جمعہ، 30 اگست، 2024

Saltanat e Umayya part 39


 ا39 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 39

ترک بادشاہ رتبیل کے متعلق خط، 79 ھجری کا اختتام، 80 ھجری : مکۂ مکرمہ میں سیلاب، کش پر حملہ، یزید بن مہلب کی واپسی، حبیب بن مہلب کا حملہ، اہل کش سے صلح، عبد الملک بن مروان کا رتبیل کے خلاف فرمانِ جہاد، عبدالرحمن بن اشعث سپہ سالار، عبدالرحمن بن اشعث کا رتبیل پر حملہ، عبدالرحمن بن اشعث کی دور اندیشی، عبدالرحمن بن اشعث سجستان کا گورنر، 80 ھجری کا اختتام، حضرت عبداﷲ بن جعفر بن ابی طالب رضی اﷲعنہ کا انتقال، 80 ھجری میں انتقال کرنے والی اہم شخصیات، حجاج بن یوسف کا جنگ جاری رکھنے پر اصرا ر، عبدالرحمن بن اشعث کا لشکر سے خطاب، 



ترک بادشاہ رتبیل کے متعلق خط


مسلمان رتبیل کے علاقوں میں سے بہت پریشانیوں سے واپس آئے اور جب حجاج بن یوسف کو اِس کی اطلاع ملی تو اُس نے عبدالملک بن مروان کو خط لکھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حجاج بن یوسف کو جب اِن واقعات کی اطلاع پہنچی تو اُسے رتبیل کی اگلی پچھلی حرکتیں یاد آگئیں اور یہ واقعہ تو حد کو پہنچ گیا تھا ۔ اِس لئے حجاج بن یوسف نے عبدالملک بن مروان کو حسب ذیل خط لکھا:‘‘ حمد و ثناء کے بعد! میں امیر المومنین کو مطلع کرتا ہوں کہ آپ کی جتنی فوج سجستان میں تھی وہ سب تباہ ہو گئی ہے ۔ بہت تھوڑے آدمی اُس میں سے بچے ہیں ،دشمن کو فتح حاصل ہوئی ہے ۔ اِس کی وجہ سے اُس کے حوصلے مسلمانوں کے خلاف اور بڑھ گئے ہیں۔وہ مسلمانوں کے علاقے میں گھس آیا ہے اور اُس نے مسلمانوں کے تمام قلعوں اور مستحکم قصروں پر قبضہ کر لیا ہے ۔ میرا ارادہ تھا کہ اہل بصرہ اور اہل کوفہ کی ایک زبردست فوج اُس کی سرکوبی کے لئے بھیج دوں ۔ مگر میں مناسب سمجھا کہ پہلے آپ کی رائے معلوم کی جائے ۔ پس اگر آپ لشکر بھیجنے کی اجازت فرمائیں تو میں اپنی رائے پر عمل کروں گا اور اگر آپ کا ارادہ مزید مہم بھیجنے کا نہ ہو تو آپ اپنی فوج کے مالک و مختار ہیں ۔کسی کو دخل دینے کا کیا موقع ہو سکتا ہے مگر مجھے خوف ہے کہ اگر رتبیل اور اُس کے ساتھ جو اور مشرکین کی جماعت ہے اُن کی سرکوبی کے لئے زبردست مہم نہ بھیجی گئی تو وہ اس مقام اور علاقہ پر قبضہ کر لیں گے ۔ ’’


ا79 ھجری کا اختتام


ا79 ھجری کے اختتام پر حجاج بن یوسف ملک عراق اور تمام ممالک مشرقیہ کا گورنر تھا ۔ مہلب بن ابی صفرہ خراسان کا گورنر تھا ۔ملک مصرکا گورنر عبدالعزیز بن مروان تھا ۔ مدینۂ منورہ کا گورنر ابان بن عثمان بن عفان تھا اور اِسی نے مسلمانوں کو حج کرایا۔ اِس سال کوفہ کا قاضی ابوبردہ بن موسیٰ تھا اور بصرہ کا قاضی موسیٰ بن انس تھا ۔ اِس سال ملک شام میں طاعون کی وبا اتنی شدت سے پھیلی کہ ایسا لگا کہ پوری آبادی فنا ہو جائے گی ۔ اِس وجہ سے کوئی مہم جہاد کے لئے نہیں بھیجی گئی ۔اِسی سال رومیوں نے باشندگان ِ انطاکیہ پر حملہ کر کے انہیں لوٹا اور تباہ برباد کیا ۔


ا80 ھجری : مکۂ مکرمہ میں سیلاب


اِس سال 80 ھجری میں مکۂ مکرمہ میں بہت ہی زبردست سیلاب آیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 80 ھجری میں مکۂ مکرمہ میں ایک زبردست سیلاب آیا جو تمام حجاج کو بہا لے گیا اور مکۂ مکرمہ کے تمام مکانات غرق ہو گئے ۔ اِسی وجہ سے لوگوں نے اِس سال کا نام ‘‘عام المحجاف’’ رکھا کیونکہ جہاں تک سیلاب کی رسائی تھی وہ ہر شئے کو بہا کر لے گیا ۔ ایک صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں نے اونٹ دیکھے جن پر سامان اور مرد اور عورتیں سوار تھے اور پانی انہیں بہائے لے جارہا تھا اور اُن کی بچنے کی کوئی تدبیر نہیں تھی ۔ پانی بڑھتے بڑھتے رکن کعبہ تک پہنچ گیا تھا ۔ امام واقدی کے مطابق اِس سال بصرہ میں طاعون پھیلا تھا ۔ 


کش پر حملہ


اِس سال مہلب بن ابی صفرہ نے کش پر حملہ کیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 80 ھجری میں مہلب بن ابی صفرہ نے دریائے بلخ عبور کیا اور کش پر حملہ کیا ۔ اُس کے لشکر میں زیاد بن عمرو زمانی ‘‘مقدمۃ الجیش’’ کا کمانڈر تھا اور اُس کے دستے میں تین ہزار مجاہدین تھے حالانکہ اُن کے دشمن کی تعداد پانچ ہزار تھی ۔ مگر اپنی شجاعت ، خیر خواہی اور عقل مندی کی وجہ سے زیاد بن عمرو زمانی اکیلا دو ہزار کو بھاری تھا ۔ جس وقت مہلب بن ابی صفرہ کش کا محاصرہ کئے ہوئے تھا تو اُس کے پاس ختل کے بادشاہ کا چچیرا بھائی آیا اور اُس نے بادشاہ ختل سے لڑنے کی استدعا کی ۔ مہلب بن ابی صفرہ نے اپنے بیٹے یزید بن مہلب کو اُس شہزادے کے ساتھ روانہ کر دیا ۔ 


یزید بن مہلب کی واپسی


مہلب بن ابی صفرہ نے اپنے بیٹے یزید بن مہلب کو لشکر دے کر اُس شہزادے کے ساتھ بھیجا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : یزید بن مہلب ایک مقام پر خیمہ زن ہو گیا اور ختل کے بادشاہ ( جس کانام ‘‘سبل’’ تھا)کا چچیرا بھائی دوسرے مقام پر خیمہ زن ہوا ۔ سبل نے اپنے چچرے بھائی پر شب خون مارا اور اُس کے پڑاؤ میں آکر نعرۂ تکبیر کہنا شروع کر دیا ۔ چونکہ نعرۂ تکبیر مسلمانوں کا ‘‘نعرۂ جنگ’’ تھا ۔ اِسی وجہ سے سبل کے چچرے بھائی کو خیال ہوا کہ مسلمانوں نے میرے ساتھ دھوکا کیا ۔ جبکہ واقعہ یہ تھا کہ جب شہزادے نے مسلمانوں کے لشکر سے الگ پڑاؤ ڈالا تو اُس وقت مسلمانوں کو اُس سے دھوکے کا خطرہ تھا ۔ سبل اپنے چچرے بھائی کو گرفتار کر کے قلعہ میں لے گیا اور قتل کر دیا ۔ یزید بن مہلب نے سبل کے قلعہ کا محاصرہ کر لیا ، مگر چند دن کے محاصرے کے بعد سبل نے صلح کر لی اور یزید بن مہلب نے خراج لیکر محاصرہ اُٹھا لیا اور اپنے والد مہلب بن ابی صفرہ کے پاس واپس آگیا ۔


حبیب بن مہلب کا حملہ


مہلب بن ابی صفرہ کش کا محاصرہ کئے ہوئے تھا اور اُس نے اپنے دوسرے بیٹے کو ربنجن پر حملہ کرنے کے لئے بھیجا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : مہلب بن ابی صفرہ نے اپنے ایک اور بیٹے حبیب بن مہلب کو ‘‘ربنجن’’ پر حملہ کرنے کے لئے لشکر دیکر بھیجا ۔ اُس کے مقابلہ کے لئے ‘‘بخارا’’ کا بادشاہ چالیس ہزار کا لشکر لیکر آیا ۔ کافروں میں سے جس نے بھی مبارز طلب کیا اُس کے مقابلے پر حبیب بن مہلب کا آزاد کردہ غلام ‘‘جبلہ’’ آیا اور ہر کافر کو قتل کردیا ۔ پھر جنگ شروع ہوئی اور دشمنوں کے تین سو کافروں کو قتل کردیا تو دشمن پسپا ہو گئے ۔ مسلمانوں نے اُن کا تعاقب جاری رکھا اور جب انہوں نے ایک گاؤں میں پڑاؤ ڈالا تو حبیب بن مہلب اپنے لشکر کے ساتھ اُن پر ٹوٹ پڑا اور دشمنوں کو شکست دی ۔ حبیب بن مہلب کے آزاد کردہ غلام نے گاؤں میں آگ لگا دی اور حبیب بن مہلب اپنا لشکر اور مال غنیمت لیکر واپس آگیا ۔ اِسی وجہ سے اِس مہم کا نام لوگوں نے ‘‘متحرقہ’’ رکھ دیا ۔ 


اہل کش سے صلح


مہلب بن ابی صفرہ کش کا محاصرہ کئے ہوئے تھا ۔ طویل محاصرے کے بعد اہل کش نے صلح کی درخواست کی جو مہلب بن ابی صفرہ نے قبول کر لی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : مہلب بن ابی صفرہ اپنے لشکر کے ساتھ کش کا محاصرہ کئے ہوئے تھا ، ایک روز دشمن کی فوج میں سے ایک شخص تنہا نکلا اور مسلمانوں کو لڑنے کے لئے للکارا۔ اُس کے مقابلہ پر ہریم بن عدی نکلا وہ اپنے خود پر عمامہ باندھے ہوئے تھا ۔ دونوں ایک نہر کے پاس مقابل ہوئے اور وہ مشرک کچھ دیر تک کاوا دے کر ہریم بن عدی پر حملہ کرتا رہا مگر آخر کار ہرین بن عدی نے اُسے قتل کر دیا اور اُس کے تمام ہتھیار اور لباس پر قبضہ کر لیا ۔ اِس پر مہلب بن ابی صفرہ نے کہا : ‘‘ اگر تم مارے جاتے اور تمہارے عوض دشمن کے ایک ہزار سپاہی قتل کر دیئے جاتے تو بھی وہ ایک ہزار تمہارا خوں بہا نہیں ہوتے ۔ اِسی مقام پر مہلب بن ابی صفرہ نے بنو مضر کے کچھ لوگوں سے خطرہ محسوس کیا تو انہیں قید کر لیا ۔ اہل کش نے صلح کی درخواست کی تو اُس نے قبول کر لی اور صلح کے بعد جب اپنا لشکر لیکر واپس آنے لگا تو قیدیوں کو رہا کر دیا ۔ حجاج بن یوسف کو جب اِس واقعہ کی اطلاع ملی تو اُس نے مہلب بن ابی صفرہ کو لکھا: ‘‘ اگر تم نے اُن کو کسی جرم پر قید کیا تھا تو اُن کا رہا کر دینا خلاف مصلحت ہے اور اگر بلا وجہ قید کیا تو یہ ظلم ہے ۔’’ مپہب بن ابی صفرہ نے جواباً لکھا: ‘‘ جب مجھے اُن کی جانب سے خطرہ محسوس ہوا تو میں نے قید کر لیا تھا ۔’’ قیدیوں میں عبدالملک بن ابی الشیخ قشیری بھی تھے ۔ 


عبد الملک بن مروان کا رتبیل کے خلاف فرمانِ جہاد


پچھلے سال کے آخر میں حجاج بن یوسف نے عبدالملک بن مروان سے ترک بادشاہ رتبیل کے خلاف جنگ کی اجازت مانگی تھی ۔ پچھلے سال ملک شام میں طاعون کی وبا کی وجہ سے عبدالملک بن مروان اِس معاملے پر توجہ نہیں دے سکا تھا لیکن اِس سال ۸۰ ؁ھجری میں اُس نے رتبیل کے خلاف ‘‘اعلان جہاد’’ کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال ۸۰ ؁ ھجری میں حجاج بن یوسف نے عبدالرحمن بن اشعث کو ترکوں کے بادشاہ رتبیل سے جہاد کر نے کے لئے بھیجا ۔ جب حجاج بن یوسف نے عبدالملک بن مروان کو عبیداﷲ بن ابی بکرہ کے لشکر کی تباہی کی اطلاع لکھ کر بھیجی اور جنگ کی اجازت مانگی تو اُس کے جواب میں عبدالملک بن مروان نے اپنا ‘‘فرمانِ جہاد’’ لکھ کر بھیجا :‘‘ حمد و ثناء کے بعد! مجھے تمہارا خط ملا جس میں تم نے علاقہ سجستان میں مسلمانوں کی تباہی کی اطلاع دی ہے ۔ اُسکے متعلق سنو! مسلمانوں پر جہاد تو فرض ہی ہے ۔ وہ اپنی خوب گاہوں میں چلے گئے اور اﷲ تعالیٰ انہیں اجر دینے والا ہے اور تم نے اُس علاقہ میں جو مزیز لشکر بھیجنے کے متعلق میری رائے دریافت کی ہے کہ وہ بھیجا جائے یا نہیں؟ اُس کے متعلق مجھے تمہاری رائے سے اتفاق ہے ۔ تم ضرور جہاد کے لئے لشکر بھیجو۔’’


عبدالرحمن بن اشعث سپہ سالار


عبدالملک بن مروان کا فرمان پڑھ کر حجاج بن یوسف نے جہاد کے لئے لشکر بھیجنے کی تیاری زور و شور سے شروع کر دی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اب حجاج بن یوسف نے بیس ہزار فوج اہل کوفہ کی اور بیس ہزار فوج اہل بصرہ کی تیار کرنی شروع کر دی ۔ تما مجاہدین کو پوری پوری تنخواہ دے دی ۔ خوبصورت گھوڑے اور پورے ہتھیار دیئے اور تمام فوج کا خود ہی معائنہ شروع کیا ۔ جس شخص کی شجاعت کی تعریف اُس کے سامنے کی جاتی تھی اُسے انعام و اکرام بھی دیتا تھا ۔ جب یہ دونوں فوجیں کیل و کانٹے سے پوری طرح لیس ہو گئیں تو حجاج بن یوسف نے ایک فوج کا کمانڈر عطارد بن عُمر تمیمی کوبنا کر روانہ کیا اور وہ اپنے لشکر کے ساتھ ‘‘اہواز’’ میں آکر قیام پذیر ہو گیا ۔ اِس کے بعد حجاج بن یوسف نے عبدالرحمن بن اشعث کو پورے لشکر کا ‘‘سپہ سالار اعظم’’ مقررکیا اور وہ پورا لشکر لیکر ۸۰ ؁ ھجری میں سجستان پہنچا ۔ وہاں پہنچ کر اُسنے وہاں کے تمام باشندوں کو بلایا اور اُن کے اور اپنے لشکر کے سامنے تقریر کی : ‘‘ اے لوگ! حجاج بن یوسف نے تمہارے سرحدی علاقوں کی حفاظت اور تمہارے دشمنوں سے جنہوں نے تمہارے شہروں کو لوٹا ، تمہارے افرا دکا قتل عام کیا ہے ۔اُن سے جہاد کے لئے تمہیں مقرر کیا ہے ۔تم لوگوں کو چاہیئے کہ تم میں سے کوئی بھی اہل فوج سے پیچھے نہ رجائے ورنہ وہ سزا کا حقدار ہو گا ۔ اب سب اپنی اپنی فوجی قیام گاہوں میں حاضر ہو جائیں ۔’’


عبدالرحمن بن اشعث کا رتبیل پر حملہ


سجستان میں عبدالرحمن بن اشعث نے زور شور سے حملے کی تیاری شروع کر دی ۔ ترک بادشاہ رتبیل نے جب اتنی بڑی جنگی تیاری دیکھی تو صلح کی پیش کش کی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : تمام لوگوں نے عبدالرحمن بن اشعث کے حکم کی تعمیل کی اور اُن کے لئے بازار لگا دیئے اور اب لوگوں نے جنگ کی تیاری شروع کر دی۔ اِس تیاری کی خبر ترک بادشاہ رتبیل کو ہوئی تو اُس نے خوف زدہ ہو کر عبدالرحمن بن اشعث کو خط لکھا ۔ جس میں اُس نے مسلمانوں کی پچھلی مرتبہ کی تباہی پر معذرت کی اور لکھا کہ مسلمانوں نے مجھے جنگ پر مجبور کر دیا تھا ۔ میں آپ سے صلح کی درخواست کرتا ہوں اور خراج دینے پر آمادہ ہوں ۔ عبدالرحمن بن اشعث نے اُس کی درخواست قبول نہیں کی اور خراج لینا پسند نہیں کیا بلکہ اپنی فوج کے ساتھ اُس کے علاقہ پر حملہ شروع کر دیا ۔ جب وہ اپنے لشکر کے ساتھ پہلے شہر میں داخل ہوا تو رتبیل نے اپنی تمام فوج اپنے پاس بلا لی اور تمام علاقہ ، تجارتی منٖڈیاں اور قلعے مسلمانوں کے لئے چھوڑ دیئے ۔ 


عبدالرحمن بن اشعث کی دور اندیشی


عبدالرحمن بن اشعث کے لشکر کے لئے بھی ترک بادشاہ رتبیل نے وہی جال بچھایا جو عبیداﷲ بن ابی بکرہ کے لشکر کے لئے بچھایا تھا لیکن عبدالرحمن بن اشعث بہت دور اندیش سپہ سالار تھا ۔ اُس نے ترک بادشاہ رتبیل کی چال کو ناکام بنا دیا اور عبیداﷲ بن ابی بکرہ کی طرح مسلسل ترکوں کے اندرون علاقے میں گھستا نہیں چلا گیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عبدالرحمن بن اشعث جس شہر پر قبضہ کرتا تھا اُس پر اپنا ایک گورنر مقرر کر دیتا تھا اور اُس کی حفاظت کے لئے فوج کے دستے چھوڑ دیتا تھا ۔ اِس کے علاوہ اُس نے مفتوحہ شہروں میں ڈاک کا سلسلہ قائم کر دیا جس کی وجہ سے تمام شہر ایکدوسرے سے جُڑے رہے ، پہاڑ درّوں اور گھاٹیوں میں پہرے قائم کر دیئے اور ایسی جگہوں پر جہاں سے خطرہ کا احتمال تھا فوجی چوکیاں قائم کر دیں ۔جب اُس نے ترکوں کے بڑے وسیع علاقے پر قبضہ کر لیا اور مویشیوں اور بہت سا مال غنیمت اپنے قبضہ میں کر لیا تو اپنی فوج کو پیش قدمی کرنے سے روک دیا اور کہا: ‘‘ اِس سال اتنی فتح ہی ہمارے لئے کافی و دافی ہے ۔ اب ہمیں جو مل چکا ہے اُس میں سے خراج وصول کریں اورلگان مشخص کریں ۔ تاکہ اِس دوران مسلمان یہاں کے راستوں سے نڈر ہو جائیں اور پھر آئندہ سال ہم آگے بڑھیں گے ۔ ہر سال ہم ترک بادشاہ رتبیل کے علاقوں پر رفتہ رفتہ قبضہ کرتے جائیں گے اور اِس طرح دھیرے دھیرے ایک دن اُس کے پورے ملک اور تمام خزانوں پر قبضہ کر لیں گے ۔ اُن کے بعید ترین شہروں اور مضبوط ترین قلعوں پر قابض ہو جائیں گے اور پھر جب تک اﷲ تعالی اِن کافروں کو بالکل تباہ نہیں کردے گا تب تک ہم یہاں سے نہیں ٹلیں گے ۔’’ 


عبدالرحمن بن اشعث سجستان کا گورنر


عبدالرحمن بن اشعث نے جو فتوحات حاصل کیں اُن کی تفصیل اور اپنا آگے کا ارادہ حجاج بن یوسف کو لکھ بھیجا تو حجاج بن یوسف نے اُسے سیجستان کا گورنر بنا دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں :پھر عبدالرحمن بن اشعث نے حجاج بن یوسف کو لکھا کہ اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں پر احسان کیا اور اِن تمام فتوحات کی اطلاعات تفصیل سے لکھ

 بھیجیں اور ساتھ ہی وہ رائے بھی لکھ بھیج جس پر وہ آئندہ عمل کرنے والا تھا ۔ اِسی دوران سجستان کے گورنر عبیداﷲ بن ابو بکرہ کا انتقال ہوگیا تو حجاج بن یوسف نے عبدالرحمن بن اشعث کو سجستان کا گورنر بنا دیا اور اس کے لئے باقاعدہ فرمان لکھ دیا ۔ اِس کے علاوہ حجاج بن یوسف نے ایک اور لشکر سجستان بھیجنے کے لئے تیار کیا اور تنخواہوں کے علاہ بیس لاکھ درہم اِس لشکر پر خرچ کئے ۔ لوگ اِس لشکر کو ‘‘جیش الطواولیس’’ ( موروں کا لشکر) کہنے لگے ۔


ا80 ھجری کا اختتام


ا80 ھجری کا اختتام ہوا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 80 ھجری میں مدینۂ منورہ کے گورنر ابان بن عثمان بن عفان نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔ مگر بعض ارباب سیر نے بیان کیا ہے کہ سلیمان بن عبدالملک نے اِس سال مسلمانوں کو حج کرایا ۔ ملک عراق اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر حجاج بن یوسف تھا اور اُس کی طرف سے خراسان کا گورنر مہلب بن ابی صفرہ تھا ۔ ملک مصر کا گورنر عبد العزیز بن مروان تھا ۔ ابوبردہ بن ابی موسیٰ کوفہ کے قاضی تھے اور موسیٰ بن انس بصرہ کے قاضی تھے ۔ اِس سال عبدالملک بن مروان نے اپنے بیٹے یزید بن عبدالملک کو جہاد کے لئے بھیجا ۔ 


حضرت عبداﷲ بن جعفر بن ابی طالب رضی اﷲعنہ کا انتقال


اِس سال 80 ھجری میں حضرت عبداﷲ بن جعفر بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت عبداﷲ بن جعفر بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ ملک حبشہ میں پیدا ہوئے ۔(اُس وقت اُن کے والدین حضرت جعفر طیار بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ اور والدہ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اﷲ عنہا ہجرت کر کے ملک حبشہ گئے تھے اور کئی سال وہیں مقیم تھے پھر ہجرت کر کے مدینۂ منورہ آئے تھے )آپ رضی اﷲ عنہ بنو ہاشم خاندان کے آخری فرد ہیں جنہوں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو دیکھا تھا ۔ اِن کے والدِ محترم جنگ موتہ میں شہید ہوگئے تھے تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ان کی والدہ محترمہ کے پاس تشریف لائے اور اُن سے فرمایا: ‘‘ میرے بھائی کے بیٹے کو میرے پاس لاؤ ۔’’انہیں آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو چوزے کی مانند کمزور تھے ۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے نائی کو بلوایا اور ان کا سر منڈوایا اور پھر ان کے لئے دعا فرمائی :‘‘اے اﷲ! جعفر کے گھر کو اُس کے وارث سے رونق دے اور اس کی زندگی میں برکت عطا کر ۔’’ ان کی والدہ محترمہ فرمانے لگیں :‘‘ان کے پاس تو اب کچھ نہیں رہ گیا ہے ۔’’اِس پر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ‘‘ میں اِن کے والدِ محترم کی جگہ ہوں ۔’’ حضرت عبداﷲ بن جعفر بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ اور حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہم نے سات سال کی عُمر میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے بیعت کی جب کہ ایسا کسی اور کے ساتھ نہیں ہوا ۔ حضرت عبداﷲ بن جعفر بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ نہایت سخی اور فیاض تھے ۔ وہ لوگوں کو بڑی فراخ دلی سے دینا اور دلانا رکھتے تھے ۔ایک مرتبہ ایک شخص سرکہ لے کر مدینۂ منورہ آیا جس کا کوئی خریدار نہیں ملا ۔ حضرت عبداﷲ بن جعفر بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ نے اُس شخص کا پورا سرکہ خرید کر لوگوں کو ہدیہ کر دیا ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ حج کرنے کے لئے آئے تو مدینۂ منورہ بھی آئے اور مروان بن حکم کے گھر ٹھہرے ۔ انہوں نے دربان سے کہا: ‘‘ دیکھو ! اگر تمہیں حسن ، حسین یا عبداﷲ بن جعفر وغیرہ ملیں تو انہیں میرے پاس لاؤ ۔’’ دربان باہر نکلا اور واپس آکر بتایا :‘‘ سب لوگ حضرت عبداﷲجعفر بن ابی طالب رضی عنہ کے یہاں صبح کے ناشتے پر موجود ہیں ۔’’ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے کہا :‘‘ ہم بھی انہی میں سے ایک ہیں۔’’ اور پھر لاٹھی ٹیکتے ہوئے حضرت عبداﷲ بن جعفر بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ کے گھر پہنچ گئے اور اندر آنے کی اجازت طلب کی۔ حضرت عبداﷲ بن جعفر بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ نے احترام سے انہیں صدر مقام پر بٹھایا ۔حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے پوچھا: ‘‘ اے ابن جعفر! تمہارے ناشتہ و کھانے کا سامان کہاں ہے ؟’’ حضرت عبداﷲ بن جعفر بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ نے فرمایا: ‘‘ آپ کیا کھانا چاہتے ہیں؟جو خواہش ہو وہ منگوا دوں۔’’ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے کہا : ‘‘ ہمیں مغز(بھیجا) کھلاؤ۔’’ انہوں نے اپنے غلام کو حکم دیا تو اُس نے تین پلیٹیں ایک کے بعد ایک مغز کی پیش کیں۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کو بڑا تعجب ہوا اور بولے ؛‘‘ تم لوگوں کو اتنی کثرت سے کِھلاتے ہوئے تھکتے نہیں ہو؟’’حضرت عبداﷲ بن جعفر بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ سے تیرہ احادیث کی روایات منسوب کی جاتی ہیں ۔ 


ا80 ھجری میں انتقال کرنے والی اہم شخصیات


اِس سال کئی اہم شخصیات کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 80 ھجری میں حضرت ابن اسلم کا انتقال ہوا ۔آپ خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے غلام تھے ۔آپ کا پورا نام زید بن اسلم ہے ۔ یہ ‘‘عین التمر’’ کے قیدیوں میں سے تھے ۔ جب حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے 11 ھجری میں حج کیا تو اِن کو مکۂ مکرمہ میں خرید لیا ۔ انہوں نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے متعدد احادیث روایت کی ہیں ، بعض احادیث انہوں نے حضرت عِمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے ہم نشینوں سے بھی کی ہیں ۔ انتقال کے وقت آپ کی عُمر ایک سو چودہ سال تھی ۔ اِس سال 80 ھجری میں حضرت جبیر بن نفیر کا انتقال ہوا ۔ آپ کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی صحبت کا شرف بھی حاصل ہے ۔ کچھ احادیث انہوں نے روایت کی ہیں ۔ آپ اہل شام کے علماء میں سے تھے اور اپنی عبادت اور علم کے لئے شہرت رکھتے تھے ۔ آپ کا انتقال ملک شام میں ایک سو بیس سال کی عُمر میں ہوا ۔ اِس سال ۸۰ ؁ ھجری میں ابو ادریس خولانی کا انتقال ہوا ۔ اِن کا نام عائذاﷲ بن عبداﷲ ہے ۔ اِن کا قول ہے کہ میلے کچیلے کپڑوں میں ایک پاکیزہ دل صاف ستھرے کپڑوں میں گندے دل سے بہتر ہے ۔ آپ دمشق کے ‘‘عہدۂ قضا’’(سپریم کورٹ) پر بھی مامور رہے ۔


حجاج بن یوسف کا جنگ جاری رکھنے پر اصرا ر


عبدالرحمن بن اشعث نے اپنا آگے کا رادہ لکھ کر حجاج بن یوسف کو بھیج دیا تھا لیکن اُس نے جنگ جاری رکھنے کا حکم دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حجاج بن یوسف نے عبدالرحمن بن اشعث کے خط کے جواب میں لکھا: ‘‘ حمدو ثناء کے بعد! تمہارا خط ملا ،جو کچھ تم نے لکھا تھا اُسے میں نے سمجھا مگر تمہارا خط دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خط ایک ایسے شخص نے لکھا ہے جو صلح و آتشی کا بدل و جان متمنی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ اُس نے اُس ذلیل و حقیر دشمن سے تعلقات پیدا کر لئے ہیں جس نے مسلمانوں کی ایک جرار اور بہادر فوج کو ہلاک کیا تھا ۔ اے عبدالرحمن کی ماں کے بیٹے! یاد رکھو! اگر تم نے میری فوج اور میرے صریح احکام کی موجودگی میں دشمن سے اجتناب کیا تو تمہارا حشر وہی ہوگا جیسا کہ اور مسلمانوں کا ہو چکا ہے ۔ میں تمہاری اِس رائے کو جسے تم ٍفوجی چال سمجھ رہے ہو ہر گز ایسا خیال نہیں کرتا ہوں بلکہ یہ محض تمہاری کاہلی اور بزدلی کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے ۔ اِس لئے اب میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ تم میری پہلی ہدایت پر عمل کرو اور دشمن کے ملک میں آگے بڑھتے چلے جاؤ ۔ اُس کے قلعوں کو مسمار کرو ،جنگ میں سپاہیوں کو قتل کرو اور اہل و عیال اور متعلقین کو لونڈی اور غلام بنا لو ۔’’اِس کے فوراً بعد ہی دوسرا خط بھیجا : ‘‘ حمد و ثناء کے بعد! جو مسلمان تمہارے پاس ہیں انہیں احکام دے دو کہ جب تک اﷲ کی مدد سے اس تمام علاقہ کو مسلمان فتح نہ کرلیں تم برابر مفتوحہ علاقہ میں مقیم رہو اور زراعت شروع کر دو۔ ’’اِس کے فوراً بعد پھر تیسرا خط لکھ بھیجا: ‘‘ حمد و ثناء کے بعد! میں نے دشمن کے علاقے میں آگے بڑھنے کا تمہیں جو حکم دیا تھا فورا! اِس کی تعمیل کرو ،ورنہ تم علیحدہ ہو جاؤ اور اسحٰق بن محمد تمہاری جگہ سپہ سالار مقرر کیا جاتا ہے ۔’’ 


عبدالرحمن بن اشعث کا لشکر سے خطاب


حجاج بن یوسف باربار خط بھیج کر آگے بڑھنے پر اصرار کر رہا تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : خط پڑھ کر عبدالرحمن بن اشعث نے کہا: ‘‘ میں خود اسحٰق بن محمد کو سپہ سالار بنا دیتا ہوں۔’’ اسحٰق بن محمد نے کہا: ‘‘ آپ ایسا نہ کریں ۔’’ اِس کے بعد عبدالرحمن بن اشعث نے تمام لشکر کو جمع کر کے خطبہ دیا : ‘‘ حمد و ثناء کے بعدکہا! آپ لوگ واقف ہیں کہ میں آپ سب کا خیر خواہ ہوں اور اسیا کام کرنے کے لئے تیار ہوں جس سے آپ کو نفع پہنچے ۔ دشمن کے مقابلے میں جو طرز ِ عمل میں نے آپ کے لئے تجویز کیا تھا ۔اُس کے بارے میں آپ کے ارباب ِ عقل اور تجربہ رکھنے والوں سے مشورہ لیا تھا ۔ میری اُس رائے کو اُن صاحبوں نے آپ کے لئے اس وقت اور آئندہ کے لئے مناسب سمجھا تھا ۔ اِس معاملے کی اطلاع میں نے امیر حجاج بن یوسف کو بھی کر دی تھی ۔ اِس کے جواب میں حجاج بن یوسف نے مجھے یہ خط لکھا ۔ جس میں مجھے بزدل اور کمزور بتایا ہے اور حکم دیا ہے کہ میں فوراً آپ کو لیکر دشمن کے ملک میں آگے بڑھتا جاؤں ۔ یہ وہی علاقہ ہے جس میں حال ہی میں آپ کے دوسرے بھائی تباہ ہو چکے ہیں ۔ مگر پھر بھی چونکہ میں بھی آپ کا ایک فرد ہوں اِس لئے اگر آپ اِس حکم پر عمل کرنا چاہتے ہوں تو میں بھی تیار ہوں اور اگر آپ اِس پر عمل پیرا نہیں ہونا چاہتے تو بھی میں آپ کے ساتھ ہوں ۔’’ 


حجاج بن یوسف کی مخالفت


عبدالرحمن بن اشعث نے اپنے سپاہیوں سے مشورہ مانگا تو انہوں نے حجاج بن یوسف کی مخالفت کرنے کا مشورہ دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عبدالرحمن بن اشعث کے جواب میں عامر بن واثلہ کنانی کھڑا ہوا اور حمد و ثناء کے بعد کہا: ‘‘ حجاج بن یوسف کی مثال اُس شخص کی سی ہے جس نے سب سے پہلے اپنے بھائی سے کہا تھا کہ تُو اپنے غلام کو گھوڑے پر سوار کر ۔ اگر یہ ہلاک ہو جائے تو تجھے کیا پرواہ ؟ اور اگر یہ زندہ بچ گیا تو بھی تُو اس کا مالک ہے ۔ حجاج بن یوسف شمہ برابر تمہاری پرواہ نہیں کرتا ہے اور اِسی وجہ سے اُس نے تمہیں ایسے پُر خطر ممالک میں بھیجا ہے ۔ اگر تمہیں فتح ہوئی تو مال غنیمت تم حاصل کرو گے مگر اس علاقہ کی آمدنی اُس کی ہے ۔ اِس طرح اُس کی طاقت اور دبدبہ میں اضافہ ہو گا اور اگر دشمنوں نے تم پر فتح پائی تو اُس وقت حجاج بن یوسف کے نزدیک ایسے ہو جاؤ گے جن کی تکالیف کا کچھ خیال نہیں کیا جاتا ہے اور جن پر مطلقاً رحم نہیں کیا جاتا ہے ۔ اِس لئے آپ لوگ حجاج بن یوسف کو چھوڑ دیں اور عبدالرحمن بن اشعث کو اپنا امیر بنا لیں اور میں اِس کی ابتدا کرتا ہوں اور آپ سب کو گواہ بناتا ہوں ۔’’ اِس تقریر کے ختم ہوتے ہی ہر طرف سے صدائیں آنے لگیں ۔ہم آپ کی رائے پر عمل کرتے ہیں اور حجاج بن یوسف کو چھوڑتے ہیں۔اِس کے بعد عبدالمومن بن شبث ربعی تمیمی جو عبدالرحمن بن اشعث کے محافظ دستے کا سردار تھا تقریر کرنے کھڑا ہوا اور بولا: ‘‘ اے اﷲ کے بندو!خوب سمجھ لو ! اگر تم نے حجاج بن یوسف کے احکام کی تعمیل کی تو وہ حکم دے کہ پوری زندگی تم اِس علاقہ کو اپنا وطن سمجھو اور جس طرح فرعون نے فوجوں کو دشمن کے علاقہ میں عرصہ تک مقیم رکھا تھا اُسی طرح یہ بھی تمہیں یہیں رکھے گا ۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ حجاج بن یوسف نے سب سے پہلے اُس فوج کو جو مہم پر بھیجی جاتی ہے مستقل طریقہ پر دشمن کے ملک میں حکماً اور جبراً رہنے کا حکم دیا ۔ اِس طرح تمہیں کبھی موقع نہیں ملے گا کہ اپنے اعزا و احباب سے مل سکو اور یوں اِس دنیا سے چل بسو گے ۔ بہتر ہے کہ اپنے اِس امیر کے ہاتھ پر بیعت کر لو اور پھر دشمن پر پلٹ پڑو اور اپنے ملک سے نکال دو ۔’’


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

جمعرات، 29 اگست، 2024

Saltanat e Umayya part 40



 ا40 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 40

عبدالرحمن بن اشعث اور ترک بادشاہ رتبیل میں صلح، عبدالرحمن بن اشعث کا حجاج بن یوسف پر حملہ، مہلب بن ابی صفرہ نے دونوں کو سمجھایا، عبدالملک بن مروان کا اہل شام سے خطاب، حجاج بن یوسف کی پیش قدمی، حجاج بن یوسف کے مقدمۃ الجیش کی شکست، حجاج بن یوسف کی بصرہ واپسی، حجاج بن یوسف کی پہلی شکست، عبدلرحمن بن اشعث کا بصرہ پر قبضہ، 81 ھجری کا اختتام، حضرت محمد بن علی (حنیفہ) رضی اﷲ عنہ کا انتقال، جنگ زاویہ اور عبدالرحمن بن اشعث کی شکست، عبد الرحمن بن اشعث کا کوفہ پر قبضہ، عبد الملک بن مروان کی پیش کش اور حجاج بن یوسف کی چال، جنگ جماجم، یزید بن مہلب ‘‘مرو’’ کا گورنر، 


عبدالرحمن بن اشعث اور ترک بادشاہ رتبیل میں صلح


اِس کے بعد عبدالرحمن بن اشعث نے ترک بادشاہ رتبیل سے صلح کر لی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس تقریر کے بعد تمام لوگ عبدالرحمن بن اشعث کے ہاتھ پر بیعت کرنے لگے ۔ عبدالرحمن بن اشعث نے کہا: ‘‘ آپ لوگ میرے ہاتھ پر اِس بات کے لئے بیعت کریں کہ ہمارا حجاج بن یوسف سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ دوسرے یہ کہ اُس کے مقابلے میں آپ میری مدد و حمایت کریں گے تاکہ ہم اُسے ملک عراق سے نکال دیں ۔ ’’ اِس کے بعد اُس نے ترک بادشاہ رتبیل کے پاس صلح کرنے کے لئے سفیر بھیجا اور دونوں میں اِس بات پر صلح ہو گئی کہ اگر عبدالرحمن بن اشعث حجاج بن یوسف کے مقابلے میں کامیاب ہوا تو رتبیل اُسے آگے خراج نہیں دے گا اور اگر عبدالرحمن ناکام ہوا تو وہ رتبیل کے پا س آجائے گا اور وہ اُسے پناہ دے گا ۔


عبدالرحمن بن اشعث کا حجاج بن یوسف پر حملہ


اِس کے بعد عبد الرحمن بن اشعث اپنے لشکر کو لیکر حجاج بن یوسف سے مقابلے کے لئے روانہ ہوا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عبدالرحمن بن اشعث سجستان سے ملک عراق کی طرف روانہ ہوا تو اُس نے عطیہ بن عمرو کو ‘‘مقدمۃ الجیش’’ کا کمانڈر مقرر کر کے آگے بھیجا ۔ حجاج بن یوسف نے اُس کے مقابلے کے لئے اپنا ‘‘مقدمۃ الجیش’’ بھیجا اور اُسے عطیہ بن عمرو نے شکست دے دی ۔ اِس پر حجاج بن یوسف نے پوچھا : ‘‘ ہمارے مقابلے میں کون شخص ہے ؟ ’’ لوگوں نے کہا: ‘‘ عطیہ ہے ۔’’ عبد الرحمن بن اشعث آگے بڑھتا ہوا ‘‘کرمان’’ تک پہنچا تو حجاج بن یوسف نے خرشہ بن عُمر تمیمی کو ‘‘ مقدمۃ الجیش’’ کا کمانڈر بنا کر روانہ کیا ۔ جب تمام لشکر سر زمین فارس میں داخل ہوا تو لوگوں نے آپس میں مشورہ شروع کر دیا کہ ہم نے حجاج بن یوسف کے خلاف بغاوت کا عَلَم بلند کیا ہے تو گویا ہم نے عبدالملک بن مروان کے خالف بغاوت کی ہے ۔سب لوگ عبدالرحمن بن اشعث کے پاس جمع ہوئے اور عبدالملک بن مروان کی اطاعت سے انکار کر دیا اور عبدالرحمن بن اشعث کی بیعت کر لی ۔ جب حجاج بن یوسف کو اِن واقعات کی اطلاع ہوئی تو اُس نے عبد الرحمن بن اشعث کی بغاوت کے بارے میں عبدالملک بن مروان کو خط کے ذریعہ اطلاع دی اور درخواست کی کہ آپ میری امداد کے لئے فوج روانہ فرمایئے ۔ اِس کاروائی کے بعد حجاج بن یوسف بصرہ آگیا ۔ 


مہلب بن ابی صفرہ نے دونوں کو سمجھایا


حجاج بن یوسف اور عبدالرحمن بن اشعث آپس میں لڑ رہے تھے ۔جب مہلب بن ابی صفرہ کو اِس کی اطلاع ملی تو اُس نے دونوں کو سمجھایا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں :مہلب بن ابی صفرہ کو عبدالرحمن بن اشعث کی بغاوت کا اُسی وقت علم ہو چکا تھا جب عبدالرحمن بن اشعث سجستان میں تھا ۔اُسے مہلب بن ابی صفرہ نے خط لکھا: ‘‘ حمدو ثناء کے بعد! اے عبدالرحمن بن اشعث! تم نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی اُمت کے خلاف اپنا پاؤں سخت گمراہی و ضلالت کی رکاب میں رکھا ہے ۔ دیکھو خوامخواہ اپنی عزیز جان کو ورطۂ ہلاکت میں نہ ڈالو اور مسلمانوں کے قیمتی خون کو نہ بہاؤ۔ اتحاد اُمت میں تفرقہ نہ ڈالو اور اپنے عہد و اطاعت و وفا داری کو نہ توڑو۔اگر تم یہ کہو کہ میں اپنے ساتھیوں سے خوفزدہ ہوں کہ مبادا میری جان کے درپے نہ ہو ں جائیں تو اﷲ تعالیٰ اُن لوگوں کے مقابلہ میں اس کا زیادہ مستحق ہے کہ تم اُس سے ڈرو ۔ اِس لئے خون بہا کر یا محرمات کو حلال سمجھ کر تم اپنی جان کو اﷲ کے سامنے مجرم نہ بناؤ ۔والسلام علیک۔’’اِسی طرح مہلب بن ابی صفرہ نے حجاج بن یوسف کو بھی خط لکھا: ‘‘ حمد و صلاۃ کے بعد! اہل عراق آپ کی طرف پیش قدمی کر رہے ہیں ۔اُن کی مثال ایک ایسے سیلاب کی ہے جو بلندی سے پستی کی طرف آرہا ہو اور جب تک وہ ہموار سطح تک نہیں پہنچ جاتا کوئی شئے اُس کی روانی کو نہیں روک سکتی ۔ بالکل یہی مثال اہل عراق کی ہے ،کاروائی کی ابتداء میں ان میں بہت زیادہ جوش و خروش ہوتا ہے اور اپنے اہل و عیال سے ملنے کا جنون اُن کے سروں پر سوار اور اِس جوش کی حالت میں کوئی چیز انہیں نہیں روک سکتی ہے ۔ البتہ جب وہ اپنے اہل و عیال میں پہنچ جائیں اور ان میں گھل مل جائیں تو اُس وقت آپ اُن کے خلاف کاروائی کریں اور انشاء اﷲ ایسی صورت میں اﷲ تعالیٰ آپ کو ان پر فتح دینے والا ہے ۔’’ حجاج بن یوسف نے اِس خط کو پڑھ کر کہا: ‘‘ اﷲ تعالیٰ جو کرتا ہے وہی ہوتا ہے اور اُس کے سوا کچھ نہیں ۔ حالانکہ میں مہلب بن ابی صفرہ کا ہم خیال نہیں ہو سکتا مگر اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس کا مشورہ خیر خواہانہ ہے ۔’’ 


عبدالملک بن مروان کا اہل شام سے خطاب


عبدالرحمن بن اشعث کی بغاوت سے پوری مملکت اسلامیہ پر اثر پڑا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب حجاج بن یوسف کا خط عبدالملک بن مروان کے پاس پہنچا تو اُسے سخت تشویش پیدا ہوئی اور وہ اپنے تخت پر سے اُتر پڑا ۔ اُس نے خالد بن یزید بن معاویہ کو بلوا بھیجا اور خط پڑھوایا۔ خالد بن یزید بن معاویہ نے عبدالملک بن مروان کو خوف و ہراس میں دیکھ کر کہا :‘‘ امیر المومنین! اگر یہ فتنہ سجستان کی سمت سے رونما ہوا ہے تو آپ ہر گز خوف نہ کریں ۔ البتہ اگر یہ فتنہ خراسان سے اُٹھا ہوتا تو آپ کے لئے تشویش کا باعث ہو سکتا تھا ۔ ’’عبدالملک بن مروان اپنے قصر سے باہر آیا اور رعایا کے سامنے تقریر کرنے کھڑا ہوااور حمد و صلاۃ کے بعد بولا: ‘‘ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اہل عراق پر میری زندگی دوبھر ہو گئی ہے اور انہوں نے میری طاقت کا اندازہ لگانے میں جلد بازی سے کام لیا ہے ۔ اے اﷲ! تُو ان پر اہل شام کی تلواروں کو مسلط کردے تاکہ وہ پھر تیری خوشنودی کے حلقہ میں آجائیں اور جب وہ تیری خوشنودی حاصل کر لیں تو پھر ایسا کوئی فعل نہ کریں جو تیری ناراضگی کا باعث ہو ۔’’ یہ تقریر ختم کر کے عبدلملک بن مروان منبر سے اُتر آیا ۔ 


حجاج بن یوسف کی پیش قدمی


اِدھر عبدالرحمن بن اشعث اپنی فوج لیکر حجاج بن یوسف کی طرف بڑھ رہا تھا اور اُدھر حجاج بن یوسف کے پاس ملک شام سے لشکر پہنچ رہا تھا اور وہ مقابلے کی تیاری کر رہا تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حجاج بن یوسف ابھی تک بصرہ میں ہی مقیم تھا اور عبدالرحمن بن اشعث سے مقابلہ کی تیاریاں کرنے لگا اور مہلب بن ابی صفرہ کی رائے پر عمل کرنے کا خیال ترک کر دیا ۔ ملک شام سے؂ عبدالملک بن مروان روزآنہ حجاج بن یوسف کے پاس پچاس پچاس ، دس و بیس اور اس کے کم تعداد میں شہسوار بھیجنے لگا ۔ اِسی طرح حجاج بن یوسف نے عبدالملک بن مروان تک روزآنہ کے خطوط کی ڈاک کا انتظام کر دیا جس میں عبدالرحمن بن اشعث کی پل پل کی نقل و حرکت کہ آج وہ کس مقام پر مقیم ہے اور کہاں سے کوچ کیا اور کون کون سی جماعتیں اُس کے ساتھ شامل ہوتی جارہی ہیں مندرج ہوتی رہیں ۔ فضیل بن خدیج بیان کرتا ہے :‘‘ میں اُس وقت کرمان کی فوجی چھاؤنی پر تعینات تھا اور اس میں چار ہزار کوفہ اور بصرہ کے سوار متعین تھے ۔ جب عبد الرحمن بن اشعث کا اس مقام سے گذر ہوا تو یہ تمام فوج اُس کے ہمراہ ہو گئی ۔ حجاج بن یوسف نے فیصلہ کیا کہ وہ خود آگے بڑھ کر عبدالرحمن بن اشعث کا مقابلہ کرے ۔ اِسی غرض سے وہ شامی فوج لیکر مقام ‘‘تستر’’ پر آیا مطہر بن حرعکی یا جذامی اور عبداﷲ بن رمیثیہ کو ‘‘مقدمۃ الجیش’’ کے طور پر آگے روانہ کیا اور مطہر کو دونوں فوج کا سپہ سالار بنایا ۔ 


حجاج بن یوسف کے مقدمۃ الجیش کی شکست


اِدھر سے حجاج بن یوسف نے اپنے مقدمۃ الجیش کو بھیجا اور اُدھر سے عبدالرحمن بن اشعث نے اپنے مقدمۃ الجیش کو بھیجا ۔ دونوں میں جنگ ہوئی تو حجاج بن یوسف کے مقدمۃ الجیش کو شکست ہوئی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حجاج بن یوسف کا مقدمۃ الجیش دریائے قارن تک پہنچا تو اُس پار عبدالرحمن بن اشعث کا مقدمۃ الجیش پہنچا ۔ اُس نے عبدالرحمن بن ابان حارثی کو اپنے مقدمۃ الجیش کا کمانڈر بنایا تھا تاکہ وہ عبدالرحمن بن اشعث اور اُس کی اصل فوج کے لئے بیرونی چوکی کے فرائض انجام دے ۔ جب مطہر بن حر اُس کے قریب پہنچا تو اُس نے عبداﷲ بن رمیثیہ طائی کو حملہ کرنے کا حکم دیا ۔ اُس نے حملہ کیا مگر اُسے شکست ہوئی اور وہ واپس مطہر بن حر کے پاس آگیا ۔ اِس جھڑپ میں اُس کے کئی ساتھی زخمی ہو گئے ۔ ابو زبیر ہمدانی اُس وقت عبدالرحمن بن اشعث کی فوج میں تھا بیان کرتا ہے کہ عبدالرحمن بن اشعث نے ہمیں حکم دیا کہ اِسی جگہ سے دریا عبور کرو ۔ ہم نے دریا میں گھوڑے ڈال دیئے اور پلک مارتے ہمارے رسالہ کے بیشتر حصہ نے دریا عبور کر لیا ۔ ابھی پوری فوج نے دریا عبور بھی نہیں کیا تھا کہ ہم نے مطہر بن حر اور عبداﷲ بن رمیثیہ طائی پر حملہ کر دیا اور یوم الاضحی ۸۱ ؁ ھجری میں ہم نے اُن دونوں کو شکست دی اور اُن کو جانی نقصان پہنچائے اور اُن کے تمام لشکر گاہ کو مال غنیمت کے طور پر حاصل کر لیا ۔ 


حجاج بن یوسف کی بصرہ واپسی


حجاج بن یوسف آگے بڑھ رہا تھا اور ایک جگہ پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا کہ اُسے اپنے ‘‘مقدمۃ الجیش’’ کی شکست کی خبر ملی ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حجاج بن یوسف تقریر کر رہا تھا کہ اُسے اِس شکست کی خبر ملی ۔ اِس پر حجاج بن یوسف نے اپنے لشکر سے کہا :‘‘ یہاں سے بصرہ چلو کونکہ وہاں فوجی صدر مرکذ ہے اور مورچے میں تمام ضرریات زندگی مہیا ہیں ۔ ہم جس مقام پر پڑاؤ ڈالے ہوئے ہیں وہ اتنی بڑی فوج کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتا ۔’’ اِس کے بعد حجاج بن یوسف اپنی فوج کے ساتھ بصرہ واپس آنے لگا ۔ عبدالرحمن بن اشعث کا ‘‘مقدمۃ الجیش’’ اُس کے تعاقب میں چلا ۔ حجاج بن یوسف کی فوج میں سے جس کسی ایک دو سپاہیوں کویہ پاتے تو قتل کر ڈالتے اور جو کچھ ان کے پاس ہوتا اُس پر قبضہ کر لیتے تھے ۔ حجاج بن یوسف کی یہ کیفیت تھی کہ وہ کسی طرف توجہ ہی نہیں کر رہا تھا بلکہ سیدھا بصرہ کا رُخ کئے چلا جا رہا تھا ۔ جب اُس نے ‘‘زاویہ ’’ میں قیام کیا تو حکم دیا کہ تاجروں کے پاس جتنا غلہ اُس پر قبضہ کر لیا جائے ۔ یہ لوگ غلہ پر قبضہ کر کے زاویہ لے آئے اور بصرہ کو عبد الرحمن بن اشعث کے لئے چھوڑ دیا ۔ اُس وقت حجاج بن یوسف کی طرف سے حکم بن ایوبب ثقفی بصرہ کا گورنر تھا ۔ 


حجاج بن یوسف کی پہلی شکست


حجاج بن یوسف بصرہ کے قریب سے اپنا لشکر لیکر عبدالرحمن بن اشعث سے مقابلے کے لئے آگے بڑھا ہی تھا کہ وہ سر پر آ پہنچا اور دونوں لشکروں کا سامنا ہو گیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب باغیوں کے مقابلے میں حجاج بن یوسف کو پہلی مرتبہ زک اُٹھانی پڑی اور اُس نے پسپائی شروع کی تو مہلب بن ابی صفرہ کے خط کو منگوا کر پڑھا اور بولا : ‘‘ مہلب بن ابی صفرہ ایک تجربہ کار فوجی افسر ہے اور اُس نے ہمیں جو مشورہ دیا تھا کہ ہم بھی اہل عراق سے مزاحمت نہ کریں ۔مگر افسوس ہے کہ ہم نے نہیں مانا ۔’’ اُس زمانے میں عبداﷲ بن عامر بن مسمع پولیس کے اعلیٰ افسر اعلیٰ تھا ۔حجاج بن یوسف اپنی فوج کو لیکر ‘‘رستقباز’’ میں قیام پذیر ہو ا۔ یہ مقام ‘‘اہواز’’کے ذیلی علاقوں میں شامل ہے اور مقابلہ کے لئے فوجی انتظامات کئے ۔ دوسری طرف عبدالرحمن بن اشعث نے تستر میں آ کر پڑاؤ ڈالااور دونوں کے درمیان صرف ایک دریا حائل تھا ۔ حجاج بن یوسف نے مطہر بن حر کو دو ہزار کی فوج دیکر روانہ کیا ۔اُس نے عبد الرحمن بن اشعث کی چوکی پر چھا پا مارا ۔مگر عبد الرحمن بن اشعث فوراً مقابلہ کے لئے جھپٹا اور اہل عراق نے شامیوں کے پندرہ سو آدمی قتل کئے ۔ باقی شکست کھا کر حجاج بن یوسف کے پاس واپس آ گئے ۔ اُس روز حجاج بن یوسف کے پاس دیڑھ لاکھ کا لشکر تھا ۔ اُس نے اِس فوج کو اپنے کمانڈروں کے زیر قیادت کر دیا اور بصرہ کی طرف پسپائی شروع کی ۔ 


عبدلرحمن بن اشعث کا بصرہ پر قبضہ


حجاج بن یوسف کو شکست دینے کے بعد عبد الرحمن بن اشعث بصرہ کی طرف بڑھا اور اُس نے بصرہ پر قبضہ کر لیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عبدالرحمن بن اشعث نے اپنی فوج کے سامنے تقریر کی اور کہا: ‘‘ حجاج بن یوسف کیا چیز ہے ؟ ہم تو عبدالملک بن مروان سے لڑنا چاہتے ہیں ۔ بصرہ کے باشندوں کو جب یہ معلوم ہوا کہ حجاج بن یوسف کو شکست ہوئی ہے تو انہوں نے خوشیاں منائیں ۔ پھر جب عبدالرحمن بن اشعث بصرہ میں داخل ہوا تو اُس کے ہاتھ پر حجاج بن یوسف کے مقابلہ میں لڑنے کے لئے اور عبدالملک بن مروان کی اطاعت سے نکلنے کے لئے بصرہ کے تمام باشندوں نے جس میں عابد و زاہد اور ادھیڑ عُمر کے تمام لوگ بھی شریک تھے بیعت کی۔حجاج بن یوسف نے اپنے گرد خندق کھود لی اور عبدالرحمن بن اشعث نے بھی بصرہ کے چاروں طرف خندق کھود لی ۔ عبدالرحمن بن اشعث 81 ھجری کے آخری مہینے ذی الحجہ میں بصرہ میں داخل ہوا ۔ 


ا81 ھجری کا اختتام


ا81 ھجری کا اختتام ہوا تو حجاج بن یوسف اور عبدالرحمن بن اشعث ایکدوسرے کے مقابل صف آرا تھے ۔علامہ محمد بن جری طبری لکھتے ہیں: اِ س سال 81 ھجری میں سلیمان بن عبدالملک نے مسلمانوں کو حج کرایا اور اِسی سال ابن ابی ذئب پیدا ہوا۔ ابان بن عثمان بن عفان مدینۂ منورہ کا گورنر تھا ملک عراق ، رستمان اور دوسرے مشرقی صوبہ جات کا گورنر حجاج بن یوسف تھا ۔ مہلب بن ابی صفرہ خراسان کا گورنر تھا اور اُس کا بیٹا مغیرہ بن مہلب خراسان کا افسر مال تھا ۔ ابو بردہ بن ابی موسیٰ کوفہ کے قاضی تھے اور عبدالرحمن بن اُژنیہ بصرہ کے قاضی تھے ۔ 


حضرت محمد بن علی (حنیفہ) رضی اﷲ عنہ کا انتقال


اِس سال حضرت حسن بن علی اور حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے بھائی محمد بن علی ( حنیفہ) کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: اِن کی کنیتہ ابوالقاسم اور ابوعبداﷲ تھی اور کنیت کے اعتبار سے ‘‘ابن حنیفہ’’ کہے جاتے تھے اور لوگ انہیں محمد بن حنیفہ کہتے تھے ۔ اِن کی والدہ کا انام خولہ ہے جن کا تعلق قبیلہ بنو حنیفہ سے تھا ۔ محمد بن علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دور ِ خلافت میں پیدا ہوئے ۔ یہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ اور عبدالملک بن مروان کے پاس بھی گئے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے ہی مروان بن حکم کو ‘‘جنگ جمل’’میں پٹک دیا تھا اور اُس کے سینے پر چڑھ بیٹھے تھے اور اُس کے قتل کا ارادہ کر چکے تھے کہ مروان بن حکم نے اﷲ تعالیٰ کی دہائی دی اور بہت عاجزی کی تو انہوں نے اس کو چھوڑ دیا ۔ جب آپ رضی اﷲ عنہ عبدالملک بن مروان کے پاس حاضر ہوئے تو اُس نے آپ رضی اﷲ عنہ کو وہ واقعہ یاد دلایا تو انہوں نے کہا:‘‘ چاہو تو سزا دے دو یا پھر چاہو تو معاف کر دو۔ ’’ اُس نے معاف کر دیا اور آپ رضی اﷲ عنہ کو بہت کچھ دیا ۔ آپ رضی اﷲ عنہ سادات قریش میں سے ہیں اور مشہور بہادروں میں شمار ہوتے تھے اور بہت طاقتور اور شہ زور سمجھے جاتے تھے ۔حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے جب مکۂ مکرمہ میں لگ بھگ گیارہ (11) سال حکومت کی تو انہوں نے آپ رضی اﷲ عنہ پر بیعت کے لئے بہت دباؤ ڈالا لیکن آپ رضی اﷲ عنہ نے بیعت نہیں کی ۔ 81 ھجری میں انتقال ہوا اور جنت البقیع میں دفن ہوئے ۔ 


جنگ زاویہ اور عبدالرحمن بن اشعث کی شکست


ا82 ھجری کی شروعات میں حجاج بن یوسف اور عبدالرحمن بن اشعث میں شدید جنگ ہوئی لیکن آخر میں حجاج بن یوسف کو فتح حاصل ہوئی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : مقام زاویہ پر حجاج بن یوسف اور عبدالرحمن بن اشعث کے درمیان جنگ ہوئی ۔ ماہ محرم الحرام 82 ھجری میں اُن دونوں درمیان جنگ ہوتی رہی ۔ ایک دن فریقوں کے درمیان شدید جدال و قتال گرم ہوا مگر آخر کار عراقیوں نے شامیوں کو شکست دے دی اور شامی فوج پسپا ہو کر حجاج بن یوسف کے قریب آ گئی ۔ عراقی پیش قدمی کرتے ہوئے اُن کی خندقوں تک جا پہنچے اور یہاں بھی جنگ ہوئی ۔ تمام قریش اور بنو ثقیف شکست کھا کر پیچھے ہٹ گئے ۔اِسی طرح پھر دونوں فریقوں میں ماہ محرم الحرام کے آخری دنوں میں ایک اور زبردست مقابلہ ہوا اور اِس جنگ میں عراقیوں نے شامیوں کو شکست دی اور شامیوں کا میمنہ اور میسرہ اُلٹ گیا ۔ اُن کے نیزے منتشر ہو گئے اور تمام صفیں درہم برہم ہو گئیں اور دشمن بڑھتے بڑھتے اُس جگہ پہنچ گیا جہاں ہم لوگ حجاج بن یوسف کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے ۔ حجاج بن یوسف لڑائی کا رنگ دیکھتے ہی دونوں گھٹنوں کے بل کھڑا ہو گیا اور تقریباً بالشت اُس نے نیام سے کھینچ لی تھی اور بولا: ‘‘ سخت خطرہ اور مصیبت کے وقت حضرت مصعب بن زبیر نے کس دلیری اور بہادری کا اظہار کیا تھا ۔اﷲ کے لئے اُن کی خوبیاں ہیں ۔’’راوی کہتا ہے اِس جملہ سے میں نے سمجھ لیا کہ حجاج بن یوسف کا بھاگنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے ۔ میں نے اپنے والد کی جانب آنکھ ماری کہ اگر وہ اجازت دیں تو میں حجاج بن یوسف کا خاتمہ کر دوں مگر انہوں نے اُسی طرح آنکھ کے اشارے سے منع کر دیا ۔ میں خاموش ہو گیا اور میں نے مڑ کر دیکھا کہ سفیان بن ابرد کلبی نے عراقیوں پر حملہ کر کے دشمن کو پیچھے ہٹا دیا ہے ۔ میں حجاج بن یوسف سے کہا: ‘‘ جناب والا کو خوش خبری ہو کہ دشمن پیچھے ہٹ گیا ہے ۔’’اِس پر حجاج بن یوسف نے مجھے سے کہا : ‘‘ کھڑے ہو کر دیکھو۔’’میں نے کھڑے ہو کر دیکھا اور کہا :‘‘ بے شک اﷲ تعالیٰ نے دشمنوں کو شکست دی اور وہ بصرہ چھوڑ کر جا رہے ہیں ۔’’ پھر حجاج بن یوسف نے زیاد کو حکم دیا : ‘‘ تم کھڑے ہو کر دیکھو۔’’ زیاد کھڑا ہوا اور دیکھ کر بولا: ‘‘ بے شک دشمن کو شکست ہوگئی ہے اور وہ بھاگ رہے ہیں۔’’ یہ سنتے ہی حجاج بن یوسف سجدہ میں گر پڑا۔ جب میں واپس پلٹا تو میرے والد نے مجھے ڈانٹا اور بولے :‘‘ تُو نے تو میری اور میرے خاندان کی تباہی کا ارادہ کیا تھا ۔’’


عبد الرحمن بن اشعث کا کوفہ پر قبضہ


بصرہ میں شکست کھانے کے بعد عبدالرحمن بن اشعث کوفہ روانہ ہوا اور اُس پر قبضہ کر لیا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : شروع محرم الحرام 82 ھجری میں حجاج بن یوسف اور عبدالرحمن بن اشعث میں جنگ چھڑ گئی ۔ فریقین نے ایکدوسرے پر سختی کے ساتھ متعدد حملے کئے ۔ کبھی عبدالرحمن بن اشعث غالب آجاتا تھا اور کبھی حجاج بن یوسف غالب آجاتا تھا ۔ لیکن آخری جنگ جو ۲۹ محرم الحرام کو ہوئی اُس میں اہل عراق بھاگ کھڑے ہوئے اور اپنے سپہ سالار عبد الرحمن بن اشعث کے ساتھ کوفہ کا قصد کیا ۔ شکست کے دوران ایک ہزار آدمی قتل ہوئے اور تمام قصبات و دیہات میں قتل عام کا بازار گرم ہو گیا ۔ حجاج بن یوسف نے فتح حاصل کرنے کے بعد دس ہزار آدمیوں کو قتل کرایا ۔اِس جنگ کا نام ‘‘جنگ زاویہ’’ ہے ۔ عبد الرحمن بن اشعث کے کوفہ پہنچنے سے پہلے عبداﷲ بن عامر حضرمی جسے حجاج بن یوسف نے کوفہ کا گورنر بنایا تھا مطر بن ناجیہ تمیمی نے نکال کر ‘‘قصر امارت’’ پر قبضہ کر لیا تھا ۔ جب اہل کوفہ کو عبدالرحمن بن اشعث کی آمد کی اطلاع ہوئی تو وہ لوگ اُس کے استقبال کے لئے آئے اور نہایت احترام کے ساتھ اُسے کوفہ میں لے گئے ۔ چونکہ ہمدان نے مطر سے سازش کر لی تھی اور قصر امارت پر پورے طور پر وہی قابض تھے اِسی لئے مطر نے اُس کے کہنے پر عبد الرحمن بن اشعث کو قصر امارت میں داخل ہونے سے روکا ۔ عبد الرحمن بن اشعث نے کمند کے ذریعے اپنے سپاہوں کو چڑھایا جو اُس کو گرفتار کر کے لائے ۔ عبد الرحمن بن اشعث نے اُس کو قید کر لیا اور خود قصر امارت پر قابض ہو گیا ۔ 


عبد الملک بن مروان کی پیش کش اور حجاج بن یوسف کی چال


حجاج بن یوسف بصرہ میں انتظامات کر کے کوفہ روانہ ہوا اور عبدالرحمن بن اشعث کے سامنے صف بندی کر لی ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : جنگ کے خاتمے کے بعد حجاج بن یوسف بصرہ میں داخل ہوا اور حکیم بن ایوب ثقفی کو بصرہ کا گورنر مقرر کر کے کوفہ کی طرف بڑھا اور مقام ‘‘دویر منیر’’ میں پڑاؤ ڈال دیا ۔ عبدالرحمن بن اشعث نے کوفہ سے نکل کر ‘‘دیر جماجم ’’میں مورچہ بندی کر لی ۔ فریقین کی امدادی فوجیں آگئیں اور خندقیں کھود کر دُھس اور دمدمے باندھ دیئے گئے ۔ جنگ شروع ہو گئی اور روزآنہ دونوں فریق لڑتے ہوئے ایکدوسرے کو خندقوں تک دھکیلتے اور پھر نااُمید واپس آجاتے تھے ۔ اِسی دوران عبدالملک بن مروان نے اپنے لڑکے عبداﷲ بن عبدالملک اور بھائی محمد بن مروان کو ایک عظیم الشان لشکر کے ساتھ کوفہ روانہ کیا اور اہل عراق سے کہلا بھیجا کہ ہم حجاج بن یوسف کو معزول کئے دیتے ہیں اور اہل شام کی طرح تمہارے وظائف بھی جاری کر دیں گے اور عبدالرحمن بن اشعث جس صوبہ کو پسند کرے گا ہم اُس کا اُسے گورنر بنا دیں گے ۔ حجاج بن یوسف کو اِس پیام سے بہت صدمہ ہوا ۔اُس نے شاہی فرمان چھپا لیا اور ایک عریضہ عبدالملک بن مروان کے پاس روانہ کیا :‘‘ اِس طرح اہل عراق کی ہمت بڑھ جائے گی اور وہ کبھی مطیع نہیں ہوں گے ۔ کیا آپ کو حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ اور سعید بن عاص کا قصہ یاد نہیں ہے؟ ’’ عبدالملک بن مروان نے اِس رائے کو پسند نہیں کیا اور عبداﷲ بن عبدالملک اور محمد بن مروان نے اہل عراق کو عبدالملک بن مروان کا پیام دیا تو اہل عراق آپس میں مشورہ کرنے لگے ۔ عبدالرحمن بن اشعث نے کہا: ‘‘ عبدالملک بن مروان کی پیشکش قبول کرلو ۔اِس میں تمہاری بہتری ہے ۔’’ لیکن اہل عراق نے مخالفت میں صدائیں بلند کیں اور عبدالملک بن مروان سے جنگ کرنے کے لئے تیار ہو گئے ۔ 


جنگ جماجم


عبدالملک بن مروان کی پیشکش ٹھکرا کر عراقیوں نے خود اپنے پیر پر کلہاڑی مار لی ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : عبدالملک بن مروان کی طرف سے عبداﷲ بن عبدالملک اور محمد بن مروان نے پیش کش کی تو اہل عراق نے ٹھکرا دیا ۔ جب نوبت یہاں تک پہنچ گئی تو عبداﷲ بن عبدالملک اور محمد بن مروان دونوں نے حجاج بن یوسف سے کہا: ‘‘ اب معاملہ تم پر منحصر ہے جو چاہو کرو ،ہم تمہاری اطاعت کریں گے جیسا کہ امیر المومنین عبدالملک بن مروان کا حکم ہے ۔ عبدالملک بن مروان کو جب معلوم ہوا کہ اہل عراق نے اُس کی پیشکش ٹھکرا دی ہے تو اُس نے جنگ کے تمام اختیارا حجاج بن یوسف کو سونپ دیئے ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : عراقی اور شامی فوجیں پھر جنگ کرنے پر تُل گئیں ۔ حجاج بن یوسف نے میمنہ پر عبدالرحمن بن سُلیم کلبی کوکمانڈر بنایا ، میسرہ پر عمارہ بن تمیم لحمی کو کمانڈر بنایا ، سواروں کا کمانڈر عبدالرحمن بن عباس کو بنایا پیادوں کا کمانڈر محمد بن سعد کو بنایا ۔قلب کا کمانڈر عبداﷲ بن رزم کو بنایا ۔ لشکر مرتب ہونے کے بعد جنگ شروع ہو گئی ۔فریقین اپنے اپنے مورچے سے نکل کر ایکدوسرے پر صبح کو حملہ کرتے ۔دن بھر جنگ ہوتی رہتی اور شام کو واپس چلے جاتے ۔ عبدالرحمن بن اشعث کے سواروں نے نہایت مردانگی و استقلال سے جنگ کو جاری رکھا اور ۸۲ ؁ ھجری کا بقیہ پورا سال یہ جنگ چلتی رہی ۔ 


یزید بن مہلب ‘‘مرو’’ کا گورنر


خراسان میں مہلب بن ابی صفرہ خراسان کا گورنر تھا اور اُس کا بیٹا مغیرہ بن مہلب ‘‘مرو’’ کا گورنر تھا ۔ جس وقت حجاج بن یوسف کوفہ میں عبدالرحمن بن اشعث سے جنگ میں مصروف تھا تو اسی دوران مغیرہ بن مہلب کا انتقال ہوگیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال مغیرہ بن مہلب کا انتقال ہوا ۔ اِس کی خبر اُس کے والد مہلب بن ابی صفرہ کو ہوئی تو اُس نے اپنے دوسرے بیٹے یزید بن مہلب کو ‘‘مرو’’ کا گورنر بنا کر روانہ کیا ۔جب وہ ‘‘مرو’’ کی طرف روانہ ہوا تو اُس کے ساتھ ستر سوار تھے ۔ ایک لق و دق صحرا میں پانچ سو ترکوں سے سامنا ہوا۔ ترکوں نے دریافت کیا: ‘‘ تم کون ہو؟’’ اُن لوگوں نے کہا: ‘‘ ہم تاجر ہیں۔’’ ترکوں نے کہا: ‘‘ تمہارا مال تجارت کہاں ہے ؟’’ مسلمانوں نے کہا: ‘‘ ہم نے آگے روانہ کر دیا ہے ۔’’ اِس پر ترکوں نے کہا: ‘‘ ہمیں بھی کچھ دو۔’’ یزید بن مہلب نے دینے سے بالکل انکار کر دیا ۔ مگر اُس کے ایک ساتھی مجاعۃ نے کچھ باریک ململ کے کپڑے کے تھان اور ایک کمان انہیں دیئے اور ترک لے کر واپس چلے گئے ۔ 


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!


Saltanat e Umayya part 41


 ا41 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 41


ترکوں سے جنگ، مہلب بن ابی صفرہ کا انتقال، 82 ھجری کا اختتام، 82 ھجری میں جن اعیان کا انتقال ہوا، 83 ھجری : عبد الرحمن بن اشعث کی شکست، عبدالرحمن بن اشعث کی گرفتاری، ترک بادشاہ رتبیل نے آزاد کرایا، عبد الرحمن بن اشعث کی رتبیل کے پاس واپسی، یزید بن مہلب نے شکست دی، حجاج بن یوسف کا کوفہ میں قتل عام، واسط شہر کی تعمیر، 83 ھجری کا اختتام، 83 ھجری میں جن عمائدین کا انتقال ہوا، 84 ھجری : قلعہ باذغیس کی تسخیر، 84 ھجری کا اختتام


ترکوں سے جنگ


ترکوں نے دھوکہ دیا اور واپس آ کر حملہ کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: ترکوں نے اپنا عہد توڑ دیا اور اُن پر واپس پلٹ کر آئے ۔اِس پر یزید بن مہلب نے کہا: ‘‘ میں تو اِن کی عادت سے پہلے ہی خوب واقف تھا ۔’’ دونوں فریقوں میں نہایت شدید جنگ شروع ہوئی ۔یزید بن مہلب ایک ایسے ٹٹو پر سوار تھا جو لگ بھگ زمین سے لگا ہوا تھا اُس کے ہمراہ ایک خارجی تھا جسے یزید بن مہلب نے گرفتار کیا تھا ۔اُس خارجی نے یزیدبن مہلب سے رحم کی درخواست کی جو اُس نے منظور کر لی اور اُسے آزاد کر دیا اور اُس سے پوچھا :‘‘ کہو کیا ارادہ ہے؟’’ ا’س خارجی نے ترکوں پر حملہ کر دیا اور اُن میں جا گھسا اور پھر اُن کے پیچھے نکل آیا تو معلوم ہوا کہ اُس نے ایک کو موت کے گھاٹ اُتار دیا ہے ۔ اُس کے بعد اُس نے دوبارہ حملہ کیا اور اُن میں جاگھسا اور ایک اور ترک کو قتل کر کے یزید بن مہلب کے پاس واپس آگیا ۔ اِسی دوران یزید بن مہلب نے ترکوں کے ایک بڑے سردار کو قتل کر دیا لیکن اُن کی پنڈلی میں ایک تیر آ کر لگا ۔اب ترکوں کا جوش و خروش اور دلیری بڑھ گئی تو یزید بن مہلب کا ایک ساتھی ابو محمد زمی فرار ہو گیا ۔ یزید بن مہلب اپنے ساتھیوں کے ساتھ ترکوں سے مقابلے پر ڈٹا رہا اور مقابلہ کرتا رہا ۔ آخر کار ترکوں نے کہا: ‘‘ بے شک ہم نے تمہارے ساتھ بد عہدی کی ہے مگر تم اُس وقت تک نہیں جاسکتے جب تک کہ ہم میں آخری شخص بھی جان نہیں دیدے گا یا پھر تم سب مارے جاؤ یا پھر ایسا کرو کہ ہمیں کچھ اور مال دے دو اور اپنی جان بچا کر چلے جاؤ ۔’’ یزید بن مہلب نے قسم کھا کر کہا: ‘‘ میں ایک درہم بھی نہیں دوں گا ۔ ’’ مگر مجاعۃ نے عرض کیا :‘‘ آپ کو اﷲ کا واسطہ دلا کر میں درخواست کرتا ہوں کہ آپ اپنی جان پر رحم کریں اور آج اسے موت کی بھینٹ نہ چڑھا دیں ۔ آپ کے بھائی مغیرہ بن مہلب پہلے ہی مر چکے ہیں اور آپ کو معلوم ہے کہ آپ کے والد کو اُن کی موت کا کس قدر صدمہ اُٹھانا پڑا ہے اور اُن کی کیا حالت ہوئی تھی؟’’ یزید بن مہلب نے کہا: ‘‘ مغیرہ بن مہلب کی جتنی زندگی مقدر تھی وہ اُس نے پوری کی اور میں بھی اپنی زندگی سے ایک منٹ بھی زیادہ زندہ نہیں رہوں گا ۔’’ مگر مجاعۃ نے جلدی سے اپنا زرد رنگ کا عمامہ ترکوں کی طرف پھینک دیا جسے اُٹھا کر ترک چلتے بنے ۔ اِسی دوران ابو بحبد زمی کچھ شہسواروں کو اور خوراک کا سامان لیکر واپس آیا تو یزید بن مہلب نے کہا: ‘‘ تم تو ہمیں دشمن کے نرغہ میں چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے ۔’’ اُس نے کہا: ‘‘ میں اِس لئے گیا تھا کہ آپ کے لئے امدادی فوج اور خوراک کا سامان لیکر آؤں۔’’ 


مہلب بن ابی صفرہ کا انتقال


یزید بن مہلب نے ‘‘مرو’’ پہنچ کر وہاں کا انتظام سنبھال لیا ۔ اِدھر مہلب بن ابی صفرہ ‘‘کش’’ سے واپس آرہا تھا کہ راستے میں اُس کا انتقال ہوگیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : مہلب بن ابی صفرہ ‘‘کش’’ سے ‘‘مرو’’ واپس آرہا تھا ۔ جب مقام ‘‘زاغول’’ پر پہنچا تو کچھ لوگوں کے بیان کے مطابق اُس کے منہ میں مسواک لگ گئی جس سے زخم ہو گیا یا دوسرے لوگوں کے بیان کے مطابق کانٹا لگا تھا ۔ بہر حال اُس کی حالت نازک ہوگئی تو اُس نے اپنے بیٹوں کو جو اُس کے پاس موجود تھے اپنے پاس بلایا ۔سر کنڈے منگوائے اور وہ سب ایک گٹھے کی شکل میں باندھ دیا ۔ مہلب بن ابی صفرہ نے اپنے بیٹوں سے کہا :‘‘ تم اِن سرکنڈوں کو توڑ سکتے ہو؟’’ سب نے کہا: ‘‘ نہیں ۔’’ پھر اُس نے کہا : ‘‘ اگر اِن کو الگ الگ کر دیا جائے تو تب توڑ سکتے ہو؟’’ سب نے جواب دیا :‘‘ ہاں !بے شک توڑ سکتے ہیں ۔’’ مہلب بن ابی صفرہ نے کہا :‘‘ تمہاری مثال اِن سرکنڈوں کی طرح ہے ۔ میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں صلہ رحمی کرنا کیونکہ اس سے عُمر بڑھتی ہے اور جان و مال میں ترقی ہوتی ہے ۔ تفریق سے بچتے رہنا کیونکہ اس کا لازمی نتیجہ آخرت میں دوزخ ہے اور دنیا میں ذلت و کمزوری ہے ۔ آپس میں دوستی اور ملاپ رکھنا ،اپنے آپ کو متحد رکھنا اور اختلاف کو گنجائش نہیں دینا ۔ ایک دوسرے کے ساتھ نیکی کرتے رہنا اس سے تمہاری حالت درست رہے گی ۔ جب حقیقی بھائیوں میں اختلاف ہوجاتا ہے تو علاقائی بھائیوں کا ذکر ہی کیا ؟ تم پر ایک دوسرے کی اطاعت اور آپس میں اتحاد رکھنا فرض ہے ۔تمہارے افعال تمہارے اقوال سے افضل رہیں کیونکہ میں ایسے ہی شخص کو پسند کرتا ہوں جس کے کام اُس کے دعوؤں سے زیادہ بہتر ہوں ۔ ایسی باتوں سے ہمیشہ بچتے رہنا جس کی وجہ سے تمہیں جواب دہ ہونا پڑے اور ہمیشہ اپنی زبان کو لغزشوں سے بچانا ۔ یاد رکھو کہ اگر کسی شخص کا پاؤں پھسل جائے تو وہ سنبھل سکتا ہے مگر جس کی زبان اُس کے قابو میں نہ ہو وہ ہلاک ہو جاتا ہے ۔ ہمیشہ کلام پاک کی تلاوت جاری رکھنا ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی سنت اور نیک لوگوں کے طریقۂ زندگی کو اپنا معیار بنانا ۔ میں یزید بن مہلب کو اپنا جانشین مقرر کرتا ہوں اور حبیب بن مہلب کو اُس وقت تک سپہ سالار مقرر کرتا ہوں جب تک یہ اسے یزیدبن مہلب کے پاس پہنچا دیں تم لوگ یزید کی مخالفت نہ کرنا۔ ’’اِس کے بعد مہلب بن ابی صفرہ کا انتقال ہو گیا ۔ حبیب بن مہلب نے نماز جنازہ بڑھائی اور دفن کر دیا اور ‘‘مرو’’ کی طرف روانہ ہو گیا ۔ یزید بن مہلب نے عبدالملک بن مروان کو مہلب بن ابی صفرہ کے انتقال کی خبر دی اور یہ اطلاع بھی دی کہ انہوں نے مجھے جانشین مقرر کیا ہے ۔حجاج بن یوسف نے بھی اس کی توثیق کردی اور یزید بن مہلب باقاعدہ خراسان کا گورنر بن گیا ۔ 


ا82 ھجری کا اختتام


حجاج بن یوسف اور عبدالرحمن بن اشعث کے درمیان کوفہ میں جنگ جاری تھی کہ 82 ھجری کا اختتام ہو گیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 82 ھجری میں مہلب بن ابی صفرہ کے انتقال کے بعد حجاج بن یوسف نے یزید بن مہلب کو خراسان کا گورنر مقرر کر دیا ۔ امام واقدی کے بیان کے مطابق جمادی الآخر میں عبدالملک بن مروان نے ابان بن عثمان کو معزول کر کے اُس کی جگہ ہشام بن سماعیل مخزومی کو مدینۂ منورہ کا گورنر بنایا ۔ ہشام بن اسماعیل نے نوفل بن ماحق عامری کو معزول کر کے عمرو بن خالد زرقی کومدینۂ منورہ کا قاضی مقرر کیا ۔ اِس سال ابان بن اسماعیل نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔ حجاج بن یوسف کوفہ ، بصرہ اور تمام مشرقی صوبوں کا گورنر تھا ۔ اور ملک مصر کا گونر عبدالعزیز بن مروان تھا ۔ 


ا82 ھجری میں جن اعیان کا انتقال ہوا


ا82 ھجری میں کئی مشہور تابعین کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 82 ھجری میں حضرت اسماء بن خارجہ فرازی کا انتقال ہوا ۔ آپ بے حد سخی اور فیاض انسان تھے ۔ اِ س سال مہلب بن ابی صفرہ اور اُس کے بیٹے مغیرہ بن مہلب کا بھی انتقال ہوا ۔ اِس سال حارث بن عبداﷲ کا بھی انتقال ہوا ۔ آپ قباع کے نام سے مشہور تھے اور حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے دور ِ حکومت میں بصرہ کے گورنر تھے ۔ اِس سال حضرت محمد بن اُسامہ بن زید کا بھی انتقال ہوا۔ آپ صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کے تمام بیٹوں میں انتقال کے وقت سب سے زیادہ عقل مند اور زیرک سمجھے جاتے تھے ۔ مدینۂ منورہ میں انتقال ہوا اور جنت البقیع میں دفن کئے گئے ۔ اِس سال عبداﷲ بن ابی طلحہ بن ابی اسود کا انتقال ہوا ۔ عبداﷲ بن ابی طلحہ کی والدہ سیدہ اُم سُلیم رضی اﷲ عنہا جب حاملہ ہوئیں تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے بشارت دی کہ ایک نیک بیٹا پیدا ہوگا ۔ جب آپ پیدا ہوئے تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں اُن کے والد حضرت ابو طلحہ رضی اﷲ عنہ لئے گئے تو آپ رضی اﷲ عنہ نے کھجور چبا کر انہیں کھلائی اور گھٹی دی ۔ اِس سال عبداﷲ بن کعب بن مالک کا انتقال ہوا ۔ آپ اپنے قبیلہ کے سردار تھے اور نابینا تھے ۔ آپ سے بہت سی روایات مروی ہیں اور مدینۂ منورہ میں انتقال ہوا۔ اِس سال حضرت عفان بن وہب یمنی خولانی مصری کا انتقال ہوا ۔ اِن کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی صحبت کا شرف حاصل ہوا ہے ۔ اِن سے بھی روایات ثابت ہیں ۔ آپ مغرب کی جنگوں میں شریک رہے اور ملک مصر میں مقیم رہے اور وہیں انتقال ہوا۔ اِس سال حضرت عُمر بن عبیداﷲ کا انتقال ہوا ۔ آپ کے ہاتھ پر بہت سے شہر فتح ہوئے ۔ آپ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے دور ِ حکومت میں بصرہ کے گورنر تھے ۔ آپ نے حضرت عبداﷲ بن حازم کے ساتھ کابل بھی فتح کیا ۔آپ عبدالملک بن مروان کے پاس دمشق میں رہتے تھے اور وہیں انتقال ہوا۔ 


ا83 ھجری : عبد الرحمن بن اشعث کی شکست


ا83 ھجری کے شروع ہوتے ہی حجاج بن یوسف اور عبدالرحمن بن اشعث کے درمیان کوفہ کے پاس جنگ شروع ہو گئی اور یہ جنگ لگ بھگ ساڑھے پانچ مہینے تک چلی اور جمادی الآخر میں حجاج بن یوسف کو فتح حاصل ہوئی ۔ علامہ عمادلدین ابن کثیر لکھتے ہیں : 83 ھجری شروع ہوا تو اس کے ساتھ ہی لوگوں نے جنگ کی تیاری شروع کر دی۔ حجاج بن یوسف اور اُس کی فوج ‘‘دیر قرہ’’ میں اور عبدالرحمن بن اشعث اور اُس کی فوج ‘‘دیر جماجم’’ میں آمادۂ جنگ نظر آتے تھے ۔ حتیٰ کہ جنگ اُن کا روز مرّہ کا شغل بن گئی ۔ بیشتر دنوں میں اہل عراق ، اہل شام پر کامیابی حاصل کرلیتے تھے ۔ عبدالرحمن بن اشعث جو اہل عراق کا سپہ سالار تھا وہ اہل شام یعنی حجاج بن یوسف کے سپاہیوں پر اسی (80) مرتبہ سے زیادہ حملہ کر کے سخت جانی نقصان پہنچا چکا تھا ۔ اِس کے باوجود حجاج بن یوسف اپنی فوج کے ساتھ ثابت قدم تھا اور اثبات و عزم اور صبر و استقلال سے یہ سب کچھ برداشت کر رہا تھا اور اس کے قدم اپنی جگہ سے نہیں ڈگمگائے ۔ بلکہ جب کسی دن اُس کی فوجوں کو اہل عراق پر فتح حاصل ہوتی تھی تو مزید سخت حملے اُن پر کرتا تھا اور اپنی فوجوں کی کامیابی اور جنگی چالوں سے برابر باخبر رہتا تھا ۔ وہ اِسی طریقہ پر عمل پیرا رہا حتیٰ کہ ایک دن اُس نے اپنی فوج کو قاریوں کے اوپر حملہ کرنے کا حکم دے دیا کیونکہ لوگ اُن کے بڑے متبعین تھے اور قاریوں کا کام فوج کو قتال پر اُبھارنا تھا ۔ قاریوں نے اِس حملے کو صبر سے برداشت کیا تو حجاج بن یوسف نے تیر اندازوں کو جمع کر کے اُن سے قاریوں پر حملہ کرا دیا ۔ یہ حملہ اُس وقت تک جاری رہا جب تک کہ تمام قاری مارے نہیں گئے ۔

 قاریوں کے مرنے سے اہل عراق کے حوصلے ٹوٹ گئے اور حجاج بن یوسف نے اتنا زبردست حملہ کیا کہ عبدالرحمن بن اشعث کے سپاہی میدان چھوڑ کر بھاگنے لگے ۔ اُس نے انہیں روکنے کی کوشش کی لیکن پھر وہ بھی فرار ہونے لگا ۔ اُس وقت اُس کے ساتھ تھوڑے ہی لوگ تھے ۔ 


عبدالرحمن بن اشعث کی گرفتاری


عبدالرحمن بن اشعث میدان چھوڑ کا بھاگا اور حجاج بن یوسف نے اُس کا پیچھا کیا ۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حجاج بن یوسف نے ایک بڑی فوج لیکر عبد الرحمن بن اشعث کا پیچھا کیا ۔ چونکہ تعاقب کے دوران دوسرے علاقوں کو روندتے ہوئے اکثر گزرنا پڑتا تھا ۔ یہ لوگ عبد الرحمن بن اشعث کا پیچھا کرتے ہوئے ‘‘کریان’’ تک پہنچ گئے اور ایک ا یسی جگہ پہنچے جہاں اہل عراق پہلے مقیم رہ چکے تھے ۔ اِس کے بعد عبدالرحمن بن اشعث اپنے بچے کچھ ساتھیوں کو لیکر ترک بادشاہ رتبیل کی طرف روانہ ہوا ۔ جب وہ رتبیل کے علاقے سے گزر رہا تھا تو وہاں ایک ترک افسر ملا ۔ اُس نے عبدالرحمن بن اشعث کی بڑی آؤ بھگت کی اور تحفے دیئے اور کہا :‘‘ تم میرے شہر آجاؤ میں تمہیں دشمنوں سے بچا لوں گالیکن اپنے کسی ساتھی کو شہر میں داخل ہونے نہیں دینا ۔’’ اُس نے قبول کر لیا اور اُس ترک افسر کی بات مانتا رہا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اُس کے ساتھی منتشر ہو گئے اور الگ الگ علاقوں میں چلے گئے ۔ جب عبدالرحمن بن اشعث شہر میں داخل ہوا تو اُس افسر نے اُسے گرفتار کر لیا اور حجاج بن یوسف کے پاس لے جانے کا ارادہ کیا۔ 


ترک بادشاہ رتبیل نے آزاد کرایا


عبد الرحمن بن اشعث کو ایک ترک افسر نے گرفتار کر لیا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : ترک بادشاہ رتبیل کو عبدالرحمن بن اشعث کے راز کا علم تھا ۔ جب اُسے اِس واقعہ کا علم ہو تو اُس وقت وہ افسر شہر ‘‘بست’’ میں قیام پذیر تھا ۔ رتبیل وہاں پہنچا اور اُس نے شہر بست کا محاصرہ کر لیا اور اُس افسر کو کہلا بھیجا : ‘‘ اگر تم نے عبدالرحمن بن اشعث کو زرا بھی تکلیف پہنچائی تو میں اُس وقت تک دم نہیں لوں گا جب تک کہ تجھے اور تیرے شہر کے تمام لوگوں کو قتل نہیں کر لوں گا ۔’’وہ ترک افسر یہ خط پڑھ کر کانپ اُٹھا اور عبد الرحمن بن اشعث کو رتبیل کے پاس پہنچا دیا ۔ رتبیل نے عبد الرحمن بن اشعث کی بہت تعظیم و تکریم کی ۔ اِس کے بعد اُس نے کہا: ‘‘ یہ میرا افسر ہے اور اِس نے مجھ سے غداری کی ہے اب اجازدت دو تو میں اِسے قتل کر دوں۔’’ لیکن وہ راضی نہیں ہوا اور رعبد الرحمن بن اشعث کو رتبیل لیکر اپنے علاقے میں چلا گیا ۔ 


عبد الرحمن بن اشعث کی رتبیل کے پاس واپسی


عبد الرحمن بن اشعث کے ساتھی جو جنگ سے بھاگے تھے وہ جمع ہوئے اور اُسے دعوت دی کہ آکر ہماری قیادت کرو۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: اُس وقت عبد الرحمن بن اشعث کے ساتھ عبد الرحمن بن عباس بھی تھا ۔ جو لوگ میدان جنگ سے بھاگے تھے وہ پھر اکٹھے ہوئے اور عبدالرحمن بن اشعث کی تلاش میں نکلے ۔ یہ لوگ تعداد میں ساٹھ ہزار تھے ۔ جب یہ لوگ سجستان پہنچے تو انہیں معلوم ہوا کہ عبد الرحمن بن اشعث ترک بادشاہ رتبیل کے پاس ہے ۔ انہوں نے سجستان پر قبضہ کر لیا اور وہاں کے گورنر عبداﷲ بن عامرکو بہت تکلیفیں دیں اور پھر سجستان میں لوٹ مار کی اور عبدالرحمن بن اشعث کو خط لکھا: ‘‘ آپ ہمارے پاس آجایئے تاکہ ہم آپ کے ساتھ مل کر اپنے دشمن سے لڑیں اور خراسان کا ملک بھی چھین لیں ۔ وہاں بہت سی فوجیں ہیں اور کافی دفاعی قوت رکھتے ہیں ۔ اگر ہم وہاں پہنچ کر اُن پر قابو پا سکیں تو اﷲ تعالیٰ ہمارے ذریعے حجاج بن یوسف یا عبد الملک بن مروان کو ہلاک کر دے گا ۔ ۔اِس کے بعد ہم آپس میں مناسب طور پر مشورہ کریں گے کہ آگے کیا کرنا ہے ۔’’ یہ خط پڑھ کر عبد الرحمن بن اشعث چل پڑا ۔ ابھی وہ خراسان کی طرف تھوڑا ہی بڑھا تھا کہ اہل عراق کے کچھ فوجیوں نے جن میں عبداﷲ بن سمرہ بھی شامل تھا عبد الرحمن بن اشعث کو معزول کر دیا ۔ یہ دیکھ کر اُس نے کہا : ‘‘ اے غدار اور جنگ سے جی چُرانے والو! مجھے تمہاری ضرورت نہیں ہے اور میں ترک بادشاہ رتبیل کے پاس واپس جا رہا ہوں اور اُسی کے پاس رہوں گا ۔’’ یہ کہہ کر وہ رتبیل کے پاس

 واپس چلا گیا ۔ 


یزید بن مہلب نے شکست دی


جب عبد الرحمن بن اشعث ترکی بادشاہ رتبیل کے پاس چلا گیا تو اہل عراق نے عبد الرحمن بن عباس کو اپنا سپہ سالار بنا لیا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : جب عبد الرحمن بن اشعث رتبیل کی طرف روانہ ہوا تو کچھ تھوڑے لوگ اُس کے ساتھ گئے اور ایک جم غفیر وہیں رہ گیا ۔ انہوں نے عبد الرحمن بن عباس کو اپنا سپہ سالار بنا لیا اور اُس کے ساتھ خراسان کی طرف روانہ ہو گئے ۔ خراسان کے گورنر یزید بن مہلب کو جب اِن کی آمد کی اطلاع ہوئی تو وہ بھی فوج لیکر آگے آیا اور انہیں خراسان میں داخل ہونے سے منع کیا اور عبد الرحمن بن عباس کو خط لکھا: ‘‘ یہ ملک بڑا وسیع ہے ۔ جدھر تمہارے لوگ اور تم جانا چاہو وہاں چلے جانا جہاں کسی کی حکمرانی نہ ہو ۔ مجھے تمہیں قتل کرنا پسند نہیں ہے ،اگر تمہیں مال و دولت چاہیئے تو وہ بھی تمہارے پاس بھیج دیتا ہوں ۔’’ اِس کا جواب عبد الرحمن بن عباس دیا : ‘‘ ہم تم سے لڑنے نہیں آئے ہیں ، یہاں زرا دم لینے اور سستانے کے لئے آئے ہیں ۔ ہم آرام کر کے خود چلے جائیں گے اور تمہیں تمہارے مال و دولت کی بھی ضرورت نہیں ہے ۔’’ لیکن اِس کے بعد عبد الرحمن بن عباس نے آس پاس کے علاقوں سے خراج کی وصولیابی شروع کر دی اور خراسان کے بعض علاقوں پر اپنا اقتدار جمانا چاہا۔ یہ دیکھ کر یزید بن مہلب اپنی فوج لیکر نکلا اور اُس کا بھائی مفضل بن مہلب بھی فوج لیکر نکلا ۔ اِن دونوں بھائیوں نے عبد الرحمن بن عباس اور اُس کی فوج سے زبردست جنگ کی اور اُسے شکست دی ۔ بیشمار لوگوں کو قتل کیا اور اچھے خاصے لوگوں کو قیدی بنایا ۔ بہت سے لوگ بھاگ گئے ۔ قیدیوں میں محمد بن سعد بن ابی وقاص بھی تھا ۔ جب یزید بن مہلب قیدیوں کو حجاج بن یوسف کے پاس بھیجنے لگا تو اُس نے کہا: ‘‘ میں تم سے اپنے اور تمہارے باپ کا واسطہ دیتا ہوں کہ مجھے حجاج بن یوسف کے پاس نہ بھیجو۔’’ یہ سن کر یزید بن مہلب نے اُسے چھوڑ دیا ۔ جب تمام قیدی حجاج بن یوسف کے پاس پہنچے تو اُس نے بہت سوں کو قتل کر دیا اور کچھ کو چھوڑ دیا ۔ 


حجاج بن یوسف کا کوفہ میں قتل عام


عبدالرحمن بن اشعث کو شکست دینے کے بعد جب حجاج بن یوسف کوفہ میں داخل ہوا تو وہاں قتل عام شروع کر دیا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ یزید بن مہلب نے جو قیدی بھیجے تھے اُن میں سے پانچ ہزار کو حجاج بن یوسف نے قتل کرا دیا اور پھر جب کوفہ میں داخل ہوا تو اُس نے اعلان کیا کہ وہ کسی ایسے شخص کی بیعت قبول نہیں کرے گا جو اپنے کفر کا اقرا رنہ کرے ۔ اِس لئے جو بھی یہ کہتا کہ میں واقعی کفر کا مرتکب ہوا تھا تو اُس کی بیعت قبول کر لیتا تھا اور جو کوئی اقرار کرتا تھا اور کفر کے ارتکاب کا انکار کرتا تھا تو اُس کو قتل کرا دیتا تھا ۔ اِس طرح اُس نے کوفہ میں قتل عام کر دیا اور بہت سوں کو قتل کرا دیا ۔ اِسی دوران حجاج بن یوسف ایک شخص کے پاس سے گزرا اور اُسے غور سے دیکھنے کے بعد بولا:ـ ‘‘ میرا خیال ہے یہ شخص اپنے کفر کا اقرار اپنے دین کی بقا و اصلاح کی خاطر نہیں کرے گا حالانکہ یہ مجھے فریب دینا چاہتا ہے ۔’’ اُس شخص نے حجاج بن یوسف کی بات سن کر کہا : ‘‘ تُومیرے نفس کے بارے میں مجھے دھوکہ میں رکھنا چاہتا ہے ؟ میں تو دنیا کا سب سے بڑا کافر ہوں ،فرعون ، ہامان اور نمرود سے بھی زیادہ ۔’’ اُس کی بات سن کر حجاج بن یوسف ہنس پڑا اور اُسے چھوڑ دیا ۔ 


واسط شہر کی تعمیر


اِس سال 83 ھجری میں حجاج بن یوسف نے واسط شہر بسایا اور وہاں پر ایک جامع مسجد بنائی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حجاج بن یوسف اپنے ساتھیوں کے ساتھ شہر سے باہر نکلا اور کسکر کے قریب اقامت گزیں ہوا ْ۔ وہ ابھی اِسی موضع میں تھا کہ اُس نے ایک راہب کو گدھی پر سوار سامنے سے آتے دیکھا ۔ اُس راہب نے دریائے دجلہ کو عبور کیا اور جب وہ ٹھیک اُس جگہ جہاں شہر واسط ہے پہنچا تو وہ گدھی ایک دم سے گر پڑی اور پیشاب کر دیا ۔ راہب اُتر پڑا اور جس جگہ گدھی نے پیشاب کیا تھا وہاں کی مٹی کھود کر دریائے دجلہ میں ڈال دی ۔ یہ تمام واقعہ حجاج بن یوسف دیکھ رہا تھا ۔اُس سے حکم دیا : ‘‘ راہب کو میرے پاس لاؤ۔’’ راہب کو سامنے لایا گیا تو حجاج بن یوسف نے اُس سے دریافت کیا : ‘‘ تم نے ایسا کیوں کیا؟ ’’ راہب نے جواب دیا: ‘‘ یہ ہمارے صحائف میں لکھا ہوا ہے کہ اِس مقام پر ایک مسجد بنائی جائے گی اور جب تک دنیا میں ایک بھی مسلمان ہوگا یہاں اﷲ کی عبادت کی جاتی رہے گی ۔ ’’ اِس کے بعد حجاج بن یوسف نے شہر واسط کی حد بندی کرائی اور اسی جگہ ایک مسجد بنوائی۔


ا83 ھجری کا اختتام


علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 83 ھجری میں حجاج بن یوسف نے قتیبہ بن مسلم کو ‘‘رے’’ کا گورنر بنا یا ۔ ہشام بن اسماعیل مدینۂ منورہ کا گورنر تھا اور اُسی نے مسلمانوں کو حج کرایا۔ملک عراق اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر حجاج بن یوسف تھا ۔ ملک مصر کا گورنر عبد العزیز بن مروان تھا ۔ 


ا83 ھجری میں جن عمائدین کا انتقال ہوا


اِس سال جن عمائدین کا انتقال ہوا اُن میں سے چند یہ ہیں۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 83 ھجری میں عبدالرحمن بن حجیرہ خولانی مصری کا انتقال ہوا ۔ آپ نے صحابہ کی ایک جماعت سے روایت کی ہے ۔ ملک مصر کے گورنر عبدالعزیز بن مروان نے آپ کو قضاء (سپریم کورٹ) قصص اور بیت المال کے عہدے دے رکھے تھے اور ان کی سالانہ تنخواہ ایک ہزار دینار ملتی تھی ۔ انہوں نے کبھی ایک حبہ بھی جمع کر کے نہیں رکھا ۔ اِس سال طارق بن شباب بن عبد شمس حمصی کا انتقال ہوا ۔ یہ اُن خوش نصیبوں میں سے ہیں جنہوں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے ۔ ۔آپ نے خلیفۂ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ اور خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دورِخلافت میں جنگوں میں حصہ لیا تھا ۔ آپ کا انتقال مدینۂ منورہ میں ہوا تھا ۔ اِس سال عبیداﷲ بن عدی بن خیار کا انتقال ہوا ۔آپ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا زمانہ پایا ۔ آپ نے صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم سے احادیث روایت کی ہیں۔ آپ مدینۂ منورہ کے قاضی تھے اور قریش کے عالموں اور فقیہوں میں شمار ہوتے تھے ۔ آپ کا باپ عدی غزوۂ بدر میں کفر کی حالت میں مارا گیا تھا ۔ 


ا84 ھجری : قلعہ باذغیس کی تسخیر


ا84 ھجری میں قلعہ باذغیس فتح ہوا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 84 ھجری میں یزید بن مہلب نے نیزک کے قلعہ باذغیس کو فتح کیا ۔ نیزک اِس قلعہ میں آ کر فروکش ہوا کرتا تھا ۔ یزید بن مہلب اُس سے جہاد کرنے کے لئے روانہ ہوا اور نیزک کی نقل و حرکت کی دیکھ بھال کے لئے خبر رساں مقرر کر دیئے ۔جب یزید بن مہلب کو نیزک کی روانگی کا اطلاع ملی تو وہ اس کی راہ مزاحم ہوا ۔نیزک کو بھی معلوم ہو گیا کہ دشمن میری تاک میں گھات لگائے بیٹھا ہے تو وہ پلٹ گیا اور اِس شرط پر صلح کر لی کہ قلعہ میں جو کچھ ہے وہ سب یزید کو دے دیا جائے اور نیزک اپنے اہل و عیال کے ساتھ قلعہ چھوڑ کر چلا جائے ۔ یزید بن مہلب نے اِس فتح کی خبر حجاج بن یوسف کو بھیج دی ۔ 


ا84 ھجری کا اختتام


ا84 ھجری میں کئی واقعات ہوئے ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال عبداﷲ بن عبدالملک نے ‘‘مصیصہ ’’ فتح کیا ۔ اِس سال محمد بن مروان نے آرمینیہ میں جنگ کی اور وہاں بہت سوں کو قتل کیا ، گرجاؤں پر قبضہ کیا ۔ اِ س سال کو ‘‘آگ کا سال’’ بھی کہا جاتا ہے ۔ اِس سال حجاج بن یوسف نے فارس پر چڑھائی کے لئے محمد بن قاسم ثقفی کو مامور کیا اور اُسے کردوں کو قتل کر دینے کا حکم دیا ۔ اِس سال عبدالملک بن مروان نے اسکندریہ کا گورنر عیاض بن غنم جہنی کو بنایا ۔(اُس وقت اسکندریہ ،ملک مصر سے ایک الگ ملک تھا ) اِس سال موسیٰ بن نصیر نے مغرب کے کچھ علاقے جن میں ارومہ کا علاقہ بھی شامل تھا فتح کر لئے اور تقریباً ہزار لوگوں کو قیدی بنایا ۔ اِس سال وہی سب گورنر رہے جو پچھلے سال تھے۔ 


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!


Saltanat e Umayya part 42


 ا42 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 42


85 ھجری : عبدالرحمن بن اشعث اور رتبیل، عبدالرحمن بن اشعث کا قتل، حجاج بن یوسف کا استعفیٰ، خیار بن سبرہ ‘‘عمان’’ کا گورنر، یزید بن مہلب کی معزولی، مفضل بن مہلب خراسان کا گورنر، قتیبہ بن مسلم خراسان کا گورنر ، یزید بن مہلب کا خوارزم پر حملہ، عبدالعزیز بن مروان کی ولی عہدی سے معزولی کی تحریک، عبد العزیز بن مروان کا دستبرداری سے انکار، عبدالعزیز بن مروان کا انتقال، عبدالعزیز بن مروان کے انتقال کی خبر، 



ا85 ھجری : عبدالرحمن بن اشعث اور رتبیل


عبدالرحمن بن اشعث واپس ترک بادشاہ رتبیل کے پاس چلا گیا تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: جب عبدالرحمن بن اشعث ہرات سے واپس رتبیل کے پاس جانے لگا تو اُس کے ساتھ قبیلہ اود کا ایک شخص علقمہ بن عمرو بھی تھا ۔ اُس نے عبد الرحمن بن اشعث سے کہا : ‘‘ میں آپ کے ساتھ ترک بادشاہ رتبیل کی مملکت میں داخل نہیں ہونا چاہتا ۔’’ اُس نے وجہ دریافت کی تو علقمہ نے کہا: ‘‘ مجھے تمہاری اور تمہارے ساتھیوں کی جان کا خطرہ محسوس ہو رہا ہے ۔ حجاج بن یوسف بادشاہ رتبیل کے نام خط بھیجے گا جس میں لالچ اور خوف دلا کر تمہاری سپردگی کا مطالبہ ہو گا اور رتبیل تمہیں زندہ یا مردہ حجاج بن یوسف کے پاس بھیج دے گا ۔ اب بھی موقع ہے اِس وقت آپ کے پاس پانچ سو بہادر ہیں ۔ہم کسی شہر میں گھس کر قلعہ بند ہوجائیں اور اُس وقت تک مقابلہ کریں جب تک ہمیں امان نہ ملے یا ہم سب کے سب عزت کی موت مارے جائیں گے ۔’’ عبد الرحمن بن اشعث نے کہا: ‘‘ آپ سب میرے ساتھ چلیں ،میں آپ سب کی عزت اور غم خواری کروں گا ۔’’ لیکن انہوں نے انکار کر دیا اور عبدالرحمن بن اشعث اپنے اہل و عیال کو لیکر رتبیل کے پاس چلا گیا ۔ 


عبدالرحمن بن اشعث کا قتل


حجاج بن یوسف سے ترک بادشاہ رتبیل نے عبد الرحمن بن اشعث کا سودا کر لیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عبد الرحمن بن اشعث رتبیل کے پاس چلا گیا اور یہ پانچ سو سوار وہاں سے روانہ ہو کر ایک شہر میں قلعہ بند ہو کر بیٹھ گئے اور مودود نضری کو اپنا سردار بنا لیا ۔ حجاج بن یوسف کی طرف سے عمارہ بن تمیم لخمی نے آکر اُن کا محاصرہ کر لیا ۔ یہ پانچ سو سوار اُس سے لڑتے رہے ،آخر کار عمارہ بن تمیم نے انہیں امان دے دی اور یہ لوگ اُس کے ساتھ ہو گئے اور عمارہ نے وعدہ معافی کو برقرار رکھا ۔ اب حجاج بن یوسف نے ترک بادشاہ رتبیل پر پر دباؤ بنانے لگا اور عبدالرحمن بن اشعث کی سپردگی کے بارے میں خطوط بھیجنے لگا اور یہ دھمکی دینے لگا کہ اگر تم نے عبد الرحمن بن اشعث کو میرے حوالے نہیں کیا تو میں دس لاکھ سپاہیوں کے ساتھ حملہ کروں گا اور تمہاری سلطنت کو روند ڈالوں گا ۔ اتبیل کے ایک درباری عبید بن ابی سبیع تمیمی نے رتبیل سے کہا: ‘‘ میں حجاج بن یوسف سے تمہارے لئے عہد لے لیتا ہوں کہ وہ سات سال تک تم سے خراج نہ لے اور اس کے بدلے میں تم عبد الرحمن بن اشعث کو اُس کے حوالے کر دو گے ۔’’رتبیل نے کہا: ‘‘ اگر تم ایسا کرو گے تو جو مانگو گے وہ پاؤ گے ۔’’ عبید بن ابی سبیع نے حجاج کو لکھا : ‘‘ رتبیل میری ہر بات مانتا ہے اور میں اُس وقت تک اُس کا پیچھا نہیں چھوڑوں گا جب تک وہ عبدالرحمن بن اشعث کو تمہارے حوالے نہ کر دے۔’’ اِن خدمات کے صلہ میں حجاج بن یوسف نے اُسے بہت سا روپیہ انعام کے طور پر دیا اور اُس نے رتبیل سے بھی اِن خدمات کا معاوضہ لیا اور رتبیل نے عبدالرحمن بن اشعث کا سر کاٹ کر حجاج بن یوسف کے پاس بھیج دیا ۔ 


حجاج بن یوسف کا استعفیٰ


اِس سال 85 ھجری میں حجاج بن یوسف نے استعفیٰ دے دیا لیکن عبد الملک بن مروان نے اُسے قبول نہیں کیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حجاج بن یوسف ملک شام عبدالملک بن مروان سے ملنے کے لئے گیا ۔ واپسی میں اُس نے ایک جگہ قیام کیا تو لوگوں نے بتایا کہ یہاں ایک بڑا عالم و فاضل راہب رہتا ہے ۔ حجاج بن یوسف نے اُسے بلایا اور پوچھا :‘‘ کیا تمہاری کتابوں میں اس حالت کا ذکر ہے جس میں اس وقت ہم اور تم ہیں؟’’ راہب نے کہا: ‘‘ جی ہاں! جو واقعات آپ پر گزر چکے ہیں ، گزر رہے ہیں اور گزرنے والے ہیں ،وہ سب مذکور ہیں۔’’ حجاج بن یوسف نے پوچھا: ‘‘ کیا صاف صاف نام بنام ان کا ذکر ہے یا صرف قرائن اور صفات بتائی گئی ہیں؟’’ راہب نے کہا: ‘‘ جہاں صرف صفات بیان کئے گئے ہیں وہاں نام نہیں ہیں اور جہاں نام ہیں وہاں صفات کا ذکر نہیں ہے ۔ حجاج بن یوسف نے کہا: ‘‘ اچھا بتاؤ! ہمارے موجودہ امیر المومنین کی کیا خصوصیات ہیں؟’’ راہب نے کہا: ‘‘ ہم اپنے زمانے میں انہیں نہایت مدبر بادشاہ جانتے ہیں اور جو اُن کی مخالفت کرے گا پچھاڑ دیا جائے گا ۔’’ حجاج بن یوسف نے پوچھا: ‘‘ اُن کے بعد کون ہوگا ؟’’ راہب نے کہا: ‘‘ ولید بن عبدالملک بادشاہ ہوگا۔’’ حجاج بن یوسف نے پوچھا :‘‘ اُس کے بعد کون ہوگا؟’’ راہب نے کہا: ‘‘ ایک ایسا شخص جس کا نام ایک نبی علیہ السلام کے نام پر ہے اور جس سے خیر و برکت کا افتتاح ہوگا ۔’’ ( ولید بن عبدالملک کے بعد اُس کا بھائی سلیمان بن عبدالملک بادشاہ بنا اور اُس نے وصیت کی تھی کہ اُس کے مرنے کے بعد حضرت عُمر بن عبدالعزیز کو حکمراں بنایا جائے)حجاج بن یوسف نے پوچھا: ‘‘ کیا تم مجھے جانتے ہو؟’’ راہب نے کہا: ‘‘ ہاں ! مجھے آپ کے بارے میں بتایا گیا ہے۔’’ حجاج بن یوسف نے پوچھا : ‘‘ میرے بعد میری جگہ کون گورنر ہو گا؟’’ راہب نے کہا: ‘‘ یزید نامی ایک شخص آپ کے بعد گورنر ہو گا۔’’ حجاج بن یوسف نے پوچھا: ‘‘ میری زندگی میں ہوگا یا میرے مرنے کے بعد؟’’ راہب نے کہا: ‘‘ اِس کے بارے میں مجھے معلوم نہیں ہے۔’’ حجاج بن یوسف نے پوچھا: ‘‘ کیا تم اُس کی خصوصیات جانتے ہو؟’’راہب نے کہا: ‘‘ وہ ایک بد عہدی کرے گا ،اِس کے علاوہ میں اور کچھ نہیں جانتا ہوں۔’’ اِس گفتگو کے بعد حجاج بن یوسف کو خیال آیا کہ یزید بن مہلب ہی میرا مقابل ہوسکتا ہے ۔ اِس کے بعد حجاج بن یوسف نے عبدالملک بن مروان کو اپنا استعفیٰ لکھ کر بھیج دیا ۔ عبدالملک بن مروان نے جواب میں لکھا: ‘‘ مجھے تمہارا اصل منشا معلوم ہو گیا ہے کہ تم یہ چاہتے ہوکہ تمہارے متعلق میں اپنی رائے کا اظہار کروں تو سُن لو کہ میں تمہیں ایک مفید آدمی سمجھتا ہوں اِس لئے تم اپنا استعفیٰ واپس لے لو اور اب کبھی مرتے دم تک استعفیٰ نہیں دینا۔’’


خیار بن سبرہ ‘‘عمان’’ کا گورنر


حجاج بن یوسف نے خیار بن سبرہ کو ملک عمان کا گورنر بنا دیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ایک روز حجاج بن یوسف تنہا بیٹھا ہوا تھا کہ اُس نے عبید بن موہب کو بلایا ۔ جب وہ آیا تو حجاج بن یوسف زمین کُرید رہا تھا ۔ اُس نے اپنا سر اوپر اُٹھا کر کہا: ‘‘ اہل کتاب کہتے ہیں کہ میرے ماتحت عہدیداروں میں سے ایک یزید نامی شخص ملک عراق کا گورنر ہو گا ۔ میں نے یزید بن کبثہ اور یزید بن دینار کا خیال کیا مگر اُن دونوں میں سے کوئی اِس لائق نہیں ہے ،ہو نہ ہو یہ یزید بن مہلب ہی ہے ۔’’ عبید بن موہب نے کہا: ‘‘ آپ نے انہیں عزت دی ،انہیں اِس منصب جلیلہ پر سرفار کیا ،اُن کے طرفداروں کی تعداد کثیر ہے ۔ بہادر بھی ہیں اور دولتمند نصیبہ ور بھی ہیں اور ترقی کے لئے نہایت موزوں اور اہل بھی ہیں۔’’ حجاج بن یوسف نے یزید بن مہلب کو معزول کر دینے کا تہیہ کر لیا لیکن کوئی حیلہ اُس کے ہاتھ نہیں آرہا تھا۔ مہلب بن ابی صفرہ کے کمانڈروں میں سے ایک خیار بن سبرہ حجاج بن یوسف کے پاس آیا تو اُس نے اُس سے یزید بن مہلب کے بارے میں دریافت کیا۔خیار بن سبرہ نے کہا: ‘‘ وہ نہایت ہی وفا دار اور خلیق اور بامروت آدمی ہے ۔ ’’ حجاج بن یوسف نے کہا: ‘‘ تم جھوٹ بولتے ہو۔مجھ سے سچ سچ بیان کرو۔’’ خیار بن سبرہ نے کہا: ‘‘ اﷲ ہی بزرگ و برتر ہے ۔اِس میں شک نہیں کہ جو کچھ انہوں نے کیا ہے اُس کی بنیاد کھوکھلی ہیں۔’’ حجاج بن یوسف نے کہا: ‘‘ بے شک تم نے سچ کہا۔’’ اِس کے بعد حجاج بن یوسف نے اُسے ملک عمان کا گورنر بنا دیا۔


یزید بن مہلب کی معزولی


حجاج بن یوسف نے یزید بن مہلب کو بہانے سے معزول کیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حجاج بن یوسف نے عبدالملک بن مروان کو یزید بن مہلب اور خاندان مہلب کی شکایت لکھی کہ یہ لوگ "زبیری"  حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے حمایتی) ہیں ۔ عبدا لملک بن مروان نے جواب میں لکھا کہ یہ کوئی جرم کی بات نہیں ہے کہ وہ لوگ خاندان زبیر کے طرف دار ہیں لیکن یہ جوش عقیدت جو انہیں خاندان زبیر سے ہے یہ ہی اُن کی ہمارے خاندان سے فاداری کی وجہ ہے ۔ مگر حجا ج بن یوسف نے عبدالملک بن مروان کو لکھا کہ یہ لوگ ضرور بے وفائی کریں گے ۔ عبدالملک بن مروان نے جواب دیا کہ تم نے یزید بن مہلب اور خاندان مہلب کی شکایت کی ہے ۔ تم ہی کسی ایسے شخص کا

 نام پیش کرو جو خراسان کی گورنری کا اہل ہو ۔حجاج بن یوسف نے مجارۃ بن معمر کا نا م پیش کیا ۔ عبدالملک بن مروان نے جواب میں لکھا کہ جو خرابی تم آل مہلب میں پاتے ہو وہی مجاعۃ بن معمر میں بھی موجود ہے ۔ کسی ایسے شخص کا نام پیش کرو جو انتظامی صلاحیت رکھنے والا سیاست دان ہو اور تمہارے حکم کی تعمیل کرنے والا بھی ہو۔اِس پر حجاج بن یوسف نے قتیبہ بن مسلم کا نام پیش کیا جسے عبدالملک بن مروان نے منظور کر لیا اور حکم دے دیا کہ قتیبہ بن مسلم کو خراسان کا گورنر بنا دیا جائے۔یزید بن مہلب کو بھی معلوم ہوگیا تھا کہ حجاج بن یوسف نے مجھے معزول کر دیا ہے ۔ اُس نے اپنے اعزا سے پوچھا: ‘‘ بھلا کسے میری جگہ گورنر بنایا جائے گا؟’’ سب نے کہا: ‘‘ بنو ثقیف( حجاج بن یوسف کا قبیلہ) کا کوئی شخص ہوگا ۔’’ یزید بن مہلب نے کہا: ‘‘ نہیں! بلکہ تم میں سے ہی کوئی شخص عارضی طور پر گورنر بنا دیا جائے گا اور جب میں حجاج بن یوسف کے پاس چلا جاؤں گا تب اُسے بھی معزول کر کے بنو قیس کا کوئی شخص مقرر کر دیا جائے گا اور میرا خیال ہے کہ وہ قتیبہ بن مسلم ہو گا۔’’


مفضل بن مہلب خراسان کا گورنر


عبدالملک بن مروان نے حجاج بن یوسف کو اجازت دے دی تھی کہ وہ یزید بن مہلب کو معزول کر دے لیکن ابھی حجاج بن یوسف نے یزید بن مہلب کو معزول کی خبر نہیں دی تھی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب عبدالملک بن مروان نے حجاج بن یوسف کو اجازت دے دی تو اُس نے مناسب نہیں سمجھا کہ صاف صاف حکم بھیجے بلکہ اُس نے یزید بن مہلب کو لکھا کہ اپنے بھائی مفضل بن مہلب کو گورنر بنا کر تم میرے پاس آؤ۔ یزید بن مہلب نے حصین بن منذر سے مشورہ کیا تو اُس نے کہا: ‘‘ تم نہ جاؤ اور کوئی بہانہ کر دو کیونکہ امیر المومنین کی رائے تمہارے متعلق اچھی ہے اور یہ سب کچھ حجاج بن یوسف کا کیا دھرا ہے ۔ مجھے اُمید ہے کہ اگر تم نہیں جاؤ گے اور روانگی میں جلد بازی نہیں کرو گے تو امیر المومنین تمہیں ہی برقرا رکھنے کا حکم دیں گے۔’’ یزید بن مہلب نے کہا: ‘‘ یہ نہیں ہوسکتا کہ میں حکم کی خلاف ورزی کروں ۔ ہمیں جو عروج اور ترقی حاصل ہوئی ہے یہ ہماری اطاعت اور فرمانبرداری کے طفیل ہے اور میں مخالفت اور سر کشی کو معیوب سمجھتا ہوں۔’’ یزید نے سفر کی تیاری شروع کردی مگر حجاج بن یوسف کو اتنی دیر بھی گوارا نہیں تھی ۔اُس نے مفضل کو خط لکھا: ‘‘ میں تمہیں خراسان کا گورنر مقرر کرتا ہوں۔’’ اب مفضل بن مہلب نے اپنے بھائی سے اصرار کرنا شروع کردیا کہ تم فوراً چلے جاؤ ۔یزید بن مہلب نے کہا: ‘‘یاد رکھو! میرے بعد کبھی تمہیں حجاج بن یوسف اِس عہدہ پر برقرا رنہیں رکھے گا ۔ اُس نے جو مجھے بلایا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈرتا ہے کہ کہیں میں بغاوت نہ کر بیٹھوں اور حکم کیخلاف ورزی نہ کر بیٹھوں۔’’ مفضل بن مہلب نے کہا: ‘‘ بھائی آپ مجھ سے جل گئے ۔’’ یزید بنمہلب نے کہا: ‘‘ ارے بیوقوف! بھلا میں تجھ سے حسد کروں گا؟ تمہیں خود ہی عنقریب معلوم ہو جائے گا۔’’ 


قتیبہ بن مسلم خراسان کا گورنر 


حجاج بن یوسف نے مفضل بن مہلب کو بھی معزول کر کے قتیبہ بن مسلم کو خراسان کا گورنر بنا دیا۔ علامہ ممد بن جریر طبری لکھتے ہیں : یزید بن مہلب ربیع الآخر ۸۵ ؁ ھجری میں خراسان سے روانہ ہوا اور اس کے بعد حجاج بن یوسف نے مفضل بن مہلب کو بھی معزول کر کے قتبہ بن مسلم کو خراسان کا گورنر بنا دیا۔ حصین بن منذر نے یزید کے بارے میں کہا: ‘‘ میں نے تجھے ایک نہایت عمدہ مشورہ دیا تھا مگر تُو نہیں مانا۔ نتیجہ یہ ہوا تیری امارت چھن گئی اور تُو نادم ہوا۔ مجھے نہ تیری حالت پر کسی قِسم کی محبت کی وجہ سے کوئی صدمہ ہے اور نہ ہی میں دعا کرتا ہوں کہ تو صحیح و سالم پھر واپس آجائے۔’’ جب قتیبہ بن مسلم خراسان آیا تو اُس نے حصین بن منذر سے کہا: ‘‘ تُو نے یزید بن مہلب کے بارے میں کیا کہا تھا ؟’’ اُس نے کہا: ‘‘ میں نے کہا کہ میں نے تجھے ایک نہایت عمدہ مشورہ دیا تھا مگر تُو نہیں مانا ۔ پس اگر تُو کسی کو مورد الزام ٹھہرائے تو خود تیرا نفس اِس ملامت کا زیادہ مستحق ہے ۔ اگر حجاج بن یوسف کو معلوم ہوجائے کہ تُو نے اُس کی نافرمانی کی ہے تو تجھے معلوم ہو جائے گا کہ اُس کا اقتدار نہایت ہی اہمیت رکھتا ہے ۔’’ قتیبہ بن مسلم نے کہا: ‘‘تُو نے یزید بن مہلب کو کیا مشورہ دیا تھا؟’’ اُس نے کہا: ‘‘ میں نے اُس سے کہا تھا کہ جس قدر درہم و دینار تیرے پاس ہیں سب حجاج بن یوسف کے پاس لے جانا ۔’’ اِس پر کسی شخص نے حصین بن منذر کے بیٹے عیاض بن حصین سے کہا: ‘‘ تیرا باپ تو بلا شبہ نہایت ہی چالاک گھوڑا ثابت ہوا ۔ ’’ 


یزید بن مہلب کا خوارزم پر حملہ


حجاج بن یوسف نے یزید بن مہلب کو ایک بہت دشوار گزار اور تکلیف دہ علاقہ پر حملہ کرنے کا حکم دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حجاج بن یوسف نے یزید بن مہلب کو حکم دیا کہ خو ارزم پر جہاد کرو ۔ یزید بن مہلب نے لکھا : ‘‘ اِس مہم میں فائدہ کم اور تکلیف زیادہ ہے ۔ ’’ اِس پر حجاج بن یوسف نے لکھا: ‘‘ اچھا کسی شخص کو اپنا جگہ سپہ سالار بنا کر تم میرے پاس چلے آؤ ۔’’ اِس کے جواب میں یزید نے لکھا: ‘‘ میں خود فوج لیکر خو ارزم پر جہاد کرنے جاؤں گا ۔’’ حجاج بن یوسف نے کہا: ‘‘ تم خو ارزم پر حملہ نہ کروکیونکہ اُس ملک کا واقعی ایسا حال ہے جیسا تم نے لکھا تھا ۔’’ مگر یزید بن مہلب نہیں مانا اور خوارزم پر حملہ کر دیا ۔وہاں کے لوگوں نے صلح کی درخواست کی جو اُس نے قبول کر لی اور مال غنیمت اور غلام اور لونڈی لیکر واپس آنے لگا تو راستے میں شدید سردی پڑنے لگی ۔ یزید کی فوج نے لونڈی اور غلاموں کے کپڑے خود لیکر پہن لئے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ سب سردی کی وجہ سے مر گئے ۔ یزید بن مہلب نے ‘‘بلستان’’ میں آکر قیام کیا ۔ اِس سال ‘‘مرو زور’’ میں طاعون پھیلا اور وہاں کے بہت سے باشندے موت کا شکار ہوگئے ۔ پھر حجاج بن یوسف نے یزید بن مہلب کو حکم دیا :‘‘ تم میرے پاس چلے آؤ ۔’’ یزید بن مہلب حجاج بن یوسف کی طرف روانہ ہوا تو جس جس شہر سے گذرتا تھا وہاں کے باشندے اُس کے لئے پھول بچھاتے تھے ۔ 


عبدالعزیز بن مروان کی ولی عہدی سے معزولی کی تحریک


عبدالملک بن مروان نے اپنا ‘‘ولی عہد’’ اپنے بھائی عبدالعزیز بن مروان کو بنایا تھا اور اعلان کر دیا تھا کہ عبدالملک بن مروان کی موت کے بعد عبدالعزیز بن مروان حکمراں بنے گا ۔ حجاج بن یوسف نے عبدالملک بن مروان کے دل میں اپنے بیٹے ولید بن عبدالملک کی ‘‘ولی عہدی’’ کا خیال پیدا کیا جو اُس کے دل میں جڑ پکڑ گیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عبدالعزیز بن مروان کی ‘‘ولی عہدی’’ سے معزولی کی تحریک حجاج بن یوسف نے پیدا کی تھی اور اِسی غرض سے اُس نے ایک وفد عمران بن عصام کی قیادت میں عبدالملک بن مروان کے پاس بھیجا تھا ۔ عمران بن عصام نے اِس معاملہ پر عبدالملک بن مروان کے سامنے تقریر کی ۔ وفد کے دوسرے ارکان نے بھی اُس کی تائید کی اور درخواست کی کہ عبدالعزیز بن مروان کی جگہ ‘‘ولی عہد’’ ولید بن عبدالملک مقرر کیا جائے ۔ عمران بن عصام کی تقریر اور قصیدہ خوانی سن کر عبدالملک بن مروان نے کہا: ‘‘ تم جانتے ہو وہ عبدالعزیز بن مروان ہے ۔’’ عمران بن عصام نے کہا: ‘‘ امیر المومنین آپ کسی بہانہ سے انہیں معزول کر دیجیئے ۔’’


عبد العزیز بن مروان کا دستبرداری سے انکار


عبدالملک بن مروان کا یہ ارادہ ہوگیا کہ وہ ولید بن عبدالملک کو اپنا جانشین مقرر کر دے ۔اِس کے لئے اُس نے اپنے بھائی عبدالعزیز بن مروان سے درخواست کی کہ وہ ‘‘ولی عہدی’’ سے دستبردار ہو جائے لیکن اُس نے انکار کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب عبدالملک بن مروان نے اپنے بھائی عبدالعزیز بن مروان کے بجائے اپنے بیٹے ولید بن عبدالملک کی ‘‘ولی عہدی’’ کے لئے بیعت لینا چاہی تو اُس نے عبدالعزیز بن مروان کو لکھا کہ اپنا جانشینی کا حق اپنے بھتیجے کو دیدے ۔ عبدالعزیز بن مروان نے انکار کر دیا تو عبدالملک بن مروان نے دوبارہ لکھا :‘‘ چونکہ میں ولید بن عبدالملک کی سب سے زیادہ عزت اور توقیر کرتا ہوں ۔ اِس لئے کم سے کم تمہارے بعد کا یہ حق اُس کے لئے محفوظ کر دو۔’’ عبدالعزیز بن مروان نے جواب میں لکھا: ‘‘ جیسا تم اپنے بیٹے ولید کو سمجھتے ہوایسے ہی میں اپنے بڑے بیٹے ابو بکر کو سمجھتا ہوں۔’’ ( حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ کا بڑا بھائی ابوبکر ہے)یہ جواب پڑھ کر عبدالملک بن مروان نے اپنے بھائی کے لئے بد

 دعا کی:‘‘ اے اﷲ تعالیٰ! جس طرح عبدالعزیز بن مروان نے مجھ سے قطع تعلق کر لیا ہے اُسی طرح تو اُس سے اپنا تعلق منقطع کر لے ۔’’ اِس کے بعد عبدالعزیز بن مروان کو لکھا :‘‘ مجھے ملک مصر کا خراج دو۔’’ عبدالعزیز بن مروان نے لکھا : ‘‘ اے امیر المومنین! اب میری اور تمہاری عُمر اتنی ہو گئی ہے کہ اب بہت تھوڑی زندگی بچی ہے اور تم اور میں اِس بات سے ناواقف ہیں کہ ہم دونوں میں سے پہلے کون مرتا ہے؟ بہتر ہے کہ اب اِس تھوڑی سی زندگی میں تم مجھے نہ ستاؤ۔’’ عبدالملک بن مروان پر اِس تحریر کا اتنا اثر ہوا کہ اُس نے لکھا: ‘‘ اب میں تمہیں پوری زندگی ہر گز نہیں چھیڑوں گا ۔’’ اِس کے بعد اُس نے اپنے دونوں بیٹوں ولید بن عبدالملک اور سلیمان بن عبدالملک سے کہا: ‘‘ اگر اﷲ تعالیٰ تمہیں دینا چاہے گا تو کسی بندہ کی مجال نہیں ہے کہ وہ اس حق سے تمہیں محروم کر دے ۔ذرا یہ تو بتاؤ کہ تم دونوں نے کبھی حرام کام کیا ہے؟ ’’ اُن دونوں نے کہا: ‘‘اﷲ کی قسم! کبھی نہیں۔’’ یہ سن کر عبدالملک بن مروان نے کہا: ‘‘ رب ِ کعبہ کی قسم! تم دونوں ضرور اپنا مقصود حاصل کرو گے۔’’


عبدالعزیز بن مروان کا انتقال


عبدالملک بن مروان سے خطوط کے ذریعے بات چیت کرنے کے بعد عبدالعزیز بن مروان زیادہ دنوں تک زندہ نہیں رہ سکا اور چند مہینوں بعد ہی اُس کا انتقال ہو گیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عبدالملک بن مروان اپنے ارادے سے باز رہا لیکن اُس کا دل اِس کام کے لئے بے چین تھا کہ ایک روز روج بن زنباع جذامی نے کہا: ‘‘ امیر المومنین! اگر آپ عبدالعزیز بن مروان کو ‘‘ولی عہدی’’ سے معزول کر دیں تو اُس کی حمایت میں ایک بھی آواز نہیں ا’ٹھے گی ۔’’ عبدالملک بن مروان نے کہا: ‘‘ میرا بھی یہی خیال ہے ۔’’ روج بن زنباع نے کہا: ‘‘ بے شک ایسا ہی ہوگا اور سب سے پہلے میں خود اِس آواز پر لبیک کہوں گا۔ ’’ عبدالملک بن مروان نے کہا: ‘‘ انشاء اﷲ ایسا یہی مناسب ہوگا۔’’ یہی گفتگو کر کے عبدالملک بن مروان سو گیا ۔ رات کا وقت تھا کہ قبیصہ بن ذویب ملنے کے لئے آیا ۔ عبدالملک بن مروان نے پہلے ہی پہریداروں کو حکم دے رکھا تھا کہ دن یا رات کے کسی بھی وقت قبیصہ بن ذویب آئے تو اُسے نہیں روکنا۔ شاہی مُہر بھی اُسی کے پاس رہتی تھی ۔ قبیصہ بن ذویب جب عبدالملک بن مروان کی خواب گاہ میں داخل ہوا تو سلام کیا اور کہا: ‘‘ اﷲ امیر المومنین کو عبد العزیز بن مروان کے عوض جزائے خیر عطا فرمائے ۔’’ عبدالملک بن مروان نے پوچھا :‘‘ کیا اُس کا انتقال ہو گیا ہے ؟’’ قبیصہ بن ذویب نے کہا: ‘‘ جی ہاں۔’’ عبد المک بن مروان نے کہا: ‘‘ انا ﷲ وانا الیہ راجعون۔’’اِس کے بعد بولا: ‘‘ لو! جس کام کے بارے میں ہم سوچ رہے تھے اﷲ تعالیٰ نے خود بخود اس کو انجام تک پہنچا دیا۔’’ جماد ی الاوّل ۸۵ ؁ ھجری میں عبدالعزیز بن مروان کا انتقال ہوا ۔ عبدالملک بن مروان نے اپنے بیٹے عبداﷲ بن عبدالملک کو ملک مصر کا گورنر بنا دیا ۔’’ 


عبدالعزیز بن مروان کے انتقال کی خبر


جس وقت عبدالعزیز بن مروان کا انتقال ہواتو عبدالملک بن مروان کا کاتب محمد بن یزید تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حجاج بن یوسف نے عبدالملک بن مروان کو لکھا‘‘ آپ محمد بن یزید انصاری کو اپنا کاتب بنا لیں ۔ اگر آپ کسی ایسے شخص کو کاتب بنانا چاہتے ہیں جو بھروسے کے قابل ، راز دار ، فاضل ، عاقل اور دین دار ہو تو آپ کو محمد بن زید انصاری سے بہتر کوئی آدمی نہیں ملے گا ۔ آپ بے خوف و خطر اسے رازدار بنا سکتے ہیں۔ ’’ عبدالملک بن مروان نے اُس کی درخواست منظور کر لی اور لکھا : ‘‘ محمد بن زید کو میرے پاس بھیج دو ۔ ’’ حجاج بن یوسف نے اُسے بھیج دیا اور عبدالملک بن مروان نے اُسے اپنا ‘‘میر منشی’’ بنا لیا ۔ محمد بن یزید بیان کرتا ہے کہ امیر المومنین عبدالملک بن مروان کیا یہ حال تھا کہ جو بھی خط آتا تھا میرے حوالے کر دیتے تھے ۔ بہت سی باتوں کو لوگوں سے چھپاتے تھے مگر مجھ سے کوئی بات پوشیدہ نہیں رکھتے تھے ۔ جو بات کسی گورنر کو لکھتے تو مجھے ضرور بتا دیتے تھے ۔ ایک روز دوپہر کے وقت میں بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں ملک مصر سے ایک قاصد آیا ۔ قاصد نے امیر المومنین کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت طلب کی۔ میں نے اُس سے کہا: ‘‘ یہ ملاقات کا وقت نہیں ہے جو تمہیں کہنا ہو کہہ دو ۔’’ قاصد نے کہا: ‘‘ نہیں ! میں یہ بات صرف امیر المومنین کو ہی بتاؤں گا۔’’ میں نے کہا: ‘‘ اگر کوئی خط لائے ہو تو مجھے دے دو ۔’’ اُس نے کہا: ‘‘ زبانی پیغام ہے۔’’ اتنے میں کسی نے کہا کہ امیر المومنین آر ہے ہیں ۔ عبدالملک بن مروان آئے اور مجھ سے پوچھا : ‘‘ کیا ماجرا ہے؟’’ میں نے عرض کیا ملک مصر سے قاصد آیا ہے ۔’’ انہوں نے کہا: ‘‘ خط لے لو۔’’ میں نے کہا: ‘‘ وہ کہتا ہے زبانی پیغام ہے۔’’ انہوں نے کہا: ‘‘ آنے کی وجہ دریافت کرو۔’’ میں نے کہا: ‘‘ وہ مجھے کچھ نہیں بتا رہا ہے۔’’ اِس پر امیر المومنین نے کہا: ‘‘ اچھا! اُسے اندر آنے دو۔’’ میں نے اندر آنے کی اجازت دے دی ۔ قاصد نے کہا: ‘‘ اﷲ امیرا لمومنین کو عبد العزیز بن مروان کے عوض جزائے خیر عطا فرمائے ۔’’ امیر المومنین نے انا ﷲ وانا الیہ راجعون پڑھا اور رونے لگے ۔ پھر تھوڑی دیر تک خاموش رہے اور کہا : ‘‘ اﷲ عبدالعزیز بن مروان پر رحم کرے وہ اِس دار ِ فانی سے عالم جاودانی کی طرف رحلت کر گئے ۔’’


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!


Saltanat e Umayya part 43



 ا43 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 43

ولید بن عبدالملک اور سلیمان بن عبدالملک کی ‘‘ولی عہدی’’ کا اعلان، حضرت سعید بن مسیب کا انکار،ا85 ھجری کا اختتام، 85 ھجری میں انتقال کر نے والے چند اعیان، 86 ھجری :قتیبہ بن مسلم کا ترکوں پر حملہ، میں عبداﷲ بن زبیر سے بہتر ہوں، عبدالملک بن مروان کی نصیحت، 86 ھجری : ولید بن عبدالملک ‘‘سلطنت ِ اُمیہ’’ کا حکمراں، ولید بن عبدالملک کا پہلا خطبہ، 




ولید بن عبدالملک اور سلیمان بن عبدالملک کی ‘‘ولی عہدی’’ کا اعلان


عبدالعزیز بن مروان کے انتقال کے بعد عبدالملک بن مروان نے اپنے دونوں بیٹوں ولید اور سلیمان کی ‘‘ولی عہدی’’ کا اعلان کر دیا ۔ عبدالملک بن مروان کی موت کے بعد ولید بن عبدالملک حکمراں بنے گا اور اُس کے بعد سلیمان بن عبدالملک حکمراں بنے گا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : محمد بن یزید نے آگے بیان کیا ۔دوسرے دن امیر المومنین نے مجھے بلایا اور کہا: ‘‘ عبدالعزیز بن مروان تو رحلت کر گئے مگر اب خلق اﷲ کے انتظام اور نگرانی کے لئے ایسے شخص کے بغیر تو کوئی چارہ نہیں جو میرے بعد خدمت خلق کے اہم اور نازک فرض کو سنبھال سکے ۔ تمہاری رائے میں کون شخص اِس منصب کا اہل ہے ؟’’ میں نے عرض کیا: ‘‘ سب سے افضل اِس منصب کے اہل ولید بن عبد الملک ہیں ۔’’ عبدالملک بن مروان نے کہا: ‘‘ تمہاری رائے صحیح ہے ۔اب بتاؤ کہ اُس کے بعد اِس خدمت جلیلہ کا کون اہل ہے؟’’ میں نے کہا: ‘‘ سلیمان بن عبدالملک کے علاوہ کون ہو سکتا ہے جو عرب کے سب سے بڑے بہادر شخص ہیں ۔’’ امیر المومنین نے کہا: ‘‘ بے شک صحیح کہتے ہو ۔ اگر ہم اِس بات کا تصفیہ ولید بن عبدالملک کے سپرد کر جاتے تو وہ اپنے ہی بیٹوں کو ‘‘ولی عہد’’ مقرر کرتا ۔ اچھا! اب فرمان لکھ دو کہ میرے بعد ولید بن عبد الملک حکمراں ہو گا اور اُس کے بعد سُلیمان بن عبدالملک حکمراں ہوگا ۔ ’’ میں نے اِس حکم کے مطابق فرمان لکھ دیا ۔ چونکہ ولید بن عبدالملک کے بعد میں نے سلیمان بن عبد الملک کی سفارش کی تھی ۔اِسی لئے ولید بن عبدالملک مجھ سے ناراض تھا اور اِسی بنا پر اُسنے مجھے کوئی اہم خدمت نہیں سونپی ۔ 


حضرت سعید بن مسیب کا انکار


عبدالملک بن مروان نے جب ولید بن عبدالملک اور سلیمان بن عبدالملک کی ‘‘ولی عہدی’’ کی بیعت لینے کا اعلان تمام ‘‘سلطنت اُمیہ’’ میں کرادیا ۔ مدینۂ منورہ میں حضرت سعید بن مسیب نے ‘‘ولی عہدی’’ کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اب عبدالملک بن مروان نے مدینۂ منورہ کے گورنر ہشام بن اسماعیل مخزومی کو لکھا : ‘‘ تم ولید بن عبدالملک اور سلیمان بن عبدالملک کی ولی عہدی کے لئے لوگوں سے ‘‘حلف اطاعت’’ لے لو ۔’’ تمام لوگوں نے ان دونوں کے لئے وفاداری کا حلف اُٹھایا مگر حضرت سعید بن مسیب نے انکار کر دیا اور کہا: ‘‘ جب تک عبدالملک بن مروان زندہ ہے تب تک میں کسی اور شخص کے لئے ‘‘حلف وفاداری’’ نہیں اُٹھا سکتا ۔’’ ہشام بن اسماعیل نے انہیں خوب زد وکوب کیا اور ساٹھ کوڑے لگوائے اور انہیں ٹاٹ کے کپڑے پہنا کر مدینۂ منورہ میں اُس پہاڑی درے کی طرف جہاں سب کو سولی پر چڑھایا جاتا تھا لے چلے تو حضرت سعید بن مسیب کو یقین ہو گیا کہ یہ مجھے قتل کرنے لے جارہے ہیں ۔ مگر جب اُس مقام پر پہنچ گئے تو انہیں واپس پلٹا لایا گیا ۔اِس پر حضرت سعید بن مسیب نے فرمایا: ‘‘ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ یہ مجھے سولی چڑھانے نہیں لے جارہے ہیں تو میں ٹاٹ کے کپڑے ہرگز نہیں پہنتا ۔ مگر میں نے تو یہی خیال کیا تھا کہ چونکہ مجھے سولی پر چڑھانے کے لئے لے جارہے ہیں اِس لئے یہ کپڑے پہنا رہے ہیں۔ ’’عبدالملک بن مروان کو جب اِس واقعہ کی خبر ہوئی تو اُس نے کہا: ‘‘ اﷲ ہشام بن اسماعیل کا برا کرے! جب سعید بن مسیب نے ‘‘حلف وفاداری ’’اُٹھانے سے انکار کیا تھا تبھی اُسے قتل کر دیتا یا معاف کر دیتا۔’’


ا85 ھجری کا اختتام


ا85 ھجری کا اختتام ہوا تو پوری ‘‘سلطنت ِ اُمیہ’’ میں ولید بن عبدالملک اور سلیمان بن عبدالملک کی ‘‘ولی عہدی’’کے لئے ‘‘حلف وفاداری’’ اُٹھانے کا سلسلہ جاری تھا ۔ اِس سال ملک عراق اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر حجاج بن یوسف تھا ۔ خراسان کا گورنر قتیبہ بن مسلم تھا ۔ ملک مصر کا گورنر عبداﷲ بن عبدالملک تھا جسے عبدالعزیز بن مروان کے انتقال کے بعد گورنر بنا یا گیا۔ مدینۂ منورہ کا گورنر ہشام بن اسماعیل تھا اور اُسی نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔ 


ا85 ھجری میں انتقال کر نے والے چند اعیان


اِ س سال عبدالعزیز بن مروان کا انتقال ہوا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : عبدالعزیز بن مروان بن حکم بن ابی عاص بن اُمیہ بن عبد شمس مدینۂ منورہ میں پیدا ہوا تھا ۔ پھر اپنے والد مروان بن حکم کے ساتھ ملک شام آ گیا تھا ۔ عبدالملک بن مروان کے بعد یہی ‘‘ولی عہد’’ تھا ۔ اس کے والد مروان بن حکم نے اِسے ۶۵ ؁ ھجری میں ملک مصر کا گورنر بنایا تھا اور یہ اپنے انتقال تک ملک مصر کا گورنر رہا ۔ دمشق میں اِس کا گھر ‘‘دارلصوفیہ’’ کے نام سے مشہور تھا جو بعد میں ‘‘خانقاہ سماطیہ’’ کے نام سے معروف ہوا ۔ بعد میں یہ خانقاہ اُس کے بیٹے حضرت عُمر بن عبدالعزیز کو ملی جو بالآخر ‘‘صوفیا کی خانقاہ’’ میں تبدیل ہوگئی ۔ عبدالعزیز بن مروان نے اپنے باپ اور حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ اور عقبہ بن عامر اور حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے حدیث روایت کی ہے جو مسند احمد بن حنبل اور سنن ابو داؤد میں موجود ہے ۔ اِس سال خالد بن یزید بن معاویہ کا انتقال ہوا۔ یہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کا پوتا ہے ۔ یہ علوم و فنون اور کیمیا میں بہت ماہر تھا اور ساتھ ہی ایک بہت اچھا شاعر بھی تھا ۔ عبدا لملک بن مروان کے دربا میں اِسے ایک خاص مقام حاصل تھا ۔ 


ا86 ھجری :قتیبہ بن مسلم کا ترکوں پر حملہ


اِس سال 86 ھجری میں خراسان کے گورنر قُتیبہ بن مسلم نے ترکوں پر حملہ کیا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 86 ھجری میں حجاج بن یوسف کے خراسان پر مقرر کئے گورنر قُتیبہ بن مسلم نے ترکوں پر حملہ کیا اور اُن کے بہت سے علاقوں پر قبضہ کر نے کے ساتھ ساتھ دشمن کے بہت سے آدمیوں کو قیدی بھی بنایا ۔ اِس کے بعد وہ رُک گیا اور لشکر آگے بڑھ گیا ۔ جب حجاج بن یوسف کو اِس کی اطلاع ملی تو اُس نے خط لکھا اور اُسے ملامت کی :‘‘ جب تم دشمن کے علاقے پر یلغار کا ارادہ رکھتے ہو تو تم کو خود اُس وقت اپنے لشکر کے ‘‘مقدمۃ الجیش’’ یعنی اگلے دستہ میں رہنا چاہیئے اور جب تم واپسی کا ارادہ کرو تو تمہیں اُس وقت لشکر کے ‘‘ساقۃ الجیش’’ یعنی فوج کے پچھلے دستے میں ہونا چاہیئے تاکہ دشمن پیچھے سے حملہ کر کے فوج کو نقصان نہ پہنچا سکے۔ یہی طریقہ عمدہ ہے اور پہلے سے چلا آرہا ہے ۔ ’’ قیدیوں میں ایک برمکی (خالد بن برمک)کی بیوی بھی تھی ۔ اُس کو قُتیبہ بن مسلم نے اپنے بھائی عبداﷲ بن مسلم کو تحفہ میں دے دیا ۔ جس نے اُس نے مباشرت کی تو وہ حاملہ ہو گئی ۔ پھر قتیبہ بن مسلم نے اُس عورت پر احسان کیا اور اُس کے اُس کے شوہر کے حوالے کر دیا جبکہ وہ عبداﷲ بن مسلم کے بچے سے حاملہ ہو چکی تھی اور بچہ اُنہی کے پاس رہا ۔ جب وہ لوگ مسلمان ہوئے تو وہ اس کو اپنے ساتھ لے گئے اور یہ ‘‘سلطنت عباسیہ’’ کے دور میں ہواجس کا ذکر انشاء اﷲ آگے آئے گا۔ جب قتیبہ بن مسلم واپس لوٹا تو بلغاریہ کے دیہاتیوں نے بہت سے تحفوں کے ساتھ اُس کا خیر مقدم کیا ۔


یزید بن مہلب قید میں


اِ س سال حجاج بن یوسف نے یزید بن مہلب کو قید کر لیا ۔ اُسے خدشہ تھا کہ یزید بن مہلب اُس کی گورنری چھین لے گا اور خود گورنر بن جائے گا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: اِس سال 86 ھجری میں مسلمہ بن عبدالملک مے بلاد روم میں جنگ کی اور بہت سے رومیوں کو قتل کیا اور بہت سے رومیوں کو قیدی بنایا اور کافی مال غنیمت بھی حاصل کیا ۔ اِس حملہ میں ارض روم کے قلعہ بولق اور قلعہ اخرم پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا اور انہوں نے وہاں فوجی چوکی بنا لی ۔ اِس سال روم کے بادشاہ ‘‘اخرم لوری’’ کا انتقال ہوا۔ اِس سال حجاج بن یوسف نے یزید بن مہلب کو قید کر لیا ۔ یزید بن مہلب ایک اطاعت گزار شخص تھا اِس لئے اُس نے حجاج بن یوسف سے بغاوت نہیں کی بلکہ قید میں ہی رہنے کا پسند کیا ۔ 


ا86 ھجری : عبدالملک بن مروان کا انتقال


اِس سال میں عبدالملک بن مروان کا انتقال ہو گیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 86 ھجری میں عبدالملک بن مروان کا وسط شوال میں انتقال ہوگیا ۔ اُس نے لگ بھگ اکیس (21) سال تک حکومت کی ۔ اِن اکیس سال میں سے نو (9) سال تک عبدالملک بن مروان حضرت عبداﷲ بن زبیر سے لڑتا رہا اور اس دوران میں صرف ان کی ملک شام اور ملک مصرمیں حکومت تسلیم کی جاتی تھی ۔ 73 ھجری میں جب حجاج بن یوسف نے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو مکۂ مکرمہ میں شہید کیا تو پھر ملک حجاز اور ملک عراق و ایران میں بھی عبدالملک بن مروان کی حکومت تسلیم کی جانے لگی ۔ اِس طرح پوری مملکت اسلامیہ پر عبدالملک بن مروان نے تیرہ سال اور کچھ مہینے حکومت کی ۔ اس کی عُمر کے بارے میں اختلاف ہے ۔ ایک روایت کے مطابق اس کی عُمر ساٹھ سال ہوئی اور امام واقدی کے مطابق اٹھاون سال کی عُمر تھی ۔ 26 ھجری میں حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے دور ِ خلافت میں عبدالملک بن مروان مدینۂ منورہ میں پیدا ہوا ۔ اور جنگ دار میں جب اُس کے والد کے ساتھ شریک ہوا تو اُس کی عُمر دس سال تھی ۔ ایک اور بیان کے مطابق اس کی عُمر تریسٹھ سال تھی ۔ 


میں عبداﷲ بن زبیر سے بہتر ہوں


عبدالملک بن مروان اپنے آپ کو حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ سے بہتر سمجھتا تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ایک مرتبہ سلمہ بن زید بن وہب ملک شام میں عبدالملک بن مروان کے پاس آیا تو اُس نے پوچھا: ‘‘ کون سا زمانہ بہترین اور کون سے بادشاہ سب سے بہتر ہوئے ؟’’ سلمہ بن یزید نے کہا: ‘‘ بادشاہوں کا تو سب کا یہ حال ہے کہ یا وہ مذمت کرنے والے ہیں یا تعریف کرنے والے ۔ رہا زمانہ تو اس کی کیفیت یہ ہے کہ بعض اقوام کو عروج پر پہنچاتا ہے اور بعض اقوام کو قعر مذلت میں دھکیل دیتا ہے ۔ ہر شخص اہنے زمانے کی برائی کرتا ہے کیونکہ زمانہ انہیں بچے سے بوڑھا کردیتا ہے اور ہر نئی چیز کو پرانی کر دیتا ہے ۔ صرف ایک اُمید کے سوا زمانہ کی ہر چیز فانی ہے۔’’پھر ایک شعر کہا جس میں شاعر نے پوچھا کہ ‘‘تم کون ہو؟’’ ۔ یہ کہہ کر عبدالملک بن مروان نے کہا: ‘‘ میں نہیں سمجھتا کہ ہمارے مثل ذی عزت و منزلت خاندان کو کوئی شخص ‘‘تم کون ہو؟’’ کہہ کر خطاب کرے گا ۔ اِس وقت سوائے میرے اور کوئی شخص حکومت حاصل کرنے کی طاقت اور اہلیت نہیں رکھتا ہے ۔ اِس میں شک نہیں کہ (حضرت)عبداﷲ بن زبیر (رضی اﷲ عنہ) بڑا عابد و زاہد اور صوم و صلوٰۃ کا بہت سختی سے پابند تھا ۔ مگر اپنے بخل کی وجہ وہ ایک کامیاب حکمراں نہیں ہو سکا ۔’’


عبدالملک بن مروان کی نصیحت


اپنے آخری وقت میں عبدالملک بن مروان نے اپنے بیٹوں کو کچھ نصیحت کی ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: اپنے بیٹوں کی ‘‘ولی عہدی’’ کی بیعت لینے کے کچھ ہی دنوں بعد عبدالملک بن مروان کا انتقال ہو گیا۔ اپنے آخری وقت میں اُس نے اپنے بیٹوں کو یہ نصیحت کی :‘‘ میں تم کو اﷲ تعالیٰ سے ڈرتے رہنے کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ یہ بہترین لباس ہے اور نہایت مضبوط پناہ گاہ ہے ۔ تمہیں چاہیئے کہ تمہارے بڑے ، چھوٹوں پر رحم و الطاف سے پیش آئیں ۔ مسلمانوں کی رائے سے ہمیشہ موافقت کرنا کیونکہ یہ وہی دانت ہیں جس سے تم توڑتے ہو اور یہ وہی جبڑے ہیں جس سے تم چباتے ہو۔۔ حجاج بن یوسف کی عزت کرنا کیونکہ اس نے تمہارے لئے منبروں اور مقبروں کو روندا اور شہروں کو پامال کیا ہے اور تمہارے دشمنوں کو ذلیل و خوار کیا ہے ۔ تم لوگ ‘‘بن اُم بررہ’’ ہو جاؤ تاکہ تم کو بچھو ڈنک نہ مار سکے اور لڑائی میں ‘‘احرار’’ ہونا کیونکہ لڑائی موت کو قریب نہیں کرتی اور نیکی کے پہاڑ ہو جانا کیونکہ نیکی کا اجر ،نیکی کا خزانہ اورنیکی کا ذکر باقی رہ جاتا ہے ۔ اپنے احسانات کو عقلمندوں پر پھیلانا کیونکہ وہ اس کے مستحق ہیں اور اس کے شکر گذار ہوتے ہیں جو ان کی طرف محسن سے پہنچتا ہے ۔ مجرموں سے جرم نہ کرنے کا عہد و پیمان لینا پس وہ اگر اِس پر استقامت کریں تو کچھ تعرض نہ کرنا اور اگر پھر جرم کریں تو انتقام لینا ۔ ’’


باب نمبر 5 


ولید بن عبدالملک کا دورِ حکومت 


ا86 ھجری : ولید بن عبدالملک ‘‘سلطنت ِ اُمیہ’’ کا حکمراں


عبدالملک بن مروان کے انتقال کے بعد اُس کا بیٹا ولید بن عبدالملک ‘‘سلطنتِ اُمیہ’’ کا حکمراں بنا اور اُس کا ‘‘ولی عہد’’ اُس کا بھائی سلیمان بن عبدالملک بنا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال ۸۶ ؁ ھجری میں ولید بن عبدالملک مسلمانوں کا بادشاہ بنا ۔ عبدالملک بن مروان کو دمشق شہر کے ‘‘باب جابیہ’’ کے باہر دفن کیا گیا ۔ ولید بن عبدالملک اپنے باپ کو دفن کر کے مسجد میں آیا اور منبر پر چڑھا ۔ تمام مسلمان اُس کے پاس جمع ہو گئے اور اُس نے کہا: انا ﷲ وانا الیہ راجعون ۔امیر المومنین کی موت سے جو مصیبت ہم پر نازل ہوئی ہے اﷲ تعالیٰ اس میں ہماری مدد کرنے والا ہے اور تمام تعریفیں اُسی اﷲ کے لئے ہے جس نے ہمیں حکومت دے کو ہم پر اپنا سب سے بڑا احسان و انعام کیا ۔ اب آپ لوگ کھڑے ہوں اور بیعت کریں ۔ سب سے پہلے عبداﷲ بن ہمام سلولی نے بیعت کی اور اُس کے بعد باقی سب لوگوں نے کی۔ 


ولید بن عبدالملک کا پہلا خطبہ


جب مسلمانوں نے ولید بن عبدالملک کی بیعت کر کے اُسے اپنا بادشاہ تسلیم کر لیا تو وہ منبر پر کھڑا ہوا اور بادشاہ بننے کے بعد اپنا پہلا خطاب کیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ولید بن عبدالملک نے مناسب الفاظ میں حمد و ثناء کرنے کے بعد کہا: ‘‘ آپ لوگوں کو معلوم ہونا چاہیئے کہ جس شئے کو اﷲ نے آگے رکھا ہے اُسے کوئی پیچھے نہیں کر سکتا ہے اور جسے پیچھے کیا ہے کوئی آگے نہیں بڑھا سکتا ۔ ہر متنفس کے لئے اﷲ رب العالمین نے پہلے سے ہی موت کا فیصلہ کر دیا ہے اور اِس سے انبیاء علیہم السلام اور حاملین عرش بھی مستثنیٰ نہیں ہیں۔ہماری قوم کے سردار اور دوسرے عَالَم میں نیک بندوں کی منازل کی طرف سدھار گئے ہیں ۔ اُن کا طرز عمل اور ہر فعل اﷲ کے لئے ہوتا ہے ۔ جو شخص مخالفت اور بغاوت کرتا تو اُس سے سختی کرتے اور اچھے اور نیک لوگوں کے ساتھ ہمیشہ نرمی اور اخلاق سے پیش آتے ۔ ہمارے مقدس مذہب اسلام کے تمام احکام پر انہوں نے عمل کیا ، حج بیت اﷲ سے مشرف ہوئے ۔ خلافت اسلامیہ کی سرحدوں کی حفاظت کی ۔ اﷲ کے دشمنوں پر فوج کشی کی ۔ وہ نہ کمزور تھے نہ ضرورت سے زیادہ تھے ۔ آپ لوگوں کو چاہیئے کہ آپ لوگ وفادار رہیں اور جماعت کے نظام میں تسبیح کے دانوں کی طرح منسلک رہیں ۔ یہ خوب اچھی طرح سمجھ لیں تنہا شخص کے ساتھ شیطان لگا رہتا ہے ۔ جو شخص ہم پر اِس بات کو ظاہر کرے گا جو اُس کے دل میں ہے ہم اُس سے ویسا ہی سلوک کریں گے اور جو مخالفت کے جذبات دل ہی دل میں چور کی طرح چھپائے رکھے گا وہ اِس مرض میں ہلاک ہو جائے گا ۔ ’’ اِس کے بعد ولیدہ بن عبدالملک منبر سے اُتر آیا ۔علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : ولید بن عبدالملک نے مسلمانوں کے سامنے خطبہ دیا: ‘‘ اے لوگو! جس کو اﷲ تعالیٰ نے مؤخر کر دیا ہے اُس کا کوئی مقدم نہیں ہے اور جس کو اﷲ نے مقدم کر دیا ہے اُس کا کوئی مؤخر نہیں ہے ۔ بے شک موت اﷲ کے حکم اور اُس کے سابق علم میں تھی اور اس کو اُس نے انبیاء اور حاملین عرش کے لئے بھی لکھ دیا ہے ۔ عبدالملک بن مروان برابر کے مرتبہ پر پہنچ گیا اور اُس نے اُمت کا ولی ( حکمراں) ایسے شخص کو بنایا جس پر اﷲ تعالیٰ کی طرف سے یہ حق ہے کہ وہ مجروں پر سختی اور اہل حق و فضل پر نرمی کرے ۔ جو منازل ِ اسلام اﷲ تعالیٰ نے قائم کر دیئے ہیں اُن کو قائم رکھے اور حج خانۂ کعبہ اور سرحدوں پر جہاد اور اﷲ تعالیٰ کے دشمنوں پر حملے کرتے رہنے سے ان کو ظاہر کرے ۔ پس وہ نہ عاجز ہے اور نہ مفرط ہے ۔ اے لوگو! تم پر حکمراں کی اطاعت اور جماعت مسلمین سے انفاق کرنا فرض ہے کیونکہ منفرد کے ساتھ شیطان ہے ۔ اے لوگ! جو ہم سے سرکشی و خودرائی کرے گا تو ہم اُس کا سر توڑ دیں گے اور جو سکوت اختیار کرے گا وہ اپنے مرض میں آپ مر جائے گا۔ ’’ 


قُتیبہ بن مسلم کی فتوحات


خراسان کے گورنر قتیبہ بن مسلم نے سرحدی علاقوں پر جہاد جاری رکھا اور فتوحات حاصل کیں۔علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: 86 ھجری میں حجاج بن یوسف کی طرف سے قتیبہ بن مسلم گورنر بن کر خراسان میں پہنچا اور لشکریوں کا جائزہ لیکر اُن کو جہاد کی ترغیب دی اور جھٹ پٹ ایک لشکر مرتب کر کے جہاد کے لئے نکل کھڑا ہوا ۔ ‘‘مرو’’ میں صیغۂ جنگ پر ایسا بن عبداﷲ بن عمرو کو ، محکمۂ مال پر عثمان بن سعدی کو مامور کیا ۔ طالقان پہنچا تو دہقان بلخ ملنے کو آئے اور اُس کے ساتھ ہو لئے ۔ نہر عبور کیا تو بادشاہ صغانیاں تحائف و نذرانے لیکر حاضر ہوا ۔ چونکہ ملوک آخرون و سومان جو کہ اس کے قرب و جوار میں رہتے تھے اور بادشاہ صغانیاں کو تکلیفیں پہنچاتے تھے ۔ اِس وجہ سے اس نے بہ کمال رضا و رغبت اپنے ملک کو قتیبہ بن مسلم کے سپرد کر دیا ۔ اِس کے بعد قُتیبہ بن مسلم نے آخرون اور سومان ( بلاد طغارستان) کا قصد کیا ۔ ملوک آخرون و سومان نے جزیہ دے کر مصالحت کر لی ۔ اس جگہ قتیبہ بن مسلم اپنے بھائی صالح بن مسلم کو لشکر کا سپہ سالار بنا کر ‘‘مور’’ واپس آگیا اور صالح بن مسلم نے قتیبہ بن مسلم کی واپسی کے بعد کشان اور شت ( مضافات ِ فرغانہ) اور اخسکیت ( فرغانہ کا قدیم شہر) بہ زور شمشیر فتح کر لیا ۔ اِس معرکوں میں اُس کے ساتھ نصر بن یسار تھا جو نہاتے بے جگری سے لڑتا تھا ۔ 


ا86 ھجری کا اختتام


ا86 ھجری کا اختتام ہوا ۔ اِس سال کا سب سے بڑا حادثہ یہ رہا کہ عبد الملک بن مروان کی جگہ اُس کا بیٹا ‘‘سلطنت ِ اُمیہ’’ کا بادشاہ بنا ۔ ملک عراق اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر حجاج بن یوسف تھا ۔ ملک مصر کا گورنر عبداﷲ بن عبدالملک تھا ۔ خراسان کا گورنر قُتیبہ بن مسلم تھا ۔ مدینۂ منورہ یعنی ملک حجاز کا گورنر ہشام بن اسماعیل تھا اور اُسی نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔اِس سال ملک شام ، بصرہ اور واسط میں زبردست طاعون پھیلا جو ‘‘عورتوں کا طاعون’’ کہلایا کیونکہ اِس مرض کا پہلا شکار عورتیں ہوتی تھیں ۔ 


ا86 ھجری میں انتقال کرنے والے


اِس سال عبدالملک بن مروان کا انتقال ہوا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال ارطاۃ بن زفر کا انتقال ہوا ۔ یہ بہت بڑا شاعر تھا ۔ اِس سال مطرف بن عبداﷲ شخیر کا انتقال ہوا ۔ یہ کبار اور بزرگ تابعین میں سے ہیں اور حضرت عمران بن حصین رضی اﷲ عنہ کے شاگردوں میں سے ہیں ۔ آپ ‘‘مقبول الدعا’’ تھے اور فرمایا کرتے تھے :‘‘ کسی انسان کو عقل سے بہتر کوئی فضیلت بخشی نہیں گئی ہے اور لوگوں کو اُن کی فضیلتوں کے مطابق عقل دی گئی ہے ۔’’ آپ فرماتے تھے :‘‘ جس انسان کا ظاہر و باطن یکساں ہوتا ہے تو اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے یہ واقعی میرا سچا بندہ ہے ۔ آپ فرماتے تھے: ‘‘ جب کسی کی عیادت کے لئے جاؤ اور اُس کو اپنے لئے بھی دعا کرتے پاؤ تو سمجھ لو کہ اُس کی دعا اﷲ کی بارگاہ میں ضرور قبول ہو گی کیونکہ وہ ٹوٹ پھوٹ چکا ہوتا ہے ۔ اِس لئے وہ جب دعا کرے گا تو ‘‘رِقت ِ قلب’’ سے کرے گا جو مقبول ہو گی ۔’’


ا87 ھجری : حضرت عُمر بن عبدالعزیز مدینۂ منورہ کے گورنر


اِس سال 87 ھجری میں ولید بن عبدالملک نے ہشام بن اسماعیل کو معزول کر دیا اور حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ کو مدینۂ منورہ کا گورنر بنایا ۔ آپ رحمتہ اﷲ علیہ ولید بن عبدالملک کے چچا ذاد بھائی ہیں اور بہنوئی بھی ہیں۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: ولید بن

 عبدالملک بن مدینۂ منورہ کا گورنر حضرت عُمر بن عبدالعزیز کو بنایا ۔ آپ 62 ھجری میں پیدا ہوئے اور جب اِس منصب سے سرفراز کئے گئے تو عُمر پچیس 25 سال تھی ۔ آپ اپنے اہل و عیال کو لیکر مدینۂ منورہ آئے تو بیس یا تیس اُونٹوں پر سامان اور اُن کے اہل و عیال تھے ۔ آپ نے مروان بن حکم کے گھر پر قیام کیا ۔ آپ سے ملاقات کے لئے مدینۂ منورہ کے لوگ آئے اُن میں مدینۂ منورہ کے دس فقیہ حضرات بھی تھے ۔ اِن میں حضرت عروہ بن زبیر رضی اﷲ عنہ ، عبیداؤ بن عبداﷲ ، ابوبکر بن عبدالرحمن ، ابوبکر بن سلیمان بن خیژمہ ، قسم بن محمد ، عبداﷲ بن عُمر ، عبداﷲ بن عبداﷲ بن عُمر ، عبداﷲ بن عامر بن ربیعہ اور خارجہ بن زید تھے ۔ 


مدینۂ منورہ میں پہلا خطبہ


حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ نے مدینۂ منورہ میں مسلمانوں کے سامنے پہلا خطبہ دیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت عُمر بن عبد العزیز نے حمد و ثناء کے بعد فرمایا:‘‘ میں نے آپ حضرات کو ایسے کام کے لئے بلایا ہے جس پر آپ کو اجر ملے گا اور اِس معاملہ میں مشورہ دے کر آپ حق و صداقت کی اعانت کریں گے ۔ میں چاہتا ہوں کہ کوئی بات آپ سب کے یا آپ لوگوں میں سے جو صاحب اس وقت موجود ہوں اُن کی رائے اور مشورہ کے بغیر نہ کروں ۔ اگر آپ کسی کو دیکھیں کہ وہ ظلم و زیادتی کر رہا ہے یا میرے ماتحت عہدیداروں کے خلاف آپ کوئی شکایت سنیں تو اﷲ کی قسم! آپ مجھے فورا! مطلع کریں ۔’’ اِس کے بعد سب لوگ حضرت عُمر بن عبدالعزیز کو دعائے خیر دیتے ہوئے واپس ہوئے ۔ 


ناگواری سے حکم کی تعمیل


حضرت عُمر بن عبد العزیز رحمتہ اﷲ علیہ سے پہلے ہشام بن اسماعیل مدینۂ منورہ کا گورنر تھا ۔ ولید بن عبدالملک نے آپ رحمتہ اﷲ علیہ کو حکم دیا کہ ہشام بن اسماعیل کی تشہیر ( بے عزتی) کی جائے ۔ آپ رحمتہ اﷲ علیہ کو یہ کام گوارا نہیں تھا کہ کسی کی بھی بے عزتی کی جائے لیکن امیر المومنین کا حکم تھا اِسی لئے آپ رحمتہ اﷲ علیہ نے ناگواری سے اِس کی تعمیل کی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : چونکہ ولید بن عبدالملک کی رائے ہشام بن اسماعیل کے بارے میں بہت خراب تھی اِس لئے اُس نے حضرت عُمر بن عبدالعزیز کو لکھا کہ ہشام کی لوگوں میں تشہیر کی جائے ۔ حضرت سعید بن مسیب کو جب اِس واقعہ کا علم ہوا تو انہوں نے اپنے بیٹے اور اہل و عیال اور دوست و احباب کو بلا کر فرمایا: ‘‘ حالانکہ ہشام بن اسماعیل کی تشہیر کی جارہی ہے مگر خبردار تم میں سے کوئی شخص اُسے نہ چھیڑے اور نہ کوئی بری بات کہے جس سے اُس کو دلی تکلیف ہو ۔ کیونکہ میں اپنے اور اس کے معاملے کو اﷲ اور قرابت کی بنا پر چھوڑے دیتا ہوں ۔ حالانکہ میری رائے اُس کے متعلق اچھی نہیں ہے لیکن میں وہ کلمات ہرگز اپنی زبان سے ادا نہیں کروں گا جو اُس نے میرے لئے استعمال کئے تھے ۔ ’’حضرت علی اوسط بن حسین ( امام زین العابدین) رضی اﷲ عنہ کو بھی ہشام بن اسماعیل کے ہاتھوں سخت تکلیفیں برداشت کرنی پڑی تھیں ۔ جب ولید بن عبدالملک نے اُسے معزول کیا اور توہین اور تشہیر کا حکم دیا تو ہشام بن اسماعیل نے کہا: ‘‘ مجھے صرف حضرت علی اوسط بن حسین رضی اﷲ عنہ سے خوف ہے ۔’’ اُسے مروان بن حکم کے گھر کے پاس کھڑا کیا گیا تھا ۔ آپ رضی اﷲ عنہ اُس کے پاس سے گذرے مگر اِس سے پہلے ہی آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے طرفداروں سے فرما دیا تھا کہ بدتہذیبی کی کوئی بات ہشام بن اسماعیل سے نہیں کرنا ۔ جب آپ رضی اﷲ عنہ اُس کے پاس سے گذرے تو قرآن پاک کی ایک آیت تلاوت فرمائی :’’ترجمہ۔ اﷲ ہی سب سے بہتر جاننے والا ہے کہ وہ کس شخص کو اپنا پیامبر بناتا ہے ۔’’ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : ایک دن حضرت علی اوسط بن حسین رضی اﷲ گزر رہے تھے اور ہشام بن اسماعیل راستے میں کھڑا تھا ۔ آپ رضی اﷲ عنہ خاموشی سے اُس کے پاس سے گزر گئے تو اُس نے بلند آواز سے پکار کا کہا: ‘‘ اﷲ ہی کو معلوم ہے کون آدمی کس منصب کا اہل ہے۔’’ 

  باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!/

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں