جمعرات، 29 اگست، 2024

Saltanat e Umayya part 43



 ا43 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 43

ولید بن عبدالملک اور سلیمان بن عبدالملک کی ‘‘ولی عہدی’’ کا اعلان، حضرت سعید بن مسیب کا انکار،ا85 ھجری کا اختتام، 85 ھجری میں انتقال کر نے والے چند اعیان، 86 ھجری :قتیبہ بن مسلم کا ترکوں پر حملہ، میں عبداﷲ بن زبیر سے بہتر ہوں، عبدالملک بن مروان کی نصیحت، 86 ھجری : ولید بن عبدالملک ‘‘سلطنت ِ اُمیہ’’ کا حکمراں، ولید بن عبدالملک کا پہلا خطبہ، 




ولید بن عبدالملک اور سلیمان بن عبدالملک کی ‘‘ولی عہدی’’ کا اعلان


عبدالعزیز بن مروان کے انتقال کے بعد عبدالملک بن مروان نے اپنے دونوں بیٹوں ولید اور سلیمان کی ‘‘ولی عہدی’’ کا اعلان کر دیا ۔ عبدالملک بن مروان کی موت کے بعد ولید بن عبدالملک حکمراں بنے گا اور اُس کے بعد سلیمان بن عبدالملک حکمراں بنے گا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : محمد بن یزید نے آگے بیان کیا ۔دوسرے دن امیر المومنین نے مجھے بلایا اور کہا: ‘‘ عبدالعزیز بن مروان تو رحلت کر گئے مگر اب خلق اﷲ کے انتظام اور نگرانی کے لئے ایسے شخص کے بغیر تو کوئی چارہ نہیں جو میرے بعد خدمت خلق کے اہم اور نازک فرض کو سنبھال سکے ۔ تمہاری رائے میں کون شخص اِس منصب کا اہل ہے ؟’’ میں نے عرض کیا: ‘‘ سب سے افضل اِس منصب کے اہل ولید بن عبد الملک ہیں ۔’’ عبدالملک بن مروان نے کہا: ‘‘ تمہاری رائے صحیح ہے ۔اب بتاؤ کہ اُس کے بعد اِس خدمت جلیلہ کا کون اہل ہے؟’’ میں نے کہا: ‘‘ سلیمان بن عبدالملک کے علاوہ کون ہو سکتا ہے جو عرب کے سب سے بڑے بہادر شخص ہیں ۔’’ امیر المومنین نے کہا: ‘‘ بے شک صحیح کہتے ہو ۔ اگر ہم اِس بات کا تصفیہ ولید بن عبدالملک کے سپرد کر جاتے تو وہ اپنے ہی بیٹوں کو ‘‘ولی عہد’’ مقرر کرتا ۔ اچھا! اب فرمان لکھ دو کہ میرے بعد ولید بن عبد الملک حکمراں ہو گا اور اُس کے بعد سُلیمان بن عبدالملک حکمراں ہوگا ۔ ’’ میں نے اِس حکم کے مطابق فرمان لکھ دیا ۔ چونکہ ولید بن عبدالملک کے بعد میں نے سلیمان بن عبد الملک کی سفارش کی تھی ۔اِسی لئے ولید بن عبدالملک مجھ سے ناراض تھا اور اِسی بنا پر اُسنے مجھے کوئی اہم خدمت نہیں سونپی ۔ 


حضرت سعید بن مسیب کا انکار


عبدالملک بن مروان نے جب ولید بن عبدالملک اور سلیمان بن عبدالملک کی ‘‘ولی عہدی’’ کی بیعت لینے کا اعلان تمام ‘‘سلطنت اُمیہ’’ میں کرادیا ۔ مدینۂ منورہ میں حضرت سعید بن مسیب نے ‘‘ولی عہدی’’ کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اب عبدالملک بن مروان نے مدینۂ منورہ کے گورنر ہشام بن اسماعیل مخزومی کو لکھا : ‘‘ تم ولید بن عبدالملک اور سلیمان بن عبدالملک کی ولی عہدی کے لئے لوگوں سے ‘‘حلف اطاعت’’ لے لو ۔’’ تمام لوگوں نے ان دونوں کے لئے وفاداری کا حلف اُٹھایا مگر حضرت سعید بن مسیب نے انکار کر دیا اور کہا: ‘‘ جب تک عبدالملک بن مروان زندہ ہے تب تک میں کسی اور شخص کے لئے ‘‘حلف وفاداری’’ نہیں اُٹھا سکتا ۔’’ ہشام بن اسماعیل نے انہیں خوب زد وکوب کیا اور ساٹھ کوڑے لگوائے اور انہیں ٹاٹ کے کپڑے پہنا کر مدینۂ منورہ میں اُس پہاڑی درے کی طرف جہاں سب کو سولی پر چڑھایا جاتا تھا لے چلے تو حضرت سعید بن مسیب کو یقین ہو گیا کہ یہ مجھے قتل کرنے لے جارہے ہیں ۔ مگر جب اُس مقام پر پہنچ گئے تو انہیں واپس پلٹا لایا گیا ۔اِس پر حضرت سعید بن مسیب نے فرمایا: ‘‘ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ یہ مجھے سولی چڑھانے نہیں لے جارہے ہیں تو میں ٹاٹ کے کپڑے ہرگز نہیں پہنتا ۔ مگر میں نے تو یہی خیال کیا تھا کہ چونکہ مجھے سولی پر چڑھانے کے لئے لے جارہے ہیں اِس لئے یہ کپڑے پہنا رہے ہیں۔ ’’عبدالملک بن مروان کو جب اِس واقعہ کی خبر ہوئی تو اُس نے کہا: ‘‘ اﷲ ہشام بن اسماعیل کا برا کرے! جب سعید بن مسیب نے ‘‘حلف وفاداری ’’اُٹھانے سے انکار کیا تھا تبھی اُسے قتل کر دیتا یا معاف کر دیتا۔’’


ا85 ھجری کا اختتام


ا85 ھجری کا اختتام ہوا تو پوری ‘‘سلطنت ِ اُمیہ’’ میں ولید بن عبدالملک اور سلیمان بن عبدالملک کی ‘‘ولی عہدی’’کے لئے ‘‘حلف وفاداری’’ اُٹھانے کا سلسلہ جاری تھا ۔ اِس سال ملک عراق اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر حجاج بن یوسف تھا ۔ خراسان کا گورنر قتیبہ بن مسلم تھا ۔ ملک مصر کا گورنر عبداﷲ بن عبدالملک تھا جسے عبدالعزیز بن مروان کے انتقال کے بعد گورنر بنا یا گیا۔ مدینۂ منورہ کا گورنر ہشام بن اسماعیل تھا اور اُسی نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔ 


ا85 ھجری میں انتقال کر نے والے چند اعیان


اِ س سال عبدالعزیز بن مروان کا انتقال ہوا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : عبدالعزیز بن مروان بن حکم بن ابی عاص بن اُمیہ بن عبد شمس مدینۂ منورہ میں پیدا ہوا تھا ۔ پھر اپنے والد مروان بن حکم کے ساتھ ملک شام آ گیا تھا ۔ عبدالملک بن مروان کے بعد یہی ‘‘ولی عہد’’ تھا ۔ اس کے والد مروان بن حکم نے اِسے ۶۵ ؁ ھجری میں ملک مصر کا گورنر بنایا تھا اور یہ اپنے انتقال تک ملک مصر کا گورنر رہا ۔ دمشق میں اِس کا گھر ‘‘دارلصوفیہ’’ کے نام سے مشہور تھا جو بعد میں ‘‘خانقاہ سماطیہ’’ کے نام سے معروف ہوا ۔ بعد میں یہ خانقاہ اُس کے بیٹے حضرت عُمر بن عبدالعزیز کو ملی جو بالآخر ‘‘صوفیا کی خانقاہ’’ میں تبدیل ہوگئی ۔ عبدالعزیز بن مروان نے اپنے باپ اور حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ اور عقبہ بن عامر اور حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے حدیث روایت کی ہے جو مسند احمد بن حنبل اور سنن ابو داؤد میں موجود ہے ۔ اِس سال خالد بن یزید بن معاویہ کا انتقال ہوا۔ یہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کا پوتا ہے ۔ یہ علوم و فنون اور کیمیا میں بہت ماہر تھا اور ساتھ ہی ایک بہت اچھا شاعر بھی تھا ۔ عبدا لملک بن مروان کے دربا میں اِسے ایک خاص مقام حاصل تھا ۔ 


ا86 ھجری :قتیبہ بن مسلم کا ترکوں پر حملہ


اِس سال 86 ھجری میں خراسان کے گورنر قُتیبہ بن مسلم نے ترکوں پر حملہ کیا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 86 ھجری میں حجاج بن یوسف کے خراسان پر مقرر کئے گورنر قُتیبہ بن مسلم نے ترکوں پر حملہ کیا اور اُن کے بہت سے علاقوں پر قبضہ کر نے کے ساتھ ساتھ دشمن کے بہت سے آدمیوں کو قیدی بھی بنایا ۔ اِس کے بعد وہ رُک گیا اور لشکر آگے بڑھ گیا ۔ جب حجاج بن یوسف کو اِس کی اطلاع ملی تو اُس نے خط لکھا اور اُسے ملامت کی :‘‘ جب تم دشمن کے علاقے پر یلغار کا ارادہ رکھتے ہو تو تم کو خود اُس وقت اپنے لشکر کے ‘‘مقدمۃ الجیش’’ یعنی اگلے دستہ میں رہنا چاہیئے اور جب تم واپسی کا ارادہ کرو تو تمہیں اُس وقت لشکر کے ‘‘ساقۃ الجیش’’ یعنی فوج کے پچھلے دستے میں ہونا چاہیئے تاکہ دشمن پیچھے سے حملہ کر کے فوج کو نقصان نہ پہنچا سکے۔ یہی طریقہ عمدہ ہے اور پہلے سے چلا آرہا ہے ۔ ’’ قیدیوں میں ایک برمکی (خالد بن برمک)کی بیوی بھی تھی ۔ اُس کو قُتیبہ بن مسلم نے اپنے بھائی عبداﷲ بن مسلم کو تحفہ میں دے دیا ۔ جس نے اُس نے مباشرت کی تو وہ حاملہ ہو گئی ۔ پھر قتیبہ بن مسلم نے اُس عورت پر احسان کیا اور اُس کے اُس کے شوہر کے حوالے کر دیا جبکہ وہ عبداﷲ بن مسلم کے بچے سے حاملہ ہو چکی تھی اور بچہ اُنہی کے پاس رہا ۔ جب وہ لوگ مسلمان ہوئے تو وہ اس کو اپنے ساتھ لے گئے اور یہ ‘‘سلطنت عباسیہ’’ کے دور میں ہواجس کا ذکر انشاء اﷲ آگے آئے گا۔ جب قتیبہ بن مسلم واپس لوٹا تو بلغاریہ کے دیہاتیوں نے بہت سے تحفوں کے ساتھ اُس کا خیر مقدم کیا ۔


یزید بن مہلب قید میں


اِ س سال حجاج بن یوسف نے یزید بن مہلب کو قید کر لیا ۔ اُسے خدشہ تھا کہ یزید بن مہلب اُس کی گورنری چھین لے گا اور خود گورنر بن جائے گا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: اِس سال 86 ھجری میں مسلمہ بن عبدالملک مے بلاد روم میں جنگ کی اور بہت سے رومیوں کو قتل کیا اور بہت سے رومیوں کو قیدی بنایا اور کافی مال غنیمت بھی حاصل کیا ۔ اِس حملہ میں ارض روم کے قلعہ بولق اور قلعہ اخرم پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا اور انہوں نے وہاں فوجی چوکی بنا لی ۔ اِس سال روم کے بادشاہ ‘‘اخرم لوری’’ کا انتقال ہوا۔ اِس سال حجاج بن یوسف نے یزید بن مہلب کو قید کر لیا ۔ یزید بن مہلب ایک اطاعت گزار شخص تھا اِس لئے اُس نے حجاج بن یوسف سے بغاوت نہیں کی بلکہ قید میں ہی رہنے کا پسند کیا ۔ 


ا86 ھجری : عبدالملک بن مروان کا انتقال


اِس سال میں عبدالملک بن مروان کا انتقال ہو گیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 86 ھجری میں عبدالملک بن مروان کا وسط شوال میں انتقال ہوگیا ۔ اُس نے لگ بھگ اکیس (21) سال تک حکومت کی ۔ اِن اکیس سال میں سے نو (9) سال تک عبدالملک بن مروان حضرت عبداﷲ بن زبیر سے لڑتا رہا اور اس دوران میں صرف ان کی ملک شام اور ملک مصرمیں حکومت تسلیم کی جاتی تھی ۔ 73 ھجری میں جب حجاج بن یوسف نے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو مکۂ مکرمہ میں شہید کیا تو پھر ملک حجاز اور ملک عراق و ایران میں بھی عبدالملک بن مروان کی حکومت تسلیم کی جانے لگی ۔ اِس طرح پوری مملکت اسلامیہ پر عبدالملک بن مروان نے تیرہ سال اور کچھ مہینے حکومت کی ۔ اس کی عُمر کے بارے میں اختلاف ہے ۔ ایک روایت کے مطابق اس کی عُمر ساٹھ سال ہوئی اور امام واقدی کے مطابق اٹھاون سال کی عُمر تھی ۔ 26 ھجری میں حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے دور ِ خلافت میں عبدالملک بن مروان مدینۂ منورہ میں پیدا ہوا ۔ اور جنگ دار میں جب اُس کے والد کے ساتھ شریک ہوا تو اُس کی عُمر دس سال تھی ۔ ایک اور بیان کے مطابق اس کی عُمر تریسٹھ سال تھی ۔ 


میں عبداﷲ بن زبیر سے بہتر ہوں


عبدالملک بن مروان اپنے آپ کو حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ سے بہتر سمجھتا تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ایک مرتبہ سلمہ بن زید بن وہب ملک شام میں عبدالملک بن مروان کے پاس آیا تو اُس نے پوچھا: ‘‘ کون سا زمانہ بہترین اور کون سے بادشاہ سب سے بہتر ہوئے ؟’’ سلمہ بن یزید نے کہا: ‘‘ بادشاہوں کا تو سب کا یہ حال ہے کہ یا وہ مذمت کرنے والے ہیں یا تعریف کرنے والے ۔ رہا زمانہ تو اس کی کیفیت یہ ہے کہ بعض اقوام کو عروج پر پہنچاتا ہے اور بعض اقوام کو قعر مذلت میں دھکیل دیتا ہے ۔ ہر شخص اہنے زمانے کی برائی کرتا ہے کیونکہ زمانہ انہیں بچے سے بوڑھا کردیتا ہے اور ہر نئی چیز کو پرانی کر دیتا ہے ۔ صرف ایک اُمید کے سوا زمانہ کی ہر چیز فانی ہے۔’’پھر ایک شعر کہا جس میں شاعر نے پوچھا کہ ‘‘تم کون ہو؟’’ ۔ یہ کہہ کر عبدالملک بن مروان نے کہا: ‘‘ میں نہیں سمجھتا کہ ہمارے مثل ذی عزت و منزلت خاندان کو کوئی شخص ‘‘تم کون ہو؟’’ کہہ کر خطاب کرے گا ۔ اِس وقت سوائے میرے اور کوئی شخص حکومت حاصل کرنے کی طاقت اور اہلیت نہیں رکھتا ہے ۔ اِس میں شک نہیں کہ (حضرت)عبداﷲ بن زبیر (رضی اﷲ عنہ) بڑا عابد و زاہد اور صوم و صلوٰۃ کا بہت سختی سے پابند تھا ۔ مگر اپنے بخل کی وجہ وہ ایک کامیاب حکمراں نہیں ہو سکا ۔’’


عبدالملک بن مروان کی نصیحت


اپنے آخری وقت میں عبدالملک بن مروان نے اپنے بیٹوں کو کچھ نصیحت کی ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: اپنے بیٹوں کی ‘‘ولی عہدی’’ کی بیعت لینے کے کچھ ہی دنوں بعد عبدالملک بن مروان کا انتقال ہو گیا۔ اپنے آخری وقت میں اُس نے اپنے بیٹوں کو یہ نصیحت کی :‘‘ میں تم کو اﷲ تعالیٰ سے ڈرتے رہنے کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ یہ بہترین لباس ہے اور نہایت مضبوط پناہ گاہ ہے ۔ تمہیں چاہیئے کہ تمہارے بڑے ، چھوٹوں پر رحم و الطاف سے پیش آئیں ۔ مسلمانوں کی رائے سے ہمیشہ موافقت کرنا کیونکہ یہ وہی دانت ہیں جس سے تم توڑتے ہو اور یہ وہی جبڑے ہیں جس سے تم چباتے ہو۔۔ حجاج بن یوسف کی عزت کرنا کیونکہ اس نے تمہارے لئے منبروں اور مقبروں کو روندا اور شہروں کو پامال کیا ہے اور تمہارے دشمنوں کو ذلیل و خوار کیا ہے ۔ تم لوگ ‘‘بن اُم بررہ’’ ہو جاؤ تاکہ تم کو بچھو ڈنک نہ مار سکے اور لڑائی میں ‘‘احرار’’ ہونا کیونکہ لڑائی موت کو قریب نہیں کرتی اور نیکی کے پہاڑ ہو جانا کیونکہ نیکی کا اجر ،نیکی کا خزانہ اورنیکی کا ذکر باقی رہ جاتا ہے ۔ اپنے احسانات کو عقلمندوں پر پھیلانا کیونکہ وہ اس کے مستحق ہیں اور اس کے شکر گذار ہوتے ہیں جو ان کی طرف محسن سے پہنچتا ہے ۔ مجرموں سے جرم نہ کرنے کا عہد و پیمان لینا پس وہ اگر اِس پر استقامت کریں تو کچھ تعرض نہ کرنا اور اگر پھر جرم کریں تو انتقام لینا ۔ ’’


باب نمبر 5 


ولید بن عبدالملک کا دورِ حکومت 


ا86 ھجری : ولید بن عبدالملک ‘‘سلطنت ِ اُمیہ’’ کا حکمراں


عبدالملک بن مروان کے انتقال کے بعد اُس کا بیٹا ولید بن عبدالملک ‘‘سلطنتِ اُمیہ’’ کا حکمراں بنا اور اُس کا ‘‘ولی عہد’’ اُس کا بھائی سلیمان بن عبدالملک بنا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال ۸۶ ؁ ھجری میں ولید بن عبدالملک مسلمانوں کا بادشاہ بنا ۔ عبدالملک بن مروان کو دمشق شہر کے ‘‘باب جابیہ’’ کے باہر دفن کیا گیا ۔ ولید بن عبدالملک اپنے باپ کو دفن کر کے مسجد میں آیا اور منبر پر چڑھا ۔ تمام مسلمان اُس کے پاس جمع ہو گئے اور اُس نے کہا: انا ﷲ وانا الیہ راجعون ۔امیر المومنین کی موت سے جو مصیبت ہم پر نازل ہوئی ہے اﷲ تعالیٰ اس میں ہماری مدد کرنے والا ہے اور تمام تعریفیں اُسی اﷲ کے لئے ہے جس نے ہمیں حکومت دے کو ہم پر اپنا سب سے بڑا احسان و انعام کیا ۔ اب آپ لوگ کھڑے ہوں اور بیعت کریں ۔ سب سے پہلے عبداﷲ بن ہمام سلولی نے بیعت کی اور اُس کے بعد باقی سب لوگوں نے کی۔ 


ولید بن عبدالملک کا پہلا خطبہ


جب مسلمانوں نے ولید بن عبدالملک کی بیعت کر کے اُسے اپنا بادشاہ تسلیم کر لیا تو وہ منبر پر کھڑا ہوا اور بادشاہ بننے کے بعد اپنا پہلا خطاب کیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ولید بن عبدالملک نے مناسب الفاظ میں حمد و ثناء کرنے کے بعد کہا: ‘‘ آپ لوگوں کو معلوم ہونا چاہیئے کہ جس شئے کو اﷲ نے آگے رکھا ہے اُسے کوئی پیچھے نہیں کر سکتا ہے اور جسے پیچھے کیا ہے کوئی آگے نہیں بڑھا سکتا ۔ ہر متنفس کے لئے اﷲ رب العالمین نے پہلے سے ہی موت کا فیصلہ کر دیا ہے اور اِس سے انبیاء علیہم السلام اور حاملین عرش بھی مستثنیٰ نہیں ہیں۔ہماری قوم کے سردار اور دوسرے عَالَم میں نیک بندوں کی منازل کی طرف سدھار گئے ہیں ۔ اُن کا طرز عمل اور ہر فعل اﷲ کے لئے ہوتا ہے ۔ جو شخص مخالفت اور بغاوت کرتا تو اُس سے سختی کرتے اور اچھے اور نیک لوگوں کے ساتھ ہمیشہ نرمی اور اخلاق سے پیش آتے ۔ ہمارے مقدس مذہب اسلام کے تمام احکام پر انہوں نے عمل کیا ، حج بیت اﷲ سے مشرف ہوئے ۔ خلافت اسلامیہ کی سرحدوں کی حفاظت کی ۔ اﷲ کے دشمنوں پر فوج کشی کی ۔ وہ نہ کمزور تھے نہ ضرورت سے زیادہ تھے ۔ آپ لوگوں کو چاہیئے کہ آپ لوگ وفادار رہیں اور جماعت کے نظام میں تسبیح کے دانوں کی طرح منسلک رہیں ۔ یہ خوب اچھی طرح سمجھ لیں تنہا شخص کے ساتھ شیطان لگا رہتا ہے ۔ جو شخص ہم پر اِس بات کو ظاہر کرے گا جو اُس کے دل میں ہے ہم اُس سے ویسا ہی سلوک کریں گے اور جو مخالفت کے جذبات دل ہی دل میں چور کی طرح چھپائے رکھے گا وہ اِس مرض میں ہلاک ہو جائے گا ۔ ’’ اِس کے بعد ولیدہ بن عبدالملک منبر سے اُتر آیا ۔علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : ولید بن عبدالملک نے مسلمانوں کے سامنے خطبہ دیا: ‘‘ اے لوگو! جس کو اﷲ تعالیٰ نے مؤخر کر دیا ہے اُس کا کوئی مقدم نہیں ہے اور جس کو اﷲ نے مقدم کر دیا ہے اُس کا کوئی مؤخر نہیں ہے ۔ بے شک موت اﷲ کے حکم اور اُس کے سابق علم میں تھی اور اس کو اُس نے انبیاء اور حاملین عرش کے لئے بھی لکھ دیا ہے ۔ عبدالملک بن مروان برابر کے مرتبہ پر پہنچ گیا اور اُس نے اُمت کا ولی ( حکمراں) ایسے شخص کو بنایا جس پر اﷲ تعالیٰ کی طرف سے یہ حق ہے کہ وہ مجروں پر سختی اور اہل حق و فضل پر نرمی کرے ۔ جو منازل ِ اسلام اﷲ تعالیٰ نے قائم کر دیئے ہیں اُن کو قائم رکھے اور حج خانۂ کعبہ اور سرحدوں پر جہاد اور اﷲ تعالیٰ کے دشمنوں پر حملے کرتے رہنے سے ان کو ظاہر کرے ۔ پس وہ نہ عاجز ہے اور نہ مفرط ہے ۔ اے لوگو! تم پر حکمراں کی اطاعت اور جماعت مسلمین سے انفاق کرنا فرض ہے کیونکہ منفرد کے ساتھ شیطان ہے ۔ اے لوگ! جو ہم سے سرکشی و خودرائی کرے گا تو ہم اُس کا سر توڑ دیں گے اور جو سکوت اختیار کرے گا وہ اپنے مرض میں آپ مر جائے گا۔ ’’ 


قُتیبہ بن مسلم کی فتوحات


خراسان کے گورنر قتیبہ بن مسلم نے سرحدی علاقوں پر جہاد جاری رکھا اور فتوحات حاصل کیں۔علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: 86 ھجری میں حجاج بن یوسف کی طرف سے قتیبہ بن مسلم گورنر بن کر خراسان میں پہنچا اور لشکریوں کا جائزہ لیکر اُن کو جہاد کی ترغیب دی اور جھٹ پٹ ایک لشکر مرتب کر کے جہاد کے لئے نکل کھڑا ہوا ۔ ‘‘مرو’’ میں صیغۂ جنگ پر ایسا بن عبداﷲ بن عمرو کو ، محکمۂ مال پر عثمان بن سعدی کو مامور کیا ۔ طالقان پہنچا تو دہقان بلخ ملنے کو آئے اور اُس کے ساتھ ہو لئے ۔ نہر عبور کیا تو بادشاہ صغانیاں تحائف و نذرانے لیکر حاضر ہوا ۔ چونکہ ملوک آخرون و سومان جو کہ اس کے قرب و جوار میں رہتے تھے اور بادشاہ صغانیاں کو تکلیفیں پہنچاتے تھے ۔ اِس وجہ سے اس نے بہ کمال رضا و رغبت اپنے ملک کو قتیبہ بن مسلم کے سپرد کر دیا ۔ اِس کے بعد قُتیبہ بن مسلم نے آخرون اور سومان ( بلاد طغارستان) کا قصد کیا ۔ ملوک آخرون و سومان نے جزیہ دے کر مصالحت کر لی ۔ اس جگہ قتیبہ بن مسلم اپنے بھائی صالح بن مسلم کو لشکر کا سپہ سالار بنا کر ‘‘مور’’ واپس آگیا اور صالح بن مسلم نے قتیبہ بن مسلم کی واپسی کے بعد کشان اور شت ( مضافات ِ فرغانہ) اور اخسکیت ( فرغانہ کا قدیم شہر) بہ زور شمشیر فتح کر لیا ۔ اِس معرکوں میں اُس کے ساتھ نصر بن یسار تھا جو نہاتے بے جگری سے لڑتا تھا ۔ 


ا86 ھجری کا اختتام


ا86 ھجری کا اختتام ہوا ۔ اِس سال کا سب سے بڑا حادثہ یہ رہا کہ عبد الملک بن مروان کی جگہ اُس کا بیٹا ‘‘سلطنت ِ اُمیہ’’ کا بادشاہ بنا ۔ ملک عراق اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر حجاج بن یوسف تھا ۔ ملک مصر کا گورنر عبداﷲ بن عبدالملک تھا ۔ خراسان کا گورنر قُتیبہ بن مسلم تھا ۔ مدینۂ منورہ یعنی ملک حجاز کا گورنر ہشام بن اسماعیل تھا اور اُسی نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔اِس سال ملک شام ، بصرہ اور واسط میں زبردست طاعون پھیلا جو ‘‘عورتوں کا طاعون’’ کہلایا کیونکہ اِس مرض کا پہلا شکار عورتیں ہوتی تھیں ۔ 


ا86 ھجری میں انتقال کرنے والے


اِس سال عبدالملک بن مروان کا انتقال ہوا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال ارطاۃ بن زفر کا انتقال ہوا ۔ یہ بہت بڑا شاعر تھا ۔ اِس سال مطرف بن عبداﷲ شخیر کا انتقال ہوا ۔ یہ کبار اور بزرگ تابعین میں سے ہیں اور حضرت عمران بن حصین رضی اﷲ عنہ کے شاگردوں میں سے ہیں ۔ آپ ‘‘مقبول الدعا’’ تھے اور فرمایا کرتے تھے :‘‘ کسی انسان کو عقل سے بہتر کوئی فضیلت بخشی نہیں گئی ہے اور لوگوں کو اُن کی فضیلتوں کے مطابق عقل دی گئی ہے ۔’’ آپ فرماتے تھے :‘‘ جس انسان کا ظاہر و باطن یکساں ہوتا ہے تو اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے یہ واقعی میرا سچا بندہ ہے ۔ آپ فرماتے تھے: ‘‘ جب کسی کی عیادت کے لئے جاؤ اور اُس کو اپنے لئے بھی دعا کرتے پاؤ تو سمجھ لو کہ اُس کی دعا اﷲ کی بارگاہ میں ضرور قبول ہو گی کیونکہ وہ ٹوٹ پھوٹ چکا ہوتا ہے ۔ اِس لئے وہ جب دعا کرے گا تو ‘‘رِقت ِ قلب’’ سے کرے گا جو مقبول ہو گی ۔’’


ا87 ھجری : حضرت عُمر بن عبدالعزیز مدینۂ منورہ کے گورنر


اِس سال 87 ھجری میں ولید بن عبدالملک نے ہشام بن اسماعیل کو معزول کر دیا اور حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ کو مدینۂ منورہ کا گورنر بنایا ۔ آپ رحمتہ اﷲ علیہ ولید بن عبدالملک کے چچا ذاد بھائی ہیں اور بہنوئی بھی ہیں۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: ولید بن

 عبدالملک بن مدینۂ منورہ کا گورنر حضرت عُمر بن عبدالعزیز کو بنایا ۔ آپ 62 ھجری میں پیدا ہوئے اور جب اِس منصب سے سرفراز کئے گئے تو عُمر پچیس 25 سال تھی ۔ آپ اپنے اہل و عیال کو لیکر مدینۂ منورہ آئے تو بیس یا تیس اُونٹوں پر سامان اور اُن کے اہل و عیال تھے ۔ آپ نے مروان بن حکم کے گھر پر قیام کیا ۔ آپ سے ملاقات کے لئے مدینۂ منورہ کے لوگ آئے اُن میں مدینۂ منورہ کے دس فقیہ حضرات بھی تھے ۔ اِن میں حضرت عروہ بن زبیر رضی اﷲ عنہ ، عبیداؤ بن عبداﷲ ، ابوبکر بن عبدالرحمن ، ابوبکر بن سلیمان بن خیژمہ ، قسم بن محمد ، عبداﷲ بن عُمر ، عبداﷲ بن عبداﷲ بن عُمر ، عبداﷲ بن عامر بن ربیعہ اور خارجہ بن زید تھے ۔ 


مدینۂ منورہ میں پہلا خطبہ


حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ نے مدینۂ منورہ میں مسلمانوں کے سامنے پہلا خطبہ دیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت عُمر بن عبد العزیز نے حمد و ثناء کے بعد فرمایا:‘‘ میں نے آپ حضرات کو ایسے کام کے لئے بلایا ہے جس پر آپ کو اجر ملے گا اور اِس معاملہ میں مشورہ دے کر آپ حق و صداقت کی اعانت کریں گے ۔ میں چاہتا ہوں کہ کوئی بات آپ سب کے یا آپ لوگوں میں سے جو صاحب اس وقت موجود ہوں اُن کی رائے اور مشورہ کے بغیر نہ کروں ۔ اگر آپ کسی کو دیکھیں کہ وہ ظلم و زیادتی کر رہا ہے یا میرے ماتحت عہدیداروں کے خلاف آپ کوئی شکایت سنیں تو اﷲ کی قسم! آپ مجھے فورا! مطلع کریں ۔’’ اِس کے بعد سب لوگ حضرت عُمر بن عبدالعزیز کو دعائے خیر دیتے ہوئے واپس ہوئے ۔ 


ناگواری سے حکم کی تعمیل


حضرت عُمر بن عبد العزیز رحمتہ اﷲ علیہ سے پہلے ہشام بن اسماعیل مدینۂ منورہ کا گورنر تھا ۔ ولید بن عبدالملک نے آپ رحمتہ اﷲ علیہ کو حکم دیا کہ ہشام بن اسماعیل کی تشہیر ( بے عزتی) کی جائے ۔ آپ رحمتہ اﷲ علیہ کو یہ کام گوارا نہیں تھا کہ کسی کی بھی بے عزتی کی جائے لیکن امیر المومنین کا حکم تھا اِسی لئے آپ رحمتہ اﷲ علیہ نے ناگواری سے اِس کی تعمیل کی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : چونکہ ولید بن عبدالملک کی رائے ہشام بن اسماعیل کے بارے میں بہت خراب تھی اِس لئے اُس نے حضرت عُمر بن عبدالعزیز کو لکھا کہ ہشام کی لوگوں میں تشہیر کی جائے ۔ حضرت سعید بن مسیب کو جب اِس واقعہ کا علم ہوا تو انہوں نے اپنے بیٹے اور اہل و عیال اور دوست و احباب کو بلا کر فرمایا: ‘‘ حالانکہ ہشام بن اسماعیل کی تشہیر کی جارہی ہے مگر خبردار تم میں سے کوئی شخص اُسے نہ چھیڑے اور نہ کوئی بری بات کہے جس سے اُس کو دلی تکلیف ہو ۔ کیونکہ میں اپنے اور اس کے معاملے کو اﷲ اور قرابت کی بنا پر چھوڑے دیتا ہوں ۔ حالانکہ میری رائے اُس کے متعلق اچھی نہیں ہے لیکن میں وہ کلمات ہرگز اپنی زبان سے ادا نہیں کروں گا جو اُس نے میرے لئے استعمال کئے تھے ۔ ’’حضرت علی اوسط بن حسین ( امام زین العابدین) رضی اﷲ عنہ کو بھی ہشام بن اسماعیل کے ہاتھوں سخت تکلیفیں برداشت کرنی پڑی تھیں ۔ جب ولید بن عبدالملک نے اُسے معزول کیا اور توہین اور تشہیر کا حکم دیا تو ہشام بن اسماعیل نے کہا: ‘‘ مجھے صرف حضرت علی اوسط بن حسین رضی اﷲ عنہ سے خوف ہے ۔’’ اُسے مروان بن حکم کے گھر کے پاس کھڑا کیا گیا تھا ۔ آپ رضی اﷲ عنہ اُس کے پاس سے گذرے مگر اِس سے پہلے ہی آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے طرفداروں سے فرما دیا تھا کہ بدتہذیبی کی کوئی بات ہشام بن اسماعیل سے نہیں کرنا ۔ جب آپ رضی اﷲ عنہ اُس کے پاس سے گذرے تو قرآن پاک کی ایک آیت تلاوت فرمائی :’’ترجمہ۔ اﷲ ہی سب سے بہتر جاننے والا ہے کہ وہ کس شخص کو اپنا پیامبر بناتا ہے ۔’’ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : ایک دن حضرت علی اوسط بن حسین رضی اﷲ گزر رہے تھے اور ہشام بن اسماعیل راستے میں کھڑا تھا ۔ آپ رضی اﷲ عنہ خاموشی سے اُس کے پاس سے گزر گئے تو اُس نے بلند آواز سے پکار کا کہا: ‘‘ اﷲ ہی کو معلوم ہے کون آدمی کس منصب کا اہل ہے۔’’ 

  باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!/

Saltanat e Umayya 44



 ا44 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 44


قتیبہ بن مسلم کا بیکند پر حملہ، اہل بیکند کی شکست اور صلح، اہل بیکند کی عہد شکنی اور مکمل شکست، بے شمار مال غنیمت، نو مشکث کی فتح، 87 ھجری کا اختتام، ا87 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان، 88 ھجری : قلعہ طوانیہ کی فتح، مسجد نبوی کی توسیع کا منصوبہ، مکانات کی ادائیگی، رومیوں اور ترکوں سے جنگ، بیت المعذور قائم کرنے کا حکم، بارش کے لئے دعا، 88 ھجری کا اختتام، 88 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان، ا89 ھجری : قلعہ سوریہ ، عموریہ ، ہرقلہ اور قمودیہ کی فتح


قتیبہ بن مسلم کا بیکند پر حملہ


اِس سال 87 ھجری میں قتیبہ بن مسلم نے بیکند پر حملہ کیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : نیزک سے صلح کرنے کے بعد قتیبہ بن مسلم دوسرے موسم جہاد تک ‘‘مرو’’ میں ہی مقیم رہا اور پھر 87 ھجری میں اُُس نے بیکند پر حملہ کیا ۔ ‘‘مرو’’ سے لشکر لیکر وہ ‘‘مرو الزور’’ آیا پھر ‘‘آمل’’ آیا ۔ اِس مقام سے اُس نے دریا عبور کر کے بیکند کا رُخ کیا ۔بخارا کے شہروں میں بیکند دریائے جیجوں کے قریب ترین واقع ہے ۔ یہ تاجروں کا شہر کہلاتا تھا اور بخارا کی سمت ریگستان سے پرے واقع ہے ۔ جب مسلمانوں کی فوج نے اُس کے بالکل قریب جا کر پڑاؤ ڈالا تو بیکند والوں نے اہل صغد اور دوسرے اپنے آس پاس کے لوگوں سے اعانت طلب کی ۔ اِس درخواست پر زبردست امدادی فوجیں بیکند کی امداد کے لئے پہنچ گئیں ۔ انہوں نے مسلمانوں کے رسل و رسائل کے راستہ کا محدود کر دیا ۔ اب یہ حالت ہو گئی کہ نہ قتیبہ بن مسلم کا کوئی قاصد اس حلقہ سے باہر جا سکتا تھا اور نہ اُس کے پاس کوئی قاصد پہنچ سکتا تھا ۔ اِس طرح دو مہینے تک اُسے کوئی خبر نہیں معلوم ہو سکی اور نہ حجاج بن یوسف کو اُس کی کوئی خبر معلوم ہو سکی ۔حجاج بن یوسف کو سخت تشویش ہوئی اور اُسے قدرتی طور پر مسلمانوں کی فوج کی تباہی کا خطرہ محسوس ہونے لگا ۔ اُس نے تمام مساجد میں دعا کرنے کا حکم دیا اور تمام شہروں میں بھی دعا کرنے کے احکام جاری کر دیئے اور اُس کی فوج کی یہ حالت تھی کہ روزآنہ دشمن سے برسر پیکار رہتی تھی ۔ 


اہل بیکند کی شکست اور صلح


قتیبہ بن مسلم نے اچانک اہل بیکند پر زبردست حملہ کیا اور فتح حاصل کی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : قتیبہ بن مسلم کا ایک عجمی مخبر تھا اور اُس کا نام تنذر تھا ۔ اہل بخارا نے اُسے بہت کچھ رشوت دے کر اپنے ساتھ ملا لیا اور اُس نے کہا: ‘‘ کسی ترکیب سے تُو قتیبہ بن مسلم کو اُس کی جگہ سے پیچھے ہٹا دے ۔ تنذر آیا اور قتیبہ بن مسلم سے اکیلے میں ملنے کو کہا مگر اُس نے ضرار بن حصین کو اپنے پاس بٹھائے رکھا ۔ تنذر نے کہا: ‘‘ حجاج بن یوسف معزول کر دیا گیا ہے اِس لئے آپ یہاں سے واپس ‘‘مرو’’ چلے جائیں۔’’قتیبہ بن مسلم نے تنذر کو قتل کر دیا اور ضرار بن حصین سے کہا: ‘‘ اب تمہارے اور میرے سوا کوئی بھی اِس خبر سے واقف نہیں ہے ۔ میں اﷲ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر یہ بات موجودہ جنگ کے اختتام تک کسی سے بھی میں نے سنی تو تمہیں قتل کر ڈالوں گا ۔اِسی لئے تم اپنی زبان پر مہر لگا لو کیونکہ اِس خبر کے عام ہونے سے تمام لوگوں میں بد دلی پھیل جائے گی ۔’’ اِس کے بعد قتیبہ بن مسلم نے اپنے لشکر کو حکم دیا کہ وہ دشمن پر حملہ کر دیں ۔ قتیبہ بن مسلم خود لشکر کے ہر حصہ میں جاتا تھا اور دشمنوں سے لڑتا ہوا اپنے ساتھیوں کو جہاد پر اُبھارتا تھا ۔ زبردست جنگ ہونے لگی اور مسلمانوں کی تلواروں نے دشمنوں کے گلوں کو ناپنا شروع کر دیا ۔ اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں پر صبر و ثبات و استقلال نازل فرمایا ۔ غروب آفتاب تک لڑائی ہوئی ۔ پھر اﷲ تعالیٰ نے دشمنوں کے مونڈھے پشت پر سے مسلمانوں کے سپرد کردیئے اور دشمن شکست کھا کر شہر کی طرف بھاگے ۔ مسلمانوں نے اُن کا ایسا تعاقب کی کہ شہر میں گھسنے ہی نہیں دیا ۔ کافر منتشر ہو گئے اور مسلمانوں نے جس طرح چاہا اُن کو قتل کیا اور جسے چاہا گرفتار کر لیا ۔ بہت کم شہر میں پناہ لے سکے ۔ قتیبہ بن مسلم نے سفر مینا والوں کو حکم دیا کہ شہر کی فصیل تباہ کر دی جائے ۔ اِس پر کافروں نے صلح کی درخواست دی جو قتیبہ بن مسلم نے قبول کر لی اور بنو قتیبہ کے ایک شخص کو وہاں گورنر مقرر کر دیا ۔ 


اہل بیکند کی عہد شکنی اور مکمل شکست


صلح کر لینے کے بعد قتیبہ بن مسلم اپنے گورنر کا مقرر کر کے اپنا لشکر لیکر واپس ہوا لیکن اہل بیکند نے عہد شکنی کی تو اُسے واپس جا کر پھر سے لڑنا پڑا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکتے ہیں: اب قتیبہ بن مسلم اپنے لشکر کے ساتھ واپس ہوا ۔ ابھی ایک یا دو منزل ہی آیا ہو گا اور بیکند سے صرف پانچ فرسخ کے فاصلے پر تھا کہ اہل بیکند نے عہد شکنی کی اور مسلمانوں کے گورنر اور اُس کے مختصر لشکر کو قتل کر دیا ۔ قتیبہ بن مسلم کو اِس بات کی اطلاع ملی تو وہ واپس پلٹا ۔ اہل بیکند شہر میں قلعہ بند ہو گئے ۔ ایک مہینے تک قتیبہ بن مسلم حملہ کرتا رہا ۔ پھر اُس نے سفر مینا والوں کو حکم دیا کہ شہر کا حصار ختم اور تباہ کر دیا جائے ۔ انہوں نے فصیل پر لکڑیوں سے پاڑ باندھنا شروع کر دی ۔ قتیبہ بن مسلم کا ارادہ تھا کہ جب پاڑ مکمل طور سے بندھ جائے تو اُس وقت اس میں آگ لگا دی جائے اور اِس طرح فصیل منہدم ہو جائے گی ۔ مگر اس کے سفر مینا والے کام ختم کرتے اُس سے پہلے یہ فصیل گر گئی اور اُس کے نیچے دب کر چالیس آدمی ہلاک ہو گئے ۔ اب پھر اہل بیکند نے صلح کی درخواست کی لیکن قتیبہ بن مسلم نے انکار کر دیا اور اپنا حملہ جاری رکھا ۔ آخر کار اُس نے بیکند کو تلوار کے ذریعے فتح کر لیا اور شہر کے اندر داخل ہو گیا ۔ شہر میں جتنے جنگجو تھے سب کو قتل کر دیا اور باقی سب کو قیدی بنا لیا ۔ 


بے شمار مال غنیمت


قتیبہ بن مسلم نے بیکند فتح کر لیا اور شہر میں داخل ہوا تو بے شمار مال و دولت ہاتھ لگا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : قیدیوں میں ایک کانا بھی تھا اُسی نے ترکوں کو مسلمانوں کے خلاف ‘‘عہد شکنی’’ کرنے پر اُبھارا تھا ۔ اُس نے قتیبہ بن مسلم سے کہا: ‘‘ میں اپنی جان کا فدیہ دینے کو تیار ہوں ۔’’ قتیبہ کے ایک کمانڈر نے کہا: ‘‘ کتنا دو گے ؟’’اُس نے کہا: ‘‘ پانچ ہزار چینی ریشمی تھان ،جس کے ہر تھان کی قیمت دوہزار درہم ہے ۔ ’’ لوگوں نے کہا: ‘‘ فدیہ لینے سے مسلمانوں کی مالی حالت مضبوط ہو گی اور اب اِسے موقع نہیں ملے گا کہ یہ پھر ایسی حرکت کرے ۔اِس لئے فدیہ لینے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔’’ مگر قتیبہ بن مسلم نے درخواست نامنظور کر دی اور کہا: ‘‘ میں نہیں چاہتا کہ اب اِس کا وجود آئندہ کسی موقع پر بھی مسلمانوں کے لئے موجب خطرہ بنے ۔۔ لہٰذا اِسے قتل کر دینا چاہیئے ۔’’ پھر اسے قتل کر دیا ۔ بیکند کی فتح میں مسلمانوں کو بے شمار سونے چاندی کے برتن ملے ۔ قتیبہ بن مسلم نے مال غنیمت کی نگرانی اور تقسیم کے لئے عبداﷲ بن والان عددی کو جسے قتیبہ بن مسلم ‘‘امین بن امین’’ کہا کرتا تھا اور ایسا بن جبیس باہلی کو مقرر کر دیا ۔ ان دونوں نے جس قدر سونے چاندی کے ظروف اور بت تھے اُن سب کو گلا دیا اور قتیبہ بن مسلم کے پاس لے آئے ۔ اِس کے علاوہ بیکن میں مسلمانوں کو اتنا سارا مال غینمت ہاتھ آیاکہ اِس قدر مال غنیمت اِس مقام سے انہیں خراسان میں کبھی نہیں ملا تھا ۔اِس فتح کے بعد قُتیبہ بن مسلم ‘‘مرو’’ واپس آگیا ۔


نو مشکث کی فتح


اِس فتح سے مسلمانوں کی جنگی حالت بہت بہتر ہوگئی ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : مسلمانوں کی مالی حالت اب بہت بہتر ہو گئی تھی اور انہوں نے خوب ہتھیار اور گھوڑے خرید لئے ۔ ان کے لئے دور دور سے لوگ سواری کے جانور لائے اور ہر مسلمان یہی چاہتا تھا کہ سب سے عمدہ اور خوب صورت گھوڑا اور ہتھیار میں خریدوں ۔ اِس سے ہتھیاروں کی قیمت بڑھ گئی اور ایک نیزہ ستر درہم میں ملنے لگا ۔ سرکاری ہتھیاروں کے ذخائر میں بہت سارا ہتھیار اور اسلحہ اور دوسرے ضروری سامان تھے ۔ قتیبہ بن مسلم نے حجاج بن یوسف کو لکھا :‘‘ اگر آپ اجازت دیں تو میں یہ ہتھیار اور فوجی سامان فوج کو دے دوں ۔’’ حجاج بن یوسف نے اجازت دے دی ۔ قتیبہ بن مسلم نے تمام جنگی سامانِ ضروریات اور اسلحہ نکلوائے اور لوگوں میں تقسیم کر دیئے ۔ اب فوج مکمل طور سے کیل کانٹے سے لیس ہو گئی تھی ۔ موسم ِ بہار میں قتیبہ بن مسلم نے اپنی فوج کو جمع کر کے کہا: ‘‘ میں چاہتا ہوں کہ آپ لوگوں کو جہاد کے لئے ایسے وقت لے جاؤں جب کہ زاد راہ کے اُٹھانے کی دقت نہ پڑے اور موسم سرما سے پہلے واپس لے آؤں۔’’ اِس کے بعد قتیبہ بن مسلم ایک نہایت آراستہ و پیراستہ فوج کے ساتھ جس کے گھوڑے نہایت حسین و خوب صورت تھے اور چمکتے ہوئے ہتھیاروں سے مسلح جہاد کے لئے روانہ ہوا ۔ پہلے ‘‘آمل’’ آیا پھر ‘‘زم’’سے دریائے جیجوں کو عبور کر کے بخارا کے علاقے میں داخل ہوا اور شہر ‘‘نو مشکث’’ پر جو بخارا کا شہر ہے دھاو بول دیا ۔ شہر والوں نے صلح کر لی ۔ 


ا87 ھجری کا اختتام


ا87 ھجری کا اختتام ہوا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال کے اختتام پر حجاج بن یوسف ملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر تھا ۔ عبداﷲ بن عبدالملک ملک مصر کا گورنر تھا ۔ خراسان کا

 گورنر قتیبہ بن مسلم تھا اور ملک حجاز یعنی مدینۂ منورہ کے گورنر حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ تھے اور انہوں نے ہی مسلمانوں کو اِس سال حج کرایا ۔ابوبکر بن حزم مدینۂ منورہ کے قاضی تھے ۔اِس سال حجاج بن یوسف نے جراح بن عبداﷲ کو بصرہ کا گورنر بنایا تھا ۔ عبداﷲ بن اذیینہ بصرہ کے قاضی تھے ۔ کوفہ کے جنگی معاملات جری بن عبداﷲ بجلی کے سپرد تھے ۔ ابوبکر بن ابی موسیٰ کوفہ کے قاضی تھے ۔


ا87 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان


اِس سال 87 ھجری میں حضرت عتبہ بن عبدالسلمی رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔ علامہ عمادلدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عتبہ بن عبدالسلمی رضی اﷲ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں ۔ حمص سے آئے تھے ۔روایت ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہ غزوۂ بنو قریظہ کے وقت موجود تھے ۔ حضرت عرباض فرماتے ہیں :‘‘ مجھ سے حضرت عتبہ رضی اﷲ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ انہوں نے مجھ سے ایک سال پہلے اسلام قبول کیا تھا ۔’’ امام واقدی وغیرہ کا کہنا ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہ کا انتقال 87 ھجری میں ہوا لیکن بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ 90 ھجری میں ہوا ۔ واﷲ و اعلم۔ ابو سعید اعرابی نے کہا: ‘‘ حضرت عتبہ بن عبدالسلمی ‘‘اصحاب ِ صفہ’’ میں سے ہیں ۔ اِس سال حضرت مقدام بن معدی کرب رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔ آپ رضی اﷲ عنہ جلیل القدر صحابہ ہیں ۔ آپ رضی اﷲ عنہ سے احادیث بھی مروی ہیں اور آپ رضی اﷲ عنہ سے تابعین نے بھی احادیث بیان کی ہیں ۔ اِس سال حضرت ابو اسامہ باہلی کا انتقال ہوا ۔ اِن کا اصلی نام صدی بن عجلان ہے ۔ یہ بھی حمص سے آئے تھے ۔ اِن سے بھی احادیث مروی ہیں ۔‘‘ تلقین ا لمیت بعد الدفن’’ والی حدیث کے راوی ہیں ۔ اِس کو امام طبرانی نے دعا میں بیان کیا ہے ۔ اِس سال قبیصہ بن ذؤیب کا انتقال ہوا۔ آپ ‘‘عام الفتح’’ میں پیدا ہوئے اور ان کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس دعا کے لئے لایا گیا ۔ آپ نے کثیر صحابہ رضی اﷲ عنہم سے روایت کی ہیں ۔‘‘یوم النحر’’ میں ان کی ایک آنکھ ضائع ہو گئی تھی ۔ آپ مدینۂ منورہ کے فقہاء میں شمار ہوتے تھے ۔ عبدالملک بن مروان کے دربار میں بہت بڑا رتبہ تھا ۔ دمشق میں انتقال ہوا۔ اِس سال عروہ بن مغیرہ کا انتقال ہوا ۔ یہ حجاج بن یوسف کے عہد میں کوفہ کے گورنر تھے ۔ ‘‘ مرو کے قاضی بھی تھے ۔ آپ پہلے شخص ہیں جس نے قرآن پاک میں نقطے لگائے ۔ آپ بڑے عالم و فاضل تھے ۔ اِس سال حضرت شریح بن حارث کا انتقال ہوا ۔ خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے آپ کو کوفہ کا قاضی مقرر کیا تھا ، جہاں انہوں نے پینسٹھ سال تک ‘‘عہدۂ قضا’’( سُپریم کورٹ کے جج) کے فرائض بحسن و خوبی انجام دیئے ۔ 


ا88 ھجری : قلعہ طوانیہ کی فتح


ہر سال رومی سرحدوں پرمسلمانوں اور رومیوں کے درمیان جنگ ہوتی تھی ۔ اِس سال مسلمانوں نے رومی قلعہ ‘‘طوانیہ’’ فتح کر لیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 88 ھجری میں مسلمانوں نے رومیوں کا قلعہ طوانیہ فتح کیا اور موسم سرما وہیں بسر کیا ۔ مسلمہ بن عبدالملک اور عباس بن ولید بن عبدالملک کی سپہ سالاری میں اسلامی فوج نے اِس قلعہ کو فتح کیا ۔ پہلے دن کی لڑائی میں مسلمانوں نے دشمنوں کو شکست دی ۔ رومی اپنے گرجاؤں اور خانقاہوں میں جا چھپے مگر پلٹ کر آئے اور اب کی مرتبہ مسلمان پسپا ہوگئے اور اِس بد حواسی سے بھاگے کہ معلوم ہوتا تھا کہ اب کسی طرح جنگ کی حالت درست نہں ہوسکتی ۔ صرف چند مجاہد عباس بن ولید کے پاس رہ گئے تھے اِن میں ابن محریز جمعی بھی تھا ۔ عباس بن ولید نے اُس سے کہا : ‘‘ کہاں ہیں قرآن پر ایمان رکھنے والے جو جنت کے خوہش مند ہیں؟’’ ابن محریز جمعی نے کہا: ‘‘ آپ انہیں آواز دے کر بلایئے وہ سب آپ کے پاس آئیں گے ۔’’ عباس بن ولید نے ‘‘یا اہل القرآن’’ بلند آواز سے پکارا تو سب مسلمان پلٹ پڑے ۔ اب کیا تھا اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کے دلوں اور قدموں کو جما دیا اور کفا ر رومیوں کو شکست ہوئی اور مسلمان قلعہ میں داخل ہو گئے ۔ ولید بن عبدالملک نے مدینۂ منورہ والوں کو حکم دیا کہ مدینۂ منورہ سے دوہزار کی فوج جہاد کے لئے تیار کی جائے ۔ مدینۂ منورہ کے مالدار لوگوں نے یہ ترکیب کی کہ اپنی جگہ دوسروں کو اُجرت دے کر بھیجنا شروع کر دیا اور بجائے دوہزار کے پندرہ سو تو عباس بن ولید اور مسلمہ بن عبدالملک کے قلعہ طوانیہ کی فتح میں شامل ہوئے تھے باقی پانچ سو پیچھے رہ گئے تھے اور موسم گرما کی مہم میں شریک نہیں ہوئے ۔ 


مسجد نبوی کی توسیع کا منصوبہ


اِس سال 88 ھجری میں ولید بن عبدالملک نے حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ کو مسجد نبوی سے متصل ‘‘ازواج ِ مطہرات’’ رضی اﷲ عنہنَّ کے مکانات کا انہدام کرنے اور مسجد نبوی کی توسیع کرنے کا حکم دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 88 ھجری میں ولید بن عبدالملک کا قاصد مدینۂ منورہ میں اِس حال میں داخل ہوا کہ اُس کا عمامہ اس طرح بے تکا سا بندھا ہوا تھا کہ دو تین پیچ اُس نے باندھ رکھے تھے ۔ اِس پر لوگ کہنے لگے کہ معلوم نہیں کہ قاصد کیا پیغام لیکر آیا ہے اور چہ مگوئیاں ہونے لگیں۔قاصد سیدھا حضرت عُمر بن عبدالعزیز کے پاس پہنچا اور انہیں ولید بن عبدالملک کا خط دیا جس میں لکھا تھا: ‘‘ ازواج مطہرات رضی اﷲ عنہنَّ ’’ کے حجرے بھی مسجد نبوی میں شامل کر دیئے جائیں۔اِس کے علاوہ مسجد نبوی کے پیچھے اور آس پاس جو مکانات ہیں وہ بھی خرید لئے جائیں تاکہ مسجد نبوی کا طول دو سو گز اور عرض دو سو گز ہو جائے اور اگر ممکن ہو تو مسجد کے سامنے کا حصہ بھی کچھ آگے بڑھا دیا جائے اور آپ ایسا کر سکتے ہیں کیونکہ مسجد کے سامنے آپ کے ننھیالی رشتہ داروں کے مکانات واقع ہیں وہ آپ کی مخالفت نہیں کریں ۔ ’’ 


مکانات کی ادائیگی


ولید بن عبدالملک نے مدینۂ منورہ کے گورنر حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ کے سامنے مسجد نبوی کی توسیع کا منصوبہ پیش کیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: ولید بن عبدالملک نے خط میں آگے لکھا:‘‘ اگر ان میں سے کوئی شخص مکان دینے سے انکار کرے تو آپ شہر والوں سے ان مکانات کی صحیح قیمت کا اندازہ کر ا کے نقد قیمت اُن کے حوالے کردیجیئے گا اور پھر مکانات کا منہدم کرادیجیئے گا ۔ اِس کے لئے خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ اور خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی نظیریں بھی موجود ہیں کہ انہوں نے پہلے بھی ایسا کیا ہے ۔ ’’ان مکانات کے مالک اس وقت حضرت عمِر بن عبدالعزیز کے پاس ہی بیٹھے ہوئے تھے ۔ آپ نے انہیں ولید بن عبدالملک کا خط پڑھ کر سنایا ۔ وہ لوگ قیمت لیکر مکانات دینے کے لئے تیار ہو گئے ۔ حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے قیمت اُن کے حوالے کر دی ۔اب آپ نے ازواج مطہرات رضی اﷲ عنہنَِّ کے حجروں کو مہندم کرا کر مسجد نبوی کی بنیاد شروع کر دی ۔ کچھ روز مدینۂ منورہ کے کاریگر وں نے کام کیا ۔پھر وہ معمار آگئے جنہیں ولید بن عبدالملک نے مسجد نبوی کی تعمیر کے لئے بھیجا تھا ۔


رومیوں اور ترکوں سے جنگ


اِس سال 88 ھجری میں مسلمہ بن عبدالملک نے رومیوں سے جہاد کیا اور تین قلعے قسطنطین ، غزالہ اور آخرم فتح کئے اور تقریباً ایک ہزار عرب مستعربہ قتل کر ڈالے اور اُن کے بال بچوں کو لونڈی اور غلام بنا لیا اور اُن کے تمام مال و متاع پر قبضہ کر لیا ۔ اِس سال قتیبہ بن مسلم نے بشار بن مسلم کو ‘‘مرو’’ میں اپنا نائب بنا کر نومشکث پر فوج کشی کی ۔ باشندگان نومشکث نے قتیبہ بن مسلم کا استقبال کیا اور اُس سے صلح کر لی ۔ یہاں تک کہ قتیبہ رامیثنہ گیا ۔ اُس شہر کے باشندوں نے بھی صلح کر لی اور قتیبہ بن مسلم ‘‘مرو’’ واپس آگیا ۔ راستے میں ترکوں نے جن کے ساتھ اہل صغد اور اہل فرغانہ بھی کثیر تعداد میں تھے مسلمانوں پر پیچھے سے حملہ کر دیا ۔ فوج کے پچھلے حصے پر عبدالرحمن باہلی تھا اور اُس کی فوج اور قتیبہ کی فوج کے درمیان ایک میل کا فاصلہ تھا ۔ ترکوں نے اچانک حملہ کردیا جب ترک بالکل قریب پہنچ گئے تو عبدالرحمن باہلی نے قاصد کے ذریعے فوراً قتیبہ بن مسلم کو خطرے کی اطلاع دی ۔ اتنے میں ترکوں نے حملہ کر دیا اور جنگ شروع ہو گئی ۔ قاصد نے قتیبہ بن مسلم کو اِس سانحہ کی اطلاع دی اور وہ فوراً اپنی فوج لیکر پلٹا ۔ عبدالرحمن باہلی بھی برابر ترکوں کے مقابلے پر ڈٹا ہوا تھا ۔ اب یہ حالت ہوگئی تھی کہ ترکوں نے

 مسلمانوں کے چھکے چھڑا دیئے تھے مگر جب عبدالرحمن باہلی کی فوج نے دیکھا کہ قتیبہ بن مسلم اپنی فوج کے ساتھ پہنچ گیا ہے تو اُن کے حوصلے بلند ہو گئے اور ان میں ایک نئی تازہ روح پیدا ہوگئی اور وہ نہایت ثابت قدمی سے ظہر تک لڑتے رہے ۔ اِس معرکہ میں نیزک نے جو قتیبہ بن مسلم کے ساتھ تھا خوب بہادری دکھائی ۔ پھر اﷲ تعالیٰ نے ترکوں کو شکست دی اور اُن کی جمیعت منتشر ہو گئی ۔ عبدالرحمن باہلی کہتے ہیں :‘‘ اِن حملہ آور ترکوں کا سپہ سالار نغفور حصین کا بھانجا کور مغانون ترکی تھا اور ترکوں کی فوج دو لاکھ تھی مگر اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی ۔ ’’ قتیبہ بن مسلم ترمذ ہوتے ہوئے دریائے جیجوں کو پار کر کے بلخ سے ہوتا ہوا ‘‘مرو’’ پہنچا۔ 


بیت المعذور قائم کرنے کا حکم


اِس سال 88 ھجری میں ولید بن عبدالملک نے پوری مملکت اسلامیہ میں حکم دیا کہ جذام کے مریضوں کے لئے ‘‘بیت المعذور’’ ہر شہر میں قائم کیا جائے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ولید بن عبدالملک نے حضرت عُمر بن عبدالعزیز کو حکم دیا کہ تمام پہاڑی دشوار گذار راستے آسان کر دیئے جائیں اور مدینۂ منورہ میں کنویں کھدوائے جائیں ۔ اِسی قسم کا حکم ولید بن عبد الملک نے دوسرے صوبوں میں بھی بھیجا ۔ ایسا ہی حکم خالد بن عبداﷲ کو بھی موصول ہوا اور ولید بن عبدالملک نے پوری مملکت اسلامیہ میں حکم جاری کیا کہ جس قدر جذامی مریض ہیں وہ شا ہراہوں میں لوگوں کے سامنے نہ پھریں بلکہ اُن کے لئے ایک ‘‘بیت المعذور’’ بنا دیا جائے جہاں باقاعدہ طور پر تمام ضروریات ِ زندگی مہیا کرائی جاتی رہے ۔ اِس کے علاوہ ولید بن عبدالملک نے حضرت عُمر بن عبدالعزیز کو حکم دیا کہ ایک فوارہ بنایا جائے ۔( یہ فوارہ آج کل(محمد جریر طبری کے وقت ،لگ بھگ تین سو ھجری کے وقت) یزید بن عبدالملک کے مکان کے قریب واقع ہے)آپ نے اسے بنوا دیا اور اس میں سے پانی جاری ہو گیا ۔ جب ولید بن عبدالملک حج کرنے کے لئے آیا تو پانی کے اس ذخیرے اور فوارہ کو دیکھ کر بہت خوش ہوا اور حکم دیا کہ یہاں پہرہ بٹھا دیا جائے اور نمازیوں کو اِس میں سے پانی دیا جایا کرے ۔ اِس حکم کی تعمیل کر دی گئی ۔ 


بارش کے لئے دعا


اِس سال 88 ھجری میں حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ نے بارش کے لئے اﷲ تعالیٰ سے دعا کی اور اﷲ تعالیٰ نے قبول فرمائی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 88 ھجری میں حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔صالح بن کیسان بیان کرتے ہیں:‘‘ آپ حج کرنے کے لئے قریشیوں کے ساتھ مدینۂ منورہ سے روانہ ہوئے ۔ آپ نے اِن اصحاب کو اخراجات کے لئے بہت سا روپیہ اور سواری کے لئے سواریاں بھیج دیں تھیں ۔ اِن تمام اصحاب نے آپ کے ساتھ ‘‘ذی الحلیفہ’’ سے احرام باندھا۔ حضرت عُمر بن عبدالعزیز اپنے ساتھ قربانی کے جانور بھی لے گئے تھے ۔ جب تمام جماعت مقام ‘‘تنعیم’’ پہنچی تو قریش کے کچھ لوگ جن میں ابی میلکہ بھی آپ سے ملنے آئے اور بیان کیا کہ مکۂ مکرمہ میں پانی کی سخت قلت ہے اور ہمیں خوف ہے کہ حاجیوں کو اس وجہ سے سخت تکلیف اُٹھانا پڑے گی اور پینے کے لئے بھی پانی میسر نہیں ہو گا ۔ اُس وقت مطلع بالکل صاف تھا ۔ حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے فرمایا: ‘‘ آؤ ہم اﷲ سے دعا کرتے ہیں۔’’ اِس کے بعد آپ نے اور دوسرے تمام لوگوں نے نہایت عاجزی اور خلوص سے دیر تک اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کی ۔ اﷲ تعالیٰ نے اُن کی دعاؤں کو قبول کیا اور اﷲ کی قسم! اُس روز ہم بارش کی حالت میں بیت اﷲ پہنچے ۔ رات تک موسلا دھار مینہ برسا اور جھڑی لگ گئی ۔ وادئ بطحا میں اِس قدر سیلاب آیا کہ مکۂ مکرمہ والے خائف ہو گئے ۔ عرفہ ، منیٰ اور مذدلفہ میں بھی اِس قدر بارش ہوئی کہ مشکل سے لوگ عبور کر کے جاسکتے تھے اور اِس سال مکۂ مکرمہ میں خوب سر سبزی اور نباتات میں روئیدگی ہوئی ۔


ا88 ھجری کا اختتام


اِس سال 88 ھجری میں حجاج بن یوسف ملک عراق و ایران اور مشرقی ممالک کا گورنر تھا ۔ خراسان کا گورنر قتیبہ بن مسلم تھا ۔ ملک مصر کا گورنر عبداﷲ بن مروان تھا اور مدینہ منورہ کے گورنر حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ تھے اور آپ نے ہی مسلمانوں کوحج کرایا۔ 


ا88 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان


اِس سال 88 ھجری میں جن کا انتقال ہوا اُن میں سے چند اعیان و اشراف یہ ہیں۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: اِس سال حضرت عبداﷲ بن بسرمازنی رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔ یہ بھی اپنے والد محترم کی طرح صحابی ہیں ۔ حمص میں رہتے تھے ۔اِن سے تابعین کی ایک جماعت نے بھی روایت کی ہے ۔امام واقدی کے مطابق آپ رضی اﷲ عنہ کا انتقال 88 ھجری میں چورانوے (94) سال کی عُمر میں انتقال ہوا ۔ بعض لوگوں نے اِس پر یہ اضافہ کیا ہے کہ ملک شام میں انتقال کرنے والے آپ رضی اﷲ عنہ آخری صحابی ہیں۔ اِس سال عبداﷲ بن ابی اوفی رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔ آپ رضی اﷲ عنہ جلیل القدر صحابی ہونے کے ساتھ ساتھ کوفہ میں انتقال کرنے والے آخری صحابی ہیں۔ امام بخاری کے مطابق آپ رضی اﷲ عنہ کا انتقال 88 ھجری یا 89 ھجری میں ہوا لیکن امام واقدی کے علاوہ متعدد مورخین کے مطابق 86 ھجری میں ہوا ۔آپ رضی اﷲ عنہ کی عُمر سو برس سے زیادہ تھی ۔ اِس سال ہشام بن اسماعیل کا انتقال ہوا ۔ یہ عبدالملک بن مروان کا سسر تھا اور کئی سال مدینۂ منورہ کا گورنر بھی رہا تھا ۔ پھر ولید بن عبدالملک نے معزول کر دیا تو یہ دمشق آگیا تھا اور وہیں انتقال ہوا۔ اِس سال عمیر بن حکیم شامی کا انتقال ہوا ۔ ملک شام میں اِس کے علاوہ کوئی شخص نہیں تھا جو کھلے عام حجاج بن یوسف کی برائی بیان کرتا تھا ۔ 


ا89 ھجری : قلعہ سوریہ ، عموریہ ، ہرقلہ اور قمودیہ کی فتح


اِس سال 89 ھجری میں مسلمانوں نے رومیوں کے کئی قلعوں کو فتح کیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: مسلمہ بن عبدالملک کی زیر قیادت اِس سال 89 ھجری میں مسلمانوں نے قلعہ سوریہ فتح کیا ۔ امام واقدی بیان کرتے ہیں کہ اِس سال مسلمہ بن عبدالملک بن رومیوں سے جہاد کے لئے اُن کے علاقہ میں داخل ہوئے اُن کے ہمراہ رباس بن ولید بھی تھا ۔ دشمن کے علاقہ میں دونوں ساتھ میں داخل ہوئے مگر پھر علیحدہ علیحدہ ہو گئے ۔ مسلمہ بن عبدالملک نے قلعہ سوریہ فتح کیا اور عباس بن ولید نے قلعہ اذرولیہ فتح کیا ۔ رومیوں کی ایک فوج نے ان کی مزاحمت کی مگر انہیں شکست دی ۔ دوسرے مورخین کے مطابق مسلمہ بن عبدالملک نے قلعہ عموریہ پر حملہ کرنے کے لئے پیش قدمی کی ۔ یہاں رومیوں کی ایک زبردست فوج سے ان کا مقابلہ ہوا مگر اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی اور مسلمہ بن عبدالملک نے قلعہ جات ہرقلہ اور قمودیہ فتح کر لئے اور عباس بن ولید نے موسم گرما کی مہم لے کر بدندوں کی جانب سے کافروں کے علاقہ میں جہاد کے لئے بڑھاتھا ۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

بدھ، 28 اگست، 2024

Saltanat e Umayya part 45



د45 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 45


بخارا پر حملہ، 89 ھجری کا اختتام، 90 ھجری دیبل (کراچی) کی فتح، راجہ داہر کا خاتمہ، ملتان کی فتح، بخارا میں جنگ، مسلمانوں کی فتح، نیزک کی بد عہدی، طالقان کی فتح، نیزک کا قتل، آل مہلب پر حجاج بن یوسف کا ظلم، آل مہلب کا فرار، حجاج بن یوسف کی پریشانی اور خوف، آل مہلب سلیمان بن عبدالملک کی امان میں




بخارا پر حملہ


اِس سال 89 ھجری میں قتیبہ بن مسلم نے دوبارہ بخارا پر حملہ کیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال قتیبہ بن مسلم نے بخارا کے علاقے میں جہاد کیا اور رامیثنہ فتح کیا ۔ جب قتیبہ بن مسلم رامثینہ فتح کر کے بلخ کے راستے واپس ہوا تو ‘‘فاریاب’’ کے مقام پر اُسے حجاج بن یوسف کا خط ملا ۔ جس میں حکم دیا گیا تھا کہ تم ‘‘وردان ِخداہ’’ میں جا کر جہاد کرو۔ قتیبہ بن مسلم 89 ھجری میں دوبارہ ‘‘مرو سے جہاد کے لئے روانہ ہوا ۔پہلے ‘‘زم’’ آیا اور یہاں سے دریا عبور کر کے ریگستان کے راستے میں اہل صغد اور اہل کش اور اہل نسف نے اُس کا مقابلہ کیا ۔ قتیبہ بن مسلم اُن سے لڑتے ہوئے اور شکست دیتا ہوا بخارا پہنچا ۔ وردان خداہ’’ کی داہنی سمت سے گذر کر مقام ‘‘خرقانتہ’’ زیرین میں پڑاؤ ڈالا ۔ اِس مقام پر دشمن کی ایک زبردست جمیعت سے اُس کی جنگ ہوئی ۔ دو دن اور دو راتیں مسلسل معرکۂ جدال و قتال گرام رہا مگر آخر کار اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو مظفر و منصور کیا ۔ جب اِس کے علاوہ قتیبہ بن مسلم نے بخارا کے بادشاہ سے جنگ کی مگر اُس کا کچھ نہیں بگاڑ سکا اور ‘‘مرو’’ واپس آگیا اور حجاج بن یوسف کو تمام واقعات کی اطلاع

 دی ۔ اِس پر حجاج بن یوسف نے لکھا :‘‘ بخارا کے بادشاہ کی تصویر میرے پاس بھیج دو ۔ ’’ قتیبہ بن مسلم نے اس کی تصویر بھیج دی ۔ حجاج بن یوسف نے قتیبہ بن مسلم کو لکھا : ‘‘ تم اپنی خلوت میں جاؤ اور خلوص ِ نیت سے اپنے اﷲ کے سامنے توبہ کرو اور پھر ان سمتوں اور راستوں سے بخارا پر حملہ کرواور اہل کش کے خلاف کوئی چال چلو اور نسف کو تباہ کردو اور وردان کو لوٹ لو اور حفاظت کی تمام تدبیریں ہمیشہ اختیار کرتے رہنا اور مجھے چھوٹی چھوٹی مہموں کے بکھیڑوں سے نجات دو۔ ’’علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: اِس سال ۸۹ ؁ ھجری میں قتیبہ بن مسلم نے ترکوں سے جنگ کی اور وہ آذربائیجان کی ‘‘باب الابواب’’ تک پہنچ گیا اور بہت سے شہر اور قلعے فتح کر لئے ۔


ا89 ھجری کا اختتام


ا89 ھجری کا اختتام ہوا ۔ اِس سال ولید بن عبدالملک نے خالد بن عبداﷲ قسری کو مکۂ مکرمہ کا گورنر بنایا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اِس سال خالد بن عبداﷲ قسری کو مکۂ مکرمہ کا گورنر بنایا گیا ۔ ایک مرتبہ خالد بن عبداﷲ مکۂ مکرمہ میں منبر پر بیٹھا تقریر کر رہا تھا :‘‘ بتاؤ! خلیفہ کا مرتبہ بڑا ہے جو کسی کا قائم مقام ہوتا ہے یا رسول کا مرتبہ جو محض پیامبر ہوتا ہے ۔ اﷲ کی قسم! تم لوگ خلیفہ کی فضیلت سے ناآشنا ہو مگر میں بتاتا ہوں کہ حضرت ابراہیم خلیل اﷲ علیہ السلام نے اﷲ تعالیٰ سے پانی مانگا تو اﷲ نے انہیں کھارے پانی کا کنواں عطا فرمایا۔ مگر تمہارے خلیفہ ( ولید بن عبدالملک) نے جب اﷲ سے پانی مانگا تو دیکھو کیسا شیریں اور خوش ذائقہ پانی دیا گیا ہے ۔ ’’ یہ ایک کنواں تھا جسے ولید بن عبدالملک نے طولیٰ اور حجون کی وادی میں کھدوایا تھا اور یہاں سے پانی لے جا کر زمزم کے حوض کے پاس چمڑے کے حوض میں رکھا جاتا تھا تاکہ لوگوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ اس کنویں کا پانی اچھا ہے یا زمزم کا ۔ مگر بعد میں وہ کنواں سوکھ گیا اور کنواں بھی منہدم ہو کر بند ہو گیااور کسی کو معلوم بھی نہیں کہ وہ کنواں کہاں تھا ۔ اِس سال حجاج بن یوسف ملک عراق اور ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر تھا ۔ خراسان کا گورنر قتیبہ بن مسلم تھا ۔ ملک مصر کا گورنر عبداﷲ بن عبدالملک تھا اور مدینۂ منورہ کے گورنر حضرت عُمر بن عبدالعزیز تھے اور آپ نے ہی مسلمانوں کو حج کروایا۔ 


ا90 ھجری دیبل (کراچی) کی فتح


اِ س سال 90 ھجری میں محمد بن قاسم نے سندھ ( پہلے کا مغربی ہندستان اور آج کل کا پاکستان) پر حملہ کیا اور کئی سال تک سندھ میں مصروف رہا۔سندھ کے راجا داہر نے مسلمانوں کا ایک پانی کا جہاز ‘‘دیبل’’ ( کراچی کے ساحل پر پکڑ لیا اور مسلمانوں کو قتل کر کے تمام سامان لوٹ لیا ۔ سری لنکا سے ایک مسلمان لڑکی نے حجاج بن یوسف سے فریاد اور اُس نے محمد بن قاسم کو چھ ہزار کا لشکر دیکر روانہ کیا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: حجاج بن یوسف نے سرحد سندھ پر حملہ کرنے کے لئے محمد بن قاسم کو چھ ہزار مجاہدین کا لشکر دے کر بھیجا۔ محمد بن قاسم لشکر لیکر ‘‘مکران’’ پہنچا اور تھوڑے روز قیام کر کے فیروز پور کا رُخ کیا ۔ اہل فیروز پور مقابلہ پر آئے ۔زبردست جنگ ہوئی اور محمد بن قاسم نے بزور ِ شمشیر فتح حاصل کرتے ہوئے ‘‘ارمایل’’ کے دروازے پر پہنچ کر جنگ کا جھنڈا گاڑ دیا ۔ارمایل کے حکمراں نے سخت جنگ کی لیکن اُسے شکست ہوئی اور محمد بن قاسم اُسے فتح کر کے قبضہ کر لیا اور دیبل (کراچی) پر چڑھائی کی اور جمعہ کے دن پہنچ کر محاصرہ کر لیا ۔ شہر دیبل (کراچی) کے وسط میں ایک بہت بڑا رفیع الشان بت خانہ(مندر) تھا جس پر سرخ رنگ کا حریر کا پھریرہ لہرا رہا تھا جو تمام شہر پر اپنا سایہ کئے ہوئے تھے ۔ محمد بن قاسم نے شہر پر منجنیق سے سنگ باری ( پتھروں کی بارش) شروع کی تو اتفاق سے پہلے وہ جھنڈا ہی ٹوٹ کر گرا جس کی وجہ سے اہل دیبل کو اپنی شکست کا یقین ہو گیا ۔ وہ لوگ شہر سے باہر آکرصف آراء ہوئے اور جنگ شروع کر دی ۔ مسلمانوں نے زبردست حنلہ کیا اور کافروں کو شکست دی ۔ اہل دیبل بھاگ کر شہر میں گھس گئے اور شہر کا دروازہ بند کر کے ‘‘قلعہ بند’’ ہو گئے ۔ محمد بن قاسم نے ‘‘شہر پناہ’’ تو ڑوڑ ڈالا اور چار ہزار مجاہدین شہر میں گھس گئے ۔ تین دن تک شہر کے اندر جنگ ہوتی رہی اور دیبل کا حکمراں شہر چھوڑ کر فرار ہو گیا اور دیبل پر

 مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا ۔ 


راجہ داہر کا خاتمہ


دیبل یعنی آج کل کے کراچی کو فتح کرنے کے بعد محمد بن قاسم نے وہاں ایک مسجد بنوائی اور پھر لشکر لیکر آگے بڑھا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : دیبل میں فتح حاصل کرنے کے بعد محمد بن قاسم نے یہاں جامع مسجد بنوائی اور دو چار روز قیام کرنے کے بعد نیروز کی طرف کوچ کیا ۔چونکہ اہل نیروز نے پہلے ہی خط و کتابت کے ذریعے سے صلح کر لی تھی اِس لئے جب انہیں معلوم ہوا کہ محمد بن قاسم اُن کی طرف آرہا ہے تو وہ خود رسد اور غلہ وغیرہ لیکر ملنے آئے اور نہایت عزت و احترام سے اپنے شہر میں لے گئے اور پورے لشکر کی دعوت کی ۔ محمد بن قاسم یہاں سے آگے بڑھا اور ملک سندھ ( آج کل کا پاکستان) کے شہروں پر دھاوا بول دیا جو آسانی سے فتح ہوتے چلے گئے ۔ یہاں تک کہ محمد بن قاسم اپنے لشکر کے ساتھ ‘‘ہران’’ تک پہنچ گیا ۔ سندھ کے راجہ ( داہر بن صعصعہ) نے بھی اپنا لشکر جمع کیا اور مقابلے پر آیا ۔ مسلمان مجاہدین نے دریائے سندھ پر پل باندھا اور نہایت اطمینان و استقلال سے عبور کر کے داہر کی فوج پر حملہ آور ہوگئے ۔ داہر ایک ہاتھی پر سوار تھا اور اُس کے اِرد گرد سینکڑوں ہاتھی کالے کالے پہاڑ کی طرح کھڑے ہوئے تھے ۔ جن میں تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد ایک خفیف سی جنبش ہوتی تھی اور جس طرف وہ رُخ کرتے تھے تو صف کی صف درہم برہم ہو جاتی تھی ۔ مسلمان مجاہدین نے اِن ہاتھیوں پر تیروں کی بارش کر دی اور ہاتھوں کے سوار گر گر کر مرنے لگے اور ہاتھیوں کا جھنڈ بھاگ کھڑا ہوا۔ داہر مجبوراً پیدل ہو کر لڑتا ہوا مسلمان مجاہدین کی طرف بڑھا ۔ ایک مسلمان مجاید نے لپک کر ایک ہی وار میں اُس کی زندگی کا خاتمہ کر دیا ۔ اپنے راجہ کے مرتے ہی ہندستان کے کافر شکست کھا کر بھاگنے لگے اور مسلمان مجاہدین انہیں گاجر مولی کی طرح کاٹنے لگے ۔


ملتان کی فتح


محمد بن قاسم نے راجہ داہر کے لشکر کو بری طرح سے شکست دی اور راجہ داہر کو قتل کر دیا ۔ کافر اپنی جان بچا کر بھاگے تو محمد بن قاسم بھی اپنا لشکر لیکر اُن کے پیچھے روانہ ہوا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : مسلمانوں نے بڑے بڑے سورما پہلوانوں اور جنگ آوروں کو قتل کی اور مال غنیمت جمع کر لیا ۔ راجہ داہر کی بیوی اپنے خاص ساتھیوں کے ساتھ بھاگ کو شہر ‘‘رار’’ میں جا چھپی ۔ پھر جب محمد بن قاسم نے اپنے لشکر کے ساتھ ‘‘رار’’ کی طرف رُخ کیا تو اُن نے گرفتاری کے خوف سے اپنے آپ کو مع اپنے خاص ساتھیوں کے جلا کر خاک کر ڈالا ۔ مسلمانوں نے پہنچ کر شہر رار پر قبضہ کر لیا ۔ کافروں کے شکست خوردہ لشکر نے شہر ‘‘برہمتا باد قدیم’’ میں جا کر پناہ لی جو ‘‘منصورہ’’ سے دو فرسنگ کے فاصلے پر تھا ۔ منصورہ میں اُن دنوں ایک گنجان کیلے کا باغ تھا ۔جسے مسلمانوں نے اپنے قبضے میں لے لیا ۔ اِس کے بعد ایک کے بعد ایک کر کے سندھ کے بقیہ شہروں پر بھی قبضہ کر کے ‘‘نہر سلسل’’ کو جس سے اہل ملقاء ( ملتان) سیراب ہوتے تھے کاٹ کر دوسری طرف بہا دیا اور ‘‘ملتان’’ کا محاصرہ کر لیا ۔ جنگ ہوئی اور مسلمان مجاہدین نے نہایت بہادری اور مردانگی سے ‘‘ملتان’’ کو بھی فتح کر لیا اور جنگ میں لڑنے والے مجاوروں اور پجاریوں کو جن کی تعداد چھ ہزار تھی قتل کر دیا ۔ بت خانے (مندر)میں ایک کمرہ جو دس زراع لمبا اور آٹھ زراع چوڑا تھا اُسے سونے سے بھرا ہوا پایا ۔ ملتان کا بت خانہ (مندر) بہت ہی بڑا اور عظیم الشان تھا ۔ یہاں دوسرے شہروں سے بڑے بڑے چڑھاوے آتے تھے ۔ سال میں ایک مرتبہ لوگ اِس کی زیارت کو آتے تھے اور سر اور داڑھی منڈواتے تھے ۔ ملتان کے فتح ہوتے ہی سندھ کا تمام علاقہ محمد بن قاسم کے قبضہ میں آگیا ۔ مال غنیمت سے جو خمس ( پانچواں حصہ) روانہ کیا گیا تھا وہ ایک کروڑ بیس لاکھ تھا اور ہندوستان لشکر بھیجنے میں جو خرچ ہوا تھا یہ اُس کا نصف تھا ۔ 


نوٹ


محمد بن قاسم سندھ یعنی ہندستان میں کئی سال تک جنگ میں مصروف رہا ۔ یہاں ہم نے انتہائی مختصراً ذکر پیش کر دیا ۔ انشاء اﷲ مفصل

 ذکر ہم اپنی کتاب ‘‘ہندستان میں اسلام اور مسلمان ’’میں پیش کریں گے ۔ یہاں ہم نے مختصراً اِس لئے ذکر کر دیا تاکہ تسلسل برقرار رہے ۔ 


بخارا میں جنگ


اِس سال 90 ھجری میں قتیبہ بن مسلم پھر بخارا کی طرف لشکر لیکر روانہ ہوا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اِس سے پیشتر ہم لکھ آئے ہیں کہ 89 ھجری میں قتیبہ بن مسلم نے بخارا پر حملہ کیا تھا اور بے نیل و مرام واپس آگیا تھا ۔ 90 ھجری میں حجاج بن یوسف نے ناکامی کے ساتھ لوٹ آنے پر ملامت کی اور دوبارہ جہاد پر جانے کا حکم دیا ۔ قتیبہ بن مسلم اپنی فوج لیکر باذغیس کے حکمراں نیزک طرخان کو ساتھ لیکر بخارا کی طرف روانہ ہوا۔ بخارا کا بادشاہ(وردان اخذاہ) نے اپنے گرد و نواح کے سلاطین صغد و ترک سے مدد مانگی اور جب وہ لوگ اُسے مسلمانوں سے بچانے کے لئے آگئے تو یہ مسلمانوں کے مقابلے پر آیا ۔ جنگ شروع ہوئی تو مسلمانوں کے لشکر کے ‘‘مقدمۃ الجیش’’ پر ‘‘ازد’’ کمانڈر تھا ۔ اتفاق سے اُس کو شکست ہوئی تو وہ ایسا بدحواس ہو کر بھاگا کہ مسلمانوں کے لشکر کے پڑاؤ سے بھی آگے بڑھ گیا لیکن پھر سنبھل کر حملہ کی غرض سے لوٹا ۔ اِس حملے میں مسلمانوں کے لشکر کے میمنہ اور میسرہ نے بھی ساتھ دیا اور آخر کار ترک مجبور ہو کر اپنے مورچے کی طرف لوٹے ۔ 


مسلمانوں کی فتح


مسلمانوں اور ترکوں میں زبردست جنگ چل رہی تھی اور فریقین بڑھ چڑھ کر حملے کر رہے تھے ۔آخر کار اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد کی اور فتح عطا فرمائی ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اِس کے بعد بنو تمیم نے ایسی بے جگری سے حملہ کیا کہ اُن میں اور ترکوں میں امتیاز باقی نہیں رہا ۔ تھوڑی دیر بعد گرد پھٹی تو معلوم ہوا کہ بنو تمیم نے ترکوں کے مورچوں پر قبضہ کر لیا ہے ۔ مسلمانوں اور ترکوں کے درمیان ایک نہر حائل تھی جس کو عبور کرنے کی جرأت بنو تمیم کے علاوہ اور کسی نے نہیں کی ۔ پس جب بنو تمیم نے ترکوں کو اُن کے مورچوں سے ہٹا دیا اور نہر کو بھی عبور کر گئے تو اُن کی دیکھا دیکھی تمام مسلمان مجاہدین نے بھی نہر عبور کر کے ترکوں پر نہایت تیزی سے حملہ کیا اور خونریزی کا بازار گرم کر دیا ۔ ترک خاقان اور اُس کا لڑکا زخمی ہوا اور ہزاروں ترک قتل ہوئے ۔ اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح نصیب کی اور قتیبہ بن مسلم نے فتح کی بشارت حجاج بن یوسف کو لکھ بھیجی ۔ 


نیزک کی بد عہدی


مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی تو شکست خوردہ حکمراں نے صلح کی درخواست کی جو قتیبہ بن مسلم نے قبول کر لی لیکن نیزک نے بد عہدی کی ۔علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: شکست کے بعد صغد کا حکمراں طرخون اپنے دو سواروں کے ساتھ مسلمانوں کے لشکر میں آیا اور صلح کی درخواست پیش کی اور کہا کہ وہ ہر سال زر جزیہ ادا کرتا رہے گا ۔ قتیبہ بن مسلم نے اِسے منظور کیا اور عہدنامہ لکھ کر دے دیا ۔ اِس کے بعد اپنے لشکر کو لیکر واپس ہوا اور ساتھ میں نیزک بھی تھا ۔ نیزک کو قتیبہ بن مسلم کی کثیر فتوحات سے خطرہ پیدا ہوگیا تھا اور راستے میں اُس نے اجازت لے لی اور طخارستان کی طرف روانہ ہو گیا اور نہایت تیزی سے مسافت طے کرنے لگا ۔ اِس کے بعد قتیبہ بن مسلم نے مغیرہ بن عبداﷲ کو بھیجا کہ وہ نیزک کو گرفتار کر کے لائے لیکن وہ ناکام رہا اور طخارستان پہنچ کر نیزک دوسرے بادشاہوں سے اِس سلسلے میں ملاقات کرنے لگا کہ وہ سب ملکر قتیبہ بن مسلم کا مقابلہ کریں اور اُسے شکست دیں ۔ اُس کے ساتھ اصبہند بادشاہ بلخ و باذان بادشاہ مرزور و بادشاہ طالقان فاریاب و جورجان وغیرہ ہو گئے اور انہوں نے آپس میں قتیبہ بن مسلم سے جنگ کرنے کا عہد و پیمان کر لیا ۔انہوں نے کابل کے بادشاہ کو بھی خط و کتابت کر کے اور مال و اسباب بھیج کر اپنا ہمدرد بنا لیا اور بہ وقت ضرورت و اضطرار مدد دینے کا اقرار کر لیا ۔ 


طالقان کی فتح


تمام بادشاہوں نے آپس میں ایکدوسرے کی مدد کرنے کا وعدہ کر لیا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : نیزک طخارستان کے بادشاہ جیفونہ کے پاس قیام پذیر ہوا اور حکمت سے اُس کو گرفتار کر کے قتیبہ بن مسلم کے مقرر کردہ گورنر کو شہر سے باہر نکال دیا ۔ قتیبہ بن مسلم کو یہ خبر موسم ِ سرما سے پہلے ملی جبکہ مسلمان مجاہدین اپنے اپنے شہروں میں واپس چلے گئے تھے ۔ مگر پھر بھی پُرجوش دل کو یہ خبر سننے کے بعد چین نہیں آیا اور اُس نے اُسی وقت اپنے بھائی عبدالرحمن بن مسلم کو بارہ ہزار کا لشکر دے کر بروقان کی طرف روانہ کیا اور کسی سے اپنا خیال ظاہر کئے بغیر وہیں قیام پذیر رہنے کا حکم دیا ۔ یہ بھی کہا کہ موسم سرما کے ختم ہونے کا انتظار کرنا اور جب سردیاں ختم ہوں تو فوراً طخارستان پر حملہ کر دینا اور میں تمہارے قریب ہی رہوں گا ۔ جیسے ہی موسم سرما ختم ہوا تو قتیبہ بن مسلم نے فوجیں نیشاپور وغیرہ روانہ کیں جنہوں نے ‘‘طالقان’’ پر پہنچ کر حملہ کر دیا اور فتح کر لیا ۔ فتح حاصل کرنے کے بعد بلوائیوں اور رہزنوں کو گرفتار کر کے چار فرسنگ تک ایک سلسلہ میں سولی دے دی اور اپنے بھائی محمد بن مسلم کو گورنر مقرر کر کے فاریاب کا رخ کیا ۔ فاریاب کا بادشاہ یہ خبر پاکر حاضر خدمت ہوا اور اطاعت قبول کر لی ۔ قتیبہ بن مسلم اُس کو بحال رکھ کر جرجان کی طرف بڑھا ۔ اہل جرجان نے اطاعت قبول کر لی اور وہاں کا بادشاہ پہاڑوں میں بھاگ گیا ۔ قتیبہ بن مسلم نے عامر بن مالک حماثی کو نائب بنا کر بلخ پر حملہ کیا ۔ اہل بلخ نے بھی اطاعت قبول کر لی ۔ 


نیزک کا قتل


نیزک نے جب دیکھا کہ قتیبہ بن مسلم دونوں طرف سے حملہ آور ہو رہا ہے تو وہ بھاگ نکلا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : قتیبہ بن مسلم کا بھائی عبدالرحمن بن مسلم نیزک کے تعاقب میں چلا جارہا تھا ۔ نیزک پہاڑوں سے اُتر کر بغلان میں آگیا اور اپنے سپاہیوں کو ایک تنگ و تاریک گھاٹی میں چھپا دیا ۔ جس کا راستہ مسلمانوں کو معلوم نہیں تھا اور باقی اپنا مال و اسباب گھاٹی کے دوسری طرف جو قلعہ تھا اُس میں رکھ دیا ۔ ایک مدت تک قتیبہ بن مسلم اِس گھاٹی میں ٹھہرا ہوا لڑتا رہا اور کوئی رہبر نہیں ملتا تھا جو صحیح راستہ بتا دے ۔ یہاں تک کہ ایک عجمی مرد نے راستہ بتا دیا جہاں سے مسلمانوں کا لشکر سرنگ کھود کر قلعہ میں گھس گیا ۔ اکثر قلعہ والے مارے گئے جو باقی رہے وہ بھاگ گئے ۔ اِس کے بعد مسلمانوں نے سنجان پر چڑھائی کی اور اپنا مال و اسباب کابل کے بادشاہ کے پاس بھیج دیا ۔ قتیبہ بن مسلم نے یہ خبر پاکر نیزک کا تعاقب کیا ۔ نیزک نہایت تیزی سے وادئ فرغانہ طے کر کے ‘‘گرز’’ میں قلعہ بندی کر لی ۔ ‘‘گرز’’ کا ایک ہی راستہ تھا اور وہ بے حد دشوار گذار تھا جس کو گھوڑے اور خچر بہت مشکل سے طے کر سکتے تھے ۔ قتیبہ دو مہینے تک محاصرہ کئے رہا ۔ یہاں تک کہ نیزک کے پاس جو کچھ کھانے پینے کا سامان تھا وہ ختم ہو گیا اور اُس کے سپاہی چیچک میں مبتلا ہو گئے ۔ آخر کار بڑی مشکل سے نیزک قتیبہ بن مسلم کے قبضے میں آیا اور اُس نے اُسے قتل کر کے اُس کا سر حجاج بن یوسف کے پاس بھیج دیا جس نے اُسے ولید بن عبدالملک کے پاس بھیج دیا ۔ قتیبہ بن مسلم نے طخارستان کے بادشاہ جیفونہ جس کو نیزک نے قید میں رکھا تھا آزاد کر دیا ۔ 


آل مہلب پر حجاج بن یوسف کا ظلم


حجاج بن یوسف نے یزید بن مہلب کو خراسان کی گورنری سے معزول کر کے اپنے پاس بلایا اور گرفتار کر کے قید کر لیا ۔ حالانکہ لوگوں نے یزید بن مہلب کو مشورہ دیا تھا کہ حجاج بن یوسف سے بغاوت کر دو لیکن یزید بن مہلب نے کہا تھا کہ حجاج بن یوسف کے ہمارے خاندان پر بہت احسانات ہیں اور میرے والد نے ہمیں وفاداری سکھائی ہے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : چونکہ فارس کے تقریباً تمام علاقہ پر کردوں نے لوٹ مار کر رکھی تھی ۔ اِس لئے اُن کی سرکوبی کے لئے ایک مہم بھیجنے کے لئے حجاج بن یوسف کوفہ سے رستقباذ آیا ۔ یزید بن مہلب اور اُس کے بھائیوں مفضل اور عبدالملک کو بھی قید سے نکال کر اپنے ساتھ لے آیا ۔ اپنے لشکر میں ہی انہیں رکھا اور اُن کے چاروں طرف خندق کھدوادی تاکہ یہ لوگ بھاگ نہ پائیں اور اپنے حجرے کے قریب ہی ایک چھوٹے سے خیمے میں انہیں قید کر دیا اور شامیوں کا پہرہ اُن پر بٹھا دیا ۔ حجاج بن یوسف نے اُن بھائیوں پر ساٹھ لاکھ درہم جرمانہ کر دیا

 تھا اور طرح طرح کی تکلیفیں انہیں دیتا تھا مگر یزید بن مہلب نہایت ثابت قدمی سے ان تمام مصائب کو برداشت کرتا تھا اور اس کی ثابت قدمی سے حجاج بن یوسف اور زیادہ چڑ جاتا تھا ۔ یزید بن مہلب کی پینڈلی پر ایک جنگ میں تیر لگا تھا ۔ کسی نے حجاج بن یوسف سے کہا: ‘‘ یزید بن مہلب کی پنڈلی پر مار جائے تو وہ چیخے گا ۔’’ حجاج بن یوسف نے ایسا ہی کیا تو یزید بن مہلب کی چیخیں نکلنے لگیں ۔ چیخیں سن کر حجاج بن یوسف کی بیوی ہند بنت مہلب جو یزید بن مہلب کی بہن تھی وہ آگئی اور بھائی کی طرف سے بولنے لگی تو حجاج بن یوسف نے اُسے طلاق دے دی ۔ 


آل مہلب کا فرار


یزید بن مہلب نے جب سمجھ لیا کہ حجاج بن یوسف اُس کے ساتھ بالکل مروت نہیں کرے گا تو اُس نے اپنے بھائیوں کے ساتھ فرار کا منصوبہ بنایا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حجاج بن یوسف نے آل مہلب پر جرمانہ عائد کر دیا اور وہ تھوڑا تھوڑا کر کے ادا کرنے لگے ۔ مگر اِس کے ساتھ ہی فرار کی فکر سے بھی غافل نہیں رہے ۔ انہوں نے مروان بن مہلب کو جو بصرہ میں تھا لکھا کہ ہمارے لئے گھوڑے سدھائے جائیں اور لوگوں پر ظاہر کیا جائے کہ فروخت کرنے کے لئے تیار کئے جارہے ہیں مگر ان کی اتنی قیمت مانگی جائے کہ کوئی نہ لے سکے ۔ہم اگر کسی طرح اس قید سے فرار ہوسکے تو پھر یہی گھوڑے ہمارے کام آئیں گے ۔ مروان بن مہلب نے اِس تجویز پر عمل کیا ۔حبیب بن مہلب بھی بصرہ میں تھا اور اُس پر بھی اسی طرح سختیاں کی جا رہی تھیں۔ایک دن یزید بن مہلب نے اپنے محافظین کے لئے کھانا پکوایا ۔انہیں خوب کھلایا اور شراب پلائی وہ سب کھانے پینے میں مشغول تھے ۔ ادھر یزید نے باورچی کے کپڑے پہنے داڑھی پر ایک سفید داڑھی لگا لی اور قید سے نکلا ۔ کسی سپاہی نے اُسے دیکھ کر کہا: ‘‘ یہ تو یزید کی چال معلوم ہوتی ہے ۔’’ مگر چونکہ رات تھی اور جب آکر سفید داڑھی کو دیکھا تو اُسے چھوڑ کر واپس چلا گیا اور بولا: ‘‘ یہ تو کوئی پیر فرتوت ہے ۔’’ مفضل بن مہلب بھی نکل آیا اور اُسے بھی کوئی پہچان نہیں سکا ۔ یہ دونوں اُن کشتیوں کے پاس پہنچے جو بطائح سے پہلے اُن کے لئے تیار تھیں۔اب اُن کے اور بصرہ کے درمیان اٹھارہ فرسخ کا فاصلہ تھا ۔ یہ دونوں تو کشتیوں تک پہنچ گئے لیکن عبدالملک بن مہلب نہیں پہنچ سکا ۔ یزید بن مہلب نے کہا: ‘‘ ہمیں تو چل دینا چاہیئے ،عبدالملک آہی جائے گا ۔’’ مگر چونکہ مفضل اور عبدالملک ایک ہی ماں کے بیٹے تھے ۔اِس لئے مفضل نے کہا:‘‘ میں تو عبدالملک کے بغیر آگے نہیں جاؤں گا چاہے واپس قید میں ہی کیوں نہ جانا پڑے ۔’’ اتنے میں عبدالملک بن مہلب بھی آگیا اور یہ سب کشتیوں میں سوار ہو کر رات بھر چلتے رہے اور اُن کا رخ بصرہ کی طرف تھا۔ 


حجاج بن یوسف کی پریشانی اور خوف


حجاج بن یوسف کو ایک راہب نے بتایا تھا کہ تیری جگہ جو شخص گورنر بنے گا اُس کا نام ‘‘یزید’’ ہو گا ۔ اِس کے بعد سے حجاج بن یوسف کو یزید بن مہلب سے خوف محسوس ہونے لگا تھا اور اِسی لئے اُس نے یزید بن مہلب کو خراسان کی گورنری سے معزول کر کے قید میں ڈال دیا تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : صبح کے وقت پہرے داروں کو اُن کے فرار کا علم ہوا تو اس کی اطلاع حجاج بن یوسف کو دی گئی ۔ وہ یہ خبر سن کر بہت پریشان ہو گیا اور اُسے خیال پیدا ہوا کہ یہ لوگ ضرور خراسان کی طرف گئے ہوں گے ۔اِس لئے اُس نے فوراً قتیبہ بن مسلم کو قاصد کے ذریعے اطلاع دے دی اور حکم دیا کہ تم اس کے مقابلے کے لئے تیار رہو ۔ اِسی طرح حجاج بن یوسف نے دوسرے اضلاع اور قلعوں کے گورنروں اور قلعہ داروں کو اُن کی نقل و حرکت کی دیکھ بھال اور روک تھام کے لئے احکام ارسال کئے ۔ اِس کے علاوہ اُس نے ولید بن عبدالملک کو بھی اُن کے فرار کی اطلاع کردی اور لکھا :‘‘ مجھے یقین ہے کہ یہ لوگ ضرور خراسان کی طرف گئے ہوں گے ۔’’اب حجاج بن یوسف کا یہ حال تھا کہ برابر اُدھیڑبن میں تھا کہ دیکھیں یزید بن مہلب کیا کاروائی کرتا ہے ؟اور اکثر کہتا تھا :‘‘ جو عبدالرحمن بن اشعث نے کیا وہی یزید بن مہلب بھی کرے گا ۔ ’’ 


آل مہلب سلیمان بن عبدالملک کی امان میں


یزید بن مہلب جانتا تھا کہ حجاج بن یوسف کی پہنچ پوری ‘‘سلطنت ِ اُمیہ’’ میں ہے اور وہ کہیں بھی اُسے سکون سے رہنے نہیں دے گا ۔ اِس لئے اُس نے غور و فکر کر کے سلیمان بن عبدالملک کی امان لینے کا فیصلہ کیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب یزید بن مہلب بطائح سے موقوع کے قریب پہنچا تو یہاں اُس کے لئے وہ گھوڑے تیار تھے جو اُس کے بھائی مروان بن مہلب نے تیار کئے تھے ۔ یہ سب کے سب بھائی گھوڑوں پر سوار ہو کر روانہ ہوئے ۔ عبدالجبار بن یزید ربعتہ ‘‘راہ نما’’ کے طور پر اُن کے ساتھ تھا اور وہ انہیں ‘‘سماوہ’’ کی طرف لے چلا ۔دو روز کے بعد ایک شخص حجاج بن یوسف کے پاس آیا اور بتایا کہ اُس نے یزید بن مہلب اور اُس کے سب بھائیوں کو ملک شام کی طرف جاتے ہوئے دیکھا ہے ۔اُس نے یہ بھی بتایا کہ اُن کے گھوڑے تھکے تھکے لگتے تھے ۔ حجاج بن یوسف نے اِس واقعہ کی اطلاع فوراً ولید بن عبدالملک کے پاس بھیجی ۔ اُدھر یزید بن مہلب اپنے بھائیوں کے ساتھ ملک فلسطین پہنچا ( اُس وقت ملک فلسطین الگ ملک نہیں تھا بلکہ ملک شام کا ہی ایک صوبہ تھا بعد میں اسے یہودیوں اور عیسائیوں نے ملک شام سے الگ کر کے ایک الگ ملک بنا دیا) اور وہیب بن عبدالرحمن ازدی کے یہاں مقیم ہوا ۔ یہ شخص سلیمان بن عبدالملک کے معزز دوستوں میں سے تھا ۔اُس نے یزید بن مہلب اور اُس کے بھائیوں اور اہل و عیال کو سفیان بن سلیمان ازدی کے یہاں ٹھہرا دیا اور اُس کا کچھ سامان بھی اُس کے پاس رکھوا دیا ۔ پھر وہیب بن عبدالرحمن نے سلیمان بن عبدالملک سے جا کر کہا: ‘‘ یزید بن مہلب اور اُس کے بھائی حجاج بن یوسف کے پاس سے فرار ہو کر آپ کی پناہ لینے آئے ہیں اور میرے گھر میں مقیم ہیں ۔’’ سلیمان بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ اُن سب کو میرے پاس لے آؤ! میں ان سب کو امان دیتا ہوں اور وعدہ کرتا ہوں کہ جب تک میں زندہ رہوں گا کوئی شخص انہیں ہاتھ نہیں لگا سکتا ۔’’ وہیب بن عبدالرحمن اُن سب کو سلیمان بن عبدالملک کے پاس لے آیا اور یہ سب ایک شخص کے پاس مقیم ہو گئے جہاں کوئی خطرہ نہیں تھا ۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

پیر، 26 اگست، 2024

46 سلطنت امیہ Saltanat e Umayya 46



 ا46 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 46

آل مہلب کی ولید بن عبدالملک کے پاس روانگی، سلیمان بن عبدالملک کا خط، آل مہلب کو معافی، 90 ھجری کا اختتام، 90 ھجری میں جن اعیان کا انتقال ہوا، موسیٰ بن نصیر کی بلاد مغرب ( شمالی افریقہ)میں فتح، مسجد نبوی کی توسیع کا جائزہ، حضرت سعید بن مسیب کا مرتبہ، ولید بن عبدالملک کا مسجد نبوی میں خطبہ، 91 ھجری کا اختتام، حضرت سہل بن ساعدی رضی اﷲ عنہ کا انتقال، 92 ھجری : فتح اُندلس (اسپین)، سجستان پر حملہ، خوارزم شاہ کی درخواست، 92 ھجری کا اختتام، 

آل مہلب کی ولید بن عبدالملک کے پاس روانگی

سلیمان بن عبدالملک نے آل مہلب کو پناہ دے دی اور اِس کی اطلاع اپنے بھائی ولید بن عبدالملک کو بھی دے دی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حجاج بن یوسف نے ولید بن عبدالملک کو لکھا :‘‘ آل مہلب نے اﷲ کے مال میں خیانت کی ہے اور مجھ سے بھاگ کر سلیمان بن عبدالملک کے پاس پناہ لی ہے ۔’’ اِس سے پہلے ولید بن عبدالملک اور حجاج بن یوسف نے یہ احکامات دے دیئے تھے کہ تمام فوجیں خراسان میں جمع ہو جائیں کیونکہ ہر شخص کا یہی خیال تھا یزید بن مہلب کے بہت سارے طرفدار خراسان میں ہیں اِس لئے وہ وہیں جائے گا ۔ جب ولید بن عبدالملک کو یہ بات معلوم ہوئی کہ یزید بن مہلب پناہ کے لئے سلیمان بن عبدالملک کے پاس آیا ہے تو اُس کے دل میں جو اندیشہ تھا وہ ختم ہوگیا اور روپیہ کے متعلق جو اُسے یزیدبن مہلب کے بارے میں معلوم ہوا تھا اُس تعلق سے بھی غصہ ختم ہو گیا ۔ سلیمان بن عبدالملک نے اپنے بھائی ولید بن عبدالملک کو لکھا : ‘‘ آل مہلب نے میرے پاس آ کر پناہ لی ہے ۔ اُن پر صرف تیس لاکھ درہم واجب الادا ہیں مگر حجاج بن یوسف نے ساٹھ لاکھ کا مطالبہ کیا ہے ۔ اُن لوگوں نے تیس لاکھ تو ادا کر دیئے ہیں اور بقیہ رقم میں اپنے ذمہ لیتا ہوں۔’’ ولید بن عبدالملک نے سلیمان بن عبدالملک کو لکھا :‘‘ جب تک تم آل مہلب کو میرے پاس نہیں بھیجو گے اُس وقت تک میں انہیں امان نہیں دوں گا ۔’’ سلیمان بن عبداللک نے جواب میں لکھا :‘‘ اگر میں آل مہلب کو آپ کی خدمت میں بھیجوں گا تو خود میں بھی اُن کے ہمراہ حاضر خدمت ہوں گا اور آپ سے اﷲ کا واسطہ دے کر عرض کروں گا کہ آپ مجھے رسوا نہ کریں اور جو وعدہ ٔ امان میں نے انہیں دیا ہے اُس میں دست اندازی نہ کریں۔’’ ولید بن عبدالملک نے لکھا: ‘‘ اگر تم اُن کے ہمراہ آؤ گے تو اﷲ کی قسم! میں ہر گز امان نہیں دوں گا۔’’ جب معاملہ کی نزاکت اِس حد تک پہنچ گئی تو یزید بن مہلب نے سلیمان بن عبدالملک سے کہا: ‘‘ آپ مجھے بھیج دیجیئے کیونکہ میں یہ ہر گز نہیں چاہتا کہ محض میری وجہ سے آپ کے اور ان کے تعلقات خراب ہو جائیں اور لوگوں کو میرے متعلق چہ مگوئیاں کرنے کا موقع ملے کہ بھائی بھائی میں پھوٹ ڈلوا دی ۔ آپ مجھے بھیج دیں اور میرے ساتھ اپنے بیٹے کو بھی بھیج دیں اور ایک خط نہایت نرم اور نلائم لہجہ میں لکھ کر اپنے بیٹے کے ہاتھ امیر المومنین کو میری سفارش کے لئے بھیج دیں۔’’ سلیمان بن عبدالملک نے آل مہلب کے ساتھ اپنے بیٹے ایوب بن سلیمان کو بھی ولید بن عبدالملک کی خدمت میں روانہ کیا ۔ 

سلیمان بن عبدالملک کا خط

ولید بن عبدالملک کے حکم کے مطابق سلیمان بن عبدالملک نے آل مہلب کو اُس کے دربار میں روانہ کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ولید بن عبدالملک کا حکم تھا کہ آل مہلب کو بیڑیاں پہنا کر دربار میں حاضر کیا جائے ۔ اِس لئے سلیمان بن عبدالملک نے اُن کو بیڑیاں ڈال کر روانہ کردیا اور اپنے بیٹے ایوب بن سلیمان سے کہا: ‘‘ جب امیر المومنین کی خدمت میں جانے لگنا تو تم بھی آل مہلب کی طرح تم بھی بیڑیاں پہن لینا ۔’’جب یہ سب ولید بن عبدالملک کے پاس پہنچے تو ایوب بن سلیمان نے اپنے والد کے حکم کی تعمیل کی اور تمام آل مہلب کے ساتھ خود بھی بیڑیاں پہنے ہوئے دربار میں حاضر ہوا ۔ جب ولید بن عبدالملک نے اپنے بھتیجے کو بھی بیڑیاں پہنے ہوئے دیکھا تو بولا :‘‘ سلیمان نے تو انتہا کر دی ۔’’پھر ایوب بن سلیمان نے اپنے والد کا خط اپنے چچا کو دیا اور بولا:‘‘ اے امیر المومنین! میں آپ پر قربان ہوجاؤں کہ آپ اس عہد کی حفاظت کریں ۔ آپ اس شخص کی اُمیدوں کو خاک میں نہ ملائیں جس نے صرف ہمارے آپ کے تعلقات ہی کی وجہ سے ہماری پناہ لی اور اُس شخص کو رسوا نہ کریں جو ،محض اِس وجہ سے کہ آپ ہماری عزت کرتے ہیں باقی ساری دنیا کو چھوڑ کر ہمارے پاس اپنی عزت و آبرو بچانے کی اُمید لے کر آیا ہے ۔ پھر ایوب بن سلیمان نے اپنے والد کا خط پڑھ کر سنایا : ‘‘ یہ خط ولید بن عبدالملک کے نام سلیمان بن عبدالملک کی جانب سے ! حمد و ثناء کے بعد ! امیر المومنین! میرا خیال تھا کہ اگر آپ کسی ایسے شخص کو بھی جس نے آپ کے خلاف سر کشی اور بغاوت کی ہو ،پناہ اور وعدۂ امان دے دوں گا تو آپ میرے اِس وعدۂ امان اور حفاظت کے ذمہ کو کالعدم کر کے مجھے رسوا نہیں کریں گے ۔ حلانکہ اس وقت تو میں نے ایسے شخص کو پناہ دی ہے جو ہمیشہ فرمانبردار اور اطاعت شعار رہا ہے ۔ اس نے اور اس کے والد نے اور تمام خاندان نے اسلام کی خدمت میں وہ کارہائے نمایاں کئے ہیں جنہیں سب جانتے ہیں ۔ میں نے اسے آپ کی خدمت میں بھیج دیا ہے اور اب آپ مختار ہیں ۔ چاہیں تو جو کچھ وعدۂ امان اور ذمۂ حفاظت میں نے اپنے سر لیا ہے اُسے توڑ دالیں اور اِس طرح مجھے سخت رنج پہنچائیں اور تعلقات کو منقطع کر دیں ۔ مگر میں آپ سے اﷲ کا واسطہ دے کر عرض کرتا ہوں کہ آپ تعلقات ہر گز منقطع نہ کریں اور میرے حال پر آپ کی جو مہربانیاں اور عنایتیں ہیں انہیں ترک نہ کریں ۔’’

آل مہلب کو معافی

سلیمان بن عبدلملک نے اپنے بھائی سے انتہائی درد مندانہ اپیل کی جس کی وجہ سے ولید بن عبدالملک بھی بہت متاثر ہوا اور آل مہلب کو معاف کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : خط پڑھ کر ولید بن عبدالملک نے کہا: اچھا ہم نے سلیمان بن عبدالملک پر عنایت اور مہر بانی کی ۔’’ پھر اپنے بھتیجے کو اپنے پاس بلا کر بٹھایا ۔ اب یزید بن مہلب نے تقریر شروع کی:‘‘ اﷲ کی حمد اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی ثناء کے بعد اُس نے کہا: ‘‘ اے امیر المومنین! ہم پر آپ کے احسانات بہت زیادہ ہیں ۔ چاہے کوئی اور انہیں بھول جائے مگر ہم نہیں بھول سکتے ۔چاہے لوگ مانیں یا نہ مانیں مگر ہم ہمیشہ معترف رہیں گے ۔ ہمارے خاندان نے آپ کی اطاعت و فرمانبرداری میں مشرق و مغرب میں آپ کے دشمنوں کے خلاف جو نمایاں خدمات انجام دی ہیں وہ ظاہر ہیں۔ مگر پھر بھی آپ ہی کے احسانات ہم پر زیادہ ہیں جس کا کوئی معاوضہ نہیں ہو سکتا ہے ۔ ’’ ولید بن عبدالملک نے یزید بن مہلب سے کہا: ‘‘ بیٹھ جاؤ ۔’’ یزید بن مہلب بیٹھ گیا ۔ ولید بن عبدالملک نے اُسے معافی دے دی اور یزید بن مہلب واپس سلیمان بن عبدالملک کے پاس آگیا ۔ ولید بن عبدالملک نے حجاج بن یوسف کو لکھ دیا کہ چونکہ آل مہلب سلیمان بن عبدالملک کے پاس ہیں اِس لئے میں اُن کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کرنا چاہتا ۔ تم بھی اُسے اُس کے حال پر چھوڑ دو اور اب آئندہ اس کے بارے میں کوئی خط وغیرہ مجھے نہیں لکھنا۔

ا90 ھجری کا اختتام

ا90 ھجری کا اختتام ہوا تو حجاج بن یوسف ملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر تھا ۔ ملک مصر کا گورنر عبداﷲ بن عبدالملک تھا ۔ خراسان کا گورنر قتیبہ بن مسلم تھا ۔ مکۂ مکرمہ کا گورنر خالد بن قسری تھا اور مدینۂ منورہ کے گورنر حضرت عُمر بن عبدالعزیز تھے اور آپ نے ہی مسلمانوں کو حج کرایا۔

ا90 ھجری میں جن اعیان کا انتقال ہوا

اِس سا ل جن لوگوں کا انتقال ہو اُان میں سے چند یہ ہیں ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 90 ھجری میں بتاذوق طبیب کا انتقال ہوا۔ آپ طبیب حاذق تھے اور فن طبابت ( حکیمی)پر آپ نے متعدد تصانیف لکھی ہیں ۔ حجاج بن یوسف کے دربار میں ان کا بڑا مرتبہ تھا ۔ شہر واسط میں ان کا انتقال ہوا ۔ اِس سال عبدالرحمن بن مسور بن مخرمہ اور سنان بن سلمہ جو ان میں سب سے بہادر تھے کا بھی انتقال ہوا اور وہ ‘‘یوم الفتح’’ کے دن ایمان لائے تھے ۔ اس سال محمد بن یوسف ثقفی کا بھی انتقال ہوا جو حجاج بن یوسف کا بھائی ہے ۔یہ یمن کا گورنر تھا اور منبر پر خلیفۂ چہارم حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی شان میں گستاخی کرتا تھا ۔ اِسی نے حضرت حجر بن عدی کو بھی یہی حکم دیا تو انہوں کہا اﷲ تعالیٰ تجھ پر لعنت بھیجے ۔ اِس لعنت کے سبب اُس کے پیٹ میں زخم ہو گئے تھے ۔ 

ا91 ھجری: مسلمہ بن عبدالملک آذر بائیجان کا گورنر

اِس سال رومیوں سے جہاد کرنے مسلمہ بن عبدالملک اور عبدالعزیز بن ولید گئے ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : 91 ھجری میں مسلمہ بن عبدالملک اور اُس کے بھتیجے عبدالعزیز بن ولید نے جنگ کی تیاریاں شروع کیں اور اِن جنگی تیاریوں کے سلسلے میں مسلمہ بن عبدالملک نے بلاد ترک کا رخ کیا اور مارچ کرتا ہوا آذربائیجان کی جانب سے ‘‘باب’’ تک پہنچ گیا اور مدائین کے علاوہ بہت سے قلعے فتح کر لئے ۔ ولید بن عبدالملک نے اپنے چچا محمد بن مروان کو معزول کر کے اپنے بھائی مسلمہ بن عبدالملک کو آذربائیجان کا گورنر بنا دیا ۔ 

موسیٰ بن نصیر کی بلاد مغرب ( شمالی افریقہ)میں فتح

اِس سال 91 ھجری میں افریقہ(آج کل کا شمالی افریقہ) کے سپہ سالار موسیٰ بن نصیر نے کافی فتوحات حاصل کیں۔علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 91 ھجری میں موسیٰ بن نصیر نے بلاد مغرب (افریقہ) پر حملہ کر کے بہت سے شہروں کو فتح کر لیا اور وہ اُن ملکوں میں اندر تک گھستا چلا گیا ۔ حتیٰ کہ وہ دوردراز کی آبادیوں اور بستیوں تک پہنچ گیا جہاں ایسے محلات اور مکانات تھے جو بالکل غیر آباد پڑے تھے ۔ وہاں اُس نے اس ملک کی نعمتوں اور مال و دولت کے عظیم آثار و نشانات دیکھے جو ہر طرف نظر آ رہے تھے جن سے معلوم ہوتا تھے کہ یہاں کے باشندے کس قدر خوشحال و متمول تھے لیکن سب ہلاک ہو چکے تھے اور اُن کے متعلق بتانے والا کوئی نہیں تھا ۔ 

مسجد نبوی کی توسیع کا جائزہ

اِ س سال 91 ھجری میں ولید بن عبدالملک مسجد نبوی کی توسیع کا جائزہ لینے کے لئے مدینۂ منورہ آیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: 91 ھجری میں ولید بن عبدالملک حج کرنے کے ارادے سے نکلا ۔ جب اُس کے حج کے لئے آنے کی خبر مدینۂ منورہ کے گورنر حضرت عُمر بن عبدالعزیز کو ہوئی تو انہوں نے قریش کے دس آدمیوں سے کہا کہ میرے ساتھ امیر المومنین کے استقبال کو چلیں ۔ آپ کے ساتھ ابوبکر بن عبدالرحمن اور اُ سکا بھائی محمد بن عبدالحمن اور عبداﷲ بن عمرو بن عثمان بن عفان بھی تھے ۔ حضرت عُمر بن عبدالعزیز کے ساتھ اور بھی

 خدام وغیرہ آئے تھے اور یہ سب گھوڑوں پر سوار تھے ۔ جب ولید بن عبدالملک سامنے آیا اور وہ بھی گھوڑے پر سوار تھا تو خداموں کے حاجب نے کہا :‘‘ امیر المومنین کی خاطر سواریوں سے اُتر جائیں ۔ ’’ سب لوگ اُتر گئے مگر ولید بن عبدالملک نے خود ہی ان سب کو سوار ہونے کا حکم دیا ۔ اُس کے ساتھ ساتھ حضرت عِمر بن عبدا لعزیز اپنے گھوڑے پر سوار چل رہے تھے اور اِس طرح یہ سب مقام ‘‘ذی خشب’’ پر آکر قیام پذیر ہو گئے ۔ یہاں ولید بن عبدالملک کے لئے کھانا منگوایا گیا اور سب نے کھانا کھایا ۔ شام کے وقت ولید بن عبدالملک یہاں سے روانہ ہوا اور مدینۂ منورہ میں داخل ہوا اور دوسرے دن صبح مسجد نبوی کی توسیع کا جائزہ لینے کے لئے گیا ۔ 

حضرت سعید بن مسیب کا مرتبہ

ولید بن عبدالملک جب مسجد نبوی کی توسیع کا جائزہ لینے کے لئے آیا تو اُس سے پہلے مسجد نبوی کو خالی کر لیا گیا تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جس قدر لوگ اُس وقت مسجد نبوی میں تھے سب کو باہر نکال دیا گیا لیکن حضرت سعید بن مسیب رضی اﷲ اپنی جگہ ہی بیٹھے رہے اور اُن کے رتبہ کے اعتبار سے کسی سپاہی کی یہ ہمت نہیں ہوئی کہ وہ انہیں اُٹھا دیتا ۔ حضرت سعید بن مسیب اپنی جگہ دو معمولی چادریں جن کی قیمت پانچ درہم ہو گی زیب تن کئے بیٹھے تھے ۔ کسی شخص نے اُن سے درخواست کی کہ آپ یہاں سے اُٹھ جائیں۔ آپ نے فرمایا: ‘‘ جو میرا اُٹھنے کا وقت ہے اُس سے پہلے تو میں ہرگز نہیں اُٹھوں گا ۔’’ پھر اُن سے کہا گیا: ‘‘ آپ اُٹھ کر امیر المومنین سے سلام تو کر لیں۔’’ آپ نے فرمایا: ‘‘ میں خود اُسے سلام کرنے نہیں جاؤں گا۔’’ ادھر حضرت عُمر بن عبدالعزیز امیرالمومنین ولیدبن عبدالملک کو مسجد نبوی میں پھرا رہے تھے اور توسیع کی تفصیلات بھی بتاتے جا رہے تھے اور چاہتے تھے کہ ولید کی نظر حضرت سعید بن مسیب پر نہ پڑے اور جب تک وہ اُٹھ جائیں۔ مگر اچانک ولید بن عبدالملک کی نظر قبلہ رُخ پڑی تو اُس نے پوچھا: ‘‘ یہ کون صاحب بیٹھے ہوئے ہیں؟ کہیں یہ سعید بن مسیب تو نہیں ہیں؟’’ حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے کہا: ‘‘ ہاں ! یہ سعید بن مسیب ہی ہیں۔’’ اتنے میں ایک سپاہی نے کہا: ‘‘ انہیں دکھائی کم دیتا ہے ۔’’ولید بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ ہاں! ہمیں ان کا حال معلوم ہوا تھا اور ہم خود جاکر انہیں سلام کریں گے ۔’’ اِس کے بعد اُس نے تمام مسجد کا جائزہ لیا اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے روضۂ اطہر پر آکر کھڑا ہوگیا ۔ پھر حضرت سید بن مسیب کے پاس آیا اور انہیں سلام کر کے خیریت دریافت کی ۔ آپ نے جواب دیا :‘‘الحمدﷲ !خیریت سے ہوں۔’’ اور اپنی جگہ سے ہلے نہیں اور فرمایا: ‘‘ امیر المومنین کا مزاج کیسا ہے؟ ’’ولید بن عبدالملک نے جواب دیا: ‘‘ الحمد ﷲ! خیریت سے ہوں۔’’ اتنی گفتگو کرنے کے بعد وہ وہاں سے چلا آیااور حضرت عُمر بن عبدالعزیز سے کہا: ‘‘ اب یہ ہی سلف صالحین کا ایک نمونہ باقی رہ گئے ہیں۔’’ حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے فرمایا: ‘‘ امیر المومنین بجا فرماتے ہیں۔’’ ولید بن عبدلملک نے مدینۂ منورہ چاندی کے برتن اور نقد روپیہ لوگوں میں تقسیم کیا ۔

ولید بن عبدالملک کا مسجد نبوی میں خطبہ

مدینۂ منورہ میں مسجد نبوی میں ولید بن عبدالملک نے جمعہ کا خطبہ دیا اور جمعہ کی نماز پڑھائی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: ولید بن عبدالملک نے جمعہ کے دن خطبہ بھی پڑھا اور نماز بھی پڑھائی ۔ اُس نے مسجد نبوی میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے منبر مبارک پر چڑھ کر ایام حج میں جمعہ کے دن خطبہ دیا ۔ منبر سے لیکر مسجد نبوی کے اندرونی صحن کی آخری دیوار تک فوج کی دو صفیں تھیں ۔ اُن کے ہاتھوں میں شاہی عصا اور کندھوں پر گرز تھے ۔ ولید بن عبدالملک ایک معمولی سا چوغا اور ٹوپی پہنے منبر پر چڑھا اور کوئی شال اُس پر نہیں تھی ۔ منبر پر چڑھ کر لوگوں کو سلام کیا اور بیٹھ گیا ۔ مؤذن کو اذان دینے کی اجازت دی ،جب اذان ختم ہوئی تو پہلا خطبہ بیٹھے بیٹھے ہی پڑھا اور دوسرا خطبہ کھڑے ہوکر پڑھا ۔ اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے رجاء بن حیوٰۃ سے مل کر پوچھا :‘‘ کیا اِس خاندان کا یہی طرز عمل رہا ہے؟’’ رجاء بن حیاۃ نے کہا: ‘‘ہاں!

 حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے بھی ایسا ہی کیا تھا اور اُن کے بعد کے تمام اِس خاندان کے حکمراں ایسا ہی کرتے آئے ہیں ۔’’ میں نے کہا: ‘‘ کیا آپ نے اِس معاملے میں کبھی اُن سے گفتگو نہیں کی؟’’ رجاء بن حیاۃ نے کہا: ‘‘ قبیصہ بن ذوئیب مجھ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عبدالملک بن مروان سے اِس کے متعلق اعتراض کیا تھا مگر اُس نے کسی قسم کی تبدیلی کرنے سے انکار کر دیا اور کہا: ‘‘ خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے بھی ایسا ہی کیا ہے ۔’’ اِس پر میں نے کہا: ‘‘ خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ ہمیشہ کھڑے ہو کر خطبہ دیا ہے ۔’’ رجاء بن حیوۃ نے کہا: ‘‘ مگر کیا کیا جائے اِن لوگوں سے اِسی طرح بیان کیا گیا ہے اور یہ اسی پر عمل کرتے ہیں۔’’ 

ا 91ھجری کا اختتا

ا91 ھجری میں ولید بن عبدالملک نے مسلمانوں کو حج کرایا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : محم بن عمرو کہتے ہیں کہ ولید بن عبدالملک مسجد نبوی کے لئے خوشبوئیں اور انگیٹھی بھی لایا تھا ۔ احرام مسجد نبوی میں کھول کر پھیلا دیا گیا جو نہایت ہی بیش بہا دیباج کا بنا ہوا تھا ۔ ایک دن پھیلا رہا پھر لپیٹ کر اُٹھا لیا گیا ۔ اِس سال ولید بن عبدالملک نے ہی مسلمانوں کو حج کرایا ۔ 91 ھجری کے اختتام پر حجاج بن یوسف ملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر تھا ۔ خراسان کا گورنر قتیبہ بن مسلم تھا ۔ ملک مصر کا گورنر عبداﷲ بن عبدالملک تھا ۔ مکۂ مکرمہ کا گورنر خالد بن عبداﷲ قسری تھا اور مدینۂ منورہ کے گورنر حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ تھے ۔

حضرت سہل بن ساعدی رضی اﷲ عنہ کا انتقال

اِس سال 91 ھجری میں حضرت سہل بن ساعدی رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال حضرت سہل بن ساعدی رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔ آپ جلیل القدر صحابی اور مدنی ہیں ۔ جب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو آپ رضی اﷲ عنہ کی عُمر پندرہ سال تھی ۔ یہ اُن لوگوں میں سے ہیں جن کو حجاج بن یوسف نے عوام کے درمیان بولنے اور زبان کھولنے منع کر رکھا تھا تاکہ لوگ ان کی آراء اور مشوروں سے مستفید نہ ہو سکیں ۔ یہ لوگ حضرت سہل بن ساعدی رضی اﷲ عنہ کے علاوہ حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ اور حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ تھے ۔ امام واقدی کا بیان ہے کہ یہ آخری شخص ہیں جن کا مدینۂ منورہ میں سو سال کی عُمر میں 91 ھجری میں انتقال ہوا۔ امام محمد بن سعد نے کہا ہے کہ اِس میں کوئی اختلاف نہیں ہے اور امام بخاری وغیرہ نے ان کا سنہ وفات 88 ھجری بتایا ہے ۔ واﷲ اعلم۔

ا92 ھجری : فتح اُندلس (اسپین)

اِس سال 92 ھجری میں مسلمانوں نے اُندلُس یعنی اسپین کی فتح کی شروعات کی ۔ اُدھر محمد بن قاسم ہندستان میں فتوحات حاصل کر رہے تھے ۔ قتیبہ بن مسلم ترکستان اور چین کی طرف فتوحات جاری رکھے ہوئے تھے اور موسیٰ بن نصیر اور طارق بن زیاد مغرب میں اور اُندلُس یعنی اسپین میں فتوحات حاصل کر رہے تھے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اِس سال 92 ھجری میں موسیٰ بن نصیر اور طارق بن زیاد نے بارہ ہزار فوج کے ساتھ اُندلس(اسپین) پر حملہ کیا اور بادشاہ اُندلس سے اس کا مقابلہ ہوا ۔ امام واقدی کا قول ہے کہ اس بادشاہ کا نام نیوق (راڈرک) تھا جو اہل اصبہان میں سے تھا اور یہ عجمی بادشاہان اندلس تھے ۔ طارق بن زیاد نے اپنی پوری قوت سے حملہ کیا ادھر بادشاہ اپنے تخت پر بیٹھ کر حملہ آور ہوا ۔ اُس کے سر پر تاج جواہر نگار رکھا ہوا تھا ۔ ہاتھ میں فولادی دستانے چڑھے ہوئے تھے اور وہ تمام مرصع زیور جن کا جنگ کے موقع پر پہننے کا ان بادشاہوں کا دستور چلا آرہا تھا اُس کے جسم پر سجے ہوئے تھے ۔ دونوں حریفوں نے خوب شجاعت اور داد مردانگی دکھائی اور نہایت سخت رن پڑا ۔ آخر کار اﷲ تعالیٰ نے نیوق کو ہلاک کیا اور اندلس فتح ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : موسیٰ بن نصیر کے آزاد کردہ غلام طارق بن زیاد نے اُندلس (اسپین) کے شہروں میں بارہ ہزار فوج سے جنگ کا آغاز کیا تو اُس کے مقابلے کے لئے وہاں کا

 بادشاہ آرذیقون نکل کر میدان میں آگیا اور وہ بڑے تام جھام اور احتشام کے ساتھ آیا ۔ اُس کی سواری کے ساتھ اُس کا تخت بھی تھا اور سر پر تاج بھی ۔ طارق بن زیاد نے اُس کو شکست دے کر فرار ہونے پر مجبور کر دیا اور جو کچھ اُس کے لشکر کے پاس تھا وہ بھی بطور مال غنیمت ملا جس میں تخت وغیرہ بھی شامل تھا ۔غرض یہ کہ اُندلس کے شہروں پر طارق بن زیاد کا قبضہ ہو گیا ۔

نوٹ

یہاں ہم اُندلس یعنی اسپین میں فتح کا مختصراً حال پیش کر رہے ہیں ۔طارق بن زیاد اور موسیٰ بن نصیر نے کئی سال میں اندلس یعنی اسپین کو مکمل طرح سے فتح کیا تھا ۔ اِس مکمل فتح کا حال ہم انشاء اﷲسلسلہ ‘‘اسپین میں اسلام اور مسلمان’’ میں انتہائی تفصیل سے پیش کریں گے ۔

سجستان پر حملہ

اس سال قتیبہ بن مسلم نے ترکوں پر حملہ کیا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال قتیبہ بن مسلم نے ترک بادشاہ رتبیل سے جنگ کا آغاز کیا ۔ جب وہ فوج لیکر رتبیل کے علاقے میں داخل ہوا تو اُس نے صلح کرنے کے لئے قاصد اور اُس کے ساتھ بہت سال مال دینے کے لئے گفتگو کرنے کی نیت سے قتیبہ بن مسلم سے آکر ملے اور جو مال انہوں نے صلح کی شرط کے بطور پیش کیا اُس میں زر نقد کے علاوہ گھوڑے غلام ، عورتیں اور علاقہ کے بادشاہوں کی بیٹیاں بھی شامل تھیں ۔ جب یہ سب چیزیں قتیبہ بن مسلم کے پاس پہنچ گئیں تو اُس نے صلح کر لی ۔

خوارزم شاہ کی درخواست

اِ س سال قتیبہ بن مسلم کو بادشاہ خوارزم نے اُس کے ملک پر حملہ کرنے کی درخواست کی ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : قتیبہ بن مسلم 92 ھجری میں سجستان کی طرف رتبیل کے قصد سے روانہ ہوا ۔رتبیل نے فورا! صلح کر لی اور جب قتیبہ اِس مہم سے واپس ہوا تو بادشاہ خوارزم پر اُس کا بھائی خرزاد جو اُس سے چھوٹا تھا اِس قدر غالب ہو چکا تھا کہ بادشاہ خوارزم شطرنج کے مہرے کی طرح صرف نام کا بادشاہ رہ گیا تھا ۔خرزاد جو چاہتا تھا کرتا تھا ، رعایا کے مال و عزت پر دست درازی کرتا تھا اور اُن کو طرح طرح کی تکلیفیں دیتا تھا ۔ بادشاہ خوارزم چونکہ مدافعت نہیں کر سکتا تھا اِس لئے اُس نے خفیہ طور سے قتیبہ بن مسلم کو اپنے ملک کے حالات لکھ بھیجے اور یہ لکھا: ‘‘ اگر تم میں قوت ہے تو میرے ملک میں آکر میرے بھائی اور مخالفین سے لڑ کر قبضہ لے لو۔’’ قتیبہ بن مسلم نے درخواست کو منظور کر لیا اور بادشاہ خوارزم نے اِس راز سے اپنے ملک کے کسی فرد کو مطلع نہ کیا۔ 

ا92 ھجری کا اختتام

ا92 ھجری کا اختتام ہوا اور اِس سال حجاج بن یوسف ملک عراق ، ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر تھا ۔ ملک مصر کا گورنر عبداﷲ بن عبدالملک تھا ۔ خراسان کا گورنر قتیبہ بن مسلم تھا ۔ مکۂ مکرمہ کا گورنر خالد بن عبداﷲ قسری تھا اور مدینۂ منورہ کے گورنر حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ تھے اور آپ نے ہی مسلمانوں کو اِس سال حج کرایا ۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!


اتوار، 25 اگست، 2024

47 سلطنت امیہ Saltanat e Umayya 47


 

🌹47 سلطنت امیہ🌹

✍️تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی✍️

🌹قسط نمبر 47🌹


🌻ا93ھجری : خوارزم شاہ سے صلح، خوارزم شاہ کے دشمن کا قتل، رومیوں سے جہاد شہرصغد کا محاصرہ، شہر صغد پر قبضہ، سمر قند کی فتح، سمرقند اور خوارزم پر گورنر کی تقرری، موسیٰ بن نصیر کی دعا کی قبولیت، اُندلس (اسپین) کی فتح میں موسیٰ بن نصیر بھی شامل، حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ کی معزولی، آخرت کا خوف، ہندوستان میں محمد بن قاسم کی فتوحات، 93 ھجری کا اختتام، حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ کا انتقال، 93 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان، 🌻


🌹ا93 ھجری : خوارزم شاہ سے صلح🌹

🌻اِس سال قتیبہ بن مسلم نے بادشاہ خوارزم کی درخواست پر اُس کے ملک پر حملہ کرنے کے لئے فوج لیکر چلا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : 93 ھجری میں قتیبہ بن مسلم نے فوجیں مرتب کیں اور جنگ کے لئے ‘‘مرو’’ سے نکلا ۔ اہل خوارزم نے نہ تو جنگ کی تیاری کی اور نہ ہی مورچے قائم کئے اور نہ ہی دھس اور دمدمے باندھے ۔ قتیبہ بن مسلم نے خوارزم کے قریب پہنچ کر ‘‘ہرارب’’ میں پڑاؤ ڈال دیا ۔ اُس وقت بادشاہ خوارزم کے مشیروں کی آنکھیں کھلیں اور انہوں نے خوارزم شاہ کو قتیبہ بن مسلم سے جنگ کرنے کو کہا ۔ بادشاہ خوارزم نے جواب دیا : ‘‘ ہم میں اُس سے لڑنے کی طاقت نہیں ہے ،ہاں! یہ ہو سکتا ہے کہ کچھ دے کر ہم صلح کر لیں جیسا کہ دوسرے ملکوں کے بادشاہوں نے کیا ہے ۔’’ اراکین حکومت نے اس سے اتفاق کیا ۔ بادشاہ خوارزم صلح کرنے کی غرض سے شہر قیل میں آیا جو ایک نہر کے کنارے آباد ہے اور اُس کے مضبوط بلاد (شہروں) میں سے تھا ۔ نہر کے دوسرے کنارے پر قتیبہ بن مسلم اپنا لشکر لئے ہوئے قیام پذیر تھا ۔ دونوں میں خط و کتابت ہونے لگی ۔ آخر کار دس ہزار غلام اور اسی قدر قیمتی کپڑے و اسباب پر صلح ہو گئی اور اِس صلح نامہ کی ایک شرط یہ بھی تھی کہ ‘‘خام جرد’’ کے خلاف جنگ میں بادشاہ خوارزم مسلمانوں کی فوجی امداد کرے گا ۔ 

🌹خوارزم شاہ کے دشمن کا قتل🌹

🌻قتیبہ بن مسلم نے خو ارزم شاہ کے دشمن کی طرف ایک لشکر روانہ کیا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : بادشاہ خوارزم سے صلح کرنے کے بعد قتیبہ بن مسلم نے اپنے بھائی عبدالرحمن بن مسلم کو خوارزم شاہ کے دشمن ‘‘خام جرد’’ کی طرف روانہ کیا ۔ عبدالرحمن بن مسلم نے اُس کے ملک پر زبردست حملہ کیا ۔ خام جرد نے مقابلہ کیا اور جنگ کے دوران عبدالرحمن بن مسلم نے اُسے قتل کر دیا اور اُس کے ملک پر قبض ہو گیا اور اُس کے چار ہزار سپاہیوں کو قتل کر ڈالا۔ادھر قتیبہ بن مسلم نے بادشاہ خوارزم کو اُس کے بھائی خرزاد اور اُس کے مخالفین کو گرفتار کر کے اُس کے حوالے کر دیا ۔ بادشاہ خوارزم نے اُن سب کو قتل کر ڈالا اور اُن کے مال و اسباب جمع کر کے قتیبہ بن مسلم کو دے دیئے ۔

🌹رومیوں سے جہاد🌹

اِ س سال 93 ھجری میں مسلمانوں نے رومیوں کے کئی شہر اور قلعے فتح کئے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال عباس بن ولید نے رومیوں کے علاقہ میں جہاد کیا اور شہر ‘‘رسمسطیہ’’ فتح کر لیا ۔ اور مروان بن ولید نے رومیوں کے دوسرے علاقے میں فوج کشی کی اور فتح حاصل کرتا ہوا ‘‘حجرہ’’ تک جا پہنچا ۔ اس کے علاوہ مسلمہ بن عبدالملک نے جدید قلعے ‘‘غزالہ اور برجمعہ ’’ کو ‘‘عطیہ’’ کی سمت سے گھس کر فتح کر لیا ۔ 

🌹شہرصغد کا محاصرہ🌹

🌻قتیبہ بن مسلم خوارزم سے آگے بڑھا اورشہر صغد کا محاصرہ کر لیا ۔علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اِس کے بعد محشر بن محازم سلمی نے شہر صغد پر حملہ کرنے کی رائے دی اور کہا: ‘‘ اگر شہر صغد پر تمہارا قصد حملہ کرنے کا ہے تو یہ موقع بہت ہی مناسب ہے کیونکہ ان لوگوں کا خیال ہے کہ تمہارے اور اُن کے درمیان بہت بڑی مسافت ہے ۔’’ قتیبہ بن مسلم نے یہ رائے پسند کی اور بات کو خفیہ رکھنے کو کہا۔ دوسرے دن اپنے بھائی عبدالرحمن بن مسلم کو ایک تجربے کار سواروں اور تیر اندازوں کا لشکر دے کر آگے بڑھنے کا حکم دیا ۔ اُس کی روانگی کے بعد قتیبہ بن مسلم نے اپنے لشکر کو جمع کر کے خطبہ دیا اور شہر صغد کی زرخیزی اور سر سبزی کا ذکرکے اﷲ کے دشمنوں سے اُس کو چھین لینے کی ترغیب دی اور سب کے سب لبیک پکار اُٹھے ۔ قتیبہ نے تیاریاں کر کے کوچ کر دیا اور عبدالرحمن بن مسلم کے پہنچنے کے تین دن بعد شہر صغد پہنچ کر محاصرہ کر لیا ۔ اہل شہر نے حصار سے گھبرا کر بادشاہ شاش ، خاقان اور اخشاد فرغانہ سے امداد طلب کی ۔ ان لوگوں نے نامور مشہور شہزادوں ، مر زبانوں اور شہسواروں کو منتخب کر کے خاقان کے بیٹے کی زیر قیادت مسلمانوں پر شب خون مارنے کے لئے روانہ ہوئے ۔ قتیبہ بن مسلم کو اس فوج کے آنے کی اطلاع ہوگئی اور اُس نے بھی اپنے لشکر سے چھ سو سواروں کو منتخب کر کے اپنے بھائی صالح بن مسلم کی زیر قیادت اس لشکر سے مقابلہ کے لئے آگے بھیج دیا ۔ رات کے وقت فریقین میں مڈ بھیڑ ہوئی اور بہت زبردست مقابلہ ہوا ۔ چار گھنٹہ تک کامل جنگ ہوتی رہی اور آخر کار سخت خونریزی کے بعد خاقان کا بیٹا مارا گیا اور دشمن بھاگ گئے ۔ مسلمان طلوع آفتاب کے وقت اپنے لشکر میں واپس آگئے ۔

🌹شہر صغد پر قبضہ🌹

🌻قتیبہ بن مسلم شہر صغد کا محاصرہ کئے ہوئے تھا اور شہر والوں سے باہری مدد ملنے کے ہر امکان کا ختم کر دیا تھا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: قتیبہ بن مسلم کی قلعہ شکن منجنیقیں جو قلعہ کے محاذات پر نصب کی گئی تھیں ۔اُن سے ‘‘شہر پناہ’’ کی فصیل پر سنگ باری یعنی پتھروں کی بارش کر نے لگا ۔میدان کار زار مسلمان مجاہدین سے بھرا ہوا تھا ۔ فصیل پر دھڑا دھڑ پتھر پڑ رہے تھے اور اہل شہر فصیل پر سے مسلمانوں پر تیروں کی بارش کر رہے تھے ۔ مگر مسلمانوں کو اِن تیروں کی پرواہ نہیں تھی اور وہ سینہ سپر ہو کر فصیل کی طرف دوڑتے چلے جاتے تھے ۔ تھوڑی دیر بعد سنگ باری کی وجہ سے قلعہ کی دیوار میں ایک شگاف ہو گیا ۔ جس پر کمال تیزی سے مسلمانوں نے پہنچ کو قبضہ کر لیا ۔ اُس وقت اہل شہر نے مجبور ہو کر صلح کی درخواست پیش کی اور بائیس لاکھ سالانہ مصالحت کر لی۔ اس کے علاوہ تیس ہزار غلام قتیبہ بن مسلم نے لئے ۔ اِس کے بعد اُس نے شہریوں سے کہا کہ وہ مسلمان مجاہدین کے لئے شہر میں جگہ بنائیں اور پھر وہاں پر جامع مسجد بنائی گئی ۔ بعض کا بیان ہے کہ اہل شہر سے یہ اقرار بھی لے لیا گیا تھا کہ وہ بت اور آتشکدوں کے اسباب بھی مسلمانوں کو دے دیں ۔ انہوں نے پچاسی ہزار مثقال سونے کے زیورات اور اسبا ب دیئے ساتھ ہی سونے اور چاندی کے بنے بت بھی تھے جنہیں مسلمانوں پگھلا ڈالا۔ فتح کی بشارت کے ساتھ قتیبہ بن مسلم نے حجاج بن یوسف کے پاس ایک عورت بھی جو آخری کسریٰ یزد گرد کی نسل سے تھی بھیج دیا اور حجاج بن یوسف نے اُسے ولید بن عبدالملک کی خدمت میں بھیج دیا جس سے یزید بن ولید پیدا ہوا۔ 

🌹سمر قند کی فتح🌹

🌻اِس سال قتیبہ بن مسلم نے سمر قند فتح کیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : باہلی کی روایت میں ہے کہ جب قتیبہ بن مسلم جہاد کے لئے روانہ ہوا تو دریا کو اپنے داہیں طرف چھوڑ کر بخارا آیا ۔ اہل بخارا کو اپنے ساتھ جہاد میں شریک ہونے کی دعوت دی اور اُن سب کو لیکر شہر اربجن پہنچا ۔ اِس مقام پر ترکوں کے بادشاہ غوزک نے جس کے ہمراہ ترک ، اہل شاش اور فرغانہ کی ایک کثیر تعداد تھی مسلمانوں سے مقابلہ کیا ۔ کافروں اور مسلمانوں کے درمیان کئی بار جھڑپ ہوئی مگر کوئی بڑی فیصلہ کن جنگ نہیں ہوئی ۔ پھر بھی تمام لڑائیوں میں مسلمانوں کا پلہ بھاری رہا اور کفار برابر پیچھے ہٹتے گئے ۔ اِس طرح مسلمان بڑھتے بڑھتے ‘‘سمر قند’’ کے سامنے پہنچ گئے ۔ یہاں پر دونوں قریقین کے درمیان اصلی جنگ ہوئی ۔ پہلے تو کافروں نے مسلمانوں پر نہایت ہی جرأت اور بے جگری سے حملہ کیا کہ مسلمانوں کی صفیں درہم برہم ہو گئیں اور کافربڑھتے بڑھتے مسلمانوں کے پڑاؤ تک پہنچ گئے ۔ مگر پھر مسلمانوں نے جوابی حملہ کر کے کافروں کو پھر اُن کے پڑاؤ تک پسپا کر دیا ۔ اِس جنگ میں کافروں کا سخت جانی نقصان ہوا اور انہیں شکست ہوئی اور مسلمان شہر میں داخل ہو گئے ۔ پھر شہر والوں نے مسلمانوں سے صلح کر لی ۔ قتیبہ بن مسلم کے ایک قریبی ساتھی نے بیان کیا ہے کہ جب کافروں نے مسلمانوں کو پیچھے دھکیلنا شروع کیا تو اُس وقت قتیبہ بن مسلم میدان جنگ میں کھلی جگہ پر اپنے تخت پر بیٹھا ہوا تھا اور اپنی تلوار سے گاتی باندھے ہوئے تھا ۔جب کفار مسلمانوں کو دباتے ہوئے قتیبہ بن مسلم سے بھی آگے بڑھ گئے تو وہ بھی آگے بڑھ آیا لیکن ابھی وہ تلوار کی گاتی بھی نہیں کھولنے پایا تھا کہ ہمارے لشکر کے دونوں بازوؤں (میمنہ اور میسرہ) نے کافروں پر جس نے ہمارے قلب کو پسپا کر دیا تھا گھیرے میں لیکر حملہ کر دیا اور اُسے شکست دی اور پھر اُن ہی کے لشکر تک پسپا ہونے پر مجبور کر دیا ۔ اُس دن کافروں کے بے شمار آدمی مارے گئے اور مسلمان سمرقند میں داخل ہوگئے اور شہر کے باشندوں نے صلح کر لی۔ بادشاہ غوزک نے مسلمانوں کے لئے کھانا پکوایا اور قتیبہ بن مسلم کو دعوت دی ۔ قتیبہ اپنے لشکر کو لیکر دعوت کھانے آیا اور کھانا کھانے کے بعد قتیبہ بن مسلم نے غوزک سے کہا: ‘‘ اب تم یہاں سے اپنا بوریہ بستر باندھ کر نکل جاؤ ۔’’ اب غوزک مجبور تھا کیا کرتا مجبوراً وہ اپنے اہل و عیال اور محافظوں کو لیکر چلا گیا ۔ اُس وقت قتیبہ بن مسلم نے یہ آیت تلاوت کی :ترجمہ۔‘‘ اﷲ ہی وہ ہے کہ جس نے پہلی قوم عاد کو ہلاک کر ڈالااور قوم ثمود کو بھی باقی نہیں چھوڑا۔’’ 

🌹سمرقند اور خوارزم پر گورنر کی تقرری🌹

🌻قتیبہ بن مسلم نے سمرقند اور خوارزم کی فتح کے بعد اُن دونوں پر شہروں پر اپنا گورنر مقرر کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : قتیبہ بن مسلم نے اپنے بھائی عبداﷲ بن مسلم کو سمر قند اور خوارزم کا گورنر مقرر کردیا اور ایک زبردست فوج اُس کے پاس متعین کر دیا اور اپنے گورنر کو حکم دیا:‘‘ کسی مشرک کو اُس کے ہاتھ پر مہر لگائے بغیر شہر میں نہیں آنے دینا اور صرف اُس وقت تک اُسے شہر میں رہنے کی اجازت دینا جب تک کہ چکنی مٹی اُس کے ہاتھ پر گیلی رہے ۔ اگر خشک ہونے کے بعد کوئی مشرک شہر میں نظر آئے تو اُسے قتل کر دینا ۔ اِسی طرح اگر کوئی چھرا یا خنجر وغیرہ اُس کے پاس برآمد ہو تو بھی فوراً قتل کر دینا ۔ رات کو ‘‘شہر پناہ’’ کا دروازہ بند ہونے کے بعد اگر کوئی مشرک شہر میں نظر آئے تو اُسے بھی قتل کر دینا ۔’’ چونکہ قتیبہ بن مسلم نے دونوں شہروں کو ایک ہی سال میں فتح کیا تھا اِس لئے اُس نے کہا: ‘‘ اصل میں یہ دوڑ ، دوڑ ہے نہ کہ دو جنگلی گدھوں کے مقابلہ کی دوڑ ۔ کیونکہ مثل یہ ہے کہ اگر کوئی شہسوار ایک ہی دوڑ میں دو گدھوں کا مار گرائے تو کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص دو جنگلی گدھوں کے درمیان دوڑا۔’’ پھر قتیبہ بن مسلم سمر قند سے ‘‘مرو’’ واپس آگیا ۔ 

🌹موسیٰ بن نصیر کی دعا کی قبولیت🌹

🌻موسیٰ بن نصیر مسلسل کئی سال سے بلادِ مغرب یعنی افریقہ (آج کل کا شمالی افریقہ) میں مسلسل جہاد میں مصروف تھا اور اﷲ تعالیٰ کامیابیاں عطا فرما رہے تھے ۔ اِ س سال 93 ھجری میں اُن علاقوں میں سخت قحط پڑا اور موسیٰ بن نصیر نے نماز استسقاء ادا کی اور اﷲ تعالیٰ سے دعا کی تو اﷲ تعالیٰ نے اُس کی دعا قبول کی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال افریقہ میں سخت خشک سالی ہوئی اور اس کی وجہ سے قحط پڑا جس سے افریقہ کے باشندوں کو بہت تکلیف برداشت کرنی پڑی ۔ موسیٰ بن نصیر مسلمانوں کے ساتھ شہر سے باہر نکلا اور نماز استسقاء پڑھائی اور نصف النہار تک دعا میں مصروف رہا ۔ خطبہ بھی پڑھا ۔ جب منبر پر سے اُترنے لگا تو لوگوں نے کہا: ‘‘ آپ نے امیر المومنین کے لئے دعا کیوں نہیں مانگی؟’’ موسیٰ بن نصیر نے کہا: ‘‘ یہ وقت اُن کے لئے دعا کرنے کا نہیں ہے ۔’’ اﷲ تعالیٰ نے موسیٰ بن نصیر کی دعا کو قبول فرمایا اور اتنی بارش برسائی کہ کچھ عرصہ بعد اِس علاقے میں ہر طرف سر سبزی ہوگئی ۔ 

🌹اُندلس (اسپین) کی فتح میں موسیٰ بن نصیر بھی شامل🌹

🌻طارق بن زیاد اُندلس یعنی اسپین میں مسلسل فتوحات حاصل کرتے ہوئے آگے بڑھتا جارہا تھا ۔ موسیٰ بن نصیر نے اُسے حکم دیا تھا کہ وہ جہاں ہے وہیں رُکے لیکن اسپین میں حالات ایسے تھے کہ طارق بن زیاد کو مسلسل جہاد میں رہنا پڑ رہا تھا ۔ اِسی لئے وہ نہیں رُکا جس کی وجہ سے موسیٰ بن نصیر اُس سے ناراض ہو گیا اور خود بھی لشکر لیکر اسپین پہنچا ۔ جب طارق بن زیاد نے اُس سے ملاقات کر کے تمام حالات بتائے تو اُس کی ناراضگی ختم ہوگئی اور دونوں سپہ سالار الگ الگ علاقوں سے اسپین پر حملہ آور ہوئے اور مسلسل فتوحات حاصل کرنے لگے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: 93 ھجری میں موسیٰ بن نصیر اپنے سپہ سالار طارق بن زیاد سے ناراض ہوا اور ماہ رجب المرجب میں اُس کے پاس جانے کے لئے روانہ ہوا ۔ موسیٰ بن نصیر کے ساتھ حبیب بن نافع فہری بھی تھا ۔ قیروان سے روانہ ہوتے وقت موسیٰ بن نصیر نے اپنے بیٹے عبداﷲ بن موسیٰ کو اپنی جگہ گورنر بنایا اور دس ہزار فوج لیکر آبنائے ‘‘جبل االطارق’’ کو عبور کر کے اُندلس (اسپین) کی سرزمین پر قدم رکھا ۔ طارق بن زیاد نے اُس کا استقبال کیا اور اُس کی ناراضی کو دور کر دیا ۔ موسیٰ بن نصیر بھی اُس سے خوش ہو گیا اور اُسے ‘‘طلیطلہ’’ (جو اندلس کا ایک بہت بڑا شہر تھا) کی طرف حملہ کرنے کے لئے بھیج دیا اور خود دوسری طرف سے حملہ کرنا شروع کر دیا ۔ اب اسپین میں ایک طرف سے طارق بن زیادشہروں کو فتح کرتا جارہا تھا اور دوسری طرف سے موسیٰ بن نصیر شہروں کو فتح کرتا جا رہا تھا ۔ طارق بن زیاد نے جب ‘‘طیطلہ’’ کو فتح کیا تو اُسے حضرت سلیمان علہ السلام کا وہ دستر خوان ملا جس میں اِس قدر سونا اور چاندی لگا ہوا تھا کہ اُن کی قیمت کا اندازہ صرف اﷲ تعالیٰ ہی خوب کر سکتا ہے ۔ 

🌹حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ کی معزولی🌹

🌻اِس سال ولید بن عبدالملک نے حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ کو ایسا عمل کرنے کا حکم دیا جسے آپ رحمتہ اﷲ علیہ نے انتہائی بے دلی اور ناراضگی سے انجام دیا ۔ اِس کے بعد آپ رحمتہ اﷲ علیہ کا دل اِس عہدے سے پھیکا پڑ گیا اور آپ رحمتہ اﷲ علیہ نے ظلم کے خلاف آواز اُٹھائی تو ولید بن عبدالملک نے آپ رحمتہ اﷲ علیہ کو معزول کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال ولید بن عبدالملک کے حکم سے حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے خبیب بن عبداﷲ بن زبیر کو پچاس کوڑے لگوائے اور سخت سردی میں پانی کی پکھال اُن کے اُوپر ڈلوائی اور پھر انہیں مسجد کے دروازے پر کھڑا رکھا اور اِس کی وجہ سے اُن کا انتقال ہو گیا ۔ حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے یہ حکم بے دلی سے پورا تو کر دیا لیکن اِس کے بعد آپ نے ظلم کے خلاف آواز اُٹھائی ۔ حجاج بن یوسف کے مظالم کے شکار جب حج کرنے آتے تھے تو حضرت عُمر بن عبدالعزیز کو حجاج بن یوسف کے مظالم کے بارے میں بتاتے تھے ۔ آپ نے ولید بن عبد الملک کو حجاج بن یوسف کے مظالم سے آ گاہ کیا کہ وہ عوام پر بلا وجہ بے قصور مظالم کرتا ہے۔ حجاج بن یوسف کو بھی اِس کی اطلاع مل گئی اور اُس نے ولید بن عبدالملک کو لکھا: ‘‘ اہل عراق میں سے جو ہمارے خلاف تھے اور آپس میں پھوٹ اور نفاق ڈلوانا چاہتے تھے ۔ وہ ملک عراق سے جِلا وطن کر دیئے گئے ہیں اور انہوں نے مکۂ مکرمہ اور مدینۂ منورہ میں جا کر پناہ لی ہے مگر اِس کے نتائج خطر ناک ہوں گے ۔’’ عبدالملک بن مروان نے وصیت کی تھی کہ حجاج بن یوسف پر ہمیشہ بھروسہ کرنا ۔اِسی لئے ولید بن عبدالملک نے اپنے چچا زاد بھائی اور بہنوئی حضرت عُمر بن عبدالعزیز کو معزول کرنے کا فیصلہ کر لیا اور حجاج بن یوسف کو لکھا: ‘‘ تم گورنری کے لئے دو شخصوں کا نام پیش کرو۔’’ حجاج بن یوسف نے عثمان بن حیان اور خالد بن عبداﷲ کے نام پیش کئے ۔ ولید بن عبدالملک نے خالد بن عبداﷲ کو مکۂ مکرمہ کا اور عثمان بن حیان کو مدینۂ منورہ کا گورنر مقرر کر دیا اور حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ کو معزول کر دیا ۔ 

🌹آخرت کا خوف🌹

🌻حضرت عُمر بن عبد العزیز رحمتہ اﷲ علیہ نے ولید بن عبدالملک کے حکم کو انتہائی بیزاری سے پورا کیا لیکن اِس حکم کو پورا کرنے میں حضرت خبیب بن عبداﷲ بن زبیر کی جان چلی گئی ۔ اِس واقعہ نے حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ پر اتنا گہرا اثر ڈالا کہ آپ اِس کے بعد ہمیشہ آخرت کے خوف سے روتے رہے ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت خبیب بن عبداﷲ بن زبیر کی موت کے بعد حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ سخت خوف زدہ رہنے لگے تھے اور جب کوئی شخص آخرت کی بشارت دیتا تھا تو وہ کہتے تھے :‘‘ کیا کہتے ہو؟ حضرت خبیب بن عبداﷲ بن زبیر میرے راستے میں ہیں۔’’ اور پھر اِس طرح گریہ و زاری کر کے رونے لگتے تھے جیسے کوئی نامراد بیوہ عورت روتی ہے ۔ جب لوگ اُن کی تعریف و توصیف کرتے تھے تو آپ کہتے تھے:‘‘ اگر میں حضرت خبیب بن عبداﷲ بن زبیر کی وجہ سے پکڑ میں نہ آؤں تو سمجھ لو کہ خیر ہے ورنہ میرا انجام نہ جانے کیا ہوگا؟’’ وہ مدینۂ منورہ کے گورنر تھے اور حضرت خبیب بن عبداﷲ بن زبیر کے کوڑے لگنے تک رہے مگر اِس واقعہ نے آپ کی زندگی کو بالکل ہی بدل دیا اور ہمیشہ ملول و اُداس رہنے لگے اور عبادت کے ساتھ گریہ و زاری میں زندگی گزار دی ۔ اِس حزن و ملا ل اور سخت خوف نے اُن کی زندگی کو یکسر بدل دیا تھا اور وہ پہلے سے زیادہ عدل و انصاف ، صدقہ و خیرات اور غلاموں اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک کی طرف مائل ہو گئے تھے ۔ 

🌹ہندوستان میں محمد بن قاسم کی فتوحات🌹

🌻محمد بن قاسم ہندوستان میں مسلسل فتوحات حاصل کر رہا تھا اور آگے بڑھتا چلا جارہا تھا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: اِس سال 93 ھجری میں حجاج بن یوسف کے رشتہ دار محمد بن قاسم نے ‘‘دیبل’’ ( کراچی) اور سندھ کے دوسرے شہر فتح کئے ۔ حجاج بن یوسف نے جب محمد بن قاسم کو ہندوستان کی مہم پر سپہ سالار بنا کر بھیجا تو اُس وقت اُس کی عُمر صرف سترہ(۱۷) سال کی تھی ۔وہ سندھ میں برابر پیش قدمی کر رہا تھا کہ اُس کے مقابلے پر راجہ داہر اپنی فوج لیکر آگیا جس میں ہاتھی بھی تھے ۔ داہر کی فوج میں اُس وقت بڑے جنگجو اور بہادر لوگ تھے اور ستائیس(27) منتخب اور چیدہ ہاتھی بھی تھے ۔ جب دونوں فوجیں آمنے سامنے آئیں تو گھمسان کا رن پڑا اور داہر اور اُس کی فوج کے بہت سے سپاہی مارے گئے ۔ مسلمانوں نے بھاگتے ہوئے کافروں کا تعاقب کیا اور اُن کو بھی موت کے گھاٹ اُتار دیا ۔ اِس کے بعد محمد بن قاسم کیرج اور برہا کو فتح کرنے کے لئے آگے بڑھا اور بہت سا مال غنیمت اور بے شمار زرو جواہر حاصل کیا ۔ 

🌹93 ھجری کا اختتام🌹

🌻93 ھجری کے اختتام پر مسلمان تین بڑے علاقوں میں مسلسل جہاد میں مصروف تھے ۔ محمد بن قاسم ہندوستان میں مسلسل فتوحات حاصل کرتا جا رہا تھا ۔ قتیبہ بن مسلم روسی ترکستان میں مسلسل فتوحات حاصل کرتا جارہا تھا اور موسیٰ بن نصیر اور طارق بن زیاد اُندلس یعنی اسپین میں مسلسل فتوحات حاصل کرتے جارہے تھے ۔ اِس سال کے اختتام پر حجاج بن یوسف ملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر تھا ۔ ملک مصر کا گورنر عبداﷲ بن عبدالملک تھا ۔ افریقہ کا گورنر موسیٰ بن نصیر تھا ۔ خراسان کا گورنر قتیبہ بن مسلم تھا ۔ مکۂ مکرمہ کا گورنر خالد بن عبداﷲ تھا اور مدینۂ منورہ کا گورنر عثمان بن حیان تھا ۔ اِس سال مسلمانوں کو حج عبدالعزیز بن ولید نے کرایا۔

🌹حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ کا انتقال🌹

🌻اِس سال 93 ھجری میں رسول اﷲ صلی علیہ وسلم کے خاص خادم حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ قبیلہ خزرج کی شاخ بنو نجار کے ہیں آپ رضی اﷲ عنہ کی والدہ محترمہ سیدہ اُم سُلیم رضی اﷲ عنہا ہیں جن کا نام ملیکۃ بنت ملجان ہے ۔ آپ رضی اﷲ عنہا کا شوہر مالک کافر تھا اور آپ رضی اﷲ عنہا کے اسلام قبول کرنے کی وجہ سے طلاق دے دیا تھا ۔ بعد میں حضرت ابو طلحہ رضی اﷲ عنہ نے نکاح کر لیا ۔ حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے کافی احادیث بیان کی ہیں اور اہم علوم سے بھی واقف تھے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرات ابوبکر صدیق ، عُمر فاروق ، عثمان غنی اور عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہم سے بھی روایات بیان کی ہیں اور اُن سے تابعین نے روایات بیان کی ہیں۔ حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں :‘‘ جب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم مدینۂ منورہ تشریف لائے تو میری عُمر دس سال تھی اور جب آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو میری عُمر بیس سال تھی ۔’’ حضرت ثمامہ رضی اﷲ عنہ کہتے ہیں:کسی نے آپ رضی اﷲ عنہ سے پوچھا: ‘‘ کیا آپ غزوۂ بدر میں شریک ہوئے تھے ؟’’ آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا: ‘‘ میں بھلا غزوہ بدر سے کیسے غائب ہو سکتا ہوں؟’’ ایک انصاری نے کہا: ‘‘ یہ غزوۂ بدر میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت کر رہے تھے ۔’’ حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں: ‘‘ مجھے میری والدہ محترمہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئیں ۔ اُس وقت میں لڑکا تھا ۔اِس لئے انہوں نے مجھے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے عرض کیا: ‘‘ یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم!یہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا ادنیٰ خادم ہے ۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم اِس کے لئے دعا کر دیں۔’’ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: ‘‘ اے اﷲ!اِس کو کثیر مال و اولاد دے اور جنت میں داخل کر۔’’ایک روایت کے مطابق اُن کے چچا حضرت ابوطلحہ رضی اﷲ عنہ نے انہیں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں لیکر آئے اور عرض کیا: ‘‘ یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم! اِس کی والدہ محترمہ نے اِسے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت کے لئے پیش کیا ہے اورکہا ہے کہ یہ انس بہت سمجھ دار ہے اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت کرے گا اور میں نے انس کو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے لئے وقف کر دیا ہے ۔’’ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے قبول فرما لیا ۔ پھر عرض کیا :‘‘ یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم! اِس کے لئے دعا کردیں۔’’ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے دعا فرمائی :‘‘ اے اﷲ! تُو انس کو کثیر مال اور اولاد دے اور جنت میں داخل کر۔’’ حضرت انس رضی اﷲعنہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے بعد بصرہ منتقل ہو گئے تھے اور وہاں آپ رضی اﷲ عنہ کے چار مکانات تھے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ کو حجاج بن یوسف نے کافی تکلیفیں پہنچائیں اور یہ عبدالرحمن بن اشعث کی بغاوت کے سبب سے تھا ۔ حجاج بن یوسف کو وہم ہو گیا تھا کہ شاید آپ رضی اﷲ عنہ کا بھی اِس معاملہ سے کچھ تعلق ہے یا آپ رضی اﷲ عنہ نے اِس سلسلے میں کوئی فتویٰ دیا ہے ۔ جس کی وجہ سے اُس نے آپ رضی اﷲ عنہ پر کافی سختی کی جس کی شکایت آپ رضی اﷲ عنہ نے عبدالملک بن مروان سے کی ۔ اُس نے اِس بارے حجاج بن یوسف کو بہت سخت خط لکھا جس سے وہ گھبرا گیا اور مصالحت کر لی ۔ موسیٰ سنبلاوی کہتے ہیں : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے عرض کیا : ‘‘ آپ رضی اﷲ عنہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے باقی رہ جانے والے آخری صحابی ہیں؟’’ اِس کا جواب انہوں نے یہ دیا : ‘‘ یوں تو پوری عرب قوم باقی ہے البتہ صحابہ رضی اﷲ عنہم میں سے میں آخری زندہ رہنے والا ہوں۔’’ عُمر بن سبہ وغیرہ کہتے ہیں :‘‘ انتقال کے وقت حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ کی عُمر ایک سو سات (107) سال تھی ۔ امام احمد نے اپنی مسند میں چورانوے (94) سال لکھی ہے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ کے سنہ انتقال میں لوگوں کا اختلاف ہے ۔ بعض نے کہا کہ 90 ھجری سے قبل انتقال ہوا ۔ بعض نے 91 ھجری ، بعض نے 92 ھجری اور بعض نے 93 ھجری بتائی ہے ۔ واﷲ و اعلم۔

🌹93 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان🌹

🌻اِس سال 93 ھجری میں جن کا انتقال ہوا اُن میں سے چند یہ ہیں ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 93 ھجری میں بلال بن ابی الدردا ء کا انتقال ہوا ۔ یہ پہلے دمشق کے گورنر بنے ، پھر انہیں وہیں ‘‘عہدۂ قضاء’’ ( سُپریم کورٹ کا جج) پر مامور ہوئے ۔ اِس کے بعد عبدالملک بن مروان نے انہیں اِس عہدے سے معزول کر کے ابو ادریس خولانی کا تقرر کر دیا ۔ بلال بن ابی الدرداء عمدہ سیرت و کردار کے آدمی تھے اور کثیر العبادت بھی تھے اور بظاہر جو قبر دمشق کے ‘‘باب الصغیر’’ کے پاس ہے وہ انہی ‘‘ابوالدرداء’’ کی ہے یعنی بلال بن ابو الدرادء کی۔ نہ کہ بلال بن حمامہ کی جو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے مؤذن تھے کیونکہ مؤذن بلال داریا میں دفن ہیں۔ واﷲ و اعلم۔اِس سال بشر بن سعید مزنی کا انتقال ہوا ۔ آپ سید الفقیہ اور عابد تھے ۔ آپ کا شمار متقی اور نہایت عبادت گذاروں میں ہوتا تھا ۔ مدینۂ منورہ میں انتقال ہوا۔ اِس سال زراہ بن اوفی کا انتقال ہوا ۔ یہ ابن حاجب عامری کہلاتے تھے ۔ بصرہ کے قاضی تھے اور اہل بصرہ میں علماء کبار اور صالحین میں شمار ہوتے تھے ۔ اِن سے کثیر روایات منسوب ہیں ۔ ایک دن صبح کی نماز میں سورہ المدثر تلاوت کر رہے تھے ۔ جب آیت :ترجمہ‘‘ جب صور پھونکا جائے گا۔’’ پر پہنچے تو گر پڑے اور اﷲ کو پیارے ہو گئے ۔ اِن کا انتقال بصرہ میں اور اُس وقت عُمر ستر (70) سال تھی ۔ اِس سال حضرت خبیب بن عبداﷲ بن زبیر کا انتقال ہوا۔ اِن کو ولید بن عبدالملک نے حضرت عُمر بن عبدالعزیز کے ہاتھوں پٹوایا تھا ۔ اِس عمل پر وہ زندگی بھر افسوس کر کے روتے رہے ۔ حضرت خبیب بن عبداﷲ بن زبیر کا انتقال مدینۂ منورہ میں ہوا۔ اِس سال حفص بن عاصم کا انتقال ہوا ۔ یہ عُمر بن خطاب مدنی کے بیٹے ہیں۔ اِن سے کثیر روایات منسوب ہیں ۔ صالحین میں سے تھے اور مدینہ منورہ میں انتقال ہوا۔ اِس سال سعید بن عبدالرحمن کا انتقال ہوا ۔ یہ عتاب بن اُسید کے بیٹے ہیں ۔ بصرہ کے شرفاء میں سے تھے ۔ نہایت سخی اور فیاض الطبع شخص تھے اور سخاوت و کرم کے لئے اُن کی مثال دی جاتی تھی ۔ اِس سال فروہ بن مجاہد کا انتقال ہوا۔ اِس سال ابو الشعثا جابر بن یزید کا انتقال ہوا ۔ ابوالشعثا کہتے تھے :‘‘ کسی مسکین پر خرچ کیا ہوا ایک حبہ مجھے حج سے زیادہ محبوب ہے ۔ ابوالشعثا اُن لوگوں میں سے تھے جو صاحب علم ہوتے ہیں ۔ یہ بصرہ میں فتوے بھی دیا کرتے تھے ۔ حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ جیسے صحابی سے جب اہل عراق کوئی مسئلہ دریافت کرتے تو آپ رضی اﷲ عنہ فرماتے : ‘‘ جب تمہارے یہاں ابو الشعثا جیسے لوگ موجود ہیں تو ہم سے مسئلہ پوچھنے کی کیا ضرورت ہے؟’’ابولشعثا نے صحابۂ کرام کی متعد بہ جماعت سے روایات بیان کی ہیں اور اِن کی اکثر و بیشتر روایات حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ اور حضرت عبداﷲ بن عباس رضی عنہ سے منقول ہیں۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں