اتوار، 9 جون، 2024

53 سلطنت امیہ Saltanat e Umayya 53



53 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 53


سلطنت اُمیہ کا سب سے بہترین دور، کوفہ کے گورنر کے نام فرمان، 99 ھجری کا اختتام، 99 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان، 100 ھجری : خوارج کی شورش، یزید بن مہلب قید میں، یزید بن مہلب سے ذاتی پُرخاش نہیں تھی، ختل سے صلح، نو مسلموں سے جزیہ وصول کرنے کی ممانعت، عبدالرحمن بن نعیم خراسان کا گورنر، اہل خراسان کے نام خط، غیر مسلم عوام کے متعلق ہدایات، علاقہ ماورالنہر کے مسلمانوں کا واپسی سے انکار، خراسان کے افسر خزانہ کے نام فرمان، خاندان بنو عباس کی تحریک کی ابتداء، 



سلطنت اُمیہ کا سب سے بہترین دور


حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ جب سلطنت اُمیہ کے حکمراں بنے تو اُن کا دورِ حکومت سلطنت اُمیہ کا سب سے بہترین دور کہلایا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : ۹۹ ؁ ھجری بروز جمعہ ماہ صفرالمظفر میں حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ کی بیعت ہو گئی اور وہ مسلمانوں کے امیر المومنین بن گئے ۔حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ کی حکومت ایک طرح سے ‘‘خلافت راشدہ کا احیاء’’ اور اسلامی تہذیب و ثقافت اور قرآنی احکام اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی سنت اور اسلامی تعلیمات کے ‘‘نشاۃ ثانیہ’’ کا دور کہلاتا ہے ۔ اِسلامی تاریخ میں حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ ‘‘پانچویں خلیفۂ راشد’’ شمار ہوتے ہیں۔ ان کے دور میں اُموی دور کی بہت سی بد عنوانیاں ختم ہوئیں اور دینداری اور تقویٰ اور شعائر دین کا احترام عام طور پر لوگوں میں پیدا ہوا۔ جب بھی آپ رحمتہ اﷲ علیہ خطبہ دیتے تھے تو لوگوں کو تقویٰ کی زندگی اختیار کرنے اور فواحشات سے بچنے کی تلقین کرتے تھے ۔ ایک روز خطبہ کے دوران انہوں نے کہا: ‘‘ اے لوگو! میرا نفس ہمیشہ اعلیٰ کی خواہش رکھتا ہے ۔ مجھے حکومت ملی تو اب مجھے اِس سے اعلیٰ کے حصول یعنی جنت حاصل کرنے کی خواہش و رغبت پیدا ہو گئی ہے ۔ اﷲ تم سب کو اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے! تم میری اِس مقصد کے حصول میں مدد کرو۔’’لوگ بنو اُمیہ کے دورِ حکومت میں نماز میں تاخیر کرنے اور دیر سے پڑھنے کے عادی ہو گئے تھے ۔ حضرت عُمر بن عبدالعزیزنے حکومت سنبھالتے ہی اِس خرابی کی طرف توجہ دی اور مسلمانوں کو اول وقت میں نماز پڑھنے اور نماز کے متعلق سستی سے باز رہنے پر خاص طور سے توجہ دلائی ۔ اِس کے لئے حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ نے مملکت اسلامیہ کے مؤذنوں کا خصوصی ہدایات دیں۔


کوفہ کے گورنر کے نام فرمان


امیر المومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے کوفہ کے گورنر کو عوام کے متعلق فرمان لکھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : امیر المومنین نے کوفہ کے گورنر عبدالحمید بن عبدالرحمن کو یہ فرمان لکھا: ‘‘ یہ خط اﷲ کے بندے عُمر بن عبدالعزیز امیرالمومنین کی طرف سے کوفہ کے گورنر عبدالحمید بن عبدالرحمن کے نام ! اسلام اعلیکم! حمدو ثناء کے بعد! تمہیں معلوم ہو کہ اہل کوفہ پر پچھلے گورنروں نے ضرورت سے زیادہ سختیاں اور ظلم کئے ہیں ۔ حالانکہ اسلام کی بنیاد ‘‘عدل اور نرمی’’ پر ہے ۔ سب سے زیادہ تم خود اپنے نفس کی روک تھام رکھنا کیونکہ یہ چھوٹا موٹا گناہ نہیں ہے ۔ بنجر زمین پر لگان نہیں لگانا اور آباد زمین پر بھی زراعت والی زمین کی لگان نہیں لگانااور عوام کی اصلاح کرنے کی کوشش کرنا۔ زراعت والی زمین پر صرف زر لگان ہی وصول کرنا اور وہ بھی نرمی اوور دل جوئی کے ساتھ اِس طرح کہ کسان خوش رہیں اور خراج ہمیشہ پیدا وار کا ساتواں حصہ وصول کرنا ۔ لگان وصول کرنے والوں کی تنخواہیں عوام سے وصول نہیں کرنا اور نہ ہی نوروز اور مہرجان کا نذرانہ قبول کرنا ۔ خطوط اور پٹہ رسانے کی اُجرت نہیں لینا اور مکانات کا کرایہ بھی نہیں لینا ۔ اِسی طرح جو شخص مسلمان ہوجائے اُس سے خراج یا جزیہ نہیں لینا ۔ اِن تمام امور میں میری ہدایات پر عمل کرنا کیونکہ جو کام اﷲ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی نگرانی کا میرے متعلق کیا ہے اِس میں اِن امور کا میں تمہیں ذمہ دار مقرر کرتا ہوں۔ میرے مشورے اور حکم کے بغیر کسی شخص کو قتل نہیں کرنا اور نہ سولی پر چڑھانا ۔ عوام میں سے جو شخص حج کے لئے جانا چاہے اُسے حج کے لئے اخراجات پہلے سے دے دینا ۔ والسلام۔’’ 


99 ھجری کا اختتام


99 ھجری میں جب حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ حکمراں بنے تو مملکت اسلامیہ میں ہر شعبے میں تبدیلی آئی ۔اِسی طرح گورنروں کی بھی تبدیلی ہوئی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : امیر المومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ نے یزید بن مہلب کو ملک عراق اور خراسان کی گورنری سے معزول کر دیا ۔خراسان کا گورنر جراح بن عبداﷲ کو بنایا ۔ بصرہ کا گورنر عبدی بن ارطاۃ فزاری کو بنایا ۔ کوفہ کا گورنر عبدالحمید بن عبدالرحمن کو بنایا ۔امیر المومنین نے حسن بن ابی الحسن کو بصرہ کا قاضی مقرر کیا لیکن جب مسلمانوں نے اُن کی شکایت کی تو انہیں معزول کر کے معاوہ بن قرہ کو قاضی بنایا ۔ کوفہ کے قاضی عامر شعبی تھے ۔ مکۂ مکرمہ کا گورنر عبدالعزیز بن خالد تھا ۔ مدینۂ منورہ کا گورنر ابوبکر بن احمد تھا اور اُسی نے مسلمانوں کو حج کرایا۔ 


99 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان


اِس سال کافی مسلمانوں کا انتقال ہوا اُن میں سے چند یہ ہیں: علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 99 ھجری میں عبداﷲ بن محریز بن خبادہ بن عبید کا انتقال ہوا ۔ یہ جلیل القدر تابعی ہیں اور اانہوں نے اُم ابی محذورہ کے شوہر حضرت عبادہ بن صامت ، حضرت معاویہ بن ابی سفیان اور حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہ سے روایات بیان کی ہیں اور اِن سے خالد بن معدان ، حسان بن عطیہ زہری اور دوسرے تابعین نے روایات بیان کی ہیں ۔اِن کے ثقہ ہونے کی متعدد لوگوں نے توثیق کی ہے اور آئمہ کی ایک جماعت نے اِن کی توصیف کی ہے ۔ حتیٰ کی رجا بن حیواۃ نے کہا: ‘‘ اگر ہم اہل مدینۂ منورہ حضرت عُمر جیسے لوگوں کے لئے ثناء خواں ہیں تو اُن پر ہم عبداﷲ بن محریز کی وجہ سے فخر کرتے ہیں۔’’اِس سال محمود بن لبید بن عقبہ انصاری اشہلی کا انتقال ہوا ۔ یہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی زندگی میں پیدا ہوئے ۔انہوں نے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم سے احادیث بھی روایت کی ہے لیکن ان کا حکم ارسال ہے ۔ امام بخاری نے کہا ہے اِن کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی صحبت کا شرف حاصل ہے ۔ امام ابن عبدالبر نے کہا ہے آپ محمود بن ربیع سے اچھے ہیں۔ امام ذہبی نے ‘‘الاعلام’’ میں لکھا اِن کا انتقال اِسی سال ہوا۔ اِس سال نافع بن جبیر بن مطعم کا انتقال ہوا ۔ آپ قریشی ہیں اور مدینۂ منورہ میں پیدا ہوئے ۔آپ نے اپنے والد ِ محترم ،حضرت عثمان غنی ، حضرت علی المرتضیٰ ، حضرت ابو ہریرہ اور اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایات بیان کی ہیں اور اِن سے بہت سے تابعین نے روایات بیان کی ہیں۔ یہ ثقہ ہیں اور اکثر پیدل حج کرتے تھے ۔ اِس سال کریب بن مسلم کا انتقال ہوا ۔ یہ حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اﷲ عنہ کے غلام تھے ۔انہوں نے متعدد صحابۂ کرام سے روایات بیان کی ہیں ۔اِن کے پاس کتابوں کا ذخیرہ تھا ۔ کارہائے دیانت میں مشہور تھے اور ثقہ لوگوں میں سے ہیں۔ اِس سال محمد بن جبیر بن مطعم کا بھی انتقال ہوا ۔ یہ قریش کے اشراف اور علماء میں شمار ہوتے تھے اور اِن کی بھی بہت سی روایات ہیں۔ اِن کا انتقال مدینۂ منورہ میں ترانوے (93) سال کی عُمر میں ہوا۔ اِس سال مسلم بن یسار کا انتقال ہوا ۔یہ ابو عبداﷲ بصری ہیں ۔بڑے عالم و زاہد تھے اور انہوں نے بہت سی روایت بیان کی ہیں۔اِن کے زمانے میں کے علماء میں یہ سب سے افضل تھے ۔اِس سال حنش بن عمور تابعی کا انتقال ہوا ۔ یہ افریقہ اور بلاد ِ مغرب کے حکمراں تھے اور افریقہ میں ہی غازی کی حیثیت سے یعنی جنگ کے دوران انتقال ہوگیا ۔انہوں نے صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم سے روایات بیان کی ہیں۔اِس سال خارجہ بن زید انصاری کا انتقال ہوا ۔ یہ ابن ضحاک انصاری مدنی ہیں اور فقیہ ہیں۔ یہ مدینۂ منورہ کے مفتی تھے اور مدینۂ منورہ کے مرعددد فقہاء میں شمار ہوتے تھے ۔ ‘‘علم الفرائیض’’ کا بہت اچھا علم رکھتے تھے اور ‘‘تقسیم الوراثت’’ میں مہارت رکھتے تھے ۔


100 ھجری : خوارج کی شورش


اِس سال 100 ھجری میں خوارج نے ایک بار پھر سر شورش برپا کی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال میں ملک عراق میں خارجیوں نے پھرسر اُٹھایا ۔ جب اِس شورش کی اطلاع امیر المومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز کو ہوئی تو انہوں نے کوفہ کے گورنر عبدالحمید بن عبدالرحمن کو لکھا :‘‘ تم خارجیوں کو کتاب اﷲ اور سنت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پر کاربند ہونے کی دعوت دو۔ عبدالحمید بن عبدالرحمن نے اِس حکم کی تعمیل کی اور پھر خوارج کے مقابلے پر ایک فوج روانہ کی جسے خارجیوں نے شکست دی ۔ جب امیر المومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز کو اِس کی خبر ہوئی آپ نے ملک شام کی ایک فوج مقام ‘‘رقہ’’ سے تیا رکر کے مسلمہ بن عبدالملک کی قیادت میں خوارج کے مقابلے کے لئے روانہ کی اور عبدالحمید بن عبدالرحمن کو لکھا: ‘‘ مجھے تمہاری فوج کی درگت کی خبر معلوم ہوچکی ہے ۔ اب میں مسلمہ بن عبدالملک کو بھیج رہا ہوں ۔ ’’ جس خارجی نے اُس زمانے میں شورش برپا کی تھی وہ ‘‘شوذب’’ تھا اور اُس کا نام ‘‘بسطام یشکری’’ تھا ۔ سب سے پہلے مقام ‘‘جوخی’’ میں اُس نے اسی (80) شہسواروں کے ساتھ بغاوت کی تھی ۔ یہ شہسوار زیادہ تر قبیلہ بنو ربیعہ کے تھے ۔ 


یزید بن مہلب قید میں


اِس سال حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے یزید بن مہلب کو قید میں ڈال دیا۔یزید بن مہلب بہت فضول خرچی کر رہا تھا اورپچھلے حکمراں سلیمان بن عبدالملک کو اُس نے ‘‘فتح جرجان’’ سے ملنے والا مال غنیمت کا خمس ادا نہیں کیا تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : یزید بن مہلب خراسان سے واسط آیا اور وہاں سے بصرہ جانے کے لئے اپنے اہل و عیال کے ساتھ کشتیوں پر سوار ہو رہا تھا کہ حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے بصرہ کے گورنر عدی بن ارطاۃ کو اُس کی گرفتاری کا حکم دیا اور اُس نے موسیٰ بن وجیہ کو روانہ کیا ۔ اُسنے یزید بن مہلب کو ‘‘نہر معقل’’ میں بصرہ کے پل کے پاس جا لیا اور گرفتار کر کے بیڑیاں پہنا دیں ۔ عدی بن ارطاۃ نے اُسے حضرت عُمر بن عبدالعزیز کے پاس ملک شام بھیج دیا ۔ امیرالمومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز کا خیال تھا کہ یزید بن مہلب اور اُس کے خاندان کے لوگ ظالم اور استبدادی ہیں ۔انہوں نے یزید بن مہلب سے کہا: ‘‘ وہ رقم ادا کرو جو تم نے سلیمان بن عبدالملک کو لکھی تھی۔’’ یزید بن مہلب نے کہا: ‘‘ آپ کو خود معلوم ہے کہ مجھے سلیمان بن عبد الملک کی خوشنودی حاصل کرنا تھی اِسی لئے میں نے صرف لوگوں کو جتانے کے لئے اُس رقم کا ظہار کر دیا تھا ۔ ’’ امیر المومنین نے کہا: ‘‘ مجھے تمہارے معاملے میں اِس کے سوا کوئی راستہ نظر نہیں آتا کہ میں تمہیں قید کر دوں۔ جو رقم تم نے کہی ہے وہ ادا کردو کیونکہ یہ مسلمانوں کا حق ہے اور میں اسے کسی بھی طرح نہیں چھوڑ سکتا ہوں ۔’’ اِس کے بعد آپ نے یزید بن مہلب کو قید خانے میں بھیج دیا ۔ 


یزید بن مہلب سے ذاتی پُرخاش نہیں تھی


امیر المومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز کی یزید بن مہلب کو حق کی خاطر گرفتار کیا تھا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : حضرت عُمر بن عبدالعزیز کو یزید بن مہلب سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی لیکن آپ اُس کے ظلم و تعدی سے بیزار تھے اور اُس کو اور اُس کے اہل خاندان کو ظالم و جابر فرمایا کرتے تھے ۔ جب آپ نے یزید بن مہلب سے فتح جرجان کے مال غنیمت کاخمس طلب کیا جس کی اطلاع اُس نے سلیمان بن عبدالملک کو دی تھی تو یزید بن مہلب نے بلا تامل کہہ دیا :‘‘ میں نے تو لوگوں کو سنانے کی غرض سے لکھا تھا اور میں یہ جانتا تھا کہ اس مال کو سلیمان بن عبدالملک مجھ سے نہیں لے گا ۔’’حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے فرمایا: ‘‘ اﷲ سے ڈر! یہ مسلمانوں کا حق ہے اور میری مجال نہیں کہ میں اِسے نظر انداز کر دوں۔ پھر وہ مطلوبہ مال ادا نہیں کر سکا تو آپ نے ‘‘قلعہ حلب’’ میں اُسے قید کردیا۔ 


ختل سے صلح


اِس سال امیرالمومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ نے نئے اسلام قبول کرنے والوں پر جزیہ کی معافی کا اعلان کر دیا اور اِس کی ایک وجہ ختل سے صلح بنی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جرجان سے روانہ ہوتے وقت یزید بن مہلب نے جہم بن زحر کو جرجان کا گورنر مقرر کیا تھا ۔ مگر جب یزید بن مہلب کو گرفتا رکر کے امیر المومنین کے پاس بھیج دیا گیا تو ملک عراق کے گورنر نے اپنی جانب سے ایک دوسرے شخص کو جرجان کا گورنر بنا کر روانہ کیا ۔ جب وہ جہم بن زحر کے پاس آیا تو اُس نے اُسے قید کر لیا اور خراسان کی طرف روانہ ہوا تو اہل جرجان نے نئے گورنر کو آزاد کر دیا ۔ جہم بن زحر نے جراح بن عبداﷲ کے پاس آکر تمام واقعہ بتایا تو وہ اُس پر برہم ہو گیا اور بولا: ‘‘ اگر تم میرے چچا زاد بھائی نہیں ہوتے تو میں کبھی تمہاری اِس حرکت کو گوارا نہیں کرتا ۔’’ جہم بن زحر نے کہا: ‘‘ اگر تم سے میری رشتہ داری نہیں ہوتی تو میں کبھی تمہارے پاس نہیں آتا ۔’’ جراح بن عبداﷲ نے کہا: ‘‘ تم نے اپنے امام کی مخالفت کی ہے اور سرکش ہو گئے ہو ۔ اب اِس کے سوائے کوئی چارہ نہیں ہے کہ تم جہاد پر جاؤ ،شاید تم فتح حاصل کر لو اور اِس طرح امیر المومنین کے پاس تمہاری بات بن جائے ۔ ’’ اِس کے بعد جراح بن عبداﷲ نے جہم بن زحر کو فوج دیکر بادشاہ ختل سے جنگ کرنے کے لئے روانہ کردیا ۔ جہم بن زحر سے بادشاہ ختل نے صلح کر لی اور بہت سا مال غنیمت اور خراج دیا ۔ جراح بن عبداﷲ نے مال غنیمت کے خمس کے ساتھ تین آدمیوں کو امیر المومنین کے پاس بھیجا ۔


نو مسلموں سے جزیہ وصول کرنے کی ممانعت


خراسان کا وفد مال غنیمت کا خمس لیکر امیر المومنین کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : خراسان کا وفد امیر المومنین کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ یہ تین شخص تھے پہلے دو عربوں نے گفتگو کی اور تیسرا شخص بیٹھا رہا ۔ اِس پر امیر المومنین نے پوچھا :‘‘ کیا تم اِس وفد کے رکن نہیں ہو؟ ’’ اُس نے کہا: ‘‘ جی ہاں میں بھی اِس وفد کا رکن ہوں۔’’ امیر المومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے فرمایا: ‘‘ پھر تم خاموش کیوں ہو؟’’ اُس نے کہا: ‘‘ امیر المومنین! خیال کرنے کی بات یہ ہے کہ بیس ہزار مجاہدین بغیر تنخواہ اور بغیر روزینہ کے جہاد کر رہے ہیں اور اِسی قدر ذمی اسلام قبول کر چکے ہیں مگر پھر بھی اُسی سابقہ مقدار کے مطابق اُن سے جزیہ لیا جا رہا ہے ۔ یہ کہاں کا انصاف ہے؟ ہمارے گورنر صاحب سخت متعصب اور ظالم ہیں ۔ ہمارے ہی ملک میں بر سر منبر کہتے ہیں کہ جب میں آیا تھا تو بہت ہی رحمدل تھا مگر اب سخت گیر ہوں اور اﷲ کی قسم! میری قوم کا ایک فرد تمہارے سو آدمیوں سے زیادہ میرے نزدیک وقیع ہے ۔ اُس کے ظلم و تکبر کا یہ حال ہے کہ اُس کی قمیص کی آستین ہمیشہ بازو تک چڑھی رہتی ہے ۔ یہ بھی ظلم میں حجاج بن یوسف سے کم نہیں بلکہ اُس کا جانشین ہے ۔’’ امیر المومنین نے یہ سن کر فرمایا: ‘‘واقعی تم جیسے آدمی کو ضرور وفد میں آنا چاہیئے تھا ۔’’ اِس کے بعد جراح بن عبداﷲ کو حکم دیا :‘‘ دیکھو جو شخص تمہارے سامنے تمہارے قبلہ کی طرف نماز پڑھے اُس سے جزیہ نہیں لینا ۔’’ اِس حکم کے پہنچتے ہی لوگ خراسان میں دھڑا دھڑ مسلمان ہونے لگے ۔ یہ حالت دیکھ کر جراح بن عبداﷲ سے کسی نے کہا: ‘‘ یہ لوگ اسلام کی خوبیوں کی وجہ سے مسلمان نہیں ہورہے ہیں بلکہ جزیہ سے بچنے کے لئے اسلام قبول کر رہے ہیں۔ ذرا ختنہ کرنے کا حکم دے کر اِن کا امتحان تو کیجیئے۔’’ جراح بن عبداﷲ نے اِس معاملہ کو امیر المومنین کے پاس بھیجا تو انہوں نے جواب میں لکھا: ‘‘ اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کو اﷲ تعالیٰ نے ‘‘داعی’’ بنا کر مبعوث کیا تھا ۔ختنہ کرنے والا مقرر نہیں کیا تھا ۔’’


عبدالرحمن بن نعیم خراسان کا گورنر


خراسان کے وفد سے ملاقات کے بعد امیر المومنین حضرت عُمر بن عبد العزیز کو اندازہ ہو گیا تھا کہ وہاں حالات کچھ ٹھیک نہیں ہیں۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : امیر المومنین نے اپنے درباریوں سے پوچھا : ‘‘ کوئی ایسا صادق القول شخص بتاؤ ! جس سے میں خراسان کی اصل حالت دریافت کر سکوں ۔’’ لوگوں نے عرض کیا: ‘‘ ابی مجلز سے بڑھ کر اور کون ہو سکتا ہے ۔’’ امیر المومنین نے جراح بن عبداﷲ کو لکھا: ‘‘ تم یہاں اور ابو مجلز کو بھی ساتھ لیکر آؤ۔’’ جراح بن عبداﷲ نے عبدالرحمن بن نعیم غامدی کو خراسان کا سپہ سالار مقرر کیا اور عبیداﷲ بن حبیب کو مال گذاری کا افسر اعلیٰ مقرر کیا اور روانگی سے پہلے اہل خراسان کے سامنے تقریر کی : ‘‘ اے اہل خراسان! میں اپنے اِنہی کپڑوں میں جو میرے بدن پر ہیں اور اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر یہاں آیا تھا ۔ میں نے تمہارے روپیہ سے صرف اپنی تلوار کے قبضہ کو مرصع کیا ہے ۔’’ اِس کے بعد امیر المومنین کے پاس روانہ ہوا تو واقعی اُس کے پاس بند کے کپڑے اور ایک گھوڑے اور ایک مادہ خچر کے علاوہ کچھ نہیں تھا اور وہ دونوں بھی بوڑھے ہو چکے تھے ۔ جب وہ امیر المومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز کی خدمت میں حاضر ہو اتو آپ نے پوچھا: ‘‘ تم خراسان سے کب روانہ ہوئے تھے ؟’’ جراح بن عبداﷲ نے کہا: ‘‘ ماہ رمضان المبارک میں ۔’’ یہ جواب سن کر امیر المومنین نے فرمایا: ‘‘ اِس سے ثابت ہوا کہ تمہارے ظلم و جور کی روایت بالکل درست ہے ۔ تم سے یہ بھی نہ ہو سکا کہ ماہ رمضان المبارک میں وہیں قیام کرتے اور ماہ صیام گزر جانے کے بعد آتے ۔’’ خود جراح بن عبداﷲ کہا کرتا تھا :‘‘ میں ضرور بڑا سخت خود رائے اور سخت سزا دینے والا ہوں۔’’ اِس کے بعد حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے جراح بن عبداﷲ کو معزول کر دیا اور عبدالرحمن بن نعیم کو خراسان کا گورنر بنا دیا ۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے جراح بن عبداﷲ کو صرف اِس لئے معزول کر دیا تھا کہ وہ نئے اسلام قبول کرنے والوں سے بھی جزیہ وصول کرتا تھا اور یہ عذر کرتا تھا کہ وہ جزیہ کے ڈر سے مسلمان ہوئے ہیں ۔ اُس کے اِس عمل سے نئے اسلام قبول کرنے والے واپس کافر ہوجاتے تھے اور جزیہ دیتے تھے ۔ 


اہل خراسان کے نام خط


امیر المومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے ایک خط عبد الرحمن بن نعیم کے نام لکھا اور دوسرا خط اہل خرسان کے نام لکھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : امیر المومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے باشندگان خراسان کے نام ایک خط لکھا :‘‘ میں نے عبدالرحمن بن نعیم کو تمہارا فوجی گورنر مقرر کیا ہے اور عبداﷲ الرحمن بن عبداﷲ کو مال گذاری کا افسر ِ اعلیٰ مقرر کیا ہے ۔ میں نے خود اُن کا انتخاب نہیں کیا ہے اور میں اُن دونوں سے ذاتی طور پر واقف بھی نہیں ہوں بلکہ لوگوں نے مجھے اُن دونوں کے حالات کے بارے میں بتایا ۔ پس اگر یہ دونوں آپ لوگوں کی مرضی کے مطابق کام کریں تو اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کریں اور اگر یہ ایسے ثابت نہ ہوں تو آپ اﷲ سے مدد کے طالب ہوں کونکہ تمام طاقت اور قدرت صرف اُسی کو حاصل ہے ۔’’ امیر المومنین نے عبدالرحمن بن نعیم کو خط لکھا: ‘‘ تم اﷲ کی مخلوق کے خیر خواہ رہنا اور اﷲ کے راستہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے متاثر نہیں ہونا ۔ کیونکہ انسانوں کے مقابلے میں اﷲ تعالیٰ اِس بات کا زیادہ مستحق ہے اور اُس کا حق اور بھی زیادہ ہے کہ اُس سے ڈرا جائے ۔ ہمیشہ مسلمانوں کو نیک کام کی ہدایت کرتے رہنا اور شفقت کرنا ۔ جو امانت تمہارے سپرد کی جائے اُسے پورا کرنا اور یہ سمجھ لو کہ کوئی بات ایسی نہیں ہے جو اﷲ تعالیٰ سے پوشیدہ رہ سکے ۔ اُس سے بچ کر تم کہیں بھی نہیں جا سکتے کیونکہ آخر کار اُسی کے پاس جانا ہے ۔’’


غیر مسلم عوام کے متعلق ہدایات


امیر المومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز پوری مملکت اسلامیہ میں غیر مسلموں کے حقو ق کا بھی پورا خیال رکھتے تھے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : امیر المومنین نے عبدالرحمن بن نعیم کو لکھا: ‘‘ کسی ایسے گرجا گھر یا یہودیوں کی خانقاہ یا مجوسیوں کے آتشکدہ کومنہدم نہیں کرنا جس کے قائم رکھے جانے کا صلح کے عہد نامے میں وعدہ کیا گیا ہو مگر اِس کے ساتھ ہی نئی عبادت گاہیں اور خانقاہیں بنانے کی اجازت بھی نہیں دینا ۔ اِسی طرح بکریاں آگے سے کھینچ کر مذبح کو نہ لے جائی جائیں اِس کی بھی ممانعت کر دو کہ کوئی شخص ذبح ہونے والے جانور کے سامنے چھری تیز نہ کرے اور بغیر کسی شرعی عذر کے دو وقت کی نماز ایک وقت میں ادا نہیں کرنا ۔’’ 


علاقہ ماورالنہر کے مسلمانوں کا واپسی سے انکار


امیر المومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے ماورالنہر کے مسلمانوں کی واپسی کا حکم دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: امیرالمومنین نے عبدالرحمن بن نعیم کو لکھا: ‘‘ علاقہ ماورالنہر میں جتنے مسلمان ہیں انہیں مع اہل و عیال کے واپس لے آؤ۔’’ مگر مسلمانوں نے واپس آنے سے انکار کر دیا اور کہا : ‘‘ مرو (خراسان کا دارلحکومت)ہماری ضروریات کو پورا نہیں کرسکتا۔’’ عبدالرحمن بن نعیم نے امیر المومنین کو اِس کی اطلاع دی ۔ اِس کے جواب میں امیرالمومنین نے لکھا: ‘‘ اﷲ تعالیٰ نے مجھ پر جو فرض کیا ہے میں نے اُسے پورا کیا لیکن پھر بھی عبدالرحمن! تم اب مسلمانوں کو لیکر جہاد کے لئے اور آگے نہیں جاناکیونکہ جس قدر علاقہ اﷲ تعالیٰ نے ہمیں دیا ہے یہی ہمارے لئے کافی ہے ۔’’ 


خراسان کے افسر خزانہ کے نام فرمان


امیر المومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز کی نظر حکومت کے ہر شعبے پر بہت گہری رہتی تھی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : امیر المومنین نے عقبہ بن زرعہ طائی کو جسے آپ نے قشیری کے بعد خراسان کا مال گذاری کا افسر اعلیٰ مقرر کیا تھا لکھا: ‘‘ حکومت کے یہ چار رکن ہیں جن کے بغیر ‘‘سلطنت’’ کی عمارت نہیں ٹھہر سکتی ۔(۱) گورنر، (۲) قاضی، ( ۳) افسر خزانہ ( خزانچی) اور چوتھا خود میں ۔یہ بھی سمجھ لو کہ مملکت اسلامیہ کے تما م سرحدی صوبہ جات میں میرے خیال میں سب سے زیادہ اہم خراسان کا صوبہ ہے ۔ تم خراج کو پوری طرح وصول کرو اور کسی شخص کے حق کو غصب کئے بغیر اس کی حفاظت کرنے اور وہاں کا خراج فوجی اور ملکی اخراجات کے لئے کافی ہو تو ٹھیک ہے ورنہ مجھے لکھو تاکہ میں مزید روپیہ بھیج دوں اور اُس سے مسلمانوں کی تنخواہوں میں اضافہ کر دو۔ ’’جب عقبہ بن زرعہ طائی نے دیکھا کہ خراسان کی آمدنی خرچ سے زیادہ ہے اور امیرالمومنین کو اِس کی اطلاع دی تو انہوں نے جواباً لکھا : ‘‘ زائد روپیہ حاجت مندوں میں تقسیم کردو ۔’’  


خاندان بنو عباس کی تحریک کی ابتداء


اِس سال 100 ھجری میں خاندان بنو عباس کی تحریک کی ابتداء ہوئی ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال دعوت بنو عباس کا آغاز ہوا اور اِس کی ابتداء اِس طرح ہوئی کہ حضرت عبداﷲ بن عباس بن عبد المطلب رضی اﷲ عنہ کا پوتا محمد بن علی بن عبداﷲ بن عباس بن عبدالمطلب نے جب وہ اُس سر زمین میں مقیم تھا جو اُس نے خرید لی تھی ،اپنی طرف سے ایک شخص جس کا نام میسرہ تھا ملک عراق بھیجا اور اسی دوران دوسرا گروہ خراسان بھیجا جہاں جراح بن عبداﷲ معزول ہونے سے پہلے گورنر تھا ۔ اُن لوگون کو محمد بن علی نے اپنے پاس آنے اور اہل بیت سے ملاقات کرنے کی دعوت دی ۔ اِسی لئے ملک عراق اور خراسان سے کچھ آدمی اُس سے آکر ملے جن سے مل کر وہ بے حد خوش ہوا اور اُن لوگوں کو اپنا ہمراز بنا لیا ۔ یہ گویا ‘‘بنو عباس’’ کی حکومت کی داغ بیل پڑنے کی ابتداء تھی ۔بنو عباس کی حکومت کی ابتدائی کامیابی کے آثار محمد بن علی کو اِس لئے خصوصیت سے نظر آنے لگے کہ حضرت عُمر بن عبدالعزیز کے انتقال کے بعد ‘‘بنو اُمیہ’’ کی حکومت میں اضمحلال اور انحطاط کے آثار پیدا ہونے لگے تھے جس کا ذکر ہم آگے چل کر انشاء اﷲ بیان کریں گے ۔اِس موقع پر ابو عکرمہ سراج کے باپ ابو محمد صادق نے موقع غنیمت جان کر محمد بن علی بن عبداﷲ بن عباس بن عبدالمطلب کے بارہ نقیب بھی مقرر کر دیئے جن کے نام یہ ہیں۔سلیمان بن کثیر خزاعی ، اہنر بن قریظ تمیمی، قحطبہ بن شبیب طائی، موسیٰ بن کعب تمیمی، خالد بن ابراہیم، ابو داؤد بن عمرو بن شیبان بن ذہل ، قاسم بن مجاشع تمیمی ، عمران بن اسماعیل ابو النجم مویٰ لال ابی مغیط ، مالک بن ہیشم خزاعی ، طلحہ بن زریق خزاعی ، عمرو بن اعین ابو ہنرہ فزاعہ کا غلام ، شبل بن طہان ابو علی ہروی بنو حنیفہ کا غلام اور عیسیٰ بن اعین فزاعہ کا غلام اُس نے مزید ستر آدمی اس کے لئے بھرتی کر لئے اور ان سب کی بابت محمد بن علی کو لکھ کر مطلع کر دیا اور اُن کے کردار و سیرت اور جذبہٌ قربانی کا تذکرہ کیا ۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

54 سلطنت امیہ 54 Saltanat e Umayya



54 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 54


100 ھجری کا اختتام، 100 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان، 101 ھجری : امیر المومنین کی بیماری اور یزید بن مہلب کی پریشانی، یزید بن مہلب کا فرار، حضرت عُمر بن عبدالعزیز کا انتقال، حضرت عُمر بن عبدالعزیز کی مدت حکومت، بنو اُمیہ کا اشج، حضرت عُمر بن عبدالعزیز شہید ہوئے، اﷲ کی مشیت پر راضی تھے، یزید ثانی بن عبدالملک سلطنت اُمیہ کا حکمراں، خوارج سے جنگ، یزید بن مہلب اور یزید بن عبدالملک کی دشمنی، یزید بن مہلب بصرہ میں، بصرہ کے گورنر کی گرفتاری، شامی لشکر کی کوفہ روانگی


100 ھجری کا اختتام


اِس سال 100 ھجری میں حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے خراسان کے گورنر کو معزول کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال امیر المومنین نے خراسان کے گورنر جراح بن عبداﷲ حکمی کو معزول

 کر دیا اور اُس کی جگہ عبدالرحمن بن نعیم قشیری کو گورنر بنا کر بھیجا ۔ اِس طرح جراح بن عبداﷲ ایک سال پانچ مہینہ خراسان کا گورنر رہا ۔ 99 ھجری میں خراسان آیا اور ماہ رمضان المبارک 100 ھجری ختم ہونے میں کچھ روز باقی تھے کہ اُس نے خراسان چھوڑا۔اِس ایک تبدیلی کے علاوہ پوری مملکت اسلامیہ میں وہی گورنر رہے جو پچھلے سال تھے ۔ اِس سال مدینۂ منورہ کے گورنر ابوبکربن محمد بن حزم نے مسلمانوں کو حج کروایا ۔ اِس سال حضرت عُمر بن عبدالعزیز حکومت کے کاموں کی مشغولیت کی وجہ سے حج نہیں کر سکے لیکن وہ مدینۂ منورہ میں خطوط کے ذریعے اپنے گورنر کو حکم دیتے تھے کہ وہ اُن کی طرف سے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے روضۂ مبارک پر درود و سلام پڑھے ۔ 


100 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان


اِس سال جن کا انتقال ہوا اُن میں چند نام یہ ہیں ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 100 ھجری میں سالم بن ابی جعد اشجعی کا انتقال ہوا ۔ یہ جلیل القدر تابعی ہیں اور انہوں نے حضرت ثوبان ، حضرت جابر ، حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق اور حضرت نعمان بن بشیر رضی اﷲ عنہم سے روایات بیان کی ہیں ۔ اِن سے قتادہ اور اعمش اور دوسرے لوگوں نے روایات بیان کی ہیں ۔ یہ ثقہ اور سخی بزرگ تھے ۔اِس سال حضرت ابواُمامہ سہل بن حنیف اوسی مدنی کا انتقال ہوا ۔ یہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں پیدا ہوئے ۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو دیکھا اور اپنے والد کے علاوہ ، حضرت عُمر فاروق ، حضرت عثمان غنی ، حضرت زید بن ثابت ، حضرت معاویہ بن ابی سفیان اور حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے احادیث بیان کی ہیں ۔اِن سے امام زہری ، امام ابن حازم اوربہت سے تابعین نے احادیث بیان کی ہیں ۔ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو باغیوں نے مسجد نبوی میں نماز پڑھنے سے روک دیا تھا تو اُن کی جگہ حضرت ابواُمامہ سہل بن حنیف نے جمعہ کی نماز پڑھائی تھی ۔ اِس سال ابو طفیل عامر بن واثلہ کتانی کا انتقال ہوا ۔ یہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے آخری دیدار کرنے والوں میں سے ہیں ۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے وقت موجود تھے اور فرماتے ہیں :‘‘ میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو خانۂ کعبہ کے رکن کو چھڑی سے بوسہ لیتے ہوئے دیکھا ہے ۔’’ انہوں نے حضرت ابوبکر صدیق ، حضرت عُمر فاروق ، حضرت علی المرتضیٰ ، حضرت معاویہ بن ابی سفیان اور حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہم سے روایات بیان کی ہیں اور خود اُن سے امام زہری ، عمرو بن دینار ، ابو زبیر اور بہت سے تابعین نے احادیث بیان کی ہیں۔ یہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ تمام جنگوں میں شریک تھے اور مختار بن ابو عبید ثقفی کے ساتھ بھی تھے ۔اِس سال ابو عثمان نہدی کا انتقال ہوا ۔ اِن کا پورا نام عبدالرحمن بن مل بصری ہے ۔ یہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی زندگی میں ایمان لائے لیکن آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو دیکھ نہیں پائے اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف سے بھیجے گئے ذکوٰۃ کے محصولین کو تین بار ذکوٰۃ ادا کر چکے تھے ۔ آئمۂ حدیث ایسے لوگوں کو ‘‘ مخضرمی’’کہتے ہیں ۔ انہوں نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے زمانے میں ہجرت کی انہوں نے حضرت علی المرتضیٰ ، حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہم اور صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کی ایک جماعت سے روایات بیان کی ہیں ۔ یہ حضرت سلمان فارسی رضی اﷲ عنہ کی صحبت میں بارہ سال رہے ۔ اِن سے بہت سے تابعین نے روایات بیان کی ہیں جن میں ایوب ، حمید الطویل اور سلیمان بن طرخان تمیمی شامل ہیں ۔ 


101 ھجری : امیر المومنین کی بیماری اور یزید بن مہلب کی پریشانی


سلیمان بن عبدالملک نے حضرت عُمر بن عبدالعزیز کو‘‘سلطنت اُمیہ’’ کا حکمراں بنایا تھا اور اُن کے بعد یزید بن عبدالملک کو ‘‘ولی عہد’’ بنایا تھا ۔ یزید بن مہلب نے یزید بن عبدالملک کے سسرالی رشتہ داروں کو بہت تکلیف دی تھی ۔ اِسی لئے جب حضرت عُمر بن عبدالعزیز بیمار ہوئے تو یزید بن مہلب پریشان ہوگیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : یزید بن مہلب امیر المومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز کے بیمار ہونے تک چپ چاپ قید خانے میں پڑا رہا ۔ مگر جب اُسے امیرالمومنین کی بیماری کے بارے میں معلوم ہوا تو اب اُس نے بھاگ نکلنے کی فکر کی ۔ اِس کی اصل وجہ یہ تھی کہ یزید بن مہلب نے یزید بن عبدالملک کی بیوی کے رشتہ داروں خاندان ابی عقیل کو اپنی گورنری کے زمانے میں بہت تکلیفیں پہنچائی تھیں ۔ اِسی لئے یزید بن عبدالملک نے قسم کھائی تھی کہ جب بھی میں یزید بن مہلب پر قابو پاؤں گا تو اُسے قتل کر ڈالوں گا ۔ اِسی وجہ سے یزید بن مہلب خوفزدہ تھا کیونکہ حضرت عُمر بن عبدالعزیز کے بعد یزید بن عبدالملک ہی ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کا حکمراں بننے والاتھا ۔


یزید بن مہلب کا فرار


امیر المومنین کی بیماری کا سن کر یزید بن مہلب فرار ہوگیا اور امیر المومنین سے معذرت کی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں :یزید بن مہلب نے اپنے ساتھیوں کو کہلا بھیجا تھا کہ میرے فرار کے لئے سواریوں کا انتظام کریں۔ امیرالمومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز ‘‘دیر سمعان’’ میں بیمار پڑے اور جب اُن کی بیماری میں شدت ہوئی تو یزید بن مہلب نے اونٹ منگوائے اور جب اُسے معلوم ہوا کہ اُن کے آنے میں ابھی دیر ہے تو وہ قیدخانے سے نکل کر اُس جگہ آیا جہاں اُس کے ساتھیوں نے اُس سے ملنے کا وعدہ کیا تھامگر اُس جگہ آکر دیکھا کہ اب تک کوئی نہیں آیا تو وہ اور اُس کے ساتھی گھبرا گئے ۔ یزید بن مہلب نے کہا: ‘‘ اگر تم یہ چاہتے ہو کہ میں واپس قید خانے میں چلا جاؤں تو یہ کبھی نہیں ہوسکتا ۔’’ اِسی دوران اونٹ آگئے اور یزید بن مہلب سوار ہو کر روانہ ہوا ۔ اُس کے ساتھ محمل کے دوسرے حصہ میں اُس کی بیوی عاتکہ قرات بنت معاویہ قبیلہ بنو بکا کی بیٹی تھی ۔شہر سے دور نکل جانے کے بعد یزید بن مہلب نے امیر المومنین کو خط لکھا: ‘‘ اگر مجھے یقین ہوتا کہ آپ ابھی زندہ رہیں گے تو ہر گز قید خانے سے نہیں بھاگتا۔ مگر کیا کروں مجھے یزید بن عبدالملک سے خوف لگا ہوا ہے ۔’’ خط پڑھ کر امیرالمومنین نے فرمایا: ‘‘ اے اﷲ تعالیٰ! اگر اِس حرکت سے یزید بن مہلب کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں میں فتنہ و فسادپھیلائے تو اُس کے خیالات کو اُسی پر پلٹ دے اور مسلمانوں کو محفوظ رکھ ۔’’


حضرت عُمر بن عبدالعزیز کا انتقال


101 ھجری میں امیرالمومنین حضرت عُمر بن عبداالعزیز بیمار ہوئے اور انتقال ہوگیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : امیر المومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز کی بیوی کا بیان ہے کہ جب مرض کی وجہ سے آپ کو بے چینی زیادہ ہوئی تو آپ رات بھر جاگتے رہے اور ہم لوگ بھی جاگتے رہے ۔ صبح کے وقت میں نے آپ کے خادم مرثد سے کہا: ‘‘ تُو امیرالمومنین کے پاس رہنا اور اگر کوئی ضرورت ہو تو ہم قریب ہی ہیں ہمیں فوراً اطلاع کر دینا۔’’ یہ حکم دے کر ہم وہاں سے چلے آئے اور چونکہ رتا بھر کے جاگے ہوئے تھے اِس لئے سب سو گئے ۔ دن چڑھے جب میں بیدار ہوئی تو امیرالمومنین کے پاس گئی ۔ دیکھا کہ مرثد کمرہ کے باہر پڑا سو رہا ہے ۔میں نے اُسے اُٹھایا اور اُس سے پوچھا کہ وہ باہر کیوں چلا آیا؟مرثد نے کہا: ‘‘ خود امیرالمومنین نے مجھ سے کہا :‘‘ تُو باہر چلا جا کیونکہ اﷲ کی قسم! میں ایس شکل دیکھ رہا ہوں جو نہ انسان ہیں اور نہ جنات ہیں ۔’’ اور میں نے انہیں یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا:‘ ‘ ترجمہ۔ یہ آخرت ہے ،ہم نے اسے ان لوگوں کے لئے بنایا جو دنیا میں نہ نمودچاہتے ہیں اور نہ خرابی ڈالنا چاہتے ہیں اور عاقبت اﷲ سے ڈرنے والوں کے لئے ہی ہے ۔’’یہ سن کر میں تیزی سے امیرالمومنین کے پاس پہنچی اور دیکھا کہ آپ سیدھے لیٹے ہوئے ہیں ۔آنکھیں بند ہیں اور روح قفس عنصری سے پروازکر چکی تھی ۔’’


حضرت عُمر بن عبدالعزیز کی مدت حکومت


حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ کا 101 ھجری میں انتقال ہوگیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ہیثم بن واقد کہتے ہیں کہ میں 97 ھجری میں پیدا ہوا اور 99 ھجری میں ماہ صفر المظفر ختم ہونے میں ابھی دس راتیں باقی تھیں کہ مقام وابق پر حضرت عُمر بن عبدالعزیز سلطنت اُمیہ کے حکمراں بنے ۔ حکمراں بننے کے بعد آپ نے عوام کا جو روپیہ تقسیم کیا اُس میں سے تین دینار میرے حصہ میں بھی آئے اور مقام خناصرہ میں جب ماہ رجب المرجب 101 ھجری ختم ہونے میں پانچ راتیں باقی تھیں تو آپ کا انتقال ہوا۔ بیس دن تک بیمار رہے اور دو سال پانچ مہینے اور چار دن حکومت کی ۔ اُنتالیس سال کی عُمر میں انتقال ہوا اور دیر سمعان میں دفن کئے گئے ۔ بعض ارباب سیر نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ جس روز آپ کا انتقال ہوا اُس آپ کی عُمر اُنتالیس سال اور پانچ مہینے تھی ۔ بعض نے چالیس سال کی عُمر بتائی ۔ خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی پرپوتی حضرت عُمر بن عبدالعزیز کی والدہ محترمہ ہیں ۔ حضرت عُمر بن عبدالعزیز کو ‘‘بنو اُمیہ کا اشج’’ کہا جاتا تھا کیونکہ بچپن میں انہیں پیشانی پر ایک زخم لگا تھا جس کا نشان آخر تک رہا ۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ امام عادل ، انصاف پسند حاکم اور نہایت متقی اور پرہیز گار خلیفہ ٔراشد گذرے ہیں جو عدل و انصاف کے تقاضوں اور اسلامی شریعت کے مفاذ میں کسی امر کی پرواہ نہیں کرتے تھے ۔


بنو اُمیہ کا اشج


حضرت عُمر بن عبدالعزیز کے بارے میں خلیفۂ دُوم حضرت عَمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو معلوم تھا لیکن یہ نہیں معلوم تھا کہ وہ میری پرپوتی کا بیٹا ہوگا ۔امام جلا ل الدین سیوطی لکھتے ہیں : حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا تھا :‘‘ میری اولاد میں ایک شخص ایسا پیدا ہوگا جس کے چہرے پر نشان ہوگا اور وہ تما م رُوئے زمین کو عدل سے بھر دے گا۔’’(امام ترمذی نے اپنی تاریخ میں ذکر کیا ہے) اور آپ رضی اﷲ عنہ کا فرمانا بالکل صحیح ہوا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ یہ بھی فرمایا کرتے تھے:‘‘ کاش میں اپنے نشان والے بیٹے کا زمانہ پاتا جو دنیا کو عدل سے بھر دے گا جس طرح ابھی دنیا ظلم سے بھری پڑی ہے۔’’(طبقات ابن سعد) علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : نافع کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو اکثر یہ کہتے سنا ہے کہ کاش مجھے معلوم ہوتا کہ خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی اولاد میں وہ کون شخص ہو گا جس کی پیشانی پر ایک علامت ہوگی اور جو روئے زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا ۔’’ حضرت عُمر بن عبدالعزیز کو بچپن میں پیشانی پر ایک جانور ( غالباً گھوڑا کیونکہ گھوڑے کو لوہے کی نعل ٹھونکی ہوتی ہے) نے لات ماری جس کی وجہ سے پیشانی پھٹ گئی ۔ آپ کووالدہ محترمہ کے پاس لایا گیا تو وہ پیشانی کا خون پونچھنے لگی اور شوہر پر غصہ کرنے لگیں کہ میرے بیٹے کے ساتھ کوئی محافظ یا خدمت گار بھیجا ہوتا جو میرے بچے کا خیال رکھتا۔ آپ کے والدعبدالعزیز بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ اری نیک بخت! خاموش ہوجا! تیرا بیٹا تمام خاندان بنو اُمیہ کا ‘‘اشج’’ ہے ۔’’بڑے ہونے پر بھی اُس زخم کا نشان آپ کی پیشانی پر تھا۔


حضرت عُمر بن عبدالعزیز شہید ہوئے


حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ شہید ہوئے ہیں ۔ امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں : امام مجاہد کہتے ہیں : ‘‘ حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے اپنی بیماری کے دوران مجھے بلا کر فرمایا: ‘‘ میری بیماری کے بارے میں لوگوں کا کیا خیال ہے؟’’ میں نے کہا: ‘‘ عوام میں یہ مشہور ہے کہ آپ پر سحر کیا گیا ہے ۔’’ آپ نے فرمایا: ‘‘ یہ خیال غلط ہے ، مجھے زہر دیا گیا ہے اور جس وقت دیا ہے اور جس نے دیا ہے وہ بھی مجھے معلوم ہے ۔’’ پھر آپ نے اُس غلام کو بلایا جس نے آپ کو زہر دیا تھا اور اُس سے فرمایا: ‘‘ تجھ پر افسوس ہے ! تجھے کس چیز نے مجھے زہر دینے پر آمادہ کیا ؟’’ اُس نے کہا: ‘‘اِس کام کے عوض مجھے ایک ہزار دینار دیئے گئے ہیں اور مجھ سے یہ وعدہ بھی کیا گیا ہے کہ مجھے آزاد کر دیا جائے گا ۔’’ آپ نے فرمایا :‘‘ جاؤ وہ دینار لیکر آؤ۔’’ جب وہ دینار لیکر آیا تو آپ نے وہ تمام دینار اُس سے لیکر ‘‘بیت المال’’ میں جمع کرادیئے اور اُس سے فرمایا: ‘‘ یہاں سے فورا! اِس طرح بھاگ جاؤ کہ کوئی پھر تمہیں یہاں نہیں دیکھ سکے ۔’’ 


اﷲ کی مشیت پر راضی تھے


حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ نے اﷲ تعالیٰ کی مشیت کو راضی برضا قبول کر لیا تھا ۔ امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں : ولید بن

 ہشام کا بیان ہے کہ حضرت عُمر بن عبدالعزیز سے کسی شخص نے بیماری کی حالت میں عرض کیا: ‘‘ آپ علاج کیوں نہیں کرواتے؟’’ آپ نے فرمایا: ‘‘ جس وقت مجھے زہر دیا گیا تھا اُس وقت مجھ سے اگر کہا جاتا کہ تم اپنے کان کی لو کو چھو لو یا فلاں خوشبو سونگھ لو تو تم شفا یاب ہو جاؤگے تب بھی میں ایسا نہیں کرتا ۔’’ ( کیونکہ اگر میں مر گیا تو زہر خورانی کی وجہ سے شہادت کا درجہ حاصل کروں گا)ہشام کا بیان ہے کہ جب حضرت عُمر بن عبدالعزیز کے انتقال کی خبر حضرت حسن بصری رحمتہ اﷲ علیہ کو ہوئی تو آپ نے فرمایا: ‘‘ دنیا کا سب سے بہترین آدمی رخصت ہوگیا۔’’


یزید ثانی بن عبدالملک سلطنت اُمیہ کا حکمراں


سلیمان بن عبدالملک کی وصیت کے مطابق حضرت عُمر بن عبدالعزیز ‘‘سلطنت اُمیہ ’’ کے حکمراں بنے تھے اور اُس نے اُن کے بعد یزید بن عبدالملک کے لئے وصیت کی تھی ۔ اِس لئے حضرت عُمر بن عبدالعزیز کے انتقال کے بعد یزید بن عبدالملک ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کا حکراں بنا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 101 ھجری میں یزید بن عبدالملک جس کی کنیت ابو خالد تھی اُنتالیس سال کی عُمر میں سلطنت اُمیہ کا حکمراں بنا ۔علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : یزید بن عبدالملک نے ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کا حکمراں بنتے ہی ابو بکر بن محمد کو معزول کر کے مدینۂ منورہ کا گورنرعبدالرحمن بن ضحاک کو بنا دیا اور حضرت عُمر بن عبدالعزیز کے تمام کاموں کو اُلٹ پلٹ دیا ۔ یمن کے گورنر محمد بن یوسف (حجاج بن یوسف کا بھائی) نے اہل یمن پر ایک نیا ٹیکس لگا دیا تھا ۔ جس کو حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے اپنے دور ِ حکومت میں معاف کر کے عشر (دسواں حصہ) یا نصف عشر ( بیسواں حصہ) قائم کیا اور یہ فرمایا: ‘‘ مجھے اِس نئے خراج کو قائم کرنے سے زیادہ یہ پسند ہے کہ ملک یمن سے ایک ذرہ برابر خراج آئے ۔ جب یزید بن عبد الملک ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کا حکمراں بنا تو اُس ٹیکس کو پھر سے جاری کر دیا اور اپنے گورنر کو لکھ بھیجا:‘‘ اہل یمن سے ضرور ٹیکس وصول کرو چاہے اُن کو ناگوار ہو ۔’’ اُنہیں دنوں اُس کے چچا محمد بن مروان کا انتقال ہوگیا تو اُس نے اُس کی جگہ اپنے دوسرے چچا مسلمہ بن عبدالملک کو الجزیرہ ، آذربائیجان اور آرمینیہ کو گورر بنا دیا ۔ 


خوارج سے جنگ


اِس سال 101 ھجری میں خوارج سے جنگ میں اُن کا سردار شوذب قتل ہوا ۔ خوارج کو حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے مناظرے کے لئے بلایا تھا اور خوارج نے دو شخصوں کو بھیجا تھا ۔ مناظرے کے دوران ہی حضرت عُمر بن عبدالعزیز کا انتقال ہو گیا اور مناظرہ ادھورا رہ گیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : خوارج کے سردار شوذب نے مناظرہ کرنے کے لئے ایک وفد امیرالمومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز کے پاس بھیجا تھا ۔ آپ کے انتقال کے بعد کوفہ کے گورنر عبدالحمید بن عبدالرحمن نے نئے حکمراں یزید بن عبدالملک کے سامنے اپنی کارگذاری پیش کرنے اور تقرب حاصل کرنے کے لئے خوارج پر ایک لشکر بھیج کر حملہ کردیا۔ خوارج نے اُس لشکر کو شکست دی ۔ جب یزید بن عبدالملک کو اِس شکست کی اطلاع ملی تو اُس نے دوہزار سواروں کا ایک لشکر بھیجا ۔ خوارج نے اسے بھی شکست دی ۔ پھر مسلمہ بن عبدالملک کی سپہ سالاری میں یزید بن عبدالملک نے ایک بہت بڑا لشکر بھیجا ۔ جب مسلمہ بن عبدالملک نے کوفہ کے قریب پڑاؤ ڈالا تو کوفہ کے گورنر نے اُسے خوارج کے بارے میں بتایا۔ اُس نے نحبہ بن عمر کو دس ہزار کا لشکر دے کر خوارج کے مقابلے میں بھیجا ۔ اِس لشکر نے شوذب اور تمام خوارج کو قتل کرڈالا۔’’ 


یزید بن مہلب اور یزید بن عبدالملک کی دشمنی


یزید بن عبدالملک کے ‘‘ سلطنت ِ اُمیہ’’ کا حکمراں بننے سے پہلے ہی یزید بن مہلب قید خانے سے فرار ہو گیا کیونکہ اُسے یزید بن عبدالملک نے چیلنج دیا تھا کہ حکمراں بنتے ہی تجھ سے سمجھ لوں گا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے یزید بن مہلب کو جرجان کا خمس نہیں دینے کی وجہ سے قید کر دیا تھا ۔ حضرت عُمر بن عبدالعزیز کی بیماری کے دوران اُس نے جیل سے فرار ہونے کی فکر کی ۔یزید بن عبدالملک کی بیوی حجاج بن یوسف کے بھائی کی بیٹی تھی ۔ سلیمان بن عبدالملک نے اپنے دور ِ حکومت میں حجاج بن یوسف کے رشتہ داروں کو سزا دینے کی ذمہ داری یزید بن مہلب کو دی تھی اور وہ اِن سب کو طلقاء سے قید کر کے دمشق لایا تھا جس میں یزید بن عبدالملک کی بیوی بھی تھی اور اُس کو بھی سزا دی جاتی تھی ۔ یزید بن عبدالملک اپنی بیوی کی سفارش کرنے کو یزیدبن مہلب کے پاس گیا اوراپنی بیوی کی سفارش کی لیکن یزید بن مہلب نے کوئی توجہ نہیں دی تو یزید بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ وہ تاوان جو تم نے مقرر کیا ہے میں ادا کر دوں گا اِس لئے میری بیوی کو سزا نہ دو ۔’’ یزید بن مہلب نے یہ بھی منظور نہیں کیا تب یزید بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ اچھا! اِس وقت تم میرا کہنا نہیں مان رہے ہو جب میں ‘‘ سلطنت اُمیہ’’ کا حکمراں بنوں گا تو تم سے سمجھ لوں گا ۔’’ یزید بن مہلب نے کہا: ‘‘ اگر تُو حکمراں بنا تو ایک لاکھ تلواریں تیرے خلاف نیام سے باہر کر دوں گا۔’’ بہر حال بعد میں یزید بن مہلب نے ایک لاکھ تاوان لیکر یزید بن عبدالملک کی بیوی کو آزاد کر دیا۔ 


یزید بن مہلب بصرہ میں


یزید بن مہلب قید خانے سے فرار ہو کر بصرہ پہنچا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : یزید بن عبدالملک نے بیعت لینے کے بعد کوفہ کے گورنرعبدالحمید بن عبدالرحمن اور بصرہ کے گورنر عدی بن ارطاۃ کو یزید بن مہلب کے فرار کا حال اور اُس کے اہل و عیال کو دوبارہ گرفتار کرنے کو لکھا۔ اِس حکم کے ملتے ہی عدی بن ارطاۃ نے مفضل بن مہلب اور مروان بن مہلب کو کو گرفتار کر کے قید کر دیا ۔ اِسی دوران یزید بن مہلب بھی بصرہ پہنچ گیا ۔ کوفہ کے گورنر عبدالحمید بن عبدالرحمن نے ہشام بن مساحق کو لشکر دیکر یزید بن مہلب کو گرفتار کر کے لانے کے لئے بھیجا تھا ۔ جب یہ لشکر ‘‘حذیب’’ پہنچا تو یزید بن مہلب جاتا ہوا دکھائی دیا تھا لیکن لشکریوں نے اُسے جانے دیا ۔ بصرہ میں عدی بن ارطاۃ نے اہل بصرہ کو جمع کر رکھا تھا اور بصرہ کے اطراف خندق کھدوادی تھی ۔سواران بصرہ کا کمانڈر مغیرہ بن عبداﷲ کو مقرر کر دیا ۔ یزید بن مہلب اپنے ساتھیوں کے ساتھ بصرہ پہنچا اور اُس کا بھائی محمد بن مہلب اُس کے استقبال کو آیا ۔ عدی بن ارطاۃ نے یہ سن کر فوج کو نئے سرے سے مرتب کیا اور ہر قبیلے پر اُس کا ایک کمانڈر مقرر کیا ۔ مگر کسی نے یزید بن مہلب سے کوئی تعرض نہیں کیا اور وہ سیدھے اپنے مکان پر جا کر اُترا۔ 


بصرہ کے گورنر کی گرفتاری


یزید بن مہلب بصرہ میں آکر اپنے مکان میں ٹھہر گیا ۔۔علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : یزید بن مہلب سے لوگ ملنے آنے لگے اور اُس نے بصرہ کے گورنر عدی بن ارطاۃ سے کہلا بھیجا:‘‘ تم میرے بھائیوں کو قید سے رہا کر دو تاکہ میں اُن کے ساتھ چند دن بصرہ میں قیام کر کے کسی بھی طرف چلا جاؤں اور پھر خروج کر کے یزید بن عبدالملک سے اپنا خاطر خواہ مقصد حاصل کروں ۔’’ عدی بن ارطاۃ نے منظور نہیں کیا تب یزید بن مہلب نے اپنے بھتیجے حمید بن عبدالملک بن مہلب کو امان حاصل کرنے کی غرض سے یزید بن عبدالملک کے پاس ملک شام روانہ کیا۔ یزید بن عبدالملک نے بہ نظر ترحم خسروانہ بنو مہلب کو امان لکھ کر دے دی اور واپسی کے وقت حمید بن عبدالملک بن مہلب کے ساتھ خالد قسری اور عمر بن یزید کو ساتھ کر دیا ۔ ابھی حمید بن عبدالملک بن مہلب واپس آنے بھی نہیں پایا تھا کہ سونے چاندی کے ٹکڑوں(یزید بن مہلب کی داد و دہش) نے لوگوں کو اُس کی طرف مائل کر دیا کیونکہ عدی بن ارطاۃ بہت کنجوس تھا اور کسی کو دو درہم بھی نہیں دیتا تھا ۔ رفتہ رفتہ دونوں میں کشیدگی بڑھ گئی اور یزید بن مہلب کے حامیوں نے عدی بن ارطاۃ کے حامیوں پر حملہ کر دیا اور اُس کی فوج پسپا ہوگئی ۔ یزید بن مہلب کے بھائیوں نے یہ سن کر قید خانے کا دروازہ اندر سے اِس خوف سے بند کر لیا کہ یزید بن مہلب کے آنے سے پہلے عدی بن ارطاۃ انہیں قتل نہ کر ڈالے داروغہ جیل اُسے کھولنے کی کوشش کر رہا تھا کہ یزید بن مہلب کے ساتھی آگئے اور وہ بھاگ گیا اور یزید بن مہلب کے بھائی قیدخانے سے باہر آگئے۔ یزید بن مہلب ‘‘قصر امارت’’ کے قریب مسلم بن زیاد کے مکان پر قیام پذیر ہوا اور اُس کے ساتھی ‘‘قصر امارت’’ پر سیڑھیاں لگا کر چڑھ گئے اور عدی بن ارطاۃ کو گرفتار کر کے لے آئے ۔یزید بن مہلب نے اُسے قید کردیا ۔ 


شامی لشکر کی کوفہ روانگی


یزید بن مہلب نے بصرہ کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے لیا علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : بصرہ کے عہدیداران کوفہ اور ملک شام کی طرف چلے گئے ۔ مغیر ہ بن زیاد ملک شام کی طرف جارہا تھا کہ راستے میں حمید بن عبدالملک بن مہلب کے ساتھ آتے ہوئے خالد قسری اور عمر بن یزید ملے تو انہیں بتایا کہ بصرہ کے گورنر کو یزید بن مہلب نے قید کر لیا ہے اور بصرہ پر غلبہ حاصل کر لیا ہے ۔ یہ سن کو خالد قسری اور عُمر بن یزید ملک شام کی طرف لوٹ گئے ۔ حمید بن عبدالملک بن مہلب نے انہیں بہت روکنے کی کوشش کی لیکن وہ چلے گئے اور ملک شام جا کر تمام حالات بتادیئے ۔ کوفہ کے گورنر نے یزید بن مہلب کے دو بیٹوں کو گرفتار کر کے یزید بن عبدالملک کے پاس بھیج دیا جہاں قید میں دونوں کی موت ہو گئی ۔ اِس کے بعد یزید بن عبدالملک نے اہل کوفہ کے لئے انعامات بھیجے اور اُن کی تعریف لکھی اور اُن کے وظائف بڑھانے کا وعدہ کیا ۔ اپنے بھائی مسلمہ بن عبدالملک اور بھتیجے عباس بن ولید کو ستر ہزار یا اسی ہزار کا لشکر دیکر ملک شام سے ملک عراق کی طرف روانہ کیا ۔ اِس لشکر نے کوفہ پہنچ کر ‘‘نخیلہ ’’ میں پڑاؤ ڈالا۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......! 

اتوار، 26 مئی، 2024

55 سلطنت امیہ Saltanat e Umayya 55

 


55 سلطنت امیہ


تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی


قسط نمبر 55


یزید بن مہلب واسط میں، 101 ھجری کا اختتام، یزید بن مہلب اور مسلمہ بن عبدالملک میں جنگ، حضرت حسن بصری جنگ سے منع کرتے تھے، یزید بن مہلب کا قتل، آل مہلب کرمان کے پہاڑوں میں، آل مہلب کا قتل، ہشام بن عبدالملک اور ولید بن یزید کی ‘‘ولی عہدی’’، مسلمہ بن عبدالملک ملک عراق و ایران کا گورنر، خراسان اور سمرقند کے گورنر، سعید بن عبدالعزیز کی سختی، ترکوں سے جہاد، اہل سغد کی بغاوت، مسلمہ بن عبدالملک کی معزولی، خراسان میں ‘‘تحریک عباسیہ ’’ کا آغاز، افریقہ کے گورنر کا قتل، 102 ھجری کا اختتام، 102 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان



یزید بن مہلب واسط میں


یزید بن مہلب نے بصرہ پر قبضہ کر لیا اور وہاں اپنے بھائی مروان بن مہلب کو گورنر بنا دیا اور خود تما م اسلحہ اور خزانہ لیکر واسط آیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب یزید بن مہلب واسط کی طرف بڑھنے لگا تو اپنے ساتھیوں سے مشورہ کیا اور کہا: ‘‘ چونکہ اہل شام تمہارے مقابلے پر آرہے ہیں اِس لئے بتاؤ کیا کرنا چاہیئے ؟’’ اُس کے بھائی حبیب بن مہلب نے پہلے کوفہ جانے کا مشورہ دیا لیکن یزید بن مہلب نے قبول نہیں کیا پھر اُس نے الجزیرہ جانے کا مشورہ دیا لیکن اُس نے اسے بھی نہیں مانا اور اِسی کشمکش میں 101 ھجری ختم ہونے تک واسط میں ہی مقیم رہا ۔


ا101 ھجری کا اختتام


ا101 ھجری کا اختتام ہوا ۔ اِس سال ‘‘سلطنت اُمیہ ’’ کا ایک درخشاں ستارہ حضرت عُمر بن عبدالعزیز غروب ہوا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں ؛ اِس سال کے اختتام پر عبدالحمید بن عبدالرحمن کوفہ کا گورنر تھا ۔ بصرہ پر یزید بن مہلب کا قبضہ تھا اور اُس نے اپنے بھائی مروان بن مہلب کو بصرہ کا گورنر بنادیا تھا ۔ خراسان کا گورنر عبدالرحمن بن نعیم تھا ۔ مکۂ مکرمہ کا گورنر عبداﷲ بن خالد تھا اور مدینۂ منورہ کا گورنر عبدالرحمن بن ضحاک تھا اور اُسی نے مسلمانوں کو حج کرایا۔


یزید بن مہلب اور مسلمہ بن عبدالملک میں جنگ


ا102 ھجری کی شروعات میں یزیدبن مہلب اور مسلمہ بن عبدالملک دونوں اپنی اپنی دوج لیکر مقابلے پر آگئے ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : 102 ھجری کے شروع ہوتے ہی یزید بن مہلب نے اپنے بیٹے معاویہ بن یزید بن مہلب کو واسط پر اپنا نائب مقرر کر کے مسلمہ بن عبدالملک کی فوج سے لڑنے کے لئے اپنی فوج لیکر ‘‘عقر’’ میں آیا ۔ جہاں دونوں فوجوں میں گھمسان کی جنگ ہوئی اور دنوں فوجوں نے زبردست لڑائی کا مظاہر کیا ۔جس کے نتیجہ میں اہل بصرہ ، اہل شام پر حاوی ہو گئے لیکن اس کے بعد اہل شام نے ثابت قدمی سے اہل بصرہ پر حملہ کیا تو اُن کو ہزیمت پر مجبور کر دیا اور اُن کے بہت سے بہادر اور جنگ آزمودہ دلیروں کو مار ڈالا ۔جن میں ایک کا نام منتوف تھا جو نہایت مشہور شجاع تھا ۔ جب مسلمہ بن عبدالملک اور عباس بن ولید کی فوجیں یزید بن مہلب کی فوجوں کے قریب پہنچ گئیں تو یزید بن مہلب نے اپنی فوجوں کا دل بڑھانے کے لئے اور اہل شام پر حملہ آور ہونے کے لئے اشتعال دلایا ۔ اُس وقت یزید بن مہلب کے پاس ایک لاکھ بیس ہزار فوج تھی جس نے یزید بن مہلب سے اطاعت اور فرمانبرداری کا عہد کر رکھا تھا ۔ ساتھ ہی یہ عہد بھی کیا تھا کہ کتاب و سنت کے خلاف کوئی کام یزید بن مہلب کی طرف سے نہیں ہو گا اور نہ ہی ان کے ملک کو روندا

 جائے گا اور نہ ہی حجاج بن یوسف کی طرح عوام پر ظلم کیا جائے گا۔ وغیرہ وغیرہ ۔


حضرت حسن بصری جنگ سے منع کرتے تھے


حضرت حسن بصری رحمتہ اﷲ علیہ اُس وقت بصرہ میں تھے اور کافی بوڑھے ہو چکے تھے ۔ آپ مسلمانوں کو یزید بن مہلب کا ساتھ دینے سے منع کرتے تھے اور خوارج کا ساتھ دینے سے بھی منع کرتے تھے ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اُسی زمانہ میں حضرت حسن بصری لوگوں کو جنگ و جدل سے باز رہنے اور فتنہ و فساد میں پڑنے سے خصوصاً خوارج سے علیحدہ رہنے کے لئے وعظ و تلقین کرتے رہتے تھے ۔ اِس بات کا علم جب یزید بن مہلب کے بیٹے اور بصرہ کے گورنر عبدالملک بن مہلب کو ہوا تو اُس نے حضرت حسن بصری کا نام لئے بغیر بہت کچھ اُن کے خلاف زہر اُگلا ۔اس نے کہا: ‘‘ یہ بڈھا اور گمراہ شخص جو دکھاوے کے لئے سب کچھ کہتا اور کرتا پھرتا ہے اگر اپنے کام سے باز نہیں آیا تو میں وہ سب کروں گا جو کرسکتا ہوں ۔’’ حضرت حسن بصری نے اُس کی بکواس سن کر فرمایا: ‘‘ اﷲ اُس کو ذلیل کرے اور مجھے اُس کی مطلق پرواہ نہیں ہے ۔’’ 


یزید بن مہلب کا قتل


عقر میں اہل بصرہ اور اہل شام کی فوجوں کے درمیان جنگ چل رہی تھی ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : آٹھ دن تک مسلمہ بن عبدالملک اور یزید بن عبدالملک ایکدوسرے کے مقابلے پر بلا جدال و قتال پڑے رہے ۔ نویں روز جمعہ کے دن ماہ صفر المظفر 102 ھجری کو یزید بن مہلب نے صف آرائی کی اور عباس بن ولید نے بھی ایسا کیا۔ جنگ چھڑتے ہی حد سے زیادہ سخت ہو گئی ، مسلمہ بن عبدالملک نے پل کو جلوا دیا اور میدان جنگ دھویں سے بھر گیا ۔ یزید بن مہلب کی فوج یہ رنگ ریکھ کر بھاگ کھڑی ہوئی ۔ یزید بن مہلب اور اُس کے ہمراہی شکست کھا کر بھاگنے والوں کو مار مار کو روکنے لگے لیکن ہمت ہارے ہوئے سپاہی واپس نہیں لوٹے ۔ یزید بن مہلب اُن کی واپسی سے نا اُمید ہو کر میدان جنگ میں اپنے ہمراہیوں کے ساتھ آیا ۔ لوگوں نے کہا: ‘‘ تمہارا بھائی حبیب بن مہلب مارا گیا۔’’ یزید بن مہلب نے ایک سرد آہ کھینچ کر کہا: ‘‘ زندگی کا لطف نہ اس کی موت کے بعد ہے اور نہ اِس شکست کے بعد۔’’ اور تلوار نکال کر اہل شام پر ٹوٹ پڑا اور حملہ کرنے لگا اور لوگوں کو مارتا کاٹتا ہوا صفوں کو چیرتا ہوامسلمہ بن عبدالملک کی طرف بڑھا ۔ لشکر شام نے چاروں طرف سے اُس کو گھیر لیا اور اُسے اور اُسکے ہمراہیوں کو قتل کرڈالا جس میں اُس کا بھائی محمد بن مہلب بھی تھا ۔ جنگ ختم ہونے کے بعد مسلمہ بن عبدالملک نے یزید بن مہلب کا سر یزید بن عبدالملک کے پاس بھیج دیا ۔ 


آل مہلب کرمان کے پہاڑوں میں



اس جنگ میں یزید بن مہلب کا بھائی مفضل بن مہلب بھاگ کر واسط پہنچا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : مفضل بن مہلب دوسری طرف لڑ رہا تھا اور اُس کو یزید بن مہلب کے قتل ہونے کا حال معلوم نہیں تھا ۔ تھوڑی دیر تک وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ جنگ کرتا رہا ۔ کسی وقت اُس کے ساتھی پیچھے ہٹ جاتے اور کسی وقت آگے بڑھ کر حملہ کرنے لگتے تھے ۔ سیہاں تک کہ اُسے یزید بن مہلب کے قتل اور شکست کی خبر ملی تو یہ سنتے ہی اُس کے ساتھ منتشر ہوگئے اور مفضل بن مہلب واسط کی جانب چلا گیا ۔ کامیابی حاصل کرنے کے بعد مسلمہ بن عبدالملک ‘‘حیرہ’’ میں آ کر مقیم ہوا ۔ واسط میں یزید بن مہلب کے قتل کی خبر پہنچی تو اُس کے بیٹے معاویہ بن یزید بن مہلب نے عدی بن ارطاۃ اور اُس کے بیٹے سمیت تیس قیدیوں کو قتل کر ڈالا اور مال و خزانہ لیکر بصرہ کا رُخ کیا ۔ اُس کا چچا مفضل بن مہلب بھی اُس سے آ ملا اور تمام آل مہلب کو کشتیوں پر سوار کرا کر قندابیل روانہ ہوگیا ۔ قندابیل کا گورنر وداع بن حمید تھا جس کو یزید بن مہلب نے اِس شرط پرمقرر کیا تھا کہ اگر اُس کو مسلمہ بن عبدالملک کے مقابلے میں شکست ہو گی تو وداع بن حمید اُس کے اہل و عیال کو پناہ دے گا ۔رفتہ رفتہ مفضل بن مہلب اور معاویہ بن یزید بن مہلب اور آل مہلب اپنے اہل و عیال کے ساتھ آ آ کر ‘‘کرمان’’ کے پہاڑوں میں جا اُترے اور شکست خوردہ بھی اُن کے پاس آ کر جمع ہونے لگے ۔


 آل مہلب کا قتل


کرمان کے پہاڑوں میں آل مہلب اور اُن کے ساتھی جمع ہورہے تھے اور مسلمہ بن عبدالملک کو اُن کے جمع ہونے کی خبر مل رہی تھی ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : مسلمہ بن عبدالملک نے مدرک بن حبیب کلبی کو فوج دیکر آل مہلب کو گرفتار کر کے لانے کے لئے بھیجا۔ مفضل بن مہلب اور اُس کے ساتھی لڑنے پر آمادہ ہو گئے اور جنگ شروع ہوگئی اور مفضل بن مہلب کو شکست ہوئی ۔ بقیہ آل مہلب قندابیل میں تھے ۔ مسلمہ بن عبدالملک نے ہلال بن احور تمیمی کو فوج دیکر روانہ کیا اور قندابیل میں اُس کی آل مہلب سے جنگ ہوئی ۔ ابھی جنگ پورے زور پر بھی نہیں آئی تھی کہ ہلال بن احور نے آل مہلب کا جھنڈا اُڑا دیا ۔ یہ دیکھ کر قندابیل کا گورنر وداع بن حمید وغیرہ امان کے لئے جھک پڑے اور یہ دیکھ کر لوگ بھاگ کھڑے ہوئے مگر آل مہلب غیرت کی وجہ سے لڑتے رہے اور تھوڑی دیر تک لڑے رہے اور ایک ایک کر کے قتل ہوتے رہے ۔ اِس جنگ میں مفضل بن مہلب ، عبدالملک بن مہلب ، زیاد بن مہلب اور مروان بن مہلب قتل ہوئے اور عینیہ بن مہلب ، عمر بن یزید بن مہلب اور عثمان بن مفضل بھاگ کر ترک بادشاہ رتبیل کے پاس چلے گئے ۔مسلمہ بن عبدالملک نے آل مہلب کی عورتوں کو فروخت کرنے کا ارادہ کیا تو جراح بن عبداﷲ نے ایک لاکھ درہم میْں خرید کر انہیں رہا کردیا تو مسلمہ بن عبدالملک نے اُس سے رقم نہیں لی ۔ آل مہلب کے تیرہ لوگوں کو قیدی بنا کر یزید بن عبدالملک کے پاس ملک شام بھیجا گیا تو اُس نے انہیں قتل کرادیا ۔ عینیہ بن مہلب کو اُس کی بہن ہند بنت مہلب نے امان حاصل کر کے بچا لیا اور عمر اور عثمان ایک زمانہ دراز تک رتبیل کے پاس رہے ۔پھر اسد بن عبداﷲ قسری نے امان دی اور وہ اس کے پاس خراسان میں آگئے ۔ 


ہشام بن عبدالملک اور ولید بن یزید کی ‘‘ولی عہدی’’


102 ھجری میں یزید بن عبدالملک نے اپنا ‘‘ولی عہد’’ مقرر کر دیا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں :جن دنوں یزید بن عبدالملک نے اپنے بھائی مسلمہ بن عبدالملک اور بھتیجے عباس بن عبدالملک کو کو لشکر دیکر یزید بن مہلب سے نبٹنے کے لئے بھیجنے لگا تو عباس بن ولید نے کہا: ‘‘ امیر المومنین! اہل عراق بڑے غدار ہیں اور ہم کو اندیشہ ہے کہ آپ کے بعد یہ لوگ ہاتھ پاؤں پھیلائیں گے اور اِس وجہ سے ہماری قویٰ مضمحل ہو جائیں گے ۔ پس آپ ولید بن یزید کو ‘‘ولی عہد’’ بنا دیں ۔ ’’ مسلمہ بن عبدالملک کو اِس کی خبر ہوئی تو اُس نے حاضر ہو کر کہا: ‘‘ امیر المومنین! آپ کا بھائی ‘‘ولی عہدی’’ کا زیادہ مستحق ہے کیونکہ آپ کا بیٹا ابھی سن شعور کو نہیں پہنچا ہے ۔مناسب ہے کہ آپ ہشام بن عبدالملک کو اور اُس کے بعد اپنے بیٹے ولید بن یزید کو ‘‘ولی عہد’’ مقرر فرمایئے۔’’ ولید بن یزید کی عُمر اُس وقت گیارہ سال تھی اِسی لئے یزید بن عبدالملک نے ہشام بن عبدالملک کو اور اُس کے بعد ولید بن یزید کی ‘‘ولی عہدی کی بیعت لی ۔ اتفاق سے یزید بن عبدالملک کی زندگی میں ہی ولید بن یزید بالغ ہو گیا ۔ جب بھی وہ اس کو دیکھتا تو کہہ اُٹھتا تھا:‘‘ میرے اس کے درمیان ہشام ہے ۔’’


مسلمہ بن عبدالملک ملک عراق و ایران کا گورنر


یزید بن عبدالملک نے اپنے بھائی مسلمہ بن عبدالملک کو ملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر بنادیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب مسلمہ بن عبدالملک ملک عراق میں یزید بن مہلب کے معاملے سے فارغ ہو گیا تو یزید بن عبدالملک نے اُسے کوفہ ، بصرہ اور خراسان کا گورنر بنا دیا ۔ اِس عہدہ پر فائز ہونے کے بعد مسلمہ بن عبدالملک نے محمد بن عمرو بن ولید بن عقبہ بن ابی معیط کو کوفہ کا گورنر بنادیا اور بصرہ کا گورنر عبدالرحمن بن سُلیم کلبی بنادیا۔ اُس نے بصرہ والوں کو ڈانٹنے اور برا بھلا کہنے کا ارادہ کیا اور اِس بارے میں عمرو بن یزید سے مشورہ کیا تو اُس نے منع کیا اور اِس کی خبر مسلمہ بن عبدالملک کو دے دی ۔ جس کی وجہ سے مسلمہ بن عبدالملک نے عبدالرحمن بن سُیلم کا معزول کر کے اُس کی جگہ عبدالملک بن بن بشر بن مہران کو بصرہ کا گورنر بنا دیا ۔ 


خراسان اور سمرقند کے گورنر


مسلمہ بن عبدالملک کے ماتحت خراسان اور سمر قند بھی تھے اِسی لئے اُس نے اُن دونوں صوبوں پر بھی گورنر مقرر کئے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 102 ھجری میں مسلمہ بن عبدالملک نے سعید بن عبدالعزیز بن حارث بن حکم بن عاص کو جسے ‘‘سعید خذینہ’’ بھی کہا جاتا تھا خراسان کا گورنر بنا کر بھیجا۔ جب وہ خراسان پہنچا تو اُس کی کمر کے پٹکے میں ایک چھری لگی ہوئی تھی ۔ ملک الغبر جب اُس سے ملنے آیا تو اُس وقت سعید بن عبدالعزیز رنگین لباس پہنے ہوئے بٹھا تھا اور اُس کے گرد رنگین گاؤ تکیے رکھے ہوئے تھے ۔ جب ملک الغبر ملاقات کر کے واپس آیا تو لوگوں نے اُس سے پوچھا کہ گورنر کو کیسا پایا تو اُس نے کہا: ‘‘ وہ خذینہ ہے اور اُس کے زلف سکینہ ہے ۔’’ سعید بن عبدالعزیز کو خراسان کا گورنر بنانے کی وجہ یہ ہے کہ وہ مسلمہ بن عبدالملک کا داماد تھا۔ مسلمہ بن عبدالملک نے اُسے بھیجنے سے پہلے سورہ بن حُر کو خراسان بھیجا تھا اور اُس نے شعبہ بن ظہیر کو سمر قند کا گورنر بنا کر بھیجا ۔ اپنے خاندان کے پچیس آدمیوں کو لیکر شعبہ بن ظہیر سمر قند روانہ ہوا اور آمل کے راستہ سے بخارا آیا ۔ یہاں سے دو سو آدمی اُس کے ساتھ ہو گئے اور وہ سغد پہنچا۔ اہل سغد نے عبدالرحمن بن نعیم کی گورنری میں بغاوت کر دی تھی اور بعد میں اطاعت گذار ہو گئے تھے ۔ شعبہ بن ظہیر نے اہل سغد کے سامنے تقریر کی اور انہیں خوب ڈانٹا اور سغد میں بسے عربوں کو کہا کہ تم بزدل ہو گئے ہو ۔ عربوں نے اُس کے سامنے معذرت کی اور کہا :‘‘ ہمیں ہمارے فوجی گورنر علیاء بن حبیب نے بزدل بنا دیا ہے ۔ ’’


سعید بن عبدالعزیز کی سختی


خراسان کا گورنر بننے کے بعد سعید بن عبدالعزیز نے بہت بڑے پیمانے پر تبدیلی کی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب سعید بن عبدالعزیز خراسا ن آیا تو اُس نے عبد الرحمن بن عبداﷲ قشیری کے اُن تما م گورنروں کو جو حضرت عُمر بن عبدالعزیز کے دور حکومت میں مقرر کئے گئے تھے گرفتار کر کے قید کر دیا ۔ عبدالرحمن بن عبداﷲ نے اُن کی سفارش کی تو اُس نے کہا کہ ان کے پاس خراج کا روپیہ ہے ۔عبدالرحمن نے کہا کہ میں اس روپیہ کی ضمانت لیتا ہوں اور سات لاکھ درہم ضمانت کے طے ہوئے لیکن سعید نے بعد میں کوئی مطالبہ نہیں کیا ۔ اِس کے بعد اُس نے یزید بن مہلب کے مقرر کردہ گورنروں کو قتل کرنے کا حکم دے دیا لیکن ورقا نے اُن کی سفارش کر کے معافی دلوا دی ۔ اِس کے بعد سعید بن عبدالعزیز نے شعبہ بن ظہیر کو سمر قند کی گورنری سے معزول کر دیا اور عثمان بن عبداﷲ کو سمرقند کا گورنر بنا۔


ترکوں سے جہاد


اِس سال 102 ھجری میں ترکوں کے بادشاہ نے کورصول نامی شخص کو سپہ سالار بنا کر مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لئے بھیجا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : ترکوں کے خاقان نے ایک بہت بڑا لشکر مسلمانوں سے جنگ کرنے کے لئے سغد بھیجا جس کا سپہ سالار ‘‘کورصول ’’ نام کے ایک شخص کو بنایا ۔ اُس نے آتے ہی ‘‘قلعہ باہلی’’ کا محاصرہ کر لیا جس میں بہت سے مسلمان رہتے تھے ۔ سمرقند کے گورنر عثمان بن عبداﷲ کو جب معلوم ہوا تو اُس نے مسیب بن بشر کو چار ہزار کی فوج دے کر روانہ کیا ۔ راستے میں مسیب بن بشر مسلمان مجاہدین کو تقریریں کر کر کے اُن کے جذبۂ شوق ِ شہادت کو ابھارتا رہا ۔ یہ سن کر راستے میں ہی دو ہزار تین سو واپس ہو گئے اور مسیب بن بشر کے ساتھ صرف سات سو مجاہدین رہ گئے ۔ انہی کو لیکر مسیب بن بشر ترکوں کے لشکر کی طرف بڑھا جس نے ‘‘قصر باہلی’’ کا محاصرہ کیا ہوا تھا ۔ مسلمان محصورین نے جب مسیب بن بشر اور کو دیکھ کر قسم کھائی کہ آخر تک لڑتے رہیں گے ۔ باہر سے مسیب بن بشر کے ساتھ مجاہدین نے ترکوں پر حملہ کر دیا اور قلعے کے اندر سے بھی مسلمانوں نے حملہ کر دیا ۔ اِس طرح ترکوں کو دونوں طرف سے مقابلہ کرنا پڑ رہا تھا ۔ مسلمان لڑتے لڑتے قومی شعار کے طور پر ‘‘یامحمداہ’’ کا نعرہ بلند کرتے تھے ۔ جب باہر والے

 مجاہدین یہ نعرہ لگاتے تو اندر والے یہی نعرہ لگا کر جواب دیتے اور حملہ شدید کر دیتے تھے اور جب اندر والے یہ نعرہ لگاتے تو باہر والے مجاہدین جوابی نعرہ لگا کر تیز حملہ کر دیتے ۔ دونوں طرف گھمسان کا رن پڑا اور مسلمانوں نے بہت سے ترکوں کو قتل کر دیا ۔ جنگ کے دوران مسلمانوں کے گھوڑے اتنے زخمی ہو گئے کہ انہیں پیدل ہو کر لڑنا پڑا ۔ حالانکہ اِس جنگ میں ترکوں کی تعداد بہت زیادہ تھی لیکن مسیب بن بشر اور اُس کے ساتھیوں نے ایسی ثابت قدمی سے مقابلہ کیا کہ ترکوں کو شکست ہوئی اور وہ محاصرہ اُٹھا کر بھاگے ۔ مسلمانوں نے تمام محصورین کو بچا لیا جو ترک شکست کھا کر بھاگے تھے اُنہوں نے کہا: ‘‘ کل جن مسلمانوں سے ہماری جنگ ہوئی وہ یقینا انسان نہیں تھے ۔’’ 


اہل سغد کی بغاوت


اِس سال اہل سغد نے بغاوت کی تو خراسان کے گورنر نے اُن پر حملہ کیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 102 ھجری میں سعید بن عبدالعزیز نے دریائے بلخ عبور کر کے سغد پر اِس لئے جہاد کیا کہ اہل سغد نے مسلمانوں کے خلاف ترکوں کی مدد کی تھی ۔ اِس مہم کی وجہ یہ تھی کہ ترکوں نے سغد میں مسلمانوں پر حملے شروع کر دیئے تھے ۔ لوگوں نے سعید بن عبدالعزیز سے کہا : ‘‘ تم نے جہاد ترک کر رکھا ہے اور ترکوں نے لوٹ مار مچا رکھی ہے اور جس کی وجہ سے اہل سغد بھی باغی ہو گئے ہیں ۔ اِس بنا پر اُس نے دریا عبور کیا مگر سمرقند سے آگے نہیں بڑھا ۔ دشمن کے سامنے پڑاؤ ڈالا تو اُس کے غلام نے کہا: ‘‘ جناب والا! حملہ کریں ۔’’ سعید خذینہ نے کہا: ‘‘ نہیں! یہ امیر المومنین کا خاص علاقہ ہے ۔’’ ابھی اُس کی بات پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ دھواں اُٹھا ۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ اہل سغد نے سرکشی اور بغاوت کر دی ہے اور اُن کے ساتھ کچھ ترک بھی ہیں ۔ یہ سنتے ہی مسلمانوں نے انہیں جا دبوچا ۔ اہل سغد شکست کھا کر بھاگے اور مسلمان اُن کا تعاقب کرنے لگے تو سعید خذینہ نے کہا: ‘‘ ان کا تعاقب نہ کیا جائے کیونکہ سغد امیر المومنین کا باغ ہے اور تم نے انہیں شکست دیکر بھگا دیا ہے ۔ اب کیا انہیں بالکل نیست و نابود کردینا چاہتے ہو؟ اے عراقیو! تم بھی کئی مرتبہ امیر المومنین سے بغاوت کر چکے ہو مگر انہوں نے تم سے در گزر کیا اور تمہارا استیصال نہیں کیا۔’’ اِس کے بعد سعید خذنیہ واپس آگیا ۔ 


مسلمہ بن عبدالملک کی معزولی


یزید بن عبدالملک نے ملک عراق کے گورنر اپنے بھائی مسلمہ بن عبدالملک کو معزول کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ‘‘اِس سال 102 ھجری میں مسلمہ بن عبدالملک کو ملک عراق اور خراسان کی گورنری سے معزول کر دیا گیا ۔ جب سے وہ گورنر بنا تھا تب سے خراج کا ایک پیسہ بھی امیرالمومنین کو نہیں بھیجا تھا یزید بن عبدالملک نے اُسے معزول کرنے کا ارادہ کیا لیکن بعد میں مروت مانع آئی ۔اِس لئے اُس نے مسلمہ بن عبدالملک کو لکھا :‘‘ تم کسی شخص کو اپنا جانشین بنا کر میرے پاس آؤ ۔’’ مسلمہ بن عبدالملک نے عبدالعزیز بن حاتم سے کہا : ‘‘ میں امیرالمومنین نے ملنے جارہا ہوں۔’’ اُس نے کہا: ‘‘ ابھی حال ہی میں تو تم مل کر آئے ہو اب ایسا کون سا معاملہ پیش آگیا ہے؟’’ مسلمہ بن عبدالملک سفر کی تیاری کرنے لگا تو عبدالعزیز بن حاتم نے کہا : ‘‘ اچھا تو پھر یہ سمجھ لو کہ تم اپنے علاقہ سے باہر نکلوگے اور اُدھر سے دوسرا شخص گورنر مقرر ہو کر تمہاری جگہ تمہیں آتا ہوا ملے گا۔ ’’ مسلمہ بن عبدالملک روانہ ہوا اور زیادہ دور نہیں پہنچا تھا کہ اُسے عمرو بن ہبیرہ آتا ہوا ملا ۔مسلمہ بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ کہاں جا رہے ہو؟ اُس نے کہا: ‘‘ امیر المومنین نے مہلب کی اولاد کے مال و متاع پر قبضہ کرنے کے لئے بھیجا ہے ْ اُس کے جانے کے بعد عبدالعزیز بن حاتم نے کہا: ‘‘ میں نے پہلے ہی تمہیں خبر کر دی تھی ۔’’ جب مسلمہ بن عبدالملک ملک شام میں پہنچا تو اُسے معلوم ہواکہ عمرو بن ہبیرہ کو ا’س کی جگہ گورنر بنا دیا گیا ہے ۔ اِس سال عمرو بن ہبیرہ نے آرمینیہ میں رومیوں سے جہاد کیا اور انہیں شکست دی اور سات سو قیدی گرفتار کر لئے ۔ 


خراسان میں ‘‘تحریک عباسیہ ’’ کا آغاز


اِس سال خراسان میں ‘‘خاندان ِ بنو عباس ’’کی تحریک شروع

 ہوئی ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 102 ھجری میں میسرہ نے ملک عراق سے اپنے قاصدوں کو خراسان بھیجا اور وہاں بنو عباس کی حمایت میں تحریک شروع ہوئی ۔ بنو تمیم کے ایک شخص عمرو بن بحیر بن ورقا نے سعید خذنیہ سے آکر کہا : ‘‘ یہاں کچھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے ہمارے مفاد کے خلاف باتیں کی ہیں۔’’ سعید خذنیہ نے اُن لوگوں کو بلوا کر کہا: ‘‘ تم کون ہو؟’’ انہوں نے کہا: ‘‘ ہم تاجر ہیں ۔’’ سعید خزنیہ نے پوچھا: ‘‘ تمہارے متعلق ایسی باتیں بتائی گئیں ہیں۔’’ انہوں نے لاعلمی ظاہر کی ۔ سعید خذنیہ نے کہا: ‘‘ تم لوگ داعی بن کر آئے ہو؟’’ انہوں نے جواب دیا : ‘‘ ہمیں ہماری تجارت سے ہی فرصت نہیں ملتی تو بھلا ہم یہ سب باتیں کیوں کرنے لگیں ۔’’پھر سعید خذنیہ نے لوگوں سے پوچھا : ‘‘ اِن لوگوں کو کون جانتا ہے؟ ’’ اِس پر خراسان میں رہنے والے بنو ربعہ کے جو اہل یمن تھے آئے اور ان کی ضمانت لی تو سعیدخذنیہ نے انہیں چھوڑ دیا ۔ 



افریقہ کے گورنر کا قتل


اِس سال افریقہ کے گورنر یزید بن ابی مسلم کا قتل وہاں کے باشندوں نے کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : افریقہ کے گورنر یزید بن ابی مسلم نے اپنے یہاں بھی وہی طریقہ اختیار کیا جو ملک عراق میں حجاج بن یوسف نے کیا تھا ۔ حجاج بن یوسف نئے اسلام قبول کرنے والوں سے بھی جزیہ وصول کرتا تھا۔ جب یزید بن ابی مسلم نے افریقہ میں یہی طریقہ اپنایا تو دارالخلافہ قیروان کے باشندوں نے مل کر اُس کا قتل کر دیا اور اُس کی جگہ محمد بن یزید انصار کے غلام کو جو پہلے بھی افریقہ کا گورنر رہ چکا تھا اُسے گورنر بنا لیا ۔ اِس کے بعد اہل قیروان نے اہل افریقہ کی طرف سے یزید بن عبدالملک کو کو لکھ بھیجا: ‘‘ ہم آپ کی اطاعت اور بیعت سے منحرف نہیں ہوئے ہیں مگر چونکہ یزید بن ابی مسلم نے ہم پر ایسی بات عائد کی تھی جسے اﷲ تعالیٰ پسند نہیں کرتا ہے اور نہ ہی مسلمان ۔ اِسی لئے ہم نے اسے قتل کر ڈالا اور آپ کے سابق گورنر کو اپنا گورنر بنا لیا ۔’’ اِس پر یزید بن عبدالملک نے جواب لکھا: ‘‘ جو کچھ بھی یزید بن ابی مسلم نے کیا تھا اُس میں میری رضامندی نہیں تھی ۔’’ اور اُس نے محمد بن یزید کو افریقہ کی گورنری پر برقرا رکھا ۔ 


ا102 ھجری کا اختتام


ا102 ھجری کا اختتام ہوا اور اِس سال کئی گورنر تبدیل ہوئے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال کے اختتام پرعمرو بن ہبیرہ ملک عراق اور خراسان کا گورنر تھا ۔ محمد بن عمرو کوفہ کا گورنر تھا ۔ قاسم بن عبدالرحمن کوفہ کے قاضی تھے ۔ عبدالملک بن بشر بن مروان بصرہ کا گورنر تھا ۔ سعید خذنیہ خراسان کا گورنر تھا ۔ ملک مصر کا گورنر اسامہ بن زید تھا ۔ مکۂ مکرمہ کا گورنر عبداﷲ بن خالد تھا اور مدینۂ منورہ کا گورنر عبدالرحمن بن ضحاک تھا اور اُسی نے مسلمانوں کو حج کرایا۔ 


ا102 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان


اِس سال جن لوگوں کا انتقال ہوا اُن میں سے چند یہاں پیش ہیں ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 102 ھجری میں ضحاک بن مزاحم ہلالی کا انتقال ہوا ۔ یہ جلیل القدر تابعی ہیں ۔ سمرقند اور نیشا پور میں رہے ۔ضحاک بن مزاحم تفسیر کے امام تھے ۔ امام ثوری کہتے ہیں :‘‘ چار آدمیوں سے تفسیر حاصل کرو ، عکرمہ ، مجاہد ، سعید بن جبیر اور ضحاک سے ۔’’ امام احمد بن حنبل نے کہا: ‘‘ ضحاک بن مزاحم ثقہ ہیں۔ امام شعبہ نے حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے ان کی سماع کا انکار کیا ہے اور کہا کہ سعید نے جو کچھ بھی لیا ان سے لیا ہے ۔ سعید قطان نے ان کو ضعیف کہا ہے اور امام ابن حبان نے اِن کو ٹقات میں شمار کیا ہے ۔ اِس سال ابومتوکل ناجی کا انتقال ہوا ۔ اِن کا نام علی بن بصری ہے ۔ یہ جلیل القدر تابعی ہیں اور انتقال کے وقت اسی سال کی عُمر تھی ۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

اتوار، 17 مارچ، 2024

56 سلطنت امیہ Saltanat e Umayya part 56


 سلطنت امیہ56

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 56

ا103 ھجری : سعید خذینہ کی معزولی، خراسان کے نئے گورنر کا خوف، اہل سغد ‘‘درۂ عصام’’ میں آباد، 103 ھجری کا اختتام، 103 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان، اہل سغد پر حملہ، اہل سغد کا قتل عام، سیدہ فاطمہ بنت حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہا کی فریاد، عبدالواحد بن عبداﷲبن بشر نضری مدینۂ منورہ کا گورنر، عبدالرحمن بن ضحاک کا انجام، سلطنت ِ عباسیہ کے پہلے حکمراں کی پیدائش، 104 ھجری کا اختتام، 104 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان، 105 ھجری : رومیوں اور ترکوں سے جہاد، یزید بن عبدالملک کا انتقال، 


ا103 ھجری : سعید خذینہ کی معزولی


مسلمہ بن عبدالملک نے سعیدخذینہ کو خراسان کا گورنر بنایا تھا لیکن جب اُس کی جگہ ملک عراق اور خراسان کا گورنر عمرو بن ہبیرہ بنا تو اُس نے سعید خذینہ کو معزول کر کے اپنا گورنر مقرر کیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 103 ھجری میں عمرو بن ہبیر ہ نے سعید خذینہ کو خراسان کی گورنری سے معزول کر دیا اور اُس کی جگہ سعید بن عمرو بن اسود بن مالک بن کعب حرشی کو خراسان کا گورنر مقرر کیا ۔ سعید خذینہ کو پنی برطرفی کی اطلاع اُس وقت ملی جب وہ سمر قند کے دروازے پر جہاد میں مصروف تھا ۔ برطرفی کے بعد وہ واپس پلٹ آیا اور ایک ہزار شہسوار سمرقند میں چھوڑ دیئے ۔سعید خذینہ نے صوبہ خراسان میں جن علاقوں پر اپنے گورنر مقرر کر رکھے تھے انہیں سعید بن عمرو حرشی نے معزول نہیں کیا بلکہ سب کو گورنری پر برقرار رکھا ۔


خراسان کے نئے گورنر کا خوف


سعید بن عمرو حرشی جب خراسان کا گورنر بن کر آیا تو اُس وقت پچھلا گورنر سمرقند کے دروازے پر اہل فرغانہ اور ترکوں سے جنگ کر رہا تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب عمرو بن ہبیرہ ملک عراق کا گورنر بنا تو اُس نے یزید بن عبدالملک کو اُن لوگوں کے نام لکھ کر بھیجے جنہوں نے یزید بن مہلب کے خلاف ‘‘جنگ عقر’’ میں شجاعت اور جوانمردی کا مظاہرہ کیا تھا ۔ خط پڑھ کر یزید بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ عمر بن ہبیرہ نے سعید بن عمرو حرشی کا ذکر کیوں نہیں کیا ؟’’ پھر اُسے لکھا: ‘‘ سعید بن عمرو حرشی کو خراسان کا گورنر مقرر کر دو۔’’ اُس نے سعید بن عمرو حرشی کو گورنر کی سند دیکر خراسان روانہ کیا ۔ جب سعید بن عمرو حرشی خراسان آیا تو اُس وقت مسلمان دشمن کے مقابلہ پر تھے اور انہیں دشمنوں کے مقابلہ میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تھا ۔ سعید بن عمرو حرشی نے اُن کے سامنے تقریر کی اور جہاد پر اُبھارا اور کہا: ‘‘ تم اسلام کے دشمنوں سے تعداد اور سامان جنگ کی وجہ سے نہیں فتح حاصل کرتے ہو بلکہ اﷲ کی مدد اور اسلام کی عزت کی وجہ سے تمہیں فتح حاصل ہوتی ہے ۔اِس لئے لا حول ولا قوۃ الاباﷲصرف اﷲ ہی کو طاقت اور قوت حاصل ہے ۔’’ اِس کے بعد اُس نے حملہ کیا تو دشمنوں کو شکست ہوئی ۔ اہل سغد اپنے شہروں کو چھوڑ کر فرغانہ چلے گئے اور وہاں کے بادشاہ سے مسلمانوں کے مقابلہ میں امداد کے طالب ہوئے ۔ اہل سغد نے سعید خذینہ کے خلاف جنگوں میں ترکوں کی امداد کی تھی ۔ اِسی لئے سعید بن عمرو حرشی کے خلاف انہیں اپنی جانوں کا خوف ہوا اور اُن کے سرداروں نے اپنے ملک سے چلے جانے کا ارادہ کر لیا ۔ مگر اُن کے بادشاہ نے کہا: ‘‘ ایسا نہ کرو! یہیں رہو اور پچھلے سال کا خراج لیکر خراسان کے نئے گورنر کے پاس جاؤ اور اگلے سالوں کے خراج کی ضمانت دے دو اور وعدہ کرو کہ زمینوں کو آباد کریں گے اور اگر وہ چاہے تو ہم اُس کے ساتھ جہاد میں شریک ہوں گے ۔ اپنے گذشتہ طرز عمل کی معذرت کرو اور اپنے یرغمال اُس کے حوالے کر دو۔’’ 


اہل سغد ‘‘درۂ عصام’’ میں آباد


اہل سغد کو بادشاہ نے جو مشورہ دیا اُسے انہوں نے قبول نہیں کیا اور فرغانہ کے بادشاہ سے امداد طلب کی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : مگر رعایا نے کہا: ‘‘ ہمیں ڈر ہے کہ وہ خوش نہیں ہوگا اور نہ ہی ہماری بات کو قبول کرے گا ۔ ہم خجندہ چلے جاتے ہیں اور اُس کے بادشاہ کے پاس پناہ لیں گے ۔ ’’ بادشاہ نے کہا: ‘‘ میں بھی تم میں سے ہی ہوں اور جو مشورہ میں نے تمہیں دیا تھا وہ تمہاری بھلائی کے لئے دیا تھا ۔’’ مگر انہوں نے بادشاہ کا کہنا نہیں مانا اور خجندہ کی طرف چلے ۔ کاعزنج ، کشین ، بمیارکث اور ثابت باشندگان ِ اشتخن کو لے کر نکلے اور فرغانہ کے بادشاہ ‘‘طاؤ’’ کو لکھا کہ آپ ہماری حفاظت کریں اور ہمیں اپنے شہروں میں رہنے کی جگہ دیں ۔ اُس کی والدہ نے کہا: ‘‘ اِس شیطانوں کو اپنے دارالسلنطت میں نہیں رہنے دینا بلکہ اِن کے لئے کوئی قصبہ خالی کرادو جہاں یہ لوگ رہیں۔’’ بادشاہ نے اُن کو کہلا بھیجا: ‘‘ کسی قصبہ کو تم بتاؤ ! میں اُسے تمہارے لئے خالی کرا دیتا ہوں اور اِس کے لئے مجھے چالیس دن کی مہلت دواور اگر تم چاہو تو میں ‘‘درہ ٔعصام’’ (عصام بن عبداﷲ باہلی کو قتیبہ بن مسلم نے اس درے کا گورنر بنایا تھا ) کو تمہارے لئے خالی کرادو۔’’ اُن لوگوں نے فرغانہ کے بادشاہ کی اِس تجویز کو پسند کیا اور کہا: ‘‘ ٹھیک ہے! آپ ‘‘درۂ عصام’’ کو ہمارے لئے خالی کرادیں۔’’فرغانہ کے اُس وقت کے بادشاہ کا نا م‘‘بلا د،یا ، بیلاذ ، ابوانوجور’’ تھا اور اُس کے ولی عہد کا نام ‘‘رستاق’’ تھا۔ 


ا103 ھجری کا اختتام


اِس سال کے اختتام تک مملکت اسلامیہ کے کئی گورنر تبدیل ہو چکے تھے ۔ خراسان کا گورنر سعید بن عمرو حرشی تھا ۔ ملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر اور ناظم ِ اعلیٰ عمروہ بن ہبیرہ تھا ۔ افریقہ کا گورنر محمد بن یزید انصار تھا ۔قاسم بن عبدالرحمن کوفہ کے قاضی تھے اور عبدالملک بن یعلی بصرہ کے قاضی تھے ۔عبدالرحمن بن عبداﷲ نضری طائف کا گورنر تھا ۔اِس سال یزید بن عبدالملک نے مکۂ مکرمہ کے گورنرعبدالعزیز بن عبداﷲ کو معزول کر دیا اور عبدالرحمن بن ضحاک کو مدینۂ منورہ کے ساتھ ساتھ مکۂ مکرمہ کا بھی گورنر بنا دیا اور اُسی نے مسلمانوں کو اِس سال حج کرایا۔


ا103 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان


اِس سال جن کا انتقال ہوا اُن میں سے کچھ کے نام یہ ہیں۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 103 ھجری میں یزید بن مسلم کا انتقال ہوا ۔ یہ جلیل القدر تابعی ہیں اور کئی صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم سے روایات بیان کی ہیں ۔ متعدد آئمہ نے ان کے ثقہ ہونے کی تصدیق کی ہے ۔ اسکندریہ میں انتقال ہوا۔ اِس سال مجاہد بن جبیر مکی کا انتقال ہوا ۔ یہ اپنے زمانے میں تفسیر کے سب سے زیادہ ماہر عالم مانے جاتے تھے ۔ اُس دورمیں امام طاؤس کے علاوہ کوئی ان کے پایہ کا نہیں تھا ۔امام مجاہد نے حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے تفسیر کا علم حاصل کیا ہے ۔ آپ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ کے سب سے بہترین شاگردوں میں سے ہیں اور اُن کو دو مرتبہ قرآن پاک ایک ایک آیت کو پڑھ کر سمجھا اور یاد کیا اور سنایا ہے اور اس کے متعلق سوالات بھی کئے ہیں ۔ امام مجاہد نے حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق ، حضرت عبداﷲ بن عباس ، حضرت ابو ہریرہ ، حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہم سے روایات بیان کی ہیں ۔ اِس سال مصعب بن سعد بن ابی وقاص کا انتقال ہوا ۔ یہ جلیل القدر تابعی ہیں ۔ 


اہل سغد پر حملہ


اِس سال سعید بن عمرو حرشی نے اہل سغد پر حملہ کیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : 104 ھجری میں سعید بن عمرو حرشی جہاد کے لئے روانہ ہوا اور دریا کو عبور کر کے اپنی فوج کا باقاعدہ معائنہ کر رہا تھا کہ فرغانہ کا بادشاہ کا چچیرا بھائی نیلان اُس کے پاس آیا اور کہا: ‘‘ اہل سغد خجندہ میں فروکش ہیں ۔اِس سے پہلے کہ وہ ‘‘درہٌ عصام’’ میں داخل ہوں آپ اُن پر حملہ کر دیں کیونکہ ا’س وقت ہم پر اُن کی حفاظت کی ذمہ داری نہیں ہے ہاں اگر وہ ‘‘درہ ٔعصام’’ میں داخل ہو گئے تو ہماری ذمہ داری میں آجائیں گے ۔’’سعید بن عمرو حرشی نے نیلان کے ساتھ عبدالرحمن قشیری اور اُس کے بیٹے زیدہ بن عبدالرحمن قشیری کو ‘‘مقدمۃ الجیش’’ کا کمانڈر بنا کر روانہ کیا اور اپنی فوج لیکر اُن کے پیچھے روانہ ہوا۔ اُس نے اشرونہ میں قیام کیا اور وہاں کے باشندوں نے خراج پر صلح کرلی ۔ اِس کے بعد روانہ ہوا تو تیسرے دن اپنے ‘‘مقدمۃ الجیش’’ سے جا ملا ۔ اِس کے بعد سعید بن عمرو حرشی نے خجندہ کا محاصرہ کر لیا ۔ محاصرہ کافی دن چلا ۔ایک دن ایک عرب نے خجندہ کے پھاٹک کو گرز کی ضربوں سے توڑ کر کھول دیا۔ اہل خجندہ نے یہ ترکیب کی تھی کہ شہر کے اگلے دروازے کے نیچے چھتہ میں ایک خندق کھود کر اسے سر کنڈوں سے پاٹ کر اس پر مٹی بچھا دی تھی تاکہ اگر انہیں شکست ہو تو وہ معلوم دروازے سے پسپا ہو کر شہر کے اندر چلے جائیں گے اور مسلمان لا علمی میں اس خندق میں گر پڑیں گے مگر یہ تدبیر انہی پر اُلٹی پڑ گئی۔ جب اُس عرب نے شہر کے دروازے کو توڑا تو اہل خجندہ اور اہل سغد نے شہر سے نکل کر مسلمانوں کا مقابلہ کیا اور جب شکست کھا کر پسپا ہوئے تو راستہ بھول گئے اور اُسی خندق میں گرنے لگے ۔ خندق گرنے والوں میں سے چالیس آدمی ایسے نکالے گئے جنہوں نے دو دو زرہیں پہن رکھی تھیں ۔ اہل سغد نے فرغانہ کے بادشاہ کے پاس پیغام بھیجا کہ تم نے ہمارے ساتھ دھوکہ کیا ہے اب ہماری مدد کرو ۔ فرغانہ کے بادشاہ نے کہا: ‘‘ چالیس دن کی مدت سے پہلے مسلمانوں نے تم پر حملہ کر دیا ہے اِس لئے تم خود اپنی حفاظت کرو۔ ’’ جب اُس کی امداد سے مایوس ہو گئے تو سعید

 بن عمرو حرشی سے امان کی درخواست کی اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ہمیں سغد واپس بھیج دیا جائے ۔ 


اہل سغد کا قتل عام


سعید بن عمرو حرشی نے اہل سغد کی کی درخواست قبول کر لی لیکن انہوں نے بدعہدی کی جس کے نتیجہ میں مسلمانوں نے اُن کا قتل عام کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: سعید بن عمرو نے اِس شرط پر اُنہیں امان دی کہ وہ عربوں کے عورتوں اور بچوں کو واپس کردیں گے اور وہ تمام خراج جو انہوں نے ادا نہیں کیا وہ بھی ادا کریں اور کسی مسلمان پر دھوکہ سے حملہ نہیں کریں گے اور اہل سغد میں سے کوئی بھی شخص خجند میں نہیں رہے گا ۔ اگر اِن میں سے کوئی بھی بات اہل سغد کی طرف سے معاہدے کے خالف ہو گی تو مسلمانوں پر اہل سغد کا خون حلال ہو جائے گا ۔ صلح ہوجانے کے بعد مسلمانوں نے اہل سغد کو اُن کے محفوظ مقام تک پہنچانے کے لئے ایک سو پچاس مجاہدین کی نگرانی میں روانہ کر دیا ۔ راستے میں اہل سغد نے اُن سب کو شہید کر دیا اور اُن مسلمانوں میں سے ایک غلام جیسے تیسے جان بچا کر بھاگا آیا اور مسلمانوں کی شہادت کی اطلاع دی ۔ اِس کے بعد سعید بن عمرو حرشی نے اہل سغد کے قتل عام کا حکم دے دیا ۔ مسلمانوں نے تمام جنگجو مردوں کو قتل کردیا جن کی تعداد لگ بھگ تین ہزار تھی ۔ مسلمانوں کو مال غنیمت ملا اُس کا خمس نکال کر باقی مسلمانوں میں تقسیم کر دیا اور خمس یزید بن عبدالملک کے پاس بھیج دیا اور ساتھ ہی تمام حلات بھی لکھ کر بھیج دیئے ۔ 


سیدہ فاطمہ بنت حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہا کی فریاد


اِس سال مدینہ منورہ کے گورنر عبدالرحمن بن ضحاک نے ‘‘اہل بیت’’ پر ظلم کیا جس کی فریاد سیدہ فاطمہ بنت حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہا نے امیر المومنین یزید بن عبدالملک کے دربار میں کی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عبدالرحمن بن ضحاک نے حضرت امام حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کی بیٹی سیدہ فاطمہ بن حسین رضی اﷲ عنہا کو نکاح کا پیغام دیا جو آپ نے قبول نہیں کیا اور انکار کر دیا۔ مگر عبدالرحمن بن ضحاک مسلسل اصرار کرتا رہا اور آپ رضی اﷲ عنہا کو یہ دھمکی دی : ‘‘ اگر تم مجھ سے نکاح نہیں کرو گی تو میں تمہارے بڑے بیٹے کو شراب نوشی کے الزام میں کوڑے لگواؤں گا ۔’’ اُسی دوران مدینۂ منورہ کا میر منشی ایک شامی ابن ہرمز کو امیر المومنین یزید بن عبدالملک نے لکھا: ‘‘ میرے پاس آکر حساب پیش کرو ۔’’ ابن ہرمز جب ملک شام جانے لگا تو سیدہ فاطمہ بنت امام حسین رضی اﷲ عنہا سے ملنے آیا اور بولا: ‘‘ اگر کوئی ضرورت ہو تو فرمایئے۔’’ آپ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا: ‘‘ عبدالرحمن بن ضحاک کی حرکت کے بارے میں امیر المومنین کو بتا دینا۔’’ اِس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہا نے ایک خط میں تمام واقعہ لکھ کر ایک قاصد کو دیا اور فرمایا: ‘‘ امیرالمومنین کو یہ خط دے دینا۔’’ اتفاق سے ابن ہرمز اور قاصد آگے پیچھے ملک شام میں دربار میں پہنچے ۔ ابن ہرمز جب دربار میں یزید بن عبدالملک کے سامنے گیا تو اُس نے کہا: ‘‘ مدینۂ منورہ میْں کوئی عجیب واقعہ تو پیش نہیں آیا ہے نا؟’’ ابن ہرمز نے کہا: ‘‘ نہیں کوئی عجیب واقعہ پیش نہیں آیا ہے ۔’’ اتنے میں دربان نے بلند آواز سے سیدہ فاطمہ بنت امام حسین رضی اﷲ عنہا کے قاصد کے آنے کیا اطلاع دی تو یزید بن عبدالملک نے دربار میں حاضر ہونے کا حکم دیا ۔ اب ابن ہرمز نے کہا :‘‘ امیرالمومنین جس روز میں مدینۂ منورہ سے روانہ ہوا تھا تو سیدہ فاطمہ بنت امام حسین رضی اﷲ عنہا نے مجھے یہ پیغام دیا تھا ۔ ’’ یزید بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ اﷲ تمہارا برا کرے! میں نے تم سے سوال نہیں کیا تھا کہ کوئی عجبیب خبر ہو تو بتاؤ مگر تم نے بیان نہیں کی ۔’’ ابن ہرمز نے کہا: ‘‘ امیرالمومنین! میں بھول گیا تھا ۔’’


عبدالواحد بن عبداﷲبن بشر نضری مدینۂ منورہ کا گورنر


سیدہ فاطمہ بنت امام حسین رضی اﷲ عنہا کے قاصد نے آپ رضی اﷲ عنہا کا خط یزید بن عبدالملک کو دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : یزید بن عبدالملک تخت سے اُتر آیا اور قاصد کو اندر آنے کی اجازت دی اور اُس نے سیدہ فاطمہ بنت امام حسین رضی اﷲ عنہا کا خط یزید بن عبدالملک کو دیا ۔ اُس نے خط لیا اور خود پڑھنے لگا ۔ اُس وقت اُس کے

 ہاتھ میں ایک بید تھا اسے زمین پر مارتا جاتا تھا اور کہتا جاتاتھا :‘‘ اﷲ اکبر! ابن ضحاک کی یہ جرأت۔کیا کوئی ایسا شخص ہے جو ابن ضحاک کو ایسی سخت سزا دے کہ اُس کے چیخنے کی آواز میں اپنے بستر پر لیٹا ہوا سن لوں ۔’’ درباریوں نے عبدالواحد بن عبداﷲ بن بشر نضری کا نام لیا ۔ یزید بن عبدالملک نے کاغذ منگوایا اور اپنے ہاتھ سے عبدالواح بن عبداﷲ کو لکھا جو اس وقت طائف میں تھا :‘‘ السلام علیکم! امابعد! میں نے تمہیں مدینۂ منورہ کا گورنر مقرر کر دیا ہے ۔ جس وقت تمہیں میرا خط ملے تم اُسی وقت عبدالرحمن بن ضحاک کو معزول کردو اور چالیس ہزار دینار اُس پر جرمانہ عائد کرو اور اُسے ایسی سخت تکلیف اور سزا دو کہ میں بستر پر لیٹا ہوا اُس کی آواز سنوں۔’’ قاصد یہ خط لیکر مدینۂ منورہ آیا اور عبدالرحمن بن ضحاک کے پاس نہیں گیا مگر ابن ضحاک کے دل میں خطرہ پیدا ہوگیا تھا ۔اُس نے قاصد کو بلوایا اور اپنی مسند کا ایک کونہ ہٹا کر بتایا تو وہاں ایک ہزار دینار رکھے ہوئے تھے ۔عبدالرحمن بن ضحاک نے کہا: ‘‘ اگر تم وہ بات جانتے ہو جس کے لئے بھیجے گئے ہو تو میں تمہیں ایک ہزار دینار دوں گا اور اِس کا کسی سے ذکر نہیں کروں گا۔’’ قاصد نے وہ بات اُسے بتا دی ۔ عبدالرحمن بن ضحاک نے اُسے تین دن اپنے پاس ٹھہرایا پھر اُسے مدینۂ منورہ سے باہر بھیج دیا ۔


عبدالرحمن بن ضحاک کا انجام


قاصد سے اصل بات اُگلوا لینے کے بعد عبدالرحمن بن ضحاک اپنے بچاؤ کی فکر میں لگ گیا لیکن اُس نے ‘‘آل رسول’’ کی شان میں جو گستاخی کی تھی اﷲ تعالیٰ نے اُسے اُس کی سزا دی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عبدالرحمن بن ضحاک مدینۂ منورہ سے روانہ ہوا اور تیز رفتاری سے منزلیں طے کرتا ہوا مسلمہ بن عبدالملک کے پاس پہنچا۱ اور اُس سے کہا: ‘‘ میں آپ کی حمایت میں ہوں اور آپ میری مدد کیجیئے۔’’ مسلمہ بن عبدالملک دوسرے دن یزید بن عبدالملک کے پاس گیا اور اِدھر اُدھر کی میٹھی باتیں کرنے کے بعد عرض پرداز ہوا :‘‘ میں ایک غرض لیکر حاضر ہوا ہوں ۔’’ یزید بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ عبدالرحمن بن ضحاک کے علاوہ تمہاری ہر درخواست مجھے منظور ہے ۔’’ مسلمہ بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ مجھے اُسی کے بارے میں عرض کرنا ہے ۔’’ یزید بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ اُس نے آل رسول کی شان میں گستاخی کر کے ایسی نا شائستہ حرکت کی ہے کہ میں اُسے کبھی معاف نہیں کر سکتا۔ ’’ یزید بن عبدالملک نے عبدالرحمن بن ضحاک کو سپاہیوں کی نگرانی میں مدینۂ منورہ بھیج دیا ۔ عبداﷲ بن محمد کہتے ہیں :‘‘ میں نے عبدالرحمن بن ضحاک کو مدینۂ منورہ میں ایسی حالت میں دیکھا کہ پشمینہ کا جبہ پہنے وہ لوگوں سے بھیک مانگتا پھرتا تھا ۔عبدالواحد بن عبداﷲ بن بشر نضری نے اُس پر طرح طرح کی سختیاں کی تھیں اور اُس کا بہت ہی برا حال ہوگیا تھا۔’’


سلطنت ِ عباسیہ کے پہلے حکمراں کی پیدائش


ا104 ھجری میں ‘‘خاندان ِ بنو عباس’’ میں وہ شخص پیدا ہوا جو ‘‘سلطنت ِ عباسیہ’’ کا پہلا حکمراں بنا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال ۱۰۴ ؁ ھجری میں ‘‘سفاح’’ پیدا ہوا جو بنو عباس کا پہلا حکمراں بنا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال ‘‘ابوالعباس عبداﷲ بن محمد بن علی ’’ پیدا ہوا ۔ ( جس کا لقب ‘‘سفاح’’ تھا)اِس سال ابومحمد صادق اور اُس کے چندخراسان کے دوست محمد بن علی کے پاس آئے اور ابوالعباس اِس ملاقات سے چند روز پہلے پیدا ہو چکا تھا ۔ محمد بن علی ایک خرقہ میں ابوالعباس کو اُن کے پاس لایا اور کہا: ‘‘ اﷲ کی قسم! اِس کام کو یہ لڑکا پورا کرے گا یہاں تک کہ تم اپنے دشمنوں سے بدلہ لے لو گے ۔’’ 


ا104 ھجری کا اختتام


ا104 ھجری کا اختتام ہوا اور اِس سال بھی کئی گورنر تبدیل ہوئے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اِس سال آذربائیجان اور آرمینیہ کے گورنرجراح بن عبد حکمی نے ترکوں سے جہاد کیا اور قلعہ بلنجر کو فتح کیا اور ترکوں کو شکست دی اور اُن کے متعلقین کو پانی میں غرق کر دیا ۔ بہت سے لونڈی اور غلام قید کئے اور وہ قلعے بھی جو بلنجر کے قریب تھے اُس نے فتح کر لئے اور اُن کے باشندوں کو جلا وطن کر دیا ۔ اِس سال عمرو بن ہبیرہ نے سعید بن عمرو حرشی کو خراسان کی گورنری سے معزول کردیا اور اُس کی جگہ مسلم بن سعید بن اسلم بن زرعۃ کلابی کو گورنر بنایا ۔ اِس سال کے اختتام پرعمرو بن ہبیرہ ملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر تھا ۔ بصرہ کے قاضی عبدالملک بن یعلیٰ تھے اور کوفہ کے قاضی حسین بن حسن کندی تھے ۔ مکۂ مکرمہ ، مدینۂ منورہ اور طائف کا گورنر عبدالواحد بن عبداﷲ نضری تھا اور اُسی نے مسلمانوں کو حج کرایا۔ 


ا104 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان


ا104 ھجری میں جن کا انتقال ہوا اُن میں سے چند حضرات یہ ہیں ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 104 ھجری میں خالد بن سعدان کلاعی کا انتقال ہوا ۔ یہ جلیل القدر تابعی ہیں اور چند مشہور علماء اور آئمہ میں شمار ہوتے تھے ۔ آپ نے بہت سے صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم سے روایات بیان کی ہیں ۔ جب یہ روزہ رکھتے تھے تو اُس دن چالیس ہزار تسبیح پڑھتے تھے۔ یہ اہل حمص کے امام تھے اور ماہ رمضان میں تراویح پڑھاتے تھے تو ایک دن میں تہائی قرآن ختم کر لیتے تھے ۔ اِس سال عامر بن سعد بن ابی وقاص کا انتقال ہوا ۔ یہ جلیل القدرصحابی رضی اﷲ عنہ کے بیٹے ہیں اور جلیل القدر تابعی ہیں اور ثقہ ہیں۔ اِس سال عامر بن شراحیل شعبی کا انتقال ہوا۔اِن کی کنیت ابوعمرو ہے ۔یہ اہل کوفہ کی شناخت و علامت تھے اور اپنے زمانے کے امام ، حافظ اور صاحب ِ فنون بزرگ تھے ۔انہوں نے بہت سے صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم سے روایات بیان کی ہیں۔ابو مجاوز نے کہا: ‘‘ میں نے امام شعبی سے بڑا فقیہ نہیں دیکھا ۔ یہ کوفہ میں قاضی رہ چکے ہیں۔ اِس سال ابوبردہ بن ابوموسیٰ اشعری کا انتقال ہوا ۔ یہ امام شعبی سے بھی سے بھی پہلے کوفہ کے قاضی کے عہدہ مامور رہ چکے ہیں۔ امام شعبی کو تو حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ نے انے دور ِ حکومت میں قاضی کے عہدہ پر مامور کیا تھا جبکہ امام ابوبردہ ابوموسیٰ اشعری حجاج بن یوسف کی گورنری کے دور میں قاضی رہ چکے تھے ۔ یہ بہت بڑے عالم ، حافظ اور فقیہ تھے اور اِن سے بہت سی روایات مشہور ہیں۔اِس سال ابو قلادہ جرمی کا انتقال ہوا ۔ اِن کا نام عبداﷲ بن یزید بصری ہے ۔ان سے کثیر روایات مروی ہیں اور صحابۂ مرام رضی اﷲ عنہم کے علاوہ بہت سے تابعین نے بھی اِن سے روایات بیان کی ہیں۔ یہ کبار آئمہ اور فقہا میں سے تھے ۔


ا105 ھجری : رومیوں اور ترکوں سے جہاد


اِس سال مسلمانوں نے رومیوں اور ترکوں سے جہاد کیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 105 ھجری میں جراح بن عبداﷲ حکمی نے لان میں جہاد کیا اور اس سے بھی آگے بڑھ کر اُن شہروں اور قلعوں کو فتح کیا جو ‘‘ماورالنہر’’ میں واقع تھے ۔ اِن میں سے بعض کو اُس نے فتح کرلیا اور وہاں کے باشندوں کو جلا وطن کردیا اور بہت سا مال غنیمت حاصل کیا ۔ اِس سال سعید بن عبدالملک نے رومیوں کے علاقے میں جہاد کیا اور ایک ہزار سپاہیوں کی فوج بھیجی جو سب کے سب دشمن کے ہاتھوں مارے گئے ۔ اِس سال مسلم بن سعید نے ترکوں سے جہاد کیا مگر کوئی فتح حاصل نہیں کرسکا ۔ اِس کے بعد سغد کے ایک ‘‘فشینہ’’ پر حملہ کیا اور اُس کے بادشاہ نے صلح کر لی ۔ اِس کے بعد مسلم بن سعید اِس سال کے آخر میں پھر ترکوں سے جہاد کرنے گیا مگر بغیر کامیابی کے لوٹ آیا اور ترکوں نے مسلمانوں کا تعاقب کیا اور جب مسلمان دریائے بلخ عبور کر رہے تھے تو ترک فوجی پہنچ گئے ۔اُس وقت لشکر کے ‘‘ساقہ’’ پر بنو تمیم تھے ۔انہوں نے دشمنوں کی یلغار کو روکا اور مسلمانوں نے حفاظت سے دریا عبور کر لیا ۔ اِسی دوران میں مملکت اسلامیہ کے حکمراں یزید بن عبدالملک کا انتقال ہوگیا ۔ اُس وقت مسلم بن سعید شہر ‘‘افشین’’ کا محاصرہ کئے ہوئے تھا ۔افشین کے بادشاہ نے چھ ہزار راس پر صلح کر لی اور قلعہ مسلم بن سعید کے حوالے کردیا ۔ مسلم بن سعید اِس مہم سے فراغت پا کر 105 ھجری کے اختتام اپنے دارالحکومت ‘‘مرو’’ واپس آیا ۔ 


یزید بن عبدالملک کا انتقال


اِس سال مملکت اسلامیہ کے حکمراں یزید بن عبدالملک کا انتقال ہوگیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 105 ھجری میں یزید بن عبدالملک کا ماہ شعبان ختم ہونے میں ابھی پانچ راتیں باقی تھیں کہ انتقال ہو گیا ۔ امام واقدی کہتے ہیں کہ یزید بن عبدالملک کا انتقال اڑتیس (38) سال کی عُمر میں دمشق کے نواح ‘‘بلقاء’’ انتقال ہوا۔ بعض راویوں نے چالیس سال عُمر بیان کی اور بعض نے چھتیس سال بیان کی ہے ۔ امام ابی معشر ، ہشام بن محمد اور علی بن محمد کے مطابق یزید بن عبدالملک نے چار سال ایک مہینے حکومت کی ہے مگر امام واقدی کے مطابق چار سال حکومت کی ۔ اُس کے پندہ سالہ لڑکے ولید بن یزید نے نماز جنازہ پڑھائی ۔ اُس دن ہشام بن عبدالملک ‘‘حمص’’ میں تھا ۔ہشام بن محمد کے مطابق یزید بن عبدالملک کا انتقال تینتیس (33) کی عُمر میں ہوا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

ہفتہ، 9 مارچ، 2024

57 سلطنت امیہ / Saltanat e Umayya part 57


57 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 57

ہشام بن عبدالملک کا دورِ حکومت، ہشام بن عبدالملک ‘‘سلطنت ِ اُمیہ’’ کا حکمراں، تحریک عباسیہ کی امداد، گورنروں کی تبدیلی، 105ھجری کا اختتام، 106 ھجری : رومیوں سے جہاد، ترکوں کی شکست، اسد بن عبداﷲ قسری خراسان کا گورنر، 106 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان، 107 ھجری : رومیوں سے بحری اور بری جنگ، اسد بن عبداﷲ قسری کا ترکوں سے جہاد، بلخ کو فوجی چھاونی بنا یا، 107 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان، ترکوں سے جہاد، خاقان کی شکست، 108 ھجری میں انتقال کرنے والے

ہشام بن عبدالملک ‘‘سلطنت ِ اُمیہ’’ کا حکمراں

105 ھجری میں ‘‘سلطنتِ اُمیہ’’ کا حکمراں ہشام بن عبدالملک بنا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال ماہ شعبان کے ختم ہونے میں دو راتیں باقی تھیں کہ ہشام بن عبدالملک ‘‘سلطنت ِ اُمیہ’’ کا حکمراں بنا ۔ یہ اُس سال پیدا ہوا جس سال حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ شہید ہوئے ۔ ہشام بن عبدالملک زیتونہ میں اپنے مکان کے ایک کمرہ میں تھا کہ اُس کے اُس کے بھائی یزید بن عبدالملک کے انتقال کی خبر ملی اور اُس کے ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کے حکمراں ہونے کی خوشخبری بھی ملی ۔ ہشام بن عبدالملک رصافہ پر سوار ہو کر دمشق آیا اور‘‘ قصر امارت’’ میں فروکش ہوا ۔ 

تحریک عباسیہ کی امداد

سلطنت اُمیہ میں خاندان عباسیہ خاموشی سے اپنی تحریک چلا رہا تھا ۔اُن کا ارادہ ‘‘اُمیہ خاندان’’ سے حکومت چھین کر ‘‘عباسیہ خاندان’’ کی حکومت قائم کرنا تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 105 ھجری میں بکیر بن ماہان ملک سندھ (ہندوستان) سے آیا ۔ یہ ملک سندھ میں جنید بن عبدالرحمن کا ترجمان تھا ۔ جب جنید بن عبدالرحمن کو معزول کر دیا گیا تو بکیر بن ماہان کوفہ واپس آگیا ۔ اُس کے پاس چاندی کی چار اینٹیں اور سونے کی ایک اینٹ تھی ۔ یہ ابوعکرمہ صادق میسرہ ، محمد بن نتیس ، سالم اعین اور ابو یحییٰ بنو سلمہ کے آزاد غالم سے ملا ۔ اُن لوگوں نے اُس سے کہا: ‘‘ خاندان بنو ہاشم ( بنو عباس) کے لئے جو تحریک چلائی جا رہی ہے تم اُس میں شریک ہو جاؤ۔ بکیر بن ماہان نے اُن کی رائے کو قبول کیا اور جو کچھ اُس کے پاس تھا سب تحریک کی کامیابی کے لئے دے دیا اور محمد بن علی کے پاس آیا ۔ اِسی دوران میسرہ کا انتقال ہو گیا اور محمد بن علی نے میسرہ کی جگہ بکیر بن ماہان کو ملک عراق کا ‘‘تحریک کا داعی’’ مقرر کر دیا ۔ 

گورنروں کی تبدیلی

سلطنت اُمیہ کا حکمراں بننے کے بعد ہشام بن عبدالملک نے گورنروں کی تبدیلی کی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : 105 ھجری میں مملکت اسلامیہ کا حکمراں بننے کے بعد ہشام بن عبدالملک نے ہبیرہ بن عمرو کو معزول کر دیا اور خالد بن عبداﷲ قسری کوملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر بنا دیا ۔ خالد بن عبداﷲ قسری نے زیاد بن عبداﷲ کو ‘‘رے’’ کا گورنر مقرر کردیا ۔ 

105ھجری کا اختتام

105 ھجری کا اختتام ہوا اور اِس سال بھی مملکت اسلامیہ میں کئی گورنروں کی تبدیلی ہوئی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال کے اختتام پر ہشام بن عبدالملک نے خالد بن عبداﷲ کو ملک عراق و ایران اور خراسان کا گورنر مقرر کیا ۔ خراسان کا گورنر مسلم بن سعید تھا ۔ افریقہ اور اسپین کا گورنر وہی تھا جو پچھلے سال تھا ۔ ملک مصر کا گورنر بھی پچھلے سال کا ہی تھا ۔ مکۂ مکرمہ ، مدینۂ منورہ اور طائف کا گورنر عبدالواحد بن عبداﷲ نضری تھا ۔ کوفہ کے قاضی حسین بن حسن کندی تھے اور بصرہ کے قاضی موسیٰ بن انس تھے ۔ اِس سال ابراہیم بن ہشام بن اسماعیل نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔ جب وہ حج کرنے گیا تو عطاء بن رباح سے پوچھوایا:‘‘ میں مکۂ مکرمہ میں کس وقت خطبہ پڑھوں؟’’ عطا بن رباح نے کہا:‘‘ ظہر کی نماز کے بعد ذی الحجہ کی دسویں تاریخ سے ایک دن پہلے ۔’’ ابراہیم بن ہشام نے ظہر سے پہلے ہی خطبہ پڑھ دیا اور کہا: ‘‘ میرے قاصد کے ذریعہ عطاء بن رباح نے ایسا ہی حکم دیا تھا ۔’’ عطاء بن رباح نے کہا: ‘‘ نہیں! میں نے ایسا نہیں کہا تھا ۔’’ اِس کی وجہ سے ابراہیم بن ہشام جھینپ گیا اور مسلمانوں نے اُس کے اِس فعل کو ناواقفیت پر محمول کیا تھا ۔

106 ھجری : رومیوں سے جہاد

اِس سال مسلمانوں نے سعید بن عبدالملک کی قیادت میں رومیوں سے جہاد کیا ۔ ہشام بن عبدالملک نے اِس سال حرمین شریفین کے گورنر کو تبدیل کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 106 ھجری میں سعید بن عبدالملک موسم گرما میں مسلمانوں کو لیکر رومیوں سے جہاد کرنے گیا اور حجاج بن عبدالملک نے ‘‘لان’’ پر حملہ کر کے اُس کے باشندوں سے صلح کر لی اور انہوں نے جزیہ ادا کر دیا ۔ اِس سال ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کے حکمراں ہشام بن عبدالملک نے مکۂ مکرمہ ، مدینۂ منورہ اور طائف کے گورنر عبدالواحد بن عبداﷲ نضری کو معزول کر دیا اور اُس کی جگہ اپنے ماموں ابراہیم بن ہشام بن اسماعیل کو گورنر بنایا ۔ 

106 ھجری : ترکوں سے جہاد

106 ھجری میں ایک بار پھر مسلم بن سعید نے ترکوں سے جہاد کرنے کے لئے لشکر جمع کیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال مسلم بن سعید اپنی فوج لیکر ترکوں کی طرف روانہ ہوا اورجب بخارا پہنچا تو اُسے ملک عراق کے گورنر خالد بن قسری کا خط ملا جس میں خالد بن عبداﷲ قسری کے ملک عراق کا گورنر بننے کا ذکر لکھا تھا اور اُس نے حکم دیا : ‘‘ تم اِس جہاد کو پورا کر لو۔’’ مسلم بن سعید اپنی فوج لیکر فرغانہ کی طرف بڑھا ۔ اِس موقع پر ابوضحاک رواحی جو قبیلہ بنو عبس کے خاندان رواحہ کا تھا نے اعلان کر دیا :‘‘ اِس سال جو شخص پیچھے رہ جائے گا اُس پر کوئی جرم نہیں۔’’ یہ سن کر چار ہزار مجاہدین مسلم بن سعید کو چھوڑ کر واپس چلے گئے ۔جب وہ اپنا لشکر لیکر فرغانہ پہنچا تو اُسے معلوم ہوا کہ ترک خاقان اُس کے مقابلے کے لئے ایک بہت ہی بڑا لشکر جرار لیکر آیا ہے ۔ وادئ سیوح عبور کرتے ہیں خاقان اپنے لشکر کے ساتھ سامنے آگیا ۔ مسلم بن سعید کے لشکر کے ‘‘مقدمۃ الجیش’’ کے کمانڈر عبداﷲ بن ابی عبداﷲ نے مشہور شہسواروں کو دشمن کو روکنے کے لئے اُتار دیا ۔ ترکوں نے اُن پر حملہ کیا اور سب کو شہید کر ڈالا ۔اِس معرکہ میں مسیب بن بشر اور براء جو آل مہلب کے مشہور بہادر سرداروں میں سے تھے شہید ہو گئے اور ترک بادشاہ غورک خان کا بھائی بھی میدان جنگ میں مارا گیا لیکن ترک مسلمانوں کے پڑاؤ میں داخل ہو گئے ۔ 

ترکوں کی شکست

ترکوں کا بادشاہ خاقان ایک بہت ہی بڑا لشکر لیکر مسلمانوں کے مقابلے پر آیا تھا اور پہلے حملے میں مسلمانوں کو پیچھے دھکیل دیا اور پھر مسلمانوں کے پورے لشکر کو گھیر ے میں لے لیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : مگر اب مسلمان ترکوں پر جھپٹ پڑے اور انہیں مسلمانوں کے پڑاؤ سے نکال دیا ۔ مسلم بن سعید نے لشکر کا جھنڈا عامر بن مالک حمانی کو دیا اور لشکر لیکر واپس ہوا ۔ ترک لشکر مسلمانوں کے لشکر کو گھیرے ہوئے تھا ۔ آٹھ روز تک برابر چلتے رہے مگر ترک بھی برابر مسلمانوں کو گھیرے رہے ۔ جب نویں رات ہوئی تو مسلم بن سعید نے قیام کا ارادہ کیا اور مسلمانوں سے اِس بارے میں مشورہ لیا تو سب نے قیام کا مشورہ دیا اور کہا: ‘‘ صبح کے وقت ہم پانی کے پاس جا کر اُتریں گے اور اگر ہم نے پہاڑ کے درے میں پڑاؤ ڈالا تو دشمن ہماری فرو گاہ کو لوٹ کر لے جاسکتا ہے ۔ ’’ مسلم بن سعید نے پڑاؤ ڈالنے کا حکم دے دیا رات میں مسلمانوں کو حکم دیا کہ برتنوں اور دوسرے سامان جن کی وجہ سے بوجھ بڑھ گیا ہے سب جلا ڈالو۔ مسلمانوں نے اُس رات دس لاکھ کی قیمت کا سامان جلا ڈالا۔ صبح ہوتے ہی مسلم بن سعید نے مسلمانوں کو کوچ کا حکم دیا اور پانی کے قریب جا کر پڑاؤ ڈال دیا اور صف بندی کر لی ۔ وہاں دیکھا کہ اہل فرغانہ اور اہل شاش دریا کے آگے مزاحمت کے لئے مستعد ہیں ۔ اُس وقت مسلم بن سعید نے مجاہدین کو حکم دیا کہ اب دشمن پر حملہ کرو ۔ سب نے حکم کی تعمیل کی جہاں تک نظر جاتی تھی مسلمانوں کی تلواریں ہی تلواریں نظر آتی تھیں ۔ اُس دن مسلمان اپنی جگہ قیام پذیر رہے اور

 دوسرے دن مسلم بن سعید کے حکم سے دریا عبور کیا ۔ خاقان کے ایک بیٹے نے مسلمانوں کا تعاقب کیا ۔ حمید بن عبداﷲ جو مسلمانوں کا ‘‘ساقہ’’ کا کمانڈر تھا ۔اُس نے مسلم بن سعید سے کہا : ‘‘ذرا دیر رک جاؤ ۔’’ پھر ساقہ کے ساتھ ترکوں پر ٹوٹ پڑا اور انہیں شکست دیکر پیچھے دھکیل دیا اور اُن کے سات سرداروں کو قید کر لیا ۔ ایک تیر اُسے آکر لگا اور وہ شہید ہو گیا ۔اِس کے بعد مسلمانوں نے ترکوں پر ایسا شدید حملہ کیا کہ انہیں شکست ہوئی اور وہ میدان چھوڑ کر بھاگے ۔

اسد بن عبداﷲ قسری خراسان کا گورنر

اِس سال ہشام بن عبدالملک نے ملک عراق وایران اور تمام مشرقی ممالک کے گورنر خالد بن عبداﷲ کو حکم دیا کہ مسلم بن سعید کو خراسان کی گورنری سے معزول کر دو اور اپنے بھائی اسد بن عبداﷲ قسری و خراسان کا گورنر بنا دو۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اِس سال 106 ھجری میں خالد بن عبداﷲ قسری ملک عراق کا گورنر مقرر ہو کر کوفہ آیا اور اپنے بھائی اسد بن عبداﷲ کو خراسان صوبہ کا گورنر بنایا۔علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اِسی اثناء میں دارالخلافہ سے ایک فرمان آپہنچا جس میں اسد بن عبداﷲ قسری کو خراسان کی گورنری اور عبدالرحمن بن نعیم کو اُس کی نیابت دی گئی تھی ۔ مسلم بن سعید نے فرمان کو آنکھوں سے لگا کر پڑھا اور بسرو چشم اس کی تعمیل کی ۔ جس وقت خالد بن عبداﷲ قسری نے اپنے بھائی اسد بن عبداﷲ قسری کو خراسان کی گورنری کی ‘‘سند’’ دی اور وہ خراسان کی طرف روانہ ہوا تو اُن دنوں مسلم بن سعید فرغانہ میں تھا ۔ نہر پر پہنچ کر اسد بن عبداﷲ قسری نے نہر عبور کرنے کا قصد کیا تو اشہب بنعبداﷲ تمیمی جو آمد کا ‘‘امیرالبحر’’ تھا عبور کرنے سے مانع ہوا ۔ اسد بن عبدا قسری نے ‘‘سندِ گورنری’’ دکھلائی تو اشہب بن عبداﷲ نے نہر عبور کرنے کی اجازت دے دی ۔ نہر عبور کرنے کے بعد اسد بن عبداﷲ قسری ‘‘مرج’’ میں آکر ٹھہر گیا ۔ سمرقند کے گورنر ہانی بن ہانی نے اُس کی آمد کی خبر سن کر شہر کے رؤساء کے ساتھ آیا اور کمال عزت و احترام سے سمرقند لے گیا ۔ اسد بن عبداﷲ قسری نے سمرقند سے لشکر کی سپہ سالاری کی سند عبدالرحمن بن نعیم کے نام ایک شخص کی معرفت روانہ کی تو وہ مجاہدین کو لیکر سمرقند آیا ۔ اِس کے بعد ہانی بن ہانی کو معزول کر کے اُس کی جگہ سمر قند کا گورنر حسن بن ابی عمرطہ کندی کو بنایا ۔ 

106 ھجری کا اختتام

106 ھجری کے اختتام پر مملکت ِ اسلامیہ کے کئی گورنر تبدیل ہو چکے تھے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال کے اختتام پر ملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر اور ناظم اعلیٰ خالد بن عبداﷲ قسری تھا ۔ بصرہ میں خالد بن عبداﷲ کی طرف سے عبد بن عبدالاعلیٰ نماز کے امام مقرر تھے ۔ مالک بن منذر کوتوال تھا ۔ثمامہ بن عبداﷲ بصرہ کے قاضی تھے ۔ اسد بن عبداﷲ قسری خراسان کا گورنر تھا ۔ افریقہ ، اسپین اور ملک مصر کے گورنر وہی تھے جو پچھلے سال تھے ۔ مکۂ مکرمہ ، مدینۂ منورہ اور طائف کا گورنر ابراہیم بن ہشام تھا ۔علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال ۱۰۶ ؁ھجری میں ہشام بن عبدالملک نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔ اور ابوزناد کو حکم دیا کہ اُس کے مدینۂ منورہ میں داخل ہونے سے پہلے وہ اُس سے مل لے اور مناسک حج کی تعلیم دے ۔ اِس کی تعمیل کی گئی اور لوگوں نے مدینۂ منورہ کے راستے میں احکام حج سیکھے ۔ 

106 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان

اِس سال جن کا انتقال ہوا اُن میں سے چند اعیان یہ ہیں۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 106 ھجری میں حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے بیٹے سالم بن عبداﷲ بن عُمر بن خطاب کا انتقال ہوا ۔ اِن کی کنیت ‘‘ابو عمرو ’’ تھی ۔ یہ بڑے زبردست فقیہ اور عالم تھے ۔ انہوں نے اپنے والد ِ محترم حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے بہت سی روایات بیان کی ہیں اور اِن کا شمار عابدوں اور زاہدوں میں ہوتا تھا ۔ ہشام بن عبدالملک اپنی حکمرانی کے زمانے میں حج کرنے گیا تو اِن سے کہا: ‘‘ مجھ سے کچھ مانگیں۔’’ انہوں نے فرمایا :‘‘ دنیا مانگوں یا آخرت؟’’ ہشام بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ دنیا کی کوئی چیز مانگیں۔’’ انہوں نے فرمایا: ‘‘ جس نے دنیا بنائی ہے اُسے میں نے دنیا نہیں مانگی تو تم سے کیا مانگوں؟’’ آپ ہمیشہ دو موٹے ٹاٹ کے کپڑے پہنتے تھے اور کبھی کسی حکمراں سے کچھ نہیں لیا ۔ اِس سال امام طاوؤس بن کیسان یمانی کا انتقال ہوا ۔ یہ جلیل القدر تابعی تھے اور حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ کے خاص شاگردوں میں سے ہیں۔انہوں نے بہت سے صحابۂ کرام سے روایات بیان کی ہیں۔ یہ فقہ کے بہت بڑے امام تھے اور اِن سے بڑے بڑے تابعین نے روایات لی ہیں ۔ جن میں امام مجاہد ، امام عطاع ، عمرو بن دینا ، عبدالکریم بن مخارق ، ابراہیم ، ابن میسرہ ، امام زہری (محمد بن منذر) حبیب بن ثابت ، ضحاک بن مزاحم عبدالملک بن میسرہ اور وہب بن منبہ اور اُن کے بیٹے عبداﷲ بن طاوؤس وغیرہ ہیں ۔ آپ کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ حج کرتے ہوئے انتقال ہوا اور ہشام بن عبدالملک نے نماز جنازہ پڑھائی ۔ 

107 ھجری : رومیوں سے بحری اور بری جنگ

اِس سال مسلمانوں نے رومیوں سے بری اور بحری دونوں جنگ کی یعنی مسلمان رومیوں سے زمین پر بھی لڑے اور پانی پر بھی لڑے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال معاویہ بن ہشام موسم گرما کی مہم لیکر جہاد کے لئے روانہ ہوا ۔ میمون بن مہران ملک شام کی فوج کا سپہ سالار تھا ۔ معاویہ بن ہشام نے سمندر کو طے کیا اور جزیرہ ‘‘قبرص’’ پر آیا ۔ اُس کے ساتھ وہ امدادی فوج تھی جس کی بھرتی کا ہشام نے ۱۰۶ ؁ ھجری میں حکم دیا تھا اور اِن کی تنخواہیں 107 ھجری میں باقاعدہ مقرر کی گئی تھیں۔ اِن میں سے آدھے لوگ جہاد کے لئے گئے اور آدھے ملک شام میں رہے ۔ اِس سال مسلمہ بن عبدالملک نے خشکی پر رومیوں سے جہاد کیا ۔ اِس سال ملک شام میں شدید طاعون کی وباء پھیلی تھی ۔

خراسان میں تحریک عباسیہ کے کارکنوں کا قتل

خاندان ِ بنو عباسیہ کی خفیہ تحریک خاموشی سے چل رہی تھی لیکن خراسان کے گورنر اسد بن عبداﷲ کو اِس خفیہ تحریک کے بارے میں پتہ چل گیا تو اُس نے خراسان کے تمام کارکنوں کا قتل کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 107 ھجری میں بکیرہ بن ماہان نے ابو عکرمہ ، ابو محمد صادق ، محمف بن خنیساور عمار عبادی کو کچھ اپنے طرف داروں کے ساتھ جن کے ہمراہ زیادہ ولید ارزق کا ماموں بھی تھا ۔اپنے اغراض و مقاصد کی اشاعت و تبلیغ کے لئے خراسان بھیجا ۔ بنو کندہ کے ایک شخص نے خراسان کے گورنر اسد بن عبداﷲ قسری کے سامنے ان کی چغلی کردی ۔ ابو عکرمہ ، محمد بن خنیس اور اُن کے تمام ساتھیوں کو گرفتار کر کے اسد بن عبداﷲ قسری کے سامنے لایا گیا لیکن عمار عبدی بچ کر نکل گیا ۔ جو لوگ قبضے میں آگئے تھے اُن کے ہاتھوں اور پاؤں کو کاٹ کر سولی پر لٹکا دیا گیا ۔ عمار عبدی واپس بکیر بن ماہان کے پاس آیا اور پوری سرگذشت سنائی ۔ بکیر بن ماہان نے تمام ماجرا علی بن محمد کو لکھ بھیجا ۔ محمد بن علی نے جواب دیا : ‘‘ تما م تعریف اُسی اﷲ کے لئے ہے جس نے تمہاری خبر اور دعوت کو سچ کیا ہے ۔ تم میں سے جو بچ گئے ہیں وہ بھی عنقریب مارے جائیں گے ۔’’ 

اسد بن عبداﷲ قسری کا ترکوں سے جہاد

اِس سال خرسان کا گورنر لشکر لیکر ترکوں سے جہاد کرنے کے لئے گیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 107 ھجری میں اسد بن عبداﷲ قسری نے نمرون کے پہاڑوں اور علاقہ غرشستان پر جو طالقان کے پہاڑوں سے متصل تھے جہاد کیا ۔ نمرون کے بادشاہ نے اُس سے صلح کر لی اور اُسی کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا ۔ یہاں کے باشندے آج تک ( علامہ محمد بن جریر طبری کے زمانہ تک ) یمنیوں کے موالی ہیں ۔(اسد بن عبداﷲ قسری یمنی تھا) اِس کے بعد اسد بن عبداﷲ قسری نے ‘‘غور’’ پر جو ‘‘ہرات’’ کا پہاڑی علاقہ ہے جہاد کیا ۔ جب اُس نے غور پر چڑھائی کی تو وہاں کے تمام باشندوں نے اپنے تمام مال و متاع کو ایک ایسے عمیق غار میں ڈال دیا جہاں تک پہنچان غیر ممکن تھا ۔ اسد بن عبداﷲ نے صندوق بنوائے اور اُن میں آدمیوں کو بٹھا کر رسیوں کے ذریعہ نیچے اُتارا اور یہ لوگ جس قدر مال و متاع نکال سکے نکال لائے ۔ 

بلخ کو فوجی چھاونی بنا یا

اِس سال اسد بن عبداﷲ نے مسلمانوں کی فوجی چھاونی کو بلخ میں منتقل کر دیا ۔ اِس کی وجہ یہ تھی کہ بلخ ترکی سرحد سے زیادہ قریب تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال اسد بن عبداﷲ قسری نے بروقان کی متعنہ فوج کو بلخ میں منتقل کر دیا اور جن جن لوگوں کے بروقان میں مکان تھے انہیں بلخ میں مکانات بنوا کر دیئے اور جن کے نہیں تھے اُن کو بھی بنوا کر دیئے اور ارادہ کیا کہ اپنی فوج کو پانچ الگ الگ حصوں میں تقسیم کر کے علیحدہ علیحدہ بسا دے لیکن اُس کے دوستوں نے ایسا کرنے سے منع کیا اور کہا: ‘‘ اِس طرح اُن میں گروہ بندی ہو جائے گی جس سے جھگڑے پیدا ہوں گے ۔’’ اِسی لئے اُس نے سب کو خلط ملط کر کے بسا دیا ۔ شہر کی تعمیر کے لئے اُس نے معمار اور مزدور مقرر کئے اور خالد بن برمک کے باپ کو شہر کی تعمیر کا مہتمم (انجنیئر) مقرر کر دیا ۔ بروقان میں زیادہ تر کمانڈر اور روساء رہتے تھے ۔ اُس کے اور بلخ کے درمیان دو فرسخ کا فاصلہ تھا ۔ 

107 ھجری کا اختتام

107 ھجری کا اختتام ہوا ۔ اِس سال کے اختتام پر مملکت اسلامیہ میں تمام گورنر وہی رہے جو پچھلے سال کے اختتام پر تھے ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال ملک یمن میں ایک شخص عباد رعینی نے خوارج کا مذہب اختیار کیا اور اُس کی اتباع میں اچھی خاصی تعداد میں لوگوں نے اُس مذہب کو اختیار کر لیا ۔ اِن لوگوں سے ملک یمن کے گورنر یوسف بن عمر نے قتال کیا اور اُس کو اُس کے تین سو ساتھیوں کے ساتھ قتل کر ڈالا۔ اِس سال مکۂ مکرمہ ، مدینۂ منورہ اور طائف کے گورنر ابراہیم بن ہشام نے مسلمانوں کو حج کرایا۔

107 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان

اِس سال جن کا انتقال ہوا اُن میں سے چند اعیان یہ ہیں ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 107 ھجری میں سلیمان بن یسار کا انتقال ہوا۔ یہ عطاء بن یسار کے بھائی ہیں اور اِن سے بہت سی روایات منقول ہیں ۔ عبادت میں مجتہدین میں شمار ہوتے تھے ۔ اِس سال عکرمہ مولیٰ ابن ابن عباس کا انتقال ہوا ۔ یہ تابعی ہیں اور مفکر و مکثر ہونے کے علاوہ علماء ربانین میں شمار ہوتے تھے ۔ اِن کی کنیت ابو عبادﷲ تھی ۔ انہوں نے صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کی کثیر تعداد سے روایات بیان کی ہیں ۔ یہ صاحب ِ علم و فن تھے اور اپنے آقا حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ کی زندگی میں فتوے بھی دیا کرتے تھے ۔ عکرمہ کہتے ہیں کہ میں نے چالیس سال علم حاصل کیا ۔ مشہور ہے کہ سفیان ثوری کا قول ہے کہ مناسک لینا ہے تو وہ سعید بن جبیر ، مجاہد اور عکرمہ سے لو اور تفسیر لینا ہے تو چار آدمیوں سعید بن جبیر ، مجاہد ، عکرہ اور ضحاک سے لو۔ 

108 ھجری : رومیوں سے جنگ

108 ھجری میں مسلمانوں نے رومیوں کے کئی علاقوں پر حملہ کیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال مسلمہ بن عبدالملک نے رومیوں سے جہاد کیا اور شہر قیساریہ تک جو جزیرہ سے متصل واقع ہے جا پہنچا ۔ اﷲ تعالیٰ نے اِس شہر کو اُس کے ہاتھوں فتح کرایا ۔ اِس سال ابراہیم بن ہشام نے بھی رومیوں کے خلاف جہاد کیا اور اُن کے ایک قلعہ کو فتح کر لیا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال ۱۰۸ ؁ ھجری میں معاویہ بن ہشام بن عبدالملک نے بھی ارض روم پر جہاد کا سلسلہ جاری رکھا اور اُس نے بڑے بڑے بہادروں کو بھی لشکر کے ساتھ روانہ کیا ۔ انہوں حنجرہ فتح کیا اور بہت سا مال غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ آیا ۔ 

ترکوں سے جہاد

اِس سال 108 ھجری میں اسد بن عبداﷲ نے پھر ترکوں سے جہاد کیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال اسد بن عبداﷲ نے ختل سے جہاد کیا ۔ علی بن محمد بیان کرتے ہیں کہ خاقان نے اسد بن عبداﷲ کو آلیا مگر پھر اسد بن عبداﷲ ‘‘قواریان’’ کی طرف پلٹ گیا اور

 دریا کو عبور بھی کر آیا اِس لئے ان دونوں میں کوئی جنگ نہیں ہوسکی ۔مگر ابوعبیدہ بیان کرتے ہیں کہ ترکوں نے اسد بن عبداﷲ کو شکست دی اور اُس کا سخت نقصان کیا ۔واپسی میں اسد بن عبداﷲ نے ظاہر کیا کہ وہ ‘‘سرخ درہ’’ میں موسم سرما بسر کرنا چاہتا ہے مگر پھر اُس نے لوگوں کو کوچ کا حکم دیا اور سب چل پڑے ۔ اسد بن عبداﷲ بن اپنے جھنڈے سامنے بڑھادیئے ۔ فوج نے تکبیر کہنا شروع کر دیا ۔ اسد بن عبداﷲ نے پوچھا : ‘‘ یہ کیا ہے؟’’ لوگوں نے کہا: ‘‘ عربیوں کا شیوہ ہے کہ جب وہ واپس پلٹتے ہیں تو تکبیر کہتے ہیں۔’’ اِس پر اسد بن عبداﷲ نے فوج کے نقیب عروہ سے کہا کہ اعلان کردو کہ امیر ‘‘غوریان’’ جانا چاہتے ہیں۔ ’’ جب مسلمان غوریان پہنچ گئے تب خاقان آیا ۔ اسد بن عبداﷲ نے دریا عبور کر لیا اور نہ مسلمانوں نے ترکوں کا سامنا کیا اور نہ ترکوں نے انہیں چھیڑا۔

خاقان کی شکست

اِس سال خاقان نے آذربائیجان پر حملہ کیا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 108 ھجری میں خاقان آذربائیجان کی طرف بڑھا اور اُس نے شہر ‘‘ورثان’’ کا محاصرہ کر لیا اور اُس پر منجنیقوں سے سنگ باری کی تو اُس کی سرکوبی کے لئے اس علاقہ کے گورنر مسلمہ بن عبدالملک نے کمانڈر عمرو بن حارث کو فوج دیکر سپہ سالار بنا کر بھیجا ۔ اُس کی خاقان سے جنگ ہوئی اور زبردست مقابلے کے بعد مسلمانوں نے خاقان کے بہت سے سپاہیوں کو قتل کر دیا ۔ جب خاقان کے بہت سے سپاہی مارے گئے تو وہ بھی فرار ہو گیا لیکن اِس جنگ میں حارث بن عنرو بھی شہید ہو گیا ۔

108 ھجری کا اختتام

108 ھجری کے اختتام پر ملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر خالد بن قسری تھا ۔ ملک یمن کا گورنر یوسف بن عمر تھا ۔ افریقہ ملک مصر اور اسپین کے گورنر وہی تھے جو پچھلے سال تھے ۔ مکۂ مکرمہ ، مدینۂ منورہ اور طائف کا گورنر ابراہیم ہشام تھا اور اُسی نے مسلمانوں کو حج کرایا۔

108 ھجری میں انتقال کرنے والے

اِس سال میں انتقال کرنے والے چند اعیان یہ ہیں ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 108 ھجری میں ابوبکر بن عبداﷲ بصری کا انتقال ہوا ۔ یہ عالم و عابد و زاہد اور متواض انسان تھے ۔ یہ ‘‘قلیل الکلام’’ مشہور تھے اور انہوں نے بہت سے صحابہ اور تابعین سے روایات بیان کی ہیں ۔ اِس سال راشد بن سعد متوانی حمصی کا انتقال ہوا ۔ یہ طویل عرصہ زندہ رہے اور کثیر صحابہ رضی اﷲ عنہم کے راوی ہیں ۔ یہ عابد و زاہد اور صالح انسان تھے ان کی سیرت بڑی طویل ہے ۔ اِس سال محمد بن کعب قرضی کا انتقال ہوا اور صحابہ رضی اﷲ عنہم کی متعددبہ جماعت سے روایات کے ناقل ہیں ۔ یہ عالم ، عابد اور صالح انسان تھے اور قرآن پاک کے اچھے مفسر تھے ۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

ہفتہ، 2 مارچ، 2024

اللہ تعالیٰ تم کو بہتر بدلہ دے Jazakallah khair




اللہ تعالیٰ تم کو بہتر بدلہ دے



حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے ساتھ کوئی نیکی کا سلوک کیا گیا اور اس نے  اس نیکی کرنے والے سے «جزاك الله خيراً» ”اللہ تعالیٰ تم کو بہتر بدلہ دے“ کہا اس نے اس کی پوری پوری تعریف کر دی“  

جامہ ترمذی جلد ١ ، ٢١٠١  -حسن 


حضرت عمر‌ فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر لوگوں کو جزاك الله خيراً کہنے کا ثواب معلوم ہو جائے تو وہ  ایک دوسرے کو یہ بہت زیادہ کہنے لگ جائے 

مصنفه ابنُ أبي شيبة  ٢٦٥١٩ 


 ایک بار اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے  جزاك الله خيراً یعنی الله آپ کو اچّھا صلہ عطا فرماۓ  کہا تو ان کے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے  وَأَنْتُمْ فَجَزَاكُمُ اللَّهُ خَيْرًا یعنی  آپ کو بھی ، الله آپ کو  بھی اچّھا صلہ عطا فرماۓ کہا  

صحيح ابن حبان  ٧٤٣٦-حسن


نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا اللہ کا ( بھی ) شکر ادا نہیں کرتا ۔

سنن ابی داؤد جلد ۳ ۱۳۸۳ صحیح








 

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں