16 سلطنتِ امیہ
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 16
پانی بند کر دینے کا حکم، عبد اللہ بن ابی حسین کی گستاخی اور انجام، پانی کے لئے جد و جہد، حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور عمر بن سعد کی ملاقات، شمر بن ذی جوشن کی دشمنی، عبید اللہ بن زیاد کا جنگ کرنے کا حکم، عبید اللہ بن زیاد کی امان لینے سے انکار، عمر بن سعد کا حملہ کرنے کا حکم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت، حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ کی گفتگو، حضرت زہیر بن قین اور حضرت حبیب بن مظاہر کی حق گوئی،
پانی بند کر دینے کا حکم
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تمہارے شہر والوں نے مجھے بلا تھا۔ اب اگر انہیں میرا آنا گوار گذر رہا ہے تو میں واپس چلا جاتا ہوں۔ اس کے جواب میں عبید اللہ بن زیاد نے عمر بن سعد کو حکم دیا کہ یزید کی بیعت اُن سے لے لو۔ اس کے فوراً بعد دوسرا خط آیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: عمر بن سعد کو جب عبید اللہ بن زیاد کا یہ خط ملا تو وہ بولا : میں سمجھ گیا کہ عبید اللہ بن زیاد کو عافیت منظور نہیں ہے ۔“ اس کے بعد ایک اور خط عبید اللہ بن زیاد کا عمر بن سعد کو آیا۔ اُس میں یہ لکھا تھا: ”نہر کے اور (حضرت) حسین (رضی اللہ عنہ ) کے درمیان حائل ہو جاؤ۔ ایک بوند پانی بھی وہ لوگ نہیں پی سکیں ۔ جو سلوک تقی وز کی مظلوم امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا گیا تھا۔ اس خط کو پڑھ کر عمر بن سعد نے عمرو بن حجاج کو پانچ سو (500) سواروں کا سپہ سالار بنا کر روانہ کیا۔ یہ لوگ نہر پر جا کر ٹھہرے اور نہر اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلے کے درمیان حائل ہو گئے۔ تا کہ وہ بوند بھر پانی اس سے نہیں پینے پائیں۔ یہ سات (7) محرم الحرام 61 ہجری کا دن تھا۔
عبد اللہ بن ابی حسین کی گستاخی اور انجام
حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے قافلے والوں کو پانی لینے سے روک دیا گیا اور عمر بن سعد کے لشکر کے پانچ سوسپاہیوں نے نہر پر پہرہ لگا دیا تا کہ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کو پانی نہیں مل سکے۔ سات (۷) محرم الحرام اللہ ہجری کے دن ایک شخص عمر بن سعد کے لشکر سے نکل کر آیا اور آپ رضی اللہ عنہ سے گستاخی کی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں؛ یہ واقعہ آپ رضی اللہ عنہ کے شہید ہونے سے تین دن پہلے کا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے آکر عبد اللہ بن ابی حصین از دی جو بنوبجیلہ میں شمار ہوتا تھا۔ وہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پڑاؤ کے سامنے آیا اور پکارا: ”اے (حضرت) حسین! ( رضی اللہ عنہ ) ذرا پانی کی طرف دیکھو! کیسا اُس کا آسمانی رنگ بھلا معلوم ہوتا ہے۔ اللہ کی قسم ! تم پیا سے مرجاؤ گے۔ ایک قطرہ بھی تم کو نہیں ملے گا ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر فرمایا: اے اللہ! اس شخص کو پیاس کی ایذا دے کر قتل کر اور کبھی اس کی مغفرت نہ ہو۔“ اس کے بعد حمید بن مسلم اُس کی بیماری میں عیادت کو گیا تھا۔ اُس کا بیان ہے : "قسم ہے اُس اللہ وحدہ لاشریک کی ! میں اُسے ( عبداللہ بن حصین کو ) دیکھا کہ پانی پی رہا تھا اور پیاس پیاس کہتا جارہا تھا۔ پھر قے (اُلٹی) کر دیتا تھا، پھر پانی پیتا تھا پھر پیاسا ہو جاتا تھا۔ پیاس نہیں بجھتی تھی ۔ یہی حالت اُس کی مسلسل رہی آخر کار مر گیا۔“
پانی کے لئے جد و جہد
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلے پر عمرو بن سعد کے لشکر نے پانی بند کر دیا تھا اور دریا پر پہرہ بٹھا دیا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ کے قافلے کی عورتیں اور بچے پیاس سے بے حال ہوئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے پانی حاصل کرنے کا حکم دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ پر اور آپ رضی اللہ عنہ کے قافلے والوں پر پیاس کا غلبہ ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی حضرت عباس بن علی رضی اللہ عہ کو بلایا اور میں سوار ہیں پیدل کو بیس مشکیں دے کر دریا سے پانی لانے کے لئے روانہ کیا۔ یہ لوگ رات کے وقت دریا پر پہنچے۔ حضرت نافع بن حلال جعلی علم (جھنڈا) لئے ہوئے سب سے آگے بڑھ گئے ۔ عمرو بن حجاج کہنے لگا : ”کون ہے؟ کیوں آئے ہو؟ حضرت نافع بن ہلال نے فرمایا: ”ہم تو یہ پانی پینے آئے ہیں جس سے تم نے ہمیں محروم کر دیا ہے ۔ اس نے کہا: ” پی لو۔“ حضرت نافع بن ہلال نے جب دیکھا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور اُن کے اہل و عیال پیاسے ہیں تو فرمایا: اللہ کی قسم! ان لوگوں کے بغیر ایک قطر بھی نہیں پیوں گا ۔ اتنے میں باقی لوگ بھی آگئے۔ عمرو بن حجاج نے کہا: ” ان لوگوں کو پانی نہیں دے سکتا۔ ہم کو اس مقام پر اسی لئے متعین کیا گیا ہے کہ ان کو پانی نہیں لینے دیں۔“ حضرت نافع بن ہلال کے ساتھ والے جب آگئے تو انہوں نے پیدل لوگوں سے کہا: ” اپنی اپنی مشکیں بھر لو ۔ پیدل افراد تیزی سے دوڑ پڑے اور سب نے مشکیں بھر لیں ۔ عمرو بن حجاج نے اپنے سپاہیوں کے ساتھ اُن پر حملہ کر دیا۔ حضرت نافع بن ہلال اور حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ نے اُن کا مقابلہ کیا اور انہیں پیچھے تک دھکیل دیا۔ پھر اپنے خیموں کی طرف واپس جانے لگے اور پیدل افراد سے کہا: ” نکل جاؤ اور خود دشمنوں کو روکنے کے لئے ٹھہرے رہے۔ عمرو بن حجاج اپنے سپاہیوں کے ساتھ پھر اُن کی طرف تیزی سے آگے آیا اور پھر حملہ کر دیا۔ اس کے ایک سپاہی پر حضرت نافع بن بلال رضی اللہ عنہ نے نیزہ کا وار کیا اور سمجھا کہ وار او چھا پڑا ہے لیکن بعد میں اُس کا زخم پھٹ گیا اور وہ مر گیا۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھی مشکیں لئے ہوئے آئے اور آپ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کر دیں۔
حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور عمر بن سعد کی ملاقات
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کربلا میں قیام پذیر تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے عمر بن سعد کو حکم دیا کہ وہ ملاقات کرے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عمرو بن قرظہ انصاری رضی اللہ عنہ کو عمر بن سعد کے پاس بھیجا کہ آج رات میرے قافلے اور تمہارے لشکر کے درمیان مجھ سے ملاقات کرو۔ عمر بن سعد ہمیں سواروں کے ساتھ لشکر سے نکلا اور آپ رضی اللہ عنہ بھی ہیں سواروں کے ساتھ اپنے قافلے سے نکلے ۔ جب ملاقات ہوئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: ” سب پیچھے ہٹ جائیں ۔ عمر بن سعد نے بھی اپنے سپاہیوں سے پیچھے ہٹ جانے کو کہا۔ سب وہاں سے اتنی دور ہٹ گئے جہاں اُن دونوں کی کوئی آواز اور کوئی بات نہیں سنائی دے رہی تھی ۔ دونوں بہت دیر تک بات چیت کرتے رہے اور اچھی خاصی رات گزرگئی۔ پھر اپنے اپنے ساتھیوں کے ساتھ واپس لوٹ گئے ۔ لوگوں نے اپنے اپنے وہم و گمان سے کہنا شروع کر دیا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے عمر بن سعد سے کہا کہ تو میرے ساتھ یزید کے پاس چل دونوں اکیلے چلتے ہیں۔ عمر بن سعد نے کہا کہ میرا گھر خود ڈالا جائے گا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں بنوادوں گا۔ اُس نے کہا کہ میری جاگیر میں چھن جائیں گی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس سے بہتر میں تجھے اپنے مال میں سے دوں گا جو حجاز میں ہے۔ عمر بن سعد نے اسے گوارا نہیں کیا۔ لوگوں میں اسی بات کا چرچا تھا اور بغیر اس کے کہ کچھ سنا ہو یا کچھ جانتے ہوں ایک دوسرے سے یہی ذکر کرتے تھے اور محدثین کی ایک جماعت کا بیان ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تین باتوں میں سے ایک میرے لئے اختیار کر۔ یا تو یہ کہ جہاں سے میں آیا ہوں وہیں جانے دے۔ یا یہ کہ میں اپنا ہاتھ یزید کے ہاتھ میں دے دوں اور وہ میرے اور اپنے درمیان جو بھی فیصلہ کرے۔ یا پھر مجھے مملکت اسلامیہ کیسی کسی بھی سرحد کی طرف جانے دے اور میں اُن لوگوں کا ایک شخص بن کر رہوں گا اور میرا نفع و نقصان اُن کے ضمن میں ہوگا۔ یہ بھی روایت ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے ایسی بات ہر گز نہیں کہی جیسا کہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ اپنا ہاتھ یزید کے ہاتھ میں دیدیں گے۔ یا یہ کہ مجھے بلاد اسلام کی کسی سرحد کی طرف جانے دے۔ بلکہ آپ رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا تھا کہ مجھے اس وسیع و عریض زمین میں کسی طرف نکل جانے دے اور میں دیکھوں کہ انجام کیا ہوتا ہے؟
شمر بن ذی جوشن کی دشمنی
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے بات چیت کرنے کے بعد عمر بن سعد نے کوفہ کے گورنر عبید اللہ بن زیاد کو خط لکھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عمر بن سعد نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے تین چار ملاقاتیں کیں اور پھر اس کے بعد عبید اللہ بن زیاد کے پاس خط لکھ کر بھیجا " اللہ تعالیٰ نے (جنگ کی) آگ کے شعلہ کو بجھا دیا ہے۔ اختلاف کو دفع کیا ہے اور قوم کی بہتری چاہی ہے۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اس بات پر راضی ہیں کہ جہاں سے آئے ہیں وہیں چلے جائیں یا مملکت اسلامیہ کی سرحدوں میں سے کسی بھی سرحد کی طرف چلے جائیں۔ یا پھر امیر المومنین یزید کے پاس جا کر اُس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیدیں اور اپنے اور اُن کے درمیان جو فیصلہ چاہے وہ کرے۔ اس میں آپ کی بھی خوشنودی ہے اور اُمت کی بھی بہتری ہے۔ عبید اللہ بن زیاد نے خط پڑھ کر کہا: یہ خط ایسے شخص کا ہے جو اپنے امیر (حاکم) کا خیر خواہ اور اپنی قوم کا شفیق ہے اچھا میں نے قبول کیا ۔ " یہ سن کر شمر بن ذی جوشن اُٹھ کر کھڑا ہوا اور بولا : ” تو یہ بات قبول کرتا ہے؟ ارے وہ تو تیری زمین پر اترے ہوئے ہیں ، تیرے پہلو میں موجود ہیں۔ اللہ کی قسم ! تیری اطاعت کئے بغیر وہ تیرے شہر سے چلے گئے تو قوت و غلبہ اُن کو ملے گا اور عاجزی و کمزوری تجھے ملے گی۔ یہ موقع اُن کو نہیں دینا چاہئے ، اس میں تیری ذلت ہے۔ ہونا تو یہ چاہیئے کہ وہ اور ان کے سب ساتھی تیرے حکم پر سر جھکا دیں۔ اگر تو سزا دے تو تجھے سزا دینے کا حق ہے اور اگر معاف کر دے تو تجھ کو اختیار ہے۔ اللہ کی قسم! میں تو یہ سنتا ہوں کہ (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) اور عمر بن سعد دونوں لشکروں کے درمیان رات رات بھر بیٹھے ہوئے باتیں کرتے ہیں۔ عبید اللہ بن زیاد نے کہا: ”سٹو نے کیا ہی اچھی رائے دی ہے، رائے تو بس یہی ہے۔“
عبید اللہ بن زیاد کا جنگ کرنے کا حکم
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے عمر بن سعد سے گفتگو کی اور وہ مصالحت پر تیار ہو گیا اور عبید اللہ بن زیاد کو بھی مصالحت کا مشورہ دیا جسے اُس نے قبول کر لیا تھا لیکن شمر بن ذی جوشن کی فتنہ انگیزی کے سبب اُس نے وہ غلط فیصلہ کیا جس کی وجہ سے تینوں کی آخرت برباد ہو گئی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: پھر عبید اللہ بن زیاد نے ایک خط لکھ کر شمر بن ذی جوش کو دیا اور کہا: یہ خط لیکر عمر بن سعد کے پاس جا۔ اُسے چاہیئے کہ (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) اور اُن کے ساتھیوں سے کہے کہ وہ سب میرے حکم پر سر جھکا دیں ۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو اُن سب کو اطاعت گزاروں کی طرح میرے پاس بھیج دے۔ اگر وہ اس حکم کو نہیں ما نہیں تو اُن سے قتال (جنگ) کرنا۔ اگر عمر بن سعد نے ایسا کہ کیا تو تو بھی اُس کی اطاعت کرنا اور اُس کی بات کو ماننا۔ اگر اُس نے انکار کر دیا تو اُن لوگوں سے تو قتال (جنگ) کرنا اور تو اُس وقت لشکر کا سپہ سالار ہو گا اور عمر بن سعد کوقتل کر دینا اور اُس کی گردن مار دینا اور اُس کا سر میرے پاس بھیج دینا۔ عبید اللہ بن زیاد نے عمر بن سعد کو جو خط لکھا اُس کا مضمون یہ تھا: ” میں نے تجھے (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) کے مقابلے پر اس لئے نہیں بھیجا تھا کہ تو اُن کو بچانے کی فکر کرے یا اُن پر احسان کرے یا اُن کی سلامتی کی فکر کرے یا میرے سامنے اُن کا سفارشی بن بیٹھے۔ سُن ! اگر (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) اور ان کے ساتھی میرے حکم پر سر جھکا دیں اور گردنیں خم کر دیں تو سب کو اطاعت گزاروں کی طرح میرے پاس بھیج دے۔ اگر وہ نہیں ما نہیں تو اُن پر لشکر کشی (حملہ ) اس طرح کر کہ سب قتل ہو جائیں اور سب کے سر کاٹ لے کیونکہ وہ وہ سب اسی کے سزاوار ہیں۔ جب (حضرت) حسین بن علی ( رضی اللہ عنہ ) ( نعوذ باللہ ) قتل ہو جائیں تو اُن کے سینہ پر اور پشت پر سواروں کو دوڑادے کہ وہ نافرمان مخالف خود سر ظالم ہیں۔ میری دل کی یہ بات نہیں ہے کہ مرنے کے بعد اُن کو کوئی ایذا پہنچے گی لیکن میں انہیں قتل کرتا تو اُن کے ساتھ یہی سلوک کرتا۔ اگر تو اُن کے بارے میں ہمارے حکم کو جاری کرے گا تو تجھے کو وہ عوض ملے گا جو ایک فرمانبردار اطاعت گزار کوملنا چاہئے اور اگر تجھے یہ منظور نہیں ہے تو ہماری خدمت سے اور ہمارے لشکر سے علیحدہ ہو جا۔لشکر کا سپہ سالار شمر بن ذی جوشن کو بنادے۔ ہم نے اُسے اپنے احکام بتا دیے ہیں۔ والسلام
عبید اللہ بن زیاد کی امان لینے سے انکار
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے جنگ کرنے کا حکم عبید اللہ بن زیاد نے دے دیا اور وہ خط شمر بن جوشن کو دیا اور حکم دیا کہ عمر بن سعد کو لے جا کر دو اور اگر وہ حکم نہیں مانے تو اُسے قتل کرو اور تم سپہ سالار ہو گے۔ اُس کے بھانجے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ اُن کے قافلے میں تھے ۔ اُن کے لئے اُس نے عبید اللہ بن زیاد سے امان مانگی جو اُس نے لکھ کر دے دی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: شمر بن ذی جوشن کو جب عبید اللہ بن زیاد نے یہ خط دیا تو اُس کے ساتھ جانے کے لئے عبداللہ بن ابی محل بن حزام بھی تیار ہو گیا۔ اُس کی پھوپھی ام البنین بنت حزام رضی اللہ عنہا، خلیفہ چہارم حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی زوجہ تھیں اور اُن سے حضرت عباس، حضرت عبداللہ ، حضرت جعفر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم پیدا ہوئے۔ عبداللہ بن ابی محل بن حزام نے کہا: اللہ ہمارے امیر ( گورنر، حاکم ) کا بھلا کرے! ہماری بہن کے بیٹے (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) کے ساتھ ہیں۔ اگر مناسب سمجھو تو اُن کے لئے امان لکھ دو ۔ عبید اللہ بن زیاد نے کہا: ” بسر و چشم ۔ اور اُس نے امان کا فرمان لکھ دیا۔ عبداللہ بن ابی محمل نے اپنے آزاد غلام کرمان کو امان نامہ دے کر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلے میں بھیجا۔ اُس نے وہاں جا کر اُن کو بلایا اور کہا: ”تمہارے ماموں نے تمہارے لئے عبید اللہ بن زیاد سے امان لے لی ہے ۔ اور امان نامہ دکھایا۔ اُن جوانوں رضی اللہ عنہم نے فرمایا: ” ہمارے ماموں کو جا کر سلام کہنا اور کہ دینا کہ تم لوگوں کی امان ہمیں نہیں چاہیئے ۔ شمیہ کے بیٹے کے بیٹے (عبید اللہ بن زیاد کا باپ زیاد کے باپ کا نام نہیں معلوم تھا اور لوگ اُسے اُس کی ماں سمیہ کے نام پر ابن سمیہ کہتے تھے ) کی امان سے بہت بہتر اللہ تعالیٰ کی امان ہے
عمر بن سعد کا حملہ کرنے کا حکم کی
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں عبید اللہ بن زیاد کا حکم اور خط لیکر شمر بن ذی جوشن کر بلا آیا اور عمر بن سعد کو خط دیا اور اپنے گورنر کا حکم سنایا۔ علامہ حمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : شمر بن ذی جوشن جب عبید اللہ بن زیاد کو خط لیکر عمر بن سعد کے پاس آیا اور اس نے خط پڑھا تو شمر بن ذی جوشن سے کہا: 'وائے ہو تجھ پر تو نے یہ کیا حرکت کی ؟ اللہ تیرے ہمسایہ ( پڑوس) سے بچائے۔ اللہ تجھے غارت کرے، تو یہ کیا میرے پاس لیکر آیا ہے؟ اللہ کی قسم! میرا یہی گمان ہے کہ تو نے ہی عبید اللہ بن زیاد کو رائے دی ہے کہ میری تحریر کو نہیں مانے ۔ جس معاملہ میں اصلاح کی ہم کو امید تھی تو نے اُسے بگاڑ دیا ہے۔ اللہ کی قسم ! (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ) گردن جھکانے والے شخص نہیں ہیں۔ اُن کے پہلو میں وہ دل ہے جو برداشت نہیں کر سکتا ۔ شمر بن ذی جوشن نے کہا: تو یہ بتاتیرا کیا ارادہ ہے؟ اپنے امیر (گورنر) کے حکم پر چلے گا اور اس کے دشمن کو قتل کرے گا؟ یا پھر لشکر کی قیادت مجھے دے گا؟ عمر بن سعد نے کہا: نہیں ! تجھے لشکر کی قیادت نہیں ملے گی۔ میں یہ کام خود کروں گا۔ شمر بن ذی جوشن نے کہا: " ٹھیک ہے ! پھر تم ہی کرو۔“ اس کے بعد عمر بن سعد اپنے لشکر کولیکر آگے بڑھا اور صف آرا کیا۔ یہ نو (۹) محرم الحرام پنجشنبہ کا دن تھا اور شام کا وقت تھا شمر بن ذی جوشن آگے بڑھا اور بلند آواز سے پکارا : ”ہم لوگوں کی بہن کے بیٹے کہاں ہیں؟ یہ سن کر حضرات عباس جعفر، عثمان اور عبد اللہ رضی اللہ عنہم آگے بڑھے اور فرمایا: " تجھے ہم سے کیا کام ہے اور تو کیا کہ رہا ہے؟ اس نے کہا: ”اے میری بہن کے بیٹو! تمہارے لئے امان ہے ۔ اُن سب جوانوں رضی اللہ عنہم نے فرمایا : اللہ کی تجھ پر لعنت ہو اور تیری امان پر بھی لعنت ہو، تو جو ہمارا ماموں ہے ( عرب میں نھیال کے تمام قبیلے والوں کو ماموں“ کہا جاتا ہے ) تو ہم کو امان دیتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کو امان نہیں دیتا ہے ۔ عمر بن سعد نے یہ سن کر بلند آواز سے پکارا : ”اے سپاہیو! اللہ کے سوار و! گھوڑوں پر چڑھو اور خوش رہو۔ نماز عصر کے بعد اُس نے اپنے لشکر کے ساتھ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے قافلے پر حملہ کر دیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قافلے پر حملہ کرنے کا حکم عمر بن سعد نے دے دیا اور اُس کے لشکر نے چڑھائی کر دی ۔ اُس وقت حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اپنے خیمے کے سامنے تشریف فرما تھے ۔ عمر بن سعد کے لشکر کے گھوڑوں کے دوڑنے کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی یہاں تک کہ خیموں میں موجود پردہ نشین خواتین نے بھی یہ آواز سنی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: نماز عصر کے بعد عمر بن سعد نے اپنے لشکر کے ساتھ اُن لوگوں پر چڑھائی کر دی ۔ اُسوقت حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اپنے خیمہ کے سامنے اس حالت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ دونوں گھٹنوں بلند تھے اور تلوار پر ٹکے ہوئے تھے اور گھٹنوں پر سر رکھا ہوا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ کی بہن سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا نے شور کی آواز سنی تو بھائی کے پاس آئیں اور فرمایا: ” بھائی ! آپ رضی اللہ عنہ نے سنا ! لوگوں کی آوازیں قریب آرہی ہیں ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے زانو سے سر اٹھایا اور فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا کہ مجھ سے فرما رہے ہیں تم ہمارے پاس آجاؤ گے ۔‘ بین کر بہن نے کہا: ”وائے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بہن! تم پر وائے نہیں ہے (دشمنوں پر وائے ہے ) بہن !اللہ تم پر اپناحم فرمائے چپ رہو ۔ “ ( اور یہ بات کسی کو ابھی نہیں بتانا )
حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ کی گفتگو
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اپنے خیمے کے سامنے بیٹھے عمر بن سعد کے لشکر کو آتا اور صف بندی کرتے ہوئے دیکھ رہے تھے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے بھائی حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ”بھائی! وہ لوگ آپڑے ہیں ۔ یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ اُٹھ کھڑے ہوئے۔ حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ”بھائی ! میں آپ رضی اللہ عنہ پر فدا ہو جاؤں ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بھائی ! گھوڑے پر سوار ہو اور اُن لوگوں سے جا کر ملو اور پوچھو کہ اُن کا ارادہ کیا ہے اور ادھر آنے کا کیا سبب ہے؟ حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ میں سواروں کو ساتھ لیکر جن میں حضرت زہیر بن قین اور حضرت حبیب بن مظاہر رضی اللہ عنہم بھی تھے اُن لوگوں کے پاس آئے اور پوچھا: ” تمہارا کیا ارادہ ہے اور تمہارے جی میں کیا آئی ہے؟ ان لوگوں نے کہا: ”امیر ( گورنر عبداللہ بن زیاد ) کا یہ حکم آیا ہے کہ تم لوگوں سے کہہ دیں کہ اُس کے حکم پر سر جھکا دو نہیں تو ہم تم سے لڑیں گے ۔ حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ذرا ٹھہرو! میں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے پوچھ کر آتا ہوں اور وہ جو کچھ تم کہ رہے ہو اُن سے عرض کر دوں ۔ یہ لوگ ٹھہر گئے اور بولے : ”جاؤ! اُن کو خبر کردو اور آکر بیان کرو کہ وہ کیا کہتے ہیں؟ حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ گھوڑا دوڑا کر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس چلے گئے اور اُن کے ساتھی وہیں ٹھہرے رہے۔
حضرت زہیر بن قین اور حضرت حبیب بن مظاہر کی حق گوئی
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس اُن کے بھائی حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ جواب لینے کے لئے گئے ۔ اسی دوران اُن کے ساتھی و ہیں عمر بن سعد کے لشکر کے پاس ٹھہرے رہے اور گفتگو کرتے رہے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت حبیب بن مظاہر رضی اللہ عنہ نے حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ سے کہا: ”چا ہو تو تم ان سے گفتگو کر دیا پھر میں کچھ کہوں؟ حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تمہیں نے یہ ذکر نکالا ہے تو تمہیں گفتگو کرو ۔ حضرت حبیب بن مظاہر رضی اللہ عنہ نے لشکریوں نے مخاطب ہو کر کہا: ” ستوکل کے دن جو لوگ آئیں گے اللہ کی قسم اوہی بہت برے لوگ ٹھہریں گے۔ جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذریت (آل ) کو، اُن کی عزت کو، اُن کے اہل بیت کو اُن کے شہر کے عابدوں کو شہید کریں گے ۔ جن کی صبح عبادت میں گذرتی ہے، جن کی زبان پر اللہ کا ذکر جاری رہتا ہے ۔ یہ سن کر عزرہ بن قیس بولا : " تم سے جہاں تک ہو سکے اپنے نفس کو پاک رکھو۔ حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ نے کہا: ” اے عزرہ ! اللہ تعالیٰ نے اُن کے نفس کو پاک کیا ہے اور انہیں ہدایت عطا فرمائی ہے۔ اے عزرہ ! اللہ سے ڈرا میں تیری خیر خواہی کا کلمہ کہتا ہوں ۔ اے عزرہ ! اللہ کے واسطے ان نفوس قدسیہ کو شہید کرنے میں ان لوگوں کے ساتھ شریک نہ ہو جو ضلالت کے بانی ہیں ۔ عزرہ بن قیس نے کہا: اے زہیر ! ان لوگوں کے حامیوں میں ہم تجھے نہیں جانتے تھے بلکہ تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ والوں میں سے تھا۔ حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: " مجھے اس مقام پر دیکھ کر بھی کیا تو نہیں سمجھ رہا ہے کہ میں انہیں لوگوں میں سے ہوں ۔ سُن ! اللہ کی قسم! میں نے کبھی کوئی خط ان کو نہیں لکھا ہے اور نہ ہی کبھی کوئی قاصد ان کے پاس بھیجا نہ بھی ان سے نصرت کا وعدہ کیا ۔ ہوا یہ کہ راستے میں اِن سے ملاقات ہو گئی۔ ان کو دیکھ کر مجھ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یاد آ گئے اور ان کا جو مرتبہ اُن کے رشتہ سے ہے اُس کا خیال آگیا اور میں سمجھ گیا کہ یہ کن دشمنوں میں اور تمہارے جرگہ کے لوگوں میں جارہے ہیں۔ بس میری یہ رائے ہوئی کہ ان کی نصرت کروں اور ان کے جرگہ میں شامل ہو جاؤں۔ اپنی جان اِن کی جان پر فدا کر دوں تا کہ اللہ کے جس حق کو اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے جس حق کو تم نے ضائع کر دیا ہے اُن کی حفاظت کروں۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!




