حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام مکمل پی ڈی ایف ڈاؤنلوڈ
Hazrat Ibrahim and Ismail PDF Download
MS Urdu, Islamic Stories, Urdu Islamic Books, Quran Stories, Hadees Books, Urdu Islamic history Books, Seerat un Nabi Books, Urdu Islamic books, Urdu Ambiya Books
130 ھجری میں ابومسلم خراسانی نے خراسان کے دارالحکومت ‘‘مرو’’ پر قبضہ کر لیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب علی بن جدیع
کرمانی ابومسلم خراسانی سے لڑنے کے لئے آیا تو سلیمان بن کثیر اپنے دستے کے ساتھ اُس کے سامنے پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا ۔ اُس نے کہا:‘‘ تمہیں نصر بن سیار کا ساتھ دیتے ہوئے شرم نہیں آتی ؟ابھی کل ہی کی بات ہے کہ اُس نے تمہارے باپ کو قتل کر کے سولی پر لٹکا دیا تھا ۔’’ علی بن جدیع کرمانی اُس کی بات سے بہت متاثر ہوا اور اُس کی غیرت انتقام جوش میں آگئی اور اُس نے ابومسلم خراسانی کا ساتھ دینے کا ارادہ کر لیا۔ اب علی بن جدیع اور ابومسلم خراسانی دارالحکومت ‘‘مرو’’ کی طرف بڑھے ۔اُس زمانے میں ’’مرو’’ کی شہر پناہ پر نصر بن سیار کا قبضہ تھا کیونکہ وہ خراسان کا گورنر تھا ۔ علی بن جدیع کرمانی نے ابو مسلم خراسانی کو کہلا بھیجا :‘‘ آپ اپنی سمت سے شہر پناہ میں داخل ہوں اور میں اپنی فوج لیکر اپنی سمت سے داخل ہوتا ہوں ۔اِس طرح ہم شہر پر قبضہ کر لیں گے ۔’’ ابومسلم خراسانی نے جواب میں لکھا: ‘‘ مجھے ڈر ہے کہ کہیں ہم ایکدوسرے پر نہ حملہ کرنے لگیں ۔اِس لئے پہلے تم شہر میں داخل ہو کر جنگ شروع کروپھر میں داخل ہوں گا۔’’ علی بن جدیع کرمانی شہر میں داخل ہوا اور اُس کی نصر بن سیار سے جنگ شروع ہوگئی ۔ابومسلم نے اپنے مقدمۃ الجیش کو روانہ کیا ۔اس دستے نے شہر میں داخل ہوکر بخارا اخذاہ کے محل پر قبضہ کر لیا اور ابومسلم خراسانی کو کہلا بھیجا کہ اب شہر میں داخل ہوجائیں۔ابومسلم خراسانی ماخوان کی خندق سے شہر پناہ میں داخل ہوا تو کرمانی اور نصر بن سیار میں جنگ ہو رہی تھی ۔اُس نے شہر میں داخل ہوتے وقت اِس آیت کی تلاوت کی ۔ ترجمہ:‘‘ اور وہ (حضرت موسیٰ علیہ السلام) شہر میں اہل شہر کی بے خبری کی حالت میں داخل ہوا تو اُس نے دوشخصوں کو لڑتا ہوا پایا ۔ایک تو اُس کے طرفداروں میں سے تھا اور دوسرا اُس کے دشمنوں میں سے تھا۔’’ابومسلم خراسانی آگے بڑھتا گیا اور ‘‘دارالامارت’’ یعنی جس محل میں خراسان کے گورنر قیام کرتے تھے اور حکومت کے فیصلے کرتے تھے اُس میں داخل ہوا اور قیام پذیر ہوگیا۔
ابومسلم خراسانی نے ‘‘مرو’’ پر قبضہ کر لیا تو نصر بن سیار کے پاس سوائے فرار کے اور کوئی راستہ نہیں تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ابومسلم خراسانی نے شہر ‘‘مرو’’ کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے لیا اور ابومنصور طلحہ بن رزیق کو بنو ہاشم یعنی بنو عباس کے لئے بیعت لینے کا حکم دیا۔ابو منصور نے ہاشمیوں یعنی عباسیوں کے لئے بیعت لینا شروع کر دی بیعت لیتے وقت وہ کہتا تھا :‘‘ میں تم سے اﷲ کی کتاب اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی سنت پر اور اہل بیت میں سے کسی شخص کو جسے سب پسند کریں گے حکمراں بنانے کے لئے بیعت لیتا ہوں۔تم لوگوں کو اِس کے لئے اﷲ کے سامنے ‘‘واثق عہد’’ کرنا چاہیئے ۔جو اِس کی خلاف ورزی کرے گا اُسے بیویوں کو طلاق اور غلاموں کو آزاد اور کفارہ میں حج کرنا پڑے گا۔ تم لوگ کسی شئے کا لالچ نہ کرنا نہ مانگنا ۔البتہ تمہارے حکمراں جو تمہیں دیں اور اگر تمہارا دشمن تمہارے قدموں تلے بھی ہو جائے تو بغیر اپنے افسروں کے حکم کے اُس کے ساتھ کچھ نہ کرنا۔’’نصر بن یسار کے پاس ابومسلم خراسانی نے لاہز بن قریظ کو بھیجا کہ وہ اُسے ‘‘تحریک عباسیہ’’ میں شریک ہونے کی دعوت دے ۔اُس نے نصر بن سیار کے سامنے کئی آیات تلاوت کی اور پھر یہ آیت تلاوت کی ترجمہ: ‘‘ وہ مجمع تمھارے متعلق مشورہ کر رہا ہے کہ تمہیں قتل کر دے ۔’’ نصر سمجھ گیا کہ وہ میرے قتل کے درپے ہے۔ اِس لئے وہ وضو کرنے کے بہانے اُٹھ کر گیا اور باغ کے راستے گھوڑے پر سوار ہو کر فرار ہوگیا اور جا کر نیشاپور میں قیام کیا۔ابومسلم خراسانی سے لاہظ بن قریظ سے پوچھا کہ تم نے کیا کہا؟ اُس نے بتایا کہ میں نے یہ آیت پڑھی ۔ابومسلم خراسانی نے کہا: ‘‘ یہی اُس کے فرار کی وجہ ہوئی اور تُو دین میں بھی فریب کرتا ہے ۔’’ پھر اُسے قتل کردیا۔
اِس سال 130 ھجری میں ابو حمزہ خارجی نے مدینۂ منورہ پر قبضہ کر لیا ۔امیرالمومنین مروان بن محمد نے اس کی سرکوبی کے لئے لشکر بھیجا جس نے اسے شکست دیکر قتل کردیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : مدینۂ منورہ کے گورنر عبدالواحد بن سلیمان نے عمرو بن عثمان کو ‘‘امیر حج’’ مقرر کر کے روانہ کیا ۔یہ سب قدید آئے اور وہاں قیام پذیر ہوگئے ۔رات میں اچانک خارجیوں نے حملہ کا اور مسلمانوں کو بری طرح قتل کر دیا ۔سب سے زیادہ نقصان قریش کا ہوا کونکہ وہی زیادہ تھے ۔شکست خوردہ مسلمان جان بچا کرمدینۂ منورہ آئے اور وہاں صف ماتم بچھ گئی۔ اِسی دوران ابوحمزہ خارجی اپنے ساتھیوں کے ساتھ مدینۂ منورہ میں داخل ہوا اور قبضہ کر لیا ۔مدینۂ منورہ کا گورنر عبدالواحد بن سلیمان بھاگ گیا۔ اِس کی اطلاع امیرالمومنین مروان بن محمد کو ہوئی تو اُس نے ابن عطیہ کو سپہ سالار بنا کر چار ہزار کا لشکر دیکر روانہ کیا اور وہ نہایت تیزی سے سفر کرتا ہوا مدینۂ منورہ پہنچا ۔ ابوحمزہ سے اُس کی زبردست جنگ ہوئی اور خوارج کو شکست ہوئی اور ابوحمزہ قتل ہوا ۔ مدینۂ منورہ میں جب ابوحمزہ کے قتل کی خبر ملی تو اہل مدینہ بقیہ خوارج پر ٹوٹ پڑے اور سب کو قتل کردیا ۔
130 ھجری کا اختتام ہوا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اس سال ملک عراق اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر اور ناظم اعلیٰ یزید بن عمرو بن ہبیرہ تھا ۔ کوفہ کے قاضی حجاج بن عاصم تھے اور بصرہ کے قاضی عباد بن منصور تھے ۔خراسان کا گورنر نصر بن سیار فرار ہوکر نیشاپور چلا گیا تھا کیونکہ خراسان پر ابومسلم خراسانی نے قبضہ کر لیا تھا ۔مکۂ مکرمہ اور مدینۂ منورہ اور طائف کا گورنر محمد بن عبدالملک بن مروان تھا اور اُسی نے مسلمانوں کو حج کرایا۔
131 ھجری میں پورے ملک خراسان پر ابومسلم خراسانی کا قبضہ ہو گیا اور اس کے بعد وہ نیشاپور آگیا۔ ابو مسلم خراسانی نے قحطبہ بن شبیب کو نصر بن سیار یا یسار سے لڑنے کے لئے فوج دیکر بھیجا تھا ۔علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں :اِس سال 131 ھجری کے ماہ محرم الحرام میں قحطبہ بن شبیب نے اپنے بیٹے حسن بن قحطبہ کو نصر بن سیار سے جنگ کرنے کے لئے ‘‘قومیس ’’ کی طرف روانہ کیا اور اُس کے پیچھے فوج بھی بھیجی ۔ نصر بن سیار کوچ کرکے ‘‘رے’’ میں اُتر اور اُسنے وہاں دودن قیام کیا پھر وہ بیمار ہو گیا تو وہاں سے ‘‘ہمدان’’ چلا گیا اور اِس سال ماہ ربیع الاول میں پچاسی سال کی عُمر میں اُس کا انتقال ہوگیا ۔ جب نصر بن سیار مر گیا تو ابومسلم خراسانی اور اُس کے ساتھی ملک خراسان میں طاقتور ہو گئے اور اُن کی طاقت بڑھ گئی ۔قحطبہ بن شبیب ‘‘قومس’’آیا تو اُس کا بیٹا حسن بن قحطبہ اُسے فتح کر چکا تھا ۔اُس نے وہیں قیام کیا اور اپنے بیٹے حسن بن قحطبہ کو آگے ‘‘رے’’ کی طرف بھیجا اور خود بھی اُس کے پیچھے پیچھے گیا تو اُس کا بیٹا اُسے فتح کر چکا تھا ۔پس اُس نے وہیں قیام کیا اور ابومسلم خراسانی کو یہ بات لکھ بھیجی ۔ ابومسلم خراسانی ‘‘مرو’’ سے کوچ کر کے نیشا پور آیا اور وہیں قیام کر لیا ۔ اب اُس کا معاملہ بہت مضبوط ہوچکا تھا اور وہ خراسان سے آگے بڑھ کر ملک عراق پر حملہ آور ہوا۔
ابومسلم خراسانی کے سپہ سالار مسلسل ‘‘سلطنت بنو اُمیہ’’ پر قبضہ کرتے جارہے تھے اور آگے بڑھتے جا رہے تھے ۔ ملک خراسان پو را فتح کرنے بعد اب ابومسلم خراسانی اور اُس کے سپہ سالار ملک عراق کی طرف بڑھ رہے تھے ۔ ملک عراق کے گورنر یزید بن عمرو بن ہبیرہ نے اُن کے مقابلے کے لئے ایک فوج بھیجی۔علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : قحطبہ بن شبیب نے ‘‘رے’’ میں داخل ہونے کے بعد اپنے بیٹے حسن بن قحطبہ کو ‘‘ہمدان’’ کی طرف بھیجا ۔اُس نے ہمدان کو فتح کیا اور پھر ‘‘نہاوند’’ کی طرف بڑھا اور اُس کا محاصرہ کر لیا ۔ملک عراق کے گورنریزید بن عمرو بن ہبیرہ کو اِن کے آگے بڑھنے کی اطلاع ملی تو اُس نے عامر بن ضبارہ کو فوج دیکر مقابلے کے لئے بھیجا ۔ اِس کا سامنا قحطبہ بن شیبیب کی بیس ہزار فوج سے ہوا۔ جب دونوں فریق ایکدوسرے کے سامنے آئے تو قحطبہ بن شبیب اور اُس کے فوجیوں نے قرآن پاک کو بلند کیا اورشامیوں سے کہا: ‘‘ ہم اِس کی طرف دعوت دیتے ہیں ۔’’ عامر بن ضبارہ اور اُس کی فوج نے انہیں گالیاں دیں تو قحطبہ بن شبیب نے حملہ کرنے کا حکم دے دیا ۔ ابھی جنگ پوری طرح شباب پر بھی نہیں آئی تھی کہ عامر بن ضبارہ کو شکست ہوگئی اور وہ قتل ہوگیا ۔اُس کی فوج بھاگنے لگی تو قحطبہ بن شبیب کی فوج نے اُن کا تعاقب کر کے قتل عام کیا اور بے شمار مال غنیمت حاصل کیا۔
ملک عراق کے گورنر یزید بن عمرو بن ہبیرہ نے قحطبہ بن شبیب کے مقابلے پر ایک لشکر بھیجا تھا جسے شکست ہوئی تو وہ خود ایک فوج لیکر روانہ ہوا۔ ادھر حسن بن قحطبہ ‘‘نہاوند’’ کا محاصرہ کئے ہوئے تھا اور اُس کی مدد کے لئے اُس کا باپ بھی فوج لیکر پہنچ گیا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال قحطبہ بن شبیب نے ‘‘نہاوند’’ کا سخت محاصرہ کیا حتیٰ کہ وہاں موجود شامیوں نے اپیل کی کہ وہ اس کے باشندوں کو مہلت دے تاکہ وہ اُس کے دروازے کھول دیں ۔پس انہوں نے دروازہ کھول دیا اور قحطبہ بن شبیب کا ‘‘نہاوند’’ پر قبضہ ہو گیا اور اُس نے اپنا عہد پورا کیا اور اور اُن سے عہد لیا کہ وہ ‘‘بنو عباس’’ کے خلاف دشمنوں کی مدد نہیں کریں گے ۔اِس کے بعدابو مسلم خراسانی نے قحطبہ بن شبیب کو حکم دیا کہ وہ ابوعون کو تیس ہزار کی فوج دیکر ‘‘شہرزور’’ کی طرف روانہ کرے ۔ابوعون نے ‘‘شہرزور’’ کوفتح کرلیا اور اسکی اطلاع قحطبہ بن شبیب کو دی ۔ یہ دیکھ کر امیرالمومنین مروان بن محمد ‘‘حران’’ سے فوج لیکر روانہ ہوا اور ملک عراق کا گورنر بھی فوج لیکر روانہ ہوا لیکن جب اُس کا سامنا قحطبہ بن شبیب سے ہوا تو اُس پر رعب چھا گیا اور وہ اُلٹے قدموں پیچھے ہٹنے لگا اور پسپا ہوتے ہوتے دریائے فرات بھی پار کر گیا جبکہ قحطبہ بن شبیب مسلسل اُس کا پیچھا کر رہا تھا اور اُس نے بھی دریائے فرات پار کر لیا۔
امیرالمومنین مروان بن محمد کو جب ابوعون کے تیس ہزار کی فوجی اطلاع ملی تو وہ بھی فوج لیکر ‘‘حران’’ سے روانہ ہوا اور ‘‘زاب’’ میں آکر پڑاؤ ڈال دیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : قحطبہ بن شبیب نے ابوعون کو تیس ہزار فوج دیکر ‘‘شہرزور’’ کی طرف بھیجا۔ جب ابواعون کی خبر امیرالمومنین مروان بن محمد کو ملی تو وہ اُس وقت ‘‘حران’’ میں تھا ۔وہ وہاں سے آگے بڑھا اور اُس کے ساتھ ملک شام ،موصل اور الجزیرہ کی تمام فوجیں اور بنو اُمیہ کا پورا خاندان تھا اور یہ بڑھتا ہوا ‘‘موصل’’ تک آیا ۔ اب یہاں اُس نے خندقیں کھودنا شروع کردیں اور ہر خندق کا سلسلہ ایکدوسرے سے ملا دیا یہاں تک کہ اِسی طرح پیش قدمی کرتے ہوئے وہ ‘‘زاب’’ پر آگیا اور مورچے لگا لئے ۔ ابوعون ذی لحجہ کی باقی مدت اور ۱۳۲ ھجری کے محرم الحرام میں ‘‘شہرزور’’ میں ہی مقیم رہا اور فوج میں بھرتی کرتا رہا ۔اُس نے اپنی فوج میں پندرہ ہزار نئے آدمیوں کو بھرتی کیا۔
131
ھجری کا اختتام ہوا اور اِس سال کے اختتام پر ‘‘سلطنت اُمیہ کا شیرازہ منتشر ہوچکا تھا اور وہ اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 131 ھجری میں ولید بن عروہ نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔ یہ عبدالملک بن محمد بن عطیہ کا بھتیجہ ہے اور عبدالملک بن محمد وہی شخص ہے جس نے ابوحمزہ خارجی کا قتل کیا تھا ۔ ولید بن عروہ اپنے چچاکی طرف سے مدینۂ منورہ کا گورنر تھا اور یہ مدینۂ منورہ سے مکۂ مکرمہ روانہ ہوچکا تھا کہ اُس کے چچا عبدالملک بن محمد کو جو اُس وقت یمن میں تھا امیرالمومنین مروان بن محمد نے حج کرانے کا حکم دیا ۔وہ اس حکم کو پورا کرنے کے لئے آرہا تھا کہ راستے میں اُس کا قتل ہوگیا ۔جب چچا کے آنے میں دیر ہوئی تو ولید بن عروہ نے اپنے چچاکی جانب سے حج کرانے کا حکم لکھ لیا اور اُسی نے حج کرایا۔
132
ھجری میں ملک عراق کے گورنر یزید بن عمرو بن ہبیرہ اور قحطبہ بن شبیب کی جنگ ہوئی یعنی ‘‘بنوعباس’’ اور ‘‘بنو اُمیہ’’ کی جنگ ہوئی اور اِس جنگ میں بنو اُمیہ کو شکست ہوئی ۔علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : یزید بن عمرو بن ہبیرہ نے ایک عظیم الشان فوج کے ساتھ روانہ ہوا اور امیرالمومنین مروان بن محمد نے بھی حوثرہ بن سہیل باہلی کو اُس کی امداد کے لئے فوج دیکر بھیجا ۔ اُن دونوں نے ‘‘حلوان’’ پہنچ کر قیام کیا اور اپنے اطراف خندق کھود لی ۔ قحطب بن شبیب بھی اپنی فوج لیکر دریائے دجلہ کو ‘‘انبار’’ کی طرف سے عبور کیا ۔ یہ دیکھ کر یزید بن عمرو بن ہبیرہ کوفہ کی طرف واپس ہوا اور حوثرہ بن سہیل کو پندرہ ہزار کی فوج دیکر کوفہ کی طرف بڑھنے کا حکم دیا ۔ قحطبہ بن شبیب نے جب دریائے دجلہ عبور کیا اُس وقت یزید بن عمرو بن ہبیرہ دریائے فرات کے دہانہ پر تیئس فرسنگ کے فاصلے پر پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا ۔علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 132 ھجری کے محرم الحرام میں قحطبہ بن شبیب نے دریائے فرات عبور کیا اور اُسوقت یزید بن عمرو بن ہبیرہ فلوجہ کے نزدیک دریائے فرات کے دہانے پر ایک بہت بڑی فوج کے ساتھ قیام پذیر تھا اور مروان بن محمد نے بھی اُسے بہت سی فوجوں کے ساتھ مدد دی تھی ۔ پھر قحطبہ بن شبیب کوفہ پر قبضہ کرنے کے پلٹ گیا تو یزید بن عمرو بن ہبیرہ نے اُس کا پیچھا کیا اور دونوں فوجوں میں شدید جنگ ہوئی اور فریقین کے بہت سے آدمی مارے گئے ۔شامی (بنو اُمیہ) شکست کھا کر پیٹھ پھیر کر بھاگے اور خراسانیوں (بنوعباس) نے اُن کا تعاقب کیا اور قحطبہ بن شبیب لوگوں میں گم ہوگیا تو ایک شخص نے بتایا کہ وہ قتل ہوگیا ہے اور اُس نے وصیت کی ہے کہ اُس کے بعد اُس کا بیٹا حسن بن قحطبہ سپہ سالار ہو گیا ۔ قحطبہ بن شبیب کو معن بن زائد اور یحییٰ بن حصین نے قتل کیا اور بعض کا قول ہے کہ اُس شخص نے جو اُس کے ساتھ تھا نصر بن سیا ر کے بیٹوں کے بدلہ میں قتل کیا ۔
ابو مسلم خراسانی کے سپہ سالار نے بنو اُمیہ کی طرف سے ملک عراق کے گورنر یزید بن عمرو بن ہبیرہ کو شکست دی اور کوفہ کی طرف روانہ ہوا۔علامہ عمادالدین بن ابن کثیر لکھتے ہیں : قحطبہ بن شبیب مقتولین میں پایا گیا اوراُسے دفن کر دیا گیا۔ حسن بن قحطبہ فوج کو لیکر کوفہ کی طرف روانہ ہوگیا جہاں محمد بن خالد بن عبداﷲ قسری کو بھجوایا گیا تھا ۔اُس نے اہل کوفہ کو ‘‘بنو عباس’’ کی طرف دعوت دی اور سیاہ لباس پہنا ۔یزید بن عمرو بن ہبیرہ نے زید بن صالح حارثی کو اپنی جگہ کوفہ کا گورنر بنا کر جنگ پر گیا تھا اُس کوفہ سے نکال دیا اور محمد بن خالد ‘‘قصر امارت’’ میں منتقل ہو گیا ۔ محمد بن خالد قسری اہل کوفہ سے ‘‘بنو عباس’’ کے لئے بیعت لے رہا تھا اور جب حوثرہ بن سہیل اپنے پندرہ ہزار کی فوج کے ساتھ کوفہ پہنچا تو اُس کی فوج نے بھی محمد بن خالد قسری کے ہاتھ پر ‘‘بنو عباس’’ کے لئے بیعت کر لی ۔یہ دیکھ کر حوثرہ بن سہیل ‘‘واسط’’ چلا گیا ۔ حسن بن قحطبہ کوفہ میں داخل ہوا اور قبضہ کر لیا ۔ قحطبہ بن شبیب نے اپنی وصیت میں کہا تھا کہ ابوسلمہ خلال کے غلام حفص بن سلیمان کو کوفہ کا ‘‘وزیر’’ بنایا جائے ۔ اِس کے بعد اُس نے ہر طرف فوجیں بھیجیں۔ ان فوجوں نے یزید بن عمرو بن ہبیرہ کو قتل کردیا ۔ اور بصرہ بھی فتح کر لیا ۔
اِس سے پہلے ہم نے ذکر کیا تھا کہ 129 ھجری میں ‘‘تحریک عباسیہ’’ کے رہنما ابراہیم بن محمد کو مروان بن محمد نے قید کر لیا تھا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : امام ابرہیم بن محمد کو امیرالمومنین مروان بن محمد کے پاس ‘‘حران’’ لے جایا گیا جہاں اُس نے آپ کو قید کردیا اور اُن کا اِس سال 132 ھجری میں ماہ صفر المظفر میں اڑتالیس 48 سال کی عُمر قید خانے میں ہی میں انتقال ہوگیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : گرفتار ہونے کے بعد جب ابراہیم بن محمد اپنے اہل و عیال سے رخصت ہونے لگے تو انہیں اپنے بھائی ابولعباس عبداﷲ بن محمد سفاح کے ساتھ کوفہ جانے کا حکم دیا اور کہا: ‘‘ یہ میری اور تمہاری آخری ملاقات ہے کیونکہ میں قتل کر دیا جاؤں گا ۔اب تم سب لوگ میرے بھائی ابولعباس عبداﷲ بن محمد کی اطاعت و فرماں برداری کرنا۔ اِس طرح ابراہیم بن محمد نے اپنے بعد ابوالعباس عبداﷲ بن محمد کو جانشین مقرر کر دیا ۔ پھر وہ اپنے خاندان کو لیکر کوفہ آیا جہاں ابوسلمہ خلال نے انہیں چھپائے رکھا۔4
132 ھجری میں‘‘سلطنت اُمیہ’’ اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی اور ‘‘سلطنت عباسیہ’’ کی شروعات ہو رہی تھی ۔ اِس سال کوفہ میں ‘‘سلطنت عباسیہ’’ کے پہلے حکمراں ابولعباس عبداﷲ بن محمد سفاح کی بیعت کی گئی ۔ اِس کا تفصیلی ذکر ہم انشاء اﷲ ‘‘سلطنت عباسیہ’’ کے ذکر میں کریں گے ۔ یہاں مختصراً پیش کر کے آگے بڑھ جائیں گے ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال ماہ ربیع الاول کی بارہ (12) تاریخ کو جمعہ کی رات میں ابوالعباس عبداﷲ بن محمد سفاح کی بیعت ہوئی ۔جس کا نام عبداﷲ بن محمد بن علی بن عبداﷲ بن عباس بن عبدالمطلب ہے ۔ یہ ‘‘سلطنت عباسیہ’’ کا پہلا حکمراں ہے ۔ امام واقدی کے مطابق اِس سال جمادی الاول میں اِس کی بیعت ہوئی ۔ پس جب جمعہ کا دن ہوا یعنی صبح ہوئی تو ابوالعباس عبداﷲ بن محمد سفاح ایک سیاہ ترکی گھوڑے پر سوار ہوکر نکلا اور فوجیں اُس کے ساتھ تھیں ۔حتیٰ کہ وہ ‘‘دارالامارت’’ میں داخل ہوگیا ۔پھر وہ جامع مسجد کی طرف گیا اور لوگوں کو نماز پڑھائی ۔ پھر وہ منبر پر بیٹھ گیا اور ‘‘بیعت عام’’ شروع ہوئی ۔ جب تمام لوگوں نے بیعت کر لی تو اُس نے منبر کر کھڑے ہو کر اپنا پہلا خطبہ کہا۔( یہ خطبہ ہم انشاء اﷲ ‘‘سلطنت عباسیہ’’ میں پیش کریں گے)
سلطنت عباسیہ’’ کے پہلے حکمراں ابولعباس عبداﷲ بن محمد اور ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کے آخری حکمراں مروان بن محمد آمنے سامنے آگئے ۔علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : مروان بن محمد ‘‘بنو امیہ’’ کا آخری حکمراں ہے اور ‘‘بنو عباس’’ کی طرف حکومت کا منتقل ہونا آیت ترجمہ:‘‘ اﷲ جسے چاہتا ہے حکومت دیتا ہے۔’’ اور اِس آیت ترجمہ:‘‘ کہدو! اے اﷲ جو حکومت کا مالک ہے…… آیت کے آخر تک۔’’سے ماخوذ ہے ۔ جب مروان بن محمد کو ابومسلم خراسانی اور اُس کے ساتھیوں اور جو کچھ خراسان میں ہوا اس کی اطلاع ملی تو وہ ‘‘حران’’ سے آکر ‘‘موصل’’ کے قریب ایک دریا پر اُترا جسے ‘‘زاب’’ کہا جاتا ہے اور یہ الجزیرہ کے علاقے میں ہے ۔ جب اُسے یہ اطلاع ملی کہ کوفہ میں ابولعباس عبداﷲ بن محمد سفاح کی بیعت کی گئی ہے اور فوجیں اُس کے ارد گرد جمع ہو گئی ہیں اور اُس کی حکومت مستحکم ہو گئی ہے تو اسے یہ بات بہت گراں گذری ۔اُس نے اپنی فوجوں کو جمع کیا تو ابوعون بن یزید بہت بڑی فوج لیکر اُس کی طرف بڑھا ۔یہ ابولعباس عبداﷲ بن محمد سفاح کا سپہ سالار تھا ۔اُس نے مروان بن محمد سے ‘‘زاب’’ میں جنگ کی اور اِسی دوران سفاح کی طرف سے اور کمک آگئی ۔ پھر عبداﷲ بن محمد سفاح نے اپنی فوجوں کو آواز دی جو اُس کے اہل بیت میں سے جنگ کے منتظم تھے تو عبداﷲ بن علی نے اُسے جواب دیا اور کہا : ‘‘ اﷲ کی برکت سے چلو۔’’ ابولعباس عبداﷲ بن محمد بہت سی فوج لیکر ‘‘زاب’’ پہنچا۔عبداﷲ بن علی اپنی فوج کے ساتھ آگے بڑھا اور مروان بن محمد بھی اپنی فوج کے ساتھ آگے بڑھا اور دونوں نے صف بندی کر لی ۔ کہتے ہیں اُس روز مروان بن محمد کے پاس ایک لاکھ پچاس ہزار فوج تھی اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ایک لاکھ بیس ہزار تھی ۔ عبداﷲ بن علی کے پاس بیس ہزار فوج تھی ۔
سلطنت اُمیہ’’ اور ‘‘سلطنت عباسیہ’’ کی یہ آخری جنگ تھی ۔ اِس جنگ میں مروان بن محمد کو شکست ہوئی اور حکومت ‘‘خاندان اُمیہ’’ سے ‘‘خاندان عباسیہ’’ نے چھین لی۔ اِس طرح ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کا خاتمہ ہوگیا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال جمادی الآخر میں سنیچر کے دن دونوں لشکر ایکدوسرے کے سامنے صف آرا ہوئے ۔مروان بن محمد نے کہا: ‘‘ ٹھہرو! جنگ میں پہل نہ کرنا ۔’’ پھر وہ سورج کی طرف دیکھنے لگا ۔ولید بن معاویہ بن مروان جو اُس کا داماد تھا اُس نے حکم نہیں مانا اور حملہ کر دیا ۔ مروان بن محمد نے ناراض ہو کر اُسے گالیاں دیں اور اُس نے میمنہ والوں سے جنگ کی اور ابوعون بھی عبداﷲ بن علی کی طرف سمٹ آیا ۔ موسیٰ بن کعب نے عبداﷲ بن علی کی خاطر جنگ کی اور یہ لوگ اُس کے حکم سے اُتر پڑے اور ‘‘زمین زمین’’ کی آواز دی گئی تو وہ اُتر پڑے اور انہوں نے نیزے بلند کئے اور گھٹنوں کے بل ہو گئے اور اہل شام سے جنگ کی ۔اہل شام اِس طرح پیچھے ہٹنے لگے جیسے انہیں ہٹایا جارہا ہو۔ عبداﷲ پیدل چلنے لگا اور کہنے لگا:‘‘ اے میرے رب! ہم کب تک قتل ہوں گے؟ ’’پھر اُس نے پکارا: ‘‘ اے اہل خراسان! اے امام ابراہیم کے خوش منظر لباس! اے محمد! اے منصور۔’’ اور جنگ شدت اختیار کر گئی اور صرف ڈھالوں پر تلواروں کے پڑنے کی آواز سنائی دیتی تھی ،مروان بن محمد نے جب اپنی فوج کے ایک حصہ کو حکم بھیجا تو وہ ایکدوسرے پر ڈالنے لگے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اہل شام بری طرح شکست کھا گئے اور بھاگ کھڑے ہوئے اور اہل خراسان انہیں قتل کرنے اور قیدی بنانے لگے ۔ بہت سارے اہل شام دریا میں کود پڑے اور غرق ہونے لگے ۔
اہل شام دریا پر پل نہ ہونے کی وجہ سے شکست کھانے کے بعددریا میں ہی کود پڑے تھے۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : دریا میں غرق ہونے والوں میں ابراہیم بن ولید بن عبدالملک اور اُس کے ساتھی بھی تھے ۔ عبداﷲ بن علی نے پل باندھنے اور غرق ہونے والوں کو پانی سے نکالنے کا حکم دیا اور سات دن تک یہیں قیام پذیر رہا ۔ مروان بن محمد کے پڑاؤ میں جو مال و متاع کے ذخائر تھے اُن پر قبضہ کر لیا ۔ ابوالعباس بن عبداﷲ بن محمد نے فتح کے بعد شکرانہ کی نماز پڑھی اور جنگ میں حاضر رہنے والوں کو پانچ پانچ سو درہم دیئے ۔ جب مروان بن محمد کو شکست ہوئی تو بھاگتا چلا گیا اور کسی طرف دیکھتا ہی نہیں تھا ۔ ابولعباس عبداﷲ بن محمد سفاح کے حکم سے عبداﷲ بن علی نے اُس کے تعاقب میں فوج روانہ کی ۔ جب مروان ‘‘حران’’ پہنچا تو وہاں بھی نہیں رُکا اور اُس سے بھی آگے بڑھ گیا ۔اس کے بعد قنسرین آیا پھر وہاں سے حمص آگیا
اور جب اہل حمص نے اُس کے ساتھ تھوڑے سے لوگوں کو دیکھا تو اُسے قتل کرنے اور اُس کے پاس جو کچھ تھا وہ لُوٹنے کے لئے اُس کا تعاقب کرنے لگے ۔انہوں نے حمص کے نزدیک ایک وادی میں اُسے پکڑ لیا اور دونوں فریق میں جنگ ہوئی جس میں اہل حمص کو شکست ہوئی اور مروان بن محمد دمشق آگیا اور وہاں بھی نہیں رُکا بلکہ ملک مصر کی طرف بھاگ گیا ۔اُس کے پیچھے پیچھے عبداﷲ بن علی ہر شہر میں جارہا تھا اور ہر شہر میں ‘‘سلطنت عباسیہ’’ کے حاکم مقرر کرتا جا رہا تھا ۔ اِسی دوران ‘‘سلطنت عباسیہ’’ کے حکمراں ابوالعباس عبداﷲ بن محمد سفاح کا حکم عبداﷲ بن علی کو ملا : ‘‘ مروان بن محمد کے تعاقب میں صالح بن علی کو مقرر کرو۔ ’’ صالح بن علی اپنی فوج لیکر ملک مصر پہنچا تو مروان بن محمد عریش سے نیل کی طرف چلا آیا اور پھر صعید چلا گیا ۔صالح نے پڑاؤ کر کے فوج کو آگے بڑھنے کا حکم دیا اور اتفاق سے مروان کے سواروں سے مڈ بھیڑ ہوگئی ۔مروان بن محمد کے ساتھی پہلے ہی سے شکستہ دل ہورہے تھے اِس لئے ایک ساعت بھی مقابلہ نہیں کر سکے اور شکست کھا کر بھاگے ۔ان میں سے کچھ کو گرفتار کیا گیا تو انہوں نے بتلایا کہ مروان بن محمد ‘‘بوصیر’’ میں مقیم ہے ۔ابوعون صالح بن علی یہ سنتے ہی ‘‘بوصیر’’ جا پہنچا اور شبخون مارا۔ مروان بن محمد اِس اچانک حملے سے بوکھلا گیا اور گھبرا کر مکان سے باہر نکلا ۔ایک شخص جو اُس کی تاک میں کھڑا تھا برچھے کا وار کیا تو مروان بن محمد چکرا کر گرپڑا ۔کوئی شخص چلا کر بولا: ‘‘ افسوس! امیرالمومنین مارے گئے۔’’ ابوعون اور اُس کے ساتھی یہ سن کر دوڑ پڑے اور مروان بن محمد کا سر کاٹ لیا اور ابوالعباس عبداﷲ بن محمد سفاح کی خدمت میں بھیج دیا ۔ یہ واقعہ 28 ذی الحجہ 132 ھجری کا ہے ۔مروان بن محمد لگ بھگ چھ مہینے تک بھاگتا رہا اور آخر کار قتل ہوگیا ۔
سلطنتِ اُمیہ’’ کا خاتمہ
مروان بن محمد کے قتل کے ساتھ ہی ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کا خاتمہ ہوگیا ۔ اب ہم آپ کی خدمت میں انشاء اﷲ ‘‘سلطنت عباسیہ’’ کے حالات پیش کریں گے ۔پھر اس کے بعد انشاء اﷲ ‘‘اسپین میں اسلام اور مسلمان’’ کو تفصیل سے پیش کریں گے ۔
٭……٭……٭
حضرت علی المرتضیٰ کا سلسلۂ نسب دادا (عبد المطلب )پر جا کر سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم سے مل گیا ہے اور پھر باقی سلسلۂ نسب وہی ہے جو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا ہے ۔پھر بھی یہاں ہم پیش کر رہے ہیں ۔حضرت علی بن ابی طالب( نام عبد مناف ) بن عبد المطلب ( نام شیبہ) بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مُرہ ۔عبد المطلب سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم اور حضرت علی رضی اﷲ عنہ کے دادا ہیں ۔اِس طرح دونوں چچا زاد بھائی ہیں ۔حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کا خاندان بھی وہی ہے جو سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم کا ہے ۔یعنی ” بنو ہاشم “ یا ” بنو عبد المطلب “ ۔حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے والد کی کنیت ”ابو طالب “ ہے اور نام عبد مناف ہے ۔ابو طالب کے سگے بھائی حضرت عبد اﷲ ( رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے والد ِ محترم ) اور زبیر بن عبد المطلب ہیں یعنی ایک ہی والدہ سے ہیںاور بقیہ بھائی دوسری والداو¿ں سے ہیں ۔حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کی والدہ محترمہ کا نام سیدہ فاطمہ بنت اسد ہے ۔یہ پہلی ہاشمی خاتون ہیں جن کی شادی ہاشمی خاندان میں ہوئی ۔اِس طرح حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ والد اور والدہ دونوں طرف سے ”ہاشمی “ہیں ۔حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کی والدہ محترمہ نے اسلام قبول کیا اور مدینہ¿ منورہ ہجرت بھی کی اور یہیں انتقال ہوا ۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے کفن دفن کے انتظامات کئے اور اپنی قمیص مبارک کفن کے لئے عطا فرمائی اور قبر تیار ہونے کے بعد پہلے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم خود قبر میں اُترے ۔حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ کے تین بھائی ہیں ۔سب سے بڑے طالب بن ابی طالب ،پھر حضرت عقیل بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ اور پھر حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ ،پھر حضرت علی بن بی طالب رضی اﷲ عنہ ہیں ۔طالب نے اسلام قبول نہیں کیا تھا ۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کی د وبہینیں ہیں ۔فاختہ بنت ابو طالب اِ ن کی کنیت ”اُم ہانی “ ہے اور جمانیہ بنت ابو طالب ۔
اعلان ِ نبوت سے پہلے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے معاشی حالات بھی کافی اچھے ہوچکے تھے اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام چچاﺅں کے بھی معاشی حالات کافی بہتر تھے۔صرف ابوطالب کے معاشی حالات بہت خراب تھے۔ اسی دوران مکہ مکرمہ میں قحط پڑا اور ابو طالب غرےبی کی وجہ سے پریشانی کاشکار ہوگئے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کی یہ حالت دیکھی تو اپنے دوسرے چچا حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ۔وہ عطر کی تجارت کرتے تھے اور کافی امیر تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرماےا:” چچا جان! آپ تو جانتے ہیں کہ چچا ابوطالب بہت غرےب ہیں اور ان کی اولاد زیادہ ہے اور اپنی خودداری کی وجہ سے وہ کوئی مد د نہیں لیں گے تو ہم ایسا کیوں نہ کریں کہ ان کی کچھ اولاد کے کفیل بن جائےں ، تاکہ ان کا خرچ کم ہو۔ “حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اﷲ عنہ راضی ہوگئے ، دونوں ملکرابو طالب کے پاس گئے اور یہی درخواست کی ۔ابو طالب نے کہا:” عقیل کو مےرے پاس چھوڑ دو اور باقی جسے چاہو لے لو۔“ حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو اپنی کفالت میں لے لیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی بن ا بی طالب رضی اللہ عنہ کو لیکر اپنے گھر آگئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زےر کفالت بڑے ہونے لگے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چچا ابوطالب کے معاشی بوجھ کو کچھ ہلکا کرنے کیلئے ان کے ایک بےٹے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنے گھر لے آئے تھے اور وہ وہیں رہنے لگے تھے اور کئی سال تک رہے ۔اِس دوران اﷲ تعالیٰ نے سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم کو نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا اور سیدہ خدیجہ رضی اﷲ عنہا نے اسلام قبول کر لیا ۔اُس وقت پانچ وقت کی نمازیں فرض نہیں ہوئی تھیں لیکن نماز پڑھنے کا حکم تھا اِسی لئے سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم اور سیدہ خدیجہ رضی اﷲ عنہا گھر میں نماز پڑھتے تھے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو گھر میں نماز پڑھتے دیکھا تو حےرت سے درےافت کیا:” یہ کیا ہے ؟“حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرماےا:”یہ اللہ کا دین ہے، یہی دین لیکر تمام انبیاءدنیا میں آئے ہیں۔ میں تم کو اللہ کی طرف بلاتا ہوں اسی کی عبادت کرو اور بتوں کا انکار کردو ۔“
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی عمر اس وقت لگ بھگ دس برس کی تھی انھوں نے کہا:” یہ بالکل نئی چےز ہے، جب تک میں اپنے والد ابو طالب سے مشورہ نہ کرلوں تب تک میں کچھ بھی نہیں کہہ سکتا۔“ اس وقت علانیہ تبلیغ کا حکم نہیں ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خفیہ تبلیغ کررہے تھے۔ اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” اے علی (رضی اللہ عنہ )!اگر تم اسلام قبول نہیں کرتے تو اسکا ذکر بھی کسی سے مت کرو۔ “حضرت علی رضی اللہ عنہ خاموشی سے اپنے کمرے میںآگئے۔ ایک رات بھی گذرنے نہ پائی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ رضی اللہ عنہ کا دل اسلام کی طرف مائل کردیا۔ جب صبح ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا:” آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس چیز کی دعوت دےتے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:” گواہی دو کہ اللہ ایک ہے اسکا کوئی شرےک نہیں ہے اور محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔ “حضرت علی رضی اللہ عنہ نے گواہی دی اور اسلام قبول کرلیااور کافی عرصے تک اپنے اسلام کو اپنے والد ابو طالب سے بھی چھپائے رکھا۔
حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ بچپن سے لیکر آخر تک سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ رہے اور لگ بھگ ہر غزوہ اورمکہ¿ مکرمہ اور مدینہ¿ منورہ میں بھی ساتھ ہی رہے ۔حضرت عفیف کندی کا نام شراحیل ہے اور عفیف لقب ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ یمن کے ہیں اورعطر کے تاجر تھے۔حضرت عباس بن عبد المطلب بھی عطر کے تاجر تھے اور تجارت کے سلسلے میں یمن جاتے رہتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :”میں منیٰ میں اپنے دوست حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ ہر طرف خیمے لگے ہوئے تھے اچانک میں نے دیکھا کہ ایک بے انتہا خوبصورت اور روشن چہرے والا شخص ایک خیمے سے باہر آیااور نماز کے لئے کھڑ اہو گیا۔ ابھی میں اس خوبصورت اور معصوم شخص کو دیکھ رہا تھا کہ ایک عورت خیمے سے نکل کر آئی اور اس بے انتہا خوب صورت شخص کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگی پھر میں نے دیکھا کہ ایک گیارہ سالہ لڑکا باہر آیا اور اس بے انتہا خوب صورت روشن چہرے والے شخص کے دائیں طرف ذرا سا پیچھے کھڑا ہوگیا اور نماز شروع کر دی۔ میں حیرت سے اپنے دوست حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کودیکھنے لگا تو انھوں نے مجھے بتایا:” یہ جو بے انتہا خوبصورت شخص کو دیکھ رہے ہو یہ میرے بھائی حضرت عبداللہ کا بیٹا محمد( صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں۔ ان کا خیال یہ ہے کہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ نے انھیں دین اسلام دیکر بھیجا ہے اور یہ خاتون ان کی زوجہ محترمہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ یہ اپنے شوہر پر ایمان لے آئی ہیں اور وہ گیارہ سالہ لڑکا حضرت علی بن ابو طالب ہے میرے بھائی ابو طالب کا بیٹا! یہ بھی مسلمان ہو گیا ہے۔ “اس کے بعد حضرت عفیف کندی فرماتے ہیں :” اس منظر نے میرے دل پر بہت گہرا اثرکیا تھالیکن اس وقت میں پوری طرح اسلام کی سچائی کو سمجھ نہیں پایا تھا۔ بعد میں جب میں نے اسلام قبول کیا تو مجھ سے پہلے بہت سے لوگ اسلام قبول کرچکے تھے اور اس بات کا مجھے ہمیشہ افسوس رہا ہے کہ کاش اگر میں اسی وقت اسلام قبول کر لیتا تو شاید میں چوتھا مسلمان ہوتا۔ “
خفیہ تبلیغ کا سلسلہ جاری تھا اور ایک ایک کر کے مسلمان ہوتے جا رہے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی عمر لگ بھگ گیارہ برس ہو چکی تھی اور آپ رضی اللہ عنہ ہر وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ لگے رہتے تھے۔ جب نماز پڑھنا ہوتی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ پہاڑوں کے درمیان کسی گھاٹی یا درّہ میں جا کر پوشیدہ نماز پڑھتے ۔ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اورحضرت علی رضی اللہ عنہ نماز پڑھ رہے تھے کہ اتفاق سے ابو طالب ادھر سے گزرے ۔ وہ حیرت سے کھڑے اپنے بھتیجے اور بیٹے کو قیام ، رکوع ، سجدہ ،قعدہ کرتے اور سلام پھیرتے دیکھتے رہے۔ جب دونوں حضرات نماز سے فارغ ہو گئے تو انھوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا:” اے بھتیجے !یہ کون سا دین ہے جس میں ایسی عبادت کی جاتی ہے ؟“آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”پیاے چچا ! یہ اللہ کا دین اسلام ہے، اُس کے فرشتوں اوررسولوں کا دین ہے اور ہمارے جدامجد حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دین ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس دین کے ساتھ تمام بندوں کی طرف بھیجا ہے اور اے میرے پیارے چچا !آپ سب سے زیادہ اس بات کے حق دارہیں کہ میں آپ کو اس دین کی دعوت دوں اور ہدایت کی طرف بلاﺅں۔ آپ کا بھی یہ حق بنتا ہے کہ آپ اس دعوت کو قبول کریں اور اس کی دعوت و تبلیغ میں میری مدد کریں۔“
سید الانبیاءصلی اﷲعلیہ وسلم کی دعوت کو سن کر ابو طالب نے جواب دیا:” اے میرے پیارے بھتیجے ! میں اپنے آباﺅ اجداد کا دین اور ان کا طریقہ نہیں چھوڑ سکتا۔ لیکن اتنی بات ضرور ہے کہ جب تک میں زندہ ہوں تمہاری ہر ممکن مدد کرتا رہوں گا اور کوشش کروں گا کہ تمہیں کوئی دکھ یا تکلیف نہ پہنچے ۔“ اس کے بعد ابوطالب نے اپنے بیٹے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا :” اے پیارے بیٹے !یہ کون سادین ہے جو تم نے اختیار کیا ہے؟ “آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا:” پیارے ابا جان !میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آیا ہوں اور اُن کی تعلیمات ( جو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لائے ہیں) کو دل و جان سے قبول کرتا ہوں اور اللہ کی رضا کے لئے ان کے ساتھ مل کر عبادت(نمازادا) کرتا ہوں۔“ یہ سن کر ابو طالب نے کہا:” اے میرے پیارے بیٹے !بے شک تمہارا بھائی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تمہیں بھلائی اور کامیابی کی طرف لے جائے گا ۔ اس لئے ہر حال میں اپنے بھائی کا ساتھ نبھانا اور اس کا ساتھ کبھی مت چھوڑنا۔ “
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!
اللہ تعالیٰ کے حکم سے تین برس تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم خفیہ دعوت و تبلیغ کرتے رہے۔ اور اس میں کامیابی بھی ملی لیکن کامیابی کی یہ رفتار دھیمی تھی۔ جب تین برس ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی (ترجمہ )” اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ڈرائیں ( اسلام کی دعوت دیں) اپنے قریبی رشتہ داروں کو“ ( سورہ الشعرا ءآیت نمبر214) حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :” جب یہ آیت ” وانذرعشیرتک الاقربین “( اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیں) نازل ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو حکم دیا کہ ایک صاع غلّہ (اناج) اور بکری کا ایک دست ( گوشت) اور دودھ کا ایک پیالہ مہیا کرو۔ ( یعنی کھانے پینے کا انتظام کرو) اور بنو ہاشم کو کھانے کی دعوت دو اور جمع کرو( حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام چچاﺅں اور ان کی اولاد اور پھوپھیوں اور ان کی اولاد کو کھانے کی دعوت دی) میں نے خاندان ِ ہاشم ( یہ یاد رہے کہ عبد المطلب کے والد کا نام ہاشم ہے) کو کھانے کی دعوت دی اور کم و بیش چالیس40افراد جمع ہو گئے ۔“ (حضرت علی رضی اﷲ عنہ اُس وقت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی کفالت میں تھے اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ اُن کے گھر میں ہی رہتے تھے۔اُس وقت آپ رضی اﷲ عنہ کی عُمر بہ مشکل تیرہ 13سال کی تھی۔)
حضرت علی رضی اﷲ عنہ آگے فرماتے ہیں :”جب تمام لوگ آگئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو کھانے کے لئے بٹھایا۔ ان میں ابو طالب ، حضرت حمزہ ، حضرت عباس اور ابولہب بھی تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مبارک ہاتھوں سے سب کو کھانا کھلایا۔ تمام لوگ پیٹ بھر کر کھا چکے تھے پھر بھی وہ کھانا اُتنا ہی رہا جتنا پہلے تھا۔ اس کے بعد حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ کا پیالہ اٹھایا اور مجھ سے فرمایا :” اے علی ( رضی اللہ عنہ) ! ان سب کو دودھ پلاﺅ۔“ دودھ کا پیالہ دیتے رہے ،سب نے دودھ پیا پھر بھی پیالے میں دودھ اتنا ہی تھا۔ جب تمام لوگ فارغ ہو گئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم تقریر کرنے کے لئے کھڑے ہو ئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ کہنے سے پہلے ہی ابو لہب کھڑا ہو گیا اور بولا :” لوگو !دیکھا تم نے! اس شخص نے تم پر کیسا جادو کیا ہے اور جادو کا تماشہ تمہیں دکھایا ہے“ اس کا اشارہ کھانے اور دودھ کے برتن کی طرف تھا۔ اتنا کہہ کر وہ جانے لگا تو تمام لوگ بھی اٹھ کر چلے گئے۔ دوسرے دن پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کھانے اور پینے کا انتظام کرنے اور تمام رشتہ داروں کو دعوت دینے کا حکم دیا۔دوسرے دن بھی سب نے کھایا اور پیا ۔ لیکن جیسے ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کچھ کہنے کے لئے کھڑے ہو ئے تو پھر ابو لہب نے وہی حرکت کی اور سب چلے گئے۔ “
حضرت علی رضی اﷲ عنہ آگے فرماتے ہیں :”سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم نے پھر تیسرے دن مجھ سے کھانے پینے کا انتظام کرنے اور تمام رشتہ داروں کو دعوت دینے کا حکم دیا۔ تیسرے دن بھی تمام لوگوں کے کھانے اور پینے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کچھ کہنے کے لئے کھڑے ہوئے تو ابو لہب پھر وہی بکواس کرنے لگا۔ لیکن اس مرتبہ تمام لوگ بیٹھے رہے اور ابو لہب کی بکواس پر توجہ نہیں کی اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے گھرانے میں تقریر کی۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام رشتہ داروں پر اسلام پیش کیا اور فرمایا :” تم سب میرے قریبی عزیز ہولیکن تم میں سے کون شخص میرا بھائی بن کر اشاعتِ اسلام میں میری مدد کرے گا۔؟“تو سب لوگ خاموش رہے۔ جب دوسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سوال دہرایا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا :” یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں“ ( آپ کی مد د کروں گا) ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حیرت سے دیکھا اور فرمایا:”تم ؟“حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:” میری عمر اس وقت کم ہے لیکن میں جسمانی طور سے صحت مند ہوں۔ میری بات سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے۔ “
سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ¿ خیبر میں شیخین ( حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ) کو لشکر دے کر بھیجا تھا۔ لیکن فیصلہ کن جنگ نہیں ہو سکی تھی۔ دوسرے دن شام میں اسلامی لشکر اپنے پڑاﺅ میں واپس آیا تو سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا: ” کل صبح میں ایسے شخص کو جھنڈا دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھوں سے قلعہ فتح کرادے گا اور وہ شخص جہاد سے بھاگنے والا نہیں ہے۔ “حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے روز فرمایا: ” کل یہ جھنڈا میں ایسے شخص کو دوں گا کہ اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائے گا اور وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے محبت کرتے ہیں۔ “
سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ کل میں جھنڈا یسے شخص کو دوں کہ اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر ( قلعہ قموص) فتح عطا فرمائے گا اور وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے محبت کرتے ہیں۔ یہ بہت بڑی بشارت ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں : ” لوگوں نے یعنی تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رات بڑی بے چینی کے ساتھ گزاری کہ دیکھیں صبح جھنڈا کس کو عطا فرمایا جاتا ہے۔ جب صبح ہوئی تو لوگ ( صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ِ اقدس میں حاضر ہوئے۔“ایک روایت میں ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:” اس رات میری شدید تمنا یہ تھی کہ صبح جھنڈا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاتھ میں عطا فرمائیں۔ “در اصل تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اس رات یہی شدید تمنا تھی کہ سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم صبح جھنڈا ان کے ہاتھ میں عطا فرمائیں اور یہ اس وجہ سے نہیں تھی کہ فتح ان کے ہاتھ ہو بلکہ اس بشارت کے علاوہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور بشارت دی تھی کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔ یوں تو تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اللہ تعالیٰ سے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت سے آگے بڑھ کر عشق کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بے انتہا محبت کرتے تھے۔ لیکن صبح سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم یہ” خصوصی اعزاز“ عطا فرمانے والے تھے اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شدید تمنا تھی کہ یہ ”اعزاز “انہیں عطا ہو۔
سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یہ تمنا لے کر صبح حاضر ہوئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جھنڈا مجھے عطا فرمائیں۔ سب لوگ حاضر ہو گئے لیکن حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ صحیح بخاری کی حدیث آگے بڑھاتے ہیں۔ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ” پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہاں ہیں؟ “صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ” یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ان کی آنکھیں دکھ رہی ہیں۔“ ( جس کی وجہ سے وہ حاضر نہیں ہو سکے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلوایا۔ وہ حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا مبارک لعاب دہن ان کی آنکھ میں لگا دیا اور ان کے لئے دعا فرمائی تو ان کی آنکھیں فوراً اچھی ہو گئیں اور ایسا لگا جیسے ان کو کبھی یہ تکلیف نہیں تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھنڈا انہیں عنایت فرما یا۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کیا میں ان کے ساتھ اس وقت تک لڑوں جب تک مسلمان نہ ہو جائیں؟ “آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم چپ چاپ ان کے میدان میں جا کر اترو اور پھر انہیں اسلام کی دعوت دو اور انہیں بتاﺅ کہ اللہ کا حق ہونے کے باعث ان پر کیا واجب ہے۔ پس اللہ کی قسم ! اگر ایک آدمی کو بھی اللہ تعالیٰ نے تمہاری وجہ سے ہدایت دے دی تو یہ تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔ “
سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی لشکر کی قیادت حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو دی اور آپ رضی اللہ عنہ اسلامی لشکر لےکر قلعہ کے صدر دروازے کے سامنے آئے اور جھنڈا گاڑ دیا اور یہودیوں کو اسلام کی دعوت دی جو انہوں نے مسترد کر دی اور اپنے سردار مرحب کی قیادت میں جنگ لڑنے کے لئے تیار ہو گئے۔ مرحب بہت ہی طاقتور اور لڑاکو تھا اور اسے ایک ہزار مردوں کے برابر مانا جاتا تھا۔ سب سے پہلے وہ آگے بڑھا اور بولا : ” خیبر کو معلوم ہے کہ میں مرحب ہوں۔ ہتھیار پوش، بہادر اور تجربہ کار ۔ جب جنگ کے شعلے بھڑک اٹھے ہوں ۔ “حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب ہم خیبر پہنچے تو ان کا بادشاہ مرحب اپنی تلوار لے کر گھمنڈ سے اتراتا ہوا سامنے آیا تو اس کے مقابلے کے لئے میرے چچا ( یا بھائی) حضرت عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور فرمایا: ” خیبر جانتا ہے کہ میں عامر ہوں۔ہتھیار پوش، شہ زور اور جنگجو ، “ پھر دونوں نے ایک دوسرے پر وار کیا۔ مرحب کی تلوار حضرت عامر رضی اللہ عنہ نے اپنی ڈھال پر روکی تو وہ ڈھال میں گھس گئی اور آپ رضی اللہ عنہ نے اس کے نیچے سے وار کیا تو ان کی تلوار چھوٹی ہونے کی وجہ سے مرحب کی پنڈلیوں پر پڑ کر اُچٹ کر واپس ان کے گھٹنے پر آلگی جس کی وجہ سے آپ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو انگلیوں کو اکٹھا کر کے فرمایاکہ ان کے لئے دوہر ا اجر ہے۔ وہ بڑے جانباز مجاہد تھے اور ان جیسا کم ہی عرب کی روئے زمین پر ہوا ہوگا۔ اس کے بعد حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور فرمایا: ” میں وہ شخص ہوں کہ میری والدہ نے میرا نام حیدر ( شیر ) رکھا ہے۔ جنگل کے شیر کی طرح خوفناک۔ میں انہیں صاع کے بدلے نیزے کی ناپ پوری کروں گا۔“ اور مرحب کے سر پر تلوار کا ایسا وار کیا کہ تلوار سر کو کاٹتی ہوئی داڑھ تک پہنچ گئی اور وہ وہیں ختم ہو گیا۔
مرحب کے قتل کے بارے میں کئی روایتیں ہیں۔ ایک روایت میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” اس جنگ میںمرحب یہودی سامان جنگ سے آراستہ ہو کر ہتھیار لگائے اپنے قلعہ سے باہر نکل کر میدان میں آیا اور اپنی تعریف میں اشعار پڑھنے لگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس کے مقابلے پر کون جواں مرد جائے گا؟ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ” یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اجازت دیجئے۔ کل میرا بھائی شہید ہوا تھا۔ آج میں اس کا قصاص لوں گا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بہتر ہے۔ جاﺅ اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا۔ “ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ مرحب کے مقابلے پر آئے۔ میدان میں ایک درخت تھا۔ پہلے تو دونوں نے اس کی آڑ میں ہو کر ایک دوسرے پر وار کیا اور سپاہ گری کے ہنر بتائے اور ان کی تلوار کے واروں سے درخت کی تمام شاخیں کٹ گئیں۔ پھر دونوں آمنے سامنے ہوئے تو یہودی مرحب نے وار کیا۔ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے ڈھال پر روکا تو تلوار ڈھال کو کاٹ کر اس میں پھنس گئی۔ یہودی نے زور لگایا مگر تلوار نہیں نکل سکی۔ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے ایسا وار کیاکہ مرحب دوزخ میں پہنچ گیا۔ مرحب کے قتل کے بعد اس کا بھائی یا سر میدان میں آیا اور مقابلے کی دعوت دینے لگا۔ حضرت زیبر بن عوام رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی ہیں۔ وہ مقابلے کے لئے آگے بڑھے تو ان کی والدہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ” یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیامیرا بیٹا مارا جائے گا؟ “ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” انشا اللہ !تمہارا بیٹا اس ( یہودی) کو مار دے گا۔ “ اور ایسا ہی ہوا۔ حضرت زیبر بن عوام رضی اللہ عنہ نے یاسر یہودی کوایک ہی وار میں قتل کر دیا۔
ا سکے بعد حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اسلامی لشکر کےساتھ آگے بڑھے اور قلعہ کے صدر دروازے کے قریب پہنچ گئے۔ قلعہ کے اوپر ایک یہودی نے پوچھا: ”تم کون ہو؟“ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں علی بن ابی طالب (رضی اللہ عنہ) ہوں۔“ یہودی نے کہا : ”قسم ہے اس کتاب کی جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہو ئی ہے۔ بے شک تم غالب ہو گے۔ “ اور اللہ تعالیٰ نے حضرت علی المرتضیٰ کے ہاتھ پر قلعہ فتح کر دیا۔ سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم کے غلام حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: ” جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو خیبر کا قلعہ فتح کرنے بھیجا تو میںان کے ساتھ تھا۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ قلعہ کے پاس پہنچے اور مقابلہ اور مقاتلہ شروع ہوا تو ایک یہودی کے وار سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے ڈھال چھوٹ کر دو رجاگری تو آپ رضی اللہ عنہ نے قلعہ کا (صدر) دروازہ اکھاڑ لیا اور ڈھال کا کام لینے لگے اور آگے بڑھنے لگے۔ یہاں تک کہ جب آپ رضی اللہ عنہ جنگ سے فارغ ہو گئے اور قلعہ فتح ہو گیا تو اس دروازے کو آپ رضی اللہ عنہ نے پھینک دیا۔“ ابو رافع کہتے ہیں: ” وہ دروازہ اتنا بھاری تھا کہ ہم آٹھآدمی نے اسے پلٹنا چاہا مگر پلٹا نہیں سکے۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!
D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں