جمعہ، 4 اگست، 2023

07 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ Khilafat e Rashida 2


07 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی 

قسط نمبر 7

جنگ کسکر، جالینوس کی شکست اور فرار، جنگ حسبر یاجنگ جسر، حضرت ابو عبید ثقفی کی شہادت اور مسلمانوں کی ہزیمت، حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کی دور اندیشی، خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کو اطلاع، حضرت مثنی بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کے لئے مزید کمک، دونوں لشکروں کی صف بندی، جنگ بویب، شکست خوردہ لوگوں کا تعاقب، تمام فارسی چوکیوں اور ساباط کی فتح، یزد جرد(گرد)سلطنت ِفارس کا کسریٰ(حکمراں)، خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے امداد اور مشورہ، 

جنگ کسکر

مسلمانوں کے ہاتھوں نمارق میں شکست کھانے کے بعد فارسی سپاہی کسکر کی طرف بھاگے ،تاکہ نرسی کے پاس پناہ لیں۔نرسی کسریٰ کا خالہ زاد بھائی تھا،اور کسکر اُ سکی جاگیر تھی،اور نرسیان اُس کا خاص باغ تھا۔اُس کے پھل وغیرہ نرسی کے خاندان والوں کے علاوہ کسی کو میسر نہیں تھے،اور نہ ہی وہاں کسی کو بولنے کی اجازت تھی۔رستم اور بوران نے نرسی سے کہا کہ جاو¿ اپنی جاگیر کو اپنے اور ہمارے دشمن سے بچاو¿،اور مرد بنو۔جب نمارق میں فارسیوں کو شکست ہوئی اور بھاگے ہوئے فارسی کسکر پہنچے تو نرسی اُس وقت اپنے لشکر کے ساتھ وہاں پڑاو¿ ڈالے ہوئے تھا۔حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲعنہ نے اپنے لشکر کو حکم دیا کہ دشمنوں کا تعاقب کرو،اور ان کو نمارق سے بارق ورتا تک ہلاک کرتے چلے جاو¿،یا پھر نرسی کے لشکر میں گھسا دو۔اور لشکر لیکر کسکر پہنچ گئے۔مسلمانوں کے لشکر کی ترتیب وہی تھی جو جابان سے مقابلے کے وقت تھی۔نرسی کے میمنہ اور میسرہ پر اُس کے دو ماموں زاد بھائی بندویہ اور تیرویہ بسطام کے بیٹے تھے۔یہ دونوں کسریٰ کے بھی ماموں زاد بھائی تھے۔بوران اور رستم کو جابان کی شکست کی اطلاع ملی تو انہوں نے جالینوس کو نرسی کی امداد کے لئے روانہ کیا۔نرسی کو جب اُس کے آنے کی اطلاع ملی تو اُسے اُمید ہوئی ،لیکن حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ بھی با خبر تھے۔اِس لئے جالینوس کے آنے سے پہلے ہی سقاطیہ کے مقام پر نرسی کے لشکر پر حملہ کردیا۔یہ ایک چٹیل میدان تھا،یہاں بڑی شدت کا معرکہ ہوا۔اور اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی ،نرسی بھاگ گیا ،اور کسکر پر مسلمانوںکا قبضہ ہو گیا۔بے شمار مال غنیمت اور کھانے کے ذخیرے حاصل ہوئے۔حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ نے قریب کے آباد عربوں کو بلا لیا،اور انہیں اجازت دی کہ جتنا چاہیں لے جائیں۔اور نرسی کے خزانوں پر قبضہ کر لیا۔مگر مسلمانوں کو سب سے زیادہ خوشی نرسی کے باغ کو حاصل کر کے ہوئی۔مسلمانوں نے اِس باغ کو آپس میں تقسیم کر لیا،اور اِس کے پھل کاشتکاروں کو کھلائے،اور مال غنیمت کے خمس کے ساتھ خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھی بھیجے۔

جالینوس کی شکست اور فرار

کسکر کی فتح کے بعد حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ وہیں رک گئے ،اور حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کو بارو سما کی طرف،حضرت والق کو زوابی کی طرف،اور حضرت عاصم کو نہر جوبر کی طرف بھیجا۔اِن کمانڈروں نے اِن مقامات پر موجود فوجوں کو شکست دی۔اِس علاقے کے سردار فروخ اور فروند اذ حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ،اور جزیہ ادا کرنے کی خواہش ظاہر کی۔انہوں نے اِن دونوں کوحضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیج دیا۔اِن دونوں میں سے ایک باروسما کی طرف سے اور دوسرا نہر جوبر کی طرف سے آیا تھا۔حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ نے اِن سے فی کس سالانہ چار دینار جزیہ پر معاہدہ کر لیا۔زوبی اور کسکر والوں پر بھی یہی جزیہ لاگو کیا گیا۔جابان اور نرسی کی مدد کے لئے رستم اور بوران نے جالینوس کو روانہ کیا تھا،لیکن اُس کے پہنچنے سے پہلے ہی حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ نے اُن دونوں کو شکست دے دی۔یہ دیکھ کر جالینوس بارو سما کے قریب باقسیا ثا کے علاقے میں ہی ٹھہر گیا۔حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر اُس کے مقابلے کے لئے آگے بڑھے،اور باقسیا ثا میں دونوں لشکروں کا مقابلہ ہوا۔مسلمانوں نے اتنا شدید حملہ کیا کہ فارسیوں کے ہوش اُڑ گئے،اور انہیں شکست فاش ہوئی ۔جالینوس بھاگ گیا،اور وہاں کا تما م علاقہ حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ کے قبضے میں آگیا۔

جنگ حسبر یاجنگ جسر

اِس کے بعد جنگ حسبر یا جنگ جسر پیش آئی۔کچھ علمائے کرام اسے جنگ حسبر کہتے ہیں،اور کچھ علمائے کرام اسے جنگ جسر کہتے ہیں۔ باقسیاثا میں شکست کھانے کے بعد جالینوس اور اُس کے ساتھ کی فوجیں رستم کے پاس پہنچیں،تو رستم نے فارسیوں(ایرانیوں)سے دریافت کیا کہ عربوں کے لئے زیادہ سخت آدمی کون ہے؟انہوں نے کہا کہ بہمن جاذویہ ہے۔رستم نے بہمن جاذویہ کو لشکر لیکر مسلمانوں سے مقابلہ کرنے کے لئے بھیجا۔اُس کے لشکر میں بہت سے دیو پیکر ہاتھی بھی تھے۔اور جالینوس کو بہمن کے ساتھ روانہ کیا،اور کہا کہ جالینوس کو آگے رکھنا،اور اُس سے پھر پہلے جیسی حرکت سرذد ہو تو اُس کی گردن مار دینا۔بہمن جاذویہ لشکر لیکر روانہ ہوا ”درفش کاویانی“جو فارسیوں(ایرانیوں) کے نزدیک فتح کا نشان تھا،اور کسریٰ کا علم(جھنڈا) تھا،وہ اُس کے ہمراہ تھا۔یہ جھنڈا چیتے کی کھال کا بنا ہوا تھا،اور آٹھ ہاتھ چوڑا اور بارہ ہاتھ لمبا تھا۔حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ آگے بڑھ کر مقام ”مروحہ“میں جو برج اور عاقول کی جگہ پر واقع ہے،پڑاو¿ ڈال دیا۔دونوں لشکروں کے درمیان دریائے فرات بہہ رہا تھا۔بہمن جازویہ نے حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ کو پیغام دیا کہ یا تو تم دریائے فرات پار کر کے اِس پار آجاو¿،یا ہم کو اپنی طرف آنے کی اجازت دو۔لشکر کے کئی کمانڈروں نے رائے دی کی فارسیوں کو دریا پار کرنے دیا جائے،اِن میں حضرت سُلیط سب سے آگے تھے۔لیکن حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ جوش میں آگئے،اور کسی کا مشورہ قبول نہیں کیا ،اور فرمایا:”وہ لوگ ہم سے زیادہ موت کے لئے جری نہیں ہوسکتے ہیں،ہم خود دریا پار کر کے اُس طرف جائیں گے۔“اب مسلمان دریا پار کر کے فارسیوں کے لشکر کے سامنے آگئے۔جنگ شروع ہوئی اور دونوں طرف سے بہت شدت سے حملے ہو رہے تھے۔پورا دن جنگ ہوتی رہی ،جب شام ہونے لگی تو بنو ثقیف کے ایک شخص نے چند لوگوں کو جمع کیا،انہوں نے تلواروں سے مصافحے کئے اور دشمنوں پر ٹوٹ پڑے۔لگ بھگ چھ ہزار فارسیوں(ایرانیوں) کو مسلمان قتل کر چکے تھے۔لیکن فارسیوں کا لشکربہت زیادہ تھا۔

حضرت ابو عبید ثقفی کی شہادت اور مسلمانوں کی ہزیمت

جنگ بڑی شدت سے جاری تھی،اور دونوں فریقین بڑھ بڑھ کر حملے کر رہے تھے،فارسیوں کے پاس ہاتھیوں کے ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کو ہاتھیوں سے بہت پریشانی ہو رہی تھی ۔کیونکہ ہاتھیوں کو دیکھکر اُن کے گھوڑے آگے بڑھنے سے انکار کر دیتے تھے۔اِن ہاتھیوں پر زنگولے پڑے ہوئے تھے،اور وہ مسلمانوں کے گھوڑوں کو خوفزدہ کرنے کے لئے تھے۔جب کبھی مسلمان اُن پر حملے کے لئے آگے بڑھتے تو زنگولوں کی آواز سے اور دیو پیکر ہاتھیوں کو دیکھ کر گھوڑے پیچھے ہٹ جاتے تھے۔اِس کے بعد بھی مسلمانوں نے چھ ہزار فارسیوں(ایرانیوں )کو قتل کر دیا۔لیکن ہاتھیوں کی وجہ سے مسلمانوں کو مسلسل پریشانی ہو رہی تھی۔آخر کار حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ گھوڑے سے اُتر گئے،اور ہاتھیوں کی سونڈوںاور پیروں پر تلوار سے حملے کرنے لگے۔کئی ہاتھیوں کی سونڈ اور پیر کاٹنے کے بعد اچانک ایک ہاتھی کے پیر کے نیچے آگئے،اور شہید ہوگئے۔یہ بہمن جاذویہ کا خاص سفید ہاتھی تھا،اور جب اُس نے دیکھا کہ حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ پیدل ہیں،اور مسلسل ہاتھیوں کو بے کار کر رہے ہیں،تو اس نے اپنے سفید ہاتھی کو پیچھے سے اُن کے اوپر چڑھا دیا۔ان کی شہادت سے مسلمانوں کے حوصلے ٹوٹ گئے،اور وہ پسپا ہونے لگے۔حالانکہ حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ مسلمانوں کی حوصلہ افزائی کرتے رہے ،اور آگے بڑھ بڑھ کر حملے کرتے رہے،اور اِس میں کافی زخم بھی کھائے ۔لیکن مسلمان پیچھے ہٹنے لگے،انہیں روکنے اور جنگ پر آمادہ کرنے کے لئے بنو ثقیف کے ایک شخص نے رسی کا پل کاٹ دیا۔لیکن یہ ایک اور بڑا نقصان ثابت ہوا،اور مسلمانوں کے لئے دریا پار کرنا مشکل ہو گیا۔

حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کی دور اندیشی

حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ نے وصیت کی تھی کہ اگر میں شہید ہو جاو¿ں تو بنو ثقیف کا فلاں شخص سپہ سالار ہو گا،اِس طرح بنو ثقیف کے سات لوگوں کے بارے میں فرمانے کے بعد حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کے بارے میں فرمایا تھا اِن کے شہید ہونے کے وہ سپہ سالار ہوں گے۔بنو ثقیف کے ساتوں سپہ سالار ایک کے بعد ایک شہید ہوئے،لیکن انہوں نے لشکر کو پیچھے ہٹنے کا حکم نہیں دیاتھا۔بلکہ جانبازی اور بہادری سے لڑنے کی تلقین کرتے رہے۔لیکن حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے دیکھا کہ اِس طرح تو پورا اسلامی لشکر کام آجائے گا۔اس لئے حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ کی وصیت کے مطابق جب وہ سپہ سالار بنے ،تو انہوں نے دفاعی پوزیشن اختیار کر لی۔اورایسے وقت میں حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ جلدی سے پُل بنائیں ،تب تک ہم فارسیوں کو روکتے ہیں۔اِس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ ،حضرت عاصم ضمی،اور حضرت مذعور کے ساتھ اپنے اپنے دستے لیکر فارسیوں کے مقابلے پر دیوار کی طرح کھڑے ہوگئے۔اور زبردست مقابلہ کرتے رہے،یہاں تک کہ پُل دوبارہ تیار ہو گیا،اور مسلمان دریا پار کر نے لگے۔جب آخری مسلمان بھی دریا پار کر گیا تو سب سے آخر میں حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے فارسیوں سے مسلسل جنگ کرتے ہوئے دریا پار کیا۔فارسی سپاہی پل پر بھی لڑتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے،جیسے ہی تمام مسلمانوں نے دریا پار کیا،حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے پل کاٹنے کا حکم دے دیا۔فوراًپل کاٹ دیا گیا ،اور اُس پر موجود سینکروں فارسی سپاہی دریائے فرات میں گر گئے۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ بہت شدید زخمی ہو چکے تھے،انہوں نے مسلمانوں کو مروحہ میںہی رکے رہنے کا حکم دیا۔ اِس جنگ میں لگ بھگ چار ہزار مسلمان شہید ہوئے،اور کچھ مسلمان اِدھر اُدھر بھاگ گئے۔اِن میں سے بعض لوگ مدینہ منورہ میں آکر روپوش ہو گئے،خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو اِس کا علم ہوا تو آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اے اﷲ کے بندو!میری طرف سے ہر مسلمان آزاد ہے،میں ہر مسلمان کا رفیق ہوں۔اﷲ حضرت ابو عبید رضی اﷲ عنہ پر رحم فرمائے،کاش وہ خیف میں پناہ گزیں ہو جاتے ،یا جنگ نہ کرتے ،اور ہمارے پاس آجاتے تو ہم لوگ اُن کے رفیق ہوتے۔“

خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کو اطلاع

اِس جنگ حسبر میں لگ بھگ چار ہزار مسلمان شہید ہوئے،دوہزار اِدھر اُدھر بھاگ گئے،حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ مروحہ میں صرف تین ہزار مسلمان رہ گئے تھے۔خود آپ رضی اﷲ عنہ بہت بری طرح سے زخمی تھے،اور سفر کرنے کی حالت میں نہیں تھے۔اِس لئے وہیں مروحہ میں قیام کرنے حکم دیا،اور تمام حالات لکھوا کر حضرت عبداﷲ بن زید انصاری کے ہاتھوں مدینہ منورہ بھیج دیئے۔یہ واقعہ رومیوں سے جنگ یرموک کی فتح کے چالیس دنوں بعد پیش آیا۔اُدھر ملک شام سے فتوحات کی خبریں آرہی تھیں،اور ساتھ ہی ملک عراق سے بھی فتوحات کی خبریں آرہی تھیں کہ اچانک جنگ حسبر کی ہزیمت کی خبر مدینہ منورہ پہنچی۔خلیفہ ¿دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کو زخم مندمل ہونے تک وہیں قیام کرنے کا حکم بھیجا،اور مزید کمک بھیجنے کے لئے ملک شام میں حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ جو دس ہزار مجاہدین حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے ساتھ ملک شام گئے تھے،انہیں فوراً حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کے پاس بھیجو۔اُدھر سلطنت فارس کے صدر مقام(ایران )میں خانہ جنگی شروع ہوگئی تھی،اِس کی اطلاع بہمن جازویہ کو ملی تو وہ اپنے لشکر کو لیکر واپس صدر مقام چلا گیا،اور مسلمانوں کو سنبھلنے کا موقع مل گیا۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ تندرست ہونے کے بعد لشکر لیکر اُلیس میں آگئے۔

حضرت مثنی بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کے لئے مزید کمک

حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ تین ہزار مجاہدین کے لشکر کو لیکر اُلیس میں آگئے۔اور یہاں لشکر کے لئے بھرتی کرنے لگے۔خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے ملک شام میں حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے ساتھ جانے والے مجاہدین کو ملک عراق واپس بھیجنے کا حکم دیا تھا،اِس کے علاوہ مدینہ منورہ سے بھی لشکر تیار کر کے حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کے پاس مزید کمک بھیج رہے تھے۔اِس کے لئے حضرت جریر بن عبداﷲ کو ایک لشکر دیکر روانہ کیا،اس کے علاوہ حضرت عصمہ بن عبد اﷲ کو بھی ایک لشکر دیکر روانہ کیا۔اور جوبھی لوگ جہاد کے لئے حاضر ہوتے ،انہیں آپ رضی اﷲ عنہ حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کے پاس بھیجتے رہے۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ اور اُن کے لشکر کے بارے میں رستم اور فیزران کو برابر خبر مل رہی تھی۔اُن دونوں نے بوران سے مشورہ کر کے مہران کو لشکر دیکر حیرہ کی طرف جانے کا حکم دیا۔اُس وقت حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر اور مدد گار قبائل کے ساتھ قادسیہ اور خفان کے درمیان ”مرج السباخ“ میں پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے۔حضرت بشیر اُن دنوں حیرہ کا نتظام سنبھالے ہوئے تھے،جب حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کو مہران ہمدانی کے حضرت بشیر کی طرف جانے کی اطلاع ملی تو آپ رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر کو لیکر فرات باد قلی میں آگئے۔اور حضرت جریر بن عبد اﷲ اور کمک کے لئے آنے والوں کو جلدی پہنچنے کا پیغام بھیجا۔حضرت جریر بن عبد اﷲ نے حضرت عصمہ اور دوسرے قائدین کو جلدی پہنچنے کو کہا،اور خود بھی تیزی سے آگے بڑھے۔

دونوں لشکروں کی صف بندی

حضرت مثنی ٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کے پاس جب حضرت جریر اور حضرت عصمہ اپنے اپنے لشکر کے ساتھ پہنچ گئے تو آگے بڑھ کر بویب میں مہران ہمدانی کے راستے پر پڑاو¿ ڈال دیا۔بویب اُس وقت دریائے فرات کی ترائی میں تھا،اُس کا پانی جوف میں گرتا تھا۔مسلمان موضع الزارق میں اور فارسی موضع السکون میں پڑاو¿ ڈالے ہوئے تھے۔قبیلہ بنو نمر کا انس بن ہلال نمری ،اور قبیلہ بنو تغلب کا عبد اﷲ بن کلیب۔یہ دونوں عیسائی اپنے عیسائی ساتھیوں کے ساتھ حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کے پاس مدد دینے کے لئے آئے۔اور کہا کہ ہم عیسائی ہیں،اور آپ مسلمان ہیں،لیکن ہم دونوں عرب ہیں،اور ہمارا دشمن عجمی ہے،اور آگ کی پوجا کرتا ہے۔اِس لئے ہم آپ کا ساتھ دینا چاہتے ہیں،حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے اجازت دے دی۔مہران ہمدانی نے پیغام بھیجا کہ تم دریائے فرات پار کر کے آو¿ ،یا ہمیں پار کر کے آنے دو۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے فارسیوں کو دریائے فرات پار کرنے کی اجازت دے دی۔دریا پار کرنے کے بعد مہران ہمدانی نے لشکر کی صف بندی کی،اور تین صف بنا کر مسلمانوں کے مقابلے پر آئے۔ہر صف میں دیو پیکر ہاتھی تھے،اور ہاتھیوں کے آگے پیدل فوج تھی۔میمنہ پر ابن آزاذبہ ،اور میسرہ پر مروان شاہ کمانڈر تھا۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے میمنہ پر حضرت مذعور اور میسرہ پر حضرت النسیر کو کمانڈر بنایا۔سواروں کے کمانڈرحضرت عاصم کو کمانڈربنایا،اور پیشرو دستوں کا کمانڈر حضرت عصمہ کو بنایا۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ اپنے گھوڑے شموس پر سوار تھے،یہ بہت ہی عمدہ نسل کا اور شریف تھا۔یہ ماہ رمضان کا زمانہ تھا۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے اپنے لشکر کے سامنے کھڑے ہو کر تقریر فرمائی:”تم لوگ روزے سے ہو،چونکہ روزہ آدمی کو کمزور اور نڈھال کرتا ہے،اِس لئے میری رائے یہ ہے کہ تم لوگ روزہ افطار کر لو۔اور کھانا کھا کر دشمن سے لڑنے کے لئے مضبوط ہو جاؤ۔“سب نے کہا کہ یہ مناسب ہے ،اور روزے افطار کر لئے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے دیکھا کہ ایک شخص صف سے آگے نکل کر جنگ کے لئے کودنا چاہتا ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے دریافت کیا کہ اسے کیا ہو گیا ہے؟لوگوں نے بتایا کہ یہ جنگ حسبر میں بھاگ گیا تھا،اور اب اپنی جان دینا چاہتا ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اُسے پیچھے صف میں دھکیلا،اور فرمایا:”تم اپنی جگہ جمے رہو،جب تمہارے پاس کوئی دشمن آئے ،اُس وقت اپنے ساتھی کو اُس کے حملے سے بچانا،اور بےکار میں اپنی جان ضائع مت کرنا۔“اُس شخص نے کہا:”ہاں !میں اِسی قابل ہوں۔“اور صف میں اپنی جگہ جم گیا۔

جنگ بویب

حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے اِس کے بعد فرمایا:”میں تین تکبیریں کہوں گا،تم اِن پر تیار ہو جانا۔اور چوتھی تکبیر سنتے ہی دشمن پر حملہ کر دینا۔“جب آپ رضی اﷲ عنہ نے پہلی تکبیر کہی تو فارسیوں نے جلدی سے حملہ کردیا،اور مسلمانوں نے بھی گڑبڑا کر مقابلہ کرنا شروع کر دیا۔جس کی وجہ سے صفوں میں کچھ خلل واقع ہوا۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”آج مسلمانوں کو رسوا مت کرو۔“یہ سنتے ہی انہوں نے صفیں درست کیں ۔اور دشمنوں پر ٹوٹ پڑے۔جنگ دھیرے دھیرے شدت اختیار کرنے لگی،اور جب طول پکڑ گئی ،اورسخت ہو گئی ۔تب حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے انس بن ہلال کے پاس جاکر فرمایا:”اے انس!حالانکہ تم ہمارے دین پر نہیں ہو ،مگر بہادر عرب ضرور ہو۔جب تم مجھ کو مہران پر حملہ کرتے دیکھو ،تو تم بھی میرے ساتھ حملہ کرنے لگنا۔“اور یہی بات انہوں نے ابن مرویٰ الفہر سے بھی کہی۔دونوں نے خوشی سے منظور کر لیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے مہران ہمدانی پر حملہ کر کے اُسے سامنے سے ہٹا دیا،اور اُس کے میمنے میں گھس گئے۔اور فارسیوں کی گردنیں اُڑانے لگے۔دونوں طرف کی قلب کی فوجیں ایک جگہ جمع ہو گئیں،اور اتنی دھول اُڑی کہ آسمان تک غبار کا بادل چھا گیا۔بازوو¿ں کی فوجیں خوں ریزی میں مصروف تھیں،نہ فارسی اپنے سپہ سالار کی مدد کر سکتے تھے،اور نہ مسلمان ۔بنو تغلب کے ایک عیسائی نوجوان نے مہران ہمدانی کو قتل کردیا،اور اُس کے گھوڑے پر سوار ہو کر اُس کی موت کا اعلان کیا،تو فارسیوں(ایرانیوں) میں مایوسی پھیل گئی۔اور اب وہ لڑنے کے بجائے فرار ہونے کی کوشش کرنے لگے۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ یہ دیکھ کر فوراً پل پر گئے ،اور اُسے کاٹ دیا۔جس کی وجہ سے فارسی دریا پار نہیں سکے ،اور مسلمانوں نے انہیں چن چن کر قتل کرنا شروع کر دیا۔مسلمانوں نے انہیں کاٹ کاٹ کر کشتوں کے پشتے لگا دیئے ،عرب و عجم کی کسی لڑائی کی بوسیدہ ہڈیاں اتنے عرصے تک باقی نہیں رہی تھیں ،جیسی کہ اِس جنگ میں باقی رہیں۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے بعد میں پل کا راستہ روکنے پر ندامت کا اظہار کیا،اور فرمایا:”میں نے پل کی طرف بڑھ کر اور اُس کو توڑ کر بے بس دشمنوںکو تنگ کردیا تھا۔اﷲ نے ہم کو اس کے شر سے محفوظ رکھا۔آئندہ میں ایسی حرکت نہیں کروں گا۔اے لوگو!تم بھی ایسا کبھی نہیں کرنا ،اور میری تقلید نہیں کرنا۔جس جماعت میں مدافعت کی قوت موجود ہو ،اُس کو کبھی تنگ نہیں کرنا چاہیئے۔

شکست خوردہ لوگوں کا تعاقب

حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے فتح اور مال غنیمت کی تقسیم کے بعد فرمایا:”کون سیب تک دشمنوں کا تعاقب کرے گا؟“یہ سن کر حضرت جریر بن عبد اﷲ نے اپنے قبیلے بجیلہ کے لوگوں کو اُکسایا،اور وہ تیار ہو گئے۔اِس کے بعد حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے جنگ حسبر کے بچے مجاہدین سے فرمایا:”کہاں ہے وہ شخص اور اُس کے ساتھی جو کل صفوں سے نکلے جارہے تھے۔آگے بڑھو،اور دشمنوں کا سیب تک تعاقب کرو،اور اُن سے پچھلی ہزیمت کی بھڑاس نکال لو۔تمہارے لئے یہی بہتر اور باعث ِ اجر ہے،اﷲ سے مغفرت کی درخواست کرو،اﷲ مغفرت کرنے والا اور مہربان ہے۔“اِس اعلان پر سب سے پہلے وہ شخص آگے بڑھا،جو کل صف سے آگے نکلا تھا۔اور پھر اُس کے ساتھی بھی آگے آئے،جو دشمنوں میں جاکر جان دینا چاہتے تھے۔وہ مستعدی سے آگے بڑھے ،اور دریا کی طرف جھپٹے۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے اُن کے لئے پل بندھوا دیا،اور شکست خوردہ لوگوں کا پیچھا کرنے کے لئے روانہ کر دیا۔اُن کے پیچھے بنو بجیلہ کے شہ سوار اور دوسرے شہ سوار بھی جھپٹے ۔یہ لوگ دشمنوں کا تعاقب کرتے کرتے سیب تک پہنچ گئے۔لشکر میں جتنے جنگ حسبر میں شامل تھے،وہ سب گھوڑوں پر سوار ہو کر اِس خدمت کے لئے نکل پڑے۔اِس مہم میں بہت سا مال غنیمت حاصل ہوا ۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے مال غنیمت کا خمس نکال کر خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں مدینہ منورہ بھیج دیا۔اور باقی مال غنیمت لشکر میں تقسیم کر دیا۔

تمام فارسی چوکیوں اور ساباط کی فتح

جنگ بویب میں فتح کے بعد سلطنت فارس کی تمام سرحدی چوکیوں پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا۔کیونکہ تمام فارسی چوکیاں ٹوٹ گئیں تھیں،اور اُن کی فوجیں بھاگ کر ساباط میں جاکر پناہ گزین ہو گئیں تھیں۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب مہران ہمدانی ہلاک ہو گیا ،تو مسلمانوں کو سواد کے تمام علاقے پر اُن کی فرو گاہ سے لیکر دجلہ تک دست برد کرنے کا پورا موقع مل گیا۔اور انہوں نے پورے علاقے پر قبضہ کر لیا۔کیونکہ عجمیوں کی فوجی چوکیاں ٹوٹ گئی تھیں،اور اُن کی فوجیں بھاگ کر ساباط میں پناہ گزین ہو گئیں تھیں۔انہوں نے یہی بہتر سمجھا کہ دجلہ کے اُس پارتک کا علاقہ چھوڑ دیں۔فارسیوں کے دلوں میں اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کا رعب ڈال دیا تھا۔اُسی لئے تعاقب میں جانے والی فوج کے قائدین اور حضرت عاصم،حضرت عصمہ،اور حضرت جریر بن عبد اﷲ نے حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کو لکھا کہ اﷲ نے ہم کو سلامتی عطا فرمائی ،اور ہمارے کام کو ہلکا کردیا۔اور جس مقصد کے لئے آپ رضی اﷲ عنہ نے ہمیں بھیجا تھا،وہ پورا ہو گیا ہے۔اگر آپ رضی اﷲ عنہ ہمیں پیش قدمی کی اجازت دیں تو ہمارے لئے دشمنوں کوزیر کرنا کچھ مشکل نہیں ہوگا۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے اُن کو پیش قدمی کی اجازت دے دی۔اِس لئے وہ فارسیوں کو مارتے دھکیلتے ساباط تک پہنچ گئے۔تمام فارسی ساباط کے شہر میں قلعہ بند ہو گئے۔ اور مسلمانوں پر تیر اندازی شروع کر دی۔مسلمانوں کے قائدین حضر ت جریر بن عبد اﷲ ،حضرت عصمہ،اور حضرت عاصم نے اتنا زبردست حملہ کیا کہ فصیل کے بڑے دروازے کو توڑ دیا،اور اندر داخل ہو گئے۔اُن کے ساتھ مسلمان بھی داخل ہو گئے ،اور ساباط کو فتح کر کے حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کے پاس واپس آگئے۔ اِس کے بعد آپ رضی ا ﷲعنہ نے تکریت بھی فتح کرلیا۔

یزد جرد(گرد)سلطنت ِفارس کا کسریٰ(حکمراں)

حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی ا ﷲ عنہ سواد اور تکریت میں جس وقت مصروف تھے۔اُس وقت سلطنت ِفارس کے دارلحکومت ایران میں رستم اور فیرزان آپس میں لڑ رہے تھے۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔دونوں میں صلح کرانے کے لئے سرداران فارس جمع ہو کر اُن دونوں کے پاس گئے،اور کہا کہ تم دونوں کے اختلاف سے ہم لوگ ہلاکت میں پڑے ہوئے ہیں۔تمہاری بدولت ہم لوگ ذلت و خواری میں مبتلا ہو گئے ہیں۔اِس لئے تم دونوں آپس میں متفق ہوجاو¿،ورنہ ہم پہلے تم سے لڑیں گے ،پھر اپنے دشمنوں سے لڑ کر اپنی جانیں دے دیں گے۔ملک عرب کی وحشی قومیں ،کہاں تک آگئی ہیں،اور تکریت تک پہنچ گئی ہیں۔اِس کے بعد صرف مدائن باقی رہ گیا ہے،اور وہ بھی ایک نہ ایک دن اُن کے قبضے میں چلا جائے گا،اگر تم دونوں اسی طرح لڑتے رہے۔رستم اور فیرزان اِس تقریر کو سن کر قائل ہو گئے۔یہ دونوں سرداراہل فارس کے ساتھ ملکربوارن اور خاندان کسریٰ کی عورتوں کے پاس گئے،اور انہیں جان سے مارنے کی دھمکی دی تو ایک عورت نے بتایا کہ خاندان کسریٰ کا صرف ایک نوجوان باقی ہے،جس کا نام یزد جرد(گرد)ہے۔یہ لڑکا شہر یار بن کسریٰ کی اولاد ہے،اِس کی ماں نے اسے اُس وقت اپنے بھائی کے پاس رو پوش کر دیا تھاجب شیرویہ نے اپنے بھائیوں کو قتل کرنا شروع کر دیا تھا۔تب سے وہ اپنے ماموں کی حفاظت میں ہے۔رستم اور فیرزان نے یہ سن کر یزد جرد کی ماں سے اُس کا پتہ پوچھ کر اُسے اُس کے ماموں کے پاس لائے،اُس وقت یزدجرد کی عمر اکیس(۱۲)سال تھی۔اور اُس کو سلطنت ِفارس کا کسریٰ یعنی حکمراں بنا دیا۔یزد جرد نے کسریٰ بنتے ہی تمام گورنروں اور سپہ سالاروں کو طلب کر کے سلطنت فارس کے تمام علاقوں کی حفاظت کی سخت تاکید کی۔اور نامی گرامی آزمودہ سپہ سالاروںکو حیرہ ،انبار اور ایلہ کی طرف کثیر التعداد لشکر دیکر روانہ کیا۔

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے امداد اور مشورہ

حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کو یزد جرد کی تخت نشینی ،اور لشکروں کے بھیجنے کی اطلاع ملی۔تو آپ رضی اﷲ عنہ نے خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں تمام حالات لکھ کر بھیجے۔اور مزید کمک اور ہدایات مانگیں۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ اور مسلمانوں کو فارسیوں کے حالات اور اُن کا متفق رائے سے یزد جرد کو بادشاہ بنانے کی کیفیت معلوم ہوئی ،تو آپ رضی ا ﷲعنہ نے اِن واقعات کی اور اندیشہ ¿ بغاوت کی اطلاع خلیفہ¿ دوم حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو لکھ بھیجی۔ابھی اُن کے پاس قاصد خط لیکر پہنچا بھی نہیں تھا کہ سواد کے اکثر لوگ جنہوں نے مسلمانوں سے صلح کر لی تھی،انہوں نے صلح کے معاہدے کو توڑ دیا۔اور دشمنی پر آمادہ ہو گئے۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ اپنے دستے کو لیکر ذی قار میں آگئے،اور پورا لشکر الطف میں قیام پذیر رہا۔خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ نے حکم بھیجا کہ عجمیوں کے حلقوں سے نکل جاؤ،اور اپنی حدود ِسلطنت میں جہاں جہاں تمہاری اور دشمن کی سرحدیں ملتی ہیں،وہاں کے پانی کے چشموں پر پھیل جاؤ۔اور قبائل بنو مضر اور بنو ربیعہ اور اُن کے حلیفوں میں سے جتنے بہادر اور شجاع لوگ ملیں ،اُن کو لشکر میں بھرتی کر لو۔اور عجمیوں کی طرح تم بھی عربوں کو جہاد کے لئے اُبھارو،میں بہت جلد کمک بھیجنے کی کوشش کرتا ہوں۔یہ واقعہ ذوالقعدہ 13 ھجری کا ہے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!

20 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ Khilafat e Rashida 2


20 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی 

قسط نمبر 20

توریت و انجیل میں” اُمت ِ مسلمہ “کے اوصاف، دجال کے قتل کی جگہ، بیت المقدس مسجد کی تحقیق، بیت المقدس کی جگہ کو ڑا کر کٹ کیوں، مسجد اقصیٰ کی بنیاد، فاروق ِ اعظم رضی اﷲ عنہ کی بشارت، بیت المقدس کا صلح نامہ، فلسطین کے دو صوبے، 

توریت و انجیل میں” اُمت ِ مسلمہ “کے اوصاف

اﷲ تعالیٰ نے توریت اور انجیل میں جگہ جگہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی اُمت”اُمت مسلمہ“(آخری اُمت)کے اوصاف بیان فرمائے ہیں۔اِس کا ایک عملی مظاہرہ صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم نے بیت المقدس میں کیا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ اِس کے بعد اپنے لشکر میں واپس آگئے،اور دوسرے دن صبح پیر کے دن بیت المقدس میں داخل ہوئے۔جمعہ تک آپ رضی اﷲ عنہ بیت المقدس میں قیام پذیر رہے،اور مشرق کی طرف ایک خط کھینچ کر محراب کا نشان بنا دیا۔اُسی جگہ وہ مسجد (مسجد ِ عُمر)ہے،جو آپ رضی اﷲ عنہ کے نام سے منسوب ہے۔پھر یہاں مسلمانوں کو نماز پڑھائی،رومیوں نے غداری کا ارادہ کیا۔ابو جعید جوجنگ یرموک میں رومیوں کے ساتھ مصیبت میں مبتلا ہو گیاتھا ،وہ اپنے بیوی بچوں سمیت بیت المقدس میں مقیم تھا۔اُس سے رومی کہنے لگے کہ ہمارا ارادہ ہے کہ مسلمان جس وقت نماز میں مصروف ہوں ،اور سجدے میں چلے جائیں،تو ہم اُن کے ساتھ غدر کر دیں۔اُس وقت اُن کے پاس نہ تو کوئی اسلحہ ہوگا،اور نہ ہی اور کوئی چیز جو انہیں ہمارے حملوں سے محفوظ رکھ سکے۔تیری اِس معاملہ میں کیا رائے ہے؟اُس نے کہاکہ غدر کے بعد تم یہاں محفوظ نہیں رہ سکو گے،اور مسلمانوں کے دوسرے ساتھی جو شہر سے باہر ہیں،وہ تمہیں ختم کر دیں گے۔انہوں نے کہا کہ پھر ہمیں کیا کرنا چاہیئے؟اُس نے کہا کہ تم زینت اور متاع ِ دنیا کو اُن کے سامنے ظاہر کرو،متاع ِ دنیا اور مال و اسباب ایسی چیزیں ہیں کہ انہیں دیکھ کر دنیاوالوں سے اُن پر کبھی صبر نہیں ہو سکتا۔لہٰذا اگر وہ مال و اسباب اور متاع ِ دنیا کی طرف متوجہ ہوئے ،اور اُن کے حصول کی کوشش کی ،تو پھر میں تمہیں وہ مشورہ دوں گا ،جس سے تم کامیاب ہو جاو¿ گے۔رومیوں نے یہ سن کر مقدور بھر کوشش کر کے جتنا مال وہ جمع کر سکتے تھے،کیا اور مسلمانوں کے راستہ میں ڈال دیا۔مسلمان آتے جاتے اُسے دیکھتے تھے،اور تعجب کرتے تھے۔کسی نے اُسے طمع کی نظر سے نہیں دیکھا،اور نہ ہی ہاتھ لگایا۔بلکہ یہ کہتے ہوئے گزر جاتے تھے؛”تمام تعریفیں اﷲ تعالیٰ کے لئے ہیں،جس نے ہمیں ایسی قوم کے ملکوں کا مالک بنا دیا،جن کے پاس دنیا کی اتنی چیزیں ہیں۔اور اﷲ تعالیٰ کے نزدیک دنیا مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی،تو کوئی کافر دنیا سے ایک گھونٹ پانی بھی نہیں پی سکتا تھا۔“کسی مسلمان نے اِس مال و اسباب اور متاع ِ دنیا کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا،اور نہ ہی اُسے چھوا۔ابو جعیدنے یہ دیکھ کر رومیوں سے کہا؛”یہی وہ قوم ہے،جس کی تعریف اﷲ تعالیٰ نے توریت اور انجیل میں بیان کیا ہے۔یہ ہمیشہ حق پر رہیں گے،اور جب تک حق پر رہیں گے،اُن سے کوئی قوم آنکھ نہیں ملا سکے گی۔اور کوئی قوم اِن کے مقابلے پر نہیں ٹھہر سکے گی۔“

دجال کے قتل کی جگہ

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے بیت المقدس فتح کیا،اور شہر والوں سے مصالحت کی۔علامہ محمد بن جریر طبری کے مطابق صلح جابیہ میں ہوئی ،اور دوسرے علمائے کرام کے مطابق بیت المقدس میں ہوئی۔واﷲ و اعلم۔بہر حال پہلے ہم علامہ طبری کی روایت پیش کرتے ہیں۔حضرت سالم بن عبد اﷲ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ جابیہ آئے تو ایک یہودی نے آپ رضی اﷲ عنہ سے کہا؛”اے امیر المومنین(رضی اﷲ عنہ)!جب تک اﷲ تعالیٰ آپ (رضی اﷲ عنہ ) کو ایلیاہ(بیت المقدس)فتح نہ کرادے،تب تک آپ(رضی اﷲ عنہ)اپنے گھر واپس نہ جائیں۔“ابھی حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ جابیہ کے مقام پر ہی تھے کہ آپ رضی اﷲ عنہ نے گھوڑ سواروں کے ایک دستے کو دیکھا،جو آپ رضی اﷲ عنہ کی طرف ہی آرہا تھا۔جب وہ قریب آئے تو مسلمانوں نے تلواریں نکال لیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”یہ لوگ پناہ کے لئے آرہے ہیں،تم انہیں پناہ دو۔“تحقیق کرنے سے معلوم ہوا کہ یہ لوگ ایلیاہ(بیت المقدس) کے شہری ہیں۔انہوں نے جزیہ ادا کرنے کے معاہدے پر مصالحت کر لی،اور آپ رضی اﷲ عنہ کے لئے شہر کے دروازے کھول دیئے۔جب شہر فتح ہو گیا تو آپ رضی اﷲ عنہ نے اُس یہودی کو بلوایا،اور اُس سے دجال کے بارے میں دریافت فرمایا۔یہودی بولا؛”اے امیر المومنین(رضی اﷲ عنہ)!آپ اُس کے بارے میں کیوں پوچھ رہے ہیں؟اﷲ کی قسم !آپ (رضی اﷲ عنہ) کی عرب قوم دس گز کے فاصلے پر لاکے دروازے کے قریب دجال کو قتل کرے گی۔علامہ طبری آگے لکھتے ہیں۔صلح کے وقت وہ یہودی موجود تھا،حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اُس سے دجال کے بارے میں دریافت کیا،تو وہ بولا؛”دجال بن یامن کی اولاد میں سے ہوگا،اور اﷲ کی قسم!اے اقوام ِ عرب،”لُد“کے دروازے سے دس گز سے کچھ زیادہ فاصلے پر اُسے قتل کرو گے۔“(اُس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام مسلمانوں کے سربراہ ہوں گے۔”مقام لُد“تل ابیب میں ہے،اور اسرائیل کا سب سے بہترین ایئر پورٹ وہیں ہے۔)

بیت المقدس مسجد کی تحقیق

حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے بیت المقدس اور ”شب ِاسریٰ“ کے حالات بہت تفصیل سے سنے ہوئے تھے۔اور بیت المقدس کے بارے میں آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اتنی تفصیل سے بتا یا تھا کہ گویا صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں۔اور ”چٹانِ داو¿دی“(وہ پہاڑی چٹان جہاں سے حضرت داؤد علیہ اسلام نے فرشتوں کواوپر چڑھتے دیکھا تھا،اور یہیں پر بیت المقدس کی تعمیرکی بنیاد رکھی تھی۔)کے بارے میں بھی تفصیل سے بتایا تھا۔اِسی لئے خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ جب بیت المقدس میں داخل ہوئے،تو آپ رضی اﷲ عنہ کو دیکھا بھالا لگا۔آپ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ پوپ اور پادری ،راہب اور بشپ وغیرہ چل رہے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے پوپ سے بیت المقدس مسجد کے بارے میں پوچھا،تو اپنے ایک بہت ہی خوب صورت کنیسہ (چرچ)میں لے گیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے پورے کنیسہ کا جائزہ لیا،اور فرمایا کہ یہ وہ جگہ نہیں ہے،جس کی نشانی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہمیں بتائی تھی،مجھے اصل جگہ بتاو¿۔اِس کے بعد پوپ اصل جگہ پر لے گیا،وہاں ہر طرف کوڑا کرکٹ پھیلا ہوا تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اُس جگہ کا جائزہ لیا،اور چٹان ِ داو¿دی کو پہچان لیا ،اور فرمایاکہ یہی وہ جگہ ہے۔پھر آپ رضی اﷲ عنہ آگے بڑھے اور کوڑا کرکٹ اُٹھا کر پھینکنے لگے۔سب لوگوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کی تقلید کی،اور جب پوری جگہ صاف ہو گئی ،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ اِس جگہ کو جب بارش کا پانی تین مرتبہ دھو دے،تو نماز شروع کر دینا۔

بیت المقدس کی جگہ کو ڑا کر کٹ کیوں

حضرت داؤد علیہ السلام جب بنی اسرائیل پر نبوت اور حکومت کر رہے تھے،تو انہوں نے ایک رات دیکھا کہ ایک چٹان پر سے فرشتے ایک سیڑھی کے ذریعے آسمان پر چڑھ رہے ہیں۔یہ دیکھ کر آپ رضی علیہ السلام نے اﷲ تعالیٰ سے دعا کی کہ میں یہاں پر ایک مسجد بنانا چاہتا ہوں۔اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم اِس مسجد کی بنیاد ڈال کر شروعات کرو گے،لیکن مکمل نہیں کر سکو گے۔اِس تمہارا بیٹا سلیمان (علیہ السلام) پورا کرے گا۔حضرت سلیمان علیہ السلام نے اُس مسجد کو مکمل طریقے سے بنایا،یہ بنی اسرائیل کی مرکزی مسجد بن گئی۔بعد میں بنی اسرائیل نے اِسے ”ہیکل سلیمانی “کہنا شروع کر دیا۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بنی اسرائیل نے اپنی دانست میں صلیب پر چڑھوا دیا ،تو اُن پر اﷲ کا عذاب نازل ہوا۔اور ایک ظالم بادشاہ نے حملہ کرکے اُن کا اتنی بُری طرح سے قتل عام کیا کہ وہ فلسطین چھوڑ کر پوری دنیا میں بھاگ گئے،اور بکھر گئے۔اُس ظالم بادشاہ نے ”ہیکل سلیمانی“کو پوری طرح سے منہدم کر دیا،اور چٹیل میدان کر دیا۔بعد میں اﷲ تعالیٰ نے عیسائیوں کو طاقتور بنا دیا،اور حکومت اُن کے ہاتھوں میں آئی تو وہ یہودیوں سے بہت نفرت کرتے تھے۔اِسی وجہ سے یہودیوں کی مقدس جگہ (جہاں ہیکل سلیمانی تھا)پر عیسائی بادشاہ نے کوڑا کرکٹ پھینکنے کا حکم دیا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیںکہ یہودیوں نے جہاں ”قمامہ“کیا تھا،قمامہ وہ جگہ ہے جہاں یہودیوں نے مصلوب کو صلیب پر چڑھوایا تھا۔اور پھراُس کی قبر پر کوڑا کرکٹ پھینکنے لگے تھے،اِسی لئے اِس جگہ کا نام قمامہ پڑ گیا تھا۔بعد میں حکومت ہاتھ میں آنے کے بعد عیسائیوں نے وہ جگہ صاف کر کے وہاں وہاں ایک کنیسہ(گرجا گھر،چرچ)بنایا۔اور جہاں منہدم شدہ ہیکل سلیمانی تھا،وہاں ایک چار دیواری گھیر کر وہاں کوڑا کرکٹ پھینکنے کا حکم دیا۔جب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا اسلام کی دعوت کا خط ہرقل کے پاس پہنچا ،تو تب تک کو ڑا کرکٹ حضرت داو¿د علیہ السلام کی محراب تک پہنچ گیا تھا۔پھر ہرقل نے وہاں سے کوڑا کرکٹ اُٹھانے کا حکم دیا،جس کا سلسلہ جاری تھا،اور ابھی انہوں نے ایک تہائی کوڑا ہی اُٹھا یا تھا کہ بیت المقدس کو مسلمانوں نے فتح کر لیا،اور حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اسے اٹھوا دیا۔

مسجد اقصیٰ کی بنیاد

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اِس جگہ کی صفائی کے بعد یہاں ”مسجد اقصیٰ“کی بنیاد رکھی۔علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیںحضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ بیت المقدس میں داخل ہوئے تو آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت کعب احبار سے صخرہ کی جگہ کے متعلق دریافت کیا۔(حضرت کعب احبار یہودی عالم تھے،اور خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ کے دور ِ خلافت میں اسلام قبول کیا تھا۔)انہوں نے کہا؛”یاامیر المومنین!وہ وادیٔ جہم سے اتنے ہاتھ پر فلاں جگہ ہے۔“انہوں نے ہاتھ ناپے ،تو انہوں نے معلوم کر لیا۔اور نصاریٰ(عیسائیوں) نے ”صخرہ “کو روڑی(کوڑا کرکٹ پھینکنے کی جگہ)جیساکہ یہودیوں نے ”قمامہ“کی جگہ کے ساتھ کیا تھا۔اور یہ وہ جگہ ہے،جہاں مصلوب کو صلیب دی گئی تھی،جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مشابہ ہو گیا تھا۔اور یہود و نصاریٰ نے اُسے سچ یقین کر لیا تھا،اور انہوں نے اپنے اعتقاد میں اِس کی تکذیب کی۔جیسا کہ اﷲ تعالیٰ نے اِس بارے میں اُن کی غلطی کی صراحت کی ہے۔حاصل کلام یہ ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی بعثت سے تقریباً تین سو سال قبل نصاریٰ نے بیت المقدس پر حکومت کی ،تو انہوں نے روڑی کی جگہ کو پاک صاف کیا۔اور وہاں پر ایک بہت ہی عالیشان گرجا گھر (چرچ)بنا دیا،جسے فلسطین کے بادشاہ کی والدہ نے تعمیر کروایا،اور وہ شہر اُسی کے نام سے منسوب ہے۔اور اُس کے حکم سے اُس کے بادشاہ بیٹے نے نصاریٰ کے لئے ”مر زبوم“میں”بیت لحم“کو تعمیر کیا۔اور اُن کے خیال کے مطابق اُس نے قبر کی جگہ اسے تعمیر کیا۔الغرض انہوں نے یہود کے قبلہ کی جگہ کو اس فعل کے مقابلہ میں جو انہوں نے قدیم اور جدید زمانے میں کیا ،روڑی بنا دیا۔اور جب حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے ”بیت المقدس “فتح کیا ،اور ”صخرہ “کی جگہ دریافت کیا ،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے روڑی کو صاف کرنے کا حکم دے دیا۔اور یہاں تک بیان کیا گیا ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنی چادر کے دامن سے وہاں جھاڑ دیا۔پھر حضرت کعب سے مشورہ کیا کہ وہ مسجد کہاں بنائیں؟تو انہوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کو ”صخرہ “کے پیچھے مسجد بنانے کا مشورہ دیا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اُن کے سینے پر ضرب لگا کر فرمایا؛”اے ابن ام کعب !تو نے یہودیوں کی مشابہت اختیار کی ہے۔“اور آپ رضی اﷲ عنہ نے ”بیت المقدس“کے آگے مسجد بنانے کا حکم دیا۔علامہ ابن کثیرنے ایک اور روایت میں لکھا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت کعب سے فرمایا؛”تمہاری رائے میں ،میں کہاں نماز پڑھوں؟“انہوں نے عرض کیا؛”یا امیر المومنین!اگر آپ مجھ سے معلوم کرنا چاہتے ہیں ،تو ”صخرہ“ کے پیچھے نماز پڑھ لیں،اور سارا ”القدس“آپ رضی اﷲ عنہ کے سامنے ہو گا۔“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”تم نے یہودیت کی مشابہت اختیار کی ہے،میں ایسا نہیں کروں گا۔بلکہ میں وہاں نماز پڑھوں گا،جہاں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے نماز پڑھی تھی۔“پھر آپ رضی اﷲ عنہ قبلہ کی طرف بڑھے ،اور نماز پڑھی،اور اپنی چادر پھیلا کر اُس میں کوڑا کر کٹ ڈال لیا۔اور لوگوں نے بھی کوڑا کرکٹ اُٹھا کر پھینکا۔

فاروق ِ اعظم رضی اﷲ عنہ کی بشارت

حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے بارے میں بنی اسرائیل (یہودیوں)اور بیت المقدس شہر کو کئی سو سال پہلے بشارت دے دی گئی تھی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔پھر حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نماز پڑنے کے بعد اُس مقام پر آگئے،جہاں رومیوں نے بنی اسرائیل کے زمانے میں بیت المقدس کو ہندسہ بنا دیا تھا(منہدم کر دیا تھا)۔جب آپ رضی اﷲ عنہ وہاں پہنچے تو انہوں نے کچھ حصے کو ظاہر کیا،اور باقی کو چھوڑ دیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”جیسا میں کروں ،تم بھی کرنا۔“اتنے میں آپ رضی اﷲ عنہ کے پیچھے سے سب نے زور کا نعرہ¿ تکبیر اﷲ اکبر بلند کیا،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے اُن کی طرف گھوم کر فرمایا؛”یہ کیا ہے؟“مسلمانوں نے عرض کیا؛”یا امیر المومنین رضی اﷲ عنہ !حضرت کعب نے تکبیر کہی ،تو اُسے سن کر ہم نے بھی تکبیر کہہ دی۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”کعب کو میرے پاس لاو¿۔“وہ حاضر ہوئے ،تو خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ نے دریافت فرمایا؛”تم نے تکبیر کیوں کہی؟“حضرت کعب نے عرض کیا؛”یا امیر المومنین رضی اﷲ عنہ!آج میں نے جو کچھ کیا ہے،اُس کے بارے میں پانچ سو سال(یا چھ سو سال) پہلے ایک نبی علیہ السلام نے اِس کی پیشن گوئی کر دی تھی۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”وہ پیشن گوئی کیا تھی؟“حضرت کعب نے عرض کیا؛”رومیوں نے بنی اسرائیل پر حملہ کیا،اور وہ اُن کے مطیع ہو گئے تھے۔ اُس وقت انہوں نے اِس کو(ہیکل سلیمانی،یا بیت المقدس)کو تباہ کر دیا تھا۔اس کے بعد اہل فارس نے اہل روم پر حملہ کیا،تو انہوں نے بنی اسرائیل پر زیادتیاں کیں۔پھر اہل روم اُن پر غالب آگئے،یہاں تک کہ آپ رضی اﷲ عنہ فاتح ہوئے۔اﷲ تعالیٰ نے اُس حالت میں ایک نبی علیہ السلام کو بھیجا تھا،انہوں نے فرمایا؛”اے یروشلم(بیت المقدس)!تمہیں بشارت ہو،تمہارے پاس” فاروق اعظم “آئے گا،جو تمہیں پاک و صاف کرے گا۔“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے بیت المقدس کو پاک و صاف کیا،اور وہ آج تک پاک و صاف ہے۔لیکن ناپاک یہودیوں نے اسرائیل حکومت بنا لی ہے،اور بیت المقدس کو ناپاک کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔

بیت المقدس کا صلح نامہ

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے بیت المقدس فتح کیا،اور شہر والوں کو صلح نامہ لکھ کر دیا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔امام طبری نے لکھا ہے کہ معاہدہ¿ صلح یہیں(جابیہ میں) لکھا گیا ہے۔اور امام بلاذری اور امام ازدی کا بیان ہے کہ صلح نامہ ”بیت المقدس“میں تحریر کیا گیا۔بہر کیف جو معاہدہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی موجودگی میں ”بیت المقدس“ میں لکھا گیا،اُس کا مضمون یہ ہے:”یہ وہ رعایتیں ہیں،جو اﷲ کے بندے عُمر بن خطاب ( رضی اﷲ عنہ ) نے ایلیاہ(بیت المقدس یا یروشلم)والوں کو دی ہیں۔اُن کی جان، مال، گرجے،صلیب،بیمار،تندرست اور اُن کے کل مذہب والوں کو امان دی جاتی ہے۔کسی کو اُن کے گرجاو¿ں میں سکونت اختیار کرنے کا اختیار نہیں ہوگا۔نہ ہی وہ گرائے جائیں گے،اور نہ ہی اُن کو اور اُن کے احاطے کو نقصان پہنچایا جائے گا۔نہ ہی اُن کی صلیبوں،اور نہ ہی اُن کے موقوفات میں کمی کی جائے گی۔مذہب کی بابت اُب پر کچھ جبر نہیں کیا جائے گا،اور نہ ہی اُن میں سے کسی کو ضرر پہنچایا جائے گا۔اور ایلیاہ میں اُن کے ساتھ یہودی نہیں رہنے پائیں گے،اور اہل ایلیاہ پر یہ فرض ہے کہ وہ دوسرے شہر والوں کی طرح جزیہ دیں۔اور یونانیوں اور مفسدوں کو شہر سے نکال دیں،پس یونانیوں اور مفسدوں میں سے جو شہر سے نکلے گا،اُس کے جان و مال کو اُس وقت تک امن دیا جائے جائے گا،جب تک وہ محفوظ مقام پر پہنچ نہیں جائے گا۔اور جو شخص ان میں سے ایلیاہ میں رہنا چاہے گا،اُس کو اہل ایلیاہ کی طرح جزیہ دینا ہو گا۔اور اہل ایلیاہ میں سے جو شخص اپنی جان و مال لیکر اُن کے ساتھ جانا چاہے ،تو اُن کو اور اُن کے گرجاو¿ں اور صلیبوں کو امن ہے، یہاں تک کہ وہ محفوظ مقام پر پہنچ جائیں۔اور جو کچھ اِس عہد نامہ میں لکھا ہے،اس پر اﷲ تعالیٰ،اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم ،اُن کے خلفائ،اور مسلمانوں کا ذمہ اُس وقت تک ہے ،جب تک اہل ایلیاہ مقررہ جزیہ ادا کرتے رہیں گے۔اِس عہد نامے پرحضرت عبد الرحمن بن عوف، حضرت خالد بن ولید ،حضرت عمرو بن عاص،اور حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہم نے گواہ کے طور پر دستخط کئے۔یہ صلح ۵۱ ہجری میں ہوئی ۔کچھ علمائے کرام کے مطابق بیت المقدس 15 ہجری میں فتح ہوا،اور کچھ علمائے کرام کے مطابق 16 ہجری میں فتح ہوا۔

فلسطین کے دو صوبے

حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے ”بیت المقدس “فتح کیا۔اُس وقت تک فلسطین ملک شام کا ایک حصہ تھا۔ملک شام کافی بڑا تھا،اور اُس میں اردن،لبنان،اور فلسطین وغیرہ ایک ایک صوبے کے طور آتے تھے۔بعد میں اِن تینوں کو ملک شام سے الگ کر کے الگ الگ ملک بنا دیا گیا۔جب خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے بیت المقدس فتح کیا،تو اُس کے دو حصے کر دیئے،اور اُسے دو صوبوں میں تقسیم کر دیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فلسطین کے دو صوبے بنا دیئے۔ایک صوبے پر حضرت علقمہ بن حکیم کو گورنر(عامل) مقرر کیا،اور دوسرے صوبے پر حضرت علقمہ بن مجزز کو گورنر مقرر کیا۔دونوں کا مرکذ ایلیاہ(بیت المقدس)قرار دیا  گیا۔اور آپ رضی ا ﷲ عنہ کے حکم کے مطابق دونوں گورنروں نے اپنے اپنے علاقے کا انتظام سنبھال لیا۔اُن کے ساتھ وہ لشکر تھا ،جو حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کے ساتھ تھا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت عمرو بن عاص ،اور حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ عنہ کو جابیہ میں بلا لیا۔ جب حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ جابیہ میں تشریف فرما تھے تو ارطبون بھاگ کر ملک مصر چلا گیا تھا۔اور فتح مصر کے بعد مسلمانوں سے مقابلہ میں اُس کا خاتمہ ہو گیا تھا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!


21 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ Khilafat e Rashida 3


21 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 21

حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی احمقوں سے بیزاری، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اﷲ عنہم کی احمقوں سے بیزاری، احمقوں (شرپسندوں) کا اچانک محاصرہ، احمق لوگوں کی منصوبہ بند سازش، مختلف علاقوں سے امدادی لشکروں کی روانگی، خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ کو بے ہوش کر دیا

حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی احمقوں سے بیزاری

مدینۂ منورہ میں بڑے بڑے صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم اور ازواج ِ مطہرات رضی اﷲ عنہما سے روکھا جواب سن کر یہ دونوں واپس آئے اور تینوں گروہوں کو اِس روکھے جواب کے بارے میں بتا دیا تو تینوں گروہوں نے اپنے اپنے من پسند رہنما کے پاس جانے ارادہ کیا اور تینوں گروہوں کے لوگوں نے کہا کہ باقی دونوں گروہ ہمارے من پسند رہنما کی بیعت کریں گے تو ٹھیک ہے ورنہ ہم اُن سے بھی لڑیں گے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ” اِس کے بعد اہل مصر حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی طرف روانہ ہوئے ۔اہل بصرہ حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ کی طرف روانہ ہوئے اور اور اہل کوفہ حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ کی طرف روانہ ہوئے ۔ہر گروہ نے یہ کہا : ” اگر دوسرے گروہ کے لوگ ہمارے امیر کے ہاتھ پر بیعت کریں گے تو ٹھیک ہے ورنہ ہم اُن کے خلاف تدبیر کریں گے اور اُن کی جماعت سے الگ ہو جائیں گے ۔“اِس کے بعد اہل مصر حضرت علی رضی اﷲ عنہ کے پاس ” احجار الزیت “ میں آئے ۔( حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو خدشہ تھا کہ باغی کہیں کوئی غلط حرکت نہ کریں ۔اِس لئے انہوں نے اپنے بڑے بیٹے حضرت امام حسن رضی اﷲ عنہ کو حفاظت کے خیال سے خلیفہ¿ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے پاس چھوڑ دیا تھا اور خود لشکر لیکر ” احجار الزیت “ میں آکر خیمہ زن ہو گئے تھے ) حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ احجار الزیت میں ایک لشکر کے ساتھ مقیم تھے ۔اُن کے گلے میں تلوار حما ئل تھی اور وہ سُرخ یمنی عمامہ باندھے ہوئے تھے ۔انہوں نے اپنے بڑے بیٹے حضرت امام حسن رضی اﷲ عنہ کو حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے اجتماع میں بھیجا ہوا تھا اور حضرت امام حسن رضی اﷲ عنہ خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے جبکہ حضرت علی بن ابی طالب ” احجار الزیت “ میں تشریف فرما تھے ۔اہل مصر نے جا کر انہیں سلام کیا اور اپنی عرضداشت پیش کی ۔حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ نے انہیں بہت بری طرح ڈانٹا اور فرمایا : ” نیک لوگوں کو یہ بات معلوم ہے کہ ” ذوالمردہ “ اور ” ذو خشب “ کے لشکر پر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے ۔تم لوگ واپس جاؤ اور اﷲ تعالیٰ مجھے تمہاری صحبت سے بچائے ۔“ اہل مصر بولے ۔” اچھا “ اور پھر وہ وہاں سے واپس چلے گئے ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اہل مصر نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ سے عرض کیا : ” ہم حضرت عثمان غنی (رضی اﷲ عنہ ) کی خلافت سے بیزار ہیں ۔ آپ رضی اﷲ عنہ ہم سے خلافت کی بیعت لے لیجیئے ،ابھی ہم لوگ واپس چلے جائیں گے ۔“ یہ سن کر حضت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ غصہ سے کانپ اُٹھے اور فرمایا : ” بے شک ذوا لمردہ ، ذو خشب اور اعوص کے لشکر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق ” ملعون “ ہیں اور اِس حدیث کو صلحا مومنین جانتے ہیں ۔تم لوگ میرے سامنے دور ہو جاو¿ اور آئندہ اِس قسم کی گفتگو میرے رو برو نہیں کرنا ۔

حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اﷲ عنہم کی احمقوں سے بیزاری

حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ نے اہل مصر کے باغیوں کو ڈانٹ کر بھگا دیا ۔ اُدھر اہل بصرہ اور اہل کوفہ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اﷲ عنہم کے پاس پہنچے تو انہوں نے بھی انہیں ڈانٹ کر بھگا دیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اہل بصرہ حضرت طلحہ بن عبید اﷲرضی اﷲ عنہ کے پاس پہنچے ۔وہ بھی حضرت علی بن ابی طالب کے قریب ایک لشکر کے ساتھ موجود تھے اور انہوں نے بھی اپنے دو بیٹوں کو حفاظت کے خیال سے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے پاس بھیجا ہوا تھا۔اہل بصرہ نے سلام کیا اور اپنی درخواست پیش کی ۔حضرت طلحہ بن عبید اﷲرضی اﷲ عنہ نے انہیں ڈانٹا اور فرمایا : ” مومنوں کو یہ بات معلوم ہے کہ ” ذو المردہ ،ذو خشب اور اعوص “ کے لشکروں یا گروہوں پر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے لعنت بھجی ہے ۔“ اور انہیں واپس بھیج دیا ۔اہل کوفہ حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے ور وہ بھی لشکر کے ساتھ تشریف فرما تھے ۔انہوں نے بھی اپنے بیٹے حضرت عبد اﷲ بن زبیر رضی ﷲ عنہ کو حفاظت کے خیال سے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے پاس بھیجا ہوا تھا ۔اہل کوفہ نے سلام کیا اور اپنی درخواست پیش کی ۔حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ نے انہیں ڈانٹا اور فرمایا : ” مسلمانوں کو یہ بات معلوم ہے کہ” ذوالمردہ ، ذو خشب اور اعوص “ کے لشکروں یا گروہوں پر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے ۔“ اور انہیں واپس بھیج دیا ۔

احمقوں (شرپسندوں) کا اچانک محاصرہ

تینوں بڑے صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم نے تینوں گروہوں کو بری طرح ڈانٹ کر واپس بھیج دیا ۔اُن کے ڈانٹنے پر احمق اپنے اپنے پڑاؤ میں واپس آگئے اور خیمے اُکھاڑ کر واپس جانے لگے لیکن اُن کا ارادہ کچھ اور ہی تھا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : یہ سب لوگ واپس آگئے اور ایسا ظاہر کیا کہ وہ واپس جا رہے ہیں ۔وہ ذوالمردہ ، ذو خشب اور اعوص کے مقامات سے ہٹ گئے اور اپنے اپنے لشکری خیموں میں پہنچ گئے جو مدینۂ منورہ سے تین منزل کے فاصلے پر تھا ۔یہ احمق لوگ چاہتے تھے کہ اہل مدینہ کے لشکر منتشر ہو جائیں تو اِس کے بعد یہ لوگ لوٹ کر حملہ کر دیں اور یہی ہوا ۔انہیں واپس جاتے ہوئے دیکھ کر اہل مدینہ منتشر ہو گئے اور جب تمام اہل مدینہ اپنے اپنے گھروں میں پہنچ گئے تو احمق اچانک واپس آگئے اور مدینۂ منورہ پہنچ کر اپنی اچانک تکبیروں سے اہل مدینہ کو حیران کر دیا اور خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے گھر کا چاروں طرف سے محاصرہ کر کے خیمہ زن ہو گئے اور انہوں نے کہا : ” جو ہتھیار نہیں اُٹھائے گا وہ پناہ میں ہے ۔“ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اہل مدینہ بھی احمقوں کی واپسی کے بعد اپنے اپنے گھروں میں لوٹ گئے ۔رات کے وقت کسی حادثہ کی اطلاع نہیں ہوئی لیکن تکبیر کی آواز اطراف ِ مدینہ میں گونج رہی تھی ۔صبح ہوئی تو امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کا مکان محاصرہ میں تھا اور احمقوں نے چاروں طرف سے مکان کو گھیر لیاتھا اور منادی کرادی تھی کہ جو شخص مقابلہ پر نہیں آئے گا اُس کو امن دیا جائے گا ۔

احمق لوگوں کی منصوبہ بند سازش

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے خلاف بد بخت یہودی عبد اﷲ بن سبا ءجس نے دکھاوے کا اسلام قبو ل کیا تھا ۔اُس نے مسلمانوں کو بھڑکایا اور ملک مصر ، بصرہ او ر کوفہ سے کئی ہزار احمقوں کو لیکر مدینۂ منورہ آیا۔ وہ بد بخت پس منظر میں رہا اور باغیوں کو آگے رکھا ،تاکہ خلیفۂ سُوم کی شہادت کے بعد مسلمانوں میں تفرقہ پڑ جائے اور وہ آپس میں لڑنے لگیں ۔بد بخت منافق عبد اﷲ بن سبا ءکے خفیہ ایجنٹ تینوں گروہوں میں موجود تھے اور انہوں نے اپنے خفیہ سردار کی ہدایت کے مطابق احمق مسلمانوں کو بھڑکایا اور واپس لے آئے اور خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے گھر کا محاصرہ کر لیا اور کئی دنوں تک کوئی کاروائی نہیں کی ۔خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ بد ستور اپنے گھر سے مسجد نبوی میں آتے تھے اور مسلمانوں کو نماز پڑھاتے تھے اور احمق مسلمان بھی آپ رضی اﷲ عنہ کی امامت میں نماز ادا کرتے تھے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے چند دنوں تک لوگوں کو نماز پڑھائی اور مسلمان اپنے گھروں میں رہے ۔احمق مسلمانوں نے گفت شنید کا دروازہ بند نہیں کیا تھا اِسی لئے حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ کے ساتھ بڑے بڑے صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم احمقوں کے پاس آئے اور فرمایا : ” تم لوگ اپنے خیالات کو بدل کر واپس چلے گئے تھے پھر کیوں لوٹ آ ئے ہو؟ “ احمق مسلمانوں نے کہا : ” ہم نے ایک قاصد کے ہاتھ ایک خط پکڑا ہے جس میں ہمیں قتل کرنے کا حکم ہے ۔“ حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ سے اہل بصرہ نے بھی اِسی قسم کی بات کی اور حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ سے اہل کوفہ نے بھی یہی بات کی ۔بلکہ سب نے مل کر کہا : ” ہم اپنے بھائیوں کی مدد کریں گے اور ہم سب مل کر اُن کی حفاظت کریں گے ۔“ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ انہوں نے پہلے سے ہی کوئی منصوبہ تیار کر رکھا تھا ۔حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” اے اہل کوفہ و بصرہ ! تمہیں اہل مصر کی بات کا علم کیسے ہو گیا جب کہ تم کئی منزلیں طے کر چکے ہو ؟ اﷲ کی قسم ! یہ منصوبہ مدینہ میں ہی تیار کیا گیا تھا ۔“ احمق مسلمان بولے : ” آپ لوگ جیسا بھی خیال کریں ۔ہمیں اِس شخص ( حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ ) کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ ہمیں دھوکا دیتا رہے ۔“ اِن حالات میں حضرت عثمان غنی ضی اﷲ عنہ مسلمانوں کو نماز پڑھاتے رہے اور یہ باغی لوگ بھی اُن کے پیچھے نماز پڑھتے رہے اور جو چاہے خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ سے ملا قات کر سکتا تھا ۔آپ رضی اﷲ عنہ کی نظر میں یہ لوگ خاک سے بھی کمتر تھے ۔یہ لوگ کسی کو گفتگو کرنے سے منع نہیں کرتے تھے۔

مختلف علاقوں سے امدادی لشکروں کی روانگی

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے محاصرے کے دوران مملکت ِ اسلامیہ میں اپنے گورنروں کے پاس خطوط روانہ کئے اور تمام حالات سے مطلع کیا ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے مملکت ِاسلامیہ کے گورنروں کے پاس فرامین بھیجے اور اُن کو اِن واقعات سے مطلع کیا ۔حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے ملک شام سے حضرت حبیب بن مسلمہ فہری کو لشکر دیکر روانہ کیا ۔حضرت عبد اﷲ بن ابی سرح نے حضرت معاویہ بن خدیج کو لشکر دیکر ملک مصر سے روانہ کیا ۔کوفہ سے حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر مدینۂ منورہ کی طرف روانہ ہوئے ۔کوفہ میں صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم میں سے حضرت عقبہ بن عامر ، حضرت عبد اﷲ بن اوفی ،حضرت حنظلہ کاتب وحی اور تابعین میں سے حضرت مسروق ، حضرت اسود ، حضرت شریح ، حضرت عبد اﷲ حکیم مسلمانوں کو خلیفۂ سُوم کی مدد کے لئے اُبھارنے لگے ۔بصرہ میں صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم میں سے حضرت عمران بن حصین ،حضرت انس بن مالک ،حضرت ہشام بن عامررضی اﷲ عنہم اور تابعین میں سے حضرت کعب بن سور ، حضرت ہرم بن حیان مسلمانوں کو امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کی مدد کے لئے اُبھارنے لگے ۔اِسی طرح ملک شام اور ملک مصر میں بھی صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم اور تابعین مسلمانوں کو خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی مدد کے لئے اُبھارنے لگے ۔

خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ کو بے ہوش کر دیا

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے گھر کا احمقوں نے محاصرہ کیا ہوا تھا اور آپ رضی اﷲ عنہ بدستور مسجد نبوی میں آکر مسلمانوں کو نماز پڑھاتے رہے ۔محاصرے کے بعدجو پہلا جمعہ آ یا ۔ اُس میں احمقوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کے خلاف سخت کاروائی کی۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : احمقوں کے محاصرہ کرنے کے بعد جمعہ کا دن آیا تو امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے نماز پڑھائی ۔ خطبہ دینے کے لئے منبر پر چڑھ کر فرمایا : ” اﷲ کی قسم ! اہل مدینہ کو خوب معلوم ہے کہ یہ لوگ ( احمق مسلمان ) رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ارشاد ِ مبارک کے مطابق ”ملعون “ ہیں ۔پس لوگوں کے لئے یہی مناسب ہے کہ نیکی سے لغزشوں کو فنا کردیں ۔“ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اﷲ عنہ نے اُٹھ کر فرمایا : ” میں اِس کی گواہی دیتا ہوں ۔“ حکیم بن جبلہ نے انہیں اُن کا ہاتھ پکڑ کر بٹھا لیا ۔ پھر حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ عنہ اُٹھے تو اُن کو محمد بن ابی قتیسرہ نے بٹھا لیا ۔اِس کے بعد احمق لوگ حملہ کرنے کے ارادے سے منبر کی طرف بڑھے تو مسلمانوں نے انہیں مسجد سے نکال دیا ۔احمق مسلمان مسجد کے باہر سے امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ پر پتھر مارنے لگے اور اتنا پتھر مارا کہ آپ رضی اﷲ عنہ چوٹ کی وجہ سے بے ہوش ہو کر گر پڑے ۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ ، حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ ، حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ عنہ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ باغیوں سے لڑنے لگے ۔امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کا اُٹھا کر گھر لایا گیا ۔تھوڑی دیر بعد آپ رضی اﷲ عنہ ہوش میں آئے تو انہوں نے صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کو لڑائی کرنے سے روک دیا اور واپس بلا بھیجا ۔حضرت علی رضی اﷲ عنہ ، حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ اور حضرت زبیر بن عوام ضی اﷲ عنہ عیادت کے لئے آئے تو اُس وقت بنو اُمیہ کے چند لوگ بیٹھے ہوئے تھے جن میں مروان بن حکم بھی تھا ۔اُن لوگوں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ سے کہا : ” تم نے ہم کو ہلاک کر ڈالا ،یہ سب کاروائیاں تمہاری ہیں ۔اﷲ کی قسم ! اگر تم اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے تو دنیا کو مطیع کر لو گے ۔“ حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ نے کوئی جواب نہیں دیا اور خاموشی سے اُٹھ کر چلے گئے اور حضرت طلحہ بن عبید اﷲ اور حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہم بھی واپس چلے آئے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ گھر میں بے ہوش تھے تو حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ وہاں گئے ۔اُس وقت اُن کے چاروں طرف بنو امیہ کے لوگ تھے ۔حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” اے امیر المومنین رضی اﷲ عنہ ! آپ کی طبیعت کیسی ہے ؟ “ اُس وقت بنو امیہ کے تمام افراد حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور بیک آواز کہنے لگے : ” اے علی ( رضی اﷲ عنہ ) ! تم نے ہمیں تباہ کر دیا ہے ۔تمہیں نے امیر المومنین کے ساتھ یہ سلوک کرایا ہے ۔آگاہ ہو جاو¿ کہ اگر تم اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے تو تمہارا زمانہ بھی بہت تلخ گزرے گا ۔“ یہ سن کر حضرت علی رضی اﷲ عنہ ناراض ہو کر کھڑے ہو گئے اور چلے گئے ۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!


22 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ Khilafat e Rashida 3


22 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 22

احمقوں (شرپسندوں) کی گستاخی، خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کا خطبہ، احمقوں (شر پسندوں) کی بد تمیزی، حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ نے پانی پہنچایا، اُم المومنین سیدہ اُم حبیبہ رضی اﷲ عنہا سے نازیبا سلوک، احمقوں (شر پسندوں) کو ایک مرتبہ پھر سمجھایا، 

احمقوں (شرپسندوں) کی گستاخی

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے مکان کا احمقوں نے محاصرہ کیا ہوا تھا اور گستاخی پر اُتر آئے تھے ۔اِس کے باوجود خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ سے فرمایا کہ وہ احمقوں کو سمجھائیں اور اُن کی جائز مانگیں پوری کی جائیں گی ۔حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ نے احمقوں کو سمجھایا تو وہ مان گئے لیکن حضرت علی رضی اﷲ عنہ کے جانے کے بعد خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے رشتہ دار مروان بن حکم نے احمقوں کو برا بھلا کہا اور ایسی باتیں کی کہ وہ پھر سے خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے خلاف ہو گئے ۔ایسا کئی مرتبہ ہوا کہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے اثمقوں کو سمجھایا اور مروان بن حکم نے بھڑکا دیا ۔یہ تمام واقعہ تاریخ طبری ، تاریخ ابن کثیر اور تاریخ ابن خلدون میں بہت تفصیل سے درج ہے ۔اِس کے بعد احمقوں کی گستاخیاں خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ کے خلاف اتنی بڑھیں کہ انہوں نے ”عصائے نبوی “ کو توڑ دیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عبد الرحمن بن حاطب بیان کرتے ہیں کہ میں نے خود مشاہدہ کیا ہے کہ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ اُس ”عصائے نبوی “ کے سہارے خطبہ دے رہے تھے جسے حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہم بھی استعمال کرتے تھے ۔اُس وقت جھجاہ غفاری بولا : ” اے بے وقوف( نعوذ باﷲ ) !اِس منبر سے اُتر جاؤ ۔“ اِس کے بعداُس نے ” عصائے نبوی “ کو آپ رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ سے چھین لیا اور اپنے دائیں گھٹنے سے توڑ ڈالا ۔حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ منبر سے اُترے اور لوگ انہیں گھر لے گئے ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے حکم دیا کہ ”عصائے نبوی “کو جوڑ دیا جائے ۔اِس واقعہ کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ ایک مرتبہ یا دو مرتبہ گھر سے باہر نکلے تھے کہ محاصرہ ہو گیا اور آپ رضی اﷲ عنہ شہید ہوگئے ۔ نافع کی روایت میں ہے کہ جھجاہ غفاری نے اُس عصا کو جو حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ میں تھا لیکر اپنے گھٹنے کے زور سے توڑ دیا تو اُسی وقت ” آکلہ “ کی بیماری میں مبتلا ہو گیا ۔

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کا خطبہ

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے گھر کا باغیوں نے محاصرہ کیا ہوا تھا اور وہ آپ رضی اﷲ عنہ کے خلافت چھوڑ دینے کی مانگ کر رہے تھے اور دوسری صورت میں (نعوذ باﷲ ) آپ رضی اﷲ عنہ کو شہید کرنے کی دھمکی دے رہے تھے ۔ایسے وقت میں خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ نے خطبہ دیا ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : محاصرے کے بعد امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ ، حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ اور حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ کو بلوا بھیجا ۔ جب یہ لوگ اوراِن کے ساتھ اہل مدینہ بھی آئے تو خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ کے گھر کے دروازے پر ایک بڑا ہجوم تھا ۔حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے گھر کے دروازے پر آ کر فرمایا : ” بیٹھ جاؤ ۔“ یہ حکم سن کر تمام احمق اور غیر احمق سب بیٹھ گئے ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اہل مدینہ سے مخاطب ہو کر فرمایا : ” اے اہل مدینہ ! میں تم کو اﷲ کے سپرد کرتا ہوں اور اُس سے دعا کرتا ہوں کہ میرے بعد تم پر کسی اچھے شخص کو خلیفہ بنائے ۔ “ یہ فرما کر آپ رضی اﷲ عنہ کچھ دیر خاموش رہے پھر سر اُٹھا کر فرمایا : ” میں تم کو اﷲ کی قسم یاد دلاتا ہوں کہ کیا تم کو یہ معلوم نہیں ہے کہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے زخمی ہونے کے وقت تم نے اﷲ تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ اﷲ تعالیٰ تمہاری خلافت کے لئے کسی کو منتخب کردے اور کسی بہترین ہستی کو تمہارا خلیفہ بنائے ۔ کیا تم یہ کہو گے کہ اﷲ تعالیٰ نے یہ دعا قبول نہیں کی یا یہ کہو گے کہ اﷲ تعالیٰ نے جس کو اِس دین کا والی بنایا اُس کو آزمائش میں نہیں ڈالا یا کہو گے کہ اُمت نے دھاندلی سے یا بغیر مشورے کے والی ( خلیفہ ) مقرر کیا اور اُس نے اپنے کام کو بغیر انجام بینی سے اُس کے سپرد کیا ہے ۔پھر میں تم کو اﷲ کی قسم یاد دلاتا ہوں ،تم لوگ میرے سابق الاسلام ہونے کو جانتے ہو ۔جانے دو در گزر کر و کیونکہ تین آدمیوں کے سوا اور کسی کا قتل جائز نہیں ہے ۔ایک زانی محصن کا ،دوسرے مرتد کا اور تیسرے قاتل بغیر حق کا ۔پھر جب تم مجھے قتل کر ڈالو گے تو تلوار تم اپنی گردنوں پر رکھ لو گے ۔پھر اﷲ تعالیٰ تم پر سے اختلاف کو نہیں اُٹھائے گا ۔“ 

احمقوں (شر پسندوں) کی بد تمیزی

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ بڑی محبت سے احمقوں کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن اِس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : احمقوں نے جواب دیا کہ تم نے جو حضرت فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ کے بعد استخارے کی نسبت کہا ہے تو اصل یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے جو کیا اچھا کیا لیکن درحقیقت اﷲ تعالیٰ نے تم کو ( نعوذ باﷲ ) ایک فتنہ بنایا ہے جس میں اُس نے اپنے بندوں کو مبتلا کیا ہے ۔حقوقِ سابق اسلام تمہارے ہیں اور تم اُس کے ضرور مستحق تھے لیکن تم نے بہت سی ایسی باتیں کی ہیں جس سے تم کو ہم حق قائم کرنے کے لئے بھی نہیں چھوڑ سکتے ۔اِس خیال سے کہ مبادا آئندہ سال اور فتنہ و فساد برپا نہ ہو ،باقی رہا تمہارا یہ کہنا کہ تین ہی آدمیوں کو قتل کرنا چاہیئے ۔ اِس کی نسبت ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم اﷲ کی کتاب میں سوا ئے اِن تین لوگوں کے اور لوگوں کا بھی قتل کرناجائز دیکھتے ہیں ۔وہ اُن آدمیوں کا قتل کرنا ہے جو دنیا میں فساد کا باعث ہو ں یا باغی ہوں یا حق و راستی سے منع کرنے والے ہوں اور مخالف ہو ں اور بلا شبہ تم نے امارت کا ذرا دباؤ ہم پر ڈالا اور بے شک جو لوگ ہم سے لڑے اور لڑنے کو آتے ہیں وہ تمہاری امارت کی وجہ سے لڑتے ہیں ۔پس اگر تم خلافت چھوڑ دو تو وہ لوگ بر سرِ مقابلہ نہیں آئیں گے۔“ امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ یہ جواب سن کر خاموشی سے گھر کے اندر چلے گئے اور پھر اِس کے بعد گھر کے باہر نہیں نکلے ۔اہل مدینہ اور صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کو بھی واپس جانے کی قسم دے کر واپس بھیجا اور سوائے حضرت امام حسن بن علی رضی اﷲ عنہ ، حضرت محمد بن طلحہ رضی اﷲ عنہ اور حضرت عبد اﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے سب لوگ اپنے اپنے گھروں کو واپس لوٹ گئے ۔

حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ نے پانی پہنچایا

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے گھر کا محاصرہ احمقوں نے کیا ہوا تھا اور دن گزرنے کے ساتھ ساتھ اُن کی سختی اور بد تمیزی بھی بڑھتی جارہی تھی ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : ملک مصر ، بصرہ اور کوفہ کے احمقوں نے چالیس دنوں تک خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے گھر کا محاصرہ کئے رکھا ۔اٹھارویں دن یہ خبر مشہور ہوئی کہ اسلامی فوجیں مملکت اسلامیہ سے خلیفہ کی امداد کے لئے آرہی ہیں ۔یہ سن کر باغیوں نے محاصرے میں سختی شروع کر دی اور لوگوں کو امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کے پاس جانے سے روک دیا ۔اِس کے علاوہ خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ کا کھانا پانی بھی بند کر دیا ۔امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے حضرات علی بن ابی طالب ، طلحہ بن عبید اﷲ اور زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہم اور امہات المومنین رضی اﷲ عنہما کے پاس کہلا بھیجا کہ” احمقوں نے میرا کھانا پانی بند کر دیا ہے ۔اگر تم لوگ مجھ کو پانی پہنچا سکتے ہو تو پانی بھیج دو ۔“ حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ یہ دردناک خبر سنتے بےچین ہو گئے اور فوراً احمقوں کے پاس جا کر فرمایا : ” اے لوگو ! تمہار ا یہ فعل نہ تو مسلمانوں سے مشابہ ہے اور نہ ہی کافروں کے مشابہ ہے ۔تم لوگ امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کا کھانا پانی بند نہ کر و ۔بے شک رومی اور فارسی بھی اپنے قیدیوں کو کھانا کھلاتے ہیں ۔“ احمقوں نے کہا : ” نہیں ! اﷲ کی قسم ! ایسا کبھی نہیں ہوگا ۔“ حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ یہ سن کر لوٹ آئے ۔علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : ایک روایت میں ہے کہ حضرت عثمان غنی رضی عنہ نے احمقوں سے اپنے فضائل و مناقب کا ذکر کیا کہ شایدہ وہ رُک جائیں اور اﷲ اور اُس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم اور اپنے اولو الامر کی اطاعت کی طرف رجوع کرلیں ۔مگر احمقوں نے ظلم و دشمنی پر قائم رہنے پر اصرارکیا اور لوگوں کو آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس آنے جانے سے روک دیا ۔حتیٰ کہ آپ رضی اﷲ عنہ تنگ ہو گئے اور آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس جو پانی تھا وہ بھی ختم ہو گیا۔پس آپ رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں سے مدد مانگی تو حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ خود سوار ہو کر اپنے ساتھ پانی کا مشکیزہ اُٹھا کر لائے اور اُسے بڑی مشقت سے آپ رضی اﷲ عنہ تک پہنچایا۔حالانکہ اُن جاہلوں نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو سخت و سست کہا اور آپ رضی اﷲ عنہ کی سواری کو بھگانے کی کوشش کی اور آپ رضی اﷲ عنہ کو دھمکایا ۔حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے بھی ان کو بھر پور زجر و توبیخ کی اور یہاں تک فرمایا : ” اﷲ کی قسم ! فارسی اور رومی بھی وہ کام نہیں کرتے جو تم امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کے ساتھ کر رہے ہو۔اﷲ کی قسم ! وہ قید کرتے ہیں تو کھلاتے پلاتے بھی ہیں ۔‘ ‘ مگر احمقوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کی بات ماننے سے انکار کر دیا ۔

اُم المومنین سیدہ اُم حبیبہ رضی اﷲ عنہا سے نازیبا سلوک

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی امداد کے لئے اُم المومنین سیدہ اُم حبیبہ رضی اﷲ عنہا آئیں تو احمقوں نے اُن کے ساتھ بھی بد تمیزی کی ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اِس کے بعد اُم المومنین سیدہ اُم حبیبہ رضی اﷲ عنہا کچھ کھانے کی چیزیں اور پانی لیکر خچر پر سوار ہو کر خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے گھر کے سامنے آئیں تو احمقوں نے روک لیا ۔آپ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا : ” میں امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کے پاس اِس لئے جا رہی ہوں کہ بنو امیہ کی کچھ امانتیں اُن کے پاس رکھی ہوئی ہیں ۔ایسا نہ ہو کہ بیواؤں اور یتیموں کا مال ضائع ہو جائے ۔“ احمق بولے : ”تم کو ہم عثمان ( رضی اﷲ عنہ ) کے پاس نہیں جانے دیں گے ۔“ اور انہیں زبردستی روکنے کی کوشش کی ۔اُم المومنین سیدہ اُم حبیبہ رضی اﷲ عنہا گرتے گرتے بچیں اور اہل مدینہ نے دوڑ کر پکڑلیا اور آہستہ آہستہ آپ رضی اﷲ عنہا کو اُن کے گھر لے گئے ۔علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : سیدہ اُم حبیبہ رضی اﷲ عنہا خچر پر سوار ہو کر آئیں اور آپ رضی اﷲ عنہا کے نوکر اور خادم آپ رضی اﷲ عنہا کے اِرد گِر د تھے ۔ احمقوں نے پوچھا : ” آپ رضی اﷲ عنہا کیوں آئی ہیں ؟“ انہوں نے فرمایا : ” حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے پاس بنو امیہ کے یتیموں اور بیواؤں کی وصایا ہیں ، میں اُن سے اُن کا ذکر کرنا چاہتی ہوں ۔“ مگر احمقوں نے آپ رضی اﷲ عنہا کے ساتھ بد تمیزی کی اور آپ رضی اﷲ عنہا نے اُن سے بہت سختی برداشت کی ۔انہوں نے آپ رضی اﷲ عنہا کے خچر کا تنگ کاٹ دیا اور وہ بدک کر آپ سمیت بھاگنے لگا اور قریب تھا کہ آپ رضی اﷲ عنہا گر پڑتیں اور اگر مسلمان لوگ مل کرخچر کو پکڑ نہیں لیتے تو قریب تھا کہ آپ رضی اﷲ عنہا ماری جاتیں اور ایک بہت بڑا حادثہ ہو جاتا ۔

احمقوں (شر پسندوں) کو ایک مرتبہ پھر سمجھایا

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی ضی اﷲ عنہ کے مکان کا احمقوں نے محاصرہ کیا ہوا تھا اور آپ رضی اﷲ عنہ کو مسجد نبوی میں جا کر نماز پڑھانے سے بھی روک دیا گیا تھا اور دوسرے نماز پڑھا رہے تھے ۔علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : اِن ایام میں غافقی بن حرب لوگوں کو نماز پڑھاتا رہا اور علامہ محمد بن جریر طبری نے بیان کیا ہے کہ محاصرے کے دوران حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ نماز پڑھاتے رہے او ر صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ کی روایت ہے اور امام واقدی نے بیان کیا ہے کہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ اور حضرت ابو ایوب انصاری رضی اﷲ عنہ نماز پڑھاتے رہے ۔ واﷲ و اعلم ۔ محاصرے کے دوران ایک مرتبہ پھر آپ رضی اﷲ عنہ نے احمقوں کو سمجھانے کی کوشش کی اور اپنے گھر کی چھت پر چڑھ کر السلام اعلیکم فرمایا لیکن احمقوں نے جواب نہیں دیا ۔امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” میں تم کو اﷲ قسم دے کر کہتا ہوں کہ سچ سچ کہنا ۔ کیا تم جانتے ہو کہ مدینۂ منورہ میں صرف ایک ہی میٹھے پانی کاکنواں ”رومہ “نامی تھا ۔جس کو خرید کر میں نے مسلمانوں کے لئے وقف کر دیا تھا تاکہ انہیں پانی کی تکلیف سے نجات ملے ۔میں نے اس کو اپنی ملکیت قرار نہیں دیا اور مسلمانوں کی طرح میں بھی اِس کا پانی پیتا رہا ۔ احمقوں نے جواب دیا : ” ہاں یہ سچ ہے ۔“ امیر المومنین رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” پھر کیوں تم لوگ مجھے پانی نہیں پینے دیتے ہو ؟ میں مجبوری سے تالاب کے پانی سے روزہ افطار کرتا ہوں ۔“ احمقوں میں سے کسی نے کوئی جواب نہیں دیا ۔پھر آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” میں تم کو اﷲ کی قسم دے کر کہتا ہوں کیا تم لوگ جانتے ہو کہ مسجد تنگ اور چھوٹی تھی میں نے زمین خرید کر صحن مسجد بڑھایا ۔باغی بولے : ” ہاں یہ سچ ہے ۔“ آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” کیا تم بتا سکتے ہو کہ مجھ سے پہلے بھی کسی شخص کو نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہو ؟ احمقوں نے جواب دیا : ” نہیں ،“ آپ رضی اﷲ عنہ نے ارشاد فرمایا : ” پھر تم مجھے مسجد میں نماز پڑھنے سے کیوں روک رہے ہو؟ “ احمقوں میں سے کسی نے کوئی جواب نہیں دیا اور سب خاموش رہے ۔پھر آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” تم کو اﷲ کی قسم ہے سچ کہنا کیا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے میرے حق میں ایسا اور ایسا نہیں فرمایا ہے ؟ “ احمقوں کے اد پر اِس کلام سے ایک اثر پیدا ہوا جس کی وجہ سے وہ لوگ امیر المومنین رضی اﷲ عنہ سے در گزر کرنے پر آمادہ ہو گئے ۔اِس عرصہ میں مالک اشتر آگیا اور اُس نے احمقوں کو امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کے خلاف اُبھار دیا ۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!


23 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ Khilafat e Rashida 3


23 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 23

میں وہ قمیص نہیں اُتاروں گا جو اﷲ نے پہنائی ہے، اﷲ کی پہنائی قمیص کو نہیں اُتارنا، تمہیں شہید کیا جائے گا، صحابۂ کرام ضی اﷲ عنہم کو مقابلہ کرنے سے روک دیا، اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ضی اﷲ عنہا کی حج پر روانگی، حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ کو امیر حج بنا کر بھیجا، 

میں وہ قمیص نہیں اُتاروں گا جو اﷲ نے پہنائی ہے

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ مسلسل احمقوں کو سمجھاتے رہے اور اِس کوشش میں انہوں نے مالک اشتر کو بات چیت کے لئے بلوایا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : باغیوں نے چالیس رات تک خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ کا محاصرہ کیا اور اِس دوران حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ لوگوں کو نماز پڑھاتے رہے ۔وثاب جو حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے آذاد کردہ غلام تھے اور جن کی گردن پر حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی شہادت کے وقت نیزے کے زخموں کے دو نشان تھے بیان کرتے ہیں مجھے خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے مالک اشتر کو بلانے کے لئے بھیجا ۔جب میں اشتر کو بلا لایا تو اُس وقت ایک تکیہ امیر المومنین حضرت عثمان غنی ضی اﷲ عنہ کے لئے لایا گیا او ر دوسر ا آپ رضی اﷲ عنہ نے اشتر کے لئے منگوایا ۔حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” اے ا شتر ! لوگ مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟ “ اشتر بولا : ” وہ تین چیزوں میں سے ایک کے طلبگار ہیں ۔“ آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” وہ کیا ہیں ؟ “ اشتر بولا : ” وہ لوگ چاہتے ہیں کہ یا تو آپ ( رضی اﷲ عنہ ) خلافت سے دست بردار ہو جائیں اور کہہ دیں کہ یہ تمہار معاملہ ہے تم جس کو چاہو انتخاب کر لو ۔یا خود آپ ( رضی اﷲ عنہ ) اپنا قصاص لیں ۔اگر آپ ( رضی اﷲ عنہ ) کو اِن دو باتو ں میں سے کسی ایک سے انکار ہے تو یہ لوگ آ پ ( رضی اﷲ عنہ ) کو قتل کر دیں گے ۔“ آپ رضی اﷲ عنہ نے پھر دریافت فرمایا : ” کیا اِس کے علاوہ اور کوئی صورت نہیں ہے ؟ “ اشتر نے جواب دیا : ” اِس کے علاوہ اور کوئی صوت نہیں ہے ۔ “ اِس پر حضرت عثمان غنی ضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” جہاں تک خلافت سے دست برداری کا تعلق ہے تو میں اُس قمیص کو نہیں اُتار سکتا جو اﷲ بزرگ و برتر نے مجھے پہنائی ہے ۔پھر میں محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی اُمت کو اِس حالت میں چھوڑ دو ں کہ وہ ایک دوسرے پر ظلم و ستم کرتے رہیں ؟ اﷲ کی قسم ! مجھے یہ بات زیادہ پسند ہے کہ میں آگے بڑھوں تاکہ تم میری گردن مار دو بہ نسبت اِ س کے کہ میں وہ قمیص اُتاردوں جو اﷲ نے مجھے پہنائی ہے ۔جہاں تک اپنی ذات سے قصاص لینے کا تعلق ہے تو اﷲ کی قسم ! مجھے اِس بات کا علم ہے کہ میرے پیش رو دونوں ساتھی سزا دیتے تھے ۔تیسری بات یہ ہے کہ تم مجھے قتل کرو گے تو اﷲ کی قسم ! میرے بعد تم میں اتحاد قائم نہیں ہو گا اور تم کبھی متحد اور مجتمع ہو کر نماز نہیں پڑھ سکو گے اور نہ میرے بعد کبھی متحد ہو کر دشمن سے جنگ کر سکو گے ۔“ اِس کے بعد اشتر اُٹھ کھڑا ہوا اور چلا گیا ۔علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : ایک روایت میں ہے کہ اشتر نے احمقوں کے نمائندے کی حیثیت سے کہا کہ ان کا مطالبہ یہ ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہ اپنے گورنروں کو معزول کر دیں اور اُن کو گورنر بنائیں جنہیں احمق پسند کرتے ہیں ۔اور اگر آپ رضی اﷲ عنہ خلافت سے دست بردا ر نہیں ہوتے ہیں تو مروان بن حکم کو ہمارے حوالے کر دیں جسے ملک مصر کی طرف حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی جانب سے جعلی خط لکھنے کی وجہ سے احمق لوگ سزا دیں گے ۔حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو ڈر ہوا کہ اگر انہوں نے مروان بن حکم کو احمقوں کے حوالے کر دیا تو وہ اُسے قتل کر دیں گے اور اِس طرح خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ ایک مسلمان کے قتل کا سبب بن جائیں گے ۔

اﷲ کی پہنائی قمیص کو نہیں اُتارنا

سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم نے خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو پہلے ہی خبر دی تھی کہ اﷲ تعالیٰ تمہیں ( خلافت کی ) قمیص پہنائے گا اور تم اُسے نہیں اُتارنا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر مسند احمد اورجامع ترمذی کے حوالے سے لکھتے ہیں : حضرت نعمان بن بشیر نے بیان کیا : ” حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہاکے نام سے مجھے ایک خط لکھ کر دیا اور میں نے وہ خط لے جا کر اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ کو دیا تو اُسے پڑھ کر انہوں نے فرمایا : ” میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بے شک اﷲ تعالیٰ تمہیں ایک قمیص پہنائے گا ۔پس اگر کوئی شخص اسے اُتارنا چاہے تو تم اُسے نہیں اُتارنا ۔یہ بات آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمائی ۔“ نعمان بن بشیر آگے کہتے ہیں : میں نے کہا : ” اے اُم المومنین رضی اﷲ عنہا ! آپ رضی اﷲ عنہا نے اِس حدیث کو پہلے بیان کیوں نہیں کیا ؟ “ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا : ” بیٹے ! اﷲ کی قسم ! میں اِسے بھول گئی تھی ۔“ 

تمہیں شہید کیا جائے گا

سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم نے خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو پہلے ہی بتا دیا تھا کہ تمہیں انتہائی مظلومیت سے شہید کیا جائے گا اور تم اُس وقت صبر کرنا ۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : ” اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے بعض اصحاب کو میرے پاس بلا لاو¿ ۔“میں نے کہا : ” میرے والد حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو ؟ “ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں ۔“ میں نے عرض کیا : ” حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو ؟ “ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں ۔“ میں نے پھر عرض کیا : ” آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے چچا ذاد بھائی حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کو ؟ “ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں ۔“ پھر میں نے عرض کیا : ” حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو ؟ “ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ۔“ جب حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ آگئے تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم سے فرمایا : ” ایک طرف ہو جایئے ۔“ اور حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سے سرگوشی میں بات کرنے لگے اور حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کا رنگ تبدیل ہو نے لگا ۔ جب ” یوم الدار “ ( حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے گھر کے محاصرے ) کا واقعہ ہوا اور آپ رضی اﷲ عنہ کو اُن کے گھر میں محصور کر دیا گیا تو ہم نے کہا : ” اے امیر المومنین رضی اﷲ عنہ ! کیا آپ رضی اﷲ عنہ باغیوں سے جنگ نہیں کریں گے ؟ “ آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” نہیں ! رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مجھ سے عہد لیا ہے اور اِس پر میں مستقل مزاجی سے قائم رہوں گا ۔“

صحابۂ کرام ضی اﷲ عنہم کو مقابلہ کرنے سے روک دیا

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے گھر کا باغیوں نے محاصرہ کیا ہوا تھا اور صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم اپنے اپنے بیٹوں کے ساتھ مل کر باغیوں سے مقابلہ کرنے کے لئے ڈٹے ہوئے تھے ۔اِسی دوران حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے ایک خواب دیکھا ۔اُس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے تمام صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم اور اہل مدینہ کو حکم دیا کہ باغیوں کے مقابلے پر سے ہٹ جائیں اور اپنے اپنے گھر چلے جائیں ۔ علامہ عماد الدین اسمعیل بن کثیر لکھتے ہیں : ” ذوالقعدہ کے آخر سے لے کر 8 / ذوالحجہ جمعہ کے روز تک مسلسل محاصرہ رہا ۔اُس سے ایک دن پہلے یعنی جمعرات کو حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے انصار و مہاجرین صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم اور اہل مدینہ جو آ پ رضی اﷲ عنہ کے پاس موجود تھے اورلگ بھگ سات سو تھے۔اِن میں حضرت عبد اﷲ بن عُمر فاروق ،حضرت عبد اﷲ بن زبیر ، حضرت حسین بن علی اور حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہم بھی تھے ۔حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” جس پر میرا حق ہے ،میں اُسے قسم دیتا ہوں کہ وہ اپنے ہاتھ کو روکے رکھے اور اپنے اپنے گھر چلا جائے ۔“ آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس بڑے بڑے صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم اور اُن کے بیٹوں کا جم غفیر تھا ۔پس اندر سے جنگ سرد پڑ گئی اور باہر سے گرم ہو گئی اور معاملہ سخت ہو گیا اور اِس کا سبب یہ تھا کہ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے ایک خواب دیکھا جو آپ رضی اﷲ عنہ کی شہادت پر مُہرتھا ۔پس آپ رضی اﷲ عنہ نے کئے گئے وعدہ کی اُمید پر اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے ملاقات کے شوق میں اﷲ کے حکم پر فرمانبرداری اختیار کر لی تاکہ آپ رضی اﷲ عنہ حضرت آدم علیہ السلام کے دونوں بیٹوں میں سے بہترین بیٹا بن جائیں جسے اُس کے بھائی نے قتل کا ارادہ کیا تو اُس نے کہا : ” میں چاہتا ہوں کہ تُو میرے اور اپنے گناہ کے ساتھ لوٹے اور دوزخیوں میں سے ہو جائے اور یہ ظالموں کی جزا ہے ۔“حضرت عثمان غنی ضی اﷲ عنہ نے سب لوگوں سے فرمایا : ” میں نے خواب میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو دیکھا ہے ۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے عثمان غنی رضی اﷲ عنہ ! ہمارے پاس افطاری کرنا ۔“ یہ سننے کے بعد اہل مدینہ اور انصار و مہاجرین صحابہ¿ کرام باہر نکل کر اپنے اپنے گھر چلے گئے ۔سب سے آخر میں نکلنے والے حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ تھے ۔

اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ضی اﷲ عنہا کی حج پر روانگی

حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کا احمقوں نے محاصرہ کیا ہوا تھا کہ اِسی دوران حج کا موسم آ گیا اور مدینۂ منورہ میں احمقوں کے طوفان بدتمیزی سے مسلمان بہت پریریشان تھے یہاں تک کے اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ضی اﷲ عنہا نے حج پر جانے کا ارادہ بنا لیا ۔علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیرلکھتے ہیں : اور جب یہ واقعہ ( اُم المومنین سیہ اُم حبیبہ رضی اﷲ عنہا کے ساتھ بد تمیزی کا واقعہ ) ہوا تو مسلمانوں نے اِسے بہت محسوس کیا اور اکثر لوگ (خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ کے حکم کے مطابق ) اپنے گھروں میں بیٹھ گئے اور حج کا وقت آ گیا تو اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا اِس سال حج کو روانہ ہوئیں ۔آپ رضی اﷲ عنہا سے عرض کیاگیا کہ آپ رضی اﷲ عنہا ٹھہرتیں تو زیادہ مناسب ہوتا ، شاید احمق لوگ آپ رضی اﷲ عنہا سے ڈر جائیں ۔آپ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا : ” اگر میں احمقوں کے متعلق اپنی رائے بتاؤں تو مجھے خدشہ ہے کہ مجھے بھی اُن کی جانب سے وہی اذیت اُٹھانی پڑے گی جو سیدہ اُم حبیبہ رضی اﷲ عنہا کو اُٹھانی پڑی تھی ۔“ اِس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہا حج پر روانہ ہو گئیں ۔

حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ کو امیر حج بنا کر بھیجا

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ بدستور محاصرے میں تھے اور مدینۂ منورہ میں احمقوں نے طوفانِ بد تمیزی مچایا ہوا تھا ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : ” اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا نے حج پر جانے کا ارادہ فرمایا اور اپنے بھائی محمد بن ابو بکر صدیق کو اپنے ساتھ لے جانے کی غرض سے بلوایا ۔محمد بن ابو بکر صدیق باغیوں کے ہم نوالہ ہم پیالہ ہو رہے تھے اِسی لئے بہن کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا ۔حضرت حنظلہ کاتب ِ وحی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” تم کو اُم المومنین رضی اﷲ عنہا اپنی ہمراہی کے لئے بلا رہی ہیں اور تم اُن کے ساتھ جانے کے بجائے آبرو باختہ اوباشوں کی اتباع کر رہے ہو جو تمہارے شایان شان نہیں ہے ۔اگر اِس محاصرے کا آخری نتیجہ یہ ہوگا کہ حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ مغلوب ہو گئے تو تم پر بنو عبد مناف مسلط ہو جائیں گے۔“ محمد بن ابو بکر صدیق نے کوئی جواب نہیں دیا ۔حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ احمقوں کے مقابلے پر دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے ۔خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے اُن کو امیر حج مقرر کر دیا اور مکۂ معظمہ روانہ ہونے کا حکم دیا ۔حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا : ” مجھے اِن احمقوں سے جہاد کرنا حج کرنے سے زیادہ محبوب ہے ۔“ لیکن امیر المومنین رضی اﷲ عنہ نے اُن کو قسم دے کر مجبور کیا اور حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ امیر ِ حج بن کر مکہ معظمہ روانہ ہو گئے ۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!


24 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ Khilafat e Rashida 3


24 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 24

احمقوں (شرپسندوں) کا حملہ، خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی شہادت، حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی مظلومانہ شہادت، احمقوں نے بیت المال لوٹ لیا، تجہیز و تکفین، حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی شہادت پر صحابۂ کرام کے تاثرات، اولیات ِ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ ، اگلی کتاب

احمقوں (شرپسندوں) کا حملہ

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی نے حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ کو امیرحج بنایا تو اُن کے ساتھ حج پرروانہ ہونے کے لئے آس پاس کے علاقوں کے مسلمان بھی آ کر جمع ہونے لگے ۔باہری مسلمان جب احمقوں کو دیکھتے تو انہیں برا کہتے اور حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی طرف داری کرتے تھے ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : احمقوں نے جب یہ دیکھا کہ حجاج امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی طرف مائل ہو رہے ہیں اور اُن کے مقرر کئے ہوئے امیر حج کے ساتھ حج کو جارہے ہیں ۔اطراف و جوانب سے جو لوگ آتے وہ بھی خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ کا دم بھرتے ہیں تو سب کے سب امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کو شہید کرنے پر تُل گئے اور اُن کی شہادت کو اپنی گلوخاصی کا ذریعہ سمجھ کر سب نے حملہ کر کے دروازہ کھولنے کا قصد کیا ۔ امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ جو اُس وقت نماز پڑھ رہے تھے اور سورہ طٰہٰ شروع کی تھی ۔چونکہ گھر میں جتنے لوگ تھے سب نماز میں شریک تھے اِس لئے کسی نے بھی احمقوں کو کسی بھی فعل سے نہیں روکا ،نماز سے فارغ ہونے کے بعد سب لوگ چلے گئے اور امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ بیٹھ کر قرآن پاک کی تلاوت کرنے لگے ۔جس وقت اِس آیت وقالوا حسبنا اﷲ و نعم الوکیل پر بہنچے تو حاضرین سے مخاطب ہو کر فرمایا : ” رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مجھ سے اقرار لیا تھا اور میں اُس پر قائم ہوں ۔“ یہ فرما کر آپ رضی اﷲ عنہ نے صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم کے بیٹوں کو لڑنے سے روکا ۔حضرت امام حسن بن علی رضی اﷲ عنہ سے فرمایا : ” تم اپنے باپ کے پاس واپس چلے جاؤ ۔“ اِس کے باوجود حضرت امام حسن بن علی رضی اﷲ عنہ احمقوں سے لڑے ۔حضرت مغیرہ بن اخنس بن شریق رضی اﷲ عنہ چند لوگوں کو لے کر آئے اور احمقوں سے مقابلہ کرنے لگے اور اِس مقابلے میں شہید ہو گئے ۔پھر حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ یہ فرماتے ہوئے آئے :” اے لوگو ! مجھے کیا ہو گیا ہے کہ میں تم کو نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے دوزخ کی طرف بلاتے ہو ۔“ اور لڑنے لگے۔

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی شہادت

حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ احمقوں سے مقابلہ کر رہے تھے کہ خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ نے انہیں بھی لڑنے سے روک دیا ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : ” امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے اُن کو ( حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ کو ) بھی لڑائی سے روکا ۔اِس کے بعد احمق لوگ مکان کے پیچھے سے جس جانب عمرو بن حرام کا مکان تھا سیڑھی لگا کر گھس آئے ۔جو لوگ سامنے کے دروازے پر تھے اُن لوگوں کو اِس کی اطلاع تک نہیں ہوئی ۔ایک احمق امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے پاس گیا اور خلافت کی بابت بحث کرنے لگا ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے انکارکیا ۔یہ شخص واپس آیا پھر دوسرا پھر تیسرا گیا اور ہر ایک نے خلافت چھوڑنے کی بابت گفتگو کرتا اور واپس آجاتا ۔اِسی دوران حضرت عبد اﷲ بن سلام رضی اﷲ عنہ آئے ۔انہوں نے احمقوں کو سمجھانا شروع کیا تو احمق لوگ لڑنے مرنے پر آمادہ ہو گئے ۔اِس کے بعد محمد بن ابوبکر صدیق امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے پاس گئے اور دیر تک گفتگو کرتے رہے جس کے ذکر کی ضرورت نہیں ہے ۔پھر شرمندہ ہو کر واپس چلے آئے۔اِس کے بعد کمینوں کا ایک گروہ پہنچا ۔اُن میں سے ایک نے امیر المومنین رضی اﷲ عنہ پر تلوار چلائی جسے سیدہ نائلہ بنت قراضہ ( حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی بیوی ) رضی اﷲ عنہا نے

تلوار کو ہاتھ سے روکا تو انگلیاں کٹ گئیں ۔ دوسرے نے وار کیاتو خون کا قطرہ اُس قرآن پاک پر گرا جس کی خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ تلاوت کر رہے تھے اور آپ رضی اﷲ عنہ شہید ہو گئے ۔علامہ محمد بن جریر طبری اور امام ابن اثیر کی روایت میں ہے کہ محمد بن ابو بکر صدیق نے خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ سے کافی دیر گستاخانہ گفتگو کی پھر آپ رضی اﷲ عنہ کی داڑھی مبارک کو پکڑ لیا ۔امیر المومنین رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” اگر تمہارے والدِ محترم حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ ہو تے تو وہ بھی اِس طرح میری داڑھی نہ پکڑتے ۔“ محمد بن ابو بکر صدیق یہ سن کر شرمندہ ہو گئے اور خاموشی سے واپس آکر احمقوں سے الگ ہو گئے ۔ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ احمقوں کو روکنے کی کوشش کی ۔

حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی مظلومانہ شہادت

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو احمقوں نے انتہائی مظلومانہ حالت میں شہید کیا ۔ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے خلاف احمقوں کا محاصرہ جاری رہا یہاں تک کہ ” ایام تشریق “ گز رگئے اور تھوڑے سے لوگ حج سے واپس بھی آگئے ۔باغیوں کو اطلاع ملی کہ حجاج کرام مدینۂ منورہ کی طرف آنے کا عزم کئے ہوئے ہیں تاکہ امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کو احمقوں سے بچا سکیں ۔اِس کے علاوہ احمقوں کو یہ بھی معلوم ہوا کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے حضرت حبیب بن مسلمہ کو ایک لشکر دیکر بھیجا ہے اور حضرت عبد اﷲ بن سعد بن ابی سرح نے معاویہ بن خدیج کوایک لشکر دے کر بھیجا ہے اور کوفہ سے حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ بھی لشکر لے کر روانہ ہو چکے ہیں اوربصرہ سے حضرت مجاشع بھی ایک لشکر لے کر روانہ ہو چکے ہیں اور یہ چاروں لشکر مدینۂ منورہ کے قریب پہنچ چکے ہیں ۔پس اِس موقع پر احمقوں نے کسی کی بات پر کان نہیں دھرا اور اپنی رائے پر عمل کرنے کا پختہ عزم کر لیا اور اپنی کوشش میں کوئی کوتاہی نہیں چھوڑی ۔احمقوں نے مدینۂ منورہ میں لوگوں کی کمی اور حج کی وجہ سے اُن کی غیر حاضری سے پورا فائدہ اُٹھایا اور حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے گھر کے دروازے کو جلا دیا اُور اُن کے گھر سے ملحقہ عمرو بن حزم کے گھر سے دیوار پھاندی۔لوگوں نے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی طرف سے شدید مقابلہ کیا اور باہم شدید قتال کیا اور ایک دوسرے کو دعوت مبارزت دی ۔حضرت ابو ہریرہ کہنے لگے : ” اِ س دن شمشیر زنی کرنا اچھا ہے ۔“ امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کے ساتھیوں کی ایک جماعت شہید ہو گئی اور احمقوں میں سے بھی کافی لوگ مارے گئے ۔حضرت عبد اﷲ بن زبیر اور حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہم کو بھی کافی زخم آئے۔امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کی طرف سے شہید ہو نے والوں میں حضرت زیادہ بن نعیم فہری ، حضرت مغیرہ بن اخنس بن شریق اور حضرت نیار بن عبد اﷲ اسلمی تھے ۔جب حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے یہ صورت ِ حال دیکھی تو مسلمانوں کو قسم دی کہ وہ اپنے گھروں کو لوٹ جائیں تو وہ سب واپس چلے گئے جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے ۔اب آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس گھر والوں اور آزاد کئے غلاموں کے سوا کوئی نہیں رہا ۔احمق لوگ دروازے اور دیواروں پر سے آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس آ گئے اور آپ رضی اﷲ عنہ نماز پڑھ رہے تھے اور سورہ طٰہٰ کی تلاوت کر رہے تھے ۔احمق لوگ غالب آگئے تھے اور گھر کا دروازہ اور چھپر جل چکے تھے اور آگ کے بیت المال تک پہنچنے کا اندیشہ ہو گیا تھا ۔امیر المومنین رضی اﷲ عنہ قرآن پاک لیکر تلاوت کرنے بیٹھ گئے اور جب اِس آیت وقالو ا حسبنا اﷲ و نعم الوکیل پر پہنچے تو سب سے پہلے جو شخص آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس آیا اُسے ”موت اسود “ کہا جاتا ہے ۔اُس نے شدت سے آپ رضی اﷲ عنہ کا گلہ گھونٹا حتیٰ کہ آپ رضی اﷲ عنہ بے ہوش ہو گئے اور آپ رضی اﷲ عنہ کے حلق میں سانس آنے جانے لگی ۔پس اُس نے اِس خیال سے آپ رضی اﷲ عنہ کو چھوڑ دیا کہ اُس نے آپ رضی اﷲ عنہ کو شہید کر دیا ہے ۔ اِس کے بعد محمد بن ابو بکر صدیق نے داخل ہو کر داڑھی پکڑ لی پھر شرمندہ ہو کر بھا گ کر نکل گیا ۔پھر ایک اور شخص آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس آیا اُس کے پاس تلوار تھی ،اُس سے آپ رضی اﷲ عنہ کو تلوار ماری تو آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے ہاتھ سے بچاؤ کیا تو ہاتھ کٹ گیا ۔حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” اﷲ کی قسم ! یہ پہلا ہاتھ ہے جس نے مفعل کو لکھا ہے اور ہاتھ سے خون کا پہلا قطرہ اِس آیت فسیکفیکھم اﷲ پر گرا ۔پھر ایک اور شخص تلوار سونتے ہوئے آیا تو سیدہ نائلہ رضی اﷲ عنہا اُس کے سامنے آگئیں تاکہ آپ رضی اﷲ عنہ کو بچائیں اور تلوار کو پکڑ لیا۔ اُس شخص نے تلوار کو کھینچا تو سیدہ نائلہ رضی اﷲ عنہا کی انگلیاں کٹ گئیں ۔ پھر ایک شخص نے خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ کے پیٹ پر تلوار رکھ کر اُس پر اپنا بوجھ ڈال دیا ۔ایک اور روایت میں ہے کہ محمد بن ابوبکر صدیق کے جانے کے بعد عافقی بن حرب نے آگے بڑھ کر حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے منہ پر لوہے کی ایک سلاخ ماری اور آپ رضی اﷲ عنہ کا سامنے جو مصحف رکھا ہوا تھا اُس پر پاؤں مارا تو مصحف گھوم گیا اور پھر حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے سامنے ٹک گیا اور اُس پر آپ رضی اﷲ عنہ کا خون بہنے لگا ۔پھر سودان بن حمران تلوار لیکر آگے بڑھا تو سیدہ نائلہ رضی اﷲ عنہا نے روکا تو اُس نے آپ رضی اﷲ عنہا کی انگلیاں کاٹ دیں اور پھر تلوار مار کر حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو شہید کر دیا ۔حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے آزاد کردہ غلام نے آ کر سودان کو تلوار ماری اور اُسے قتل کر دیا اور اُس غلام نے قتہ نامی شخص کا بھی قتل کر دیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ” عمروہ بن حق حملہ کر کے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے سینے پر چڑھ کر بیٹھ گیا جب کہ آپ رضی اﷲ عنہ کے اندر کچھ جان باقی تھی ۔اُس وقت اُس نے آپ رضی اﷲ عنہ پر نیزے سے نو حملے کئے ۔عمرو بن حق خود کہتا ہے ” میں نے اِن میں سے تین حملے اﷲ کے لئے کئے اور چھ حملے اِس لئے کئے کہ میرے سینے میں انتقام کی آگ بھڑکی ہوئی تھی ۔“

احمقوں نے بیت المال لوٹ لیا

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو شہید کرنے کے بعد احمقوں نے لوٹ مار شروع کردی ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو شہید کرنے کے بعد احمقوں نے آپ ضی اﷲ عنہ کے غلاموں سے مقابلہ کیا اور چند غلام بھی شہید ہو گئے ۔احمقوں نے گھر میں جو کچھ پایا لوٹ لیا ۔عورتوں کے کپڑے زیورات تک چھین لئے ۔بیت المال کی طرف گئے اور اُسے بھی لوٹ لیا ۔احمقوں میں سے ایک نے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کا سر کاٹنے کی کوشش کی تو عورتوں نے شور مچایا ۔ابن عدیس نے کہا : ” جانے دو اِس کے سر سے ہمیں کوئی غرض نہیں ہے ۔“ بیان کیا جاتا ہے کہ جس نے امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو شہید کرنے کا بیڑہ اُٹھایا تھا وہ کنانہ بن بشیر تھا اور اُسی نے تلوار چلائی تھی ۔عمرو بن حق نے نیزہ کے چند زخم لگائے تھے ۔عمیر بن ضابی نے ٹھوکریں ماری تھیں جس سے کئی پسلیاں ٹوٹ گئیں تھیں ۔ٹھوکریں لگاتے وقت وہ کہتا جاتا تھا کہ کیوں ! تم نے ہی میرے باپ کو قید کیا تھا جو بے چارہ قید ہی کی حالت میں مر گیا ۔

تجہیز و تکفین

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی عنہ کو شہید کرنے کے بعد احمقوں کی انقام کی آگ نہیں بجھی تھی اور وہ آپ رضی اﷲ عنہ کی تجہیز و تکفین میں بھی رکاوٹ ڈالنے لگے ۔علامہ عبد الرحن بن خلدون لکھتے ہیں : امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲکی شہادت اٹھارہ (18) ذی الحجہ 35 ہجری جمعہ کے روز ہوئی ۔تین دن تک بے گوروکفن پڑے رہے ۔حضرت حکیم بن حرام اورحضرت جبیر بن مطعم دونوں حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ کے پاس گئے ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے دفن کرنے کی اجازت دے دی ۔رات کے وقت مغرب اور عشاءکے درمیان جنازہ لیکر نکلے ۔جنازے کے ساتھ حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ حضرت امام حسن بن علی رضی اﷲ عنہ ابو جہم بن حذیفہ اور مروان بن حکم تھے ۔جنت البقیع کے باہر ”حس کوکب “ میں دفن کیا گیا ۔حضرت جبیر بن مطعم نے نماز پڑحائی لیکن بعض مورخوں کا خیال ہے کہ مروان نے اور بعض کے مطابق حضرت حکیم بن حرام نے نماز پڑھائی تھی ۔روایت کی جاتی ہے کہ احمقوں نے دفن کرنے اور جنازہ پڑھنے سے بھی تعرض کیا تھا ۔لیکن حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ نے اُن کو جھڑکا اور سختی سے روکا ۔بعض کا خیال ہے کہ حضرت علی ،حضرت طلحہ ، حضرت زید بن ثابت اور حضرت کعب بن مالک رضی اﷲ عنہم بھی جنازے میں شریک تھے اور غسل کے بغیر اُنہیں کپڑوں میں دفن کیا جو حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ شہادت کے وقت پہنے ہوئے تھے ۔ شہادت کے وقت آپ رضی اﷲ عنہ کی عُمر مبارک بیاسی (82) سال یا اٹھاسی (88) سال یا پچھتر (75) سال تھی ۔آپ رضی اﷲ عنہ لگ بھگ بارہ سال خلیفہ رہے ۔

حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی شہادت پر صحابۂ کرام کے تاثرات

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی شہادت عالم اسلام کے لئے بہت بڑا سانحہ تھی اور پورے عالم اسلام پر اِس کے گہرے اثرات پڑے ۔صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کے لئے تو یہ بہت ہی بڑا جھٹکا تھا ۔خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ کی شہادت پر حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” جس دن حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ شہید ہوئے مجھے اِس قدر غم ہوا کہ میری عقل زائل ہو گئی اور اپنی زندگی بُری معلوم ہونے لگی ۔“ حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” انہوں نے ( احمقوںم نے ) سازش کی اور جو وہ چاہتے تھے وہ پورا نہیں ہو سکا ۔اُن کے لئے ہلاکت ہے ۔“ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” یہ وہ لوگ ہیں جن کی کوششیں دنیاوی زندگی میں اکارت گئیں ،حالانکہ وہ خیال کرتے تھے کہ وہ اچھا کام کر رہے ہیں ۔ اے اﷲ ! تُو انہیں پشیمان بنا اور پھر اپنی گرفت میں لے ۔“ حضرت سعید بن زید رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” اے لوگو ! جو مظالم تم نے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ پر کئے اگر اُن کی تاب نہ لا کر اُحد پہاڑ بھی پھٹ جائے تو کچھ زیادہ نہیں ہے ۔“ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ جنت میں جائیں گے اور اُن کو شہید کرنے والے جہنم میں جائیں گے ۔“ حضرت عبد اﷲ بن سلام رضی اﷲ عنہ نے پہلے احمقوں سے فرمایا : ” حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو شہید کرنا تو بہت بڑی بات ہے تمہاے دلوں میں اِس کا خیال بھی نہیں آنے پائے ۔اﷲ کی قسم ! جو کوئی انہیں شہید کرے گا وہ کوڑھی ہو جائے گا ۔اﷲ کی قسم ! اﷲ کی شمشیر ابھی تک نیام میں ہے اگر تم نے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو شہید کر دیا تو یاد رکھنا اﷲ تعالیٰ اپنی شمشیر بے نیام کر دے گا اور مسلمانوں کے درمیان ہمیشہ کے لئے خونریزی کا سلسلہ جاری و ساری ہو جائے گا ۔ یاد رکھو ! ایک نبی علیہ السلام کے قتل کے عوض ستر (70) ہزار آدمی اور ایک خلیفہ کے قتل کے بدلہ میں پینتیس (35) ہزار آدمی قتل کئے جاتے ہیں ۔ اِس کے بعد بھی آپسی اتفاق و اتحاد بہت مشکل ہی سے ہوتا ہے ۔“ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت عبد اﷲ بن سلام رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” لوگوں نے اپنے لئے فتنہ کا دروازہ کھول لیا ہے ا ور یہ دروازہ قیامت تک بند نہیں ہو گا ۔“ حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” اگر سب لوگ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے قتل پر متفق ہو گئے ہوتے تو یقینا آسمان سے پتھر برستے ۔“ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا : ” اﷲ کی قسم ! حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ مظلوم شہید کئے گئے ہیں میں اُن کے قاتلوں سے قصاص کا مطالبہ کروں گی ۔“ علامہ عمادا لدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” سب ے پہلا فتنہ خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو شہید کرنا ہے اور آخری فتنہ دجال کا آنا ہے ۔“ 

 اولیات ِ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ 

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے سب سے پہلے لوگوں کے لئے جاگیریں مقرر فرمائیں ۔سب سے پہلے جانوروں کے لئے چراگاہیں قائم کیں ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے حکم دیا کہ تکبیر میں آواز نیچی رکھیں ( اذان کی طرح بلند نہ ہو ) ۔جمعہ کے دن اذان ِ اول دینے کا حکم صادر فرمایا ۔ سب سے پہلے موذنوں کی تنخواہیں مقرر فرمائیں ۔سب سے پہلے لوگوں کو خود ہی ذکوٰة نکالنے کا حکم دیا ۔سب سے پہلے خلیفہ ہیں جو اپنی والدہ محترمہ کی زندگی میں ہی خلیفہ مقر رہوئے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے سب سے پہلے پولیس اور اُس کے عہدے دار مقرر فرمائے ۔سب سے پہلے مسجد میں مقصورہ تعمیر کرایا ۔

اگلی کتاب

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی خدمات اتنی زیادہ ہیں کہ اُس کے لئے اچھی خاصی ضخیم کتاب تیا رہو جائے گی۔ ہم بس اتنے پر ہی اکتفاءکرتے ہیں ۔اب ان شاءاﷲ آپ کی خدمت میں خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کا ذکر پیش کریں گے ۔

٭....٭....٭   


جمعرات، 3 اگست، 2023

01 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ Khilafat e Rashida 2


01 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی 

قسط نمبر 1

خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ، سلسلہ نسب اور پیدائش، کنیت اور لقب، خاندان، بچپن اور جوانی، رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی دعا، قبول ِ اسلام کے لئے دِل نرم، دِل میں کشمکش، حق کی طرف رہنمائی، بہن اور بہنوئی کی خبر لو، کچھ بھی کر لو ،ہم اسلا م نہیں چھوڑیں گے، یہ اﷲ کا کلام ہے، اے عُمر !تمھیں مبارک ہو، اسلام قبول کرنے آیا ہوں، قبول ِاسلام، الفاروق کا لقب، اعلانیہ ہجرت

خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ

حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا ذکر ہم آپ کی خدمت میں پیش کر چکے ہیں۔اب حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا ذکر پیش کر رہے ہیں۔اس سے پہلے ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اپنے وصال سے پہلے مسلمانوں کی رائے سے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو مسلمانوں کا خلیفہ نامزد کر دیا تھا۔اس کے بارے میں ہم نے مختصراًخلیفہ اول کے ذکر میں بتایا تھا۔اب ہم اسے تفصیل سے پیش کریں گے۔لیکن اس سے پہلے ہم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا مختصر تعارف پیش کردیں۔

سلسلہ نسب اور پیدائش

حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا سلسلہ نسب اس طرح ہے۔حضرت عُمر بن خطاب بن نُفیل بن عبد العزیٰ بن رباح بن قُرط بن رزاح بن عدی بن کعب بن لوی ہے۔کعب بن لوی پر آپ رضی اﷲ عنہ کا سلسلہ نسب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے سلسلہ نسب سے آٹھویں پُشت پر مل گیا ہے۔والدہ محترمہ حنتمہ بنت ہاشم بن مغیرہ بن عبد اﷲ بن عمر بن مخزوم تھیں۔حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی پیدائش واقعہ”عام الفیل“کے تیرہ (۳۱)سال بعد مکہ مکرمہ میں ہوئی۔یعنی آپ رضی اﷲ عنہ ،رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے لگ بھگ تیرہ(۳۱) سال چھوٹے ہیں۔(تہذیب التہذیب جلد ۷)

کنیت اور لقب

حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی کنیت ”ابو حفص“ہے۔اُم المومنین سیدہ حفصہ رضی اﷲ عنہاکے والدہیں،اور اسی نسبت سے ”ابو حفص“کنیت ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ کا لقب ”الفاروق “ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ کے اسلام قبول کرنے سے پہلے مسلمان چھپ کرنماز ادا کرتے تھے۔جب آپ رضی اﷲ عنہ نے اسلام قبول کیا تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے عرض کیا:”یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم !کیاہم حق پر نہیں ہیں ؟“آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”ہم بالکل حق پر ہیں۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا:”بس پھر ہم کھلے عام نماز ادا کریں گے۔“اس کے بعد سے مسلمان کھلے عام نماز ادا کرنے لگے،اس موقع پررسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے آپ رضی اﷲ عنہ کو ”الفاروق“کا لقب عطا فرمایا۔

ّخاندان

حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ خاندان ”بنو عدی“کے ہیں۔قریش میں دس بڑے خاندان یا شاخیں تھیں۔بنو ہاشم،بنو اُمیہ،بنو نوفل،بنو عبد الدار،بنو اسد،بنو تیم،بنو مخزوم،بنو عدی،بنو جمح،اور بنوسمح۔قریش کے اِن دس بڑے خاندانوں نے اپنی اپنی ذمہ دار ی سنبھال رکھی تھی۔بنو عدی قریش کے سفیر تھے،اور وہ دوسرے ممالک اور علاقوں سے تعلقات سفارت کی ذمہ داری اِن کے ذمہ تھی۔اور مناضرہ کے ”حکم“یعنی قاضی بنو عدی کے ہی مقرر ہوتے تھے۔عرب میں یہ دستور تھا کے برابر کے دو رئیسوںمیں سے کسی کو افضلیت کا دعویٰ ہوتا تو بنو عدی سے ایک شخص کو ثالث مقرر کیا جاتا تھا۔وہ دونوں کے دلائل سن کر جس کے حق میں بھی فیصلہ دیتا تھا،اُسے تمام قریش قبول کرتے تھے۔حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے چچا ذاد بھائی حضرت زید بن عمرو بن نُفیل ہیں۔

بچپن اور جوانی

حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ بچپن میں بکریاں چراتے تھے،اور گھوڑسواری ،تلوار بازی ،اور کشتی وغیرہ میں مہارت حاصل کی۔جوان ہوئے تو تجارت کرنے لگے،کیونکہ قریش کا اصل ذریعہ معاش تجارت تھا۔جوانی میں آپ رضی اﷲ عنہ بہت ہی گرم مزاج تھے،اور بہت بہادر تھے۔اسی وجہ سے تمام قریش پر آپ رضی اﷲ عنہ کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی۔عام نوجوانان قریش میں پڑھنا لکھنا سیکھ کر علم الانساب اور شاعری سے متصف ہوئے۔جسمانی ورزش ،پہلوانی اور شہ سواری میں اتنے ماہر ہو گئے تھے۔اور عُکاظ کے میلوں میں اپنی شہ زوری اور شہ سواری کے کرشمے دِکھا کر شہرت حاصل کی۔آپ رضی اﷲ عنہ کا رنگ سفید تھا،جس پر سُرخی غالب تھی۔جس کی وجہ سے نگاہیں آپ رضی اﷲ عنہ پر مرکوز ہو جاتی تھیں۔اﷲ تعالیٰ نے آپ رضی ا ﷲ عنہ کو کمال معنوی اور جمال ظاہری دونوں عطا فرمائی تھیں۔

رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی دعا

حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ نے اُس زمانے میں اسلام قبول کیا جب مکہ مکرمہ میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اور مسلمانوں پر قریش ظلم کے پہاڑ توڑ رہے تھے۔اور اسلام انتہائی مظلومیت کی حالت میں تھا،یہاں تک کہ مسلمان چھپ کر نماز ادا کیا کرتے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ کے اسلام قبول کرنے سے اسلام کو بہت زبردست قوت حاصل ہوئی۔اُس وقت مکہ مکرمہ میں دو عُمر بہت طاقتور تھے،ایک عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ ،اور دوسرا عُمر بن ہشام(ابو جہل ) تھا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اُن کے اسلام قبول کرنے کی دعا کی تھی۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے دعا میں فرمایا:”اے اﷲ تعالیٰ!عُمر بن خطاب (رضی اﷲ عنہ)یا عُمر بن ہشام (ابوجہل) میں سے جو تجھے زیادہ پسند ہے،اُسے اسلام قبول کرنے کی توفیق عطا فرما،اور اسلام کو قوت عطا فرما۔“(جامع ترمذی)اور ایک روایت میں تو یہ ہے کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے لئے خصوصی دعا فرمائی تھی۔حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم میں اتنی قوت نہیں تھی کہ ہم خانہ کعبہ کے پاس نماز پڑھ سکیں۔جب حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اسلام قبول کیا،تو انہوں نے بڑھ کر خانہ کعبہ کے پاس نماز پڑھی ،اور ہم نے بھی اُن کے ساتھ نماز ادا کی۔(سیرت النبی ابن ہشام)

قبول ِ اسلام کے لئے دِل نرم

رسول اﷲکی دعا کو اﷲ تعالیٰ نے حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے حق میں قبول فرمایا۔اور آپ رضی اﷲ عنہ کے سامنے ایسے کئی واقعات پیش آئے ،جن کی وجہ سے آپ رضی اﷲ عنہ کا دِل اسلام کے لئے نرم ہوگیا۔خود حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ اِس بارے میں فرماتے ہیں۔ایک مرتبہ میں خانہ کعبہ کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے ہیں۔میرے دل میں تجسس پیدا ہوا کہ دیکھوںتو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کیا پڑھ رہے ہیں؟میں اُن کے قریب خانہ کعبہ کے پردے کی آڑ میں چھپ کر سننے لگا۔حضور صلی اﷲ علیہ وسلم قرآن پاک کی تلاوت فرما رہے تھے،یہ اِتنا فصیح و بلیغ کلام تھا کہ میں حیرت ذدہ رہ گیا۔میں نے سوچا کہ اﷲ کی قسم!یہ تو شاعر ہیں،جیسا کہ قریش اِن کے بارے میں کہتے ہیں۔اُسی وقت آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی:ترجمہ۔”یہ ایک بزرگ رسول کا قول (کہا ہوا)ہے،یہ کسی شاعر کا قول نہیں ہے۔تم لوگ کم ہی ایمان لاتے ہو۔“(سورہ الحاقہ آیت نمبر 14)یہ سننے کے بعد میں نے سوچا کہ شاید یہ کاہن ہیں۔لیکن اتنے میں آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی:ترجمہ۔”یہ کسی کاہن کا قول نہیں ہے،تم لوگ کم ہی نصیت قبول کرتے ہو۔یہ تو رب العالمین کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔“(سورہ الحاقہ آیت نمر 34)

دِل میں کشمکش

اﷲ تعالیٰ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی دعا قبول کر کے حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے بھلائی کا ارادہ فرما لیا تھا،آپ رضی اﷲ عنہ آگے فرماتے ہیںکہ اتنا سننا تھا کہ میرے دل میں احساس پیدا ہوا کہ اسلام ہی حق ہے،اور یہ احساس لگاتار بڑھتا جا رہا تھا۔میں وہاں سے چلا آیا،لیکن دل و دماغ میں وہ دل نشین اور خوب صورت کلام گونج رہا تھا۔(سیرت النبی ابن ہشام)اب اسلام دھیرے دھیرے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دل میں جڑ پکڑنے لگا۔لیکن چونکہ آپ رضی اﷲ عنہ بہت ہی غصہ ور اور ضدی طبیعت کے مالک تھے اِس لئے اِس احساس کو اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دے رہے تھے۔لیکن لاشعور میں اسلام کی حقانیت کا احساس بیٹھ چکا تھا،اور اِسی کی وجہ سے اکثر غور و فکر میں مبتلا رہنے لگے۔اسی دورا ن دوسرا واقعہ پیش آیا۔

حق کی طرف رہنمائی

حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ پہلے واقعہ کے بعد اکثر غور و فکر کرنے لگے تھے،کہ دوسرا واقعہ پیش آیا۔آپ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں۔ایک دِن میں (قربان گاہ کے پاس)اِسی غورو فکر میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص بچھڑا لیکر آیا،اور اُسے ذبح کیا۔اُس بچھڑے نے زور کی چیخ ماری،اور اُس کے اندر سے آواز آئی ۔”اے ذریح!(عرب میں بہادر اور دلیر شخص کو ذریح کہا جاتا تھا)معاملہ کامیابی کا ہے،ایک آدمی صاف صاف زبان سے کہہ رہا ہے۔لا الہ الا اﷲ۔“میں حیرت سے کھڑا ہو گیا ،اور اُس کٹے ہوئے بچھڑے کو دیکھنے لگا۔اُس میں سے پھر آواز آئی۔”وہی شخص آخری نبی ہے۔“(صحیح بخاری)یہ کوئی فرشتہ یا نیک جن تھا،جو بچھڑے کے اندر سے آپ رضی اﷲ عنہ سے مخاطب تھا۔اِس واقعہ نے آپ رضی اﷲ عنہ پر بہت گہرا اثر ڈالا۔لیکن چونکہ ضدی طبیعت کے مالک تھے،اِس لئے اپنی ضد پر اڑے رہے۔اِس کے بعد وہ واقعہ پیش آیا ،جس نے آپ رضی اﷲ عنہ کی ضد کو توڑ دیا،اور آپ رضی اﷲ عنہ کی زندگی کا رُخ ہی بدل گیا۔

بہن اور بہنوئی کی خبر لو

حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کشمکش میں مبتلا خانہ کعبہ کے صحن میں بیٹھے تھے۔اور اُن سے کچھ دور قریش کے سردار بیٹھے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے بارے میں مشورہ کر رہے تھے۔ابوجہل نے کہا کہ اگر کوئی محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم ) کو (نعوذ باﷲ)قتل کر دے گا ،تو میں اُس کی اوراُس کے خاندان کی کفالت کروں گا،اور انہیں کسی بھی نقصان سے بچاؤں گا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ میں یہ کام کروں گا۔آپ رضی اﷲ عنہ چونکہ قریش میں سب سے بہادر اور دلیر تھے،اِس لئے قریش کے تمام سرداروں نے کہا کہ اے عُمر بن خطاب !بے شک تم یہ کام کر سکتے ہو۔اور سب نے آپ رضی اﷲ عنہ کو اتنا اُکسایا کہ آپ رضی اﷲنے تلوار نکال لی،اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی تلاش میں نکل پڑے۔تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم اپنے صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم کے ساتھ صفا پہاڑی کے دامن میں حضرت ارقم رضی اﷲ عنہ کے مکان”دارِ ارقم“میں ہیں۔آپ رضی ا ﷲعنہ تلوار لیکردارِارقم کی طرف جانے لگے،راستے میں حضرت نعیم بن عبد اﷲ رضی اﷲ عنہ ملے۔(یہ اسلام قبول کر چکے تھے،لیکن اپنے اسلام کو ظاہر نہیں فرمایا تھا)اُنہوں نے پوچھا:”اے عُمر بن خطاب!بہت غصہ میں دکھائی دے رہے ہو؟اور یہ تلوار سونت کر کہاں جا رہے ہو؟“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”میں اُس شخص (صلی اﷲ علیہ وسلم ) کے پاس جا رہا ہوں،جس نے قریش کے گھر گھر میں جھگڑا لگا دیا ہے۔اور ہمارے معبودوں کو چھوڑ کر ایک اﷲ کی طرف بلا رہا ہے،میں اُسے قتل کر دوں گا،تو سارا جھگڑا ہی ختم ہو جائے گا۔“حضرت نعیم بن عبد اﷲ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اے عُمر بن خطاب !تُم غلط راستے پر چل رہے ہو،اور اﷲ کی قسم!تم اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہو۔کیا تُم بنو عدی(حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ کے خاندان یا قبیلے کا نام)کو برباد کرنا چاہتے ہو؟تمہارا کیا خیال ہے؟اگر تم محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم )کو قتل کر دو گے تو کیا بنو عبد مناف (بنو ہاشم اور بنو عبد المطلب)تم کو زندہ چھوڑ دیں گے؟“ یہ سن کر حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”میرا اندازہ ہے کہ تُو صابی(بے دین ) ہو گیا ہے۔(جو شخص اسلام قبول کرتا تھا،تو قریش اُسے صابی کہتے تھے)اگر ایسا ہے تو میں پہلے تیرا ہی قتل کرتا ہوں۔“جب حضرت نعیم بن عبد اﷲ رضی اﷲ عنہ نے دیکھا کہ اُن کی جان پر بن آئی ہے تو آپ رضی ا ﷲ عنہ نے فرمایا:”میں تم سے کہتا ہوں کہ محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم) سے پہلے اپنے گھر والوں کی خبر لو، کیونکہ کئی لوگ اسلام قبول کر چکے ہیں۔“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے پوچھا:”وہ کون کون ہیں؟“انہوں نے جواب دیا‘”تمھاری بہن اور بہنوئی اور چچا ذاد بھائی بھی اسلام قبول کر چکے ہیں۔“

کچھ بھی کر لو ،ہم اسلا م نہیں چھوڑیں گے

حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے جب اپنی بہن اور بہنوئی کے بارے میں سنا توغصہ کے عالم میں اپنے بہنوئی کے گھر کی طرف چل پڑے۔ادھر حضرت نعیم بن عبد اﷲ رضی اﷲ عنہ نے دارِارقم جاکر تمام واقعہ بتا دیا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ غصہ کی حالت میں اپنے بہنوئی کے گھر پہنچے تو انہیں قرآن پاک کی تلاوت کی آواز سنائی دی۔سورہ طٰہٰ کی آیات آپ صلی اﷲ علیہ وسلم پر نازل ہوئی تھیں،اور وہ لیکر حضرت خباب بن ارت رضی اﷲ عنہ آئے تھے ،اور اندر دونوں کو پڑھا رہے تھے۔تلاوت کی آواز سن کر حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا غصہ قابو کے باہر ہو گیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے دروازہ کھٹکھٹایا۔اند ر سے پوچھا گیا ،کون ہے؟آپ رضی اﷲ عنہ نے جواب دیا:”عُمر بن خطاب۔“یہ سن کر حضرت خباب بن ارت رضی اﷲ عنہ فوراً چھپ گئے،اور حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے بہنوئی حضرت سعید بن زید رضی اﷲ عنہ نے دروازہ کھولا۔آپ رضی اﷲ عنہ اندر آتے ہی اپنے بہنوئی کو مارنے لگے،اور فرمانے لگے:”تُو صابی ہو گیا ہے۔“آپ رضی اﷲ عنہ بہت طاقتور تھے،اور غصے کے عالم میں مارتے ہی جارہے تھے۔ بہن نے جب دیکھا کہ وہ اُن کے شوہر کو مارتے ہی جارہے ہیں ،تو وہ شوہر کو بچانے کے لئے درمیان میں آگئی۔آپ رضی اﷲ عنہ سخت غصے میں تھے،اِس لئے توجہ نہیں کی،اور بہن کے درمیان میں آتے ہی ایک ہاتھ اُسے بھی لگ گیا۔وہ گِر پڑی ،اور اُس کے منہ سے خون نکلنے لگا۔وہ بھی حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی بہن تھیں،اور جوش اور غصہ انہیں بھی وراثت میں ملا تھا۔بہن کو بھی غصہ آ گیا،وہ کھڑی ہوئیں اور کہا:”اے اﷲ کے دشمن ! کیا تُو ہمیں اِس لئے مار رہا ہے کہ ہم اﷲ کی وحدانیت کا اقرار کرتے ہیں؟تو سُن !میں گواہی دیتی ہو کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے،اور محمد صلی اﷲ علیہ وسلم اﷲ کے رسول ہیں۔اب تُجھے جو بھی کرنا ہے کر لے،ہم اسلام نہیں چھوڑنے والے ہیں۔“

یہ اﷲ کا کلام ہے

حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ اپنے بہنوئی کو مار رہے تھے،اور بہن کی طرف توجہ نہیں کی تھی۔لیکن جب بہن کی غصہ بھری آواز سنی تو اُس کی طرف دیکھاکہ اُن کی بہن کے منہ سے خون نکل رہا ہے ۔یہ دیکھ کر آپ رضی ا ﷲ عنہ کو جھٹکا لگا،اور اس پر بہن کا پُر عزم لہجہ اور الفاظ نے اُن کے دل پر اثر کر دیا۔اور تمام غصہ اور ضد ختم ہو گئی ،انہیں احساس ہوا کہ اسلام قبول کرنے بعد اسلام کی حقانیت سے دِل اتنا منور ہو جاتا ہے کہ انسان بڑی سے بڑی مصیبت کا مردانہ وار مقابلہ کر لیتا ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ نرم پڑ گئے،اور بہن سے فرمایا:”اچھا یہ تو بتاو¿!تم لو گ کیا پڑھ رہے تھے؟“بہن نے کہا:”میں نہیں بتاو¿ں گی۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”میری بہن تمہارے رویہ اور الفاظ سے میرا دل بہت متاثر ہو گیا ہے،میں جاننا چاہتا ہوں کہ وہ کون سی نعمت ہے؟جسے ملنے پر میری پیاری بہن مجھ پر ناراض ہو گئی ہے؟“بہن نے کہا:”تم ناپاک ہو ،اِس لئے اِسے نہیں چھو سکتے ہو، جاؤ غسل کر کے آؤ،اور وضو کر لو۔“

آپ رضی اﷲ عنہ نے غسل اور وضو کیا،تو بہن نے صحیفہ دیا۔اِس میں سورہ طٰہٰ اور کچھ دوسری سورہ تھیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اِس میں ”بسم اﷲ الرحمن الرحیم “دیکھا،اور جب ”الرحمن الرحیم“پر پہنچے تو کانپ اُٹھے۔پھر خود کو سنبھالا،اور آگے پڑھنے لگے۔ترجمہ۔”طٰہٰ۔ہم نے یہ قرآن پاک آپ (صلی اﷲ علیہ وسلم )پر اِس لئے نہیں اُتارا کہ آپ(صلی اﷲ علیہ وسلم) مشقت میں پڑ جائیں۔بلکہ اُس کے لئے نصیحت ہے جو اﷲ سے ڈرتا ہو۔اِس کا اُتارا جانا اُس کی طرف سے ہے،جس نے زمین اور آسمان کو پیدا کیا۔جو رحمن ہے،عرش پر قائم ہے،جس کی ملکیت آسمانوں اور زمین اور اِن دونوں کے درمیان اور ہر ایک چیز پر ہے۔اگر تُو اونچی بات کہے ،تو وہ ہر ایک پوشیدہ بلکہ پوشیدہ سے پوشیدہ چیز کو بھی بخوبی جانتا ہے۔وہی اﷲ ہے،جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے،بہترین نام اُسی کے ہیں۔“(سورہ طٰہٰ آیت نمبر ۱ سے ۸ تک)اِن آیات نے آپ رضی اﷲ عنہ کے دل پر بہت اثر کیا،اِتنا پڑھنے کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”کیا قریش اِسی سے بھاگتے ہیں؟“کسی نے کوئی جواب نہیں دیا۔اِس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ آگے پڑھنے لگے،اور جب اِن آیات پر پہنچے۔ترجمہ”بے شک میں ہی اﷲ ہوں،میرے سِوا عبادت کے لائق کوئی نہیں ہے۔پس تُو میری ہی عبادت کر ،اور میری یاد کے لئے نماز قائم رکھ۔قیامت یقینا آنے والی ہے،جسے میں پوشیدہ رکھنا چاہت ہوں۔تاکہ ہر شخص کو وہ بدلہ دیا جائے،جس کے لئے اُس نے کوشش کی ہے۔پس اِس یقین سے تجھے کوئی شخص روک نہ دے ،جو اس پر ایمان نہیں رکھتا ہو،اور اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہو،پس وہ ہلاک ہو جائے۔“(سورہ طٰہٰ آیت ۴۱ سے ۶۱ تک)آپ رضی اﷲ عنہ نے جیسے ہی اِن آیات کی تلاوت کی،تو بے ساختہ پکار اُٹھے کہ یہ اﷲ کا کلام ہے۔

اے عُمر !تمھیں مبارک ہو

حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ پر سورہ طٰہٰ کی ابتدائی آیات کا ایسا اثر پڑا کہ آپ رضی اﷲ عنہ بے ساختہ پکار اُٹھے کہ یہ اﷲ کا کلام ہے،اور بے شک محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم) سچے ہیں۔اِتنا سنناتھا کہ حضرت خباب بن ارت رضی اﷲ عنہ جو چھپے ہوئے تھے،نکل کر باہر آئے ،اور فرمایا:”اے عُمر بن خطاب !تمہیں مبارک ہو،اور خوش ہو جاو¿،رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے دُعا کی تھی کہ ”اے اﷲ !دو عُمر(حضرت عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ،اور عُمر بن ہشام یعنی ابوجہل)میں سے ایک عُمر جو تیرے نزدیک بہتر ہو،اُس کے ذریعے اِسلام کو قوت عطا فرما۔“اور مجھے اُمید ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی یہ دعا تمہارے حق میں اﷲ تعالیٰ نے قبول فرما لی ہے۔“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت خباب بن ارت رضی اﷲ عنہ سے فرمایا:”مجھے محمد(صلی اﷲ علیہ وسلم ) کے پاس لے چلو۔“حضرت خباب بن ارت رضی اﷲ عنہ خوشی خوشی انہیں لیکر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف روانہ ہوئے۔

اسلام قبول کرنے آیا ہوں

حضرت خباب بن ارت رضی اﷲ عنہ خوشی خوشی حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو لیکر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں آرہے تھے۔اِدھر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ”دارِ ارقم “میں صحابہ کرام رضی اﷲ عنہ کے ساتھ موجود تھے،اور انہیں یہ خبر مل چکی تھی کہ حضرت عُمر فاروق رضی عنہ (نعوذ باﷲ)رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے قتل کے ارادے نکل چکے ہیں۔حضرت خباب بن ارت رضی اﷲ عنہ ”دارِارقم“پر پہنچے ،اور دروازہ کھٹکھٹایا۔اندر سے پوچھا گیا :”کون ہے؟“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”میں عُمر بن خطاب ہوں۔“حضرت حمزہ رضی اﷲ عنہ اُس وقت تک اسلام قبول کر چکے تھے،اور آپ رضی اﷲ عنہ قریش کے بہت بہادر اور دلیر شخص تھے۔انہوں نے فرمایا:”اگر عُمر بن خطاب کسی غلط ارادے سے آیا ہے،تو آج یہ ضرور میرے ہاتھوں سے قتل ہو گا۔“رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”دروازہ کھول دو،اگر اﷲ تعالیٰ نے اِس کے لئے بھلائی چاہی ہے،تو یہ اسلام قبول کر لے گا۔اور اِس کے علاوہ اِس کا کوئی اور اِرادہ ہے تو اِس کو قتل کرنا تمہارے لئے آسان ہو جائے گا۔“حضرت حمزہ رضی اﷲ عنہ آگے بڑھے ،اور درواز کھول کر حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو دونوں بازوو¿ں میں جکڑ لیا۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم آگے بڑھے،اور حضرت حمزہ رضی اﷲ عنہ سے فرمایا:”اِسے چھوڑ دو۔“جب اُنہیں چھوڑا تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی چادر پکڑ کر ہلکا جھٹکا دیا اور فرمایا:”اے خطاب کے بیٹے!تم باز نہیں آؤ گے؟ایسا نہ ہو کہ اﷲ تمہیں کسی مصیبت میں مبتلا کر دے۔اب بتاؤ ،کیا ارادہ ہے؟“

قبول ِاسلام

رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ سے فرمایا کہ اب بتاو¿کیا ارادہ ہے؟حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دل میں اسلام گھر کر چکا تھا،اور رہی سہی کسر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی محبت آمیز جھڑکی نے پوری کر دی۔انہوں نے عرض کیا:”اے اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم !اسلام قبول کرنے کے ارادے سے آیا ہوں۔“اتنا سننا تھا کہ تما م صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے اتنی زور سے ”اﷲ اکبر“کا نعرہ لگایا کہ ”صفا پہاڑی“اُس نعرے سے گونج اُٹھی۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے کلمہ پڑھ کررسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے دست مبار ک پر اسلام قبول کیا۔(مسند احمد،جامع ترمذی) حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے دست مبارک پر اسلام قبول کر لیا،اور آپ رضی اﷲ عنہ کے اسلام قبول کرنے سے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اور تمام صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کو بے حد خوشی ہوئی۔حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا اسلام قبول کرنا گویا کہ اسلام کی فتح تھی،آپ رضی اﷲ عنہ کی ہجرت ”نصرت“تھی،اورآپ رضی اﷲ عنہ کی امامت ”رحمت“تھی۔ہم میں یہ ہمت و طاقت نہیں تھی کہ ہم خانہ کعبہ کے صحن میں نماز پڑھ سکیں۔لیکن جب حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اسلام قبول کر لیا تو آپ رضی اﷲ عنہ نے مشرکین سے اِس قدر جدال و قتال کیا کہ عاجز آکر انہوں نے ہمارا پیچھا چھوڑ دیا،اور ہم خانہ کعبہ کے صحن میں نماز پڑھنے لگے۔(طبرانی،طبقات ابن سعد)

الفاروق کا لقب

اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا:”یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم !کیا ہم زندہ یا مُردہ دونوں حالتوں میں حق پر نہیں ہیں؟“آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”قسم ہے اُس ذات ِپاک کی جس کے قبضہ¿ قدرت میں میری جان ہے !بے شک تم حق پر ہو،چاہے وفات پاو¿ یا زندہ رہو۔یہ سن کر آپ رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا:”اے اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم!پھر چُھپنا کیوں؟قسم ہے اُس ذات ِپاک کی جس نے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے،ہم ضرور کھلے عام نکلیں گے۔اور اﷲ تعالیٰ کی عبادت کریں گے۔“رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اجازت دے دی۔اب تما م صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم ”دارِارقم “سے باہر دو صف بنا کر نکلے۔ایک صف میں حضرت حمزہ رضی اﷲ عنہ تھے،اور دوسری صف میں حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ تھے۔اور دونوں صفوں کے درمیان رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم چل رہے تھے۔اِسی طرح یہ لوگ ”خانہ کعبہ“کے صحن میں داخل ہوئے۔جب کافروں نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو مسلمانوں کے ساتھ دیکھا تو بہت ہی حیرت ذدہ اور صدمے میں پڑ گئے۔کسی کی ہمت نہیں ہوئی کہ خانہ کعبہ کے صحن میں مسلمانوں کو نماز پڑھنے سے روکے۔اُس دِن مسلمانوں نے کھلے عام نماز ادا کی،اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ کو ”الفاروق“کا لقب دیا۔حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے جس نے اپنا اسلام (مسلمان ہونا)علی اعلان ظاہر کیا،وہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ ہیں۔حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اسلام قبول کیا،تو اسلام ظاہر ہوا۔ورنہ لوگ اپنا اسلام ظاہر نہیں کرتے تھے،بلکہ چھپاتے تھے۔اب کُھلم کُھلا لوگوں کو اسلام کی دعوت دی جانے لگی،اور ہم خانہ کعبہ کے صحن میں بیٹھنے ،طواف کرنے ،مشرکین سے بدلہ لینے اور اُن کا جواب دینے کے قابل ہوگئے۔

اعلانیہ ہجرت

حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ اسلام قبول کرنے کے بعد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔مدینہ منورہ کے انصارکے اسلام قبول کرنے کے بعد مسلمانوں کو اﷲ تعالیٰ نے ایک مرکز عطا فرما دیا۔اور رسول اﷲ صلی اﷲعلیہ وسلم کو حکم دیا کہ مسلمانوں کو مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دے دیں۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ اپنی اپنی سہولت سے مدینہ منورہ ہجرت کریں۔قریش مسلمانوں کو روکنے کی کوشش کر رہے تھے،اِسی لئے تمام مسلمان چھپ چھپ کر ہجرت کر رہے تھے۔لیکن حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ اتنے بہادر تھے کہ آپ رضی اﷲ عنہ نے کھلے عام قریش کو چیلنج کر کے ہجرت کی۔حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے سوا ہم کسی ایسے ایک شخص کو بھی نہیں بتلا سکتے،جس نے اعلانیہ ہجرت کی ہو ،سوائے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے۔جس وقت حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ ہجرت کے ارادے سے نکلے تو آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنی تلوار حمائل کی،اور اپنے شانے پر کمان لٹکائی ،اور ہاتھ میں ترکش کے تیر کر لے لیا۔پھر خانہ کعبہ میں تشریف لائے،وہاں قریش کے سرداران بیٹھے ہوئے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اُن کے سامنے سات مرتبہ خانہ کعبہ کا طواف کیا،مقام ابراہیم پر دو رکعت پڑھیں۔اور پھر قریش کے سرداروں کی مجلس کے پاس آکر ایک ایک شخص سے فرمایا کہ تمہاری صورتیں بگڑیں،اور تم تباہ ہو جاو¿۔اگر کوئی تم میںسے اپنی ماں کو بے اولاد ،بیٹے کویتیم اور بیوی کو بیوہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہوتووہ مکہ مکرمہ کے باہر آکر مجھ سے مقابلہ کرے۔مگر وہاں کسی میں تاب نہیں کہ وہ آپ رضی اﷲ عنہ کا پیچھا کرتا۔آپ رضی اﷲ عنہ کی بہادری دیکھ کر کئی صحابہ رضی اﷲ عنہم بھی آپ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ ہوگئے،اور ایک اچھا خاصا قافلہ تیار ہو گیا۔ایک روایت کے مطابق لگ بھگ تیس افراد نے آپ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ ہجرت کی تھی۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں