جمعرات، 3 اگست، 2023

02 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ Khilafat e Rashida 2


02 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی 

قسط نمبر 2

اﷲ نے زبان اور دِل پر حق جاری کردیا، میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو عُمر ہوتے، فرشتے عزت کرتے ہیں،شیطان ڈر کر بھاگتا ہے، حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ سے مشورہ، حضرت عثمان غنی بن عفان رضی اﷲعنہ سے مشورہ، حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی رائے، خلیفہ دوم کے بارے میں وصیت، میں نے سب سے بہترین شخص کو خلیفہ بنایا ہے، آخری وقت میں اسلام کی فکر، خلیفہ دوم کی نامزدگی کا اعلان، خلیفہ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا پہلا خطبہ، خلیفہ بننے کے بعد پہلا حکم

اﷲ نے زبان اور دِل پر حق جاری کردیا

حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو اﷲ تعالیٰ نے بہت اچھی عقل اور سمجھ عطا فرمائی تھی۔اور آپ رضی اﷲ عنہ ،حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے ساتھ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے خصوصی مُشیر تھے۔اﷲ تعالیٰ نے قرآن ِپاک میں کئی جگہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی حمایت میں آیات نازل فرمائی۔اِدھر زمین پر آپ رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے درخواست کی اور اُدھر آسمان سے اﷲ تعالیٰ کا حکم آپ رضی اﷲ عنہ کی حمایت میں نازل ہوا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میرا جی چاہتا ہے کہ” مقام ابراہیم“ پر دو رکعت نماز پڑھوں۔اﷲ تعالیٰ نے قرآن پاک میں حکم نازل فرمایا کہ”مقام ابراہیم“کو مصلیٰ بنا لو۔آپ رضی ا ﷲ عنہ نے خواتین کے پردے کے بارے میں فرمایا تو اﷲ تعالیٰ نے قرآن پاک میں پردے کا حکم نازل فرمادیا۔اور بھی کئی مقامات پر اﷲ تعالیٰ نے آپ رضی اﷲ عنہ کی حمایت میں آیات نازل فرمائیں۔ایک روایت کے مطابق قرآن پاک میں سترہ (۷۱)مقامات ایسے ہیں ،جہاں اﷲ تعالیٰ نے آپ رضی اﷲ عنہ کی حمایت میں آیات نازل فرمائیں۔حضرت عُمر رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”اﷲ تعالیٰ نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی زبان اور دِل پر حق جاری کر دیا ہے۔“(جامع ترمذی)

میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو عُمر ہوتے

حضرت عمرفاروق رضی اﷲ کو اﷲ تعالیٰ نے دین کی بہت اچھی سمجھ عطا فرمائی تھی۔حضرت ابو ذر رضی ا ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”اﷲ تعالیٰ نے حق کو حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی زبان پر جاری کر دیا ہے کہ وہ ہمیشہ حق ہی بولتے ہیں۔“(سنن ابن ماجہ)حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا :”اﷲ تعالیٰ نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی زبان اور دِل پر حق جاری کر دیا ہے۔“(المستدرک،مسند البزار)حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”تُم سے پہلی اُمتوں میںمحدث یعنی صاحب الہام گذرتے رہے ہیں،اگر میری اُمت میں کوئی ہوتا تو وہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ ہوتے۔“(صحیح بخاری)حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا :”اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تووہ حضرت عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ ہوتے۔“(طبرانی)حضرت عقبہ بن عامر سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ حضرت عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ ہوتے۔“(جامع ترمذی،المستدرک )

فرشتے عزت کرتے ہیں،شیطان ڈر کر بھاگتا ہے

حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کافروں کے لئے بہت سخت اور مسلمانوں کے لئے بہت نرم تھے۔کافروں کے لئے آپ رضی اﷲ عنہ کی سختی کو اﷲ تعالیٰ پسند فرماتے تھے۔حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی بارگاہ میں جبرئیل علیہ السلام حاضر ہوئے،اور عرض کیا:”یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم !حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے فرما دیجیئے کہ اُن کا غضب اﷲ کو عزیز ہے،اور اُن کی رضا کے مطابق ہی حکم ہوتا ہے۔(طبرانی)امام ابن عساکر نے حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”تمام آسمانی مخلوق(فرشتوں)میں سے کوئی ایسا نہیں ہے ،جو حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی عزت و توقیر نہ کرتا ہو۔اور زمین پر شیطان اُن سے ڈر کر بھاگتا ہے۔(ابن عساکر)اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”میں جن و انس و شیاطین کو حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے ڈر کر بھاگتے ہوئے دیکھتا ہوں۔“(جامع ترمذی)اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہاسے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے شیطان خوف کے باعث بھاگتا ہے۔“(ابن عساکر)امام طبرانی ،حضرت سدیسہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”جس وقت سے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اسلام قبول کیا،تب سے جب کبھی اُن کو شیطان ملا،اور آمنا سامناہوا تو وہ اُلٹے پاؤں بھاگا ہے۔“(طبرانی)

حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ سے مشورہ 

حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اپنے بعد حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو خلیفہ نامزد کیا۔اور اِس بارے میں پہلے بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم سے مشورہ لیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اپنے مرض الموت کے زمانے میں حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو اپنے بعد خلیفہ مقرر کر دیا تھا۔ جب آپ رضی اﷲ عنہ نے ارادہ فرمایا تو اُس وقت حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ کو بلایا۔(حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ اولین اسلام قبول کرنے والوں میں سے ہیں،اور” عشرہ مبشرہ“ میں سے ہیں۔)اور اُن سے فرمایا:”بتاو¿ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟“انہوں نے فرمایا:”اے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے خلیفہ رضی ا ﷲ عنہ !وہ اوروں کی بہ نسبت آپ رضی اﷲ عنہ کی رائے سے بھی افضل ہیں،مگر اُن کے مزاج میں ذرا شدت ہے۔“حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”یہ شدت اِس وجہ سے ہے کہ وہ مجھ کو نرم دیکھتے تھے۔جب وہ خود خلیفہ بنیں گے تو اِس قسم کی اکثر باتوں کو چھوڑ دیں گے۔اے ابو محمدرضی اﷲ عنہ(حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ کی کنیت ہے)!میں نے اُن کو بغور دیکھا ہے کہ جس وقت میں کسی شخص پر غضب ناک ہوتا ہوں ،تو حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ مجھے نرمی کا مشورہ دیتے تھے۔اور جب کبھی میں نرم ہوتا تھا ،تو مجھے اُس پر سختی کا مشورہ دیتے تھے۔اے ابو محمدرضی اﷲ عنہ!یہ باتیں جو میں نے تم سے کہی ہیں،تم اِن کا کسی اور سے ذکر نہ کرنا۔“حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”بہت اچھا۔“

حضرت عثمان غنی بن عفان رضی اﷲعنہ سے مشورہ

خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اِس کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سے مشورہ کیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔اِس کے بعدحضرت ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ نے حضرت عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ کو بلایا،اور اور اُن سے فرمایا :”اے ابو عبد اﷲرضی اﷲ عنہ!(حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی کنیت ہے)مجھے بتاو¿ کہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کیسے ہیں؟“حضرت عثمان غنی رضی ا ﷲ عنہ نے فرمایا:”آپ رضی اﷲ عنہ اُن کو سب سے ذیادہ جانتے ہیں۔“خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”ہاں اے ابو عبد اﷲ رضی اﷲ عنہ!اس کی ذمہ داری مجھ پر ہے۔“پھر آگے فرمایا:”اے اﷲ تعالیٰ!میں حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے باطن کو اُن کے ظاہر سے بہتر سمجھتا ہوں،ہم میں اُن جیسا دوسرا کوئی شخص نہیں ہے۔“پھر انہوں نے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سے فرمایا:”اے ابو عبد اﷲ رضی اﷲ عنہ !اﷲ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے،اِن باتوں کا کسی سے ذکر نہیں کرنا۔“حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”جی بہت اچھا۔“اس کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اگر میں نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو چھوڑ دیا ،تو تمہیں نہیں چھوڑوں گا۔مجھے معلوم نہیں،ممکن ہے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ اِس کو قبول نہ کریں،اُن کے لئے تو یہی بہتر ہے کہ وہ تمہاری خلافت کا بار اپنے سر نہ لیں۔میں تو چاہتا تھا کہ میںتم لوگوں کے اِس معاملے میں بے تعلق رہتا ،اور اپنے پیش روکے طریقے کو اختیار کرتا۔اے ابو عبد اﷲ رضی اﷲ عنہ!میں نے جس کام کے لئے تمہیں بلایاہے،اور حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے متعلق جو کچھ تم سے کہا ہے،تم کسی سے اِس کا ذکر نہیں کرنا۔“

حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی رائے

حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ کی خلافت کے بارے میں کھل کر حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے رائے دی۔امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں۔امام ابن عساکر نے بروایت حضرت یسار بن حمزہ بیان کیا ہے،کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے مرض الموت کی بیماری کے دوران دریچہ سے لوگوں کو خطاب فرمایا:”اے لوگو!میں نے ایک شخص کو تم پر (خلیفہ) مقرر کیا ہے،تم اِس انتخاب سے راضی ہو؟لوگوں نے بالاتفاق کہا:”اے رسول اﷲ صلی اﷲ صلی علیہ وسلم کے خلیفہ رضی اﷲ عنہ!ہم بالکل راضی ہیں۔“حضرت علی رضی اﷲ عنہ یہ سن کر کھڑے ہو ئے،اور فرمایا:”وہ شخص اگر حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نہیں ہیں،تو ہم راضی نہیں ہیں۔“خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ سے فرمایا:”بے شک ،وہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ ہی ہیں۔“(تاریخ الخلفاء)

خلیفہ دوم کے بارے میں وصیت

خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ نے اپنے بعد خلیفہ دوم کے بارے میں وصیت لکھوائی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت محمد بن ابراہیم کا بیان ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت عثمان غنی رضی ا ﷲ عنہ کو بلایا،اور اُن سے فرمایا کہ لکھو۔”بسم اﷲ الرحمن الرحیم!یہ عہد نامہ ابو بکر بن قحافہ(رضی اﷲ عنہ ) نے مسلمانوں کے نام لکھا ہے۔اما بعد۔“اِس کے بعد خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ پر غشی طاری ہوگئی،اور بے خبر ہو گئے۔اِس لئے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے لکھ دیا۔”اما بعد۔میں تم پر حضرت عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ کو خلیفہ مقرر کرتا ہوں۔میں نے حتی المقدور تمہاری خیر خواہی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔“پھر حضرت ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ ہوش میں آگئے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سے فرمایا:”سناو¿ !تم نے کیا لکھا ہے؟“انہوں نے پڑھ کر سنایا،تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے ”اﷲ اکبر“فرمایا،اور آگے فرمایا :”میں سمجھتا ہو کہ شاید تمہیں اندیشہ ہوا کہ اگر غشی میں میری روح پرواز کر گئی تو لوگوں میں اختلاف پیدا ہو جائے گا۔“حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”جی ہاں!میں نے یہی خیال کیا تھا۔“حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اﷲ تم کو اسلام اور مسلمانوں کی طرف سے جزائے خیر دے۔اِس کے بعد اِس مضمون کو وہیں بر قرار رکھا۔

خلیفہ دوم کی نامزدگی کا اعلان

خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ نے اپنے مرض الموت میں خلیفہ دوم کی نامزدگی کا اعلان فرما دیا تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت ابو السفر کی روایت ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ دریچے پر بیٹھے،اور لوگوں سے خطاب فرمایا۔اُس وقت سیدہ اسماءبنت عمیس رضی اﷲ عنہااُنہیں پکڑے ہوئے اور سنبھالے ہوئے تھیں۔خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اے لوگو!میں نے جس شخص کو تم پر خلیفہ بنایا ہے،کیا تم اُس کو پسند کرتے ہو؟“کیونکہ میں نے اُس کے متعلق ہر طرح سے غورو فکر کیا ہے۔اور میں نے اپنے کسی رشتہ دار یا قرابت دار کا انتخاب نہیں کیا ہے۔میں نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو تمہارا خلیفہ بنایا ہے۔تم اُن کا حکم سنو،اور اُن کی اطاعت کرو۔“سب نے کہا کہ ہم سب بسرو چشم منظور کرتے ہیں،اور ہم اُن کی اطاعت کریں گے۔

میں نے سب سے بہترین شخص کو خلیفہ بنایا ہے

ﷲ تعالیٰ نے عربوں میں اور خاص طور سے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم میں یہ ایک بہت بڑی خوبی رکھی ہے کہ وہ جیسا محسوس کرتے تھے،اُس کا برملا اظہار کر دیتے تھے۔اور اُن کامقصد اِس کے لئے ہر کسی کی بھلائی ہوتا تھا۔جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ دوم کا اعلان فرمایا تو حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی ا ﷲ عنہ نے جو محسوس کیا،اُس کا اظہار حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ سے کر دیا۔( حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ اولین صحابہ کرام رضی ا ﷲ عنہم میں سے ہیں،اور ”عشرہ مبشرہ“میں سے ہیں۔اِ ن کے بارے میں رسول ا ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی زمین پر کسی جنتی کو چلتا ہوا دیکھنا چاہے تو طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ کو دیکھ لے۔)علامہ محمدبن جریر طبری لکھتے ہیں۔سیدہ اسماءبنت عمیس رضی ا ﷲ عنہا فرماتی ہیںکہ حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے اور فرمایا:”آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو لوگوں ہم پر خلیفہ مقرر فرمایا ہے۔حالانکہ آپ رضی اﷲ عنہ کو معلوم ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہ کی موجودگی میں لوگوں کو اُن سے کیا کیا تکلیفیں پہنچتی رہی ہیں۔جب سب کچھ اُن کے ہاتھ میں ہوگا تو نہ جانے کیا کیفیت ہو گی؟آپ رضی ا ﷲ عنہ اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں جارہے ہیں۔وہ آپ رضی اﷲ عنہ سے آپ رضی اﷲ عنہ کی رعایا کے حقوق کے بارے میں باز پُرس کرے گا۔“حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ لیٹے ہوئے تھے۔یہ سن کر آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”مجھے بٹھا دو۔“لوگوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کو بٹھا دیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ سے فرمایا:”تم مجھے اﷲ سے ڈراتے ہو،تم مجھے اﷲ کا خوف دلاتے ہو،یادرکھو!جب میں اﷲ کے سامنے جاو¿ں گا،اور وہ مجھ سے باز پُرس کرے گا،تو میں کہوں گاکہ میں نے تیری مخلوق پر اُن میں سے سب سے بہترین شخص کو خلیفہ بنایا ہے۔“یہ سن کر حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ رو پڑے۔

آخری وقت میں اسلام کی فکر

خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے حکم کے مطابق حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کو عراق میںآدھا لشکر دے کر مسلمانوں کا سپہ سالار بنا کر خود آدھا لشکر لے کر ملک شام کی طرف روانہ ہوگئے۔اِس کا تفصیلی ذکر ہم خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کے ذکر میں کر چکے ہیں،اور ابھی آگے بھی آئے گا۔اِس کے بعد حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی ا ﷲ ملک عراق میں مصروف رہے ۔جب ذرا فرصت ملی تو مدینہ منورہ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ،تاکہ مزید کمک لیکر ملک عراق پہنچیں۔تب تک خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کی بیماری کی شروعات ہو چکی تھی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ مدینہ منور پہنچے تو حضرت ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ کو بیمار پایا،اُن کی علالت اُسی وقت سے شروع ہو چکی تھی۔جس وقت حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ ملک شام کی طرف روانہ ہوئے تھے ،اور اسی علالت میں خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کا وصال ہوا۔جس وقت حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ مدینہ منورہ پہنچے،تو اُس وقت حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی طبیعت ذرا سنبھل گئی تھی۔اور انہوں نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو اپنے بعد جانشین مقرر کر دیا تھا۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کو تمام واقعات سے مطلع کیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :”حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو بلاو¿۔“جب وہ آئے خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ نے اُن سے فرمایا:”اے عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ !میں جو کہہ رہا ہوں اُسے غور سے سنو،اور پھر اُس پر عمل کرنا۔آج دو شنبہ(پیر) کا دن ہے،اور میں توقع کرتا ہوں کہ میں آج ہی انتقال کر جاو¿ں گا۔اگر میرا انتقال ہو جائے تو شام ہونے سے پہلے لوگوں کو جہاد کی ترغیب دے کرحضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ روانہ کر دینا۔اور اگر میرا انتقال رات میں ہو تو صبح سے پہلے مسلمانوں کو جمع کر کے حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ بھیج دینا۔میری موت کی مصیبت چاہے کتنی بھی بڑی ہو،وہ تم کو دین کے احکام اور اﷲ کے حکم سے باز نہ رہنے دے۔تم نے دیکھا ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے موقع پرمیں نے کیا کیا تھا،حالانکہ ہمارے لئے وہ عظیم ترین حادثہ تھا۔اﷲ کی قسم!اگر میں اُس وقت اﷲ اور رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کے احکام کی تعمیل میں ذرا بھی تاخیر کرنا جائز رکھتا تو اﷲ ہم کو ذلیل کر دیتا،اورہم کو سزا دیتا۔اور مدینہ منورہ میں آگ کے شعلے بھڑک اُٹھتے۔جب اﷲ تعالیٰ ملک شام میںوہاں کے سپہ سالاروںکو فتح عطا فرمادے۔تو حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے لشکر کو ملک عراق واپس بھیج دینا۔کیونکہ وہ لوگ ملک عراق کے لئے اہل اور کامیاب عہدے دار ہیں۔اور وہاں کے طریق سیاست سے بخوبی آشنا اور بڑے جری ہیں۔

خلیفہ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا پہلا خطبہ

حضرت ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ کے وصال ،اُن کی نماز جنازہ،اُن کی تدفین کے بارے میں ہم خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ کے ذکر میں تفصیل سے کر چکے ہیں۔یہاں ہم خلیفہ دوم حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ کی خلافت کا ذکر کر رہے ہیں،اِس لئے ہم وہیں سے شروع کرتے ہیں۔جس رات خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو دفن کیا گیا،اُس رات کی صبح حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ مسجد نبوی کے منبر پر بیٹھے۔(رسول اﷲ صلی ا ﷲ علیہ وسلم منبر پر جس جگہ بیٹھتے تھے،اُس جگہ حضرت ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ کبھی نہیں بیٹھے،بلکہ اُس سے نیچے بیٹھتے تھے۔اورجس جگہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ بیٹھتے تھے،اُس جگہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کبھی نہیں بیٹھے،بلکہ اُس سے نیچے کی جگہ پر بیٹھتے تھے۔)تمام مسلمانوں نے آکر آپ رضی اﷲ عنہ کی بیعت کی،اور آپ رضی اﷲ عنہ کو اپنا خلیفہ تسلیم کیا۔اس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ بننے کے بعد پہلا خطبہ ارشاد فرمایا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جس رات حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی تدفین ہوئی ،اُس کی صبح حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ منبر پر تشریف فرما ہوئے،اور فرمایا:”میں چند کلمات کہنا چاہتا ہوں ،تم لوگ آمین کہنا۔“اسی طرح مری کا بیان ہے کہ خلیفہ ہونے کے بعد حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے جو سب سے پہلا خطبہ دیا وہ یہ تھا :”عربوں کی مثال ایسی ہے ،جیسے نکیل میں بندھا ہوا اونٹ۔جو اپنے قائد کے پیچھے پیچھے چلتا رہتا ہے۔لہٰذا قائد کا فرض ہے کہ سوچ سمجھ کر اُس کی قیادت کرے۔اور میں ....قسم ہے رب کعبہ کی اُن کو سیدھے راستے پر لے کر چلوں گا۔“علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں ۔۳۲ جمادی الثانی ۳۱ ھجری بروز پیر خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے انتقال کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ تخت خلافت پر متمکن ہوئے۔

خلیفہ بننے کے بعد پہلا حکم

حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے خلافت سنبھالنے کے بعد سب سے پہلا حکم جو جاری کیا،وہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی سپہ سالاری سے معزولی کا تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔رات آتے ہی حضرت ابو بکر رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہو گیا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے رات ہی کو اُن کو دفن کر دیا۔اور مسجد میں آپ رضی اﷲ عنہ نے ہی نماز جنازہ پڑھائی۔خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کی تجہیز و تکفین سے فارغ ہوتے ہی حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی عنہ کے لئے لشکر کی بھرتی کی۔خلیفہ دوم رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :” حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ جانتے تھے کہ میں عراق کی جنگ کے لئے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی سپہ سالاری کو ناپسند کروں گا،اِس لئے انہوں نے اُن کے لشکر کی واپسی کا حکم دیا۔مگر خود اُن کا ذکر چھوڑ دیا۔“انہوں نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو معزول کر کے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو اُن کی جگہ سپہ سالار بنایا،اور انہیں ایک خط لکھ کر قاصد کو دیکر ملک شام میں میدان جنگ میں بھیجا،جہاں حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی سپہ سالاری میں مسلمانوں کا لشکر رومیوں سے لڑ رہا تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔خلیفہ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے خط میں لکھا:”میں تم کو اُس اﷲ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں،جو باقی رہنے والا ہے۔اور جس کے سوا ہر چیز فنا ہونے والی ہے،جس نے ہم کو گمراہی سے نکال کر راہ راست(سیدھے راستے )پر لگایا۔اور ظلمت(کفر)سے نکال کر نور(اسلام)میں داخل فرمایا۔میں تم کو حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی جگہ لشکر کا سپہ سالار مقرر کرتا ہوں۔تم مسلمانوں کے حقوق ادا کرنے کے لئے کھڑے ہو جاو¿،تم غنیمت کی حرص میں آکر مسلمانوں کو ہلاکت میں مبتلا نہ کرنا۔اور نہ کسی اجنبی مقام میں وہاں کے حالات اور نتائج سے بے خبر ہوکر اُن کو ٹھہرانا۔جب تم کسی لشکر کو جنگ کے لئے بھیجو،تو معقول تعداد کے بغیر نہیں بھیجنا۔مسلمانوں کو ہلاکت میں ہرگز مبتلا نہ کرنا،اﷲ نے تمہارا معاملہ میرے ہاتھ میں ،اور میرا معاملہ تمہارے ہاتھ میں دیا ہے۔دنیا کی محبت سے آنکھیں بند کر لو،اور اپنے دل کو بے نیاز کر لو۔خبردار اگلے لوگوں کی طرح اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو۔اُن کے بچھڑنے کے میدان تمہاری آنکھوں کے سامنے ہیں۔“خلیفہ دوم کے قاصد جب یہ خط لیکر ملک شام میں میدان جنگ میں پہنچے تو رومیوں سے جنگ ایک فیصلہ کُن مر حلے میں داخل ہو چکی تھی۔قاصدوں نے یہ خط حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو دیا ،تو انہوں نے جنگ ختم ہونے تک حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو نہیں بتایا۔جب جنگ ختم ہوگئی ،اور مسلمانوں کو فتح حاصل ہو گئی ،اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ مال غنیمت تقسیم کرنے بیٹھے ،تب حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے یہ خط انہیں دیا۔اب ہم ملک شام میں مسلمانوں کے لشکر کے حالات پیش کریں گے،اور درمیان میںخلیفہ اول کے وصال اور خلیفہ دوم کی خلافت کا ذکر ضمناً کریں گے،تاکہ تسلسل بر قرار رہے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!


03 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ Khilafat e Rashida 2



03 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی 

قسط نمبر 3

ملک شام میں مسلمانوں کے لشکر کے حالات، ملک شام کی طرف اسلامی لشکروں کی روانگی، ہرقل کی جنگی تیاری، تمام لشکروں کو ایک جگہ جمع کرنے کا حکم، رومی لشکروں کا واقوصہ میں جمع ہونا، رومیوں سے طویل جنگ، اللہ کی تلوار کا جذبۂ جہاد، حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اور باہان میں جنگ، مسلمانو ں کے اتحادکا مشورہ، لشکر کے مشترکہ سپہ سالار، اسلامی لشکر کی نئی ترتیب، حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی دعا، لشکر سے خطاب

ملک شام میں مسلمانوں کے لشکر کے حالات

حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے ذکر میں ہم نے آپ کو ملک شام میں مسلمانوں کے لشکر اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے اپنے لشکر کو لیکر وہاں پہنچنے اور رومیوں سے جنگ کے مختصر حالات پیش کئے تھے۔ابھی یہ جنگ چل ہی رہی تھی کہ مدینہ منورہ میں خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا وصال ہو گیا ،اور حضرت عُمر فاروق رضی عنہ کو خلیفہ بنا دیا گیا۔اب ہم ملک شام میں مسلمانوں کے لشکر کے حالات وہیں سے شروع کرتے ہیں ،جہاں ہم اُسے روکا تھا۔اِس سے پہلے ہم بہت مختصر میں مسلمانوں اور رومیوں کے لشکر وں کے بارے میں بتا دیں ۔تاکہ وہاںکے حالات سمجھنے میں آسانی ہو۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے ۱۱ ھجری میں ذو القصہ سے جو گیار ہ لشکر روانہ فرمائے تھے۔اُن میں سے ایک لشکر حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ کو ملک شام اور ملک عرب کے سرحدی علاقوں کی طرف روانہ کیا تھا۔اور انہیں حکم دیا تھا کہ اُس علاقے کے لوگوں کو ارتداد سے روکیں،اور مسلمانوں کو اپنے لشکر میں شامل کریں۔لگ بھگ ایک سال تک حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ مسلمانوں کو اپنے لشکر میں بھرتی کرتے رہے۔اِس دوران حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ ملک عرب سے ارتداد کا خاتمہ کرنے کے بعد ملک عراق میں فارسیوں کو شکست پر شکست دے رہے تھے۔اور حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ بن ابو جہل عمان ،بحرین،یمن اور تہامہ میں ارتداد کا خاتمہ کرنے کے بعد واپس آئے تو خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے حکم پر حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ کی مدد کرنے اپنا لشکر لیکر آگئے۔

ملک شام کی طرف اسلامی لشکروں کی روانگی

خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ جیسے ہی حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ بن ابوجہل لشکر لیکر پہنچیں،تم اپنے لشکر کے(ایک سال پہلے مدینہ منورہ سے آئے) مجاہدین کو مدینہ منورہ روانہ کردینا۔اِس کے بعد خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت یزید بن سفیان رضی اﷲ عنہ کو ایک بڑا لشکر دیکر ملک شام کی طرف روانہ کیا۔ایک لشکر دیکر حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کو فلسطین کی طرف روانہ کیا۔(یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اُس وقت ملک شام بہت بڑا تھا،اور ملک فلسطین،اُردن،لبنان وغیرہ تک کا علاقہ ملک شام میں ہی آتا تھا۔)ایک لشکرحضرت ولید بن عقبہ کو دے کرروانہ کیا،اور ایک لشکر حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو دیکر روانہ کیا۔حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ نے جلد بازی کی اور اِن لشکروں کے آنے سے پہلے ہی رومیوںسے بھڑ گئے۔جس کانتیجہ یہ ہوا کہ انہیں کافی پیچھے ہٹنا پڑا ،اور اچھے خاصے علاقے چھوڑنا پڑے۔لیکن حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ بن ابو جہل عنہ ڈٹے رہے ،اور رومیوں سے مقابلہ کرتے رہے۔جب تما م لشکر ملک شام پہنچ گئے تو خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ کو واپس بلا لیا۔

ہرقل کی جنگی تیاری

خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے حکم کے مطابق تمام سپہ سالار اپنے اپنے لشکر لیکر مقررہ مقامات تک پہنچ گئے۔سلطنت روم کے حکمراںقیصر ہرقل کو جب مسلمانوں کے لشکر کے آمد کیاطلاع ملی تو اُس نے بھی غیر معمولی جنگی تیاری شرو ع کر دی۔اور وہ خود چل کر ”حمص“میں آیا،اور رومیوں کا ایک بہت بڑا لشکر تیار کیا۔اُس کے پاس کافی فوج تھی،بلکہ بے اندازہ فوج تھی۔اس لئے اُس نے مسلمانوں کے ہر لشکر سے لڑنے کے لئے الگ الگ لشکر تیار کر کے روانہ کئے۔حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ سے مقابلے کے لئے اپنے حقیقی بھائی تذارق کا نوے ہزار (90,000) کا لشکر دیکربھیجا۔اور اُس کے پیچھے ایک افسر کو ساقہ پر متعین کیا۔اُس کو بالائی فلسطین میں”ثنیتہ جلق“پر متعین کیا۔(یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اُس وقت فلسطین،لبنان ،اور اردن ،ملک شام کا حصہ تھے۔)اور حضرت یزید بن سفیان رضی اﷲ عنہ کے مقابلے پر جرجہ بن توزرا کو لشکر دیکر بھیجا۔اور حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ عنہ کے مقابلے پر دراقص کو لشکر دیکر بھیجا۔اور حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کے مقابلے پر فیطار بن نسطورا کو ساٹھ ہزار کا لشکر دیکر بھیجا۔یہ دیکھکر تمام سپہ سالاروں نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو تمام حالات لکھ بھیجے،اور اگلی ہدایت کا انتظار کرنے لگے۔

تمام لشکروں کو ایک جگہ جمع کرنے کا حکم

حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی اگلی ہدایت کے آنے کے درمیان میں تمام سپہ سالار ایکدوسرے سے خط و کتابت کے ذریعے صلاح مشورہ کر رہے تھے۔حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے سب کو یہ مشورہ دیا کہ ایک جگہ جمع ہو جائیں،تو ہمارے لئے زیادہ بہتر رہے گا۔کیونکہ دشمنوں نے ہر سپہ سالار پر بڑے بڑے لشکر مسلط کر دیئے ہیں۔تمام سپہ سالار اِس بات پر متفق ہو گئے کہ ایک جگہ جمع ہوا جائے،لیکن یہ طے نہیں کر پا رہے تھے کہ کہاں جمع ہوا جائے۔اسی دوران خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کاجواب بھی آ گیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے حکم دیا کہ تمام لشکر جمع ہو کر ایک لشکر ہو جائیں،اور ملکر دشمنوں سے جنگ کریں۔تم اﷲ کے سپاہی ہو،اﷲ تمہارا مدد گار ہے۔اﷲ اُس کو ذلیل کرتا ہے،جو اُس کا انکار کرتا ہے۔تم جیسے(اﷲ کو ماننے والے)لوگ تعداد کی قلت کی وجہ سے کبھی مغلوب نہیں ہو سکتے۔دس ہزار بلکہ اُس سے بھی کہیں زیادہ، اگرگناہوں کے طرفدار بن کر اُٹھیں گے تو وہ دس ہزار سے ضرور مغلوب ہوں جائیں گے۔لہٰذا تم گناہوں سے احتراز کرو ،اور یرموک میں مل کرجنگ کرنے کے لئے جمع ہو جاو¿ ۔تم میں سے ہر سپہ سالار اپنے اپنے لشکر کی امامت کرے ،اور نماز پڑھائے۔

رومی لشکروں کا واقوصہ میں جمع ہونا

حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے حکم کے مطابق مسلمانوں کے تمام سپہ سالار اپنے اپنے لشکر لیکر یرموک میں آکر جمع ہونے لگے۔ہر قل کو جب مسلمان لشکروں کے اجتماع کی خبر ملی تو اُس نے اپنے پادریوں کو حکم دیا کہ تم بھی رومیوں کے ہر لشکر کوایک ایسی جگہ مسلمانوں کے سامنے جمع کرو۔جہاں کافی گنجائش اور وسعت ہو،اور بھاگنے والوں کے لئے راستہ تنگ ہو۔تمہاری فوج کا سپہ سالار تذارق کو مقرر کیا جاتا ہے۔مقدمة الجیش پر جرجہ کو،اور میمنہ اور میسرہ پر دراقص کو متعین کیا جائے،اور سپہ سالار اعظم فیقار کو بنایا جائے۔ میں تمہیں خوش خبری دیتا ہوں کہ باہان تمہارے عقب میں تمہاری مدد کے لئے موجود ہے۔پادریوں نے ہرقل کے حکم کی تعمیل کی،اور یرموک کے قریب ایک بہت بڑی اور وسیع وادی ”واقوصہ “میں تمام روم کے تمام لشکروں کو جمع کردیا۔رومیوں کے لشکر کے سامنے کی وادی نے اُن کے لئے خندق کا کام دیا۔جس کی وجہ سے وہ ایک ناقابل تسخیر وادی بن گئی۔باہان اور اُس کے ساتھیوں کی خواہش تھی کہ رومیوں کے دلوں سے مسلمانوں کی دہشت نکل جائے۔اور وہ اُن کو ہوا سمجھنا چھوڑ دیں۔

رومیوں سے طویل جنگ

خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے حکم کے مطابق تمام مسلمان سپہ سالار اپنے لشکروں کے ساتھ یرموک میں پڑاو¿ ڈالے ہوئے تھے۔جب تمام رومی لشکروں کے سپہ سالارجب اپنے اپنے لشکر لیکر واقوصہ میں پہنچ گئے،تو مسلمان آگے بڑھ کر رومیوں کے لشکر کے مد مقابل پہنچ گئے۔رومیوں کے لئے اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔یہ دیکھ کر حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ بول اُٹھے۔مسلمانو!مبارک ہو،اﷲ کی قسم!رومی محصور ہو گئے ہیں،اب ان سے کچھ بن آنا مشکل ہے۔رومیوں کے پیچھے واقوصہ کی گھاٹی تھی،اور سامنے خندق نما گھاٹی تھی،جس کی وجہ سے مسلمانوں کو بہت پریشانی ہو تی تھی۔ ماہ صفر المظفر ۳۱ ھجری میں دونوں لشکر ایکدوسرے کے سامنے آئے۔دونوں کے درمیان خندق نما گھاٹی تھی،روز جنگ ہوتی ،لیکن کوئی فیصلہ نہیں ہو رہا تھا۔یہاں تک کہ ماہ ربیع الاول آگیا۔اور یہ پورا مہینہ بھی گذر گیا ،اور جنگ کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔مسلمان سپہ سالاروں نے تمام حالات لکھ کر خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیجے،اورمزید کمک طلب کی۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فوراًحضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ حیرہ میں حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کو آدھا لشکر دے کرچھوڑ دو،اور آدھا لشکر لیکر تم جلد سے جلد ملک شام پہنچو۔وہاں تمہاری شدید ضرورت ہے۔

حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کا جذبۂ جہاد

حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کا حکم ملتے ہی آدھا لشکر حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کو دیا۔اور آدھا لشکر لیکر ملک شام جانے کی تیاری کرنے لگے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ کون ہے جو ہمیں مختصر راستے سے ملک شام پہنچا دے۔حضرت رافع بن عمیرہ طائی آگے بڑھے،اور کہا کہ میں ایسا مختصر راستہ جانتا ہوں،لیکن آپ رضی اﷲ عنہ اتنے بڑے لشکر و اسباب کو لیکر اس راستے کو طے نہیں کر سکیں گے۔اﷲ کی قسم!تنہا سوار بھی اس مشکل اور تکلیف دہ راستے کو طے کرنے کی ہمت نہیں کرتا ہے،کیونکہ اس راستے پر پانچ دن و رات تک کسی مقام پر آپ رضی اﷲ عنہ کو پانی نہیں ملے گا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”مجھ کو یہ راستہ طے کرنا بہت ضروری ہے،کیونکہ خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کے حکم کے مطابق مجھے جلد سے جلد مسلمانوں کی مدد کے لئے ملک شام پہنچنا ہے۔اور تیرا کہنے کا مقصد یہ ہے کہ میں اُن کی مدد کو نہیں جاو¿ں؟میں نے جان اﷲ کی راہ میں وقف کر دی ہے۔اور اب تُم مجھے اِس راستے سے لیکر جاو¿ گے۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے لشکر کے کمانڈروں کو حکم دیا کہ تمام مجاہدین سے کہہ دو کہ پانچ دنوں کا پانی اپنے ساتھ لیکر چلیں۔اِس کے علاوہ اپنے اونٹوں کو بار بار پانی پلائیں(اونٹ کا ایک معدہ ایسا ہو تا ہے کہ بالکل صاف ستھرا پانی اُس میں محفوظ رہتا ہے،جسے پانی نہ ملنے کی صورت میں وہ استعمال میں لاتا ہے)تمام مسلمانوں نے چھاگلوں،مشکیزوںاور دوسرے برتنوں میں پانی بھر لیا۔اور اونٹوں کو وقفہ وقفہ سے بار بار پانی پلایا،اور اُن کے پاو¿ں پر کپڑے لپیٹ دیئے،تاکہ روزآنہ کے مسلسل سفر سے اُن کے پیر پھٹنے سے محفوظ رہیں۔اور کئی سو زائد اونٹ ساتھ لے لئے۔اس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ لشکر کو لیکر اِس دشوار گذار سفر پر نکل پڑے۔اور مسلسل چار دنوں کے سفر کے بعدپانچویں روز علمین کے قریب پہنچے تو حضرت رافع نے لوگوں سے کہا:”ذرا دیکھو تو کہیں عوسج کا درخت نظر آرہاہے یا نہیں؟“لوگوں نے دیکھا تو ہر طرف صحراءاور ریت کے کچھ بھی نظر نہیں آرہا تھا۔جب عوسج کا درخت کہیں دکھائی نہیں دیا تو حضرت رافع نے انا ﷲوانا الیہ راجعون پڑھ کر کہا۔”افسوس تم بھی ہلاک ہوئے ،اور مجھے بھی ہلاک کیا۔،میں پہلے ہی کہتا تھا کہ یہ راستہ بہت دشوار گذار ہے۔“سب لو گ پیاس سے بے حال ہو رہے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ ہم نے جو زائد اونٹ ساتھ لئے ہیں ،انہیں زبح کرو ،اور ان کے گوشت کھانے کے لئے،اور اُن کے معدوں کے اندر کا پانی پینے کے استعمال میں لاو¿۔سب نے ایسا ہی کیا ،اور گھوڑوں کو بھی پانی پلایا۔اس کے بعد جب اور آگے چلے تو لشکر کے آگے والے مسلمانوں کو عوسج کا درخت نظر آیا،اور انہوں نے نعرہ تکبیر بلند کیا۔حضرت رافع کے کہنے پر اس کی جڑ کے پاس کھودا گیا تو نیچے ایک پانی کا چشمہ تھا۔تمام لشکریوں نے سیر ہو کر پانی پیا ،اور اونٹوں کو بھی پلایا،اور چھاگلوںاورمشکیزوں کو بھی بھر لیا۔اس کے بعد وہ ”سویٰ“ پہنچ گئے۔یہی بنو بہراءکے رہنے کا مقام تھا۔یہ لوگ غفلت میں بیٹھے شراب پی رہے تھے،اور اُن کا ایک مغنی(گانے والا)گا رہا تھا۔مسلمانوں نے ان پر چھاپہ مارا اور ان کے سردار حرقوص بن نعمان بہرائی کو قتل کر کے ان کے مال و اسباب پر قبضہ کر لیا۔اور اس کے بعد سفر کرتے ہوئے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر کو لیکر ماہ ربیع الثانی کے آخری دنوں میں مسلمانوں کے لشکر میں یرموک پہنچے۔

حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اور باہان میں جنگ

حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ جب یرموک پہنچے،تو اُسی وقت باہان بھی اپنا لشکر لیکر رومیوں کی مدد کے لئے آیا۔اُس نے اپنی فوج کے آگے آگے آفتاب پرستوں،راہبوں،اور پادریوں کو متعین کیا تھا،کہ وہ لوگ فوج کو جنگ کے لئے اکسائیں،اور ان کے دلوں میں جوش پیدا کریں۔اتفاق سے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اور باہان کی آمد بیک وقت ہوئی،اور باہان اِس انداز میں آگے بڑھا جیسے میدان اُسی کا ہے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ باہان سے لڑنے لگے،اور دوسرے سپہ سالار اپنے اپنے مقابلے کے رومیوں سے لڑنے لگے۔باہان نے شکست کھائی ،اور رومیوں نے یکے بعد دیگرے ہزیمت اُٹھائی اور اپنی خندق میں گھس گئے۔رومیوں نے باہان کی آمد کو نیک فال تصور کیا تھا،اور مسلمانوں کو حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے آنے سے خوشی ہوئی تھی،اور مسلمان خوب جوش سے لڑے،اوررومی بھی خوب جوش سے لڑے۔ لیکن شام تک کوئی فیصلہ کن جنگ نہیں ہوئی ،اور دونوں فریقین اپنے اپنے پڑاو¿ میں واپس چلے گئے۔

حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کا مشورہ

حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے یرموک پہنچنے کے بعد دیکھا کہ تمام مسلمان سپہ سالارالگ الگ اپنے لشکروں کو لیکر جنگ کررہے تھے۔انہوں نے سب کو یہ مشورہ دیا کہ مسلمانوں کے لشکر کو اکٹھا کر دیا جائے ،اور ایک دن ایک سپہ سالار تمام مسلمانوں کے لشکر کی قیادت کرے۔اور دوسرے دن دوسرا سپہ سالار قیادت کرے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی عنہ نے ملک شام میں الگ الگ شہروں کے لئے لشکر اور سپہ سالار بھیجے تھے۔حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو حمص کی طرف،حضرت یزید بن سفیان رضی اﷲ عنہ کودمشق کی طرف،حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ عنہ کواُردن کی طرف،اورحضرت عمر و بن عاص رضی اﷲ عنہ کو فلسطین کی طرف بھیجا تھا۔جب مسلمان ملک شام کے قریب پہنچے تو رومیوں کا بہت بڑا لشکر دیکھ کر اُن کے ہوش اُڑ گئے۔انہوں نے خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ سے مشورہ طلب کیا تو انہوں نے تمام سپہ سالاروں کو اپنے لشکر لیکر ایک جگہ جمع ہونے اور پورے لشکرکوایک ساتھ رومیوں کے لشکر سے جنگ کا حکم دیا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ جب وہاں پہنچے تو دیکھا کہ تمام مسلمان سپہ سالار الگ الگ اپنے لشکروں کو لیکر جنگ کر رہے ہیں،تو انہوں نے فرمایا :”اے سپہ سالارو!کیا آپ لوگ ایسا مشورہ ماننے کے لئے تیار ہیں؟جس سے اُمید ہے کہ اﷲ کا دین سر بلند ہوجائے گا،اور آپ کے مراتب میں بھی کوئی کمی نہیں آئے گی۔“

مسلمانو ں کے اتحادکا مشورہ

حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ جب یرموک پہنچے تو دیکھا کہ مسلمانوں کے لشکر میں ہر سپہ سالار الگ الگ قیادت کر رہا ہے ،تو انہوں نے سب کومتحد کرنے کی کوشش شروع کردی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ملک شام میں چاروں سپہ سالار لگ بھگ ستائیس ہزار (27,000) کا لشکر لیکر پہنچے تھے۔اِن کے علاوہ حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ عنہ تین ہزار(3,000)مجاہدین کے سپہ سالار تھے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ ملک عراق سے دس ہزار(10,000)مجاہدین لیکر آئے تھے۔حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ بن ابو جہل چھ ہزار (6,000) مجاہدین کے ساتھ ڈٹے ہوئے تھے۔ یہ سب کُل ملاکر مسلمانوں کو لشکر چھیالیس ہزار (46,000)مجاہدین پر مشتمل تھا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے آنے تک تمام سپہ سالار اپنے اپنے لشکروں کو لڑانے کے لئے کسی کے تابع نہیں تھے۔رومیوں سے جنگ شروع کرنے سے پہلے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے تمام مسلمان سپہ سالاروں کو جمع کیا،اور اﷲ کی حمد و ثنا اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پر درود و سلام کے بعد فرمایا:”آج کا دن اﷲ کے اہم ترین دنوں میں سے ایک ہے۔آج کسی کو فخر اور خود رائی نہیں کرنی چاہیئے،بلکہ خلوص نیت سے جہاد کرو،اور عمل صرف اﷲ کے لئے کرو۔آج کی کامیابی ہمیشہ کی کامیابی ہے۔رومیوں کے منظم اور مرتب لشکر سے تمہارا آزادی اور انتشار کے ساتھ لڑنا کسی طرح جائز نہیں اور مو زوں نہیں ہے۔اگر اُن کو(خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کو )جو تم سے دور ہیں،یہاں کی کیفیت کا ایسا ہی علم ہوجائے،جیسا تم کو ہے۔تو وہ بھی تم کو اِس طرح لڑنے کی اجازت ہر گز نہیں دیں گے۔جس کام میں تم کو خلیفہ رضی اﷲ عنہ کا خاص حکم نہیں ملا ہے،اُس کو اپنی ایک ایسی رائے کے ساتھ انجام دو،گویا وہ تمہارے خلیفہ رضی اﷲ عنہ اور اُن کے خیر خواہوں کا حکم ہے۔“

لشکر کے مشترکہ سپہ سالار

حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی تقریر سُن کر تمام سپہ سالاروں نے کہا:”آپ رضی اﷲ عنہ رائے دیں کہ ہم کیا کریں؟“حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے ہم لوگوں کو یہ خیال کر کے بھیجا ہے کہ ہم اِس مہم کو بآسانی سر کر لیں گے۔اگر اُن کو یہاں کے واقعات اور حالات کا علم ہوتا تو وہ تم کو متفرق رکھنے کے بجائے متحد رکھتے۔مسلمانوں کے لئے یہ موقع اِس سے پہلے کے مواقع کی بہ نسبت بہت سخت ہے،اور رومیوں کو چونکہ کافی مدد مل گئی ہے۔اِس لئے حالات اُن کے حق میں سازگار ہیں،اور میں دیکھ رہا ہوں کہ تم الگ الگ اپنے اپنے لشکر کی قیادت کر رہے ہو۔اگر ہم سب ملکرتمام مسلمانوں کے لشکر کو متحد کردیں،اور ہم میں سے کسی ایک کو پورے لشکر کا سپہ سالار بنا دیں ۔اور ہم سب اُس ایک سپہ سالار کے مطیع ہو جائیں،تو ہم میں سے کسی کے مراتب میں فرق نہیں آئے گا۔جس کو ہم اپنا مشترکہ سپہ سالار بنائیں گے،اُسے کوئی بڑائی نہیں ملے گی،اوراُس کو اپنا سپہ سالار بناکر اﷲ تعالیٰ اور اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم اور خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کے نزدیک ہمارا درجہ کم نہیں ہوگا۔دیکھو دشمن کی تیاری کتنی عظیم الشان ہے،اگر آج ٍہم نے اِن کو خندق میں دھکیل دیا تو پھر ہمیشہ دھکیلتے رہیں گے۔اور اس کے برعکس آج انہوں نے ہمیں شکست دے دی تو آئند ہ ہمارے پنپنے کا کوئی امکان نہیں ہو گا۔ہونا یہ چاہیئے کہ سپہ سالاری کے عہدے کو باری باری کر دیا جائے۔آج ہم میں سے ایک شخص سپہ سالار ہوگا،تو کل دوسرا،پرسوں تیسرا،یہاں تک کہ آپ سب کو امیر بننے کا موقع مل جائے،اور آج مجھے امیر بنا دو۔“سب لوگوں نے اتفاق رائے سے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کوسپہ سالار بنا لیا۔

اسلامی لشکر کی نئی ترتیب

حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے سپہ سالار بنتے ہی اسلامی لشکر کی تر تیب کو بدل دیا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے آنے سے پہلے لگ بھگ ایک مہینے سے روزآنہ دن بھر مسلمانوں اور رومیوں میں جنگ ہوتی تھی ،اور شام کو دونوں فریق بغیر کسی فیصلے کے واپس اپنے پڑاو¿ میں چلے جاتے تھے۔اِسی لئے دوسرے مسلمان سپہ سالاروں نے سمجھا کہ آج بھی ویسی ہی جنگ ہوگی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔یہ لوگ سمجھتے تھے کہ رومیوں کی آج کی یورش بھی اور دنوں کی طرح ہو گی،اور ابھی یہ چپقلش اور طول کھینچے گی۔مگر اِس بار رومیوں کی صف آرائی ایسی با ضابطہ تھی کہ اس کی مثال اِس سے قبل دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔اُن کے مقابلے میں حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کے لشکر کو جس طریقے پر مرتب کیا،وہ عربوں کے لئے بالکل نیا تھا ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اسلامی لشکر کو بہت سے دستوں میں تقسیم کر دیا،جن کی تعداد چھتیس(36)سے چالیس(40) تک تھی۔حضرت خالد بن ولید رجی اﷲ عنہ نے فرمایا:”تمہارے دشمن کی تعداد بہت زیادہ ہے،اور وہ اپنی کثرت پر اترایا ہوا ہے۔ایسی ترتیب کہ ہمارا لشکر دشمن کو زیادہ نظر آئے،صرف یہ ہے کہ اس کے بہت سے دستے بنا دیئے جائیں۔“اسی کے مظابق آپ رضی اﷲ عنہ نے اسلامی لشکر کے قلب کے کئی دستے بنائے،اور اُن پر حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو کمانڈر مقرر فرمایا۔میمنہ کے کئی دستے بنا کر اُن کر حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ عنہ کو کمانڈر بنایا۔میسرہ کے کئی دستے بنائے ،اور اُن پر حضرت یزید بن سفیان رضی اﷲ عنہ کوکمانڈر بنایا۔عراق سے آئے لشکر کے ایک دستے پر حضرت قعقاع بن عمروکو،ایک دستے پر حضرت مذعور بن عدی کو،ایک دستے پر حضرت عیاض بن غنم کو،ایک دستے پر حضرت ہاشم بن عتبہ کواور ایک دستے پر حضرت زیاد بن حنظلہ کو کمانڈر بنایا۔اسی طرح ایک ایک دستے کا کمانڈر حضرت وحید بن خلیفہ، حضرت ابو عبیدہ بن جراح،حضرت عکرمہ بن ابوجہل، حضرت صفوان بن اُمیہ،حضرت سعید بن خالد،حضرت عبداﷲ بن قیس،حضرت ضرار بن ازور وغیرہ کو بنایا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔پس رومی ایسی ترتیب و تنظیم کے ساتھ نکلے کہ اِس قسم کی ترتیب پہلے کبھی نہیں دئکھی گئی تھی۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ بھی ایسی ترتیب و تنظیم کے ساتھ نکلے کہ عربوں نے اِس سے پہلے ایسی ترتیب و تنظیم کبھی نہیں دیکھی گئی تھی۔آپ رضی اﷲ عنہ چھتیس(۶۳) سے چالیس دستوں کے ساتھ نکلے،ہر دستہ ایک ہزار(1,000)مجاہدین پر مشتمل تھا،اور اُن پر ایک کمانڈر مقرر کر دیا گیا تھا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے حضرت ابو عبیدہ رضی اﷲ عنہ کو لشکر کے ”قلب(درمیان) “کی کمانڈ سونپی۔حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ اور حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ عنہ کو لشکر کے ”میمنہ (دائیں بازو)“کی کمانڈ سونپی۔حضرت یزید بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ کو لشکر کے ”میسرہ(بائیں بازو )“کی کمانڈسونپی۔اور حضرت حباب بن اثیم رضی اﷲ عنہ کو لشکر کے ”ہر اول (سب سے اگلا حصہ)“کی کمانڈ سونپی۔حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ کو مال غنیمت پر مقرر فرمایا۔حضرت ابو الدردا رضی اﷲ عنہ کو لشکر کا قاضی بنایا۔حضرت ابو سفیان بن حرب کو جنگ کے لئے آمادہ کرنے ،اور وعظ و نصیحت والا بنایا۔اور حضرت مقداد بن اسود رضی اﷲ عنہ کو قاری بنایا،اور وہ پرے اسلامی لشکر میں گھوم گھوم کر سورہ الانفال اور دسری سورہ میں آنے والی آیات جہاد کی تلاوت کرتے تھے۔

حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی دعا

حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے رومیوں کے لشکر کی کثیر تعداد دیکھ کر اپنے لشکر کو بالکل نئے طریقے سے منظم کیا تھا۔اور ہر کمانڈر کا موقع کی مناسبت سے کھڑا کر کے لشکر کے قاریوں کو سورہ انفال کی تلاوت کرنے کا حکم دیا۔اور خود لشکر کے قلب کے آگے کھڑے ہو کر تمام مہاجرین و انصار رضی اﷲ عنہم کو الگ کر کے اپنے آگے کھڑا کیا۔اور پھر آسمان کی ہاتھ اُٹھا کر بلند آواز سے یہ دعا مانگنے لگے:”اے پروردگارِعالم!یہ وہ تیرے خاص بندے رضی اﷲ عنہم ہیں،جنہوں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا ہر حال میں ساتھ دیا،اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے معاون و مدد گار رہے ہیں۔تیری مرضی کے لئے انہوں نے اپنے گھر بار ،اہل و عیال (گھر والوں اور بچوں)کو چھوڑا ہے۔اے اﷲ !آپ ہماری عزت نہ رکھیں،بلکہ اپنے سچے دین ،اور سچے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کی عزت رکھ لیں۔ہماری مدد نہ کریں،بلکہ اپنے دین کی مدد کریں۔اے بے کسوں کے چارہ ساز!آپ اِن کے ذریعے سے ہماری مدد کریں،اور کافروں کے ہاتھوں ہمیں ذلیل و خوار نہ ہونے دیں۔“

لشکر سے خطاب

حضرت خالد بن ولید اﷲ تعالیٰ سے دعا کرنے کے بعد اسلامی لشکر کی طرف متوجہ ہوئے۔اور بلند آواز سے ا ﷲ تعالیٰ کی حمد اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پر درود و سلام کے بعد فرمایا:”اے مسلمانو!یہ دن تمہاری آزمائش و امتحان کا ہے،آج کے دن تم کو فخر نہیں کرنا چاہیئے۔تم لوگ آج جو کام کر و خالص اﷲ کے لئے کرو،اور اپنے نیک اعمال سے اﷲ کو راضی کرو۔یہ وہ دن ہے کہ اگر تم مارے گئے،تو بے شک جنت میں جاو¿ گے۔اور اگر اﷲ کے دشمنوں پر فتح یاب ہوئے ،تو ”غازی“ کہلاؤ گے۔کیا تم نے نہیں سنا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”جنت تلوار کے سائے میں ہے“پس اگر تم لوگوں کو جنت حاصل کرنا ہے،اور اﷲ کو راضی کرنا ہے ،تو لڑو،لڑو،لڑو!شاید اِس کے بعد ایسا موقع نہیں ملے اور تمہاری موت آجائے۔بستر پر ذلت کی حالت میں مرنے سے بہتر ہے کہ میدانِ جنگ میں اﷲ کے لئے لڑتے ہوئے مارے جاو¿۔اور اِسی خون آلود کپڑے میں دفن کر دیئے جاو¿،تا کہ قیامت میں تمہارے فی سبیل اﷲ لڑنے اور لڑتے لڑتے جان دے دینے کی وہ گواہی دیں۔اے بھائیو!یہ وہ دن ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے آج تمہارے لئے جنت کے دروازے کھول دیئے ہیں۔کیا تم لوگ جنت میں جانا پسند نہیں کرو گے؟دیکھو اﷲ کی رحمت تم پر نازل ہونا ہی چاہتی ہے،تم کو اﷲ تعالیٰ فتح یاب کرے گا۔نیک نیتی سے اُس کی راہ میں کوشش کرو،اور یہ اچھی طرح سے سمجھ لو کہ دنیا تم سے چھوٹنے والی ہے۔اﷲ اﷲ ،ہر شخص اپنے لئے زاد ِ سفر تیار کر لے،اور اگر تم لڑ کر شہید ہوئے یا فتحیاب ہوگئے،تو تم سے بڑھ کر محبوب اﷲ کے نزدیک کوئی نہیں ہو گا۔اور اگر تم نے لڑنے میں کچھ بھی پس و پیش کیا،تو دنیا تو تم سے چھوٹ ہی گئی ہے،نہایت بے عزتی سے کافروں کے ہاتھوں گرفتار ہو کر مارے جاو¿ گے۔اور قیامت تک تم سے اﷲ کی رحمت دور رہے گی۔پھر اﷲ کو اور اُس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کو،اور اُس کے خلیفہ کو کیا منہ دِکھاو¿ گے؟چلو چلو!اپنی مُرادیں حاصل کر لو۔دیکھو اﷲ کے دشمن تمہاری طرف بڑھنے کا ارادہ کر رہے ہیں۔پس اِس سے پہلے کہ وہ تم پر حملہ کریں،تم اُن پر ٹوٹ پڑو۔اگر تم نے انہیں خندق نما گھاٹی کی طرف لوٹا دیا تو پھر کیا ہے ،اُن کو شکست ہو گی۔اور اگر اﷲ نہ چاہے،انہوں نے تم کو شکست دی تو اﷲ کی قسم !ایک قدم بھی پیچھے ہٹنا اپنے آپ کو جہنم میں ڈالنا ہے۔چلوآگے بڑھو،اور تمہارے ایک ایک قدم پر ہزار ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔آو¿جو کچھ لینا ہے،آج ہی لے لو،کل پر باقی نہ رکھو۔“

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

04 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ Khilafat e Rashida 2


04 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی 

قسط نمبر 4

لشکر میں تبدیلی،اورمسلمان خواتین کو حکم، صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کی جوشیلی تقریریں، باہان یا ہامان کا تکبر، رومی کمانڈر جرجہ کو اسلام کی دعوت، جرجہ کا قبول اسلام، رومیوں کی شکست اور جرجہ کی شہادت، رومیوں کا زبردست حملہ، گھمسان کی جنگ، حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ کی بہادری، رومیوں کی شکست اور جرجہ کی شہادت، حضرت عکرمہ بن ابو جہل اور اُن کے بیٹے کی شہادت

لشکر میں تبدیلی،اورمسلمان خواتین کو حکم

حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ عنہ نے رومیوں کے لشکر کا جائزہ لیا،تو دیکھا کہ اُن کی تعداد بہت زیادہ ہے۔یہ دیکھ کر آپ رضی اﷲ عنہ نے اسلامی لشکر میں کچھ تبدیلی کی۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔رومی لشکر فخر اور تکبر کے ساتھ میدان میںآیا،اُن کی تعداد اتنی تھی کہ انہوں نے اِس علاقے کی نرم اور سخت ہر قسم کی زمینوں کو اِس طرح بھر دیا،گویا وہ سیاہ بادل ہوں جو بلند آواز سے چلا رہے تھے۔اور اُن کے راہب ،پادری اُن کے سامنے انجیل کی تلاوت کرتے تھے،اور انہیں جنگ پر آمادہ کرتے تھے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے جب رومی لشکر کا جائزہ لیا تو اسلامی لشکر میں کچھ تبدیلی کی۔آپ رضی اﷲ عنہ ، حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کے پاس گئے ،اور فرمایا:”میں آپ رضی اﷲ عنہ سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔“حضرت ابو عبیدہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اﷲ تعالیٰ نے آپ رضی اﷲ عنہ کے دل میں جو خیال پیدا کیاہے،اُس پر عمل کریں،میں آپ رضی اﷲ عنہ کی بات سنوں گا،اور اُس پر عمل کروں گا۔“حضرت خالد بن ولیدرضی اﷲ عنہ نے رومی لشکر کی طرف اشارہ کر کے فرمایا:”بے شک یہ لوگ ایک بہت ہی عظیم حملہ کرنے والے ہیں،جس کا سامنا کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔مجھے میمنہ اور میسرہ کے متعلق خدشہ ہے،میں گھڑسواروں کو دو حصوں میں تقسیم کرنے والا ہوں۔اور انہیں میمنہ اور میسرہ کے پیچھے مقرر کرنے والا ہوں،تاکہ جب رومیوں سے ٹکراو¿ ہو تویہ سوار میمنہ اور میسرہ کے مدد گار ہوں،اور پیچھے سے انہیں سنبھالیں۔“حضرت ابو عبیدہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”آپ رضی اﷲ عنہ کی رائے بہت اچھی ہے،اِس پر عمل کریں۔“گھڑ سواروں کے ایک حصے کی کمانڈخود حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے سنبھالی،اوردوسرے حصے کی کمانڈ حضرت قیس بن ہبیرہ رضی اﷲ عنہ کو بنایا،اور حضرت ابو عبید بن جراح رضی اﷲ عنہ کو اُن کے دستے کے ساتھ ”قلب “سے ہٹا کر اسلامی لشکر کے پیچھے متعین کر دیا۔تاکہ جب بھاگنے کا ارادہ کرنے والا شخص آپ رضی اﷲ عنہ کو دیکھے تو اُسے حیا آجائے،اور وہ واپس جنگ کی طرف پلٹ جائے۔اور اُن کی جگہ ”قلب“کی کمانڈ حضرت سعید بن زید رضی اﷲ عنہ (جو ”عشرہ مبشرہ “میں سے ہیں،اور حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے بہنوئی ہیں)کو سونپی۔اِس کے بعد حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اسلامی لشکر کے پیچھے مسلمان خواتین کے خیموں کے پاس آئے،اور انہیں تلواریں دیکر فرمایا:”تم جس مسلمان کو بھی پیٹھ پھیر کر بھاگتے دیکھنا،اُسے فوراً قتل کر دینا۔

صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کی جوشیلی تقریریں

مسلمانوں کے لشکر میں ایک ہزار (1,000)سے زیادہ جلیل القدر بڑے بڑے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم تھے۔اور اِن میں سے سو(100) سے زیادہ تو بدری صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم تھے۔اور انہوں نے مسلمانوں کے سامنے بڑی جوشیلی تقریریں کیں۔تقریریں بہت زیادہ ہیں،کچھ کمانڈر صحابہ رضی اﷲ عنہم کی تقریریں پیش ہیں۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔جب دونوں لشکر ایک دوسرے کے سامنے آگئے،اور فریقین نے ایک دوسرے کو دیکھا ،تو حضرت ابو عبیدہ رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کے سامنے تقریر فرمائی:”اے اﷲ کے بندو!اﷲ کی مدد کرو،وہ تمہاری مدد کرے گا،اور تمہیں ثابت قدم رکھے گا۔اے مسلمانوں کا گروہ!صبر کرو،بے شک صبر کفر سے نجات دینے والا ہے،اور اﷲ کی خوشنودی ہے،اور عار کو دور کرنے والا ہے۔اپنے میدان کو نہیں چھوڑنا،اور نہ اُن کی طرف پیش قدمی کرنا،اور نہ اُن سے جنگ کی ابتدا کرنا۔نیزوں کو اُٹھا کر بلند رکھو،اور ڈھا ل کی پناہ لو،اور خاموشی اختیار کرو۔اور دلوں میں اﷲ کا ذکر کرو،حتیٰ کہ میں تمہیں حکم دوں،انشاءاﷲ۔“حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ عنہ مسلمانوں کے درمیان گھوم گھوم کر فرمانے لگے:” اے اہل قرآن!اور کتاب کے محافظو،اور حق و ہدایت کے مدد گارو!بے شک رحمت کو (بزدلی سے)حاصل نہیں کیا جاسکتا،اور نہ خواہشات سے جنت میں داخل ہوا جاتا ہے۔اور اﷲ تعالیٰ صرف ”صادق و مصدوق “کو ہی مغفرت اور رحمت عام سے سرفراز فرماتا ہے۔کیا تم نے اﷲ تعالیٰ کا یہ فرمان ”اﷲ کا وعدہ اُن لوگوں سے ہے جو ایمان لائے،اور نیک اعمال کئے........آیت کے آخر تک۔“کو نہیں سنا ؟اﷲ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے ،اپنے رب سے حیا کروکہ وہ تم کو تمہارے دشمن کے مقابلہ میں بھاگتا ہوا دیکھے۔حالانکہ تم اُس کے قبضہ میں ہو،اور تمہارے لئے اُس کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں ہے،اور نہ اُس کے سوا کوئی عزت ہے۔“حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اے مسلمانو!نگاہیں نیچی رکھو،اور گھٹنوں کے بل بیٹھ جاو¿،اور اپنے نیزوں کو بلند کر لو۔اور جب وہ تم پر حملہ کریں ،تو انہیں مہلت دو۔اور جب و ہ نیزوں سے وار کریں تو اُن سے بچ کر اُن پر شیر کی طرح حملہ کر دو۔پس اُس ذات کی قسم! جو سچ سے راضی ہوتا ہے،اور اس کا بدلہ دیتا ہے۔اور میں نے سنا ہے کہ عنقریب مسلمان اُن کا ایک ایک پہاڑ اور ایک ایک محل فتح کر یں گے۔پس اُن کی فوجیں اور اُن کی تعداد تمہیں خوفزدہ نہ کرے ۔اور اگر تم نے دل جمعی کے ساتھاُن پر حملہ کیا تو وہ چکور کے بچوں کی طرح اُڑ جائیں گے۔“حضرت ابو سفیان رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اے مسلمانو!تم عرب ہو،اور اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر اور خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ (انہیں ابھی خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے انتقال کی خبر نہیں ملی تھی)اور مسلمانوں کی مدد سے دور ہو کر عجم کے علاقے میں ہو۔اور اﷲ کی قسم!تم ایک کثیر تعداد دشمن کے مقابلے پر ہو۔جو تم پر بہت غصے ہے۔اور تم نے انہیں ان کی جانوں،شہروں،اور عورتوں کے بارے میںتکلیف دی ہے۔اور کل کو اﷲ تعالیٰ مردانہ وار جنگ کرنے اور ناپسندیدہ مقامات پر استقلال دکھانے سے ہی تم کو اُن سے نجات دے گا،اور تم اُس کی رضا مندی حاصل کر سکو گے۔آگاہ رہو،یہ ایک سنت لازمہ ہے،اور زمین تمہارے پیچھے ہے۔تمہارے خلیفہ رضی اﷲ عنہ اور مسلمانوں کے اور تمہارے درمیان صحراءاور جنگلات ہیں،اور تمہارے لئے اﷲ کے وعدہ کی اُمید اور صبر کے علاوہ کوئی قلعہ اور واپس پھرنے کی جگہ نہیں ہے۔اور اﷲ سب سے بہترین بھروسہ کے قابل ہے،پس اپنی تلوار کے سائے میں آجاو¿ ،وہی تمہارے قلعے ہونا چاہیئے۔اے اہل اسلام !جو تم دیکھتے ہو،وہ حاضر ہے۔یہ اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم اور جنت تمہارے سامنے ہیں۔اور شیطان اور دوزخ تمہارے پیچھے ہے۔“حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ نے ان کو نصیحت کی ،اور فرمایا:”بڑی بڑی آنکھوں والی حوروںاور ”جنة النعیم“میں اپنے رب کے پڑوس میں جانے کے لئے جلدی کرو۔اِس میدان ِجنگ کی بہ نسبت تم اﷲ کو محبوب ہو،آگاہ رہو کہ استقلال دکھانے والوں کی اپنی فضیلت ہے۔“

باہان یا ہامان کا تکبر

دونوں لشکرو ں کی صف بندی کے بعد رومی کمانڈر باہان یا ہامان(کچھ علمائے کرام نے باہان اور کچھ علمائے کرام نے ہامان بتایا ہے)نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ سے مطالبہ کیا کہ وہ دونوں صفوں کے درمیان اُن سے ملنا چاہتا ہے۔اور دونوںملاقات کر کے اپنے اپنے موقف کو واضح کریں۔ باہان نے کہا:”ہمیں معلوم ہوا ہے کہ تم کو اپنے ملک سے بھوک اور تنگ دستی نے نکالا ہے۔میرے پاس آو¿ !میں تم میں سے ہر آدمی کو دس دینار اور لبا س اور کھانا دوں گا،اور تم اپنے ملک واپس چلے جاو¿۔جب اگلا سال آئے گا تو ہم تم کو اِسی قدر چیزیں بھیج دیں گے۔“حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”جس چیز کا تُو نے ذکر کیا ہے،ہمیں اُس نے اپنے ملک نہیں نکالا ۔ہم خون نوش لوگ ہیں،ہمیں معلوم ہوا ہے کہ رومیوںکے خون سے کوئی خون عمدہ نہیں ہے۔اور ہم اس کے لئے آئے ہیں۔“باہان کے ساتھیوں نے اُس سے کہا:”اﷲ کی قسم !ہم عربوں کے متعلق تم سے یہی بات بیان کیا کرتے تھے۔“ 

رومی کمانڈر جرجہ کو اسلام کی دعوت

اِسلامی لشکر میں ایک ہزار صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم بھی تھے۔اِن میں سے لگ بھگ سو صحابہ کرام وہ تھے،جو غزوہ بدر میں شریک تھے۔لشکر کی صف بندی کے دوران ایک شخص نے کہا کہ رومی کتنے زیادہ ہیں ،اور مسلمان کتنے کم ہیں۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے یہ سن کرفرمایا:”اوہورومی کتنے کم ہیں ،اور مسلمان کتنے زیادہ ہیں،سنو!فوجیں کامیابی سے زیادہ،اور ناکامی سے کم ہوتی ہیں،نہ کہ فوجیوں کی تعداد سے۔اس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے صف بندی کی،اور رومیوں نے بھی صف بندی کرلی۔دونوں لشکر آمنے سامنے آگئے، تو رومیوں کے لشکرسے اُس کا کمانڈر جرجہ اپنے گھوڑے پر سوار آگے بڑھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جرجہ اپنی فوج سے نکل کر صفوں کے درمیان آکر کھڑا ہو گیا،اور آواز لگائی :”خالد بن ولید (رضی اﷲ عنہ)اپنے لشکر سے نکل کر میرے پاس آئیں۔“حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اپنی جگہ حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو نائب بنا کر آگئے بڑھے،اور اُس کے پاس پہنچے۔دونوں اتنے قریب پہنچ گئے کہ اُن کے گھوڑوں کی گردنیں آپس میں مل گئیں،کیونکہ دونوں نے ایک دوسرے کو امان دے دی تھی۔جرجہ نے کہا:”اے خالد بن ولید!سچ کہنا،جھوٹ نہیں بولنا،شریف جھوٹا نہیں ہوتا،اور نہ ہی مجھے دھوکا دینا۔کیونکہ کریم النفس ایسے شخص کو دھوکا نہیں دیتا جو خدا کا واسطہ دے کر آیا ہو۔(جرجہ عیسائی تھا)مجھے یہ بتاو¿!کیا اﷲ نے تمہارے نبی (صلی اﷲ علیہ وسلم)پر آسمان سے کوئی تلوار اُتاری ہے؟اور انہوں نے وہ تلوار تم کو دے دی ہے کہ تم جس قوم پر اُس کو کھینچتے ہو،وہ شکست ہی پاتی ہے؟“حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”نہیں ایسا تو نہیں ہے۔“جر جہ نے پوچھا :”پھر تمہارا نام سیف اﷲ (اﷲ کی تلوار) کیوں ہے؟“حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اﷲ تعالیٰ نے ہم میں اپنے ایک نبی کو مبعوث فرمایا۔انہوں نے ہمیں اسلام کی دعوت دی،پہلے تو ہم میں سے کسی نے اُن کی بات نہیں مانی ۔بلکہ اُن سے الگ الگ رہے۔مگر کچھ عرصے بعد بعض لوگوں نے اُن کی تصدیق کی،اور اُن کے پیرو ہو گئے۔اور بعض دور رہے ،اور اُن کو جھٹلایا۔میں بھی اُن لوگوں میں سے تھا جنہوں نے اُن (صلی اﷲ علیہ وسلم ) کو جھٹلایاتھا،اُن سے دور رہے،اور اُن سے لڑے۔مگر اﷲ تعالیٰ نے ہمارے دلوں اور پیشانیوں کو پکڑ لیا،اور ہمیں ہدایت نصیب فرمائی ۔ہم نے اُن کی پیروی کی،پھراُن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا:”تم اﷲ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہو،جس کو اﷲ تعالیٰ نے مشرکین پر کھینچا ہے۔“پھر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے میرے لئے فتح و نصرت کی دعا فرمائی ۔یہی وجہ ہے کہ میں ”سیف اﷲ “کے نام سے مشہور ہوں۔اور مشرکوں کے لئے سب سے زیادہ سخت مسلمان ہوں۔“جرجہ نے کہا:”بے شک تم سچ کہہ رہے ہو۔“پھر آگے اُس نے کہا:”اے خالد بن ولید (رضی اﷲ عنہ)!مجھے بتلاو¿ ،تم کن باتوں کی دعوت دیتے ہو؟“حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”میں تمہیں اِس بات کی دعوت دیتا ہوں کہ تم گواہی دو کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے،اور محمد صلی اﷲ علیہ وسلم اﷲ کے بندے اوررسول ہیں۔اور اقرار کر و کہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم جو کچھ لائے ہیں ،وہ اﷲ کی طرف سے ہے۔“جر جہ نے کہا:”اور جو شخص تمہاری بات نہ مانے ؟“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”وہ جزیہ ادا کرے،ہم اُس کی جان و مال کی حفاظت کریں گے۔“جرجہ نے کہا:”اگر کوئی جزیہ بھی نہیں دے تو؟“

جرجہ کا قبول اسلام

حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”پھر ہماری طرف سے اُسے اعلان جنگ ہے،اور ہم اُس سے لڑیں گے۔“جرجہ نے کہا”اچھا جو شخص آج تمہاری اِس دعوت کو قبول کر لے ،اُس کا درجہ کیا ہوگا؟“حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اﷲ تعالیٰ نے ہم پر جو فرائض عائد کئے ہیں،اُن کے لحاظ سے اعلیٰ ،ادنیٰ اور اول ،آخر سب برابر ،اور ہم مرتبہ ہیں۔“جرجہ نے کہا:”اے خالد بن ولید (رضی اﷲ عنہ)!جو شخص آج تمہارے مذہب میں داخل ہوتا ہے،کیا اُس کو بھی وہی اجر و ثواب ملے گا،جو تم کو ملے گا؟“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”ہاں!بلکہ ہم سے زیادہ ملے گا۔“جرجہ نے کہا:”وہ تمہارے برابر کیسے ہو سکتا ہے؟حالانکہ تم نے اُس سے بہت پہلے اسلام قبول کیاہے۔“حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم لوگ اُس وقت اسلام میں داخل ہوئے تھے،اور اپنے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم سے ہم نے اُس وقت بیعت کی تھی،جب وہ ہمارے درمیان موجود تھے۔اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم پر آسمان سے خبریں آتی تھیں۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم ہم کو کتابوں کی خبریں سناتے تھے،اور اﷲ کی نشانیاں دکھاتے تھے۔ہماری طرح جس شخص نے بھی یہ چیزیں دیکھیں یا سنی ہیں،اُس کا تو یہ فرض تھا کہ وہ اسلام قبول کر کے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی بیعت کر لے۔مگر تم نے وہ عجیب باتیں،اور وہ اﷲ کی نشانیاں کہاں دیکھی ہیں،جن کا موقع ہم کو ملا ہے۔اس لئے تم میں سے جو شخص سچے دل سے اور خلوص نیت سے اِس دین میں داخل ہو گا،وہ ہم سے افضل ہو گا۔“جرجہ نے کہا:”اے خالد بن ولید (رضی اﷲ عنہ )!قسم کھا کر کہو کہ تم نے مجھ سے یہ سب باتیں سچ کہی ہیں،اور تم نے مجھے دھوکہ نہیں دیا ہے،اور نہ ہی میرا دل خوش کرنا چاہا ہے۔“حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اﷲ کی قسم ! میں نے تم سے سچ کہا ہے،مجھے تمہارا یا تم سے کسی بات کا ذرا بھی خوف نہیں ہے۔اﷲ گواہ ہے کہ میں نے تمہارے سوالات کا ٹھیک ٹھیک جواب دیا ہے۔“جرجہ نے کہا:”میں آپ (رضی اﷲ عنہ ) کی صداقت کو تسلیم کرتا ہوں۔“پھر اُس نے اپنی ڈھال کو پلٹ دیا،اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے ساتھ اسلامی لشکر میں چلا آیا۔اور آپ رضی اﷲ عنہ سے درخواست کی کہ مجھے اسلام قبول کرائیں۔آپ رضی اﷲ عنہ جرجہ کو لیکر اپنے خیمے میں آئے ۔اُس کے اوپر پانی کا مشکیزہ اُنڈیل کر غسل کرایا،اور اسلام قبول کرایا،اور نماز پڑھنا سکھایا۔اور جرجہ نے دو رکعت نماز ادا کی۔

رومیوں کی شکست اور جرجہ کی شہادت

حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے ساتھ جرجہ کو جاتے دیکھ کر رومیوں نے حملہ کر دیا۔وہ یہ سمجھے کہ جرجہ حملہ کرتا ہوا جارہا ہے۔رومیوں کے اِس اچانک حملے نے مسلمانوں کو اُن کی جگہ سے ہٹا دیا۔مگر مدد گار دستے جن کے افسر حضرت عکرمہ بن ابو جہل اور حضرت حارث بن ہشام رضی اﷲ عنہم تھے، وہ اپنی جگہ جمے رہے۔اس کے بعد حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اور اُن کے ساتھ حضرت جرجہ دو رکعت نماز پڑھ کر اپنے گھوڑوں پر سوار ہو کر واپس آئے ۔اُس وقت رومی مسلمانوں کے لشکر میں گھسے ہوئے تھے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو للکارا،اور رومیوں پر ٹوٹ پڑے۔جس کی وجہ سے مسلمانوں کے پیر جم گئے،اور رومیوں کو اپنی جگہ واپس جانا پڑا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ جرجہ کے ساتھ مسلمانوں کو لیکر رومیوں پر چڑھ دوڑے،اور شدید حملہ کر دیا۔تلواروں پر تلواریں چلنے لگیں،اور غروب ِ آفتاب تک آپ رضی اﷲ عنہ اور جرجہ مسلمانوں کے ساتھ ملکر رومیوں کی گردنیں کاٹتے رہے،اور سر اُڑاتے رہے۔آخر کا ر حضر ت جرجہ شہید ہو گئے،انہوں نے صرف وہی دو رکعت نماز سجدے سے ادا کی،جو انہوں نے اسلام قبول کرتے وقت پڑھی تھیں۔اور ظہر اور عصر کی نمازیں اشارے سے جنگ کرتے ہوئے بغیر سجدے کے ادا کیں۔اور پورے اسلامی لشکرنے بھی جنگ کرتے ہوئے اشارے سے نماز پڑھیں۔

رومیوں کا زبردست حملہ

جس وقت حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ حضرت جرجہ کو اسلام قبول کرا رہے تھے،اور وہ دو رکعت نماز ادا کر رہے تھے،اُس وقت رومیوں نے زبردست حملہ کر دیا۔حملہ اتنا زبردست تھا کہ مسلمانوں کے قدم پیچھے ہٹ گئے۔صرف حضرت عکرمہ رضی ا ﷲ عنہ بن ابو جہل اور حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ اپنے دستوں کے ساتھ ثابت قدم رہے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔اور باہان نے باہر نکل کر میسرہ کے کمانڈر الدبریجان کو زبر دست حملے کا حکم دیا۔اور وہ اﷲ کا دشمن اِن میں درویش تھا۔اُس نے میمنہ پر حملہ کر دیا(جس میں حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ بن ابو جہل اور حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ کی قیادت میں)بنو ازد،بنو مذجح ،حضر موت اور خولان کے آدمی تھے۔انہوں نے ثابت قدمی دکھائی ،اور اﷲ کے دشمنوں کو روک دیا۔پھر پہا ڑوں کی مانند رومیوں نے حملہ کیا،اور مسلمان پیچھے کی طرف چلے گئے۔اور ایک گروہ لشکر سے الگ ہو گیا،اور مسلمانوں کا بہت بڑا گروہ ثابت قدم رہا۔پیچھے ہٹنے والوں کو حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے اپنی تقریر سے مقابلے کا جذبہ پیدا کر کے لشکر میں لڑنے کے لئے بھیجا۔اور عورتوں نے لکڑیوں اور پتھروں سے انہیں مارتے ہوئے اُن کا استقبال کیا۔اور سیدہ خولہ بن ثعلبہ رضی اﷲ عنہا اُن سے کہنے لگیں:”اے پرہیز گار عورتوں کو چھوڑ کر بھا گنے والو!عنقریب تم اُن کو (رومیوں کی عورتوںکو)قیدی دیکھو گے،وہ نہ عقل مند ہوں گی،اور نہ پسندیدہ ہوں گی۔“پھر تمام پیچھے ہٹنے والے مسلمان اپنے اپنے مقامات پر واپس آگئے۔

گھمسان کی جنگ

حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ جب حضرت جرجہ کے ساتھ میدان جنگ میں آئے تو رومی مسلمانوں پر حاوی تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے نعرہ تکبیر بلند کیا اور جرجہ کے ساتھ ملکر رومی لشکر پر حملہ کردیا،اور رومیوں کو کاٹنا شروع کردیا۔آپ رضی اﷲ عنہ بجلی بن گئے تھے،اور رومیوں کو کاٹتے ہوئے کبھی قلب میں ہوتے ،کبھی میمنہ میں،اور کبھی میسرہ میںہوتے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ کو دیکھ کر مسلمانوں میں زبردست جذبہ پیدا ہو گیا۔حضرت جرجہ مسلسل آپ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ لگے ہوئے تھے،اور ”اﷲ کی تلوار“کا قہر دیکھ رہے تھے۔اب مسلمانوں نے اتنا زبردست حملہ کیا کہ رومی بری طرح گھبرا گئے،پھر سنبھل کر حملہ کرنے لگے۔اب جنگ برابری پر آگئی تھی،اور دونوں طرف سے زبردست حملے ہو رہے تھے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔تمام مسلمان اپنے اپنے جھنڈے تلے ثابت قدم رہے،اور رومی چکی کی طرح چکر لگانے لگے۔اور یرموک کے روز میدان جنگ میں اُچھلتا ہوا خون،گودے دار ہڈیاں،عمدہ کلائیاںاور اُڑتی ہوئی ہتھیلیاں دیکھی گئیں۔اُس روز مسلمانوں میں سے سب سے پہلے شہید ہونے والا شخص حضرت ابو عبیدہ رضی اﷲ عنہ کے پاس آیا،اور بولا:”میں نے اپنی پوری تیاری کر لی ہے،کیا آپ رضی اﷲ عنہ کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے کچھ عرض کرنا ہے؟“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”ہاں!میری طرف سے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو سلام کہنا،اور یہ بھی کہنا کہ یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم !ہمارے رب نے ہم سے جو وعدے کئے تھے،ہم نے انہیں بر حق پایا۔“پھر وہ مسلمان آگے بڑھے،اور رومیوں پر تیزی سے حملہ کر کے انہیں کاٹنے لگے،یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔رومیوں کے حوصلے اُن کے پادری اور راہب بڑھا رہے تھے۔حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ عنہ جب پادریوں اور راہبوں کی آواز سنتے تو بلند آواز سے فرماتے تھے:”اے اﷲ !رومیوں کے پاو¿ں ڈگمگا دے،اور اُن کے دلوں کو مرعوب کر دے۔ہم پر سکینت نازل فرما،اور ہمیں تقویٰ کی بات کا پابند رکھ،اور جنگ کو ہمارا محبوب بنا دے،اور ہمیں فیصلے سے راضی کر دے۔“

حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ کی بہادری

جنگ یرموک میں حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ بھی شامل تھے،اور آپ رضی اﷲ عنہ نے اِس جنگ میں بہادری کا ایسا بے مثال مظاہرہ فرمایا کہ لوگ عش عش کر اُٹھے۔حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ ”عشرہ مبشرہ“میں سے ہیں،اور ”بدری صحابی“بھی ہیں۔اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پھوپھی ذاد بھائی ہیں۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ جنگ یرموک میں شامل تھے،اور بڑے دلیر اور شہسوار تھے۔اُس روز بہادر شہسواروں کے ایک گروہ نے آپ رضی اﷲ عنہ نے کہا کہ ہم آپ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ ملکر رومیوں سے لڑنا چاہتے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:تم لوگ میرا ساتھ نہیں دے پاو¿ گے۔“انہوں نے کہا:”ہم ہر حال میں آپ رضی اﷲ عنہ کا ساتھ نبھائیں گے۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”ٹھیک ہے۔“اور پھر اُن کے ساتھ رومیوں پر حملہ کیا۔آپ رضی اﷲ عنہ رومیوں کو کاٹتے مارتے اُن کی صفوں میں آگے بڑھتے چلے جارہے تھے،جب کے اُن کے ساتھی رومیوں کی صفوں کو نہیں توڑ سکے ،اور وہیں رک گئے۔آپ رضی اﷲ عنہ رومیوں کی صفوں کو توڑتے اُنہیں مارتے کاٹتے رومیوں کے لشکر کے اُس پار چلے گئے۔اور جب گھوم کر دیکھا تو اُن کے ساتھی رومیوں کے لشکر کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں،تو پھر سے رومیوں کے اوپر ٹوٹ پڑے،اور مارتے کاٹتے ہوئے اپنے ساتھیوں کے پاس واپس آئے۔اُس روز آپ رضی اﷲ عنہ کے کندھے پر دو اتنے گہرے زخم آئے تھے کہ بعد میں اُن کے چھوٹے بیٹے حضرت عروہ بن زبیر رضی اﷲعنہ اُن زخموں کے نشانات میں اپنی انگلیاں ڈال کر کھیلتے تھے۔

حضرت عکرمہ بن ابو جہل اور اُن کے بیٹے کی شہادت

یرموک میں جنگ اپنے شباب پر تھی،اور مسلمان کم تعداد ہونے کے باوجود رومیوں پر حاوی ہو گئے تھے۔یہاں تک کہ رومیوں کو دھکیلتے ہوئے خندق تک پہنچ گئے تھے۔رومی خندق نما گھاٹی میں چھپ گئے ،اور وہیں سے تیر اندازی کر کے مسلمانوں کو آگے بڑھنے سے روک رہے تھے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ مسلسل خندق نما گھاٹی کے کنارے اپنا گھوڑا دوڑانے لگے ،اور کمزور پہلوتلاش کرنے لگے،تاکہ وہیں سے رومیوں پر حملہ کر کے خندق نما گھاٹی سے پیچھے دھکیل سکیں۔آپ رضی اﷲ عنہ چاہتے تھے کہ اتنے فیصلہ کُن مرحلے پر آنے کے بعد شام تک کم سے کم خندق نما گھاٹی پر مسلمانوں کا قبضہ ہو جائے،تاکہ کل صبح جنگ اسی جگہ سے آگے بڑھے۔اور اگر خند ق نما گھاٹی پر مسلمانوں کا قبضہ نہیں ہو سکا ،تو کل جنگ وہیں سے شروع کرنی پڑے گی،جہاں سے آج صبح شروع کی تھی۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے اِس ارادے کو اُن کے بچپن کے دوست حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ بن ابو جہل نے بھانپ لیا ۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے ایک جگہ خندق نما گھاٹی پر رومیوںکوکچھ کمزور دیکھاتو وہیں اپنا خیمہ لگوا لیا۔حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ بن ابوجہل خیمے اور گھاٹی کے درمیان کھڑے ہو گئے ،اور بلند آواز سے مسلمانوں کو موت پر بیعت کرنے کے لئے پکارا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔یرموک کے روز حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ بن ابوجہل نے فرمایا:”میں وہ شخص ہوں،جس نے کئی میدان میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے جنگ کی ہے۔کیا آج کی جنگ میں اِن کافروں سے ڈر کر بھاگ جاو¿ں گا؟“اِس کے بعد انہوں نے بلند آواز سے فرمایا:”آو¿،کون موت کے لئے بیعت کرتا ہے؟“یہ سنتے ہی حضرت حارث بن ہشام اور حضرت ضرار بن ازور آگے بڑھے ،اور موت کے لئے بیعت کی۔یہ دیکھکر چارسو(400)بہادر اور ذی مرتبہ مسلمانوں نے موت کے لئے حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ بن ابوجہل کے ہاتھ پر بیعت کی۔اب یہ لوگ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے خیمے کے پاس خندق نما گھاٹی کی طرف بڑھنے لگے۔رومی فوجی اُن پر مسلسل تیر برسانے لگے،لیکن یہ چار سو (۰۰۴)مجاہدین کا دستہ تیر کھا کر بھی آگے بڑھتا رہا۔یہاں تک کہ خندق نما گھاٹی میں داخل ہو گئے،اور وہاں کے رومیوں کو قتل کرنا شروع کر دیا۔اِس دستے میں حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ اور اُن کے بیٹے سب سے آگے تھے،اور کئی تیر لگنے کے بعد بھی جنگ کر رہے تھے،اور رومیوں کو قتل کر رہے تھے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے حکم پر اسلامی لشکر اسی جگہ سے خندق نما گھاٹی میں داخل ہوگیا،اور رومیوں پر اتنا زبردست حملہ کیا کہ ان کے پیر اُکھڑ گئے۔حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ اور اُن کے بیٹے بہت شدید زخمی ہو چکے تھے۔اُنہیں اسی حالت میں اُٹھا کر حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں لایا گیا تو آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ کا سر اپنی گود میں ایک طرف رکھا،اور دوسری طرف اُن کے بیٹے کا سر رکھا۔آپ رضی اﷲ عنہ اُن دونوں جانباز باپ بیٹے کے چہروں سے خون صاف کرتے جاتے تھے،اور اُن کے منہ میں پانی ٹپکاتے جاتے تھے۔اور فرماتے جاتے تھے:”ابن الختہ نے غلط کہا تھا کہ ہم شہادت کے حصول سے گریز کریں گے۔“آخر دونوں باپ بیٹے وہیں شہید ہو گئے۔اور جن چار سو مجاہدوں نے موت پر بیعت کی تھی،اُن میں سے تمام لوگ زخمی ہوئے،اور اکثر شہید ہوئے ،صرف چند لوگوں کے زخم اچھے ہوئے،شدیدزخمی ہونے والوںمیں حضرت ضرار بن ازوررضی اﷲ عنہ بھی تھے،جو بعد میں تندرست ہو گئے تھے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!


05 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ Khilafat e Rashida 2


05 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی 

قسط نمبر 5

مسلمانوں کی آپسی محبت،اور شہادت کی تمنا، مسلمانوں کی فتح، رومی سپہ سالاروں اور کمانڈروں کا قتل، حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ مسلمانوں کے سپہ سالار، حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ عام سپاہی کی حیثیت سے، رومی کیوں ناکام ہوئے، حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ ”امیر الامراء“، دمشق کا محاصرہ، حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کا حملہ، دمشق والوں سے صلح، مال غنیمت کی تقسیم

مسلمانوں کی آپسی محبت،اور شہادت کی تمنا

جنگ یرموک میں مسلمانوں نے ایکدوسرے سے آپسی محبت اور شہید ہونے کی تمنا کا ایسا مظاہرہ کیا،جو ہمیشہ تاریخ میں سنہرے حرفوں سے لکھا جائے گا۔اور ہر زمانے اور ہر دور کے مسلمان اِس سے سبق حاصل کر کے اِس پر عمل کر کے کامیاب ہوتے رہیں گے۔علامہ عماد الدین ابن کثیرلکھتے ہیں۔اور واقدی وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ جب وہ (حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ ،اُن کے بیٹے اور چارسو مجاہدین)زخم کھا کر گر پڑے ،تو انہوں نے پانی مانگاتو اُن کے پاس پینے کے لئے پانی لایا گیا۔اور جب اُن میں سے ایک کو پانی دیاجانے لگا،تو دوسرے آدمی نے پانی مانگا تو پہلے آدمی نے کہا:”یہ پانی اُسے پلا دو۔“پس اِن میں سے ہر ایک نے دوسرے کو پانی پلانے کو کہا۔یہاں تک کہ سب لوگ پیاسے شہید ہو گئے ،اور کسی نے بھی پانی نہیں پیا۔

مسلمانوں کی فتح

اﷲ تعالیٰ نے حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ اور اُن کے چار سو (400) ساتھیوں کی قربانی کو قبول فرمایا،اور مسلمانوں کوفتح عطا فرمائی۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کے ساتھ ملکر خندق نما گھاٹی میں داخل ہوتے ہی رومیوں کا قتل عام شروع کردیا۔رومیوں کے پیر اُکھڑ گئے،اور انہیں بُری طرح شکست ہوئی ۔رومی بھاگ کر واقوصہ کی گھاٹی میں چلے گئے،اور وہ گھاٹی اُن کے لئے موت کا پھندہ بن گئی۔اِس گھاٹی سے نکلنے کا ایک ہی راستہ تھا،اور اُس پر مسلمانوں کا قبضہ تھا۔رومیوں کے بھاگنے کا راستہ بند ہو چکا تھا،اور مسلمان انہیں مسلسل کاٹتے جارہے تھے۔رومی بہت زیادہ تعداد میں تھے،اﷲ تعالیٰ نے اُن کے دلوں میں رعب ڈال دیا تھا۔ورنہ وہ اتنے زیادہ تعداد میں تھے کہ اگر وہ ہمت سے لڑتے تو مسلمان مصیبت میں آجاتے۔اِس بات کو حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اچھی طرح جانتے تھے،اسی لئے انہوں نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ فرار ہونے والے گھڑ سواروں کو مت روکو۔لیکن ان کے کمانڈروں اور سپہ سالاروں کو روک لو۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔مسلمانوں نے یہ دیکھ کر کہ رومی سوار بھاگنا چاہتے ہیں،ان کو راستہ دے دیا،اور مزاحم نہیں ہوئے۔یہ لوگ بھاگ کر مختلف شہروں میں منتشر ہو گئے۔پھر حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اور مسلمان پیدل رومی فوجیوں کی طرف متوجہ ہوئے۔اور اُن کو کاٹ کاٹ کر یہ حالت کر دی ،گویا کہ ایک عظیم الشان دیوار تھی ،جو منہدم کر دی گئی ۔رومی اپنی خندق میں گھس گئے،حضرت خالد رضی اﷲ عنہ وہاں بھی پہنچے تو وہاں سے جان بچا کر رومیوں نے واقوصہ کی گھاٹی کی طرف رخ کیا۔جن رومیوں نے بیڑیاں اور زنجیریں پہنی ہوئی تھیں،وہ اُس گھاٹی میں دھڑا دھڑا گرنے لگے۔اور اُن میں سے جو لوگ لڑنے کے لئے جم کر کھڑے رہنا چاہتے تھے،اُن کو بھی وہ لے مرتا تھاجس کے دل پر مسلمانوں کی دہشت طاری ہوتی تھی۔ایک کے گرنے سے دس دس کی جان پر آبنتی تھی،اور ذرا سا دو آدمی جھکتے تھے تو اُن کے ساتھ باقی لوگ بے بس ہو جاتے تھے۔ایک لاکھ بیس ہزار(1,20,000) رومی واقوصہ کی گھاٹی میں قتل کئے گئے۔اِن میں سے اسی ہزار(80,000)بیڑیاں اور زنجیریں پہنے ہوئے تھے،اور چالیس ہزار کھلے ہوئے تھے۔یہ تعداد اُن گھڑ سواروں اور پیدلوں کے علاوہ تھی،جو واقوصہ کی گھاٹی کے باہر قتل ہوئے۔

رومی سپہ سالاروں اور کمانڈروں کا قتل

جنگ یرموک میں رومیوں کا قتل عام ہو رہا تھا،اور اُن کے کمانڈر،سردار اور سپہ سالار شرم کی وجہ سے منہ چھپائے بیٹھے تھے۔جبکہ اُن کا سب سے بڑا سپہ سالار تذارق اپنی جان بچا کر بھاگ گیا تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔فیقا ءاور بعض دوسرے رومی کمانڈروں اور سپہ سالا روں نے مارے شرم اور غیرت کے اپنی ٹوپیوں میں اپنے منہ چھپا لئے،اور بیٹھ گئے۔اور کہا کہ آج اگر ہم نصرانیت(عیسائیت) کی حمایت کرنے اور یوم مسرت دیکھنے کے قابل نہیں ہیں تو اِس ذلت اور بد بختی کے دن کو بھی دیکھنا نہیں چاہتے ۔اور اسی حالت میں انہیں قتل کر دیا گیا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے رومیوں کے پڑاو¿ میں داخل ہونے کے بعدتذارق کے خیمے میں قیام فرمایا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے ہرقل کے بھائی تذارق کے خیمہ میں گذاری ،جو اُس روز رومیوں کا سپہ سالار تھا۔وہ بھی بھگوڑوں کے ساتھ بھاگ گیا تھا۔اور گھڑسواروں نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے خیمے کے پاس چکر لگاتے ہوئے گذاری ،اور جو بھی رومی اُن کے پاس سے گذرتا تھا،وہ اسے قتل کر دیتے تھے۔یہاں تک کہ صبح ہو گئی ،اور تذارق بھی قتل کر دیا گیا۔اُس کے لئے تیس شامیانے اور تیس دیباج کے پردے تھے ،جن میں بچھونے اور ریشم بھی تھا۔ 

حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ مسلمانوں کے سپہ سالار

حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ بنتے ہی حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو معزول کر دیا ،اور حضرت ابو عبیدہ بن جر اح رضی اﷲ عنہ کو مسلمانوں کا سپہ سالار بنایا۔اور ایک خط لکھ کر حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کی طرف بھیجا۔اُس خط کا مضمون ہم اوپر پیش کر چکے ہیں،لیکن تسلسل برقرار رکھنے کے لئے یہاں بھی پیش کر رہے ہیں۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔خلیفہ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے خط میں لکھا:”میں تم کو اُس اﷲ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں،جو باقی رہنے والا ہے۔اور جس کے سوا ہر چیز فنا ہونے والی ہے،جس نے ہم کو گمراہی سے نکال کر راہ راست(سیدھے راستے )پر لگایا۔اور ظلمت(کفر)سے نکال کر نور(اسلام)میں داخل فرمایا۔میں تم کو حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی جگہ لشکر کا سپہ سالار مقرر کرتا ہوں۔تم مسلمانوں کے حقوق ادا کرنے کے لئے کھڑے ہو جاو¿،تم غنیمت کی حرص میں آکر مسلمانوں کو ہلاکت میں مبتلا نہ کرنا۔اور نہ کسی اجنبی مقام میں وہاں کے حالات اور نتائج سے بے خبر ہوکر اُن کو ٹھہرانا۔جب تم کسی لشکر کو جنگ کے لئے بھیجو،تو معقول تعداد کے بغیر نہیں بھیجنا۔مسلمانوں کو ہلاکت میں ہرگز مبتلا نہ کرنا،اﷲ نے تمہارا معاملہ میرے ہاتھ میں ،اور میرا معاملہ تمہارے ہاتھ میں دیا ہے۔دنیا کی محبت سے آنکھیں بند کر لو،اور اپنے دل کو بے نیاز کر لو۔خبردار اگلے لوگوں کی طرح اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو۔اُن کے بچھڑنے کے میدان تمہاری آنکھوں کے سامنے ہیں۔“جو لوگ ملک شام میںخلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے انتقال کی خبر لیکر گئے تھے،اُن کے نام حضرت شداد بن اوس بن ثابت انصاری رضی اﷲ عنہ ،حضرت محمیہ بن جز اور حضرت یرفا ہیں۔اُن لوگوں نے مسلمانوں کے فتح یاب ہونے تک اِس خبر کو پوشیدہ رکھا،اُس وقت مسلمان یرموک میں واقوصہ کی گھاٹی میں رومیوں سے جنگ کر رہے تھے۔یہ رجب المرجب ۳۱ ھجری کا واقعہ ہے۔اِس کے بعد انہوں نے حضرت ابو عبیدہ رضی اﷲ عنہ کو خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے انتقال کی اطلاع دی۔اور بتایا کہ خلیفہ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے آپ رضی اﷲ عنہ کو مسلمانوں کا سپہ سالار مقرر فرمایا ہے۔اور تمام سپہ سالاروں کو آپ رضی اﷲ عنہ کا ماتحت بنایا ہے،اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو معزول کر دیا ہے۔اور خلیفہ ¿دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا خط پیش کر دیا۔

حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ عام سپاہی کی حیثیت سے

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی معزولی کا جو خط حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو بھیجا تھا۔وہ خط آپ رضی اﷲ عنہ نے جنگ یرموک ختم ہونے کے بعد حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو دیا۔انہوں نے خط پڑھتے ہی اپنی جگہ حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو سپہ سالار بنا دیا،اور خود ایک عام سپاہی کی حیثیت سے مسلمانوں کے لشکر میں شامل ہو گئے۔ایک روایت میں ہے کہ جنگ یرموک میں فتح حاصل ہونے کے بعد خط دیا،اور محمد بن اسحاق کی روایت میں ہے کہ فحل اور دمشق کی فتح کے بعد دیا۔اب حقیقت کا علم تو صرف اﷲ تعالیٰ کو ہی ہے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اُس وقت مجاہدین میں مال غنیمت تقسیم کر چکے تھے یا کرنے والے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ فوراًکھڑے ہو گئے ،اور لشکر کے سامنے خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے انتقال اور خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خلافت اور حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کی سپہ سالاری اور اپنی معزولی کا اعلان فرمایا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔جب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے لشکر والوں کو خلیفہ¿ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے انتقال کی خبر دی تو مال غنیمت حاصل ہونے کی خوشی انہیں نہیں ہوئی ۔لیکن اﷲ تعالیٰ نے حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی شکل میں خلیفہ¿ اول کا بدل عنایت فرمایا۔جب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے لشکر والوں سے حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ کی تعزیت کی تو فرمایا:”سب تعریف اُس اﷲ کے لئے ہے،جس نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی موت کا فیصلہ فرمایا۔اور وہ مجھے خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے زیادہ محبوب تھے۔اور اُس اﷲ کا شکر ہے ،جس نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو خلیفہ¿ دوم بنایا۔اور وہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی بہ نسبت مجھے کم محبوب تھے۔لیکن حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی محبت اور اطاعت مجھ پر لازم کر دی ہے۔“

رومی کیوں ناکام ہوئے

یرموک میں شکست کھانے کے بعدرومی فوج بھاگ کر ہرقل کے پاس پہنچی،وہ اُس وقت انطاکیہ میں تھا۔اُسے رومیوں کی بد ترین شکست کی خبر دی گئی ،اُسے رومیوں کی شکست کا اور بھائی کی موت کا بہت صدمہ ہوا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔جب شکست خوردہ رومی آئے تو ہرقل جو انطاکیہ میں تھا،اُس نے کہا:”تم ہلاک ہو جاو¿،مجھے اُن لوگوں کے متعلق بتاو¿،جنہوں نے تمہیں شکست دی ہے۔کیا وہ تمہاری طرح انسان نہیں تھے ؟انہوں نے کہا:”اِس میں کوئی شک نہیں کہ وہ لوگ بھی انسان تھے۔“اُس نے پوچھا :”کیا وہ تعداد میں زیادہ تھے؟“انہوں نے جواب دیا :”نہیں !ہماری تعداد اُن سے کئی گنا زیادہ تھی۔“ہرقل نے پوچھا:”پھر تمہیں شکست کیسے ہو گئی؟“کسی نے کچھ نہیں کہا ،پھر ایک بوڑھا کھڑا ہوا ،اور بولا:”اِس وجہ سے انہیں فتح ہوئی کہ وہ لوگ رات کو عبادت میں گذارتے ہیں،اور دن کو روزہ رکھتے ہیں،اور وعدہ و عہد پورا کرتے ہیں،اور نیکی کا حکم دیتے ہیں،اور برائی سے روکتے ہیں،اور آپس میں انتہائی محبت اور انصاف سے پیش آتے ہیں۔اور ہمیں اِس وجہ سے شکست ہوئی کہ ہم شراب پیتے ہیں،زنا کاری کرتے ہیں،حرام کا موں کو کرتے ہیں،وعدہ و عہد توڑتے ہیں،دوسروں کے حقوق غصب کرتے ہیں،لوگوں پر ظلم کرتے ہیں،اور نا پسندیدہ کاموں کا حکم دیتے ہیں،اور جن باتوں سے اﷲ راضی ہوتا ہے اُن سے روکتے ہیں،اور زمین پر فساد کرتے ہیں۔“ہر قل نے کہا:”اے بزرگ !تم نے مجھ سے سچ بولا ہے۔“ 

حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ ”امیر الامراء“

حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے حکم کے مطابق حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو ”سپہ سالار اعظم“ بنا دیا۔یعنی دوسرے سپہ سالار آپ رضی اﷲ عنہ کے ماتحت تھے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ملک شام کی سپہ سالاری حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو منتقل ہو گئی ،اور آپ رضی اﷲ عنہ پہلے شخص ہیں جنہیں ”امیر الامرائ“کا خطاب دیا گیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے یرموک پر حضرت بشیر بن کعب حمیری کو اپنا نائب بنا کر چھوڑ دیا۔اِس کے بعد آگے بڑھے ،آپ رضی اﷲ عنہ بھاگنے والوں کا تعاقب کرنا چاہتے تھے۔لیکن یقینی معلوم نہیں تھا کہ رومی کس طرف جائیں گے۔اتنے میں اطلاع آئی کہ رومی ”فحل“میں جمع ہو رہے ہیں۔اور دمشق والوں کی مدد کے لئے حمص سے کمک آرہی ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے تمام تفصیلات لکھ کر خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیج دی،اور جواب کے انتظار میں ”صفر“میں ٹھہر گئے۔خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ نے جواب میں حکم دیا کہ تمام سپہ سالار اپنے اپنے عہدے پر قائم رہیں گے۔صرف حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ تمہارے ماتحت رہیں گے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے پاس حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کا خط یہ دریافت کرنے کے لئے آیا کہ کس مقام پر حملہ پر پہلے کیا جائے،تو خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ نے جواب میں خط بھیجا:”اما بعد!تم کو چاہیئے کہ پہلے دمشق پر حملہ کرو ،کیونکہ دمشق ملک شام کا قلعہ اور دشمنوں کا دار الحکومت ہے ۔اور فحل والوں کے مقابلے پر اپنے دستے چھوڑ کر اُنہیں اُلجھائے رکھو ،تاکہ وہ لوگ تمہاری طرف توجہ نہیں دے سکیں۔اسی طرح اہل فلسطین اور اہل حمص کو بھی مصروف کر دو۔اگر یہ مقامات دمشق سے پہلے فتح ہو گئے ،تو تمہاری مُراد بر آئے گی ۔اوراﷲ تعالیٰ نے دمشق کو ان سے پہلے فتح کرا دیا ،تو اُس کی حفاظت کے لئے ایک کمانڈر (امیر)چھوڑ دینا۔اور باقی سپہ سالاروں کے ساتھ ملکر فحل پر حملہ کرنا،جب فحل فتح ہو جائے تو تم حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے ساتھ حمص کی طرف مڑ جانا۔اور حضرت شرجیل بن حسنہ رضی ا ﷲ عنہ کو اردن میں اور حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کو فلسطین میں چھوڑ دینا،اور ہر شہر اور ہر فوج کے سپہ سالار اگلا حکم آنے تک اپنی اپنی خدمات بر قرا رکھیں گے۔

دمشق کا محاصرہ

خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی ہدایت کے مطابق حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے دس کمانڈروں کے ماتحت دس دستے فحل کی طرف روانہ کئے۔یہ دستے جب فحل کے قریب پہنچے تو فحل والوں نے اطراف کی ندیوں کے بند توڑ دیئے۔جس سے زمین دلدلی ہو گئی ،اور مسلمانوں کو یہ علاقہ پار کرنے میں بہت پریشانی ہوئی ۔ادھر صفر سے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے دمشق کی طرف آگے بڑھنے سے پہلے حضرت ذوالکلاح کولشکر دے کر روانہ کیا،اور حکم دیا کہ حمص اور دمشق کے درمیان جاکر پڑاو¿ ڈال دو۔اور حمص سے آنے والی رومیوں کی فوجی امداد کو دمشق تک نہیں پہنچنے دینا۔اور حضرت یزید بن ابو سفیان کو لشکر دیکر فلسطین اور دمشق کے درمیان پڑاو¿ ڈالنے کا حکم دیا۔کہ فلسطین سے آنے والی فوجی امداد کو روکیں۔اِس کے بعد حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر دمشق کی طرف بڑھے۔”مقدمة الجیش“کا کمانڈر حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ عنہ کو بنا کر آگے بھیجا۔وہ دمشق کی طرف روانہ ہوئے ،اور اُن کے ایک بازو حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ تھے،اور دوسرے بازو حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ تھے۔گھڑسواروں کے کمانڈر حضرت عیاض بن غنم رضی اﷲ عنہ تھے۔اور پیدل کے کمانڈر حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ عنہ تھے۔مسلمانوں نے دمشق کا محاصرہ کر لیا۔سامنے کی طرف حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ تھے۔دائیں بازو حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی ا ﷲ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ تھے ۔بائیں بازو حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ تھے۔اور پیچھے حضرت یزید بن ابو سفیان رضی ا ﷲ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ تھے۔دمشق کا حکمراں نسطاس بن نسطوس تھا،اُس نے ہرقل سے فوجی کمک (مدد) مانگی۔ہر قل اُن دنوں حمص میں ٹھہرا ہوا تھا،اُس نے فوجی کمک بھیجی تو راستے میں حضرت ذولکلاع سے ٹکراؤ ہوا،انہوں نے رومیوں پر اتنا زبردست حملہ کیا کہ وہ واپس حمص بھاگ گئے۔اِدھر دمشق پر مسلمانوں کے حملے جاری رہے،اور کبھی منجنیقوں سے حملے کرتے ،اور کبھی تیر اندازی کرتے تھے۔اِس طرح دمشق کے محاصرے کو ستر دن گذر گئے۔

حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کا حملہ

مسلمان دمشق کا محاصرہ کئے ہوئے تھے،اور اندر رومی ہرقل کی فوجی امداد کا انتظار کر رہے تھے۔لیکن جب انہیں ہرقل کی طرف سے امداد نہیں مل سکی تو اُن کے اندر بزدلی پیدا ہو گئی ۔پھر بھی انہوں نے سمجھا کہ مسلمان دوسرے عام لٹیروں کی طرح ہیں،اس لئے جب سردی زیادہ ہو جائے گی تو یہ خود ہی یہاں سے بھاگ جائیں گے۔لیکن سردی زیادہ ہونے کے باوجود مسلمان محاصرے پر ڈٹے رہے۔حضرت خالد بن ولید مسلسل حملہ کرنے کی تاک میں تھے،اگر اُن کے اوپر حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کا دباؤ نہیں ہوتا ،تو ابھی تک وہ دمشق پرفیصلہ کن حملہ کر چکے ہوتے۔اِس کے بعد بھی وہ موقع کی تلاش میں تھے،اور آخر کار انہیں وہ موقع مل ہی گیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔اِسی عرصے میں اہل دمشق کے سب سے بڑے پادری کے یہاں لڑکا پیدا ہوا۔اُس نے پورے دمشق والوں کی دعوت کی،رومیوں نے خوب کھایا،اور خوب شراب پی۔یہاں تک کہ وہ لوگ اپنی اپنی متعینہ جگہ کی نگرانی سے بالکل بے خبر ہو گئے۔مسلمانوں میں سے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے سوا کوئی بھی رومیوں کی اِس حالت سے واقف نہیں تھا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی ہمیشہ یہ کیفیت ہوتی تھی کہ نہ خود سوتے تھے ،اور نہ کسی کو سونے دیتے تھے۔اُن کو رومیوں کی سب باتوں کا علم رہتا تھا،اُن کی آنکھیں بہت تیز تھیں،اور وہ ہر سمت میں ہمیشہ مصروف رہتے تھے۔آپ رضی ا ﷲ عنہ نے اپنے لشکر کو پہلے سے ہی رسیوں اور ڈوریوں کی سیڑھیاں بناکر تیار رکھنے کا حکم دے رکھا تھا۔دعوت کے روز شام ہوتے ہی آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے لشکر کو حکم دیاکہ جیسے ہی فصیل پر اﷲ اکبر کا نعرہ سننا توفصیل کے دروازے پر حملہ کردینا ،اور کئی سومجاہدین کو لیکر شہر کی فصیل کی بڑھے۔آپ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ حضرت قعقاع بن عمرو اور حضرت مذعوربن عدی رضی اﷲ عنہم بھی تھے۔یہ سب لوگ اپنی کمر پر مشکیزے باندھ کرخندق میں اتر گئے،اور خاموشی سے تیر کر خندق پار کی۔اور شہر کی فصیل کے کنگوروں پر رسیوں کی سیڑھیاں پھینک کر اوپر چڑھے۔اور اِس مقام پر کچھ لوگوں کو حفاظت کے لئے چھوڑ دیا،اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اندر اُتر کر اپنے دستے کے ساتھ آگے بڑھے ،اور دروازے کے دربانوں اور قریب کے دشمنوں کا خاتمہ کر دیا۔اور فصیل پر موجود اپنے ساتھیوں کو اشارہ کیا،انہوں نے زور سے نعرہ تکبیر اﷲ اکبر کا نعرہ لگایا۔ادھر نیچے کے مجاہدین نے دروازہ کھول دیا ،اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے لشکر کے مسلمان دوڑے،اور فوراً خندق پار کر کے دروازے سے داخل ہوئے،بہت سے مسلمان چھلانگیں مارتے ہوئے رسی کی سیڑھیوں کے ذریعے فصیل پر بھی چڑھ گئے۔اور قریب کے رومی فوجیوںکو قتل کرنے لگے۔پورے شہر میں یہ خبر پھیل گئی کہ سامنے والے دروازے سے مسلمان شہر میں داخل ہو چکے ہیں۔اب شہر کے بڑے لوگ صلح کی باتیں کرنے لگے۔

دمشق والوں سے صلح

دمشق شہر کے چاروں طرف جو اونچی فصیل ”شہر پناہ “کے طور پر بنی ہوئی تھی،اُس میں چاروں طرف بہت بڑے بڑے دروازے تھے۔سامنے والے دروازے پر حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ پڑاو¿ ڈالے ہوئے تھے،اور وہ صرف اِس کوشش میں تھے کہ کسی بھی طرح دمشق فتح ہو جائے۔شہر کے دائیں طرف والے دروازے کے سامنے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ پڑاو¿ ڈالے ہوئے تھے۔شہر کے بائیں طرف کے دروازے کے سامنے حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ ،اور شہر کے پچھلے دروازے کے سامنے حضرت یزید بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ پڑاو¿ دالے ہوئے تھے۔اِن تینوں سپہ سالاروں نے ستر (70)دنوں کے محاصرے کے دوران کئی بار دمشق والوں کو صلح کرنے کا حکم دیا تھا،لیکن انہوں نے نہیں مانا تھا۔لیکن جب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے سامنے والے دروازے کو کھول دیا،اور اُن کے لشکر نے رومی فوجوں کا قتل عام شروع کر دیا ،تو شہر کے رومیوں نے جلدی سے تینوں اطراف کے دروازے کھول دیئے ،اور تینوں سپہ سالاروں سے کہا کہ ہم صلح کو قبول کرتے ہیں۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو اِس حملے میں خاطر خواہ کامیابی مل گئی ،اور وہ اپنی طرف کے دروازے پر قابض ہو گئے ۔تو اُس طرف کے دشمن بھاگ بھاگ کردوسرے دروازوں کی طرف پناہ لینے کے لئے دوڑے۔اُن دروازوں کی طرف کے دشمنوں کو مسلمانوں نے نصف نصف تقسیم پر مصالحت کی دعوت دی تھی،مگر انہوں نے اِس تجویز کو مسترد کردیا تھا،اور دفاع پر اڑے رہے تھے۔لیکن جب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اُن پر اچانک حملہ کر دیا تو وہ لوگ فوراً اپنی طرف کے مسلمانوں سے صلح کے خواستگار ہوگئے،جو مسلمانوں نے منظور کر لیا۔رومیوں نے فوراًاندر سے دروازے کھول دیئے،اور مسلمانوں سے کہا کہ جلدی سے اندر آو¿ ،اور ہمیں اِس دروازے کے حملہ آوروں سے بچاو¿۔اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تین طرف کے سپہ سالار اور مسلمان تو صلح کے ساتھ دمشق میں داخل ہوئے۔اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ فتح کرتے ہوئے داخل ہوئے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی جب حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ سے دمشق میں ملاقات ہوئی تو انہوں نے فرمایا کہ دمشق فتح ہوا ہے،لیکن حضرت ابو عبیدہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ صلح ہوئی ہے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ رومیوں کی چالاکی سمجھ گئے ،لیکن خاموش ہو گئے۔اور حضرت ابو عبید بن جراح رضی اﷲ عنہ نے دمشق والوں سے نصف پیداوار پر صلح کر لی۔دمشق 31 ہجری میں فتح ہوا۔

مال غنیمت کی تقسیم

حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے دمشق والوں سے صلح کر لی۔اور زمینوں کی تقسیم پر اور فی کس سالانہ ایک دینار رومیوں سے لیا گیا۔مقتولین کا سامان مال غنیمت میں ڈال دیا گیا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے لشکر کے مجاہدین کو بھی دوسرے مجاہدین کے برابر دیا گیا۔زمین میں فی جریب ایک جریب پیداوار کا محصول لیا گیا،مگر شاہی خاندان اور اُس کے ساتھ جانے والوں کا تمام سامان اور زمینیں مال غنیمت میں شامل کر دیا گیا۔مال غنیمت میں حضرت ذوالکلاع رضی اﷲ عنہ اور اُن کے لشکر کا،اور حضرت ابوالاعور رضی اﷲ عنہ اور اُن کے لشکر،اور حضرت بشیر رضی اﷲ عنہ اور اُن کے لشکر کو بھی حصہ عطا کیا گیا۔فتح کی خوش خبری اور مال غنیمت کا خمس خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیج دیا گیا۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

06 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ Khilafat e Rashida 2


06 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی 

قسط نمبر 6

عراق کے لشکر کی واپسی، فحل کی طرف روانگی، جنگ فحل ذات الروغہ، بیسان کی فتح اور طبریہ کی اطاعت, عراق(سلطنت فارس) سے جنگ کے لئے آمادہ کرنا، خلیفہ دوم رضی ا ﷲ عنہ کا عوام سے خطاب، خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کی حضرت ابو عبید ثقفی کو ہدایات، جزیرہ نمائے عرب میں دو مذہب باقی نہ رہیں، سلطنت فارس میں خانہ جنگی، جنگ نمارق، 

عراق کے لشکر کی واپسی

ملک شام میں دمشق کی فتح کے بعد رومیوں کا زور کافی حد تک ٹوٹ گیا تھا۔اِس لئے خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو حکم بھیجا کہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے ساتھ ملک عراق سے جو لشکر ملک شام آیا تھا ،اُسے ملک عراق واپس بھیج دو۔لیکن حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو اپنے ساتھ اپنی ماتحتی میں رکھو۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کے پاس خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا حکم آیا کہ عراق کی فوجوں کو عراق واپس بھیج دو،اور اُن کو حکم دو کہ وہ حضرت سعد بن مالک سے جا کر مل جائیں۔حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے عراق کے لشکر کا سپہ سالار حضرت ہاشم بن عتبہ کو بنایا۔مقدمة الجیش کا کمانڈر حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ کو بنایا۔میمنہ کا کمانڈر حضرت عمرو بن مالک زہری کو بنایا، اور میسرہ کا کمانڈر حضرت ربعی بن عامر کا بنایا۔ حضرت ہاشم بن عتبہ کی قیادت میں یہ لشکر دمشق سے ملک عراق کی طرف روانہ ہوا،اِس لشکر میں سے جو لوگ شہید ہو گئے تھے،اُن کی جگہ نئی بھرتی کر کے دس ہزار کا لشکر پورا کیا گیا۔نئے بھرتی ہونے والوں میں قیس اور اشتر بھی تھے۔

فحل کی طرف روانگی

حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے دمشق میں حضرت یزید بن ابو سفیان کو اُن کے لشکر کے ساتھ چھوڑ دیا،اور سب کو لیکر فحل کی طرف روانہ ہوئے۔اِس بار لشکر کا سپہ سالار حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ عنہ کو بنایا۔انہوں نے ”مقدمة الجیش“پر حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو،میمنہ پر حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو،میسرہ پر حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کو ،سواروں پر حضرت ضرار بن ازور رضی اﷲ عنہ کو،اور پیدلوں پرعیاض بن غنم رضی اﷲ عنہ کومقرر فرمایا۔اُن لوگوں نے ہرقل کی جانب بڑھنا مناسب خیال کیا ،کیونکہ اسی ہزار(80,000)رومی اُن کے عقب میں موجود تھے۔اور یہ معلوم تھا کہ فحل کی فوجیں رومیوں کے لئے ڈھال کا کام کر رہی ہیں۔اور انہیں سے رومیوں کو توقعات وابستہ ہیں۔اگر یہ معرکہ سر ہو گیا،تو پورے ملک شام پر قبضہ کرنا آسان ہو جائے گا۔

جنگ فحل ذات الروغہ

حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر حضرت ابو الاعور رضی اﷲ عنہ کے پاس پہنچے تو انہوں نے طبریہ پر حملہ کرنے کی رائے دی۔تھوڑے لشکر کو طبریہ کی طرف بھیج کر حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ باقی لشکر لیکر فحل کی طرف روانہ ہوئے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب مسلمان حضرت ابو الاعور رضی اﷲ عنہ کے پاس پہنچے تو انہوں نے اُن کو طبریہ کی طرف بڑھایا۔طبریہ پہنچ کر مسلمانوں نے اِس کا محاصرہ کر لیا،اور باقی لشکر نے فحل پر جو ”علاقہ اُردن“میں واقع ہے پڑاو¿ ڈال دیا۔حضرت ابو الاعور رضی اﷲ عنہ جب فحل کی طرف آئے تھے تواُس وقت رومی پسپا ہو کر بیسان کی طرف چلے گئے تھے۔حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ عنہ اسلامی فوجوں کو لیکر فحل میں قیام پذیر ہو گئے۔مسلمانوں اور رومیوں کے درمیان وہ پانی اور دلدلیں حائل تھیں ،جن کا ہم اِس سے پہلے ذکر کر چکے ہیں۔مسلمانوں نے محاذ جنگ کی اطلاعات خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں روانہ کیں،اور اُن کا ارادہ فحل پر حملہ کرنے کے بجائے جواب آنے تک رکنے کا تھا۔اور اِس وقت دشمن کی طرف بڑھنا ممکن نہیں تھا،کیونکہ سامنے کیچڑ اور دلدلیں موجود تھیں۔عرب اِس جنگ کو ”جنگ فحل ¿ ذات الروغہ“اور بیسان کے ناموں سے موسوم کرتے ہیں۔یہاں کے قیام کے زمانے میں مسلمانوںکو ”اُردن “کی نفیس ترین پیداوار سے مشرکین سے زیادہ مستفید ہونے کا موقع ملا۔اُن کا سلسلہ رسد برابر قائم تھا،اور بہت ہی فارغ البالی سے گذر بسر ہو رہی تھی۔اِسی وجہ سے دشمنوں نے خیال کیا کہ مسلمان بالکل بے خبر بنے ہوئے ہیں۔رومیوں کا سپہ سالار سقلا¿ بن مخراق تھا،اُن کو توقع تھی کہ ہم لوگ اچانک مسلمانوں پر جا پڑیں گے،اور بے دریغ قتل کر دیں گے۔لیکن مسلمان بے خبر نہیں تھے،اور وہ ہر وقت ہوشیار اور چوکنے رہتے تھے۔حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ عنہ دن رات لشکر کی صف بندی قائم رکھتے تھے۔اِس لئے جب رومیوں نے اچانک مسلمانوں پر حملہ کیا تو انہیںغافل ہونے کے بجائے پوری طرح تیار پایا۔یہ صورتحال اُن کے لئے اُمید کے خلاف تھی،اِس لئے جب تک سنبھل کر حملہ کرتے ،اُن پر مسلمان حملہ کر چکے تھے۔فحل میں یہ معرکہ اس زور و شور سے پیش آیا کہ اِس سے پہلے اِس شدت کی جنگ کبھی نہیں ہوئی تھی۔رات بھر اور اگلے روز تک شدید جنگ ہوتی رہی،دشمنوں کی آنکھوں میں دنیا اندھری ہو گئی تھی۔کیونکہ اُن کے واپس پڑاو¿ تک پہنچنے کے راستے کو مسلمانوں نے بند کر دیا تھا،اور اب اُن کے پاس لڑتے رہنے یا شکست کھانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔رومیوں نے جب دیکھا کہ واپسی کا راستہ بند ہے تو انہوں نے فرار ہونے اور قتل سے بچنے کے لئے اپنے گھوڑوں کو دلدل میں ڈالنا شروع کر دیا۔رومی دلدل میں دھنس دھنس گئے ،اُن کی کیفیت یہ ہو گئی تھی کہ مسلمان انہیں چھوتے بھی تھے تو وہ روکتے نہیں تھے۔مسلمانوں نے اُن کو اپنے نیزوں سے کچوکے دیئے ،اورآخرکا ررومیوں کو شکست فاش ہوئی ،اور اُن کا سپہ سالار،اور دوسرے بڑے بڑے کمانڈر مارے گئے۔جن میں ایک نسطور بھی تھا۔مسلمانوں کو نہایت شاندار فتح حاصل ہوئی۔بہت سے رومی دلدل میں دھنس گئے،اُس روز اسی ہزار(80,000)رومی قتل ہوئے،اور بہت تھوڑے جان بچا کر بھاگ سکے۔مسلمان اِس دلدل کو بہت ناپسند کر رہے تھے،مگر اﷲ تعالیٰ نے اِسی دلدل کو اپنی قدرت سے دشمنوں کے لئے مصیبت اور مسلمانوں کے لئے کارآمد اور مفید بنا دیا،تاکہ مسلمانوں کو بصیرت حاصل ہو،اور اُن کی جد و جہد میں اور ترقی ہو جائے۔

بیسان کی فتح اور طبریہ کی اطاعت

حضرت ابو عبیدہ رضی اﷲ عنہ نے فحل کی فتح کے بعد یہاں کے علاقوں کا ذمہ دار حضرت شرجیل بن حسنہ کو بنا دیا،اور انہیں اور اُن کے لشکر کو ،اور حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ اور اُن کے لشکر کو بھی وہیں چھوڑ کر اپنا لشکر لیکر حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے ساتھ حمص کی طرف روانہ ہو گئے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔فحل کی جنگ سے فارغ ہونے کے بعد حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر اور حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ اور اُن کے لشکر کو لیکر بیسان کی طرف بڑھے،اور اُن کا محاصرہ کر لیا۔اُس وقت حضرت ابو الاعور اور چند دوسرے کمانڈر طبریہ کا محاصرہ کئے ہوئے تھے۔اردن کے علاقوں میں دمشق کے واقعات اور فحل میں رومیوں اور سقلا کے انجام کی کیفیت کی خبر پھیل چکی تھی۔اور لوگوں کو معلوم ہو گیا تھا کہ حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ عنہ اور حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ اور حضرت حارث بن ہشام اپنے اپنے لشکر لیکر بیسان کے ارادے سے جارہے ہیں۔اِس لئے ہر جگہ کے لوگ قلعہ بند ہو گئے۔حضرت شرجیل رضی اﷲ عنہ نے بیسان پہنچ کر اُس کا محاصرہ کر لیا،جو چند روز جاری رہا۔پھر وہاں کے کچھ لوگ باہر نکلے اور مسلمانوں سے مقابلہ کیا،یہاں تک کہ قتل ہو گئے،باقی سب لوگوں نے صکح کی درخواست کی،جس کو مسلمانوں نے دمشق کی شرائط پر منظور کر لیا۔جب طبریہ والوں کو اِس صلح کی خبر ملی تو انہوں نے بھی حضرت ابو الاعور سے اِس شرط پر صلح کی کہ انہیں حضرت شرجیل رضی اﷲ عنہ کے پاس پہنچا دیا جائے۔اور طبریہ والوں سے بھی دمشق کی شرائط پر صلح کر لی گئی۔اور یہ طے ہو اکہ شہروں اور دیہاتوں کے آدھے مکانات مسلمانوں کے لئے خالی کر دیئے جائیں،اور باقی آدھے مکانوں میں رومی رہیں۔اور فی کس سالانہ ایک دینار اور فی جریب زمین سے ایک جریب گیہوں یا جو یا جس چیز کی کاشت کریں ،اداکی جائے۔اِس کے بعد مسلمان قائدین اور اُن کے لشکر آبادی میں مقیم ہونے لگے،اور اردن کی صلح پایہ تکمیل کو پہنچ گئی۔اور تمام امدادی دستے اردن کے علاقے میں مختلف مقامات پر سکونت پذیر ہوگئے۔اور مال غنیمت کا خمس اور فتح کی خوش خبری خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو بھیجی گئی۔

عراق(سلطنت فارس) سے جنگ کے لئے آمادہ کرنا

خلیفۂ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا جب وصال ہوا ،اُس وقت مسلمان ایک ساتھ دو سوپر پاوروںسلطنت ِفارس اور سلطنت ِروم سے حا لت ِ جنگ میں تھے۔سلطنت فارس کے حکمراں اُس وقت آپس میں ہی لڑ رہے تھے ،اِس لئے مسلمانوں کو ملک عراق میں تھوڑا سکون تھا۔ملک عراق میں مسلمانوں کی جو فوج لڑ رہی تھی ،اُس میں سے آدھی فوج خلیفہ¿ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے حکم کے مطابق لیکر حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ ملک شام چلے گئے تھے۔اور انہوں نے حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کو ملک عراق کے لشکر کا سپہ سالار بنا دیا تھا۔اُدھر ملک شام میں رومیوں سے شدید جنگ چل رہی تھی،اور اِدھر حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ مدینہ منورہ مزید لشکر کے لئے خلیفہ¿ اول رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔انہوں نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو وصیت کی تھی کہ میرے وصال کے فوراً بعد لشکر تیار کر کے حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کو دے کر ملک عراق کی طرف روانہ کرنا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جس رات خلیفہ¿ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔خلیفہ ¿دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے نماز فجر سے پہلے جو کام کیا وہ یہ تھا کہ مسلمانوں کو حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ ملکر سلطنت ِ فارس سے جنگ کے لئے آمادہ کیا۔جب صبح ہوئی تو مسلمانوں سے خلافت کی بیعت لینے لگے۔اور پھر سلطنت ِ فارس سے لڑنے جانے کے لئے آمادہ کرنے لگے۔لوگ لگاتار بیعت کے لئے آتے رہے ،اور آپ رضی اﷲ عنہ بیعت لینے کے ساتھ ساتھ سلطنت ِفارس سے جنگ کے لئے آمادہ کرتے رہے۔تین دن بعد بیعت سے فراغت ہوگئی تو خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ روز مسلمانوں کو سلطنت ِ فارس سے جنگ کے لئے آمادہ کرتے تھے۔چوتھے دِن سب سے پہلے حضرت ابو عبیدبن مسعود ثقفی رضی اﷲ عنہ نے سلطنت ِ فارس سے جنگ کے لئے ملک عراق جانے پر لبیک کہا۔اِس کے بعد حضرت سعد بن عبید بھی تیار ہوئے۔

خلیفہ دوم رضی ا ﷲ عنہ کا عوام سے خطاب

خلیفہ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ مسلسل مسلمانوں کو سلطنت ِ فارس سے جنگ کے لئے آمادہ کر رہے تھے،اور آپ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی ا ﷲ عنہ بھی مسلمانوں کو جنگ کے لئے آمادہ کر رہے تھے۔چوتھے دن حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی ا ﷲعنہ نے مسلمانوں کے سامنے تقریر کی،اور فرمایا:”اے مسلمانو!تم ملک عراق کی جنگ کو کوئی بہت بڑا معرکہ نہ سمجھو۔کیونکہ ہم نے فارس کے شداب علاقوں پر قبضہ جما لیا ہے،اور سواد کے بہترین نصف پر ہم غالب ہو گئے ہیں۔اور تقسیم کر کے ہم اُن میں سے بہت کچھ حاصل کر چکے ہیں۔اور ہمارے پیش رو افراد کو ان پر جرا¿ت حاصل ہو گئی ہے۔اﷲ کی ذات سے اُمید ہے کہ آئندہ بھی ہمیں ایسی ہی کامیابی حاصل ہو گی۔“اتنا فرما کر وہ بیٹھ گئے ،تو خلیفہ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کھڑے ہوئے،اور فرمایا:”مسلمانو!تم کو معلوم ہونا چاہیئے کہ حجاز میں تمہاری بود و باش کی صرف یہی صورت ہے کہ تم چارے کی تلاش میں اِدھر اُدھر گھومتے رہو،اِس کے سوا یہاں کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے۔کہاں ہیں اﷲ کے وعدے پر غربت اختیار کرنے والے،اور وطن کو ترک کرنے والے۔تم اُس ملک میں جاو¿ ،جس کے وارث بنانے کا اﷲ نے تم سے اپنی کتاب میں وعدہ کیا ہے۔کیونکہ قرآن پاک فرماتا ہے۔ترجمہ”تاکہ تمام مذاہب پر اسلام کو غالب کر دیا جائے“اﷲ تعالیٰ اپنے دین کو غالب اور اُس کے مدد گاروں کو عزت دینا چاہتا ہے،اور دوسری قوموں کے ملک و دولت کا والی بنانا چاہتا ہے۔اﷲ کے نیک اور صالح بندے کہاں ہیں؟“آپ رضی اﷲ عنہ کی تقریر سن کر حضرت ابو عبیدبن مسعود ثقفی رضی اﷲ عنہ نے اپنی خدمات پیش کیں۔اس کے بعد اور لوگ تیار ہونے لگے،یہاں تک کہ ایک بہت بڑا لشکر تیار ہو گیا ہے۔اِس لشکر میں بڑے بڑے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم بھی تھے۔لیکن حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”بڑے بڑے صحابہ کرام رضی ا ﷲ عنہم نے بڑی بڑی خدمات کیں ہیں،میں اُن پر اور بوجھ نہیں ڈالنا چاہتا۔اِس لئے نوجوانوں کو موقع دینا چاہتا ہوں۔اور میں اُسے لشکر کا سپہ سالار بناتا ہوں جس نے سب پر سبقت کی ہے۔“اور حضرت ابو عبیدبن مسعود ثقفی رضی اﷲ عنہ کو سپہ سالار بنا کر ملک عراق کی طرف روانہ کر دیا۔

خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کی حضرت ابو عبید ثقفی کو ہدایات

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ کو لشکر دیکر ملک عراق کی طرف روانہ کرتے ہوئے فرمایا:”تم مکرو فریب،خیانت اور ظلم کی سر زمین میں جارہے ہو۔اور تم ایسی قوم کے پاس جا رہے ہو،جس میں بدی کرنے کی جسارت پیدا ہو گئی ہے ،اور وہ اُس کو سیکھ گئی ہے۔اور بھلائی کو بھول بیٹھی ہے،اور اس سے قطعاً ناواقف ہو گئی ہے۔اِس لئے تم چوکنا رہنا،اور اپنی زبان کو محفوظ رکھنا۔اپنا راز ہر گز آشکارا نہ کرنا،کیونکہ راز داری برتنے والا شخص جب تک راز کو محفوظ رکھتا ہے،گویا وہ قلعے میں محفوظ ہے۔اُس کو کوئی ناگوار صورت پیش نہیں آسکتی اور جب کوئی اُس کو ضائع کر دیتا ہے ،تو وہ خطرے میں گرفتار ہو جاتا ہے۔“

جزیرہ نمائے عرب میں دو مذہب باقی نہ رہیں

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے ملک عراق کی طرف لشکر روانہ کرنے کے بعد ایک اور لشکر تیار کیا،اور حضرت یعلیٰ بن اُمیہ کو سپہ سالار بنا کر یمن کی طرف روانہ کیا۔ اور حکم دیا کہ اہل نجران کے عیسائیوں کو جلا وطن کردیں۔ کیونکہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنی علالت کے زمانے میں اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اپنی علالت کے زمانے میں اِس کی وصیت فرمائی تھی۔خلیفہ ¿دوم رضی اﷲ عنہ نے حضرت یعلیٰ بن اُمیہ سے فرمایا:”تم اُن لوگوں کے پاس جاو¿ ،اُن کو اُن کے دین کے بارے میں پریشان نہ کرو ۔بلکہ اُن کو مہلت دو۔اُن میں سے جو اپنے مذہب پر قائم رہنا چاہیں،اُن کو جلا وطن کر دو۔اور جو لوگ اسلام قبول کرلیں ،اُن کو اُن کے وطن میں مقیم رہنے دو۔اور جلاوطنی کے بعد اِس سرزمین کو اُن کے وجود سے بالکل صاف کر دو،اور اُن سے کہدو کہ تم کو دوسرے شہروں میں جانے کا اختیار ہے۔اور اُن کو بتلا دو کہ ہم تم کو اِس لئے جلا وطن کر رہے ہیںکہ اﷲ اور اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ” جزیرة العرب “میں دو مذہب باقی نہ رکھے جائیں۔اِس لئے جو شخص اپنے مذہب پر رہنا چاہتا ،وہ یہاں سے نکل جائے ۔چونکہ وہ لوگ ہمارے ذمی ہیں،اور اﷲ اور اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق ہم پر اُن کا حق واجب ہے کہ ۔اِس لئے ہم زمین کے عوض اُن کو زمین عطا کریں گے۔

سلطنت فارس میں خانہ جنگی

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے خلیفہ بننے کے وقت ملک شام میں ”سلطنت روم “کے ساتھ مسلمانوں کی شدید جنگ چل رہی تھی۔اِس لئے پہلے ہم نے ملک شام میں جنگوں کا ذکر کیا۔اب سلطنت روم سے جنگوں کے ذکر کو روک کر ہم ”سلطنت فارس“کے کچھ حالات پیش کر رہے ہیں،تاکہ تسلسل برقرار رہے۔خلیفہ¿ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے ذکر میں ہم نے آپ کو بتایا تھا کہ جس وقت حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ ملک عراق میں سلطنت فارس کے پر خچے اُڑا رہے تھے۔اُس وقت سلطنت فارس کے حکمراںکسریٰ کے خاندان میں خانہ جنگی شروع ہو گئی تھی۔یہ اتفاق ہو ا کہ خلیفہ¿ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے ”اﷲ کی تلوار“کا رخ سلطنت فارس سے موڑ کر سلطنت روم کی طرف کر دیا،اور فارس کے حکمرانوں کو کچھ مہلت مل گئی۔لیکن اُن میں خانہ جنگی بدستور بر قرا ر رہی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔بوران کسریٰ کی بیٹی تھی۔مدائن میں جب اختلافات رو نما ہوئے تو تنازعہ ختم کرنے کے لئے بوران کو تخت نشین کر دیا گیا تھا۔جس وقت فرخ ذاد بن بندوان قتل ہوا ،اور رستم نے آکر آزرمی دخت کو قتل کیاتو اُس وقت سے یزد جرد یا گرد کے تخت نشین کئے جانے تک بوران ہی سلطنت فارس کی حکمراں رہی۔حضرت ابو عبید بن مسعود ثقفی رضی اﷲ عنہ کی عراق آمد کے وقت بوران ہی حکمراں تھی،اور رستم ”وزیر جنگ “تھا۔پہلے بوران اور شیریٰ میں مخالفت تھی،بعد میں بوران اُس کی مطیع ہو گئی ،اور شیریٰ رئیس اور بوران حاکم عدل قرار پائی۔جب سیاہ و خش نے فرخ ذاد کو قتل کردیا ،اور آزرمی دخت ملکہ بن بیٹھی تو سلطنت فارس میں اختلافات رونما ہوگئے۔اور حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کے مدینہ منورہ سے واپسی تک وہ مسلمانوں کی طرف متوجہ نہیں ہو سکے۔بوران نے رستم کو حالات سے مطلع کیا،اور اُس نے جلد آنے کا کہا۔رستم اُس وقت خراسان کی چھاونی پر متعین تھا۔وہ فوراً اپنی فوجوں کو لیکر چلا ،اور راستے میں جہاں کہیں بھی آزرمی دخت کی فوجیں ملتی رہیں،اُن کو شکست دیتا ہوا مدائن پہنچا۔طرفین میں جنگ ہوئی سیاہ وخش کو شکست ہوئی ،اور وہ اور آزرمی گرفتار ہو گئے۔رستم نے سیاہ وخش کو قتل کردیا،اور آزرمی دخت کی آنکھیں نکال ڈالیں۔اِس کے بعد بوران ملکہ بن گئی۔اُس نے رستم کو دس سال کے لئے سلطنت فارس کا انتظام سنبھالنے کی دعوت دی۔اور کہا کہ کسریٰ کے خاندان سے اگر کوئی لڑکا مل گیا تو اُسے بادشاہ بنا دیا جائے گا،ورنہ اِس خاندان کی لڑکیاں تخت نشین ہوتی رہیں گی۔ حضرت ابو عبید بن مسعود ثقفی رضی اﷲ عنہ کی عراق آمد کے وقت رستم سلطنت فارس کا منتظم تھا۔

جنگ نمارق

حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ مدینہ منورہ سے روانہ ہوکر دس دن میں حیرہ پہنچ گئے،جبکہ حضرت ابو عبید بن مسعود ثقفی رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر ایک مہینے بعد حیرہ پہنچے۔اِدھر رستم نے سواد کے دیہاتیوں کو لکھا کہ تم لوگوں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکاو¿۔اُس نے تمام منڈیوں میں وہاں کے باشندوں کو برانگیختہ کرنے کے لئے ایک ایک آدمی بھیجا۔مسلمانوں سے مقابلہ کرنے کے لئے رستم نے جابان کو بہقاذ الاسفل کی طرف بھیجا،اور نرسی کو کسکر کی طرف بھیجا،اوردونوں کے ملنے کے لئے ایک دن مقرر کر دیا تھا۔اور ایک لشکر پہلے ہی حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ سے لڑنے کے لئے بھیج دیا تھا۔انہیں اِن حالات کی اطلاع ہوئی توانہوں نے اپنی چوکیوں کے لشکروں کو اپنے ساتھ ملا لیا،اور خطرے کے لئے چوکنے ہو گئے۔جابان تیزی سے آگے بڑھا،اور نمارق میںاپنے لشکر کے ساتھ پڑاو¿ ڈال دیا۔نرسی نے بڑھ کر زنددرد میں پڑاو¿ ڈالا،اور منڈیوں سے آئی ہوئی فوجیں دریائے فرات کے بالائی حصے سے چل کر زیریں فرات پر آگئیں۔یہ سب لوگ مسلمانوں پر حملے کی ٹھان چکے تھے۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر کو لیکر خفان میں آگئے،تاکہ اُن کے پیچھے سے دشمن اُن پر کوئی کاروائی نہیں کر سکے۔اِسی دوران حضرت ابو عبید بن مسعود ثقفی رضی اﷲ عنہ بھی اپنا لشکر لیکر پہنچ گئے۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے اپنے لشکر کا بھی انہیں ہی سپہ سالار بنا دیا۔اب دونوں لشکر ایکدوسرے کے آمنے سامنے آگئے۔حضرت ابو عبید بن مسعود ثقفی رضی اﷲ عنہ نے صف بندی کرلی،حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کو سواروں کا کمانڈر بنایا،میمنہ پر حضرت والق بن جید کو اور میسرہ پر حضرت عمرو بن ہیثم سلمی کو کمانڈر بنایا۔جابان کے میمنہ جشنس ماہ اور میسرہ پر مرد انشاہ تھے۔نمارق کے میدان میں دونوں لشکروں نے ایک دوسرے پر حملہ کر دیا۔بہت شدت کی جنگ ہوئی ،مسلمانوں کو اﷲ تعالیٰ نے فتح عطا فرمائی ،اور فارسیوں کو شکست ہوئی۔جابان گرفتار ہوا،اُسے مطر بن قصةتمیمی نے گرفتار کیا۔مرد انشاہ بھی گرفتار ہوا ،اُسے اکتل بن خسماخ عکلی نے گرفتار کیا۔اکتل نے تو مرد انشاہ کو قتل کر دیا،لیکن جابان نے مطر بن قصة کو کچھ دی کر بھاگنے کی کوشش کی،تو مسلمانوں نے اُسے پکڑ لیا،اور حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ کے سامنے پیش کر کے کہا کہ یہ شخص فارسیوں کا بادشاہ ہے،اور مشورہ دیا کہ اسے قتل کر دیا جائے۔لیکن حضرت ابو عبید بن مسعود ثقفی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :”میں اسے قتل کرنے کے بارے میں اﷲ سے ڈرتا ہوں،کیونکہ ایک مسلمان اسے پناہ دے چکا ہے اور تمام مسلمان محبت اور امداد میں ایک جسم کی مانند ہیں ۔جو بات کسی ایک پر واجب ہوتی ہے،وہ سب پر واجب ہوتی ہے۔“لوگوں نے کہا کہ یہ بادشاہ ہے۔حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”ہوا کرے ،میں بد عہدی ہر گز نہیں کروں گا ۔“اس لئے اسے چھوڑ دیا گیا ۔اِس جنگ میں بہت زیادہ مال غنیمت ہاتھ آیا،جس کا خمس نکال کر حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ نے فتح کی خوش خبری کے ساتھ خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیج دیا ۔اور باقی مال غنیمت لشکر میں بانٹ دیا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!

08 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ Khilafat e Rashida 2


08 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی 

قسط نمبر 8

خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کی ملک عراق کے لئے لشکر کی تیاری، 13 ھجری کے خاص واقعات، حضرت ابان بن سعید رضی اﷲ عنہ کی شہادت، حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ کی شہادت، حضرت سعد بن عبادہ رضی اﷲ عنہ کا انتقال، حضرت سلمہ بن ہشام، حضرت ضرا ربن ازور، حضرت طلیب بن عُمیر، حضرت عبد اﷲ بن زبیر بن عبد المطلب رضیہ اللہ عنہم کی شہادت، حضرت عتاب بن اُسید رضی اﷲ عنہ کا انتقال، حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ بن ابو جہل، حضرت نعیم بن عبد اﷲ،حضرت ہشام بن عاص،  حضرت ہبار بن سفیان رضی اﷲ عنہم کی شہادت، 14 ھجری

خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کی ملک عراق کے لئے لشکر کی تیاری

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے خود ملک عراق لشکر لیکر جانے کی تیاری کرنے لگے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو جب یہ معلوم ہوا کہ فارسیوں (ایرانیوں) نے یزد جرد کو کسریٰ بنا لیا ہے۔تو آپ رضی اﷲ عنہ نے سب سے پہلے یہ کام کیا کہ ملک عرب میں جو عمال(گورنر)قبائل اور بستیوں پر مامور تھے۔اُن کو یہ حکم بھیجا(یہ ذوالحجہ 13 ھجری کا اُس وقت کا واقعہ ہے جب حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ حج کے لئے جارہے تھے،آپ رضی اﷲ عنہ ہر سال حج کیا کرتے تھے۔)کہ ہر اُس شخص کو جو شہ سوار ،ذی رائے اور ہتھیار بند ہو،چن لو۔اور میرے پاس بھیج دو ،اور اِس حکم کی تعمیل جلد از جلد ہونی چاہیئے۔حج کی روانگی کے وقت قاصد آپ رضی اﷲ عنہ کا حکم لیکر گورنروں(عمال) کے پاس روانہ ہو گئے۔جو قبائل مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے راستوں پر آباد تھے،اُن کے لوگ تو خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کے پاس اُسی وقت پہنچ گئے۔اور جو مدینہ منورہ اور ملک عراق کے درمیان میں تھے،وہ لوگ آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس حج سے واپس آنے کے بعد پہنچے۔ اور اُس سے زیریں علاقے کے لوگ براہ راست حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ سے جا ملے۔آنے والوں نے خلیفہ ¿دوم رضی اﷲ عنہ کو مطلع کیا کہ ہماری بستیوں کے لوگوں میں بھی شرکت ِ جہاد کا جوش پیدا ہو گیا ہے۔حضرت عبد اﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیںکہ جس سال میرے والد خلیفہ مقرر ہوئے،اُس سال انہوں نے حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ کو امیر حج مقرر فرمایا تھا،اور اِس کے بعد ہر سال خود امیر حج رہے۔ 

13 ھجری کے خاص واقعات

خلیفہ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے 13 ھجری کا حج مکمل ہونے کے بعد 14 ھجری کے پہلے مہینے محرم الحرام میں ملک عراق کے لئے لشکر کی تیاری شروع فرمائی ۔ہم اِس ذکر کو یہیں روک کر 13 ھجری کے چند خاص واقعات پیش کر رہے ہیں۔اِس کے بعد انشاءاﷲ یہیں سے ذکر آگے بڑھائیں گے۔ 13 ھجری میں ملک عراق میں حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے جو جنگیں کی ،اُن کے حالات ہم آپ کی خدمت میں خلیفہ¿ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے ذکر میں تفصیل سے پیش کر چکے ہیں ۔اِس میں اُلیس،حیرہ ،اور انبار وغیرہ فتح ہوئے تھے۔اور اسی سال مشہور قول کے مطابق” جنگ یرموک “بھی پیش آئی تھی،جس کا تفصیلی ذکر ہم اِسی کتاب میں اوپر کر چکے ہیں۔اِس سال خلیفہ¿ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا وصال ہوا،اور اِسی سال حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ جمادی الآخر میں خلیفہ ¿ دوم بنے۔اور آپ رضی اﷲ عنہ نے مدینہ منورہ کا ”قاضی القضاہ“حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو بنایا۔اور حضرت ابو عبیدہ (نام عامر) بن جراح رضی اﷲ عنہ کو ملک شام کا سب سے بڑا سپہ سالار بنایا۔اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو معزول کر دیا،اور جنگی مشیر بنائے رکھا۔اور اسی سال میں بصریٰ صلح سے فتح ہوا،اور یہ ملک شام کا فتح ہونے والا پہلا شہر تھا۔اِسی سال دمشق فتح ہوا ،اور حضرت یزید بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ کو نائب مقرر کیا۔

حضرت ابان بن سعید رضی اﷲ عنہ کی شہادت

جنگ یرموک (جنگ اجنادین) میں شہید ہوئے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت ابان بن سعید بن عاص اموی ابو الولید مکی رضی اﷲ عنہ ایک جلیل القدر صحابی ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے ہی حدیبیہ کے روز حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو پناہ دی تھی۔حتیٰ کہ آپ رضی اﷲ عنہ ،رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی سفارت کرنے کے لئے مکہ مکرمہ میں داخل ہو گئے تھے۔حضرت ابان بن سعید رضی اﷲ عنہ نے اپنے دونوں بھائیوں حضرت خالد بن سعید اور حضرت عمرو بن سعید رضی اﷲ عنہم کے حبشہ سے واپس آنے کے بعد اسلام قبول کیا تھا۔اُن دونوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کو اسلام کی دعوت دی تھی،جسے آپ رضی اﷲ عنہ نے قبول کر لیا تھا۔اور یہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس اُس وقت پہنچے ،جب آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے خیبر فتح کر لیا تھا۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے آپ رضی اﷲ عنہ کو ۹ ھجری میں بحرین کا گورنر مقرر کیا تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ جنگ اجنادین(جنگ یرموک) میں شہید ہوئے۔اِن کے علاوہ حضرت تمیم بن حارث سہمی رضی اﷲ عنہ اور اُن کے بھائی حضرت قیس بن حارث سہمی رضی اﷲ عنہ ،یہ دونوں جلیل القدر صحابی ہیں۔دونوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی ،اور جنگ اجنادین میں شہید ہوئے۔حضرت حارث بن اوس بن عتیک رضی اﷲ عنہ بھی مہاجرین حبشہ میں سے ہیں۔اور جنگ اجنادین میں شہید ہوئے۔

حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ کی شہادت

آپ رضی اﷲ عنہ بھی جلیل القدر صحابی ہیں۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ سابقون الاولون میں سے ہیں،اور مہاجرین حبشہ میں سے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے ملک حبشہ میں پندرہ سال تک قیام کیا۔اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے آپ رضی اﷲ عنہ کو صنعاءکا گورنر بنایا تھا۔اسود عنسی کے جھوٹی نبوت کے دعوے کے وقت آپ رضی اﷲ عنہ مدینہ منورہ واپس آگئے تھے۔بعد میں خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے آپ رضی اﷲ عنہ کو ملک شام کی سرحد پر مرتدین کی سرکوبی کرنے ،اور مسلمانوں کی لشکر میں بھرتی کرنے کے لئے لشکر دیکر بھیجا تھا۔ایک قول کے مطابق آپ رضی اﷲ عنہ ”مرج الصفر “کی جنگ میں شہید ہو گئے تھے۔اوربعض کے قول کے مطابق آپ رضی اﷲ عنہ وہاں سے خلیفہ¿ اول رضی اﷲ عنہ کی اجازت کے بغیر واپس آگئے تھے،اور ایک مہینے تک مدینہ منورہ کے باہر قیام پذیر رہے،یہاں تک کہ خلیفہ¿ اول رضی ا ﷲ عنہ نے مدینہ منورہ میں داخلے کی اجازت دے دی۔ایک قول کے مطابق آپ رضی اﷲ عنہ کو اسلم نے شہید کیا،اسلم کا بیان ہے کہ جب میں نے انہیں شہید کیا تو آپ رضی اﷲ عنہ کے نور کو آسمان کی طرف بلند ہوتے دیکھا۔

حضرت سعد بن عبادہ رضی اﷲ عنہ کا انتقال

حضرت سعد بن عبادہ رضی اﷲ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت سعد بن عبادہ خزرجی انصاری رضی اﷲ عنہ اولین انصاری صحابہ میں سے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ بیعت عقبہ ثانی میں شامل تھے،اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے جو بارہ نقیب بنائے تھے،اُن میں سے ایک تھے۔کچھ علمائے کرام کے مطابق غزوہ بدر میں شامل تھے،اور کچھ علمائے کرام کے مطابق غزوہ بدر کے وقت آپ رضی اﷲ عنہ کو سانپ نے کاٹ لیا تھا ،جس کی وجہ سے شرکت نہیں کر سکے تھے۔بہر حال بعد کے ہر معرکے میں شامل رہے۔بیعت سقیفہ بنو ساعدہ کے وقت آپ رضی اﷲ عنہ نے تصدیق کی تھی کی خلیفہ قریش میں سے اور وزیر انصار میں سے ہو گا۔آپ رضی اﷲ عنہ کا وصال ملک شام میں ہوا ۔کچھ علمائے کرام کا بیان ہے کہ خلیفۂ اول رضی اﷲ عنہ کے آخری دنوں میں حوران کی بستی ۳۱ ھجری میں انتقال ہوا،بعض کا قول خلیفہ ¿ دوم رضی ا ﷲعنہ کی خلافت کے آغاز میں انتقال ہوا۔بعض کے قول کے مطابق 14 ھجری میں،اور بعض کے مطابق ۵۱ ھجری ،اور بعض کے مطابق 16 ھجری میں انتقال ہوا۔

حضرت سلمہ بن ہشام اور حضرت ضرا ربن ازور رضی اﷲ عنہم کی شہادت

حضرت ضرار بن ازور رضی اﷲ عنہ ملک عراق میں کافی عرصے تک حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے ساتھ فارسیوں کے چھکے چھڑاتے رہے۔پھر اُنہیں کے ساتھ ملک عراق سے ملک شام کا خطرناک سفر کیا۔اور جنگ اجنادین یا جنگ یرموک میں شہید ہوئے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت ضرار بن ازور اسدی رضی اﷲ عنہ مشہور شہسواروں اور بہادروں میں سے ایک ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ کی جنگیں اور احوال قابل تعریف ہیں۔اور حضرت سلمہ بن ہشام رضی اﷲ عنہ ابو جہل بن ہشام کے بھائی ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے بہت پہلے اسلام قبول کیا تھا،اور ملک حبشہ ہجرت کر کے چلے گئے تھے۔پھر وہاں سے واپس آئے تو آپ رضی اﷲ عنہ کے بد بخت بھائی ابو جہل نے آپ رضی اﷲ عنہ کو قید کردیا تھا،اور بھوکا رکھتا تھا۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم دعائے قنوت نازلہ میں آپ رضی اﷲ عنہ کے لئے اور آپ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ مکہ مکرمہ میں پھنسے کمزوروں کے لئے دعا فرماتے تھے۔پھر آپ رضی اﷲ عنہ غزوہ خندق میں چپکے سے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس آگئے،اور آخر تک ساتھ رہے۔جنگ اجنادین (یرموک)میں شامل ہوئے ،اور وہیں شہید ہوئے۔

حضرت طلیب بن عُمیر رضی اﷲ عنہ کی شہادت

اِس سال 13 ھجری میں حضرت طلیب بن عُمیر رضی اﷲ عنہ بھی شہید ہوئے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت طلیب بن عُمیر بن وہب بن کثیر بن ہند بن قصی بن کلاب رضی اﷲ عنہ کی والدہ محترمہ ارویٰ بنت عبد المطلب ہیں۔یہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی پھوپھی ہیں،اور حضرت طلیب بن عُمیر رضی اﷲ عنہ ،آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پھو پھی زاد بھائی ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے بہت پہلے اسلام قبول کیا تھا۔اور حبشہ کی طر ف ہجرت ثانیہ بھی کی تھی۔آپ رضی اﷲ عنہ بدری صحابی ہیں۔اور آخر وقت تک رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔حضرت طلیب رضی اﷲ عنہ جنگ اجنادین میں شہید ہوئے،آپ رضی اﷲ عنہ بوڑھے ہو چکے تھے۔

حضرت عبد اﷲ بن زبیر بن عبد المطلب رضی اﷲ عنہ کی شہادت

حضرت عبد اﷲ بن زبیر بن عبد المطلب رضی اﷲ عنہ جوانی کی حالت میں شہید ہوئے ہیں۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ایک چچا حضرت زبیر بن عبد المطلب بہت ہی سمجھ دار اور عقلمند تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ اُن کے بیٹے،اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ قریش کے مشہور بہادروں اور دلیروں میں سے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے جنگ اجنادین میں مقابلے میں رومیوں کے دس بہادر جرنیلوں(کمانڈروں)کو قتل کیا تھا۔اِس کے بعد شہید ہوئے،شہادت کے وقت آپ رضی اﷲ عنہ کی عمر تیس (30) یا پینتیس(35) سال تھی۔حضرت عبد اﷲ بن عمرو دوسی رضی اﷲ عنہ بھی جنگ اجنادین میں شہید ہوئے۔آپ رضی اﷲ عنہ مشہور آدمی نہیں تھے۔

حضرت عتاب بن اُسید رضی اﷲ عنہ کا انتقال

اِسی سال حضرت عتاب بن اُسید رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت عتاب بن اُسید بن ابی عیص بن اُمیہ۔بنو اُمیہ کے ہیں۔ابو عبد الرحمن کنیت ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ کو مکہ مکرمہ کا گورنر (عامل) بنایا۔اُس وقت آپ رضی اﷲ عنہ کی عمر لگ بھگ بیس(20) سال تھی۔اور اُس سال آپ رضی اﷲ عنہ نے ہی لوگوں کو حج کرو ایا۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے بعد خلیفۂ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے آپ رضی اﷲ عنہ کو مکہ مکرمہ کا گورنر بنائے رکھا۔آپ اﷲضی اﷲ عنہ کا انتقال مکہ مکرمہ میں ہی ہوا۔بعض کہتے ہیں کہ جس دن خلیفہ¿ اول رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا،اُسی دن آپ رضی اﷲ عنہ کا بھی انتقال ہوا۔

حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ بن ابو جہل کی شہادت

حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ بن ابو جہل(عمر)بھی 13 ھجری میں شہید ہوئے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ بن ابوجہل(عمر)بن ہشام بن مغیرہ بن عبد اﷲ بن عمر بن مخزوم کا باپ جاہلوں کا سرداریعنی ابو جہل تھا۔حضرت عکرمہ رضی ا ﷲ عنہ بن ابو جہل فتح مکہ تک رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے خلاف اپنے باپ کی طرح بہت سخت تھے۔لیکن فتح مکہ کے وقت جب اسلام قبول کیا تو اسلام کے اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے سچے شیدائی بن گئے۔جب عمان کے لوگ مرتد ہو گئے تو خلیفہ¿ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ کو لشکر دیکر بھیجا تھا،وہاں آپ رضی اﷲ عنہ نے مرتدین پر فتح حاصل کی،اور لوگ اسلام کی طرف لوٹ آئے تو خلیفہ¿ اول رضی اﷲ عنہ نے لشکر دیکر سلطنت روم سے ٹکرانے کے لئے ملک شام بھیج دیا۔جہاں آپ رضی اﷲ عنہ کم لشکر ہونے کے باوجود پامردی سے رومیوں کا مقابلہ کرتے رہے۔یہاں تک کہ خلیفہ¿ اول رضی اﷲ عنہ نے کئی لشکر ملک شام کی طرف روانہ فرمائے ،اِن میں حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کا بھی لشکر تھا۔پھر جب جنگ یرموک میں حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی قیادت میں ہوئی،تو خندق نما گھاٹی کی وجہ سے رومی مسلمانوں کو بہت نقصان پہنچا رہے تھے۔اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ خندق نما گھاٹی پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔یہ دیکھ کر حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ نے چار سو مجاہدین کے ساتھ ملکر خندق نما گھاٹی پر حملہ کیا،اور بے شمار تیر اپنے جسم پر کھاتے ہوئے خندق نما گھاٹی میں اُترے ،اور رومیوں کا قتل عام کیا،اور اپنے بیٹے کے ساتھ شہید ہو گئے۔آپ رضی اﷲ عنہ کو ستر سے زیادہ تیر لگے اور تلوار کے زخم آئے۔

حضرت نعیم بن عبد اﷲ کی شہادت

حضرت نعیم بن عبد اﷲ رضی اﷲ عنہ بھی اسی سال جنگ اجنادین میں شہید ہوئے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت نعیم بن عبد اﷲ بن نحام رضی اﷲ عنہ بنو عدی کے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے بہت پہلے اسلام قبول کیا تھا۔اور حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو اُن کی بہن اور بہنوئی کی طرف بھیجنے والے آپ رضی اﷲ عنہ ہی ہیں۔آپ رضی ا ﷲ عنہ صلح حدیبیہ تک ہجرت نہیں کر سکے تھے۔اِس کی وجہ یہ تھی کہ آپ رضی اﷲ عنہ اپنے رشتہ داروں اور اقارب کے ساتھ نیک سلوک کرتے تھے۔اِس لئے قریش نے کہا کہ آپ رضی اﷲ عنہ ہمارے ساتھ رہیں،اور جس دین پر چاہیں رہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ جنگ اجنادین میں بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے شہادت کے مرتبہ پر فائز ہوئے۔

حضرت ہشام بن عاص رضی اﷲ عنہ کی شہادت

حضرت ہشام بن عاص رضی اﷲ عنہ سابقین اولین میں سے ہیں۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت ہشام بن عاص بن وائل سہمی رضی اﷲ عنہ نے بہت پہلے اسلام قبول کیا تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ کے بھائی حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ ہیں۔ملک حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی،جب وہاں سے واپس آئے تو قید کر لئے گئے۔پھر آپ رضی اﷲ عنہ نے غزوہ خندق کے بعد ہجرت کی۔خلیفہ¿ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے رومیوں کے بادشاہ کے پاس بھیجا تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ بہت بہترین شہ سوار تھے،اور جنگ اجنادین میں شہید ہوئے۔

حضرت ہبار بن سفیان رضی اﷲ عنہ کی شہادت

حضرت ہبار بن سفیان رضی اﷲ عنہ بھی سابقین اولین میں سے ہیں۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت ہبار بن سفیان بن وبن عبد الاسود رضی اﷲ عنہ نے بہت پہلے اسلام قبول کیا تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ اُم المومنین سیدہ اُم سلمہ رضی اﷲ عنہا کے بھتیجے ہیں۔اور جنگ اجنادین میں شہید ہوئے۔ایک اور قول کے مطابق جنگ موتہ میں شہید ہوئے۔واﷲ اعلم۔

14 ھجری

اِس سے پہلے ہم نے اوپر ذکر کیا تھا کہ خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ محرم الحرام 14 ھجری میں لشکر لیکر ملک عراق کے ارادے سے مدینہ منورہ سے باہر لشکر لیکر آئے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔اِس سال کا آغاز ہوا تو خلیفہ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ لوگوں کو سلطنت فارس کے خلاف جہاد کے لئے تیار کرنے لگے۔کیونکہ آپ رضی اﷲ عنہ کو اطلاع ملی تھی کہ جسر یا حسبر کی جنگ میں سپہ سالار حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ شہید ہو گئے ہیں۔اور فارسی اپنی جمیعت کو منظم کر رہے ہیں۔اور انہوں نے متفق ہو کر شاہی گھرانے کے ایک نوجوان یزدجرد کو اپنا بادشاہ بنا لیا ہے۔اور ملک عراق کے ذمیوں نے عہد شکنی کی ہے،اور مسلمان گورنروں(عمال) کو نکال دیا ہے۔خلیفۂ دوم نے وہاں موجود لشکر کو حکم دیا تھا کہ فی الحال محفوظ مقامات پر چلے جائیں۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں