جمعرات، 3 اگست، 2023

14 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ Khilafat e Rashida 2


14 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی 

قسط نمبر 14

فارسی ہاتھیوں کی دوبارہ آمد، حضرت شبر بن علقمہ کی بہادری، گھمسان کی جنگ، حضرت عمرو بن معدی کرب کی بہترین تلوار بازی، ہاتھیوں کی تباہی کی ترکیب، ہاتھیوں کی سونڈ اور آنکھوں پر حملے، ہاتھیوں میں بھگڈر، شدید جنگ، لیلة الحریر، حضرت سعد رضی اﷲ عنہ کی دعا، لیلة الحریر نام کیوں پڑا، آخری کاری حملہ، رستم کا قتل، آہن پوش لشکر کا قتل عام، قادسیہ میں فتح، جالینوس کا قتل، جنگ قادسیہ کا اختتام

فارسی ہاتھیوں کی دوبارہ آمد

قادسیہ میں تیسرے دن حضرت ہاشم بھی مسلمانوں کے لشکر میں تھے۔اور اپنے لشکر کے ساتھ قلب میں فارسیوں کے مقابلے پر آئے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب صبح ہوئی تو مسلمان مجاہدین میدان میں اپنی صفوں میں جم گئے۔فارسیوں کے سامنے اُن کے سپاہیوں کی لاشیں پڑی ہوئی تھیں۔اور وہ اپنے مُردوں کے پاس نہیں جاتے تھے،لہٰذا اِن مقتولین کی موجودگی مسلمانوں کے حق میں مفید ثابت ہوئی ۔اور اِس سے مسلمانوں کے حوصلے بڑھ گئے ،اور انہیں تقویت پہنچی۔حضرت ہاشم نے ہدایت کی کہ جنگ کا آغاز سواروں کی لڑائی سے کیا جائے ،پھر تیر اندازی ہو گی۔پھر انہوں نے اپنی کمان پر تیر چڑھایا،اور مسلمانوں سے فرمایا؛”تمہارے خیال میں میرا تیر کہاں تک پہنچے گا؟“لوگ بولے۔”عتیق تک“انہوں نے تیر مارا تو وہ عتیق تک پہنچ گیا۔فارسی سپاہی رات بھر اپنے ہاتھیوں کے صندوقوں اور ہودوں کو درست کرتے رہے،یہاں تک کہ انہیں درست کر لیا،اور ہاتھیوں کو لیکر اپنے مورچے پر آئے،اور انہیں اُن کی جگہ متعین کر دیا۔اور پیدل فوج کو اِس بات پر متعین کر دیا کہ مسلمان ہاتھیوں کے ہودوں اور صندوقوں کو نہ کاٹ سکیں۔اور پیدل فوج کی حفاظت کے لئے سواروں کی فوج تھی۔لیکن آج وہ مسلمانوںکو زیادہ نقصان نہیں پہنچا سکے ،کیونکہ مسلمانوں کے گھوڑے اب ہاتھیوں بدک نہیں رہے تھے۔بہر حال جنگ اسی طرح جاری رہی اور دن ڈھل گیا۔

حضرت شبر بن علقمہ کی بہادری

جنگ قادسیہ میں یوم عمواس کی صبح جب دونوں لشکر آمنے سامنے آئے ،تو فارسی لشکر سے ایک آدمی نکلا ،وہ کافی لمبا چوڑا تھا۔اُس نے گرج کر کہا ؛”کون مقابلے کے لئے آرہا ہے؟“مسلمانوں میں سے کسی نے جواب نہیں دیا تواُس وقت مسلمانوں کے درمیان سے حضرت شبر بن علقمہ نکلے،یہ بہت ہی پستہ قد اور بد صورت تھے۔انہوں نے فرمایا؛”اے مسلمانو!اِس شخص نے تمہارے ساتھ انصاف کیا ہے،مگر کسی نے اِس کا جواب نہیں دیا،اور نہ ہی کوئی مقابلے کے لئے نکلا۔اﷲ کی قسم ! اگر تم مجھے حقیر نہ سمجھو ،تو میں اِس سے مقابلہ کر سکتا ہوں۔“جب مسلمانوں میں سے کسی نے کوئی جواب نہیں دیا تو وہ آگے بڑھے،اور اُس فارسی سپاہی کے سامنے آگئے۔ آپ اُس کے سامنے بونے دکھائی دے رہے تھے۔یہ دیکھ کر وہ گھوڑے سے اُتر آیا،اور دونوں میں مقابلہ ہونے لگا۔اور یہ دیکھ کر دونوں لشکر والے حیران رہ گئے کہ حضرت شبر نے اُس لمبے چوڑے فارسی کواپنے سر کے اوپر اُٹھا لیا،اور پھر پٹک کر اُس کے سینے پر چڑھ بیٹھے۔انہوں نے اُس کا سر کاٹنے کے لئے تلوار نکالی تو اُسی وقت اُن کا گھوڑا بدک گیا۔یہ دیکھ کر فارسی لشکر کے لوگ چلانے لگے ،اور اُس فارسی کی حوصلہ افزائی کرنے لگے۔یہ سن کر آپ نے فرمایا؛”تم جس قدر چاہو چلاو¿،میں اِسے نہیں چھوڑوںگا،اور اﷲ کی قسم !اِسے قتل کر کے رہوں گا۔“یہ فرما کر آپ نے تلوار سے اُس کے اوپر اتنا زبردست وار کیا کہ اُس کی گردن تن سے جدا ہوگئی۔

گھمسان کی جنگ

اِس کے بعد جنگ مغلوبہ شروع ہو گئی،اوردونوں لشکر نے آگے بڑھ کر ایک دوسرے پر حملہ کردیا۔اور گھمسان کی جنگ ہونے لگی۔بہت شدید جنگ ہو رہی تھی ،اور دونوں فریق کا پلہ لگ بھگ برابر چل رہا تھا۔اِدھر سے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ مسلمانوں کو ہدایت دے رہے تھے،اور اُدھر سے رستم فارسی لشکر کو ہدایت دے رہا تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔”یوم عمواس“میں شروع سے لیکر آخر تک نہایت گھمسان کا رن پڑا۔اِس میں عرب و عجم دونوں کا پلہ بھاری رہا۔اِس کی وجہ یہ تھی کہ معمولی سے معمولی بات بھی کسریٰ تک پہنچ رہی تھی۔اور وہ انہیں امدادی کمک بھیج دیتا تھا،جس سے فارسیوں کے حوصلے بڑھ جاتے تھے۔ اگر اﷲ تعالیٰ مسلمانوں کی مدد نہ فرماتے تو مسلمانوں کا فتح حاصل کر پانا بہت مشکل تھا۔ایسے وقت میں مسلمانوں کے کمانڈر اُن کے حوصلے بڑھا رہے تھے۔حضرت قیس نے فرمایا؛”اے اقوام ِ عرب!اﷲ تعالیٰ کا یہ تم پر بہت بڑا احسان ہے کہ اُس نے تمہیں مسلمان بنایا۔اور حضرت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے زریعے تمہیں عزت بخشی،اور تم اﷲ کی مہربانی سے بھائی بھائی ہو گئے۔اب تمہاری دعوت ایک ہو گئی ہے،اور تم متحد ہو گئے ہو۔حالانکہ اِس سے پہلے تم میں سے ہر ایک دوسرے پر شیر کی طرح حملہ کرتا تھا،اور ایک دوسرے پر بھیڑیئے کی طرح جھپٹتے تھے۔اگر تم اﷲ کے دین کی مدد کرو گے، تو اﷲ تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا۔اور وہ تمہارے ہاتھوں ملک فارس کو فتح کرائے گا۔جیسا کہ تمہارے بھائیوں کے ہاتھوں ملک شام فتح کرا رہا ہے۔اور وہاں کے سرخ و سفید محل اور قلعوں پر مسلمانوں کا قبضہ ہوتا جارہا ہے۔“

حضرت عمرو بن معدی کرب کی بہترین تلوار بازی

قادسیہ کے میدان پر تیسرے دن یوم عمواس کی جنگ جاری تھی،اور آج فارسی لشکر دوبارہ ہاتھیوں کو لیکر میدان میں آیا تھا۔لیکن مسلمانوں نے بھی ہاتھیوں کے اِس حملے کو ناکام بنا دیا تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عمرو بن معدی کرب نے فرمایا؛”میں ہاتھیوں اور اُن کے اِرد گرد کی پیدل اور سوار فوج پر حملہ کرنے جا رہا ہوں۔تم مجھے قربانی کا جانور سمجھ کر چھوڑ نہ دینا،اگر تم لوگوں کو دیر ہو گئی تو ابو ثور(حضرت عمرو بن معدی کی کنیت ہے۔)کا کام تمام ہو جائے گا، پھر تمہیں ابو ثور جیسا شہسوار کہاں ملے گا۔اگر تم جلدی میرے پاس پہنچ گئے تو میرے ہاتھوں سے تلوار کا کمال دیکھنا۔“یہ فرما کر انہوں نے ہاتھیوں کے اطراف کی فوج پر حملہ کر دیا،اور فارسیوں پر اتنی شدیدتلوار چلائی کہ اُن کے گھوڑے کی ٹاپوں سے گر دو غبار چھا گیا۔اُن کے ساتھی مسلمانوں نے کہا؛”تم کیا انتظار کر رہے ہو؟اگر تم نے انہیں کھو دیا تو سمجھ لو کہ مسلمانوں نے اپنے ایک بہت بڑے شہسوار کو کھو دیا۔“اِس کے بعد انہوں نے مل کر حملہ کیا تو دیکھا کہ فارسیوں نے ہر طرف سے حضرت عمرو بن معدی کو گھیر رکھا ہے ،اور آپ بے جگری سے تلوار چلا رہے ہیں،اور ہر وار میں ایک نہ ایک فارسی کا سر ہوا میں اُڑتا تھا۔مسلمانوں نے ایک ساتھ حملہ کیا تو حضرت عمرو بن معدی کے اطراف کا فارسی گھیرا ٹوٹ گیا۔

ہاتھیوں کی تباہی کی ترکیب

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ دیکھ رہے تھے کہ ہاتھیوں کی وجہ سے ابھی بھی مسلمانوں کو بہت پریشانی پیش آرہی ہے۔تو آپ رضی اﷲ عنہ نے ہاتھیوں کی تباہی کی ترکیب سوچنی شروع کر دی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے دیکھا کہ ہاتھی مسلمانوں کے لشکر کو منتشر کر رہے ہیں،اور یوم ارمات کی طرح اپنا کام کر رہے ہیں۔تو انہوں نے مسلمان ہوئے فارسیوں ضخم،مسلم، رافع اور عشنق کو بلوایا،اور اُن سے دریافت کیا کہ ہاتھیوں کا کمزور مقام کون سا ہے؟انہوں نے کہا کہ سونڈ اور آنکھیں،اِن کے بعد وہ بالکل بے کار ہو جاتے ہیں۔یہ سن کر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے حضرت عاصم بن عمرو اور حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہم کو یہ پیغام بھیجا کہ مسلمانوں سے کہو کہ ہاتھیوں کی سونڈوں اور آنکھوں پر حملے کریں ۔اور تم دونوں مجھے سفید ہاتھی سے نجات دلاو¿۔یہ ہاتھی اُن کے سامنے تھا،اسی طرح حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے پورے اسلامی لشکر کے کمانڈروں کو پیغام دیا کہ وہ مسلمانوں سے کہیں کہ ہاتھیوں کی سونڈوں اور آنکھوں پر وار کریں۔

ہاتھیوں کی سونڈ اور آنکھوں پر حملے

حضرت سعد رضی اﷲ عنہ کا پیغام پورے اسلامی لشکر میں پھیل گیا۔اب تمام مسلمانوں کی کوشش یہی تھی کہ ہاتھیوںکی سونڈ اور آنکھوں پر نشانہ لگایا جائے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت قعقاع اور حضرت عاصم رضی اﷲ عنہم دونوں بھائیوں نے ایک تیز اور سخت نیزے لئے،اور گھڑسواروں اور پیدل مجاہدین کو حکم دیا کہ سفید ہاتھی کو گھیر لیں۔جب انہوں نے اُسے گھیر لیا تو ہاتھی دائیں بائیں دیکھنے لگا۔ایسے وقت میں دونوں بھائیوں نے تاک کر ایک ساتھ سفید ہاتھی کی دونوں آنکھوں میں نیزہ گھسا کر پھوڑدیں۔سفید ہاتھی اندھا ہو گیا،اور اُس نے گھبرا کر اپنے فیل بان اور اپنے اوپر سواروں کو گرا دیا،جنہیں مسلمانوں نے فوراً قتل کر دیا۔ادھر جیسے ہی سفید ہاتھی نے اپنی سونڈ اوپر اُٹھائی ،اسی وقت دونوں بھائیوں نے ایک کے بعد ایک کر کے اُس کی سونڈ پر وار کیا ،اور کاٹ دیا۔سفید ہاتھی پہلو کے بل گر گیا،اور حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ کو شہید کرنے والا سفید ہاتھی مارا گیا۔

ہاتھیوں میں بھگڈر

مسلمانوں نے جب ہاتھیوں کی سونڈوں اور آنکھوں پر وار کرنا شروع کیا تو اِس کی وجہ سے ہاتھیوں کا زور ٹوٹ گیا،اور وہ بھاگنے لگے۔علامہ محمد جریر بن طبری لکھتے ہیں۔ہاتھیوں کی سونڈ کٹنے اور آنکھیں پھوٹنے کے بعد وہ سو¿روں کی طرح چلانے لگے۔اِس کے بعد ایک ہاتھی پیٹھ موڑ کر بھاگا،اور نہر عتیق میں کود گیا۔بقیہ ہاتھیوں نے اُس کی پیروی کی اور وہ فارسیوں کوروندتے ہوئے انہیں پار کر کے نہر عتیق میں پہنچے ،اور پھر اُسے بھی پار کر کے مدائن کی طرف بھاگ گئے،اور جو ہاتھیوں پر سوار تھے ،وہ سب ہلاک ہو گئے۔

شدید جنگ

ہاتھیوں کے جانے کے بعد فارسیوں کے مقابلے میں مسلمانوں کے حوصلے بلند ہو گئے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب ہاتھی چلے گئے ،اور صرف مسلمان اور فارسی سپاہی رہ گئے تھے۔اُس وقت دن ڈھل چکا تھا،تب مسلمانوں نے پھر شدید حملہ کیا ،اور اُن کی حفاظت شہسواروں نے کی۔جو دن کے ابتدائی حصے میں جنگ کر رہے تھے،اور اُن کی بدولت پیدل مسلمانوں نے بہادری کے ساتھ جم کر مقابلہ کیا۔ہاتھیوں کے بھاگنے کے بعد رستم نے فارسی سپاہیوںکو حکم دیا کہ اونٹوں کو آگے کرو۔ یہ دیکھ کر مسلمانوں نے بھی اپنے اونٹوں کو آگے کر دیا۔شام تک شدید جنگ ہوتی رہی،اور جب رات ہوئی تو حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے ”لیلة الحریر“لہرا دیا۔اور جنگ بند ہو گئی۔لیکن دونوں حریف صفوں پر ڈٹے رہے۔اِسی لئے اِس رات کو ”لیلةُ الحریر“کہا گیا۔اِس کے بعد قادسیہ میں رات میں کوئی جنگ نہیں ہوئی۔آج کے دن کی جنگ لگ بھگ برابری پر ختم ہوئی ،لیکن مجموعی طور سے دیکھا جائے تو مسلمان مجاہدین کم شہید ہوئے،اور فارسی سپاہی بہت زیادہ تعداد میں قتل ہوئے۔اور پہلے دن جو دونوں لشکروں کے درمیان تعداد کا بہت زیادہ فرق تھا،وہ تیسرے دن کی جنگ کے بعد کم ہو کر لگ بھگ برابری پر آگیا تھا۔مجموعی طور سے تین دنوں میں فارسی لشکر کے چالیس ہزار سے زیادہ سپاہی قتل ہوئے تھے۔

لیلة الحریر

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے جنگ بندی کا حکم دینے کے بعد حضرت طلیحہ اور حضرت عاصم بن عمرورضی اﷲ عنہ کو گشت پر مقرر کیا۔دونوں اپنے اپنے دستے کے ساتھ فارسی لشکر کے قریب گشت لگا کر واپس آنے لگے۔تو حضرت طلیحہ اپنے دستے کو لیکر فارسی لشکر کے پیچھے نہر عتیق کے قریب پہنچ کر تین دفعہ نعرہ تکبیر لگا کر چلے آئے۔اِس تکبیر سے فارسی لشکر میں ہلچل مچ گئی۔علامہ محمد جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت طلیحہ دشمن کے لشکر کے پیچھے پہنچے ،تو تین مرتبہ نعرہ تکبیربلند کیا ،پھر چلے آئے۔دشمن اُن کی تلاش میں نکلے ،مگر انہیں نہیں معلوم ہو سکا کہ وہ کہاں چلے گئے۔جبکہ حضرت طلیحہ ندی عبور کر کے اپنے لشکر میں چلے آئے تھے،اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کو اِس واقعہ کی اطلاع دی۔فارسیوں پر اِ س تکبیر کا بہت برا اثر ہوا،اور مسلمان خوش ہو گئے۔کیونکہ دشمن کو یہ نہیں معلوم ہو سکا کہ نعرہ لگانے والے کون ہیں۔فارسیوں نے اپنے لشکر کو مرتب کرنا شروع کر دیا،اور انہیں صف بندی کرتے دیکھ کر مسلمانوں نے بھی صف بندی کر لی،اور فریقین میں رات میں ہی جنگ شروع کر دی۔جب مسلمان سواروں نے پیش قدمی کی تو فارسی لشکر کی طرف سے اُن پر تیر اندازی کی گئی،جس میں حضرت خالد بن نعیم تمیمی شہید ہو گئے۔مسلمان سوار پھر بھی آگے بڑھے،اور فارسی سواروں پر حملہ کر دیا۔حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ نے اُس مقام پر حملہ کیا،جہاں سے فارسی تیر اندازی کر رہے تھے۔پھر ہر طرف جنگ شروع ہو گئی ،حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے جنگ شروع کرنے کی تین تکبیروں میں سے دو ہی تکبیر کہی تھی کہ فارسی لشکر نے ایک ساتھ اسلامی لشکر پر حملہ کردیا۔اور مسلمان اپنے سپہ سالار رضی اﷲ عنہ کی تیسری تکبیر کہنے سے پہلے ہی فارسیوں پر جوابی حملے کرنے لگے۔

حضرت سعد رضی اﷲ عنہ کی دعا

فارسی لشکر کے اچانک ہر طرف کے حملے کی وجہ سے مسلمانوں کو فوراً جوابی کاروائی کرنی پڑی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔مسلمان حملہ کرنے میں جلدی کر رہے تھے،اور حضرت سعد رضی اﷲ عنہ کی تکبیروں کا انتظار کر رہے تھے،اور(فارسیوں کے اچانک حملے کی وجہ سے) اُن کے بلند ہونے میں تاخیر محسوس کر رہے تھے۔لہٰذا جب حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے دوسری تکبیر بلند کی تو حضرت عاصم بن عمرو رضی اﷲ عنہ نے فارسیوں پر جوابی حملہ کردیا،اور اپنے بھائی حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ کے ساتھ فارسیوں سے جنگ میں شامل ہو گئے۔قبیلہ بنو نخع نے بھی حملہ کر دیا،اور اکثریت نے حملہ کر دیا،اور صرف لشکر کے کمانڈروں نے انتظار کیا،اور وہ بھی حضرت سعد رضی اﷲ عنہ کی تیسری تکبیر کے بعد جنگ میں شامل ہو گئے۔جب ”لیلة الحریر“میں مسلمانوں نے عام حملہ کیا ،اور حضرت سعد رضی اﷲ عنہ کے حکم کا انتظار نہیں کیا۔جب پہلی تکبیر کے بعد ہی قبیلہ بنو اسد آگے بڑھا تو آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اے اﷲ !اِن کو معاف فرما دے،اِن کی مدد فرما،اور ساری رات قبیلہ بنو اسد کو نصرت حاصل ہو۔“پھر انہیں بتایا گیا کہ قبیلہ بنو نخع نے حملہ کیا ہے،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے اُن کے لئے بھی مغفرت اور نصرت کی دعا فرمائی ۔پھر بتایا گیا کہ قبیلہ بنو بجیلہ نے بھی حملہ کر دیا ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اے اﷲ !اِن کی مغفرت فرما ،اور دستگیری کر۔بنو بجیلہ کیا ہی اچھا قبیلہ ہے۔“اس کے بعد بنو کندہ نے حملہ کیا،توآپ رضی اﷲ عنہ نے اُن کی تعریف فرمائی ۔اِس کے بعد تیسری تکبیر سن کر تمام کمانڈروں نے حملہ کیا،اور صبح تک گھمسان کی جنگ ہوتی رہی۔اِس جنگ کو ”لیلة الحریر“کہا جاتا ہے۔

لیلة الحریر نام کیوں پڑا

قادسیہ میں یوم عمواس کی رات میں بھی جنگ ہوئی،اور مسلمانوں نے عشاءکی نماز کے بعد جب دیکھا کہ فارسی لشکر صفیں مرتب کر رہا ہے ،توانہوں نے بھی صف بندی شروع کر دی ،اور پھر جنگ ہونے لگی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔مسلمان اُس رات آغاز ِشب سے لیکر صبح تک نہایت بہادری کے ساتھ جنگ کرتے رہے۔وہ زور سے نہیں بول رہے تھے،بلکہ بہت آہستہ سے گفتگو کرتے تھے۔اِسی وجہ سے اِس رات کا نام ”لیلة الحریر“مشہور ہو گیا۔حضرت انس بن جلیس فرماتے ہیں ؛”میں لیلة الحریر میں شریک تھا،اُس رات ہتھیاروں کے چلنے کی ایسی آواز آرہی تھی۔جیسا کہ لوہار اپنے لوہے کی چیزیں بنا رہے ہوں،اور ان کے اِس کام کی وجہ سے لوہے کے بجنے کی آوازیںآرہی ہوں۔جنگ کا سلسلہ صبح تک رہا،مسلمانوں نے زبردست صبر و استقلال کا ثبوت دیا۔جب صبح ہوئی تو فریقین نے جنگ بند کر دی ،اِس سے یہ ثابت ہوا کہ مسلمان سر بلند رہے،اور انہیں غلبہ حاصل ہوا۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے اُس رات جو پہلی آواز سنی ،جس سے انہیں رات کے آخری پہر فتح کا ثبوت ملا،وہ حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ کی آواز تھی ۔جو یہ فرما رہے تھے؛”ہم نے پوری جماعت کو قتل کیا،ہم نے چار پانچ کو قتل نہیں کیا،بلکہ اُس سے زائد کا کام تمام کیا۔ہم گھوڑوں پر بیٹھے ہوئے شیر سمجھے جاتے ہیں،یہاں تک کہ جب شہید ہو جاتے ہیں،تو دوسرے مجاہد بلا لیتا ہوں۔اﷲ میرا پر وردگا ر ہے،میں نے ہر مسلمان جنگجو کی حفاظت کی۔

