،61 سلطنت امیہ
تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 61
،119 ھجری : خاقان کی زبردست پیش قدمی، مسلمانوں کا زبردست مقابلہ، خاقان کی شکست، خاقان کا قتل، فتح کی خوشخبری، مغیرہ جادوگر فاسق کا قتل، ترکوں کی شکست، 119 ھجری کا اختتام، ،120 ھجری : اسد بن عبداﷲ قسری کاانتقال، خالد بن عبداﷲ قسری کی معزولی، یوسف بن عمرو ملک عراق کا گورنر، محمد بن علی کی خراسانیوں سے ناراضگی، خراسانیوں کی توبہ، ،120ھجری کا اختتام، ،121 ھجری :یزید بن خالد قسری کازید بن علی پر دعویٰ، یہ بغاوت کریں گے،
،119 ھجری : خاقان کی زبردست پیش قدمی
اِس سال ترکوں کے سب سے بڑے بادشاہ خاقان نے مسلمانوں پر زبردست حملہ کیا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : خراسان کا گورنر اسد بن عبداﷲ اپنی فوجوں کو لیکر ‘‘ختل’’ پر حملہ آور ہوا اور اُس کو فتح کر لیا ۔ترکوں کے بادشاہ خاقان نے اِس موقع کو غنیمت سمجھ کر مسلمانوں کے لشکر کی طرف تیزی سے بڑھا کیونکہ اُس کے جاسوسوں نے یہ اطلاع دی تھی کہ اسد بن عبداﷲ کی فوجیں اِس وقت ‘‘ختل’’ شہر کے اطراف میں چاروں طرف پھیلی ہوئی ہیں ۔ اِس موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے خاقان کثیر اسلحہ اور فوج اور زبردست سامان خوردنوش کے ساتھ شیر کی طرح بپھرتا ہوا اسد بن عبداﷲ کی فوجوں کی طرف بڑھا ساتھ ہی اِس بات کو مشہور کرادیا کہ خاقان نے اپنی زبردست فوج کے ساتھ اسد بن عبداﷲ کی فوج پر حملہ کر دیا اور اُسے قتل بھی کر دیا ہے ۔ اِس افواہ کا اصل مقصد یہ تھا کہ اسد بن عبداﷲ کی جو فوج چاروں طرف پھیلی ہوئی ہے اُس کے حوصلے ٹوٹ جائیں اور وہ اسد بن عبداﷲ مدد کو نہیں پہنچ سکیں۔
مسلمانوں کا زبردست مقابلہ
اس افواہ سے مسلمانوں کے حوصلے ٹوٹنے کے بجائے اور بلند ہوگئے ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس افواہ کا مسلمانوں پر اُلٹا اثر ہوا اور انہوں نے پوری غیرت اسلامی کے ساتھ اپنے آپ کو متحد کر کے خاقان سے انتقام لینے کا تہیہ کر لیا اور سب اُس مقام کی طرف چل پڑے جہاں اسد بن عبداﷲ اپنی فوجوں کو لئے ہوئے خاقان سے مقابلے کی تیاری کر رہا تھا ۔ جب تمام فوجیں وہاں پہنچیں اور اسد بن عبداﷲ کو زندہ پایا تو اُن کے حوصلے اور بھی بلند ہو گئے ۔ اب اسد بن عبداﷲ نے سب کے ساتھ ‘‘جبل اطلح’’ کا رخ کیا اور نہر بلخ کو عبور کرنے کا ارادہ کیا لیکن مجبوری یہ تھی کہ مسلمانوں کے ساتھ بھیڑ اور بکریاں بہت بڑی تعداد میں تھیں اور اسد بن عبداﷲ اُن کو چھوڑ کر جانا نہیں چاہتا تھا ۔ اِس لئے اُس نے حکم دیا کہ ہر سوار ایک بکری اپنے ساتھ رکھے اور ایک اپنے کندھے پر لیکر چلے اور وہ خود بھی اسی طرح بکری اور بھیڑ ساتھ لیکر چلا۔ نہر میں داخل ہونے کے بعد ابھی پوری فوج باہر نکل نہیں پائی تھی کہ اچانک خاقان نے حملہ کردیا اور کافی مسلمانوں کو شہید کر دیا ۔ جو مسلمان دوسری طرف جیسے تیسے پہنچے تھے انہوں نے ترکوں سے زبردست مقابلہ کرنا شروع کر دیا ۔ترکوں کی فوج پچاس ہزار تھی اور نہر کا کنارہ اُن سے بھر گیا تھا ۔انہوں نے طبل بھی بجانا شروع کر دیئے تھے ۔ دوسرے کنارے پر پہنچ چکے مسلمانوں نے ثابت قدمی سے ترکوں-08 کا مقابلہ کیا اور انہیں پیچھے دھکیلتے ہوئے نہر سے دور لے گئے جب تک تمام مسلمانوں نے نہر پار کر لی اور ایک ساتھ ملکر ترکوں کو کافی پیچھے تک کھدیڑ دیا تھا۔
خاقان کی شکست
اچانک حملے سے کافی مسلمان شہید ہو گئے تھے لیکن پھر انہوں نے اپنے آپ کو سنبھال لیا اور اپنے اطراف خندق کھود لی ۔علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : مسلمانوں نے اپنے چاروں طرف خندق کھودنا شروع کر دی تھی تاکہ دشمن اُن تک نہ پہنچ سکے ۔اِس طرح دونوں طرف کی فوجیں دور سے ایکدوسرے کو رات بھر دیکھتی رہیں اور صبح پھر حملہ کیا ۔ اِس طرح روزآنہ جنگ ہوتی رہی اِسی دوران عیدالفطر آگئی ۔ اسد بن عبداﷲ کو اندیشہ ہوا کہ کہیں خاقان نماز کے دوران حملہ نہ کر دے اور مسلمانوں نے ‘‘صلوٰۃ الخوف’’ پڑھی ۔اِس کے بعد اسد بن عبداﷲ اپنی فوجوں کو لیکر بلخ چلا گیا اور موسم سرما گذر گیا اور عیدالالضحیٰ کا دن آگیا تو اسد بن عبداﷲ نے مشورہ کیاتو مسلمانوں نے دو مشورے دیئے کہ بلخ میں قلعہ بند ہو کر لڑا جائے یا پھر آگے بڑھ کا خاقان کا مقابلہ کیا جائے ۔ اسد بن عبداﷲ نے دوسرا مشورہ پسند کیا اور مسلمانوں کو لیکر آگے بڑھا۔ دورکعت نماز پڑھی اور اﷲ تعالیٰ سے بہت لمبی دعا مانگی ۔ پھر مسکراتا ہوا کھڑا ہوا اور بولا: ‘‘ انشاء اﷲ تمہیں فتح حاصل ہوگی ۔’’ اب مسلمانوں نے ترکوں کے لشکر پر حملہ کردیا اور یہ حملہ اتنا شدید تھا کہ ہزاروں ترکوں کو قتل کر ڈالا اور اُن کے کمانڈروں اور بڑے بڑے سرداروں کو گرفتار کر لیا ۔ ترکوں کی فوجوں میں انتہائی گھبراہٹ پھیل گئی اور مسلمان اُن پر حاوی ہو گئے ۔ اسد بن عبداﷲ نے اس کے بعد خاقان کی طرف رخ کیا ۔ اُس کے ساتھ ایک عرب تھا جو اُس کے ساتھ ساش سے جا ملا تھا اور خفیہ ریشہ دوانیوں مکاریوں سے کام لے رہا تھا ۔ اُس شخص کا نام حارث بن شریح تھا ۔وہ مسلمانوں کے خفیہ راز اور امور خاص خاقان کو پہنچا تا رہتا تھا ۔ جب ترکوں کے پیر اُکھڑے تو وہ بھی بھاگا۔
خاقان کا قتل
مسلمانوں کے شدید حملے سے ترکوں کو شکست ہوئی تو اسد بن عبداﷲ خاقان پر جھپٹا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: جب مسلمانوں نے شدید حملہ کیا تو تمام ترک اطراف میں بھاگ کھڑے ہوئے اور خاقان اور کے ساتھ حارث بن شریح بھی بھاگا ۔اسد بن عبداﷲ کو یہ بہت عمدہ موقع ملا اور اُس نے خاقان کا تعاقب جاری رکھا ۔ جب دوپہر ہوئی تو خاقان اپنے چار سو محافظین کے ساتھ ترک فوج سے کٹ کر رہ گیا ۔ اُس وقت اُن کے جسموں پر ریشمی لباس تھے اور بڑے بڑے ڈھول تھے ۔ جب مسلمانوں نے اُن پر قابو پالیا تو انہیں زور زور سے ڈھول بجانے کا حکم دیا تاکہ بھگوڑے ترک واپس آئیں لیکن وہ واپس نہیں آئے مسلمانوں نے تمام مسلمان قیدیوں کو آزاد کر الیا اور بے شمار مال غنیمت حاصل کیا ۔ جب خاقان کو اپنی موت اور بھیانک انجام کا اندازہ ہوا تو اُس نے اپنے خنجر سے پہلے اپنی بیوی کو ہلاک کر ڈالا ۔اِس کے بعد وہ اپنے محافظین کے ساتھ قلعہ بند ہو گیا ۔ اسد بن عبداﷲ وہاں پہنچ گیا اور غضبناک ہو کر اُس پرٹوٹ پڑا اور خاقان کو قتل کر کے ہی چھوڑا ۔
فتح کی خوشخبری
مسلمانوں کو ملک خراسان میں پہلی بار اتنی بڑی فتح ملی تھی اور انہوں نے پہلی بار ترکوں کے بڑے بادشاہ خاقان کو مارا تھا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اس کے بعد تمام ترک ایسے بھاگے کہ کسی کو کسی کی کوئی خبر نہ ہوئی ۔حتیٰ کہ ترک ایکدوسرے کو لوٹنے لگے ۔ اسد بن عبداﷲ نے اپنے بھائی خالد بن عبداﷲ کو اِس عظیم الشان کامیابی اور خاقان کی ہلاکت کی اطلاع دی اور اس کے ساتھ خاقان کے ڈھول ،نقارے بھی روانہ کئے جن کی مہیب آواز بادلوں کی گھن گرج اور بجلی کی کڑک سے کم نہ تھی ۔ یہی نہیں بلکہ بہت سا قیمتی مال و متاع اور بیش بہا سامان بھی اس کے پاس روانہ کیا ۔ خالد بن عبداﷲ کو جب یہ خوش خبری ملی تو اُس نے فوراً امیرالمومنین ہشام بن عبدالملک کو اِس سے مطلع کیا جس نے سن کر بے حد خوشی کا اظہار کیا اور قاصدوں کو انعام و اکرام سے نوازا۔
مغیرہ جادوگر فاسق کا قتل
اِس سال 119 ھجری میں مغیرہ جادوگر فاسق کا قتل ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِسی سال ملک عراق کے گورنر خالد بن عبداﷲ قسری نے مغیرہ بن سعید اور اُس کی جماعت کو جس نے باطل کا اتباع کرنا شروع کر دیا تھا ٹھکانے لگا دیا ۔ مغیرہ بن سعید دارصل جادوگر ، فاسق و فاجر تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری نے لکھاہے کہ الاعمش کے بقول مغیرہ بن سعید کہا کرتا تھا کہ اگر وہ چاہے تو عادو ثمود اور اُن دونوں کے درمیانی مدت میں جو قومیں دنیا میں آباد تھیں اُن سب کو زندہ کر سکتا ہے ۔الاعمش کا یہ بھی کہنا ہے کہ مغیرہ بن سعید قبرستان میں پہنچ کر کچھ ایسے الفاظ زبان سے نکالتا تھا کہ اُس کی آواز سن کر قبروں پر ٹڈیوں کی طرح کی مخلوق نظر آتی تھی ۔ جب خالد بن عبداﷲ کو اِن باتوں کا علم ہوا تو اُس نے اُس کو روبرو حاضر ہونے کا حکم دیا ۔ وہ اپنے چھ سات آدمیوں کے ساتھ خالد کے دربار میں حاضر ہو گیا ۔ اِس کے بعد خالد بن عبداﷲ نے اُس کو حکم دیا تو اُس کا تخت مسجد کے قریب پہنچا دیا گیا اور اُس پر منبر بھی نصب ہو گیا اور خیمے وغیرہ بھی کھڑے ہو گئے ۔اِس کے بعد اُس فرمائش کی کہ ایک خیمہ اُس کے لئے خاص کر دیا جائے ۔اِس لئے بہت پش وپیش کے بعد اُس کے لئے بھی علیحدہ سے ایک تمبو یا خیمہ نصب کیا گیا ۔ اِس کے بعد اُس کے سر پر مٹی کا تیل ڈال دیا گیا اور آگ لگا دی گئی اور یہی عمل اُس کے بقیہ ساتھیوں کے ساتھ بھی کیا گیا ۔
ترکوں کی شکست
اِس سال اسد بن عبداﷲ نے پھر سے ترکوں پر حملہ کیا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 119 ھجری میں اسد بن عبداﷲ قسری خراسان کے گورنر نے بلاد ترک پر پھر سے جنگ کا آغاز کیا اور ترکوں کے بادشاہ ‘‘طرخان’’ نے اُس کو لاکھوں کی رشوت کی پیش کش کی جس کو اُس نے مسترد کر دیا اور اُس پر چڑھائی کر کے اُس کے مال و اسباب کو لوٹ لیا اور خود اُس کو بری طرح قتل کر ڈالا ۔اِس جنگ میں ترکوں کے بادشاہ طرخان کی بیویاں اور اُس کا تما م قیمتی اثاثہ بھی اسد بن عبداﷲ کے ہاتھ لگا ۔
،119 ھجری کا اختتام
اِس سال مسلمانوں نے صحاری بن شبیب خارجی کاقتل کیا ۔علامہ عمادلدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 119 ھجری میں صحاری بن شبیب خارجی نے سر اُٹھایا جس کے ساتھ تقریباً تیس آدمی مزید شامل ہو گئے ۔خالد بن عبداﷲ قسری نے اس سے مقابلہ کے لئے ایک لشکر بھیجا جس نے صحاری شبیب سمیت تمام خارجیوں کو قتل کر دیا ۔ اِس سال کے اختتام پر خالد بن عبداﷲ قسری ملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر اور ناظم اعلیٰ تھا ۔ اُس کا بھائی اسد بن عبداﷲ قسری خراسان کا گورنر تھا ۔کہا جاتا ہے اِسی سال اُس کا انتقال ہوگیا تھا لیکن بعض لوگ کہتے ہیں کہ ۱۲۰ ھجری میں ہوا ۔ آذربائیجان اور آرمینیہ کا گورنر مروان بن محمد تھا ۔ مکۂ مکرمہ ، مدینۂ منورہ اور طائف کا گورنر محمد بن ہشام بن اسماعیل تھا ۔اِس سال مسلمانوں کو حج مسلمہ بن ہشام بن عبدالملک نے کرایا۔ اور اُس کے ساتھ ابن شہاب نے بھی حج کیا جو ابو شاکر مسلمہ بن ہشام بن عبدالملک کو مناسک حج کی تعلیم دیتے تھے ۔ملک مصر ، افریقہ اور اسپین پر وہی گورنر تھے جو پچھلے سال تھے ۔
،120 ھجری : اسد بن عبداﷲ قسری کاانتقال
اِس سال ملک خراسان کے گورنر اسد بن عبداﷲ قسری کا انتقال ہوگیا ۔ علامہ عمادلدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال خراسان کے گورنر اسد بن عبداﷲ قسری کا انتقال ہوا ۔ اُس کے انتقال کی وجہ اُس کے پیٹ کا درد اور ورم تھا ۔ جب ایرانیوں کے سالانہ جشن ‘‘مہرجان’’ کا موقع آیا تو دہقانوں اور مزارعین ( دیہاتیوں اور کسانوں) نے اِس کا زبردست اہتمام کیا ۔ یہ لوگ شہروں کے اور دیہاتوں کے بڑے امیر وکبیر لوگ تھے ۔اِن لوگوں نے تمام اطراف کے شہروں اور دیہات سے نہایت قیمتی تحفوں اور ہدیوں کا انتظام کیا جس میں سونے چاندی کے برتن سونے کے پیالے اور کٹورے اور بڑی بڑی قابیں اوت طشتریاں وغیرہ شامل تھیں اور اُن کے ساتھ حریر و دیبا کے قیمتی بیش بہا ملبوسات بھی تحفوں میں شامل تھے ۔ اِن سب چیزوں کو خراسان کے گورنر اسد بن عبداﷲ کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے اُس کے عمدہ خصائل ،اُس کی دانشمندی اور عدل وانصاف کی بہت تعریف کی اور کہا: ‘‘ اِس بہادر گورنر نے اپنے دور ِ اقتدار میں کسی پر نہ خود کوئی ظلم کیا اور نہ کسی اپنے ماتحت کو عوام کے استحصال اور ظلم کی اجازت دی ۔ یہی وہ بہادر اور عقل مند انسان ہے جس نے خاقانِ اعظم کے جبر و ظلم اور اس کے خوف و دہشت سے لوگوں کو نجات دلائی اور اُس کے اقتدار کے بت کو پاش پاش کر ڈالا ۔ اِس لئے آج اسد بن عبداﷲ کی خدمات جلیلہ کے اعتراف کے طور پر جو کچھ یہاں پیش کیا جارہاہے وہ اس کی خدمات کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے ۔ ’’ اسد بن عبداﷲ نے اس امیر دہقان کے جذبات کی بہت قدر کی اور ان تمام تحائف و ہدایا کو استحسان کی نظر سے دیکھا اور یہ سب قیمتی اشیاء اپنے درباریوں میں تقسیم کردیں اور پھر اپنی بیماری کی وجہ سے اُٹھ کر چلا گیا ۔اِس کے بعد اُس کی پیٹ کی بیماری میں کچھ افاقہ ہوا تو لوگوں نے بہت سی ناسپاتیاں بطور تحفہ پیش کیں لیکن وہ بھی اُس نے لوگوں میں تقسیم کردیں اسی تقسیم کے دوران اُس کے پیٹ کا پھوڑا پھٹ گیا اور اُس کا انتقال ہوگیا ۔ اپنی موت کے وقت اُس نے جعفر بن حنظلہ کو خراسان کا گورنر مقرر کر دیا تھا ۔ اِس کے بعد نصر بن سیار کو ملک خراسان کا گورنر بنا دیا گیا ۔
خالد بن عبداﷲ قسری کی معزولی
اِس سال 120 ھجری میں سلطنت اُمیہ کے حکمراں ہشام بن عبدالملک نے ملک عراق کے گورنر خالد بن عبداﷲ کو معزول کر دیا ۔ علامہ عمادلدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال امیرالمومنین ہشام بن عبدالملک نے خالد بن عبداﷲ کو ملک عراق کی گورنری سے معزول کر دیا ۔ خالد بن عبداﷲ خود مختار اور خود سر ہوتا جارہا تھا ۔ وہ ہشام بن عبدالملک کو ‘‘ابن الحقماء’’ بھی کہتا تھا اُس نے امیرالمومنین کو ایک سخت خط بھی لکھا تھا جس کا امیرالمومنین ہشام بن عبدالملک نے نہایت سخت جواب دیا تھا ۔ یہ بھی مشہور ہے کہ ہشام بن عبدالملک کو خالد بن عبداﷲ کی آمدنی اور مال و دولت پر حسد آنے لگا تھا ۔ اُس کی مختلف صوبوں سے سالانہ آمدنی تیس لاکھ دینار تھی اور اُس کے بیٹے یزید بن خالد کی سالانہ آمدنی دس لاکھ دینار تھی ۔ امیرالمومنین ہشام بن عبدالملک نے ایک قریشی نوجوان کو خالد بن عبداﷲ کے پاس بھیجا تو اُس نے اُس کی کوئی پرواہ نہیں کی اور نہ ہی مہمان نوازی کی ۔ اِس پر ہشام بن عبداملک نے خالد بن عبداﷲ کو سخت خط لکھا اور اُسے ملک عراق کی گورنری سے معزول کردیا اور ملک یمن کے گورنر یوسف بن عمرو کو حکم دیا کہ وہ ملک عراق کا گورنر ہے اور فوراً اپنے عہدہ کا چارج لے ۔
یوسف بن عمرو ملک عراق کا گورنر
امیرالمومنین ہشام بن عبدالملک کا حکم ملتے ہی یوسف بن عمرو کوفہ پہنچ گیا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : یوسف بن عمرو صبح سویرے ہی کوفہ پہنچ گیا اور جب مؤذن نے صبح کی اذان کہی تو یوسف بن عمرو نماز پڑھانے کی نیت سے مؤذن کو اقامت کہنے کا حکم دیا ۔ مؤذن نے امام یعنی خالد بن عبداﷲ کے آنے کا انتظار کرنے کے لئے کہا تو یوسف بن عمرو نے اُسے جھڑک دیا اور پھر اقامت کا حکم دے کر مصلیٰ پر نماز پڑھانے کے لئے کھڑا ہو گیا اور دورکعت نماز پڑھائی جس کی پہلی رکعت میں سورہ واقعہ پڑھی اور دوسری رکعت میں سورہ معارج پڑھی ۔اِس کے بعد واپس آکر خالد کو اپنی گورنری کی سند دکھلائی اور اُس سے خزانہ کا چارج لے لیا ۔ خالد بن یوسف لگ بھگ پندرہ سال ملک عراق کا گورنر رہا ۔ 105 ھجری میں وہ گورنر بنا اور 120ھجری میں معزول کر دیا گیا ۔ اِس کے بعد یوسف بن عمرو نے جعفر بن حنظلہ کو معزول کر کے جدیع بن علی کرمانی کو ملک خراسان کا گورنر بنایا لیکن کچھ دنوں بعد اُسے بھی معزول کر کے نصر بن سیار کو ملک خراسان کا گورنر بنا دیا ۔
محمد بن علی کی خراسانیوں سے ناراضگی
اِس سال خراسان کے لوگوں نے ‘‘تحریک عباسیہ’’ کے بانی محمد بن علی کی نارضگی دور کرنے کی کوشش کی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 120 ھجری میں خراسان کے ‘‘بنو عباس’’ کے حامیوں نے سلیمان بن کثیر کو اپنا وکیل بنا کر محمد بن علی بن عبداﷲ بن عباس کے پاس بھیجا تاکہ وہ اُن کی اور اُن کی تحریک کی حالت سے انہیں پوری طرح باخبر کرے ۔محمد بن علی اپنے خراسان کے حامیوں سے اِس لئے ناراض تھے کہ انہوں نے عمار خداش کی اطاعت قبول کر لی تھی جس کا ذکر ہم اوپر کر آئے ہیں اور جو غلط باتیں اُس نے اُن کی طرف سے بیان کی تھیں اُسے انہوں نے تسلیم کر لیا تھا ۔ اِس وجہ سے محمد بن علی نے خراسانیوں سے مراسلت ترک کر دی ۔جب عرصہ سے اُن کا کوئی خط نہیں آیا یہ سب اس معاملے پر غور کرنے کے لئے جمع ہوئے اور سب نے بالاتفاق سلیمان بن کثیر کو منتخب کر لیا کہ وہ محمد بن علی کے پاس جا کر ہماری پوری حالت اُن سے بیان کرے اور جو کچھ وہ اس کے جواب میں کہیں اس سے ہمیں آکر اطلاع دیں۔یہ شخص محمد بن علی کے پاس آیا جو اپنے خراسانی حامیوں سے بہت سخت ناراض تھے سلیمان بن کثیر نے اُن سے ساری کیفیت بیان کی ۔محمد بن علی نے عمار خداش کی جھوٹی دعوت کو قبول کرنے کی وجہ سے خراسانیوں کی بہت زجر و توبیخ کی اور کہا:
‘‘ اﷲ تعالیٰ خداش اور اس کے مسلک پر چلنے والوں پر لعنت کرے۔ ’’اِس کے بعد انہوں نے اُس کے ہاتھ سے اپنے خراسانی حامیوں کو ایک خط لکھ کر سلیمان بن کثیر کو دیا جسے لیکر وہ خراسان آیا ۔وہ سر بمہر خط جب کھولا گیا تو اُس میں سوائے ‘‘بسم اﷲ الرحمن الرحیم’’ کے کچھ بھی اور تحریر نہیں تھا ۔اِس سے ان لوگوں کو سخت صدمہ ہوا اور اب انہیں معلوم ہوا کہ جو باتیں خداش نے انہیں بتائیں تھیں وہ محمد بن علی کے حکم کے خلاف تھیں۔
خراسانیوں کی توبہ
محمد بن علی نے خراسان میں اپنی تحریک کے حامیوں کی غلط فہمی دور کی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال سلیمان بن کثیر کے خراسان واپس جانے کے بعد محمد بن علی نے بکیر بن ماہان و اپنے خرسانی حامیوں کے پاس ایک خط دے کر بھیجا جس میں انہیں بتایا کہ خداش نے میرے متبعین کو غلط راستے پر لگایا تھا ۔ جب بکیر بن ماہان وہ خط لیکر خراسان پہنچا تو تحریک عباسیہ کے حامیوں نے اس کے بیان کو غلط سمجھا اور اُس کی بات پر بالکل اعتناء نہیں کیا ۔بکیر بن ماہان پھر محمد بن علی کے پاس آیا اور اِس مرتبہ محمد بن علی نے اُس کے ساتھ شام لگے ہوئے عصا بھیجے جن میں لوہے کی شام تھی اور بعض میں سیسے کی۔ بکیر بن ماہان انہیں لیکر خرسان آیا اور اعیان قوم اور حامیوں کو جمع کیا اور ہر شخص کو اُس نے ایک ایک عصا دیا ۔ اِس سے وہ سمجھے کہ اب تک اُن کا جو طرز عمل رہا ہے وہ اُن کی سیرت کے مخالف تھا ۔ ان لوگوں واپس جا کر اپنے افعال سے توبہ کی ۔
،120ھجری کا اختتام
120 ھجری کا اختتام ہوا اور اِس سال ‘‘سلطنت اُمیہ’’ میں کئی گورنرں کی تبدیلی ہوئی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال کے اختتام پر ملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر اور ناظم اعلیٰ یوسف بن عمرو تھا ۔ نصر بن سیار ملک خراسان کا گورنر تھا ۔ بیان کیا گیا ہے کہ اِس سال خراسان کا گورنر جعفر بن حنظلہ تھا ۔ یوسف بن عمرو کی طرف سیبصرہ کا گورنر کثیر بن عبداﷲ سلمی تھا عامربن عبیدہ باہلی بصرہ کے قاضی تھے اور ابن شرمہ کوفہ کے قاضی تھے ۔مروان بن محمد آذربائیجان اور آرمینیہ کا گورنر تھا ۔ محمد بن ہشام مکۂ مکرمہ ، مدینۂ منورہ اور طائف کا گورنر تھا اور اُسی نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔بعض راوی کے مطابق سلیمان بن ہشام نے حج کرایا اور بعض کے مطابق یزید بن ہشام نے حج کرایا۔
،121 ھجری :یزید بن خالد قسری کازید بن علی پر دعویٰ
اِس سال 121 ھجری میں یوسف بن عمرو نے ملک عراق کے سابق گورنر خالد بن عبداﷲ اور اُس کے بیٹے یزید بن عبداﷲ سے خراج کے روپیوں کی مانگ کی تو انہوں نے کہا کہ ہم نے زید بن علی کو دے دیا ہے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : یزید بن خالد بن عبداﷲ قسری نے دعویٰ کیا کہ ہمارا روپیہ زید بن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب ، داؤد بن علی بن عبداﷲ بن عباس ، ابراہیم بن سعید بن عبدالرحمن بن عوف اور ایوب بن سلمہ بن عبداﷲ بن عبداﷲ بن ولید کے پاس جمع ہے ۔ یوسف بن عمرو نے امیرالمومنین ہشام بن عبدالملک کو ان لوگوں کے بارے میں لکھا ۔ زید بن علی اُس وقت ‘‘رصافہ’’ میں محمد بن عمرو بن علی کے ساتھ تھے ۔ جب یوسف بن عمرو کے کئی خطوط ہشام بن عبدالملک کے پاس پہنچے تو اُس نے زید بن عمرو کو خط لکھ کر تمام باتیں بتائیں تو انہوں نے انکار کردیا ۔ ہشام بن عبدالملک نے یوسف بن عمرو سے ملاقات کرنے کو کہا۔زید بن علی ملک عراق آئے اور یوسف بن عمرو نے اپنے دربار میں انہیں اپنے قریب بٹھایا اور روپیہ کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے کہا: ‘‘ یزید بن خالد نے کوئی چیز میرے پاس نہیں رکھوائی ہے اور اُس نے مجھے کبھی روپیہ نہیں دیا ۔’’ اِس کے بعد یوسف بن عمرو نے یزید بن خالدکو دربار میں بلایا اور پوچھا تو اُس نے کہا: ‘‘ اِن لوگوں پر نہ میرا کچھ زیادہ ہے اور نہ تھوڑا ہے ۔’’ یوسف بن عمرو نے کہا: ‘‘ کیا مجھ سے مذاق کرتا ہے یا امیر المومنین سے ؟’’ اِس کے بعد زید بن علی اور باقی لوگوں سے حلف لیا اور پھر انہیں چھوڑ دیا ۔باقی لوگ تو مدینۂ منورہ چلے گئے لیکن زید بن علی کوفہ میں ٹھہر گئے ۔
یہ بغاوت کریں گے
زید بن علی کوفہ میں ہی ٹھہر گئے اور اسی دوران انہوں نے ایک خواب دیکھا جس کی وجہ سے وہ پریشان ہو گئے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں :عطا بن مسلم خفاف بیان کرتے ہیں کہ زید بن علی نے خواب دیکھا کہ ملک عراق میں انہوں نے آگ لگادی اور پھر اُسے بجھا دیا اور پھر وہ مر گئے ۔ اِس خواب کی وجہ سے وہ پریشان ہو گئے ۔ انہوں نے اپنے بیٹے یحییٰ بن محمد نے کہا: ‘‘ میں نے ایک خواب دیکھا ہے جس کی وجہ سے میں پریشان ہوں ۔’’ اور پھر وہ خواب بیان کر دیا ۔ اِس کے بعد امیرامومنین ہشام بن عبدالملک کی طرف سے بلاوا آیا تو آپ اُس سے ملنے گئے ۔محمد بن عزیز زہری بیان کرتے ہیں کہ جب زید بن علی امیرالمومنین ہشام بن عبدالملک سے ملنے کے لئے آئے تو حاجب نے اُن کے آنے کی اطلاع دی ۔ ہشام بن عبدالملک ایک بلند شہ نشین پر چڑھ گیا پھر انہیں آنے کی اجازت دی اور اپنے ایک خادم کو حکم دیا کہ اُن کے پیچھے پیچھے رہنا اور یہ دیکھنا کہ وہ کیا کہتے ہیں۔ خادم سیڑھیوں پر اُن کے پیچھے پیچھے ہولیا ۔آپ چونکہ موٹے تھے اِس لئے سیڑھی پر ایک جگہ رک گئے اور کہا: ‘‘ اﷲ کی قسم! جس نے دنیا کو چاہا وہ ذلیل ہوا۔’’ جب وہ ہشام بن عبدالملک کے پہنچے اور اپنی ضروریات پوری کر لیں اور کوفہ چلے گئے تو ہشام بن عبدالملک اپنے خادم سے پوچھنا بھول گیا ۔ کافی دنوں بعد اُسے یاد آیا تو اُس نے خادم سے پوچھا تو اُس نے جو سنا تھا وہ بیان کر دیا ۔ ہشام بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ ابرش نے کہا تھا کہ سب سے پہلی بات یہ ہوگی کہ وہ تمہاری حکومت سے علیحدگی اختیار کریں گے ۔’’ اِس کے بعد ہشام بن عبدالملک کو زید بن علی کے بارے میں جو سب سے پہلی اطلاع ملی وہ ان کی بغاوت کی تھی ۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!







