21 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 21
وظائف مقرر کرنا، وظائف کی ترتیب ، خصوصی اعزازی وظیفہ، خواتین کے وظائف، اخراجات مقرر کرنا، مال ہلاکت کا سبب، حاکم ،گورنر،عامل کی تنخواہ، صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کی فکر، رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا گذارہ، ملک شام میں حاکم مقرر کرنا،ملک مصر لشکر روانہ کرنا، خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کی مدینہ منورہ واپسی،
وظائف مقرر کرنا
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ صلح نامہ مرتب ہونے کے بعد کئی دن بیت المقدس میں تشریف فرما رہے،اِسکے بعد جابیہ آگئے۔یہاں قیام فرمانے کے دوران آپ رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کے وظائف مقرر فرمائے۔کیونکہ بہت زیادہ فتوحات کی وجہ سے بے شمار مال و دولت اور اسباب مسلمانوں کو حاصل ہو رہے تھے۔اور مال غنیمت میں سے خمس بیت المال میں بھی بہت زیادہ جمع ہو گیا تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔اِس سال ( 15 ہجری میں)حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کے وظائف مقرر کئے،اور رجسٹر تیار کئے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے وظائف کی بنیاد پہلے اسلام قبول کرنے پر رکھی۔اِس وجہ سے آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت صفوان بن اُمیہ،حضرت حارث بن ہشام،اور حضرت سہیل بن عمرو کو اہل فتح مکہ میں شامل کر کے انہیں پہلے والے مسلمانوں سے کم وظیفہ دیا۔انہوں نے عرض کیا؛”ہم سمجھتے ہیں کہ ہم سب سے زیادہ شریف خاندان کے ہیں۔“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”میں نے حسب ونسب کے لحاظ سے وظائف کی ترتیب نہیں رکھی ہے۔بلکہ اِس کا دار و مدار پہلے اسلام قبول کرنے پر ہے۔“یہ سن کر انہوں نے وظائف لے لئے۔
وظائف کی ترتیب
حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے وظائف کی تقسیم کے لئے رجسٹر بنانے کا حکم دیا،اور اُس میں ترتیب وار نام لکھنے کا حکم دیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے رجسٹر تیار کرنے کا حکم دیا ،تو حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے مشورہ دیا ؛”یا امیر المومنین رضی اﷲ عنہ !سب سے پہلے اپنا نام تحریر فرمایئے۔“خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”نہیں !بلکہ میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اﷲ عنہ سے شروعات کروں گا۔“اِس طر ح سب سے پہلے اُن کا وظیفہ مقرر فرمایا،پھر اہل بدر (بدری صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم) کے لئے پانچ پانچ ہزار کا وظیفہ مقرر فرمایا۔پھر اہل حدیبیہ تک کا چار چار ہزار کا وظیفہ مقرر فرمایا۔پھر صلح حدیبیہ کے بعد سے لیکر اُن لوگوں تک جو خلیفہ¿ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی عنہ کے دور ِ خلافت میں مُرتدین کے خلاف جنگ میں شریک تھے۔اُن کے لئے تین تین ہزار کا وظیفہ مقرر کیا۔اِن میں وہ لوگ بھی شامل تھے،جو فتح مکہ میں شریک تھے،اور وہ بھی شامل تھے،جنہوں نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی طرف سے جنگ کی۔وہ لوگ جو جنگ قادسیہ اور ملک شام کی جنگوں میں شریک تھے،انہیں دو دو ہزار کا وظیفہ مقرر فرمایا۔اور اِن میں وہ لوگ جنہوں نے نہایت عمدہ اور بہادرانہ کارنامے انجام دیئے تھے،انہیں ڈھائی ڈھائی ہزار کا وظیفہ مقرر فرمایا۔یرموک اور قادسیہ کے بعد کے لوگوں (مسلمان مجاہدین) کا ایک ایک ہزار کا وظیفہ مقرر فرمایا۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کے امدادی رضا کاروں کا پانچ پانچ سووظیفہ مقرر فرمایا۔اور دوسرے رضا کاروں کو جو اُن کے بعد تھے،ان کا تین تین سو کا وظیفہ مقرر فرمایا۔وظیفہ مقرر کرنے میں آپ رضی اﷲ عنہ نے عربی و عجمی سب کو برابر سمجھا۔ربیع کے امدادی مجاہدین کو ڈھائی سو کا وظیفہ مقرر فرمایا۔اور اُن کے بعد کے لوگوں کو جن میں اہل ہجر اور عباد شامل تھے،دو سو کا وظیفہ مقرر فرمایا۔
خصوصی اعزازی وظیفہ
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے خصوصی اعزازی وظائف بھی مقرر فرمائے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اہل بدر میں چار حضرات رضی اﷲ عنہم کوشامل کر دیا۔(1) حضرت امام حسن بن علی رضی اﷲ عنہ،(2) حضرت امام حُسین بن علی رضی اﷲ عنہ،(3) حضرت ابو ذر غفاری رضی اﷲ عنہ،(4) حضرت سلمان فارسی رضی اﷲ عنہ ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اﷲ عنہ کا پچیس ہزار وظیفہ مقرر فرمایا،بعض کہتے ہیں کہ بارہ ہزار مقرر فرمایا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی” ازواج ِ مطہرات“یعنی ”امہات المومنین“کے لئے دس دس ہزار کا وظیفہ مقرر فرمایا۔پہلے اِس میں ترتیب کے لحاظ سے فرق تھا،لیکن جب ازواج مطہرات نے فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ہمارے درمیان برابر تقسیم فرماتے تھے۔ تو آپ رضی اﷲ عنہ نے سب کا وظیفہ برابر کر دیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی محبت کی وجہ سے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کا وظیفہ دو ہزار زائد دینا چاہا،تو انہوں نے اسے قبول نہیں فرمایا۔اور سب ازواج مطہرات کے برابر ہی وظیفہ لینا پسند فرمایا۔
خواتین کے وظائف
حضرت عُمرفاروق رضی اﷲ عنہ نے خواتین کے بھی وظائف مقرر فرمائے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اہل بدر کی خواتین کے لئے پانچ پانچ سو کا وظیفہ مقرر فرمایا۔اُن کے بعد سے لیکر اہل حدیبیہ تک کی خواتین کا چار چار سو وظیفہ مقرر فرمایا۔اور بعد کی خواتین کے لئے تین تین سو کا وظیفہ مقرر فرمایا۔اہل قادسیہ کی خواتین کا دو دو سو وظیفہ مقرر فرمایا۔اس کے بعد آپ رضی ا ﷲ عنہ نے باقی تمام خواتین کا برابر کا وظیفہ مقرر فرمایا۔بچوں کا وظیفہ آپ رضی اﷲ عنہ نے سو سو کا برابر رکھا۔
اخراجات مقرر کرنا
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اخراجات کا بھی تخمینہ لگایا،اور اسے بھی مقرر فرمایا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔اس کے بعد حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اخراجات کا اندازہ لگانے کے لئے ساٹھ غریبوں کو جمع کیا،اور انہیں پیٹ بھر کر روٹی اور کھانا کھلایا۔اور اُن سب کی پوری غذا کا تخمینہ لگایا،تو معلوم ہوا کہ اُن پر دو جریب گندم کا آٹا خرچ ہوا ہے۔اِس اندازے کے مطابق آپ رضی اﷲ عنہ نے ہر انسان اور اُس کے خاندان کے لئے ماہانہ دو جریب غلہ مقرر فرمایا۔آپ رضی ا ﷲ عنہ اپنی شہادت سے پہلے فرماتے تھے؛”میرا ارادہ یہ ہے کہ میں چارچار ہزار کا وظیفہ ہر مسلمان کے لئے مقرر کروں،تاکہ ایک ہزار ،ہر مسلمان اپنے اہل و عیال پر خرچ کرے ،اور ایک ہزار توشہ کے طور پر رکھے۔ایک ہزار سے سامان خریدے،اور ایک ہزار پس انداز کرے۔“مگر عملی طور پر نافذ کرنے سے پیشتر آپ رضی اﷲ عنہ شہید ہو گئے۔
مال ہلاکت کا سبب
حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے ”بیت المال“قائم کیا،لیکن اُس میں بہت کم یعنی نہیں کے برابر مال رہتا تھا۔جو بھی مال غنیمت کا خمس آتا تھا،وہ سب آپ رضی ا ﷲ عنہ مسلمانوں میں تقسیم فرما دیتے تھے۔اور ”بیت المال“میں زیادہ تر وہی مال رہتا تھا،جو دوسرے شہر والوں تک پہنچانا ہوتا تھا۔یعنی امانت کے طور پر لکھا رہتا تھا،اور جیسے ہی موقع ملتا تھا،آپ رضی ا ﷲ وہ امانت اُن کے حقدار تک پہنچا دیتے تھے۔مجموعی طور سے بیت المال میں بہت ہی کم مال رہتا تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔کسی نے عرض کیا؛”یا امیر المومنین رضی اﷲ عنہ !آپ رضی اﷲ عنہ بیت المال میں کسی ناگہانی حادثہ کے لئے بھی مال جمع رکھا کریں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”یہ لفظ شیطان نے تمہاری زبان سے کہلوایا ہے،اﷲ تعالیٰ مجھے اُس کے شر سے محفوظ رکھے۔یہ بعد کے لوگوں کے لئے فتنہ و فساد کا سبب بن سکتا ہے۔بلکہ تمہیں یہ کہنا چا ہیئے تھا کہ میں اُن کے لئے وہی چیزتیار رکھوں ۔ جس کا حکم اﷲ تعالیٰ اور اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے۔اور وہ اﷲ اور اُس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کی اطاعت ہے۔یہی ہمارا وہ سامان ہے،جس کے زریعے ہم اِس(عروج کی)حالت پر پہنچے ہیں،جو تم دیکھ رہے ہو۔جب یہ مال دین داری کی قیمت بن جائے گا،تو تم ہلاک ہو جاو¿ گے۔“
حاکم ،گورنر،عامل کی تنخواہ
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حاکم یا گورنر یا عامل کی تنخواہ بھی مقرر فرمائی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتوحات عطا فرمائیں،اور رستم قتل ہوا۔اور خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں ملک عراق اور ملک شام سے فتوحات کا مال آیا،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو جمع کیا،اور فرمایا؛”حاکم کے لئے اِس مال میں سے کتنا لینا جائز ہے؟“صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم نے عرض کیا؛”اپنی ذات کے لئے تو (صرف اِس قدر لینا جائز)ہے ،جو اُس کے اور اُسکے اہل و عیال کے کھانے پہننے اور رہنے کے لئے کافی ہو۔نہ تو کم ہو،نہ ہی زیادہ ہو۔گرمی اور سردی کے پہننے کا لباس جو اُس کے لئے اور اُس کے اہل و عیال کے لئے کافی ہو۔اور سواری کے لئے دو جانور کافی ہیں،جو جہاد اور نجی ضروریات اور حج اور عمرہ کے سفر کے لئے سواری کا کام دیں سکیں۔منصفانہ تقسیم یہ ہے کہ جنگجو مجاہدین کا ان کے جنگی کارناموں کے مطابق عطیات دیئے جائیں،اور انتظامی معاملات اور ناگہانی مصائب و حوادث کے لئے رقم مخصوص کی جائے۔اور اِس رقم کا آغاز فاتحین سے کیا جائے۔حضرت عبد اﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں۔جب میرے والد محترم خلیفہ تھے تو اُن کے پاس قادسیہ اور دمشق کی فتوحات کا مال آیا ۔اُس وقت آپ رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو جمع کیا ،اور فرمایا؛”پہلے میں تاجر تھا،اﷲ تعالیٰ نے میرے اور میری اہل و عیال کو میری تجارت کی وجہ سے بے نیاز کر رکھا تھا۔مگر اب میں تمہارے کاموں(خلافت کے کاموں)میں مشغول ہوں۔اس لئے تمہاری کیا رائے ہے؟میں بیت المال میں سے کتنی رقم لے سکتا ہوں؟“ایک شخص نے کھڑے ہو کر خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ سے پوچھا؛”اِس مال میں آپ رضی اﷲ عنہ کے لئے کس قدر لینا جائز ہے؟“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”جو میرے اور میرے اہل و عیال کے لئے جائز طور پر کافی ہو سکے۔اور سردی اور گرمی کا لباس ہو،اور حج و عمرے کے لئے سواری ہو،اور ذاتی ضروریات کے لئے اور جہاد کے لئے ایک سواری کا جانور ہو۔“
صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کی فکر
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خلافت اتنی وسیع تھی کہ اُس وقت کی دو سب سے بڑی سوپر پاور ”سلطنت روم“اور ”سلطنت فارس“سے آپ رضی اﷲ عنہ تنہا ٹکر لے رہے تھے۔اور مسلسل اُن کا صفایا کرتے جارہے تھے۔اِس کے باوجود آپ رضی اﷲ عنہ صرف اتناہی لیتے تھے کہ بڑی مشکل سے اپنا اور اپنے اہل و عیال کا گذارہ کر سکیں۔صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم دیکھتے تھے کہ خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ انتہائی تنگدستی اور غربت کا شکار ہیں۔اِسی لئے انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ کیا وظیفہ بڑھایاجائے۔لیکن حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا اتنا رعب تھا کہ کسی کی آپ رضی اﷲ عنہ سے بات کرنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ خلیفہ ہوئے،تو اُسی رقم کے مطابق گذاراہ کرتے رہے،جو مسلمانوں نے خلیفۂ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے لئے مقرر کی تھی۔جب آپ رضی اﷲ عنہ زیادہ تنگ دستی کا شکار ہو گئے ،تو جلیل القدر صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم اکٹھا ہوئے،جن میں حضرت عثمان غنی،حضرت علی المرتضیٰ،حضرت طلحہ بن عبید اﷲ ، اور حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہم بھی شامل تھے۔حضرت زبیر رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”ہمیںامیر المومنین رضی اﷲ عنہ سے کہنا چاہیئے کہ ہم اُن کا وظیفہ بڑھانا چاہتے ہیں۔“حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”وہ عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ ہیں،آو¿ ہم در پردہ اُن کے خیالات معلوم کریں۔ہم سب اُم المومنین سیدہ حفصہ رضی اﷲ عنہا کے پاس چلتے ہیں،اور اُن کے ذریعے پوشیدہ طور سے معلوم کرتے ہیں۔“(اُم المومنین سیدہ حفصہ رضی اﷲ عنہا خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کی بیٹی ہیں۔)سب لوگ سیدہ حفصہ رضی اﷲ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے،اور عرض کیا کہ وہ صورت حال سے اُن کی طرف سے آگاہ کریں۔اور ہم میں سے کسی کا نا م نہ لیں،جب تک کہ خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ راضی نہ ہو جائیں۔
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا گذارہ
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں سیدہ حفصہ رضی اﷲ عنہا حاضر ہوئیں ،اور صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم کی فکر کا ذکر کیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ۔سیدہ حفصہ رضی اﷲ عنہا اِس معاملے میں اپنے والد محترم سے ملیں،تو آپ رضی اﷲ عنہ کے چہرے پر غضب کے آثار دیکھے۔خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”وہ کون لوگ ہیں؟“سیدہ حفصہ رضی اﷲ عنہا نے عرض کیا؛”آپ رضی اﷲ عنہ کو اُس وقت تک علم نہیں ہوسکتا ،جب تک کہ مجھے آپ رضی اﷲ عنہ کے خیالات کا علم نہ ہوجائے۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اگر مجھے معلوم ہوجاتا کہ وہ کون لوگ ہیں،تو میں اُن کے ساتھ برا سلوک کرتا۔تم اُن کے اور میرے درمیان واسطہ بن کر آئی ہو،تو میں تم سے اﷲ کا واسطہ دیکر پوچھتا ہو کہ تم نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ کافی وقت گذارہ ہے۔تمہارے گھر میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا سب سے بہترین لباس کیا تھا؟“سیدہ حفصہ نے عرض کیا؛”وہ انتہائی سادہ سے صاف کپڑے تھے،جو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم قبائل کے وفد کے سامنے یا مجمع کو خطبہ دینے کے وقت پہنتے تھے۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے پھر فرمایا؛”رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے تمہارے گھر میں سب سے بہترین کھانا کون سا کھایا ہے؟“انہوں نے عرض کیا؛”وہ جو کی روٹی ہوتی تھی ،جسے میں گرم ،چکنی،اور میٹھی صورت میں پیش کیا کرتی تھی،لیکن وہ بھی آپ صلی اﷲ علیہ وسلم روز روز نہیں کھاتے تھے(کبھی کبھی مل جاتی تھی)۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”تمہارے یہاں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا سب سے بہترین اور نرم بچھونا کیا تھا؟“سیدہ حفصہ رضی اﷲ عنہا نے عرض کیا؛”ہمارے پاس ایک کھردری چادر تھی،جسے ہم گرمی کے موسم میں چار پرت کر کے بچھا لیتے تھے،اور سردی کے موسم میں آدھی بچھاتے تھے،اور آدھی اوڑھ لیتے تھے۔“یہ سن کر آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اے حفصہ رضی اﷲ عنہا!تم انہیں میری طرف سے پیغام پہنچا دو کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کفایت شعاری کرتے تھے،اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فضول خرچی چھوڑ رکھی تھی۔اﷲ کی قسم!میں بھی کفایت شعاری کروں گا،اور فضول خرچی نہیں کروں گا۔“
ملک شام میں حاکم مقرر کرنا،ملک مصر لشکر روانہ کرنا
حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ بیت المقدس فتح ہونے کے بعد جابیہ میں مقیم تھے،اور آپ رضی اﷲ عنہ نے وہاں پر بہت بڑے بڑے فیصلے کئے۔اور ملک شام کے تمام علاقوں کے لئے حاکم اور سپہ سالار مقرر کئے،اور الگ الگ علاقوں کی طرف لشکر بھی روانہ فرمائے۔ملک شام کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔ایک حصہ میں حوران سے لیکر حلب تک کا علاقہ اور اُس کے مضافات شامل تھے۔اِس حصے کا حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو حکمراں بنایا۔اور یہ ہدایت فرمائی کہ صلیبیوں سے اُس وقت تک جنگ کرو ،جب تک کہ اسلام مکمل طور سے نافذ نہیں ہو جائے۔اور اﷲ تعالیٰ تمہیں مکمل طور سے کامیابی عطا فرما دے۔دوسرا حصہ جو ارض فلسطین ،ارض قدس اور سائل پر مشتمل ہے،اُس کا حکمراں حضرت یزید بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ کو بنایا۔اور انہیں حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کی زیر نگرانی رکھا۔اور حضرت یزید بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ قیساریہ اور آس پاس کے علاقوں پر اپنے حملے جاری رکھیں۔یہاں تک کہ اﷲ تعالیٰ ان تمام علاقوں پر اسلام کو نافذ کر دے۔خلیفہ دوم رضی اﷲ عنہ نے زیادہ تر لشکر حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کے پاس رکھا،اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو بھی اُن کے ساتھ رہنے کا حکم دیا۔اور مجموعی طور سے پورے ملک شام کا حکمراں حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کا بنایا۔(فتوحات شام)
خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کی مدینہ منورہ واپسی
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ کو ملک شام گئے ہوئے کافی عرصہ ہو گیا تھا،اور اہل مدینہ منورہ بے چینی سے آپ رضی اﷲ عنہ کا انتظار کر رہے تھے۔اُن کا خیال تھا کہ بلاد شام اور خاص طور سے بیت المقدس انبیائے کرام علیہم السلام کی سر زمین ہے۔اِس لئے خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہیں سکونت اختیار کر لیں۔اِس لئے اہل مدینہ منورہ روز انہ مدینہ منورہ سے نکل کر ملک شام کی طرف سے آنے والے راستے پر آکر آپ رضی اﷲ عنہ کا انتظار کرتے رہتے تھے،اور خبریں معلوم کرتے رہتے تھے۔انہیں آنے جانے والے قافلوں سے خبر ملتی رہتی تھی کی اب خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ یہاں پہنچ چکے ہی،اب یہاں پہنچ چکے ہیں۔آخر کار ایک دن حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ مدینہ¿ منورہ تشریف لے آئے۔ اور پورے مدینہ منورہ میں جیسے جان آگئی،سب لوگ استقبال کے لئے دوڑ پڑے۔اورخلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ کو ”فتح بیت المقدس“کی مبارکباددینے لگے۔ آپ رضی اﷲ عنہ سب سے پہلے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی قبر مبارک پر حاضر ہوئے،اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو سلام عرض کیا۔اِس کے بعد مسجد نبوی میں آکر دو رکعت نماز ادا کی۔اور اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔(فتوحات شام)
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!