آخری کاری حملہ

لیلة الحریر کی صبح فارسیوں کے لئے بہت ہی مایوسی بھری تھی،اور مسلمانوں کے لئے بہت ہی حوصلہ افزا ءتھی۔کیونکہ فارسی لشکر کی صف بندی ٹوٹ چکی تھی،اور لشکر بکھر گیا تھا۔فارسی سپاہی الگ الگ ٹکڑیوں میں بٹے ہوئے تھے۔مسلمان کمانڈروں نے یہ دیکھا تو آخری کاری وار کے لئے مسلمانوں کو تیار کرنے لگے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب لیلة الحریر کی صبح ہوئی تو مسلمان بہت تھکے ہوئے تھے،اور ساری رات اُن کی آنکھ بھی نہیں جھپکی تھی۔لہٰذا حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ مسلمانوں میں گشت کر کے اُن کے حوصلے بڑھاتے رہے،اور فرماتے رہے؛”تھوڑی دیر کے بعد فتح مندی ہے،تھوڑی دیر صبر سے لڑو۔کیونکہ نصرت صبر کے ساتھ ہے،لہٰذا گھبراہٹ پر صبر کو ترجیح دو۔“اُن کے پاس مسلمان کمانڈر جمع ہو گئے،اور اُن کا ارادہ رستم کو قتل کرنے کا تھا۔تمام کمانڈروں(جن میںحضرت قیس بن عبد یغوث ،حضرت اشعث بن قیس،حضرت عمرو بن معدی کرب ،حضرت ذوالمہسین نخعی،اور حضرت ذوالبر بن ہلا ل کے نام قابل ذکر ہیں)نے یہ تقریر کی؛”تمہارے دشمن اﷲ کے معاملے میں تم سے زیادہ سرگرم نہیں ہو سکتے ہیں۔اور نہ یہ عجمی موت کے لئے تم سے زیادہ دلیر بن سکتے ہیں۔اور نہ تم سے زیادہ دنیا و آخرت کے لئے اپنی جانیں قربان کرنے کے لئے تیار ہو سکتے ہیں۔“اِس پر مسلمانوں نے اپنے اپنے قریب کے دشمنوں کی ٹکڑیوں پر حملہ کر دیا۔یہاں تک کہ وہ دشمنوں سے گتھم گتھا ہو گئے،کچھ کمانڈر قبیلہ بنو ربیع کے پاس پہنچے ،اور کہنے لگے؛”تم لوگ ایرانیوں(فارسیوں)سے زیادہ واقف ہو۔اور گذشتہ زمانے میں اُن کے خلاف سب سے زیادہ دلیری سے مقابلہ کرتے تھے۔آج تمہیں اِس بات سے کون سی چیز روک رہی ہے،کہ تم اپنی سابقہ جرا¿ت سے بڑھ چڑھ کر دلیری کا ثبوت دو۔“

رستم کا قتل

اِن تقریروں نے مسلمانوں کے حوصلے اور بلند کر دیئے،اور رات بھر کی تھکان اور بیداری کو بھول کر وہ فارسیوں پر ٹوٹ پڑے۔ایسے وقت میں اﷲ تعالیٰ نے بھی مسلمانوں کی مدد کی،اور ریت اور گرد و غبار کا طوفان بھیج دیا،جس سے مسلمانوں کو بہت مدد ملی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب دوپہر ہو گئی تو فارسی لشکر پیچھے ہٹنے لگا،اور ہرمزان اور بیرزان پیچھے ہٹنے والے سب سے پہلے کمانڈر تھے۔اِس کے بعد دوسرے فارسی کمانڈر بھی اپنے اپنے دستوں کو لیکر پیچھے ہٹنے لگے۔اور قلب (مرکزی)کا مورچہ خالی ہو گیا،اور مسلمان اُن پر حاوی ہو گئے۔ایسے وقت میں اﷲ تعالیٰ نے ریت اور گرد وغبار کا طوفان بھیج دیا۔اور پورے قادسیہ میں گرد و غبار چھا گیا،اِس کا فائدہ اُٹھا کر حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ اپنے دستے کے ساتھ رستم کے تخت تک پہنچ گئے تھے۔اُس کا تخت طوفان کی وجہ سے گرا پڑا تھا،اور رستم اُن خچروں کے پاس کھڑا ہوا تھاجن پر مال لاد کر انہیں دنوں آیا ہوا تھا۔وہ ایک سامان لدے ہوئے خچر کے زیر سایہ چھپا ہوا تھا۔حضرت ہلال بن علقمہ نے اُس سامان پر تلوار کا وار کیا ،جس کے نیچے رستم تھا۔اُن کے وار سے بندھے ہوئے سامان کی رسیاں کٹ گئیں،اور ایک بوری رستم پر گر پڑی۔حضرت ہلال بن علقمہ نے رستم کو نہیں دیکھا،اورنہ ہی اُسے محسوس کیا۔وہ اگر خاموشی سے پڑا رہتا تو بچ جاتا،لیکن وہ اتنی بری طرح سے گھبرا گیا تھا کہ اُٹھ کر بھاگنے لگا،اور نہر عتیق میں کود گیا۔حضرت ہلال نے رستم کو پہچان لیا،اور اُس کے پیچھے نہر میں کود گئے۔انہوں نے تیرتے ہوئے رستم کی ٹانگ پڑی،اور اُسے کھینچ کرکنارے لائے ۔اوررستم کی پیشانی پر تلوار سے وار کر کے دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا۔پھر اُس کی لاش خچروں کی ٹانگوں کے درمیان پھینک کر اُس کے تخت پر کھڑے ہو کر نعرہ تکبیر بلند کیا،اور بلند آواز سے فرمایا؛”اﷲ کی قسم ! میں نے رستم کو قتل کر دیا ہے،میری طرف آؤ ۔“

آہن پوش لشکر کا قتل عام

فارسیوں کا سپہ سالار اعظم رستم کے قتل کا اعلان سن کر فارسیوں کے حوصلے ٹوٹ گئے،اور وہ مسلمانوں سے جنگ کرنے کے بجائے بھاگنے کی کوشش کرنے لگے۔لیکن فارسیوں کا آہن پوش لشکر جو پوری طرح لوہے میں غرق تھا،وہ مقابلے پر جما رہا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔رستم کے قتل ہوتے ہی لشکر فارس میدان جنگ سے بھاگ نکلا۔جالینوس نے اُن کو روکنے اور جنگ جاری رکھنے کی کوشش کی ،لیکن بے سود تھی۔باقی رہا فارسیوں کا وہ لشکر جو سر سے پیر تک لوہے میں غرق تھا،وہ میدان جنگ میں ڈٹا رہا۔قبیلہ بنو حمیضہ نے اُس لشکر پر حملہ کر دیا،لیکن تلواریں لوہے کے لباس پر پڑ کر اُچٹ اُچٹ کر رہ گئیں۔مجبور ہو کر انہوں نے پیچھے ہٹنے کا ارادہ کیا تو اُن کے کمانڈر نے انہیں للکارا۔مجاہدین نے جواب دیا کہ تلواریں کام نہیں آرہی ہیں۔کمانڈر نے جوش میں آکر ایک آہن پوش سوار پر اتنی زور سے برچھے کا وار کیا کہ اُس کی کمر ٹوٹ گئی ،اور وہ تڑپ تڑپ کر مر گیا۔کمانڈر نے مجاہدین سے کہا کہ انہیں اِس طرح مارو۔یہ دیکھ کر مجاہدین نے تلواریں نیاموں میں رکھ لیں،اور برچھے لیکر آہن پوش لشکر پر ٹوٹ پڑے،اور سب کی کمریں توڑ کر موت کی نیند سلا دیا۔تیس ہزار کے آہن پوش لشکر میں سے بہ مشکل تیس لوگ ہی اپنی جان بچا سکے تھے۔

قادسیہ میں فتح

حضرت ہلال بن علقمہ نے رستم کو قتل کرنے کے بعد اُس کے قتل کا اعلان کیا تو ،مسلمانوں کے حوصلے بہت بلند ہو گئے۔ اور فارسیوں میں مایوسی پھیل گئی،اور اُن میں بھگڈر ہونے لگی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔اِس کے بعد فارسیوںکی فوج ٹوٹ گئی،اور وہ شکست کھا کر بھاگنے لگے۔جالینوس پل پر کھڑا ہو کر فارسیوں کو پکارنے لگا،اور انہیں پل پار کرانے لگا۔اِس کے بعد گرد و غبار چھٹ گیا۔ وہ فارسی(ایرانی) فوج جنہوں نے اپنے آپ کو زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا،اِس قدر گھبرائی کہ وہ سب نہر عتیق میں گر پڑے۔اور مسلمانوں نے انہیں نیزے مار مار کر قتل کردیا۔اِن کی تعداد تیس ہزار تھی،اور ان میں سے کوئی بھی خبر دینے کے لئے نہیں بچ سکا تھا۔

مال غنیمت پر قبضہ

اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی ،اور تمام فارسی بھاگ گئے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔اہل فارس بھاگ گئے،خندق اور نہر عتیق کے درمیان اِن میں سے کوئی باقی نہیں رہا۔قدیس اور نہر عتیق کے درمیان کا میدان مقتولوں سے پٹا پڑا تھا۔اُس وقت حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے حضرت زہرہ رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ بھاگتے ہوئے فارسیوں کا تعاقب کریں۔آپ رضی اﷲ عنہ تیزی سے روانہ ہوئے ،اور اسلامی لشکر میں بھی اعلان کرتے جا رہے تھے۔حضرت قعقاع رضی اﷲ عنہ کو نچلے حصے کی طرف ،اور حضرت شرجیل کو اوپر کے حصے کی طرف تعاقب کے لئے روانہ کیا۔ اور حضرت خالد بن عرفطہ کو مال غنیمت جمع کرنے اور شہداءکی تدفین کرنے پر مقرر کیا۔لہٰذا ”لیلة الحریر“اور یوم قادسیہ کے شہداء”قدیس “کے اِرد گرد دفن کئے گئے۔اور ڈھائی ہزار نہر عتیق کے پیچھے مشرق کے سامنے دفن کئے گئے ،اور جو پہلے شہید ہوئے تھے انہیں مشرق کے مقام پر دفن کیا گیا تھا۔مال غنیمت اتنا زیادہ حاصل ہوا کہ اِس سے پہلے کبھی اتنا حاصل نہیں ہوا تھا۔حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے حضرت ہلال کو بلا کر فرمایا؛”تمہارا دشمن(رستم کی لاش) کہاں ہے؟“انہوں نے عرض کیا؛”میں نے اُسے خچروں کے پیچھے پھینک دیا تھا۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”جاو¿ !اُسے لیکر آو¿۔“جب وہ لاش لیکر آئے تو حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اِس کا سازو سامان اورلباس وغیرہ تمہارے ہیں۔“

جالینوس کا قتل

حضرت زہرہ بن حویہ پہلے ہی فارسیوں کے تعاقب میں نکل چکے تھے۔جب وہ پل کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ پل ٹوٹا ہوا ہے۔فارسیوں کے سپہ سالارجالینوس نے جاتے ہوئے پل کو توڑ دیا تھا ،تاکہ مسلمان اُن کا تعاقب نہ کر سکیں۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں ۔حضرت زہرہ بن حویہ فارسیوں کے تعاقب میں روانہ ہوئے ،اور جب پل کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ وہ ٹوٹا ہوا ہے۔یہ دیکھ کر انہوں نے اپنے دستے سے فرمایا؛”اے بکیر !آگے بڑھو۔“اور اپنا گھوڑا پانی میں ڈال دیا۔اور اُن کے تین سو سواروں نے بھی اُن کی تقلید کی۔اِس کے بعد حضرت زہرہ نے فرمایا کہ باقی لوگ پل بنا کر نہر پار کریں۔آخر کار مسلمانوں نے بچے کچے فارسیوں کو پکڑ لیا۔جالینوس(جو رستم کے بعد سب سے بڑا سپہ سالار تھا)اُن کی حفاظت کے لئے سب سے پیچھے تھا۔حضرت زہرہ بن حویہ نے اُس پر حملہ کیا ،اور آخر کار تلوار کے د و وار کے بعد اُسے قتل کردیا۔اِس کے بعد سلحسین سے لیکر نجف تک دشمن کا صفایا کر دیا گیا۔شام کے وقت وہ لوٹ آئے ،اور رات قادسیہ میں گزاری۔

جنگ قادسیہ کا اختتام

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے مال غنیمت کا خمس نکالا،اور شہداءکے نام ،اور فارسیوں کے مقتولوں کی تعداد لکھوا کر یہ سب خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حضرت سعد بن نخیلہ فرازی کے ہاتھوں بھیج دیا۔اور باقی مال غنیمت اسلامی لشکر میں بانٹ دیا۔حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے حضرت قعقاع اور اُن کے بھائی حضرت عاصم رضی اﷲ عنہم کو اور حضرت شرجیل کو فارسیوں کے تعاقب میں روانہ کیاتھا۔انہوں نے ہر بلندی اور پستی کی طرف جانے والے فارسی سپاہیوں کا تعاقب کیا۔اور ہر گاو¿ں ،ہر جنگل،اور نہر اور چشمے کے کنارے جہاں کہیں اُن کو پایاقتل کر دیا۔اور شام ہونے سے پہلے واپس آگئے۔مسلمانوں نے حضرت سعد رضی اﷲ عنہ کو جنگ قادسیہ میں فتح کی مبارکباد پیش کی۔اور آپ رضی اﷲ عنہ نے اﷲ تعالیٰ کی حمد وثنا اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پر درودو سلام بھیجنے کے بعد ہر قبیلہ کی تعریف کی،اور جنگ قادسیہ میں فتح کے بعد اختتام کا اعلان فرمایا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!


بدھ، 2 اگست، 2023

15 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ Khilafat e Rashida 2


15 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی 

قسط نمبر 15

جنگ قادسیہ کے بھگوڑے فارسی کمانڈر، خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی انکساری، فتح کی خوش خبری کا خط، میں بادشاہ نہیں ہوں، خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کے نام خطوط، صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم سے مشورہ، صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کا متفقہ فیصلہ، خلیفۂ دوم کا جواب، شاہی خاندان کی زمینیں، بصرہ ”ارض الہند“(ہند ستان کی سرحد)کی طرف لشکر کی روانگی, ارض الہند میں فتح، بصرہ کی تعمیر

جنگ قادسیہ کے بھگوڑے فارسی کمانڈر

مسلمانوں کو جنگ قادسیہ میں فتح حاصل ہوئی،اور فارسیوں کو شکست فاش ہوئی۔اِس جنگ سے بہت سے فارسی کمانڈر بھاگ گئے۔لیکن کچھ فارسی خوش نصیب بھی تھے،انہوں نے اسلام قبول کیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔دیلم اور بعض دوسری فارسی فوجی چوکیوں کے افسران نے جزیہ دینا منظور کر لیا تھا۔جنگ قادسیہ سے پہلے انہوں نے حضرت سعد رضی اﷲ عنہ سے فارسیوں کے خلاف جنگ میں شامل ہو نے کی درخواست دی،جسے آپ رضی اﷲ عنہ نے قبول کر لیا۔پوری جنگ قادسیہ میں وہ مسلمانوں ساتھ رہے،اور جب مسلمانوں کو فتح حاصل ہو گئی تو انہوں نے کہا؛”ہمارے وہ فارسی بھائی جنہوں نے شروع سے اسلام قبول کر لیا تھا،وہ ہم سے زیادہ عقلمند اور بہتر ہیں۔اﷲ کی قسم!اہل فارس رستم کے مرنے کے بعد بھی کبھی کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔سوائے اِس صورت کے ،کہ وہ اسلام قبول کر لیں۔“اور اِسکے بعد انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔جنگ قادسیہ میں شکست کھانے کے بعد جو کمانڈر بھاگے ،اُ ن میں سے چند کے نام یہ ہیں۔(1)ہرمزان،جو حضرت عطارد کے مقابلے پر تھا۔(2)اہود،جو حضرت حنظلہ بن ربیع رضی اﷲ عنہ (کاتب وحی) کے مقابلے پر تھا۔(3)زاذ بن بھیش،جو حضرت عاصم بن عمرو رضی اﷲ عنہ کے مقابلے پر تھا۔(4)قارن،جو حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ کے مقابلے پر تھا۔اِن کے علاوہ جو فارسی کمانڈر قتل ہوئے ،اُن میں سے چند کے نام یہ ہیں۔(1)شہر یار بن کنارہ،جو حضرت سلمان کے مقابلے پر تھا۔(2)ابن الہرید،جو حضرت عبد الرحمن کے مقابلے پر تھا۔(3)فرخان اہوازی،جو حضرت بسر بن ابی اہم جہنی کے مقابلے پر تھا۔خسرو شنوم عبدانی ،جو حضرت ابن الہذیل کابلی کے مقابلے پر تھا۔

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی انکساری

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا یہ معمول تھا کہ خلافت کے تمام اُمور نبٹانے کے بعد مدینہ منورہ کے باہر آکر ٹھہر جاتے ،اور ہر آنے جانے والے سے ملک شام ،اور ملک عراق کے حالات دریافت فرماتے تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب حضرت عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ کو قادسیہ کے میدان میں رستم کے آنے کی اطلاع ملی تو وہ (مدینہ منورہ میں)آنے والے سواروں سے قادسیہ کے بارے میں دریافت کرتے تھے۔جب قادسیہ میں مسلمانوں کی فتح کی خوش خبری دینے والا قاصد پہنچا،تو آپ رضی اﷲ عنہ اُس کے پاس بھاگ کر پہنچے۔اور اُس کے اونٹ کے ساتھ دوڑتے ہوئے پوچھا کہ وہ کہاں سے آرہا ہے؟قاصد نے جواب دیا کہ قادسیہ سے آرہا ہوں،اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی ہے،اور دشمنوں کو شکست دے دی ہے۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ اُس کے اونٹ کے ساتھ دوڑتے جا رہے تھے،اور حالات دریافت کرتے جا رہے تھے۔قاصد اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر جا رہا تھا،وہ آپ رضی اﷲ عنہ کو پہچانتا نہیں تھا۔جب آپ رضی اﷲ عنہ اُس کے ساتھ دوڑتے ہوئے مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو وہاں کے مسلمان انہیں ”امیر المومنین“کے خطاب سے سلام کرنے لگے۔اُس وقت قاصد نے بھی آپ رضی اﷲ عنہ کو پہچانا ،اور جلدی سے اونٹ روک کر نیچے اُتر آیا،اور بولا؛”اﷲ تعالیٰ ۔آپ رضی اﷲ عنہ پر رحم فرمائے،آپ رضی اﷲ عنہ نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا؟“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اے بھائی!کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔“امام ابن اثیر لکھتے ہیں۔اونٹ سوار قاصد کی رکاب پکڑے ہوئے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ دوڑتے جا رہے تھے،اور برابر حالات پوچھتے جارہے تھے۔جب مدینہ منورہ میں پہنچے تو اونٹ سوار نے دیکھا کہ جو لوگ ملتے ہیں،وہ اِن کو ”امیر المومنین“کہہ کر پکارتے ہیں۔یہ دیکھ کر وہ خوف سے کانپ اُٹھا،اور جلدی سے عرض کیا؛”امیر المومنین!آپ رضی اﷲ عنہ نے مجھے اپنا نام کیوں نہیں بتایا؟مجھ سے یہ بہت بڑی گستاخی ہوگئی ہے۔“حضرت فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”بھائی کوئی حرج نہیں ہے،تم سلسلہ¿ کلام منقطتع نہ کرو۔“ 

فتح کی خوش خبری کا خط

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں فتح کی یہ خوش خبری لیکر آنے والے حضرت سعد بن عمیلة فرازی تھے۔وہ خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کو نہیں پہچانتے تھے،لیکن جیسے اُنہیں یہ معلوم ہوا تو وہ فوراً اپنے اونٹ سے اُتر گئے،اور حضرت سعدبن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کے ہاتھوں لکھا ہوا فتح کی خوش خبری کا خط خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ کو دیا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو خط لکھا۔جس میں آپ رضی اﷲ عنہ کو فتح کی خوش خبری دی،اور مسلمانو ں کے شہیدوںاور فارسیوں کے مقتولوں کے متعلق بتایا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے یہ خط حضرت سعد بن عمیلة فرازی کے ہاتھوں بھیجا تھا۔جس کی تحریر یہ ہے۔ ”امابعد!اﷲ تعالیٰ نے ہمیں فارسیوں(ایرانیوں) پر فتح عطا فرمائی ہے۔اور طویل قتال اور شدید مصائب و خطرات کے بعد ہم نے انہیں اُن طریقوں کی اجازت دے دی ،جو اُن سے پہلے اُن کے اہل دین کو حاصل تھے۔اور انہوں نے مسلمانوں سے اتنے زیادہ مقدار کے سامان سے جنگ کی کہ دیکھنے والوں نے اِس سے پہلے اتنی مقدار کبھی نہیں دیکھی تھی۔پس اﷲ تعالیٰ نے انہیں اُس سے فائدہ اُٹھانے نہیں دیا،بلکہ اُن سے سامان چھین کر مسلمانوں کو عطا فرما دیا۔اور مسلمانوں نے دریاو¿ں،جنگلوں،گنجان درختوں کی قطاروں،اور پہاڑی دروں میں اُن کا تعاقب کیا۔اور مسلمانوں میں سے حضرت سعد بن عبید قاری اور فلاں فلاں شہید ہوئے۔اور مسلمانوں میں سے ایسے آدمی بھی شہید ہوئے ،جنہیں اﷲ تعالیٰ کے سوا کو ئی نہیں جانتا ہے۔اور جب رات چھا جاتی تھی ،تو وہ شہد کی مکھیوں کی طرح قرآن پاک کی تلاوت کرتے تھے،اور دن کو شیر بن جاتے تھے۔اور شیر بھی اُن کی طرح نہیں کرسکتے تھے۔اور اِن میں سے شہید ہونے والے ،زندہ رہنے والوں شہادت کی فضیلت کی وجہ سے بڑھ گئے ہیں۔“

میں بادشاہ نہیں ہوں

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ کی خدمت میں جب قاصد قادسیہ کی فتح کی خوش خبری لیکر آیا،اور مال غنیمت آگیا۔تب آپ رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو جمع کر کے خطبہ دیا،اور مال غنیمت مسلمانوں کے درمیان تقسیم فرما دیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے پاس فتح نامہ پہنچا تو وہ مسلمانوں سے مخاطب ہو کر اُسے سنایا۔اور لوگوں سے فرمایا؛”میری انتہائی کو شش ہے کہ جہاں تک ممکن ہو ،میں مسلمانوں کی ہر ضرورت کو پورا کروں۔اگر ہماری کوئی ضرورت نہ پوری ہو سکے ،تو ہم کفایت شعاری سے کام لیں،تاکہ معیار زندگی برابر رہ سکے۔میں چاہتا ہوں کہ تم میری ذات سے اچھی طر ح واقف ہو جاؤ،کیونکہ میں صرف عمل کے ذریعے تعلیم دوں گا۔میں بادشاہ نہیں ہو ں کہ تمھیں غلام بنا لوں،بلکہ میں صرف اﷲ کا ایک بندہ ہوں۔مجھے (خلافت کی)امانت ذمہ داری سونپی گئی ہے،اگر میں اِس سے انکار کر دوں ،اور لوٹا دوں۔(اِس حال میں کہ)تم اپنے گھروں میں شکم سیر ہو کر ،اور سیراب ہو کر زندگی بسر کرو۔اور میں تمہاری اتباع کروں تو میں اپنے آپ کو بہت خوش نصیب سمجھوں گا۔اگر میں اِس امانت کے بوجھ کو اُٹھا کر تمہیں اپنے فائدے کے لئے تابعدار بنا لوں ،تو یہ میری انتہائی بد نصیبی ہو گی۔اور اِس عمل سے مجھے تھوڑی خوشی ہو گی،اور رنج زیادہ ہو گا،اور میں کبھی معاف نہیں کیا جاو¿ں گا۔در حقیقت جو کوئی اپنی نفسانی خواہش کی پیروی اور نافرمانی کرے گا،اُس کا حصہ ساقط ہو جائے گا،اور وہ صرف اپنا ہی نقصان کرے گا۔اور جو کوئی سنت اور شریعت پر عمل کرے گا،اور سیدھے راستے پر چلے گا۔وہ اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں ثواب کا خواہاں ہو گا،جو اُس نے فرماں برداروں کے لئے رکھا ہوا ہے۔تو اُس کا کام درست ہو گا،اور وہ اپنی زندگی میں کامیاب ہو گا۔کیونکہ اﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے؛(ترجمہ)”انہوں نے جو عمل کیا ہے،وہ اُسے موجود اور حاضر پائیں گے،اورتمہارا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا ہے۔“امام ابن اثیر لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اہل مدینہ منورہ کو جمع کرکے قادسیہ میں فتح کی خوش خبری سنائی ۔اور ایک نہایت پُر اثر خطاب فرمایا،جس کے آخری الفاظ یہ ہیں؛”بھائیو!میں بادشاہ نہیں ہوںکہ تم کو اپنا غلام بناو¿ں۔میں تو خود اﷲ تعالیٰ کا غلام ہوں،البتہ خلافت کا بوجھ ضرور میرے سر پر ہے۔اگر میں اِس طرح کام کروں کہ آپ لوگ اپنے مکانوں میں آرام سے سوو¿،تو یہ میری خوش نصیبی ہو گی۔اور اگر میری یہ خواہش ہو کہ تم میرے دروازے پر حاضر ہو ،تو یہ میری بد بختی ہو گی۔میں تم کو قول سے نہیں بلکہ عمل سے تعلیم دیتا ہوں۔“

خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کے نام خطوط

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے قادسیہ میں فتح کے بعد مسلسل کئی خطوط خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے پاس لکھے۔اور اِن میں آگے کے لئے ہدایات مانگیں۔حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے پہلے خط میں قادسیہ کی جنگ کی تفصیل اور فتح کی خوش خبری لکھ کر بھیجی تھی،اور دوسرے خط میں ملک شام سے آئے ہوئے امدادی لشکر کے بارے میں ہدایات مانگی تھی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ملک عراق کے وہ مجاہدین جو ملک شام حضرت خالد بن ولید رضی اﷲعنہ کے ساتھ حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کی امداد کے لئے گئے تھے،وہ خلیفۂ دوم حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے حکم سے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کی امداد کے لئے ملک عراق واپس آگئے تھے۔اُن کا آخری امدادی لشکر قادسیہ میں فتح کے دو دن بعد آیا۔اِس میں بنو مُراد اور بنو ہمدان کے قبائل کے اور دوسرے مختلف قبائل کے مجاہدین شامل تھے۔اِن کے بارے میں خلیفہ ¿ دوم کے پاس خط لکھا گیاکہ اِن کے بارے میں کیا طریقہ اختیار کیا جائے؟یہ قادسیہ میں فتح کے بعد دوسرا خط تھا،جو حضرت نذیر بن عمرو کے ہاتھوں بھیجا گیا۔اِس میں لکھا تھا کہ ”اہل سواد (ملک عراق کے دیہاتی)نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے پہلے سے ہی (حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ سے)سے معاہدے کر رکھے ہیں۔جہاں تک ہمیں معلوم ہے،اہل بانقبا و سما،اور اہل اُلیس معاہدوں پر قائم رہے۔اور دوسرے لوگوں نے معاہدے کی پابندی نہیں کی۔یہ اہل سواد لوگ معذرت کرتے ہیں کہ فارسیوں نے انہیں مجبور کر کے اپنے ساتھ ملایا تھا۔لہٰذا انہوں نے (اپنی مرضی سے )ہماری مخالفت نہیں کی،اور نہ وہاں سے گئے۔“ہم ایک ایسی نہایت عمدہ سرزمین میں ہیں،جو اپنے رہنے والوں سے خالی ہے۔ہماری تعداد قلیل ہے ،اور اہل صلح زیادہ ہو گئے ہیں،دشمن کو کمزور کرنے کے لئے اُن کے ساتھ رعایت کرنے کی ضرورت ہے۔“

صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم سے مشورہ

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو قادسیہ سے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے جو خطوط روانہ کئے ۔انہیں پڑھنے کے بعد خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ نے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہ کو جمع فرماکر اُن سے مشورہ طلب فرمایا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ نے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم سے فرمایا؛”گذشتہ جنگوں کے مجاہدین اور قادسیہ کے فاتح اپنے علاقوں پر قابض ہو گئے ہیں،اور وہاں کے فارسی لوگ جلا وطن ہو گئے ہیں۔اِس کے بعد وہ لوگ آئے،جو اپنے معاہدے پر قائم تھے۔اُن لوگوں کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟جن کو زبردستی کر کے مسلمانوں کے خلاف جنگ میں شامل کیا گیا تھا،اور اِس پر معذرت کر رہے ہیں۔اِن کے علاوہ کچھ ایسے لوگ ہیں،جو نہ تو اِس قسم کا کوئی دعویٰ کرتے ہیں،اور نہ وہ اِس علاقے میں(جنگ کے دوران) رہے،بلکہ اپنے علاقے سے چلے گئے تھے۔اور کچھ ایسے ہیں،جو وہیں مقیم رہے،اور وہاں سے نہیں گئے۔اور کچھ ایسے ہیں ،جنہوں نے اطاعت قبول کر لی ہے۔

صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کا متفقہ فیصلہ

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی بات سن کر تمام صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم نے مشورہ کیا،اور اتفاق رائے سے ایک فیصلے پر قائم ہو گئے۔اور انہوں نے خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ کو ایک ہی مشورہ دیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔لہٰذا صحابہ¿ کرام نے اتفاق ِرائے سے یہ مشورہ دیا۔”جو وہیں مقیم رہے،اور جنگ سے باز رہے،تو اُن کے معاہدے کی پابندی کی جائے،اور اُن سے ایفائے عہد کیا جائے۔اور جو معاہدے کے دعویدار ہوں،اور اُن کے معاہدے کی تصدیق ہو جائے،یا اُن کی معاہدے پر پابندی ثابت ہو جائے،تو اُن کا بھی یہی حکم ہے۔اور جن کے دعوے جھوٹے ثابت ہوں،تو اُن کے دعوے رد کر دیئے جائیں۔اُن کے ساتھ دوبارہ نئے سرے سے صلح کی جائے۔اور جو لوگ اپنی زمینوں پر چلے گئے ہیں،تو اُن کا فیصلہ وہیں کے مسلمانوں پر چھوڑ دیا جائے۔اگر وہ چاہیں تو اُن سے مصالحت کرلیں،اور وہ لوگ مسلمانوں کے ذمی بن جائیں۔اور اگر وہ مناسب سمجھیں تو اُن کی زمینیں انہیں نہیں دیں،اور اُن سے جنگ کریں۔اور جو اقامت اختیار کرے ،اور اطاعت قبول کرلے، تو اِس کے بارے میں انہیں اختیاردیا جائے کہ وہ یا تو جزیہ دیں،یا جلا وطن ہو جائیں۔یہی حالت کسانوں کی بھی ہو گی۔“

خلیفۂ دوم کا جواب

حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم سے مشور ہ کرنے کے بعد حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کو لکھا۔”حمد و ثناءکے بعدواضح ہو کہ اﷲ بزرگ و برتر نے ہر چیز میں بعض حالات کے مطابق سہولت اور رعایت رکھی ہے۔مگر دو چیزوں میں رعایت نہیں ہے۔ایک ”عدل و انصاف“اور دوسری چیز”عبادت و ذکر “ہے۔ذکر و عبادت میں تو کسی بھی حالت میں رعایت نہیں ہے،اور ذکر کثیر کے بغیر اﷲ تعالیٰ رضا مند نہیں ہو تا ہے۔عدل و انصاف میںبھی قریب و بعید ،سختی و نرمی،کسی حالت میں بھی رعایت نہیں ہے۔عدل وانصاف نرم نظر آتا ہے،مگر یہ سب سے زیادہ طاقتور چیز ہے۔یہ ظلم و ستم کی آگ کو بجھاتا ہے،اور جور و ظلم سے زیادہ باطل پرستی کا قلع قمع کرتا ہے،اور کفر کو سرنگوں کرتا ہے۔لہٰذا اہل سواد میں سے جو کوئی اپنے معاہدے پر قائم ہو، اور اُس نے تمہارے خلاف دشمن کی مدد نہیں کی ہو۔تو وہ تمہاری ذمی رعایا ہیں،اور اُن پر جزیہ ادا کرنا لازمی ہے۔مگر جو کوئی یہ دعویٰ کرے کہ اُس پر زبردستی کی گئی تھی،اور وہ وہاں سے چلا گیا تھا، تو اُس کے دعووں کو رد کر دو،اِس کے باوجود انہیں حفاظت سے امن کی جگہ پہنچا دو۔جو لوگ اپنے مقام پر جمے رہے،اور وہاں سے چلے نہ گئے ہوں،اور انہوں نے کوئی معاہد ہ نہ کیا ہو۔ تو چونکہ وہ تمہارے لئے اپنی جگہ برقرار رہے،اور تمہاری مخالفت نہیں کی ۔اِسی لئے اُن کا یہ رویہ معاہدے کے برابر ہے۔کسان اور کھیتی باڑی کرنے والے (فلاحین)بھی اگر یہ رویہ اختیار کریں تو اُن کے لئے بھی یہی حکم ہے۔جو کوئی اِس بات کا دعویٰ کرے ،اور اُس کا دعویٰ صحیح ثابت ہو جائے ،تو وہ ذمی ہے۔اور اگر اُن کا دعویٰ جھوٹا ثابت ہو تو اُسے رد کر دو۔اگر تم چاہو تو اُنہیں اِس بات کی دعوت دو کہ اپنی اراضی میں مقیم ہو جائیں ۔ اور جزیہ دے کر مسلمانوں کی ذمہ داری میں آجائیں،اور اگر وہ نہیں آنا چاہیں تو اُن کی زمینوں کو اپنا سمجھ کر آپس میں تقسیم کر لو۔“حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے اِن تمام ہدایات پر عمل کیا۔

شاہی خاندان کی زمینیں

قادسیہ کی جنگ میں جو سپہ سالار مارے گئے ،یا بھاگ گئے،اُن کی زمینوں اور جاگیروں کو مال غنیمت میں شامل کر لیا گیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔صلح اور معاہدے میں وہ زمینیںاور جاگیریں شامل نہیں کی گئیں،جو شاہی خاندان کی تھیں۔یا اُن لوگوں کی تھیں جو فارسی حکام کے ساتھ سلطنت فارس کے دارالحکومت چلے گئے تھے۔اور انہوں نے اِن دو چیزوں میں سے کسی ایک کو تسلیم نہیں کیا تھا۔(1)اسلام قبول کر لیں،(2)جزیہ دینا قبول کر لیں۔اِسی لئے اُن کی زمینیں اور جاگیریں مال غنیمت میں شامل ہو گئیں۔اور وہ تمام علاقہ مسلمانوں نے اپنے قبضے میں لے لیا۔باقی سواد کا علاقہ ذمیوں کے ہاتھوں میں رہا۔اور اُن سے کسریٰ کے خراج کے مطابق ہی وصول کیا جاتا تھا۔کسریٰ کا خراج مردوں پر اُن کے مقبوضہ مال اور حصوں کے مطابق ہوتا تھا۔مال غنیمت میں شاہی خاندان اور اُن کے متعلقین اور اُن کے اہل و عیال کی جائدادیں،جاگیریں اور زمینیں شامل تھیں۔آتش کدوں(فارسی آتش پرست یعنی آگ کی پوجا کرنے والے تھے)،جنگلوں ،تالابوں،اور گلیوں وغیرہ کی زمینیں شاہی خاندان اور اُن کے متعلقین سے الگ تھیں۔کیونکہ یہ ملک عراق کے تمام دیہاتوں میں پھیلی ہوئی تھی۔

جنگ قادسیہ کی تاریخ میں اختلاف

اﷲ تعالیٰ نے جنگ قادسیہ میں مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی۔یہ جنگ کب ہوئی ؟اِس بارے میں علمائے کرام کا اختلاف ہے۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔کچھ علمائے کرام کے مطابق جنگ قادسیہ 14 ھجری میں ہوئی،کچھ علمائے کرام کے مطابق 15 ھجری میں ہوئی ،اور کچھ علمائے کرام کے مطابق 16 ھجری میں ہوئی۔اب حقیقت کیا ہے؟اِس کا علم صرف اﷲ تعالیٰ کو ہی ہے۔علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ علامہ محمد بن جریر طبری یقینی طور سے کہتے ہیں کہ جنگ قادسیہ 14ھجری میں ہوئی۔

بصرہ ”ارض الہند“(ہند ستان کی سرحد)کی طرف لشکر کی روانگی

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت عتبہ بن غزوان رضی اﷲ عنہ کو ایک چھوٹا سا لشکر دیکر” ارض الہند “کی طرف بھیجا۔اب وہاں بصرہ نامی ایک بہت بڑا شہر آباد ہے۔جسے انہوں نے ہی بسایا تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔مہران مسلمانوں سے جنگ کے دوران ماہِ صفر المظفر ۴۱ ھجری میں قتل ہوا ۔اِس موقع پر خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ نے حضرت عتبہ بن غزوان رضی اﷲ عنہ سے فرمایا؛”اﷲ بزرگ و برتر نے تمہارے ساتھیوں کو فارسیوں اور اُس کے گردو نواح کے بھائیوں پرفتح عطا فرمائی ہے،اور دشمنوں کی ایک بہت بڑی شخصیت ماری گئی ہے۔ اِس لئے مجھے اندیشہ ہے کہ اہل فارس اُن کی امداد کریں گے۔لہٰذا میں چاہتا ہوں کہ میں تمہیں ہند کی سرحد کی طرف روانہ کر دوں۔تاکہ تم اُس علاقے کے فارسیوں سے اپنے بھائیوں کی حفاظت کرو۔اور انہیںمسلمانوں کے خلاف فارسیوں کی مدد کرنے کے لئے پہنچنے نہ دو۔اور اگر اُن سے جنگ کی نوبت آئے تو یقینا اﷲ تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت عتبہ بن غزوان رضی اﷲ عنہ کو تین سو تیرہ مجاہدین کا لشکر دیکر بصرہ کے علاقے کی طرف بھیجا،اور اعرابی (دیہاتی)بھی آپ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ شامل ہو گئے۔جس کی وجہ سے آپ رضی اﷲ عنہ کے لشکر کی تعداد پانچ سو ہو گئی۔آپ رضی اﷲ عنہ وہاں ماہ ِ ربیع الاول ۴۱ ھجری میں اُترے۔اُن دنوں بصرہ کو ”ارض الہند“کہا جاتا تھا۔وہاں پر سفید کھردرے پتھر تھے،اور آپ رضی اﷲ عنہ وہاں پڑاو¿ ڈالنے کے لئے جگہ تلاش کرنے لگے۔یہاں تک کہ وہ ایک چھوٹے پُل کے سامنے آگئے،وہاں انہوں نے دیکھا کہ ڈب اور سرکنڈے اُگے ہوئے ہیں۔انہوں نے وہیں پڑاؤ ڈال دیا۔

ارض الہند میں فتح

حضرت عتبہ بن غزوان رضی اﷲ عنہ نے ایک غیر آباد جگہ پر پڑاو¿ ڈالا۔اُس زمانے میں ہندوستانی سمندر کے راستے سے اِس علاقے میں آکر اترتے تھے اوریہیں سے ملک عراق میں داخل ہوتے تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔بصرہ اُس زمانے میں ارض الہند (ہندوستان کی سرحد )کہلاتا تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ ”خربیہ“کے مقام پر اُترے۔وہاں پہنچ کر انہوں نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو اِس مقام کا حال لکھ بھیجا۔خلیفہ¿ دوم رضی ا ﷲ عنہ نے تحریر فرمایا؛”آپ رضی اﷲ عنہ سب مسلمانوں کو ایک ہی مقام پر رکھیں،اور منتشر نہ ہونے دیں۔“حضرت عتبہ بن غزوان رضی اﷲ عنہ وہاں کئی مہینے قیام پذیر رہے،اِس دوران کوئی بھی مقابلے کے لئے نہیں آیا۔قریب میں ہی حاکم فرات کی حکومت تھی،وہ فارسیوں کی مدد کے لئے جانا چاہتا تھا،لیکن اُس کے راستے میں مسلمان حائل تھے۔اُس نے کئی مہینے انتظار کیا کہ مسلمان یہاں سے واپس چلے جائیں ،لیکن جب اُس نے دیکھا کہ مسلمان وہاں سے ہٹ نہیں رہے ہیں ۔توآپ رضی اﷲ عنہ کے مقابلے پر حاکم ِ فرات چار ہزار تیر اندازوں کے ساتھ آیا۔دونوں لشکروں کے درمیان شدید جنگ ہوئی ،چونکہ مسلمان مجاہدین جذبہ¿ شہادت سے سرشار تھے۔اِس لئے بڑھ بڑھ کر حملہ کر رہے تھے،اور حاکم ِ فرات اور اُس کی فوج کی سمجھ میں یہ نہیں آرہا تھا کہ مسلمانوں کے جوش و جذبے کا کس طرح مقابلہ کریں۔آخرکا ر انہیں شکست ہوئی ،اور حاکم فرات کو قید کرلیا گیا۔

حضرت عتبہ بن غزوان کا خطاب

حضرت عتبہ بن غزوانر رضی اﷲ عنہ اور مسلمانوں کو اﷲ تعالیٰ نے فتح عطا فرمائی ۔علامہ عماد الدین ابن کثیر آگے لکھتے ہیں۔اِس کے بعد حضرت عتبہ بن غزوان رضی اﷲ عنہ نے مجاہدین کے سامنے کھڑے ہو کر خطاب فرمایا؛”اما بعد!بے شک دنیا نے اپنے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے،اور پیٹھ پھیر کر مقابل سے چلی گئی ہے۔اور اِس میں اِتنا ہی باقی رہ گیا ہے ،جتنا برتن میں بچا کھچا پانی ہوتا ہے۔اور تم دنیا کو چھوڑ کر ”دارالقرار“میں منتقل ہونے والے ہو۔پس تم اپنے جمع کئے ہوئے اعمال کے ساتھ منتقل ہو گے۔اور مجھے بتایا گیا ہے کہ اگر جہنم کے کنارے سے پتھر پھینکا جائے تو وہ ستر سال تک گرتا ہی چلا جائے گا،تب وہ اُس کی سطح پر لگے گا۔کیا تم حیران ہوتے ہو؟اور مجھے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جنت کے دو کواڑوں کے درمیان چالیس سال کی مسافت ہے۔اور ضرور اُس پر ایسا دن آئے گا کہ وہ (جنت میں داخل ہونے والی لوگوں کی)بھیڑ کی وجہ سے تنگ ہو جائے گا۔اور میں نے اپنے آپ کو دیکھا ہے کہ میں ساتوں میں ساتواں تھا۔میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ تھا،اور ببول کے پتوں کے سوا ہمارا کوئی کھانا نہیں تھا۔یہاں تک کہ ہماری باچھیں زخمی ہوگئیں،اور میں نے ایک چادر اُٹھائی ،اور اُسے اپنے اور حضرت سعد رضی اﷲ عنہ کے درمیان پھاڑ کرتقسیم کر دیا۔اور ہمارے اِن ساتوں آدمیوں میں سے ہر ایک کسی نہ کسی شہر پر امیر مقرر ہے،اور ہمارے بعد کے لوگ تجربہ کر لیں گے۔“

خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کا خط

حضرت عتبہ بن غزوان رضی اﷲ عنہ نے فتح کی خوش خبری اور مال غنیمت کا خمس خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں مدینہ منورہ بھیجا ۔اِس کے جواب میں امیر المومنین نے ایک خط انہیں بھیجا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ نے جب حضرت عتبہ بن غزوان رضی اﷲ عنہ کو بصرہ کی طرف بھیجا،تو انہیں لکھا۔”اما بعد!اے عتبہ رضی اﷲ عنہ !میں نے آپ رضی اﷲ عنہ کو ارض الہند پر گورنر مقرر کیا ہے،اور وہ دشمنوں کی جولان گاہ ہے۔اور مجھے اُمید ہے کہ اﷲ تعالیٰ اُس کے اِرد گِرد کے علاقے پر آپ رضی اﷲ عنہ کی کفایت کرے گا،اور اُن کے خلاف آپ رضی اﷲ عنہ کی مدد کرے گا۔اور میں نے حضرت علا بن حضرمی رضی اﷲ عنہ کو لکھا ہے کہ وہ حضرت عرفجہ بن ہر ثمہ کے ذریعے آپ رضی اﷲ عنہ کی مدد کریں۔پس جب وہ آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس آئیں ،تو اُن سے مشورہ کرنا۔اور انہیں مقرب بنانا،اور دعوت الی اﷲ (اسلام کی دعوت)دیتے رہنا۔اور جو کوئی اسلام قبول کر لے ،اُسے اپنا لو،اور جو انکار کرے،اُس سے کہو کہ وہ ذلت کے ساتھ جزیہ ادا کرے ،ورنہ تلوار سے اُس کی خبر لو۔اور جس چیز کی ذمہ داری آپ رضی اﷲ عنہ کو سونپی گئی ہے،اُس کے بارے میں اﷲ سے ڈرو۔اور اِس بات سے بچو کہ آپ رضی اﷲ عنہ کا نفس کھینچ کر کہر کی طرف لے جائے،اور آخرت خراب کر دے۔اور آپ رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی ہے، اور ذلت کے بعد معززاور کمزوری کے بعد طاقت ور ہو گئے ہیں۔حتیٰ کہ آپ رضی اﷲ عنہ با اختیار امیر بن گئے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ بات کرتے ہیں،تو اُسے سنا جاتا ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ حکم دیتے ہیں،تو اُس کی اطاعت کی جاتی ہے۔پس اِس احسان کے کیا کہنے!آپ رضی اﷲ عنہ اپنی قدر سے آگے نہ بڑھیں،اور اپنے سے کمتر پر اترا نہ جائیں۔جس طرح معصیت سے آپ رضی اﷲ عنہ اپنے آپ کو بچاتے ہیں،اُسی طرح نعمت سے بھی اپنے آپ کو بچائیں۔میں آپ رضی اﷲ عنہ کو اور اپنے آپ کو اﷲ کی پناہ میں دیتا ہوں۔بے شک لوگوں نے اﷲ کی طرف جانے میں جلدی کی ہے،یہاں تک کہ دنیا اُ ن کے لئے بلند کر دی گئی،اور انہوں نے اُسے حاصل کرنا چاہا۔پس اﷲ کو چاہو،اور دنیا کو نہ چاہو۔اور ظالموں کے پچھڑنے کی جگہوں سے بچو۔“

بصرہ کی تعمیر

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے حکم کے مطابق حضرت عتبہ بن غزوان رضی اﷲ عنہ نے جہاں آج بصرہ ہے ،اُس کے آس پاس قیام فرمایا تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب حضرت عتبہ بن غزوان مازنی رضی اﷲ عنہ ”مدائن“سے ”ہند کی سرحد“ کی طرف روانہ ہوئے تو وہ جزیرہ نما عرب کے سامنے سمندر(بحیرہ¿ عرب)کے کنارے قیام پذیر ہوئے۔وہاں کچھ عرصہ قیام پذیر رہنے کے بعد یہ مقام اسلامی لشکر کے لئے ناموافق ثابت ہوا ۔اِسکی اطلاع خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ کو دی تو انہوں نے حکم دیا کہ سفر کرو ،اور تین منزلوں کے بعد چوتھی منزل پر قیام کر دو۔حضرت عتبہ بن غزوان رضی اﷲ عنہ نے چوتھی منزل پر قیام کیا۔(اُس زمانے میں ایک منزل لگ بھگ ایک سو دس کلومیٹر یا میل ہوتی تھی)۔یہاں چونے کے پتھر بہت زیادہ کثرت سے تھے،اور کوئی آبادی نہیں تھی۔بعد میں یہیں پر ”بصرہ“شہر تعمیر ہوا۔”بصرہ “ہر اُس سر زمین کو کہا جاتا ہے،جہاں کے پتھر چونے کے ہوں۔انہیں دریائے دجلہ سے ایک نہر کھودنے کا حکم دیا گیا،کوفہ اور بصرہ دونوں کی آبادی اور تعمیر ایک ہی مہینے میں ہوئی تھی۔اہل بصرہ کا مقام دریائے دجلہ کے کنارے پر تھا۔وہ مختلف مقامات پر ٹھہرتے رہے،اور آگے بڑھتے رہے۔آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ نہر بھی کھودتے جا رہے تھے۔یہاں تک کہ وہ بصرہ کے مقام پر آئے۔بصرہ کا شہر بھی اسی طرح بسایا گیا ،جس طرح کوفہ بسایا گیا ۔بصرے میں مسلمانوں کو بسانے کے کام پر حضرت عاصم بن دلف تمیمی مقرر ہوئے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

16 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ Khilafat e Rashida 2


16 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی 

قسط نمبر 16

ابلہ کی فتح، مسلمانوں کی خوش حالی، مسلمان خواتین کی بہادری، حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ گورنر، خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کے حکام(گورنر)، تراویح میں ایک امام پر جمع کرنا، حضرت عتبہ بن غزوان رضی اﷲ عنہ کا انتقال، حضرت ابن اُم مکتوم رضی اﷲ عنہ کی شہادت، حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کا انتقال، حضرت ابو زید انصاری رضی اﷲ عنہ کی شہادت، حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ کی شہادت، حضرت ابو قحافہ بن عثمان رضی اﷲ عنہ کا انتقال، 14 ہجری کے چند شہداءرضی اﷲ عنہم کے نام

ابلہ کی فتح

حضرت عتبہ بن غزوان رضی اﷲ عنہ اِس کے بعد آگے بڑھکر ابلہ تک پہنچ گئے۔ابلہ وہ مقام ہے ،جہاں سمندر کے راستے سے چین اور ہندوستان کے لوگ آکر اُترتے تھے۔اور سلطنت فارس اور سلطنت روم کی سرحدیں بھی یہیں تک تھیں۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ابلہ کے مقام پر اسادرہ کی قوم میں سے پانچ سو عجمی سپاہی تھے،جو اُس مقام کی حفاظت کر رہے تھے۔کیونکہ وہ چین کی طرف سے آنے والے جہازوں کی بندر گاہ تھی۔اِس لئے حضرت عتبہ بن غزوان رضی اﷲ عنہ نے ّگے بڑھ کر ”اجانہ“کے مقام پر پڑاو¿ ڈال دیا۔یہاں وہ تقریباً ایک مہینے تک رک کر ابلہ کی بندر گاہ کا جائزہ لیتے رہے۔پھر اہل ابلہ لشکر لیکر اُن کے مقابلے پر آئے۔حضرت عتبہ بن غزوان رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کی صف بندی کی،اور حضرت قطبہ بن سدوس اور حضرت قسام بن زہیر مارنی کو دس، دس گھڑ سوار دیکر اسلامی لشکر کے پیچھے متعین کیا،اور فرمایا؛”تم دونوں اپنے گھڑ سواروں کے ساتھ ہمارے پیچھے لگے رہنا،اور بھاگنے والوں کو روکنا،اور جو ہمارے پیچھے سے حملہ کرنے کا ارادہ کرے،اُس کا مقابلہ کرنا۔“اِس کے بعد جنگ شروع ہوئی ،اور حضرت عتبہ بن غزوان رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کے ساتھ مل کر اتنا شدید حملہ کیا کہ جنگ صرف اتنی دیر چلی ،جتنی دیر میں ایک اونٹ ذبح ہو کر تقسیم ہوتا ہے۔اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو غالب کر دیا،اور دشمن شکست کھا کر بھاگنے لگے۔پھر دشمن کے سپاہی شہر میں داخل ہو گئے،اور دروازہ بند کر لیا،اور حضرت عتبہ رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر کو لیکر واپس آگئے۔اﷲ تعالیٰ نے دشمنوں کے دلوں پر مسلمانوں کی ایسی ہیبت طاری کر دی تھی کہ و ہ شہر سے نکل بھاگے۔اور ہلکا سا سامان لیکر لشتیوں کے ذریعے دریائے فرات پار کر کے بھاگ گئے۔مسلمانوں نے خالی شہر میں جاکر تمام سازو سامان ،ہتھیاروں اور دوسری اشیاءپر قبضہ کر لیا۔نقد مال بھی ہاتھ آیا،جسے انہوں نے آپس میں بانٹ لیا،اور ہر مسلمان کے حصے میں دو درہم آئے۔حضرت عتبہ بن غزوان رضی اﷲ عنہ نے مال غنیمت کا خمس نکال کر باقی مجاہدین میں تقسیم کر دیا۔اور فتح کی خوش خبری اور مال غنیمت کاخمس خلیفہ ¿دوم رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیج دیا۔ابلہ کی جنگ میں حضرت نافع بن حارث نے دشمن کے نو سپاہیوں کو قتل کیا۔اور حضرت ابو بکرہ نے چھ سپاہیوں کو قتل کیا۔ابلہ کی فتح ماہ ِ رجب یا ماہ ِ شعبان میں ہوئی۔

مسلمانوں کی خوش حالی

سلطنت فارس اور سلطنت روم کی فتوحات کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی خوش حالی کا دور آتا جا رہا تھا۔خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو اِس بات کی فکر تھی ،کہ کہیں مسلمان دنیا میں مبتلا نہ ہو جائیں۔اسی لئے وہ وقتاً فوقتاً مسلمانو ں کو نصیحتیں کرتے رہتے تھے۔مسلمانوں کی خوش حالی کے بارے میں علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت غیابة بن عمیدحضرت عتبہ بن غزوان رضی اﷲ عنہ کے ساتھ فتح ابلہ میں موجود تھے۔وہ فرماتے ہیں کہ حضرت عتبہ رضی اﷲ عنہ نے حضرت منافع بن حارث کو فتح ابلہ کی اطلاع دینے کے لئے بھیجا ۔اِسی دوران دُست مسیان کے لوگ ہم سے جنگ کرنے کے لئے جمع ہو گئے۔حضرت عتبہ رضی اﷲ عنہ کو اُن کے جمع ہونے کی خبر ملی ،تو آپ رضی اﷲ عنہ ہمیں لیکر روانہ ہوئے،اور اُن کے سامنے صف بندی کر لی۔دُست میسا ن کے زمیندار حاکم نے ہم سے جنگ کی،اور آخر کار اُسے اور اُس کے ساتھیوں کو شکست ہوئی ،اور وہ گرفتار کر لیا گیا۔اُس کی قبا اور ٹپکا حاصل کر کے وہ چیزیں خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حضرت انس بن حجیہ یشکری کے ہاتھ بھیج دیا گیا۔جب امیر المومنین رضی اﷲ عنہ نے وہ چیزیں دیکھیں ،تو فرمایا؛”وہاں مسلمانوں کا کیا حال ہے؟“قاصد نے عرض کیا؛”امیر المومنین رضی اﷲ عنہ !دنیا (کی دولت)اُن پر برس رہی ہے،اور وہ سیم و زر میں کھیل رہے ہیں۔“یہ سن کر مسلمان بصرہ کی طرف متوجہ ہوئے،اور وہاں آکر آباد ہونے لگے۔

مسلمان خواتین کی بہادری

حضرت عتبہ بن غزوان رضی اﷲ عنہ نے حضرت مجاشع کو اپنی جگہ نائب بنایا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عتبہ رضی اﷲ عنہ جب دُست میسان کے حاکم سے جنگ کرنے کے لئے روانہ ہوئے ،تو انہوں نے بصرہ میں اپنی جگہ حضرت مجاشع بن مسعود کو نائب بنایا،اور دریائے فرات کی جانب روانہ کیا۔اور حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اُس وقت تک مسلمانوں کو نماز پڑھائیں ۔جب تک کہ حضرت مجاشع فرات کے علاقے سے واپس نہ آجائیں،جب وہ آجائیں گے تو وہی گورنر ہوں گے۔حضرت مجاشع فرات کے علاقے میں مصروف تھے کہ اِدھر ابن قباذ کے اکابر میں اے ایک عظیم شخصیت ”قیلکان“نے مسلمانوں کے خلاف ایک لشکر تیار کر لیا۔حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ کو اطلاع ملی تو آپ رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر اُس کے مقابلے پر آگئے۔”مرغاب“کے مقام پر دونوں لشکروں میں جنگ ہوئی۔جنگ کے دوران سیدہ اردة بنت حارث بن کلدہ نے فرمایا؛”کاش ہم بھی مسلمان مردوں کے ساتھ جنگ میں شریک ہوتے ،اور اُن کی مدد کرتے۔“یہ فرما کر انہوں نے اپنے ڈوپٹے کا جھنڈا بنا لیا،اور دوسری مسلمان خواتین نے بھی اپنے ڈوپٹوں کے جھنڈے بنا لئے ۔اور وہ سب مسلمان مردوں کے ساتھ جنگ میں شریک ہونے کے ارادے سے نکلیں۔وہ سب اُس وقت میدان جنگ میں پہنچیں ،جب فریقین میں گھمسان کی جنگ ہورہی تھی۔جب دشمنوں نے جھنڈوں کو میدان جنگ کی طرف آتے دیکھا تو انہوں نے خیال کیا کہ مسلمانوں کی فوجی امداد کے لئے کمک آرہی ہے۔اس لئے وہ بھاگنے لگے،اور مسلمانوں نے اُن کاتعاقب کر کے انہیں کافی تعداد میں قتل کیا۔

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ گورنر

حضرت مجاشع فرات کے علاقے میں فتح حاصل کر کے لوٹ آئے تھے۔اور فتح کی خوش خبری اور تمام حالات لکھ کر خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیج دیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے تمام حالات جاننے کے بعد حضرت عتبہ بن غزوان رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ حضرت مجاشع جگہ آپ رضی ا ﷲ عنہ ہی تمام انتظامات سنبھالیں۔ یہ حکم ملنے کے بعد حضرت عتبہ بن غزوان رضی اﷲ عنہ واپس آرہے تھے کہ راستے میں آپ رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہو گیا۔خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ نے اُن کی جگہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ کو گورنر بنا دیا۔

خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کے حکام(گورنر)

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دور خلافت کے دوسرے سال ہی فتوحات کا سلسلہ بڑھ گیا۔اور آپ رضی اﷲ عنہ نے مختلف صوبوں پر مختلف حکام (گورنر) ۴۱ ھجری میں ہی مقرر فرما دیئے تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عتبہ بن غزوان رضی اﷲ عنہ کے انتقال کے بعد خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ کو بصرہ کا حاکم (گورنر) بنا دیا تھا۔دو سال گورنر رہنے کے بعد کچھ وجوہات کی وجہ سے انہیں ہٹا کر حضر ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کو بصرہ کا گورنر بنادیا۔خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ نے ۴۱ ھجری میں مسلمانوںکو حج کرایا۔مکہ مکرمہ کی گورنری پر حضرت عتاب بن اُسید رضی اﷲ عنہ کو بر قرار رکھا۔یمن کا حاکم حضرت یعلیٰ بن منیہ کا بنایا۔ملک عراق کا حاکم حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کو بنایا۔ملک شام کا حاکم حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو بنایا۔بحرین کا حاکم حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اﷲ عنہ کو بنایا۔اور کچھ علمائے کرام کے مطابق حضرت علاءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ کو بنایا۔اور ملک عمان کا حاکم حضرت حذیفہ بن محصن رضی اﷲ عنہ کو بنایا۔

تراویح میں ایک امام پر جمع کرنا

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے ماہ ِ رمضان ۴۱ ھجری میں مسلمانوں کو تراویح میں ایک امام پر جمع کیا۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگ اپنی اپنی تراویح پڑھتے تھے۔یہی کیفیت خلیفۂ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ کے زمانے میں بھی رہی۔جب حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ خلیفہ بنے ،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو مشقت سے بچانے کے لئے تراویح کا امام حضرت اُبی بن کعب رضی اﷲ عنہ کو بنا دیا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ نے ۴۱ ھجری میں لوگوں کو تراویح میں حضرت اُبی بن کعب رضی اﷲ عنہ کی امامت پر اکٹھا کر دیا۔اور بقیہ تمام شہروں میں بھی ماہ رمضان میں ایسا ہی کرنے کا حکم بھیج دیا۔حضرت ابن شہاب رحمتہ اﷲ علیہ (جلیل القدر تابعی)فرماتے ہیں؛”رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ،اﷲ تعالیٰ کی جوارِ رحمت میں چلے گئے،تو وہی حالت رہی۔خلیفہ¿ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے دور ِ خلافت میں بھی وہی حالت رہی۔اور خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دور خلافت کے شروع میں بھی یہی حالت رہی۔“حضرت عبد الرحمن رحمتہ اﷲ علیہ(جلیل القدر تابعی)فرماتے ہیں؛”میں حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے ساتھ ماہ ِرمضان کی ایک رات مسجد میں گیا،تو لوگوں کو الگ الگ نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔کہیں ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا،کہیں کچھ لوگ نماز پڑھ رہے تھے۔امیر المومنین رضی اﷲ عنہ نے یہ دیکھ کر فرمایا؛”میرے خیال میں انہیں ایک قاری پر جمع کر دیا جائے،تو زیادہ بہتر ہو گا۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت اُبی بن کعب رضی اﷲ عنہ کو اُن کا امام بنا دیا،اور سب کو اُن کی اقتداءپر جمع کر دیا۔پھر میں حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے ساتھ دوسری رات مسجد میں گیا،تو دیکھا کہ تمام لوگ حضرت اُبی بن کعب رضی اﷲ عنہ کی امامت میں نماز پڑھ رہے ہیں۔امیر المومنین رضی اﷲ عنہ نے یہ دیکھ کر فرمایا؛”یہ کتنی اچھی بدعت ہے۔“

حضرت عتبہ بن غزوان رضی اﷲ عنہ کا انتقال

14 ھجری میں حضرت عتبہ بن غزوان رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا۔کچھ علمائے کرام کے مطابق 16 ھجری میں ہوا۔واﷲ و اعلم ۔علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت عتبہ بن غزوان مازنی رضی اﷲ عنہ بنو عبد شمس کے حلیف اور بدری صحابی ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے اعلان نبوت کے ایک سال بعد اسلام قبول کیا۔اور ”السابقون الاولون“میں سے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے ہی خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دور ِخلافت میں اُن کے حکم سے سب سے پہلے بصرہ کی حد بندی کی۔آپ رضی اﷲ عنہ کے کارنامے اور فضائل بہت زیادہ ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے 14 ہجری میں وفات پائی۔بعض نے ۵۱ ہجری،بعض نے 16 ہجری ،بعض نے ۷۱ ہجری،اور بعض علمائے کرام نے 20 ہجری بھی بیان کیا ہے۔واﷲ اعلم۔وفات کے وقت آپ رضی اﷲ عنہ کی عُمر پچاس سے متجاوز تھی۔اور بعض کا قول ہے کہ ساٹھ سے متجاوز تھی۔

حضرت ابن اُم مکتوم رضی اﷲ عنہ کی شہادت

حضرت عَمرو بن اُم مکتوم رضی اﷲ عنہ نابینا تھے،اور ”السابقون الاولون“ میں سے ہیں۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نابینا تھے،کہتے ہیں کہ آپ رضی اﷲ عنہ کا نام عبد اﷲ تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ سے پہلے اور حضرت مصعب بن عمیر رضی اﷲ عنہ کے بعد مدینہ منورہ ہجرت کی تھی۔آپ رضی اﷲ عنہ مدینہ منورہ میں حضرت مصعب بن عمیر رضی اﷲ عنہ کے ساتھ انصار کو قرآن پاک کی تعلیم دیا کرتے تھے۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے کئی بار آپ رضی اﷲ عنہ کو مدینہ منورہ پر اپنا نائب مقرر فرمایا ہے۔ایک روایت کے مطابق رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے آپ رضی اﷲ عنہ کو تیرہ(13) مرتبہ اپنا نائب بنایا ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ خلیفہ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دور ِ خلافت میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کے ساتھ جنگ قادسیہ میں شامل ہوئے،اور ایک روایت کے مطابق وہیں شہید ہو گئے۔اور ایک اور روایت کے مطابق مدینہ منورہ واپس آئے اور انتقال ہوا۔وا ﷲ اعلم۔

حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کا انتقال

اِسی سال 14 ہجری میں حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کا بھی انتقال ہوا۔خلیفہ¿ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے حکم کے مطابق جب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ ملک شام آدھا لشکر لیکر جانے لگے ،تو حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کو ملک عراق (حیرہ)میں موجود آدھے لشکر کا سپہ سالار بنا دیا تھا۔علامہ عما د الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ بن مسلمہ بن ضمضم بن سعد بن مُرہبن ذہل بن شیبان شیبانی رضی اﷲ عنہ ملک عراق میں حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے نائب تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے ہی خلیفۂ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو ملک عراق میں لشکر بھیجنے پر آمادہ کیا تھا۔اور جنگ جسر میں حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ کے شہید ہونے کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ ہی مسلمانوں کے سپہ سالار بنے۔اور اُس جنگ میں آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنی مہارت اور تدبر سے مسلمانوں کو فارسیوں (ایرانیوں ) سے بچایا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے وصال سے پہلے اپنے بھائی حضرت معنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کو اپنی جگہ نائب بنایا۔اور وصیت کی کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ جب لشکر لیکر ملک عراق آئیں ،تو اپنا لشکر لیکر اُن کے لشکر سے مل جانا۔اور اُن کی قیادت میں جہاد کرنا۔اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ سے کہنا کہ وہ میری بیوہ سے نکاح کرلیں۔

حضرت ابو زید انصاری رضی اﷲ عنہ کی شہادت

حضرت ابو زید انصاری رضی اﷲ عنہ نے ۴۱ ہجری میں جنگ جسر میں شہادت کا مرتبہ حاصل کیا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت ابو زید انصاری رضی اﷲ عنہ کا نا م قیس بن سکن بن قیس بن زعوراءبن حزم بن جندب بن غنم بن عدی بن نجار ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ انصار کے اُن چار قاریوں میں سے ہیں،جنہوں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانے میں قرآن پاک حفظ کیا۔یہ چاروں حضرت معاذ بن جبل، حضرت اُبی بن کعب،حضرت زید بن ثابت ،اور حضرت ابو زید رضی اﷲ عنہم ہیں۔حضرت ابو زید انصاری رضی اﷲ عنہ بدری صحابی ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ جنگ جسر میں بہادری کے جوہر دکھاتے ہوئے شہید ہوئے۔

حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ کی شہادت

حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ بھی 14 ہجری میں جنگ جسر میں شہید ہوئے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت ابو عبید بن مسعود بن عَمرو ثقفی رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانے میں اسلام قبول کیا تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ کی بیٹی سیدہ صفیہ کا نکاح خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے بیٹے حضرت عبد اﷲ بن عُمرفاروق رضی اﷲ عنہ سے ہوا۔خلیفۂ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے دورِ خلافت کے آخری دنوں میں حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ مزید کمک کے لئے ملک عراق سے آئے ۔اور اُن کے انتقال کے بعد خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت مثنی بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ جانے کے لئے مسلمانوں کو ترغیب دی ،تو حضرت ابو عبید بن مسعود ثقفی رضی اﷲ عنہ سب سے پہلے جانے کے لئے تیار ہوئے۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے انہیں ملک عراق کا سپہ سالار بنا کر لشکر دیکر حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ بھیجا۔جہاں انہوں نے بہت سی فتوحات حاصل کیں ،اور آخر کارجنگ جسر میں شہید ہو گئے۔

حضرت ابو قحافہ بن عثمان رضی اﷲ عنہ کا انتقال

اِس سال 14 ہجری میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے والد حضرت ابو قحافہ بن عثمان رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا۔علامہ عمادد الدین ابن کثیر لکھتے ۔آپ رضی اﷲ عنہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے والد محترم ہیں۔فتح مکہ کے وقت اسلام قبول کیا۔جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ انہیں لیکر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ،تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”اے ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ !انہیں کیوں تکلیف دی،مجھے کہتے ،میں خود حاضر ہو جاتا۔“حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا؛”یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم !یہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں دوڑ کر آنے کے زیادہ حقدار ہیں۔“رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے انہیں اپنے سامنے بٹھا لیا،اور اُن کے لئے دعا فرمائی۔جب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا وصال ہوا ،اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو مسلمانوں نے اپنا خلیفہ بنا لیا ۔تب حضرت ابو قحافہ رضی اﷲ عنہ کو یہ بات بتائی گئی کہ آپ رضی اﷲ عنہ کے بیٹے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو مسلمانوں نے خلیفہ بنالیا ہے،تو انہوں نے پوچھا؛”کیا بنو ہاشم اور بنو مخزوم نے خلیفہ تسلیم کر لیا ہے؟“لوگوں نے جواب دیا؛”ہاں۔“یہ سن کر آ پ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”یہ اﷲ کا فضل ہے ،وہ جسے چاہے دے دیتا ہے۔“پھر آپ رضی اﷲ عنہ کو اپنے بیٹے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا بھی غم برداشت کرنا پڑا۔ اور 14 ہجری میں آپ رضی اﷲ عنہ کابھی انتقال ہوگیا۔

14 ہجری کے چند شہداءرضی اﷲ عنہم کے نام

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دور خلافت میں 14 ہجری میں مسلمان اُس وقت کی دونوں سوپر پاور سلطنت روم،اور سلطنت فارس سے نبرد آزما تھے۔اور مسلسل فتوحات ہوتی جارہی تھیں،لیکن اِس کے لئے مسلمانوں کو قربانیاں بھی دینی پڑ رہی تھیں،اور مسلمان شہید بھی ہو رہے تھے۔مسلمان شہداءکی تعداد تو کئی ہزار ہے،لیکن ہم یہاں صرف چند شہدا کے نام آپ کی خدمت میں پیش کررہے ہیں۔علامہ عماد الدین ابن کثیر ،امام ذہبی کے حوالے سے لکھتے ہیں۔حضرت اوس بن اوس بن عتیک رضی اﷲ عنہ جنگ جسر میں شہید ہوئے۔حضرت بشیر بن عنبس ظفری رضی اﷲ عنہ بھی جنگ جسر میں شہید ہوئے۔آپ رضی اﷲ عنہ صحابی ہیں،اور حضرت قتادہ بن نعمان رضی اﷲ عنہ کے چچا ذاد بھائی ہیں۔”حواکے شہسوار“کے نام سے مشہور تھے،”حوا“آپ رضی اﷲ عنہ کے گھوڑے کا نام تھا۔حضرت ثعلبہ بن عمرو نجاری رضی اﷲ عنہ بدری صحابی ہیں،جنگ جسر میں شہید ہوئے۔حضرت حارث بن عتیک نجاری رضی اﷲ عنہ صحابی ہیں،غزوہ اُحد میں شریک ہوئے تھے،جنگ جسر میں شہید ہوئے۔حضرت خزیمہ بن اوس اشہلی رضی اﷲ عنہ جنگ جسر میں شہید ہوئے۔حضرت ربیعہ بن حارث بن عبد المطلب رضی ا ﷲ عنہ اِسی سال شہید ہوئے یا انتقال ہوا۔حضرت زید بن سراقہ رضی اﷲ عنہ جنگ جسر میں شہید ہوئے ۔حضرت سعد بن سلامہ اشہلی رضی اﷲ عنہ ،ایک قول کے مطابق حضرت سعد بن عبادہ رضی اﷲ عنہ ،حضرت سلمہ بن اسلم رضی اﷲ عنہ جنگ جسر میں شہید ہوئے۔ حضرت ضمرہ بن غزیہ رضی اﷲ عنہ جنگ جسر میں شہید ہوئے۔حضرت عباد،حضرت عبد اﷲ اور حضرت عبد الرحمن رضی اﷲ عنہم بنو مریع کے جنگ جسر میں شہید ہوئے۔حضرت عبد اﷲ بن صعصعہ انصاری نجاری غزوہ اُحد اور اُس کے بعد کے معرکوں میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ رہے،جنگ جسر میں شہید ہوئے۔حضرت عقبہ اور اُن کے بھائی حضرت عبد اﷲ رضی اﷲ عنم اپنے والد محترم حضرت قمطی بن قیس رضی اﷲ عنہ کے ساتھ جنگ جسر میں شامل تھے،اور دونوں بھائی شہید ہوئے۔حضرت عمرو بن یسر رضی اﷲ عنہ جنگ جسر میں شہید ہوئے۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کا اِسی سال انتقال ہوا۔حضرت نافع بن غیلان رضی اﷲ عنہ جنگ جسر میں شہید ہوئے۔حضرت نوفل بن حارث بن عبد المطلب رضی اﷲ عنہ کا اسی سال انتقال ہوا۔حضرت ابو عبید بن مسعود ثقفی رضی اﷲ عنہ جنگ جسر میں شہید ہوئے ،آپ رضی اﷲ عنہ ملک عراق میں مسلمانوں کے سپہ سالار تھے۔

 باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

17 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ Khilafat e Rashida 2


17 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی 

قسط نمبر 17

فتوحات ِسلطنت روم، فتح ذولکلاع، فتح مرج روم، حمص کا محاصرہ، طویل عرصے تک محاصرہ، فتح حمص، خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کا حکم، خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ نے ”اﷲ کی تلوار “کی تعریف کی، اہل قنسرین کی بد عہدی اور انجام، ہرقل کی ناکہ بندی، ہرقل قسطنطنیہ بھاگا، فتح حلب، انطاکیہ کی فتح

فتوحات ِسلطنت روم

خلیفۂ دوم حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے ذکر کے شروع میں ہم نے آپ کو تفصیل سے جنگ اجنادین ،جنگ یرموک کے حالات بیان کئے تھے۔اور ”فحل “تک کی فتوحات کا تفصیلی ذکر کیا تھا۔اِس کے بعد ملک شام میں شدید سردیوں کی وجہ سے مسلمانوں کی پیش قدمی رک گئی تھی۔اور اسِ دوران ملک عراق میں جنگ قادسیہ وغیرہ پیش آئی تھیں،اسی لئے ہم نے ملک شام کے حالات روک کر ملک عراق کے حالات پیش کئے تھے۔اب ۵۱ ہجری کی شروعات میں پہلے ہم ملک شام کے حالات پیش کریں گے،پھر انشاءاﷲ ملک عراق کے حالات پیش کریں گے۔حضرت بو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ ملک شام میں سپہ سالار ِ اعظم تھے،انہوں نے حضرت یزید بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ کو دمشق کا گورنر بنا دیا تھا۔اور حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ عنہ کو اردن میں تعینات کیا تھا،اور حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کو فلسطین کی طرف تعینات کیا تھا۔جبکہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو اپنے ساتھ رکھا ہوا تھا،اور اُن سے برابر مشورے کر کے آگے کا لائحہ عمل مرتب کرتے تھے۔

فتح ذولکلاع

حضرت ابو عبیدہ بن جرا ح رضی اﷲ عنہ نے ”فحل“میں فتح حاصل ہونے کے بعد باقی تمام سپہ سالاروں کو لشکر دیکر الگ الگ محاذوں پر روانہ کردیا۔اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو ایک لشکر دیکر اور خود ایک لشکر لیکر حمص کی طرف روانہ ہوئے۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔فحل میں رومیوں کو شکست دینے کے بعد حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے ساتھ بقصد ”حمص“روانہ ہو کر ”ذو الکلاع “میں پڑاو¿ ڈالا۔سلطنت روم کے شہنشاہ ہرقل نے توذر کو ایک لشکر دیکر مسلمانوں سے مقابلہ کرنے کے لئے بھیجا۔جس نے مرج روم پہنچ کر حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے مقابلے پر پڑاو¿ ڈالا۔ہرقل نے ایک لشکر دیکر شمس کو بھیجا ،جس نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کے مقابلے پر پڑاو¿ ڈالا۔تمام رات فریقین خوف و رجا سے سو نہیں سکے۔مسلمانوں کو جنگ کا اشتیاق بے چین کئے ہوئے تھا،اور رومیوں کو اپنی جان کا خوف تھا۔صبح ہوئی تو توذر نے اپنا لشکر لیکر دمشق کی طرف رُخ کیا،اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ بھی اپنا لشکر لیکر اُس کے پیچھے روانہ ہو گئے۔اُدھر دمشق میں حضرت یزید بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ کو توذر کی پیش قدمی کی خبر ملی،تو آپ رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر اُس کے استقبال کے لئے دمشق سے باہر آگئے۔دونوں لشکروں کا سامنا ہوا ،اور جنگ شروع ہو گئی۔اِسی دوران حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اپنا لشکر لیکر توذر کے لشکر کے عقب میں پہنچ گئے،اور رومیوں پر پیچھے سے حملہ کر دیا۔اِس طر ح رومی ، مسلمانوں کے دوہرے حملے کی وجہ سے بری طرح گھبرا گئے۔اور لڑنے کے بجائے بھاگنے کی کوشش کرنے لگے۔لیکن اُن کے بھاگنے کا راستہ بھی مسلمانوں نے بند کر دیا تھا،جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بے شمار رومیوں کا قتل عام ہوا ۔اور مسلمانوں فتح حاصل ہوئی ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ توذر کو حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے قتل کیا۔فتح کے بعد تو حضرت یزید بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ دمشق لوٹ گئے۔اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اپنا لشکر لیکر تیزی سے مرج روم کی طرف واپس لوٹے۔

فتح مرج روم

حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ مسلسل حرکت میں رہتے تھے،اور انہیں میدان جنگ بہت پسند تھا۔اِسی لئے آپ رضی اﷲ عنہ فتح ذولکلاع کے بعد اپنے لشکر کو لیکر فوراً حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کی طرف واپس لوٹے۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی روانگی کے بعد رومی لشکر کے سپہ سالار شمس نے اپنے لشکر کے ساتھ حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کے لشکر پر حملہ کر دیا۔ابھی یہ جنگ چل ہی رہی تھی،اور کوئی فیصلہ ہونے نہیں پایا تھا کہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اپنا لشکر لیکر پہنچ گئے،اور بلند آواز سے نعرۂ تکبیر لگایا۔جسے سن کر حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ اور اُن کے لشکر کے حوصلے بلند ہو گئے،اور انہوں نے جوابی نعرۂ تکبیر بلند کیا،اور ایک نئے جوش سے رومیوں پر حملہ کر دیا۔مسلمانوں کے دونوں لشکروں نے ایک ساتھ حملہ کیا ،تو رومیوں کے پیر اُکھڑ گئے۔اور وہ بھاگنے لگے،اور حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے اِسی دوران اُن کے سپہ سالار شمس کو قتل کر دیا۔رومی میدان جنگ سے بھاگے ،اور ”حمص“ میں جاکر پناہ لی۔ہرقل کو جب دونوں رومی لشکروں کی شکست کی اطلا ع ہوئی ،تو اُس نے حمص میں اپنا ایک سپہ سالار متعین کیا،اور ”الرھا“چلا گیا۔

حمص کا محاصرہ

حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے ساتھ مل کر آگے بڑھے،اور حمص کا محاصرہ کر لیا۔یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اُس وقت فلسطین،اردن ،اور لبنان الگ ملک نہیں تھے،بلکہ ملک شام کے صوبے کی حیثیت رکھتے تھے۔بعد میں انہیں ملک شام سے الگ کر کے الگ الگ ملک بنا دیا گیا۔ملک شام کے اُس وقت چھ بڑے صوبے تھے۔اِن میں سے دمشق،حمص،اردن،فلسطین،اور لبنان زیادہ مشہور تھے۔حمص کو انگریزی میں”ایما“کہتے ہیں،یہاں پر ”ہیکل شمس“تھا۔جس کی زیارت کو دور دراز ملکوں سے لوگ آتے تھے،اور قدیم زمانے میں حمص کی شہرت اِسی وجہ سے ہوئی۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے حمص کا محاصرہ کیا ،تو ہرقل نے اہل حمص کی امداد کے لئے اہل جزیرہ کے لوگوں کا ایک لشکر روانہ کیا۔لیکن اِسی دوران حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے ایک لشکر قرقیسیا کی طرف بھیج دیا تھا۔اور اُن سے مقابلے کی وجہ سے اہل الجزیرہ کا لشکر حمص نہیں پہنچ سکا تھا۔(اِس کا ذکر انشاءاﷲ ہم ملک عراق اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کے ذکر میں تفصیل سے کریں گے۔یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں ”الجزیرہ“سلطنت روم اور سلطنت فارس کا سرحدی علاقہ ہے۔)

طویل عرصے تک محاصرہ

حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے ساتھ ملکر حمص کا محاصرہ کیا ہوا تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ہرقل نے حمص کے گورنر یا سپہ سالار کو لکھ بھیجا کہ ”مجھے اطلاع ملی ہے کہ اِن عربوں(مسلمانوں)کھانا اونٹ کا گوشت اور پینا اونٹ کا دودھ ہے۔یہ مو سم سرما(سردی کا موسم) ہے۔اِس لئے تم اِن سے خنک جنگ کرو،اور محاصرے کو جتنی طوالت دے سکتے ہو ،اتنا ہی تمہارے لئے فائدے مند ہوگا۔اِس طرح موسم گرما(گرمی کے موسم) کے آغاز تک کوئی بھی اِن میں سے باقی نہیں رہ سکے گا۔“رومی ہر سرد دن میں صبح سویرے جنگ کرتے تھے،مسلمانوں نے وہاں بہت شدید سردی محسوس کی۔رومیوں نے محاصرے کو طول دے دیا،لیکن مسلمانوں نے بھی سردی کی شدت پر صبر کیا،اور مستقل مزاجی سے محاصرے پر ڈٹے رہے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔محاصرے کے وقت شدید سردی پڑ رہی تھی،اور اہل شہر نے اِس اُمید پر استقلال کا مظاہرہ کیا کہ سردی کی شدت مسلمانوں کو ہٹا دے گی۔رومی جوتوں کے ساتھ ساتھ موزے بھی پہنتے تھے،اِس کے باوجوداُن کے پیر پھٹ جاتے تھے،اور وہ مسلمانوں کی طرح حوصلہ نہیں دکھا پا رہے تھے۔جو صرف جوتوں پر ہی رہ کر اُن کا مقابلہ کر رہے تھے،وہ مسلسل اِسی حالت میں رہے ،یہاں تک کہ سردی کا موسم گذر گیا۔

فتح حمص

موسم سرما ختم ہونے کے بعد مسلمانوں نے محاصرہ میں سختی کر دی،اور حمص پر حملے کی تیاری کرنے لگے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب موسم سرما ختم ہوا تو رومیوں کے ایک بوڑھے شخص نے کھڑے ہو کر اُن سے کہا کہ وہ مسلمانوں سے صلح کر لیں۔مگر انہوں نے کہا کہ ہم کیسے مصالحت کر لیں جب کہ ہماری سلطنت اور شان و شوکت باقی ہے۔اور ہمارے اور اُن کے درمیان بہت زیادہ فرق ہے۔پھر ایک اور آدمی کھڑا ہوا ،اور بولا کہ موسم سرما چلا گیا ہے،اور اِس کے ساتھ یہ اُمید بھی ختم ہو گئی ہے،اب تم کس چیز کا انتظار کر رہے ہو؟دیکھو یہ قوم(مسلمان) سب تکالیف برداشت کر لیتی ہے۔اب اگر تم ان سے صلح کا عہد و پیمان کر لو تو یہ تمہارے لئے اِس بات سے زیادہ بہتر ہو گا ،کہ وہ لوگ تمہیں تلوار کے زور پر گرفتار کرلیں ،یا قتل کر دیں۔اُدھر حمص کی ”شہر پناہ“(فصیل وہ دیوار جو شہروں کے اطراف بنائی جاتی تھیں)کے اطراف مسلمانوں نے ایک ساتھ نعرہ¿ تکبیر لگایا۔جس سے رومیوںکو یوںلگا،جیسے حمص کے در و دیوار لرز گئے،اور رومی بہت زیادہ گھبراہٹ کاشکار ہو گئے۔جب مسلمانوں نے دوسری مرتبہ بلند کی تو رومیوں کو لگا کہ حمص شہر کا ہر گھر گر جائے گا۔اور وہ اتنا زیادہ خوفزدہ ہو گئے ،کہ سب لوگ صلح کرنے پر راضی ہو گئے۔اور شہر پناہ پر چڑھ کر ”صلح صلح “چلانے لگے۔مسلمانوں نے دمشق کی صلح کی شرائط پر حمص کے لوگوں سے صلح کر لی۔اور حمص پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا۔

خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کا حکم

فتح حمص کی خوش خبری خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کو دی گئی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے مال غنیمت کا پانچوں حصہ اور حمص کی فتح کی خوش خبری خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ بھیجا،انہوں نے خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ کو ہرقل کا حال بتایا کہ وہ منہ چھپائے مارا مارا پھر رہا ہے۔پہلے تو اُس نے دریا عبور کیا،اور” الجزیرہ “چلا گیا،اور الرھا میں تھا ۔اِس کے بعد وہ اِدھر اُدھر بھاگتا پھر رہا ہے۔اِس کے بعد خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ نے حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ کو ملک عراق حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کے پاس بھیج دیا۔اور ملک شام میں حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو یہ حکم لکھ بھیجا؛”تم اپنے شہر (حمص) میں قیام کرو،اور ملک شام کے بہادر اور طاقتور عربوں کو دعوت دو،میں بھی انشاءاﷲ امدادی لشکر بھیجتا رہوں گا۔“اِس حکم کے بعد حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ حمص میں ہی رکے رہے،اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو لشکر دیکر ”قنسرین“بھیجا۔جب آپ رضی اﷲ عنہ مسلمانوں کے ساتھ شہر کے قریب پہنچے ،تو رومیوں کا لشکر میناس کی قیادت میں شہر سے باہر آیا۔میناس ہرقل کے بعد سلطنت روم کا سب سے بڑا سپہ سالار تھا۔دونوں لشکروں میں جنگ شروع ہوئی ۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کا اصول تھا کہ وہ ہر جنگ میں الگ الگ جنگی چالیں چلتے تھے۔اور موقع کی مناسبت سے فوراً اپنی جنگی چال بد ل دیتے تھے۔میناس بالکل بھی آپ رضی اﷲ عنہ کی جنگی چالوں کو نہیں سمجھ سکا،اور اُسے قتل کر دیا گیا۔رومی بھی کثرت سے مارے گئے۔رومیوں نے اپنے سپہ سالار کی موت کے بعد ہتھیار ڈال دیئے،اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ سے عرض کیا کہ ہم آپ رضی اﷲ عنہ سے جنگ نہیں کرنا چاہتے تھے۔بلکہ ہمیں زبردستی جنگ کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اُن کی معذرت قبول کی،اور انہیں اُن کی جاں بخشی کر دی۔اور انہیں اطمینا ن اور سکون سے اُن کے گھروں میں رہنے دیا۔

خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ نے ”اﷲ کی تلوار “کی تعریف کی

حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے قنسرین کے لوگوں کو معاف کر دیا، اور قنسرین فتح ہوگیا۔اُس کی خوش خبری اور تمام حالات لکھ کر حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیجا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی معافی کی خبر ملی،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اپنے آپ یہ حکم دیا؟اﷲ تعالیٰ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے،وہ مجھ سے زیادہ مردم شناس تھے۔“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ بننے کے بعد حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اور حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کو معزول کر دیا تھا،اور یہ فرمایا تھا؛”میں نے اِن کو کسی الزام یا شک و شبہ کی وجہ سے معزول نہیں کیا ہے،بلکہ اِس کی اصل وجہ یہ ہے کہ لوگوں نے اِن دونوں کو بہت عظیم شخصیت سمجھ لیا تھا۔اِس لئے مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ اِن دونوں پر بھروسہ کر کے نہ بیٹھ جائیں۔“جب قنسرین کا یہ واقعہ ہوا ،توخلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ نے اپنی رائے سے رجوع کر لیا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔جب فاروق ِ اعظم رضی اﷲ عنہ کو اِن واقعات کی اطلاع ملی تو بے ساختہ فرمایا؛”میں حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو اُس کے نفس کا سردار مقرر کرتا ہوں،اﷲ تعالیٰ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے،وہ مجھ سے زیادہ لوگوں کو پہچاننے والے تھے۔“حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اور حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کو فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ نے کسی اور وجہ سے معزول نہیں کیا تھا۔خیال یہ پیدا ہوا تھا کہ فتوحات کی کژت سے اِن دونوں میں کہیں غرور نہ آجائے۔بہر حال جنگ جسر میں حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ کے شہید ہونے کے بعد جس طرح سے حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے ثابت قدمی سے مسلمانوں کی حفاظت کی،اور ڈٹے رہنے سے فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ نے حضرت مثنیٰ رضی اﷲ عنہ کو پھر سے لشکر کی کمان سونپ دی تھی،اُسی طرح قنسرین کے بعد حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو بھی دوبارہ امارت پر مامور کیا۔

اہل قنسرین کی بد عہدی اور انجام

حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اہل قنسرین کو بخش دیا تھا،اور انہیں اُن کے حال پر چھوڑ دیا تھا۔لیکن انہوں نے بد عہدی کی اور جنگی تیاری کر کے مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے۔ادھر اہل قنسرین کی طرف سے اطمینان ہونے کے بعد حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ مسلمانوں کو لیکر ”حلب “کی طرف روانہ ہوئے۔راستے میں انہیں خبر ملی کہ اہل قنسرین نے بد عہدی کی ہے ،تو انہوں نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو لشکر دیکر روانہ کیا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔مہم قنسرین سے فارغ ہونے کے بعد حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے حلب کی طرف کوچ کیا۔اثنائے راہ میں یا حلب کے قریب پہنچ کر یہ خبر آئی کہ ”اہل قنسرین نے بد عہدی کی ،اور بلوہ کر دیا۔“علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ وہاں سے چل کر خاص شہر قنسرین کی طرف آئے تو اہل شہر قلعہ بند ہو گئے۔(یعنی شہر پناہ کے دروازوں کوبند کر لیا)یہ دیکھ کر آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اگر تم بادلوں میں بھی ہو گے،تو اﷲ تعالیٰ ہمیں تمہاری طرف اُٹھا لے جائے گایا تمہاری طرف اُتار دے گا۔“اور شہر پناہ پر حملہ کر کے اُسے توڑنے لگے۔اِس پر وہ اپنے معاملات پر غور کرنے لگے،اور انہوں نے اہل حمص کا حشر یاد کر کے صلح کی درخواست کی۔لیکن حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے صلح قبول نہیں کی،اور قنسرین پر حملہ کر کے اُسے فتح کر لیا۔

ہرقل کی ناکہ بندی

مسلمانوں نے ہر طرف سے ہرقل کو گھیر لیا،حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ فلسطین کی طرف سے،حضرت یزید بن سفیان رضی اﷲ عنہ دمشق کی طرف سے،حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ عنہ اردن کی طرف سے اُسے گھیرے ہوئے تھے۔جبکہ حضرت ابو عبیدہ رضی اﷲ عنہ حلب کی طرف بڑھ رہے تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب حمص اور قنسرین ہاتھوں سے نکل گئے،تو ہرقل کو پیچھے ہٹنا پڑا۔اور اُس کی پسپائی کی وجہ یہ ہوئی کہ جب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے میناس کو قتل کر دیا،اور اس کے بعد رومیوں کا صفایا ہوا،اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے قنسرین کو فتح کرلیا۔تو حضرت عمر بن مالک کوفہ کی طرف سے نمودار ہو کر ”قر قیسیا “کی طرف نکل آئے۔اور ولید بن عقبہ قبیلہ بنو تغلب اور الجزیرہ کے عربوں کا لشکر لیکر نکلے،اور جزیرے کی رومی سرحدوں کو سیل کر دیا۔حضرت خالد بن ولید اور حضرت عیاض بن غنم رضی اﷲ عنہم نے بھی اپنی طرف سے ناکہ بندی کر دی،اور تمام اسلامی سپہ سالار اپنے اپنے لشکر لیکر ہر قل پر دباو¿ ڈالنے لگے۔اِس سے پہلے اِس قسم کی ناکہ بندی کبھی نہیں کی گئی تھی۔

ہرقل قسطنطنیہ بھاگا

مسلمان ”بلاد شام “میں حاوی ہوتے جا رہے تھے،اور ہر طرف سے آگے بڑھ رہے تھے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔اِس سال ہرقل اپنی فوجوں کے ساتھ واپس آگیا،اور ”بلاد شام “کو چھوڑ کر”بلاد روم “کی طرف چلا آیا۔علامہ محمد بن جریر طبری نے محمد بن اسحاق کے حوالے سے ایسے ہی بیان کیا ہے۔وہ کہتے ہیںکہ یہ ۵۱ ہجری کا واقعہ ہے،جبکہ سیف نے بیان کیا ہے کہ یہ ۶۱ ہجری کا واقعہ ہے۔ہرقل جب بھی ”بیت المقدس“کی زیارت کر کے بلاد روم کی طرف واپس جاتا تھا ،تو مسافروں والا سلام کہتاتھا۔لیکن اِس بار جب وہ جانے لگا ،اور شمشاط کی ایک پہاڑی پر چڑھاتو ”بیت المقدس“کی طرف متوجہ ہو کر بولا؛”اے سوریہ تجھ کو ایسا سلام ہو،جس کے بعد کوئی ملاقات نہیں ہو گی۔ہاں!میں تجھے جدا ہونے والا سلام کہہ رہا ہوں،اور تیری طرف جب بھی کوئی رومی آئے گا،تو خوفزدہ ہو کر آئے گا۔“اِس کے بعد وہ ”قسطنطنیہ “بھاگ گیا،اور بلاد روم میں اپنی حکومت کو مضبوط کرنے لگا۔اِسی دوران ایک رومی مسلمانوں کی قید سے رہا ہو کر ہرقل کے پاس پہنچا،تو اُس نے کہا؛”مجھے مسلمانوں کے بارے میں بتاو¿۔“رومی نے کہا؛”وہ دن میں بہادر شہ سوار ہوتے ہیں،اور دن میںشیروں کی طرح حملہ کرتے ہیں۔اور رات کو راہب(عبادت میں مصروف) ہوتے ہیں۔اور اپنی رعایا ،ذمیوں،اور معاہدین سے قیمت ادا کر کے کھاتے ہیں۔اور سلام کے ساتھ داخل ہوتے ہیں،اور جس سے جنگ کرتے ہیں،پہلے اُسے سمجھاتے ہیں۔پھر جب وہ نہیں مانتا ہے ،تو اُس کا قلع قمع کر دیتے ہیں۔“ہرقل نے کہا؛”اگر تو صحیح کہہ رہا ہے،تو وہ لوگ ضرور میرے اِن قدموں کی جگہ(قسطنطنیہ)پر قابض ہو ں گے۔“

فتح حلب

ملک شام میں حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ تمام سپہ سالاروں کے سپہ سالار تھے۔اور ”بیت المقدس “کی طرف پیش قدمی کر رہے تھے۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔حضرت ابو عبیدہ رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ ”حلب “پہنچے،اور اُس کے قریب ایک مقام”خناضر (یا خاضر)“میں پڑاو¿ڈال دیا۔یہاں پر عرب کے بہت سے قبیلے آباد تھے،جنہوں نے جزیہ دیکر صلح کر لی ،اور چند دنوں میں سب کے سب مسلمان ہو گئے۔آپ رضی اﷲ عنہ کی اور مسلمانوں کی آمد کی خبر سن کر اہل حلب قلعہ بند ہو گئے،اور شہر پناہ کے سب دروازوں کو بند کر لیا۔مسلمانوں نے شہر کا محاصرہ کر لیا۔حضرت عیاض بن غنم رضی اﷲ عنہ جو ”مقدمة الجیش“کے سپہ سالار تھے،اُن سے شہر کے لوگوں نے صلح کی درخواست کی۔آپ رضی اﷲ عنہ نے دمشق اور حمص کی شرائط پر صلح اور امان کر لی۔حضرت ابو عبیدہ رضی اﷲ عنہ نے اِس صلح اور امان کو بر قراررکھا،اور معاہدہ لکھ کر دے دیا۔بعض کہتے ہیں کہ گرجوں اور شاہی عمارتوں کی تقسیم صلح سے ہوئی،اور بعض کہتے ہیں کہ عیسائی حلب چھوڑ کر ”انطاکیہ “چلے گئے تھے۔جب انطاکیہ بھی فتح ہو گیا تو اُس وقت عیسائی مصالحت کر کے حلب واپس آگئے۔

انطاکیہ کی فتح

اسلامی لشکروں کی ”بیت المقدس“کی طرف پیش قدمی جاری تھی۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ حلب کو فتح کرنے کے بعد ”انطاکیہ “کی طرف بڑھے۔انطاکیہ میں ہرقل قیصر کے شاہی محلات تھے،اور اکثر اوقات تبدیل ِآب و ہوا کی غرض سے یہاں قیام کرتا تھا۔یہاں پر مختلف مقامات سے عیسائی بھاگ بھاگ کر آئے تھے،اور اس کو اپنا مامن و ملجا سمجھ کر مقیم تھے۔مسلمانوں کی آمد کی خبر سن کر وہ لوگ انطاکیہ کے باہر صف آراہو گئے۔حضرت ابو عبیدہ رضی اﷲ عنہ نے بھی مسلمانوں کو صف آرا کردیا۔دونوں فریقین نے ایک دوسرے پر حملہ کر دیا،لیکن حضرت ابو عبیدہ رضی ا ﷲعنہ نے مسلمانوں کے ساتھ پہلا ہی حملہ اتنا شدید کیا کہ رومیوں کے حوصلے پست ہو گئے۔اور وہ بھاگ کر شہر میں داخل ہو گئے۔اور مسلمانوں نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کے حکم سے شہر (انطاکیہ) کا محاصرہ کر لیا۔چند روز بعد رومیوں (عیسائیوں)نے مجبور ہو کر جزیہ دینے یا جلا وطنی پر صلح کر لی۔جو رومی جزیہ نہیں دے سکا ،وہ انطاکیہ چھوڑ کر چلا گیا۔حضرت ابو عبیدہ رضی اﷲ عنہ ہر شہر میں ایک حاکم مقرر کر دیتے تھے،اور کچھ لشکر چھوڑ دیتے تھے۔تاکہ ذمی بد عہدی نہ کر سکیں۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

18 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ Khilafat e Rashida 2



18 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی 

قسط نمبر 18

بلاد شام کے رومیوں کی اطاعت، بیت المقدس کی طرف پیش قدمی، قیساریہ کی فتح، حضرت عمر و بن عاص رضی اﷲ عنہ کی پیش قدمی، خلیفۂ دوم رضی ا ﷲ عنہ کی ہدایات، فتح اجنادین، ایلیاہ(یروشلم،بیت المقدس) کا محاصرہ، اِس شہر کو فتح ”عُمر “نام والاشخص فتح کرے گا، رومیوں (عیسائیوں ) کی سب سے بڑے رہنما سے درخواست، بیت المقدس پر ہمارا حق زیادہ ہے، اسلام کی دعوت، بیت المقدس عُمر فاروق نام اورلقب والا فتح کرے گا، خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کو بیت المقدس آنے کی دعوت، خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کے نام خطوط

بلاد شام کے رومیوں کی اطاعت

ملک شام کو چھوڑ کر ہرقل بلاد ِ روم بھاگ گیا تھا،اور قسطنطنیہ کو دارلحکومت بنا لیا تھا۔جس کی وجہ سے بلاد شام کے رومیوں کے حوصلے ٹوٹ گئے تھے۔اِس کے علاوہ پورے بلادِ شام میں مسلمانوں کی اتنی دھاک بیٹھ گئی تھی کہ اب کوئی بھی رومی اُن سے لڑنا نہیں چاہتا تھا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔اِن واقعات سے مسلمانوں کی بہادری ،دلاوری،استقلال اور عزم کا لوگوں پر سکہ بیٹھ گیا۔جس طرف بھی کوئی مسلمان کمانڈر تھوڑی سی فوج لیکر نکل جاتا تھا،وہاں کے رومی(عیسائی) حکمراں خود ہی آکر صلح کر لیتے تھے۔حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے چاروں طرف اسلامی لشکر پھیلا دیا۔اور بغیر کسی جدال و قتال کے شرائط صلح پر اہل قورس نے صلح کر لی،تل غزار اور اُس کے قریب قریب جتنے بھی شہر تھے،وہ سب بہت آسانی سے مفتوح ہو گئے۔اور خون کا کوئی قطرہ نہیں گرا۔”منج“کو حضرت سلمان بن ربیعہ باہلی نے مصالحت سے فتح کیا۔حضرت عیاض نے اہل دلوک اور اہل ضیاب سے اہل منج کی شرائط پر صلح کر لی۔مگر ایک شرط کا اضافہ کر دیا کہ ”وقت ضرورت فوجی خدمات بھی انجام دینی پڑے گی۔“

بیت المقدس کی طرف پیش قدمی

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی ہدایت کے مطابق حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ جن جن شہروں کو فتح کرتے تھے،اُن پر اپنی طرف سے ایک عامل(حاکم)مقرر کر کے اُس کی حفاظت کے لئے ایک لشکر چھوڑتے جاتے تھے۔اور اُس کے سرحدی مقامات پر حفاظت کی غرض سے فوجی گارڈ متعین کرتے جاتے تھے۔رفتہ رفتہ ملک شام کے تمام شہر فتح ہوتے چلے گئے۔اور پھر حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر کو لیکر فلسطین پہنچ گئے۔حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے ایک لشکر دیکر حضرت میسرہ بن مسروق کو ”بغراس“کی طرف روانہ کیا۔یہاں کے قبائل بنو غسان،بنو تنوخ،اور بنو ایادمسلمانوں کی آمد کی خبر سن کر ہرقل کے پاس قسطنطنیہ جانے کی تیاری کر رہے تھے۔حضرت مسروق نے اچانک پہنچ کر حملہ کر دیا۔جنگ کے دوران ہی حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے مالک بن اشتر کو بھی ایک لشکر دیکر بھیج دیا۔بغراس میں مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی ۔اُدھر حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ ایک چھوٹا سا لشکر لیکر ”مرعش“پہنچے،اور چالاکی سے جنگ کرتے ہوئے فتح حاصل کی،اور شہریوں کی اِس شرط پر جاں بخشی کی کہ تمام عیسائی شہر چھوڑ کر چلے جائیں۔حضرت حبیب بن مسلمہ نے ”حصن حرث“کو اِسی شرط پر فتح کیا۔اِن تمام فتوحات کے بعد تمام اسلامی لشکر حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کے پاس آگئے۔اورایلیاہ ”بیت المقدس“کی طرف روانہ ہو گئے۔

قیساریہ کی فتح

مسلمان ہر طرف سے ملک شام میں فتح حاصل کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ کو ہرقل کے ملک شام چھوڑ کر بلاد روم کی طرف بھاگنے کی اطلاع ملی،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے دمشق میں حضرت یزید بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لشکر بھیج کر مسلمانوں کی پیچھے سے مدد کریں۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت یزید بن ابو سفیان کو تحریر فرمایا کہ لشکر بھیج کر مسلمانوں کی پشت مضبوط کریں،اور اپنے بھائی حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ کو قیساریہ کی طرف روانہ کریں۔اور حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ ”اﷲ کی حمد و ثناءکے بعد واضح ہو کہ میں نے تمہیں قیساریہ کا گورنر بنا دیا ہے۔تم وہاں جاو¿،اور اُن کے مقابلے میں اﷲ سے مدد مانگو،اور اِس دعا کا زیادہ ورد کرتے رہو۔(ترجمہ)اﷲ تعالیٰ ہی کے ذریعے قوت و اختیار حاصل ہوتا ہے۔اﷲ ہمارا پرور دگار ہے،ہمارے بھروسے اور اُمید کا مرکذ ہے۔وہی ہمارا آقا ہے۔اور کیا ہی اچھا مولا اور مدد گار ہے۔“حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر قیساریہ پہنچے،اور شہر کا محاصرہ کر لیا۔کئی دنوں تک مسلمانوں سے اہل قیساریہ کا مقابلہ چلتا رہا،آخر کار اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی ۔اِس جنگ میں بہت زیادہ رومی قتل ہوئے ،اور قید ہوئے۔حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی ا ﷲ عنہ نے قیدیوں کو اپنے پاس روکے رکھا۔اور فرمایا کہ میخائل جو سلوک ہمارے قیدیوں کے بارے میں کرے گا،وہی سلوک ہم اُن کے قیدیوں کے ساتھ کریں گے۔اِس طرح وہ مسلمان قیدیوں کو تکلیف دینے سے باز رہا،یہاں تک کہ اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی۔فتح کی خوش خبری خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ کو دی گئی،تو آپ رضی ا ﷲ عنہ نے فرمایا؛”تمہیں اﷲ کی حمد کرنی چاہیئے کہ اُس نے قیساریہ پر فتح عطا فرمائی۔“

حضرت عمر و بن عاص رضی اﷲ عنہ کی پیش قدمی

حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ ملک شام کے صوبہ فلسطین (اُس وقت فلسطین،اردن اور لبنان ملک شام کے صوبے تھے،بعد میں انہیں الگ الگ ملکوں کی حیثیت دے دی گئی)میں آگے بڑھ رہے تھے۔یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ ہر مسلمان سپہ سالارکی پیش قدمی ”بیت المقدس “کی طرف تھی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب حضرت علقمہ رضی اﷲ عنہ ”غزہ“یا ”غازہ“کی طرف متوجہ تھے،اور حضرت معاویہ رضی اﷲ عنہ قیساریہ کی طرف روانہ ہوئے تو حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ اپنا لشکر لیکر ارطبون کی طرف روانہ ہوئے۔اُن کے ہر اول(مقدمة الجیش)لشکر پر حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ عنہ سپہ سالار تھے۔انہوں نے اردن کے انتظام کے لئے حضرت ابو الاعور کو اپنا نائب بنادیا تھا۔حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کے لشکر کے میمنہ (دائیں بازو)پر اُن کے بیٹے حضرت عبد اﷲ بن عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ سپہ سالار تھے۔اور میسرہ (بائیں بازو)پر حضرت قبادہ بن تمیم مالکی سپہ سالار تھے۔حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے اِس ارادے سے کوچ کیا تھا کہ ”اجنادین“کے مقام پر رومیوں کے خلاف صف آرائی کریں گے۔رومی لشکر اپنے قلعوں اور خندقوں میں بند تھے،اور اُن کا سپہ سالار ارطبون تھا۔جو رومیوں کا بہت بڑا سیاست داں اور چالاک سپہ سالار تھا۔اُس نے ”رملہ“کے مقام پر بہت بڑا لشکر جمع کر رکھا تھا،اور اِس کے علاوہ ”ایلیاہ“(بیت المقدس،یروشلم)کے مقام پر بھی اُس کا ایک لشکرجر ّار موجود تھا۔

خلیفۂ دوم رضی ا ﷲ عنہ کی ہدایات

حضرت عمرو بن عاس رضی اﷲ عنہ نے رومیوں کے یہ انتظامات دیکھے ،تو خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ کو تمام حالات لکھ بھیجے ۔اور آگے کے لئے ہدایات مانگیں۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے حضرت عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ کو تمام اطلاعات لکھ بھیجیں۔جب خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی عنہ کے پاس یہ خط پہنچا ،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”ہم نے روم کے ارطبون کاعرب کے ارطبون سے مقابلہ کرایا ہے،دیکھو کیا نتیجہ نکلتا ہے؟“حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ ملک شام کے ہر سپہ سالار کے لئے فوجی امداد بھیجا کرتے تھے۔اِسی لئے جب انہیں یہ خط پہنچا کہ رومی لشکر مختلف مقامات پر پہنچا ہوا ہے ،توانہوں نے حضرت یزید بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اپنے بھائی حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ کو ایک لشکر دیکر قیساریہ بھیجیں۔تاکہ وہ حضرت عمرو بن عاص رضی ا ﷲ عنہ کی پشت سے حفاظت کریں۔اور حضرت علقمہ بن حکیم فراسی اور حضرت مسروق عکی کو اہل ایلیاہ (بیت المقدس ،یروشلم)سے مقابلہ کرنے کے لئے بھیجا ،تاکہ وہ انہیں حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کی طرف آنے سے روکیں۔اور حضرت ابو ایوب مالکی کو ”رملہ “کی طرف روانہ کیا،جہاں رومیوں کے لشکر کا سپہ سالار تذارق تھا،اور انہیں اُس سے مقابلہ کرنا تھا۔

فتح اجنادین

حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے ”اجنادین“میں ارطبون کے لشکر کے سامنے پڑاو¿ ڈال دیا۔اور دونوں سپہ سالاروں نے ایک دوسرے سے بات چیت کی،اور ارطبون نے دھوکے سے آپ رضی اﷲ عنہ کو شہید کرنا چاہا ۔لیکن حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ سمجھ گئے،اور سیاسی چالاکی اور تدبر سے اپنے آپ کو بچا لیا۔دونوں لشکروں میں جنگ شروع ہوئی ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جنگ شروع ہوئی ،اور اجنادین کے مقام پر شدید جنگ ہوئی ،جیسا کہ یرموک کی جنگ تھی۔اتنی گھمسان کی جنگ ہوئی کہ رومیوں کی لاشوں سے پورا میدان بھر گیا۔آخر کار ارطبون اپنے دستے کے ساتھ جان بچا کر بھاگا،اور ایلیاہ (بیت المقدس ،یروشلم)میں جاکر پناہ لی۔جبکہ حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ اجنادین میں ہی قیام پذیر رہے۔ارطبون جب ایلیاہ (بیت المقدس)پہنچا تووہاں پر موجود مسلمانوں کے لشکر نے اُسے راستہ دے دیا،یہاں تک کہ وہ ایلیاہ (بیت المقدس ،یروشلم)شہرمیں داخل ہو گیا۔اور شہر پناہ کے دروازے بند کر دیئے۔

ایلیاہ(یروشلم،بیت المقدس) کا محاصرہ

لگ بھگ پورا ملک شام فتح ہو چکا تھا،اور بلاد ِ شام سے سلطنت روم کا خاتمہ بالکل قریب تھا۔رومی جو عیسائی مذہب کے ماننے والے تھے،اُن کی اکثریت نے مسلمانوں کی بر تری تسلیم کر لی تھی۔بہت سے رومیوں نے اسلام قبول کر لیا تھا،اور انہیں مسلمانوں کے برابر کے حقوق مل رہے تھے۔جن رومیوں نے عیسائی مذہب پر رہنا پسند کیا تھا،وہ ذمیوں کی طرح رہ رہے تھے۔مسلمانوں کے تمام سپہ سالار فتوحات حاصل کرتے ہوئے ایلیاہ،یا یروشلم ،یا بیت المقدس پہنچ گئے تھے،اور اُس کا محاصرہ کر لیا تھا۔ایک طرف حضرت ابو عبیدہ بن جراح اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہم تھے۔تو دوسری طرف حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ تھے۔اسی طرح حضرت شرجیل بن حسنہ ،حضرت یزید بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہم بھی” شہر پناہ “کے اطراف تھے۔”بیت المقدس“ مسلمانوں کا قبلہ ¿ اول ہے،اِس لئے ہر مسلمان چاہتا تھا کہ اِس مقدس شہر میں خون خرابہ نہ ہو۔اور یہ شہر صلح کی بنیاد پر فتح ہو جائے۔پورے ملک شام سے عیسائیوں کے بڑے بڑے علماءسمٹ کر” بیت المقدس“ میں آگئے تھے۔تمام مسلمان سپہ سالار اپنی طرف سے شہر والوں سے بات چیت میں لگے ہوئے تھے۔اور اِسی کوشش میں تھے کہ بغیر خون خرابے کے بیت المقدس فتح ہوجائے۔

اِس شہر کو فتح ”عُمر “نام والاشخص فتح کرے گا

بیت المقدس میں عیسائیوں کے بڑے بڑے علماءکے ساتھ ارطبون بھی پنا ہ گزین ہو گیا تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ارطبون نے حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کو خط لکھا؛”آپ میرے دوست اور میرے مشابہ اور ہم پلہ ہیں۔آپ کی فوج میں وہی حیثیت ہے،جو میری ہے۔اﷲ کی قسم!آپ اجنادین کے بعد فلسطین کا کوئی حصہ بھی فتح نہیں کر سکیں گے۔آپ لوٹ جائیں،اور کسی قسم کا گھمنڈ نہ کریں۔ورنہ آپ کا بھی وہی حشر ہوگا،جو آپ سے پہلے آنے والوں کا ہوا تھا،اور وہ شکست کھا کر گئے تھے۔“حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے ایک ایسے آدمی کو بلایا،جو رومی اور عربی دونوں زبان جانتا تھا۔اُسے خط دیکر ارطبون کے پاس بھیجا ،اور فرمایا؛”تم انجان اور ناواقف بنے رہنا،اور وہ جو کہے اُسے غور سے سننا،اور اس کے بعد آ کر مجھے ساری بات بتانا۔“اس کے بعد انہوں نے ارطبون کو لکھا۔”آپ کا خط موصول ہوا،آپ اپنی قوم میں میرے ہم پلہ اور نظیر ہیں۔آپ جان بوجھ کر میری فضیلت سے ناواقف بنے ہوئے ہیں۔ورنہ آپ کو بخوبی معلوم ہو جاتا کہ میں اِس ملک کا فاتح ہوں۔آپ فلاں تین وزراءکو بلایئے،اور اُن کے سامنے میرا خط پڑھ کر سنایئے۔اور وہ اور آپ اِس خط پر غور کریں۔“قاصدوہ خط لیکر ارطبون کے پاس پہنچا،تو اُس نے (عیسائی علماءکو جمع کر کے)وہ خط سنایا۔خط سن کر وہ لوگ ہنسنے لگے۔اُس نے تعجب سے اُن کے ہنسنے کی وجہ پوچھی،تو انہوں نے بتایا کہ اِس آدمی کا نام ”عمرو“ہے۔اور یہ چار حرف ہیں،جبکہ بیت المقدس کوتین حرف والا”عُمر“نام کا شخص فتح کرے گا۔

رومیوں(عیسائیوں ) کی سب سے بڑے رہنما سے درخواست

حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے بیت المقدس کا چار مہینے تک محاصرہ جاری رکھا۔روزآنہ بلا ناغہ سخت جنگ ہوتی تھی،مسلمان سردی،برف باری،اور بارش پر نہایت ثابت قدمی کے ساتھ صبر کرتے تھے۔بیت المقدس کی عوام نے جب مسلمانوں کا سخت محاصرہ دیکھا ،اور اُن مصیبتوں کو جو اُن پر مسلمانوں کی طرف سے پہنچ رہی تھی اندازہ کیا۔تو پھر یہ سب قمامہ کی طرف گئے،اور پوپ(عیسائیوں کا سب سے بڑا مذہبی رہنما)کی خدمت میں حاضر ہوکر پہلے تعظیمی سجدہ کیا۔پھر اُس سے کہا؛”مقدس باپ!اِن عربوں کا محاصرہ ہم پر دائمی ہو گیا ہے۔ہمیں اُمید تھی کہ بادشاہ(ہرقل) کی طرف سے ہمارے لئے کوئی کمک یا مدد آئے گی۔مگر وہ بھی اپنے لشکر کی ہزیمت کی وجہ سے خود اپنی جان بچانے کی فکر میں پڑ گیا ہے۔روزآنہ دونوں طرف سے جانی نقصان ہو رہا ہے،مگر یہ عرب کے باشندے ہم سے بھی زیادہ لڑائی کے خواہشمند معلوم ہوتے ہیں۔جس دن سے انہوں نے ہمارا محاصرہ کیا ہے،ہم نے محض حقارت کی وجہ سے اِن سے ابھی تک کوئی بات نہیں کی ہے۔مگر اب پانی سر سے گزرتاہوا نظر آ رہا ہے،ہم چاہتے ہیں کہ آپ اُن کے پاس چل کر اُن کا مطالبہ سنیں۔اور یہ عندیہ معلوم کریں کہ آخر وہ چاہتے کیا ہیں؟اگر اُن کا مطالبہ معمولی اور ماننے کے قابل ہے،تو اُن کی خواہش کے مطابق ہم اسے پورا کر دیں گے۔اور اگر کٹھن اور دشوار یاعزت کے منافی ہو تو پھر ہم دروازہ کھول کر ایک فیصلہ کن جنگ کریں گے،یا انہیں مار دیں گے یا خود کٹ مریں گے۔پوپ نے اُن کی بات منظو کر لی،اور اپنا مقتدانہ لباس پہن کر شہر پناہ کی طرف چلا۔صلیب اُس نے آگے آگے رکھی،اور راہبوں اور پادریوں نے بخورات کی انگیٹھیاں اور کھلی ہوئی انجیلیں لے لے کر اُسے اپنے حلقے میں لے لیا۔اور یہ سب لوگ شہر پناہ کی دیوار پر اُس جگہ آیا،جس کے نیچے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ تشریف فرما تھے۔ایک شخص نے عربی زبان میں کہا؛”یا معشر العرب!نصاریٰ دین کا سب سے بڑا عالم شریعت ِ مقدسہ عیسوی کا اسقف اعظم اور صاحب ِ شریعت تمہارے پاس آیا ہے،تاکہ تم سے گفتگو کرے۔لہٰذا مناسب ہے کہ تمہارا سردار ہمارے پاس آئے۔“(فتوحات ِ شام)

بیت المقدس پر ہمارا حق زیادہ ہے

حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو اِس کی اطلاع دی گئی،اور وہ الفاظ دہرائے گئے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اﷲ کی قسم !میں بھی اُسے اُسی طرح سے جواب دوں گاجس طریقے اور حیثیت سے اُس نے مجھے بلایاہے۔یہ فرما کر آپ رضی اﷲ عنہ کھڑے ہوئے،اور کئی صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم کو ساتھ لیا،اور ترجمان کو لیکر اسقف اعظم(پوپ) کے سامنے پہنچ گئے۔ترجمان نے کہا؛”یہ ملک عرب کے سردار ہیں،جو کچھ کہنا چاہتے ہو کہو۔“پوپ نے ترجمان کے ذریعے کہا؛”آپ حضرات ہم ارض ِ مقدس کے باشندوں سے کیا چاہتے ہیں؟یاد رکھو !یہ شہر نہایت مقدس ہے،جو بُری نیت سے اِسکی طرف آنکھ اُٹھائے گا،اور اسے فتح کرنے کا قصد کرے گا۔تو سمجھ لو کہ اﷲ تعالیٰ کا غضب بہت جلد اُس پر نازل ہونے والا ہے،اور عنقریب وہ ہلاک ہو جائے گا۔“حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”ہاں!بے شک یہ شہر واقعی بزر گ اور مقدس شہر ہے،اور ہم اِس کی بزرگی اور شرافت سے واقف ہیں۔اِسی شہر سے ہمارے آقا و مو لا محمد صلی اﷲ علیہ وسلم اپنے پروردگار کے پاس آسمانوںمیں تشریف لے گئے تھے۔اور اپنے رب العزت سے دو گوشہ کمان کے برابر بلکہ اُس سے بھی زیادہ قریب ہو گئے تھے۔یہی شہر انبیاءعلیہم السلام کو معدن اور وصال ِ حق کے بعد اُن کا مسکن (قبور) رہا ہے۔اِس پر ہمارا حق تم سے زیادہ ہے،ہم اِس پر اُس وقت تک برابر محاصرہ جاری رکھیں گے،جب تک اﷲ تعالیٰ دوسرے شہروں کی طرح ہمیں اِس کا مالک نہ بنا دے۔“(فتوحات شام)

اسلام کی دعوت

حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کا جواب سن کر پوپ نے کہا؛”آخر تم چاہتے کیاہو؟“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”تین باتوں میں سے ایک بات قبول کر لو۔پہلی بات یہ کہ اسلام قبول کرلو،اور کلمہ¿ توحید لا الٰہ الا اﷲ محمد الرسول اﷲکے قائل ہو جاﺅ۔اگر تم نے اسلام قبول کر لیا ،تو تم ہمارے برابر ہو جاو¿ گے،اورجو کچھ ہم پر فرض ہے،وہ تم پر بھی فرض ہو جائے گا۔“پوپ نے کہا؛”یہ کلمہ نہایت عظیم کلمہ ہے،ہم اِس کے پہلے سے ہی قائل ہیں،فرق صرف اتنا ہے کہ ہم تمہارے نبی محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کو رسول نہیں کہتے۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اے اﷲ کے دشمن!تو نے جھوٹ بولا ہے،جبکہ تُو وحدانیت کا شمہ برابر بھی قائل نہیں ہے۔ہمیں اﷲ تعالیٰ اپنی کتاب قرآن پاک میں یہ خبر دی ہے کہ تم لوگ(عیسائی)یہ کہتے ہو کہ حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام (نعوذ باﷲ)اﷲ کے بیٹے ہیں۔(ترجمہ)”اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے،وہ پاک ہے۔اور وہ اُس چیز سے ”وراءالورائ“ہے،جو یہ ظالم اُس کی طرف منسوب کرتے ہیں۔“پوپ نے کہا؛”دوسری بات کیا ہے؟“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”تم اپنے شہر کے اوپر ہماری سیادت تسلیم کر لو،اور مصالحت کے بعد ہمارے ما تحت ہو کر ہمیں ملک شام کے دوسرے شہروں کی طرح جزیہ ادا کرتے رہو۔پوپ نے کہا؛”یہ پہلی بات سے زیادہ دشوار ہے،ہم کبھی قیامت تک بھی ذلت و حقارت کی زندگی بسر نہیں کر سکتے ہیں۔“حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”پھر تیسری بات تلوار ہے،ہم اُس وقت تک اسے میان میں نہیں ڈالیںگے،جب تک کہ اﷲ تعالیٰ ہمیں تمہارے اوپر فتح نہ عطا فرما دے۔یاد رکھو!فتح حاصل کرنے کے بعد ہم تمہاری اولاد کو غلام اور تمہاری بیویوںکو باندیاں بنائیں گے۔اور جو شخص کلمہ¿ توحید کی مخالفت کرکے کفر پر قائم رہے گا،اُسے ہم قتل کر دیں گے۔“

بیت المقدس عُمر فاروق نام اورلقب والا فتح کرے گا

حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے تین باتیں پوپ کے سامنے رکھ دی تھیں۔تیسری بات کے جواب میں اُس نے کہا؛”جب تک ہمارے درمیان ہمارا ایک بھی شخص زندہ رہے گا،اُس وقت تک ہم کبھی اِس شہر کو تمہارے حوالے نہیں کریں گے۔اور کس طرح کر دیں؟جبکہ ہمارے پاس جنگ کا تمام ذخیرہ ،آلات ِ حرب، سامان حصار،بہترین اسلحہ،اور سخت جنگ کرنے والی فوج موجود ہے،جن سے آج تک تمہاری مڈ بھیڑ نہیں ہوئی ہے۔اور جن لوگوں نے تمہاری اطاعت میں داخل ہو کر جزیہ دینا قبول کیا ہے،ہم ویسے نہیں ہیں۔اُن پر تو مسیح کا غضب نازل ہوا ہے،اور ہم تو ایک ایسے شہر میں آباد ہیں،کہ جس وقت مسح علیہ السلام سے کوئی دعا کرتے ہیں،تو وہ فوراًاجابت تک جا پہنچتی ہے۔اور مسیح علیہ السلام اُس کو فوراً قبول کر لیتے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اے اﷲ کے دشمن!اﷲ کی قسم!تُو نے جھوٹ کہا ہے۔اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے؛ترجمہ”مسیح بن مریم علیہ السلام محض اﷲ کے رسول ہیں،جیسے کہ اُن سے پہلے کئی رسول گزر چکے ہیں۔اور اُن کی والدہ صدیقہ تھیں،یہ دونوں ماں بیٹے کھانا کھایا کرتے تھے۔“اور اﷲ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے؛ترجمہ”انہیں اﷲ نے مٹی سے پیدا کیا ہے،پھر اُس مٹی کو فرمایا کہ ہو جا،تو وہ ہو گئی۔“پوپ نے کہا؛”میں مسیح علیہ السلام کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر تم بیس سال بھی ہمارا محاصرہ کئے پڑے رہو گے۔تب بھی ہمارے اِس شہر کو فتح نہیں کر سکو گے ،اِسے صرف ایک ہی شخص فتح کر سکتا ہے۔جس کی علامات اور صفات ہماری کتابوں میں لکھی ہوئیں ہیں،اور میں وہ صفات اور علامات تمہاے اندر نہیں دیکھ رہا ہوں۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”وہ صفات اور علامات کیا ہیں؟جو اِس شہر کے فاتح کے اندر ہو ں گی۔“پوپ نے کہا؛”وہ صفات تو میں تم سے بیان نہیں کر سکتا،ہاں!اتنا بتا دیتا ہوں کہ ہم نے اپنی کتاب میں کو کچھ دیکھا اور پڑھا ہے۔اُس کا لب لباب یہ ہے کہ اِس شہر کا فاتح محمد(صلی اﷲ علیہ وسلم) کا ایک صحابی ہے،جس کا نام عُمر ہے،اور لقب فاروق ہے۔وہ مردِ خدانہایت سخت اور اﷲ کے کاموں میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے بالکل نڈر اور بے باک ہو گا۔اور یہ تمام صفات میں تمہارے اندر نہیں دیکھ رہا ہوں۔“(فتوحات شام)

خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کو بیت المقدس آنے کی دعوت

حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے جب پوپ کی یہ بات سنی،تو آپ رضی اﷲ عنہ ہنس پڑے،اور فرمایا؛”ربِّ کعبہ کی قسم!ہم نے اِس شہر کو فتح کر لیا ۔“اِس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ پوپ کی طرف متوجہ ہوئے ،اور فرمایا؛”کیا تُو اُس شخص کو دیکھ کر پہچان لے گا؟“اُس نے کہا؛”ہاں کیوں نہیں!جبکہ اُس کی تمام صفات ،حتیٰ کہ اُس کا حسب نسب اُس کی عُمر کے سال اور دن تک ہماری کتاب میں لکھے ہوئے موجود ہیں۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اﷲ کی قسم!وہی شخص اِس وقت ہمارا خلیفہ ہے،اور ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کا صحابی ہے۔“اُس نے کہا؛”اگر ایسا ہے،تو پھر ہمیں تمہارے قول کی صداقت معلوم ہو گئی ہے۔اِس خون ریزی کو ختم کرو،اور اپنے خلیفہ کے پاس خبر بھیج دو کہ وہ یہاں بہ نفس نفیس تشریف لے آئیں۔جس وقت ہم انہیں دیکھ لیں گے،اور اُن کی تمام صفات اور علامات پہچان لیں گے،اور اُن کے حلیہ سے یہ بات پایہ تصدیق کو پہنچ جائے گی،تو ہم خود بخود شہر کے دروازے کھول دیں گے،اور بلا چوں چرا کئے جزیہ دینے لگیں گے۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”ٹھیک ہے!میں ہمارے خلیفہ کی خدمت میں عرضداشت بھیج کر درخواست کرتا ہوں،مگر جب تک وہ تشریف لائیں،تب تک تم جنگ کرنا چاہتے ہو،یا جنگ بندی کرنا چاہتے ہو؟“پوپ نے کہا؛”یا معشر العرب!ہم نے خون ریزی ختم کرنے کے لئے تم سے سچی بات کہہ دی ہے،اب تمہارے فیصلے کے منتظر ہیں۔“یہ سن کر آپ رضی اﷲ عنہ نے جنگ بندی کا اعلان کر دیا۔اور پوپ واپس چلا گیا۔(فتوحات شام)

خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کے نام خطوط

حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے ارطبون کے اپنا قاصد بھیجا تھا،اِس کا ذکر ہم اوپر کر چکے ہیں۔ارطبون اور عیسائی مذہبی رہنماو¿ں نے آپس میں جو بات کی تھی،وہ آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس آکر قاصدنے تفصیل سے بتا دیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔قاصد نے آکر پوراوقعہ سنایا،تو حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ سمجھ گئے کہ وہ ”عُمر“حضرت عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ ہیں۔انہوں نے خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ کو خط لکھا۔”میں بہت سخت جنگ لڑ رہا ہوں،تاہم میں نے ملک کو آپ رضی اﷲ عنہ کے لئے تیار کر دیا ہے،آگے جیسی آپ رضی اﷲ عنہ کی رائے ہو۔“علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں۔جب حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ دمشق سے فارغ ہو گئے،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے ایلیاہ(بیت المقدس) والوں کو خط لکھا ،اور اسلامی کی دعوت دی۔اور آگے لکھا کہ اگر انہیں اسلام قبول کرنا منظور نہیں ہے ،تو وہ جزیہ دیں یا جنگ کے لئے تیار ہو جائیں۔انہوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کی دعوت کو رد کر دیا۔حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے دمشق پر حضرت سعید بن زید رضی اﷲ عنہ کو قائم مقام مقرر کیا۔اور لشکر لیکر بیت المقدس آئے،اور محاصرہ کر لیا۔کئی دنوں کے محاصرے کے بعد جب آپ رضی اﷲ عنہ نے سختی کی تو بیت المقدس کے بڑے بڑے عیسائی علماءنے اِس شرط پر صلح کرنا قبول کیا ،کہ امیر المومنین حضرت عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ پر صلح کریں گے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

19 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ Khilafat e Rashida 2



19 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی 

قسط نمبر 19

حضرت ابو عبیدہ رضی اﷲ عنہ کا خط، صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم سے مشورہ، خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کی بیت المقدس روانگی، خلیفۂ دوم رضی ا ﷲ عنہ جابیہ میں، سپہ سالاروں سے ملاقات، حضرت بلال رضی اﷲ عنہ کی اذان، خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کا لباس، خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ بیت المقدس میں، انجیل میں حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے اوصاف، یہی بیت المقدس کا فاتح ہے، بیت المقدس کی فتح، 

حضرت ابو عبیدہ رضی اﷲ عنہ کا خط

حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے تمام سپہ سالاروں اور کمانڈروں کو جمع کیا،اور پوپ کی تما م باتوں سے مطلع کیا۔مسلمانوں نے تکبیر و تہلیل کے فلک بوس نعرے بلند کئے،اور کہا؛”اے سپہ سالار ِ اعظم!آپ رضی اﷲ عنہ امیر المومنین کی خدمت میں ضرور یہ حال لکھ دیں۔ممکن ہے امیر المومنین یہاں تشریف لائیں،اور اﷲ تعالیٰ اُن کے ہاتھوں یہ شہر فتح کرائے۔حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے ایک خط لکھ کر قاصد کے ذریعے خلیفہ¿ دوم رضی ا ﷲعنہ کی خدمت میں بھیجا،جس کا مضمون یہ تھا۔ ”بسم اﷲ الرحمن الرحیم۔اﷲ کی حمدو ثناءاور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پر درودو سلام کے بعد لکھا۔اما بعد؛”یا امیر المومنین رضی اﷲ عنہ !ہم نے شہر ایلیاہ(بیت المقدس)کو اپنے محاصرے میں لے رکھا ہے۔اور شہر والوں سے لڑتے ہوئے ہمیں چار مہینے گزر چکے ہیں۔روزآنہ اُن سے مقابلہ ہوتا ہے،وہ بھی برابر ہمارا مقابلہ کر رہے ہیں۔مسلمانوں کو برف باری،سردی،بارش اور ایک مصیبت عظمیٰ کا سامنا ہے،لیکن وہ اﷲ بزرگ و برتر کی مہربانیوں پر اُمید رکھتے ہوئے اِس کی کوئی پرواہ نہیں کر رہے ہیں۔آج جس روز میں آپ رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں یہ خط لکھ رہا ہوں،ایک اسقف اعظم جس کی یہ لوگ بہت عزت و تکریم کرتے ہیں۔وہ شہر پناہ کی دیوار پر چڑھ کر کہنے لگاکہ ہمیں اپنی کتاب سے معلوم ہوا ہے کہ اِس شہر کو سوائے نبی (صلی اﷲ علیہ وسلم ) کے ایک صحابی کے جس کا نام ”عُمر“ہوگا،اور کوئی فتح نہیں کر سکے گا۔وہ یہی کہتے ہیںکہ ہماری کتاب میں اُن صحابی کا حلیہ،صفات اور علامات بھی لکھے ہوئے ہیں۔انہوں نے جنگ بند کرنے اور آپ رضی اﷲ عنہ کے یہاں تشریف لانے کی خواہش اور درخواست کی ہے۔اگر آپ رضی ا ﷲ عنہ بہ نفس نفیس تشریف لائیں،تو اﷲ تعالیٰ کی ذات گرامی سے یہ اُمید ہے کہ وہ آپ رضی اﷲ عنہ کے دست مبارک پر اِس شہر کو فتح کرا دے گا۔والسلام۔“یہ خط حضرت میسرہ بن مسروق عبسی کے ہاتھوں روانہ کیا۔(فتوحات شام

صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم سے مشورہ

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو ملک شام سے خطوط آئے،کہ بیت المقدس کے لوگ آپ رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ پر صلح کرنا چاہتے ہیں۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ نے اِس بارے میں صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم سے مشورہ کیا۔صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم نے الگ الگ رائیں دیں،لیکن اُن میں حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے مشورے کافی اہمیت کے حامل تھے۔حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے مشورہ دیا تھا کہ آپ رضی ا ﷲ عنہ اُن کے پاس نہیں جائیں،تاکہ اُن کی ذلت اور حقارت ہو۔جبکہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے مشورہ دیا کہ آپ رضی اﷲ عنہ وہاں ضرور جائیں،تاکہ مسلمانوں کو محاصرے میں جو دقت پیش آرہی ہے،اُس میں کچھ کمی ہو۔خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کی رائے کو پسند فرمایا۔اور مدینہ منورہ پر اُنہیں ہی اپنا قائم مقام مقرر کیا، سفر کا مکمل انتظام کرنے کے بعد آپ رضی ا ﷲ عنہ مسجد نبوی میں آئے۔چار رکعت نماز پڑھی،رسول ا ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی قبر مبارک پر حاضر ہوئے،اور آپ صلی ا ﷲ علیہ وسلم اور خلیفہ¿ اول رضی اﷲ عنہ کو سلام عرض کیا۔حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کو امور ِ خلافت سپرد فرمائے،اور مدینہ منورہ میں اُن کو اپنا قائم مقام بنا کر ملک شام کی طرف روانہ ہوئے۔

خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کی بیت المقدس روانگی

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ بیت المقدس کی طر ف روانہ ہوئے۔آپ رضی اﷲ عنہ کی سواری ایک سرخ اونٹ تھا،جس پر ایک خورجی تھی۔جس کے ایک تھیلے میں راستے کے کھانے کے لئے ستو اور دوسرے تھیلے میں چھوہارے بھرے ہوئے تھے۔سامنے پانی کا ایک مشکیزہ لٹک رہا تھا،اور پشت پر ایک بڑا پیالہ تھا۔جو صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم یرموک سے آئے تھے،وہ آپ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ راستہ بتانے کے لئے ہو گئے۔اِن میں حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ ،اور حضرت عبادہ بن صامت رضی اﷲ عنہ قابل ذکر ہیں۔آپ رضی ا ﷲ عنہ سفر کرتے رہتے،اور جب شام کے وقت کسی منزل پر پہنچتے تھے،تو وہیں قیام فرما دیتے تھے۔اور صبح اُس منزل سے روانہ ہوتے تھے۔(اُس زمانے میں سفر کرنے اور رکنے کی منزلیں بنائی جاتی تھیں،جیسے آج کل ہمارے یہاں ایس ٹی اسٹینڈ بنائے جاتے ہیں۔)اِس طرح منز ل بہ منزل سفر کرتے ہوئے ملک شام کی سرحد میں داخل ہوئے۔

 خلیفۂ دوم رضی ا ﷲ عنہ جابیہ میں

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے غلام حضرت اسلم بن برقان اِس سفر میں ساتھ تھے،وہ فرماتے ہیں۔جب ہم ملک شام کی سرحدمیں داخل ہوئے،تو ہم نے چند سواروں کا ایک دستہ آتے دیکھا۔امیر المومنین رضی ا ﷲ عنہ نے حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ سے فرمایا؛”آپ رضی اﷲ عنہ جلدی سے جا کر اِس دستہ کی خبر لائیں۔“حضرت زبیر رضی اﷲ عنہ اُن کے پاس گئے،تو معلوم ہوا کہ یہ یمن کے مسلمانوں کا ایک دستہ ہے۔جسے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خبر لانے کے لئے روانہ کیا تھا۔حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں؛”انہوں نے مجھے دیکھ کر سلام عرض کیا،اور دریافت کیا کہ کہاں سے آرہے ہو؟میں بتایا کہ ہم مدینہ منورہ سے آرہے ہیں۔انہوں نے پوچھا کہ وہاں سب خیریت ہے؟میں کہا ہاں۔انہوں نے کہا کہ امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کا کیا ارادہ رہا،کیا وہ تشریف لا رہے ہیں؟میں پوچھا کہ آپ لوگ کون ہیں؟انہوں نے کہا کہ ہم یمنی عرب ہیں،اور ہمیں ہمارے سپہ سالار حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے ہمیں یہ تحقیق کرنے کے لئے بھیجا ہے کہ امیر المومنین رضی اﷲ عنہ تشریف لا رہے ہیں یا نہیں۔میں یہ سن کر امیر المومنین رضی ا ﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا،اور تمام واقعہ سنایا۔اتنے میں وہ لو گ پہنچ گئے،پہلے سلام کیا،اور پھر امیر المومنین رضی ا ﷲ عنہ کے بارے میں پوچھا۔انہیں خلیفہ¿ دوم رضی ا ﷲ عنہ کے بارے میں بتایا گیا ،تو انہوں نے کہا؛”یا امیرا لمومنین رضی اﷲ عنہ !ہماری آنکھیں آپ رضی ا ﷲ عنہ کے انتظار میں پتھرا گئیں،اور گردنیں بلند ہوتی ہوتی تھک گئیں۔بہت ممکن ہے کہ اﷲ تعالیٰ آپ رضی ا ﷲ عنہ کے دست مبارک پر ”بیت المقدس“فتح کرا دے۔“اِس کے بعد وہ دستہ تیزی سے پلٹا ،اور جابیہ پہنچ کر خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ کی آمد کی خوش خبری دینے لگا۔یہ سنتے ہی مسلمانوں میں ہلچل مچ گئی۔(فتوحات شام)

سپہ سالاروں سے ملاقات

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ نے پہلے ہی خبر بھیج دی تھی کہ وہ مسلمانوں سے جابیہ میں ملاقات کریں گے۔اِسی لئے تمام سپہ سالار جابیہ میں حاضر ہو گئے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اپنی روانگی کی اطلاع تمام سپہ سالاروں کو دے دی تھی کہ وہ جابیہ کے مقام پر آکر ملاقات کریں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے دن بھی مقرر کر دیا تھا،اور یہ بھی ہدایت کی تھی کہ تمام سپہ سالار اپنے جا نشین مقرر کر کے آئیں۔جب خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ مقام جابیہ پہنچے ،تو سب سے پہلے حضرت یزید بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ نے ملاقات کی۔پھر حضرت ابو عبیدہ رضی اﷲ عنہ آئے،پھر حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ آئے۔یہ سب سپہ سالار گھوڑوں پر سوار اور ایسے لباس میں ملبوس تھے،جو ملک عرب میں قیمتی سمجھا جاتا تھا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے انہیں ڈانٹا ،اور فرمایا ؛”کتنی جلدی تم لوگوں نے اپنا طریقہ بدل دیا،اور تم اِس لباس میں میرا استقبال کر رہے ہو۔تم دو سال میں ہی شکم سیر ہو گئے ،اور اپنے آپے سے باہر ہو گئے۔“خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ کو بتایا گیا کہ یہاں یہ لباس اُسی قیمت میں ملتا ہے،جس قیمت میں ہمارے یہاں عام چادریں وغیرہ ملتی ہیں۔اور ہم اِن قباو¿ں کے نیچے ہتھیار وں سے مسلح ہیں۔یہ سن کر آپ رضی ا ﷲعنہ نے فرمایا؛تب پھر ٹھیک ہے۔“اور پھر جابیہ میں داخل ہوئے۔اُس وقت حضرت عمرو بن عاص اور حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ عنہم نہیں آسکے،کیونکہ وہ اجنادین میں تھے۔

حضرت بلال رضی اﷲ عنہ کی اذان

حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے تمام سپہ سالاروں اور وہاں موجود مجاہدین سے خطاب کیا۔اِس کے بعد حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے رومیوں سے جنگ کے حالات بیان کرنا شروع کئے۔امیر المومنین رضی اﷲ عنہ اُس وقت متحیر اور خاموش تھے،کبھی رونے لگتے تھے،اور کبھی سکوت میں آجاتے تھے۔یہاں تک کہ ظہر کا وقت ہو گیا۔لوگوں نے عرض کیا؛”امیر المومنین رضی اﷲ عنہ !حضرت بلال رضی اﷲ عنہ کو حکم فرمائیں کہ آج وہ اذان دیں۔حضرت بلال رضی اﷲ عنہ اُن دنوں ملک شام کے شہروں میں مقیم تھے،اور جس وقت آپ رضی اﷲ عنہ نے سنا کہ مسلمانوں نے بیت المقدس کا محاصرہ کیا ہے۔تو حضرت بلال رضی اﷲ عنہ بھی آکر اسلامی لشکر میں شامل ہو گئے۔اور جب یہ معلوم ہوا کہ امیر المومنین حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ تشریف لا رہے ہیں،تو آپ رضی اﷲ عنہ بھی حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کے ساتھ استقبال کے لئے جابیہ پہنچ گئے۔اور حضرت بلا ل رضی اﷲ عنہ کی تمام لو گوں میں اتنی قدر و منزلت تھی کہ خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ بھی آپ رضی اﷲ عنہ کی اتنی قدر اور تعظیم کرتے تھے کہ خلافت کے کام چھوڑ کر استقبال کے لئے دوڑ پڑتے تھے۔اور ہمیشہ ”یا سیدی،یا سیدی“(اے میرے سردار،اے میرے سردار)فرماتے تھے۔لوگوں کی درخواست خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ نے حضرت بلال رضی اﷲ عنہ تک پہنچائی تو وہ انکار نہیں کر سکے۔جب حضرت بلال رضی ا ﷲ عنہ نے بلند آواز سے ”اﷲ اکبر“فرمایا ،تو مسلمانوں کے رونگٹے کھڑے ہو گئے،بدن کانپنے لگے،اور جسموں پر کپکپی آگئی۔جب انہوں نے ”اشھد ان لا الہ الا اﷲ،اور اشھد ان محمد الرسول اﷲ “فرمایا ،تو سب مسلمان بے تحاشا رونے لگے،اور اِس قدر روئے کہ قریب تھا کہ ”ذکر اﷲ “اور ”ذکر رسول صلی ا ﷲ علیہ وسلم “سے اُن کے دل پھٹ نہ جائیں۔حضرت بلال رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کا یہ درد اور رونا دیکھ کر چاہا کہ اذان موقوف کر دیں۔مگر آپ رضی اﷲ عنہ نے پھر پوری ہی کر دی،حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے نماز پڑھائی۔(فتوحات ِ شام) 

خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کا لباس

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ اِس کے بعد بیت المقدس جانے کے لئے اونٹ پر سوار ہونے لگے،تو مسلمانوں نے آپ رضی ا ﷲ عنہ کو روک لیا۔اُس وقت آپ رضی ا ﷲ عنہ کے جسم پر بالوں سے بنا ہوا ایک خرقہ(گڈری،دلق) تھا،جس میں چودہ پیوند لگے ہوئے تھے ،جن میں سے بعض چمڑے کے پیوند تھے۔مسلمانوں نے عرض کیا ؛”یا امیر المومنین رضی اﷲ عنہ !اگر آپ رضی اﷲ عنہ اونٹ کے بجائے گھوڑے پر سوار ہو جائیں،اور اِن کپڑوں کو اُتار کر اچھا سفید لباس زیب تن فرما لیں۔اِس سے دشمنوں کے دلوں میں آپ رضی ا ﷲ عنہ کی ہیبت بیٹھ جائے گی۔مسلمانوں نے یہ گذارش اتنی عاجزی سے کی تھی کہ آپ رضی اﷲ عنہ انکار نہیں کر سکے،اور اپنے کپڑوں کو اُتار کر سفید کپڑے پہن لئے۔حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں۔جہاں تک کہ میرا خیال ہے وہ کپڑے ملک مصر کے تیار کئے ہوئے تھے،اور اُن کی قیمت پندرہ درہم تھی۔رومیوں کی تاتاری نسل کے گھوڑوں میں سے ایک گھوڑا آپ رضی اﷲ عنہ کو پیش کیا گیا۔خلیفہ¿ دوم رضی اﷲعنہ اُس پر سوار ہوئے،تو گھوڑے نے نہایت سبک رفتاری سے اُلیل کر کے چلنا شروع کر دیا۔اُس کی سبک خرامی دیکھ کر آپ رضی اﷲ عنہ اُس پر سے اُتر گئے،اور فرمایا؛”اﷲ تعالیٰ قیامت میں تمہاری لغزشوں کو معاف فرمائے،اور میری اِس لغزش سے در گزر کرو،قریب تھا کہ تمہارا خلیفہ اِس عجب تکبر کی وجہ سے جو اِس کے دل میں اِس کی سواری کے دوران آگیا تھاہلاک ہو جاتا۔میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے سنا ہے،کہ”جس شخص کے دل میں ذرہ برابر بھی تکبر ہو گا،وہ جنت میں داخل نہیں ہو سکے گا۔“مجھے تمہارے اِن سفید کپڑوں اور گھوڑے کی سواری نے ہلاکت کے قریب پہنچا دیا تھا۔“اِس کے بعد خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ نے وہ کپڑے اُتار دیئے،اور اپنے پہلے والے پیوند لگے کپڑے پہن لئے۔(فتو حات شام)

خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ بیت المقدس میں

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ نے اپنا پُرانا لباس پہنا،اور اپنے اونٹ پر سوار ہوئے،اور بیت المقدس کی طرف تشریف لے چلے۔راستے میں ایک پہاڑی آئی ،آپ رضی اﷲ عنہ راستہ قطع کرنے کے لئے اُس پر چڑھے ،تو بیت المقدس دکھائی دیا۔اُسے دیکھ کر آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اﷲ بہت بڑا ہے،اے اﷲ !ہمیں آسان فتح عطا فرما،اور اپنی طرف سے ہمارے لئے مدد دینے والاغلبہ عنایت کیجئے۔“اِس کے بعد آپ رضی ا ﷲ عنہ آگے چلے،اور اسلامی لشکر کے قریب پہنچے،تو مسلمانوں کے قبائل اور علم بردار حضرات نے آپ رضی اﷲ عنہ کا استقبال کیا۔آپ رضی اﷲ عنہ کے لئے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کے خیمے کے قریب ہی بالوں کا بنا ہوا خیمہ نصب کیا گیا۔اِس میں آپ رضی اﷲ عنہ زمین پر ہی بیٹھ گئے، پھر اُٹھ کر چار رکعت نماز ادا فرمائی۔آپ رضی اﷲ عنہ کی آمد پر مجاہدین نے بلند آواز سے فلک بوس نعرہ¿ تکبیر لگا کر استقبال کیا۔جس کے پاس سے بھی آپ رضی اﷲ عنہ گذرتے ،وہ بلند آواز سے نعرہ¿ تکبیر کہتاتھا۔مجاہدین کے مسلسل نعرے پوپ نے بھی سنے،اُس نے کہا؛”عربوںکو کیا ہوا ہے کہ بغیر لڑائی کے اِس طرح نعرے بلند کر رہے ہیں۔“ایک شخص جو عربی جانتا تھا،شہر پناہ کی فصیل پر آیا ،اور پکارا؛”یا معشر العرب!کیا ہوا ؟ہمیں بھی بتاو¿۔“مسلمانوں نے جواب دیاکہ مدینہ منورہ سے ہمارے امیر المومنین رضی ا ﷲ عنہ تشریف لائے ہیں۔اور ہم اُن کی آمد کی خوشی میں اﷲ تعالیٰ کی بڑائی بیان کر رہے ہیں۔پوپ کو بتایا گیاتو وہ گردن نیچی کر کے زمین دیکھنے لگا۔(فتوحات ِ شام)

انجیل میں حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے اوصاف

اﷲ تعالیٰ اپنے حبیب صلی اﷲ علیہ وسلم سے بے انتہا محبت کرتے ہیں،اور اپنی اِسی محبت کا اظہار اﷲ تعالیٰ نے اپنی تمام آسمانی کتابوں میں کیا ہے۔توریت ،زبور ،انجیل اور قرآن پاک میں جگہ جگہ اﷲ تعالیٰ نے رسول اﷲ صلی ا ﷲ علیہ وسلم کے اوصاف بیان فرمائے ہیں۔اور آپ صلی ا ﷲ علیہ وسلم کے ذکر کے ساتھ ساتھ آپ صلی ا ﷲ علیہ وسلم کی اُمت کا ذکر بھی کیا ہے ،اور اُن کے اوصاف بھی بیان فرمائے ہیں۔اور وقتاً فوقتاًچاروں خلفائے راشدین کے اوصاف بھی بیان فرمائے ہیں۔انجیل میں بیت المقدس کے ذکر میں حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے اوصاف خصوصی طور سے بیان فرمائے ہیں۔(بعد میں توریت،زبور،اور انجیل کے ماننے والوں نے اِن میں خرد بُرد اور ملاوٹ کردی،اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی اُمت کے ذکر اور اوصاف کو مٹانے اور بدلنے کی کوشش کی ہے۔)انجیل میں صاف لکھا ہوا تھا کہ مسلمانوں کا جو خلیفہ بیت المقدس فتح کرے گا،اُس کی سواری کیسی ہو گی،اُس کا لبا س کیسا ہو گا،اُس کا حلیہ کیسا ہو گا۔اور بھی بہت سی نشانیاں اور اوصاف تھے،جو حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی نشاندہی کرتے تھے۔

یہی بیت المقدس کا فاتح ہے

حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ لگ بھگ عصر کے وقت مسلمانوں کے لشکر میں پہنچے تھے۔دوسرے دن صبح آپ رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو نماز فجر پڑھائی،اور حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ سے فرمایا؛”اے عامر (حضرت ابو عبیدہ رضی ا ﷲ عنہ کا نام) بن جراح رضی اﷲ عنہ !تم رومیوں کے پاس جاو¿ ،اور میرے آنے کی اطلاع کر دو۔“حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی ا ﷲ عنہ شہر پناہ کے پاس آئے،اور بلند آواز سے پکارا؛”بیت المقدس کے باشندو!ہمارے خلیفہ امیر المومنین حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ آچکے ہیں،اپنے اسقف اعظم سے کہو کہ وہ ہم سے آکر ملے۔“لوگوں نے پوپ کو اطلاع دی۔وہ اپنے کنیسہ سے بالوں کا بنا ہوا لباس پہن کر نکلا۔لشکر کے سپہ سالار،پادری ،رہبان اور بشپ اُس کے ساتھ ہو لئے۔اور وہ صلیب جسے وہ اپنی عید کے سوا کبھی نہیں نکالتے تھے،نکال کر سامنے اُٹھائی ۔بیت المقدس کا حکمراں بھی ساتھ اُن کے ہمراہ ہوا،اور پوپ سے بولا؛”مقدس باپ!آپ مسلمانوں کے خلیفہ کے اوصاف سے اچھی طرح واقف ہیں،اور اُن کی علامات ِاصلیہ کو جانتے ہیں۔اگریہ وہی ہوئے تو ٹھیک ہے،ورنہ ہم یہ دروازہ نہیں کھولیں گے۔اور آپ ہمیں اور عربوں کو اپنی حالت پر چھوڑ دینا،یا تو وہ ہمیں مٹا دیں گے،یا ہم انہیں نیست ونابود کر دیں گے۔اُس نے کہا؛”میں ایسا ہی کروں گا۔“یہ کہہ کر پوپ فصیل پر آیا،رومی لشکر کے سپہ سالار اُس کے گرد کھڑے ہوئے،صلیب آگے کی،اور بولا؛”اے معزز سپہ سالار!کیا چاہتے ہو؟“حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”ہمارے خلیفہ امیر المومنین حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ،جن کے اوپر سوائے اﷲ اور اُس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کے کوئی سردار نہیں ہے،یہاں تشریف لا چکے ہیں۔تم اُن کے پاس آکر امان ،صلح کا ،اور جزیہ کا عہد نامہ مرتب کرا لو۔“پوپ نے کہا؛”اے معزز مخاطب!اگر آپ کے خلیفہ جن پر کوئی سردار نہیں ہے،آچکے ہیں ،تو اُن سے ہمیں ملواو¿۔اگر وہ ہمارے وہی ساتھی ہوئے ،جن کا ذکر انجیل مقدس میں ہے،تو ہم اُن کے پاس آکر امان مانگ لیں گے۔اور اگر تم نے دھوکہ کیا تو تلوار ہمارے درمیان فیصلہ کرے گی۔“حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی ا ﷲ عنہ خلیفہ¿ دوم رضی ا ﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو ئے،اور پوپ کی بات عرض کی۔حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ اپنے اونٹ پر سوار ہوئے،اور اسلامی لشکر کے پڑاو¿ سے تنہا روانہ ہوئے۔مسلمان سپہ سالاروں نے تنہا جانے سے روکنے کی کوشش کی،لیکن آپ رضی ا ﷲ عنہ نے سختی سے منع فرما دیا۔خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ اسلامی لشکر کے پڑاو¿ سے نکل کر بیت المقدس شہر کی شہر پناہ کے قریب اِس حال میں آئے کہ آپ رضی اﷲ عنہ ایک پیوند لگی چادر لپیٹے ہوئے تھے،اونٹ پر سوار تھے،اور کوئی ہتھیار ساتھ نہیں تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ صرف حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ اپنے گھوڑے پر سوار آپ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ چل رہے تھے۔پوپ اور اُن کے ساتھی شہر پناہ کے اوپر سے میدان میں آپ رضی اﷲ عنہ کو آتے دیکھ رہے تھے۔جب آپ رضی اﷲ عنہ شہر پناہ کے بالکل قریب ہوئے،اور پوپ نے آپ رضی اﷲ عنہ کی شکل مبارک دیکھی،اور سواری اور لباس اور حلیہ دیکھا ،تو ہڑبڑا کر کھڑا ہو گیا،اور چیخ کر بولا؛”اﷲ کی قسم!یہ وہی مقدس شخص ہے،جس کے اوصاف اﷲ تعالیٰ نے انجیل ِمقدس میں بیان کئے ہیں۔یہی بیت المقدس کا فاتح ہے۔“

بیت المقدس کی فتح

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو دیکھتے ہی پوپ نے پہچان لیا،اور جلدی سے اُٹھ کر کھڑا ہو گیا،اور رومیوں سے کہا کہ یہی شخص بیت المقدس کا فاتح ہے۔پوپ نے آگے کہا؛”اﷲ کی قسم!یہ وہی شخص ہے، جس کی صفت و نعت اور علامات ہماری کتاب میں ہے۔اور یہی وہ شخص ہے ،جس کے ہاتھ سے ہمارا یہ شہر فتح ہوگا،اور یہ بالکل یقینی امر ہے۔“اِس کے بعد اہل بیت المقدس کے لوگوں طرف متوجہ ہوا،اور بولا؛”ارے کم بختو!دوڑو،اور اُس شخص کے پاس جاو¿،اور امان اور ذمہ کا عہد لے لو۔اﷲ کی قسم!محمد بن عبد اﷲ (صلی اﷲ علیہ وسلم ) کاصحابی یہی شخص ہے۔“یہ سنتے ہی رومی جو پہلے ہی محاصرے سے عاجز آئے ہوئے تھے،آپ رضی اﷲ عنہ کی طرف دوڑے،دروازہ کھولا۔اور حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عہد و میثاق اور ذمہ کی درخواست کر کے جزیہ کا اقرار کر نے لگے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اُن کی یہ حالت دیکھی ،تو اﷲتعالیٰ کی بارگاہ میں عجز و انکساری اختیار کر کے اونٹ کے پالان پر ہی سجدہ¿ شکر ادا کر کے اﷲ تعالیٰ کا شکریہ ادا کیا۔پھر سر اُٹھایا،اور اُن سے مخاطب ہو کر فرمایا؛”جیسا کہ تم نے درخواست کی ہے،اگر تم اُسی پر جمے رہے ،اور ادائے جزیہ برابر کرتے رہے ،تو تمہارے لئے ذمہ اور امان ہو گا،جاو¿ اب اپنے شہر میں لوٹ جاو¿ ۔“رومیوں نے شہر کے تمام دروازے کھول دیئے،اور اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں