جمعرات، 13 جون، 2024

51 سلطنت امیہ Saltanat e Umayya 51



51 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 51


ا97 ھجری کا اختتام، حضرت حسن بن حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کا انتقال، موسیٰ بن نصیر کا انتقال، قسطنطنیہ پر حملہ کے لئے روانگی، قسطنطنیہ کا محاصرہ، دیلم کی فتح، جرجان کی فتح، ولی عہد’’بدلنے کی کوشش، 98 ھجری کا اختتام ، 98 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان، 99 ھجری : سلیمان بن عبدالملک کا انتقال، سلیمان بن عبدالملک کا استخارہ، حضرت عُمر بن عبدالعزیز کی ‘‘جانشینی’’، خاندان ِ بنو اُمیہ سے ‘‘فرمان ِ سلیمان’’ کی بیعت، ہشام بن عبدالملک کی بے چینی


97 ھجری کا اختتام


97 ھجری میں سلیمان بن عبداملک نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : سلیمان بن عبدالملک نے 97 ھجری میں مسلمانوں کو حج کرایا اور حاجیوں کے کثیر مجمع کو دیکھ کر حضرت عُمر بن عبدالعزیز سے کہا: ‘‘ تم دیکھ رہے ہو! یہ اﷲ کی بے حساب و بے شمار مخلوق یہاں موجود ہے ۔ اﷲ کے سوا اِس کا شمار کسی کو معلوم نہیں ہے ۔ اُس کے سوا کوئی بھی اِن کو رزق و صحت عطا نہیں کر سکتا ہے ۔’’ حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے کہا: ‘‘ اے امیر المومنین! آج یہ آپ کی رعایا ہیں اور کل کو یہ اﷲ کے سامنے آپ کے دشمن بھی ہو سکتے ہیں۔’’ یہ سن کر سلیمان بن عبدالملک رونے لگا اور بہت رویا اور پھر بولا: ‘‘ اِس کے لئے میں اﷲ سے استعانت طلب کرتا ہوں۔’’ جب حج مکمل کیا تو مکۂ مکرمہ کے گورنر طلحہ بن داؤد کو معزول کردیا اور عبدالعزیز بن عبداﷲ کو مکۂ مکرمہ کا گورنر بنادیا۔ابو بکر بن محمد انصاری مدینۂ منورہ کا گورنر تھا ۔یزید بن مہلب خراسان کا گورنر تھا اور اِس سال کے اختتام پر ملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا ناظم وہی تھا۔ 


حضرت حسن بن حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کا انتقال


اِس سال 97 ھجری میں حضرت حسن بن حسن بن علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت حسن بن حسن بن علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ کی کنیت ‘‘ابو محمد’’ ہے ۔ حضرت عبداﷲ بن جعفر بن علی رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ بنت حسین بن علی رضی اﷲ عنہا اور اُن کے بیٹے عبداﷲ کا بیان ہے کہ حضرت حسن بن حسن بن علی رضی اﷲ عنہ عبدالملک بن مروان کے پاس وفد کی شکل میں گئے تو اُس نے ان کی بہت تعظیم و تکریم کی اور حجاج بن یوسف کے مقابلے میں اُن کی مدد کی ۔ 


موسیٰ بن نصیر کا انتقال


اِس سال 97 ھجری میں موسیٰ بن نصیر کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : موسیٰ بن نصیر ایک عورت کا غلام تھا اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بنو اُمیہ کا غلام تھا ۔ موسیٰ بن نصیر نے تمام بلاد ِ مغرب (تمام مغربی شہروں) کو فتح کرڈالااور وہاں سے اتنا مال غنیمت اُس نے حاصل کیا جس کا شمار نہ تھا ۔اِس سلسلہ میں بہت سے دہشتناک مقامات سے اُس کا واسطہ پڑا ۔ موسیٰ بن نصیر لنگڑا تھا اور مشہور ہے کہ یہ

 19 ھجری میں پیدا ہوا تھا اور ‘‘عین التمر’’ کا باشندہ تھا ۔حضرت ابوبکرصدیق رضی اﷲ عنہ کے دور ِخلافت میں اِس کا باپ ملک شام میں جبل سمعیل کے قیدیوں میں تھا ۔ اِس کے باپ کا نام نصر تھا جس کو اُم الصغیر میں تبدیل کر لیا گیا ۔ شروع میں موسیٰ بن نصیر ،حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کے بحری بیڑہ میں شامل تھا اور بحری جنگوں میں حصہ لیتا تھا ۔ اُس نے قبرص کی جنگ لڑی اور وہاں اُس نے ‘‘الموغوسہ’’ اور ‘‘بانس’’ میں قلعہ بندیاں کر لیں اور وہاں 37 ھجری میں قبرص کے پورے علاقے کو فتح کرنے میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان کا نائب اور معاون بنا رہا ۔ جب مروان بن حکم ملک مصر میں داخل ہوا تو موسیٰ بن نصیر اُس کے ساتھ تھا ۔ مروان بن حکم نے اپنے بیٹے عبدالعزیز بن مروان کو ملک مصر کا گورنر بنادیا اور موسیٰ بن نصیر کو اُسی کے پاس چھوڑ دیا ۔ موسیٰ بن نصیر صاحب تدبیر ، ہوشیار ، بڑاباخبر اور باتدبیر انسان تھا ۔ امام بغوی کا بیان ہے کہ موسیٰ بن نصیر کو بلاد افریقہ میں 69 ھجری میں گورنر بنا دیا گیا تھا ۔ جس کے بعد اُس نے تمام ممالک اور اقالیم فتح کر لئے ۔ اِن میں پورا افریقہ(آج کل کا شمالی افریقہ) اور اندلس (اسپین) بھی شامل ہیں۔ اِس کے ہاتھ بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کیا ہے اور اِس نے بہت زیادہ دین اسلام کی تبلیغ کی ہے ۔ موسیٰ بن نصیر کہا کرتا تھا :‘‘ اگر اﷲ تعالیٰ نے مجھے موقع دیا تو میں ضرور رومی شہروں کو فتح کروں گا ۔’’ لیکن ولید بن عبدالملک کے مرنے کے بعد اُس کا بھائی سلیمان بن عبدالملک سلطنت ِ اُمیہ کا حکمراں بنا اور وہ موسیٰ بن نصیر سے ناراض ہو گیا اور اُس نے اُسے قید خانے میں ڈال دیا ۔ یہاں تک کہ جب سلیمان بن عبدالملک حج کرنے مکۂ مکرمہ آیا تو موسیٰ بن نصیر کو بھی ساتھ لیکر آیا ۔ حج مکمل کرنے کے بعد سلیمان بن عبدالملک مدینۂ منورہ پہنچا تو موسیٰ بن نصیر کا انتقال ہوگیا اور اُسے وہیں ‘‘وادئ القریٰ’’ میں دفن کر دیا گیا۔اُس کی عُمر اسی (80) سال کی تھی ۔ 


قسطنطنیہ پر حملہ کے لئے روانگی


اِس سال 98 ھجری میں مسلمانوں نے قسطنطنیہ پر حملہ کیا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : امام واقدی کا بیان ہے کہ جب سلیمان بن عبدالملک حکمراں بنا تو اُس نے بیت المقدس میں قیام کا ارادہ کیا تاکہ وہاں سے ‘‘قسطنطنیہ’’ فوجوں کی کمک بھیجتا رہے ۔ حالانکہ اُسے کافی پہلے موسیٰ بن نصیر نے مشورہ دیا تھا :‘‘ ‘‘قسطنطنیہ’’ فتح کرنے سے پہلے اُس کے آس پاس کے چھوٹے چھوٹے شہر اور قلعے فتح کرنا ضروری ہیں۔ اِس طرح قسطنطنیہ کی رسد و کمک بند ہوجائے گی اور اُسکی فتح آسان ہو جائے گی اور قسطنطنیہ کے باشندے اُسے آسانی سے مسلمانوں کے حوالے کر دیں گے ۔’’لیکن جب سلیمان بن عبدلملک نے اپنے بھائی مسلمہ بن عبدلملک سے مشورہ کیا تواُس نے کہا:‘‘ قسطنطنیہ فتح ہوجائے گا تو دوسرے شہروں پر خود ہی بآسانی قبضہ ہو جائے گا ۔’’ سلیمان بن عبدالملک کو یہ مشورہ مناسب لگا اور اُس نے تیاری شروع کر دی ۔اُس نے خشکی کے راستے سے ایک لاکھ بیس ہزار اور بحری راست سے ایک لاکھ بیس ہزار مجاہدین کو بہت سا ساز و سامان اور تحفے و تحائف دے کر بھیجا اور انہیں ‘‘قسطنطنیہ’’ فتح کرنے کی تاکید کی ۔ اِس کے بعد سلیمان بن عبدالملک بیت المقدس سے چل کر دمشق آیا اور وہاں بھی اُس نے بہت بڑا لشکر تیار کیا اور اُن سب کا سپہ سالار اپنے بھائی مسلمہ بن عبدالملک کو بنایا۔ ساتھ ہی صبر واستقامت کی تلقین بھی کی اور مسلمہ بن عبدالملک کو یہ مشورہ دیا کہ اپنے ساتھ مشورہ میں ‘‘یون’’ کو شامل رکھنا ۔


قسطنطنیہ کا محاصرہ


سلیمان بن عبدالملک نے ایک بہت ہی بڑا لشکر جرّار قسطنطنیہ فتح کرنے کے لئے بھیجا اور اُس نے قسطنطنیہ کا محاصرہ کر لیا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : مسلمہ بن عبدالملک ایک بہت بڑا لشکر جرار لیکر قسطنطنیہ پہنچ گیا ۔ وہاں کے باشندوں نے مسلمہ بن عبدالملک سے صلح کرنا چاہی مگر اُس نے انکار کر دیا اور کہا: ‘‘ میں قسطنطنیہ کو شمشیر کے ذریعے فتح کروں گا ۔’’ اِس پر شہر کے مکینوں نے کہا: ‘‘ اچھا تو ہمارے پاس ‘‘یون’’ کو بھیج دو ۔’’ جب وہ آیا تو انہوں نے کہا: ‘‘ تم ‘‘بلطائف

 الحیل’’ تک مسلمانوں کو یہاں سے ہٹا لے جاؤ، پھر ہم تم کو اپنا بادشاہ بنا لیں گے ۔’’ اِس پر یون مسلمہ بن عبدالملک کے پاس آیااور بولا: ‘‘ شہر کے باشندوں کا کہنا ہے کہ ہم مسلمہ بن عبدالملک کو شہر اُس وقت حوالے کریں گے جب وہ شہر کے باہر رہیں گے ۔ پہلے تو مسلمہ بن عبدالملک کو یون کی غداری کا شک ہوا لیکن پھر اُس کی چکنی چپڑی باتوں میں آ کر شہر پر حملہ نہیں کیا نتیجتاً یون اِس مرتبہ قسطنطنیہ کو مسلمانوں سے بچانے میں کامیاب اور مسلمہ بن عبدالملک صرف قسطنطنیہ کے محاصرہ پر ہی اکتفا کرنے پو مجبور ہوگیا۔ 


دیلم کی فتح


اِس سال یزید بن مہلب لشکر لیکر چین کے قریب روسی ترکستان گیا اور وہاں پر جرجان فتح کیا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال یزید بن مہلب نے ارض چین کے علاقہ کے شہر ‘‘قبستان’’ کا محاصرہ کر کے سخت جنگ کی ۔ یہ محاصرہ اُس وقت تک جاری رہا جب تک وہاں کے لوگوں نے ہتھیار نہ ڈال دیئے ۔ اِس جنگ میں چار ہزار ترک قتل ہوئے یہاں پر مسلمانوں کو بہت سا مال غنیمت اور بکثرت مال و اسباب اور قیمتی اشیاء میں۔ اِس کے بعد یزید بن مہلب جرجان کی طرف بڑھا جس کے حکمراں سے مسلمانوں کی ‘‘دیلم’’ میں زبردست جنگ ہوئی ۔ اِس موقع پر عبدالرحمن بن سبرہ جعفی شہسوار نے بڑی بہادری دکھائی اور دیلم کے حکمراں کو قتل کردیا ۔اِس معرکہ میں اُس کی بہادری دیکھ کر ترک حیران رہ گئے ۔ ایک ترک سپاہی نے اُس کے خود پر تلوار سے وار کیا اور تلوار خود میں گھس گئی اُسی وقت عبدالرحمن بن سبرہ نے پلٹ کر اُس ترک پر ایسی تلوار ماری کہ اُس کا سر اُڑ گیا ۔ اِس کے بعد جب عبدالرحمن بن سبرہ مسلمانوں کی طرف پلٹا تو اُس کے ہاتھ میں خون آلود تلوار تھی اور اُس کے خود میں سپاہی کہ تلوار دھنسی ہوئی تھی ۔ اِس منظر کو دیکھ کر یزید بن مہلب نے کہا: ‘‘ میں نے ایسا دلکش منظر آج تک اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا ،یہ کون شخص ہے؟’’ لوگوں نے کہا: ‘‘ یہ عبدالرحمن بن سبرہ ہے ۔’’


جرجان کی فتح


دیلم میں فتح حاصل کرنے کے بعد یزید بن مہلب آگے بڑھا اور جرجان پر حملہ کر دیا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : پھر یزید بن مہلب نے جرجان کا محاصرہ کر لیا اور وہاں کے حکمراں کو محاصرہ سے اتنا تنگ کیا کہ وہ سات لاکھ درہم ، چار لاکھ دینار ، دولاکھ کپڑوں ، چارسو گدھے ، زعفران ، چار سو آدمی اور ہر آدمی کے سر پر زرہ بکتر کے ساتھ سبز چوغے اور چاندی کے جام وغیرہ دے کر صلح کر لی ۔ اِس سے پہلے اِس شہر کے باشندوں نے سعید بن عاص سے صلح کی تھی اور پہلے سال ایک لاکھ درہم ، دوسرے سال دو لاکھ درہم اور تیسرے سال تین لاکھ درہم جزیہ پر صلح کی تھی ۔ لیکن پھر انہوں نے صلح کو توڑ دیا تھا جس کے نتیجے میں انہیں یہ ذلت اُٹھانی پڑی ۔ اِس کے بعد یزید بن مہلب نے خورستان فتح کرنے کا ارادہ کیا اور ‘‘مقدمۃ الجیش’’ کے طور پر اپنے چار ہزار مجاہدین کو بھیجا لیکن وہاں سخت جنگ ہوئی اور کافی مجاہدین شہید ہو گئے ۔ اب یزید بن مہلب نے اپنے لشکر کے ساتھ اُس پر زبردست حملہ کیا اور بہت سے کافروں کا قتل عام کیا ۔آخر کار شہر والوں نے ہتھیار ڈال دیئے اور اُن کے حکمراں نے صلح کی درخواست کی جسے یزید بن مہلب نے قبول کر لیا ۔ اُس نے سات لاکھ دینار اور بہت سی قیمتی اشیاء بھی دیں۔


ولی عہد’’بدلنے کی کوشش


سلیمان بن عبدالملک نے اِس سال ‘‘ولی عہد’’ بدلنے کی کوشش کی ۔ اِس سے پہلے اُس کے والد عبدالملک بن مروان نے اپنے بھائی کی جگہ اپنے بیٹے کو ‘‘ولی عہد’’ بنانے کی کوشش کی تھی ۔ اور اس کے بھائی ولید بن عبدالملک نے بھی اپنے بھائی کی جگہ اپنے بیٹے کو ‘‘ولی عہد’’ بنانے کی کوشش کی اور سلیمان بن عبدالملک نے بھی اپنے بھائی کی جگہ اپنے بیٹے کو ولی عہد بنانے کی کوشش کی لیکن یہ تنیوں ناکام رہے ۔ جب سلیمان بن عبدالملک نے دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے کو ‘‘ولی عہد’’ بنانے میں ناکام رہاتو اُس نے اپنے بھتیجے ‘‘حضرت عُمر بن عبدالعزیز ’’ کو ‘‘ولی عہد’’ بنا دیا جس کا تفصیلی ذکر انشاء اﷲ ہم آگے کریں گے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں :سلیمان بن عبدالملک کا ‘‘ولی عہد’’ اُس کا بھائی مروان بن عبدالملک تھا ۔ اُس کا انتقال ہوگیا تو ‘‘ولی عہد’’ یزید بن عبدالملک بن گیا ۔ سلیمان بن عبدالملک چاہتا تھا کہ اُس کے بھائی یزید بن عبدالملک کی جگہ اُس کا بیٹا ایوب بن سلیمان ‘‘ولی عہد’’ بن جائے ۔ اُس نے اِس بات کا ارادہ کیا اور ابھی مشورہ ہی کر رہا تھا کہ اُس کے بیٹے ایوب بن سلیمان کا انتقال ہو گیا ۔ اِس لئے اُس نے اپنے چچا ذاد بھائی اور بہنوئی حضرت عُمر بن عبدلعزیز کو اپنے کا ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کا حکمراں بنادیا۔


98 ھجری کا اختتام 


98 ھجری کا اختتام ہوا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال شہر صقالبہ فتح ہوا اور داؤد بن سلیمان نے رومیوں کے علاقہ میں جہاد کر کے قلعہ ‘‘ مراۃ’’ جو ملطیہ کے قریب واقع ہے اُسے فتح کیا ۔ اِس سال کے اختتام پر یزید بن مہلب خراسان کا گورنر تھا اور اُسنے سفیان بن عبداﷲ کندی کو بصرہ کا گورنر بنایا ۔ مدینہ منورہ کا گورنر وہی تھا جو پچھلے سال تھا اور مکۂ مکرمہ کا گورنر عبدالعزیز بن عبداﷲ تھا اور اُسی نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔ 


98 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان


اِس سال جن لوگوں کا انتقال ہوا اُن میں سے چند نام یہ ہیں۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 98 ھجری میں عبداﷲ بن عبداﷲ بن عتبہ کا انتقال ہوا۔ یہ ‘‘امام حجت’’ اور حضرت عُمر بن عبدالعزیز کے اُستاد تھے ۔ آپ نے کثیر صحابہ رضی اﷲ عنہم سے روایات بیان کی ہیں ۔ اِس سال ابو حفص نخعی اور حضرت عبداﷲ بن محمد بن حنفیہ کا بھی انتقال ہوا۔


99 ھجری : سلیمان بن عبدالملک کا انتقال


99 ھجری کے شروع ہونے کے چالیس یا پچاس دن بعد ہی سلیمان بن عبدالملک کا انتقال ہوگیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 99 ھجری میں ماہ ِ صفر المظفر کی بیس تاریخ کو شہر ‘‘وابق’’ علاقہ ‘‘قنسرین’’ میں سلیمان بن عبدالملک کا انتقال ہو گیا ۔ سلیمان بن عبدالملک ‘‘سلطنتِ اُمیہ’’ کا دوسال پانچ دن کم آٹھ مہینے حکمراں رہا ۔ بعض راویوں نے بیان کیا کہ دس صفر المظفر کا انتقال ہوا ۔ ایک روایت کے مطابق اُس نے دو سال سات مہینے اور دوسری روایت کے مطابق دو سال آٹھ مہینے حکومت کی ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ تین سال حکومت کی ۔ حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے نماز جنازہ پڑھائی ۔لوگ تذکرہ کرتے تھے کہ سلیمان بن عبدالملک کے حکمراں بنتے ہی ہمیں آرام و اطمینان نصیب ہوا اور حجاج بن یوسف سے نجات ملی۔ سلیمان بن عبدالملک نے حکمران بنتے ہی تمام قیدیوں کو رہا کر دیا تھا ۔ اسی نے حضرت عُمر بن عبدالعزیز کو اپنے بعد اپنا ‘‘جانشین’’ مقرر کر دیا تھا ۔مفضل بن مہلب کہتا ہے :‘‘ وابق میں ایک جمعہ کو میں سلیمان بن عبدالملک کے پاس گیا ۔ اُس نے ایک لباس منگا کر پہنا لیکن وہ اُسے پسند نہیں آیا ،پھر دوسرا منگوایا ،یہ سبز سوتی کپڑے کا تھا ۔ سلیمان بن عبدالملک نے اسے پہنا اور عمامہ باندھا اور مجھ سے پوچھا : ‘‘ تمہیں یہ لباس اچھا معلوم ہوتا ہے ؟’’ میں نے کہا: ‘‘ جی ہاں ۔ ’’ سلیمان بن عبدالملک نے اپنے دونوں مسلز دکھائے اور کہا: ‘‘ میں ایک بہادر اور نوجوان حکمراں ہوں۔’’ پھر جمعہ کی نماز پڑھی مگر اس کے بعد پھر جمعہ پڑھنا نصیب نہ ہوا ۔ اُس نے وصیت نامہ لکھا اور ‘‘مُہر دار’’ ابن ابی نعیم کو بلا کر اُس پر مُہر ثبت کر دی ۔ 


سلیمان بن عبدالملک کا استخارہ


سلیمان بن عبدالملک بن اپنے انتقال سے دو تین دن پہلے ایک بہت ہی ‘‘عظیم’’ فیصلہ کیا ۔ اِس فیصلے نے سلطنت اُمیہ کی شان کو بلند کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: رجا بن حیواۃ کہتے ہیں کہ ایک دن سلیمان بن عبدالملک نے باریک ریشم کا لباس زیب تن کیا اور آئینہ میں اپنی صورت دیکھ کر کہا: ‘‘ میں کیسا بہادر اور جوان حکمراں ہوں ۔’’ جمعہ کی نماز کو گیا ،نماز پڑھی اور گھر واپس نہیں آ سکا تھا کہ بخار چڑھ گیا

 ۔ جب طبیعت زیادہ خراب ہوئی تو اپنے ایک کمسن نابالغ لڑکے کے لئے ‘‘جانشینی’’ لکھ دی ۔ میں نے عرض کیا: ‘‘ امیر المومنین! یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ دوسری باتوں کے علاوہ ایک بات اور ہے جو ایک حکمراں کو ‘‘عذاب قبر’’ سے محفوظ رکھتی ہے وہ یہ ہے کہ اپنے بعد اﷲ کی مخلوق پر ایک نیک اور قابل شخص کو ‘‘جانشین’’ مقرر کر دے ۔’’سلیمان بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ میں استخارہ کر رہا ہوں اور اِس معاملہ پر غور کر رہا ہوں۔’’ یہ سن کر میں نے زیادہ زور نہیں ڈالا۔’’


حضرت عُمر بن عبدالعزیز کی ‘‘جانشینی’’


سلیمان بن عبدالملک نے اﷲ تعالیٰ سے استخارہ کیا اور اﷲ تعالیٰ نے اُس کی رہنمائی کی اور اُس نے اپنا آخری عمل وہ کیا جس سے اُس کی آخرت سنور گئی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : رجا بن حیواۃ آگے کہتے ہیں : ‘‘ ایک یا دو دن گذرا ہو گا کہ سلیمان بن عبدالملک نے اپنے کمسن بیٹے کی ‘‘جانشینی’’ کا فرمان پھاڑ ڈالا اور مجھے بلایا اور اپنے بیٹے داؤد بن سلیمان کے بارے میں میری رائے دریافت کی ۔ میں نے کہا: ‘‘ وہ اِس وقت قسطنطنیہ میں جنگ میں مصروف ہے اور آپ کو یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ زندہ ہے یا نہیں۔’’ سلیمان بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ اچھا تم کوئی نام پیش کرو۔’’ میں نے اِس خیال سے کہ دیکھوں کہ کس کا نام خود سے لیتے ہیں عرض کیا: ‘‘ جناب ہی کی رائے رائے ہے ،آپ خود انتخاب فرمائیں۔’’ اِس پر اُس نے کہا:‘‘ اچھا! عُمر بن عبدالعزیز کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ ’’میں نے کہا: ‘‘ میں اُنہیں نہایت ہی نیک ، علم و فاضل اور اِس ‘‘بار ِ گراں’’ کو اُٹھانے کا اہل سمجھتا ہوں۔’’ سلیمان بن عبدالملک بن کہا: ‘‘ بس تو میرے بعد وہی حکمراں ہوں گے۔’’ اِس کے بعد سلیمان بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ اگر میں صرف اُنہیں کو اپنا ‘‘ولی عہد’’ نامزد کروں اور کسی اور کو نہ کروں تو اِس سے فساد ہو جانے کا اندیشہ ہے کیونکہ میرے خاندان والے اُس وقت تک عُمر بن عبدالعزیز کی ‘‘ولی عہدی’’ کو تسلیم نہیں کریں گے جب تک اُس کے بعد میں اُس کا ‘‘ولی عہد’’ بھی نامزد نہ کر جاؤں اور میں عُمر بن عبدالعزیز کے بعد یزید بن عبدالملک کو ‘‘ولی عہد’’ مقرر کئے دیتا ہوں۔ اِس طریقہ سے میرے خاندان والے خاموش ہو رہیں گے اور اُسے پسند کر لیں گے ۔ ’’ میں نے کہا: ‘‘ جناب والاکی رائے بہت ہی بہتر ہے ،ایسا ہی کیجیئے۔’’ 


خاندان ِ بنو اُمیہ سے ‘‘فرمان ِ سلیمان’’ کی بیعت


سلیمان بن عبدالملک نے حضرت عُمر بن عبدالعزیز اور اُن کے بعد کے حکمراں کے بارے میں فرمان لکھ کر مُہر لگا کر سیل کر دیا اور خاندان بنو ِاُمیہ سے اِس فرمان کے بارے میں بیعت لے لی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : رجا بن حیواۃ نے آگے کہا: ‘‘ پھر سلیمان بن عبدالملک نے یہ فرمان لکھا: ‘‘ بسم اﷲ الرحمن الرحیم! حمدو ثناء کے بعد! یہ فرمان سلیمان بن عبدالملک کی جانب سے عُمر بن عبدالعزیز کے نام لکھا جاتا ہے کہ تمہیں میں اپنے بعد مسلمانوں کا حکمراں مقرر کرتا ہوں اور تمہارے بعد یزید بن عبدالملک اِس منصب پر فائز ہوگا ۔ تما م لوگوں کو چاہیئے کہ وہ عُمر بن عبدالعزیز کی اطاعت و فرمانبرداری کریں اور اﷲ سے ڈرتے رہیں ۔ آپس میں پھوٹ نہ ڈالیں کہ ایسا نہ ہو کہ دشمن کو تمہارے خلاف کاروائی کی جرأت ہوجائے۔’’ فرمان پر مُہر لگا کر سیل کر دینے کے بعد سلیمان بن عبدالملک نے اپنے محافظ دستے کے افسر کو حکم دیا کہ تمام خاندان بنواُمیہ کو بلا لائے ۔ جب سب لوگ جمع ہو گئے تو سلیمان بن عبدالملک نے مجھ سے کہا: ‘‘ تم میرے اِس خط کو اُن کے سامنے لے جاکر کہہ دو کہ یہ میرا ‘‘فرمان’’ ہے ۔ جس شخص کو میں نے اپنا ‘‘جانشین ’’ نامزد کیا ہے اُس کا نام اِس میں لکھ دیا ہے ۔ آپ سب اُس کے لئے ‘‘حلف وفاداری’’ اُٹھائیں ۔’’ جب میں نے سر بمُہر فرمان اُن کے سامنے کیا تو سب کہنے لگے :‘‘ ہم امیر المومنین کے پاس جا کر انہیں سلام کرنا چاہتے ہیں۔’’ میں نے کہا: ‘‘ بہتر ہے۔’’ یہ سب کے سب سلیمان بن عبدالملک کے پاس آئے اور اُس نے فرمان کی طرف اشارہ کر کے اُس کے متعلق گفتگو کی اور کہا: ‘‘ رجا بن حیواۃ کے ہاتھ میں جو سر بمُہر فرمان ہے ،یہ میرا فرمان ہے ۔ آپ سب لوگ اِس کی تعمیل کریں اور جس شخص کو میں نے اپنا جانشین مقرر کر دیا ہے آپ اُس کے لئے حلف وفاداری اُٹھائیں۔’’ ہر شخص نے فرداًفرداً حلف وفاداری اُٹھایا اور میں نے وہ سر بمُہر فرمان سب کے سامنے کر دیا ۔


ہشام بن عبدالملک کی بے چینی


سلیمان بن عبدالملک نے کس کو اپنا ‘‘جانشین’’ بنایا ہے اِس معاملے میں ہر کوئی جاننے کے لئے بے چین تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : رجا بن حیواۃ آگے کہتے ہیں : ‘‘ ہشام بن عبدالملک مجھ سے آ کر ملا اور بولا: ‘‘ میرے اور تمہارے قدیم مراسم ہیں اور میں تمہارا بے حد شکر گزار ہوں گا اگر تم یہ بات مجھے بتا دو ۔ اگر یہ فرمان میرے متعلق ہے تو مجھے معلوم ہو جائے اور اگر کسی اور کے متعلق ہے تو مجھ جیسے شخص سے تم دریغ نہ کرو اور مجھے بتا دو۔ میں اﷲ کے سامنے عہد کرتا ہوں کہ کسی اور سے اِس کا تذکرہ نہیں کروں گا ۔’’ میں بتانے سے صاف انکار کر دیا اور کہہ دیا: ‘‘ یہ ایک راز ہے جو میرے سپرد کیا گیا ہے اور میں ایک حرف بھی نہیں بتا سکتا ۔’’ ہشام بن عبدالملک مایوس ہو کر واپس چلا گیا اور یہ کہتا جارہا تھا : ‘‘ اگر میں نہیں ہوں گا تو کون ہو گا ؟ کیا عبدالملک کی اولاد سے حکومت نکل جائے گی؟’’

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!


اتوار، 9 جون، 2024

52 سلطنت امیہ Saltanat e Umayya 52



52 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 52

حضرت عُمر بن عبدالعزیز کا دورِ حکومت، 


حضرت عُمر بن عبدالعزیز کی پریشانی، حکمراں بننے کے پہلا خطبہ، خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی اتباع، پہلا حکم اپنے آپ کواورگھر والوں کو، مملکت اسلامیہ میں پہلا فرمان، عبدالعزیز بن ولید کی اطاعت، خاندان اُمیہ کے مال کی ضبطی، یزید بن مہلب کے نام فرمان، مسلمہ بن عبدالملک کی واپسی، سندھ کے راجاؤں کا قبول اسلام، باغ فدک ‘‘بیت المال’’ میں جمع، مملکت اسلامیہ کے گورنروں کے نام فرمان، امیر المومنین کی خدمت میں اہل سمرقند کا وفد، اہل سغد مسلمانوں کے ساتھ


حضرت عُمر بن عبدالعزیز کی پریشانی


جب حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ کو یہ معلوم ہوا کہ سلیمان بن عبدالملک نے حکومت کا بوجھ اُن کے کاندھوں پر ڈال دیا ہے تو آپ رحمتہ اﷲ علیہ پریشان ہو گئے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : رجا بن حیواۃ آگے کہتے ہیں : پھر میں سلیمان بن عبدالملک کے پاس آیا تو دیکھا کہ اُس کا دم واپسیں تھا ۔ جب اُس پر سکرات طاری ہوئی تو میں نے قبلہ رُخ کروٹ کر دیا ۔ جب آنکھ کھولی تو کہا: ‘‘ رجا! ابھی وقت نہیں آیا ہے ۔’’میں دو مرتبہ ایسا کیا مگر تیسری مرتبہ سلیمان بن عبدالملک نے کہا : ‘‘ ہاں! اب میرا دم واپسیں ہے۔لو اب میں تمہارے سامنے پڑھتا ہوں:‘‘ اشھد ان لا الہ الا اﷲ واشھد ان محمد عبدہ و رسولہ۔’’ اِس کے بعد اِدھر میں اُس کو قبلہ رُخ کیا اور اُدھر اُس نے داعی اجل کو لبیک کہا۔ میں اُس کی دونوں آنکھیں بند کر دیں اور ایک سبز چادر اُڑھا دی اور دروازہ بند کر دیا ۔اُس کی بیوی نے خیریت دریافت کرائی تو میں نے کہہ دیا کہ سو رہے ہیں ۔ میں نے دروازے پر اپنے معتمد خاص کو بٹھایا اور کہا: ‘‘ جب تک میں نہ آجاؤں تب تک کسی کو اندر نہیں جانے دینا۔’’ اِس کے بعد میں نے سلیمان بن عبدالملک کے محافظ دستے کے افسر کعب بن حامد عبسی کو بلایا اور اُس نے سب کو وابق کی مسجد میں جمع کر دیا ۔ میں نے سب کو سر بہمُہر فرمان دکھایا اور کہا: ‘‘ اِس شخص کے لئے آپ سب بیعت کریں۔’’ جب سب نے بیعت کر لی اور معاملہ پختہ ہو گیا تو میں نے سلیمان بن عبدالملک کی موت کا اعلان کر دیا ۔ سب نے خبر سن کر انا ﷲ وانا الیہ راجعون پڑھا ۔ پھر میں نے سب کے سامنے اُس فرمان کی سیل توڑی اور کھول کر پڑھنے لگا۔ جب میں حضرت عُمر بن عبدالعزیز کے نام پر پہنچا تو ہشام بن عبدالملک نے چلا کر کہا :‘‘ میں ہرگز اس کے ہاتھ پر بیعت نہیں کروں گا ۔’’ میں نے ڈانٹا اور کہا: ‘‘ میں تمہاری گردن مار دوں گا ، کھڑے ہوجاؤ اور بیعت کرو ۔’’ ہشام بن عبدالملک لڑکھڑاتے ہوئے اُٹھا اور بیعت کی ۔حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ کا یہ حال تھا کہ حکومت کے بوجھ کی شدت کا احساس کر کے دم بخود بیٹھے تھے ۔میں نے اُن کو دونوں بازوؤں سے پکڑ کر منبر پر بٹھا دیا ۔ حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ اِس ‘‘بار ِ گراں’’ کی ذمہ داریوں کے خیال سے انا ﷲ وانا الیہ راجعون پڑھتے جارہے تھے اور ہشام بن عبدالملک اپنی ناکامی پر۔ اِسی لئے جب ہشام بن عبدالملک بیعت کرنے کے لئے اُن کے پاس پہنچا تو حضرت عُمر بن عبدالعزیز اِس بات پر اظہار افسوس کر رہے تھے کہ اپنی مرضی کے خلاف میں اِس مصیبت میں گرفتار ہو گیا ہوں اور ہشام بن عبدالملک اپنی ناکامی پر اظہار افسوس کر رہا تھا ۔


حکمراں بننے کے پہلا خطبہ


حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ پر‘‘ سلطنت اُمیہ’’ کی ذمہ داری ڈال دی گئی تو آپ بہت زیادہ فکرمند ہوگئے ۔ امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں : عمر بن ذر کہتے ہیں کہ جب حضرت عُمر بن عبدالعزیز ، سلیمان بن عبدالملک کو دفن کر کے واپس آئے تو آپ کے غلام نے کہا: ‘‘ آپ آج اتنے رنجیدہ اور فکر مند کیوں ہیں ؟’’ آپ نے فرمایا: ‘‘ آج اگر اِس دنیا میں کوئی رنجیدہ اور فکر مند ہو سکتا ہے تو وہ میں ہوں ۔میں چاہتا ہوں کہ اِس سے پہلے کہ کوئی حقدار مجھ سے اپنا حق مانگے ،میں اُس سے پہلے ہی اُسے پہنچا دوں۔’’ عمر بن مہاجر سے روایت ہے کہ مملکت اسلامیہ کے حکمراں بننے کے بعد حضرت عُمر بن عبدالعزیز لوگوں کے سامنے کھڑے ہوئے اور اﷲ تعالیٰ کی حمد و ثناء اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پر دورد و سلام کے بعد خطبہ ارشاد فرمایا: ‘‘ اے لوگو! اﷲ کی کتاب (قرآن پاک) کے بعد کوئی کتاب نہیں آئے گی اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد دنیا میں کوئی نبی نہیں آئے گا۔تمہیں معلوم ہونا چاہیئے کہ میں لوگوں پر احکام فرض کرنے والا نہیں ہوں بلکہ اُن کا نفاذ کرنے والا ہوں۔ اِسی طرح میں کسی امر کا مؤجد نہیں ہوں بلکہ اپنے اسلاف (خلفائے راشدین )کا متبیع اور پیروی کرنے والاہوں میْں تم میں سے کسی سے افضل نہیں ہوں اور نہ ہی تم سے بہتر ہوں ۔ہاں مجھ پر بوجھ تم سے زیادہ آن پڑا ہے ۔ اگر کوئی شخص ظالم امام سے فرار اختیار کرے تو وہ شخص ظالم نہیں ہے اِس لئے اطاعت خالق کی ہے اور مخلوق کی اطاعت نہیں ہے ۔"


خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی اتباع


حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ اپنی حکومت کے ہر کام میں خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی اتباع کرنے کی کوشش کرتے تھے ۔امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں: امام زہری فرماتے ہیں :‘‘ حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے سالم بن عبداﷲ کے نام ایک خط لکھا اور اُس خط میں اُنہوں نے دریافت کیا کہ خلیفۂ دُوم حضرت عِمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا صدقات کے بارے میں کیا طریقہ تھا ۔سالم بن عبداﷲ نے سوال کے مطابق جواب لکھ کر بھیجا اور آگے یہ بھی لکھا :‘‘ امیرالمومنین! اگر آپ نے لوگوں کے ساتھ وہی عمل اور برتاؤ کیا جو خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کرتے تھے تو انشاء اﷲ آپ اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے زیادہ اجر کے مستحق ہوں گے ۔’’ 


پہلا حکم اپنے آپ کواورگھر والوں کو


حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ نے حکمراں بنتے ہی سب سے پہلا حکم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو دیا اور شروعات اپنی بیوی سے کی ۔ آپ کی بیوی شہزادی تھی اور عبدالملک بن مروان کی بیٹی تھی ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : تکمیل بیعت کے بعد حضرت عُمر بن عبدالعزیز اپنے گھر آئے اور اپنی بیوی فاطمہ بنت عبدالملک سے فرمایا: ‘‘ تمام مال و اسباب ، زیور ، جواہر اور قیمتی کپڑے جو تمہارے ہوں وہ سب بیت المال میں بھیج دو ۔ میں اور یہ( یعنی مسلمانوں کا مال) ایک مکان میں نہیں رہ سکتے ۔’’ آپ کی بیوی فاطمہ بنت عبدالملک نے نہایت خوشی سے اِس حکم کی تعمیل کی ۔ پس جب اُس کا بھائی یزید بن عبدالملک حکمراں بنا تو اُس نے بیت المال سے بہن کا مال و اسباب جس کو حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے جمع کرا دیا تھا واپس کیا لیکن انہوں نے لینے سے انکار کر دیا اور فرمایا: ‘‘ جب میں اُن کی زندگی میں اُن کی اطاعت کرتی تھی تو اُن کے انتقال کے بعد بھی کروں اُن کی اطاعت کروں گی ۔’’ یزید نے اُس مال کو اپنے اہل و عیال کو دے دیا ۔


مملکت اسلامیہ میں پہلا فرمان


حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ نے حکمراں بننے کے بعد پوری مملکت اسلامیہ میں ا پنا پہلا فرمان بھیجا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : رجا بن حیواۃ آگے بیان کرتے ہیں : پھر سلیمان بن عبدالملک کو غسل دیا گیا ،کفنایا گیا اور حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ نے نماز جنازہ پڑھائی ۔سلیمان بن عبدالملک کی تجہیز و تکفین سے فارغ ہونے کے بعد اُسکی سواری کے تمام جانور سائیس کے ساتھ آپ کے سامنے پیش کئے گئے ۔انہوں نے پوچھا: ‘‘ یہ کیا ہے؟’’ کہا گیا :‘‘ یہ مملکت اسلامیہ کے حکمراں کی سواریاں ہیں۔ ’’ حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا: ‘‘ میرا ایک گھوڑا ہی میری سواری کےلئے کافی ہے ۔’’ یہ فرما کر آپ اپنے ہی گھوڑے پر سوار ہوئے اور تمام جانوروں کو واپس کر دیا ۔ اِس کے بعد لوگوں نے کہا :‘‘ اُسی مکان میں چلیئے جہاں سابق حکمراں رہتے تھے ۔آپ نے فرمایا: ‘‘ اس میں ایوب بن سلیمان کے اہل و عیال ہیں ۔میرے لئے میرا خیمہ ہی کافی ہے ۔’’ شام کے وقت مجھ سے فرمایا: ‘‘ منشی کو بلواؤ۔’’ سواری کے جانوروں کے بارے جو طرز عمل آپ نے اختیار کیا تھا اُس سے مجھے بہت خوشی ہوئی تھی ۔ میں نے دل میں کہا: ‘‘ دیکھیں اب کیا کرتے ہیں؟ سب کے نام ایک ہی خط لکھواتے ہیں یا پھر الگ الگ لکھواتے ہیں۔’’ جب منشی سامنے آیا تو اپنے منہ سے بول کر ایک خط جو نہایت ہی جامع و مانع اور بلیغ تھا لکھوایا اور فرمایا :‘‘ اِس کا ایک ایک نسخہ تمام شہروں کو بھیج دیا جائے ۔ ’’


عبدالعزیز بن ولید کی اطاعت


ولید بن عبدالملک کے بیٹے عبدالعزیز بن ولید کو جب سلیمان بن عبدالملک کے انتقال کی اطلاع ملی تو اُس نے اپنی حکمرانی کا اعلان کیا لیکن جب اُسے معلوم ہوا کہ سلیمان بن عبدالملک اپنا ‘‘جانشین ’’ نامزد کر گیا ہے تو اُس نے اطاعت کر لی ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عبدالعزیز بن ولید کو جب سلیمان بن عبدالملک کے مرنے کی اطلاع ملی تو اُسے یہ بات معلوم نہیں تھی کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کو حکمراں بنایا گیا ہے اور خود سلیمان بن عبدالملک نے انہیں نامزد کیا ہے تو اُسنے اپنی حکمرانی کا اعلان کر دیا ۔مگر جب اُسے معلوم ہوا کہ تمام لوگ حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ کی بیعت کر چکے ہیں تو یہ آپ سے ملنے کے لئے آیا ۔ آپ نے اُس سے فرمایا: ‘‘ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم نے اپنے حکمراں ہونے کا اعلان کیا ہے اور زبردستی دمشق میں داخل ہونا چاہتے ہو؟’’ عبدالعزیز بن ولید نے کہا: ‘‘ بے شک یہ صحیح ہے! مگر مجھے یہ معلوم ہواتھا کہ سلیمان بن عبدالملک نے کسی کو اپنا ‘‘جانشین’’ نامزد نہیں کیا ہے ۔ اِس بنا پر میں نے سوچا کہ اگر میں اپنی حکمرانی کا اعلان نہیں کروں گا تو ہمارا مال و متاع لوٹ لیا جائے گا۔’’ حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا: ‘‘ خیرکیا ڈر ہے؟ اگر تم بیعت لے لیتے اور حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے لیتے تو میں تم سے نہیں جھگڑتا بلکہ خاموش اپنے گھر بیٹھ جاتا۔’’ عبدالعزیز بن ولید نے کہا :‘‘ کاش ! تمہارے سوائے کوئی اور حکمراں نامزد کیا جاتا تو میں اُس سے نپٹ لیتا ۔’’ پھر اُس نے حضرت عُمر بن عبدالعزیز کے ہاتھ پر بیعت کر لی ۔ رجا بن حیواۃ کہتے ہیں کہ پہلے ہی سے اِس بات کی توقع تھی کہ سلیمان بن عبدالملک اپنے بیٹوں کو حکومت کے حق سے محروم کر دے گا ۔


خاندان اُمیہ کے مال کی ضبطی


حضرت عُمر بن عبدالعزیز جب مملکت اسلامیہ کے حکمراں بنے تو سب سے پہلے اپنا اور اپنی بیوی کا مال و اسباب ‘‘بیت المال’’ میں جمع کرادیا۔پھر اپنے خاندان ‘‘بنو ا’میہ’’ کا تمام مال و اسباب ‘‘بیت المال’’ میں جمع کرادیا۔امام جلا الدین سیوطی لکھتے ہیں : لیث کا بیان ہے کہ جب حضرت عُمر بن عبدالعزیز مملکت ِ اسلامیہ کے حکمراں بنے تو سب سے پہلے آپ نے اپنے گھر کے لوگوں ،رشتہ داروں اور خاندان کے لوگوں (خاندان ِ اُمیہ) کے مال و سباب کی جانچ پڑتال کی اور اُن کے پاس جو ضرورت سے زیادہ مال و اسباب تھا وہ اُن سے لیکر ‘‘بیت المال’’ میں جمع کرادیا۔ اسماء بن عبید روایت کرتے ہیں کہ عتبہ بن سعید بن عاص اپنی شکایت لیکر حضرت عُمر بن عبدالعزیز کے پاس آیا اور بولا: ‘‘ اے امیر المومنین! آپ سے پہلے جو بنو اُمیہ کے حکمراں گذرے ہیں وہ ہم کو مال و اسباب سے نوازا کرتے تھے اور آپ نے یہ سلسلہ بند کر دیا اور ہمارے پاس جو مال و اسباب تھا وہ بھی ‘‘بیت المال’’ میں جمع کرادیا ۔ میرے پاس کچھ زمینیں ہیں اگر آپ اجازت دیں تو میں اُس کی آمدنی سے اتنا لے لیا کروں جو میرے اور میری اہل و عیال کے اخراجات کے لئے کافی ہو ۔’’ آپ نے فرمایا :‘‘ اے عتبہ بن سعید! تم اپنی محنت و مشقت سے جو کماؤ وہ تمہارا ہے ۔تم موت کو زیادہ یاد کیا کرو تاکہ اگر تم تنگدست ہو تو اُس میں وسعت پیدا کرو اور اگر تم کو وسعت و فراغی میسر ہے تو تم تنگی محسوس کرو۔’’ 


یزید بن مہلب کے نام فرمان


حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے سب سے پہلا فرمان ملک عراق اور خراسان کے گورنر یزید بن مہلب کے لکھا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : امیر المومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے حکومت سنبھالتے ہی یزید بن مہلب کو یہ خط لکھا: ‘‘ حمد وثناء کے بعد! سلیمان بن عبدالملک بھی اﷲ کے بندوں میں سے ایک بندہ تھے اور اﷲ نے اپنا انعام اُن پر فرمایا اور پھر اُسے واپس لے لیا ۔انہوں نے مجھے اور میرے بعد یزید بن عبدالملک کو اپنا ‘‘جانشین’’ بنایا ہے ۔ جس اہم خدمت کا بوجھ اﷲ تعالیٰ نے میرے کندھوں پر ڈال دیا ہے اُس کا اُٹھانا آسان کام نہیں ہے ۔ اِس منصب پر فائز ہونے سے میرا مقصد زر اور زن کا شوق نہیں ہے ۔ اگر یہ ہوتا تو جو اس سے پہلے مجھے میسر تھا وہی اِس قدر ہے کہ روئے زمین پر کسی اور کو میسر نہیں تھا ۔ میں ہر وقت ڈرتا رہتا ہوں کہ جو کام میرے سپرد ہے اُس کا مجھ سے سخت حساب لیا جائے گا اور باز پرس کی جائے گی سوائے اُن کے جو باتیں اﷲ معاف کر دے۔ یہاں کے تمام مسلمانوں نے میرے ہاتھ پر بیعت کر لی ہے اب تم بیعت کرو۔’’جب یہ خط یزید بن مہلب کو ملا تو اُس نے ابوعینیہ کو دیا اُس نے پڑھ کر کہا: ‘‘ میں اس کے حمایتیوں میں سے نہیں ہوں ۔’’ یزید بن مہلب نے وجہ دریافت کی تو اُس نے کہا:‘‘ یہ تحریر اُس کے خاندان کے پیشروؤں کی سی نہیں ہے ۔ یہ شخص اُن کے طرز عمل پر کاربند نہیں ہونا چاہتا ہے ۔’’ یزید بن مہلب نے خراسان کی عوام سے امیر المومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز کے لئے بیعت لی ۔ اِس کے بعد امیر المومنین نے یزید بن مہلب کو لکھا : ‘‘ خراسان پر کسی شخص کو اپنا نائب مقرر کر کے تم خود میرے پاس آؤ۔’’ یزید بن مہلب نے اپنے بیٹے مخلد کو اپنا قائم مقام بنایا اور خود امیر المومنین کے پاس حاضر ہونے کے لئے روانہ ہو گیا ۔ 


مسلمہ بن عبدالملک کی واپسی


مسلمہ بن عبدالملک مسلسل بلاد ِ روم میں جہا دمیں مصروف تھااور قسطنطنیہ کا محاصرہ کئے ہوئے تھا ۔ اُسے حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے واپس بلا لیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں:اِس سال ۹۹ ؁ ھجری میں حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ نے مسلمہ بن عبدالملک کے پاس قاصد بھیجا اور حکم دیا کہ تمام مسلمانوں کو لیکر واپس آجاؤ۔اُن کے لئے عمدہ عمدہ گھوڑے اور بہت سا خوراک کا سامان بھی بھیجا اور لوگوں کو اُن کی امداد کی ترغیب دلائی ۔ اِس سال ترکوں نے آذربائیجان پر حملہ کیا اور مسلمانوں کی ایک جماعت کو لوٹ لیا اور انہیں قتل کر ڈالا ۔ امیر المومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے ترکوں کی سرزنش کے لئے ابن حاتم بن نعمان باہلی کا بھیجا ۔ اُس نے ترکوں میں سے اکثر کو قتل کردیا اور بہت تھوڑے سے آذربائیجان چھوڑ کر بھاگ سکے اور پچاس ترک قیدی مقام‘‘ خناضرہ’’ میں حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ کے پاس لائے گئے ۔



سندھ کے راجاؤں کا قبول اسلام


اِس سال 99 ھجری میں امیر المومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے سندھ کے راجاؤں کو اسلام کی دعوت دی اور اُنہوں نے اسلام قبول کیا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : سلیمان بن عبدالملک نے حبیب بن مہلب کو ملک سندھ ( ہندوستان) کی گورنری کی سند دے کر بھیجا ۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ سندھ کے راجاؤں نے اپنے اپنے ممالک پر پھر سے قبضہ کر لیا تھا اور راجہ حبشہ بن داہر ‘‘برہمتا باد’’ واپس آیا تھا ۔ حبیب بن مہلب نے مہران کے کنارے پر قیام کیا ۔ اہل رود نے حاضر ہو کر اطاعت قبول کر لی اور جو لوگ لڑے اُن کو حبیب بن مہلب نے شکست دی ۔ اِسی دوران سلیمان بن عبدالملک کا انتقال ہو گیا اور حضرت عُمر بن عبدالعزیز مسلمانوں کے امیر المومنین بن گئے ۔ حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے سندھ کے راجاؤں کو اسلام کی دعوت دی اور اسلام قبول کرنے پر اُن کا ملک اور جائداد دینے اور مسلمانوں جیسا مساویانہ برتاؤ کرنے کا وعدہ کیا ۔ اِس تحریر کے مطابق راجہ حبشہ بن داہر سمیت سندھ کے راجاؤں نے اسلام قبول کیا اور اپنے غیر اسلامی نام تبدیل کر کے اسلامی عربی نام رکھ لئے ۔


باغ فدک ‘‘بیت المال’’ میں جمع


حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ نے ‘‘باغ فدک’’ کو بیت المال میں جمع کرادیا ۔ امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں : مغیرہ بن شعبہ سے مروی ہے کہ جب حضرت عُمر بن عبدالعزیز حکمراں بنے تو آپ نے بنو اُمیہ کو جمع کیا اور فرمایا: ‘‘ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس باغ فدک تھا اور اُس کی آمدنی سے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم بنو ہاشم کے کمسن بچوں کی پرورش اور بنو ہاشم کی بیواؤں کے نکاح ثانی اور ضرورتوں میں اس کی آمدنی کو خرچ فرمایا کرتے تھے ۔جب سیدہ فاطمہ زہراء رضی اﷲ عنہا نے وہ باغ فدک آپ صلی اﷲ علیہ وسلم سے مانگا تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے انکار کر دیا ۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہم کے زمانے میں بھی یہی طریقہ جاری رہا لیکن مروان بن حکم نے باغ فدک کو اپنی ملکیت میں لے لیا اور اب وہ ترکہ مجھے ملا ہے ۔ اب میں سوچ رہا ہوں کہ جس چیز کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ زہراء رضی اﷲ عنہ کو دینے سے انکار کر دیا تو اُس کو اپنے قبضہ میں رکھنے کا مجھے کوئی حق نہیں ہے ۔ اِس لئے میں آپ سب کو اِس پر گواہ بناتا ہوں کہ مں نے باغ فدک کو بالکل اُسی حالت میں چھوڑ دیا جس طرح رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے چھوڑا تھا ۔’’ 


مملکت اسلامیہ کے گورنروں کے نام فرمان


امیر المومنین حضرت عِمر بن عبدالعزیز نے مملکت اِسلامیہ کے گورنروں کے نام فرمان لکھا کہ عوام کا ہر طرح سے خیال رکھا جائے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے سلیمان بن ابی سری کو لکھا : ‘‘ تم اپنے ماتحت علاقہ کے تمام شہروں کے لئے ‘‘سرائیں’’ ( مسافر خانے’’ بنواؤ۔جو مسافر تمھارے علاقے سے گذریں تو ایک دن ایک رات اُن کی مہمانداری کرو ۔اُن کے سواری کے جانوروں کی دیکھ بھال کرو ۔اگر کوئی بیمار ہو تو دو دن اور دو راتیں اُسے مہمان رکھو اور اگر اُس کی سواری کا جانور ہلاک ہوجائے اور اس کے پاس روپیہ نہ ہو تو تم اُسے دوسرا خرید کر دو جس سے وہ اپنے شہر پہنچ جائے ۔’’ 


امیر المومنین کی خدمت میں اہل سمرقند کا وفد


امیر المومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز کی خدمت میں اہل سمر قند کا وفد پہنچا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب امیر المومنین کا خط سلیمان بن ابی سری کو ملا تو اہل سمرقند نے کہا: ‘‘ قتیبہ بن مسلم نے ہمارے ساتھ دھوکہ کیا تھا اور ہم پر ظلم کیا تھا اور دھوکہ سے ہمارے شہروں پر قبضہ کیا تھا ۔ اب اﷲ تعالیٰ نے عدل و انصاف کو ظاہر کر دیا ہے ۔ آپ اجازت دیں کہ ہمارا ایک وفد امیر المومنین کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی شکایتیں پیش کرے ۔ اگر ہمارا حق ہو گا تو ہمیں مل ہی جائے گا کیونکہ ہمیں اس کی سخت ضرورت ہے ۔’’ سلیمان بن ابی سری نے درخواست منظور کر لی اور اہل سمرقند کا ایک وفد امیر المومنین کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اِس وفد سے ملاقات کرنے کے بعد امیر المومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے سلیمان بن ابی سری کو خط لکھا :‘‘ اہل سمرقند کے وفد نے مجھ سے اُن مطالم کی شکایت کی جو قتیبہ بن مسلم نے اُن پر ڈھائے تھے اور یہاں تک کہ انہیں اُن کے علاقے سے باہر نکال دیا تھا ۔ جب تمہیں میرا یہ خط ملے تو فوراً اُن کے فیصلہ کے لئے ایک قاضی مقرر کرو تاکہ وہ اُن کی شکایتیں سنے ۔ اگر وہ حق پر ہوں تو اُن کو اُن کی فوجی قیام گاہ میں چلے جانے کی اجازت دے دینا تاکہ وہی حالت پیدا ہوجائے جو اُن کے اور مسلمانوں کے درمیان قتیبہ بن مسلم کے اُن پر فتح پانے سے پہلے تھی ۔’’ الیمان بن ابی سری نے جمیع بن حاض کو اِس معاملہ کے لئے قاضی مقرر کیا ۔ جمیع نے فیصلہ کیا کہ تمام عرب سمرقند سے نکل جائیں اور اپنے فوجی پڑاؤ میں چلے جائیں اور پھر برابر کا مقابلہ ہو ۔چاہے اِس میں ‘‘تجدید صلح’’ ہو یا بزور شمشیر فتح کیا جائے ۔’’ 


اہل سغد مسلمانوں کے ساتھ


امیر المومنین کے حکم کے مطابق قاضی نے فیصلہ دے دیا لیکن اُسے اہل سغد نے لڑنے سے انکار کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے

 ہیں : مگر اِس فیصلہ پر اہل سغد نے کہا: ‘‘ ہم اپنی موجودہ حالت سے خوش ہیں اور دوبارہ جنگ و جدال میں مشغول نہیں ہونا چاہتے ۔ اِسی لئے فریقین اِس بات کو تسلیم کر لیا ۔ ان میں جو ‘‘اہل الرائے’’ تھے انہوں نے کہا: ‘‘ اب ہم عربوں کے ساتھ رہنے بسنے لگے ہیں اور ایک دوسر سے تعلقات پیدا ہو گئے ہیں ۔انہوں نے ہمیں امان دی ہے اور ہم نے انہیں امان دی ہے ۔ اگر فیصلہ ہمارے موافق دیا گیا تو نتیجہ یہ ہوگا کہ پھر لڑائی ہوگی اور ہمیں معلوم نہیں کہ فتح ہماری ہوگی یا اُن کی ہوگی ؟ مگر بہرحال اگر ہمیں فتح نہیں ہوئی تو اِس طرح ایک نئی عداوت ہم میں اور عربوں شروع ہو جائے گی اور یہ بات دانشمندی کے خلاف ہے ۔’’ اِس لئے انہوں نے اُسی حالت کو برقرا رکھا اور کسی قسم کی لڑائی نہیں کی ۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

53 سلطنت امیہ Saltanat e Umayya 53



53 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 53


سلطنت اُمیہ کا سب سے بہترین دور، کوفہ کے گورنر کے نام فرمان، 99 ھجری کا اختتام، 99 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان، 100 ھجری : خوارج کی شورش، یزید بن مہلب قید میں، یزید بن مہلب سے ذاتی پُرخاش نہیں تھی، ختل سے صلح، نو مسلموں سے جزیہ وصول کرنے کی ممانعت، عبدالرحمن بن نعیم خراسان کا گورنر، اہل خراسان کے نام خط، غیر مسلم عوام کے متعلق ہدایات، علاقہ ماورالنہر کے مسلمانوں کا واپسی سے انکار، خراسان کے افسر خزانہ کے نام فرمان، خاندان بنو عباس کی تحریک کی ابتداء، 



سلطنت اُمیہ کا سب سے بہترین دور


حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ جب سلطنت اُمیہ کے حکمراں بنے تو اُن کا دورِ حکومت سلطنت اُمیہ کا سب سے بہترین دور کہلایا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : ۹۹ ؁ ھجری بروز جمعہ ماہ صفرالمظفر میں حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ کی بیعت ہو گئی اور وہ مسلمانوں کے امیر المومنین بن گئے ۔حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ کی حکومت ایک طرح سے ‘‘خلافت راشدہ کا احیاء’’ اور اسلامی تہذیب و ثقافت اور قرآنی احکام اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی سنت اور اسلامی تعلیمات کے ‘‘نشاۃ ثانیہ’’ کا دور کہلاتا ہے ۔ اِسلامی تاریخ میں حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ ‘‘پانچویں خلیفۂ راشد’’ شمار ہوتے ہیں۔ ان کے دور میں اُموی دور کی بہت سی بد عنوانیاں ختم ہوئیں اور دینداری اور تقویٰ اور شعائر دین کا احترام عام طور پر لوگوں میں پیدا ہوا۔ جب بھی آپ رحمتہ اﷲ علیہ خطبہ دیتے تھے تو لوگوں کو تقویٰ کی زندگی اختیار کرنے اور فواحشات سے بچنے کی تلقین کرتے تھے ۔ ایک روز خطبہ کے دوران انہوں نے کہا: ‘‘ اے لوگو! میرا نفس ہمیشہ اعلیٰ کی خواہش رکھتا ہے ۔ مجھے حکومت ملی تو اب مجھے اِس سے اعلیٰ کے حصول یعنی جنت حاصل کرنے کی خواہش و رغبت پیدا ہو گئی ہے ۔ اﷲ تم سب کو اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے! تم میری اِس مقصد کے حصول میں مدد کرو۔’’لوگ بنو اُمیہ کے دورِ حکومت میں نماز میں تاخیر کرنے اور دیر سے پڑھنے کے عادی ہو گئے تھے ۔ حضرت عُمر بن عبدالعزیزنے حکومت سنبھالتے ہی اِس خرابی کی طرف توجہ دی اور مسلمانوں کو اول وقت میں نماز پڑھنے اور نماز کے متعلق سستی سے باز رہنے پر خاص طور سے توجہ دلائی ۔ اِس کے لئے حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ نے مملکت اسلامیہ کے مؤذنوں کا خصوصی ہدایات دیں۔


کوفہ کے گورنر کے نام فرمان


امیر المومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے کوفہ کے گورنر کو عوام کے متعلق فرمان لکھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : امیر المومنین نے کوفہ کے گورنر عبدالحمید بن عبدالرحمن کو یہ فرمان لکھا: ‘‘ یہ خط اﷲ کے بندے عُمر بن عبدالعزیز امیرالمومنین کی طرف سے کوفہ کے گورنر عبدالحمید بن عبدالرحمن کے نام ! اسلام اعلیکم! حمدو ثناء کے بعد! تمہیں معلوم ہو کہ اہل کوفہ پر پچھلے گورنروں نے ضرورت سے زیادہ سختیاں اور ظلم کئے ہیں ۔ حالانکہ اسلام کی بنیاد ‘‘عدل اور نرمی’’ پر ہے ۔ سب سے زیادہ تم خود اپنے نفس کی روک تھام رکھنا کیونکہ یہ چھوٹا موٹا گناہ نہیں ہے ۔ بنجر زمین پر لگان نہیں لگانا اور آباد زمین پر بھی زراعت والی زمین کی لگان نہیں لگانااور عوام کی اصلاح کرنے کی کوشش کرنا۔ زراعت والی زمین پر صرف زر لگان ہی وصول کرنا اور وہ بھی نرمی اوور دل جوئی کے ساتھ اِس طرح کہ کسان خوش رہیں اور خراج ہمیشہ پیدا وار کا ساتواں حصہ وصول کرنا ۔ لگان وصول کرنے والوں کی تنخواہیں عوام سے وصول نہیں کرنا اور نہ ہی نوروز اور مہرجان کا نذرانہ قبول کرنا ۔ خطوط اور پٹہ رسانے کی اُجرت نہیں لینا اور مکانات کا کرایہ بھی نہیں لینا ۔ اِسی طرح جو شخص مسلمان ہوجائے اُس سے خراج یا جزیہ نہیں لینا ۔ اِن تمام امور میں میری ہدایات پر عمل کرنا کیونکہ جو کام اﷲ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی نگرانی کا میرے متعلق کیا ہے اِس میں اِن امور کا میں تمہیں ذمہ دار مقرر کرتا ہوں۔ میرے مشورے اور حکم کے بغیر کسی شخص کو قتل نہیں کرنا اور نہ سولی پر چڑھانا ۔ عوام میں سے جو شخص حج کے لئے جانا چاہے اُسے حج کے لئے اخراجات پہلے سے دے دینا ۔ والسلام۔’’ 


99 ھجری کا اختتام


99 ھجری میں جب حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ حکمراں بنے تو مملکت اسلامیہ میں ہر شعبے میں تبدیلی آئی ۔اِسی طرح گورنروں کی بھی تبدیلی ہوئی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : امیر المومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ نے یزید بن مہلب کو ملک عراق اور خراسان کی گورنری سے معزول کر دیا ۔خراسان کا گورنر جراح بن عبداﷲ کو بنایا ۔ بصرہ کا گورنر عبدی بن ارطاۃ فزاری کو بنایا ۔ کوفہ کا گورنر عبدالحمید بن عبدالرحمن کو بنایا ۔امیر المومنین نے حسن بن ابی الحسن کو بصرہ کا قاضی مقرر کیا لیکن جب مسلمانوں نے اُن کی شکایت کی تو انہیں معزول کر کے معاوہ بن قرہ کو قاضی بنایا ۔ کوفہ کے قاضی عامر شعبی تھے ۔ مکۂ مکرمہ کا گورنر عبدالعزیز بن خالد تھا ۔ مدینۂ منورہ کا گورنر ابوبکر بن احمد تھا اور اُسی نے مسلمانوں کو حج کرایا۔ 


99 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان


اِس سال کافی مسلمانوں کا انتقال ہوا اُن میں سے چند یہ ہیں: علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 99 ھجری میں عبداﷲ بن محریز بن خبادہ بن عبید کا انتقال ہوا ۔ یہ جلیل القدر تابعی ہیں اور اانہوں نے اُم ابی محذورہ کے شوہر حضرت عبادہ بن صامت ، حضرت معاویہ بن ابی سفیان اور حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہ سے روایات بیان کی ہیں اور اِن سے خالد بن معدان ، حسان بن عطیہ زہری اور دوسرے تابعین نے روایات بیان کی ہیں ۔اِن کے ثقہ ہونے کی متعدد لوگوں نے توثیق کی ہے اور آئمہ کی ایک جماعت نے اِن کی توصیف کی ہے ۔ حتیٰ کی رجا بن حیواۃ نے کہا: ‘‘ اگر ہم اہل مدینۂ منورہ حضرت عُمر جیسے لوگوں کے لئے ثناء خواں ہیں تو اُن پر ہم عبداﷲ بن محریز کی وجہ سے فخر کرتے ہیں۔’’اِس سال محمود بن لبید بن عقبہ انصاری اشہلی کا انتقال ہوا ۔ یہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی زندگی میں پیدا ہوئے ۔انہوں نے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم سے احادیث بھی روایت کی ہے لیکن ان کا حکم ارسال ہے ۔ امام بخاری نے کہا ہے اِن کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی صحبت کا شرف حاصل ہے ۔ امام ابن عبدالبر نے کہا ہے آپ محمود بن ربیع سے اچھے ہیں۔ امام ذہبی نے ‘‘الاعلام’’ میں لکھا اِن کا انتقال اِسی سال ہوا۔ اِس سال نافع بن جبیر بن مطعم کا انتقال ہوا ۔ آپ قریشی ہیں اور مدینۂ منورہ میں پیدا ہوئے ۔آپ نے اپنے والد ِ محترم ،حضرت عثمان غنی ، حضرت علی المرتضیٰ ، حضرت ابو ہریرہ اور اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایات بیان کی ہیں اور اِن سے بہت سے تابعین نے روایات بیان کی ہیں۔ یہ ثقہ ہیں اور اکثر پیدل حج کرتے تھے ۔ اِس سال کریب بن مسلم کا انتقال ہوا ۔ یہ حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اﷲ عنہ کے غلام تھے ۔انہوں نے متعدد صحابۂ کرام سے روایات بیان کی ہیں ۔اِن کے پاس کتابوں کا ذخیرہ تھا ۔ کارہائے دیانت میں مشہور تھے اور ثقہ لوگوں میں سے ہیں۔ اِس سال محمد بن جبیر بن مطعم کا بھی انتقال ہوا ۔ یہ قریش کے اشراف اور علماء میں شمار ہوتے تھے اور اِن کی بھی بہت سی روایات ہیں۔ اِن کا انتقال مدینۂ منورہ میں ترانوے (93) سال کی عُمر میں ہوا۔ اِس سال مسلم بن یسار کا انتقال ہوا ۔یہ ابو عبداﷲ بصری ہیں ۔بڑے عالم و زاہد تھے اور انہوں نے بہت سی روایت بیان کی ہیں۔اِن کے زمانے میں کے علماء میں یہ سب سے افضل تھے ۔اِس سال حنش بن عمور تابعی کا انتقال ہوا ۔ یہ افریقہ اور بلاد ِ مغرب کے حکمراں تھے اور افریقہ میں ہی غازی کی حیثیت سے یعنی جنگ کے دوران انتقال ہوگیا ۔انہوں نے صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم سے روایات بیان کی ہیں۔اِس سال خارجہ بن زید انصاری کا انتقال ہوا ۔ یہ ابن ضحاک انصاری مدنی ہیں اور فقیہ ہیں۔ یہ مدینۂ منورہ کے مفتی تھے اور مدینۂ منورہ کے مرعددد فقہاء میں شمار ہوتے تھے ۔ ‘‘علم الفرائیض’’ کا بہت اچھا علم رکھتے تھے اور ‘‘تقسیم الوراثت’’ میں مہارت رکھتے تھے ۔


100 ھجری : خوارج کی شورش


اِس سال 100 ھجری میں خوارج نے ایک بار پھر سر شورش برپا کی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال میں ملک عراق میں خارجیوں نے پھرسر اُٹھایا ۔ جب اِس شورش کی اطلاع امیر المومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز کو ہوئی تو انہوں نے کوفہ کے گورنر عبدالحمید بن عبدالرحمن کو لکھا :‘‘ تم خارجیوں کو کتاب اﷲ اور سنت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پر کاربند ہونے کی دعوت دو۔ عبدالحمید بن عبدالرحمن نے اِس حکم کی تعمیل کی اور پھر خوارج کے مقابلے پر ایک فوج روانہ کی جسے خارجیوں نے شکست دی ۔ جب امیر المومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز کو اِس کی خبر ہوئی آپ نے ملک شام کی ایک فوج مقام ‘‘رقہ’’ سے تیا رکر کے مسلمہ بن عبدالملک کی قیادت میں خوارج کے مقابلے کے لئے روانہ کی اور عبدالحمید بن عبدالرحمن کو لکھا: ‘‘ مجھے تمہاری فوج کی درگت کی خبر معلوم ہوچکی ہے ۔ اب میں مسلمہ بن عبدالملک کو بھیج رہا ہوں ۔ ’’ جس خارجی نے اُس زمانے میں شورش برپا کی تھی وہ ‘‘شوذب’’ تھا اور اُس کا نام ‘‘بسطام یشکری’’ تھا ۔ سب سے پہلے مقام ‘‘جوخی’’ میں اُس نے اسی (80) شہسواروں کے ساتھ بغاوت کی تھی ۔ یہ شہسوار زیادہ تر قبیلہ بنو ربیعہ کے تھے ۔ 


یزید بن مہلب قید میں


اِس سال حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے یزید بن مہلب کو قید میں ڈال دیا۔یزید بن مہلب بہت فضول خرچی کر رہا تھا اورپچھلے حکمراں سلیمان بن عبدالملک کو اُس نے ‘‘فتح جرجان’’ سے ملنے والا مال غنیمت کا خمس ادا نہیں کیا تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : یزید بن مہلب خراسان سے واسط آیا اور وہاں سے بصرہ جانے کے لئے اپنے اہل و عیال کے ساتھ کشتیوں پر سوار ہو رہا تھا کہ حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے بصرہ کے گورنر عدی بن ارطاۃ کو اُس کی گرفتاری کا حکم دیا اور اُس نے موسیٰ بن وجیہ کو روانہ کیا ۔ اُسنے یزید بن مہلب کو ‘‘نہر معقل’’ میں بصرہ کے پل کے پاس جا لیا اور گرفتار کر کے بیڑیاں پہنا دیں ۔ عدی بن ارطاۃ نے اُسے حضرت عُمر بن عبدالعزیز کے پاس ملک شام بھیج دیا ۔ امیرالمومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز کا خیال تھا کہ یزید بن مہلب اور اُس کے خاندان کے لوگ ظالم اور استبدادی ہیں ۔انہوں نے یزید بن مہلب سے کہا: ‘‘ وہ رقم ادا کرو جو تم نے سلیمان بن عبدالملک کو لکھی تھی۔’’ یزید بن مہلب نے کہا: ‘‘ آپ کو خود معلوم ہے کہ مجھے سلیمان بن عبد الملک کی خوشنودی حاصل کرنا تھی اِسی لئے میں نے صرف لوگوں کو جتانے کے لئے اُس رقم کا ظہار کر دیا تھا ۔ ’’ امیر المومنین نے کہا: ‘‘ مجھے تمہارے معاملے میں اِس کے سوا کوئی راستہ نظر نہیں آتا کہ میں تمہیں قید کر دوں۔ جو رقم تم نے کہی ہے وہ ادا کردو کیونکہ یہ مسلمانوں کا حق ہے اور میں اسے کسی بھی طرح نہیں چھوڑ سکتا ہوں ۔’’ اِس کے بعد آپ نے یزید بن مہلب کو قید خانے میں بھیج دیا ۔ 


یزید بن مہلب سے ذاتی پُرخاش نہیں تھی


امیر المومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز کی یزید بن مہلب کو حق کی خاطر گرفتار کیا تھا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : حضرت عُمر بن عبدالعزیز کو یزید بن مہلب سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی لیکن آپ اُس کے ظلم و تعدی سے بیزار تھے اور اُس کو اور اُس کے اہل خاندان کو ظالم و جابر فرمایا کرتے تھے ۔ جب آپ نے یزید بن مہلب سے فتح جرجان کے مال غنیمت کاخمس طلب کیا جس کی اطلاع اُس نے سلیمان بن عبدالملک کو دی تھی تو یزید بن مہلب نے بلا تامل کہہ دیا :‘‘ میں نے تو لوگوں کو سنانے کی غرض سے لکھا تھا اور میں یہ جانتا تھا کہ اس مال کو سلیمان بن عبدالملک مجھ سے نہیں لے گا ۔’’حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے فرمایا: ‘‘ اﷲ سے ڈر! یہ مسلمانوں کا حق ہے اور میری مجال نہیں کہ میں اِسے نظر انداز کر دوں۔ پھر وہ مطلوبہ مال ادا نہیں کر سکا تو آپ نے ‘‘قلعہ حلب’’ میں اُسے قید کردیا۔ 


ختل سے صلح


اِس سال امیرالمومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ نے نئے اسلام قبول کرنے والوں پر جزیہ کی معافی کا اعلان کر دیا اور اِس کی ایک وجہ ختل سے صلح بنی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جرجان سے روانہ ہوتے وقت یزید بن مہلب نے جہم بن زحر کو جرجان کا گورنر مقرر کیا تھا ۔ مگر جب یزید بن مہلب کو گرفتا رکر کے امیر المومنین کے پاس بھیج دیا گیا تو ملک عراق کے گورنر نے اپنی جانب سے ایک دوسرے شخص کو جرجان کا گورنر بنا کر روانہ کیا ۔ جب وہ جہم بن زحر کے پاس آیا تو اُس نے اُسے قید کر لیا اور خراسان کی طرف روانہ ہوا تو اہل جرجان نے نئے گورنر کو آزاد کر دیا ۔ جہم بن زحر نے جراح بن عبداﷲ کے پاس آکر تمام واقعہ بتایا تو وہ اُس پر برہم ہو گیا اور بولا: ‘‘ اگر تم میرے چچا زاد بھائی نہیں ہوتے تو میں کبھی تمہاری اِس حرکت کو گوارا نہیں کرتا ۔’’ جہم بن زحر نے کہا: ‘‘ اگر تم سے میری رشتہ داری نہیں ہوتی تو میں کبھی تمہارے پاس نہیں آتا ۔’’ جراح بن عبداﷲ نے کہا: ‘‘ تم نے اپنے امام کی مخالفت کی ہے اور سرکش ہو گئے ہو ۔ اب اِس کے سوائے کوئی چارہ نہیں ہے کہ تم جہاد پر جاؤ ،شاید تم فتح حاصل کر لو اور اِس طرح امیر المومنین کے پاس تمہاری بات بن جائے ۔ ’’ اِس کے بعد جراح بن عبداﷲ نے جہم بن زحر کو فوج دیکر بادشاہ ختل سے جنگ کرنے کے لئے روانہ کردیا ۔ جہم بن زحر سے بادشاہ ختل نے صلح کر لی اور بہت سا مال غنیمت اور خراج دیا ۔ جراح بن عبداﷲ نے مال غنیمت کے خمس کے ساتھ تین آدمیوں کو امیر المومنین کے پاس بھیجا ۔


نو مسلموں سے جزیہ وصول کرنے کی ممانعت


خراسان کا وفد مال غنیمت کا خمس لیکر امیر المومنین کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : خراسان کا وفد امیر المومنین کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ یہ تین شخص تھے پہلے دو عربوں نے گفتگو کی اور تیسرا شخص بیٹھا رہا ۔ اِس پر امیر المومنین نے پوچھا :‘‘ کیا تم اِس وفد کے رکن نہیں ہو؟ ’’ اُس نے کہا: ‘‘ جی ہاں میں بھی اِس وفد کا رکن ہوں۔’’ امیر المومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے فرمایا: ‘‘ پھر تم خاموش کیوں ہو؟’’ اُس نے کہا: ‘‘ امیر المومنین! خیال کرنے کی بات یہ ہے کہ بیس ہزار مجاہدین بغیر تنخواہ اور بغیر روزینہ کے جہاد کر رہے ہیں اور اِسی قدر ذمی اسلام قبول کر چکے ہیں مگر پھر بھی اُسی سابقہ مقدار کے مطابق اُن سے جزیہ لیا جا رہا ہے ۔ یہ کہاں کا انصاف ہے؟ ہمارے گورنر صاحب سخت متعصب اور ظالم ہیں ۔ ہمارے ہی ملک میں بر سر منبر کہتے ہیں کہ جب میں آیا تھا تو بہت ہی رحمدل تھا مگر اب سخت گیر ہوں اور اﷲ کی قسم! میری قوم کا ایک فرد تمہارے سو آدمیوں سے زیادہ میرے نزدیک وقیع ہے ۔ اُس کے ظلم و تکبر کا یہ حال ہے کہ اُس کی قمیص کی آستین ہمیشہ بازو تک چڑھی رہتی ہے ۔ یہ بھی ظلم میں حجاج بن یوسف سے کم نہیں بلکہ اُس کا جانشین ہے ۔’’ امیر المومنین نے یہ سن کر فرمایا: ‘‘واقعی تم جیسے آدمی کو ضرور وفد میں آنا چاہیئے تھا ۔’’ اِس کے بعد جراح بن عبداﷲ کو حکم دیا :‘‘ دیکھو جو شخص تمہارے سامنے تمہارے قبلہ کی طرف نماز پڑھے اُس سے جزیہ نہیں لینا ۔’’ اِس حکم کے پہنچتے ہی لوگ خراسان میں دھڑا دھڑ مسلمان ہونے لگے ۔ یہ حالت دیکھ کر جراح بن عبداﷲ سے کسی نے کہا: ‘‘ یہ لوگ اسلام کی خوبیوں کی وجہ سے مسلمان نہیں ہورہے ہیں بلکہ جزیہ سے بچنے کے لئے اسلام قبول کر رہے ہیں۔ ذرا ختنہ کرنے کا حکم دے کر اِن کا امتحان تو کیجیئے۔’’ جراح بن عبداﷲ نے اِس معاملہ کو امیر المومنین کے پاس بھیجا تو انہوں نے جواب میں لکھا: ‘‘ اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کو اﷲ تعالیٰ نے ‘‘داعی’’ بنا کر مبعوث کیا تھا ۔ختنہ کرنے والا مقرر نہیں کیا تھا ۔’’


عبدالرحمن بن نعیم خراسان کا گورنر


خراسان کے وفد سے ملاقات کے بعد امیر المومنین حضرت عُمر بن عبد العزیز کو اندازہ ہو گیا تھا کہ وہاں حالات کچھ ٹھیک نہیں ہیں۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : امیر المومنین نے اپنے درباریوں سے پوچھا : ‘‘ کوئی ایسا صادق القول شخص بتاؤ ! جس سے میں خراسان کی اصل حالت دریافت کر سکوں ۔’’ لوگوں نے عرض کیا: ‘‘ ابی مجلز سے بڑھ کر اور کون ہو سکتا ہے ۔’’ امیر المومنین نے جراح بن عبداﷲ کو لکھا: ‘‘ تم یہاں اور ابو مجلز کو بھی ساتھ لیکر آؤ۔’’ جراح بن عبداﷲ نے عبدالرحمن بن نعیم غامدی کو خراسان کا سپہ سالار مقرر کیا اور عبیداﷲ بن حبیب کو مال گذاری کا افسر اعلیٰ مقرر کیا اور روانگی سے پہلے اہل خراسان کے سامنے تقریر کی : ‘‘ اے اہل خراسان! میں اپنے اِنہی کپڑوں میں جو میرے بدن پر ہیں اور اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر یہاں آیا تھا ۔ میں نے تمہارے روپیہ سے صرف اپنی تلوار کے قبضہ کو مرصع کیا ہے ۔’’ اِس کے بعد امیر المومنین کے پاس روانہ ہوا تو واقعی اُس کے پاس بند کے کپڑے اور ایک گھوڑے اور ایک مادہ خچر کے علاوہ کچھ نہیں تھا اور وہ دونوں بھی بوڑھے ہو چکے تھے ۔ جب وہ امیر المومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز کی خدمت میں حاضر ہو اتو آپ نے پوچھا: ‘‘ تم خراسان سے کب روانہ ہوئے تھے ؟’’ جراح بن عبداﷲ نے کہا: ‘‘ ماہ رمضان المبارک میں ۔’’ یہ جواب سن کر امیر المومنین نے فرمایا: ‘‘ اِس سے ثابت ہوا کہ تمہارے ظلم و جور کی روایت بالکل درست ہے ۔ تم سے یہ بھی نہ ہو سکا کہ ماہ رمضان المبارک میں وہیں قیام کرتے اور ماہ صیام گزر جانے کے بعد آتے ۔’’ خود جراح بن عبداﷲ کہا کرتا تھا :‘‘ میں ضرور بڑا سخت خود رائے اور سخت سزا دینے والا ہوں۔’’ اِس کے بعد حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے جراح بن عبداﷲ کو معزول کر دیا اور عبدالرحمن بن نعیم کو خراسان کا گورنر بنا دیا ۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے جراح بن عبداﷲ کو صرف اِس لئے معزول کر دیا تھا کہ وہ نئے اسلام قبول کرنے والوں سے بھی جزیہ وصول کرتا تھا اور یہ عذر کرتا تھا کہ وہ جزیہ کے ڈر سے مسلمان ہوئے ہیں ۔ اُس کے اِس عمل سے نئے اسلام قبول کرنے والے واپس کافر ہوجاتے تھے اور جزیہ دیتے تھے ۔ 


اہل خراسان کے نام خط


امیر المومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے ایک خط عبد الرحمن بن نعیم کے نام لکھا اور دوسرا خط اہل خرسان کے نام لکھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : امیر المومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے باشندگان خراسان کے نام ایک خط لکھا :‘‘ میں نے عبدالرحمن بن نعیم کو تمہارا فوجی گورنر مقرر کیا ہے اور عبداﷲ الرحمن بن عبداﷲ کو مال گذاری کا افسر ِ اعلیٰ مقرر کیا ہے ۔ میں نے خود اُن کا انتخاب نہیں کیا ہے اور میں اُن دونوں سے ذاتی طور پر واقف بھی نہیں ہوں بلکہ لوگوں نے مجھے اُن دونوں کے حالات کے بارے میں بتایا ۔ پس اگر یہ دونوں آپ لوگوں کی مرضی کے مطابق کام کریں تو اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کریں اور اگر یہ ایسے ثابت نہ ہوں تو آپ اﷲ سے مدد کے طالب ہوں کونکہ تمام طاقت اور قدرت صرف اُسی کو حاصل ہے ۔’’ امیر المومنین نے عبدالرحمن بن نعیم کو خط لکھا: ‘‘ تم اﷲ کی مخلوق کے خیر خواہ رہنا اور اﷲ کے راستہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے متاثر نہیں ہونا ۔ کیونکہ انسانوں کے مقابلے میں اﷲ تعالیٰ اِس بات کا زیادہ مستحق ہے اور اُس کا حق اور بھی زیادہ ہے کہ اُس سے ڈرا جائے ۔ ہمیشہ مسلمانوں کو نیک کام کی ہدایت کرتے رہنا اور شفقت کرنا ۔ جو امانت تمہارے سپرد کی جائے اُسے پورا کرنا اور یہ سمجھ لو کہ کوئی بات ایسی نہیں ہے جو اﷲ تعالیٰ سے پوشیدہ رہ سکے ۔ اُس سے بچ کر تم کہیں بھی نہیں جا سکتے کیونکہ آخر کار اُسی کے پاس جانا ہے ۔’’


غیر مسلم عوام کے متعلق ہدایات


امیر المومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز پوری مملکت اسلامیہ میں غیر مسلموں کے حقو ق کا بھی پورا خیال رکھتے تھے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : امیر المومنین نے عبدالرحمن بن نعیم کو لکھا: ‘‘ کسی ایسے گرجا گھر یا یہودیوں کی خانقاہ یا مجوسیوں کے آتشکدہ کومنہدم نہیں کرنا جس کے قائم رکھے جانے کا صلح کے عہد نامے میں وعدہ کیا گیا ہو مگر اِس کے ساتھ ہی نئی عبادت گاہیں اور خانقاہیں بنانے کی اجازت بھی نہیں دینا ۔ اِسی طرح بکریاں آگے سے کھینچ کر مذبح کو نہ لے جائی جائیں اِس کی بھی ممانعت کر دو کہ کوئی شخص ذبح ہونے والے جانور کے سامنے چھری تیز نہ کرے اور بغیر کسی شرعی عذر کے دو وقت کی نماز ایک وقت میں ادا نہیں کرنا ۔’’ 


علاقہ ماورالنہر کے مسلمانوں کا واپسی سے انکار


امیر المومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے ماورالنہر کے مسلمانوں کی واپسی کا حکم دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: امیرالمومنین نے عبدالرحمن بن نعیم کو لکھا: ‘‘ علاقہ ماورالنہر میں جتنے مسلمان ہیں انہیں مع اہل و عیال کے واپس لے آؤ۔’’ مگر مسلمانوں نے واپس آنے سے انکار کر دیا اور کہا : ‘‘ مرو (خراسان کا دارلحکومت)ہماری ضروریات کو پورا نہیں کرسکتا۔’’ عبدالرحمن بن نعیم نے امیر المومنین کو اِس کی اطلاع دی ۔ اِس کے جواب میں امیرالمومنین نے لکھا: ‘‘ اﷲ تعالیٰ نے مجھ پر جو فرض کیا ہے میں نے اُسے پورا کیا لیکن پھر بھی عبدالرحمن! تم اب مسلمانوں کو لیکر جہاد کے لئے اور آگے نہیں جاناکیونکہ جس قدر علاقہ اﷲ تعالیٰ نے ہمیں دیا ہے یہی ہمارے لئے کافی ہے ۔’’ 


خراسان کے افسر خزانہ کے نام فرمان


امیر المومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز کی نظر حکومت کے ہر شعبے پر بہت گہری رہتی تھی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : امیر المومنین نے عقبہ بن زرعہ طائی کو جسے آپ نے قشیری کے بعد خراسان کا مال گذاری کا افسر اعلیٰ مقرر کیا تھا لکھا: ‘‘ حکومت کے یہ چار رکن ہیں جن کے بغیر ‘‘سلطنت’’ کی عمارت نہیں ٹھہر سکتی ۔(۱) گورنر، (۲) قاضی، ( ۳) افسر خزانہ ( خزانچی) اور چوتھا خود میں ۔یہ بھی سمجھ لو کہ مملکت اسلامیہ کے تما م سرحدی صوبہ جات میں میرے خیال میں سب سے زیادہ اہم خراسان کا صوبہ ہے ۔ تم خراج کو پوری طرح وصول کرو اور کسی شخص کے حق کو غصب کئے بغیر اس کی حفاظت کرنے اور وہاں کا خراج فوجی اور ملکی اخراجات کے لئے کافی ہو تو ٹھیک ہے ورنہ مجھے لکھو تاکہ میں مزید روپیہ بھیج دوں اور اُس سے مسلمانوں کی تنخواہوں میں اضافہ کر دو۔ ’’جب عقبہ بن زرعہ طائی نے دیکھا کہ خراسان کی آمدنی خرچ سے زیادہ ہے اور امیرالمومنین کو اِس کی اطلاع دی تو انہوں نے جواباً لکھا : ‘‘ زائد روپیہ حاجت مندوں میں تقسیم کردو ۔’’  


خاندان بنو عباس کی تحریک کی ابتداء


اِس سال 100 ھجری میں خاندان بنو عباس کی تحریک کی ابتداء ہوئی ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال دعوت بنو عباس کا آغاز ہوا اور اِس کی ابتداء اِس طرح ہوئی کہ حضرت عبداﷲ بن عباس بن عبد المطلب رضی اﷲ عنہ کا پوتا محمد بن علی بن عبداﷲ بن عباس بن عبدالمطلب نے جب وہ اُس سر زمین میں مقیم تھا جو اُس نے خرید لی تھی ،اپنی طرف سے ایک شخص جس کا نام میسرہ تھا ملک عراق بھیجا اور اسی دوران دوسرا گروہ خراسان بھیجا جہاں جراح بن عبداﷲ معزول ہونے سے پہلے گورنر تھا ۔ اُن لوگون کو محمد بن علی نے اپنے پاس آنے اور اہل بیت سے ملاقات کرنے کی دعوت دی ۔ اِسی لئے ملک عراق اور خراسان سے کچھ آدمی اُس سے آکر ملے جن سے مل کر وہ بے حد خوش ہوا اور اُن لوگوں کو اپنا ہمراز بنا لیا ۔ یہ گویا ‘‘بنو عباس’’ کی حکومت کی داغ بیل پڑنے کی ابتداء تھی ۔بنو عباس کی حکومت کی ابتدائی کامیابی کے آثار محمد بن علی کو اِس لئے خصوصیت سے نظر آنے لگے کہ حضرت عُمر بن عبدالعزیز کے انتقال کے بعد ‘‘بنو اُمیہ’’ کی حکومت میں اضمحلال اور انحطاط کے آثار پیدا ہونے لگے تھے جس کا ذکر ہم آگے چل کر انشاء اﷲ بیان کریں گے ۔اِس موقع پر ابو عکرمہ سراج کے باپ ابو محمد صادق نے موقع غنیمت جان کر محمد بن علی بن عبداﷲ بن عباس بن عبدالمطلب کے بارہ نقیب بھی مقرر کر دیئے جن کے نام یہ ہیں۔سلیمان بن کثیر خزاعی ، اہنر بن قریظ تمیمی، قحطبہ بن شبیب طائی، موسیٰ بن کعب تمیمی، خالد بن ابراہیم، ابو داؤد بن عمرو بن شیبان بن ذہل ، قاسم بن مجاشع تمیمی ، عمران بن اسماعیل ابو النجم مویٰ لال ابی مغیط ، مالک بن ہیشم خزاعی ، طلحہ بن زریق خزاعی ، عمرو بن اعین ابو ہنرہ فزاعہ کا غلام ، شبل بن طہان ابو علی ہروی بنو حنیفہ کا غلام اور عیسیٰ بن اعین فزاعہ کا غلام اُس نے مزید ستر آدمی اس کے لئے بھرتی کر لئے اور ان سب کی بابت محمد بن علی کو لکھ کر مطلع کر دیا اور اُن کے کردار و سیرت اور جذبہٌ قربانی کا تذکرہ کیا ۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

54 سلطنت امیہ 54 Saltanat e Umayya



54 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 54


100 ھجری کا اختتام، 100 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان، 101 ھجری : امیر المومنین کی بیماری اور یزید بن مہلب کی پریشانی، یزید بن مہلب کا فرار، حضرت عُمر بن عبدالعزیز کا انتقال، حضرت عُمر بن عبدالعزیز کی مدت حکومت، بنو اُمیہ کا اشج، حضرت عُمر بن عبدالعزیز شہید ہوئے، اﷲ کی مشیت پر راضی تھے، یزید ثانی بن عبدالملک سلطنت اُمیہ کا حکمراں، خوارج سے جنگ، یزید بن مہلب اور یزید بن عبدالملک کی دشمنی، یزید بن مہلب بصرہ میں، بصرہ کے گورنر کی گرفتاری، شامی لشکر کی کوفہ روانگی


100 ھجری کا اختتام


اِس سال 100 ھجری میں حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے خراسان کے گورنر کو معزول کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال امیر المومنین نے خراسان کے گورنر جراح بن عبداﷲ حکمی کو معزول

 کر دیا اور اُس کی جگہ عبدالرحمن بن نعیم قشیری کو گورنر بنا کر بھیجا ۔ اِس طرح جراح بن عبداﷲ ایک سال پانچ مہینہ خراسان کا گورنر رہا ۔ 99 ھجری میں خراسان آیا اور ماہ رمضان المبارک 100 ھجری ختم ہونے میں کچھ روز باقی تھے کہ اُس نے خراسان چھوڑا۔اِس ایک تبدیلی کے علاوہ پوری مملکت اسلامیہ میں وہی گورنر رہے جو پچھلے سال تھے ۔ اِس سال مدینۂ منورہ کے گورنر ابوبکربن محمد بن حزم نے مسلمانوں کو حج کروایا ۔ اِس سال حضرت عُمر بن عبدالعزیز حکومت کے کاموں کی مشغولیت کی وجہ سے حج نہیں کر سکے لیکن وہ مدینۂ منورہ میں خطوط کے ذریعے اپنے گورنر کو حکم دیتے تھے کہ وہ اُن کی طرف سے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے روضۂ مبارک پر درود و سلام پڑھے ۔ 


100 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان


اِس سال جن کا انتقال ہوا اُن میں چند نام یہ ہیں ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 100 ھجری میں سالم بن ابی جعد اشجعی کا انتقال ہوا ۔ یہ جلیل القدر تابعی ہیں اور انہوں نے حضرت ثوبان ، حضرت جابر ، حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق اور حضرت نعمان بن بشیر رضی اﷲ عنہم سے روایات بیان کی ہیں ۔ اِن سے قتادہ اور اعمش اور دوسرے لوگوں نے روایات بیان کی ہیں ۔ یہ ثقہ اور سخی بزرگ تھے ۔اِس سال حضرت ابواُمامہ سہل بن حنیف اوسی مدنی کا انتقال ہوا ۔ یہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں پیدا ہوئے ۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو دیکھا اور اپنے والد کے علاوہ ، حضرت عُمر فاروق ، حضرت عثمان غنی ، حضرت زید بن ثابت ، حضرت معاویہ بن ابی سفیان اور حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے احادیث بیان کی ہیں ۔اِن سے امام زہری ، امام ابن حازم اوربہت سے تابعین نے احادیث بیان کی ہیں ۔ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو باغیوں نے مسجد نبوی میں نماز پڑھنے سے روک دیا تھا تو اُن کی جگہ حضرت ابواُمامہ سہل بن حنیف نے جمعہ کی نماز پڑھائی تھی ۔ اِس سال ابو طفیل عامر بن واثلہ کتانی کا انتقال ہوا ۔ یہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے آخری دیدار کرنے والوں میں سے ہیں ۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے وقت موجود تھے اور فرماتے ہیں :‘‘ میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو خانۂ کعبہ کے رکن کو چھڑی سے بوسہ لیتے ہوئے دیکھا ہے ۔’’ انہوں نے حضرت ابوبکر صدیق ، حضرت عُمر فاروق ، حضرت علی المرتضیٰ ، حضرت معاویہ بن ابی سفیان اور حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہم سے روایات بیان کی ہیں اور خود اُن سے امام زہری ، عمرو بن دینار ، ابو زبیر اور بہت سے تابعین نے احادیث بیان کی ہیں۔ یہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ تمام جنگوں میں شریک تھے اور مختار بن ابو عبید ثقفی کے ساتھ بھی تھے ۔اِس سال ابو عثمان نہدی کا انتقال ہوا ۔ اِن کا پورا نام عبدالرحمن بن مل بصری ہے ۔ یہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی زندگی میں ایمان لائے لیکن آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو دیکھ نہیں پائے اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف سے بھیجے گئے ذکوٰۃ کے محصولین کو تین بار ذکوٰۃ ادا کر چکے تھے ۔ آئمۂ حدیث ایسے لوگوں کو ‘‘ مخضرمی’’کہتے ہیں ۔ انہوں نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے زمانے میں ہجرت کی انہوں نے حضرت علی المرتضیٰ ، حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہم اور صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کی ایک جماعت سے روایات بیان کی ہیں ۔ یہ حضرت سلمان فارسی رضی اﷲ عنہ کی صحبت میں بارہ سال رہے ۔ اِن سے بہت سے تابعین نے روایات بیان کی ہیں جن میں ایوب ، حمید الطویل اور سلیمان بن طرخان تمیمی شامل ہیں ۔ 


101 ھجری : امیر المومنین کی بیماری اور یزید بن مہلب کی پریشانی


سلیمان بن عبدالملک نے حضرت عُمر بن عبدالعزیز کو‘‘سلطنت اُمیہ’’ کا حکمراں بنایا تھا اور اُن کے بعد یزید بن عبدالملک کو ‘‘ولی عہد’’ بنایا تھا ۔ یزید بن مہلب نے یزید بن عبدالملک کے سسرالی رشتہ داروں کو بہت تکلیف دی تھی ۔ اِسی لئے جب حضرت عُمر بن عبدالعزیز بیمار ہوئے تو یزید بن مہلب پریشان ہوگیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : یزید بن مہلب امیر المومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز کے بیمار ہونے تک چپ چاپ قید خانے میں پڑا رہا ۔ مگر جب اُسے امیرالمومنین کی بیماری کے بارے میں معلوم ہوا تو اب اُس نے بھاگ نکلنے کی فکر کی ۔ اِس کی اصل وجہ یہ تھی کہ یزید بن مہلب نے یزید بن عبدالملک کی بیوی کے رشتہ داروں خاندان ابی عقیل کو اپنی گورنری کے زمانے میں بہت تکلیفیں پہنچائی تھیں ۔ اِسی لئے یزید بن عبدالملک نے قسم کھائی تھی کہ جب بھی میں یزید بن مہلب پر قابو پاؤں گا تو اُسے قتل کر ڈالوں گا ۔ اِسی وجہ سے یزید بن مہلب خوفزدہ تھا کیونکہ حضرت عُمر بن عبدالعزیز کے بعد یزید بن عبدالملک ہی ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کا حکمراں بننے والاتھا ۔


یزید بن مہلب کا فرار


امیر المومنین کی بیماری کا سن کر یزید بن مہلب فرار ہوگیا اور امیر المومنین سے معذرت کی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں :یزید بن مہلب نے اپنے ساتھیوں کو کہلا بھیجا تھا کہ میرے فرار کے لئے سواریوں کا انتظام کریں۔ امیرالمومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز ‘‘دیر سمعان’’ میں بیمار پڑے اور جب اُن کی بیماری میں شدت ہوئی تو یزید بن مہلب نے اونٹ منگوائے اور جب اُسے معلوم ہوا کہ اُن کے آنے میں ابھی دیر ہے تو وہ قیدخانے سے نکل کر اُس جگہ آیا جہاں اُس کے ساتھیوں نے اُس سے ملنے کا وعدہ کیا تھامگر اُس جگہ آکر دیکھا کہ اب تک کوئی نہیں آیا تو وہ اور اُس کے ساتھی گھبرا گئے ۔ یزید بن مہلب نے کہا: ‘‘ اگر تم یہ چاہتے ہو کہ میں واپس قید خانے میں چلا جاؤں تو یہ کبھی نہیں ہوسکتا ۔’’ اِسی دوران اونٹ آگئے اور یزید بن مہلب سوار ہو کر روانہ ہوا ۔ اُس کے ساتھ محمل کے دوسرے حصہ میں اُس کی بیوی عاتکہ قرات بنت معاویہ قبیلہ بنو بکا کی بیٹی تھی ۔شہر سے دور نکل جانے کے بعد یزید بن مہلب نے امیر المومنین کو خط لکھا: ‘‘ اگر مجھے یقین ہوتا کہ آپ ابھی زندہ رہیں گے تو ہر گز قید خانے سے نہیں بھاگتا۔ مگر کیا کروں مجھے یزید بن عبدالملک سے خوف لگا ہوا ہے ۔’’ خط پڑھ کر امیرالمومنین نے فرمایا: ‘‘ اے اﷲ تعالیٰ! اگر اِس حرکت سے یزید بن مہلب کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں میں فتنہ و فسادپھیلائے تو اُس کے خیالات کو اُسی پر پلٹ دے اور مسلمانوں کو محفوظ رکھ ۔’’


حضرت عُمر بن عبدالعزیز کا انتقال


101 ھجری میں امیرالمومنین حضرت عُمر بن عبداالعزیز بیمار ہوئے اور انتقال ہوگیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : امیر المومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز کی بیوی کا بیان ہے کہ جب مرض کی وجہ سے آپ کو بے چینی زیادہ ہوئی تو آپ رات بھر جاگتے رہے اور ہم لوگ بھی جاگتے رہے ۔ صبح کے وقت میں نے آپ کے خادم مرثد سے کہا: ‘‘ تُو امیرالمومنین کے پاس رہنا اور اگر کوئی ضرورت ہو تو ہم قریب ہی ہیں ہمیں فوراً اطلاع کر دینا۔’’ یہ حکم دے کر ہم وہاں سے چلے آئے اور چونکہ رتا بھر کے جاگے ہوئے تھے اِس لئے سب سو گئے ۔ دن چڑھے جب میں بیدار ہوئی تو امیرالمومنین کے پاس گئی ۔ دیکھا کہ مرثد کمرہ کے باہر پڑا سو رہا ہے ۔میں نے اُسے اُٹھایا اور اُس سے پوچھا کہ وہ باہر کیوں چلا آیا؟مرثد نے کہا: ‘‘ خود امیرالمومنین نے مجھ سے کہا :‘‘ تُو باہر چلا جا کیونکہ اﷲ کی قسم! میں ایس شکل دیکھ رہا ہوں جو نہ انسان ہیں اور نہ جنات ہیں ۔’’ اور میں نے انہیں یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا:‘ ‘ ترجمہ۔ یہ آخرت ہے ،ہم نے اسے ان لوگوں کے لئے بنایا جو دنیا میں نہ نمودچاہتے ہیں اور نہ خرابی ڈالنا چاہتے ہیں اور عاقبت اﷲ سے ڈرنے والوں کے لئے ہی ہے ۔’’یہ سن کر میں تیزی سے امیرالمومنین کے پاس پہنچی اور دیکھا کہ آپ سیدھے لیٹے ہوئے ہیں ۔آنکھیں بند ہیں اور روح قفس عنصری سے پروازکر چکی تھی ۔’’


حضرت عُمر بن عبدالعزیز کی مدت حکومت


حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ کا 101 ھجری میں انتقال ہوگیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ہیثم بن واقد کہتے ہیں کہ میں 97 ھجری میں پیدا ہوا اور 99 ھجری میں ماہ صفر المظفر ختم ہونے میں ابھی دس راتیں باقی تھیں کہ مقام وابق پر حضرت عُمر بن عبدالعزیز سلطنت اُمیہ کے حکمراں بنے ۔ حکمراں بننے کے بعد آپ نے عوام کا جو روپیہ تقسیم کیا اُس میں سے تین دینار میرے حصہ میں بھی آئے اور مقام خناصرہ میں جب ماہ رجب المرجب 101 ھجری ختم ہونے میں پانچ راتیں باقی تھیں تو آپ کا انتقال ہوا۔ بیس دن تک بیمار رہے اور دو سال پانچ مہینے اور چار دن حکومت کی ۔ اُنتالیس سال کی عُمر میں انتقال ہوا اور دیر سمعان میں دفن کئے گئے ۔ بعض ارباب سیر نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ جس روز آپ کا انتقال ہوا اُس آپ کی عُمر اُنتالیس سال اور پانچ مہینے تھی ۔ بعض نے چالیس سال کی عُمر بتائی ۔ خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی پرپوتی حضرت عُمر بن عبدالعزیز کی والدہ محترمہ ہیں ۔ حضرت عُمر بن عبدالعزیز کو ‘‘بنو اُمیہ کا اشج’’ کہا جاتا تھا کیونکہ بچپن میں انہیں پیشانی پر ایک زخم لگا تھا جس کا نشان آخر تک رہا ۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ امام عادل ، انصاف پسند حاکم اور نہایت متقی اور پرہیز گار خلیفہ ٔراشد گذرے ہیں جو عدل و انصاف کے تقاضوں اور اسلامی شریعت کے مفاذ میں کسی امر کی پرواہ نہیں کرتے تھے ۔


بنو اُمیہ کا اشج


حضرت عُمر بن عبدالعزیز کے بارے میں خلیفۂ دُوم حضرت عَمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو معلوم تھا لیکن یہ نہیں معلوم تھا کہ وہ میری پرپوتی کا بیٹا ہوگا ۔امام جلا ل الدین سیوطی لکھتے ہیں : حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا تھا :‘‘ میری اولاد میں ایک شخص ایسا پیدا ہوگا جس کے چہرے پر نشان ہوگا اور وہ تما م رُوئے زمین کو عدل سے بھر دے گا۔’’(امام ترمذی نے اپنی تاریخ میں ذکر کیا ہے) اور آپ رضی اﷲ عنہ کا فرمانا بالکل صحیح ہوا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ یہ بھی فرمایا کرتے تھے:‘‘ کاش میں اپنے نشان والے بیٹے کا زمانہ پاتا جو دنیا کو عدل سے بھر دے گا جس طرح ابھی دنیا ظلم سے بھری پڑی ہے۔’’(طبقات ابن سعد) علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : نافع کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو اکثر یہ کہتے سنا ہے کہ کاش مجھے معلوم ہوتا کہ خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی اولاد میں وہ کون شخص ہو گا جس کی پیشانی پر ایک علامت ہوگی اور جو روئے زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا ۔’’ حضرت عُمر بن عبدالعزیز کو بچپن میں پیشانی پر ایک جانور ( غالباً گھوڑا کیونکہ گھوڑے کو لوہے کی نعل ٹھونکی ہوتی ہے) نے لات ماری جس کی وجہ سے پیشانی پھٹ گئی ۔ آپ کووالدہ محترمہ کے پاس لایا گیا تو وہ پیشانی کا خون پونچھنے لگی اور شوہر پر غصہ کرنے لگیں کہ میرے بیٹے کے ساتھ کوئی محافظ یا خدمت گار بھیجا ہوتا جو میرے بچے کا خیال رکھتا۔ آپ کے والدعبدالعزیز بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ اری نیک بخت! خاموش ہوجا! تیرا بیٹا تمام خاندان بنو اُمیہ کا ‘‘اشج’’ ہے ۔’’بڑے ہونے پر بھی اُس زخم کا نشان آپ کی پیشانی پر تھا۔


حضرت عُمر بن عبدالعزیز شہید ہوئے


حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ شہید ہوئے ہیں ۔ امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں : امام مجاہد کہتے ہیں : ‘‘ حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے اپنی بیماری کے دوران مجھے بلا کر فرمایا: ‘‘ میری بیماری کے بارے میں لوگوں کا کیا خیال ہے؟’’ میں نے کہا: ‘‘ عوام میں یہ مشہور ہے کہ آپ پر سحر کیا گیا ہے ۔’’ آپ نے فرمایا: ‘‘ یہ خیال غلط ہے ، مجھے زہر دیا گیا ہے اور جس وقت دیا ہے اور جس نے دیا ہے وہ بھی مجھے معلوم ہے ۔’’ پھر آپ نے اُس غلام کو بلایا جس نے آپ کو زہر دیا تھا اور اُس سے فرمایا: ‘‘ تجھ پر افسوس ہے ! تجھے کس چیز نے مجھے زہر دینے پر آمادہ کیا ؟’’ اُس نے کہا: ‘‘اِس کام کے عوض مجھے ایک ہزار دینار دیئے گئے ہیں اور مجھ سے یہ وعدہ بھی کیا گیا ہے کہ مجھے آزاد کر دیا جائے گا ۔’’ آپ نے فرمایا :‘‘ جاؤ وہ دینار لیکر آؤ۔’’ جب وہ دینار لیکر آیا تو آپ نے وہ تمام دینار اُس سے لیکر ‘‘بیت المال’’ میں جمع کرادیئے اور اُس سے فرمایا: ‘‘ یہاں سے فورا! اِس طرح بھاگ جاؤ کہ کوئی پھر تمہیں یہاں نہیں دیکھ سکے ۔’’ 


اﷲ کی مشیت پر راضی تھے


حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ نے اﷲ تعالیٰ کی مشیت کو راضی برضا قبول کر لیا تھا ۔ امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں : ولید بن

 ہشام کا بیان ہے کہ حضرت عُمر بن عبدالعزیز سے کسی شخص نے بیماری کی حالت میں عرض کیا: ‘‘ آپ علاج کیوں نہیں کرواتے؟’’ آپ نے فرمایا: ‘‘ جس وقت مجھے زہر دیا گیا تھا اُس وقت مجھ سے اگر کہا جاتا کہ تم اپنے کان کی لو کو چھو لو یا فلاں خوشبو سونگھ لو تو تم شفا یاب ہو جاؤگے تب بھی میں ایسا نہیں کرتا ۔’’ ( کیونکہ اگر میں مر گیا تو زہر خورانی کی وجہ سے شہادت کا درجہ حاصل کروں گا)ہشام کا بیان ہے کہ جب حضرت عُمر بن عبدالعزیز کے انتقال کی خبر حضرت حسن بصری رحمتہ اﷲ علیہ کو ہوئی تو آپ نے فرمایا: ‘‘ دنیا کا سب سے بہترین آدمی رخصت ہوگیا۔’’


یزید ثانی بن عبدالملک سلطنت اُمیہ کا حکمراں


سلیمان بن عبدالملک کی وصیت کے مطابق حضرت عُمر بن عبدالعزیز ‘‘سلطنت اُمیہ ’’ کے حکمراں بنے تھے اور اُس نے اُن کے بعد یزید بن عبدالملک کے لئے وصیت کی تھی ۔ اِس لئے حضرت عُمر بن عبدالعزیز کے انتقال کے بعد یزید بن عبدالملک ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کا حکراں بنا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 101 ھجری میں یزید بن عبدالملک جس کی کنیت ابو خالد تھی اُنتالیس سال کی عُمر میں سلطنت اُمیہ کا حکمراں بنا ۔علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : یزید بن عبدالملک نے ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کا حکمراں بنتے ہی ابو بکر بن محمد کو معزول کر کے مدینۂ منورہ کا گورنرعبدالرحمن بن ضحاک کو بنا دیا اور حضرت عُمر بن عبدالعزیز کے تمام کاموں کو اُلٹ پلٹ دیا ۔ یمن کے گورنر محمد بن یوسف (حجاج بن یوسف کا بھائی) نے اہل یمن پر ایک نیا ٹیکس لگا دیا تھا ۔ جس کو حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے اپنے دور ِ حکومت میں معاف کر کے عشر (دسواں حصہ) یا نصف عشر ( بیسواں حصہ) قائم کیا اور یہ فرمایا: ‘‘ مجھے اِس نئے خراج کو قائم کرنے سے زیادہ یہ پسند ہے کہ ملک یمن سے ایک ذرہ برابر خراج آئے ۔ جب یزید بن عبد الملک ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کا حکمراں بنا تو اُس ٹیکس کو پھر سے جاری کر دیا اور اپنے گورنر کو لکھ بھیجا:‘‘ اہل یمن سے ضرور ٹیکس وصول کرو چاہے اُن کو ناگوار ہو ۔’’ اُنہیں دنوں اُس کے چچا محمد بن مروان کا انتقال ہوگیا تو اُس نے اُس کی جگہ اپنے دوسرے چچا مسلمہ بن عبدالملک کو الجزیرہ ، آذربائیجان اور آرمینیہ کو گورر بنا دیا ۔ 


خوارج سے جنگ


اِس سال 101 ھجری میں خوارج سے جنگ میں اُن کا سردار شوذب قتل ہوا ۔ خوارج کو حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے مناظرے کے لئے بلایا تھا اور خوارج نے دو شخصوں کو بھیجا تھا ۔ مناظرے کے دوران ہی حضرت عُمر بن عبدالعزیز کا انتقال ہو گیا اور مناظرہ ادھورا رہ گیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : خوارج کے سردار شوذب نے مناظرہ کرنے کے لئے ایک وفد امیرالمومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز کے پاس بھیجا تھا ۔ آپ کے انتقال کے بعد کوفہ کے گورنر عبدالحمید بن عبدالرحمن نے نئے حکمراں یزید بن عبدالملک کے سامنے اپنی کارگذاری پیش کرنے اور تقرب حاصل کرنے کے لئے خوارج پر ایک لشکر بھیج کر حملہ کردیا۔ خوارج نے اُس لشکر کو شکست دی ۔ جب یزید بن عبدالملک کو اِس شکست کی اطلاع ملی تو اُس نے دوہزار سواروں کا ایک لشکر بھیجا ۔ خوارج نے اسے بھی شکست دی ۔ پھر مسلمہ بن عبدالملک کی سپہ سالاری میں یزید بن عبدالملک نے ایک بہت بڑا لشکر بھیجا ۔ جب مسلمہ بن عبدالملک نے کوفہ کے قریب پڑاؤ ڈالا تو کوفہ کے گورنر نے اُسے خوارج کے بارے میں بتایا۔ اُس نے نحبہ بن عمر کو دس ہزار کا لشکر دے کر خوارج کے مقابلے میں بھیجا ۔ اِس لشکر نے شوذب اور تمام خوارج کو قتل کرڈالا۔’’ 


یزید بن مہلب اور یزید بن عبدالملک کی دشمنی


یزید بن عبدالملک کے ‘‘ سلطنت ِ اُمیہ’’ کا حکمراں بننے سے پہلے ہی یزید بن مہلب قید خانے سے فرار ہو گیا کیونکہ اُسے یزید بن عبدالملک نے چیلنج دیا تھا کہ حکمراں بنتے ہی تجھ سے سمجھ لوں گا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے یزید بن مہلب کو جرجان کا خمس نہیں دینے کی وجہ سے قید کر دیا تھا ۔ حضرت عُمر بن عبدالعزیز کی بیماری کے دوران اُس نے جیل سے فرار ہونے کی فکر کی ۔یزید بن عبدالملک کی بیوی حجاج بن یوسف کے بھائی کی بیٹی تھی ۔ سلیمان بن عبدالملک نے اپنے دور ِ حکومت میں حجاج بن یوسف کے رشتہ داروں کو سزا دینے کی ذمہ داری یزید بن مہلب کو دی تھی اور وہ اِن سب کو طلقاء سے قید کر کے دمشق لایا تھا جس میں یزید بن عبدالملک کی بیوی بھی تھی اور اُس کو بھی سزا دی جاتی تھی ۔ یزید بن عبدالملک اپنی بیوی کی سفارش کرنے کو یزیدبن مہلب کے پاس گیا اوراپنی بیوی کی سفارش کی لیکن یزید بن مہلب نے کوئی توجہ نہیں دی تو یزید بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ وہ تاوان جو تم نے مقرر کیا ہے میں ادا کر دوں گا اِس لئے میری بیوی کو سزا نہ دو ۔’’ یزید بن مہلب نے یہ بھی منظور نہیں کیا تب یزید بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ اچھا! اِس وقت تم میرا کہنا نہیں مان رہے ہو جب میں ‘‘ سلطنت اُمیہ’’ کا حکمراں بنوں گا تو تم سے سمجھ لوں گا ۔’’ یزید بن مہلب نے کہا: ‘‘ اگر تُو حکمراں بنا تو ایک لاکھ تلواریں تیرے خلاف نیام سے باہر کر دوں گا۔’’ بہر حال بعد میں یزید بن مہلب نے ایک لاکھ تاوان لیکر یزید بن عبدالملک کی بیوی کو آزاد کر دیا۔ 


یزید بن مہلب بصرہ میں


یزید بن مہلب قید خانے سے فرار ہو کر بصرہ پہنچا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : یزید بن عبدالملک نے بیعت لینے کے بعد کوفہ کے گورنرعبدالحمید بن عبدالرحمن اور بصرہ کے گورنر عدی بن ارطاۃ کو یزید بن مہلب کے فرار کا حال اور اُس کے اہل و عیال کو دوبارہ گرفتار کرنے کو لکھا۔ اِس حکم کے ملتے ہی عدی بن ارطاۃ نے مفضل بن مہلب اور مروان بن مہلب کو کو گرفتار کر کے قید کر دیا ۔ اِسی دوران یزید بن مہلب بھی بصرہ پہنچ گیا ۔ کوفہ کے گورنر عبدالحمید بن عبدالرحمن نے ہشام بن مساحق کو لشکر دیکر یزید بن مہلب کو گرفتار کر کے لانے کے لئے بھیجا تھا ۔ جب یہ لشکر ‘‘حذیب’’ پہنچا تو یزید بن مہلب جاتا ہوا دکھائی دیا تھا لیکن لشکریوں نے اُسے جانے دیا ۔ بصرہ میں عدی بن ارطاۃ نے اہل بصرہ کو جمع کر رکھا تھا اور بصرہ کے اطراف خندق کھدوادی تھی ۔سواران بصرہ کا کمانڈر مغیرہ بن عبداﷲ کو مقرر کر دیا ۔ یزید بن مہلب اپنے ساتھیوں کے ساتھ بصرہ پہنچا اور اُس کا بھائی محمد بن مہلب اُس کے استقبال کو آیا ۔ عدی بن ارطاۃ نے یہ سن کر فوج کو نئے سرے سے مرتب کیا اور ہر قبیلے پر اُس کا ایک کمانڈر مقرر کیا ۔ مگر کسی نے یزید بن مہلب سے کوئی تعرض نہیں کیا اور وہ سیدھے اپنے مکان پر جا کر اُترا۔ 


بصرہ کے گورنر کی گرفتاری


یزید بن مہلب بصرہ میں آکر اپنے مکان میں ٹھہر گیا ۔۔علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : یزید بن مہلب سے لوگ ملنے آنے لگے اور اُس نے بصرہ کے گورنر عدی بن ارطاۃ سے کہلا بھیجا:‘‘ تم میرے بھائیوں کو قید سے رہا کر دو تاکہ میں اُن کے ساتھ چند دن بصرہ میں قیام کر کے کسی بھی طرف چلا جاؤں اور پھر خروج کر کے یزید بن عبدالملک سے اپنا خاطر خواہ مقصد حاصل کروں ۔’’ عدی بن ارطاۃ نے منظور نہیں کیا تب یزید بن مہلب نے اپنے بھتیجے حمید بن عبدالملک بن مہلب کو امان حاصل کرنے کی غرض سے یزید بن عبدالملک کے پاس ملک شام روانہ کیا۔ یزید بن عبدالملک نے بہ نظر ترحم خسروانہ بنو مہلب کو امان لکھ کر دے دی اور واپسی کے وقت حمید بن عبدالملک بن مہلب کے ساتھ خالد قسری اور عمر بن یزید کو ساتھ کر دیا ۔ ابھی حمید بن عبدالملک بن مہلب واپس آنے بھی نہیں پایا تھا کہ سونے چاندی کے ٹکڑوں(یزید بن مہلب کی داد و دہش) نے لوگوں کو اُس کی طرف مائل کر دیا کیونکہ عدی بن ارطاۃ بہت کنجوس تھا اور کسی کو دو درہم بھی نہیں دیتا تھا ۔ رفتہ رفتہ دونوں میں کشیدگی بڑھ گئی اور یزید بن مہلب کے حامیوں نے عدی بن ارطاۃ کے حامیوں پر حملہ کر دیا اور اُس کی فوج پسپا ہوگئی ۔ یزید بن مہلب کے بھائیوں نے یہ سن کر قید خانے کا دروازہ اندر سے اِس خوف سے بند کر لیا کہ یزید بن مہلب کے آنے سے پہلے عدی بن ارطاۃ انہیں قتل نہ کر ڈالے داروغہ جیل اُسے کھولنے کی کوشش کر رہا تھا کہ یزید بن مہلب کے ساتھی آگئے اور وہ بھاگ گیا اور یزید بن مہلب کے بھائی قیدخانے سے باہر آگئے۔ یزید بن مہلب ‘‘قصر امارت’’ کے قریب مسلم بن زیاد کے مکان پر قیام پذیر ہوا اور اُس کے ساتھی ‘‘قصر امارت’’ پر سیڑھیاں لگا کر چڑھ گئے اور عدی بن ارطاۃ کو گرفتار کر کے لے آئے ۔یزید بن مہلب نے اُسے قید کردیا ۔ 


شامی لشکر کی کوفہ روانگی


یزید بن مہلب نے بصرہ کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے لیا علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : بصرہ کے عہدیداران کوفہ اور ملک شام کی طرف چلے گئے ۔ مغیر ہ بن زیاد ملک شام کی طرف جارہا تھا کہ راستے میں حمید بن عبدالملک بن مہلب کے ساتھ آتے ہوئے خالد قسری اور عمر بن یزید ملے تو انہیں بتایا کہ بصرہ کے گورنر کو یزید بن مہلب نے قید کر لیا ہے اور بصرہ پر غلبہ حاصل کر لیا ہے ۔ یہ سن کو خالد قسری اور عُمر بن یزید ملک شام کی طرف لوٹ گئے ۔ حمید بن عبدالملک بن مہلب نے انہیں بہت روکنے کی کوشش کی لیکن وہ چلے گئے اور ملک شام جا کر تمام حالات بتادیئے ۔ کوفہ کے گورنر نے یزید بن مہلب کے دو بیٹوں کو گرفتار کر کے یزید بن عبدالملک کے پاس بھیج دیا جہاں قید میں دونوں کی موت ہو گئی ۔ اِس کے بعد یزید بن عبدالملک نے اہل کوفہ کے لئے انعامات بھیجے اور اُن کی تعریف لکھی اور اُن کے وظائف بڑھانے کا وعدہ کیا ۔ اپنے بھائی مسلمہ بن عبدالملک اور بھتیجے عباس بن ولید کو ستر ہزار یا اسی ہزار کا لشکر دیکر ملک شام سے ملک عراق کی طرف روانہ کیا ۔ اِس لشکر نے کوفہ پہنچ کر ‘‘نخیلہ ’’ میں پڑاؤ ڈالا۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......! 

اتوار، 26 مئی، 2024

55 سلطنت امیہ Saltanat e Umayya 55

 


55 سلطنت امیہ


تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی


قسط نمبر 55


یزید بن مہلب واسط میں، 101 ھجری کا اختتام، یزید بن مہلب اور مسلمہ بن عبدالملک میں جنگ، حضرت حسن بصری جنگ سے منع کرتے تھے، یزید بن مہلب کا قتل، آل مہلب کرمان کے پہاڑوں میں، آل مہلب کا قتل، ہشام بن عبدالملک اور ولید بن یزید کی ‘‘ولی عہدی’’، مسلمہ بن عبدالملک ملک عراق و ایران کا گورنر، خراسان اور سمرقند کے گورنر، سعید بن عبدالعزیز کی سختی، ترکوں سے جہاد، اہل سغد کی بغاوت، مسلمہ بن عبدالملک کی معزولی، خراسان میں ‘‘تحریک عباسیہ ’’ کا آغاز، افریقہ کے گورنر کا قتل، 102 ھجری کا اختتام، 102 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان



یزید بن مہلب واسط میں


یزید بن مہلب نے بصرہ پر قبضہ کر لیا اور وہاں اپنے بھائی مروان بن مہلب کو گورنر بنا دیا اور خود تما م اسلحہ اور خزانہ لیکر واسط آیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب یزید بن مہلب واسط کی طرف بڑھنے لگا تو اپنے ساتھیوں سے مشورہ کیا اور کہا: ‘‘ چونکہ اہل شام تمہارے مقابلے پر آرہے ہیں اِس لئے بتاؤ کیا کرنا چاہیئے ؟’’ اُس کے بھائی حبیب بن مہلب نے پہلے کوفہ جانے کا مشورہ دیا لیکن یزید بن مہلب نے قبول نہیں کیا پھر اُس نے الجزیرہ جانے کا مشورہ دیا لیکن اُس نے اسے بھی نہیں مانا اور اِسی کشمکش میں 101 ھجری ختم ہونے تک واسط میں ہی مقیم رہا ۔


ا101 ھجری کا اختتام


ا101 ھجری کا اختتام ہوا ۔ اِس سال ‘‘سلطنت اُمیہ ’’ کا ایک درخشاں ستارہ حضرت عُمر بن عبدالعزیز غروب ہوا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں ؛ اِس سال کے اختتام پر عبدالحمید بن عبدالرحمن کوفہ کا گورنر تھا ۔ بصرہ پر یزید بن مہلب کا قبضہ تھا اور اُس نے اپنے بھائی مروان بن مہلب کو بصرہ کا گورنر بنادیا تھا ۔ خراسان کا گورنر عبدالرحمن بن نعیم تھا ۔ مکۂ مکرمہ کا گورنر عبداﷲ بن خالد تھا اور مدینۂ منورہ کا گورنر عبدالرحمن بن ضحاک تھا اور اُسی نے مسلمانوں کو حج کرایا۔


یزید بن مہلب اور مسلمہ بن عبدالملک میں جنگ


ا102 ھجری کی شروعات میں یزیدبن مہلب اور مسلمہ بن عبدالملک دونوں اپنی اپنی دوج لیکر مقابلے پر آگئے ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : 102 ھجری کے شروع ہوتے ہی یزید بن مہلب نے اپنے بیٹے معاویہ بن یزید بن مہلب کو واسط پر اپنا نائب مقرر کر کے مسلمہ بن عبدالملک کی فوج سے لڑنے کے لئے اپنی فوج لیکر ‘‘عقر’’ میں آیا ۔ جہاں دونوں فوجوں میں گھمسان کی جنگ ہوئی اور دنوں فوجوں نے زبردست لڑائی کا مظاہر کیا ۔جس کے نتیجہ میں اہل بصرہ ، اہل شام پر حاوی ہو گئے لیکن اس کے بعد اہل شام نے ثابت قدمی سے اہل بصرہ پر حملہ کیا تو اُن کو ہزیمت پر مجبور کر دیا اور اُن کے بہت سے بہادر اور جنگ آزمودہ دلیروں کو مار ڈالا ۔جن میں ایک کا نام منتوف تھا جو نہایت مشہور شجاع تھا ۔ جب مسلمہ بن عبدالملک اور عباس بن ولید کی فوجیں یزید بن مہلب کی فوجوں کے قریب پہنچ گئیں تو یزید بن مہلب نے اپنی فوجوں کا دل بڑھانے کے لئے اور اہل شام پر حملہ آور ہونے کے لئے اشتعال دلایا ۔ اُس وقت یزید بن مہلب کے پاس ایک لاکھ بیس ہزار فوج تھی جس نے یزید بن مہلب سے اطاعت اور فرمانبرداری کا عہد کر رکھا تھا ۔ ساتھ ہی یہ عہد بھی کیا تھا کہ کتاب و سنت کے خلاف کوئی کام یزید بن مہلب کی طرف سے نہیں ہو گا اور نہ ہی ان کے ملک کو روندا

 جائے گا اور نہ ہی حجاج بن یوسف کی طرح عوام پر ظلم کیا جائے گا۔ وغیرہ وغیرہ ۔


حضرت حسن بصری جنگ سے منع کرتے تھے


حضرت حسن بصری رحمتہ اﷲ علیہ اُس وقت بصرہ میں تھے اور کافی بوڑھے ہو چکے تھے ۔ آپ مسلمانوں کو یزید بن مہلب کا ساتھ دینے سے منع کرتے تھے اور خوارج کا ساتھ دینے سے بھی منع کرتے تھے ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اُسی زمانہ میں حضرت حسن بصری لوگوں کو جنگ و جدل سے باز رہنے اور فتنہ و فساد میں پڑنے سے خصوصاً خوارج سے علیحدہ رہنے کے لئے وعظ و تلقین کرتے رہتے تھے ۔ اِس بات کا علم جب یزید بن مہلب کے بیٹے اور بصرہ کے گورنر عبدالملک بن مہلب کو ہوا تو اُس نے حضرت حسن بصری کا نام لئے بغیر بہت کچھ اُن کے خلاف زہر اُگلا ۔اس نے کہا: ‘‘ یہ بڈھا اور گمراہ شخص جو دکھاوے کے لئے سب کچھ کہتا اور کرتا پھرتا ہے اگر اپنے کام سے باز نہیں آیا تو میں وہ سب کروں گا جو کرسکتا ہوں ۔’’ حضرت حسن بصری نے اُس کی بکواس سن کر فرمایا: ‘‘ اﷲ اُس کو ذلیل کرے اور مجھے اُس کی مطلق پرواہ نہیں ہے ۔’’ 


یزید بن مہلب کا قتل


عقر میں اہل بصرہ اور اہل شام کی فوجوں کے درمیان جنگ چل رہی تھی ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : آٹھ دن تک مسلمہ بن عبدالملک اور یزید بن عبدالملک ایکدوسرے کے مقابلے پر بلا جدال و قتال پڑے رہے ۔ نویں روز جمعہ کے دن ماہ صفر المظفر 102 ھجری کو یزید بن مہلب نے صف آرائی کی اور عباس بن ولید نے بھی ایسا کیا۔ جنگ چھڑتے ہی حد سے زیادہ سخت ہو گئی ، مسلمہ بن عبدالملک نے پل کو جلوا دیا اور میدان جنگ دھویں سے بھر گیا ۔ یزید بن مہلب کی فوج یہ رنگ ریکھ کر بھاگ کھڑی ہوئی ۔ یزید بن مہلب اور اُس کے ہمراہی شکست کھا کر بھاگنے والوں کو مار مار کو روکنے لگے لیکن ہمت ہارے ہوئے سپاہی واپس نہیں لوٹے ۔ یزید بن مہلب اُن کی واپسی سے نا اُمید ہو کر میدان جنگ میں اپنے ہمراہیوں کے ساتھ آیا ۔ لوگوں نے کہا: ‘‘ تمہارا بھائی حبیب بن مہلب مارا گیا۔’’ یزید بن مہلب نے ایک سرد آہ کھینچ کر کہا: ‘‘ زندگی کا لطف نہ اس کی موت کے بعد ہے اور نہ اِس شکست کے بعد۔’’ اور تلوار نکال کر اہل شام پر ٹوٹ پڑا اور حملہ کرنے لگا اور لوگوں کو مارتا کاٹتا ہوا صفوں کو چیرتا ہوامسلمہ بن عبدالملک کی طرف بڑھا ۔ لشکر شام نے چاروں طرف سے اُس کو گھیر لیا اور اُسے اور اُسکے ہمراہیوں کو قتل کرڈالا جس میں اُس کا بھائی محمد بن مہلب بھی تھا ۔ جنگ ختم ہونے کے بعد مسلمہ بن عبدالملک نے یزید بن مہلب کا سر یزید بن عبدالملک کے پاس بھیج دیا ۔ 


آل مہلب کرمان کے پہاڑوں میں



اس جنگ میں یزید بن مہلب کا بھائی مفضل بن مہلب بھاگ کر واسط پہنچا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : مفضل بن مہلب دوسری طرف لڑ رہا تھا اور اُس کو یزید بن مہلب کے قتل ہونے کا حال معلوم نہیں تھا ۔ تھوڑی دیر تک وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ جنگ کرتا رہا ۔ کسی وقت اُس کے ساتھی پیچھے ہٹ جاتے اور کسی وقت آگے بڑھ کر حملہ کرنے لگتے تھے ۔ سیہاں تک کہ اُسے یزید بن مہلب کے قتل اور شکست کی خبر ملی تو یہ سنتے ہی اُس کے ساتھ منتشر ہوگئے اور مفضل بن مہلب واسط کی جانب چلا گیا ۔ کامیابی حاصل کرنے کے بعد مسلمہ بن عبدالملک ‘‘حیرہ’’ میں آ کر مقیم ہوا ۔ واسط میں یزید بن مہلب کے قتل کی خبر پہنچی تو اُس کے بیٹے معاویہ بن یزید بن مہلب نے عدی بن ارطاۃ اور اُس کے بیٹے سمیت تیس قیدیوں کو قتل کر ڈالا اور مال و خزانہ لیکر بصرہ کا رُخ کیا ۔ اُس کا چچا مفضل بن مہلب بھی اُس سے آ ملا اور تمام آل مہلب کو کشتیوں پر سوار کرا کر قندابیل روانہ ہوگیا ۔ قندابیل کا گورنر وداع بن حمید تھا جس کو یزید بن مہلب نے اِس شرط پرمقرر کیا تھا کہ اگر اُس کو مسلمہ بن عبدالملک کے مقابلے میں شکست ہو گی تو وداع بن حمید اُس کے اہل و عیال کو پناہ دے گا ۔رفتہ رفتہ مفضل بن مہلب اور معاویہ بن یزید بن مہلب اور آل مہلب اپنے اہل و عیال کے ساتھ آ آ کر ‘‘کرمان’’ کے پہاڑوں میں جا اُترے اور شکست خوردہ بھی اُن کے پاس آ کر جمع ہونے لگے ۔


 آل مہلب کا قتل


کرمان کے پہاڑوں میں آل مہلب اور اُن کے ساتھی جمع ہورہے تھے اور مسلمہ بن عبدالملک کو اُن کے جمع ہونے کی خبر مل رہی تھی ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : مسلمہ بن عبدالملک نے مدرک بن حبیب کلبی کو فوج دیکر آل مہلب کو گرفتار کر کے لانے کے لئے بھیجا۔ مفضل بن مہلب اور اُس کے ساتھی لڑنے پر آمادہ ہو گئے اور جنگ شروع ہوگئی اور مفضل بن مہلب کو شکست ہوئی ۔ بقیہ آل مہلب قندابیل میں تھے ۔ مسلمہ بن عبدالملک نے ہلال بن احور تمیمی کو فوج دیکر روانہ کیا اور قندابیل میں اُس کی آل مہلب سے جنگ ہوئی ۔ ابھی جنگ پورے زور پر بھی نہیں آئی تھی کہ ہلال بن احور نے آل مہلب کا جھنڈا اُڑا دیا ۔ یہ دیکھ کر قندابیل کا گورنر وداع بن حمید وغیرہ امان کے لئے جھک پڑے اور یہ دیکھ کر لوگ بھاگ کھڑے ہوئے مگر آل مہلب غیرت کی وجہ سے لڑتے رہے اور تھوڑی دیر تک لڑے رہے اور ایک ایک کر کے قتل ہوتے رہے ۔ اِس جنگ میں مفضل بن مہلب ، عبدالملک بن مہلب ، زیاد بن مہلب اور مروان بن مہلب قتل ہوئے اور عینیہ بن مہلب ، عمر بن یزید بن مہلب اور عثمان بن مفضل بھاگ کر ترک بادشاہ رتبیل کے پاس چلے گئے ۔مسلمہ بن عبدالملک نے آل مہلب کی عورتوں کو فروخت کرنے کا ارادہ کیا تو جراح بن عبداﷲ نے ایک لاکھ درہم میْں خرید کر انہیں رہا کردیا تو مسلمہ بن عبدالملک نے اُس سے رقم نہیں لی ۔ آل مہلب کے تیرہ لوگوں کو قیدی بنا کر یزید بن عبدالملک کے پاس ملک شام بھیجا گیا تو اُس نے انہیں قتل کرادیا ۔ عینیہ بن مہلب کو اُس کی بہن ہند بنت مہلب نے امان حاصل کر کے بچا لیا اور عمر اور عثمان ایک زمانہ دراز تک رتبیل کے پاس رہے ۔پھر اسد بن عبداﷲ قسری نے امان دی اور وہ اس کے پاس خراسان میں آگئے ۔ 


ہشام بن عبدالملک اور ولید بن یزید کی ‘‘ولی عہدی’’


102 ھجری میں یزید بن عبدالملک نے اپنا ‘‘ولی عہد’’ مقرر کر دیا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں :جن دنوں یزید بن عبدالملک نے اپنے بھائی مسلمہ بن عبدالملک اور بھتیجے عباس بن عبدالملک کو کو لشکر دیکر یزید بن مہلب سے نبٹنے کے لئے بھیجنے لگا تو عباس بن ولید نے کہا: ‘‘ امیر المومنین! اہل عراق بڑے غدار ہیں اور ہم کو اندیشہ ہے کہ آپ کے بعد یہ لوگ ہاتھ پاؤں پھیلائیں گے اور اِس وجہ سے ہماری قویٰ مضمحل ہو جائیں گے ۔ پس آپ ولید بن یزید کو ‘‘ولی عہد’’ بنا دیں ۔ ’’ مسلمہ بن عبدالملک کو اِس کی خبر ہوئی تو اُس نے حاضر ہو کر کہا: ‘‘ امیر المومنین! آپ کا بھائی ‘‘ولی عہدی’’ کا زیادہ مستحق ہے کیونکہ آپ کا بیٹا ابھی سن شعور کو نہیں پہنچا ہے ۔مناسب ہے کہ آپ ہشام بن عبدالملک کو اور اُس کے بعد اپنے بیٹے ولید بن یزید کو ‘‘ولی عہد’’ مقرر فرمایئے۔’’ ولید بن یزید کی عُمر اُس وقت گیارہ سال تھی اِسی لئے یزید بن عبدالملک نے ہشام بن عبدالملک کو اور اُس کے بعد ولید بن یزید کی ‘‘ولی عہدی کی بیعت لی ۔ اتفاق سے یزید بن عبدالملک کی زندگی میں ہی ولید بن یزید بالغ ہو گیا ۔ جب بھی وہ اس کو دیکھتا تو کہہ اُٹھتا تھا:‘‘ میرے اس کے درمیان ہشام ہے ۔’’


مسلمہ بن عبدالملک ملک عراق و ایران کا گورنر


یزید بن عبدالملک نے اپنے بھائی مسلمہ بن عبدالملک کو ملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر بنادیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب مسلمہ بن عبدالملک ملک عراق میں یزید بن مہلب کے معاملے سے فارغ ہو گیا تو یزید بن عبدالملک نے اُسے کوفہ ، بصرہ اور خراسان کا گورنر بنا دیا ۔ اِس عہدہ پر فائز ہونے کے بعد مسلمہ بن عبدالملک نے محمد بن عمرو بن ولید بن عقبہ بن ابی معیط کو کوفہ کا گورنر بنادیا اور بصرہ کا گورنر عبدالرحمن بن سُلیم کلبی بنادیا۔ اُس نے بصرہ والوں کو ڈانٹنے اور برا بھلا کہنے کا ارادہ کیا اور اِس بارے میں عمرو بن یزید سے مشورہ کیا تو اُس نے منع کیا اور اِس کی خبر مسلمہ بن عبدالملک کو دے دی ۔ جس کی وجہ سے مسلمہ بن عبدالملک نے عبدالرحمن بن سُیلم کا معزول کر کے اُس کی جگہ عبدالملک بن بن بشر بن مہران کو بصرہ کا گورنر بنا دیا ۔ 


خراسان اور سمرقند کے گورنر


مسلمہ بن عبدالملک کے ماتحت خراسان اور سمر قند بھی تھے اِسی لئے اُس نے اُن دونوں صوبوں پر بھی گورنر مقرر کئے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 102 ھجری میں مسلمہ بن عبدالملک نے سعید بن عبدالعزیز بن حارث بن حکم بن عاص کو جسے ‘‘سعید خذینہ’’ بھی کہا جاتا تھا خراسان کا گورنر بنا کر بھیجا۔ جب وہ خراسان پہنچا تو اُس کی کمر کے پٹکے میں ایک چھری لگی ہوئی تھی ۔ ملک الغبر جب اُس سے ملنے آیا تو اُس وقت سعید بن عبدالعزیز رنگین لباس پہنے ہوئے بٹھا تھا اور اُس کے گرد رنگین گاؤ تکیے رکھے ہوئے تھے ۔ جب ملک الغبر ملاقات کر کے واپس آیا تو لوگوں نے اُس سے پوچھا کہ گورنر کو کیسا پایا تو اُس نے کہا: ‘‘ وہ خذینہ ہے اور اُس کے زلف سکینہ ہے ۔’’ سعید بن عبدالعزیز کو خراسان کا گورنر بنانے کی وجہ یہ ہے کہ وہ مسلمہ بن عبدالملک کا داماد تھا۔ مسلمہ بن عبدالملک نے اُسے بھیجنے سے پہلے سورہ بن حُر کو خراسان بھیجا تھا اور اُس نے شعبہ بن ظہیر کو سمر قند کا گورنر بنا کر بھیجا ۔ اپنے خاندان کے پچیس آدمیوں کو لیکر شعبہ بن ظہیر سمر قند روانہ ہوا اور آمل کے راستہ سے بخارا آیا ۔ یہاں سے دو سو آدمی اُس کے ساتھ ہو گئے اور وہ سغد پہنچا۔ اہل سغد نے عبدالرحمن بن نعیم کی گورنری میں بغاوت کر دی تھی اور بعد میں اطاعت گذار ہو گئے تھے ۔ شعبہ بن ظہیر نے اہل سغد کے سامنے تقریر کی اور انہیں خوب ڈانٹا اور سغد میں بسے عربوں کو کہا کہ تم بزدل ہو گئے ہو ۔ عربوں نے اُس کے سامنے معذرت کی اور کہا :‘‘ ہمیں ہمارے فوجی گورنر علیاء بن حبیب نے بزدل بنا دیا ہے ۔ ’’


سعید بن عبدالعزیز کی سختی


خراسان کا گورنر بننے کے بعد سعید بن عبدالعزیز نے بہت بڑے پیمانے پر تبدیلی کی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب سعید بن عبدالعزیز خراسا ن آیا تو اُس نے عبد الرحمن بن عبداﷲ قشیری کے اُن تما م گورنروں کو جو حضرت عُمر بن عبدالعزیز کے دور حکومت میں مقرر کئے گئے تھے گرفتار کر کے قید کر دیا ۔ عبدالرحمن بن عبداﷲ نے اُن کی سفارش کی تو اُس نے کہا کہ ان کے پاس خراج کا روپیہ ہے ۔عبدالرحمن نے کہا کہ میں اس روپیہ کی ضمانت لیتا ہوں اور سات لاکھ درہم ضمانت کے طے ہوئے لیکن سعید نے بعد میں کوئی مطالبہ نہیں کیا ۔ اِس کے بعد اُس نے یزید بن مہلب کے مقرر کردہ گورنروں کو قتل کرنے کا حکم دے دیا لیکن ورقا نے اُن کی سفارش کر کے معافی دلوا دی ۔ اِس کے بعد سعید بن عبدالعزیز نے شعبہ بن ظہیر کو سمر قند کی گورنری سے معزول کر دیا اور عثمان بن عبداﷲ کو سمرقند کا گورنر بنا۔


ترکوں سے جہاد


اِس سال 102 ھجری میں ترکوں کے بادشاہ نے کورصول نامی شخص کو سپہ سالار بنا کر مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لئے بھیجا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : ترکوں کے خاقان نے ایک بہت بڑا لشکر مسلمانوں سے جنگ کرنے کے لئے سغد بھیجا جس کا سپہ سالار ‘‘کورصول ’’ نام کے ایک شخص کو بنایا ۔ اُس نے آتے ہی ‘‘قلعہ باہلی’’ کا محاصرہ کر لیا جس میں بہت سے مسلمان رہتے تھے ۔ سمرقند کے گورنر عثمان بن عبداﷲ کو جب معلوم ہوا تو اُس نے مسیب بن بشر کو چار ہزار کی فوج دے کر روانہ کیا ۔ راستے میں مسیب بن بشر مسلمان مجاہدین کو تقریریں کر کر کے اُن کے جذبۂ شوق ِ شہادت کو ابھارتا رہا ۔ یہ سن کر راستے میں ہی دو ہزار تین سو واپس ہو گئے اور مسیب بن بشر کے ساتھ صرف سات سو مجاہدین رہ گئے ۔ انہی کو لیکر مسیب بن بشر ترکوں کے لشکر کی طرف بڑھا جس نے ‘‘قصر باہلی’’ کا محاصرہ کیا ہوا تھا ۔ مسلمان محصورین نے جب مسیب بن بشر اور کو دیکھ کر قسم کھائی کہ آخر تک لڑتے رہیں گے ۔ باہر سے مسیب بن بشر کے ساتھ مجاہدین نے ترکوں پر حملہ کر دیا اور قلعے کے اندر سے بھی مسلمانوں نے حملہ کر دیا ۔ اِس طرح ترکوں کو دونوں طرف سے مقابلہ کرنا پڑ رہا تھا ۔ مسلمان لڑتے لڑتے قومی شعار کے طور پر ‘‘یامحمداہ’’ کا نعرہ بلند کرتے تھے ۔ جب باہر والے

 مجاہدین یہ نعرہ لگاتے تو اندر والے یہی نعرہ لگا کر جواب دیتے اور حملہ شدید کر دیتے تھے اور جب اندر والے یہ نعرہ لگاتے تو باہر والے مجاہدین جوابی نعرہ لگا کر تیز حملہ کر دیتے ۔ دونوں طرف گھمسان کا رن پڑا اور مسلمانوں نے بہت سے ترکوں کو قتل کر دیا ۔ جنگ کے دوران مسلمانوں کے گھوڑے اتنے زخمی ہو گئے کہ انہیں پیدل ہو کر لڑنا پڑا ۔ حالانکہ اِس جنگ میں ترکوں کی تعداد بہت زیادہ تھی لیکن مسیب بن بشر اور اُس کے ساتھیوں نے ایسی ثابت قدمی سے مقابلہ کیا کہ ترکوں کو شکست ہوئی اور وہ محاصرہ اُٹھا کر بھاگے ۔ مسلمانوں نے تمام محصورین کو بچا لیا جو ترک شکست کھا کر بھاگے تھے اُنہوں نے کہا: ‘‘ کل جن مسلمانوں سے ہماری جنگ ہوئی وہ یقینا انسان نہیں تھے ۔’’ 


اہل سغد کی بغاوت


اِس سال اہل سغد نے بغاوت کی تو خراسان کے گورنر نے اُن پر حملہ کیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 102 ھجری میں سعید بن عبدالعزیز نے دریائے بلخ عبور کر کے سغد پر اِس لئے جہاد کیا کہ اہل سغد نے مسلمانوں کے خلاف ترکوں کی مدد کی تھی ۔ اِس مہم کی وجہ یہ تھی کہ ترکوں نے سغد میں مسلمانوں پر حملے شروع کر دیئے تھے ۔ لوگوں نے سعید بن عبدالعزیز سے کہا : ‘‘ تم نے جہاد ترک کر رکھا ہے اور ترکوں نے لوٹ مار مچا رکھی ہے اور جس کی وجہ سے اہل سغد بھی باغی ہو گئے ہیں ۔ اِس بنا پر اُس نے دریا عبور کیا مگر سمرقند سے آگے نہیں بڑھا ۔ دشمن کے سامنے پڑاؤ ڈالا تو اُس کے غلام نے کہا: ‘‘ جناب والا! حملہ کریں ۔’’ سعید خذینہ نے کہا: ‘‘ نہیں! یہ امیر المومنین کا خاص علاقہ ہے ۔’’ ابھی اُس کی بات پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ دھواں اُٹھا ۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ اہل سغد نے سرکشی اور بغاوت کر دی ہے اور اُن کے ساتھ کچھ ترک بھی ہیں ۔ یہ سنتے ہی مسلمانوں نے انہیں جا دبوچا ۔ اہل سغد شکست کھا کر بھاگے اور مسلمان اُن کا تعاقب کرنے لگے تو سعید خذینہ نے کہا: ‘‘ ان کا تعاقب نہ کیا جائے کیونکہ سغد امیر المومنین کا باغ ہے اور تم نے انہیں شکست دیکر بھگا دیا ہے ۔ اب کیا انہیں بالکل نیست و نابود کردینا چاہتے ہو؟ اے عراقیو! تم بھی کئی مرتبہ امیر المومنین سے بغاوت کر چکے ہو مگر انہوں نے تم سے در گزر کیا اور تمہارا استیصال نہیں کیا۔’’ اِس کے بعد سعید خذنیہ واپس آگیا ۔ 


مسلمہ بن عبدالملک کی معزولی


یزید بن عبدالملک نے ملک عراق کے گورنر اپنے بھائی مسلمہ بن عبدالملک کو معزول کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ‘‘اِس سال 102 ھجری میں مسلمہ بن عبدالملک کو ملک عراق اور خراسان کی گورنری سے معزول کر دیا گیا ۔ جب سے وہ گورنر بنا تھا تب سے خراج کا ایک پیسہ بھی امیرالمومنین کو نہیں بھیجا تھا یزید بن عبدالملک نے اُسے معزول کرنے کا ارادہ کیا لیکن بعد میں مروت مانع آئی ۔اِس لئے اُس نے مسلمہ بن عبدالملک کو لکھا :‘‘ تم کسی شخص کو اپنا جانشین بنا کر میرے پاس آؤ ۔’’ مسلمہ بن عبدالملک نے عبدالعزیز بن حاتم سے کہا : ‘‘ میں امیرالمومنین نے ملنے جارہا ہوں۔’’ اُس نے کہا: ‘‘ ابھی حال ہی میں تو تم مل کر آئے ہو اب ایسا کون سا معاملہ پیش آگیا ہے؟’’ مسلمہ بن عبدالملک سفر کی تیاری کرنے لگا تو عبدالعزیز بن حاتم نے کہا : ‘‘ اچھا تو پھر یہ سمجھ لو کہ تم اپنے علاقہ سے باہر نکلوگے اور اُدھر سے دوسرا شخص گورنر مقرر ہو کر تمہاری جگہ تمہیں آتا ہوا ملے گا۔ ’’ مسلمہ بن عبدالملک روانہ ہوا اور زیادہ دور نہیں پہنچا تھا کہ اُسے عمرو بن ہبیرہ آتا ہوا ملا ۔مسلمہ بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ کہاں جا رہے ہو؟ اُس نے کہا: ‘‘ امیر المومنین نے مہلب کی اولاد کے مال و متاع پر قبضہ کرنے کے لئے بھیجا ہے ْ اُس کے جانے کے بعد عبدالعزیز بن حاتم نے کہا: ‘‘ میں نے پہلے ہی تمہیں خبر کر دی تھی ۔’’ جب مسلمہ بن عبدالملک ملک شام میں پہنچا تو اُسے معلوم ہواکہ عمرو بن ہبیرہ کو ا’س کی جگہ گورنر بنا دیا گیا ہے ۔ اِس سال عمرو بن ہبیرہ نے آرمینیہ میں رومیوں سے جہاد کیا اور انہیں شکست دی اور سات سو قیدی گرفتار کر لئے ۔ 


خراسان میں ‘‘تحریک عباسیہ ’’ کا آغاز


اِس سال خراسان میں ‘‘خاندان ِ بنو عباس ’’کی تحریک شروع

 ہوئی ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 102 ھجری میں میسرہ نے ملک عراق سے اپنے قاصدوں کو خراسان بھیجا اور وہاں بنو عباس کی حمایت میں تحریک شروع ہوئی ۔ بنو تمیم کے ایک شخص عمرو بن بحیر بن ورقا نے سعید خذنیہ سے آکر کہا : ‘‘ یہاں کچھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے ہمارے مفاد کے خلاف باتیں کی ہیں۔’’ سعید خذنیہ نے اُن لوگوں کو بلوا کر کہا: ‘‘ تم کون ہو؟’’ انہوں نے کہا: ‘‘ ہم تاجر ہیں ۔’’ سعید خزنیہ نے پوچھا: ‘‘ تمہارے متعلق ایسی باتیں بتائی گئیں ہیں۔’’ انہوں نے لاعلمی ظاہر کی ۔ سعید خذنیہ نے کہا: ‘‘ تم لوگ داعی بن کر آئے ہو؟’’ انہوں نے جواب دیا : ‘‘ ہمیں ہماری تجارت سے ہی فرصت نہیں ملتی تو بھلا ہم یہ سب باتیں کیوں کرنے لگیں ۔’’پھر سعید خذنیہ نے لوگوں سے پوچھا : ‘‘ اِن لوگوں کو کون جانتا ہے؟ ’’ اِس پر خراسان میں رہنے والے بنو ربعہ کے جو اہل یمن تھے آئے اور ان کی ضمانت لی تو سعیدخذنیہ نے انہیں چھوڑ دیا ۔ 



افریقہ کے گورنر کا قتل


اِس سال افریقہ کے گورنر یزید بن ابی مسلم کا قتل وہاں کے باشندوں نے کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : افریقہ کے گورنر یزید بن ابی مسلم نے اپنے یہاں بھی وہی طریقہ اختیار کیا جو ملک عراق میں حجاج بن یوسف نے کیا تھا ۔ حجاج بن یوسف نئے اسلام قبول کرنے والوں سے بھی جزیہ وصول کرتا تھا۔ جب یزید بن ابی مسلم نے افریقہ میں یہی طریقہ اپنایا تو دارالخلافہ قیروان کے باشندوں نے مل کر اُس کا قتل کر دیا اور اُس کی جگہ محمد بن یزید انصار کے غلام کو جو پہلے بھی افریقہ کا گورنر رہ چکا تھا اُسے گورنر بنا لیا ۔ اِس کے بعد اہل قیروان نے اہل افریقہ کی طرف سے یزید بن عبدالملک کو کو لکھ بھیجا: ‘‘ ہم آپ کی اطاعت اور بیعت سے منحرف نہیں ہوئے ہیں مگر چونکہ یزید بن ابی مسلم نے ہم پر ایسی بات عائد کی تھی جسے اﷲ تعالیٰ پسند نہیں کرتا ہے اور نہ ہی مسلمان ۔ اِسی لئے ہم نے اسے قتل کر ڈالا اور آپ کے سابق گورنر کو اپنا گورنر بنا لیا ۔’’ اِس پر یزید بن عبدالملک نے جواب لکھا: ‘‘ جو کچھ بھی یزید بن ابی مسلم نے کیا تھا اُس میں میری رضامندی نہیں تھی ۔’’ اور اُس نے محمد بن یزید کو افریقہ کی گورنری پر برقرا رکھا ۔ 


ا102 ھجری کا اختتام


ا102 ھجری کا اختتام ہوا اور اِس سال کئی گورنر تبدیل ہوئے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال کے اختتام پرعمرو بن ہبیرہ ملک عراق اور خراسان کا گورنر تھا ۔ محمد بن عمرو کوفہ کا گورنر تھا ۔ قاسم بن عبدالرحمن کوفہ کے قاضی تھے ۔ عبدالملک بن بشر بن مروان بصرہ کا گورنر تھا ۔ سعید خذنیہ خراسان کا گورنر تھا ۔ ملک مصر کا گورنر اسامہ بن زید تھا ۔ مکۂ مکرمہ کا گورنر عبداﷲ بن خالد تھا اور مدینۂ منورہ کا گورنر عبدالرحمن بن ضحاک تھا اور اُسی نے مسلمانوں کو حج کرایا۔ 


ا102 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان


اِس سال جن لوگوں کا انتقال ہوا اُن میں سے چند یہاں پیش ہیں ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 102 ھجری میں ضحاک بن مزاحم ہلالی کا انتقال ہوا ۔ یہ جلیل القدر تابعی ہیں ۔ سمرقند اور نیشا پور میں رہے ۔ضحاک بن مزاحم تفسیر کے امام تھے ۔ امام ثوری کہتے ہیں :‘‘ چار آدمیوں سے تفسیر حاصل کرو ، عکرمہ ، مجاہد ، سعید بن جبیر اور ضحاک سے ۔’’ امام احمد بن حنبل نے کہا: ‘‘ ضحاک بن مزاحم ثقہ ہیں۔ امام شعبہ نے حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے ان کی سماع کا انکار کیا ہے اور کہا کہ سعید نے جو کچھ بھی لیا ان سے لیا ہے ۔ سعید قطان نے ان کو ضعیف کہا ہے اور امام ابن حبان نے اِن کو ٹقات میں شمار کیا ہے ۔ اِس سال ابومتوکل ناجی کا انتقال ہوا ۔ اِن کا نام علی بن بصری ہے ۔ یہ جلیل القدر تابعی ہیں اور انتقال کے وقت اسی سال کی عُمر تھی ۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں