جمعرات، 3 اگست، 2023

09 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ Khilafat e Rashida 2


09 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی 

قسط نمبر 9

صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کا مشورہ، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ سپہ سالار، خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنی نصیحت اور ہدایات، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کی روانگی، ملک عراق میں اسلامی لشکر، حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کا انتقال، لشکر کا شراف یا سیراف میں پڑاؤ، لشکر کی ترتیب، لشکر اسلام کے کمانڈر،یا عہدے دار،یا سپہ سالار، قابوس بن منذر کا خاتمہ، حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کی وصیت

صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کا مشورہ

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر مدینہ منورہ کے باہر تشریف لائے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔یکم محرم الحرام 14 ھجری کو حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے،اور ایک چشمے پر جو”صرار“کے نام سے مشہور تھا،ٹھہر گئے۔اور وہاں اپنے لشکر کو جمع کیا۔لوگ اُن کے ارادے سے واقف نہیں تھے ،اور جب لوگوں کو آپ رضی اﷲ عنہ سے کوئی بات پوچھنی ہوتی تھی تو براہ راست نہیں پوچھتے تھے۔بلکہ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ یا حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ کے توسط سے دریافت کرتے تھے۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے زمانہ ¿خلافت میں حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ ”ردیف “کہلاتے تھے۔”ردیف“سے مُراد وہ شخص ہوتا تھا ،جس کے متعلق یہ توقع ہوتی تھی کہ امیر کے بعد وہ امیر ہوگا۔اور جب اُن دونوں سے بھی کام نہیں چلتا تھا ،تو اُن دونوں کے ساتھ حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اﷲ عنہ کو بھی لگا دیتے تھے۔حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ سے دریافت کیا کہ آپ رضی اﷲ عنہ کا کیا ارادہ ہے؟خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ نے لوگوں کو نماز کے لئے جمع ہونے کا حکم دیا۔جب سب لوگ جمع ہو گئے تو آپ رضی اﷲ عنہ نے سب کو اِن واقعات سے مطلع کیا۔اور اُن سے مشورہ طلب کیا،تو عام لوگوں نے کہا کہ آپ رضی اﷲ عنہ بھی چلیئے،اور ہمیں بھی لے چلیئے۔لیکن کبار صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے فرمایا کہ آپ رضی اﷲ عنہ مدینہ منورہ میں ہی ٹھہریں،اور اپنی جگہ کسی بڑے صحابی رضی اﷲ عنہ کو سپہ سالار بنا کر بھیج دیں،اور اُن کو کمک بھیجتے رہیں۔اگر مسلمانوں کو فتح ملی تو اِس طرح دشمن دباؤ میں آجائے گا،اور اﷲ کا وعدہ بھی پورا ہوگا۔اور اگر نعوذ باﷲ آپ رضی اﷲ عنہ کا شکست ہو گئی ،یا شہید ہو گئے،تو یہ اسلام اور مسلمانوں کے لئے اتنا بڑا صدمہ ہو گا کہ وہ پھر اُبھر نہیں پائیں گے۔

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ سپہ سالار

خلیفۂ دوم حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اِس بار سب لوگوں کو جمع کیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ نے لوگوں کو جمع ہونے کا حکم دیا۔اورحضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کو مدینہ منورہ میں اپنی جگہ نائب بنا کر آئے تھے،انہیں بھی بلوا لیا۔حضرت طلحہ رضی اﷲ عنہ کو ”مقدمة الجیش“(لشکر کا اگلا حصہ)کے طور پر لشکر دیکر بھیجا تھا،اُنہیں بھی واپس بلوا لیا۔اِس لشکر کے میمنہ پر حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ ،اور میسرہ پر حضرت عبد الر حمن بن عوف رضی اﷲ عنہ تھے۔خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے مجمع میں کھڑے ہو کر فرمایا:”اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو مذہب اسلام پر جمع فرمایا ہے،اُن کے دلوں میں اُلفت پیدا فرمائی ہے،اور ایک دوسرے کا بھائی بنا دیا ہے۔مسلمان آپس میں ایک جسم کی طرح ہیں،اگر جسم کے ایک حصے کو تکلیف ہوتی ہے،تو اُس کا دوسرا حصہ بھی تکلیف محسوس کرتا ہے۔اِسی طرح مسلمانوں پر واجب ہے کہ اُن کے کام ذی رائے اصحاب کے مشوروں سے انجام پذیر ہوں۔عام لوگ اُس شخص کے تابع ہیں،جس کو اُنہوں نے خلیفہ بنایا ہے،اور اس کو پسند کرتے ہیں۔اور جو خلیفہ ہے،وہ ذی رائے اصحاب کے تابع ہے،معاملات ِ جنگ میں اُن کی جو رائے موزوں ہوگی ،سب کو اُس کی پیروی کرنی ہوگی۔اے لوگو!میں بھی تمہاری طرح کا ایک فرد ہوں،میں تمہارا ہم خیال تھا۔مگر تم میں سے جو لوگ عقل و رائے کے مالک ہیں،انہوں نے مجھ کو نکلنے کے ارادے سے روک دیاہے۔اِس لئے میں بھی (مدینہ منورہ میں) قیام کو مناسب سمجھتا ہوں،اور اپنے بجائے کسی اور شخص کو روانہ کرتا ہوں۔اِس معاملے میں مشورہ کرنے کے لئے میں نے آگے اورپیچھے کے لوگوں کو جمع کر لیا ہے۔“اسی دوران حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کا خط خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں آیا۔وہ اُس وقت نجد کے صدقات کی وصولی پر مامور تھے،اور صدقات کا مال اور خط بھیجا تھا۔خط لیکر رکھنے کے بعد حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اے لوگو! مجھے مشورہ دو کہ کسے سپہ سالار بنا کر بھیجوں؟“حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”آپ رضی اﷲ عنہ کو سپہ سالار مل گیا ہے۔“خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”وہ کون ہے؟“حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”کچھار کا شیر،حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ ۔“اُن کا نام سُن کر تمام صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے بھی حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ کی تائید کی۔ایک روایت میں یہ ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ صدقات کی وصولی پر متعین تھے،اور تمام ملک عرب میں گھوم گھوم کر صدقات وصول کر رہے تھے کہ حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے انہیں لکھ کر بھیجا کہایسے لوگوں کا نتخاب کر کے بھیجو،جو شریف ،دانشمند،بہادر اور شہسوار ہوں۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے جواب میں خط بھیجا کہ میں نے آپ رضی اﷲ عنہ کے لئے ایک ہزار آدمیوں کا انتخاب کیا ہے،جن میں سے ہر ایک نہایت شریف،عقل مند،حسب ونسب میں اعلیٰ اور اسلامی حمیت میں کمال کو پہنچا ہوا ہے۔میں انہیں بہت جلد آپ رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیج رہا ہوں۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کا خط اُس وقت پہنچا جب خلیفہ دوم رضی اﷲ عنہ لوگوں سے مشورہ کر رہے تھے۔سب نے کہا کہ آپ رضی اﷲ عنہ کوسلطنت فارس کے لئے سپہ سالار مل گیا۔اور وہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ ہیں۔

خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنی نصیحت اور ہدایات

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اِس مشورے کو قبول فرمایا،اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کو بلا بھیجا۔جب حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ مدینہ منورہ آئے تو خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ نے اُن کو ملک عراق کے لئے سلطنت فارس کے خلاف اسلامی لشکر کا سپہ سالار مقرر کیا،اور فرمایا:”اے سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ !تم کو اِس کا گھمنڈ نہیں ہونا چاہیئے کہ تم کو ”رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا ماموں “اور ”رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا صحابی“کہا جاتا ہے۔کیونکہ اﷲ تعالیٰ برائی کو برائی سے نہیں مٹاتا ہے،بلکہ نیکی سے برائی کو مٹاتا ہے۔اﷲ اور بندے کے درمیان اطاعت کے سوا اور کوئی رشتہ نہیں ہے۔تمام انسان چاہے وہ شریف ہوں یا کمینے،اﷲ کے نزدیک برابر ہیں۔اﷲ اُن کا پالنے والا ہے،وہ اُس کے بندے ہیں۔ہاں !عبادت اور نیکی کے ذریعے کم اور زیادہ درجات حاصل کرتے ہیں،اور اطاعت کے ذریعے سے اُس کی بارگاہ سے سب کچھ پاتے ہیں۔پس تم وہی طریقہ اختیار کرنا،جو تم نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو ابتدائے بعثت سے لیکر وصال کے وقت تک کرتے ہوئے دیکھا ہے۔اُسی طریقے کو مضبوطی سے پکڑو،وہی طریقہ سب سے بہتر ہے۔میں تم کو یہی نصیحت کرتا ہوں۔اگر تم نے اس کو ترک کر دیا ،اور اس سے رو گردانی کی تو تمہارے اعمال ضائع ہو جائیں گے،اور تم خسارہ اُٹھاو¿ گے۔“اِس کے بعد جب حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کو لشکر دیکر روانہ کرنے لگے تو فرمایا:”میں تم کو سلطنت فارس کے خلاف ملک عراق کی جنگ کا سپہ سالار مقرر کرتا ہوں۔میری ہدایات کو یاد رکھنا،کیونکہ تم کو ایک نہایت شدید اور ناگوار صورت حال کا سامنا اور مقابلہ کرنا ہے۔جس سے سوائے حق پرستی کے چھٹکارہ نہیں ہے۔تم خود کو اور اپنے ساتھیوں کو نیکی کا خوگر کرو،یاد رکھو کہ ہر عادت کی ایک بنیاد ہے۔نیکی کی بنیاد صبر ہے، تم کو جب کوئی مصیبت پیش آئے گی تو اُس پر صبر کرنا۔صبر سے ہی تم کو خشیت الٰہی ہوگی ،یاد رکھنا کہ اﷲ کی اطاعت اور گناہوں سے بچنے سے اﷲ کی خشیت حاصل ہوتی ہے۔اصل نیت اور حال دلوںمیں چھپے ہوتے ہیں،جب وہ ظاہر ہوتے ہیں تو انسان کی تعریف اور برائی کرنے والے برابر ہوتے ہیں۔اور جب دلوں کے حال پوشیدہ ہوتے ہیں،تو انسان کے دل سے حکمت کی باتیں زبان کے ذریعے ظاہر ہوتی ہیں،اور لوگ اُس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔اﷲ کے محبوب بننے سے رو گردانی نہ کرو،کیونکہ انبیائے کرام علیہم السلام نے بھی اِسی کی تمنا کی تھی۔جب اﷲ کسی بندے کو محبوب بناتا ہے تو لوگوں کے دلوں میں اُس کی محبت پیدا فرما دیتا ہے۔اور جب کسی سے بغض کرتا ہے تو لوگوں کے دلوں میں اُس کا بغض پیدا فرما دیتا ہے۔تم اﷲ کی بارگاہ میں اپنا وہی مرتبہ سمجھو،جو تم کواُن لوگوں میں حاصل ہے،جن کے درمیان تم رہتے ہو۔

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کی روانگی

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کواُن مسلمان مجاہدین کے ساتھ ملک عراق روانہ کیا ،جو مدینہ منورہ میں آکر جمع ہو گئے تھے۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ چار ہزار کا لشکر لیکر ملک عراق کی طرف روانہ ہوئے۔اِن میں سے تین ہزار وہ تھے ،جو یمن اور سرات سے آئے ہوئے تھے۔انہیں روانہ کرتے ہوئے خلیفہ¿ دوم نے فرمایا:”جب تم ”زرود“پہنچ جاو¿ ،تو وہاں قیام کرنا۔اور وہاں کے لوگوں اوراُس کے مضافات کے لوگوںکو جہاد میں شرکت کی دعوت دینا۔اور ایسے لوگوں کو منتخب کرنا ،جو بہادر،شہسوار،قوی،عقل و رائے کے مالک اور اچھے خاندان کے لوگ ہوں۔حضرت سعد بن ابی وقاص کے روانہ ہونے کے بعد خلیفہ دوم رضی اﷲ عنہ نے چار ہزار کا لشکر اور اُن کی کمک کے لئے روانہ فرمایا۔جس میں دو ہزار یمن کے تھے،اور دوہزار نجد کے بنو غطفان اور بنو قیس کے تھے۔حضرت سعد بن بی وقاص رضی اﷲ عنہ سردی کے شروع میں ”زرود“پہنچے ،اور وہیں پڑاو¿ ڈال دیا۔اُن کے لشکر کے لوگ بنو تمیم اور بنو اسد کے چشموں کے آس پاس ٹھہر گئے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے بنو تمیم اور بنو اسد میں مجاہدین کا انتخاب کرنا شروع کیا۔ساتھ ہی خلیفہ دوم کی طرف سے اور کمک اور اگلے حکم کا انتظار بھی کر رہے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے قبیلہ بنو تمیم سے تین ہزار مجاہدین،قبیلہ بنو رباب سے ایک ہزار مجاہدین،اور قبیلہ بنو اسد سے تین ہزار مجاہدین کا انتخاب کیا۔اور اُن کو حکم دیا کہ اپنے علاقے کی سرحد پر ”حزن “اور ”بسیط“کے درمیان ٹھہریں۔اسی لئے وہ لوگ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کے لشکر اور حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کے لشکر کی درمیانی جگہ پر ٹھہر گئے۔

ملک عراق میں اسلامی لشکر

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ چار ہزار کے لشکر کے ساتھ ”زرود“میں قیام پذیر تھے۔بعد میں خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ نے چار ہزار کا لشکر اور بھیج دیا۔اِس کے علاوہ سات ہزار کے لشکر کی بھرتی بنو تمیم،بنو رباب، اور بنو اسد سے آپ رضی اﷲ عنہ نے کی تھی۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کے پاس آٹھ ہزار کا لشکر تھا۔اِن میں سے چار ہزار وہ تھے،جنہیں آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے ملک شام جانے کے بعد بھرتی کی تھی۔اور چار ہزار جنگ جسر یا حسبر سے باقی بچنے والے مجاہدین تھے۔ یہ تمام آٹھ ہزار کا لشکر قبیلہ بنو ربیعہ،قبیلہ بکر بن وائل،قبیلہ بنو بجیلہ، قبیلہ بنو طے،اور قبیلہ بنو قضاعہ کے مجاہدین پر مشتمل تھا۔بنو بجیلہ کے کمانڈر حضرت جریر بن عبد اﷲ تھے،بنو طے کے کمانڈر حضرت عدی بن حاتم طائی رضی اﷲ عنہ تھے،بنو قضاعہ کے کمانڈر حضرت عمرو بن دبرہ تھے۔

حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کا انتقال

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کو اُمید تھی کہ حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ اُن کے پاس آئیں گے۔اور حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ اِس اُمید میں تھے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ اُن کے پاس آئیںگے۔لیکن وہ تو خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کے حکم کے مطابق ”زرود“میں قیام پذیر تھے،اور حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کو جنگ جسر یا حسبر میں اتنے شدید زخم آئے تھے کہ آپ رضی اﷲ عنہ بالکل سفر کرنے کے قابل نہیں تھے۔یہاں تک کہ یہ زخم جان لیوا ثابت ہوئے ،اور آپ رضی اﷲ عنہ کا انہیں زخموں کی وجہ سے انتقال ہو گیا یا شہید ہو گئے۔اپنے آخری وقت میں حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے اپنے لشکر کا سپہ سالار حضرت بشیر الخصاصبہ کو بنادیا تھا۔

لشکر کا شراف یا سیراف میں پڑاؤ

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کو ”زرود“سے آگے بڑھنے کا حکم دیتے ہوئے لکھا کہ ایک دستہ ”فرج الہند“کے سامنے بھیج دو۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کو جب وہ زرود سے کوچ کر رہے تھے،لکھا کہ ”فرج الہند“کے سامنے کسی ایسے شخص کو بھیج دو،جسے تم پسند کرتے ہو،تاکہ وہ (دشمن سے) آڑ بن جائے۔اور اُس کی طرف سے کوئی حملہ ہو تو اُس کو روک سکے۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ کو پانچ سو مجاہدین کا دستہ دیکراُس طرف روانہ کر دیا۔حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ ”ابلہ“کے سامنے مقیم ہو گئے۔ اِس مقام پر سلطنت روم،سلطنت فارس اور ملک عرب کی سرحدیں ملتی ہیں۔اور ایک طرف سمندر ہے ،جس کے ذریعے ہندوستان کے لوگ پانی کے جہازوں سے یہاں داخل ہوتے تھے۔اِسی لئے اِس علاقے کا نام ”فرج الہند“تھا۔جب حضرت سعد رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ شراف یا سیراف پہنچ گئے تو انہیں حکم دیا کہ ”غضیٰ“آجاو¿۔یہ حکم سن کر حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ ”غضیٰ“آگئے ،جہاں پہلے سے حضرت جریر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ موجود تھے،اور وہیں قیام پذیر ہو گئے۔

لشکر کی ترتیب

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ جب شراف یا سیراف میں پہنچ کر قیام کرنے کے بعد اپنے لشکر اور غضیٰ سے لیکر جبانہ تک کے تما م لشکروں کا حال لکھ کر خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیجا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔اِس کے جواب میں حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے لکھ کر بھیجا کہ میرا یہ خط جب تمہارے پاس پہنچے تو لوگوں کو دہائیوں میں تقسیم کر دینا،اور اُن پر عریف اور امیر مقرر کر دینا،اورلشکر کی ترتیب کر دینا۔اور ہرلشکر کے کمانڈر کو بلا کر صحیح تعداد معلوم کر کے انہیں مقرر کر کے واپس بھیج دینا۔اور سب کے ”قادسیہ “پہنچنے کا ایک وقت مقرر کر دینا،اور حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ کو مجاہدین کے ساتھ واپس بلا کر اپنے لشکر میں شامل کر لینا۔اور تمام انتظامات کی تکمیل کے بعد مجھے اطلاع دینا۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ کو بلوا لیا،اور تمام قبائل کے سرداروں کو بلا لیا۔پھر ہر قبیلے کے مجاہدین کی گنتی کی،اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانے کے مطابق ہر دس مجاہد پر ایک عریف مقرر فرمایا۔ مجاہدین کی تعداد تیس ہزار(۰۰۰،۰۳)تک پہنچ گئی ہے۔انہوں نے ہر دس مجاہد پر ایک ایک ایسے شخص کو مقرر فرمایا،جو اسلام میں سبقت رکھتے تھے۔اور لشکر کے الگ الگ حصوں کا سپہ سالار یاکمانڈر جلیل القدر صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کو بنایا۔اور مقدمة الجیش، میمنہ، میسرہ، پیدل، سوار،طلایہ گردی(گشت)،غرض یہ کہ ہر ایک پر عہدے دار مقرر فرمائے۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ اپنی ہر نقل و حرکت اور ترتیب خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے حکم کے مطابق کرتے تھے۔

لشکر اسلام کے کمانڈر،یا عہدے دار،یا سپہ سالار

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے ”مقدمة الجیش“(ہر اول )کا سپہ سالار حضرت زہرہ بن عبد اﷲ بن قتادہ رضی اﷲ عنہ کو بنایا۔زمانہ جاہلیت میں یہ بحرین کے بادشاہ تھے۔اپنی قوم کی طرف سے وفد لیکر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے،اور اسلام قبول کیا تھا۔وہ اجازت ملنے پر اپنے لشکر کو لیکر ”عذیب“کی طرف روانہ ہو گئے۔”میمنہ “پر حضرت عبد اﷲ بن معتم رضی اﷲ عنہ کو سپہ سالار بنایا۔یہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ہیں۔”میسرہ پر حضرت شرجیل بن سمط کندی کو کمانڈر بنایا،یہ نوجوان آدمی تھے۔انہوں نے مُرتدین سے جنگ کی تھی ،اور اِس میں نمایاں کامیابی اور شہرت حاصل کی تھی۔مدینہ منورہ سے لیکر کوفہ کی جائے وقوعہ تک کے علاقے میں اِن کو اشعث سے زیادہ ممتاز اور معزز مانا جاتا تھا۔اِن کے والد اُن لوگوں میں سے ہیں،جو حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی ا ﷲ عنہ کے ساتھ سب سے پہلے ملک شام پہنچے تھے۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔حضرت عاصم بن عمرو تمیمی رضی اﷲ عنہ کو ”ساقہ“کا سپہ سالار بنایا۔یہ قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ کے بھائی ہیں۔لشکر کا نائب سپہ سالار حضرت خالد بن عر لظہ رضی اﷲ عنہ کو مقرر کیا۔”طلایہ گردی“(گشتی دستوں)پر حضرت سواد بن مالک تمیمی کو متعین کیا۔حضرت سلمان بن ربیعہ باہلی کو گھڑ سواروں کا سپہ سالار بنایا۔حضرت جمال بن مالک اسدی کو پیدلوں کا سپہ سالار مقرر کیا۔اونٹ سواروں کا سپہ سالار حضرت عبد اﷲ بن ذی سہمین کو بنایا۔”قاضی و خزانچی “حضرت عبد الرحمن بن ربیعہ باہلی کو بنایا۔ ”رائد“(رسد ،کھانے پینے کے سامان کا بندو بست کرنے والے)حضرت سلمان فارسی رضی اﷲ عنہ کو بنایا۔آپ رضی اﷲ عنہ فارس (ایران) میں پیدا ہوئے ،اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے ،راستے میں غلام بنا کر بیچے گئے ۔آخر کار مدینہ منورہ میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے دست مبارک پر اسلام قبول کیا۔اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے غلامی سے نجات دلائی۔”مُترجم “حضرت ہلال ہجری کو بنایا۔اور ”کاتب “(سکریٹری)حضرت زیاد بن ابی سفیان کو بنایا۔

قابوس بن منذر کا خاتمہ

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ شراف یا سیراف میں لشکر کی ترتیب کر رہے تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔اسی دوران حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کے بھائی ،حضرت معنیٰ بن حارثہ ،سلمیٰ بنت خصیفة (حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کی بیوی)کو اور اپنے بھائی کی وصیت کو لیکر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں پہنچے۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے سیدہ سلمیٰ کے متعلق حضرت سعد رضی اﷲ عنہ کو وصیت کی تھی،اور اپنے بھائی کو حکم دیا تھا کہ سلمیٰ کوجلد از جلد حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کے پاس پہنچا دینا۔مگر انہیں دیر لگ گئی ،کیونکہ قابوس بن منذر کو آزادمرد بن آزاذبہ نے قادسیہ کی طرف روانہ کرتے ہوئے حکم دیا تھا کہ تم عربوں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکاو¿،اور اُن سے جنگ کے لئے تیار کرو۔جب حضرت معنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کو اِس کے بارے میں خبر ملی تو وہ قادسیہ گئے ،اور قابوس بن منذر کو قتل کر کے واپس آئے۔اسی لئے آپ رضی اﷲ عنہ کو حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کے پاس پہنچنے میں دیر لگی۔

حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کی وصیت

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حضرت معنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ لشکر کو لیکر اور اُن کی بیوہ کو اور وصیت کو لیکر حاضر ہوئے۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے حضرت سعد رضی اﷲ عنہ کو مشورہ دیا کہ اگر دشمنان ِ اسلام کی فوجیں پوری طرح پوری تیاری سے آمادہ¿ پیکار ہوں تو آپ ان کے ملک میں گھس کر اُن سے جنگ نہ کریں۔ بلکہ ایسے مقام پر جنگ کریں جو اُن کی حدود پر ہو ،اور ملک عرب سے قریب تر ہو۔تاکہ مسلمان فتح یاب ہوں تو اس سے آگے کا علاقہ بھی ان کے قبضہ و تصرف میں آجائے۔ورنہ بصورت دیگر مسلمان اپنی جمیعت کی طرف واپس آ جائیں،اور اپنی سر زمین میں رہ کر کمال جرا¿ت سے جو مصلحت کے مطابق ہو گا،اُس پر کا ربند ہوں۔اﷲ کی ذات سے قوی اُمید ہے کہ مسلمانوں کا دوسرا حملہ ضرور کامیاب ہوگا۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کی رائے اور وصیت سن کر اُن کے حق میں دعائے خیر کی۔اور حضرت معنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کو اُن کے لشکر کا سپہ سالار مقرر کیا۔اور سیدہ سلمیٰ کو نکاح کا پیغام دیا جو انہوں نے قبول کر لیا ،اور اُن کی زوجیت میں آگئیں۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

10 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ Khilafat e Rashida 2


10 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی 

قسط نمبر 10

قادسیہ پہنچنے کا حکم، تفصیل سے حالات لکھنے کا حکم، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کا جواب، خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کی اگلی ہدایات، فارسی جاسوس، اسلامی لشکر کا قدیس میں قیام، فارسیوں کے سپہ سالاررستم کا لشکر، کسریٰ کے پاس اسلامی سفیر، اسلامی وفد کسریٰ کے دربار میں، حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ کی کسریٰ سے گفتگو، حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ کی تقریر، کسریٰ کا گھمنڈ، رسول اللہ ﷺ  کے اوصاف اور اسلام کی دعوت، کسریٰ کے تکبر کا جواب، 

قادسیہ پہنچنے کا حکم

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے ایک ساتھ دو فرمان مدینہ منورہ سے جاری کئے۔پہلا فرمان ملک شام میں حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو لکھ کر بھیجا۔اِس میں حکم دیا تھا کہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے ساتھ جو لشکر ملک عراق سے آیا تھا،اُسے فوراً ملک عراق کی طرف بھیجو،اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو اپنی ماتحتی میں رکھو۔اِس کا تفصیلی ذکر ہم پچھلے صفحات میں کر چکے ہیں۔حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے حکم کے مطابق وہ لشکر پورا کرکے ملک عراق کی طرف روانہ کر دیا تھا۔دوسرا فرمان اُسی وقت حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کو شراف یا سیراف کے قیام کے دوران بھیجا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔شراف میں قیام کے زمانے میں حضرت سعد رضی اﷲ عنہ کے پاس خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا فرمان پہنچا ،جس میں وہی ہدایت دی گئی تھی،جس کا حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے اُن کو مشورہ دیا تھا۔حضرت عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ نے ایک ساتھ دو خط لکھے تھے۔ایک حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو لکھا تھا۔اُس میں حکم دیا تھا کہ اہل عراق کو جو تعداد میں چھ ہزار تھے، اُن کوواپس بھیج دو ۔اور حضرت سعد رضی اﷲ عنہ کے خط میں لکھا تھا کہ تم شراف یا سیراف سے روانہ ہو جاو¿۔اور مسلمانوں کو لیکر فارس کی طرف بڑھو،اﷲ پر بھروسہ رکھو،اور تمام کاموں میں اُسی سے مدد چاہو۔تم کو معلوم ہونا چاہیئے کہ تم ایسی قوم سے رو برو ہو رہے ہو،جو تعداد میں کثیر ہے۔جس کے پاس ساز و سامان وافر ہے،دنیا پر اُس کا رعب چھایا ہوا ہے ۔اور تم ایسی مملکت پر حملہ کر رہے ہو ،جو نہایت مستحکم ہے ۔ظاہر میں یہ ملک وسیع میدانوں ،ترائیوں اور نہروں کی وجہ سے سہل گزار معلوم ہوتا ہے۔بعض مقامات پر تمہیں ترائیوں کے جنگل بھی ملیں گے ۔جب تم دشمن قوم یا اُس کے فرد سے ملو تو سختی اور قتل سے پیش آنا۔ایسا نہ ہو کہ تم ان کی فوجوں کا تماشہ دیکھنے میں لگ جاو¿۔وہ لوگ بے حد فریبی اور مکار ہیں،تم اُن کے فریب میں مبتلا نہیں ہونا،اور اُن کی چال بازیوں کا ضرور توڑ کرنا۔قادسیہ زمانہ¿ جاہلیت سے فارس کا دروازہ ہے۔اُن لوگوں کی تمام مادی ضروریات اِسی دروازے سے پوری ہوتی ہے۔قادسیہ نہایت دلچسپ ،شاداب اور مستحکم مقام ہے،اُس تک پہنچنے کے لئے پُلوں،اور نہروں کو عبور کرنا پڑے گا۔جب تم قادسیہ پہنچ جاو¿ تو اپنی فوجی چوکیاں اِس کی گھاٹیوں میں قائم کرنا۔تمہارے لشکر کا قیام پہاڑوں،اور نرم زمینوں کے درمیان پانی کے چشموں پر ہونا چاہیئے،ٹھہرنے کے بعد اپنی جگہ سے نہیں ہٹنا۔جیسے ہی دشمنوں کو تمہاری آمد کا علم ہو گا،اُن میں ہلچل مچ جائے گی۔اور وہ اپنی پوری قوت سے تم پر حملہ آور ہوں گے۔اگر تم استقلال اور پامردی سے جمے رہے تو مجھے اُمید ہے کہ تم اُن پر فتح یاب ہو گے۔اور پھر کبھی وہ لوگ تمہارے مقابلے میں اتنے اعتماد سے جمع نہیں ہو سکیں گے۔اور اگر جمع بھی ہوئے تو اُن کے دل ٹھکانے پر نہیں ہوں گے۔اﷲ نہ چاہے!اگر تمہیں ناکامی ہوئی تو پہاڑ تمہارے عقب میں ہو گا،اور تم دشمن کی سرزمین سے ہٹ کر اور پہاڑ کی طرف پلٹ کر اپنے ملک عرب میں پناہ لے سکو گے۔وہاں پہنچ کر تم ہمت اور جسارت اور واقفیت کے ساتھ اپنے دشمن سے لڑو گے،اور وہ ناواقفیت کے ساتھ لڑے گا۔اِس کے بعد اﷲ تعالیٰ فتح و کامرانی کو بھیجے گا،اور تمہارے دشمن کو مغلوب کرے گا۔

تفصیل سے حالات لکھنے کا حکم

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اِس خط کے فوراً ایک اور خط لکھا ،اور اُس میں تمام حالات تفصیل سے لکھ کر بھیجنے کا حکم دیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔نیز جس روز حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ شراف سے روانہ ہو رہے تھے،اُس روز حضرت عمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ نے اُن کو اِس مضمون کا خط بھیجا۔جب فلاں دن آجائے تو تم اپنی فوجوں کو لیکر روانہ ہو جانا،اور ”عذیب الہجانات “اور عذیب القوادس“کے درمیان پہنچ جانا۔اور وہاں سے مشرق اور مغرب کی طرف حملے کرنا۔تم اپنے دل کو مضبوط رکھو،اپنے لشکر کو پند و نصیحت کرتے رہو،اور حسن نیت اور خلوص کی تلقین کرتے رہو۔جو شخص اِس سے غافل ہو جائے،اُس کو متنبہ کرو،صبر اور استقلال سے کام لو۔اﷲ کی طرف سے مدد نیت کے مطابق آتی ہے،اور ثواب خلوص کے مطابق عطا ہوتا ہے۔مجھے اِس کی اطلاع دیتے رہو کہ دشمن کے لشکرکتنے قریب آ گئے ہیں،اور اُن کا سپہ سالار کون ہے۔کیونکہ موقع محل اور دشمن کے حالات سے لاعلمی کے باعث بہت سی باتیں جو لکھنا چاہتا ہوں ،نہیں لکھ سکتا ۔اِس لئے تم اسلامی لشکر کے مورچوں اور اپنے اور مدائن کے درمیان کے شہروں کے حالات ،اور اُن کی تفصیل اور وضاحت سے لکھو،کہ گویا میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔تم اﷲ سے ڈرتے رہو،اُسی سے اُمیدیں وابستہ رکھو۔کسی چیز ہر نازاں نہیں ہونا،یاد رکھو اﷲ نے وعدہ کیا ہے ،اُس پر بھروسہ رکھو۔وہ وعدہ خلافی نہیں کرتا ہے،ایسا نہ ہو کہ تم اُس کو ناراض کر لو۔اور وہ تمہارے بجائے کسی اور قوم سے اپنا کام نکال لے گا۔

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کا جواب

خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کے جواب میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے انتہائی تفصیل سے حالات لکھ بھیجے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے جواب میں لکھا کہ” قادسیہ “خندق اور نہر عتیق کے درمیان ایک شہر ہے۔اس کے بائیں جانب ”بحر اخضر “ہے۔جس کا پھیلاو¿”حیرہ“تک دو راستوں کے درمیان سے نمودار ہوتا ہے۔اِن میں سے ایک راستہ بلندی کی طرف جاتا ہے،اور دوسرا ایک نہر کے کنارے کنارے جاتا ہے۔جس کو ”الخصوص“کہتے ہیں۔اِس راستے سے گذرنے والا آدمی ”خورنق “اور ”حیرہ“کے درمیان پہنچتا ہے۔اور ”قادسیہ “کے دائیں جانب وہاں کے دریاو¿ں کی ترائی ہے۔سواد کے جن باشندوں نے مجھ سے پہلے کے مسلمان لشکروں سے مصالحت کی تھی،اگرچہ بظاہر وہ لوگ سلطنت فارس کے طرفدار بن گئے ہیں،مگر ہماری امداد کے لئے تیار ہیں۔فارسیوں(ایرانیوں) نے ہمارے مقابلے پر رستم کو جو اُن میں امتیازی مقام رکھتا ہے بھیجا ہے۔دشمن ہم پر حملہ آور ہو کر ہم کو زیر کرنا چاہتا ہے،اور ہم دشمن پر حملہ آور ہو کر اُس کو زیر کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔نتیجہ اﷲ کے ہاتھ میں ہے۔ہماری دعا ہے کہ تقدیر کا فیصلہ ہمارے موافق ہو،اور ہماری عافیت کا باعث ہو۔

خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کی اگلی ہدایات

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے جواب میں لکھا۔تمہارا خط موصول ہوا،جب تک دشمنوں کی طرف سے کوئی حرکت نہ ہو ،تم اپنی جگہ جمے رہنا۔یاد رکھو!اِس موقع کی کامیابیوں پر آئندہ کی کامیابیاں موقوف ہیں۔اگر اﷲ نے تمہارے ہاتھوں دشمن کو مغلوب کر دیا تو تم اُن کودباتے دباتے مدائن میں گھس جانا،انشاءاﷲ مدائن بھی فتح ہوگا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ خاص طور سے حضرت سعد رضی اﷲ عنہ کے لئے دعا ءکیا کرتے تھے،اور اُن کے ساتھ اور لوگ بھی ،اُن کے لئے اور تمام مسلمانوں کے لئے دعاءکیاکرتے تھے۔ خلیفہ¿ دوم نے آگے لکھا کہ مجھے القاءہوا ہے کہ جب تم دشمن سے لڑو گے ،تو اُسے شکست دو گے۔لہٰذا اپنے دل سے شک و شبہ دور کر دو،اﷲ پر بھروسہ رکھو۔اگر تم میں سے کوئی شخص بطور کھیل کے بھی کسی عجمی کو امان دے یا ایسا اشارہ کرے ،یا ایسے الفاظ کہے ،جن کو عجمی نہ سمجھتے ہوں،مگر وہ اِس کو امان جانیں ،تو تم اِس امان کو بر قرار رکھنا۔ہنسی مذاق سے احتراز کرنا،وعدوں کا ایفا کرنا۔کیونکہ ایفا اگر غلطی سے بھی ہو جائے تو اِس کا نتیجہ اچھا ہے۔مگر غداری سے غلطی ہو گی تو اِس کا انجام ہلاکت ہے۔اِس سے تمہاری کمزوری اور دشمن کی طاقت ظاہر ہو گی۔اور تمہاری ہوا بننے کے بجائے دشمن کی ہوا بن جائے گی۔یاد رکھو!میں تم کو اِس بات سے ڈراتا ہوں کہ تم مسلمانوں کی توہین اور ذلت کا باعث بنو۔

فارسی جاسوس

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے ”مقدمة الجیش“کے طور پر حضرت زہرہ رضی اﷲ عنہ کو لشکر دیکر آگے روانہ کیا تھا،اِس لشکر میں حضرت کرب بن ابی کرب بھی تھے۔وہ کہتے ہیں،جب ہم عذیب الہجانات پر اپنے لشکر کے ساتھ پہنچے تو صبح سویرے کا وقت تھا۔یہ مقام فارسیوں کی فوجی چوکی تھا،ہم نے اس کے برجوں پر کچھ آدمیوں کو دیکھا۔ہم جس بُرج یا کنگورے ہر نظر ڈالتے تھے ،ہمیں ایک آدمی نظر آتا تھا۔ہمارا دستہ سب سے آگے تھا،اِس لئے ہم اپنے ساتھیوں کے انتظار میں ٹھہر گئے۔یہاں تک کہ ہمارا لشکر ہم سے آملا۔ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ عذیب الہجانات میں کوئی دستہ یا رسالہ موجود ہے۔ہم آگے بڑھے ،اور جب عذیب کے قریب پہنچے تو وہاں سے ایک آدمی گھوڑا دوڑاتا ہوا قادسیہ کی طرف روانہ ہوا۔ہم جب عذیب میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ وہاں تو کوئی بھی موجود نہیں تھا۔ہم سمجھ گئے کہ یہ وہی آدمی ہے ،جو ہم کو بُرجوں اور کنگوروں سے نظر آرہا تھا۔اور اب فارسیوں کوہماری آمد کی خبر دینے جا رہا ہے۔ہم نے اُس کا تعاقب کیا،مگر اُس نے ہم کو جُل دے دیا،اور ہم اُسے پکڑنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔اتنے میں حضرت زہرہ رضی اﷲعنہ ہمارے پاس پہنچے ،تو ہم نے اُنہیں بتایا،انہوں نے فرمایا کہ اگر یہ شخص فارسیوں تک پہنچ گیا تو اُن کو ہماری آمد کی خبر دیدے گا۔یہ فرما کر انہوں نے گھوڑا دوڑایا،اور اتنی تیزی سے آگے بڑھے کہ اُسے خندق پر جا لیا،اور نیزہ پھینک کا مارا ،جس سے وہ شخص گھوڑے سے گر پڑا،اور مارا گیا۔

اسلامی لشکر کا قدیس میں قیام

جب حضرت سعد رضی اﷲ عنہ عذیب میں پہنچے تو مقدمة الجیش کو آگے روانہ کر دیا ،تاکہ وہ قادسیہ میں نہر عتیق اور خندق کے سامنے پڑاو¿ ڈالیں۔قدیس اُس زمانے میں قادسیہ سے ایک میل نیچے تھا۔اِس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ بھی اپنے لشکر کے ساتھ قدیس پہنچ گئے،اور پڑاو¿ ڈال دیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت سعد رضی اﷲ عنہ قادسیہ میں اپنے لشکر کے ساتھ پہنچے،اور”قدیس “میں پڑاو¿ ڈال دیا۔جبکہ حضرت زہرہ رضی اﷲ عنہ مقدمةالجیش کے ساتھ ”قنطرہ العتیق“کے سامنے اُس مقام پر فروکش ہوئے ،جہاں آج قادسیہ ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ ایک مہینے تک ”قدیس“میں ٹھہرے رہے،پھر خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو لکھا کہ اب تک دشمنوں نے ہماری طرف رُخ نہیں کیا ہے۔اور جہاں تک ہم کو معلوم ہے،جنگ کی مہمات کے لئے بھی کسی کو تیار نہیں کیا ہے۔جب ہم کو اِسکی اطلاع ملے گی تو ہم فوراً آپ رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں لکھ بھیجیں گے۔آپ رضی اﷲ عنہ، اﷲ تعالیٰ سے ہماری مدد و نصرت کی دعا فرمائیں۔کیونکہ ہم اِس وقت ایک بہت وسیع دنیا کے کنارے کھڑے ہیں،اور اِس سے پہلے نہایت مشکلات ہمارے سامنے کھڑی ہیں۔ جن کا اﷲ تعالیٰ نے اِن الفاظ میں ذکر فرمایا ہے۔ترجمہ۔”عنقریب تم کو ایک نہایت سخت اور شدید قوم کی طرف بلایا جائے گا۔“

فارسیوں کے سپہ سالاررستم کا لشکر

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ قدیس میں پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے،اور آس پاس کے علاقوں میں اپنے دستے اور رسالے بھیج رہے تھے۔جو لشکر کی ضروریات کی چیزیں لیکر آتے تھے ۔اِس کے علاوہ آس پاس کے شہروں میں جاسوس بھی روانہ کئے تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے حیرہ اور صلوبا کی طرف اپنے جاسوس بھیجے،تاکہ فارسیوں کی خبریں معلوم ہوں۔وہ لوگ یہ خبر لائے کہ کسریٰ نے رستم بن فرخ ذاد کو سپہ سالار مقرر کیا ہے۔اور ایک بہت بڑا لشکر وہ تیار کر کے نکل چکا ہے۔حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے یہ خبر فوراًخلیفہ دوم رضی اﷲ عنہ کو بھیجی تو انہوں نے حکم لکھ بھیجا کہ فارسیوں(ایرانیوں) کی طرف سے جو کچھ تم سنو ،یا جو کچھ تم کو پیش آئے ،تم اُس کو بڑا مت سمجھنا۔اﷲ سے مدد چاہو،اُسی پر بھروسہ رکھو۔رستم کے پاس اسلام کی دعوت دینے کے لئے تم ایسے لوگوں کو بھیجو،جو وجیہہ ،عقل مند اور بہادر ہوں۔اﷲ اِس دعوت کو اُن کی توہین اور ہماری کامیابی کا ذریعہ بنائےگا۔تم روزآنہ مجھے خط لکھتے رہو۔جب رستم نے اپنے لشکر کے ساتھ ”ساباط“میں پڑاو¿ ڈالا تو خلیفہ دوم رضی اﷲ عنہ کو اِسکی اطلاع کر دی گئی۔

کسریٰ کے پاس اسلامی سفیر

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے کسریٰ کے پاس اپنے سفیر بھیجے،اور اُسے اسلام کی دعوت دی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا حکم سنتے ہی حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے کسریٰ کے دربار میں بھیجنے کے لئے ایسے لوگ منتخب کئے ،جو بڑے حسب نسب والے،عقلمند،بہادر اور وجیہہ تھے۔اُن کے نام حضرت نعمان بن مقرن،حضرت بسر بن ابی رہم،حضرت جملہ بن جویة کنانی،حضرت حنظلہ بن ربیع،حضرت فرات بن حیان،حضرت عدی بن سہیل،حضرت مغیرہ بن زرارہ،حضرت مغیرہ بن شعبہ،حضرت عطارد بن حاجب،حضرت اشعث بن قیس،حضرت حارث بن حسان،حضرت عاصم بن عمرو،حضرت عمرو بن معدی کرب،اور حضرت معنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہم ہیں۔اِن سب کو فارس (ایران)کے بادشاہ کسریٰ یزد جرد(گرد) کے پاس اسلامی سفیر بنا کر بھیجا۔حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کا وفد رستم کو چھوڑ کرسیدھا یزد جرد کے ایوان پہنچا ،تاکہ اُسے اسلام کی دعوت دی جائے،اور اُس پر حجت قائم کردی جائے۔مسلمانوں کے گھوڑوں کی پیٹھیںننگی تھیں۔(اُن پر زین نہیں کسی تھی)اور تیزی اور چستی کا یہ عالم تھا کہ سب گھوڑے ہنہناتے اور ٹاپیں مارتے تھے۔مسلمانوں نے یزد جرد کے پاس پہنچنے کی اجازت چاہی،مگر اُن کو روک دیا گیا۔یزد جرد نے اپنے وزراءاور اعیان مملکت کو طلب کیا،تاکہ اُن سے طریقہ کار اور مسلمانوں سے گفتگو کرنے کے متعلق مشورہ کرے۔

اسلامی وفد کسریٰ کے دربار میں

جب فارسی عوام کو مسلمانوں کی آمد کی اطلاع ہوئی ،تو لوگ اُن کو دیکھنے کے لئے جوق در جوق آنے لگے۔مسلمانوں کی ظاہری حالت یہ تھی کہ اُن کے جبے پھٹے ہوئے تھے،کاندھوں پر پیوند لگی چادریں پڑی ہوئی تھیں،ہاتھوں میں باریک باریک کوڑے تھے،اور پاو¿ں میں موزے چڑھائے ہوئے تھے۔کسریٰ نے درباریوں سے مشورہ کرنے کے بعد مسلمانوںکو دربار میں داخل ہونے کی اجازت دے دی۔قادسیہ کی جنگ میں قید ہوئے ایک قیدی جو بعد میں اسلام قبول کر کے پکے مسلمان ہو گئے تھے۔وہ مسلمانوں کے وفد کی آمد کے وقت وہاں موجود تھے۔وہ بیان کرتے ہیں کہ فارسی لوگوں کو جب مسلمانوں کی آمد کی خبر ہوئی تو بکثرت آآ کر اُن کو دیکھنے لگے۔میں ایسے رعب داب کے دس آدمی کبھی نہیں دیکھے تھے،کہ اُن کی ہیبت ہزاروں پر چھا جائے۔اُن کے گھوڑے ٹاپیں مار رہے تھے،اور ایکدوسرے کو دھمکا رہے تھے۔اور اہل فارس اُن کی ہیئت کذائی اور اُن کے گھوڑوں کی حالت دیکھ کر اُن سے نفرت کر رہے تھے۔

حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ کی کسریٰ سے گفتگو

جب مسلمانوں کا وفدکسریٰ یزد جرد کے دربار میں داخل ہوا تو اُس نے اُن کو بیٹھنے کا حکم دیا۔وہ بہت بد تہذیب تھا۔ترجمان کے ذریعے سے پہلی بات چیت جو اُس کے اور مسلمانوں کے درمیان ہوئی ،وہ یہ تھی۔اُس نے ترجمان سے(مسلمانوں کی پیوند لگی چادروں کی طرف اشارہ کر کے ) کہا ؛”اِن سے پوچھو!تم اِن چادروں کو کیا کہتے ہو؟“ترجمان نے حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ سے پوچھا؛”تم اپنی چادر کو کیا کہتے ہو؟“امیر وفد حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”ہم اِس کو ”برد“کہتے ہیں۔“اِس سے یزد جرد نے فال لی،اور فارسی محاورے کے مطابق کہا”جہاں برد۔“فارسیوں (ایرانیوں) کے چہروں کی رنگت بدل گئی ،اور اُن کو کسریٰ کی یہ حرکت ناگوار گزری۔پھر اُس نے مسلمانوں کے جوتوں کے متعلق پوچھا کہ تم ان کو کیا کہتے ہو؟انہوں نے کہا؛”ہم اِن کو ”نعل“کہتے ہیں۔کسریٰ نے کہا ؛”ہمارے ملک میں نالہ نالہ۔“پھر پوچھا کہ تمہارے ہاتھوں میں کیا ہے؟حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اِس کو ”سوط“کہتے ہیں۔“اُس نے سمجھا ۔سوخت۔اور کہا سوخت فارسی میں جلنے کو کہتے ہیں۔اِن لوگوں نے فارس کو جلا دیا،خد اُن کو جلائے۔کسریٰ کا اشارہ اہل فارس کی طرف تھا۔اہل فارس اُس کی باتوں پر بہت خفا ہو رہے تھے۔

حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ کی تقریر

اِس کے بعد کسریٰ یزد جرد نے پوچھا کہ تم لوگ یہاں کیوں آئے ہو؟اور ہم سے جنگ کرنے اور ہمارے ملک میں گھسنے کا کیا باعث ہے؟کیا اِس لئے کہ ہم نے تم کو شتر بے مہار(بغیر رسی کے اونٹ )کی طرح چھوڑ رکھا ہے؟اور تمہاری طرف توجہ نہیں کی ہے۔تم کو ہمارے مقابلے پر آنے کی جرا¿ت کیسے ہوئی ہے؟حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے اپنے وفد کے ارکان کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا کہ اگر آپ لوگوں کی رائے ہو تو اِس کا جواب میں دوں ۔اور اگر کوئی اور صاحب بولنا چاہتے ہیں تو میں اُن کو اجازت دیتا ہوں ۔سب نے کہا؛”آپ رضی اﷲ عنہ ہی بولیں۔“اور کسریٰ سے کہا کہ اِن کا کہنا ہمارا کہنا ہے۔حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے اپنی تقریر شروع کی۔”اﷲ تعالیٰ نے ہم پر اپنا فضل کیا ہے،اور ہمارے درمیان ایک رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کو بھیجا۔انہوں نے ہم کو نیکی کا راستہ دکھایا،اور اُس پر چلنے کا حکم دیا۔انہوں نے ہم کو بُرائی سے آگاہ کیا،اور اُس سے باز رہنے کا حکم دیا۔انہوں نے ہم سے وعدہ کیا کہ اگر تم میرا کہنا مانو گے تو تم کو اچھی دنیا اور اچھی آخرت نصیب ہو گی۔عرب قبائل میں سے جس کسی کو ہمارے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم نے دعوت دی ،اُن میں دو جماعتیں ہو گئیں۔ایک جماعت نے اُن صلی اﷲ علیہ وسلم کا ساتھ دیا،دوسری اُن صلی اﷲ علیہ وسلم کی مخالف ہو گئی ۔اُن کے دین میں گنتی کے چند لوگ ہی داخل ہوئے۔کچھ عرصہ یہی حالت رہی،پھر اُن صلی اﷲ علیہ وسلم کو اﷲ تعالیٰ نے حکم دیا کہ تم مخالفت کرنے والوں سے لڑو۔اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اُن سے جنگ کی،نتیجہ یہ ہوا کہ سب لوگ اُن کے دین میں داخل ہو گئے۔بعض تو بادلِ نخواستہ،اور بعض دِل کی خوشی سے۔اِس کے بعد ہم کو معلوم ہوا کہ اُن صلی اﷲ علیہ وسلم کا لایا ہوا دین ہماری عداوت اور تنگ خیالی کی زندگی سے کہیں بہتر ہے۔ہمارے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہم کو حکم دیا کہ اپنے قریب کی قوموں کو اِس دین اسلام کی دعوت دیں۔اِسی لئے ہم سب کو عدل و انصاف کی طرف مدعو کرتے ہیں،اور تم کو بھی اپنے دین کی طرف بلاتے ہیں۔ہمارا دین ایسا دین ہے ،جس نے نیکی اور بدی کا امتیاز کامل کر دیا ہے۔اگر تم انکار کرو گے ،تو اِس کا نتیجہ تمہارے حق میں بُرا ہو گا۔مگر ایک صورت یہ بھی ہے کہ تم جزیہ دینا منظور کر لو،ورنہ تلوار سے مقابلہ ہے۔اگر تم نے ہمارا مذہب قبول کر لیا،تو ہم تم کو اﷲ کی کتاب دے جائیں گے،اور تم کو اِس شرط پر برقرار رکھیں گے کہ تم اِس کے احکام کے مطابق حکومت کرو۔اِس صورت میں ہم تم سے اور تمہاری حکومت سے کوئی تعرض نہیں کریں گے۔اور اگر تم نے جزیہ دے کر اپنی جان بچائی تو ہم اسے قبول کریں گے،اور تمہاری حفاظت کریں گے۔

کسریٰ کا گھمنڈ

حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے انتہائی اثر انگیز انداز میں کسریٰ کو اور تمام عمائدین سلطنت کو اسلام کی دعوت دی۔جب آپ رضی اﷲ عنہ خاموش ہوئے تو کچھ دیر تک پورے دربار میں سناٹا چھایا رہا۔لیکن فارسیوں پر شیطان اتنی بُری طرح سے حاوی تھا کہ وہ اُس اثر سے نکل آئے ،اور گھمنڈ اُن پر غالب آ گیا۔کچھ دیر بعد یزد جرد کسریٰ نے کہا؛”میں بخوبی جانتا ہوںکہ دنیا میں تم سے زیادہ بد بخت ،قلیل التعداداور خستہ حال قوم کوئی نہیں تھی۔ہم تمہارے اوپر زمینداروں کو مقرر کر دیتے تھے،ہمارے بجائے وہی تم سے نبٹ لیتے تھے۔سلطنت فارس نے تم پر کبھی چڑھائی نہیں کی ہے۔تم اِس گمان میں نہیں رہنا کہ تم ہمارے سامنے ٹھہر سکو گے،اگر تمہاری تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے تو تمہیں اِس بات اکڑنا نہیں چاہیئے۔اگر قحط سالی اور افلاس نے تمہیں یہاں آنے پر مجبور کیا ہے،تو ہم تمہاری غذا کا اُس وقت تک کے لئے انتظام کر دیتے ہیں،جب تک کہ تمہارے یہاں غذا پید ا نہ ہونے لگ جائے۔ہم تمہارے سرداروں کی عزت کریں گے،تم کو کپڑے پہنائیں گے۔اور تم پر ایسے شخص کو بادشا ہ مقرر کر دیں گے،جو تمہارے ساتھ نرمی سے پیش آئے۔

رسول اللہ ﷺ  کے اوصاف اور اسلام کی دعوت

مسلمانوں کے وفد کے سامنے جب کسریٰ نے گھمنڈ بھری باتیں کی تو حضرت مغیرہ بن ضرارہ رضی اﷲ عنہ سے ضبط نہیں ہوسکا،اور انہوں نے کھڑے ہو کر فرمایا؛”اے کسریٰ!اے بادشاہ!یہ لوگ سرداران ِ عرب اور وہاں کے معزیزین ،اور اشراف ہیں۔اور اشراف کی عزت اشراف ہی کرتے ہیں۔انہوں نے تم سے سب باتیں نہیں کہیں،اور نہ ہی تمہاری سب باتوں کا جواب دیا ہے۔انہوں نے ٹھیک کیا،اور اِن کے شایان شان ایسا ہی تھا۔مجھ سے گفتگو کرو،تاکہ میں صاف صاف جواب دوں ،اور یہ لوگ اِس کی شہادت دیں۔تم نے ہمارے متعلق جو کچھ بیان کیا ہے،اس سے تم پوری طرح واقف نہیں ہو۔تم نے ہماری خستہ حالی کا ذکر کیاہے،بے شک ہم سے زیادہ خستہ حال کون ہو گا۔تم نے ہماری فاقہ مستی کا ذکر کیا ہے،بے شک اِس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ہم کیڑے مکوڑے سانپ بچھو تک کھا جاتے تھے،اور اُن کو اپنی غذا سمجھتے تھے۔ہمارے مکانات بس زمین کی سطح تھی۔ہم اونٹوں اور بکریوں کے بالوں کو بُن بُن کر جو پہن لیتے تھے،وہی ہمارا لباس تھا۔ہمارا مذہب یہ تھا کہ ہم ایک دوسرے کی گردن مارتے تھے،اور ایک دوسرے کو لوٹتے تھے۔مگر یہ سب باتیں اب پرانی ہو چکی ہیں۔اﷲ تعالیٰ نے ہمارے حال پر رحم فرمایا،اور ہمارے درمیان ایک بہترین شخص صلی اﷲ علیہ وسلم کو پیدا فرمایا۔ہم اُن صلی اﷲ علیہ وسلم کے حسب و نسب سے بخوبی واقف ہیں،اُن صلی اﷲ علیہ وسلم کا حسب ونسب ہم سب سے اچھا ہے۔اُن صلی اﷲ علیہ وسلم کا گھرانہ ہم سب کے گھرانوں سے بہتر اور بالا تر ہے۔اُن صلی اﷲ علیہ وسلم کا خاندان اور قبیلہ ہم سب کے خاندانوں اور قبیلوں سے معزز ہے۔وہ صلی اﷲ علیہ وسلم بذات ِ خود بہترین خصائل و اوصاف سے متصف تھے۔سب سے زیادہ سچ بولنے والے،سب سے زیادہ صبر دار،اور بُرد بار تھے۔اُن صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہم کو ایک چیز کی دعوت دی،مگر سوائے اُس یار غار کے ،جو بعد میں اُن صلی اﷲ علیہ وسلم کے خلیفہ ہوئے۔ہم میں سے اور کسی نے اُن صلی اﷲ علیہ وسلم کی بات نہیں مانی۔وہ صلی اﷲ علیہ وسلم ہم سے اچھی بات فرماتے تھے،تو ہم اُن صلی اﷲ علیہ وسلم سے بری بات کہتے تھے۔وہ صلی اﷲ علیہ وسلم سچ فرماتے تھے،تو ہم جھوٹ کہتے تھے۔وہ صلی اﷲ علیہ وسلم جس کام کو زیادہ کرتے تھے،ہم اُس کام کو کم کرتے تھے۔مگر وہ صلی اﷲ علیہ وسلم ہمیں کچھ نہیں کہتے تھے،بلکہ ہمارے ساتھ اور زیادہ محبت سے پیش آنے لگتے تھے۔آخر کار اﷲ تعالیٰ نے ہمارے دلوں میں اُن صلی اﷲ علیہ وسلم کی تصدیق اور پیروی کا خیال پیدا کر دیا۔وہ صلی اﷲ علیہ وسلم ہمارے اور ”رب العالمین“کے درمیان واسطہ بن گئے ۔وہ صلی اﷲ علیہ وسلم ہم سے جو فرماتے تھے ،وہ اﷲ تعالیٰ کا فرمانا ہوتا تھا۔جس کا حکم دیتے تھے،وہ اﷲ کا حکم ہوتا تھا۔اُن صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”تمہارا رب فرماتا ہے کہ میں اﷲ ہی تنہا معبود ہوں،میرا کوئی شریک نہیں ہے ۔میں اُس وقت بھی تھا،جب کوئی چیز نہیں تھی۔ہر چیز فنا ہو جائے گی ،سوائے میری ذات کے۔میں نے تمام چیزوں کو پید ا فرمایا ہے،اور ہر چیز میری طرف لوٹ کر آئے گی۔میری رحمت نے تم کو آلیا ہے،میں نے اِس شخص (صلی اﷲ علیہ وسلم ) کو تمہاری طرف بھیجا ہے،تاکہ تم کو سیدھے راستے پر چلاو¿ں۔تا کہ تم کو مرنے کے بعد عذاب سے نجات ملے،اور اپنے گھر ”دار السلام“(جنت) کو تم پر حلا ل کردوں۔اِسی لئے ہم گواہی دیتے ہیں کہ وہ پیغمبر صلی اﷲ علیہ وسلم جو کچھ لیکر آئے،وہ حق ہے،اور حق کے پاس سے آیا ہے۔اُن صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ(اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے) اِس چیز (اسلام) میں جو تمہاری اتباع کرے گا،اُس کو وہی فائدے حاصل ہو ں گے،جو تم کو حاصل ہیں۔اور اُس پر وہی فرائض لاگو ہوں گے،جو تم پر لاگو ہیں۔جو شخص اِس(اسلام) کو قبول کرنے سے انکار کر ے ،اُس کے سامنے جزیہ پیش کرو۔اگر قبول کر لے تو تم جس طرح اپنی حفاظت کرتے ہو،اُسی طرح اُس کی بھی حفاظت کرو۔اور جو اِس کے بعد بھی انکار کرے،تو اُس کے ساتھ جنگ کرو،میں تمہارے درمیان ”حکم“ہوں۔تم میں سے جو لوگ قتل ہو ں گے،میں اُن کو اپنی جنت میں داخل کروں گا۔اور جو باقی رہیں گے،اُن کی دشمنوں کے مقابلے میں نصرت(مدد) کروں گا۔اے بادشاہ!یا تو ذلت کے ساتھ جزیہ دینا قبول کر لے،ورنہ تیرے لئے ہماری تلوار ہے۔یا پھر اسلا م قبول کر لے،دنیا اور آخرت دونوں جگہ عزت پائے گا۔

کسریٰ کے تکبر کا جواب

حضرت مغیرہ بن زرارہ نے بڑی حکمت سے کسریٰ اور اُس کے درباریوں کو اسلام کی دعوت دی۔لیکن اُن کے اوپر شیطان اِس طرح حاوی تھا کہ انہوں نے اسلام کی دعوت قبول کرنے کے بجائے اُسے ٹھکرا دیا۔کسریٰ کو یہ سب سُن کر بہت ہی غصہ آیا،اور اُس نے کہا؛”تم مجھ سے ایسی باتیں کہتے ہو؟“حضرت مغیرہ بن زرارہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”میرے مخاطب تم سب لوگ ہو،اور تمہارے سوا کوئی اور بھی ہوتا تو اُس سے بھی میں ایسی ہی باتیں کرتا۔“کسریٰ نے کہا؛”اگر قاصدوں کا قتل کرنا اصول کے خلاف نہیں ہوتا ،تو میں تم سب کو قتل کرا دیتا۔میرے پاس تمہارے لئے کچھ نہیں ہے۔“اِس کے بعد حکم دیا کہ ایک ٹوکرا مٹی بھر کر لاو¿،اور اِن میں سب سے معزز شخص کے سر پر رکھ دو،اور اُسے ہانکتے ہانکتے مدائن سے باہر نکال دو۔پھر مسلمانوں سے بولا؛”جاو¿ !تم اپنے سردار کے پاس واپس چلے جاو¿،یاد رکھو!میں تمہارے سر کاٹنے کے لئے رستم کو بھیج رہا ہوں۔تاکہ وہ تمہیں اور تمہارے سردار کو قادسیہ کی خندق میں مبتلائے عذاب کر کے موت کے گھاٹ اُتار دے۔پھر میں اُس کو تمہارے ملک میں بھیج کر اِس سے زیادہ مزہ چکھاو¿ں گا،جتنا سابور(سفید ہاتھی جس نے حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ کو کچل دیا تھا)نے تم کو چکھایا تھا۔“اِس کے بعد اُس نے پوچھا کہ تم سب سے زیادہ عزت دار کون ہے؟مسلمان خاموش رہے ،تو حضرت عاصم بن عمرو رضی اﷲ عنہ آگے بڑھے ،اور فرمایا ؛”اِن کا سردار میں ہوں ،یہ مٹی میرے سر پر لاد دو۔“کسریٰ نے مسلمانوں سے پوچھا کہ یہ تمہارا سردار ہے؟تو سب نے کہا۔ہاں۔یہ سُن کر حضرت عاصم بن عمرو رضی اﷲ عنہ کے سر پر مٹی کا ٹوکرا رکھ دیا گیا۔آپ رضی اﷲ عنہ اُس ٹوکرے کو اپنے سر پر رکھے کسریٰ کے دربار سے نکلے ،اور اپنے گھوڑے کے پاس آ کر اُس کے اوپر رکھ دی۔اور تیزی سے روانہ ہوئے۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں کہ مٹی کا ٹوکرا اُٹھانے کے بعد حضرت عاصم بن عمرو رضی اﷲ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا؛”چلو!فارس کے کسریٰ نے اپنی زمین ہم کو دے دی ہے۔“حضرت عاصم رضی اﷲ عنہ سب سے آگے نکل گئے تھے،اسلامی لشکر میں آکر ٹوکرا اپنی گود میں اُٹھایا،اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کے پاس حاضر ہو کر تمام واقعہ کہہ سنایا،اور فرمایا؛”مبارک ہو!اﷲ نے ہم کو اُن کے ملک کی کنجیاں دے دیں۔“وفد کے تمام اراکین بھی آگئے،اور سب ملکر جنگ کی تیاری کرنے لگے،اُدھر دشمنوں کے دلوں میں مسلمانوں کی ہیبت بیٹھ گئی۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!

11 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ Khilafat e Rashida 2


11 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی 

قسط نمبر 11

رستم کا مشورہ، رستم کے لشکر کی تعداد، ایک مسلمان کا ”یقین ِ مُحکم، حضرت طلیحہ اسدی کی بہادری، رستم کا ٹال مٹول، حضرت زہرہ بن حویہ اور رستم کی بات چیت، حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ اور فارسی سپہ سالار رستم، حضرت ربعی بن عمر اور رستم، فارسی لشکر کا نہر پار کرنا، 

رستم کا مشورہ

مسلمانوں کا وفد کسریٰ کے پاس سے واپس آگیا،تو اُس نے رستم اور تمام وزراءاور سپہ سالاروں کو جمع کیا،اور مشورہ کیا۔کسریٰ کا حکم تھا کہ ایک بہت بڑا لشکر لیکر رستم جائے،اور مسلمانوں کو شکست دینے کے بعد سلطنت فارس کی حدود سے باہر دھکیل دے۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔یزد جرد کسریٰ نے رستم اور دوسرے اراکین سلطنت کو طلب کر کے مشورہ کیا۔رستم نے کہا؛”مناسب یہ ہے کہ ایک عظیم لشکر بھیجنے کے بجائے ایک کے بعد ایک چھوٹے لشکر عربوں (مسلمانوں)سے جنگ کرنے کے لئے مختلف سپہ سالاروں کی قیادت میں روانہ کئے جائیں۔دفعتہ عجلت کر کے لشکر عظیم بھیج دینا،اور شکست کھانا خلاف مصلحت ہے۔اِس کے بجائے ایک چھوٹے لشکر کے شکست کھانے کے بعد دوسرے بڑے لشکر کا مقابلہ زیادہ آسان ہو گا۔“کسریٰ نے کہا؛”نہیں!میدان جنگ میں تمہارا ایک بڑا لشکر لیکر جانا ضروری ہے،تم جہاں دیدہ اور آزمودہ کار ہو۔اور عربوں کے ساتھ تم نے بہت سی لڑائیاں لڑی ہیں۔چھوٹے چھوٹے لشکر بھیج کر لڑانا،اور اُن کی شکست کے بعد دوسرے لشکروں کو بھیجنا ،دولت کا نقصان اور سلطنت فارس کی اہانت ہے۔جب تک کہ قادسیہ کا میدان سواروں سے نہ بھر دیا جائے ،اور اُن پر دفعتہ دندان شکن حملہ نہ کیا جائے۔تب تک ملک عرب کی لالچی بدو قومیں اپنے افعال اور کاروائیوں سے باز نہیں آئیں گی۔“رستم بادل نخواستہ روانگی پر آمادہ ہو گیا،اور لشکر کی فراہمی کے بعد ساباط میں اپنے لشکر کی صف بندی کرنے لگا۔

رستم کے لشکر کی تعداد

سلطنت فارس کے مرکز کسریٰ کے دربار سے رستم واپس آیا۔اور جالینوس کو چالیس ہزار(40,000) کا لشکر دیکر ”مقدمة الجیش“کے طور پر روانہ کیا۔اور ساباط میں ساٹھ ہزار (60,000) کے لشکر کے ساتھ پہنچا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔رستم طوعاً و کرہاً مدائن سے جنگی ہتھیار جمع کر کے اور ساٹھ ہزار فوج ساتھ لیکر ساباط کی طرف روانہ ہوا۔اِس فوج کے ”مقدمة الجیش“(لشکر کا اگلا حصہ)پر جالینوس تھا ،جس کے پاس چالیس ہزار کا لشکر تھا۔”ساقہ“(لشکر کا پچھلا حصہ)میں بیس ہزار کی فوج تھی۔”میمنہ“(لشکر کا دائیاں حصہ)کا کمانڈرہرمزان تھا،جس کے پاس تیس ہزار کا لشکر تھا۔”میسرہ“(لشکر کا بائیاں حصہ)کا کمانڈر مہران بن بہرام تھا،جس کے پاس تیس ہزار کا لشکر تھا۔اُن سب کے ساتھ تین سو (300) ہاتھی تھے۔اِن میں سے ایک سو(100)”قلب“(لشکر کا درمیانی حصہ)میں تھے۔میمنہ میں پچھتر(75)اور میسرہ میں پچھتر(75)تھے۔اور مقدمة الجیش میں بیس(20)اور ساقہ میں تیس(30)ہاتھی تھے۔ساباط سے روانہ ہو کر رستم نے کوثا میں پڑاؤ ڈالا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں ۔چالیس ہزار کا ہر اول لشکر تھا،جس پر جالینوس سپہ سالار تھا۔میمنہ اور میسرہ میں ساٹھ ہزار کا لشکر تھا۔اور ساقہ کے بیس ہزار کے لشکر پر بندران سپہ سالار تھا۔ایک روایت کے مطابق رستم کے پاس ایک لاکھ بیس ہزار (1,20,000)کا لشکر تھا۔جس کے پیچھے اسی ہزار(80,000) کا ایک اور لشکر تھا۔اُسکے ساتھ تینتیس ہاتھی تھے،جن میں سابور نام کا سفید ہاتھی بھی تھا۔جو سب سے بڑا اور سب سے آگے تھا،اور ہتھنی اُس سے مانوس تھی۔

ایک مسلمان کا ”یقین ِ مُحکم

رستم مسلسل مسلمانوں کی کھوج خبر میں تھا،اور اِس کے لئے وہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اُس کے لشکر کے لوگوں نے ایک مسلمان کو پکڑ لیا،اور اُس کے سامنے پیش کر دیا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔اتفاق سے ایک مسلمان کو رستم کے پاس پکڑ کراُس کے سپاہی لے آئے۔رستم نے اُس سے پوچھا؛”تم لوگ یہاں کس ضرورت سے آئے ہو؟اور کیا ڈھونڈ رہے ہو؟“مسلمان نے جواب دیا؛”ہم اﷲ تعالیٰ کے وعدوں کو تمہارے ملک اور تمہارے نوجوانوں میں ڈھونڈتے ہیں،تاکہ تم لوگ ایمان لے آو¿۔“رستم نے کہا؛”اگر تم اِس جستجو میں قتل ہو گئے تو؟“مسلمان نے جواب دیا؛”ہم میں سے جو شخص اِس جستجو میں قتل ہو جائے گا،وہ جنت میں جائے گا،اور جو بچ جائے گا،اُس سے اﷲ تعالیٰ اپنا وعدہ پورا کرے گا۔“رستم نے کہا؛”پھر تم کو اِس سے کیا حاصل ہو گا؟“مسلمان نے جواب دیا؛”ہم نہ سہی ،ہمارے اور بھائی سہی،لیکن یہ طے ہے اور ہم کو اِس کا پورا یقین ِمُحکم ہے کہ اﷲ تعالیٰ اپنا وعدہ پورا کرے گا۔“رستم نے کہا؛”تم اِس قلیل (کم)تعداد کے ساتھ ہمارا کیا بگاڑ سکتے ہو؟“مسلمان نے جواب دیا؛”ہم کیا کریں گے،جو کچھ کرے گا ،وہ اﷲ تعالیٰ کرے گا۔تمہاری بد اعمالیاں تم کو نیست و نابود کر دیں گی۔اور تم ہمارے زیر نگین آجاو¿ گے۔“رستم نے کہا؛”تُو ہمارے غضب سے نہیں ڈر رہا ہے(سپاہیوں کی طرف اشارہ کر کے)ہمارے پاس اِس وقت اِس قدر جنگ آور بہادر موجود ہیں۔“مسلمان نے کہا؛”تُو اِن پر ناز کر رہا ہے،یہ سب قضا و قدر ہیں،جو تجھے گھیر کر لائے ہیں ،اور تجھے زندہ نہیں رہنے دیں گے۔“یہ سن کر رستم کو غصہ آگیا ،اور اُس مسلمان کو شہید کر دیا۔

حضرت طلیحہ اسدی کی بہادری

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ بدستور قادسیہ میں پڑاو¿ ڈالے ہوئے تھے۔اور آپ رضی اﷲ عنہ کو رستم کے لشکر کے بارے میں تمام رپورٹیں برابر موصول ہو رہی تھیں۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے حضرت معدی بن کرب اور حضرت طلیحہ اسدی کو سلطنت فارس کے لشکر کے حالات معلوم کرنے کے لئے بھیجا۔تقریباًتین میل اپنے لشکر سے باہر نکلنے کے بعد انہیں فارسی لشکر کا ہر اول(مقدمة الجیش)دکھائی دیا۔یہ چالیس ہزار کا لشکر تھا،اور جالینوس سپہ سالار تھا۔حضرت عمرو بن معدی کرب تو اِس مقام سے واپس آگئے۔لیکن حضرت طلیحہ لباس تبدیل کر کے لشکر فارس میں داخل ہو گئے۔جب رات کا زیادہ حصہ گذر گیا اور فارسی فوجیوں پر غفلت طاری ہو گئی ۔تب حضرت طلیحہ آہستہ آہستہ گھوڑوں کی طرف گئے ،اور نگہبانوں کا غافل پا کر خیمے کی رسیاں کاٹ دیں۔اور ایک گھوڑے پر سوار ہوکر دوسرے تمام گھوڑوں کو ہانکتے ہوئے لشکر فارس سے نکل گئے۔خیموں کے گرنے اور گھوڑوں کے دوڑنے سے جو شورو غل اُٹھا تو لوگ جاگ اُٹھے۔چند لوگوں نے گھوڑوں پر سوار ہو کر اُن کا تعاقب کیا۔جب قریب پہنچے تو حضرت طلیحہ نے پلٹ کر ایک پر تلوار کا ایسا وار کیا کہ وہ اسی مقام پر ٹھنڈا ہو گیا۔جب دوسرا آگے بڑھا تو انہوں نے اُسے بھی ایک ہی وار میں ختم کر دیا۔تیسرے نے آگے بڑھ کے روکنا چاہا ،اور حضرت طلیحہ پر نیزہ چلایا۔لیکن آپ اُس وار سے بچ گئے،اور حملہ کرنے والا اپنے ہی جھونک سے آگے آگیا اور جھک گیا تو آپ نے فوراً تلوار کا وار اِس صفائی سے کیا کہ اُس کا سر تن سے الگ ہو کر دور جا پڑا۔اسی دوران چوتھے سوارنے قریب آکر آپ کو پکڑ کر گھوڑے سے کھینچ کر اُتارنا چاہا تو آپ نے اُس کا ہاتھ پکڑ کر اتنی تیز گھوڑے کو ایڑ لگائی کہ وہ اپنے گھوڑے پر گر گیا ،اور حضرت طلیحہ اُسے اِسی حال میں لٹکائے ہوئے اسلامی لشکر میں داخل ہو گئے۔فارسی لشکر کے باقی سوار واپس چلے گئے۔حضرت طلیحہ گھوڑوں اور قیدی کو لیکر سیدھے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو گئے ۔اور تمام واقعہ بیان کر دیا۔ترجمان کو بلا کر قیدی سے فارسی لشکر کے متعلق باتیں دریافت کیں۔اِس کے بعد اُسے حضرت طلیحہ کے حوالے کر دیا۔آپ کا سلوک دیکھ کر قیدی نے اسلام قبول کرلیا۔اور جنگ میں بڑے بڑے نمایاں کام انجام دیئے،اور فارسیوں کے حالات اور لڑائی کے طریقے بتائے۔اِس سے مسلمانوں کو بہت فائدہ ملا،وہ شخص حضرت طلیحہ کی بہادری سے اتنا متاثر ہو گیا تھا کہ پھر اُس نے اُن کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑا۔

رستم کا ٹال مٹول

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ انتہائی صبر سے فارسیوں کے لشکر کا انتظار کر رہے تھے۔اور رستم مسلمانوں کے سامنے لشکر لیکر جانے سے ٹال مٹول کر رہا تھا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔رستم نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ سے جنگ کرنے میں ٹال مٹول سے کام لیا۔حتیٰ کہ مدائن سے نکلنے کے اور قادسیہ میں مسلمانوں کے سامنے پڑاو¿ ڈالنے میں اُس نے چار مہینے لگا دیئے۔اُس نے یہ سب اِس لئے کیا کہ وہ چاہتا تھا کہ مسلمان اُکتا کر واپس چلے جائیں۔اور اگر کسریٰ اُس پر بار بار دباو¿ نہیں ڈالتا ،اور جلدی جنگ کرنے کے لئے نہیں کہتا ۔تو وہ کبھی مسلمانوں سے جنگ نہیں کرتا ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔ رستم نے حیرہ سے کوچ کر کے قادسیہ میں پڑاو¿ ڈال دیا،جہاں فارسیوں اور مسلمانوں میں ایک قیامت خیز جنگ ہونے والی تھی۔اُس کو مدائن سے روانہ ہوئے چھ مہینے گذر گئے تھے۔اُس کے دل میں مسلمانوں کا خوف جاگزیں ہو گیا تھا،اسی لئے وہ لڑائی سے پہلو تہی کرتا تھا۔لیکن کسریٰ کے حکم سے مجبور تھا،اور وہ بار بار اُس کو تاکید اًمسلمانوں سے متصادم ہونے کو لکھتا تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔رستم نے کوچ کر کے نجف میں قیام کیا،اِس عرصے میں اُس نے چار مہینے گزار دیئے۔کیونکہ اُس نے مدائن سے نکلنے کے بعد ساباط میں پڑاو¿ ڈالاتھا۔وہاں سے وہ مختلف مقامات پر ٹھہرتا رہا،نہ تو آگے بڑھتا تھا،اور نہ ہی وہ جنگ کرتا تھا۔اُس کا یہ خیال تھا کہ مسلمان اِس جگہ سے اُکتا جائیں گے،اور جب انہیں تکلیف پہنچے گی تو وہ لوٹ جائیں گے۔وہ عربوں سے جنگ نہیں کرنا چاہتا تھا،اُسے اندیشہ تھا کہ اُس کا بھی وہی حشر نہ ہو جائے ،جو اُس سے پہلے لوگوں کا ہوا تھا۔وہ جنگ کو طویل کرنا چاہتا تھا،مگر کسریٰ اُسے جلد جنگ شروع کرنے کا حکم دے رہا تھا۔خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ لوگ جنگ کو طوالت دیں گے۔اِسی لئے انہوں نے حضرت سعد رضی اﷲ عنہ اور مسلمانوں کو لکھا کہ وہیں مقیم رہو،اور طویل عرصے تک مقابلہ کرنے کی پیش بندی کرو،تاکہ وہ پریشان ہو جائیں۔اسی لئے مسلمان قادسیہ میں ہی قیام پذیر رہے۔اور وہ صبر کرنے اور طویل مقابلے کے لئے تیار ہو گئے۔اﷲ بھی یہی چاہتا تھا،کہ اپنے نور کی تکمیل کرے۔

حضرت زہرہ بن حویہ اور رستم کی بات چیت

بڑے ٹال مٹول کے بعد آخر کار رستم قادسیہ پہنچ گیا،اور نہر عتیق کے اُس پار اپنے لشکر کے ساتھ پڑاؤ ڈال دیا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔رستم نے قادسیہ پہنچ کر مسلمانوں کے لشکر کے مقابلہ کے لئے عتیق میں اپنا خیمہ نصب کرایا۔دوسرے دن صبح ہی صبح عتیق سے گھوڑے پر سوار ہو کر نہر کی طرف جا کر پُل سے ایک بلند مقام سے مسلمانوں کے لشکر کو دیکھتا رہا۔پھر اُس نے مسلمانوں کے مقدمة الجیش کے سپہ سالار حضرت زہرہ بن حویہ سے کہلا بھیجا کہ میں تم سے کچھ باتیںکرنا چاہتا ہوں۔حضرت زہرہ اپنے خیمے سے نکل کر اُس کے سامنے آئے۔رستم نے کہا؛”تم ہمارے پڑوسی ہو ،اِس لئے ہم تمہارے ساتھ اچھا سلوک کرتے تھے،اور تمہاری حفاظت کرتے تھے۔“حضرت زہرہ نے فرمایا؛”اِس سے تمہارا کیا مطلب ہے؟“رستم نے کہا؛”تم کو یاد ہو گا کہ ہمارے یہاں سے تم لوگوں کے وظائف مقرر تھے۔تم ہمارے یہاں آتے تھے،تو ہم تم کو انعام و اکرام دیتے تھے۔اب بھی اگر تم کو اِس کی ضرورت ہو تو ہم تم کو خاطر خواہ انعام دیں گے۔حضرت زہرہ نے فرمایا؛”ہماری یہ غرض ہر گز نہیں ہے،ہم تو اپنی آخرت بنانے آئے ہیںاور تم جیسا کہتے ہو ،حقیقتاًہم ویسے ہی تھے۔لیکن ا ﷲ تعالیٰ نے ہم میں اپنے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کو بھیجا،جنہوں نے ہمیں دین حق کی طرف بلایا۔جسے ہم نے قبول کر لیا،انہوں نے ہم سے وعدہ کیا ہے کہ جو شخص اِس دین کو قبول نہیں کرے گا،اُس پر اﷲ تعالیٰ ہم کو مسلط کر دے گا۔اور ہمارے ذریعے وہ اُس کی سر کشی اور بے دینی کا بدلہ لے گا۔اِس لئے ا ﷲ تعالیٰ ہم کو غلبہ اور فتح عطا فرمائے گا۔“رستم نے کہا؛”تم لوگ اب بھی اقلیت میں ہو،ہماری اِس عظیم الشان فوج کا مقابلہ کیا کر سکو گے؟“حضرت زہرہ نے فرمایا؛”یہ خیال غلط ہے،ہم اپنے دین کی برکت سے تم پر یقینا غالب ہو جائےں گے،اور جب تک ہم میں سے ایک شخص بھی زندہ رہے گا،تمہارے مقابلے سے منہ نہیں موڑے گا۔“اُس نے کہا ؛”وہ کون سا دین ہے ،جس کو تم حق کہتے ہو؟“انہوں نے فرمایا؛”اِس بات کی گواہی دینا کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے،اور محمد صلی اﷲ علیہ وسلم ،اﷲ کے بندے اور رسول ہیں،اور دل سے اِس پر یقین رکھنا۔یہی دین ہے۔“رستم نے کہا؛”یہ تو عقائد ہیں،اور عملاً کیا کرنا پڑتا ہے؟“حضرت زہرہ نے فرمایا؛”شرک اور بت پرستی کو دنیا سے دور کرنا،لوگوں کو دوسروں کی عبادت سے بچا کر اﷲ کی عبادت کی طرف بلانا،مخلوق کی حیثیت سے ہم تم برابر ہیں،اور ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔شرط یہ ہے کہ تم بھی اسلام قبول کر لو،ورنہ بھائی ہونے کے بجائے ہم تمہارے جانی دشمن ہیں۔“رستم نے کہا؛”اگر ہم تمہاری دعوت کو قبول کر لیں ،اور تمہارے دین میں داخل ہو جائیں،تو کیا تم بغیر جنگ و جدال کے واپس لوٹ جاو¿ گے؟“حضرت زہرہ نے خوشی سے فرمایا؛”اﷲ کی قسم ! ہم بغیر جھگڑے کے واپس چلے جائیں گے۔“

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ اور فارسی سپہ سالار رستم

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کے ”مقدمة الجیش“کا پڑاؤ ندی کے اِس پار تھا۔اور رستم نے اپنے لشکر کے ساتھ ندی کے اُس پار پڑاو¿ ڈال دیا۔فارسی لشکر کے سپاہی مسلمانوں کی سادگی اور غریبی کو دیکھ کر ہنستے تھے ،اوراُن کا مذاق اُڑاتے تھے۔حضرت ابو وائل بیان کرتے ہیں کہ جب ہم قادسیہ پہنچے تو فارسیوں نے ہم سے کہا؛”تم لوگ نہایت ہی کمزور ہو ،تمہارے پاس ہتھیار اور جنگی لباس بھی ٹھیک سے نہیں ہیں۔تم ہمارے مقابلے پر کیوں آئے ہو؟جاو¿ واپس چلے جاو¿ ۔“ہم لوگوں نے کہا ؛”ہم واپس نہیں جائیں گے،اورنہ ہم واپس ہونے کے لئے آئے ہیں۔“وہ لوگ ہمارے تیروں کو دیکھ دیکھ کر ہنستے تھے۔اور کہتے تھے ۔”تکلے ہیں تکلے۔ “جب ہم نے واپس جانے سے انکار کر دیا تو انہوں نے کہا؛”تم ہمارے پاس اپنے میں سے کسی عقلمند آدمی کو بھیجو،تاکہ وہ تمہاری آمد کے مقصد کو ہم پر واضح کرے۔“حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اِس کام کے لئے میں جاتا ہوں۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے ندی پار کی ،اور فارسیوں کے لشکر میںجاکر رستم کے خیمے میں پہنچے ،اور سیدھا رستم کی مسند پر اُس کے برابر جا کر بیٹھ گئے۔فارسی سرداروں کو یہ جسارت ناگوار گزری ،اور وہ چلائے۔حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اِس سے میرا مرتبہ بڑھ نہیں گیا ہے،اور تمہارے سپہ سالار کے مرتبے میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔“رستم نے کہا؛”تم ٹھیک کہتے ہو،تم یہ بتلاو¿ کہ تم لوگ یہاں کیوں آئے ہو؟“حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”ہم لوگ گمراہی میں مبتلا تھے،اﷲ تعالیٰ نے ہم پر رحم فرمایا،اور ہم میں ایک نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا۔اﷲ نے ہم کو اُن صلی اﷲ علیہ وسلم کے ذریعے ہدایت عطا فرمائی،اور اُن صلی اﷲ علیہ وسلم کے ہاتھوں ہمیں رزق عطا فرمایا۔جو رزق اُس نے ہمیں عطا فرمایاہے ،یہ سمجھا جاتا ہے کہ اُس کا دانہ اِس سرزمین پر پیدا ہوتا ہے۔جب ہم نے اور ہمارے اہل و عیال نے اِس ملک کا غلہ کھایا تو انہوں نے کہا کہ ہم اِس کے بغیر نہیں رہ سکتے ،تم ہم کو اِس ملک میں ٹھہرا دو۔تاکہ ہم یہاں کا غلہ کھائیں۔“رستم نے کہا؛ہم تم کو قتل کر دیں گے۔“حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اگر تم ہم کو قتل کرو گے ،تو ہم جنت میں داخل ہوں گے،اور اگر ہم نے تم کو قتل کیا تو تم لوگ جہنم میں جاو¿ گے۔ایک صورت ہے کہ تم جزیہ قبول کر لو۔“یہ سن کر وہ لوگ برہم ہو گئے،اور چلا کر بولے۔ہم میں اور تم میں صلح ناممکن ہے۔حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”تم پار ہو کر ہماری طرف آو¿ گے یا ہم پار ہو کر تمہاری طرف آئیں؟“رستم نے کہا؛”ہم ہی پار ہو کر تمہاری طرف آئیں گے۔“حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”ٹھیک ہے۔“اور وہاں سے چلے آئے۔یہ علامہ محمد بن جریر طبری کی روایت ہے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔جب دونوں لشکر وں نے ایکدوسرے کے سامنے پڑاو ڈال دیا تو رستم نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کی طرف پیغام بھیجا کہ ہمارے پاس کسی عالم اور دانش مندآدمی کو بھیج دیں،ہم اُس سے کچھ باتیں پوچھنا چاہتے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ کو اُس کے پاس بھیج دیا۔جب وہ اُس کے پاس پہنچے تو رستم نے کہا؛”تم ہمارے پڑوسی ہو،اور ہم تم لوگوں سے حسن سلوک کرتے ہیں،اور تمہاری تکلیف دور کرتے ہیں۔تم اپنے ملک واپس چلے جاو¿،ہم تم لوگوں کو اپنے ملک میں تجارت کے لئے داخل ہونے سے نہیں روکیں گے۔“حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”ہم دنیا کے طالب نہیں ہیں،ہم صرف آخرت کے طلب گار ہیں،اور اﷲ تعالیٰ نے ہماری طرف ایک رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کو بھیجا ہے۔اور اُن صلی اﷲ علیہ وسلم سے فرمایا ہے کہ اﷲتعالیٰ فرماتا ہے؛” میں مسلمانوں کو اُن لوگوں پر مسلط کر دوں گا،جو میرے دین اسلام کو اختیار نہیں کریں گے۔اور میں مسلمانوں کے ذریعے اُنہیں سزا دوں گا۔اور جب تک وہ اِس دین کے اقراری رہیں گے ،میں اُنہیں غلبہ عطا کروں گا۔اوریہ دین حق (اسلام) ہے،اور جو اِس سے بے رغبتی کرتا ہے،ذلیل ہو جاتا ہے۔اور اسے اپنانے والا عزت پا جاتا ہے۔“رستم نے پوچھا ؛”وہ دین حق کیا ہے؟“حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اِس کا وہ ستون جس سے ہر چیز کی درستگی ہو جاتی ہے،وہ یہ گواہی دینا ہے کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے،اور محمد صلی اﷲ علیہ وسلم ،اﷲ کے بندے اور رسول ہیں۔اور جو کچھ وہ اﷲ کے پاس سے لائے ہیں،اُس کا اقرار کرنا ۔“رستم نے کہا؛”یہ تو اچھی بات ہے،اور کون سی چیز ہے؟“حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”بندوں کو بندوں کی غلامی سے چھڑا کر اﷲ کی غلامی کی طرف لے جانا۔“رستم نے کہا؛”یہ بھی اچھی بات ہے،اور کون سی چیز ہے؟“حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”سب لوگ حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹے ہیں،اور وہ آپس میں بھائی بھائی ہیں۔“اُس نے کہا؛”یہ بھی اچھی بات ہے۔“اِس کے بعد رستم نے کہا؛”اگر ہم تمہارے دین میں داخل ہو جائیں ،تو تم ہمارے شہروں کو چھوڑ کر چلے جاو¿ گے۔؟“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اﷲ کی قسم! پھر ہم تجارت اور ضرورت کے سوا تمہارے شہروں کے نزدیک بھی نہیں آئیں گے۔“رستم نے کہا اچھی بات ہے۔حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ کے چلے جانے کے بعد رستم نے فارسی سرداروں اور سپہ سالاروں سے اسلام کے بارے میں گفتگو کی تو وہ برا مان گئے،اور اسلام قبول کرنے سے انکار کردیا۔

حضرت ربعی بن عمر اور رستم

فارسی عمائدین نے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا،اور اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔اِس کے بعد رستم نے اُن سے کہا کہ اگر مسلمانوں سے صلح ہو جائے تو یہ ہمارے حق میں بہتر ہوگا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔اس کے بعد رستم نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کے کہلا بھیجا کہ ”تم ہمارے پاس کسی سفیر کو بھیج دو ،جس سے ہم مصالحت کی گفتگو کریں۔“حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے رستم کے پاس حضرت ربعی بن عامر کوروانہ کیا۔فارسیوں نے انہیں ایک قنطرہ میں ٹھہرا کر رستم کو خبر دی۔اُس نے اپنے لئے پر تکلف سونے کا تخت اور اُس کے چاروں طرف دور دور تک دیبا و حریر کا فرش بچھوایا،اور اُس پر رومی قالینوں کو بچھوا کر تکیوں کو رکھوایا۔جن کے غلاف زربفت کے اور جھالر موتیوں کے تھے۔وجیہہ اور خوب رو امراءکو اپنے گردو پیش حسب مراتب بٹھا کر حضرت ربعی بن عمر کو داخل ہونے کی اجازت دی۔حضرت ربعی بن عامرپرانی پھٹی ہوئی نیام میں بند تلوار گلے میں لٹکائے ہوئے گھوڑے پر سوار اور ایک ہاتھ میں نیزہ لئے ہوئے فرش کو گھوڑوں کی ٹاپوں سے روندتے ہوئے قالین تک پہنچے۔گھوڑے سے اُتر کر ایک قالین میں نیزے سے سوراخ کر کے لگام کو اُس میں پھنسا دیا،اور نیزے کی نوک سے بچھے ہوئے فرش اور قالین کو پھاڑتے ہوئے چلے۔اہل فارس اُن کی اِس حرکات کو خاموشی سے دیکھ رہے تھے۔جب رستم کے قریب پہنچے تو لوگوں نے حضرت ربعی بن عامر سے ہتھیار رکھ دینے کو کہا۔انہوں نے فرمایا؛”اگر میں بلا طلب تمہارے پاس آتا تو میں یہ ہتھیار تمہیں دے دیتا ،لیکن تم نے مجھے بلوایا ہے،اگر مسلح آنے دو گے تو آو¿ں گا،ورنہ واپس چلا جاو¿ں گا۔“رستم نے آپ کو مسلح آنے کی اجازت دے دی۔حضرت ربعی بن عامر اپنے نیزے کی نوک سے قالین کو خراب کرتے اور پھاڑتے ہوئے رستم کے تخت تک پہنچے،اور رستم کے برابر بیٹھنے لگے تو لوگوں نے روکنے کی کوشش کی۔آپ نے فرمایا؛”میں تمہارے بلانے سے آیا ہوں،جہاں بیٹھنا چاہتا ہوں،بیٹھنے دوورنہ میں چلا جاو¿ں گا۔مجھے تمہارے پاس آنے کی کوئی غرض نہیں ہے،ہمارے مذہب میں اِس کی سخت ممانعت ہے کہ ایک شخص معبود ہو کر بیٹھے،اور باقی انسان بندے ہو کر کھڑے یا بیٹھے رہیں۔“رستم نے اپنے ساتھیوں کو منع کیا کہ کوئی بھی شخص کچھ نہ بولے۔حضرت ربعی بن عامر کچھ دیر تخت پر بیٹھے ،پھر خودہی اُتر آئے ،اور نیزے سے قالین کا ایک ٹکڑا پھاڑ کرالگ کر دیا،اور ننگی زمین پر بیٹھ گئے،اور رستم سے مخاطب ہو کر فرمایا؛”ہم تمہارے اِس پر تکلف فرش پر نہیں بیٹھتے ،(زمین کی طرف اشارہ کر کے فرمایا)اﷲ تعالیٰ کا بچھایا ہوا یہ فرش ہی ہمارے لئے کافی ہے۔“رستم نے ترجمان کے ذریعے پوچھا؛”تم کس وجہ سے ہمارے ملک میںآئے ہو؟“حضرت ربعی بن عامر نے فرمایا؛”اﷲ تعالیٰ نے ہم کو اِس دنیامیں اِس غرض سے بھیجا ہے کہ ہم اِس دنیا میں بسنے والے بندوں کو دنیا کی تنگی سے وسعت اور آخرت کی بھلائی کی طرف متوجہ کریں۔اور باطل دینوں سے بچا کر اسلام کے عدل کی طرف لائیں۔ہم اﷲ کے دین کو لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں،پس جو شخص قبول کرلے گا ،ہم اُسے اور اُس ملک سے جنگ نہیں کریں گے۔لیکن جو شخص اسلام قبول کرنے سے انکار کرے گا،اُس سے ہم اُس وقت تک لڑتے رہیں گے،جب تک ہم جنت میں نہ پہنچ جائیں یا پھر فتح نہ حاصل کر لیں۔“رستم نے کہا؛”کیا تم ہم کو اتنی مہلت دے سکتے ہو؟اور کیا اِس کام کو چند دنوں کے لئے ملتوی کر سکتے ہو؟تاکہ ہم تمہارے خیالات پر غور کریں۔“آپ نے فرمایا؛”ہاں!ایک دو دن ہم رک سکتے ہیں“رستم نے کہا؛”نہیں !ہمیں اتنی مہلت دو کہ ہم اپنے روسا ئے ملک اور اراکین سے اِس معاملے میں خط و کتابت کر سکیں۔“حضرت ربعی بن عامر نے فرمایا؛”یہ نہیں ہوسکتا ہے،ہمارے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ہم اپنے دشمنوں کو تین دن سے زیادہ مہلت نہ دیا کریں۔اِن تین دن میں غور کر کے یا تو اسلام قبول کر لو ،تاکہ ہم تم کو اور تمہارے ملک کو چھوڑ کر چلے جائیں ،یا پھر جزیہ دینا منظور کر لو،پس ہم اسے قبول کر لیں گے ،اور تم پر معترض نہیں ہو ں گے۔اور جب کبھی تمہیں ہماری ضرورت پڑے گی ،تو ہم تمہاری مدد کریں گے،اور تمہارے جان و مال کی حفاظت کریں گے۔لیکن اگر اِن دونوں میں سے کسی ایک بات کو قبول نہیں کرو گے ،تو چوتھے روز ہم تم سے جنگ کریں گے،اور انشاءاﷲ ہم تم کو شکست دیں گے۔اور یہی ہمارا اور ہمارے کل ساتھیوں کا قول و قرار ہے۔“رستم نے پوچھا؛”کیا تم مسلمانوں کے سردار ہو؟“آپ نے فرمایا؛”نہیں!لیکن سارے مسلمان ایک جسم کی طرح ہیں،ہم میں سے ہر شخص ہر کام میں مختار ومجاز ہے۔ہم میں ادنیٰ اور اعلیٰ کا کوئی امتیاز نہیں ہے،ادنیٰ اعلیٰ کی طرف سے اجازت دے سکتا ہے۔“رستم اور اُس کے ساتھی کچھ دیر سکتے کے عالم بیٹھے رہے،پھر رستم نے کہا؛”تمہاری تلوار کی نیام بوسید ہ ہے ،غالباً تلوار بھی ایسی ہی ہو گی۔“حضرت ربعی نے تلوار نیام سے نکالتے ہو ئے فرمایا؛”نیام اِس کی ضرور بوسیدہ ہے،لیکن میں نے اسے سان پرابھی رکھوایا ہے۔“(یعنی دھار ابھی لگوائی ہے)پھر رستم نے آپ کا نیزہ اُٹھا کر اُس کا پھل دیکھ کر کہا؛”اِس کا پھل بہت چھوٹا ہے،لڑائی میں کیا کام دیتا ہوگا؟“آپ نے بے پرواہی سے فرمایا؛”پھل ضرور چھوٹا ہے،لیکن سیدھا دشمن کے دل میں اُتر جاتا ہے۔کیا تم نے نہیں دیکھا کہ آگ کی ایک چھوٹی سی چنگاری پورے شہر کو جلا دینے کے لئے کافی ہوتی ہے۔“اِس کے بعد حضرت ربعی بن عامر واپس چلے آئے۔رستم نے اپنے سرداروں اور سپہ سالاروں سے کہا ؛”تم نے دیکھا کہ وہ عربی نژاد شخص کس بے باکی سے باتیں کر رہا تھا۔“اُن میں سے ایک نے کہا؛”وہ بہت ہی بد تہذیب ،وحشی ،غیر تربیت یافتہ تھا،پوشاک دیکھی اونٹ کا جھول پہنے ہوئے تھا،اور تمام قالین خراب کر ڈالا۔“دوسرے نے کہا؛”ارے صاحب !اُس نے تو ایک قالین کو درمیان سے پھاڑ کر گھوڑے کی راس اس میں باندھ دی تھی۔“تیسرا بول اُٹھا؛”یہ کیا لڑیں گے،تلوار کی نیام تک تو درست نہیں ہے۔اور نیزے میں دو انگل کا پھل ہے ،اِس سرے سے اُس سرے تک صرف ایک بانس کی بد شکل لکڑی ہے۔“رستم نے جھلا کر کہا؛”تم لوگ اُن کی ظاہری شکل وصورت دیکھ رہے ہو،تف ہے تمہاری عقل پر !اُس کی رائے اور گفتگو دیکھو،اس کے خیالات پر غور کرو،کہ کس قدر دوررس اور بے باکی سے باتیں کر رہا تھا۔“

فارسی لشکر کا نہر پار کرنا

مسلمان سفیروں سے بات کر کے رستم سوچ میں پڑ گیا،اور کافی غور فکر کے بعد جب اُسے کچھ سمجھ میں نہیں آیا تو اُس نے لشکر کے کمانڈروں اور سپہ سالاروں سے مشورہ کیا،اور بولا؛”عربوں سے لڑنے کے بارے میں کیا کرنا چاہیئے؟کسریٰ کا حکم جنگ کرنے کا ہے،اوریہ لوگ ہم سے لڑے بغیر نہیں جائیں گے۔یہ لڑائی نہایت ہی خطرناک ہے ،مسلمانوںمیں سے ہر شخص جان دینے کے لئے تیار ہے۔بہتر ہو گا کہ اُن کا دین قبول کر لیا جائے یا پھر جزیہ دینا منظور کر لیا جائے۔“فارسی بولے؛”توبہ ،توبہ!اِن احمقوں کا دین اِس قابل ہے کہ ہم لوگ قبول کر یں؟اب اِن کی اتنی ہمت ہو گئی ہے کہ ہم اُن خراج دیں،جن کو ہم بد ترین اور گھٹیا مخلوق سمجھتے ہیں؟آپ متردد نہ ہوں،پہلی ہی جنگ میں اِن کا خاتمہ ہو جائے گا۔قاعدہ یہ ہے کہ چیونٹی کی جب موت آتی ہے تو اُس کے پر نکل آتے ہیں۔“آخر کار رستم بھی جنگ کے لئے تیار ہو گیا،اور اُس نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ سے پوچھا کہ تم لوگ نہر پار کرو گے،یا ہم پار کر کے آئیں؟آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ تم لوگ ہی نہر پار کر کے آجاو¿۔رستم کو یہ جواب شام کو ملا،اُس نے لشکر کو پل کی طرف جانے کا حکم دیا تو حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے پل پر قبضہ جما لیا،اور فرمایا کہ تم دوسرا پل بنا کر نہر پار کرو۔فارسی لشکر نے کچھ دور جاکر نہر پر دوسرا پل بنایا ،اور دوسرے دن دوپہر تک پورا فارسی لشکر نہر پار کر کے مسلمانوں کے لشکر کے سامنے آگیا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!

12 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ Khilafat e Rashida 2


12 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی 

قسط نمبر 12

رستم کی صف بندی، کسریٰ کا خبر رسانی کانتظام، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کی معذوری اور خطبہ، کمانڈر حضرت عاصم بن عمر و کی تقریر، مسلمان عمائدین کی تقریریں، حضرت قیس اور حضرت غالب کی تقریریں، حضرت ابن ہذیل اور حضرت بسر بن ابی اہم کی تقریریں، حضرت عاصم بن عمرو اور حضرت ربیع بن بلاد کی تقریر، حضرت ربعی بن عامر کی تقریر، دونوں لشکروں کی کیفیت، جنگ کے متعلق ہدایات، انفردی مقابلے، ہاتھیوں کی وجہ سے پریشانی، بنو اسد اور بنو کندہ کی بہادری، شدید جنگ، ہاتھیوں پر حملہ اور تباہی، یوم ارمات

رستم کی صف بندی

فارسی لشکر نہر عتیق پار کر کے مسلمانوں کے مقابلے پر آگیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب اہل فارس نے دریا عبور کر لیاتو وہ اپنی صفوں میں پہنچ گئے۔رستم اپنے تخت پر بیٹھا،اور اُس نے قلب (درمیانہ لشکر) کے لئے اٹھارہ ہاتھی مقرر کئے،جن پر صندوقوں کے ساتھ آدمی سوار تھے۔دونوں بازوو¿ں پر سات یا آٹھ ہاتھی تھے،جن پر صندوقوں کے ساتھ آدمی سوار تھے۔اُس نے اپنے اور میمنہ کے درمیان جالینوس کو مقرر کیا،اور اپنے اور میسرہ کے درمیان بیرزان کو مقرر کیا،”پل“دونوں فریقین یعنی مسلمانوں اور فارسیوں کی سوار فوجوں کے درمیان تھا۔جس وقت دونوں لشکر نے ایک دوسرے کے سامنے پڑاو¿ ڈالا تو ظہر کی نماز کا وقت قریب تھا۔مو¿ذن نے اذان دی تو مسلمان نماز کے لئے جمع ہونے لگے ،رستم نے انہیں جمع ہوتے دیکھ کر اپنی فوج میں بھی اعلان کرا دیا کہ وہ جنگ کے لئے تیار ہوجائیں۔لوگوں نے پوچھا کہ کیا وجہ ہے؟تو رستم نے کہا کہ تم دیکھ نہیں رہے ہو کہ وہاں اعلان ہوا ہے ،اور وہ لوگ ہمارے مقابلے کے لئے جمع ہو رہے ہیں۔لیکن جب کچھ دیر بعد اُس نے مسلمانوں کو با جماعت نماز ادا کرتے دیکھا تو ایک ساتھ قیام، رکوع ،سجدہ اور قعدہ کرتے دیکھ کر حیرت میں پڑ گیا۔

کسریٰ کا خبر رسانی کانتظام

سلطنت فارس کے بادشاہ کسریٰ نے جب رستم کو لشکر دیکر مسلمانوں سے لڑنے کے لئے بھیجا تو اُس نے خبر رسانی کا بہت بہترین انتظام کیا تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔کسریٰ یزد گرد نے جب رستم کو روانہ کیا تو اُس وقت سے اُس نے اپنے ایوان شاہی کے دروازے پر ایک آدمی مقرر کر دیاتھا۔جو ہمیشہ وہاں موجود رہتا تھا،اور اُسے خبریں پہنچایا کرتا تھا۔دوسرا آدمی وہاں مقرر کیا تھا ،جہاں سے وہ گھر بیٹھے خبریں سن سکے۔تیسرا گھر کے باہر ہوتا تھا،اِس طرح اُس نے ہر اہم مقام پر ایک آدمی مقرر کیا تھا۔جب رستم نے قادسیہ میں مسلمانوں کے لشکر کے سامنے پڑاو¿ ڈال تو وہاں کا شخص اگلے کو خبر دیتا ،تو وہ اگلے کو پہنچاتا تھا،اور وہ اگلے کو۔اِس طرح درجہ بدرجہ خبریں کسریٰ کے پاس مسلسل پہنچ رہی تھیں۔

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کی معذوری

جب دونوں لشکروں نے ایک دوسرے کے سامنے پڑاو¿ ڈالا تو اُس وقت حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کی بیٹھک اور پیٹھ پر پھوڑے نکل آئے تھے،اور عرق النساءکی وجہ سے آپ رضی اﷲ عنہ گھوڑے پر سوار نہیں ہوسکتے تھے،اور نہ ہی آرام سے ٹیک لگا کر بیٹھ سکتے تھے،صرف اوندھے لیٹ سکتے تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب رستم نے دریا عبور کیا تو مسلمانوں کے لشکر میں حضرت زہرہ اور فارسیوں کے لشکر میں جالینوس کے تبادلے ہوئے۔حضرت زہرہ کو ابن السمط کی جگہ مقرر کیا گیا،اور رستم نے جالینوس کو ہر مز کی جگہ مقرر کیا۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کو عرق النساءکا مرض تھا،اور پھوڑے بھی نکلے ہوئے تھے۔وہ اوندھے لیٹے رہتے تھے،انہوں نے اسلامی لشکر پر اپنا نائب حضرت خالد بن عرفطہ کو بنایا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے تو حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کو عرق النساءاور جسم پر پھنسیوں کی تکلیف ہو گئی ۔جس کی وجہ سے وہ سوار نہیں ہو سکتے تھے،اور وہ محل میں تکیے پر اپنے سینے کے سہارے لیٹے میدان جنگ میں دیکھ رہے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے جنگ کا معاملہ حضرت خالد بن عرفطہ کے سپرد کر دیا تھا۔اور میمنہ پر حضرت جریر بن عبد اﷲ بجلی رضی اﷲ عنہ کو سپہ سالار بنایا تھا۔میسرہ پر حضرت قیس بن مکثوح کو سپہ سالار مقرر کیا تھا۔حضرت قیس اور حضرت مغیرہ رضی اﷲ عنہم جنگ یرموک میں شامل ہونے کے بعد حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کی طرف سے ملک شام سے بھیجی ہوئی کمک کے طور پر آئے تھے۔

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کا خطبہ

ظہر کی نماز کے بعد حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے اسلامی لشکر کے سامنے خطبہ دیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے محرم لحرام ۴۱ ھجری میں پیر کے دن خطبہ دیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے حمد و ثناءاور درود و سلام کے بعد فرمایا؛”اﷲ بر حق ہے،اُس کی بادشاہت میں کوئی شریک نہیں ہے۔اور وہ وعدہ خلافی نہیں کرتا ہے۔اُس نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا ؛ترجمہ”ہم نے زبور میں لکھ دیا تھا کہ اِس سرزمین کے میرے نیک بندے وارث ہوں گے۔“یہ سرزمین تمہاری میراث ہے،اور تمہارے پر وردگار نے اِس کا وعدہ کیا ہے۔بلکہ تین سال سے اِس سرزمین کو تمہارے لئے حلال کر رکھا ہے۔تم اِسی زمین سے خوراک حاصل کر کے کھا رہے ہو۔اِن سے خراج وصول کر رہے ہو،اِن کے باشندوں کو قید کر رکھا ہے۔اور بعض لوگوں کا کام تمام کیا ہے۔اور آج تک یہ سلسلہ چلا آرہا ہے ،اور تمہارے مجاہدین نے اِن پر فتح حاصل کی ہے۔اب اِن کی یہ جماعت تمہارے مقابلے پر آئی ہے۔تم شرفائے عرب ہو،اور اُن کے معزز سردار ہو۔ہر قبیلہ کے بہترین افراد یہاں موجود ہیں۔تم اپنے ملک کی عزت و آبرو رکھنے والے ہو۔اگر تم دنیا سے بے رغبتی اور آخرت سے دلچسپی رکھو گے ،تو اﷲ تعالیٰ تمہیں دنیا اور آخرت دونوں عطا فرمائے گا۔اور اگر تم بزدلی اور کمزوری کا اظہا رکرو گے،تو تمہاری دنیا میںساکھ ختم ہو جائے گی،اور آخرت میں بھی تباہ و برباد ہو جاؤ گے۔“

کمانڈر حضرت عاصم بن عمر و کی تقریر

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے اسلامی لشکر میں ہر قبیلے میں اُن کے کمانڈر بنائے تھے،جو اپنے اپنے قبیلے کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔فوجوں کے ایک کمانڈر حضرت عاصم بن عمرو کھڑے ہوئے اور تقریر فرمائی؛”اﷲ تعالیٰ نے اِس ملک کو تمہارے لئے حلا ل کر رکھا ہے،اور اِس کے باشندے تمہارے ماتحت ہیں۔تم تین سال سے انہیں زک پہنچا رہے ہو،اور وہ تم پر غالب نہیں آسکے ہیں۔بلکہ ہمیشہ تم سربلند رہے،اﷲ تمہارے ساتھ ہے۔اگر تم صابر رہے،اور تم شمشیر زنی اور نیزہ بازی میں میں سچے ثابت ہوئے۔تو تمہارے قبضے میں اُن کے مال وزر،زن(عورتیں)و فرزند (بیٹے) ہو ں گے۔اور اگر تم نے بزدلی یا کمزوری دکھائی ،تو تمہاری یہ جمعت باقی نہیں رہے گی۔تم اﷲ کو یاد کرو،اور اُن دنوں کو یاد کرو،جب اﷲ تعالیٰ نے تمہیں فتو حات دیں تھیں۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ تمہارا ملک بنجر اورویران ہے،اور بے آب و گیا ہ ہے۔اور نہ ہی وہاںقلعے ہیں،جن میں تم محفوظ ہو کر بیٹھ رہو۔تم اپنی پوری توجہ آخرت پر مبذول کرو۔“

مسلمان عمائدین کی تقریریں

حضرت سعدبن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے لشکر کے کمانڈروں اور ہر قبیلے کے سرداروں کو حکم دیا کہ وہ اپنے اپنے ماتحت مجاہدین کی حوصلہ افزائی اور جہاد کی تحریک کے لئے تقریریں کریں۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”تم جاؤ!اور مجاہدین کے پاس جاکر اپنا حق ادا کرو،اور انہیں اُن کے فرائض جنگ سے آگاہ کرو۔تم ملک عرب کے شعرائ،خطبائ،دانشور،اور سورما سردار ہو۔تم مسلمانوں میں گشت کرو،انہیں نصیحتیں کرو،اور انہیں جنگ پر آمادہ کرو۔“تمام مسلم عمائدین اپنے اپنے لشکر اور قبیلے کے مجاہدین کے پاس آئے،اور انہیں جہاد کی ترغیب دی۔

حضرت قیس اور حضرت غالب کی تقریریں

حضرت قیس نے تقریر میں فرمایا؛”اے مجاہدین!اے مسلمانو!اﷲ کی حمد و ثناءکرو،اُس نے تمہیں ہدایت دی،اور تمہیںآزمایا۔وہ مزید نعمت عطا فرمائے گا،تم اﷲ کے احسانات یاد کرو،اور اُسی کی طرف متوجہ رہو۔کیونکہ تمہارے سامنے ”جنت “یا ”مال غنیمت“ہے۔اِس قصر کے پیچھے بنجر اور ویران زمین اور جنگلوں کے سوا کچھ نہیں ہے۔“حضرت غالب نے فرمایا؛”اے مجاہدین!اے مسلمانو!تم اﷲ کی تعریف بیان کرو،جس نے تمہیں آزمائش میں ڈالا ہے۔تم اُسی سے مانگو،وہ تمہیں مزید نعمتیں عطا فرمائے گا۔اُسی کو پکارو،وہ تمہاری آواز سنے گا۔اے اقوام ِ معد!(رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے آباءو اجداد میں سے ایک حضرت معد بن عدنان ہیں)تم کمزور نہیں ہو،تمہارے گھوڑے تمہارے قلعے ہیں۔تمہارے پاس وہ چیز ہے ،جو ہر وقت تمہاری تابع ہے،اور وہ چیز تمہاری تلوار ہے۔تم یاد کرو کہ مستقبل کے لوگ تمہارے بارے میں کہیں گے۔کیونکہ تمہارے کارناموں سے مستقبل کا آغاز ہو گا،اور تمہارے بعد کے زمانوں سے اُس کو تقویت پہنچے گی۔“

حضرت ابن ہذیل اور حضرت بسر بن ابی اہم کی تقریریں

حضرت ابن ہذیل اسدی نے فرمایا؛”اے اقوام معد!تم تلواروں کو اپنا قلعہ بناؤ،اور جنگل کے شیروں کی طرح مقابلہ کرو،اور چیتے کی طرح دشمنوں کے ساتھ جنگ کرو۔اور اﷲ پر بھروسہ رکھو،اور نظریں نیچی رکھو،اگر تلواریں کند ہو جائیں ،تو سمجھو کہ اﷲ کا یہی حکم ہے۔تم دشمنوںپر نیزہ بازی کرو،کیونکہ یہ وہاں پہنچ جاتے ہیں،جہاں تلواریں نہیں پہنچ سکتیں ہیں۔“حضرت بسر بن ابی اہم نے فرمایا؛”تم اﷲ کی حمد و ثناءکرو،تم عمل کے ذریعے اپنے قول کی تصدیق کرو۔تم نے اﷲ کی حمد کی ہے،جس نے تمہیں ہدایت دی ہے۔تم توحید کے قائل ہو،کیونکہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔تم اُس کی عظمت کو تسلیم کرتے ہو،اُس کے نبیوں،اور رسولوں پر ایمان لائے ہو۔اِس لئے تم ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہونا،تمہارے نزدیک دنیا سے زیادہ کوئی چیز حقیر نہیں ہونی چاہیئے۔کیونکہ دنیا اُسی کے پاس آتی ہے،جو اُسے حقیر سمجھتا ہے۔تم اُس کی طرف راغب نہ ہو جانا،ورنہ وہ تم سے گریز کرے گی۔تم اﷲ کی مدد کرو ،وہ تمہاری مدد کرے گا۔“

حضرت عاصم بن عمرو اور حضرت ربیع بن بلاد کی تقریر

حضرت عاصم بن عمرو نے فرمایا؛”اے اہل عرب !تم ملک عرب کے سردار ہو،تمہارا مقابلہ عجم کے سرداروں سے ہے۔تم جنت حاصل کرنے کے لئے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال رہے ہو،اور یہ لوگ دنیا حاصل کرنے کے لئے مقابلہ کر رہے ہیں۔ایسا نہ ہو کہ یہ دنیا والے ،تم طالبان آخرت کے مقابلے میں زیادہ محتاط اور ہمت والے ثابت ہو جائیں۔تم آج کوئی ایسا کام نہ کرو،جو مستقبل میں عربوں کے لئے ننگ و عار کا باعث بنے۔“حضرت ربیع بن بلاد نے فرمایا؛”اے اہل عرب ! تم دین و دنیا کے لئے جنگ کرو،اور اپنے پر وردگار سے مغفرت اور ایسی جنت حاصل کرنے میں جلدی کرو۔جس کا عرض آسمانوں اور زمین کے برابر ہے،یہ جنت پرہیز گاروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔اگر شیطان تمہارے سامنے اِس جنگ کو بہت بڑا کر کے دکھائے ،تو تم یاد کرو کہ موسم حج میں تم لوگوںکے متعلق خبریں سنائی جائیں گی۔لہٰذا تم اپنے آپ کو اچھی خبروں اور کارناموں کے مستحق بناؤ۔ “

حضرت ربعی بن عامر کی تقریر

حضرت ربعی بن عامر نے فرمایا؛”اﷲ تعالیٰ نے تمہیں اسلام کی ہدایت دی ،اور تمہیں اس کی بدولت متحد کیا۔اُس نے تم پر بہت زیادہ احسانات کئے ،اور صبر کو راحت قرار دیا ۔لہٰذا اپنے آپ کو صبر و استقلال کا عادی بناو¿،اور بہت جلد اِس کے عادی ہو جاو¿ گے۔گھبراہٹ اور پریشانی کا اظہار نہ کرو ،ورنہ تم اس کے عادی ہو جاو¿ گے۔“ہر ایک کمانڈر اور قبیلے کے سردار نے اس طرح گفتگو کی ،اور مسلمانوں میں آپس میں خود اعتمادی اور مقابلہ کرنے کا عہد و پیمان کیا،اور اِس سلسلے میں مناسب کاروائی کی گئی۔

دونوں لشکروں کی کیفیت

مسلمانوں کی طرح فارسیوں نے بھی آپس میں عہد و پیمان کیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔اسی طرح اہل فارس نے بھی اہم عہد و پیمان کیا،اور ایکدوسرے کو زنجیروں سے باندھ لیا۔اِس قسم کی فوج تیس ہزار تھی۔حضرت شعمی فرماتے ہیں۔اہل فارس کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار تھی۔اُن کے تیس ہاتھی تھے،اور ہر ہاتھی کے ساتھ چار ہزار فوج تھی۔حضرت مسعود بن خراش روایت کرتے ہیں ۔فارسیوں کی فوجیں نہر عتیق کے کنارے پر تھیں،اور مسلمانوں کا لشکر قدیس کی دیوار کے ساتھ ساتھ تھیں ،اور خندق اُن کے پیچھے تھی۔اِس طرح مسلمانوں اور فارسیوں کے لشکر خندق اور نہر کے درمیان تھیں۔اُن کے ساتھ تیس ہزار زنجیر سے جکڑی ہوئی فوجیں تھیں ،اور تیس جنگی ہاتھی تھے۔اور ایسے ہاتھی بھی تھے،جن پر اُن کے بادشاہ بیٹھے ہوئے تھے۔جو جنگی کاموں کے لئے نہیں تھے۔

جنگ کے متعلق ہدایات

اُدھر فارسی لشکر نہر پار کر رہا تھا،اور اپنی صفیں مرتب کر رہا تھا۔اور اِدھر اسلامی لشکر میں تمام کمانڈر اور سردار تقریریں کر رہے تھے۔اور لشکر مرتب کر رہے تھے۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ محل کے جھروکے پر لیٹے وہاں سے مسلمانوں کو ہدایات دے رہے تھے۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے لشکر کے کمانڈروں اور سپہ سالاروں سے فرمایا؛”اے غازیان اسلام!اپنے اپنے مورچے پر پہاڑ کی طرح جمے رہنا،اور جب متحرک ہونا تو دریا کے پُر جوش سیلاب کی طرح جنبش کرنا۔میں نماز ظہر کے بعد پہلی تکبیر کہوں گا،تم لوگ بھی تکبیر کہنا،اور لشکر کی صفوں کو درست کر کے مستعد ہو جانا۔اور جب میں دوسری تکبیر کہوں ،تو تم بھی تکبیر کہنا،اور مسلح ہو کر نوک دار نیزوں کو دشمنوں کے سینوں میں پیوست کرنے کے لئے سامنے کر لینا،اور شمشیر بکف ہو جانا۔پھر جب میں تیسری تکبیر کہوں تو اپنے لشکر کو موقع موقع سے لے جاکر لڑائی پر تل جانا۔جب میں چوتھی تکبیر کہوں،تو تم بھی تکبیر کہتے ہوئے دشمنوں کی صفوں میں گھس جانا،اور” لا حول ولا قوة“کہہ کر دست بدست لڑنے لگنا۔“

انفردی مقابلے

قادسیہ میں دونوں لشکر ایکدوسرے کے سامنے صف بندی کر چکے تھے۔اور قاعدے کے مطابق پہلے انفرادی مقابلے شرو ع ہوئے۔امام ابن اثیر لکھتے ہیں۔تیسری تکبیر سنتے ہی اسلامی لشکر سے حضرت غالب بن عبد اﷲ اسدی باہر نکلے،اور فارسی لشکر سے ہرمز نکل کر آیا۔یہ زرین تاج پہنے ہوئے تھا،اور فارس کے مشہور بادشاہوں میں سے تھا۔حضرت غالب نے اُس سے کچھ دیر مقابلہ کیا ،پھر اُسے گرفتار کر کے حضرت سعد رضی اﷲ عنہ کے پاس پہنچا کر لشکر میں آگئے۔اس کے بعدحضرت عاصم بن عمرو اسلامی لشکر سے باہر نکلے ،اور مقابلے کے لئے للکارا ،تو فارسی لشکر سے ایک گھڑ سوار نکل کر مقابلے کے لئے آیا۔حضرت عاصم بن عمرو نے نیزے سے اُس پر وار کیا،اُس نے نیزے کے وار کو ڈھال پر روک لیا۔فوراً حضرت عمرو نے دوسرے ہاتھ سے تلوار کھنچ کر اُس پر اتنا شدید حملہ کیا کہ وہ گھبرا کر فارسی لشکر کی طرف بھاگا۔حضرت عاصم نے اُس کا تعاقب کیا،اور فارسی لشکر کے قریب سے اُسے گرفتار کر کے لے آئے۔یہ فارسی لشکر کے باورچی کا مہتمم تھا،اِس کے پاس کھانے کی چیزیں تھیں،جن کو اگلے مورچے کے لوگوں نے کھایا۔حضرت عاصم کی یہ دلیری دیکھ کر فارسی لشکر سے ایک شخص چاند ی کا گرز لئے جڑاو¿ تاج پہنے گھوڑے کو کداتا ہوا نکلا۔اسلامی لشکر سے حضرت عمرو بن معدی کرب مقابلہ پر آئے۔اُس نے اُن پر گرز چلایا،تو انہوں نے اس کے وار کو خالی دے کر کمر میں ہاتھ ڈال کر اُٹھا لیا۔اور گھوڑے پر بٹھا کر لائے ،اِس کے بعد رستم نے ہاتھیوں کو بڑھنے کا حکم دیا ،اور اُسی وقت جنگ مغلوبہ شروع ہو گئی۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔پہلا شخص اِس جنگ میں جو گرفتار کیا گیا،وہ شہزادگان ِ فارس میں سے ہرمز نامی ایک شہزادہ تھا۔اِس کو حضرت غالب بن عبد اﷲ اسدی میدان جنگ سے گرفتار کر کے حضرت سعد رضی اﷲ عنہ کے پاس لائے،اور پھر لڑنے چلے گئے۔اِس دوران دوسرا شہسوار فارسی لشکر سے نکل کر میدان میں آیا۔حضرت عمرو بن معدی کرب اسلامی لشکر سے نکلے ،اور اُسے گھوڑے سے اُٹھا کر زمین پر پٹک دیا ،اور اُس کے سینے پر چڑھ کر ذبح کر ڈالا۔اور اُس کی زرہ اور ہتھیار اپنے قبضے میں کر لیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عمرو بن معدی کرب اسلامی لشکر کے سامنے اپنا گھوڑا دوڑا رہے تھے،اور فرمارہے تھے؛”یہ ایرانی(فارسی )سپاہی مینڈھوں کی طرح لڑتے ہیں۔“اِسی دوران ایک فارسی سپاہی نکل کر میدان میں آیا ،اور آپ پر تیر چلا دیا۔حضرت عمرو بن معدی کرب نے اُس کے تیر سے اپنے آپ کو بچایا ،اور آگے بڑھکر اُسے گھوڑے پر سے اُٹھا کر پٹک دیا ،اور ذبح کر دیا،اور فرمایا؛”تم اِن لوگوں کے ساتھ ایسا سلوک کرو۔“

ہاتھیوں کی وجہ سے پریشانی

انفرادی مقابلے میں مسلمان حاوی ہوگئے،اور فارسیوں میں گھبراہٹ پھیلنے لگی،یہ دیکھ کر رستم نے ہاتھیوں کو آگے بڑھا دیا۔ابھی حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے چوتھی تکبیر نہیں فرمائی تھی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب سواروں کے مقابلے میں فریقین میں جنگ شروع ہوئی تو ہاتھی والے لشکر نے مسلمانوں پر حملہ کر دیا۔ہاتھیوں کو دیکھ کر مسلمانوں کے گھوڑے بدکنے لگے،اور اِس کی وجہ سے مسلمانوں کے گھڑ سوارمنتشر ہو گئے۔اور ہاتھیوں کے سامنے قبیلہ بنو بجیلہ کے پیدل ہی کھڑے رہ گئے۔اِن بہادر مجاہدین نے پیدل ہی ہاتھیوں کا سامنا کیا،اور مقابلہ کرنے لگے۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے فوراًقبیلہ بنو اسد کے حضرت طلیحہ کو حکم دیا کہ بنو بجیلہ کو کور کریں،اور اُن کی مدد کریں۔حضرت طلحہ کھڑے ہوئے ،اور اپنے قبیلے کے مجاہدین سے فرمایا؛”اے میری قوم!ہمارے سپہ سالار نے بھروسے کے لوگوں سے امداد طلب کی ہے۔اگر انہیں معلوم ہوتا کہ تمہارے علاوہ کوئی دوسرا قبیلہ بھی اُن کی مدد کر سکتا ہے،تو وہ ضرور اُسی سے طالب امداد ہوتے ۔تم دشمنوں پر زور کا حملہ کرو ،اور بہادر شیروں کی طرح آگے بڑھو۔کیونکہ تمہارا نام ”اسد“(شیر)اِسی وجہ سے رکھا گیا ہے،کہ تم شیروں جیسے کام کرو۔آگے بڑھکر حملہ کرواور پیچھے نہ ہٹو،جنگ کرتے رہو اور راہ فرار اختیار نہ کرو،تم اپنے مورچے پر ڈٹے رہو۔اﷲ تمہاری مدد کرے گا،اﷲ کا نام لیکر دشمنوں پر حملہ کرو۔اﷲ کی قسم! تم ان پر حملہ کرتے رہو۔“

بنو اسد اور بنو کندہ کی بہادری

حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے ابھی چوتھی تکبیر نہیںفرمائی تھی۔اور جنگ صرف بنو بجیلہ ،بنو اسد،اور بنو کندہ کی طرف ہو رہی تھی۔بنو اسد نے بنو بجیلہ کو بہت اچھی طرح کور کیا،اور بہت تیزی سے نیزوں اور تلواروں سے شدیدحملہ کیا،اور ہاتھیوں کا زبردست مقابلہ کرنے لگے۔ایسے وقت میں حضرت اشعث بن قیس کندی نے اپنے قبیلے بنو کندہ سے فرمایا؛”اے بنو کندہ!اﷲ بنو اسد کا بھلا کرے،دیکھو وہ کس طرح بہادری اور بے جگری کے ساتھ جنگ کر رہے ہیں۔انہوں نے اپنے قریب کے مجاہدین کو امداد سے بے نیاز کر دیا ہے۔مگر تم اِس بات کا انتظار کر رہے ہو،کہ کون تمہاری مدد کرتا ہے؟میں گواہی دیتا ہوں،کہ تم نے عربوں کے سامنے اپنی قوم کا عمدہ نمونہ پیش نہیں کیاہے۔اہل عرب جنگ لڑ رہے ہیںاور شہید ہو رہے ہیں،مگر تم گھٹنوں کے بل جھکے ہوئے تماشہ دیکھ رہے ہو۔آگے بڑھو ،اور حملہ کرو۔“آپ تقریر سے بنو کندہ اتنے جوش میں آگئے اور اتنا زبردست حملہ کیا کہ تینوں قبیلے کے مجاہدین نے ہاتھیوں کو پیچھے دھکیل دیا۔

شدید جنگ

اُدھر بنو بجیلہ ،بنو اسد،اور بنو کندہ فارسیوں کے لشکر سے زبردست مقابلہ کر رہے تھے۔اور باقی قبائل کے مسلمان مجاہدین صفوں میں اپنی اپنی جگہ بالکل تیار کھڑے تھے۔اچانک رستم کے حکم سے فارسیوںنے ایک ساتھ اسلامی لشکر پر حملہ کر دیا ۔اُن کی قیادت جالینوس اور ذوالحاجب کر رہے تھے۔تمام مسلمان مجاہدین صبر سے صفوں میں کھڑے فارسیوں کے قریب آنے اور حضرت سعد کی چوتھی تکبیر کا نتظار کر رہے تھے۔جیسے فارسی سپاہی قریب پہنچے،اُسی وقت حضرت سعد رضی اﷲ عنہ بلند آواز سے چوتھی تکبیر فرمائی۔اور پہلے سے تیار اسلامی لشکر نے اتنی تیزی سے ایک ساتھ آگے بڑھ کر حملہ کیا کہ فارسیوں کے ہوش گم ہو گئے۔مسلمانوں نے عام دھاوا بول دیا،اور فارسی گھڑ سواروں کے سر کٹ کٹ کر فضا میں اُڑنے لگے۔یہ دیکھ کر رستم نے پورے فارسی لشکر کے آگے ،ہاتھیوں کو بڑھا دیا۔

ہاتھیوں پر حملہ اور تباہی

فارسی لشکر کے آگے ہاتھی آگئے،اور مسلمانوں کے گھوڑے انہیں دیکھ کر بد کنے لگے۔اِس موقع پر پیدل مجاہدین پر شدید دباو¿ پڑنے لگا۔حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے سواروں کے سپہ سالار حضرت عاصم بن عمرو رضی اﷲ عنہ سے فرمایا؛”اے قبیلہ بنو تمیم!کیا تم اونٹوں اور گھوڑے والے نہیں ہو؟کیا تمہارے پاس اِن ہاتھیوں سے نجات حاصل کرنے کی کوئی تدبیر نہیں ہے؟“حضرت عاصم رضی اﷲ عنہ بولے۔”ضرور ہے۔“اور فوراً اپنے تیر اندازوں کو متعین کیا،اور اُن کے آگے جنگجوو¿ں کو صف بند کیا۔اور تیر اندازوں سے فرمایا؛”اے ماہر تیر اندازو!تم آج اپنی بہترین تیر اندازی کا مظاہرہ کرو،اور اِن ہاتھیوں کا مقابلہ کرو۔اور جنگجو مجاہدین سے فرمایا؛”تم اِن ہاتھیوں کے پیچھے جا کر اُن کے ہودوں کو کاٹ دو۔“پھر خود بھی اُن کی حفاظت کے لئے نکلے،اُس وقت بھی جنگ کی چکی شدید طور سے قبیلہ بنو اسد پر گردش کر رہی تھی۔حضرت عاصم رضی اﷲ عنہ کے تیر اندازوں نے ہاتھیوں پر شدید تیر اندازی کی،اور جنگجوو¿ں نے اُن کے ہودوں کو کاٹ دیا۔اب ہاتھی بُری طرح زخمی ہونے لگے،اور اُن پر سوار نیچے گرنے لگے۔یہاں تک کہ تمام ہاتھی سوار ختم ہوگئے،اور زخمی ہاتھی فارسی لشکر کی طرف بھاگنے لگے۔اور تمام مسلمان اپنے صحیح مورچے پر آگئے۔

یوم ارمات

حضرت عاصم بن عمرورضی اﷲ عنہ کی تدبیر کامیاب رہی،اور ہاتھیوں کا حملہ ناکام ہو گیا۔اور قبیلہ بنو اسد پر جو شدید دباو¿ پڑ رہا تھا،وہ دور ہو گیا۔اب ہر طرف سے مسلمان مجاہدین بڑھ بڑھ کر فارسیوں پر حملے کر رہے تھے۔ فارسیوں کی تعداد مسلمانوں کے مقابلے میں بہت زیادہ تھی،اور وہ اسی وجہ سے کچھ حد تک مقابلے کی حالت میں تھے۔لیکن مسلمان مجاہدین تعداد کی پر واہ کئے بغیر لڑ رہے تھے،اور شدید حملے کر رہے تھے۔یہ جنگ سورج ڈوبنے تک جاری رہی ،بلکہ رات کا ایک حصہ بھی گذر گیا۔اِس کے بعد فریقین نے لڑائی بندکردی۔اِس دن جنگ بند ہونے تک قبیلہ بنو اسد کے پانچ سو مجاہدین شہید ہوئے۔اس دن مسلمانوں کے تمام قبائل اور اُن کے جنگی دستے حرکت میں آئے،اور بنو اسد اسلامی لشکر کی بہت مدد کرتے رہے۔حضرت عاصم رضی اﷲ عنہ نے دشمنوں پر سخت حملے بھی کئے ،اور مسلمانوں کی مدا فعت اور محافظت بھی کی۔یہ جنگ قادسیہ کا پہلا دن تھا،اور اِسے ”یوم ارمات“کہتے ہیں۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!

13 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ Khilafat e Rashida 2


13 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی 

قسط نمبر 13

ملک شام سے کمک کی آمد، حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ کی بہادری، یوم اغواث، مسلمانوں کی نئی ترکیب، چار بیٹوں کی والدہ کا جذبۂ جہاد، مسلمانوں کا جذبہ شہادت اور دلیری، آدھی رات تک جنگ، یوم اغواث ،فتح کادن، حضرت ابو محجن، حضرت محجن کی پشیمانی، حضرت ابو محجن کی بہادری، حضرت ابو محجن کی رہائی، شہداءکی تدفین اور فارسیوں کی لاشیں، یوم عمواس

ملک شام سے کمک کی آمد

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے زخمیوں کی دیکھ بھال کے لئے مسلمان خواتین کو مقرر کر دیا۔اور شہیدوں کو عذیب اور عن الشمس کے درمیان دفن کیا۔فارسیوں کے کئی ہزار سپاہی قتل ہوئے تھے۔دوسرے دن لشکروں کی ترتیب سے پہلے مسلمانوں کو ایک خوشخبری ملی،اور ملک شام سے امدادی لشکر آگیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔شہداءاور زخمیوں کو میدان جنگ سے لے آیا گیا،اور مسلمان خواتین کو زخمیوں کی تیمار داری پر لگا دیا گیا۔صبح کے وقت شہداءکواونٹوں پر لاد کر مشرق کے مقام پر دفن کر دیا ،جو عذیب اور عین الشمس کے درمیان ہے۔جب شہداءکو دفن کرنے کے لئے لے جا رہے تھے تو اُس وقت ملک شام کی طرف سے گھڑ سوار آتے دکھائی دئے۔دمشق کی فتح قادسیہ کی جنگ سے ایک مہینے پہلے ہوگئی تھی۔اِسی لئے خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے ملک شام میں مقرر سپہ سالار حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا تھا کہ وہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے ساتھ ملک عراق سے آئے ہوئے لشکر کوحضرت سعد بن ا بی وقاص رضی اﷲ عنہ کے پاس واپس بھیج دیں۔اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے بارے میں حکم دیا تھا کہ انہیں اپنے پاس رکھو۔اسی لئے انہوں نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو اپنے پاس روک لیا ،اور اُن کے ساتھ آئے ہوئے چھ ہزار کے لشکر کو ملک عراق حضرت سعد رضی اﷲ عنہ کے پاس واپس بھیج دیا۔اس میں حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ ”مقدمة الجیش“پر تھے۔یہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے شاگرد ہیں،اور اُن کے ساتھ بہت سی جنگوں میں شرکت بھی کی ہیں۔لشکر کے سپہ سالار حضرت ہاشم بن عتبہ بن ابی وقاص تھے۔

حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ کی بہادری

جنگ کے دوسرے دن صبح دونوں لشکر آمنے سامنے آئے ،اور صف بندی کر لی۔آج مسلمانوں کے لشکر میں ملک شام سے آیا ہوا لشکر بھی تھا۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے اِس لشکر کو اگلے حصے پر رکھا۔اور حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ صفوں کے آگے اپنا گھوڑا دوڑا رہے تھے ،اور فرما رہے تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اے مجاہدین!تم وہ کرو ،جو میں کر رہا ہوں۔“یہ فرما کر وہ آگے بڑھے ،اور فارسیوں کوانفرادی مقابلے کےلئے للکارا۔حضرت قعقاع رضی اﷲ عنہ کے بارے میں خلیفہ¿ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”وہ لشکر نا قابل ِ شکست ہے،جس میں حضرت قعقاع رضی اﷲ عنہ جیسے شخص موجود ہوں۔“آپ رضی اﷲ عنہ کی للکار سن کر ذوالحاجب فارسی لشکر سے باہر نکل کر آیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”تم کون ہو؟“اُس نے جواب دیا؛”میں بہمن جاذویہ ہوں“آپ رضی اﷲ عنہ نے اُس کا جواب سن کر فرمایا؛”آج حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ ،حضرت سُلیط رضی اﷲ عنہ اور جنگ حسبر (یا جسر) کے شہداءکا انتقام لیا جائے گا۔“پھر دونوں میں مقابلہ شروع ہوا،اور وہ ایک دوسرے پر وار کرنے لگے۔آخر کار آپ رضی اﷲ عنہ نے تلوار کا ایسا وار کیا کہ اُس کی گردن اُڑ کر کافی دور جا گری۔حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ نے اِس کے بعد پھر للکارا؛”اور کون ہے ،جو مقابلے کے لئے آتا ہے؟“اِس للکار پر فارسی لشکر سے دو آدمی نکلے،اُن میں سے ایک کا نام میرزان تھا،اور دوسرے کا نام بندوان تھا۔لہٰذا حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ کے ساتھ قبیلہ بنو تمیم الآن کے ایک شخص حضرت حارث بن ظبیان بھی شامل ہو گئے۔حضرت قعقاع رضی اﷲ عنہ نے میرزان سے جنگ کی۔اور شمشیر زنی کر کے اُس کا سر کاٹ دیا۔ابن ظبیان نے بندوان سے جنگ کی،اور اُس کا سر کاٹ دیا۔

یوم اغواث

حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ کی انفرادی مقابلے میں کامیابی دیکھ کر رستم نے فارسیوں کو ایک ساتھ حملہ کرنے کا حکم دے دیا،اور مسلمان شہسوار بھی فارسیوں پر ٹوٹ پڑے۔حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ بار بار تاکید کر رہے تھے؛”اے مسلمانو!تم اِن لوگوں کی تلواروں سے خبر لو،کیونکہ تلواروں سے ہی اِن کی بیخ کنی ہو گی۔اِس طرح مسلمانوں میں تعاون کا جذبہ کار فرما رہا،اور وہ شام تک بہادری سے جنگ کرتے رہے۔آج اہل عجم (فارسی،ایرانی)نے کوئی موافق کارنامہ انجام نہیں دیا،بلکہ وہ مسلمان انہیں قتل کرتے رہے۔آج وہ ہاتھیوں سے کوئی جنگ نہیں کر سکے،کیونکہ اُن کے صندوق گزشتہ روز ٹوٹ گئے تھے۔اِس لئے وہ صبح سے ہی اُن کی درستی میں مشغول رہے،یہاں تک کہ دن گذر گیا۔آج کے دن قبیلہ بنو یربوع کی شاخ بنو رباح کے تین افرادحضرت قعقاع رضی اﷲ عنہ کی مدد کرتے رہے۔جب کبھی مسلمانوں کا کوئی دستہ نمودار ہوتا تو حضرت قعقاع رضی اﷲ عنہ نعرہ ¿ تکبیر بلند کرتے ،اور یہ تنیوں بھی نعرہ تکبیر بلند کرتے ،اور دشمنو ں پر حملہ کر دیتے،یہ دیکھ کر مسلمانوں کا دستہ بھی نعرہ تکبیر بلند کرتا ،اور اُن کے ساتھ ملکر حملہ کر دیتا تھا۔اِن تنیوں کے نام حضرت نعیم بن عمرو،حضرت عتاب بن نعیم،اور حضرت عمرو بن شبیب ہیں۔

مسلمانوں کی نئی ترکیب

قادسیہ میں ”یوم اغواث“کے دن مسلمانوں نے ایک نئی تیکنک کا استعمال کیا،اور اِس کی وجہ سے انہیں بہت کامیابی حاصل ہوئی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جنگ کا آغاز سواروں کی جنگ سے ہوا،اور ہر سمت سے لوگ نکل آئے۔نیزہ بازی ،اور تلوار بازی ہونے لگی۔حضرت قعقاع رضی اﷲ عنہ کے چچا ذاد بھائیوں نے اونٹوں پر سوار ہو کر حملہ کر دیا۔انہوں نے اونٹوں کو جھول پہنا کر پوشیدہ کر(چھپا) دیا۔اُن کے گھوڑے سوار اطراف میں رہ کر اُن کی حفاظت کر رہے تھے۔اور اونٹوں کے سواروں کو حکم دیا گیا تھا کہ دونوں صفوں کے درمیان دشمن کے گھڑ سواروں پر حملہ کریں،تاکہ وہ ہاتھیوں کے مشابہ معلوم ہوں۔مسلمانوں نے ”یوم اغواث “میں وہی طریقہ اختیار کیا،جو فارسیوں نے ”یوم ارمات“میں استعمال کیا تھا۔اِسی لئے یہ اونٹ جہاں بھی پہنچ جاتے تھے،وہاں کے فارسی گھوڑے بدک جاتے تھے،اور مسلمانوںکے گھڑ سوار اُن کا قتل عام کرنے لگتے تھے۔اِس طر ح مسلمانوں کے پوشیدہ اونٹوں نے یوم اغواث میں فارسیوں کو اُس سے زیادہ نقصان پہنچایا،جتنا نقصان فارسیوں نے مسلمانوں کو ہاتھیوں کے ذریعے یوم ارمات میں پہنچایا تھا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔حضرت قعقاع رضی اﷲ عنہ نے اِس جنگ میں ایک چالاکی کہ دس دس اونٹوں کو ایک قطار میں کر کے ان پر جھولیں ڈال دیں تھیں،اور اُن پر بڑے ہوشیار تیر اندازوں کو بٹھا کر فارسیوں پر تیروں سے حملہ کرنے کا حکم دیا۔اور اُن کے آس پاس گھڑ سواروں کو اُن کی حفاظت کے لئے متیعن کر دیاتھا۔حضرت قعقاع رضی اﷲ عنہ کی یہ تدبیر کامیاب رہی ،اور فارسی لشکر کے گھوڑے اِن مصنوعی ہاتھیوں کو دیکھ کر بے قابو ہو گئے،اور بھاگ کھڑے ہوئے۔فارسی سواروں نے اُن کو پھیرنے کی بہت کوشش کی،لیکن کامیاب نہیں ہو سکے۔فارسی لشکر کو اِن مصنوعی ہاتھیوں سے اُس سے زیادہ نقصان پہنچا ،جتنا مسلمانوں کو اصلی ہاتھیوں سے برداشت کرنا پڑا تھا۔

چار بیٹوں کی والدہ کا جذبۂ جہاد

قادسیہ میں یوم اغواث کے دن چار بھائیوں نے بہت بہادری سے زبردست جنگ کی۔اُن کی اِس بہادری کی وجہ اُن والدہ محترمہ تھیں۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔قبیلہ بنو نخع کی ایک خاتون بھی جنگ قادسیہ میں موجود تھیں۔وہ خاتون اپنے بیٹوں سے کہنے لگیں؛”تم مسلمان ہونے کے بعد بھی تبدیل نہیں ہوئے۔(یعنی اﷲ کے لئے کچھ کرنے کا جذبہ نہیں آیا)تم نے ہجرت کی،مگر تکالیف اور قحط سالی میں مبتلا نہیں ہوئے۔پھر تم اپنی بوڑھی والدہ کو لیکر آئے ،اور فارسیوں کے سامنے بٹھا دیا۔اﷲ کی قسم ! تم ایک ہی مرد اور ایک ہی عورت کے بیٹے ہو،میں نے تمہارے والد کے ساتھ خیانت نہیں کی ہے،اور نہ ہی تمہیں ذلیل و رسوا کیا ہے۔تم جاو¿ اور جنگ کی ابتداءسے لے کر آخر تک بہادری سے لڑو،اورفتح حاصل کر کے آو¿۔اگر تم شہید ہوئے ،تو مجھے زیادہ خوشی ہوگی۔“یہ سن کر چاروں بھائی اپنی والدہ سے اجازت لیکر فارسیوں پر ٹوٹ پڑے،اور شدیدحملے کرنے لگے۔جب تک وہ دکھائی دیتے رہے ،اُن کی والدہ دیکھتی رہی۔اور جب وہ نظروں سے اوجھل ہو گئے،تو اُس نے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اُٹھا دیئے،اور یوں دعا مانگی؛”اے اﷲ تعالیٰ !تُو میرے بیٹوں کی حفاظت فرما۔“اُس کے بیٹے خوب جنگ کرتے رہے ،اور اُن میں سے کوئی بھی زخمی نہیں ہوا ،اور صحیح سالم وہ سب واپس آئے۔انہوں نے دو دو ہزار کا وظیفہ حاصل کیا،اور وہ تمام اپنی والدہ کی گود میں لے جا کر ڈال دیا۔والدہ نے انہیں وہ رقم واپس کردی،اور اسے اُن کی بھلائی اور مرضی کے مطابق تقسیم کیا۔

مسلمانوں کا جذبہ شہادت اور دلیری

قادسیہ کے میدان میں یوم اغواث کے دن مسلمانوں کا جذبہ ¿ شہادت اوردلیری دیکھنے میں آئی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔قبیلہ بنو تمیم کے ایک شخص جن کا نام حضرت سواد تھا،اور وہ دس آدمیوں کی حفاظت پر مقرر تھے۔وہ شہید ہونے کے لئے بہت بے چین تھے۔وہ دشمنوں پر شدید حملے کرتے رہے،جب وہ اِس کے باوجود شہید نہیں ہوئے تو رستم سے مقابلہ کرنے کے لئے آگے بڑھے،اور اُس کے حفاظتی دستے(باڈی گارڈوں)پر حملہ کر دیا۔اور رستم تک پہنچنے کی کوشش کرنے لگے،اور اِسی کوشش میں شہید ہو گئے۔حضرت علبائن جحش عجلی نے ایک فارسی سے مقابلہ کیا،اور اُسے گرا دیاتو اُس کی مدد کے لئے دوسرا فارسی آگیا۔تب تک وہ اُس فارسی کو ذبح کر چکے تھے،اور اُسی حالت میں جھکے ہوئے دوسرے فارسی کے پیٹ پر تلوار ماری ،جس سے اُس کا پیٹ پھٹ گیا،اور انتڑیاں باہر آگئیں۔وہ اُسی حالت میں گر گیا تو آپ آگے بڑھ گئے۔اُس دوسرے فارسی نے کھڑے ہونے کی کوشش کی،لیکن باہر نکلی انتڑیوں کی وجہ سے کھڑا نہیں ہو پا رہا تھا۔اُس نے انتڑیوں کو پیٹ میں داخل کرنے کی کوشش کی ،لیکن نہیں کر سکا۔اتنے میں ایک مسلمان قریب سے گذرا تو اُس فارسی نے کہا کہ میرے پیٹ کو درست کر دو،اُس مسلمان نے اُس کی انتڑیاں اُس کے پیٹ میں کافی دقت کے بعد ڈال دیں،تو وہ کھڑ ہوا اور فارسی لشکر کی طرف جانے کی کوشش کرنے لگا۔لیکن ابھی وہ تیس گز بھی نہیں چل سکا تھا کہ گر پڑا،اور وہیں مر گیا۔حضرت اعرف بن اعلم عقیلی کے مقابلے پر ایک فارسی آیا تو آپ نے اُسے ایک ہی وار میں قتل کردیا۔ دوسرا آدمی آیا تو اُسے بھی ایک ہی وار میں قتل کر دیا۔اِس کے بعد کئی فارسی سپاہیوں نے آپ کو گھیر لیا،اور اُن سے لڑنے میں آپ کے ہتھیا ر بھی چھن گئے۔لیکن اُس وقت آپ نے کمال چالاکی کا مظاہرہ کیا،اور دھول اُٹھا کر اُن کی آنکھوں میں جھونک دی ،اور مسلمانوں کی طرف لوٹ آئے۔

آدھی رات تک جنگ

حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ نے اُس دن تیس حملے کئے۔جب کوئی فارسیوںکا دستہ دکھائی دیتا تو آپ رضی اﷲ عنہ اُس پر حملہ کر کے اُسے نقصان پہنچاتے۔ اِن تیس حملوں میں تیس فارسی قتل کئے،ہر حملے میں وہ کسی نہ کسی فارسی کو قتل کرتے تھے۔اُن کا آخری مقتول بزر جمہر ہمدانی تھا۔دونوں لشکروں کے سپاہی ایک دوسرے پر بڑھ بڑھ کر حملے کر رہے تھے۔صبح سے دوپہر تک سواروں کے درمیان جنگ ہوتی رہی،دوپہر بعد پیدل سپاہی بھی جنگ میں شامل ہو گئے۔اور شام تک جنگ چلتی رہی،شام ہونے کے بعد بھی جاری رہی۔اور رات میں بھی دونوں طرف کے سپاہی حملے کرتے رہے،اور آدھی رات تک جنگ ہوتی رہی۔یوم ارمات کی رات ”پُر سکون رات “کہلائی جاتی ہے۔اور یوم اغواث کی رات ”سیاہ رات “کہلائی جاتی ہے۔

یوم اغواث ،فتح کادن

جنگ قادسیہ کے دوسرے دن ”یوم اغواث“کو مسلمان ”فتح کا دن بھی کہتے تھے۔کیونکہ اُس دن کی کامیابیوں نے مسلمانوں میں بے انتہا حوصلہ پیدا کیا۔علامہ محمد بن جریر بن طبری لکھتے ہیں۔مسلمان یوم اغواث کو فتح کا دن بھی کہتے تھے۔کیونکہ اُس دن انہوں نے سلطنت فارس کے ممتاز لوگوں کو قتل کر دیاتھا۔اُس دن ”قلب“مرکزی لشکر کے سوار بھی خوب لڑتے رہے ،اور پیدل بھی ثابت قدم رہے۔اگر مسلمانوں کے گھڑ سوار واپس نہیں آگئے ہوتے تو رستم بھی گرفتار ہو جاتا۔جنگ ختم ہونے کے بعد مسلمانوں نے وہ رات اُسی طرح گذاری ،جس طرح فارسیوں نے یوم ارمات کی رات گذاری تھی۔مسلمان خوشی کے نعرے بلند کر رہے تھے۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے اپنے دست راست سے فرمایا؛”اگر مسلمان خوشی مناتے رہے تو مجھے نہ جگانا،کیونکہ وہ دشمنوں پر طاقتور ہوں گے۔اور اگر وہ خاموش ہو جائیں،اور دشمن بھی خوشی نہ منائیںتو تب بھی مجھے نہ جگانا،کیونکہ دونوں مساوی حالت میں ہوں گے۔اور اگر دشمن کو خوشیاں مناتے دیکھو تو ایسی صورت میں مجھے جگا دینا ،کیونکہ اُن کی یہ آواز برائی پر مبنی ہو گی۔

حضرت ابو محجن

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کے محل میں جنگ قادسیہ کے دوران ایک قیدی حضرت ابو محجن تھے۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے شراب پینے کے جرم میں اُن پر حد جاری کی تھی۔اور اِس سے پہلے بھی کئی بار حد جاری کر چکے تھے۔اِس لئے اِس بار اُن کے پیروں میں بیڑیاں ڈال کر قید کر دیا تھا۔انہوں نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ سے معافی مانگی،اور آزاد کرنے کی درخواست کی،تاکہ وہ بھی جنگ میں حصہ لے سکیں۔لیکن آپ رضی اﷲ عنہ نے اجازت نہیں دی،کیونکہ آپ رضی اﷲ عنہ کو اندیشہ تھا کہ حضرت ابو محجن جنگ کے بہانے آزاد ہو کر چھپ کر شراب پئیں گے۔اسی لئے آپ رضی اﷲ عنہ نے انہیں ڈانٹ دیا ،اور قید میں ہی رکھا۔

حضرت محجن کی پشیمانی

حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے جب حضرت محجن کو ڈانٹ کر قید کر دیا،تو آپ رضی اﷲ عنہ کی بیوی سیدہ سلمیٰ کسی کام سے اُدھر سے گذری ،جہاں حضرت ابو محجن قید تھے۔انہوں نے درخواست کی؛”اے سلمیٰ بنت آل خصفہ!کیا آپ نیکی کا کام کریں گی؟“انہوں نے پوچھا ؛”وہ کیا کام ہے؟“حضرت ابو محجن نے کہا؛”آپ مجھے آزاد کر دیں،اور یہ بلقاءگھوڑا(حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کا گھوڑا)مجھے مستعار دیں،اﷲ کی قسم ! اگر اﷲ نے مجھے زندہ اور سالم رکھا تو میں خود واپس آکر اپنے ہاتھوں اور پیروں میں بیڑیاں پہن لوں گا۔سیدہ سلمیٰ نے فرمایا؛”میں یہ نہیں کر سکتی۔“یہ سن کر حضرت ابو محجن کو بہت پشیمانی ہوئی ،اور انہوں نے بلند آواز سے کہا؛”میرے لئے یہ رنج و غم کیا کم ہے کہ جب گھوڑے نیزوں کے ساتھ دوڑ رہے ہوں،اُس وقت میں زنجیروں اور بیڑیوں میں جکڑا بیٹھا رہوں۔جب میں کھڑا ہونا چاہتا ہوں تو لوہے کی بیڑیاں مجھے روک لیتی ہیں،حالانکہ میرے سامنے (جنگ میں) گرنے اور مرنے کے ایسے مناظر آ رہے ہیں،جو پکارنے والے کو تڑپا دیتے ہیں۔میں بہت مال دار تھا،اور میرے بہت(مسلمان) بھائی تھے۔مگر اب انہوں مجھے ایسی حالت میں تن تنہا چھوڑ دیا ہے،جیسے کہ میرا کوئی بھائی ہی نہیں ہے۔میں نے اﷲ سے پختہ عہد کیا ہے،جسے ہر گز نہیں توڑوں گا،کہ اگر مجھے رہا کر دیا جائے تو میں شراب کی دوکان کے پاس بھی نہیں پھٹکوں گا۔“

حضرت ابو محجن کی بہادری

سیدہ سلمیٰ نے حضرت ابو محجن کی پشیمانی دیکھی،اور الفاظ سنے تو آپ کے پاس آئیں،اور فرمایا؛”میں نے اﷲ سے استخارہ کیا ہے ،اور تمہارے عہد پر اعتبار کرتی ہوں۔“یہ فرما کر انہوں نے حضرت محجن کی بیڑیا ں اور زنجیریں کھول دیں۔پھر فرمایا؛”میں یہ بلقاءگھوڑا تمہیں نہیں دے سکتی۔“یہ فرما کر وہ چلی گئیں۔اور حضرت ابو محجن نے بلقاءکو کھول کر اُسے محل کے اُس دروازے سے نکال لے گئے،جو خندق کے قریب تھا۔وہ اُس پر سوار ہوئے ،اور میمنہ میں جاکر نعرہ تکبیر بلند کیا،اور شدید حملہ کر کے فارسیوں کا قتل عام کرنے لگے۔آپ کے نیزے اور تلوار کے حملوں کو دیکھ کر ہر کوئی حیران تھا۔اِس کے بعدآپ میسرہ میں گئے ،اور وہاں بھی فارسیوں کاقتل عام کرنے لگے۔اِس کے بعد وہ قلب(لشکر کے درمیانی حصے میں آئے ،اور وہاں بھی فارسیوں کا قتل عام کرنے لگے۔انہوں نے اپنے چہرے پر کپڑا باندھا ہوا تھا،اور وہ گرجتے برستے ہوئے فارسیوں پر زوردار حملے کر رہے تھے۔آپ کو دیکھ کر مسلمانوں کو بھی تعجب ہو رہا تھا ،کیونکہ وہ آپ کو پہچان نہیں پا رہے تھے،لیکن بلقاءکو ضرور پہچانتے تھے۔

حضرت ابو محجن کی رہائی

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ اپنے محل کے جھروکے سے جنگ کا مشاہدہ کر رہے تھے۔انہوں نے ایک کپڑا باندھے ہوئے گھڑ سوار کو بجلی کی طر ح کبھی میمنہ ،کبھی میسرہ،اور کبھی قلب میں دیکھا،اور حیران رہ گئے۔انہوں نے اپنے گھوڑے بلقا ءکو پہچان لیا،اور فرمایا؛”یہ گھوڑا تو یقینا میرا گھوڑا بلقاءہے ،لیکن اُس پر سوار کے بارے میں یقین نہیں ہے۔حالانکہ اُس کے لڑنے اور حملہ کرنے کا انداز تو پورا ابو محجن کا ہے،لیکن ابو محجن تو قید میں ہے۔“اُدھر میدان جنگ میں مسلمان مجاہدین الگ الگ رائیں قائم کر رہے تھے۔کسی کی رائے تھی کہ اگر حضرت خضر جنگوں میں شریک ہو سکتے ،تو ہم کہتے کہ بلقاءپر حضرت خضر سوار ہیں۔کوئی کہہ رہا تھا کہ اگر فرشتے براہ راست جنگوں میں شریک ہوتے ،اور دکھائی دیتے تو ہم کہتے کہ ایک فرشتہ ہماری حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔حضرت ابو بحجن کا کوئی بھی ذکر نہیں کر رہا تھا،کیونکہ اُن کے خیال میں تو وہ قید میں تھے۔جب آدھی رات ہو گئی تو فارسیوں نے جنگ بند کردی،اور مسلمان بھی لوٹ آئے۔اُس وقت حضرت ابو محجن ثقفی بھی بلقاءکو لیکر اُسی راستے سے محل میں واپس آگئے،جس راستے سے گئے تھے۔اور بلقاءکو اُس کی جگہ باند ھکر خود اپنے ہاتھوں اور پیروں میں زنجیریں اور بیڑیاں پہن لیں۔سیدہ سلمیٰ نے حضرت سعد رضی اﷲ عنہ کو حضرت ابو محجن ثقفی کے بارے میں بتایا۔تو آپ رضی اﷲ عنہ نے انہیں بلوایا ،اور آزاد کرتے ہوئے فرمایا؛”جاو¿ !میں تمہیں کسی بات پر اُس وقت تک نہیں پکڑوں گا،جب تک تم عملی طور پر اسے انجام نہیں دو گے۔“

شہداءکی تدفین اور فارسیوں کی لاشیں

آدھی رات میں جنگ ختم ہونے کے بعد مسلمان اپنے شہدا ءکو اُٹھاکر لے آئے،اور زخمیوں کو خواتین کے حوالے کیا،جنہوں نے اُن کی دیکھ بھال اور مرہم پٹی کی۔مسلمانوں کے ڈھائی ہزار مجاہدین شہید ہوئے تھے،اور فارسیوں کے دس ہزار سے زیادہ سپاہی قتل ہوئے تھے۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے اجازت دی کہ اگر چاہو تو شہداءکو غسل دے کر دفن کرو،یا پھر بغیر غسل کے دفن کرو ،جو بہتر ہے۔تاکہ شہداءقیامت کے دن اِسی حال میں اﷲ کی بارگاہ میں حاضر ہوں۔شہداءکے نگراںحضرت حاجب بن زید تھے،خواتین اور بچوں نے قبریں کھودیں، اور جنگ میں شہید ہوئے ڈھائی ہزار شہداءکو دفن کیا۔جبکہ فارسیوں نے اپنے مقتولوں کی لاشوں کو نہیں اُٹھایا،اور وہ وہیں میدان میں بے گورو کفن پڑی رہیں۔اور پورا میدان فارسیوں کی لاشوں سے بھرا پڑا تھا۔

یوم عمواس

قادسیہ میں تیسرے دن جو جنگ ہوئی ،اُسے ”یوم عمواس“ کہا جاتا ہے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب جنگ کا تیسرا دن شروع ہوا تو مسلمان اور اہل عجم اپنے اپنے مورچے پر آگئے۔اِس جنگ میں اب تک مسلمانوں کے دوہزار مجاہدین زخمی اور شہیدہو چکے تھے۔اور فارسیوں کے دس ہزار سے زیادہ قتل ہو چکے تھے۔اور اتنے ہی زخمی ہو چکے تھے۔حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ رات بھر مسلمانوں کو ہدایات دیتے رہے،اور اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ وہ اپنے انہی مورچوں پر ڈٹے رہیں،جن پر کل متعین تھے۔صبح ملک شام سے آنے والا پورا لشکر آگیا،پورے لشکر کے سپہ سالار حضرت ہاشم تھے،اور انہوں نے حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ کو لشکر کے ”مقدمة الجیش “پر مقرر کر کے پہلے ہی بھیج دیا تھا،اور وہ ایک دن پہلے ہی پہنچ گئے تھے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں