پیر، 12 فروری، 2024

کھانا کھانے کے بعد کی دعا


کھانا کھانے کے بعد کی دعا



کھانا کھانے کے بعد کی دعا



حضرت سہل بن مجاعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کھانا کھایا پھر کھانے سے فارغ ہو کر کہا: 

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلاَ قُوَّةٍ

 ”تمام تعریفیں ہیں اس اللہ کے لیے جس نے ہمیں یہ کھانا کھلایا اور اسے ہمیں عطا کیا، میری طرف سے محنت مشقت اور جدوجہد اور قوت و طاقت کے استعمال کے بغیر

 تو اس کے اگلے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے

جامع ترمذی اجلد نمبر 2 حدیث نمبر 1383




 

اتوار، 11 فروری، 2024

اے اللہ....! ماہ رمضان المبارک کی دعائیں


ماہ رمضان المبارک میں دعا مانگیں


اے اللہ.....!


اے اللہ ! ہم عاجز بندے تیری پاکی بیان کرتے ہیں اور تیرے آگے ہاتھ پھیلاتے ہیں۔

اے اللہ ! ہمارے دلوں کو اخلاص کے ساتھ اپنے دین کی طرف پھیر دے۔

اے اللہ ! ہمارے صغیرہ اور کبیرہ گناہوں کو معاف فرمادے۔

اے اللہ ! ہمیں پکا اور سچا مسلمان بنادے۔

اے اللہ ! ہماری مشکلات کو حل فرمادے۔

اے اللہ ! ہمیں اسلام پر استقامت نصیب فرما۔

اے اللہ ہم سے راضی ہو جا، ہمیں شیطان اور نفس کے شر سے بچا۔

اے اللہ ! ایمان کے ساتھ ہمارا خاتمہ فرما۔

اے اللہ ! ہمارے قدموں کو صراط مستقیم پر قائم رہنے والا بنا دے۔

اے اللہ ! اپنی رضا پر راضی رہنے کی توفیق دے۔

اے اللہ ! اپنی خاص رحمت نازل فرما اور اپنے قہر و غضب سے بچالے۔

اے اللہ ! قیامت کی رسوائی سے بچالینا

اے اللہ ! اپنے عرش کے سائے میں جگہ عنایت فرمانا۔ 

اے اللہ ! قیامت کے روز اپنا دیدار نصیب فرمانا۔

اے اللہ اکل امت محمدیہ کو حشر کی رسوائی سے پناہ عنایت فرما ، 

اے اللہ !: اسلام کا بول بالا فرما، 

اے اللہ !: اسلام کا جھنڈا بلند فرما۔

اے اللہ ! تمام مسلمانوں کو خواب غفلت سے بیدار کر دے، 

اے اللہ !: اسلام کی حفاظت فرما۔ 

اے اللہ ! ہماری خطاؤں کو معاف فرما۔

اے اللہ ! قبر کے اندھیرے اور عذاب سے بچانا ، 

اے اللہ ! منکر نکیر کے سوالات کے وقت ہماری مدد فرمانا ، 

اے اللہ ! ہمارا نامہ اعمال ہمارے داہنے ہاتھ میں دینا۔

اے اللہ ! ہمیں حلال روزی نصیب فرما، 

اے اللہ ! ہمارے کاروبار میں اپنی رحمت سے برکت اور ترقی عطا فرما۔ اے اللہ ! ہمیں اخلاص نصیب فرما، 

اے اللہ ! ہمارے دلوں سے حسد، 

اے اللہ ! بغض اور کینہ دور فرما 

اے اللہ ! ہمیں دجال کے فتنے سے بچا

اے اللہ ! ہمیں موت کی سختی سے بچا 

اے اللہ ! ہمیں قبر کے عذاب سے بچا 

اے اللہ ! ہمیں قیامت کی گرمی سے بچا 

اے اللہ ! ہمیں جہنم کی آگ سے محفوظ فرما۔

اے اللہ ! پل صراط کا راستہ آسان کر دے۔

اے اللہ ! جنت الفردوس میں جگہ عطا فرما۔

اے اللہ ! تنگدستی اور خوف وگھبراہٹ اور قرض کے بوجھ کو دور فرما۔

اے اللہ ! رسول اللہ ﷺ کے پیارے طریقے ہم کو سکھا دے اور ان کے پیارے صحا بہ رضی اللہ عنہم کے اعمال کی خوبی ہمارے ہر کام میں پیدا کر دے۔

اے اللہ ! ہمارے بچوں کو علم دین کی دولت سے سرفراز فرما اور نیک وصالح بنادے۔

اے اللہ ! ہم گناہوں کے بوجھ سے دبے ہوئے ہیں صرف تیری رحمت کا آسرا ہے۔ تو ہمیں اپنی رحمت سے بخش دے۔

اے اللہ ! اے غفور و رحیم ، ہمارے گناہوں کو معاف فرما۔

اے اللہ ! ہم گناہوں سے تو بہ کرتے ہیں، تُو ہماری خطاؤں کو معاف فرمادے ۔ ہم گناہوں سے شرمندہ ہیں ۔

اے اللہ ! جو گناہ جان کر کئے ہیں اور جو انجانے میں ہوئے ہیں سب کو معاف فرمادے۔

اے اللہ ! ہمارے مردوں اور عورتوں کو نماز کا پابند بنادے۔

اے اللہ ! ہماری عبادتوں کو قبول فرما۔

اے اللہ ! سب مسلمانوں کو نیک بنادے۔

اے اللہ! ہمیں ہر قسم کی بداخلاقیوں سے بچا۔

اے اللہ ! آخرت میں تیرا دیدار نصیب ہو۔

اے اللہ ! اسلام کا بول بالا ہو۔ 

اے اللہ ! مسلمانوں کی تمام مشکلیں حل فرما 

اے اللہ ! ہماری ہر مشکل آسان فرمادے، چین اور راحت عطا فرما۔

اے اللہ ! مسلمانوں کو دین و دنیا میں عزت عطا فرما۔

اے اللہ ! بیماروں کو شفا عطا فرما۔

اے اللہ ! ہمیں دعا مانگنے کا طریقہ اور اپنی عبادت کرنے کا سلیقہ عطا فرما۔

اے اللہ ! مسلمانوں کو دیس پردیس میں چین، امن اور سلامتی عطا فرما۔

اے اللہ ! کمزوروں کو طاقت عطا فرما۔

اے اللہ ! بچھڑوں کو ملادے اور روٹھوں کو منادے۔

اے اللہ ! ہماری تمام دلی جائز تمناؤں کو پورا فرما۔

اے اللہ ! تنگ دستوں کی تنگ دستی کو دور فرما۔

اے اللہ ! ہمارے مردوں کی مغفرت فرما ان کی قبروں پر رحمت نازل فرما، ان کی قبروں کو ٹھنڈار کچھ اور ان کو بلندی درجات عطا فرما۔

اے اللہ! ہمیں اچھی صحت دے تا کہ ہم تیری عبادت کر سکیں۔

اے اللہ ! مرتے وقت کلمہ نصیب فرما۔ مرنے کے بعد اپنے پیارے نبی علی ایم کی شفاعت نصیب فرما۔ ہماری دعاؤں کو قبول

فرما۔ آمین ثم آمین 





 

بیماریوں سے بچنے کی دعا


بیماریوں سے بچنے کی دعا



بیماریوں سے پناہ کی دعا


حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اس طرح دعا فرماتے تھے 

اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبَرَصِ وَالْجُنُونِ وَالْجُذَامِ وَمِنْ سَيِّئِ الأَسْقَامِ

یا الله میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں کوڑھ کی بیماری سے پاگلپن سے جزام کی بیماری(انفیکشن) سے اور تمام بری بیماریوں سے 

سنن ابی داؤد جلد ۱ ۱۵۴۱ ،1, 1541

 

ہفتہ، 10 فروری، 2024

سواری پر سوار ہونے کی دعا


سواری پر سوار ہونے کی دعا



سواری پر سوار ہونے کی دعا


اور جس نے تمام اقسام و اصناف کی مخلوق پیدا کی اور تمہارے لئے کشتیاں اور بحری جہاز بنائے اور چوپائے بنائے جن پر تم سوار ہوتے ہو تاکہ تم ان کی پشتوں پر درست ہو کر بیٹھ سکو، پھر تم اپنے رب کی نعمت کو یاد کرو، جب تم سکون سے اس پر بیٹھ جاؤ تو کہو


سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَـٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ


پاک ہے وہ ذات جس نے اِس کو ہمارے تابع کر دیا حالانکہ ہم اِسے قابو میں نہیں لا سکتے تھے اور بیشک ہم اپنے رب کی طرف ضرور لوٹ کر جانے والے ہیں۔ ( سورة الزخرف آیت 12 ۔سے 14 تک)


 

جمعہ، 9 فروری، 2024

موت کے وقت شیطان سے بچنے کی دعا


موت کے وقت شیطان سے بچنے کی دعا


موت کے وقت شیطان سے بچنے کی دعا

حضرت ابوعلی یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے 

اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ يَتَخَبَّطَنِي الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَوْت

اے اللہ! میں  اس بات سے تیری پناہ چاہتا ہوں کہ موت کے وقت شیطان مجھے بہکا دے

سنن نسائی جلد ٣ ، ١٨٣٢- حسن 





 

جمعرات، 8 فروری، 2024

غصہ پر قابو پانے کی دعا



غصہ پر قابو پانے کی دعا



غصہ پر قابو پانے کی دعا


اللہ تعالیٰ نے سورہ النحل میں فرمایا:

فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ (سورة النحل (١٦) آیت ٩٨ )

ترجمہ اور  جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان مردود سے پناہ مانگ لیا کرو

(سورہ النحل آیت نمبر 98)

حضرت سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا اور ( قریب ہی ) دو آدمی آپس میں بحث کر رہے تھے کہ ایک شخص کا منہ سرخ ہو گیا اور گردن کی رگیں پھول گئیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے ایک ایسا کلمہ معلوم ہے کہ اگر یہ شخص اسے پڑھ لے تو اس کا غصہ جاتا رہے گا۔ وہ کلمہ یہ ہے۔

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

 ( ترجمہ ) ” میں پناہ میں آتا ہوں اللہ کی شیطان مردود سے 

صحیح مسلم جلد ٦ / ٦٦٤٨ 

 

بدھ، 7 فروری، 2024

دعا مانگ لیں 🤲 2 | Dua Mangte 2

دعا مانگ لیں 2🤲


 


سونے کے وقت کی دعا

https://youtu.be/CnpC4b-5dWs

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب بستر پر تشریف لے جاتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے رخسار مبارک کے نیچے رکھتے، پھر ( یہ دعا ) پڑھتے:

 اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ - أَوْ تَجْمَعُ - عِبَادَكَ 

 اے اللہ! مجھ کو تو اپنے اس دن کے عذاب سے بچا جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا یا جمع کرے گا ۔ (سنن ابن ماجہ جلد ۳/ ۷۵۸)

منگل، 6 فروری، 2024

🤲🤲 Dua Mangte 1 | Jannat Men Mahel Tameer



🤲🤲 دعا مانگ لیں 🤲🤲


قسط نمبر 354


جنت میں ایک محل کی تعمیر

رسول الله ﷺ ‌نے فرمایا: جس شخص نے سورۃ الاخلاص قُلۡ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ ۚ﴿۱﴾ دس مرتبہ مکمل پڑھی، تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں ایک محل تعمیر کر دے گا۔ حضرت عمر‌ فاروق رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ! ‌تب تو ہم بہت سے محل حاصل کرلیں گے۔ آپ ﷺ ‌نے فرمایا: اللہ تعالیٰ زیادہ عطا کرنے والا اور پاک ہے۔

السلسلہ صحیحہ ٢٩٧٩ صحیح الجامع ٦٤٧٢ 

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ

قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ

لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ

نوٹ: آپ سے گزارش ہے کہ اگر آپ کے پاس وقت ہو تو سورہ الاخلاص دس مرتبہ پڑھ کر جنت میں ایک مثل تعمیر کرلیں۔ جزاک اللہ خیرا۔



خوبصورت اچھی باتیں یوٹیوب لنک

https://youtube.com/@urdukab


خوبصورت اچھی باتیں واٹس ایپ لنک

https://chat.whatsapp.com/LE5Ca4iO4FiKiWXowCAQiL

انبیائے کرام علیہم السلام، 

سیرت النبی، 

خلفائے راشدین سیریز پڑھنے کا لنک

khubsooratachhibaten.blogspot.com 

پیر، 5 فروری، 2024

سلطنت امیہ قسط نمبر 58 Saltanat e Umayya part 58


58 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 58

109 ھجری رومیوں سے جہاد، تحریک عباسیہ کا داعی خراسان میں، زیاد اور اُس کے ساتھیوں کا قتل، اسد بن عبداﷲ کی معزولی، اشرس بن عبداﷲ خراسان کا گورنر، 109 ھجری کا اختتام، 110 ھجری : ترکوں اور رومیوں سے سے جہاد، اہل سمرقند کو اسلام کی دعوت، اہل سمرقند کا قبول اسلام، ترکوں سے جنگ، ثابت قطنہ کی آخری تمنا، کمرجہ کی جنگ، 110 ھجری کا اختتام

109 ھجری رومیوں سے جہاد

اِس سال رومیوں سے عبداﷲ بن عقبہ کی سپہ سالاری میں مسلمانوں نے جہاد کیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال عبداﷲ بن عقبہ بن نافع نے رومیوں سے بحری جہاد کیا اور معاویہ بن ہشام نے رومیوں کے علاقہ پر حملہ کر کے اُن کے ایک قلعہ ‘‘طیبہ ’’ کو فتح کر لیا اور اس کے ساتھ جو اہل انطاکیہ تھے اُن میں سے اکثر لوگ میدان جنگ میں کام آئے ۔

تحریک عباسیہ کا داعی خراسان میں

اِس سال تحریک عباسیہ کا ایک داعی ملک خراسان آیا اور عباسی تحریک کی دعوت دینے لگا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : علی بن محمد بیان کرتے ہیں کہ بنو عباس کے داعیوں میں سے سب سے پہلے زیاد ابو محمد ہمدان کے آزادغلام کو محمد بن علی نے خراسان بھیجا اور کہا: ‘‘ لوگوں کو ہماری حمایت کے لئے دعوت دو اور اہل یمن میں جا کر قیام پذیر ہونا اور مضری عربوں سے ملاطفت سے پیش آنا اور ‘‘ابر’’ شہر کے ایک شخص ‘‘غالب’’ سے بچتے رہنا کیونکہ اُسے بنو فاطمہ کی محبت میں بہت زیادہ غلو

 ہے ۔’’یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ سب سے پہلے حرب بن عثمان بلخی بنو قیس بن ثعلبہ کا آزاد غلام محمد بن علی کا خط لیکر خراسان کے باشندوں کو ‘‘تحریک عباسیہ’’ کی دعوت دینے آیا ۔ جب زیاد نے خراسان پہنچ کر بنو عباس کے لئے تحریک و دعوت شروع اور بنو مروان (سلطنت اُمیہ) کے مطالم اور عادات قبیحہ کو بیان کرنے لگا اور لوگوں کو کھانا کھلانے لگا تو اِسی اثناء میں ‘‘ابر’’ شہر سے ‘‘غالب’’ زیاد کے پاس آیا اور ان دونوں میں مباحثہ ہوا ۔ غالب بنو فاطمہ کی فضیلت پیش کرتا تھا اور زیاد بنو عباس کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ غالب زیاد کو چھوڑ کر چلا گیا ۔ زیاد نے پورا موسم سرما ‘‘مرو’’ میں بسر کیا اہل مرو میں سے یحییٰ بن عقیل خزاعی اور ابراہیم بن خطاب عدوی اُس سے ملنے آیا کرتے تھے ۔اُس زمانہ میں ‘‘مرو’’ کا خراج کا افسر حسن بن شیخ تھا ۔ جب اُسے زیاد کی کاروائیوں کی اطلاع ملی تو اُس نے اسد بن عبداﷲ کو اِس کی اطلاع دی ۔ 

زیاد اور اُس کے ساتھیوں کا قتل

اسد بن عبداﷲ نے زیاد اور اُس کے ساتھیوں کو قتل کردیا اور ‘‘عباسیہ تحریک’’ کو کچلنے کی کوشش کی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اسد بن عبداﷲ نے زیاد کو بلوایا ۔اُس کے ساتھ ایک اور شخص تھا جس کی کنیت ابو موسیٰ تھی ۔ اسد بن عبداﷲ نے اُسے دیکھ کر کہا: ‘‘ میں تمہیں پہچانتاہوں۔’’ ابوموسیٰ نے کہا: ‘‘ جی ہاں! آپ مجھے پہچانتے ہیں۔’’ اسد بن عبداﷲ نے کہا: ‘‘ میں نے تمہیں دمشق کے میخانے میں دیکھا تھا ۔’’ ابو موسیٰ نے کہا: ‘‘ جی ہاں! یہ بھی صحیح ہے۔’’ اب اسد بن عبداﷲ بے زیاد سے پوچھا: ‘‘ میں نے تمہارے متعلق ایسی اور ایسی باتیں سنی ہیں ،تم کیا کہتے ہو؟’’ زیاد نے کہا: ‘‘ آپ کو جو اطلاع ملی ہے وہ محض غلط ہے ۔میں تجارت کی غرض سے خراسان آیا ہوں اور میں نے اپنا مال لوگوں کو دیا ہے ۔ جب میرے مال کی قیمت وصول ہو جائے گی تو میں یہاں سے چلا جاؤں گا۔’’ اسد بن عبداﷲ نے حکم دیا :‘‘ تم میرے علاقے سے نکل جاؤ۔’’ اِس کے بعد زیاد اُس کے پاس سے آ گیا اور اپنی تحریک کی اشاعت میں مصروف ہو گیا ۔ یہ رنگ دیکھ کر حسن بن شیخ پھر اسد بن عبداﷲ کے پاس آیا اور بولا: ‘‘ آپ اِس تحریک کو معمولی مت سمجھیں،یہ بڑی خطرناک ہے اور ابھی اس کا تدارک کریں۔’’اسد بن عبداﷲ نے پھر کچھ دن بعد زیاد کو بلوایا اور کہا: ‘‘ میں نے تمہیں خراسان میں قیام کرنے سے منع کر دیا تھا۔’’ زیاد نے کہا: ‘‘ آپ میری طرف سے کسی خدشہ کو اپنے دل میں جگہ نہ دیں۔’’ اسد بن عبداﷲ نے زیاد اور اُس کے ساتھیوں کو گرفتار کر لیا اور اُن کے قتل کا حکم دے دیا ۔ قتل کا حکم سن کر ابوموسیٰ نے کہا: ‘‘ تجھے جو کرنا ہے کرلے۔’’ یہ سن کر اسد بن عبداﷲ کو شدید غصہ آگیا اور اُس نے کہا: ‘‘ تُو نے مجھے فرعون بنا دیا۔’’ ابو موسیٰ نے کہا: ‘‘ میں نے نہیں بلکہ اﷲ نے تجھے فرعون بنا دیا ہے ۔’’ اِس کے بعد کوفہ کے رہنے والے دس آدمیوں میں سے آٹھ قتل کر دیئے گئے اور دو کم سنی کی وجہ سے چھوڑ دیئے گئے ۔ 

