ہفتہ، 31 اگست، 2024

Saltanat e Umayya part 34


 ا34 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 34

ا71 ہجری میں انتقال کرنے والے چند قابل ذکر نام، حضرت سفینہ رضی اﷲ عنہ کا انتقال، ھ72 ہجری :خوارج کی پسپائی، عبدالملک بن مروان کا سپہ سالار حجاج بن یوسف، مکۂ مکرمہ کا محاصرہ، حجاج بن یوسف نے حج کرایا، ھ72 ہجری کا اختتام، حضرت براء بن عازب انصاری رضی اﷲ عنہ کا انتقال، حضرت احنف بن قیس کا انتقال، ھ73 ہجری: حجاج بن یوسف کا مکۂ مکرمہ پر حملہ، شامیوں کے لشکر میں خوف و ہراس، مکہ مکرمہ کی رسد روک دی، حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے ساتھیوں کی علیحدگی، اپنی والدہ سیدہ اسما بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہا سے مشورہ، 



ا71 ہجری میں انتقال کرنے والے چند قابل ذکر نام


اِس سال 71 ہجری میں حضرت مصعب بن زبیر اور اُن کا بیٹا عیسیٰ بن مصعب قتل ہوئے ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : ابرایم بن اشتر بھی اسی سال قتل ہوا ۔ اُس کا باپ اُن لوگوں میں شامل تھا جو حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے نگران اور قاتلین تھے ۔ابراہیم بن اشتر مشہور بہادروں میں سے ہے اور اِسے شرف حاصل ہے کہ اِسی نے عبیداﷲ بن زیاد کو قتل کیا ۔ اِس سال حضرت عمرو بن سلمہ رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔آپ رضی اﷲ عنہ ارض حبشہ میں پیدا ہوئے اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ‘‘ربیب’’ تھے ۔ اِس سال حضرت عمر بن اخطب انصاری رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا۔آپ رضی اﷲ عنہ کی کنیت ‘‘ابو زید الاعرج’’ ہے آپ رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ تیرہ (۱۳) غزؤات میں شرکت کی۔اِس سال جلیل القدر تابعی حضرت یزید بن اسود سوکنی کا انتقال ہوا ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ انہیں منبر پر اپنے ساتھ بٹھاتے تھے۔ 


حضرت سفینہ رضی اﷲ عنہ کا انتقال


اِس سال 71 ہجری میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے خادم حضرت سفینہ رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت سفینہ رضی اﷲ عنہ کی کنیت ‘‘ابو عبدالرحمن’’ ہے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ اُم المومنین سیدہ اُم سلمہ رضی اﷲ عنہا کے غلام تھے ۔انہوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کو اِس شرط پر آزاد کیا کہ وہ ہمیشہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت کریں گے۔حضرت سفینہ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں : ‘‘ اگر ام المومنین سیدہ اُم سلمہ رضی اﷲ عنہا مجھے آزادنہیں کرتیں اور یہ شرط عائد نہیں کرتیں تب بھی میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت کرتا رہتا ۔ ’’ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے بعد حضرت سفینہ رضی اﷲ عنہ اُن کی آل کی خدمت کرتے تھے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ آپ رضی اﷲ عنہ کا نام سفینہ کیوں رکھا گیا ہے ؟ تو آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :‘‘ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے میرا نام سفینہ رکھا ہے ۔ایک دفعہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم اپنے صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کے ساتھ سفر پر گئے اور میں بھی ساتھ تھا ۔جب آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا سامان بوجھل ہوگیا تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ‘‘ اپنی چادر پھیلاؤ ۔’’ میں نے چادر پھیلا دی تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اُن کا سامان اُس میں رکھ دیا ۔پھر مجھے فرمایا: ‘‘ اِسے اُٹھا لو!تم تو ‘‘سفینہ’’ ہو۔’’ حضرت سفینہ رضی اﷲ عنہ آگے فرماتے ہیں :‘‘ اگر میں اُس روز ایک یا دو ، پانچ یا سات اونٹوں کا بوجھ اُٹھا تا تو مجھے بوجھل معلوم نہیں ہوتا ۔’’ حضرت سفینہ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں : ‘‘ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اپنی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا سے ملنے کے لئے آئے ۔ جب گھر میں داخل ہوئے تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے گھر کے کونے میں ایک منقش کھال کا ٹکڑا دیکھا تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم واپس نکل آئے ۔ سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ سے کہا :‘‘ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے دریافت کیجیئے کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم واپس کیوں چلے گئے ۔ حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم دریافت کیا تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:‘‘ میرے لئے اور کسی نبی کے لئے نقش ونگار سے آراستہ گھر میں داخل ہونا مناسب نہیں ہے۔’’ 


ھ72 ہجری :خوارج کی پسپائی


اِس سال 72 ہجری میں عبدالملک بن مروان کے لشکر نے خوارج کو پسپا کر دیا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 72 ہجری میں مہلب بن ابی صفرہ اور خوارج کے ازارقہ فرقے کے درمیان مقام ‘‘سولاق’’ پر زبردست جنگ ہوئی اور وہ دونوں تقریباً آٹھ مہینے تک ایک دوسرے کے مقابل ڈٹے رہے اور اُن کے درمیان جنگیں ہوتی رہیں ۔ اِس مدت کے دوران حضرت مصعب بن زبیر قتل ہوگئے ۔ پھر عبدالملک بن مروان نے مہلب بن ابی صفرہ کو ‘‘اہواز’’اور اُس کے آس پاس کے علاقوں کا گورنر برقرار رکھا اور اُس کی کوشش کا شکریہ ادا کیا اور اُس کی بہت تعریف کی ۔ پھر لوگوں نے عبدالملک بن مروان کی حکومت میں اہواز میں ایکدوسرے پر حملے کئے اور لوگوں نے خوارج کو بری طرح شکست دی اور وہ کسی کی طرف توجہ دیئے بغیر شہروں کی طرف بھاگ گئے ۔عبدالملک بن مروان کے مقرر کردہ سپہ سالار وں خالد بن عبداﷲ اور داؤد بن مخذوم نے اُن کا تعاقب کیا اور انہیں بھگا دیا ۔ عبدالملک بن مروان نے اپنے بھائی بشر بن مروان کو پیغام بھیجا کہ وہ چار ہزار کے لشکر سے اُن کی مدد کرے ۔اُس نے عتاب بن ورقا کی سپہ سالاری میں چار ہزار کا لشکر اُس کے پاس بھیج دیا اور اُس نے خوارج کو مکمل طور پر بھگا دیا ۔ 


عبدالملک بن مروان کا سپہ سالار حجاج بن یوسف


اِس سال 72 ہجری میں عبدالملک بن مروان کے سپہ سالار کے طور پر حجاج بن یوسف منظر عام پر آیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال عبدالملک بن مروان نے ایک لشکر کا سپہ سالار حجاج بن یوسف کو بنا کر حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ سے لڑنے کے لئے مکۂ مکرمہ پر حملہ کرنے کے لئے بھیجا۔ حجاج بن یوسف کو لشکر دیکر بھیجنے کی وجہ یہ ہوئی کہ جب ملک عراق پر کا انتظام مکمل کرنے کے بعد عبدالملک بن مروان ملک شام واپس جانے لگا تو حجاج بن یوسف نے کھڑے ہو کر کہا :‘‘ اے امیر المومنین! میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں نے عبداﷲ بن زبیر ( رضی اﷲ عنہ) کو گرفتار کر لیا ہے اور اُن کی کھال کھینچی ہے ۔ اِس لئے آپ مجھے اُن کے مقابلے کے لئے بھیج دیں ۔ عبدالملک بن مروان نے اُس کی درخواست کو قبول کر لیا اور شامیوں کا ایک بہت زبردست لشکر اُسے دیکر مکۂ مکرمہ روانہ کیا ۔ حجاج بن یوسف ۷۲ ؁ ہجری میں لشکر لیکرروانہ ہوا اور مدینۂ منورہ کو چھوڑتا ہوا ملک عراق کے راستے سے طائف پہنچا اور وہیں پڑاؤ ڈال دیا ۔اِس طرف سے حجاج بن یوسف مقام عرفہ میں جو ‘‘حل’’ میں ہے یعنی حرم مکہ کے باہر واقع ہے ۔وہاں لشکر بھیجتا تھا ۔دوسری طرف سے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ لشکر بھیجتے تھے ۔دونوں لشکروں میں اِس مقام پر جنگ ہوتی تھی اور ہر مرتبہ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے لشکر کو شکست ہوتی تھی اور حجاج بن یوسف کا لشکر فتح یاب ہو کر واپس لوٹتا تھا ۔ 


مکۂ مکرمہ کا محاصرہ


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے لشکر کے مقابلے میں حجاج بن یوسف کے لشکر کو فتح حاصل ہوتی تھی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : یہ حالت دیکھ کر حجاج بن یوسف نے عبدالملک بن مروان کو خط لکھ کر بھیجا کہ مجھے مکۂ مکرمہ کا محاصرہ کرنے اور حرم میں داخل ہونے کی اجازت دیں اور اُسے بتایا کہ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی طاقت زائل ہو چکی ہے ۔اُن کے اکثر ساتھیوں نے اُن کا ساتھ چھوڑ دیا ہے اور یہ بھی درخواست کی کہ مزید لشکر سے میری مدد کی جائے ۔عبدالملک بن مروان نے خط پڑھ کر حجاج بن یوسف کی تمام

 معروضات کو منظور کر لیا اور طارق بن عمرو کو حکم دیا کہ تم اپنے لشکر کو لیکر حجاج بن یوسف سے جا کر مل جاؤ ۔ طارق بن عمرو پانچ ہزار کا لشکر لیکر حجاج بن یوسف کی امداد کے لئے آیا ۔ ماہ شعبان ۷۲ ؁ ہجری میں حجاج بن یوسف طائف میں داخل ہوا تھا اور جب ماہ ذی القعدہ شروع ہوا تو حجاج بن یوسف اپنا پورا لشکر لیکر طائف سے روانہ ہوا اور بیر میمون پر فروکش ہوا اور مکۂ مکرمہ کا محاصرہ کر لیا ۔ حاجیوں نے اِس سال اِسی حالت میں حج کیا اور حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ محصور تھے ۔ قربانی کے روز آپ رضی اﷲ عنہ نے قربانی کی لیکن اِس سال آپ رضی اﷲ عنہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ حج نہیں کر سکے ۔اِس لئے آپ رضی اﷲ عنہ نے عرفات میں بھی وقوف نہیں کیا ۔ 


حجاج بن یوسف نے حج کرایا


ملک شام کے لشکر کے ساتھ حجاج بن یوسف مکۂ مکرمہ کا محاصرہ کئے ہوئے تھا اور حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ اور اُن کے ساتھیوں پر پابندیاں عائد کئے ہوئے تھا ۔ اہل شام کے لشکر میں کھانے پینے کی اور دوسری چیزیں بہت افراط تھیں جبکہ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ اور اُن کے ساتھی تکلیف میں تھے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ایک صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں 72 ہجری میں حج کرنے گیا ۔جب میں مکۂ مکرمہ پہنچا اور اُن لوگوں کے درمیان سے ہو کر جنہوں نے مکۂ مکرمہ کا محاصرہ کیا تھا ہم مکۂ مکرمہ کے اندر گئے ۔ہم نے دیکھا کہ حجاج بن یوسف اور طارق بن عمرو کے لشکر ‘‘حجون’’سے ‘‘بیئر میمون’’ تک پڑاؤ ڈالے ہوئے ہیں۔ ہم نے خانۂ کعبہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کی سعی کر لی ۔ حجاج بن یوسف نے مسلمانوں کو حج کرایا۔ پھر میں اُسے میدان عرفات میں پہاڑ کی چٹانوں کے پاس اپنے گھوڑے پر سوار زرہ اور خود پہنے دیکھا ۔ اُس کے بعد حجاج بن یوسف اُس مقام سے اُتر آیا اور میں نے اُسے پھر ‘‘بیئر میمون’’ کی طرف جاتے دیکھا اور حجاج بن یوسف نے خانۂ کعبہ کاطواف نہیں کیا ۔ اُس کا پورا لشکر مسلح تھا اور بہت افراط سے خوراک کا سامان اُن کے پاس تھا ۔خوراک کے سامان سے لدے ہوئے قافلے ملک شام سے اُن کے لئے آتے تھے جن میں کھانا ، بسکٹ اور ستو بھرا ہوا آٹا ہوتا تھا۔اُن کے سپاہی عیش و آرام میں زندگی بسر کر رہے تھے اور میں نے ایک سپاہی سے ایک درہم کے بسکٹ خریدے۔ اُس نے مجھے اتنے بسکٹ دیئے کہ جو ہم تین آدمیوں کے لئے ‘‘جحفہ’’پہنچنے تک بالکل کافی ہوگئے تھے۔ 


ھ72 ہجری کا اختتام


ھ72 ہجری کے اختتام پر عبدالملک بن مروان کی طاقت و قوت اور حکومت بڑھ گئی تھی ۔ ملک شام اور ملک مصر کے ساتھ ساتھ ملک عراق پر بھی اُس کا قبضہ ہوگیا تھا ۔ملک فارس (حالیہ ایران) اور ملک حجاز پر ابھی مکمل کنٹرول نہیں ہوسکا تھا لیکن اِس کے لئے ملک فارس میں عبدالملک بن مروان بھرپور کوشش کر رہا تھا اور ملک حجاز میں اُس کا سپہ سالار حجاج بن یوسف مکۂ مکرمہ کا محاصرہ کئے ہوئے تھا ۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی حکومت لگ بھگ ختم ہوچکی تھی اور آپ رضی اﷲ عنہ کو حجاج بن یوسف نے محصور کر رکھا تھا ۔ اِن حالات میں 72 ہجری کا اختتام ہوا ۔


حضرت براء بن عازب انصاری رضی اﷲ عنہ کا انتقال


اِس سال 72 ہجری میں حضرت براء بن عازب انصاری رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا۔ امام بخاری نے اپنی صحیح بخاری میں آپ رضی اﷲ عنہ کی روایت سے احادیث پیش کی ہیں ۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت براء بن عازب بن حارث بن عدی بن مجدعۃ بن حارثہ بن حارث بن خزرج بن عمرو بن مالک بن اوس انصاری رضی عنہ جلیل القدر صحابی ہیں ۔آپ رضی اﷲ عنہ کے والد محترم بھی صحابی ہیں ۔حضرت براء بن عازب رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے بہت سی احادیث روایت کی ہیں اور آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق ، حضرت عمر فاروق ، حضرت عثمان غنی اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ سے بھی روایت کی ہے ۔آپ رضی اﷲ عنہ سے بعض صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم اور تابعین کی ایک جماعت نے روایت کی ہے ۔

 آپ رضی اﷲ عنہ نے کوفہ میں اُس وقت وفات پائی جب ملک عراق پر حضرت مصعب بن زبیر گورنر تھے ۔


حضرت احنف بن قیس کا انتقال


اِس سال 72 ہجری میں مشہور تابعی حضرت احنف بن قیس کا انتقال ہوا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت احنف بن قیس بن حصین تمیمی کا لقب ‘‘احنف’’ ہے اور نام ‘‘ضحاک’’ ہے اور بعض نے نام ‘‘صخر’’ بیان کیا ہے ۔ یہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی مسلمان ہوئے لیکن آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو دیکھا نہیں تھا ۔ایک روایت میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان کیلئے دعا کی تھی ۔حضرت احنف بن قیس صاحب متربہ ، مطاع اور مومن سردار تھے اور آپ کے حلم کی مثال بیان کی جاتی تھی ۔حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے آپ کے بارے میں فرمایا: ‘‘ حضرت احنف بن قیس زبان دان مومن ہے ۔’’امام حسن بصری بیان کرتے ہیں :‘‘ میں نے کسی قوم کے سردار کو ان سے بہتر نہیں پایا ۔’’حضرت احنف بن قیس نے خلیفۂ دُؤم حضرت عمر فاروق رضی اﷲعنہ کے پاس تقریر کی تو اُن کی فصاحت و بلاغت نے خلیفۂ دُؤم رضی اﷲ عنہ کو حیران کردیا ۔حضرت احنف بن قیس جنگ صفین میں حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ تھے ۔حضرت احنف بن قیس نے ‘‘بلخ’’ اور ‘‘خراسان’’اور ‘‘مروالزور’’ اور ‘‘سمر قند’’ کو فتح کیا ہے ۔حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ بھی حضرت احنف بن قیس کی بہت عزت اور توقیر کرتے تھے ۔حضرت احنف بن قیس کا انتقال کوفہ میں ہوا اور حضرت مصعب بن زبیر نے اُن کی نماز جنازہ پڑھائی ۔


ھ73 ہجری: حجاج بن یوسف کا مکۂ مکرمہ پر حملہ


ھ73 ہجری جب شروع ہوئی تو عبدالملک بن مروان کا سپہ سالار حجاج بن یوسف شامیوں کا لشکر لیکر مکۂ مکرمہ کا محاصرہ کئے ہوئے تھا ۔جب حج مکمل ہو گیا اور تمام حاجیوں کے قافلے اپنے اپنے علاقوں کی طرف روانہ ہوگئے اور مکۂ مکرمہ میں صرف اہل مکہ رہ گئے تو حجاج بن یوسف نے مکۂ مکرمہ پر باقاعدہ حملہ شروع کر دیا اور منجنیق سے پتھر ( سنگ)باری کرنے لگا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ اور حجاج بن یوسف کے درمیان مکۂ مکرمہ میں چھ مہینے اور سترہ روز تک جنگ ہوتی رہی ۔محاصرے کی حالت میں جب حجاج بن یوسف منجنیقوں سے پتھر برساتا تھا تو اُس وقت آسمان پر گرج اور چمک ہوتی تھی ۔بادلوں کی گرج اور بجلی کی چمک اُن پتھروں میں ارتعاش پیدا کر دیتے تھے جو پھینکے جا رہے تھے ۔شامی لشکر کے سپاہی ٹھٹک ٹھٹک جاتے تھے اور پیچھے ہٹ جاتے تھے ۔حجاج بن یوسف اپنی قبا کا دامن اپنے کمر پر لپیٹ لیتا تھا اور خود پتھر اُٹھا کر منجنیق میں رکھتا تھا اور لشکر کے سپاہیوں کو حکم دیتا تھا ‘‘پتھر برساؤ’’ اور خود بھی اِس میں شامل ہوتا تھا۔ 


شامیوں کے لشکر میں خوف و ہراس


مکۂ مکرمہ پر سنگ باری یعنی پتھراؤ کے دوران اہل شام کے لشکر پر بجلی گری اور بہت سے شامی سپاہی ہلاک ہو گئے ۔ اِس کی وجہ سے اہل شام کے لشکر کے سپاہیوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا لیکن حجاج بن یوسف ڈٹا رہا اور مسلسل پتھراؤ کرتا رہا اور اپنے لشکر کا حوصلہ بڑھاتا رہا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : شامی لشکر مکۂ مکرمہ پر پتھرااؤ کر رہا تھا کہ صبح کے وقت چمک اور کڑک پھر شروع ہوئی اور پے در پے بجلی گرنے لگی ۔ اِس بجلی کے گرنے سے اہل شام کے لشکر کے سپاہی ہلاک ہوئے اور شامیوں پر اِس وقعہ سے ایک دہشت اور خوف طاری ہو گیا ۔ حجاج بن یوسف نے اپنے لشکر سے کہا :‘‘ اِس سرزمین تہامہ مین یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے ۔میں اِسی سر زمین کا رہنے والا ہوں اور یہ تو یہاں کے معمولات میں سے ہے ۔ بلکہ یہ تو تمہاری فتح کی نیک فال ہے بس اب فتح حاصل ہو جائے گی اور تمہیں تو خوش ہونا چاہیئے کہ اب تمہارے دشمنوں کو ایسی ہی تکلیف پہنچے گی جیسی تمہیں پہنچی ہے ۔’’اتفاق سے ایسا ہی ہوا اور دوسرے دن پھر بجلی گری اور اِس مرتبہ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے لشکر کے چند لوگ ہلاک ہو گئے ۔ اِس پر حجاج بن یوسف نے اپنے لشکر کے سپاہیوں سے کہا : ‘‘ کیا تم دیکھ نہیں رہے ہو کہ ہمارے دشمن ہلاک ہو رہے ہیں جبکہ تم خلیفہ کی اطاعت کر رہے ہو اور وہ مخالفت کر رہے ہیں ۔’’ 


مکہ مکرمہ کی رسد روک دی


مکۂ مکرمہ کا حجاج بن یوسف محاصرہ کئے ہوئے تھا اور مسلسل سنگ باری کر رہا تھا اور ساتھ ہی اُس نے مکۂ مکرمہ کی رسد بھی روک لی جس کی وجہ سے اہل مکہ بھوک کا شکار ہونے لگے۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حجاج بن یوسف نے پانچ مہینے اور سترہ راتوں تک مکۂ مکرمہ کا محاصرہ کئے رکھا۔ جب 73 ھجری کا آغاز ہوا تو حجاج بن یوسف کی سپہ سالاری میں اہل شام مکۂ مکرمہ کا محاصرہ کئے ہوئے تھے اور حجاج بن یوسف نے مکۂ مکرمہ پر منجنیق نصب کروا دی تھی تاکہ اہل مکہ کو تنگ کرے اور وہ عبدالملک بن مروان کے پاس امان اور اطاعت کے لئے آئیں۔ حجاج بن یوسف کے ساتھ حبشی تھے وہ منجنیق سے پتھر پھینکنے لگے اور انہوں نے بہت سے لوگوں کو قتل کر دیا ۔ حجاج بن یوسف کے پاس پانچ منجنیقیں تھیں۔ پس اُس نے ہر طرف سے مکۂ مکرمہ پر سنگ باری کرنے کا حکم دے دیا اور اہل مکہ کا غلہ اور پانی روک لیا ۔ وہ زمزم کا پانی پیتے تھے اور پتھر خانۂ کعبہ پر پڑنے لگے ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: ایک عرصۂ دراز تک یہ لڑائی جاری رہی یہاں تک کہ طویل محاصرے سے اہل مکہ کا غلہ ختم ہوگیا اور باہر سے رسد آنے کا کوئی راستہ نہیں تھا ۔لوگ شدت بھوک سے پریشان ہونے لگے تو حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے اپنے گھوڑے کو ذبح کر کے گوشت تقسیم کر دیا اور گرانی کا یہ عالم ہو گیا کہ ایک مرغی دس درہم میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی تھی ۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ غلہ ، کھجور اور جَو لوگوں میں ضرورت کے مطابق تقسیم کرتے تھے ۔ حجاج بن یوسف نے یہ دیکھا تو محاصرے میں اور سختی کر دی اور اہل مکہ کے لئے امان نامہ لکھ کر بھیجدیا ۔جس کی وجہ سے لوگ حجاج بن یوسف سے جا کر مل گئے ۔اُن میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے بھی زیادہ تر ساتھی تھے جنہوں نے امان حاصل کر کے اپنے لائق سردار حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ سے علیحدگی اختیار کر لی۔اِن میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے دو بیٹے حمزہ و حبییب بھی تھے لیکن آپ رضی اﷲ عنہ کا تیسرا بیٹا آخر تک آپ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ رہا یہاں تک کہ شہید ہو گیا ۔ 


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے ساتھیوں کی علیحدگی


مکۂ مکرمہ کے اطراف کی پہاڑیوں پر حجاج بن یوسف نے منجنیقوں کو نصب کرایا ہوا تھا اور مسلسل کئی مہینوں تک سنگ باری یعنی پتھر برساتا رہا ۔ یہ لگ بھگ ایک طرفہ مقابلہ تھا ۔حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ اور اُن کے ساتھی شامی لشکر سے لڑنا چاہتے تھے لیکن پتھروں کی بارش کے آگے بے بس تھے ۔حجاج بن یوسف مسلسل منجنیقوں سے سنگ باری کر رہا تھا اور پتھروں کی بارش سے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے ساتھی ہلاک ہو رہے تھے ۔ان کے علاوہ مکۂ مکرمہ کے عام شہری بھی ہلاک ہو رہے تھے ۔اِس کے ساتھ ساتھ ‘‘خانۂ کعبہ’’ کی دیواریں بھی ٹوٹتی جارہی تھیں ۔ مسلسل کئی مہینوں کی سنگ باری سے گھبرا کر مکۂ مکرمہ کے عام شہری ایک ایک کر کے مکۂ مکرمہ خالی کرتے جارہے تھے ۔ یہاں تک کہ ایک وقت ایسا آیا کہ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے ساتھیوں نے بھی اُن کا ساتھ چھوڑ دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے : بہر حال اِسی طرح دونوں میں جنگ ہوتی رہی اور وہ وقت بھی آگیا کہ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے ساتھ بھی اُن کا ساتھ چھوڑ کر چلے گئے ۔ مکۂ مکرمہ کے باشندے پہلے ہی وعدہ معافی لیکر حجاج بن یوسف کے پاس چلے گئے تھے اور مکۂ مکرمہ کو خالی کر دیا تھا ۔دھیرے دھیرے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے ساتھی بھی آپ رضی اﷲ عنہ کا ساتھ چھوڑ کر جانے لگے اور ھجاج بن یوسف انہیں امان دینے لگا ۔ یہاں تک کہ دس ہزار ساتھیوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کا ساتھ چھوڑ دیا اور حجاج بن یوسف نے انہیں امان دے دی ۔یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ

 کے دو نوں بیٹے حمزہ بن عبداﷲ اور حبیب بن عبداﷲ بھی آپ رضی اﷲ عنہ کو چھوڑ کر حجاج بن یوسف کے پاس چلے گئے تھے اور حجاج بن یوسف نے انہیں بھی امان دے دی تھی ۔ 


اپنی والدہ سیدہ اسما بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہا سے مشورہ


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو سب لوگ چھوڑ کر چلے گئے اور صرف گنتی کے چند ساتھی اُن کے ساتھ تھے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ لوگوں کی اِس بے وفائی اور ترک نصرت کو دیکھ کر اپنی والدہ محترمہ سیدہ اسما بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہا کے پاس گئے اور اُن سے عرض کیا : ‘‘ لوگوں نے میرا ساتھ چھوڑ دیا ہے ، یہاں تک کہ میری اولاد اور رشتہ دار بھی مجھے چھوڑ کر چلے گئے ہیں ۔اب میرے ساتھ مٹھی بھر آدمی ہی رہ گئے ہیں جن کی قوت مدافعت تھوڑی دیر کی مہمان ہے ۔ میرے دشمن مجھے منہ مانگی چیزیں دینے کے لئے تیار ہیں ۔اب بتایئے کہ آپ رضی اﷲ عنہا کی کیا رائے ہے؟’’سیدہ اسما بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہا نے فرمایا :‘‘اے میرے بیٹے! اﷲ کی قسم! تم خود اپنے حال سے زیادہ واقف ہو ۔ اگر تم سمجھتے ہو کہ تم حق اور صداقت پر ہو اور اُس کی طرف دعوت دیتے ہو تو اُسے پورا کرو کیونکہ اِسی بناء پر تمہارے طرفداروں نے اپنی عزیز جانیں تمہاری خاطر قربان کی ہیں۔اپنی گردن پر دوسروں کو قبضہ نہ کرنے دو کہ بنو اُمیہ کے لڑکے تم سے کھیلتے پھریں اور اگر تمہاری یہ کوشش دنیا حاصل کرنے کے لئے ہے تو تم بد ترین مخلوق میں سے ہو ۔تم نے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالا اور جو تمہارے لئے مارے گئے اُن کا خون بھی رائگاں گیا ۔ اگر تم کہتے ہو کہ میں حق اور صداقت پر ہوں مگر چونکہ میرے ساتھی مجھے چھوڑ کر دشمنوں سے جاملے ہیں اِس لئے میں بھی کمزوری محسوس کر رہا ہوں تو یہ شریفوں اور نیک بندوں کا مسلک نہیں ہے ۔دنیا میں تم ہمیشہ نہیں رہ سکتے ،اِسلئے موت تمہارے لئے بہتر ہے ۔’’ 


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

Saltanat e Umayya part 35


 ا35 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 35

والدہ محترمہ کا استقلال، والدہ محترمہ سے آخری ملاقات، حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی بہادری، ہر دروازے پر شامی لشکر، حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی شہادت، اہل مکہ نے عبدالملک کی حکومت کو تسلیم کر لیا، حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی تجہیز و تکفین، سیدہ اسماء بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہا کی استقامت، حجاج بن یوسف کی صحابۂ کرام سے گستاخی، ھ73 ھجری کا اختتام، حضرت عوف بن مالک رضی اﷲ عنہ کا انتقال، سیدہ اسماء بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہا کا انتقال، حضرت ثابت بن ضحاک رضی اﷲ عنہ کا انتقال


والدہ محترمہ کا استقلال


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی والدہ محترمہ سیدہ اسما بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہا نے اپنے بیٹے کو حق اور صداقت پر قربان ہوجانے کا حکم د ے دیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس گفتگو کو سن کر حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ اپنی والدہ محترمہ سے قریب ہوئے اور اُن کی پیشانی کو بوسہ دیا اور عرض کیا : ‘‘ اﷲ کی قسم! میری بھی یہی رائے ہے ۔اﷲ کی قسم! میں نے نہ تو دنیا کی طرف میلان کیا اور نہ دنیا میں رہنا چاہتا ہوں ۔حکومت کے لئے میری جد و جہد میری ذاتی غرض پر مبنی نہیں تھی بلکہ اﷲ کے لئے میں نے یہ کام اپنے سر لیا تھا ۔ میں نے اِسے اچھا نہیں سمجھا کہ حرم محترم کی حرمت مٹا دی جائے ۔ مگر اِس وقت میں نے یہ مناسب سمجھا کہ آپ رضی اﷲ عنہا کی رائے بھی لے لوں اور آپ رضی اﷲ عنہا نے میرے ارادے کو اور بھی مستحکم کر دیا ہے ۔ اب آپ سے عرض ہے کہ آج اگر میں مار اجاؤں گا تو آپ رضی اﷲ عنہا مجھ پر رنج و غم نہیں کریں گی اور مجھے اﷲ کے سپرد کر دیجیئے ۔ اﷲ کی قسم! میں کبھی کسی ایسے کام کو کرنے کا ارادہ نہیں کیا جس سے میری عزت پر دھبہ آئے اور نہ میں نے کوئی اور برا کا م کیا ہے ۔اﷲ کے احکام کی تعمیل میں حد سے تجاوز نہیں کیا ، کسی کو امان دیکر اُسے نہیں توڑا ، کسی مسلمان یا ذمی پر ظلم نہیں کیا ۔جب کبھی کسی ماتحت افسر کے ظلم کی اطلاع مجھے ہوئی تو میں نے اسے کبھی پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھا بلکہ اُسے سرزنش کر دی ۔اﷲ کی رضا میرے نزدیک سب سے بڑی سفارش تھی ۔یہ میں اِس لئے نہیں کہہ رہا ہوں کہ میں نے برے اعمال کئے ہیں اور اِن سے اپنے آپ کو علیحدہ کرہا ہوں بلکہ اے اﷲ! آپ خوب مجھ سے واقف ہیں اور کوئی شئے آپ سے پوشیدہ نہیں ہے ۔ میرا مقصد صرف یہ ہے کہ میرے حالات معلوم کر کے میرے بعد میری والدہ محترمہ رنجیدہ نہ ہو بلکہ وہ میری خوبیوں سے ایک گونہ اطمینان و تسلی حاصل کر سکیں ۔’’سیدہ اسما بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہا نے فرمایا: ‘‘ مجھے اﷲ سے توقع ہے کہ اگر تم مجھ سے پہلے اِس جہان فانی سے رخصت ہو گئے تو میں ثبات و استقلال سے تمہاری موت پر صبر کروں گی اور اگر میں پہلے مر گئی تو میرے جی میں آتا ہے کہ کم از کم میں یہ ضرور دیکھوں کہ تمہاری اِس جنگ کا نتیجہ کیا نکلتا ہے؟’’


والدہ محترمہ سے آخری ملاقات


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے اپنی والدہ محترمہ کا حوصلہ اور استقلال دیکھا تو اﷲ کا شکر ادا کیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے فرمایا: ‘‘ اے میری والدہ محترمہ! اﷲ تعالیٰ آپ رضی اﷲ عنہا کو جزائے خیر عطا فرمائے ۔ آپ رضی اﷲ عنہا مہربانی فرما کر ہمیشہ میرے لئے دعا کرتی رہیں ۔’’ انہوں نے فرمایا: ‘‘ میں ضرور تمہارے لئے دعا کروں گی کیونکہ مجھے کامل یقین ہے کہ چاہے اور کسی شخص نے باطل کے لئے اپنی جان دی ہو مگر تم نے تو حق اور صداقت کی راہ میں اپنی جان عزیز قربان کی ہے ۔ اِس کے بعد انہوں نے یہ دعا مانگی : ‘‘ اے اﷲ! تُو اِس کی رات میں عبادت کرنے کے لئے شب بیداری ،مکۂ مکرمہ اور مدینۂ منورہ کی دوپہریوں میں تیری عبادت میں آہ بکا کرنے ،روزے میں شدت تشنگی برداشت کرنے اور اپنے والد محترم اور مجھ سے حسن سلوک کرنے کی وجہ سے اِس پر رحم فرما۔ اے اﷲ تعالیٰ! اِس کے معاملے کو میں نے تیرے سپرد کر دیا اور جو کچھ تُو نے فیصلہ کیا ہے میں اس سے خوش ہوں۔ میرے بیٹے عبداﷲ کی وجہ سے تُو مجھے صبر و شکر کرنے والوں سا ثواب عطا فرما۔ ’’سیدہ اسما بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہا اپنے بیٹے کے شہید ہونے کے بعد صرف پانچ یا دس دن زندہ رہیں۔جب حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ جنگ کے لئے تیار ہو کر جانے لگے تو آخری بار والدہ محترمہ سے ملنے کے لئے آئے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ زرہ اور خود پہنے ہوئے تھے ۔اپنی والدہ محترمہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیکر بوسہ دیا اور عرض کیا :‘‘ میں آپ رضی اﷲ عنہا سے رخصت ہونے کے لئے آیا ہوں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ اِس جہان فانی میں قیام کا یہ میرا آخری دن ہے ۔ اِس کے علاوہ میں آپ رضی اﷲ عنہا کو بتانا چاہتا ہوں کہ اگر میں قتل ہو گیا تو صرف ایک مردار گوشت ہوں گا اور جو کچھ میرے ساتھ کیا جائے گا اُس سے مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا ۔’’اُن کی والدہ محترمہ نے فرمایا: ‘‘ اپنے ارادے کی تکمیل کرو اور اپنے آپ کو دشمنوں کے حوالے نہ کرو ۔میرے قریب آؤ تاکہ میں تمہیں رخصت کروں۔’’ 


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی بہادری


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے پاس گنتی کے چند ساتھی رہ گئے تھے اور آپ رضی اﷲ عنہ آخری معرکہ کے لئے حجاج بن یوسف کے لشکر کے مقابلے پر آئے۔علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے آستینیں سمیٹ لیں اور قمیص کے دامن اُٹھا کر قمیص سے باندھ لئے اور بسم اﷲ کہہ کر گھر سے نکل پڑے ۔ شامیوں پر ایک سخت حملہ کیا جس سے اُن کے بہت سے آدمی مارے گئے ۔پھر بھی انہوں نے گھیر لیا تو آپ رضی اﷲ عنہ تکبریں کہتے ہوئے اُن کے نرغے سے نکل آئے ۔ بعض ساتھیوں نے بھاگنے کی رائے دی ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے جواب دیا : ‘‘ کیا ہی بُرا ہے وہ شخص جو ایسی حالت میں بھاگ جائے ،میں تو اﷲ تعالیٰ کی عنایت سے اسلام میں ہوں۔اِس سے زیادہ کچھ نہیں ہو گا کہ یہ لوگ مجھے قتل کر ڈالیں گے اور اِس خوف سے میدان جنگ چھوڑ کر بھاگنا محض حماقت ہے۔’’ اُس وقت مسجد الحرام کے تمام دروازے شامیوں سے بھرے ہوئے تھے اور چاروں طرف سے مکۂ مکرمہ کی ناکہ بندی کر لی گئی تھی ۔حجاج بن یوسف اور طارق بن عمرو نے ابطح کی جانب سے ‘‘مروہ’’ تک گھیر لیا اور حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ پر چاروں طرف سے حملے کر رہے تھے ۔تھوڑی تھوڑی دیر کے بعدحضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ اپنےساتھی حضرت عبداﷲ بن صفوان کو پکارتے تھے اور وہ جواب دیتے تھے ۔ حجاج بن یوسف نے دیکھا کہ لوگ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ پر حملہ کرنے سے جی چراتے ہیں تو وہ اپنے لشکر پر غصہ ہوا اور طیش میں آکر پیادہ لشکر لئے ہوئے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے علم بردار (جھنڈا اُٹھانے والے) کو گھیر لیا ۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے شامیوں پر زبردست حملہ کر کے اپنے علم بردار کو محاصرے سے نکال لیا اور ایک پُر زور حملہ کر کے حجاج کو پسپا کر کے لوٹے ۔ مقام ابراہیم پر دو رکعت نماز پڑھی ،اِسی دوران حجاج بن یوسف نے پھر اُن کے علم بردار پر حملہ کیا ۔ باب بنو شیبہ پر لڑائی ہوئی اور آپ رضی اﷲ عنہ کا علم بردار مارا گیا اور علم حجاج کے لشکر نے لے لیا ۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نماز سے فارغ ہو کر بغیر علم کے ہی لڑنے لگے ۔ 


ہر دروازے پر شامی لشکر


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ اپنے مٹھی بھر ساتھیوں کے ساتھ حجاج بن یوسف کے شامی لشکر کا زبردست مقابلہ کر رہے تھے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ کے ساتھی مسلسل کام آتے جارہے تھے اور شامی لشکر مسلسل مکۂ مکرمہ میں گھستے جارہے تھے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اہل حمص کے ایک کمانڈر نے جو خود اِس جنگ میں شریک تھا بیان کیا کہ میں نے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو منگل کے روز دیکھا اور ہم حمص والے پانچ سو آدمی کے دستے کے طور پر اُن پر حملہ آور ہو رہے تھے ۔ ہمارے داخلے کے لئے بھی ایک خاص دروازہ مقرر کر دیا گیا تھا کہ جس سے صرف ہم کوہی داخل ہونے کا حکم تھا ۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ تنہا ہمارے مقابلے پر آتے تھے اور ہم اُن سے شکست کھا کر پیچھے ہٹ جاتے تھے ۔ میں اُن سے کہتا تھا کہ بلا شبہ آپ رضی اﷲ عنہ ایک جوانمرد ہیں ۔ میں نے ابطح میں انہیں کھڑے دیکھا اور کسی شخص کو اُن کے پاس جانے کی جرأت نہیں ہوتی تھی ۔اِسی لئے ہمیں خیال ہوا کہ آپ رضی اﷲ عنہ مارے ہی نہیں جائیں گے۔ غرض کہ منگل ہی کے دن ‘‘حرم’’ کے تمام دروازے شامیوں سے بھر گئے ۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے ساتھیوں نے مدافعت کے سب مقامات دشمن کے حوالے کر دئے اور دشمن کا پورا لشکر اُن میں سما گیا ۔جس دروازے پراہل حمص متعین کئے گئے وہ بالکل خانۂ کعبہ کے سامنے تھا۔ اہل دمشق باب بنو شیبہ پر ، اہل اردن باب صفا پر ، اہل فلسطین باب بنو جمح پر اور اہل قنسرین باب بنو سہم پر متعین کر دیئے گئے ۔حجاج بن یوسف اور طارق بن عمرو دونوں کا لشکر ابطح کی سمت میں ‘‘مروہ’’ تک پھیلا ہوا تھا۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کبھی اِس سمت میں دشمن کا مقابلہ کرتے اور کبھی دوسری جانب ۔ اُس وقت آپ رضی اﷲ عنہ کی کیفیت ‘‘شیر نیستاں’’ کی طرح تھی کہ جب دشمن کا گروہ آپ رضی اﷲ عنہ پر حملہ کرتا تھا تو آپ رضی اﷲ عنہ اُس پر جھپٹ پڑتے تھے حالانکہ وہ سب درواشے پر کھڑے ہوتے تھے اور آپ رضی اﷲ عنہ انہیں لڑتے لڑتے دروازے کے باہر نکال دیتے تھے۔


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی شہادت


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ مسلسل شامیوں سے مقابلہ کر رہے تھے کہ شام ہوگئی اور لڑائی بند ہو گئی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: 17 جمادی الاول 73 ھجری بروز سہ شنبہ صبح کے وقت حجاج بن یوسف نے تمام دروازوں پر قبضہ کر لیا ۔اُس تمام رات حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ اﷲ کی عبادت میں مصروف رہے پھر تلوار کے پر تلے سے کمر باندھ کر تھوڑی دیر سو گئے ۔ بہت سویرے بیدار ہوئے اور سعد سے کہا کہ اذان دو۔ سعد نے مقام ابراہیم پر اذان دی ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے وضو کیا اور دو رکعت سنت پڑھی پھر آگے بڑھے اور موذن نے اقامت کہی اور آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ نماز پڑھی ۔ دونوں رکعتوں میں سورہ نون والقلم حرف بہ حرف تلاوت کی اور سلام پھیر کر خطبہ کے لئے کھڑے ہوئے ۔ حمد و ثناء کے بعد فرمایا:‘‘ آپ لوگ اپنے چہرے کھول دیجئے تا کہ میں آپ سب کو دیکھوں۔ ’’ ( کیونکہ تمام لوگوں نے خود اور عماموں سے اپنے چہرے چھپا رکھے تھے) اِس حکم کی تعمیل میْں لوگوں نے اپنے چہرے کھول دیئے۔ اِس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :‘‘ اے ال زبیر! اگر تم نے میرے ساتھ خیر خواہی کی ہوتی تو عرب میں ہمارا وہ خاندان ہوتا کہ جس نے اﷲ کے راستے میں اپنی جانیں قربان کی ہوتیں اور کبھی ہم پر یہ مصیبت نازل نہ ہوتی ۔ اے اآل زبیر! تم ہر گز تلواروں کے لڑنے سے خائف نہ ہو نا کیونکہ مجھے اس کا تجربہ ہے ۔ کوئی ایسی جنگ نہیں ہوئی جس میں زخمی نہ ہوا ہو اور میں جانتا ہوں کہ زخم کے علاج کرنے کی تکلیف تلوار کے لگنے سے زیادہ سخت ہے ۔ جس طرح تم اپنے چہروں کو بچاتے ہو اسی طرح تلواروں کو بھی بچانا کیونکہ میں کسی ایسے شخص سے واقف نہیں ہوں کہ جس کی تلوار ٹوٹ گئی ہو اور وہ پھر زندہ باقی ریا ہو۔ مرد کے پاس ہتھیار نہ ہوں تو وہ عورت کی طرح رہتا ہے ۔ جب بجلی چمکتی ہے تو اپنی آنکھیں بند کر لینا یا تلواروں سے اپنی آنکھیں بچانا ۔ ہر شخص کو چاہیئے کہ وہ صرف اپنے مقابلے کا دھیان رکھے ۔ میرے متعلق سوال تمہاری اپنی توجہ کو نہ بٹائے اور یہ ہر گز نہ کہنا کہ میں کہاں ہوں البتہ جو شخص دریافت کرے اُسے بتا دنا۔ میں سواروں کے سب سے اوّل دستے میں کھڑ ہوں گا ۔اﷲ کا نام لیکر حملہ کرو۔’’حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے دشمن پر حملہ کیا اور ‘‘حجون’’ تک انہیں پیچھے دھکیل دیا ۔ ایک اینٹ آکر چہرے پر لگی جس کی وجہ سے آپ رضی اﷲ عنہ کو چکر آگیا اور پورا چہرہ لہو لہان ہو گیا ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : الغرض اِس قسم کے چند کلمات سمجھا کر شامیوں کے لشکر پر حملہ کیا اور لڑتے لڑتے ‘‘حجون’’ تک بڑھ گئے ۔شامیوں کے لشکر سے ایک شخص نے دُور سے تیر مار ا ،جس سے آپ رضی اﷲ عنہ کی پیشانی زخمی ہوگئی اور چہرے سے خون بہنے لگا مگر اِس کے باوجود نہایت مردانگی سے لڑتے رہے ۔ شامی لشکر دُور سے پتھر اور تیر برسانے لگا۔ بالاّخر (یوم سہ شنبہ) ماہ جماد ی الآخر ۷۳؁ ھجری کو شہید ہو گئے۔ حجاج کے سامنے آپ رضی اﷲ عنہ کا سر پیش کیا گیا تو اُس نے سجدہ کیا اور اہل شام تکبیر کہہ اُٹھے ۔


اہل مکہ نے عبدالملک کی حکومت کو تسلیم کر لیا


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے ساتھ اہل مکہ تھے لیکن آپ رضی اﷲ عنہ کے شہید ہونے کے بعد اہل مکہ نے عبدالملک بن مروان کی حکومت کو تسلیم کر لیا۔اِس طرح عبدالملک بن مروان مملکت ِ اسلامیہ کا اکیلا حکمراں بن گیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حجاج بن یوسف کو جب حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے شہید ہونے کی خبر ہوئی تو اُس نے سجدۂ شکر ادا کیا اور طارق بن عمرو کے ساتھ لاش پر آیا ۔ طارق بن عمرو نے آپ رضی اﷲ عنہ کی لاش دیکھ کر کہا: ‘‘ اِن سے زیادہ جواں مرد آج تک پیدا نہیں ہوا ۔’’ حجاج بن یوسف نے یہ سن کر کہا: ‘‘ تم ایسے شخص کی تعریف میں رطب اللسان ہو جس نے امیر المومنین کی مخالفت کی ہے ۔’’ طارق بن عمرو نے کہا: ‘‘ بے شک اِن کی یہی غیر معمولی بہادری اور شجاعت ہی تو ہمارے لئے باعث تسلی ہو سکتی ہے ۔ اگر یہ بات نہیں ہوتی تو ہمارے پاس اِس کا کیا جواب تھا کہ ہم نے سات مہینے سے اِن کا محاصرہ کر رکھا تھا اور انہوں نے کوئی خندق نہیں کھودی اور یہ کسی قلعے میں بھی نہیں تھے اور کسی اونچے مقام پر بھی نہیں تھے جو قدرتی طور پر مدافعت کا کام دیتا ۔اِس کے باوجود انہوں نے اپنا پلہ ہلکا نہیں ہونے دیا بلکہ اِن کا ہی پلہ بھاری رہا ۔’’ جب اِس گفتگو کی خبر عبدالملک بن مروان کو ہوئی تو اُس نے طارق بن عمرو کی تائید کی ۔حجاج بن یوسف نے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ ، حضرت عبداﷲ بن صفوان اور عمارہ بن عمرو بن حزم کے سروں کو مدینۂ منورہ بھیجا جہاں وہ ایک نصب کر دیئے گئے ۔ پھر وہ عبدالملک بن مروان کے سامنے لائے گئے ۔ اِس کے بعد حجاج بن یوسف مکۂ مکرمہ میں داخل ہوا اور تمام اہل مکہ سے عبدالملک بن مروان کے لئے بیعت لی اور تمام اہل مکہ نے اُس کی حکومت تسلیم کر لی ۔ اِس کے بعد عبدالملک بن مروان نے طارق بن عمرو کو مدینۂ منورہ کا گورنر مقرر کیا اور وہ پانچ مینے تک اِس عہدے پر رہا۔ 


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی تجہیز و تکفین


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو شہید کرنے کے بعد حجاج بن یوسف نے آپ رضی اﷲ عنہ کا سر عبدالملک بن مروان کے پاس بھیج دیا اور جسم کو مکۂ مکرمہ میں صلیب پر چڑھا دیا ۔آپ رضی اﷲ عنہ کی والدہ محترمہ سیدہ اسما بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہا نے لاش کو دفن کرنے کی اجازت چاہی لیکن حجاج بن یوسف نے انکار کر دیا تو آپ رضی اﷲ عنہا نے اپنے دوسرے بیٹے حضرت عُروہ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو ملک شام عبدالملک بن مروان کے پاس بھیجاتو وہ دفن کرنے کی اجازت لیکر آئے ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: سیدہ اسما بنت ابوبکر صدیق

 رضی اﷲ عنہا نے شہادت کے بعد لاش کے دفن کی اجازت چاہی تو حجاج بن یوسف نے انکار کیا ۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی شہادت کے بعد اُن کے بھائی حضرت عُروہ بن زبیر رضی اﷲ عنہ حجاج سے پہلے عبدالملک بن مروان کے پاس پہنچ گئے ۔اُس نے اُن کو کمال عزت سے تخت پر اپنے برابر بٹھایا اور حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اُن کی شہادت کے بارے میں بتایا ۔ یہ سن کر عبدالملک بن مروان سجدے میں چلا گیا ۔ جب سر اُٹھا یاتو حضرت عُروہ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے فرمایا: ‘‘ حجاج نے اُن کی لاش صلیب پر چڑھا دی ہے اور دفن نہیں کرنے دے رہا ہے ۔ اگر تُم اجازت دو تو لاش اُن کی والدہ محترمہ کے حوالے کر دی جائے ۔’’ عبدالملک بن مروان نے یہ درخواست منظور کر لی اور حجاج بن یوسف کو صلیب دینے پر ملامت آمیز خط لکھا ۔ حجاج بن یوسف نے لاش صلیب سے اُتروا کر سیدہ اسما بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے پاس بھیج دیا ۔حضرت عُروہ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی اور دفن کر دیا ۔


سیدہ اسماء بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہا کی استقامت


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے شہید ہونے کے بعد بھی اُن کی والدہ محترمہ اُسی طرح استقامت پر قائم رہیں۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی تجہیز و تکفین کے بعدسیدہ اسماء بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہا کی خدمت میں حجاج بن یوسف حاضر ہوا اور بولا: ‘‘ اے امی جان! امیر المومنین عبدالملک بن مروان نے مجھے آپ کے متعلق وصیت کی ہے ۔کیا آپ کی کوئی حاجت ہے؟’’ آپ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا: ‘‘ میں تیری ماں نہیں ہوں ،میں ثنیہ پر مصلوب ہونے والے (حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ) کی ماں ہوں۔اور مجھے کوئی حاجت نہیں ہے لیکن میں تجھے ایک حدیث بیان کروں گی ۔میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ‘‘ بنو ثقیف سے ایک‘‘ کذاب’’ اور ایک‘‘ بربادی افگن’’ ظاہر ہو گا ۔’’ کذاب کو تو ہم نے دیکھ لیا ہے اور ‘‘بربادی افگن’’ میرے خیال میں تُو ہی ہے ۔ ’’ حجاج بن یوسف نے کہا: ‘‘ میں منافقین کو برباد کرنے والا ہوں۔’’ اِس کے تھوڑے ہی دنوں بعد سیدہ اسما بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہا کا انتقال ہوگیا ۔


حجاج بن یوسف کی صحابۂ کرام سے گستاخی


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو شہید کر کے مکۂ مکرمہ فتح کرنے کے بعد حجاج بن یوسف مدینۂ منورہ آیا اور وہاں موجود صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کی شان میں گستاخی کی اور بد تمیزی سے پیش آیا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: کامیابی کے بعد حجاج بن یوسف مکۂ مکرمہ میں داخل ہوا اور مسجد الحرام کو خون اور پتھروں سے صاف کرایا اور اہل مکہ سے عبدالملک بن مروان کی بیعت لیکر مدینۂ منورہ چلا گیا اور وہاں دو مہینے تک ٹھہرا رہا ۔اہل مدینہ کو امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کا قاتل سمجھ کر ستانے لگا اور اُن کی ذلت و رسوائی میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کیا ۔ صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کی ایک جماعت کے ہاتھوں پر سیسہ گرم کر کے ‘‘مہریں’’ کرادیں جیسا کہ ذمیوں کے ساتھ کیا جاتا تھا ۔ اِن میں حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ ، حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ اور حضرت سہل بن مالک رضی اﷲ عنہ بھی تھے ۔اِس کے بعد مکۂ مکرمہ لوٹ آیا ۔ مدینہ اور اہل مدینہ کو ستانے اور پریشان کرنے کے بارے میں بہت سے واقعات نقل کئے جاتے ہیں جس کے ذکر سے کچھ فائدہ نہیں ہے اور اﷲ تعالیٰ منتقم حقیقی ہے۔ 


ھ73 ھجری کا اختتام


مکۂ مکرمہ اور مدینۂ منورہ میں حجاج بن یوسف کے ظلم کے علاوہ اِس سال 73 ھجری میں ابو فدیک خارجی کو قتل کرنے کا وقعہ پیش آیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 73 ھجری میں عبدالملک بن مروان نے عمر بن عبیداﷲ بن معمر کو ابو فدیک خارجی سے مقابلہ کے لئے روانہ کیا اور حکم دیا کہ کوفہ اور بصرہ سے جن جن کو چاہوں ساتھ لے لو۔عمر بن عبیداﷲ کوفہ آیا اور دس ہزار آدمی اُس کے ساتھ ہوگئے ۔پھر بصرہ آیا تو وہاں سے بھی دس ہزار آدمی ساتھ ہوگئے ۔اِس طرح بیس ہزار سے زیادہ کا لشکر لیکر ابو فدیک خارجی پر حملہ کیا ۔اُس نے زبردست مقابلہ کیا اور بصرہ والوں کو پیچھے دھکیل دیا جبکہ کوفہ والے ڈٹے رہے ۔یہ دیکھ کر بصرہ وااوں نے بھی زبردست حملہ کیا اور خارجیوں کو شکست ہوئی ۔ ابو فدیک مارا گیا اور خارجیوں نے اپنے آپ کو بلا شرط کے حوالے کر دیا ۔ عمر بن عبیداﷲ نے اِن میں سے چھ ہزار کو قتل کرا دیا اور آٹھ سو کو قیدی بنا لیااور پھر لشکر لیکر بصرہ واپس آگیا ۔اِس سال ۷۳؁ ھجری میں عبدالملک بن مروان نے خالد بن عبداﷲ کو بصرہ کی گورنری سے معزول کر دیا اور اُس کی جگہ اپنے بھائی بشر بن مروان کو بصرہ کا گورنر بنا دیا ۔اِس طرح بشر بن مروان کوفہ اور بصرہ دونوں کا گورنر بن گیا ۔ اُس نے کوفہ پر عمرو بن حریث کو اپنا نائب بنایا اور خود بصرہ آگیا ۔ اِس سال محمد بن مروان ایک لشکر لیکر موسم گرما میں رومیوں سے لڑنے کے لئے گیا اور انہیں شکست دی ۔ اِس سال عثمان بن ولید اور رومیوں کے درمیان آرمینیا کے مضافات میں جنگ ہوئی ۔ عثمان بن ولید کے پاس صرف چارہزار کا لشکر تھا جبکہ اُس کے مقابل رومیوں کی تعداد ساٹھ ہزار تھی مگر عثمان بن ولید نے انہیں شکست دے دی اور شدید نقصان پہنچایا۔اِس سال حجاج بن یوسف نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔


حضرت عوف بن مالک رضی اﷲ عنہ کا انتقال


اِس سال 73 ھجری میں حضرت عوف بن مالک رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں؛حضرت عوف بن مالک بن عوف اسجعی غطفانی جلیل القدر صحابی ہیں ۔ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اور آپ رضی اﷲ عنہ سے پہلے سپہ سالاروں کے ساتھ جنگ موتہ میں شامل ہوئے اور فتح مکہ میں بھی شامل ہوئے ۔اُس روز آپ رضی اﷲ عنہ کی قوم کا جھنڈا آپ رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ میں تھا اور ملک شام کی فتح میں بھی شامل ہوئے ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے احادیث روایت کی ہیں اور آپ رضی اﷲ عنہ سے تابعین کی ایک جماعت اور حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ نے بھی روایت کی ہے اور اُن کا انتقال آپ رضی اﷲ عنہ سے پہلے ہو گیا ۔


سیدہ اسماء بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہا کا انتقال


اِس سال 73 ھجری میں سیدہ اسما ء بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہا کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : سیدہ اسماء بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہا خلیفۂ اوّل حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی بیٹی ہیں ۔اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کی بہن ہیں ۔ عشرہ مبشرہ میں سے حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ کی بیوی ہیں اور حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی والدہ محترمہ ہیں ۔ انہیں ‘‘ذات النطاقین’’ کا لقب ملا ہے ۔ آپ رضی اﷲ عنہا کو یہ لقب ہجرت کے سال دیا گیا جب آپ رضی اﷲ عنہا نے اپنی پیٹی کو پھاڑ ا اور اُس سے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے کھانے کو باندھا جب وہ مدینۂ منورہ جانے کے لئے غار ثور سے نکلے تھے ۔ سیدہ اسما بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہا نے اسلام کے آغاز میں ہی اسلام قبول کر لیا تھا اور جب اپنے شوہر حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ کے ساتھ مدینۂ منورہ کی طرف ہجرت کی تو آپ رضی اﷲ عنہا حاملہ تھیں ۔ مدینۂ منورہ میں آپ رضی اﷲ عنہا کے بطن سے مہاجرین کے سب سے پہلے بچے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی ولادت ہوئی ۔آپ رضی اﷲ عنہا مہاجرین اور مہاجرات میں سے سب سے آخر میں انتقال کرنے والی ہیں ۔ آپ رضی اﷲ عنہا اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ سے دس سال بڑی ہیں ۔ آپ رضی اﷲ عنہا کے دادا ، والد ، شوہر ، بھائی ، بہن اور بیٹے سب صحابی ہیں ۔آپ رضی اﷲ عنہا جنگ یرموک میں اپنے شوہر اور بیٹے کے ساتھ شریک ہوئی تھیں ۔آپ رضی اﷲ عنہا کا سو سال کی عُمر میں انتقال ہوا اور کوئی دانت نہیں گرا تھا اور نہ ہی عقل میں فتور ہوا تھا ۔


حضرت ثابت بن ضحاک رضی اﷲ عنہ کا انتقال


اِس سال 73 ھجری میں حضرت ثابت بن ضحاک انصاری رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا۔ آپ رضی اﷲ عنہ صحابی ہیں ۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت ثابت بن ضحاک انصاری رضی اﷲ عنہ کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی صحبت حاصل ہے ۔آپ رضی اﷲ عنہ کو ابو زید الاشمالی کہا جاتا ہے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ ‘‘بیعت رضوان’’ میں شامل تھے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے بیعت رضوان کا درخت بتاتے ہوئے فرمایا: ‘‘ اِس درخت کے نیچے ہم نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی بیعت کی اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا :‘‘ جس نے کسی مومن پر کفر کی تہمت لگائی وہ اُس کا ضامن ہوگا۔’’


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!


جمعہ، 30 اگست، 2024

Saltanat e Umayya part 36


 ا36 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 36

ھ74 : حجاج بن یوسف مدینۂ منورہ کا گورنر، خانہ کعبہ کی تعمیر نو، خارجیوں سے جنگ، اُمیہ بن عبداﷲ خراسان کا گورنر، 74 ھجری کا خاتمہ، 74 ھجری کا خاتمہ، حضرت رافع بن خدیج انصاری رضی اﷲ عنہ کا انتقال، حضرت ابو سعید خُدری انصاری رضی اﷲ عنہ کا انتقال، حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا انتقال، حضرت ابوجحیفہ رضی اﷲ عنہ کا انتقال، حضرت سلمہ بن اکوع انصاری رضی اﷲ عنہ کا انتقال، حضرت عبید بن عُمیر تابعی کا انتقال، تین جلیل القدرتابعی کا انتقال، ھ75 ھجری : حجاج بن یوسف ملک عراق کا گورنر، کوفہ میں حجاج بن یوسف کی آمد، اہل کوفہ کو الٹی میٹم، اہل کوفہ پر ظالم حکمراں مسلط، 


ھ74 : حجاج بن یوسف مدینۂ منورہ کا گورنر


ھ74 ھجری کے خاتمے تک عبدالملک بن مروان نے حجاج بن یوسف کو مدینۂ منورہ کے ساتھ مکۂ مکرمہ کا بھی گورنر بنا دیا تھا بلکہ پورے ملک حجاز کا گورنر بنادیا تھا ۔کوفہ اور بصرہ کا گورنر بشر بن مروان تھا اور خراسان کا گورنر اُمیہ بن عبداﷲ تھا ۔ کوفہ کا قاضی شریح بن حارث تھا اور بصرہ کا قاضی ہشام بن ہبیرہ تھا ۔ اِس سال حجاج بن یوسف نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔ اُس نے عبداﷲ بن قیس کو مدینۂ منورہ کا قاضی مقرر کیا ۔ ملک مصر کا گورنر عبدالعزیز بن مروان تھا ۔



ھ74 : حجاج بن یوسف مدینۂ منورہ کا گورنر


ھ73 ہجری کے آخری دنوں میں حجاج بن یوسف نے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو شہید کیا اور 74 ھجری میں عبدالملک بن مروان نے طارق بن عمرو کو معزول کر کے حجاج بن یوسف کو مدینۂ منورہ کا گورنر بنادیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 74 ھجری میں عبدالملک بن مروان نے طارق بن عمرو کو معزول کر کے حجاج بن یوسف کو مدینۂ منورہ کا گورنر بنا دیا ۔ حجاج بن یوسف مدینۂ منورہ آیا ،ایک مہینہ قیام کیا اور پھر عمرہ کرنے روانہ ہو گیا ۔ پھر ماہ صفر المظفر میں مدینۂ منورہ واپس آیا اور اِس مرتبہ تین مہینہ مقیم رہا ۔ وہ اہل مدینہ کے ساتھ بے عزتی سے پیش آتا تھا اور انہیں تکالیف پہنچاتا تھا ۔ محلہ بنو سلمہ میں اُس نے ایک مسجد بنائی جو مسجد حجاج کے نام سے ہی مشہور ہوئی ۔ حجاج بن یوسف کی بد تمیزی اور توہین سے صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم بھی نہیں بچے اور اُس نے اُن کی گردنوں پر داغ لگوائے ۔ حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ پر داغ لگائے اور حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ کی گردن پر داغ لگائے ۔ اِس سے مقصد اُن کی توہین و تذلیل تھی ۔ حجاج بن یوسف نے حضرت سہل بن سعد رضی اﷲ عنہ کو بلوایا اور کہا : ‘‘ تُو نے کیوں امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی اہانت کی ؟’’ انہوں نے فرمایا ‘‘ میں نے تو اُن کی ضرور مدد کی ہے۔’’ حجاج بن یوسف نے کہا : ‘‘ تم جھوٹ بولتے ہو ۔’’ اور پھر سیسہ گرم کر کے اُن کی گردن پر داغ لگائے ۔ 


خانہ کعبہ کی تعمیر نو


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ سے جنگ کرنے میں حجاج بن یوسف نے مکۂ مکرمہ پر اتنے پتھر برسائے تھے کہ خانہ کعبہ کی دیواریں شکستہ ہو گئیں تھیں۔ یزید کے حکم سے شامی لشکر نے جب ۶۴ ؁ ھجری میں مکۂ مکرمہ پر حملہ کیا تھا تو تب بھی خانۂ کعبہ کی دیواریں شکستہ ہو گئی تھیں ۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے خانۂ کعبہ کی تعمیر نو کی تھی اور اُس کو ویسا بنا دیا تھا جیسا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے بنایا تھا۔ عبدالملک بن مروان نے حجاج بن یوسف کو حکم دیا کہ خانہ کعبہ کو مسمار کر کے پھر اُسی طرح بنادے جیسا قریش نے بنایا تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں :حجاج بن یوسف نے خانۂ کعبہ کی دیواروں کو جنھیں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے بنایا تھا منہدم کرادیا ۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے ‘‘حجر’’ کو خانۂ کعبہ میں شامل کر لیا تھا اور اُس کے دو دروازے بنا دیئے تھے ۔ مگر حجاج بن یوسف نے خانۂ کعبہ کو پھر اُسی صورت میں بنا دیا جس میں قریش نے بنایا تھا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں :‘‘ 74 ھجری میں عبدالملک بن مروان نے طارق بن عمرو کو معزول کر کے حجاج بن یوسف کو وہاں کا گورنر بنا دیا ۔ اِسی سال میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے بنائے ہوئے خانۂ کعبہ کو منہدم کر کے حجر اسود کو خانۂ کعبہ سے باہر کر دیا اور اُس بنیاد پر بنایا جس پر قریش نے بنایا تھا ۔ عبدالملک بن مروان اکثر کہا کرتا تھا کہ عبداﷲ بن زبیر( رضی اﷲ عنہ) اس روایت میں جس کو اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت کی ہے صادق نہیں تھا ۔ پس جب عبدالملک بن مروان کو اس روایت کی صحت کی تصدیق ہوگئی تو اُس نے کہا: ‘‘ مجھے یہی پسند آیا کہ میں عبداﷲ بن زبیر (رضی اﷲ عنہ) کی بنیاد کعبہ کو توڑ دوں۔’’


خارجیوں سے جنگ


ھ74 ھجری میں عبدالملک بن مروان نے بصرہ اور کوفہ کا گورنر اپنے بھائی بشر بن مروان کو بنا دیا ۔علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: جب عبدالملک بن مروان نے خالد بن عبداﷲ کو بصرہ کی گورنری سے معزول کیا اور اُس کی جگہ اپنے بھائی بشر بن مروان کو گورنر بنا دیا تو یہ حکم صادر کیا کہ مہلب بن ابی صفرہ کو خارجیوں سے جنگ کرنے کے لئے ‘‘ازارقہ’’ پر مامور کیا جائے ۔ اور اہل بصرہ اور اہل کوفہ میں سے جسے چاہے روانہ کر ے تاکہ خارجیوں کو چُن چُن کر ہلاک کیا جائے ۔ مہلب بن ابی صفرہ بصرہ کالشکر لیکر خوارج سے جنگ کرنے روانہ ہو گیا بشر بن مروان کو یہ ناگوارگزرا اور اُس نے عبدالرحمن بن محنف کو بلا کر کوفہ کا لشکر دیکر کہا :‘‘ تم کو معلوم ہی ہے کہ میں تمہاری کتنی عزت کرتا ہوں ۔ میں نے تمہیں اِس لئے بلایا کہ کوفہ کے لشکر کا سپہ سالار بنا کر جنگ ازارقہ پر روانہ کروں ۔ تم میرے حسن ظن کے مطابق اِس کام کے لئے موزوں ہو ، دیکھنا خبردار! مہلب بن ابی صفرہ کے فقروں میں نہ آجانااور اُس کی رائے اور مشورہ سے کوئی کام نہیں کرنا۔’’ عبدالرحمن بن محنف لشکر لیکر روانہ ہوا ۔ رام ہرمز میں پہنچ کر مہلب بن ابی صفرہ کے لشکر سے ایک میل کے فاصلے اپنے لشکر کا پڑاؤ ڈالا کہ دونوں لشکر ایکدوسرے کو دیکھ سکتے تھے اور خوارج سے خندق کھود کر جنگ چھیڑ دی ۔ رام ہرمز میں آئے عبد الرحمن بن محنف کو دس دن ہی گذرے تھے کہ بشر بن مروان کے مرنے کی اطلاع ملی اور یہ معلوم ہوا کہ مرتے وقت اُس نے خالد بن عبداﷲ کو گورنر بنا دیا ہے ۔ اِس خبر کا مشہور ہونا تھا کہ کوفہ کی فوجیں منتشر ہو کر اپنے شہر کی طرف واپس لوٹ آئیں اور اہواز پہنچ کر قیام کیا۔ خالد بن عبداﷲ نے بہت ڈرایا دھمکایا لیکن وہ لوگ مہلب بن ابی صفرہ کی طرف واپس نہیں گئے ۔اور رات کو چھپ چھپا کر شہر میں داخل ہوگئے ۔ 


اُمیہ بن عبداﷲ خراسان کا گورنر


ھ74 ھجری میں عبدالملک بن مروان نے اُمیہ بن عبداﷲ کو خراسان کا گورنر بنایا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : 72 ھجری میں عبداﷲ بن خازم کو قتل کیا گیا تو اُس کا سر بھیجنے کے معاملے میں بکیر بن وشاح اور بحیر میں اختلاف ہوگیا ۔ بکیر بن وشاح خراسان کا گورنر تھا اُس نے بحیر کو قید کر دیا ۔ اُس وقت خراسان میں قبیلہ بنو تمیم تھا اور اُن میں خصومت ہو گئی ۔بنو مقاعس اور دوسرے قبیلے والے بکیر بن وشاح سے نفرت کرنے لگے ۔اِس وجہ سے خراسانیوں کو یہ ڈر پیدا ہوا کہ اگر یہی صورت حال رہی تو نتیجہ فساد اور تباہی ہوگا اور دشمن ہماری خانہ جنگی کا فائدہ اُٹھا کر ہمیں زیر کر لیں گے ۔ اِسی لئے انہوں نے عبدالملک بن مروان کو اِس واقعات کی اطلاع دی اور لکھا کہ اگر اِسی طرح بکیر اور بحیر جھگڑتے رہیں گے ۔ اِس لئے کسی قریشی کو گورنر بناؤ جس سے لوگ حسد اور تعصب نہ کریں ۔مروان بن عبدالملک نے اپنے ارباب ِ سیاست سے مشورہ کیا اور اُمیہ بن عبداﷲ کو خراسان کا گورنر بنا کر روانہ کیا ۔ اُمیہ بن عبداﷲ کے خراسان پہنچنے سے پہلے بکیر بن وشاح نے بحیر سے صلح کر لی ۔ 


ھ74 ھجری کا خاتمہ


ھ74 ھجری کے خاتمے تک عبدالملک بن مروان نے حجاج بن یوسف کو مدینۂ منورہ کے ساتھ مکۂ مکرمہ کا بھی گورنر بنا دیا تھا بلکہ پورے ملک حجاز کا گورنر بنادیا تھا ۔کوفہ اور بصرہ کا گورنر بشر بن مروان تھا اور خراسان کا گورنر اُمیہ بن عبداﷲ تھا ۔ کوفہ کا قاضی شریح بن حارث تھا اور بصرہ کا قاضی ہشام بن ہبیرہ تھا ۔ اِس سال حجاج بن یوسف نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔ اُس نے عبداﷲ بن قیس کو مدینۂ منورہ کا قاضی مقرر کیا ۔ ملک مصر کا گورنر عبدالعزیز بن مروان تھا ۔


حضرت رافع بن خدیج انصاری رضی اﷲ عنہ کا انتقال


اِس سال 74 ھجری میں حضرت رافع بن خدیج رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت رافع بن خدیج بن رافع رضی اﷲ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے غزوۂ اُحد اور بعد کی سب جنگوں میں شرکت کی ۔ جنگ صفین میں حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ رہے ۔ 74ھجری میں انتقال ہوا ۔ کل اٹھہتر (78) احادیث اِن سے مروی ہیں ۔ غزوۂ اُحد میں آپ رضی اﷲ عنہ کی ہنسلی میں ایک تیر پیوست ہو گیا تھا ۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اُن کو اختیار دیا تھا کہ وہ چاہیں تو تیر کو نکال دیا جائے اور چاہیں تو اس کو یوں ہی چھوڑ دیا جائے جواُن کے لئے قیامت کے دن بطور شہادت کام آئے گا ۔ حضرت رافع بن خدیج رضی اﷲ عنہ نے آخری صورت قبول کی اور آخری عُمر میں تیر کے زخم کی وجہ سے ہی انتقال ہوا۔ 


حضرت ابو سعید خُدری انصاری رضی اﷲ عنہ کا انتقال


اِس سال 74 ھجری میں حضرت ابو سعید خُدری رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہ کا نام سعد بن مالک بن سنان انصاری خزرجی ہے ۔ یہ جلیل القدر فقہائے صحابہ میں ہیں ۔ غزوۂ اُحد میں عُمر کم ہونے کی وجہ سے واپس کر دیئے گئے تھے اور غزوۂ خندق میں پہلی بار حصہ لیا ۔ اِس کے بعد کے تمام معرکوں میں شریک رہے ۔ اِن سے بہت سی احادیث مروی ہیں ۔انہوں نے صحابۂ کرام کی مقتدربہ جماعت سے سے بھی روایات کی ہیں اور صحابۂ کرام اور تابعین کی بڑی تعداد نے بھی اِس سے احادیث روایت کی ہیں ۔ آپ رضی اﷲ عنہ کا شمار عالم و فاضل صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم میں ہوتا ہے ۔ واقدی وغیرہ کے مطابق آپ رضی اﷲ عنہ کا انتقال ۷۴ ؁ ھجری میں ہوا ہے لیکن بعض دوسرے علماء کے مطابق دس سال پہلے انتقال ہوا ہے ۔ واﷲ و اعلم۔


حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا انتقال


اِس سال 74 ھجری میں حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے بیٹے حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ہے ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عبداﷲ بن عُمر بن خطاب قریشی مہاجر نے اپنے والد محترم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے ساتھ ہی اسلام قبول کیا ۔ اُس وقت آپ رضی اﷲ عنہ کی عُمر دس سال سے بھی کم تھی ۔ اِس کے باوجود اپنے والد ِ محترم کے ساتھ ہجرت کی اور غزوۂ اُحد کے وقت کم عُمر ہونے کی وجہ سے واپس بھیج دیئے گئے تھے ۔غزوۂ خندق میں شریک ہوئے کیونکہ اُس وقت عُمر پندرہ سال ہو چکی تھی اور اس کے بعد کے تمام معرکوں میں شریک رہے ۔ اُم المومنین سیدہ حفصہ رضی اﷲ عنہا کے سگے بھائی ہیں ۔ خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے انہیں عہدۂ قضا دینا چاہا تو آپ رضی اﷲ عنہ نے معذرت کر لی ۔ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ کے شہید ہونے کے وقت ان کی عُمر بائیس (22) سال تھی ۔ حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے کئی بار بصرہ ، فارس اور مدائن کا دورہ کیا ایک مرتبہ آپ رضی اﷲ عنہ نے چالیس ہزارمیں ایک غلام خریدا اور اُس کو آزاد کر دیا ۔اُس غلام نے کہا: ‘‘ اے میرے آقا! آپ نے مجھے آزاد کر دیا مگر زندگی بسر کرنے کے لئے بھی کچھ عنایت ہو تو مہر بانی ہوگی تو آپ رضی اﷲ عنہ نے اُس غلام کو چالیس ہزار دیئے ۔ حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ فضل و کمال میں اپنے والد کی مانند تھے ۔اُن کی عُمر ساٹھ سال ہو گئی تھی پھر بھی لوگ دور دراز سے فتٰاوی حاصل کرنے کے لئے آتے تھے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے بہت سی احادیث روایت کی ہیں ۔ صحیح حدیث میں اُم المومنین سیدہ حفصہ رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛‘‘ اگر عبداﷲ بن عُمر فاروق ‘‘قائم اللیل’’ ہوں تو ‘‘مرد صالح’’ ہیں۔’’ اِس کے بعد سے آپ رضی اﷲ عنہ ہمیشہ ‘‘قائم اللیل’’ ہی رہے ۔ حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں :‘‘ حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سب سے زیادہ اپنے نفس پر قابو پانے والے ہیں۔’’ حضرت سعید بن مسیب رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں :‘‘ حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے زیادہ ‘‘حسن عمل’’ کا ذخیرہ کوئی شخص نہیں لے کر گیا ہے ۔’’ امام زہری فرماتے ہیں :‘‘ حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ متوازن و مصمم ارادہ کے مالک تھے ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد ساٹھ سال تک زندہ رہے پھر بھی صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم سے کلیتاً واقفیت رکھتے تھے ۔ امام مالک فرماتے ہیں :‘‘ حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی عُمر چھیاسی (86) سال ہوگئی تھی اور وہ ساٹھ (60) سال تک ‘‘اِفتاء’’ کے فرائض انجام دیتے رہے اور اُن کے پاس دور دور سے وفود آیا کرتے تھے ۔ ’’


حضرت ابوجحیفہ رضی اﷲ عنہ کا انتقال


اِس سال 74 ھجری میں حضرت ابو جحیفہ رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت ابو جحیفہ رضی اﷲ عنہ کا نام حضرت عبداﷲ سوائی رضی اﷲ عنہ ہے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ بزرگ صحابی ہے ہیں ۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو اپنی بلوغت سے قبل وصال کے وقت دیکھا ۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے کئی احادیث روایت کی ہیں اور حضرت علی المرتضیٰ اور حضرت براء بن عازب رضی اﷲ عنہم سے بھی رویات کی ہیں اور تابعین کی ایک بڑی جماعت نے آپ رضی اﷲ عنہ سے احادیث نقل کی ہیں ۔ آپ رضی اﷲ عنہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے ساتھیوں میں سے تھے اور جب خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ خطبہ دیتے تھے تو آپ ر ضی اﷲ اُن کے پیچھے کھڑے رہتے تھے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے کوفہ میں اپنا مکان بنایا اور وہیں ۷۴ ؁ ھجری میں انتقال ہوا ۔


حضرت سلمہ بن اکوع انصاری رضی اﷲ عنہ کا انتقال


اِس سال 74 ھجری میں حضرت سلمہ بن اکوع انصاری رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔ آپ رضی اﷲ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں ۔ آپ رضی اﷲ عنہ بہت ہی ماہر تیر انداز تھے ۔ ایک مرتبہ دشمنوں نے مدینۂ منورہ کی چراگاہ پر حملہ کیا اور اونٹوں کو لیکر بھاگنے لگے تو حضرت سلمہ بن اکوع رضی اﷲ عنہ نے مدینۂ منورہ والوں کو بلند آواز سے حملے کے بارے میں خبر دی اور انتظار کرنے کے بجائے تیر کمان لیکر دشمنوں کے پیچھے پیدل ہی بھاگے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ بھاگتے بھاگتے تیر چلاتے جارہے تھے اور ہر تیر پر ایک دشمن گھوڑے پر سے گر پڑتا تھا۔ یہاں تک کے دشمن اچھے خاصے اونٹ چھوڑ کر بھاگے ۔ اِسی دوران رسول اﷲصلی اﷲ علیہ وسلم اپنے صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کے ساتھ پہنچ گئے تو حضرت سلمہ بن اکوع رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا :‘‘ یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم مجھے ایک گھوڑا اور چند سوار دیں تو میں دشمنوں سے باقی اُونٹ بھی واپس لے آؤں گا ۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے انہیں چند سوار دیئے تو انہوں نے تیزی سے دشمنوں کا پیچھا کیا اور باقی اونٹ بھی والس لے آئے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ ‘‘بیعت رضوان’’ میں بھی شامل ہوئے اور آپ رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے دست مبارک پر تین مرتبہ بیعت کی ۔ ایک مرتبہ پہلے پھر درمیان میں اور پھر سب سے آخر میں ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت سلمہ بن اکوع بن عمرو سنان انصاری رضی اﷲ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں ۔ آپ رضی اﷲ عنہ ‘‘بیعت رضوان’’ کرنے والوں میں شامل ہیں ۔ آپ رضی اﷲ عنہ صحابۂ کرام میں سے بہت اچھے شہسوار اور علماء میں سے شمار ہوتے ہیں ۔ مدینۂ منورہ میں فتوے دیا کرتے تھے اور مدینۂ منورہ میں ہی انتقال ہوا۔


حضرت عبید بن عُمیر تابعی کا انتقال


اِس سال 74 ھجری میں مشہور تابعی حضرت عبید بن عُمیر کا انتقال ہوا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عبید بن عُمیر بن قتادہ بن سعد بن عامر لیثی مسلم بن حجاج کے قول کے مطابق رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے سامنے پیدا ہوئے ۔ حضرت عبید بن عُمیر نے اپنے والد محترم سے روایات نقل کی ہیں ۔ ان کے علاوہ آپ نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ ، حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ ، حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ ، حضرت عبداﷲ بن عباس ، حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہم اور اُم المومنین سیدہ اُم سلمہ رضی اﷲ عنہا سے بھی روایات نقل کی ہیں ۔ آپ سے تابعین کی ایک جماعت نے بھی رویات نقل کی ہیں ۔ حضرت عبید بن عمیر کے حلقۂ صحبت میں حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ بھی تھے جب وہ آپ کے وعظ و نصیحت سنتے تو اتنا متاثر ہوتے تھے کہ اُن کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو نکل آتے تھے ۔ امام بخاری نے امام ابن جریج کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ حضرت عبید بن عُمیر کا انتقال حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے پہلے ہوگیا تھا ۔ 


تین جلیل القدرتابعی کا انتقال


اِس سال 74 ھجری میں تین جلیل القدر تابعی کا انتقال ہوا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت ملک بن عامر مدنی کا انتقال ہوا ۔ آپ نے صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کی ایک جماعت سے روایات نقل کی ہیں ۔بڑے عالم و فاضل تھے اور انتقال مدینۂ منورہ میں ہوا ۔دوسرے تابعی حضرت ابو عبدالرحمن اہل کوفہ کے مہمان نوازوں میں شمار ہوتے تھے ۔ آپ کا نام عبداﷲ بن حبیب ہے ۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ ، حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ اور حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ کا آپ قرآن سنا چکے تھے اور صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کی کثیر جماعت سے قرآن سن چکے تھے ۔ خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے دورِ خلافت سے لیکر حجاج بن یوسف کی گورنری تک آپ کوفہ کے سب سے بڑے ‘‘قاری’’ تھے اور انتقال بھی کوفہ میں ہوا ۔ تیسرے تابعی حضرت ابو معرض اسدی ہیں۔ ان کا نام حضرت مغیرہ بن عبداﷲ کوفی ہے ۔ یہ عبدالملک بن مروان کے دربار کے شاعر بھی تھے ان کا انتقا ل اسی (80) سال کی عُمر میں کوفہ میں ہوا ۔ 


ھ75 ھجری : حجاج بن یوسف ملک عراق کا گورنر


ھ74 ھجری میں کوفہ اور بصرہ کے گورنر بشر بن مروان کا انتقال ہو گیا تھا اور اُس نے اپنی جگہ خالد بن عبداﷲ کو گورنر بنا دیا تھا ۔ 75 ھجری میں عبدالملک بن مروان نے حجاج بن یوسف کو کوفہ اور بصرہ کے ساتھ ساتھ پورے ملک عراق اور آس پاس کے علاقوں کا گورنر بنا دیا ۔ یحییٰ بن حکم کو ملک ھجاز کا گورنر بنا دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 75 ھجری میں محمد بن مروان نے موسم گرما کی مہم کے ساتھ رومیوں سے جہاد کیا جبکہ وہ رومی مرعش کی طرف بڑھے تھے ۔ اِس سال عبدالملک بن مروان نے یحییٰ بن حکم کو مدینۂ منورہ کا گورنر مقرر کیا اور حجاج بن یوسف کو پورے ملک عراق کا سوائے خراسان اور سجستان کے گورنر مقرر کیا ۔ حجاج بن یوسف مدینۂ منورہ میں مقیم تھا کہ عبدالملک بن مروان کا حکم ملا کہ ملک عراق جاؤ کیونکہ وہاں کے گورنر بشر بن مروان کا انتقال ہو چکا ہے ۔ حجاج بن یوسف بارہ سو سواروں کا لشکر لیکر نہایت اعلیٰ اور تیز رفتار اونٹنیوں پر سوار ہو کر کوفہ پہنچا۔ 


کوفہ میں حجاج بن یوسف کی آمد


مکۂ مکرمہ اور مدینۂ منورہ میں آفت مچانے کے بعد اب حجاج بن یوسف کوفہ کی طرف اپنے بارہ سو (1200) کے لشکر کے ساتھ رواں دواں تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حجاج بن یوسف جس وقت کوفہ پہنچا تو دن چڑھ آیا تھا اور اُس کا کوفہ آنا اچانک ہوا کیونکہ کسی کو اُس کے آنے کا علم نہیں تھا ۔ اُس وقت مہلب بن ابی صفرہ ازارقہ میں خوارج سے جنگ کی حالت میں تھا ۔ حجاج بن یوسف سب سے پہلے کوفہ کی جامع مسجد میں آیا اور منبر پر چڑھا۔ اُس نے ایک باریک سُرخ کپڑے کے عمامے سے اپنے چہرے کو چھپا رکھا تھا ۔ اُس نے بلند آواز سے لوگوں کو پکارا :‘‘ میرے سامنے آؤ تاکہ میں تقریر کروں ۔ لوگوں نے پہلے تو اسے اور اُس کے ساتھیوں کو خارجی خیال کیا اور اُس کے قتل کرنے کیا ٹھان لی ۔ مگر لوگ جب جمع ہو گئے تو اس نے اپنا چہرہ بے نقاب کردیا اور بولا :‘‘ میں وہ آفتاب ہوں جو پردۂ ظلمت کو چاک کر دیتا ہے اور میں گھاٹیوں پر چڑھنے والا ہوں ۔ جب میں اپنا عمامہ اُتاروں گا تب تم مجھے پہچان لو گے ۔اﷲ کی قسم! میں شر (برائی) کو اس کے کجاوہ پر لاد دیتا ہوں اور اس کو ایسے ہی نعل لگاتا ہوں اور جو جیسا کرتا ہے ویسے ہی اُس کا بدلہ دیتا ہوں ۔میں بہت سے سروں کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ پک گئے ہیں اور اُن کو توڑ لینے کا وقت قریب آگیا ہے اور میں عماموں اور داڑھیوں کو خون سے زعفرانی دیکھ رہا ہوں ۔’’


اہل کوفہ کو الٹی میٹم


اہل کوفہ کو اندازہ نہیں تھا کہ وہ کس مصبیت میں آچکے ہیں ۔اہل کوفہ کے سامنے حجاج بن یوسف کوفہ کی جامع مسجد میں خطبہ دے رہا تھا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ھجاج بن یوسف نے آگے کہا :‘‘اے ملک عراق کے لوگو!اچھی طرح جان لو کہ میں انجیر کی طرح دبایا نہیں جا سکتا اور نہ ہی بوسیدہ خشک مشک سے ڈرایا جا سکتا ہوں ۔ میرا تقرر نہایت دانائی سے کیا گیا ہے اور مجھے بڑے فرائض انجام دینا ہے ۔

 امیر المومنین عبدالملک بن مروان نے اپنے ترکش سے تیر نکالے ہیں اور اُن سب کی لکڑیوں کو دانت سے کاٹا ہے اور مجھ کو ہی سب سے زیادہ مضبوط اور ٹوٹنے میں سخت پایا ہے ۔ اِسی لئے انہوں نے مجھے تمہاری طرف بھیجا ہے کیونکہ عرصۂ دراز سے فتنہ و فساد تمہارا شیوہ ہو گیا ہے اور بغاوت تمہارا دستور العمل۔ مگر سمجھ لو کہ میں تمہاری اِس طرح کھال اُدھیڑ لوں گا جس طرح لکڑی کی چھال اُتاری جاتی ہے اور تمہیں اِس طرح کاٹ ڈالوں گا جس طرح خشک کانٹے دار ببول کے درخت کو کاٹ ڈالا جاتا ہے اور اِس طرح تمہیں پیٹوں گا جس طرح ایک اجنبی اونٹ پیٹا جاتا ہے ۔ اﷲ کی قسم! اگر میں وعدہ کرتا ہوں تو وفا کرتا ہوں اور جب میں کسی کام کے کرنے کا ارادہ کرتا ہوں تو اُسے پورا کرتا ہوں ۔ اِس لئے مجھ سے اور ان جماعتوں سے ڈرو اور قیل و قال سے بچو اور جس حالت میں تم اب ہو اُس سے اپنے آپ کو نکالو ۔ اﷲ کی قسم! تم لوگ راہ ِ راست پر آجاؤ ورنہ یاد رکھو کہ جو لوگ مہلب بن ابی صفرہ کے محاذ سے بھاگ کر آئے ہیں وہ اگر آج سے تین دن کے بعد یہاں سے نہیں گئے تو انہیں قتل کر ڈالوں گا اور اُن کی جائداد ضبط کر لوں گا ۔ ’’ اِس قدر خطبہ دینے کے بعد حجاج اپنی قیام گاہ کی طرف چلا گیا ۔ 


اہل کوفہ پر ظالم حکمراں مسلط


اہل کوفہ پر پہلے زیاد نے سختی کی لیکن وہ نہیں سُدھرے ۔پھر اُس کے بیٹے عبیداﷲ بن زیاد نے سختی کی لیکن اُن کی وہی روش رہی لیکن اب اُن دونوں سے زیادہ ظالم شخص کوفہ کا گورنر بن کر آیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب حجاج دیر تک خاموش بیٹھا رہا تومحمد بن عُمیر نے کچھ کنکریاں ہاتھ میں اُٹھا لیں تھیں اور ارادہ کیا تھا کہ حجاج بن یوسف کو مارے اور یہ بھی کہا :‘‘ اﷲ اِسے ہلاک کرے یہ کس قدر کریہہ المنظر اور بد شکل ہے معلوم ہوتا ہے جو یہ کہے گا وہ بھی ایسا ہی ہوگا جیسا اِس کی ظاہری شکل و صورت ہے ۔’’جب حجاج بن یوسف نے خطبہ شروع کیا تو اُس کا اِس قدر اثر ہوا کہ کنکریاں خود بخود اُس کے ہاتھ سے نیچے گرنے لگیں اور محمد بن عُمیر کو اِس کی خبر بھی نہیں ہوئی ۔ حجاج بن یوسف نے آگے کہا :‘‘ شاھت الموجوہ یعنی تمہارے چہرے بگڑ جائیں ۔’’پھر قرآن پاک کی تلاوت کی اور آگے بولا:‘‘ اﷲتعالیٰ نے اُن لوگوں کی مثال اُس قریہ سے دی ہے جو نہایت امن و سکون میں تھا ۔ ہر جگہ سے نہات اطمینان و صبر کے ساتھ ماکولات پہنچا کرتی تھیں ۔ انہوں نے اﷲ تعالیٰ کی ناشکری کی ،پس اﷲ تعالیٰ نے اُس قریہ کو بھوک اور خوف کا لباس پہنا دیا اور انہیں کیاعمال اِس کے ذمہ دار تھے ۔تم لوگ بھی اُس قریہ کے باشندوں کی طرح ہو ۔بہتر ہے کہ اپنی حالت درست کر لو اور راہ راست پر آجاؤ ورنہ یاد رکھو کہ میں تمہیں ایسی ذلت کا مزہ چکھاؤں گا کہ تم باز آجاؤ گے اور تمہیں خشک کانٹے دار ببول کے درخت کی طرح کاٹوں گا پھر تم مطیع و منقاد ہو جاؤ گے ۔ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یا تم میرے ہاتھوں انصاف قبول کرو اور فتنہ و فساد اور جھوٹی افواہوں سے باز آجاؤ ورنہ معمولی ‘‘قطع و برید’’ کیا شئے ہے؟ میں تلوار سے تمہاری ایسی ‘‘قطع وبرید’’ کروں گا کہ تمہاری عورتیں بیوہ اور تمہارے بچے یتیم ہو جائیں گے اور جب تک تم اِن غیر آئینی باتوں کو ترک نہیں کرو گے اور اِن باتوں سے باز نہیں رہو گے تو میں اور میرے سپاہی تمہارا یہی حال کرتے رہیں گے ۔ میری اجازت کے بغیر صرف تنہا آدمی سوار ہو سکتا ہے اور کئی گھڑ سوار ایک ساتھ نہیں ہونے چاہیئیں ۔ یاد رکھو! اگر باغیوں کو اُن کی بغاوت راس آگئی اور وہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہو گئے تو نہ تو خراج وصول ہوگا اور نہ ہی دشمنوں سے کوئی لڑنے والا ہو گا اور نہ ہی سرحد کی حفاظت ہو سکے گی ۔ اگر تم لوگ زبردستی جہاد میں شریک نہیں ہو گے تو خوشی سے کبھی بھی شریک نہیں ہو گے ۔ مجھے خبر ملی ہے کہ تم لوگ مہلب بن ابی صفرہ کو ازارقہ کے مہاذ پر چھوڑ کر بھاگ آئے ہو ۔ میں قسم کھا کر تمہیں کہتا ہوں کہ آج سے تین دن کے بعد جس شخص کو میں یہاں دیکھوں گا اُس کی گردن اُڑا دوں گا ۔’’اِس کے بعد حجاج بن یوسف نے تمام سربرآوردہ لوگوں کو بلایا اور انہیں حکم دیا :‘‘ تم تمام بھگوڑوں کو مہلب بن ابی صفرہ کے پاس پہنچاؤ اور اِس کا مجھے تحریری ثبوت دو کہ وہ سب اپنی منزل ِ مقصود تک پہنچ گئے ہیں ۔ اِس مدت کے ختم ہونے تک شہر کے اور

 پُل کے دروازے رات دن کھلے رہیں گے ۔’’


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

Saltanat e Umayya part 37


 ا37 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 37

کوفہ میں حجاج بن یوسف کا پہلا قتل، حجاج بن یوسف کا رعب، حکم بن ایوب ثقفی بصرہ کا گورنر، حجاج بن یوسف بصرہ میں، بغاوت کو سختی سے کچل دیا، ھ75 ھجری کا اختتام، حضرت عرباض بن ساریہ رضی اﷲ عنہ کا انتقال، حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اﷲ عنہ کا انتقال، حضرت اسود بن یزید تابعی کا انتقال، خوارج کا حملہ، اسلامی سکہ کا اجرا، ھ76 ھجری کا اختتام، حضرت زہیر بن قیس بلوی کا انتقال، ھ77 ھجری :شبیب بن یزید خارجی کی پیش قدمی، حضرت زہرہ بن حویہ رضی اﷲ عنہ کا مشورہ، 


کوفہ میں حجاج بن یوسف کا پہلا قتل


اہل کوفہ کو حجاج بن یوسف نے تین دن کی مہلت دی تھی ۔ جب دو دن پورے ہو گئے تو تیسرے دن حجاج بن یوسف نے پھر سے خطبہ دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : تیسرے دن حجاج بن یوسف نے بازار میں تکبیر کی آواز سنی تو اپنے گھر نکل کر منبر پر بیٹھا اور اہل کوفہ جمع ہو گئے ۔حجاج بن یوسف نے کہا: ‘‘ ا ے ملک عراق کے باشندو! باغیو اور منافقو اور بُرے اخلاق والو! میں نے ایک تکبیر کی آواز سنی ہے مگر یہ وہ تکبیر نہیں ہے جس کے ذریعے اﷲ کے راستے میں ترغیب و تحریص دلائی جاتی ہو ۔ بلکہ اس کا مقصد لوگوں کو خوفزدہ کرنا ہے اور میں نے خوب جان لیا ہے کہ یہ ایک غبار ہے جس کے پردے میں سخت و تیز آندھی آنے والی ہے ۔ اے بے وقوف لونڈی کے جنوں! اور بندگی اور سرکشی و نافرمانی اور اے بیوہ اور لاوارث عورتوں کے بیٹو! کیا تم میں کوئی بھی ایسا شخص نہیں جو اپنی کمزوری و ضعف کے باوجود خاموشی اور اطمینان سے بیٹھے اور اپنے خون کو مفت نہ بہائے اور پھونک پھونک کر قدم دھرے ۔میں اﷲ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ عنقریب میں تمہیں ایسی سخت سزا دوں گا جو اگلوں کے لئے عذاب اور آئندہ نسلوں کے لئے عبرت ہوگی ۔’’ اِس تقریر کے بعد عُمیر بن ضابی تمیمی کھڑا ہوا اور بولا: ‘‘ اﷲ امیر کے کاموں کی ہمیشہ اصلاح کرتا رہے ۔میں بھی اس مہم میں شریک تھا اور اس سے متعلق ہوں مگر میں بیمار اور ضعیف سن رسیدہ ہوں ۔ یہ میرا لڑکا بالکل نوجوان ہے یہ میرے بدلے حاضر ہے ۔’’ حجاج بن یوسف نے پوچھا :‘‘ تم کون ہو؟’’ اُس نے اپنا نام بتایا تو حجاج بن یوسف نے کہا: ‘‘ کیا تم نے کل میری تقریر سنی تھی ؟’’ عمیر نے کہا: ‘‘ ہاں۔’’ حجاج بن یوسف نے کہا: ‘‘ کیا تم وہی شخص نہیں ہو جس نے امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سے جنگ کی تھی ؟’’ عُمیر بن ضابی نے اِس کا اقرار کیا ۔ حجاج بن یوسف نے پھر پوچھا :‘‘ کس بنا پر تم نے ایسا کیا تھا ۔’’ عمیر بن ضابی نے کہا: ‘‘ حالانکہ میرا باپ بوڑھا شخص تھا پھر بھی حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے اُسے جیل میں ڈال دیا تھا ۔’’ یہ سن کر حجاج بن یوسف نے اُس کی گردن اُڑا دینے کا حکم دے دیا اور اُس کے قتل کے بعد اُس کے مال و دولت پر قبضہ کر لیا ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ عنبسہ بن سعید نے حجاج بن یوسف سے پوچھا: ‘‘ کیا آپ اِس شخص کو جانتے ہیں ؟’’ اُس نے کہا : ‘‘ نہیں ۔’’ تب عنبسہ بن سعید نے کہا : ‘‘ یہ شخص بھی حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے قاتلوں میں سے ہے ۔’’ اِس پر حجاج بن یوسف نے عُمیر بن ضابی سے مخاطب ہو کر کہا : ‘‘ اے اﷲ کے دشمن!تُو نے امیر المومنین کے پاس اپنی طرف سے کیوں نہ کسی اورشخص کو بھیجا ؟اُس وقت بھی اپنے معاوضہ میں کسی اور کو بھیج دیا ہوتا ۔’’ پھر اُس کے قتل کا حکم دے دیا اور بعد میں اعلان کرادیا کہ عُمیر بن ضابی نے ہمارا حکم سن لینے کے باوجود اُس کی تعمیل نہیں کی اور تین دن کے بعد حاضر ہوا اِسلئے ہم نے اُسے قتل کر ڈالا ۔’’


حجاج بن یوسف کا رعب


اہل کوفہ بہت زیادہ مصیبت میں پڑ گئے تھے کیونکہ اُن پر ایک ظالم حکمراں مسلط ہو گیا تھا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عُمیر بن ضابی کے قتل کے بعد حجاج بن یوسف نے اعلان کیا :‘‘ تمام لوگوں کو اطلاع دی جاتی ہے کہ جو لوگ مہلب بن ابی صفرہ کے ساتھ جنگ پر تھے اُن میں سے کوئی شخص آج رات یہاں بسر کرے گا تو وہ اپنی جان کو خطرے میں سمجھے۔ ’’ اِس اعلان کو سنتے ہی تمام لوگ پُل پر جمع ہو گئے ۔ تمام سربرآوردہ لوگ مہلب بن ابی صفرہ کے پاس پہنچے جو اُس وقت رام ہرمز میں اپنے لشکر کے ساتھ پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا اور وہاں جا کر اُس سے اپنے پاس پہنچنے کی باقاعدہ رسیدیں حاصل کیں ۔ اِس پر مہلب بن ابی صفرہ نے کہا: ‘‘ آج ملک عراق میں وہ شخص آیا ہے جو اپنے زمانہ کا جواں مرد ہے اب دشمن قتل ہو جائیں گے۔ ’’ابو عبیدہ کی روایت میں ہے کہ اُس رات صرف بنو مذحج کے چار ہزار آدمیوں نے پُل کو پار کیا ۔ مہلب بن ابی صفرہ نے کہا: ‘‘ اب ملک عراق میں ایک جواں مرد آیا ہے۔ ’’ اِس کے بعد عبدالملک بن مروان نے ملک عراق والوں کے نام، حجاج بن ہوسف کے نام خط بھیجا۔ حجاج بن یوسف نے عوام کو جمع کیا اور خط پڑھنے کا حکم دیا ۔ جب عبدالملک بن مروان کا خط لوگوں کے سامنے پڑھا جانے لگا تو پڑھنے والے نے پڑھا: ‘‘ اما بعد! اسلام علیکم! میں تمہارے سامنے اﷲ کی تعریف کرتا ہوں ۔’’ اِس پر حجاج بن یوسف نے کہا: ‘‘ چُپ رہ اے نافرمان غلام! بھلا امیر المومنین تو تم پر سلامتی بھیجیں اور تم میں سے کسی شخص کو یہ توفیق نہ ہو کہ اُن کے سلام کا جواب دے ۔یہ اخلاق اموی عورت کے لونڈوں کا ہے ،ٹھہرو!اﷲ کی قسم! اب میں تمہیں اخلاق سکھاؤں گا ۔’’ اور جو شخص خط کو پڑھ رہا تھا اُسے حکم دیا کہ پھر ابتداء سے پڑھے ۔پھر جب پڑھنے والا اسلام علیکم پر پہنچا تو سب نے بلا استثناء کہا :‘‘ وعلیک امیر المومنین السلام و رحمتہ اﷲ۔’’


حکم بن ایوب ثقفی بصرہ کا گورنر


کوفہ کے لوگوں کو ٹھیک کرنے کے بعد حجاج بن یوسف بصرہ کی طرف متوجہ ہوا اور اپنے قبیلے کے ایک شخص کو بصرہ کا گورنر بنا کر بھیجا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حجاج بن یوسف نے حکم بن ایوب ثقفی کو بصرہ کا گورنر مقرر کر کے روانہ کیا اور حکم دیا کہ خالد بن عبداﷲ پر تشدد کرنا ۔ جب خالد بن عبداﷲ کو علم ہوا تو وہ حکم بن ایوب ثقفی کے بصرہ پہنچنے سے پہلے ہی وہاں سے نکل گیا اور مقام ‘‘جلحاء’’ میں قیام پذیر ہوا ۔اہل بصرہ اُس کے ساتھ ہو لئے اور جب تک اُس نے ہر شخص کو ہزار ہزار درہم نہیں دیئے تب تک وہ واپس نہیں گئے ۔ 


حجاج بن یوسف بصرہ میں


اِس سال 75 ھجری میں حجاج بن یوسف کے خلاف اہل بصرہ نے بغاوت کر دی تو وہ بصرہ آیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اِس سال 75  ھجری میں بصرہ کے لوگوں نے حجاج بن یوسف کے خلاف بغاوت کی ۔ عُمیر بن ضابی کے قتل کے بعد حجاج بن یوسف کوفہ سے بصرہ آیا ۔کوفہ میں اُس نے ابو یعفور عروہ بن مغیرہ کو نائب بنا دیا ۔ حجاج بن یوسف نے جس طرح کی تقریر اہل کوفہ کے سامنے کی تھی اُسی قسم کی یہاں بھی کی ۔بنو یشکر کا ایک شخص اُس کے سامنے پیش کیا گیا کہ یہ شخص جنگ پر سے بھاگ آیا ہے ۔ اُس نے کہا : ‘‘ مجھے فتق کا عارضہ ہے اور بشر بن مروان نے خود دیکھا تھا اور میرے اس عذر کو بھی قبول کر لیا تھا ۔جو کچھ مجھے بیت المال سے تنخواہ ملتی ہے وہ یہ موجود ہے واپس لے لی جائے ۔’’ حجاج بن یوسف نے اُس کی ایک نہیں سنی اور قتل کرواڈالا ۔ اہل بصرہ اِس واقعہ سے بہت پریشان ہوئے اور بصرہ سے روانہ ہو کر رام ہرمز کے پل پر فوجی معائنے کے لئے باقاعدہ طور پر آگے پیچھے کھڑے ہو گئے ۔ اِس پر مہلب بن ابی صفرہ نے کا :‘‘ اب اِن لوگوں پر ایک جواں مرد شخص سردار مقرر ہو کر آیا ہے ۔ ’’


بغاوت کو سختی سے کچل دیا


بصرہ آکر حجاج بن یوسف نے سب جوانوں کو مہلب کے پاس محاذ پر روانہ کیا اور اس کے بعدخود لشکر لیکر رستقباذ آیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: بصرہ میں حجاج بن یوسف نے لوگوں کو حکم دیا کہ تم سب مہلب بن ابی صفرہ سے جا کر مل جاؤتو وہ سب روانہ ہو گئے ۔ اب حجاج بن یوسف بھی بصرہ سے نکلا اور آخر شعبان میں رستقباذ میں مقام ‘‘وستوی’’ کے قریب پڑاؤ ڈالا ۔ اُس کے ساتھ بصرہ کے اکابرین اور عمائدین بھی تھے ۔ مہلب بن ابی صفرہ اور اُس کے درمیان اٹھارہ فرسخ کا فاصلہ تھا ۔ اِس مقام پر حجاج بن یوسف تقریر کرنے کے لئے کھڑا ہوا اور اُس نے کہا: ‘‘ تمہاری تنخواہوں میں عبداﷲ بن زبیر ( رضی اﷲ عنہ) نے جو اضافہ کیا تھا وہ ایک فاسق اور منافق کا اضافہ تھا جسے اب میں جائز نہیں رکھ سکتا ۔’’ یہ سن کر عبداﷲ بن جارود کھڑا ہوا اور بولا: ‘‘ یہ اضافہ کسی فاسق اور منافق نے نہیں کیا تھا بلکہ امیر المومنین عبدالملک بن مروان نے اِس کی توثیق کی ہے اور اِس اضافے کو ہمارے لئے بال رکھا ہے ۔’’ مگر حجاج بن یوسف نے اُسے جھٹلا دیا اور دھمکایا تو عبداﷲ بن جارود حجاج بن یوسف پر جھپٹ پڑا ۔ جتنے عمائدین و اکابر تھے وہ بھی عبداﷲ بن جارود کے ساتھ ہوگئے اور دونوں جماعتوں میں شدید معرکہ جدال و قتال گرم ہوا ۔ آخر کار حجاج بن یوسف نے عبداﷲ اور اُس کے ساتھیوں کو قتل کر ڈالا اور اُس کا اُس کے ساتھیوں کا سر کاٹ کر مہلب بن ابی صفرہ

 کے پاس بھیج دیا اور خود بصرہ آگیا ۔ حجاج بن یوسف نے اٹھارہ سر رام ہرمز میں نصب کرنے کے لئے روانہ کئے اور اِس ترکیب سے مسلمانوں کی حالت مضبوط ہو گئی ۔ مگر خارجیوں کو یہ بات بہت ناگوار گذری کیونکہ انہیں توقع تھی کہ ہمارے دشمنوں میں پھوٹ پڑ جائے گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ 

ھ75 ھجری کا اختتام


اِس سال 75 ھجری کا اختتام خوارج کے ساتھ جنگ سے ہوا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں :‘‘ حجاج بن یوسف نے مہلب بن ابی صفرہ اور عبدالرحمن بن محنف کو حکم دیا کہ خوارج پر ایک فیصلہ کُن حملہ کرو ۔یہ حکم سنتے ہی دونوں نے اپنے اپنے لشکر کے ساتھ خوارج پر حملہ کر دیا ۔ خوارج منظم طریقے سے پسپا ہوئے اور رام ہرمز کو چھوڑ کر پیچھے ہٹ گئے اور مقام ‘‘سابور’’ میں جا کر مورچہ بند ہو گئے ۔ دونوں مسلمان سپہ سالار اُن کے تعاقب میں گئے اور سابور میں صف بندی کر لی ۔ مہلب نے اپنے اطراف خندق کھود لی جبکہ عبدالرحمن نے خندق کھودنے سے انکار کر دیا ۔ خارجی خندق کی وجہ سے مہلب بن ابی صفرہ کے لشکر کا کچھ نہیں بگاڑ سکے لیکن عبدالرحمن بن محنف پر اچانک حملہ کردیا اور زبردست جنگ کے بعد عبدالرحمن بن محنف قتل ہو گیا اور اُس کے لشکر کے زیادہ تر مارے گئے ۔ مہلب بن ابی صفرہ نے مقتولین کو دفن کیا اورعبدالملک بن مروان اور حجاج بن یوسف کو خبر دی اورمسلسل خوارج سے جنگ کرتا رہا ۔ حجاج بن یوسف نے عتاب بن ورقا کو عبدالرحمن بن محنف کی جگہ سپہ سالار بنا کر بھیجا لیکن وہ بھی مہلب بن ابی صفرہ سے الجھ گیا ۔ حجاج بن یوسف کو جب معلوم ہوا تو اُس نے عتاب بن ورقا کو حکم دیا کہ اپنا لشکر مہلب بن ابی صفرہ کو دیکر واپس آجاؤ ۔ اِس سال عبدالملک بن مروان نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔ حج کے دوران صالح بن مسرح اور شبیب بن یزید اور اِسی قسم کے کئی خوارج سردار تھے اور عبدالملک بن مروان پر حملہ کرنا چاہتے تھے لیکن کامیاب نہیں ہوسکے ۔ عبدالملک بن مروان کو معلوم ہوا تو اُس نے حجاج بن یوسف کو حکم دیا کہ صالح بن مسرح اور شبیب بن یزید کی خبر لے ۔ حجاج بن یوسف اُن پر سختی سے نظر رکھنے لگا ۔ اِس سال ملک مصر کا گورنر عبدالعزیز بن مروان تھا جبکہ ملک عراق کا گورنر ھجاج بن یوسف تھا ۔ 


حضرت عرباض بن ساریہ رضی اﷲ عنہ کا انتقال


اِس سال 75 ھجری میں حضرت عرباض بن ساریہ رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 75 ھجری میں جن لوگوں کا انتقال ہوا اُن میں حضرت عرباض بن ساریہ رضی اﷲ عنہ بھی ہیں ۔آپ رضی اﷲ عنہ کی کنیت ابو الحجیع ہے اور حمص کے باشندے ہیں ۔ یہ بڑے جلیل القدر صحابی ہیں اور شروع میں ہی اسلام قبول کیا تھا اور ‘‘اہل صفہ’’ میں سے شمار ہوتے تھے اور اُن معذور لوگوں میں شامل تھے جن کے بارے میں اﷲ تعالیٰ نے سورہ توبہ میں ‘‘ولا علی الذین اذا ما اتوک لتحملھم ……آیت کے آخر تک۔آیت نازل ہوئی ۔ یہ سب تعداد میں نو (9) تھے ۔ حضرت عرباض بن ساریہ رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا جس کو سن کر دلوں میں خوف پیدا ہو گیا اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ ایک اور روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پہلی صف والوں کو تین بار مرحبا کہتے تھے اور دوسری صف والوں کو ایک بار۔ حضرت عرباض بن ساریہ رضی اﷲ عنہ بڑے بزرگ تھے اور دل سے پسند کرتے تھے کہ اﷲ انہیں دنیا سے اُٹھا لے اور وہ اکثر دعا کرتے تھے :‘‘ اے اﷲ! میں بوڑھا ہو گیا ہوں اور میری ہڈیاں بوسیدہ ہو گئی ہیں پس تو اپنی طرف اُٹھا لے ۔’’ انہوں نے متعدد احادیث بھی روایت کی ہیں ۔


حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اﷲ عنہ کا انتقال


اِس سال 75 ھجری میں حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اﷲ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں ۔آپ رضی اﷲ عنہ کو ‘‘بیعت رضوان’’ میں شامل ہونے کا شرف حاصل ہے اور غزوۂ حنین میں بھی شریک ہوئے ۔ مسلمانوں کے لشکر کے ساتھ ملک شام پہنچے اور دمشق کی فتح کے بعد اُس کے مغربی حصہ میں قیام پذیر ہو گئے ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دمشق کے مشرقی حصہ ‘‘بلاط’’ میں قیام پذیر رہے ۔ اُن کے نام اور اُن کے والد کے نام کے بارے میں قدرے اختلاف ہے اور اُن کا سب سے مشہور نام ‘‘ جرتوم بن اثر’’ ہے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے متعدد احادیث روایت کی ہیں اور صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کی ایک جماعت سے بھی روایت کی ہیں اور خود اُن سے بہت سے تابعین نے روایات نقل کی ہیں جن میں حضرت سعید بن مسیب ، مکحول ، الشامی ، ادریش خولانی اور ابو قلابہ جرمی شامل ہیں ۔ آپ رضی اﷲ عنہ حضرت کعب احبار کے ہم نشینوں میں سے ہیں ۔ کبھی رات کو گھر سے نکلتے تو آسمان کی طرف دیکھ کر غورو فکر کرتے اور پھر گھر آ کر سجدہ ریز ہو جاتے اور زبان سے کہتے جاتے تھے :‘‘ مجھے اُمید ہے اﷲ مجھے ایسی اذیت اور تنگی کی موت نہیں دے گا جیسا تم لوگ مجھے تنگی اور اذیت دیتے ہو ۔’’ ایک رات نماز پڑھ رہے تھے کہ سجدہ کی حالت میں روح قبض کر لی گئی ۔ اُن کی بیٹی نے خواب دیکھا کہ والد محترم کا انتقال ہو گیا ہے تو خوف زدہ ہو کر بیدار ہوئیں اور گھبرا کر والدہ محترمہ کے پاس آئیں اور کہا : ‘‘ میرے والد محترم کہا ہیں؟’’ والدہ محترمہ نے جواب دیا : ‘‘ مصلے پر ہیں ۔’’ بیٹی نے پکارا تو کوئی جواب نہیں ملا ۔ قریب آ کر ہلایا تو پہلو کے بل گر گئے ،اُن کی روح قفس عنصری سے پرواز کر چکی تھی۔


حضرت اسود بن یزید تابعی کا انتقال


اِس سال 75 ھجری مشہور تابعی حضرت اسود بن یزید کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت اسود بن یزید نخعی کبارتابعین میں سے ہیں اور حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ کے اہل کوفہ کے شاگرد ہیں ۔‘‘صائم الدھر ’’ اور کثرت سے روزے رکھنے کے باعث ایک آنکھ ضائع ہو گئی تھی ۔ اسی (80) حج اور عُمرے کئے تھے ۔ یہ کوفہ میں ہی احرام باندھ کر تسبیح و تہلیل میں مشغول ہو جاتے تھے ۔ سفر میں ہوں یا حضر میں روزہ کبھی قضا نہیں کرتے تھے ۔حضرمیں ہوتے تو روتے رہتے تھے ،لوگ اُن سے رونے کی وجہ دریافت کرتے تو فرماتے :‘‘ میں کیوں نہ گھبراؤں اور مجھ سے زیادہ اس کا کون حقدار ہے ؟ فرمایا کرتے تھے :‘‘ اگر مجھے اپنی مغفرت کا علم ہو جائے تو میں اپنی بقیہ عمر بھی اس کے عوض دے ڈالوں ۔ اگر کسی انسان کا چھوٹا سا گناہ بھی بخش دیا جائے تو یہ اس کی زندگی لازوال بنانے کے لئے کافی ہے۔اِس سال حضرت حمران بن ابان کا بھی انتقال ہوا ۔آپ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے غلام تھے جن کو حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے ‘‘عین التمر’’ کی قید سے رہا کرا کر خرید لیا تھا ۔ یہ لوگوں کو حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سے ملاقات کراتے تھے ۔ 


خوارج کا حملہ

ھ 76 ھجری کا پورا سال حجاج بن یوسف خوارج سے لڑتا رہا ۔ خوراج سے مہلب بن ابی صفرہ تو ‘‘نیشا پور’’ میں جنگ کر ہی رہا تھا کہ مسلمانوں میں سے دو شخص صالح بن مسرح اور شبیب بن یزید نے عبدالملک بن مروان اور حجاج بن یوسف کے خلاف بغاوت کی اور مملکت اسلامیہ کے علاقوں پر قبضہ کر نا شروع کر دیا ۔ حجاج بن یوسف مسلسل اُن کے مقابلے پر لشکر بھیجتا رہا اور جنگ ہوتی رہی لیکن وہ دونوں مسلسل علاقوں پر قبضہ کرتے جارہے تھے ۔ پھر انہوں نے خوارج سے دوستی کر لی اورخوارج میں شامل ہو گئے ۔ حجاج بن یوسف نے کئی لشکر اور کئی سپہ سالار اُن دونوں سے جنگ کے لئے بھیجے ۔آخر کار صالح بن مسرح مارا گیا لیکن شبیب بن یزید مسلسل حملے کرتا رہا اور مسلم علاقوں پر قبضہ کرتا رہا ۔ ایک وقت تو ایسا بھی آیا تھا کہ شبیب بن یزید نے کوفہ پر بھی حملہ کیا اور حجاج بن یوسف اپنے قصر سے اُس کا مقابلہ کرتا رہا ۔اِس طرح پورا 76 ھجری گذر گیا ۔ 


اسلامی سکہ کا اجرا


اِس سال 76 ھجری میں عبدالملک بن مروان نے اسلامی سکہ ڈھلوایا اور پوری مملکت اسلامیہ میں ‘‘اسلامی سکہ’’ کو پھیلایا۔ اِس سے پہلے مملکت اسلامیہ میں ‘‘رومی سکہ’’ چلتا تھا اور رومی روپئے اور پیسے سے لین دین ہوتا تھا ۔ عبدالملک بن مروان نے مسلمانوں کا اپنا خود کا ‘‘روپیہ اور پیسہ’’ بنا کر ڈھالا اور رائج کیا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : عبدالملک بن مروان روم کے بادشاہ کے پاس ایک خط بھیجا جس میں ‘‘قل ھو اﷲ احد’’ اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا اِسم ِ مبارک تاریخ کے ساتھ لکھا ۔ روم کے بادشاہ کو یہ شاق گذرا اور اُس نے لکھ بھیجا ‘‘ عنوان خط پر ایسے مضامین نہ لکھو ورنہ ہم درہم اور دینار پر تمہارے نبی کا ذکر ( نعوذ باﷲ) ایسے طور پر لکھیں گے کہ تم کو ناگوار ہوگا ۔’’ عبدالملک بن مروان نے خط پڑھا تو اُسے تردد ہوا اور اُس نے مسلمانوں سے مشورہ کیا ۔ خالد بن یزید نے رائے دی کہ رومیوں کے درہم اور دینار کو ترک کر دیا جائے اور خود ہم ہمارے درہم اور دینار ڈھال کر رائج کریں ۔ عبدالملک بن مروان نے ایسا ہی کیا اور ‘‘اسلامی سکے’’ ڈھال کر پوری مملکت اسلامیہ میں رائج کیا ۔ بعد ازاں حجاج بن یوسف نے درہم اور دینار پر ‘‘قل ھو اﷲ احد’’ منقش کروایا ۔ مسلمانوں نے اِس کو اِس لئے ناپسند کیونکہ ‘‘سکوں’’ کو لوگ ناپاکی کی حالت میں بھی ہاتھ میں لیتے ہیں ۔ پھر ‘‘اسلامی سکہ’’ کو خالص اور کھرا بنانے کی کوشش کی گئی اور ابن ہیبرہ نے یزید بن عبدالملک کے زمانۂ حکومت میں اور خالد قسری نے ہشام بن عبدالملک کے زمانۂ حکومت میں ‘‘سکوں’’ کو خالص کرنے کا اہتمام کیا ۔ اِس کے بعد یوسف بن عمر نے سب سے زیادہ ‘‘سکوں’’ کو خالص کیا اور کھرے کھوٹے کا امتحان مقرر کیا ۔ اِس اعتبار سے ‘‘ہیبریہ سکے’’ اور ‘‘خالدیہ سکے’’ اور ‘‘ یوسفیہ سکے’’ خالص ترین ‘‘نقوذبنو اُمیہ’’ شمار کئے جاتے تھے ۔ منصور نے اپنے عہد حکومت میں یہ فرمان جاری کیا کہ خراج میں سوائے اِن سکوں کے اور سکے قبول نہ کئے جائیں اور وہ پہلاسکہ‘‘ مکروہیہ’’ کے نام سے موسوم ہوا ۔اِس کی وجہ یہ ہے کہ وہ خالص نہیں تھا اور اِس وجہ سے بھی کہ اُس پر ‘‘قل ھو اﷲ احد’’منقش تھا اور لوگ اس کو ‘‘مکروہ’’ سمجھتے تھے ۔ عجمیوں کے درہم مختلف اقسام کے تھے ۔بعض چھوٹے اور بعض بڑے تھے اورمثقال کا کوئی وزن مقرر نہیں تھا ۔ بعض بیس قیراط کے تھے اور بعض بارہ قیراط کے تھے اور بعض دس قیراط کے تھے ۔ اِس سب کو جمع کرنے پر بیالیس قیراط ہوتے تھے ۔ پس اس کے ‘‘ثلث’’ یعنی چودہ قیراط پر عربی درہم مضروب ہوا ۔ اس حساب سے ہر دس درہم سات مثقال کے برابر ہوئے ۔ بعض کا بیان ہے کہ حضرت مصعب بن زبیر نے اپنے بھائی حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے دور ِ حکومت میں درہم مضروب کرائے تھے لیکن صحیح یہی ہے کہ عبدالملک بن مروان نے ہی اسلام میں سب سے پہلا ‘‘اسلامی سکہ’’ جاری کیا ۔ 

ھ76 ھجری کا اختتام

ھ 76 ھجری ختم ہوا تو عبدالملک بن مروان اور حجاج بن یوسف دونوں کے لئے شبیب بن یزید خارجی ہوا بنا ہوا تھا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِ س سال مروان بن محمد بن مروان بن حکم پیدا ہوا جو ‘‘مروان الحمار’’ کہلاتا تھا ۔ یہ بنو اُمیہ کا آخری بادشاہ ثابت ہوا تھا کیونکہ اِسی کے عہد میں خاندان ‘‘بنو عباس’’ نے خاندان ‘‘بنو اُمیہ ’’ سے حکومت چھین لی تھی جیسا کہ انشاء اﷲ آگے ذکر آئے گا ۔ اِس سال عبد الملک بن مروان نے ماہ رجب المرجب میں ابان بن عثمان بن عفان کو مدینۂ منورہ کا گورنر بنایا اور اُس نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔ ملک عراق کا گورنر حجاج بن یوسف تھا اور خراسان کا گورنر امیہ بن عبداﷲ تھااور ملک مصر کا گورنر عبدالعزیز بن مروان تھا۔ 


حضرت زہیر بن قیس بلوی کا انتقال


اِس سال 76 ھجری میں حضرت زہیر بن قیس بلوی شہید ہوئے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں :حضرت زہیر بن قیس بلوی ملک مصر کی فتح میں شامل تھے اور ایک مدت تک وہیں قیام پذیر رہے ۔ ملک مصر کے گورنر عبدالعزیز بن مروان نے برقہ میں پڑاؤ ڈالا اور وہیں اپنے لشکر کو رومیوں سے جنگ کرنے کا حکم دے دیا ۔ اِس حکم کے مطابق حضرت زہیر بن قیس اپنے چالیس ساتھیوں کو لیکر رومیوں کی طرف بڑھے ۔ پھر انہوں نے اپنے لشکر کے آنے تک رُکنے کا ارادہ کیا تو اُن کے ساتھیوں نے کہا : ‘‘ انتظار کی ضرورت نہیں ہے اور ہمیں ہی پہل کرنی چاہیئے ۔’’ بہر حال انہوں نے دشمن پر حملہ کردیا اور پورے چالیس

 شہید ہو گئے ۔ اِن کے سپہ سالار حضرت زہیر بن قیس بھی شہید ہو گئے ۔

ھ77 ھجری :شبیب بن یزید خارجی کی پیش قدمی


اِس سال 77 ھجری کا پورا سال عبدالملک بن مروان اور حجاج بن یوسف خوارج سے لڑتے رہے ۔ ایک طرف نیشا پور میں خوارج مسلسل مسلمانوں سے جنگ کر رہے تھے اور مہلب بن ابی صفرہ مسلسل اُن کے ساتھ حالت جنگ میں تھا ۔ دوسری طرف شبیب بن یزید خارجی مسلسل مملکت اسلامیہ کے علاقوں پر اپنی پیش قدمی جاری رکھے ہو ئے تھا اور اُس کی وجہ سے حجاج بن یوسف بہت زیادہ پریشان تھا ۔ وہ مسلسل لشکر پر لشکر شبیب بن یزید کے مقابلے پر بھیج رہا تھا اور اُسے مسلسل شکست کی اطلاع مل رہی تھی ۔ یہاں تک کہ حجاج بن یوسف نے عبدالملک بن مروان سے شامی لشکر بھیجنے کی درخواست کی ۔ عبدالملک بن مروان نے بھی شامی لشکر بھیج دیا ۔ 


حضرت زہرہ بن حویہ رضی اﷲ عنہ کا مشورہ


حجاج بن یوسف مسلسل خارجیوں کی سرکوبی میں مصروف تھا اور مسلمانوں کو جمع کر کے شبیب بن یزید سے لڑنے کے لئے اُبھا رہا تھا کہ حضرت زہرہ بن حویہ رضی اﷲ عنہ جن کی عُمر سو سال سے زیادہ ہو چکی تھی نے اُسے مشورہ دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت زہرہ بن حویہ رضی اﷲ عنہ جو ایک انتہائی بزرگ آدمی تھے اور بغیر سہارے کے کھڑے نہیں ہو سکتے تھے ۔( حضرت زہرہ بن حویہ رضی اﷲ عنہ آپ کو یاد ہوں گے ۔ جب خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کو سپہ سالار اعظم بنا کر ملک عراق بھیجا تھا تو اُس لشکر کے ‘‘مقدمۃ الجیش’’ کے کمانڈر حضرت زہرہ بن حویہ رضی اﷲ عنہ تھے ۔ انہوں نے پورے ‘‘سلطنت فارس’’ کی فتح میں اہم کردار ادا کیا تھا اور ہر جنگ میں آگے آگے تھے ۔ یہ وہی حضرت زہرہ بن حویہ ہیں) کھڑے ہوئے اور فرمایا: ‘‘ اے سردار! اﷲ آپ کو نیک توفیق دے ! اِس وقت جس قدر لشکر آپ نے دشمن کے مقابلے پر روانہ کئے ہیں وہ چھوٹے چھوٹے تھے ۔ اب آپ یہاں سے ایک بڑا لشکر دشمن کے مقابلے پر بھیجیں اور ایسے شخص کو سپہ سالار بنائیں جو بہادر ، صابر ، تجربہ کار اور میدان جنگ سے بھاگنے کو ذلت و عار سمجھتا ہو اور ثابت قدم رہنے والے کی بزرگی کو سمجھنے والا ہو۔’’


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!


Saltanat e Umayya part 38


 ا38 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 38

حضرت زہرہ بن حویہ کی شہادت، شبیب خارجی کے مقابلے پر حجاج بن یوسف، شبیب بن یزید کی شکست، شبیب بن یزید کا قتل، خوارج کی پسپائی، خوارج میں اختلاف، خوارج کی کرمان سے پسپائی، ا77 ھجری کا اختتام، ا78 ھجری کی شروعات، مہلب بن ابی صفرہ کی عزت افزائی، مہلب بن ابی صفرہ خراسان کا گورنر، حضرت جابر بن عبداﷲ انصاری رضی اﷲ عنہ کا انتقال، قاضی حضرت شریح بن حار ث کا انتقال، چند اور اعیان کا انتقال، ا79 ھجری : ترک بادشاہ رتبیل پر حملہ، چند اور اعیان کا انتقال، ا79 ھجری : ترک بادشاہ رتبیل پر حملہ، شریح بن ہانی کی شہادت 


حضرت زہرہ بن حویہ کی شہادت


جو سپہ سالار ہو گا اُس کے ساتھ ساتھ رہوں گا اور اُسے مشورہ دیتا رہوں گا۔ ’’ حجاج بن یوسف نے کہا: ‘‘ اﷲ آپ کو اول اور آخر اسلام میں نیک جزائے خیر عطا فرمائے ۔ آپ نے نہایت ہی مخلصانہ بات کی ہے اور سچ کہا ۔ میں ابھی ایک بڑے لشکر کو بھیجتا ہوں ۔ اے لوگ! تم سب کے سب روانہ ہو جاؤ ۔ تمام لوگ روانہ ہو گئے لیکن کسی کو معلوم نہیں تھا کہ سپہ سالار کون ہے۔ ھجاج بن یوسف نے اِس لشکر کا سپہ سالار عتاب بن ورقہ کو بنا کر بھیجا ۔ جب شبیب بن یزید خارجی سے مقابلہ ہوا تو زبردست جنگ ہوئی اور حضرت زہرہ بن حویہ اور عتاب بن ورقا کے اکثر ساتھی میدان چھوڑ کر بھا گ گئے تو عتاب بن ورقہ نے کہا: ‘‘ کاش اِس تمام لشکر کے بجائے میرے پاس پانچ سو تمیمی بہادر ہوتے تو پھر میں دشمنوں کو مزا چکھاتا ۔کیا اِن میں سے ایک بھی نہیں ہے جو دشمن کے مقابلے پر ثابت قدم رہے ،کیا ایک بھی اپنی جان کی قربانی کے لئے تیار نہیں؟’’ مگر کسی نے کچھ نہیں کہا اور اُسے دشمن کے نرغے میں چھوڑ کر بھاگ گئے ۔حضرت زہرہ بن حویہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا: ‘‘ اے عتاب بن ورقا! تم نے وہی کیا جو ایک اولوالعزم کو کرنا چاہیئے ۔مجھے توقع ہے کہ اﷲ تعالیٰ ہمیں شہادت کے درجہ پر فائز کرنا چاہتا ہے ۔’’ اِسی دوران شبیب بن یزید نے زبردست حملہ کیا اور عتاب بن ورقا لڑتے ہوئے شہید ہو گیا ۔ حضرت زہرہ بن حویہ رضی اﷲ عنہ نے بھی مقابلہ کیا لیکن بہت ضعیفی وجہ سے دشمن پر حاوی نہیں ہو سکے اور دشمنوں نے چاروں طرف سے وار کر کے شہید کر دیا ۔ 


شبیب خارجی کے مقابلے پر حجاج بن یوسف


حضرت زہرہ بن حویہ رضی اﷲ عنہ اور عتاب بن ورقا کی شہادت کا حجاج بن یوسف کو بہت غم ہوا اور اِسی دوران ملک شام سے بھی لشکر آگیا تو حجاج بن یوسف خود شبیب بن یزید کے مقابلے پر نکلا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اب حجاج بن یوسف نے خود جنگ لڑنے کا فیصلہ کر لیا ۔اِسی دوران شبیب بن یزید بھی چلکر ‘‘صراط’’ کے مقام پر پہنچ گیا تھا ۔ حجاج بن یوسف شامیوں کا لشکر لیکر نکلا ۔ جب دونوں فریقوں کا سامنا ہوا تو حجاج بن یوسف نے اہل شام کے لشکر کو مخاطب کر رکے کہا: ‘‘ اے اہل شام! تم اطاعت گذار ہو ، احکام کو سننے اور ماننے والو ہو ، صبرو یقین کے حامل ہو ۔ اِن مردود اور حق کو نہ ماننے والے باطل پرستوں کو تم پر غالب نہیں آنا چاہیئے ۔ پس اپنی سواریوں پر جمے رہو اور نیزے لیکر آگے بڑھو۔’’ یہ سن کر شامی لشکر آگے بڑھا ۔ اب شبیب بن یزید نے اپنے لشکر کے تین حصے کئے ۔ ایک حصہ اپنے پاس رکھا ، دوسرے حصے کا کمانڈر سوید بن اسلم کو بنایا اور تیسرے حصے کا کمانڈر مجلل بن وائل کو بنایا اور سب سے پہلے سوید کو حملہ کرنے کا حکم دیا تو اُس نے حجاج بن یوسف کے لشکر پر حملہ کر دیا ۔ شامیوں نے قریب آنے دیا اور ایک ساتھ حملہ کر دیا تو سوید بن اسلم کو پیچھے ہٹنا پڑا ۔ اِس پر حجاج بن یوسف نے بلند آواز سے کہا: ‘‘ اے اہل شام! تم بات سننے والے اور اطاعت کرنے والے ہو ،اِسی طرح حملہ کرتے رہو۔ ’’ اِس کے بعد حجاج بن یوسف ایک کرسی پر آگے آیا تو شبیب بن یزید نے اپنے دوسرے کمانڈر مجلل بن وائل کو حملہ کرنے کا حکم دیا لیکن حجاج بن یوسف کے لشکر نے ثابت قدمی سے مقابلہ کیا اور چاروں طرف تیروں اور نیزوں کی بارش ہونے لگی اور زبردست جنگ ہونے لگی ۔اِسی دوران شبیب بن یزید نے بھی اپنے لشکر کے ساتھ حملہ کر دیا لیکن اہل شام نے اتنی زبردست تیر اندازی کی کہ شبیب بن یزید اور مجلل بن وائل کے لشکر کو پیچھے ہٹنا پڑا ۔ 


شبیب بن یزید کی شکست


میدان جنگ میں زبردست مقابلہ ہو رہا تھا اور دونوں سپہ سالار نئے نئے داؤ چل رہے تھے ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : جب شبیب بن یزید نے اہل شام کا صبر و اسقلال دیکھا تو اُس نے سوید بن اسلم سے کہا کہ اپنے گھوڑوں سے حجاج بن یوسف کے لشکر کے عقب سے حملہ کرو اور ہم اُس کے سامنے سے حملہ کریں گے ۔ سوید نے ایسا ہی کیا لیکن کامیاب نہیں ہوسکا ۔ اِس کی وجہ یہ تھی کہ حجاج بن یوسف نے پہلے ہی سے تین سو سوار کا دستہ دے کر عروہ بن مغیرہ کو تعینات کر رکھا تھا ۔ حجاج بن یوسف خود بھی ایک ‘‘ماہر حرب’’ تھا اور وہ اِن جنگی داؤ پیچ اور گھات سے خوب واقف تھا ۔ یہ دیکھ کر شبیب نے اپنے لشکر کو حملہ کے لئے حکم دیا جسے حجاج بن یوسف بھانپ گیا تھا ۔اِس لئے اُس نے اہل شام کی ہمت بڑھائی اور ایک ساتھ حملہ کرنے کا حکم دیا اور انہوں نے ایسا ہی کیا اور شبیب کے لشکر پر شدید حملہ کیا ۔جس کی وجہ سے شبیب نے اپنے ساتھیوں کو گھوڑے سے اُتر کر جنگ کرنے کا حکم دیا ۔ حجاج اپنی جگہ سے دونوں لشکروں کو دیکھ رہا تھا ۔ پھر اُس نے خالد بن عتاب کو حکم دیا کہ خاص شبیب پر حملہ کرے اور وہ چار ہزار کا لشکر لیکر شبیب بن یزید پر ٹوٹ پڑا ۔ اور شبیب بن یزید کی بیوی غزالہ کو اور اُس کے بھائی مصاد کو قتل کر دیا ۔ اِس موقع پر شبیب کا لشکر دو حصوں میں منقسم ہو کر رہ گیا ۔ یہ دیکھ کر شبیب نے اپنے لشکر کو فرار کا حکم دیا ۔


شبیب بن یزید کا قتل


شبیب بن یزید کو شکست ہوئی اور وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ فرار ہوا اور حجاج بن یوسف کے لشکر نے تعاقب کیا لیکن شبیب بن یزید کے ساتھیوں نے ہی اُسے قتل کر دیا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : شبیب بن یزید کے لشکر کے فرار پر حجاج بن یوسف نے حکم دیا کہ جہاں بھی یہ لوگ جائیں اُن کا تعاقب کیا جائے اور اُن پر سخت دباؤ ڈال کر ہزیمت پر مجبور کیا جائے ۔ شبیب بن یزید کو اب لوگوں کی پہلی جیسی حمایت حاصل نہیں رہ گئی تھی ۔ بہر حال وہ سب فرار ہوئے اور حجاج کے سپاہی اُن کے پیچھے لگے رہے ۔ شبیب بن یزید مسلسل بھاگ رہا تھا اور اُس کے ساتھیوں کے کہنے سننے کی بھی پرواہ نہیں کر رہا تھا اور اِسی انداز میں بھاگتا رہا ۔ جب حجاج نے دیکھا کہ وہ رُک ہی نہیں رہا ہے تو اپنے لشکر سے کہا کہ شبیب بن یزید جہنم میں جائے ۔اب واپس چلو اور حجاج بن یوسف لشکر لیکر کوفہ واپس آگیا ۔ یہ دیکھ کر شبیب بن یزید پلٹ کر آیا اور کوفہ پر حملہ کردیا ۔ تین دن تک جنگ ہوتی رہی اور شبیب ہی اہل کوفہ پر حاوی تھا کئی دن کی جنگ کے بعد ایک دن صبح شبیب بن یزید اپنے ایک مخصوص دستے کے ساتھ ندی پار کر کے آنے کے لئے پل پر سے گذرنے لگا تو اُس کے لشکر کے ایک قبیلے والوں نے پل کی رسیاں کاٹ دیں اور شبیب بن یزید اپنے مخصوص دستے کے ساتھ غرق ہو گیا ۔ ڈوبنے سے پہلے اُس نے کئی غوطے کھائے اور کبھی پانی کے اوپر آتا اور کبھی نیچے چلا جاتا تھا ۔ جب خوارج کو اُس کے غرق ہو نے کا یقین ہو گیا تو انہوں نے نعرۂ تکبیر بلند کیا اور منتشر ہو کر مختلف شہروں کی طرف کوچ کر گئے ۔ حجاج بن یوسف کے کمانڈر نے شبیب بن یزید کی لاش کو پانی سے نکلوایا اور اُس کے جسم پر جو زرہ تھی اُسے اُتروا کر سینہ چاک کیا اور اُس کے مردہ ہونے کا یقین کیا۔ 


خوارج کی پسپائی


اِدھر شبیب بن یزید مسلسل حجاج بن یوسف کو پریشان کئے ہوئے تھا اور اُدھر مہلب بن ابی صفرہ مسلسل خوارج سے جنگ میں مصروف تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب حجاج بن یوسف نے عتاب بن ورقا کو مہلب بن ابی صفرہ کے لشکر سے واپس بلا لیا تو مہلب بن ابی صفرہ مسلسل ‘‘سابور’’ میں خوارج سے جنگ میں مصروف رہااور تقریباً ایک سال تک برابر خارجیوں کا مقابلہ کرتا رہا ۔ پھر مہلب بن ابی صفرہ اور خارجیوں کے درمیان ‘‘بستان’’ میں جنگ ہوئی جس میں مہلب نے انہیں کافی نقصان پہنچایا ۔ کرمان پر خارجیوں کا قبضہ تھا اور فارس پر مہلب بن ابی صفرہ کا قبضہ تھا ۔ چونکہ فارس کے علاقہ سے خارجیوں کو سامانِ خوراک نہیں مل پا رہا تھا اور وہ اپنے شہروں سے بہت دور ہو گئے تھے ۔ اِس لئے وہ سخت دقت میں مبتلا تھے اور اب اُن کی حالت ناقابل برداشت ہو گئی تھی ۔ اِس لئے انہیں مجبوراً کرمان آنا پڑا ۔ مہلب بن ابی صفرہ اُن کے تعاقب میں روانہ ہوا اور کرمان کے ایک قصبہ ‘‘جیرفت’’ میں پڑاؤ ڈالا اور اِس مقام پر وہ سال بھر سے زیادہ برابر خوارج سے جنگ کرتا رہا اور فارس کے تمام علاقے سے انہیں نکال دیا ۔ جب یہ تمام علاقہ مہلب بن ابی صفرہ کے قبضہ میں آگیا تو حجاج بن یوسف نے اِن علاقوں کو مہلب بن ابی صفرہ سے لیکر اپنے گورنر کو دے دیئے ۔ اِس قضیہ کی اطلاع عبدالملک بن مروان کو ہوئی تو اُس نے حجاج بن یوسف کو خط لکھا کہ فارس کے کوہستانی علاقے کا خراج مہلب بن ابی صفرہ کے ہاتھ میں دے دوکیونکہ لشکر کے لئے اخراجات کی ضرورت ہے اور سپہ سالار کی بھی اسی طرح امداد کرنا ضروری ہے ۔ اِس کے علاوہ فساء اور ورد ، ابجرد اور اصطخر کی جاگیریں بھی دے دی جائیں ۔ حجاج بن یوسف نے اِس حکم کی تعمیل میں یہ سب علاقے مہلب بن ابی صفرہ کے حوالے کر دیئے اور اُس نے اُن علاقوں میں اپنے گورنر بھیج دیئے ۔ یہ سب علاقے دشمن سے مقابلہ کے لئے اُن کی ضروریات پوری کرتے تھے ۔ 


خوارج میں اختلاف


خوارج سے مہلب بن ابی صفرہ مقابلہ کر رہا تھا کہ خوارج میں آپس میں اختلاف ہو گیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : مہلب بن ابی صفرہ مسلسل آٹھ مہینوں تک وہیں خوراج سے مقابلہ کرتا رہا ۔ جب بھی خوارج نے مہلب بن ابی صفرہ اور اُس کے لشکر پر اپنی کمین گاہ سے حملہ کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے ہمیشہ تیروں اور تلواروں سے انہیں زک دی ۔ خوارج کا سربراہ ‘‘قطری’’ تھا اور اُس کی طرف سے کرمان پر

 مقرر گورنر نے خوارج کے ایک بہادر سردار کو قتل کردیا ۔ تمام خوارج نے اپنے سربراہ قطری سے مطالبہ کیا کہ اُس گورنر کو ہمارے حوالے کردو تاکہ ہم اپنے ساتھی کے بدلہ میں اُسے قتل کر ڈالیں ۔ قطری نے اُس گورنرکو اُن کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا اور یہ واقعہ خوارج میں اختلاف کا سبب بنا۔ خوارج نے قطری کو چھوڑ دیا ‘‘عبد رب کبیر’’ کو اپنا سربراہ بنا لیا۔ ایک جماعت نے قطری کا ساتھ دیا ۔ اب خوارج کے دونوں گروپ آپس میں لڑنے لگے ۔ یہ مقابلہ لگ بھگ ایک مہینے تک چلتا رہا ۔


خوارج کی کرمان سے پسپائی


ایک مہینے تک خوارج کے دونوں گروپ میں شدید جنگ ہوتی رہی اور مہلب بن ابی صفرہ خاموشی سے تماشا دیکھتا رہا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : خوارج کی آپسی جنگ کی اطلاع مہلب بن ابی صفرہ نے حجاج بن یوسف کو دی تو اُس نے کہا کہ اچھا موقع ہے تم بھی خوارج پر حملہ کردو ۔ لیکن مہلب نے کہا کہ جب یہ دونوں آپس میں لڑ کر کمزور ہو جائیں گے تب حملہ کروں گا ۔ حجاج بن یوسف خاموش ہو گیا اور مہلب بن ابی صفرہ بھی خاموش بیٹھا تماشا دیکھتا رہا ۔ خوارج اِسی طرح ایک مہینے تک جنگ میں مصروف رہے ۔ اِس کے بعد قطری اپنے ساتھیوں کو لیکر ‘‘طبرستان’’چلا گیا ۔ باقی کے خوارج پر مہلب بن ابی صفرہ نے زبردست حملہ کر دیا ۔ خوارج آپسی لڑائی میں بہت کمزور ہو چکے تھے پھر بھی ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہا لیکن انہیں شکست ہوئی اور بہت سے قتل ہوئے اور تھوڑے بہت بچے تو وہ کرمان چھوڑ کر بھاگ گئے ۔ اُدھر قطری اپنے ساتھیوں کے ساتھ طبرستان پہنچا تو حجاج بن یوسف نے سفیان بن ادبر کو لشکر دیکر اُس کے مقابلے پر روانہ کیا ۔ اُس نے طبرستان میں قطری خارجی کے لشکر پر حملہ کردیا اور اُسے فتح ہوئی ۔ قطری خارجی بھاگ گیا لیکن ایک گنوار نے اُسے قتل کردیا ۔


ا77 ھجری کا اختتام


ا77 ھجری کے خاتمے پر پوری مملکت اسلامیہ میں وہی گورنر تھے جو پچھلے سال تھے ۔ اِس سال کے اختتام تک خوارج کی اچھی خاصی تعداد قتل ہو چکی تھی اور وہ منتشر ہو کر الگ الگ شہروں میں چلے گئے تھے لیکن ابھی اُن کی طاقت مکمل طور سے ختم نہیں ہوئی تھی ۔ 


ا78 ھجری کی شروعات


ا78 ھجری کی شرعات تک مہلب بن ابی صفرہ خوارج سے فارغ ہو چکا تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِ س سال 78 ھجری میں ولید بن عبدالملک موسم گرما کی مہم لیکر رومیوں سے جہاد کرنے گیا ۔ اِس سال عبدالملک بن مروان نے امیہ بن عبداﷲ کو خراسان کی گورنری سے برطرف کر دیا اور خراسان اور سجستان کا گورنر بھی حجاج بن یوسف کو بنا دیا اور اُس نے دونوں صوبوں پر اپنے ،اتحت گورنر مقرر کر دیئے ۔


مہلب بن ابی صفرہ کی عزت افزائی


کئی سال تک مسلسل خوارج سے جنگ کرنے کے بعد اِس سال  78 ھجری میں مہلب بن ابی صفرہ فاتح کی حیثیت سے اپنا لشکر لیکر کوفہ واپس آیا ۔حجاج بن یوسف نے مہلب بن ابی صفرہ کا شاندار استقبال کیا اور اپنے برابر تخت پر بٹھایا ۔ حجاج بن یوسف نے حکم دیا کہ مہلب بن ابی صفرہ کے لشکر میں سے جن جن لوگوں نے دشمن کے مقابلے میں نمایاں اور قابل قدر خدمات انجام دی ہیں انہیں میرے سامنے پیش کیا جائے ۔ مہلب بن ابی صفرہ لوگوں کو پیش کرتا جاتا تھا اور جس شخص کی تعریف کرتا تھا تو حجاج بن یوسف اُس کی تصدیق کرتا جاتا تھا ۔ اُس نے اُن لوگوں کو انعام دیا ،تنخواہوں میں اضافہ کیا اور سواریاں بھی عطا کیں اور کہا: ‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے عمل سے سلطنت کی حمایت کی ہے اور یہ اِس بات کے مستحق ہیں کہ انہیں انعام و اکرام دیا جائے ۔ یہ سرحدوں کے محافظ ہیں اور وہ بہادر ہیں جن سے دشمن جلتے اور خار کھاتے ہیں ۔’’ 


مہلب بن ابی صفرہ خراسان کا گورنر


مہلب بن ابی صفرہ کی خدمات کے صلہ میں حجاج بن یوسف نے اُسے خراسان کا گورنر بنا دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حجاج بن یوسف نے مہلب بن ابی صفرہ کو خراسان اور سجستان کا گورنر مقرر کر دیا ۔ اِس پر مہلب بن ابی صفرہ نے کہا : ‘‘ میں آپ کو ایک ایسا شخص بتاتا ہوں جو سجستان کے حالات سے مجھ سے زیادہ واقف ہے اور جو کابل اور زاہل کا عامل رہ چکا ہے ۔ وہ اِن صوبوں کا افسر مال تھا اور ان سے لڑ بھی چکا ہے اور صلح بھی کر چکا ہے ۔ حجاج بن یوسف نے پوچھا: ‘‘ کہیئے ! وہ کون شخص ہے؟’’ مہلب نے کہا : ‘‘ عبید اﷲ بن ابی بکرہ ۔’’ حجاج بن یوسف نے اُس کی تجویز منظور کر لی اور مہلب بن ابی صفرہ کو خراسان کا اور عبید اﷲ بن ابی بکرہ کو سجستان کا گورنر بنا دیا ۔ اُس وقت خراسان اور سجستان کا گورنر امیہ بن خالد تھا ۔ یہ براہ راست عبدالملک بن مروان کے ماتحت تھا اور حجاج کا کوئی دخل نہیں تھا ۔ لیکن اب عبدالملک بن مروان نے امیہ بن خالد کو معزول کر دیا اور دونوں علاقے حجاج بن یوسف کے ماتحت کر دیئے تھے ۔ پھر مہلب بن ابی صفرہ خراسان روانہ ہو گیا ۔ 


ا78 ھجری کا اختتام


ا78 ھجری میں کوئی ایسا بڑا خاص وقعہ پیش نہیں آیا اور مملکت اسلامیہ میں عام طور سے امن رہا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 78 ھجری میں مسلمانوں کو رومی شہروں میں جنگیں کرنا پڑیں ۔ سب سے پہلے انہوں نے اس علاقہ میں ‘‘اعقیلہ’’ فتح کیا اور جب اُس کو فتح کر کے واپس آرہے تھے اُن کو سخت ژالہ باری اور شدید بارش کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے سردی بڑھ گئی اور بہت سے مسلمان مجاہدین اس کی بھینٹ چڑھ گئے ۔ اِس سال عبدالملک بن مروان نے موسیٰ بن نصیر کو ‘‘کُل بلاد مغرب ’’ میں جنگوں کا سپہ سالار اور انچارج بنا کر ‘‘طنجہ’’ بھیجا اور اُس نے اِس مہم کے ‘‘مقدمۃ الجیش’’ یعنی ہر اول کا کمانڈر طارق بن زیاد کو بنایا ۔ اِس سال عبدالملک بن مروان نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔ 


حضرت جابر بن عبداﷲ انصاری رضی اﷲ عنہ کا انتقال


اِس سال 78 ھجری میں مشہور صحابی حضرت جابر بن عبداﷲ انصاری رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا۔آپ رضی اﷲعنہ کی کئی روایتیں امام بخاری نے اپنی صحیح میں بیان کی ہیں ۔حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ کے والد محترم بھی صحابی ہیں۔ آپ رضی اﷲ عنہ کی پھوپھی ، پھوپھا اور پھوپھا ذاد بھائی بھی صحابی ہیں ۔ آپ رضی اﷲ عنہ اور آپ رضی اﷲ عنہ کے والد ِ محترم نے ساتھ میں اسلام قبول کیا ۔ غزوہ اُحد میں دونوں باپ بیٹے شریک ہوئے تھے اور اُن کے والد ِ محترم حضرت عبداﷲ بن عمرو بن حرام رضی اﷲ عنہ نے غزوۂ اُحد سے ایک دن پہلے اُن سے فرمایا: ‘‘ بیٹے مجھے لگتا ہے کہ کل میں شہید ہو جاؤں گا ۔ اِس لئے کل تم جنگ میں حصہ نہیں لینا اور اپنی بہنوں کا خیال رکھنا۔’’ حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ کی سات یا نو بہینیں تھیں ۔ غزوۂ اُحد کے وقت آپ رضی اﷲ عنہ بالکل نوعُمر تھے اور اُسی غزوہ میں اُن کے والدِ محترم شہید ہوگئے تو اُن کی لاش کا کافروں نے مُثلہ کیا تھا ۔ ایسی حالت دیکھ کر آپ رضی اﷲ عنہ رونے لگے تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے انہیں گلے سے لگایا اور فرمایا: ‘‘ اﷲ تعالیٰ نے تمھارے والدِ محترم کو ایک ‘‘خصوصی اعزاز’’ یہ عطا فرمایا ہے کہ ہر ایک سے پردے میں بات کرتا ہے لیکن تمہارے والدِ محترم سے بے پردہ بات کی ہے۔’’ اپنی بہنوں کی دیکھ بھال کے لئے آپ رضی اﷲ عنہ نے بڑی عُمر کی عورت سے نکاح کیا ۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم بڑی محبت سے پیش آتے تھے اور آپ رضی اﷲ عنہ کا اونٹ چالیس درہم میں خریدا اور پھر اونٹ تحفے میں آپ رضی اﷲ عنہ کو دے دیا ۔ اُن چالس درہم میں اﷲ تعالیٰ نے بہت زیادہ برکت عطا فرمائی ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 78 ھجری میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے صحابی حضرت جابر بن عبداﷲ بن عمرو بن حرام انصاری سلمی کا انتقال ہوا۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے بہت سی احادیث بھی روایت کی ہیں ۔آپ رضی اﷲ عنہ ‘‘بیعت عقبہ’’ میں موجود تھے اور غزوۂ بدر میں شرکت کے خواہش مند تھے مگر اُن کے والدِ محترم نے اُن کو شرکت سے منع کر دیا تھا ۔ آپ رضی اﷲ عنہ کے نو بہن بھائی تھے ۔ یہ کہا جاتا ہے کہ انتقال سے قبل بصرہ چلے گئے تھے ۔ حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ کا انتقال مدینۂ منورہ میں ہوا اور اُس وقت آپ رضی اﷲ عنہ کی عُمر چورانوے(94) سال تھی ۔ آپ رضی اﷲ عنہ سے ایک ہزار بانچ سو چالیس (1540) احادیث کی روایت منسوب ہے ۔


قاضی حضرت شریح بن حار ث کا انتقال


اِس سال مشہور قاضی تابعی حضرت شریح بن حارث کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : یہ قیس بن ابو امیہ کندی کے بیٹے ہیں اور کوفہ کے ‘‘عہدۂ قضا’’(سُپریم کور ٹ کے جج کا عہدہ) پر مامور تھے یعنی قاضی تھے ۔ خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے زمانے میں کوفہ کے قاضی بنے اور خلیفۂ سُوم اور خلیفۂ چہارم کے دورِ خلافت میں بھی کوفہ کے قاضی رہے ۔ بعد میں خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے انہیں معزول کر دیا تھا لیکن حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے اپنے دورِ حکومت میں انہیں پھر سے کوفہ کا قاضی بنا دیا اور آپ اپنے انتقال تک قاضی رہے ۔ مشہور ہے کہ آپ کو ‘‘منصب قضا’’ کی تنخواہ سو درہم ملتی تھی لیکن کچھ مورخین کے مطابق پانچ سو درہم ملتی تھی ۔ جب آپ فیصلہ کرنے کے لئے گھر سے نکلتے تھے تو یہ فرماتے جاتے تھے :‘‘ اب ظالم کو پتہ چل جائے گا کہ اُس نے کس کا حق مارا ہے ۔’’ یہ بھی مشہور ہے کہ جب فیصلہ کرنے بیٹھتے تھے تو قرآن پاک کی یہ آیت تلاوت فرماتے تھے :‘‘ ترجمہ؛ ہم نے تجھے زمین پر خلیفہ بنایا ۔پس تُو لوگوں کے مابین انصاف سے فیصلہ کر اور اپنی خواہش کی پیروی نہ کر۔’’ وہ یہ بھی کہا کرتے تھے :‘‘ ظالم سزا کا منتظر ہے اور مظلوم مدد کا منتظر ہے۔’’ کہا جاتا ہے کہ آپ ستر سال تک ‘‘عہدۂ قضا’’ پر مامور رہے لیکن بعض لوگوں کے مطابق انہوں نے اپنے انتقال سے پہلے استعفیٰ دے دیا تھا ۔واﷲ و اعلم۔آپ اصلاً ایرانی النسل تھے جن کے اسلاف یمن میں آکر آباد ہو گئے تھے اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے بعد شریح بن حارث مدینۂ منورہ آگئے تھے لیکن انتقال کوفہ میں ایک سو آٹھ سال کی عُمر میں ہوا۔


چند اور اعیان کا انتقال


اِس سال 78 ھجری میں عبداﷲ بن اشعری کا انتقال ہوا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں :‘‘‘ عبداﷲ بن اشعری فلسطینی مہمان تھے ۔ صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کی ایک جماعت سے انہوں نے احادیث کی روایت کی ہیں ۔ ان کے متعلق یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اِن کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی صحبت کا شرف حاصل تھا ۔ اِن کو خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے ملک شام کی طرف بھیج دیا تاکہ وہاں کے لوگوں کو فقہ کی تعلیم دیں ۔ یہ صالحین اور متقی لوگوں میں سے تھے ۔ اِس سال 78 ھجری میں جنادہ بن امیہ ازدی کا انتقال ہوا ۔ یہ ملک مصر کی فتح میں شامل تھے اور حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے کی طرف سے بحری جنگ میں سپہ سالار تھے ۔ یہ شجاکانہ کارناموں اور سخاوت کے لئے بھی مشہور تھے ۔ اِن کا ملک شام میں اسی (80) سال کی عُمر میں انتقال ہوا ۔ 78 ھجری میں علا بن زیاد بصری کا بھی انتقال ہوا ۔ یہ بصرہ کے صالحین میں سے شمار ہوتے تھے ۔ اِن میں اﷲ کا خوف اور تقویٰ بہت تھا ۔ اپنے گھر میں ہی زیادہ تر اپنا وقت تنہائی میں گزارتے تھے اور بہت کم لوگوں سے ملتے تھے ۔ ہر وقت روتے رہتے تھے حتٰی کہ زیادہ رونے کی وجہ سے اندھے ہو گئے تھے ۔ 


ا79 ھجری : ترک بادشاہ رتبیل پر حملہ


اِس سال 79 ھجری میں عبیداﷲ بن ابی بکرہ نے رتبل پر حملہ کیا ۔ اِس کی وجہ یہ ہوئی کہ رتبیل مسلمانوں کو جو خراج دیتا تھا وہ اُس نے دینا بندکر دی تھی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : رتبل سے مسلمانوں کی صلح تھی اور وہ مسلمانوں کو خراج ادا کیا کرتا تھا ۔اکثر وہ خراج دینا بند کردیتا تھا ۔ اِس بار جب اُس نے خراج ادا نہیں کیا تو حجاج بن یوسف نے سجستان کے گورنر عبیداﷲ بن ابی بکرہ کو حکم دیا کہ وہ رتبیل پر حملہ کرے اور جب تک اُس کے علاقوں کو فتح نہ کر لینا تب تک واپس نہیں آئے۔ عبیداﷲ بن ابی بکرہ لشکر لیکر روانہ ہوا ۔اُن میں اہل کوفہ کا کمانڈر شریح بن ہانی تھا اور اہل بصرہ کا سپہ سالار خود عبیداﷲ بن ابی بکرہ تھا ۔ عبیداﷲ بن ابی بکرہ اپنے لشکر کو لیکر رتبیل کے علاقے میں گھسا اور

 جس قدر مویشی اور دوسرے مال و متاع ہاتھ لگے اُن سب پر قبضہ کر لیا ۔ قلعوں اور قلعہ بند شہروں کی فصیلوں کو توڑ دیا ۔ اور رتبیل کے اکثر علاقوں پر قبضہ کر لیا ۔ رتبیل کے لشکر میں ترک تھے انہوں نے یہ طرز عمل اختیار کیا کہ مسلمانوں کے علاقہ میں مسلسل پیچھے ہٹے چلے گئے اور علاقہ پر علاقہ خالی کرتے چلے گئے ۔ اِس طرح جب مسلمانوں کا لشکر بہت دور اندرون ملک میں ایسے مقام پر پہنچ گیا جہاں سے ترکوں کا دارالحکومت صرف اٹھارہ فرسخ کے فاصلہ پر تھا تو اب ترکوں نے مسلمانوں کو پہاڑوں کے دروں میں اور پُر پیچ گھاٹیوں میں گھیر لیا اور تمام تجارتی منڈیاں اور قصبات مسلمانوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیئے اور تمام قصبات نے مسلمانوں کے سامنے سر اطاعت خم کر دیا ۔ 


شریح بن ہانی کی شہادت 


مسلمانوں کو ترکوں نے چاروں طرف سے گھیر لیا تھا جس کی وجہ سے وہ پریشان ہو گئے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اب مسلمانوں کو یہ خیال پیدا ہوا کہ ہم اِن پہاڑوں میں گھر چکے ہیں اور ہماری تباہی یقینی ہے ۔ اِس خطرہ کو محسوس کر کے عبیداﷲ بن ابی بکرہ نے رتبیل سے سات لاکھ درہم پرصلح کر لی ۔ یہ دیکھ کر شریح بن ہانی نے :‘‘ تم نے جو زر تاوان ادا کیا ہے ۔امیرالمومنین اسے تم لوگوں کی تنخواہوں میں سے کاٹ لیں گے ۔’’ عبیداﷲ بن ابی بکرہ نے کہا: ‘‘ اگر ہم زندہ ہی نہ رہے تو ہماری تنخواہیں بند ہو جائیں گی تو ہم اپنی تنخواہوں کے بند ہونے کے بجائے وضع کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔’’ شریح نے کہا: ‘‘ میری عُمر پوری ہو چکی ہے اور میرے لئے زندگی کا کوئی مزہ نہیں باقی رہا ۔میں عرصہ دراز سے شہادت کا خواہشمند رہا ہوں اور اگر آج مجھے شہادت نصیب نہیں ہو گی تو میں سمجھتا ہوں کہ پھر یہ درجہ کبھی نہیں حاصل نہیں ہو گا ۔’’اِس کے بعد شریح بن ہانی نے مسلمانوں کو مخاطب کر کے پکارا :‘‘ دشمن پر حملہ کرو۔’’ عبیداﷲ بن ابی بکرہ نے کہا: ‘‘ تم تو بوڑھے ہو گئے ہو اور سٹھیا گئے ہو۔’’ شریح بن ہانی نے کہا :‘‘ بس اب تم خاموش رہو ۔کیا تم یہ پسند کروگے کہ لوگ کہیں کہ یہ عبیداﷲ کا باغ ہے اور یہ اُس کا حمام ہے۔’’ اِس کے بعد شریح بن ہانی نے مسلمانوں سے کہا: ‘‘ جو لوگ شہادت کا درجہ حاصل کرنا چاہتے ہوں وہ میرے پاس آجائیں ۔’’ کچھ مسلمان اُس کے ساتھ ہوگئے اور دشمن سے جنگ میں مصروف ہو گئے اور لگ بھگ سبھی شہید ہو گئے ۔اِن میں سے جو زندہ بچے وہ علاقہ چھوڑ کر واپس جیسے تیسے مسلمانوں کے علاقے میں آئے ۔ مسلمانوں نے انہیں کھانا دیا تو جس نے بھی پیٹ بھر کا کھانا کھایا وہ مر گیا ۔ اِس لئے مسلمان انہیں کھانا دینے سے ڈرنے لگے ۔ پھر انہیں تھوڑا تھوڑا مکھن کھلاتے رہے اور جب اُن کی قوت ہاضمہ عود کر آئی تو کھانا دیا ۔ 

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں