26 سلطنتِ امیہ
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 26
مدینہ منورہ والوں نے یزید کی حکومت کا انکار کر دیا، حضرت بریدہ بن حبیب اسلمی رضی اللہ عنہ کا انتقال، حضرت ربیع بن خیثم تابعی کا انتقال، حضرت عقبہ بن نافع کی شہادت، حضرت عمرو بن حزم اور حضرت مسلم بن مخلد انصاری کا انتقال، حضرت مسلم بن معاویہ دیلمی رضی اللہ عنہ کا انتقال، ھ63 ہجری : "حرہ" میں جنگ، اہل مدینہ نے یزید کو معزول کر دیا، بنو امیہ کا یزید کے نام خط، عمرو بن سعید کا لشکر لیکر جانے سے انکار، یزید نے مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کے لئے لشکر جمع کیا، یزید نے مدینہ منورہ میں " قتال اور لوٹ مار حلال کیا، عبید اللہ بن زیاد کا مکہ مکرمہ پر حملہ کرنے سے انکار، مدینۂ منورہ پر حملہ کرنے والے لشکر کی خبر، حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ کی عہد کی پابندی، حضرت عمر بن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی عہد کی پابندی ، عبدالملک بن مروان کا حرہ میں جنگ کرنے کا مشورہ،
مدینہ منورہ والوں نے یزید کی حکومت کا انکار کر دیا
مدینہ منورہ کے وفد والوں نے ملک شام سے واپس آکر جب یزید کے کردار کے بارے میں لوگوں کو بتانا شروع کیا تو لوگوں نے یزید کی حکومت ماننے سے انکار کر دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: سب مل کر حضرت عبد اللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ انصاری کے پاس آئے اور اُن سے بیعت کر کے انہیں اپنا حکمراں بنالیا۔ منذر بن زبیر بصرہ اور کوفہ کے گورنر عبداللہ بن زیاد کے قریبی دوستوں میں سے تھا۔ اسی لئے وہ اُس کی ضیافت میں مشغول تھا کہ اُس کے پاس یزید کا خط آیا جس میں حکم تھا کہ " منذر بن زبیر کو گر فتار کر لے اور جب تک میرا اگلا حکم نہ آئے تب تک اُسے اپنی قید میں رکھ ۔ منذر بن زبیر کے ساتھ والوں نے مدینہ منورہ میں جو کچھ کیا تھا اسکے بارے میں یزید کو تفصیل معلوم ہو چکی تھی۔ اسی لئے اُس نے اُس کی گرفتاری کا حکم بھیجا تھا۔ عبید اللہ بن زیاد نے اپنے دوست منذر بن زبیر کو یزید کا خط دکھلایا۔ جسے دیکھ کر منذر بن زبیر وہاں سے روانہ ہو گیا اور مدینہ منورہ آکر یزید کے مخالفین سے ملا۔ پھر اُس نے اہل مدینہ کے سامنے یزید کے بارے میں بتایا : اللہ کی قسم ! یزید نے مجھے ایک لاکھ درہم دیئے ہیں لیکن اُس کا یہ سلوک بھی مجھے حق بات کہنے سے نہیں روک سکتا۔ اس لئے میں سچ سچ بیان کر رہا ہوں ۔ اللہ کی قسم! یزید شراب پیتا ہے اور ایسا مست ہو جاتا ہے کہ نماز بھی ہوش نہیں رہتا ہے ۔ اس کے ساتھ کے وفد والوں نے یزید کی جو جوحرکتیں بیان کیں تھیں اس نے بھی ویسی ہی حرکتیں بیان کیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر بیان کیں۔ اسی کے ساتھ 62 ہجری کا اختتام ہوا۔
حضرت بریدہ بن حبیب اسلمی رضی اللہ عنہ کا انتقال
اس سال 62 ہجری میں حضرت بریدہ بن حبیب اسلمی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کی تو قریش کے سرداروں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سو (100) اونٹوں کا انعام رکھا تھا۔ جسے حاصل کرنے کے لالچ میں حضرت بریدہ بن حبیب اسلمی رضی اللہ عنہ اپنے اسی (80) گھڑ سواروں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کرنے نکلے اور بالکل مدینہ منورہ کے قریب جا کر گھیر لیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ رضی اللہ عنہ کو ہدایت سے نوازا اور آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے اسی (80) ساتھیوں کے ساتھ اسلام قبول کر لیا تو عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں داخلے کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی علم ( جھنڈا) ہونا چاہئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑا لیکر اُن کے نیزے پر باندھ دیا اور آپ رضی اللہ عنہ علم لیکر رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے علم بردار کے طور پر مدینہ منورہ میں داخل ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ منورہ پہنچا کر آپ رضی اللہ عنہ اپنے قبیلے میں اسلام کی تبلیغ کرنے کے لئے چلے گئے ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: آپ رضی اللہ عنہ نے اُس وقت اسلام قبول کیا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرتے ہوئے کراع النعیم" کے نزدیک پہنچ چکے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ اپنے اسی (80) گھڑ سوار ساتھیوں کے ساتھ آکر ملے اور اسلام قبول کر لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو سورہ مریم کا ابتدائی حصہ سکھایا۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ غزوہ اُحد کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ مدینہ منورہ میں ہی اقامت اختیار کر لی اور اس کے بعد کے تمام معرکوں میں شریک ہوئے۔ جب بصرہ فتح ہوا تو وہیں انہوں نے گھر بنا کر اقامت اختیار کر لی۔ پھر خراسان کی جنگ میں بھی شامل ہوئے اور یزید کے دور حکومت میں 62 ہجری میں آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا۔
حضرت ربیع بن خیثم تابعی کا انتقال
اس سال 62 ہجری میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگر د حضرت ربیع بن خیثم تابعی کا انتقال ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت ربیع بن خیثم ثوری کوفی کو فہ کے رہنے والے ہیں اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگرد ہیں ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اُن سے فرمایا: ” میں جب بھی تمہیں دیکھتا ہوں تو مجھے عاجزی کرنے والے یاد آ جاتے ہیں اور اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں دیکھتے تو تم سے محبت کرتے ۔ امام شعمی کا بیان ہے کہ حضرت ربیع بن خیثم صدق کا منبع تھے اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پر ہیز گار شاگردوں میں سے تھے۔ اس سال 62 ہجری میں انتقال ہوا۔
حضرت عقبہ بن نافع کی شہادت
اس سال 62 ہجری میں حضرت عقبہ بن نافع کا انتقال ہوا۔ حضرت عقبہ بن نافع اسلام کے عظیم سپہ سالاروں میں سے ایک ہیں اور انہوں نے افریقہ میں اسلام کا ڈنکا بجایا اور سمندر تک پہنچ گئے تھے۔ وہاں آپ نے فرمایا تھا: ”اے اللہ! اگر یہ سمندر میرے راستے میں حائل نہیں ہوتا تو میں دنیا کے اس کنارے سے اُس کنارے تک تیرے دین کو پھیلانے کے لئے چلا جاتا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے حضرت عقبہ بن نافع کو دس ہزار کا لشکر دے کر افریقہ بھیجا اور آپ نے افریقہ فتح کیا۔ وہاں پر ” قیروان شہر کی بنیاد رکھی ۔ قیروان کی جگہ بہت درختوں والی اور دلد لی تھی اور درندوں، سانپوں اور حشرات الارض کی وجہ سے وہاں پر انسان کے رہنے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ حضرت عقبہ بن نافع کی عقابی نگاہوں نے پہچان لیا تھا کہ اس جگہ اگر شہر بس جائے اور چھاونی بنادی جائے تو افریقہ پر کنٹرول کرنا بہت آسان ہو جائے گا۔ پس آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور بلند آواز سے فرمایا: "اے حیوانات اور حشرات الارض! تم یہ جگہ چھوڑ کر چلے جاؤ۔ یہ سنا تھا کہ تمام حیوانات اور حشرات الارض اپنی گھاؤں اور بلوں سے نکل نکل کر اپنے بچوں سمیت جانے لگے۔ کئی دنوں تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ جب یہ تمام علاقہ خالی ہو گیا تو حضرت عقبہ بن نافع نے شہر قیروان کی حد بندی کی اور اسے تعمیر کروایا اور مسلسل افریقہ میں بربروں اور رومیوں سے حالت جنگ میں رہے۔ یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔
حضرت عمرو بن حزم اور حضرت مسلم بن مخلد انصاری کا انتقال
اس سال 62 ہجری میں حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ اور حضرت مسلم بن مخلد انصاری رضی اللہ عنہ کا بھی انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو نجران کا گورنر مقررفرمایا تھا ۔ اُس وقت آپ رضی اللہ عنہ کی عمر صرف سترہ (17) سال تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ وہیں پر مسلسل قیام پذیر ہے اور یزید کے زمانے میں انتقال ہوا۔ حضرت مسلم بن مخلد انصاری رضی اللہ عنہ اس سال پیدا ہئے جس سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سماع کیا ہے۔ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ملک مصر کی فتح میں شامل رہے اور وہاں معاویہ بن خدیج کے لشکر کے کمانڈر رہے اور اس سال 62 ہجری میں انتقال ہوا۔
حضرت مسلم بن معاویہ دیلمی رضی اللہ عنہ کا انتقال
اس سال 62 ہجری میں حضرت مسلم بن معاویہ دیلمی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت مسلم بن معاویه دیلمی رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں۔ غزوہ بدر، غزوہ اُحد اور غزوہ خندق میں مشرکین کے ساتھ شامل تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اسلام قبول کرنے کی توفیق بخشی اور آپ رضی اللہ عنہ حسن اسلام سے آراستہ ہوئے۔ فتح مکہ اور غزوہ حنین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل رہے اور جب وہ ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو امیر بنا کر بھیجا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اُن کے ساتھ حج کیا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں حجتہ الوداع بھی کیا ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے زمانہ جاہلیت میں ساٹھ (60) سال کی عمر پائی اور اسلام قبول کرنے کے بعد بھی ساٹھ سال تک زندہ رہے
ھ63 ہجری : "حرہ" میں جنگ
اس سال 63 ہجری میں سب سے بڑا واقعہ حرہ کی جنگ“ کا ہوا۔ مدینہ منورہ والوں نے یزید کی حکومت ماننے سے انکار کر دیا اور حضرت عبداللہ بن مطیع اور حضرت عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ کو اپنا امیر بنالیا۔ یزید کو جب معلوم ہوا تو اُس نے مدینہ منورہ پرحملہ کرنے کے لئے لشکر بھیجا۔ اس کے بارے میں تمام حالات ان شاء اللہ ہم تفصیل سے پیش کریں گے۔
اہل مدینہ نے یزید کو معزول کر دیا
اہل مدینہ نے یزید کو معزول کر کے عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ کواپنا حکمراں بنالیا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اس سال ۱۳ ہجری میں ”حرہ کی جنگ ہوئی اور اس کا سبب یہ تھا کہ جب اہل مدینہ نے یزید کو معزول کر دیا اور قریش پر حضرت عبداللہ بن مطیع اور انصار پر حضرت عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ کو امیر مقرر کر دیا تو اس سال کے آغاز میں انہوں اس بات کا اظہار کیا۔ اہل مدینہ جمع ہوئے اور اُن میں کا ایک شخص بولا: ” میں نے یزید کو یوں اُتار دیا جیسے یہ پگڑی اُتار دی۔ یہ کہ کر اس نے اپنی پگڑی اُتار لی۔ دوسرا شخص بولا: ” میں نے یزید کو یوں اُتار دیا جیسے یہ جوتی اُتار دی ۔ یہ کہہ کر اس نے اپنی جوتی اُتار دی۔ وہاں موجود لگ بھگ سب لوگوں نے ایسا ہی کیا اور وہاں بہت سی پگڑیاں اور جو تیاں جمع ہو گئیں۔ پھر انہوں نے اپنے درمیان سے یزید کے گورنر عثمان بن محمد بن ابی سفیان (یزید کا چازاد بھائی) کونکالنے اور بنوامیہ کو جلا وطن کر دینے پر اتفاق کر لیا۔ بنو امیہ مروان بن حکم کے گھر اکٹھا ہو گئے اور اہل مدینہ نے اُن کا گھیراؤ کر لیا۔ حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ اہل مدینہ سے الگ رہے اور اُن دونوں نے یزید کو معزول نہیں کیا۔
بنو امیہ کا یزید کے نام خط
مدینہ منورہ والوں نے یزید کی حکومت ماننے سے انکار کر دیا اور حضرت عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ کواپنا حکمراں بنالیا۔ یہ واقعہالہ ہجری کے آخری دنوں میں ہوا۔ پھر ۔ لگ گئی ۔ اب یہاں ہم انشاء اللہ تفصیل سے پیش کریں گے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : یزید کو حکومت سے معزول کر کے اہل مدینہ نے حضرت عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ کو اپنا حکمراں بنالیا تو انہوں نے حجاز کے گورنر عثمان بن محمد بن ابی سفیان اور اُس کے ساتھ تمام بنو امیہ جو مدینہ منورہ میں تھے اور اُن کی تعداد لگ بھگ ایک ہزار تھی سب کا گھیراؤ کر لیا تو وہ سب مروان بن حکم کے گھر میں آگئے تو انہوں نے اُس کے گھر کا محاصرہ کر لیا اور یہ محاصرہ بہت کمزور تھا۔ بنو امیہ میں سے مروان بن حکم اور عمر بن عثمان بن عفان نے حبیب بن کرہ کو بلا بھیجا۔ اُس وقت مروان بن حکم اُن کا سردار بن گیا تھا کیونکہ حجاز کا گورنر عثمان بن محمد تو ایک کمسن نو جوان تھا اور اُس کی کوئی رائے نہیں تھی ۔ تمام بنو امیہ نے یزید کو ایک خط لکھا اور ابن کرہ کے ہاتھ سے اُس کے پاس بھیجا۔ عبد الملک بن مروان یہ خط لئے ہوئے حبیب بن کرہ کے ساتھ ساتھ منیۃ الوداع کے مقام تک آیا۔ یہاں آکر اُسے خط دیا اور کہا: ” بارہ دن جانے کے اور بارہ دن آنے کے تمہارے لئے مقرر کرتا ہوں ۔ چوبیسویں دن اسی مقام پر انشاء اللہ اپنے انتظار میں تم مجھے بیٹھا ہوا پاؤ گے۔ خط کا مضمون یہ تھا: ” ہم لوگ مروان بن حکم کے گھر میں محصور ہو گئے ہیں۔ ہم پر پانی بند ہے اور اناج کو ہم خود پھینک آئے ہیں۔ فریاد ہے فریاد
عمرو بن سعید کا لشکر لیکر جانے سے انکار
مدینہ منورہ سے بنوامیہ کا قاصد خط لیکر یزید کے پاس پہنچا۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں: ابن کرہ یہ خط لیکر یزید کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ وہ کرسی پر پیر لٹکائے ہوئے بیٹھا ہے۔ طشت میں پاشویہ کے لئے پانی بھرا ہوا ہے۔ یزید کو درد نقرش“ تھا۔ خط پرھ کر یزید نے کہا: ” میری طبیعت میں جو علم تھا اُسے ان لوگوں نے بدل دیا ہے۔ میں نے اب اپنی قوم کے لئے نرمی کے بدلے تختی کو اختیار کر لیا ہے ۔ پھر اس نے ابن کرہ سے پوچھا: "کیا مدینہ منورہ میں تمام بنو امیہ اور اُس کے موالی ملکر ایک ہزار آدمی نہیں ہوں گے ؟ قاصد نے کہا: ” ایک ہزار آدمی ضرور ہیں بلکہ اُس سے زیادہ ہیں ۔ یزید نے کہا: ” اُن سے اتنا بھی نہیں ہو گا کہ ساعت بھر قتال کرتے ؟ قاصد نے کہا: ” امیر المومنین! تمام خلقت نے اُن پر ہجوم کر لیا ہے اور اُن سے لڑنے کی طاقت بنو امیہ میں نہیں ہے۔ یزید نے یہ سن کر عمرو بن سعید کو بلوایا اور اُسے یہ خط دکھایا۔ سب حال بیان کیا اور حکم دیا کہ لشکر لیکر مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہو۔ عمرو بن سعید نے کہا: ”شہروں شہروں تیرا عمل بٹھا چکا ہوں اور تمام امور کو تیرے لئے مستحکم کر چکا ہوں لیکن اب نوبت یہ پہنچی کہ قریش کے خون سے بھی زمین کو رنگین کیا جائے۔ یہ مجھ سے نہیں ہو گا۔ یہ کام وہی شخص کرے گا جس کا تعلق قریش نے نہیں ہوگا۔“
یزید نے مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کے لئے لشکر جمع کیا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کو حرم بنایا اور یہاں قتال کوحرام قرار دیا اور فرمایا: ”مدینہ منورہ کی مٹی میں بھی شفا ہے۔ یزید نے مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کے لئے لشکر جمع کیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اب یزید نے ابن کرہ کو مسلم بن عقبہ کے پاس بھیجا۔ یہ شخص نہایت ہی کبیر السن ضعیف اور مریض تھا۔ خط پڑھ کر قاصد سے تمام حالات پوچھے تو اُس نے تفصیل سے بیان کر دیئے ۔ مسلم بن عقبہ نے بھی وہی بات کہی جو یزید نے کہی تھی۔ اُس نے کہا: ” اُن سے اتنا بھی نہیں ہو سکا کہ ساعت بھر قتال کرتے ؟ یہ لوگ جب تک خود اپنے دشمن سے اپنی قوم کے لئے نہیں لڑیں گے تب تک اس لائق نہیں ہیں کہ اُن کی کمک کی جائے۔ یہ کہہ کر مسلم بن عقبہ چلکر یزید کے پاس آیا اور بولا: " امیر المومنین ! یہ بہت ذلیل لوگ ہیں اور ان کی نصرت نہیں کرنی چاہیئے ۔ ان سے اتنا بھی نہیں ہو سکا کہ ایک دن یا ایک پہر یا ایک ساعت ہی قتال کرتے ۔ انہیں بس یونہی رہنے دیں کہ یہ خود اپنے دشمن سے اپنی قومی سلطنت کے لئے لڑیں۔ آپ کو یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ ان میں سے کون کون آپ کی طرف سے قبال کرتا ہے اور ثابت قدم رہتا ہے اور کون گردن جھکا دیتا ہے؟ یزید نے کہا: ” تمہارا بھلا ہو! ان لوگوں کے بغیر زندگی کا کیا لطف رہ جائے گا۔“ اس لئے اُٹھو اور لشکر لے کر روانہ ہو اور باقی خبر مجھے دیتے رہو ۔ پھر یزید نے اعلان کروا دیا کہ مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کے لئے ملک حجاز کی طرف روانہ ہو جاؤ اور آؤ اپنا اپنا پورا وظیفہ لے جاؤ اور اس کے علاوہ سو سود دینار ہر شخص کو بطور اعانت دیے جائیں گے ۔ اس اعلان کے بعد بارہ ہزار 12,000شامیوں کا لشکر جمع ہو گیا۔
یزید نے مدینہ منورہ میں " قتال اور لوٹ مار حلال کیا
یزید نے مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کے لئے لشکر کو جمع کر کے روانہ کیا اور روانگی کے وقت اُن کے ساتھ چلا اور اُن کو اجازت دے کہ تین دن تک شامی لشکر کے لئے مدینہ منورہ میں ” قتال اور لوٹ مار حلال ہے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: مسلم بن عقبہ کی سپہ سالاری میں یزید نے اس لشکر کو روانہ کیا اور حکم دیا: ”تم سے اگر کچھ نہیں ہو سکے گا تو حصین بن نمیر کو شکر کا سپہ سالار بنا دینا۔ مدینہ منورہ کے لوگوں کو تین دن کی مہلت دینا اگر مان جائیں تو ٹھیک ہے ورنہ ان سے قتال کرنا اور جب تم کو اُن پر غلبہ حاصل ہو جائے تو تین دن تک ( نعوذ باللہ ) مدینہ منورہ کو لوٹنا ۔ وہاں کا مال اور روپیہ اور ہتھیار اور غلہ ( اناج) یہ سب تمہارے لشکر کا ہے۔ تین دن کے بعد مدینہ منورہ کو لوٹنا موقوف کر دینا اور علی اوسط بن حسین (رضی اللہ عنہ) سے رعایت کرنا اور اُن کے ساتھ نیکی کرنا اور اُن کو اپنے قریب بٹھانا۔ مدینہ منورہ کے جن لوگوں نے میری مخالفت کی ہے وہ اُس میں شریک نہیں ہیں اور میرے پاس اُن کا خط آیا ہے ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔ مسلم بن عقبہ بارہ ہزار سپاہیوں کا لشکر لیکر روانہ ہوا۔ میز ید مشایعت کی غرض سے تھوڑی دور تک ساتھ آیا اور چند احکام کی پابندی کی ہدایت کر کے واپس آیا کہ اگر تم کو کوئی ضرورت پیش آئے تو حصین بن نمیر کو سپہ سالار بنا دینا۔ اہل مدینہ کو تین دن تک غور و فکر کرنے کہ مہلت دینا اگر اس دوران میں وہ اطاعت قبول کریں تو درگذر کرنا ورنہ اُن سے جنگ کرنا۔ جب اُن پر فتح حاصل ہو جائے تو تین دن تک قتل عام اور لوٹ مار کا حکم جاری رکھنا۔ اہل مدینہ کا جو کچھ مال و اسباب لوٹا جائے گا وہ شامی لشکر کے سپاہیوں کا ہوگا۔ حضرت علی اوسط بن حسین (رضی اللہ عنہ ) سے معترض نہیں ہونا ۔“
عبید اللہ بن زیاد کا مکہ مکرمہ پر حملہ کرنے سے انکار
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو یزید کی نظر میں بلند ہونے کے لئے عبید اللہ بن زیاد نے شہید کروا دیا تھا۔ اس کے بعد یزید نے اُسے حکم دیا کہ مکہ مکرمہ میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ پر حملہ کرنے کے لئے لشکر تیار کرے اور مکہ مکرمہ روانہ ہو جائے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: عبید اللہ بن زیاد کو یزید نے لکھا: تو عبد اللہ بن زبیر سے لڑنے کے لئے روانہ ہو جا۔ خط میں حکم پڑھ کر عبیداللہ بن زیاد نے کہا: ”اس فاسق کے لئے یہ دو دو گناہ میں اپنے سر نہیں لوں گا کہ ایک تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کو شہید کروں اور دوسرے کہ خانہ کعبہ پر حملہ کروں مرجانہ اس ( عبد اللہ بن زیاد ) کی ماں ایک بچی عورت تھی ۔ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو جب اُس نے شہید کروایا تھا تو کہتی تھی تیرا برا ہو! تو نے یہ کیا حرکت کی ہے؟“
مدینۂ منورہ پر حملہ کرنے والے لشکر کی خبر
مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ پر حملہ کرنے کے لئے یزید لشکر جمع کر رہا تھا۔ یہ دیکھ کر ابن کر ہ مدینہ منورہ واپس آیا اور خبر دی کہ یزید مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ پر حملہ کرنے کے لئے لشکر بھیج رہا ہے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: ابن کرہ ملک شام سے یہ دیکھ کر روانہ ہوا کہ یزید لشکر تیار کر رہا ہے اور کہہ رہا ہے : ” میرا یہ پیغام عبداللہ بن زبیر کو پہنچا دینا ۔ جب دیکھنا کہ رات ہو گئی ہے اور وادی القری پر شکر اتر پڑا ہے۔ کیا یہ لشکر والے تجھے مست اور شهر سار معلوم ہوتے ہیں یا بے خواب و بیدار معلوم ہوتے ہیں جنہوں نے نیند کو اپنے پاس آنے نہیں دیا۔ مجھے اُس ملحد پر تعجب ہوتا ہے کہ دین میں مکاری کرتا ہے اور بزرگوں کو برا کہتا ہے ۔ یہ سن کر ابن کرہ مدینہ منورہ واپس آگیا اور سیدھا وہیں پہنچا جہاں عبدالملک بن مروان اُس کا انتظار کر رہا تھا۔ وہ ایک درخت کے نیچے سر جھکائے کچھ اُوڑھے ہوئے بیٹھا تھا۔ ابن کرہ نے اُسے سب حال بیان کر دیا اور عبدالملک بن مروان خوش ہو گیا۔ وہاں سے دونوں مروان بن حکم کے گھر پر آئے اور بنو امیہ کے لوگوں کو لشکر کے آنے کی خبر دی اور سب نے اللہ کا شکر ادا کیا۔
بنوامیہ مدینہ منورہ سے باہر
مدینہ منورہ میں یہ خبر پھیل گئی کہ یزید حملہ کرنے کے لئے لشکر بھیج رہا ہے تو اہل مدینہ نے بنو امیہ سے وعدہ لینا چاہا کہ ہمارے خلاف سازش نہیں کرنا ورنہ ہم تمہیں مدینہ منورہ سے باہر نکال دیں گے۔ بنو امیہ نے نے مدینہ منورہ سے باہر نکلنا منظور کر لیا۔ علامہ محمد بن جزر برطبری لکھتے ہیں: مدینہ منورہ والوں کو جب یہ خبر ہوئی کہ یزید نے مسلم بن عقبہ کی سپہ سالاری میں بارہ ہزار کا شکر جرار روانہ کر دیا ہے تو انہوں نے مروان بن حکم کے گھر جا کر بنوامیہ سے کہا: اللہ کی تم ! ہم جب تک تم کو اس گھر سے نکال کر گردن نہیں ماریں گے اور تم سے باز نہیں آئیں گے ۔ ہاں! اگر تم اللہ تعالیٰ کو درمیان میں لا کر ہم سے عہد و میثاق کرو کہ تم لوگ ہمیں دھوکا نہیں دو گے اور کوئی چھپا ہوا ہمارا موقع دشمن کو نہیں بتاؤ گے اور ہمارے دشمن کی مدد نہیں کرو گے تو ہم تمہیں چھوڑ دیں گے اور کچھ نہیں کریں گے ۔ بنو امیہ نے مدینہ منورہ کو چھوڑ دینا گوارا کرلیا اور یہ سب لوگ اپنا مال واسباب لیکر نکلے اور وادی القریٰ میں جا کر ٹھہر گئے اور وہیں مسلم بن عقبہ نے آکر اپنے لشکر کے ساتھ پڑاؤ ڈال دیا۔
حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ کی عہد کی پابندی
حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ نے یزید سے عہد کیا تھا کہ وہ غیر جانب دار ہیں گے اور اسی لئے اُس نے آپ رضی اللہ عنہ کو اہل بیت کے ساتھ مدینہ منورہ روانہ کر دیا تھا۔ مروان بن حکم یہ بات جانتا تھا اس لئے اُس نے اپنے اہل وعیال کو آپ رضی اللہ عنہ کی پناہ میں دے دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ کو ان باتوں کی خبر نہیں تھی کہ یزید نے اُن کے باب میں مسلم بن عقبہ سے رعایت کی سفارش کر دی ہے۔ بنو امیہ جب مدینہ منورہ کے باہر جانے لگے تو مروان بن حکم کی بیوی جو ابان بن مروان کی ماں ہیں یعنی سیدہ عائشہ بنت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہا نے مروان بن حکم کے تمام تمام مال و اسباب کے ساتھ حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ کے پاس آکر پناہ لی تھی۔ مروان بن حکم نے پہلے حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے درخواست کی تھی : ” آپ رضی اللہ عنہ میرے اہل وعیال کو اپنے پاس چھپا کر رکھیں ۔ حضرت عبد اللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس درخواست کو نہیں مانا اور پناہ دینے سے انکار کر دیا۔ پھر مروان بن حکم حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا: ” میری آپ رضی اللہ عنہ سے قرابت ہے اور آپ رضی اللہ عنہ میرے اہل بیت کو اپنے اہل بیت کے ساتھ رکھ لیں ۔ انہوں نے منظور کیا اور مروان بن حکم نے اپنے گھر والوں کو اُن کے گھر بھیج دیا۔ آپ رضی اللہ ان کو اپنے اہل بیت کے ساتھ لیکر بیع میں آئے اور وہیں سب کو رکھا۔ جب مسلم بن عقبہ لشکر لیکر آیا اور وادی القریٰ میں پڑاؤ ڈالے ہوئے ہے تو آپ رضی اللہ عنہ سب کو لیکر نکلے اور مدینہ صورہ کے باہر آپ رضی اللہ عنہ کی کچھ زمین تھی اسی پر رہائش پذیر ہو گئے۔ یہاں آکر سیدہ عائشہ بنت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہا طائف کی طرف جانے کی تیاری کرنے لگیں تو حضرت علی اوسط بن حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” میرے بیٹے عبداللہ بن علی اوسط کو اپنے ساتھ طائف لیتی جاؤ ۔ سیدہ عائشہ بنت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہا اُن کے بیٹے عبداللہ کو الف لیکر چلی گئیں اور اپنے پاس ہی رکھا۔
حضرت عمر بن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی عہد کی پابندی
مدینہ منورہ کے باہر وادی القریٰ میں مسلم بن عقبہ اپنے لشکر کے ساتھ پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا جب بنو امیہ سے اُس کی ملاقات ہوئی تو اُس نے مدینہ منورہ کے اندرونی حالات پوچھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: مسلم بن عقبہ نے بنو امیہ میں سے حضرت عمرو بن عثمان بن عفان رضیاللہعنہ کو بلایا اور ان سے کہا: ” مجھے وہاں کے اندرونی حالات بتا ؤ اور کچھ مشورہ دو “ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "میں تمہیں کچھ نہیں بتا سکتا کیونکہ ہم لوگوں سے اس بات کا عہد و میثاق گیا ہے کہ ہم کوئی چھپا ہوا موقع تمہیں نہیں بتا ئیں اور تمہاری کوئی مدد نہیں کریں۔“ یہ سن کر مسلم بن عقبہ نے انہیں جھڑک دیا اور بولا : ”اگر تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا بیٹا نہیں ہوتا تو میں تیری گردن اڑا دیتا اور اللہ کی قسم! اب میں کسی قریشی کی بات نہیں سنوں گا ۔“ حضرت عمرو بن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اس کی درشتی دیکھ کر واپس آگئے۔
عبدالملک بن مروان کا حرہ میں جنگ کرنے کا مشورہ
حضرت عمرو بن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے واپس آنے کے بعد مروان بن حکم نے اپنے بیٹے عبد الملک بن مروان کو مسلم بن عقبہ کے پاس بھیجا اور اُس نے ایسا مشورہ دیا جس سے مدینہ منورہ والوں کو شکست ہو جائے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اب مروان بن حکم نے اپنے بیٹے عبد الملک بن مروان سے کہا: ”مجھ سے پہلے تم ہی اُس کے پاس چلے جاؤ ، شاید وہ تمہارے جانے کو ہی کافی سمجھے اور مجھے نہ بلائے ۔“ وہ جب مسلم بن عقبہ کے پاس آیا تو اس نے کہا: ” تم جو باتیں جانتے ہو وہ سب مجھے بتاؤ اور اپنی رائے بھی پیش کرو ۔ “عبدالملک نے کہا: ”میری رائے یہ ہے کہ تم یہ راستہ چھوڑ دو اور دوسرے راستے سے اپنے لشکر کو لیکر مدینہ منورہ کی طرف جاؤ۔ جب مدینہ منورہ کا نخلستان تمہیں ملے تو اپنے لشکر کے ساتھ وہیں پڑاؤ ڈال دو اور رات کو وہیں قیام پذیر ہو۔ جب صبح ہو جائے تو فجر کی نماز پڑھ کر روانہ ہواور مدینہ منورہ کو اپنے بائیں جانب رکھ کر شہر کے گرد پھر اور حرہ کی بلند زمین پر اہل مدینہ سے جنگ کرنا۔ جب اُن سے تمہارا مقابلہ ہو گا تو سورج اُن کے سامنے طلوع ہوگا اور تمہارے لشکر کے پیچھے ہوگا جس کی وجہ سے تمہارے لشکر کو تکلیف نہیں ہوگی اور اہل مدینہ کو بہت پریشانی ہوگی۔ اُن کے سامنے سورج ہونے کی وجہ سے تمہارے ہتھیار، برچھیوں کی سنائیں، تلواریں وغیرہ انہیں چمکتے ہوئے دکھائی دیں گے اور تمہارے لشکر کو چمکتے ہوئے نہیں دکھائی دیں گے۔ اس کے بعد اُن سے قتال کر اور اللہ سے مدد طلب کر ۔ بے شک اللہ تیری مدد کرے گا کیونکہ اہل مدینہ نے امام (یزید) کی مخالفت کی ہے اور جماعت سے خارج ہو گئے ہیں۔ مسلم بن عقیل نے کہا : اللہ تعالیٰ تجھے جزائے خیر عطا فرمائے ۔“
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!




