02 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 2
اﷲ نے زبان اور دِل پر حق جاری کردیا، میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو عُمر ہوتے، فرشتے عزت کرتے ہیں،شیطان ڈر کر بھاگتا ہے، حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ سے مشورہ، حضرت عثمان غنی بن عفان رضی اﷲعنہ سے مشورہ، حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی رائے، خلیفہ دوم کے بارے میں وصیت، میں نے سب سے بہترین شخص کو خلیفہ بنایا ہے، آخری وقت میں اسلام کی فکر، خلیفہ دوم کی نامزدگی کا اعلان، خلیفہ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا پہلا خطبہ، خلیفہ بننے کے بعد پہلا حکم
اﷲ نے زبان اور دِل پر حق جاری کردیا
حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو اﷲ تعالیٰ نے بہت اچھی عقل اور سمجھ عطا فرمائی تھی۔اور آپ رضی اﷲ عنہ ،حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے ساتھ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے خصوصی مُشیر تھے۔اﷲ تعالیٰ نے قرآن ِپاک میں کئی جگہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی حمایت میں آیات نازل فرمائی۔اِدھر زمین پر آپ رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے درخواست کی اور اُدھر آسمان سے اﷲ تعالیٰ کا حکم آپ رضی اﷲ عنہ کی حمایت میں نازل ہوا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میرا جی چاہتا ہے کہ” مقام ابراہیم“ پر دو رکعت نماز پڑھوں۔اﷲ تعالیٰ نے قرآن پاک میں حکم نازل فرمایا کہ”مقام ابراہیم“کو مصلیٰ بنا لو۔آپ رضی ا ﷲ عنہ نے خواتین کے پردے کے بارے میں فرمایا تو اﷲ تعالیٰ نے قرآن پاک میں پردے کا حکم نازل فرمادیا۔اور بھی کئی مقامات پر اﷲ تعالیٰ نے آپ رضی اﷲ عنہ کی حمایت میں آیات نازل فرمائیں۔ایک روایت کے مطابق قرآن پاک میں سترہ (۷۱)مقامات ایسے ہیں ،جہاں اﷲ تعالیٰ نے آپ رضی اﷲ عنہ کی حمایت میں آیات نازل فرمائیں۔حضرت عُمر رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”اﷲ تعالیٰ نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی زبان اور دِل پر حق جاری کر دیا ہے۔“(جامع ترمذی)
میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو عُمر ہوتے
حضرت عمرفاروق رضی اﷲ کو اﷲ تعالیٰ نے دین کی بہت اچھی سمجھ عطا فرمائی تھی۔حضرت ابو ذر رضی ا ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”اﷲ تعالیٰ نے حق کو حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی زبان پر جاری کر دیا ہے کہ وہ ہمیشہ حق ہی بولتے ہیں۔“(سنن ابن ماجہ)حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا :”اﷲ تعالیٰ نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی زبان اور دِل پر حق جاری کر دیا ہے۔“(المستدرک،مسند البزار)حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”تُم سے پہلی اُمتوں میںمحدث یعنی صاحب الہام گذرتے رہے ہیں،اگر میری اُمت میں کوئی ہوتا تو وہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ ہوتے۔“(صحیح بخاری)حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا :”اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تووہ حضرت عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ ہوتے۔“(طبرانی)حضرت عقبہ بن عامر سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ حضرت عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ ہوتے۔“(جامع ترمذی،المستدرک )
فرشتے عزت کرتے ہیں،شیطان ڈر کر بھاگتا ہے
حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کافروں کے لئے بہت سخت اور مسلمانوں کے لئے بہت نرم تھے۔کافروں کے لئے آپ رضی اﷲ عنہ کی سختی کو اﷲ تعالیٰ پسند فرماتے تھے۔حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی بارگاہ میں جبرئیل علیہ السلام حاضر ہوئے،اور عرض کیا:”یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم !حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے فرما دیجیئے کہ اُن کا غضب اﷲ کو عزیز ہے،اور اُن کی رضا کے مطابق ہی حکم ہوتا ہے۔(طبرانی)امام ابن عساکر نے حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”تمام آسمانی مخلوق(فرشتوں)میں سے کوئی ایسا نہیں ہے ،جو حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی عزت و توقیر نہ کرتا ہو۔اور زمین پر شیطان اُن سے ڈر کر بھاگتا ہے۔(ابن عساکر)اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”میں جن و انس و شیاطین کو حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے ڈر کر بھاگتے ہوئے دیکھتا ہوں۔“(جامع ترمذی)اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہاسے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے شیطان خوف کے باعث بھاگتا ہے۔“(ابن عساکر)امام طبرانی ،حضرت سدیسہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”جس وقت سے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اسلام قبول کیا،تب سے جب کبھی اُن کو شیطان ملا،اور آمنا سامناہوا تو وہ اُلٹے پاؤں بھاگا ہے۔“(طبرانی)
حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ سے مشورہ
حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اپنے بعد حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو خلیفہ نامزد کیا۔اور اِس بارے میں پہلے بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم سے مشورہ لیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اپنے مرض الموت کے زمانے میں حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو اپنے بعد خلیفہ مقرر کر دیا تھا۔ جب آپ رضی اﷲ عنہ نے ارادہ فرمایا تو اُس وقت حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ کو بلایا۔(حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ اولین اسلام قبول کرنے والوں میں سے ہیں،اور” عشرہ مبشرہ“ میں سے ہیں۔)اور اُن سے فرمایا:”بتاو¿ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟“انہوں نے فرمایا:”اے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے خلیفہ رضی ا ﷲ عنہ !وہ اوروں کی بہ نسبت آپ رضی اﷲ عنہ کی رائے سے بھی افضل ہیں،مگر اُن کے مزاج میں ذرا شدت ہے۔“حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”یہ شدت اِس وجہ سے ہے کہ وہ مجھ کو نرم دیکھتے تھے۔جب وہ خود خلیفہ بنیں گے تو اِس قسم کی اکثر باتوں کو چھوڑ دیں گے۔اے ابو محمدرضی اﷲ عنہ(حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ کی کنیت ہے)!میں نے اُن کو بغور دیکھا ہے کہ جس وقت میں کسی شخص پر غضب ناک ہوتا ہوں ،تو حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ مجھے نرمی کا مشورہ دیتے تھے۔اور جب کبھی میں نرم ہوتا تھا ،تو مجھے اُس پر سختی کا مشورہ دیتے تھے۔اے ابو محمدرضی اﷲ عنہ!یہ باتیں جو میں نے تم سے کہی ہیں،تم اِن کا کسی اور سے ذکر نہ کرنا۔“حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”بہت اچھا۔“
حضرت عثمان غنی بن عفان رضی اﷲعنہ سے مشورہ
خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اِس کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سے مشورہ کیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔اِس کے بعدحضرت ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ نے حضرت عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ کو بلایا،اور اور اُن سے فرمایا :”اے ابو عبد اﷲرضی اﷲ عنہ!(حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی کنیت ہے)مجھے بتاو¿ کہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کیسے ہیں؟“حضرت عثمان غنی رضی ا ﷲ عنہ نے فرمایا:”آپ رضی اﷲ عنہ اُن کو سب سے ذیادہ جانتے ہیں۔“خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”ہاں اے ابو عبد اﷲ رضی اﷲ عنہ!اس کی ذمہ داری مجھ پر ہے۔“پھر آگے فرمایا:”اے اﷲ تعالیٰ!میں حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے باطن کو اُن کے ظاہر سے بہتر سمجھتا ہوں،ہم میں اُن جیسا دوسرا کوئی شخص نہیں ہے۔“پھر انہوں نے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سے فرمایا:”اے ابو عبد اﷲ رضی اﷲ عنہ !اﷲ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے،اِن باتوں کا کسی سے ذکر نہیں کرنا۔“حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”جی بہت اچھا۔“اس کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اگر میں نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو چھوڑ دیا ،تو تمہیں نہیں چھوڑوں گا۔مجھے معلوم نہیں،ممکن ہے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ اِس کو قبول نہ کریں،اُن کے لئے تو یہی بہتر ہے کہ وہ تمہاری خلافت کا بار اپنے سر نہ لیں۔میں تو چاہتا تھا کہ میںتم لوگوں کے اِس معاملے میں بے تعلق رہتا ،اور اپنے پیش روکے طریقے کو اختیار کرتا۔اے ابو عبد اﷲ رضی اﷲ عنہ!میں نے جس کام کے لئے تمہیں بلایاہے،اور حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے متعلق جو کچھ تم سے کہا ہے،تم کسی سے اِس کا ذکر نہیں کرنا۔“
حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی رائے
حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ کی خلافت کے بارے میں کھل کر حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے رائے دی۔امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں۔امام ابن عساکر نے بروایت حضرت یسار بن حمزہ بیان کیا ہے،کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے مرض الموت کی بیماری کے دوران دریچہ سے لوگوں کو خطاب فرمایا:”اے لوگو!میں نے ایک شخص کو تم پر (خلیفہ) مقرر کیا ہے،تم اِس انتخاب سے راضی ہو؟لوگوں نے بالاتفاق کہا:”اے رسول اﷲ صلی اﷲ صلی علیہ وسلم کے خلیفہ رضی اﷲ عنہ!ہم بالکل راضی ہیں۔“حضرت علی رضی اﷲ عنہ یہ سن کر کھڑے ہو ئے،اور فرمایا:”وہ شخص اگر حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نہیں ہیں،تو ہم راضی نہیں ہیں۔“خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ سے فرمایا:”بے شک ،وہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ ہی ہیں۔“(تاریخ الخلفاء)
خلیفہ دوم کے بارے میں وصیت
خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ نے اپنے بعد خلیفہ دوم کے بارے میں وصیت لکھوائی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت محمد بن ابراہیم کا بیان ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت عثمان غنی رضی ا ﷲ عنہ کو بلایا،اور اُن سے فرمایا کہ لکھو۔”بسم اﷲ الرحمن الرحیم!یہ عہد نامہ ابو بکر بن قحافہ(رضی اﷲ عنہ ) نے مسلمانوں کے نام لکھا ہے۔اما بعد۔“اِس کے بعد خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ پر غشی طاری ہوگئی،اور بے خبر ہو گئے۔اِس لئے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے لکھ دیا۔”اما بعد۔میں تم پر حضرت عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ کو خلیفہ مقرر کرتا ہوں۔میں نے حتی المقدور تمہاری خیر خواہی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔“پھر حضرت ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ ہوش میں آگئے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سے فرمایا:”سناو¿ !تم نے کیا لکھا ہے؟“انہوں نے پڑھ کر سنایا،تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے ”اﷲ اکبر“فرمایا،اور آگے فرمایا :”میں سمجھتا ہو کہ شاید تمہیں اندیشہ ہوا کہ اگر غشی میں میری روح پرواز کر گئی تو لوگوں میں اختلاف پیدا ہو جائے گا۔“حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”جی ہاں!میں نے یہی خیال کیا تھا۔“حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اﷲ تم کو اسلام اور مسلمانوں کی طرف سے جزائے خیر دے۔اِس کے بعد اِس مضمون کو وہیں بر قرار رکھا۔
خلیفہ دوم کی نامزدگی کا اعلان
خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ نے اپنے مرض الموت میں خلیفہ دوم کی نامزدگی کا اعلان فرما دیا تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت ابو السفر کی روایت ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ دریچے پر بیٹھے،اور لوگوں سے خطاب فرمایا۔اُس وقت سیدہ اسماءبنت عمیس رضی اﷲ عنہااُنہیں پکڑے ہوئے اور سنبھالے ہوئے تھیں۔خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اے لوگو!میں نے جس شخص کو تم پر خلیفہ بنایا ہے،کیا تم اُس کو پسند کرتے ہو؟“کیونکہ میں نے اُس کے متعلق ہر طرح سے غورو فکر کیا ہے۔اور میں نے اپنے کسی رشتہ دار یا قرابت دار کا انتخاب نہیں کیا ہے۔میں نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو تمہارا خلیفہ بنایا ہے۔تم اُن کا حکم سنو،اور اُن کی اطاعت کرو۔“سب نے کہا کہ ہم سب بسرو چشم منظور کرتے ہیں،اور ہم اُن کی اطاعت کریں گے۔
میں نے سب سے بہترین شخص کو خلیفہ بنایا ہے
ﷲ تعالیٰ نے عربوں میں اور خاص طور سے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم میں یہ ایک بہت بڑی خوبی رکھی ہے کہ وہ جیسا محسوس کرتے تھے،اُس کا برملا اظہار کر دیتے تھے۔اور اُن کامقصد اِس کے لئے ہر کسی کی بھلائی ہوتا تھا۔جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ دوم کا اعلان فرمایا تو حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی ا ﷲ عنہ نے جو محسوس کیا،اُس کا اظہار حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ سے کر دیا۔( حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ اولین صحابہ کرام رضی ا ﷲ عنہم میں سے ہیں،اور ”عشرہ مبشرہ“میں سے ہیں۔اِ ن کے بارے میں رسول ا ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی زمین پر کسی جنتی کو چلتا ہوا دیکھنا چاہے تو طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ کو دیکھ لے۔)علامہ محمدبن جریر طبری لکھتے ہیں۔سیدہ اسماءبنت عمیس رضی ا ﷲ عنہا فرماتی ہیںکہ حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے اور فرمایا:”آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو لوگوں ہم پر خلیفہ مقرر فرمایا ہے۔حالانکہ آپ رضی اﷲ عنہ کو معلوم ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہ کی موجودگی میں لوگوں کو اُن سے کیا کیا تکلیفیں پہنچتی رہی ہیں۔جب سب کچھ اُن کے ہاتھ میں ہوگا تو نہ جانے کیا کیفیت ہو گی؟آپ رضی ا ﷲ عنہ اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں جارہے ہیں۔وہ آپ رضی اﷲ عنہ سے آپ رضی اﷲ عنہ کی رعایا کے حقوق کے بارے میں باز پُرس کرے گا۔“حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ لیٹے ہوئے تھے۔یہ سن کر آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”مجھے بٹھا دو۔“لوگوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کو بٹھا دیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ سے فرمایا:”تم مجھے اﷲ سے ڈراتے ہو،تم مجھے اﷲ کا خوف دلاتے ہو،یادرکھو!جب میں اﷲ کے سامنے جاو¿ں گا،اور وہ مجھ سے باز پُرس کرے گا،تو میں کہوں گاکہ میں نے تیری مخلوق پر اُن میں سے سب سے بہترین شخص کو خلیفہ بنایا ہے۔“یہ سن کر حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ رو پڑے۔
آخری وقت میں اسلام کی فکر
خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے حکم کے مطابق حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کو عراق میںآدھا لشکر دے کر مسلمانوں کا سپہ سالار بنا کر خود آدھا لشکر لے کر ملک شام کی طرف روانہ ہوگئے۔اِس کا تفصیلی ذکر ہم خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کے ذکر میں کر چکے ہیں،اور ابھی آگے بھی آئے گا۔اِس کے بعد حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی ا ﷲ ملک عراق میں مصروف رہے ۔جب ذرا فرصت ملی تو مدینہ منورہ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ،تاکہ مزید کمک لیکر ملک عراق پہنچیں۔تب تک خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کی بیماری کی شروعات ہو چکی تھی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ مدینہ منور پہنچے تو حضرت ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ کو بیمار پایا،اُن کی علالت اُسی وقت سے شروع ہو چکی تھی۔جس وقت حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ ملک شام کی طرف روانہ ہوئے تھے ،اور اسی علالت میں خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کا وصال ہوا۔جس وقت حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ مدینہ منورہ پہنچے،تو اُس وقت حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی طبیعت ذرا سنبھل گئی تھی۔اور انہوں نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو اپنے بعد جانشین مقرر کر دیا تھا۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کو تمام واقعات سے مطلع کیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :”حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو بلاو¿۔“جب وہ آئے خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ نے اُن سے فرمایا:”اے عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ !میں جو کہہ رہا ہوں اُسے غور سے سنو،اور پھر اُس پر عمل کرنا۔آج دو شنبہ(پیر) کا دن ہے،اور میں توقع کرتا ہوں کہ میں آج ہی انتقال کر جاو¿ں گا۔اگر میرا انتقال ہو جائے تو شام ہونے سے پہلے لوگوں کو جہاد کی ترغیب دے کرحضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ روانہ کر دینا۔اور اگر میرا انتقال رات میں ہو تو صبح سے پہلے مسلمانوں کو جمع کر کے حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ بھیج دینا۔میری موت کی مصیبت چاہے کتنی بھی بڑی ہو،وہ تم کو دین کے احکام اور اﷲ کے حکم سے باز نہ رہنے دے۔تم نے دیکھا ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے موقع پرمیں نے کیا کیا تھا،حالانکہ ہمارے لئے وہ عظیم ترین حادثہ تھا۔اﷲ کی قسم!اگر میں اُس وقت اﷲ اور رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کے احکام کی تعمیل میں ذرا بھی تاخیر کرنا جائز رکھتا تو اﷲ ہم کو ذلیل کر دیتا،اورہم کو سزا دیتا۔اور مدینہ منورہ میں آگ کے شعلے بھڑک اُٹھتے۔جب اﷲ تعالیٰ ملک شام میںوہاں کے سپہ سالاروںکو فتح عطا فرمادے۔تو حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے لشکر کو ملک عراق واپس بھیج دینا۔کیونکہ وہ لوگ ملک عراق کے لئے اہل اور کامیاب عہدے دار ہیں۔اور وہاں کے طریق سیاست سے بخوبی آشنا اور بڑے جری ہیں۔
خلیفہ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا پہلا خطبہ
حضرت ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ کے وصال ،اُن کی نماز جنازہ،اُن کی تدفین کے بارے میں ہم خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ کے ذکر میں تفصیل سے کر چکے ہیں۔یہاں ہم خلیفہ دوم حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ کی خلافت کا ذکر کر رہے ہیں،اِس لئے ہم وہیں سے شروع کرتے ہیں۔جس رات خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو دفن کیا گیا،اُس رات کی صبح حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ مسجد نبوی کے منبر پر بیٹھے۔(رسول اﷲ صلی ا ﷲ علیہ وسلم منبر پر جس جگہ بیٹھتے تھے،اُس جگہ حضرت ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ کبھی نہیں بیٹھے،بلکہ اُس سے نیچے بیٹھتے تھے۔اورجس جگہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ بیٹھتے تھے،اُس جگہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کبھی نہیں بیٹھے،بلکہ اُس سے نیچے کی جگہ پر بیٹھتے تھے۔)تمام مسلمانوں نے آکر آپ رضی اﷲ عنہ کی بیعت کی،اور آپ رضی اﷲ عنہ کو اپنا خلیفہ تسلیم کیا۔اس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ بننے کے بعد پہلا خطبہ ارشاد فرمایا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جس رات حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی تدفین ہوئی ،اُس کی صبح حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ منبر پر تشریف فرما ہوئے،اور فرمایا:”میں چند کلمات کہنا چاہتا ہوں ،تم لوگ آمین کہنا۔“اسی طرح مری کا بیان ہے کہ خلیفہ ہونے کے بعد حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے جو سب سے پہلا خطبہ دیا وہ یہ تھا :”عربوں کی مثال ایسی ہے ،جیسے نکیل میں بندھا ہوا اونٹ۔جو اپنے قائد کے پیچھے پیچھے چلتا رہتا ہے۔لہٰذا قائد کا فرض ہے کہ سوچ سمجھ کر اُس کی قیادت کرے۔اور میں ....قسم ہے رب کعبہ کی اُن کو سیدھے راستے پر لے کر چلوں گا۔“علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں ۔۳۲ جمادی الثانی ۳۱ ھجری بروز پیر خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے انتقال کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ تخت خلافت پر متمکن ہوئے۔
خلیفہ بننے کے بعد پہلا حکم
حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے خلافت سنبھالنے کے بعد سب سے پہلا حکم جو جاری کیا،وہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی سپہ سالاری سے معزولی کا تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔رات آتے ہی حضرت ابو بکر رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہو گیا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے رات ہی کو اُن کو دفن کر دیا۔اور مسجد میں آپ رضی اﷲ عنہ نے ہی نماز جنازہ پڑھائی۔خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کی تجہیز و تکفین سے فارغ ہوتے ہی حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی عنہ کے لئے لشکر کی بھرتی کی۔خلیفہ دوم رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :” حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ جانتے تھے کہ میں عراق کی جنگ کے لئے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی سپہ سالاری کو ناپسند کروں گا،اِس لئے انہوں نے اُن کے لشکر کی واپسی کا حکم دیا۔مگر خود اُن کا ذکر چھوڑ دیا۔“انہوں نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو معزول کر کے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو اُن کی جگہ سپہ سالار بنایا،اور انہیں ایک خط لکھ کر قاصد کو دیکر ملک شام میں میدان جنگ میں بھیجا،جہاں حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی سپہ سالاری میں مسلمانوں کا لشکر رومیوں سے لڑ رہا تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔خلیفہ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے خط میں لکھا:”میں تم کو اُس اﷲ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں،جو باقی رہنے والا ہے۔اور جس کے سوا ہر چیز فنا ہونے والی ہے،جس نے ہم کو گمراہی سے نکال کر راہ راست(سیدھے راستے )پر لگایا۔اور ظلمت(کفر)سے نکال کر نور(اسلام)میں داخل فرمایا۔میں تم کو حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی جگہ لشکر کا سپہ سالار مقرر کرتا ہوں۔تم مسلمانوں کے حقوق ادا کرنے کے لئے کھڑے ہو جاو¿،تم غنیمت کی حرص میں آکر مسلمانوں کو ہلاکت میں مبتلا نہ کرنا۔اور نہ کسی اجنبی مقام میں وہاں کے حالات اور نتائج سے بے خبر ہوکر اُن کو ٹھہرانا۔جب تم کسی لشکر کو جنگ کے لئے بھیجو،تو معقول تعداد کے بغیر نہیں بھیجنا۔مسلمانوں کو ہلاکت میں ہرگز مبتلا نہ کرنا،اﷲ نے تمہارا معاملہ میرے ہاتھ میں ،اور میرا معاملہ تمہارے ہاتھ میں دیا ہے۔دنیا کی محبت سے آنکھیں بند کر لو،اور اپنے دل کو بے نیاز کر لو۔خبردار اگلے لوگوں کی طرح اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو۔اُن کے بچھڑنے کے میدان تمہاری آنکھوں کے سامنے ہیں۔“خلیفہ دوم کے قاصد جب یہ خط لیکر ملک شام میں میدان جنگ میں پہنچے تو رومیوں سے جنگ ایک فیصلہ کُن مر حلے میں داخل ہو چکی تھی۔قاصدوں نے یہ خط حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو دیا ،تو انہوں نے جنگ ختم ہونے تک حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو نہیں بتایا۔جب جنگ ختم ہوگئی ،اور مسلمانوں کو فتح حاصل ہو گئی ،اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ مال غنیمت تقسیم کرنے بیٹھے ،تب حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے یہ خط انہیں دیا۔اب ہم ملک شام میں مسلمانوں کے لشکر کے حالات پیش کریں گے،اور درمیان میںخلیفہ اول کے وصال اور خلیفہ دوم کی خلافت کا ذکر ضمناً کریں گے،تاکہ تسلسل بر قرار رہے۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!





