جمعرات، 1 فروری، 2024

سلطنت امیہ 60 Saltanat e Umayya part 60


ا_60 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 60

115 ھجری : خراسان اور ملک شام میں طاعون کی وباء، 115 ھجری کا اختتام، حضرت ابو جعفر امام باقر رضی اﷲ عنہ کا انتقال، 116 ھجری : ملک عراق و ملک شام میں طاعون، جنید بن عبدالرحمن کی معزولی اور انتقال، حارث بن سریج کی بغاوت، حارث بن سریج کا ‘‘بلخ’’ پر قبضہ، حارث بن سریج کی ‘‘مرو’’ کی طرف پیش قدمی،  حارث بن سریج کی شکست اور فرار، 116 ھجری کا اختتام، 117 ھجری : رومیوں اور ترکوں سے جہاد، عاصم بن عبداﷲ کی معزولی، حارث بن سریج اور عاصم بن عبداﷲ بن اتحاد، تحریک عباسیہ کے داعیوں کی گرفتاری، 117 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان، 118 ھجری: فرقہ خرمیہ کی تبلیغ، عمار خداش کا قتل، علی بن عبداﷲ بن عباس کا انتقال، 118 ھجری کا اختتام

ا_115 ھجری : خراسان اور ملک شام میں طاعون کی وباء

اِس سال ملک شام میں طاعون کی وباء پھیلی اور ملک خراسان میں شدید قحط پڑا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال معاویہ بن ہشام نے رومیوں کے علاقہ میں جہاد کیا اور اِسی سال ملک شام میں طاعون کا مرض پھیلا اور ملک خراسان میں شدید قحط پڑا جس سے لوگوں کو سخت تکلیف برداشت کرنا پڑی ۔جنید بن عبدالرحمن نے اپنے ماتحت تمام صوبوں میں حکم جاری کیا کہ سامانِ خوراک ‘‘مرو’’ میں بھیجا جائے ۔ اِس قحط کے سال میں جنید بن عبدالرحمن نے ایک شخص کو ایک درہم دیا ۔اُس نے ایک روٹی خریدی تو جنید بن عبدالرحمن نے کہا : ‘‘ تم قحط کی شکایت کرتے ہو حالانکہ ایک درہم میں ایک روٹی مل جاتی ہے ۔ ہندوستان کا یہ حال ہے کہ وہاں ایک دانہ کئی کئی درہموں میں ملتا ہے ۔’’ 

ا_115 ھجری کا اختتام

اس طرح 115 ھجری کا اختتام ہوا اور اِس سال کے اختتام پر ملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر اور ناظم اعلیٰ خالد بن عبداﷲ تھا ۔ ملک مصر ،افریقہ اور اسپین کے گورنر وہی تھے جو پچھلے سال تھے ۔ ملک یمن کا گورنریوسف بن عمرو تھا ۔ آذربائیجان اور آرمینیہ کا گورنر محمد بن مروان تھا ۔ البتہ ملک خراسان کے گورنر کے بارے میں اختلاف ہے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اِس سال وہی لوگ گورنر تھے جو 114 ھجری میں تھے ۔ملک خراسان کے گورنر کے بارے میں ارباب سیر کا اختلاف ہے ۔ امام مدائنی کہتے ہیں کہ اِس سال جنید بن عبدالرحمن خراسان کا گورنر تھا ۔ ایک روایت کے مطابق عمارہ بن حریم مری خراسان کا گورنر تھا اور جیند کا 115 ھجری میں انتقال ہوچکا تھا اور اُس نے عمارہ بن حریم مری کو اپنا جانشین بنا دیا تھا ۔مگر امام مدائنی کہتے ہیں جنید بن عبدالرحمن کا انتقال 116 ھجری میں ہوا۔ اِس سا ل مکۂ مکرمہ اور طائف کا گورنر محمد بن ہشام تھا اور اسی نے مسلمانوں کو حج کرایاجبکہ مدینۂ منورہ کا گورنر خالد بن عبدالملک تھا ۔ 

حضرت ابو جعفر امام باقر رضی اﷲ عنہ کا انتقال

اِس سال 115 ھجری میں حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے پوتے حضرت ابو جعفر امام باقر رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال حضرت ابوجعفر امام باقر رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔ یہ حضرت محمد بن علی اوسط(امام زین العابدین) بن حسین بن علی بن ابی طالب قرشی ہاشمی ابوجعفر باقر ہیں ۔ اِن کی والدہ محترمہ ام عبداﷲ بنت حسین بن علی رضی اﷲ عنہا ہیں ۔یہ جلیل القدر تابعیاور بڑے بزرگ ہیں ۔ آپ رضی اﷲ عنہ کا نام اِس اُمت کے اشراف میں عملاً ، علماً اور سیادہً ہمیشہ احترام سے لیا جاتا ہے ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے متعدد صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم سے روایات بیان کی ہیں اور کبار تابعین کی معتمد جماعت نے اِن سے بھی احادیث بیان کی ہیں۔ جن لوگوں نے ان سے روایات نقل کی ہیں اُن میں آپ رضی اﷲ عنہ کے بیٹے امام جعفر صادق رضی اﷲ عنہ ، حکم بن عینیہ ، ابی الاعمش ، ابو اسحاق سبعی ، امام اوزعی ، امام اعرج ، امام ابن جریج ، عطاء بن رباح ، عمرو بن دینا اور امام زہری ہیں۔ امام عجلی کا بیان ہے کہ حضرت ابوجعفر امام باقر رضی اﷲ عنہ ثقہ تابعی ہیں ۔امام محمد بن سعد نے کہا: ‘‘ امام ابوجعفر باقر ثقہ ہیں اور کثیر الحدیث ہیں ۔’’

ا_116 ھجری : ملک عراق و ملک شام میں طاعون

پچھلے سال ملک شام کے کچھ علاقوں میں طاعون پھیلا تھا لیکن اِس سال پورا ملک شام طاعون کی لپیٹ میں آگیا اور اِس کے ساتھ ساتھ ملک عراق میں بھی طاعون پھیلا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال موسم گرما میں معاویہ بن ہشام نے رومیوں کے علاقہ پر جہاد کیا ۔ اِس سال ملک عراق و ملک شام میں شدید طاعون پھیلا اور اس کی سب سے زیادہ شدت واسط میں تھی ۔

جنید بن عبدالرحمن کی معزولی اور انتقال

اِس سال جنید بن عبدالرحمن کا انتقال ہوگیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال جنید بن عبدالرحمن کا انتقال ہوا اور عاصم بن عبداﷲ یزید ہلالی خراسان کا گورنر مقرر کیا گیا ۔چونکہ جنید بن عبدالرحمن نے فاضلہ بنت یزید بن مہلب سے نکاح کر لیا تھا ۔ اِسی وجہ سے امیرالمومنین ہشام بن عبدالملک اُس نے ناراض ہوگیا اور اُسے معزول کر کے عاصم بن عبداﷲ کو ملک خراسان کا گورنر بنا دیا اور اُسے حکم دیا کہ خراسان جاتے ہی جنید بن عبدالرحمن کو قتل کر دینا ۔جنید بن عبدالرحمن کو استسقاء کا مرض ہو گیا تھا اور جب عاصم بن عبداﷲ خراسان پہنچا تو جنید بن عبدالرحمن کا انتقال ہوچکا تھا ۔اُس نے اپنی جگہ عمارہ بن حریم کو گورنر بنایا تھا ۔ 

حارث بن سریج کی بغاوت

جنید بن عبدالرحمن نے ملک خراسان کے تمام شہروں پر اپنے گورنر مقرر کر رکھے تھے ۔ عاصم بن عبداﷲ جب ملک خراسان آیا تو اُس نے اُن تمام گورنروں کو گرفتار کر لیا اور اُن پر طرح طرح کے ظلم کرنے لگا جس کی وجہ سے حارث بن سریج نے بغاوت کردی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عاسم بن عبداﷲ نے ملک خراسان آتے ہی عمارہ بن حریم اور جنید بن عبدالرحمن کے مقرر کردہ دوسرے گورنروں کو قید کر دیا اور اُن پر طرح طرح کی سختیاں کیں ۔ اُس وقت حارث بن سریج ‘‘نخد’’ سے چلکر ‘‘فاریاب’’ پہنچا اور اُس نے اپنے آگے بشر بن حرموز کو روانہ کیا ۔عاصم بن عبداﷲ نے خطاب بن محرز سلمی کو حارث کے پاس بھیجا ۔خطاب بن محرز اور مقاتل بن حیان نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ‘‘

 جب تک حارث سے وعدہ امان نہیں لے لیا جائے تب تک ہمیں اُس کے پاس نہیں جانا چاہیئے مگر لوگوں نے اِس تجویز کی مخالفت کی ۔ جب یہ سب لوگ حارث بن سریج کے پاس پہنچے تو اُس نے سب کو گرفتار کر کے قید کرلیا اور ایک شخص کو ان کی نگرانی پر متعین کر دیا ۔ ان سب نے مل کر اُس نگرانی کرنے والے کو باندھ دیا اور قید خانے سے نکل آئے ۔ اپنے گھوڑوں پر سوار ہوئے اور ڈاک کے گھوڑے بھی اپنے ساتھ لے آئے ۔ حارث بن سریج اپنے ساتھیوں کو لیکر ‘‘بلخ’’ آیا۔ 

حارث بن سریج کا ‘‘بلخ’’ پر قبضہ

بلخ پہنچ کر حارث بن سریج نے اُس پر قبضہ کر لیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: جب حارث بن سریج نے ‘‘بلخ’’ کی طرف پیش قدمی کی تو اُس وقت تجیبی بن ضبیہ اور نصر بن سیار ‘‘بلخ’’ کے گورنر تھے ۔ جب حارث بن سریج عطا کے پل کے پاس جو دریائے بلخ سے دو فرسخ کے فاصلے پر تھا پہنچا تو نصر بن سیار دس ہزار کی فوج لیکر اُس کے مقابلے کو بڑھا ۔حارث بن سریج کے پاس چار ہزار فوج تھی ۔ جنگ شروع ہوئی تو قطن بن قتیبہ کی آنکھ میں ایک تیر آکر لگا اور اِس معرکہ میں سب سے پہلے یہی کام آیا ۔ اہل بلخ شکست کھا کر بھاگے ،حارث بن سریج نے اُن کا تعاقب کیا اور شہر میں گھس آیا ۔ نصر بن سیار ایک دوسرے دروازے سے بلخ سے جان بچا کر چلتا بنا ۔حارث بن سریج نے حکم دیا کہ شکست خوردہ فوج سے کوئی تعارض نہ کیا جائے ۔

حارث بن سریج کی ‘‘مرو’’ کی طرف پیش قدمی

بلخ پر قبضہ کرنے کے بعد حارث بن سریج ملک خراسان کے دارلحکومت ‘‘مرو’’ کی طرف بڑھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حارث بن سریج نے بلخ پر قبضہ کرنے کے بعد عبداﷲ بن حازم کی اولاد میں سے ایک شخص کو ‘‘بلخ’’ کا گورنر مقرر کردیا اور خود وہاں سے روانہ ہو کر جوزجان پہنچا تو انہوں نے بھی اُس کی اطاعت قبول کر لی ۔ جوزجان پر قبضہ کر نے کے بعد حارث بن سریج نے ابو فاطمہ کو بلایا اور پوچھا: ‘‘ آپ کی کیا رائے ہے ؟’’ ابو فاطمہ نے کہا: ‘‘ مرو’’ ملک خراسان کا دارالحکومت ہے اور وہاں بہادروں کی کثرت ہے ۔ ’’حارث بن سریج نے کہا: ‘‘ میں ‘‘مرو’’ پر قبضہ کرنا چاہتا ہوں۔ ’’ اِس کے بعد حارث بن سریج نے بلخ ، جوزجان ، فاریاب ، طالقان اور مروزورپر قبضہ کرنے کے بعد خود ‘‘مرو’’ کی طرف پیش قدمی شروع کر دی ۔ ‘‘مرو’’ کے اہل رائے نے حارث بن سریج سے کہا: ‘‘ اگر عاصم بن عبداﷲ ہمیں چھوڑ کر ‘‘شبر شہر’’(نیشاپور) چلا گیا تو مرو کی فوج منتشر ہوجائے گی ۔’’ اِدھر عاصم بن عبداﷲ کو معلوم ہوگیا کہ ‘‘مرو’’ والے حارث بن سریج سے ساز باز رکھتے ہیں اِس لئے اُس نے ‘‘مرو’’ چھوڑ دینے کا تہیہ کر لیا اور باشندوں کو مخاطب کر کے کہا: ‘‘ اے خراسانیو! تم نے حارث بن سریج کے ہاتھ پر بیعت کر لی ہے ۔ جس شہر کا اُس نے رخ کیا تم نے اسے لڑے بغیر اُس کے حوالے کر دیا ۔ میں اب اپنی قوم کے علاقہ ‘‘ابر شہر’’ (نیشا پور) جارہا ہوں اور وہاں سے امیر المومنین کو لکھوں گا کہ وہ میری امداد کے لئے دس ہزار کا شامی لشکر بھیجیں۔’’ 

حارث بن سریج کی شکست اور فرار

حارث بن سریج اپنی فوج کو لیکر ‘‘مرو’’ کی طرف بڑھ رہا تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : مجشر بن مزاحم نے عاصم بن عبداﷲ سے کہا: ‘‘ تم اہل مرو سے بیعت لو اگر وہ انکار کریں تو ابر شہر چلے جانا اور امیر المومنین سے لکھنا کہ وہ تمہاری امداد کے لئے اہل شام کی فوج بھیج دیں۔’’خالد بن ہریم اور ہلال بن علیم نے کہا: ‘‘ ہم آپ کو ہرگز جانے نہیں دیں گے ۔چونکہ ہم آپ کے ساتھ ہیں اِس لئے ساری ذمہ داری ہم پر عائد ہوگی۔’’ اِس کے بعد عاصم بن عبداﷲ نے اہل مرو کے ساتھ ملکر مقابلے کی تیاری کرنا شرع کر دی۔ حارث بن سریج ایک بہت فوج جس کی تعداد لگ بھگ ساٹھ ہزار تھی لیکر ‘‘مرو’’ کی طرف بڑھا ۔ ادھر عاصم بن عبداﷲ نے ہر سپاہی کو تین تین دینار دینا شروع کئے تو ‘‘مرو’’ کے علاوہ آس پاس کے علاقوں سے بھی لوگ آ کر اُس کی فوج میں شامل ہونے لگے ۔ دونوں دجیں جب آمنے سامنے آئیں تو طرفین نے زبردست جنگ شروع کردی ۔ اہل مرو نے ثابت قدمی سے مقابلہ کیا اور حارث بن سریج کی فوج شکست کھا کر بھاگی ۔حارث کی فوج کے بہت سے لوگ ‘‘مرو’’ کی ندیوں اور بڑے دریا میں غرق ہوئے اور اہل مرو کو فتح حاصل ہوئی ۔ 

ا_116 ھجری کا اختتام

اِس سال کے اختتام پر پوری مملکت اسلامیہ میں وہی گورنر تھے جو پچھلے سال تھے ۔ ملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر اور ناظم اعلیٰ خالد بن عبداﷲ تھا ۔ ملک مصر ،افریقہ اور اسپین کے گورنر وہی تھے جو پچھلے سال تھے ۔ ملک یمن کا گورنریوسف بن عمرو تھا ۔ آذربائیجان اور آرمینیہ کا گورنر محمد بن مروان تھا۔مکۂ مکرمہ اور طائف کا گورنر محمد بن ہشام تھا اور مدینۂ منورہ کا گورنر خالد بن عبدالملک تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال ولید بن یزید بن عبدالملک ‘‘ولی عہد’’نے مسلمانوں کو حج کرایا۔ 

ا_117 ھجری : رومیوں اور ترکوں سے جہاد

اِس سال مسلمانوں نے آگے بڑھ کر رومیوں اور ترکوں کے علاقے میں جہاد کیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال معاویہ بن ہشام نے موسم گرما کی مہم لیکر بائیں جانب سے اور سلیمان بن ہشام بن عبد الملک نے داہنی سمت سے علاقہ جزیرہ کی طرف سے بڑھ کر رومیوں کے علاقے میں جہاد کرنے گئے ۔ سلیمان بن ہشام نے رومیوں کے علاقہ میں اپنے فوجی دستے مختلف مقامات پر بھیجے ۔ اِس سال آذربائیجان اور آرمینیہ کے گورنر مروان بن محمد نے دو فوجیں روانہ کیں ۔ ایک نے ‘‘لان’’ کے تین قلعے فتح کئے اور دوسری فوج نے ‘‘نومالشاہ’’ کا محاصرہ کر لیا ۔ اہل نومالشاہ نے ہتھیار ڈال دیئے اور صلح کر لی ۔ 

عاصم بن عبداﷲ کی معزولی

اِس سال عاصم بن عبداﷲ کی ایک چھوٹی سی غلطی کی وجہ سے اُسے خراسان کی گورنری سے معزول کر دیا گیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عاصم بن عبداﷲ نے ہشام بن عبدالملک کو خط لکھا: ‘‘ ایک رہبر اُن لوگوں سے جن کی رہنمائی اُس کے سپرد ہے جھوٹ نہیں بولتا۔ امیرالمومنین نے جو ذمہ داری میرے سپرد کی تھی اُس کا اقتضا یہ ہے کہ میں اس معاملہ میں دیانت داری اور خلوص سے کام کروں ۔خراسان کی حالت اُس وقت تک درست نہیں ہوسکتی جب تک یہ ملک عراق کے گورنر کے ماتحت نہ کر دیا جائے تاکہ فوج کی ضروریات کی بہم رسانی اور حادثات وناگہانی مصائب کے پیش آنے کی صورت میں اس کی قریب سے امداد ہو سکے ۔ کیونکہ امیر المومنین خود خراسان سے بہت فاصلے پر ہیں اور اِس بنا پر خراسان کو امداد پہنچنے میں دیر لگ جاتی ہے ۔ ’’جب یہ خط جاچکا تو عاصم بن عبداﷲ نے اپنے دوستوں یحییٰ بن حصین اور مجشر بن مزاحم کو خط کے بارے میں بتایا تو مجشر بن مزاحم نے افسوس سے سر ہلاتے ہوئے کہا: ‘‘ اِدھر یہ خط گیا اور امیرالمومنین نے خراسان کو ملک عراق کے گورنر کے ماتحت کیا اور ملک عراق کے گورنر خالد بن عبداﷲ نے اپنے بھائی اسد بن عبداﷲ کو خراسان کا گورنر بنا کر بھیجا۔’’ اور بالکل یہی ہوا۔ ہشام بن عبدالملک نے خط پڑھنے کے بعد ملک خراسان کا علاقہ ایک بار پھر ملک عراق کے گورنر خالد بن عبداﷲ کی ماتحتی میں دے دیا اور خالد بن عبداﷲ نے اپنے بھائی اسد بن عبداﷲ کو خراسان کا گورنر بنا کر بھیج دیا اور وہ ایک مہینے بعد خراسان پہنچ گیا ۔ 

حارث بن سریج اور عاصم بن عبداﷲ بن اتحاد

عاصم بن عبداﷲ نے امیر المومنین کے پاس خط لکھا ۔اُس کے بعد حارث بن سریج نے ایک بار پھر ‘‘مرو’’ پر چڑھائی کی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حارث بن سریج نے پھر سے اپنی فوج کو جمع کر کے ‘‘مرو’’ کی جانب پیش قدمی کی تو اپنے جھنڈوں کو سیاہ کر لیا اور یہ مرجۂ فرقہ کے عقائد کو ماننے والا تھا ۔ جب وہ ‘‘مرو’’ کے قریب پہنچ گیا تو اُس وقت تک عاصم بن عبداﷲ کو معلوم ہو چکا تھا کہ اسد بن عبداﷲ ملک خراسان کا گورنر بن کر آرہا ہے ۔اُس نے اپنے ‘‘مقدمۃ الجیش’’ کے کمانڈر محمد بن مالک ہمدانی کو صلح کے لئے بھیجا اور اُس نے حارث بن سریج سے یہ عہد نامہ کیا :‘‘ حارث بن سریج ملک خراسان کے کسی بھی

 ضلع میں چاہے تو قیام کر لے اور وہ دونوں ملکر امیر المومنین ہشام بن عبدالملک کو قرآن اور سنت پر چلنے کی دعوت دیں اگر اُس نے مان لیا تو ٹھیک ہے ورنہ دونوں ملکر کاروائی کریں گے۔’’ عاصم بن عبداﷲ کے بعض سرداران نے عہد نامہ پر دستخط کر دیئے لیکن یحییٰ بن حصین نے دستخط کرنے سے انکار کر دیا اور کہا: ‘‘ یہ تو امیر المومنین سے بغاوت ہے۔’’

عاصم بن عبداﷲ کی گرفتاری

عاصم بن عبداﷲ کے بعض سرداروں نے حارث بن سریج سے صلح کو مان لیا لیکن اکثر سرداروں نے انکار کر دیا ۔ جس کی وجہ سے وہ معاہدہ نہیں ہوسکا اور عاصم بن عبداﷲ جنگ کے لئے لشکر لیکر نکلا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عاصم بن عبداﷲ ‘‘مرو’’ مین بنو کندہ کے ایک گاؤں میں مقیم تھا اور حارث بن سریج ‘‘مرو’’ میں بنو عنبر کے گاؤں میں مقیم تھا ۔ دونوں اپنی فوج لیکر مقابلے پر آئے ۔ دونوں فوجوں میں زبردست جنگ ہوئی اور حارث بن سریج کی فوج نے شکست کھائی اور حارث بن سریج فرار ہو گیا۔بہت سے قیدی گرفتار کر لئے گئے ۔عاصم بن عبداﷲ نے اِن سب کو قتل کرنے کا حکم دے دیا۔اب اسد بن عبداﷲ خراسان پہنچ گیا ۔ اس سے پہلے ہی حارث بن سریج فرار ہو چکا تھا ۔اسد بن عبداﷲ نے عاصم بن عبداﷲ کو قید کر دیا اور ایک لاکھ درہم اُس کے اُوپر واجب الادا نکالے۔ جنید بن عبدالرحمن کے جن گورنروں کو عاصم بن عبداﷲ نے قید کردیا اُن سب کو اسد بن عبداﷲ نے آزاد کردیا ۔ 

تحریک عباسیہ کے داعیوں کی گرفتاری

اِس سال ملک خراسان میں ‘‘تحریک عباسیہ’’ کے چند داعی پکڑے گئے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اسد بن عبداﷲ نے اِس سال بنو عباس کے داعیوں کی ایک جماعت کو خرسان میں پکڑا ۔ اُن میں سے کچھ کو قتل کردیا ۔ کچھ کے ہاتھ پاؤں کٹوادیئے اور کچھ کو قید کردیا ۔بعد میں گرفتا ر شدہ لوگوں کو رہا کر دیا ۔ 

ا_117 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان

اِس سال جن لوگوں کا انتقال ہوا اُن میں سے چند یہ ہیں۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 117 ھجری میں قتادہ بن دعامہ سدوسی کا انتقال ہوا ۔ یہ اعلیٰ تابعین اور آئمہ میں سے ہیں ۔انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ اور بہت سے تابعین کی سے روایار بیان کی ہیں ۔جن میں سعید بن مسیب ، ابوالعالیہ ، زراہ بن اوفی ، عطاء ، مجاہد ، محمد بن سیرین ،مسروق اور ابو مجلز وغیرہ ہیں۔اِ ن سے کبار تابعین نے روایات بیان کی ہیں ۔اِن میں ایوب ، حماد بن مسلمہ ، حمید الطویل ،سعید بن ابی عروبہ ، الاعمش، شعبہ ، اوزاعی ، مسعر ، معمر اور ہمام وغیرہ ہیں۔محمد بن سیرین کا کہنا ہے :‘‘ قتادہ لوگوں میں سب سے زیادہ یاد رکھنے والے ہیں۔’’ امام مطر کا قول ہے :‘‘ قتادہ جب کسی حدیث کو سن لیتے تھے تو اس کو ہر پہلو اور حیثیت سے محفوظ کر لیتے تھے اور اچھی طرح یاد کر لیتے تھے ۔ ’’ امام زہری نے کہا: ‘‘ قتادہ ، مکحول سے زیادہ عالم تھے ۔’’ امام معمر کا قول ہے :‘‘ میں نے زہری ، حماد اور قتادہ سے زیادہ افقہ کسی کو نہیں دیکھا۔’’لوگ قتادہ کے علم ، فقہ اور ان کی تفسیر معرفت و علم کے معترف تھے ۔اِس سال حضرت عبداﷲ بن عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے غلام نافع کا انتقال ہوا۔ یہ ابو عبداﷲ مدنی ہیں اور اصلاً بلاد مغرب کے باشندے تھے ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ نیشا پور کے رہنے والے تھے اور بعض کے نزدیک کابل کے رہنے والے تھے ۔انہوں نے اپنے آقا حضرت عبداﷲ بن عمر فاروق رضی اﷲ عنہ ،رافع بن خدیج ، ابوسعید خدری، ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ اور اُم المومنین سیدہ اُم سلمہ رضی اﷲ عنہم سے اور بہت سے تابعین سے روایات بیان کی ہیں اور اِن سے کثیر تابعین نے روایات بیان کی ہیں ۔ یہ ثقہ اور جلیل القدر آئمہ میں شمار ہوتے ہیں ۔ امام بخاری نے کہا: ‘‘ یہ صحیح الاسناد ہیں۔ حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے ان کو ملک مصر جے اطراف میں سنن کی تعلیم دینے کے لئے بھیجا تھا ۔

ا_118 ھجری: فرقہ خرمیہ کی تبلیغ

118 ھجری میں مملکت اسلامیہ میں ایک نیا فرقہ پیدا ہوگیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ملک عراق میں ‘‘تحریک عباسیہ’’ کے داعی بکیر بن ماہان نے عمار بن یزید کو ‘‘بنو عباس’’ کے طرفداروں کا سردار مقرر کر کے ملک خراسان بھیجا ۔ عمار بن یزید ‘‘مرو’’ میں آکر قیام پذیر ہو گیا۔ اُس نے اپنا نام تبدیل کر کے عمار کے بجائے خداش رکھ لیا اور محمد بن علی کی بیعت کے لئے لوگوں کو دعوت دینے لگا ۔ لوگ جلدی جلدی اُس کے پاس پہنچنے لگے اور جس تحریک کے لئے وہ بھیجا گیا تھا اُسے قبول کرنے لگے ۔ اُس کی ہر بات غور سے سنتے اور اسکی تحریک کی اطاعت کرتے ۔ مگر پھر اُس نے اپنی اِس تحریک کوجس کی اُس نے دعوت دی تھی بدل دیا اور جھٹلا دیا ۔ اب اُس نے ایک نئے دین ‘‘خرمیہ’’ کی تلقین شروع کردی اور اس کی دعوت دینے لگا ۔ اس نے اپنے معتقدین کو اجازت دے دی کہ ایکدوسرے کی عورتیں اُن کے لئے حلال ہیں اور کہا کہ یہ سب کچھ میں محمد بن علی کی جانب سے کر رہا ہوں۔ 

عمار خداش کا قتل

عمار خداش کے بارے میں جب اسد بن عبداﷲ کو خبر ہوئی تو اُس نے اُسے گرفتار کر کے قتل کرادیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اسد بن عبداﷲ کو جب عمار خداش کے بارے میں خبر ہوئی تو اُس نے اپنے مخبر کو اُس کی گرفتاری کے لئے لگا دیئے ۔آخر کار وہ گرفتار کر کے اسد بن عبداﷲ کے سامنے لایا گیا ۔ اُس وقت اسد ‘‘بلخ’’ کی طرف جہاد کے لئے جانے کی تیاری کر چکا تھا ۔ اُس نے اُس سے واقعہ دریافت کیا تو عمار خداش نے اُس سے سخت کلامی کی ۔ اسد بن عبداﷲ نے اُس کے ہاتھ کٹوا دیئے ، زبان نکلوا دی اور اُسے اندھا کر ادیا۔ دوسری روایت میں ہے کہ جب ابتداء میں اسد بن عبداﷲ ‘‘آمل’’ پہنچا تو یہاں بنو ہاشم کی تحریک کا داعی خداش اُس کے سامنے پیش کیا گیا ۔ اسد بن عبداﷲ نے اُسے قرعہ طبیب کے سپرد کر دیا ۔ قرعہ نے اُس کی زبان کاٹ ڈالی اور اندھا کر دیا ۔ اسد بن عبداﷲ نے کہا: ‘‘ اُس اﷲ کا شکر ہے کہ جس نے تجھ سے ابوبکر اور عمر رضی اﷲ عنہم کا بدلہ لے لیا ۔پھر اُسے یحییٰ بن نعیم شیبانی آمل کے گورنر کی قید میں دے دیا ۔ سمرقند سے واپسی کے بعد اسد بن یحییٰ کو اُس کے قتل کا حکم دے دیا ۔ یحییٰ نے اُسے قتل کر کے سولی پر لٹکا دیا ۔ 

علی بن عبداﷲ بن عباس کا انتقال

118 ھجری میں علی بن عبداﷲ بن عباس کا انتقال ہوا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ِن کی کنیت ابو محمد تھی اٹھہتر یا ستہتر سال کی عُمر میں مقام ‘‘محمیہ’’ میں ملک شام میں انتقال ہوا ۔ کہا جاتا ہے کہ یہ اُس رات پیدا ہوئے جس رات خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا ۔ اِن کے والد حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ نے ان کا نام ‘‘علی’’ رکھا اور فرمایا :‘‘ میں نے اِس کا نام اُس شخص کے نام پر رکھا ہے جو تمام مخلوقات میں مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے ۔’’ اور کنیت ‘‘ابوالحسن’’ رکھی ۔ جب یہ عبدالملک بن مروان سے ملنے گئے تو اُس نے اِن کی بڑی تعظیم و تکریم کی اور اپنے برابر تخت پر جگہ دی ۔ اُن کی کنیت پوچھی ،انہوں نے بتائی تو اُس نے کہا: ‘‘ میرے لشکر گاہ میں ایک بھی شخص کا یہ نام اور کنیت نہیں ہوسکتی ۔’’ پھر پوچھا :‘‘ آپ کے یہاں کوئی بیٹا پیدا ہوا ہے ؟’’ اتفاق سے اُسی دن محمد بن علی پیدا ہوا تھا انہوں نے اِس کے بارے میں بتایا تو عبدالملک بن مروان نے اُس کی کنیت ابو محمد رکھدی ۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : علی بن عبداﷲ بن عباس خاندان بنو عبدالمطلب کے ہیں اور حضرت عباس بن عبدالمطلب کے پوتے ہیں ۔ علی بن عبداﷲ بن عباس نہایت ہی عابد و زاہد تھے اور اپنے علم و عمل عدالت و ثقاہت کے ساتھ اپنی شکل و وجاہت کے لئے بھی مشہور تھے ۔ یہ چوبیس گھنٹے میں ایک ہزار رکعت نفل نماز پڑھتے تھے ۔

ا_118 ھجری کا اختتام

118 ھجری کے اختتام پر ‘‘سلطنتِ اُمیہ’’ کے گورنر یہ تھے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال کے اختتام پر خالد بن عبداﷲ ملک عراق و ایران و خراسان اور تمام مشرقی ممالک کا ناظم اعلیٰ تھا ۔خراسان کا گورنر اُس کا بھائی اسد بن عبداﷲ تھا ۔ ہلال بن ابی بردہ بصرہ

 کے گورنر تھے کوتوال بھی تھے اور پیش امام بھی تھے ۔ مروان بن محمد آذربائیجان اور آرمینیہ کا گورنر تھا ۔ مدینۂ منورہ کا گورنر خالد بن عبدالملک تھا اور مکۂ مکرمہ اور طائف کا گورنر محمد بن ہشام تھا اور اُسی نے مسلمانوں کو حج کرایا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......


!

سلطنت امیہ 61

https://khubsooratachhibaten.blogspot.com/2024/01/61-saltanat-e-umayya-part-61.html

علاؤ الدین خوارزم تاریخی ناول Alauddin Khuarzm Historical Novel

علاؤ الدین خوارزم تاریخی ناول 




منگل، 30 جنوری، 2024

سلطنت امیہ 61 Saltanat e Umayya part 61



،61 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 61

،119 ھجری : خاقان کی زبردست پیش قدمی، مسلمانوں کا زبردست مقابلہ، خاقان کی شکست، خاقان کا قتل، فتح کی خوشخبری، مغیرہ جادوگر فاسق کا قتل، ترکوں کی شکست، 119 ھجری کا اختتام، ،120 ھجری : اسد بن عبداﷲ قسری کاانتقال، خالد بن عبداﷲ قسری کی معزولی، یوسف بن عمرو ملک عراق کا گورنر، محمد بن علی کی خراسانیوں سے ناراضگی، خراسانیوں کی توبہ، ،120ھجری کا اختتام، ،121 ھجری :یزید بن خالد قسری کازید بن علی پر دعویٰ، یہ بغاوت کریں گے، 

،119 ھجری : خاقان کی زبردست پیش قدمی

اِس سال ترکوں کے سب سے بڑے بادشاہ خاقان نے مسلمانوں پر زبردست حملہ کیا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : خراسان کا گورنر اسد بن عبداﷲ اپنی فوجوں کو لیکر ‘‘ختل’’ پر حملہ آور ہوا اور اُس کو فتح کر لیا ۔ترکوں کے بادشاہ خاقان نے اِس موقع کو غنیمت سمجھ کر مسلمانوں کے لشکر کی طرف تیزی سے بڑھا کیونکہ اُس کے جاسوسوں نے یہ اطلاع دی تھی کہ اسد بن عبداﷲ کی فوجیں اِس وقت ‘‘ختل’’ شہر کے اطراف میں چاروں طرف پھیلی ہوئی ہیں ۔ اِس موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے خاقان کثیر اسلحہ اور فوج اور زبردست سامان خوردنوش کے ساتھ شیر کی طرح بپھرتا ہوا اسد بن عبداﷲ کی فوجوں کی طرف بڑھا ساتھ ہی اِس بات کو مشہور کرادیا کہ خاقان نے اپنی زبردست فوج کے ساتھ اسد بن عبداﷲ کی فوج پر حملہ کر دیا اور اُسے قتل بھی کر دیا ہے ۔ اِس افواہ کا اصل مقصد یہ تھا کہ اسد بن عبداﷲ کی جو فوج چاروں طرف پھیلی ہوئی ہے اُس کے حوصلے ٹوٹ جائیں اور وہ اسد بن عبداﷲ مدد کو نہیں پہنچ سکیں۔ 

مسلمانوں کا زبردست مقابلہ

اس افواہ سے مسلمانوں کے حوصلے ٹوٹنے کے بجائے اور بلند ہوگئے ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس افواہ کا مسلمانوں پر اُلٹا اثر ہوا اور انہوں نے پوری غیرت اسلامی کے ساتھ اپنے آپ کو متحد کر کے خاقان سے انتقام لینے کا تہیہ کر لیا اور سب اُس مقام کی طرف چل پڑے جہاں اسد بن عبداﷲ اپنی فوجوں کو لئے ہوئے خاقان سے مقابلے کی تیاری کر رہا تھا ۔ جب تمام فوجیں وہاں پہنچیں اور اسد بن عبداﷲ کو زندہ پایا تو اُن کے حوصلے اور بھی بلند ہو گئے ۔ اب اسد بن عبداﷲ نے سب کے ساتھ ‘‘جبل اطلح’’ کا رخ کیا اور نہر بلخ کو عبور کرنے کا ارادہ کیا لیکن مجبوری یہ تھی کہ مسلمانوں کے ساتھ بھیڑ اور بکریاں بہت بڑی تعداد میں تھیں اور اسد بن عبداﷲ اُن کو چھوڑ کر جانا نہیں چاہتا تھا ۔ اِس لئے اُس نے حکم دیا کہ ہر سوار ایک بکری اپنے ساتھ رکھے اور ایک اپنے کندھے پر لیکر چلے اور وہ خود بھی اسی طرح بکری اور بھیڑ ساتھ لیکر چلا۔ نہر میں داخل ہونے کے بعد ابھی پوری فوج باہر نکل نہیں پائی تھی کہ اچانک خاقان نے حملہ کردیا اور کافی مسلمانوں کو شہید کر دیا ۔ جو مسلمان دوسری طرف جیسے تیسے پہنچے تھے انہوں نے ترکوں سے زبردست مقابلہ کرنا شروع کر دیا ۔ترکوں کی فوج پچاس ہزار تھی اور نہر کا کنارہ اُن سے بھر گیا تھا ۔انہوں نے طبل بھی بجانا شروع کر دیئے تھے ۔ دوسرے کنارے پر پہنچ چکے مسلمانوں نے ثابت قدمی سے ترکوں-08 کا مقابلہ کیا اور انہیں پیچھے دھکیلتے ہوئے نہر سے دور لے گئے جب تک تمام مسلمانوں نے نہر پار کر لی اور ایک ساتھ ملکر ترکوں کو کافی پیچھے تک کھدیڑ دیا تھا۔ 

خاقان کی شکست

اچانک حملے سے کافی مسلمان شہید ہو گئے تھے لیکن پھر انہوں نے اپنے آپ کو سنبھال لیا اور اپنے اطراف خندق کھود لی ۔علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : مسلمانوں نے اپنے چاروں طرف خندق کھودنا شروع کر دی تھی تاکہ دشمن اُن تک نہ پہنچ سکے ۔اِس طرح دونوں طرف کی فوجیں دور سے ایکدوسرے کو رات بھر دیکھتی رہیں اور صبح پھر حملہ کیا ۔ اِس طرح روزآنہ جنگ ہوتی رہی اِسی دوران عیدالفطر آگئی ۔ اسد بن عبداﷲ کو اندیشہ ہوا کہ کہیں خاقان نماز کے دوران حملہ نہ کر دے اور مسلمانوں نے ‘‘صلوٰۃ الخوف’’ پڑھی ۔اِس کے بعد اسد بن عبداﷲ اپنی فوجوں کو لیکر بلخ چلا گیا اور موسم سرما گذر گیا اور عیدالالضحیٰ کا دن آگیا تو اسد بن عبداﷲ نے مشورہ کیاتو مسلمانوں نے دو مشورے دیئے کہ بلخ میں قلعہ بند ہو کر لڑا جائے یا پھر آگے بڑھ کا خاقان کا مقابلہ کیا جائے ۔ اسد بن عبداﷲ نے دوسرا مشورہ پسند کیا اور مسلمانوں کو لیکر آگے بڑھا۔ دورکعت نماز پڑھی اور اﷲ تعالیٰ سے بہت لمبی دعا مانگی ۔ پھر مسکراتا ہوا کھڑا ہوا اور بولا: ‘‘ انشاء اﷲ تمہیں فتح حاصل ہوگی ۔’’ اب مسلمانوں نے ترکوں کے لشکر پر حملہ کردیا اور یہ حملہ اتنا شدید تھا کہ ہزاروں ترکوں کو قتل کر ڈالا اور اُن کے کمانڈروں اور بڑے بڑے سرداروں کو گرفتار کر لیا ۔ ترکوں کی فوجوں میں انتہائی گھبراہٹ پھیل گئی اور مسلمان اُن پر حاوی ہو گئے ۔ اسد بن عبداﷲ نے اس کے بعد خاقان کی طرف رخ کیا ۔ اُس کے ساتھ ایک عرب تھا جو اُس کے ساتھ ساش سے جا ملا تھا اور خفیہ ریشہ دوانیوں مکاریوں سے کام لے رہا تھا ۔ اُس شخص کا نام حارث بن شریح تھا ۔وہ مسلمانوں کے خفیہ راز اور امور خاص خاقان کو پہنچا تا رہتا تھا ۔ جب ترکوں کے پیر اُکھڑے تو وہ بھی بھاگا۔

خاقان کا قتل

مسلمانوں کے شدید حملے سے ترکوں کو شکست ہوئی تو اسد بن عبداﷲ خاقان پر جھپٹا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: جب مسلمانوں نے شدید حملہ کیا تو تمام ترک اطراف میں بھاگ کھڑے ہوئے اور خاقان اور کے ساتھ حارث بن شریح بھی بھاگا ۔اسد بن عبداﷲ کو یہ بہت عمدہ موقع ملا اور اُس نے خاقان کا تعاقب جاری رکھا ۔ جب دوپہر ہوئی تو خاقان اپنے چار سو محافظین کے ساتھ ترک فوج سے کٹ کر رہ گیا ۔ اُس وقت اُن کے جسموں پر ریشمی لباس تھے اور بڑے بڑے ڈھول تھے ۔ جب مسلمانوں نے اُن پر قابو پالیا تو انہیں زور زور سے ڈھول بجانے کا حکم دیا تاکہ بھگوڑے ترک واپس آئیں لیکن وہ واپس نہیں آئے مسلمانوں نے تمام مسلمان قیدیوں کو آزاد کر الیا اور بے شمار مال غنیمت حاصل کیا ۔ جب خاقان کو اپنی موت اور بھیانک انجام کا اندازہ ہوا تو اُس نے اپنے خنجر سے پہلے اپنی بیوی کو ہلاک کر ڈالا ۔اِس کے بعد وہ اپنے محافظین کے ساتھ قلعہ بند ہو گیا ۔ اسد بن عبداﷲ وہاں پہنچ گیا اور غضبناک ہو کر اُس پرٹوٹ پڑا اور خاقان کو قتل کر کے ہی چھوڑا ۔

فتح کی خوشخبری

مسلمانوں کو ملک خراسان میں پہلی بار اتنی بڑی فتح ملی تھی اور انہوں نے پہلی بار ترکوں کے بڑے بادشاہ خاقان کو مارا تھا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اس کے بعد تمام ترک ایسے بھاگے کہ کسی کو کسی کی کوئی خبر نہ ہوئی ۔حتیٰ کہ ترک ایکدوسرے کو لوٹنے لگے ۔ اسد بن عبداﷲ نے اپنے بھائی خالد بن عبداﷲ کو اِس عظیم الشان کامیابی اور خاقان کی ہلاکت کی اطلاع دی اور اس کے ساتھ خاقان کے ڈھول ،نقارے بھی روانہ کئے جن کی مہیب آواز بادلوں کی گھن گرج اور بجلی کی کڑک سے کم نہ تھی ۔ یہی نہیں بلکہ بہت سا قیمتی مال و متاع اور بیش بہا سامان بھی اس کے پاس روانہ کیا ۔ خالد بن عبداﷲ کو جب یہ خوش خبری ملی تو اُس نے فوراً امیرالمومنین ہشام بن عبدالملک کو اِس سے مطلع کیا جس نے سن کر بے حد خوشی کا اظہار کیا اور قاصدوں کو انعام و اکرام سے نوازا۔ 

مغیرہ جادوگر فاسق کا قتل

اِس سال 119 ھجری میں مغیرہ جادوگر فاسق کا قتل ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِسی سال ملک عراق کے گورنر خالد بن عبداﷲ قسری نے مغیرہ بن سعید اور اُس کی جماعت کو جس نے باطل کا اتباع کرنا شروع کر دیا تھا ٹھکانے لگا دیا ۔ مغیرہ بن سعید دارصل جادوگر ، فاسق و فاجر تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری نے لکھاہے کہ الاعمش کے بقول مغیرہ بن سعید کہا کرتا تھا کہ اگر وہ چاہے تو عادو ثمود اور اُن دونوں کے درمیانی مدت میں جو قومیں دنیا میں آباد تھیں اُن سب کو زندہ کر سکتا ہے ۔الاعمش کا یہ بھی کہنا ہے کہ مغیرہ بن سعید قبرستان میں پہنچ کر کچھ ایسے الفاظ زبان سے نکالتا تھا کہ اُس کی آواز سن کر قبروں پر ٹڈیوں کی طرح کی مخلوق نظر آتی تھی ۔ جب خالد بن عبداﷲ کو اِن باتوں کا علم ہوا تو اُس نے اُس کو روبرو حاضر ہونے کا حکم دیا ۔ وہ اپنے چھ سات آدمیوں کے ساتھ خالد کے دربار میں حاضر ہو گیا ۔ اِس کے بعد خالد بن عبداﷲ نے اُس کو حکم دیا تو اُس کا تخت مسجد کے قریب پہنچا دیا گیا اور اُس پر منبر بھی نصب ہو گیا اور خیمے وغیرہ بھی کھڑے ہو گئے ۔اِس کے بعد اُس فرمائش کی کہ ایک خیمہ اُس کے لئے خاص کر دیا جائے ۔اِس لئے بہت پش وپیش کے بعد اُس کے لئے بھی علیحدہ سے ایک تمبو یا خیمہ نصب کیا گیا ۔ اِس کے بعد اُس کے سر پر مٹی کا تیل ڈال دیا گیا اور آگ لگا دی گئی اور یہی عمل اُس کے بقیہ ساتھیوں کے ساتھ بھی کیا گیا ۔ 

ترکوں کی شکست 

اِس سال اسد بن عبداﷲ نے پھر سے ترکوں پر حملہ کیا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 119 ھجری میں اسد بن عبداﷲ قسری خراسان کے گورنر نے بلاد ترک پر پھر سے جنگ کا آغاز کیا اور ترکوں کے بادشاہ ‘‘طرخان’’ نے اُس کو لاکھوں کی رشوت کی پیش کش کی جس کو اُس نے مسترد کر دیا اور اُس پر چڑھائی کر کے اُس کے مال و اسباب کو لوٹ لیا اور خود اُس کو بری طرح قتل کر ڈالا ۔اِس جنگ میں ترکوں کے بادشاہ طرخان کی بیویاں اور اُس کا تما م قیمتی اثاثہ بھی اسد بن عبداﷲ کے ہاتھ لگا ۔ 

،119 ھجری کا اختتام

اِس سال مسلمانوں نے صحاری بن شبیب خارجی کاقتل کیا ۔علامہ عمادلدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 119 ھجری میں صحاری بن شبیب خارجی نے سر اُٹھایا جس کے ساتھ تقریباً تیس آدمی مزید شامل ہو گئے ۔خالد بن عبداﷲ قسری نے اس سے مقابلہ کے لئے ایک لشکر بھیجا جس نے صحاری شبیب سمیت تمام خارجیوں کو قتل کر دیا ۔ اِس سال کے اختتام پر خالد بن عبداﷲ قسری ملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر اور ناظم اعلیٰ تھا ۔ اُس کا بھائی اسد بن عبداﷲ قسری خراسان کا گورنر تھا ۔کہا جاتا ہے اِسی سال اُس کا انتقال ہوگیا تھا لیکن بعض لوگ کہتے ہیں کہ ۱۲۰ ؁ ھجری میں ہوا ۔ آذربائیجان اور آرمینیہ کا گورنر مروان بن محمد تھا ۔ مکۂ مکرمہ ، مدینۂ منورہ اور طائف کا گورنر محمد بن ہشام بن اسماعیل تھا ۔اِس سال مسلمانوں کو حج مسلمہ بن ہشام بن عبدالملک نے کرایا۔ اور اُس کے ساتھ ابن شہاب نے بھی حج کیا جو ابو شاکر مسلمہ بن ہشام بن عبدالملک کو مناسک حج کی تعلیم دیتے تھے ۔ملک مصر ، افریقہ اور اسپین پر وہی گورنر تھے جو پچھلے سال تھے ۔

،120 ھجری : اسد بن عبداﷲ قسری کاانتقال

اِس سال ملک خراسان کے گورنر اسد بن عبداﷲ قسری کا انتقال ہوگیا ۔ علامہ عمادلدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال خراسان کے گورنر اسد بن عبداﷲ قسری کا انتقال ہوا ۔ اُس کے انتقال کی وجہ اُس کے پیٹ کا درد اور ورم تھا ۔ جب ایرانیوں کے سالانہ جشن ‘‘مہرجان’’ کا موقع آیا تو دہقانوں اور مزارعین ( دیہاتیوں اور کسانوں) نے اِس کا زبردست اہتمام کیا ۔ یہ لوگ شہروں کے اور دیہاتوں کے بڑے امیر وکبیر لوگ تھے ۔اِن لوگوں نے تمام اطراف کے شہروں اور دیہات سے نہایت قیمتی تحفوں اور ہدیوں کا انتظام کیا جس میں سونے چاندی کے برتن سونے کے پیالے اور کٹورے اور بڑی بڑی قابیں اوت طشتریاں وغیرہ شامل تھیں اور اُن کے ساتھ حریر و دیبا کے قیمتی بیش بہا ملبوسات بھی تحفوں میں شامل تھے ۔ اِن سب چیزوں کو خراسان کے گورنر اسد بن عبداﷲ کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے اُس کے عمدہ خصائل ،اُس کی دانشمندی اور عدل وانصاف کی بہت تعریف کی اور کہا: ‘‘ اِس بہادر گورنر نے اپنے دور ِ اقتدار میں کسی پر نہ خود کوئی ظلم کیا اور نہ کسی اپنے ماتحت کو عوام کے استحصال اور ظلم کی اجازت دی ۔ یہی وہ بہادر اور عقل مند انسان ہے جس نے خاقانِ اعظم کے جبر و ظلم اور اس کے خوف و دہشت سے لوگوں کو نجات دلائی اور اُس کے اقتدار کے بت کو پاش پاش کر ڈالا ۔ اِس لئے آج اسد بن عبداﷲ کی خدمات جلیلہ کے اعتراف کے طور پر جو کچھ یہاں پیش کیا جارہاہے وہ اس کی خدمات کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے ۔ ’’ اسد بن عبداﷲ نے اس امیر دہقان کے جذبات کی بہت قدر کی اور ان تمام تحائف و ہدایا کو استحسان کی نظر سے دیکھا اور یہ سب قیمتی اشیاء اپنے درباریوں میں تقسیم کردیں اور پھر اپنی بیماری کی وجہ سے اُٹھ کر چلا گیا ۔اِس کے بعد اُس کی پیٹ کی بیماری میں کچھ افاقہ ہوا تو لوگوں نے بہت سی ناسپاتیاں بطور تحفہ پیش کیں لیکن وہ بھی اُس نے لوگوں میں تقسیم کردیں اسی تقسیم کے دوران اُس کے پیٹ کا پھوڑا پھٹ گیا اور اُس کا انتقال ہوگیا ۔ اپنی موت کے وقت اُس نے جعفر بن حنظلہ کو خراسان کا گورنر مقرر کر دیا تھا ۔ اِس کے بعد نصر بن سیار کو ملک خراسان کا گورنر بنا دیا گیا ۔ 

خالد بن عبداﷲ قسری کی معزولی

اِس سال 120 ھجری میں سلطنت اُمیہ کے حکمراں ہشام بن عبدالملک نے ملک عراق کے گورنر خالد بن عبداﷲ کو معزول کر دیا ۔ علامہ عمادلدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال امیرالمومنین ہشام بن عبدالملک نے خالد بن عبداﷲ کو ملک عراق کی گورنری سے معزول کر دیا ۔ خالد بن عبداﷲ خود مختار اور خود سر ہوتا جارہا تھا ۔ وہ ہشام بن عبدالملک کو ‘‘ابن الحقماء’’ بھی کہتا تھا اُس نے امیرالمومنین کو ایک سخت خط بھی لکھا تھا جس کا امیرالمومنین ہشام بن عبدالملک نے نہایت سخت جواب دیا تھا ۔ یہ بھی مشہور ہے کہ ہشام بن عبدالملک کو خالد بن عبداﷲ کی آمدنی اور مال و دولت پر حسد آنے لگا تھا ۔ اُس کی مختلف صوبوں سے سالانہ آمدنی تیس لاکھ دینار تھی اور اُس کے بیٹے یزید بن خالد کی سالانہ آمدنی دس لاکھ دینار تھی ۔ امیرالمومنین ہشام بن عبدالملک نے ایک قریشی نوجوان کو خالد بن عبداﷲ کے پاس بھیجا تو اُس نے اُس کی کوئی پرواہ نہیں کی اور نہ ہی مہمان نوازی کی ۔ اِس پر ہشام بن عبداملک نے خالد بن عبداﷲ کو سخت خط لکھا اور اُسے ملک عراق کی گورنری سے معزول کردیا اور ملک یمن کے گورنر یوسف بن عمرو کو حکم دیا کہ وہ ملک عراق کا گورنر ہے اور فوراً اپنے عہدہ کا چارج لے ۔

یوسف بن عمرو ملک عراق کا گورنر

امیرالمومنین ہشام بن عبدالملک کا حکم ملتے ہی یوسف بن عمرو کوفہ پہنچ گیا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : یوسف بن عمرو صبح سویرے ہی کوفہ پہنچ گیا اور جب مؤذن نے صبح کی اذان کہی تو یوسف بن عمرو نماز پڑھانے کی نیت سے مؤذن کو اقامت کہنے کا حکم دیا ۔ مؤذن نے امام یعنی خالد بن عبداﷲ کے آنے کا انتظار کرنے کے لئے کہا تو یوسف بن عمرو نے اُسے جھڑک دیا اور پھر اقامت کا حکم دے کر مصلیٰ پر نماز پڑھانے کے لئے کھڑا ہو گیا اور دورکعت نماز پڑھائی جس کی پہلی رکعت میں سورہ واقعہ پڑھی اور دوسری رکعت میں سورہ معارج پڑھی ۔اِس کے بعد واپس آکر خالد کو اپنی گورنری کی سند دکھلائی اور اُس سے خزانہ کا چارج لے لیا ۔ خالد بن یوسف لگ بھگ پندرہ سال ملک عراق کا گورنر رہا ۔ 105 ھجری میں وہ گورنر بنا اور 120ھجری میں معزول کر دیا گیا ۔ اِس کے بعد یوسف بن عمرو نے جعفر بن حنظلہ کو معزول کر کے جدیع بن علی کرمانی کو ملک خراسان کا گورنر بنایا لیکن کچھ دنوں بعد اُسے بھی معزول کر کے نصر بن سیار کو ملک خراسان کا گورنر بنا دیا ۔ 

محمد بن علی کی خراسانیوں سے ناراضگی

اِس سال خراسان کے لوگوں نے ‘‘تحریک عباسیہ’’ کے بانی محمد بن علی کی نارضگی دور کرنے کی کوشش کی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 120 ھجری میں خراسان کے ‘‘بنو عباس’’ کے حامیوں نے سلیمان بن کثیر کو اپنا وکیل بنا کر محمد بن علی بن عبداﷲ بن عباس کے پاس بھیجا تاکہ وہ اُن کی اور اُن کی تحریک کی حالت سے انہیں پوری طرح باخبر کرے ۔محمد بن علی اپنے خراسان کے حامیوں سے اِس لئے ناراض تھے کہ انہوں نے عمار خداش کی اطاعت قبول کر لی تھی جس کا ذکر ہم اوپر کر آئے ہیں اور جو غلط باتیں اُس نے اُن کی طرف سے بیان کی تھیں اُسے انہوں نے تسلیم کر لیا تھا ۔ اِس وجہ سے محمد بن علی نے خراسانیوں سے مراسلت ترک کر دی ۔جب عرصہ سے اُن کا کوئی خط نہیں آیا یہ سب اس معاملے پر غور کرنے کے لئے جمع ہوئے اور سب نے بالاتفاق سلیمان بن کثیر کو منتخب کر لیا کہ وہ محمد بن علی کے پاس جا کر ہماری پوری حالت اُن سے بیان کرے اور جو کچھ وہ اس کے جواب میں کہیں اس سے ہمیں آکر اطلاع دیں۔یہ شخص محمد بن علی کے پاس آیا جو اپنے خراسانی حامیوں سے بہت سخت ناراض تھے سلیمان بن کثیر نے اُن سے ساری کیفیت بیان کی ۔محمد بن علی نے عمار خداش کی جھوٹی دعوت کو قبول کرنے کی وجہ سے خراسانیوں کی بہت زجر و توبیخ کی اور کہا:

 ‘‘ اﷲ تعالیٰ خداش اور اس کے مسلک پر چلنے والوں پر لعنت کرے۔ ’’اِس کے بعد انہوں نے اُس کے ہاتھ سے اپنے خراسانی حامیوں کو ایک خط لکھ کر سلیمان بن کثیر کو دیا جسے لیکر وہ خراسان آیا ۔وہ سر بمہر خط جب کھولا گیا تو اُس میں سوائے ‘‘بسم اﷲ الرحمن الرحیم’’ کے کچھ بھی اور تحریر نہیں تھا ۔اِس سے ان لوگوں کو سخت صدمہ ہوا اور اب انہیں معلوم ہوا کہ جو باتیں خداش نے انہیں بتائیں تھیں وہ محمد بن علی کے حکم کے خلاف تھیں۔ 

خراسانیوں کی توبہ

محمد بن علی نے خراسان میں اپنی تحریک کے حامیوں کی غلط فہمی دور کی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال سلیمان بن کثیر کے خراسان واپس جانے کے بعد محمد بن علی نے بکیر بن ماہان و اپنے خرسانی حامیوں کے پاس ایک خط دے کر بھیجا جس میں انہیں بتایا کہ خداش نے میرے متبعین کو غلط راستے پر لگایا تھا ۔ جب بکیر بن ماہان وہ خط لیکر خراسان پہنچا تو تحریک عباسیہ کے حامیوں نے اس کے بیان کو غلط سمجھا اور اُس کی بات پر بالکل اعتناء نہیں کیا ۔بکیر بن ماہان پھر محمد بن علی کے پاس آیا اور اِس مرتبہ محمد بن علی نے اُس کے ساتھ شام لگے ہوئے عصا بھیجے جن میں لوہے کی شام تھی اور بعض میں سیسے کی۔ بکیر بن ماہان انہیں لیکر خرسان آیا اور اعیان قوم اور حامیوں کو جمع کیا اور ہر شخص کو اُس نے ایک ایک عصا دیا ۔ اِس سے وہ سمجھے کہ اب تک اُن کا جو طرز عمل رہا ہے وہ اُن کی سیرت کے مخالف تھا ۔ ان لوگوں واپس جا کر اپنے افعال سے توبہ کی ۔

،120ھجری کا اختتام

120 ھجری کا اختتام ہوا اور اِس سال ‘‘سلطنت اُمیہ’’ میں کئی گورنرں کی تبدیلی ہوئی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال کے اختتام پر ملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر اور ناظم اعلیٰ یوسف بن عمرو تھا ۔ نصر بن سیار ملک خراسان کا گورنر تھا ۔ بیان کیا گیا ہے کہ اِس سال خراسان کا گورنر جعفر بن حنظلہ تھا ۔ یوسف بن عمرو کی طرف سیبصرہ کا گورنر کثیر بن عبداﷲ سلمی تھا عامربن عبیدہ باہلی بصرہ کے قاضی تھے اور ابن شرمہ کوفہ کے قاضی تھے ۔مروان بن محمد آذربائیجان اور آرمینیہ کا گورنر تھا ۔ محمد بن ہشام مکۂ مکرمہ ، مدینۂ منورہ اور طائف کا گورنر تھا اور اُسی نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔بعض راوی کے مطابق سلیمان بن ہشام نے حج کرایا اور بعض کے مطابق یزید بن ہشام نے حج کرایا۔ 

،121 ھجری :یزید بن خالد قسری کازید بن علی پر دعویٰ

اِس سال 121 ھجری میں یوسف بن عمرو نے ملک عراق کے سابق گورنر خالد بن عبداﷲ اور اُس کے بیٹے یزید بن عبداﷲ سے خراج کے روپیوں کی مانگ کی تو انہوں نے کہا کہ ہم نے زید بن علی کو دے دیا ہے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : یزید بن خالد بن عبداﷲ قسری نے دعویٰ کیا کہ ہمارا روپیہ زید بن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب ، داؤد بن علی بن عبداﷲ بن عباس ، ابراہیم بن سعید بن عبدالرحمن بن عوف اور ایوب بن سلمہ بن عبداﷲ بن عبداﷲ بن ولید کے پاس جمع ہے ۔ یوسف بن عمرو نے امیرالمومنین ہشام بن عبدالملک کو ان لوگوں کے بارے میں لکھا ۔ زید بن علی اُس وقت ‘‘رصافہ’’ میں محمد بن عمرو بن علی کے ساتھ تھے ۔ جب یوسف بن عمرو کے کئی خطوط ہشام بن عبدالملک کے پاس پہنچے تو اُس نے زید بن عمرو کو خط لکھ کر تمام باتیں بتائیں تو انہوں نے انکار کردیا ۔ ہشام بن عبدالملک نے یوسف بن عمرو سے ملاقات کرنے کو کہا۔زید بن علی ملک عراق آئے اور یوسف بن عمرو نے اپنے دربار میں انہیں اپنے قریب بٹھایا اور روپیہ کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے کہا: ‘‘ یزید بن خالد نے کوئی چیز میرے پاس نہیں رکھوائی ہے اور اُس نے مجھے کبھی روپیہ نہیں دیا ۔’’ اِس کے بعد یوسف بن عمرو نے یزید بن خالدکو دربار میں بلایا اور پوچھا تو اُس نے کہا: ‘‘ اِن لوگوں پر نہ میرا کچھ زیادہ ہے اور نہ تھوڑا ہے ۔’’ یوسف بن عمرو نے کہا: ‘‘ کیا مجھ سے مذاق کرتا ہے یا امیر المومنین سے ؟’’ اِس کے بعد زید بن علی اور باقی لوگوں سے حلف لیا اور پھر انہیں چھوڑ دیا ۔باقی لوگ تو مدینۂ منورہ چلے گئے لیکن زید بن علی کوفہ میں ٹھہر گئے ۔

یہ بغاوت کریں گے

زید بن علی کوفہ میں ہی ٹھہر گئے اور اسی دوران انہوں نے ایک خواب دیکھا جس کی وجہ سے وہ پریشان ہو گئے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں :عطا بن مسلم خفاف بیان کرتے ہیں کہ زید بن علی نے خواب دیکھا کہ ملک عراق میں انہوں نے آگ لگادی اور پھر اُسے بجھا دیا اور پھر وہ مر گئے ۔ اِس خواب کی وجہ سے وہ پریشان ہو گئے ۔ انہوں نے اپنے بیٹے یحییٰ بن محمد نے کہا: ‘‘ میں نے ایک خواب دیکھا ہے جس کی وجہ سے میں پریشان ہوں ۔’’ اور پھر وہ خواب بیان کر دیا ۔ اِس کے بعد امیرامومنین ہشام بن عبدالملک کی طرف سے بلاوا آیا تو آپ اُس سے ملنے گئے ۔محمد بن عزیز زہری بیان کرتے ہیں کہ جب زید بن علی امیرالمومنین ہشام بن عبدالملک سے ملنے کے لئے آئے تو حاجب نے اُن کے آنے کی اطلاع دی ۔ ہشام بن عبدالملک ایک بلند شہ نشین پر چڑھ گیا پھر انہیں آنے کی اجازت دی اور اپنے ایک خادم کو حکم دیا کہ اُن کے پیچھے پیچھے رہنا اور یہ دیکھنا کہ وہ کیا کہتے ہیں۔ خادم سیڑھیوں پر اُن کے پیچھے پیچھے ہولیا ۔آپ چونکہ موٹے تھے اِس لئے سیڑھی پر ایک جگہ رک گئے اور کہا: ‘‘ اﷲ کی قسم! جس نے دنیا کو چاہا وہ ذلیل ہوا۔’’ جب وہ ہشام بن عبدالملک کے پہنچے اور اپنی ضروریات پوری کر لیں اور کوفہ چلے گئے تو ہشام بن عبدالملک اپنے خادم سے پوچھنا بھول گیا ۔ کافی دنوں بعد اُسے یاد آیا تو اُس نے خادم سے پوچھا تو اُس نے جو سنا تھا وہ بیان کر دیا ۔ ہشام بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ ابرش نے کہا تھا کہ سب سے پہلی بات یہ ہوگی کہ وہ تمہاری حکومت سے علیحدگی اختیار کریں گے ۔’’ اِس کے بعد ہشام بن عبدالملک کو زید بن علی کے بارے میں جو سب سے پہلی اطلاع ملی وہ ان کی بغاوت کی تھی ۔

 باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

پیر، 29 جنوری، 2024

سلطنت امیہ 62 Saltanat e Umayya part 62


 

62 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 62

اس پوسٹ کی خاص باتیں

زید بن علی قادسیہ میں، داؤد بن علی نے سمجھایا، زید بن علی کی تیاری، زید بن علی کی شرائط، نصر بن سیار کی ترکوں سے جنگ، 121 ھجری کا اختتام، 121 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان، 122 ھجری: اہل کوفہ نے دھوکہ دیا، زید بن علی کا انتقال، اہل کوفہ کی تذلیل، 122 ھجری کا اختتام، 122 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان، 123 ھجری : ترکوں میں اختلاف و انتشار، اہل سغد کو آسانیاں، یوسف بن عمرو کی درخواست کو نا منظور کر دیا، 123 ھجری کا اختتام، 123 ھجری :محمد بن واسع کا انتقال


زید بن علی قادسیہ میں

ملک عراق کے گورنر یوسف بن عمرو نے زید بن علی پر کوفہ چھوڑنے کے لئے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اب زید بن علی کے حامیان اُن کے پاس آنے لگے اور انہیں خروج (بغاوت) کا مشورہ دینے لگے اور کہتے تھے :‘‘ ہمیں توقع ہے کہ آپ ضرور کامیاب و منصور ہوں گے اور یہ وہی زمانہ ہوگا جس میں ‘‘بنو اُمیہ’’ ہلاک ہو جائیں گے ۔’’ زید بن علی کوفہ میں رہے اور یوسف بن عمرو انہیں بار بار کوفہ چھوڑنے پر مجبور کرتا رہا ۔ آخر کاجب انہوں نے دیکھا کہ یوسف بن عمرو کسی طرح پیچھا نہیں چھوڑ رہا ہے تو انہوں نے روانگی کا تہیہ کر لیا اور کوفہ سے چل کر قادسیہ آگئے ۔اُن کے حامی اُن کے پاس پہنچے اور کہنے لگے :‘‘ آپ ہمیں چھوڑ کر کہاں جارہے ہیں؟ آپ کے ساتھ کوفہ کے ایک لاکھ جواں مرد تلوار لئے موجود ہیں جو آپ کے لئے صبح شام جنگ میں اپنی جانیں قربان کر دیں گے اور آپ کے مقابل شامیوں کی تعداد بہت تھوڑی ہے ۔بلکہ ہماری طرف سے صرف قبیلہ بنومذحج یابنو ہمدان یابنو تمیم یا بنوبکر میں سے ایک ہی اُن سے مقابلہ کرے گا تو اﷲ کے حکم سے وہ اُن کے لئے کافی ہو گا ۔ہم آپ کا اﷲ کا واسطہ دیتے ہیں کہ آپ واپس نہ جائیں۔’’ 

داؤد بن علی نے سمجھایا

اہل کوفہ زید بن علی کو ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کے خلاف بغاوت کے لئے اُکساتے رہے لیکن اُن کے بھائی داؤد بن علی نے سمجھایا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : داؤد بن علی نے اُن سے کہا: ‘‘ بھائی! یہ آپ کو دھوکہ دے کر آپ کی جان کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔کیا انہوں نے اُن حضرات کا ساتھ نہیں چھوڑا جو آپ کے مقابلہ میں اُن کے نزدیک زیادہ معزز اور مکرم تھے؟ آپ کے پر دادا خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کا واقعہ سامنے ہے کہ وہ شہید کر ڈالے گئے ۔ اُن کے بعد حضرت امام حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ پر انہوں نے بیعت کی مگر انہیں کے اوپر چڑھ دوڑے اور اُن کے خیمہ گاہ کو لوٹ لیا اور چادر تک چھین لی اور انہیں زخمی بھی کیا۔ کیا یہی وہ لوگ نہیں ہیں جنہوں نے آپ کے دادا حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کو مدینۂ منورہ سے بلوایا اور اُن کا ساتھ دینے اور حمایت کرنے کی سخت سے سخت قسمیں کھائیں ۔مگر پھر انہی لوگوں نے اُن کا ساتھ چھوڑ کر انہیں دشمن کے حوالے کر دیااور صرف اِسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انہیں بھی شہید کر کے چھوڑا۔ آپ ہر گز ہر گز اِن کی درخواست قبول نہ کریں اور اِن کے ساتھ کوفہ واپس نہ جائیں۔’’ اِس کے جواب میں کوفیوں نے کہا: ‘‘ یہ رشک اور حسد کی وجہ سے ایسا کہہ رہے ہیں ۔’’ 

زید بن علی کی تیاری

زید بن علی کو اہل کوفہ مسلسل بغاوت پر اُکساتے رہے اور آخر کار آپ نے اُن پر بھروسہ کر لیا اور کوفہ آگئے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : زید بن علی نے جب کوفہ آنے کا ارادہ کیا تو محمد بن عمر بن علی بن ابی طالب نے انہیں اﷲ کا واسطہ دیکر اپنے وطن واپس چلنے کے لئے کہااور کہا: ‘‘ آپ ہرگز اِن دعوت دینے والوں میں سے کسی کی بات منظور نہ کریں کیونکہ یہ ہرگز وفادار نہیں رہیں گے ۔’’ مگر زید بن علی نے اُن کی ایک نہیں سنی اور کوفہ چلے آئے ۔ اُن کے آنے کے بعد اُن کے حامی اُن کے پاس آنے جانے لگے اور بیعت کرنے لگے ۔اُن کے رجسٹر پر پندرہ ہزار بیعت کرنے والوں کے نام لکھے گئے ۔ زید بن علی کوفہ میں چند مہینے مقیم رہے اور اِس دوران انہوں نے دو مہینہ بصرہ میں گذارے اور پھر کوفہ آگئے اور یہاں سے انہوں نے علاقہ ‘‘سواد’’ اور اہل موصل کے پاس اپنی بیعت کے لئے قاصدوں کو روانہ کیا ۔

زید بن علی کی شرائط

جب زید بن علی بیعت لیتے تو کہتے :‘‘ میں تمہیں اﷲ کی کتاب اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنے ، ظاموں سے جہاد کرنے، کمزوروں کی مدافعت کرے ، محرومین کو اُن کا حق عطا کرنے ، سرکاری مال کی مساویانہ تقسیم کرنے ، مظالم کا رد کرنے ، جبر و زبردستی کو روکنے ،اہل بیت کی امداد کرنے اور جو لوگ ہمارے مخالف ہیں اور جنہوں نے ہمیں دیدہ دانستہ بھلا دیا اُن سے لڑنے کی تمہیں دعوت دیتا ہوں ۔کیا تم اِن شرائط پر بیعت کرتے ہو؟’’ اگر وہ قرار کر لیتا تو اپنا ہاتھ اُس کے ہاتھ پر رکھ دیتے اور پھر کہتے: ‘‘ اب تم پر اﷲ کا عہد و میثاق اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی ذمہ داری ہے کہ تم میری بیعت کو پورا کرو گے اور میرے دشمن سے لڑو گے اور ظاہر و باطن میں میرے خیر خواہ رہو گے ۔’’ اگر وہ اِن باتوں کا اقرار کر لیتے تو پھر آپ اپنا ہاتھ اُس کے ہاتھ پر کھ دیتے اور کہتے : ‘‘ اے اﷲ! تُو گواہ رہنا۔’’ چند مہینے یہی ہوتا رہا اور اِس دوران 121 ھجری ختم ہوگیا ۔ 

نصر بن سیار کی ترکوں سے جنگ

اِس سال ملک خراسان کے گورنر نصر بن سیار نے ترکوں سے جنگ کی اور فتح حاصل کی ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 121 ھجری میں نصر بن سیار نے جو ملک خراسان کا گورنر تھا ترکوں کے علاقہ میں جنگ کا آغاز کیا ۔ اور اُن کے بادشاہ ‘‘کورصول’’ کو کئی جنگوں کے بعد قید کرلیا ۔کورصول نصر بن سیار کو نہیں پہچانتا تھا ۔ جب اُسے معلوم ہوا کہ یہ خراسان کا گورنر ہے تو اُس نے نصر بن سیار کو ایک ہزار سالانہ نجاتی اور ایک ہزار برذون اونٹوں کے عوض صلح کی پیشکش کی ۔ یہ بوڑھا شخص تھا اِس لئے نصر بن سیار نے اِس کے بارے میں اپنے سرداروں سے مشورہ کیا ۔کسی نے کہاکہ رہا کر دیا جائے اور کسی نے کیا کہ قتل کر دیا جائے ۔اِس کے بعد اُس نے کورصول سے پوچھا :‘‘ تم کتنی جنگیں لڑ چکے ہو؟’’ اُس نے جواب دیا :‘‘ ستر یا بہتر جنگیں لڑ چکا ہوں ۔’’ اِس پر نصر بن سیار نے کہا: ‘‘ تم جیسے آدمی کو چھوڑا نہیں جا سکتا ۔’’ پھر اُسے قتل کرنے کا حکم دے دیا جس کی تعمیل ہوئی اور اُسے پھانسی دے دی گئی ۔ جب یہ خبر ترکوں کے لشکر کو ملی تو وہ ساری رات جاگ کر ماتم کرتے رہے ۔انہوں نے اپنی داڑھیاں کاٹ ڈالیں اور اپنے کان کاٹ لئے اور اپنے خیموں کو پھاڑ ڈالااور بہت سے مویشی مار ڈالے ۔ جب صبح ہوئی تو نصر بن سیار نے کورصول کی لاش کو جلا ڈالنے کا حکم دے دیا تاکہ وہ لوگ اس کی لاش کو حاصل نہ کرسکیں اور یہ شکست خوردہ ترکوں کو لئے اور بھی شاق گزرا لیکن وہ خاسر و ناکام ہو کر واپس چلے گئے۔ اس کے کئی مہینوں بعد پھر سے نصر بن سیار نے ترکوں پر حملہ کیا اور بہت سے لوگوں کو قتل کر ڈالا اور بہت سے لوگوں کو قیدی بنا لیا ۔

121 ھجری کا اختتام

121 ھجری کے اختتام پر یوسف بن عمرو ملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر اور ناظم اعلیٰ تھا ۔ ملک خراسان کا گورنر نصر بن سیار تھا ۔ عامر بن عبیدہ بصرہ کے قاضی تھے اور ابن شرمہ کوفہ کے قاضی تھے ۔ مروان بن محمد آذربائیجان اور آرمینیہ کا گورنر تھا ۔ ملک یمن کا گورنر یوسف بن عمرو کا بیٹا تھا ۔مکۂ مکرمہ ، مدینۂ منورہ اور طائف کا گورنر محمد بن ہشام بن اسماعیل تھا اور اُسی نے مسلمانوں کو حج کرایا۔

121 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان

اِس سال 121 ھجری جن کا انتقال ہوا اُن میں سے کچھ یہ ہیں۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال مسلمہ بن عبدالملک بن مروان بن حکم کا انتقال ہوا ۔ اِس نے اپنی زندگی میں ‘‘سلطنت روم’’ سے کئی جنگیں لڑیں اور قسطنطنیہ تک بھی گیا ۔ اسے اِس کے بھائی یزید بن عبدالملک نے ملک عراق کا گورنر بنایا تھا لیکن پھر معزول کر کے آرمینیہ کا گورنر بنا دیا تھا ۔اِس نے سلطنت روم کے اکثر و بیشتر قلعے فتح کر لئے اور ۹۸ ؁ ھجری میں اِس نے ‘‘قسطنطنیہ’’ کا محاصرہ بھی کیا تھا ۔ اِس سال نمیر بن قیس کا انتقال ہوا ۔ یہ جلیل القدر تابعی اور دمشق کے قاضی تھے ۔انہوں نے حضرت حذیفہ بن یمان اور حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہم سے مرسلاً روایات بیان کی ہیں اور اِن سے بہت سے تابعین نے احادیث بیان کی ہیں۔ جن میں امام اوزاعی وغیرہ شامل ہیں ۔اِن کو ہشام بن عبدالملک نے دمشق کا قاضی بنایا تھا ۔

122 ھجری: اہل کوفہ نے دھوکہ دیا

122 ھجری میں زید بن علی کوبھی ہمیشہ کی طرح اہل کوفہ نے دھوکہ دیا جیسے اُن کے آباء و اجداد کو دھوکا دیا تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: زید بن علی نے اپنے خروج کا اعلان کیا تو اہل کوفہ نے آپ سے خلیفۂ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ اور خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے انہیں بتایا کہ وہ دونوں ‘‘خلیفۂ برحق’’ ہیں ۔یہ سن کر اہل کوفہ نے کہا: ‘‘ جب وہ دونوں حق پر تھے تو ‘‘بنو اُمیہ’’ بھی حق پر ہیں اور ہم آپ کے لئے اُن سے نہیں لڑیں گے ۔زید بن علی نے کہا: ‘‘ نہیں ایسی بات نہیں ہے اور ‘‘بنو اُمیہ’’ اُن دونوں جیسے نہیں ہیں ۔ یہ لوگ ظالم ہیں اور صرف میرے لئے نہیں بلکہ آپ سب کے لئے بھی ظالم ہیں۔میں آپ کو اﷲ کی کتاب اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی سنت کی طرف بلا رہا ہوں تاکہ سنت کا احیاء ہو اور بدعات مٹائی جاسکیں ۔ لیکن اہل کوفہ نے انکار کر دیا اور آپ کی بیعت توڑ دی اور کہنے لگے :‘‘ یہ امام سے بھی آگے بڑھ گئے ہیں ۔’’ یہ لوگ زید بن علی کے بھائی ابو جعفر محمد بن علی کو اصل امام مانتے تھے ۔اُن کا انتقال ہوچکا تھا اور اُن کے بیٹے جعفر بن محمد بن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب زندہ تھے ۔اہل کوفہ نے کہا کہ جعفر بن محمد بن علی ہی ہمارے امام ہیں اور ہم زید بن علی کا ساتھ نہیں دیں گے کیونکہ وہ امام نہیں ہیں ۔ 

زید بن علی کا انتقال

اہل کوفہ کی اکثریت نے زید بن علی کو دھوکا دیا اور اُن سے الگ ہوگئے اور بہت کم اُن کے ساتھ رہ گئے ۔انہوں نے ان کے ساتھ ہی خروج کرنے کا حکم دے دیا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس کے بعد زید بن علی نے خروج کے لئے اپنے بقیہ ساتھیوں کے ساتھ ماہ صفر المظفر  122 ھجری کی تاریخ طے کردی ۔ یہ بات یوسف بن عمرو تک پہنچ گئی اور اُس نے کوفہ کے گورنر کو حکم دیا کہ اِس تاریخ سے ایک دن پہلے تمام اہل کوفہ کو جامع مسجد میں جمع ہونے کا حکم دو ۔ خروج سے ایک دن پہلے تمام اہل کوفہ جامع مسجد میں جمع ہو گئے ۔ زید بن علی نے سخت سردی اور سرمائی کیفیت میں خروج کا اغاز کیا اور اُن کے ساتھی مشعلیں اُٹھائے ہوئے تھے اور ‘‘یا منصور ، یامنصور’’ کے نعرے لگا رہے تھے ۔ جب صبح ہوئی تو زید بن علی کے پاس صرف دو سو اٹھارہ (218) آدمی باقی رہ گئے تھے ۔ یہ دیکھ کر زید بن علی نے کہا: ‘‘ سبحان اﷲ! باقی لوگ کہاں ہیں؟ ’’ انہیں جواب ملا : ‘‘ سب مسجد میں محصور ہیں۔’’ اِسی دوران حکم بن صلت نے یوسف بن عمرو کو خروج کی اطلاع دے دی تھی اور اُس نے ایک فوجی دستہ بھیج دیا تھا ۔کوفہ کے گورنر کے ساتھ ایک بہت بڑا لشکر تھا اور خود یوسف بن عمرو بھی لشکر لیکر آچکا تھا ۔ جن میں پانچ پانچ سو سوار فوجی بھی تھے ۔زید بن علی اپنے دو سو ساتھیوں کے ساتھ ان تینوں لشکروں سے بھڑ گئے اور جس طر ف بھی یہ سب حملہ کرتے تھے تو صف کی صف اُلٹ دیتے تھے ۔زید بن علی اپنے ساتھیوں کے ساتھ ملکر مقابلہ کر رہے تھے اور ساتھیوں کی حوصلہ افزائی بھی کر رہے تھے ۔ پورا دن مقابلہ ہوتا رہا اور جب رات ہو گئی تو مقابلہ بند کر دیا گیا ۔ اگلی صبح پھر مقابلہ شروع ہوا اور اِس میں شامیوں نے بھر پور حصہ لیا اور زید بن علی کے ستر ساتھیوں کو قتل کردیا اور رات کو زید بن علی کے ساتھی بہت بری حالت میں واپس آئے ۔ اگلے دن صبح زید بن علی کے ساتھیوں نے یوسف بن عمرو کی فوج پر اتنا ززبردست حملہ کیا کہ وہ سب پیچھے ہٹ کا دلدلی زمین کی طرف چلے گئے اور بنو سلم کے پاس جا کر پناہ لی ۔ اِس کے بعد زید بن علی نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ اُن کا تعاقب کیا اور تھوڑی دور جانے کے بعد سخت مقابلہ ہوا اور اِس مقابلے میں ایک تیر آکر زید بن علی کی پیشانی کے بائیں جانب لگا اور دماغ میں اُتر گیا ۔ اِس کے بعد زید بن علی کے ساتھی اُن کو لیکر پیچھے ہٹ گئے ۔ طبیب کو بلا کر بتایا گیا جس نے وہ تیر اُن کے دماغ سے نکالا لیکن جیسے ہی تیر نکالا ویسے ہی اُن کی موت واقع ہو گئی ۔ 

اہل کوفہ کی تذلیل

زید بن علی کے معاملے سے نمٹنے کے بعد یوسف بن عمرو کوفہ آیا اور اُس وقت تمام اہل کوفہ جامع مسجد میں محصور تھے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: جب یوسف بن عمرو نے زید بن علی کو قتل کردیا تو کوفہ آیا اور منبر پر چڑھا اور تقریر کی :‘‘ اے ناپاک شہر کے باشندو! یاد رکھو کہ مجھے کوئی مشکل پیش نہیں آتی اور نہ ہی میں کسی بات کی پرواہ کرتا ہوں اور نہ ہی میں بھیڑیئے سے ڈرایا جاتا ہوں۔اﷲ تعالیٰ نے مجھے ایک قوی بازو دیا ہے ۔ اے اہل کوفہ! تمہیں تمہاری توہین و تذلیل کی خوش خبری دیتا ہوں ۔ اب ہم تمہارے مناصب اور روزینے نہیں دیں گے ۔ میں نے تو ارادہ کیا تھا کہ تمہارے مکانات کو تباہ و برباد کر دوں اور تمہارے مال و متاع کو لوٹ لوں ۔اﷲ کی قسم! میں منبر پر چڑھ کر تمہیں ایسی باتیں سنا رہا ہوں جسے تم ناپسند کرتے ہو لیکن اِس کے تم ہی ذمہ دار ہو ۔اِس لئے کہ تم ہمیشہ بغاوت اور مخالفت پیدا کرتے رہتے ہوسوائے حکیم بن شریک کے تم میں کوئی ایسا نہیں ہے جو اﷲ اور اُس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم سے نہ لڑا ہو۔ میں نے امیر المومنین سے تمہارے بارے میں دریافت کیا ہے اگر مجھے اجازت مل گئی تو میں تمہارے تمام جنگجو مردوں کا قتل کر ڈالوں گا اور تمہارے بیوی بچوں کو غلام بنا لوں گا ۔ ’’

122 ھجری کا اختتام

122 ھجری کے اختتام پر ملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر اور ناظم اعلیٰ یوسف بن عمرو تھا ۔ ملک خراسان کا نصر بن سیار تھا ۔ یوسف بن عُمر نے ابن شیرمہ کو ‘‘سیستان’’ کا گورنر مقرر کر کے بھیجا ۔ملک یمن میں یوسف بن عمروکا بیٹا گورنر تھا ۔ اِس سال فضل بن صالح اور محمد بن ابراہیم بن محمد بن علی پیدا ہوئے ۔اِس سال کوفہ کے قاضی محمد بن عبدالرحمن تھے ۔ عامر بن عبیدہ بصرہ کے قاضی تھے ۔ مروان بن محمد آذربائیجان اور آرمینیہ کا گورنر تھا ۔ مکۂ مکرمہ ، مدینۂ منورہ اور طائف کا گورنر محمد بن ہشام بن اسماعیل تھا اور اُسی نے مسلمانوں کو حج کرایا۔اِس سال کلثوم بن عیاض قشیری جسے ہشام بن عبدالملک نے بربروں کی بغاوت کے موقع پر سوراوں کے ساتھ افریقہ بھیجا تھا شہید ہوگیا ۔ 

122 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان

اِس سال جن کا انتقال ہوااُن میں سے چند یہ ہیں۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال عبداﷲ البطال مسلمانوں کے ایک لشکر کے ساتھ ‘‘سلطنت روم’’کے علاقے میں رومیوں سے لڑتے ہوئے شہید ہو گیا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال عبداﷲ ابو یحییٰ المعروف بابطال شہید ہوئے ۔یہ انطاکیہ کے باشندے تھے ۔ جب عبدالملک بن مروان نے اپنے بیٹے مسلمہ بن عبدالملک ‘‘سلطنت روم’’

 پر حملہ کرنے کے لئے بھیجنے کا ارادہ کیا تو اُس نے اہل جزیرہ کا گورنر بطال کو بنایا اور اپنے بیٹے کو حکم دیا :‘‘ بطال کو ‘‘مقدمۃ الجیش’’ (ہراول) کا کمانڈر بنانااور اُس حکم دینا کہ لشکر رات کو لیکر چلا کرے اور اُس کا کہنا مانتے رہنا ۔ کیونکہ بطال نہایت شجاع ، امین اور مقبر آدمی ہے ۔’’جب مسلمہ بن عبدالملک کا لشکر روانہ ہوا تو عبدالملک بن مروان نے ‘‘باب دمشق’’ تک مشایعت کی ۔ مسلمہ بن عبدالملک دس ہزار کا لشکر لیکر بطال کے پاس پہنچا ۔محمد بن عائذ دمشقی نے شیخ انطاکیہ ابو مروان کے حوالہ سے کہا ہے :‘‘ میں نے بطال کے ساتھ اُس وقت بڑی بڑی جنگوں میں حصہ لیا ہے ۔’’ سلطنت روم کے شہروں کو بطال نے روند ڈالا تھا اور مسلسل بیس سال سے زیادہ عرصے تک اُن سے جنگ کرتا رہا ۔ اِس سال ایاس ذکی کا انتقال ہوا۔ اِن کا نسب خلیفہ بن کیاط کے مطابق یہ ہے ۔ ایسا بن معاویہ بن مرہ بن ایاس بن حلال بن رباب ……بن عدنان۔یہ بصرہ کے قاضی تھے اور اِن کے دادا صحابی تھے ۔یہ اپنی ذکاوت و زہانت کے لئے اپنے ہم عصروں میں بہت مشہور تھے۔انہوں نے اپنے والد سے کچھ روایات مرفوعاً بیان کی ہیں ۔اِن کے بارے میں محمد بن سیرین کا کہنا ہے :‘‘ یہ نہایت فہیم و عقیل ہیں ۔’’ محمد بن سعد عجلی ،ابن معین اور نسائی نے بھی اِن کو ثقہ کہا ہے ۔ 

123 ھجری : ترکوں میں اختلاف و انتشار

لگ بھگ دو یا تین سال پہلے ملک خراسان کے گورنر اسد بن عبداﷲ نے ترکوں کے سب سے بڑے بادشاہ ‘‘خاقان’’ کو قتل کردیا تھا ۔ اُس کے بعد ترک اپنا خاقان کسی کو نہیں بنا سکے اور ترک مملکت چھوٹے چھوٹے ملکوں میں تقسیم ہوگئی اور ترک اختلاف و انتشار کا شکار ہو کر آپس میں ہی لڑنے لگے ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : جب ترکوں کا سب سے بڑے بادشاہ خاقان کو اسد بن عبداﷲ قسری نے اپنی خراسان کی گورنری کے دوران قتل کردیا تھا تو ترکوں کا شیرازہ بکھر گیا ۔وہ ایک دوسرے کو غیرت و حمیت دلاتے رہے لیکن کسی کی ہمت نہیں پڑی کہ مسلمانوں سے مقابلے کے لئے فوج لیکر جاتا ۔پھر کچھ عرصے بعد ایسا ہوگیا کہ وہ آپس میں ہی ایکدوسرے سے لڑنے لگے اور ایکدوسرے کو قتل کرنا شروع کردیا اور پھر اپنے ہی ملک کی تخریب کاری میں لگ گئے اور مسلمانوں کی طرف سے لاپرواہ اور بے نیاز ہو گئے ۔

اہل سغد کو آسانیاں

مسلمانوں نے اہل سغد کو ذمی بنا کر اپنی نگرانی میں رکھا ہوا تھا اور اُن میں سے بہت سے لوگوں نے اسلام بھی قبول کر لیا تھا ۔ انہوں نے ملک خراسان کے گورنر نصر بن سیار سے گذارش کی کہ انہیں اُن کے علاقے میں جانے دیا جائے اور مسلمانوں کی طرح انہیں بھی سہولیات مہیا کرائی جائیں ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اہل سغد نے خراسان کے گورنر نصر بن سیار سے درخواست کی کہ اُن کو اُن کے علاقے میں واپس بھیج دیا جائے اور اُن سے بعض ایسی شرائط طے کریں جو علماء کو قابل قبول نہیں تھیں ۔مثلاً یہ کہ اگر کوئی مرتد ہو جائے تو اُس کو سزا نہیں دی جائے اور اُن کو جنگی قیدی نہیں بنایا جائے وغیرہ وغیرہ۔ نصر بن سیار نے مسلمانوں کی شکایات اور تکالیف کے باعث ان شرائط کو قبول کرنا چاہا لیکن لوگوں نے اُسے مطعون کرنا شروع کردیا ۔ اِس لئے مجبوراً اُس نے امیرالمومنین ہشام بن عبدالملک کو خط لکھا اور تمام حالات سے مطلع کیا ۔ ہشام بن عبدالملک نے کچھ توقف کیا لیکن جب یہ دیکھا کہ اِس طرح مسلمانوں میں کدورت اور دشمنی بڑھتی جائے گی اور جس کا نتیجہ برا نکلے گا تو اُس نے اہل سغد کی درخواست کو قبول کر لیا ۔

یوسف بن عمرو کی درخواست کو نا منظور کر دیا

اہل سغد کی درخواست کے بارے میں جب نصر بن سیار نے امیرالمومنین ہشام بن عبدالملک سے بات چیت شروع کی تو اِسی دوران ملک عراق کے گورنر یوسف بن عمرو نے امیرالمومنین سے کہا کہ نصر بن سیار بوڑھا ہو گیا ہے ۔اِس لئے اُسے معزول کر کے خراسان میرے حوالے کردیا جائے ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِسی دوران ملک عراق کے گورنریوسف بن عمرو نے امیرالومنین کو لکھاکہ خراسان کی گورنری اُسے دے دی جائے اور اِس سلسلے میں دونوں کی بات چیت بھی ہوئی ۔ حالانکہ نصر بن سیار ایک بہادر انسان تھا مگر بہت زیادہ بڑھاپے اور نظر کی کمزوری کی وجہ سے آدمی کو دور سے پہچان نہیں پاتا تھا ۔بہر حال ہشام بن عبدالملک نے یوسف بن عمرو کی اِس تجویز پر زیادہ توجہ نہیں دی اور معاملات کو یوں ہی چلنے دیا ۔ 

123 ھجری کا اختتام

123 ھجری کے اختتام پر گورنروں کی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر اور ناظم اعلیٰ یوسف بن عمرو تھا ۔ ملک خراسان کا نصر بن سیار تھا ۔ ابن شیرمہ ‘‘سیستان’’ کا گورنر تھا۔ملک یمن میں یوسف بن عمرو کا بیٹا گورنر تھا ۔ اِس سال فضل بن صالح اور محمد بن ابراہیم بن محمد بن علی پیدا ہوئے ۔اِس سال کوفہ کے قاضی محمد بن عبدالرحمن تھے ۔ عامر بن عبیدہ بصرہ کے قاضی تھے ۔ مروان بن محمد آذربائیجان اور آرمینیہ کا گورنر تھا ۔ مکۂ مکرمہ ، مدینۂ منورہ اور طائف کا گورنر محمد بن ہشام بن اسماعیل تھا۔اِس سال یزید بن ہشام نے مسلمانوں کو حج کرایا۔

123 ھجری :محمد بن واسع کا انتقال

اِس سال محمد بن واسع کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال محمد بن واسع بن حیان کا انتقال ہوا۔ محمد بن واسع جب بیمار ہوئے تو لوگ بکثرت اُن کی عیادت کو پہنچے ۔ ایک شخص نے بتایا کہ جب میں اُن کی عیادت کو پہنچا تو دیکھا کہ وہ تکلیف کی وجہ سے کبھی کھڑے ہوتے تھے اور کبھی بیٹھتے تھے اور کہتے تھے:‘‘ یہ اُٹھنا بیٹھنا کل میرے کسی کام نہیں آئے گا جب میری پیشانی کے بال اور میرے ہاتھ پاؤں پکڑ کر دوزخ میں ڈالا جائے گا ۔’’مملکت اسلامیہ کے حکمراں نے اُن کے پاس بصرہ کے لوگوں میں تقسیم کرنے کے لئے بھیجا لیکن انہوں نے انکار کر دیا اور امام مالک بن دینار نے قبول کر لیا ۔ جب محمد بن واسع کو معلوم ہوا تو انہوں نے مالک بن دینار کو ملامت کی ۔ اِس پر انہوں نے کہا: ‘‘ آپ میرے ساتھیوں سے پوچھ سکتے ہیں کہ اس مال کا میں نے کیا کیا ہے؟’’ لوگوں نے بتایا: ‘‘ اِس مال سے امام مالک بن دینار نے غلاموں کو خرید کر آزاد کردیا ہے۔’’ اِس پر محمد بن واسع نے کہا: ‘‘ میں نے اﷲ سے دعا کی تھی کہ وہ مال پہنچنے سے قبل تمہاری یہی حالت بنادے ۔’’ یہ سن کر امام مالک بن دینار اپنی جگہ کھڑے ہوگئے اور انہوں نے اپنے سر پر مٹی ڈالی اور کہا: ‘‘ اﷲ کو محمد بن واسع نے ہی پہچانا ہے اور مالک بن دینار تُو ان کے مقابلے میں بالکل گدھا ہے گدھا۔’’ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!


اتوار، 28 جنوری، 2024

63 سلطنت امیہ Saltanat e Umayya part 63


63 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 63

124 ھجری : رومیوں سے جنگ، ابو مسلم خراسانی ‘‘تحریک عباسیہ’’ سے منسلک، 124 ھجری کا اختتام، 124 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان، 125 ھجری : ہشام بن عبدالملک کا انتقال، ہشام بن عبدالملک کی مدت حکومت، ولید بن یزید کا دورِ حکومت، " ولی عہد" ولید بن یزید، ولید بن یزید میں خرابیاں، مسلمہ بن ہشام کو ‘‘ولی عہد’’ بنانے کا ارادہ، ولید بن یزید کو خوش خبری، ولید بن یزید ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کا حکمراں، ولید بن یزید کے انتظامات، حکم بن ولید اور عثمان بن ولید کی ‘‘ولی عہدی’’، یوسف بن محمد مدینۂ منورہ کا گورنر، 


124 ھجری : رومیوں سے جنگ

پچھلے دو سال سے مسلمانوں نے رومیوں سے جنگ پر توجہ نہیں دی تھی لیکن اِس سال مسلمانوں نے ‘‘سلطنت روم’’ پر حملہ کیا۔علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: اِس سال 124 ھجری میں سلیمان بن ہشام بن عبدالملک نے ‘‘سلطنت روم’’ کے شہروں پر حملوں کا سلسلہ پھر شروع کیا اور اُس کی مڈبھیڑ سلطنت روم کے بادشاہ ‘‘الیون’’ سے ہوئی ۔سلیمان بن ہشام نے اُسے شکست دی اور مال غنیمت بھی حاصل کیا ۔

ابو مسلم خراسانی ‘‘تحریک عباسیہ’’ سے منسلک

اِس سال ابو مسلم خراسانی بھی ‘‘تحریک عباسیہ’’ سے منسلک ہوگیا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال بنو عباس کے داعیوں کی ایک جماعت مکۂ مکرمہ جانے کے اردے سے نکلی اور جب وہ کوفہ سے ہوکر گذرے تو انہیں معلوم ہوا کہ خالد بن عبداﷲ قسری اور اُس کے اہل خاندان اور ساتھیوں کو عمرو بن یوسف نے قید کر رکھا ہے تو انہوں نے جیل میں جا کر اُن کو دعوت دی کہ وہ ‘‘بنو عباس’’ کے لئے بیعت کر لیں ۔ یہاں اُن کی ملاقات ابو مسلم خراسانی سے ہوئی جو غلام تھا اور اپنے آقا عیسیٰ بن معقل عجلی کی خدمت میں لگا رہتا تھا ۔ اس کی خدمت اور وفاداری کو دیکھ کر بکیر بن ماہان نے اسے چار سو درہم میں خرید لیااور اس کو ‘‘بنو عباس’’ کی دعوت و بیعت کی رہنمائی کے لئے منتخب کر لیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں :بکیر بن ماہان کوفہ آیا تو ‘‘تحریک عباسیہ’’ کے داعیان ایک مکان میں جمع ہوئے ۔ان کی اطلاع حکومت کو ہوئی اور سب کو گرفتار کر لیا گیا ۔ بکیر بن ماہان کو قید کر دیا گیا اور

 باقی تمام لوگوں کو چھوڑ دیا گیا ۔ جیل میں بکیر بن ماہان کی ملاقات عاصم بن یونس اور عیسیٰ بن معقل عجلی سے ہوئی ۔ عیسیٰ بن معقل عجلی کے ساتھ اُس کا غلام ابو مسلم خراسانی تھا جو اُس کی خدمت کرتا تھا ۔ بکیر بن ماہان نے ان لوگوں کو اپنی تحریک میں شامل ہونے کی دعوت دی اور یہ لوگ اُس کے ہم خیال ہو گئے ۔بکیر بن ماہان نے ابومسلم خراسانی کے بارے میں پوچھا تو عیسیٰ بن مسلم نے بتایا کہ یہ میرا غلام ہے ۔ بکیر بن ماہان نے کہا: ‘‘ کیا آپ اسے بیچنا چاہتے ہیں؟’’ عیسیٰ بن معقل نے کہا: یہ ایسے ہی آپ کی نذر ہے۔’’ بکیر بن ماہان نے کہا: ‘‘ میں چاہتا ہوں کہ آپ اِس کی قیمت لے لیں۔’’ عیسیٰ بن معقل نے کہا: ‘‘ آپ جو قیمت چاہیں دے دیں۔’’ بکیر بن ماہان نے چار سو درہم دیئے ۔جب یہ سب آزاد ہوئے تو بکیر بن ماہان نے ابو مسلم خراسانی کو ابراہیم کے پاس بھیج دیا ۔ ایک روایت میں ہے کہ بکیر بن ماہان نے ابو مسلم خراسانی کو ‘‘تحریک عباسیہ’’ میں شامل ہونے کی دعوت دی جو اُس نے خوشی سے قبول کر لی ۔

124 ھجری کا اختتام

124 ھجری کے اختتام پر وہی سب گورنر تھے جو پچھلے سال تھے ۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال محمد بن علی کا انتقال ہواجو ‘‘تحریک عباسیہ’’ کی دعوت کے روح رواں تھے اور اِس سلسلہ میں لوگ انہی کی طرف رجوع کرتے تھے ۔ محمد بن علی کے انتقال کے بعد اُن کے بیٹے ‘‘ابوالعباس سفاح’’ نے اُن کی جگہ اِس تحریک کی قیادت سنبھال لی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال امام واقدی کے قول کے مطابق محمد بن علی بن عبداﷲ بن عباس کا انتقال ہوا۔ اِس سال کے اختتام پر ملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر اور ناظم اعلیٰ یوسف بن عمرو تھا ۔ ملک خراسان کا کا گورنر نصر بن سیار تھا۔ ابن شیرمہ ‘‘سیستان’’ کا گورنر تھا۔ملک یمن میں یوسف بن عمرو کا بیٹا گورنر تھا ۔اِس سال کوفہ کے قاضی محمد بن عبدالرحمن تھے ۔ عامر بن عبیدہ بصرہ کے قاضی تھے ۔ مروان بن محمد آذربائیجان اور آرمینیہ کا گورنر تھا ۔ مکۂ مکرمہ ، مدینۂ منورہ اور طائف کا گورنر محمد بن ہشام بن اسماعیل تھااور اُسی نے مسلمانوں کو حج کرایا۔ اِس سال عبدالعزیز بن حجاج بن عبدالملک نے اپنی بیوی ام سلمہ بنت ہشام بن عبدالملک کے ساتھ حج کا فریضہ ادا کیا۔ 

124 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان

اِس سا ل جن کو انتقال ہوا اُن میں سے کچھ یہ ہیں۔علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال قاسم بن ابی برہ کا انتقال ہوا ۔ یہ عبداﷲ بن سائب کے غلام تھے اور جلیل القدر تابعی ہیں۔ انہوں نے ابوطفیل عامر بن واثلہ سے روایات بیان کی ہیں اور خود اِن سے بہت سے تابعین نے روایات بیان کی ہیں اور آئمہ نے اِن کی توثیق کی ہے ۔ اِس سال امام زہری کا انتقال ہوا۔ اِن کانام محمد بن مسلم بن عبیداﷲ بن شباب بن عبداﷲ بن حارث بن زہرہ بن کلاب بن مرہ ہے ۔اِن کی کنیت ابوبکر ہے قریشی اور زہری ہیں۔آئمہ اسلام میں ہمیشہ زبردست حیثیت کے مالک رہے اور جلیل القدر تابعی ہیں ۔امام زہری 85 ھجری میں پیدا ہوئے ۔یہ حضرت سعید بن مسیب کی صحبت میں آٹھ سال رہے ۔ یہ حدیث کے مشائخ کے ارد گرد چکر لگاتے رہتے تھے اور اُن سے سنی ہوئی حدیث اپنے پاس تحریر کر لیتے تھے ۔یہاں تک کہ یہ اپنے عہد کے سب سے بڑے عالم اور اپنے زمانہ کے بہت بڑے علامہ بن گئے تھے ۔امام زہری امیرالمومنین عبدالملک بن مروان کے پاس گئے تو اُس نے ان کی بہت عزت و توقیر کی اور اپنے ہم نشینوں اور مصاحبوں میں شامل کر لیا ۔اس کے بعد ولید بن عبدالملک اور سلیمان بن عبدالملک کے مقربین میں سے رہے ۔آپ کو یہی مرتبہ حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے بھی دیا اور یزید بن عبدالملک نے بھی بہت عزت دی ۔اُس نے آپ کو سلیمان بن حبیب کے ساتھ جوائنٹ قاضی بنا دیا اور پھر آپ ملک شام کے ‘‘خطیب’’ بن گئے اور اس کیساتھ ہی انہوں نے حج بھی کیا۔ اِس سال بلال بن سعد کا انتقال ہوا ۔ یہ کبار زاہدوں میں سے ہیں نہایت عبادت گزار اور صائم الدہر تھے ۔اِن کے والد صحابی تھے اور انہوں نے اپنے والد سے روایات بیان کی ہیں ۔اِس کے علاوہ حضرت عبداﷲ بن عمر فاروق اور حضرت ابوالدرداء رضی اﷲ عنہم سے بھی روایات بیان کی ہیں۔ اِن سے تابعین کی ایک جماعت نے روایات بیان کی ہیں جن میں امام اوزاعی بھی ہیں اور ان کا بیان ہے کہ آج تک ان جیسا واعظ کسی کو نہیں دیکھا۔

125 ھجری : ہشام بن عبدالملک کا انتقال

125 ھجری میں ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کے حکمراں ہشام بن عبدالملک کا انتقال ہوگیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ابو العلاء کہتے ہیں کہ ایک روز ہشام بن عبدالملک سواری کے لئے باہر نکلا تو اُس کے چہرے پر اضمہلال کے آثار ہویدا تھے ۔کپڑے بھی ڈھیلے ڈھالے ہو رہے تھے اورگھوڑے کی باگ بھی اُس نے چھوڑ دی تھی ۔ تھوڑی دیر اسی طرح چلنے کے بعد اُسے خیال اور اُس نے اپنے کپڑے ٹھیک کئے اور گھوڑے کی باگ ہاتھ میں لے لی ۔پھر ربیع کو بولا: ‘‘ ابرش کو بلاؤ۔’’ وہ حاضر ہوا اور میرے اور ہشام بن عبدالملک کے درمیان چلتا ہوا بولا: ‘‘ امیرالمومنین! میں آپ کی ایسی حالت دیکھ رہا ہوں جس سے مجھے رنج ہو رہا ہے ۔’’ ہشام بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ کیا بات ہے؟’’ ابرش نے کہا: ‘‘ آپ سواری کے لئے اس طرح باہر تشریف لائے جسے دیکھ کر مجھے رنج ہو رہا ہے ۔’’ ہشام بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ ہاں ابرش! میں غمگین کیوں نہ ہوں جبکہ طبیبوں(اُس زمانے کے ڈاکٹروں)نے کہہ دیا ہے کہ میں تینتیس (۳۳) روز میں مر جاؤں گا۔’’ سالم کہتے ہیں کہ میں نے اپنے مکان میں واپس آکر کاغذ پر لکھ لیا کہ فلاں دن امیرالمومنین نے ایسا کہا ہے ۔ جب وہ رات آئی جس دن تینتیس (۳۳) دن پورے ہونے والے تھے کہ یکایک ایک خادم نے دروازہ پر دستک دی اور کہا: ‘‘ امیرالمومنین یاد فرماتے ہیں اور یہ بھی کہا ہے کہ زہرباد کی دوا اپنے ساتھ لیتے آؤ۔’’ یہ مرض پہلے بھی ایک مرتبہ انہیں ہوچکا تھا مگر علاج سے افاقہ ہوگیا تھا ۔میں دوا لیکر خدمت میں حاضر ہوا ۔انہوں نے دوا سے غرارہ کیا ،اس سے درد میں شدت ہوئی لیکن پھر آرام ہوگیا ۔مجھ سے کہا: ‘‘ اب درد میں سکون ہے تم اپنے گھر جاؤ اور دوا کو میرے پاس چھوڑ دو ۔’’ میں واپس چلا آیا ۔مجھے آئے تھوڑی دیر ہی ہوئی ہوگی کہ امیرالمومنین کا انتقال ہوگیا اور خواتین نے آہ و بکا شروع کردی ۔مرنے کے بعد مہتمم توشہ خانہ نے محل کے تمام دروازے بند کر دیئے ۔اُن کے غسل کے لئے پانی گرم کرنے کے لئے برتن تلاش کیا مگر کوئی نہ ملا ۔ایک ہمسایہ سے عاریتہً لیا گیا ۔اِس پر بعض حاضرین ے کہا: ‘‘ یہ عقلمندوں کے لئے عبرت کا مقام ہے۔زہر باد کی وجہ سے ان کا انتقال ہوا۔ مسلمہ بن ہشام نے نماز جنازہ پڑھائی۔ 

ہشام بن عبدالملک کی مدت حکومت

ہشام بن عبدالملک نے لگ بھگ اُنیس سال حکومت کی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ہشام بن عبدالملک کا ایک درباری عقال بن شبہ کہتا ہے کہ میں امیرالمومنین کی خدمت میں حاضر ہواتو دیکھا کہ وہ ایک سبز رنگ کی پوستین کی قبا پہنے ہوئے ہے۔ مجھے اُس نے خراسان جانے کاحکم دیا اور کچھ ہدایتیں کرنے لگا ۔میں اُس کی قبا کو ہی دیکھتا رہا تو ہشام بن عبدالملک تاڑ گیا اور اُس نے پوچھا :‘‘ کیاہے؟’’ میں نے کہا:‘‘ حکومت کی ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے بھی میں نے آپ کو ایک سبز پوستین کی قبا پہنے دیکھا تھا ۔اب میں یہی غور کر رہا ہوں کہ کیا وہ یہی ہے یا کوئی دوسری ہے؟’’ ہشام بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ اُس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے! میرے پاس سوائے اِس قبا کے دوسری کوئی قبا نہیں ہے۔یہ جو تم دیکھتے ہو کہ میں روپیہ جمع کرتا ہوں اور اس کی حفاظت کرتا ہوں تو یہ سب مسلمانوں کی خاطر ہے ۔’’تمام ارباب ِ سیر کا اِس پر اتفاق ہے کہ ہشام بن عبدالملک کی حکومت کی مدت اُنیس سال سات مہینے اور اکیس دن تھی ۔امام مدائنی اور امام ابن کلبی اور امام ابو معشر نے اُنیس سال ساڑھے آٹھ مہینے اور امام واقدی نے اُنیس سال سات مہینے بیان کی ہے ۔ہشام بن عبدالملک کی عُمر میں اختلاف ہے ۔امام ابن کلبی نے پچپن سال اور دوروں نے باون سال بیان کی ہے اور امام محمد بن عمر نے جون سال بیان کی ہے ۔ رفاصہ میں ہشام بن عبدالملک کا انتقال ہوا اور وہیں اُس کی قبر ہے ۔ابو ولید اس کی کنیت ہے ۔


ولید بن یزید کا دورِ حکومت 

" ولی عہد" ولید بن یزید

سلیمان بن عبدالملک نے وصیت کی تھی کہ میرے بعد حضرت عُمر بن عبدالعزیز ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کے حکمراں ہوں گے اور اُن کے بعد میرا بھائی یزید بن عبدالملک ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کا حکمراں ہوگا۔ یزید بن عبدالملک جب ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کا حکمراں بنا تو اپنے دورِ حکومت کے آخری دنوں میں اپنے بیٹے ولید بن یزید کا ‘‘ولی عہد’’ بنانا چاہا لیکن وہ اُس وقت لگ بھگ گیارہ سال کا تھا اِس لئے یزید بن عبدالملک نے اپنے بھائی ہشام بن عبدالملک کو ‘‘ولی عہد’’ بنایا اور پھر اُس کے بعد اپنے بیٹے ولید بن یزید کو‘‘ولی عہد’’ بنایا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس بات کا ذکر پہلے گزرچکا ہے کہ یزید بن عبدالملک نے اپنے بھائی ہشام بن عبدالملک کو ‘‘ولی عہد’’ مقرر کیا تھا اور اُس کا ‘‘ولی عہد’’ اپنے بیٹے ولید بن یزید کو بنایا تھا ۔جس روز ولید بن یزید کی ‘‘ولی عہدی’’ کی بیعت لی گئی اُس کی عمر گیارہ سال تھی ۔جب ولید بن یزید پندرہ سال کا ہوگیا تو یزید بن عبدالملک اُس کو دیکھ کر افسوس کرنے لگا اور اپنے بیٹے سے کہتا تھا:‘‘ اﷲ میرے اور اُس شخص کے درمیان فیصلہ کرے گا جس نے ہشام بن عبدالملک کو میرے اور تیرے درمیان کر دیا۔’’اس کے کچھ دنوں بعد یزید بن عبدالملک کا انتقال ہوگیا تو اُس کی جگہ ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کا حکمراں ہشام بن عبدالملک بنا اور اُس نے اُنیس سال حکومت کی ۔اُس کے انتقال کے وقت ولید بن عبدالملک کی عُمر لگ بھگ چونتیس سال تھی ۔

ولید بن یزید میں خرابیاں

ہشام بن عبدالملک کے دور ِ حکومت میں اُس کے ‘‘ولی عہد’’ ولید بن یزید میں بہت سی خرابیاں پیدا ہوگئی تھیں۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ہشام بن عبدالملک جب ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کا حکمراں بنا تو وہ ولید بن یزید کی بہت عزت و تکریم کرتا تھا اور عرصہ تک دونوں کے تعلقات اِسی قسم کے رہے ۔ پھر ولید بن یزید نے شراب پینا شروع کردیا تھا اور واہی تباہی باتیں کرنے لگا تھا ۔ اِن چیزوں کی عادت اُسے اُس کے اتالیق (استاد) عبدالصمد بن عبدالاعلیٰ شیبانی نے لگائی ۔ ولید نے اپنے خوشامدی دوست بھی پال لئے تھے ۔ہشام بن عبدالملک نے اُن لوگوں کو اس سے علیحدہ کرنے کی خاطر ولید بن یزید کو ‘‘امیر حج’’ بنا کر بھیجا تھا لیکن وہاں بھی وہ شراب لیکر گیا ۔ یہ اپنے ساتھ صندوقوں میں کتے بھی لے گیا تھا اور ایک صندوق جس میں کتا تھا اُتارنے چڑھانے میں گر گیا تو ولید بن یزید کے خادموں نے اونٹ والے کو کوڑوں سے سخت مار ماری۔۔ولید بن یزید اپنے ساتھ خانۂ کعبہ کے برابر ایک شامیانہ بھی بنوا کر لے گیا تھا اور شراب بھی اُس کے ساتھ تھی۔ اُس کا ارادہ یہ تھا کہ خانۂ کعبہ پر شامیانہ نصب کر کے اُس پر مجلس گرم ہو مگر اس ارادہ سے اُس کے ساتھیوں نے ڈرا کر باز رکھا اور کہا: ‘‘ اگر ایسا کیا گیا تو ہمیں مسلمانوں کی جانب سے اپنی اور آپ کی جان کا خطرہ ہے ۔’’ اِس وجہ سے ولید بن یزید نے شامیانہ کو ہاتھ نہیں لگایا۔ 

مسلمہ بن ہشام کو ‘‘ولی عہد’’ بنانے کا ارادہ

امیر المومنین ہشام بن عبدالملک نے جب ولید بن یزید میں یہ خرابیاں دیکھی تو اُس کا ارادہ ہوا کہ اپنے بیٹے مسلمہ بن ہشام کو ‘‘ولی عہد’’ بنائے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب یہ بات عام ہوگئی کہ ولید بن یزید مذہب کی توہین کرتا ہے اور مذاق اُڑاتا ہے اور ہشام بن عبدالملک کو بھی اِس شہرت کی اطلاع ہوئی تو اُس نے ارادہ کیا کہ اُسے ‘‘ولی عہدی’’ سے ہٹا دے اور اُس کے بجائے اپنے بیٹے مسلمہ بن ہشام کے لئے بیعت لے لے ۔ہشام بن عبدالملک نے ولید بن یزید سے اپنی خواہش ظاہر کیاور کہا کہ وہ خود اپنے حق سے دست بردار ہوجائے لیکن ولید بن یزید انکار کر دیا ۔ اِس کے بعد سے ہشام بن عبدالملک کا رویہ اُس سے بدل گیا اور وہ ولید بن یزید کو تکلیف پہنچانے لگا اور خفیہ طور سے اپنے بیٹے کے لئے بیعت لینے کی کاروائی کر نے لگا ۔ بعض لوگوں نے اِس بات کو منظور بھی کر لیا تھا ۔ ولید بن یزید کی وہی حالت رہی اور وہ شراب اور نشاط میں مست رہتا تھا ۔ہشام بن عبدالملک نے ایک دن اُسے کہا :‘‘ میں نہیں جانتا کہ تم مذہب اسلام پر ہو یا نہیں ؟ کوئی برائی ایسی نہیں ہے جسے تم نہایت ڈھٹائی سے علانیہ نہ کرتے ہو۔ ’’ اِس پر ولید بن یزید نے کہا: ‘‘ جو شخص ہمارے مذہب کو پوچھتا ہے اُسے معلوم ہونا چاہیئے کہ ہم ابو شکر کے مذہب پر ہیں ۔ہم نری شراب پیتے ہیں اور کبھی کبھی اِس میں گرم یا نیم گرم پانی ملا کر پیتے ہیں۔’’ابو شاکر مسلمہ بن ہشام کی کنیت تھی ۔ ہشام بن عبدالملک اپنے بیٹے پر بہت خفا ہوا اور بولا: ‘‘ تمہاری وجہ سے ولید بن یزید نے مجھ پر طنز کیا ہے جبکہ میں تجھے حکومت کے لئے تیار کر رہا ہوں ۔اپنی عادت درست کرو اور ہمیشہ نماز جماعت کے ساتھ پڑھو۔’’ 

ولید بن یزید کو خوش خبری

ولید بن یزید کے ساتھ امیرالمومنین ہشام بن عبدالملک کا رویہ بہت ہی خراب ہو گیا تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ہشام بن عبدالملک اِس کے بعد ہر وقت ولید بن یزید کی برائی اور تنقیص کرتا رہتا تھا اور اب تو اُس کی اور اُسکے دوستوں کی اہانت بھی کرنے لگا تھا اور اُس کے منصب میں بھی کمی کر دی تھی ۔جب ولید بن یزید نے یہ رنگ دیکھا تو وہ اپنے خاص لوگوں اور دوستوں کو لیکر دارالخلافہ چھوڑ دیا اور مقام ‘‘ارزق’’ میں بلقین اور قزارہ کے درمیان ‘‘اغذف’’ نام کے چشمہ پر مقیم ہوگیا۔ اور ایک آزاد غلام کو امیر المومنین کے پاس چھوڑ آیا تاکہ جو نئی بات پیش آئے تو اس کی اطلاع ملتی رہے ۔جب ہشام بن عبدالملک کا انتقال ہوا تو ولید بن یزید وہیں مقیم تھا ۔صبح اُس نے منذر بن ابی عمرو کو بلوایا اور کہا: ‘‘ جب سے میں ہوش سنبھالا ہے اتنی طویل کوئی رات مجھ پر نہیں گذری ہے جیسی کل کی رات تھی ۔ چلو ذرا ہوا خوری کر آئیں۔’’ دونوں سوار ہو کر سیر کے لئے چلے اور دو میل چل کر ولید ایک ریت کے ٹیلے پر جا کر کھڑا ہوگیا اور ہشام بن عبدالملک کی شکایت کرنے لگا ۔ اتنے میں ایک غبار پر نظر پڑی ۔ولید بن یزید نے کہا: ‘‘ یہ ضرور ہشام بن عبدالملک کے قاصد آ رہے ہوں گے اﷲ خیر کرے۔’’ دو شخص ڈاک کے گھوڑوں پر سوار سامنے آئے اور آکر ولید بن یزید کو حکمراں والا سلام کہا۔ ولید بن یزید نیچے دیکھتے ہوئے خاموش کھڑا تھا ۔انہوں نے پھر اُسے حکمراں والا سلام کہا تو ولید بن یزید نے کہا: ‘‘ کیا ہشام بن عبدالملک مر گیا ہے؟’’ ایک نے کہا: ‘‘ ہاں ۔’’ اور ایک خط دیا ۔ ولید بن یزید نے پوچھا:‘‘ یہ کس کا خط ہے؟’’ اُس نے جواب دیا : ‘‘ آپ کے غلام کا۔’’ ولید بن یزید نے خط پڑھا اور واپس آگیا ۔ 

ولید بن یزید ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کا حکمراں

ولید بن یزیددمشق آکر ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کا حکمراں بن گیا اور اُس نے حکومت کا انتظام سنبھال لیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ولید بن یزید نے عباس بن ولید بن عبدالملک کو حکم بھیجا کہ تم ‘‘رصافہ’’ ( جہاں ہشام بن عبدالملک کا انتقا ل ہواتھا)جا کر وہاں ہشام بن عبدالملک کا جس قدر مال و متاع ہو اُسے اپنے قبضہ میں لے لو اور اس کی اولاد ،عہدیدار اور ملازمین کو گرفتار کر لولیکن مسلم بن ہشام سے کوئی تعارض نہیں کرنا اور نہ اُس کے محل سرا میں گھسنا کیونکہ وہ میرے لئے اکثر اپنے باپ سے لڑتا تھا ۔عباس بن ولید نے آکر حکم کی تعمیل کی ۔ولید بن یزید نے اپنے عہدیدار مقرر کئے اور اطراف و اکناف سے اُس کے حکمراں بننے کی اور بیعت کی خبریں موصومل ہوئیں۔گورنروں نے بھی اطاعت کے خطوط لکھے اور وفود بھی آئے ۔ 

ولید بن یزید کے انتظامات

سلطنت اُمیہ کا حکمراں بننے کے بعد ولید بن یزید نے انتظامات کئے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ولید بن یزید نے حکمراں بنتے ہی شامیوں میں جس قدر اپاہج اور نابینا تھے اُن کے وظائف مقرر کر دیئے اور انہیں لباس بھی دیا اور ہر معذور کے لئے ایک خادم مقرر کر دیا ۔ لوگوں کے خاندانوں کے لئے سرکاری توشہ خانہ سے تحائف اور لباس نکلوا کر اس سے زیادہ دیئے جتنا ہشام بن عبدالملک دیا کرتا تھا ۔اہل شام کی تنخواہوں میں دس کا اضافہ کیا اور اس کے خاندان والے جو اُس کے پاس آئے ان کے مناصب میں ڈبل اضافہ کیا ۔ولید بن یزید جب ولی عہد تھا تو اُس کا دستور تھا کہ موسم گرما کے مجاہدین جب واپس آتے تھے تو اُن کی دعوت کرتا تھا ۔اِسی طرح حاجیوں کی واپسی پر تین دنوں تک اُن کی دعوت کرتا تھا اور اُن کی سواریوں کو بھی کھلاتا تھا ۔ حکمراں بننے کے بعد بھی اُس کا وہی رویہ رہا بلکہ اُن میں اور اضافہ کردیا۔

حکم بن ولید اور عثمان بن ولید کی ‘‘ولی عہدی’’

اِس سال ولید بن یزید نے اپنا ‘‘ولی عہد’’ مقرر کر دیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں اِس سال ولید بن یزید نے اپنے بیٹوں حکم بن ولی د اور عثمان بن ولید کو اپنا ‘‘ولی عہد’’مقرر کر دیا ۔ حکم بن ولید کو پہلے رکھا اور عثمان بن ولید کو اُس کے بعد رکھا ۔ اِس کے لئے اعیان و اکابر سے حلف اطاعت لیا اور تمام صوبوں کے گورنروں کو بھی اطلاع بھیج دی۔ اِن میں ملک عراق کا گورنر یوسف بن عمرو بھی تھا اور اُس نے نصر بن سیار کو بھی ‘‘ولی عہد’’ کے بارے میں لکھا: امیرالمومنین ولید بن یزید نے اپنے بیٹوں حکم بن ولید اور عثمان بن ولید کو ‘‘ولی عہد’’ بنایا ہے ۔ تم خراسان کے لوگوں سے ان کے بارے میں بیعت لو۔’’ 

یوسف بن محمد مدینۂ منورہ کا گورنر

اِس سال ولید بن یزید نے مدینۂ منورہ کے گورنر محمد بن ہشام بن اسماعیل کو معزول کر دیا اور یوسف بن محمد کو مدینۂ منورہ کا گورنر بنا دیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 125 ھجری میں ولید بن یزید نے اپنے ماموں یوسف بن محمدبن یوسف ثقفی کو مدینۂ منورہ ، مکۂ مکرمہ اور طائف کا گورنر مقرر کر کے بھیجا اور ابراہیم بن ہشام بن اسماعیل اور محمد بن ہشام بن اسماعیل کو دو اونی عباؤں میں جکڑ بند کر کے اُس کے حوالے کیا ۔یوسف بن محمد نے دونوں کی مدینۂ منورہ میں تشہیر کی ۔پھر اُسے ولید بن یزید نے لکھا کہ ان دونوں کو ملک عراق کے گورنریوسف بن عمرو کے پاس بھیج دو ۔ جب یہ دونوں اُس کے پاس پہنچے تو اُس سے انہیں طرح طرح کی تکلیف دینا شروع کر دی اور اسی طرح آخر انہیں مار ڈالا۔اِن کے خلاف ولید بن یزید سے شکایت کی گئی تھی کہ انہوں نے بہت سا سرکاری روپیہ غبن کر لیا ہے ۔ اِس سال یوسف بن محمد نے سعد بن ابراہیم کو مدینۂ منورہ کے قاضی کے عہدہ سے برطرف کر دیا اور اُن کی جگہ یحییٰ بن سعید انصاری کو قاضی مقرر کیا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!


ہفتہ، 27 جنوری، 2024

64 سلطنت امیہ Saltanat e Umayya part 64

 


64 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 64

رومیوں سے جنگ، ابو مسلم خراسانی کی آزادی، 125 ھجری کا اختتام ، محمد بن علی کا انتقال، 126 ھجری :ولید بن یزید کے خلاف عوام کی بیزاری، ولید بن یزید کے خاندان بنو امیہ پر مظالم، ولید بن یزید کے خلاف یزید بن ولید، یزید بن ولید کا دمشق پر قبضہ، ولید بن یزید کا قتل، ولید بن یزید کی مدت حکومت، یزید (ناقص) بن ولید سلطنت اُمیہ کا حکمراں، اہل حمص کی بغاوت، سلیمان بن ہشام ، یزید بن ولید کا سپہ سالار، اہل حمص کی شکست، اہل فلسطین کی بغاوت ،منصور بن جمہور ملک عراق کا گورنر، "ولی عہدی" کا اعلان، یزید بن ولید کا انتقال، 126 ھجری کا اختتام

رومیوں سے جنگ

اِس سال حکمراں بننے کے بعد ولید بن یزید نے رومیوں سے جنگ کے لئے خشکی اور بحری دونوں لشکر روانہ کئے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال ولید بن یزید نے اپنے بھائی عمر بن یزید کو رومیوں سے جہاد کرنے پر روانہ کیا اور اسود بن بلال محاربی کو ‘‘امیر البحر’’ مقرر کر کے قبرص بھیجا۔ اس نے دونوں کو یہ حکم دیا کہ وہاں باشندوں کو اختیار دینا کہ وہ جہاں جانا چاہیں انہیں پہنچا دینا۔اُن میں سے بہت سوں نے مسلمانوں کے ساتھ رہنا پسند کیا اور بہت سوں نے رومی علاقے میں جانا پسند کیا تو انہیں وہاں بھیج دیا ۔ 

ابو مسلم خراسانی کی آزادی

اِس سال ابو مسلم خراسانی غلامی سے آزاد ہوا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اِس سال سلیمان بن کثیر ، مالک بن ہیثم ، لاہظ بن قریظ اور قحطبہ بن شبیب نے محمد بن علی سے ملاقات کی اور اُن سے ابو مسلم خراسانی کا قصہ اور اُس کے چشم دید حالات بیان کئے ۔محمد بن علی نے اُن سے بوچھا :‘‘ وہ آزاد ہے یا غلام؟’’ انہوں نے کہا:‘‘ عیسیٰ بن معقل کہتا ہے کہ وہ غلام ہے مگر وہ خود کہتا ہے کہ وہ آزاد ہے۔’’ محمد بن علی نے کہا: ‘‘ تم لوگ اُسے خرید کر آزاد کر دو۔’’اُن لوگوں نے محمد بن علی کو دولاکھ درہم نقد اور تیس ہزار درہم کے کپڑے دیئے ۔محمد بن علی نے کہا: ‘‘ مجھے لگتا ہے کہ اِس سال کے بعد تم مجھے نہیں پاؤگے ۔اگر مجھے کوئی سانحہ پیش آجائے تو پھر تمہارا امام میرا بیٹا ابراہیم بن محمد ہو گا اور مجھے ان پر پورا اعتماد ہے اور میں تم لوگوں کو اس کے ساتھ اخلاص سے پیش آنا اور میں اُسے بھی تمہارے ساتھ حسن سلوک کی ہدایت کردی ہے ۔’’ یہ لوگ ان سے مل کر چلے آئے ۔محمد بن علی کا ذی القعدہ کی چاند رات ترسٹھ سال کی عمر میں انتقال ہوا۔ 

125 ھجری کا اختتام 

125 ھجری کے اختتام پر ملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر اور ناظم اعلیٰ یوسف بن عمرو تھا ۔ ملک خراسان کا کا گورنر نصر بن سیار تھا۔ ابن شیرمہ ‘‘سیستان’’ کا گورنر تھا۔ملک یمن میں یوسف بن عمرو کا بیٹا گورنر تھا ۔ مروان بن محمد آذربائیجان اور آرمینیہ کا گورنر تھا ۔مکۂ مکرمہ ،مدینۂ منورہ اور طائف کا گورنر یوسف بن محمد تھا اور اُسی نے مسلمانوں کو حج کروایا۔ 

محمد بن علی کا انتقال

اِس سال 125 ھجری میں ‘‘تحریک عباسیہ’’ کے بانی محمد بن علی بن عبداﷲ بن عباس بن عبدالمطلب کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال محمد بن علی بن عبداﷲ بن عباس بن عبدالمطلب کا انتقال ہوا۔یہ سفاح اور منصور کے والد ہیں ۔انہوں نے اپنے والد اور سعید بن جبیر اور ایک جماعت سے روایات بیان کی ہیں۔اور اِن سے ایک جماعت نے روایات بیان کی ہیں۔اِن میں اُن کے دونوں بیٹے ابوالعباس عبداﷲ بن علی سفاح اور ابوجعفر عبداﷲ بن علی منصورجو ‘‘ سلطنت عباسیہ’’ کے حکمراں بھی ہیں وہ بھی شامل ہیں۔ حضرت محمد بن حنیفہ نے اپنے بعد محمد بن علی کی امارت کی وصیت کی تھی اور محمد بن علی سے یہ بھی فرمایا تھا کہ عنقریب تمہارے بیٹوں کو حکومت ملے گی ۔ محمد بن علی نے ‘‘تحریک عباسیہ’’ ۸۷ ؁ ھجری میں شروع کی اور دن بدن اس کو عروج ہی حاصل ہوتا گیا ۔ انہوں نے اپنے بیٹے ابراہیم بن علی کے لئے وصیت کی تھی لیکن اِن کے دوسرے بیٹے عبداﷲ بن علی سفاح نے ۱۳۲ ؁ ھجری میں بنو اُمیہ کے ہاتھ سے حکومت چھین لی اور‘‘سلطنت عباسیہ’’ قائم کی ۔

126 ھجری :ولید بن یزید کے خلاف عوام کی بیزاری

ولید بن یزید جب ولی عہد تھا تو بہت سی برائیوں میں مبتلا ہو گیا تھا ۔امیرالمومنین بننے کے بعد اُس کی برائیوں میں اضافہ ہو گیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ ولید بن یزید حکمراں بننے سے پہلے اپنے حکمراں سے سرکشی کی تھی اور پھر اپنے مذہب اسلام کی توہین اور استخفاف کرتا رہتا تھا ۔جب وہ خود حکمراں بنا تو اُس کے لہو ولعب یعنی شیرو شکار ، شراب خوری اور فاسق و فاجر لوگوں کی صحبت میں اضافہ ہو گیا ۔اُس کی اِس روش ِ زندگی سے اُس کے عہدیدار ، رعایا اور فوج بیزار ہوگئی اور وہ اُس کی حکمرانی سے بھی بیزار ہوگئے ۔سب سے بڑی غلطی جو اُس نے اپنے مفاد کے خلاف کی اور یہ اُس کے قتل کی اصل وجہ ہوئی کہ اُس نے ہشام بن عبدالملک اور ولید بن عبدالملک کے بیٹوں یعنی اپنے چچیرے بھائیوں سے بگاڑ کر لیا ۔ اِس کے ساتھ اُس نے یمنی عربوں کو جو ملک شام کی فوج میں غالب تعداد میں تھے انہیں بھی اپنے خلاف کر لیا۔ 

ولید بن یزید کے خاندان بنو امیہ پر مظالم

ولید بن یزید نے حکمراں بننے کے بعد اپنے ہی خاندان والوں پر ظلم کرنا شروع کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبرلکھتے ہیں : منہال بن عبدالملک کہتا ہے کہ ولید بن یزید ہمیشہ سیرو شکار اور عیش و آرام میں زندگی بسر کرتا تھا ۔ جب وہ ‘‘سلطنت ِ اُمیہ’’ کا حکمراں بنا تو وہ آبادی سے گھبراتا تھا اور ہمیشہ ایک جگہ سے دوری جگہ منتقل ہوتا رہتا اور شکار کھیلتا رہتا تھا ۔آخر کار وہ رعایا اور فوج پر دوبھر ہو گیا ۔اُس نے اپنے چچا ہشام بن عبدالملک کے بیٹے سلیمان بن ہشام کو سو درے لگوائے اور اُس کی داڑھی منڈوا ڈالی اور جلا وطن کر کے عمان بھیج دیا اور وہ ولید بن یزید کے قتل تک وہیں رہا۔ ولید بن یزید نے اپنے دوسرے چچا ولید بن عبدالملک کے بیٹے عمر بن ولید کی ایک لونڈی پر قبضہ کر لیا ۔اور جب اُس سے واپس مانگی گئی تو اُس نے دینے سے انکار کر دیا ۔اِس پر عُمر بن ولید نے کہا: ‘‘ اب تم بے شمار شہسواروں کے گھوڑوں کی ٹاپوں کی آواز اپنی قیام گاہ کے گرد سنو گے ۔’’ولید بن یزید نے یزید بن ہشام کو قید کر دیا اور اُس نے اپنے دونوں بیٹوں حکم بن ولید اور عثمان بن ولید کی ‘‘ولی عہدی’’ کے لئے بیعت لینا چاہی اور اِس معاملہ سعید بن بیہس بن مہیب سے مشورہ لیا ۔اُس نے کہا: ‘‘ ایسا نہ کرو! کیونکہ یہ دونوں ابھی بالغ نہیں ہوئے ہیں ۔میرے خیال سے تو عقیق بن عبدالعزیز بن ولید بن عبدالملک کے لئے ‘‘ولی عہدی’’ کی بیعت لے لو۔ ولید بن یزید یہ سن کر بہت ناراض ہوا اور سعید بن بیہس کو قید کر دیا اور اُس کا قید میں ہی انتقال ہوا۔ 

ولید بن یزید کے خلاف یزید بن ولید

امیرالمومنین ولید بن یزید کا اپنے خاندان والوں پر ظلم جاری تھا ۔اُس کے ظلم کا شکار اُس کا ایک چچا زاد بھائی یزید بن ولید بھی ہوا اور اُس نے ولید بن یزید کے خلاف آواز اُٹھائی۔علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : بنو اُمیہ ولید بن یزید سے بہت نالاں ہوگئے تھے اور اُن میں سب سے زیادہ سخت اُس کا چچا زاد بھائی یزید بن ولید تھا اور لوگ اُس کی طرف جھکاؤ رکھتے تھے کیونکہ وہ زہد و تقویٰ کا اظہار کرتا تھا اور کہتا تھا :‘‘ ہم ولید بن یزید سے راضی نہیں ہوسکتے حتیٰ کہ لوگ حملہ کر کے اُسے قتل کردیں۔’’ یزید بن عبدالملک نے ولید بن یزید کی نگرانی کے لئے فضاعہ اور یمانیہ کی ایک جماعت اور بہت بڑے بڑے امراء اور ولید بن عبدالملک کی اولاد کو مقرر کیا ۔یزید بن ولید بنو اُمیہ کے سادات میں سے تھا اور وہ دین و تقویٰ اور بھلائی کی طرف منسوب تھا ۔اِسی لئے لوگوں نے اُس کے ہاتھ پر بیعت کر لی ۔ اُس کے بھائی عباس بن ولید نے اُسے منع کیا لیکن وہ نہیں مانا اور بولا: ‘‘ اﷲ کی قسم! اگر مجھے تیرے بارے میں خدشہ نہ ہوتا تو میں تجھے بیڑیاں ڈال کر ولید بن یزید کے پاس بھیج دیتا ۔’’ اتفاق سے دمشق میں ایک وباء پھیلی جس کی وجہ سے لوگ شہر چھوڑ کر صحراء میں جانے لگے ۔ امیرالمومنین ولید بن یزید بھی اپنے دو سو ساتھیوں کے ساتھ دمشق کے بلند مقامات کی طرف گیا اور یزید بن ولید کے لئے آسانی ہوگئی ۔ اُس کے بھائی عباس بن ولید نے پھر سمجھایا لیکن وہ نہیں مانا۔ 

یزید بن ولید کا دمشق پر قبضہ

ولید بن یزید دمشق چھوڑ کر چلا گیا تھا ۔اچانک یزید بن ولید دمشق میں داخل ہوا اور اسلحہ خانے پر قبضہ کر لیا۔ علامہ عمادلدین ابن کثیر لکھتے ہیں : یزید بن ولیدرات کے وقت ایک سیاہ گدھے پر سوار دمشق میں داخل ہوا ولید بن یزید نے اپنی غیر حاضری میں دمشق پر اپنا نائب محمد بن حجاج بن یوسف ثقفی کو مقرر کیا تھا اور ابوالعاج کو سپریٹنڈنٹ پولیس مقرر کیا تھا ۔ یزید بن ولید نے ابولعاج کو بے ہوش کر کے اسلحہ خانے پر قبضہ کر لیا۔ اِس کے بعد یزید بن ولید کے حکم سے دمشق کے دروازوں کو بند کرنے حکم دیا اور کہا کہ سوائے واقف لوگوں کے کسی اور کے لئے دروازہ نہیں کھولا جائے ۔ جب صبح ہوئی تو ہر دروازے سے یزید بن ولید کے حامی داخل ہوئے اور اُس کی فوج جمع ہو گئی ۔ 

ولید بن یزید کا قتل

یزید بن ولید نے دمشق پر قبضہ کرنے کے بعد ولید بن یزید کے قتل کے لئے فوج کو بھیجا ۔ جب ولید بن یزید کو اس کی خبر ہوئی تو وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ بھاگا لیکن اُس کے دوسو ساتھیوں میں سے اکثریت نے اُس کا ساتھ چھوڑ دیا اور چند ساتھی اُس کے ساتھ تھے ۔ وہ ایک قلعے میں آکر چھپ گیا ۔علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : جب لوگوں نے اُن کے اجتماع کو دیکھا تو وہ ولید بن یزید کے پاس سے بھاگ کر اُن کے پاس چلے گئے اور ولید بن یزید تھوڑے سے لوگوں میں ذلیل ہو کر رہ گیا اور اُس نے قلعے میں پناہ لے لی ۔ انہوں نے ہر طرف سے آکر اُس کا محاصرہ کر لیا ۔ ولید بن یزید قلعے کے دروازے کے پاس آیا اور بولا:‘‘ مجھ سے کوئی شریف آدمی گفتگو کرے۔’’ یزید بن عنبسہ سکسکی نے اُس سے گفتگو کی ۔ولید بن یزید نے کہا: ‘‘ کیا میں نے تمہارے محتاجوں کو نہیں دیا؟ کیا میں نے تمہاری عورتوں کی خدمت نہیں کی؟’’ یزید بن عنبسہ نے کہا: ‘‘ ہم محارم کی بے حرمتی کرنے ، شراب نوشی کرنے اور اپنے باپ کے بیٹوں کی ماؤں سے نکاح کرنے اور ا ﷲ کے احکام کی خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے تجھے ملامت کرتے ہیں۔’’ ولید بن یزید نے کہا: ‘‘ اگر تم نے مجھے قتل کر دیا تو تمہارا فتنہ بند نہیں ہوگا اور تم منتشر ہو جاؤ گے اور پھر تم میں اتحاد نہیں ہوگا ۔’’ اس کے بعد وہ محل میں واپس آگیا اور قرآن پاک کھول کر بیٹھ گیا اور بولا:‘‘ آج کا دن حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے دن کی طرح ہے ۔’’ لوگ دیوار پھاند کر اُس کے پاس آگئے اور سب سے پہلے یزید بن عنبسہ آیا اور اُس کی طرف بڑھتے ہوئے بولا: ‘‘ تلوار اُٹھاؤ۔’’ ولید بن یزید نے کہا: ‘‘ اگر تمہارا لڑائی کا ارادہ ہے تو وہ کسی اور جگہ ہو گی ۔’’ یزید بن عنبسہ نے ولید بن یزید کا ہاتھ پکڑا تاکہ اُسے گرفتار کر کے یزید بن ولید کے پاس بھیج دے لیکن اُسی وقت خاندان اُمیہ کے دس امراء آگے بڑھے اور ولید بن یزید کے سر اور چہرے پر تلواریں مارکر اُسے قتل کر دیا ۔ 

ولید بن یزید کی مدت حکومت

ولید بن یزید کی حکومت کی مدت میں اختلاف ہے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اکثر ارباب ِ سیر کا اِس پر اتفاق ہے کہ ولید بن یزید کو پنجشنبہ ماہ جمادی الآخر کے ختم ہونے میں ابھی دو راتیں باقی تھی کہ قتل کیا گیا لیکن اُس کی مدت حکومت میں میں اختلاف ہے ۔امام ابومعشر کہتے ہیں کہ ولید بن یزید ایک سال اور تین مہینہ حکمراں رہا ۔ امام ہشام بن محمد کہتے ہیں اس کی مدت ِ حکومت ایک سال دو مہینہ اور بائیس روز رہی ۔اِسی طرح اُس کی عُمر کے بارے میں بھی اختلاف ہے ۔امام ہشام بن محمد کلبی کہتے ہیں جب وہ قتل ہوا تو اُس کی عمر اڑتیس سال تھی ۔محمد بن عمرو نے چھتیس سال بتائی ہے ۔ بعضوں نے بیالیس سال بیان کی ۔کچھ نے اکتالیس سال بیان کی کسی نے پینتالیس سال اور کسی نے چھیالیس سال بیان کی ہے ۔ولید بن یزید کی کنیت ابو العباس تھی ۔نہایت غصہ ور آدمی تھا ،پیروں کی انگلیاں لمبی تھیں اور وہ اتنا زیادہ طاقتور تھا کہ لوہے کی سلاخ زمین میں گاڑ دی جاتی تھی اور اُس میں ڈوری باندھ کر اُس کے پاؤں میں باندھ دی جاتی تھی ۔پھر وہ اُچھل کر گھوڑے پر سوار ہوجاتا تھا اور وہ سلاخ زمین سے اُکھڑ جاتی تھی ۔وہ بغیر ہاتھ لگائے گھوڑے پر سوار ہو جاتا تھا ۔اچھا شاعر تھا اور بہت بڑا شرابی تھا ۔

یزید بن ولید کا دورِ حکومت 

یزید (ناقص) بن ولید سلطنت اُمیہ کا حکمراں

126 ھجری میں یزید بن ولید ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کا حکمراں بنا۔علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : جن دس آدمیوں نے ولید بن یزید کا قتل کیا اور اُس کا سر لیکر یزید بن ولید کی خدمت میں اور اُسے حکمراں کا سلام کیا تو اُس نے اُن دس آدمیوں میں سے ہر ایک کو دس دس لاکھ درہم دیئے ۔روح بن بشیر بن عقیل نے کہا: ‘‘ اے امیرالمومنین! فاسق ولید بن یزید کے قتل سے خوش ہو جایئے۔‘‘یزید بن ولید نے اﷲ کی بارگاہ میں سجدۂ شکر ادا کیا اور فوجیں یزید بن ولید کے پاس واپس آگئیں ۔ سب سے پہلے یزید بن عنبسہ نے بیعت کے لئے اُس کا ہاتھ پکڑا تو اُس نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور کہا: ‘‘ اگر یہ تیری رضامندی کے لئے ہے تو اس پر میری مدد کرنا ۔’’ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں اِس سال 126 ھجری میں یزید بن ولید بن عبدالملک کے لئے جسے ‘‘یزید ناقص’’ بھی کہتے ہیں بیعت لی گئی اور وہ ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کا حکمراں بن گیا ۔ ‘‘ناقص’’ اِس لئے کہا جاتا تھا کہ ولید بن یزید نے جو لوگوں کی تنخواہ اور روزینے میں دس دس کا اضافہ کیا تھا اُسے یزید بن ولید نے گھٹا دیا ۔ولید بن یزید کے قتل کے بعد اُس نے اُس زیادتی کو کم کر کے تنخواہیں اور روزینے پھر اُتنے کر دیئے جتنے ہشام بن عبدالملک کے دور ِ حکومت میں تھے ۔اس کا یہ نام سب سے پہلے مروان بن محمد نے رکھا تھا ۔اُس نے کہا: ‘‘ یہ ناقص بن ولید ہے ۔’’ اور اس کا نام ‘‘ناقص’’ رکھ دیا اور اِسی وجہ سے لوگ اسے اِسی نام سے یاد کرنے لگے ۔ 

یزید بن ولید کا پہلا خطبہ

سلطنت اُمیہ کا حکمراں بننے کے بعد یزید بن ولید نے اپنا پہلا خطبہ دیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ولید بن یزید کے قتل کے بعد یزید بن ولید نے پہلا خطبہ دیا اور اﷲ کی حمد اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی ثناء کے کہا: ‘‘ اے لوگو! میں نے کسی بدنیتی ، نخوت ، دنیا کی حرص یا حکومت کے لئے خروج نہیں کیا اور نہ ہی میں نفس پرور ہوں ۔اﷲ مجھ پر رحم کرے! میں تو اپنے نفس پر سختی کرتا ہوں بلکہ میں نے اﷲ اور اُس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کے دین کی حمایت و حمایت کے لئے خروج کیا ہے ۔ اِسی لئے میں اﷲ کی کتاب اور اُس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کی سنت کی طرف دعوت دیتا ہوں کیونکہ ہدایت کے بلند مینار ڈھا دیئے گئے تھے ۔اہل تقویٰ کی نورانی قندیل گُل کر دی گئی تھی اور ایسے سرکش مردود کا دور دورہ ہوگیا تھا جس نے ہر حرام کو حلال کر لیا تھا اور ہر بدعت کو اختیار کر لیا تھا ۔وہ نہ تو اﷲ کے کلام کو سچا سمجھتا تھا اور نہ ہی آخرت پر ایمان رکھتا تھا ۔ حالانکہ وہ میرا چچیرا بھائی تھا اور شرافت اور نسب میں میرا مماثل تھا مگر جب میں نے اُس کی یہ روش دیکھی تو اﷲ تعالیٰ سے اِس معاملہ میں استخارہ کیا اور درخواست کی کہ اے اﷲ! تُو میرے نفس کے حوالے نہ کردینا ۔پھر میں نے اِس معاملے میں کاروائی شروع کی اور آخر کار اﷲ نے اپنی مدد اور طاقت سے اپنے بندوں کو راحت دلائی ۔ 

اہل حمص کی بغاوت

ولید بن یزید کے قتل کے ساتھ ہی ‘‘خاندان بنو اُمیہ’’ میں پھوٹ پڑ گئی اور اُن میں آپس میں خانہ جنگی ہونے لگی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: ولید بن یزید کے قتل کے بعد سلیمان بن ہشام نے عمان میں بغاوت کر دی ۔علی بن محمد کہتے ہیں کہ ولید بن یزید کے قتل کے بعد سلیمان بن ہشام جو عمان میں قید تھا وہ جیل سے نکل آیا اور عمان میں جتنا سرکاری روپیہ وغیرہ تھا سب پر اُس نے قبضہ کر لیا اور دمشق کی طرف روانہ ہوا۔اِس سال میں اہل حمص نے یزید بن ولید کے خلاف بغاوت کر دی ۔ مروان بن عبداﷲ بن عبدالملک حمص کا ولید بن یزید کی طرف سے گورنر تھا ۔ یہ اپنی شرافت ، بزرگی ،فراست اور وجاہت کی وجہ سے بنو اُمیہ کے عمائدین میں سے تھا ۔ولید بن یزید کے قتل کی اطلاع جب اہل حمص کو ہوئی تو انہوں نے شہر کے دروازے بند کردئے اور ولید بن یزید کا ماتم کرنے لگے اور قتل کی تفصیل پوچھنے لگے ۔بعض لوگوں نے بتایا کہ ہم یزید بن ولید سے لڑ رہے تھے اور اُس پر حاوی تھے کہ عباس بن ولید اُس کی مدد پر چلا گیا اور ہمیں شکست ہوئی ۔ یہ سنتے ہی اہل حمص نے جوش میں عباس بن ولید کے مکان کو گرا دیا اور اُسے تلاش کرنے لگے لیکن وہ اپنے بھائی یزید بن ولید کے پاس دمشق چلا گیا تھا ۔اِس کے بعد انہوں نے تمام فوجی چھانیوں سے مراسلت شروع کر دی اور انہیں خون کا بدلہ لینے کی دعوت دی اور سب نے منظور کر لیا ۔اہل حمص نے اپنے درمیان یہ تحریری ‘‘عہد’’ کیا کہ وہ کبھی یزید بن ولید کی بیعت نہیں کریں گے بلکہ ولید بن یزید کے دونوں ولی عہد زندہ ہوں گے تو اُن کی بیعت کریں گے اور اگر وہ زندہ نہ ہوئے تو اُس شخص کو اختیار کریں گے جو انہیں وہی تنخواہ اور روزینہ دے گا جو ولید بن یزید دیا کرتا تھا ۔انہوں نے معاویہ بن یزید بن حصین کو اپنا حکمراں بنا لیا اور مروان بن عبداﷲ بن عبدالملک بھی اُن کے ساتھ ہو گیا ۔ یزید بن ولید کو جب اِس کی خبر ہوئی تو اُس نے اپنے قاصد بھیجے تو اہل حمص نے انہیں حمص سے باہر نکال دیا اور یزید بن ولید کی حکمرانی کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ 

سلیمان بن ہشام ، یزید بن ولید کا سپہ سالار

یزید بن ولید نے اہل حمص سے جنگ کے لئے لشکر روانہ کیا اور اُس کا سپہ سالار سلیمان بن ہشام کو بنا دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں :یزید بن ولید نے مسرور بن ولید اور ولید بن روح کو ایک لشکر دیکر اہل حمص سے مقابلے کے لئے بھیجا۔اِسی دوران سلیمان بن ہشام بھی عمان سے یزید بن ولید کے پاس آگیا اور اُس نے سلیمان بن ہشام کی بہت عزت و توقیر کی اور اُس کی بہن سے نکاح کر لیا اور اُس کا وہ تمام مال و جائیداد اُسے واپس دے دیااور سلیمان بن ہشام کو سپہ سالار بنا کر مسرور بن ولید اور دلید بن روح کے پاس بھیجا اور اُن دونوں سے کہا کہ اُس کی اطاعت کریں۔ اُن کے مقابلہ کے لئے اہل حمص بھی آگے آگئے اور مروان بن عبداﷲ نے اُن کے سامنے تقریر کی تو اہل حمص غلظ فہمی میں پڑ گئے اور اُسے قتل کر ڈالا اور ابو محمد سفیانی کو اپنا سپہ سالار بنا لیا۔ 

اہل حمص کی شکست

اہل حمص کی سلیمان بن ہشام سے جنگ ہوئی جس میں انہیں شکست ملی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: سلیمان بن ہشام کے لشکر اور اہل حمص کے لشکر میں مقابلہ ہوا اہل حمص نے ایسا حملہ کیا کہ سلیمان بن ہشام کے میمنہ اور میسرہ کو دو سو گز پیچھے دھکیل دیا اور اِس میں سلیمان بن ہشام کے پچاس فوجی مارے گئے ۔اِس کے بعد اُس نے ایسا شدید حملہ کیا کہ اہل حمص کے پیر اُکھڑ گئے اور یزید بن خالد بن عبداﷲ قسری چلایا :‘‘ اﷲ سے ڈرو! تم لوگ اپنی قوم کو قتل کر رہے ہو۔’’ یہ سن کر دونوں فریق رک گئے اور سلیمان بن ہشام نے اِس شرط پر جنگ بند کی کہ اہل حمص یزید بن ولید کی بیعت کر لیں ۔اِس کے بعد سلیمان بن ہشام اُن سب کو لیکر دمشق آیا اور سب نے یزید بن ولید کی بیعت کر لی اور معاویہ بن حصین کو اُن کا گورنر بنا دیا اور انہیں حمص واپس بھیج دیا ۔ 

اہل فلسطین کی بغاوت 

اِس سال 126 ھجری میں اہل فلسطین نے بغاوت کی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : سعید بن عبدالملک فلسطین میں ولید بن یزید کی طرف سے فلسطین کا گورنر تھا ۔یہ ایک اچھا اور نیک آدمی تھا یزید بن سلیمان اور سلیمان بن عبدالملک کے بیٹے فلسطین میں آکر رہا کرتے تھے ۔اِس لئے اہل فلسطین یزید بن سلیمان سے محبت کرتے تھے ۔ جب انہیں ولید بن یزید کے قتل کی اطلاع ملی تو انہوں نے یزید بن سلیمان کو لکھا کہ ولید بن یزید قتل کیا جاچکا ہے اِس لئے آپ یہاں آیئے تاکہ ہم آپ کو اپنا حکمراں بنا لیں اور سعید بن عبدالملک کو کہا کہ آپ یہاں سے چلے جائیں کیونکہ اب حکومت میں گڑ بڑ شروع ہوگئی ہے اور ہم نے اپنا حکمراں چن لیا ہے ۔ اِس کے بعد سعید بن عبدالملک دمشق یزید بن ولید کے پاس آگیا اور فلسطین کے حالات بتائے ۔ادھر فلسطین میں یزید بن سلیمان نے اہل فلسطین کے ساتھ ملکر یزید بن ولید سے جنگ کی تیاری شرو ع کر دی ۔جب اہل اردن کو ان کی حالات کا علم ہوا تو انہوں نے محمد بن عبدالملک کو اپنا حکمراں بنا لیا ۔ اب فلسطین کی اصل حکومت سعید بن روح اور ضبعان بن روح کے ہاتھ میں تھی ۔یزید بن ولید کو اُن کی بغاوت کا علم ہوا تو اُس نے سلیمان بن ہشام اُن کی سرکوبی کے لئے بھیجا۔ سلیمان بن ہشام کے سامنے اہل فلسطین اور اہل اردن لشکر لیکر آگئے ۔ سلیمان بن ہشام اُن سے جنگ کرنے کے بجائے مسلسل اپنے قاصد بھیجتا رہا اور انہیں یزید بن ولید کی بیعت پر راضی کرتا رہا اور اُن کی شرائط تسلیم کرتا رہا ۔آخر کار اہل فلسطین اور اہل اردن یزید بن ولید کی حکمرانی پر راضی ہو گئے اور بیعت کر لی۔ جب اہل فلسطین اور اہل اردن اپنے علاقوں میں واپس چلے گئے تو سلیمان بن ہشام ‘‘عنبر’’ آیا اور اہل طبریہ اُس کے پاس آئے اور انہوں نے یزید بن ولید کے لئے بیعت کر لی ۔ جمعہ کے دن سلیمان بن ہشام نے انہیں طبریہ بھیجا اور خود بھی ایک جہاز پر سوار ہوکر اُن کے ساتھ ساتھ طبریہ آیا اور یہاں سب لوگوں کو جمعہ کی نماز پڑھائی اور یزید بن ولید کے لئے بیعت لیکر واپس آگیا ۔

منصور بن جمہور ملک عراق کا گورنر

یزید بن ولید نے ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کا حکمراں بننے کے بعد منصور بن جمہور کو ملک عراق کا گورنر مقرر کیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب تما ملک شام نے یزید بن ولید کو اپنا حکمراں تسلیم کر لیا تو اُس نے منصور بن جمہور کو ملک عراق کا گورنر بنا کر بھیجا ۔ یوسف بن عمرو کو جب اُس کے آنے کی اطلاع ملی تو وہ اپنا مستقر چھوڑ کر فرار ہو گیا ۔ منصور بن جمہور ابتدائے ماہ رجب المرجب میں حیرہ پہنچا اور تمام سرکاری خزانوں پر قابض ہوگیا ۔ حریث بن ابی جہم کو اُس نے ‘‘واسط’’ کا گورنر مقرر کیا اور پہلے کے گورنر محمد بن نباتہ کو قید کرلیا ۔ جریر بن یزید کو بصرہ کا گورنر مقرر کیا اور خود کوفہ میں رہا ۔ ملک عراق کے تمام صوبوں اور اضلاع میں اُس نے یزید بن ولید کے لئے بیعت لے لی۔ منصور بن جمہور ایک بے رحم اعرابی تھا اور کوئی دیندار آدمی نہیں تھا ۔

"ولی عہدی" کا اعلان

اِس سال یزید بن ولید نے اپنے ‘‘ولی عہد’’ کا اعلان کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال یزید بن ولید نے اپنے بھائی ابراہیم بن ولید کے لئے بیعت لیکر اُسے اپنا ‘‘ولی عہد’’ مقرر کیا اور اس کے بعد عبدالعزیز بن حجاج بن عبدالملک کے لئے ‘‘ولی عہدی’’ کی بیعت لے لی ۔ اِس کا سبب یہ ہوا کہ یزید بن ولید ذی الحجہ 126 ھجری میں بیمار ہوگیا تو لوگوں نے اُسے مشورہ دیا کہ آپ اپنے بھائی کی ابراہیم بن ولید اور اُس کے بعد عبدالعزیز بن حجاج کے لئے بیعت لے لیں۔ لوگ اُسے برابر آمادہ کرتے رہے اور کہتے رہے کہ آپ کے لئے یہ بات جائز نہیں ہے کہ اِس قومی مرحلے کو آپ یونہی چھوڑ چلے جائیں ۔ آخر کار اُس نے ‘‘ولی عہد’’ کی بیعت لے لی ۔ 

یزید بن ولید کا انتقال

اِ س سال کے آخری مہینے میں یزید بن ولید کا انتقال ہوگیا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 126 ھجری میں یزید بن ولید نے حجاز کے گورنر یوسف بن محمد ثقفی کو معزول کر دیا اور عبدالعزیز بن عُمر بن عبدالعزیز کو حجاز کا گورنر بنا دیا ۔ اِ س سال مروان حمار بن محمدنے یزید بن ولید کی مخالفت کا اظہار کیا اور بلاد آرمینیہ کی طرف چلا گیا معلوم ہوتا تھا کہ وہ ولید بن یزید کے خون کے قصاس کا مطالبہ کرے گا لیکن جب وہ حران پہنچاتو اُس نے موافقت کا اظہار کیا اور امیر المومنین یزید بن ولید کی بیعت کر لی ۔ اِس سال ذی القعدہ کے آخر میں اور بعض کے قول کے مطابق ذی الحجہ کے آخر میں امیرالمومنین یزید بن ولید کا انتقال ہوگیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال کے ماہ ذی الحجہ کے آخر میں یزید بن ولید کا انتقال ہوگیا ۔اکثر ارباب سیر کے مطابق یزید بن ولید چھ مہینہ ‘‘سطنت اُمیہ’’ کا حکمراں رہا ۔ یہ بھی بیان کیا گیا پانچ مہینہ دو رات حکمراں رہا اور یہ بھی روایت ہے کہ وہ چھ مہینہ اور کچھ دن حکمراں رہا ۔ ذی الحجہ 126 ھجری کے ختم ہونے میں ابھی دس راتیں باقی تھیں کہ چھیالیس سال کی عُمر میں یزید بن ولید کا دمشق میں انتقال ہوگیا ۔ 

126 ھجری کا اختتام

126 ھجری کا اختتام ہوا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال کے اختتام پر عبداﷲ بن عُمر بن عبدالعزیز ملک عراق کا گورنر تھا ۔ابن ابی لیلیٰ کوفہ کے قاضی تھے ۔بصرہ کے قاضی عامر بن عبیدہ تھے ۔ نصر بن سیار خراسان کا گورنر تھا ۔ عبدالعزیز بن عبداﷲ مکۂ مکرمہ ، مدینۂ منورہ اور طائف کا گورنر تھا اور اُسی نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔ بعض ارباب سیر کا بیان ہے کہ اِس سال عُمر بن عبداﷲ بن عبدالملک نے جسے یزید بن ولید نے اِسی غرض سے بھیجا تھا اُس نے حج کرایا اور چونکہ عبدالعزیز بن عبداﷲ حجاز کا گورنر تھا اِسی لئے وہ بھی ساتھ میں تھا ۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!


D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں