ہفتہ، 5 اگست، 2023

12 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ Khilafat e Rashida 3


12 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 12

یہودی منافق عبد اﷲ بن سبا کی سازش، حضرت ابو ذر رضی اﷲ عنہ مدینۂ منورہ میں، حضرت ابو ذر تنہائی میں، یزد گرد کا فرار، یزد گرد (جرد) چوہے کی موت مارا گیا، 30 ہجری کے متفرق واقعات، حضرت معاویہ بن ابی سفیان پورے ملک شام کے گورنر، 

یہودی منافق عبد اﷲ بن سبا کی سازش

اِسی سال 30 ہجری میں حضرت ابو ذر رضی اﷲ عنہ اور حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کی تلخی کا واقعہ پیش آیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت ابو ذر رضی اﷲ عنہ ملک شام میں مقیم تھے اور مسلمانوں کو تعلیم دیتے تھے اور فرماتے تھے : ” اے دولت مند لوگو ! تم غریبوں کے ساتھ ہمدردی کرو ۔وہ لوگ جو سونا چاندی جمع کرتے ہیں اور انہیں اﷲ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے ! تم انہیں آگ میں ٹھکانے کی خوشخبری سنا دو جہاں اُن کی پیشانیوں ،پہلوؤں اور پشت پر داغا جائے گا ۔“ ایک منافق عبد اﷲ بن سبا جو یہودی تھا اور دکھاؤے کے لئے اسلام قبول کر لیا تھا لیکن در پردہ مسلمانوں میں اختلاف پیدا کرنے کی کوشش کرتا تھا اُس نے حضرت ابو ذر رضی اﷲ عنہ کی تعلیمات کو مسلمانوں میں غلط انداز میں پیش کرنا شروع کر دیا ۔اُس نے حضرت ابو الدردا رضی اﷲ عنہ کو بھڑکانے کی کوشش کی تو انہوں نے اُسے دھتکار دیا ۔پھر وہ منافق حضرت عبادہ بن صامت رضی اﷲ عنہ کو بھڑکانے لگا تو آپ رضی اﷲ عنہ اُسے پکڑ کر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کے پاس لے گئے جو ملک شام کے گورنر تھے ۔حضرت عبادہ بن صامت رضی اﷲ عنہ نے بتایا کہ حضرت ابوذر رضی اﷲ عنہ کی تعلیمات کو یہ منافق جو پہلے یہودی تھا غلط انداز سے لوگوں میں پیش کر رہا ہے اور آپ رضی اﷲ عنہ کے خلاف لوگوں کو بھڑکا رہا ہے ۔حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے اُسے ملک شام سے باہر نکال دیا ۔

حضرت ابو ذر رضی اﷲ عنہ مدینۂ منورہ میں

حضرت ابو ذر رضی اﷲ عنہ کے بارے میں لوگوں نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کو بتایا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت ابو ذر رضی اﷲ عنہ اِسی قسم کی تقریریں کرتے رہے ۔یہاں تک کہ غریب طبقے پر اِن باتوں کا بہت اثر ہوا اور انہوں نے دولت مندوں کو مجبور کیا تو دولت مند طبقہ نے شکایت کی ۔یہ حالت دیکھ کر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ¿ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو لکھا کہ حضرت ابو ذر رضی اﷲ عنہ میرے لئے مشکلات کا باعث بن گئے ہیں اور ایسی ویسی باتیں کہتے پھرتے ہیں ۔حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے جواب میں خط لکھا : ” فتنہ و فساد کی جڑیں نمودار ہو گئیں ہیں ،اب وہ پھوٹنا چاہتی ہیں تم اس ذخم کو مت چھیڑو بلکہ حضرت ابو ذر رضی اﷲ عنہ کو میرے پاس بھیج دو اور اُن کے ساتھ نرمی اختیار کرو اور اُن کے لئے زاد ِ راہ مہیا کر کے ایک رہنما کے ساتھ بھیجو اور جہاں تک ممکن ہو سکے عوام کو روکے رکھو کیونکہ تمہارا یہ نظم و ضبط تمہارے کام آئے گا ۔“ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے حکم کے مطابق حضرت ابو ذر رضی اﷲ عنہ کو مدینۂ منورہ بھیج دیا

حضرت ابو ذر تنہائی میں

سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ غزوۂ تبوک میں حضرت ابو ذر رضی اﷲ عنہ شریک ہوئے تھے اور راستے میں آپ رضی اﷲ عنہ کا اونٹ بیٹھ گیا تھا اور اُٹھ نہیں رہا تھا جس کی وجہ سے آپ رضی اﷲ عنہ لشکر سے پیچھے رہ گئے تھے ۔جب اونٹ نہیں اُٹھا تو آپ رضی اﷲ عنہ اپنا سامان لیکر پیدل ہی اکیلے چل پڑے ۔سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم لشکر کے ساتھ آگے بڑھکر پڑاو¿ ڈال چکے تھے کہ لوگوں کو ایک شخص اکیلا ہی اپنا سامان اُٹھائے ہوئے آتا دکھائی دیا ۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت ابو ذر رضی اﷲ عنہ کو پہچان لیا اور فرمایا : ” ابو ذر کا بھی عجیب معاملہ ہے ! تنہا آرہے ہیں اور تنہائی میں ہی انتقال بھی ہو گا ۔“ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب حضرت ابو ذر رضی اﷲ عنہ خلیفہ¿ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں مدینہ¿ منورہ میں حاضر ہوئے تو حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” کیا بات ہے کہ اہل شام آپ رضی اﷲ عنہ کی شکایت کرتے ہیں ؟ “ حضرت ابو ذر رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” دولت مندوں کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ مال و دولت جمع کر کے رکھیں ۔“ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” اے حضرت ابو ذر رضی اﷲ عنہ ! میرا یہ فرض ہے کہ میں اپنے فرائض ادا کروں اور رعایا کے ذمہ جو واجبات ہوں انہیں وصول کروں اور میں انہیں زاہد بننے پر مجبور نہیں کر سکتا البتہ انہیں محنت کرنے اور کفایت شعار بننے کی تلقین کر سکتا ہوں ۔“ اِس پر حضرت ابو ذر رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” آپ رضی اﷲ عنہ مجھے مدینۂ منورہ سے باہر رہنے کی اجازت دیدیں کیونکہ مدینہ¿ منورہ اب میرا گھر نہیں رہ گیا ہے ۔“ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” کیا آپ رضی اﷲ عنہ مدینہ¿ منورہ کے بجائے اُس سے بدتر مقام پر رہنا چاہتے ہیں ؟ “ حضرت ابو ذر رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” مجھے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ جب مدینہ¿ منورہ کی تعمیرات ” سلع “ تک ہو جائیں تو میں وہاں سے نکل جاو¿ں ۔“(ابن کثیر) اِس پر حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” ایسی صورت میں آپ رضی اﷲ عنہ کو جو حکم ملا ہے اُس کی تعمیل کریں ۔“ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے انہیں ”ربذہ “ میں زمین دے دی اور اونٹوں کا ایک ریوڑ دیا اور غلام دیئے اور حضرت ابو ذر رضی اﷲ عنہ ”ربذہ “ میں رہائش پذیر ہو گئے ۔حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے اُن سے فرمایا : ” آپ رضی اﷲ عنہ مدینہ¿ منورہ آیا کرنا اور بدو ( اعرابی یعنی دیہاتی ) نہ بن جانا ۔“ حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ آگے فرماتے ہیں : ” حضرت ابو ذر رضی اﷲ عنہ مدینہ¿ منورہ آیا جایا کرتے تھے لیکن آپ رضی اﷲ عنہ کوتنہائی اور خلوت نشینی زیادہ پسند تھی ۔“ 

یزد گرد کا فرار

خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے ذکر میں ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ سلطنت فارس کا حکمراں کسریٰ یزد گرد فرار ہو کر سلطنت ِفارس اور ترکستان کے سرحدی علاقے ” جور “ میں پناہ گزین تھا ۔ہم نے اُس کا ذکر وہیں روک دیا تھا اور بتایا تھا کہ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے ذکر میں یزد گرد کا ذکر کریں گے ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : عبد اﷲ بن عامر نے سلطنت فارس کے سرحدی علاقے کی طرف مسلمانوں کا لشکر بھیجا تو یزدگرد ۰۳ ہجری میں ”جور “ سے بھاگ کر ارد شیر خیرہ پہنچا ۔عبد اﷲ بن عامر نے اُس کے تعاقب میں مجاشع بن مسعود کو اور بعض کہتے ہیں ہرم بن حبان یشکری یا عبسی کو لشکر دیکر روانہ کیا اور وہ کرمان تک تعاقب کرتے چلے گئے ۔یزد گرد گھبرا کر کرمان سے خراسان چلا گیا راستے میں ”سیر جان “ سے چھ یا سات کوس کے فاصلے پر برف باری ہوئی ۔مجاشع بن مسعود کے دستے کے سب لوگ برف باری کا شکار ہوگئے اور صرف مجاشع لشکر اسلام میں واپس آئے ۔یزد گرد نے جب اسلامی فتوحات کے سیلاب کو آگے بڑھتے دیکھا تو خراسان سے ” مرو“ بھاگ گیا ۔اُس کے ساتھ خر زاد ( رستم کا بھائی ) بھی تھا لیکن ”مرو “ کے حاکم ماہویہ کے مشورے سے خرزاد عراق لوٹ گیا ۔

یزد گرد (جرد) چوہے کی موت مارا گیا

یزد گرد (جرد) کو 31 ہجری میں قتل کر دیا گیا لیکن ہم یہیں ذکر کر دیتے ہیں تاکہ تسلسل بر قرار رہے ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اِس کے بعد یزد گرد نے ترکستان جانے کا ارادہ کیا تو ماہویہ نے اُس سے کہا کہ سارا مال و دولت یہیں چھوڑ جائے ۔یزد گرد نے اُس کی طرف توجہ نہیں کی تب ماہویہ نے ترکوں سے سازش کر لی اور اُن کو خفیہ طور سے ”مرو “ بلا لیا ۔رات میں جب سب سو گئے تو ترکوں نے اُٹھ کر یزد گرد کے ساتھیوں کو قتل کر دیااور یزد گرد پیدل ہی بھاگا اور دریائے مرغاب کے قریب ایک گاؤں میں پہنچ کر ایک چکی چلانے والے کے گھر میں چھپ گیا ۔دن بھر کا تھکا ماندہ تھا لیٹتے ہی سو گیا ۔چکی چلانے والے نے اُس کی زرق برق پوشاک کے لئے اُسے قتل کر کے دریا میں ڈال دیا ۔بعض کہتے ہیں کہ ماہویہ نے ترکوں سے سازش نہیں کی تھی بلکہ جب یزد گرد کے ساتھیوں اور اہل مرو سے ان بن ہو گئی اور لڑائی شروع ہو گئی تو یزد گرد بھاگ کر ایک چکی چلانے والے کے یہاں پناہ گزین ہوا اور اُس نے اُس کو مار کر دریا میں ڈال دیا ۔اِس کے علاوہ بھی یزد گرد کے قتل کے بارے میں کئی روایتیں ہیں لیکن ایک بات تو طے ہے کہ یزد گرد چوہے کی موت مارا گیا اور اِس طرح ”سلطنت فارس “ کا صفایا ہوگیا اور اُس کے ہر طرح کے حکمرانوں کا خاتمہ ہو گیا ۔

30 ہجری کے متفرق واقعات

30 ہجری میں خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے جمعہ کی نماز میں ایک اور اذان کا اضافہ کیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : 30 ہجری میں حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے جمعہ کی نماز میں ایک اور اذان کا اضافہ کیا اور حج کے موقع پر منیٰ کے مقام پر پوری چار رکعت نماز پڑھی اور اِس سال مسلمانوں کے ساتھ حج کیا ۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال حضرت اُبی بن کعب رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا اور حضرت جبار بن صخر رضی اﷲ عنہ کا کا انتقال ہوا ۔آپ رضی اﷲ عنہ بدری صحابی ہیں اور ساٹھ سال کی عُمر میں انتقال ہوا ۔حضرت حاطب بن بلتعہ کا انتقال ہوا ۔آپ رضی اﷲ عنہ بدری صحابی ہیں اور بعد کے معرکوں میں بھی شرکت کی ۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے انہیں ملک مصر کے بادشاہ مقوقش کے پاس اپنا سفیر بنا کر بھیجا تھا ۔حضرت طفیل بن حارث رضی اﷲ عنہ کا بھی اِسی سال انتقال ہوا ۔آپ رضی اﷲ عنہ بدری صحابی ہیں اور حضرت عبد اﷲ بن کعب رضی اﷲ عنہ کا بھی اِسی سال انتقال ہوا ۔آپ رضی اﷲ عنہ بھی بدری صحابی ہیں اور اُس روز آپ رضی اﷲ عنہ کی ڈیوٹی خمس پر تھی ۔اِس سال حضرت عبد اﷲ بن مظعون رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔آپ رضی اﷲ عنہ حضرت عثمان بن مظعون رضی اﷲ عنہ کے بھائی ہیں اور ملک حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی اور بدری صحابی ہیں ۔اِس سال حضرت عیاض بن زہیر ، حضرت مسعود بن ربیعہ اور حضرت معمر بن ابی سرح رضی اﷲ عنہم کا بھی انتقال ہوا اور یہ تینوں بھی بدری صحابی ہیں ۔

حضرت معاویہ بن ابی سفیان پورے ملک شام کے گورنر

خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دور ِ خلافت کے آخری چند مہینوں میں حضرت عیاض بن غنم رضی اﷲ عنہ ،حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ ، حضرت عُمیر بن سعد انصاری رضی اﷲ عنہ اور حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ ملک شام میں گورنر تھے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ” حضرت عیاض بن غنم رضی اﷲ عنہ کے انتقال کے بعد حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اُن کی جگہ حضرت سعید بن خدیم جمعی رضی اﷲ عنہ کو گورنر بنا دیا اور اُن کی وفات کے بعد حضرت عُمیر بن سعد انصاری رضی اﷲ عنہ کو گورنر بنا دیا ۔حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کے انتقال کے بعد اُن کے بھائی حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کو اُردن کے ساتھ ساتھ دمشق کا بھی گورنر بنا دیا ۔جب حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ شہید ہوئے تو حضرت عُمیر بن سعد انصاری رضی اﷲ عنہ حمص اور قنسرین کے گورنر تھے اور حضرت علقمہ بن مجرز فلسطین کے گورنر تھے اور حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ دمشق اور اُردن کے گورنر تھے ۔خلیفہ¿ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے دور ِ خلافت میں جب حضرت عبد الرحمن بن علقمہ کنانی کی وفات ہوئی تو حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کو فلسطین کا بھی گورنر بنا دیا ۔اِس کے بعد حضرت عُمیر بن سعد انصاری رضی اﷲ عنہ سخت بیمار ہو گئے اور جب اُن کا مرض طول پکڑ گیا تو انہوں نے گورنری سے استفعےٰ دے دیا اور اپنے گھر جانے کی اجازت طلب کی تو حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے انہیں اجازت دے دی اور اُن کے علاقے کا گورنر بھی حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کو بنا دیا ۔اِس طرح حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ پورے ملک شام کے حاکم بن گئے۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

13 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ Khilafat e Rashida 3


13 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 13

بحری جنگ کی تیاری، رومیوں کے بحری بیڑے سے سامنا، گھمسان کی جنگ اور رومیوں کو شکست، باغیانہ خیالات، 32 ہجری :ترکوں کی مداخلت، اہل کوفہ اور اہل شام میں اختلاف، 

بحری جنگ کی تیاری

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے دور ِ خلافت میں مسلمان سب سے بڑی سوپر پاور بن چکے تھے ۔دو سوپر پاور میں سے ”سلطنت ِ فارس “ تو ختم ہو چکی تھی اور ”سلطنت روم “ کا ملک شام سے خاتمہ ہو گیا تھا اور وہ صرف یورپ تک محدود ہو کر رہ گئی تھی لیکن ابھی بھی اتنی طاقتور تھی کہ مسلمانوں سے ٹکرا سکتی تھی ۔مسلمانوں اور رومیوں کے درمیان صرف بُحیرۂ روم تھا اور ملک شام کا اچھا خاصا علاقہ بُحیرہ روم کا ساحلی علاقہ تھا اور ملک شام کے گورنر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کو ہر وقت یہ دھڑکا لگا رہتا تھا کہ کسی بھی وقت رومی بحری بیڑہ بُحیرہ روم پار کر کے حملہ کر سکتا ہے ۔اِسی لئے انہوں نے خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے بحری جنگ کی اجازت مانگی تھی جو انہوں نے نہیں دی تھی لیکن جب خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سے بحری جنگ کی اجازت مانگی تو انہوں نے دے دی ۔اِس کے بعد وقتاً فوقتاً مسلمانوں اور رومیوں میں بحری جھڑپیں ہوتی رہیں لیکن کوئی بڑی جنگ نہیں ہوئی یہاں تک کی 31 ہجری آگئی اور حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ جب پورے ملک شام کے گورنر بن گئے تو انہوں نے رومیوں سے بحری جنگ کی طرف توجہ دی ۔

رومیوں کے بحری بیڑے سے سامنا

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے حکم سے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے بحری بیڑہ یعنی لشکر بنایا اور اُس کا سپہ سالار عبد اﷲ بن سعد بن ابی سرح کو بنایا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ” چونکہ مسلمانوں نے افریقہ میں رومی علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا اِس لئے قسطنطین بن ہرقل بھی ایک ایسالشکر جرّار لیکر روانہ ہوا جو مسلمانوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا ۔ ادھر مسلمانوں نے بھی اپنا بحری بیڑا بُحیرۂ روم میں اتار دیا تھا ۔اہل روم پانچ سو کے بیڑے میں نمودار ہوئے اور مسلمانوں سے اُن کا مقابلہ ہوا ۔ابتداءمیں فریقین میں عارضی امن قائم ہوا یہاں تک کہ مشرکین اور مسلمانوں کی کشتیاں ایکدوسرے کے قریب لنگر انداز ہو گئیں ۔حضرت مالک بن اوس بن عدنان کہتے ہیں : ” میں اُس بحری جنگ میں تھا ،سمندر میں ہماری دشمنوں سے مُڈ بھیڑ ہو گئی ۔ اُن کا ایسا بحری بیڑا ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا ۔ہوا ہمارے مخالف تھی اِس لئے ہم تھوڑی دور پر لنگر انداز ہوئے ۔(یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اُس وقت انجن والے جہاز اور کشتیاں ایجاد نہیں ہوئے تھے اور صرف بادبانی جہاز اور کشتیاں تھیں ۔یہ ہوا سے چلتے تھے ،بادبانوں میں ہوا بھر جاتی تھی اور ہوا کے موافق جہاز اور کشتیاں چلتے تھے ) اور پھر وہ بھی ہمارے قریب لنگر انداز ہو گئے ۔ہوا پُر سکون تھی اور ہم نے کہا : ” تمہارے اور ہمارے درمیان امن و صلح ہونی چاہیئے۔“ وہ بولے : ” تمہیں امن دیا جاتا ہے اور اِسی طرح ہمیں بھی امن و صلح حاصل ہونی چاہیئے ۔“ ہم نے کہا : ” اگر تم پسند کرو تو ساحل پر جنگ ہو تاکہ ہم میں اور تم میں کو کوئی جلد باز ہو وہ مر جائے اور اگر تم چاہو تو سمندر کے اندر جنگ ہو ۔“ انہوں نے بیک زبان غرور و نخوت سے کہا: ” پانی میں جنگ ہو گی ۔“ اِس پر ہم اُن کے قریب پہنچ گئے ۔ 

گھمسان کی جنگ اور رومیوں کو شکست

سمندر میں دونوں بحری بیڑے ایکدوسرے کے مقابل آگئے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ” جب مسلمان دشمنوں کے بحری بیڑے کے قریب ہوئے تو وہاں پانچ سو یا چھ سو کشتیوں میں رومی سپاہی تھے ۔اِس میں قسطنطین بن ہرقل بھی تھا ۔اُس نے اپنے کمانڈروں سے کہا : ” تم مجھے مشورہ دو “ وہ بولے :” ہم رات کو غور و فکر کریں ۔“ رات پھر رومی ناقوس بجاتے رہے اور مسلمان نمازیں پڑھتے رہے ۔جب صبح ہوئی تو قسطنطین نے جنگ کرنے کا عزم مصمم کر لیا تھا ۔اُس نے رومیوں کو اپنی کشتیوں کو ایکدوسرے کے قریب کرنے کا حکم دیا اور یہ دیکھ کر مسلمانوں نے بھی اپنی کشتیوں کو ایکدوسرے کے قریب کر لیا اور انہیں آپس میں باندھ لیا ۔حضرت عبد اﷲ بن سعد بن ابی سرح نے کشتیو ں کے اندر ہی مسلمانوں کی صف بندی کر لیتھی اور انہیں ہدایت کی کہ وہ قرآن پاک کی تلاوت کریں اور صبر و استقلال اختیار کریں ۔رومیوں نے مسلمانوں کی کشتیوں پر صف بندی کی حالت میں ہی حملہ کر دیا ۔ مسلمان صف بندی توڑنے پر مجبور ہو گئے اور صف بندی کے بغیر ہی جنگ کرتے رہے ۔یہ گھمسان کی جنگ تھی آخر کار اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح و نصرت عطا فرمائی اور انہوں نے دشمنوں کا صفایا کر دیا اور بھاگنے والوں کے علاوہ رومیوں میں سے کوئی نہیں بچ سکا ۔علامہ محمد بن جریر طبری مالک بن اوس بن عدنان کی زبانی آگے لکھتے ہیں : ” ہم نے اپنی کشتیوں کو ایک دوسرے سے اِس طرح باندھ لیا تھا کہ ہم مل کر کشتیوں پر حملہ کر سکتے تھے ۔ہم نے گھمسان کی جنگ لڑی اور فریقین ثابت قدمی سے جنگ کرتے رہے اور کشتیوں پر تلواروں اور خنجروں سے جنگ ہوتی رہی ۔یہاں تک کہ خون کی ندیاں ساحل سمندر تک بہنے لگیں اور سمندر کی لہریں لہو لہان ( خونی ) ہوگئیں اور موجوں کے ذریعے سمندر میں لاشوں کے انبار تیرنے لگے ۔اُس وقت اِس جنگ کی وجہ سے ساحل پر خونی لہریں ٹکرا رہی تھیں اور سمندر اور ساحل کے درمیان لاشوں کے انبار تیرتے ہوئے نظر آر ہے تھے اور پانی پر خون غالب آگیا تھا ۔ اِس جنگ میں مسلمانوں کی بڑی تعداد شہید ہوئی اور کافروں کے بے شمار سپاہی مارے گئے ۔اِس جنگ میں مسلمانوں نے صبر اور استقلال کا بے مثال مظاہرہ کیا ۔یہاں تک کہ اﷲ نے اہل اسلام پر فتح و نصرت نازل کی اور قسطنطین ( روم کا بادشاہ ) پیٹھ دکھا کر بھاگ گیا ۔وہ اپنے مقتولوں اور زخمیوں کا درد ناک نظارہ نہیں دیکھ سکا اور خود قسطنطین بھی بہت زخمی ہوا اور وہ کافی عرصے تک ذخموں میں چور رہا ۔حضرت عبد اﷲ بن سعد بن ابی سرح نے ”ذات الصواری “ میں چند دنوں تک قیام کیا پھر واپس آگئے ۔

باغیانہ خیالات

اِس جنگ کے دوران خلیفہ¿ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے خلاف باغیانہ خیالات سامنے آئے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ” امام زہری ( جلیل القدر تابعی اور مفسر ) فرماتے ہیں :” محمد بن ابی حذیفہ اور محمد بن ابو بکر دونوں اُس سال منظر عام پر آئے جس سال عبد اﷲ بن سعد بن ابی سرح ( بحری جنگ کے لئے )روانہ ہوئے تھے ۔یہ دونوں افراد خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے عیوب اور اُن کی تبدیلیوں کا کھلم کھلا اظہار کرتے تھے ۔وہ کہتے تھے : ” حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے حضرات ابو بکر صدیق اور حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہم کے طریقے کی مخالفت کی ہے اِس لئے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کا خون ( نعوذ باﷲ ) حلال ہے ۔“ وہ دونوں کہتے تھے : ” انہوں نے ایک ایسے شخص کو حاکم ( گورنر) مقرر کیا ہے جس کے خون کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مباح قرار دیا تھا اور قرآن پاک نے جس کے کفر کا اعلان کیا تھا ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ایک جماعت کو نکال دیا تھا مگر انہوں نے اُن لوگوں کو واپس بلوا لیا اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے صحابہ ¿ کرام رضی اﷲ عنہم کو نکال دیا اور انہوں نے سعید بن عاص اور عبد اﷲ بن عامر کو حاکم ( گورنر ) مقرر کیا ۔جب عبد اﷲ بن سعد بن ابی سرح کو یہ بات معلوم ہوئی تو اُس نے کہا : ” تم دونوں ہمارے ساتھ سوار مت ہونا ۔ “ اِسی لئے وہ دونوں ایسی کشتی میں سوار ہوئے جس میں کوئی مسلمان نہیں تھا جب دشمنوں سے مقابلہ ہوا تو اِن دونوں نے مسلمانوں کے ساتھ مل کر جنگ میں حصہ نہیں لیا اور جب اُن دونوں سے پوچھا گیا تو وہ بولے : ” ہم اُس شخص کے ساتھ مل کر کیسے جنگ کر سکتے ہیں جو ہمارا حاکم بننے کے قابل نہیں ہے ۔عبد اﷲ بن سعد کو حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے حاکم مقرر کیا ہے جس نے ایسے اور ایسے افعال کا ارتکاب کیا ہے ۔“ اِس طرح یہ دونوں اشخاص لشکر کے مجاہدین کو گمراہ کرتے رہے اور خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ پر سخت اعتراضات کرتے رہے ۔

32 ہجری :ترکوں کی مداخلت

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے سعید بن عاص کو حکم دیا کہ وہ ایک لشکر ”باب “ کی طرف روانہ کریں ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ” خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے سعید بن عاص کو تحریر کیا کہ وہ سلمان بن ربیعہ کو ” باب “ کی جنگ کے لئے لشکر دیکر روانہ کرے ۔ انہوں نے عبد الرحمن بن ربیعہ کو جو ” باب “ کے گورنر تھے یہ تحریر کیا : ” رعایا کے اکثر افراد کو شکم پری ( بھرے ہوئے پیٹ ) نے خراب کر دیا ہے ۔اِس لئے مسلمانوں کو لیکر آگے نہ بڑھو اور دشمنوں کے علاقے میں نہ گھسو کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ وہ کسی مصیبت میں مبتلا نہ ہو جائیں ۔“ مگر عبد الرحمن بن ربیعہ کے مقصد میں یہ خط بھی حائل نہیں ہواکیونکہ وہ ”ہلنجر “ کے علاقہ میں جہاد کرنے میں کوتاہی نہیں کیا کرتے تھے ۔انہوں نے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے دور ِ خلافت کے نویں سال ہلنجر پر حملہ کیا اور جب وہ وہاں پہنچے تو وہاں کے لوگوںنے ”شہر پناہ کی فصیل پر منجنیقیں اور دوسرے جنگی سامان نصب کر رکھا تھا ۔اِ سی لئے جب کوئی ان کے قریب پہنچتا تھا تو وہ اسے زخمی کرتے یا قتل کر دیتے تھے ۔اِس طرح مسلمانوں نے بہت نقصان اٹھایا اور متعدد اِس معرکے میں شہید ہوئے ۔ ترکوں نے فوج بھیجنے کا وعدہ کر رکھا تھا اِسی لئے جب ترکوں کی مدد پہنچ گئی تو اہل ہلنجر شہر سے باہر نکل آئے اور جنگ کرنے لگے ۔اِس جنگ میں عبد الرحمن بن ربیعہ شہید ہوگئے انہیں ” ذوالنون “ بھی کہا جاتا تھا۔اِس جنگ میں مسلمانوں کو شکست ہوئی اور وہ منتشر ہو گئے ۔ جن لوگوں نے سلمان بن ربیعہ کا طریقہ اختیار کیا تھا وہ ” باب “ سے صحیح سلامت نکل آئے ۔کچھ حضرت نے اہل خزر کے علاقے کا راستہ اختیار کیا تھا وہ ”جیلان “ اور ”جرجان “ پہنچے ۔انہیں حضرات میں حضرت سلمان فارسی اور حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہم بھی تھے ۔دشمن نے حضرت عبد الرحمن بن ربیعہ کی لاش پر قبضہ کر لیا اور اُسے ایک صندوق میں رکھا ۔ وہ اُن لوگوں کے قبضے میں رہی اور وہ اس کی برکت سے بارش کی دعائیں مانگتے تھے اور فتح اور نصرت حاصل کرتے تھے۔ 

اہل کوفہ اور اہل شام میں اختلاف

ہلنجر کی جنگ کے بارے مین علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں :” سعید بن عاص نے سلمان بن ربیعہ کو لشکر کا سپہ سالار بنایا اور انہیں ” باب “ سے جنگ کرنے کا حکم دیا اور وہاں کے گورنر عبد الرحمن بن ربیعہ کو ان کی مدد کرنے کا حکم دیا ۔وہ روانہ ہو کر ”ہلنجر “ پہنچ گئے اور اُس کا محاصرہ کر کے مجنیقیں نصب کر دیں ۔پھر اہل ہلنجر ان کے مقابلے پر آئے اور ترکوں نے ان کی مدد کی اور باہم شدید جنگ ہوئی اور تُرک مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنے سے ڈرتے تھے اور اُن کا خیال تھا کہ مسلمانوں کو موت نہیں آتی ۔حتیٰ کہ بعد میں انہوں نے مسلمانوں کے خلاف جرا¿ت کی ۔پس جب آج کا دن آیا تو انہوں نے ان کے ساتھ مڈبھیڑ کر کے جنگ کی اور اُس روز عبد الرحمن بن ربیعہ شہید ہو گئے جنہیں ”ذو النون “ کہا جاتا تھا اور مسلمان شکست کھا کر دو پارٹیوں میں تقسیم ہو گئے ۔ایک پارٹی بلاد خزر کی طرف اور دوسری پارٹی جیلان اور جرجان کی طرف چلی گئی اور اِن میں حضرت ابو ہریرہ اور حضرت سلمان فارسی رضی اﷲ عنہم بھی شامل تھے اور ترک عبد الرحمن بن ربیعہ کے جسم کو لے گئے ۔آپ سادات اور بہادر مسلمانوں میں سے تھے اور آپ کو اپنے ملک میں دفن کر دیا اور وہ آج تک ان کے پاس بارش طلب کرتے ہیں ۔جب حضرت عبد الرحمن بن ربیعہ شہید ہو گئے تو سعید بن عاص نے سلمان بن ربیعہ کواُن کا گورنر مقرر کیا ۔حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے اہل شام کے ذریعے اہل کوفہ کو مدد دی جن کے امیر حبیب بن مسلمہ تھے ۔پس امارت کے بارے میں حبیب بن مسلمہ اور سلمان بن ربیعہ میں آپس میں تنازعہ کیا حتیٰ کہ دونوں میں اختلاف ہو گیا ۔ یہ پہلا اختلاف تھا جو شامیوں اور کوفیوں کے درمیان ہوا حتیٰ کہ اِس کے متعلق کوفہ کے اوس نامی شخص نے یہ اشعار کہے : ” اگر تم نے سلمان کو مارا تو ہم تمہارے حبیب کو ماریں گے اور تم ابن عفان ( خلیفۂ سُوم ) رضی اﷲ عنہ کے پاس جاو¿ گے تو ہم بھی جائیں گے ۔ اور اگر تم تم انصاف کرو تو سرحد ہمارے امیر کی ہے اور یہ امیر لشکریوں میں مقبول ہیں اور ہم سرحد کے والی ہیں اور ہم ان راتوں میں اس کے محافظ تھے جب ہم سرحد پر تیر اندازی کرتے تھے اور سزا دیتے تھے ۔“

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....؟


14 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ Khilafat e Rashida 3


14 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 14

امارت پر اختلاف، حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اﷲ عنہ کا انتقال، حضرت ابو ذر غِفاری رضی اﷲ عنہ کا انتقال، حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ کا انتقال، 

امارت پر اختلاف

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے دور ِ خلافت میں ترکستان سے مملکت اسلامیہ کی سرحد ملی ہوئی تھی ۔خلیفہ¿ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دور ِ خلافت میں ہی مسلمان یہاں تک کا علاقہ فتح کر چکے تھے اور اِسی دوران حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ شہید ہو گئے ۔اِس سرحدی علاقے پر عبد الرحمن بن ربیعہ گورنر تھے ۔اُن کے شہید ہونے کے بعد سعید بن عاص نے سلمان بن ربیعہ کو اُس سرحدی علاقے کا گورنر بنا دیا تھا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ” سعید بن عاص نے اس سرحد پر سلمان بن ربیعہ کو حاکم ( گورنر ) بنایا اور جب اہل کوفہ کو اُن کی جنگی امداد کے لئے بھیجا تو اُن کا سپہ سالار حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ کو مقرر کیا ۔اِس سرحد پر اِس سے پہلے عبد الرحمن بن ربیعہ جنگ کر رہے تھے ۔حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے اپنی خلافت کے دسویں سال اِس سرحدی مقام کے لئے اہل شام کی امدادی کمک بھیجی جس کی قیادت حبیب بن مسلمہ کر رہے تھے ۔سلمان بن ربیعہ اُن کے بھی امیر مقرر ہوئے مگر حبیب بن مسلمہ نے اُن کی قیادت تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ۔یہاں تک کہ اہل شام کہنے لگے : ” ہم نے ارادہ کیا کہ ہم سلمان بن ربیعہ کو زدو کوب کریں “ اِس پر اہل کوفہ نے کہا : ” ایسی صورت میں ہم بھی حبیب بن مسلمہ کو زدو کوب کریں گے اور اُسے قید کر دیں گے اور اگر تم مطیع نہ ہوئے تو ہمارے اور تمہارے درمیان مقتولوں کی تعداد بکثرت ہو جائے گی ۔“ اِس بارے میں کوفہ کے اوس بن مغراءنے یہ اشعار کہے : ” اگر تم سلمان بن ربیعہ کو مارو گے تو ہم تمہارے حبیب بن مسلمہ کو زدو کوب کریں گے اور تم ابن عفان ( خلیفۂ سُوم ) حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی طرف کوچ کر جاو¿ گے تو ہم بھی جائیں گے ۔اگر تم انصاف سے دیکھو تو حقیقت میں یہ سرحدی مقام ہمارے امیر کی سرحد ہے ۔یہ دیکھو امیر لشکر کو لیکر آرہے ہیں ۔ہم اِس سرحد کے حکام ہیں اور ہم ہی اِس کی حفاظت کرتے تھے جب کہ ہم اِس سرحد پر تیر اندازی کرتے تھے اور دشمنوں کو عذاب دیتے تھے ۔“ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ نے اختلاف کی اِس بات کو محسوس کیا لیکن انہیں نظر انداز کر دیا اور اِس سرحدی مقام پر تین جنگیں لڑیں اور تیسری جنگ کے موقع پر خلیفہ¿ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی شہادت کی خبر ملی تو آپ رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ¿ سُوم رضی اﷲ عنہ کے قاتلین پر ملامت کی اور انہیں ملعون قرار دیا ۔

حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اﷲ عنہ کا انتقال

اِس سال 32 ہجری میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : ” حضرت عباس بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف القرشی الہاشمی ابولفضل المکی ہیں اور عباسی خلفاءکے جد امجد ہیں ۔آپ رضی اﷲ عنہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے دو یا تین سال بڑے ہیں ۔غزوہ¿ بدر میں قید ہوئے اور اپنا اور اپنے دونوں بھائیوں کے بیٹوں حضرت عقیل بن ابی طالب اور حضرت نوفل بن حارث کا مالی فدیہ دیا اور جب آ پ رضی اﷲ عنہ غزوۂ بدر میں قید ہو گئے اور رسیوں میں جکڑ دیئے گئے اور رات میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو نیند نہیں آئی ۔ صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم نے عرض کیا : ” یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ! آ پ صلی اﷲ علیہ وسلم کو کیا تکلیف ہے ؟ “ سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں اپنے چچا عباس بن عبد المطلب کے کراہنے کی آواز سن رہا ہوںاِس لئے مجھے نیند نہیں آرہی ہے ۔“ ایک صحابی رضی اﷲ عنہ جلدی سے دوڑے اور حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اﷲ عنہ کی رسیوں کو ڈھیلا کر دیا تو اُن کے کراہنے کی آواز تھم گئی اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے بھی آرام فرمایا ۔پھر حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اﷲ عنہ فتح مکہ کے سال ہجرت کر کے” جحفہ“ جا کر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے ملے اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ واپس آئے اور ” فتح مکہ “ میں شامل ہوئے ۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم آپ رضی اﷲ عنہ کی بہت تعظیم کرتے تھے اور آپ رضی اﷲ عنہ کو والد کا مقام دیتے تھے اور فرماتے تھے : ” یہ میرے آباءکے چنے ہوئے شخص ہیں ۔“ آپ رضی اﷲ عنہ قریش سے بہت صلہ رحمی اور مہربانی کرنے والے اشخاص میں سے تھے اور نہایت عقل مند اور دانا آدمی تھے ۔دراز قد ، خوب صورت ، سفید رنگ اور فربہی کے ساتھ نرم جسم اور پتلی کھال والے تھے ۔لڑکیوں کے علاوہ آپ رضی اﷲ عنہ کے دس بیٹے ہیں ۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے غلاموں میں سے ستر ( ۰۷ ) غلام آزاد کئے ۔صحیح بخاری میں حضرت انس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ بارش طلب کرنے کے لئے نکلے تو حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اﷲ عنہ کو بھی اُن کے ذریعے بارش طلب کرنے کے لئے اپنے ساتھ لے گئے اور فرمایا : ” اے اﷲ ! جب ہم قحط زدہ ہو جاتے تھے تو ہم اپنے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کے ذریعے تجھ سے توسل کرتے تھے ۔اب اُن کے چچا کے ذریعے توسل کرتے ہیں ۔“ راوی بیان کرتا ہے کہ وہ سیراب ہو جاتے تھے ۔حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اﷲ عنہ کی وفات بارہ رجب المرجب کو جمعہ کے روز ہوئی اور بعض کا قول ہے کہ 32 ہجری کے رمضان المبارک میں اٹھاسی 88 سال کی عمر میں انتقا ل ہوا اور خلیفہ¿ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے آپ رضی اﷲ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع میں دفن ہوئے اور بعض کا قول ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہ کا انتقال 33 ہجری اور بعض کے مطابق 34 ہجری میں ہوا ۔

حضرت ابو ذر غِفاری رضی اﷲ عنہ کا انتقال

اِسی سال یعنی 32 ہجری میں حضرت ابو ذر غِفاری رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔آپ رضی اﷲ عنہ قبیلہ بنو غِفار کے ہیں اور اسلام قبول کرنے والوں میں سے ”اوّلین “ لوگوں میں یعنی ”السابقون الاولون “ میں سے ہیں ۔علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : مشہور قول کے مطابق آپ رضی اﷲ عنہ کا نام حضرت جندب بن جنادة ہے اور کنیت ابوذر ہے ۔مکہ¿ مکرمہ میں بہت پہلے اسلام قبول کیا اور آپ رضی اﷲ عنہ چوتھے یا پانچویں مسلمان تھے ۔آپ رضی اﷲ عنہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم کو اسلامی سلام کیا ،پھر آپ رضی اﷲ عنہ اپنے قبیلے میں واپس آگئے اوروہیں رہنے لگے۔ یہاں تک کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مدینۂ منورہ ہجرت کی اور آپ رضی اﷲ عنہ نے ”غزوۂ خندق “ کے بعدہجرت کی ۔پھر سفر و حضر ہر جگہ سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ رہے ۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اور خلیفہ¿ اوّل حضرت ابو بکر کے وصال کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ ملک شام چلے گئے اور خلیفۂ دُ و م حضرت عُمر فاروق کے دورِ خلافت میں ملک شام کی تمام جنگوں میں شرکت کی اور خلیفہ¿ سُوم حضرت عثمان غنی کے دورِ خلافت میں جب حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ پورے ملک شام کے گورنر بن گئے تو حضرت ابو ذر غفاری رضی اﷲ عنہ کا اُن سے کسی بات پر تنازعہ ہو گیا تو انہوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کو مدینۂ منورہ بھیج دیا ۔خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے آپ رضی اﷲ عنہ کو ”ربذہ “ میں مقیم کر دیا ۔آپ رضی اﷲ عنہ وہیں رہے اور 32 ہجری میں یہیں آپ رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔اُس وقت آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس بیوی بچوں کے علاوہ کوئی شخص موجود نہیں تھا ۔اتفاق سے حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ ملک عراق سے مکہ¿ مکرمہ حج کرنے آئے تھے اور مدینۂ منورہ جا رہے تھے کہ راستے میں حضرت ابوذر رضی اﷲ عنہ سے ملاقات کرنے کے لئے ربذہ آئے تو وہاں دیکھا کہ آپ رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوگیا ہے ۔حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی اور دفن کیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی خلافت کے آٹھویں سال ماہ ذوالحجہ میں حضرت ابو ذر رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔جب آپ رضی اﷲ عنہ کا آخری وقت آیا تو انہوں نے اپنی بیٹی سے فرمایا : ” اے میری بیٹی ! کیا تم کسی قافلے کو آتا دیکھ رہی ہو ؟“ وہ بولیں : ” نہیں “ پھر انہوں نے اپنی بیٹی سے کہا کہ وہ بکری ذبح کر کے پکائے اور جب کھانا تیار ہو گیا تو آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنی بیٹی سے فرمایا : ” جب وہ لوگ آجائیں جو مجھے دفن کریں گے تو اُن سے کہنا کہ ابو ذر تمہیں قسم دیکر کہتا ہے کہ کھانا کھا کر واپس جانا ۔“اس کے بعد فرمایا : ” اب جاکر دیکھو کہ کوئی قافلہ آرہا ہے کیا؟ “ بیٹی نے دیکھا تو ایک قافلہ آتے دکھائی دیا ۔اُس نے کہا : ” ہاں ! ایک قافلہ آرہا ہے ۔“ یہ سن کر آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” مجھے قبلہ رخ کر دو ۔“ جب انہیں قبلہ رخ کر دیا توانتقال ہو گیا ۔آپ رضی اﷲ عنہ کی بیٹی قافلہ والوں کے پاس آئی اور بولی : ” اﷲ آپ لوگوں پر رحم فرمائے ،میرے والد ِ محترم ابو ذر رضی اﷲ عنہ کے پاس چلیں ۔“ انہوں نے پوچھا : ” وہ کہاں ہیں ؟“ بیٹی نے اشارہ کیا اور کہا : ” اُن کا انتقال ہو گیا ہے اور انہیں دفن کرنا ہے ۔“ وہ بولے : ” اﷲ تعالیٰ نے ہمیں کیا خوب سعادت عطا فرمائی ہے ۔“ اہل کوفہ کے اِس قافلے میں حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ بھی تھے۔جب قافلے والے اُن کی طرف متوجہ ہوئے تو دیکھا کہ آپ رضی اﷲ عنہ رو رہے ہیں اور فرما رہے ہیں : ” رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا تھا :” وہ ( حضرت ابو ذر رضی اﷲ عنہ )تن تنہادنیا سے رخصت ہوں گے اور تن تنہا دوبارہ اُٹھیں گے ۔‘ ‘ پھر انہوں نے حضرت ابوذر رضی اﷲ عنہ کو غسل دیا اور کفن پہنایا اور نماز جنازہ پڑھی اور دفن کر دیا ۔جب وہ جانے کی تیاری کرنے لگے تو حضرت ابو ذر رضی اﷲ عنہ کی بیٹی نے کہا: ” میرے والد حضرت ابو ذر رضی اﷲ عنہ نے آپ سب کو سلام کہا ہے اور فرمایا ہے کہ کھانا کھا کر ہی جائیں ۔“پھر قافلے والوں نے کھانا کھایا اور حضرت ابو ذر رضی اﷲ عنہ کے اہل و عیال کو لیکر مدینہ¿ منورہ آگئے اور خلیفہ¿ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو حضرت ابو ذر غفاری رضی اﷲ عنہ کے انتقال کی خبر دی ۔

حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ کا انتقال

32 ہجری میں جلیل القدر صحابی حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ کا بھی انتقال ہوا ۔ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : ” حضرت عبد اﷲ بن مسعود بن غافل بن حبیب بن فار بن محزوم بن صاہلة بن کاہل بن حارث بن تیم بن سعد بن ہذیل بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن معد بن عدنان ۔ مدرکہ پر آ کر حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ کا سلسلہ¿ نسب سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم سے مل گیا ہے ۔آپ رضی اﷲ عنہ بنو زہرہ کے حلیف تھے اور آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے پہلے اسلام قبول کیا ۔آپ رضی اﷲ عنہ کے اسلام قبول کرنے کی وجہ یہ ہوئی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ اُن کے پاس سے گزرے ۔آپ رضی اﷲ عنہ اُس وقت بکریا ں چرا رہے تھے ۔آپ دونوں نے ان سے دودھ طلب کیا تو انہوں نے جواب دیا : ” میں ” امین “ ہوں ۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ایک ایسی بکری مانگی جس پر نر نہیں کودا ہو ۔اُسے پکڑ کر باندھ لیا پھر دودھ دوہا اور پیا اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو بھی پلایا ۔پھر تھن سے فرمایا : ” سکڑ جا ۔“ تو وہ سکڑ گیا ۔میں نے کہا : ” مجھے یہ دعا سکھا دیں ۔‘ ‘ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تُو معلم غلام ( لڑکا ) ہے ۔“ محمد بن اسحاق لکھتے ہیں کہ حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد ”بیت اﷲ “(خانہ کعبہ ) کے پاس بآواز بلند قرآن پاک پڑھا جبکہ قریش اپنی مجالس میںموجود تھے آپ نے سورہ ”الرحمن “ پڑھی تو انہوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس آ کر آپ رضی اﷲ عنہ کو مارا ۔اِس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ زیادہ تر وقت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے تھے اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے جوتے اور مسواک اُٹھایا کرتے تھے ۔حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا : ” آپ کو میری خالص اور عمدہ باتیں سننے کی اجازت ہے یہی وجہ ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہ کو ”صاحب السواک و الوساد ( مسواک اور تکیے والے ) کہا جاتا ہے ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے ملک حبشہ کی طرف ہجرت کی پھر مکہ¿ مکرمہ واپس آگئے پھر مدینۂ منورہ کی طرف ہجرت کی اور غزوہ¿ بدر میں شامل ہوئے ۔جب عفراءکے دونوں بیٹوں نے ابو جہل کو چھید دیا تو آ پ رضی اﷲ عنہ ہی نے اُس کی گردن کاٹی تھی ۔آپ رضی اﷲ عنہ باقی کے تمام معرکوں میں شامل ہوئے اور ایک روز رسول اﷲصلی اﷲعلیہ وسلم نے آپ رضی اﷲ عنہ سے فرمایا : ” مجھے قرآن پاک سناؤ۔“ انہوں نے عرض کیا : ” میں آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو قرآن پاک سناؤں جبکہ قرآن پاک آپ صلی اﷲ علیہ وسلم پر نازل ہوا ہے ؟ “ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں دوسرے آدمی سے قرآن پاک سننا پسند کرتا ہوں ۔“ پس آپ رضی اﷲ عنہ نے سورہ النساءکے آغاز سے تلاوت شروع کیاور جب آپ رضی اﷲ عنہ اِس آیت (ترجمہ) ” پھر وہ وقت کیسا ہوگا جب ہم ہر اُمت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور اِن لوگوں پر تمہیں ( یعنی سید الانبیاءصلی ﷲ علیہ وسلم کو )گواہ کی حیثیت سے کھڑا کریں گے ۔“ (سورہ النساءآیت نمبر 41)پر پہنچے تو سید الانبیا ءصلی اﷲ علیہ وسلم رو پڑے اور فرمایا : ”تمہارے لئے کافی ہے ۔“ حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ نے خلیفۂ اوّل ،خلیفۂ دُوم اور خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہم کے دورِ خلافت میں بہت سی جنگوں میں حصہ لیا جن میں جنگ یرموک بھی شامل ہے ۔پھر آپ رضی اﷲ عنہ ملک عراق ( کوفہ ) سے حج کرنے مکۂ مکرمہ آئے تو مقام ”ربذہ “ کے پاس سے گزرے اور اور حضرت ابو ذر غفاری رضی اﷲ عنہ کو دفن کیا اور مدینۂ منورہ آئے تو وہیں بیمار ہو گئے اور خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ عیادت کے لئے آئے اور پھر آپ رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہو گیا ۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

15 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ Khilafat e Rashida 3


15 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 15

حضرت عبد الرحمن بن عوف کا انتقال، ترکوں کا حملہ، ترکوں کو شکست، 33 ہجری :بغاوت کی چنگاری، مخالفین کی گستاخیاں، مخالفین الجزیرہ میں، 

حضرت عبد الرحمن بن عوف کا انتقال

اِسی سال 32 ہجری میں حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عبد الرحمن بن عوف بن حارث بن زہرہ بن کلاب بن مُرہ قرشی اور زہری ہیں ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی تحریک پر اسلام قبول کیا اور ”السابقون الاولون “ میں سے ہیں۔ملک حبشہ اور مدینۂ منورہ ہجرت کی اور سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم نے آپ رضی اﷲ عنہ اور حضرت سعد بن ربیع رضی اﷲ عنہ کے درمیان ”مواخات “ کرائی ۔آپ رضی اﷲ عنہ ”بدری صحابی “ ہیں اور بعد کے سب معرکوں میں بھی شامل ہوئے ۔جب سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم نے آپ رضی اﷲ عنہ کو لشکر دے کر بنو کلب کی طرف بھیجا تو سپہ سالار کی علامت کے طور پر آپ رضی اﷲ عنہ کے دونوں کاندھوں کے درمیان شملہ ڈھیلا کرنے کا حکم دیا تھا ۔آپ رضی اﷲ عنہ ” عشرۂ مبشرہ “ میں سے ہیں اور اسلام قبول کرنے والوں میں آٹھویں ہیں اور خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے مقرر کئے ہوئے چھہ” اصحابِ شوریٰ “ میں سے ہیں ۔حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانے میں چار ہزار دینار اﷲ کی راہ میں دیا ، پھر چالیس ہزار دیا ،پھر چالیس ہزار دینار دیا ،پھر پانچ سو گھوڑے اﷲ کی راہ میں دیئے پھر پانچ سو اونٹ بھی اﷲ کی راہ میں دیئے ۔حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ اُم المومنین سیدہ عائشہ رضی اﷲ عنہا اپنے گھر میں تھیں کہ مدینہ¿ منورہ میں شور اُٹھا ۔آپ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا : ” یہ کیا ہے ؟“ لوگوں نے کہا : ” ملک شام سے حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ کا قافلہ ضرورت کی ہر چیز لئے ہوئے آیا ہے ۔“ وہ سات سو اونٹ تھے اور پورے مدینۂ منورہ شور مین کہرام مچ گیا ۔اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا : ” میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ ”میں نے حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ کو گھٹنوں کے بل جنت میں داخل ہوتے دیکھا ہے ۔“ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ کو اِس بات کی اطلاع دی گئی تو آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” اگر مجھے استطاعت ہوئی تو میں کھڑے ہو کر جنت میں داخل ہوں گا ۔“ اور آپ رضی اﷲ عنہ نے پورے سات سو اونٹوں پر لدا ہوا سامان اﷲ کی راہ میں دے دیا ۔حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ کا جب انتقال ہونے لگا تو آپ رضی اﷲ عنہ نے ”بدری صحابہ “ میں سے جو لوگ زندہ تھے اُن میں سے ہر ایک

کے لئے چار سو دینار کی وصیت کی ۔سب نے وہ دینار لئے حتیٰ کہ خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی اور خلیفۂ چہارم حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے بھی وہ دینار لئے ۔حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے ہر اُمہات المومنین رضی اﷲ عنہم کے لئے اتنی بڑی رقم وصیت کی کہ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا فرمایا کرتی تھیں کہ ”اﷲ تعالیٰ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ کو ”سلسبیل “سے سیراب کرے ۔“ اتنے سب کے علاوہ آپ رضی اﷲ عنہ بہت زیادہ مال چھوڑا تھا ۔اُس میں سونا اتنا تھا کہ اُسے تقسیم کرنے کے لئے کلہاڑوں سے توڑا گیا ،یہاں تک کہ توڑنے والوں کے ہاتھوں میں چھالے آگئے ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے ایک ہزار اونٹ ،ایک سو گھوڑے اور تین ہزار بکریاں بقیع میں چرتی ہوئی چھوڑیں ۔انتقال کے وقت آپ رضی اﷲ عنہ کی چار بیویاں تھیں جن میں سے ہر ایک کو آٹھویں حصے کا چوتھائی ( پاؤ) حصہ اسی (80) ہزار دینار ملے ۔حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے آپ رضی اﷲ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی اور ” جنت البقیع “ میں دفن کیا ۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ کا پچھتر(75) سال کی عُمر میں انتقال ہوا ۔

ترکوں کا حملہ

اِس سال کے آخر میں ترکوں نے مسلمانوں پر سرحدی علاقے خراسان پر حملہ کر دیا ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : 32 ہجری کے آخر میں خراسان پر ترکوں نے حملہ کیا اور اہل بادنمیں ، اہل ہرات اور اہل قوہستان نے اُن کا ساتھ دیا ۔چالیس ہزار کا لشکر لیکر ترکی کا بادشاہ قار ن خراسان کی طرف بڑھا ۔خراسان میں اُن دنوں قیس بن ہیشم گورنر تھے اُن کوعبد اﷲ بن عامر نے خراسان کا گورنر بنایا تھا ۔اُن کے ساتھ اُن کا چچا زاد بھائی عبد اﷲ بن حاز م بھی تھا ۔اُس نے عبد اﷲ بن عامر سے درخواست کی کہ مجھے لکھ کر دیں کہ قیس بن ہیشم کے بعد مجھے خراسان کا گورنر بنایاجائے ۔عبد اﷲ بن عامر نے اُسے لکھ کر دے دیا۔جب ترکی کالشکر خراسان کے قریب پہنچ گیا تو قیس بن ہیشم نے عبد اﷲ بن حازم سے پوچھا : ” تمہاری کیا رائے ہے ۔“اُس نے کہا : ” آپ گورنری سے استعفاءدے دیں اور واپس چلے جائیں کیونکہ میں اب یہاں کا گورنر ہوں ۔“ یہ کہہ کر اُس نے عبد اﷲ بن عامر کی دی ہوئی سند بتائی تو قیس بن ہیشم خاموشی سے عبد اﷲ بن عامر کے پاس آگئے ۔

ترکوں کو شکست

اِس کے بعد عبد اﷲ بن حازم مسلمانوں کا لشکر لیکر ترکوں کے لشکر کے مقابلے پر آئے ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : عبد اﷲ بن حازم چار ہزار مسلمانوں کا لشکرلیکرترکوں کے مقابل آئے اور دونوں لشکروں کی مڈ بھیڑ کھلے میدان میں ہوئی ۔رات میں عبد اﷲ بن حازم نے ترک لشکر پر شب خون مارنے کا منصوبہ بنایا اور چند سو مسلمانوں کا ایک لشکر شب خون مارنے کے لئے ترتیب دیا ۔باقی پورے لشکر سے کہا کہ رات میں اپنے اپنے نیزوںپر کپڑا لپیٹ کر تیل سے تر کر کے روشن کر لیں ۔ ترکوں نے چاروں طرف مشعلیں روشن دیکھ کر ہمت ہار دی اور عبد اﷲ بن حازم نے انہیں ہر طرف سے گھیر کر حملہ کر دیا ۔ترک بادشاہ قرن مارا گیا اور ترکی فوجی میدان جنگ سے بھاگنے لگے مسلمان مجاہدین نے اُن کا تعاقب کیا اور ہزاروں کو قتل اور قید کیا ۔فتح حاصل ہونے کے بعد عبد اﷲ بن حازم نے عبد اﷲ بن عامر کے پاس فتح کی خوش خبری اور مال غنیمت کا خمس بھیجا ۔اِس کے بعد عبد اﷲ بن حازم جنگ جمل تک خراسان کے گورنررہے ۔

33 ہجری :بغاوت کی چنگاری

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے خلاف بغاوت کی پہلی چنگاری 33 ہجری میں بھڑکی ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : سعید بن عاص جن کو ولید بن عتبہ کے بعد خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے کوفہ کا گورنر بنایا تھا وہ رات کے وقت کوفہ کے معزز لوگوں کو جمع کر کے داستان گوئی کرتے تھے۔ایک رات محفل میں دوسرے لوگوں کے ساتھ یہ چار افراد بھی شامل تھے ۔ (1) مالک بن کعب ارعبسی (2) اسود بن یزید نخعی (3) علقمہ بن قیس نخعی (4) مالک الاشتر۔اُس رات سعید بن عاص نے کہا : ” یہ سواد ِ کوفہ قریش کا باغ ہے ۔“ اِس پر اشتر نے کہا : ” کیا تمہارا خیال ہے کہ یہ علاقے جسے اﷲ نے بزور شمشیر مال غنیمت میں ہمیں دیا ہے تمہارا اور تمہاری قوم کا باغ ہے ؟ اﷲ کی قسم ! تمہارا بڑے سے بڑا حصہ دار بھی ہمارے برابرہے ۔“ اُس کی تائید میں دوسرے لوگ بولنے لگے ۔ عبد الرحمن اسدی کو سعید بن عاص نے کوفہ کا کوتوال بنایا تھا ۔اُس نے کہا :” کیا تم امیر کی گفتگو کی مخالفت کر رہے ہو ؟“ اور انہیں سخت سست کہا ۔اِ س پر اشتر نے کہا : ” دیکھو یہ شخص جانے نہ پائے ۔“ اُس پر لوگ ٹوٹ پڑے اور اُسے اِس قدر مارا کہ وہ بے ہوش ہو گیا پھر اُس کی ٹانگ کھینچ کر اُسے لٹا دیا ۔جب اُسے ہوش آیا تو سعید بن عاص نے اُس سے پوچھا : ” کیا تم زندہ ہو ؟“ اُس نے کہا : ” مجھے آپ کے انتخاب کردہ رہنماؤں نے مار ڈالا ۔“ اِس پر سعید بن عاص نے کہا : ” اﷲ کی قسم ! اب میری مجلس میں اِن میں سے کوئی شریک نہیں ہو گا ۔“ اِس واقعہ کے بعد یہ لوگ اپنی مجلسوں اور گھروں میں بیٹھ کر خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ اور سعید بن عاص کے خلاف بولنے لگے اور لوگوں کو بھڑکانے لگے ۔اِن لوگوں کے پاس دوسرے لوگ بھی آنے لگے اور جب یہ تعداد زیادہ بڑھ گئی تو سعید بن عاص نے خلیفہ¿ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو خط لکھا : ” کوفہ کے چند لوگ جن کی تعداد دس (10) تک ہے ۔وہ جمع ہو کر آپ رضی عنہ اور میرے خلاف عیب گوئی کر رہے ہیں اور لوگوں کو بھڑکا رہے ہیں اور ہماری دینداری پر بھی طعن و تشنیع کر رہے ہیں ۔ مجھے اندیشہ ہے کہ اگر اِن لوگوں کا یہ سلسلہ اِسی طرح جاری رہا تو مخالفین کی تعداد زیادہ ہو جائے گی ۔“

مخالفین کی گستاخیاں

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو جب سعید بن عاص کا خط ملا تو آپ رضی اﷲ عنہ نے انہیں لکھا کہ مخالفین کو حضرت معاویہ بن ابی سفیان کے پاس بھیج دو ۔وہ انہیں سمجھا دیں گے ۔علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے انہیں لکھا کہ مخالفین کو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کے پاس بھیج دو اور ملک شام کے گورنر حضرت معاویہ بن ابی سفیان کو لکھا کہ آپ کے پاس کچھ قاری آرہے ہیں ،اُن کی مہمان نوازی کریں اور اُن کا اکرام کریں اور اُن سے دوستی کریں ۔جب یہ لوگ ( مخالفین) آئے تو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے اُن کی مہمان نوازی کی اور اکرام کیا اور اُن کے ساتھ مل بیٹھے اور انہیں وعظ و نصیحت کی ۔اُن کے ترجمان نے آپ رضی اﷲ عنہ کو ایسی گفتگو میں جواب دیا جس میں قباحت اور شناعت پائی جاتی تھی ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان نے اپنے حلم کی وجہ سے برداشت کیا اور انہیں دوبارہ نصیحت کی مگر وہ اپنی سرکشی میں بڑھنے لگے اور اپنی حماقت اور جہالت پر ڈٹنے لگے ۔اِس موقع پر آپ رضی اﷲ عنہ نے انہیں ملک شام سے جلا وطن کردیا کہ وہ کمینے لوگوں کی عقلوں کو مسخ نہ کردیں ۔یہ لوگ خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ اور سعید بن عاص کو سب و شتم کرتے تھے اور یہ دس آدمی تھے اور بعض کا قول ہے کہ نو آدمی تھے ۔ (1) کمیل بن زیاد (2) اشتر نخعی اِس کا نام مالک بن یزید ہے (3) علقمہ بن قیس نخعی (4) ثابت بن قیس نخعی (5) جندب بن زہیر عامری (6) جندب بن کعب ازدی (7) عروة بن جعد (8) عمرو بن حمق خزاعی (9) صعصعہ بن صوحان ( علامہ محمد بن جریر طبری کے مطابق اِسی نے ترجمان کے فرائض انجام دیئے تھے ) اور (10) زید بن صوحان ۔علامہ ابن کثیر کے مطابق آخری کے دو آدمیوں کے نام مصری نسخہ میں لکھے ہیں ۔

مخالفین الجزیرہ میں

جب یہ لوگ دمشق سے نکلے تو ” الجزیرہ “ میں جا کر پناہ لی ۔( الجزیرہ پرانے زمانے میں سلطنت روم اور سلطنت فارس کے درمیان کا آزاد علاقہ تھا ۔جب مسلمانوں نے دونوں حکومتوں کا خاتمہ کیا تو الجزیرہ بھی فتح ہو گیا اور ملک شام کے قریب ہونے کی وجہ سے یہ اس کے ماتحت ہو گیا ) الجزیرہ میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے حضرت عبد الرحمن بن خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو نائب بنایا تھا پھر بعد میں ”حمص “ کے گورنر بنے ۔انہوں نے اِن سے ملاقات کی اور انہیں ڈرایا دھمکایاتو انہوں نے معذرت کی اور اپنی روش سے باز آجانے کی طرف رجوع کیا ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے مالک اشتر نخعی کو اپنے ساتھیوں کی طرف سے خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے پاس معذرت کرنے کو بھیجا ۔خلیفہ¿ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے اُن کی معذرت کو قبول کیا اور انہیں اختیار دے دیا کہ وہ جہاں چاہیں مقیم ہو جائیں ۔انہوں نے حضرت عبد الرحمن بن خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے علاقے میں رہنا پسند کیا اور حمص آگئے ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے انہیں سمندر کے کنارے رہنے کا ٹھکانہ دیا اور اُن کے وظائف جاری کر دیئے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!


16 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ Khilafat e Rashida 3


16 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 16

ابن السواءعبداﷲ بن سبا کی منافقت، خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ کی مخالفت، تحقیقاتی کمیشن، بد بخت منافق عبد اﷲ بن سبا کی فتنہ انگیزی، مخالفین اور منافقین کی سازش کا آغاز، مخالفین کی کوفہ آمد، 

ابن السواءعبداﷲ بن سبا کی منافقت

33 ہجری میں ابن السواءجس کا نام عبد اﷲ بن سبا تھا وہ منظر عام پر آیا ۔یہ پہلے یہودی تھا اور اسلام قبول کیا لیکن منافقت کرنے لگا اور خلیفہ¿ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے خلاف عوام کو بھڑکانے میں سب سے بڑا ہاتھ اِس منافق کا تھا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حکیم بن جبلہ نام کا ایک چور تھا جب مسلمانوں کی فوجیں لوٹتی تھیں تو وہ پیچھے رہ جاتا تھا اور فارس کے علاقے میں ذمیوں کو لوٹتا تھا اور پھر واپس آجاتا تھا ۔اُس کے پاس ابن السواءآکر ٹھہرا اور لوگوں کو خلیفہ¿ سُوم رضی اﷲ عنہ اور اُن کے گورنروں کے خلاف بھڑکانے لگا ۔اُس کے پاس کافی لوگ جمع ہونے لگے اُس نے اُن سے کافی مجمل باتیں کیں اور اُن کی تصریح نہیں کی تاہم لوگ اُن باتوں کو ماننے لگے اور انہیں اہمیت دینے لگے ۔عبد اﷲ بن عامر نے اُسے بلوایا اور پوچھا :” تم کون ہو ؟“ وہ بولا : ” میں یہودی تھا اب اسلام قبول کر لیا ہوں اور یہاں رہنا چاہتا ہوں ۔“ عبد اﷲ بن عامر نے کہا : ” تم یہاں سے چلے جاو¿ ۔“ وہ وہاں سے کوفہ چلا آیا اور پھر پوری مملکت اسلامیہ میں گھوم گھوم کر عوام کو خلیفہ¾ سُوم رضی اﷲ عنہ اور اُن کے مقرر کردہ گورنروں کے خلاف بھڑکانے لگا ۔حکم بن جبلہ کے خلاف اہل مہ اور اہل قیلہ نے شکایت کی تو عبد اﷲ بن عامر نے اُسے قید کردیا ۔

خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ کی مخالفت

بد بخت عبد اﷲ بن سبا منافق پوری مملکت اسلامیہ میں گھوم گھوم کر تابعین کو کبار صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم ،خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ اور اُن کے مقرر کردہ گورنروں کی مخالفت پر عام مسلمان کو بھڑکاتا رہا ۔جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوام کو خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ کے ہر کام میں کچھ نہ کچھ خرابی دکھائی دینے لگی ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : جس وقت اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ”کامل فتح “ عطا فرمائی اور ملت اسلامیہ کے قبضہ میں اکثر ممالک آگئے ۔اُس وقت اہل عرب (صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم اور اہل حجاز) نے اُن لوگوں کے درمیان جو بصرہ، کوفہ ،ملک شام اور ملک مصر کے باشندے تھے رہائش اختیار کر لی ۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی شرف صحبت کی وجہ سے ممتا زاور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پورے پورے مقلد اور مسلمانوں کے ہادی،مہاجرین ، انصار ،قریش اور اہل حجاز تھے کیونکہ یہی لوگ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی صحبت سے سرفراز ہوئے تھے ۔ باقی عرب بنو بکر بن وائل ، بنو عبد القیس ، بنو ربیعہ ، بنو ازد ، بنو کندہ ، بنو تمیم اور بنو قضاعہ وغیرہ اِس عزت و شرف سے سرفراز نہیں تھے کیونکہ اُن کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی مقدس صحبت نصیب نہیں ہوئی تھی اور اگر کسی کو اِن میں سے کچھ صحبت نصیب ہوئی تھی تو نہایت مختصر ۔مگر فتوحات میں انہیں کا زیادہ حصہ تھا ،اِسی وجہ سے وہ اپنے آپ کو سابقین صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم سے افضل اور اپنے حقوق کو فائق سمجھتے تھے ۔عام لشکر کشی کے زمانے میں انہیں اِس بات کا بالکل احساس نہیں ہوا ۔لیکن فتوحات و کامیابی حاصل ہونے کے بعد جب مصلحتاً سلسلۂ فتوحات کو روکنا پڑا تو وہ اِس بات کو محسوس کر کے کہ اُن پر مہاجرین ، انصار ، قریش اور اُن کے علاوہ اور قبائل کے لوگ حکومت کر رہے ہیں دل ہی دل میں کشیدہ ہونے لگے ۔( یہ تمام خیالات اور جذبات تابعین میں بد بخت منافق عبد اﷲ بن سبا نے اُبھارے تھے ،جیسا کہ آگے آئے گا) اتنے میں امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کا آخری زمانۂ خلافت آگیا اور لوگوں نے زبان ِ طعن و تشنیع مملکت ِ اسلامیہ کے گورنروں پر کھول دیں ۔امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے احکام کی تعمیل میں سستی کرنے لگے اور آپ رضی اﷲ عنہ کے انتظامات پر حرف گیری کرنے لگے ۔ کبھی کسی گورنر کی تبدیلی کی درخواست کرتے اور کبھی کسی گورنر کی معزولی کی مانگ کرتے ۔غرض ہر طرح سے امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی رائے کی مخالفت پر تل گئے تھے ۔

تحقیقاتی کمیشن

بد بخت منافق عبد اﷲ بن سبا عام مسلمان نوجوانوں کے اندر خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ اور اُن کے مقرر کردہ گورنروں کے خلاف بھڑکاتا جارہا تھا اور اُسے کامیابی بھی ملتی جارہی تھی ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اِن سرگوشیوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ کے مقرر کردہ گورنروں کے خلاف بد دلی پیدا ہوگئی اور اِن گورنروں پر ظلم اور بے جا کاروائیوں کے الزامات لگائے جانے لگے ۔زیادہ زمانہ گزرنے نہیں پایا تھا کہ مدینۂ منورہ میں صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کے کانوں تک بھی یہ باتیں پہنچ گئیں جس سے وہ لوگ بھی گورنروں کے متعلق شکوک و شبہات کا شکار ہو گئے اور گورنروں کی معزولیت کے بارے میں گفتگو کرنے لگے ۔صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم نے خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو رائے دی کہ گورنروں پر جو الزامات لگائے جارہے ہیں اُن کی تحقیقات کرائی جائے اور اُن کے علاقے میں اپنے نمائندے بھیج کر تمام صحیح حالات معلوم کئے جائیں ۔خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ نے حضرت محمد بن مسلمہ رضی اﷲ عنہ کو کوفہ کی طرف ، حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ کو بصرہ کی طرف ، حضرت عبد اﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو ملک شام کی طرف اور حضرت عمار بن یاسر رضی اﷲ عنہ کو ملک مصر کی طرف روانہ کیا ۔اِس کے علاوہ دوسرے نمائندوں کو بھی مختلف شہروں تحقیقات کے لئے بھیجا گیا ۔سب نے واپس آکر بیان کیا کہ ہم نے شریعت کے خلاف کوئی عمل نہیں دیکھا اور عوام میں بھی کسی قسم کی چرچا نہیں سنی ۔صرف حضرت عمار بن یاسر رضی اﷲ عنہ کو بعض مفسدوں نے اپنی طرف مائل کر لیا اور اپنا ہم نوا بنا لیا تھا ۔

بد بخت منافق عبد اﷲ بن سبا کی فتنہ انگیزی

پوری مملکت اسلامیہ میں خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ اور اُن کے گورنروں کے خلاف جو ماحول پیدا ہوگیا تھا اُسے بنانے میں بد بخت منافق عبد اﷲ بن سبا کا سب سے زیادہ ہاتھ تھا ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : مفسدہ پردازوں میں سب سے نمایاں عبد اﷲبن سبا جو ” ابن السواء“ کے نام سے جانا جاتا تھا اور پہلے یہودی تھا ۔خلیفہ¿ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے دور ِ خلافت میں مدینۂ منورہ آکر مال و دولت کے لالچ میں اسلام قبول کیا تھا مگر سچا مسلمان نہیں بنا بلکہ منافق بن گیا ۔”اہل بیت “ کی محبت کی آڑ میں لوگوں کو خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ اور ”شیخین “ ( خلیفۂ اوّل حضرت ابو بکر صدیق اور خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہم ) کے خلاف لوگوں کو اُکسانے لگا اور بہتان تراشنے لگا ۔اہل بصرہ اُس کی خباثت سے مطلع ہوئے تو انہوں نے اسے علاقہ بدر کر دیا تو وہ کوفہ گیا اور وہاں فتنہ انگیزی کرنے لگا تو کوفہ والوں نے بھی شہر بدر کر دیا ۔وہاں سے وہ ملک شام آیا اور وہاں کے لوگوں نے اسے علاقہ بدر کیا تو وہ ملک مصر چلا گیا اور وہاں فتنہ انگیزی کرنے لگا ۔وہ لوگوں کوامیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ اور اُن کے گورنروں کے خلاف خفیہ تعلیم دیتا تھا ۔اُس نے دھیرے دھیرے پوری مملکت اسلامیہ میں اپنا خفیہ نیٹ ورک بنا لیا اور مختلف شہروں کے لوگ اُس کے خفیہ نیٹ ورک کی وجہ سے اُس کی طرف مائل ہونے لگے اور اُن میں آپس میں خفیہ خط و کتابت ہونے لگی ۔اِسی گروہ میں خالد بن ملجم ،سودان بن عمران اور کنانہ بن بشر بھی تھے ۔( اِن کا خصوصی ذکر ہم نے یہاں اِس لئے کیا ہے کہ آگے چلکر اِن تینوں کا ذکر بہت ہی اہم معاملے میں آئے گا ۔) علامہ عبد الرحمن بن خلدون آگے لکھتے ہیں : عبد اﷲ بن سبا ءالمعروف ابن السواءنے بصرہ میں پہنچ کر حکیم بن جبلہ عبدی کے گھر مقیم ہوا ۔اُس نے اہل بیت کی محبت کے پردے میں امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ پر طعن و تشنیع کی تبلیغ شروع کی ۔جب حکیم بن جبلہ کو اِس کی اطلاع ہوئی تو اُس نے عبد اﷲ بن سبا کو اپنے مکان سے نکال دیا ۔عبد اﷲ بن سبا بصرہ سے نکل کر کوفہ آیا اور اہل کوفہ نے بھی نکال دیا تو وہ ملک مصر چلا گیا اور وہاں سے اپنے احباب جو بصرہ اور کوفہ میں تھے اُن سے خفیہ خط و کتابت کا سلسلہ شروع کیا اور اِس طرح پوشیدہ پوشیدہ خلیفہ¿ سُوم رضی اﷲ عنہ اور اُن کے گورنروں پر طعن و تشنیع کو عام کرنے لگا ۔

مخالفین اور منافقین کی سازش کا آغاز

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے دورِخلافت میں مملکت اسلامیہ مشرق میں ایشیائے کوچک تک ،جنوب مشرق میں کابل تک ،شمال میں ترکی تک اور مغرب میں شمالی افریقہ تک پھیل چکی تھی ۔حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے ملک شام اور ملک مصر کا مکمل اختیار حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی کو دے دیا تھا اور وہ اپنی مرضی کے مطابق اِن علاقوں میں گورنر مقرر کرتے تھے ۔اِسی طرح سعید بن عاص کو ملک عراق اور ملک ایران کا مکمل اختیار دے دیا تھا اور وہ اپنی مرضی کے مطابق اِن علاقوں میں گورنر مقرر کیا کرتے تھے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : سعید بن عاص نے حضرت اشعث بن قیس رضی اﷲ عنہ کو ”آذربائیجان“ کا گورنر بنایاکیا تھا اورسعید بن قیس کو ” رے “ کا گورنربنایا تھا ۔اِس سے پہلے سعید بن قیس ”ہمدان “ کے گورنرتھے وہاں سے اُن کو معزول کر کے نشیر عجلی کو ”ہمدان “ کا گورنر بنا دیا تھا ۔سائب بن اقرع کو ”اصفہان“ کاگورنر بنایا اور ملاک بن حبیب یربوعی کو ”ماہ“ کا گورنر بنایا ۔حکیم بن سلامہ حزامی کو ” موصل “ کا گورنر بنایا ۔حضرت جریر بن عبداﷲ بجلی رضی اﷲ عنہ کو قرقیسیا ءکا گورنر بنایا اور حضرت سلمان بن ربیع ”باب “ کی مہم کے نگران تھے اور جنگی گورنر حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ تھے ۔عتیبہ بن نہاس کو ”حلوان “ کا گورنر بنایا ۔اِس طرح کوفہ فوجی حکام اور کمانڈروں سے خالی ہو گیا اور صرف فتنہ پرداز لوگ رہ گئے تھے ۔اِن حالات میں یزید بن قیس نے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو خلافت سے معزول کرنے کی سازش کا آغاز کیا ۔وہ کوفہ کی مسجد میں پہنچا اور وہاں بیٹھ گیا اور اُس کی طرف لوگ راغب ہونے لگے اور یزید بن قیس خط و کتابت کے ذریعے خفیہ طور سے ابن السواء(عبد اﷲ بن سبا ) ہدایات لیتا رہتا تھا ۔

مخالفین کی کوفہ آمد

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ کے خلاف بد بخت منافق عبد اﷲبن سبا ملک مصر میں بیٹھ کر پوری مملکت اسلامیہ میں خفیہ طور سے اپنی تحریک چلا رہا تھا اور ہر شہر اور ہر علاقے کے منافقین اُس کے رابطے میں تھے اور اُس کی ہدایات کے مطابق عمل کر رہے تھے ۔اِس بد بخت کا اصل مقصد اُمت ِ مسلمہ میں فرقہ بندی پپدا کرنا تھا تاکہ مسلمان فرقوں میں بٹ جائیں آپس میں لڑنے لگ جائیں اور یہ بد بخت منافق صرف مسلمانوں کا نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کا دشمن تھا اور اُس کا ایک مہرہ یزید بن قیس تھا جس نے کوفہ کے لوگوں کو خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی عنہ کے خلاف بھڑکانا شروع کر دیا تھا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ” حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ کو یزید بن قیس کی فتنہ انگیزی کے بارے میں معلوم ہوا تو انہوں نے اُسے مسجد سے نکل جانے کا حکم دیاتو اُس نے کہا : ” ہم سعید بن عاص کا استعفاءچاہتے ہیں ۔“ حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” تمہارا جوبھی مقصد ہو ،اُس کے لئے تم مسجد میں نہ بیٹھو اور اگر تمہیں سعید بن عاص سے کوئی شکایت ہے تو اس کی تلافی کی کوشش کرو۔“ یزید بن قیس اپنے گھر آگیا اور ایک شخص کو اُجرت دیکر مخالفین کے پاس ”الجزیرہ بھیجا اور انہیں خط لکھا :” تم لوگ خط ملتے ہی یہاں (کوفہ ) آجاؤ کیونکہ شہر والے ہم سے متفق ہو گئے ہیں ۔“ قاصد اُن کے پاس پہنچا اور یزید بن قیس کا خط اُن کو دیا تو انہوں نے قاصد کو ڈانٹ دیا لیکن اشتر نے قاصد سے کہا کہ میں تمہارے ساتھ چلوں گا ۔اُس کے جانے کے بعد اُن لوگوں نے کہا : ”اُس ( سعید بن عاص ) نے ہمیں کوفہ سے نکالا ہے اﷲ اُس کو نکالے ۔ اب ہمیں بھی وہی کرنا ہوگا جو اُس نے کیا ہے ۔بہرحال عبد الرحمن بن خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو علم ہو گا تو وہ ہمیں سچا نہیں سمجھے گا ۔“ پھر وہ سب اشتر کے پیچھے روانہ ہوئے لیکن اُس کو نہیں پاسکے کیونکہ وہ کافی آگے جا چکا تھا ۔جب حضرت عبد الرحمن بن خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو علم ہوا تو انہوں نے تعاقب میں گھڑ سوار بھیجے مگر اشتر اور اُس کے ساتھی میلوں دور جاچکے تھے ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : یزید بن قیس نے بقصد خلع خلافت امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ اور اُن کے گورنروں کے خلاف خروج کیا اور اُس کے ہمراہ ایک گروہ اُن لوگوں کا تھا جو عبد اﷲ بن سبا منافق کے خفیہ گروہ کا تھا اور اُس سے خفیہ خط و کتابت کرتا تھا ۔حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ نے جلد پہنچ کر اِس اُٹھتے ہوئے طوفان کوروکا اور یزید بن قیس کو گرفتار کر لیا ۔یزید بن قیس نے معذرت کی اور بولا : ” میں نے کسی اور قصد سے خروج نہیں کیا ہے اور نہ ہی میرا کچھ اور مقصد ہے بلکہ میرے ساتھیوں کو اور مجھے کوفہ کے گورنر سعید بن عاص کچھ شکایتیں پید ہو گئیں ہیں ۔“ حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ نے یہ سن کر اُسے چھوڑ دیا ۔اِس کے بعد یزید بن قیس نے خط و کتابت کر کے اُس گروہ کو بلا بھیجا جو ”حمص “ میں حضرت عبد الرحمن بن خالد بن ولید رضی ﷲ عنہ کے پاس تھا ۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!


17 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ Khilafat e Rashida 3


17 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 17

مالک اشتر کی شر انگیزی، خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ کا اپنے گورنروں سے مشورہ، حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کوفہ کے گورنر، بد بخت منافق کی پوری مملکت اسلامیہ میں فتنہ انگیزی، 

مالک اشتر کی شر انگیزی

وہ نو یا دس لوگ جنہیں سعید بن عاص نے ملک شام حضرت معاویہ بن ابی سفیان کے پاس بھیجا تھا اور اُس گروہ نے اُن کے ساتھ بد تمیزی کی تو انہیں ملک شام سے نکال دیا گیا تو وہ الجزیرہ چلے گئے تھے ۔وہ لوگ یزید بن قیس کا خط پاکر کوفہ روانہ ہوئے لیکن مالک اشتر اُن سے پہلے کوفہ پہنچ گیا ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اشتر اپنے ساتھیوں کے ساتھ حمص سے کوفہ روانہ ہوا اور کوفہ کے قریب پہنچ کر اپنے ساتھیوں سے الگ ہو گیا اور اُن سے پہلے کوفہ میں داخل ہو کر جمعہ کے دن مسجد کے دروازے پر کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا : ” اے لوگو ! میں تمہارے امیر المومنین حضرت عثمان (غنی رضی اﷲ عنہ )کے پاس سے آیا ہوں اور میں نے سعید بن عاص کو اِس حالت میں چھوڑا تھا کہ وہ خواتین کے سو درہم کم کرانے کی کوشش کر رہا تھا اور وہ یہ تجویز بھی پیش کر رہا تھا کہ بہادر سپاہیوں کا وظیفہ صرف دو ہزار رکھا جائے اور سعید بن عاص یہ بھی کہتا ہے کہ تمہارا مال غنیمت قریش کا باغ ہے ۔میں ایک منزل تک اُس کے ساتھ چلا وہ اِسی قسم کی دھمکی آمیز باتیں کرتا رہا ہے ۔“ حاضرین مجلس مالک اشتر کے اِس فعل سے برہم ہو گئے ۔مسجد میں جو ذی ہوش اور صائب الرائے تھے انہوں نے اشتر کو روکنے کی کوشش کی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا ۔یزید بن قیس نے مسجد سے باہر نکل کر آواز لگائی: ” جس کا جی چاہے سعید بن عاص کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے کے لئے یزید بن قیس کا ساتھ دے ۔“ اِس آواز کو سن کر عوام الناس کا ایک گروہ یزید بن قیس کے ساتھ ہو گیا ۔سرداران کوفہ اور اہل الرائے نے ہر چند سمجھایا ۔وعظ و نصیحت کی لیکن اُن میں سے ایک نے بھی سماعت نہیں کی بلکہ سب کے سب یزید بن قیس کے ساتھ نکل کھڑے ہوئے ۔سعید بن عاص اُس وقت مدینہ¿ منورہ گئے ہوئے تھے اور اُن کے نائب عمرو بن حارث منبر پر کھڑے ہوئے اور لوگوں کو واپس آنے اور اپنے امیر کی اطاعت کرنے کی ہدایت کی ۔حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” تم سیلاب کو جوش کی حالت میں روکنا چاہتے ہو ،صبر کرو ،یہ لوگ فساد کئے بغیر نہیں رُکیں گے ۔“ عمرو بن حارث یہ سن کر اُتر آئے اور اِسی دوران مسجد خالی ہوگئی اور صرف شرفا اور رو¿سائے کوفہ ہی عمرو بن حارث کے پاس رہ گئے تھے ۔

خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ کا اپنے گورنروں سے مشورہ

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ اور اُن کے گورنروں کے خلاف خفیہ طور پر بد بخت منافق عبد اﷲ بن سبا عام مسلمانوں کو بھڑکا رہا تھا اور منافقین کا پورا ایک نیٹ ورک چلا رہا تھااور بھولے بھالے مسلمان اِن منافقین کے بہکاو¿ے میں آرہے تھے ۔امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو عوام کی اِس بد نظمی کی خبر مل رہی تھی اِسی لئے آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے تمام بڑے گورنروں کو مشورے کے لئے مدینۂ منورہ بلایا ۔علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 34 ہجری میں خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سے منحرف لوگوں نے آپس میں خط و کتابت کی جن کی اکثریت کوفہ سے تعلق رکھتی تھی اور وہ حضرت عبد الرحمن بن خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی گورنری میں رہتے تھے اور کوفہ سے جلاوطن کئے گئے تھے ۔انہوں نے کوفہ کے گورنر سعید بن عاس کے خلاف محاز کھول دیا اور اُن کی عداوت پر متفق ہو گئے اور اُن کو اور حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی طرف اُن کے افعال کے متعالق اور انہوں نے جو بہت سے صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم کو معزول کر کے بنو اُمیہ میں سے اپنے رشتہ داروں کی ایک جماعت کو گورنر مقرر کیا تھا ۔اِس کے متعلق مناظرہ کے لئے آدمی بھیجا اور آپ رضی اﷲ عنہ سے سخت کلامی کی اور آپ رضی اﷲ عنہ سے مطالبہ کیا کہ آپ رضی اﷲ عنہ اپنے گورنروں کو معزول کر دیں اور اُن کی جگہ دوسرے سابقین اور صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کو امام بنائیں ۔آپ رضی اﷲ عنہ کو یہ بات بہت گراں گزری اور آپ رضی اﷲ عنہ نے گورنروں کو مشورہ کے لئے بلا بھیجا ۔ملک شام کے گورنر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ ، ملک مصرکے گورنر حضرت عمرو بن ابی العاص رضی اﷲ عنہ ،مغربی علاقے سے حضرت عبد اﷲ بن ابی سرح ،کوفہ کے گورنر سعید بن عاص ،بصرہ کے گورنر عبد اﷲ بن عامر وغیرہ آپ رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ رضی اﷲ عنہ نے اُن سے ہونے والے واقعات اور انتشار کے بارے مشورہ طلب کیا ۔حضرت عبد اﷲ بن عامر نے مشورہ دیا :”وہ شر کی جس روش کو اختیار کئے ہوئے ہیں آپ رضی اﷲ عنہ انہیں اِس سے غافل کر کے جنگ میں مشغول کر دیں ،پس ہر ایک کو اپنی جان کی پڑ جائے گی اور وہ اپنی سواری اور اپنے بالوں کی جوو¿ں میں ہی الجھا رہے گا ۔بے شک کمینے لوگ جب فارغ اور اور بے کار ہوں تو بے فائدہ باتوں میں مشغول ہو جاتے ہیں اور نامناسب باتیں کرتے ہیں اور جب پراگندہ ہو جائیں تو اپنے آپ کو اور دوسروں کو فائدہ دیتے ہیں ۔“ سعید بن عاص نے مشورہ دیا :” آپ مفسدین کی بیخ کنی کریں اور اُن کی جڑ کاٹ دیں ۔“ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے مشورہ دیا : ” آپ رضی اﷲ عنہ اپنے گورنروں کو اُن کے صوبوں میں واپس بھیج دیں اور اُن کی طرف التفات نہ کریں اور انہوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کے خلاف جو معاندانہ جنگی اتحاد کیا ہے اُس کے متعلق گذارش ہے کہ وہ بہت کم اور نہایت کمزور فوج کے حامل ہیں ۔“ عبد اﷲ بن ابی سرح نے مشورہ دیا :” مال سے اُن کی تالیف قلب کریں اور انہیں اتنا دیں جو اُن کے شر کو روک دے اور اُن کی ہلاکت سے امن دے اور اُن کے دلوں کو اپنی طرف مائل کر دے ۔“ حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے مشورہ دیا : ” اے امیر المومنین رضی اﷲ عنہ ! آپ رضی اﷲ عنہ نے لوگوں کے لئے ایسے کام کئے ہیں جنہیں وہ پسند نہیں کرتے ہیں ۔یا تو آپ رضی اﷲ عنہ اُن کو معزول کر دیں جنہیں وہ پسند نہیں کرتے ہیں یا پھر آگے بڑھ کر اپنے گورنروں سے اُن کاموں میں جنگ کریں جو وہ کر رہے ہیں ۔“ اِس طرح انہوں نے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سے سخت کلامی کی اور پھر اکیلے میں آپ رضی اﷲ عنہ سے معذرت بھی کی کہ انہوں نے یہ بات اِس لئے کہی ہے کہ لوگوں میں سے جو لوگ وہاں موجود تھے وہ اُن تک یہ بات پہنچا دیں کہ وہ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سے اِس بات کی وجہ سے راضی ہو جائیں ۔اِس موقع پر امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے اپنے گورنروں کو اُن کی جگہ قائم رکھا اور اُن لوگوں کی مال سے تالیف قلب کی اور حکم دیا کہ انہیں سرحدوں پر جنگ کرنے کے لئے بھیج دیا جائے ۔اور جب سب گورنر اپنے اپنے علاقے کی طرف واپس گئے تو اہل کوفہ نے سعید بن عاص کو کوفہ میں داخل ہونے سے روک دیا اور ہتھیار پہن لئے اور حلف اُٹھایا کہ جب تک حضرت سعید بن عاص کو معزول کر کے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کو کوفہ کا گورنر نہیں بنایا جائے گا تب تک وہ انہیں کوفہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے اور وہ مقام ”جرعہ “ پر جمع ہوگئے ۔

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کوفہ کے گورنر

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سے ملاقات کرنے کے بعد جب سعید بن عاص کوفہ واپس آئے تو راستے میں ” جرعہ “ کے مقام پر انہیں روک لیا گیا ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : یزید بن قیس اپنے ساتھیوں کے ساتھ کوفہ سے روانہ ہو کرقادسیہ کے قریب مقام ”جرعہ “ میں سعید بن عاص کو روکنے کی غرض سے آٹھہرا۔سعید بن عاص وہاں پہنچے تو یزید بن قیس کے ساتھیوں نے کہا : ” (مدینۂ منورہ ) لوٹ جاؤ !ہم کو تمہاری ضرورت نہیں ہے ۔“ سعید بن عاص نے کہا : ” اِس سخت کلامی کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اتنا ہی کافی ہے کہ تم لوگ میرے ساتھ اپنا ایک آدمی امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے پاس بھیج دیتے ۔“ سعید بن عاص کا ایک غلام بول پڑا : ”یہ ممکن نہیں ہے کہ سعید بن عاص (مدینۂ منورہ ) واپس جائیں ۔“ مالک اشتر نے اُس غلام کا پاؤں پکڑ کر اُسے اونٹ پر سے کھینچ کر نیچے گرا دیا اور ایک ہی وار میں اُسے قتل کر کے بولا : ” جاؤ !امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سے کہوکہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کو کوفہ کا گورنر بنا کر بھیجیں۔ “ سعید بن عاص واپس مدینۂ منورہ آئے اور امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کوکوفہ کا گورنر بنا کر بھیج دیا اور اہل کوفہ کو ایک خط لکھا : ” تم لوگ جس کو چاہتے تھے میں نے اُسی کو تمہارا گورنر مقرر کر دیا ہے ۔تم لوگ سعید بن عاص سے بد ظن تھے اور اُس کی گورنری پسند نہیں کرتے تھے۔ اِسی وجہ سے میں نے اُس کے بجائے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کو تمہارا گورنر بنا کر بھیجا ہے ۔ اﷲ کی قسم ! میں اپنے فرائض کو نہایت خوبی سے ادا کروں گا اور تمہاری زیادتیوں کو برداشت کرتا ہوا تمہاری اصلاح کی کوشش کرتا رہوں گا ۔“ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کوفہ پہنچے تو اہل کوفہ نے استقبال کیا اور آپ رضی اﷲ عنہ نے جمعہ کے دن منبر پر یہ خطبہ دیا ۔جس میں مسلمانوں کو جماعت سے علیحدہ نہیں ہونے اور امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی اطاعت کی تاکید کی ۔جسے لوگوں نے بسرو چشم قبول کر لیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے اُن کو یہ خط لکھا: ” بسمہ اﷲالرحمن الرحیم !میں نے تم پر اُسے گورنربنایا ہے جسے تم پسند کرتے ہو اور سعید بن عاص کو معزول کر دیا ہے ۔اﷲ کی قسم ! میں تمہارے لئے اپنی عزت قربان کر دوں گا اور تمہارے لئے صبر کروں گا اور مقدور بھر تمہاری بھلائی چاہوں گا ۔تم ہر ایسی بات کا مطالبہ کر سکتے ہو جس میں اﷲ کی نافرمانی نہیں کی جائے اور جو بات تمہیں پسند نہیں ہو اُس سے تمہیں مستثنیٰ رکھا جا سکتاہے بشرطیکہ اس سے اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں ہوتی ہو ۔میں نے تمہاری پسند کے مطابق کام کیا ہے تاکہ تم میرے خلاف ( اﷲ کی بارگاہ میں ) حجت نہ لاسکو ۔“

بد بخت منافق کی پوری مملکت اسلامیہ میں فتنہ انگیزی

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ مسلمانوں کو متحد اورمنظم رکھنے کی کوشش کر رہے تھے اور بد بخت منافق عبدا ﷲ بن سبا ( المعروف ابن السواء) پوری مملکت اسلامیہ میں مسلمانوں فرقہ بندی میں تقسیم کرنے اور انہیں آپس میں لڑانے کے لئے ہر ممکن سازش کر رہا تھا ۔یہ بد بخت پہلے یہودی تھا اور قوم یہود کو اﷲ تعالیٰ نے بہت ذہانت عطا فرمائی ہے لیکن اِن بد بختوں نے اپنی ذہانت کا استعمال بُرائیوں کو پھیلانے میں کیا اور اﷲ کے غضب کا شکار ہوئے ۔آج بھی یہ بد بخت قوم پوری دنیا میں ٹی وی ، موبائل اور انٹرنیٹ کے ذریعے برائی پھیلانے میں اپنی ذہانت استعمال کر رہی ہے ۔اِس بد بخت قوم کا ایک فرد عبدا ﷲ بن سبا تھا اور اُس نے اسلام اِسی لئے قبول کیا تھا کہ وہ مسلمان بن کر مسلمانوں میں شامل ہو کر مسلمانوں کو آپس میں لڑائے اور فرقہ بندی میں مبتلا کردے ۔اِس کے لئے اُس بد بخت نے پوری مملکت اسلامیہ میں اپنا خفیہ نیٹ ورک بنایا ہوا تھا اور کمزور ایمان والے مسلمانوں کو منافق بنا کر اپنے فائدے کے لئے استعمال کر رہا تھا ۔اُس بد بخت کا خاص نشانہ امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ تھے اور اُس کی فتنہ انگیزی کی وجہ سے پوری مملکت اسلامیہ میں آپ رضی اﷲ عنہ کے مخالفین پیدا ہونے لگے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عبد اﷲ بن سبا صنعاء کا یہودی تھا اُس کی والدہ سیاہ تھی ۔وہ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے زمانہ¿ خلافت میں دکھاؤے کا مسلمان ہوا ۔پھر وہ مسلمانوں کے شہروں میں گھوم گھوم کر انہیں گمراہ کرنے کی کوشش کرتا رہا ۔پہلے وہ حجاز گیا ،پھر بصرہ پھر کوفہ گیا پھر ملک شام بھی گیا مگر وہ اہل شام میں سے کسی کو گمراہ نہیں کر سکا اور انہوں نے اُسے وہاں سے نکال دیا ۔وہاں سے وہ ملک مصر گیا اور وہیں آباد ہو گیا اور وہیں سے اپنا خفیہ نیٹ ورک چلانے لگا ۔اُس نے اپنی تحریک کا پروپیگنڈا کرنے والوں کو خفیہ طور سے پوری مملکت اسلامیہ میں بھیجا اور وہ جو شہروں میں فساد کر رہے تھے اُن سے خفیہ خط و کتابت کی اور وہ لوگ اُس بد بخت منافق سے خط و کتابت کرتے رہے ۔یہ لوگ پوشیدہ طور پر اپنی تحریک کی طرف عوام کو دعوت دیتے رہے مگر بظاہر وہ نیک کاموں کا حکم دیتے تھے اور برائی سے روکتے تھے ۔یہ لوگ مختلف شہروں کے لوگوں کے ساتھ خطوط بھی بھیجتے تھے اور بظاہر اِن خطوں میں اپنے حکام پر نکتہ چینی کرتے تھے ۔دوسرے ساتھی بھی اِس طرح اُن سے خط و کتابت کرتے تھے ۔اِس کے علاوہ ایک پوشیدہ سازشی جماعت ہونے کی حیثیت سے ہر شہر کے لوگ دوسرے شہر کے لوگوں کو اپنی کار گزاری سے مطلع کرتے رہتے تھے ۔مثلاً ہر شہر کے لوگ یہ کہا کرتے تھے : ” ہم خیرو عافیت کے ساتھ ہیں اور اُن چیزوں میں مبتلا نہیں ہیں جن میں لوگ مبتلا ہیں سوائے اہل مدینہ¿ منورہ کے ۔“ اِس قسم کی اطلاعات تمام شہروں سے آئی تھیں ”ہم جس چیز میں مبتلا ہیں اُس سے بخیرو عافیت ہیں ۔“ یہ خبریں اہل مدینہ¿ منورہ تک پہنچیں تو وہ خلیفہ¿ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!


18 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ Khilafat e Rashida


18 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 18

خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ کی شان میں گستاخی، حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کا مشورہ، امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کا جواب، حضرت عُمر فاروق گورنروں پر بہت سخت تھے، حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کا خطبہ، مروان بن حکم کی دھمکی، 

خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ کی شان میں گستاخی

علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : ” اِس دوران پوری مملکت اسلامیہ میں بد بخت منافق عبد اﷲ بن سبا کے مقلدین منتشر ہو گئے اور چاروں طرف امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کے خلاف علانیہ طعن و تشنیع کا بازار گرم ہو گیا ۔روز آنہ اس کی خبریں مدینہ¿ منورہ میں پہنچنے لگیں ۔مدینہ¿ منورہ میں بھی سرگوشیاں شروع ہو گئیں ۔امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ اور اُن کے گورنروں کے خلاف زبان ِ طعن و تشنیع دراز ہو گئی ۔صحابہ¿ کرام میں سے حضرت زید بن ثابت ،حضرت ابو اسید ساعدی ،حضرت کعب بن مالک اور حضرت حسان بن ثابت رضی اﷲ عنہم لوگوں کو طعن و تشنیع کرنے سے روکتے تھے لیکن کوئی فائدہ نہیں تھا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس کے بعد بہت سے لوگ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے پاس پہنچ گئے اور انہوں نے اُن کو اِس قدر برا بھلا کہا کہ اِس سے زیادہ کسی کو برا بھلا نہیں کہا جاسکتا تھا ۔صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم زیادہ تر کنارہ کشی اختیار کئے ہوئے تھے ۔صرف حضرت زید بن ثابت ،حضرت ابو اُسید ساعدی ،حضرت کعب بن مالک اور حضرت حسان بن ثابت ( یہ سب انصاری ہیں ) حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی حمایت کرتے تھے ۔بہت سے لوگ اکٹھے ہو کر حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے اور درخواست کی کہ وہ اِس معاملے میں امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سے بات کریں ۔

حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کا مشورہ

لوگوں نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ سے درخواست کی کہ مملکت اسلامیہ میں جو امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کے خلاف بد نظمی پھیل رہی ہے اِس کے بارے میں امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کو مناسب مشورہ دیں تاکہ یہ بد نظمی ختم ہو ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ” حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو ئے اور عرض کیا : ” اے امیر المومنین رضی اﷲ عنہ ! لوگ میرے پیچھے پڑے ہوئے ہیں ۔انہوں نے مجھ سے آپ رضی اﷲ عنہ کے متعلق گفتگو کی ہے ۔ اﷲ کی قسم ! میں نہیں سمجھ پا رہا ہوں کہ آپ رضی اﷲ عنہ کو کیا مشورہ دوں ؟ جو بات ( اِِِِِِس مسئلے کے بارے میں ) میں جانتا ہوں اُسے آپ رضی اﷲ عنہ بھی جانتے ہیں ۔جس بات کو میں بتانا چاہتا ہوں اُسے آپ رضی اﷲ عنہ بخوبی جانتے ہیں ۔ہمیں آپ رضی اﷲ عنہ سے پہلے کوئی ایسی بات نہیں معلوم ہے جس سے ہم آپ رضی اﷲ عنہ کو ناواقف سمجھیں اور نہ ہی کوئی ایسی چیز ہمیں ایسی معلوم ہوئی جو آپ رضی اﷲ عنہ کو معلوم نہ ہو ۔ آ پ رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی زیارت کی اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی صحبت سے فیض یاب ہوئے ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اُن کی احادیث کو سنا ہے اور آپ رضی اﷲ عنہ کو ( دو مرتبہ) اُن کا داماد ببنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے ۔خلیفہ¿ اوّل حضرت ابوبکر صدیق اور خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق کے مقابلے میں آپ رضی اﷲ عنہ ازروئے قربت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے زیادہ قریب ہیں ۔آپ رضی اﷲ عنہ کو جو ( دو مرتبہ داماد بننا) نصیب ہوا ہے وہ اُن دونوں کو نہیں حاصل ہے ۔اﷲ کے واسطے ! آ پ رضی اﷲ عنہ اپنے معاملے پر غور کریں ۔اﷲ کی قسم ! آپ رضی اﷲ عنہ بے بصیرت نہیں ہیں اور کم سمجھ اور نادان بھی نہیں ہیں ۔راستہ بالکل کھلا اور صاف ہے اور دین و مذہب کی نشانیاں اور شعائر قائم ہیں ۔ اے امیر المومنین رضی اﷲ عنہ ! آپ رضی اﷲ عنہ کو معلوم ہی ہے کہ اﷲ کے بندوںمیں عدل و انصاف کرنے والا وہ حاکم افضل ہے جو خود ہدایت یافتہ ہو اور دوسروں کی رہنمائی بھی کرے ۔وہ جانی پہچانی ہوئی سنت نبوی کو قائم کرتا ہے اور متروک العمل بدعت کا خاتمہ کرتا ہے ۔اﷲ کی قسم ! یہ دونوں چیزیں ( سنت اور بدعت ) بالکل واضح ہیں ۔سنت نبوی کی کھلی ہوئی نشانیاں ہیں اور وہ قائم ہو چکی ہیں اِسی طرح بدعت کے نشانات بھی واضح ہیں ۔یہ حقیقت ہے کہ اﷲ کے نزدیک بد ترین انسان وہ ظالم حاکم ہے جو خود بھی گمراہ ہو اور دوسروں کو بھی گمراہ کرے ۔وہ سنت نبوی کا خاتمہ کرے اور متروک العمل بدعات کو زندہ کرے ۔میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن ظالم حاکم کو ایسی حالت میں لایا جائے گا کہ نہ تو کوئی اُس کا مدد گار ہو گا اور نہ ہی کوئی معذرت کرنے والا ہو گا ۔اسے جہنم میں ڈالا جائے گا اور وہ جہنم میں اِس طرح گھومے گا جیسے چکی گھومتی ہے اور وہ جہنم کے بھنور میں تھپیڑے کھاتا رہے گا ۔میں آپ رضی اﷲ عنہ کو اﷲ تعالیٰ کی سطوت اور اور انتقام کا خوف یاد دلاتا ہوں کیونکہ اﷲ کا عذاب نہایت شدید اور درد ناک ہوتا ہے ۔میں آپ رضی اﷲ عنہ کو اِس بات سے ڈراتا ہوں کہ کہیں آپ رضی اﷲ عنہ اِس اُمت ِ اسلامیہ کے ایسے شہید حاکم نہ بن جائیں جس کی شہادت سے قیامت کے دن تک کے لئے قتل و غارت گری کا دروازہ نہ کھل جائے اور پھر واقعات و حوادث اِس طرح مشتبہ ہو جائیں کہ مسلمان فرقہ بندیوںمیں بٹ جائیں اور باطل کے غلبہ کی وجہ سے حق کو نہ دیکھ سکیں اور اِن باتوںمیں وہ اِس بری طرح ملوث ہو جائیں کہ اُن کو اِن سے الگ کرنا مشکل ہو جائے ۔“ ( در اصل خلیفہ¿ اوّل حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ اور خلیفہ¿ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ مملکت اسلامیہ میں اپنے کسی بھی رشتہ دار کو کوئی عہدہ نہیں دیتے تھے اور خلیفہ¿ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ اپنے رشتہ داروں کومملکت اسلامیہ میں گورنر بناتے تھے ۔حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ اسی کی طرف اشارہ کر رہے تھے )

امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کا جواب

حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کا مشورہ سن کر خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” اﷲ کی قسم ! مجھے معلوم ہے کہ وہ لوگ بھی وہی کہتے ہوں گے جو آپ رضی اﷲ عنہ نے کہا ہے ۔لیکن اگر آپ رضی اﷲ عنہ میرے مقام ( خلافت ) پر ہوتے تو میں آپ رضی اﷲ عنہ کو ملامت نہیں کرتا اور نہ ہی آپ رضی اﷲ عنہ کو چھوڑتا اور نہ ہی کسی بات پر آپ رضی اﷲ عنہ کو برا بھلا کہتا کہ آپ رضی اﷲ عنہ نے رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کیا یا کسی کی حاجت روائی کی ہے یا کسی بے کس کو پناہ دے دی ہے یا آپ رضی اﷲ عنہ نے اُس شخص کو گورنر بنایا جو اُس شخص کے ہم پلہ اور مشابہ ہے جسے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ گورنر بنایا کرتے تھے ۔اے حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ !میں آپ رضی اﷲ عنہ کو اﷲ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا آپ رضی اﷲ عنہ کو اِس بات کا علم ہے کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ گورنر نہیں تھے ؟“ حضرت علی المرتضیٰ رضی عنہ نے فرمایا : ” جی ہاں “ پھر حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” آپ رضی اﷲ عنہ کو معلوم ہے کہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے انہیں گورنر مقرر کیا تھا ؟“ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” جی ہاں “ اِس پر حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” پھر آپ رضی اﷲ عنہ مجھے کیوں ملامت کرتے ہیں کہ میں عبد اﷲ بن عامر کو رشتہ داری کی وجہ سے گورنر بنایا ہے ؟

حضرت عُمر فاروق گورنروں پر بہت سخت تھے

حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سے فرمایا : ” اے امیر المومنین رضی اﷲ عنہ ! میں آپ رضی اﷲ عنہ کو اِ س بات سے آ گاہ کرتا ہوں کہ خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ جس کسی کو گورنر بناتے تھے تو سختی سے یہ بات سمجھا دیتے تھے ”کہ اگر انہیں تمہارے خلاف ایک بات بھی معلوم ہوئی تو میں تم سے سختی سے پیش آؤں گا“ اور پھروہ اِس معاملے میں انتہائی حد تک پہنچ جاتے تھے ۔مگر آپ رضی اﷲ عنہ کمزور ہیں اور اپنے رشتہ داروں کے ساتھ نرمی اختیار کرتے ہیں۔“ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :” وہ آپ رضی اﷲ عنہ کے بھی رشتہ دار ہیں ۔“حضرت علی المرتضیٰ نے جواب دیا : ” بے شک وہ میرے بھی رشتہ دار ہیں مگر فضیلت دوسرے لوگوں کو حاصل ہے ۔“ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” کیا آپ رضی اﷲ عنہ کو معلوم ہے کہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان کو گورنری پر بحال رکھا؟ پھر میں نے انہیں پورے ملک شام کا گورنر بنا دیا ۔“ حضرت علی المرتضیٰ نے فرمایا : ” اے امیر المومنین رضی اﷲ عنہ ! میں آپ رضی اﷲ عنہ کو اﷲ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا آپ رضی اﷲ عنہ کو معلوم ہے کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق سے اتنا زیادہ خوف زدہ رہتے تھے کہ اُن کاغلام ”یرفا“ بھی اُن سے اتنا نہیں ڈرتا تھا ۔ “ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” جی ہاں ۔“حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ”اے امیر المومنین رضی اﷲ عنہ ! ( اب یہ حالت ہے کہ )حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ آپ رضی اﷲ عنہ کی اجازت کے بغیر تمام امور ِ سلطنت( حکومت کے کام ) انجام دیتے ہیں اور اُن کے بارے میں آپ رضی اﷲ عنہ کو علم ہی نہیں رہتا ہے اور وہ مسلمانوں سے یہی کہتے ہیں ” یہ امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کا حکم ہے “ اور آپ رضی اﷲ عنہ کو اِ ن باتوں کی خبر ملتی رہتی ہے مگر آ پ رضی اﷲ عنہ ،حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کو کوئی تنبیہ نہیں کرتے ہیں ۔“

حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کا خطبہ

حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے جانے کے بعد امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ مسجد میں آئے اور منبر پر تشریف فرما ہوئے اور خطبہ دیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ” حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ اُن کے پاس سے چلے گئے توحضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نکلے اور منبر پر بیٹھ کر یوں فرمایا : ” ہر چیز کے لئے کوئی مصیبت ہوتی ہے اور ہر کام میں کوئی نہ کوئی دشواری ہوتی ہے ۔اِسی لئے اِس اُمت اسلامیہ کے لئے ”باعث ِ مصیبت “ اور ”آفت “ وہ نکتہ چیں اور طعن و تشنیع کرنے والے لوگ ہیں ۔جو دیکھنے میں تمہیں بہت ہی اچھے معلوم ہو گے مگر اُن کی پوشیدہ باتیں تمہیں ناگوار معلوم ہو ں گی اور وہ تمہاری تکالیف پر خوش ہوں گے ۔وہ اُس کے پیچھے لگ جائیں گے جو زور سے چیخے اور چلائے گا ۔وہ گدلا پانی پیئں گے اور ہر گندے مقام پر پہنچیں گے ۔یہ وہ لوگ ہیں جو ہر کام میں ناکام ہو چکے ہیں اور تمام ذرائع معاش اُن کے لئے مسدود ہو چکے ہیں ۔دیکھو ! اﷲ کی قسم ! تم نے ایسی باتوں پر نکتہ چینی کی ہے جن کی تم خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے زمانے میں تائید کر چکے ہو ۔حالانکہ انہوں نے تمہیں اپنے پاو¿ں سے روندا تھا ،اپنے ہاتھوں سے مارا تھا اور اپنی زبان سے تمہاری خبر لی تھی ۔مگر تم طوعاً و کرہاً اُن کے مطیع و فرمانبردار رہے ۔اِس کے برخلاف میں تمہارے ساتھ نرم رہا ،تمہارے سامنے سر جھکا یا اور اپنے ہاتھ اور زبان کو تم سے روکا مگر تم مجھ پر دلیر ہوتے چلے گئے ۔دیکھو ! اﷲ کی قسم ! میرے حامیوں کی بہت بڑی تعدادموجود ہے جو عزت والے ہیں اور ہر وقت میری مدد کے لئے مستعد ہیں۔میں نے تمہارے مد مقابل کے لوگ تیار کر رکھے ہیں ۔تم نے مجھے مجبور کیا ہے کہ میں اپنے اخلاق و عادات کو تبدیل کروں اور اپنے لب و لہجہ میں تبدیلی کروں جسے میں اچھا نہیں سمجھتا تھا ہوں ۔تم اپنی زبانوں کو روکو اور اپنے حکام (گورنروں ) پر طعن و تشنیع اور عیب جوئی بند کرو کیونکہ میں نے اُن لوگوں کو روک رکھا ہے جو میری اِس گفتگو کے بغیر تم سے ایسا سلوک کریں گے جو تمہیں مطمئن کر دے گا ۔آگاہ ہو جاو¿ کہ تمہاری کوئی حق تلفی نہیں ہو گی ۔میں نے لوگوں کے حقوق ادا کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کی ہے ۔میں نے اپنا مال بخشش اور سخاوت میں صرف کر دیا ہے کیونکہ میں کس کام کا خلیفہ رہوں گا اگر میں نے مال کو لوگوں میں تقسیم نہیں کیا ۔“

مروان بن حکم کی دھمکی

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ اتنا فرما کر خاموش ہو گئے تو مروان بن حکم اُٹھا ۔ یہ بھی حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کا رشتہ دار تھا اور مدینہ¿ منورہ کا سارا انتظام اِسی کے ہاتھ میں تھا ۔علامہ محمد بن جریر طبری آگے لکھتے ہیں : اِس کے بعد مروان بن حکم اُٹھا اور کہنے لگا : ” اگر تم چاہو تو ہم تمہارے اور اپنے درمیان تلوار سے فیصلہ کرواسکتے ہیں ۔“ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے اُسے ڈانٹا اور فرمایا : ” تم خاموش ہو جاو¿ ! تم مجھے اپنے ساتھیوں کے ساتھ چھوڑ دو ۔تُم یہ کیسی گفتگو کر رہے ہو ؟ کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم نہ بولا کرو ۔“ اِس پر مروان بن حکم خاموش ہو گیا اور حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ منبر سے اُتر آئے ۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!


جمعہ، 4 اگست، 2023

19 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ Khilafat e Rashida 3


19 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 19

خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ کا پوری اُمت ِاسلامیہ کو ہدایت نامہ، گورنروں (حکام ) کی طلبی، گورنروں سے مشورہ، اپنے دونوں پیش رو کا طریقہ اختیار کریں، فتنہ کا دروازہ کھل کر رہے گا، رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم رشتہ داروں کو دیتے تھے، 

خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ کا پوری اُمت ِاسلامیہ کو ہدایت نامہ

خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ نے اِس کے بعد پوری مملکت اسلامیہ کی عوام کے نام ایک ہدایت نامہ بھیجا اور دوسرا ہدایت نامہ اپنے گورنروں کو بھیجا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ” حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے شہر والوں کے نام یہ ہدایت نامہ تحریر کر کے بھیجا : ” میں نے گورنروں کے لئے یہ مقرر کر دیا ہے کہ وہ موسم حج میں مجھ سے ملاقات کریں ۔جب سے میں خلیفہ مقرر کیا گیا ہوں میں نے اُمت ِ اسلامیہ کے لئے یہ اصول مقرر کر دیا ہے کہ نیکی کا حکم دیا جائے اور برے کاموں سے روکا جائے ۔اِس لئے میرے سانے یا میرے گورنروں کے سامنے مطالبہ پیش کیا جائے گا وہ حق ہو گا تو ادا کیا جائے گا ۔میری رعایا کے حقوق میرے اہل و عیال کے حقوق سے بڑھ کر ہوں گے ۔اہل مدینہ¿ منورہ کو یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ کچھ لوگ گالی دیتے ہیں اور کچھ لوگ زدو کوب کرتے ہیں ۔پوشیدہ طور پر ملامت کرنا ،گالی دینا اور زدو کوب کرنا بہت برا ہے ۔جو کوئی کسی حق کا دعویدار ہو وہ موسم حج میں آئے اور اپنا حق حاصل کر لے ۔خود مجھ سے لیا جائے یا میرے گورنروں سے لیا جائے یا تم معاف کر دو تو ایسی صورت میں اﷲ معاف کرنے والوں کو جزائے خیر دے گا ۔“ جب یہ خط شہروں میں پڑھا گیا تو مسلمان عوام رونے لگے اور انہوں نے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے حق میں دعاکی اور کہنے لگے قومی مصیبت کے آثار ہیں ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : ” اِس کے بعد امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے دو گشتی فرمان تمام مملکت اسلامیہ میں روانہ کئے ۔ایک عام رعایا کے نام مضمون تھا : ” مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ میرے گورنروں سے عام رعایا کو کچھ نقصان پہنچا ہے۔اِس وجہ سے میں نے حکم دیا ہے کہ میرے تمام گورنر (حکام ) موسم حج میں آئیں ۔پس جس شخص کو میرے گورنروں سے نقصان پہنچا ہو یا کسی کا حق کسی گورنر پر ہو تو اُس کو چاہیئے کہ اِس موقع پر آکر اپنے حق کو مجھ سے یا میرے گورنر سے لے لے لیکن اُس کی تصدیق کرائے ثبوت دے اور اگر معاف کردے تو اﷲ تعالیٰ معاف کرنے والوں کو جزائے خیر دیتا ہے ۔‘ ‘ یہ خط سن کر عوام رو پڑے اور امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲعنہ کے حق میں دعا کرنے لگے ۔

گورنروں (حکام ) کی طلبی

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے دوسرا ہدایت نامہ اپنے گورنروں کو بھیجا ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : دوسرا فرمان پوری مملکت اسلامیہ کے تمام گورنروں کے نام تھا اور انہیں حکم دیا کہ موسم حج میں سب امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوجائیں ۔تما م گورنروں نے امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کے ساتھ حج کیا اور پھر آپ رضی اﷲ عنہ نے اُن سے فرمایا : ” افسوس ہے کہ تم لوگوں کی شکایتیں اور ایذارسانی کی خبریں مجھ تک پہنچیں ہیں ۔اﷲ کی قسم ! مجھے اِس بات کا ڈر ہے کہ کہیں وہ لوگ سچے ثابت نہ ہو جائیں ۔“ گورنروں نے عرض کیا : ” کیا آپ رضی اﷲ عنہ نے صحیح حالات دریافت کرنے کے لئے اپنے نمائندو¿ں کو نہیںبھیجا تھا ؟کیا انہوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کو کچھ بتایا تھا ؟ کیا آپ رضی اﷲ عنہ کے نمائندو¿ں نے یہ نہیں کہا تھا کہ انہوں نے گورنروں میں کوئی برائی نہیں دیکھی ہے ؟ ہم لوگو ں کو تو اِس شکایت کی اطلاع تک نہیں ہے اور نہ ہی اِس کی کوئی اصلیت ہے اور آپ رضی اﷲ عنہ کو اِس شکایت پر کوئی توجہ نہیں دینی چاہیئے۔“ تمام حاضرین گورنر اِس شرو فساد کو فرو کرنے کی بابت مشورہ کرنے لگے اور ایک دوسرے کی مخالفت کرنے لگے ۔امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” یہ فتنہ ضرور برپا ہو نے والا ہے اور اِس کا دروازہ عنقریب کھلنا ہی چاہتا ہے میں یہ نہیں چاہتا کہ مجھ پر کوئی الزام اِس فتنے کی بابت باقی رہ جائے ۔اﷲ تعالیٰ اِس کو خوب جانتا ہے کہ میں نے سوائے خیر کے لوگوں کے ساتھ کچھ نہیں کیا ۔“ حاضرین یہ سن کر خاموش رہے اور کسی نے ذرہ برابر بھی کسی کی شکایت نہیں کی۔

گورنروں سے مشورہ

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے گورنروں سے جو گفتگو کی اُسے علامہ محمد بن جریرطبری نے کافی تفصیل سے پیش کیا ہے ۔آپ لکھتے ہیں : خلیفہ¿ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے شہروں کے حکام ( گورنروں ) کو بلا بھیجا اُن میں قابل ِ ذکر نام یہ ہیں ۔(1) عبد اﷲ بن عامر (2) حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ (3) عبد اﷲ بن سعد (4) سعید بن عاص اور (5) حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ۔ اِس مجلس میں امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” یہ کیا شکایت ہے اور یہ کیسی افواہیں ہیں ؟ اﷲ کی قسم ! مجھے اندیشہ ہے کہ یہ سچ ثابت نہ ہوں ۔کیا یہ سب باتیں میری وجہ سے ہورہی ہیں؟ “حکام (گورنروں ) نے کہا : ” کیا آپ رضی اﷲ عنہ نے شہروں میں اپنے نمائندے نہیں بھیجے تھے اور ہم نے اُن لوگوں کے بارے میں اطلاع نہیں بھیجی تھی ؟ کیا وہ لوٹ کر نہیں آئے یا اُن افراد نے اُن سے روبرو گفتگو نہیں کی تھی ؟ اﷲ کی قسم ! مخبر سچے نہیں ہیں اور نہ ہی وہ راست باز معلوم ہوتے ہیں ۔بلکہ اِن باتوں کی کوئی بنیاد ہی نہیں ۔آپ رضی اﷲ عنہ اِن خبروں کی بدولت آپ رضی اﷲ عنہ کسی کو گرفتار نہیں کر سکتے ہیں کیونکہ یہ بات آپ رضی اﷲ عنہ کے لئے نامناسب ہو گی ۔یہ سب باتیں افواہوں پر مبنی ہیں اور اِن کی بدولت حکام ( گورنروں ) کا مواخذہ نہیں ہو سکتا اور نہ ہی اس سے کوئی نتیجہ نکالا جا سکتا ہے ۔اِس پر خلیفہ¿ سُوم رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” تم لوگ مجھے مشورہ دو ۔“سعید بن عاص نے کہا :” یہ جعلی اور بناوٹی معاملہ ہے جو پوشیدہ طور پر تیار کیا جاتا ہے اور جب کسی ناواقف کو یہ بات معلوم ہوتی ہے تو وہ اِس خبر کی مختلف شہروں میں تشہیر کرتا ہے ۔“ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” پھر اِس کا کیا علاج ہے ؟ “ سعید بن عاص نے کہا : ”اُن لوگوں کو بلایا جائے اور پھر اُن لوگوں کو قتل کیا جائے جن کی طرف سے افواہیں پھیلتی ہیں ۔“ عبد اﷲ بن سعد نے کہا : ” اگر آپ رضی اﷲ عنہ اُن لوگوں کو اُن کے حقوق عطا کرتے ہیں تو اُن سے اُن کے واجبات بھی وصول کریں ۔یہ بات اُنہیں آزاد چھوڑنے سے بہتر ہے ۔“ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے کہا : ” آپ رضی اﷲ عنہ نے مجھے حاکم (گورنر ) مقرر کیا تو میں ایسے لوگوں کا گورنر ہوں جن کی طرف سے کوئی ناخوشگوار بات نہیں نکلے گی اور یہ دونوں حضرات بھی اپنے علاقوں سے زیادہ واقف ہوں گے ۔“امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” پھر کیا رائے ہے “ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا : ” حسن ادب ۔“

اپنے دونوں پیش رو کا طریقہ اختیار کریں

حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” اے عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ ! آپ رضی اﷲ عنہ کی کیا رائے ہے ؟ “ حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا : ” میری رائے یہ ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کے ساتھ نرمی اختیار کر رکھی ہے اور انہیں ڈھیلا چھوڑ دیا ہے ۔بلکہ آپ رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ¿ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے زمانے سے زیادہ عطیات اور وظائف انہیں دینے شروع کر دیئے ہیں ۔اِس لئے میری رائے یہ ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہ اپنے دونوں پیش رو حضرات ( خلیفہ¿ اوّل حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ اور خلیفہ¿ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ ) کے طریقہ پر چلیں ۔جہاں سختی کا موقع ہو وہاں سختی اختیار کریں اور جہاں نرمی کا موقع ہو وہاں نرمی اختیار کریں کیونکہ جو لوگوں کے ساتھ سازشیں کرتا ہو اُس کے ساتھ سختی کرنی چاہیئے اور جو لوگوں کے ساتھ خیر خواہی کرتا ہو اُس کے ساتھ نرمی کرنی چاہیئے ۔مگر آپ رضی اﷲ عنہ نے دونوں کے ساتھ یکساں سلوک اختیار کر رکھا ہے ۔“

فتنہ کا دروازہ کھل کر رہے گا

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے تمام گورنروں (حکام )کی باتیں سنیں اور اس کے بعد نرمی کرنے حکم دیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے اﷲ کی حمد و ثناءکے بعد یوں فرمایا : ” تم لوگوں نے جو مجھے مشورے دیئے ہیں وہ میں نے سن لئے ہیں اور ہر کام کے انجام دینے کا ایک طریقہ ہوتا ہے ۔وہ بات جس کا اِ س اُمت ِ اسلامیہ کو اندیشہ ہے وہ ہو کر رہے گی ۔اُس فتنہ کا دروازہ جو بند ہے اُسے نرمی ، موافقت اور اطاعت کے ذریعے مسدود رکھنے کی کوشش کی جائے گی ۔البتہ اﷲ کے قوانین و حدود کی حفاظت کی جائے گی ۔اگر اِس فتنہ کو بند رکھنا ہے تو نرمی کا طریقہ بہتر ہے لیکن یہ دروازہ کھل کر رہے گااور کوئی اسے روک نہیں سکے گا ۔اﷲ جانتا ہے کہ میں نے لوگوں اور اپنی ذات کی بھلائی کے لئے کوئی کوتاہی نہیں کی ہے ۔اﷲ کی قسم ! فتنہ و فساد کی چکی گردش میں آکر رہے گی اور عثمان غنی ( رضی اﷲ عنہ ) کے لئے کیا ہی اچھا ہے کہ وہ اِس فتنہ کے برپا ہونے سے پہلے ہی رخصت ہو جائے ۔تم لوگوں کو فتنہ و فساد سے روکو اور اُن کے حقوق ادا کرو اور اُن سے درگزر کرو ۔البتہ اﷲ کے حقوق کی ادائیگی میں سستی نہیں کرنا ۔“

رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم رشتہ داروں کو دیتے تھے

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے گورنروں کو روانہ کر دیا اور خود مدینہ¿ منورہ روانہ ہو گئے ۔آپ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ بھی تھے ۔مدینۂ منورہ پہنچ کر خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ نے کبار صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم کو بلایا : ” علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ” حضرت موسیٰ بن طلحہ بن عبید اﷲ بیان کرتے ہیں : ” خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے میرے والد ِمحترم حضرت طلحہ بن عبید اﷲرضی اﷲ عنہ کو دعوت دے کر بلوایا تو میں بھی اُن کے ساتھ روانہ ہوا ۔جب وہ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے پاس پہنچے تو حضرت علی المرتضیٰ ،حضرت سعد بن ابی وقاص ، حضرت زبیر بن عوام اور حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہم بیٹھے ہوئے تھے ۔پھر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کھڑے ہوئے اور حمد و ثناءکے بعد کہا : ”آپ لوگ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے صحابی ہیں اور روئے زمین کے بہترین انسان ہیں۔آپ لوگ اِس اُمت ِ اسلامیہ کے ارباب حل و عقد ہیں کیونکہ آپ لوگوں کے علاوہ اور کوئی اِس کی توقع نہیں رکھ سکتا ۔آپ نے اپنے ساتھی ( حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ ) کو جبر اور طمع کے بغیر انتخاب کیا ہے ۔اب وہ سن رسیدہ ہو گئے ہیں اور اُن کی عُمر ختم ہو گئی ہے اور اگر تم اُن کے بڑھاپے کی انتہائی عُمر کا انتظار کرو گے تو وہ بھی قریب ہے۔ تاہم مجھے توقع ہے کہ وہ اﷲ کو اِس قدر عزیز ہیں کہ وہ انہیں ا س عمر تک نہیں پہنچائے گا ۔وہ افواہ پھیل گئی ہے جس کا مجھے اندیشہ تھا ۔آپ لوگ اِس کے لئے قابل ملامت نہیں ہیں میرا ہاتھ بھی آپ لوگوں کے ساتھ ہے تاہم آپ لوگ عوام کو اپنے بارے میں توقع نہ دلائیں کیونکہ اگر وہ اس طرف مائل ہو گئے تو آپ لوگ اس میں ہمیشہ تنزل و ادبار دیکھو گے ۔“ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” آپ رضی اﷲ عنہ کا اس بات سے کیا تعلق ہے اور آپ رضی اﷲ عنہ کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی ؟“ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” میرے بھتیجے نے سچ کہا ہے ۔میں اپنے بارے میں اور اپنی خلافت کے بارے میں آپ لوگوں مطلع کرتا ہوں ۔واقعہ یہ ہے کہ میرے اُن دونوں ساتھیوں ( حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ اور حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ ) نے جو مجھ سے پہلے (خلیفہ) ہوئے تھے ۔انہوں نے اپنی ذات اور اپنے رشتہ داروں کے لئے ثواب حاصل کرنے کے لئے تنگی برداشت کی تھی ۔تاہم یہ حقیقت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اپنے رشتہ داروں کو دیا کرتے تھے ۔میں بھی اُس خاندان سے ہوں جو عیال دار اور تنگ دست ہے اور یہ مال میری نگرانی میں ہے اِسی لئے میں اِس مال میں سے کچھ رقم اِس وجہ سے دی ہے کہ وہ میری ملکیت ہے ۔ اگر آپ لوگوں کی یہ رائے ہو کہ یہ بات غلط ہے تو اسے لوٹایا جاسکتا ہے کیونکہ میرا حکم آپ لوگوں کے حکم کے تابع ہے ۔“

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!


20 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ Khilafat e Rashida 3


20 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 20

خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ کی استقامت، 34 ہجری کا اختتام، بد بخت منافق عبد اﷲ بن سبا کی ریشہ دوانیاں، احمقوں (شرپسندوں) کی مدینۂ منورہ آمد، احمقوں میں بد بخت منافق بھی تھا، بڑے بڑے صحابہ اور امہات المومنین رضی اﷲ عنہم سے ملاقات، 

خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ کی استقامت

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی بات سن کر تمام کبار ( بڑے بڑے جلیل القدر ) صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم نے اطمینان کا اظہار کیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : کبارصحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم نے کہا : ” آپ رضی اﷲ عنہ نے صحیح اور بہتر فیصلہ کیا ہے ۔کچھ صحابۂ کرام رضی اﷲ عنم نے یہ بھی کہا : ” آپ رضی اﷲ عنہ نے خالد بن اُسید اور مروان بن حکم کو ( زیادہ ) دیا ہے ۔“ اُن کا خیال تھا کہ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے مروان بن حکم کو پندرہ ہزار دیئے ہیں اور خالد بن اُسید کوپچاس ہزار دیئے ہیں ۔خلیفۂ سُوم نے اُن سے یہ رقم واپس لے کر بیت المال میں جمع کرادی تو وہ صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم خوش ہو گئے اور رضامند اور مطمئن ہو کر واپس لوٹے ۔جب حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کو صبح کے وقت ( ملک شام جانے کے لئے ) رخصت کیا تو چلتے وقت حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے اُن سے عرض کیا : ” اے امیر المومنین رضی اﷲ عنہ ! اِس سے پہلے کہ وہ لوگ جن کا آپ رضی اﷲ عنہ سے کوئی تعلق نہیں ہے آپ رضی اﷲ عنہ پر حملہ آور ہوں آپ رضی اﷲ عنہ میرے ساتھ ملک شام چلیں کیونکہ اہل شام ابھی میرے فرمانبردار ہیں ۔“ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا پڑوس کسی چیز کے بدلے میں نہیں چھوڑوں گا ۔چاہے اِس کی وجہ سے میری گردن کی شہ رگ کٹ جائے ۔“ پھر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا : ”اے امیر المومنین رضی اﷲ عنہ ! میں آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس ایک لشکر بھیج دوں گا جو اہل مدینہ کے قریب رہے گا تاکہ مدینۂ منورہ میں یا آپ رضی اﷲ عنہ پر کوئی ناگہانی حادثہ رونما ہو تو اُس وقت یہ لشکر کام آئے ۔“ خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” اِس لشکر کو یہاں ٹھہرا کر مجھے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پڑوسیوں کے رزق میں کمی کرنی پڑے گی اور دار الہجرت کے رہنے والوں کو تنگی کا سامنا کرنا پڑے گا ۔“ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی عنہ نے عرض کیا : ” اے امیر المومنین رضی اﷲ عنہ ! اﷲ کی قسم ! آپ رضی اﷲ عنہ پر اچانک حملہ ہو گا یا آپ رضی اﷲ عنہ کو جنگ کرنی پڑی گی ۔“خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” اﷲ تعالیٰ میرے لئے کافی ہے اور وہی عمدہ کارساز ہے ۔“ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ کو ملک شام چلنے کی درخواست کی اورعرض کیا کہ وہاں کے لوگ فرمانبردار ہیں ۔خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پڑوس کے علاوہ کوئی جگہ پسند نہیں کرتا ۔“ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا : ” کیا میں آپ رضی اﷲ عنہ کے لئے ملک شام سے لشکر تیار کر کے بھیجوں جو آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس رہے اور آپ رضی اﷲ عنہ کی مدد کرے ؟“ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” مجھے خدشہ ہے کہ اِس طرح میں اُن کے ( لشکر کے ) ذریعے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے شہر اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے انصار اور مہاجرین صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم پر رزق تنگ کر دوں گا ۔“ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا : ” اﷲ کی قسم ! وہ آپ رضی اﷲ عنہ کو ضرور دھوکے سے قتل کر دیں گے ۔یا کہا کہ ضرور جنگ کریں گے ۔حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” میرے لئے اﷲ تعالیٰ کافی ہے اور وہ بہترین کار ساز ہے ۔“ اِس کے بعد حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ ملک شام چلے گئے ۔

34 ہجری کا اختتام

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے 34 ہجری کے حج میں اپنے تمام گورنروں کو بلایا تھا اور مشورہ کیا تھا ۔اِس کے ساتھ ہی 34 ہجری کا اختتام ہوا ۔علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : ” اِس سال میں حضرت ابو عبس بن جبیر رضی اﷲ عنہ کا مدینۂ منورہ میں انتقال ہوا آپ رضی اﷲ عنہ بدری صحابی ہیں ۔حضرت مسطح بن اثاثہ رضی اﷲ عنہ اور حضرت غافل بن بکیر رضی اﷲ عنہ کا انتقال بھی اِسی سال ہوا اور حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے اِس سال مسلمانوں کو حج کرایا ۔

بد بخت منافق عبد اﷲ بن سبا کی ریشہ دوانیاں

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ مملکت اسلامیہ میں پھیلی بد نظمی کو دور کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور اِس دوران بد بخت منافق عبد اﷲ بن سبامسلسل مملکت اسلامیہ میں اپنے کارندوں سے خفیہ رابطہ رکھے ہوئے تھا اور اُس نے اپنی خفیہ تنظیم کے مختلف شہروں میں بڑے بڑے ممبران کوحکم دیا تھا کہ اِ س سال حج کے بعد ( نعوذ با ﷲ ) خلیفہ¿ سُوم رضی اﷲ عنہ پر اچانک حملہ کر کے شہید کر دیا جائے ۔لیکن تمام گورنروں اور بڑے بڑے صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم کی موجودی میں وہ فسادی ایسا کچھ نہیں کر سکے اور واپس چلے گئے۔ بد بخت عبد اﷲ بن سبا نے ملک مصر میں اپنا ہیڈ کوارٹر بنا رکھا تھا اور وہیں سے پوری مملکت اسلامیہ میں اپنے ممبران سے خفیہ خط و کتابت کرتا تھا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس اثناءمیں اہل مصر ( سبائیہ تحریک کے بڑوں)نے اپنے متبعین کے ساتھ خط و کتابت جاری رکھی کہ وہ اپنے اپنے گورنروں کے خلاف بغاوت کردیں ۔اِس خط و کتابت کے سلسلے میں اہل کوفہ اور اہل بصرہ کے علاوہ دوسرے علاقوں کے سبھی متبعین شامل تھے اور انہوں نے اِس مقصد کے لئے دن بھی مقرر کر دیا تھا ۔ اِس کے بعد آگے لکھتے ہیں :جب تمام گورنر اپنے اپنے علاقوں میں واپس چلے گئے تو ” سبائیہ “ ( بد بخت عبد اﷲ بن سبا کے متبعین ) کے لئے مختلف شہروں میں آمدو رفت کا ذریعہ باقی نہیں رہا تو انہوں نے ( عبد اﷲ بن سبا اور اُس کی خفیہ تنظیم کے بڑوں نے ) مختلف شہروں میں اپنے متبعین کو لکھا کہ وہ مدینہ¿ منورہ کے قریب پہنچیں ۔ تاکہ وہاںپہنچ کر وہ غور کر سکیں کہ انہیں کیا کرنا ہے ؟اِس کے لئے انہوں نے عوام کے سامنے یہ ظاہر کیا کہ وہ نیک کاموں کا حکم دے رہے ہیں اور وہ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سے کچھ باتیں دریافت کرنا چاہتے ہیں جو عوام میں مشہور ہیں ۔اِس لئے وہ اصل حقیقت معلوم کرنے کے لئے جارہے ہیں اور وہ مدینہ¿ منورہ پہنچ گئے ۔

احمقوں (شرپسندوں) کی مدینۂ منورہ آمد

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے خلاف بد بخت عبد اﷲ بن سبا کی سازش 34 ہجری میں ناکام ہو گئی تو اُس نے 35 ہجری میں بھی اپنی کوشش جاری رکھی ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : احمقوں نے یہ عہد و پیمان کیا تھا کہ جس وقت امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے سپہ سالار اور گورنر واپس چلے جائیں گے تو اُس وقت امیر المومنین رضی اﷲ عنہ پر اچانک حملہ کر دیا جائے گا ۔لیکن ( زیادہ دن تک مدینۂ منورہ میں گورنروں کے رکنے کی وجہ سے مجبوراً شر پسندوں کو اپنے اپنے قافلوں کے ساتھ واپس جانا پڑا اِس لئے وہ )گورنروں اور سپہ سالاروں کے جانے کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ پر حملہ نہیں کر سکے ۔ اِس کے بعد دوبارہ امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے خلاف ریشہ دوانی کرنے لگے اور مراسلات کے ذریعے طے کیا کہ فلاں روز موسم حج میں میں مدینۂ منورہ آجانا چاہیئے ۔( یہاں یہ یاد رکھیں کہ اُس وقت آج کی طرح ہوائی جہاز وغیرہ نہیں تھے اور صرف گھوڑے اور اونٹ ہی سب سے تیزرفتار سواری تھے ۔اِس لئے دور دور کے حاجی مہینوں پہلے سے حج کے سفر پر روانہ ہو جاتے تھے ) اِس خفیہ مشورے کے بعد سب سے پہلے ملک مصر سے احمقوں کا گروہ روانہ ہوا ،یہ ایک ہزار کی تعداد میں تھے اور ان کا سردار عبد الرحمن بن عدیس تھا۔( یاد رہے کہ ملک مصر میں بد بخت منافق عبد اﷲ بن سبانے اپنا ہیڈکوارٹر بنا رکھا تھا ) اِس گروہ میں کنانہ بن بشیر لیثی ، سودان بن حمران سکونی ، میسرہ یا قنیسرہ بن فلاں سکونی اور غافقی بن حرب عکی وغیرہ بھی شامل تھے ۔ کوفہ سے ایک ہزار شر پسندوں کا گروہ روانہ ہوا ۔اِس میں زید بن صفوان عبدی ، مالک اشتر نخعی ، زیاد بن نصر حارثی اور عبد اﷲ بن اصم عامری وغیرہ بھی شامل تھے ۔ بصرہ سے ایک ہزار شر پسند وں کا گروہ روانہ ہوا ۔ اِس میں حکیم بن جبلہ عبدی ، ذربج بن عباد ، بشیر بن شریح قیسی ،ابن حرش اور حرقو بن زہیر سعدی وغیرہ شامل تھے ۔

احمقوں میں بد بخت منافق بھی تھا

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ احمقوں کو سدھرنے کا موقع دے رہے تھے اور وہ سب آپ رضی اﷲ عنہ کی جان کے دشمن بن رہے تھے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِن لوگوں ( احمقوں ) نے واپس جا کر ایک دوسرے کو لکھا کہ وہ شوال کے مہینے میں مدینۂ منورہ کے گرد و نواح میں جمع ہو جائیں ۔اِس لئے جب خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے دور ِ خلافت کا بارہویں سال میں شوال المکرم کا مہینہ آیا تو وہ لوگ حاجیوں کے ساتھ نکلے اور مدینۂ منورہ کے قریب آکر ٹھہر گئے ۔ایک اور روایت میں ہے کہ جب 35 ہجری میں شوال المکرم کا مہینہ آیا تو اہل مصر چار قافلوں کی شکل میں روانہ ہوئے اور اُن کی قیادت چار سردار کر رہے تھے ۔ان کی تعداد کم سے کم چھ سو اورزیادہ سے زیادہ ایک ہزار تھی اور اُن کے سردار یہ تھے ۔عبد الرحمن بن عدیس ، کنانہ بن بشیر ،سودان بن حمران سکونی ، قتیرہ سکونی ۔ تمام قافلوں کا سردار ِ اعلیٰ غافقی بن حرب عکی تھا ۔ملک مصر کے اِن احمقوں میں اتنی جرأت نہیں تھی کہ وہ کھلے عام لوگوں کو بتاتے کہ وہ جنگ کرنے کے لئے سفر کر رہے ہیں بلکہ انہوں نے یہ ظاہر کیا کہ وہ حج کے لئے سفر کر رہے ہیں ۔اِن احمقوں میں بد بخت منافق ابن السواءیعنی عبد اﷲ بن سباءبھی تھا ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : ملک مصر کے احمق لوگ ” ذوالمروہ “ میں ٹھہرے اور وہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ کی طرف مائل تھے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اہل کوفہ بھی چار قافلوں کے ساتھ نکلے اور اُن کے سردارزید بن صوحان عبدی ، مالک اشتر نخعی ، زید بن نضر حارثی اور عبد اﷲ بن عاصم جو قبیلہ عامر بن صعصہ سے تعلق رکھتا تھا ۔اہل کوفہ کی تعداد بھی اہل مصر کے برابر تھی اور اُن کا سردار ِ اعلیٰ عمرو بن اصم تھا ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : کوفہ کے احمق ” اعوص “ میں آکر ٹھہرے اور اُن کا رجحان حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ کی طرف تھا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اہل بصرہ بھی چار قافلوں کی شکل میں روانہ ہوئے اور اُن کے سردار حکیم بن جبلہ عبدی ، ذریح بن عباد عبدی ، بشر بن شریح قیسی اور ابن المحرس بن عبد بن عمرو حنفی تھا ۔ اِن کی تعداد بھی اہل مصر اور اہل کوفہ کے برابر تھی اور اِن کا سردار ِ اعلیٰ حروص بن زہیر سعدی تھا ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : بصرہ کے احمق ” ذو خشب “ میں آکر ٹھہرے اور اُن کا رجحان حضرت طلحہ بن عبید اﷲرضی اﷲ عنہ کی طرف تھا ۔

بڑے بڑے صحابہ اور امہات المومنین رضی اﷲ عنہم سے ملاقات

ملک مصر ،کوفہ اور بصرہ سے آئے یہ احمق مدینۂ منورہ سے کچھ فاصلے پر قیام پذیر ہو گئے اور اپنے اپنے نمائندوں کو بڑے بڑے صحابۂ کرام اور امہات المومنین رضی اﷲ عنہم کی خدمت میں بھیجا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : یہ سب احمق روانہ ہوئے اور جب مدینۂ منورہ تین منزل کے فاصلے پر رہ گیا تو بصرہ کے لوگ ” ذوخشب “ میں ٹھہر گئے ،کوفہ کے لوگ ”اعوص “ میں ٹھہر گئے اور ملک مصر کے لوگ ” ذوالمرہ“ میں ٹھہر گئے ۔زیاد بن نضر اور عبد اﷲ بن عاصم نے اُن سے کہا : ” تم لوگ جلد بازی سے کام نہ لو اور ہمیں بھی عجلت پر مجبور نہ کر و ۔جب ہم مدینہ میں داخل ہو جائیں گے تو اُس وقت ہم تم کو اطلاع دیں گے کیونکہ ہمیں یہ اطلاع ملی ہے کہ مدینۂ منورہ میں لوگ ہمارے خلاف صف آراءہو گئے ہیں ۔اﷲ کی قسم ! اگر اہل مدینہ کو اِس وقت ہم سے اندیشہ پیدا ہو گیا اور انہوں نے ہمارے ساتھ جنگ کو جائز قرار دیا اور اگر انہیں ہمارے بارے میں صحیح معلومات حاصل ہو جائے تو وہ ہمارے سخت مخالف ہو جائیں گے اور ہمارا یہ منصوبہ خاک میں مل جائے گا۔اگر وہ ہمارے ساتھ جنگ کرنے کے روادار نہیں ہیں اور جو اطلاع ہمیں ملی ہے وہ غلط ثابت ہو گی تو ہم اِس کی اطلاع لیکر واپس آئیں گے ۔ “ اُن لوگو ں نے کہا : ” ٹھیک ہے ! تم دونوں جاؤ ۔“ یہ دونوں افراد مدینۂ منورہ میں داخل ہوئے اور ازواج مطہرات رضی اﷲ عنہما اور حضرات علی بن ابی طالب ، طلحہ بن عبید اﷲ اور زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہم سے الگ الگ ملاقاتیں کیں اور کہا : ” ہم اس خاندان کی اقتداء کرتے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ یہ خلیفہ( حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ ) ہمارے بعض حکام ( گورنروں ) کو معزول کر دیں ۔ہم اِسی مقصد کے لئے آئے ہیں اور مسلمانوں سے ہم نے اِس مقصد کے لئے اجازت حاصل کی ہے ۔“ مگر ہر ایک نے تعاون کرنے سے انکا ر کر دیا اور روکھا جواب دیا تو یہ دونوں واپس آگئے ۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!


D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں