اتوار، 25 اگست، 2024

47 سلطنت امیہ Saltanat e Umayya 47


 

🌹47 سلطنت امیہ🌹

✍️تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی✍️

🌹قسط نمبر 47🌹


🌻ا93ھجری : خوارزم شاہ سے صلح، خوارزم شاہ کے دشمن کا قتل، رومیوں سے جہاد شہرصغد کا محاصرہ، شہر صغد پر قبضہ، سمر قند کی فتح، سمرقند اور خوارزم پر گورنر کی تقرری، موسیٰ بن نصیر کی دعا کی قبولیت، اُندلس (اسپین) کی فتح میں موسیٰ بن نصیر بھی شامل، حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ کی معزولی، آخرت کا خوف، ہندوستان میں محمد بن قاسم کی فتوحات، 93 ھجری کا اختتام، حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ کا انتقال، 93 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان، 🌻


🌹ا93 ھجری : خوارزم شاہ سے صلح🌹

🌻اِس سال قتیبہ بن مسلم نے بادشاہ خوارزم کی درخواست پر اُس کے ملک پر حملہ کرنے کے لئے فوج لیکر چلا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : 93 ھجری میں قتیبہ بن مسلم نے فوجیں مرتب کیں اور جنگ کے لئے ‘‘مرو’’ سے نکلا ۔ اہل خوارزم نے نہ تو جنگ کی تیاری کی اور نہ ہی مورچے قائم کئے اور نہ ہی دھس اور دمدمے باندھے ۔ قتیبہ بن مسلم نے خوارزم کے قریب پہنچ کر ‘‘ہرارب’’ میں پڑاؤ ڈال دیا ۔ اُس وقت بادشاہ خوارزم کے مشیروں کی آنکھیں کھلیں اور انہوں نے خوارزم شاہ کو قتیبہ بن مسلم سے جنگ کرنے کو کہا ۔ بادشاہ خوارزم نے جواب دیا : ‘‘ ہم میں اُس سے لڑنے کی طاقت نہیں ہے ،ہاں! یہ ہو سکتا ہے کہ کچھ دے کر ہم صلح کر لیں جیسا کہ دوسرے ملکوں کے بادشاہوں نے کیا ہے ۔’’ اراکین حکومت نے اس سے اتفاق کیا ۔ بادشاہ خوارزم صلح کرنے کی غرض سے شہر قیل میں آیا جو ایک نہر کے کنارے آباد ہے اور اُس کے مضبوط بلاد (شہروں) میں سے تھا ۔ نہر کے دوسرے کنارے پر قتیبہ بن مسلم اپنا لشکر لئے ہوئے قیام پذیر تھا ۔ دونوں میں خط و کتابت ہونے لگی ۔ آخر کار دس ہزار غلام اور اسی قدر قیمتی کپڑے و اسباب پر صلح ہو گئی اور اِس صلح نامہ کی ایک شرط یہ بھی تھی کہ ‘‘خام جرد’’ کے خلاف جنگ میں بادشاہ خوارزم مسلمانوں کی فوجی امداد کرے گا ۔ 

🌹خوارزم شاہ کے دشمن کا قتل🌹

🌻قتیبہ بن مسلم نے خو ارزم شاہ کے دشمن کی طرف ایک لشکر روانہ کیا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : بادشاہ خوارزم سے صلح کرنے کے بعد قتیبہ بن مسلم نے اپنے بھائی عبدالرحمن بن مسلم کو خوارزم شاہ کے دشمن ‘‘خام جرد’’ کی طرف روانہ کیا ۔ عبدالرحمن بن مسلم نے اُس کے ملک پر زبردست حملہ کیا ۔ خام جرد نے مقابلہ کیا اور جنگ کے دوران عبدالرحمن بن مسلم نے اُسے قتل کر دیا اور اُس کے ملک پر قبض ہو گیا اور اُس کے چار ہزار سپاہیوں کو قتل کر ڈالا۔ادھر قتیبہ بن مسلم نے بادشاہ خوارزم کو اُس کے بھائی خرزاد اور اُس کے مخالفین کو گرفتار کر کے اُس کے حوالے کر دیا ۔ بادشاہ خوارزم نے اُن سب کو قتل کر ڈالا اور اُن کے مال و اسباب جمع کر کے قتیبہ بن مسلم کو دے دیئے ۔

🌹رومیوں سے جہاد🌹

اِ س سال 93 ھجری میں مسلمانوں نے رومیوں کے کئی شہر اور قلعے فتح کئے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال عباس بن ولید نے رومیوں کے علاقہ میں جہاد کیا اور شہر ‘‘رسمسطیہ’’ فتح کر لیا ۔ اور مروان بن ولید نے رومیوں کے دوسرے علاقے میں فوج کشی کی اور فتح حاصل کرتا ہوا ‘‘حجرہ’’ تک جا پہنچا ۔ اس کے علاوہ مسلمہ بن عبدالملک نے جدید قلعے ‘‘غزالہ اور برجمعہ ’’ کو ‘‘عطیہ’’ کی سمت سے گھس کر فتح کر لیا ۔ 

🌹شہرصغد کا محاصرہ🌹

🌻قتیبہ بن مسلم خوارزم سے آگے بڑھا اورشہر صغد کا محاصرہ کر لیا ۔علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اِس کے بعد محشر بن محازم سلمی نے شہر صغد پر حملہ کرنے کی رائے دی اور کہا: ‘‘ اگر شہر صغد پر تمہارا قصد حملہ کرنے کا ہے تو یہ موقع بہت ہی مناسب ہے کیونکہ ان لوگوں کا خیال ہے کہ تمہارے اور اُن کے درمیان بہت بڑی مسافت ہے ۔’’ قتیبہ بن مسلم نے یہ رائے پسند کی اور بات کو خفیہ رکھنے کو کہا۔ دوسرے دن اپنے بھائی عبدالرحمن بن مسلم کو ایک تجربے کار سواروں اور تیر اندازوں کا لشکر دے کر آگے بڑھنے کا حکم دیا ۔ اُس کی روانگی کے بعد قتیبہ بن مسلم نے اپنے لشکر کو جمع کر کے خطبہ دیا اور شہر صغد کی زرخیزی اور سر سبزی کا ذکرکے اﷲ کے دشمنوں سے اُس کو چھین لینے کی ترغیب دی اور سب کے سب لبیک پکار اُٹھے ۔ قتیبہ نے تیاریاں کر کے کوچ کر دیا اور عبدالرحمن بن مسلم کے پہنچنے کے تین دن بعد شہر صغد پہنچ کر محاصرہ کر لیا ۔ اہل شہر نے حصار سے گھبرا کر بادشاہ شاش ، خاقان اور اخشاد فرغانہ سے امداد طلب کی ۔ ان لوگوں نے نامور مشہور شہزادوں ، مر زبانوں اور شہسواروں کو منتخب کر کے خاقان کے بیٹے کی زیر قیادت مسلمانوں پر شب خون مارنے کے لئے روانہ ہوئے ۔ قتیبہ بن مسلم کو اس فوج کے آنے کی اطلاع ہوگئی اور اُس نے بھی اپنے لشکر سے چھ سو سواروں کو منتخب کر کے اپنے بھائی صالح بن مسلم کی زیر قیادت اس لشکر سے مقابلہ کے لئے آگے بھیج دیا ۔ رات کے وقت فریقین میں مڈ بھیڑ ہوئی اور بہت زبردست مقابلہ ہوا ۔ چار گھنٹہ تک کامل جنگ ہوتی رہی اور آخر کار سخت خونریزی کے بعد خاقان کا بیٹا مارا گیا اور دشمن بھاگ گئے ۔ مسلمان طلوع آفتاب کے وقت اپنے لشکر میں واپس آگئے ۔

🌹شہر صغد پر قبضہ🌹

🌻قتیبہ بن مسلم شہر صغد کا محاصرہ کئے ہوئے تھا اور شہر والوں سے باہری مدد ملنے کے ہر امکان کا ختم کر دیا تھا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: قتیبہ بن مسلم کی قلعہ شکن منجنیقیں جو قلعہ کے محاذات پر نصب کی گئی تھیں ۔اُن سے ‘‘شہر پناہ’’ کی فصیل پر سنگ باری یعنی پتھروں کی بارش کر نے لگا ۔میدان کار زار مسلمان مجاہدین سے بھرا ہوا تھا ۔ فصیل پر دھڑا دھڑ پتھر پڑ رہے تھے اور اہل شہر فصیل پر سے مسلمانوں پر تیروں کی بارش کر رہے تھے ۔ مگر مسلمانوں کو اِن تیروں کی پرواہ نہیں تھی اور وہ سینہ سپر ہو کر فصیل کی طرف دوڑتے چلے جاتے تھے ۔ تھوڑی دیر بعد سنگ باری کی وجہ سے قلعہ کی دیوار میں ایک شگاف ہو گیا ۔ جس پر کمال تیزی سے مسلمانوں نے پہنچ کو قبضہ کر لیا ۔ اُس وقت اہل شہر نے مجبور ہو کر صلح کی درخواست پیش کی اور بائیس لاکھ سالانہ مصالحت کر لی۔ اس کے علاوہ تیس ہزار غلام قتیبہ بن مسلم نے لئے ۔ اِس کے بعد اُس نے شہریوں سے کہا کہ وہ مسلمان مجاہدین کے لئے شہر میں جگہ بنائیں اور پھر وہاں پر جامع مسجد بنائی گئی ۔ بعض کا بیان ہے کہ اہل شہر سے یہ اقرار بھی لے لیا گیا تھا کہ وہ بت اور آتشکدوں کے اسباب بھی مسلمانوں کو دے دیں ۔ انہوں نے پچاسی ہزار مثقال سونے کے زیورات اور اسبا ب دیئے ساتھ ہی سونے اور چاندی کے بنے بت بھی تھے جنہیں مسلمانوں پگھلا ڈالا۔ فتح کی بشارت کے ساتھ قتیبہ بن مسلم نے حجاج بن یوسف کے پاس ایک عورت بھی جو آخری کسریٰ یزد گرد کی نسل سے تھی بھیج دیا اور حجاج بن یوسف نے اُسے ولید بن عبدالملک کی خدمت میں بھیج دیا جس سے یزید بن ولید پیدا ہوا۔ 

🌹سمر قند کی فتح🌹

🌻اِس سال قتیبہ بن مسلم نے سمر قند فتح کیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : باہلی کی روایت میں ہے کہ جب قتیبہ بن مسلم جہاد کے لئے روانہ ہوا تو دریا کو اپنے داہیں طرف چھوڑ کر بخارا آیا ۔ اہل بخارا کو اپنے ساتھ جہاد میں شریک ہونے کی دعوت دی اور اُن سب کو لیکر شہر اربجن پہنچا ۔ اِس مقام پر ترکوں کے بادشاہ غوزک نے جس کے ہمراہ ترک ، اہل شاش اور فرغانہ کی ایک کثیر تعداد تھی مسلمانوں سے مقابلہ کیا ۔ کافروں اور مسلمانوں کے درمیان کئی بار جھڑپ ہوئی مگر کوئی بڑی فیصلہ کن جنگ نہیں ہوئی ۔ پھر بھی تمام لڑائیوں میں مسلمانوں کا پلہ بھاری رہا اور کفار برابر پیچھے ہٹتے گئے ۔ اِس طرح مسلمان بڑھتے بڑھتے ‘‘سمر قند’’ کے سامنے پہنچ گئے ۔ یہاں پر دونوں قریقین کے درمیان اصلی جنگ ہوئی ۔ پہلے تو کافروں نے مسلمانوں پر نہایت ہی جرأت اور بے جگری سے حملہ کیا کہ مسلمانوں کی صفیں درہم برہم ہو گئیں اور کافربڑھتے بڑھتے مسلمانوں کے پڑاؤ تک پہنچ گئے ۔ مگر پھر مسلمانوں نے جوابی حملہ کر کے کافروں کو پھر اُن کے پڑاؤ تک پسپا کر دیا ۔ اِس جنگ میں کافروں کا سخت جانی نقصان ہوا اور انہیں شکست ہوئی اور مسلمان شہر میں داخل ہو گئے ۔ پھر شہر والوں نے مسلمانوں سے صلح کر لی ۔ قتیبہ بن مسلم کے ایک قریبی ساتھی نے بیان کیا ہے کہ جب کافروں نے مسلمانوں کو پیچھے دھکیلنا شروع کیا تو اُس وقت قتیبہ بن مسلم میدان جنگ میں کھلی جگہ پر اپنے تخت پر بیٹھا ہوا تھا اور اپنی تلوار سے گاتی باندھے ہوئے تھا ۔جب کفار مسلمانوں کو دباتے ہوئے قتیبہ بن مسلم سے بھی آگے بڑھ گئے تو وہ بھی آگے بڑھ آیا لیکن ابھی وہ تلوار کی گاتی بھی نہیں کھولنے پایا تھا کہ ہمارے لشکر کے دونوں بازوؤں (میمنہ اور میسرہ) نے کافروں پر جس نے ہمارے قلب کو پسپا کر دیا تھا گھیرے میں لیکر حملہ کر دیا اور اُسے شکست دی اور پھر اُن ہی کے لشکر تک پسپا ہونے پر مجبور کر دیا ۔ اُس دن کافروں کے بے شمار آدمی مارے گئے اور مسلمان سمرقند میں داخل ہوگئے اور شہر کے باشندوں نے صلح کر لی۔ بادشاہ غوزک نے مسلمانوں کے لئے کھانا پکوایا اور قتیبہ بن مسلم کو دعوت دی ۔ قتیبہ اپنے لشکر کو لیکر دعوت کھانے آیا اور کھانا کھانے کے بعد قتیبہ بن مسلم نے غوزک سے کہا: ‘‘ اب تم یہاں سے اپنا بوریہ بستر باندھ کر نکل جاؤ ۔’’ اب غوزک مجبور تھا کیا کرتا مجبوراً وہ اپنے اہل و عیال اور محافظوں کو لیکر چلا گیا ۔ اُس وقت قتیبہ بن مسلم نے یہ آیت تلاوت کی :ترجمہ۔‘‘ اﷲ ہی وہ ہے کہ جس نے پہلی قوم عاد کو ہلاک کر ڈالااور قوم ثمود کو بھی باقی نہیں چھوڑا۔’’ 

🌹سمرقند اور خوارزم پر گورنر کی تقرری🌹

🌻قتیبہ بن مسلم نے سمرقند اور خوارزم کی فتح کے بعد اُن دونوں پر شہروں پر اپنا گورنر مقرر کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : قتیبہ بن مسلم نے اپنے بھائی عبداﷲ بن مسلم کو سمر قند اور خوارزم کا گورنر مقرر کردیا اور ایک زبردست فوج اُس کے پاس متعین کر دیا اور اپنے گورنر کو حکم دیا:‘‘ کسی مشرک کو اُس کے ہاتھ پر مہر لگائے بغیر شہر میں نہیں آنے دینا اور صرف اُس وقت تک اُسے شہر میں رہنے کی اجازت دینا جب تک کہ چکنی مٹی اُس کے ہاتھ پر گیلی رہے ۔ اگر خشک ہونے کے بعد کوئی مشرک شہر میں نظر آئے تو اُسے قتل کر دینا ۔ اِسی طرح اگر کوئی چھرا یا خنجر وغیرہ اُس کے پاس برآمد ہو تو بھی فوراً قتل کر دینا ۔ رات کو ‘‘شہر پناہ’’ کا دروازہ بند ہونے کے بعد اگر کوئی مشرک شہر میں نظر آئے تو اُسے بھی قتل کر دینا ۔’’ چونکہ قتیبہ بن مسلم نے دونوں شہروں کو ایک ہی سال میں فتح کیا تھا اِس لئے اُس نے کہا: ‘‘ اصل میں یہ دوڑ ، دوڑ ہے نہ کہ دو جنگلی گدھوں کے مقابلہ کی دوڑ ۔ کیونکہ مثل یہ ہے کہ اگر کوئی شہسوار ایک ہی دوڑ میں دو گدھوں کا مار گرائے تو کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص دو جنگلی گدھوں کے درمیان دوڑا۔’’ پھر قتیبہ بن مسلم سمر قند سے ‘‘مرو’’ واپس آگیا ۔ 

🌹موسیٰ بن نصیر کی دعا کی قبولیت🌹

🌻موسیٰ بن نصیر مسلسل کئی سال سے بلادِ مغرب یعنی افریقہ (آج کل کا شمالی افریقہ) میں مسلسل جہاد میں مصروف تھا اور اﷲ تعالیٰ کامیابیاں عطا فرما رہے تھے ۔ اِ س سال 93 ھجری میں اُن علاقوں میں سخت قحط پڑا اور موسیٰ بن نصیر نے نماز استسقاء ادا کی اور اﷲ تعالیٰ سے دعا کی تو اﷲ تعالیٰ نے اُس کی دعا قبول کی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال افریقہ میں سخت خشک سالی ہوئی اور اس کی وجہ سے قحط پڑا جس سے افریقہ کے باشندوں کو بہت تکلیف برداشت کرنی پڑی ۔ موسیٰ بن نصیر مسلمانوں کے ساتھ شہر سے باہر نکلا اور نماز استسقاء پڑھائی اور نصف النہار تک دعا میں مصروف رہا ۔ خطبہ بھی پڑھا ۔ جب منبر پر سے اُترنے لگا تو لوگوں نے کہا: ‘‘ آپ نے امیر المومنین کے لئے دعا کیوں نہیں مانگی؟’’ موسیٰ بن نصیر نے کہا: ‘‘ یہ وقت اُن کے لئے دعا کرنے کا نہیں ہے ۔’’ اﷲ تعالیٰ نے موسیٰ بن نصیر کی دعا کو قبول فرمایا اور اتنی بارش برسائی کہ کچھ عرصہ بعد اِس علاقے میں ہر طرف سر سبزی ہوگئی ۔ 

🌹اُندلس (اسپین) کی فتح میں موسیٰ بن نصیر بھی شامل🌹

🌻طارق بن زیاد اُندلس یعنی اسپین میں مسلسل فتوحات حاصل کرتے ہوئے آگے بڑھتا جارہا تھا ۔ موسیٰ بن نصیر نے اُسے حکم دیا تھا کہ وہ جہاں ہے وہیں رُکے لیکن اسپین میں حالات ایسے تھے کہ طارق بن زیاد کو مسلسل جہاد میں رہنا پڑ رہا تھا ۔ اِسی لئے وہ نہیں رُکا جس کی وجہ سے موسیٰ بن نصیر اُس سے ناراض ہو گیا اور خود بھی لشکر لیکر اسپین پہنچا ۔ جب طارق بن زیاد نے اُس سے ملاقات کر کے تمام حالات بتائے تو اُس کی ناراضگی ختم ہوگئی اور دونوں سپہ سالار الگ الگ علاقوں سے اسپین پر حملہ آور ہوئے اور مسلسل فتوحات حاصل کرنے لگے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: 93 ھجری میں موسیٰ بن نصیر اپنے سپہ سالار طارق بن زیاد سے ناراض ہوا اور ماہ رجب المرجب میں اُس کے پاس جانے کے لئے روانہ ہوا ۔ موسیٰ بن نصیر کے ساتھ حبیب بن نافع فہری بھی تھا ۔ قیروان سے روانہ ہوتے وقت موسیٰ بن نصیر نے اپنے بیٹے عبداﷲ بن موسیٰ کو اپنی جگہ گورنر بنایا اور دس ہزار فوج لیکر آبنائے ‘‘جبل االطارق’’ کو عبور کر کے اُندلس (اسپین) کی سرزمین پر قدم رکھا ۔ طارق بن زیاد نے اُس کا استقبال کیا اور اُس کی ناراضی کو دور کر دیا ۔ موسیٰ بن نصیر بھی اُس سے خوش ہو گیا اور اُسے ‘‘طلیطلہ’’ (جو اندلس کا ایک بہت بڑا شہر تھا) کی طرف حملہ کرنے کے لئے بھیج دیا اور خود دوسری طرف سے حملہ کرنا شروع کر دیا ۔ اب اسپین میں ایک طرف سے طارق بن زیادشہروں کو فتح کرتا جارہا تھا اور دوسری طرف سے موسیٰ بن نصیر شہروں کو فتح کرتا جا رہا تھا ۔ طارق بن زیاد نے جب ‘‘طیطلہ’’ کو فتح کیا تو اُسے حضرت سلیمان علہ السلام کا وہ دستر خوان ملا جس میں اِس قدر سونا اور چاندی لگا ہوا تھا کہ اُن کی قیمت کا اندازہ صرف اﷲ تعالیٰ ہی خوب کر سکتا ہے ۔ 

🌹حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ کی معزولی🌹

🌻اِس سال ولید بن عبدالملک نے حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ کو ایسا عمل کرنے کا حکم دیا جسے آپ رحمتہ اﷲ علیہ نے انتہائی بے دلی اور ناراضگی سے انجام دیا ۔ اِس کے بعد آپ رحمتہ اﷲ علیہ کا دل اِس عہدے سے پھیکا پڑ گیا اور آپ رحمتہ اﷲ علیہ نے ظلم کے خلاف آواز اُٹھائی تو ولید بن عبدالملک نے آپ رحمتہ اﷲ علیہ کو معزول کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال ولید بن عبدالملک کے حکم سے حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے خبیب بن عبداﷲ بن زبیر کو پچاس کوڑے لگوائے اور سخت سردی میں پانی کی پکھال اُن کے اُوپر ڈلوائی اور پھر انہیں مسجد کے دروازے پر کھڑا رکھا اور اِس کی وجہ سے اُن کا انتقال ہو گیا ۔ حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے یہ حکم بے دلی سے پورا تو کر دیا لیکن اِس کے بعد آپ نے ظلم کے خلاف آواز اُٹھائی ۔ حجاج بن یوسف کے مظالم کے شکار جب حج کرنے آتے تھے تو حضرت عُمر بن عبدالعزیز کو حجاج بن یوسف کے مظالم کے بارے میں بتاتے تھے ۔ آپ نے ولید بن عبد الملک کو حجاج بن یوسف کے مظالم سے آ گاہ کیا کہ وہ عوام پر بلا وجہ بے قصور مظالم کرتا ہے۔ حجاج بن یوسف کو بھی اِس کی اطلاع مل گئی اور اُس نے ولید بن عبدالملک کو لکھا: ‘‘ اہل عراق میں سے جو ہمارے خلاف تھے اور آپس میں پھوٹ اور نفاق ڈلوانا چاہتے تھے ۔ وہ ملک عراق سے جِلا وطن کر دیئے گئے ہیں اور انہوں نے مکۂ مکرمہ اور مدینۂ منورہ میں جا کر پناہ لی ہے مگر اِس کے نتائج خطر ناک ہوں گے ۔’’ عبدالملک بن مروان نے وصیت کی تھی کہ حجاج بن یوسف پر ہمیشہ بھروسہ کرنا ۔اِسی لئے ولید بن عبدالملک نے اپنے چچا زاد بھائی اور بہنوئی حضرت عُمر بن عبدالعزیز کو معزول کرنے کا فیصلہ کر لیا اور حجاج بن یوسف کو لکھا: ‘‘ تم گورنری کے لئے دو شخصوں کا نام پیش کرو۔’’ حجاج بن یوسف نے عثمان بن حیان اور خالد بن عبداﷲ کے نام پیش کئے ۔ ولید بن عبدالملک نے خالد بن عبداﷲ کو مکۂ مکرمہ کا اور عثمان بن حیان کو مدینۂ منورہ کا گورنر مقرر کر دیا اور حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ کو معزول کر دیا ۔ 

🌹آخرت کا خوف🌹

🌻حضرت عُمر بن عبد العزیز رحمتہ اﷲ علیہ نے ولید بن عبدالملک کے حکم کو انتہائی بیزاری سے پورا کیا لیکن اِس حکم کو پورا کرنے میں حضرت خبیب بن عبداﷲ بن زبیر کی جان چلی گئی ۔ اِس واقعہ نے حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ پر اتنا گہرا اثر ڈالا کہ آپ اِس کے بعد ہمیشہ آخرت کے خوف سے روتے رہے ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت خبیب بن عبداﷲ بن زبیر کی موت کے بعد حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ سخت خوف زدہ رہنے لگے تھے اور جب کوئی شخص آخرت کی بشارت دیتا تھا تو وہ کہتے تھے :‘‘ کیا کہتے ہو؟ حضرت خبیب بن عبداﷲ بن زبیر میرے راستے میں ہیں۔’’ اور پھر اِس طرح گریہ و زاری کر کے رونے لگتے تھے جیسے کوئی نامراد بیوہ عورت روتی ہے ۔ جب لوگ اُن کی تعریف و توصیف کرتے تھے تو آپ کہتے تھے:‘‘ اگر میں حضرت خبیب بن عبداﷲ بن زبیر کی وجہ سے پکڑ میں نہ آؤں تو سمجھ لو کہ خیر ہے ورنہ میرا انجام نہ جانے کیا ہوگا؟’’ وہ مدینۂ منورہ کے گورنر تھے اور حضرت خبیب بن عبداﷲ بن زبیر کے کوڑے لگنے تک رہے مگر اِس واقعہ نے آپ کی زندگی کو بالکل ہی بدل دیا اور ہمیشہ ملول و اُداس رہنے لگے اور عبادت کے ساتھ گریہ و زاری میں زندگی گزار دی ۔ اِس حزن و ملا ل اور سخت خوف نے اُن کی زندگی کو یکسر بدل دیا تھا اور وہ پہلے سے زیادہ عدل و انصاف ، صدقہ و خیرات اور غلاموں اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک کی طرف مائل ہو گئے تھے ۔ 

🌹ہندوستان میں محمد بن قاسم کی فتوحات🌹

🌻محمد بن قاسم ہندوستان میں مسلسل فتوحات حاصل کر رہا تھا اور آگے بڑھتا چلا جارہا تھا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: اِس سال 93 ھجری میں حجاج بن یوسف کے رشتہ دار محمد بن قاسم نے ‘‘دیبل’’ ( کراچی) اور سندھ کے دوسرے شہر فتح کئے ۔ حجاج بن یوسف نے جب محمد بن قاسم کو ہندوستان کی مہم پر سپہ سالار بنا کر بھیجا تو اُس وقت اُس کی عُمر صرف سترہ(۱۷) سال کی تھی ۔وہ سندھ میں برابر پیش قدمی کر رہا تھا کہ اُس کے مقابلے پر راجہ داہر اپنی فوج لیکر آگیا جس میں ہاتھی بھی تھے ۔ داہر کی فوج میں اُس وقت بڑے جنگجو اور بہادر لوگ تھے اور ستائیس(27) منتخب اور چیدہ ہاتھی بھی تھے ۔ جب دونوں فوجیں آمنے سامنے آئیں تو گھمسان کا رن پڑا اور داہر اور اُس کی فوج کے بہت سے سپاہی مارے گئے ۔ مسلمانوں نے بھاگتے ہوئے کافروں کا تعاقب کیا اور اُن کو بھی موت کے گھاٹ اُتار دیا ۔ اِس کے بعد محمد بن قاسم کیرج اور برہا کو فتح کرنے کے لئے آگے بڑھا اور بہت سا مال غنیمت اور بے شمار زرو جواہر حاصل کیا ۔ 

🌹93 ھجری کا اختتام🌹

🌻93 ھجری کے اختتام پر مسلمان تین بڑے علاقوں میں مسلسل جہاد میں مصروف تھے ۔ محمد بن قاسم ہندوستان میں مسلسل فتوحات حاصل کرتا جا رہا تھا ۔ قتیبہ بن مسلم روسی ترکستان میں مسلسل فتوحات حاصل کرتا جارہا تھا اور موسیٰ بن نصیر اور طارق بن زیاد اُندلس یعنی اسپین میں مسلسل فتوحات حاصل کرتے جارہے تھے ۔ اِس سال کے اختتام پر حجاج بن یوسف ملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر تھا ۔ ملک مصر کا گورنر عبداﷲ بن عبدالملک تھا ۔ افریقہ کا گورنر موسیٰ بن نصیر تھا ۔ خراسان کا گورنر قتیبہ بن مسلم تھا ۔ مکۂ مکرمہ کا گورنر خالد بن عبداﷲ تھا اور مدینۂ منورہ کا گورنر عثمان بن حیان تھا ۔ اِس سال مسلمانوں کو حج عبدالعزیز بن ولید نے کرایا۔

🌹حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ کا انتقال🌹

🌻اِس سال 93 ھجری میں رسول اﷲ صلی علیہ وسلم کے خاص خادم حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ قبیلہ خزرج کی شاخ بنو نجار کے ہیں آپ رضی اﷲ عنہ کی والدہ محترمہ سیدہ اُم سُلیم رضی اﷲ عنہا ہیں جن کا نام ملیکۃ بنت ملجان ہے ۔ آپ رضی اﷲ عنہا کا شوہر مالک کافر تھا اور آپ رضی اﷲ عنہا کے اسلام قبول کرنے کی وجہ سے طلاق دے دیا تھا ۔ بعد میں حضرت ابو طلحہ رضی اﷲ عنہ نے نکاح کر لیا ۔ حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے کافی احادیث بیان کی ہیں اور اہم علوم سے بھی واقف تھے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرات ابوبکر صدیق ، عُمر فاروق ، عثمان غنی اور عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہم سے بھی روایات بیان کی ہیں اور اُن سے تابعین نے روایات بیان کی ہیں۔ حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں :‘‘ جب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم مدینۂ منورہ تشریف لائے تو میری عُمر دس سال تھی اور جب آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو میری عُمر بیس سال تھی ۔’’ حضرت ثمامہ رضی اﷲ عنہ کہتے ہیں:کسی نے آپ رضی اﷲ عنہ سے پوچھا: ‘‘ کیا آپ غزوۂ بدر میں شریک ہوئے تھے ؟’’ آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا: ‘‘ میں بھلا غزوہ بدر سے کیسے غائب ہو سکتا ہوں؟’’ ایک انصاری نے کہا: ‘‘ یہ غزوۂ بدر میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت کر رہے تھے ۔’’ حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں: ‘‘ مجھے میری والدہ محترمہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئیں ۔ اُس وقت میں لڑکا تھا ۔اِس لئے انہوں نے مجھے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے عرض کیا: ‘‘ یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم!یہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا ادنیٰ خادم ہے ۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم اِس کے لئے دعا کر دیں۔’’ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: ‘‘ اے اﷲ!اِس کو کثیر مال و اولاد دے اور جنت میں داخل کر۔’’ایک روایت کے مطابق اُن کے چچا حضرت ابوطلحہ رضی اﷲ عنہ نے انہیں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں لیکر آئے اور عرض کیا: ‘‘ یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم! اِس کی والدہ محترمہ نے اِسے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت کے لئے پیش کیا ہے اورکہا ہے کہ یہ انس بہت سمجھ دار ہے اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت کرے گا اور میں نے انس کو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے لئے وقف کر دیا ہے ۔’’ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے قبول فرما لیا ۔ پھر عرض کیا :‘‘ یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم! اِس کے لئے دعا کردیں۔’’ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے دعا فرمائی :‘‘ اے اﷲ! تُو انس کو کثیر مال اور اولاد دے اور جنت میں داخل کر۔’’ حضرت انس رضی اﷲعنہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے بعد بصرہ منتقل ہو گئے تھے اور وہاں آپ رضی اﷲ عنہ کے چار مکانات تھے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ کو حجاج بن یوسف نے کافی تکلیفیں پہنچائیں اور یہ عبدالرحمن بن اشعث کی بغاوت کے سبب سے تھا ۔ حجاج بن یوسف کو وہم ہو گیا تھا کہ شاید آپ رضی اﷲ عنہ کا بھی اِس معاملہ سے کچھ تعلق ہے یا آپ رضی اﷲ عنہ نے اِس سلسلے میں کوئی فتویٰ دیا ہے ۔ جس کی وجہ سے اُس نے آپ رضی اﷲ عنہ پر کافی سختی کی جس کی شکایت آپ رضی اﷲ عنہ نے عبدالملک بن مروان سے کی ۔ اُس نے اِس بارے حجاج بن یوسف کو بہت سخت خط لکھا جس سے وہ گھبرا گیا اور مصالحت کر لی ۔ موسیٰ سنبلاوی کہتے ہیں : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے عرض کیا : ‘‘ آپ رضی اﷲ عنہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے باقی رہ جانے والے آخری صحابی ہیں؟’’ اِس کا جواب انہوں نے یہ دیا : ‘‘ یوں تو پوری عرب قوم باقی ہے البتہ صحابہ رضی اﷲ عنہم میں سے میں آخری زندہ رہنے والا ہوں۔’’ عُمر بن سبہ وغیرہ کہتے ہیں :‘‘ انتقال کے وقت حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ کی عُمر ایک سو سات (107) سال تھی ۔ امام احمد نے اپنی مسند میں چورانوے (94) سال لکھی ہے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ کے سنہ انتقال میں لوگوں کا اختلاف ہے ۔ بعض نے کہا کہ 90 ھجری سے قبل انتقال ہوا ۔ بعض نے 91 ھجری ، بعض نے 92 ھجری اور بعض نے 93 ھجری بتائی ہے ۔ واﷲ و اعلم۔

🌹93 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان🌹

🌻اِس سال 93 ھجری میں جن کا انتقال ہوا اُن میں سے چند یہ ہیں ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 93 ھجری میں بلال بن ابی الدردا ء کا انتقال ہوا ۔ یہ پہلے دمشق کے گورنر بنے ، پھر انہیں وہیں ‘‘عہدۂ قضاء’’ ( سُپریم کورٹ کا جج) پر مامور ہوئے ۔ اِس کے بعد عبدالملک بن مروان نے انہیں اِس عہدے سے معزول کر کے ابو ادریس خولانی کا تقرر کر دیا ۔ بلال بن ابی الدرداء عمدہ سیرت و کردار کے آدمی تھے اور کثیر العبادت بھی تھے اور بظاہر جو قبر دمشق کے ‘‘باب الصغیر’’ کے پاس ہے وہ انہی ‘‘ابوالدرداء’’ کی ہے یعنی بلال بن ابو الدرادء کی۔ نہ کہ بلال بن حمامہ کی جو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے مؤذن تھے کیونکہ مؤذن بلال داریا میں دفن ہیں۔ واﷲ و اعلم۔اِس سال بشر بن سعید مزنی کا انتقال ہوا ۔ آپ سید الفقیہ اور عابد تھے ۔ آپ کا شمار متقی اور نہایت عبادت گذاروں میں ہوتا تھا ۔ مدینۂ منورہ میں انتقال ہوا۔ اِس سال زراہ بن اوفی کا انتقال ہوا ۔ یہ ابن حاجب عامری کہلاتے تھے ۔ بصرہ کے قاضی تھے اور اہل بصرہ میں علماء کبار اور صالحین میں شمار ہوتے تھے ۔ اِن سے کثیر روایات منسوب ہیں ۔ ایک دن صبح کی نماز میں سورہ المدثر تلاوت کر رہے تھے ۔ جب آیت :ترجمہ‘‘ جب صور پھونکا جائے گا۔’’ پر پہنچے تو گر پڑے اور اﷲ کو پیارے ہو گئے ۔ اِن کا انتقال بصرہ میں اور اُس وقت عُمر ستر (70) سال تھی ۔ اِس سال حضرت خبیب بن عبداﷲ بن زبیر کا انتقال ہوا۔ اِن کو ولید بن عبدالملک نے حضرت عُمر بن عبدالعزیز کے ہاتھوں پٹوایا تھا ۔ اِس عمل پر وہ زندگی بھر افسوس کر کے روتے رہے ۔ حضرت خبیب بن عبداﷲ بن زبیر کا انتقال مدینۂ منورہ میں ہوا۔ اِس سال حفص بن عاصم کا انتقال ہوا ۔ یہ عُمر بن خطاب مدنی کے بیٹے ہیں۔ اِن سے کثیر روایات منسوب ہیں ۔ صالحین میں سے تھے اور مدینہ منورہ میں انتقال ہوا۔ اِس سال سعید بن عبدالرحمن کا انتقال ہوا ۔ یہ عتاب بن اُسید کے بیٹے ہیں ۔ بصرہ کے شرفاء میں سے تھے ۔ نہایت سخی اور فیاض الطبع شخص تھے اور سخاوت و کرم کے لئے اُن کی مثال دی جاتی تھی ۔ اِس سال فروہ بن مجاہد کا انتقال ہوا۔ اِس سال ابو الشعثا جابر بن یزید کا انتقال ہوا ۔ ابوالشعثا کہتے تھے :‘‘ کسی مسکین پر خرچ کیا ہوا ایک حبہ مجھے حج سے زیادہ محبوب ہے ۔ ابوالشعثا اُن لوگوں میں سے تھے جو صاحب علم ہوتے ہیں ۔ یہ بصرہ میں فتوے بھی دیا کرتے تھے ۔ حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ جیسے صحابی سے جب اہل عراق کوئی مسئلہ دریافت کرتے تو آپ رضی اﷲ عنہ فرماتے : ‘‘ جب تمہارے یہاں ابو الشعثا جیسے لوگ موجود ہیں تو ہم سے مسئلہ پوچھنے کی کیا ضرورت ہے؟’’ابولشعثا نے صحابۂ کرام کی متعد بہ جماعت سے روایات بیان کی ہیں اور اِن کی اکثر و بیشتر روایات حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ اور حضرت عبداﷲ بن عباس رضی عنہ سے منقول ہیں۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

48 سلطنت امیہ Saltanat e Umayya 48

 


 🌹48 سلطنت امیہ🌹 

🌹تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی🌹

🌹قسط نمبر 48🌹

🌻94 ھجری : رومیوں سے جہاد، شاش اور خجندہ کی فتح، ہندوستان سے اہل عراق کی واپسی، حضرت سعید بن جبیر کی گرفتاری، حضرت سعید بن جیر کی شہادت، 94 ھجری کا اختتام، 94 ھجری میں جن کا انتقال ہوا، حضرت سعید بن مسیب کا انتقال، حضرت طلق بن حبیب فزی کا انتقال، حضرت عُروہ بن زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ کا انتقال، حضرت علی (اوسط) بن حسین رضی اﷲ عنہ کا انتقال، حضرت ابوبکر بن عبدالرحمن کا انتقال، 95 ھجری : لشکروں کی واپسی، حجاج بن یوسف کا انتقال، 95 ھجری کا اختتام، 95 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان

🌹94 ھجری : رومیوں سے جہاد🌹

🌻94 ھجری میں ہر سال کی طرح مسلمانوں نے رومیوں سے جہاد کیا بلکہ اِس سال تو رومیوں کے کئی علاقوں پر الگ الگ حملے کئے ۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: اِس سال 94 ھجری میں عباس بن ولید نے ارض روم میں جہاد کا آغاز کیا اور انطاکیہ فتح کیا ۔ اُس کے بھائی عبدالعزیز بن ولید نے دوسری طرف سے ارض روم پر حملہ کیا شہر عزالہ تک پہنچ گیا ۔ ولید بن ہشام معیطی نے ‘‘میرج الحمام’’ کی سر زمین پر دھاوا بول دیا اور یزید بن ابی کشید ملک شام کی اُس سرزمین پر اتر گا جہاں زلزلہ آیا اوراِسی سال میں مسلمہ بن عبدالملک نے ارض روم میں پہنچ کر سندرہ کو فتح کر لیا ۔ غرض کہ اِسی مبارک سال میں اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کے ہاتھوں ولید بن عبدالملک کے عہد میں اور اُس کی اولاد و اقرباء و امراء کے دور میں ایسی شاندار اور عظیم کامیابیاں عطا فرمائیں کہ خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا مبارک دور کا نقشہ نگاہوں کے سامنے آ گیا ۔ 

🌹شاش اور خجندہ کی فتح🌹

🌻قتیبہ بن مسلمہ ہر سال گرمیوں میں بلاد ترک یا روسی ترکستان پر حملہ کرتا تھا اور کوئی نہ کوئی علاقہ فتح کر لیتا تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : 94 ھجری میں قتیبہ بن مسلم جہاد کے لئے لشکر لیکر روانہ ہوا ۔ دریائے جیجون کو عبور کرنے کے بعد اُس نے لازمی فوجی خدمت کے طریقہ پر اہل بخارا ، اہل کش ، اہل نسف اور اہل خوارزم سے بیس ہزار جنگجو سپاہی بھرتی کر لئے ۔ یہ سب کے سب اُس کے ساتھ صغد آئے ۔ یہاں سے اُس نے اور فوجیں تو شاش کی طرف بھیج دیں اور وہ خود لشکر لیکر فرغانہ کی طرف بڑھا ۔ راستے میں شہرخجندہ پہنچا تو وہاں کے حکمراں نے جنگ کی تیاری کر لی ۔ دونوں فوجیں آمنے سامنے آئیں اور کئی لڑائیاں ہوئیں مگر ہر معرکہ میں فتح نے مسلمانوں کا ہی ساتھ دیا ۔ ایک روز لڑائی ختم ہونے کے بعد مسلمان اپنے گھوڑوں پر تفریحاً سواری کرنے لگے ۔ ایک بلند مقام پر ایک بوڑھا شخص ملا اور بولا: ‘‘ آج ہم پر حملہ کرنے کا اچھا موقع تھا ۔ اگر اِس انتشار کی حالت میں ہم سے جنگ ہوتی تو ہمیں شکست کی ذلت نصیب ہوتی ۔ اِس پر ایک دوسرے شخص نے جو اُس کے پہلو میں کھڑا تھا کہا: ‘‘ تمہارا خیال غلط ہے ہم ہر وقت اور ہر حالت میں دشمن سے لڑنے کے لئے مستعد ہیں۔’’بعد ازاں قتیبہ بن مسلم فرغانہ کے شہر کشان آیا ۔ اِس مقام پر وہ تمام فوجیں بھی جنہیں اُس نے شاش پر حملہ کرنے کے لئے بھیجا تھا اپنا کام پورا کر کے اُس سے آ ملیں ۔ اِن فوجوں نے شہر شاش کو فتح کر لیا تھا اور بہت سارا مال غنیمت لیکر آئے تھے ۔ 

🌹ہندوستان سے اہل عراق کی واپسی🌹

🌻اہل عراق پر حجاج بن یوسف کے مطالم کی وجہ سے حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ نے آواز اُٹھائی تھی تو انہیں مدینۂ منورہ کی گورنری سے معزول ہونا پڑا تھا ۔اِس کی وجہ حجاج بن یوسف نے یہ سمجھا کہ اہل عراق ہر جگہ اُس کے خلاف سازش کر رہے ہیں ۔ اُس نے مکۂ مکرمہ اور مدینۂ منورہ میں اپنی پسند کے گورنر مقرر کرائے اور وہاں بھی اہل عراق پر ظلم ہونے لگے ۔ اِس کے علاوہ جو اہل عراق محمد بن قاسم کے ساتھ ہندوستان یعنی سندھ جہاد کرنے کے لئے گئے تھے انہیں بھی حجاج بن یوسف نے واپس بلوا لیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حجاج بن یوسف نے محمد بن قاسم ثقفی کو لکھا کہ اہل عراق کو قتیبہ بن مسلم کے پاس بھیج دو اور جہم بن زحر بن قیس کو اُن کا کمانڈر بنا کر بھیج دوکیونکہ اُس کا اثر اہل شام کے مقابلے میں اہل عراق پر زیادہ ہے ۔ محمد بن قاسم کا مخلص دوست جہم بن زحر تھا۔ اُس نے جہم بن زحر اور سلیمان بن صعصعہ کو اہل عراق کے ساتھ قتیبہ بن مسلم کی طرف روانہ کیا ۔ جہم بن زحر کو رخصت کرتے وقت محمد بن قاسم فرط ِ محبت سے رونے لگا اور کہا: ‘‘ اے جہم بن زحر! آج ہم اور تم جدا ہورہے ہیں ۔’’ جہم بن زحر نے کہا: ‘‘ کیا کیا جائے ! ایک نہ ایک دن جدائی ہونے ہی والی تھی ۔’’

🌹حضرت سعید بن جبیر کی گرفتاری🌹

🌻حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ جب مدینۂ منورہ اور مکۂ مکرمہ کے گورنر تھے تو یہاں بہت امن و سکون تھا اور مسلمانوں کے ساتھ عدل و انصاف کیا جاتا تھا اِسی لئے حجاج بن یوسف کے مظالم کے شکار انہیں دونوں شہروں میں آ کر مقیم ہوتے تھے ۔عثمان بن حیان جب مدینۂ منورہ کا گورنر بنا تو اُس نے حجاج بن یوسف کے حکم کے مطابق مدینۂ منورہ میں موجود اہل عراق پر ظلم و تشدد کیا اور انہیں نکال دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عثمان بن حیان نے ریاح بن عبیداﷲ اور منقذ عراقی کو گرفتار کر کے قید کردیا اور انہیں طرح طرح کی تکلیفیں دیں اور پھر بیڑیاں پہنا کر حجاج بن یوسف کے پاس بھیج دیا ۔ اِس کے علاوہ اُس نے مدینۂ منورہ میں جتنے اہل عراق تھے چاہے تاجر ہوں یا نہ ہوں سب کو نکال دیا ۔ایسا ہی مکۂ مکرمہ کے گورنر خالد بن عبداﷲ نے بھی کیا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : حضرت عُمر بن عبدالعزیز کی گورنری کے زمانے میں اکثر اہل عراق حجاج بن یوسف کے ظلم و جور سے تنگ آ کر مکۂ مکرمہ اور مدینۂ منورہ چلے آتے تھے اور یہاں اُس کے ہر شر سے بچ جاتے تھے اِن میں حضرت سعید بن جبیر بھی تھے ۔ اُن کو حجاج بن یوسف نے اُس فوج کے وظائف و رسد دینے پر مامور کیا تھا جس فوج کو عبدالرحمن بن اشعث کی سپہ سالاری میں رتبیل سے جنگ کرنے کے لئے بھیجا تھا ۔جب عبدالرحمن بن اشعث نے حجاج بن یوسف کی مخالفت پر کمر باندھی تو سعید بن جبیر بھی اُس کے ہم آہنگ ہو گئے ۔ عبدالرحمن بن اشعث شکست کھا کر رتبیل کے ملک بھاگ گیا تھا اور سعید بن جبیر اصفہان چلے آئے تھے ۔ حجاج بن یوسف نے اصفہان کے گورنر کو لکھا کہ اُن کو گرفتار کر لیا جائے ۔ اصفہان کے گورنر نے سعید بن جبیر کو در پردہ حجاج بن یوسف کے حکم سے آگاہ کردیا تو وہ آذربائیجان چلے آئے ۔ ایک مدت تک وہیں مقیم رہے پھر مکۂ مکرمہ چلے آئے ۔مکۂ مکرمہ میں اُن جیسے بہت سے آدمی حجاج بن یوسف کے کوفہ سے بھاگ آئے تھے ۔ جب خالد بن عبداﷲ مکۂ مکرمہ کا گورنر بنا تو ولید بن عبدالملک نے حکم دیا کہ اہل عراق کو گرفتار کر کے حجاج بن یوسف کے پاس بھیج دو ۔ اُس نے حضرت سعید بن جبیر ، مجاہد اور طلق بن حبیب کو گرفتار کر کے حجاج بن یوسف کے پاس روانہ کیا ۔ طلق بن حبیب کا تو راستے میں ہی انتقال ہوگیا اور مجاہد اور حضرت سعید بن جبیر حجاج بن یوسف کے سامنے پیش کئے گئے ۔

🌹حضرت سعید بن جیر کی شہادت🌹

🌻حضرت سعید بن جبیر جب حجاج بن یوسف کے دربار میں پیش کئے گئے تو اُس نے آپ کو شہید کر دیا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : حجاج بن یوسف نے حضرت سعید بن جبیر کو گالیاں دیں اور سخت سست کہا پھر بولا: ‘‘ میں جانتا تھا کہ تُو مکۂ مکرمہ میں ہے اور فلاں مکان میں رہ رہا ہے ۔ کیا میں نے تجھے اپنے کام میں شریک نہیں کیا تھا ؟ اور کیا میں نے تجھے عزت نہیں دی تھی ؟ ’’ حضرت سعید بن جبیر نے اِن سب باتوں کو تسلیم کیا ۔ حجاج بن یوسف پھر بولا: ‘‘ اچھا کس چیز نے تجھے میری مخالفت پر اُبھارا؟’’ انہوں نے جواب دیا : ‘‘ میں بھی ایک انسان ہوں اور انسان سے کبھی غلطی ہو جاتی ہے ۔’’ حجاج بن یسف یہ سن کر خوش ہو گیا اور تھوڑی دیر تک اِدھر اُدھر کی باتیں کرتا رہا ۔باتوں کے دوران حضرت سعید بن جبیر کے منہ سے نکل گیا :‘‘ میری گردن میں اُس کی(عبدالرحمن بن اشعث کی) بیعت تھی ۔’’ یہ سن کر حجاج بن یوسف کا چہرہ غصہ سے سرخ ہوگیا اور غضبناک ہو کر بولا: ‘‘ میا میں نے تجھ سے مکۂ مکرمہ میں عبداﷲ بن زبیر کے قتل کے بعد عبدالملک بن مروان کی بیعت نہیں لی تھی ؟ اور پھر اُس کی تجدید میں نے کوفہ میں نہیں کی تھی ؟ ’’ حضرت سعید بن جبیر نے اقرار کیا ۔ حجاج بن یوسف بولا: ‘‘ تُو نے امیر المومنین کی دو بیعتیں توڑ دیں اور اُس رذیل ( عبدالرحمن) کی ایک بیعت کا حق ادا کیا ۔اﷲ کی قسم! میں تجھے مارڈالوں گا ۔’’ حضرت سعید بن جبیر نے کہا: ‘‘ بے شک میں سعید ہوں جیسا کہ میری والدہ نے میرا نام رکھا ہے ۔’’ حجاج بن یوسف نے لپک کر تلوار کا ہاتھ مار کر گردن اُڑا دی اور جوش مسرت سے تین بار تہلیل کی پہلی بار نہایت فصاحت سے اور دو بار جلدی جلدی ۔بیان کیا جاتا ہے کہ حجاج بن یوسف اُس دن بالکل مخبوط ہو گیا تھا اور بار بار ‘‘قیود نا قیودنا’’ کہتا تھا ۔ اِس واقعہ کے بعد حجاج بن یوسف جب بھی سوتا تھا تو حضرت سعید بن جبیر کو خواب میں دیکھتا تھا ۔ وہ اُس کا دامن پکڑ کر کہتے تھے :‘‘ اے اﷲ کے دشمن! تُو نے مجھے کیوں قتل کیا ہے؟’’ اور حجاج بن یوسف خوف زدہ ہو کر جاگ اُٹھتا تھا اور کہتا تھا :‘‘ میرے اور سعید کے درمیان کیا معاملہ ہے؟’’ 

🌹94 ھجری کا اختتام🌹

🌻94 ھجری کے اختتام ہو اور اِس سال کئی گورنر تبدیل ہوئے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں:اِس سال کے اختتام پر مکۂ مکرمہ کا گورنر خالد بن عبداﷲ قسری تھا ۔ مدینۂ منورہ کا گورنر عثمان بن حیان تھا ۔ کوفہ کا گورنر زیاد بن جریر تھا ۔ ابوبکر بن موسیٰ کوفہ کے قاضی تھے ۔ بصرہ کا گورنر جراح بن عبداﷲ تھا ۔بصرہ کے قاضی عبدارحمن بن اذینہ تھے ۔ قتیبہ بن مسلم خراسان کا گورنر تھا ۔ ملک مصر کا گورنر قرۃ بن شریک تھا ۔ حجاج بن یوسف ملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر تھا اور اِن تمام صوبوں میں وہی گورنر مقرر کرتا تھا ۔ اِس سال کس نے مسلمانوں کو حج کرایا ؟ اِس بارے میں ارباب سیر کا اختلاف ہے ۔امام اسحاق بن عیسیٰ کے مطابق مسلمہ بن عبدالملک نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔ امام واقدی کے مطابق اِس سال عبدالعزیز بن ولید نے مسلمانوں کو حج کرایا اور یہ بھی بیان کیا کہ مسلمہ بن عبدالملک نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔

🌹94 ھجری میں جن کا انتقال ہوا🌹

🌻94 ھجری میں کئی بڑے بڑے علماء و فقہا کا انتقال ہوا۔ یہ سال عالم اسلام کے لئے بہت ساری تبدیلیوں والا ثابت ہوا ۔ اﷲ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مسلمان مجاہدین چاروں طرف اسلام کا بول بالا کر رہے تھے اور نئے نئے علاقوں میں اسلام کا پیغام پہنچا رہے تھے ۔ قتیبہ بن مسلم روسی ترکستان میں اسلام پہنچا رہا تھا ۔ محمد بن قسم ہندوستان میں اسلام پہنچا رہا تھا اور موسیٰ بن نصیر اور طارق بن زیاد شمالی افریقہ میں اسلام کو پہنچانے کے بعد اسپین میں اسلام کا پیغام پہنچا رہے تھے۔ مملکت اسلامیہ میں اِس سال گورنروں کی بڑے پیمانے پر تبدیلی ہوئی اور عالم اسلام کے بڑے بڑے رہنماؤں کا اِس سال انتقال ہوا۔

🌹حضرت سعید بن جبیر کی شہادت🌹

🌻اِس سال جلیل القدر تابعی حضرت سعید بن جبیر شہید ہوئے اِس کی تفصیل ہم اوپر لکھ چکے ہیں ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت سعید بن جبیر اسدی کوفی اور مکی ہیں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ کے شاگرد ہیں ۔ آپ نہایت ہی نیک اور صالح تھے اور تفسیر وفقیہ اور مختلف علوم کے امام تھے۔ آپ نے کثیر صحابۂ کرام کو دیکھا ہے اور اُن سے روایات بھی بیان کی ہیں ۔ آپ سے بہت سے تابعین نے احادیث روایت کی ہیں ۔آپ کی عُمر کے بارے میں قدرے اختلاف ہے ۔بعض کے مطابق اُنچاس (49) سال تھی اور بعض کے مطابق ستاون (57) سال تھی ۔

🌹حضرت سعید بن مسیب کا انتقال🌹

🌻اِس سال جلیل القدر تابعی حضرت سعید بن مسیب کا انتقال ہوا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت سعید بن مسیب بن حزن مخزومی فرشی سید التابعین میں سے ہیں ۔ خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی شہادت سے دو چار سال پہلے پیدا ہوئے ۔ امام حاکم عبداﷲ بیان کرتے ہیں انہوں نے ‘‘عشرۂ مبشرہ’’ کا زمانہ پایا ہے ۔ انہوں نے حضرت عثمان غنی ، حضرت علی المرتضیٰ ، حضرت سعید اور حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہم سے حدیث سماعت کی ہے ۔آپ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ کے داماد ہیں ۔حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں :‘‘ حضرت سعید بن مسیب بڑے متقی اور مطیع الٰہی ہیں۔امام زہری بیان کرتے ہیں : ‘‘میں اُن کے ساتھ سات سال تک رہا ہوں اور اُن سے زیادہ علم میں نے کسی کے پاس نہیں دیکھا ۔’’ امام مکحول بیان کرتے ہیں : ‘‘ میں نے طلب علم کے لئے دنیا بھر کا چکر لگایا

لیکن سعید بن مسیب سے زیادہ کس کو عالم نہیں پایا۔’’ امام ربیع نے امام شافعی کے حوالہ سے کہا ہے کہ حضرت سعید بن مسیب سے منقول ‘‘مرسل’’ کا درجہ بھی ‘‘حسن’’ کے برابر ہے اور امام احمد بن حنبل کے نزدیک ‘‘صحیح’’ کے برابر ہے ۔ امام واقدی نے کہا :‘‘ حضرت سعید بن مسیب ‘‘فقہا کے انتقال کے سال’’ انتقال کر گئے ۔’’ انتقال کے وقت آپ کی عُمر پچھتر (75) سال تھی ۔

🌹لحضرت طلق بن حبیب فزی کا انتقال🌹

🌻اِس سال 94 ھجری میں حضرت طلق بن حبیب کا انتقال ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت طلق بن حبیب فزی جلیل القدر تابعی ہیں ۔آپ نے حضرت انس بن مالک ، حضرت جابر بن عبداﷲ ، حضرت عبداﷲ بن عباس اور حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے روایات بیان کی ہیں۔ اُن سے حمید الطویل ، الاعمش اور طاؤس نے جو اُن کے ہم عصر تھے روایات بیان کی ہیں۔ آپ کہا کرتے تھے:‘‘ اﷲ کے حقوق اتنے عظیم اور اعلیٰ ہیں کہ بندے اِن کو ادا ہی نہیں کر سکتے اور اﷲ کی نعمتیں حد ِ شمار سے باہر ہیں اور اُن کا شکر بھی انسان ادا نہیں کر سکتا ہے ۔ اِس لئے بندوں پر فرض کے کہ صبح ہو تو توبہ کریں اور شام ہو تو توبہ کریں ۔’’ ۹۴ ؁ ھجری میں جب آپ کو حضرت سعید بن مسیب کے ساتھ گرفتار کر کے حجاج بن یوسف کے پاس بیڑیاں پہنا کر مکۂ مکرمہ سے ملک عراق بھیجا جا رہا تھا تو راستے میں آپ کا انتقال ہو گیا ۔

🌹حضرت عُروہ بن زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ کا انتقال🌹

🌻اِس سال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ‘‘حواری’’ اور پھوپھی زاد بھائی حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ کے بیٹے حضرت عُروہ بن زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عُروہ بن زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ جلیل القدر تابعی ہیں۔ انہوں نے اپنے والد حضرت زبیر بن عوام ، والدہ سیدہ اسماء بنت ابوبکر صدیق ، خالہ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ، اُم المومنین سیدہ اُم سلمہ رضی اﷲ عنہم سے روایات بیان کی ہیں۔ تابعین کی کثیر جماعت نے اِن سے بہت سی احادیث بیان کی ہیں۔ امام محمد بن سعدکا بیان ہے کہ حضرت عُروہ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کثیر الحدیث تھے اور ایسے عالم تھے جن کے متعلق اطمینان کیا جا سکتا ہے ۔امام واقدی لکھتے ہیں : حضرت عُروہ بن زبیر رضی اﷲ عنہ فقیہ ، عالم ، حافظ ، لائق حجت اور سیرت کے عالم تھے اور پہلے شخص ہیں جس نے مغازی تصنیف کی ۔ 

🌹حضرت علی (اوسط) بن حسین رضی اﷲ عنہ کا انتقال🌹

🌻اِس سال 94 حضرت علی اوسط بن حسین رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت علی بن حسین بن علی بن ابی طالب قریشی ہاشمی رضی اﷲ عنہ ‘‘امام زین العابدین’’ کے نام سے مشہور ہیں ۔ حضرت علی اوسط بن حسین رضی اﷲ عنہ اپنے والد ِ محترم کے ساتھ ‘‘کربلا’’ میں تھے اور اتنے زیادہ بیمار تھے کہ کھڑے نہیں ہو سکتے تھے جس کی وجہ سے جنگ میں حصہ نہیں لے سکے اور زندہ رہے ۔ عبیداﷲ بن زیاد نے آپ رضی اﷲ عنہ کو قتل کرنا چاہا لیکن اﷲ کے حکم سے نہیں کر سکا۔ حضرت امام زین العابدین یعنی علی اوسط بن حسین رضی اﷲ عنہ بہت زیادہ متقی ، عبادت گذار اور اﷲ کا خوف رکھنے والے اﷲ کے بندے تھے ۔ جب چلتے تو زمین پر عاجز بندے کی طرح چلتے تھے اُن کی چال میں فخر و غرور کا شائیبہ بھی نہیں تھا ۔ ان کی کنیت ‘‘ابو الحسن’’ تھی ،بعض کے مطابق ‘‘ابو محمد’’ تھی اور بعض کے مطابق ‘‘ابو عبداﷲ’’ تھی ۔ امام طاؤس کہتے ہیں : ‘‘ میں نے دیکھا کہ حضرت علی اوسط بن حسین حجر اسود کے پاس سجدے میں پڑے ہوئے کہہ رہے ہیں:‘‘ اے اﷲ! تیرا بندہ تیرے گھر میں پڑا ہوا ہے ،تیرا بندہ سائل بنا ہوا ہے ، تیرے گھر کے احاطہ میں تجھ سے سوال کر رہا ہے ۔ تیرا فقیر تیرے گھر کی چوکھٹ پر پڑا ہوا تجھ سے بھیک مانگتا ہے ۔ ’’حضرت علی بن حسین رضی اﷲ عنہ رات کو (چھپا کر) صدقات خیرات دیا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے: ‘‘ رات کا صدقہ و خیرات اﷲ کے غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے ،قلب (دل) کو منور کرتا ہے، قیامت کے دن بندہ کی تاریکی کو دور کرتا ہے اور اﷲ تعالیٰ اِس کے عوض بندہ کو دو مرتبہ عنایت فرماتا ہے ۔’’ جب انتقال ہوا تو لوگوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کی کمر اور کندھوں پر اُس بوجھ کو لاد کر لے جانے کے نشانات دیکھے جو وہ غریبوں اور ناداروں اور مسکینوں کے گھروں تک رات کی تاریکی میں پہنچاتے تھے ۔ امام عبدالرزاق کہتے ہیں : ایک کنیز اُن کے ہاتھ دھلا رہی تھی کہ لوٹا اُس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا ۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے نظر اُٹھا کر اُس کی طرف دیکھا تو کنیز نے قرآن پاک کی آیت پڑھی : ترجمہ‘‘ اور غصہ کو ضبط کرنے والے ’’ اِس پر آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا: ‘‘ میں نے اپنا غصہ ضبط کر لیا ۔ پھر کنیز نے دوسری آیت پڑھی :ترجمہ‘‘ اور لوگوں کو معاف کرنے والے’’ اِس پر آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا: ‘‘ میں نے معاف کر دیا۔’’ اُس کنیز نے آخری آیت پڑھی :ترجمہ ‘‘ اور اﷲ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے’’ اِس پر حضرت علی بن حسین رضی اﷲ عنہ نے فرمایا: ‘‘ جا تجھے اﷲ کے لئے آزاد کیا۔’’امام ابی الدنیا روایت کرتے ہیں: ایک غلام کے ہاتھ سے گوشت بھوننے کی کڑھائی حضرت علی اوسط بن حسین رضی اﷲ عنہ کے بیٹے کے سر پر گر پڑی ،جس سے وہ مر گیا ۔ آپ رضی اﷲ عنہ بھاگے ہوئے غلام کے پاس آئے اور اس سے صرف اتنا فرمایا: ‘‘ تم ناقابل اعتماد ہو ، جاؤ آج سے تم آزاد ہو ۔’’ اور بچہ کی تجہیز و تکفین میں لگ گئے ۔اہل تاریخ نے حضرت علی بن حسین رضی اﷲ عنہ کے سنہ انتقال میں اگرچہ اختلاف ہے لیکن صحیح اور مشہور یہی ہے کہ اُن کا انتقال 94 ھجری میں ہوا اور جنت البقیع میں دفن کیا گیا ۔

🌹حضرت ابوبکر بن عبدالرحمن کا انتقال🌹

🌻اِس سال فقیہ تابعی حضرت ابوبکر بن عبدالرحمن کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت ابوبکر بن عبدالرحمن بن ہشام بن مغیرہ مدینۂ منورہ کے ساتھ بڑے فقہاء میں سے تھے ۔آپ جلیل القدر تابعی ہیں اور حضرت ابوہریرہ ، سیدہ اسما بنت ابوبکر صدیق ، اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ اور اُم المومنین سیدہ اُم سلمہ رضی اﷲ عنہا سے احادیث روایت کی ہیں۔ اُن سے بہت سے تابعی جن میں امام زہری اور امام مجاہد قابل ذکر ہیں نے روایات بیان کی ہیں۔ یہ خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خلافت کے دور میں پیدا ہوئے اور لوگ انہیں ‘‘قریش کا راہب’’ بھی کہتے تھے ۔ یہ اِس لئے کہ آپ کثرت سے نمازیں پڑھتے تھے ، نابینا تھے اور ‘‘صائم الدھر’’ تھے ۔ ثقہ ، امین ، فقیہ اور صحیح الروایت بھی تھے ۔صحیح یہ ہے کہ ان کا انتقال ۹۴ ؁ ھجری میں ہوا ، کچھ مؤرخین اِن کی سنہ وفات کی تاریخ آگے کی بتاتے ہیں۔واﷲ اعلم۔ 

🌹چند اور فقیہ حضرات کا انتقال🌹

🌻اِس سال 94 ھجری میں چند اور فقیہ حضرات کا انتقال ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال فضل بن فریاد قرشی کا انتقال ہوا جو بڑے عابد و زاہد تھے ۔ ان کے بڑے فضائل و مناقب ہیں ۔اِن کا قول ہے :‘‘ اے شخص! تجھے دنیا ولے بہکا کر تیرے نفس سے تجھے بیگانہ نہ بنا دیں کیونکہ اِس معاملہ کا تعلق خالصتاً تیری ذات سے ہے ،اس لئے تو اپنی صبح کسی کے کہنے سننے سے ضائع نہ کرے جو کچھ تو کرے گا ، وہ تیرے ہی لئے محفوظ رہے گا ۔’’ اِس سال ابو سلمہ بن عوف زہری کا انتقال ہوا ۔ آپ مدینۂ منورہ کے فقہا میں سے تھے اور امام اور عالم تھے ۔انہوں نے بھی بہت سی روایات صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم سے نقل کی ہیں۔ یہ وسیع العلم تھے اور انتقال مدینۂ منورہ میں ہوا۔ اِس سال عبدالرحمن بن عائذازدی کا انتقال ہوا ۔ آپ بھی عالم تھے اور کثیر الروایات تھے ۔ بہت سی کتابیں ان کی یادگار ہیں ۔صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم سے انہوں روایات بیان کی ہیں ۔ عبدالرحمن بن اشعث کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا تھا ،اِس میں حجاج بن یوسف نے آپ کو قید کر دیا تھا مگر پھر چھوڑ دیا ۔ اِس سال عبدالرحمن بن معاویہ کو انتقال ہوا ۔ یہ بڑے عالم و فاضل تھے اور اِن سے تابعین نے روایات بیان کی ہیں ۔ حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ کی مدینۂ منورہ میں گورنری کے زمانے میں آپ قاضی اور پولیس کے سربراہ تھے ۔ 

🌹95 ھجری : لشکروں کی واپسی🌹

🌻95 ھجری کا سال جب شروع ہوا تو چاروں سمت مسلمان مجاہدین فتوحات حاصل کر رہے تھے اور کئی مہینوں تک فتوحات حاصل کرتے اور آگے بڑھتے رہے لیکن اچانک حجاج بن یوسف کا انتقال ہو گیا اور مسلمان مجاہدین کی واپسی شروع ہوگئی ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 95 ھجری میں عباس بن ولید نے بلاد روم میں جنگ کا آغاز کیا اور بہت سے قلعے فتح کر لئے ۔ مسلمہ بن عبدالملک نے بلاد روم کا ایک شہر فتح کیا ۔ اِس سال میں محمد بن قاسم نے ملتان شہر فتح کیا جہاں سے اُس کو بہت سا مال اور دولت حاصل ہوئی ۔ اِس سال موسیٰ بن نصیر اندلس سے واپس آیا اور اندلس سے وہ بہت سارا مال و دولت اور تیس ہزار غلام بھی لیکر آیا ۔ اِس سال قتیبہ بن مسلم نے بلاد شناش فتح کر کے وہاں کے بہت سے شہروں اور علاقوں پر قبضہ کر لیا ۔ جب یہ سب کچھ ہورہا تھا تو حجاج بن یوسف کا انتقال ہوگیا اور اُس کی موت کی خبر ہر طرف پھیل گئی ۔ جس نے سب چیزوں پر پانی پھیر دیا اور مسلمان مجاہدین اپنے شہروں کی طرف واپس ہونے لگے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِ س سال موسیٰ بن نصیر اندلس سے قیروان واپس آیا اور قیروان سے ایک میل کے فاصلے پر ‘‘قصر المامین’’ میں عید الضحیٰ ’’ کی قربانی کی۔ حجاج بن یوسف نے ملک عراق سے ایک فوج قتیبہ بن مسلم کی امداد کے لئے بھیجی تھی وہ فوج ۹۵ ؁ ھجری میں اُس کے پاس پہنچی ۔ اُس نے اُس فوج کو لیکر جہاد کیا اور جب وہ شاش یا کشماہن میں تھا تو اُسے حجاج بن یوسف کے مرنے کی خبر ملی ۔ اِس خبر سے اُسے بہت صدمہ ہوا اور وہ ‘‘مرو’’ کی طرف واپس پلٹا ۔ واپسی میں تمام فوجوں کو منتشر کرتاآ ّیا ۔ کچھ فوج بخارا میں چھوڑی ، کچھ فوج کو کش میں چھوڑا اور کچھ فوج کو نسف میں بھیج دیا اور پھر ‘‘مرو’’ چلا آیا ۔ 

🌹حجاج بن یوسف کا انتقال🌹

🌻اِس سال 95 ھجری میں حجاج بن یوسف کا انتقال ہوگیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال حجاج بن یوسف کا ماہ شوال المکرم میں انتقال ہو گیا ۔اُس کی عُمر تریپن ( 53) یا چون (54) سال تھی ۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال ولید بن عبدالملک نے قتیبہ بن مسلم کو لکھا کہ حالات کو جوں کا توں رکھا جائے اور دشمنوں سے جنگ کے بجائے صلح کی بنیاد ڈالی جائے ۔ ولید بن عبدالملک نے قتیبہ بن مسلم کے جنگی کارناموں اور فتوحات اور کامیابیوں کی تعریف کے ساتھ اُس کو انعام سے نوازنے کی خوشخبری بھی سنائی ۔حجاج بن یوسف نے نماز کے علاوہ کوفہ اور بصرہ کا گورنر اپنے بیٹے کو بنا دیا تھا ۔ ولید بن عبدالملک نے اس کی جگہ یزید بن کثیر کو یہ ذمہ داری سونپی اور خراج کی وصولی کاانچارج دونوں صوبوں کے لئے یزید بن مسلم کو بنا دیا ۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ انتظام حجاج بن یوسف خود کر گیا تھا جس کو ولید بن عبدالملک نے برقرار رکھا اور باقی شہروں میں بھی حجاج بن یوسف کے قائم کئے ہوئے گورنروں کو برقرار رکھا گیا ۔ 

🌹95 ھجری کا اختتام🌹

🌻95 ھجری کا اختتام ہوا ۔ اِس سال مکۂ مکرمہ کا گورنر خالد بن عبداﷲ تھا ۔ مدینۂ منورہ کا گورنر عثمان بن حیان تھا ۔ ابوبکر بن موسیٰ کوفہ کے قاضی تھے ۔ بصرہ کا گورنر جراح بن عبداﷲ تھا ۔بصرہ کے قاضی عبدالرحمن بن اذینہ تھے ۔ قتیبہ بن مسلم خراسان کا گورنر تھا ۔ ملک مصر کا گورنر قرۃ بن شریک تھا ۔خراسان کا گورنر قتیبہ بن مسلم تھا ۔ اِس سال عباس بن ولید نے شہر قنسرین فتح کیا اور وضاحی اور اُن کے ہمراہ ایک ہزار آدمی رومیوں کے علاقہ میں ہوئے ۔اِس سال بشر بن ولید نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔

🌹95 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان🌹

🌻اِس سال 95 ھجری میں جن کا انتقال ہوا اُن میں سے چند کے بارے میں پیش ہے ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال حسن بن حنفیہ کا انتقال ہوا ۔ اِن کی کنیت ‘‘ابو محمد’’ ہے اور بھائیوں میں سب سے بڑے تھے ۔فقیہ ،عالم تھے اور فقہی اختلافات سے باخبر تھے ۔ ہر چیز کا روشن پہلو دیکھتے تھے ۔ یہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے مسئلہ ارجاء پر گفتگو کی اور اُس کے متعلق کتابچہ لکھا اور اس پر نادم ہوئے ۔ یہ حضرات عثمان غنی ،علی المرتضیٰ ، طلحہ بن عبید اﷲ اور زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہم کے معاملہ میں توقف کے قائل تھے ۔ نہ اُن کے دوست تھے اور نہ اُن کی برائی کرتے تھے ۔ جب اِس کی اطلاع اُن کے والد محمد بن حنفیہ کو ہوئی تو انہوں نے اُن کو مارا اور نہایت برا بھلا کہا اور کہا: ‘‘ افسوس ہے کہ تُو اپنے باپ حضرت علی المرتضیٰ کا بھی دوست نہیں ہے ۔ ابو عبید کے بقول ان کا انتقال 95ھجری میں ہوا اور خلیفہ نے کہا کہ عُمر بن عبدالعزیز کے زمانہ میں ہوا۔ اِس سال حمید بن عبدالرحمن بن عوف کا انتقال ہوا ۔ان کی والدہ اُم کلثوم بنت عتبہ بن ابی معیط تھیں اور حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی خالہ ہیں ۔ حمید بن عبدالرحمن فقیہ اور جید عالم تھے ،ان سے بہت روایتیں منسوب ہیں ۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

جمعرات، 27 جون، 2024

ا49 سلطنت امیہ Saltanat e Umayya 49



 سلطنت امیہ49

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 49


ا96 ھجری : ولید بن عبدالملک کا انتقال، ولید بن عبدالملک کے دور میں عظیم الشان فتوحات، موت کی خبر پر حجاج بن یوسف کا تاثر، حجاج بن یوسف کے متعلق اندازہ، حجاج بن یوسف سے نفرت، بیٹے کی ‘‘ولی عہدی’’ کی کوشش، قتیبہ بن مسلم کا ملک چین پرحملہ، ملک چین کے بادشاہ کی درخواست پر مسلم وفد کی روانگی، ملک چین کے بادشاہ کے دربار میں مسلمان، ملک چین کے بادشاہ کی صلح کی پیشکش، قتیبہ بن مسلم کی قسم پوری ہوئی، 


ا96 ھجری : ولید بن عبدالملک کا انتقال


اِس سال 96 ولید بن عبدالملک کا انتقال ہوا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِ س سال موسم سرما کی مہم لیکر بشر بن ولید رومیوں سے جہاد کرنے گیا اور اِسی اثناء میں ولید بن عبدالملک کا انتقال ہوگیا اور وہ واپس آگیا ۔تمام اہل سیر کا اِس بات پر اتفاق ہے کہ 96 ھجری میں ولید کا انتقال ہوا ۔ اُس کی مدت ِ حکومت بہت کم ہے ۔ ایک روایت کے مطابق ولید بن عبدالملک نے ایک ماہ کم دس سال حکومت کی ۔دوسری روایت کے مطابق نو سال سات مہینے حکومت کی ۔ہشام بن محمد کے مطابق آٹھ سال چھ مہینے حکومت کی ۔ امام واقدی کے مطابق نو سال آٹھ مہینے حکومت کی ۔ولید بن عبد الملک کی عُمر کے بارے میں اہل سیر کا اختلاف ہے ۔ایک روایت کے مطابق ولید بن عبدالملک کی عُمر چھیالیس سال تھی ۔ ہشام بن محمد کے مطابق پینتالیس سال تھی ۔علی بن محمد کے مطابق بیالیس سال تھی ۔ اُس کا انتقال دمشق میں ہوا اور ‘‘باب الصغیر’’ کے باہر دفن کیا گیا ۔یہ بھی کہا گیا کہ مقبرہ فرادیس میں دفن کیا گیا ۔ حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔


ولید بن عبدالملک کے دور میں عظیم الشان فتوحات


ولید بن عبدالملک کے دور ِ حکومت میں اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو عظیم الشان فتوحات دلائی ہیں۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اہل شام ولید بن عبدالملک کو اپنے تمام حکمرانوں میں سے بہترین حکمراں سمجھتے تھے ۔ اُس نے بہت سی مسجدیں تعمیر کرائیں ۔ جامع مسجد دمشق اور مسجد نبوی کی توسیع کرائی اور مینار بنوائے ۔ وہ بڑا سخی اور دینے والا تھا اُس نے کوڑھی لوگوں کے روزینے مقرر کر دیئے اور انہیں لوگوں کے سامنے دست سوال پھیلانے کی ممانعت کر دی اور اُن سب کی خدمت کے لئے ایک سرکاری خادم مقرر کر دیا جو اُن کی خدمت گذاری کرتا تھا ۔ ولید بن عبدالملک کے دور ِ حکومت میں مسلمانوں کو عظیم الشان فتوحات حاصل ہوئیں ، مغرب میں موسیٰ بن نصیر اور طارق بن زیاد نے اُندلس(اسپین)فتح کیا ۔ شمال مشرق میں قتیبہ بن مسلم نے کاشغر فتح کیا ۔ محمد بن قسم نے ہندوستان فتح کیا۔ ولید بن عبدالملک کا قاعدہ تھا کہ اکثر بیچنے والے کے پاس جاتا اور تھوڑی سی ترکاری اُٹھا کر اُس کی قیمت دریافت کرتا ۔ بیچنے والا جب قیمت بتاتا تو وہ کہتا اِس کی قیمت میں اضافہ کرو۔ 


موت کی خبر پر حجاج بن یوسف کا تاثر


ولید بن عبدالملک کی موت کی خبر سے حجاج بن یوسف پر بہت برا اثر پڑا تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حالت مرض میں ایک دن ولید بن عبدالملک پر ایسی بے ہوشی طاری ہوئی کہ تمام دن مردہ کی طرح پڑا رہا ۔ لوگوں نے رونا دھونا شروع کر دیا اور اُس کی موت کی خبر پہنچانے کے لئے قاصد بھی روانہ کر دیئے گئے ۔ جب حجاج بن یوسف کے پاس قاصد یہ خبر لیکر آیا تو اُس نے انا ﷲ وانا الیہ راجعون پڑھا ۔ ایک رسی منگوا کر اُس کے ہاتھ بندھوا دیئے اور اس کا ایک سرا ستون میں باندھ دیا ۔پھر اﷲ تعالیٰ سے دعا مانگی : اے اﷲ تعالیٰ! تُو مجھ پر ایسے شخص کو مسلط نہ کرنا جو رحیم و کریم نہ ہو ،میں عرصۂ دراز سے دعا مانگ رہا ہوں کہ اس کے مرنے سے پہلے مجھے موت دیدے ۔’’ انہیں جملوں کے ساتھ حجاج بن یوسف نے خصوع و خشوع سے دعا مانگنا شروع کر دی ۔ ابھی دعا مانگ ہی رہا تھا کہ دوسرا قاصد ولید کے مرض کے افاقہ کی

 خوشخبری لیکر آیا ۔


حجاج بن یوسف کے متعلق اندازہ


حجاج بن یوسف کو ولید بن عبدالملک کے تندرست ہونے کی سب سے زیادہ خوشی ہوئی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: ولید بن عبدالملک کی طبیعت جب زرا سنبھلی تو اُس نے کہا: ‘‘ میری صحت کی سب سے زیادہ خوشی حجاج بن یوسف کو ہوگی ۔’’ اِس پر حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے کہا: ‘‘ تمہاری صحت ہمارے لئے اﷲ کی بہترین نعمت ہے اور مجھے یقین ہے کہ تمہارے پاس حجاج بن یوسف کا خط آئے گا جس میں لکھا ہوگا:‘‘ مجھے آپ کی صحت کا علم ہوا تو میں نے سجدۂ شکر ادا کیا اور جس قدر غلام اور لونڈی میرے پاس تھے وہ سب آزاد کر دیئے گئے اور میں یہ ہندوستان کے بنے ہوئے مربّے کے شیشے کے مرتبان آپ کی خدمت میں بھیج رہا ہوں۔’’ اِس بات کو کہے ابھی کچھ ہی دن گذرے تھے کہ اِس مضمون کا خط حجاج بن یوسف کی طرف سے آیا ۔


حجاج بن یوسف سے نفرت


ولید بن عبدالملک اپنے دور ِ حکومت کے آخری دنوں میں حجاج بن یوسف کو ناپسند کرنے لگا تھا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : آخری زمانے میں ولید بن عبدالملک کو حجاج بن یوسف کا وجود کھٹکنے لگا تھا ۔ اِس کا ثبوت اِس واقعہ سے ملتا ہے کہ ولیدبن عبدالملک کا ایک خدمت گار بیان کرتا ہے کہ میں ایک روز صبح کھانے کے لئے ولید بن عبدالملک کا منہ دھلا رہا تھا ۔ اُس نے ہاتھ بڑھایا اور میں نے پانی ڈالنا شروع کیا وہ اُس وقت کسی اور ہی خیال میں گُم تھا ۔ اب پانی بہتا جا رہا تھا اور وہ منع نہیں کر رہا تھا اور مجھے اتنی جرأت کہاں کہ میں خود بولتا ۔ پھر ولید بن عبدالملک نے خود میرے منہ پر پانی کے چھینٹے مار کر کہا: ‘‘ کیا تُو اونگھ رہا ہے ؟’’ اور سر اٹھا کر مجھ سے کہا: ‘‘ کیا تُو جانتا ہے کل رات کیا خبر آئی ہےَ’’ میں نے کہا: ‘‘ مجھے نہیں معلوم ۔’’ ولید بن عبدالملک نے کہا:‘‘ بے وقوف! تجھے نہیں معلوم ، حجاج بن یوسف کا انتقال ہو گیا ہے۔’’ میں نے انا ﷲ وانا الیہ راجعون کہا۔ ولید بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ چپ رہ! اِس خبر سے تیرے آقا کو خوشی ہوئی ہے ۔ یہ اس کے ہاتھ میں ایک سیب کی مانند تھا جسے وہ سونگھتا تھا۔’’ 


بیٹے کی ‘‘ولی عہدی’’ کی کوشش


عبدالملک بن مروان نے اپنے دو بیٹوں ولید بن عبدالملک اور سلیمان بن عبدالملک کو اپنا ‘‘ولی عہد ’’ بنایا تھا ۔ اِس لئے ولید بن عبدالملک کے بعد اُس کے چھوٹے بھائی سیلمان بن عبدالملک کے حکمراں بننے کی باری تھی ۔ اِس کے باوجود ولید بن عبدالملک نے اپنے بیٹے عبدالعزیز بن ولید کو ‘‘ولی عہد’’ بنانے کی کوشش کی ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال ۹۶ ؁ ھجری میں ولید بن عبدالملک نے ارادہ کیا کہ اپنے چھوٹے بھائی سلیمان بن عبدالملک کے پاس جائے ۔ اِس سفر کی غرض یہ تھی کہ وہ چاہتا تھا کہ اُس کے بعد اُس کا بیٹا عبدالعزیز بن ولید ‘‘سلطنت ِ اُمیہ’’ کا حکمراں ہو ۔ ولید بن عبدالملک نے اِس سفر کا ارادہ اپنے مرض الموت سے پہلے کیا تھا ۔ ولید بن عبدالملک اور سلیمان بن عبد الملک دونوں عبدالملک بن مروان کے ‘‘ولی عہد’’ تھے ۔ جب ولید بن عبدالملک حکمراں بنا تو اُس نے ارادہ کیا کہ سیلمان بن عبدالملک کو حکومت کے حق سے محروم کر دے اور اُس کے بدلے اپنے بیٹے عبدالعزیز بن ولید کو اپنا ‘‘ولی عہد’’ بنائے ۔ مگر سیلمان بن عبدالملک نے اِس تجویز کو مسترد کر دیا ۔ اِس کے بعد ولید بن عبدالملک نے یہ کوشش کی کہ سلیمان بن عبدالملک کے بعد عبدالعزیز بن ولید کو حکمراں بنا دیا جائے مگر سلیمان بن عبدالملک نے اِس سے بھی انکار کر دیا ۔جب اِس طرح ولید بن عبدالملک کو اپنے مقصد میں ناکامی ہوئی تو اُس نے اپنے گورنروں کو لکھا کہ لوگوں سے عبدالعزیز بن ولید کے لئے بیعت لولیکن حجاج بن یوسف اور قتیبہ بن مسلم کے علاوہ کسی نے پسند نہیں کیا ۔ عباد بن زیاد نے ولید بن عبدالملک سے کہا:‘‘ عام لوگ آپ کی اِس تجویز کو کبھی نہیں مانیں گے اور اگر اِس وقت وہ مان بھی جائیں تو بھی آپ کو اُن کے وعدہ پر اعتبار نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ بعد میں یہ آپ کے بیٹے کے خلاف ضرور ہو جائیں گے بہتر یہ ہے کہ سلیمان بن عبدالملک کو راضی کریں کہ وہ اپنے حق سے دستبردار ہو جائیں۔’’ولید بن عبدالملک اپنے بھائی کے جانے کے سفر کی تیاری کر رہا تھا کہ اُس کی طبیعت خراب ہوئی اور انتقال ہو گیا۔ 


قتیبہ بن مسلم کا ملک چین پرحملہ


ولید بن عبدالملک کے انتقال سے کچھ دنوں پہلے قتیبہ بن مسلم سے چین پر حملہ کیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال قتیبہ بن مسلم نے ملک چین کا ایک شہر کاشغر فتح کیا ۔ اُس کے پاس جتنی فوج تھی وہ سب لیکر اور اپنے اہل و عیال کو لیکر دریائے جیجون کو عبور کیا ۔ اُس کا ارادہ یہ تھا کہ اپنی عورتوں اور بچوں کو ‘‘سمر قند’’ میں حفاظت سے ٹھہرا دے گا ۔ جب دریائے جیجون اُس نے پار کیا تو اپنے ایک آزاد کردہ غلام کو جس کا نام خوارزی تھا اُس گھاٹ پر جہاں سے دریا عبور کیا جاتا تھا مقرر کر دیا اور حکم دیا کہ کسی شخص کو بغیر پروانۂ راہداری کے یہاں سے گذرنے نہیں دینا ۔ قتیبہ بن مسلم نے فرغانہ کی راہ لی اور ‘‘درۂ اعصام’’ کی طرف کچھ ایسے لوگوں کو بھیجا جو ‘‘کاشغر’’ جانے کا راستہ ٹھیک کردیں ۔ (یہ شہر ‘‘کاشغر’’ چین کے تمام شہروں میں مسلمانوں کی حکومت کے قریب ترین واقع تھا) قتیبہ بن مسلم ابھی فرغانہ ہی میں تھا کہ اُسے ولید کے انتقال کی خبر ملی ۔


ملک چین کے بادشاہ کی درخواست پر مسلم وفد کی روانگی


قتیبہ بن مسلم اپنے لشکر کے ساتھ ملک چین کی طرف بڑھ رہا تھا کہ ملک چین کے بادشاہ نے اُس سے درخواست کی کہ بات چیت کے لئے اپنا ایک وفد بھیجے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : قتیبہ بن مسلم بڑھتے بڑھتے ملک چین کی حدود میں داخل ہوگیا ۔ اِس پر ملک چین کے بادشاہ نے قتیبہ بن مسلم کو لکھا :‘‘ اپنے معزز لوگوں کو میرے پاس بھیج دیں تاکہ میں اُن سے آپ لوگوں کے حالات دریافت کروں اور آپ لوگوں کے مذہب کے متعلق معلومات حاصل کروں۔ ’’ قتیبہ بن مسلم نے بارہ آدمی منتخب کئے ۔ بعض راویوں کا بیان ہے کہ دس آدمی منتخب کئے۔ یہ لوگ اپنی ظاہری صورت و وجاہت ، ڈیل ڈول ، حسن بیان ، شجاع اور فراست و ذکاوت کے لحاظ سے اپنے اپنے قبیلہ کے بہترین افراد تھے ۔قتیبہ بن مسلم نے خود اُن کا انتخاب کیا اور پھر اُن کی دانائی اور فراست کا امتحان لیا ۔ پھر انہیں بہترین اسلحہ ، عمدہ عمدہ ریشمی شالیں ، سفید باریک ململ کے تھان ، جوتے اور عطر دیئے اور انہیں سواری کے لئے اعلیٰ درجے کے قوی ہیکل گھوڑے دیئے اور دوسرے سواری کے گھوڑے اور بھی دیئے ۔ اِن میں ہبیرہ بن شمرج کلابی بڑا چرب زبان مقرر تھا ۔ قتیبہ بن مسلم نے اُس سے پوچھا :‘‘ ہبیرہ! تم وہاں جا کر کیا کرو گے ؟’’ ہبیرہ بن شمرج نے کہا: ‘‘ آپ سے بہتر اور کون مجھے طریقۂ ملاقات و گفتگو بتا سکتا ہے ۔ جیسا آپ ارشاد فرمائیں وہی میں کہوں گا ۔اور اُسی پر عمل کروں گا ۔’’ قتیبہ بن مسلم نے کہا: ‘‘ اﷲ کی برکت اور اس کی توفیق تمہارے ساتھ ہو ۔ تم جب تک اُن کے علاقہ میں نہ پہنچ جاؤ اپنے عمامے نہیں اُتارنا اور جب ملک چین کے بادشاہ کے سامنے جاؤ تو اُس سے کہہ دینا کہ میں(قتیبہ بن مسلم) نے قسم کھائی ہے کہ جب تک میں تمہارے علاقہ میں قدم نہ رکھ لوں اور تمہارے شہزادوں کا غلام نہ بنا لوں اور خراج نہ وصول کر لوں تب تک واپس نہیں جاؤں گا ۔ ’’


ملک چین کے بادشاہ کے دربار میں مسلمان


مسلمانوں کا وفد ملک چین کے بادشاہ سے ملاقات کرنے گیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : یہ وفد ہبیرہ بن شمرج کی قیادت میں چین آیا ۔ ملک چین کے بادشاہ نے سفراء کے ذریعہ انہیں دعوت دی ۔ان لوگوں نے غسل کیا اور سفید کپڑے پہنے نیچے زرہ پہنی ، عطر لگایا ، تیل لگایا ، جوتے پہنے اوپر سے شالیں اوڑھیں اور ملک چین کے بادشاہ کے دربار میں داخل ہوئے ۔ اُس وقت دربار میں چین کے بڑے بڑے رئیس اور اعیان سلطنت موجود تھے ۔ یہ لوگ بھی جا کر بیٹھے مگر نہ بادشاہ نے کوئی بات چیت کی نہ دوسرے درباریوں نے کوئی گفتگو کی ۔ مسلمان اُٹھ کر چلے آئے ۔ اُن کے چلے آنے کے بعد بادشاہ نے اپنے درباریوں سے پوچھا: ‘‘ تمہاری اِن کے متعلق کیا رائے ہے؟’’ سب نے کہا: ‘‘ یہ تو عورتیں معلوم ہوتی ہیں۔جب ہماری نظر ان پر پڑی اور عطر کی خوشبو ہماری ناکوں میں آئی تو ہم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں بچا جس کے خیالات پریشان نہ ہو گئے ہوں۔’’ دوسرے دن پھر بادشاہ نے مسلمانوں کو دربار میں بلایا۔ آج انہوں نے جامہ دار جبے پہنے ، باریک ریشم کے عمامے باندھے ،اوپر سے شالیں اوڑھیں اور صبح کے وقت دربار میں داخل ہوئے ۔ کچھ دیر بعد بادشاہ نے بغیر کچھ کہے سنے انہیں واپس جانے کا حکم دے دیا اور اُن کے چلے جانے کے بعد اپنے درباریوں سے پھر ان کے متعلق دریافت کیا ۔ سب نے کہا: ‘‘ آج اِن کی وضع و ہیئت مردوں سے ملتی جلتی ہے اور اب وہ مرد معلوم ہوتے ہیں۔ ’’ تیسرے دن پھر ملک چین کے بادشاہ نے مسلمانوں کو بلایا۔مسلمانوں نے تمام ہتھیار زیب تن کئے ۔دوہرے خود پہنے ، تلواریں حمائل کیں ،نیزے ہاتھ میں لئے ،کمانیں کندھوں پر ڈالیں اور گھوڑوں پر سوار ہو کر شاہی دربار کی طرف چلے ۔ جب بادشاہ اور درباریوں کی نظر ان پر پڑی تو انہیں لگا گویا پہاڑ کے پہاڑ چلے آرہے ہیں ۔ جب یہ لوگ بادشاہ کے دربار کے قریب پہنچے تو اپنے نیزے زمین پر گاڑ دیئے اور پھر قدم بڑھاتے ہوئے آگے بڑھے ۔ مگر چونکہ تمام درباریوں کے دلوں پر اُن کی ہیئت و وضع سے خوف طاری ہوگیا تھا ۔ اِس لئے دربار میں آنے سے پہلے ہی واپسی کا حکم دے دیا گیا ۔ 


ملک چین کے بادشاہ کی صلح کی پیشکش


ملک چین کا بادشاہ اور درباری بری طرح مسلمانوں سے خوف زدہ ہو گئے تھے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : مسلمان اپنے گھوڑوں پر سوار ہو کر آپس میں نیزوں کا لڑاتے ہوئے گھوڑوں کو اُڑاتے ہوئے جس سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ ایکدوسرے سے مقابلہ کر رہے ہیں اپنی قیام گاہ واپس لوٹے ۔شام کے وقت ملک چین کے بادشاہ نے مسلمانوں سے کہلا بھیجا کہ جو آپ لوگوں کا سردار ہو اُسے میرے پاس بھیج دیں۔ سب نے ہبیرہ بن شمرج کو بھیج دیا ۔ جب ہبیرہ بن شمرج ملنے گیا تو ملک چین کے بادشاہ نے کہا: ‘‘ آپ نے میرے ملک کے سرداروں کو دیکھ لیا ہے ۔ اب کوئی شخص ایسا نہیں جو میرے مقابلے میں آپ کو بچا سکے ۔ اِس کے علاوہ آپ لوگ میرے علاقہ میں ہیں اور اِس طرح میرے دست قدرت میں ہیں جس طرح ہتھیلی پر انڈا ہو ۔ میں آپ سے ایک بات دریافت کرتا ہوں ۔اگر آپ نے سچ سچ نہیں بیان کیا تو قتل کردوں گا ۔ ’’ ہبیرہ بن شمرج نے کہا: آپ جو پوچھنا چاہتے ہیں پوچھیئے۔ ’’ ملک چین کے بادشاہ نے پوچھا :‘‘ تین دنوں میں آپ لوگوں کے مختلف لباس میں آنے کی کیا وجہ ہے؟’’ ہبیرہ بن شمرج نے کہا: ‘‘ پہلے دن جو لباس پہنا تھا وہ لباس ہم اپنے اہل و عیال کے درمیان پہنتے ہیں اور خوشبو لگاتے ہیں۔دوسرے دن کا لباس وہ تھا جو ہم اپنے اُمراء اور سرداروں کے پاس پہن کر جاتے ہیں۔ تیسرے دن کا لباس دشمن کے مقابلے پر پہن کر جانے کا ہے ۔ ’’چین کے بادشاہ نے کہا: ‘‘ حقیقت میں تم ہی لوگ زمانہ کو خوب برتتے ہو ۔ اچھا اب آپ اپنے اعلیٰ افسر کے پاس واپس جایئے اور کہہ دیجیئے کہ وہ ابھی ہمارے علاقے سے واپس چلے جائیں کیونکہ میں اُس کی فوج کی قلت سے واقف ہوں۔ اگر آپ لوگ واپس نہیں گئے تو میں ایسی فوج مقابلے کے لئے بھیجوں گا جو آپ سب کو تباہ کر ڈالے گی ۔’’ہبیرہ بن شمرج نے کہا: ‘‘ آپ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے پاس فوج کی کمی ہے؟ ایسے شخص کی کیا کمی ہوسکتی ہے جس کی فوج کا اگلا حصہ آپ کے علاقہ میں ہے اور پچھلا حصہ ملک شام میں ہے ۔ آپ نے ہمیں قتل کی دھمکی دی ہے اور یہ ایسی بات نہیں ہے جس سے ہم ڈریں۔ہماری زندگی ایک خاص مدت تک ہے جب وہ پوری ہو جائے گی تو ہم مر جائیں گے اور موت کا سب سے بہترین طریقہ اﷲ کے لئے شہید ہونا ہے ۔’’ چین کے بادشاہ نے کہا: ‘‘ اچھا یہ بتاؤ! تمہارے سپہ سالار کس چیز سے خوش ہو سکتے ہیں؟’’ ہبیرہ بن شمرج نے کہا:‘‘ انہوں نے قسم کھائی ہے کہ جب تک وہ تمہارے علاقے میں قدم نہیں رکھ لیں گے اور تمہارے شہزادوں کو غلام بنا کر مہر نہ لگا دیں گے اور جزیہ وصول نہیں کرلیں گے تب تک یہاں سے نہیں ٹلیں گے ۔’’


قتیبہ بن مسلم کی قسم پوری ہوئی


ملک چین کے بادشاہ کو ہبیرہ بن شمرج نے اپنے سپہ سالار کی قسم کے بارے میں بتایا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: ملک چین کے بادشاہ نے کہا: ‘‘ اچھا ہم اُن کی قسم پوری کر دیتے ہیں۔ اپنے علاقہ کی مٹی بھیج دیتے ہیں تاکہ وہ اپنے قدم اُس پر رکھ لیں ۔کچھ اپنے شہزادے بھیج دیتے ہیں کہ وہ اُن پر مہر غلامی ثبت کر دیں اور انہیں جزیہ میں اِس قدر زر و جواہر دیئے دیتے ہیں کہ وہ خوش ہو جائیں گے ۔’’اِس کے بعد ملک چین کے بادشاہ نے سونے کی ایک لگن مٹی سے بھری ہوئی منگوائی اور بہت سے ریشم کے تھان اور سونا جزیہ میں بھیجا اور چار شہزادے بھیج دیئے ۔ اِس کے علاوہ وفد کے اراکین کوبھی بہت کچھ انعام و خلعت وغیرہ دے کر رخصت کیا ۔ یہ تمام چیزیں لیکر یہ لوگ قتیبہ بن مسلم کے پاس آئے ۔ اُس نے جزیہ قبول کر لیا ۔اُن شہزادوں کو مہر لگا کر واہس بھیج دیا اور چین کی مٹی پر پاؤں رکھ دیا ۔ اِس کے بعد اُس نے ہبیرہ کو ولید بن عبدالملک کی خدمت میں بھیجا مگر راستے میں ایران کے ایک گاؤں میں اُس کا انتقال ہو گیا ۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

Urdu inpage pdf Download

 Urdu inpage pdf Download


 


Urdu inpage Dawnload

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں