزید کی طرف سے عمرو بن سعید بن عاص حجاز کا گورنر تھا۔ اُس کے آدمیوں نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور اُن کے اہل وعیال اور خاندان کو کوفہ روانہ ہونے سے روکا۔ بحث و تکرار ہوئی اور لڑائی کی نوبت بھی آئی لیکن آپ رضی اللہ عنہ نہیں رکے اور آگے بڑھتے ہی رہے۔
اے شہید! اللہ کے سپرد کرتا ہوں
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ سے کوفہ کی طرف اپنے اہل بیت اور خاندان کو لے کر روانہ ہو گئے ۔ جب آپ رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ سے باہر آ کر کچھ دور پہنچے تھے تو حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ وہاں تیزی سے پہنچے اور آپ رضی اللہ عنہ کو روکنے کی کوشش کرنے لگے۔ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عبد اللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں تھے جب آپ رضی اللہ عنہ کو اطلاع ملی کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کوفہ کی طرف روانہ ہو گئے ہیں تو آپ رضی اللہ عنہ تیزی سے سفر کر کے تین دن کی مسافت پر اُن سے جا کر ملے اور فرمایا: ” اے آل رسول رضی اللہ عنہ ! آپ رضی اللہ عنہ کہاں جانا چاہتے ہیں؟ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” ملک عراق جا رہا ہوں اور یہ اُن کے خطوط اور بیعت ہے۔ اتنا فرما کر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو فہ سے آئے خطوط بتائے ۔ حضرت عبد اللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” اے آل رسول رضی اللہ عنہ! میں آپ رضی اللہ عنہ کو ایک حدیث بتاتا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جبرئیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور عرض کیا: اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا اور آخرت کے درمیان اختیار دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخرت کو اختیار کر لیا اور دنیا کونہیں چاہا اور آپ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم کا ٹکڑا ہیں۔ اللہ کی قسم ! آپ میں سے کوئی بھی ایک شخص بھی کبھی دنیا کا حکمراں نہیں ہوگا اور اللہ تعالیٰ نے آپ رضی اللہ عنہ کو اس سے ہٹا کر اُس چیز کی طرف پھیر دیا ہے جو آپ رضی اللہ عنہ کے لئے بہتر ہے۔ (حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ جانتے تھے کہ وہاں جا کر شہید کر دیئے جائیں گے اور اللہ تعالٰی کا ارادہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشن گوئی پورے ہوں گے ) حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے واپس مکہ مکرمہ آنے سے انکار کر دیا۔ حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو گلے سے لگا لیا اور رونے لگے اور روتے روتے فرمایا : ”اے شہید رضی اللہ عنہ! میں آپ رضی اللہ عنہ کواللہ کے سپر د کرتا ہوں۔“
استقامت کی راہ
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے استقامت کی راہ اپنائی ۔ اُس وقت ایک رخصت کی راہ تھی کہ نہ تو مخالفت کی جائے اور نہ ہی حمایت کی جائے۔ دوسری ” استقامت کی راہ تھی کہ حق پر جم جائے۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ جانتے تھے کہ استقامت کی راہ پر جان جانے کا زیادہ اندیشہ ہے اس کے باوجود آپ رضی اللہ عنہ نے استقامت کی راہ کو اپنایا کیونکہ آپ رضی اللہ عنہ جانتے تھے کہ رخصت کی راہ اپنا کر دنیا ملے گی اور استقامت کی راہ اپنا کر آخرت ملے گی۔ اسی لئے آپ رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے نانا جان صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح آخرت کو ہی چنا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت مسیب بن عقبہ فزاری اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ رضی اللہ عنہ کو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو معزول کرنے کی دعوت دی اور عرض کیا : ”ہمیں آپ رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے بھائی کی رائے کا علم ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے بھائی رضی اللہ عنہ کو جنگ سے رکنے کو پسند کرنے کی وجہ سے اُن کی نیت کے مطابق اجر دے گا اور مجھے ظالمین کے ساتھ جہاد کو پسند کرنے کی وجہ سے میری نیت کے مطابق مجھے اجر دے گا۔
جو واپس جانا چا ہے چلا جائے
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ اُن کے اہل وعیال اور اونٹوں کو چلانے والے اور خدام بھی ساتھ تھے جب مقام تنعیم پر پہنچے تو سب کو اجازت دے دی کہ جو چاہے ساتھ چل سکتا ہے اور جو چاہے واپس جا سکتا ہے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ جب مقام تنعیم پر پہنچے تو ایک قافلہ ملا جو ملک یمن سے آرہا تھا۔ یمن کے گورنر بحیر بن ریان نے یزید کے پاس اہل قافلہ کے ہاتھ درس اور ریشمی قمیص روانہ کئے تھے ( درس زعفران سے مشابہ ایک خوشبودار چیز ہے ) یہاں پر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اونٹ والوں سے کہا: ” میں کسی پر جبر نہیں کروں گا۔ تم میں سے جو کوئی میرے ساتھ ملک عراق چلے گا میں اسے وہاں تک کا کرایہ دوں گا اور اچھی طرح سے پیش آؤں گا اور جو کوئی یہیں سے واپس جانا چاہے گا اُسے یہیں تک کا کرایہ دوں گا اور وہ واپس جاسکتا ہے۔ اُن میں سے جو واپس جانے لگے تو انہیں پوری اجرت دی اور جو ساتھ چلے تو انہیں اجرت بھی دی اور لباس بھی دیا۔
دل آپ کے ساتھ ہے اور تلوار میں بنوامیہ کے ساتھ ہیں
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ مقام تنعیم سے آگے بڑھے تو مقام صفاح پر ملک عراق سے آنے والے ایک قافلے کے ساتھ فرزوق بن غالب ملا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: فرزوق بن غالب بیان کرتا ہے کہ میں اپنی والدہ محترمہ کے ساتھ حج کرنے کے لئے مکہ مکرمہ جا رہا تھا۔ یہ حج کے دن تھے اور 60 ہجری کا واقعہ ہے کہ میں جب حرم کے قریب پہنچے لگا تو دیکھا کہ مکہ مکرمہ سے ایک قافلہ آرہا ہے۔ میں نے دیکھا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ تلواریں اور ڈھالوں کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ میں آپ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور عرض کیا: ”اے آل رسول رضی اللہ عنہ ! میرے ماں باپ آپ رضی اللہ عنہ پر فدا ہو جائیں ایسی بھی کیا جلدی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ حج کو چھوڑ کر جارہے ہیں؟“ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں جلدی نہیں کرتا تو گرفتار کر لیا جاتا ۔ پھر مجھ سے دریافت فرمایا: ” تم کون شخص ہو؟ میں نے عرض کیا : ملک عراق سے آرہا ہوں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”جن لوگوں کے درمیان سے تم آرہے ہو اُن کا حال مجھ سے بیان کرو ۔ میں عرض کیا : ” لوگوں کے دل آپ کے ساتھ ہیں اور تلواریں بنوامیہ کے ساتھ ہیں اور حکم اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے ۔ یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” تم نے سچ کہا۔ اس کے بعد میں نے کچھ باتیں اعمال حج کے بارے میں دریافت کیں وہ سب آپ رضی اللہ عنہ نے بتادیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا مکہ مکرمہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہونے ایک سب سے بڑا سبب یہ ہوا کہ آپ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں حکم دیا تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہ ( حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے تین بیٹیوں کے نام علی اکبر علی اوسط اور علی اصغر ہیں۔ علی اکبر اور علی اصغر تو کربلا میں شہید ہو گئے تھے علی اوسط کا نام یا لقب زین العابدین ہے ) بیان کرتے ہیں: ” جب ہم لوگ مکہ مکرمہ سے نکلے تو حضرت عبد اللہ بن جعفر طیار رضی اللہ عنہ نے اپنے دو بیٹوں عون اور محمد کے ہاتھ ایک خط حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا جس میں لکھا تھا: ” میں آپ رضی اللہ عنہ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ میرا خط پڑھتے ہی واپس چلے آئیے۔ مجھے خوف ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ جہاں جا رہے ہیں وہاں آپ رضی اللہ عنہ اور اہل بیت ہلاک نہ ہو جائیں ۔ اگر آپ رضی اللہ عنہ ہلاک ہوئے تو دنیا میں اندھیرا ہو جائے گا۔ اہل ہدایت کے رہنما اور اہل ایمان کا سہارا آپ رضی اللہ عنہ کی ہی ذات ہے۔ روانگی میں جلدی نہ کریں اس خط کے پیچھے میں بھی آرہا ہوں ۔ والسلام - حضرت عبداللہ بن جعفر طیار رضی اللہ عنہ عمرو بن سعید کے پاس گئے اور اُس سے فرمایا: ” حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو ایک خط لکھو جس میں انہیں امان دینے کا اور اُن کے ساتھ نیکی اور احسان کرنے کا وعدہ ہو اور اُن کو لکھو کہ واپس چلے آئیں ۔ شاید اُن کو تمہارے خط سے اطمینان ہو جائے اور وہ اُس راہ سے پلٹ آئیں ۔ عمرو بن سعید بن عاص نے کہا: ” جو آپ رضی اللہ عنہ کا جی چاہے لکھ کر لے آئیں ، میں اُس پر مہر کر دوں گا۔ عبداللہ بن جعفر طیار رضی اللہ عنہ نے خط لکھ کر دیا اورفرمایا: اس پر مہر لگا کر اپنے بھائی یحییٰ بن سعید بن عاص کے ہاتھ سے روانہ کرو کیونکہ اس کے جانے سے اُن کو اطمینان ہو جائے گا اور وہ سمجھ جائیں گے کہ جو کچھ تم نے لکھا ہے دل سے لکھا ہے ۔ عمرو بن سعید بن عاص مکہ مکرمہ میں یزید کی طرف سے گورنر تھا اُس نے ایسا ہی کیا اور حضرت عبداللہ بن جعفر طیار رضی اللہ عنہ اور یحییٰ دونوں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے ۔ یحییٰ نے خط دیا اور دونوں شخصوں نے واپسی پر بہت اصرار کیا۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں نے میرے نانا جان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا ہے اور انہوں نے جو حکم مجھے دیا ہے میں اُسے پورا کرنے جارہا ہوں ۔ مجھے اس سے کوئی غرض نہیں ہے کہ میرا نفع ہوتا ہے یا نقصان ۔ دونوں نے پوچھا:” وہ خواب کیا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے اسے کسی سے بیان نہیں کیا اور نہ ہی کسی سے آگے بیان کروں گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرلوں گا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا اور آپ رضی اللہ عنہ کو اہل عراق کے متعلق انتباہ کیا اور اللہ کا واسطہ دیا کہ اُن کی طرف نہ جائیں ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو جواب میں لکھا: میں نے ایک خواب دیکھا ہے اور میں نے اپنے نانا جان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک حکم دیا ہے اور میں اُسے کر گزرنے والا ہوں اور میں اس خواب کے متعلق کسی کو نہیں بتاؤں گا یہاں تک کہ میں اپنے اللہ سے ملاقات کروں ۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!




