17 سلطنتِ امیہ
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 17
ایک رات کی مہلت، ساتھیوں کو جانے کی اجازت، آل عقیل کی جاں نثاری، حضرت مسلم بن عوسجہ اور حضرت سعد بن عبد اللہ کی جاں نثاری،حضرت زہیر بن قین اور دوسرے ساتھیوں کی جاں نثاری، سیده زینب بنت علی رضی اللہ عنہا کی بے قراری، بہن کو تسلی، ایک بد بخت کی گستاخی، قافلے اور لشکر کی صف بندی، شمر بن ذی جوشن کی گستاخی، دشمنوں کو پھر سے سمجھانا ہے،
ایک رات کی مہلت
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے بات کرنے اُن کے بھائی حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ گئے ہوئے تھے۔ انہوں نے واپس آکر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا پیغام عمر بن سعد کو دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اتنے میں حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ گھوڑے کو ایڑ لگاتے ہوئے اُن لوگوں تک آپہنچے اور فرمایا: ”اے لوگو! حضرت حسین علی رضی اللہ عنہ تم سے اس بات کا سوال کرتے ہیں کہ اس وقت تم سب واپس چلے جاؤ۔ یہ ایسی بات ہے کہ ابھی تک تمہارے اور اُن کے درمیان اس باب میں گفتگو نہیں ہوئی تھی۔ کل صبح کو انشاء اللہ پھر ہم لوگ ملیں گے، یا تو جس بات کو تم چاہتے ہو اور جو سلوک کرنا چاہتے ہو ہم اس پر راضی ہو جائیں گے یا ہمیں یہ بات ناگوار ہوگی تو ہم انکار کر دیں گے ۔“ اس سے آپ رضی اللہ عنہ کا مطلب یہ تھا کہ اس وقت اُن لوگوں کو ٹال دیا جائے اور جو کہنا سننا ہوسن لیں۔ اپنے اہل بیت سے وصیت کر لیں ۔ حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ نے جب یہ بات آکر کہی تو عمر بن سعد نے شمر بن ذی جوشن سے پوچھا: ” تیری کیا رائے ہے؟ شمر بن ذی جوشن نے کہا: ” تو امیر لشکر یعنی لشکر کا سپہ سالار ہے تیری جو رائے ہوگی بس میری بھی وہی رائے ہوگی۔ عمر بن سعد نے لشکریوں سے کہا: ”تمہاری کیا رائے ہے؟ بین کر عمرو بن حجاج زبیدی نے کہا: "سبحان اللہ ! اگر یہ لوگ کفار دیلم سے ہوتے اور تجھ سے یہی سوال کرتے تو اللہ کی قسم اتجھے قبول کر لینا چاہیئے تھا۔“ قیس بن اشعث نے کہا: ”اُن کی یہ بات مان لے۔ میں اپنی جان کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ کل صبح کو یہ لوگ تجھ سے لڑنے کے لئے آمادہ رہیں گے ۔“ عمر بن سعد نے کہا: ” اگر یہ بات مجھ کو یقینی معلوم ہو جائے کہ یہ لوگ لڑیں گے تو میں اس وقت مہلت نہیں دوں گا ۔“ حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ نے آکر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ عمر بن سعد ایسا کہتا ہے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” تم پھر پلٹ کر جاؤ اور ہو سکے تو اُن کو صبح تک کے لئے ٹال دو اور آج شام کے لئے اُن کو ہم سے دفع کرو۔ آج کی رات ہم اپنے پروردگار کی عبادت کر لیں ، اُس سے دعا کرلیں، اُس سے مغفرت طلب کر لیں۔ اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ اُس کی عبادت کو، اُس کی کتاب قرآن پاک کی تلاوت کو اور دعا و استغفار کی کثرت کو میں کتنا دوست رکھتا ہوں ۔ حضرت علی (اوسط) بن حسین رضی اللہ عنہ (امام زین العابدین) فرماتے ہیں: ” عمر بن سعد کے پاس سے ایک قاصد ہم لوگوں کے پاس آیا اور ایسے مقام پر کھڑ ہو گیا جہاں سے آواز سنائی دیتی تھی اور کہا: ”ہم نے تم لوگوں کو کل صبح تک کی مہلت دی ہے۔ اگر اطاعت کر لوگے تو تم کو امیر ( گورنر ، حاکم ) عبید اللہ بن زیاد کے پاس روانہ کر دیں گے اور اگرتم انکار کرو گے تو پھر ہم تم کو نہیں چھوڑیں گے ۔“
ساتھیوں کو جانے کی اجازت
حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو جمع کر کے انہیں جانے کی اجازت دے دی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب عمر بن سعد اپنے لشکر کولیکر واپس چلا گیا تو اس وقت شام ہونے والی تھی۔ تب حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو جمع کیا۔ حضرت علی (اوسط ) بن حسین (امام زین العابدین ) فرماتے ہیں: یہ دیکھ کر میں آپ رضی اللہ عنہ کے قریب چلا گیا کہ سنوں کیا فرماتے ہیں؟ اور میں بیمار تھا ۔ میں نے سنا کہ میرے والد محترم رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: ” میں اللہ تعالیٰ کی بہترین حمدوثنا کرتا ہوں اور راحت و مصیبت میں اُس کا شکر ادا کرتا ہوں، اے اللہ تعالیٰ ! میں تیرا شکر بجا لاتا ہوں کہ تو نے ہم لوگوں کو نبوت کی کرامت دی، بٹو نے ہم کو قرآن کی تعلیم دی ، تو نے ہم کو علم دین عطا فرمایا، تو نے ہم کو سماعت و بصارت اور دل عطا فرمایا ، تو نے ہم کو مشرکوں میں شمار نہیں ہونے دیا۔ اس کے بعد مجھے یہ کہنا ہے کہ اپنے ساتھیوں سے افضل و بہتر ساتھی اور اپنے اہل بیت سے زیادہ وفادار اور فرمانبردار اہل بیت میں نے نہیں دیکھے۔ سنو میں سمجھ چکا ہوں کہ ان دشمنوں کے ہاتھوں صبح ہم لوگوں کی قضا ہے ۔ سنو ! تم سب کے سب لوگوں کے بارے میں میری یہ رائے ہو چکی ہے کہ تم سب واپس چلے جاؤ۔ اس لئے میری طرف سے تم سب کو اجازت ہے کہ تم سب واپس چلے جاؤ۔ میری طرف سے کوئی روک ٹوک نہیں ہے۔ دیکھو رات کی تاریکی چھائی ہوئی ہے اسے غنیمت جانو اور واپس چلے جاؤ۔“
آل عقیل کی جاں نثاری
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے سب لوگوں کو جانے کی اجازت دے دی لیکن کوئی بھی ہلنے کو تیار نہیں ہوا۔ یہ دیکھ کر آپ رضی اللہ عنہ ایک ایک کو پکڑ کر سمجھانے لگے کہ انہیں میری جان چاہئے اور وہ تمہیں کچھ نہیں کہیں گے اس لئے تم سب چلے جاؤ ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: جب رات آئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” دیکھو رات کی تاریکی چھائی ہوئی ہے، اسے غنیمت سمجھو اور تم میں سے ایک ایک شخص میرے اہل بیت میں سے ایک ایک شخص کا ہاتھ پکڑلے اور یہاں سے چلا جائے۔ پھر جب اطمینان ہو جائے تو تم سب اپنے اپنے قصبوں ،شہروں کی طرف نکل جانا۔ یہ لوگ صرف میرے طلب گار ہیں۔ مجھے شہید کر لیں گے تو پھر کسی اور کا خیال نہیں کریں گے۔ یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ کے بھائی، بیٹے بھیجے اور بھانجے سب کہنے لگے : ”ہم سے یہ نہیں ہوگا کہ آپ رضی اللہ عنہ کے بعد ہم زندہ رہیں اور اللہ ہمیں وہ دن نہیں دکھائے ۔ سب سے پہلے حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ نے یہ کلمہ کہا۔ پھر سب ہی نے ایسے ہی کلام کہے ان میں آل عقیل سب سے آگے آگے تھے ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” اے آل عقیل ! حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کا شہید ہونا ہی تمہارے لئے کافی ہے۔ تم چلے جاؤ! میں اجازت دیتا ہوں ۔ “ آل عقیل نے عرض کیا : لوگ کیا کہیں ؟ یہی کہیں گے کہ ہم اپنے بزرگ اپنے سردار اور اُن کے ساتھ اپنے چچا کو جو بہترین چچا تھے چھوڑ کر چلے آئے ۔ نہ تو اُن کے ساتھ شریک ہو کر برچھی کا کوئی وار کیا اور نہ ہی تلوار کا ہاتھ مارا۔ یہ بھی معلوم نہیں ہوا کہ اُن پر کیا گزری؟ ہر گز نہیں۔ اللہ کی قسم ہم سے یہ نہیں ہوگا بلکہ ہم اپنی جانیں، اپنا مال اور اپنے اہل و عیال کو بھی آپ رضی اللہ عنہ پر فدا کر دیں گے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ شریک ہو کر قتال کریں گے جو آپ رضی اللہ عنہ کا حال ہوگا وہی ہمارا بھی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہم کو وہ زندگی نہ دے جو آپ رضی اللہ عنہ کے بغیر ہو۔“
حضرت مسلم بن عوسجہ اور حضرت سعد بن عبد اللہ کی جاں نثاری
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں اور اہل بیت کو سمجھارہے تھے لیکن کوئی بھی جانے کو تیار نہیں تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت مسلم بن عوسجہ اسدی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا : ” کیا ہم آپ رضی اللہ عنہ کو چھوڑ کر چلے جائیں اور ابھی اللہ کے سامنے آپ رضی اللہ عنہ کے حق سے ہم ادا بھی نہیں ہوئے ہیں۔ ہاں ! اللہ کی قسم ! جب تک میری برچھی اُن لوگوں کے سینہ میں ٹوٹ کر نہ رہ جائے ۔ جب تک تلوار کا قبضہ میرے ہاتھ میں ہے اور اُن کو تلوار میں مار نہ لوں ، تب تک میں آپ رضی اللہ عنہ سے جدا نہیں ہوں گا ۔ اگر ان سے لڑنے کے لئے میرے پاس ہتھیار نہیں ہوتے تو میں آپ رضی اللہ عنہ کی نصرت میں انہیں پتھر مار مار کر آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہی مرجاتا ۔ “ حضرت سعد بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کی قسم ! ہم آپ رضی اللہ عنہ کو چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔ اللہ تعالی یہ تو دیکھ لے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہم نے آپ رضی اللہ عنہ کی کیسی حفاظت کی ۔ اللہ کی قسم! اگر میں یہ جانتا کہ میں شہید ہونے کے بعد پھر زندہ کیا جاؤں گا۔ پھر زندہ جلادیا جاؤں گا اور پھر میری خاک اُڑا دی جائے گی۔ ستر (70) مرتبہ یہی حالت مجھ پر گزرے گی تب بھی جب تک آپ رضی اللہ عنہ کی نصرت میں مجھے موت نہیں آجاتی تب تک میں آپ رضی اللہ عنہ سے جدا نہیں ہوتا اور اب تو ایک ہی دفعہ میں شہید ہو جاتا ہے اور اس میں وہ شرف و کرامت ہے جسے ابد تک زوال نہیں ہے۔ پھر میں اسے حاصل کیوں نہیں کروں؟“
حضرت زہیر بن قین اور دوسرے ساتھیوں کی جاں نثاری
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے اہل بیت اور ساتھیوں میں سے کوئی بھی آپ رضی اللہ عنہ کو چھوڑنے کو تیار نہیں تھا اور ہر کوئی آپ رضی اللہ عنہ پر جاں شمار کرنے کے لئے بے تاب تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اللہ کی قسم! میں تو چاہتا ہوں کہ شہید کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر شہید کیا جاؤں۔ اسی طرح ہزار دفعہ میں شہید کیا جاؤں اور اللہ تعالیٰ آپ رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے اہل بیت کو بچالے۔ اسی طرح کے ایک ہی طرز کلام آپ رضی اللہ عنہ کے تمام ساتھیوں نے کئے اور کہتے تھے: اللہ کی قسم ! ہم آپ رضی اللہ عنہ کو چھوڑ کر نہیں جائیں گے بلکہ اپنی جانیں آپ رضی اللہ عنہ پر فدا کریں گے۔ ہم اپنے ہاتھوں سے اپنی گردنوں سے اور اپنی پیشانیوں سے آپ رضی اللہ عنہ کو بچائیں گے۔ ہم شہید ہو جائیں گے تو وہ حق جو ہم پر لازم ہے وہ وفا ہو جائے گا۔“
سیده زینب بنت علی رضی اللہ عنہا کی بے قراری
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی بہت کوششوں کے باوجود کوئی بھی آپ رضی اللہ عنہ کا ساتھ چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے سب کا شکریہ ادا کر کے آرام کرنے کی اجازت دے دی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت علی (اوسط) بن حسین (امام زین العابدین ) فرماتے ہیں : ” اُسی شام کا ذکر ہے جسکی صبح کو میرے والد محترم شہید کئے جانے والے تھے ۔ میں بیٹھا ہوا تھا اور میری پھوپھی سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا میری تیمار داری میں مصروف تھیں جبکہ میرے والد محترم نے اپنے ساتھیوں سے باتیں کرنے کے بعد اپنے خیمے میں تخلیہ میں تھے اور اُس وقت حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ” حولی آپ رضی اللہ عنہ کے پاس تلوار کی دیکھ بھال کر رہے تھے۔ اُس وقت میرے والد محترم نے یہ شعر پڑھا: ” اے دہ نا پائیدار! تجھ پر وائے ہو۔ کیا ہی برا دوست ہے تو ۔ کہ ہر صبح و شام کسی دوست یا دشمن کو مار رکھتا ہے ایک کے عوض میں دوسرے کو قبول نہیں کرتا اور یہ سب اللہ کے حکم سے ہوتا ہے اور جو زندہ ہے اُسے اس راستہ جاتا ہے ۔ ان اشعار کو آپ رضی اللہ عنہ نے دو تین بار پڑھا۔ میں سمجھ گیا اور اس ارادے کے بارے میں جان گیا جو آپ رضی اللہ عنہ نے کیا تھا۔ مجھے بے اختیار رونا آگیا لیکن میں نے آنسوؤں کو ضبط کر لیا اور خاموش رہا۔ مگر میری پھوپھی نے بھی ان اشعار کو سن لیا۔ عورتوں کی طبیعت میں رقت اور بے صبری ہوتی ہے، خود کو سنبھال نہیں سکیں ۔ بر ہنہ سر دوڑیں اور چادر کو کھنچتی ہوئی آپ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچیں اور بولی :’ وامصیحا ! ارے آج مجھے موت آگئی ہوتی اے بزرگوں کے جانشین ، اے در ماندوں کے شفیق، بس آج میری والدہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رحلت کر گئیں ۔ میرے والد محترم حضرت علی رضی اللہ عنہ اور میرے بھائی حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے بھی آج رحلت کی ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اُن کی طرف دیکھا اور فرمایا: "اے میری پیاری بہن ! دیکھو! کہیں شیطان تمہارے علم کو زائل نہ کر دے۔ کہنے لگیں: ”اے میرے بھائی رضی اللہ عنہ ! میرے ماں باپ تم پر خدا ! میری جان تم پر خدا ! تم نے شہید ہونا گوارا کر لیا۔
بہن کو تسلی
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی بہن سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا سمجھ گئیں کہ آپ رضی اللہ عنہ نے شہادت کے مرتبہ پر فائز ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے اور آپ رضی اللہ عنہ کی جدائی کے خیال سے بے چین ہو گئیں تو آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں تسلی دی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت علی (اوسط) بن حسین (امام زین العابدین) رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ” یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی طبیعت کو سنبھالا اور آنکھوں میں آئے آنسوؤں کو ضبط کر کے فرمایا: ”موت نے چین سے بیٹھنے نہیں دیا ۔ بہن سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا نے یہ سن کر فرمایا: " ہائے بھائی ! کیا تمہیں مجبور کریں گے؟ اس سے تو اور بھی میرا کلیجہ ٹکڑے ہوا جاتا ہے۔ میرے دل کو سخت قلق گذر رہا ہے ۔ “ یہ کہہ کر رونے لگیں اور خش کھا کر گر پڑیں۔ بہن کا یہ حال دیکھ کر آپ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور اُن کے پاس آکر چہرہ پر پانی چھڑکا اور فرمایا: ”پیاری بہن ! اللہ کا خوف کرو، اللہ کے لئے صبر کرو۔ اس بات کو سمجھو کہ روئے زمین پر سب مرنے والے ہیں۔ اہل آسمان بھی باقی نہیں رہیں گے۔ اُس اللہ کی ذات کے سوا جس نے اپنی قدرت سے اس زمین کو پیدا کیا اور جو پھر سے مخلوق کو زندہ کرے گا اور سب کے سب واپس آجائیں گے اور جو یگانہ دوتہا ہے۔ سب چیزیں مٹ جانے والی ہیں۔ میرے ماں باپ مجھ سے بہتر تھے۔ میری والدہ تم سے بہتر تھیں۔ میرے بھائی مجھ سے بہتر تھے اور مجھے اُن سب کو اور ہر مسلمان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حال سے تسکین ہونی چاہیئے ۔ اسی طرح کافی دیر تک آپ رضی اللہ عنہ بہن کو تسلی دیتے رہے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” پیاری بہن! میں تم کو قسم دیتا ہوں اور میری قسم کوتم پورا کرنا ۔ میں شہید ہو جاؤں تو اپنے گریباں کو چاک نہیں کرنا، منہ کو نہیں پیٹنا اور ہلاکت اور موت کو نہیں پکارنا۔ یہ فرما کر آپ رضی اللہ عنہ میری پھوپھی کو لیکر میرے پاس آئے اور میرے پاس بٹھا کر چلے گئے ۔ اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ خیموں کو قریب قریب اس طرح نصب کریں کہ طنابوں کے اندرطنا ہیں آجائیں۔ ( خیموں کا حلقہ بن جائے ) سب لوگ خود اس حلقہ کے درمیان رہیں۔ بس ایک رخ جدھر سے دشمن آنے والے ہیں کھلا رہنے دیں۔
ایک بد بخت کی گستاخی
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ رات بھر عبادت اور استغفار میں گزارتے رہے ۔ اسی دوران دشمنوں کے پہریداروں کا گشتی رسالہ اُدھر سے گزرا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ” حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور اُن کے ساتھی پوری رات بیدار رہے اور سب نمازیں پڑھ رہے تھے اور استغفار کر رہے تھے۔ اسی دوران سواروں کا ایک رسالہ جو اُن کی نگہبانی کرنے کو دشمن کی طرف سے مقرر ہوا تھا اُدھر سے گذرا۔ اُس وقت آپ رضی اللہ عنہ یہ آیت تلاوت کر رہے تھے : ترجمہ ”ہاں جو لوگ کافر ہو گئے وہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم جو انہیں ڈھیل دے رہے ہیں اس میں اُن کے لئے بہتری ہے۔ ہم تو اس لئے انہیں ڈھیل دے رہے ہیں کہ وہ اور بھی گناہوں میں مبتلا ہو جا ئیں۔ اُن کے لئے تو ذلیل کر دینے والا عذاب ہے۔ اللہ یہ نہیں کرے گا کہ تم لوگ جس حال میں ہو اُسی میں مومنین کو رہنے دے۔ وہ پاک اور نا پاک دونوں کو جدا کر کے رہے گا ۔ اس آیت کو رسالہ کے لوگوں نے بھی سنا۔ اُن میں سے ایک بد بخت شخص نے کہا: قسم ہے رب کعبہ کی ! ہم ہی لوگ پاک ہیں اور تم لوگوں سے جدا کر لئے گئے ہیں۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں سے ایک شخص نے حضرت بریر بن خضیر رضی اللہ عنہ سے پوچھا آپ جانتے ہیں یہ شخص کون ہے؟ حضرت بریر بن خضیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نہیں جانتا۔“ اس شخص نے بتایا: ” یہ ابو حرب سبیعی ہے اور یہ شخص بڑا اہنسی مذاق کرنے والا اور بے ہودہ شرفاء میں بڑا دلیر وسفاک ہے۔ سعید بن قیس نے اسے خون کرنے پر کبھی قید بھی کیا تھا۔ حضرت بریر رضی اللہ عنہ نے اُس کا نام سن کر اُسے پکارا : او فاسق ! تجھے کو اللہ نے پاک لوگوں میں شمار کیا ہے ؟ اس نے پوچھا: ” تو کون ہے؟ انہوں نے فرمایا د میں بریر بن خضیر ہوں ۔ اس بدبخت نے کہا: ”انا للہ ! یہ بات مجھ پر شاق ہے۔ اے بریر! اللہ کی قسم ! تو ہلاک ہوا۔ اللہ کی قسم ! تو ہلاک ہوا۔“ حضرت بریر بن خضیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” اے ابو حرب ! اللہ کے سامنے اپنے کبیرہ گناہوں سے توبہ کر لینے کا ہی موقع ہے۔ سُن ! اللہ کی قسم ! ہم سب پاک لوگوں میں ہیں اور تم سب ناپاک ہو ۔ ابو حرب نے تمسخر سے کہا: ہاں ہاں! میں بھی گواہوں میں ہوں ۔ ایک شخص نے کہا: ”وائے ہو تجھ پر ا جان کر بھی تو نہیں سمجھ رہا ہے ۔“
قافلے اور لشکر کی صف بندی
دوسرے دن یعنی دس محرم الحرام عاشورہ کے دن حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اپنے قافلے کے مردوں کی صف بندی کی جن کی تعداد اسی 80 سے بھی کم تھی اور ادھر عمر بن سعد نے چار ہزار ۴۰۰۰ سے زیادہ کے لشکر کی صف بندی کی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: عمر بن سعد عاشورہ کے روز شنبہ کا دن تھا یا جمعہ کا دن تھا صبح کی نماز پڑھ چکا تو اپنے لشکر کولیکر نکلا۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی اور اُن کی صف بندی کی ۔ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بتیس 32 سوار اور چالیس 40 پیدل تھے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے میمنہ پر حضرت زہیر بن قین رضی اللہ عنہ کو میسرہ پر حضرت حبیب بن مظاہر رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا اور علم ( جھنڈا ) اپنے بھائی حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ کو دیا خیموں کو پشت پر رکھا اور خیموں کے پیچھے آپ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ لکڑیاں اور بانس جمع کر کے اُس میں آگ لگا دی جائے۔ خوف یہ تھا کہ دشمن پیچھے سے حملہ نہ کر دیں۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے خیموں کے پیچھے زمین پست تھی جیسے ایک پتیلی نہر کھدی ہوئی ہو۔ اس کو رات کے وقت سب نے خود کر خندق کی طرح بنا لیا تھا اور اس میں لکڑیاں اور بانس ڈال دیئے تھے کہ جب صبح دشمن حملہ کریں تو اس میں آگ لگا دیں گے تا کہ دشمن سے ایک ہی رخ سے مقابلہ کیا جاسکے اور دشمن پیچھے سے حملہ نہیں کر سکے۔ یہی احتیاط انہوں نے کی اور یہ اُن کے کام آئی۔ عمر بن سعد نے بھی اپنے لشکر کی صف بندی کی۔ اُس کے ساتھ ایک ربع اہل مدینہ تھے اور اُن کا کمانڈر عبداللہ بن زہیر از دی تھا۔ ایک ربع قبیلہ بنو ند حج اور بنو اسد کے لوگ تھے اور اُن کا کمانڈر عبدالرحمن بن ابی سیرہ تھا۔ ایک ربع قبیلہ بنور بیعہ اور بنوکندہ کے لوگ تھے اور اُن کا کمانڈ رقیسا بن اشعث تھا۔ ایک ربع قبیلہ بنو تمیم اور بنو ہمدان کے لوگ تھے اور اُن کا کمانڈر حربن یزید تھا۔ حربن یزید کے سوا سب لوگ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے میں شریک تھے۔ صرف ایک حربن یزید تھا کہ ان لوگوں سے جدا ہو کر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی طرف چلا آیا تھا اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ شہید ہوا ۔ عمر بن سعد نے میمنہ پر عمر بن حجاج کو کمانڈر مقرر کیا ۔ میسرہ پر شمر بن ذی جوشن کو کمانڈر مقرر کیا ۔ رسالہ عزرہ بن قیس کو دیا اور پیدل کا کمانڈر شبٹ بن ربعی کو بنایا اور اپنے غلام آزاد در ید کو شکر کا علم (جھنڈا ) دیا۔
شمر بن ذی جوشن کی گستاخی
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اپنے قافلے کے ساتھ صف بندی کئے کھڑے اللہ سے دعا کر رہے تھے کہ دشمنوں کا ایک کمانڈر شمر بن ذی جوشن گھوڑا دوڑا تا ہوا آیا اور آپ رضی اللہ عنہ سے گستاخی کی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عاشورہ کے دن صبح کے وقت جب دشمن کا لشکر سامنے صف آرا ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے دونوں ہاتھ اُٹھائے اور اللہ تعالٰی سے یہ دعا کی : ”اے اللہ تعالیٰ ! ہر مصیبت میں مجھے تجھ پر ہی بھروسہ ہے۔ ہر سختی میں مجھے تجھ ہی سے اُمید ہے۔ جو بلا مجھ پر نازل ہو، اس میں تیرا ہی سہارا ہے ۔ تجھ ہی پر بھروسہ ہے کتنی ہی آفتیں اس طرح پیش آئیں جس میں دل بیٹھ جائے ، جس کا کوئی چارہ کار نہ ہو، جس میں دوست ساتھ نہ دے اور جس میں دشمن خوشی منائے ۔ میں نے تجھ پرہی بھروسہ کیا اور تجھ سے اپنا درد دل کہا۔ تیرے سوا کسی سے کہنے کو دل نہیں چاہتا۔ تو نے آفتوں کو ٹال دیا اور دفع کر دیا۔ بس ہر نعمت کا بخشنے والا، ہر نیکی کا عطا کرنے والا اور ہر مراد کا دینے والا تو ہی ہے ۔ عمر بن سعد کے لشکر کے لوگوں نے دیکھا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی پشت پر آگ جل رہی ہے تو ایک شخص گھوڑا دوڑاتا ہوا اُدھر سے گذرا۔ اُس نے کسی سے کچھ بات نہیں کی بلکہ سیدھا خیموں کی طرف گیا تو دیکھا کہ آگ کے شعلوں کی وجہ سے خیمے دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ وہاں سے پلٹا اور بلند آواز سے پکار کر بولا: "اے (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) قیامت سے پہلے دنیا میں ہی تم نے آگ میں جانے کی جلدی کی ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا : یہ کون شخص ہے؟ شاید یہی شمر بن ذی جوشن ہے۔ لوگوں نے جواب دیا ”ہاں! اللہ تعالیٰ آپ رضی اللہ عنہ کو سلامت رکھے۔ یہ بد بخت وہی ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اُسے بلند آواز سے فرمایا: ”ادبکریاں چرانے والی کے بچے آگ میں جلنے کا تو زیادہ حقدار ہے ۔ حضرت مسلم عوسجہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ”اے آل رسول رضی اللہ عنہ! میں آپ رضی اللہ عنہ پر فدا ہو جاؤں ایہ بد بخت میرے تیر کی زد پر ہے، حکم دیں تو اسے تیر مار دوں؟ تیر خطا نہیں کرے گا اور یہ فاسق بہت بڑے جباروں میں سے ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تیر نہیں مارنا، ہماری طرف سے ابتداء کرنا مجھے گوارا نہیں ہے۔“
دشمنوں کو پھر سے سمجھانا ہے
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے ایک بار پھر دشمنوں کو سمجھانے کی کوشش کی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک گھوڑا تھا جس کا نام لاحق تھا۔ اُس گھوڑے پر آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے بڑے بیٹے علی (اکبر ) بن حسین رضی اللہ عنہ کو سوار کیا۔ جب دشمن آگے بڑھے تو آپ رضی اللہ عنہ نے ایک اونٹ منگوایا اور اس پر سوار ہو کر آگے بڑھے اور بلند آواز سے جسے سب لوگوں نے سنا دشمنوں سے فرمایا: ”اے لوگو! میری بات سن لو! میرے ساتھ جلدی نہ کرو اور جو باتمیں تم سے کہنا ضروری ہیں مجھے کہہ لینے دو۔ تم لوگوں کے پاس آنے کا مجھے عذر کر لینے دو۔ اگر تم میرا عذر مان لو گے، میری بات کو سچ سمجھو گے، میرے ساتھ انصاف کرو گے تو تم نیکی کرو گے اور اگر میرا عذر نہیں مانتے اور میرے ساتھ انصاف نہیں کرتے تو پھر مجھ پر الزام نہیں دھر سکو گے ۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ” پھر جو تمہارا ارادہ ہو اُس پر آمادہ ہو جاؤ۔ اپنے شرکاء کو پکارو اور اچھی طرح سمجھ لو کہ اب کوئی تر دو تو تم کو نہیں ہے۔ پھر میرے ساتھ جو سلوک کرنا چاہتے ہو کر گذرو اور مجھے ذرا بھی مہلت نہ دو۔ میرا سہارا تو صرف اللہ تعالیٰ پر ہی ہے جس نے کتاب کو نازل کیا ہے۔ وہی تو نیک بندوں کو دوست رکھتا ہے ۔“ آپ رضی اللہ عنہ کی بات جب آپ رضی اللہ عنہ کی بہنوں نے سنا تو چلا چلا کر رونے لگیں۔ اُن کی آواز سن کر آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی حضرت عباس بن علی رضی اللہ عنہ اور بیٹے حضرت علی (اکبر ) بن حسین رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ” انہیں چپ کر اؤ ، ابھی تو انہیں بہت رونا ہے ۔ وہ دونوں حضرات عورتوں کی طرف گئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کیا بات کہی تھی ۔ یعنی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے آپ رضی عنہ کو منع کیا تھا کہ اپنے اہل و عیال کو لیکر نہ جائیں ۔ اب اُن کے رونے کی آواز سن کر آپ رضی اللہ عنہ کو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا وہ کہنا یاد آ گیا۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!