اسد بن عبداﷲ کی معزولی

109 ھجری میں ہشام بن عبدالملک نے خراسان کے گورنر اسد بن عبداﷲ کو معزول کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال ہشام بن عبدالملک نے خالد بن عبداﷲ کی نگرانی سے ملک خراسان کو نکال لیا اور اُس کے بھائی اسد بن عبداﷲ کو معزول کر دیا ۔ اِس کاروائی کی وجہ یہ ہوئی کہ اسد بن عبداﷲ نے خراسان میں سخت تعصب برتنا شروع کر دیا تھا ۔ جس کا نتیجہ یہ ہو گیا کہ خراسان کی عوام میں گروہ بندی ہوگئی تو ہشام بن عبدالملک نے خالد بن عبداﷲ کو لکھا:‘‘ اپنے بھائی اسد بن عبداﷲ کو معزول کر دو ۔’’ خالد بن عبداﷲ نے امیرالمومنین کے حکم کے مطابق اپنے بھائی کو معزول کر دیا اور اسد بن عبداﷲ نے اپنے بھائی سے حج کی اجازت لیکر ماہ رمضان المبارک ۱۰۹ ؁ ھجری میْں ملک عراق آگیا ۔ اُس کے ساتھ ملک خراسان کے بعض زمیندار بھی آئے ۔ اسد بن عبداﷲ نے اپنی جگہ حکم بن عوانتہ کا خراسان کا گورنر مقرر کر دیا تھا ۔

اشرس بن عبداﷲ خراسان کا گورنر

اسد بن عبداﷲ کو معزول کرنے کے بعد ہشام بن عبدالملک نے اشرس بن عبداﷲ کو ملک خراسان کا گورنر مقرر کیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 109 ھجری میں ہشام بن عبدالملک نے اشرس بن عبداﷲ کو ملک خراسان کا گورنر مقرر کر دیا اور اُسے حکم دیا کہ خالد بن عبداﷲ کو تمام سرکاری معاملات لکھتے رہو۔اشرس بن عبداﷲ ایک فاضل اور نیک انسان تھااور لوگ اسکی فضیلت کی وجہ سے اسے ‘‘کامل’’ کہتے تھے ۔ وہ ملک خراسان آیا تو وہاں کی عوام بہت خوش ہوئی ۔ اُس نے عمیرہ بن ابو امیہ یشکری کو کوتوال( سب سے بڑا پولیس آفیسر) مقرر کیا ۔ پھر اُسے معزول کر ک سمط کو کوتوال بنا دیا ۔ ابو مبارک کندی کو ‘‘مرو’’ کا قاضی بنایا مگر چونکہ اُسے قضاء کا کچھ بھی علم نہیں تھا اِس لئے مقاتل بن حیان سے مشورہ کیا تو اُسنے محمد بن زید کا نام اِس منصب کے لئے پیش کیا ۔ اشرس بن عبداﷲ نے محمد بن زید کو ‘‘مرو’’ کا قاضی مقرر کر دیا ۔اِس کے بعد اشرس نے خراسان میں فوجی چوکیوں بنائیں اور عبدالملک بن وثار کو اُن پر سپہ سالار مقرر کیا ۔ تمام چھوٹے بڑے کام اشرس بن عبداﷲ خود ہی کرتا تھا ۔

109 ھجری کا اختتام

109 ھجری کے اختتام پر صرف خراسان کا گورنر تبدیل ہوا تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال کے اختتام پر خالد بن عبداﷲ ملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر تھا ۔ ملک مصر ، افریقہ اور اسپین کے گورنر بھی پچھلے سال کے ہی تھے ۔ خراسان کا گورنر اشرس بن عبداﷲ تھا۔ ملک یمن کا گورنریوسف بن عمرو تھا ۔ مکۂ مکرمہ ، مدینۂ منورہ اور طائف کا گورنر ابراہیم بن ہشام تھا اور اُسی نے مسلمانوں کو حج کرایا۔مقام ‘‘منیٰ’’ میں ‘‘یوم النحر’’ کے دوسرے دن خطبہ دیا اور کہا: ‘‘ میں ابن وحید ہوں!جو چاہو مجھ سے دریافت کرلو ، کیونکہ مجھ سے زیادہ کوئی شخص واقف نہیں ہے ۔’’ اِس پر ملک عراق کے ایک شخص نے اُس سے پوچھا: ‘‘ قربانی واجب ہے یا نہیں؟’’ ابراہیم بن ہشام کوئی جواب نہیں دے پایااور خاموشی سے منبر سے نیچے اُتر آیا۔ 

110 ھجری : ترکوں اور رومیوں سے سے جہاد

اِس سال مسلمانوں نے ترکوں سے دونوں طرف سے جہاد کیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 110 ھجری میں مسلمہ بن عبدالملک نے ترکوں سے جہاد کیا اور بڑھتے بڑھتے ‘‘باب اللان’’ تک جا پہنچا ۔ یہاں خاقان نے ایک کثیر فوج کے ساتھ مسلمہ بن عبدالملک کا مقابلہ کیا ۔ ایک مہینے تک دونوں فوجوں میں زبردست جنگ ہوتی رہی اور شدید بارش کی وجہ سے طرفین کو سخت تکلیف ا’ٹھانا پڑی ۔ آخر کار اﷲ تعالیٰ نے خاقان کو شکست دی اور وہ واپس چلاگیا اور مسلمہ بن عبدالملک بھی اپنے لشکر اور مال غنیمت کو لیکر واپس آیا ۔ واپسی پر اُس نے ‘‘مسجد ذی القرنین’’ والا راستہ اختیار کیا ۔ اِس سال معاویہ بن ہشام نے رومیوں کے علاقہ پر حملہ کر کے ‘‘صمالہ’’ فتح کیا اور اِسی سال عبداﷲ بن عقبہ فہری‘‘امیر البحر’’ نے موسم گرما میں جہاد کیا ۔

اہل سمرقند کو اسلام کی دعوت

110 ھجری میں ملک خراسان کے گورنر اشرس بن عبداﷲ نے اہل سمرقند کو اسلام کی دعوت دی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اشرس بن عبداﷲ نے اپنے مصاحبین سے کہا: ‘‘ مجھے ایک ایسا فاضل اور متقی آدمی بتاؤ جسے میں اشاعت اسلام کے لئے ‘‘ماورا ء النہر’’ بھیج دوں ۔ لوگوں نے ابو صیداء صالح بن طریف بنو ضبہ کے آزاد غلام کا نام لیا ۔ ابو صیداء نے کہا: ‘‘ میں فارسی اچھی طرح نہیں جانتا ہوں ۔’’ اِس کمی کو پورا کرنے کے لئے اُس کے ساتھ ربیع بن عمران تمیمی کو کیا گیا ۔ ابو صیداء نے کہا: ‘‘ میں اِس شرط پر اسلام کی دعوت دوں گا کہ جو شخص اسلام قبول کر لے گا تو اُس سے جزیہ نہیں لیا جائے گا کیونکہ خراسان کا ہر فرد مشخص ہے ۔ ’’ اشرس نے یہ بات مان لی ۔ ابو صیداء نے مزید احتیاط کے لئے اپنے دوستوں سے کہا : ‘‘ میں اِس کام کے لئے جا تو رہا ہوں لیکن اگر یہ گورنر اپنے وعدہ کو پورا نہ کریں تو تم میری امداد کرنا۔’’ سب نے حامی بھر لی اور ابوصیداء روانہ ہوگیا ۔ سمر قند کا فوجی اور مالی گورنر حسن بن ابی عمرطۃ کندی تھا۔ 

اہل سمرقند کا قبول اسلام

ابوصیداء نے اہل سمرقند کو اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے دل کی خوشی سے اسلام قبول کر لیا ۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں : ابو صیداء نے سمرقند کے باشندوں کو اسلام کی دعوت دی اور یہ بھی کہا :‘‘ اگر تم اسلام قبول کر لوگے تو تمہارا جزیہ معاف کر دیا جائے گا۔’’ سمرقند کے باشندے جوق در جوق آ کر اُس کے ہاتھ پر اسلام قبول کرنے لگے ۔یہ رنگ دیکھ کر غوزک نے اشرس بن عبداﷲ کو لکھا :‘‘ مال گزاری کم ہوگئی ہے ۔’’اشرس بن عبداﷲ نے ابن ابی عمرطۃکو لکھا :‘‘ جزیہ کی وصولی سے مسلمانوں کو تقویت پہنچتی ہے اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ اہل سغد اور اُن جیسے لوگ خلوص نیت سے مسلمان نہیں ہوئے ہیں بلکہ جزیہ سے بچنے کے لئے اسلام قبول کیا ہے ۔ تم دیکھو کہ جس کا ختنہ ہو گیا ہو اور وہ فرائض دین کو بجا لاتا ہو اور اُس کے اسلام میں خلوص نظر آتا ہو اور وہ قرآن پاک کی ایک سورہ پڑھ دے تو اُس کا جزیہ معاف کر دیا جائے گا۔’’اِس کے بعد اشرس بن عبداﷲ نے ابن ابی عمرطۃ کا معزول کر دیا اور ہانی بن ہانی کو مال گزاری کا افسر بنا دیا اور اشحیذ کو اس کی مدد پر متعین کر دیا ۔اب ابی عمرطۃ نے ابوصیداء کو بتایا :‘‘ مجھے معزول کر دیا گیا ہے اور تم اِس معاملے میں ہانی بن ہانی اور اشحیذ سے معاملہ اور گفت و شنید کرنا۔’’ ابو صیداء نے لوگوں سے جزیہ لینے سے منع کیا ۔ہانی نے اشرس بن عبداﷲ کو لکھ بھیجا: ‘‘ تمام باشندے مسلمان ہوگئے ہیں اور انہوں نے مسجدیں بھی بنا لی ہیں ۔’’ اِن حالات کو دیکھ کر بخارا کے بڑے بڑے زمیندار اشرس بن عبداﷲ کے پاس آئے اور کہا: ‘‘ اب آپ کس سے خراج لیں گے سارے باشندے تو عرب ہو گئے ہیں َ’’ 

اہل سغداور اہل بخارا کا ارتداد

ملک خراسان کے گورنر اشرس بن عبداﷲ نے نومسلموں سے سختی سے جزیہ وصول کرنا شروع کر دیا جس کی وجہ سے اہل سغد اور اہل بخارا مرتد ہوگئے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اشرس بن عبداﷲ نے ہانی اور دوسرے عہدیداروں کو لکھا:‘‘ جن لوگوں سے پہلے جزیہ لیا جاتا تھا اُن سے اب بھی جزیہ لیا جائے ۔’’ اِس حکم کے بعد نومسلموں پر پھر سے جزیہ عائد کیا گیا ۔انہوں نے جزیہ دینے سے انکار کر دیا اور سات ہزار اہل سغد حکومت کی اطاعت چھوڑ کر سمر قند سے سات فرسخ کے فاصلے پر خیمہ زن ہو گئے ابوصیداء اور اُس کے ساتھی اُن کی امداد کے لئے اُن کے ساتھ جا شریک ہوئے ۔اشرس نے ابن ابی عمرطۃ کو فوج کی سپہ سالاری سے بھی معزول کر دیا اور اُس کی جگہ مجشر بن مزاحم سلمی کو مقرر کیا اور عمیرہ بن سعد شیبانی کو اس کا مدد گار بنایا۔مجشر بن مزاحم نے سمرقند پہنچتے ہی ابوصیداء کو لکھا :‘‘ آپ مجھ سے آکر ملیں اور اپنے ساتھیوں کو بھی ساتھ لائیں۔’’ ابوصیداء اور ثابت قطنہ اُس کے پاس آئے تو اُس نے دونوں کو قید کر لیا ۔ ابوصیداء نے کہا: ‘‘ تم نے بد عہدی کی اور قول سے پھر گئے ۔’’ ہانی نے کہا: ‘‘ نہیں! جو طریقہ خون ریزی کو روک سکے وہ بد عہدی نہیں کہلاتا ہے۔’’ اِس کے بعد ہانی نے ابو صیداء کو اشرس بن عبداﷲ کے پاس بھیج دیا اور ثابت قطنہ کو اپنے پاس ہی قید رکھا ۔ جب ابوصیداء کوگرفتار کر کے بھیج دیا گیا تو اُس کے ساتھی ایک جگہ جمع ہوئے اور انہوں نے ہانی سے لڑنے کے لئے ‘‘بنو فاطمہ ’’ کو اپنا سردار منتخب کر لیا ۔ ہانی نے کہا: ‘‘ ذرا ابھی ٹھہرو! میں اشرس کو لکھتا ہوں ،اُن کی رائے معلوم ہوجانے دو ،وہ جیسا حکم دیں گے ہم اُس کی تعمیل کریں گے ۔’’ان لوگوں نے سارا ماجرا اشرس کو لکھ بھیجا ۔ اشرس نے جواب دیا : ‘‘ باقاعدہ جزیہ وصول کیا جائے ۔’’ یہ سنتے ہی ابو صیداء کے متبعین چلے گئے مگر اُن کی طاقت کمزور ہو گئی ۔ جتنے اُن کے سردار تھے وہ تلاش کر کے گرفتار کر لئے گئے اور انہیں ‘‘مرو’’ بھیج دیا گیا اور ثابت قطنہ یہیں قید رہا ۔اشرا نے سلیمان بن ابی سری بنو عوافہ کے آزاد غلام کو بھی ہانی کی مدد کے لئے بھیج دیا اور اُس نے سختی سے لگان کی وصولی شرع کر دی ،یہاں تک کہ نومسلم بوڑھوں سے بھی جزیہ لیا گیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اہل سمرقند اور اہل بخارا مرتد ہو گئے اور ترکوں نے جب دیکھا کہ نومسلموں پر مسلمان حکومت ظلم کر رہی ہے تو اُن میں جوش و خروش پیدا ہوگیا اور انہیں اندازہ ہوگیا تھا کہ اِس طرح مسلمان حکومت کمزور ہو جائے گی اور ہوسکتا ہے کہ مسلمان حکومت کے خلاف مرتدین ہماری مدد کریں ۔ 

ترکوں سے جنگ

اہل سغد اور اہل بخارا کے ارتداد کا ترکوں نے فائدہ اُٹھایا اور انہیں لیکر مسلمانوں پر حملہ کر دیا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : تھوڑے دنوں بعد اہل سغد کے کاموں میں ضعف پیدا ہو گیا اور آپس میں پھوٹ پڑ گئی ۔ اشرس بن عبداﷲ نے ایک ایک کو گرفتار کر کے قید اور جبری جزیہ وصول کرنے لگا ۔ رؤسائے عجم اور دہقانوں کی ذلت کا دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا ۔ اُن کے کپڑے جلوائے ،پیٹیوں کو گردنوں میں پہنوایا ،سروں پر کانٹوں کا تاج رکھوایا اور جو لوگ اسلام قبول کر چکے تھے اُن سے بھی جزیہ وصول کیا۔ سغد اور بخارا میں پھر سے ایک جوش پیدا ہوا اور یہ سب کے سب باغی ہو گئے اور ترکوں سے سازش کرکے لشکر مرتب کیا ۔ اشرس بن عبداﷲ اِس طوفان بد تمیزی کو فرو کرنے کے لئے روانہ ہوا اور ‘‘آمل’’ میں پہنچ کر کئی مہینوں تک قیام کیا ۔ بالآخر قطن بن قتیبہ بن مسلم کو دس ہزاری کی فوج دیکر آگے بڑھایا ۔ نہر عبور کرتے ہی ترکوں اور اہل سغد و بخارا سے سامنا ہو گیا ،اُن کے ساتھ خاقان بھی آیا ہوا تھا ۔انہوں نے قطن بن قتیبہ کے لشکر گاہ کا محاصرہ کر لیا اور ترکوں نے مسلمانوں کے کمسریٹ پر چھاپہ مارا۔ اشرس بن عبداﷲ نے عبداﷲ بن بسطام بن مسعود کی ضمانت پر ثابت قطنہ کو رہا کر کے سواروں کے فوجی دستے کے ساتھ ترکوں پر حملہ کرنے کے لئے روانہ کیا ۔ ثابت قطنہ نے آگے بڑھ کر ترکوں سے وہ مال و اسباب چھین لئے جو وہ لیکر جارہے تھے ۔ اشرس بن عبداﷲ بن اپنے ساتھیوں کے ساتھ نہر عبور کر کے قطن بن قتیبہ سے جاملا۔ فریق مخالف سے مقابلہ ہوا لیکن وہ پسپا ہو کر بھاگے اور اشرس بن عبداﷲ اپنی فوج لیکر بیکند پہنچ گیا اور اُس کا محاصرہ کر لیا ۔ اہل شہر نے پانی بند کر دیا شدت تشنگی سے گھبرا کر اشرس بن عبداﷲ نے شہر کی طرف کوچ کیا اور اثناء راہ میں مخالفین سے جنگ چھڑ گئی ۔ بہت خون ریز لڑائی کے بعد مسلمانوں نے ترکوں کو پانی کے چشمے کے پاس سے ہٹایا۔ حارث بن شریح اور قطن بن قتیبہ بڑے بڑے خطرات میں مبتلا ہو گئے ۔ ثابت قطنہ ، صخر بن مسلم اور عنالملک بن وثار اِس جنگ میں شہید ہو گئے ۔ قطن بن قتیبہ نے ایک دستے کے ساتھ مرنے اور مارنے کا عہدو پیمان لیا اور اُن کے ساتھ ملکر اتنا شدید حملہ کیا کہ ترکوں کے پاؤں اُکھڑ گئے اور وہ بھاگنے لگے ۔ مسلمانوں نے رات تک اُن کا تعاقب کر کر کے قتل عام کیا ۔ 

ثابت قطنہ کی آخری تمنا

ترکوں سے جنگ میں مسلمانوں کو فتح ملی اور اس میں ثابت قطنہ شہیدہو گئے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب اشرس بن عبداﷲ اور ترکوں میں باقاعدہ جنگ چھڑ گئی تو ثابت قطنہ نے یہ دعا مانگی :‘‘ اے اﷲ تعالیٰ! میں کل رات ابن بسطام کا مہمان تھا ۔آج رات تُو مجھے اپنا مہمان بنا لے ۔اﷲ کی قسم! میں نہیں چاہتا کہ بنو اُمیہ مجھے فولادی بیڑیوں میں مقید دیکھیں۔’’اِس کے بعد ثابت قطنہ نے دشمن پر حملہ کیا اور اُس کے ساتھیوں نے بھی حملہ کیا ۔ اُس کے ساتھیوں نے تو بزدلی دکھائی مگر یہ استقلال سے اپنی جگہ ڈٹا رہا ۔ ایک تیر اُس کے گھوڑے کوآکر لگا ،گھوڑا اُچھلا اور الف ہو گیا ۔ ثابت قطنہ نے اُسے مار کر آگے بڑھایا ۔ اب خود اُس پر تلوار کا ہاتھ پڑا اور جب اُسے میدان جنگ سے زخمی حالت میں اُٹھا گیاا تو وہ کہہ رہا تھا :‘‘ اے اﷲ! آج صبح میں ابن بسطام کا مہمان تھا اور شام کو تیرا مہمان ہوں ،تُو مجھے اپنے انعام میں جنت الفردوس سے میری تواضع کرنا۔’’ 

 کمرجہ کی جنگ

اِس کے بعد اشرس بن عبداﷲ اپنا لشکر لیکر بخارا کی طرف واپس جانے لگا تو خاقان نے مسلمانوں کے ایک شہر ‘‘کمرجہ ’’کا محاصرہ کر لیا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : کامیابی کے بعد اشرس بن عبداﷲ بخارا کی جانب لوٹا اور خاقان نے بھی شہر ‘‘کمرجہ’’ (صبہ خراسان کا ایک شہر) کا محاصرہ کر لیا ۔ یہاں پر مسلمانوں کی اکثریت تھی اور مسلمانوں نے شہر پناہ کے باہر بنی خندق پر بنے پل کو توڑ ڈالا۔ جسرد بن یزدگرد نے اہل شہر کو مخاطب کر کے کہا: ‘‘ اے گروہ ِ عرب! تم لوگ اپنے آپ کو کیوں ہلاک کرتے ہو؟ خاقان میری سلطنت مجھے واپس دینے آیا ہے اور میں تمہارے لئے امان حاصل کر سکتا ہوں۔’’ اہل شہر اُس کو ملامت کرنے لگے اِسی دوران بزعزی دوسو آدمیوں کو لیکر آیا ۔ یہ بڑاعظیم المرتبت شخص تھا اور خاقان کبھی اس کی رائے کی مخالفت نہیں کرتا تھا ۔اُس کے بلانے سے مسلمانوں کی طرف سے یزید بن سعد گفتگو کرنے گیا ۔بزعزی نے کہا: ‘‘ اگر تم لوگ ہم سے مصالحت کر لو تو ہم تم لوگوں کے وظائف اور تنخواہیں ڈبل کر دیں گے اور کبھی تم سے چھیڑ چھاڑ نہیں کریں گے ۔’’ یزید بن سعد نے نہ تو انکار کیا اور نہ ہی اقرار کیا بس نرمی سے جواب دے کر شہر میں واپس چلا آیا اور اہل شہر سے کہا: ‘‘ یہ لوگ تمہیں مسلمانوں سے غداری کرنے اور جنگ کے لئے کہہ رہے ہیں۔’’ اہل شہر نے مسلمانوں سے غداری اور جنگ کرنے سے انکار کر دیا ۔ خاقان نے جھلا کر خندق کو گیلی لکڑیوں سے پاٹنے کا حکم دیا ۔ اہل شہر نے اُس پر خشک لکڑیاں ڈال کر آگ لگا دی ۔رات بھرٍآگ جلتی رہی اور تمام لکڑیاں جل گئیں۔ اب خاقان نے اپنے لشکریوں کو بھیڑ بکریاں کھانے کودیں اور حکم دیا کہ اِن کا گوشت کھا کر اِن کی کھالوں میں مٹی بھر بھر کر خندق کو پاٹ دو۔ ترکوں نے وہی کیا اور قریب تھا کہ خندق برابر ہو جاتی کہ اچانک اﷲ تعالیٰ نے بادل بھیج دیا اور ایسی موسلا دھار بارش ہوئی کہ وہ سب کا سب بہہ کر بڑی نہر میں چلا گیا ۔ اِسی حالت میں مسلمانوں نے ‘‘شہر پناہ’’ کی ‘‘فصیل’’ سے ترکوں پر تیروں کی بارش شروع کر دی ۔ اتفاق سے ایک تیر بزعزی کے گلے میں آکر لگا جس کی وجہ سے وہ رات میں مر گیا ۔ صبح ہوئی تو ترکوں نے مسلمان قیدیوں کو قتل کرنا شروع کر دیا ۔ مسلمانوں کو اِس سے اشتعال پیدا ہوا اور انہوں نے بھی ترک قیدیوں کو قیل کرنا شروع کر دیا ۔اِسی دوران مسلمانوں کے لشکر نے فرغانہ پہنچ کر پڑاؤ ڈال دیا ۔ یہ خبر ملتے ہی ترکوں نے شہر والوں پر شدید حملے کرنا شروع کر دیئے۔ اہل شہر بھی مردانگی سے اُن کا مقابلہ کرتے رہے ۔ آخر کار ساٹھ دن کے محاصرے اور جنگ کے بعد مسلمانوں نے ‘‘کمرجہ’’ ترکوں کو دیکر صلح کر لی اور سب کے سب سمرقند اور دبوسیہ آگئے ۔ صلح کے بعد ترکی لشکر بھی واپس چلا گیا لیکن خاقان تھوڑی سی فوج کے ساتھ پورا شہر خالی ہونے تک ٹھہرا رہا اور ‘‘کووصول’’ کو مسلمانوں کے ساتھ کر دیا کہ وہ اُن کو اُن کی امن کی جگہ تک پہنچا کر آئے ۔ دبوسیہ پہنچنے کے بعد فریقین نے ایکدوسرے کے قیدیوں کو رہا کردیا۔

110 ھجری کا اختتام

110 ھجری کے اختتام پر ‘‘سلطنتِ اُمیہ’’ میں تمام گورنر لگ بھگ وہی تھے جو پچھلے سال تھے ۔ ملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر خالد بن عبداﷲ تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 110 ھجری میں خالد بن عبداﷲ نے ہلال بن ابی بردہ کو توال( پولیس محکمہ کا سربراہ) محافظ دستہ کا افسر ،قاضی اور نماز کا امام بھی بنادیا گویا یہ ساری خدمیتیں ایک ہی شخص کے سپرد کر دیں اور شمامہ بن عبداﷲ کو منصب قضاء سے برطرف کر دیا ۔ خراسان کا گورنر اشرس بن عبداﷲ تھا ۔ ملک مصر ، افریقہ اور اسپین کے گورنر پچھلے سال کے ہی تھے اور ملک یمن کا گورنر یوسف بن عمرو تھا ۔ مکۂ مکرمہ ، مدینۂ منورہ اور طائف کا گورنر ابراہیم بن ہشام تھا اور اُسی نے مسلمانوں کو حج کرایا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!


اتوار، 4 فروری، 2024

59 سلطنت امیہ Saltanat e Umayya part 59


59 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 59

110 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان، حسن بن ابی حسن کا انتقال، محمد بن سیرین کاانتقال، وہب بن منبہ یمانی کا انتقال، 111 ھجری : رومیوں سے جہاد، جنید بن عبدالرحمن خراسان کا گورنر، جنید بن عبدالرحمن خراسان میں، ترکوں کی شکست، 111 ھجری کا اختتام، 112 ھجری : ترکوں سے جہاد، ترکوں کا تین طرف سے گھیراؤ، مسلمانوں کی شکست، 112 ھجری کا اختتام، 112 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان، 113 ھجری : ترکوں سے جہاد، رومیوں سے جہاد، 113 ھجری کا اختتام، 113 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان، 114 ھجری، 114 ھجری میں کا اختتام، 114 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان

110 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان

اِس سال کافی علمائے کرام کا انتقال ہوا اُن میں سے چند یہ ہیں۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: اِس سال 110 ھجری میں سلیمان بن سعد کا انتقال ہوا ۔یہ بزرگ عربی کے عالم فصیح اور حسین و جمیل تھے ۔ یہ مسلمانوں کو عربی سکھاتے تھے ۔ اِن کے رفیق و معلم صالح عبدالرحمن کاتب تھے اور صالح کا انتقال اِن کے انقال کے کچھ دنوں بعد ہوا۔ سلیمان بن سعد کو سلیمان بن عبدالملک نے اپنے دورِ حکومت میں ملک عراق کا انچارج بنا دیا تھا ۔ اِس سال ام ہذیل کا انتقال ہوا ۔اِن سے بھی بہت سی روایات مشہور ہیں ۔ بارہ سال کی عمر میں قرآن پاک پڑھ لیا تھا اور یہ اپنے وقت کی فقیہہ اور علامہ تھیں ۔ یہ محترم خواتین میں شمار ہوتی تھیں اور ستر سال کی عُمر میں انتقال ہوا۔ اِس سال عائشہ بنت طلحہ کا انتقال ہوا ۔ یہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی نواسی ہیں اور اِن کی والدہ کا نام ام کلثوم ہے ۔ اِن کا پہلا نکاح عبداﷲ بن عبدالرحمن بن ابوبکر سے ہوا ۔ بعد میں یہ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے نکاح میں آئیں اور مہر ایک لاکھ دینار تھا ۔ اِن کا انتقال مدینۂ منورہ میں ہوا۔ اِس سال عبداﷲ بن سعد بن جبیر کا انتقال ہوا ۔ اِن سے بھی بہت سی روایات منسوب ہیں اور یہ اپنے زمانے میں افضل لوگوں میں شمار ہوتے تھے ۔ اِس سال عبدالرحمن بن ابان کا انتقال ہواْ ۔ یہ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے پوتے ہیں اور صحابۂ کرام سے انہوں نے روایات بیان کی ہیں۔

حسن بن ابی حسن کا انتقال

اِس سال حسن بن یسار کا انتقال ہوا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 110 ھجری میں حسن بن ابی حسن کا انتقال ہوا ۔ اِن کے والد کا نام یسار ہے اور کنیت ابوسعید بصری ہے جو حضرت زید بن ثابت انصاری رضی اﷲ عنہ کے غلام تھے ۔ اِن کی والدہ کا نام ‘‘خیرہ’’ ہے جو اُم المومنین سیداہ اُم سلمہ رضی اﷲ عنہا کی خادمہ تھیں ۔ جب وہ خیرہ کو کسی کام پر بھیجا کرتی تھیں تو حسن بن ابی حسن کو سنبھالتی تھیں اور اپنا دودھ پلا کر بہلاتی تھیں ۔ اِن کی والدہ اِن کو بچپن میں ہی صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کی خدمت میں بھیجا کرتی تھیں اور وہ ان کو اپنی دعاؤں سے نوازا کرتے تھے ۔ اِس دعا دینے والوں میں خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ بھی شامل ہیں۔ جو ان کو دعا دیتے وقت فرمایا کرتے تھے : ‘‘ اے اﷲ! اِس کو دین کی سمجھ عطا فرما اور اس کو لوگوں کا محبوب بنا دے ۔ ایک مرتبہ لوگوں نے حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے کوئی مسئلہ دریافت کرنا چاہا تو انہوں نے فرمایا: ‘‘ حسن بن ابی حسن سے دریافت کرو ۔انہوں نے بھی سنا ہے اور ہم نے بھی سنا ہے مگر اُن کو سب کچھ یاد ہے اور ہم بھول گئے ہیں۔’’ حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ نے ایک مرتبہ فرمایا: ‘‘ میں اہل بصرہ میں سے دو آدمیوں پر رشک کرتا ہوں ،ایک تو حسن بن ابی حسن ہیں اور دوسرے محمدبن سیرین ہیں۔’’امام قتادہ کا قول ہے :‘‘ میں جس فقیہ سے بھی ملا ہوں ،حسن بن ابی حسن کو اُن سب سے افضل پایا۔’’

محمد بن سیرین کاانتقال

اِس سال محمد بن سیرین کا بھی انتقال ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : محمد بن سیرین ابوبکر بن ابی عمرو انصاری ،انس بن مالک نضری کے غلام تھے ۔ اِن کے والد ‘‘عین التمر’’ کے قیدیوں میں شامل تھے ۔ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے دوسرے لوگوں کے ساتھ ان کے والد کو بھی قیدی بنا لیا تھا ۔جن کو بعد میں انس بن مالک نضری نے خرید کر اپنا مکاتب بنا لیا تھا ۔ امام بخاری نے کہا ہے :‘‘ محمد بن سیرین خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی خلافت کے اختتام سے دو سال پہلے پیدا ہوئے ۔ امام محمد بن سعد کا کہنا ہے کہ محمد بن سیرین ثقہ ، مامون ، بلند مرتبہ فقیہ ، کثیر العلم امام اور نہایت متقی و ہپرہیز گار تھے ۔ مؤرخ عجلی کا قول ہے :‘‘ کسی شخص کو ان سے زیادہ تقویٰ میں بڑھا ہوا نہیں پایا اور نہ ان سے زیادہ فقیہ دیکھا۔ ’’ 

وہب بن منبہ یمانی کا انتقال

اِس سال بہت بڑے عالم حضرت وہب بن منبہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : وہب بن منبہ جلیل لقدر تابعی ہیں ۔ مقتدمین کی کتابوں میں اِن کا تذکرہ ملتا ہے ۔ اِن کی اسناد حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ اور حضرت نعمان بن بشیر رضی اﷲ عنہ تک پہنچتی ہیں۔ انہوں نے حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ عنہ ، حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ اور امام طاوؤس سے روایات بیان کی ہیں اور اِن سے متعدد تابعین نے روایات نقل کی ہیں ۔ یہ کعب احبار سے بہت مشابہ تھے اور اِن کی عبادت اور جذبۂ اصلاح بہت معروف تھا ۔ وہب بن منبہ نے فرمایا: ‘‘ بنی آدم میں شیطان کا سب سے محبوب وہ ہے جو بہت کھاتا ہےء اور بہت سوتا ہے۔’’

111 ھجری : رومیوں سے جہاد

اِس سال مسلمانوں نے رومیوں سے تین طرف سے جہاد کیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 111 ھجری میں معاویہ بن ہشام نے موسم گرما میں بائیں سمت سے رومیوں سے جہاد کیا ۔ سعید بن ہشام نے دائیں جانب سے رومیوں سے جہاد کیا اور قیساریہ تک پہنچا ۔ اِن دونوں کے علاوہ ‘‘امیرالبحر’’ عبداﷲ بن ابی مریم نے رومیوں سے بحری جنگ یعنی سمندر پر جنگ کی ۔ ہشام بن عبدالملک نے حکم بن قیس بن محزمہ کو تمام اہل شام اور اہل مصر کا ‘‘سپہ سالار اعظم ’’ کیا ۔

جنید بن عبدالرحمن خراسان کا گورنر

اس سال ہشام بن عبدالملک نے اشرس بن عبداﷲ کو معزول کر کے جنید بن عبدالرحمن کو ملک خراسان کا گورنر بنا دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ترکوں نے آذربائیجان کی جانب پیش قدمی کی تو حارث بن عمرو نے ان کا مقابلہ کیا اورا نہیں شکست دی ۔ ہشام بن عبدالملک نے جراح بن عبداﷲ حکمی کو آرمینیہ کا گورنر بنایا اور اشرس بن عبداﷲ کو معزول کر کے جنید بن عبدالرحمن کو ملک خراسان کا گورنر بنا دیا ۔ شداد بن خالد باہلی نے ہشام بن عبدالملک سے جا کر اشرس بن عبداﷲ کی شکایت کی تو ہشام بن عبدالملک نے اُسے معزول کر دیا ۔ جنید بن عبدالرحمن کو گورنر بنانے کی وجہ یہ ہوئی کہ اُس نے ہشام بن عبدالملک کی بیوی کو جواہرات کی ایک مالا تحفۃً پیش کی جو ہشام بن عبدالملک کو بہت پسند آئی اور پھر اُس نے دوسرا ہار ہشام بن عبدالملک کو تحفۃً دیا تو اُس نے خوش ہو کر جنید بن عبدالرحمن کو ملک خراسان کا گورنر بنا دیا اور ڈاک کے آٹھ گھوڑے اُس کی سواری کے لئے دیئے ۔

جنید بن عبدالرحمن خراسان میں

جنید بن عبدالرحمن جب خراسان پہنچا تو وہاں کا گورنر اُس وقت ترکوں سے جہاد میں مصروف تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جنید بن عبدالرحمن اپنے پانچ سو ساتھیوں کے ساتھ خراسان آیا ۔ اُس وقت اشرس بن عبداﷲ اہل بخارا اور اہل سغد سے جنگ میں مصروف تھا ، جنید بن عبدالرحمن نے لوگوں سے کہا: ‘‘ مجھے ایسا شخص بتاؤ جو میرے ساتھ ماوراء النہر چلے ۔ لوگوں نے اشرس بن عبداﷲ کے نائب خطاب بن محرز سلمی کا نام لیا ۔ جب جنید بن عبدالرحمن ‘‘آمل’’ پہنچا تو خطاب بن محرز نے اُسے مشورہ دیا کہ آپ یہیں قیام کریں اور اُس شخص کو جو مقام ‘‘زم’’ میں ہے اور اُس کے گرد جو لوگ ہیں اُن کو حکم دیں کہ وہ آپ کے پاس آجائیں مگر جنید بن عبدالرحمن نے اِس تجویز کو مسترد کردیا ۔ دریائے جیجون پار کرنے کے بعد اُس نے اشرس کو لکھا کہ کچھ فوج میرے پاس بھیج دو۔ اشرس بن عبداﷲ نے عامر بن مالک حمانی کو فوج دے کر روانہ کیا ۔

ترکوں کی شکست

جنید بن عبدالرحمن کی امداد کے لئے جو فوج آرہی تھی اُس کا سامنا دشمنوں سے ہوگیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عامر بن مالک حمانی ابھی راستے میں ہی تھا کہ ترک اور اہل سغد اُس کے سامنے آگئے تاکہ جنید بن عبدالرحمن کے باس پہنچنے سے روک دیں ۔ عامر بن مالک حمانی اور اُس کی فوج نے زبردست مقابلہ کیا اور ترکوں کے ایک بڑے سردار کو قتل کر دیا ۔ خاقان اُس وقت ایک ٹیلہ پر تھا جس کے نیچے گھنی جھاڑی اور پانی تھا ۔ عاصم بن عمیر سمرقندی اور واصل بن عمرو قیسی اپنے خدمت گاروں کو لیکر بڑاچکر کاٹ کر اُس پانی کے پیچھے پہنچے اور وہاں بانس اور دوسری چیزوں سے جو انہیں مل سکیں ایک بیڑا بنایا اور اُس پر بیٹھ کر اس جوہڑ کو اِس طرح چپکے سے عبور کر آئے کہ خاقان کو صرف تکبیر کی آواز سے اُن کے پیچھے سے حملہ آور ہونے کا علم ہوا۔ واصل بن عمرو قیسی اور اُس کے خدمت گاروں نے دشمن پر حملہ کر دیا اور بہت سوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا ۔ اِس جھڑپ میں زیرران جو گھوڑا تھا وہ مارا گیا ۔ خاقان اور اُس کی فوج شکست کھا کر بھاگی ۔ عامر بن مالک بھی جنید بن عبدالرحمن سے آملا ۔ جس کے پاس سات ہزار کی فوج تھی ۔ اب وہ سب ساتھ ہو کر میدان کار زار کی طرف چلے اور جنید بن عبدالرحمن کے ‘‘مقدمۃ الجیش’’ کا کمانڈر عمارہ بن حریم تھا ۔ جب یہ فوج ‘‘بیکند’’ سے دو فرسخ کے فاصلے پر رہ گئی تو ترکوں کا ایک رسالہ مزاحم ہوا اور جنگ شروع ہو گئی ۔ اِس موقع پر قریب تھا کہ جنید بن عبدالرحمن مع اپنی فوج کے ہلاک ہو جاتا مگر اﷲ تعالیٰ کی مدد آئی اور انہیں غلبہ حاصل ہوا اور وہ اپنی فوج کے ساتھ دشمنوں کے پڑاؤ پر پہنچ گیا ۔مسلمانوں کو فتح ملی اور انہوں نے بہت سے ترکوں کو قتل کردیا ۔ اب خاقان نے پھر اُس کی طرف پیش قدمی شروع کی اور مقام ‘‘زرمان’’ کو سمرقند کے سانے واقع ہے دونوں فوجوں کا مقابلہ ہوا ۔ قطن بن قتیبہ فوج کے ‘‘ساقہ’’ پر تھا ۔واصل بن عمرو قیسی بخارا کے مسلمانوں کا کمانڈر تھا ۔ زبردست مقابلہ ہوا اور ترکوں کو ایک مرتبہ پھر میدان چھوڑ کر بھاگنا پڑا ۔ جنید بن عبدالرحمن نے اِس جنگ میں خاقان کے بھتیجے کو گرفتار کر کے امیرالمومنین ہشام بن عبدالملک کے پاس بھیج دیا ۔ اِس جہاد میں اُس نے مجشر بن مزاحم کو اپنی جگہ ‘‘مرو’’ میں نائب مقرر کیا ۔ سورہ بن حر کو بلخ کا گورنر مقرر کیا ۔ 

111 ھجری کا اختتام

اِس سال کے اختتام پر ملک خراسان میں کافی تبدیلیاں ہوئیں۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جنید بن عبدالرحمن فتح حاصل کر کے ‘‘مرو’’ آگیا ۔ خاقان نے اِس موقع پر جنید بن عبدالرحمن کے متعلق کہا : ‘‘ حالانکہ اِس نازو نعم میں پلے لڑکے نے مجھے شکست دی ہے لیکن اگلے سال میں اسے ہلاک کر دوں گا ۔’’ اب جیند بن عبدالرحمن نے ملک خراسان میں تمام مقامات پر اپنے گورنر مقرر کر دیئے ۔ قطن بن قتیبہ کو ‘‘بخارا’’ کا گورنر بنایا ۔ ولید بن قعقاع کو ‘‘ہرات ’’کا گورنر بنایا ۔ حبیب بن مرہ کو فوج کا خاص افسر بنایا ۔مسلم بن عبدلرحمن کو ‘‘بلخ’’ کا گورنر بنایا ،پھر اسے معزول کر کے یحییٰ بن ضبعیہ کو مقرر کیا ۔شراد بن خالد کو سمرقند کا مال گذاری کا افسر بنایا ۔ 111 ھجری کے اختتام پر خالد بن عبداﷲ ملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر اور ناظم اعلیٰ تھا ۔ ملک مصر ، افریقہ اور اسپین میں پچھلے سال کے ہی گورنر تھے ۔ جنید بن عبدالرحمن ملک خراسان کا گورنر تھا ۔ ملک یمن کا گورنر یوسف بن عمرو تھا ۔ مکۂ مکرمہ ، مدینۂ منورہ اور طائف کا گورنر ابراہیم بن ہشام تھا اور اُسی نے مسلمانوں کو حج کرایا۔ 

112 ھجری : ترکوں سے جہاد

پچھلے سال ترکوں کے سب سے بڑے بادشاہ خاقان نے کہا تھا کہ وہ اگلے سال مسلمانوں کو مزہ چکھائے گا ۔ اِسی لئے وہ اِس سال مسلمانوں پر زبردست طریقے سے حملہ آور ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 112 ھجری میں ترک ‘‘لان’’ سے چلے تو اُن کی جنگ آذربائیجان کے گورنر جراح بن عبداﷲ حکمی کی فوج سے ہوئی جس میں اہل شام اور اہل آذربائیجان شامل تھے ۔ فریقین میں شدید جنگ ہوئی جس میں جراح بن عبداﷲ اور اُس کے زیادہ تر ساتھی شہید ہو گئے اور تھوڑے بہت جان بچاکر بھاگ سکے ۔ ترکوں نے ‘‘اردبیل’’ پر قبضہ کر لیا ۔ جب اِس شکست کی اطلاع امیر المومنین ہشام بن عبدالملک کو ہوئی تو اُس نے معبد بن عمرو حرشی کو ایک لشکر دیکر بھیجا اور جلد ‘‘اردبیل’’ پہنچنے کی تاکید کی ۔ وہ بہت تیزی سے سفر کرتا ہوا اُن ترکوں سے جا ٹکرایا جو مسلمانوں کو قیدی بنا کر اپنے بادشاہ خاقان کے پاس لے جارہے تھے ۔معبد بن عمرو حرشی نے اپنے لشکر کے ساتھ ترکوں پر حملہ کردیا اور بہت سخت جنگ ہوئی ۔آخر کار ترکوں کو شکست ہوئی اور مسلمانوں نے بہت سے ترکوں کو قتل کیا قور بہت سے ترکوں کو قیدی بنا یا اور تمام مسلمان قیدیوں کو آزاد کرالیا۔

ترکوں کا تین طرف سے گھیراؤ

مسلمانوں نے ترکوں سے مسلمان قیدیوں کا چھڑ لیا تھا اور ملک شام سے امیرالمومنین نے ایک اور لشکر ترکوں سے جنگ کے لئے بھیج دیا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : امیرالمومنین کو ابھی اِس فتح کی اطلاع نہیں ہوئی تھی ۔ اِس لئے ہشام بن عبدالملک نے اپنے بھائی مسلمہ بن عبدالملک کو بھی ترکوں کا پیچھا کرنے کے لئے روانہ کیا ۔شدید سردی کا موسم تھا اِس کے باوجود وہ طوفان بادو باراں کی حالت میں اپنی فوج لیکر نکل پڑا اور ‘‘باب الابواب’’تک پہنچ گیا اور وہاں اپنا نائب چھوڑ کر ترکوں کے تعاقب میں نکلا۔ اُدھر خراسان کا گورنر جنید بن عبدالرحمن بھی ایک بہت بڑا لشکر لیکر نکلا اور بلخ کی نہر تک مارچ کرتا ہوا پہنچ گیا ۔ وہاں اُس نے آٹھ ہزار مجاہدین کو تعینات کر دیا اور دوسرا لشکر جو دس ہزار مجاہدین پر مشتمل تھا دشمن کے میمنہ اوور میسرہ میں لگا دیا ۔ یہ گھیراؤ دیکھ کر ترک گھبرا کر بھاگ نکلے اور سمرقند کی طرف بڑھے ۔ وہاں کے گورنر نے جنید بن عبدالرحمن کو لکھا کہ وہ سمرقند کو ترکوں سے بچانے کی پوزیشن میں نہیں ہے ۔ اِس دوران ترکوں کا بادشاہ خاقان بھی تیزی سے شعب سمرقند پہنچ گیا ۔ اُس کی فوج اور مسلمانوں کی فوج کے درمیان صرف چار میل کا فاصلہ باقی رہ گیا تھا ۔ دونوں لشکروں کا سامنا ہوا اور خاقان نے مسلمانوں پر شدید حملہ کیا ۔ اُس نے خصوصیت سے مسلمانوں کے ‘‘مقدمۃ الجیش’’ کو اپنے حملے کا نشانہ بنایا ۔ اِس کی وجہ سے جنید بن عبدالرحمن اپنے لشکر کو لیکر پیچھے ہٹ گیا اور ترک اُن کا تعاقب کرتے رہے ۔ 

مسلمانوں کی شکست

جنید بن عبدالرحمن اپنے لشکر کو لیکر پیچھے ہٹ رہا تھا لیکن لشکر اتنا بڑا تھا کہ اُس کے ایک حصہ کی خبر دوسرے حصہ کو معلوم نہیں ہو رہی تھی ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : مسلمان ایسے انتشار کا شکار ہوئے کہ اُن کے ایک حصہ کے لشکر کو دوسرے حصہ کے حالات کا علم نہیں ہوسکا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ وسیع میدان میں پھیل گئے ۔ اس کے بعد ترکوں نے مسلمانوں کے میمنہ پر حملہ کیا جس میں بنو تمیم اور بنو ازد کے لوگ شامل تھے ۔اُن کی ترکوں سے شدید جنگ ہوئی اور مسلمانوں کے بہت سے مجاہدین شہید ہوگئے ۔ اِس موقع پر بہت سے شجاع مسلمانوں نے ترکوں کے مقابلہ میں بے جگری سے لڑے اور شہید ہوگئے ۔ اِس پر خاقان نے ایک بہادر مسلمان مجاہد سے کہا: ‘‘ اگر تم ہمارے ساتھ شامل ہوتے تو ہم تمہیں اپنے ‘‘صنم اعظم’’ کا پجاری بنانے کا عظیم مرتبہ عطا کرتے۔’’ یہ سن کر مسلمان مجاہد نے کہا: ‘‘ افسوس ہے تم پر! تم نے آج تک ہمارے مشن کو سمجھا ہی نہیں۔ہم تم سے اﷲ وحدہ لا شریک لہ کی وحدانیت اور اسلام کی سر بلندی کے لئے لڑتے آرہے ہیں۔’’ اِس کے بعد اُس نے دشمنوں پر شدید حملہ کیا اور کئی ترکوں کو قتل کرنے کے بعد شہید ہو گیا ۔ اِس کے بعد مسلمان اکٹھے ہوگئے اور سب نے استقامت اور صبر کے ساتھ متحد ہو کر ترکوں پر حملہ کیا اور ترکوں کو شکست دی لیکن اس کے بعد پھر سے ترک متحد ہوکر حملہ آور ہوئے اور انہوں نے بہت سے مسلمانوں کو شہید کر دیا اور اِس جنگ میں صرف دوہزار مسلمان زندہ بچ سکے ۔ ترکوں نے بہت سے مسلمانوں کو قیدی بنا لیا اور اپنے بادشاہ خاقان کے پاس بھیج دیا جس نے سب کو شہید کرادیا ۔ یہ جنگ تاریخ میں ‘‘جنگ شعب’’ کے نام سے یاد کی جاتی ہے ۔ 

112 ھجری کا اختتام

112 ھجری کا اختتام ہوا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال معاویہ بن ہشام نے موسم گرما میں رومیوں سے جہاد میں شہر ‘‘خرشنہ’’ فتح کیا اور ملطیبہ کے راستہ سے پیش قدمی کر کے ‘‘خرندیہ’’ کو بھی فتح کر لیا ۔ ملک خراسان کے گورنر جنید بن عبدالرحمن نے امیرالمومنین ہشام بن عبدالملک سے امدادی فوج بھیجنے کی درخواست کی تو اُس نے بیس ہزار کی امدادی فوج روانہ کی ۔ دس ہزار بصرہ کی فوج عمرو بن مسلم باہلی کی زیر قیادت تھی اور دس ہزار کی فوج عبدالرحمن بن نعیم عامری کی زیر قیادت تھی ۔ اِس سال پوری مملکت اسلامیہ میں وہی گورنر رہے جو پچھلے سال تھے اور ابراہیم بن ہشام نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔ مگر ایک روایت کے مطابق اِس سال سلیمان بن ہشام نے حج کرایا۔ 

112 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان

اِس سال جن کا انتقال ہوا اُن میں سے چند اعیان یہ ہیں۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 112 ھجری میں رجا بن حیوۃ کا انتقال ہوا ۔ یہ ‘‘ابومقدم’’ کہلاتے تھے اور بعض لوگ ‘‘ابو نصر’’ بھی کہتے تھے ۔ آپ جلیل القدر تابعی ہیں اور عادل و فاضل تھے ۔ بنو امیہ کے حکمرانوں کے ‘‘وزیر’’ بھی رہ چکے ہیں بہت سے آئمہ نے اِن کی تعریف کی ہے اور اِن کی روایات کی توثیق کی ہے ۔اِن سے بہت سی روایات اور عمدہ کلام منسوب ہے ۔اِس سال شمر بن حسب اشعری کا انتقال ہوا ۔ یہ جلیل القدر تابعی تھے ۔ یہ عالم و عابد و پرہیز گار انسان تھے ۔ لوگ اِن پر اِس لئے معترض ہوئے کہ بغیر حاکم کی اجازت کے بیت المال سے اپنے لئے یہ خریطہ لے لیتے تھے ۔ اِسی لئے لوگوں نے اِن کو ملعون کیا اور اِن کی احادیث لینا ترک کر دیں ۔

113 ھجری : ترکوں سے جہاد

113 ھجری میں مسلمانوں نے ترکوں کو شدید شکست دی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اس سال مسلم بن عبدالملک نے خاقان کے علاقہ میں مختلف فوجیں روانہ کیں جنہوں نے بہت سے شہر اور قلعے فتح کئے اور قیدی اور لونڈی اور غلام پکڑے ۔ ترکوں کی ایک بڑی جماعت نے اپنے آپ کو آگ میں ڈال کر خود کشی کر لی ۔ کوہستان بنجر کے پیچھے جو قومیں آباد تھیں وہ مسلمانوں کی مطیع ہو گئیں اور خاقان کا بیٹا بھی مارا گیا ۔

رومیوں سے جہاد

اِس سال رومیوں سے جنگ پر مسلمہ بن عبدالملک نہیں جاسکا ۔ علامہ محمد جریر طبری لکھتے ہیں : معاویہ بن ہشام نے رومیوں کے علاقہ میں جہاد کیا اور مرعش کی سمت سے بڑھ کر رومیوں کے مقابلے پر اپنے سوار جنگ کے لئے مستعد رکھے اور پھر واپس پلٹ آئے ۔ ۱۱۳ ؁ ھجری میں عبدالواہاب بن بخت جہاد کے لئے بطال کے ساتھ رومیوں کے علاقہ میں گیا تھا ۔ جنگ کے دوران بطال کو اُس کی فوج چھوڑ کر بھاگ گئی لیکن عبدالوہاب ڈٹا رہا ۔ وہ اپنے گھوڑے کو مسلسل آگے بڑھاتا جا رہا تھا اور کہتا جارہا تھا :‘‘ میں نے اِس سے بزدل گھوڑا کوئی نہیں دیکھا ۔اگر میں تجھے مار نہ ڈالوں تو اﷲ مجھے ہلاک کرے۔’’ اُس نے اپنے سر سے اپنا خود اُتار پھینکا اور جو لوگ بھاگ رہے تھے انہیں مخاطب کر کے چلایا:‘‘ میں عبدالوہاب بن بخت ہوں! تم لوگ جنت سے دور بھاگ رہے ہو ۔’’ اور خود دشمن کی صفوں میں گھس کر حملہ کرنے لگا ۔ایک مسلمان کے پاس سے گذرا جوپیاس سے بے تاب تھا اورپانی مانگ رہا تھا ۔عبدالوہاب نے کہا: ‘‘ آگے بڑھ! پانی تیرے آگے ہے ۔’’ یہ کہہ کر دشمن سے گڈ مڈ ہوگیا اور وہ اپنے گھوڑے کے ساتھ شہید ہو گیا ۔ 

113 ھجری کا اختتام

113 ھجری کا اختتام ہوا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال ‘‘تحریک عباسیہ’’ کے داعیوں کی ایک جماعت خراسان پہنچی ۔جنید بن عبدالرحمن نے اُن میں سے ایک شخص کو قتل کرادیا اور اعلان کر دیا کہ جو شخص اِن پر قابو پائے اُس کے لئے اِن کا خون بہانا مباح ہے ۔ اِس سال بھی پوری مملکت اسلامیہ کے گورنر وہی تھے جو پچھلے سال تھے ۔ اکثر ارباب سیر نے بیان کیا ہے کہ اِس سال سلیمان بن ہشام نے مسلمانوں کو حج کرایا اور بعض کا بیان ہے کہ ابراہیم بن ہشام نے حج کرایا ۔ 

113 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان

اِس سال جن کا انتقال ہوا اُن میں سے چند اعیان یہ ہیں۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال عبدالوہاب بن بخت رومیوں سے جہاد کرتے ہوئے شہید ہوئے ۔ اِن کا پورا نام عبدالوہاب بن بخت ابو عبدہ ہے اور بعض لوگوں کے نزدیک یہ ابوبکر ہیں ۔ یہ آل مروان مکی کے غلام تھے ۔ابتدائی دنوں میں ملک شام میں تھے پھر مدینۂ منورہ آگئے ۔ انہوں نے حضرت عبداﷲ بن عمرو ، حضرت انس بن مالک اور حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہم سے اور تابعین کی ایک جماعت سے بھی روایات بیان کی ہیں اور اِن سے بہت سے لوگوں نے روایات بیان کی ہیں۔ جن میں ایوب ، مالک بن انس ، یحییٰ بن سعید انصاری اور عبیداﷲ عمری شامل ہیں ۔رومیوں سے جہاد کرتے ہوئے شہید ہو گئے ۔ اِس سال مکحول شامی کا انتقال ہوا ۔ یہ جلیل القدر تابعی تھے اور اہل شام کے امام تھے ۔کابل کے قیدیوں میں سے تھے اور آپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ کسریٰ کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے ۔ امام زہری کہتے ہیں: ‘‘ علامہ چار ہیں ۔ملک حجاز میں سعید بن مسیب ہیں ،بصرہ میں حسن بصری ہیں، کوفہ میں شعبی ہیں اور ملک شام میں مکحول ہیں ۔ 

114 ھجری : رومیوں سے جہاد

114 ھجری میں مسلمانوں نے رومیوں سے دونوں طرف سے جہاد کیا ۔ علامہ محمد بن جریر لکھتے ہیں : اِس سال معاویہ بن ہشام نے موسم گرما کی مہم لیکر بائیں جانب سے اور سلیمان بن ہشام داہنی جانب سے رومیوں کے علاقہ پر جہاد کرنے گئے ۔ معاویہ بن ہشام ربض اقرن کو مسخر کیا ۔ عبداﷲ بطال سے قسطنطین کا مقابلہ ہوا جس کے پاس کافی فوج تھی ۔ مسلمانوں نے رومیوں کو شکست دی اور قسطنطین کو قید کر لیا اور سلیمان بن ہشام قیساریہ پہنچا۔ 

114 ھجری کا اختتام

اِس سال ہشام بن عبد الملک نے مکۂ مکرمہ ، مدینۂ منورہ اور طائف کے گورنر ابراہیم بن ہشام کو معزول کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال امیرالمومنین ہشام بن عبدالملک نے ابراہیم بن ہشام کو ملک حجاز کی گورنری سے معزول کر دیا اور خالد بن عبدالملک بن حارث کو مکۂ مکرمہ ، مدینہ منورہ اور طائف کا گورنر بنایا ۔ امام واقدی کہتے ہیں : خالد بن عبدالملک ماہ ربیع الاول 113 ھجری میں مدینۂ منورہ آیا اور ابراہیم بن ہشام آٹھ سال تک مدینۂ منورہ کا گورنر رہا تھا ۔ اِس سال واسط میں طاعون کی وباء پھیلی اور مسلمہ بن عبدالملک خاقان کو شکست دینے کے بعد ‘‘باب’’ سے واپس آیا ۔مسلمہ بن عبدالملک نے شہر‘‘باب’’ کی تعمیر کی اور اسے مستحکم کیا ۔ ہشام بن عبدالملک نے مروان بن محمد کو آرمینیہ اور آذربائیجان کا گورنر مقرر کیا ۔ اِس امر میں اختلاف ہے کہ اِس سال مسلمانوں کو حج کس نے کرایا۔ امام ابو معشر کے مطابق 114 ھجری خالد بن عبدالملک مدینۂ منورہ کا گورنر تھا ۔ دوسرے ارباب سیر کے مطابق محمد بن ہشام مکۂ مکرمہ کا گورنر تھا اور اُسی نے حج کرایا۔ اِس سال ملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر اور ناظم اعلیٰ خالد بن عبداﷲ تھا ۔ ملک خراسان کا گورنر جنید بن عبداﷲ تھا ۔ مدینۂ منورہ کا گورنر خالد بن عبدالملک تھا ۔مکۂ مکرمہ اور طائف کا گورنر محمد بن ہشام تھا اور آرمینیہ اور آذربائیجان کا گورنر محمد بن مروان تھا ۔

114 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان

اِس سال جن کا انتقال ہوا اُن میں سے ہم صرف عطاء بن ابی رباح کا ذکر کریں گے ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال عطاء بن ابی رباح کا انتقال ہوا ۔ یہ کبار تابعین میں نہایت ثقہ اور بلند مرتبہ بزرگ گزرے ہیں ۔ کہاجاتا ہے آپ نے دوسو صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم سے ملاقات کی ہے ۔عطاء ثقہ ،عالم و فقیہ اور کثیر الحدیث تھے ۔ ابوصغیر باقر نے لکھا: ‘‘ ان کے زمانے میں ان سے زیادہ مناسک کا کوئی عالم نہیں تھا ۔ اِن کی عُمر سو سال سے زیادہ ہو گئی تھی اور آخری عُمر میں ضعیفی کی وجہ سے روزے نہیں رکھ پاتے تھے تو اپنے روزوں کا فدیہ ادا کرتے تھے ۔ بنو اُمیہ کے دور ِ حکومت میں منادی اعلان کرتا تھا کہ عطاء بن ابی رباح کے سوا کسی کو حج کے ایام میں فتویٰ دینے کی اجازت نہیں ہے ۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!


D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں