پیر، 2 ستمبر، 2024

Saltanat e Umayya part 27


 ا27 سلطنتِ امیہ 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 27

اہل مدینہ کو تین دن کی مہلت، اہل مدینہ کا جنگ پر اصرار، حرہ میں جنگ، فضل بن عباس کا شدید حملہ، مسلم بن عقبہ کی پیش قدمی، حضرت عبد اللہ بن حنظلہ غسیل المائکہ کا خطبہ، اہل مدینہ کی شکست، مدینہ منورہ میں تین دن تک قتل عام، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ گستاخی، مسلم بن عقبہ کی یزید کے لئے بیعت، 



اہل مدینہ کو تین دن کی مہلت


عبد الملک بن مروان کا مشورہ مسلم بن عقبہ کو بالکل درست لگا اور اُس نے اُس پر عمل بھی کیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اس کے بعد مروان بن حکم اُس کے پاس گیا۔ اُس نے کہا: ”تم بھی کچھ کہو ۔ مروان بن حکم نے کہا: "عبد الملک نے تم سے جو کچھ کہا سمجھ لو ہی میں نے بھی کہا۔“ مسلم بن عقبہ نے کہا: ”ہاں! میں اُس سے ملا اور وہ بہت عجیب شخص ہے۔ میں نے کسی قریشی کو اس کے جیسا نہیں پایا ۔ اس کے بعد مسلم بن عقبہ اپنا لشکر لیکر روانہ ہوا اور اُسی منزل پر اُتر ا جہاں اُترنے کا مشورہ عبدالملک نے دیا تھا اور جو کچھ اُس نے کہا تھا ویسا ہی کیا۔ پھر وہ مقام حرہ پر مشرق کی طرف اہل مدینہ کے مقابل جا کر اُترا۔ پھر اُس نے اہل مدینہ کو بلایا اور کہا: ”اے اہل مدینہ! امیر المومنین یزید بن معاویہ کا خیال ہے کہ تم لوگ اسلام کی اصل ہو اور تمہارا خون بہانا مجھے گوارا نہیں ہے۔ اس لئے میں امیر المومنین یزید بن معاویہ کے حکم کے مطابق تمہیں تین دن کی مہلت دیتا ہوں ۔ جو کوئی تم میں سے باز آجائے گا اور حق کی طرف رجوع کرلے گا تو ہم اُس کا عذر قبول کریں گے اور یہاں سے واپس چلے جائیں گے اور اُس محمد (حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ) کی طرف جو مکہ مکرمہ میں ہے متوجہ ہوں گے اور اگر تم لوگ نہیں مانو گے تو یہ سمجھ لو کہ ہم اتمام حجت کر چکے ہوں گے۔“


اہل مدینہ کا جنگ پر اصرار


اہل مدینہ کو مسلم بن عقبہ نے تین دن کی مہلت دی تھی۔ جب وہ مہلت ختم ہوگئی تو اہل مدینہ نے جنگ کرنا منظور کیا۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں : جب تین دن ہو گئے تو مسلم بن عقبہ نے اہل مدینہ کو بلا کر کہا: اے اہل مدینہ تین دن ہو گئے ۔ کہو اب تم کو کیا منظور ہے؟ ملاپ کرتے ہو یا لڑنا چاہتے ہو؟ اگر تم سب ہمارے ساتھ مل جاؤ گے تو ہم اور تم مل کر اپنا سارا زور اُس محمد ( حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ) پر ڈالیں گے جس نے بے دینوں کو اور فاسقوں کو اپنے اطراف جمع کر رکھا ہے۔ اہل مدینہ نے کہا : " واللہ کے دشمن! اللہ کی قسم ! اگر تو اپنے لشکر کے ساتھ وہاں جانے کا ارادہ رکھتا ہے تو ہم تجھ کو جنگ کئے بغیر نہیں چھوڑیں گے۔ کیا ہم تجھے اور تیرے لشکر کو اس لئے چھوڑ دیں کہ تم خانہ کعبہ پر حملہ کرو؟ وہاں کے رہنے والوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کرو؟ وہاں ملحدوں کی حرکتیں کرو؟ بیت اللہ کی بے حرمتی کرو؟ نہیں نہیں ! اللہ کی قسم ! یہ ہم سے نہیں ہو گا ۔ اہل مدینہ نے شہر کے ایک جانب خندق بنالی تھی اور اُن کا ایک انبوہ عظیم خندق میں اُترا ہوا تھا۔ اُن کا کمانڈر عبدالرحمن بن زہیر زہری تھا۔ اہل مدینہ کے دوسرے ربع کا کمانڈر عبداللہ بن مطیع تھا۔ قریش کی طرف سے شہر کے ایک جانب میں مہاجرین کا کمانڈر معقل بن سنان اشجعی تھا اور اہل مدینہ کے سپہ سالار حضرت عبد اللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ تھے اور یہ انصار کے بھی کمانڈر تھے۔


حرہ میں جنگ


حرہ میں مسلم بن عقبہ نے صف بندی کی اور اہل مدینہ نے بھی صف بندی کر لی۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں: عقبہ بن مسلم نے جنگ کی شروعات کی اور اپنے گھڑ سواروں کو حضرت عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ کے رسالے کے مقابلے پر بھیجا۔ انہوں نے گھڑ سواروں کا مقابلہ کیا اور ایسا شدید حملہ کیا کہ مسلم بن عقبہ کے سوار بھاگ کھڑے ہوئے۔ یہ دیکھ کر مسلم بن عقبہ نے آزمودہ کا رگھڑ سواروں کوللکارا اور وہ سب پلٹ پڑے اور بڑی دلیری سے لڑنے لگے ۔ اسی دوران میں فضل بن عباس جو حارث بن عبدالمطلب کے پوتوں میں سے ہیں اپنے ساتھ لگ بھگ بیس گھڑ سواروں کو لیکر آئے اور حضرت عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ کے ساتھ آکر مل گئے اور بڑی خوبی سے نہایت شدید جنگ کی ۔ پھر انہوں نے ابن غسیل الملائکہ سے کہا: ”تمہارے ساتھ جتنے گھڑ سوار ہوں اُن سب کو حکم دے دو کہ میرے پاس آکر ٹھہریں۔ جب میں حملہ کروں تو وہ بھی حملہ آور ہوں اور میں مسلم بن عقبہ تک پہنچے بغیر دم نہیں لوں گا ۔ پھر یا تو میں اسے قتل کر دوں گا یا پھر میں خود قتل ہو جاؤں گا ۔“


فضل بن عباس کا شدید حملہ


حرہ میں شدید جنگ چل رہی تھی اور فضل بن عباس گھڑ سواروں کو لیکر مسلم بن عقبہ کی طرف بڑھے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ نے عبد اللہ بن ضحاک انصاری کو حکم دیا: ” گھڑ سواروں سے پکار کر کہہ دو کہ سب فضل بن عباس کے ساتھ رہیں ۔ اُس نے ندا لگائی اور سب گھڑ سوار فضل بن عباس کے پاس جمع ہو گئے ۔ انہوں نے اہل شام کے لشکر پر حملہ کر دیا اور وہ منتشر ہو گئے۔ فضل بن عباس نے کہا: ”اے گھڑ سوار و! تم نے دیکھ لیا یہ نالائق کیسے بھاگ رہے ہیں؟ میں تم پر فدا ہو جاؤں! پھر سے حملہ کرو تا کہ اُن کے سپہ سالار تک میں پہنچ جاؤں اور اگر میں شامیوں کے سپہ سالار تک پہنچ گیا تو اللہ کی قسم! اسے ضرور قتل کروں گا یا پھر اس کوشش میں خود مارا جاؤں گا۔سمجھ لو کہ ایک ساعت کی ثابت قدمی کا نتیجہ خوشی ہے اور ثبات قدم کے بعد اگر کچھ ہے تو فتح ہے ۔ یہ کہہ کر فضل بن عباس نے اپنے گھڑ سواروں کے ساتھ شامیوں پر ایسا حملہ کیا کہ اُن کے گھڑ سوار اپنے سپہ سالار مسلم بن عقبہ کو پیدل سپاہیوں میں چھوڑ کر منتشر ہو گئے ۔مسلم بن عقبہ کے گرد پانچ سو (500) پیدل سپاہی گھٹنے ٹیکے ہوئے ہر چھیاں گھڑ سواروں کی طرف تانے ہوئے کھڑے تھے۔ فضل بن عباس اسی حالت میں عملدار یعنی جھنڈا اٹھانے والے کے پاس پہنچے اور اُس کے سر پر تلوار کا ایسا وار کیا کہ مغفر کو کاٹ کر سر کے ٹکڑے کر دیا اور وہ وہیں گر کر مر گیا۔ اُس کے گرتے ہی فضل بن عباس نے نعرہ لگایا میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں ۔ اور سمجھے کہ انہوں نے مسلم بن عقبہ کو مار دیا اور پکار کر کہا: ” رب کعبہ کی قسم ! میں نے دشمنوں کے سپہ سالار کو قتل کر دیا ہے۔ مسلم بن عقبہ نے فحش گالی دے کر کہا: ” کو غلط کہتا ہے ۔ جھنڈا اٹھانے والا میرا رومی غلام تھا ۔ اب مسلم بن عقبہ نے خود علم (جھنڈا) اٹھا لیا اور پکار کر بولا : ”اے اہل شام ! کیا تم اپنے دین کی حمایت میں اسی طرح قتال کرتے ہو؟ کیا اپنے امام کی نصرت میں اسی طرح جہاد کرتے ہو؟ اللہ کی مار ہو تمہاری اس لڑائی پر جیسی تم آج لڑ رہے ہو اور کیسا میرے دل کو دکھا رہے ہو اور کیسا مجھے غصہ دلا رہے ہو؟ سن رکھو! اللہ کی قسم ! تمہیں اس کا عوض یہ ملے گا کہ عطیات سے محروم کر دیئے جاؤ گے اور کسی دور دراز سرحد کی طرف بھیج دیئے جاؤ گے۔ اس جھنڈے کے ساتھ آگے بڑھو اور اگر تم سے تلافی نہیں ہو سکے تو اللہ تم سے سمجھے۔ یہ کہ کر مسلم بن عقبہ علم (جھنڈا) لیکر آگے بڑھا اور اُس کے آگے آگے اہل شام حملہ کرتے ہوئے آگے بڑھے۔


مسلم بن عقبہ کی پیش قدمی


مدینہ منورہ کے پاس حرہ کے میدان میں جنگ چل رہی تھی اور فریقین ایکدوسرے پر بڑھ چڑھ کر حملے کر رہے تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: ایک روایت میں یہ ہے کہ اس جنگ میں مسلم بن عقبہ بیمار تھا۔ اُس نے دونوں صفوں کے درمیان ایک تخت پر اپنی کرسی رکھوا دی اور کہا: ”اے اہل شام ! اب اپنے امیر (سپہ سالار ) کی طرف سے لڑو یا چھوڑ کر چلے جاؤ اس کے بعد شامیوں نے ملکر اہل مدینہ پر حملہ کیا۔ اُن کے جس گروہ کی طرف رخ کیا انہیں شکست دی۔ یہ لوگ جم کر لڑتے ہی نہیں تھے اُن کے رخ ہی پھرے جاتے تھے آخر کا رسب شکست کھا گئے ۔اب مسلم بن عقبہ کا لشکر حضرت عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ کے رسالے کی طرف بڑھا۔ اسی دوران میں جنگ آزما بہادر شہ سواروں کی جماعت کو ساتھ لئے ہوئے فضل بن عباس نے شامیوں کے لشکر پر حملہ کر دیا اور یہ مسلم بن عقبہ کی کرسی و تخت کی طرف بڑھے، مسلم بن عقبہ کو اُسی کے سرا پردہ کے سامنے درمیان صف جنگ خادموں نے لا کر بٹھا دیا تھا۔ فضل بن عباس اُس کے تخت تک پہنچ گئے اُن کے چہرے کا رنگ سُرخ تھا اور تلوار اُٹھا کر وار کرنا ہی چاہتے تھے کہ مسلم بن عقبہ چلایا : ” ارے تم کہاں ہو! یہ سُرخ مرد مجھے قتل کر ڈالے گا۔ اے نیک بیبیوں کے فرزند و! دوڑو اور اسے برچھیوں میں پُر ولو ۔ سب پیدل فضل بن عباس کی طرف دوڑے اور برچھیوں سے ایک ساتھ وار کیا اور وہ برچھیاں کھا کر گر گئے ۔ اس کے بعد مسلم بن عقبہ اپنے سواروں اور پیدل سپاہیوں کو لیکر آگے بڑھا اور حضرت عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ کے قریب پہنچ گیا۔


حضرت عبد اللہ بن حنظلہ غسیل المائکہ کا خطبہ


حضرت عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ کے قریب پہنچ کر مسلم بن عقبہ نے شامیوں کے لشکر سے خطاب کیا تو جواب میں حضرت عبداللہ بن حظہ غسیل الملائکہ نے اہل مدینہ سے خطاب کیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ مسلم بن عقبہ گھوڑے پر سوار ہو کر شامیوں کا دل بڑھانے لگا: " اے اہل شام ! تم حسب و نسب میں اہل عرب سے بڑھ کر نہیں ہو، شمار میں اُن سے زیادہ نہیں ہو۔ تمہارے بلا داتنے وسیع نہیں ہیں پھر بھی اللہ تعالیٰ نے تم کو ایک خاص مرتبہ عنایت فرمایا ہے کہ دشمن کے مقابلے میں تمہاری مدد کی ہے ۔ تمہارے اماموں کے دل میں تمہاری منزلت پیدا کر دی ہے۔ اس کا سبب محض یہی ہے کہ تم لوگ اطاعت گزار ہو اور اپنے دین پر قائم ہو اور اس قوم نے اور جو ان کے مثل ہیں ان سب نے دین کو بدل ڈالا تو اللہ نے ان کی حالت کو بدل دیا۔ جس اطاعت گزاری پر تم قائم ہوا سے خوبی کے ساتھ پورا کر دو کہ اللہ بھی جو نصرت اور غلبہ تم کو دے رہا ہے اُسے پورا کر دے گا ۔ یہ کہہ کر جہاں وہ تھا وہیں پھر چلا آیا اور سواروں کو حکم دیتا گیا کہ ابن غسیل اور اُن کے رسالے پر حملہ کر دیں۔ لیکن جب گھڑ سوار اپنے گھوڑوں کو اہل مدینہ کی طرف بڑھا تو وہ لوگ برچھیوں سے اور تلواروں سے وار کرتے تھے ۔ گھوڑے بھڑک جاتے تھے اور رخ پھیر دیتے تھے اور منتشر ہو جاتے تھے۔ یہ دیکھ کر مسلم بن عقبہ نے بلند آواز سے پکار کر کہا: ”اے اہل شام ! اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو تم سے بڑھ کر میدان جنگ میں ثابت قدم نہیں بنایا ہے۔ اوحصین بن نمیرا تو اپنا لشکر لیکر اہل مدینہ پر حملہ کر “ یہ سن کر حصین بن نمیر اہل حمص کو لیکر اہل مدینہ کے سامنے آیا۔ حضرت عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ نے جب ان لوگوں کو دیکھا کہ یورش کرنے آرہے ہیں تو انہوں نے اہل مدینہ سے خطاب فرمایا: ”اے لوگو! جس طریقہ سے جنگ کرنا مقصود تھا وہی طریقہ تمہارے دشمن نے تم سے جنگ کرنے کا اختیار کیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ایک ہی ساعت کے بعد تمہارے اور ان کے درمیان اللہ تعالیٰ فیصلہ کر دے گا۔ پھر وہ چاہے تمہارے موافق ہوگا یا مخالف ہوگا۔ سنو تم لوگ صاحب بصیرت ہو، دارالہجرت کے رہنے والے ہو، اللہ کی قسم! میں خوب سمجھتا ہوں کہ بلاد اسلام میں سے کسی شہر کے لوگوں سے اللہ تعالیٰ اتنا خوش نہیں ہوگا جتنا تم لوگوں سے خوش ہے اور بلا د عرب میں سے کسی شہر کے لوگوں پر اللہ تعالیٰ ایسا غضب ناک نہیں ہوگا جیسا ان لوگوں پر ہو گا جو تم سے لڑنے کے لئے آئے ہیں۔ تم سب کو ایک دن مرنا ہے اور اللہ کی قسم کسی بھی طرح کی موت شہید ہو کر مرنے سے بہتر نہیں ہے۔ لو ! شہادت کی دولت اللہ تعالیٰ نے تمہارے سامنے رکھ دی ہے اسے لوٹ لو۔ اللہ کی قسم ! ایسا نہیں ہوسکتا کہ جتنی تمہاری مراد یں ہوں سب پوری ہو جائیں ۔ یہ کہہ کر جھنڈا لئے ہوئے آگے بڑھے اور تھوڑی دور جا کر ٹھہر گئے۔


اہل مدینہ کی شکست


حضرت عبد اللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ کے مقابلے پر حصین بن نمیر بھی اپنا جھنڈا لئے ہوئے آپہنچا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ مسلم بن عقبہ نے عبداللہ بن عضاء کو پانچ سو تیر اندازوں کے ساتھ ابن غسیل پر حملہ کرنے کے لئے بھیجا۔ اہل مدینہ پر تیروں کا مینہ برسنے لگا۔ حضرت عبد اللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ نے کہا: "آخر کب تک تیر کھایا کرو گے؟ جسے جنت میں جانے کی جلدی ہو وہ اس جھنڈے کے ساتھ ہولے ۔“ یہ سنتے ہی جتنے جانباز تھے وہ اٹھ کھڑے ہوئے۔ ابن غسیل نے کہا: ”اپنے پروردگار کے حضور چلو۔ اللہ کی قسم مجھے امید ہے کہ بس ایک ساعت کی دیر ہے کہ تمہاری آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں گی ۔ یہ سن کر سب جنگ کرنے پر آمادہ ہو گئے ۔ ایک ساعت تک ایسی گھمسان کی جنگ ہوئی جیسی اُس زمانے میں کم ہی ہوئی تھی ۔ حضرت عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ نے اپنے بیٹوں کو ایک ایک کر کے بھیجا اور وہ سب اُن کے سامنے جنگ میں کام آگئے ۔ خود حضرت عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ بھی بڑھ بڑھ کر حملے کر رہے تھے اور شامیوں کو قتل کر رہے تھے۔ آخر کار شہید ہو گئے اور اُن کے برادر اخیانہ محمد بن ثابت بھی انہیں کے ساتھ جنگ میں کام آگئے ۔ یہ کہتے تھے: "اگر کفار دیلم مجھے قتل کرتے تو میں ایسا خوش نہیں ہوتا جیسا کہ ان لوگوں کے ہاتھ سے قتل ہو جانے پر خوش ہو رہا ہوں ۔ انہیں کے ساتھ محمد بن حزم انصاری بھی جنگ میں کام آئے ۔ اُن کی لاش پر سے مروان بن حکم گذرا تو لاش سے مخاطب ہو کر بولا: "اللہ تمپر رحم فرمائے! میں نے کتنے ہی رکنوں کے پاس تمہیں طولانی نمازیں پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ۔ آخر کار اہل مدینہ کو شکست ہوگئی اور شامی لشکر فاتح کے طور پر مدینہ منورہ میں داخل ہو گیا۔


مدینہ منورہ میں تین دن تک قتل عام


مدینہ منورہ کو ملک شام کے لشکر نے فتح کر لیا اور شامی فاتح کے طور پر داخل ہوئے ۔ یزید نے شامی لشکر کے لئے تین دن تک مدینہ منورہ کو حلال کر دیا تھا اور اجازت دی تھی کہ تین دن تک لشکر مدینہ منورہ میں لوٹ مار کر سکتا ہے۔ مسلم بن عقبہ جب اپنے لشکر کے ساتھ مدینہ منورہ میں داخل ہوا تو یزید کے حکم کے مطابق اُس نے شامی لشکر کو مدینہ منورہ میں لوٹ مار کرنے کی اجازت دے دی۔ تین دن تک شامی لشکر لوٹ مار کرتارہا اور اہل مدینہ کوقتل کرتا رہا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: روایت ہے کہ مسلم بن عقبہ کرسی پر بیٹھتا تھا اور اور اس کے سپاہی کرسی کو اُٹھائے مدینہ منورہ میں پھرتے تھے۔ اس حالت میں وہ فاتح کی حیثیت سے مدینہ منورہ میں داخل ہوا۔ مسلم بن عقبہ نے تین دن تک مدینہ منورہ میں لوٹ مار شامیوں کے لئے حلال کر دی۔ شامی سپاہی اہل مدینہ کوقتل کرتے پھرتے تھے اور اُن کا مال لوٹ لیتے تھے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے جو لوگ مدینہ منورہ میں تھے انہیں بھی نہیں بخشا اور اُن کے ساتھ بھی گستاخیاں کیں اور انہیں بھی ستایا۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں مسلم بن عقبہ قتل و غارت گری کرتا ہوا مدینہ منورہ میں داخل ہوا۔ تین دن تک قتل عام کا بازار رکھا۔ شامی لشکر نے اہل مدینہ کا مال واسباب لوٹ لیا۔ اس کے بعد مسلم بن عقبہ نے معقل بن سنان الجھی، محمد بن ابی حذیفہ محمد بن جہم وغیرہ کو گرفتار کر کے قتل کر دیا۔ اس واقعہ میں تین سو چھ آدمی شرفاء مہاجرین اور انصار اور ان کے علاوہ قبائل وموالی اس تعداد میں دو چند کام آئے ۔ علامہ عماد الدین اسماعیل ابن کثیر لکھتے ہیں: پھر مسلم بن عقبہ نے جسے مسرف بن عقبہ کہتے ہیں ۔ اللہ اس برے اور جاہل شخص کا بھلا نہ کرے۔ یزید کے حکم کے مطابق اُس نے مدینہ منورہ کو تین دن کے لئے مباح“ کر دیا۔ اللہ تعالی یزید کو بھی نیک جزا نہ دے اور اُن نے بہت سے قراء کوقتل کروادیا۔ اہل مدینہ کے مال و اسباب کو لوٹ لیا گیا اور جیسا کہ کئی مورخین نے بیان کیا ہے کہ بہت سا شر و فساد برپا ہو گیا۔ جن لوگوں کو مسلم بن عقبہ کے سامنے باندھ کر قتل کیا گیا اُن میں اُس کے دوست حضرت معقل بن سنان بھی تھے جو پہلے اُس کے دوست تھے مگر یزید کی مخالفت کی وجہ سے مسلم بن عقبہ اُن سے ناراض ہو گیا تھا۔ المدائنی نے بیان کیا کہ مسلم بن عقبہ نے مدینہ منورہ کو تین دن کے لئے مباح کر دیا۔ شامی لشکر والے جس شخص کو پاتے قتل کر دیتے تھے اور اُس کا مال و اسباب لوٹ لیتے تھے اور انہوں نے ان تین دنوں میں اتنی زنا کاری کی کہ ایک ہزار خواتین کو بغیر خاوند کے حمل ٹھہر گیا۔ سعدی بنت عوف مرید نے مسلم بن عقبہ کے پاس پیغام بھیجا کہ ”میں تیری چازاد بہن ہوں۔ اس لئے میرے اُونٹوں سے معترض نہ ہو ۔ مسلم بن عقبہ نے کہا: ” سب سے پہلے اسی کے اُونوں کو پکڑو ۔ “ ایک عورت نے آکر مسلم بن عقبہ سے کہا: ” میں تیری لونڈی ہوں اور میرا بیٹا قیدیوں میں ہے ۔ مسلم بن عقبہ نے کہا: ”اے پکڑواور قتل کر دو ۔ جب اُسے قتل کر دیا گیا تو اس نے کہا: اس کا سر مجھے دو ۔ جب اُس کا سر مسلم بن عقبہ کو دیا گیا تو اس نے کہا: ” کیا تو اس بات پر راضی نہیں ہے کہ جب تک تو اپنے بیٹے کے بارے میں بات نہ کرے تو تب تک وہ قتل نہ ہو؟“ 


صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ گستاخی


مدینہ منورہ میں داخل ہونے کے بعد شامی لشکر کے سپاہی لوٹ مار میں مشغول تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی گستاخیاں کر رہے تھے۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کافی بوڑھے اور ضعیف ہو چکے تھے اور شامیوں کی لوٹ مار اور گستاخی سے بچنے کے لئے مدینہ منورہ کے اطراف پہاڑ میں چلے گئے تھے۔ علامہ عمادالدین اسماعیل ابن کثیر لکھتے ہیں: سادات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت روپوش ہو گئی جن میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ مسلم بن عقبہ نے حضرت عمرو بن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور بولا: ” تو نے بنو امیہ کا ساتھ نہیں دیا اور تو نے کہا تھا کہ اگر اہل مدینہ غالب آگئے تو میں اُن کے ساتھ ہوں اور اگر اہل شام غالب آگئے تو میں اُن کے ساتھ ہوں۔“ حضرت عمرو بن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اللہعنہ کا بیٹا ہوں ۔ پھر اس نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت عمرو بن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی داڑھی کو نوچ لیں۔ لشکر شام کے سپاہیوں نے آپ رضی اللہ عنہ کی داڑھی نوچ ڈالی جو بہت بڑی تھی ۔ حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ کو مسلم بن عقبہ کے سامنے لایا گیا تو اس نے کہا: ” میرے ہاتھ پر بیعت کرو ۔ “ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہم کی سیرت پر بیعت کروں گا۔ مسلم بن عقبہ نے آپ رضی اللہ عنہ کے قتل کا حکم دے دیا۔ لوگوں نے گواہی دی کہ آپ رضی اللہ عنہ ” مجنون“ ہیں تو چھوڑ دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ سے نکل کر پہاڑ کی غار میں جا چھپے تھے۔ ایک شامی سپاہی نے آپ رضی اللہ عنہ کو دیکھ لیا اور وہ تلوار کھینچے ہوئے اُس غار تک پہنچا۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے اُسے دھمکانے کے لئے تلوار کھینچ لی کہ شاید وہ بغیر لڑے ہوئے ہی واپس چلا جائے لیکن اُس پر کوئی اثر نہیں ہو اور بڑھتا ہی چلا آرہا تھا۔ جب آپ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ وہ باز نہیں آرہا ہے تو اپنی تلوار میان میں ڈال لی اور فرمایا: "اگر تو مجھے قتل کرنے کے لئے ہاتھ اٹھائے گا تو میں تجھے قتل کرنے کے لئے ہاتھ نہیں اٹھاؤں گا۔ میں پروردگار عالم اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں ۔“ اس نے پوچھا: اللہ تمہارا بھلا کرے ! تم کون ہو؟“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابی ہوں ۔ یہ سن کر وہ واپس چلا گیا۔


مسلم بن عقبہ کی یزید کے لئے بیعت


مدینہ منورہ کو یزید کے حکم کے مطابق مسلم بن عقبہ نے شامی لشکر پر مباح کر دیا تھا اور شامی لشکر پورے مدینہ منورہ میں ہنگامہ و فساد مچائے ہوئے تھے۔ جب تین دن گذر گئے تو مسلم بن عقبہ اہل مدینہ سے یزید کے لئے بیعت لینے کے لئے بیٹھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: مسلم بن عقبہ نے مقام قبا میں اہل مدینہ کو بیعت کرنے کے لئے بلایا۔ قریش میں سے یزید بن ذمہ محمد بن جہم اور حضرت معقل بن سنان کے لئے امان طلب کی گئی تھی۔ جنگ کے ایک دن بعد یہ تینوں اُس کے سامنے لائے گئے تو اُس نے بیعت کے لئے کہا: ” انہوں نے کہا: ” ہم اللہ کی کتاب ( قرآن پاک اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر تجھ سے بیعت کرتے ہیں۔ مسلم بن عقبہ نے کہا : اللہ کی قسم ! میں تمہاری اس بات کو ہرگز معاف نہیں کروں گا۔ پھر انہیں قتل کرا دیا۔ مروان بن حکم نے کہا: " قریشی تمہارے پاس امان کے لئے لائے گئے اور تم نے انہیں قتل کر دیا ۔ مسلم بن عقبہ نے مروان بن حکم کی کمر میں اپنی چھڑی چھو کر کہا: "اگر تو بھی یہی بات کہے گا جو انہوں نے کہی ہے تو تلوار کی چمک سے تیری بھی آنکھیں خیرہ کر دی جائیں گی ۔ پھر حضرت یزید بن وہب کو مسلم بن عقبہ کے سامنے لایا گیا تو انہوں نے کہا: ” میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی سنت پر بیعت کروں گا ۔ مسلم بن عقبہ نے کہا: اللہ کی قسم ! میں تیرے قصور کو معاف نہیں کروں گا۔ مروان بن حکم اور یزید بن وہب میں دامادی کا رشتہ تھا اسی لئے مروان بن حکم نے اُن کی سفارش کی تو مسلم بن عقبہ نے اپنے سپاہیوں سے کہا: ” مروان بن حکم کا گلہ گھونٹ ڈالو ۔ سپاہیوں نے اُس کا گلہ دبا دیا اور مسلم بن عقبہ نے کہا: تم سب لوگ اس بات پر بیعت کرو کہ تم سب کے سب یزید کے غلام ہو ۔ اس کے بعد اُس کے حکم سے یزید بن وہب کو قتل کر دیا گیا۔ ” جنگ حرہ بدھ کے دن ذی الحجہ کی ستائیسویں یا اٹھائیسویں تاریخ کو ہوئی۔ 


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مدینہ کے بارے میں فرمان


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے حرم بنانے کے بارے میں دعا کی تھی جیسی دعا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کے بارے میں کی تھی ۔ علامہ عمادالدین اسماعیل ابن کثیر لکھتے ہیں: یزید نے مسلم بن عقبہ کو یہ کہنے میں کہ وہ تین دن تک مباح“ کر دے فحش غلطی کی ہے۔ یہ ایک بہت ہی بڑی قبیح غلطی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اُن کے بیٹوں کا قتل بھی شامل ہے۔ اور پہلے بیان ہو چکا ہے کہ یزید نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کو عبید اللہ بن زیاد کے ہاتھوں قتل کروایا تھا۔ ان تین دن میں مدینہ منورہ میں وہ بے حد و حساب عظیم مفاسد رونما ہوئے جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ہے۔ یزید نے مسلم بن عقبہ کو بھیج کر اپنی حکومت اور اقتدار کو مضبوط کرنا اور بغیر کسی جھگڑا کرنے والے کے اپنے ایام کو دوام بخشا چاہا لیکن اللہ تعالیٰ نے اُس کے ارادے کے خلاف اُسے سزا دی اور اُس کے ارادے کے درمیان حائل ہو گیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے یزید کو ہلاک کر دیا۔ امام بخاری نے اپنی صحیح میں سیدہ عائشہ بنت سعد بن ابی وقاص کی روایت بیان کی ہے کہ اُن کے والد محترم نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی اہل مدینہ سے جنگ کرے گا وہ یوں پکھل جائے گا جیسے نمک پانی میں پگھل جاتا ہے ۔ امام مسلم نے اپنی صحیح میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی روایت پیش کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو شخص مدینہ منورہ کے متعلق برائی کا ارادہ کرے گا اللہ تعالیٰ اسے سیسے کی طرح پگھلا دے گا۔ پانی میں نمک کی طرح پگھلا دے گا ۔ صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہ اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص اہل مدینہ سے برائی کا ارادہ کرے گا اللہ تعالیٰ اُسے یوں پگھلا دے گا جیسے نمک پانی میں پکھل جاتا ہے ایساہی ہوا اور مسلم بن عقبہ اس کے بعد مکہ مکرمہ پر حملہ کرنے جارہا تھا کہ راستے میں ہی مر گیا ) مسند احمد بن حنبل میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے از راہ ظلم اہل مدینہ کو خوف زدہ کیا اللہ سے خوف زدہ کرے گا اور اُس پر اللہ تعالیٰ اور اُس کے فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہوگی اور قیامت کے دن اللہ تعالی اس سے قیمت اور معاوضہ قبول نہیں فرمائے گا۔ سنن نسائی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اہل مدینہ کو خوف زدہ کیا اللہ سے خوف زدہ کرے گا اور اُس پر اللہ تعالیٰ اور اُسکے فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہوگی۔“


اہل مکہ کی جنگی تیاری


مدینہ منورہ پر مسلم بن عقبہ شکر یک حملہ آور ہورہا تھا اور اسی دوران مکہ مکرمہ میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ مسلمانوں کو حج کرا رہے تھے۔ حج مکمل ہو جانے کے بعد آپ رضی اللہ عنہ مسلسل مدینہ منورہ کے بارے میں معلومات لے رہے تھے کہ چند دنوں بعد انہیں اہل مدینہ کی شکست کی اطلاع ملی ۔ آپ رضی اللہ عنہ سمجھ گئے کہ اب مسلم بن عقبہ لشکر لیکر مکہ مکرمہ پر حملہ آور ہوگا کیونکہ اسے یزید نے یہی حکم دیا تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: 63 ہجری میں عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کے ساتھ حج کیا۔ ابھی تک آپ رضی اللہ عنہ پناہ گیر کہلاتے تھے اور امر خلافت کا مدار شوری پر لوگ سمجھتے تھے محرم الحرام کی چاند رات کا ذکر ہے کہ مسور بن مخترمہ کا آزاد کردہ غلام سعید مکہ مکرمہ آیا اور اس نے بیان کیا کہ مسلم بن عقبہ نے اہل مدینہ کے ساتھ کیا کیا اور یہ لوگ کس طرح پیش آئے ۔ اس واقعہ کو مسلمانوں نے ”امر عظیم سمجھا اور اس کو شہر میں مشہور کیا۔ سب نے بہت جدوجہد کی اور سامانِ جنگ میں مشغول ہو گئے کیونکہ سمجھ گئے تھے کہ مسلم بن عقبہ ادھر بھی ضرور آئے گا۔ علامہ عماد الدین اسماعیل ابن کثیر لکھتے ہیں: جب اہل حدر قتل ہوئے تو مکہ مکرمہ میں اسی رات میں جبل ابو تمہیں پر ایک ہاتف نے آواز لگائی اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیٹھے سن رہے تھے : ” روزہ دار، فرماں بردار، عبادت گزار، نیک، ہدایت یافتہ حسن سلوک کرنے والے اور کامیابی کی طرف سبقت کرنے والے، واقتم اور بقیع میں کیسے کیسے عظیم اور خوب صورت سردار اور بیٹرب کے علاقے میں کیسی کیسی رونے اور چلانے والیس ہیں ۔ اُس نے نیک اشخاص اور نیکوں کے بیٹوں کو قتل کر دیا ہے جو بارعب اور تھی تھے ۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے لوگو! تمہارے اصحاب قتل ہو گئے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔“


لشکر شام کی مکہ مکرمہ کی طرف پیش قدمی


مدینہ منورہ پر قبضہ کرنے کے بعد مسلم بن عقبہ اپنے لشکر کولیکر مکہ مکرمہ پرحملہ کرنے کے لئے روانہ ہو لیکن اُسے مکہ مکرمہ پہنچانا نصیب نہیں ہوا اور راستے میں ہی اُس کا انتقال ہو گیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: مسلم بن عقبہ مدینہ منورہ والوں سے جب فارغ ہوا اور اُس کے لشکر والے تین دن تک شہر کو لوٹ چکے تو اُن سب کو ساتھ لیکر مکہ مکرمہ کا رخ کیا۔ مدینہ منورہ میں اُس نے روح بن زنباح عمر و بن محرز کو اپنا جانشین بنا کر گیا۔ مسلم بن عقبہ مدینہ منورہ سے روانہ ہو کرمحرم الحرام کے آخری دنوں میں مشلل“ یا ” رشا یا ابواء تک ہی پہنچا تھا کہ اس کی موت آگئی۔ مرتے وقت اُس نے حصین بن نمیر کو بلایا اور کہا: اے ابن پالان خر! اگر میرے اختیار میں ہوتا تو اللہ کی قسم ! میں تجھے اس لشکر کا سپہ سالار نہیں بناتا۔ لیکن میرے بعد تجھے امیر المومنین یزید نے لشکر کا سپہ سالار مقرر کر دیا ہے اور امیر المومنین یزید کا حکم مل نہیں سکتا ہے۔ چار باتیں میں تجھ سے کہے دیتا ہوں اسے سن رکھ۔ بہت جلد روانہ ہو۔ جلدی لڑائی شروع کر دینا۔ خبروں کو پوشیدہ رکھنا۔ قریش میں سے کسی کی نہیں سنا۔ اس کے بعد مسلم بن عقبہ مرگیا اور اُسے وہیں مشلل میں دفن کر دیا گیا۔


مکہ مکرمہ پر حملہ


شامی لشکر نے مدینہ منورہ کو پامال کرنے کے بعد مکہ مکرمہ پر حملہ کرنے کے لئے اُس کے قریب حصین بن نمیر کی سپہ سالاری میں پہنچ گیا۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : مدینہ منورہ سے فارغ ہو کر مسلم بن عقبہ نے اپنے لشکر کو مرتب کر کے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے جنگ کے ارادے سے مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوا لیکن مقام ابواء پر پہنچا تو بیمار ہو گیا۔ جب اُسے بچنے کی کوئی امید نہیں رہی تو اُس نے حصین بن نمیر کو شکر کا سپہ سالار بنادیا اور مرگیا۔ حصین بن نمیر شامیوں کا لشکر لیکر چھپیں 26 محرم الحرام 64 ہجری کو مکہ مکرمہ پہنچ گیا۔ وہاں اُس نے اہل مکہ کو یزید کی بیعت کرنے کے لئے طلب کیا۔ اُن لوگوں نے انکار کر دیا اور حصین بن نمیر نے مکہ مکرمہ پر حملہ کر دیا۔ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر اہل مکہ اور اہل حجاز نے بیعت کر لی تھی اور وہ لوگ بھی آکر اُن کے پاس جمع ہو گئے تھے جو جنگ حرہ سے بھاگ کر آئے تھے اور کچھ افراد امداد کی غرض سے خوارج کی طرف سے بھی آئے تھے۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ شامی لشکر سے مقابلے کے ارادے سے مکہ مکرمہ سے باہر آئے ۔ سب سے پہلے اُن کے بھائی حضرت منذر بن زبیر رضی اللہ عنہ نے میدان میں نکل کر شامیوں کو للکارا۔ لشکر شام سے ایک شخص نکل کر مقابلے ہر آیا۔ دو دو ہاتھ چلے اور شامی مارا گیا۔ دوسرے شامی نے جیسے ہی قدم آگے بڑھائے حضرت منذر بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ایک ایسا تیر مارا کہ وہ بھی وہیں مر گیا۔ لشکر شام نے یہ رنگ دیکھ کر فوراً حرکت کی اور اجتماعی حملہ کر دیا۔ ایک طرف سے حضرت مسور بن مخرمہ اور حضرت مصعب بن عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم بڑھ بڑھ کر شامیوں پر حملہ کر رہے تھے اور دوسری طرف سے حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ شامیوں کو روک رہے تھے۔ صبح سے شام تک جنگ کا یہی انداز رہا۔ شام ہوتے ہی فریقین اپنے اپنے ٹھکانے پر چلے گئے یہ واقعہ پہلے دن کے محاصرے کا ہے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی حضرت منذر بن زبیر رضی اللہ عنہ کولوگوں کے ساتھ قال کے لئے روانہ کیا اور ایک ساعت تک انہوں نے بہت شدید جنگ کی اور آخر کار حضرت منذر بن زبیر رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے ۔ شام تک زبر دست مقابلہ ہوتا رہا۔ پھر فریقین اپنے اپنے ٹھکانے پر چلے گئے۔ یہ محاصرے کے پہلے دن کا واقعہ ہے۔


خانہ کعبہ پر پتھروں اور آگ کی بارش


حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ مقابلے پڑ ڈٹے ہوئے تھے لیکن دوسرے دن شامی لشکر نے حملہ دوسرے ڈھنگ سے کیا۔ انہوں نے دوبد و جنگ کرنے کے ساتھ ساتھ خانہ کعبہ پر پتھروں اور آگ کے گولوں کی بارش شروع کر دی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اس کے بعد شامی لشکر ماہ محرم الحرام اور پورا ماہ صفر المظفر مکہ مکرمہ پر حملہ کرتے رہے اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اور اُن کے ساتھیوں سے جدال وقتال کرتے رہے۔ ماہ ربیع الاول کی تین تاریخ کو شامی لشکر نے خانہ کعبہ پر منجنیق سے پتھر برسائے اور آگ کے گولے بھی برسائے اور آگ لگا دی اور ی رجز پڑھتے جاتے تھے یہ منجنیق ایک شتر (اونٹ) مست ہے کہ ہم اس سے خانہ کعبہ پر نشانہ لگا رہے ہیں۔ عمرو بن سد وی یہ کہتا جاتا تھا: ”ذرا اُم فردہ کو دیکھنا کہ کہ وہ صفا اور مروہ کے درمیان لوگوں کو نشانہ بنارہی ہے ۔ اُم فروہ اُس نے منجنیق کا نام رکھا تھا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: اس کے بعد حصین بن نمیر نے کوہ ابو قبیس پر منجنیق نصب کرادی جو روزآنہ خانہ کعبہ پر پتھروں کی بارش کرتی تھی ۔ کوئی شخص طواف نہیں کر پا رہا تھا۔ بقیه ماه محرم الحرام اور پورا صفر الظفر اسی حالت میں گذرا یہاں تک کہ ماہر بیع الاول کی تین تاریخ آگئی۔ شامیوں نے خانہ کعبہ پر آگ برسائی جس سے چھت اور پر دے جل کر راکھ ہو گئے۔


یزید کا انتقال


اس سال 64 ہجری میں جب یزید کے بھیجے ہوئے لشکر شام نے مکہ مکرمہ کا محاصرہ کیا ہوا تھا اور خانہ کعبہ پر پتھروں اور آگ کی بارش کر رہے تھے کہ اس دوران ملک شام میں یزید کا انتقال ہو گیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: یزید کا قریہ حوارین میں چودہ (14) ماہ ربیع الاول ہجری کو اڑتیس (38) سال کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ امام زہری نے یزید کی عمر انتالیس (39) سال لکھی ہے۔ یزید نے صرف تین (3) سال چھ (6) مہینہ یا آٹھ (8) مہینہ حکومت کی ۔ یزید کے بیٹے معاویہ بن یزید نے اُس کے جنازے کی نماز پڑھائی۔ ایک روایت ہے کہ یزید بتیس (32) سال چھ (6) مہینے کی عمر میں ماہ رجب المرجب میں حکمراں بنا اور دو (3) سال آٹھ (8) مہینے حکومت کی اور ماہ ربیع الاول ۶۳ ہجری میں پینتیس (35) سال کی عمر میں انتقال ہوا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: ربیع الاول کے آغاز تک محاصرہ جاری رہا اور لوگوں کے پاس یزید کی موت کی خبر آگئی۔ یزید چودہ (14) ربیع الاول 64 ہجری کو (35) یا (38) یا (39) سال کی عمر میں فوت ہو گیا۔ یزید نے تین (3) سال چھ (6) مہینہ یا آٹھ (8) مہینہ حکومت کی۔ اہل شام وہاں مغلوب ہو گئے اور ذلیل و رسوا ہو کر پلٹ گئے ۔ پس اُس وقت جنگ کی آگ ٹھنڈی پڑ گئی اور فتنہ کی آگ بجھ گئی۔


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

اتوار، 1 ستمبر، 2024

Saltanat e Umayya part 28


 ا28 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 28

یزید کی موت کی تصدیق، عالم اسلام میں دو مملکتیں، حصین بن نمیر کی پیش کش، حضرت عبداﷲ بن زبیر کا انکار اور لشکر شام کی واپسی، لشکر شام کی ملک شام واپسی، معاویہ بن یزید سلطنت اُمیہ کا حکمراں، معاویہ بن یزید کا آخری خطبہ، ھ64 ہجری  حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ حکمراں، بصرہ میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی بیعت، عبیداﷲ بن زیاد کا بصرہ سے فرار، ھ64 ھجری : مروان بن حکم’’ سلطنت اُمیہ’’ کا حکمراں، ضحاک بن قیس کی شکست، مروان بن حکم کا دمشق اور ملک مصر پر قبضہ



یزید کی موت کی تصدیق


ملک شام میں یزید کی موت ہوگئی اور مکہ مکرمہ میں ملک شام کا لشکر محاصرہ کئے ہوئے تھا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: یزید مرگیا اور اُس کی موت کی خبر حصین بن نمیر سے پہلے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کول گئی ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پکار کر فرمایا: ”اے کم بختو! اے اللہ کے دشمنو! اب تم کیوں لڑ رہے ہو؟ تمہارا گراہ سردار تو مر گیا ہے۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : ملک شام کے لشکر نے یزید کی موت کے بعد بھی تقریبا! چالیس روز تک مکہ مکرمہ کا محاصرہ کئے رکھا۔ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو شامی لشکر سے پہلے یزید کی موت کی خبر مل گئی ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اعلان کروا دیا: ” اے اہل شام ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے سرکش کو ہلاک کر دیا ہے۔ پس تم میں سے جو شخص اس میں شامل ہونا چاہتا ہے جس میں لوگ شامل ہوئے ہیں وہ ایسا ہی کرے اور جو ملک شام واپس جانا چاہتا ہے وہ واپس چلا جائے ۔ شامیوں نے اہل مکہ کی اس خبر پر یقین نہیں کیا حتی کہ ثابت بن قیس بن قیع یقینی خبر لیکر آیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: ملک شام میں یزید کے انتقال کے بعد وہاں کے لوگوں نے یزید کے بیٹے معاویہ بن یزید کو اپنا بادشاہ بنا لیا۔ اور حجاز والوں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے بیعت کر لی۔ یزید کی موت کے بعد بھی حصین بن نمیر شامی لشکر کے ساتھ چالیس دن تک مکہ مکرمہ کا محاصرہ کئے رہا بلکہ محاصرہ اور شدید کر دیا۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اور اُن کے ساتھی تنگ آگئے یہاں تک کہ آپ رضی اللہ عنہ کو یزید کے مرنے کی خبر ہوگئی اور شامیوں کو خبر نہیں ہوئی۔ دونوں طرف سے تلوار میں چل رہی تھیں کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو یزید کی موت کی خبر لی تو آپ رضی اللہ عنہ نے پکار کر اہل شام سے فرمایا: ” لوتمہارا طاغوت ہلاک ہو گیا ہے۔ اب جس کا جی چاہے اس بیعت میں شریک ہو جائے جو بیعت یہاں کے لوگوں نے کی ہے اور جسے منظور نہ ہو وہ ملک شام چلا جائے ۔ یہ سن کر شامیوں نے اور شدید حملہ کر دیا۔


باب نمبر 3 


عالم اسلام میں دو مملکتیں 


حصین بن نمیر کی پیش کش


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی بات کا شامیوں کو یقین نہیں آیا یہاں تک کہ ایک مستند قاصد نے حصین بن نمیر کو یزید کی موت کی اطلاع دی ۔ اُس نے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو حکمراں بن کر ملک شام چلنے کی پیش کش کی جسے قبول کرنے سے آپ رضی اﷲ عنہ نے انکار کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی زبانی یزید کی موت کا سن کر اہل شام کے لشکر کو یقین نہیں آیا ۔ وہ اسی طرح محاصرہ کئے رہے ۔اِسی دوران ثابت بن قیس نخعی اہل عراق کے ساتھ کوفہ سے مکۂ مکرمہ آیا اور حصین بن نمیر سے ملاقات کی ۔اُن دونوں کی دوستی بھی تھی اور رشتہ ازدواجی بھی ۔ اُس نے حصین بن نمیر کو بتایا کہ یزید کا انتقال ہوگیا ہے ۔ حصین بن نمیر نے یہ سن کر حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ سے کہلا بھیجا کہ آج رات مقام ‘‘ابطح’’ میں مجھ سے ملاقات کرنا ۔ دونوں کی ملاقات ہوئی تو حصین بن نمیر نے کہا : ‘‘ اگر یزید مر گیا ہے تو تم سے زیادہ خلافت کا کوئی حقدار نہیں ہے ۔آؤ میں اپنے لشکر کے ساتھ تم سے بیعت کر لوں اور اس کے بعد میرے ساتھ ملک شام چلو ۔ یہ لشکر جو میرے ساتھ ہے اِس میں ملک شام کے بڑے بڑے سرداران شامل ہیں ۔ اﷲ کی قسم! دو شخص بھی تمہاری بیعت سے انکار نہیں کریں گے ۔ شرط یہ ہے کہ تم سب کو امان دیکر مطمئن کردو اور ہمارے اور تمہارے درمیان حرہ کے میدان میں جو خونریزی ہوئی ہے اُس سے چشم پوشی کرو ۔عمرو بن سعید اکثر کہا کرتا تھا :‘‘ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ جانتے تھے کہ مکۂ مکرمہ وہ مقام ہے جہاں اﷲ تعالیٰ نے اُن کو محفوظ رکھا ہے ۔ اﷲ کی قسم! اگر وہ شامی لشکر کے ساتھ ملک شام چلے جاتے تو وہاں دو شخص بھی اُن کی بیعت کا انکار نہیں کرتے۔ 


حضرت عبداﷲ بن زبیر کا انکار اور لشکر شام کی واپسی


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو حصین بن نمیر نے پیش کش کی تھی لیکن آپ رضی اﷲ عنہ نے اُسے قبول کرنے سے انکار کردیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہین : حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : میں اس خونریزی سے چشم پوشی کروں ؟ نہیں اﷲ کی قسم! اگر ایک ایک شخص کے بدلے میں دس دس آدمیوں کو قتل کروں جب بھی مجھے چین نہیں آئے گا ۔ ’’ حصین بن نمیر دھیمی آواز میں بول رہا تھا اور حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ بلند آواز سے فرماتے تھے :‘‘ نہیں! اﷲ کی قسم! یہ مجھ سے نہیں ہوگا ۔’’آخر حصین بن نمیر نے کہا: ‘‘ اب بھی اگر تمہیں کوئی ‘‘پُر فن’’ اور ‘‘لسان’’ کے لقب سے یاد کرے تو اُس سے اﷲ سمجھے ! ارے میں تو سمجھتا تھا کہ تم کچھ عقل رکھتے ہو لیکن تمہیں تو اتنی عقل بھی نہیں ہے کہ میں تم سے ایک بات دھیمی کہوں تو تم پکار کر جواب دیتے ہو۔میں تم کو ‘‘حکمراں’’ بنانا چاہتا ہوں اور تم مجھے قتل اور قصاص کی دھمکی دے رہے ہو۔’’ 


لشکر شام کی ملک شام واپسی


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے حصین بن نمیر کو صاف جواب دے دیا ۔ اِس کے بعد وہ اپنا لشکر لیکر پہلے مدینۂ منورہ روانہ ہوا پھر وہاں سے ملک شام کی طرف روانہ ہو گیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حصین بن نمیر یہ کہہ کر اُٹھ کھڑا ہوا اور لوگوں کو پکار کر لشکر کو لیکر مدینۂ منورہ کی طرف روانہ ہوا ۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے حصین بن نمیر کو پیغام بھیجا کہ ‘‘میں ملک شام نہیں آؤں گا لیکن تم لوگ مجھ سے بیعت کر لوگے تو میں تم کو امان دے دوں گا اور عدل سے پیش آؤں گا ۔’’ حصین بن نمیر نے جواب دیا : ‘‘ یہ بتاؤ کہ تم خود تو پیچھے رہ جارہے ہو اور میں وہاں ملک شام گیا اور وہاں جا کر دیکھوں کہ خاندان بنو اُمیہ کے بہت سے لوگ خلافت کا دعویٰ کر رہے ہیں اور بہت سے لوگ اُن کی طرف مائل ہو رہے ہیں تو اُس وقت میں کیا کروں گا ؟’’ اِس کے بعد وہ اپنے لشکر کو لیکر مدینۂ منورہ پہنچا ۔ یہاں حضرت علی اوسط بن حسین رضی اﷲ عنہ نے اُس کے لئے کھانے اور اُس کے جانوروں کے لئے چارے کا انتظام کیا ۔ اُس نے اُن کا شکریہ ادا کیا اور اپنا لشکر لیکر ملک شام چلا گیا ۔ 


معاویہ بن یزید سلطنت اُمیہ کا حکمراں


یزید کے انتقال کے بعد اُس کے بیٹے معاویہ بن یزید کوملک شام میں سلطنت اُمیہ کا بادشاہ بنا یا گیا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : یزید کی وفات کے بعد اُس کے بیٹے معاویہ بن یزید کوچودہ ربیع الاول ۶۴ ؁ ہجری میں سلطنت اُمیہ کا بادشاہ بنا دیا گیا ۔ یہ ایک نیک اور درویش صفت انسان تھا اور اِس کی حکومت کی مدت لمبی نہیں ہوئی ۔ بعض کا قول ہے کہ اِس نے چالیس (40) دن حکومت کی اور بعض کے مطابق بیس (20) دن اور بعض کے مطابق دو مہینہ اور بعض کے مطابق ڈیڑھ مہینہ اور بعض کے مطابق تین مہینہ اور بیس دن اور بعض کے مطابق چار مہینہ حکومت کی ۔ یہ اپنی حکومت کے زمانے میں مریض تھا اور لوگوں کے پاس نہیں آیا ۔ ضحاک بن قیس ہی لوگوں کو نماز پڑھاتا رہا اور تمام امور (کاموں) کو درست کرتا رہا ۔ پھر معاویہ بن یزید کا اکیس (21) سال کی عُمر میں انتقال ہو گیا ۔ بعض کے مطابق تیئس (23) سال اور بعض کے مطابق اُنیس (19) اور بعض کے مطابق بیس (20) سال اور بعض کے مطابق پچیس (25) سال کی عمر میں معاویہ بن یزید کا انتقال ہوا اور اُس کے بھائی خالد نے اُس کی نماز جنازہ پڑھائی ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : حصین بن نمیر جب اپنے لشکر کے ساتھ مدینۂ منورہ سے روانہ ہونے لگا تو اُس کے ساتھ مدینۂ منورہ میں رہنے والے تمام بنو اُمیہ بھی ملک شام روانہ ہوگئے ۔ جس وقت شامیوں کا لشکر اور بنو اُمیہ ‘‘دمشق ’’پہنچے تو معاویہ بن یزید کو اراکین سلطنت اپنا بادشاہ بنا چکے تھے لیکن یہ صرف تین مہینے حکومت کر کے مر گیا اور بعض کے قول کے مطابق چالیس دن حکومت کر کے اکیس سال کی عُمر میں انتقال کر گیا ۔


معاویہ بن یزید کا آخری خطبہ


معاویہ بن یزید نے دمشق میں تمام اراکین سلطنت اور ملک شام کی عوام کو جمع کر کے اپنا آخری خطبہ دیا ۔علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : معاویہ بن یزید نے اپنی حکومت کے آخری دنوں میں تمام لوگوں کو جمع کیا اور ایک خطبہ دیا :‘‘ اے لوگو! میں تم پر حکومت کرنے سے معذور ہوں ۔پس میں حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی پیروی کرتا ہوں جیسا کہ انہوں نے چھ آدمیوں کو ‘‘ارباب ِ شوریٰ’’ منتخب کر کے مقرر کیا تھا ۔ میں بھی تم لوگوں کو اختیار دیتا ہوں کہ جس کو مناسب سمجھو خلافت کے لئے اُس کو منتخب کر لو ۔ ’’ یہ خطاب کرنے کے بعد معاویہ بن یزید اپنے محل سرا میں چلا گیا اور پھر زندہ واپس نہیں آیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : یزید کے بعد اُس کا بیٹا معاویہ بن یزید بادشاہ بنا تو اُس نے حکم دیا کہ ملک شام میں ‘‘الصلوٰۃ الجامعۃ’’ کی ندا کر دی جائے ۔ جب سب لوگ جمع ہو گئے تو اُس نے کہا:‘‘ میں نے تم پر حکومت کرنے کے باب میں فکر کی تو معلوم ہوا کہ یہ کام مجھ سے نہیں ہو سکے گا ۔ اب میں نے چاہا کہ کوئی شخص تمہارے لئے ایسا ڈھونڈوں جیسے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ خلیفۂ اوّل حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو مل گئے تھے لیکن مجھے کوئی بھی ایسا شخص نہیں ملا ۔ پھر میں نے چاہا کہ تمہارے لئے ‘‘شوریٰ’’ کے لئے چھ اشخاص کو ڈھونڈوں جیسے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو مل گئے تھے ۔ایسے لوگ بھی مجھے نہیں ملے ۔ اب تم کو اختیار کے کہ جسے چاہو اپنا بادشاہ بنا لو ۔’’ یہ کہہ کر معاویہ بن یزید اپنے گھر میں چلا گیا اور ایسا گیا کہ مر کر ہی نکلا ۔ بعض کہتے ہیں کہ اسے زہر دے دیا گیا تھا ۔ بعض کہتے ہیں کہ اُسے چھری مار دی گئی تھی ۔معاویہ بن یزید کی موت کے ساتھ ہی حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کے گھرانے کی حکومت ختم ہو گئی ۔ کیونکہ اِس کے بعد ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کی باگ ڈور اُمیہ خاندان کے دوسرے گھرانے نے سنبھال لی تھی ۔ 


ھ64 ہجری  حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ حکمراں

اسِ سال 64 ہجری میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے مکۂ مکرمہ میں اپنی حکومت کا اعلان کر دیا اور مکۂ مکرمہ کو ‘‘دارلخلافہ’’ بنایا ۔ مکۂ مکرمہ اور مدینۂ منورہ والوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کو حکمراں تسلیم کر لیا اور ‘‘حجاز’’ کے تمام علاقے والوں نے بھی آپ رضی اﷲ عنہ کی حکمرانی تسیلم کر لی ۔ اب مملکت اسلامیہ میں دو حکومتیں تھیں ۔ایک حکومت ملک شام،عراق اور ایران میں جس کا ‘‘مرکذ’’ دمشق تھا اور اُن کا حکمراں معاویہ بن یزید تھا ۔ دوسری حکومت ‘‘حجاز’’ میں تھی جس کا ‘‘مرکذ’’ مکۂ مکرمہ تھا اور ملک عراق اور ایران والوں کا جھکاؤ اِسی حکومت کی طرف تھا ۔ اِسی لئے کچھ ہی مہینوں میں‘‘ملک حجاز’’ کے ساتھ ساتھ ‘‘ملک عراق’’ اور ‘‘ملک ایران’’ پر بھی حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی حکومت ہو گئی ۔ اُمیہ خاندان کی حکومت صرف ‘‘ملک شام’’ اور ‘‘ملک مصر’’ پر ہی رہ گئی تھی ۔ 


بصرہ میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی بیعت


بصرہ اور کوفہ کے گورنر عبیداﷲ بن زیاد نے یزید کے پاس اپنے مخبر بھیجے ہوئے تھے کیونکہ یزید نے اُسے حکم دیا تھا کہ وہ لشکر لیکر مکۂ مکرمہ جائے اور حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ سے جنگ کرے لیکن اُس نے یہ حکم ماننے سے انکار کر دیا تھا ۔ اِسی لئے اُسے یزید کی طرف سے کھٹکا تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عبیداﷲ بن زیاد نے اپنے ایک آزاد کردہ غلام حمران کو ملک شام روانہ کیا کہ یزید کی خبر لیکر آئے ۔ وہ واپس آیا اور چپکے چپکے عبیداﷲ بن زیاد کو یزید کی موت کی اطلاع دی ۔ عبداﷲ بن زیاد نے یہ سنتے ہی فوراً موذن کو حکم دیا کہ ‘‘الصلوٰۃ الجامعۃ’’ کا اعلان کرے ۔ بصرہ کے لوگ جمع ہوگئے ۔عبیداﷲ بن زیاد منبر پر گیا اور یزید کی موت کی خبر سنائی ۔ اِس کے بعد اُس نے اپنی بصرہ کی گورنری اور ملک شام کی حکومت کی بیعت اپنے ہاتھ پر لوگوں کو کرنے کا حکم دیا ۔ سب لوگوں نے اُس کے ہاتھ پر بیعت کرلی ۔ مگر جب وہ وہاں سے اُٹھ کر چلا گیا تو لوگ دیوار پر اپنے ہاتھ رگڑ کر پاک کرنے لگے اور کہنے لگے :‘‘ مرجانہ کا بیٹا سمجھتا ہے کہ اِس حالت میں بھی ہم لوگ اُسی کو اپنا گورنر بنائیں گے ۔ ’’ اِس کے بعد عبیداﷲ بن زیاد کی حکومت بصرہ پر دن بہ دن کمزور ہوتی گئی ۔ جب وہ کوئی حکم دیتا تھا تو کوئی نہیں سنتا تھا اور وہ کوئی رائے دیتا تھا تو لوگ اُسے رد کر دیتے تھے ۔ ایسے وقت میں سلمہ بن ذویب نے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے لئے بیعت لینے کا اعلان کیا ۔ 


عبیداﷲ بن زیاد کا بصرہ سے فرار


بصرہ کے لوگوں کے دل حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی طرف مائل ہوچکے تھے اور سلمہ بن ذویب نے بصرہ والوں سے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے لئے بیعت لینا شروع کردیا تھا ۔ عبیداﷲ بن زیاد کو اِس کی اطلاع ملی تو اُس نے ‘‘الصلوٰۃ الجامعۃ’’ کا حکم دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : لوگ جمع ہو گئے تو عبیداﷲ بن زیاد نے کہا : ‘‘ میرے اور تمہارے درمیان کیا معاملہ گذرا ہے ؟ میں تم سے کہتا تھا کہ تم کسی کا انتخاب کرو تو میں بھی بیعت کر لوں گا ۔ تم لوگ میرے سوا کسی سے بیعت کرنے پر راضی نہیں ہوئے ۔ پھر میں نے سنا کہ تم نے دیواروں اور دروازوں پر ہاتھ رگڑ کر پاک کیا اور جو تمہارے منہ میں آیا وہ کہا ۔اب یہ حال ہے کہ میں جو حکم دیتا ہوں وہ تم نہیں مانتے اور میری رائے رد کر دی جاتی ہے اور میرے سپاہیوں اور مجرموں کے درمیان لوگ حائل ہو جاتے ہیں ۔اب یہ سلمہ بن ذویب تمہارے خلاف دعوت دے رہا ہے اور اس کا ارادہ ہے کہ جماعت میں تفرقہ ڈالے ۔’’ یہ سن کر احنف نے کہا: ‘‘ ہم سلمہ بن ذویب کو تیرے پاس لیکر آتے ہیں ۔’’ یہ لوگ سلمہ بن ذویب کے گھر گئے تو وہاں دیکھا کہ ہزاروں لوگ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی حکومت کے لئے سلمہ بن ذویب کے ہاتھ پر بیعت کر رہے ہیں ۔یہ دیکھ کر وہ لوگ بھی بیعت کرنے لگے ۔ عبیداﷲ بن زیاد نے جب دیکھا کہ بصرہ کے لوگوں میں سلمہ بن ذویب کو کامیابی مل رہی ہے تو وہ اپنے گھر والوں کو لیکر اور تمام مال لیکراور جائیداد چھوڑ کر بصرہ سے ملک شام کی طرف فرار ہو گیا ۔ جب وہ بھاگا تو لوگوں نے اُس کا تعاقب کیا لیکن وہ ہاتھ نہیں لگا تو جو کچھ اُس کا مال و جائیداد ہاتھ آیا اُسے لوٹ لیا ۔کوفہ والوں نے بھی عبیداﷲ بن زیاد کو معزول کر کے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی حکومت کو تسلیم کر لیا ۔ 


ھ64 ھجری : مروان بن حکم’’ سلطنت اُمیہ’’ کا حکمراں


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی حکومت ملک حجاز ، ملک عراق اور ملک ایران وغیرہ میں مضبوطی سے قائم ہو گئی تھی ۔ جبکہ ملک شام میں معاویہ بن یزید کے انتقال کے بعد کوئی بھی حکمراں نہیں تھا ۔ ملک شام کا نگراں ضحاک بن قیس ارادہ کر رہا تھا کہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ اور تمام ملک شام کی عوام کے ساتھ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی بیعت کر لے اور اِس کے لئے وہ کوشش بھی کر رہا تھا ۔ مدینۂ منورہ سے سب بنو اُمیہ ملک شام میں آگئے تھے ۔اِن میں مروان بن حکم بھی تھا ۔مروان بن حکم کابھی یہی ارادہ تھا کہ وہ بھی حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی بیعت کر لے ۔جب حصین بن نمیر اپنا لشکر لیکر ملک حجاز سے واپس آیا تو اُس نے مروان بن حکم سے کہا : ‘‘ میں تمہارے ہاتھ پر بیعت کرتا ہوں اور تم حکومت سنبھال لو۔’’ مروان بن حکم نے انکار کر دیا ۔ اِسی دوران عبیداﷲ بن زیاد بھی بصرہ سے فرار ہو کر ملک شام پہنچ گیا اور جب اُسے مروان بن حکم کا ارادہ معلوم ہوا تو اُس نے منع کیا اور کہا کہ تم خود ملک شام کے حکمراں بن جاؤ ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عبیداﷲ بن زیاد جب ملک عراق سے ملک شام میں آیا تو اُس نے بنو اُمیہ کو ‘‘تدمر’’ میں پایا ۔ اِن لوگوں کو حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے مدینۂ منورہ اور مکۂ مکرمہ سے نکالا دیا تھا اور یہ لوگ ‘‘تدمر’’ میں قیام پذیر ہو گئے تھے ۔اِن کو معلوم ہوا کہ ضحاک بن قیس اِس وقت حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی طرف سے ملک شام میں گورنر ہے ۔ عبیداﷲ بن زیاد اُس وقت پہنچا جب حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ سے بیعت کرنے اور بنو اُمیہ کے لئے امان طلب کرنے کو مروان بن حکم روانہ ہونے والا تھا ۔ عبیداﷲ بن زیاد نے اُس سے کہا : ‘‘ اﷲ کے لئے اِس ارادے سے باز آجا ۔ یہ عقل کی بات نہیں ہے کہ تم قریش کے بزرگ ہو کر اُس مکار سے بیعت خلافت کرنے جاؤ ۔تمہیں چاہیئے کہ اہل تدمر کو دعوت دے اور اُن سے حکومت کے لئے بیعت لے پھر اُن کو اور تمام بنو اُمیہ کو جو تیرے ساتھ ہیں لیکر ضحاک بن قیس پر حملہ کر کے اُسے ملک شام سے نکال دے ۔’’ عمرو بن یزید نے کہ : ‘‘ اﷲ کی قسم! عبیداﷲ بن زیاد سچ کہتا ہے اور یہ بات بھی تو ہے تم قریش کے سردار ہو اور حکومت کا سب سے بڑا حق تمہارا ہے۔ہاں اِس چھوکرے (خالد بن یزید) پر لوگوں کی نظر پڑتی ہے تو تم اس کی ماں سے ( یزید کی بیوہ سے) نکاح کر لو اور پھر یہ تمہارا فرزند ہو جائے گا ۔ ’’ مروان بن حکم نے یزید کی بیوہ سے نکاح کر لیا اور ملک شام میں اپنی حکومت کا اعلان کر دیا اور خالد بن یزید کو ‘‘ولی عہد’’ بنا دیا ۔ یعنی اُس کے بعد وہ حکمراں ہوگا۔علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : بنو امیہ مقام ‘‘جابیہ’’ میں جمع تھے اور کوئی امر طے نہیں پا رہا تھا ۔ حسان بن مالک کلبی امامت کر رہا تھا اور مروان بن حکم در پردہ اپنی بیعت کی ترغیب دے رہا تھا ۔رفتہ رفتہ اِس سعی کا یہ نتیجہ نکلا کہ ایک روز روح بن جنباع نے کھڑے ہو کر اعلانیہ کہہ دیا کہ مروان بن حکم کے ہاتھ پر بیعت کی جائے وہی اِس کا مستحق ہے ۔ پھر جب خالد بن یزید سن شعور کو پہنچے گا تو حکومت اُس کے سپرد کر دی جائے گی ۔ سب لوگوں نے اُس سے اتفاق کیا اور ذی القعدہ ۶۴ ؁ یجری کو تمام بنو کلب ، بنو غسان ، بنو سکاسک اور بنو طے نے مروان بن حکم کو اپنا حکمراں بنا لیا ۔ 


ضحاک بن قیس کی شکست


ملک شام میں مروان بن حکم نے اپنی حکومت قائم کر لی اور لشکر لیکر ضحاک بن قیس سے جنگ کرنے کے لئے نکلا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ضحاک بن قیس کو جب یہ معلوم ہوا کہ بنو اُمیہ نے مروان بن حکم کو اپنا حکمراں بنا لیا ہے اور وہ مجھ سے جنگ کرنے کے لئے آرہا ہے تو اہل حمص وغیرہ میں سے جو اُس کے پاس تھے انہیں لیکر وہ بھی مقابلہ کرنے کے لئے نکلا ۔ انہی لوگوں میں زفر بھی تھا ۔ دونوں لشکروں کا ‘‘مرج راہط’’ میں سامنا ہوا اور شدید جنگ ہوئی ۔اِس جنگ میں ضحاک بن قیس کو شکست ہوئی اوروہ اُس کے اکثر ساتھی قتل ہو گئے اور جو باقی رہے وہ کسی نہ کسی طرح بھاگ گئے ۔ زفر بھی دو نوجوانوں کے ساتھ بھاگا جا رہا تھا کہ اُسی طرف سے مروان بن حکم کے گھڑ سوار آگئے اور تعاقب کرنے لگے ۔ دونوں نوجوانوں نے زفر سے کہا: ‘‘ ہم دونوں تو مارے جائیں گے تم اپنے آپ کو بچا سکتے ہو تو بچا لو ۔’’ زفر اُن دونوں سے جدا ہوکر قرقیسیا کی طرف بھاگ گیا وہاں بنو قیس اُس کے پاس جمع ہوگئے اور انہوں نے اُسے اپنا سردار بنا لیا ۔علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : بیعت لینے کے بعد مروان بن حکم نے ‘‘مرج راہط’’ کا رخ کیا جہاں پر ایک ہزار گھڑ سواروں کے ساتھ ضحاک بن قیس قیام پذیر تھا ۔ مروان بن حکم نے پانچ ہزار کے لشکر کے ساتھ ابتدا میں صف آرائی کی اور بعد میں عباد بن یزید ‘‘حوارن’’سے دوہزار کو لشکر لیکر آگیا ۔ ضحاک نے بھی امداد کے لئے اپنے ساتھیوں کو بلایا تو زفر بن حارث بھی لشکر لیکر آگیا اور ضحاک بن قیس کے پاس ساٹھ ہزار کا لشکر ہو گیا ۔ جبکہ مروان بن حکم کے پاس تیرہ ہزار کا لشکر تھا ۔ دونوں لشکروں میں زبردست جنگ ہوئی ۔ شام کو جنگ بند ہوئی تو مروان بن حکم نے ضحاک بن قیس کو صلح کا پیغام دیا جو اُس نے قبول کر لیا اور یہ طے ہوا کہ صبح صلح نامہ مرتب کر لیا جائے گا ۔ اِسی لئے ضحاک بن قیس اور اُس کے لشکر والے بے فکر ہو گئے ۔ رات میں جب سب سوئے ہوئے تھے تو مروان بن حکم نے اچانک شب خون مارا اور انہیں قتل کرنا شروع کردیا ۔ ضحاک بن قیس اور اُس کے لشکر والے جب جاگے تو اکثریت قتل ہو چکے تھے ۔انہوں نے مقابلہ کرنے کی کوشش کی لیکن انہیں شکست ہو گئی ۔ 


مروان بن حکم کا دمشق اور ملک مصر پر قبضہ


مرج رہط میں دھوکے سے فتح حاصل کرنے کے بعد مروان بن حکم دمشق کی طرف اپنا لشکر لیکر بڑھا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: مرج رہط میں کامیابی ملنے کے بعد مروان بن حکم دمشق میں داخل ہوا ۔ ‘‘دارالامارت’’ یعنی حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کے محل میں رہائش اختیار کی اور بقیہ لشکر سے بیعت لینے کے لئے خالد بن یزید کی ماں (یزید کی بیوہ) سے نکاح کر لیا ۔ پس جب ملک مصر کی طرف روانہ ہونے لگا تو خالد بن یزید سے جنگی سامان اُدھار لئے ۔ ملک مصر میں اُن دنوں عبدالرحمن بن حجدم قریشی گورنر تھا جو حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے خیر خواہوں میں سے تھا ۔ مروان بن حکم کے لشکر کی آمد کی خبر سن کر وہ بھی لشکر لیکر مقابلے کے لئے نکلا ۔ دونوں لشکروں میں زبردست جنگ ہوئی اور یہاں بھی مروان بن حکم کو فتح حاصل ہوئی اور ایک کثیر گروہ کو قید کر کے مروان بن حکم دمشق واپس لوٹا ۔ دمشق کے قریب پہنچا تو خبر ملی کہ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے اپنے بھائی مصعب بن زبیر کو لشکر دیکر ملک شام کی طرف روانہ کیا ہے ۔ یہ سنتے ہی مروان بن حکم نے عمرو بن سعید کو لشکر دے کر روانہ کیا ۔ دونوں لشکروں میں جنگ ہوئی اور عمرو بن سعید کو فتح حاصل ہوئی ۔ اِس طرح دمشق ، ملک شام اور ملک مصر پر مروان بن حکم کا قبضہ ہوگیا ۔ 


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

Saltanat e Umayya part 29


 ا29 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 29

رسو ل اﷲصلی اﷲ علیہ وسلم کی خانۂ کعبہ کے بارے میں چاہت، خانۂ کعبہ کی ابراہیمی طرز پر تعمیر، ھ64 ھجری کا اختتام، ھ65 ہجری :عبدالملک اور عبدالعزیز کی‘‘ ولی عہدی’’، مروان بن حکم کا انتقال، عبدالملک بن مروان سلطنت امیہ کا حکمراں، مروان بن حکم کے بھیجے ہوئے لشکر، خوارج کا حملہ، مہلب اور خوارج میں جنگ، خوارج کی شکست، ھ65 ہجری کا اختتام ،  حضرت عبداﷲ بن عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کا انتقال، 



رسو ل اﷲصلی اﷲ علیہ وسلم کی خانۂ کعبہ کے بارے میں چاہت


اِس سال 64 ہجری میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے خانۂ کعبہ کی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے تعمیر کردہ طریقے پر تعمیر کرائی ۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خانۂ کعبہ کی تعمیر کی تھی تو ‘‘حطیم’’ کا پورا حصہ خانۂ کعبہ کے اندر تھا اور وہ‘‘ مستطیل نما’’ تھا اور اُس کے دو دروازے تھے ۔ بعد میں خانۂ کعبہ کے شکستہ ہونے کے بعد جب قریش نے نئے سرے سے اُس کی تعمیر کی تو پیسے کی کمی کی وجہ سے خانۂ کعبہ کو ‘‘مربع نما ’’ یعنی چوکور بنادیااور ایک ہی دروازہ کر دیا اور ‘‘حطیم’’ کو خانۂ کعبہ کے باہر کر دیا ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ خانۂ کعبہ کو ابراہیمی طرز پر بنادیں لیکن انہیں وقت نہیں ملا اور اسے بعد میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے ابراہیمی طرز پر بنا کر پورا کردیا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے خانۂ کعبہ کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی چاہت کے مطابق دوبارہ تعمیر کر دیا ۔جیسا کہ صحیحین ( صحیح بخاری اور صحیح مسلم) میں اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا :‘‘ اے عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا! اگر تمہاری قوم نئی نئی کفر سے نہیں نکلی ہوتی تو میں خانۂ کعبہ کو ڈھا دیتا اور حجر کو اِس میں شامل کردیتا ۔ بے شک تمہاری قوم کو اخراجات نے روک دیا اور میں اس کے مشرقی اور مغربی دروازے کو بناتا جن میں سے ایک سے لوگ داخل ہوتے اور دوسرے سے باہر آجاتے اور میں اس کے دروازے کو زمین سے لگا دیتا ۔ بے شک تمہاری قوم نے اس کے دروازے کو بلند کر دیا ہے تاکہ جسے چاہیں داخل کریں اور جسے چاہیں روک دیں ۔ ’’ 


خانۂ کعبہ کی ابراہیمی طرز پر تعمیر


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو خانۂ کعبہ کے بارے میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی چاہت کے بارے میں معلوم تھا ۔اِس لئے جب آپ رضی اﷲ عنہ حکمراں بنے تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی چاہت کو پورا کیا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال ۶۴ ؁ ہجری میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے خانۂ کعبہ کی نئے سرے سے تعمیر کرائی کیونکہ اس کی دیوار منجنیق سے پتھروں کی بارش کی وجہ سے جھک گئی تھی ۔ پس آپ رضی اﷲ عنہ نے خانۂ کعبہ کی دیواریں گرا دی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد تک پہنچ گئے ۔اس کے پیچھے طواف کرتے اور نماز پڑھتے رہے اور آپ رضی اﷲ عنہ نے ‘‘حجر اسود’’ کو ایک تابوت میں رکھ لیا جو ریشمی کپڑوں میں تھا اور خانۂ کعبہ میں جو زیورات ، کپڑے اور خوشبوئیں خزانچی کے پاس تھیں انہیں جمع کرلیا ۔ یہاں تک کہ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے خانۂ کعبہ کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی چاہت کے مطابق دوبارہ تعمیر کردیا اور اسے اُسی طرح ابراہیمی طرز تعمیر پر بنایا جیسا اُن کی خالہ جان اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا نے آپ رضی اﷲ عنہ کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے حوالے سے بتایا تھا ۔ اﷲ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال ۶۴ ؁ ہجری میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے خانۂ کعبہ کو منہدم کر کے زمین کے برابر کر دیا اِس لئے کہ منجنیق سے پتھروں کی بارش کی وجہ سے دیواریں جھک گئیں تھیں ۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے خانۂ کعبہ کی بنیاد کھدوائی اور حجر اسود کو اس کے اندر شامل کر لیا ۔ اُس زمانہ میں لوگ اُسی بنیاد کے گرد طواف کرتے تھے اور نماز کی جگہ نماز پڑھتے تھے ۔ حجر اسود اور باقی چیزوں کو حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے ایک ریشمی کپڑے میں لپیٹ کر اپنے پاس رکھ لیا اور جب خانۂ کعبہ کی تعمیر مکمل ہوگئی تو انہیں اُن کی جگہ پر رکھ دیا ۔ 


ھ64 ھجری کا اختتام


اِس سال 64 ہجری میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔چونکہ آپ رضی اﷲ عنہ کی حکومت مملکت اسلامیہ کے ایک بہت بڑے علاقے پر تھی اِسی لئے ہم اُن کے گورنروں کے بارے میں بتادیتے ہیں ۔اُس وقت مروان بن حکم اپنی حکومت کو مستحکم کرنے میں لگا ہوا تھا ۔ مدینۂ منورہ کا گورنر حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے اپنے بھائی حضرت عبیدہ بن زبیر کو بنایا ۔ کوفہ کا گورنر عبیداﷲ بن یزید خطمی کو بنایا ۔ اور کوفہ کا قاضی سعد بن نمران کو بنایا ۔ بصرہ کا گورنر عمر بن تیمی کو بنایا اور وہاں کا قاضی ہشام بن ہبیرہ کو بنایا ۔ خراسان کا گورنر عبداﷲ بن حازم کو بنایا ۔یہاں 64 ہجری کا اختتام ہوا ۔ 


ھ65 ہجری :عبدالملک اور عبدالعزیز کی‘‘ ولی عہدی’’


اِس سال 65 ہجری میں مروان بن حکم نے اپنے دو بیٹوں عبدالملک بن مروان اور عبدالعزیز بن مروان کی ‘‘ولی عہدی’’ کا اعلان کیا ۔ عبدالعزیز بن مروان مشہور ‘‘عادل حکمراں’’ حضرت عُمر بن عبدالعزیز جنہیں کچھ علما ‘‘خلیفۂ راشد’’ بھی کہتے ہیں کے والد ہیں ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عمرو بن سعید بن عاص نے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے بھائی مصعب بن زبیر کو شکست دے کر دمشق واپس آیا تو اُس کی بہت عزت بڑھ گئی ۔ مروان بن حکم کی حکومت پورے ملک شام اور ملک مصر پر مضبوط اور مستحکم ہو چکی تھی ۔ مروان بن حکم کو خبر لگی کہ عمرو بن سعید کہتا ہے کہ ‘‘مروان بن حکم کے بعد وہ مسلمانوں کا ‘‘امیر المومنین ’’ہو گا اور اِس کا وعدہ خود مروان بن حکم نے اُس سے کیا ہے ۔’’ یہ اطلاع ملنے کے بعد مروان بن حکم نے حسان بن بحدل کو اپنے پاس بلایا ۔ حسان بن بحدل چاہتا تھا کہ مروان بن حکم کے بعد یزید کا بیٹا خالد بن یزید حکمراں بنے لیکن وہ ابھی بہت چھوٹا تھا ۔ مروان بن حکم نے حسان بن بحدل سے کہا :‘‘ میں چاہتا ہوں کے اپنے بیٹوں عبدالملک اور عبدالعزیز کو ‘‘ولی عہد’’ بنا دوں اور لوگوں سے اِس کی بیعت لے لوں ۔’’ اور اِسی کے ساتھ اُس نے عمرو بن سعید کے ارادے کو بتایا اور یہ بھی بتایا کہ اُسے لگتا ہے کہ اُس کا آخری وقت آ پہنچا ہے ۔ حسان بن بحدل نے کہا: ‘‘ آپ عمرو بن سعید کی فکر نہ کریں اُس سے میں سمجھ لوں گا ۔ ’’ جب تمام لوگ مروان بن حکم کے دربار میں جمع ہوئے تو حسان بن بحدل نے کھڑے ہو کر کہا: ‘‘ مجھے معلوم ہوا ہے کہ لوگوں کو بڑی بڑی اُمیدیں ہیں ۔آپ سب کھڑے ہوں اور امیر المومنین مروان بن حکم کے بعد عبدالملک اور عبد العزیز کے لئے بیعت کریں۔’’ تمام لوگوں نے بلا حیل و حجت بیعت کر لی ۔ 


مروان بن حکم کا انتقال


اِس سال 65 ہجری میں مروان بن حکم کا انتقال ہوگیا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : جب ان ممالک میں مروان بن حکم کی حکومت مستحکم ہو گئی تو اُس نے اپنے بیٹے عبدالملک اور عبدالعزیز کے لئے بیعت لی اور خالد بن یزید کی بیعت کو ترک کر دیا کیونکہ وہ اُسے حکومت کا اہل نہیں سمجھتا تھا ۔ مالک بن حسان جو خالد بن یزید کا ماموں تھا اُس نے بھی اِس معاملے میں اتفاق کیا ۔ پھر خالد بن یزید کی ماں یعنی یزید کی بیوہ جو اب مروان بن حکم کی بیوی بن چکی تھی ۔اُس نے مروان بن حکم کے خلاف سازش کی اور اُسے زہر دے دیا اور یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ اُس نے سونے کی حالت میں مروان بن حکم کے چہرے پر تکیہ رکھ کر دبا دیا اور وہ گلا گھٹ کر مر گیا اور پھر اُس نے لونڈیوں کو بلند آواز سے پکارا اور بولی کہ امیر المومنین مر گئے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ مروان بن حکم نے بھرے دربار میں خالد بن یزید کی توہین کی اور اُس کی ماں کے بارے میں برا کہا ۔ خالد بن یزید نے یہ واقعہ اپنی ماں سے آ کر بتایا ۔ ماں نے کہا کہ کسی سے ذکر نہیں کرنا میں اُس سے سمجھ لوں گی ۔ جب مروان بن حکم اُس کے پاس آیا تو پوچھا : ‘‘ کیا خالد نے میرے بارے میں کوئی بات کہی ہے ؟’’ اُس نے کہا : ‘‘ بھلا خالد تمہارے بارے میں کوئی بات کیسے کہہ سکتا ہے ؟ وہ تو تمہاری بہت زیادہ عزت کرتا ہے۔’’ مروان بن حکم نے اس پر یقین کر لیا ۔ کچھ دنوں بعد ایک رات مروان بن حکم اُس کے پاس سویا ہوا تھا تو اُس نے تکیہ اُس کے چہرے پر رکھ کر اِس طرح دبایا کہ وہ مر گیا ۔ مروان بن حکم کی حکومت کی مدت نو (9) مہینے تھی ۔ بعض نے نو (9) مہینے ستائیس (27) دن بھی بتائی ہے ۔ 


عبدالملک بن مروان سلطنت امیہ کا حکمراں


مروان بن حکم کے مرنے کے بعد ملک شام کے لوگوں نے عبدالملک بن مروان کو ‘‘سلطنت اُمیہ کا حکمراں بنا دیا ۔ یہ بہت ہی چالاک اور سوجھ بوجھ کا مالک تھا اور اِس نے حکومت کا انتظام بہت ہی بہترین طریقے سے سنبھالا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : تین (3) رمضان المبارک 65 ہجری میں دمشق میں مروان بن حکم کے مر جانے کے بعداُس کے بیٹے عبدالملک بن مروان سلطنت اُمیہ کا حکمراں بن گیا ۔ اِس کو لوگ ‘‘ابوالملوک’’ ( بادشاہوں کا باپ) بھی کہتے تھے ۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اِس کے چار بیٹے ولید ، سلیمان ، یزید اور ہشام سلطنت اُمیہ کے بادشاہ بنے جیسا کہ انشاء اﷲ آگے ذکر آئے گا ۔ چونکہ اِس کے مسوڑھوں سے اکثر خون بہتا رہتا تھا جس کی وجہ سے اس پر مکھیاں بیٹھا کرتی تھیں اِسی لئے اسے ‘‘ابو الذباب’’ کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا ۔ عبدالملک اُنتیس (29) سال کی عُمر میں حکمراں بنا ۔ یہ مدینۂ منورہ میں بڑا ہوا اور اسلام کا بہت بڑا عالم تھا ۔امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں : کسی شخص نے حضرت عبدا ﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے دریافت کیا: ‘‘ آپ رضی اﷲ عنہ قریش کے مشہور عالم ہیں لیکن آپ رضی اﷲ عنہ کے بعد ہم کس سے مسائل دریافت کریں ؟’’ حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :‘‘ مروان بن حکم کا بیٹا عبدالملک ‘‘فقیہ’’ ہے۔اُس سے دریافت کر لیا کرنا۔’’عبدالملک نوجوانی میں جب مدینۂ منورہ میں رہتا تھا تو ایک دن حضرت ابو ہریرہ سے ملنے کے لئے آیا ۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے اُسے دیکھ کر فرمایا : ‘‘ ایک دن یہ نوجوان مملکت اسلامیہ کا مالک ہو گا ۔’’ عبدالملک ایک نہایت حوصلہ مند سپاہی بھی تھا اور افریقہ کی فتوحات میں وہ اپنی جنگی قابلیت کا ثبوت اپنے باپ کے دورِ حکومت میں دے چکا تھا ۔ عبدالملک کو ایک کمزور حکومت اپنے باپ سے ورثے میں ملی اور اِس حکومت کو کئی خطرے تھے ۔ سب سے بڑا خطرہ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ سے تھا ۔دوسرا خطرہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ کے ماننے والوں کا تھا جو حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کی شہادت کے بعد مسلسل زور پکڑتے جا رہے تھے اور اُن کی جنگی طاقت بھی بڑھ چکی تھی ۔ تیسرا خطرہ خوارجوں سے تھا جنہوں نے مملکت اسلامیہ میں جگہ جگہ شورش برپا کر رکھی تھی۔ 


مروان بن حکم کے بھیجے ہوئے لشکر


اپنی حکومت کے آخری دنوں میں مروان بن حکم نے دو لشکر بھیجے تھے ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : عبدالملک بن مروان کے باپ کی زندگی میں ہی لوگوں نے اِس کی حکومت کو تسلیم کر لیا تھا اور جب تین رمضان المبارک 65 ہجری کو اس کا باپ مر گیا تو دمشق ، مصر اور اُس کے مضافات میں اس کی تجدید بیعت ہوئی اور اپنے باپ کی طرح اس کا ہاتھ بھی مضبوط ہو گیا ۔ مرنے سے پہلے مروان بن حکم نے دو لشکر بھیجے تھے ۔ ایک لشکر کا سپہ سالار عبید اﷲ بن زیاد کو بنا کر ملک عراق کی طرف بھیجا تاکہ وہ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے گورنروں سے ملک عراق چھین لے ۔ راستے میں ‘‘عین الوردۃ’’ کے مقام پر سلیمان بن صرد کی سپہ سالاری میں ‘‘توابین’’ (توابین حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے قاتلین سے بدلہ لینے کا مطالبہ کرتے تھے )کے لشکر سے جنگ ہوئی ۔ جس میں عبیداﷲ بن زیاد کو فتح حاصل ہوئی اور اُس نے توابین کے سپہ سالارکو اور بہت سے لوگوں کو قتل کیا ۔ مروان بن حکم نے دوسرا لشکر حبیش بن دلجہ کی سپہ سالاری میں مدینۂ منورہ بھیجا تھا تاکہ وہ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے گورنر سے مدینۂ منورہ چھین لے ۔ جب وہ مدینہ پہنچا تو جابر بن اسود بن عوف بھاگ گیا ۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی طرف سے بصرہ کے گورنر عبداﷲ بن ربیعہ نے بصرہ سے لشکر روانہ کیا اور حبیش بن دلجہ نے اس کے بارے میں سنا تو اپنا لشکر لیکر اس کے مقابلے پر آیا حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے عباس بن سہل کو مدینۂ منورہ کا گورنر بنا کر بھیجا اور اُسے حکم دیا کہ لشکر لیکر حبیش بن دلجہ کے مقابلے پر جائے ۔ وہ لشکر لیکر نکلا تو اُسے حبیش بن دلجہ اپنے لشکر کے ساتھ مقام ‘‘ربذہ’’ میں ملا ۔ دونوں لشکروں میں جنگ ہوئی تو یزید بن سیاہ نے حبیش بن دلجہ کو تیر مار کر قتل کردیا ۔ اس کے قتل ہوتے ہی اُس کے لشکر کو شکست ہو گئی پانچ سو سپاہی قید ہوئے باقی ملک شام بھاگ گئے ۔ قیدیوں کو عباس بن سہل نے قتل کرا دیا ۔ 


خوارج کا حملہ


اِس سال 65 ہجری میں خوارج نے حملہ کیا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اِس سال 65 ہجری میں کوفہ سے خوارج نے حملہ کردیا ۔ اُن کا سپہ سالار نافع بن ارزق تھا ۔ اہل بصر ہ کے اختلاف کے سبب خوارج کو استحکام ملا ۔حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی طرف سے بصرہ کے گورنر عبداﷲ بن حارث نے مسلم بن عبیس کو لشکر دیکر اُن کی سرکوبی کے لئے بھیجا ۔ اُس نے میمنہ پر حجاج بن باب حمیری اور میسرہ پر حارثہ بن بدر غدانی کوکمانڈر مقرر کیا ۔خوارج کے میمنہ پر عبیدہ بن ہلا اور میسرہ پر ابن ماحوز تمیمی کمانڈر تھے ۔ مقام ‘‘دولاب’’ (سرزمین اہواز) پر دونوں لشکروں کے درمیان شدیدجنگ ہوئی ۔اِس جنگ میں دونوں لشکر کے سپہ سالار مارے گئے ۔ بصرہ کے لشکر نے حجاج بن حمیری کو اور خوارج نے عبداﷲ بن ماحوز کو سپہ سالاربنا لیا اور جنگ لڑنے لگے ۔ جب یہ دونوں سپہ سالار بھی مارے گئے تو بصرہ کے لشکر نے ربیعہ بن احزم تمیمی کو اور خوارج نے عبیداﷲ بن ماخوز تمیمی کو سپہ سالار بنا لیا ۔ پھر سے شدید جنگ شروع ہو گئی اور فریقین جی توڑ کر لڑنے لگے ۔ شام ہونے لگی تھی اور جنگ کا کوئی فیصلہ ہوتا نظر نہیں آرہا تھا کہ اچانک خوارج کا تازہ دم لشکر آگیا جس سے خوارج کو زبردست مدد مل گئی ۔ انہوں نے بصرہ کے لشکر پر زبردست حملہ کیا اور اِس حملے میں بصرہ کا سپہ سالار ربیعہ بن احزم تمیمی مارا گیا ۔ اِس کے بعد حارثہ بن زید نے جھنڈا سنبھالا اور تھوڑی دیر تک لڑتا رہا لیکن جب دیکھا کہ اُس کے اکثر سپاہیوں کے قدم اُکھڑ گئے ہیں تو وہ دھیرے دھیرے اہواز کی طرف روانہ ہوگیا اور خوارج بصرہ کی طرف روانہ ہو گئے ۔


مہلب اور خوارج میں جنگ


بصرہ کے لشکر کوشکست ہوئی اور خوار ج فتح حاصل کرنے کے بعد بصرہ کی طرف بڑھے ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اہل بصرہ کو اِس شکست سے بہت صدمہ ہوا ۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے عبداﷲ بن حارث کو معزول کر کے حارث بن ربیعہ کو بصرہ کا گورنر بنا دیا ۔ خوارج کا لشکر جس وقت بصرہ کے قریب پہنچا تو احنف بن قیس کو سپہ سالار بنانا چاہا احنف بن قیس نے مہلب بن ابی صفرہ کا نام لیا جسے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے خراسان کا گورنر بنا کر بھیجا تھا ۔مہلب نے اِس شرط پر سپہ سالار بننا منظور کیا کہ بیت المال میں سے اس کو اور اس کے ہمراہیوں کا کافی خرچ دیا جائے گا اور جس سر زمین کو وہ فتح کر لے گا اور اُس کا مالک سمجھا جائے گا ۔ بصرہ سے بارہ ہزار کا لشکر لیکر مہلب بن ابی صفرہ خوارج کی طرف بڑھا ۔ مقام ‘‘جسر اصغر’’ پر دونوں لشکروں میں جنگ ہوئی اور خوارج شکست کھا کر ‘‘جسر اکبر’’ کی طرف چلے ۔ مہلب نے اپنے لشکر کے ساتھ تعاقب کیا اور خوارج جسر اکبر سے بھی بھاگے اور ‘‘نہر تیری’’ پر پہنچے اور وہاں سے مُڑ کر اہواز کی طرف بھاگے ۔ مہلب کو اپنے جاسوسوں کے ذریعے خوارجوں کی نقل و حرکت کی برابر اطلاع مل رہی تھی ۔ اُس نے نہر تیری پر اپنے بھائی معارک بن ابی صفرہ کو متعین کر کے اہواز کا رخ کیا ۔ خوارج کے ‘‘ مقدمۃ الجیش’’ سے جنگ ہوئی اور خوارج شکست کھا کر ‘‘مناذر’’ کی طرف بھاگے ۔ مہلب نے تعاقب کیا ،خوارج بہت تیزی سے نہر تیری کی طرف واپس آئے اور حالت غفلت میں معارک بن ابی صفرہ کو گرفتار کر کے پھانسی دے دی ۔ مہلب کو اِس کی اطلاع ہوئی تو اُس نے اپنے بیٹے مغیرہ بن مہلب کو معارک بن ابی صفرہ کی تجہیز و تکفین کے لئے روانہ کیا اور خود خوارج سے جا کر مقام ‘‘سولاف’’ پر ٹکرا گیا ۔ خوارج نے مجموعی قوت سے مہلب کے لشکر پر حملہ کیا جس سے مہلب کے لشکر کے قدم اُکھڑ گئے ۔بہت سے سپاہی قتل ہوئے اور بہت سے بھاگ کھڑے ہوئے لیکن مہلب اور اُس کا بیٹا اپنے رسالے ساتھ ڈٹے رہے اور جنگ کرتے رہے ۔ پھر مہلب نے اپنے ساتھیوں کو للکارا تو چار ہزار واپس لوٹ کر آئے اور مہلب نے رات کی تاریکی میں سنبھل کر خوارج پر زبردست حملہ کردیا اور دھیرے دھیرے سولاف سے ‘‘عاقول’’ پر آکر پڑاؤ ڈال دیا ۔ 


خوارج کی شکست


مہلب کو ہزیمت اُٹھانے کے بعد چین نہیں تھا اور وہ پھر خوارج پر حملہ آور ہوا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : مہلب بن ابی صفرہ اپنے لشکر کے ساتھ تین دن تک عاقول میں ٹھہرا ۔ جب اُس کی طبیعت کو یک گونہ قرار ہو گیا اور اپنے لشکر کو از سر نو مرتب کر لیا تو پھر خوارج کے مقابلے پر جاپہنچا ۔ خوارج مقام ‘‘سری و سلبری’’ میں قیام پذیر تھے ۔انہیں مہلب کی آمد کی اطلاع ملی تو انہوں نے بھی لشکر مرتب کر لیا ۔ پورا دن زبردست جنگ ہوتی رہی ۔ شام کے وقت خوارج نے ایسا زبردست حملہ کیا کہ مہلب کا لشکر بے قابو ہو کر نہایت ابتری سے بھاگ نکلا ۔ مہلب نے ایک ٹیلہ پر چڑھ کر ‘‘میرے پاس آؤ! اے اﷲ کے بندو، میرے پاس آؤ! اے اﷲ کے بندو۔’’ چلانا شروع کر دیا ۔ تین ہزار آدمی جس میں اکثر اُسی کی قوم یعنی بنو ازد کے تھے آ کر جمع ہو گئے ۔ مہلب نے ایک پُر جوش تقریر کرنے کے بعد کہا : ‘‘ تم لوگ دس پتھر اُٹھا لو اور ہمارے ساتھ دشمنوں پر سنگباری کرتے ہوئے دشمنوں کے لشکر کی طرف چلو ۔ وہ اِس وقت دن بھر کے تھکے ہوئے جنگ و جدل سے بے خوف ہو کر پڑے ہوئے ہیں اور اُن کے سوار تمہارے منہزم سپاہیوں کے تعاقب میں گئے ہوئے ہیں ۔ اﷲ کی قسم! مجھے اُمید ہے کہ وہ لوگ واپس نہیں آ پائیں گے کہ تم اُن پر فتح حاصل کر لو گے ۔ ’’ مہلب کی اِس تقریر نے اُن کے شکستہ دلوں میں ایک تازہ روح پھونک دی اور سب کے سب اپنے دامنوں میں اور جیبوں میں پتھر بھر بھر کر خوارج کے سروں پر جاپہنچے ۔ جب پتھر ختم ہو گئے تو نیزوں سے حملے کرنے لگے اور جب نیزوں نے بھی جواب دے دیا تو تلواروں سے لڑنے لگے ۔ اکثر خوارج مارے گئے اور جب اُن کے سوار تعاقب سے واپس آئے تو اپنے پڑاؤ تک نہیں پہنچ سکے کیونکہ راستے میں ہی مہلب نے اپنے لشکر کے ساتھ اُن کا راستہ روک لیا ۔ وہ مجبوراً کرمان اور اصفہان کی طرف روانہ ہو گئے ۔ مہلب نے کامیابی کے بعد وہیں قیام کیا یہاں تک کہ مصعب بن زبیر بصرہ کے گورنر بن کر آئے اور حارث بن ربیعہ کو معزول کر دیا ۔ 


ھ65 ہجری کا اختتام 


اِس سال 65 ہجری کے اختتام پر مملکت اسلامیہ میں دو حکومتیں چل رہی تھیں ۔ ملک شام اور ملک مصر میں عبدالملک بن مروان کی حکومت تھی ۔ ملک حجاز میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی حکومت تھی اور ملک عراق اور ملک ایران میں خوارج اور حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے قاتلین سے بدلہ لینے والے جنہیں ‘‘توابین’’ کہا جاتا تھا شورش برپا کئے ہوئے تھے ۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ اور عبدالملک بن مروان اِن سے مسلسل جنگ کر رہے تھے اور دونوں ملک عراق اور ملک ایران میں اپنی حکومت مضبوط کرنا چاہتے تھے ۔ اِس سال 65 ہجری میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو حج کروایا ۔ مدینۂ منورہ میں مصعب بن زبیر گورنر تھے ۔ کوفہ میں عبداﷲ بن مطیع گورنر تھا اور بصرہ کا گورنر حارث بن عبداﷲ تھا ۔ 


حضرت عبداﷲ بن عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کا انتقال


اِس سال 65 ہجری میں حضرت عبداﷲ بن عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔ آپ رضی اﷲ عنہ کئی سال تک رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے خدمتگار کی حیثیت سے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ رہے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ کا نکاح ہوا تو آپ رضی اﷲ عنہ کے والد حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ ملنے کے لئے آئے اور بہو سے گھر کے حالات پوچھے اور شوہر کے بارے میں پوچھا تو بہو نے کہا : ‘‘ آپ رضی اﷲ عنہ کے بیٹے اور میرے شوہر تو اتنے نیک ہیں کہ رات بھر نماز پڑھتے ہیں اور دن بھر روزہ رکھتے ہیں ۔’’ حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بیٹے کے بارے میں بتایا ۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت عبداﷲ بن عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کو بلوایا اور فرمایا :‘‘ تمہارے اوپر تمھارے بدن کا بھی حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی حق ہے ۔ اِس لئے ایک مہینے میں تین روزے رکھا کرو اور ایک مہینے میں ایک بار قرآن پاک ختم کیا کرو ۔’’ حضرت عبداﷲ بن عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا : ‘‘ یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم! میں اِس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔’’ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا :‘‘ ٹھیک ہے! پھر تم ہر پیر اور ہر جمعرات کو روزہ رکھا کرو اور ایک ہفتے میں ایک بار قرآن پاک ختم کیا کرو ۔’’ حضرت عبداﷲ بن عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا : ‘‘ یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم! میں اِس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ۔’’ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ‘‘ ٹھیک ہے! پھر تم حضرت داؤد علیہ السلام کی طرح روزہ رکھو ۔ وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن نہیں رکھتے تھے اور تین دن میں قرآن پاک ختم کیا کرو ۔ ’’ حضرت عبداﷲ بن عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا : ‘‘ یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم! میں اِس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ۔’’ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ‘‘ جس نے روزآنہ روزہ رکھا اُس نے روزہ نہیں رکھا اور جس نے تین دن سے کم وقت میں قرآن پاک ختم کیا اُس نے قرآن پاک پڑھا ہی نہیں ۔’’ اِس کے بعد حضرت عبداﷲ بن عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ اِس پر قائم رہے لیکن بڑھاپے میں فرمایا کرتے تھے :‘‘ کاش میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ کی پہلی بات کو مان لیا ہوتا ۔’’ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عبداﷲ بن عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ بزرگ علماء اور عبادت گذار صحابی رضی اﷲ عنہم میں سے تھے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی احادیث کو لکھا ہے اور آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے والد حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ سے بہت پہلے اسلام قبول کیا تھا ۔ آپ رضی اﷲ عنہ بڑے وسیع العلم اور عبادت گذار اور دانش مند تھے اور آپ رضی اﷲ عنہ اپنے والدحضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کا ساتھ دینے کی وجہ سے اکثر سمجھایا کرتے تھے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ قرآن پاک اور توریت دونوں کے عالم تھے ۔ آخری عُمر میں اندھے ہو گئے تھے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن نہیں رکھتے تھے ۔ اور اکثر راتوں میں قیام کرتے تھے اور قرآن پاک کی تلاوت کرتے تھے ۔ اِس سال 65 ہجری میں آپ رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔ 


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!


Saltanat e Umayya part 30


 ا30 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 30

ھ66 ہجری مختار ثقفی کا کوفہ پر قبضہ، حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے قاتلین کی تلاش، حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے قاتلین کا انجام، مثنیٰ بن مخرمہ کی شکست، عبدالملک بن مروان نے مدینۂ منورہ کی طرف لشکر روانہ کیا، مختار ثقفی کے لشکر کی شکست، حضرت محمد بن حنفیہ کی گرفتاری اور رہائی، اہل شام کو حج کرنے سے روک دیا، بیت المقدس کی نئی تعمیر، خانۂ کعبہ سے مقابلہ، 



ھ66 ہجری مختار ثقفی کا کوفہ پر قبضہ


اِس سال 66 ہجری میں توابین یعنی شیعان علی نے کوفہ پر قبضہ کر لیا ۔ کوفہ پر حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے عبداﷲ بن مطیع کو گورنر بنایا ہوا تھا ۔ توابین کا سپہ سالار مختار بن ابی عبید ثقفی تھا اور اُس کے ساتھ ابراہیم بن اشتر تھا ۔مختار کے پاس چار ہزار کا لشکرجمع ہو گیا تھااور وہ یہ لشکر لیکر کوفہ کی طرف بڑھا ۔ عبداﷲ بن مطیع کو اِس کی خبر ملی تو اُس نے تین ہزار کا لشکر بھیجا اور اس کا سپہ سالار شبث بن ربعی کو بنایا ۔اِس کے علاوہ ایک چار ہزار کا لشکر اور بھیجا اوراس کا سپہ سالار راشد بن ایاس کو بنایا ۔ مختار بن ابی عبید ثقفی نے بارہ سو کا لشکر ابراہیم بن اشتر کو دیکر راشد بن ایاس کے مقابلے پر بھیجا اور نعیم بن ہبیرہ کو نو سوکا لشکر دے کر شبث بن ربعی کے مقابلے پر بھیجا ۔ ابراہیم بن اشتر کے مقابلے میں راشد بن ایاس کے لشکر کو شکست ہوئی اور راشد بن ایاس قتل ہوگیا ۔ نعیم بن ہبیرہ کے مقابلے میں شبث بن ربعی کو فتح ہوئی اور نعیم بن ہبیرہ قتل ہو گیا ۔ اِس کے بعد شبث بن ربعی نے مختار بن ابی عبید ثقفی کا محاصرہ کر لیا ۔ ابراہیم بن اشتر اُسے بچانے کے لئے آیا تو عبداﷲ بن مطیع نے حسان بن فائد کو دو ہزار کا لشکر دے کا اُس کا راستہ روکنے کے لئے بھیجا ۔ دونوں لشکروں میں جنگ ہوئی اور ابراہیم بن اشتر کو فتح حاصل ہوئی ۔ اِس کے بعد وہ شبث بن ربعی کے پاس آیا جس نے مختار بن ابی عبید ثقفی کا محاصرہ کیا ہوا تھا ۔ شبث بن ربعی نے دونوں لشکروں کا مقابلہ کیا اور انہیں کوفہ کے باہر تک کھدیڑ دیا ۔ اس کے بعد ایک بار پھر مختار لشکر لیکر کوفہ کی طرف روانہ ہوا تو عبداﷲ بن مطیع نے عمرو بن حجاج کی سپہ سالاری میں دو ہزار کا ایک لشکر اُس کے مقابلے کے لئے بھیجا ۔ اس کے مقابلے کے لئے مختار نے یزید بن انس کو لشکر دیکر بھیجا اور خود ابراہیم بن اشتر کے ساتھ لشکر لیکر ‘‘باب کناسہ’’ سے کوفہ میں داخل ہوا ۔ عبداﷲ بن مطیع نے شمر بن ذی جوشن کو جس نے حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کو شہید کیا تھا دوہزار کا لشکر دیکر روانہ کیا تو مختار نے اس کے مقابلے کے لئے سعد بن منقذ کو بھیجا ۔مختار کوفہ میں داخل ہوا تو نوفل بن مساحق پانچ ہزار کے لشکر کے ساتھ اُس کے مقابلے پر موجود تھا ۔ عبداﷲ بن مطیع اپنے محل سے باہر نکلا اور شبث بن ربعی کو اپنا نائب بنایا ۔ ابراہیم بن اشتر نے حملہ کر کے انہیں شکست دی اور عبداﷲ بن مطیع کے محل کا تین دن تک مختار کے ساتھ محاصرہ کئے رہا ۔ عبداﷲ بن مطیع نے مختار بن ابی عبید ثقفی سے امان طلب کی جو اُس نے دے دی کیونکہ وہ اُس کا پرانا دوست تھا ۔ عبداﷲ بن مطیع خاموشی سے بصرہ چلا گیا اور کوفہ پر مختار بن ابی عبید ثقفی کا قبضہ ہو گیا ۔ 


حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے قاتلین کی تلاش


کوفہ کا انتظام مختار بن ابی عبید ثقفی نے سنبھال لیا ۔اُس نے کوفہ کے بیت المال میں نو کروڑ درہم پائے اور اس نے اس لشکر کو جو اس کے ساتھ تھا بہت سارے انعامات دیئے ۔ عبداﷲ بن یشکری کو پولیس کا سب سے بڑا افسر بنایا ۔ پھر مختار نے اپنے لشکروں کو ملک عراق اور خراسان کی طرف اور دوسرے شہروں کی طرف روانہ کیا اور جھنڈے باندھے اور امارتیں اور ریاستیں قائم کیں ۔ کوفہ میں صبح و شام بیٹھ کر لوگوں کے فیصلے کرنے لگا اور شریح کو قاضی بنادیا ۔ پھراُسے معزول کر کے عبداﷲ بن عتبہ کو قاضی بنایا اور پھراُسے بھی معزول کر کے عبداﷲ بن مالک کو قاضی بنادیا ۔ پھر مختار بن ابی عبید ثقفی نے حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے قاتلین کی تلاش شروع کر دی اور جو بھی سامنے آیا اسے قتل کردیا ۔ اِس کے لئے مختار بن ابی عبید ثقفی کو اہل کوفہ سے جنگ بھی کرنی پڑی کیونکہ حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے قاتلین اہل کوفہ کو مختار کے خلاف مسلسل بھڑکا رہے تھے اور لشکر جمع کر رہے تھے ۔ آخر کار مختار کے لشکر اور حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے قاتلین کے لشکر میں شدید جنگ ہوئی اور مختار کو فتح حاصل ہوئی ۔ 


حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے قاتلین کا انجام


حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے قاتلین کو مختار ڈھونڈ رہا تھا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : وادئ عیین سے پانچ سو سپاہی گرفتار کر لئے گئے ۔ مختار نے نصف آدمیوں کو جو شہادت حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ میں شریک تھے قتل کر ڈالا اور باقی کو رہا کر دیا ۔ جنگ کے خاتمہ پر مختار نے منادی کرادی کہ ہر شخص کے لئے جو لڑائی سے اپنے آپ کو روک لے گا امان ہے سوائے اس کے جو اہل بیت کی خون ریزی میں شریک ہوا تھا ۔ عمرو بن حجاج یہ سن کر بھاگ گیا اور اُس کا کوئی پتہ نہیں چلا ۔ بعض کا خیال ہے کہ مختار کے ساتھیوں میں سے کسی نے اُس کو گرفتار کر کے سر کاٹ لیا تھا ۔ شمر بن ذی جوشن کے تعاقب میں مختار کا ایک غلام گیا ہوا تھا ۔ جب یہ قریب پہنچا تو شمر بن ذی جوشن نے اُسے قتل کر دیا اور قریہ ‘‘کلبانیہ’’ بھاگ گیا ۔ وہ یہ سمجھا کہ بچ گیا ہے لیکن اُس قریہ کے قریب ہی ایک قریہ میں مختار کا ایک ساتھی ‘‘ابو عمرہ’’ اہل بصرہ کی روک تھا کے لئے ٹھہرا ہوا تھا ۔ اُسے شمر بن ذی جوشن کے بارے میں خبر ملی تو وہ اپنے لشکر کو لیکر آیا اور شمر بن ذی جوشن پر حملہ کردیا ۔ اُس نے بھی اپنے لشکر کے ساتھ مقابلہ کیا لیکن شمر کو شکست ہو گئی اور اُس کے ساتھ سو آدمی قتل ہوئے ۔ شمر بن ذی جوشن کو بھی قتل کر دیا گیا اور اُس کی لاش کو کتوں اور مردارخوروں کو کھلا دیا گیا ۔ یہ واقعہ 66 ہجری کے آخری دنوں کا ہے ۔ اِس واقعہ کے بعد مختار بن ابی عبید ثقفی ،حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے قاتلوں کو چن چن کر قتل کرنے لگا ۔ عبیداﷲبن اسد جہنی ، مالک بن نسیر کندی ، حمل بن مالک محاربی کو قادسیہ سے گرفتار کراکے قتل کیا ۔ اِس کے بعد زیاد بن مالک ضبعی ، عمران بن خالد عثری ، عبدالرحمن بن خشکارہ بجلی اور عبداﷲ بن قیس خولانی جنہوں نے میدان کربلا میں حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کا اسباب لوٹا تھا بیڑیاں ڈال کر گرفتار کر کے حاضر کئے گئے اور مختار بن ابی عبید ثقفی کے اِن سب کو قتل کرادیا گیا ۔ اِس کے بعد عبداﷲ یا عبدالرحمن بن طلحہ ، عبداﷲ بن وہب ہمدانی ، پیش کیا گیا اور انہیں بھی قتل کردیا گیا ۔ اِس کے بعد عثمان بن خالد جہنی ، بزر بن سمط قابسی جنہوں نے حضرت عبدالرحمن بن عقیل رضی اﷲ عنہ کو شہید کیا تھا اور اُن کا مال و اسباب لوٹ لیا تھا ) کو قتل کر کے آگ میں جلا دیا ۔ خولی بن یزید اصبحی نے حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کا سر کاٹا تھا وہ جان کے خوف سے چھپ گیا تھا لیکن اُسے بڑی شدت سے تلاش کر کے لایا گیا اور اُس کا سر کاٹ کر مختار نے جلوا دیا ۔ اِس کے بعد عُمر بن سعد کے قتل کا حکم صادر ہوا حالانکہ اُس نے عبداﷲ بن ابی جعدہ کی معرفت امان حاصل کر لی تھی ۔ لیکن جب مختار بن ابی عبید ثقفی نے حکم دیا تو ابو عمرہ اُس کا سر کاٹ کر لایا ۔ مختار نے اُس کے سر کو محمد بن حنفیہ کے پاس بھیج دیا اور خط لکھا :‘‘ حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے قاتلین میں سے جس جس پر میرا زور چلا تو میں نے اُسے قتل کر ڈالا اور باقی لوگوں کی گرفتاری اور قتل کی فکر میں ہوں ۔’’ 


مثنیٰ بن مخرمہ کی شکست


مختار بن ابی عبید ثقفی نے کوفہ پر قبضہ کرنے کے بعد بصرہ پر بھی قبضہ کرنے کی کوشش کرنے لگا اور اِس کے لئے لشکر بھی بھیجا لیکن بصرہ کے گورنر حارث بن ابی ربیعہ یعنی قباع نے اُسے بصرہ سے بھگا دیا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : مثنیٰ بن مخرمہ عبدی جنگ ‘‘عین الودرہ’’ میں سلیمان بن صرد کے ساتھ تھا جو اُس کے قتل کے بعد مختار کے پاس کوفہ چلا آیا تھا اور اُس کے ہاتھ پر حکومت کی بیعت کر لی تھی ۔ مختار نے اس کو بصرہ کی طرف اہل بیت کے قصاص لینے کی غرض سے روانہ کیا ۔ تھوڑے ہی دنوں میں مثنیٰ بن مخرمہ نے ایک بڑا لشکر جمع کر لیا اور بصرہ پر حملہ کرنے کے لئے روانہ ہوا ۔ بصرہ کے گورنر قباع نے عباد بن حسین اور وین بن ہیثم کو لشکر دے کر اُس کے مقابلے کے لئے روانہ کیا ۔ انہوں نے مثنیٰ بن مخرمہ کا شکست دی اور وہ بھاگ کر اپنی قوم بنو عبدالقیس میں جا کر چھپ گیا ۔ بصرہ کے گورنر قباع نے اُس کی گرفتاری پر ایک دستہ مقرر کیا تو زیاد بن عمر عنکی قباع کے پاس آیا اور بولا : ‘‘ تم اپنے گھڑ سواروں کو ہمارے بھائیوں کے محاصرے سے بلا لو ورنہ ہم اُن سے لڑنے لگیں گے ۔’’ قباع کے مصلحت کے تحت احنف بن قیس کو بھیجدیا اور اُس نے جنگ چھڑنے سے پہلے ہی پہنچ کر اِس صورت میں محاصرہ اُٹھا لیا کہ بنو عبدالقیس مثنیٰ بن مخرمہ کو نکال دیں ۔ انہوں نے اُسے نکال دیا اور وہ کوفہ روانہ ہو گیا ۔ 


عبدالملک بن مروان نے مدینۂ منورہ کی طرف لشکر روانہ کیا


مملکت اسلامیہ میں دو حکومتیں چل رہی تھیں ۔ایک ملک شام اور ملک مصر پر تھی اور اُس کا ‘‘مرکذ’’ دمشق’’ تھا ۔ دوسری ملک حجاز اور آس پاس کے علاقوں پر تھی اور اس کا ‘‘مرکذ’’ مکۂ مکرمہ تھا ۔ ملک شام کی حکومت کا حکمراں عبدالملک بن مروان تھا اور ملک حجاز کی حکومت کے حکمراں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ تھے ۔ عبدالملک بن مروان چاہتا تھا کہ ملک حجاز اور ملک عراق اور ملک ایران پر بھی اُس کی حکومت قائم ہو جائے اور اِس کے لئے وہ مسلسل کوشش بھی کرتا رہتا تھا ۔اِسی سلسلے میں اُس نے 66 ہجری میں ایک لشکر مدینۂ منورہ ‘‘وادئ القریٰ’’ کی طرف بھیجا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : کچھ عرصے بعد عبدالملک بن مروان نے عبدالملک بن حارث کو سپہ سالار بنا کر ایک لشکر ‘‘وادئ القریٰ’’ کی طرف روانہ کیا ۔ مختار نے یہ خبر سن کر حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو لکھا :‘‘ اگر آپ رضی اﷲ عنہ پسند کریں تو میں امداد کے لئے ایک لشکر بھیج دوں ۔’’ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے جواب دیا : ‘‘ اگر تم میرے مطیع ہو تو یہ بہت اچھی بات ہے اور نہایت تیزی سے ایک لشکر عبدالملک کے لشکر کے مقابلے کے لئے وادئ القریٰ میں بھیج دو۔’’ مختار نے فوراً شرجیل بن دوس ہمدانی کو سپہ سالار بنا کر تین ہزار کا لشکر دیا جس میں اکثر آزاد کردہ غلام تھے اور حکم دیا کہ مدینۂ منورہ کے پاس پہنچ کر اطلاع دینا پھر جیسا میں حکم دوں گا اُس کی تعمیل کرنا ۔ 


مختار ثقفی کے لشکر کی شکست


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے مختار کو لشکر بھیجنے کا حکم دے دیا لیکن آپ رضی اﷲ عنہ کو اُس پر اعتبار نہیں تھا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں :یہ جواب روانہ کرنے کے بعد حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے خیالات مختار کے بارے میں بدل گئے ۔ انہوں نے مکۂ مکرمہ سے عباس بن سہل کو سپہ سالار بنا کر دوہزار کا لشکر دے کر یہ سمجھا کر روانہ کیا :‘‘ مختار کا لشکر اگر مطیع ہو کر آیا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ اُسے واپس کردینا یا جنگ کر کے ہلاک کر دینا ۔’’ عباس بن سہل اور شرجیل بن دوس کی مقام ‘‘ رقیم’’ میں ملاقات ہوئی ۔ عباس بن سہل نے کہا: ‘‘ تم اپنا لشکر لیکر ہمارے ساتھ دشمن کے مقابلے کے لئے ‘‘وادئ القریٰ’’ چلو ۔’’ شرجیل بن دوس نے کہا : ‘‘ مجھے مختار نے سیدھے مدینۂ منورہ جانے کا حکم دیا ہے ۔اِسی لئے میں تمہارے ساتھ وادئ القریٰ نہیں جاؤں گا ۔’’ عباس بن سہل کو اِس جواب سے پورا یقین ہو گیا کہ مختار نے مخالفت کے لئے لشکر بھیجا ہے مگر تالیف قلوب کے لئے گوشت ، گھی اور پکا ہوا کھانا بھیج دیا ۔ شرجیل بن دوس اور اُس کے سپاہی بھوکے اور پیاسے تھے ۔ ایک چشمہ پر کھانے اور پینے میں مصروف ہو گئے ۔ عباس بن سہل نے اپنے لشکر میں سے ایک ہزارآزمودہ سپاہیوں کو لیکر حملہ کر دیااور شرجیل بن دوس کے ساتھ اُس کے ستر سپاہیوں کو قتل کر دیا ۔ باقی سپاہیوں کو امان دے دی اور وہ لوگ پریشانی کے عالم میں کوفہ پہنچے اور اُن میں سے اکثر راستے میں ہی مر گئے ۔


حضرت محمد بن حنفیہ کی گرفتاری اور رہائی


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ اور حضرت محمد بن حنفیہ کے درمیان خلیج پیدا کرنے کے لئے مختار بن ابی عبید ثقفی نے اِس واقعہ سے پورا فائدہ اُٹھایا ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اِس واقعہ سے مختار کو حضرت محمد بن حنفیہ اور حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو لڑوا دینے کا بھر پور موقع مل گیا ۔ اُس نے حضرت محمد بن حنفیہ کے پاس ایک شکایت بھرا خط لکھا : ‘‘ میں نے ایک لشکر آپ کی فرمانبرداری اور اہل بیت کے دشمنوں کو ذلیل کرنے کے لئے ایک لشکر روانہ کیا تھا لیکن عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے اُن کے ساتھ برتاؤ کیا ہے ۔ اگر آپ اجازت دیں تو میں ایک لشکر مدینہ کی طرف روانہ کروں ،بشرطیکہ آپ بھی اپنی طرف سے ایک آدمی بھیج دیں تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ میں آپ کا مطیع ہوں ۔’’ حضرت محمد بن حنفیہ نے جواباً لکھا: ‘‘ میں تمہار قصد ، تمہاری حق شناسی کو جانتا ہوں ۔ میرے نزدیک سب سے اچھا عمل یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی اطاعت سے باہر قدم نہیں رکھا جائے ۔ پس تم حتیٰ الامکان اﷲ تعالیٰ کی اطاعت کرتے رہو اور مسلمانوں کی خونریزی سے پرہیز کرو ۔ اگر میرا مقصد جنگ کرنا ہوتا تو میرے پاس بہت سارے لوگ جمع ہوجاتے ۔ میرے معین و مدد گار بہت زیادہ ہیں لیکن میں نے اس کو معزول کر رکھا ہے اور میں صبر و شکر کر رہا ہوں ۔ یہاں تک کہ اﷲ تعالیٰ ہی کوئی حکم صادر فرمائے اور اﷲ ہی ‘‘خیر الحاکمین ’’ہے ۔’’ اِس کے بعد حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے حضرت محمد بن حنفیہ سے کہا کہ وہ اپنے اہل بیت کے اور ساتھیوں کے ساتھ بیعت کر لیں لیکن آپ نے انکار کردیا ۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے بیعت کے لئے عبداﷲ بن ہانی کندی کو بھیجا تھا اور وہ سختی اور درشتی سے پیش آیا لیکن آپ برابر صبر و تحمل سے کام لیتے رہے اور مجبور ہو کر اُس نے آپ کو اپنے حال پر چھوڑ دیا ۔ مگر اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت محمد بن حنفیہ کے ساتھیوں نے کھلم کھلا حضرت محمد بن حنفیہ کی بیعت کرنے کی دعوت دینی شروع کر دی ۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو خوف ہوا کہ لوگ برہم نہ ہو جائیں ۔اِسی لئے خود بیعت لینے کا ارادہ کیا اور اِس مقصد کے لئے حضرت محمد بن حنفیہ کو مقام ‘‘زمزم’’ میں قید کر دیا اور ایک مدت مقرر کر دی کہ اِس دوران میں بیعت کر لو نہیں تو قتل کر دیئے جاؤ گے ۔ ’’ حضرت محمد بن حنفیہ نے تمام واقعہ مختار کو لکھا تو عبداﷲ جدلی کو سپہ سالار بنا کر تین سو کا لشکر اور حضرت محمد بن حنفیہ کے لئے چال لاکھ درہم مکۂ مکرمہ بھیجا ۔ یہ لشکر جب مکۂ مکرمہ کے قریب پہنچا تو سب ہتھیار اُتار دیئے اور ایک ایک لکڑی ہاتھ میں لے لی کیونکہ وہ مکۂ مکرمہ میں تلوار اُٹھانا حرام سمجھتے تھے ۔ یہاں تک کہ وہ زمزم کے پاس پہنچے اور دروازہ توڑ کر حضرت محمد بن حنفیہ کو نکالا ۔ اُس وقت مدت ختم ہونے میں صرف دو دن رہ گئے تھے ۔ لوگوں نے حضرت عبداﷲ بن زبیر سے اجازت مانگی کہ اِن سب کو گرفتار کر کے قتل کر دیا جائے تو آپ رضی اﷲ عنہ نے انہیں جانے کی اجازت دے دی اور فرمایا: ‘‘ میں حرم میں جنگ کرنا جائز نہیں سمجھتا ہوں ۔’’ اِس کے بعد حضرت محمد بن حنفیہ زمزم سے نکل کر ‘‘شعب علی’’ میں چلے گئے اور رفتہ رفتہ وہاں اُن کے پاس چار ہزار سے زیادہ آدمی جمع ہو گئے۔ 


اہل شام کو حج کرنے سے روک دیا


اِس سال 66 ہجری میں عبدالملک بن مروان نے ‘‘بیت المقدس’’ کی نئی تعمیر شروع کروائی ۔علامہ عماد الدین اسماعیل ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 66 ہجری میں عبدالعزیز بن مروان نے ملک مصر میں دینار ڈھالے اور یہ ملک مصر میں دینا ڈھالنے والے پہلا شخص ہے ۔ اِسی سال عبدالملک بن مروان نے ‘‘بیت المقدس’’ کے ‘‘صخرہ’’ پر گنبد بناے اور ‘‘مسجد اقصٰی’’ کی عمارت کی تعمیر کی ابتداء کیا اور اس کی عمارت 73 ہجری میں مکمل ہوئی ۔اِس کا سبب یہ تھا کہ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ مکۂ مکرمہ پر قابض تھے اور وہی منٰی اور عرفہ کے ایام میں خطبہ دیتے تھے اور لوگوں کے سامنے عبدالملک بن مروان کو برا بھلا کہتے اور بنو مروان کی برائیوں کا ذکر کرتے اور فرماتے : ‘‘ بے شک رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ‘‘حکم’’ ( مروان بن حکم کا باپ اور عبدالملک بن مروان کا دادا)اور اُس کی اولاد پر لعنت فرمائی ہے اور وہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا دھتکارا ہوا ہے ۔’’ آپ رضی اﷲ عنہ اپنی بیعت کی دعوت دیا کرتے تھے اور آپ رضی اﷲ عنہ بڑے فصیح البیان تھے اور ملک شام کا بڑا حصہ آپ رضی اﷲ عنہ کی طرف مائل ہوگیا ۔عبدالملک بن مروان کو اِس امر کی اطلاع ملی تو اُس نے ملک شام کے لوگوں کو حج کرنے سے روک دیا ۔ انہوں نے شور مچایا تو عبدالملک بن مروان نے صخرہ پر گنبد اور مسجد اقصٰی کی تعمیر کی تاکہ اہل شام کو حج سے غافل کردے اور اُن کے دلوں کو بیت المقدس کی طرف مائل کردے ۔ اہل شام صخرہ کے پاس کھڑے ہوتے اور اُس کے ارد گرد اِس طرح طواف کرتے جیسے وہ خانۂ کعبہ کے گرد طواف کرتے تھے اور بقرعید کے دن قربانی کرتے اور اپنے سروں کو منڈاتے تھے ۔


بیت المقدس کی نئی تعمیر


ملک شام کے لوگوں کو حج کے لئے مکۂ مکرمہ جانے سے عبدالملک بن مروان نے روک دیا اور اُن کے لئے بیت المقدس کی اتنی خوب صورت تعمیر کرائی کہ ہر کوئی اس کی زیارت کو آنے لگا ۔ علامہ عماد الدین اسماعیل ابن کثیر لکھتے ہیں : جب عبدالملک بن مروان نے بیت المقدس کی تعمیر کا ارادہ کیا تو اِس کام کو رجاء بن حیوۃ اور اپنے غلام یزید بن سلام کے سپرد کیا ۔ تمام شہروں سے بہترین کاریگر جمع کر کے بیت المقدس بھیج دیا اور دونوں کو حکم دیا کہ خوب اموال خرچ کریں اور انتہائی شاندار تعمیر کریں ۔اُن دونوں نے اخراجات کو خوب پھیلایا اور گنبد کو شاندار طور پر تعمیر کیا اور رنگین سنگ مرمر سے اُس کا فرش بنایا اور گنبد کے لئے دو جھول بنائے ۔ ایک سردیوں کے لئے جو سرخ پود کا تھا اور دوسرا گرمیوں کیلئے جو چمڑے کا تھا اور مختلف قسم کے پردوں سے گنبد کا گھیراؤ کیا ۔ اس کے لئے مختلف قسم کی خوشبوؤں ، کستوری ، عنبر ، گلاب اور زعفران کے لئے خادم مقرر کئے ۔ وہ اس سے خوشبو بناتے اور رات کو گنبد اور مسجد کو دھونی دیتے تھے ۔ اس میں سنہری اور نقرئی قندیلیں اور زنجیریں اور بہت سی اشیاء لگائی گئیں ۔ اس میں قماری جو عموماً کستوری سے ڈھکا ہوتا تھا لگایا گیا اور گنبد اور مسجد میں مختلف قسم کے رنگین قالین بچھائے گئے ۔ جب وہ نجور چھوڑتے تو اسے بعید مسافت سے سونگھا جاتا اور جب کوئی شخص بیت المقدس سے اپنے شہر واپس جاتا تو کئی دنوں تک اس سے کستوری ، خوشبو اور نجور کی خوشبو محسوس ہوتی رہتی تھی اور معلوم ہوجاتا تھا کہ وہ شخص بہت المقدس سے آیا ہے اور صخرہ میں داخل ہو کر آیا ہے ۔ 


خانۂ کعبہ سے مقابلہ


مکۂ مکرمہ میں تمام مسلمان حج کرنے کے لئے آتے تھے ۔ عبدالملک بن مروان نے ملک شام کے لوگوں کو مکۂ مکرمہ حج کے لئے جانے سے روک دیا اور اُن کے لئے بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ اور صخرہ کے گبند کو اتنا عالیشان بنوایا کہ لوگ اس کی زیارت کے لئے آنے لگے ۔ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ اور صخرہ کے گنبد کے بہت سے خدام اور منتظم تھے اور اُن دنوں روائے زمین پر بیت المقدس کے صخرہ کے گنبد سے بڑھ کر کوئی خوبصورت عمارت موجود نہیں تھی ۔ اس کی وجہ سے لوگ کعبہ اور حج سے غافل ہو گئے تھے اِس لئے کہ وہ حج کے دنوں میں بھی بیت المقدس کے سوا کسی طرف نہیں جاتے تھے اور اِس سے لوگ فتنہ میں پڑ گئے اور ہر جگہ سے لوگ وہاں آنے لگے ۔ آخر میں انہوں نے اِس میں بہت سے جھوٹے اشارات و علامات بنا دیں ۔ اِس میں انہوں نے پل صراط اور جنت کے دروازے اور رسول ا صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاؤں اور وادئ جہنم کی تصویر کشی کی ۔ اِسی طرح اس کے دروازوں اور کئی جگہوں میں ایسا کیا جس سے لوگ فریب کھا گئے تھے ۔جب صخرہ بیت المقدس کی تعمیر سے فراغت ہوئی تو روئے زمین پر اس کی خوش منظری کی کوئی نظیر موجود نہیں تھی ۔ اس میں نگینے ، جواہر اور رنگ برنگے پتھر کے ٹکڑے اور بہت سی چیزیں جڑی ہوئی تھیں اور اِن میں بہت سی خوبصورت اقسام تھیں ۔جب خلافت عباسیہ کا بادشاہ ابو جعفر منصور 140 ہجری میں بیت المقدس آیا تو اُس نے مسجد کو ویران پایا تو اُس نے گنبد اور دروازوں پر جو سونا اور پتھر لگے تھے انہیں اکھاڑنے کا حکم دے دیا ۔ اس کے بعد جو ٹوٹ پھوٹ ہوئی اُسے ٹھیک کروایا تو پہلے مسجد طویل تھی تو اُس نے اس کے طول کو کم کر کے عرض میں اضافہ کروادیا ۔ جب عمارت مکمل ہو گئی تو اُس نے گنبد کے دروازے پر لکھوا دیا : ‘‘ امیر المومنین عبدالملک بن مروان نے 62 ہجری میں ٹوٹ پھوٹ کے بعد اس کی تعمیر کا حکم دیا اور قبلہ سے شمال کی طرف مسجد کا طول 765 گز تھا اور بیت المقدس 16 ہجری میں فتح ہواتھا ۔ واﷲ و اعلم۔ 


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

ہفتہ، 31 اگست، 2024

Saltanat e Umayya part 31



ا31 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 31

عبیداﷲ بن زیاد کے مقابلے پر لشکر کی روانگی، ھ66 ہجری کا اختتام، ھ67 ہجری : عبیداﷲ بن زیاد کا انجام، حضرت مصعب بن زبیر بصرہ کے گورنر، حضرت مصعب بن زبیر کے پاس شکست خوردہ کا اجتماع، حضرت مصعب بن زبیر کی کوفہ کی طرف پیش قدمی، مختار ثقفی کی شکست اور قتل، ابراہیم بن اشتر کا فیصلہ، حضرت مصعب بن زبیر کی معزولی، حمزہ بن عبداﷲ کی نااہلی، 



عبیداﷲ بن زیاد کے مقابلے پر لشکر کی روانگی


حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے شہید کرنے کا حکم عبیداﷲ بن زیاد نے دیا تھا ۔ اﷲ تعالیٰ نے دنیا میں اُس کا بہت بھیانک انجام کیا اور آخرت کا انجام ابھی باقی ہے۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : مختار بن ابی عبید ثقفی کو 66 ہجری کے اواخر میں کچھ فراغت حاصل ہوئی تو اُس نے 66 ہجری کے آخری مہینے ذی الحجہ کی بائیس (22) تاریخ کو ابراہیم بن اشتر کو لشکر دے کر عبیداﷲ بن زیاد کے مقابلے پر روانہ کیا اور اپنے نامی گرامی مصاحبوں ، شہسواروں اور جنگ آوروں کو اسی کرسی سمیت اُس کے ہمراہ کر دیا جس سے ضرورت کے وقت وہ مدد طلب کیا کرتا تھا ۔ یہ کرسی سونے کی منڈھی ہوئی تھی اور مختار نے اپنے متبعین کو یہ سمجھا رکھا تھا کہ جیسا بنی اسرائیل میں ‘‘تابوت سکینہ’’ تھا ویسی ہی یہ کرسی ہے ۔ بیان کیا جاتا ہے کہ یہ کرسی حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ کی تھی ۔ جس کو مختار نے جعدہ بن ہنیرہ سے خرید لیا تھا جو سیدہ اُم ہانی بنت ابی طالب رضی اﷲ عنہا کا بیٹا تھا ۔ 


ھ66 ہجری کا اختتام


اِس سال 66 ہجری کا یہ آخری واقعہ تھا ۔ اِس کے بعد 67 ہجری کی شروعات میں عبیداﷲ بن زیاد کے لشکر کو شکست ہوئی اور اُسے قتل کیا گیا ۔ یہ جنگ 67 ہجری میں ہوئی اِس لئے ہم آگے اِس جنگ کے بارے میں حلات پیش کریں گے ۔ اِس سال 66 ہجری میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔ مدینۂ منورہ میں آپ رضی اﷲ عنہ کا بھائی مصعب بن زبیر گورنر تھا ۔بصرہ کا گورنر حارث بن عبداﷲ بن ابی ربیعہ تھا ۔ کوفہ کا گورنر مختار بن ابی عبید ثقفی تھا ۔ اور بلاد خراسان کا گورنر عبداﷲ بن حازم مستولی تھا ۔ 


ھ67 ہجری : عبیداﷲ بن زیاد کا انجام


اِس سال 67 ہجری میں عبیداﷲ بن زیاد اپنے انجام کو پہنچا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : ابراہیم بن اشتر کوفہ سے روانہ ہوکر ملک عراق کو چھوڑتا ہوا سر زمین موصل میں پہنچا ۔ جس کے زیادہ تر حصے پر عبیداﷲ بن زیاد نے قبضہ کر لیا تھا ۔ ابراہیم بن اشتر نے نہر حازم (خازر) پر قیام کر کے طفیل بن یقط نخعی کو بطور ‘‘مقدمۃ الجیش’’ آگے بڑھایا ۔ عبید اﷲ بن زیادنے بھی اِس لشکر کے آنے کی اطلاع پا کر اپنے لشکر کے ساتھ جو ملک شام سے لیکر آیا تھا نہر کے قریب آ کر پڑاؤ ڈال دیا ۔ عبداﷲ بن زیاد کا میسرہ کمانڈرعمیر بن حباب خفیہ طور سے ابراہیم بن اشتر سے ملنے کے لئے آیا اور وعدہ کیا کہ جنگ کے وقت میں میسرہ کو لیکر بھاگ کھڑا ہوں گا اور تم جنگ میں تاخیر نہیں کرنا کیونکہ تمہارے تاخیر کرنے سے عبیداﷲ بن زیاد کی طاقت بڑھ جائے گی ۔ اِس قرارداد کی وجہ سے ابھی صبح بھی نہیں ہونے پائی تھی کہ ابراہیم بن اشتر خیمہ سے نکل کر اپنے لشکر کو جنگ کے لئے اُبھارنے لگا ۔ جں ہی سپیدۂ سحر نمودار ہوا اُس نے باجماعت نماز پڑھا کر اپنے لشکر کی صفیں مرتب کر دیں ۔ عبیداﷲ بن زیاد نے بھی اپنے لشکر کو مرتب کیا اور سورج نکلتے نکلتے جنگ شروع ہو گئی ۔ حصین بن نمیر نے جو میمنہ کا کمانڈر تھا ابراہیم کے میسرہ پر حملہ کردیا ۔ علی بن مالک قتل ہوگیا تو قرد بن علی نے لپک کر جھنڈا اُٹھا لیا اور لڑنے لگا ۔ جب یہ بھی قتل ہوگیا تو ابراہیم کے میسرہ میں بھگڈر مچ گئی ۔عبداﷲ بن ورقا سلولی نے جھنڈا (علم) اُٹھایا اور اپنے ساتھیوں کو للکارااور بھاگنے والے ایک نئے جوش کے ساتھ پلٹے اور عبیداﷲ بن زیاد کے میسرہ پر حملہ کر دیا ۔ وعدہ کے مطابق عبیداﷲ بن زیاد کے میسرہ کا کمانڈر عمیر بن حباب اپنے سپاہیوں کے ساتھ بھاگ گیا ۔ اب ابراہیم کے لشکر کا پلہ بھاری ہوگیا اور انہوں نے عبداﷲ بن زیاد کے لشکر کو گاجر مولی کی طرح کاٹنا شروع کر دیا ۔ ہر طرف آہ و زاری کے نعرے بلند ہورہے تھے اوزخمیوں کے خون کے فوارے بلند ہو رہے تھے ۔ نیزوں اور تلواروں کی آوازوں سے کان کے پردے پھٹے جاتے تھے ۔ آخر کار ابراہیم بن اشتر کو فتح حاصل ہوئی ۔ جنگ ختم ہونے کے بعد ابراہیم بن اشتر نے کہا: ‘‘ میں نے ایک جھنڈے والے شخص کو قتل کیا ہے جو بہت زیادہ خوشبو لگائے ہوئے تھا اور میں اپنی تلوار سے اُس کے نصفا نصف دو ٹکڑے کر دیئے ۔ذرا دیکھو تو وہ شخص کون ہے ؟’’ لوگوں نے تلاش کیا تو وہ عبید اﷲ بن زیاد تھا ۔ اُس کا سر کاٹ کر اُس کی لاش جلا دی گئی ۔ حصین بن نمیر بھی اُس لشکر کا ایک کمانڈر تھا جس نے حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کو شہید کیا تھا ۔ حضرت شریک بن جدیر جو حضرت علی بن ابی طالب کے ساتھ ہر جنگ میں شریک تھے انہوں نے حصین بن نمیر کو عبیداﷲ بن زیاد سمجھ کر پکڑ لیا اور اپنے ساتھیوں سے بولے کہ حملہ کرو ۔ اُن کے ساتھیوں نے حصین بن نمیر کو قتل کردیا ۔ بعض کا بیان ہے کہ حضرت شریک بن جدیر نے عبیداﷲ بن زیاد کو قتل کیا اور عبداﷲ بن زہی سلمی کا دعویٰ ہے کہ اُس نے عبیداﷲ بن زیاد کو قتل کیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب شامی لشکر یعنی عبیداﷲ بن زیاد کا لشکر شکست کھا کر بھاگا ابراہیم بن اشتر کے لشکر نے اُن کا تعاقب کیا اور ملک شام کے سپاہی مقتولین سے زیادہ بھاگنے کے فراق میں دریا میں ڈوب کر مر گئے ۔ پھر ابراہیم بن اشتر کے لشکر نے ملک شام کے لشکر گاہ پر قبضہ کر لیا جس میں ہر قسم کی اشیاء موجود تھیں ۔ 


حضرت مصعب بن زبیر بصرہ کے گورنر


ملک شام کے لشکر کو شکست دینے کے بعد ابراہیم بن اشتر نے وہیں ‘‘موصل’’ میں رہائش اختیار کر لی اور وہیں سے مختلف علاقوں میں اپنے گورنر بھیجے ۔ علامہ محمدبن جریر طبری لکھتے ہیں : مختار کوفہ واپس آگیا اور ابراہیم بن اشتر موصل میں قیام پذیر ہو گیا اور اُس کے تمام علاقوں پر اپنے گورنروں کو روانہ کیا ۔ اپنے بھائی عبدالرحمن بن اشتر کو نصیبن کا گورنر بنا کر بھیجا ۔ اِس کے علاوہ سنجار ، ودار اور اُس سے متصل ملک جزیرہ کا جو علاقہ تھا اُس پر بھی قبضہ کر لیا ۔ اِس سال 67 ہجری میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے بصرہ کے گورنر قباع کو معزول کر دیا اور اپنے بھائی حضرت مصعب بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو بصرہ کا گورنر مقرر کیا ۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے آزاد کردہ غلام کہتے ہیں کہ ‘‘میں بھی اُن لوگوں میں تھا جو مکۂ مکرمہ سے حضرت مصعب بن زبیر کے ساتھ بصرہ آئے تھے ۔ حضرت مصعب بن زبیر نے اپنے چہرے کو نقاب میں پوشیدہ رکھا تھا اور جب بصرہ کی جامع مسجد کے دروازے پر اُترے اور مسجد میں داخل ہو کر منبر پر چڑھے اور بصرہ کے لوگوں نے کہا : ‘‘ گورنر آگئے ۔’’ اتنے میں حارث بن ابی ربیعہ یعنی قباع جو پہلے بصرہ کے گورنر تھے مسجد میں داخل ہوئے ۔ مصعب بن زبیر نے اپنا چہرہ بے نقاب کیا تب لوگوں نے انہیں شناخت کیا اور کہا : ‘‘ آپ حضرت مصعب بن زبیر ہیں ۔’’ حضرت مصعب بن زبیر نے حارث بن ابی ربیعہ کہا : ‘‘ منبر پر آؤ۔’’ حارث بن ابی ربیعہ منبر پر چڑھ گیا اور حضرت مصعب بن زبیر سے ایک سیڑھی نیچے بیٹھا ۔ حضرت مصعب بن زبیر خطبے کے لئے کھڑے ہوئے اور حمد ثنا کے بعد بولے :‘‘ طسم ۔ یہ اﷲ کی روشن کتاب کی آیات ہیں ۔ ہم تمہارے سامنے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا حال بیان کرتے ہیں ۔ بے شک فرعون فساد کرنے والوں میں سے تھا ۔’’ یہاں تک تلاوت کرنے کے بعد ملک شام کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور پھر یہ آیت تلاوت کی:‘‘ اور ہم چاہتے ہیں ان لوگوں پر احسان کریں جو اس شرزمین پر ذلیل کئے گئے ہیں ۔ ہم انہیں سردار بنا دیں گے اور انہیں کو وارث کریں گے ۔’’ یہ آیت تلاوت کرنے کے بعد ملک حجاز کی طرف اشارہ کیا پھر یہ آیت تلاوت کی :‘‘ اور ہم فرعون و ہامان اور اُن کے لشکروں کو ان کی جانب سے وہ دکھائیں گے جن کا ڈر انہیں لگا ہوا تھا ۔’’ اور پھر ملک شام کی طرف اشارہ کیا ۔ عوانتہ کہتے ہیں کہ حضرت مصعب بن زبیر نے بصرہ میں اپنے پہلے خطبے میں اہل بصرہ کو مخاطب کر کے کہا : ‘‘ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم اپنے گورنروں کے نام رکھ لیا کرتے ہو اور اِس لئے میں نے اپنا نام ‘‘قصاب’’ رکھا ہے ۔’’ 


حضرت مصعب بن زبیر کے پاس شکست خوردہ کا اجتماع


بصرہ کا انتظام حضرت مصعب بن زبیر نے سنبھال لیا تو اُس کے پاس کوفہ کے مختار سے شکست کھائے ہوئے لوگ جمع ہونا شروع ہو گئے ۔ علامہ محمد بن جری طبری لکھتے ہیں : اہل کوفہ جن سے مختار پہلے لڑ چکا تھا اور انہیں شکست دے چکا تھا وہ اب حضرت مصعب بن زبیر سے بصرہ میں آ کر مل گئے ۔ جب شبث بن ربعی بصرہ میں حضرت مصعب بن زبیر کے پاس آیا تو اُس کی یہ حالت تھی کہ ایک خچر پر سوار تھا جس کی دم اور کان چیر دیئے تھے اور اپنی قبا کو چاک کر دیا تھا اور پکار رہا تھا ۔ ‘‘ میری فریاد سنیئے ، میری فریاد سنیئے ۔’’ حضرت مصعب کو اس کی اطلاع ہوئی انہوں نے کہا : ‘‘ بے شک یہ شبث بن ربعی ہے ،اس کے سوا کوئی اور یہ ہیئت نہیں بنا سکتا ۔اسے اندر بلا لو ۔’’ شبث بن ربعی اندر آیا اور کوفہ کے سربر آوردہ اشخاص بھی آئے ۔ اپنے آنے کا حل بیان کیا مصیبت کی داستان سنائی اور کہا : ‘‘ ہمارے ہی غلام اور آزاد غلام ہم پر چڑھ آئے ہیں ۔ اب آپ ہماری اعانت کریں اور ہمارے ساتھ مختار پر حملہ کریں ۔ ’’محمد بن اشعث بن قیس بھی حضرت مصعب بن زبیر کے پاس آیا ۔ یہ کوفے کی جنگ میں موجود نہیں تھا بلکہ اُس وقت اپنے قلعے ‘‘طیزناباز’’ میں جو قادسیہ کے قریب تھا مقیم تھا ۔ جب اہل کوفہ کی شکست کی اور مختار کی فتح کی اطلاع اُسے ملی تو نکل بھاگنے کا ارادہ کیا ۔ مختار نے سو گھڑ سواروں کو اُس کی طرف روانہ کیا ۔ جب محمد بن اشعث کو دشمن کے آنے کی اطلاع ملی تو وہ فوراً بے آب و گیاہ جنگل کے راستے بصرہ کی طرف روانہ ہوگیا اور حضرت مصعب بن زبیر سے جا ملا اور انہیں مختار کے خلاف جنگ کے لئے اُبھارا ۔ اُدھر مختار نے لشکر بھیج کر محمد بن اشعث کے قلعے کو منہدم کرا دیا ۔


حضرت مصعب بن زبیر کی کوفہ کی طرف پیش قدمی


بصرہ میں حضرت مصعب بن زبیر کے پاس ایک بہت بڑا لشکر جمع ہو گیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ‘‘ جب حضرت مصعب بن زبیر کے جھنڈے تلے ایک بہت بڑا لشکر جمع ہو گیا تو محمد بن اشعث نے رائے دی کہ مہلب بن ابی صفرہ کو بھی بلا لیا جائے ۔ مہلب بن ابی صفرہ نے خراج وصول کرنے کا بہانہ بنایا لیکن حضرت مصعب بن زبیر کی طلبی پر اُسے حاضر ہونا پڑا اور وہ بھی ایک بہت بڑا لشکر لیکر آیا ۔ اِس کے بعد حضرت مصعب نے سب کو بڑے پل کے پاس چھاونی کے میدان میں جمع ہونے کا حکم دیا اور عبدالرحمن بن مخنف کو بلا کر کہا : ‘‘ تم کوفہ جاؤ اور جس قدر لوگوں پر تمہارا بس چل سکے انہیں میرے لشکر میں شامل کرنے کی کوشش کرو اور انہیں خفیہ طور سے مختار کے خلاف ترغیب دو ۔’’ عبدالرحمن آیا اور چپکے سے اپنے گھر میں بیٹھ گیا ۔ حضرت مصعب بن زبیر نے بنو تمیم کے عباد بن حصین بن معمر کو میمنہ کا کمانڈر بنایا ۔ مہلب بن ابی صفرہ کو میسرہ کا کمانڈر بنایا ۔ بنو بکر بن وائل کے لشکر کا کمانڈر مالک بن مسمع کو بنایا ۔ بنو عبد قیس کے لشکر کا کمانڈر مالک بن منذر کو بنایا ۔ بنو تمیم کے لشکر کا کمانڈر احنف بن قیس کو بنایا ۔ بنو ازد کے لشکر کا کمانڈر زیاد بن عمر ازدی کو بنایا اور اہل نجد کے لشکر کا کمانڈر قیس بن ہیثم کو بنایا ۔ اِس طرح اپنا لشکر مرتب کر کے حضرت مصعب بن زبیر نے اپنے لشکر کے ساتھ کوفہ کی طرف پیش قدمی شروع کر دی ۔ 


مختار نے مقابلے کے لئے لشکر روانہ کیا


حضرت مصعب بن زبیر کے لشکر کی کوفہ کی طرف پیش قدمی کی اطلاع مختار بن ابی عبید ثقفی کو ہوئی تو اُس نے بھی مقابلے کے لئے ایک لشکر تیار کر کے روانہ کیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب مختار کو اِن واقعات کی خبر پہنچی تو وہ اپنے ساتھیوں میں خطبہ پڑھنے کے لئے کھڑا ہوا اور حمد و ثناء کے بعد اُس نے کہا : ‘‘ اے کوفہ والو! اے دین والو! صداقت اور کمزوروں کے مدد گارو! اور اے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے اور آل رسول کے حامی گروہ! تم نے ان باغیوں کو بھگا دیا جنہوں نے سرکشی کی تھی ۔ اب وہ اپنے ہی جیسے فاسقوں کے پاس آئے اور تمہارے خلاف اُبھار کر لائے تاکہ حق مٹ جائے اور باطل کو عروج حاصل ہو اور اﷲ کی جماعت بدل جائے ۔ اﷲ کی قسم! اگر تم ہلاک ہو گئے تو اﷲ کی پرستش صرف اِس طرح ہو گی کہ اُس پر بہتان لگائے جائیں گے اور اُس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کے اہل بیت پر لعن طعن کیا جائے گا ۔ اِس لئے تم فوراً احمر بن شمیط کے ساتھ میدان جنگ میں جانے کے لئے مستعد ہو جاؤ ۔ کیونکہ مجھے پورا یقین ہے کہ اگر تم ان سے لڑو گے تو انشاء اﷲ تم اس طرح انہیں ہلاک کر دو گے جس طرح عاد اور ارم ہلاک ہوئے تھے ۔ ’’احمر بن شمیط کی سپہ سالاری میں مقام ‘‘حمام اعین’’ پر لشکر جمع کیا گیا ۔ مختار نے اُن تمام کمانڈروں کو بلایا جو ابراہیم بن اشتر کے ساتھ تھے اور اُسی ترتیب سے احمر بن شمیط کے ساتھ روانہ کیا ۔ یہ تمام کمانڈر ابراہیم بن اشتر سے علیحدگی اختیار کر چکے تھے کیونکہ انہوں نے دیکھ لیا تھا کہ ابراہم بن اشتر اپنی من مانی کرتا ہے اور مختا کی ذرا بھی پرواہ نہیں کرتا ہے ۔ مختار نے اِن کمانڈروں کو ایک زبردست لشکر دے کر اضمر بن شمیط کے ساتھ روانہ کیا ۔ 


احمر بن شمیط کی شکست


بصرہ سے اور کوفہ سے دو لشکر ایکدوسرے کے مقابلے کے لئے نکلے اور دونوں لشکروں کا سامنا ایک چشمہ پر ہوا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : احمر بن شمیط جنگ کے لئے لشکر لیکر روانہ ہوا ۔اُس نے ‘‘مقدمۃ الجیش’’ پر عبداﷲ بن کامل کو کمانڈر بنایا ۔ چشمۂ مذار کے پاس لشکر پہنچا تو احمر بن شمیط نے پڑاؤ ڈال دینے کا حکم دے دیا ۔ دوسری طرف سے حضرت مصعب بن زبیر بھی اپنے لشکر کو لیکر آگئے اور پڑاؤ ڈال دیا ۔ احمر بن شمیط نے میمنہ پر عبداﷲ بن کامل شاکری کو کمانڈر بنایا ۔ میسرہ پر عبداﷲ بن وہب بن نضلہ کو کمانڈر بنایا ۔ رزیں عبدالسلولی کو گھڑ سواروں کا کمانڈر بنایا ۔ پیدل سپایوں کا کمانڈر کثیر بن اسماعیل کو بنایا ۔ کیسان بن ابی عمرو کے آزاد غلام کو موالیوں کا کمانڈر بنایا ۔ حضرت مصعب بن زبیر نے عباد بن حصین کو سمجھانے کے لئے بھیجا ۔ وہ اپنے دستے کے ساتھ آیا اور کہا: ‘‘ ہم آپ کو کتاب اﷲ اور اس کے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی سنت اور امیر المومنین حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کی دعوت دیتے ہیں ۔ ’’ احمر بن شمیط نے کہا : ‘‘ ہم تمہیں لتاب اﷲ اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی سنت اور امیر مختار کے ہاتھ پر بیعت کرنے کی دعوت دیتے ہیں تاکہ ہم آل رسول میں سے کسی شخص کو آپسی مشورہ کے لئے امیر مقرر کر لیں ۔ اگر کوئی اور شخص اِس بات کا مطالبہ کرے گا کہ وہ آل رسول پر حکمرانی کرے گا تو ہمارا اُس سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ ہم اُس کے خلاف جہاد کریں گے ۔ ’’ اِس کے بعد دونوں لشکروں نے ایکدوسرے پر حملہ کر دیا اور بہت شدید جنگ ہونے لگی حضرت مصعب بن زبیر کے لشکر نے اتنا زبردست حملہ کیا کہ احمر بن شمیط قتل ہوگیا اور اُس کے لشکر کو شکست ہو گئی ۔ اُس کے سپاہی میدان جنگ چھوڑ کر بھاگنے لگے تو انہیں چن چن کر قتل کیا جانے لگا اور اُن کا صفایا کر دیا گیا ۔ 


حضرت مصعب بن زبیر کی کوفہ روانگی


حضرت مصعب بن زبیر کو چشمۂ مذار پر فتح حاصل ہوئی اور وہ اپنے لشکر کو لیکر کوفہ کی طرف روانہ ہوئے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت مصعب بن زبیر اپنے لشکر کو لیکر روانہ ہوئے اور جس جگہ اب ‘‘واسط القصب’’ ہے اُس مقام سے دریا کو عبور کیا ۔ پھر بیاباں کو طے کرنا شروع کیا ۔اِس کے بعد حضرت مصعب بن زبیر نے پیدل سپاہیوں کو اُن کے ساز و سامان کے ساتھ اور ضیعف العمر لوگوں کو کشتیوں میں سوار کردیا اور دریائے خرشاذ سے ہوتے ہوئے دریائے قوسان کو عبور کیا اور اِسی دریا کے راستے سے دریائے فرات میں پہنچ گئے ۔ اہل بصرہ جب کشتیاں چلا رہے تھے تو یہ کہتے جا رہے تھے ۔حضرت مصعب بن زبیر نے ہمیں لانبے کوزہ پشت جہازوں کے اور اُن کی رسی کھینچنے کا عادی بنا دیا ۔’’ جب مختار کو معلوم ہوا کہ دشمن گھوڑوں ،اونٹوں اور کشتیوں پر چلا آرہا ہے تو وہ خود مقابلے کے لئے آگے بڑھا اور مقام ‘‘سلیحسین’’ پر آکر اپنے ڈیرے ڈال دیئے ۔اِس مقام کو دیکھ کر معلوم ہو گیا کہ یہ مختلف دریاؤں کا سنگم ہے ۔ اِس مقام پر دریائے حیرہ ، دریائے سلیحین ، دریائے قادسیہ اور دریائے یوسف آکر دریائے فرات سے ملتے ہیں ۔(اِسے ‘‘مجمع الانہار’’ کہتے ہیں)مختار نے اِسی سنگم پر ایک بند بنا کر دریائے فرات کا پانی روک دیا ۔اِس طرح دریائے فرات کا تمام پانی معاون دریاؤں میں چڑھ گیا ۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بصرہ سے کشتیوں پر سوار ہو کر جو لشکر آرہا تھا اُس کی کشتیاں کیچڑ میں پھنس گئیں ۔ بصرہ والوں نے یہ حالت دیکھی تو کشتیاں چھوڑ دیں اور پا پیادہ کوچ کرنا شروع کیا ۔ اُن کا ‘‘مقدمۃ الجیش’’ اُن سے پہلے دریائے فرات کے اُس بند تک پہنچ گیا اور اُسے منہدم کر کے کوفہ کی طرف اُس نے اپنی باگیں اُٹھا دیں ۔ 


مختار ثقفی کی شکست اور قتل


بصرہ سے حضرت مصعب بن زبیر لشکر لیکر کوفہ پر حملہ کرنے کے لئے آرہے تھے اور ادھر مختار بھی مقابلے کی تیاری کر رہا تھا ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : مختار نے ‘‘مجمع الانہار ’’سے مُڑ کر ‘‘دار الامارت’’ اور جامع مسد کی قلعہ بندی کرنے کے بعد ‘‘حروراء’’ میں قیام کیا ۔ اِسی دوران میں حضرت مصعب بن زبیر بھی لشکر لیکر آگئے ۔ اُن کے میمنہ کا کمانڈر مہلب بن ابی صفرہ ، میسرہ کا کمانڈر عمر بن عبید اﷲ اور گھڑ سواروں کا کمانڈر عبد بن حصین تھا ۔ مختار کے لشکر کے میمنہ کا کمانڈر سلیم بن یزید کندی ، میسرہ کا کمانڈر سعید بن منقذ ہمدانی اور گھڑ سوراوں کا کمانڈر عمر بن عبیدا ﷲ نہدی تھا ۔ محمد بن اشعث اہل کوفہ کے اُس گروہ کا کمانڈر تھا جو مختار کے مقابلے ہر بھاگ کھڑے ہوئے تھے دونوں لشکروں کے درمیان پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا ۔ جنگ شروع ہوئی اور فریقین نے ایکدوسرے پر حملہ کیا ، ہر شخص جاں فروشی کے لئے تیار ہو گیا ۔ عبداﷲ بن جعدہ نے اپنے مد مقابل لشکر پر حملہ کر دیا ۔ وہ لوگ پیچھے ہٹتے ہوئے حضرت مصعب بن زبیر سے جا ملے ۔ حضرت مصعب بن زبیر نے ایک پر جوش تقریر سے اپنے سپاہیوں کو للکارا اور آگے بڑھایا ۔ انہوں نے زبردست حملہ کیا اور مختار کا لشکر اُسے چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا ۔ شام ہوتے ہوتے مالک بن عبداﷲ نہدی نے پیدلوں کو لیکر محمد بن اشعث پر حملہ کیا ۔ وہ اور اُس کے ساتھی کام آگئے ۔حضرت عبید اﷲ بن علی بن ابی طالب شہید ہو گئے ۔ تمام رات جنگ ہوتی رہی ، چاروں طرف ایک شور ِ قیامت برپا تھا ۔ صبح ہونے سے کچھ پہلے مختار کے سپاہی آنکھیں بچا بچا کر علیحدہ ہونے لگے ۔ مختار نے اپنے لشکر کا یہ حال دیکھا تو ‘‘دار الامارت’’ میں جا چھپا ۔ حضرت مصعب بن زبیر نے میدان جنگ سے ‘‘سنجہ’’پہنچ کر پڑاؤ ڈال دیا اور ‘‘دار الامارت’’ کا محاصرہ کر کے رسدو غلہ بند کر دیا ۔ مختار اور اُس کے ساتھیوں کا بھوک اور پیاس سے برا حال ہو گیا ۔ آخر کار مختار اپنے ساتھیوں کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے آیا ۔ جنگ ہونے لگی اور عبداﷲ بن وجاجہ کے بیٹوں نے اُسے قتل کردیا ۔مختار کے  مارے جانے کے بعد شہر والوں نے دروازے کھول دیئے اور کوفہ پر حضرت مصعب بن زبیر کا قبضہ ہو گیا ۔ اِس کے بعد مختار کے ہاتھ کاٹ کر مسجد کے دروازے پر لٹکا دیئے گئے ، جس کو حجاج بن یوسف نے اپنے زمانہ ٔ حکومت میں اتروایا ۔ 


ابراہیم بن اشتر کا فیصلہ


کوفہ سے فارغ ہونے کے بعد حضرت مصعب بن زبیر نے ابراہیم بن اشتر کو اطاعت کرنے کا خط لکھ کر بھیجا اور اُدھر ملک شام سے بھی عبدالملک بن مروان نے اپنی اطاعت کرنے کا خط لکھ کر بھیجا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت مصعب بن زبیر نے اپنے گورنروں کو کوہستانی علاقوں اور میدانی علاقوں کی طرف روانہ کر دیا اور ابراہیم بن اشتر کو خط لکھا ۔ جس میں اُسے دعوت دی گئی کہ تم میری اطاعت کر لو تو میں تمہیں ملک شام تمہیں دے دوں گا اور وہاں کے سپہ سالار بنا دیئے جاؤ گے اور وہ تمام علاقہ جس پر تم نے تسلط کر لیا ہے بدستور تمہارے ہی حیطہ اقتدار میں اُس وقت تک رہے گا جب تک حکومت ‘‘خاندان زبیر ’’میں رہے گی ۔ دوسری جانب عبدالملک بن مروان نے بھی ابراہیم بن اشتر کو اِسی مضمون کا ایک خط لکھا کہ تم میری اطاعت قبول کرلو گے تو ملک عراق کا تما م علاقہ تمہارے قبضہ و تصرف میں دے دیا جائے گا ۔ ابراہیم بن اشتر نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ کیاتو بعض ساتھیوں نے حضرت مصعب بن زبیر کیا اطاعت کرنے کا مشورہ دیا اور بعض ساتھیوں نے عبدالملک بن مروان کی اطاعت کرنے کا مشورہ دیا ۔ ابراہیم بن اشتر نے کہا : ‘‘ اگر میں نے عبید اﷲ بن زیاد اور اہل شام کے دوسرے سرداروں کو قتل نہیں کیا ہوتا تو عبدالملک بن مروان کی دعوت کو قبول کر لیتا ۔ اِس کے علاوہ میں اسے بھی پسند نہیں کرتا کہ اپنے شہر یا قبیلے پر دوسروں کو ترجیح دوں ۔’’ اِس کے بعد ابراہیم بن اشتر نے حضرت مصعب بن زبیر کو لکھا کہ میں آپ کی اطاعت قبول کرتا ہوں اور حاضر ہو کر ‘‘حلف اطاعت’’ اُٹھایا ۔ 


حضرت مصعب بن زبیر کی معزولی


اِس سال 67 ہجری میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے اپنے بھائی حضرت مصعب بن زبیر کو بصرہ کی گورنری سے معزول کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 67 ہجری میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے اپنے بھائی حضرت مصعب بن زبیر کو معزول کر کے اپنے بیٹے حمزہ بن عبداﷲ بن زبیر کو بصرہ کا گورنر بنا دیا ۔ حضرت مصعب بن زبیر کیوں اور کس طرح معزول ہوئے اِس بارے میں مؤرخین کا اختلاف ہے ۔ ایک روایت تو اِس کے متعلق یہ ہے کہ جب حضرت مصعب بن زبیر لشکر لیکر مختار بن ابی عبید ثقفی کے مقابلے کے لئے چلے تو بصرہ پر عبیداﷲ بن عبداﷲ بن معمر کو اپنا قائم مقام بنادیا تھا ۔ مختار کے قتل کے بعد حضرت مصعب بن زبیر اپنے بھائی حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے نہ صرف اُن کو عہدے سے برطرف کر دیا بلکہ اپنے پاس نظر بند بھی کر لیا ۔ اِس کا یہ عذر پیش کیا کہ باوجودیکہ میں اِس بات کو خوب جانتا ہوں کہ تم حمزہ بن عبداﷲ سے کہیں زیادہ گورنری کے مستحق اور اہل ہو۔ مگر میرے سامنے حضرت عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ کی مثال موجود ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ جیسے شخص کو برطرف کردیا تھا اور اُن کی جگہ عبداﷲ بن عامر کو گورنر مقرر کردیا تھا ۔ 


حمزہ بن عبداﷲ کی نااہلی


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے اپنے بیٹے کو بصرہ کا گورنر بنایا لیکن وہ بہت ہی نااہل ثابت ہوا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حمزہ بن عبداﷲ بن زبیر کو بصرہ کا گورنر بنا دیا گیا ۔ یہ حالانکہ بہت ہی سخی تھا لیکن اِس کے مزاج میں استقلال نہیں تھا ۔ جب سخاوت پر آتا تھا تو اپنا سب کچھ لُٹا دیتا تھا اور جب بخل کتنے لگتا تھا اس کی نظیر نہیں ملتی ۔ بصرہ میں اس سے بعض خفیف اور سبک حرکتیں ظاہر ہوئیں ۔ ایک روز حمزہ بن عبداﷲ اہواز گیا اور اس کا پہاڑ دیکھ کر کہا : یہ مکۂ مکرمہ کے کوہ قیعقان کے مشابہ ہے ۔ اِس بنا پر اس کا نام بھی قیعقان رکھ دیا ۔ حمزہ بن عبداﷲ نے مروان شاہ کو اپنے وکیل کے ذریعے خراج ادا کرنے کا حکم دیا ۔ مروان شاہ نے کچھ تساہل کیا تو حمزہ بن عبداﷲ نے اسے تلوار کے ایک ہی وار سے قتل کر ڈالا ۔ حمزہ بن عبداﷲ نے بصرہ میں کچھ ایسی بد نظمیاں پیدا کردیں اور ایسی بد عنوانیاں کیں کہ بصرہ کے لوگوں نے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ سے درخواست کی کہ حمزہ بن عبداﷲ کو معزول کر کے حضر ت مصعب بن زیر کو بصرہ کا گورنر بنا دیا جائے ۔ 


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!


D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں