09 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 9
صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کا مشورہ، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ سپہ سالار، خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنی نصیحت اور ہدایات، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کی روانگی، ملک عراق میں اسلامی لشکر، حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کا انتقال، لشکر کا شراف یا سیراف میں پڑاؤ، لشکر کی ترتیب، لشکر اسلام کے کمانڈر،یا عہدے دار،یا سپہ سالار، قابوس بن منذر کا خاتمہ، حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کی وصیت
صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کا مشورہ
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر مدینہ منورہ کے باہر تشریف لائے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔یکم محرم الحرام 14 ھجری کو حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے،اور ایک چشمے پر جو”صرار“کے نام سے مشہور تھا،ٹھہر گئے۔اور وہاں اپنے لشکر کو جمع کیا۔لوگ اُن کے ارادے سے واقف نہیں تھے ،اور جب لوگوں کو آپ رضی اﷲ عنہ سے کوئی بات پوچھنی ہوتی تھی تو براہ راست نہیں پوچھتے تھے۔بلکہ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ یا حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ کے توسط سے دریافت کرتے تھے۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے زمانہ ¿خلافت میں حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ ”ردیف “کہلاتے تھے۔”ردیف“سے مُراد وہ شخص ہوتا تھا ،جس کے متعلق یہ توقع ہوتی تھی کہ امیر کے بعد وہ امیر ہوگا۔اور جب اُن دونوں سے بھی کام نہیں چلتا تھا ،تو اُن دونوں کے ساتھ حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اﷲ عنہ کو بھی لگا دیتے تھے۔حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ سے دریافت کیا کہ آپ رضی اﷲ عنہ کا کیا ارادہ ہے؟خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ نے لوگوں کو نماز کے لئے جمع ہونے کا حکم دیا۔جب سب لوگ جمع ہو گئے تو آپ رضی اﷲ عنہ نے سب کو اِن واقعات سے مطلع کیا۔اور اُن سے مشورہ طلب کیا،تو عام لوگوں نے کہا کہ آپ رضی اﷲ عنہ بھی چلیئے،اور ہمیں بھی لے چلیئے۔لیکن کبار صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے فرمایا کہ آپ رضی اﷲ عنہ مدینہ منورہ میں ہی ٹھہریں،اور اپنی جگہ کسی بڑے صحابی رضی اﷲ عنہ کو سپہ سالار بنا کر بھیج دیں،اور اُن کو کمک بھیجتے رہیں۔اگر مسلمانوں کو فتح ملی تو اِس طرح دشمن دباؤ میں آجائے گا،اور اﷲ کا وعدہ بھی پورا ہوگا۔اور اگر نعوذ باﷲ آپ رضی اﷲ عنہ کا شکست ہو گئی ،یا شہید ہو گئے،تو یہ اسلام اور مسلمانوں کے لئے اتنا بڑا صدمہ ہو گا کہ وہ پھر اُبھر نہیں پائیں گے۔
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ سپہ سالار
خلیفۂ دوم حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اِس بار سب لوگوں کو جمع کیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ نے لوگوں کو جمع ہونے کا حکم دیا۔اورحضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کو مدینہ منورہ میں اپنی جگہ نائب بنا کر آئے تھے،انہیں بھی بلوا لیا۔حضرت طلحہ رضی اﷲ عنہ کو ”مقدمة الجیش“(لشکر کا اگلا حصہ)کے طور پر لشکر دیکر بھیجا تھا،اُنہیں بھی واپس بلوا لیا۔اِس لشکر کے میمنہ پر حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ ،اور میسرہ پر حضرت عبد الر حمن بن عوف رضی اﷲ عنہ تھے۔خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے مجمع میں کھڑے ہو کر فرمایا:”اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو مذہب اسلام پر جمع فرمایا ہے،اُن کے دلوں میں اُلفت پیدا فرمائی ہے،اور ایک دوسرے کا بھائی بنا دیا ہے۔مسلمان آپس میں ایک جسم کی طرح ہیں،اگر جسم کے ایک حصے کو تکلیف ہوتی ہے،تو اُس کا دوسرا حصہ بھی تکلیف محسوس کرتا ہے۔اِسی طرح مسلمانوں پر واجب ہے کہ اُن کے کام ذی رائے اصحاب کے مشوروں سے انجام پذیر ہوں۔عام لوگ اُس شخص کے تابع ہیں،جس کو اُنہوں نے خلیفہ بنایا ہے،اور اس کو پسند کرتے ہیں۔اور جو خلیفہ ہے،وہ ذی رائے اصحاب کے تابع ہے،معاملات ِ جنگ میں اُن کی جو رائے موزوں ہوگی ،سب کو اُس کی پیروی کرنی ہوگی۔اے لوگو!میں بھی تمہاری طرح کا ایک فرد ہوں،میں تمہارا ہم خیال تھا۔مگر تم میں سے جو لوگ عقل و رائے کے مالک ہیں،انہوں نے مجھ کو نکلنے کے ارادے سے روک دیاہے۔اِس لئے میں بھی (مدینہ منورہ میں) قیام کو مناسب سمجھتا ہوں،اور اپنے بجائے کسی اور شخص کو روانہ کرتا ہوں۔اِس معاملے میں مشورہ کرنے کے لئے میں نے آگے اورپیچھے کے لوگوں کو جمع کر لیا ہے۔“اسی دوران حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کا خط خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں آیا۔وہ اُس وقت نجد کے صدقات کی وصولی پر مامور تھے،اور صدقات کا مال اور خط بھیجا تھا۔خط لیکر رکھنے کے بعد حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اے لوگو! مجھے مشورہ دو کہ کسے سپہ سالار بنا کر بھیجوں؟“حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”آپ رضی اﷲ عنہ کو سپہ سالار مل گیا ہے۔“خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”وہ کون ہے؟“حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”کچھار کا شیر،حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ ۔“اُن کا نام سُن کر تمام صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے بھی حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ کی تائید کی۔ایک روایت میں یہ ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ صدقات کی وصولی پر متعین تھے،اور تمام ملک عرب میں گھوم گھوم کر صدقات وصول کر رہے تھے کہ حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے انہیں لکھ کر بھیجا کہایسے لوگوں کا نتخاب کر کے بھیجو،جو شریف ،دانشمند،بہادر اور شہسوار ہوں۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے جواب میں خط بھیجا کہ میں نے آپ رضی اﷲ عنہ کے لئے ایک ہزار آدمیوں کا انتخاب کیا ہے،جن میں سے ہر ایک نہایت شریف،عقل مند،حسب ونسب میں اعلیٰ اور اسلامی حمیت میں کمال کو پہنچا ہوا ہے۔میں انہیں بہت جلد آپ رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیج رہا ہوں۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کا خط اُس وقت پہنچا جب خلیفہ دوم رضی اﷲ عنہ لوگوں سے مشورہ کر رہے تھے۔سب نے کہا کہ آپ رضی اﷲ عنہ کوسلطنت فارس کے لئے سپہ سالار مل گیا۔اور وہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ ہیں۔
خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنی نصیحت اور ہدایات
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اِس مشورے کو قبول فرمایا،اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کو بلا بھیجا۔جب حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ مدینہ منورہ آئے تو خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ نے اُن کو ملک عراق کے لئے سلطنت فارس کے خلاف اسلامی لشکر کا سپہ سالار مقرر کیا،اور فرمایا:”اے سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ !تم کو اِس کا گھمنڈ نہیں ہونا چاہیئے کہ تم کو ”رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا ماموں “اور ”رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا صحابی“کہا جاتا ہے۔کیونکہ اﷲ تعالیٰ برائی کو برائی سے نہیں مٹاتا ہے،بلکہ نیکی سے برائی کو مٹاتا ہے۔اﷲ اور بندے کے درمیان اطاعت کے سوا اور کوئی رشتہ نہیں ہے۔تمام انسان چاہے وہ شریف ہوں یا کمینے،اﷲ کے نزدیک برابر ہیں۔اﷲ اُن کا پالنے والا ہے،وہ اُس کے بندے ہیں۔ہاں !عبادت اور نیکی کے ذریعے کم اور زیادہ درجات حاصل کرتے ہیں،اور اطاعت کے ذریعے سے اُس کی بارگاہ سے سب کچھ پاتے ہیں۔پس تم وہی طریقہ اختیار کرنا،جو تم نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو ابتدائے بعثت سے لیکر وصال کے وقت تک کرتے ہوئے دیکھا ہے۔اُسی طریقے کو مضبوطی سے پکڑو،وہی طریقہ سب سے بہتر ہے۔میں تم کو یہی نصیحت کرتا ہوں۔اگر تم نے اس کو ترک کر دیا ،اور اس سے رو گردانی کی تو تمہارے اعمال ضائع ہو جائیں گے،اور تم خسارہ اُٹھاو¿ گے۔“اِس کے بعد جب حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کو لشکر دیکر روانہ کرنے لگے تو فرمایا:”میں تم کو سلطنت فارس کے خلاف ملک عراق کی جنگ کا سپہ سالار مقرر کرتا ہوں۔میری ہدایات کو یاد رکھنا،کیونکہ تم کو ایک نہایت شدید اور ناگوار صورت حال کا سامنا اور مقابلہ کرنا ہے۔جس سے سوائے حق پرستی کے چھٹکارہ نہیں ہے۔تم خود کو اور اپنے ساتھیوں کو نیکی کا خوگر کرو،یاد رکھو کہ ہر عادت کی ایک بنیاد ہے۔نیکی کی بنیاد صبر ہے، تم کو جب کوئی مصیبت پیش آئے گی تو اُس پر صبر کرنا۔صبر سے ہی تم کو خشیت الٰہی ہوگی ،یاد رکھنا کہ اﷲ کی اطاعت اور گناہوں سے بچنے سے اﷲ کی خشیت حاصل ہوتی ہے۔اصل نیت اور حال دلوںمیں چھپے ہوتے ہیں،جب وہ ظاہر ہوتے ہیں تو انسان کی تعریف اور برائی کرنے والے برابر ہوتے ہیں۔اور جب دلوں کے حال پوشیدہ ہوتے ہیں،تو انسان کے دل سے حکمت کی باتیں زبان کے ذریعے ظاہر ہوتی ہیں،اور لوگ اُس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔اﷲ کے محبوب بننے سے رو گردانی نہ کرو،کیونکہ انبیائے کرام علیہم السلام نے بھی اِسی کی تمنا کی تھی۔جب اﷲ کسی بندے کو محبوب بناتا ہے تو لوگوں کے دلوں میں اُس کی محبت پیدا فرما دیتا ہے۔اور جب کسی سے بغض کرتا ہے تو لوگوں کے دلوں میں اُس کا بغض پیدا فرما دیتا ہے۔تم اﷲ کی بارگاہ میں اپنا وہی مرتبہ سمجھو،جو تم کواُن لوگوں میں حاصل ہے،جن کے درمیان تم رہتے ہو۔
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کی روانگی
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کواُن مسلمان مجاہدین کے ساتھ ملک عراق روانہ کیا ،جو مدینہ منورہ میں آکر جمع ہو گئے تھے۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ چار ہزار کا لشکر لیکر ملک عراق کی طرف روانہ ہوئے۔اِن میں سے تین ہزار وہ تھے ،جو یمن اور سرات سے آئے ہوئے تھے۔انہیں روانہ کرتے ہوئے خلیفہ¿ دوم نے فرمایا:”جب تم ”زرود“پہنچ جاو¿ ،تو وہاں قیام کرنا۔اور وہاں کے لوگوں اوراُس کے مضافات کے لوگوںکو جہاد میں شرکت کی دعوت دینا۔اور ایسے لوگوں کو منتخب کرنا ،جو بہادر،شہسوار،قوی،عقل و رائے کے مالک اور اچھے خاندان کے لوگ ہوں۔حضرت سعد بن ابی وقاص کے روانہ ہونے کے بعد خلیفہ دوم رضی اﷲ عنہ نے چار ہزار کا لشکر اور اُن کی کمک کے لئے روانہ فرمایا۔جس میں دو ہزار یمن کے تھے،اور دوہزار نجد کے بنو غطفان اور بنو قیس کے تھے۔حضرت سعد بن بی وقاص رضی اﷲ عنہ سردی کے شروع میں ”زرود“پہنچے ،اور وہیں پڑاو¿ ڈال دیا۔اُن کے لشکر کے لوگ بنو تمیم اور بنو اسد کے چشموں کے آس پاس ٹھہر گئے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے بنو تمیم اور بنو اسد میں مجاہدین کا انتخاب کرنا شروع کیا۔ساتھ ہی خلیفہ دوم کی طرف سے اور کمک اور اگلے حکم کا انتظار بھی کر رہے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے قبیلہ بنو تمیم سے تین ہزار مجاہدین،قبیلہ بنو رباب سے ایک ہزار مجاہدین،اور قبیلہ بنو اسد سے تین ہزار مجاہدین کا انتخاب کیا۔اور اُن کو حکم دیا کہ اپنے علاقے کی سرحد پر ”حزن “اور ”بسیط“کے درمیان ٹھہریں۔اسی لئے وہ لوگ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کے لشکر اور حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کے لشکر کی درمیانی جگہ پر ٹھہر گئے۔
ملک عراق میں اسلامی لشکر
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ چار ہزار کے لشکر کے ساتھ ”زرود“میں قیام پذیر تھے۔بعد میں خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ نے چار ہزار کا لشکر اور بھیج دیا۔اِس کے علاوہ سات ہزار کے لشکر کی بھرتی بنو تمیم،بنو رباب، اور بنو اسد سے آپ رضی اﷲ عنہ نے کی تھی۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کے پاس آٹھ ہزار کا لشکر تھا۔اِن میں سے چار ہزار وہ تھے،جنہیں آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے ملک شام جانے کے بعد بھرتی کی تھی۔اور چار ہزار جنگ جسر یا حسبر سے باقی بچنے والے مجاہدین تھے۔ یہ تمام آٹھ ہزار کا لشکر قبیلہ بنو ربیعہ،قبیلہ بکر بن وائل،قبیلہ بنو بجیلہ، قبیلہ بنو طے،اور قبیلہ بنو قضاعہ کے مجاہدین پر مشتمل تھا۔بنو بجیلہ کے کمانڈر حضرت جریر بن عبد اﷲ تھے،بنو طے کے کمانڈر حضرت عدی بن حاتم طائی رضی اﷲ عنہ تھے،بنو قضاعہ کے کمانڈر حضرت عمرو بن دبرہ تھے۔
حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کا انتقال
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کو اُمید تھی کہ حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ اُن کے پاس آئیں گے۔اور حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ اِس اُمید میں تھے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ اُن کے پاس آئیںگے۔لیکن وہ تو خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کے حکم کے مطابق ”زرود“میں قیام پذیر تھے،اور حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کو جنگ جسر یا حسبر میں اتنے شدید زخم آئے تھے کہ آپ رضی اﷲ عنہ بالکل سفر کرنے کے قابل نہیں تھے۔یہاں تک کہ یہ زخم جان لیوا ثابت ہوئے ،اور آپ رضی اﷲ عنہ کا انہیں زخموں کی وجہ سے انتقال ہو گیا یا شہید ہو گئے۔اپنے آخری وقت میں حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے اپنے لشکر کا سپہ سالار حضرت بشیر الخصاصبہ کو بنادیا تھا۔
لشکر کا شراف یا سیراف میں پڑاؤ
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کو ”زرود“سے آگے بڑھنے کا حکم دیتے ہوئے لکھا کہ ایک دستہ ”فرج الہند“کے سامنے بھیج دو۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کو جب وہ زرود سے کوچ کر رہے تھے،لکھا کہ ”فرج الہند“کے سامنے کسی ایسے شخص کو بھیج دو،جسے تم پسند کرتے ہو،تاکہ وہ (دشمن سے) آڑ بن جائے۔اور اُس کی طرف سے کوئی حملہ ہو تو اُس کو روک سکے۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ کو پانچ سو مجاہدین کا دستہ دیکراُس طرف روانہ کر دیا۔حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ ”ابلہ“کے سامنے مقیم ہو گئے۔ اِس مقام پر سلطنت روم،سلطنت فارس اور ملک عرب کی سرحدیں ملتی ہیں۔اور ایک طرف سمندر ہے ،جس کے ذریعے ہندوستان کے لوگ پانی کے جہازوں سے یہاں داخل ہوتے تھے۔اِسی لئے اِس علاقے کا نام ”فرج الہند“تھا۔جب حضرت سعد رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ شراف یا سیراف پہنچ گئے تو انہیں حکم دیا کہ ”غضیٰ“آجاو¿۔یہ حکم سن کر حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ ”غضیٰ“آگئے ،جہاں پہلے سے حضرت جریر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ موجود تھے،اور وہیں قیام پذیر ہو گئے۔
لشکر کی ترتیب
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ جب شراف یا سیراف میں پہنچ کر قیام کرنے کے بعد اپنے لشکر اور غضیٰ سے لیکر جبانہ تک کے تما م لشکروں کا حال لکھ کر خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیجا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔اِس کے جواب میں حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے لکھ کر بھیجا کہ میرا یہ خط جب تمہارے پاس پہنچے تو لوگوں کو دہائیوں میں تقسیم کر دینا،اور اُن پر عریف اور امیر مقرر کر دینا،اورلشکر کی ترتیب کر دینا۔اور ہرلشکر کے کمانڈر کو بلا کر صحیح تعداد معلوم کر کے انہیں مقرر کر کے واپس بھیج دینا۔اور سب کے ”قادسیہ “پہنچنے کا ایک وقت مقرر کر دینا،اور حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ کو مجاہدین کے ساتھ واپس بلا کر اپنے لشکر میں شامل کر لینا۔اور تمام انتظامات کی تکمیل کے بعد مجھے اطلاع دینا۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ کو بلوا لیا،اور تمام قبائل کے سرداروں کو بلا لیا۔پھر ہر قبیلے کے مجاہدین کی گنتی کی،اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانے کے مطابق ہر دس مجاہد پر ایک عریف مقرر فرمایا۔ مجاہدین کی تعداد تیس ہزار(۰۰۰،۰۳)تک پہنچ گئی ہے۔انہوں نے ہر دس مجاہد پر ایک ایک ایسے شخص کو مقرر فرمایا،جو اسلام میں سبقت رکھتے تھے۔اور لشکر کے الگ الگ حصوں کا سپہ سالار یاکمانڈر جلیل القدر صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کو بنایا۔اور مقدمة الجیش، میمنہ، میسرہ، پیدل، سوار،طلایہ گردی(گشت)،غرض یہ کہ ہر ایک پر عہدے دار مقرر فرمائے۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ اپنی ہر نقل و حرکت اور ترتیب خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے حکم کے مطابق کرتے تھے۔
لشکر اسلام کے کمانڈر،یا عہدے دار،یا سپہ سالار
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے ”مقدمة الجیش“(ہر اول )کا سپہ سالار حضرت زہرہ بن عبد اﷲ بن قتادہ رضی اﷲ عنہ کو بنایا۔زمانہ جاہلیت میں یہ بحرین کے بادشاہ تھے۔اپنی قوم کی طرف سے وفد لیکر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے،اور اسلام قبول کیا تھا۔وہ اجازت ملنے پر اپنے لشکر کو لیکر ”عذیب“کی طرف روانہ ہو گئے۔”میمنہ “پر حضرت عبد اﷲ بن معتم رضی اﷲ عنہ کو سپہ سالار بنایا۔یہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ہیں۔”میسرہ پر حضرت شرجیل بن سمط کندی کو کمانڈر بنایا،یہ نوجوان آدمی تھے۔انہوں نے مُرتدین سے جنگ کی تھی ،اور اِس میں نمایاں کامیابی اور شہرت حاصل کی تھی۔مدینہ منورہ سے لیکر کوفہ کی جائے وقوعہ تک کے علاقے میں اِن کو اشعث سے زیادہ ممتاز اور معزز مانا جاتا تھا۔اِن کے والد اُن لوگوں میں سے ہیں،جو حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی ا ﷲ عنہ کے ساتھ سب سے پہلے ملک شام پہنچے تھے۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔حضرت عاصم بن عمرو تمیمی رضی اﷲ عنہ کو ”ساقہ“کا سپہ سالار بنایا۔یہ قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ کے بھائی ہیں۔لشکر کا نائب سپہ سالار حضرت خالد بن عر لظہ رضی اﷲ عنہ کو مقرر کیا۔”طلایہ گردی“(گشتی دستوں)پر حضرت سواد بن مالک تمیمی کو متعین کیا۔حضرت سلمان بن ربیعہ باہلی کو گھڑ سواروں کا سپہ سالار بنایا۔حضرت جمال بن مالک اسدی کو پیدلوں کا سپہ سالار مقرر کیا۔اونٹ سواروں کا سپہ سالار حضرت عبد اﷲ بن ذی سہمین کو بنایا۔”قاضی و خزانچی “حضرت عبد الرحمن بن ربیعہ باہلی کو بنایا۔ ”رائد“(رسد ،کھانے پینے کے سامان کا بندو بست کرنے والے)حضرت سلمان فارسی رضی اﷲ عنہ کو بنایا۔آپ رضی اﷲ عنہ فارس (ایران) میں پیدا ہوئے ،اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے ،راستے میں غلام بنا کر بیچے گئے ۔آخر کار مدینہ منورہ میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے دست مبارک پر اسلام قبول کیا۔اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے غلامی سے نجات دلائی۔”مُترجم “حضرت ہلال ہجری کو بنایا۔اور ”کاتب “(سکریٹری)حضرت زیاد بن ابی سفیان کو بنایا۔
قابوس بن منذر کا خاتمہ
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ شراف یا سیراف میں لشکر کی ترتیب کر رہے تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔اسی دوران حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کے بھائی ،حضرت معنیٰ بن حارثہ ،سلمیٰ بنت خصیفة (حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کی بیوی)کو اور اپنے بھائی کی وصیت کو لیکر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں پہنچے۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے سیدہ سلمیٰ کے متعلق حضرت سعد رضی اﷲ عنہ کو وصیت کی تھی،اور اپنے بھائی کو حکم دیا تھا کہ سلمیٰ کوجلد از جلد حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کے پاس پہنچا دینا۔مگر انہیں دیر لگ گئی ،کیونکہ قابوس بن منذر کو آزادمرد بن آزاذبہ نے قادسیہ کی طرف روانہ کرتے ہوئے حکم دیا تھا کہ تم عربوں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکاو¿،اور اُن سے جنگ کے لئے تیار کرو۔جب حضرت معنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کو اِس کے بارے میں خبر ملی تو وہ قادسیہ گئے ،اور قابوس بن منذر کو قتل کر کے واپس آئے۔اسی لئے آپ رضی اﷲ عنہ کو حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کے پاس پہنچنے میں دیر لگی۔
حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کی وصیت
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حضرت معنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ لشکر کو لیکر اور اُن کی بیوہ کو اور وصیت کو لیکر حاضر ہوئے۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے حضرت سعد رضی اﷲ عنہ کو مشورہ دیا کہ اگر دشمنان ِ اسلام کی فوجیں پوری طرح پوری تیاری سے آمادہ¿ پیکار ہوں تو آپ ان کے ملک میں گھس کر اُن سے جنگ نہ کریں۔ بلکہ ایسے مقام پر جنگ کریں جو اُن کی حدود پر ہو ،اور ملک عرب سے قریب تر ہو۔تاکہ مسلمان فتح یاب ہوں تو اس سے آگے کا علاقہ بھی ان کے قبضہ و تصرف میں آجائے۔ورنہ بصورت دیگر مسلمان اپنی جمیعت کی طرف واپس آ جائیں،اور اپنی سر زمین میں رہ کر کمال جرا¿ت سے جو مصلحت کے مطابق ہو گا،اُس پر کا ربند ہوں۔اﷲ کی ذات سے قوی اُمید ہے کہ مسلمانوں کا دوسرا حملہ ضرور کامیاب ہوگا۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کی رائے اور وصیت سن کر اُن کے حق میں دعائے خیر کی۔اور حضرت معنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کو اُن کے لشکر کا سپہ سالار مقرر کیا۔اور سیدہ سلمیٰ کو نکاح کا پیغام دیا جو انہوں نے قبول کر لیا ،اور اُن کی زوجیت میں آگئیں۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!




