ا44 سلطنت امیہ
تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 44
قتیبہ بن مسلم کا بیکند پر حملہ، اہل بیکند کی شکست اور صلح، اہل بیکند کی عہد شکنی اور مکمل شکست، بے شمار مال غنیمت، نو مشکث کی فتح، 87 ھجری کا اختتام، ا87 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان، 88 ھجری : قلعہ طوانیہ کی فتح، مسجد نبوی کی توسیع کا منصوبہ، مکانات کی ادائیگی، رومیوں اور ترکوں سے جنگ، بیت المعذور قائم کرنے کا حکم، بارش کے لئے دعا، 88 ھجری کا اختتام، 88 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان، ا89 ھجری : قلعہ سوریہ ، عموریہ ، ہرقلہ اور قمودیہ کی فتح
قتیبہ بن مسلم کا بیکند پر حملہ
اِس سال 87 ھجری میں قتیبہ بن مسلم نے بیکند پر حملہ کیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : نیزک سے صلح کرنے کے بعد قتیبہ بن مسلم دوسرے موسم جہاد تک ‘‘مرو’’ میں ہی مقیم رہا اور پھر 87 ھجری میں اُُس نے بیکند پر حملہ کیا ۔ ‘‘مرو’’ سے لشکر لیکر وہ ‘‘مرو الزور’’ آیا پھر ‘‘آمل’’ آیا ۔ اِس مقام سے اُس نے دریا عبور کر کے بیکند کا رُخ کیا ۔بخارا کے شہروں میں بیکند دریائے جیجوں کے قریب ترین واقع ہے ۔ یہ تاجروں کا شہر کہلاتا تھا اور بخارا کی سمت ریگستان سے پرے واقع ہے ۔ جب مسلمانوں کی فوج نے اُس کے بالکل قریب جا کر پڑاؤ ڈالا تو بیکند والوں نے اہل صغد اور دوسرے اپنے آس پاس کے لوگوں سے اعانت طلب کی ۔ اِس درخواست پر زبردست امدادی فوجیں بیکند کی امداد کے لئے پہنچ گئیں ۔ انہوں نے مسلمانوں کے رسل و رسائل کے راستہ کا محدود کر دیا ۔ اب یہ حالت ہو گئی کہ نہ قتیبہ بن مسلم کا کوئی قاصد اس حلقہ سے باہر جا سکتا تھا اور نہ اُس کے پاس کوئی قاصد پہنچ سکتا تھا ۔ اِس طرح دو مہینے تک اُسے کوئی خبر نہیں معلوم ہو سکی اور نہ حجاج بن یوسف کو اُس کی کوئی خبر معلوم ہو سکی ۔حجاج بن یوسف کو سخت تشویش ہوئی اور اُسے قدرتی طور پر مسلمانوں کی فوج کی تباہی کا خطرہ محسوس ہونے لگا ۔ اُس نے تمام مساجد میں دعا کرنے کا حکم دیا اور تمام شہروں میں بھی دعا کرنے کے احکام جاری کر دیئے اور اُس کی فوج کی یہ حالت تھی کہ روزآنہ دشمن سے برسر پیکار رہتی تھی ۔
اہل بیکند کی شکست اور صلح
قتیبہ بن مسلم نے اچانک اہل بیکند پر زبردست حملہ کیا اور فتح حاصل کی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : قتیبہ بن مسلم کا ایک عجمی مخبر تھا اور اُس کا نام تنذر تھا ۔ اہل بخارا نے اُسے بہت کچھ رشوت دے کر اپنے ساتھ ملا لیا اور اُس نے کہا: ‘‘ کسی ترکیب سے تُو قتیبہ بن مسلم کو اُس کی جگہ سے پیچھے ہٹا دے ۔ تنذر آیا اور قتیبہ بن مسلم سے اکیلے میں ملنے کو کہا مگر اُس نے ضرار بن حصین کو اپنے پاس بٹھائے رکھا ۔ تنذر نے کہا: ‘‘ حجاج بن یوسف معزول کر دیا گیا ہے اِس لئے آپ یہاں سے واپس ‘‘مرو’’ چلے جائیں۔’’قتیبہ بن مسلم نے تنذر کو قتل کر دیا اور ضرار بن حصین سے کہا: ‘‘ اب تمہارے اور میرے سوا کوئی بھی اِس خبر سے واقف نہیں ہے ۔ میں اﷲ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر یہ بات موجودہ جنگ کے اختتام تک کسی سے بھی میں نے سنی تو تمہیں قتل کر ڈالوں گا ۔اِسی لئے تم اپنی زبان پر مہر لگا لو کیونکہ اِس خبر کے عام ہونے سے تمام لوگوں میں بد دلی پھیل جائے گی ۔’’ اِس کے بعد قتیبہ بن مسلم نے اپنے لشکر کو حکم دیا کہ وہ دشمن پر حملہ کر دیں ۔ قتیبہ بن مسلم خود لشکر کے ہر حصہ میں جاتا تھا اور دشمنوں سے لڑتا ہوا اپنے ساتھیوں کو جہاد پر اُبھارتا تھا ۔ زبردست جنگ ہونے لگی اور مسلمانوں کی تلواروں نے دشمنوں کے گلوں کو ناپنا شروع کر دیا ۔ اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں پر صبر و ثبات و استقلال نازل فرمایا ۔ غروب آفتاب تک لڑائی ہوئی ۔ پھر اﷲ تعالیٰ نے دشمنوں کے مونڈھے پشت پر سے مسلمانوں کے سپرد کردیئے اور دشمن شکست کھا کر شہر کی طرف بھاگے ۔ مسلمانوں نے اُن کا ایسا تعاقب کی کہ شہر میں گھسنے ہی نہیں دیا ۔ کافر منتشر ہو گئے اور مسلمانوں نے جس طرح چاہا اُن کو قتل کیا اور جسے چاہا گرفتار کر لیا ۔ بہت کم شہر میں پناہ لے سکے ۔ قتیبہ بن مسلم نے سفر مینا والوں کو حکم دیا کہ شہر کی فصیل تباہ کر دی جائے ۔ اِس پر کافروں نے صلح کی درخواست دی جو قتیبہ بن مسلم نے قبول کر لی اور بنو قتیبہ کے ایک شخص کو وہاں گورنر مقرر کر دیا ۔
اہل بیکند کی عہد شکنی اور مکمل شکست
صلح کر لینے کے بعد قتیبہ بن مسلم اپنے گورنر کا مقرر کر کے اپنا لشکر لیکر واپس ہوا لیکن اہل بیکند نے عہد شکنی کی تو اُسے واپس جا کر پھر سے لڑنا پڑا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکتے ہیں: اب قتیبہ بن مسلم اپنے لشکر کے ساتھ واپس ہوا ۔ ابھی ایک یا دو منزل ہی آیا ہو گا اور بیکند سے صرف پانچ فرسخ کے فاصلے پر تھا کہ اہل بیکند نے عہد شکنی کی اور مسلمانوں کے گورنر اور اُس کے مختصر لشکر کو قتل کر دیا ۔ قتیبہ بن مسلم کو اِس بات کی اطلاع ملی تو وہ واپس پلٹا ۔ اہل بیکند شہر میں قلعہ بند ہو گئے ۔ ایک مہینے تک قتیبہ بن مسلم حملہ کرتا رہا ۔ پھر اُس نے سفر مینا والوں کو حکم دیا کہ شہر کا حصار ختم اور تباہ کر دیا جائے ۔ انہوں نے فصیل پر لکڑیوں سے پاڑ باندھنا شروع کر دی ۔ قتیبہ بن مسلم کا ارادہ تھا کہ جب پاڑ مکمل طور سے بندھ جائے تو اُس وقت اس میں آگ لگا دی جائے اور اِس طرح فصیل منہدم ہو جائے گی ۔ مگر اس کے سفر مینا والے کام ختم کرتے اُس سے پہلے یہ فصیل گر گئی اور اُس کے نیچے دب کر چالیس آدمی ہلاک ہو گئے ۔ اب پھر اہل بیکند نے صلح کی درخواست کی لیکن قتیبہ بن مسلم نے انکار کر دیا اور اپنا حملہ جاری رکھا ۔ آخر کار اُس نے بیکند کو تلوار کے ذریعے فتح کر لیا اور شہر کے اندر داخل ہو گیا ۔ شہر میں جتنے جنگجو تھے سب کو قتل کر دیا اور باقی سب کو قیدی بنا لیا ۔
بے شمار مال غنیمت
قتیبہ بن مسلم نے بیکند فتح کر لیا اور شہر میں داخل ہوا تو بے شمار مال و دولت ہاتھ لگا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : قیدیوں میں ایک کانا بھی تھا اُسی نے ترکوں کو مسلمانوں کے خلاف ‘‘عہد شکنی’’ کرنے پر اُبھارا تھا ۔ اُس نے قتیبہ بن مسلم سے کہا: ‘‘ میں اپنی جان کا فدیہ دینے کو تیار ہوں ۔’’ قتیبہ کے ایک کمانڈر نے کہا: ‘‘ کتنا دو گے ؟’’اُس نے کہا: ‘‘ پانچ ہزار چینی ریشمی تھان ،جس کے ہر تھان کی قیمت دوہزار درہم ہے ۔ ’’ لوگوں نے کہا: ‘‘ فدیہ لینے سے مسلمانوں کی مالی حالت مضبوط ہو گی اور اب اِسے موقع نہیں ملے گا کہ یہ پھر ایسی حرکت کرے ۔اِس لئے فدیہ لینے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔’’ مگر قتیبہ بن مسلم نے درخواست نامنظور کر دی اور کہا: ‘‘ میں نہیں چاہتا کہ اب اِس کا وجود آئندہ کسی موقع پر بھی مسلمانوں کے لئے موجب خطرہ بنے ۔۔ لہٰذا اِسے قتل کر دینا چاہیئے ۔’’ پھر اسے قتل کر دیا ۔ بیکند کی فتح میں مسلمانوں کو بے شمار سونے چاندی کے برتن ملے ۔ قتیبہ بن مسلم نے مال غنیمت کی نگرانی اور تقسیم کے لئے عبداﷲ بن والان عددی کو جسے قتیبہ بن مسلم ‘‘امین بن امین’’ کہا کرتا تھا اور ایسا بن جبیس باہلی کو مقرر کر دیا ۔ ان دونوں نے جس قدر سونے چاندی کے ظروف اور بت تھے اُن سب کو گلا دیا اور قتیبہ بن مسلم کے پاس لے آئے ۔ اِس کے علاوہ بیکن میں مسلمانوں کو اتنا سارا مال غینمت ہاتھ آیاکہ اِس قدر مال غنیمت اِس مقام سے انہیں خراسان میں کبھی نہیں ملا تھا ۔اِس فتح کے بعد قُتیبہ بن مسلم ‘‘مرو’’ واپس آگیا ۔
نو مشکث کی فتح
اِس فتح سے مسلمانوں کی جنگی حالت بہت بہتر ہوگئی ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : مسلمانوں کی مالی حالت اب بہت بہتر ہو گئی تھی اور انہوں نے خوب ہتھیار اور گھوڑے خرید لئے ۔ ان کے لئے دور دور سے لوگ سواری کے جانور لائے اور ہر مسلمان یہی چاہتا تھا کہ سب سے عمدہ اور خوب صورت گھوڑا اور ہتھیار میں خریدوں ۔ اِس سے ہتھیاروں کی قیمت بڑھ گئی اور ایک نیزہ ستر درہم میں ملنے لگا ۔ سرکاری ہتھیاروں کے ذخائر میں بہت سارا ہتھیار اور اسلحہ اور دوسرے ضروری سامان تھے ۔ قتیبہ بن مسلم نے حجاج بن یوسف کو لکھا :‘‘ اگر آپ اجازت دیں تو میں یہ ہتھیار اور فوجی سامان فوج کو دے دوں ۔’’ حجاج بن یوسف نے اجازت دے دی ۔ قتیبہ بن مسلم نے تمام جنگی سامانِ ضروریات اور اسلحہ نکلوائے اور لوگوں میں تقسیم کر دیئے ۔ اب فوج مکمل طور سے کیل کانٹے سے لیس ہو گئی تھی ۔ موسم ِ بہار میں قتیبہ بن مسلم نے اپنی فوج کو جمع کر کے کہا: ‘‘ میں چاہتا ہوں کہ آپ لوگوں کو جہاد کے لئے ایسے وقت لے جاؤں جب کہ زاد راہ کے اُٹھانے کی دقت نہ پڑے اور موسم سرما سے پہلے واپس لے آؤں۔’’ اِس کے بعد قتیبہ بن مسلم ایک نہایت آراستہ و پیراستہ فوج کے ساتھ جس کے گھوڑے نہایت حسین و خوب صورت تھے اور چمکتے ہوئے ہتھیاروں سے مسلح جہاد کے لئے روانہ ہوا ۔ پہلے ‘‘آمل’’ آیا پھر ‘‘زم’’سے دریائے جیجوں کو عبور کر کے بخارا کے علاقے میں داخل ہوا اور شہر ‘‘نو مشکث’’ پر جو بخارا کا شہر ہے دھاو بول دیا ۔ شہر والوں نے صلح کر لی ۔
ا87 ھجری کا اختتام
ا87 ھجری کا اختتام ہوا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال کے اختتام پر حجاج بن یوسف ملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر تھا ۔ عبداﷲ بن عبدالملک ملک مصر کا گورنر تھا ۔ خراسان کا
گورنر قتیبہ بن مسلم تھا اور ملک حجاز یعنی مدینۂ منورہ کے گورنر حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ تھے اور انہوں نے ہی مسلمانوں کو اِس سال حج کرایا ۔ابوبکر بن حزم مدینۂ منورہ کے قاضی تھے ۔اِس سال حجاج بن یوسف نے جراح بن عبداﷲ کو بصرہ کا گورنر بنایا تھا ۔ عبداﷲ بن اذیینہ بصرہ کے قاضی تھے ۔ کوفہ کے جنگی معاملات جری بن عبداﷲ بجلی کے سپرد تھے ۔ ابوبکر بن ابی موسیٰ کوفہ کے قاضی تھے ۔
ا87 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان
اِس سال 87 ھجری میں حضرت عتبہ بن عبدالسلمی رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔ علامہ عمادلدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عتبہ بن عبدالسلمی رضی اﷲ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں ۔ حمص سے آئے تھے ۔روایت ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہ غزوۂ بنو قریظہ کے وقت موجود تھے ۔ حضرت عرباض فرماتے ہیں :‘‘ مجھ سے حضرت عتبہ رضی اﷲ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ انہوں نے مجھ سے ایک سال پہلے اسلام قبول کیا تھا ۔’’ امام واقدی وغیرہ کا کہنا ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہ کا انتقال 87 ھجری میں ہوا لیکن بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ 90 ھجری میں ہوا ۔ واﷲ و اعلم۔ ابو سعید اعرابی نے کہا: ‘‘ حضرت عتبہ بن عبدالسلمی ‘‘اصحاب ِ صفہ’’ میں سے ہیں ۔ اِس سال حضرت مقدام بن معدی کرب رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔ آپ رضی اﷲ عنہ جلیل القدر صحابہ ہیں ۔ آپ رضی اﷲ عنہ سے احادیث بھی مروی ہیں اور آپ رضی اﷲ عنہ سے تابعین نے بھی احادیث بیان کی ہیں ۔ اِس سال حضرت ابو اسامہ باہلی کا انتقال ہوا ۔ اِن کا اصلی نام صدی بن عجلان ہے ۔ یہ بھی حمص سے آئے تھے ۔ اِن سے بھی احادیث مروی ہیں ۔‘‘ تلقین ا لمیت بعد الدفن’’ والی حدیث کے راوی ہیں ۔ اِس کو امام طبرانی نے دعا میں بیان کیا ہے ۔ اِس سال قبیصہ بن ذؤیب کا انتقال ہوا۔ آپ ‘‘عام الفتح’’ میں پیدا ہوئے اور ان کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس دعا کے لئے لایا گیا ۔ آپ نے کثیر صحابہ رضی اﷲ عنہم سے روایت کی ہیں ۔‘‘یوم النحر’’ میں ان کی ایک آنکھ ضائع ہو گئی تھی ۔ آپ مدینۂ منورہ کے فقہاء میں شمار ہوتے تھے ۔ عبدالملک بن مروان کے دربار میں بہت بڑا رتبہ تھا ۔ دمشق میں انتقال ہوا۔ اِس سال عروہ بن مغیرہ کا انتقال ہوا ۔ یہ حجاج بن یوسف کے عہد میں کوفہ کے گورنر تھے ۔ ‘‘ مرو کے قاضی بھی تھے ۔ آپ پہلے شخص ہیں جس نے قرآن پاک میں نقطے لگائے ۔ آپ بڑے عالم و فاضل تھے ۔ اِس سال حضرت شریح بن حارث کا انتقال ہوا ۔ خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے آپ کو کوفہ کا قاضی مقرر کیا تھا ، جہاں انہوں نے پینسٹھ سال تک ‘‘عہدۂ قضا’’( سُپریم کورٹ کے جج) کے فرائض بحسن و خوبی انجام دیئے ۔
ا88 ھجری : قلعہ طوانیہ کی فتح
ہر سال رومی سرحدوں پرمسلمانوں اور رومیوں کے درمیان جنگ ہوتی تھی ۔ اِس سال مسلمانوں نے رومی قلعہ ‘‘طوانیہ’’ فتح کر لیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 88 ھجری میں مسلمانوں نے رومیوں کا قلعہ طوانیہ فتح کیا اور موسم سرما وہیں بسر کیا ۔ مسلمہ بن عبدالملک اور عباس بن ولید بن عبدالملک کی سپہ سالاری میں اسلامی فوج نے اِس قلعہ کو فتح کیا ۔ پہلے دن کی لڑائی میں مسلمانوں نے دشمنوں کو شکست دی ۔ رومی اپنے گرجاؤں اور خانقاہوں میں جا چھپے مگر پلٹ کر آئے اور اب کی مرتبہ مسلمان پسپا ہوگئے اور اِس بد حواسی سے بھاگے کہ معلوم ہوتا تھا کہ اب کسی طرح جنگ کی حالت درست نہں ہوسکتی ۔ صرف چند مجاہد عباس بن ولید کے پاس رہ گئے تھے اِن میں ابن محریز جمعی بھی تھا ۔ عباس بن ولید نے اُس سے کہا : ‘‘ کہاں ہیں قرآن پر ایمان رکھنے والے جو جنت کے خوہش مند ہیں؟’’ ابن محریز جمعی نے کہا: ‘‘ آپ انہیں آواز دے کر بلایئے وہ سب آپ کے پاس آئیں گے ۔’’ عباس بن ولید نے ‘‘یا اہل القرآن’’ بلند آواز سے پکارا تو سب مسلمان پلٹ پڑے ۔ اب کیا تھا اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کے دلوں اور قدموں کو جما دیا اور کفا ر رومیوں کو شکست ہوئی اور مسلمان قلعہ میں داخل ہو گئے ۔ ولید بن عبدالملک نے مدینۂ منورہ والوں کو حکم دیا کہ مدینۂ منورہ سے دوہزار کی فوج جہاد کے لئے تیار کی جائے ۔ مدینۂ منورہ کے مالدار لوگوں نے یہ ترکیب کی کہ اپنی جگہ دوسروں کو اُجرت دے کر بھیجنا شروع کر دیا اور بجائے دوہزار کے پندرہ سو تو عباس بن ولید اور مسلمہ بن عبدالملک کے قلعہ طوانیہ کی فتح میں شامل ہوئے تھے باقی پانچ سو پیچھے رہ گئے تھے اور موسم گرما کی مہم میں شریک نہیں ہوئے ۔
مسجد نبوی کی توسیع کا منصوبہ
اِس سال 88 ھجری میں ولید بن عبدالملک نے حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ کو مسجد نبوی سے متصل ‘‘ازواج ِ مطہرات’’ رضی اﷲ عنہنَّ کے مکانات کا انہدام کرنے اور مسجد نبوی کی توسیع کرنے کا حکم دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 88 ھجری میں ولید بن عبدالملک کا قاصد مدینۂ منورہ میں اِس حال میں داخل ہوا کہ اُس کا عمامہ اس طرح بے تکا سا بندھا ہوا تھا کہ دو تین پیچ اُس نے باندھ رکھے تھے ۔ اِس پر لوگ کہنے لگے کہ معلوم نہیں کہ قاصد کیا پیغام لیکر آیا ہے اور چہ مگوئیاں ہونے لگیں۔قاصد سیدھا حضرت عُمر بن عبدالعزیز کے پاس پہنچا اور انہیں ولید بن عبدالملک کا خط دیا جس میں لکھا تھا: ‘‘ ازواج مطہرات رضی اﷲ عنہنَّ ’’ کے حجرے بھی مسجد نبوی میں شامل کر دیئے جائیں۔اِس کے علاوہ مسجد نبوی کے پیچھے اور آس پاس جو مکانات ہیں وہ بھی خرید لئے جائیں تاکہ مسجد نبوی کا طول دو سو گز اور عرض دو سو گز ہو جائے اور اگر ممکن ہو تو مسجد کے سامنے کا حصہ بھی کچھ آگے بڑھا دیا جائے اور آپ ایسا کر سکتے ہیں کیونکہ مسجد کے سامنے آپ کے ننھیالی رشتہ داروں کے مکانات واقع ہیں وہ آپ کی مخالفت نہیں کریں ۔ ’’
مکانات کی ادائیگی
ولید بن عبدالملک نے مدینۂ منورہ کے گورنر حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ کے سامنے مسجد نبوی کی توسیع کا منصوبہ پیش کیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: ولید بن عبدالملک نے خط میں آگے لکھا:‘‘ اگر ان میں سے کوئی شخص مکان دینے سے انکار کرے تو آپ شہر والوں سے ان مکانات کی صحیح قیمت کا اندازہ کر ا کے نقد قیمت اُن کے حوالے کردیجیئے گا اور پھر مکانات کا منہدم کرادیجیئے گا ۔ اِس کے لئے خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ اور خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی نظیریں بھی موجود ہیں کہ انہوں نے پہلے بھی ایسا کیا ہے ۔ ’’ان مکانات کے مالک اس وقت حضرت عمِر بن عبدالعزیز کے پاس ہی بیٹھے ہوئے تھے ۔ آپ نے انہیں ولید بن عبدالملک کا خط پڑھ کر سنایا ۔ وہ لوگ قیمت لیکر مکانات دینے کے لئے تیار ہو گئے ۔ حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے قیمت اُن کے حوالے کر دی ۔اب آپ نے ازواج مطہرات رضی اﷲ عنہنَِّ کے حجروں کو مہندم کرا کر مسجد نبوی کی بنیاد شروع کر دی ۔ کچھ روز مدینۂ منورہ کے کاریگر وں نے کام کیا ۔پھر وہ معمار آگئے جنہیں ولید بن عبدالملک نے مسجد نبوی کی تعمیر کے لئے بھیجا تھا ۔
رومیوں اور ترکوں سے جنگ
اِس سال 88 ھجری میں مسلمہ بن عبدالملک نے رومیوں سے جہاد کیا اور تین قلعے قسطنطین ، غزالہ اور آخرم فتح کئے اور تقریباً ایک ہزار عرب مستعربہ قتل کر ڈالے اور اُن کے بال بچوں کو لونڈی اور غلام بنا لیا اور اُن کے تمام مال و متاع پر قبضہ کر لیا ۔ اِس سال قتیبہ بن مسلم نے بشار بن مسلم کو ‘‘مرو’’ میں اپنا نائب بنا کر نومشکث پر فوج کشی کی ۔ باشندگان نومشکث نے قتیبہ بن مسلم کا استقبال کیا اور اُس سے صلح کر لی ۔ یہاں تک کہ قتیبہ رامیثنہ گیا ۔ اُس شہر کے باشندوں نے بھی صلح کر لی اور قتیبہ بن مسلم ‘‘مرو’’ واپس آگیا ۔ راستے میں ترکوں نے جن کے ساتھ اہل صغد اور اہل فرغانہ بھی کثیر تعداد میں تھے مسلمانوں پر پیچھے سے حملہ کر دیا ۔ فوج کے پچھلے حصے پر عبدالرحمن باہلی تھا اور اُس کی فوج اور قتیبہ کی فوج کے درمیان ایک میل کا فاصلہ تھا ۔ ترکوں نے اچانک حملہ کردیا جب ترک بالکل قریب پہنچ گئے تو عبدالرحمن باہلی نے قاصد کے ذریعے فوراً قتیبہ بن مسلم کو خطرے کی اطلاع دی ۔ اتنے میں ترکوں نے حملہ کر دیا اور جنگ شروع ہو گئی ۔ قاصد نے قتیبہ بن مسلم کو اِس سانحہ کی اطلاع دی اور وہ فوراً اپنی فوج لیکر پلٹا ۔ عبدالرحمن باہلی بھی برابر ترکوں کے مقابلے پر ڈٹا ہوا تھا ۔ اب یہ حالت ہوگئی تھی کہ ترکوں نے
مسلمانوں کے چھکے چھڑا دیئے تھے مگر جب عبدالرحمن باہلی کی فوج نے دیکھا کہ قتیبہ بن مسلم اپنی فوج کے ساتھ پہنچ گیا ہے تو اُن کے حوصلے بلند ہو گئے اور ان میں ایک نئی تازہ روح پیدا ہوگئی اور وہ نہایت ثابت قدمی سے ظہر تک لڑتے رہے ۔ اِس معرکہ میں نیزک نے جو قتیبہ بن مسلم کے ساتھ تھا خوب بہادری دکھائی ۔ پھر اﷲ تعالیٰ نے ترکوں کو شکست دی اور اُن کی جمیعت منتشر ہو گئی ۔ عبدالرحمن باہلی کہتے ہیں :‘‘ اِن حملہ آور ترکوں کا سپہ سالار نغفور حصین کا بھانجا کور مغانون ترکی تھا اور ترکوں کی فوج دو لاکھ تھی مگر اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی ۔ ’’ قتیبہ بن مسلم ترمذ ہوتے ہوئے دریائے جیجوں کو پار کر کے بلخ سے ہوتا ہوا ‘‘مرو’’ پہنچا۔
بیت المعذور قائم کرنے کا حکم
اِس سال 88 ھجری میں ولید بن عبدالملک نے پوری مملکت اسلامیہ میں حکم دیا کہ جذام کے مریضوں کے لئے ‘‘بیت المعذور’’ ہر شہر میں قائم کیا جائے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ولید بن عبدالملک نے حضرت عُمر بن عبدالعزیز کو حکم دیا کہ تمام پہاڑی دشوار گذار راستے آسان کر دیئے جائیں اور مدینۂ منورہ میں کنویں کھدوائے جائیں ۔ اِسی قسم کا حکم ولید بن عبد الملک نے دوسرے صوبوں میں بھی بھیجا ۔ ایسا ہی حکم خالد بن عبداﷲ کو بھی موصول ہوا اور ولید بن عبدالملک نے پوری مملکت اسلامیہ میں حکم جاری کیا کہ جس قدر جذامی مریض ہیں وہ شا ہراہوں میں لوگوں کے سامنے نہ پھریں بلکہ اُن کے لئے ایک ‘‘بیت المعذور’’ بنا دیا جائے جہاں باقاعدہ طور پر تمام ضروریات ِ زندگی مہیا کرائی جاتی رہے ۔ اِس کے علاوہ ولید بن عبدالملک نے حضرت عُمر بن عبدالعزیز کو حکم دیا کہ ایک فوارہ بنایا جائے ۔( یہ فوارہ آج کل(محمد جریر طبری کے وقت ،لگ بھگ تین سو ھجری کے وقت) یزید بن عبدالملک کے مکان کے قریب واقع ہے)آپ نے اسے بنوا دیا اور اس میں سے پانی جاری ہو گیا ۔ جب ولید بن عبدالملک حج کرنے کے لئے آیا تو پانی کے اس ذخیرے اور فوارہ کو دیکھ کر بہت خوش ہوا اور حکم دیا کہ یہاں پہرہ بٹھا دیا جائے اور نمازیوں کو اِس میں سے پانی دیا جایا کرے ۔ اِس حکم کی تعمیل کر دی گئی ۔
بارش کے لئے دعا
اِس سال 88 ھجری میں حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ نے بارش کے لئے اﷲ تعالیٰ سے دعا کی اور اﷲ تعالیٰ نے قبول فرمائی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 88 ھجری میں حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔صالح بن کیسان بیان کرتے ہیں:‘‘ آپ حج کرنے کے لئے قریشیوں کے ساتھ مدینۂ منورہ سے روانہ ہوئے ۔ آپ نے اِن اصحاب کو اخراجات کے لئے بہت سا روپیہ اور سواری کے لئے سواریاں بھیج دیں تھیں ۔ اِن تمام اصحاب نے آپ کے ساتھ ‘‘ذی الحلیفہ’’ سے احرام باندھا۔ حضرت عُمر بن عبدالعزیز اپنے ساتھ قربانی کے جانور بھی لے گئے تھے ۔ جب تمام جماعت مقام ‘‘تنعیم’’ پہنچی تو قریش کے کچھ لوگ جن میں ابی میلکہ بھی آپ سے ملنے آئے اور بیان کیا کہ مکۂ مکرمہ میں پانی کی سخت قلت ہے اور ہمیں خوف ہے کہ حاجیوں کو اس وجہ سے سخت تکلیف اُٹھانا پڑے گی اور پینے کے لئے بھی پانی میسر نہیں ہو گا ۔ اُس وقت مطلع بالکل صاف تھا ۔ حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے فرمایا: ‘‘ آؤ ہم اﷲ سے دعا کرتے ہیں۔’’ اِس کے بعد آپ نے اور دوسرے تمام لوگوں نے نہایت عاجزی اور خلوص سے دیر تک اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کی ۔ اﷲ تعالیٰ نے اُن کی دعاؤں کو قبول کیا اور اﷲ کی قسم! اُس روز ہم بارش کی حالت میں بیت اﷲ پہنچے ۔ رات تک موسلا دھار مینہ برسا اور جھڑی لگ گئی ۔ وادئ بطحا میں اِس قدر سیلاب آیا کہ مکۂ مکرمہ والے خائف ہو گئے ۔ عرفہ ، منیٰ اور مذدلفہ میں بھی اِس قدر بارش ہوئی کہ مشکل سے لوگ عبور کر کے جاسکتے تھے اور اِس سال مکۂ مکرمہ میں خوب سر سبزی اور نباتات میں روئیدگی ہوئی ۔
ا88 ھجری کا اختتام
اِس سال 88 ھجری میں حجاج بن یوسف ملک عراق و ایران اور مشرقی ممالک کا گورنر تھا ۔ خراسان کا گورنر قتیبہ بن مسلم تھا ۔ ملک مصر کا گورنر عبداﷲ بن مروان تھا اور مدینہ منورہ کے گورنر حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ تھے اور آپ نے ہی مسلمانوں کوحج کرایا۔
ا88 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان
اِس سال 88 ھجری میں جن کا انتقال ہوا اُن میں سے چند اعیان و اشراف یہ ہیں۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: اِس سال حضرت عبداﷲ بن بسرمازنی رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔ یہ بھی اپنے والد محترم کی طرح صحابی ہیں ۔ حمص میں رہتے تھے ۔اِن سے تابعین کی ایک جماعت نے بھی روایت کی ہے ۔امام واقدی کے مطابق آپ رضی اﷲ عنہ کا انتقال 88 ھجری میں چورانوے (94) سال کی عُمر میں انتقال ہوا ۔ بعض لوگوں نے اِس پر یہ اضافہ کیا ہے کہ ملک شام میں انتقال کرنے والے آپ رضی اﷲ عنہ آخری صحابی ہیں۔ اِس سال عبداﷲ بن ابی اوفی رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔ آپ رضی اﷲ عنہ جلیل القدر صحابی ہونے کے ساتھ ساتھ کوفہ میں انتقال کرنے والے آخری صحابی ہیں۔ امام بخاری کے مطابق آپ رضی اﷲ عنہ کا انتقال 88 ھجری یا 89 ھجری میں ہوا لیکن امام واقدی کے علاوہ متعدد مورخین کے مطابق 86 ھجری میں ہوا ۔آپ رضی اﷲ عنہ کی عُمر سو برس سے زیادہ تھی ۔ اِس سال ہشام بن اسماعیل کا انتقال ہوا ۔ یہ عبدالملک بن مروان کا سسر تھا اور کئی سال مدینۂ منورہ کا گورنر بھی رہا تھا ۔ پھر ولید بن عبدالملک نے معزول کر دیا تو یہ دمشق آگیا تھا اور وہیں انتقال ہوا۔ اِس سال عمیر بن حکیم شامی کا انتقال ہوا ۔ ملک شام میں اِس کے علاوہ کوئی شخص نہیں تھا جو کھلے عام حجاج بن یوسف کی برائی بیان کرتا تھا ۔
ا89 ھجری : قلعہ سوریہ ، عموریہ ، ہرقلہ اور قمودیہ کی فتح
اِس سال 89 ھجری میں مسلمانوں نے رومیوں کے کئی قلعوں کو فتح کیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: مسلمہ بن عبدالملک کی زیر قیادت اِس سال 89 ھجری میں مسلمانوں نے قلعہ سوریہ فتح کیا ۔ امام واقدی بیان کرتے ہیں کہ اِس سال مسلمہ بن عبدالملک بن رومیوں سے جہاد کے لئے اُن کے علاقہ میں داخل ہوئے اُن کے ہمراہ رباس بن ولید بھی تھا ۔ دشمن کے علاقہ میں دونوں ساتھ میں داخل ہوئے مگر پھر علیحدہ علیحدہ ہو گئے ۔ مسلمہ بن عبدالملک نے قلعہ سوریہ فتح کیا اور عباس بن ولید نے قلعہ اذرولیہ فتح کیا ۔ رومیوں کی ایک فوج نے ان کی مزاحمت کی مگر انہیں شکست دی ۔ دوسرے مورخین کے مطابق مسلمہ بن عبدالملک نے قلعہ عموریہ پر حملہ کرنے کے لئے پیش قدمی کی ۔ یہاں رومیوں کی ایک زبردست فوج سے ان کا مقابلہ ہوا مگر اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی اور مسلمہ بن عبدالملک نے قلعہ جات ہرقلہ اور قمودیہ فتح کر لئے اور عباس بن ولید نے موسم گرما کی مہم لے کر بدندوں کی جانب سے کافروں کے علاقہ میں جہاد کے لئے بڑھاتھا ۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!




