اتوار، 25 اگست، 2024

48 سلطنت امیہ Saltanat e Umayya 48

 


 🌹48 سلطنت امیہ🌹 

🌹تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی🌹

🌹قسط نمبر 48🌹

🌻94 ھجری : رومیوں سے جہاد، شاش اور خجندہ کی فتح، ہندوستان سے اہل عراق کی واپسی، حضرت سعید بن جبیر کی گرفتاری، حضرت سعید بن جیر کی شہادت، 94 ھجری کا اختتام، 94 ھجری میں جن کا انتقال ہوا، حضرت سعید بن مسیب کا انتقال، حضرت طلق بن حبیب فزی کا انتقال، حضرت عُروہ بن زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ کا انتقال، حضرت علی (اوسط) بن حسین رضی اﷲ عنہ کا انتقال، حضرت ابوبکر بن عبدالرحمن کا انتقال، 95 ھجری : لشکروں کی واپسی، حجاج بن یوسف کا انتقال، 95 ھجری کا اختتام، 95 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان

🌹94 ھجری : رومیوں سے جہاد🌹

🌻94 ھجری میں ہر سال کی طرح مسلمانوں نے رومیوں سے جہاد کیا بلکہ اِس سال تو رومیوں کے کئی علاقوں پر الگ الگ حملے کئے ۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: اِس سال 94 ھجری میں عباس بن ولید نے ارض روم میں جہاد کا آغاز کیا اور انطاکیہ فتح کیا ۔ اُس کے بھائی عبدالعزیز بن ولید نے دوسری طرف سے ارض روم پر حملہ کیا شہر عزالہ تک پہنچ گیا ۔ ولید بن ہشام معیطی نے ‘‘میرج الحمام’’ کی سر زمین پر دھاوا بول دیا اور یزید بن ابی کشید ملک شام کی اُس سرزمین پر اتر گا جہاں زلزلہ آیا اوراِسی سال میں مسلمہ بن عبدالملک نے ارض روم میں پہنچ کر سندرہ کو فتح کر لیا ۔ غرض کہ اِسی مبارک سال میں اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کے ہاتھوں ولید بن عبدالملک کے عہد میں اور اُس کی اولاد و اقرباء و امراء کے دور میں ایسی شاندار اور عظیم کامیابیاں عطا فرمائیں کہ خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا مبارک دور کا نقشہ نگاہوں کے سامنے آ گیا ۔ 

🌹شاش اور خجندہ کی فتح🌹

🌻قتیبہ بن مسلمہ ہر سال گرمیوں میں بلاد ترک یا روسی ترکستان پر حملہ کرتا تھا اور کوئی نہ کوئی علاقہ فتح کر لیتا تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : 94 ھجری میں قتیبہ بن مسلم جہاد کے لئے لشکر لیکر روانہ ہوا ۔ دریائے جیجون کو عبور کرنے کے بعد اُس نے لازمی فوجی خدمت کے طریقہ پر اہل بخارا ، اہل کش ، اہل نسف اور اہل خوارزم سے بیس ہزار جنگجو سپاہی بھرتی کر لئے ۔ یہ سب کے سب اُس کے ساتھ صغد آئے ۔ یہاں سے اُس نے اور فوجیں تو شاش کی طرف بھیج دیں اور وہ خود لشکر لیکر فرغانہ کی طرف بڑھا ۔ راستے میں شہرخجندہ پہنچا تو وہاں کے حکمراں نے جنگ کی تیاری کر لی ۔ دونوں فوجیں آمنے سامنے آئیں اور کئی لڑائیاں ہوئیں مگر ہر معرکہ میں فتح نے مسلمانوں کا ہی ساتھ دیا ۔ ایک روز لڑائی ختم ہونے کے بعد مسلمان اپنے گھوڑوں پر تفریحاً سواری کرنے لگے ۔ ایک بلند مقام پر ایک بوڑھا شخص ملا اور بولا: ‘‘ آج ہم پر حملہ کرنے کا اچھا موقع تھا ۔ اگر اِس انتشار کی حالت میں ہم سے جنگ ہوتی تو ہمیں شکست کی ذلت نصیب ہوتی ۔ اِس پر ایک دوسرے شخص نے جو اُس کے پہلو میں کھڑا تھا کہا: ‘‘ تمہارا خیال غلط ہے ہم ہر وقت اور ہر حالت میں دشمن سے لڑنے کے لئے مستعد ہیں۔’’بعد ازاں قتیبہ بن مسلم فرغانہ کے شہر کشان آیا ۔ اِس مقام پر وہ تمام فوجیں بھی جنہیں اُس نے شاش پر حملہ کرنے کے لئے بھیجا تھا اپنا کام پورا کر کے اُس سے آ ملیں ۔ اِن فوجوں نے شہر شاش کو فتح کر لیا تھا اور بہت سارا مال غنیمت لیکر آئے تھے ۔ 

🌹ہندوستان سے اہل عراق کی واپسی🌹

🌻اہل عراق پر حجاج بن یوسف کے مطالم کی وجہ سے حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ نے آواز اُٹھائی تھی تو انہیں مدینۂ منورہ کی گورنری سے معزول ہونا پڑا تھا ۔اِس کی وجہ حجاج بن یوسف نے یہ سمجھا کہ اہل عراق ہر جگہ اُس کے خلاف سازش کر رہے ہیں ۔ اُس نے مکۂ مکرمہ اور مدینۂ منورہ میں اپنی پسند کے گورنر مقرر کرائے اور وہاں بھی اہل عراق پر ظلم ہونے لگے ۔ اِس کے علاوہ جو اہل عراق محمد بن قاسم کے ساتھ ہندوستان یعنی سندھ جہاد کرنے کے لئے گئے تھے انہیں بھی حجاج بن یوسف نے واپس بلوا لیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حجاج بن یوسف نے محمد بن قاسم ثقفی کو لکھا کہ اہل عراق کو قتیبہ بن مسلم کے پاس بھیج دو اور جہم بن زحر بن قیس کو اُن کا کمانڈر بنا کر بھیج دوکیونکہ اُس کا اثر اہل شام کے مقابلے میں اہل عراق پر زیادہ ہے ۔ محمد بن قاسم کا مخلص دوست جہم بن زحر تھا۔ اُس نے جہم بن زحر اور سلیمان بن صعصعہ کو اہل عراق کے ساتھ قتیبہ بن مسلم کی طرف روانہ کیا ۔ جہم بن زحر کو رخصت کرتے وقت محمد بن قاسم فرط ِ محبت سے رونے لگا اور کہا: ‘‘ اے جہم بن زحر! آج ہم اور تم جدا ہورہے ہیں ۔’’ جہم بن زحر نے کہا: ‘‘ کیا کیا جائے ! ایک نہ ایک دن جدائی ہونے ہی والی تھی ۔’’

🌹حضرت سعید بن جبیر کی گرفتاری🌹

🌻حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ جب مدینۂ منورہ اور مکۂ مکرمہ کے گورنر تھے تو یہاں بہت امن و سکون تھا اور مسلمانوں کے ساتھ عدل و انصاف کیا جاتا تھا اِسی لئے حجاج بن یوسف کے مظالم کے شکار انہیں دونوں شہروں میں آ کر مقیم ہوتے تھے ۔عثمان بن حیان جب مدینۂ منورہ کا گورنر بنا تو اُس نے حجاج بن یوسف کے حکم کے مطابق مدینۂ منورہ میں موجود اہل عراق پر ظلم و تشدد کیا اور انہیں نکال دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عثمان بن حیان نے ریاح بن عبیداﷲ اور منقذ عراقی کو گرفتار کر کے قید کردیا اور انہیں طرح طرح کی تکلیفیں دیں اور پھر بیڑیاں پہنا کر حجاج بن یوسف کے پاس بھیج دیا ۔ اِس کے علاوہ اُس نے مدینۂ منورہ میں جتنے اہل عراق تھے چاہے تاجر ہوں یا نہ ہوں سب کو نکال دیا ۔ایسا ہی مکۂ مکرمہ کے گورنر خالد بن عبداﷲ نے بھی کیا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : حضرت عُمر بن عبدالعزیز کی گورنری کے زمانے میں اکثر اہل عراق حجاج بن یوسف کے ظلم و جور سے تنگ آ کر مکۂ مکرمہ اور مدینۂ منورہ چلے آتے تھے اور یہاں اُس کے ہر شر سے بچ جاتے تھے اِن میں حضرت سعید بن جبیر بھی تھے ۔ اُن کو حجاج بن یوسف نے اُس فوج کے وظائف و رسد دینے پر مامور کیا تھا جس فوج کو عبدالرحمن بن اشعث کی سپہ سالاری میں رتبیل سے جنگ کرنے کے لئے بھیجا تھا ۔جب عبدالرحمن بن اشعث نے حجاج بن یوسف کی مخالفت پر کمر باندھی تو سعید بن جبیر بھی اُس کے ہم آہنگ ہو گئے ۔ عبدالرحمن بن اشعث شکست کھا کر رتبیل کے ملک بھاگ گیا تھا اور سعید بن جبیر اصفہان چلے آئے تھے ۔ حجاج بن یوسف نے اصفہان کے گورنر کو لکھا کہ اُن کو گرفتار کر لیا جائے ۔ اصفہان کے گورنر نے سعید بن جبیر کو در پردہ حجاج بن یوسف کے حکم سے آگاہ کردیا تو وہ آذربائیجان چلے آئے ۔ ایک مدت تک وہیں مقیم رہے پھر مکۂ مکرمہ چلے آئے ۔مکۂ مکرمہ میں اُن جیسے بہت سے آدمی حجاج بن یوسف کے کوفہ سے بھاگ آئے تھے ۔ جب خالد بن عبداﷲ مکۂ مکرمہ کا گورنر بنا تو ولید بن عبدالملک نے حکم دیا کہ اہل عراق کو گرفتار کر کے حجاج بن یوسف کے پاس بھیج دو ۔ اُس نے حضرت سعید بن جبیر ، مجاہد اور طلق بن حبیب کو گرفتار کر کے حجاج بن یوسف کے پاس روانہ کیا ۔ طلق بن حبیب کا تو راستے میں ہی انتقال ہوگیا اور مجاہد اور حضرت سعید بن جبیر حجاج بن یوسف کے سامنے پیش کئے گئے ۔

🌹حضرت سعید بن جیر کی شہادت🌹

🌻حضرت سعید بن جبیر جب حجاج بن یوسف کے دربار میں پیش کئے گئے تو اُس نے آپ کو شہید کر دیا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : حجاج بن یوسف نے حضرت سعید بن جبیر کو گالیاں دیں اور سخت سست کہا پھر بولا: ‘‘ میں جانتا تھا کہ تُو مکۂ مکرمہ میں ہے اور فلاں مکان میں رہ رہا ہے ۔ کیا میں نے تجھے اپنے کام میں شریک نہیں کیا تھا ؟ اور کیا میں نے تجھے عزت نہیں دی تھی ؟ ’’ حضرت سعید بن جبیر نے اِن سب باتوں کو تسلیم کیا ۔ حجاج بن یوسف پھر بولا: ‘‘ اچھا کس چیز نے تجھے میری مخالفت پر اُبھارا؟’’ انہوں نے جواب دیا : ‘‘ میں بھی ایک انسان ہوں اور انسان سے کبھی غلطی ہو جاتی ہے ۔’’ حجاج بن یسف یہ سن کر خوش ہو گیا اور تھوڑی دیر تک اِدھر اُدھر کی باتیں کرتا رہا ۔باتوں کے دوران حضرت سعید بن جبیر کے منہ سے نکل گیا :‘‘ میری گردن میں اُس کی(عبدالرحمن بن اشعث کی) بیعت تھی ۔’’ یہ سن کر حجاج بن یوسف کا چہرہ غصہ سے سرخ ہوگیا اور غضبناک ہو کر بولا: ‘‘ میا میں نے تجھ سے مکۂ مکرمہ میں عبداﷲ بن زبیر کے قتل کے بعد عبدالملک بن مروان کی بیعت نہیں لی تھی ؟ اور پھر اُس کی تجدید میں نے کوفہ میں نہیں کی تھی ؟ ’’ حضرت سعید بن جبیر نے اقرار کیا ۔ حجاج بن یوسف بولا: ‘‘ تُو نے امیر المومنین کی دو بیعتیں توڑ دیں اور اُس رذیل ( عبدالرحمن) کی ایک بیعت کا حق ادا کیا ۔اﷲ کی قسم! میں تجھے مارڈالوں گا ۔’’ حضرت سعید بن جبیر نے کہا: ‘‘ بے شک میں سعید ہوں جیسا کہ میری والدہ نے میرا نام رکھا ہے ۔’’ حجاج بن یوسف نے لپک کر تلوار کا ہاتھ مار کر گردن اُڑا دی اور جوش مسرت سے تین بار تہلیل کی پہلی بار نہایت فصاحت سے اور دو بار جلدی جلدی ۔بیان کیا جاتا ہے کہ حجاج بن یوسف اُس دن بالکل مخبوط ہو گیا تھا اور بار بار ‘‘قیود نا قیودنا’’ کہتا تھا ۔ اِس واقعہ کے بعد حجاج بن یوسف جب بھی سوتا تھا تو حضرت سعید بن جبیر کو خواب میں دیکھتا تھا ۔ وہ اُس کا دامن پکڑ کر کہتے تھے :‘‘ اے اﷲ کے دشمن! تُو نے مجھے کیوں قتل کیا ہے؟’’ اور حجاج بن یوسف خوف زدہ ہو کر جاگ اُٹھتا تھا اور کہتا تھا :‘‘ میرے اور سعید کے درمیان کیا معاملہ ہے؟’’ 

🌹94 ھجری کا اختتام🌹

🌻94 ھجری کے اختتام ہو اور اِس سال کئی گورنر تبدیل ہوئے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں:اِس سال کے اختتام پر مکۂ مکرمہ کا گورنر خالد بن عبداﷲ قسری تھا ۔ مدینۂ منورہ کا گورنر عثمان بن حیان تھا ۔ کوفہ کا گورنر زیاد بن جریر تھا ۔ ابوبکر بن موسیٰ کوفہ کے قاضی تھے ۔ بصرہ کا گورنر جراح بن عبداﷲ تھا ۔بصرہ کے قاضی عبدارحمن بن اذینہ تھے ۔ قتیبہ بن مسلم خراسان کا گورنر تھا ۔ ملک مصر کا گورنر قرۃ بن شریک تھا ۔ حجاج بن یوسف ملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر تھا اور اِن تمام صوبوں میں وہی گورنر مقرر کرتا تھا ۔ اِس سال کس نے مسلمانوں کو حج کرایا ؟ اِس بارے میں ارباب سیر کا اختلاف ہے ۔امام اسحاق بن عیسیٰ کے مطابق مسلمہ بن عبدالملک نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔ امام واقدی کے مطابق اِس سال عبدالعزیز بن ولید نے مسلمانوں کو حج کرایا اور یہ بھی بیان کیا کہ مسلمہ بن عبدالملک نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔

🌹94 ھجری میں جن کا انتقال ہوا🌹

🌻94 ھجری میں کئی بڑے بڑے علماء و فقہا کا انتقال ہوا۔ یہ سال عالم اسلام کے لئے بہت ساری تبدیلیوں والا ثابت ہوا ۔ اﷲ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مسلمان مجاہدین چاروں طرف اسلام کا بول بالا کر رہے تھے اور نئے نئے علاقوں میں اسلام کا پیغام پہنچا رہے تھے ۔ قتیبہ بن مسلم روسی ترکستان میں اسلام پہنچا رہا تھا ۔ محمد بن قسم ہندوستان میں اسلام پہنچا رہا تھا اور موسیٰ بن نصیر اور طارق بن زیاد شمالی افریقہ میں اسلام کو پہنچانے کے بعد اسپین میں اسلام کا پیغام پہنچا رہے تھے۔ مملکت اسلامیہ میں اِس سال گورنروں کی بڑے پیمانے پر تبدیلی ہوئی اور عالم اسلام کے بڑے بڑے رہنماؤں کا اِس سال انتقال ہوا۔

🌹حضرت سعید بن جبیر کی شہادت🌹

🌻اِس سال جلیل القدر تابعی حضرت سعید بن جبیر شہید ہوئے اِس کی تفصیل ہم اوپر لکھ چکے ہیں ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت سعید بن جبیر اسدی کوفی اور مکی ہیں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ کے شاگرد ہیں ۔ آپ نہایت ہی نیک اور صالح تھے اور تفسیر وفقیہ اور مختلف علوم کے امام تھے۔ آپ نے کثیر صحابۂ کرام کو دیکھا ہے اور اُن سے روایات بھی بیان کی ہیں ۔ آپ سے بہت سے تابعین نے احادیث روایت کی ہیں ۔آپ کی عُمر کے بارے میں قدرے اختلاف ہے ۔بعض کے مطابق اُنچاس (49) سال تھی اور بعض کے مطابق ستاون (57) سال تھی ۔

🌹حضرت سعید بن مسیب کا انتقال🌹

🌻اِس سال جلیل القدر تابعی حضرت سعید بن مسیب کا انتقال ہوا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت سعید بن مسیب بن حزن مخزومی فرشی سید التابعین میں سے ہیں ۔ خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی شہادت سے دو چار سال پہلے پیدا ہوئے ۔ امام حاکم عبداﷲ بیان کرتے ہیں انہوں نے ‘‘عشرۂ مبشرہ’’ کا زمانہ پایا ہے ۔ انہوں نے حضرت عثمان غنی ، حضرت علی المرتضیٰ ، حضرت سعید اور حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہم سے حدیث سماعت کی ہے ۔آپ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ کے داماد ہیں ۔حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں :‘‘ حضرت سعید بن مسیب بڑے متقی اور مطیع الٰہی ہیں۔امام زہری بیان کرتے ہیں : ‘‘میں اُن کے ساتھ سات سال تک رہا ہوں اور اُن سے زیادہ علم میں نے کسی کے پاس نہیں دیکھا ۔’’ امام مکحول بیان کرتے ہیں : ‘‘ میں نے طلب علم کے لئے دنیا بھر کا چکر لگایا

لیکن سعید بن مسیب سے زیادہ کس کو عالم نہیں پایا۔’’ امام ربیع نے امام شافعی کے حوالہ سے کہا ہے کہ حضرت سعید بن مسیب سے منقول ‘‘مرسل’’ کا درجہ بھی ‘‘حسن’’ کے برابر ہے اور امام احمد بن حنبل کے نزدیک ‘‘صحیح’’ کے برابر ہے ۔ امام واقدی نے کہا :‘‘ حضرت سعید بن مسیب ‘‘فقہا کے انتقال کے سال’’ انتقال کر گئے ۔’’ انتقال کے وقت آپ کی عُمر پچھتر (75) سال تھی ۔

🌹لحضرت طلق بن حبیب فزی کا انتقال🌹

🌻اِس سال 94 ھجری میں حضرت طلق بن حبیب کا انتقال ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت طلق بن حبیب فزی جلیل القدر تابعی ہیں ۔آپ نے حضرت انس بن مالک ، حضرت جابر بن عبداﷲ ، حضرت عبداﷲ بن عباس اور حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے روایات بیان کی ہیں۔ اُن سے حمید الطویل ، الاعمش اور طاؤس نے جو اُن کے ہم عصر تھے روایات بیان کی ہیں۔ آپ کہا کرتے تھے:‘‘ اﷲ کے حقوق اتنے عظیم اور اعلیٰ ہیں کہ بندے اِن کو ادا ہی نہیں کر سکتے اور اﷲ کی نعمتیں حد ِ شمار سے باہر ہیں اور اُن کا شکر بھی انسان ادا نہیں کر سکتا ہے ۔ اِس لئے بندوں پر فرض کے کہ صبح ہو تو توبہ کریں اور شام ہو تو توبہ کریں ۔’’ ۹۴ ؁ ھجری میں جب آپ کو حضرت سعید بن مسیب کے ساتھ گرفتار کر کے حجاج بن یوسف کے پاس بیڑیاں پہنا کر مکۂ مکرمہ سے ملک عراق بھیجا جا رہا تھا تو راستے میں آپ کا انتقال ہو گیا ۔

🌹حضرت عُروہ بن زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ کا انتقال🌹

🌻اِس سال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ‘‘حواری’’ اور پھوپھی زاد بھائی حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ کے بیٹے حضرت عُروہ بن زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عُروہ بن زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ جلیل القدر تابعی ہیں۔ انہوں نے اپنے والد حضرت زبیر بن عوام ، والدہ سیدہ اسماء بنت ابوبکر صدیق ، خالہ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ، اُم المومنین سیدہ اُم سلمہ رضی اﷲ عنہم سے روایات بیان کی ہیں۔ تابعین کی کثیر جماعت نے اِن سے بہت سی احادیث بیان کی ہیں۔ امام محمد بن سعدکا بیان ہے کہ حضرت عُروہ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کثیر الحدیث تھے اور ایسے عالم تھے جن کے متعلق اطمینان کیا جا سکتا ہے ۔امام واقدی لکھتے ہیں : حضرت عُروہ بن زبیر رضی اﷲ عنہ فقیہ ، عالم ، حافظ ، لائق حجت اور سیرت کے عالم تھے اور پہلے شخص ہیں جس نے مغازی تصنیف کی ۔ 

🌹حضرت علی (اوسط) بن حسین رضی اﷲ عنہ کا انتقال🌹

🌻اِس سال 94 حضرت علی اوسط بن حسین رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت علی بن حسین بن علی بن ابی طالب قریشی ہاشمی رضی اﷲ عنہ ‘‘امام زین العابدین’’ کے نام سے مشہور ہیں ۔ حضرت علی اوسط بن حسین رضی اﷲ عنہ اپنے والد ِ محترم کے ساتھ ‘‘کربلا’’ میں تھے اور اتنے زیادہ بیمار تھے کہ کھڑے نہیں ہو سکتے تھے جس کی وجہ سے جنگ میں حصہ نہیں لے سکے اور زندہ رہے ۔ عبیداﷲ بن زیاد نے آپ رضی اﷲ عنہ کو قتل کرنا چاہا لیکن اﷲ کے حکم سے نہیں کر سکا۔ حضرت امام زین العابدین یعنی علی اوسط بن حسین رضی اﷲ عنہ بہت زیادہ متقی ، عبادت گذار اور اﷲ کا خوف رکھنے والے اﷲ کے بندے تھے ۔ جب چلتے تو زمین پر عاجز بندے کی طرح چلتے تھے اُن کی چال میں فخر و غرور کا شائیبہ بھی نہیں تھا ۔ ان کی کنیت ‘‘ابو الحسن’’ تھی ،بعض کے مطابق ‘‘ابو محمد’’ تھی اور بعض کے مطابق ‘‘ابو عبداﷲ’’ تھی ۔ امام طاؤس کہتے ہیں : ‘‘ میں نے دیکھا کہ حضرت علی اوسط بن حسین حجر اسود کے پاس سجدے میں پڑے ہوئے کہہ رہے ہیں:‘‘ اے اﷲ! تیرا بندہ تیرے گھر میں پڑا ہوا ہے ،تیرا بندہ سائل بنا ہوا ہے ، تیرے گھر کے احاطہ میں تجھ سے سوال کر رہا ہے ۔ تیرا فقیر تیرے گھر کی چوکھٹ پر پڑا ہوا تجھ سے بھیک مانگتا ہے ۔ ’’حضرت علی بن حسین رضی اﷲ عنہ رات کو (چھپا کر) صدقات خیرات دیا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے: ‘‘ رات کا صدقہ و خیرات اﷲ کے غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے ،قلب (دل) کو منور کرتا ہے، قیامت کے دن بندہ کی تاریکی کو دور کرتا ہے اور اﷲ تعالیٰ اِس کے عوض بندہ کو دو مرتبہ عنایت فرماتا ہے ۔’’ جب انتقال ہوا تو لوگوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کی کمر اور کندھوں پر اُس بوجھ کو لاد کر لے جانے کے نشانات دیکھے جو وہ غریبوں اور ناداروں اور مسکینوں کے گھروں تک رات کی تاریکی میں پہنچاتے تھے ۔ امام عبدالرزاق کہتے ہیں : ایک کنیز اُن کے ہاتھ دھلا رہی تھی کہ لوٹا اُس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا ۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے نظر اُٹھا کر اُس کی طرف دیکھا تو کنیز نے قرآن پاک کی آیت پڑھی : ترجمہ‘‘ اور غصہ کو ضبط کرنے والے ’’ اِس پر آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا: ‘‘ میں نے اپنا غصہ ضبط کر لیا ۔ پھر کنیز نے دوسری آیت پڑھی :ترجمہ‘‘ اور لوگوں کو معاف کرنے والے’’ اِس پر آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا: ‘‘ میں نے معاف کر دیا۔’’ اُس کنیز نے آخری آیت پڑھی :ترجمہ ‘‘ اور اﷲ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے’’ اِس پر حضرت علی بن حسین رضی اﷲ عنہ نے فرمایا: ‘‘ جا تجھے اﷲ کے لئے آزاد کیا۔’’امام ابی الدنیا روایت کرتے ہیں: ایک غلام کے ہاتھ سے گوشت بھوننے کی کڑھائی حضرت علی اوسط بن حسین رضی اﷲ عنہ کے بیٹے کے سر پر گر پڑی ،جس سے وہ مر گیا ۔ آپ رضی اﷲ عنہ بھاگے ہوئے غلام کے پاس آئے اور اس سے صرف اتنا فرمایا: ‘‘ تم ناقابل اعتماد ہو ، جاؤ آج سے تم آزاد ہو ۔’’ اور بچہ کی تجہیز و تکفین میں لگ گئے ۔اہل تاریخ نے حضرت علی بن حسین رضی اﷲ عنہ کے سنہ انتقال میں اگرچہ اختلاف ہے لیکن صحیح اور مشہور یہی ہے کہ اُن کا انتقال 94 ھجری میں ہوا اور جنت البقیع میں دفن کیا گیا ۔

🌹حضرت ابوبکر بن عبدالرحمن کا انتقال🌹

🌻اِس سال فقیہ تابعی حضرت ابوبکر بن عبدالرحمن کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت ابوبکر بن عبدالرحمن بن ہشام بن مغیرہ مدینۂ منورہ کے ساتھ بڑے فقہاء میں سے تھے ۔آپ جلیل القدر تابعی ہیں اور حضرت ابوہریرہ ، سیدہ اسما بنت ابوبکر صدیق ، اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ اور اُم المومنین سیدہ اُم سلمہ رضی اﷲ عنہا سے احادیث روایت کی ہیں۔ اُن سے بہت سے تابعی جن میں امام زہری اور امام مجاہد قابل ذکر ہیں نے روایات بیان کی ہیں۔ یہ خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خلافت کے دور میں پیدا ہوئے اور لوگ انہیں ‘‘قریش کا راہب’’ بھی کہتے تھے ۔ یہ اِس لئے کہ آپ کثرت سے نمازیں پڑھتے تھے ، نابینا تھے اور ‘‘صائم الدھر’’ تھے ۔ ثقہ ، امین ، فقیہ اور صحیح الروایت بھی تھے ۔صحیح یہ ہے کہ ان کا انتقال ۹۴ ؁ ھجری میں ہوا ، کچھ مؤرخین اِن کی سنہ وفات کی تاریخ آگے کی بتاتے ہیں۔واﷲ اعلم۔ 

🌹چند اور فقیہ حضرات کا انتقال🌹

🌻اِس سال 94 ھجری میں چند اور فقیہ حضرات کا انتقال ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال فضل بن فریاد قرشی کا انتقال ہوا جو بڑے عابد و زاہد تھے ۔ ان کے بڑے فضائل و مناقب ہیں ۔اِن کا قول ہے :‘‘ اے شخص! تجھے دنیا ولے بہکا کر تیرے نفس سے تجھے بیگانہ نہ بنا دیں کیونکہ اِس معاملہ کا تعلق خالصتاً تیری ذات سے ہے ،اس لئے تو اپنی صبح کسی کے کہنے سننے سے ضائع نہ کرے جو کچھ تو کرے گا ، وہ تیرے ہی لئے محفوظ رہے گا ۔’’ اِس سال ابو سلمہ بن عوف زہری کا انتقال ہوا ۔ آپ مدینۂ منورہ کے فقہا میں سے تھے اور امام اور عالم تھے ۔انہوں نے بھی بہت سی روایات صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم سے نقل کی ہیں۔ یہ وسیع العلم تھے اور انتقال مدینۂ منورہ میں ہوا۔ اِس سال عبدالرحمن بن عائذازدی کا انتقال ہوا ۔ آپ بھی عالم تھے اور کثیر الروایات تھے ۔ بہت سی کتابیں ان کی یادگار ہیں ۔صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم سے انہوں روایات بیان کی ہیں ۔ عبدالرحمن بن اشعث کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا تھا ،اِس میں حجاج بن یوسف نے آپ کو قید کر دیا تھا مگر پھر چھوڑ دیا ۔ اِس سال عبدالرحمن بن معاویہ کو انتقال ہوا ۔ یہ بڑے عالم و فاضل تھے اور اِن سے تابعین نے روایات بیان کی ہیں ۔ حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ کی مدینۂ منورہ میں گورنری کے زمانے میں آپ قاضی اور پولیس کے سربراہ تھے ۔ 

🌹95 ھجری : لشکروں کی واپسی🌹

🌻95 ھجری کا سال جب شروع ہوا تو چاروں سمت مسلمان مجاہدین فتوحات حاصل کر رہے تھے اور کئی مہینوں تک فتوحات حاصل کرتے اور آگے بڑھتے رہے لیکن اچانک حجاج بن یوسف کا انتقال ہو گیا اور مسلمان مجاہدین کی واپسی شروع ہوگئی ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 95 ھجری میں عباس بن ولید نے بلاد روم میں جنگ کا آغاز کیا اور بہت سے قلعے فتح کر لئے ۔ مسلمہ بن عبدالملک نے بلاد روم کا ایک شہر فتح کیا ۔ اِس سال میں محمد بن قاسم نے ملتان شہر فتح کیا جہاں سے اُس کو بہت سا مال اور دولت حاصل ہوئی ۔ اِس سال موسیٰ بن نصیر اندلس سے واپس آیا اور اندلس سے وہ بہت سارا مال و دولت اور تیس ہزار غلام بھی لیکر آیا ۔ اِس سال قتیبہ بن مسلم نے بلاد شناش فتح کر کے وہاں کے بہت سے شہروں اور علاقوں پر قبضہ کر لیا ۔ جب یہ سب کچھ ہورہا تھا تو حجاج بن یوسف کا انتقال ہوگیا اور اُس کی موت کی خبر ہر طرف پھیل گئی ۔ جس نے سب چیزوں پر پانی پھیر دیا اور مسلمان مجاہدین اپنے شہروں کی طرف واپس ہونے لگے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِ س سال موسیٰ بن نصیر اندلس سے قیروان واپس آیا اور قیروان سے ایک میل کے فاصلے پر ‘‘قصر المامین’’ میں عید الضحیٰ ’’ کی قربانی کی۔ حجاج بن یوسف نے ملک عراق سے ایک فوج قتیبہ بن مسلم کی امداد کے لئے بھیجی تھی وہ فوج ۹۵ ؁ ھجری میں اُس کے پاس پہنچی ۔ اُس نے اُس فوج کو لیکر جہاد کیا اور جب وہ شاش یا کشماہن میں تھا تو اُسے حجاج بن یوسف کے مرنے کی خبر ملی ۔ اِس خبر سے اُسے بہت صدمہ ہوا اور وہ ‘‘مرو’’ کی طرف واپس پلٹا ۔ واپسی میں تمام فوجوں کو منتشر کرتاآ ّیا ۔ کچھ فوج بخارا میں چھوڑی ، کچھ فوج کو کش میں چھوڑا اور کچھ فوج کو نسف میں بھیج دیا اور پھر ‘‘مرو’’ چلا آیا ۔ 

🌹حجاج بن یوسف کا انتقال🌹

🌻اِس سال 95 ھجری میں حجاج بن یوسف کا انتقال ہوگیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال حجاج بن یوسف کا ماہ شوال المکرم میں انتقال ہو گیا ۔اُس کی عُمر تریپن ( 53) یا چون (54) سال تھی ۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال ولید بن عبدالملک نے قتیبہ بن مسلم کو لکھا کہ حالات کو جوں کا توں رکھا جائے اور دشمنوں سے جنگ کے بجائے صلح کی بنیاد ڈالی جائے ۔ ولید بن عبدالملک نے قتیبہ بن مسلم کے جنگی کارناموں اور فتوحات اور کامیابیوں کی تعریف کے ساتھ اُس کو انعام سے نوازنے کی خوشخبری بھی سنائی ۔حجاج بن یوسف نے نماز کے علاوہ کوفہ اور بصرہ کا گورنر اپنے بیٹے کو بنا دیا تھا ۔ ولید بن عبدالملک نے اس کی جگہ یزید بن کثیر کو یہ ذمہ داری سونپی اور خراج کی وصولی کاانچارج دونوں صوبوں کے لئے یزید بن مسلم کو بنا دیا ۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ انتظام حجاج بن یوسف خود کر گیا تھا جس کو ولید بن عبدالملک نے برقرار رکھا اور باقی شہروں میں بھی حجاج بن یوسف کے قائم کئے ہوئے گورنروں کو برقرار رکھا گیا ۔ 

🌹95 ھجری کا اختتام🌹

🌻95 ھجری کا اختتام ہوا ۔ اِس سال مکۂ مکرمہ کا گورنر خالد بن عبداﷲ تھا ۔ مدینۂ منورہ کا گورنر عثمان بن حیان تھا ۔ ابوبکر بن موسیٰ کوفہ کے قاضی تھے ۔ بصرہ کا گورنر جراح بن عبداﷲ تھا ۔بصرہ کے قاضی عبدالرحمن بن اذینہ تھے ۔ قتیبہ بن مسلم خراسان کا گورنر تھا ۔ ملک مصر کا گورنر قرۃ بن شریک تھا ۔خراسان کا گورنر قتیبہ بن مسلم تھا ۔ اِس سال عباس بن ولید نے شہر قنسرین فتح کیا اور وضاحی اور اُن کے ہمراہ ایک ہزار آدمی رومیوں کے علاقہ میں ہوئے ۔اِس سال بشر بن ولید نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔

🌹95 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان🌹

🌻اِس سال 95 ھجری میں جن کا انتقال ہوا اُن میں سے چند کے بارے میں پیش ہے ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال حسن بن حنفیہ کا انتقال ہوا ۔ اِن کی کنیت ‘‘ابو محمد’’ ہے اور بھائیوں میں سب سے بڑے تھے ۔فقیہ ،عالم تھے اور فقہی اختلافات سے باخبر تھے ۔ ہر چیز کا روشن پہلو دیکھتے تھے ۔ یہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے مسئلہ ارجاء پر گفتگو کی اور اُس کے متعلق کتابچہ لکھا اور اس پر نادم ہوئے ۔ یہ حضرات عثمان غنی ،علی المرتضیٰ ، طلحہ بن عبید اﷲ اور زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہم کے معاملہ میں توقف کے قائل تھے ۔ نہ اُن کے دوست تھے اور نہ اُن کی برائی کرتے تھے ۔ جب اِس کی اطلاع اُن کے والد محمد بن حنفیہ کو ہوئی تو انہوں نے اُن کو مارا اور نہایت برا بھلا کہا اور کہا: ‘‘ افسوس ہے کہ تُو اپنے باپ حضرت علی المرتضیٰ کا بھی دوست نہیں ہے ۔ ابو عبید کے بقول ان کا انتقال 95ھجری میں ہوا اور خلیفہ نے کہا کہ عُمر بن عبدالعزیز کے زمانہ میں ہوا۔ اِس سال حمید بن عبدالرحمن بن عوف کا انتقال ہوا ۔ان کی والدہ اُم کلثوم بنت عتبہ بن ابی معیط تھیں اور حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی خالہ ہیں ۔ حمید بن عبدالرحمن فقیہ اور جید عالم تھے ،ان سے بہت روایتیں منسوب ہیں ۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

جمعرات، 27 جون، 2024

ا49 سلطنت امیہ Saltanat e Umayya 49



 سلطنت امیہ49

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 49


ا96 ھجری : ولید بن عبدالملک کا انتقال، ولید بن عبدالملک کے دور میں عظیم الشان فتوحات، موت کی خبر پر حجاج بن یوسف کا تاثر، حجاج بن یوسف کے متعلق اندازہ، حجاج بن یوسف سے نفرت، بیٹے کی ‘‘ولی عہدی’’ کی کوشش، قتیبہ بن مسلم کا ملک چین پرحملہ، ملک چین کے بادشاہ کی درخواست پر مسلم وفد کی روانگی، ملک چین کے بادشاہ کے دربار میں مسلمان، ملک چین کے بادشاہ کی صلح کی پیشکش، قتیبہ بن مسلم کی قسم پوری ہوئی، 


ا96 ھجری : ولید بن عبدالملک کا انتقال


اِس سال 96 ولید بن عبدالملک کا انتقال ہوا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِ س سال موسم سرما کی مہم لیکر بشر بن ولید رومیوں سے جہاد کرنے گیا اور اِسی اثناء میں ولید بن عبدالملک کا انتقال ہوگیا اور وہ واپس آگیا ۔تمام اہل سیر کا اِس بات پر اتفاق ہے کہ 96 ھجری میں ولید کا انتقال ہوا ۔ اُس کی مدت ِ حکومت بہت کم ہے ۔ ایک روایت کے مطابق ولید بن عبدالملک نے ایک ماہ کم دس سال حکومت کی ۔دوسری روایت کے مطابق نو سال سات مہینے حکومت کی ۔ہشام بن محمد کے مطابق آٹھ سال چھ مہینے حکومت کی ۔ امام واقدی کے مطابق نو سال آٹھ مہینے حکومت کی ۔ولید بن عبد الملک کی عُمر کے بارے میں اہل سیر کا اختلاف ہے ۔ایک روایت کے مطابق ولید بن عبدالملک کی عُمر چھیالیس سال تھی ۔ ہشام بن محمد کے مطابق پینتالیس سال تھی ۔علی بن محمد کے مطابق بیالیس سال تھی ۔ اُس کا انتقال دمشق میں ہوا اور ‘‘باب الصغیر’’ کے باہر دفن کیا گیا ۔یہ بھی کہا گیا کہ مقبرہ فرادیس میں دفن کیا گیا ۔ حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔


ولید بن عبدالملک کے دور میں عظیم الشان فتوحات


ولید بن عبدالملک کے دور ِ حکومت میں اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو عظیم الشان فتوحات دلائی ہیں۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اہل شام ولید بن عبدالملک کو اپنے تمام حکمرانوں میں سے بہترین حکمراں سمجھتے تھے ۔ اُس نے بہت سی مسجدیں تعمیر کرائیں ۔ جامع مسجد دمشق اور مسجد نبوی کی توسیع کرائی اور مینار بنوائے ۔ وہ بڑا سخی اور دینے والا تھا اُس نے کوڑھی لوگوں کے روزینے مقرر کر دیئے اور انہیں لوگوں کے سامنے دست سوال پھیلانے کی ممانعت کر دی اور اُن سب کی خدمت کے لئے ایک سرکاری خادم مقرر کر دیا جو اُن کی خدمت گذاری کرتا تھا ۔ ولید بن عبدالملک کے دور ِ حکومت میں مسلمانوں کو عظیم الشان فتوحات حاصل ہوئیں ، مغرب میں موسیٰ بن نصیر اور طارق بن زیاد نے اُندلس(اسپین)فتح کیا ۔ شمال مشرق میں قتیبہ بن مسلم نے کاشغر فتح کیا ۔ محمد بن قسم نے ہندوستان فتح کیا۔ ولید بن عبدالملک کا قاعدہ تھا کہ اکثر بیچنے والے کے پاس جاتا اور تھوڑی سی ترکاری اُٹھا کر اُس کی قیمت دریافت کرتا ۔ بیچنے والا جب قیمت بتاتا تو وہ کہتا اِس کی قیمت میں اضافہ کرو۔ 


موت کی خبر پر حجاج بن یوسف کا تاثر


ولید بن عبدالملک کی موت کی خبر سے حجاج بن یوسف پر بہت برا اثر پڑا تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حالت مرض میں ایک دن ولید بن عبدالملک پر ایسی بے ہوشی طاری ہوئی کہ تمام دن مردہ کی طرح پڑا رہا ۔ لوگوں نے رونا دھونا شروع کر دیا اور اُس کی موت کی خبر پہنچانے کے لئے قاصد بھی روانہ کر دیئے گئے ۔ جب حجاج بن یوسف کے پاس قاصد یہ خبر لیکر آیا تو اُس نے انا ﷲ وانا الیہ راجعون پڑھا ۔ ایک رسی منگوا کر اُس کے ہاتھ بندھوا دیئے اور اس کا ایک سرا ستون میں باندھ دیا ۔پھر اﷲ تعالیٰ سے دعا مانگی : اے اﷲ تعالیٰ! تُو مجھ پر ایسے شخص کو مسلط نہ کرنا جو رحیم و کریم نہ ہو ،میں عرصۂ دراز سے دعا مانگ رہا ہوں کہ اس کے مرنے سے پہلے مجھے موت دیدے ۔’’ انہیں جملوں کے ساتھ حجاج بن یوسف نے خصوع و خشوع سے دعا مانگنا شروع کر دی ۔ ابھی دعا مانگ ہی رہا تھا کہ دوسرا قاصد ولید کے مرض کے افاقہ کی

 خوشخبری لیکر آیا ۔


حجاج بن یوسف کے متعلق اندازہ


حجاج بن یوسف کو ولید بن عبدالملک کے تندرست ہونے کی سب سے زیادہ خوشی ہوئی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: ولید بن عبدالملک کی طبیعت جب زرا سنبھلی تو اُس نے کہا: ‘‘ میری صحت کی سب سے زیادہ خوشی حجاج بن یوسف کو ہوگی ۔’’ اِس پر حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے کہا: ‘‘ تمہاری صحت ہمارے لئے اﷲ کی بہترین نعمت ہے اور مجھے یقین ہے کہ تمہارے پاس حجاج بن یوسف کا خط آئے گا جس میں لکھا ہوگا:‘‘ مجھے آپ کی صحت کا علم ہوا تو میں نے سجدۂ شکر ادا کیا اور جس قدر غلام اور لونڈی میرے پاس تھے وہ سب آزاد کر دیئے گئے اور میں یہ ہندوستان کے بنے ہوئے مربّے کے شیشے کے مرتبان آپ کی خدمت میں بھیج رہا ہوں۔’’ اِس بات کو کہے ابھی کچھ ہی دن گذرے تھے کہ اِس مضمون کا خط حجاج بن یوسف کی طرف سے آیا ۔


حجاج بن یوسف سے نفرت


ولید بن عبدالملک اپنے دور ِ حکومت کے آخری دنوں میں حجاج بن یوسف کو ناپسند کرنے لگا تھا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : آخری زمانے میں ولید بن عبدالملک کو حجاج بن یوسف کا وجود کھٹکنے لگا تھا ۔ اِس کا ثبوت اِس واقعہ سے ملتا ہے کہ ولیدبن عبدالملک کا ایک خدمت گار بیان کرتا ہے کہ میں ایک روز صبح کھانے کے لئے ولید بن عبدالملک کا منہ دھلا رہا تھا ۔ اُس نے ہاتھ بڑھایا اور میں نے پانی ڈالنا شروع کیا وہ اُس وقت کسی اور ہی خیال میں گُم تھا ۔ اب پانی بہتا جا رہا تھا اور وہ منع نہیں کر رہا تھا اور مجھے اتنی جرأت کہاں کہ میں خود بولتا ۔ پھر ولید بن عبدالملک نے خود میرے منہ پر پانی کے چھینٹے مار کر کہا: ‘‘ کیا تُو اونگھ رہا ہے ؟’’ اور سر اٹھا کر مجھ سے کہا: ‘‘ کیا تُو جانتا ہے کل رات کیا خبر آئی ہےَ’’ میں نے کہا: ‘‘ مجھے نہیں معلوم ۔’’ ولید بن عبدالملک نے کہا:‘‘ بے وقوف! تجھے نہیں معلوم ، حجاج بن یوسف کا انتقال ہو گیا ہے۔’’ میں نے انا ﷲ وانا الیہ راجعون کہا۔ ولید بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ چپ رہ! اِس خبر سے تیرے آقا کو خوشی ہوئی ہے ۔ یہ اس کے ہاتھ میں ایک سیب کی مانند تھا جسے وہ سونگھتا تھا۔’’ 


بیٹے کی ‘‘ولی عہدی’’ کی کوشش


عبدالملک بن مروان نے اپنے دو بیٹوں ولید بن عبدالملک اور سلیمان بن عبدالملک کو اپنا ‘‘ولی عہد ’’ بنایا تھا ۔ اِس لئے ولید بن عبدالملک کے بعد اُس کے چھوٹے بھائی سیلمان بن عبدالملک کے حکمراں بننے کی باری تھی ۔ اِس کے باوجود ولید بن عبدالملک نے اپنے بیٹے عبدالعزیز بن ولید کو ‘‘ولی عہد’’ بنانے کی کوشش کی ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال ۹۶ ؁ ھجری میں ولید بن عبدالملک نے ارادہ کیا کہ اپنے چھوٹے بھائی سلیمان بن عبدالملک کے پاس جائے ۔ اِس سفر کی غرض یہ تھی کہ وہ چاہتا تھا کہ اُس کے بعد اُس کا بیٹا عبدالعزیز بن ولید ‘‘سلطنت ِ اُمیہ’’ کا حکمراں ہو ۔ ولید بن عبدالملک نے اِس سفر کا ارادہ اپنے مرض الموت سے پہلے کیا تھا ۔ ولید بن عبدالملک اور سلیمان بن عبد الملک دونوں عبدالملک بن مروان کے ‘‘ولی عہد’’ تھے ۔ جب ولید بن عبدالملک حکمراں بنا تو اُس نے ارادہ کیا کہ سیلمان بن عبدالملک کو حکومت کے حق سے محروم کر دے اور اُس کے بدلے اپنے بیٹے عبدالعزیز بن ولید کو اپنا ‘‘ولی عہد’’ بنائے ۔ مگر سیلمان بن عبدالملک نے اِس تجویز کو مسترد کر دیا ۔ اِس کے بعد ولید بن عبدالملک نے یہ کوشش کی کہ سلیمان بن عبدالملک کے بعد عبدالعزیز بن ولید کو حکمراں بنا دیا جائے مگر سلیمان بن عبدالملک نے اِس سے بھی انکار کر دیا ۔جب اِس طرح ولید بن عبدالملک کو اپنے مقصد میں ناکامی ہوئی تو اُس نے اپنے گورنروں کو لکھا کہ لوگوں سے عبدالعزیز بن ولید کے لئے بیعت لولیکن حجاج بن یوسف اور قتیبہ بن مسلم کے علاوہ کسی نے پسند نہیں کیا ۔ عباد بن زیاد نے ولید بن عبدالملک سے کہا:‘‘ عام لوگ آپ کی اِس تجویز کو کبھی نہیں مانیں گے اور اگر اِس وقت وہ مان بھی جائیں تو بھی آپ کو اُن کے وعدہ پر اعتبار نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ بعد میں یہ آپ کے بیٹے کے خلاف ضرور ہو جائیں گے بہتر یہ ہے کہ سلیمان بن عبدالملک کو راضی کریں کہ وہ اپنے حق سے دستبردار ہو جائیں۔’’ولید بن عبدالملک اپنے بھائی کے جانے کے سفر کی تیاری کر رہا تھا کہ اُس کی طبیعت خراب ہوئی اور انتقال ہو گیا۔ 


قتیبہ بن مسلم کا ملک چین پرحملہ


ولید بن عبدالملک کے انتقال سے کچھ دنوں پہلے قتیبہ بن مسلم سے چین پر حملہ کیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال قتیبہ بن مسلم نے ملک چین کا ایک شہر کاشغر فتح کیا ۔ اُس کے پاس جتنی فوج تھی وہ سب لیکر اور اپنے اہل و عیال کو لیکر دریائے جیجون کو عبور کیا ۔ اُس کا ارادہ یہ تھا کہ اپنی عورتوں اور بچوں کو ‘‘سمر قند’’ میں حفاظت سے ٹھہرا دے گا ۔ جب دریائے جیجون اُس نے پار کیا تو اپنے ایک آزاد کردہ غلام کو جس کا نام خوارزی تھا اُس گھاٹ پر جہاں سے دریا عبور کیا جاتا تھا مقرر کر دیا اور حکم دیا کہ کسی شخص کو بغیر پروانۂ راہداری کے یہاں سے گذرنے نہیں دینا ۔ قتیبہ بن مسلم نے فرغانہ کی راہ لی اور ‘‘درۂ اعصام’’ کی طرف کچھ ایسے لوگوں کو بھیجا جو ‘‘کاشغر’’ جانے کا راستہ ٹھیک کردیں ۔ (یہ شہر ‘‘کاشغر’’ چین کے تمام شہروں میں مسلمانوں کی حکومت کے قریب ترین واقع تھا) قتیبہ بن مسلم ابھی فرغانہ ہی میں تھا کہ اُسے ولید کے انتقال کی خبر ملی ۔


ملک چین کے بادشاہ کی درخواست پر مسلم وفد کی روانگی


قتیبہ بن مسلم اپنے لشکر کے ساتھ ملک چین کی طرف بڑھ رہا تھا کہ ملک چین کے بادشاہ نے اُس سے درخواست کی کہ بات چیت کے لئے اپنا ایک وفد بھیجے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : قتیبہ بن مسلم بڑھتے بڑھتے ملک چین کی حدود میں داخل ہوگیا ۔ اِس پر ملک چین کے بادشاہ نے قتیبہ بن مسلم کو لکھا :‘‘ اپنے معزز لوگوں کو میرے پاس بھیج دیں تاکہ میں اُن سے آپ لوگوں کے حالات دریافت کروں اور آپ لوگوں کے مذہب کے متعلق معلومات حاصل کروں۔ ’’ قتیبہ بن مسلم نے بارہ آدمی منتخب کئے ۔ بعض راویوں کا بیان ہے کہ دس آدمی منتخب کئے۔ یہ لوگ اپنی ظاہری صورت و وجاہت ، ڈیل ڈول ، حسن بیان ، شجاع اور فراست و ذکاوت کے لحاظ سے اپنے اپنے قبیلہ کے بہترین افراد تھے ۔قتیبہ بن مسلم نے خود اُن کا انتخاب کیا اور پھر اُن کی دانائی اور فراست کا امتحان لیا ۔ پھر انہیں بہترین اسلحہ ، عمدہ عمدہ ریشمی شالیں ، سفید باریک ململ کے تھان ، جوتے اور عطر دیئے اور انہیں سواری کے لئے اعلیٰ درجے کے قوی ہیکل گھوڑے دیئے اور دوسرے سواری کے گھوڑے اور بھی دیئے ۔ اِن میں ہبیرہ بن شمرج کلابی بڑا چرب زبان مقرر تھا ۔ قتیبہ بن مسلم نے اُس سے پوچھا :‘‘ ہبیرہ! تم وہاں جا کر کیا کرو گے ؟’’ ہبیرہ بن شمرج نے کہا: ‘‘ آپ سے بہتر اور کون مجھے طریقۂ ملاقات و گفتگو بتا سکتا ہے ۔ جیسا آپ ارشاد فرمائیں وہی میں کہوں گا ۔اور اُسی پر عمل کروں گا ۔’’ قتیبہ بن مسلم نے کہا: ‘‘ اﷲ کی برکت اور اس کی توفیق تمہارے ساتھ ہو ۔ تم جب تک اُن کے علاقہ میں نہ پہنچ جاؤ اپنے عمامے نہیں اُتارنا اور جب ملک چین کے بادشاہ کے سامنے جاؤ تو اُس سے کہہ دینا کہ میں(قتیبہ بن مسلم) نے قسم کھائی ہے کہ جب تک میں تمہارے علاقہ میں قدم نہ رکھ لوں اور تمہارے شہزادوں کا غلام نہ بنا لوں اور خراج نہ وصول کر لوں تب تک واپس نہیں جاؤں گا ۔ ’’


ملک چین کے بادشاہ کے دربار میں مسلمان


مسلمانوں کا وفد ملک چین کے بادشاہ سے ملاقات کرنے گیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : یہ وفد ہبیرہ بن شمرج کی قیادت میں چین آیا ۔ ملک چین کے بادشاہ نے سفراء کے ذریعہ انہیں دعوت دی ۔ان لوگوں نے غسل کیا اور سفید کپڑے پہنے نیچے زرہ پہنی ، عطر لگایا ، تیل لگایا ، جوتے پہنے اوپر سے شالیں اوڑھیں اور ملک چین کے بادشاہ کے دربار میں داخل ہوئے ۔ اُس وقت دربار میں چین کے بڑے بڑے رئیس اور اعیان سلطنت موجود تھے ۔ یہ لوگ بھی جا کر بیٹھے مگر نہ بادشاہ نے کوئی بات چیت کی نہ دوسرے درباریوں نے کوئی گفتگو کی ۔ مسلمان اُٹھ کر چلے آئے ۔ اُن کے چلے آنے کے بعد بادشاہ نے اپنے درباریوں سے پوچھا: ‘‘ تمہاری اِن کے متعلق کیا رائے ہے؟’’ سب نے کہا: ‘‘ یہ تو عورتیں معلوم ہوتی ہیں۔جب ہماری نظر ان پر پڑی اور عطر کی خوشبو ہماری ناکوں میں آئی تو ہم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں بچا جس کے خیالات پریشان نہ ہو گئے ہوں۔’’ دوسرے دن پھر بادشاہ نے مسلمانوں کو دربار میں بلایا۔ آج انہوں نے جامہ دار جبے پہنے ، باریک ریشم کے عمامے باندھے ،اوپر سے شالیں اوڑھیں اور صبح کے وقت دربار میں داخل ہوئے ۔ کچھ دیر بعد بادشاہ نے بغیر کچھ کہے سنے انہیں واپس جانے کا حکم دے دیا اور اُن کے چلے جانے کے بعد اپنے درباریوں سے پھر ان کے متعلق دریافت کیا ۔ سب نے کہا: ‘‘ آج اِن کی وضع و ہیئت مردوں سے ملتی جلتی ہے اور اب وہ مرد معلوم ہوتے ہیں۔ ’’ تیسرے دن پھر ملک چین کے بادشاہ نے مسلمانوں کو بلایا۔مسلمانوں نے تمام ہتھیار زیب تن کئے ۔دوہرے خود پہنے ، تلواریں حمائل کیں ،نیزے ہاتھ میں لئے ،کمانیں کندھوں پر ڈالیں اور گھوڑوں پر سوار ہو کر شاہی دربار کی طرف چلے ۔ جب بادشاہ اور درباریوں کی نظر ان پر پڑی تو انہیں لگا گویا پہاڑ کے پہاڑ چلے آرہے ہیں ۔ جب یہ لوگ بادشاہ کے دربار کے قریب پہنچے تو اپنے نیزے زمین پر گاڑ دیئے اور پھر قدم بڑھاتے ہوئے آگے بڑھے ۔ مگر چونکہ تمام درباریوں کے دلوں پر اُن کی ہیئت و وضع سے خوف طاری ہوگیا تھا ۔ اِس لئے دربار میں آنے سے پہلے ہی واپسی کا حکم دے دیا گیا ۔ 


ملک چین کے بادشاہ کی صلح کی پیشکش


ملک چین کا بادشاہ اور درباری بری طرح مسلمانوں سے خوف زدہ ہو گئے تھے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : مسلمان اپنے گھوڑوں پر سوار ہو کر آپس میں نیزوں کا لڑاتے ہوئے گھوڑوں کو اُڑاتے ہوئے جس سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ ایکدوسرے سے مقابلہ کر رہے ہیں اپنی قیام گاہ واپس لوٹے ۔شام کے وقت ملک چین کے بادشاہ نے مسلمانوں سے کہلا بھیجا کہ جو آپ لوگوں کا سردار ہو اُسے میرے پاس بھیج دیں۔ سب نے ہبیرہ بن شمرج کو بھیج دیا ۔ جب ہبیرہ بن شمرج ملنے گیا تو ملک چین کے بادشاہ نے کہا: ‘‘ آپ نے میرے ملک کے سرداروں کو دیکھ لیا ہے ۔ اب کوئی شخص ایسا نہیں جو میرے مقابلے میں آپ کو بچا سکے ۔ اِس کے علاوہ آپ لوگ میرے علاقہ میں ہیں اور اِس طرح میرے دست قدرت میں ہیں جس طرح ہتھیلی پر انڈا ہو ۔ میں آپ سے ایک بات دریافت کرتا ہوں ۔اگر آپ نے سچ سچ نہیں بیان کیا تو قتل کردوں گا ۔ ’’ ہبیرہ بن شمرج نے کہا: آپ جو پوچھنا چاہتے ہیں پوچھیئے۔ ’’ ملک چین کے بادشاہ نے پوچھا :‘‘ تین دنوں میں آپ لوگوں کے مختلف لباس میں آنے کی کیا وجہ ہے؟’’ ہبیرہ بن شمرج نے کہا: ‘‘ پہلے دن جو لباس پہنا تھا وہ لباس ہم اپنے اہل و عیال کے درمیان پہنتے ہیں اور خوشبو لگاتے ہیں۔دوسرے دن کا لباس وہ تھا جو ہم اپنے اُمراء اور سرداروں کے پاس پہن کر جاتے ہیں۔ تیسرے دن کا لباس دشمن کے مقابلے پر پہن کر جانے کا ہے ۔ ’’چین کے بادشاہ نے کہا: ‘‘ حقیقت میں تم ہی لوگ زمانہ کو خوب برتتے ہو ۔ اچھا اب آپ اپنے اعلیٰ افسر کے پاس واپس جایئے اور کہہ دیجیئے کہ وہ ابھی ہمارے علاقے سے واپس چلے جائیں کیونکہ میں اُس کی فوج کی قلت سے واقف ہوں۔ اگر آپ لوگ واپس نہیں گئے تو میں ایسی فوج مقابلے کے لئے بھیجوں گا جو آپ سب کو تباہ کر ڈالے گی ۔’’ہبیرہ بن شمرج نے کہا: ‘‘ آپ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے پاس فوج کی کمی ہے؟ ایسے شخص کی کیا کمی ہوسکتی ہے جس کی فوج کا اگلا حصہ آپ کے علاقہ میں ہے اور پچھلا حصہ ملک شام میں ہے ۔ آپ نے ہمیں قتل کی دھمکی دی ہے اور یہ ایسی بات نہیں ہے جس سے ہم ڈریں۔ہماری زندگی ایک خاص مدت تک ہے جب وہ پوری ہو جائے گی تو ہم مر جائیں گے اور موت کا سب سے بہترین طریقہ اﷲ کے لئے شہید ہونا ہے ۔’’ چین کے بادشاہ نے کہا: ‘‘ اچھا یہ بتاؤ! تمہارے سپہ سالار کس چیز سے خوش ہو سکتے ہیں؟’’ ہبیرہ بن شمرج نے کہا:‘‘ انہوں نے قسم کھائی ہے کہ جب تک وہ تمہارے علاقے میں قدم نہیں رکھ لیں گے اور تمہارے شہزادوں کو غلام بنا کر مہر نہ لگا دیں گے اور جزیہ وصول نہیں کرلیں گے تب تک یہاں سے نہیں ٹلیں گے ۔’’


قتیبہ بن مسلم کی قسم پوری ہوئی


ملک چین کے بادشاہ کو ہبیرہ بن شمرج نے اپنے سپہ سالار کی قسم کے بارے میں بتایا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: ملک چین کے بادشاہ نے کہا: ‘‘ اچھا ہم اُن کی قسم پوری کر دیتے ہیں۔ اپنے علاقہ کی مٹی بھیج دیتے ہیں تاکہ وہ اپنے قدم اُس پر رکھ لیں ۔کچھ اپنے شہزادے بھیج دیتے ہیں کہ وہ اُن پر مہر غلامی ثبت کر دیں اور انہیں جزیہ میں اِس قدر زر و جواہر دیئے دیتے ہیں کہ وہ خوش ہو جائیں گے ۔’’اِس کے بعد ملک چین کے بادشاہ نے سونے کی ایک لگن مٹی سے بھری ہوئی منگوائی اور بہت سے ریشم کے تھان اور سونا جزیہ میں بھیجا اور چار شہزادے بھیج دیئے ۔ اِس کے علاوہ وفد کے اراکین کوبھی بہت کچھ انعام و خلعت وغیرہ دے کر رخصت کیا ۔ یہ تمام چیزیں لیکر یہ لوگ قتیبہ بن مسلم کے پاس آئے ۔ اُس نے جزیہ قبول کر لیا ۔اُن شہزادوں کو مہر لگا کر واہس بھیج دیا اور چین کی مٹی پر پاؤں رکھ دیا ۔ اِس کے بعد اُس نے ہبیرہ کو ولید بن عبدالملک کی خدمت میں بھیجا مگر راستے میں ایران کے ایک گاؤں میں اُس کا انتقال ہو گیا ۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

Urdu inpage pdf Download

 Urdu inpage pdf Download


 


Urdu inpage Dawnload

جمعہ، 14 جون، 2024

50 سلطنت امیہ Saltanat e Umayya 50



 50 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 50


سلیمان بن عبدالملک کا دورِ حکومت، سلیمان بن عبدالملک کا پہلا خطبہ، قتیبہ بن مسلم کا بیعت سے انکار، محمد بن قاسم کی گرفتاری، 96 ھجری کا اختتام، 97 ھجری : رومیوں سے بری اور بحری جنگ، یزید بن مہلب کا مشورہ، یزید بن مہلب کو تنبیہ، یزید بن مہلب کی ملک عراق سے بیزاری، یزید بن مہلب خراسان کا گورنر، وکیع بن ابی اسود کی گرفتاری، حضرت عُمر بن عبدالعزیز مُشیر ِ خاص

سلیمان بن عبدالملک کا دورِ حکومت

سلیمان بن عبدالملک ‘‘سلطنت ِ اُمیہ’’ کا حکمراں

ولید بن عبدالملک کے انتقال کے بعد اُس کا بھائی سلیمان بن عبدالملک سلطنت اُمیہ کا حکمراں بنا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: سلیمان بن عبدالملک کی بیعت اُسی دن ہوئی جس دن اُس کے بھائی ولید بن عبدالملک کا انتقال ہوا۔ یہ نصف جمادی الآخر 96 ھجری کی سنیچر تھی اور عبدالملک بن مروان کی وصیت کے مطابق یہ کاروائی عمل میں آئی تھی ۔ولید بن عبدالملک اپنی موت سے قبل بھی سلیمان بن عبدالملک سے علیحدہ ہونے کو تیار تھا اور اِس بات پر آمادہ تھا کہ سلیمان بن عبدالملک کے بعد ‘‘ولی عہد’’ اُس کے بیٹے عبدالعزیز بن ولید کو ملے گی اور حجاج بن یوسف نے اِس پر اطاعت و رضامندی کا اظہار بھی کر دیا تھا اور اِسی طرح قتیبہ بن مسلم اور اُس کے پورے لشکر نے بھی تسلیم کر لیا تھا ۔اِسی دوران ولید بن عبدالملک کا انتقال ہوگیااور سلیمان بن عبدالملک کے لئے بیعت مکمل ہو گئی مگر قتیبہ بن مسلم کو اس سے کچھ خوف لگا اور اُس نے بیعت کرنے سے انکار کر دیا ۔ اِس پر سلیمان بن عبدالملک نے اُسے معزول کر دیا اور یزید بن مہلب کو پہلے ملک عراق کا پھر ملک خراسان کا بھی گورنر بنا دیا اور اُس کو آل حجاج بن یوسف کو سزا دینے کا حکم دیا ۔ حجاج بن یوسف نے اِس سے قبل یزید بن مہلب کو خراسان کی گورنری سے معزول کر دیا تھا ۔سلیمان بن عبدالملک نے مدینۂ منورہ کے گورنر عثمان بن حیان کو معزول کر کے ابوبکر بن محمد کو گورنر بنا دیا جو ایک عالم تھا۔


سلیمان بن عبدالملک کا پہلا خطبہ


سلیمان بن عبدالملک جب ‘‘سلطنت ِ اُمیہ’’ کا حکمراں بن گیا تو اُس نے اپنا پہلا خطبہ دیا ۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں : امام ابن ابی الدنیا کا بیان ہے کہ سلیمان بن عبدالملک نے حکومت سنبھالتے ہی جو خطبہ دیا وہ یہ تھا : ‘‘ تمام تعریفیں اُس ذات بے ہمتا کے لئے ہیں جو وہ چاہتا ہے کرتا ہے ، جس کو چاہتاہے بلند کرتا ہے اور عزت دیتا ہے اورجس کو چاہتا ہے ذلت دیتا ہے ، جس کو چاہتا ہے نوازتا ہے اور جس کو چاہتا ہے محروم کردیتا ہے ۔ دنیا دھوکہ اور فریب کی جگہ ہے اور یہاں رونے والا ہنستا ہے اورہنسنے والا روتا ہے ۔ اے اﷲ کے بندو! اﷲ سے ڈرتے رہو ۔اﷲ کی کتاب کو کوئی منسوخ نہیں کر سکتا ۔ اﷲ کے بندو! قرآن پاک نے شیطان کے مکرو فریب کا پردہ چاک کر دیا ہے ۔’’ حماد بن یزید بن حازم کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ سلیمان بن عبدالملک ہر جمعہ کو خطبہ میں کہا کرتا تھا :‘‘ اہل دنیا کوچ کے لئے تیار رہیں ۔ ابھی وہ ٹھیک سے سانس بھی نہیں لینے پائیں گے کہ اﷲ کا وعدہ پورا ہونے کا وقت آجائے گا ۔ 


قتیبہ بن مسلم کا بیعت سے انکار


سلیمان بن عبدالملک کو‘‘سطنتِ اُمیہ’’ کا حکمراں ماننے سے قتیبہ بن مسلم نے انکار کردیا ۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: جب قتیبہ بن مسلم کو سلیمان بن عبدالملک کے حکمراں بننے کا علم ہوا تو اُس نے

 اُسے تین خط لکھے ۔پہلے خط میں اُس نے سلیمان بن عبدالملک سے تعزیت کی اور اپنی گورنری کے زمانہ کی عظیم کارکردگی ، جدال و قتال اور شاہان وقت کے دلوں میں اپنی ہیبت و عظمت کے چرچے سنائے ۔دوسرے خط میں اپنی فتوحات کی شاندار کارکردگی کے اظہار کے ساتھ ساتھ اپنی اطاعت و انقیاد کا بھی اظہار اِس شرط پر کیا کہ اُسے خراسان کی گورنری پر قائم رکھا جائے۔پہلے خط میں اُس نے یزید بن مہلب کا سرسری تذکرہ کیا اور دوسرے خط میں اُس نے مزید کھل کر کہا اور قسم کھا کر کہا :‘‘ اگر تم مجھے معزول کر دو گے اور میری جگہ یزید بن مہلب کو گورنر بنا دو گے تو تمہیں حکومت سے ہاتھ دھونا پڑے گا ۔’’ اِس کے بعد تیسرے خط میں اُس نے سلیمان بن عبدالملک کو کلیتاً بیعت سے خارج قرار دے دیا۔یہ تینوں خطوط اُس نے ایک قاصد کے ہاتھ سے بھیجے اور اُس کو تاکید کی :‘‘ پہلا خط سلیمان بن عبدالملک کا دینا اور اُس کا تاثر دیکھنا ۔اگر وہ خط پڑھ کر یزید بن مہلب کو دیدے تودوسرا خط اُسے دینا اور پھر دیکھنا ۔ اگر اُس نے دوسراخط بھی پڑھ کریزید بن مہلب کو دیدیا تو پھر تیسرا خط اُسے دینا۔’’سلیمان بن عبدالملک نے جب پہلا خط پڑھا تو اتفاق سے یزید بن مہلب اُس کے پاس موجود تھا اُس نے پہلاخط پڑھ کریزید بن مہلب کو دے دیا تو قاصد نے دوسرا خط سلیمان بن عبدالملک کو دیا ۔ دوسرا خط پڑھ کر اُس کو بھی اُس نے یزید بن مہلب کودے دیا ۔ قاصد نے تیسرا خط دیا ۔اُس خط کو پڑھ کر سلیمان بن عبدالملک کا چہرہ متغیر ہو گیا اور اُس نے خط کو بند کر کے مُہر لگا کر اپنے پاس رکھ لیااور حکم دیا کہ قاصد کو مہمان خانے میں ٹھہرایا جائے ۔ جب رات ہو گئی تو قاصد کو بلوایا اور اُسے خط دیا جس میں اُس نے قتیبہ بن مسلم کو خراسان کی گورنری پر قائم رکھنے کا حکم دیا تھا ۔اُس قاصدکے ساتھ اپنے قاصد کو ایک خط دے کربھیجا اور جب یہ دونوں قاصد خراسان پہنچے تو اُن کو معلوم ہوا کہ قتیبہ بن مسلم نے سلیمان بن عبدالملک کی بیعت کا کھلے عام انکار کر دیا ہے تو سلیمان بن عبدالملک کے قاصد نے اپنا خط قتیبہ بن مسلم کے قاصد کو دے دیا اور ملک شام واپس آگیا ۔


قتیبہ بن مسلم کا قتل


قتیبہ بن مسلم نے سلیمان بن عبدالملک کی حکومت کو ماننے سے انکار کردیا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : ایک دن قتیبہ بن مسلم نے خراسان کی عوام اور اپنے لشکر کو جمع کیا اور سلیمان بن عبدالملک کی بیعت و اطاعت سے علیحدہ ہوجانے کا عزم کر لیا ۔ اُس نے اِس سلسلہ میں اپنی ہمت و شجاعت اور فاتحانہ کارنامے بھی لوگوں کے سامنے فخریہ انداز میں دہرائے ۔ جب وہ سب کہہ چکا تو اس کے جواب میں کوئی شخص کچھ نہیں بولا اور سب خاموش رہے۔ مگر سب لوگ اس کے طرز عمل سے نفرت کرنے لگے اور سخت ناراض ہوئے مگر کوئی اُس کے خلاف اقدام کے لئے نہیں اُٹھا ۔ وہاں سے سب لوگ نفرت اور انتقام کی آگ سینوں میں لیکر اُٹھے تھے ۔ ایک شخص وکیع بن اسود بھی غصہ سے وہاں سے باہر نکل آیا اور اُس نے لوگوں ں کو جمع کیا اور لوگوں کو اُس کے خلاف کھڑے ہوجانے کے لئے نہایت زور وشور سے اصرار کیا اور خود قتیبہ بن مسلم کو مارنے کی فکر میں لگ گیا ۔حتیٰ کہ ذی الحجہ ۹۶ ؁ ھجری میں اُس نے قتیبہ بن مسلم کو قتل کر دیا ۔اُس نے قتیبہ بن مسلم کے ساتھ ساتھ اُس کے خاندان کے گیارہ آدمی بھی قتل کر دیئے اور اُن میں سے صرف ضرار بن مسلم کو زندہ چھوڑا۔


محمد بن قاسم کی گرفتاری


اِس سال 96 ھجری میں ہندوستان میں بھی فتوحات کا سلسلہ رُک گیا اور ‘‘فاتح ہندوستان’’ محمد بن قاسم کو گرفتا رکر کے ملک عراق بھیج دیا گیا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: جن دنوں محمد بن قاسم ملتان آیا اُسی زمانے میں حجاج بن یوسف کے مرنے کی خبر پہنچی ۔‘‘رو رو بغرور’’جسے وہ فتح کر چکا تھا اُس کی طرف لوٹا ۔ پھر یہاں سے لشکر مرتب کر کے ‘‘سلماس’’پر حملہ کیااور سلماس نے اوراُن کے ساتھ ہی اہل شرست نے بھی اطاعت قبول کرلی ۔اِس کے بعد محمد بن قاسم نے ‘‘کیرج ’’ پر حملہ کیا اور ‘‘دوہر’’اپنی فوج لیکر مقابلے پر آیا ۔ محمد بن قسم نے اُسے شکست دے کا قتل کر ڈالا اور بزور شمشیر شہر پر قبضہ کر کے

 جنگجوؤں کو قتل کرڈالااور کچھ لوگوں کو قیدی بنا لیا ۔اُس زمانے میں محمد بن قاسم سندھ کا گورنر تھا ۔یہاں تک کہ سلیمان بن عبدالملک ‘‘سلطنتِ اُمیہ’’ کا حکمراں بنا اور اُس نے محمد بن قاسم کو معزول کر کے یزید بن ابی کبثہ سکسکی کو گورنر بنادیا۔اُس نے محمد بن قسم کو گرفتار کر کے ملک عراق بھیج دیا ۔ صالح بن عبدالرحمن نے اُسے واسط کے قیدخانے میں ڈال دیا اور حجاج بن یوسف کے رشتہ داروں کے ساتھ اُسے بھی تکلیف اور ایذائیں دینے لگا ۔ یہ اِس وجہ سے کہ حجاج بن یوسف نے صالح بن عبدالرحمن کے بھائی آدم بن عبدالرمن کو خوارزم کی تحریر کی وجہ سے قتل کر ڈالا تھا ۔ یزید بن ابی کبثہ کا سندھ میں آنے کے اٹھارہ دن بعد انقال ہو گیا تو سلیمان بن عبدالملک نے حبیب بن مہلب کو ‘‘سندھ’’ کا گورنر بنا دیا 


96 ھجری کا اختتام


اِس سال 96 ھجری میں مملکت ِ اسلامیہ میں بہت زبردست بدلاؤ آئے ۔ سلیمان بن عبدالملک نے سلطنت ِ اُمیہ کا حکمراں بننے کے بعد گورنروں کی بہت بڑے پیمانے پر تبدیلی کی ۔ مسلمہ بن عبد الملک نے موسم گرما میں رومیوں کے علاقہ میں جہاد کیا اور قلعہ عوف فتح کیا ۔ اِس سال ملک مصر کے گورنر قرۃ بن شریک کا انتقال ہوا۔یزید بن مہلب ملک عراق کا گورنر تھا اور سپہ سالار اور امام بھی تھا ۔صالح بن عبدالرحمن خزانچی تھا اور یزید بن مہلب کی طرف سے سفیان بن عبداﷲ کندی بصرہ کا گورنر تھا ۔ عبدالرحمن بن اُذینہ بصرہ کے قاضی اور ابوبکر بن ابی موسیٰ کافہ کے قاضی تھے ۔ وکیع بن ابی سود خراسان کا فوجی گورنر تھا ۔ عبدالعزیز بن عبداﷲ مکۂ مکرمہ کا گورنر تھا اور ابوبکر بن محمد انصاری مدینۂ منورہ کا گورنر تھا اور اسی نے اِس سال مسلمانوں کو حج کرایا۔


97 ھجری : رومیوں سے بری اور بحری جنگ


اِس سال مسلمانوں نے رومیوں سے بری اور بحری دونوں جنگ کی ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 97 ھجری میں سلیمان بن عبدالملک نے ‘‘قسطنطنیہ ’’ پر حملہ کرنے کے لئے فوج تیار کی اور اپنے بیٹے داؤد بن سلیمان کو موسم گرما کی مہم کا سپہ سالار بنا کر رومیوں کے مقابلے پر بھیجا ۔ داؤد بن سلیمان نے قلعہ ‘‘مرأۃ’’ فتح کیا ۔ امام واقدی کے مطابق اِس سال میں مسلمہ بن عبدالملک نے رومیوں کے علاقہ پر حملہ کر کے اُس قلعہ کو فتح کیا جسے کہ وضاحی گروہ کے امیر وضاح نے فتح کیا ۔عُمر بن ہبیرہ فرازی نے رومیوں کے علاقہ کے سمندر میں بحری جنگ کی اور سمندر میں ہی موسم سرما بسر کیا ۔اِس سال عبدالعزیز بن موسیٰ بن نصیر اندلس (اسپین) میں مارا گیا ۔


یزید بن مہلب کا مشورہ


سلیمان بن عبدالملک نے حکمراں بنتے ہی یزید بن مہلب کو ملک عراق کا گورنر بنا دیا تھا لیکن وہ اِس سے مطمئن نہیں تھا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب سلیمان بن عبدالملک سلطنت ِ امیہ کا حکمراں بنا تو اُس نے یزید بن مہلب کو ملک عراق کا فوجی ، مالی اور ملکی گورنر بنا دیا ۔اپنے تقرر کے وقت یزید بن مہلب نے اپنے دل میں سوچا کہ ملک عراق کی حالت حجاج بن یوسف نے کافی خراب کر دی ہے اور ایک عام بے اطمینانی عام مسلمانوں کے دلوں میں پیدا کر دی ہے ۔اب سب کی نظریں مجھ پر لگی ہوئی ہیں اور اگر میں نے ملک عراق جا کر خراج وغیرہ کے معاملے میں اُن پر وہی سختیاں کیں جو حجاج بن یوسف نے کی تھیں تو میں بھی اُس کی طرح عام مسلمانوں کی نگاہوں میں ‘‘سخت گیر اور جابر’’ ٹھہروں گا ۔ مجھے بھی اُن کے خلاف فوجی کاروائیاں کرنا پڑیں گی اور جیل خانے بھرنے پڑیں گے جن سے اﷲ تعالیٰ نے انہیں نجات دی ہے ۔ لیکن اگر میں نے سلیمان بن عبدالملک کو ملک عراق سے اُتنا خراج نہیں بھیجا جتنا حجاج بن یوسف بھیجتا رہا ہے تو وہ مجھ سے ناراض ہو جائے گا اور قبول نہیں کرے گا ۔ انہیں باتوں کو سوچ کر یزید بن مہلب نے سلیمان بن عبدالملک سے کہا: ‘‘ میں ایک ایسے شخص کا نام پیش کرتا ہوں جو مالی معاملات میں بہت ماہر ہے ۔ بہتر ہے کہ آپ اُسے ملک عراق کا خزانچی مقرر کر دیں اور پھر اُسی سے سالانہ خراج لیتے رہیں۔ اُس کا نام صالح بن عبدالرحمن ہے جو بنو تمیم کے آزاد کردہ غلام ہیں ۔’’ سلیمان بن

 عبدالملک نے اُس کا مشورہ قبول کرلیا ۔ اب یزید بن مہلب ملک عراق روانہ اور اُس سے پہلے صالح بن عبدالرحمن ملک عراق پہنچ گیا اور شہر واسط میں آکر قیام پذیر ہو گیا ۔


یزید بن مہلب کو تنبیہ


یزید بن مہلب نے صلاح بن عبدالرحمن کو خزانچی بنوا کر اپنے لئے پریشانی لے لی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب یزید بن مہلب عراق آیا تو لوگ اُس کے استقبال کے لئے شہر سے باہر آئے ۔ صالح اُس وقت استقبال کے لئے آیا جب یزید بن مہلب شہر کے بالکل قریب آگیا ۔ صالح بن عبدالرحمن ایک معمولی قسم کا چغہ پہنے ہاتھ میں زرد رنگ کا ایک چھوٹاسا فولادی عصا لئے ہوئے استقبال کے لئے گیا اور چار سو سپاہی بھی تھے ۔ رقم کے معاملات میں صالح بن عبدالرحمن نے یزید بن مہلب کو تنگ کر دیا ۔ یزید بن مہلب نے لوگوں کو کھلانے کے لئے ہزار خوان خریدے تو صالح بن عبدالرحمن نے اُس پر قبضہ کر لیا ۔ اِس پر یزید بن مہلب نے کہا: ‘‘ اِس کی قیمت میرے حساب میں لکھ دو اور میں ادا کر دوں گا ۔ اسی طرح یزید بن مہلب نے بہت سی ضروریات کی چیزیں خریدیں اور تاجروں کو اس کی قیمتوں کے چیک صالح بن عبدالرحمن کے نام لکھ کر دے دیئے مگر اُس نے یہ چیک منظور نہیں کئے ۔ تاجر واپس آئے تو یزید بن مہلب کو غصہ آگیا لیکن جب تھوڑی دیر بعد صالح بن عبدالرحمن آیا تو اُس نے خندہ پیشانی سے استقبال کیا ، صالح بن عبدالرحمن نے یزید بن مہلب سے کہا: ‘‘ تمام خراج کی رقم بھی اِن چیکوں کی ادایئگی کے لئے کافی نہیں ہوسکتی ۔ میں ایک لاکھ درہم کا چیک باک کر چکا ہوں اور تمہاری تنخواہ اور الاؤنس وغیرہ بھی پیشگی دے چکا ہوں ۔ فوج کے اخراجات کے لئے جو روپیہ طلب کیا تھا وہ بھی میں دے چکا ہوں مگر اب برداشت نہیں کئے جا سکتے اور نہ امیر المومنین پسند کریں گے بلکہ تمہیں ہی ان تمام اخراجات کا ذمہ دار ہونا پڑے گا ۔ ’’یزید بن مہلب نے کہا: ‘‘ اِس مرتبہ تو تم ان چیکوں کو ادا کردو ۔’’ صالح بن عبدالرحمن نے کہا: ‘‘ بہتر ہے! میں اِن چیکوں کو ادا کر دیتا ہوں مگر آئندہ عوامی خزانے پر زیادہ بوجھ نہیں ڈالنا ۔ یزید بن مہلب نے کہا: ‘‘ ٹھیک ہے!نہیں ڈالوں گا ۔’’ 


یزید بن مہلب کی ملک عراق سے بیزاری


یزید بن مہلب نے جب یہ دیکھا کہ ملک عراق کی گورنری سے اُسے کوئی خاص فائدہ نہیں ہو رہا ہے تو وہ ملک عراق کی گورنری سے بیزار ہو گیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں ؛ سلیمان بن عبدالملک نے یزید بن مہلب کو صرف ملک عراق کا گورنر بنایا تھا اور خراسان اُس کے ماتحت نہیں دیا تھا ۔ایک مرتبہ سلیمان بن عبدالملک نے عبدالملک بن مہلب سے جو اُس وقت ملک شام میں مقیم تھا کہا:‘‘ اگر میں تمہیں ملک خراسان کا گورنر مقرر کر دوں تو کس طرح اپنے فرائض انجام دو گے؟’’ اُس نے کہا: ‘‘ میں آپ کی مرضی کے مطابق کام کروں گا ۔’’ مگر صرف اتنا پوچھنے کے بعد سلیمان بن عبدالملک خاموش رہا اور پھر کبھی تذکرہ نہیں کیا ۔عبدالملک بن مہلب نے اپنے چند خاص دوستوں کو خط لکھا کہ امیر المومنین نے مجھے خراسان کی گورنری میرے سامنے پیش کی تھی ۔اِس کی خبر یزید بن مہلب کو ہوگئی اور چونکہ وہ ملک عراق کی گورنری سے بیزار ہو گیا تھا اور صالح بن عبدالرحمن نے الگ پریشان کر رکھا تھا اِسی لئے اُس نے عبداﷲ بن اہتم کو بلایا اور کہا: ‘‘ میں تم سے ایک خاص کام لینا چاہتا ہوں ۔ عبداﷲ بن اہتم نے کہا: ‘‘ فرمایئے! میں حاضر ہوں۔’’ یزید بن مہلب نے کہا: ‘‘ تم تو جانتے ہو کہ میں ملک عراق کی گورنری سے بیزار ہوگیا ہوں ۔ خراسان میں اِس وقت کوئی ایسا شخص نہیں جو وہاں کا انتظام عمدگی اور باقاعدگی سے چلا سکے اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ امیر المومنین نے خراسان کی گورنری کا تذکرہ عبدالملک بن مہلب سے کیا تھا ۔ کیا تم میرے لئے کوئی کارگر تدبیر کر سکتے ہو؟’’ عبداﷲ بن اہتم نے کہا: ‘‘ تم مجھے امیر الومنین کی خدمت میں بھیج دو ،میں تمہارے لئے خراسان کی گورنری کا پروانہ لیکر آؤں گا۔’’


یزید بن مہلب خراسان کا گورنر


یزید بن مہلب نے عبداﷲ بن اہتم کو سلیمان بن عبدالملک کے پاس بھیجا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : یزید بن مہلب نے سلیمان کے نام دوخط لکھے ۔ ایک خط میں ملک عراق کی حالت کا بیان کیا اور دوسرے خط میں عبداﷲ بن اہتم کی تعریف کی اور ملک عراق اور خراسان کی حالت سے اُس کی باخبری کا تذکرہ کیا ۔ اور اُسے تیس ہزار درہم دیکر سرکاری ڈاک کے گھوڑے پر اُسے روانہ کیا ۔ سات دن کا سفر کر کے وہ سلیمان بن عبدالملک کے پاس پہنچا اور دربار میں حاضر ہوا تو سلیمان بن عبدالملک اُس وقت دن کا کھانا کھا رہا تھا ۔عبداﷲ بن اہتم ایک طرف بیٹھ گیا اور اُس کے لئے بھی دو مرغیاں لائی گئیں اور اُس نے کھا لیں ۔ اُس نے دونوں خط دیئے تو سلیمان بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ میں تمہیں بعد میں بلوا لوں گا ۔’’ سہ پہر کے وقت اُس نے بلوایا اور کہا: ‘‘ یزید بن مہلب نے تمہارے متعلق مجھے ایک خط لکھا ہے جس میں ملک عراق اور خراسان سے تمہاری پوری واقفیت اور آگاہی کا تذکرہ کیا ہے اور تمہاری بہت تعریف و توصیف کی ہے ۔ اب تم مجھے یہ بتاؤ کہ تم وہاں کے بارے میں کیا جانتے ہو؟’’عبداﷲ بن اہتم نے کہا: ‘‘ میں وہیں پر پیدا ہوا ہوں اور خراسان کے متعلق مجھے پوری معلومات ہیں۔’’ سلیمان بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ بس تو پھر مجھے تم سے ایسے شخص کے بارے میں مشورہ کرنا ہے جو خراسان کے لئے موزوں ہو۔’’ عبداﷲ بن اہتم نے کہا: ‘‘ آپ کے زہن میں جو شخص موزوں ہو اس کا نام لیں۔’’ سلیمان بن عبدالملک نے ایک قریشی کا نام لیا ۔ عبداﷲ بن اہتم نے کہا: ‘‘ اس شخص کو خراسان کا تجربہ نہیں ہے۔’’ پھر سلیمان بن عبدالملک نے کئی لوگوں کو نام لیا لین عبداﷲ بن اہتم نے منع کیا ۔ آخر میں سلیمان بن عبدالملک نے وکیع کا نام لیا تو عبداﷲ بن اہتم نے کہا: ‘‘ اِس میں شک نہیں کہ وکیع ایک بہادر اور دلیر آدمی ہے مگر گورنری کا اہل نہیں ہے کیونکہ جب بھی اُسے تین سو آدمیوں کی قیادت ملی ہے تو اُس نے سپہ سالار سے بغاوت کی ہے ۔’’سلیمان بن عبدالملک نے کہا :‘‘ ہاں یہ بات تو ہے! پھر اب تم ہی بتاؤ اِس خدمت کے لئے کون موزوں ہے؟’’ عبداﷲ بن اہتم نے کہا: ‘‘ آپ وعدہ کریں اسے راز میں رکھیں گے اور اگر کبھی انہیں اِس بات کا علم ہو جائے تو آپ اُن کی ناراضگی سے مجھے بچائیں گے۔’’ سلیمان بن عبدالملک نے کہا : ‘‘ ٹھیک ہے! تم بتاؤ وہ کون ہے؟ ’’ عبداﷲ اہتم نے کہا: ‘‘ یزید بن مہلب۔’’ سلیمان بن عبدالملک نے کہا : ‘‘ لیکن وہ تو ملک عراق میں ہے اور خراسان کے مقابلے میں وہ ملک عراق میں رہنا زیادہ پسند کرتا ہے وہ بھلا کیوں خراسان جائے گا؟’’ عبداﷲ بن اہتم نے کہا: ‘‘ میں خود بھی یہ بات جانتا ہوں مگر آپ اُسے خراسان جانے کے لئے مجبور کریں ۔ ملک عراق پر کسی دوسرے کو گورنر بنا دیں اور یزید بن مہلب کو خراسان بھیج دیں۔’’ ۔ سلیمان بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ تم ٹھیک کہتے ہو،میں ایسا ہی کرتا ہوں۔’’ پھر اُس نے خراسان کی گورنری کے لئے یزید بن مہلب کے تقرر کا فرمان لکھ دیا اور ایک خط بھی لکھا: ‘‘ میں عبداﷲ بن اہتم کو عقل ، دین ،فضل اور مشورہ میں ویاویسا ہی پایا جیسا تم نے لکھا تھا ۔’’ یہ خط اور یہ فرمان دونوں سلیمان بن عبدالملک نے عبداﷲ بن اہتم کو دے دیئے اور وہ یزید بن مہلب کے پاس واپس آیا اور اُس نے پوچھا : ‘‘ کیا کر آئے ہو؟’’ عبداﷲ بن اہتم نے سلیمان بن عبدالملک کا خط اُس کے حوالے کر دیا ۔ یزید بن مہلب نے کہا: ‘‘ میرے فائدے کی بات بھی کہو گے؟’’ تب اُس نے ‘‘فرمان ِ تقرر’’ نکا ل کر دیا۔


وکیع بن ابی اسود کی گرفتاری


یزید بن مہلب کو خراسان کی گورنری کا تقرر نامہ ملا تو اُس نے سفر کی تیاری شرع کر دی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : یزید بن مہلب نے اُسی وقت سے سفر کی تیاری شروع کر دی اور اپنے بیٹے مخلد بن یزید کو اپنے آگے خراسان روانہ کیا اورمخلد بن یزید اُسی دن روانہ ہو گیا ۔ یزید بن مہلب اُس کے پیچھے روانہ ہوا اور عبداﷲ بن ہلال کلابی کو بصرہ کا گورنر مقرر کیا ۔ مروان بن مہلب کو جس پر یزید بن مہلب سب سے زیادہ اعتماد کرتا تھا اپنی جائداد اور دوسرے مال و اسباب کی نگرانی کے لئے بصرہ بھیجا۔ جب مخلد بن یزید ‘‘مرو’’ پہنچا تو اُس نے عمرو بن عبداﷲ سنان کو اپنے آگے بھیجا ۔ اُس نے ‘‘مرو’’ پہنچ کر وکیع بن ابی اسود

 سے کہا بھیجا کہ ‘‘مجھے سے آ کر ملو۔’’ اُس نے انکار کر دیا ۔ عمر بن عبداﷲ سنان نے کہا: ‘‘ ارے بیوقوف! اپنے افسر کے استقبال کو جا ۔’’ اب ‘‘مرو’’ کے سربرآوردہ اور عمائدین مخلد بن یزید سے ملنے گئے اور اپنی سواریوں سے اُتر پڑے لیکن وکیع بن ابی اسود اپنے ساتھیوں کے ساتھ نہیں اُترا تو اُسے اُترنے پر مجبور کر دیا ۔ مخلد بن یزید نے آتے ہی وکیع بن ابی اسود کو قید کر دیا اور اُسے طرح طرح کی اذیتیں دینا شروع کردیں۔ قتیبہ مسلم کے قتل کے بعد وکیع بن ابی اسود نو یا دس مہینے خراسان کا گورنر رہا ۔ 97 ھجری میں یزید بن مہلب خراسان پہنچا


حضرت عُمر بن عبدالعزیز مُشیر ِ خاص


سلیمان بن عبدالملک نے اپنے چچا ذاد بھائی اور بہنوئی حضرت عُمر بن عبدالعزیز کو اپنا ‘‘مُشیر ِ خاص’’ بنا لیا تھا اور انہیں ہر وقت اپنے ساتھ رکھتا تھا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : سلیمان بن عبدالملک نے حضرت عُمر بن عبدالعزیز کو اپنا مشیر اور وزیر بنا لیا تھا ۔ وہ اُن سے کہا کرتا تھا: ‘‘ مجھے حکومت ضرور ملی ہے لیکن اُس کو چلانے میں تمہاری تدبیر کی ضرورت ہے ۔ اِس لئے مصلحت عامہ کے متعلق جو ضروری سمجھا کرو وہ مجھے کرنے کو کہا کرو اور خود بھی اِس کا خیال رکھو ۔ حجاج بن یوسف کے نائیبین کی معزولی اور اہل سخن کو آزاد کرانا انہی کا کام ہے ۔ اِسی طرح قیدیوں کی رہائی اور اہل عراق کو انعام و اکرام دلوانا بھی اور نمازوں کو اولین وقت میں پڑھوانے کا اہتمام کروانا بھی حضرت عُمر بن عبدالعزیز کے کام شمار ہوتے ہیں۔ قسطنطنیہ کے محاذ پر اُن ہی کے مشورہ سے سلیمان بن عبدالملک نے ملک شام اور ملک الجزیرہ سے ایک لاکھ بیس ہزار مجاہدین اور ملک مصر اور افریقہ سے ایک لاکھ مجاہدین بھیجے جس کا تفصیلی ذکر انشاء اﷲ آگے آئے گا ۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........!

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں