02 حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 2
رشتہ داروں اور خاندان والوں کو اسلام کی دعوت، ابو لہب نے سننے سے منع کر دیا، اپنے گھرانے میں سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم کی تقریر، تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی تمنا، حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اعزاز، مرحب کا قتل، مرحب کے قتل کی ایک اور روایت، قلعہ فتح ہو گیا،
رشتہ داروں اور خاندان والوں کو اسلام کی دعوت
اللہ تعالیٰ کے حکم سے تین برس تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم خفیہ دعوت و تبلیغ کرتے رہے۔ اور اس میں کامیابی بھی ملی لیکن کامیابی کی یہ رفتار دھیمی تھی۔ جب تین برس ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی (ترجمہ )” اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ڈرائیں ( اسلام کی دعوت دیں) اپنے قریبی رشتہ داروں کو“ ( سورہ الشعرا ءآیت نمبر214) حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :” جب یہ آیت ” وانذرعشیرتک الاقربین “( اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیں) نازل ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو حکم دیا کہ ایک صاع غلّہ (اناج) اور بکری کا ایک دست ( گوشت) اور دودھ کا ایک پیالہ مہیا کرو۔ ( یعنی کھانے پینے کا انتظام کرو) اور بنو ہاشم کو کھانے کی دعوت دو اور جمع کرو( حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام چچاﺅں اور ان کی اولاد اور پھوپھیوں اور ان کی اولاد کو کھانے کی دعوت دی) میں نے خاندان ِ ہاشم ( یہ یاد رہے کہ عبد المطلب کے والد کا نام ہاشم ہے) کو کھانے کی دعوت دی اور کم و بیش چالیس40افراد جمع ہو گئے ۔“ (حضرت علی رضی اﷲ عنہ اُس وقت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی کفالت میں تھے اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ اُن کے گھر میں ہی رہتے تھے۔اُس وقت آپ رضی اﷲ عنہ کی عُمر بہ مشکل تیرہ 13سال کی تھی۔)
ابو لہب نے سننے سے منع کر دیا
حضرت علی رضی اﷲ عنہ آگے فرماتے ہیں :”جب تمام لوگ آگئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو کھانے کے لئے بٹھایا۔ ان میں ابو طالب ، حضرت حمزہ ، حضرت عباس اور ابولہب بھی تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مبارک ہاتھوں سے سب کو کھانا کھلایا۔ تمام لوگ پیٹ بھر کر کھا چکے تھے پھر بھی وہ کھانا اُتنا ہی رہا جتنا پہلے تھا۔ اس کے بعد حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ کا پیالہ اٹھایا اور مجھ سے فرمایا :” اے علی ( رضی اللہ عنہ) ! ان سب کو دودھ پلاﺅ۔“ دودھ کا پیالہ دیتے رہے ،سب نے دودھ پیا پھر بھی پیالے میں دودھ اتنا ہی تھا۔ جب تمام لوگ فارغ ہو گئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم تقریر کرنے کے لئے کھڑے ہو ئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ کہنے سے پہلے ہی ابو لہب کھڑا ہو گیا اور بولا :” لوگو !دیکھا تم نے! اس شخص نے تم پر کیسا جادو کیا ہے اور جادو کا تماشہ تمہیں دکھایا ہے“ اس کا اشارہ کھانے اور دودھ کے برتن کی طرف تھا۔ اتنا کہہ کر وہ جانے لگا تو تمام لوگ بھی اٹھ کر چلے گئے۔ دوسرے دن پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کھانے اور پینے کا انتظام کرنے اور تمام رشتہ داروں کو دعوت دینے کا حکم دیا۔دوسرے دن بھی سب نے کھایا اور پیا ۔ لیکن جیسے ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کچھ کہنے کے لئے کھڑے ہو ئے تو پھر ابو لہب نے وہی حرکت کی اور سب چلے گئے۔ “
اپنے گھرانے میں سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم کی تقریر
حضرت علی رضی اﷲ عنہ آگے فرماتے ہیں :”سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم نے پھر تیسرے دن مجھ سے کھانے پینے کا انتظام کرنے اور تمام رشتہ داروں کو دعوت دینے کا حکم دیا۔ تیسرے دن بھی تمام لوگوں کے کھانے اور پینے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کچھ کہنے کے لئے کھڑے ہوئے تو ابو لہب پھر وہی بکواس کرنے لگا۔ لیکن اس مرتبہ تمام لوگ بیٹھے رہے اور ابو لہب کی بکواس پر توجہ نہیں کی اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے گھرانے میں تقریر کی۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام رشتہ داروں پر اسلام پیش کیا اور فرمایا :” تم سب میرے قریبی عزیز ہولیکن تم میں سے کون شخص میرا بھائی بن کر اشاعتِ اسلام میں میری مدد کرے گا۔؟“تو سب لوگ خاموش رہے۔ جب دوسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سوال دہرایا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا :” یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں“ ( آپ کی مد د کروں گا) ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حیرت سے دیکھا اور فرمایا:”تم ؟“حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:” میری عمر اس وقت کم ہے لیکن میں جسمانی طور سے صحت مند ہوں۔ میری بات سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے۔ “
وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے﴿
سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ¿ خیبر میں شیخین ( حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ) کو لشکر دے کر بھیجا تھا۔ لیکن فیصلہ کن جنگ نہیں ہو سکی تھی۔ دوسرے دن شام میں اسلامی لشکر اپنے پڑاﺅ میں واپس آیا تو سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا: ” کل صبح میں ایسے شخص کو جھنڈا دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھوں سے قلعہ فتح کرادے گا اور وہ شخص جہاد سے بھاگنے والا نہیں ہے۔ “حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے روز فرمایا: ” کل یہ جھنڈا میں ایسے شخص کو دوں گا کہ اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائے گا اور وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے محبت کرتے ہیں۔ “
تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی تمنا
سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ کل میں جھنڈا یسے شخص کو دوں کہ اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر ( قلعہ قموص) فتح عطا فرمائے گا اور وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے محبت کرتے ہیں۔ یہ بہت بڑی بشارت ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں : ” لوگوں نے یعنی تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رات بڑی بے چینی کے ساتھ گزاری کہ دیکھیں صبح جھنڈا کس کو عطا فرمایا جاتا ہے۔ جب صبح ہوئی تو لوگ ( صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ِ اقدس میں حاضر ہوئے۔“ایک روایت میں ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:” اس رات میری شدید تمنا یہ تھی کہ صبح جھنڈا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاتھ میں عطا فرمائیں۔ “در اصل تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اس رات یہی شدید تمنا تھی کہ سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم صبح جھنڈا ان کے ہاتھ میں عطا فرمائیں اور یہ اس وجہ سے نہیں تھی کہ فتح ان کے ہاتھ ہو بلکہ اس بشارت کے علاوہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور بشارت دی تھی کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔ یوں تو تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اللہ تعالیٰ سے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت سے آگے بڑھ کر عشق کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بے انتہا محبت کرتے تھے۔ لیکن صبح سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم یہ” خصوصی اعزاز“ عطا فرمانے والے تھے اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شدید تمنا تھی کہ یہ ”اعزاز “انہیں عطا ہو۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اعزاز
سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یہ تمنا لے کر صبح حاضر ہوئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جھنڈا مجھے عطا فرمائیں۔ سب لوگ حاضر ہو گئے لیکن حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ صحیح بخاری کی حدیث آگے بڑھاتے ہیں۔ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ” پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہاں ہیں؟ “صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ” یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ان کی آنکھیں دکھ رہی ہیں۔“ ( جس کی وجہ سے وہ حاضر نہیں ہو سکے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلوایا۔ وہ حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا مبارک لعاب دہن ان کی آنکھ میں لگا دیا اور ان کے لئے دعا فرمائی تو ان کی آنکھیں فوراً اچھی ہو گئیں اور ایسا لگا جیسے ان کو کبھی یہ تکلیف نہیں تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھنڈا انہیں عنایت فرما یا۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کیا میں ان کے ساتھ اس وقت تک لڑوں جب تک مسلمان نہ ہو جائیں؟ “آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم چپ چاپ ان کے میدان میں جا کر اترو اور پھر انہیں اسلام کی دعوت دو اور انہیں بتاﺅ کہ اللہ کا حق ہونے کے باعث ان پر کیا واجب ہے۔ پس اللہ کی قسم ! اگر ایک آدمی کو بھی اللہ تعالیٰ نے تمہاری وجہ سے ہدایت دے دی تو یہ تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔ “
مرحب کا قتل
سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی لشکر کی قیادت حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو دی اور آپ رضی اللہ عنہ اسلامی لشکر لےکر قلعہ کے صدر دروازے کے سامنے آئے اور جھنڈا گاڑ دیا اور یہودیوں کو اسلام کی دعوت دی جو انہوں نے مسترد کر دی اور اپنے سردار مرحب کی قیادت میں جنگ لڑنے کے لئے تیار ہو گئے۔ مرحب بہت ہی طاقتور اور لڑاکو تھا اور اسے ایک ہزار مردوں کے برابر مانا جاتا تھا۔ سب سے پہلے وہ آگے بڑھا اور بولا : ” خیبر کو معلوم ہے کہ میں مرحب ہوں۔ ہتھیار پوش، بہادر اور تجربہ کار ۔ جب جنگ کے شعلے بھڑک اٹھے ہوں ۔ “حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب ہم خیبر پہنچے تو ان کا بادشاہ مرحب اپنی تلوار لے کر گھمنڈ سے اتراتا ہوا سامنے آیا تو اس کے مقابلے کے لئے میرے چچا ( یا بھائی) حضرت عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور فرمایا: ” خیبر جانتا ہے کہ میں عامر ہوں۔ہتھیار پوش، شہ زور اور جنگجو ، “ پھر دونوں نے ایک دوسرے پر وار کیا۔ مرحب کی تلوار حضرت عامر رضی اللہ عنہ نے اپنی ڈھال پر روکی تو وہ ڈھال میں گھس گئی اور آپ رضی اللہ عنہ نے اس کے نیچے سے وار کیا تو ان کی تلوار چھوٹی ہونے کی وجہ سے مرحب کی پنڈلیوں پر پڑ کر اُچٹ کر واپس ان کے گھٹنے پر آلگی جس کی وجہ سے آپ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو انگلیوں کو اکٹھا کر کے فرمایاکہ ان کے لئے دوہر ا اجر ہے۔ وہ بڑے جانباز مجاہد تھے اور ان جیسا کم ہی عرب کی روئے زمین پر ہوا ہوگا۔ اس کے بعد حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور فرمایا: ” میں وہ شخص ہوں کہ میری والدہ نے میرا نام حیدر ( شیر ) رکھا ہے۔ جنگل کے شیر کی طرح خوفناک۔ میں انہیں صاع کے بدلے نیزے کی ناپ پوری کروں گا۔“ اور مرحب کے سر پر تلوار کا ایسا وار کیا کہ تلوار سر کو کاٹتی ہوئی داڑھ تک پہنچ گئی اور وہ وہیں ختم ہو گیا۔
مرحب کے قتل کی ایک اور روایت
مرحب کے قتل کے بارے میں کئی روایتیں ہیں۔ ایک روایت میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” اس جنگ میںمرحب یہودی سامان جنگ سے آراستہ ہو کر ہتھیار لگائے اپنے قلعہ سے باہر نکل کر میدان میں آیا اور اپنی تعریف میں اشعار پڑھنے لگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس کے مقابلے پر کون جواں مرد جائے گا؟ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ” یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اجازت دیجئے۔ کل میرا بھائی شہید ہوا تھا۔ آج میں اس کا قصاص لوں گا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بہتر ہے۔ جاﺅ اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا۔ “ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ مرحب کے مقابلے پر آئے۔ میدان میں ایک درخت تھا۔ پہلے تو دونوں نے اس کی آڑ میں ہو کر ایک دوسرے پر وار کیا اور سپاہ گری کے ہنر بتائے اور ان کی تلوار کے واروں سے درخت کی تمام شاخیں کٹ گئیں۔ پھر دونوں آمنے سامنے ہوئے تو یہودی مرحب نے وار کیا۔ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے ڈھال پر روکا تو تلوار ڈھال کو کاٹ کر اس میں پھنس گئی۔ یہودی نے زور لگایا مگر تلوار نہیں نکل سکی۔ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے ایسا وار کیاکہ مرحب دوزخ میں پہنچ گیا۔ مرحب کے قتل کے بعد اس کا بھائی یا سر میدان میں آیا اور مقابلے کی دعوت دینے لگا۔ حضرت زیبر بن عوام رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی ہیں۔ وہ مقابلے کے لئے آگے بڑھے تو ان کی والدہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ” یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیامیرا بیٹا مارا جائے گا؟ “ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” انشا اللہ !تمہارا بیٹا اس ( یہودی) کو مار دے گا۔ “ اور ایسا ہی ہوا۔ حضرت زیبر بن عوام رضی اللہ عنہ نے یاسر یہودی کوایک ہی وار میں قتل کر دیا۔
قلعہ فتح ہو گیا
ا سکے بعد حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اسلامی لشکر کےساتھ آگے بڑھے اور قلعہ کے صدر دروازے کے قریب پہنچ گئے۔ قلعہ کے اوپر ایک یہودی نے پوچھا: ”تم کون ہو؟“ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں علی بن ابی طالب (رضی اللہ عنہ) ہوں۔“ یہودی نے کہا : ”قسم ہے اس کتاب کی جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہو ئی ہے۔ بے شک تم غالب ہو گے۔ “ اور اللہ تعالیٰ نے حضرت علی المرتضیٰ کے ہاتھ پر قلعہ فتح کر دیا۔ سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم کے غلام حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: ” جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو خیبر کا قلعہ فتح کرنے بھیجا تو میںان کے ساتھ تھا۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ قلعہ کے پاس پہنچے اور مقابلہ اور مقاتلہ شروع ہوا تو ایک یہودی کے وار سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے ڈھال چھوٹ کر دو رجاگری تو آپ رضی اللہ عنہ نے قلعہ کا (صدر) دروازہ اکھاڑ لیا اور ڈھال کا کام لینے لگے اور آگے بڑھنے لگے۔ یہاں تک کہ جب آپ رضی اللہ عنہ جنگ سے فارغ ہو گئے اور قلعہ فتح ہو گیا تو اس دروازے کو آپ رضی اللہ عنہ نے پھینک دیا۔“ ابو رافع کہتے ہیں: ” وہ دروازہ اتنا بھاری تھا کہ ہم آٹھآدمی نے اسے پلٹنا چاہا مگر پلٹا نہیں سکے۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!








