50 سلطنت امیہ
تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 50
سلیمان بن عبدالملک کا دورِ حکومت، سلیمان بن عبدالملک کا پہلا خطبہ، قتیبہ بن مسلم کا بیعت سے انکار، محمد بن قاسم کی گرفتاری، 96 ھجری کا اختتام، 97 ھجری : رومیوں سے بری اور بحری جنگ، یزید بن مہلب کا مشورہ، یزید بن مہلب کو تنبیہ، یزید بن مہلب کی ملک عراق سے بیزاری، یزید بن مہلب خراسان کا گورنر، وکیع بن ابی اسود کی گرفتاری، حضرت عُمر بن عبدالعزیز مُشیر ِ خاص
سلیمان بن عبدالملک کا دورِ حکومت
سلیمان بن عبدالملک ‘‘سلطنت ِ اُمیہ’’ کا حکمراں
ولید بن عبدالملک کے انتقال کے بعد اُس کا بھائی سلیمان بن عبدالملک سلطنت اُمیہ کا حکمراں بنا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: سلیمان بن عبدالملک کی بیعت اُسی دن ہوئی جس دن اُس کے بھائی ولید بن عبدالملک کا انتقال ہوا۔ یہ نصف جمادی الآخر 96 ھجری کی سنیچر تھی اور عبدالملک بن مروان کی وصیت کے مطابق یہ کاروائی عمل میں آئی تھی ۔ولید بن عبدالملک اپنی موت سے قبل بھی سلیمان بن عبدالملک سے علیحدہ ہونے کو تیار تھا اور اِس بات پر آمادہ تھا کہ سلیمان بن عبدالملک کے بعد ‘‘ولی عہد’’ اُس کے بیٹے عبدالعزیز بن ولید کو ملے گی اور حجاج بن یوسف نے اِس پر اطاعت و رضامندی کا اظہار بھی کر دیا تھا اور اِسی طرح قتیبہ بن مسلم اور اُس کے پورے لشکر نے بھی تسلیم کر لیا تھا ۔اِسی دوران ولید بن عبدالملک کا انتقال ہوگیااور سلیمان بن عبدالملک کے لئے بیعت مکمل ہو گئی مگر قتیبہ بن مسلم کو اس سے کچھ خوف لگا اور اُس نے بیعت کرنے سے انکار کر دیا ۔ اِس پر سلیمان بن عبدالملک نے اُسے معزول کر دیا اور یزید بن مہلب کو پہلے ملک عراق کا پھر ملک خراسان کا بھی گورنر بنا دیا اور اُس کو آل حجاج بن یوسف کو سزا دینے کا حکم دیا ۔ حجاج بن یوسف نے اِس سے قبل یزید بن مہلب کو خراسان کی گورنری سے معزول کر دیا تھا ۔سلیمان بن عبدالملک نے مدینۂ منورہ کے گورنر عثمان بن حیان کو معزول کر کے ابوبکر بن محمد کو گورنر بنا دیا جو ایک عالم تھا۔
سلیمان بن عبدالملک کا پہلا خطبہ
سلیمان بن عبدالملک جب ‘‘سلطنت ِ اُمیہ’’ کا حکمراں بن گیا تو اُس نے اپنا پہلا خطبہ دیا ۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں : امام ابن ابی الدنیا کا بیان ہے کہ سلیمان بن عبدالملک نے حکومت سنبھالتے ہی جو خطبہ دیا وہ یہ تھا : ‘‘ تمام تعریفیں اُس ذات بے ہمتا کے لئے ہیں جو وہ چاہتا ہے کرتا ہے ، جس کو چاہتاہے بلند کرتا ہے اور عزت دیتا ہے اورجس کو چاہتا ہے ذلت دیتا ہے ، جس کو چاہتا ہے نوازتا ہے اور جس کو چاہتا ہے محروم کردیتا ہے ۔ دنیا دھوکہ اور فریب کی جگہ ہے اور یہاں رونے والا ہنستا ہے اورہنسنے والا روتا ہے ۔ اے اﷲ کے بندو! اﷲ سے ڈرتے رہو ۔اﷲ کی کتاب کو کوئی منسوخ نہیں کر سکتا ۔ اﷲ کے بندو! قرآن پاک نے شیطان کے مکرو فریب کا پردہ چاک کر دیا ہے ۔’’ حماد بن یزید بن حازم کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ سلیمان بن عبدالملک ہر جمعہ کو خطبہ میں کہا کرتا تھا :‘‘ اہل دنیا کوچ کے لئے تیار رہیں ۔ ابھی وہ ٹھیک سے سانس بھی نہیں لینے پائیں گے کہ اﷲ کا وعدہ پورا ہونے کا وقت آجائے گا ۔
قتیبہ بن مسلم کا بیعت سے انکار
سلیمان بن عبدالملک کو‘‘سطنتِ اُمیہ’’ کا حکمراں ماننے سے قتیبہ بن مسلم نے انکار کردیا ۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: جب قتیبہ بن مسلم کو سلیمان بن عبدالملک کے حکمراں بننے کا علم ہوا تو اُس نے
اُسے تین خط لکھے ۔پہلے خط میں اُس نے سلیمان بن عبدالملک سے تعزیت کی اور اپنی گورنری کے زمانہ کی عظیم کارکردگی ، جدال و قتال اور شاہان وقت کے دلوں میں اپنی ہیبت و عظمت کے چرچے سنائے ۔دوسرے خط میں اپنی فتوحات کی شاندار کارکردگی کے اظہار کے ساتھ ساتھ اپنی اطاعت و انقیاد کا بھی اظہار اِس شرط پر کیا کہ اُسے خراسان کی گورنری پر قائم رکھا جائے۔پہلے خط میں اُس نے یزید بن مہلب کا سرسری تذکرہ کیا اور دوسرے خط میں اُس نے مزید کھل کر کہا اور قسم کھا کر کہا :‘‘ اگر تم مجھے معزول کر دو گے اور میری جگہ یزید بن مہلب کو گورنر بنا دو گے تو تمہیں حکومت سے ہاتھ دھونا پڑے گا ۔’’ اِس کے بعد تیسرے خط میں اُس نے سلیمان بن عبدالملک کو کلیتاً بیعت سے خارج قرار دے دیا۔یہ تینوں خطوط اُس نے ایک قاصد کے ہاتھ سے بھیجے اور اُس کو تاکید کی :‘‘ پہلا خط سلیمان بن عبدالملک کا دینا اور اُس کا تاثر دیکھنا ۔اگر وہ خط پڑھ کر یزید بن مہلب کو دیدے تودوسرا خط اُسے دینا اور پھر دیکھنا ۔ اگر اُس نے دوسراخط بھی پڑھ کریزید بن مہلب کو دیدیا تو پھر تیسرا خط اُسے دینا۔’’سلیمان بن عبدالملک نے جب پہلا خط پڑھا تو اتفاق سے یزید بن مہلب اُس کے پاس موجود تھا اُس نے پہلاخط پڑھ کریزید بن مہلب کو دے دیا تو قاصد نے دوسرا خط سلیمان بن عبدالملک کو دیا ۔ دوسرا خط پڑھ کر اُس کو بھی اُس نے یزید بن مہلب کودے دیا ۔ قاصد نے تیسرا خط دیا ۔اُس خط کو پڑھ کر سلیمان بن عبدالملک کا چہرہ متغیر ہو گیا اور اُس نے خط کو بند کر کے مُہر لگا کر اپنے پاس رکھ لیااور حکم دیا کہ قاصد کو مہمان خانے میں ٹھہرایا جائے ۔ جب رات ہو گئی تو قاصد کو بلوایا اور اُسے خط دیا جس میں اُس نے قتیبہ بن مسلم کو خراسان کی گورنری پر قائم رکھنے کا حکم دیا تھا ۔اُس قاصدکے ساتھ اپنے قاصد کو ایک خط دے کربھیجا اور جب یہ دونوں قاصد خراسان پہنچے تو اُن کو معلوم ہوا کہ قتیبہ بن مسلم نے سلیمان بن عبدالملک کی بیعت کا کھلے عام انکار کر دیا ہے تو سلیمان بن عبدالملک کے قاصد نے اپنا خط قتیبہ بن مسلم کے قاصد کو دے دیا اور ملک شام واپس آگیا ۔
قتیبہ بن مسلم کا قتل
قتیبہ بن مسلم نے سلیمان بن عبدالملک کی حکومت کو ماننے سے انکار کردیا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : ایک دن قتیبہ بن مسلم نے خراسان کی عوام اور اپنے لشکر کو جمع کیا اور سلیمان بن عبدالملک کی بیعت و اطاعت سے علیحدہ ہوجانے کا عزم کر لیا ۔ اُس نے اِس سلسلہ میں اپنی ہمت و شجاعت اور فاتحانہ کارنامے بھی لوگوں کے سامنے فخریہ انداز میں دہرائے ۔ جب وہ سب کہہ چکا تو اس کے جواب میں کوئی شخص کچھ نہیں بولا اور سب خاموش رہے۔ مگر سب لوگ اس کے طرز عمل سے نفرت کرنے لگے اور سخت ناراض ہوئے مگر کوئی اُس کے خلاف اقدام کے لئے نہیں اُٹھا ۔ وہاں سے سب لوگ نفرت اور انتقام کی آگ سینوں میں لیکر اُٹھے تھے ۔ ایک شخص وکیع بن اسود بھی غصہ سے وہاں سے باہر نکل آیا اور اُس نے لوگوں ں کو جمع کیا اور لوگوں کو اُس کے خلاف کھڑے ہوجانے کے لئے نہایت زور وشور سے اصرار کیا اور خود قتیبہ بن مسلم کو مارنے کی فکر میں لگ گیا ۔حتیٰ کہ ذی الحجہ ۹۶ ھجری میں اُس نے قتیبہ بن مسلم کو قتل کر دیا ۔اُس نے قتیبہ بن مسلم کے ساتھ ساتھ اُس کے خاندان کے گیارہ آدمی بھی قتل کر دیئے اور اُن میں سے صرف ضرار بن مسلم کو زندہ چھوڑا۔
محمد بن قاسم کی گرفتاری
اِس سال 96 ھجری میں ہندوستان میں بھی فتوحات کا سلسلہ رُک گیا اور ‘‘فاتح ہندوستان’’ محمد بن قاسم کو گرفتا رکر کے ملک عراق بھیج دیا گیا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: جن دنوں محمد بن قاسم ملتان آیا اُسی زمانے میں حجاج بن یوسف کے مرنے کی خبر پہنچی ۔‘‘رو رو بغرور’’جسے وہ فتح کر چکا تھا اُس کی طرف لوٹا ۔ پھر یہاں سے لشکر مرتب کر کے ‘‘سلماس’’پر حملہ کیااور سلماس نے اوراُن کے ساتھ ہی اہل شرست نے بھی اطاعت قبول کرلی ۔اِس کے بعد محمد بن قاسم نے ‘‘کیرج ’’ پر حملہ کیا اور ‘‘دوہر’’اپنی فوج لیکر مقابلے پر آیا ۔ محمد بن قسم نے اُسے شکست دے کا قتل کر ڈالا اور بزور شمشیر شہر پر قبضہ کر کے
جنگجوؤں کو قتل کرڈالااور کچھ لوگوں کو قیدی بنا لیا ۔اُس زمانے میں محمد بن قاسم سندھ کا گورنر تھا ۔یہاں تک کہ سلیمان بن عبدالملک ‘‘سلطنتِ اُمیہ’’ کا حکمراں بنا اور اُس نے محمد بن قاسم کو معزول کر کے یزید بن ابی کبثہ سکسکی کو گورنر بنادیا۔اُس نے محمد بن قسم کو گرفتار کر کے ملک عراق بھیج دیا ۔ صالح بن عبدالرحمن نے اُسے واسط کے قیدخانے میں ڈال دیا اور حجاج بن یوسف کے رشتہ داروں کے ساتھ اُسے بھی تکلیف اور ایذائیں دینے لگا ۔ یہ اِس وجہ سے کہ حجاج بن یوسف نے صالح بن عبدالرحمن کے بھائی آدم بن عبدالرمن کو خوارزم کی تحریر کی وجہ سے قتل کر ڈالا تھا ۔ یزید بن ابی کبثہ کا سندھ میں آنے کے اٹھارہ دن بعد انقال ہو گیا تو سلیمان بن عبدالملک نے حبیب بن مہلب کو ‘‘سندھ’’ کا گورنر بنا دیا
96 ھجری کا اختتام
اِس سال 96 ھجری میں مملکت ِ اسلامیہ میں بہت زبردست بدلاؤ آئے ۔ سلیمان بن عبدالملک نے سلطنت ِ اُمیہ کا حکمراں بننے کے بعد گورنروں کی بہت بڑے پیمانے پر تبدیلی کی ۔ مسلمہ بن عبد الملک نے موسم گرما میں رومیوں کے علاقہ میں جہاد کیا اور قلعہ عوف فتح کیا ۔ اِس سال ملک مصر کے گورنر قرۃ بن شریک کا انتقال ہوا۔یزید بن مہلب ملک عراق کا گورنر تھا اور سپہ سالار اور امام بھی تھا ۔صالح بن عبدالرحمن خزانچی تھا اور یزید بن مہلب کی طرف سے سفیان بن عبداﷲ کندی بصرہ کا گورنر تھا ۔ عبدالرحمن بن اُذینہ بصرہ کے قاضی اور ابوبکر بن ابی موسیٰ کافہ کے قاضی تھے ۔ وکیع بن ابی سود خراسان کا فوجی گورنر تھا ۔ عبدالعزیز بن عبداﷲ مکۂ مکرمہ کا گورنر تھا اور ابوبکر بن محمد انصاری مدینۂ منورہ کا گورنر تھا اور اسی نے اِس سال مسلمانوں کو حج کرایا۔
97 ھجری : رومیوں سے بری اور بحری جنگ
اِس سال مسلمانوں نے رومیوں سے بری اور بحری دونوں جنگ کی ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 97 ھجری میں سلیمان بن عبدالملک نے ‘‘قسطنطنیہ ’’ پر حملہ کرنے کے لئے فوج تیار کی اور اپنے بیٹے داؤد بن سلیمان کو موسم گرما کی مہم کا سپہ سالار بنا کر رومیوں کے مقابلے پر بھیجا ۔ داؤد بن سلیمان نے قلعہ ‘‘مرأۃ’’ فتح کیا ۔ امام واقدی کے مطابق اِس سال میں مسلمہ بن عبدالملک نے رومیوں کے علاقہ پر حملہ کر کے اُس قلعہ کو فتح کیا جسے کہ وضاحی گروہ کے امیر وضاح نے فتح کیا ۔عُمر بن ہبیرہ فرازی نے رومیوں کے علاقہ کے سمندر میں بحری جنگ کی اور سمندر میں ہی موسم سرما بسر کیا ۔اِس سال عبدالعزیز بن موسیٰ بن نصیر اندلس (اسپین) میں مارا گیا ۔
یزید بن مہلب کا مشورہ
سلیمان بن عبدالملک نے حکمراں بنتے ہی یزید بن مہلب کو ملک عراق کا گورنر بنا دیا تھا لیکن وہ اِس سے مطمئن نہیں تھا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب سلیمان بن عبدالملک سلطنت ِ امیہ کا حکمراں بنا تو اُس نے یزید بن مہلب کو ملک عراق کا فوجی ، مالی اور ملکی گورنر بنا دیا ۔اپنے تقرر کے وقت یزید بن مہلب نے اپنے دل میں سوچا کہ ملک عراق کی حالت حجاج بن یوسف نے کافی خراب کر دی ہے اور ایک عام بے اطمینانی عام مسلمانوں کے دلوں میں پیدا کر دی ہے ۔اب سب کی نظریں مجھ پر لگی ہوئی ہیں اور اگر میں نے ملک عراق جا کر خراج وغیرہ کے معاملے میں اُن پر وہی سختیاں کیں جو حجاج بن یوسف نے کی تھیں تو میں بھی اُس کی طرح عام مسلمانوں کی نگاہوں میں ‘‘سخت گیر اور جابر’’ ٹھہروں گا ۔ مجھے بھی اُن کے خلاف فوجی کاروائیاں کرنا پڑیں گی اور جیل خانے بھرنے پڑیں گے جن سے اﷲ تعالیٰ نے انہیں نجات دی ہے ۔ لیکن اگر میں نے سلیمان بن عبدالملک کو ملک عراق سے اُتنا خراج نہیں بھیجا جتنا حجاج بن یوسف بھیجتا رہا ہے تو وہ مجھ سے ناراض ہو جائے گا اور قبول نہیں کرے گا ۔ انہیں باتوں کو سوچ کر یزید بن مہلب نے سلیمان بن عبدالملک سے کہا: ‘‘ میں ایک ایسے شخص کا نام پیش کرتا ہوں جو مالی معاملات میں بہت ماہر ہے ۔ بہتر ہے کہ آپ اُسے ملک عراق کا خزانچی مقرر کر دیں اور پھر اُسی سے سالانہ خراج لیتے رہیں۔ اُس کا نام صالح بن عبدالرحمن ہے جو بنو تمیم کے آزاد کردہ غلام ہیں ۔’’ سلیمان بن
عبدالملک نے اُس کا مشورہ قبول کرلیا ۔ اب یزید بن مہلب ملک عراق روانہ اور اُس سے پہلے صالح بن عبدالرحمن ملک عراق پہنچ گیا اور شہر واسط میں آکر قیام پذیر ہو گیا ۔
یزید بن مہلب کو تنبیہ
یزید بن مہلب نے صلاح بن عبدالرحمن کو خزانچی بنوا کر اپنے لئے پریشانی لے لی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب یزید بن مہلب عراق آیا تو لوگ اُس کے استقبال کے لئے شہر سے باہر آئے ۔ صالح اُس وقت استقبال کے لئے آیا جب یزید بن مہلب شہر کے بالکل قریب آگیا ۔ صالح بن عبدالرحمن ایک معمولی قسم کا چغہ پہنے ہاتھ میں زرد رنگ کا ایک چھوٹاسا فولادی عصا لئے ہوئے استقبال کے لئے گیا اور چار سو سپاہی بھی تھے ۔ رقم کے معاملات میں صالح بن عبدالرحمن نے یزید بن مہلب کو تنگ کر دیا ۔ یزید بن مہلب نے لوگوں کو کھلانے کے لئے ہزار خوان خریدے تو صالح بن عبدالرحمن نے اُس پر قبضہ کر لیا ۔ اِس پر یزید بن مہلب نے کہا: ‘‘ اِس کی قیمت میرے حساب میں لکھ دو اور میں ادا کر دوں گا ۔ اسی طرح یزید بن مہلب نے بہت سی ضروریات کی چیزیں خریدیں اور تاجروں کو اس کی قیمتوں کے چیک صالح بن عبدالرحمن کے نام لکھ کر دے دیئے مگر اُس نے یہ چیک منظور نہیں کئے ۔ تاجر واپس آئے تو یزید بن مہلب کو غصہ آگیا لیکن جب تھوڑی دیر بعد صالح بن عبدالرحمن آیا تو اُس نے خندہ پیشانی سے استقبال کیا ، صالح بن عبدالرحمن نے یزید بن مہلب سے کہا: ‘‘ تمام خراج کی رقم بھی اِن چیکوں کی ادایئگی کے لئے کافی نہیں ہوسکتی ۔ میں ایک لاکھ درہم کا چیک باک کر چکا ہوں اور تمہاری تنخواہ اور الاؤنس وغیرہ بھی پیشگی دے چکا ہوں ۔ فوج کے اخراجات کے لئے جو روپیہ طلب کیا تھا وہ بھی میں دے چکا ہوں مگر اب برداشت نہیں کئے جا سکتے اور نہ امیر المومنین پسند کریں گے بلکہ تمہیں ہی ان تمام اخراجات کا ذمہ دار ہونا پڑے گا ۔ ’’یزید بن مہلب نے کہا: ‘‘ اِس مرتبہ تو تم ان چیکوں کو ادا کردو ۔’’ صالح بن عبدالرحمن نے کہا: ‘‘ بہتر ہے! میں اِن چیکوں کو ادا کر دیتا ہوں مگر آئندہ عوامی خزانے پر زیادہ بوجھ نہیں ڈالنا ۔ یزید بن مہلب نے کہا: ‘‘ ٹھیک ہے!نہیں ڈالوں گا ۔’’
یزید بن مہلب کی ملک عراق سے بیزاری
یزید بن مہلب نے جب یہ دیکھا کہ ملک عراق کی گورنری سے اُسے کوئی خاص فائدہ نہیں ہو رہا ہے تو وہ ملک عراق کی گورنری سے بیزار ہو گیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں ؛ سلیمان بن عبدالملک نے یزید بن مہلب کو صرف ملک عراق کا گورنر بنایا تھا اور خراسان اُس کے ماتحت نہیں دیا تھا ۔ایک مرتبہ سلیمان بن عبدالملک نے عبدالملک بن مہلب سے جو اُس وقت ملک شام میں مقیم تھا کہا:‘‘ اگر میں تمہیں ملک خراسان کا گورنر مقرر کر دوں تو کس طرح اپنے فرائض انجام دو گے؟’’ اُس نے کہا: ‘‘ میں آپ کی مرضی کے مطابق کام کروں گا ۔’’ مگر صرف اتنا پوچھنے کے بعد سلیمان بن عبدالملک خاموش رہا اور پھر کبھی تذکرہ نہیں کیا ۔عبدالملک بن مہلب نے اپنے چند خاص دوستوں کو خط لکھا کہ امیر المومنین نے مجھے خراسان کی گورنری میرے سامنے پیش کی تھی ۔اِس کی خبر یزید بن مہلب کو ہوگئی اور چونکہ وہ ملک عراق کی گورنری سے بیزار ہو گیا تھا اور صالح بن عبدالرحمن نے الگ پریشان کر رکھا تھا اِسی لئے اُس نے عبداﷲ بن اہتم کو بلایا اور کہا: ‘‘ میں تم سے ایک خاص کام لینا چاہتا ہوں ۔ عبداﷲ بن اہتم نے کہا: ‘‘ فرمایئے! میں حاضر ہوں۔’’ یزید بن مہلب نے کہا: ‘‘ تم تو جانتے ہو کہ میں ملک عراق کی گورنری سے بیزار ہوگیا ہوں ۔ خراسان میں اِس وقت کوئی ایسا شخص نہیں جو وہاں کا انتظام عمدگی اور باقاعدگی سے چلا سکے اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ امیر المومنین نے خراسان کی گورنری کا تذکرہ عبدالملک بن مہلب سے کیا تھا ۔ کیا تم میرے لئے کوئی کارگر تدبیر کر سکتے ہو؟’’ عبداﷲ بن اہتم نے کہا: ‘‘ تم مجھے امیر الومنین کی خدمت میں بھیج دو ،میں تمہارے لئے خراسان کی گورنری کا پروانہ لیکر آؤں گا۔’’
یزید بن مہلب خراسان کا گورنر
یزید بن مہلب نے عبداﷲ بن اہتم کو سلیمان بن عبدالملک کے پاس بھیجا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : یزید بن مہلب نے سلیمان کے نام دوخط لکھے ۔ ایک خط میں ملک عراق کی حالت کا بیان کیا اور دوسرے خط میں عبداﷲ بن اہتم کی تعریف کی اور ملک عراق اور خراسان کی حالت سے اُس کی باخبری کا تذکرہ کیا ۔ اور اُسے تیس ہزار درہم دیکر سرکاری ڈاک کے گھوڑے پر اُسے روانہ کیا ۔ سات دن کا سفر کر کے وہ سلیمان بن عبدالملک کے پاس پہنچا اور دربار میں حاضر ہوا تو سلیمان بن عبدالملک اُس وقت دن کا کھانا کھا رہا تھا ۔عبداﷲ بن اہتم ایک طرف بیٹھ گیا اور اُس کے لئے بھی دو مرغیاں لائی گئیں اور اُس نے کھا لیں ۔ اُس نے دونوں خط دیئے تو سلیمان بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ میں تمہیں بعد میں بلوا لوں گا ۔’’ سہ پہر کے وقت اُس نے بلوایا اور کہا: ‘‘ یزید بن مہلب نے تمہارے متعلق مجھے ایک خط لکھا ہے جس میں ملک عراق اور خراسان سے تمہاری پوری واقفیت اور آگاہی کا تذکرہ کیا ہے اور تمہاری بہت تعریف و توصیف کی ہے ۔ اب تم مجھے یہ بتاؤ کہ تم وہاں کے بارے میں کیا جانتے ہو؟’’عبداﷲ بن اہتم نے کہا: ‘‘ میں وہیں پر پیدا ہوا ہوں اور خراسان کے متعلق مجھے پوری معلومات ہیں۔’’ سلیمان بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ بس تو پھر مجھے تم سے ایسے شخص کے بارے میں مشورہ کرنا ہے جو خراسان کے لئے موزوں ہو۔’’ عبداﷲ بن اہتم نے کہا: ‘‘ آپ کے زہن میں جو شخص موزوں ہو اس کا نام لیں۔’’ سلیمان بن عبدالملک نے ایک قریشی کا نام لیا ۔ عبداﷲ بن اہتم نے کہا: ‘‘ اس شخص کو خراسان کا تجربہ نہیں ہے۔’’ پھر سلیمان بن عبدالملک نے کئی لوگوں کو نام لیا لین عبداﷲ بن اہتم نے منع کیا ۔ آخر میں سلیمان بن عبدالملک نے وکیع کا نام لیا تو عبداﷲ بن اہتم نے کہا: ‘‘ اِس میں شک نہیں کہ وکیع ایک بہادر اور دلیر آدمی ہے مگر گورنری کا اہل نہیں ہے کیونکہ جب بھی اُسے تین سو آدمیوں کی قیادت ملی ہے تو اُس نے سپہ سالار سے بغاوت کی ہے ۔’’سلیمان بن عبدالملک نے کہا :‘‘ ہاں یہ بات تو ہے! پھر اب تم ہی بتاؤ اِس خدمت کے لئے کون موزوں ہے؟’’ عبداﷲ بن اہتم نے کہا: ‘‘ آپ وعدہ کریں اسے راز میں رکھیں گے اور اگر کبھی انہیں اِس بات کا علم ہو جائے تو آپ اُن کی ناراضگی سے مجھے بچائیں گے۔’’ سلیمان بن عبدالملک نے کہا : ‘‘ ٹھیک ہے! تم بتاؤ وہ کون ہے؟ ’’ عبداﷲ اہتم نے کہا: ‘‘ یزید بن مہلب۔’’ سلیمان بن عبدالملک نے کہا : ‘‘ لیکن وہ تو ملک عراق میں ہے اور خراسان کے مقابلے میں وہ ملک عراق میں رہنا زیادہ پسند کرتا ہے وہ بھلا کیوں خراسان جائے گا؟’’ عبداﷲ بن اہتم نے کہا: ‘‘ میں خود بھی یہ بات جانتا ہوں مگر آپ اُسے خراسان جانے کے لئے مجبور کریں ۔ ملک عراق پر کسی دوسرے کو گورنر بنا دیں اور یزید بن مہلب کو خراسان بھیج دیں۔’’ ۔ سلیمان بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ تم ٹھیک کہتے ہو،میں ایسا ہی کرتا ہوں۔’’ پھر اُس نے خراسان کی گورنری کے لئے یزید بن مہلب کے تقرر کا فرمان لکھ دیا اور ایک خط بھی لکھا: ‘‘ میں عبداﷲ بن اہتم کو عقل ، دین ،فضل اور مشورہ میں ویاویسا ہی پایا جیسا تم نے لکھا تھا ۔’’ یہ خط اور یہ فرمان دونوں سلیمان بن عبدالملک نے عبداﷲ بن اہتم کو دے دیئے اور وہ یزید بن مہلب کے پاس واپس آیا اور اُس نے پوچھا : ‘‘ کیا کر آئے ہو؟’’ عبداﷲ بن اہتم نے سلیمان بن عبدالملک کا خط اُس کے حوالے کر دیا ۔ یزید بن مہلب نے کہا: ‘‘ میرے فائدے کی بات بھی کہو گے؟’’ تب اُس نے ‘‘فرمان ِ تقرر’’ نکا ل کر دیا۔
وکیع بن ابی اسود کی گرفتاری
یزید بن مہلب کو خراسان کی گورنری کا تقرر نامہ ملا تو اُس نے سفر کی تیاری شرع کر دی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : یزید بن مہلب نے اُسی وقت سے سفر کی تیاری شروع کر دی اور اپنے بیٹے مخلد بن یزید کو اپنے آگے خراسان روانہ کیا اورمخلد بن یزید اُسی دن روانہ ہو گیا ۔ یزید بن مہلب اُس کے پیچھے روانہ ہوا اور عبداﷲ بن ہلال کلابی کو بصرہ کا گورنر مقرر کیا ۔ مروان بن مہلب کو جس پر یزید بن مہلب سب سے زیادہ اعتماد کرتا تھا اپنی جائداد اور دوسرے مال و اسباب کی نگرانی کے لئے بصرہ بھیجا۔ جب مخلد بن یزید ‘‘مرو’’ پہنچا تو اُس نے عمرو بن عبداﷲ سنان کو اپنے آگے بھیجا ۔ اُس نے ‘‘مرو’’ پہنچ کر وکیع بن ابی اسود
سے کہا بھیجا کہ ‘‘مجھے سے آ کر ملو۔’’ اُس نے انکار کر دیا ۔ عمر بن عبداﷲ سنان نے کہا: ‘‘ ارے بیوقوف! اپنے افسر کے استقبال کو جا ۔’’ اب ‘‘مرو’’ کے سربرآوردہ اور عمائدین مخلد بن یزید سے ملنے گئے اور اپنی سواریوں سے اُتر پڑے لیکن وکیع بن ابی اسود اپنے ساتھیوں کے ساتھ نہیں اُترا تو اُسے اُترنے پر مجبور کر دیا ۔ مخلد بن یزید نے آتے ہی وکیع بن ابی اسود کو قید کر دیا اور اُسے طرح طرح کی اذیتیں دینا شروع کردیں۔ قتیبہ مسلم کے قتل کے بعد وکیع بن ابی اسود نو یا دس مہینے خراسان کا گورنر رہا ۔ 97 ھجری میں یزید بن مہلب خراسان پہنچا
حضرت عُمر بن عبدالعزیز مُشیر ِ خاص
سلیمان بن عبدالملک نے اپنے چچا ذاد بھائی اور بہنوئی حضرت عُمر بن عبدالعزیز کو اپنا ‘‘مُشیر ِ خاص’’ بنا لیا تھا اور انہیں ہر وقت اپنے ساتھ رکھتا تھا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : سلیمان بن عبدالملک نے حضرت عُمر بن عبدالعزیز کو اپنا مشیر اور وزیر بنا لیا تھا ۔ وہ اُن سے کہا کرتا تھا: ‘‘ مجھے حکومت ضرور ملی ہے لیکن اُس کو چلانے میں تمہاری تدبیر کی ضرورت ہے ۔ اِس لئے مصلحت عامہ کے متعلق جو ضروری سمجھا کرو وہ مجھے کرنے کو کہا کرو اور خود بھی اِس کا خیال رکھو ۔ حجاج بن یوسف کے نائیبین کی معزولی اور اہل سخن کو آزاد کرانا انہی کا کام ہے ۔ اِسی طرح قیدیوں کی رہائی اور اہل عراق کو انعام و اکرام دلوانا بھی اور نمازوں کو اولین وقت میں پڑھوانے کا اہتمام کروانا بھی حضرت عُمر بن عبدالعزیز کے کام شمار ہوتے ہیں۔ قسطنطنیہ کے محاذ پر اُن ہی کے مشورہ سے سلیمان بن عبدالملک نے ملک شام اور ملک الجزیرہ سے ایک لاکھ بیس ہزار مجاہدین اور ملک مصر اور افریقہ سے ایک لاکھ مجاہدین بھیجے جس کا تفصیلی ذکر انشاء اﷲ آگے آئے گا ۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........!




