پیر، 2 ستمبر، 2024

Saltanat e Umayya part 24


 24 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 24

اہل بیت کی مدینہ منورہ روانگی، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خیر مدینہ منورہ میں، حضرت عبد اللہ بن جعفر طیار رضی اللہ عنہ کا صبر، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت پر مدینہ منورہ میں آواز، شہادت کا حکم نامہ واپس نہیں کیا، آپ ﷺ کی اُمت اسے شہید کرے گی، میرا بیٹا یہاں شہید ہوگا، میں کربلا میں تھا، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی قبر، جس نے حسن، حسین سے محبت کی اُس نے مجھ سے محبت کی، جو تم سے جنگ کرے گا میں اُس سے جنگ کروں گا، جنت کے نو جوانوں کے سردار، 



اہل بیت کی مدینہ منورہ روانگی


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے اہل بیت کی مدینہ منورہ روانگی کے تمام انتظامات مکمل ہو گئے تو یزید نے انہیں روانہ کر دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب ان لوگوں نے روانہ ہونے کا ارادہ کیا تو یزید نے حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا اور اُن سے کہا : اللہ مرجانہ کے بیٹے پر لعنت کرے ! اللہ کی قسم ! اگر حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) میرے پاس آتے تو جس بات کی وہ مجھ سے درخواست کرتے میں وہی کرتا۔ اُن کو ہلاک ہونے سے جس طرح بھی بن پڑتا میں بچا لیتا چاہے اس میں میری اولاد میں سے کوئی تلف ہو جاتا تو ہوجاتا۔ لیکن اللہ کو یہی منظور تھا جو تم نے دیکھا تمہیں جس بات کی ضرورت ہو مجھے خبر کرنا میرے پاس لکھ کر بھیجنا۔ پھر یزید نے ان سب کو کپڑے دیئے اور ان کے لئے ایک راہ نما مقرر کر دیا جس کا نام بدرقہ تھا۔ یہ تمام اہل بیت کو لیکر روانہ ہوا۔ سفر کے دوران قافلہ کے ساتھ اس طرح رہتا تھا کہ سارا قافلہ اس کی نگاہ میں رہے اور جب پڑاؤ ڈالتے تھے تو کنارے ہو جایا کرتا تھا۔ خود وہ بھی اور اُس کے ساتھی بھی ہر سمت قافلہ کے ارد گرد پھیل جاتے تھے جو طریقہ پاسبانوں کا ہوتا ہے۔ وہ اور اس کے ساتھی علیحدہ پڑاؤ ڈالتے تھے کہ اگر کوئی شخص وضو کرنا چاہے یا رفع حاجت کے لئے جانا چاہے تو اُسے کچھ بھی زحمت نہ ہو۔ اس طرح اُن لوگوں کو راحت پہنچا تا ہوا اُن کی ضرورتوں کو پوچھتا ہوا اور ان کے ساتھ مہربانی سے پیش آتا ہوا سب کولیکر مدینہ منورہ آیا سیدہ فاطمہ بنت علی رضی اللہ عنہا نے اپنی بڑی بہن سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا سے عرض کیا: ”پیاری بہن! یہ شامی شخص ہمارے ساتھ سفر میں بہت خوبیوں کے ساتھ پیش آیا ہے اسے کچھ انعام دے دیں۔ سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ” میرے پاس اس کنگن کے سوا کچھ نہیں ہے جو اسے انعام میں دوں۔ سیدہ فاطمہ بنت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” اچھا ہم دونوں اپنے اپنے کنگن اسے انعام میں دے دیتے ہیں“۔ دونوں بہنوں نے اپنے اپنے کنگن اُتار کر بدرقہ کے پاس بھیجے ۔ اُس نے عذر کے ساتھ کنگن واپس بھیج دیئے۔ دونوں بہنوں نے کہلا بھیجا: "راستے میں تم جس خوبی سے ہمارے ساتھ پیش آئے ہو یہ اس کا صلہ ہے۔ اُس نے جواب میں کہا: ” میں نے آپ لوگوں کی جو خدمت کی ہے اگر دنیا کی طمع میں کی ہوتی تو آپ کے اس زیور سے بلکہ اس سے بھی کم میں خوش ہو جا تا۔ لیکن اللہ کی قسم ! میں نے جو خدمت کی ہے وہ اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی جو قرابت ہے اُس کے خیال سے کی ہے۔ 


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خیر مدینہ منورہ میں


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو دس (10) محرم الحرام 61 ھجری عاشورہ کے دن شہید کیا گیا تھا۔ جب عبید اللہ بن زیاد کو آپ رضی اللہ عنہ کے شہید ہونے کی خبر ملی تو اُس نے فوراً اپنے قاصد کو مدینہ منورہ یہ خبر دینے کے لئے روانہ کیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: عبید اللہ بن زیاد نے جب حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو شہید کیا اور اُن کا سر اُس کے پاس آگیا تو اُس نے عبد الملک سلمی کو بلا کر حکم دیا کہ وہ خود مدینہ منورہ جاکر وہاں کے گورنر عمرو بن سعید کو خبر دے۔ عبدالملک نے اس حکم کو ٹالنا چاہا لیکن عبد اللہ بن زیاد تو ناک پر کھی نہیں بیٹھنے دیتا تھا۔ اس نے عبدالملک کو جھڑک دیا اور بولا: ” بھی جا اور مدینہ منورہ تک خود کو پہنچا اور دیکھ تجھ سے پہلے یہ خبر وہاں پہنچنے نہیں پائے“۔ پھر کچھ دینار سے عطا کئے اور تاکید کی کہ ذرا بھی ستی نہیں کرنا اور اگر تیرا ناقہ (اونٹ) راستے میں رہ جائے تو دوسرا ناقہ خرید لینا۔ عبدالملک جب مدینہ منورہ پہنچا اور اُسے قریش کا ایک شخص ملا اور پوچھا: ” کیا خبر ہے؟ عبدالملک نے جواب دیا: ” خبر میر ( گورنر) کو بتانے والی ہے ۔ یہ سن کر قریشی نے کہا: " حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون“۔ عبدالملک اب عمرو بن سعید کے پاس آیا ۔ دیکھتے ہی اُس نے پوچھا: ”وہاں کی کیا خبر لایا ہے؟ اس نے کہا: ” تمہارے خوش ہونے کی خبر ہے ۔ حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) شہید ہو چکے ہیں۔ عمرو بن سعید نے کہا: ” اس خبر کی منادی کر دے ۔ عبدالملک نے مدینہ منورہ میں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے شہید ہونے کا اعلان کر دیا۔ اس کوسن بنو ہاشم کی خواتین نے اپنے اپنے گھروں میں نوحہ اور ماتم کرنا شروع کر دیا۔ یہ سن کر عمرو بن سعید نے کہا: ” حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے شہید ہونے پر جو فریاد اور زاری ہوئی تھی یہ نوحہ اور ماتم اس کے بدلہ میں ہے ۔ اس کے بعد عمرو بن سعد منبر پر گیا اور لوگوں کوحضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر تفصیل سے بیان کی۔ 


حضرت عبد اللہ بن جعفر طیار رضی اللہ عنہ کا صبر


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت عبداللہ بن جعفر طیار رضی اللہ عنہ کے دو بیٹے بھی شہید ہوئے تھے۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر کے ساتھ ساتھ اُن کے دونوں بیٹوں کی شہادت کی خبر بھی ملی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت عبداللہ بن جعفر طیار کے پاس جب اُن کے دونوں بیٹوں کے شہید ہونے کی اطلاع ملی تو سب لوگ انہیں پرسہ دینے کے لئے آئے ۔ اُن میں حضرت عبد اللہ بن جعفر طیار رضی اللہ عنہ کا آزاد کردہ غلام ابوالسلاس بولا: یہ مصیبت ہم پر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے ڈالی ہے ۔ حضرت عبداللہ بن جعفر طیار رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر اُسے جوتا کھینچ کر مارا اور فرمایا: او پسر لختار! حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے بارے میں ایسی بات کہتا ہے۔ اللہ کی قسم ! اگر میں خود وہاں ہوتا تو اُن سے ہر گز جدا نہیں ہوتا اور یہی چاہتا کہ اُن سے پہلے میں شہید ہو کر اپنی جان اُن پر نچھاور کر دوں۔ اللہ کی قسم ! وہ ایسے ہیں کہ ان دونوں بیٹوں کے ساتھ میں بھی اپنی جان اُن پر فدا کر دیتا۔ میں اپنے دونوں بیٹوں کی شہادت کو مصیبت نہیں سمجھتا ہوں بلکہ انہوں نے میرے بھائی میرے چچازاد بھائی کے ساتھ اُن کی رفاقت میں صبر و رضا کے ساتھ اپنی جان دی ہے ۔ یہ فرما کر اپنے ہم نشینوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ جس نے ہمیں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت میں سے حصہ نصیب فرمایا کہ حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی نصرت میرے ہاتھ سے نہیں ہوئی تو کم سے کم میرے بیٹوں سے تو ہوئی ہے۔


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت پر مدینہ منورہ میں آواز


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت سے زمین و آسمان لرز گئے اور زمین کے نیک لوگوں اور آسمان کی تمام مخلوق نے آپ رضی اللہ عنہ کے قاتلوں پر لعنت کی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب اہل مدینہ منورہ کو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر ملی تو سیدہ اُم لقمان بنت عقیل رضی اللہ عنہا اپنے خاندان کی خواتین کو لئے ہوئے نکلیں ۔ وہ اپنی چادر کو لپٹتے ہوئے کہتی جا رہی تھیں: ”لوگو! اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا جواب دو گے؟ جب وہ پوچھیں گے کہ تم پیغمبر آخر الزماں کی اُمت ہو کر میری عزت اور میرے اہل بیت کے ساتھ میرے بعد کیا سلوک کیا ؟ کہ اُن میں سے کچھ اسیر ہیں اور کچھ خون آلودہ ہیں ۔ جس روز حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ شہید ہوئے اُسی دن صبح کو مدینہ منورہ میں یہ آواز آئی: ” حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قاتلو ! تم کو عذاب اور رسوائی مبارک ہو۔ تمام اہل آسمان ملائکہ اور انبیاء تم پر لعنت کر رہے ہیں ۔ تم پر حضرت موسیٰ، حضرت داؤ د اور حضرت عیسی علیہم السلام نے بھی لعنت کی ہے۔ عمرو بن عکرمہ کہتا ہے : ”میں نے یہ آواز سنی۔ اور عمرو بن خیر دم کلبی کہتا ہے : ” میرے والد محترم نے بھی یہ آواز سنی ہے۔


شہادت کا حکم نامہ واپس نہیں کیا


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کا حکم جس خط میں عبید اللہ بن زیاد نے عمر بن سعد کو دیا تھا۔ اُس حکم نامے کو اُس نے واپس مانگا تو عمر بن سعد نے واپس دینے سے انکار کر دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: عبید اللہ بن زیاد نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے شہید ہونے کے بعد عمر بن سعد سے وہ خط مانگا جس میں اُس نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کا حکم دیا تھا۔ عمر بن سعد نے کہا: ” میں تیرے حکم کو پورا کرنے میں مصروف تھا اس لئے وہ خط ضائع ہو گیا ہے۔ عبید اللہ بن زیاد نے کہا: نہیں میرا حکم نامہ تمہارے پاس ہے وہ مجھے واپس دو۔ عمر بن سعد نے پھر انکار کیا تو عبید اللہ بن زیاد نے پھر اصرار کیا۔ آخر عمر بن سعد نے کہا: اللہ کی قسم وہ حکم نامہ میں نے اس لئے محفوظ کر رکھا ہے کہ وہ مدینہ منورہ کے لوگوں کے سامنے معذرت کے طور پر پڑھا جائے گا۔ سُن ! میں نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں تجھ سے ایسے ایسے خیر خواہی کے کلمات کہے تھے کہ اگر میں یہ کلمات اپنے والد محترم حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے کہتا تو اُن کا حق ادا کر دیا ۔ یہ سن کر عبید اللہ بن زیاد کا بھائی عثمان بن زیاد بولا: میں تو کہتا ہوں کہ ہم حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو شہید نہیں کرتے چاہے اس کے بدلے میں ہنوز یاد کی ناک میں تنکیل ہی کیوں نہ چڑھا دی جاتی ۔ عبید اللہ بن زیاد نے یہ بات سن کر برا نہیں مانا۔


آپ ﷺ کی اُمت اسے شہید کرے گی


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے شہید ہونے کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے ہی بتا دیا تھا۔ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بارش کے فرشتے نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آنے کی اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی اور ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ” دروازے پر نگرانی کرنا کوئی شخص ہمارے پاس نہ آنے پائے“۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر چڑھنے لگے۔ فرشتے نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے محبت کرتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ! میں اس سے محبت کرتا ہوں“۔ فرشے نے عرض کیا ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت اسے شہید کر دے گی اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں تو میں وہ جگہ آپ لی اللہ علیہ وسلم کو دکھا دوں جہاں یہ شہید ہوگا ۔ اُس فرشتے نے اپنا ہاتھ مارا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سرخ مٹی دکھائی ۔ ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ نے وہ مٹی لے لیا ور محفوظ کر کے رکھ لیا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ ہم سنا کرتے تھے کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کربلا میں شہید ہوں گے۔ حضرت انس بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میرا یہ بیٹا حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ ارض کربلا میں شہید ہوگا اور تم میں سے جو شخص اس موقع پر موجود ہو وہ اس کی مدد کرے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ حضرت انس بن حارث رضی اللہ عنہ کربلا کی طرف گئے اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ شہید ہوئے تھے ۔“


میرا بیٹا یہاں شہید ہوگا


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کہاں شہید ہوں گے اس بارے میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بھی جانتے تھے ۔ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں: عبداللہ بن بیٹی کے والد سے روایت ہے کہ میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ روانہ ہوا اور میں آپ رضی اللہ عنہ کا کوزہ بردار تھا۔ جنگ صفین کے لئے جاتے ہوئے آپ رضی اللہ عنہ نینوٹی" کے قریب سے گذرے تو مجھے آواز لگائی: ” اے ابو عبد اللہ اکٹھہر جاؤ! اے ابو عبداللہ ! دریائے فرات کے کنارے ٹھہر جاؤ ۔ میں نے پوچھا: ” آپ رضی اللہ عنہ کیا کہنا چاہتے ہیں ؟“ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” ایک روز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو ہیں ۔ میں نے عرض کیا : "یارسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم اس بات نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لا دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابھی جبرئیل علیہ السلام میرے پاس سے اُٹھ کر گئے ہیں اور انہوں نے مجھے بتایا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ دریائے فرات کے کنارے شہید ہوں گے اور یہ بھی کہا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی مٹی سنگھا دوں“۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے فرمایا: ” اس نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور ایک مٹھی مٹی پکر کر مجھے دے دی اور میں اپنے آنسوؤں کا ضبط نہیں کر سکا ۔ امام محمد بن سعد لکھتے ہیں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جنگ صفین کے لئے جاتے ہوئے اندرائین کے پودوں کے پاس ” کربلا سے گذرے تو اس کا نام دریافت کیا تو بتایا گیا کہ اس جگہ کا نام "کربلا" ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "کرب اور بلاء ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے وہاں پڑاؤ ڈالنے کا حکم دے دیا اور وہاں ایک درخت کے پاس نماز پڑھی پھر فرمایا: ”یہاں شہداء شہید ہوں گے جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے علاوہ بہترین شہداء ہوں گے اور وہ جنت میں بغیر حساب کے داخل ہوں گے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے وہاں ایک جگہ پر اشارہ کیا جو لوگوں نے یادرکھا اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ وہیں شہید ہوئے۔


میں کربلا میں تھا


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو جب اُن کے ساتھیوں کے ساتھ کربلا میں شہید کیا جارہا تھا تو اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کربلا میں موجود تھے۔ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میں دو پہر میں قیلولہ کے وقت سو یا ہوا تھا کہ خواب میں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کو پراگندہ اور غبار آلود حالت میں دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں شیشی ہے جس میں خون ہے۔ میں عرض کیا : "یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "یہ حسین اور اُس کے ساتھیوں کا خون ہے جسے میں جمع کر رہا تھا۔ علی بن زید بن جدعان بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نیند سے بیدار ہوئے اور اناللہ وانا الیہ راجعون ، فرمایا۔ ہم نے وجہ پوچھی تو فرمایا : اللہ کی قسم ! حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے ہیں ۔ “ ہم نے پوچھا: ” آپ رضی اللہ عنہ کو کیسے معلوم ہوا ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک خون کی شیشی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تجھے کیا معلوم ہے؟ کہ میرے بعد میری اُمت نے کیا کیا؟ انہوں نے حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا ہے اور یہ اُس کا اور اُس کے ساتھیوں کا خون ہے۔ میں ان دونوں خونوں کو اللہ کی بارگاہ میں پیش کروں گا ۔ پس جس دن حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ بات فرمائی تھی اُس گھڑی کو ہم نے لکھ لیا اور ابھی چوبیس (۲۴) دن ہی گذرے تھے کہ مدینہ منورہ میں خبر آئی کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اُسی روز اُسی گھڑی کو شہید ہوئے تھے ۔ سیدہ سلمی بیان کرتی ہیں کہ میں ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی تو دیکھا کہ آپ رضی اللہ عنہا رورہی ہیں۔ میں نے پوچھا: ” آپ رضی اللہ عنہا کیوں رو رہی ہیں؟“ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے اور آپ رضی اللہ کے سر اور داڑھی پر مٹی پڑی ہوئی ہے۔ میں نے پوچھا : 'یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپصلی اللہ علیہ وسلم کو کیا ہوا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میں نے ابھی حسین کو شہید ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔“


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی قبر


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی قبر کے بارے میں علمائے کرام نے بتایا کہ وہ دریائے کربلا کے قریب ہے۔ علامہ عمادالدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : بہت سے متاخرین کے نزدیک یہ بات مشہور ہے کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت گاہ دریائے کربلا کے نزدیک طف کے ایک مقام پر ہے اور ابن جریر طبری وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کی شہادت گاہ کا نشان مٹ گیا ہے اور کسی کو اس کی تعیین کے متعلق اطلاع نہیں ہے۔ امام ابو نیم ، الفضل بن دکین اُس شخص پر جو یہ خیال کرتا ہے کہ وہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی قبر کو پہچانتا ہے عیب لگاتے تھے۔ امام ہشام بن کلبی نے بیان کیا ہے کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہعنہ کی قبر پر پانی چھوڑ دیا گیا تھا تا کہ آپ رضی اللہ عنہ کی قبر کا نشان مٹ جائے اور وہ پانی چالیس دن کے بعد خشک ہو گیا اور بنو اسد کا ایک شخص وہاں کی ایک ایک مٹھی مٹی لیکر سونگھنے لگا۔ یہاں تک کہ اُس جگہ پہنچ گیا جہاں آپ رضی اللہ عنہ دفن تھے اور وہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی قبر پر گر پڑا اور رو رو کر کہنے لگا: ” آپ رضی اللہ عنہ پر میرے ماں باپ قربان ہوں ، آپ رضی اللہ عنہ کس قدر خشبو دار ہیں اور آپ رضی اللہ عنہ کی مٹی بھی خوشبودار ہے۔ پھر بولا : ” انہوں نے چاہا تھا کہ آپ رضی اللہ عنہ کی قبر مبارک کو آپ رضی اللہ عنہ کے دشمن سے چھپا دیں اور قبر کی مٹی کی خوشبو نے قبر کا پتہ دے دیا۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے سرکے بارے میں اہل تاریخ اور اہل سیر کے نزدیک مشہور بات یہ ہے کہ اُسے عبید اللہ بن زیاد نے یزید کے پاس بھیج دیا تھا۔ امام محمد بن سعد نے بیان کیا ہے کہ یزید نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا سرمدینہ منورہ کے گورنر عمرو بن سعید کے پاس بھجوا دیا تھا اور اس نے آپ رضی اللہ عنہ کی اوالدہ محترمہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس جنت البقیع میں دفن کر دیا تھا۔


جس نے حسن، حسین سے محبت کی اُس نے مجھ سے محبت کی


 کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں نواسوں حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے بہت محبت کرتے تھے۔ علامہ عمادالدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے ایک عراقی نے اُس محرم ( احرام کی حالت میں) کے بارے میں پوچھا جو کبھی مار دیتا ہے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” اہل عراق کو دیکھو الکبھی مارنے کے بارے میں پوچھتے ہیں حالانکہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری بیٹی رضی اللہ عنہا کے پیارے بیٹے رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حسن اور حسین دونوں میری دنیا کے گلدستے ہیں ۔ “ ایک اور روایت میں حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے ایک عراقی نے کپڑے پر چھر کے خون کے لگ جانے کے بارے میں پوچھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: " اہل عراق کو دیکھو! جو مچھر کے خون کے متعلق دریافت کرتے ہیں حالانکہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی رضی اللہ عنہا کے بیٹے رضی اللہ عنہ کو شہید کیا ہے ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے ان دونوں یعنی حسن اور حسین رضی اللہ عنہم سے محبت کی اُس نے مجھ سے محبت کیا اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا اُس نے مجھ سے بغض رکھا۔


جو تم سے جنگ کرے گا میں اُس سے جنگ کروں گا


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ، خلیفہ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور اپنے دونوں نواسوں حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے اور وقتاً فوقتاً اس کا اظہار بھی کرتے رہتے تھے۔ علامہ عمادالدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ، حضرت حسن بن علی اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہم کی طرف دیکھا اور فرمایا : ” جو تم سے جنگ کرے گا، میں اُس سے جنگ کروں گا اور جو تم سے صلح کرے گا ، میں اُس سے صلح کروں گا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آ رہے ہیں اور حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو اپنے ایک ایک کاندھے پر سوار کیا ہوا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی ایک کو چومتے اور کبھی دوسرے کو چومتے یہاں تک کہ ہمارے پاس پہنچ گئے۔ ایک شخص نے عرض کیا: یارسول للہ صل اللہ علیہ وسلم اللہ کی تم! بے شک آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں سے بہت محبت کرتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ان دونوں سے محبت کی اُس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا اُس نے مجھ سے بغض رکھا۔“


جنت کے نو جوانوں کے سردار


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سارے مواقع پر اپنے دونوں نواسوں حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے بہت زیادہ محبت کا اظہار فرمایا ہے اور ان دونوں کے فضائل بھی بیان فرمائے ہیں۔ اُن میں سے ایک بہت بڑی فضیلت یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو دنیا میں ہی جنتی ہونے کی بشارت دی ہے۔ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: یا رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سے کون شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ محبوب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” حسن بن علی اور حسین بن علی رضی اللہ عنہم سے ۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے : ” میرے دونوں بیٹوں کو بلالا ؤ اور جب حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم آجاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں کو سونگھتے اور اپنے گلے لگا لیتے تھے۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو فرمایا: ”اے اللہ! میں ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں، پس تو بھی ان سے محبت رکھ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "حسن اور حسین رضی اللہ عنہم جنت کے نو جوانوں کے سردار ہیں ۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میری خالہ کے بیٹوں حضرت عیسی علیہ السلام اور حضرت یحیی علیہ السلام کے سوا حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں ۔ “ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ مسجد میں تشریف لائے تو حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھ کرفرمایا: جو شخص جنت کے نو جوانوں کے سردار کو دیکھنا چاہتا ہے وہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو دیکھ لے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سنا ہے ۔“


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!


Saltanat e Umayya part 25


25 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 25


جو شخص مجھ سے محبت کرتا ہے وہ ان دونوں سے بھی محبت کرے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت، مسلم بن زیاد سجستان اور خراسان کا گورنر، حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی یزید کی مخالفت، یزید کی قسم، عمرو بن سعید کی معزولی، ھ61 ہجری کا سب سے بڑا واقعہ، حضرت جابر بن عتیک اور حضرت حمزہ بن عمر واسلمی کا انتقال، حضرت شیبہ بن عثمان بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ کا انتقال، أم المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال، ھ62 ہجری: ولید بن عقبہ کی معزولی، مدینہ منورہ کا وفد اور یزید کا کردار، 



جو شخص مجھ سے محبت کرتا ہے وہ ان دونوں سے بھی محبت کرے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن بن علی اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہم سے محبت کواپنی محب کا پیمانہ بنادیا۔ علامہ عمادالدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کو حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم کے بارے میں فرماتے سنا ہے : ” جو شخص مجھ سے محبت کرتا ہے اُسے چاہئے کہ ان دونوں سے بھی محبت رکھے ۔“ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” میری والدہ محترمہ نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں اس لئے بھیجا کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم میرے لئے اور میری والدہ محترمہ کے لئے دعا فرمادیں۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی۔ پھر عشاء کی نماز پڑھی۔ پھر مسجد سے جانے لگے تو میں بھی پیچھے پیچھے میں جانے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری آہٹ سن کر پوچھا: ” کون ہے؟ حذیفہ ہے؟ میں نے عرض کیا : ”ہاں! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تجھے اور تیری والدہ بخشے تجھے کیا کام ہے؟ یہ ایک فرشتہ آیا ہے جو اس رات سے پہلے زمین پر نہیں آیا تھا۔ اس نے مجھے سلام کرنے اور یہ بشارت دینے کے لئے کہ فاطمہ رضی اللہ عنها جنتی عورتوں کی سردار ہے اور حسن اور حسین رضی اللہ عنہم جنت کے نو جوانوں کے سردار ہیں بتانے کی اجازت طلب کی جو اللہ نے اسے دے دی

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے بہت محبت کرتے تھے ۔ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں: حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم سے بہت محبت کرتے تھے اور اُن دونوں کو اُٹھا لیتے تھے اور اُن کے والد محترم حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے زیادہ محبت کا اظہار فرمایا کرتے تھے۔ ایک دن ملک یمن سے ” حلئے آئے تو خلیفہ دوم رضی اللہ عنہ نے انہیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں تقسیم کر دیا اور حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنم کو نہیں دیا۔ لوگوں نے کہا: ” آپ رضی اللہ عنہ نے حسنین کریمین رضی اللہ عنہم کو نہیں دیا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” ان حلوں میں ان دونوں کے لائق کوئی صلہ نہیں تھا۔ اسی لئے میں نے ان دونوں کو نہیں دیا ۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے ملک یمن کے گورنر کو پیغام بھیجا کہ ان دونوں کے میعار کے مطابق ” حلئے بنوا کر بھیجے ۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ خانہ کعبہ کے سائے میں بیٹھے تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو آتے دیکھا اور فرمایا: ” شخص اہل زمین کو اہل آسمان سے زیادہ محبوب ہے۔

مسلم بن زیاد سجستان اور خراسان کا گورنر

اس سال 61 ہجری میں یزید نے سجستان اور خراسان کے گورنروں کو معزول کر کے مسلم بن زیاد کو وہاں کا گورنر بنا دیا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: اس سال ۶۱ ہجری میں یزید کے پاس مسلم بن یزید آیا تو اُس نے اُسے بجستان اور خراسان کا گورنر بنا دیا اور اُس وقت مسلم بن زیاد کی عمر چوبیس 24 سال تھی۔ یزید نے اُس کے دونوں بھائیوں کو معزول کر دیا اور مسلم بن زیاد اپنی عملداری کی طرف روانہ ہو گیا۔ وہ کمانڈروں اور سواروں کو منتخب کرنے لگا اور لوگوں کو جہاد کی ترغیب دینے لگا۔ پھر وہ ایک لشکر جرار لیکر ترکوں سے جنگ کرنے کے لئے نکلا۔ اُس کے ساتھ اس کی بیوی ام محمد بنت عبد اللہ بن عثمان بن ابی العاص بھی تھی۔ یہ پہلی عرب خاتون تھی جس نے سمندر عبور کیا اور وہاں اُس نے ایک بچے کو جنم دیا جس کا نام صغری رکھا گیا۔ مسلم بن زیاد نے موسم سرما وہیں گزارا اور اس سے پہلے مسلمان موسم سرما وہاں نہیں گزارتے تھے۔ اُس نے لشکر دیکر مہلب بن ابی صفرہ کو شہر خوارزم کی طرف بھیجا۔ اُس نے محاصرہ کر لیا، آخر کار شہر والوں نے میں کروڑ درہم پر صلح کر لی اور وہ اُن سے سامان خریدتا تھا اور چیز کو نصف قیمت پر لیتا تھا اور جو سامان اُس نے لیا اُس کی قیمت پچاس کروڑ درہم تک پہنچ گئی ۔ جس کی وجہ سے مہلب کو مسلم بن زیاد کے یہاں رتبہ حاصل ہو گیا۔ اُس نے چنندہ چیزوں کو یزید کے پاس روانہ کیا۔ اس جنگ میں مسلم بن زیاد نے اہل سمرقند کے ساتھ بہت سے مال کی شرط پر صلح کر لی۔

حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی یزید کی مخالفت

حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے شہید ہونے کے بعد حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ جو مکہ مکرمہ میں قیام پذیر تھے یزید کی مخالفت پر کھل کر سامنے آگئے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اس سال ۶۱ ہجری میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے یزید کی مخالفت کی اور اُس کی حکومت سے خلع لے لیا اور لوگوں سے بیعت لی۔ جب حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے تو حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اہل مکہ کے سامنے تقریر کی اور حمد وصلوٰۃ کے بعد فرمایا: ” اہل عراق چندلوگوں کے سوا سب کے سب غدار اور بدکار ہیں اور اہل عراق میں سے اہل کوفہ بدترین ہیں۔ انہوں نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو بلایا کہ اُن کی مدد کریں گے اور اُن کو اپنا فرمانروا بنا ئیں گے۔ جب وہ اُن کے پاس گئے تو وہ اُن سے لڑنے کو کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے کہ یا تو اپنا ہاتھ ہمارے ہاتھ میں دے دو۔ ہم تمہیں بغیر لڑے بھڑے عبید اللہ بن زیاد ابن شمیہ کے پاس بھیج دیں گے کہ وہ تمہارے ساتھ جو سلوک کرنا چاہے کرے۔ نہیں تو ہم سے جنگ کرو۔ اللہ کی قسم! حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اس بات کو نہیں سمجھے کہ اس انبوہ کثیر لشکر کے سامنے وہ اور اُن کے ساتھی تھوڑے سے ہیں۔ لیکن وہ عزت سے شہید ہو جانا اس ذلت کی زندگی سے بہتر سمجھے۔ اللہ تعالیٰ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے اور اُن کے قاتلوں کو ذلیل کرے۔ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اُن لوگوں کی حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی مخالفت کرنا اور نافرمانی ظاہر کرنا متنبہ ہو جانے کے لئے کافی تھا لیکن جو مقدر میں ہے وہ ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ جس بات کا ارادہ کر لیتا ہے وہ نہیں ملتی ہے۔ کیا حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد بھی ہم اُن لوگوں کی طرف سے اطمینان رکھ سکتے ہیں؟ کیا اُن کی بات کو ہم مان سکتے ہیں؟ کیا اُن کے عہد و پیمان کو ہم قبول کر سکتے ہیں؟ نہیں! نہیں ! ہم انہیں اس لائق نہیں سمجھتے ہیں۔ سنو! اللہ کی قسم ! اُن لوگوں نے ایک ایسے شخص کو شہید کیا ہے جو زیادہ تر قیام اللیل ( راتوں میں نماز میں قیام ) اور اکثر صائم النہار ( دن میں روزے رکھنے والے تھے اور اُن سے بڑھ کر ریاست کا حق دار اور دین و فضل میں امارت کا حقدار کوئی نہیں تھا۔ اللہ کی قسم! وہ ایسے نہیں تھے کہ قرآن کے بدلے غنا کریں اور اللہ کے خوف میں رونے کے بجائے گیت گایا کریں۔ وہ ایسے نہیں تھے کہ روزے چھوڑ کر شراب پیئیں اور حلقہ وذکر کو چھوڑ کر شکار کرنے کے لئے نکل جائیں ۔“ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی تقریرین کر اُن کے اصحاب اُن کی طرف دوڑے اور اور کہا کہ آپ رضی اللہ عنہ اپنی بیعت کا اعلان کریں ۔ جب حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ ی نہیں رہے تو کون ہے جو آپ رضی اللہ عنہ سے امر خلافت میں نزاع کرے گا ؟ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ لوگوں سے خفیہ بیعت لینے لگے اور اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ ابھی جلدی نہ کرو ۔ اس وقت عمرو بن سعید مکہ کرمہ اور مدینہ منورہ کا گورنرتھا۔ علامہ عمادالدین ابن کثر لکھتے ہیں: حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تم انہوں نے اُس شخص کو شہید کیا ہے جو دن کو روزے رکھتا تھا۔ اللہ کی قسم! وہ قرآن کے بدلے میں گانے اور کھیل کو پسند نہیں کرتا تھا اور اللہ کے خوف سے رونے کے بدلے میں لغو اور حدی کو پسند نہیں کرتا تھا اور روزوں کے بدلے میں شراب نوشی اور حرام کھانے کو پسند نہیں کرتا تھا اور ذکر کے حلقہ میں بیٹھنے کے بجائے شکار کی تلاش کرنے کو پسند نہیں کرتا تھا۔ یہ فرما کروہ یزید پر تعریض کر رہے تھے ۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ لوگوں کو بنو امیہ کے خلاف متحد کرنے گے اور انہیں یزید کی مخالفت کرنے اور اُسے معزول کرنے کی ترغیب دینے لگے۔

یزید کی قسم

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی سرگرمیوں کے بارے میں یزید کے جاسوسوں نے خبر دی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب یزید کو پختہ طور پر یہ بات معلوم ہوگئی کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے مکہ مکرمہ میں لوگوں کو جمع کیا ہے تو اُس نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا اور قسم کھائی کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کوضرور زنجیروں میں جکڑوں گا۔ اُس نے ایک چاندی کی زنجیر بھی بھیجی۔ قاصد مدینہ منورہ سے ہوتا ہوا گذرا، یہاں مروان بن حکم سے ملاقات ہوئی۔ اُس نے زنجیر لے کر آنے کا سبب پوچھا تو قاصد نے بتا دیا۔ مروان بن حکم نے کسی شاعر کا یہ شعر پڑھا: ” اُسے گوارا کرنا چاہیئے ۔ ایک زبر دست کے کسی فعل پر کمز ور و نا تواں شخص کو گفتگو کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ اب وہ قاصد یہاں سے روانہ ہوا اور یزید کی قسم اور مروان کے شعر کے بارے میں بتایا۔ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم ! میں کمزور و نا تواں شخص نہیں ہوں ۔ “ اور خوبی سے قاصد کو واپس کر دیا۔ اس کے بعد مکہ مکرمہ میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی شان بلند ہوگئی۔ مدینہ منورہ والوں نے بھی آپ رضی اللہ عنہ سے خط و کتابت کی ۔ لوگ کہا کرتے تھے کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے نہیں رہنے سے حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ خلافت کے حقدار ہیں۔

عمرو بن سعید کی معزولی

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ پر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کا گورنز عمرد بن سعید سحتی بھی کرتا تھا اور آپ رضی اللہ عنہ کی خاطر مدارت بھی کرتا تھا۔ اس کے بارے میں لوگوں نے یزید کو بتایا تو اس نے عمرو بن سعید کو معزول کر دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: عمرو بن سعید نے جب دیکھا کہ لوگ حضرت عبداللہ بن زبیر کی طرف مڑ رہے ہیں اور اُن کے سامنے گردنیں جھکا رہے ہیں تو سمجھا کہ اُن کا داؤ چل جائے گا۔ اس خیال سے اُس نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا۔ یہ کئی سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں گزار چکے ہیں اور اپنے والد کے ساتھ ملک مصر میں کئی سال گزار چکے ہیں اور وہیں انہوں نے حضرت دانیال علیہ السلام کی کتاب بھی پڑھی تھی اور قوم قریش اُن کا شمر علماء میں کرتی تھی ۔ عمرو بن سعید نے اُن سے پوچھا : ” مجھے بتائیے کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا میاب ہوں گے یا نہیں ؟ اور ہمارے خلیفہ یزید کا کیا انجام ہونے والا ہے ؟ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "یزید آن بادشاہوں میں سے ہے جو مرتے دم تک بادشاہ رہے عمرو بن سعید پر اس بات کا یہ اثر ہوا کہ وہ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے اور زیادہ تختی سے پیش آنے لگا مگر اس کے ساتھ ساتھ آپ رضی اللہ عنہ کی خاطر مدارت بھی کرتا رہا۔ ادھر ملک شام میں یزید کے پاس ولید بن عقبہ تھا۔ اس نے اور بنو امیہ کے دوسرے لوگوں نے کہا : ” امیر المومنین ! اگر عمرو بن سعید چاہتا تو ابھی تک حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کوگرفتار کر کے تمہارے پاس بھیج چکا ہوتا۔ یزید نے ولید بن عقبہ کو حجاز ( جس میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ بھی آتے ہیں) کا گورنر بنا کر روانہ کیا اور عمرو بن سعید کو معزول کر دیا۔ یہ 61 ہجری کا واقعہ ہے اور ذی الحجہ میں عمرو بن سعید معزول ہوا اور ولید بن عقبہ بن ابی سفیان گورنر بنا اور اسی نے لوگوں کو حج کرایا۔

ھ61 ہجری کا سب سے بڑا واقعہ

اس سال 61 ہجری میں دنیا کا سب سے بڑا واقعہ پیش آیا اور 10 محرم الحرام یوم عاشورہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے نواسے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو اُن کے بیٹوں ،بھتیجوں، بھانجوں اور ساتھیوں کے ساتھ نہایت بیدردی سے شہید کر دیا گیا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ اہل بیت کے دس پندرہ اشخاص کو کربلا میں شہید کیا گیا اور بعض کا قول ہے کہ اہل بیت میں سے ہیں پچیسں آدمیوں کو شہید کیا گیا جیسا کہ پہلے بیان کیا جاچکا ہے اور ان کے ساتھ بہادروں اور سواروں کی ایک جماعت کو بھی شہید کیا گیا۔

حضرت جابر بن عتیک اور حضرت حمزہ بن عمر واسلمی کا انتقال

اس سال 61 ہجری میں حضرت جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ اور حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت ابو عبداللہ جابر بن عتیک انصاری رضی اللہ عنہ بدری صحابی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے غزوہ بدر میں شرکت کی تھی اور وفتح مکہ کے روز آپ رضی اللہ عنہ انصار کے علم دار تھے۔ امام ابن جوزی نے بیان کیا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کا اس سال یعنی الہ ہجری میں انتقال ہوا۔ ان کے علاوہ حضرت حمزہ بن عمر و سلمی رضی اللہ عنہ کا انتقال بھی اسی سال ہوا۔ صحیحین میں اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت حمزہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں بہت روزے رکھتا ہوں، کیا میں سفر میں بھی روزہ رکھا کرو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " چاہوتو رکھ لو اور چاہو تو نہیں بھی رکھو۔“ آپ رضی اللہ عنہ نے ملک شام کی فتح میں بھی شمولیت کی اور جنگ اجنادین میں آپ رضی اللہ عنہ ہی خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس فتح کی بشارت لیکر آئے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ہی حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو بشارت دی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ رضی اللہ عنہ کو معاف فرما دیا ہے تو انہوں نے اپنے دونوں کپڑے انہیں دے دیئے تھے اور امام بخاری نے اپنی تاریخ میں جید اسناد کے ساتھ آپ رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہم ایک تاریک رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ انہوں نے سامان اکٹھا کرنے کے لئے میری انگلی روشن کر دی۔ یہاں تک کہ میں نے سب لوگوں کا سامان اکٹھا کر لیا ۔ مورخین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال 61 ہجری میں ہوا ہے۔

حضرت شیبہ بن عثمان بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ کا انتقال

اس سال اللہ ہجری میں حضرت شیبہ بن عثمان بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : آپ رضی اللہ عنہ خانہ کعبہ کے کلید بردار ( چابیاں سنبھالنے والے) تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے باپ کو غزوہ اُحد میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کافر کی حالت میں قتل کیا تھا۔ حضرت شیبہ رضی اللہ عنہ نے فتح مکہ کے دن اسلام قبول کیا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے غزوہ حنین میں شرکت کی اور ارادہ تھا کہ غفلت کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پرحملہ کر دوں گا۔ اللہ تعالی نے رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دے دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اُن کے ارادے کی خبر دے دی ۔ یہ دیکھ کر آپ رضی اللہ عنہ نے بچے دل سے اسلام قبول کیا اور غزوہ حنین میں ثابت قدم رہنے والوں میں سے رہے۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” میں ہمیشہ کہا کرتا تھا کہ اگر سب لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئیں گے تب بھی میں ایمان نہیں لاؤں گا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا اور غزوہ حنین کے لئے بنو ہوازن کی طرف روانہ ہوئے تو میں اس اُمید پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گیا کہ موقع ملنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تمام قریش کا بدلہ لے لوں گا۔ راستے میں ایک جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ ڈالنے کا حکم دیا اور لوگ روز مرہ کے کاموں میں مصروف ہو گئے اور میں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مارنے کے لئے تلوار سونت لی۔ پس میں نے ایک آگ کا شعلہ دیکھا جو بہت تیزی سے میری طرف بڑھ رہا تھا اور قریب تھا کہ مجھے جلا دے۔ اُسی وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اے شیبہ !میرے قریب آؤ میں قریب گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر ہاتھ رکھا اور فرمایا: ”اے اللہ ! اسے شیطان سے پناہ دے اللہ کی قسم! ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے سے ہاتھ نہیں ہٹایا تھا کہ مجھے ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہو گئے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جاؤ اور جا کر لڑو میں دشمن کی طرف بڑھا۔ اللہ کی قسم ! اگر اس وقت مجھے میرا کا فر باپ بھی ملتا تو میں اُسے بھی قتل کر دیتا۔ اور جب جنگ کے بعد ہم سب اپنی اپنی جگہوں پر واپس آگئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سے فرمایا: ”اے شیبہ! اللہ تعالیٰ نے تیرے متعلق جو ارادہ فرمایا ہے وہ اس ارادے سے بہت بہتر ہے جو تو نے اپنے متعلق کیا تھا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وہ ساری بات بتائی جو میرے دل میں تھی اور جو میں نے سوچی تھی اور جس پر اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی مطلع نہیں تھا۔ پس میں نے تشہد پڑھا اور عرض کیا: "یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میںاللہ تعالیٰ سے بخشش کا طلبگار ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی نے تجھے بخش دیا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے عثمان بن طلحہ کے بعد ” حجابت سنبھالی اور آج تک آپ رضی اللہ عنہ کے بیٹوں اور گھر میں حجابت قائم ہے اور بنوشی بہ آپ رضی اللہ عنہ کی طرف ہی منسوب ہیں اور وہی خانہ کعبہ کے دربان ہیں۔

أم المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال

اس سال 61 ہجری میں اُم المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا۔ اس سال کی شروعات میں یعنی پہلے مہینے میں حضرت حسین ب علی رضی اللہ عنہ شہید ہوئے اور آپ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے کچھ مہینوں بعد ہی اُم المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا نام ہند بنت ابی اُمیہ حذیفہ ہے اور بعض نے سہل بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم بیان کیا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہا قبیلہ قریش کے خاندان بنو مخزوم سے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہا کا پہلا نکاح اپنے چچازاد حضرت ابوسلمہ بن عبد الاسد رضی اللہ عنہ سے ہوا تھا اور دونوں اولین اسلام قبول کرنے والوں میں سے ہیں۔ مدینہ منورہ ہجرت کی اور دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے۔ ایک دن حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سن کر آئے اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس کسی مسلمان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے اور وہ کہتا ہ انا للہ وانا الیہ راجعون ! اے اللہ! مجھے میری مصیبت سے پناہ دے اور میرا اس سے بہتر قائم مقام بنا دے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اُس سے بہتر عطا فرماتا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ” جب حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا تو میں نے یہی بات کہی اور سوچا کہ حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے بہتر کون ہوسکتا ہے؟ جبکہ وہ پہلے ہجرت کرنے والے ہیں۔ پھر اللہ کی مشیت سے میں نے وہی کلمات کہے جو مجھے حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے بتائے تھے تو اللہ تعالیٰ نے اُس کے بدلے میں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمایا دیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا سے نکاح کر لیا اور آپ رضی اللہ عنها ”اُم المومنین بن گئیں ۔ آپ رضی اللہ عنہا بہت حسین اور عبادت گزار تھیں۔ بعض علمائے کرام نے بتایا کہ آپ رضی اللہ عنہا کا انتقال 59 ہجری میں ہوا۔ میں (علامہ ابن کثیر ) کہتا ہوں کہ آپ رضی اللہ عنہا کا انتقال حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے شہید ہونے کے بعد ہوا ہے۔

ھ62 ہجری: ولید بن عقبہ کی معزولی

ہجری کے آخری مہینے ذی الحجہ میں یزید نے عمرو بن سعید کو معزول کر کے ولید بن عقبہ کو حجاز کا گورنر بنایا تھا لیکن کچھ ہی مہینوں بعد ہ ہجری میں اسے معزول کر کے عثمان بن محمد ابی سفیان کو گورنر بنا دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: ولید بن عتبہ مسلسل حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی فکر میں رہا۔ مگر اُس نے دیکھا کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نہایت کثیر الحذر " ہیں اور اپنی حفاظت کئے ہوئے ہیں ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے شہید ہونے کے بعد نجدہ بن عامر نے بھی ہمامہ میں یزید کی مخالفت شروع کر دی تھی ۔ ادھر مکہ مکرمہ میں حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بھی مخالفت کر رہے تھے۔ حج کے ایام میں ولید بن عتبہ نے مسلمانوں کو حج کرایا اور جب وہ عرفات سے روانہ ہوا تو مسلمان بھی اُس کے ساتھ روانہ ہوئے ۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ٹھہرے رہے اور پھر بعد میں اپنے ساتھیوں کو لیکر روانہ ہوئے۔ نجدہ بن عامر بھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ الگ روانہ ہوا اور کوئی بھی کسی کی اتباع نہیں کر رہا تھا۔ لیکن نجدہ اکثر حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے ملتا رہتا تھا جس کی وجہ سے لوگوں کو گمان ہوا کہ وہ بھی حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لے گا۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے یزید کو خط لکھا کہ تو نے یہاں کس بے وقوف کو بھیج دیا ہے جو کسی عقل کی بات پر توجہ ہی نہیں کرتا ہے اور کسی عاقل کے سمجھانے سے باز نہیں آتا ہے۔ اگر کسی خوش اخلاق و تواضع پسند آدمی کو یہاں بھیجتا تو مجھے امید تھی کہ بہت سی دشواریاں آسان ہو جا تیں اور تفرقہ اُٹھ جاتا۔ اس بارے میں غور کر کہ اسی میں خواص و عام کی بہتری ہے۔ یزید نے اُن کا خط پڑھا تو ولید بن عقبہ کو معزول کر کے عثمان بن محمد بن ابی سفیان کو حجاز کا گورنر بنا دیا۔ یہ نوجوان تھا اور ولید بن عقبہ سے بھی زیادہ بے وقوف تھا۔

مدینہ منورہ کا وفد اور یزید کا کردار

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا خط پڑھ کر یزید نے ولید بن عقبہ کو معزول کر کے عثمان بن محمد بن ابی سفیان کو گورنر بنا دیا۔ اسے حکومت کے کاموں کی سمجھ بہت کم تھی۔ اس نے اُن لوگوں کا وفد یزید کے پاس بھیجا جو اُسے پسند نہیں کرتے تھے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اب ایک نوجوان نا آزمودہ کار اور کمسن گورنر سے سابقہ پڑا جسے نہ تو معاملات کا تجربہ تھا اور نہ ہی معاملات استواری کا کوئی تجربہ تھا۔ وہ اپنی حکومت اور عملداری پر ذرا بھی غور نہیں کرتا تھا۔ اُس نے اہل مدینہ منورہ کا ایک وفد یزید کے پاس روانہ کیا ۔ اس وفد میں حضرت عبد اللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ انصاری بھی تھے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر ومخزومی اور منذر بن زبیر بھی تھا اور بہت سے اشراف مدینہ اُن کے ساتھ تھے۔ وہ لوگ یزید کے پاس ملک شام آئے تو یزید نے اُن کے ساتھ اچھا سلوک کیا اور انعامات دیئے۔ وہاں ملک شام میں کچھ دن گزارنے کے بعد یہ وفد مدینہ منورہ واپس آیا ۔ ان میں سے ایک منذر بن زبیر بصرہ کے گورنر عبیداللہ بن زیاد کے پاس چلا گیا۔ اُسے یزید نے ایک لاکھ درہم انعام میں دیئے تھے۔ ادھر یہ وفد مدینہ منورہ آیا تو وفد کے لوگوں نے مدینہ منورہ والوں کو یزید کے کردار کے بارے میں بتایا کہ ہم ایک ایسے شخص کے پاس سے ہو کر آئے ہیں جو کوئی دین نہیں رکھتا ہے۔ شراب پیتا ہے، طنبورہ بجاتا ہے۔ اُس کی صحبت میں گانا گانے والیاں گا یا بجایا کرتی ہیں۔ کتوں سے کھیلتا ہے، بشوں اور لونڈیوں سے محبت رکھتا ہے۔ تم سب لوگ گواہ رہو۔ ہم نے اسے خلافت سے معزول کر دیا ہے۔ یہ سن کر لوگوں نے اُن کی اتباع کی۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

Saltanat e Umayya part 26


 26 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 26

مدینہ منورہ والوں نے یزید کی حکومت کا انکار کر دیا، حضرت بریدہ بن حبیب اسلمی رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت ربیع بن خیثم تابعی کا انتقال، حضرت عقبہ بن نافع کی شہادت، حضرت عمرو بن حزم اور حضرت مسلم بن مخلد انصاری کا انتقال، حضرت مسلم بن معاویہ دیلمی رضی اللہ عنہ کا انتقال، ھ63 ہجری : "حرہ" میں جنگ، اہل مدینہ نے یزید کو معزول کر دیا، بنو امیہ کا یزید کے نام خط، عمرو بن سعید کا لشکر لیکر جانے سے انکار، یزید نے مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کے لئے لشکر جمع کیا، یزید نے مدینہ منورہ میں " قتال اور لوٹ مار حلال کیا، عبید اللہ بن زیاد کا مکہ مکرمہ پر حملہ کرنے سے انکار، مدینۂ منورہ پر حملہ کرنے والے لشکر کی خبر، حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ کی عہد کی پابندی، حضرت عمر بن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی عہد کی پابندی ، عبدالملک بن مروان کا حرہ میں جنگ کرنے کا مشورہ، 


مدینہ منورہ والوں نے یزید کی حکومت کا انکار کر دیا


مدینہ منورہ کے وفد والوں نے ملک شام سے واپس آکر جب یزید کے کردار کے بارے میں لوگوں کو بتانا شروع کیا تو لوگوں نے یزید کی حکومت ماننے سے انکار کر دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: سب مل کر حضرت عبد اللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ انصاری کے پاس آئے اور اُن سے بیعت کر کے انہیں اپنا حکمراں بنالیا۔ منذر بن زبیر بصرہ اور کوفہ کے گورنر عبداللہ بن زیاد کے قریبی دوستوں میں سے تھا۔ اسی لئے وہ اُس کی ضیافت میں مشغول تھا کہ اُس کے پاس یزید کا خط آیا جس میں حکم تھا کہ " منذر بن زبیر کو گر فتار کر لے اور جب تک میرا اگلا حکم نہ آئے تب تک اُسے اپنی قید میں رکھ ۔ منذر بن زبیر کے ساتھ والوں نے مدینہ منورہ میں جو کچھ کیا تھا اسکے بارے میں یزید کو تفصیل معلوم ہو چکی تھی۔ اسی لئے اُس نے اُس کی گرفتاری کا حکم بھیجا تھا۔ عبید اللہ بن زیاد نے اپنے دوست منذر بن زبیر کو یزید کا خط دکھلایا۔ جسے دیکھ کر منذر بن زبیر وہاں سے روانہ ہو گیا اور مدینہ منورہ آکر یزید کے مخالفین سے ملا۔ پھر اُس نے اہل مدینہ کے سامنے یزید کے بارے میں بتایا : اللہ کی قسم ! یزید نے مجھے ایک لاکھ درہم دیئے ہیں لیکن اُس کا یہ سلوک بھی مجھے حق بات کہنے سے نہیں روک سکتا۔ اس لئے میں سچ سچ بیان کر رہا ہوں ۔ اللہ کی قسم! یزید شراب پیتا ہے اور ایسا مست ہو جاتا ہے کہ نماز بھی ہوش نہیں رہتا ہے ۔ اس کے ساتھ کے وفد والوں نے یزید کی جو جوحرکتیں بیان کیں تھیں اس نے بھی ویسی ہی حرکتیں بیان کیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر بیان کیں۔ اسی کے ساتھ 62 ہجری کا اختتام ہوا۔


حضرت بریدہ بن حبیب اسلمی رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 62 ہجری میں حضرت بریدہ بن حبیب اسلمی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کی تو قریش کے سرداروں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سو (100) اونٹوں کا انعام رکھا تھا۔ جسے حاصل کرنے کے لالچ میں حضرت بریدہ بن حبیب اسلمی رضی اللہ عنہ اپنے اسی (80) گھڑ سواروں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کرنے نکلے اور بالکل مدینہ منورہ کے قریب جا کر گھیر لیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ رضی اللہ عنہ کو ہدایت سے نوازا اور آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے اسی (80) ساتھیوں کے ساتھ اسلام قبول کر لیا تو عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں داخلے کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی علم ( جھنڈا) ہونا چاہئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑا لیکر اُن کے نیزے پر باندھ دیا اور آپ رضی اللہ عنہ علم لیکر رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے علم بردار کے طور پر مدینہ منورہ میں داخل ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ منورہ پہنچا کر آپ رضی اللہ عنہ اپنے قبیلے میں اسلام کی تبلیغ کرنے کے لئے چلے گئے ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: آپ رضی اللہ عنہ نے اُس وقت اسلام قبول کیا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرتے ہوئے کراع النعیم" کے نزدیک پہنچ چکے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ اپنے اسی (80) گھڑ سوار ساتھیوں کے ساتھ آکر ملے اور اسلام قبول کر لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو سورہ مریم کا ابتدائی حصہ سکھایا۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ غزوہ اُحد کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ مدینہ منورہ میں ہی اقامت اختیار کر لی اور اس کے بعد کے تمام معرکوں میں شریک ہوئے۔ جب بصرہ فتح ہوا تو وہیں انہوں نے گھر بنا کر اقامت اختیار کر لی۔ پھر خراسان کی جنگ میں بھی شامل ہوئے اور یزید کے دور حکومت میں 62 ہجری میں آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا۔


حضرت ربیع بن خیثم تابعی کا انتقال


اس سال 62 ہجری میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگر د حضرت ربیع بن خیثم تابعی کا انتقال ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت ربیع بن خیثم ثوری کوفی کو فہ کے رہنے والے ہیں اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگرد ہیں ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اُن سے فرمایا: ” میں جب بھی تمہیں دیکھتا ہوں تو مجھے عاجزی کرنے والے یاد آ جاتے ہیں اور اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں دیکھتے تو تم سے محبت کرتے ۔ امام شعمی کا بیان ہے کہ حضرت ربیع بن خیثم صدق کا منبع تھے اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پر ہیز گار شاگردوں میں سے تھے۔ اس سال 62 ہجری میں انتقال ہوا۔


حضرت عقبہ بن نافع کی شہادت


اس سال 62 ہجری میں حضرت عقبہ بن نافع کا انتقال ہوا۔ حضرت عقبہ بن نافع اسلام کے عظیم سپہ سالاروں میں سے ایک ہیں اور انہوں نے افریقہ میں اسلام کا ڈنکا بجایا اور سمندر تک پہنچ گئے تھے۔ وہاں آپ نے فرمایا تھا: ”اے اللہ! اگر یہ سمندر میرے راستے میں حائل نہیں ہوتا تو میں دنیا کے اس کنارے سے اُس کنارے تک تیرے دین کو پھیلانے کے لئے چلا جاتا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے حضرت عقبہ بن نافع کو دس ہزار کا لشکر دے کر افریقہ بھیجا اور آپ نے افریقہ فتح کیا۔ وہاں پر ” قیروان شہر کی بنیاد رکھی ۔ قیروان کی جگہ بہت درختوں والی اور دلد لی تھی اور درندوں، سانپوں اور حشرات الارض کی وجہ سے وہاں پر انسان کے رہنے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ حضرت عقبہ بن نافع کی عقابی نگاہوں نے پہچان لیا تھا کہ اس جگہ اگر شہر بس جائے اور چھاونی بنادی جائے تو افریقہ پر کنٹرول کرنا بہت آسان ہو جائے گا۔ پس آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور بلند آواز سے فرمایا: "اے حیوانات اور حشرات الارض! تم یہ جگہ چھوڑ کر چلے جاؤ۔ یہ سنا تھا کہ تمام حیوانات اور حشرات الارض اپنی گھاؤں اور بلوں سے نکل نکل کر اپنے بچوں سمیت جانے لگے۔ کئی دنوں تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ جب یہ تمام علاقہ خالی ہو گیا تو حضرت عقبہ بن نافع نے شہر قیروان کی حد بندی کی اور اسے تعمیر کروایا اور مسلسل افریقہ میں بربروں اور رومیوں سے حالت جنگ میں رہے۔ یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔


حضرت عمرو بن حزم اور حضرت مسلم بن مخلد انصاری کا انتقال


اس سال 62 ہجری میں حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ اور حضرت مسلم بن مخلد انصاری رضی اللہ عنہ کا بھی انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو نجران کا گورنر مقررفرمایا تھا ۔ اُس وقت آپ رضی اللہ عنہ کی عمر صرف سترہ (17) سال تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ وہیں پر مسلسل قیام پذیر ہے اور یزید کے زمانے میں انتقال ہوا۔ حضرت مسلم بن مخلد انصاری رضی اللہ عنہ اس سال پیدا ہئے جس سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سماع کیا ہے۔ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ملک مصر کی فتح میں شامل رہے اور وہاں معاویہ بن خدیج کے لشکر کے کمانڈر رہے اور اس سال 62 ہجری میں انتقال ہوا۔ 


حضرت مسلم بن معاویہ دیلمی رضی اللہ عنہ کا انتقال 


اس سال 62 ہجری میں حضرت مسلم بن معاویہ دیلمی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت مسلم بن معاویه دیلمی رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں۔ غزوہ بدر، غزوہ اُحد اور غزوہ خندق میں مشرکین کے ساتھ شامل تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اسلام قبول کرنے کی توفیق بخشی اور آپ رضی اللہ عنہ حسن اسلام سے آراستہ ہوئے۔ فتح مکہ اور غزوہ حنین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل رہے اور جب وہ ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو امیر بنا کر بھیجا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اُن کے ساتھ حج کیا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں حجتہ الوداع بھی کیا ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے زمانہ جاہلیت میں ساٹھ (60) سال کی عمر پائی اور اسلام قبول کرنے کے بعد بھی ساٹھ سال تک زندہ رہے


ھ63 ہجری : "حرہ" میں جنگ


اس سال 63 ہجری میں سب سے بڑا واقعہ حرہ کی جنگ“ کا ہوا۔ مدینہ منورہ والوں نے یزید کی حکومت ماننے سے انکار کر دیا اور حضرت عبداللہ بن مطیع اور حضرت عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ کو اپنا امیر بنالیا۔ یزید کو جب معلوم ہوا تو اُس نے مدینہ منورہ پرحملہ کرنے کے لئے لشکر بھیجا۔ اس کے بارے میں تمام حالات ان شاء اللہ ہم تفصیل سے پیش کریں گے۔


اہل مدینہ نے یزید کو معزول کر دیا


اہل مدینہ نے یزید کو معزول کر کے عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ کواپنا حکمراں بنالیا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اس سال ۱۳ ہجری میں ”حرہ کی جنگ ہوئی اور اس کا سبب یہ تھا کہ جب اہل مدینہ نے یزید کو معزول کر دیا اور قریش پر حضرت عبداللہ بن مطیع اور انصار پر حضرت عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ کو امیر مقرر کر دیا تو اس سال کے آغاز میں انہوں اس بات کا اظہار کیا۔ اہل مدینہ جمع ہوئے اور اُن میں کا ایک شخص بولا: ” میں نے یزید کو یوں اُتار دیا جیسے یہ پگڑی اُتار دی۔ یہ کہ کر اس نے اپنی پگڑی اُتار لی۔ دوسرا شخص بولا: ” میں نے یزید کو یوں اُتار دیا جیسے یہ جوتی اُتار دی ۔ یہ کہہ کر اس نے اپنی جوتی اُتار دی۔ وہاں موجود لگ بھگ سب لوگوں نے ایسا ہی کیا اور وہاں بہت سی پگڑیاں اور جو تیاں جمع ہو گئیں۔ پھر انہوں نے اپنے درمیان سے یزید کے گورنر عثمان بن محمد بن ابی سفیان (یزید کا چازاد بھائی) کونکالنے اور بنوامیہ کو جلا وطن کر دینے پر اتفاق کر لیا۔ بنو امیہ مروان بن حکم کے گھر اکٹھا ہو گئے اور اہل مدینہ نے اُن کا گھیراؤ کر لیا۔ حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ اہل مدینہ سے الگ رہے اور اُن دونوں نے یزید کو معزول نہیں کیا۔


بنو امیہ کا یزید کے نام خط


مدینہ منورہ والوں نے یزید کی حکومت ماننے سے انکار کر دیا اور حضرت عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ کواپنا حکمراں بنالیا۔ یہ واقعہالہ ہجری کے آخری دنوں میں ہوا۔ پھر ۔ لگ گئی ۔ اب یہاں ہم انشاء اللہ تفصیل سے پیش کریں گے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : یزید کو حکومت سے معزول کر کے اہل مدینہ نے حضرت عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ کو اپنا حکمراں بنالیا تو انہوں نے حجاز کے گورنر عثمان بن محمد بن ابی سفیان اور اُس کے ساتھ تمام بنو امیہ جو مدینہ منورہ میں تھے اور اُن کی تعداد لگ بھگ ایک ہزار تھی سب کا گھیراؤ کر لیا تو وہ سب مروان بن حکم کے گھر میں آگئے تو انہوں نے اُس کے گھر کا محاصرہ کر لیا اور یہ محاصرہ بہت کمزور تھا۔ بنو امیہ میں سے مروان بن حکم اور عمر بن عثمان بن عفان نے حبیب بن کرہ کو بلا بھیجا۔ اُس وقت مروان بن حکم اُن کا سردار بن گیا تھا کیونکہ حجاز کا گورنر عثمان بن محمد تو ایک کمسن نو جوان تھا اور اُس کی کوئی رائے نہیں تھی ۔ تمام بنو امیہ نے یزید کو ایک خط لکھا اور ابن کرہ کے ہاتھ سے اُس کے پاس بھیجا۔ عبد الملک بن مروان یہ خط لئے ہوئے حبیب بن کرہ کے ساتھ ساتھ منیۃ الوداع کے مقام تک آیا۔ یہاں آکر اُسے خط دیا اور کہا: ” بارہ دن جانے کے اور بارہ دن آنے کے تمہارے لئے مقرر کرتا ہوں ۔ چوبیسویں دن اسی مقام پر انشاء اللہ اپنے انتظار میں تم مجھے بیٹھا ہوا پاؤ گے۔ خط کا مضمون یہ تھا: ” ہم لوگ مروان بن حکم کے گھر میں محصور ہو گئے ہیں۔ ہم پر پانی بند ہے اور اناج کو ہم خود پھینک آئے ہیں۔ فریاد ہے فریاد


عمرو بن سعید کا لشکر لیکر جانے سے انکار


مدینہ منورہ سے بنوامیہ کا قاصد خط لیکر یزید کے پاس پہنچا۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں: ابن کرہ یہ خط لیکر یزید کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ وہ کرسی پر پیر لٹکائے ہوئے بیٹھا ہے۔ طشت میں پاشویہ کے لئے پانی بھرا ہوا ہے۔ یزید کو درد نقرش“ تھا۔ خط پرھ کر یزید نے کہا: ” میری طبیعت میں جو علم تھا اُسے ان لوگوں نے بدل دیا ہے۔ میں نے اب اپنی قوم کے لئے نرمی کے بدلے تختی کو اختیار کر لیا ہے ۔ پھر اس نے ابن کرہ سے پوچھا: "کیا مدینہ منورہ میں تمام بنو امیہ اور اُس کے موالی ملکر ایک ہزار آدمی نہیں ہوں گے ؟ قاصد نے کہا: ” ایک ہزار آدمی ضرور ہیں بلکہ اُس سے زیادہ ہیں ۔ یزید نے کہا: ” اُن سے اتنا بھی نہیں ہو گا کہ ساعت بھر قتال کرتے ؟ قاصد نے کہا: ” امیر المومنین! تمام خلقت نے اُن پر ہجوم کر لیا ہے اور اُن سے لڑنے کی طاقت بنو امیہ میں نہیں ہے۔ یزید نے یہ سن کر عمرو بن سعید کو بلوایا اور اُسے یہ خط دکھایا۔ سب حال بیان کیا اور حکم دیا کہ لشکر لیکر مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہو۔ عمرو بن سعید نے کہا: ”شہروں شہروں تیرا عمل بٹھا چکا ہوں اور تمام امور کو تیرے لئے مستحکم کر چکا ہوں لیکن اب نوبت یہ پہنچی کہ قریش کے خون سے بھی زمین کو رنگین کیا جائے۔ یہ مجھ سے نہیں ہو گا۔ یہ کام وہی شخص کرے گا جس کا تعلق قریش نے نہیں ہوگا۔“


یزید نے مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کے لئے لشکر جمع کیا


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کو حرم بنایا اور یہاں قتال کوحرام قرار دیا اور فرمایا: ”مدینہ منورہ کی مٹی میں بھی شفا ہے۔ یزید نے مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کے لئے لشکر جمع کیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اب یزید نے ابن کرہ کو مسلم بن عقبہ کے پاس بھیجا۔ یہ شخص نہایت ہی کبیر السن ضعیف اور مریض تھا۔ خط پڑھ کر قاصد سے تمام حالات پوچھے تو اُس نے تفصیل سے بیان کر دیئے ۔ مسلم بن عقبہ نے بھی وہی بات کہی جو یزید نے کہی تھی۔ اُس نے کہا: ” اُن سے اتنا بھی نہیں ہو سکا کہ ساعت بھر قتال کرتے ؟ یہ لوگ جب تک خود اپنے دشمن سے اپنی قوم کے لئے نہیں لڑیں گے تب تک اس لائق نہیں ہیں کہ اُن کی کمک کی جائے۔ یہ کہہ کر مسلم بن عقبہ چلکر یزید کے پاس آیا اور بولا: " امیر المومنین ! یہ بہت ذلیل لوگ ہیں اور ان کی نصرت نہیں کرنی چاہیئے ۔ ان سے اتنا بھی نہیں ہو سکا کہ ایک دن یا ایک پہر یا ایک ساعت ہی قتال کرتے ۔ انہیں بس یونہی رہنے دیں کہ یہ خود اپنے دشمن سے اپنی قومی سلطنت کے لئے لڑیں۔ آپ کو یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ ان میں سے کون کون آپ کی طرف سے قبال کرتا ہے اور ثابت قدم رہتا ہے اور کون گردن جھکا دیتا ہے؟ یزید نے کہا: ” تمہارا بھلا ہو! ان لوگوں کے بغیر زندگی کا کیا لطف رہ جائے گا۔“ اس لئے اُٹھو اور لشکر لے کر روانہ ہو اور باقی خبر مجھے دیتے رہو ۔ پھر یزید نے اعلان کروا دیا کہ مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کے لئے ملک حجاز کی طرف روانہ ہو جاؤ اور آؤ اپنا اپنا پورا وظیفہ لے جاؤ اور اس کے علاوہ سو سود دینار ہر شخص کو بطور اعانت دیے جائیں گے ۔ اس اعلان کے بعد بارہ ہزار 12,000شامیوں کا لشکر جمع ہو گیا۔ 


یزید نے مدینہ منورہ میں " قتال اور لوٹ مار حلال کیا


یزید نے مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کے لئے لشکر کو جمع کر کے روانہ کیا اور روانگی کے وقت اُن کے ساتھ چلا اور اُن کو اجازت دے کہ تین دن تک شامی لشکر کے لئے مدینہ منورہ میں ” قتال اور لوٹ مار حلال ہے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: مسلم بن عقبہ کی سپہ سالاری میں یزید نے اس لشکر کو روانہ کیا اور حکم دیا: ”تم سے اگر کچھ نہیں ہو سکے گا تو حصین بن نمیر کو شکر کا سپہ سالار بنا دینا۔ مدینہ منورہ کے لوگوں کو تین دن کی مہلت دینا اگر مان جائیں تو ٹھیک ہے ورنہ ان سے قتال کرنا اور جب تم کو اُن پر غلبہ حاصل ہو جائے تو تین دن تک ( نعوذ باللہ ) مدینہ منورہ کو لوٹنا ۔ وہاں کا مال اور روپیہ اور ہتھیار اور غلہ ( اناج) یہ سب تمہارے لشکر کا ہے۔ تین دن کے بعد مدینہ منورہ کو لوٹنا موقوف کر دینا اور علی اوسط بن حسین (رضی اللہ عنہ) سے رعایت کرنا اور اُن کے ساتھ نیکی کرنا اور اُن کو اپنے قریب بٹھانا۔ مدینہ منورہ کے جن لوگوں نے میری مخالفت کی ہے وہ اُس میں شریک نہیں ہیں اور میرے پاس اُن کا خط آیا ہے ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔ مسلم بن عقبہ بارہ ہزار سپاہیوں کا لشکر لیکر روانہ ہوا۔ میز ید مشایعت کی غرض سے تھوڑی دور تک ساتھ آیا اور چند احکام کی پابندی کی ہدایت کر کے واپس آیا کہ اگر تم کو کوئی ضرورت پیش آئے تو حصین بن نمیر کو سپہ سالار بنا دینا۔ اہل مدینہ کو تین دن تک غور و فکر کرنے کہ مہلت دینا اگر اس دوران میں وہ اطاعت قبول کریں تو درگذر کرنا ورنہ اُن سے جنگ کرنا۔ جب اُن پر فتح حاصل ہو جائے تو تین دن تک قتل عام اور لوٹ مار کا حکم جاری رکھنا۔ اہل مدینہ کا جو کچھ مال و اسباب لوٹا جائے گا وہ شامی لشکر کے سپاہیوں کا ہوگا۔ حضرت علی اوسط بن حسین (رضی اللہ عنہ ) سے معترض نہیں ہونا ۔“


عبید اللہ بن زیاد کا مکہ مکرمہ پر حملہ کرنے سے انکار


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو یزید کی نظر میں بلند ہونے کے لئے عبید اللہ بن زیاد نے شہید کروا دیا تھا۔ اس کے بعد یزید نے اُسے حکم دیا کہ مکہ مکرمہ میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ پر حملہ کرنے کے لئے لشکر تیار کرے اور مکہ مکرمہ روانہ ہو جائے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: عبید اللہ بن زیاد کو یزید نے لکھا: تو عبد اللہ بن زبیر سے لڑنے کے لئے روانہ ہو جا۔ خط میں حکم پڑھ کر عبیداللہ بن زیاد نے کہا: ”اس فاسق کے لئے یہ دو دو گناہ میں اپنے سر نہیں لوں گا کہ ایک تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کو شہید کروں اور دوسرے کہ خانہ کعبہ پر حملہ کروں مرجانہ اس ( عبد اللہ بن زیاد ) کی ماں ایک بچی عورت تھی ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو جب اُس نے شہید کروایا تھا تو کہتی تھی تیرا برا ہو! تو نے یہ کیا حرکت کی ہے؟“


مدینۂ منورہ پر حملہ کرنے والے لشکر کی خبر


مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ پر حملہ کرنے کے لئے یزید لشکر جمع کر رہا تھا۔ یہ دیکھ کر ابن کر ہ مدینہ منورہ واپس آیا اور خبر دی کہ یزید مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ پر حملہ کرنے کے لئے لشکر بھیج رہا ہے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: ابن کرہ ملک شام سے یہ دیکھ کر روانہ ہوا کہ یزید لشکر تیار کر رہا ہے اور کہہ رہا ہے : ” میرا یہ پیغام عبداللہ بن زبیر کو پہنچا دینا ۔ جب دیکھنا کہ رات ہو گئی ہے اور وادی القری پر شکر اتر پڑا ہے۔ کیا یہ لشکر والے تجھے مست اور شهر سار معلوم ہوتے ہیں یا بے خواب و بیدار معلوم ہوتے ہیں جنہوں نے نیند کو اپنے پاس آنے نہیں دیا۔ مجھے اُس ملحد پر تعجب ہوتا ہے کہ دین میں مکاری کرتا ہے اور بزرگوں کو برا کہتا ہے ۔ یہ سن کر ابن کرہ مدینہ منورہ واپس آگیا اور سیدھا وہیں پہنچا جہاں عبدالملک بن مروان اُس کا انتظار کر رہا تھا۔ وہ ایک درخت کے نیچے سر جھکائے کچھ اُوڑھے ہوئے بیٹھا تھا۔ ابن کرہ نے اُسے سب حال بیان کر دیا اور عبدالملک بن مروان خوش ہو گیا۔ وہاں سے دونوں مروان بن حکم کے گھر پر آئے اور بنو امیہ کے لوگوں کو لشکر کے آنے کی خبر دی اور سب نے اللہ کا شکر ادا کیا۔


بنوامیہ مدینہ منورہ سے باہر


مدینہ منورہ میں یہ خبر پھیل گئی کہ یزید حملہ کرنے کے لئے لشکر بھیج رہا ہے تو اہل مدینہ نے بنو امیہ سے وعدہ لینا چاہا کہ ہمارے خلاف سازش نہیں کرنا ورنہ ہم تمہیں مدینہ منورہ سے باہر نکال دیں گے۔ بنو امیہ نے نے مدینہ منورہ سے باہر نکلنا منظور کر لیا۔ علامہ محمد بن جزر برطبری لکھتے ہیں: مدینہ منورہ والوں کو جب یہ خبر ہوئی کہ یزید نے مسلم بن عقبہ کی سپہ سالاری میں بارہ ہزار کا شکر جرار روانہ کر دیا ہے تو انہوں نے مروان بن حکم کے گھر جا کر بنوامیہ سے کہا: اللہ کی تم ! ہم جب تک تم کو اس گھر سے نکال کر گردن نہیں ماریں گے اور تم سے باز نہیں آئیں گے ۔ ہاں! اگر تم اللہ تعالیٰ کو درمیان میں لا کر ہم سے عہد و میثاق کرو کہ تم لوگ ہمیں دھوکا نہیں دو گے اور کوئی چھپا ہوا ہمارا موقع دشمن کو نہیں بتاؤ گے اور ہمارے دشمن کی مدد نہیں کرو گے تو ہم تمہیں چھوڑ دیں گے اور کچھ نہیں کریں گے ۔ بنو امیہ نے مدینہ منورہ کو چھوڑ دینا گوارا کرلیا اور یہ سب لوگ اپنا مال واسباب لیکر نکلے اور وادی القریٰ میں جا کر ٹھہر گئے اور وہیں مسلم بن عقبہ نے آکر اپنے لشکر کے ساتھ پڑاؤ ڈال دیا۔


حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ کی عہد کی پابندی


حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ نے یزید سے عہد کیا تھا کہ وہ غیر جانب دار ہیں گے اور اسی لئے اُس نے آپ رضی اللہ عنہ کو اہل بیت کے ساتھ مدینہ منورہ روانہ کر دیا تھا۔ مروان بن حکم یہ بات جانتا تھا اس لئے اُس نے اپنے اہل وعیال کو آپ رضی اللہ عنہ کی پناہ میں دے دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ کو ان باتوں کی خبر نہیں تھی کہ یزید نے اُن کے باب میں مسلم بن عقبہ سے رعایت کی سفارش کر دی ہے۔ بنو امیہ جب مدینہ منورہ کے باہر جانے لگے تو مروان بن حکم کی بیوی جو ابان بن مروان کی ماں ہیں یعنی سیدہ عائشہ بنت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہا نے مروان بن حکم کے تمام تمام مال و اسباب کے ساتھ حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ کے پاس آکر پناہ لی تھی۔ مروان بن حکم نے پہلے حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے درخواست کی تھی : ” آپ رضی اللہ عنہ میرے اہل وعیال کو اپنے پاس چھپا کر رکھیں ۔ حضرت عبد اللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس درخواست کو نہیں مانا اور پناہ دینے سے انکار کر دیا۔ پھر مروان بن حکم حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا: ” میری آپ رضی اللہ عنہ سے قرابت ہے اور آپ رضی اللہ عنہ میرے اہل بیت کو اپنے اہل بیت کے ساتھ رکھ لیں ۔ انہوں نے منظور کیا اور مروان بن حکم نے اپنے گھر والوں کو اُن کے گھر بھیج دیا۔ آپ رضی اللہ ان کو اپنے اہل بیت کے ساتھ لیکر بیع میں آئے اور وہیں سب کو رکھا۔ جب مسلم بن عقبہ لشکر لیکر آیا اور وادی القریٰ میں پڑاؤ ڈالے ہوئے ہے تو آپ رضی اللہ عنہ سب کو لیکر نکلے اور مدینہ صورہ کے باہر آپ رضی اللہ عنہ کی کچھ زمین تھی اسی پر رہائش پذیر ہو گئے۔ یہاں آکر سیدہ عائشہ بنت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہا طائف کی طرف جانے کی تیاری کرنے لگیں تو حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” میرے بیٹے عبداللہ بن علی اوسط کو اپنے ساتھ طائف لیتی جاؤ ۔ سیدہ عائشہ بنت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہا اُن کے بیٹے عبداللہ کو الف لیکر چلی گئیں اور اپنے پاس ہی رکھا۔


حضرت عمر بن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی عہد کی پابندی 


مدینہ منورہ کے باہر وادی القریٰ میں مسلم بن عقبہ اپنے لشکر کے ساتھ پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا جب بنو امیہ سے اُس کی ملاقات ہوئی تو اُس نے مدینہ منورہ کے اندرونی حالات پوچھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: مسلم بن عقبہ نے بنو امیہ میں سے حضرت عمرو بن عثمان بن عفان رضیاللہعنہ کو بلایا اور ان سے کہا: ” مجھے وہاں کے اندرونی حالات بتا ؤ اور کچھ مشورہ دو “ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "میں تمہیں کچھ نہیں بتا سکتا کیونکہ ہم لوگوں سے اس بات کا عہد و میثاق گیا ہے کہ ہم کوئی چھپا ہوا موقع تمہیں نہیں بتا ئیں اور تمہاری کوئی مدد نہیں کریں۔“ یہ سن کر مسلم بن عقبہ نے انہیں جھڑک دیا اور بولا : ”اگر تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا بیٹا نہیں ہوتا تو میں تیری گردن اڑا دیتا اور اللہ کی قسم! اب میں کسی قریشی کی بات نہیں سنوں گا ۔“ حضرت عمرو بن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اس کی درشتی دیکھ کر واپس آگئے۔


عبدالملک بن مروان کا حرہ میں جنگ کرنے کا مشورہ


حضرت عمرو بن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے واپس آنے کے بعد مروان بن حکم نے اپنے بیٹے عبد الملک بن مروان کو مسلم بن عقبہ کے پاس بھیجا اور اُس نے ایسا مشورہ دیا جس سے مدینہ منورہ والوں کو شکست ہو جائے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اب مروان بن حکم نے اپنے بیٹے عبد الملک بن مروان سے کہا: ”مجھ سے پہلے تم ہی اُس کے پاس چلے جاؤ ، شاید وہ تمہارے جانے کو ہی کافی سمجھے اور مجھے نہ بلائے ۔“ وہ جب مسلم بن عقبہ کے پاس آیا تو اس نے کہا: ” تم جو باتیں جانتے ہو وہ سب مجھے بتاؤ اور اپنی رائے بھی پیش کرو ۔ “عبدالملک نے کہا: ”میری رائے یہ ہے کہ تم یہ راستہ چھوڑ دو اور دوسرے راستے سے اپنے لشکر کو لیکر مدینہ منورہ کی طرف جاؤ۔ جب مدینہ منورہ کا نخلستان تمہیں ملے تو اپنے لشکر کے ساتھ وہیں پڑاؤ ڈال دو اور رات کو وہیں قیام پذیر ہو۔ جب صبح ہو جائے تو فجر کی نماز پڑھ کر روانہ ہواور مدینہ منورہ کو اپنے بائیں جانب رکھ کر شہر کے گرد پھر اور حرہ کی بلند زمین پر اہل مدینہ سے جنگ کرنا۔ جب اُن سے تمہارا مقابلہ ہو گا تو سورج اُن کے سامنے طلوع ہوگا اور تمہارے لشکر کے پیچھے ہوگا جس کی وجہ سے تمہارے لشکر کو تکلیف نہیں ہوگی اور اہل مدینہ کو بہت پریشانی ہوگی۔ اُن کے سامنے سورج ہونے کی وجہ سے تمہارے ہتھیار، برچھیوں کی سنائیں، تلواریں وغیرہ انہیں چمکتے ہوئے دکھائی دیں گے اور تمہارے لشکر کو چمکتے ہوئے نہیں دکھائی دیں گے۔ اس کے بعد اُن سے قتال کر اور اللہ سے مدد طلب کر ۔ بے شک اللہ تیری مدد کرے گا کیونکہ اہل مدینہ نے امام (یزید) کی مخالفت کی ہے اور جماعت سے خارج ہو گئے ہیں۔ مسلم بن عقیل نے کہا : اللہ تعالیٰ تجھے جزائے خیر عطا فرمائے ۔“


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!



Saltanat e Umayya part 27


 ا27 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 27

اہل مدینہ کو تین دن کی مہلت، اہل مدینہ کا جنگ پر اصرار، حرہ میں جنگ، فضل بن عباس کا شدید حملہ، مسلم بن عقبہ کی پیش قدمی، حضرت عبد اللہ بن حنظلہ غسیل المائکہ کا خطبہ، اہل مدینہ کی شکست، مدینہ منورہ میں تین دن تک قتل عام، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ گستاخی، مسلم بن عقبہ کی یزید کے لئے بیعت، 



اہل مدینہ کو تین دن کی مہلت


عبد الملک بن مروان کا مشورہ مسلم بن عقبہ کو بالکل درست لگا اور اُس نے اُس پر عمل بھی کیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اس کے بعد مروان بن حکم اُس کے پاس گیا۔ اُس نے کہا: ”تم بھی کچھ کہو ۔ مروان بن حکم نے کہا: "عبد الملک نے تم سے جو کچھ کہا سمجھ لو ہی میں نے بھی کہا۔“ مسلم بن عقبہ نے کہا: ”ہاں! میں اُس سے ملا اور وہ بہت عجیب شخص ہے۔ میں نے کسی قریشی کو اس کے جیسا نہیں پایا ۔ اس کے بعد مسلم بن عقبہ اپنا لشکر لیکر روانہ ہوا اور اُسی منزل پر اُتر ا جہاں اُترنے کا مشورہ عبدالملک نے دیا تھا اور جو کچھ اُس نے کہا تھا ویسا ہی کیا۔ پھر وہ مقام حرہ پر مشرق کی طرف اہل مدینہ کے مقابل جا کر اُترا۔ پھر اُس نے اہل مدینہ کو بلایا اور کہا: ”اے اہل مدینہ! امیر المومنین یزید بن معاویہ کا خیال ہے کہ تم لوگ اسلام کی اصل ہو اور تمہارا خون بہانا مجھے گوارا نہیں ہے۔ اس لئے میں امیر المومنین یزید بن معاویہ کے حکم کے مطابق تمہیں تین دن کی مہلت دیتا ہوں ۔ جو کوئی تم میں سے باز آجائے گا اور حق کی طرف رجوع کرلے گا تو ہم اُس کا عذر قبول کریں گے اور یہاں سے واپس چلے جائیں گے اور اُس محمد (حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ) کی طرف جو مکہ مکرمہ میں ہے متوجہ ہوں گے اور اگر تم لوگ نہیں مانو گے تو یہ سمجھ لو کہ ہم اتمام حجت کر چکے ہوں گے۔“


اہل مدینہ کا جنگ پر اصرار


اہل مدینہ کو مسلم بن عقبہ نے تین دن کی مہلت دی تھی۔ جب وہ مہلت ختم ہوگئی تو اہل مدینہ نے جنگ کرنا منظور کیا۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں : جب تین دن ہو گئے تو مسلم بن عقبہ نے اہل مدینہ کو بلا کر کہا: اے اہل مدینہ تین دن ہو گئے ۔ کہو اب تم کو کیا منظور ہے؟ ملاپ کرتے ہو یا لڑنا چاہتے ہو؟ اگر تم سب ہمارے ساتھ مل جاؤ گے تو ہم اور تم مل کر اپنا سارا زور اُس محمد ( حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ) پر ڈالیں گے جس نے بے دینوں کو اور فاسقوں کو اپنے اطراف جمع کر رکھا ہے۔ اہل مدینہ نے کہا : " واللہ کے دشمن! اللہ کی قسم ! اگر تو اپنے لشکر کے ساتھ وہاں جانے کا ارادہ رکھتا ہے تو ہم تجھ کو جنگ کئے بغیر نہیں چھوڑیں گے۔ کیا ہم تجھے اور تیرے لشکر کو اس لئے چھوڑ دیں کہ تم خانہ کعبہ پر حملہ کرو؟ وہاں کے رہنے والوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کرو؟ وہاں ملحدوں کی حرکتیں کرو؟ بیت اللہ کی بے حرمتی کرو؟ نہیں نہیں ! اللہ کی قسم ! یہ ہم سے نہیں ہو گا ۔ اہل مدینہ نے شہر کے ایک جانب خندق بنالی تھی اور اُن کا ایک انبوہ عظیم خندق میں اُترا ہوا تھا۔ اُن کا کمانڈر عبدالرحمن بن زہیر زہری تھا۔ اہل مدینہ کے دوسرے ربع کا کمانڈر عبداللہ بن مطیع تھا۔ قریش کی طرف سے شہر کے ایک جانب میں مہاجرین کا کمانڈر معقل بن سنان اشجعی تھا اور اہل مدینہ کے سپہ سالار حضرت عبد اللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ تھے اور یہ انصار کے بھی کمانڈر تھے۔


حرہ میں جنگ


حرہ میں مسلم بن عقبہ نے صف بندی کی اور اہل مدینہ نے بھی صف بندی کر لی۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں: عقبہ بن مسلم نے جنگ کی شروعات کی اور اپنے گھڑ سواروں کو حضرت عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ کے رسالے کے مقابلے پر بھیجا۔ انہوں نے گھڑ سواروں کا مقابلہ کیا اور ایسا شدید حملہ کیا کہ مسلم بن عقبہ کے سوار بھاگ کھڑے ہوئے۔ یہ دیکھ کر مسلم بن عقبہ نے آزمودہ کا رگھڑ سواروں کوللکارا اور وہ سب پلٹ پڑے اور بڑی دلیری سے لڑنے لگے ۔ اسی دوران میں فضل بن عباس جو حارث بن عبدالمطلب کے پوتوں میں سے ہیں اپنے ساتھ لگ بھگ بیس گھڑ سواروں کو لیکر آئے اور حضرت عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ کے ساتھ آکر مل گئے اور بڑی خوبی سے نہایت شدید جنگ کی ۔ پھر انہوں نے ابن غسیل الملائکہ سے کہا: ”تمہارے ساتھ جتنے گھڑ سوار ہوں اُن سب کو حکم دے دو کہ میرے پاس آکر ٹھہریں۔ جب میں حملہ کروں تو وہ بھی حملہ آور ہوں اور میں مسلم بن عقبہ تک پہنچے بغیر دم نہیں لوں گا ۔ پھر یا تو میں اسے قتل کر دوں گا یا پھر میں خود قتل ہو جاؤں گا ۔“


فضل بن عباس کا شدید حملہ


حرہ میں شدید جنگ چل رہی تھی اور فضل بن عباس گھڑ سواروں کو لیکر مسلم بن عقبہ کی طرف بڑھے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ نے عبد اللہ بن ضحاک انصاری کو حکم دیا: ” گھڑ سواروں سے پکار کر کہہ دو کہ سب فضل بن عباس کے ساتھ رہیں ۔ اُس نے ندا لگائی اور سب گھڑ سوار فضل بن عباس کے پاس جمع ہو گئے ۔ انہوں نے اہل شام کے لشکر پر حملہ کر دیا اور وہ منتشر ہو گئے۔ فضل بن عباس نے کہا: ”اے گھڑ سوار و! تم نے دیکھ لیا یہ نالائق کیسے بھاگ رہے ہیں؟ میں تم پر فدا ہو جاؤں! پھر سے حملہ کرو تا کہ اُن کے سپہ سالار تک میں پہنچ جاؤں اور اگر میں شامیوں کے سپہ سالار تک پہنچ گیا تو اللہ کی قسم! اسے ضرور قتل کروں گا یا پھر اس کوشش میں خود مارا جاؤں گا۔سمجھ لو کہ ایک ساعت کی ثابت قدمی کا نتیجہ خوشی ہے اور ثبات قدم کے بعد اگر کچھ ہے تو فتح ہے ۔ یہ کہہ کر فضل بن عباس نے اپنے گھڑ سواروں کے ساتھ شامیوں پر ایسا حملہ کیا کہ اُن کے گھڑ سوار اپنے سپہ سالار مسلم بن عقبہ کو پیدل سپاہیوں میں چھوڑ کر منتشر ہو گئے ۔مسلم بن عقبہ کے گرد پانچ سو (500) پیدل سپاہی گھٹنے ٹیکے ہوئے ہر چھیاں گھڑ سواروں کی طرف تانے ہوئے کھڑے تھے۔ فضل بن عباس اسی حالت میں عملدار یعنی جھنڈا اٹھانے والے کے پاس پہنچے اور اُس کے سر پر تلوار کا ایسا وار کیا کہ مغفر کو کاٹ کر سر کے ٹکڑے کر دیا اور وہ وہیں گر کر مر گیا۔ اُس کے گرتے ہی فضل بن عباس نے نعرہ لگایا میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں ۔ اور سمجھے کہ انہوں نے مسلم بن عقبہ کو مار دیا اور پکار کر کہا: ” رب کعبہ کی قسم ! میں نے دشمنوں کے سپہ سالار کو قتل کر دیا ہے۔ مسلم بن عقبہ نے فحش گالی دے کر کہا: ” کو غلط کہتا ہے ۔ جھنڈا اٹھانے والا میرا رومی غلام تھا ۔ اب مسلم بن عقبہ نے خود علم (جھنڈا) اٹھا لیا اور پکار کر بولا : ”اے اہل شام ! کیا تم اپنے دین کی حمایت میں اسی طرح قتال کرتے ہو؟ کیا اپنے امام کی نصرت میں اسی طرح جہاد کرتے ہو؟ اللہ کی مار ہو تمہاری اس لڑائی پر جیسی تم آج لڑ رہے ہو اور کیسا میرے دل کو دکھا رہے ہو اور کیسا مجھے غصہ دلا رہے ہو؟ سن رکھو! اللہ کی قسم ! تمہیں اس کا عوض یہ ملے گا کہ عطیات سے محروم کر دیئے جاؤ گے اور کسی دور دراز سرحد کی طرف بھیج دیئے جاؤ گے۔ اس جھنڈے کے ساتھ آگے بڑھو اور اگر تم سے تلافی نہیں ہو سکے تو اللہ تم سے سمجھے۔ یہ کہ کر مسلم بن عقبہ علم (جھنڈا) لیکر آگے بڑھا اور اُس کے آگے آگے اہل شام حملہ کرتے ہوئے آگے بڑھے۔


مسلم بن عقبہ کی پیش قدمی


مدینہ منورہ کے پاس حرہ کے میدان میں جنگ چل رہی تھی اور فریقین ایکدوسرے پر بڑھ چڑھ کر حملے کر رہے تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: ایک روایت میں یہ ہے کہ اس جنگ میں مسلم بن عقبہ بیمار تھا۔ اُس نے دونوں صفوں کے درمیان ایک تخت پر اپنی کرسی رکھوا دی اور کہا: ”اے اہل شام ! اب اپنے امیر (سپہ سالار ) کی طرف سے لڑو یا چھوڑ کر چلے جاؤ اس کے بعد شامیوں نے ملکر اہل مدینہ پر حملہ کیا۔ اُن کے جس گروہ کی طرف رخ کیا انہیں شکست دی۔ یہ لوگ جم کر لڑتے ہی نہیں تھے اُن کے رخ ہی پھرے جاتے تھے آخر کا رسب شکست کھا گئے ۔اب مسلم بن عقبہ کا لشکر حضرت عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ کے رسالے کی طرف بڑھا۔ اسی دوران میں جنگ آزما بہادر شہ سواروں کی جماعت کو ساتھ لئے ہوئے فضل بن عباس نے شامیوں کے لشکر پر حملہ کر دیا اور یہ مسلم بن عقبہ کی کرسی و تخت کی طرف بڑھے، مسلم بن عقبہ کو اُسی کے سرا پردہ کے سامنے درمیان صف جنگ خادموں نے لا کر بٹھا دیا تھا۔ فضل بن عباس اُس کے تخت تک پہنچ گئے اُن کے چہرے کا رنگ سُرخ تھا اور تلوار اُٹھا کر وار کرنا ہی چاہتے تھے کہ مسلم بن عقبہ چلایا : ” ارے تم کہاں ہو! یہ سُرخ مرد مجھے قتل کر ڈالے گا۔ اے نیک بیبیوں کے فرزند و! دوڑو اور اسے برچھیوں میں پُر ولو ۔ سب پیدل فضل بن عباس کی طرف دوڑے اور برچھیوں سے ایک ساتھ وار کیا اور وہ برچھیاں کھا کر گر گئے ۔ اس کے بعد مسلم بن عقبہ اپنے سواروں اور پیدل سپاہیوں کو لیکر آگے بڑھا اور حضرت عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ کے قریب پہنچ گیا۔


حضرت عبد اللہ بن حنظلہ غسیل المائکہ کا خطبہ


حضرت عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ کے قریب پہنچ کر مسلم بن عقبہ نے شامیوں کے لشکر سے خطاب کیا تو جواب میں حضرت عبداللہ بن حظہ غسیل الملائکہ نے اہل مدینہ سے خطاب کیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ مسلم بن عقبہ گھوڑے پر سوار ہو کر شامیوں کا دل بڑھانے لگا: " اے اہل شام ! تم حسب و نسب میں اہل عرب سے بڑھ کر نہیں ہو، شمار میں اُن سے زیادہ نہیں ہو۔ تمہارے بلا داتنے وسیع نہیں ہیں پھر بھی اللہ تعالیٰ نے تم کو ایک خاص مرتبہ عنایت فرمایا ہے کہ دشمن کے مقابلے میں تمہاری مدد کی ہے ۔ تمہارے اماموں کے دل میں تمہاری منزلت پیدا کر دی ہے۔ اس کا سبب محض یہی ہے کہ تم لوگ اطاعت گزار ہو اور اپنے دین پر قائم ہو اور اس قوم نے اور جو ان کے مثل ہیں ان سب نے دین کو بدل ڈالا تو اللہ نے ان کی حالت کو بدل دیا۔ جس اطاعت گزاری پر تم قائم ہوا سے خوبی کے ساتھ پورا کر دو کہ اللہ بھی جو نصرت اور غلبہ تم کو دے رہا ہے اُسے پورا کر دے گا ۔ یہ کہہ کر جہاں وہ تھا وہیں پھر چلا آیا اور سواروں کو حکم دیتا گیا کہ ابن غسیل اور اُن کے رسالے پر حملہ کر دیں۔ لیکن جب گھڑ سوار اپنے گھوڑوں کو اہل مدینہ کی طرف بڑھا تو وہ لوگ برچھیوں سے اور تلواروں سے وار کرتے تھے ۔ گھوڑے بھڑک جاتے تھے اور رخ پھیر دیتے تھے اور منتشر ہو جاتے تھے۔ یہ دیکھ کر مسلم بن عقبہ نے بلند آواز سے پکار کر کہا: ”اے اہل شام ! اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو تم سے بڑھ کر میدان جنگ میں ثابت قدم نہیں بنایا ہے۔ اوحصین بن نمیرا تو اپنا لشکر لیکر اہل مدینہ پر حملہ کر “ یہ سن کر حصین بن نمیر اہل حمص کو لیکر اہل مدینہ کے سامنے آیا۔ حضرت عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ نے جب ان لوگوں کو دیکھا کہ یورش کرنے آرہے ہیں تو انہوں نے اہل مدینہ سے خطاب فرمایا: ”اے لوگو! جس طریقہ سے جنگ کرنا مقصود تھا وہی طریقہ تمہارے دشمن نے تم سے جنگ کرنے کا اختیار کیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ایک ہی ساعت کے بعد تمہارے اور ان کے درمیان اللہ تعالیٰ فیصلہ کر دے گا۔ پھر وہ چاہے تمہارے موافق ہوگا یا مخالف ہوگا۔ سنو تم لوگ صاحب بصیرت ہو، دارالہجرت کے رہنے والے ہو، اللہ کی قسم! میں خوب سمجھتا ہوں کہ بلاد اسلام میں سے کسی شہر کے لوگوں سے اللہ تعالیٰ اتنا خوش نہیں ہوگا جتنا تم لوگوں سے خوش ہے اور بلا د عرب میں سے کسی شہر کے لوگوں پر اللہ تعالیٰ ایسا غضب ناک نہیں ہوگا جیسا ان لوگوں پر ہو گا جو تم سے لڑنے کے لئے آئے ہیں۔ تم سب کو ایک دن مرنا ہے اور اللہ کی قسم کسی بھی طرح کی موت شہید ہو کر مرنے سے بہتر نہیں ہے۔ لو ! شہادت کی دولت اللہ تعالیٰ نے تمہارے سامنے رکھ دی ہے اسے لوٹ لو۔ اللہ کی قسم ! ایسا نہیں ہوسکتا کہ جتنی تمہاری مراد یں ہوں سب پوری ہو جائیں ۔ یہ کہہ کر جھنڈا لئے ہوئے آگے بڑھے اور تھوڑی دور جا کر ٹھہر گئے۔


اہل مدینہ کی شکست


حضرت عبد اللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ کے مقابلے پر حصین بن نمیر بھی اپنا جھنڈا لئے ہوئے آپہنچا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ مسلم بن عقبہ نے عبداللہ بن عضاء کو پانچ سو تیر اندازوں کے ساتھ ابن غسیل پر حملہ کرنے کے لئے بھیجا۔ اہل مدینہ پر تیروں کا مینہ برسنے لگا۔ حضرت عبد اللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ نے کہا: "آخر کب تک تیر کھایا کرو گے؟ جسے جنت میں جانے کی جلدی ہو وہ اس جھنڈے کے ساتھ ہولے ۔“ یہ سنتے ہی جتنے جانباز تھے وہ اٹھ کھڑے ہوئے۔ ابن غسیل نے کہا: ”اپنے پروردگار کے حضور چلو۔ اللہ کی قسم مجھے امید ہے کہ بس ایک ساعت کی دیر ہے کہ تمہاری آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں گی ۔ یہ سن کر سب جنگ کرنے پر آمادہ ہو گئے ۔ ایک ساعت تک ایسی گھمسان کی جنگ ہوئی جیسی اُس زمانے میں کم ہی ہوئی تھی ۔ حضرت عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ نے اپنے بیٹوں کو ایک ایک کر کے بھیجا اور وہ سب اُن کے سامنے جنگ میں کام آگئے ۔ خود حضرت عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ بھی بڑھ بڑھ کر حملے کر رہے تھے اور شامیوں کو قتل کر رہے تھے۔ آخر کار شہید ہو گئے اور اُن کے برادر اخیانہ محمد بن ثابت بھی انہیں کے ساتھ جنگ میں کام آگئے ۔ یہ کہتے تھے: "اگر کفار دیلم مجھے قتل کرتے تو میں ایسا خوش نہیں ہوتا جیسا کہ ان لوگوں کے ہاتھ سے قتل ہو جانے پر خوش ہو رہا ہوں ۔ انہیں کے ساتھ محمد بن حزم انصاری بھی جنگ میں کام آئے ۔ اُن کی لاش پر سے مروان بن حکم گذرا تو لاش سے مخاطب ہو کر بولا: "اللہ تمپر رحم فرمائے! میں نے کتنے ہی رکنوں کے پاس تمہیں طولانی نمازیں پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ۔ آخر کار اہل مدینہ کو شکست ہوگئی اور شامی لشکر فاتح کے طور پر مدینہ منورہ میں داخل ہو گیا۔


مدینہ منورہ میں تین دن تک قتل عام


مدینہ منورہ کو ملک شام کے لشکر نے فتح کر لیا اور شامی فاتح کے طور پر داخل ہوئے ۔ یزید نے شامی لشکر کے لئے تین دن تک مدینہ منورہ کو حلال کر دیا تھا اور اجازت دی تھی کہ تین دن تک لشکر مدینہ منورہ میں لوٹ مار کر سکتا ہے۔ مسلم بن عقبہ جب اپنے لشکر کے ساتھ مدینہ منورہ میں داخل ہوا تو یزید کے حکم کے مطابق اُس نے شامی لشکر کو مدینہ منورہ میں لوٹ مار کرنے کی اجازت دے دی۔ تین دن تک شامی لشکر لوٹ مار کرتارہا اور اہل مدینہ کوقتل کرتا رہا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: روایت ہے کہ مسلم بن عقبہ کرسی پر بیٹھتا تھا اور اور اس کے سپاہی کرسی کو اُٹھائے مدینہ منورہ میں پھرتے تھے۔ اس حالت میں وہ فاتح کی حیثیت سے مدینہ منورہ میں داخل ہوا۔ مسلم بن عقبہ نے تین دن تک مدینہ منورہ میں لوٹ مار شامیوں کے لئے حلال کر دی۔ شامی سپاہی اہل مدینہ کوقتل کرتے پھرتے تھے اور اُن کا مال لوٹ لیتے تھے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے جو لوگ مدینہ منورہ میں تھے انہیں بھی نہیں بخشا اور اُن کے ساتھ بھی گستاخیاں کیں اور انہیں بھی ستایا۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں مسلم بن عقبہ قتل و غارت گری کرتا ہوا مدینہ منورہ میں داخل ہوا۔ تین دن تک قتل عام کا بازار رکھا۔ شامی لشکر نے اہل مدینہ کا مال واسباب لوٹ لیا۔ اس کے بعد مسلم بن عقبہ نے معقل بن سنان الجھی، محمد بن ابی حذیفہ محمد بن جہم وغیرہ کو گرفتار کر کے قتل کر دیا۔ اس واقعہ میں تین سو چھ آدمی شرفاء مہاجرین اور انصار اور ان کے علاوہ قبائل وموالی اس تعداد میں دو چند کام آئے ۔ علامہ عماد الدین اسماعیل ابن کثیر لکھتے ہیں: پھر مسلم بن عقبہ نے جسے مسرف بن عقبہ کہتے ہیں ۔ اللہ اس برے اور جاہل شخص کا بھلا نہ کرے۔ یزید کے حکم کے مطابق اُس نے مدینہ منورہ کو تین دن کے لئے مباح“ کر دیا۔ اللہ تعالی یزید کو بھی نیک جزا نہ دے اور اُن نے بہت سے قراء کوقتل کروادیا۔ اہل مدینہ کے مال و اسباب کو لوٹ لیا گیا اور جیسا کہ کئی مورخین نے بیان کیا ہے کہ بہت سا شر و فساد برپا ہو گیا۔ جن لوگوں کو مسلم بن عقبہ کے سامنے باندھ کر قتل کیا گیا اُن میں اُس کے دوست حضرت معقل بن سنان بھی تھے جو پہلے اُس کے دوست تھے مگر یزید کی مخالفت کی وجہ سے مسلم بن عقبہ اُن سے ناراض ہو گیا تھا۔ المدائنی نے بیان کیا کہ مسلم بن عقبہ نے مدینہ منورہ کو تین دن کے لئے مباح کر دیا۔ شامی لشکر والے جس شخص کو پاتے قتل کر دیتے تھے اور اُس کا مال و اسباب لوٹ لیتے تھے اور انہوں نے ان تین دنوں میں اتنی زنا کاری کی کہ ایک ہزار خواتین کو بغیر خاوند کے حمل ٹھہر گیا۔ سعدی بنت عوف مرید نے مسلم بن عقبہ کے پاس پیغام بھیجا کہ ”میں تیری چازاد بہن ہوں۔ اس لئے میرے اُونٹوں سے معترض نہ ہو ۔ مسلم بن عقبہ نے کہا: ” سب سے پہلے اسی کے اُونوں کو پکڑو ۔ “ ایک عورت نے آکر مسلم بن عقبہ سے کہا: ” میں تیری لونڈی ہوں اور میرا بیٹا قیدیوں میں ہے ۔ مسلم بن عقبہ نے کہا: ”اے پکڑواور قتل کر دو ۔ جب اُسے قتل کر دیا گیا تو اس نے کہا: اس کا سر مجھے دو ۔ جب اُس کا سر مسلم بن عقبہ کو دیا گیا تو اس نے کہا: ” کیا تو اس بات پر راضی نہیں ہے کہ جب تک تو اپنے بیٹے کے بارے میں بات نہ کرے تو تب تک وہ قتل نہ ہو؟“ 


صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ گستاخی


مدینہ منورہ میں داخل ہونے کے بعد شامی لشکر کے سپاہی لوٹ مار میں مشغول تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی گستاخیاں کر رہے تھے۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کافی بوڑھے اور ضعیف ہو چکے تھے اور شامیوں کی لوٹ مار اور گستاخی سے بچنے کے لئے مدینہ منورہ کے اطراف پہاڑ میں چلے گئے تھے۔ علامہ عمادالدین اسماعیل ابن کثیر لکھتے ہیں: سادات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت روپوش ہو گئی جن میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ مسلم بن عقبہ نے حضرت عمرو بن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور بولا: ” تو نے بنو امیہ کا ساتھ نہیں دیا اور تو نے کہا تھا کہ اگر اہل مدینہ غالب آگئے تو میں اُن کے ساتھ ہوں اور اگر اہل شام غالب آگئے تو میں اُن کے ساتھ ہوں۔“ حضرت عمرو بن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اللہعنہ کا بیٹا ہوں ۔ پھر اس نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت عمرو بن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی داڑھی کو نوچ لیں۔ لشکر شام کے سپاہیوں نے آپ رضی اللہ عنہ کی داڑھی نوچ ڈالی جو بہت بڑی تھی ۔ حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ کو مسلم بن عقبہ کے سامنے لایا گیا تو اس نے کہا: ” میرے ہاتھ پر بیعت کرو ۔ “ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہم کی سیرت پر بیعت کروں گا۔ مسلم بن عقبہ نے آپ رضی اللہ عنہ کے قتل کا حکم دے دیا۔ لوگوں نے گواہی دی کہ آپ رضی اللہ عنہ ” مجنون“ ہیں تو چھوڑ دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ سے نکل کر پہاڑ کی غار میں جا چھپے تھے۔ ایک شامی سپاہی نے آپ رضی اللہ عنہ کو دیکھ لیا اور وہ تلوار کھینچے ہوئے اُس غار تک پہنچا۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے اُسے دھمکانے کے لئے تلوار کھینچ لی کہ شاید وہ بغیر لڑے ہوئے ہی واپس چلا جائے لیکن اُس پر کوئی اثر نہیں ہو اور بڑھتا ہی چلا آرہا تھا۔ جب آپ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ وہ باز نہیں آرہا ہے تو اپنی تلوار میان میں ڈال لی اور فرمایا: "اگر تو مجھے قتل کرنے کے لئے ہاتھ اٹھائے گا تو میں تجھے قتل کرنے کے لئے ہاتھ نہیں اٹھاؤں گا۔ میں پروردگار عالم اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں ۔“ اس نے پوچھا: اللہ تمہارا بھلا کرے ! تم کون ہو؟“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابی ہوں ۔ یہ سن کر وہ واپس چلا گیا۔


مسلم بن عقبہ کی یزید کے لئے بیعت


مدینہ منورہ کو یزید کے حکم کے مطابق مسلم بن عقبہ نے شامی لشکر پر مباح کر دیا تھا اور شامی لشکر پورے مدینہ منورہ میں ہنگامہ و فساد مچائے ہوئے تھے۔ جب تین دن گذر گئے تو مسلم بن عقبہ اہل مدینہ سے یزید کے لئے بیعت لینے کے لئے بیٹھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: مسلم بن عقبہ نے مقام قبا میں اہل مدینہ کو بیعت کرنے کے لئے بلایا۔ قریش میں سے یزید بن ذمہ محمد بن جہم اور حضرت معقل بن سنان کے لئے امان طلب کی گئی تھی۔ جنگ کے ایک دن بعد یہ تینوں اُس کے سامنے لائے گئے تو اُس نے بیعت کے لئے کہا: ” انہوں نے کہا: ” ہم اللہ کی کتاب ( قرآن پاک اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر تجھ سے بیعت کرتے ہیں۔ مسلم بن عقبہ نے کہا : اللہ کی قسم ! میں تمہاری اس بات کو ہرگز معاف نہیں کروں گا۔ پھر انہیں قتل کرا دیا۔ مروان بن حکم نے کہا: " قریشی تمہارے پاس امان کے لئے لائے گئے اور تم نے انہیں قتل کر دیا ۔ مسلم بن عقبہ نے مروان بن حکم کی کمر میں اپنی چھڑی چھو کر کہا: "اگر تو بھی یہی بات کہے گا جو انہوں نے کہی ہے تو تلوار کی چمک سے تیری بھی آنکھیں خیرہ کر دی جائیں گی ۔ پھر حضرت یزید بن وہب کو مسلم بن عقبہ کے سامنے لایا گیا تو انہوں نے کہا: ” میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی سنت پر بیعت کروں گا ۔ مسلم بن عقبہ نے کہا: اللہ کی قسم ! میں تیرے قصور کو معاف نہیں کروں گا۔ مروان بن حکم اور یزید بن وہب میں دامادی کا رشتہ تھا اسی لئے مروان بن حکم نے اُن کی سفارش کی تو مسلم بن عقبہ نے اپنے سپاہیوں سے کہا: ” مروان بن حکم کا گلہ گھونٹ ڈالو ۔ سپاہیوں نے اُس کا گلہ دبا دیا اور مسلم بن عقبہ نے کہا: تم سب لوگ اس بات پر بیعت کرو کہ تم سب کے سب یزید کے غلام ہو ۔ اس کے بعد اُس کے حکم سے یزید بن وہب کو قتل کر دیا گیا۔ ” جنگ حرہ بدھ کے دن ذی الحجہ کی ستائیسویں یا اٹھائیسویں تاریخ کو ہوئی۔ 


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مدینہ کے بارے میں فرمان


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے حرم بنانے کے بارے میں دعا کی تھی جیسی دعا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کے بارے میں کی تھی ۔ علامہ عمادالدین اسماعیل ابن کثیر لکھتے ہیں: یزید نے مسلم بن عقبہ کو یہ کہنے میں کہ وہ تین دن تک مباح“ کر دے فحش غلطی کی ہے۔ یہ ایک بہت ہی بڑی قبیح غلطی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اُن کے بیٹوں کا قتل بھی شامل ہے۔ اور پہلے بیان ہو چکا ہے کہ یزید نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کو عبید اللہ بن زیاد کے ہاتھوں قتل کروایا تھا۔ ان تین دن میں مدینہ منورہ میں وہ بے حد و حساب عظیم مفاسد رونما ہوئے جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ہے۔ یزید نے مسلم بن عقبہ کو بھیج کر اپنی حکومت اور اقتدار کو مضبوط کرنا اور بغیر کسی جھگڑا کرنے والے کے اپنے ایام کو دوام بخشا چاہا لیکن اللہ تعالیٰ نے اُس کے ارادے کے خلاف اُسے سزا دی اور اُس کے ارادے کے درمیان حائل ہو گیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے یزید کو ہلاک کر دیا۔ امام بخاری نے اپنی صحیح میں سیدہ عائشہ بنت سعد بن ابی وقاص کی روایت بیان کی ہے کہ اُن کے والد محترم نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی اہل مدینہ سے جنگ کرے گا وہ یوں پکھل جائے گا جیسے نمک پانی میں پگھل جاتا ہے ۔ امام مسلم نے اپنی صحیح میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی روایت پیش کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو شخص مدینہ منورہ کے متعلق برائی کا ارادہ کرے گا اللہ تعالیٰ اسے سیسے کی طرح پگھلا دے گا۔ پانی میں نمک کی طرح پگھلا دے گا ۔ صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہ اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص اہل مدینہ سے برائی کا ارادہ کرے گا اللہ تعالیٰ اُسے یوں پگھلا دے گا جیسے نمک پانی میں پکھل جاتا ہے ایساہی ہوا اور مسلم بن عقبہ اس کے بعد مکہ مکرمہ پر حملہ کرنے جارہا تھا کہ راستے میں ہی مر گیا ) مسند احمد بن حنبل میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے از راہ ظلم اہل مدینہ کو خوف زدہ کیا اللہ سے خوف زدہ کرے گا اور اُس پر اللہ تعالیٰ اور اُس کے فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہوگی اور قیامت کے دن اللہ تعالی اس سے قیمت اور معاوضہ قبول نہیں فرمائے گا۔ سنن نسائی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اہل مدینہ کو خوف زدہ کیا اللہ سے خوف زدہ کرے گا اور اُس پر اللہ تعالیٰ اور اُسکے فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہوگی۔“


اہل مکہ کی جنگی تیاری


مدینہ منورہ پر مسلم بن عقبہ شکر یک حملہ آور ہورہا تھا اور اسی دوران مکہ مکرمہ میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ مسلمانوں کو حج کرا رہے تھے۔ حج مکمل ہو جانے کے بعد آپ رضی اللہ عنہ مسلسل مدینہ منورہ کے بارے میں معلومات لے رہے تھے کہ چند دنوں بعد انہیں اہل مدینہ کی شکست کی اطلاع ملی ۔ آپ رضی اللہ عنہ سمجھ گئے کہ اب مسلم بن عقبہ لشکر لیکر مکہ مکرمہ پر حملہ آور ہوگا کیونکہ اسے یزید نے یہی حکم دیا تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: 63 ہجری میں عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کے ساتھ حج کیا۔ ابھی تک آپ رضی اللہ عنہ پناہ گیر کہلاتے تھے اور امر خلافت کا مدار شوری پر لوگ سمجھتے تھے محرم الحرام کی چاند رات کا ذکر ہے کہ مسور بن مخترمہ کا آزاد کردہ غلام سعید مکہ مکرمہ آیا اور اس نے بیان کیا کہ مسلم بن عقبہ نے اہل مدینہ کے ساتھ کیا کیا اور یہ لوگ کس طرح پیش آئے ۔ اس واقعہ کو مسلمانوں نے ”امر عظیم سمجھا اور اس کو شہر میں مشہور کیا۔ سب نے بہت جدوجہد کی اور سامانِ جنگ میں مشغول ہو گئے کیونکہ سمجھ گئے تھے کہ مسلم بن عقبہ ادھر بھی ضرور آئے گا۔ علامہ عماد الدین اسماعیل ابن کثیر لکھتے ہیں: جب اہل حدر قتل ہوئے تو مکہ مکرمہ میں اسی رات میں جبل ابو تمہیں پر ایک ہاتف نے آواز لگائی اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیٹھے سن رہے تھے : ” روزہ دار، فرماں بردار، عبادت گزار، نیک، ہدایت یافتہ حسن سلوک کرنے والے اور کامیابی کی طرف سبقت کرنے والے، واقتم اور بقیع میں کیسے کیسے عظیم اور خوب صورت سردار اور بیٹرب کے علاقے میں کیسی کیسی رونے اور چلانے والیس ہیں ۔ اُس نے نیک اشخاص اور نیکوں کے بیٹوں کو قتل کر دیا ہے جو بارعب اور تھی تھے ۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے لوگو! تمہارے اصحاب قتل ہو گئے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔“


لشکر شام کی مکہ مکرمہ کی طرف پیش قدمی


مدینہ منورہ پر قبضہ کرنے کے بعد مسلم بن عقبہ اپنے لشکر کولیکر مکہ مکرمہ پرحملہ کرنے کے لئے روانہ ہو لیکن اُسے مکہ مکرمہ پہنچانا نصیب نہیں ہوا اور راستے میں ہی اُس کا انتقال ہو گیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: مسلم بن عقبہ مدینہ منورہ والوں سے جب فارغ ہوا اور اُس کے لشکر والے تین دن تک شہر کو لوٹ چکے تو اُن سب کو ساتھ لیکر مکہ مکرمہ کا رخ کیا۔ مدینہ منورہ میں اُس نے روح بن زنباح عمر و بن محرز کو اپنا جانشین بنا کر گیا۔ مسلم بن عقبہ مدینہ منورہ سے روانہ ہو کرمحرم الحرام کے آخری دنوں میں مشلل“ یا ” رشا یا ابواء تک ہی پہنچا تھا کہ اس کی موت آگئی۔ مرتے وقت اُس نے حصین بن نمیر کو بلایا اور کہا: اے ابن پالان خر! اگر میرے اختیار میں ہوتا تو اللہ کی قسم ! میں تجھے اس لشکر کا سپہ سالار نہیں بناتا۔ لیکن میرے بعد تجھے امیر المومنین یزید نے لشکر کا سپہ سالار مقرر کر دیا ہے اور امیر المومنین یزید کا حکم مل نہیں سکتا ہے۔ چار باتیں میں تجھ سے کہے دیتا ہوں اسے سن رکھ۔ بہت جلد روانہ ہو۔ جلدی لڑائی شروع کر دینا۔ خبروں کو پوشیدہ رکھنا۔ قریش میں سے کسی کی نہیں سنا۔ اس کے بعد مسلم بن عقبہ مرگیا اور اُسے وہیں مشلل میں دفن کر دیا گیا۔


مکہ مکرمہ پر حملہ


شامی لشکر نے مدینہ منورہ کو پامال کرنے کے بعد مکہ مکرمہ پر حملہ کرنے کے لئے اُس کے قریب حصین بن نمیر کی سپہ سالاری میں پہنچ گیا۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : مدینہ منورہ سے فارغ ہو کر مسلم بن عقبہ نے اپنے لشکر کو مرتب کر کے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے جنگ کے ارادے سے مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوا لیکن مقام ابواء پر پہنچا تو بیمار ہو گیا۔ جب اُسے بچنے کی کوئی امید نہیں رہی تو اُس نے حصین بن نمیر کو شکر کا سپہ سالار بنادیا اور مرگیا۔ حصین بن نمیر شامیوں کا لشکر لیکر چھپیں 26 محرم الحرام 64 ہجری کو مکہ مکرمہ پہنچ گیا۔ وہاں اُس نے اہل مکہ کو یزید کی بیعت کرنے کے لئے طلب کیا۔ اُن لوگوں نے انکار کر دیا اور حصین بن نمیر نے مکہ مکرمہ پر حملہ کر دیا۔ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر اہل مکہ اور اہل حجاز نے بیعت کر لی تھی اور وہ لوگ بھی آکر اُن کے پاس جمع ہو گئے تھے جو جنگ حرہ سے بھاگ کر آئے تھے اور کچھ افراد امداد کی غرض سے خوارج کی طرف سے بھی آئے تھے۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ شامی لشکر سے مقابلے کے ارادے سے مکہ مکرمہ سے باہر آئے ۔ سب سے پہلے اُن کے بھائی حضرت منذر بن زبیر رضی اللہ عنہ نے میدان میں نکل کر شامیوں کو للکارا۔ لشکر شام سے ایک شخص نکل کر مقابلے ہر آیا۔ دو دو ہاتھ چلے اور شامی مارا گیا۔ دوسرے شامی نے جیسے ہی قدم آگے بڑھائے حضرت منذر بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ایک ایسا تیر مارا کہ وہ بھی وہیں مر گیا۔ لشکر شام نے یہ رنگ دیکھ کر فوراً حرکت کی اور اجتماعی حملہ کر دیا۔ ایک طرف سے حضرت مسور بن مخرمہ اور حضرت مصعب بن عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم بڑھ بڑھ کر شامیوں پر حملہ کر رہے تھے اور دوسری طرف سے حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ شامیوں کو روک رہے تھے۔ صبح سے شام تک جنگ کا یہی انداز رہا۔ شام ہوتے ہی فریقین اپنے اپنے ٹھکانے پر چلے گئے یہ واقعہ پہلے دن کے محاصرے کا ہے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی حضرت منذر بن زبیر رضی اللہ عنہ کولوگوں کے ساتھ قال کے لئے روانہ کیا اور ایک ساعت تک انہوں نے بہت شدید جنگ کی اور آخر کار حضرت منذر بن زبیر رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے ۔ شام تک زبر دست مقابلہ ہوتا رہا۔ پھر فریقین اپنے اپنے ٹھکانے پر چلے گئے۔ یہ محاصرے کے پہلے دن کا واقعہ ہے۔


خانہ کعبہ پر پتھروں اور آگ کی بارش


حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ مقابلے پڑ ڈٹے ہوئے تھے لیکن دوسرے دن شامی لشکر نے حملہ دوسرے ڈھنگ سے کیا۔ انہوں نے دوبد و جنگ کرنے کے ساتھ ساتھ خانہ کعبہ پر پتھروں اور آگ کے گولوں کی بارش شروع کر دی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اس کے بعد شامی لشکر ماہ محرم الحرام اور پورا ماہ صفر المظفر مکہ مکرمہ پر حملہ کرتے رہے اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اور اُن کے ساتھیوں سے جدال وقتال کرتے رہے۔ ماہ ربیع الاول کی تین تاریخ کو شامی لشکر نے خانہ کعبہ پر منجنیق سے پتھر برسائے اور آگ کے گولے بھی برسائے اور آگ لگا دی اور ی رجز پڑھتے جاتے تھے یہ منجنیق ایک شتر (اونٹ) مست ہے کہ ہم اس سے خانہ کعبہ پر نشانہ لگا رہے ہیں۔ عمرو بن سد وی یہ کہتا جاتا تھا: ”ذرا اُم فردہ کو دیکھنا کہ کہ وہ صفا اور مروہ کے درمیان لوگوں کو نشانہ بنارہی ہے ۔ اُم فروہ اُس نے منجنیق کا نام رکھا تھا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: اس کے بعد حصین بن نمیر نے کوہ ابو قبیس پر منجنیق نصب کرادی جو روزآنہ خانہ کعبہ پر پتھروں کی بارش کرتی تھی ۔ کوئی شخص طواف نہیں کر پا رہا تھا۔ بقیه ماه محرم الحرام اور پورا صفر الظفر اسی حالت میں گذرا یہاں تک کہ ماہر بیع الاول کی تین تاریخ آگئی۔ شامیوں نے خانہ کعبہ پر آگ برسائی جس سے چھت اور پر دے جل کر راکھ ہو گئے۔


یزید کا انتقال


اس سال 64 ہجری میں جب یزید کے بھیجے ہوئے لشکر شام نے مکہ مکرمہ کا محاصرہ کیا ہوا تھا اور خانہ کعبہ پر پتھروں اور آگ کی بارش کر رہے تھے کہ اس دوران ملک شام میں یزید کا انتقال ہو گیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: یزید کا قریہ حوارین میں چودہ (14) ماہ ربیع الاول ہجری کو اڑتیس (38) سال کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ امام زہری نے یزید کی عمر انتالیس (39) سال لکھی ہے۔ یزید نے صرف تین (3) سال چھ (6) مہینہ یا آٹھ (8) مہینہ حکومت کی ۔ یزید کے بیٹے معاویہ بن یزید نے اُس کے جنازے کی نماز پڑھائی۔ ایک روایت ہے کہ یزید بتیس (32) سال چھ (6) مہینے کی عمر میں ماہ رجب المرجب میں حکمراں بنا اور دو (3) سال آٹھ (8) مہینے حکومت کی اور ماہ ربیع الاول ۶۳ ہجری میں پینتیس (35) سال کی عمر میں انتقال ہوا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: ربیع الاول کے آغاز تک محاصرہ جاری رہا اور لوگوں کے پاس یزید کی موت کی خبر آگئی۔ یزید چودہ (14) ربیع الاول 64 ہجری کو (35) یا (38) یا (39) سال کی عمر میں فوت ہو گیا۔ یزید نے تین (3) سال چھ (6) مہینہ یا آٹھ (8) مہینہ حکومت کی۔ اہل شام وہاں مغلوب ہو گئے اور ذلیل و رسوا ہو کر پلٹ گئے ۔ پس اُس وقت جنگ کی آگ ٹھنڈی پڑ گئی اور فتنہ کی آگ بجھ گئی۔


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

اتوار، 1 ستمبر، 2024

Saltanat e Umayya part 28


 ا28 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 28

یزید کی موت کی تصدیق، عالم اسلام میں دو مملکتیں، حصین بن نمیر کی پیش کش، حضرت عبداﷲ بن زبیر کا انکار اور لشکر شام کی واپسی، لشکر شام کی ملک شام واپسی، معاویہ بن یزید سلطنت اُمیہ کا حکمراں، معاویہ بن یزید کا آخری خطبہ، ھ64 ہجری  حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ حکمراں، بصرہ میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی بیعت، عبیداﷲ بن زیاد کا بصرہ سے فرار، ھ64 ھجری : مروان بن حکم’’ سلطنت اُمیہ’’ کا حکمراں، ضحاک بن قیس کی شکست، مروان بن حکم کا دمشق اور ملک مصر پر قبضہ



یزید کی موت کی تصدیق


ملک شام میں یزید کی موت ہوگئی اور مکہ مکرمہ میں ملک شام کا لشکر محاصرہ کئے ہوئے تھا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: یزید مرگیا اور اُس کی موت کی خبر حصین بن نمیر سے پہلے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کول گئی ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پکار کر فرمایا: ”اے کم بختو! اے اللہ کے دشمنو! اب تم کیوں لڑ رہے ہو؟ تمہارا گراہ سردار تو مر گیا ہے۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : ملک شام کے لشکر نے یزید کی موت کے بعد بھی تقریبا! چالیس روز تک مکہ مکرمہ کا محاصرہ کئے رکھا۔ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو شامی لشکر سے پہلے یزید کی موت کی خبر مل گئی ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اعلان کروا دیا: ” اے اہل شام ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے سرکش کو ہلاک کر دیا ہے۔ پس تم میں سے جو شخص اس میں شامل ہونا چاہتا ہے جس میں لوگ شامل ہوئے ہیں وہ ایسا ہی کرے اور جو ملک شام واپس جانا چاہتا ہے وہ واپس چلا جائے ۔ شامیوں نے اہل مکہ کی اس خبر پر یقین نہیں کیا حتی کہ ثابت بن قیس بن قیع یقینی خبر لیکر آیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: ملک شام میں یزید کے انتقال کے بعد وہاں کے لوگوں نے یزید کے بیٹے معاویہ بن یزید کو اپنا بادشاہ بنا لیا۔ اور حجاز والوں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے بیعت کر لی۔ یزید کی موت کے بعد بھی حصین بن نمیر شامی لشکر کے ساتھ چالیس دن تک مکہ مکرمہ کا محاصرہ کئے رہا بلکہ محاصرہ اور شدید کر دیا۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اور اُن کے ساتھی تنگ آگئے یہاں تک کہ آپ رضی اللہ عنہ کو یزید کے مرنے کی خبر ہوگئی اور شامیوں کو خبر نہیں ہوئی۔ دونوں طرف سے تلوار میں چل رہی تھیں کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو یزید کی موت کی خبر لی تو آپ رضی اللہ عنہ نے پکار کر اہل شام سے فرمایا: ” لوتمہارا طاغوت ہلاک ہو گیا ہے۔ اب جس کا جی چاہے اس بیعت میں شریک ہو جائے جو بیعت یہاں کے لوگوں نے کی ہے اور جسے منظور نہ ہو وہ ملک شام چلا جائے ۔ یہ سن کر شامیوں نے اور شدید حملہ کر دیا۔


باب نمبر 3 


عالم اسلام میں دو مملکتیں 


حصین بن نمیر کی پیش کش


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی بات کا شامیوں کو یقین نہیں آیا یہاں تک کہ ایک مستند قاصد نے حصین بن نمیر کو یزید کی موت کی اطلاع دی ۔ اُس نے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو حکمراں بن کر ملک شام چلنے کی پیش کش کی جسے قبول کرنے سے آپ رضی اﷲ عنہ نے انکار کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی زبانی یزید کی موت کا سن کر اہل شام کے لشکر کو یقین نہیں آیا ۔ وہ اسی طرح محاصرہ کئے رہے ۔اِسی دوران ثابت بن قیس نخعی اہل عراق کے ساتھ کوفہ سے مکۂ مکرمہ آیا اور حصین بن نمیر سے ملاقات کی ۔اُن دونوں کی دوستی بھی تھی اور رشتہ ازدواجی بھی ۔ اُس نے حصین بن نمیر کو بتایا کہ یزید کا انتقال ہوگیا ہے ۔ حصین بن نمیر نے یہ سن کر حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ سے کہلا بھیجا کہ آج رات مقام ‘‘ابطح’’ میں مجھ سے ملاقات کرنا ۔ دونوں کی ملاقات ہوئی تو حصین بن نمیر نے کہا : ‘‘ اگر یزید مر گیا ہے تو تم سے زیادہ خلافت کا کوئی حقدار نہیں ہے ۔آؤ میں اپنے لشکر کے ساتھ تم سے بیعت کر لوں اور اس کے بعد میرے ساتھ ملک شام چلو ۔ یہ لشکر جو میرے ساتھ ہے اِس میں ملک شام کے بڑے بڑے سرداران شامل ہیں ۔ اﷲ کی قسم! دو شخص بھی تمہاری بیعت سے انکار نہیں کریں گے ۔ شرط یہ ہے کہ تم سب کو امان دیکر مطمئن کردو اور ہمارے اور تمہارے درمیان حرہ کے میدان میں جو خونریزی ہوئی ہے اُس سے چشم پوشی کرو ۔عمرو بن سعید اکثر کہا کرتا تھا :‘‘ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ جانتے تھے کہ مکۂ مکرمہ وہ مقام ہے جہاں اﷲ تعالیٰ نے اُن کو محفوظ رکھا ہے ۔ اﷲ کی قسم! اگر وہ شامی لشکر کے ساتھ ملک شام چلے جاتے تو وہاں دو شخص بھی اُن کی بیعت کا انکار نہیں کرتے۔ 


حضرت عبداﷲ بن زبیر کا انکار اور لشکر شام کی واپسی


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو حصین بن نمیر نے پیش کش کی تھی لیکن آپ رضی اﷲ عنہ نے اُسے قبول کرنے سے انکار کردیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہین : حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : میں اس خونریزی سے چشم پوشی کروں ؟ نہیں اﷲ کی قسم! اگر ایک ایک شخص کے بدلے میں دس دس آدمیوں کو قتل کروں جب بھی مجھے چین نہیں آئے گا ۔ ’’ حصین بن نمیر دھیمی آواز میں بول رہا تھا اور حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ بلند آواز سے فرماتے تھے :‘‘ نہیں! اﷲ کی قسم! یہ مجھ سے نہیں ہوگا ۔’’آخر حصین بن نمیر نے کہا: ‘‘ اب بھی اگر تمہیں کوئی ‘‘پُر فن’’ اور ‘‘لسان’’ کے لقب سے یاد کرے تو اُس سے اﷲ سمجھے ! ارے میں تو سمجھتا تھا کہ تم کچھ عقل رکھتے ہو لیکن تمہیں تو اتنی عقل بھی نہیں ہے کہ میں تم سے ایک بات دھیمی کہوں تو تم پکار کر جواب دیتے ہو۔میں تم کو ‘‘حکمراں’’ بنانا چاہتا ہوں اور تم مجھے قتل اور قصاص کی دھمکی دے رہے ہو۔’’ 


لشکر شام کی ملک شام واپسی


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے حصین بن نمیر کو صاف جواب دے دیا ۔ اِس کے بعد وہ اپنا لشکر لیکر پہلے مدینۂ منورہ روانہ ہوا پھر وہاں سے ملک شام کی طرف روانہ ہو گیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حصین بن نمیر یہ کہہ کر اُٹھ کھڑا ہوا اور لوگوں کو پکار کر لشکر کو لیکر مدینۂ منورہ کی طرف روانہ ہوا ۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے حصین بن نمیر کو پیغام بھیجا کہ ‘‘میں ملک شام نہیں آؤں گا لیکن تم لوگ مجھ سے بیعت کر لوگے تو میں تم کو امان دے دوں گا اور عدل سے پیش آؤں گا ۔’’ حصین بن نمیر نے جواب دیا : ‘‘ یہ بتاؤ کہ تم خود تو پیچھے رہ جارہے ہو اور میں وہاں ملک شام گیا اور وہاں جا کر دیکھوں کہ خاندان بنو اُمیہ کے بہت سے لوگ خلافت کا دعویٰ کر رہے ہیں اور بہت سے لوگ اُن کی طرف مائل ہو رہے ہیں تو اُس وقت میں کیا کروں گا ؟’’ اِس کے بعد وہ اپنے لشکر کو لیکر مدینۂ منورہ پہنچا ۔ یہاں حضرت علی اوسط بن حسین رضی اﷲ عنہ نے اُس کے لئے کھانے اور اُس کے جانوروں کے لئے چارے کا انتظام کیا ۔ اُس نے اُن کا شکریہ ادا کیا اور اپنا لشکر لیکر ملک شام چلا گیا ۔ 


معاویہ بن یزید سلطنت اُمیہ کا حکمراں


یزید کے انتقال کے بعد اُس کے بیٹے معاویہ بن یزید کوملک شام میں سلطنت اُمیہ کا بادشاہ بنا یا گیا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : یزید کی وفات کے بعد اُس کے بیٹے معاویہ بن یزید کوچودہ ربیع الاول ۶۴ ؁ ہجری میں سلطنت اُمیہ کا بادشاہ بنا دیا گیا ۔ یہ ایک نیک اور درویش صفت انسان تھا اور اِس کی حکومت کی مدت لمبی نہیں ہوئی ۔ بعض کا قول ہے کہ اِس نے چالیس (40) دن حکومت کی اور بعض کے مطابق بیس (20) دن اور بعض کے مطابق دو مہینہ اور بعض کے مطابق ڈیڑھ مہینہ اور بعض کے مطابق تین مہینہ اور بیس دن اور بعض کے مطابق چار مہینہ حکومت کی ۔ یہ اپنی حکومت کے زمانے میں مریض تھا اور لوگوں کے پاس نہیں آیا ۔ ضحاک بن قیس ہی لوگوں کو نماز پڑھاتا رہا اور تمام امور (کاموں) کو درست کرتا رہا ۔ پھر معاویہ بن یزید کا اکیس (21) سال کی عُمر میں انتقال ہو گیا ۔ بعض کے مطابق تیئس (23) سال اور بعض کے مطابق اُنیس (19) اور بعض کے مطابق بیس (20) سال اور بعض کے مطابق پچیس (25) سال کی عمر میں معاویہ بن یزید کا انتقال ہوا اور اُس کے بھائی خالد نے اُس کی نماز جنازہ پڑھائی ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : حصین بن نمیر جب اپنے لشکر کے ساتھ مدینۂ منورہ سے روانہ ہونے لگا تو اُس کے ساتھ مدینۂ منورہ میں رہنے والے تمام بنو اُمیہ بھی ملک شام روانہ ہوگئے ۔ جس وقت شامیوں کا لشکر اور بنو اُمیہ ‘‘دمشق ’’پہنچے تو معاویہ بن یزید کو اراکین سلطنت اپنا بادشاہ بنا چکے تھے لیکن یہ صرف تین مہینے حکومت کر کے مر گیا اور بعض کے قول کے مطابق چالیس دن حکومت کر کے اکیس سال کی عُمر میں انتقال کر گیا ۔


معاویہ بن یزید کا آخری خطبہ


معاویہ بن یزید نے دمشق میں تمام اراکین سلطنت اور ملک شام کی عوام کو جمع کر کے اپنا آخری خطبہ دیا ۔علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : معاویہ بن یزید نے اپنی حکومت کے آخری دنوں میں تمام لوگوں کو جمع کیا اور ایک خطبہ دیا :‘‘ اے لوگو! میں تم پر حکومت کرنے سے معذور ہوں ۔پس میں حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی پیروی کرتا ہوں جیسا کہ انہوں نے چھ آدمیوں کو ‘‘ارباب ِ شوریٰ’’ منتخب کر کے مقرر کیا تھا ۔ میں بھی تم لوگوں کو اختیار دیتا ہوں کہ جس کو مناسب سمجھو خلافت کے لئے اُس کو منتخب کر لو ۔ ’’ یہ خطاب کرنے کے بعد معاویہ بن یزید اپنے محل سرا میں چلا گیا اور پھر زندہ واپس نہیں آیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : یزید کے بعد اُس کا بیٹا معاویہ بن یزید بادشاہ بنا تو اُس نے حکم دیا کہ ملک شام میں ‘‘الصلوٰۃ الجامعۃ’’ کی ندا کر دی جائے ۔ جب سب لوگ جمع ہو گئے تو اُس نے کہا:‘‘ میں نے تم پر حکومت کرنے کے باب میں فکر کی تو معلوم ہوا کہ یہ کام مجھ سے نہیں ہو سکے گا ۔ اب میں نے چاہا کہ کوئی شخص تمہارے لئے ایسا ڈھونڈوں جیسے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ خلیفۂ اوّل حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو مل گئے تھے لیکن مجھے کوئی بھی ایسا شخص نہیں ملا ۔ پھر میں نے چاہا کہ تمہارے لئے ‘‘شوریٰ’’ کے لئے چھ اشخاص کو ڈھونڈوں جیسے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو مل گئے تھے ۔ایسے لوگ بھی مجھے نہیں ملے ۔ اب تم کو اختیار کے کہ جسے چاہو اپنا بادشاہ بنا لو ۔’’ یہ کہہ کر معاویہ بن یزید اپنے گھر میں چلا گیا اور ایسا گیا کہ مر کر ہی نکلا ۔ بعض کہتے ہیں کہ اسے زہر دے دیا گیا تھا ۔ بعض کہتے ہیں کہ اُسے چھری مار دی گئی تھی ۔معاویہ بن یزید کی موت کے ساتھ ہی حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کے گھرانے کی حکومت ختم ہو گئی ۔ کیونکہ اِس کے بعد ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کی باگ ڈور اُمیہ خاندان کے دوسرے گھرانے نے سنبھال لی تھی ۔ 


ھ64 ہجری  حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ حکمراں

اسِ سال 64 ہجری میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے مکۂ مکرمہ میں اپنی حکومت کا اعلان کر دیا اور مکۂ مکرمہ کو ‘‘دارلخلافہ’’ بنایا ۔ مکۂ مکرمہ اور مدینۂ منورہ والوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کو حکمراں تسلیم کر لیا اور ‘‘حجاز’’ کے تمام علاقے والوں نے بھی آپ رضی اﷲ عنہ کی حکمرانی تسیلم کر لی ۔ اب مملکت اسلامیہ میں دو حکومتیں تھیں ۔ایک حکومت ملک شام،عراق اور ایران میں جس کا ‘‘مرکذ’’ دمشق تھا اور اُن کا حکمراں معاویہ بن یزید تھا ۔ دوسری حکومت ‘‘حجاز’’ میں تھی جس کا ‘‘مرکذ’’ مکۂ مکرمہ تھا اور ملک عراق اور ایران والوں کا جھکاؤ اِسی حکومت کی طرف تھا ۔ اِسی لئے کچھ ہی مہینوں میں‘‘ملک حجاز’’ کے ساتھ ساتھ ‘‘ملک عراق’’ اور ‘‘ملک ایران’’ پر بھی حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی حکومت ہو گئی ۔ اُمیہ خاندان کی حکومت صرف ‘‘ملک شام’’ اور ‘‘ملک مصر’’ پر ہی رہ گئی تھی ۔ 


بصرہ میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی بیعت


بصرہ اور کوفہ کے گورنر عبیداﷲ بن زیاد نے یزید کے پاس اپنے مخبر بھیجے ہوئے تھے کیونکہ یزید نے اُسے حکم دیا تھا کہ وہ لشکر لیکر مکۂ مکرمہ جائے اور حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ سے جنگ کرے لیکن اُس نے یہ حکم ماننے سے انکار کر دیا تھا ۔ اِسی لئے اُسے یزید کی طرف سے کھٹکا تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عبیداﷲ بن زیاد نے اپنے ایک آزاد کردہ غلام حمران کو ملک شام روانہ کیا کہ یزید کی خبر لیکر آئے ۔ وہ واپس آیا اور چپکے چپکے عبیداﷲ بن زیاد کو یزید کی موت کی اطلاع دی ۔ عبداﷲ بن زیاد نے یہ سنتے ہی فوراً موذن کو حکم دیا کہ ‘‘الصلوٰۃ الجامعۃ’’ کا اعلان کرے ۔ بصرہ کے لوگ جمع ہوگئے ۔عبیداﷲ بن زیاد منبر پر گیا اور یزید کی موت کی خبر سنائی ۔ اِس کے بعد اُس نے اپنی بصرہ کی گورنری اور ملک شام کی حکومت کی بیعت اپنے ہاتھ پر لوگوں کو کرنے کا حکم دیا ۔ سب لوگوں نے اُس کے ہاتھ پر بیعت کرلی ۔ مگر جب وہ وہاں سے اُٹھ کر چلا گیا تو لوگ دیوار پر اپنے ہاتھ رگڑ کر پاک کرنے لگے اور کہنے لگے :‘‘ مرجانہ کا بیٹا سمجھتا ہے کہ اِس حالت میں بھی ہم لوگ اُسی کو اپنا گورنر بنائیں گے ۔ ’’ اِس کے بعد عبیداﷲ بن زیاد کی حکومت بصرہ پر دن بہ دن کمزور ہوتی گئی ۔ جب وہ کوئی حکم دیتا تھا تو کوئی نہیں سنتا تھا اور وہ کوئی رائے دیتا تھا تو لوگ اُسے رد کر دیتے تھے ۔ ایسے وقت میں سلمہ بن ذویب نے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے لئے بیعت لینے کا اعلان کیا ۔ 


عبیداﷲ بن زیاد کا بصرہ سے فرار


بصرہ کے لوگوں کے دل حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی طرف مائل ہوچکے تھے اور سلمہ بن ذویب نے بصرہ والوں سے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے لئے بیعت لینا شروع کردیا تھا ۔ عبیداﷲ بن زیاد کو اِس کی اطلاع ملی تو اُس نے ‘‘الصلوٰۃ الجامعۃ’’ کا حکم دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : لوگ جمع ہو گئے تو عبیداﷲ بن زیاد نے کہا : ‘‘ میرے اور تمہارے درمیان کیا معاملہ گذرا ہے ؟ میں تم سے کہتا تھا کہ تم کسی کا انتخاب کرو تو میں بھی بیعت کر لوں گا ۔ تم لوگ میرے سوا کسی سے بیعت کرنے پر راضی نہیں ہوئے ۔ پھر میں نے سنا کہ تم نے دیواروں اور دروازوں پر ہاتھ رگڑ کر پاک کیا اور جو تمہارے منہ میں آیا وہ کہا ۔اب یہ حال ہے کہ میں جو حکم دیتا ہوں وہ تم نہیں مانتے اور میری رائے رد کر دی جاتی ہے اور میرے سپاہیوں اور مجرموں کے درمیان لوگ حائل ہو جاتے ہیں ۔اب یہ سلمہ بن ذویب تمہارے خلاف دعوت دے رہا ہے اور اس کا ارادہ ہے کہ جماعت میں تفرقہ ڈالے ۔’’ یہ سن کر احنف نے کہا: ‘‘ ہم سلمہ بن ذویب کو تیرے پاس لیکر آتے ہیں ۔’’ یہ لوگ سلمہ بن ذویب کے گھر گئے تو وہاں دیکھا کہ ہزاروں لوگ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی حکومت کے لئے سلمہ بن ذویب کے ہاتھ پر بیعت کر رہے ہیں ۔یہ دیکھ کر وہ لوگ بھی بیعت کرنے لگے ۔ عبیداﷲ بن زیاد نے جب دیکھا کہ بصرہ کے لوگوں میں سلمہ بن ذویب کو کامیابی مل رہی ہے تو وہ اپنے گھر والوں کو لیکر اور تمام مال لیکراور جائیداد چھوڑ کر بصرہ سے ملک شام کی طرف فرار ہو گیا ۔ جب وہ بھاگا تو لوگوں نے اُس کا تعاقب کیا لیکن وہ ہاتھ نہیں لگا تو جو کچھ اُس کا مال و جائیداد ہاتھ آیا اُسے لوٹ لیا ۔کوفہ والوں نے بھی عبیداﷲ بن زیاد کو معزول کر کے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی حکومت کو تسلیم کر لیا ۔ 


ھ64 ھجری : مروان بن حکم’’ سلطنت اُمیہ’’ کا حکمراں


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی حکومت ملک حجاز ، ملک عراق اور ملک ایران وغیرہ میں مضبوطی سے قائم ہو گئی تھی ۔ جبکہ ملک شام میں معاویہ بن یزید کے انتقال کے بعد کوئی بھی حکمراں نہیں تھا ۔ ملک شام کا نگراں ضحاک بن قیس ارادہ کر رہا تھا کہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ اور تمام ملک شام کی عوام کے ساتھ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی بیعت کر لے اور اِس کے لئے وہ کوشش بھی کر رہا تھا ۔ مدینۂ منورہ سے سب بنو اُمیہ ملک شام میں آگئے تھے ۔اِن میں مروان بن حکم بھی تھا ۔مروان بن حکم کابھی یہی ارادہ تھا کہ وہ بھی حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی بیعت کر لے ۔جب حصین بن نمیر اپنا لشکر لیکر ملک حجاز سے واپس آیا تو اُس نے مروان بن حکم سے کہا : ‘‘ میں تمہارے ہاتھ پر بیعت کرتا ہوں اور تم حکومت سنبھال لو۔’’ مروان بن حکم نے انکار کر دیا ۔ اِسی دوران عبیداﷲ بن زیاد بھی بصرہ سے فرار ہو کر ملک شام پہنچ گیا اور جب اُسے مروان بن حکم کا ارادہ معلوم ہوا تو اُس نے منع کیا اور کہا کہ تم خود ملک شام کے حکمراں بن جاؤ ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عبیداﷲ بن زیاد جب ملک عراق سے ملک شام میں آیا تو اُس نے بنو اُمیہ کو ‘‘تدمر’’ میں پایا ۔ اِن لوگوں کو حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے مدینۂ منورہ اور مکۂ مکرمہ سے نکالا دیا تھا اور یہ لوگ ‘‘تدمر’’ میں قیام پذیر ہو گئے تھے ۔اِن کو معلوم ہوا کہ ضحاک بن قیس اِس وقت حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی طرف سے ملک شام میں گورنر ہے ۔ عبیداﷲ بن زیاد اُس وقت پہنچا جب حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ سے بیعت کرنے اور بنو اُمیہ کے لئے امان طلب کرنے کو مروان بن حکم روانہ ہونے والا تھا ۔ عبیداﷲ بن زیاد نے اُس سے کہا : ‘‘ اﷲ کے لئے اِس ارادے سے باز آجا ۔ یہ عقل کی بات نہیں ہے کہ تم قریش کے بزرگ ہو کر اُس مکار سے بیعت خلافت کرنے جاؤ ۔تمہیں چاہیئے کہ اہل تدمر کو دعوت دے اور اُن سے حکومت کے لئے بیعت لے پھر اُن کو اور تمام بنو اُمیہ کو جو تیرے ساتھ ہیں لیکر ضحاک بن قیس پر حملہ کر کے اُسے ملک شام سے نکال دے ۔’’ عمرو بن یزید نے کہ : ‘‘ اﷲ کی قسم! عبیداﷲ بن زیاد سچ کہتا ہے اور یہ بات بھی تو ہے تم قریش کے سردار ہو اور حکومت کا سب سے بڑا حق تمہارا ہے۔ہاں اِس چھوکرے (خالد بن یزید) پر لوگوں کی نظر پڑتی ہے تو تم اس کی ماں سے ( یزید کی بیوہ سے) نکاح کر لو اور پھر یہ تمہارا فرزند ہو جائے گا ۔ ’’ مروان بن حکم نے یزید کی بیوہ سے نکاح کر لیا اور ملک شام میں اپنی حکومت کا اعلان کر دیا اور خالد بن یزید کو ‘‘ولی عہد’’ بنا دیا ۔ یعنی اُس کے بعد وہ حکمراں ہوگا۔علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : بنو امیہ مقام ‘‘جابیہ’’ میں جمع تھے اور کوئی امر طے نہیں پا رہا تھا ۔ حسان بن مالک کلبی امامت کر رہا تھا اور مروان بن حکم در پردہ اپنی بیعت کی ترغیب دے رہا تھا ۔رفتہ رفتہ اِس سعی کا یہ نتیجہ نکلا کہ ایک روز روح بن جنباع نے کھڑے ہو کر اعلانیہ کہہ دیا کہ مروان بن حکم کے ہاتھ پر بیعت کی جائے وہی اِس کا مستحق ہے ۔ پھر جب خالد بن یزید سن شعور کو پہنچے گا تو حکومت اُس کے سپرد کر دی جائے گی ۔ سب لوگوں نے اُس سے اتفاق کیا اور ذی القعدہ ۶۴ ؁ یجری کو تمام بنو کلب ، بنو غسان ، بنو سکاسک اور بنو طے نے مروان بن حکم کو اپنا حکمراں بنا لیا ۔ 


ضحاک بن قیس کی شکست


ملک شام میں مروان بن حکم نے اپنی حکومت قائم کر لی اور لشکر لیکر ضحاک بن قیس سے جنگ کرنے کے لئے نکلا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ضحاک بن قیس کو جب یہ معلوم ہوا کہ بنو اُمیہ نے مروان بن حکم کو اپنا حکمراں بنا لیا ہے اور وہ مجھ سے جنگ کرنے کے لئے آرہا ہے تو اہل حمص وغیرہ میں سے جو اُس کے پاس تھے انہیں لیکر وہ بھی مقابلہ کرنے کے لئے نکلا ۔ انہی لوگوں میں زفر بھی تھا ۔ دونوں لشکروں کا ‘‘مرج راہط’’ میں سامنا ہوا اور شدید جنگ ہوئی ۔اِس جنگ میں ضحاک بن قیس کو شکست ہوئی اوروہ اُس کے اکثر ساتھی قتل ہو گئے اور جو باقی رہے وہ کسی نہ کسی طرح بھاگ گئے ۔ زفر بھی دو نوجوانوں کے ساتھ بھاگا جا رہا تھا کہ اُسی طرف سے مروان بن حکم کے گھڑ سوار آگئے اور تعاقب کرنے لگے ۔ دونوں نوجوانوں نے زفر سے کہا: ‘‘ ہم دونوں تو مارے جائیں گے تم اپنے آپ کو بچا سکتے ہو تو بچا لو ۔’’ زفر اُن دونوں سے جدا ہوکر قرقیسیا کی طرف بھاگ گیا وہاں بنو قیس اُس کے پاس جمع ہوگئے اور انہوں نے اُسے اپنا سردار بنا لیا ۔علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : بیعت لینے کے بعد مروان بن حکم نے ‘‘مرج راہط’’ کا رخ کیا جہاں پر ایک ہزار گھڑ سواروں کے ساتھ ضحاک بن قیس قیام پذیر تھا ۔ مروان بن حکم نے پانچ ہزار کے لشکر کے ساتھ ابتدا میں صف آرائی کی اور بعد میں عباد بن یزید ‘‘حوارن’’سے دوہزار کو لشکر لیکر آگیا ۔ ضحاک نے بھی امداد کے لئے اپنے ساتھیوں کو بلایا تو زفر بن حارث بھی لشکر لیکر آگیا اور ضحاک بن قیس کے پاس ساٹھ ہزار کا لشکر ہو گیا ۔ جبکہ مروان بن حکم کے پاس تیرہ ہزار کا لشکر تھا ۔ دونوں لشکروں میں زبردست جنگ ہوئی ۔ شام کو جنگ بند ہوئی تو مروان بن حکم نے ضحاک بن قیس کو صلح کا پیغام دیا جو اُس نے قبول کر لیا اور یہ طے ہوا کہ صبح صلح نامہ مرتب کر لیا جائے گا ۔ اِسی لئے ضحاک بن قیس اور اُس کے لشکر والے بے فکر ہو گئے ۔ رات میں جب سب سوئے ہوئے تھے تو مروان بن حکم نے اچانک شب خون مارا اور انہیں قتل کرنا شروع کردیا ۔ ضحاک بن قیس اور اُس کے لشکر والے جب جاگے تو اکثریت قتل ہو چکے تھے ۔انہوں نے مقابلہ کرنے کی کوشش کی لیکن انہیں شکست ہو گئی ۔ 


مروان بن حکم کا دمشق اور ملک مصر پر قبضہ


مرج رہط میں دھوکے سے فتح حاصل کرنے کے بعد مروان بن حکم دمشق کی طرف اپنا لشکر لیکر بڑھا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: مرج رہط میں کامیابی ملنے کے بعد مروان بن حکم دمشق میں داخل ہوا ۔ ‘‘دارالامارت’’ یعنی حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کے محل میں رہائش اختیار کی اور بقیہ لشکر سے بیعت لینے کے لئے خالد بن یزید کی ماں (یزید کی بیوہ) سے نکاح کر لیا ۔ پس جب ملک مصر کی طرف روانہ ہونے لگا تو خالد بن یزید سے جنگی سامان اُدھار لئے ۔ ملک مصر میں اُن دنوں عبدالرحمن بن حجدم قریشی گورنر تھا جو حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے خیر خواہوں میں سے تھا ۔ مروان بن حکم کے لشکر کی آمد کی خبر سن کر وہ بھی لشکر لیکر مقابلے کے لئے نکلا ۔ دونوں لشکروں میں زبردست جنگ ہوئی اور یہاں بھی مروان بن حکم کو فتح حاصل ہوئی اور ایک کثیر گروہ کو قید کر کے مروان بن حکم دمشق واپس لوٹا ۔ دمشق کے قریب پہنچا تو خبر ملی کہ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے اپنے بھائی مصعب بن زبیر کو لشکر دیکر ملک شام کی طرف روانہ کیا ہے ۔ یہ سنتے ہی مروان بن حکم نے عمرو بن سعید کو لشکر دے کر روانہ کیا ۔ دونوں لشکروں میں جنگ ہوئی اور عمرو بن سعید کو فتح حاصل ہوئی ۔ اِس طرح دمشق ، ملک شام اور ملک مصر پر مروان بن حکم کا قبضہ ہوگیا ۔ 


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں