منگل، 3 ستمبر، 2024

Saltanat e Umayya part 22

 22 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 22

آخری وقت میں بھی حجت قائم کرنا، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت، معرکہ کربلا کے آخری شہید ہے، علی اوسط ( زین العابدین ) بن حسین رضی اللہ عنہ کو بخش دیا، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے جسم مبارک کے ساتھ سلوک، بد بخت سنان بن انس کا لالچ، شہدائے کربلا کی تدفین، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا سرکوفہ میں، اہل بیت کی کوفہ روانگی، عبید اللہ بن زیاد کی گستاخی، 



آخری وقت میں بھی حجت قائم کرنا


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو دشمنوں نے گھیرا ہوا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ کو کئی تیر لگے ہوئے تھے اور آپ رضی اللہ عنہ تیر نکالے بغیر اسی حالت میں دشمنوں سے لڑ رہے تھے۔ علامہ محمد بن جری طبری لکھتے ہیں: حمید بن مسلم کہتا ہے : ” حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ خزر کا جبہ پہنے ہوئے تھے، عمامہ باندھے ہوئے تھے، دسمہ کا خضاب کئے ہوئے تھے اور پیدل ہو کر قتل کر رہے تھے جیسے کوئی شہسوار فاصلہ سے خود کو بچاتے جائے اور کمین گاہوں سے اپنا موقع ڈھونڈتا جائے اور سواروں پر حملہ کرتا جائے اور شہید ہونے سے پہلے میں نے آپ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا: ”تم لوگ مجھے شہید کرنے پر آمادہ ہو ؟ سن رکھو! اللہ کی قسم ! میرے بعد کسی ایسے بندہ کو اللہ کے بندوں میں سے قتل نہیں کرو گے جس کے قتل پر میرے قتل سے زیادہ اللہ ناراض ہو گا۔ تم سے تو مجھے یہی امید ہے کہ تم مجھے شہید ضرور کرو گے ۔ اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ تمہیں ذلیل کر کے مجھ پر کرم کرے گا۔ پھر میرا انتظام تم سے اس طرح لے گا کہ تم حیران ہو جاؤ گے۔ تم نے مجھے شہید کیا تو اللہ تعالیٰ تم لوگوں میں آپس میں کشت وخون ڈلوادے گا اور تمہاری خون کی ندیاں بہا دے گا اور اسی پر بس نہیں کرے گا۔ یہاں تک کہ عذاب الیم کو تمہارے لئے دو چند کر دے گا اور بہت دیر تک آپ رضی اللہ عنہ اسی حالت میں رہے۔ لوگ آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کرنا چاہتے تو ممکن تھا لیکن ایک کے پیچھے ایک چھتا تھا۔ یہ چاہتا تھا کہ وہ اس کام کو کرے اور وہ چاہتا ہے کہ یہ اس کام کو کرے۔ آخر کار شمر بن ذی جوشن نے پکار کر کہا: ” وائے ہو تم لوگوں پر ! اس شخص کے بارے میں اب کیا انتظار ہے تمہیں ؟ ارے تمہاری  مائیں تم کو روئے اسے قتل کرو۔ اب ہر طرف سے آپ رضی اللہ عنہ پر حملہ ہوا۔ زرعہ بن شریک تمیمی نے دار کیا جس کی ضرب آپ رضی اللہ عنہ کی ہتھیلی پر پڑی۔ پھر سب ہٹ گئے اُس وقت آپ رضی اللہ عنہ اُٹھتے تھے اور پھر گر پڑتے تھے۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کمال سرگرمی سے لڑ رہے تھے۔ شیروں کی طرح سواروں پر جھپٹتے اور پیادوں کی صفوں کو اپنے پر زور حملوں سے اُلٹ پلٹ دیتے تھے اور بار بار فرماتے جاتے تھے: کیا تم لوگ مجھے ہی شہید کرنے کے لئے جمع ہوئے ہو؟ اللہ کی قسم ! میری شہادت سے اللہ تعالیٰ سخت ناراض ہو گیا اور مجھے شہید کرنے سے تم کوکامیابی حاصل نہیں ہوگی اور بے شک اللہ تعالیٰ تم سے میرے خون کا ایسا بدلہ لے گا کہ تم کو خبر بھی نہیں ہوگی۔ اللہ کی قسم ! اگر تم لوگ مجھے شہید کر دو گے تو تم میں خونریزی کا دروازہ کھل جائے گا اور تم پر اللہ اپنا عذاب نازل کرے گا۔ تم لوگ اپنے ہاتھوں کو میرے خون سے نہ رنگو۔ دیکھو! میں بے گناہ ہوں اور مجھے شہید کرنا تمہارے لئے بہتر نہیں ہے۔ کسی شخص نے کوئی جواب نہیں دیا اور آپ رضی اللہ عنہ ان کے حملوں سے اپنے آپ کو بچاتے ہوئے میدان جنگ میں بہادری اور شجاعت کا مظاہرہ کر رہے تھے۔


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو پہلے سے تیر لگے ہوئے تھے پھر بھی آپ رضی اللہ عنہ لڑ رہے تھے ۔ تیروں کے لگنے سے کافی خون بہہ چکا تھا اور جب دشمنوں نے آپ رضی اللہ عنہ پر وار کئے تب بھی آپ رضی اللہ عنہ ہمت پکڑے ہوئے تھے لیکن زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے آپ رضی اللہ عنہ پر غشی طاری ہو رہی تھی اور آپ رضی اللہ عنہ بار بار اٹھتے تھے اور پھر گر جاتے تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: پھر سب ہٹ گئے ، اس وقت آپ رضی اللہ عنہ اُٹھتے تھے اور گر پڑتے تھے۔ پھر اسی حالت میں سنان بن انس شخصی نے آپ رضی عنہ کو برچھی ماری ۔ آپ رضی اللہ عنہ گر پڑے تو اُس نے خوبی بن یزید ابھی سے کہا کہ سرکاٹ لے۔ خولی بن یزید آگے بڑھا مگر اُس سے یہ کام نہیں ہو سکا اور وہ کانپنے لگا۔ سنان بن انس نے کہا: اللہ تیرے بازوؤں کو توڑ دے اور تیرے ہاتھوں کو قطع کرنے“۔ یہ کہہ کر وہ گھوڑے سے اترا اور آپ رضی اللہ عنہ کی طرف بڑھا اور آپ رضی اللہ عنہ کو ذبح کر کے سر کاٹ لیا اور خولی کو دے دیا۔ ذبیح ہونے سے پہلے ہی بہت سی تلوار میں آپ رضی اللہ عنہ پڑ چکی تھیں۔ سر کاٹنے سے پہلے سنان بن انس نے دیکھا کہ یہ حالت تھی کہ جسے دیکھو وہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قریب آرہا تھا اور آپ رضی اللہ عنہ کو تلوار مار رہا تھا۔ یہ دیکھ کر وہ سمجھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دوسرا کوئی سرکاٹ کر لے جائے ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: تقریبا تمام سپاہی آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے سے جی چرا ر ہے تھے اور ہر شخص یہی چاہتا تھا کہ کوئی دوسرا آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کرے۔ شمر بن ذی جوشن نے لشکر کا یہ رنگ دیکھا تو چلا کو بولا : " تمہاری مائیں مرجائیں ! تم لوگ ایک پیدل کو نہیں مار سکتے ہو۔ تف ہے تمہاری مردانگی پر! اگر تم سب مل کر ایک ایک کنکری بھی پھینکو گے تو (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) دب کر مر جائیں گے۔ یہ بسملانہ حرکت کر رہے ہیں اور ان میں کچھ دم باقی نہیں ہے۔ بڑھ بڑھو! اپنے نام اور خاندان کو رسوا نہ کرو۔ سپاہیوں کے دل اس پُر جوش تقریر سے ایک ناجائز جوش بھر گیا اور شمشیر بکف ہو کر پیادوں نے ہر طرف سے حملہ کر دیا اور سواروں نے آپ رضی اللہ عنہ پر تیر برسانے شروع کر دیئے۔ زرعہ بن شریک تمیمی نے لپک کر آپ رضی اللہ عنہ کے بائیں بازو پر پھر کندھے پر تلوار چلائی۔ اس حملے سے آپ رضی اللہ عنہ سنبھلنے بھی نہیں پائے تھے کہ سنان بن انس نخعی نے پہنچ کر نیزہ مارا۔ آپ رضی اللہ عنہ زمین پر گر پڑے۔ خولی بن یزید ابھی سر کاٹنے کے ارادے سے آگے بڑھا لیکن تمام بدن پر رعشہ پڑ گیا۔ سنان بن انس نے اُسے جھڑک دیا اور گھوڑے سے اتر کر آپ رضی اللہ عنہ کے بدن مبارک سے سر الگ کر کے خولی کے حوالے کر دیا۔ قمیص بحر بن کعب نے لے لی ، پاجامہ قیس بن اشعث نے لے لیا جوتے اسود از دی نے لے لئے اور تلوار بنو دارم کے ایک شخص نے لے لی ۔ یہ واقعہ دس (10) محرم الحرام اللہ ہجری جمعہ کے دن کا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے جسم مبارک پر تیروں کے بہت زے زخموں کے علاوہ نیزے کے تینتیس (۳۳) زخم تلوار کے تینتالیس (۴۳) زخم لگے تھے۔


معرکہ کربلا کے آخری شہید ہے


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو بدبختوں نے بے دردی سے شہید کر دیا اور سرکاٹ کر لے گئے۔ ان بد بختوں نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ آپ رضی اللہ عنہ کے جسم مبارک کی اور اہل بیت کی بھی بے حرمتی کی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ جو لباس پہنے ہوئے تھے وہ بھی اُتار لیا گیا اور لوٹ لیا گیا۔ بحر بن کعب نے پاجامہ اُتار لیا۔ قیس بن اشعث نے چادر اُتار لی جس کی وجہ سے اُس کا نام ” قیس قطیفہ یعنی چادر والا قیس مشہور ہو گیا۔ اسود نے آپ رضی اللہ عنہ کے جوتے اتار لئے۔ بونہٹل کے ایک شخص نے آپ رضی اللہ عنہ کی تلوار لے لی جو بعد میں حبیب بن بدیل کے خاندان میں آگئی۔ اس طرح سب نے کچھ نہ کچھ لے لیا۔ پھر سب کے سب اہل بیت کی طرف متوجہ ہوئے اور اُن کے مال و متاع لوٹنے لگے۔ یہ حال تھا کہ ایک بی بی کے سرسے کوئی چادر اتارتا تھا تو دوسرا اُسے چھین لے جاتا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں سے حضرت سوید بن عمرو رضی اللہ عنہ زخموں سے چور ہو کر لاشوں میں غشی کے عالم میں پڑے ہوئے تھے ۔ انہوں نے لوگوں کو یہ کہتے سنا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے تو ذرا چونکے تو دیکھا کہ اُن کی تلوار تو کوئی چھین لے گیا ہے۔ مگر ایک چھری اُن کے پاس موجود تھی اُسی چھری سے وہ کچھ دیرلڑتے رہے۔ آخر عروہ بن بطار تعلمی اور زید بن رقاد جنبی نے مل کر انہیں شہید کر دیا اور یہ سب سے آخر میں شہید ہوئے۔ 


علی اوسط ( زین العابدین ) بن حسین رضی اللہ عنہ کو بخش دیا


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے اہل بیت اور تمام ساتھی شہید ہو چکے تھے اور وہ بد بخت خواتین پر دست درازی کر رہے تھے ۔ خواتین کے خیمے میں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے درمیان والے بیٹے حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ جنہیں امام زین العابدین بھی کہا جاتا ہے بخار میں پھنکتے ہوئے پڑے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کھڑے ہونے کی کوشش کرتے تھے اور جیسے ہی کھڑے ہوتے تھے تو چکرا کر گر پڑتے تھے اور غفلت طاری ہو جاتی تھی ۔ پھر ہوش میں آتے تھے تو اُٹھنے کی کوشش کرتے تھے اور چکرا کر گر پڑتے تھے اور غفلت طاری ہو جاتی تھی ۔ آپ رضی اللہ عنہ کی یہی کیفیت تھی اور اسی دوران میں معرکہ کربلا میں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ شہید ہو چکے تھے۔ اس کے بعد جب وہ بد بخت خواتین کے خیموں کی طرف متوجہ ہوئے تو آپ رضی اللہ عنہ پر بھی حملہ کرنے کی تیاری کرنے لگے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حمید بن مسلم کہتا ہے : ” میں علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا۔ وہ فرش پر بیمار پڑے ہوئے تھے اور بخار میں پھنک رہے تھے۔ شمر بن ذی جوشن اپنے ساتھیوں کے ساتھ پیادوں کو لئے ہوئے ادھر آیا ۔ حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ کے قریب بیٹھی خواتین ان بد بختوں سے کہہ رہی تھیں کہ اس بیار پر رحم کرو اور اسے شہید نہ کرو۔ میں لوگوں سے کہا : "سبحان اللہ یہ تو بہت بیمار ہے اور ابھی بچہ ہے اسے شہید نہ کریں۔ پھر میں وہیں کھڑا ہو گیا اور جو بھی انہیں شہید کرنے کی نیت سے آتا اُسے ٹال دیتا تھا۔ آخر میں عمر بن سعد آیا اور لشکر کو ہدایت کی کہ دیکھو ! عورتوں کے خیمے میں ہرگز کوئی نہیں جائے اور اس بیمارلڑکے سے کوئی بھی تعرض نہ کرے اور جس نے بھی ان کا اسباب لوٹا ہو وہ واپس کر دے لیکن کسی نے بھی کوئی بھی چیز واپس نہیں کی ۔ حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: "اے شخص! اللہ تجھے جزائے خیر عطا فرمائے ، اللہ کی قسم ! تیرے کہنے سے مجھے پر سے آفت ٹل گئی۔ 


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے جسم مبارک کے ساتھ سلوک


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو ن بد بختوں نے شہید کر دیا اور اس کے بعد بھی آپ رضی اللہ عنہ کے جسم مبارک کے ساتھ بھی بہت سلوک کیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اس کے بعد عمر بن سعد نے اپنے لشکر میں اعلان کروا دیا کہ کون کون ہے جو ( حضرت ) حسین بن علی ( رضی اللہ عنہ ) کے جسم مبارک کو پامال کریں گے ؟ سامنے آؤ۔ یہ سن کر دس شخص لشکر میں سے نکل کر آگے آئے۔ اُن میں اسحاق بن حیوہ حضرمی بھی تھا جس نے آپ رضی اللہ عنہ کی قمیص اتار لی تھی اور آخر کار ” مبروص (سفید داغ) ہو گیا تھا۔ ان دس لوگوں میں اجش بن مریم حضرمی بھی تھا۔ یہ دسوں سوار آئے اور اپنے گھوڑوں کو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ ( نعوذ باللہ) کے جسم مبارک پر دوڑانے لگے اور پامال کرنے لگے۔ آپ رضی اللہ عنہ کا جسم مبارک چور چور ہو گیا اور تمام ہڈیاں ٹوٹ پھوٹ گئیں اور سینہ اور پشت مل کر رہ گئے ۔ اس کے بعد اجش بن مرثد کو ایک تیر کہیں سے آکر لگا اور وہ ابھی وہیں میدان جنگ میں ہی تھا۔ تیر اُس کے دل پر جا کر لگا اور وہیں اُس نے بھی دم تو ڑ دیا۔


بد بخت سنان بن انس کا لالچ


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا سر بد بخت سنان بن انس نے کاٹا تھا۔ اس کے بعد وہ بد بخت اپنے اس عمل پر فخر کرنے لگا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں لوگوں نے سنان بن انس سے کہا: ” حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے بیٹے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کو تو نے شہید کیا ہے۔ ملک عرب میں سب سے بڑے مرتبہ والے شخص کو جو اس ارادے سے آیا تھا کہ تمہاری مدد کرے اور تو نے اُسے شہید کر دیا۔ اپنے امیروں کے پاس جا اور اُن سے صلہ مانگ۔ اگر وہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کے عوض میں تجھے اپنے تمام خزانے بھی دے دیں تو وہ کم ہیں ۔ سنان بن انس یہ سن کر اپنے گھوڑے پر سوار ہوا۔ وہ بڑا دلیر تھا اور سکی بھی تھا۔ وہ عمر بن سعد کے خیمے کے دروازے پر آیا اور پکار پکار کر یہ دو شعر کہنے لگا: ” میرے اونٹوں کو چاندی سونے سے لدوا دے۔ میں نے بلند مرتبہ بادشاہ کوقتل کیا ہے۔ جو ماں باپ کی طرف سے بہترین خلق ہے ۔ اور نسب میں سب سے بہتر ہے میں نے اُسے قتل کیا ہے ۔ عمر بن سعد اپنے خیمے سے باہر آیا اور بولا: ” میں اس بات کا گواہ ہوں کہ تو دیوانہ ہے اور کبھی ہوش میں آیا ہی نہیں ہے۔ اسے کوئی میرے پاس لیکر آئے ۔ جب اُسے عمر بن سعد کے سامنے لے گئے تو اُس نے ایک لکڑی اُسے ماری اور کہا: ”او دیوانے یہ کلمہ تو زبان سے نکالتا ہے۔ اللہ کی قسم! عبید اللہ بن زیاد سنتا تو تیری گردن مار دیتا۔


شہدائے کربلا کی تدفین


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کو کوفیوں یا شامیوں نے شہید کر دیا اور آپ رضی اللہ عنہ کے اہل بیت کے سامان کو لوٹ لیا اور اُن کے ساتھ گستاخی کی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ اُن کے بہتر (72) ساتھی بھی شہید ہوئے۔ واقعہ کربلا ہونے کے ایک دن بعد مقام ” غاضریہ میں جو بنو اسد کے لوگ رہتے تھے انہوں نے مل کر اُن لوگوں کو دفن کیا۔ عمر بن سعد کے لشکر میں سے اٹھاسی (88) سپاہی قتل ہوئے۔ ان کے علاوہ زخمی اچھی خاصی تعداد میں تھے۔ عمر بن سعد نے اپنے سپاہیوں کی لاشوں پر نماز جنازہ پڑھی اور انہیں دفن کرنے کے بعد شہدائے کربلا کو اُسی حال میں چھوڑ کر اپنا لشکر اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا سرلیکر چلا گیا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: اس کے بعد عمر بن سعد کے حکم سے دس سواروں نے آپ رضی اللہ عنہ کی لاش کو گھوڑوں کے سموں سے پامال کیا۔ معرکہ کربلا میں آپ رضی اللہ کے ساتھ بہتر (72) ساتھی شہید ہوئے اور عمر بن سعد کے اٹھاسی (88) سپاہی قتل ہوئے۔ عمر بن سعد نے اپنے مقتولوں کو جمع کر کے اُن کی نماز جنازہ پڑھی اور دفن کر کے کوفہ کی طرف روانہ ہو گیا۔ دوسرے دن غاضریہ سے بنو اسد آئے اور انہوں نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور اُن کے ساتھیوں کو کو دفن کیا۔


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا سرکوفہ میں


 حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کے بعد عمر بن سعد نے فوراً آپ رضی اللہ عنہ کا سرکوفہ میں عبید اللہ بن زیاد کے پاس روانہ کر دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے شہید ہوتے ہی اُن کے سرکو اُسی دن خولی بن یزید کے ہاتھ حمید بن مسلم کو ساتھ کر کے عبداللہ بن زیاد کے پاس روانہ کر دیا۔ خولی بن یزید سر کو لئے ہوئے عبید اللہ بن زیاد کے محل گیا تو محل کا دروازہ بند ہو چکا تھا۔ یہ اپنے گھر چلا آیا اور سر کو ایک لگن کے نیچے ڈھانک کر رکھ دیا۔ اُس کی دو عورتیں تھیں ایک بنو اسد کی تھی اور دوسری بن حضرمی سے تھی اور اس کا نام ”نورا تھا۔ یہ رات اُسی کے پاس رہنے کی تھی ۔ جب وہ لیٹنے کے لئے بستر پر آیا تو نورانے پوچھا: ” کیا خبر ہے اور تو کیا لیکر آیا ہے؟ اس نے کہا: ” تمام دنیا کی دولت تیرے پاس لیکر آیا ہوں اور تیرے خیمہ میں (حضرت) حسین بن علی (رضی اللہ عنہ) کا سرلیکر آیا ہوں“۔ نورا نے کہا: ” تف ہے تجھ پر الوگ سونا چاندی لیکر آئے ہیں اور تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل رضی اللہ عنہ کا سرلیکر آیا ہے۔ اللہ کی قسم ! میں اور تو دونوں ایک خیمہ میں اب کبھی نہیں رہیں گے ۔ یہ کہ کر نورا بستر سے اُٹھی اور سیدھی اُس جگہ گئی جہاں آپ رضی اللہ عنہ کا سر رکھا ہوا تھا۔ اب اُس نے بنو اسد کی بیوی کو بھی بلا لیا۔ نوار بیٹھی ہوئی سرکو دیکھ رہی تھی۔ وہ کہتی ہے : اللہ کی قسم! آسمان سے ایک نور کا عمود اس لگن تک تھا۔ میں برابر دیکھتی رہی اور سفید سفید پرندے اس کے گرد اڑ رہے تھے۔ صبح ہوئی تو وہ سر عبید اللہ بن زیادہ کے پاس لے گیا۔


اہل بیت کی کوفہ روانگی


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے سر مبارک کو پہلے ہی عمر بن سعد نے کوفہ روانہ کر دیا تھا۔ اس کے بعد وہ اپنے لشکر کے ساتھ آپ رضی اللہ عنہ کے اہل بیت کو لیکر کوفہ کی طرف روانہ ہوا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: عمر بن سعد نے اُس دن وہیں قیام کیا اور دوسرے دن صبح حمید بن یکیر کو حکم دیا کہ لشکر کو کوفہ کی طرف روانہ ہونے کی منادی کر دے۔ پھر وہ اپنے ساتھ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی بہنوں ، بیٹیوں اور بچوں کو ساتھ لیکر چلا اور حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ بیمار تھے۔ یہ خواتین جب آپ رضی اللہ عنہ کی لاش اور اُن کے ساتھیوں کی لاشوں کے پاس سے گزریں تو رونے لگیں اور فریاد کرنے لگیں۔ قرہ بن قیس تمیمی کہتا ہے کہ میں گھوڑا بڑھا کر قریب گیا اور اُن خواتین کو دیکھا۔ میں نے ایسی خواتین پہلے کبھی نہیں دیکھیں۔ اللہ کی قسم! وہ آہو ان صحرائی سے بھی بڑھ کر حسین تھیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے اور میں سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا کا کہنا نہیں بھولوں گا۔ جس وقت اپنے بھائی کی لاش پر پہنچیں تو فرمایا: " وامحمد وامحمد! آسمان کے فرشتوں کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر صلواۃ ہو! حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ میدان میں پڑے ہوئے ہیں ، خون میں ڈوبے ہوئے ہیں، تمام اعضا ٹکڑے ٹکڑے ہیں ۔ یا محمداہ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹیاں قیدی بنائی گئی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذریت شہید کر دی گئی ہے۔ ہوا اُن کی لاش پر خاک پر خاک ڈال رہی ہے اللہ کی قسم! یہ کر دوست دشمن سب رو دیئے۔ پھر باقی لاشوں کے سر جدا کئے گئے ۔ شمر بن ذی جوشن اور قیس بن اشعث اور عمر و بن حجاج کے ساتھ بہتر (72) سر روانہ کئے گئے ۔ اُن لوگوں نے ان سروں کو عبید اللہ بن زیاد کے پاس پہنچا دیا۔ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے اہل بیت اور خواتین اور بچوں کو عمر بن سعد نے محافظوں کے سپرد کیا۔ انہوں نے انہیں اونٹوں کے ہو د جوں پر سوار کرایا اور جب وہ میدان جنگ سے گزرے تو دیکھا کہ وہاں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کی لاشیں پڑی ہوئی ہیں۔ انہیں دیکھ کر خواتین رونے لگیں اور سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہ نے روتے ہوئے فرمایا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !اے محمدصلی اللہ علیہ وسلم! اللہ تعالی اور آسمان کے فرشتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھیں اور یہاں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ خون میں لتھڑے اور مقطوع الاعضاء ہوکر میدان میں پڑے ہوئے ہیں ۔ اے محمدصلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیاں قیدی ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذریت شہید ہوئی پڑی ہے جس پر صبا خاک اُڑا رہی ہے۔


عبید اللہ بن زیاد کی گستاخی


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا سر مبارک عبید اللہ بن زیاد کے پاس لے جایا گیا تو وہ آپ رضی اللہ عنہ کے سرمبارک کے ساتھ گستاخی کرنے لگا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حمید بن مسلم کہتا ہے : عمر بن سعد نے مجھے بلا کر اپنے اہل وعیال کے پاس بھیجا کہ اُن کو خوش خبری سناؤں کہ اللہ تعالیٰ نے اُسے فتح عطا فرمائی ہے اور عافیت سے گزری ۔ میں جا کر سب کو اطلاع کر آیا۔ واپس آیا تو دیکھا کہ عبداللہ بن زیاد لوگوں سے ملنے کے لئے دربار لگائے بیٹھا ہے اور لوگ تہنیت دینے کے لئے آرہے ہیں۔ اُن لوگوں کو بھی اُس نے اندر بلا لیا اور سب کو بھی اذن دے دیا اور اندر جانے والوں کے ساتھ میں بھی اندر چلا گیا۔ کیا دیکھتا ہوں کی حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا سر مبارک اُس کے سامنے رکھا ہوا ہے۔ اُن کے دانتوں کو ایک ساعت تک وہ چھڑی سے کھٹکھٹاتا رہا۔ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے جب دیکھا کہ وہ چھڑی سے کھٹکھٹانا موقوف نہیں کر رہا ہے تو انہوں نے فرمایا: ” ان دانتوں سے چھڑی کو ہٹا! اس وحدہ لاشریک کی قسم! میں نے رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ اپنے ہونٹ مبارک ان دانتوں پر رکھ کر پیار کرتے تھے۔ اتنا فرما کر وہ بزرگ مرد رونے لگے۔ عبید اللہ بن زیاد نے کہا: اللہ تجھے لائے ! اگر تو بوڑھا اور ضعیف نہیں ہوتا جس کی عقل جاتی رہی ہے تواللہ کی قسم! میں تیری گردن ماردیا ۔ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بین کر اُٹھے اور وہاں سے چلے گئے ۔ اُن کے چلے جانے کے بعد لوگوں میں اس بات کا چرچا ہورہا تھا کہ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے ایسی بات کی ہے کہ جسے اگر عبید اللہ بن زیاد سن پاتا تو انہیں قتل کر دیتا۔ میں نے پوچھا: ”انہوں نے کون سی بات کہی ؟ لوگوں نے کہا: ”انہوں نے فرمایا غلام نے غلام کو حاکم بنا دیا اور اس نے اللہ کے بندوں کو اپنا خانہ زاد بنالیا۔ اے قوم عرب ! آج سے تم سب غلام ہو گئے ہم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے کو شہید کیا اور مرجانہ کے بیٹے کو اپنا حاکم بنالیا کہ وہ نیک لوگوں کو چن چن کر قتل کر رہا ہے اور غلام بنا رہا ہے۔ تم نے ذلت کو گوارا کر لیا ہے اور جس نے ذلت کو گوارا کیا اللہ تعالٰی اس کو مارے ۔


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!


Saltanat e Umayya part 23


23 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 23


سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے گستاخی، حضرت علی اوسط (امام زین العابدین) بن حسین کی دلیری، حضرت عبد اللہ بن عفیف ازدی کی شہادت، یزید کے دربار میں اہل بیت، حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کی حق گوئی، یزید کی گستاخی، اہل بیت کے مدینہ منورہ روانگی کے انتظامات، 


سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے گستاخی

حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے اہل و عیال کو عمر بن سعد لیکر عبید اللہ بن زیاد کے پاس آیا تو اُس نے آپ رضی اللہ عنہ کی بہن سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا سے بھی گستاخی کی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے سر کے ساتھ اُن کے اہل و عیال، اُن کی بہنیں اور سب کے سب عبید اللہ بن زیاد کے سامنے لائے گئے۔ سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا بھی اُن میں تھیں اور کنیز میں آپ رضی اللہ عنہا کو گھیرے ہوئے تھیں ۔ جب آپ رضی اللہ عنہا اندر داخل ہوئیں تو بیٹھ گئیں عبداللہ بن زیاد نے پوچھا: یہ جو بیٹھی ہوئی ہے کون عورت ہے؟ آپ رضی اللہ عنہا نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اُس نے تین مرتبہ پوچھا اور ہر مرتبہ آپ رضی اللہ عنہا نے جواب نہیں دیا۔ اب آپ رضی اللہ عنہا کی کنیز نے جواب دیا: "یہ سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا ہیں ۔ عبید اللہ بن زیاد نے کہا: ” اُس اللہ کا شکر ہے جس نے تم لوگوں کو رسوا کیا قبل کیا اور تمہاری کہانیوں کو جھوٹا کر دیا ۔ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ” شکر ہے اُس اللہ کا جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سبب ہم کو عزت دی، ہم کو طیب و طاہر کیا۔ تو نے جو کہا ایسا نہیں ہے۔ رسوا وہ ہوتا ہے جو جھوٹا ہوتا ہے، جو فاسق اور فاجر ہوتا ہے ۔ عبید اللہ بن زیاد نے کہا: ” تم نے دیکھ لیا کہ تمہارے خاندان والوں سے اللہ نے کیا سلوک کیا؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اُن کے مقدر میں شہید ہونا تھاوہ اپنی شہادت گاہ کی طرف چلے آئے۔ اب تو بھی اور وہ لوگ بھی اللہ کے سامنے جائیں گے اور وہیں تم لوگ اپنے اپنے نزاع و خصومت پیش کرو گے“۔ یہ سن کر عبید اللہ بن زیاد بہت غصے میں آگیا۔ عمرو بن حریث نے کہا: اللہ ہمارے امیر کا بھلا کرے! یہ ایک عورت ہے، کیا عورت کی کسی بات پر مواخذہ ہو سکتا ہے؟ کسی بات کا یا سخت زبانی کا عورت سے تو مواخذہ نہیں کیا جاتا۔ عبید اللہ بن زیاد نے سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہ سے کہا: ” تمہارے خاندان کے سرکشوں اور نافرمانوں کی طرف سے اللہ نے میرے دل کو ٹھنڈا کر دیا ہے ۔ یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہا کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اللہ کی قسم! مردوں کو تو نے شہید کیا، میرے خاندان کو تو نے تباہ کر دیا، اس کی شاخوں کو تو نے قطع کیا اور جڑ سے اُکھاڑ ڈالا۔ اگر اسی سے تیرا دل ٹھنڈا ہو سکتا ہے تو بے شک تو نے ٹھنڈا کر لیا ۔ عبیداللہ بن زیاد بولا: ” یہ عورت بڑی دلیر ہے تمہارے باپ بھی تو شاعر اور بڑے دلیر تھے ۔ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”عوت کو دلیری سے کیا واسطہ ! میں دلیری کیا کروں گی جو منہ میں آیا وہ میں نے کہہ دیا۔ 

حضرت علی اوسط (امام زین العابدین) بن حسین کی دلیری

حضرت علی اوسط (امام زین العابدین ) بن حسین رضی اللہ عنہ کو عبید اللہ بن زیاد نے دیکھا تو آپ رضی اللہ عنہ کو بھی شہید کرنے کا حکم دے دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حمید بن مسلم کہتا ہے حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ جب عبید اللہ بن زیاد کے سامنے لائے گئے تو میں اُس کے پاس ہی کھڑا تھا۔ اُس نے پوچھا: ” تمہارا نام کیا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں علی اوسط بن حسین ہوں۔“ اس نے کہا: ”علی بن حسین کو اللہ نے قتل نہیں کیا ؟“ آپ رضی اللہ عنہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ بولا : ” جواب کیوں نہیں دیتے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے بڑے بھائی بھی علی اکبر بن حسین کہلاتے ہیں۔ انہیں لوگوں نے شہید کیا عبید اللہ بن زیاد نے کہا: نہیں! اللہ نے انہیں قتل کیا ہے“۔ آپ رضی اللہ عنہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ بولا : " جواب کیوں نہیں دیتے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جن کی موت کا وقت آتا ہے تو اللہ ہی اُن کو وفات دیتا ہے اور اللہ کے حکم کے بغیر کوئی شخص مر نہیں سکتا ہے۔ عبد اللہ بن زیاد بولا : الہ کی قسم تم بھی انہیں لوگوں میں سے ہو۔ ذراد دیکھنا تو یہ بالغ ہے کیا؟ اللہ کی قسم! میں تو سمجھتا ہوں کہ یہ مردوں میں داخل ہو چکا ہے ۔ مری بن معاذ نے آپ رضی اللہ عنہ کو برہنہ کر کے دیکھا اور بولا : "یہ بالغ ہے۔ عبید اللہ بن زیاد نے حکم دیا: ” اسے قتل کر دو۔ یہ سن کر حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” ان خواتین کی حفاظت کے لئے تم کس کو مقرر کرو گے؟ اُن کی پھوپھی سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہ اُن سے لپٹ گئیں اور فرمایا: اے عبید اللہ بن زیاد ! ہم لوگوں پر جو مصیبت گذر چکی ہے اُسی پر بس کر ۔ کیا ہم لوگوں کا خون بہانے سے ابھی سیری نہیں ہوئی؟ کیا ہم میں سے کسی کو تو نے باقی رکھا ہے؟ یہ فرما کر انہوں نے بھتیجے کے گلے میں باہیں ڈال دیں اور فرمایا: ”اے عبید اللہ بن زیاد! میں تجھے اللہ کا واسطہ دیتی ہوں! اگر تو مومن ہے تو اس کے ساتھ مجھے بھی قتل کر ۔ حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "اے عبید اللہ بن زیاد! اگر تجھ میں ان لوگوں میں قرابت ہے تو کسی پر ہیز گار شخص کو ان خواتین کے ساتھ روانہ کرنا جو مسلمانوں کی طرح ان کے ساتھ رہے۔ عبید اللہ بن زیاد کافی دیر تک سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا کی طرف دیکھتارہا پھر لوگوں کی طرف دیکھ کر بولا: ” اس خون کے جوش پر تعجب ہوتا ہے۔ اللہ کی قسم! میں سمجھتا ہوں کہ انکو یہ آرزو ہے کہ اس لڑکے کو اگر میں قتل کروں تو اس کے ساتھ ان کو بھی قتل کردوں ۔ اچھا لڑکے کو چھوڑ دو ۔ جاؤ اپنے گھر کی عورتوں کے ساتھ تم ہی جاؤ“۔اور عبید اللہ بن زیاد نے حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ کی جاں بخشی کا اعلان کر دیا۔ 

حضرت عبد اللہ بن عفیف ازدی کی شہادت

حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت پر عبد اللہ بن زیاد نے اعلان فتح کیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: عبید اللہ بن زیاد نے ”الصلاۃ الجامعۃ کا اعلان کروایا۔ یعنی نماز کے بعد دربار عام ہو گا۔ جامع مسجد میں لوگ جمع ہو گئے۔ عبید اللہ بن زیاد منبر پر گیا اور بولا:'' اس اللہ کا شکر ہے جس نے حق کو اور اہل حق کو قوی کیا اور امیر المومنین یزید بن معاویہ کی اور اُن کے گروہ والوں کی نصرت کی اور (نعوذ باللہ ) کذاب بن کذاب حسین بن علی کو اور اُن کے گروہ کے لوگوں کو قتل کیا۔ عبید اللہ بن زیاد کی بات ابھی پوری نہیں ہونے پائی تھی کہ حضرت عبداللہ بن عفیف از دی رضی اللہ عنہ اُٹھ کر اُس کی طرف دوڑے۔ آپ رضی اللہ عنہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ جمل اور جنگ صفین میں شامل رہے تھے۔ جنگ جمل میں ان کی بائیں آنکھ جاتی رہی تھی اور جنگ صفین میں ایک ضرب سر پر اور دوسری ضرب بھوں پر لگی تھی جس کی وجہ سے دوسری آنکھ بھی جاتی رہی تھی۔ اس کے بعد سے آپ رضی اللہ عنہ جامع مسجد سے باہر نہیں نکلتے تھے اور صرف رات کو اپنے گھر آتے تھے۔ عبیداللہ بن زیاد کے منہ سے حضرت علی بن ابی طالب اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہم کے متعلق گستاخانہ کلمہ سن کر انہوں نے بلند آواز سے فرمایا: ” اومرجانہ کے بیٹے کذاب ابن کذاب ! تو اور تیرا باپ اور جس نے تجھے حاکم بنایا ، وہ اور اُس کا باپ ! تم لوگ پیغمبروں کے فرزندوں کو شہید کرتے ہو اور سچے راستے پر چلنے والوں کی طرح باتیں کرتے ہو۔ عبید اللہ بن زیاد نے کہا: ”اسے میرے پاس لاؤ۔ سپاہیوں نے حملہ کر کے آپ رضی اللہ عنہ کو گر فتار کر لیا ۔ حضرت عبداللہ بن عفیف ازدی رضی اللہ عنہ نے اپنے قبیلے بنو ازو والوں کو یا مبرور کہہ کر پکارا۔ یہ کلمہ بنو ازد والوں کا شعار تھا۔ عبد الرحمن بن مختف ازدی وہیں بیٹھا ہوا تھا اُس نے کہا: ” تمہارا بھلا نہ ہو! تم نے اپنے آپ کو بھی تباہ کیا اور اپنی قوم کو بھی تباہ کیا ۔ کوفہ میں اُس وقت سات سو ازدی شہسوار موجود تھے۔ چند شخص اُن میں سے دوڑے اور حضرت عبداللہ بن عفیف رضی اللہ عنہ کو چھڑا لائے اور اُن کے گھر پہنچا آئے۔ بعد میں عبید اللہ بن زیاد نے سپاہیوں کو بھیج کر بلوایا اور شہید کردیا اور ان کی لاش کو دار پر چڑھا دیا۔

یزید کا اظہار تاسف

حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے سر کو اور آپ رضی اللہ عنہ کے اہل بیت کو عبید اللہ بن زیاد نے ملک شام روانہ کر دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: پھر عبید اللہ بن زیاد نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا سرکوفہ میں نصب کر دیا اور پورے شہر میں اس کی تشہیر بھی کی۔ اس کے بعد زحر بن قیس کے ساتھ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے سرکو اور آپ رضی اللہ عنہ کے اہل بیت کو اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کے سروں کو یزید کے پاس ملک شام روانہ کر دیا۔ اُس کے ساتھ ابو بردہ بن عوف از دی اور طارق بن ابوظبیان از دی بھی تھے۔ عبید اللہ بن زیاد نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے اہل بیت خواتین اور بچوں کو بھی ملک شام روانہ کیا اور حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ کو اس کے حکم کے مطابق پاؤں سے گلے تک زنجیر میں جکڑ دیا گیا اور محضر بن ثعلبہ عائدی اور شمر بن ذی جوشن کو اُن کے ساتھ روانہ کیا۔ یہ سب لوگ ملک شام میں یزید کے پاس پہنچے راستے میں حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ بالکل خاموش رہے۔ یہ لوگ یہاں سے روانہ ہوئے اور ملک شام پہنچے۔ زخر جب یزید کے سامنے گیا تو یزید نے کہا: ” ارے وہاں کیا ہو رہا ہے؟ اور تو کیا خبر لے کر آیا ہے؟ زحر بن قیس نے کہا: ”اے امیر المومنین! اللہ کے فضل سے فتح و نصرت آپ کو مبارک ہو۔ حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) ہمارے مقابلے پر اپنے اٹھارہ (18) اہل بیت اور ساٹھ (60) ساتھیوں کولیکر آئے تھے ۔ ہم لوگ اُن کے پاس گئے اور اُن سے کہا یا تو اطاعت اختیار کر لیں اور امیر عبداللہ بن زیاد کے حکم پر گردن جھکا دیں یا پھر جنگ کے لئے آمادہ ہو جائیں ۔ انہوں نے اطاعت کرنے کے بجائے جنگ کرنا پسند کیا۔ ہم نے آفتاب نکلتے ہی حملہ کر دیا اور ہر طرف سے انہیں گھیر لیا۔ یہاں تک کہ جب ہماری تلواریں اُن کے سر پر پہنچ گئیں تو بھاگنے لگے اور انہیں پناہ نہیں ملتی تھی ۔ ٹیلوں پر اور غاروں میں وہ ہم سے جان بچاتے پھرتے تھے جیسے کبوتر شاہین سے چھپتے پھرتے ہیں ۔ امیر المومنین !اللہ کی قسم! جتنی دیر میں اونٹ کو صاف کرتے ہیں یا قیلولہ میں جتنی دیر کے لئے آنکھ بند جھپک جاتی ہے بس اتنی ہی دیر میں سب سے آخری شخص کو قتل کر چکے تھے۔ اب اُن کی لاشیں برہنہ پڑی ہیں اور اُن کے کپڑے خون آتو د ہیں اور اُن کے رخسار گردوغبار میں اٹے ہوئے ہیں۔ دھوپ انہیں پکھلائے دیتی ہے اور ہوا انہیں گرد بر دکر رہی ہے اور ایک سنسان بیابان میں شاہین اور گدھ اُن پر اتر رہے ہیں ۔ یہ سن کر یزید رونے لگا اور بولا : میں تمہاری اطاعت سے اُس وقت خوش ہوتا جب تم نے حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) کو قتل نہیں کیا ہوتا۔ اللہ ابن سمیہ ( عبید اللہ بن زیاد کو اور اس کے باپ کو ” ابن سمیہ" کہتے تھے) پر لعنت کرے۔ سنو! اللہ کی قسم اگر حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) کا معاملہ میرے ہاتھ میں ہوتا تو میں اُن کو معاف ہی کر دیتا۔ اللہ حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) پر رحم فرمائے ۔ یزید نے زحر کو کوئی انعام وغیرہ بھی نہیں دیا۔ جب اہل بیت کولیکر محضر بن ثعلبہ یزید کے دروازے پر پہنچا توپکار کر کہا " محضر بن ثعلبہ ( نعوذ باللہ) ان سلامت زدہ بدکاروں کولیکر امیر المومنین یزید بن معاویہ کی خدمت میں حاضر ہوا ہے ۔ یزید نے جواب میں کہا: "محضر کی ماں نے جس بچہ کو جتنا ہے بس وہی سلامت زدہ اور سب سے بدتر ہے۔

یزید کے دربار میں اہل بیت

حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا سر مبارک اور آپ رضی اللہ عنہ کے شہید ساتھیوں کے سر اور آپ رضی اللہ عنہ کے اہل بیت کو یزید کے سامنے دربار میں پیش کیا گیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: یزید کے سامنے جب حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ شہید ہونے والوں کے سر رکھے گئے تو اُس نے کہا: "اے حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) اللہ کی قسم! اگر تمہارا معاملہ میرے ہاتھ میں ہوتا میں تم کو قتل نہیں کرتا ۔ مروان بن حکم کا بھائی بیٹی بن حکم اُس وقت یزید کے پاس موجود تھا۔ اُس نے کہا: ” ایک لشکر کا لشکر عبید اللہ بن زیاد کے قرابت داروں کا جو کہ خاندان کا کمینہ ہے صحرائے طف کے قریب موجود ہے۔ شمیہ کی نسل شمار میں تو سنگ ریزوں کے برابر ہوگئی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی نسل باقی نہیں رہی۔ یزید نے یہ بات سنی تو یحی بن حکم کے سینہ پر ہاتھ مارکو بولا: ” خاموش“۔ اس کے بعد یزید نے در بہار بلوایا اور ملک شام کے بزرگوں کو اپنے ارد گرد بٹھایا۔ پھر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے اہل بیت کو خواتین اور بچوں سمیت بلوایا۔ جب یزید کے دربار میں یہ لٹے پٹے لوگ داخل ہوئے تو سب لوگ بیٹھے دیکھ رہے تھے۔ حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ سے یزید نے کہا: ” تمہارے باپ نے مجھ سے قرابت کو قطع کیا اور میرے حق کو نہیں جانا اور میری سلطنت کو مجھ سے چھینا چاہا۔ دیکھو اللہ تعالیٰ نے اُن کے ساتھ کیا سلوک کیا ؟ حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ نے ایک آیت کی تلاوت فرمائی: ” نہ روئے زمین پر نہ تم لوگوں پر کوئی مصیبت نازل ہوئی ہے جو اس نوشتہ میں نہ ہو جو عالم کی پیدائش سے پہلے لکھا جا چکا ہے“۔ یزید نے اپنے بیٹے خالد بن یزید سے کہا : اس کی بات کو رد کر دے ۔ خالد کی سمجھ میں کوئی بات نہیں آئی جس کو وہ رد کر سکے۔ یزید نے کہا: ” تم کہو کہ تم پر جو مصیبت آئی ہے وہ تمہارے ہی ہاتھوں تمہارے اعمال کے سبب سے آئی ہے اور بہت سی خطائیں اللہ معاف بھی کر دیتا ہے۔ پھر یزید نے خواتین اور بچوں کو آگے بلوایا اور یہ سب سامنے لا کر بٹھا دیئے گئے ۔ یزید نے دیکھا کہ یہ سب بہت ہی برے حال میں ہیں تو بولا : اللہ مرجانہ کے بیٹے کا بڑا کرے! (عبید اللہ بن زیاد کو مرجانہ کا بیٹا بھی کہا جاتا تھا ) اگر اُس میں اور تم لوگوں میں برادری اور قرابت داری ہوتی تو وہ تم سے یہ سلوک نہیں کرتا اور اس حالت میں تم کو یہاں نہیں بھیجتا۔ 

حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کی حق گوئی

حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا سر مبارک اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کے سروں کو یزید کی خدمت میں پیش کیا گیا تو اس نے ان سروں کی نمائش کے لئے دربار عام کا اعلان کیا اور سب لوگ دربار میں حاضر ہوئے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اس کے بعد یزید نے لوگوں کو دربار میں آنے کا اذن دیا۔ لوگ جب دربار میں داخل ہوئے تو کیا دیکھا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا کٹا ہوا سر یزید کے سامنے رکھا ہوا ہے۔ یزید کے ہاتھ میں چھڑی ہے اور وہ آپ رضی اللہ عنہ کے ہونٹ اور دانتوں کو چھیڑ رہا ہے اور کہ رہا ہے : ” میری اور تمہاری مثال وہ ہے جو حصین بن حمام نے کہی ہے کہ ہماری تلواریں اپنے پیاروں کا سر اڑا دیتی ہیں اور وہ بھی تو بڑے نافرمان اور ظالم تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے یہ منظر دیکھا تو فرمایا: اے یزید ! حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ہونٹ اور دانتوں پر تیری چھڑی! ارے کم بخت ! تیری چھڑی کس مقام پر ہے؟ میں نے دیکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس جگہ کو چومتے تھے سن رکھا! قیامت کے دن تیرا حشر عبید اللہ بن زیاد کے ساتھ ہوگا اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوں گے ۔ یہ فرما کر آپ رضی اللہ عنہ اٹھے اور دربار سے چلے گئے۔ 

یزید کی گستاخی

حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے اہل بیت یزید کے دربار میں انتہائی خستہ حالت میں موجود تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی چھوٹی بہن سیدہ فاطمہ بنت علی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ” جب ہم لوگ یزید کے سامنے لے جا کر بٹھائے گئے تو اُسے ترس آگیا اور ہمارے بارے میں اُس نے کسی چیز کا حکم دیا اور ہم پر مہربان ہوا۔ اُس وقت اہل ملک شام میں سے ایک سرخ رنگ کا آدمی یزید کے سامنے آکر کھڑا ہوگیا اور بولا: "اے امیر المومنین ! اس عورت کو ( یعنی میں) مجھے دے دیں۔ میں اُس زمانے میں کمسن دوشیزہ تھی ۔ یہ سن کر میں ڈر کے مارے کپکپانے لگی اور مجھے بدگمانی ہونے لگی کہ یہ بات اُن کے مذہب میں جائز ہوگی۔ میں نے گھبراہٹ میں اپنی بڑی بہن سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا کا دامن پکڑ لیا۔ وہ مجھ سے زیادہ عقل رکھتی تھیں جانتی تھیں کہ ایسا ہو نہیں سکتا ہے ۔ انہوں نے فرمایا: ” جھک مارا تو نے او بیہودہ بدکار! یہ تیری ایسی مجال ہے اور نہ ہی یزید کی ایسی مجال ہے ۔ یزید کو غصہ آ گیا اور وہ بولا : اللہ کی قسم ! تم نے غلط کہا ہے۔ مجھے اختیار ہے کہ میں جو کرنا چاہوں کر سکتا ہوں۔ میری بڑی بہن رضی اللہ عنہانے فرمایا: اللہ کی قسم! ایسا نہیں ہو سکتا؟ اللہ تعالیٰ نے یہ اختیار تجھے نہیں دیا ہے ۔ ہاں ! اگر تو ہمارے مذہب سے نکل جائے اور ہمارے دین کو چھوڑ کر دوسرا دین اختیار کرلے تو دوسری بات ہے ۔ یزید غضبناک ہو گیا اور برہم ہو کر گستاخی سے بولا : تو مجھ سے ایسی گفتگو کر رہی ہے؟ دین سے تیرے باپ ( نعوذ باللہ ) نکل گئے تھے ۔ میری بڑی بہن رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے اور میرے نانا جان صلی اللہ علیہ وسلم اور میرے والد محترم رضی اللہ عنہ اور میرے بھائیوں کے دین سے تو نے اور تیرے والد نے ہدایت پائی ہے ۔ یزید نے بدتمیزی اور گستاخی کرتے ہوئے کہا: "اللہ کی دشمن ! تو جھوٹ کہہ رہی ہے ۔ میری بڑی بہن رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تو حاکم ہے، غالب ہے، ناحق سخت زبانی کر رہا ہے اور اپنی حکومت سے ہمیں دبانا چاہتا ہے۔ اب یزید کو حیا آگئی اور وہ چپ ہو گیا۔ اُس شامی شخص نے پھر یزید سے وہی مطالبہ کیا : ” امیر المومنین ! یہ کنیز میرے حوالے کر دیں“۔ یزید نے کہا: "دور ہو جا! اللہ تجھے موت دے کر تیرا فیصلہ کر دئے“ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا نے اُس شامی شخص سے فرمایا: اللہ کی قسم تو نے جھوٹ بولا ہے اور کمینگی کی ہے۔ یہ بات تیرے لئے اور ( یزید کی طرف اشارہ کر کے ) اس کے لئے جائز نہیں ہے۔ یزید نے غصے سے سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا کو دیکھا اور بولا : تو نے جھوٹ بولا ہے۔ اللہ کی قسم! یہ میرے لئے جائز ہے اور میں کرنا چاہوں تو کر سکتا ہوں“۔ سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہر گز نہیں ! اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے تیرے لئے یہ جائز نہیں کیا ہے سوائے اس کے کہ تو ہماری ملت سے نکل جائے اور ہمارے دین کے سوا کوئی اور دین اختیار کرلے“۔ یزید غصے اور طیش میں آگیا اور بولا : ” کو اس بات سے میرا سامنا کرتی ہے؟ تیرا باپ اور تیرے بھائی ( نعوذ باللہ) دین سے خارج ہو گئے ہیں ۔ سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اللہ کے دین اور میرے نانا صلی اللہ علیہ وسلم کے دین اور میرے والد محترم اور بھائیوں کے دین سے تو نے ، تیرے باپ نے اور تیرے دادا نے ہدایت پائی ہے ۔ یزید نے کہا: "اے اللہ کی دشمن ! تو جھوٹ بولتی ہے “۔ سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تو حکمراں ہے اور کو ظالم ہو کر گالیاں دیتا ہے اور اپنے اقتدار سے ہم پر غالب آنے کی کوشش کرتا ہے ۔ یزید یہ سن کر شرمندہ ہو گیا اور خاموش ہو گیا۔

اہل بیت کے مدینہ منورہ روانگی کے انتظامات

حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے اہل بیت کی روانگی کے انتظامات یزید نے کئے جب تک ان کے ساتھ اچھا سلوک کرتا رہا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : یزید نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے کہا: "اے نعمان بن بشیر ! ان لوگوں کی روانگی کا سامان جیسا مناسب ہو کر دو اور ان کے ساتھ اہل ملک شام میں سے کسی ایسے شخص کو بھیجو جوامانت دار اور نیک کردار کا مالک ہو ۔ اُس کے ساتھ سوار ہوں اور خدام ہوں کہ ان سب کو مدینہ منورہ پہنچا دے۔ اس کے بعد خواتین اور بچوں کو علیحدہ مکان میں ٹھہرایا گیا جہاں ضرورت کی سب چیزیں موجود تھیں اور اُن کے بھائی حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ کو اسی مکان میں ٹھہرایا گیا جس میں وہ سب لوگ ابھی تک تھے۔ یہ سب خواتین جب یزید کے گھر گئے تو آل معاویہ میں سے کوئی عورت ایسی نہیں تھی جو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے لئے روتی ہوئی اور آہ وزاری کرتی ہوئی اُن کے پاس نہ آئی ہو۔ غرض سب نے وہاں صف ماتم بچھا دی۔ یزید صبح و شام کھانے کے وقت حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ کو بلا لیا کرتا تھا۔ ایک دن اُس نے حضرت عمر و بن حسن رضی اللہ عنہ کو بلایا۔ وہ بہت ہی کمسن تھے۔ یزید نے کہا: ” اس جوان یعنی خالد سے لڑو گے؟ حضرت عمرو بن حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ایسے نہیں لڑوں گا بلکہ ایک چھری میرے ہاتھ میں دو اور دوسری خالد کے ہاتھ میں دو پھرلڑوں گا“۔ یزید نے اُن کو اپنی طرف کھینچ کر کہا: وہ طینت کہاں جائے گی ؟ سانپ کا بچہ آخرسپنولیا ہی ہوتا ہے“۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

پیر، 2 ستمبر، 2024

Saltanat e Umayya part 24


 24 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 24

اہل بیت کی مدینہ منورہ روانگی، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خیر مدینہ منورہ میں، حضرت عبد اللہ بن جعفر طیار رضی اللہ عنہ کا صبر، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت پر مدینہ منورہ میں آواز، شہادت کا حکم نامہ واپس نہیں کیا، آپ ﷺ کی اُمت اسے شہید کرے گی، میرا بیٹا یہاں شہید ہوگا، میں کربلا میں تھا، حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی قبر، جس نے حسن، حسین سے محبت کی اُس نے مجھ سے محبت کی، جو تم سے جنگ کرے گا میں اُس سے جنگ کروں گا، جنت کے نو جوانوں کے سردار، 



اہل بیت کی مدینہ منورہ روانگی


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے اہل بیت کی مدینہ منورہ روانگی کے تمام انتظامات مکمل ہو گئے تو یزید نے انہیں روانہ کر دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب ان لوگوں نے روانہ ہونے کا ارادہ کیا تو یزید نے حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا اور اُن سے کہا : اللہ مرجانہ کے بیٹے پر لعنت کرے ! اللہ کی قسم ! اگر حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) میرے پاس آتے تو جس بات کی وہ مجھ سے درخواست کرتے میں وہی کرتا۔ اُن کو ہلاک ہونے سے جس طرح بھی بن پڑتا میں بچا لیتا چاہے اس میں میری اولاد میں سے کوئی تلف ہو جاتا تو ہوجاتا۔ لیکن اللہ کو یہی منظور تھا جو تم نے دیکھا تمہیں جس بات کی ضرورت ہو مجھے خبر کرنا میرے پاس لکھ کر بھیجنا۔ پھر یزید نے ان سب کو کپڑے دیئے اور ان کے لئے ایک راہ نما مقرر کر دیا جس کا نام بدرقہ تھا۔ یہ تمام اہل بیت کو لیکر روانہ ہوا۔ سفر کے دوران قافلہ کے ساتھ اس طرح رہتا تھا کہ سارا قافلہ اس کی نگاہ میں رہے اور جب پڑاؤ ڈالتے تھے تو کنارے ہو جایا کرتا تھا۔ خود وہ بھی اور اُس کے ساتھی بھی ہر سمت قافلہ کے ارد گرد پھیل جاتے تھے جو طریقہ پاسبانوں کا ہوتا ہے۔ وہ اور اس کے ساتھی علیحدہ پڑاؤ ڈالتے تھے کہ اگر کوئی شخص وضو کرنا چاہے یا رفع حاجت کے لئے جانا چاہے تو اُسے کچھ بھی زحمت نہ ہو۔ اس طرح اُن لوگوں کو راحت پہنچا تا ہوا اُن کی ضرورتوں کو پوچھتا ہوا اور ان کے ساتھ مہربانی سے پیش آتا ہوا سب کولیکر مدینہ منورہ آیا سیدہ فاطمہ بنت علی رضی اللہ عنہا نے اپنی بڑی بہن سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا سے عرض کیا: ”پیاری بہن! یہ شامی شخص ہمارے ساتھ سفر میں بہت خوبیوں کے ساتھ پیش آیا ہے اسے کچھ انعام دے دیں۔ سیدہ زینب بنت علی رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ” میرے پاس اس کنگن کے سوا کچھ نہیں ہے جو اسے انعام میں دوں۔ سیدہ فاطمہ بنت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” اچھا ہم دونوں اپنے اپنے کنگن اسے انعام میں دے دیتے ہیں“۔ دونوں بہنوں نے اپنے اپنے کنگن اُتار کر بدرقہ کے پاس بھیجے ۔ اُس نے عذر کے ساتھ کنگن واپس بھیج دیئے۔ دونوں بہنوں نے کہلا بھیجا: "راستے میں تم جس خوبی سے ہمارے ساتھ پیش آئے ہو یہ اس کا صلہ ہے۔ اُس نے جواب میں کہا: ” میں نے آپ لوگوں کی جو خدمت کی ہے اگر دنیا کی طمع میں کی ہوتی تو آپ کے اس زیور سے بلکہ اس سے بھی کم میں خوش ہو جا تا۔ لیکن اللہ کی قسم ! میں نے جو خدمت کی ہے وہ اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی جو قرابت ہے اُس کے خیال سے کی ہے۔ 


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خیر مدینہ منورہ میں


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو دس (10) محرم الحرام 61 ھجری عاشورہ کے دن شہید کیا گیا تھا۔ جب عبید اللہ بن زیاد کو آپ رضی اللہ عنہ کے شہید ہونے کی خبر ملی تو اُس نے فوراً اپنے قاصد کو مدینہ منورہ یہ خبر دینے کے لئے روانہ کیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: عبید اللہ بن زیاد نے جب حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو شہید کیا اور اُن کا سر اُس کے پاس آگیا تو اُس نے عبد الملک سلمی کو بلا کر حکم دیا کہ وہ خود مدینہ منورہ جاکر وہاں کے گورنر عمرو بن سعید کو خبر دے۔ عبدالملک نے اس حکم کو ٹالنا چاہا لیکن عبد اللہ بن زیاد تو ناک پر کھی نہیں بیٹھنے دیتا تھا۔ اس نے عبدالملک کو جھڑک دیا اور بولا: ” بھی جا اور مدینہ منورہ تک خود کو پہنچا اور دیکھ تجھ سے پہلے یہ خبر وہاں پہنچنے نہیں پائے“۔ پھر کچھ دینار سے عطا کئے اور تاکید کی کہ ذرا بھی ستی نہیں کرنا اور اگر تیرا ناقہ (اونٹ) راستے میں رہ جائے تو دوسرا ناقہ خرید لینا۔ عبدالملک جب مدینہ منورہ پہنچا اور اُسے قریش کا ایک شخص ملا اور پوچھا: ” کیا خبر ہے؟ عبدالملک نے جواب دیا: ” خبر میر ( گورنر) کو بتانے والی ہے ۔ یہ سن کر قریشی نے کہا: " حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون“۔ عبدالملک اب عمرو بن سعید کے پاس آیا ۔ دیکھتے ہی اُس نے پوچھا: ”وہاں کی کیا خبر لایا ہے؟ اس نے کہا: ” تمہارے خوش ہونے کی خبر ہے ۔ حسین بن علی (رضی اللہ عنہ ) شہید ہو چکے ہیں۔ عمرو بن سعید نے کہا: ” اس خبر کی منادی کر دے ۔ عبدالملک نے مدینہ منورہ میں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے شہید ہونے کا اعلان کر دیا۔ اس کوسن بنو ہاشم کی خواتین نے اپنے اپنے گھروں میں نوحہ اور ماتم کرنا شروع کر دیا۔ یہ سن کر عمرو بن سعید نے کہا: ” حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے شہید ہونے پر جو فریاد اور زاری ہوئی تھی یہ نوحہ اور ماتم اس کے بدلہ میں ہے ۔ اس کے بعد عمرو بن سعد منبر پر گیا اور لوگوں کوحضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر تفصیل سے بیان کی۔ 


حضرت عبد اللہ بن جعفر طیار رضی اللہ عنہ کا صبر


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت عبداللہ بن جعفر طیار رضی اللہ عنہ کے دو بیٹے بھی شہید ہوئے تھے۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر کے ساتھ ساتھ اُن کے دونوں بیٹوں کی شہادت کی خبر بھی ملی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت عبداللہ بن جعفر طیار کے پاس جب اُن کے دونوں بیٹوں کے شہید ہونے کی اطلاع ملی تو سب لوگ انہیں پرسہ دینے کے لئے آئے ۔ اُن میں حضرت عبد اللہ بن جعفر طیار رضی اللہ عنہ کا آزاد کردہ غلام ابوالسلاس بولا: یہ مصیبت ہم پر حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے ڈالی ہے ۔ حضرت عبداللہ بن جعفر طیار رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر اُسے جوتا کھینچ کر مارا اور فرمایا: او پسر لختار! حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے بارے میں ایسی بات کہتا ہے۔ اللہ کی قسم ! اگر میں خود وہاں ہوتا تو اُن سے ہر گز جدا نہیں ہوتا اور یہی چاہتا کہ اُن سے پہلے میں شہید ہو کر اپنی جان اُن پر نچھاور کر دوں۔ اللہ کی قسم ! وہ ایسے ہیں کہ ان دونوں بیٹوں کے ساتھ میں بھی اپنی جان اُن پر فدا کر دیتا۔ میں اپنے دونوں بیٹوں کی شہادت کو مصیبت نہیں سمجھتا ہوں بلکہ انہوں نے میرے بھائی میرے چچازاد بھائی کے ساتھ اُن کی رفاقت میں صبر و رضا کے ساتھ اپنی جان دی ہے ۔ یہ فرما کر اپنے ہم نشینوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ جس نے ہمیں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت میں سے حصہ نصیب فرمایا کہ حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی نصرت میرے ہاتھ سے نہیں ہوئی تو کم سے کم میرے بیٹوں سے تو ہوئی ہے۔


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت پر مدینہ منورہ میں آواز


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت سے زمین و آسمان لرز گئے اور زمین کے نیک لوگوں اور آسمان کی تمام مخلوق نے آپ رضی اللہ عنہ کے قاتلوں پر لعنت کی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب اہل مدینہ منورہ کو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر ملی تو سیدہ اُم لقمان بنت عقیل رضی اللہ عنہا اپنے خاندان کی خواتین کو لئے ہوئے نکلیں ۔ وہ اپنی چادر کو لپٹتے ہوئے کہتی جا رہی تھیں: ”لوگو! اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا جواب دو گے؟ جب وہ پوچھیں گے کہ تم پیغمبر آخر الزماں کی اُمت ہو کر میری عزت اور میرے اہل بیت کے ساتھ میرے بعد کیا سلوک کیا ؟ کہ اُن میں سے کچھ اسیر ہیں اور کچھ خون آلودہ ہیں ۔ جس روز حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ شہید ہوئے اُسی دن صبح کو مدینہ منورہ میں یہ آواز آئی: ” حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قاتلو ! تم کو عذاب اور رسوائی مبارک ہو۔ تمام اہل آسمان ملائکہ اور انبیاء تم پر لعنت کر رہے ہیں ۔ تم پر حضرت موسیٰ، حضرت داؤ د اور حضرت عیسی علیہم السلام نے بھی لعنت کی ہے۔ عمرو بن عکرمہ کہتا ہے : ”میں نے یہ آواز سنی۔ اور عمرو بن خیر دم کلبی کہتا ہے : ” میرے والد محترم نے بھی یہ آواز سنی ہے۔


شہادت کا حکم نامہ واپس نہیں کیا


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کا حکم جس خط میں عبید اللہ بن زیاد نے عمر بن سعد کو دیا تھا۔ اُس حکم نامے کو اُس نے واپس مانگا تو عمر بن سعد نے واپس دینے سے انکار کر دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: عبید اللہ بن زیاد نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے شہید ہونے کے بعد عمر بن سعد سے وہ خط مانگا جس میں اُس نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کا حکم دیا تھا۔ عمر بن سعد نے کہا: ” میں تیرے حکم کو پورا کرنے میں مصروف تھا اس لئے وہ خط ضائع ہو گیا ہے۔ عبید اللہ بن زیاد نے کہا: نہیں میرا حکم نامہ تمہارے پاس ہے وہ مجھے واپس دو۔ عمر بن سعد نے پھر انکار کیا تو عبید اللہ بن زیاد نے پھر اصرار کیا۔ آخر عمر بن سعد نے کہا: اللہ کی قسم وہ حکم نامہ میں نے اس لئے محفوظ کر رکھا ہے کہ وہ مدینہ منورہ کے لوگوں کے سامنے معذرت کے طور پر پڑھا جائے گا۔ سُن ! میں نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں تجھ سے ایسے ایسے خیر خواہی کے کلمات کہے تھے کہ اگر میں یہ کلمات اپنے والد محترم حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے کہتا تو اُن کا حق ادا کر دیا ۔ یہ سن کر عبید اللہ بن زیاد کا بھائی عثمان بن زیاد بولا: میں تو کہتا ہوں کہ ہم حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو شہید نہیں کرتے چاہے اس کے بدلے میں ہنوز یاد کی ناک میں تنکیل ہی کیوں نہ چڑھا دی جاتی ۔ عبید اللہ بن زیاد نے یہ بات سن کر برا نہیں مانا۔


آپ ﷺ کی اُمت اسے شہید کرے گی


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے شہید ہونے کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے ہی بتا دیا تھا۔ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بارش کے فرشتے نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آنے کی اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی اور ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ” دروازے پر نگرانی کرنا کوئی شخص ہمارے پاس نہ آنے پائے“۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر چڑھنے لگے۔ فرشتے نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے محبت کرتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ! میں اس سے محبت کرتا ہوں“۔ فرشے نے عرض کیا ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت اسے شہید کر دے گی اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں تو میں وہ جگہ آپ لی اللہ علیہ وسلم کو دکھا دوں جہاں یہ شہید ہوگا ۔ اُس فرشتے نے اپنا ہاتھ مارا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سرخ مٹی دکھائی ۔ ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ نے وہ مٹی لے لیا ور محفوظ کر کے رکھ لیا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ ہم سنا کرتے تھے کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کربلا میں شہید ہوں گے۔ حضرت انس بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میرا یہ بیٹا حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ ارض کربلا میں شہید ہوگا اور تم میں سے جو شخص اس موقع پر موجود ہو وہ اس کی مدد کرے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ حضرت انس بن حارث رضی اللہ عنہ کربلا کی طرف گئے اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ شہید ہوئے تھے ۔“


میرا بیٹا یہاں شہید ہوگا


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کہاں شہید ہوں گے اس بارے میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بھی جانتے تھے ۔ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں: عبداللہ بن بیٹی کے والد سے روایت ہے کہ میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ روانہ ہوا اور میں آپ رضی اللہ عنہ کا کوزہ بردار تھا۔ جنگ صفین کے لئے جاتے ہوئے آپ رضی اللہ عنہ نینوٹی" کے قریب سے گذرے تو مجھے آواز لگائی: ” اے ابو عبد اللہ اکٹھہر جاؤ! اے ابو عبداللہ ! دریائے فرات کے کنارے ٹھہر جاؤ ۔ میں نے پوچھا: ” آپ رضی اللہ عنہ کیا کہنا چاہتے ہیں ؟“ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” ایک روز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو ہیں ۔ میں نے عرض کیا : "یارسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم اس بات نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لا دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابھی جبرئیل علیہ السلام میرے پاس سے اُٹھ کر گئے ہیں اور انہوں نے مجھے بتایا کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ دریائے فرات کے کنارے شہید ہوں گے اور یہ بھی کہا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی مٹی سنگھا دوں“۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے فرمایا: ” اس نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور ایک مٹھی مٹی پکر کر مجھے دے دی اور میں اپنے آنسوؤں کا ضبط نہیں کر سکا ۔ امام محمد بن سعد لکھتے ہیں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جنگ صفین کے لئے جاتے ہوئے اندرائین کے پودوں کے پاس ” کربلا سے گذرے تو اس کا نام دریافت کیا تو بتایا گیا کہ اس جگہ کا نام "کربلا" ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "کرب اور بلاء ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے وہاں پڑاؤ ڈالنے کا حکم دے دیا اور وہاں ایک درخت کے پاس نماز پڑھی پھر فرمایا: ”یہاں شہداء شہید ہوں گے جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے علاوہ بہترین شہداء ہوں گے اور وہ جنت میں بغیر حساب کے داخل ہوں گے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے وہاں ایک جگہ پر اشارہ کیا جو لوگوں نے یادرکھا اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ وہیں شہید ہوئے۔


میں کربلا میں تھا


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو جب اُن کے ساتھیوں کے ساتھ کربلا میں شہید کیا جارہا تھا تو اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کربلا میں موجود تھے۔ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میں دو پہر میں قیلولہ کے وقت سو یا ہوا تھا کہ خواب میں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کو پراگندہ اور غبار آلود حالت میں دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں شیشی ہے جس میں خون ہے۔ میں عرض کیا : "یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "یہ حسین اور اُس کے ساتھیوں کا خون ہے جسے میں جمع کر رہا تھا۔ علی بن زید بن جدعان بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نیند سے بیدار ہوئے اور اناللہ وانا الیہ راجعون ، فرمایا۔ ہم نے وجہ پوچھی تو فرمایا : اللہ کی قسم ! حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے ہیں ۔ “ ہم نے پوچھا: ” آپ رضی اللہ عنہ کو کیسے معلوم ہوا ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک خون کی شیشی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تجھے کیا معلوم ہے؟ کہ میرے بعد میری اُمت نے کیا کیا؟ انہوں نے حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا ہے اور یہ اُس کا اور اُس کے ساتھیوں کا خون ہے۔ میں ان دونوں خونوں کو اللہ کی بارگاہ میں پیش کروں گا ۔ پس جس دن حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ بات فرمائی تھی اُس گھڑی کو ہم نے لکھ لیا اور ابھی چوبیس (۲۴) دن ہی گذرے تھے کہ مدینہ منورہ میں خبر آئی کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اُسی روز اُسی گھڑی کو شہید ہوئے تھے ۔ سیدہ سلمی بیان کرتی ہیں کہ میں ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی تو دیکھا کہ آپ رضی اللہ عنہا رورہی ہیں۔ میں نے پوچھا: ” آپ رضی اللہ عنہا کیوں رو رہی ہیں؟“ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے اور آپ رضی اللہ کے سر اور داڑھی پر مٹی پڑی ہوئی ہے۔ میں نے پوچھا : 'یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپصلی اللہ علیہ وسلم کو کیا ہوا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میں نے ابھی حسین کو شہید ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔“


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی قبر


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی قبر کے بارے میں علمائے کرام نے بتایا کہ وہ دریائے کربلا کے قریب ہے۔ علامہ عمادالدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : بہت سے متاخرین کے نزدیک یہ بات مشہور ہے کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت گاہ دریائے کربلا کے نزدیک طف کے ایک مقام پر ہے اور ابن جریر طبری وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کی شہادت گاہ کا نشان مٹ گیا ہے اور کسی کو اس کی تعیین کے متعلق اطلاع نہیں ہے۔ امام ابو نیم ، الفضل بن دکین اُس شخص پر جو یہ خیال کرتا ہے کہ وہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی قبر کو پہچانتا ہے عیب لگاتے تھے۔ امام ہشام بن کلبی نے بیان کیا ہے کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہعنہ کی قبر پر پانی چھوڑ دیا گیا تھا تا کہ آپ رضی اللہ عنہ کی قبر کا نشان مٹ جائے اور وہ پانی چالیس دن کے بعد خشک ہو گیا اور بنو اسد کا ایک شخص وہاں کی ایک ایک مٹھی مٹی لیکر سونگھنے لگا۔ یہاں تک کہ اُس جگہ پہنچ گیا جہاں آپ رضی اللہ عنہ دفن تھے اور وہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی قبر پر گر پڑا اور رو رو کر کہنے لگا: ” آپ رضی اللہ عنہ پر میرے ماں باپ قربان ہوں ، آپ رضی اللہ عنہ کس قدر خشبو دار ہیں اور آپ رضی اللہ عنہ کی مٹی بھی خوشبودار ہے۔ پھر بولا : ” انہوں نے چاہا تھا کہ آپ رضی اللہ عنہ کی قبر مبارک کو آپ رضی اللہ عنہ کے دشمن سے چھپا دیں اور قبر کی مٹی کی خوشبو نے قبر کا پتہ دے دیا۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے سرکے بارے میں اہل تاریخ اور اہل سیر کے نزدیک مشہور بات یہ ہے کہ اُسے عبید اللہ بن زیاد نے یزید کے پاس بھیج دیا تھا۔ امام محمد بن سعد نے بیان کیا ہے کہ یزید نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا سرمدینہ منورہ کے گورنر عمرو بن سعید کے پاس بھجوا دیا تھا اور اس نے آپ رضی اللہ عنہ کی اوالدہ محترمہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس جنت البقیع میں دفن کر دیا تھا۔


جس نے حسن، حسین سے محبت کی اُس نے مجھ سے محبت کی


 کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں نواسوں حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے بہت محبت کرتے تھے۔ علامہ عمادالدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے ایک عراقی نے اُس محرم ( احرام کی حالت میں) کے بارے میں پوچھا جو کبھی مار دیتا ہے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” اہل عراق کو دیکھو الکبھی مارنے کے بارے میں پوچھتے ہیں حالانکہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری بیٹی رضی اللہ عنہا کے پیارے بیٹے رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حسن اور حسین دونوں میری دنیا کے گلدستے ہیں ۔ “ ایک اور روایت میں حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے ایک عراقی نے کپڑے پر چھر کے خون کے لگ جانے کے بارے میں پوچھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: " اہل عراق کو دیکھو! جو مچھر کے خون کے متعلق دریافت کرتے ہیں حالانکہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی رضی اللہ عنہا کے بیٹے رضی اللہ عنہ کو شہید کیا ہے ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے ان دونوں یعنی حسن اور حسین رضی اللہ عنہم سے محبت کی اُس نے مجھ سے محبت کیا اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا اُس نے مجھ سے بغض رکھا۔


جو تم سے جنگ کرے گا میں اُس سے جنگ کروں گا


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ، خلیفہ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور اپنے دونوں نواسوں حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے اور وقتاً فوقتاً اس کا اظہار بھی کرتے رہتے تھے۔ علامہ عمادالدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ، حضرت حسن بن علی اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہم کی طرف دیکھا اور فرمایا : ” جو تم سے جنگ کرے گا، میں اُس سے جنگ کروں گا اور جو تم سے صلح کرے گا ، میں اُس سے صلح کروں گا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آ رہے ہیں اور حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو اپنے ایک ایک کاندھے پر سوار کیا ہوا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی ایک کو چومتے اور کبھی دوسرے کو چومتے یہاں تک کہ ہمارے پاس پہنچ گئے۔ ایک شخص نے عرض کیا: یارسول للہ صل اللہ علیہ وسلم اللہ کی تم! بے شک آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں سے بہت محبت کرتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ان دونوں سے محبت کی اُس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا اُس نے مجھ سے بغض رکھا۔“


جنت کے نو جوانوں کے سردار


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سارے مواقع پر اپنے دونوں نواسوں حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے بہت زیادہ محبت کا اظہار فرمایا ہے اور ان دونوں کے فضائل بھی بیان فرمائے ہیں۔ اُن میں سے ایک بہت بڑی فضیلت یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو دنیا میں ہی جنتی ہونے کی بشارت دی ہے۔ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: یا رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سے کون شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ محبوب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” حسن بن علی اور حسین بن علی رضی اللہ عنہم سے ۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے : ” میرے دونوں بیٹوں کو بلالا ؤ اور جب حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم آجاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں کو سونگھتے اور اپنے گلے لگا لیتے تھے۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو فرمایا: ”اے اللہ! میں ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں، پس تو بھی ان سے محبت رکھ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "حسن اور حسین رضی اللہ عنہم جنت کے نو جوانوں کے سردار ہیں ۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میری خالہ کے بیٹوں حضرت عیسی علیہ السلام اور حضرت یحیی علیہ السلام کے سوا حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں ۔ “ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ مسجد میں تشریف لائے تو حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھ کرفرمایا: جو شخص جنت کے نو جوانوں کے سردار کو دیکھنا چاہتا ہے وہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو دیکھ لے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سنا ہے ۔“


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!


Saltanat e Umayya part 25


25 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 25


جو شخص مجھ سے محبت کرتا ہے وہ ان دونوں سے بھی محبت کرے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت، مسلم بن زیاد سجستان اور خراسان کا گورنر، حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی یزید کی مخالفت، یزید کی قسم، عمرو بن سعید کی معزولی، ھ61 ہجری کا سب سے بڑا واقعہ، حضرت جابر بن عتیک اور حضرت حمزہ بن عمر واسلمی کا انتقال، حضرت شیبہ بن عثمان بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ کا انتقال، أم المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال، ھ62 ہجری: ولید بن عقبہ کی معزولی، مدینہ منورہ کا وفد اور یزید کا کردار، 



جو شخص مجھ سے محبت کرتا ہے وہ ان دونوں سے بھی محبت کرے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن بن علی اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہم سے محبت کواپنی محب کا پیمانہ بنادیا۔ علامہ عمادالدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کو حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم کے بارے میں فرماتے سنا ہے : ” جو شخص مجھ سے محبت کرتا ہے اُسے چاہئے کہ ان دونوں سے بھی محبت رکھے ۔“ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” میری والدہ محترمہ نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں اس لئے بھیجا کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم میرے لئے اور میری والدہ محترمہ کے لئے دعا فرمادیں۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی۔ پھر عشاء کی نماز پڑھی۔ پھر مسجد سے جانے لگے تو میں بھی پیچھے پیچھے میں جانے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری آہٹ سن کر پوچھا: ” کون ہے؟ حذیفہ ہے؟ میں نے عرض کیا : ”ہاں! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تجھے اور تیری والدہ بخشے تجھے کیا کام ہے؟ یہ ایک فرشتہ آیا ہے جو اس رات سے پہلے زمین پر نہیں آیا تھا۔ اس نے مجھے سلام کرنے اور یہ بشارت دینے کے لئے کہ فاطمہ رضی اللہ عنها جنتی عورتوں کی سردار ہے اور حسن اور حسین رضی اللہ عنہم جنت کے نو جوانوں کے سردار ہیں بتانے کی اجازت طلب کی جو اللہ نے اسے دے دی

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے بہت محبت کرتے تھے ۔ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں: حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم سے بہت محبت کرتے تھے اور اُن دونوں کو اُٹھا لیتے تھے اور اُن کے والد محترم حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے زیادہ محبت کا اظہار فرمایا کرتے تھے۔ ایک دن ملک یمن سے ” حلئے آئے تو خلیفہ دوم رضی اللہ عنہ نے انہیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں تقسیم کر دیا اور حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنم کو نہیں دیا۔ لوگوں نے کہا: ” آپ رضی اللہ عنہ نے حسنین کریمین رضی اللہ عنہم کو نہیں دیا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” ان حلوں میں ان دونوں کے لائق کوئی صلہ نہیں تھا۔ اسی لئے میں نے ان دونوں کو نہیں دیا ۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے ملک یمن کے گورنر کو پیغام بھیجا کہ ان دونوں کے میعار کے مطابق ” حلئے بنوا کر بھیجے ۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ خانہ کعبہ کے سائے میں بیٹھے تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو آتے دیکھا اور فرمایا: ” شخص اہل زمین کو اہل آسمان سے زیادہ محبوب ہے۔

مسلم بن زیاد سجستان اور خراسان کا گورنر

اس سال 61 ہجری میں یزید نے سجستان اور خراسان کے گورنروں کو معزول کر کے مسلم بن زیاد کو وہاں کا گورنر بنا دیا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: اس سال ۶۱ ہجری میں یزید کے پاس مسلم بن یزید آیا تو اُس نے اُسے بجستان اور خراسان کا گورنر بنا دیا اور اُس وقت مسلم بن زیاد کی عمر چوبیس 24 سال تھی۔ یزید نے اُس کے دونوں بھائیوں کو معزول کر دیا اور مسلم بن زیاد اپنی عملداری کی طرف روانہ ہو گیا۔ وہ کمانڈروں اور سواروں کو منتخب کرنے لگا اور لوگوں کو جہاد کی ترغیب دینے لگا۔ پھر وہ ایک لشکر جرار لیکر ترکوں سے جنگ کرنے کے لئے نکلا۔ اُس کے ساتھ اس کی بیوی ام محمد بنت عبد اللہ بن عثمان بن ابی العاص بھی تھی۔ یہ پہلی عرب خاتون تھی جس نے سمندر عبور کیا اور وہاں اُس نے ایک بچے کو جنم دیا جس کا نام صغری رکھا گیا۔ مسلم بن زیاد نے موسم سرما وہیں گزارا اور اس سے پہلے مسلمان موسم سرما وہاں نہیں گزارتے تھے۔ اُس نے لشکر دیکر مہلب بن ابی صفرہ کو شہر خوارزم کی طرف بھیجا۔ اُس نے محاصرہ کر لیا، آخر کار شہر والوں نے میں کروڑ درہم پر صلح کر لی اور وہ اُن سے سامان خریدتا تھا اور چیز کو نصف قیمت پر لیتا تھا اور جو سامان اُس نے لیا اُس کی قیمت پچاس کروڑ درہم تک پہنچ گئی ۔ جس کی وجہ سے مہلب کو مسلم بن زیاد کے یہاں رتبہ حاصل ہو گیا۔ اُس نے چنندہ چیزوں کو یزید کے پاس روانہ کیا۔ اس جنگ میں مسلم بن زیاد نے اہل سمرقند کے ساتھ بہت سے مال کی شرط پر صلح کر لی۔

حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی یزید کی مخالفت

حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے شہید ہونے کے بعد حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ جو مکہ مکرمہ میں قیام پذیر تھے یزید کی مخالفت پر کھل کر سامنے آگئے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اس سال ۶۱ ہجری میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے یزید کی مخالفت کی اور اُس کی حکومت سے خلع لے لیا اور لوگوں سے بیعت لی۔ جب حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے تو حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اہل مکہ کے سامنے تقریر کی اور حمد وصلوٰۃ کے بعد فرمایا: ” اہل عراق چندلوگوں کے سوا سب کے سب غدار اور بدکار ہیں اور اہل عراق میں سے اہل کوفہ بدترین ہیں۔ انہوں نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو بلایا کہ اُن کی مدد کریں گے اور اُن کو اپنا فرمانروا بنا ئیں گے۔ جب وہ اُن کے پاس گئے تو وہ اُن سے لڑنے کو کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے کہ یا تو اپنا ہاتھ ہمارے ہاتھ میں دے دو۔ ہم تمہیں بغیر لڑے بھڑے عبید اللہ بن زیاد ابن شمیہ کے پاس بھیج دیں گے کہ وہ تمہارے ساتھ جو سلوک کرنا چاہے کرے۔ نہیں تو ہم سے جنگ کرو۔ اللہ کی قسم! حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اس بات کو نہیں سمجھے کہ اس انبوہ کثیر لشکر کے سامنے وہ اور اُن کے ساتھی تھوڑے سے ہیں۔ لیکن وہ عزت سے شہید ہو جانا اس ذلت کی زندگی سے بہتر سمجھے۔ اللہ تعالیٰ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے اور اُن کے قاتلوں کو ذلیل کرے۔ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اُن لوگوں کی حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی مخالفت کرنا اور نافرمانی ظاہر کرنا متنبہ ہو جانے کے لئے کافی تھا لیکن جو مقدر میں ہے وہ ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ جس بات کا ارادہ کر لیتا ہے وہ نہیں ملتی ہے۔ کیا حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد بھی ہم اُن لوگوں کی طرف سے اطمینان رکھ سکتے ہیں؟ کیا اُن کی بات کو ہم مان سکتے ہیں؟ کیا اُن کے عہد و پیمان کو ہم قبول کر سکتے ہیں؟ نہیں! نہیں ! ہم انہیں اس لائق نہیں سمجھتے ہیں۔ سنو! اللہ کی قسم ! اُن لوگوں نے ایک ایسے شخص کو شہید کیا ہے جو زیادہ تر قیام اللیل ( راتوں میں نماز میں قیام ) اور اکثر صائم النہار ( دن میں روزے رکھنے والے تھے اور اُن سے بڑھ کر ریاست کا حق دار اور دین و فضل میں امارت کا حقدار کوئی نہیں تھا۔ اللہ کی قسم! وہ ایسے نہیں تھے کہ قرآن کے بدلے غنا کریں اور اللہ کے خوف میں رونے کے بجائے گیت گایا کریں۔ وہ ایسے نہیں تھے کہ روزے چھوڑ کر شراب پیئیں اور حلقہ وذکر کو چھوڑ کر شکار کرنے کے لئے نکل جائیں ۔“ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی تقریرین کر اُن کے اصحاب اُن کی طرف دوڑے اور اور کہا کہ آپ رضی اللہ عنہ اپنی بیعت کا اعلان کریں ۔ جب حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ ی نہیں رہے تو کون ہے جو آپ رضی اللہ عنہ سے امر خلافت میں نزاع کرے گا ؟ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ لوگوں سے خفیہ بیعت لینے لگے اور اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ ابھی جلدی نہ کرو ۔ اس وقت عمرو بن سعید مکہ کرمہ اور مدینہ منورہ کا گورنرتھا۔ علامہ عمادالدین ابن کثر لکھتے ہیں: حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تم انہوں نے اُس شخص کو شہید کیا ہے جو دن کو روزے رکھتا تھا۔ اللہ کی قسم! وہ قرآن کے بدلے میں گانے اور کھیل کو پسند نہیں کرتا تھا اور اللہ کے خوف سے رونے کے بدلے میں لغو اور حدی کو پسند نہیں کرتا تھا اور روزوں کے بدلے میں شراب نوشی اور حرام کھانے کو پسند نہیں کرتا تھا اور ذکر کے حلقہ میں بیٹھنے کے بجائے شکار کی تلاش کرنے کو پسند نہیں کرتا تھا۔ یہ فرما کروہ یزید پر تعریض کر رہے تھے ۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ لوگوں کو بنو امیہ کے خلاف متحد کرنے گے اور انہیں یزید کی مخالفت کرنے اور اُسے معزول کرنے کی ترغیب دینے لگے۔

یزید کی قسم

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی سرگرمیوں کے بارے میں یزید کے جاسوسوں نے خبر دی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب یزید کو پختہ طور پر یہ بات معلوم ہوگئی کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے مکہ مکرمہ میں لوگوں کو جمع کیا ہے تو اُس نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا اور قسم کھائی کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کوضرور زنجیروں میں جکڑوں گا۔ اُس نے ایک چاندی کی زنجیر بھی بھیجی۔ قاصد مدینہ منورہ سے ہوتا ہوا گذرا، یہاں مروان بن حکم سے ملاقات ہوئی۔ اُس نے زنجیر لے کر آنے کا سبب پوچھا تو قاصد نے بتا دیا۔ مروان بن حکم نے کسی شاعر کا یہ شعر پڑھا: ” اُسے گوارا کرنا چاہیئے ۔ ایک زبر دست کے کسی فعل پر کمز ور و نا تواں شخص کو گفتگو کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ اب وہ قاصد یہاں سے روانہ ہوا اور یزید کی قسم اور مروان کے شعر کے بارے میں بتایا۔ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم ! میں کمزور و نا تواں شخص نہیں ہوں ۔ “ اور خوبی سے قاصد کو واپس کر دیا۔ اس کے بعد مکہ مکرمہ میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی شان بلند ہوگئی۔ مدینہ منورہ والوں نے بھی آپ رضی اللہ عنہ سے خط و کتابت کی ۔ لوگ کہا کرتے تھے کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے نہیں رہنے سے حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ خلافت کے حقدار ہیں۔

عمرو بن سعید کی معزولی

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ پر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کا گورنز عمرد بن سعید سحتی بھی کرتا تھا اور آپ رضی اللہ عنہ کی خاطر مدارت بھی کرتا تھا۔ اس کے بارے میں لوگوں نے یزید کو بتایا تو اس نے عمرو بن سعید کو معزول کر دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: عمرو بن سعید نے جب دیکھا کہ لوگ حضرت عبداللہ بن زبیر کی طرف مڑ رہے ہیں اور اُن کے سامنے گردنیں جھکا رہے ہیں تو سمجھا کہ اُن کا داؤ چل جائے گا۔ اس خیال سے اُس نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا۔ یہ کئی سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں گزار چکے ہیں اور اپنے والد کے ساتھ ملک مصر میں کئی سال گزار چکے ہیں اور وہیں انہوں نے حضرت دانیال علیہ السلام کی کتاب بھی پڑھی تھی اور قوم قریش اُن کا شمر علماء میں کرتی تھی ۔ عمرو بن سعید نے اُن سے پوچھا : ” مجھے بتائیے کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا میاب ہوں گے یا نہیں ؟ اور ہمارے خلیفہ یزید کا کیا انجام ہونے والا ہے ؟ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "یزید آن بادشاہوں میں سے ہے جو مرتے دم تک بادشاہ رہے عمرو بن سعید پر اس بات کا یہ اثر ہوا کہ وہ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے اور زیادہ تختی سے پیش آنے لگا مگر اس کے ساتھ ساتھ آپ رضی اللہ عنہ کی خاطر مدارت بھی کرتا رہا۔ ادھر ملک شام میں یزید کے پاس ولید بن عقبہ تھا۔ اس نے اور بنو امیہ کے دوسرے لوگوں نے کہا : ” امیر المومنین ! اگر عمرو بن سعید چاہتا تو ابھی تک حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کوگرفتار کر کے تمہارے پاس بھیج چکا ہوتا۔ یزید نے ولید بن عقبہ کو حجاز ( جس میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ بھی آتے ہیں) کا گورنر بنا کر روانہ کیا اور عمرو بن سعید کو معزول کر دیا۔ یہ 61 ہجری کا واقعہ ہے اور ذی الحجہ میں عمرو بن سعید معزول ہوا اور ولید بن عقبہ بن ابی سفیان گورنر بنا اور اسی نے لوگوں کو حج کرایا۔

ھ61 ہجری کا سب سے بڑا واقعہ

اس سال 61 ہجری میں دنیا کا سب سے بڑا واقعہ پیش آیا اور 10 محرم الحرام یوم عاشورہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے نواسے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو اُن کے بیٹوں ،بھتیجوں، بھانجوں اور ساتھیوں کے ساتھ نہایت بیدردی سے شہید کر دیا گیا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ اہل بیت کے دس پندرہ اشخاص کو کربلا میں شہید کیا گیا اور بعض کا قول ہے کہ اہل بیت میں سے ہیں پچیسں آدمیوں کو شہید کیا گیا جیسا کہ پہلے بیان کیا جاچکا ہے اور ان کے ساتھ بہادروں اور سواروں کی ایک جماعت کو بھی شہید کیا گیا۔

حضرت جابر بن عتیک اور حضرت حمزہ بن عمر واسلمی کا انتقال

اس سال 61 ہجری میں حضرت جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ اور حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت ابو عبداللہ جابر بن عتیک انصاری رضی اللہ عنہ بدری صحابی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے غزوہ بدر میں شرکت کی تھی اور وفتح مکہ کے روز آپ رضی اللہ عنہ انصار کے علم دار تھے۔ امام ابن جوزی نے بیان کیا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کا اس سال یعنی الہ ہجری میں انتقال ہوا۔ ان کے علاوہ حضرت حمزہ بن عمر و سلمی رضی اللہ عنہ کا انتقال بھی اسی سال ہوا۔ صحیحین میں اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت حمزہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں بہت روزے رکھتا ہوں، کیا میں سفر میں بھی روزہ رکھا کرو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " چاہوتو رکھ لو اور چاہو تو نہیں بھی رکھو۔“ آپ رضی اللہ عنہ نے ملک شام کی فتح میں بھی شمولیت کی اور جنگ اجنادین میں آپ رضی اللہ عنہ ہی خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس فتح کی بشارت لیکر آئے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ہی حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو بشارت دی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ رضی اللہ عنہ کو معاف فرما دیا ہے تو انہوں نے اپنے دونوں کپڑے انہیں دے دیئے تھے اور امام بخاری نے اپنی تاریخ میں جید اسناد کے ساتھ آپ رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہم ایک تاریک رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ انہوں نے سامان اکٹھا کرنے کے لئے میری انگلی روشن کر دی۔ یہاں تک کہ میں نے سب لوگوں کا سامان اکٹھا کر لیا ۔ مورخین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال 61 ہجری میں ہوا ہے۔

حضرت شیبہ بن عثمان بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ کا انتقال

اس سال اللہ ہجری میں حضرت شیبہ بن عثمان بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : آپ رضی اللہ عنہ خانہ کعبہ کے کلید بردار ( چابیاں سنبھالنے والے) تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے باپ کو غزوہ اُحد میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کافر کی حالت میں قتل کیا تھا۔ حضرت شیبہ رضی اللہ عنہ نے فتح مکہ کے دن اسلام قبول کیا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے غزوہ حنین میں شرکت کی اور ارادہ تھا کہ غفلت کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پرحملہ کر دوں گا۔ اللہ تعالی نے رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دے دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اُن کے ارادے کی خبر دے دی ۔ یہ دیکھ کر آپ رضی اللہ عنہ نے بچے دل سے اسلام قبول کیا اور غزوہ حنین میں ثابت قدم رہنے والوں میں سے رہے۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” میں ہمیشہ کہا کرتا تھا کہ اگر سب لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئیں گے تب بھی میں ایمان نہیں لاؤں گا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا اور غزوہ حنین کے لئے بنو ہوازن کی طرف روانہ ہوئے تو میں اس اُمید پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گیا کہ موقع ملنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تمام قریش کا بدلہ لے لوں گا۔ راستے میں ایک جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ ڈالنے کا حکم دیا اور لوگ روز مرہ کے کاموں میں مصروف ہو گئے اور میں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مارنے کے لئے تلوار سونت لی۔ پس میں نے ایک آگ کا شعلہ دیکھا جو بہت تیزی سے میری طرف بڑھ رہا تھا اور قریب تھا کہ مجھے جلا دے۔ اُسی وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اے شیبہ !میرے قریب آؤ میں قریب گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر ہاتھ رکھا اور فرمایا: ”اے اللہ ! اسے شیطان سے پناہ دے اللہ کی قسم! ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے سے ہاتھ نہیں ہٹایا تھا کہ مجھے ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہو گئے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جاؤ اور جا کر لڑو میں دشمن کی طرف بڑھا۔ اللہ کی قسم ! اگر اس وقت مجھے میرا کا فر باپ بھی ملتا تو میں اُسے بھی قتل کر دیتا۔ اور جب جنگ کے بعد ہم سب اپنی اپنی جگہوں پر واپس آگئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سے فرمایا: ”اے شیبہ! اللہ تعالیٰ نے تیرے متعلق جو ارادہ فرمایا ہے وہ اس ارادے سے بہت بہتر ہے جو تو نے اپنے متعلق کیا تھا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وہ ساری بات بتائی جو میرے دل میں تھی اور جو میں نے سوچی تھی اور جس پر اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی مطلع نہیں تھا۔ پس میں نے تشہد پڑھا اور عرض کیا: "یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میںاللہ تعالیٰ سے بخشش کا طلبگار ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی نے تجھے بخش دیا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے عثمان بن طلحہ کے بعد ” حجابت سنبھالی اور آج تک آپ رضی اللہ عنہ کے بیٹوں اور گھر میں حجابت قائم ہے اور بنوشی بہ آپ رضی اللہ عنہ کی طرف ہی منسوب ہیں اور وہی خانہ کعبہ کے دربان ہیں۔

أم المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال

اس سال 61 ہجری میں اُم المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا۔ اس سال کی شروعات میں یعنی پہلے مہینے میں حضرت حسین ب علی رضی اللہ عنہ شہید ہوئے اور آپ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے کچھ مہینوں بعد ہی اُم المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا نام ہند بنت ابی اُمیہ حذیفہ ہے اور بعض نے سہل بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم بیان کیا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہا قبیلہ قریش کے خاندان بنو مخزوم سے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہا کا پہلا نکاح اپنے چچازاد حضرت ابوسلمہ بن عبد الاسد رضی اللہ عنہ سے ہوا تھا اور دونوں اولین اسلام قبول کرنے والوں میں سے ہیں۔ مدینہ منورہ ہجرت کی اور دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے۔ ایک دن حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سن کر آئے اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس کسی مسلمان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے اور وہ کہتا ہ انا للہ وانا الیہ راجعون ! اے اللہ! مجھے میری مصیبت سے پناہ دے اور میرا اس سے بہتر قائم مقام بنا دے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اُس سے بہتر عطا فرماتا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ” جب حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا تو میں نے یہی بات کہی اور سوچا کہ حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے بہتر کون ہوسکتا ہے؟ جبکہ وہ پہلے ہجرت کرنے والے ہیں۔ پھر اللہ کی مشیت سے میں نے وہی کلمات کہے جو مجھے حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے بتائے تھے تو اللہ تعالیٰ نے اُس کے بدلے میں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمایا دیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا سے نکاح کر لیا اور آپ رضی اللہ عنها ”اُم المومنین بن گئیں ۔ آپ رضی اللہ عنہا بہت حسین اور عبادت گزار تھیں۔ بعض علمائے کرام نے بتایا کہ آپ رضی اللہ عنہا کا انتقال 59 ہجری میں ہوا۔ میں (علامہ ابن کثیر ) کہتا ہوں کہ آپ رضی اللہ عنہا کا انتقال حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے شہید ہونے کے بعد ہوا ہے۔

ھ62 ہجری: ولید بن عقبہ کی معزولی

ہجری کے آخری مہینے ذی الحجہ میں یزید نے عمرو بن سعید کو معزول کر کے ولید بن عقبہ کو حجاز کا گورنر بنایا تھا لیکن کچھ ہی مہینوں بعد ہ ہجری میں اسے معزول کر کے عثمان بن محمد ابی سفیان کو گورنر بنا دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: ولید بن عتبہ مسلسل حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی فکر میں رہا۔ مگر اُس نے دیکھا کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نہایت کثیر الحذر " ہیں اور اپنی حفاظت کئے ہوئے ہیں ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے شہید ہونے کے بعد نجدہ بن عامر نے بھی ہمامہ میں یزید کی مخالفت شروع کر دی تھی ۔ ادھر مکہ مکرمہ میں حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بھی مخالفت کر رہے تھے۔ حج کے ایام میں ولید بن عتبہ نے مسلمانوں کو حج کرایا اور جب وہ عرفات سے روانہ ہوا تو مسلمان بھی اُس کے ساتھ روانہ ہوئے ۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ٹھہرے رہے اور پھر بعد میں اپنے ساتھیوں کو لیکر روانہ ہوئے۔ نجدہ بن عامر بھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ الگ روانہ ہوا اور کوئی بھی کسی کی اتباع نہیں کر رہا تھا۔ لیکن نجدہ اکثر حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے ملتا رہتا تھا جس کی وجہ سے لوگوں کو گمان ہوا کہ وہ بھی حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لے گا۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے یزید کو خط لکھا کہ تو نے یہاں کس بے وقوف کو بھیج دیا ہے جو کسی عقل کی بات پر توجہ ہی نہیں کرتا ہے اور کسی عاقل کے سمجھانے سے باز نہیں آتا ہے۔ اگر کسی خوش اخلاق و تواضع پسند آدمی کو یہاں بھیجتا تو مجھے امید تھی کہ بہت سی دشواریاں آسان ہو جا تیں اور تفرقہ اُٹھ جاتا۔ اس بارے میں غور کر کہ اسی میں خواص و عام کی بہتری ہے۔ یزید نے اُن کا خط پڑھا تو ولید بن عقبہ کو معزول کر کے عثمان بن محمد بن ابی سفیان کو حجاز کا گورنر بنا دیا۔ یہ نوجوان تھا اور ولید بن عقبہ سے بھی زیادہ بے وقوف تھا۔

مدینہ منورہ کا وفد اور یزید کا کردار

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا خط پڑھ کر یزید نے ولید بن عقبہ کو معزول کر کے عثمان بن محمد بن ابی سفیان کو گورنر بنا دیا۔ اسے حکومت کے کاموں کی سمجھ بہت کم تھی۔ اس نے اُن لوگوں کا وفد یزید کے پاس بھیجا جو اُسے پسند نہیں کرتے تھے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اب ایک نوجوان نا آزمودہ کار اور کمسن گورنر سے سابقہ پڑا جسے نہ تو معاملات کا تجربہ تھا اور نہ ہی معاملات استواری کا کوئی تجربہ تھا۔ وہ اپنی حکومت اور عملداری پر ذرا بھی غور نہیں کرتا تھا۔ اُس نے اہل مدینہ منورہ کا ایک وفد یزید کے پاس روانہ کیا ۔ اس وفد میں حضرت عبد اللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ انصاری بھی تھے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر ومخزومی اور منذر بن زبیر بھی تھا اور بہت سے اشراف مدینہ اُن کے ساتھ تھے۔ وہ لوگ یزید کے پاس ملک شام آئے تو یزید نے اُن کے ساتھ اچھا سلوک کیا اور انعامات دیئے۔ وہاں ملک شام میں کچھ دن گزارنے کے بعد یہ وفد مدینہ منورہ واپس آیا ۔ ان میں سے ایک منذر بن زبیر بصرہ کے گورنر عبیداللہ بن زیاد کے پاس چلا گیا۔ اُسے یزید نے ایک لاکھ درہم انعام میں دیئے تھے۔ ادھر یہ وفد مدینہ منورہ آیا تو وفد کے لوگوں نے مدینہ منورہ والوں کو یزید کے کردار کے بارے میں بتایا کہ ہم ایک ایسے شخص کے پاس سے ہو کر آئے ہیں جو کوئی دین نہیں رکھتا ہے۔ شراب پیتا ہے، طنبورہ بجاتا ہے۔ اُس کی صحبت میں گانا گانے والیاں گا یا بجایا کرتی ہیں۔ کتوں سے کھیلتا ہے، بشوں اور لونڈیوں سے محبت رکھتا ہے۔ تم سب لوگ گواہ رہو۔ ہم نے اسے خلافت سے معزول کر دیا ہے۔ یہ سن کر لوگوں نے اُن کی اتباع کی۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

Saltanat e Umayya part 26


 26 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 26

مدینہ منورہ والوں نے یزید کی حکومت کا انکار کر دیا، حضرت بریدہ بن حبیب اسلمی رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت ربیع بن خیثم تابعی کا انتقال، حضرت عقبہ بن نافع کی شہادت، حضرت عمرو بن حزم اور حضرت مسلم بن مخلد انصاری کا انتقال، حضرت مسلم بن معاویہ دیلمی رضی اللہ عنہ کا انتقال، ھ63 ہجری : "حرہ" میں جنگ، اہل مدینہ نے یزید کو معزول کر دیا، بنو امیہ کا یزید کے نام خط، عمرو بن سعید کا لشکر لیکر جانے سے انکار، یزید نے مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کے لئے لشکر جمع کیا، یزید نے مدینہ منورہ میں " قتال اور لوٹ مار حلال کیا، عبید اللہ بن زیاد کا مکہ مکرمہ پر حملہ کرنے سے انکار، مدینۂ منورہ پر حملہ کرنے والے لشکر کی خبر، حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ کی عہد کی پابندی، حضرت عمر بن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی عہد کی پابندی ، عبدالملک بن مروان کا حرہ میں جنگ کرنے کا مشورہ، 


مدینہ منورہ والوں نے یزید کی حکومت کا انکار کر دیا


مدینہ منورہ کے وفد والوں نے ملک شام سے واپس آکر جب یزید کے کردار کے بارے میں لوگوں کو بتانا شروع کیا تو لوگوں نے یزید کی حکومت ماننے سے انکار کر دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: سب مل کر حضرت عبد اللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ انصاری کے پاس آئے اور اُن سے بیعت کر کے انہیں اپنا حکمراں بنالیا۔ منذر بن زبیر بصرہ اور کوفہ کے گورنر عبداللہ بن زیاد کے قریبی دوستوں میں سے تھا۔ اسی لئے وہ اُس کی ضیافت میں مشغول تھا کہ اُس کے پاس یزید کا خط آیا جس میں حکم تھا کہ " منذر بن زبیر کو گر فتار کر لے اور جب تک میرا اگلا حکم نہ آئے تب تک اُسے اپنی قید میں رکھ ۔ منذر بن زبیر کے ساتھ والوں نے مدینہ منورہ میں جو کچھ کیا تھا اسکے بارے میں یزید کو تفصیل معلوم ہو چکی تھی۔ اسی لئے اُس نے اُس کی گرفتاری کا حکم بھیجا تھا۔ عبید اللہ بن زیاد نے اپنے دوست منذر بن زبیر کو یزید کا خط دکھلایا۔ جسے دیکھ کر منذر بن زبیر وہاں سے روانہ ہو گیا اور مدینہ منورہ آکر یزید کے مخالفین سے ملا۔ پھر اُس نے اہل مدینہ کے سامنے یزید کے بارے میں بتایا : اللہ کی قسم ! یزید نے مجھے ایک لاکھ درہم دیئے ہیں لیکن اُس کا یہ سلوک بھی مجھے حق بات کہنے سے نہیں روک سکتا۔ اس لئے میں سچ سچ بیان کر رہا ہوں ۔ اللہ کی قسم! یزید شراب پیتا ہے اور ایسا مست ہو جاتا ہے کہ نماز بھی ہوش نہیں رہتا ہے ۔ اس کے ساتھ کے وفد والوں نے یزید کی جو جوحرکتیں بیان کیں تھیں اس نے بھی ویسی ہی حرکتیں بیان کیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر بیان کیں۔ اسی کے ساتھ 62 ہجری کا اختتام ہوا۔


حضرت بریدہ بن حبیب اسلمی رضی اللہ عنہ کا انتقال


اس سال 62 ہجری میں حضرت بریدہ بن حبیب اسلمی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کی تو قریش کے سرداروں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سو (100) اونٹوں کا انعام رکھا تھا۔ جسے حاصل کرنے کے لالچ میں حضرت بریدہ بن حبیب اسلمی رضی اللہ عنہ اپنے اسی (80) گھڑ سواروں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کرنے نکلے اور بالکل مدینہ منورہ کے قریب جا کر گھیر لیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ رضی اللہ عنہ کو ہدایت سے نوازا اور آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے اسی (80) ساتھیوں کے ساتھ اسلام قبول کر لیا تو عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں داخلے کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی علم ( جھنڈا) ہونا چاہئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑا لیکر اُن کے نیزے پر باندھ دیا اور آپ رضی اللہ عنہ علم لیکر رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے علم بردار کے طور پر مدینہ منورہ میں داخل ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ منورہ پہنچا کر آپ رضی اللہ عنہ اپنے قبیلے میں اسلام کی تبلیغ کرنے کے لئے چلے گئے ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: آپ رضی اللہ عنہ نے اُس وقت اسلام قبول کیا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرتے ہوئے کراع النعیم" کے نزدیک پہنچ چکے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ اپنے اسی (80) گھڑ سوار ساتھیوں کے ساتھ آکر ملے اور اسلام قبول کر لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو سورہ مریم کا ابتدائی حصہ سکھایا۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ غزوہ اُحد کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ مدینہ منورہ میں ہی اقامت اختیار کر لی اور اس کے بعد کے تمام معرکوں میں شریک ہوئے۔ جب بصرہ فتح ہوا تو وہیں انہوں نے گھر بنا کر اقامت اختیار کر لی۔ پھر خراسان کی جنگ میں بھی شامل ہوئے اور یزید کے دور حکومت میں 62 ہجری میں آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا۔


حضرت ربیع بن خیثم تابعی کا انتقال


اس سال 62 ہجری میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگر د حضرت ربیع بن خیثم تابعی کا انتقال ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت ربیع بن خیثم ثوری کوفی کو فہ کے رہنے والے ہیں اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگرد ہیں ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اُن سے فرمایا: ” میں جب بھی تمہیں دیکھتا ہوں تو مجھے عاجزی کرنے والے یاد آ جاتے ہیں اور اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں دیکھتے تو تم سے محبت کرتے ۔ امام شعمی کا بیان ہے کہ حضرت ربیع بن خیثم صدق کا منبع تھے اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پر ہیز گار شاگردوں میں سے تھے۔ اس سال 62 ہجری میں انتقال ہوا۔


حضرت عقبہ بن نافع کی شہادت


اس سال 62 ہجری میں حضرت عقبہ بن نافع کا انتقال ہوا۔ حضرت عقبہ بن نافع اسلام کے عظیم سپہ سالاروں میں سے ایک ہیں اور انہوں نے افریقہ میں اسلام کا ڈنکا بجایا اور سمندر تک پہنچ گئے تھے۔ وہاں آپ نے فرمایا تھا: ”اے اللہ! اگر یہ سمندر میرے راستے میں حائل نہیں ہوتا تو میں دنیا کے اس کنارے سے اُس کنارے تک تیرے دین کو پھیلانے کے لئے چلا جاتا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے حضرت عقبہ بن نافع کو دس ہزار کا لشکر دے کر افریقہ بھیجا اور آپ نے افریقہ فتح کیا۔ وہاں پر ” قیروان شہر کی بنیاد رکھی ۔ قیروان کی جگہ بہت درختوں والی اور دلد لی تھی اور درندوں، سانپوں اور حشرات الارض کی وجہ سے وہاں پر انسان کے رہنے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ حضرت عقبہ بن نافع کی عقابی نگاہوں نے پہچان لیا تھا کہ اس جگہ اگر شہر بس جائے اور چھاونی بنادی جائے تو افریقہ پر کنٹرول کرنا بہت آسان ہو جائے گا۔ پس آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور بلند آواز سے فرمایا: "اے حیوانات اور حشرات الارض! تم یہ جگہ چھوڑ کر چلے جاؤ۔ یہ سنا تھا کہ تمام حیوانات اور حشرات الارض اپنی گھاؤں اور بلوں سے نکل نکل کر اپنے بچوں سمیت جانے لگے۔ کئی دنوں تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ جب یہ تمام علاقہ خالی ہو گیا تو حضرت عقبہ بن نافع نے شہر قیروان کی حد بندی کی اور اسے تعمیر کروایا اور مسلسل افریقہ میں بربروں اور رومیوں سے حالت جنگ میں رہے۔ یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔


حضرت عمرو بن حزم اور حضرت مسلم بن مخلد انصاری کا انتقال


اس سال 62 ہجری میں حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ اور حضرت مسلم بن مخلد انصاری رضی اللہ عنہ کا بھی انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو نجران کا گورنر مقررفرمایا تھا ۔ اُس وقت آپ رضی اللہ عنہ کی عمر صرف سترہ (17) سال تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ وہیں پر مسلسل قیام پذیر ہے اور یزید کے زمانے میں انتقال ہوا۔ حضرت مسلم بن مخلد انصاری رضی اللہ عنہ اس سال پیدا ہئے جس سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سماع کیا ہے۔ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ملک مصر کی فتح میں شامل رہے اور وہاں معاویہ بن خدیج کے لشکر کے کمانڈر رہے اور اس سال 62 ہجری میں انتقال ہوا۔ 


حضرت مسلم بن معاویہ دیلمی رضی اللہ عنہ کا انتقال 


اس سال 62 ہجری میں حضرت مسلم بن معاویہ دیلمی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت مسلم بن معاویه دیلمی رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں۔ غزوہ بدر، غزوہ اُحد اور غزوہ خندق میں مشرکین کے ساتھ شامل تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اسلام قبول کرنے کی توفیق بخشی اور آپ رضی اللہ عنہ حسن اسلام سے آراستہ ہوئے۔ فتح مکہ اور غزوہ حنین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل رہے اور جب وہ ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو امیر بنا کر بھیجا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اُن کے ساتھ حج کیا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں حجتہ الوداع بھی کیا ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے زمانہ جاہلیت میں ساٹھ (60) سال کی عمر پائی اور اسلام قبول کرنے کے بعد بھی ساٹھ سال تک زندہ رہے


ھ63 ہجری : "حرہ" میں جنگ


اس سال 63 ہجری میں سب سے بڑا واقعہ حرہ کی جنگ“ کا ہوا۔ مدینہ منورہ والوں نے یزید کی حکومت ماننے سے انکار کر دیا اور حضرت عبداللہ بن مطیع اور حضرت عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ کو اپنا امیر بنالیا۔ یزید کو جب معلوم ہوا تو اُس نے مدینہ منورہ پرحملہ کرنے کے لئے لشکر بھیجا۔ اس کے بارے میں تمام حالات ان شاء اللہ ہم تفصیل سے پیش کریں گے۔


اہل مدینہ نے یزید کو معزول کر دیا


اہل مدینہ نے یزید کو معزول کر کے عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ کواپنا حکمراں بنالیا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اس سال ۱۳ ہجری میں ”حرہ کی جنگ ہوئی اور اس کا سبب یہ تھا کہ جب اہل مدینہ نے یزید کو معزول کر دیا اور قریش پر حضرت عبداللہ بن مطیع اور انصار پر حضرت عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ کو امیر مقرر کر دیا تو اس سال کے آغاز میں انہوں اس بات کا اظہار کیا۔ اہل مدینہ جمع ہوئے اور اُن میں کا ایک شخص بولا: ” میں نے یزید کو یوں اُتار دیا جیسے یہ پگڑی اُتار دی۔ یہ کہ کر اس نے اپنی پگڑی اُتار لی۔ دوسرا شخص بولا: ” میں نے یزید کو یوں اُتار دیا جیسے یہ جوتی اُتار دی ۔ یہ کہہ کر اس نے اپنی جوتی اُتار دی۔ وہاں موجود لگ بھگ سب لوگوں نے ایسا ہی کیا اور وہاں بہت سی پگڑیاں اور جو تیاں جمع ہو گئیں۔ پھر انہوں نے اپنے درمیان سے یزید کے گورنر عثمان بن محمد بن ابی سفیان (یزید کا چازاد بھائی) کونکالنے اور بنوامیہ کو جلا وطن کر دینے پر اتفاق کر لیا۔ بنو امیہ مروان بن حکم کے گھر اکٹھا ہو گئے اور اہل مدینہ نے اُن کا گھیراؤ کر لیا۔ حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ اہل مدینہ سے الگ رہے اور اُن دونوں نے یزید کو معزول نہیں کیا۔


بنو امیہ کا یزید کے نام خط


مدینہ منورہ والوں نے یزید کی حکومت ماننے سے انکار کر دیا اور حضرت عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ کواپنا حکمراں بنالیا۔ یہ واقعہالہ ہجری کے آخری دنوں میں ہوا۔ پھر ۔ لگ گئی ۔ اب یہاں ہم انشاء اللہ تفصیل سے پیش کریں گے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : یزید کو حکومت سے معزول کر کے اہل مدینہ نے حضرت عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ کو اپنا حکمراں بنالیا تو انہوں نے حجاز کے گورنر عثمان بن محمد بن ابی سفیان اور اُس کے ساتھ تمام بنو امیہ جو مدینہ منورہ میں تھے اور اُن کی تعداد لگ بھگ ایک ہزار تھی سب کا گھیراؤ کر لیا تو وہ سب مروان بن حکم کے گھر میں آگئے تو انہوں نے اُس کے گھر کا محاصرہ کر لیا اور یہ محاصرہ بہت کمزور تھا۔ بنو امیہ میں سے مروان بن حکم اور عمر بن عثمان بن عفان نے حبیب بن کرہ کو بلا بھیجا۔ اُس وقت مروان بن حکم اُن کا سردار بن گیا تھا کیونکہ حجاز کا گورنر عثمان بن محمد تو ایک کمسن نو جوان تھا اور اُس کی کوئی رائے نہیں تھی ۔ تمام بنو امیہ نے یزید کو ایک خط لکھا اور ابن کرہ کے ہاتھ سے اُس کے پاس بھیجا۔ عبد الملک بن مروان یہ خط لئے ہوئے حبیب بن کرہ کے ساتھ ساتھ منیۃ الوداع کے مقام تک آیا۔ یہاں آکر اُسے خط دیا اور کہا: ” بارہ دن جانے کے اور بارہ دن آنے کے تمہارے لئے مقرر کرتا ہوں ۔ چوبیسویں دن اسی مقام پر انشاء اللہ اپنے انتظار میں تم مجھے بیٹھا ہوا پاؤ گے۔ خط کا مضمون یہ تھا: ” ہم لوگ مروان بن حکم کے گھر میں محصور ہو گئے ہیں۔ ہم پر پانی بند ہے اور اناج کو ہم خود پھینک آئے ہیں۔ فریاد ہے فریاد


عمرو بن سعید کا لشکر لیکر جانے سے انکار


مدینہ منورہ سے بنوامیہ کا قاصد خط لیکر یزید کے پاس پہنچا۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں: ابن کرہ یہ خط لیکر یزید کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ وہ کرسی پر پیر لٹکائے ہوئے بیٹھا ہے۔ طشت میں پاشویہ کے لئے پانی بھرا ہوا ہے۔ یزید کو درد نقرش“ تھا۔ خط پرھ کر یزید نے کہا: ” میری طبیعت میں جو علم تھا اُسے ان لوگوں نے بدل دیا ہے۔ میں نے اب اپنی قوم کے لئے نرمی کے بدلے تختی کو اختیار کر لیا ہے ۔ پھر اس نے ابن کرہ سے پوچھا: "کیا مدینہ منورہ میں تمام بنو امیہ اور اُس کے موالی ملکر ایک ہزار آدمی نہیں ہوں گے ؟ قاصد نے کہا: ” ایک ہزار آدمی ضرور ہیں بلکہ اُس سے زیادہ ہیں ۔ یزید نے کہا: ” اُن سے اتنا بھی نہیں ہو گا کہ ساعت بھر قتال کرتے ؟ قاصد نے کہا: ” امیر المومنین! تمام خلقت نے اُن پر ہجوم کر لیا ہے اور اُن سے لڑنے کی طاقت بنو امیہ میں نہیں ہے۔ یزید نے یہ سن کر عمرو بن سعید کو بلوایا اور اُسے یہ خط دکھایا۔ سب حال بیان کیا اور حکم دیا کہ لشکر لیکر مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہو۔ عمرو بن سعید نے کہا: ”شہروں شہروں تیرا عمل بٹھا چکا ہوں اور تمام امور کو تیرے لئے مستحکم کر چکا ہوں لیکن اب نوبت یہ پہنچی کہ قریش کے خون سے بھی زمین کو رنگین کیا جائے۔ یہ مجھ سے نہیں ہو گا۔ یہ کام وہی شخص کرے گا جس کا تعلق قریش نے نہیں ہوگا۔“


یزید نے مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کے لئے لشکر جمع کیا


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کو حرم بنایا اور یہاں قتال کوحرام قرار دیا اور فرمایا: ”مدینہ منورہ کی مٹی میں بھی شفا ہے۔ یزید نے مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کے لئے لشکر جمع کیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اب یزید نے ابن کرہ کو مسلم بن عقبہ کے پاس بھیجا۔ یہ شخص نہایت ہی کبیر السن ضعیف اور مریض تھا۔ خط پڑھ کر قاصد سے تمام حالات پوچھے تو اُس نے تفصیل سے بیان کر دیئے ۔ مسلم بن عقبہ نے بھی وہی بات کہی جو یزید نے کہی تھی۔ اُس نے کہا: ” اُن سے اتنا بھی نہیں ہو سکا کہ ساعت بھر قتال کرتے ؟ یہ لوگ جب تک خود اپنے دشمن سے اپنی قوم کے لئے نہیں لڑیں گے تب تک اس لائق نہیں ہیں کہ اُن کی کمک کی جائے۔ یہ کہہ کر مسلم بن عقبہ چلکر یزید کے پاس آیا اور بولا: " امیر المومنین ! یہ بہت ذلیل لوگ ہیں اور ان کی نصرت نہیں کرنی چاہیئے ۔ ان سے اتنا بھی نہیں ہو سکا کہ ایک دن یا ایک پہر یا ایک ساعت ہی قتال کرتے ۔ انہیں بس یونہی رہنے دیں کہ یہ خود اپنے دشمن سے اپنی قومی سلطنت کے لئے لڑیں۔ آپ کو یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ ان میں سے کون کون آپ کی طرف سے قبال کرتا ہے اور ثابت قدم رہتا ہے اور کون گردن جھکا دیتا ہے؟ یزید نے کہا: ” تمہارا بھلا ہو! ان لوگوں کے بغیر زندگی کا کیا لطف رہ جائے گا۔“ اس لئے اُٹھو اور لشکر لے کر روانہ ہو اور باقی خبر مجھے دیتے رہو ۔ پھر یزید نے اعلان کروا دیا کہ مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کے لئے ملک حجاز کی طرف روانہ ہو جاؤ اور آؤ اپنا اپنا پورا وظیفہ لے جاؤ اور اس کے علاوہ سو سود دینار ہر شخص کو بطور اعانت دیے جائیں گے ۔ اس اعلان کے بعد بارہ ہزار 12,000شامیوں کا لشکر جمع ہو گیا۔ 


یزید نے مدینہ منورہ میں " قتال اور لوٹ مار حلال کیا


یزید نے مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کے لئے لشکر کو جمع کر کے روانہ کیا اور روانگی کے وقت اُن کے ساتھ چلا اور اُن کو اجازت دے کہ تین دن تک شامی لشکر کے لئے مدینہ منورہ میں ” قتال اور لوٹ مار حلال ہے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: مسلم بن عقبہ کی سپہ سالاری میں یزید نے اس لشکر کو روانہ کیا اور حکم دیا: ”تم سے اگر کچھ نہیں ہو سکے گا تو حصین بن نمیر کو شکر کا سپہ سالار بنا دینا۔ مدینہ منورہ کے لوگوں کو تین دن کی مہلت دینا اگر مان جائیں تو ٹھیک ہے ورنہ ان سے قتال کرنا اور جب تم کو اُن پر غلبہ حاصل ہو جائے تو تین دن تک ( نعوذ باللہ ) مدینہ منورہ کو لوٹنا ۔ وہاں کا مال اور روپیہ اور ہتھیار اور غلہ ( اناج) یہ سب تمہارے لشکر کا ہے۔ تین دن کے بعد مدینہ منورہ کو لوٹنا موقوف کر دینا اور علی اوسط بن حسین (رضی اللہ عنہ) سے رعایت کرنا اور اُن کے ساتھ نیکی کرنا اور اُن کو اپنے قریب بٹھانا۔ مدینہ منورہ کے جن لوگوں نے میری مخالفت کی ہے وہ اُس میں شریک نہیں ہیں اور میرے پاس اُن کا خط آیا ہے ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔ مسلم بن عقبہ بارہ ہزار سپاہیوں کا لشکر لیکر روانہ ہوا۔ میز ید مشایعت کی غرض سے تھوڑی دور تک ساتھ آیا اور چند احکام کی پابندی کی ہدایت کر کے واپس آیا کہ اگر تم کو کوئی ضرورت پیش آئے تو حصین بن نمیر کو سپہ سالار بنا دینا۔ اہل مدینہ کو تین دن تک غور و فکر کرنے کہ مہلت دینا اگر اس دوران میں وہ اطاعت قبول کریں تو درگذر کرنا ورنہ اُن سے جنگ کرنا۔ جب اُن پر فتح حاصل ہو جائے تو تین دن تک قتل عام اور لوٹ مار کا حکم جاری رکھنا۔ اہل مدینہ کا جو کچھ مال و اسباب لوٹا جائے گا وہ شامی لشکر کے سپاہیوں کا ہوگا۔ حضرت علی اوسط بن حسین (رضی اللہ عنہ ) سے معترض نہیں ہونا ۔“


عبید اللہ بن زیاد کا مکہ مکرمہ پر حملہ کرنے سے انکار


حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو یزید کی نظر میں بلند ہونے کے لئے عبید اللہ بن زیاد نے شہید کروا دیا تھا۔ اس کے بعد یزید نے اُسے حکم دیا کہ مکہ مکرمہ میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ پر حملہ کرنے کے لئے لشکر تیار کرے اور مکہ مکرمہ روانہ ہو جائے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: عبید اللہ بن زیاد کو یزید نے لکھا: تو عبد اللہ بن زبیر سے لڑنے کے لئے روانہ ہو جا۔ خط میں حکم پڑھ کر عبیداللہ بن زیاد نے کہا: ”اس فاسق کے لئے یہ دو دو گناہ میں اپنے سر نہیں لوں گا کہ ایک تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کو شہید کروں اور دوسرے کہ خانہ کعبہ پر حملہ کروں مرجانہ اس ( عبد اللہ بن زیاد ) کی ماں ایک بچی عورت تھی ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو جب اُس نے شہید کروایا تھا تو کہتی تھی تیرا برا ہو! تو نے یہ کیا حرکت کی ہے؟“


مدینۂ منورہ پر حملہ کرنے والے لشکر کی خبر


مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ پر حملہ کرنے کے لئے یزید لشکر جمع کر رہا تھا۔ یہ دیکھ کر ابن کر ہ مدینہ منورہ واپس آیا اور خبر دی کہ یزید مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ پر حملہ کرنے کے لئے لشکر بھیج رہا ہے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: ابن کرہ ملک شام سے یہ دیکھ کر روانہ ہوا کہ یزید لشکر تیار کر رہا ہے اور کہہ رہا ہے : ” میرا یہ پیغام عبداللہ بن زبیر کو پہنچا دینا ۔ جب دیکھنا کہ رات ہو گئی ہے اور وادی القری پر شکر اتر پڑا ہے۔ کیا یہ لشکر والے تجھے مست اور شهر سار معلوم ہوتے ہیں یا بے خواب و بیدار معلوم ہوتے ہیں جنہوں نے نیند کو اپنے پاس آنے نہیں دیا۔ مجھے اُس ملحد پر تعجب ہوتا ہے کہ دین میں مکاری کرتا ہے اور بزرگوں کو برا کہتا ہے ۔ یہ سن کر ابن کرہ مدینہ منورہ واپس آگیا اور سیدھا وہیں پہنچا جہاں عبدالملک بن مروان اُس کا انتظار کر رہا تھا۔ وہ ایک درخت کے نیچے سر جھکائے کچھ اُوڑھے ہوئے بیٹھا تھا۔ ابن کرہ نے اُسے سب حال بیان کر دیا اور عبدالملک بن مروان خوش ہو گیا۔ وہاں سے دونوں مروان بن حکم کے گھر پر آئے اور بنو امیہ کے لوگوں کو لشکر کے آنے کی خبر دی اور سب نے اللہ کا شکر ادا کیا۔


بنوامیہ مدینہ منورہ سے باہر


مدینہ منورہ میں یہ خبر پھیل گئی کہ یزید حملہ کرنے کے لئے لشکر بھیج رہا ہے تو اہل مدینہ نے بنو امیہ سے وعدہ لینا چاہا کہ ہمارے خلاف سازش نہیں کرنا ورنہ ہم تمہیں مدینہ منورہ سے باہر نکال دیں گے۔ بنو امیہ نے نے مدینہ منورہ سے باہر نکلنا منظور کر لیا۔ علامہ محمد بن جزر برطبری لکھتے ہیں: مدینہ منورہ والوں کو جب یہ خبر ہوئی کہ یزید نے مسلم بن عقبہ کی سپہ سالاری میں بارہ ہزار کا شکر جرار روانہ کر دیا ہے تو انہوں نے مروان بن حکم کے گھر جا کر بنوامیہ سے کہا: اللہ کی تم ! ہم جب تک تم کو اس گھر سے نکال کر گردن نہیں ماریں گے اور تم سے باز نہیں آئیں گے ۔ ہاں! اگر تم اللہ تعالیٰ کو درمیان میں لا کر ہم سے عہد و میثاق کرو کہ تم لوگ ہمیں دھوکا نہیں دو گے اور کوئی چھپا ہوا ہمارا موقع دشمن کو نہیں بتاؤ گے اور ہمارے دشمن کی مدد نہیں کرو گے تو ہم تمہیں چھوڑ دیں گے اور کچھ نہیں کریں گے ۔ بنو امیہ نے مدینہ منورہ کو چھوڑ دینا گوارا کرلیا اور یہ سب لوگ اپنا مال واسباب لیکر نکلے اور وادی القریٰ میں جا کر ٹھہر گئے اور وہیں مسلم بن عقبہ نے آکر اپنے لشکر کے ساتھ پڑاؤ ڈال دیا۔


حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ کی عہد کی پابندی


حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ نے یزید سے عہد کیا تھا کہ وہ غیر جانب دار ہیں گے اور اسی لئے اُس نے آپ رضی اللہ عنہ کو اہل بیت کے ساتھ مدینہ منورہ روانہ کر دیا تھا۔ مروان بن حکم یہ بات جانتا تھا اس لئے اُس نے اپنے اہل وعیال کو آپ رضی اللہ عنہ کی پناہ میں دے دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ کو ان باتوں کی خبر نہیں تھی کہ یزید نے اُن کے باب میں مسلم بن عقبہ سے رعایت کی سفارش کر دی ہے۔ بنو امیہ جب مدینہ منورہ کے باہر جانے لگے تو مروان بن حکم کی بیوی جو ابان بن مروان کی ماں ہیں یعنی سیدہ عائشہ بنت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہا نے مروان بن حکم کے تمام تمام مال و اسباب کے ساتھ حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ کے پاس آکر پناہ لی تھی۔ مروان بن حکم نے پہلے حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے درخواست کی تھی : ” آپ رضی اللہ عنہ میرے اہل وعیال کو اپنے پاس چھپا کر رکھیں ۔ حضرت عبد اللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس درخواست کو نہیں مانا اور پناہ دینے سے انکار کر دیا۔ پھر مروان بن حکم حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا: ” میری آپ رضی اللہ عنہ سے قرابت ہے اور آپ رضی اللہ عنہ میرے اہل بیت کو اپنے اہل بیت کے ساتھ رکھ لیں ۔ انہوں نے منظور کیا اور مروان بن حکم نے اپنے گھر والوں کو اُن کے گھر بھیج دیا۔ آپ رضی اللہ ان کو اپنے اہل بیت کے ساتھ لیکر بیع میں آئے اور وہیں سب کو رکھا۔ جب مسلم بن عقبہ لشکر لیکر آیا اور وادی القریٰ میں پڑاؤ ڈالے ہوئے ہے تو آپ رضی اللہ عنہ سب کو لیکر نکلے اور مدینہ صورہ کے باہر آپ رضی اللہ عنہ کی کچھ زمین تھی اسی پر رہائش پذیر ہو گئے۔ یہاں آکر سیدہ عائشہ بنت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہا طائف کی طرف جانے کی تیاری کرنے لگیں تو حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” میرے بیٹے عبداللہ بن علی اوسط کو اپنے ساتھ طائف لیتی جاؤ ۔ سیدہ عائشہ بنت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہا اُن کے بیٹے عبداللہ کو الف لیکر چلی گئیں اور اپنے پاس ہی رکھا۔


حضرت عمر بن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی عہد کی پابندی 


مدینہ منورہ کے باہر وادی القریٰ میں مسلم بن عقبہ اپنے لشکر کے ساتھ پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا جب بنو امیہ سے اُس کی ملاقات ہوئی تو اُس نے مدینہ منورہ کے اندرونی حالات پوچھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: مسلم بن عقبہ نے بنو امیہ میں سے حضرت عمرو بن عثمان بن عفان رضیاللہعنہ کو بلایا اور ان سے کہا: ” مجھے وہاں کے اندرونی حالات بتا ؤ اور کچھ مشورہ دو “ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "میں تمہیں کچھ نہیں بتا سکتا کیونکہ ہم لوگوں سے اس بات کا عہد و میثاق گیا ہے کہ ہم کوئی چھپا ہوا موقع تمہیں نہیں بتا ئیں اور تمہاری کوئی مدد نہیں کریں۔“ یہ سن کر مسلم بن عقبہ نے انہیں جھڑک دیا اور بولا : ”اگر تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا بیٹا نہیں ہوتا تو میں تیری گردن اڑا دیتا اور اللہ کی قسم! اب میں کسی قریشی کی بات نہیں سنوں گا ۔“ حضرت عمرو بن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اس کی درشتی دیکھ کر واپس آگئے۔


عبدالملک بن مروان کا حرہ میں جنگ کرنے کا مشورہ


حضرت عمرو بن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے واپس آنے کے بعد مروان بن حکم نے اپنے بیٹے عبد الملک بن مروان کو مسلم بن عقبہ کے پاس بھیجا اور اُس نے ایسا مشورہ دیا جس سے مدینہ منورہ والوں کو شکست ہو جائے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اب مروان بن حکم نے اپنے بیٹے عبد الملک بن مروان سے کہا: ”مجھ سے پہلے تم ہی اُس کے پاس چلے جاؤ ، شاید وہ تمہارے جانے کو ہی کافی سمجھے اور مجھے نہ بلائے ۔“ وہ جب مسلم بن عقبہ کے پاس آیا تو اس نے کہا: ” تم جو باتیں جانتے ہو وہ سب مجھے بتاؤ اور اپنی رائے بھی پیش کرو ۔ “عبدالملک نے کہا: ”میری رائے یہ ہے کہ تم یہ راستہ چھوڑ دو اور دوسرے راستے سے اپنے لشکر کو لیکر مدینہ منورہ کی طرف جاؤ۔ جب مدینہ منورہ کا نخلستان تمہیں ملے تو اپنے لشکر کے ساتھ وہیں پڑاؤ ڈال دو اور رات کو وہیں قیام پذیر ہو۔ جب صبح ہو جائے تو فجر کی نماز پڑھ کر روانہ ہواور مدینہ منورہ کو اپنے بائیں جانب رکھ کر شہر کے گرد پھر اور حرہ کی بلند زمین پر اہل مدینہ سے جنگ کرنا۔ جب اُن سے تمہارا مقابلہ ہو گا تو سورج اُن کے سامنے طلوع ہوگا اور تمہارے لشکر کے پیچھے ہوگا جس کی وجہ سے تمہارے لشکر کو تکلیف نہیں ہوگی اور اہل مدینہ کو بہت پریشانی ہوگی۔ اُن کے سامنے سورج ہونے کی وجہ سے تمہارے ہتھیار، برچھیوں کی سنائیں، تلواریں وغیرہ انہیں چمکتے ہوئے دکھائی دیں گے اور تمہارے لشکر کو چمکتے ہوئے نہیں دکھائی دیں گے۔ اس کے بعد اُن سے قتال کر اور اللہ سے مدد طلب کر ۔ بے شک اللہ تیری مدد کرے گا کیونکہ اہل مدینہ نے امام (یزید) کی مخالفت کی ہے اور جماعت سے خارج ہو گئے ہیں۔ مسلم بن عقیل نے کہا : اللہ تعالیٰ تجھے جزائے خیر عطا فرمائے ۔“


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!



D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں