اتوار، 1 ستمبر، 2024

Saltanat e Umayya part 29


 ا29 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 29

رسو ل اﷲصلی اﷲ علیہ وسلم کی خانۂ کعبہ کے بارے میں چاہت، خانۂ کعبہ کی ابراہیمی طرز پر تعمیر، ھ64 ھجری کا اختتام، ھ65 ہجری :عبدالملک اور عبدالعزیز کی‘‘ ولی عہدی’’، مروان بن حکم کا انتقال، عبدالملک بن مروان سلطنت امیہ کا حکمراں، مروان بن حکم کے بھیجے ہوئے لشکر، خوارج کا حملہ، مہلب اور خوارج میں جنگ، خوارج کی شکست، ھ65 ہجری کا اختتام ،  حضرت عبداﷲ بن عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کا انتقال، 



رسو ل اﷲصلی اﷲ علیہ وسلم کی خانۂ کعبہ کے بارے میں چاہت


اِس سال 64 ہجری میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے خانۂ کعبہ کی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے تعمیر کردہ طریقے پر تعمیر کرائی ۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خانۂ کعبہ کی تعمیر کی تھی تو ‘‘حطیم’’ کا پورا حصہ خانۂ کعبہ کے اندر تھا اور وہ‘‘ مستطیل نما’’ تھا اور اُس کے دو دروازے تھے ۔ بعد میں خانۂ کعبہ کے شکستہ ہونے کے بعد جب قریش نے نئے سرے سے اُس کی تعمیر کی تو پیسے کی کمی کی وجہ سے خانۂ کعبہ کو ‘‘مربع نما ’’ یعنی چوکور بنادیااور ایک ہی دروازہ کر دیا اور ‘‘حطیم’’ کو خانۂ کعبہ کے باہر کر دیا ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ خانۂ کعبہ کو ابراہیمی طرز پر بنادیں لیکن انہیں وقت نہیں ملا اور اسے بعد میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے ابراہیمی طرز پر بنا کر پورا کردیا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے خانۂ کعبہ کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی چاہت کے مطابق دوبارہ تعمیر کر دیا ۔جیسا کہ صحیحین ( صحیح بخاری اور صحیح مسلم) میں اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا :‘‘ اے عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا! اگر تمہاری قوم نئی نئی کفر سے نہیں نکلی ہوتی تو میں خانۂ کعبہ کو ڈھا دیتا اور حجر کو اِس میں شامل کردیتا ۔ بے شک تمہاری قوم کو اخراجات نے روک دیا اور میں اس کے مشرقی اور مغربی دروازے کو بناتا جن میں سے ایک سے لوگ داخل ہوتے اور دوسرے سے باہر آجاتے اور میں اس کے دروازے کو زمین سے لگا دیتا ۔ بے شک تمہاری قوم نے اس کے دروازے کو بلند کر دیا ہے تاکہ جسے چاہیں داخل کریں اور جسے چاہیں روک دیں ۔ ’’ 


خانۂ کعبہ کی ابراہیمی طرز پر تعمیر


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو خانۂ کعبہ کے بارے میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی چاہت کے بارے میں معلوم تھا ۔اِس لئے جب آپ رضی اﷲ عنہ حکمراں بنے تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی چاہت کو پورا کیا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال ۶۴ ؁ ہجری میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے خانۂ کعبہ کی نئے سرے سے تعمیر کرائی کیونکہ اس کی دیوار منجنیق سے پتھروں کی بارش کی وجہ سے جھک گئی تھی ۔ پس آپ رضی اﷲ عنہ نے خانۂ کعبہ کی دیواریں گرا دی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد تک پہنچ گئے ۔اس کے پیچھے طواف کرتے اور نماز پڑھتے رہے اور آپ رضی اﷲ عنہ نے ‘‘حجر اسود’’ کو ایک تابوت میں رکھ لیا جو ریشمی کپڑوں میں تھا اور خانۂ کعبہ میں جو زیورات ، کپڑے اور خوشبوئیں خزانچی کے پاس تھیں انہیں جمع کرلیا ۔ یہاں تک کہ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے خانۂ کعبہ کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی چاہت کے مطابق دوبارہ تعمیر کردیا اور اسے اُسی طرح ابراہیمی طرز تعمیر پر بنایا جیسا اُن کی خالہ جان اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا نے آپ رضی اﷲ عنہ کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے حوالے سے بتایا تھا ۔ اﷲ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال ۶۴ ؁ ہجری میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے خانۂ کعبہ کو منہدم کر کے زمین کے برابر کر دیا اِس لئے کہ منجنیق سے پتھروں کی بارش کی وجہ سے دیواریں جھک گئیں تھیں ۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے خانۂ کعبہ کی بنیاد کھدوائی اور حجر اسود کو اس کے اندر شامل کر لیا ۔ اُس زمانہ میں لوگ اُسی بنیاد کے گرد طواف کرتے تھے اور نماز کی جگہ نماز پڑھتے تھے ۔ حجر اسود اور باقی چیزوں کو حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے ایک ریشمی کپڑے میں لپیٹ کر اپنے پاس رکھ لیا اور جب خانۂ کعبہ کی تعمیر مکمل ہوگئی تو انہیں اُن کی جگہ پر رکھ دیا ۔ 


ھ64 ھجری کا اختتام


اِس سال 64 ہجری میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔چونکہ آپ رضی اﷲ عنہ کی حکومت مملکت اسلامیہ کے ایک بہت بڑے علاقے پر تھی اِسی لئے ہم اُن کے گورنروں کے بارے میں بتادیتے ہیں ۔اُس وقت مروان بن حکم اپنی حکومت کو مستحکم کرنے میں لگا ہوا تھا ۔ مدینۂ منورہ کا گورنر حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے اپنے بھائی حضرت عبیدہ بن زبیر کو بنایا ۔ کوفہ کا گورنر عبیداﷲ بن یزید خطمی کو بنایا ۔ اور کوفہ کا قاضی سعد بن نمران کو بنایا ۔ بصرہ کا گورنر عمر بن تیمی کو بنایا اور وہاں کا قاضی ہشام بن ہبیرہ کو بنایا ۔ خراسان کا گورنر عبداﷲ بن حازم کو بنایا ۔یہاں 64 ہجری کا اختتام ہوا ۔ 


ھ65 ہجری :عبدالملک اور عبدالعزیز کی‘‘ ولی عہدی’’


اِس سال 65 ہجری میں مروان بن حکم نے اپنے دو بیٹوں عبدالملک بن مروان اور عبدالعزیز بن مروان کی ‘‘ولی عہدی’’ کا اعلان کیا ۔ عبدالعزیز بن مروان مشہور ‘‘عادل حکمراں’’ حضرت عُمر بن عبدالعزیز جنہیں کچھ علما ‘‘خلیفۂ راشد’’ بھی کہتے ہیں کے والد ہیں ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عمرو بن سعید بن عاص نے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے بھائی مصعب بن زبیر کو شکست دے کر دمشق واپس آیا تو اُس کی بہت عزت بڑھ گئی ۔ مروان بن حکم کی حکومت پورے ملک شام اور ملک مصر پر مضبوط اور مستحکم ہو چکی تھی ۔ مروان بن حکم کو خبر لگی کہ عمرو بن سعید کہتا ہے کہ ‘‘مروان بن حکم کے بعد وہ مسلمانوں کا ‘‘امیر المومنین ’’ہو گا اور اِس کا وعدہ خود مروان بن حکم نے اُس سے کیا ہے ۔’’ یہ اطلاع ملنے کے بعد مروان بن حکم نے حسان بن بحدل کو اپنے پاس بلایا ۔ حسان بن بحدل چاہتا تھا کہ مروان بن حکم کے بعد یزید کا بیٹا خالد بن یزید حکمراں بنے لیکن وہ ابھی بہت چھوٹا تھا ۔ مروان بن حکم نے حسان بن بحدل سے کہا :‘‘ میں چاہتا ہوں کے اپنے بیٹوں عبدالملک اور عبدالعزیز کو ‘‘ولی عہد’’ بنا دوں اور لوگوں سے اِس کی بیعت لے لوں ۔’’ اور اِسی کے ساتھ اُس نے عمرو بن سعید کے ارادے کو بتایا اور یہ بھی بتایا کہ اُسے لگتا ہے کہ اُس کا آخری وقت آ پہنچا ہے ۔ حسان بن بحدل نے کہا: ‘‘ آپ عمرو بن سعید کی فکر نہ کریں اُس سے میں سمجھ لوں گا ۔ ’’ جب تمام لوگ مروان بن حکم کے دربار میں جمع ہوئے تو حسان بن بحدل نے کھڑے ہو کر کہا: ‘‘ مجھے معلوم ہوا ہے کہ لوگوں کو بڑی بڑی اُمیدیں ہیں ۔آپ سب کھڑے ہوں اور امیر المومنین مروان بن حکم کے بعد عبدالملک اور عبد العزیز کے لئے بیعت کریں۔’’ تمام لوگوں نے بلا حیل و حجت بیعت کر لی ۔ 


مروان بن حکم کا انتقال


اِس سال 65 ہجری میں مروان بن حکم کا انتقال ہوگیا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : جب ان ممالک میں مروان بن حکم کی حکومت مستحکم ہو گئی تو اُس نے اپنے بیٹے عبدالملک اور عبدالعزیز کے لئے بیعت لی اور خالد بن یزید کی بیعت کو ترک کر دیا کیونکہ وہ اُسے حکومت کا اہل نہیں سمجھتا تھا ۔ مالک بن حسان جو خالد بن یزید کا ماموں تھا اُس نے بھی اِس معاملے میں اتفاق کیا ۔ پھر خالد بن یزید کی ماں یعنی یزید کی بیوہ جو اب مروان بن حکم کی بیوی بن چکی تھی ۔اُس نے مروان بن حکم کے خلاف سازش کی اور اُسے زہر دے دیا اور یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ اُس نے سونے کی حالت میں مروان بن حکم کے چہرے پر تکیہ رکھ کر دبا دیا اور وہ گلا گھٹ کر مر گیا اور پھر اُس نے لونڈیوں کو بلند آواز سے پکارا اور بولی کہ امیر المومنین مر گئے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ مروان بن حکم نے بھرے دربار میں خالد بن یزید کی توہین کی اور اُس کی ماں کے بارے میں برا کہا ۔ خالد بن یزید نے یہ واقعہ اپنی ماں سے آ کر بتایا ۔ ماں نے کہا کہ کسی سے ذکر نہیں کرنا میں اُس سے سمجھ لوں گی ۔ جب مروان بن حکم اُس کے پاس آیا تو پوچھا : ‘‘ کیا خالد نے میرے بارے میں کوئی بات کہی ہے ؟’’ اُس نے کہا : ‘‘ بھلا خالد تمہارے بارے میں کوئی بات کیسے کہہ سکتا ہے ؟ وہ تو تمہاری بہت زیادہ عزت کرتا ہے۔’’ مروان بن حکم نے اس پر یقین کر لیا ۔ کچھ دنوں بعد ایک رات مروان بن حکم اُس کے پاس سویا ہوا تھا تو اُس نے تکیہ اُس کے چہرے پر رکھ کر اِس طرح دبایا کہ وہ مر گیا ۔ مروان بن حکم کی حکومت کی مدت نو (9) مہینے تھی ۔ بعض نے نو (9) مہینے ستائیس (27) دن بھی بتائی ہے ۔ 


عبدالملک بن مروان سلطنت امیہ کا حکمراں


مروان بن حکم کے مرنے کے بعد ملک شام کے لوگوں نے عبدالملک بن مروان کو ‘‘سلطنت اُمیہ کا حکمراں بنا دیا ۔ یہ بہت ہی چالاک اور سوجھ بوجھ کا مالک تھا اور اِس نے حکومت کا انتظام بہت ہی بہترین طریقے سے سنبھالا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : تین (3) رمضان المبارک 65 ہجری میں دمشق میں مروان بن حکم کے مر جانے کے بعداُس کے بیٹے عبدالملک بن مروان سلطنت اُمیہ کا حکمراں بن گیا ۔ اِس کو لوگ ‘‘ابوالملوک’’ ( بادشاہوں کا باپ) بھی کہتے تھے ۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اِس کے چار بیٹے ولید ، سلیمان ، یزید اور ہشام سلطنت اُمیہ کے بادشاہ بنے جیسا کہ انشاء اﷲ آگے ذکر آئے گا ۔ چونکہ اِس کے مسوڑھوں سے اکثر خون بہتا رہتا تھا جس کی وجہ سے اس پر مکھیاں بیٹھا کرتی تھیں اِسی لئے اسے ‘‘ابو الذباب’’ کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا ۔ عبدالملک اُنتیس (29) سال کی عُمر میں حکمراں بنا ۔ یہ مدینۂ منورہ میں بڑا ہوا اور اسلام کا بہت بڑا عالم تھا ۔امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں : کسی شخص نے حضرت عبدا ﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے دریافت کیا: ‘‘ آپ رضی اﷲ عنہ قریش کے مشہور عالم ہیں لیکن آپ رضی اﷲ عنہ کے بعد ہم کس سے مسائل دریافت کریں ؟’’ حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :‘‘ مروان بن حکم کا بیٹا عبدالملک ‘‘فقیہ’’ ہے۔اُس سے دریافت کر لیا کرنا۔’’عبدالملک نوجوانی میں جب مدینۂ منورہ میں رہتا تھا تو ایک دن حضرت ابو ہریرہ سے ملنے کے لئے آیا ۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے اُسے دیکھ کر فرمایا : ‘‘ ایک دن یہ نوجوان مملکت اسلامیہ کا مالک ہو گا ۔’’ عبدالملک ایک نہایت حوصلہ مند سپاہی بھی تھا اور افریقہ کی فتوحات میں وہ اپنی جنگی قابلیت کا ثبوت اپنے باپ کے دورِ حکومت میں دے چکا تھا ۔ عبدالملک کو ایک کمزور حکومت اپنے باپ سے ورثے میں ملی اور اِس حکومت کو کئی خطرے تھے ۔ سب سے بڑا خطرہ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ سے تھا ۔دوسرا خطرہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ کے ماننے والوں کا تھا جو حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کی شہادت کے بعد مسلسل زور پکڑتے جا رہے تھے اور اُن کی جنگی طاقت بھی بڑھ چکی تھی ۔ تیسرا خطرہ خوارجوں سے تھا جنہوں نے مملکت اسلامیہ میں جگہ جگہ شورش برپا کر رکھی تھی۔ 


مروان بن حکم کے بھیجے ہوئے لشکر


اپنی حکومت کے آخری دنوں میں مروان بن حکم نے دو لشکر بھیجے تھے ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : عبدالملک بن مروان کے باپ کی زندگی میں ہی لوگوں نے اِس کی حکومت کو تسلیم کر لیا تھا اور جب تین رمضان المبارک 65 ہجری کو اس کا باپ مر گیا تو دمشق ، مصر اور اُس کے مضافات میں اس کی تجدید بیعت ہوئی اور اپنے باپ کی طرح اس کا ہاتھ بھی مضبوط ہو گیا ۔ مرنے سے پہلے مروان بن حکم نے دو لشکر بھیجے تھے ۔ ایک لشکر کا سپہ سالار عبید اﷲ بن زیاد کو بنا کر ملک عراق کی طرف بھیجا تاکہ وہ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے گورنروں سے ملک عراق چھین لے ۔ راستے میں ‘‘عین الوردۃ’’ کے مقام پر سلیمان بن صرد کی سپہ سالاری میں ‘‘توابین’’ (توابین حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے قاتلین سے بدلہ لینے کا مطالبہ کرتے تھے )کے لشکر سے جنگ ہوئی ۔ جس میں عبیداﷲ بن زیاد کو فتح حاصل ہوئی اور اُس نے توابین کے سپہ سالارکو اور بہت سے لوگوں کو قتل کیا ۔ مروان بن حکم نے دوسرا لشکر حبیش بن دلجہ کی سپہ سالاری میں مدینۂ منورہ بھیجا تھا تاکہ وہ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے گورنر سے مدینۂ منورہ چھین لے ۔ جب وہ مدینہ پہنچا تو جابر بن اسود بن عوف بھاگ گیا ۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی طرف سے بصرہ کے گورنر عبداﷲ بن ربیعہ نے بصرہ سے لشکر روانہ کیا اور حبیش بن دلجہ نے اس کے بارے میں سنا تو اپنا لشکر لیکر اس کے مقابلے پر آیا حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے عباس بن سہل کو مدینۂ منورہ کا گورنر بنا کر بھیجا اور اُسے حکم دیا کہ لشکر لیکر حبیش بن دلجہ کے مقابلے پر جائے ۔ وہ لشکر لیکر نکلا تو اُسے حبیش بن دلجہ اپنے لشکر کے ساتھ مقام ‘‘ربذہ’’ میں ملا ۔ دونوں لشکروں میں جنگ ہوئی تو یزید بن سیاہ نے حبیش بن دلجہ کو تیر مار کر قتل کردیا ۔ اس کے قتل ہوتے ہی اُس کے لشکر کو شکست ہو گئی پانچ سو سپاہی قید ہوئے باقی ملک شام بھاگ گئے ۔ قیدیوں کو عباس بن سہل نے قتل کرا دیا ۔ 


خوارج کا حملہ


اِس سال 65 ہجری میں خوارج نے حملہ کیا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اِس سال 65 ہجری میں کوفہ سے خوارج نے حملہ کردیا ۔ اُن کا سپہ سالار نافع بن ارزق تھا ۔ اہل بصر ہ کے اختلاف کے سبب خوارج کو استحکام ملا ۔حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی طرف سے بصرہ کے گورنر عبداﷲ بن حارث نے مسلم بن عبیس کو لشکر دیکر اُن کی سرکوبی کے لئے بھیجا ۔ اُس نے میمنہ پر حجاج بن باب حمیری اور میسرہ پر حارثہ بن بدر غدانی کوکمانڈر مقرر کیا ۔خوارج کے میمنہ پر عبیدہ بن ہلا اور میسرہ پر ابن ماحوز تمیمی کمانڈر تھے ۔ مقام ‘‘دولاب’’ (سرزمین اہواز) پر دونوں لشکروں کے درمیان شدیدجنگ ہوئی ۔اِس جنگ میں دونوں لشکر کے سپہ سالار مارے گئے ۔ بصرہ کے لشکر نے حجاج بن حمیری کو اور خوارج نے عبداﷲ بن ماحوز کو سپہ سالاربنا لیا اور جنگ لڑنے لگے ۔ جب یہ دونوں سپہ سالار بھی مارے گئے تو بصرہ کے لشکر نے ربیعہ بن احزم تمیمی کو اور خوارج نے عبیداﷲ بن ماخوز تمیمی کو سپہ سالار بنا لیا ۔ پھر سے شدید جنگ شروع ہو گئی اور فریقین جی توڑ کر لڑنے لگے ۔ شام ہونے لگی تھی اور جنگ کا کوئی فیصلہ ہوتا نظر نہیں آرہا تھا کہ اچانک خوارج کا تازہ دم لشکر آگیا جس سے خوارج کو زبردست مدد مل گئی ۔ انہوں نے بصرہ کے لشکر پر زبردست حملہ کیا اور اِس حملے میں بصرہ کا سپہ سالار ربیعہ بن احزم تمیمی مارا گیا ۔ اِس کے بعد حارثہ بن زید نے جھنڈا سنبھالا اور تھوڑی دیر تک لڑتا رہا لیکن جب دیکھا کہ اُس کے اکثر سپاہیوں کے قدم اُکھڑ گئے ہیں تو وہ دھیرے دھیرے اہواز کی طرف روانہ ہوگیا اور خوارج بصرہ کی طرف روانہ ہو گئے ۔


مہلب اور خوارج میں جنگ


بصرہ کے لشکر کوشکست ہوئی اور خوار ج فتح حاصل کرنے کے بعد بصرہ کی طرف بڑھے ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اہل بصرہ کو اِس شکست سے بہت صدمہ ہوا ۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے عبداﷲ بن حارث کو معزول کر کے حارث بن ربیعہ کو بصرہ کا گورنر بنا دیا ۔ خوارج کا لشکر جس وقت بصرہ کے قریب پہنچا تو احنف بن قیس کو سپہ سالار بنانا چاہا احنف بن قیس نے مہلب بن ابی صفرہ کا نام لیا جسے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے خراسان کا گورنر بنا کر بھیجا تھا ۔مہلب نے اِس شرط پر سپہ سالار بننا منظور کیا کہ بیت المال میں سے اس کو اور اس کے ہمراہیوں کا کافی خرچ دیا جائے گا اور جس سر زمین کو وہ فتح کر لے گا اور اُس کا مالک سمجھا جائے گا ۔ بصرہ سے بارہ ہزار کا لشکر لیکر مہلب بن ابی صفرہ خوارج کی طرف بڑھا ۔ مقام ‘‘جسر اصغر’’ پر دونوں لشکروں میں جنگ ہوئی اور خوارج شکست کھا کر ‘‘جسر اکبر’’ کی طرف چلے ۔ مہلب نے اپنے لشکر کے ساتھ تعاقب کیا اور خوارج جسر اکبر سے بھی بھاگے اور ‘‘نہر تیری’’ پر پہنچے اور وہاں سے مُڑ کر اہواز کی طرف بھاگے ۔ مہلب کو اپنے جاسوسوں کے ذریعے خوارجوں کی نقل و حرکت کی برابر اطلاع مل رہی تھی ۔ اُس نے نہر تیری پر اپنے بھائی معارک بن ابی صفرہ کو متعین کر کے اہواز کا رخ کیا ۔ خوارج کے ‘‘ مقدمۃ الجیش’’ سے جنگ ہوئی اور خوارج شکست کھا کر ‘‘مناذر’’ کی طرف بھاگے ۔ مہلب نے تعاقب کیا ،خوارج بہت تیزی سے نہر تیری کی طرف واپس آئے اور حالت غفلت میں معارک بن ابی صفرہ کو گرفتار کر کے پھانسی دے دی ۔ مہلب کو اِس کی اطلاع ہوئی تو اُس نے اپنے بیٹے مغیرہ بن مہلب کو معارک بن ابی صفرہ کی تجہیز و تکفین کے لئے روانہ کیا اور خود خوارج سے جا کر مقام ‘‘سولاف’’ پر ٹکرا گیا ۔ خوارج نے مجموعی قوت سے مہلب کے لشکر پر حملہ کیا جس سے مہلب کے لشکر کے قدم اُکھڑ گئے ۔بہت سے سپاہی قتل ہوئے اور بہت سے بھاگ کھڑے ہوئے لیکن مہلب اور اُس کا بیٹا اپنے رسالے ساتھ ڈٹے رہے اور جنگ کرتے رہے ۔ پھر مہلب نے اپنے ساتھیوں کو للکارا تو چار ہزار واپس لوٹ کر آئے اور مہلب نے رات کی تاریکی میں سنبھل کر خوارج پر زبردست حملہ کردیا اور دھیرے دھیرے سولاف سے ‘‘عاقول’’ پر آکر پڑاؤ ڈال دیا ۔ 


خوارج کی شکست


مہلب کو ہزیمت اُٹھانے کے بعد چین نہیں تھا اور وہ پھر خوارج پر حملہ آور ہوا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : مہلب بن ابی صفرہ اپنے لشکر کے ساتھ تین دن تک عاقول میں ٹھہرا ۔ جب اُس کی طبیعت کو یک گونہ قرار ہو گیا اور اپنے لشکر کو از سر نو مرتب کر لیا تو پھر خوارج کے مقابلے پر جاپہنچا ۔ خوارج مقام ‘‘سری و سلبری’’ میں قیام پذیر تھے ۔انہیں مہلب کی آمد کی اطلاع ملی تو انہوں نے بھی لشکر مرتب کر لیا ۔ پورا دن زبردست جنگ ہوتی رہی ۔ شام کے وقت خوارج نے ایسا زبردست حملہ کیا کہ مہلب کا لشکر بے قابو ہو کر نہایت ابتری سے بھاگ نکلا ۔ مہلب نے ایک ٹیلہ پر چڑھ کر ‘‘میرے پاس آؤ! اے اﷲ کے بندو، میرے پاس آؤ! اے اﷲ کے بندو۔’’ چلانا شروع کر دیا ۔ تین ہزار آدمی جس میں اکثر اُسی کی قوم یعنی بنو ازد کے تھے آ کر جمع ہو گئے ۔ مہلب نے ایک پُر جوش تقریر کرنے کے بعد کہا : ‘‘ تم لوگ دس پتھر اُٹھا لو اور ہمارے ساتھ دشمنوں پر سنگباری کرتے ہوئے دشمنوں کے لشکر کی طرف چلو ۔ وہ اِس وقت دن بھر کے تھکے ہوئے جنگ و جدل سے بے خوف ہو کر پڑے ہوئے ہیں اور اُن کے سوار تمہارے منہزم سپاہیوں کے تعاقب میں گئے ہوئے ہیں ۔ اﷲ کی قسم! مجھے اُمید ہے کہ وہ لوگ واپس نہیں آ پائیں گے کہ تم اُن پر فتح حاصل کر لو گے ۔ ’’ مہلب کی اِس تقریر نے اُن کے شکستہ دلوں میں ایک تازہ روح پھونک دی اور سب کے سب اپنے دامنوں میں اور جیبوں میں پتھر بھر بھر کر خوارج کے سروں پر جاپہنچے ۔ جب پتھر ختم ہو گئے تو نیزوں سے حملے کرنے لگے اور جب نیزوں نے بھی جواب دے دیا تو تلواروں سے لڑنے لگے ۔ اکثر خوارج مارے گئے اور جب اُن کے سوار تعاقب سے واپس آئے تو اپنے پڑاؤ تک نہیں پہنچ سکے کیونکہ راستے میں ہی مہلب نے اپنے لشکر کے ساتھ اُن کا راستہ روک لیا ۔ وہ مجبوراً کرمان اور اصفہان کی طرف روانہ ہو گئے ۔ مہلب نے کامیابی کے بعد وہیں قیام کیا یہاں تک کہ مصعب بن زبیر بصرہ کے گورنر بن کر آئے اور حارث بن ربیعہ کو معزول کر دیا ۔ 


ھ65 ہجری کا اختتام 


اِس سال 65 ہجری کے اختتام پر مملکت اسلامیہ میں دو حکومتیں چل رہی تھیں ۔ ملک شام اور ملک مصر میں عبدالملک بن مروان کی حکومت تھی ۔ ملک حجاز میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی حکومت تھی اور ملک عراق اور ملک ایران میں خوارج اور حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے قاتلین سے بدلہ لینے والے جنہیں ‘‘توابین’’ کہا جاتا تھا شورش برپا کئے ہوئے تھے ۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ اور عبدالملک بن مروان اِن سے مسلسل جنگ کر رہے تھے اور دونوں ملک عراق اور ملک ایران میں اپنی حکومت مضبوط کرنا چاہتے تھے ۔ اِس سال 65 ہجری میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو حج کروایا ۔ مدینۂ منورہ میں مصعب بن زبیر گورنر تھے ۔ کوفہ میں عبداﷲ بن مطیع گورنر تھا اور بصرہ کا گورنر حارث بن عبداﷲ تھا ۔ 


حضرت عبداﷲ بن عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کا انتقال


اِس سال 65 ہجری میں حضرت عبداﷲ بن عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔ آپ رضی اﷲ عنہ کئی سال تک رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے خدمتگار کی حیثیت سے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ رہے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ کا نکاح ہوا تو آپ رضی اﷲ عنہ کے والد حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ ملنے کے لئے آئے اور بہو سے گھر کے حالات پوچھے اور شوہر کے بارے میں پوچھا تو بہو نے کہا : ‘‘ آپ رضی اﷲ عنہ کے بیٹے اور میرے شوہر تو اتنے نیک ہیں کہ رات بھر نماز پڑھتے ہیں اور دن بھر روزہ رکھتے ہیں ۔’’ حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بیٹے کے بارے میں بتایا ۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت عبداﷲ بن عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کو بلوایا اور فرمایا :‘‘ تمہارے اوپر تمھارے بدن کا بھی حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی حق ہے ۔ اِس لئے ایک مہینے میں تین روزے رکھا کرو اور ایک مہینے میں ایک بار قرآن پاک ختم کیا کرو ۔’’ حضرت عبداﷲ بن عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا : ‘‘ یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم! میں اِس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔’’ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا :‘‘ ٹھیک ہے! پھر تم ہر پیر اور ہر جمعرات کو روزہ رکھا کرو اور ایک ہفتے میں ایک بار قرآن پاک ختم کیا کرو ۔’’ حضرت عبداﷲ بن عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا : ‘‘ یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم! میں اِس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ۔’’ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ‘‘ ٹھیک ہے! پھر تم حضرت داؤد علیہ السلام کی طرح روزہ رکھو ۔ وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن نہیں رکھتے تھے اور تین دن میں قرآن پاک ختم کیا کرو ۔ ’’ حضرت عبداﷲ بن عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا : ‘‘ یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم! میں اِس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ۔’’ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ‘‘ جس نے روزآنہ روزہ رکھا اُس نے روزہ نہیں رکھا اور جس نے تین دن سے کم وقت میں قرآن پاک ختم کیا اُس نے قرآن پاک پڑھا ہی نہیں ۔’’ اِس کے بعد حضرت عبداﷲ بن عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ اِس پر قائم رہے لیکن بڑھاپے میں فرمایا کرتے تھے :‘‘ کاش میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ کی پہلی بات کو مان لیا ہوتا ۔’’ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عبداﷲ بن عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ بزرگ علماء اور عبادت گذار صحابی رضی اﷲ عنہم میں سے تھے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی احادیث کو لکھا ہے اور آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے والد حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ سے بہت پہلے اسلام قبول کیا تھا ۔ آپ رضی اﷲ عنہ بڑے وسیع العلم اور عبادت گذار اور دانش مند تھے اور آپ رضی اﷲ عنہ اپنے والدحضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کا ساتھ دینے کی وجہ سے اکثر سمجھایا کرتے تھے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ قرآن پاک اور توریت دونوں کے عالم تھے ۔ آخری عُمر میں اندھے ہو گئے تھے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن نہیں رکھتے تھے ۔ اور اکثر راتوں میں قیام کرتے تھے اور قرآن پاک کی تلاوت کرتے تھے ۔ اِس سال 65 ہجری میں آپ رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔ 


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!


Saltanat e Umayya part 30


 ا30 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 30

ھ66 ہجری مختار ثقفی کا کوفہ پر قبضہ، حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے قاتلین کی تلاش، حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے قاتلین کا انجام، مثنیٰ بن مخرمہ کی شکست، عبدالملک بن مروان نے مدینۂ منورہ کی طرف لشکر روانہ کیا، مختار ثقفی کے لشکر کی شکست، حضرت محمد بن حنفیہ کی گرفتاری اور رہائی، اہل شام کو حج کرنے سے روک دیا، بیت المقدس کی نئی تعمیر، خانۂ کعبہ سے مقابلہ، 



ھ66 ہجری مختار ثقفی کا کوفہ پر قبضہ


اِس سال 66 ہجری میں توابین یعنی شیعان علی نے کوفہ پر قبضہ کر لیا ۔ کوفہ پر حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے عبداﷲ بن مطیع کو گورنر بنایا ہوا تھا ۔ توابین کا سپہ سالار مختار بن ابی عبید ثقفی تھا اور اُس کے ساتھ ابراہیم بن اشتر تھا ۔مختار کے پاس چار ہزار کا لشکرجمع ہو گیا تھااور وہ یہ لشکر لیکر کوفہ کی طرف بڑھا ۔ عبداﷲ بن مطیع کو اِس کی خبر ملی تو اُس نے تین ہزار کا لشکر بھیجا اور اس کا سپہ سالار شبث بن ربعی کو بنایا ۔اِس کے علاوہ ایک چار ہزار کا لشکر اور بھیجا اوراس کا سپہ سالار راشد بن ایاس کو بنایا ۔ مختار بن ابی عبید ثقفی نے بارہ سو کا لشکر ابراہیم بن اشتر کو دیکر راشد بن ایاس کے مقابلے پر بھیجا اور نعیم بن ہبیرہ کو نو سوکا لشکر دے کر شبث بن ربعی کے مقابلے پر بھیجا ۔ ابراہیم بن اشتر کے مقابلے میں راشد بن ایاس کے لشکر کو شکست ہوئی اور راشد بن ایاس قتل ہوگیا ۔ نعیم بن ہبیرہ کے مقابلے میں شبث بن ربعی کو فتح ہوئی اور نعیم بن ہبیرہ قتل ہو گیا ۔ اِس کے بعد شبث بن ربعی نے مختار بن ابی عبید ثقفی کا محاصرہ کر لیا ۔ ابراہیم بن اشتر اُسے بچانے کے لئے آیا تو عبداﷲ بن مطیع نے حسان بن فائد کو دو ہزار کا لشکر دے کا اُس کا راستہ روکنے کے لئے بھیجا ۔ دونوں لشکروں میں جنگ ہوئی اور ابراہیم بن اشتر کو فتح حاصل ہوئی ۔ اِس کے بعد وہ شبث بن ربعی کے پاس آیا جس نے مختار بن ابی عبید ثقفی کا محاصرہ کیا ہوا تھا ۔ شبث بن ربعی نے دونوں لشکروں کا مقابلہ کیا اور انہیں کوفہ کے باہر تک کھدیڑ دیا ۔ اس کے بعد ایک بار پھر مختار لشکر لیکر کوفہ کی طرف روانہ ہوا تو عبداﷲ بن مطیع نے عمرو بن حجاج کی سپہ سالاری میں دو ہزار کا ایک لشکر اُس کے مقابلے کے لئے بھیجا ۔ اس کے مقابلے کے لئے مختار نے یزید بن انس کو لشکر دیکر بھیجا اور خود ابراہیم بن اشتر کے ساتھ لشکر لیکر ‘‘باب کناسہ’’ سے کوفہ میں داخل ہوا ۔ عبداﷲ بن مطیع نے شمر بن ذی جوشن کو جس نے حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کو شہید کیا تھا دوہزار کا لشکر دیکر روانہ کیا تو مختار نے اس کے مقابلے کے لئے سعد بن منقذ کو بھیجا ۔مختار کوفہ میں داخل ہوا تو نوفل بن مساحق پانچ ہزار کے لشکر کے ساتھ اُس کے مقابلے پر موجود تھا ۔ عبداﷲ بن مطیع اپنے محل سے باہر نکلا اور شبث بن ربعی کو اپنا نائب بنایا ۔ ابراہیم بن اشتر نے حملہ کر کے انہیں شکست دی اور عبداﷲ بن مطیع کے محل کا تین دن تک مختار کے ساتھ محاصرہ کئے رہا ۔ عبداﷲ بن مطیع نے مختار بن ابی عبید ثقفی سے امان طلب کی جو اُس نے دے دی کیونکہ وہ اُس کا پرانا دوست تھا ۔ عبداﷲ بن مطیع خاموشی سے بصرہ چلا گیا اور کوفہ پر مختار بن ابی عبید ثقفی کا قبضہ ہو گیا ۔ 


حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے قاتلین کی تلاش


کوفہ کا انتظام مختار بن ابی عبید ثقفی نے سنبھال لیا ۔اُس نے کوفہ کے بیت المال میں نو کروڑ درہم پائے اور اس نے اس لشکر کو جو اس کے ساتھ تھا بہت سارے انعامات دیئے ۔ عبداﷲ بن یشکری کو پولیس کا سب سے بڑا افسر بنایا ۔ پھر مختار نے اپنے لشکروں کو ملک عراق اور خراسان کی طرف اور دوسرے شہروں کی طرف روانہ کیا اور جھنڈے باندھے اور امارتیں اور ریاستیں قائم کیں ۔ کوفہ میں صبح و شام بیٹھ کر لوگوں کے فیصلے کرنے لگا اور شریح کو قاضی بنادیا ۔ پھراُسے معزول کر کے عبداﷲ بن عتبہ کو قاضی بنایا اور پھراُسے بھی معزول کر کے عبداﷲ بن مالک کو قاضی بنادیا ۔ پھر مختار بن ابی عبید ثقفی نے حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے قاتلین کی تلاش شروع کر دی اور جو بھی سامنے آیا اسے قتل کردیا ۔ اِس کے لئے مختار بن ابی عبید ثقفی کو اہل کوفہ سے جنگ بھی کرنی پڑی کیونکہ حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے قاتلین اہل کوفہ کو مختار کے خلاف مسلسل بھڑکا رہے تھے اور لشکر جمع کر رہے تھے ۔ آخر کار مختار کے لشکر اور حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے قاتلین کے لشکر میں شدید جنگ ہوئی اور مختار کو فتح حاصل ہوئی ۔ 


حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے قاتلین کا انجام


حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے قاتلین کو مختار ڈھونڈ رہا تھا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : وادئ عیین سے پانچ سو سپاہی گرفتار کر لئے گئے ۔ مختار نے نصف آدمیوں کو جو شہادت حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ میں شریک تھے قتل کر ڈالا اور باقی کو رہا کر دیا ۔ جنگ کے خاتمہ پر مختار نے منادی کرادی کہ ہر شخص کے لئے جو لڑائی سے اپنے آپ کو روک لے گا امان ہے سوائے اس کے جو اہل بیت کی خون ریزی میں شریک ہوا تھا ۔ عمرو بن حجاج یہ سن کر بھاگ گیا اور اُس کا کوئی پتہ نہیں چلا ۔ بعض کا خیال ہے کہ مختار کے ساتھیوں میں سے کسی نے اُس کو گرفتار کر کے سر کاٹ لیا تھا ۔ شمر بن ذی جوشن کے تعاقب میں مختار کا ایک غلام گیا ہوا تھا ۔ جب یہ قریب پہنچا تو شمر بن ذی جوشن نے اُسے قتل کر دیا اور قریہ ‘‘کلبانیہ’’ بھاگ گیا ۔ وہ یہ سمجھا کہ بچ گیا ہے لیکن اُس قریہ کے قریب ہی ایک قریہ میں مختار کا ایک ساتھی ‘‘ابو عمرہ’’ اہل بصرہ کی روک تھا کے لئے ٹھہرا ہوا تھا ۔ اُسے شمر بن ذی جوشن کے بارے میں خبر ملی تو وہ اپنے لشکر کو لیکر آیا اور شمر بن ذی جوشن پر حملہ کردیا ۔ اُس نے بھی اپنے لشکر کے ساتھ مقابلہ کیا لیکن شمر کو شکست ہو گئی اور اُس کے ساتھ سو آدمی قتل ہوئے ۔ شمر بن ذی جوشن کو بھی قتل کر دیا گیا اور اُس کی لاش کو کتوں اور مردارخوروں کو کھلا دیا گیا ۔ یہ واقعہ 66 ہجری کے آخری دنوں کا ہے ۔ اِس واقعہ کے بعد مختار بن ابی عبید ثقفی ،حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے قاتلوں کو چن چن کر قتل کرنے لگا ۔ عبیداﷲبن اسد جہنی ، مالک بن نسیر کندی ، حمل بن مالک محاربی کو قادسیہ سے گرفتار کراکے قتل کیا ۔ اِس کے بعد زیاد بن مالک ضبعی ، عمران بن خالد عثری ، عبدالرحمن بن خشکارہ بجلی اور عبداﷲ بن قیس خولانی جنہوں نے میدان کربلا میں حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کا اسباب لوٹا تھا بیڑیاں ڈال کر گرفتار کر کے حاضر کئے گئے اور مختار بن ابی عبید ثقفی کے اِن سب کو قتل کرادیا گیا ۔ اِس کے بعد عبداﷲ یا عبدالرحمن بن طلحہ ، عبداﷲ بن وہب ہمدانی ، پیش کیا گیا اور انہیں بھی قتل کردیا گیا ۔ اِس کے بعد عثمان بن خالد جہنی ، بزر بن سمط قابسی جنہوں نے حضرت عبدالرحمن بن عقیل رضی اﷲ عنہ کو شہید کیا تھا اور اُن کا مال و اسباب لوٹ لیا تھا ) کو قتل کر کے آگ میں جلا دیا ۔ خولی بن یزید اصبحی نے حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کا سر کاٹا تھا وہ جان کے خوف سے چھپ گیا تھا لیکن اُسے بڑی شدت سے تلاش کر کے لایا گیا اور اُس کا سر کاٹ کر مختار نے جلوا دیا ۔ اِس کے بعد عُمر بن سعد کے قتل کا حکم صادر ہوا حالانکہ اُس نے عبداﷲ بن ابی جعدہ کی معرفت امان حاصل کر لی تھی ۔ لیکن جب مختار بن ابی عبید ثقفی نے حکم دیا تو ابو عمرہ اُس کا سر کاٹ کر لایا ۔ مختار نے اُس کے سر کو محمد بن حنفیہ کے پاس بھیج دیا اور خط لکھا :‘‘ حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے قاتلین میں سے جس جس پر میرا زور چلا تو میں نے اُسے قتل کر ڈالا اور باقی لوگوں کی گرفتاری اور قتل کی فکر میں ہوں ۔’’ 


مثنیٰ بن مخرمہ کی شکست


مختار بن ابی عبید ثقفی نے کوفہ پر قبضہ کرنے کے بعد بصرہ پر بھی قبضہ کرنے کی کوشش کرنے لگا اور اِس کے لئے لشکر بھی بھیجا لیکن بصرہ کے گورنر حارث بن ابی ربیعہ یعنی قباع نے اُسے بصرہ سے بھگا دیا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : مثنیٰ بن مخرمہ عبدی جنگ ‘‘عین الودرہ’’ میں سلیمان بن صرد کے ساتھ تھا جو اُس کے قتل کے بعد مختار کے پاس کوفہ چلا آیا تھا اور اُس کے ہاتھ پر حکومت کی بیعت کر لی تھی ۔ مختار نے اس کو بصرہ کی طرف اہل بیت کے قصاص لینے کی غرض سے روانہ کیا ۔ تھوڑے ہی دنوں میں مثنیٰ بن مخرمہ نے ایک بڑا لشکر جمع کر لیا اور بصرہ پر حملہ کرنے کے لئے روانہ ہوا ۔ بصرہ کے گورنر قباع نے عباد بن حسین اور وین بن ہیثم کو لشکر دے کر اُس کے مقابلے کے لئے روانہ کیا ۔ انہوں نے مثنیٰ بن مخرمہ کا شکست دی اور وہ بھاگ کر اپنی قوم بنو عبدالقیس میں جا کر چھپ گیا ۔ بصرہ کے گورنر قباع نے اُس کی گرفتاری پر ایک دستہ مقرر کیا تو زیاد بن عمر عنکی قباع کے پاس آیا اور بولا : ‘‘ تم اپنے گھڑ سواروں کو ہمارے بھائیوں کے محاصرے سے بلا لو ورنہ ہم اُن سے لڑنے لگیں گے ۔’’ قباع کے مصلحت کے تحت احنف بن قیس کو بھیجدیا اور اُس نے جنگ چھڑنے سے پہلے ہی پہنچ کر اِس صورت میں محاصرہ اُٹھا لیا کہ بنو عبدالقیس مثنیٰ بن مخرمہ کو نکال دیں ۔ انہوں نے اُسے نکال دیا اور وہ کوفہ روانہ ہو گیا ۔ 


عبدالملک بن مروان نے مدینۂ منورہ کی طرف لشکر روانہ کیا


مملکت اسلامیہ میں دو حکومتیں چل رہی تھیں ۔ایک ملک شام اور ملک مصر پر تھی اور اُس کا ‘‘مرکذ’’ دمشق’’ تھا ۔ دوسری ملک حجاز اور آس پاس کے علاقوں پر تھی اور اس کا ‘‘مرکذ’’ مکۂ مکرمہ تھا ۔ ملک شام کی حکومت کا حکمراں عبدالملک بن مروان تھا اور ملک حجاز کی حکومت کے حکمراں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ تھے ۔ عبدالملک بن مروان چاہتا تھا کہ ملک حجاز اور ملک عراق اور ملک ایران پر بھی اُس کی حکومت قائم ہو جائے اور اِس کے لئے وہ مسلسل کوشش بھی کرتا رہتا تھا ۔اِسی سلسلے میں اُس نے 66 ہجری میں ایک لشکر مدینۂ منورہ ‘‘وادئ القریٰ’’ کی طرف بھیجا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : کچھ عرصے بعد عبدالملک بن مروان نے عبدالملک بن حارث کو سپہ سالار بنا کر ایک لشکر ‘‘وادئ القریٰ’’ کی طرف روانہ کیا ۔ مختار نے یہ خبر سن کر حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو لکھا :‘‘ اگر آپ رضی اﷲ عنہ پسند کریں تو میں امداد کے لئے ایک لشکر بھیج دوں ۔’’ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے جواب دیا : ‘‘ اگر تم میرے مطیع ہو تو یہ بہت اچھی بات ہے اور نہایت تیزی سے ایک لشکر عبدالملک کے لشکر کے مقابلے کے لئے وادئ القریٰ میں بھیج دو۔’’ مختار نے فوراً شرجیل بن دوس ہمدانی کو سپہ سالار بنا کر تین ہزار کا لشکر دیا جس میں اکثر آزاد کردہ غلام تھے اور حکم دیا کہ مدینۂ منورہ کے پاس پہنچ کر اطلاع دینا پھر جیسا میں حکم دوں گا اُس کی تعمیل کرنا ۔ 


مختار ثقفی کے لشکر کی شکست


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے مختار کو لشکر بھیجنے کا حکم دے دیا لیکن آپ رضی اﷲ عنہ کو اُس پر اعتبار نہیں تھا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں :یہ جواب روانہ کرنے کے بعد حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے خیالات مختار کے بارے میں بدل گئے ۔ انہوں نے مکۂ مکرمہ سے عباس بن سہل کو سپہ سالار بنا کر دوہزار کا لشکر دے کر یہ سمجھا کر روانہ کیا :‘‘ مختار کا لشکر اگر مطیع ہو کر آیا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ اُسے واپس کردینا یا جنگ کر کے ہلاک کر دینا ۔’’ عباس بن سہل اور شرجیل بن دوس کی مقام ‘‘ رقیم’’ میں ملاقات ہوئی ۔ عباس بن سہل نے کہا: ‘‘ تم اپنا لشکر لیکر ہمارے ساتھ دشمن کے مقابلے کے لئے ‘‘وادئ القریٰ’’ چلو ۔’’ شرجیل بن دوس نے کہا : ‘‘ مجھے مختار نے سیدھے مدینۂ منورہ جانے کا حکم دیا ہے ۔اِسی لئے میں تمہارے ساتھ وادئ القریٰ نہیں جاؤں گا ۔’’ عباس بن سہل کو اِس جواب سے پورا یقین ہو گیا کہ مختار نے مخالفت کے لئے لشکر بھیجا ہے مگر تالیف قلوب کے لئے گوشت ، گھی اور پکا ہوا کھانا بھیج دیا ۔ شرجیل بن دوس اور اُس کے سپاہی بھوکے اور پیاسے تھے ۔ ایک چشمہ پر کھانے اور پینے میں مصروف ہو گئے ۔ عباس بن سہل نے اپنے لشکر میں سے ایک ہزارآزمودہ سپاہیوں کو لیکر حملہ کر دیااور شرجیل بن دوس کے ساتھ اُس کے ستر سپاہیوں کو قتل کر دیا ۔ باقی سپاہیوں کو امان دے دی اور وہ لوگ پریشانی کے عالم میں کوفہ پہنچے اور اُن میں سے اکثر راستے میں ہی مر گئے ۔


حضرت محمد بن حنفیہ کی گرفتاری اور رہائی


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ اور حضرت محمد بن حنفیہ کے درمیان خلیج پیدا کرنے کے لئے مختار بن ابی عبید ثقفی نے اِس واقعہ سے پورا فائدہ اُٹھایا ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اِس واقعہ سے مختار کو حضرت محمد بن حنفیہ اور حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو لڑوا دینے کا بھر پور موقع مل گیا ۔ اُس نے حضرت محمد بن حنفیہ کے پاس ایک شکایت بھرا خط لکھا : ‘‘ میں نے ایک لشکر آپ کی فرمانبرداری اور اہل بیت کے دشمنوں کو ذلیل کرنے کے لئے ایک لشکر روانہ کیا تھا لیکن عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے اُن کے ساتھ برتاؤ کیا ہے ۔ اگر آپ اجازت دیں تو میں ایک لشکر مدینہ کی طرف روانہ کروں ،بشرطیکہ آپ بھی اپنی طرف سے ایک آدمی بھیج دیں تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ میں آپ کا مطیع ہوں ۔’’ حضرت محمد بن حنفیہ نے جواباً لکھا: ‘‘ میں تمہار قصد ، تمہاری حق شناسی کو جانتا ہوں ۔ میرے نزدیک سب سے اچھا عمل یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی اطاعت سے باہر قدم نہیں رکھا جائے ۔ پس تم حتیٰ الامکان اﷲ تعالیٰ کی اطاعت کرتے رہو اور مسلمانوں کی خونریزی سے پرہیز کرو ۔ اگر میرا مقصد جنگ کرنا ہوتا تو میرے پاس بہت سارے لوگ جمع ہوجاتے ۔ میرے معین و مدد گار بہت زیادہ ہیں لیکن میں نے اس کو معزول کر رکھا ہے اور میں صبر و شکر کر رہا ہوں ۔ یہاں تک کہ اﷲ تعالیٰ ہی کوئی حکم صادر فرمائے اور اﷲ ہی ‘‘خیر الحاکمین ’’ہے ۔’’ اِس کے بعد حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے حضرت محمد بن حنفیہ سے کہا کہ وہ اپنے اہل بیت کے اور ساتھیوں کے ساتھ بیعت کر لیں لیکن آپ نے انکار کردیا ۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے بیعت کے لئے عبداﷲ بن ہانی کندی کو بھیجا تھا اور وہ سختی اور درشتی سے پیش آیا لیکن آپ برابر صبر و تحمل سے کام لیتے رہے اور مجبور ہو کر اُس نے آپ کو اپنے حال پر چھوڑ دیا ۔ مگر اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت محمد بن حنفیہ کے ساتھیوں نے کھلم کھلا حضرت محمد بن حنفیہ کی بیعت کرنے کی دعوت دینی شروع کر دی ۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو خوف ہوا کہ لوگ برہم نہ ہو جائیں ۔اِسی لئے خود بیعت لینے کا ارادہ کیا اور اِس مقصد کے لئے حضرت محمد بن حنفیہ کو مقام ‘‘زمزم’’ میں قید کر دیا اور ایک مدت مقرر کر دی کہ اِس دوران میں بیعت کر لو نہیں تو قتل کر دیئے جاؤ گے ۔ ’’ حضرت محمد بن حنفیہ نے تمام واقعہ مختار کو لکھا تو عبداﷲ جدلی کو سپہ سالار بنا کر تین سو کا لشکر اور حضرت محمد بن حنفیہ کے لئے چال لاکھ درہم مکۂ مکرمہ بھیجا ۔ یہ لشکر جب مکۂ مکرمہ کے قریب پہنچا تو سب ہتھیار اُتار دیئے اور ایک ایک لکڑی ہاتھ میں لے لی کیونکہ وہ مکۂ مکرمہ میں تلوار اُٹھانا حرام سمجھتے تھے ۔ یہاں تک کہ وہ زمزم کے پاس پہنچے اور دروازہ توڑ کر حضرت محمد بن حنفیہ کو نکالا ۔ اُس وقت مدت ختم ہونے میں صرف دو دن رہ گئے تھے ۔ لوگوں نے حضرت عبداﷲ بن زبیر سے اجازت مانگی کہ اِن سب کو گرفتار کر کے قتل کر دیا جائے تو آپ رضی اﷲ عنہ نے انہیں جانے کی اجازت دے دی اور فرمایا: ‘‘ میں حرم میں جنگ کرنا جائز نہیں سمجھتا ہوں ۔’’ اِس کے بعد حضرت محمد بن حنفیہ زمزم سے نکل کر ‘‘شعب علی’’ میں چلے گئے اور رفتہ رفتہ وہاں اُن کے پاس چار ہزار سے زیادہ آدمی جمع ہو گئے۔ 


اہل شام کو حج کرنے سے روک دیا


اِس سال 66 ہجری میں عبدالملک بن مروان نے ‘‘بیت المقدس’’ کی نئی تعمیر شروع کروائی ۔علامہ عماد الدین اسماعیل ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 66 ہجری میں عبدالعزیز بن مروان نے ملک مصر میں دینار ڈھالے اور یہ ملک مصر میں دینا ڈھالنے والے پہلا شخص ہے ۔ اِسی سال عبدالملک بن مروان نے ‘‘بیت المقدس’’ کے ‘‘صخرہ’’ پر گنبد بناے اور ‘‘مسجد اقصٰی’’ کی عمارت کی تعمیر کی ابتداء کیا اور اس کی عمارت 73 ہجری میں مکمل ہوئی ۔اِس کا سبب یہ تھا کہ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ مکۂ مکرمہ پر قابض تھے اور وہی منٰی اور عرفہ کے ایام میں خطبہ دیتے تھے اور لوگوں کے سامنے عبدالملک بن مروان کو برا بھلا کہتے اور بنو مروان کی برائیوں کا ذکر کرتے اور فرماتے : ‘‘ بے شک رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ‘‘حکم’’ ( مروان بن حکم کا باپ اور عبدالملک بن مروان کا دادا)اور اُس کی اولاد پر لعنت فرمائی ہے اور وہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا دھتکارا ہوا ہے ۔’’ آپ رضی اﷲ عنہ اپنی بیعت کی دعوت دیا کرتے تھے اور آپ رضی اﷲ عنہ بڑے فصیح البیان تھے اور ملک شام کا بڑا حصہ آپ رضی اﷲ عنہ کی طرف مائل ہوگیا ۔عبدالملک بن مروان کو اِس امر کی اطلاع ملی تو اُس نے ملک شام کے لوگوں کو حج کرنے سے روک دیا ۔ انہوں نے شور مچایا تو عبدالملک بن مروان نے صخرہ پر گنبد اور مسجد اقصٰی کی تعمیر کی تاکہ اہل شام کو حج سے غافل کردے اور اُن کے دلوں کو بیت المقدس کی طرف مائل کردے ۔ اہل شام صخرہ کے پاس کھڑے ہوتے اور اُس کے ارد گرد اِس طرح طواف کرتے جیسے وہ خانۂ کعبہ کے گرد طواف کرتے تھے اور بقرعید کے دن قربانی کرتے اور اپنے سروں کو منڈاتے تھے ۔


بیت المقدس کی نئی تعمیر


ملک شام کے لوگوں کو حج کے لئے مکۂ مکرمہ جانے سے عبدالملک بن مروان نے روک دیا اور اُن کے لئے بیت المقدس کی اتنی خوب صورت تعمیر کرائی کہ ہر کوئی اس کی زیارت کو آنے لگا ۔ علامہ عماد الدین اسماعیل ابن کثیر لکھتے ہیں : جب عبدالملک بن مروان نے بیت المقدس کی تعمیر کا ارادہ کیا تو اِس کام کو رجاء بن حیوۃ اور اپنے غلام یزید بن سلام کے سپرد کیا ۔ تمام شہروں سے بہترین کاریگر جمع کر کے بیت المقدس بھیج دیا اور دونوں کو حکم دیا کہ خوب اموال خرچ کریں اور انتہائی شاندار تعمیر کریں ۔اُن دونوں نے اخراجات کو خوب پھیلایا اور گنبد کو شاندار طور پر تعمیر کیا اور رنگین سنگ مرمر سے اُس کا فرش بنایا اور گنبد کے لئے دو جھول بنائے ۔ ایک سردیوں کے لئے جو سرخ پود کا تھا اور دوسرا گرمیوں کیلئے جو چمڑے کا تھا اور مختلف قسم کے پردوں سے گنبد کا گھیراؤ کیا ۔ اس کے لئے مختلف قسم کی خوشبوؤں ، کستوری ، عنبر ، گلاب اور زعفران کے لئے خادم مقرر کئے ۔ وہ اس سے خوشبو بناتے اور رات کو گنبد اور مسجد کو دھونی دیتے تھے ۔ اس میں سنہری اور نقرئی قندیلیں اور زنجیریں اور بہت سی اشیاء لگائی گئیں ۔ اس میں قماری جو عموماً کستوری سے ڈھکا ہوتا تھا لگایا گیا اور گنبد اور مسجد میں مختلف قسم کے رنگین قالین بچھائے گئے ۔ جب وہ نجور چھوڑتے تو اسے بعید مسافت سے سونگھا جاتا اور جب کوئی شخص بیت المقدس سے اپنے شہر واپس جاتا تو کئی دنوں تک اس سے کستوری ، خوشبو اور نجور کی خوشبو محسوس ہوتی رہتی تھی اور معلوم ہوجاتا تھا کہ وہ شخص بہت المقدس سے آیا ہے اور صخرہ میں داخل ہو کر آیا ہے ۔ 


خانۂ کعبہ سے مقابلہ


مکۂ مکرمہ میں تمام مسلمان حج کرنے کے لئے آتے تھے ۔ عبدالملک بن مروان نے ملک شام کے لوگوں کو مکۂ مکرمہ حج کے لئے جانے سے روک دیا اور اُن کے لئے بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ اور صخرہ کے گبند کو اتنا عالیشان بنوایا کہ لوگ اس کی زیارت کے لئے آنے لگے ۔ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ اور صخرہ کے گنبد کے بہت سے خدام اور منتظم تھے اور اُن دنوں روائے زمین پر بیت المقدس کے صخرہ کے گنبد سے بڑھ کر کوئی خوبصورت عمارت موجود نہیں تھی ۔ اس کی وجہ سے لوگ کعبہ اور حج سے غافل ہو گئے تھے اِس لئے کہ وہ حج کے دنوں میں بھی بیت المقدس کے سوا کسی طرف نہیں جاتے تھے اور اِس سے لوگ فتنہ میں پڑ گئے اور ہر جگہ سے لوگ وہاں آنے لگے ۔ آخر میں انہوں نے اِس میں بہت سے جھوٹے اشارات و علامات بنا دیں ۔ اِس میں انہوں نے پل صراط اور جنت کے دروازے اور رسول ا صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاؤں اور وادئ جہنم کی تصویر کشی کی ۔ اِسی طرح اس کے دروازوں اور کئی جگہوں میں ایسا کیا جس سے لوگ فریب کھا گئے تھے ۔جب صخرہ بیت المقدس کی تعمیر سے فراغت ہوئی تو روئے زمین پر اس کی خوش منظری کی کوئی نظیر موجود نہیں تھی ۔ اس میں نگینے ، جواہر اور رنگ برنگے پتھر کے ٹکڑے اور بہت سی چیزیں جڑی ہوئی تھیں اور اِن میں بہت سی خوبصورت اقسام تھیں ۔جب خلافت عباسیہ کا بادشاہ ابو جعفر منصور 140 ہجری میں بیت المقدس آیا تو اُس نے مسجد کو ویران پایا تو اُس نے گنبد اور دروازوں پر جو سونا اور پتھر لگے تھے انہیں اکھاڑنے کا حکم دے دیا ۔ اس کے بعد جو ٹوٹ پھوٹ ہوئی اُسے ٹھیک کروایا تو پہلے مسجد طویل تھی تو اُس نے اس کے طول کو کم کر کے عرض میں اضافہ کروادیا ۔ جب عمارت مکمل ہو گئی تو اُس نے گنبد کے دروازے پر لکھوا دیا : ‘‘ امیر المومنین عبدالملک بن مروان نے 62 ہجری میں ٹوٹ پھوٹ کے بعد اس کی تعمیر کا حکم دیا اور قبلہ سے شمال کی طرف مسجد کا طول 765 گز تھا اور بیت المقدس 16 ہجری میں فتح ہواتھا ۔ واﷲ و اعلم۔ 


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

ہفتہ، 31 اگست، 2024

Saltanat e Umayya part 31



ا31 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 31

عبیداﷲ بن زیاد کے مقابلے پر لشکر کی روانگی، ھ66 ہجری کا اختتام، ھ67 ہجری : عبیداﷲ بن زیاد کا انجام، حضرت مصعب بن زبیر بصرہ کے گورنر، حضرت مصعب بن زبیر کے پاس شکست خوردہ کا اجتماع، حضرت مصعب بن زبیر کی کوفہ کی طرف پیش قدمی، مختار ثقفی کی شکست اور قتل، ابراہیم بن اشتر کا فیصلہ، حضرت مصعب بن زبیر کی معزولی، حمزہ بن عبداﷲ کی نااہلی، 



عبیداﷲ بن زیاد کے مقابلے پر لشکر کی روانگی


حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے شہید کرنے کا حکم عبیداﷲ بن زیاد نے دیا تھا ۔ اﷲ تعالیٰ نے دنیا میں اُس کا بہت بھیانک انجام کیا اور آخرت کا انجام ابھی باقی ہے۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : مختار بن ابی عبید ثقفی کو 66 ہجری کے اواخر میں کچھ فراغت حاصل ہوئی تو اُس نے 66 ہجری کے آخری مہینے ذی الحجہ کی بائیس (22) تاریخ کو ابراہیم بن اشتر کو لشکر دے کر عبیداﷲ بن زیاد کے مقابلے پر روانہ کیا اور اپنے نامی گرامی مصاحبوں ، شہسواروں اور جنگ آوروں کو اسی کرسی سمیت اُس کے ہمراہ کر دیا جس سے ضرورت کے وقت وہ مدد طلب کیا کرتا تھا ۔ یہ کرسی سونے کی منڈھی ہوئی تھی اور مختار نے اپنے متبعین کو یہ سمجھا رکھا تھا کہ جیسا بنی اسرائیل میں ‘‘تابوت سکینہ’’ تھا ویسی ہی یہ کرسی ہے ۔ بیان کیا جاتا ہے کہ یہ کرسی حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ کی تھی ۔ جس کو مختار نے جعدہ بن ہنیرہ سے خرید لیا تھا جو سیدہ اُم ہانی بنت ابی طالب رضی اﷲ عنہا کا بیٹا تھا ۔ 


ھ66 ہجری کا اختتام


اِس سال 66 ہجری کا یہ آخری واقعہ تھا ۔ اِس کے بعد 67 ہجری کی شروعات میں عبیداﷲ بن زیاد کے لشکر کو شکست ہوئی اور اُسے قتل کیا گیا ۔ یہ جنگ 67 ہجری میں ہوئی اِس لئے ہم آگے اِس جنگ کے بارے میں حلات پیش کریں گے ۔ اِس سال 66 ہجری میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔ مدینۂ منورہ میں آپ رضی اﷲ عنہ کا بھائی مصعب بن زبیر گورنر تھا ۔بصرہ کا گورنر حارث بن عبداﷲ بن ابی ربیعہ تھا ۔ کوفہ کا گورنر مختار بن ابی عبید ثقفی تھا ۔ اور بلاد خراسان کا گورنر عبداﷲ بن حازم مستولی تھا ۔ 


ھ67 ہجری : عبیداﷲ بن زیاد کا انجام


اِس سال 67 ہجری میں عبیداﷲ بن زیاد اپنے انجام کو پہنچا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : ابراہیم بن اشتر کوفہ سے روانہ ہوکر ملک عراق کو چھوڑتا ہوا سر زمین موصل میں پہنچا ۔ جس کے زیادہ تر حصے پر عبیداﷲ بن زیاد نے قبضہ کر لیا تھا ۔ ابراہیم بن اشتر نے نہر حازم (خازر) پر قیام کر کے طفیل بن یقط نخعی کو بطور ‘‘مقدمۃ الجیش’’ آگے بڑھایا ۔ عبید اﷲ بن زیادنے بھی اِس لشکر کے آنے کی اطلاع پا کر اپنے لشکر کے ساتھ جو ملک شام سے لیکر آیا تھا نہر کے قریب آ کر پڑاؤ ڈال دیا ۔ عبداﷲ بن زیاد کا میسرہ کمانڈرعمیر بن حباب خفیہ طور سے ابراہیم بن اشتر سے ملنے کے لئے آیا اور وعدہ کیا کہ جنگ کے وقت میں میسرہ کو لیکر بھاگ کھڑا ہوں گا اور تم جنگ میں تاخیر نہیں کرنا کیونکہ تمہارے تاخیر کرنے سے عبیداﷲ بن زیاد کی طاقت بڑھ جائے گی ۔ اِس قرارداد کی وجہ سے ابھی صبح بھی نہیں ہونے پائی تھی کہ ابراہیم بن اشتر خیمہ سے نکل کر اپنے لشکر کو جنگ کے لئے اُبھارنے لگا ۔ جں ہی سپیدۂ سحر نمودار ہوا اُس نے باجماعت نماز پڑھا کر اپنے لشکر کی صفیں مرتب کر دیں ۔ عبیداﷲ بن زیاد نے بھی اپنے لشکر کو مرتب کیا اور سورج نکلتے نکلتے جنگ شروع ہو گئی ۔ حصین بن نمیر نے جو میمنہ کا کمانڈر تھا ابراہیم کے میسرہ پر حملہ کردیا ۔ علی بن مالک قتل ہوگیا تو قرد بن علی نے لپک کر جھنڈا اُٹھا لیا اور لڑنے لگا ۔ جب یہ بھی قتل ہوگیا تو ابراہیم کے میسرہ میں بھگڈر مچ گئی ۔عبداﷲ بن ورقا سلولی نے جھنڈا (علم) اُٹھایا اور اپنے ساتھیوں کو للکارااور بھاگنے والے ایک نئے جوش کے ساتھ پلٹے اور عبیداﷲ بن زیاد کے میسرہ پر حملہ کر دیا ۔ وعدہ کے مطابق عبیداﷲ بن زیاد کے میسرہ کا کمانڈر عمیر بن حباب اپنے سپاہیوں کے ساتھ بھاگ گیا ۔ اب ابراہیم کے لشکر کا پلہ بھاری ہوگیا اور انہوں نے عبداﷲ بن زیاد کے لشکر کو گاجر مولی کی طرح کاٹنا شروع کر دیا ۔ ہر طرف آہ و زاری کے نعرے بلند ہورہے تھے اوزخمیوں کے خون کے فوارے بلند ہو رہے تھے ۔ نیزوں اور تلواروں کی آوازوں سے کان کے پردے پھٹے جاتے تھے ۔ آخر کار ابراہیم بن اشتر کو فتح حاصل ہوئی ۔ جنگ ختم ہونے کے بعد ابراہیم بن اشتر نے کہا: ‘‘ میں نے ایک جھنڈے والے شخص کو قتل کیا ہے جو بہت زیادہ خوشبو لگائے ہوئے تھا اور میں اپنی تلوار سے اُس کے نصفا نصف دو ٹکڑے کر دیئے ۔ذرا دیکھو تو وہ شخص کون ہے ؟’’ لوگوں نے تلاش کیا تو وہ عبید اﷲ بن زیاد تھا ۔ اُس کا سر کاٹ کر اُس کی لاش جلا دی گئی ۔ حصین بن نمیر بھی اُس لشکر کا ایک کمانڈر تھا جس نے حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کو شہید کیا تھا ۔ حضرت شریک بن جدیر جو حضرت علی بن ابی طالب کے ساتھ ہر جنگ میں شریک تھے انہوں نے حصین بن نمیر کو عبیداﷲ بن زیاد سمجھ کر پکڑ لیا اور اپنے ساتھیوں سے بولے کہ حملہ کرو ۔ اُن کے ساتھیوں نے حصین بن نمیر کو قتل کردیا ۔ بعض کا بیان ہے کہ حضرت شریک بن جدیر نے عبیداﷲ بن زیاد کو قتل کیا اور عبداﷲ بن زہی سلمی کا دعویٰ ہے کہ اُس نے عبیداﷲ بن زیاد کو قتل کیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب شامی لشکر یعنی عبیداﷲ بن زیاد کا لشکر شکست کھا کر بھاگا ابراہیم بن اشتر کے لشکر نے اُن کا تعاقب کیا اور ملک شام کے سپاہی مقتولین سے زیادہ بھاگنے کے فراق میں دریا میں ڈوب کر مر گئے ۔ پھر ابراہیم بن اشتر کے لشکر نے ملک شام کے لشکر گاہ پر قبضہ کر لیا جس میں ہر قسم کی اشیاء موجود تھیں ۔ 


حضرت مصعب بن زبیر بصرہ کے گورنر


ملک شام کے لشکر کو شکست دینے کے بعد ابراہیم بن اشتر نے وہیں ‘‘موصل’’ میں رہائش اختیار کر لی اور وہیں سے مختلف علاقوں میں اپنے گورنر بھیجے ۔ علامہ محمدبن جریر طبری لکھتے ہیں : مختار کوفہ واپس آگیا اور ابراہیم بن اشتر موصل میں قیام پذیر ہو گیا اور اُس کے تمام علاقوں پر اپنے گورنروں کو روانہ کیا ۔ اپنے بھائی عبدالرحمن بن اشتر کو نصیبن کا گورنر بنا کر بھیجا ۔ اِس کے علاوہ سنجار ، ودار اور اُس سے متصل ملک جزیرہ کا جو علاقہ تھا اُس پر بھی قبضہ کر لیا ۔ اِس سال 67 ہجری میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے بصرہ کے گورنر قباع کو معزول کر دیا اور اپنے بھائی حضرت مصعب بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو بصرہ کا گورنر مقرر کیا ۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے آزاد کردہ غلام کہتے ہیں کہ ‘‘میں بھی اُن لوگوں میں تھا جو مکۂ مکرمہ سے حضرت مصعب بن زبیر کے ساتھ بصرہ آئے تھے ۔ حضرت مصعب بن زبیر نے اپنے چہرے کو نقاب میں پوشیدہ رکھا تھا اور جب بصرہ کی جامع مسجد کے دروازے پر اُترے اور مسجد میں داخل ہو کر منبر پر چڑھے اور بصرہ کے لوگوں نے کہا : ‘‘ گورنر آگئے ۔’’ اتنے میں حارث بن ابی ربیعہ یعنی قباع جو پہلے بصرہ کے گورنر تھے مسجد میں داخل ہوئے ۔ مصعب بن زبیر نے اپنا چہرہ بے نقاب کیا تب لوگوں نے انہیں شناخت کیا اور کہا : ‘‘ آپ حضرت مصعب بن زبیر ہیں ۔’’ حضرت مصعب بن زبیر نے حارث بن ابی ربیعہ کہا : ‘‘ منبر پر آؤ۔’’ حارث بن ابی ربیعہ منبر پر چڑھ گیا اور حضرت مصعب بن زبیر سے ایک سیڑھی نیچے بیٹھا ۔ حضرت مصعب بن زبیر خطبے کے لئے کھڑے ہوئے اور حمد ثنا کے بعد بولے :‘‘ طسم ۔ یہ اﷲ کی روشن کتاب کی آیات ہیں ۔ ہم تمہارے سامنے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا حال بیان کرتے ہیں ۔ بے شک فرعون فساد کرنے والوں میں سے تھا ۔’’ یہاں تک تلاوت کرنے کے بعد ملک شام کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور پھر یہ آیت تلاوت کی:‘‘ اور ہم چاہتے ہیں ان لوگوں پر احسان کریں جو اس شرزمین پر ذلیل کئے گئے ہیں ۔ ہم انہیں سردار بنا دیں گے اور انہیں کو وارث کریں گے ۔’’ یہ آیت تلاوت کرنے کے بعد ملک حجاز کی طرف اشارہ کیا پھر یہ آیت تلاوت کی :‘‘ اور ہم فرعون و ہامان اور اُن کے لشکروں کو ان کی جانب سے وہ دکھائیں گے جن کا ڈر انہیں لگا ہوا تھا ۔’’ اور پھر ملک شام کی طرف اشارہ کیا ۔ عوانتہ کہتے ہیں کہ حضرت مصعب بن زبیر نے بصرہ میں اپنے پہلے خطبے میں اہل بصرہ کو مخاطب کر کے کہا : ‘‘ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم اپنے گورنروں کے نام رکھ لیا کرتے ہو اور اِس لئے میں نے اپنا نام ‘‘قصاب’’ رکھا ہے ۔’’ 


حضرت مصعب بن زبیر کے پاس شکست خوردہ کا اجتماع


بصرہ کا انتظام حضرت مصعب بن زبیر نے سنبھال لیا تو اُس کے پاس کوفہ کے مختار سے شکست کھائے ہوئے لوگ جمع ہونا شروع ہو گئے ۔ علامہ محمد بن جری طبری لکھتے ہیں : اہل کوفہ جن سے مختار پہلے لڑ چکا تھا اور انہیں شکست دے چکا تھا وہ اب حضرت مصعب بن زبیر سے بصرہ میں آ کر مل گئے ۔ جب شبث بن ربعی بصرہ میں حضرت مصعب بن زبیر کے پاس آیا تو اُس کی یہ حالت تھی کہ ایک خچر پر سوار تھا جس کی دم اور کان چیر دیئے تھے اور اپنی قبا کو چاک کر دیا تھا اور پکار رہا تھا ۔ ‘‘ میری فریاد سنیئے ، میری فریاد سنیئے ۔’’ حضرت مصعب کو اس کی اطلاع ہوئی انہوں نے کہا : ‘‘ بے شک یہ شبث بن ربعی ہے ،اس کے سوا کوئی اور یہ ہیئت نہیں بنا سکتا ۔اسے اندر بلا لو ۔’’ شبث بن ربعی اندر آیا اور کوفہ کے سربر آوردہ اشخاص بھی آئے ۔ اپنے آنے کا حل بیان کیا مصیبت کی داستان سنائی اور کہا : ‘‘ ہمارے ہی غلام اور آزاد غلام ہم پر چڑھ آئے ہیں ۔ اب آپ ہماری اعانت کریں اور ہمارے ساتھ مختار پر حملہ کریں ۔ ’’محمد بن اشعث بن قیس بھی حضرت مصعب بن زبیر کے پاس آیا ۔ یہ کوفے کی جنگ میں موجود نہیں تھا بلکہ اُس وقت اپنے قلعے ‘‘طیزناباز’’ میں جو قادسیہ کے قریب تھا مقیم تھا ۔ جب اہل کوفہ کی شکست کی اور مختار کی فتح کی اطلاع اُسے ملی تو نکل بھاگنے کا ارادہ کیا ۔ مختار نے سو گھڑ سواروں کو اُس کی طرف روانہ کیا ۔ جب محمد بن اشعث کو دشمن کے آنے کی اطلاع ملی تو وہ فوراً بے آب و گیاہ جنگل کے راستے بصرہ کی طرف روانہ ہوگیا اور حضرت مصعب بن زبیر سے جا ملا اور انہیں مختار کے خلاف جنگ کے لئے اُبھارا ۔ اُدھر مختار نے لشکر بھیج کر محمد بن اشعث کے قلعے کو منہدم کرا دیا ۔


حضرت مصعب بن زبیر کی کوفہ کی طرف پیش قدمی


بصرہ میں حضرت مصعب بن زبیر کے پاس ایک بہت بڑا لشکر جمع ہو گیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ‘‘ جب حضرت مصعب بن زبیر کے جھنڈے تلے ایک بہت بڑا لشکر جمع ہو گیا تو محمد بن اشعث نے رائے دی کہ مہلب بن ابی صفرہ کو بھی بلا لیا جائے ۔ مہلب بن ابی صفرہ نے خراج وصول کرنے کا بہانہ بنایا لیکن حضرت مصعب بن زبیر کی طلبی پر اُسے حاضر ہونا پڑا اور وہ بھی ایک بہت بڑا لشکر لیکر آیا ۔ اِس کے بعد حضرت مصعب نے سب کو بڑے پل کے پاس چھاونی کے میدان میں جمع ہونے کا حکم دیا اور عبدالرحمن بن مخنف کو بلا کر کہا : ‘‘ تم کوفہ جاؤ اور جس قدر لوگوں پر تمہارا بس چل سکے انہیں میرے لشکر میں شامل کرنے کی کوشش کرو اور انہیں خفیہ طور سے مختار کے خلاف ترغیب دو ۔’’ عبدالرحمن آیا اور چپکے سے اپنے گھر میں بیٹھ گیا ۔ حضرت مصعب بن زبیر نے بنو تمیم کے عباد بن حصین بن معمر کو میمنہ کا کمانڈر بنایا ۔ مہلب بن ابی صفرہ کو میسرہ کا کمانڈر بنایا ۔ بنو بکر بن وائل کے لشکر کا کمانڈر مالک بن مسمع کو بنایا ۔ بنو عبد قیس کے لشکر کا کمانڈر مالک بن منذر کو بنایا ۔ بنو تمیم کے لشکر کا کمانڈر احنف بن قیس کو بنایا ۔ بنو ازد کے لشکر کا کمانڈر زیاد بن عمر ازدی کو بنایا اور اہل نجد کے لشکر کا کمانڈر قیس بن ہیثم کو بنایا ۔ اِس طرح اپنا لشکر مرتب کر کے حضرت مصعب بن زبیر نے اپنے لشکر کے ساتھ کوفہ کی طرف پیش قدمی شروع کر دی ۔ 


مختار نے مقابلے کے لئے لشکر روانہ کیا


حضرت مصعب بن زبیر کے لشکر کی کوفہ کی طرف پیش قدمی کی اطلاع مختار بن ابی عبید ثقفی کو ہوئی تو اُس نے بھی مقابلے کے لئے ایک لشکر تیار کر کے روانہ کیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب مختار کو اِن واقعات کی خبر پہنچی تو وہ اپنے ساتھیوں میں خطبہ پڑھنے کے لئے کھڑا ہوا اور حمد و ثناء کے بعد اُس نے کہا : ‘‘ اے کوفہ والو! اے دین والو! صداقت اور کمزوروں کے مدد گارو! اور اے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے اور آل رسول کے حامی گروہ! تم نے ان باغیوں کو بھگا دیا جنہوں نے سرکشی کی تھی ۔ اب وہ اپنے ہی جیسے فاسقوں کے پاس آئے اور تمہارے خلاف اُبھار کر لائے تاکہ حق مٹ جائے اور باطل کو عروج حاصل ہو اور اﷲ کی جماعت بدل جائے ۔ اﷲ کی قسم! اگر تم ہلاک ہو گئے تو اﷲ کی پرستش صرف اِس طرح ہو گی کہ اُس پر بہتان لگائے جائیں گے اور اُس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کے اہل بیت پر لعن طعن کیا جائے گا ۔ اِس لئے تم فوراً احمر بن شمیط کے ساتھ میدان جنگ میں جانے کے لئے مستعد ہو جاؤ ۔ کیونکہ مجھے پورا یقین ہے کہ اگر تم ان سے لڑو گے تو انشاء اﷲ تم اس طرح انہیں ہلاک کر دو گے جس طرح عاد اور ارم ہلاک ہوئے تھے ۔ ’’احمر بن شمیط کی سپہ سالاری میں مقام ‘‘حمام اعین’’ پر لشکر جمع کیا گیا ۔ مختار نے اُن تمام کمانڈروں کو بلایا جو ابراہیم بن اشتر کے ساتھ تھے اور اُسی ترتیب سے احمر بن شمیط کے ساتھ روانہ کیا ۔ یہ تمام کمانڈر ابراہیم بن اشتر سے علیحدگی اختیار کر چکے تھے کیونکہ انہوں نے دیکھ لیا تھا کہ ابراہم بن اشتر اپنی من مانی کرتا ہے اور مختا کی ذرا بھی پرواہ نہیں کرتا ہے ۔ مختار نے اِن کمانڈروں کو ایک زبردست لشکر دے کر اضمر بن شمیط کے ساتھ روانہ کیا ۔ 


احمر بن شمیط کی شکست


بصرہ سے اور کوفہ سے دو لشکر ایکدوسرے کے مقابلے کے لئے نکلے اور دونوں لشکروں کا سامنا ایک چشمہ پر ہوا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : احمر بن شمیط جنگ کے لئے لشکر لیکر روانہ ہوا ۔اُس نے ‘‘مقدمۃ الجیش’’ پر عبداﷲ بن کامل کو کمانڈر بنایا ۔ چشمۂ مذار کے پاس لشکر پہنچا تو احمر بن شمیط نے پڑاؤ ڈال دینے کا حکم دے دیا ۔ دوسری طرف سے حضرت مصعب بن زبیر بھی اپنے لشکر کو لیکر آگئے اور پڑاؤ ڈال دیا ۔ احمر بن شمیط نے میمنہ پر عبداﷲ بن کامل شاکری کو کمانڈر بنایا ۔ میسرہ پر عبداﷲ بن وہب بن نضلہ کو کمانڈر بنایا ۔ رزیں عبدالسلولی کو گھڑ سواروں کا کمانڈر بنایا ۔ پیدل سپایوں کا کمانڈر کثیر بن اسماعیل کو بنایا ۔ کیسان بن ابی عمرو کے آزاد غلام کو موالیوں کا کمانڈر بنایا ۔ حضرت مصعب بن زبیر نے عباد بن حصین کو سمجھانے کے لئے بھیجا ۔ وہ اپنے دستے کے ساتھ آیا اور کہا: ‘‘ ہم آپ کو کتاب اﷲ اور اس کے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی سنت اور امیر المومنین حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کی دعوت دیتے ہیں ۔ ’’ احمر بن شمیط نے کہا : ‘‘ ہم تمہیں لتاب اﷲ اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی سنت اور امیر مختار کے ہاتھ پر بیعت کرنے کی دعوت دیتے ہیں تاکہ ہم آل رسول میں سے کسی شخص کو آپسی مشورہ کے لئے امیر مقرر کر لیں ۔ اگر کوئی اور شخص اِس بات کا مطالبہ کرے گا کہ وہ آل رسول پر حکمرانی کرے گا تو ہمارا اُس سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ ہم اُس کے خلاف جہاد کریں گے ۔ ’’ اِس کے بعد دونوں لشکروں نے ایکدوسرے پر حملہ کر دیا اور بہت شدید جنگ ہونے لگی حضرت مصعب بن زبیر کے لشکر نے اتنا زبردست حملہ کیا کہ احمر بن شمیط قتل ہوگیا اور اُس کے لشکر کو شکست ہو گئی ۔ اُس کے سپاہی میدان جنگ چھوڑ کر بھاگنے لگے تو انہیں چن چن کر قتل کیا جانے لگا اور اُن کا صفایا کر دیا گیا ۔ 


حضرت مصعب بن زبیر کی کوفہ روانگی


حضرت مصعب بن زبیر کو چشمۂ مذار پر فتح حاصل ہوئی اور وہ اپنے لشکر کو لیکر کوفہ کی طرف روانہ ہوئے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت مصعب بن زبیر اپنے لشکر کو لیکر روانہ ہوئے اور جس جگہ اب ‘‘واسط القصب’’ ہے اُس مقام سے دریا کو عبور کیا ۔ پھر بیاباں کو طے کرنا شروع کیا ۔اِس کے بعد حضرت مصعب بن زبیر نے پیدل سپاہیوں کو اُن کے ساز و سامان کے ساتھ اور ضیعف العمر لوگوں کو کشتیوں میں سوار کردیا اور دریائے خرشاذ سے ہوتے ہوئے دریائے قوسان کو عبور کیا اور اِسی دریا کے راستے سے دریائے فرات میں پہنچ گئے ۔ اہل بصرہ جب کشتیاں چلا رہے تھے تو یہ کہتے جا رہے تھے ۔حضرت مصعب بن زبیر نے ہمیں لانبے کوزہ پشت جہازوں کے اور اُن کی رسی کھینچنے کا عادی بنا دیا ۔’’ جب مختار کو معلوم ہوا کہ دشمن گھوڑوں ،اونٹوں اور کشتیوں پر چلا آرہا ہے تو وہ خود مقابلے کے لئے آگے بڑھا اور مقام ‘‘سلیحسین’’ پر آکر اپنے ڈیرے ڈال دیئے ۔اِس مقام کو دیکھ کر معلوم ہو گیا کہ یہ مختلف دریاؤں کا سنگم ہے ۔ اِس مقام پر دریائے حیرہ ، دریائے سلیحین ، دریائے قادسیہ اور دریائے یوسف آکر دریائے فرات سے ملتے ہیں ۔(اِسے ‘‘مجمع الانہار’’ کہتے ہیں)مختار نے اِسی سنگم پر ایک بند بنا کر دریائے فرات کا پانی روک دیا ۔اِس طرح دریائے فرات کا تمام پانی معاون دریاؤں میں چڑھ گیا ۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بصرہ سے کشتیوں پر سوار ہو کر جو لشکر آرہا تھا اُس کی کشتیاں کیچڑ میں پھنس گئیں ۔ بصرہ والوں نے یہ حالت دیکھی تو کشتیاں چھوڑ دیں اور پا پیادہ کوچ کرنا شروع کیا ۔ اُن کا ‘‘مقدمۃ الجیش’’ اُن سے پہلے دریائے فرات کے اُس بند تک پہنچ گیا اور اُسے منہدم کر کے کوفہ کی طرف اُس نے اپنی باگیں اُٹھا دیں ۔ 


مختار ثقفی کی شکست اور قتل


بصرہ سے حضرت مصعب بن زبیر لشکر لیکر کوفہ پر حملہ کرنے کے لئے آرہے تھے اور ادھر مختار بھی مقابلے کی تیاری کر رہا تھا ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : مختار نے ‘‘مجمع الانہار ’’سے مُڑ کر ‘‘دار الامارت’’ اور جامع مسد کی قلعہ بندی کرنے کے بعد ‘‘حروراء’’ میں قیام کیا ۔ اِسی دوران میں حضرت مصعب بن زبیر بھی لشکر لیکر آگئے ۔ اُن کے میمنہ کا کمانڈر مہلب بن ابی صفرہ ، میسرہ کا کمانڈر عمر بن عبید اﷲ اور گھڑ سواروں کا کمانڈر عبد بن حصین تھا ۔ مختار کے لشکر کے میمنہ کا کمانڈر سلیم بن یزید کندی ، میسرہ کا کمانڈر سعید بن منقذ ہمدانی اور گھڑ سوراوں کا کمانڈر عمر بن عبیدا ﷲ نہدی تھا ۔ محمد بن اشعث اہل کوفہ کے اُس گروہ کا کمانڈر تھا جو مختار کے مقابلے ہر بھاگ کھڑے ہوئے تھے دونوں لشکروں کے درمیان پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا ۔ جنگ شروع ہوئی اور فریقین نے ایکدوسرے پر حملہ کیا ، ہر شخص جاں فروشی کے لئے تیار ہو گیا ۔ عبداﷲ بن جعدہ نے اپنے مد مقابل لشکر پر حملہ کر دیا ۔ وہ لوگ پیچھے ہٹتے ہوئے حضرت مصعب بن زبیر سے جا ملے ۔ حضرت مصعب بن زبیر نے ایک پر جوش تقریر سے اپنے سپاہیوں کو للکارا اور آگے بڑھایا ۔ انہوں نے زبردست حملہ کیا اور مختار کا لشکر اُسے چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا ۔ شام ہوتے ہوتے مالک بن عبداﷲ نہدی نے پیدلوں کو لیکر محمد بن اشعث پر حملہ کیا ۔ وہ اور اُس کے ساتھی کام آگئے ۔حضرت عبید اﷲ بن علی بن ابی طالب شہید ہو گئے ۔ تمام رات جنگ ہوتی رہی ، چاروں طرف ایک شور ِ قیامت برپا تھا ۔ صبح ہونے سے کچھ پہلے مختار کے سپاہی آنکھیں بچا بچا کر علیحدہ ہونے لگے ۔ مختار نے اپنے لشکر کا یہ حال دیکھا تو ‘‘دار الامارت’’ میں جا چھپا ۔ حضرت مصعب بن زبیر نے میدان جنگ سے ‘‘سنجہ’’پہنچ کر پڑاؤ ڈال دیا اور ‘‘دار الامارت’’ کا محاصرہ کر کے رسدو غلہ بند کر دیا ۔ مختار اور اُس کے ساتھیوں کا بھوک اور پیاس سے برا حال ہو گیا ۔ آخر کار مختار اپنے ساتھیوں کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے آیا ۔ جنگ ہونے لگی اور عبداﷲ بن وجاجہ کے بیٹوں نے اُسے قتل کردیا ۔مختار کے  مارے جانے کے بعد شہر والوں نے دروازے کھول دیئے اور کوفہ پر حضرت مصعب بن زبیر کا قبضہ ہو گیا ۔ اِس کے بعد مختار کے ہاتھ کاٹ کر مسجد کے دروازے پر لٹکا دیئے گئے ، جس کو حجاج بن یوسف نے اپنے زمانہ ٔ حکومت میں اتروایا ۔ 


ابراہیم بن اشتر کا فیصلہ


کوفہ سے فارغ ہونے کے بعد حضرت مصعب بن زبیر نے ابراہیم بن اشتر کو اطاعت کرنے کا خط لکھ کر بھیجا اور اُدھر ملک شام سے بھی عبدالملک بن مروان نے اپنی اطاعت کرنے کا خط لکھ کر بھیجا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت مصعب بن زبیر نے اپنے گورنروں کو کوہستانی علاقوں اور میدانی علاقوں کی طرف روانہ کر دیا اور ابراہیم بن اشتر کو خط لکھا ۔ جس میں اُسے دعوت دی گئی کہ تم میری اطاعت کر لو تو میں تمہیں ملک شام تمہیں دے دوں گا اور وہاں کے سپہ سالار بنا دیئے جاؤ گے اور وہ تمام علاقہ جس پر تم نے تسلط کر لیا ہے بدستور تمہارے ہی حیطہ اقتدار میں اُس وقت تک رہے گا جب تک حکومت ‘‘خاندان زبیر ’’میں رہے گی ۔ دوسری جانب عبدالملک بن مروان نے بھی ابراہیم بن اشتر کو اِسی مضمون کا ایک خط لکھا کہ تم میری اطاعت قبول کرلو گے تو ملک عراق کا تما م علاقہ تمہارے قبضہ و تصرف میں دے دیا جائے گا ۔ ابراہیم بن اشتر نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ کیاتو بعض ساتھیوں نے حضرت مصعب بن زبیر کیا اطاعت کرنے کا مشورہ دیا اور بعض ساتھیوں نے عبدالملک بن مروان کی اطاعت کرنے کا مشورہ دیا ۔ ابراہیم بن اشتر نے کہا : ‘‘ اگر میں نے عبید اﷲ بن زیاد اور اہل شام کے دوسرے سرداروں کو قتل نہیں کیا ہوتا تو عبدالملک بن مروان کی دعوت کو قبول کر لیتا ۔ اِس کے علاوہ میں اسے بھی پسند نہیں کرتا کہ اپنے شہر یا قبیلے پر دوسروں کو ترجیح دوں ۔’’ اِس کے بعد ابراہیم بن اشتر نے حضرت مصعب بن زبیر کو لکھا کہ میں آپ کی اطاعت قبول کرتا ہوں اور حاضر ہو کر ‘‘حلف اطاعت’’ اُٹھایا ۔ 


حضرت مصعب بن زبیر کی معزولی


اِس سال 67 ہجری میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے اپنے بھائی حضرت مصعب بن زبیر کو بصرہ کی گورنری سے معزول کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 67 ہجری میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے اپنے بھائی حضرت مصعب بن زبیر کو معزول کر کے اپنے بیٹے حمزہ بن عبداﷲ بن زبیر کو بصرہ کا گورنر بنا دیا ۔ حضرت مصعب بن زبیر کیوں اور کس طرح معزول ہوئے اِس بارے میں مؤرخین کا اختلاف ہے ۔ ایک روایت تو اِس کے متعلق یہ ہے کہ جب حضرت مصعب بن زبیر لشکر لیکر مختار بن ابی عبید ثقفی کے مقابلے کے لئے چلے تو بصرہ پر عبیداﷲ بن عبداﷲ بن معمر کو اپنا قائم مقام بنادیا تھا ۔ مختار کے قتل کے بعد حضرت مصعب بن زبیر اپنے بھائی حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے نہ صرف اُن کو عہدے سے برطرف کر دیا بلکہ اپنے پاس نظر بند بھی کر لیا ۔ اِس کا یہ عذر پیش کیا کہ باوجودیکہ میں اِس بات کو خوب جانتا ہوں کہ تم حمزہ بن عبداﷲ سے کہیں زیادہ گورنری کے مستحق اور اہل ہو۔ مگر میرے سامنے حضرت عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ کی مثال موجود ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ جیسے شخص کو برطرف کردیا تھا اور اُن کی جگہ عبداﷲ بن عامر کو گورنر مقرر کردیا تھا ۔ 


حمزہ بن عبداﷲ کی نااہلی


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے اپنے بیٹے کو بصرہ کا گورنر بنایا لیکن وہ بہت ہی نااہل ثابت ہوا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حمزہ بن عبداﷲ بن زبیر کو بصرہ کا گورنر بنا دیا گیا ۔ یہ حالانکہ بہت ہی سخی تھا لیکن اِس کے مزاج میں استقلال نہیں تھا ۔ جب سخاوت پر آتا تھا تو اپنا سب کچھ لُٹا دیتا تھا اور جب بخل کتنے لگتا تھا اس کی نظیر نہیں ملتی ۔ بصرہ میں اس سے بعض خفیف اور سبک حرکتیں ظاہر ہوئیں ۔ ایک روز حمزہ بن عبداﷲ اہواز گیا اور اس کا پہاڑ دیکھ کر کہا : یہ مکۂ مکرمہ کے کوہ قیعقان کے مشابہ ہے ۔ اِس بنا پر اس کا نام بھی قیعقان رکھ دیا ۔ حمزہ بن عبداﷲ نے مروان شاہ کو اپنے وکیل کے ذریعے خراج ادا کرنے کا حکم دیا ۔ مروان شاہ نے کچھ تساہل کیا تو حمزہ بن عبداﷲ نے اسے تلوار کے ایک ہی وار سے قتل کر ڈالا ۔ حمزہ بن عبداﷲ نے بصرہ میں کچھ ایسی بد نظمیاں پیدا کردیں اور ایسی بد عنوانیاں کیں کہ بصرہ کے لوگوں نے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ سے درخواست کی کہ حمزہ بن عبداﷲ کو معزول کر کے حضر ت مصعب بن زیر کو بصرہ کا گورنر بنا دیا جائے ۔ 


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!


Saltanat e Umayya part 32


 ا32 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 32

حضرت مصعب بن زبیر کی بحالی، ھ67 ہجری کا اختتام، ھ68 ہجری کی شروعات، خارجیوں سے سابور میں جنگ، خارجیوں کی اہوازکی طرف روانگی، خوارج کا ظلم و ستم، خوارج کی پسپائی، ملک شام میں قحط، ھ68 ہجری کا اختتام، سید المفسرین’’ حضرت عبداﷲ بن عباس ؓ کا انتقال، ھ69 ہجری : عمرو بن سعید کا دمشق پر قبضہ، عمرو بن سعید کا قتل، یحییٰ بن سعید کا حملہ، یحییٰ بن سعید کی گرفتاری، 


حضرت مصعب بن زبیر کی بحالی


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے اپنے بیٹے کو معزول کر کے واپس اپنے بھائی کو بصرہ کا گورنر بنا دیا ۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں :جب حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے اپنے بیٹے حمزہ بن عبداﷲ کو بصرہ کی گورنری سے معزول کر دیا تو یہ بصرہ سے بہت سارا خزانہ لیکر چلا ۔ مالک من مسمع نے اِس پر اعتراض کیا اور کہا : ‘‘ تم ہماری تنخواہوں کی رقم بھی لے جا رہے ہو ۔ اِس طرح ہم تمہیں جانے نہیں دیں گے ۔ ’’ جب عبیداﷲ بن عبداﷲ بن معمر نے تنخواہوں کی ادائیگی کی ضمانت لی تو مالک بن مسمع خاموش ہو گیا ۔ حمزہ بن عبداﷲ یہ روپیہ لیکر اپنے والد کے پاس نہیں گیا بلکہ مدینۂ منورہ ّآیا اور یہ روپیہ کئی شخصوں کے پاس بطور امانت رکھوا دیا اور یہ سب لوگ وہ روپیہ کھا گئے۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو اِن تمام واقعات کی اطلاع ملی تو انہوں نے فرمایا: ‘‘ اﷲ اُسے دور کرے میں چاہتا تھا کہ حمزہ کی وجہ سے میں بنو مروان کے مقابلے میں فخر کروں گا ۔مگر وہ تو نکما نکلا ۔’’ حضرت مصعب بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے بصرہ جا کر پھر سے اپنا عہدہ سنبھال لیا اور بہترین طریقے سے انتظام چلانے لگے ۔ 


ھ67 ہجری کا اختتام


اِس سال 67 ہجری کے خاتمے پر بدستور مملکت اسلامیہ میں دو حکومتیں چل رہی تھیں ۔ ملک حجاز اور ملک عراق و ملک ایران پر حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی حکومت تھی اور ملک شام اور ملک مصر پر عبدالملک بن مروان کی حکومت تھی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو حج کروایا ۔ بصرہ کے گورنر حضرت مصعب بن زبیر تھے ۔ کوفہ کے قاضی عبداﷲ بن عتبہ بن مسعود تھے ۔ ہشام بن ہبیرہ بصرہ کے قاضی تھے ۔ عبدالملک بن مروان ملک شام اور ملک مصر کا حکمراں تھا اور عبداﷲ بن خازم خراسان کے گورنر تھے ۔ 


ھ68 ہجری کی شروعات


اِس سال 68 ہجری کی شروعات میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی حکومت کافی وسیع ہو چکی تھی جبکہ عبدالملک بن مروان کی حکومت سِمٹتی جا رہی تھی ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : 68 ہجری میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے اپنے بھائی حضرت مصعب بن زبیر کو دوبارہ بصرہ کا گورنر بنا دیا اور انہوں نے وہیں آکر اقامت اختیار کر لی ۔ کوفہ کا گورنر حارث بن عبداﷲ بن ابی ربیعہ مخزومی المعروف قباع کو بنایا ۔ مدینہ منورہ کا گورنر جابر بن اسود زہری کو بنایا ۔ اِسی سال شاہ قسطنطین بن قسطنطین اپنے ملک میں فوت ہو گیا اور اِسی میں ازارقہ کا معرکہ ہوا۔


خارجیوں سے سابور میں جنگ


اِس سال 68 ہجری میں حضرت مصعب بن زبیر نے مہلب بن ابی صفرہ کو جو فارس کا گورنر تھا اُسے موصل اور اُس کے مضافات کا گورنر بنا کر بھیجا اور اُس کی جگہ فارس کا گورنر عمر بن عبیداﷲ بن معمر کو بنا دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اہواز میں مہلب بن ابی صفرہ کے ہاتھوں شکست کھانے کے بعد خارجی ، فارس ، کرمان اور مضافات اصبہان میں مقیم تھے ۔ جب مہلب کو موصل اور اس کے مضافات کا گورنر بنا کر بھیجا گیا تو اُس کی جگہ حضرت مصعب بن زبیر نے عمر بن عبیداﷲ  بن معمر کو فارس کا گورنر بنا دیا ۔ خارجیوں نے اِس موقع کو غنیمت سمجھا اور زبیر بن موحوز کی قیادت میں عمر بن عبیداﷲ پر ٹوٹ پڑے ۔ مقام ‘‘سابور’’ پر دونوں کے لشکروں میں شدید جنگ ہوئی اور عمر بن عبیداﷲ نے نمایاں فتح حاصل کی لیکن اِس جنگ میں زیادہ خارجی قتل نہیں ہوئے اور وہ بہت باقاعدگی اور ترتیب سے پسپا ہوگئے ۔ 


خارجیوں کی اہوازکی طرف روانگی


سابور میں شکست کے بعد خارجی پیچھے ہٹے تو عمر بن عبیداﷲ نے اُس کا تعاقب کیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں :عمر بن عبیداﷲ نے خارجیوں کا تعاقب جاری رکھا مگر خارجی بچ کر نکل گئے اور اصنخر پہنچے ۔ عمر بن عبیداﷲ بھی اپنے لشکر کے ساتھ وہاں پہنچ گیا اور طمستان کے پل پر دونوں لشکروں کا مقابلہ ہوا ۔ شدید جنگ ہوئی اور اِس جنگ میں عمر بن عبیداﷲ کا بیٹا کام آیا اور عمر بن عبیداﷲ کو فتح حاصل ہوئی ۔ خوارج نے طمستان کے پل کو توڑ ڈالا اور اصبہان اور کرمان کے پہاڑوں پر چڑھ گئے ۔ یہاں انہوں نے اپنے نقصانات کی تلافی کی اور جب اُن کی تعداد بڑھ گئی تو وہ پھر فارس کی طرف آئے ۔ اِس مرتبہ خوارج نے اُس راستے کو چھوڑ کر جو انہوں نے سابور پر حملہ کرنے کے وقت استعمال کیا تھا ۔ اس کے بجائے انہوں نے دوسرے راستے سے جرجان کی سمت چلے ۔ عمر بن عبیداﷲ کو جب معلوم ہوا کہ خوارج کا رخ بالا ہی بالا بصرہ کی طرف ہے تو اُسے خوف ہوا کہ کہیں حضرت مصعب بن زبیر اُس سے ناراض نہ ہوجائیں ۔ اِسی لئے وہ نہایت سرعت سے خوارج کے پیچھے چلا لیکن جب وہ جرجان پہنچا تو معلوم ہوا کہ خوارج یہاں سے آگے بڑھ کر اہواز کی سمت جارہے ہیں ۔ دوسری طرف حضرت مصعب بن زبیر کو بھی خوارج کی روانگی کی اطلاع ہوئی اور انہوں نے بڑے پل پر لشکر کی صف آرائی کی۔ 


خوارج کا ظلم و ستم


خوارج مسلسل اہواز کی سمت سفر کر رہے تھے کہ انہیں اطلاع ملی کہ عمر بن عبیداﷲ اپنے لشکر کے ساتھ تعاقب میں ہے اور حضرت مصعب بن زبیر بصرہ سے لشکر لیکر مقابلے کے لئے آرہے ہیں تو انہوں نے عام مسلمانوں پر ظلم ستم کرنا شروع کردیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : خوارج زبیر بن ماحوز کی قیادت میں بڑھتے بڑھتے اہواز تک پہنچ گئے ۔ یہاں اُن کے جاسوسوں نے اطلاع دی کہ عمر بن عبیداﷲ تمہارے پیچھے لشکر لیکر چلا آرہا ہے اور حضرت مصعب بن زبیر بصرہ سے لشکر لیکر تمہارے مقابلے کے لئے نکل کھڑے ہوئے ہیں ۔ اِس خطرے کو محسوس کر کے زبیر بن ماحوز نے اپنے لشکر سے کہا : ‘‘ دشمنوں کے درمیان واقع ہونا ہمارے لئے نہایت خطرناک ہے اِس لئے ہمیں فوراً ایک طرف کے دشمن سے نپٹ لینا چاہیئے ۔’’ اِس کے بعد وہ خوارج کا لشکر لیکر چلا اور علاقہ جوخی کو طے کرتا ہوا نہروانات پر آیا اور یہاں سے دریائے دجلہ کے کنارے کنارے مدائن آدھمکا ۔ کروم بن مرثد مدائن کا گورنر تھا ۔ وہ اپنی جان بچا کر فرار ہوگیااور خوارج نے مدائن میں سخت غارت گری کی ۔ بچوں ،عورتوں اور مردوں کو قتل کر ڈالااور حاملہ عورتوں کے رحموں کو چیر ڈالا۔ اِس کے بعد خوارج ساباط میں آئے اور وہاں کے تمام لوگوں کا قتل عام کرنے لگے ۔یہاں بھی انہوں نے مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں اور بچوں کا بھی قتل عام کیا ۔ 


خوارج کی پسپائی


مملکت اسلامیہ میں خوارج مسلسل بد نظمی پھیلا رہے تھے اور عام مسلمانوں پر ظلم و ستم کر رہے تھے ۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : پس کوفہ کے گورنر حارث بن ابی ربیعہ نے لشکر لیکر اُن کا قصد کیا اور اُس کے ساتھ کوفہ کے باشندے اور اس کے اشراف کی جماعتیں بھی تھیں جن میں ابراہیم بن اشتر اور شبث بن ربعی بھی شامل تھے ۔ جب وہ صراۃ کے پل پر پہنچے تو خوارج نے اپنے اور اُن کے درمیان اُس پل کو کاٹ دیا ۔ حارث بن ابی ربیعہ اسے دوبارہ تعمیر کرنے کا حکم دیا تو خوارج اس دوران بھا گ کھڑے ہوئے ۔ عبدالرحمن بن مخنف نے چھ ہزار کے لشکر کے ساتھ اُن کا تعاقب کیا اور وہ کوفہ سے گزرے پھر اصبہان کے علاقے کی طرف چلے گئے اور وہ انہیں چھوڑ کر واپس آگیا ۔پھر خوارج نے ایک مہینے تک جیا شہر میں عتاب بن ورقہ کا محاصرہ کئے رکھا ۔ حتیٰ کہ انہوں نے لوگوں کو تنگ کردیا اور شہر والوں نے باہر نکل کر خوارج سے جنگ کی اور اُن کے سپہ سالار زبیر بن ماحوز کو قتل کر دیا اور جو کچھ اُن کے پڑاؤ میں تھا حاصل کر لیا ۔ خوارج نے فطری بن فجارہ کو اپنا سپہ سالار بنا لیا اور بلاد اہواز کی طرف بھاگ گئے ۔ حضرت مصعب بن زبیر نے مہلب بن ابی صفرہ کو حکم دیا کہ وہ خوارج سے جنگ کرے ۔ مہلب بن ابی صفرہ نے اپنی جگہ موصل میں ابراہیم بن اشتر کو بھیج دیا اور لشکر لیکر اہواز آیا ۔ اُس نے آٹھ مہینوں تک خوارج سے ایسی جنگ کی جس کی مثال نہیں ملتی ہے ۔ آخر کار خوارج پسپا ہوگئے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : مہلب بن ابی صفرہ بصرہ آیا اور منتخب بہادروں کو اپنے ساتھ لیکر خارجیوں کے مقابلے کے لئے نکلا ۔مقام سولاف پر دونوں لشکروں کا سامنا ہوا اور جنگ شروع ہوئی ۔ مسلسل آٹھ مہینے تک ایسی شدید جنگ ہوئی اور طرفین میں ایسا سخت رن پڑا کہ جس کی نظیر نہیں ملتی ۔ 


ملک شام میں قحط


اِس سال 68 ہجری میں ملک شام میں بہت زبردست قحط پڑا جس کی وجہ سے اہل شام بہت تکلیف میں رہے اور اِسی وجہ سے عبدالملک بن مروان بیرونی علاقوں پر کوئی توجہ نہیں دے سکا تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 68 ہجری میں ملک شام میں شدید قحط پڑا ۔ قحط کی شدت کا اندازہ اِس امر سے ہو سکتا ہے کہ اِسی وجہ سے اِ س سال عبدالملک بن مروان کہیں بھی لشکر نہیں بھیج سکا ۔اِ س سال میں عبدالملک بن مروان قنسرین میں مقام ‘‘بطنان’’ میں اپنے لشکر کے ساتھ مقیم رہا ۔ جب بارش ہوئی توکیچڑ بہت زیادہ ہوئی ۔اِسی وجہ سے اِس مقام کا نام ‘‘بطنان الطین’’ پڑ گیا ۔ عبدالملک بن مروان نے موسم سرما بھی اِسی مقام پر بسر کیا اور پھر وہاں سے دمشق کا رخ کیا ۔

 

ھ68 ہجری کا اختتام


68 ہجری میں حج کے دوران اختلاف صاف نظر آیا اور میدان عرفات میں چارالگ جھنڈے نظر آئے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 68 ہجری میں عرفات میں چار جھنڈے چار مختلف لوگوں کے آئے ۔ محمد بن حنفیہ کا جھنڈا ‘‘کوہ مشاۃ’’ کے قریب نصب تھا ۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کا جھنڈا اُس مقام پر نصب تھا جہاں عرفات کے اجتماع کے دن امام کھڑا ہوتا ہے ۔ بعد میں محمد بن حنفیہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ آئے اور حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے مقام پر ٹھہر گئے ۔ نجدہ حروری کا جھنڈا اُن دونوں کے پیچھے تھا اور بنو اُمیہ کا جھنڈا اُن دونوں کے بائیں جانب نصب تھا ۔ سب سے پہلے محمد بن حنفیہ کا گروہ مزدلفہ روانہ ہوا ۔ پھر نجدہ کا گروہ ،اُس کے بعد بنو اُمیہ کا گروہ روانہ ہوا اور سب سے آخر میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کا گروہ روانہ ہوا اور مسلمانوں کی اکثریت نے آپ رضی اﷲ عنہ کی ہی پیروی کی ۔ حضرت عبداﷲ بن عمر فاروق رضی اﷲ عنہ بھی اُس وقت تک روانہ نہیں ہوئے جب تک کہ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ روانہ نہیں ہوئے تھے ۔ حضرت عبداﷲ بن عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا: ‘‘ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ ایام جاہلیت کے طریقے پر عمل کرنا چاہتے ہیں۔’’ یہ فرما کر آپ رضی اﷲ عنہ روانہ ہو گئے اور حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ تمام مسلمانوں کو لیکر اُن کے پیچھے روانہ ہوگئے


سید المفسرین’’ حضرت عبداﷲ بن عباس ؓ کا انتقال


اِس سال 68 ہجری میں اسلام کے سب سے پہلے ‘‘مفسر قرآن ’’ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔ آپ رضی اﷲ عنہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے چچازاد بھائی ہیں اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اﷲ عنہ کے بیٹے ہیں ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے آپ رضی اﷲ عنہ کو گلے سے لگا کر اﷲ تعالیٰ سے دعا فرمائی تھی :‘‘ اے اﷲ ! اِسے قرآن پاک کی سمجھ عطا فرما۔’’ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عبداﷲ بن عباس بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی کنیت ابو العباس ۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے چچازاد بھائی ہیں ۔اِس اُمت کے عالم اور کتاب اﷲ (قرآن پاک) کے مفسر اور ترجمان ہیں ۔ آپ رضی اﷲ عنہ کو عالم اور ‘‘علم کاسمندر’’ کہا جاتا تھا ۔ بہت سے صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم اور تابعین کی جماعتوں نے آپ رضی اﷲ عنہ سے سیکھا ہے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ کو اپنے وسعت ِ علم و فہم اور کمال ِ عقل اور وسعت فضل اور اپنے اصل کی شرافت کی وجہ سے بعض ایسی یکتا خوبیاں حاصل ہیں جو کسی دوسرے صحابی رضی اﷲ عنہ کو حاصل نہیں ہیں ۔ آپ رضی اﷲ عنہ کی والدہ محترمہ سیدہ اُم الفضل لبابہ بنت حارث ہلالیہ ہیں جو اُم المومنین سیدہ میمونہ رضی اﷲ عنہا کی بہن ہیں ۔ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ عباسی حکمرانوں کے جد امجد ہیں اور آپ رضی اﷲ عنہ کی اولاد میں عباسی حکمراں ہوئے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اﷲ عنہ کے ہاں سیدہ اُم الفضل سے دس بھائیوں میں پیدائش کے لحاظ سے سب سے چھوٹے ہیں ۔ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ بیان کرتے ہیں :‘‘ جب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم شعب ابی طالب میں تھے تو میرے والد حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اﷲ عنہ ،رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا :‘‘ میں نے ام الفضل کو حاملہ پایا ہے ۔’’ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : شاید اﷲ تعالیٰ تمہاری آنکھوں کو ٹھنڈا کرے ۔’’ جب میری والدہ نے مجھے جنا تو مجھے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا اور میں ایک چیتھڑے میں لپٹا ہوا تھا ۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے لعاب دہن سے مجھے گھٹی دی ۔’’ ایک روایت میں ہے کہ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ ہجرت کے سال پیدا ہوئے اور حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ کی خود کی روایت میں ہے کہ ‘‘میں ہجرت سے تین سال پہلے پیدا ہوا اور ہم سب شعب ابی طالب میں محصور تھے اور جب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو میں تیرہ (۱۳) سال کا تھا ۔ ’’ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ کے فضائل بہت زیادہ ہیں ۔ہم اِسی پر بس کرتے ہیں ۔آپ رضی اﷲ عنہ آخری عمر میں نابینا ہو گئے تھے اور حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کو کوفہ جانے سے بہت منع فرمایا ۔جب اُن کی شہادت کی خبر ملی تو آپ رضی اﷲ عنہ کو بہت زیادہ غم ہوا اور گوشۂ تنہائی اختیار کرلی اور اِسی حالت میں طائف میں انتقال ہوگیا ۔ آپ رضی اﷲ عنہ کی نماز جنازہ حضرت محمد بن حنفیہ نے پڑھائی۔ 


ھ69 ہجری : عمرو بن سعید کا دمشق پر قبضہ


اِس سال 69 ہجری کی شروعات میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی طرف سے مدینۂ منورہ کا گورنر جابر بن اسود تھا کوفہ اور بصرہ کے گورنر حضرت مصعب بن زبیر تھے ۔ خراسان کا گورنر عبداﷲ بن خازم تھا اور ملک شام میں عبدالملک بن مروان کی حکومت تھی لیکن یہ بھی ڈانواڈول ہو رہی تھی کیونکہ عمرو بن سعید نے عبدالملک بن مروان سے دشمنی کر لی تھی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عبدالملک بن مروان جب اپنے باپ مروان بن حکم کے بعد ملک شام کا بادشاہ بناتو عمرو بن سعید کہا کرتا تھا کہ تمہارے باپ نے مجھے ‘‘ولی عہد’’بنایا تھا لیکن تم میری جگہ بادشاہ بن گئے ہو ۔اِس لئے میری ‘‘ولی عہدی’’ کا اعلان کرو ۔لیکن عبد الملک بن مروان کوئی توجہ نہیں دیتا تھا ۔ جب عبدالملک بن مروان بطنان سے دمشق واپس آیا اور کچھ عرصہ قیام کر کے ملک عراق کی جانب حضرت مصعب بن زبیر کی طرف لشکر لیکر روانہ ہوا تو عمرو بن سعید نے کہا : ‘‘ تم خود عراق جا رہے ہو حالانکہ تمہارے والد نے اپنے بعد مجھے خلافت دینے کا وعدہ کیا تھا اور اِسی وجہ سے میں لڑتا رہا ہوں اور جس طرح کی خدمات انجام دی ہیں اس سے سب واقف ہیں ۔ بہتر ہے کہ مجھے تم اپنا ‘‘والی عہد’’ نامزد کر دو ۔’’ عبدالملک نے کوئی جواب نہیں دیا تو عمرو بن سعید وہیں سے ناراض ہو کر دمشق کی طرف پلٹا ۔ عبدالملک بن مروان نے عبدالرحمن بن ام حکم کو دمشق پر اپنا نائب بنایا تھا ۔جب اُسے معلوم ہوا کہ عمرو بن سعید لشکر لیکر دمشق آرہا ہے تو وہ فرار ہو گیا اور عمرو بن سعید نے دمشق پر قضہ کر لیا اور جس قدر خزانے تھے سب پر قبضہ کر لیا ۔ عبدالملک بن مروان اپنا لشکر لیکر اُس کے پیچھے آیا اور دمشق کا محاصرہ کر لیا ۔


عمرو بن سعید کا قتل


دمشق کا عبدالملک بن مروان نے محاصرہ کر رکھا تھا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : عبدالملک بن مروان کو خبر ہوئی تو وہ بھی عمرو بن سعید کے پیچھے ہی پیچھے آیا اور دمشق کا محاصرہ کر لیا ۔ مدتوں دونوں میں لڑائی ہوتی رہی آخر کار مصالحت ہو گئی ۔ صلح نامہ لکھا گیا اور عبدالملک بن مروان نے عمرو بن سعید کو پناہ دے دی ۔ عمرو بن سعید دمشق سے نکل کر عبدالملک بن مروان کے خیمے میں آیا اور اُس کو اپنے ساتھ دمشق میں لے گیا ۔ چار دن بعد عبد الملک بن مروان نے عمرو بن سعید کو بلا بھیجا ، اتفاقاً اُُسوقت عبداﷲ بن یزید (اُس کا داماد) اُس کے پاس بیٹھا ہوا تھا ۔ اُس نے عبدالملک بن مروان کے پاس جانے سے روکا ۔عمرو بن سعید نے کہا : ‘‘ اﷲ کی قسم! مجھے کسی بات کا اندیشہ نہیں ہے ،اگر میں سوتا بھی ہوتا تو عبدالملک بن مروان مجھے جگانے کی جرأت نہیں کرسکتا۔ ’’ اِس کے بعد پیامبر سے کہا: ‘‘ تم جاؤ میں شام کے وقت آؤں گا۔’’شام کا وقت آیا تو اُس نے زرہ پہنی ، اوپر قبا کو زیب تن کیا اور تلوار کمر سے لٹکائی اور ایک سو خدام کو لیکر عبدالملک بن مروان سے ملنے کے لئے چلا ۔ عبدالملک بن مروان نے اپنے پاس تمام بنو مروان وغیرہ کو جمع کر رکھا تھا ۔ عمرو بن سعید پہنچا تو اُسے حاضری کی اجازت دی گئی ،جوں جوں وہ اندر جاتا گیا عبدالملک بن مروان کے مصاحبین دروازے بند کرتے گئے ۔ یہاں تک کہ شہ نشین کے دروازے پر پہنچا تو اُس کے ساتھ صرف ایک غلام باقی رہ گیا تھا ۔ عبدالملک بن مروان کے پاس بنو مروان کو جمع دیکھ کرعمرو بن سعید کو خدشہ پیدا ہوا اور اُس نے غلام کو کہا : ‘‘ میرے بھائی یحییٰ کے پاس جا اور اُسے بلا لا۔’’ غلام کچھ سمجھ نہیں سکا ۔ عمرو بن سعید نے پھر کہا تو غلام نے لبیک کہا لیکن کچھ سمجھ نہیں سکا ۔عمرو بن سعید نے جھلا کر کہا :‘‘ جا دور ہو جا ۔’’ غلام چلا گیا ۔ عبدالملک بن مروان نے استقبال کیا اور تخت پر بٹھایا ۔ باتیں ہونے لگیں اور کچھ دیر بعد عبدالملک بن مروان نے اُس کی تلوار بھی لے لینے کا حکم دیا تو عمرو بن سعید کو ناگوار گذرا ۔ اُس نے کہا :‘‘ اے امیر المومنین ْ اﷲ سے ڈریئے ۔’’ عبدالملک بن مروان نے کہا : ‘‘ کیا تم اِس کی اُمید رکھتے ہو کہ میرے ساتھ تخت پر تلوار لیکر بیٹھو گے ؟’’ عمرو بن سعید خاموش ہو گیا ۔ غلاموں نے اُس کی تلوار لے لی ۔ تھوڑی دیر کے بعد عبدالملک بن مروان نے کہا : ‘‘ اے ابو امیہ ( عمرو بن سعید کی کنیت ہے) جس وقت تم نے میری مخالفت کی تھی اُسی وقت میں نے قسم کھائی تھی کہ جب میں تمہیں اپنے قبضۂ اقتدار میں پاؤں گا تو تمہیں ہتھکڑی پہناؤں گا ۔’’ بنو مروان نے کہا: ‘‘ کیا پھر امیر المومنین انہیں رہا کر دیں گے ؟’’ عبدالملک نے کہا: ‘‘ ہاں ! میں ابو امیہ کے ساتھ برائی نہیں کروں گا ۔’’ بنو مروان نے عمرو بن سعید سے کہا: ‘‘ ابو امیہ ! امیر المومنین کی قسم پوری کرو ۔’’ عمرو بن سعید دبی زبان سے بولا : ‘‘ بے شک اﷲ تعالیٰ نے امیر المومنین کی قسم سچائی کے ساتھ پوری کر دی ۔’’ عبدالملک نے فوراً قالین کے نیچے سے زنجیر نکالی اور غلام کو دے کر کہا : ‘‘ ابو امیہ کے ہاتھ پاؤں اور گردن میں ڈال دو ۔’’ عمرو بن سعید بولا: ‘‘ میں امیر المو منین کو اﷲ کی قسم دلاتا ہوں کہ مجھے لوگوں کے رو برو یونہی لیکر نہیں چلنا۔’’ عبدالملک بن مروان بوالا: ‘‘ مجھ سے یہ نہ ہوگا کیا تم مرتے وقت دھوکا دینا چاہتے ہو؟’’ عمرو بن سعید یہ سن کر خاموش ہو گیا ۔ عبدالملک نے اتنی زور سے زنجیر کو کھینچا کہ اُس کا منہ تخت سے ٹکرا گیا اور اگلے دو دانت ٹوٹ گئے ۔ عبدالملک بن مروان نے کہا : ‘‘ اﷲ کی قسم! اگر یہ مجھے معلوم ہوتا کہ تیرے زندہ رہنے سے میری بہتری ہے اور قریش کی حالت درست ہو جائے گی تو میں بے شک تجھے زندہ رکھتا لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایک ملک میں ہمارے اور تیرے جیسے دو شخص نہیں رہ سکتے۔ ’’ عمرو بن سعید اُسے برا بھلا کہنے لگا تو عبدالملک بن مروان نے اپنے بھائی عبدالعزیز بن مروان کو حکم دیا کہ اُسے قتل کردے اور نماز پڑھنے چلا گیا ۔ عبدالعزیز بن مروان نے اُسے قتل نہیں کیا ۔ عبدالملک بن مروان جب نماز پڑ ھ کر واپس آیا اور عمرو بن سعید کو زندہ دیکھاتو اپنے بھائی پر سخت برہم ہوا اور ایک ہتھیار لیکر عمرو بن سعید کو ذبح کرڈالا۔ بعض کا بیان ہے کہ عبدالملک بن مروان نے اپنے غلام زغیر کو قتل پر مامور کیا تو اُس نے اُسے قتل کر دیا ۔


یحییٰ بن سعید کا حملہ


جب عمرو بن سعید کے بارے میں اُس کے بھائی یحییٰ بن سعید کو خبر ہوئی تو اُس نے عبدالملک بن مروان کے محل کو گھیر لیا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : حاضرین میں سے کسی نے جا کر عمرو بن سعید کا حال اُس کے بھائی یحییٰ بن سعید سے جا کرکہہ دیا ۔ وہ ایک ہزار غلاموں اور ساتھیوں کا لشکر لیکر آیا اور عبدالملک بن مروان کے محل پر حملہ بول دیا ۔ اُس کے ساتھ حمید بن حریث اور زہیر بن ابرد تھے انہوں نے عمرو بن سعید کا نام لیکر پکارنا شروع کر دیا ۔ جب اُس کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا تو محل کا دروازہ توڑ ڈالا اور محل کے لوگوں پر دیوانہ وار حملہ کرنے لگے ۔ ولید بن عبدالملک نے نکل کر مقابلہ کیا کچھ عرصہ تک لڑائی ہوتی رہی ۔اِسی دوران عبدالرحمن بن ام حکم نے عمرو بن سعید کا سر لوگوں کے سامنے پھینک دیا اور عبدالعزیز بن مروان درہم اور دینار پھینکنے لگا ۔ یحییٰ بن سعید کے ساتھی اور غلام لڑائی چھوڑ کردرہموں اور دیناروں کو لوٹنے لگے اور لوٹ کر سب بھاگ گئے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : یحییٰ بن سعید کے کے ساتھیوں نے محل کا صدر دروازہ توڑ دیا اور شمشیر زنی شروع کردی ۔ عمرو بن سعید کے غلام مصقلہ نے ولید بن عبدالملک کے سر پر تلورا کا ایک ہاتھ مارا جس سے وہ زخمی ہوگیا اور ابراہیم بن عربی میر منشی اُسے اُٹھا کر منشی خانہ لے گیا ۔ 


یحییٰ بن سعید کی گرفتاری


بنو اُمیہ آپس میں ہی لڑ رہے تھے اور ایک دوسرے کا خون بہا رہے تھے ۔ جب یحییٰ بن سعید اور اُس کے ساتھی چلے گئے تو عبدالملک بن مروان نے اپنے محل کے باہرجامع مسجد کے قریب اپنا دربار لگایا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عبدالملک بن مروان نے حکم دیا کہ تخت باہر لایا جائے ۔ اُس کے حکم کے مطابق مسجد کے قریب تخت بچھایا گیا اور وہیں عبدالملک بن مروان نے اپنا دربار لگایا ۔ اُس نے دیکھا کہ ولید بن عبدالملک نہیں ہے تو اُس نے پوچھا کہ ولید کہاں ہے؟ اور ساتھ ہی قسم کھا کر کہا کہ اگر باغیوں نے ولید کو قتل کر ڈال ہے تو وہ اُن سے اپنا قصاص ضرور لے گا ۔ ابراہیم بن عربی آگے بڑھا اور بولا : آپ ولید کی فکر نہ کریں وہ میرے پاس محفوظ ہے ۔اُسے ایک زخم آگیا تھا جس سے کوئی خطرہ نہیں ہے ۔’’ عبدالملک بن مروان نے یحییٰ بن سعید کی گرفتاری کا حکم دیا اور جب اُسے گرفتا کر کے اُس کے سامنے لایا گیا تو عبدالملک بن مروان نے اُس کے قتل کا حکم دے دیا ۔ عبدالعزیز بن مروان کھڑا ہوا بولا: ‘‘ اﷲ مجھے امیر المومنین پر قربان کردے ! کیا تم یہ چاہتے ہو کہ تمام بنو اُمیہ کو ایک ہی دن میں قتل کر ڈالو؟’’ یہ سن کر عبدالملک بن مروان بن حکم دیا : ‘‘ اچھا ! یحییٰ بن سعید کو قید میں ڈال دو۔ ’’ 


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

Saltanat e Umayya part 33


 ا33 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 33

یحییٰ بن سعید کو جنگ کے لئے بھیجا، 69 ہجری کا اختتام، ابو الاسود الدؤلی تابعی کا انتقال، سیدہ اسما بنت یزید رضی اﷲ عنہا کا انتقال، 70 ہجری کے واقعات، حضرت عاصم بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا انتقال، دو کبار تابعین کا انتقال، ھ71 ہجری : عبدالملک کی بصرہ میں خفیہ چال، اہل عراق کی غداری، دونوں لشکروں میں جنگ، عبدالملک بن مروان کی فتح، عبدالملک کے ملک عراق میں گورنر، حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کا خطبہ، ھ71 ہجری کا اختتام، 




یحییٰ بن سعید کو جنگ کے لئے بھیجا


قید کرنے کے بعد عبدالملک بن مروان نے یحییٰ بن سعید کے بارے میں لوگوں سے مشورہ کیا تو لوگوں نے کہا کہ اُسے جنگ پر بھیج دو ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : یحییٰ بن سعید کو قید ہوئے ایک مہینہ یا اُس سے کچھ زیادہ ہوا ہوگا کہ عبدالملک بن مروان نے اُس کے قتل کے بارے میں لوگوں سے مشورہ کیا تو ایک شخص کھڑا ہوا اور بولا : ‘‘ اے امیر المومنین ! سانپ سے ہمیشہ سنپولیا ہی پیدا ہوتا ہے اِس لئے ہماری رائے یہ ہے کہ آپ اُسے قتل کر ڈالیں ۔وہ منافق اور دشمن ہے ۔’’ پھر ایک دوسرا شخص کھڑا ہوا اور بولا: ‘‘ اے امیر المومنین ! یحییٰ بن سعید آپ کے چچا کا بیٹا ہے اور آپ سے اُس کی رشتہ داری ہے ۔جو کچھ اُس نے کیا اور جواب میں آپ نے کیا وہ بھی معلوم ہے ۔ مگر میں آپ کو یہ رائے نہیں دوں گا کہ آپ اُسے قتل کر ڈالیں بلکہ اِس کی سب سے اچھی صورت یہ ہے کہ اُسے اپنے دشمن کے مقابلے پر جنگ کرنے کے لئے بھیج دیں ۔ اگر وہ جنگ میں کام آیا تو اُس کے قتل کی ذمہ داری سے آپ بچ جائیں گے اور اگر وہ صحیح و سالم بچ کر آگیا تو جیسا آپ مناسب سمجھیں کیجیئے۔’’ عبدالملک بن مروان نے اِس رائے کو پسند کیا یحییٰ بن سعید کو حضرت مصعب بن زبیر سے جنگ کرنے والے لشکر کے ساتھ بھیج دیا ۔ 


ھ69 ہجری کا اختتام


ھ69 ہجری میں بھی حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 69 ہجری میں حج کے موقع پر مقا خیف منیٰ میں ایک خارجی نے اپنا شعار ‘‘لَا حکم الا اﷲ’’ کا نعرہ لگایا ۔مگر جمرہ کے پاس اُسے قتل کردیا گیا ۔ ایک صا حب بیان کرتے ہیں کہ میں نے اُسے جمرہ کے پاس تلوار کھینچتے دیکھا ۔وہ اکیلا نہیں تھا بلکہ خارجیوں کی ایک جماعت اُس کے ساتھ تھی ۔ اﷲ تعالیٰ نے اُن کے ہاتھ روکے رکھے ۔ یہ شخص اُن میں سے آگے بڑھا اور اپنا شعار ‘‘لا حکم الااﷲ ’’ پکارنے لگا ۔اُس کی آواز سن کر لوگ اُس پر ٹوٹ پڑے اور اُسے قتل کر ڈالا ۔ اِس سال بھی حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔ 


ابو الاسود الدؤلی تابعی کا انتقال


اِس سال ابو اسود الدؤلی تابعی کا انتقال ہوا ۔ اِن کا ذکر خاص طور سے اِس لئے کیا جارہا ہے کیونکہ انہوں نے ‘‘ علم نحو’’ حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ سے سیکھا اور لوگوں کو سیکھایا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : انہیں ‘‘الدیلی’’ بھی کہا جاتا ہے کوفہ کے قاضی اور جلیل القدر تابعی ہیں ۔ اِن کا نام ظالم بن عمرو بھی کہا جاتا ہے اور بعض اِس کے اُلٹ یعنی عمرو بن ظالم بھی بتاتے ہیں ۔ اِن کی طرف ‘‘علم نحو’’ منسوب کیا جاتا ہے کہ یہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے ‘‘علم نحو’’ کے بارے میں گفتگو کی ۔ انہوں نے امیر المومنین حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ سے ‘‘علم نحو’’ کو حاصل کیا ۔ ایک روایت میں ہے کہ اِن کا نام عویمر بن ظویلم ہے اور انہوں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانے میں اسلام قبول کیا تھا لیکن آپ صلی اﷲ علیہ وسلم سے ملاقات نہیں کی تھی اور جنگ جمل میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ کی طرف سے شرکت کی تھی اور حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے دور حکومت میں انتقال ہوگیا ۔


سیدہ اسما بنت یزید رضی اﷲ عنہا کا انتقال


اِس سال 69 ہجری میں سیدہ اسما بنت یزید رضی اﷲ عنہا کا انتقال ہوا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت اسما بنت یزید بنت سکن انصاریہ رضی اﷲ عنہا نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے بیعت کی ہے ۔آپ رضی اﷲ عنہا جنگ یرموک میں شریک تھیں ۔ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے انہیں مسلمان خواتین کے ساتھ مسلمانوں کے لشکر کے پیچھے لکڑیاں دے کر متعین کیا تھا اور حکم دیا تھا کہ جو بھی مسلمان پیچھے ہٹنے کی کوشش کرے گا تو انہیں شرم دلانا اور لکڑیوں سے خبر لینا ۔آپ رضی اﷲ عنہا نے مسلمانوں کو تو واپس بھیجا ہی تھا اِسکے علاوہ جو لکڑی آپ رضی اﷲ عنہا کے پاس تھی اُس سے مار مار کا نو رومیوں کو قتل کر دیا تھا ۔ ملک شام فتح ہونے کے بعد آپ رضی اﷲ عنہا نے دمشق میں سکونت اختیار کر لی اور 69 ہجری میں آپ رضی اﷲ عنہا کا انتقال ہوگیا اور ‘‘باب الصغیر ’’ میں آپ رضی اﷲ عنہا کو دفن کیا گیا ۔


ھ70 ہجری کے واقعات


اِ س سال 70 ہجری میں مسلمانوں کی آپسی لڑائی کا فائدہ رومیوں نے اُٹھایا اور عبدالملک بن مروان کو اُن سے دب کر صلح کرنی پڑی ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 70 ہجری میں رومیوں نے حملہ کیا اور شامیوں کے خلاف لشکر جمع کیا اور عبدالملک بن مروان اور حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے درمیان اختلاف دیکھ کر انہیں کمزور سمجھ لیا ۔ پس عبدالملک بن مروان نے روم کے بادشاہ سے اِس شرط پر مصالحت کر لی کہ وہ رومیوں کو ہر جمعہ ہزار دینار ادا کرے گا ۔ اِس سال ملک مصر میں وبا پھیلی اور عبدالعزیز بن مروان اِس وبا سے بھاگ کر مشرقی مصر میں آگیا اور حلوان میں اترا جو قاہرہ سے ایک دن کی مسافت پر واقع ہے ۔ اس نے اسے اپنی فرو گاہ بنا لیا اور اسے قبیلوں سے دس ہزار دینار میں خرید لیا اور وہاں ‘‘دارالامارت’’ اور ‘‘جامع مسجد’’ تعمیر کی اور اپنے لشکروں کو وہیں اُتارا۔ اِس سال حضرت مصعب بن زبیر بصرہ سے مکۂ مکرمہ گئے اور اُن کے ساتھ بہت سارے اموال تھے جو انہوں نے حجاز کے لوگوں میں تقسیم کئے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں اِس سال بھی حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو حج کرایا اور تمام علاقوں میں وہی گورنر تھے جو پچھلے سال تھے ۔ 


حضرت عاصم بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا انتقال


اِس سال 70 ہجری میں حضرت عاصم بن عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عاصم بن عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ کی والدہ کا نام جمیلہ بنت ثابت بن ابی افلح ہے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی زندگی میں پیدا ہوئے اور آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے والد محترم سے صرف ایک حدیث ‘‘جب رات اُس طرف سے آجائے’’ روایت کی ہے اور آپ رضی اﷲ عنہ سے آپ رضی اﷲ عنہ کے دونوں بیٹوں حفص بن عاص اور عبداﷲ بن عاصم نے روایت کی ہے اور ان دونوں کے علاوہ حضرت عروہ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے بھی روایت کی ہے ۔کئی مورخین نے بیان کیا ہے کہ حضرت عاصم بن عمر فاروق رضی اﷲ عنہ اور حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کے درمیان کسی زمین پر تنازعہ ہو گیا اور جب حضرت عاصم بن عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کو ناراض دیکھا تو عرض کیا : ‘‘یہ زمین آپ کی ہوئی اور میرا اِس پر کوئی حق نہیں ہے۔’’ یہ سن کر حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا: ‘‘ نہیں ! یہ زمین آپ کی ہے ۔’’ اور اُس زمین کو دونوں نے چھوڑ دیا اور اُن کی اولاد نے بھی اُس زمین کو چھوڑ دیا ۔یہاں تک کہ دوسرے لوگوں نے اس پر قبضہ کر لیا ۔ حضرت عاصم بن عمر فاروق رضی اﷲ عنہ باوقار ، شریف اور فاضل رئیس تھے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ کا انتقال ۷۰ ؁ ہجری میں ہوا ۔ 


دو کبار تابعین کا انتقال


اِس سال بہت سے تابعین کا انتقال ہوا لیکن دو کبار تابعین ایسے ہیں جن کا ذکر کرنا ضروری ہے ۔ یہ حضرت قبیصہ بن دؤیب خزاعی اور حضرت مالک بن یخامر ہیں ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت قبیصہ بن دؤیب خزاعی کی کنیت ‘‘ابو العلاء’’ ہے اور یہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کے رضاعی بھائی ہیں ۔ آپ اہل مدینہ کے فقہا اور صالحین میں سے تھے ۔ اور آپ کتاب ( قرآن پاک) کے معلم تھے ۔ آخری وقت میں آپ ملک شام منتقل ہوگئے تھے اور وہیں ۷۰ ؁ ہجری میں انتقال ہوا ۔حضر ت مالک بن یخامر حمصی جلیل القدر تابعی ہیں ۔ امام بخاری نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲعنہ کے طریق سے آپ سے بحوالہ حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ عنہ کے ‘‘حق پر غالب طائفہ’’ کی حدیث روایت کی ہے ۔آپ حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ عنہ کے شاگرد ہیں۔ اِن دونوں حضرات نے ۷۰ ؁ ہجری میں وفات پائی۔


ھ71 ہجری : عبدالملک کی بصرہ میں خفیہ چال


اِس سال 71 ہجری میں عبدالملک بن مروان نے حضرت مصعب بن زبیر کے خلاف بصرہ میں خفیہ چال چلی ۔ علامہ محمدد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ۷۱ ؁ ہجری میں عبدالملک بن مروان ، حضرت مصعب بن زبیر کے مقابلے کے لئے ملک عراق کی طرف چلا ۔ ابھی تک یہ ہوا تھا کہ عبدالملک بن مروان لشکر لیکر بطنان حبیب پہنچتا اور حضرت مصعب بن زبیر مقام ‘‘ با جمیرا ’’ تک بڑھ آتے تھے تو موسم سرما شروع ہو جاتا تھا اور دونوں اپنے اپنے لشکر کو لیکر اپنے اپنے مقامات پر واپس ہو جاتے اور پھر آئندہ سال اسی طرح مقابلے کی تیاریاں کرتے تھے ۔ اِس سال خالد بن اسید نے عبدالملک سے کہا : ‘‘ اگر آپ مجھے کچھ سواروں کے ساتھ بصرہ بھیج دیں تو میں اُمید کرتا ہوں کہ اُس پر قبضہ کر لوں گا ۔ عبدالملک بن مروان نے اُس کی خواہش کے مطابق روانہ کردیا ۔خالد بن اُسید پوشیدہ طور پر اپنے ساتھیوں کو لیکر بصرہ آیا اور عمرو بن اصمع باہلی کے یہاں قیام پذیر ہوگیا ۔ حضرت مصعب بن زبیر اُس وقت مکۂ مکرمہ گئے ہوئے تھے اور اپنی جگہ عبیداﷲ بن عبیداﷲ بن معمر کو بصرہ پر جانشین مقرر کیا تھا اور عباد بن حصین پولیس کا اعلیٰ افسر تھا ۔ خالد بن اُسید نے عباد بن حصین کو خفیہ پیغام بھیجا تو اُس نے انکار کر دیا ۔ خالد وہاں سے بھاگا اور مالک بن مسمع کے پاس پہنچا ۔اُس نے بنو بکر بن وائل اور بنو ازد کو اپنی حمایت کے لئے بلایا۔ اس کے بعد خالد بن اُسید سے بنو تمیم آکر مل گئے ۔ حضرت مصعب بن زبیر کو اطلاع ملی تو انہوں نے زحر بن قیس جعفی کو مدد کے لئے ایک ہزار گھڑ سوار کا لشکر دے کر بھیجا ۔ اس کے مقابلے پر عبدالملک بن مروان نے عبیداﷲ بن زیاد بن ظیبان کو خالد کی مدد کے لئے بھیجا ۔ اِسی دوران خالد بن اُسید بھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ بھاگ نکلا تھا ۔ عبیداﷲ بن ظبیان بصرہ میں داخل نہیں ہوا اور مطر بن توام کو دریافت حال کے لئے روانہ کیا ۔ مطر بن توام نے واپس آکر اطلاع دی کہ ہمارے ساتھی منتشر ہو گئے ہیں ۔ یہ سن کر عبیدﷲ بن زیاد بن ظبیان چپکے سے عبدالملک بن مروان کے پاس واپس آگیا ۔ حضرت مصعب بن زبیر جب بصرہ واپس آئے تو جن جن کے پاس خالد بن اُسید گیا تھا اُن سب کو ڈانٹا اور خالد کے ساتھیوں کو پکڑ کر قتل کردیا ۔ اِس کے بعد کوفہ چلے گئے 


اہل عراق کی غداری


اہل عراق نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ کے ساتھ بھی دھوکہ کیا تھا ۔اُن کے بعد اُن کے بڑے بیٹے حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کے ساتھ دھوکہ کیا ۔جس کے بعد حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ خلافت سے دستبردا ہو کرحضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ سے صلح کر کے مدینۂ منورہ چلے گئے۔ اِس کے حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کو اہل عراق نے پھر دھوکہ دیا اور آپ رضی اﷲ عنہ کو شہید کردیا تھا ۔ اب یہی اہل عراق حضرت مصعب بن زبیر کو بھی دھوکہ دے رہے تھے ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : جس وقت ملک شام پر عبدالملک بن مروان کا مکمل تسلط ہوگیا اور کوئی اُس کا مخالف نہیں رہا تو اُس نے ملک عراق پر حملے کی تیاری شروع کردی ۔اُس زمانے میں بعض شرفائے عراق کے خطوط بھی اُس کے پاس آئے جس میں انہوں نے عبدالملک بن مروان کو ملک عراق پر قبضہ کر لینے کو لکھا تھا ۔ عبدالملک بن مروان کے مشیروں نے ملک عراق پر حملے کی مخالفت و ممانعت کی لیکن وہ اُن کے مشوروں کو نظر انداز کرتے ہوئے لشکر لیکر ملک عراق کی طرف روانہ ہو گیا ۔اِدھر حضرت مصعب بن زبیر کو ملک شام سے لشکر کی روانگی کی اطلاع ملی تو وہ بھی لشکر لیکر کوفہ سے روانہ ہوئے اور مہلب کو خوارج سے جنگ پر بھیج دیا ۔مہلب نے کہا بھی تھا :‘‘ اہل عراق نے عبدالملک بن مروان سے خط و کتابت کر کے سازش کر لی ہے ۔’’لیکن حضرت مصعب بن زبیر نے پھر بھی اُسے بھیج دیا اور ابراہیم بن اشتر کو بلا کر اپنے ‘‘مقدمۃ الجیش’’ کا کمانڈر بنا دیا ۔ 


دونوں لشکروں میں جنگ


ملک شام اور ملک عراق کے لشکر ایکدوسرے کے آمنے سامنے آگئے ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : عبدالملک بن مروان کے لشکر کے ‘‘مقدمۃ الجیش’’ پر اُس کا بھائی محمد بن مروان تھا ۔ اُس نے قرقیسی کے قریب پہنچ کر پڑاؤ ڈال دیا ۔وہاں ذفر بن کلابی نے حاضر ہو کر مصالحت کر دی اور اپنے لڑکے ہذیل کو ایک لشکر کے ساتھ اُس کے ہمراہ کر دیا ۔ پھر عبدالملک بن مروان اپنے لشکر کے ساتھ کوچ کر کے حضرت مصعب بن زبیر کے لشکر کے سامنے پہنچا تو یذیل بن زفر بھاگ کر حضرت مصعب بن زبیر سے آملا ۔ عبدالملک بن مروان اہل عراق سے خط و کتابت کرنے لگا اور اصفہان دینے کا وعدہ کرنے لگا ۔ حضرت مصعب بن زبیر کو معلوم ہوگیا تھا کہ اہل عراق اُن کے ساتھ غداری کر رہے ہیں ۔پھر بھی وہ جنگ کرنے کے لئے تیار ہو گئے ۔ جس وقت دونوں لشکروں میں صف آرائی ہوئی تو عبدالملک بن مروان نے کہا : ‘‘ خون ریزی سے کوئی فائدہ نہیں ہے ۔آؤہم تم اِس کام کو شوریٰ کے سپرد کر دیتے ہیں ۔ ’’ حضرت مصعب بن زبیر نے جواب دیا : ‘‘ ہمارے اور تمہارے درمیان تلوار ہی فیصلہ کرے گی ۔’’جنگ بہت شدت پر آگئی ۔عبدالملک بن مروان نے اپنے بھائی محمد بن مروان کو حملہ کرنے کا حکم دیا اور حضرت مصعب بن زبیر نے ابراہیم بن اشتر کو آگے بڑھنے کا حکم دیا۔ حضرت مصعب بن زبیر نے تازہ دم لشکر سے ابراہیم بن اشتر کی مدد کی جس نے محمد بن مروان کو پیچھے دھکیل دیا ۔ عبدالملک بن مروان نے محمد بن مروان کی مدد کے لئے عبیداﷲ بن یزید کو مامور کیا میدان کار زار بہت تیزی سے گرم ہو گیا ۔ حضرت مصعب بن زبیر کے ساتھیوں میں سے مسلمہ بن عمر باہلی ( قتیبہ بن مسلمہ کے والد) اِس معرکے میں کام آگئے ۔ حضرت مصعب بن زبیر نے فوراً عتاب بن ورقا کو ابراہیم بن اشتر کی مدد کے لئے بھیجا ۔ عتاب بن ورقا نے پہلے ہی عبدالملک بن مروان سے وعدہ کر لیا تھا کہ عین جنگ کے وقت وہ بھاگ کھڑا ہو گا ۔ اس لئے اُس نے ابراہیم بن اشتر کی مدد کرنے کے بجائے لشکر کو لیکر بھاگ گیا ۔ جبکہ ابراہیم بن اشتر نہایت استقلال سے لڑتا رہا ۔یہاں تک کہ میدان جنگ میں کام آگیا ۔ قتل کے بعد اُس کا سر عبدالملک بن مروان کے پاس بھیج دیا گیا ۔ 


عبدالملک بن مروان کی فتح


اہل عراق نے ایک بار پھر اپنی روایتی غداری کا ثبوت دیا اور حضرت مصعب بن زبیر کو چھوڑ چھوڑ کر الگ جاکھڑے ہوگئے ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اہل شام کے لشکر کے حوصلے ابراہیم بن اشتر کے مارے جانے سے بڑھ گئے اور وہ بڑھ چڑھ کر حملے کرنے لگے ۔ حضرت مصعب بن زبیر نے کمانڈروں کو لڑنے کا حکم دیا تو سب نے حیلہ کر کے ٹال دیا ۔ اب اس وقت حضرت مصعب بن زبیر تن تنہا اپنے گنتی کے چند ساتھیوں کے ساتھ لڑ رہے تھے اور باقی اہل عراق دور کھڑے ہو کر تماشا دیکھ رہے تھے ۔ محمد بن مروان نے حضرت مصعب بن زبیر کے قریب پہنچ کر بلند آواز سے کہا : ‘‘ میں تمہارا چچا زاد بھائی ہوں ، تم امیر المومنین عبدالملک بن مروان کی امان قبول کر لو۔’’ حضرت مصعب بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے امان لینے سے انکار کر دیا ۔ محمد بن مروان نے اہل عراق کی سازش کا حال بتایا لیکن حضرت مصعب بن زبیر نے کوئی توجہ نہیں کی ۔ اِس کے بعد محمد بن مروان نے اُن کے بیٹے عیسیٰ بن مصعب کو کہا : ‘‘ تم کو اور تمہارے باپ کو امان دی جاتی ہے ۔’’ عیسیٰ نے اپنے والد کو بتایا تو انہوں نے جواب دیا : ‘‘ میرا خیال ہے کہ اہل شام اپنے وعدے کو وفا کریں گے ۔ اگر تم کو امان لینی منظور ہو تو بسمہ اﷲ کرو اور امان حاصل کر لو۔’’عیسیٰ بن مصعب بولا : ‘‘ مجھے یہ گوارا نہیں ہے کہ کل قریش کی عورتیں یہ کہیں کہ میں نے اپنے آپ کو بچانے کے لئے اپنے والد کو چھوڑ دیا ۔’’ حضرت مصعب بن زبیر نے کہا : ‘‘ پھر تم اپنے چچا حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے پاس چلے جاؤ اور اُن کی اہل عراق کی غداری کی خبر دے دینا ۔ مجھے اِسی حالت میں چھوڑ جاؤ کیونکہ میں نے اپنے آپ کو مُردہ سمجھ لیا ہے ۔ ’’عیسیٰ بن مصعب نے کہا : ‘‘ میں قریش کو ہر گز یہ خبر نہیں پہنچاؤں گا ،بہتر ہوگہ کہ آپ بصرہ چلیں ،وہاں لوگ آپ کی اطاعت کریں گے یا پھر ہم امیر المومنین حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ سے جا ملتے ہیں ۔’’ حضرت مصعب بن زبیر نے سرد آہ کھینچ کر کہا : ‘‘ یہ مجھ سے نہیں ہوگا کیونکہ کل قریش میرے بھاگنے کا ذکر کریں گے ۔ اے بیٹے ! تم آگے بڑھو ! میں تمہاری مدد پر ہوں ۔’’ یہ حکم سنتے ہی عیسیٰ بن مصعب اپنے ساتھیوں کو لیکر آگے بڑھا اور اہل شام کے لشکر پر حملہ کر دیا ۔ شامیوں نے چاروں طرف سے گھیر لیا مگر عیسیٰ بن مصعب کی چمکتی ہوئی تلوار اُن کی گردنیں کاٹ رہی تھی ۔ بالآخر وہ بھی قتل ہو گیا ۔ اِس کے بعد حضرت مصعب بن زبیر کے ساتھ صرف سات آدمی باقی رہ گئے تھے ۔حضرت مصعب بن زبیر بڑھ بڑھ کر حملہ کرنے لگے تو شامی دور دور سے تیر چلانے لگے تھے ۔ آخر کار حضرت مصعب بن زبیر زخموں سے چور ہو کر گر پڑے تو اُن کا سر کاٹ لیا گیا اور عبدالملک کے سامنے پیش کیا ۔ جنگ ختم ہونے کے بعد عبدالملک بن مروان نے حضرت مصعب بن زبیر اور اُن کے بیٹے کو نہر رجیل کے قریب دفن کردیا ۔یہ جنگ 71 ہجری میں ہوئی۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اہل عراق نے حضرت مصعب بن زبیر کے متعلق اختلاف کیا اور انہوں نے اُن کی مدد کرنا چھوڑ دیا تو وہ سوچ بچار کرنے لگے اور انہوں نے اپنے آپ کو مردانہ وار وقتل کے لئے پیش کردیا ۔ اور اپنے دل کو مطمئن کیا اور فرمایا: ‘‘ بیعت کے لئے ہاتھ نہ دینے اور عبیداﷲ بن زیاد کی ذلت سے بچنے کے لئے حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ میرے لئے ‘‘اسوۂ حسنہ’’ ہیں ۔ بے شک آل ہاشم کے پہلے طبقہ نے صبر کیا اور شرفاء کے لئے ‘‘اُسوۂ حسنہ’’ قائم کردیا۔’’اِس کے بعد شدید جنگ کی اور قتل ہو گئے۔ 


عبدالملک کے ملک عراق میں گورنر


حضرت مصعب بن زبیر سے جنگ جیتنے کے بعد عبدالملک بن مروان نے ملک عراق میں اپنے گورنر مقرر کرنے شروع کر دیئے۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اِس کے بعد عبدالملک بن مروان اپنا لشکر لیکر عراق سے بیعت لیکر کوفہ کی جانب روابہ ہوا اور مقام نخیلہ پر پہنچ کر چالیس روز تک ٹھہرا رہا ،اِس کے بعد کوفہ میں داخل ہوا۔ اُس نے لوگوں سے حسن سلوک اور انعام و وظائف مقرر کرنے کا وعدہ کیا ۔ یحییٰ بن سعید کو جعفر سے طلب کرکے امان دے دی ۔ یہ لوگ اس کے ماموں ہوتے تھے ۔ عبدالملک بن مروان نے اپنے بھائی بشر بن مروان کو کوفہ کا گورنر بنادیا ۔ محمد بن نمیر کو ہمدان کا گورنر بنایا ۔ یزید بن ورقا کو ‘‘رے’’ کا گورنر بنایا۔تمام اہل کوفہ کوعبدالملک بن مروان نے امان دے دی ۔عبداﷲ بن حازم کو عبدالملک بن مروان کی فتح کا حال معلوم ہوا تو اُس نے پوچھا : ‘‘ کیا اُس کے ساتھ عمر بن معمر بھی ہے؟’’ جواب دیا گیا : ‘‘ نہیں ! وہ فارس میں ہے۔’’پھر اُس نے پوچھا :‘‘ کیا مہلب اُس کے ساتھ ہے؟’’ حاضرین نے کہا: ‘‘ وہ خوارج سے جنگ پر مامور ہے۔’’ پھر پوچھا :‘‘ ’’ کیا عباد بن حصین اُس کے ساتھ ہے؟’’ کہا گیا :‘‘ وہ بصرہ میں ہے۔’’ عبداﷲ بن حازم نے سرد آہ کھنچ کر کہا: ‘‘ اور میں خراسان میں ہوں۔’’ عبدالملک بن مروان کی فتح کی خبر جب مہلب کو ملی تو اُس نے سب لوگوں سے عبدالملک بن مروان کے لئے بیعت لے لیاور اُسے اپنا حکمراں تسلیم کر لیا۔ 


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کا خطبہ


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو اہل عراق کی غداری ،اپنے بھائی اور بھتیجے کے قتل اورعبدالملک بن مروان کی فتح کی اطلاع ملی آپ رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو جمع کیا اور اُن کے سامنے خطبہ پڑھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو اپنے بھائی حضرت مصعب بن زبیر کے قتل کی خبر ملی تو خطبہ پڑھا اور فرمایا: ‘‘تمام تعریف اُسی اﷲ کے لئے ہے جس نے سب کو پیدا کیا ، جس کے ہاتھ میں حکومت ہے ۔وہ جسے چاہتا ہے سلطنت عطا کرتا ہے ،جس سے چاہتا ہے لے لیتا ہے ۔جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے ،جسے چاہتا ہے ذلت دیتا ہے ۔ جان لو حق و صداقت جس کے ساتھ ہے وہ کبھی ذلیل نہیں ہوتا ،چاہے وہ تنہا ہی کیوں نہ ہو۔ہمیں ملک عراق سے ایک خبر معلوم ہوئی ہے جس نے ہمیں رنجیدہ بھی کیا ہے اور خوش بھی کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت مصعب بن زبیر اﷲ انہیں اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے شہید ہو گئے ہیں ۔ہمیں خوشی اِس لئے ہوئی کہ انہیں شہادت نصیب ہوئی اور غم اِس لئے ہے کہ ایک محب صادق ہم سے جدا ہوگیا ہے ۔ اِس وقت مجھے اپنے بھائی مصعب کی موت کا صدمہ اُٹھانا پڑ رہا ہے ۔ حالانکہ اِس سے پہلے میں اپنے والد حضرت زبیر بن عوام کی موت کا صدمہ سہ چکا ہوں اور حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی موت کا رنج بھی میں نے فراموش نہیں کیا ہے ۔حضرت مصعب بن زبیر اﷲ کے بندے اور میرے دست و بازو تھے ۔ مگر صدمہ اِس بات کا ہے کہ اہل عراق نے اُن کے ساتھ غداری کی ،منافقت کی اور بہت تھوڑی سی قیمت کے عوض انہیں دشمنوں کے ہاتھوں فروخت کردیا اور سپرد کردیا ۔ پس اگر وہ مارے گئے تو کوئی انوکھی بات نہیں ہے کیونکہ ہم اپنے بستروں پر پڑے رہ کر مرنے کے عادی نہیں ہیں۔ یہ کہہ کر میں اپنے اور تمہارے لئے مغفرت کی دعا مانگتا ہوں ۔’’


ھ71 ہجری کا اختتام


ھ71 ہجری کا اختتام انہیں واقعات کے ساتھ ہوا۔ اِس سال

 کے ختم ہونے تک ملک عراق پر سے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی پکڑ چھوٹ گئی تھی اور عبدالملک بن مروان ملک شام اور ملک مصر کے ساتھ ساتھ ملک عراق پر بھی اپنی پکڑ مضبوط کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا ۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 71 ہجری میں عبدالملک بن مروان کا بھائی عبدالعزیز بن مروان جو ملک مصر کا گورنر تھا اُس نے حسان عافی کو سپہ سالار بنا کر لشکر دیکر افریقہ کی جنگ پر مقرر کیا اور وہ بہت بڑا لشکر لیکر افریقہ روانہ ہوگیا ۔اُس نے قرطاجنہ کوفتح کیا اور اُس کے رومی باشندے بت پرست تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 71 ہجری میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے ابن اسود بن عوف کو مدینۂ منورہ کی گورنری سے برطرف کردیا اور اُس کی جگہ طلحہ بن عبداﷲ بن عوف کو گورنر مقرر کیا ۔ یہ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی طرف سے مدینۂ منورہ کا آخری گورنر ثابت ہوا۔ جب حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے آزاد کردہ غلام طارق بن عمرو نے مدینۂ منورہ پر تسلط کر لیا تو طلحہ بن عبداﷲ وہاں سے بھاگ گیا ۔ مدینۂ منورہ کا انتظام طارق بن عمرو ہی سنبھالے رہا یہاں تک کہ عبدالملک بن مروان نے اُسے خط لکھا ۔ اِس سال بھی مسلمانوں کو حج حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے کرایا ۔


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں