بدھ، 2 اگست، 2023

21 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ Khilafat e Rashida 2


21 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی 

قسط نمبر 21

وظائف مقرر کرنا، وظائف کی ترتیب ، خصوصی اعزازی وظیفہ، خواتین کے وظائف، اخراجات مقرر کرنا، مال ہلاکت کا سبب، حاکم ،گورنر،عامل کی تنخواہ، صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کی فکر، رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا گذارہ، ملک شام میں حاکم مقرر کرنا،ملک مصر لشکر روانہ کرنا، خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کی مدینہ منورہ واپسی، 

وظائف مقرر کرنا

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ صلح نامہ مرتب ہونے کے بعد کئی دن بیت المقدس میں تشریف فرما رہے،اِسکے بعد جابیہ آگئے۔یہاں قیام فرمانے کے دوران آپ رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کے وظائف مقرر فرمائے۔کیونکہ بہت زیادہ فتوحات کی وجہ سے بے شمار مال و دولت اور اسباب مسلمانوں کو حاصل ہو رہے تھے۔اور مال غنیمت میں سے خمس بیت المال میں بھی بہت زیادہ جمع ہو گیا تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔اِس سال ( 15 ہجری میں)حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کے وظائف مقرر کئے،اور رجسٹر تیار کئے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے وظائف کی بنیاد پہلے اسلام قبول کرنے پر رکھی۔اِس وجہ سے آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت صفوان بن اُمیہ،حضرت حارث بن ہشام،اور حضرت سہیل بن عمرو کو اہل فتح مکہ میں شامل کر کے انہیں پہلے والے مسلمانوں سے کم وظیفہ دیا۔انہوں نے عرض کیا؛”ہم سمجھتے ہیں کہ ہم سب سے زیادہ شریف خاندان کے ہیں۔“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”میں نے حسب ونسب کے لحاظ سے وظائف کی ترتیب نہیں رکھی ہے۔بلکہ اِس کا دار و مدار پہلے اسلام قبول کرنے پر ہے۔“یہ سن کر انہوں نے وظائف لے لئے۔

وظائف کی ترتیب 

حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے وظائف کی تقسیم کے لئے رجسٹر بنانے کا حکم دیا،اور اُس میں ترتیب وار نام لکھنے کا حکم دیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے رجسٹر تیار کرنے کا حکم دیا ،تو حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے مشورہ دیا ؛”یا امیر المومنین رضی اﷲ عنہ !سب سے پہلے اپنا نام تحریر فرمایئے۔“خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”نہیں !بلکہ میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اﷲ عنہ سے شروعات کروں گا۔“اِس طر ح سب سے پہلے اُن کا وظیفہ مقرر فرمایا،پھر اہل بدر (بدری صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم) کے لئے پانچ پانچ ہزار کا وظیفہ مقرر فرمایا۔پھر اہل حدیبیہ تک کا چار چار ہزار کا وظیفہ مقرر فرمایا۔پھر صلح حدیبیہ کے بعد سے لیکر اُن لوگوں تک جو خلیفہ¿ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی عنہ کے دور ِ خلافت میں مُرتدین کے خلاف جنگ میں شریک تھے۔اُن کے لئے تین تین ہزار کا وظیفہ مقرر کیا۔اِن میں وہ لوگ بھی شامل تھے،جو فتح مکہ میں شریک تھے،اور وہ بھی شامل تھے،جنہوں نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی طرف سے جنگ کی۔وہ لوگ جو جنگ قادسیہ اور ملک شام کی جنگوں میں شریک تھے،انہیں دو دو ہزار کا وظیفہ مقرر فرمایا۔اور اِن میں وہ لوگ جنہوں نے نہایت عمدہ اور بہادرانہ کارنامے انجام دیئے تھے،انہیں ڈھائی ڈھائی ہزار کا وظیفہ مقرر فرمایا۔یرموک اور قادسیہ کے بعد کے لوگوں (مسلمان مجاہدین) کا ایک ایک ہزار کا وظیفہ مقرر فرمایا۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کے امدادی رضا کاروں کا پانچ پانچ سووظیفہ مقرر فرمایا۔اور دوسرے رضا کاروں کو جو اُن کے بعد تھے،ان کا تین تین سو کا وظیفہ مقرر فرمایا۔وظیفہ مقرر کرنے میں آپ رضی اﷲ عنہ نے عربی و عجمی سب کو برابر سمجھا۔ربیع کے امدادی مجاہدین کو ڈھائی سو کا وظیفہ مقرر فرمایا۔اور اُن کے بعد کے لوگوں کو جن میں اہل ہجر اور عباد شامل تھے،دو سو کا وظیفہ مقرر فرمایا۔ 

خصوصی اعزازی وظیفہ

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے خصوصی اعزازی وظائف بھی مقرر فرمائے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اہل بدر میں چار حضرات رضی اﷲ عنہم کوشامل کر دیا۔(1) حضرت امام حسن بن علی رضی اﷲ عنہ،(2) حضرت امام حُسین بن علی رضی اﷲ عنہ،(3) حضرت ابو ذر غفاری رضی اﷲ عنہ،(4) حضرت سلمان فارسی رضی اﷲ عنہ ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اﷲ عنہ کا پچیس ہزار وظیفہ مقرر فرمایا،بعض کہتے ہیں کہ بارہ ہزار مقرر فرمایا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی” ازواج ِ مطہرات“یعنی ”امہات المومنین“کے لئے دس دس ہزار کا وظیفہ مقرر فرمایا۔پہلے اِس میں ترتیب کے لحاظ سے فرق تھا،لیکن جب ازواج مطہرات نے فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ہمارے درمیان برابر تقسیم فرماتے تھے۔ تو آپ رضی اﷲ عنہ نے سب کا وظیفہ برابر کر دیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی محبت کی وجہ سے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کا وظیفہ دو ہزار زائد دینا چاہا،تو انہوں نے اسے قبول نہیں فرمایا۔اور سب ازواج مطہرات کے برابر ہی وظیفہ لینا پسند فرمایا۔

خواتین کے وظائف

حضرت عُمرفاروق رضی اﷲ عنہ نے خواتین کے بھی وظائف مقرر فرمائے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اہل بدر کی خواتین کے لئے پانچ پانچ سو کا وظیفہ مقرر فرمایا۔اُن کے بعد سے لیکر اہل حدیبیہ تک کی خواتین کا چار چار سو وظیفہ مقرر فرمایا۔اور بعد کی خواتین کے لئے تین تین سو کا وظیفہ مقرر فرمایا۔اہل قادسیہ کی خواتین کا دو دو سو وظیفہ مقرر فرمایا۔اس کے بعد آپ رضی ا ﷲ عنہ نے باقی تمام خواتین کا برابر کا وظیفہ مقرر فرمایا۔بچوں کا وظیفہ آپ رضی اﷲ عنہ نے سو سو کا برابر رکھا۔

اخراجات مقرر کرنا

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اخراجات کا بھی تخمینہ لگایا،اور اسے بھی مقرر فرمایا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔اس کے بعد حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اخراجات کا اندازہ لگانے کے لئے ساٹھ غریبوں کو جمع کیا،اور انہیں پیٹ بھر کر روٹی اور کھانا کھلایا۔اور اُن سب کی پوری غذا کا تخمینہ لگایا،تو معلوم ہوا کہ اُن پر دو جریب گندم کا آٹا خرچ ہوا ہے۔اِس اندازے کے مطابق آپ رضی اﷲ عنہ نے ہر انسان اور اُس کے خاندان کے لئے ماہانہ دو جریب غلہ مقرر فرمایا۔آپ رضی ا ﷲ عنہ اپنی شہادت سے پہلے فرماتے تھے؛”میرا ارادہ یہ ہے کہ میں چارچار ہزار کا وظیفہ ہر مسلمان کے لئے مقرر کروں،تاکہ ایک ہزار ،ہر مسلمان اپنے اہل و عیال پر خرچ کرے ،اور ایک ہزار توشہ کے طور پر رکھے۔ایک ہزار سے سامان خریدے،اور ایک ہزار پس انداز کرے۔“مگر عملی طور پر نافذ کرنے سے پیشتر آپ رضی اﷲ عنہ شہید ہو گئے۔

مال ہلاکت کا سبب

حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے ”بیت المال“قائم کیا،لیکن اُس میں بہت کم یعنی نہیں کے برابر مال رہتا تھا۔جو بھی مال غنیمت کا خمس آتا تھا،وہ سب آپ رضی ا ﷲ عنہ مسلمانوں میں تقسیم فرما دیتے تھے۔اور ”بیت المال“میں زیادہ تر وہی مال رہتا تھا،جو دوسرے شہر والوں تک پہنچانا ہوتا تھا۔یعنی امانت کے طور پر لکھا رہتا تھا،اور جیسے ہی موقع ملتا تھا،آپ رضی ا ﷲ وہ امانت اُن کے حقدار تک پہنچا دیتے تھے۔مجموعی طور سے بیت المال میں بہت ہی کم مال رہتا تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔کسی نے عرض کیا؛”یا امیر المومنین رضی اﷲ عنہ !آپ رضی اﷲ عنہ بیت المال میں کسی ناگہانی حادثہ کے لئے بھی مال جمع رکھا کریں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”یہ لفظ شیطان نے تمہاری زبان سے کہلوایا ہے،اﷲ تعالیٰ مجھے اُس کے شر سے محفوظ رکھے۔یہ بعد کے لوگوں کے لئے فتنہ و فساد کا سبب بن سکتا ہے۔بلکہ تمہیں یہ کہنا چا ہیئے تھا کہ میں اُن کے لئے وہی چیزتیار رکھوں ۔ جس کا حکم اﷲ تعالیٰ اور اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے۔اور وہ اﷲ اور اُس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کی اطاعت ہے۔یہی ہمارا وہ سامان ہے،جس کے زریعے ہم اِس(عروج کی)حالت پر پہنچے ہیں،جو تم دیکھ رہے ہو۔جب یہ مال دین داری کی قیمت بن جائے گا،تو تم ہلاک ہو جاو¿ گے۔“

حاکم ،گورنر،عامل کی تنخواہ

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حاکم یا گورنر یا عامل کی تنخواہ بھی مقرر فرمائی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتوحات عطا فرمائیں،اور رستم قتل ہوا۔اور خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں ملک عراق اور ملک شام سے فتوحات کا مال آیا،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو جمع کیا،اور فرمایا؛”حاکم کے لئے اِس مال میں سے کتنا لینا جائز ہے؟“صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم نے عرض کیا؛”اپنی ذات کے لئے تو (صرف اِس قدر لینا جائز)ہے ،جو اُس کے اور اُسکے اہل و عیال کے کھانے پہننے اور رہنے کے لئے کافی ہو۔نہ تو کم ہو،نہ ہی زیادہ ہو۔گرمی اور سردی کے پہننے کا لباس جو اُس کے لئے اور اُس کے اہل و عیال کے لئے کافی ہو۔اور سواری کے لئے دو جانور کافی ہیں،جو جہاد اور نجی ضروریات اور حج اور عمرہ کے سفر کے لئے سواری کا کام دیں سکیں۔منصفانہ تقسیم یہ ہے کہ جنگجو مجاہدین کا ان کے جنگی کارناموں کے مطابق عطیات دیئے جائیں،اور انتظامی معاملات اور ناگہانی مصائب و حوادث کے لئے رقم مخصوص کی جائے۔اور اِس رقم کا آغاز فاتحین سے کیا جائے۔حضرت عبد اﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں۔جب میرے والد محترم خلیفہ تھے تو اُن کے پاس قادسیہ اور دمشق کی فتوحات کا مال آیا ۔اُس وقت آپ رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو جمع کیا ،اور فرمایا؛”پہلے میں تاجر تھا،اﷲ تعالیٰ نے میرے اور میری اہل و عیال کو میری تجارت کی وجہ سے بے نیاز کر رکھا تھا۔مگر اب میں تمہارے کاموں(خلافت کے کاموں)میں مشغول ہوں۔اس لئے تمہاری کیا رائے ہے؟میں بیت المال میں سے کتنی رقم لے سکتا ہوں؟“ایک شخص نے کھڑے ہو کر خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ سے پوچھا؛”اِس مال میں آپ رضی اﷲ عنہ کے لئے کس قدر لینا جائز ہے؟“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”جو میرے اور میرے اہل و عیال کے لئے جائز طور پر کافی ہو سکے۔اور سردی اور گرمی کا لباس ہو،اور حج و عمرے کے لئے سواری ہو،اور ذاتی ضروریات کے لئے اور جہاد کے لئے ایک سواری کا جانور ہو۔“

صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کی فکر

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خلافت اتنی وسیع تھی کہ اُس وقت کی دو سب سے بڑی سوپر پاور ”سلطنت روم“اور ”سلطنت فارس“سے آپ رضی اﷲ عنہ تنہا ٹکر لے رہے تھے۔اور مسلسل اُن کا صفایا کرتے جارہے تھے۔اِس کے باوجود آپ رضی اﷲ عنہ صرف اتناہی لیتے تھے کہ بڑی مشکل سے اپنا اور اپنے اہل و عیال کا گذارہ کر سکیں۔صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم دیکھتے تھے کہ خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ انتہائی تنگدستی اور غربت کا شکار ہیں۔اِسی لئے انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ کیا وظیفہ بڑھایاجائے۔لیکن حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا اتنا رعب تھا کہ کسی کی آپ رضی اﷲ عنہ سے بات کرنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ خلیفہ ہوئے،تو اُسی رقم کے مطابق گذاراہ کرتے رہے،جو مسلمانوں نے خلیفۂ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے لئے مقرر کی تھی۔جب آپ رضی اﷲ عنہ زیادہ تنگ دستی کا شکار ہو گئے ،تو جلیل القدر صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم اکٹھا ہوئے،جن میں حضرت عثمان غنی،حضرت علی المرتضیٰ،حضرت طلحہ بن عبید اﷲ ، اور حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہم بھی شامل تھے۔حضرت زبیر رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”ہمیںامیر المومنین رضی اﷲ عنہ سے کہنا چاہیئے کہ ہم اُن کا وظیفہ بڑھانا چاہتے ہیں۔“حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”وہ عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ ہیں،آو¿ ہم در پردہ اُن کے خیالات معلوم کریں۔ہم سب اُم المومنین سیدہ حفصہ رضی اﷲ عنہا کے پاس چلتے ہیں،اور اُن کے ذریعے پوشیدہ طور سے معلوم کرتے ہیں۔“(اُم المومنین سیدہ حفصہ رضی اﷲ عنہا خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کی بیٹی ہیں۔)سب لوگ سیدہ حفصہ رضی اﷲ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے،اور عرض کیا کہ وہ صورت حال سے اُن کی طرف سے آگاہ کریں۔اور ہم میں سے کسی کا نا م نہ لیں،جب تک کہ خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ راضی نہ ہو جائیں۔

رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا گذارہ

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں سیدہ حفصہ رضی اﷲ عنہا حاضر ہوئیں ،اور صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم کی فکر کا ذکر کیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ۔سیدہ حفصہ رضی اﷲ عنہا اِس معاملے میں اپنے والد محترم سے ملیں،تو آپ رضی اﷲ عنہ کے چہرے پر غضب کے آثار دیکھے۔خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”وہ کون لوگ ہیں؟“سیدہ حفصہ رضی اﷲ عنہا نے عرض کیا؛”آپ رضی اﷲ عنہ کو اُس وقت تک علم نہیں ہوسکتا ،جب تک کہ مجھے آپ رضی اﷲ عنہ کے خیالات کا علم نہ ہوجائے۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اگر مجھے معلوم ہوجاتا کہ وہ کون لوگ ہیں،تو میں اُن کے ساتھ برا سلوک کرتا۔تم اُن کے اور میرے درمیان واسطہ بن کر آئی ہو،تو میں تم سے اﷲ کا واسطہ دیکر پوچھتا ہو کہ تم نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ کافی وقت گذارہ ہے۔تمہارے گھر میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا سب سے بہترین لباس کیا تھا؟“سیدہ حفصہ نے عرض کیا؛”وہ انتہائی سادہ سے صاف کپڑے تھے،جو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم قبائل کے وفد کے سامنے یا مجمع کو خطبہ دینے کے وقت پہنتے تھے۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے پھر فرمایا؛”رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے تمہارے گھر میں سب سے بہترین کھانا کون سا کھایا ہے؟“انہوں نے عرض کیا؛”وہ جو کی روٹی ہوتی تھی ،جسے میں گرم ،چکنی،اور میٹھی صورت میں پیش کیا کرتی تھی،لیکن وہ بھی آپ صلی اﷲ علیہ وسلم روز روز نہیں کھاتے تھے(کبھی کبھی مل جاتی تھی)۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”تمہارے یہاں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا سب سے بہترین اور نرم بچھونا کیا تھا؟“سیدہ حفصہ رضی اﷲ عنہا نے عرض کیا؛”ہمارے پاس ایک کھردری چادر تھی،جسے ہم گرمی کے موسم میں چار پرت کر کے بچھا لیتے تھے،اور سردی کے موسم میں آدھی بچھاتے تھے،اور آدھی اوڑھ لیتے تھے۔“یہ سن کر آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اے حفصہ رضی اﷲ عنہا!تم انہیں میری طرف سے پیغام پہنچا دو کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کفایت شعاری کرتے تھے،اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فضول خرچی چھوڑ رکھی تھی۔اﷲ کی قسم!میں بھی کفایت شعاری کروں گا،اور فضول خرچی نہیں کروں گا۔“

ملک شام میں حاکم مقرر کرنا،ملک مصر لشکر روانہ کرنا

حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ بیت المقدس فتح ہونے کے بعد جابیہ میں مقیم تھے،اور آپ رضی اﷲ عنہ نے وہاں پر بہت بڑے بڑے فیصلے کئے۔اور ملک شام کے تمام علاقوں کے لئے حاکم اور سپہ سالار مقرر کئے،اور الگ الگ علاقوں کی طرف لشکر بھی روانہ فرمائے۔ملک شام کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔ایک حصہ میں حوران سے لیکر حلب تک کا علاقہ اور اُس کے مضافات شامل تھے۔اِس حصے کا حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو حکمراں بنایا۔اور یہ ہدایت فرمائی کہ صلیبیوں سے اُس وقت تک جنگ کرو ،جب تک کہ اسلام مکمل طور سے نافذ نہیں ہو جائے۔اور اﷲ تعالیٰ تمہیں مکمل طور سے کامیابی عطا فرما دے۔دوسرا حصہ جو ارض فلسطین ،ارض قدس اور سائل پر مشتمل ہے،اُس کا حکمراں حضرت یزید بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ کو بنایا۔اور انہیں حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کی زیر نگرانی رکھا۔اور حضرت یزید بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ قیساریہ اور آس پاس کے علاقوں پر اپنے حملے جاری رکھیں۔یہاں تک کہ اﷲ تعالیٰ ان تمام علاقوں پر اسلام کو نافذ کر دے۔خلیفہ دوم رضی اﷲ عنہ نے زیادہ تر لشکر حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کے پاس رکھا،اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو بھی اُن کے ساتھ رہنے کا حکم دیا۔اور مجموعی طور سے پورے ملک شام کا حکمراں حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کا بنایا۔(فتوحات شام)

خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کی مدینہ منورہ واپسی

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ کو ملک شام گئے ہوئے کافی عرصہ ہو گیا تھا،اور اہل مدینہ منورہ بے چینی سے آپ رضی اﷲ عنہ کا انتظار کر رہے تھے۔اُن کا خیال تھا کہ بلاد شام اور خاص طور سے بیت المقدس انبیائے کرام علیہم السلام کی سر زمین ہے۔اِس لئے خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہیں سکونت اختیار کر لیں۔اِس لئے اہل مدینہ منورہ روز انہ مدینہ منورہ سے نکل کر ملک شام کی طرف سے آنے والے راستے پر آکر آپ رضی اﷲ عنہ کا انتظار کرتے رہتے تھے،اور خبریں معلوم کرتے رہتے تھے۔انہیں آنے جانے والے قافلوں سے خبر ملتی رہتی تھی کی اب خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ یہاں پہنچ چکے ہی،اب یہاں پہنچ چکے ہیں۔آخر کار ایک دن حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ مدینہ¿ منورہ تشریف لے آئے۔ اور پورے مدینہ منورہ میں جیسے جان آگئی،سب لوگ استقبال کے لئے دوڑ پڑے۔اورخلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ کو ”فتح بیت المقدس“کی مبارکباددینے لگے۔ آپ رضی اﷲ عنہ سب سے پہلے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی قبر مبارک پر حاضر ہوئے،اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو سلام عرض کیا۔اِس کے بعد مسجد نبوی میں آکر دو رکعت نماز ادا کی۔اور اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔(فتوحات شام)

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

22 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ Khilafat e Rashida 2


22 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی 

قسط نمبر 22

فتوحات ِ سلطنت فارس، اسلامی لشکر کی روانگی، فارسیوں کی شکست، بابل کی فتح، کوثی کی فتح، شہر یار کا قتل، حضرت ابراہیم علیہ السلام بابل میں، نہر شیر یا بہر سیرکے اطراف اسلامی لشکر، مختلف صوبوں کے حکام (گورنر)، 15 ہجری کے شہداءاور انتقال شدہ حضرات

فتوحات ِ سلطنت فارس

اب ہم سلطنت روم کے ذکر کو یہیں چھوڑ کر سلطنت فارس کی طرف آتے ہیں۔آپ کو یاد ہو گا کہ جنگ قادسیہ کی فتح کا ذکر کرنے کے بعد ہم نے سلطنت فارس کے ذکر کو وہیں روک دیا تھا۔اور سلطنت روم کا ذکر شروع کر دیا تھا،اب ہم ملک عراق کی طرف واپس آتے ہیں۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ جنگ قادسیہ میں فتح حاصل کرنے کے بعد قادسیہ میں ہی دو مہینے تک قیام پذیر رہے۔اور آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے خط و کتابت کرتے رہے۔پھر انہوں نے حضرت زہرہ بن حویہ رضی اﷲ عنہ کو اُس مقام پر بھیجا،جہاں آج کل ”کوفہ“ہے۔اور اِس سے پہلے ”حیرہ “کا مقام تھا۔وہاں فارسیوں(ایرانیوں) کا سپہ سالار نخیرجان خیمہ زن تھا۔جب اُس نے مسلمانوں کے آنے کی خبر سنی ،تو وہ ثابت قدم نہیں رہ سکا ،اور اپنے ساتھیوں کے پاس”بابل“میں بھاگ گیا۔

اسلامی لشکر کی روانگی

خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کو مدائن کی طرف پیش قدمی کرنے کا حکم دیا،اور راستے میں جتنے بھی مقامات پر مزاحمت ہو ،انہیں فتح کرتے جانے کا حکم دیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ جب وہ مدائن کی طرف روانہ ہوں،تو وہ خواتین اور بچوں کو ”عتیق“میں چھوڑ جائیں۔اور اُن کی حفاظت کے لئے ایک فوجی دستہ بھی مقرر کر دیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے ایسا ہی کیا،اور جس فوجی دستے کو خواتین اور بچوں کے ساتھ چھوڑا ،اُن مجاہدین سے فرمایا کہ تمہارا بھی مال غنیمت میں ہمارے برابر کا حصہ ہو گا۔اِس کے بعد حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے حضرت زہرہ بن حویہ رضی اﷲ عنہ کو ہر اول(مقدمة الجیش )کا سپہ سالار بنا کر پہلے ہی بھیج دیا تھا،اِس کا ذکر ہم اوپر کر چکے ہیں۔اُن کے پیچھے حضرت عبد اﷲ بن معتم،حضرت شرجیل،اور حضرت ہاشم کو سپہ سالار بنا کر ایک کے بعد ایک کر کے بھیجا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت سعد رضی اﷲ عنہ جب قادسیہ سے فارغ ہوئے،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے ہر اول(مقدمة الجیش)میں حضرت زہرہ بن حویہ رضی اﷲ عنہ کو بھیجا۔پھر یکے بعد دیگرے اُن کے پیچھے سپہ سالاروں کو لشکر دیکر بھیجا۔پھر آپ رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر آگے بڑھے۔اور آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن عرفطہ کی جگہ حضرت ہاشم بن عتبہ بن ابی وقاص کو اپنا نائب بنایا۔اور حضرت خالد بن عرفطہ کو”ساقہ“کا سپہ سالار بنایا۔اور یہ لوگ بہت سے ہتھیاروں اور گھوڑوں کے ساتھ روانہ ہوئے۔یہ اُس وقت کی بات ہے ،جب ابھی ۵۱ ہجری شوال المکرم کے کچھ دن باقی تھے۔اِن لوگوں نے کوفہ میں پڑاو¿ ڈالا،اور حضرت زہرہ بن حویہ اِن سے آگے مدائن کی طرف آگے بڑھے۔

فارسیوں کی شکست

اسلامی لشکر قادسیہ سے روانہ ہوا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔سب سے پہلے حضرت زہرہ بن حویہ اپنے لشکر کے ساتھ آگے بڑھ کر اُس مقام پر پہنچے ،جہاں آج کل کوفہ ہے۔”کوفہ“ہر اُس زمین کو کہتے ہیں،جس میں سنگریزے اور سُرخ مٹی ملی ہوئی ہو۔جب اِس مقام پر حضرت عبد اﷲ اور حضرت شرجیل پہنچے ،تو یہاں فارسی سپہ سالار یصبہری لشکر لیکر آیا۔دونوں لشکروں میں گھمسان کی جنگ ہوئی ،اور فارسیوں کو شکست ہوئی ۔یصبہری اور اُس کے فارسی سپاہی شکست کھانے کے بعد ”بابل“کی طرف بھاگ گئے۔وہاں قادسیہ کی شکست کھائی ہوئی فوج پہلے سے ہی بھاگ کر آئی ہوئی تھی۔اِن میں نخیر جان،مہران رازی،ہرمزان اور دوسرے سپہ سالار تھے۔اِن لوگوں نے یہاں خیرزان کو اپنا سپہ سالار اور حاکم بنا رکھا تھا۔یصبہری پر حضرت زہرہ بن حویہ رضی اﷲ عنہ نے نیزے سے اتنا زبردست وار کیا تھا کہ وہ نہر میں گر گیا تھا۔پھر بھی وہ اُٹھ کر بابل بھاگ گیا،لیکن اسی نیزے کے وار سے اُس کی بابل میں موت ہو گئی۔

بابل کی فتح

مسلمانوں سے شکست کھانے کے بعد فارسی سپاہی اور کمانڈر بھاگ کر بابل میں جمع ہو گئے۔اور ایک بڑی جنگ کی تیاری کرنے لگے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب یصبہری کو شکست ہوئی ،تو ”برس“کا زمیندارجس کا نام بسطام تھا آیا،اور حضرت زہرہ بن حویہ رضی اﷲ عنہ سے صلح کا معاہدہ کر لیا۔اُس نے مسلمانوں کے لئے پُل تیار کئے،اور دشمن کے بابل میں جمع ہونے کی خبر پہنچائی۔حضرت زہر بن حویہ رضی اﷲ عنہ نے بسطام کے پاس ”برس“میں پڑاؤ ڈال دیا،اور تمام معلومات حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کو لکھ کر بھیجی۔حضرت سعد رضی اﷲ عنہ کوفے میں حضرت ہاشم بن عتبہ بن ابی وقاص کے ساتھ مقیم تھے۔اُس وقت انہیں حضرت زہرہ بن حویہ کی طرف سے اطلاع ملی کہ اہل فارس خیرزان کی زیر قیادت با بل میں جمع ہیں۔اور وہ کہہ رہے ہیں کہ وہ منتشر ہونے سے پہلے مسلمانوں سے ایک بڑی جنگ کریں گے۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے اِس اطلاع کے بعد فوراًحضرت عبد اﷲ کو پھر حضرت شرجیل کو اور پھر حضرت ہاشم کو لشکر دیکر بابل بھیجا،اور سب سے آخر میں آپ رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر پہنچے۔فارسیوں کا لشکر لیکر خیرزان میدان میں آیا،دونوں لشکروں نے صف بندی کی۔جنگ شروع ہوئی ،اور فریقین ایکدوسرے پر شدید حملے کرنے لگے۔مسلمانوں نے اتنا شدید حملہ کیا کہ فارسیوں کے پیر اُکھڑ گئے،اور انہیں ذلت آمیز شکست ہوئی۔سب سے پہلے اہل کوفہ بھاگے،اس کے بعد تمام فارسی سپہ سالار بھاگنے لگے۔اور اِدھر اُدھر منتشر ہو گئے۔ہرمزان نے اہواز کا رُخ کیا،اور اُس پر قبضہ کر لیا۔خیرزان ”نہاوند“ پہنچا ،وہاں کسریٰ کے خزانے تھے۔اُس نے تمام خزانوں پر قبضہ کیا،اور ماہن کو بھی ہضم کر لیا۔نخیر جان ،اور مہران رازی ”مدائن“کی طرف بھاگے،اور دریا کو دوسرے کنارے سے عبور کر کے”بہر سیر“کے مقام پر پہنچ گئے۔پھر اُن دونوں نے پُل کو کاٹ دیا۔

کوثی کی فتح

بابل کی فتح کے بعد حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے کچھ دن وہیں قیام کیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت سعد رضی اﷲ عنہ چند دن بابل میں رہے،انہیں خبر ملی کہ نخیر جان نے شہر یار کو جو ایک زمیندار تھااپنا نائب بنا کر کوثی میں چھوڑ دیا ہے،اور اُسے اچھا خاصا لشکر بھی دیا ہے۔یہ اطلاع ملنے کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت زہرہ بن حویہ رضی اﷲ عنہ کو آگے بھیجا۔،ا س کے بعد مزید لشکر بھیجا۔حضرت زہرہ بن حویہ روانہ ہوئے ،اور راستے میں دشمن کا جو بھی دستہ ملتا گیا،اُسے شکست دیکر آگے بڑھتے گئے۔جو بھی فارسی ملتا اُسے قتل کردیتے تھے۔جب حضرت زہرہ بن حویہ با بل سے روانہ ہوئے،تو انہوں نے حضرت بکیر بن عبد اﷲ لیثی اور حضرت کثیر بن شہاب سعدی کو صراة کی نہر عبور کرنے کے بعد آگے روانہ کیا۔انہوں نے دشمن کی آخری صفوں کو دیکھا ،جن میں قیو مان اور خرخان فارسی کمانڈر تھے۔ایک مسان کا رہنے والا تھا،اور دوسرا اہواز کا رہنے والا تھا۔مسلمانوں نے فارسیوں پر حملہ کر دیا،اور حضرت بکیر نے خرخان کو قتل کیا،اور حضرت کثیر نے فیومان کو ”سورا“ کے مقام پر قتل کیا۔حضرت زہرہ بن حویہ رضی اﷲ عنہ ”سورا “سے آگے بڑھ کر خیمہ زن ہوئے۔پھر حضرت ہاشم بن عتبہ بھی آگئے، پھر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ بھی آگئے۔اور انہوں نے حضرت زہرہ بن حویہ کو آگے روانہ کر دیا۔اور وہ دشمن سے مقابلے کے لئے روانہ ہوئے،جو دیر اور کوثی کے درمیان مقابلے کے لئے تیار تھا۔

شہر یار کا قتل

حضرت زہرہ بن حویہ جب اپنا لشکر لیکر پہنچے تو شہر یار اپنے لشکر کے ساتھ مقابلے کے لئے تیار تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ دونوں لشکر صف آرا ہوئے تو شہر یار آگے بڑھا،اور بولا؛”کیا کوئی مرد ہے؟تمہارا کوئی بہت بڑا شہسوار میرے مقابلے پر آئے،تاکہ میں اُسے کیفر کردار تک پہنچا و¿ں۔“حضرت زہرہ بن حویہ نے فرمایا؛”میرا ارادہ تھا کہ میں تم سے مقابلہ کروں،لیکن تمہارے بڑے بول کے بعد اب میں تم سے مقابلے کے لئے ایک غلام کو بھیجوں گا۔اگر تم اُس کے مقابلے پر آئے ،تو اﷲ نے چاہا تو وہ تمہارا کام تمام کر دے گا۔اور اگر تم اُس کے مقابلے سے بھاگ گئے،تو تم ایک غلام سے بھاگے ہوئے کہلاو¿ گے۔“اِس کے بعد انہوں نے حضرت ابو نباتہ نائل بن جشم اعرابی کو جو قبیلہ بنو تمیم کا بہادر سورما تھا،اُسے مقابلے کے لئے بھیجا۔دونوں مقابل کے ہاتھ میں نیزے تھے،دونوں بہت طاقتور تھے،مگر شہر یار اونٹ کی طرح تھا۔جب اُس نے حضرت نائل کو دیکھا تو نیزہ پھنیک دیا،یہ دیکھ کر حضرت نائل نے بھی نیزہ پھینک دیا۔دونوں نے تلواریں نکال لیں،اور بہادری کے ساتھ لڑتے رہے۔پھر دونوں گھوڑے سوار ہی گتھم گتھا ہو گئے،اور ایک ساتھ گھوڑوں پر سے گر پڑے شہر یار حضرت نائل پر گرا،اُس نے انہیں اپنی ران میں دبوچ لیا،اور خنجر نکال لیا۔و ہ حضرت نائل کی زرہ بکتر کھولنے والا تھا کہ اُس کا انگوٹھا حضرت نائل کے منہ میں آگیا،انہو ںنے اتنی زور سے چبایاکہ وہ سست پڑ گیا۔فوراً حضرت نائل نے اُسے زمین پر گرا دیا،اور اُس کے سینے پر چڑھ کر اُس کا خنجر لیا۔اور اُس کے پیٹ پر سے زرہ بکتر کھول کر خنجر گھونپ دیا ۔یہاں تک کہ وہ مر گیا۔شہر یار کے قتل ہوتے ہی فارسیوں میں بھگڈر مچ گئی ،اور وہ سب مختلف شہروں کی طرف بھاگ گئے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام بابل میں

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کوثی میں کئی دنوں تک مقیم رہے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کوثی میں قیام کے دوران اُس مقام پر بھی گئے ،جہاں کوثی کے مقام پر حضرت ابراہیم علیہ السلام بیٹھا کرتے تھے۔اور وہاں بھی گئے ،جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بشارت دی گئی تھی۔اور اُس گھر میں بھی گئے ،جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالنے سے پہلے قید میں رکھا گیا تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اُس کا معائنہ کیا،اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ،اور حضرت ابراہیم علیہ السلام پر اور تمام انبیائے کرام علیہم السلام پر درود بھیجا۔پھریہ آیت تلاوت فرمائی؛”ترجمہ۔یہ ایام ایسے ہیں،جن کو ہم لوگوں میں گردش دیتے ہیں۔“

نہر شیر یا بہر سیرکے اطراف اسلامی لشکر

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کوثی سے روانہ ہوئے،اور سب سے پہلے اپنے ہر اول(مقدمة الجیش) لشکر کو حضرت زہرہ بن حویہ کو نہر شیر یا بہر سیر کی طرف بھیجا۔(امام واقدی نے نہر شیر لکھا ہے،اور علامہ طبری نے بہر سیر لکھا ہے۔)علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے حضرت زہرہ بن حویہ رضی اﷲ عنہ کو بہر سیر کی طرف ہر اول کے طور پر بھیجا۔وہ آگے بڑھے ،تو انہیں ساباط میں شیرزاذ صلح اور جزیہ کے ساتھ ملا،اور آپ رضی اﷲ عنہ نے اُسے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کی طرف بھیج دیا،اور انہوں نے اس صلح کو منظور کر لیا۔حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے حضرت زہرہ بن حویہ کے پیچھے حضرت ہاشم بن عتبہ کو روانہ کیا،اور پھر خود بھی روانہ ہوئے۔یہ واقعہ ماہِ ذی الحجہ ۵۱ ہجری کا ہے۔مظلم ساباط نام کے مقام پر کسریٰ کے خاندان کی عورت بوران کا شاہی لشکر جمع تھا۔حضرت زہرہ نے وہاں پہنچ کر اُس شاہی لشکر کو شکست دیکر پڑاو¿ ڈال دیا،کچھ دن بعد حضرت ہاشم بھی پہنچ گئے۔ کچھ دنوں بعد حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ بھی پہنچ گئے۔یہاں پر حضرت ہاشم بن عتبہ نے ایک شیر کو اپنی تلوار سے قتل کیا۔جس پر حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے اپنے بھتیجے حضرت ہاشم کو مبارکباد دی۔

مختلف صوبوں کے حکام (گورنر)

سال 15 ہجری کے حالات یہاں مکمل ہوئے۔خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اِس سال مختلف علاقوں میں اپنے حکام (گورنر ) مقرر فرمائے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔اسی سال 15 ہجری میں حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کے ساتھ حج کیا۔اِس سال مکہ مکرمہ کے گورنر حضرت عتاب بن اُسید تھے۔طائف کے گورنر حضرت لیلیٰ بن رفیہ تھے۔ہمامہ اور بحرین کے گورنرحضرت عثمان بن ابی العاص تھے۔عمان کے گورنر حضرت حذیفہ بن محصن تھے۔ملک شام کے تمام علاقوں کے گورنرحضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ تھے۔اور ملک عراق کے تمام علاقوں کے گورنر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ تھے۔بصرہ جو سرحدی علاقہ تھا،اُس کے گورنر حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ تھے۔

15 ہجری کے شہداءاور انتقال شدہ حضرات

سال 15 ہجری کے اختتام پر اِس سال میں شہید ہونے والے اور انتقال کرنے والے چند حضرات کے نام ہم یہاں پیش کر رہے ہیں۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت سہیل بن عمرو قریش کے سرداروں میں سے ہیں۔فتح مکہ کے وقت اسلام قبول کیا تھا۔ملک شام جہاد کے لئے گئے،اور جنگ یرموک میں شہید ہوئے۔امام واقد ی اور امام شافعی کے مطابق طاعون سے عمواس میں انتقال ہوا۔حضرت عامربن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ اولین اسلام قبول کرنے والوں میں سے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی۔آپ رضی اﷲ عنہ کو خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو ملک شام کا سپہ سالار بنانے اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی معزولی کا خط دیکر بھیجا تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ جنگ یرموک میں شہید ہوئے۔حضرت عبد اﷲ بن سفیان بن عبد الاسد مخزومی رضی اﷲ عنہ صحابی ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے چچا حضرت ابو سلمہ بن عبد الاسد رضی اﷲ عنہ کے ساتھ حبشہ ہجرت کی تھی۔آپ رضی اﷲ عنہ جنگ یرموک میں شہید ہوئے۔حضرت عبد الرحمن بن عوام رضی اﷲ عنہ غزوہ¿ بدر کے قیدیوں میں تھے۔بعد میں اسلام قبول کیا۔ حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ کے بھائی ہیں،اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ جنگ یرموک میں شہید ہوئے۔حضرت عتبہ بن غزوان رضی اﷲ عنہ کا انتقال اسی سال ہوا۔حضرت عکرمہ رضی ا ﷲ عنہ بن ابو جہل جنگ یرموک میں شہید ہوئے۔حضرت فراس بن نضر بن حارث جنگ یرموک میں شہید ہوئے۔حضرت قیس بن صعصعہ ،اور حضرت عمرو بن زید انصاری جنگ یرموک میں شہید ہوئے۔حضرت نضیر بن حارث رضی ا ﷲ عنہ صحابی ہیں،جنگ یرموک میں شہید ہوئے۔حضرت نوفل بن حارث بن عبد المطلب رضی اﷲ عنہ کا انتقال ۵۱ ہجری میں ہوا۔بعض کے مطابق ۰۲ ہجری میں ہوا۔حضرت ہشام بن عاص رضی اﷲ عنہ جنگ یرموک میں شہید ہوئے۔آپ رضی اﷲ عنہ حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کے بھائی ہیں۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

23 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ Khilafat e Rashida 2


23 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی 

قسط نمبر 23

16 ہجری کی شروعات، بہر سیر یا نہر شیر کا محاصرہ، حضرت زہرہ بن حویہ رضی اﷲ عنہ کی شہادت، بہر سیر کی فتح، فارسی کشتیا ں بھی ساتھ لے گئے، دریا میں گھوڑے دوڑا دیئے، حضرت عاصم بن عمرو رضی اﷲ عنہ اور اُن کے ساتھیوں کی بہادری، مسلمانوں کا گھوڑوں پر دریا پار کرنا، اﷲتعالیٰ نے دریا کو مطیع کر دیا، اﷲ تعالیٰ کی تعریف، مدائن کی فتح، قصر ابیض(سفید محل) کی فتح، ملک عراق میں پہلا جمعہ، کسریٰ کا تاج، مسلمان مجاہدین کا تقویٰ، بے شمار مال غنیمت، کسریٰ کے کنگن، سونا صرف حضرت سُراقہ رضی اﷲ عنہ کے لئے حلال ہے، خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کا عجز اور انکساری، کسریٰ کا قالین”بہارِ کسریٰ

16 ہجری کی شروعات

جب 16 ہجری کی شروعات ہوئی تو اُس وقت خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ مسلمانوں کے ساتھ ملکر اُس وقت کی دو سب سے بڑ ی سوپر پاور سے ٹکرا رہے تھے۔اور انہیں شکست پر شکست دیتے جا رہے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ اِس حکمت اور تدبر سے دونوں سوپر پاور سے مقابلے کے لئے لشکر بھیج رہے تھے ۔اور اُن سے ایسی ایسی جنگی تدبیروں سے مقابلہ کر رہے تھے،کہ دشمنوں کو مسلسل شکست ہو رہی تھی۔سب سے بڑی بات یہ کہ اﷲ تعالیٰ کی مدد مسلمانوں کے ساتھ تھی،اور اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کے دلوں میں مضبوط ایمان جما دیا تھا۔مسلمان فتح حاصل کرنے کے لئے جنگ نہیں کر رہے تھے،بلکہ اﷲ تعالیٰ اور اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کی خوشنودی اور جنت حاصل کرنے کے لئے جنگ کررہے تھے۔اور مسلمانوں کے اِس جذبے کے سامنے دنیا کی دو سب بڑی سوپر پاور ”سلطنت ِروم “اور ”سلطنت ِ فارس “اپنے گھٹنے ٹیکتی جا رہی تھیں۔مسلمان ایک طرف سلطنت روم کا ملک شام میں صفایا کرتے جا رہے تھے،اور دوسری طرف ملک عراق میں سلطنت فارس کا صفایا کرتے جا رہے تھے۔

بہر سیر یا نہر شیر کا محاصرہ

اِس سے پہلے ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ بہر سیر یا نہر شیر پہنچ گئے تھے،اور وہیں پڑاو¿ ڈال دیا تھا۔بہر سیر شہر کے اطراف بہت اونچی ”شہر پناہ تھی،اور اُس کے چاروں طرف گہری خندق کھودی ہوئی تھی۔اور شہر پناہ پر محافظ تعینات رہتے تھے۔مسلمانوں نے آگے بڑھ کر بہر سیر کا محاصرہ کر لیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔مسلمان بہر سیرکے قریب خیمہ زن ہوئے ۔اِس شہر کے چاروں طرف خندقیں تھیں،اور محافذ مقرر تھے، اورجنگ کے دوسرے سامان بھی تھے۔مسلمانوں نے ان پر منجنیقوںاور دوسرے آلات سے سنگ باری کی۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے شہر ذاز سے منجنیقیں تیار کرائیں،اور بہر سیر کے اطراف نصب کروا دیں ۔اور اُن کے ذریعے مقابلہ جاری رکھا۔

حضرت زہرہ بن حویہ رضی اﷲ عنہ کی شہادت

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ مسلمانوں کے ساتھ بہر سیر کا محاصرہ کئے ہوئے تھے۔اور مسلسل حملے کر رہے تھے۔شہر والے بھی مقابلے پر ڈٹے ہوئے تھے،اور شہر پناہ(فصیل ) پر سے مسلسل تیر برسا رہے تھے۔یہ محاصرہ اور مقابلہ دو مہینے تک چلا،اور اسی دوران حضرت زہرہ بن حویہ رضی اﷲ عنہ کی شہادت کا واقعہ پیش آیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔مسلمان بہر سیر کے اطراف دو مہینے خیمہ زن رہے،وہ شہر پر منجنیقوں سے سنگ باری کرتے رہے،اور ہر قسم کے سامان جنگ سے اُن کا مقابلہ کرتے رہے۔شہر والے اپنے شہر میں قلعہ بند ہو کر بیٹھ گئے تھے،کبھی کبھی اپنے سامان جنگ کے ساتھ باہر نکل کر جنگ کرتے تھے۔لیکن مسلمانوں کی ہمت اور حوصلے کے آگے اُن کے حوصلے پست پڑ جاتے،اور مقابلے کی تاب نہ لاکر وہ اندر شہر میں گھس کر دروازہ بند لیتے تھے۔حضرت زہرہ بن حویہ رضی اﷲ عنہ کی زرہ کی دو کڑیاں ٹوٹ گئیں تھیں،مجاہدین نے اسے درست کرانے کا مشورہ دیا۔انہوں نے فرمایا؛”کیوں؟“ مجاہدین بولے؛”ہمیں آپ رضی اﷲ عنہ کی جان کا اندیشہ ہے۔“انہوں نے فرمایا؛”مجھے اﷲ کے کرم اور قدرت پر بھروسہ ہے۔“اس دن بہر سیر کے لوگوں نے بہت شدید تیر اندازی کی،اور تیر برسائے۔ حضرت زہرہ بن حویہ رضی اﷲ عنہ کو کئی تیر آکر لگے،اور خود(لوہے کی ٹوپی) اور زرہ بکتر کی وجہ سے اُچٹ گئے۔لیکن ایک تیر زرہ کی ٹوٹی دو کڑیوں کے کھلے حصے پر آکر لگا اور جسم میں پیوست ہو گیا۔اُسی وقت شہر والوں نے دروازہ کھول کر مسلمانوں پر ہلہ بول دیا۔دو بدو جنگ ہونے لگی،مجاہدین نے حضرت زہرہ بن حویہ رضی اﷲ عنہ کے جسم میں پیوست تیر نکالنے ارادہ کیا ،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”مجھے اِسی حالت پر چھوڑ دو،جب تک یہ تیر میرے اندر ہے ،تب تک جان ہے۔ممکن ہے اِس دوران کئی اور دشمنوں کو ختم کرسکوں۔“اور اپنے گھوڑے کو ایڑ لگا کر دشمنوں میں گھس گئے،اور انہیں قتل کرنے لگے۔انہوں نے شہر براز کو بھی قتل کردیا،لیکن دشمنوں نے ایک ساتھ حملہ کر کے آپ رضی اﷲ عنہ کو شہید کردیا۔اور بھاگ کر شہر کے اندر جا کر دروازہ بند کرلیا۔لیکن انہیں شہر براز کی موت کا صدمہ بھی اُٹھانا پڑا۔

بہر سیر کی فتح

حضرت زہرہ بن حویہ رضی اﷲ عنہ نے شہید ہونے سے پہلے شہر براز کو قتل کردیا،جس سے شہر والوں کے حوصلے ٹوٹ گئے۔انہوں نے صلح کی درخواست کی ،لیکن صحیح ترجمان ہونے کی وجہ سے مسلمان اُن کی بات سمجھ نہیں پائے،اور اپنے حملوں کو جاری رکھا۔شہر والوں نے خفیہ راستے سے شہر خالی کرنا شرو ع کر دیا۔اور جب پورا شہر خالی ہوگیا ،اور دوسری طرف سے جوابی کاروائی ہونا بند ہو گئی ،تب مسلمانوں کو اندازہ ہوا۔علامہ محمد بن جری طبری لکھتے ہیں۔مسلمان منجنیقوں سے شہرپناہ پر بڑے بڑے پتھر برسا رہے تھے،مگر شہر کی فصیل پر کوئی نمودار نہیں ہوا۔اور صرف ایک شخص فصیل پر آیا،اور اعلانیہ امان کی درخواست کی، مسلمانوں نے اُسے پناہ دینے کا وعدہ کیا تو اُس نے کہا کہ اِس شہر میں اب کوئی باقی نہیں ہے،جو تمہیں روکے گا۔یہ سن کر مسلمان شہر پناہ پر چڑھ گئے،اور اُس کے دروازے کھول دیئے۔پورے شہر میں سوائے چند لوگوں کے کوئی نہیں تھا،اور وہ بھی بھاگنے کی کوشش میں تھے۔جب مسلمان بہر سیر میں آدھی رات کے وقت داخل ہوئے،تو انہیں سفید محل نظر آیا۔اُس وقت حضرت ضرار بن خطاب رضی اﷲ عنہ(حضرت عُمر فاروق بن خطاب کے بھائی)نے فرمایا؛”اﷲ اکبر!یہ کسریٰ کا وہ ”سفید محل “ہے،جس کا وعدہ اﷲ اور اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہم سے کیا تھا۔“اِس کے بعد مسلمان لگاتار نعرہ¿ تکبیر بلند کرتے رہے،یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔

فارسی کشتیا ں بھی ساتھ لے گئے

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے بہر سیر پر قبضہ کر لیا۔بہر سیر کو عربی میں”بَھرَ سِیر“کہا جاتا ہے۔یہ اُن سات شہروں میں سے ایک ہے ،جن کے مجموعے کو ”مدائن“ کہا جاتا ہے۔یہ اَرد شہر یا ارد شیر کا معرب ہے۔جس کے معنی ”ارد شیر کا شہر“یا ”ارد شیر کا بہترین شہر“ہے۔(معجم البلدان)بہر شیر مدائن کے سات شہروں میں سے ایک تھا،اور یہ دریائے دجلہ کے مغربی کنارے واقع تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب حضرت سعد رضی اﷲ عنہ ”مدائن“کے قریبی شہر بہر سیر میں داخل ہو گئے، تو انہوں نے کشتیاں طلب کیں ،تاکہ دریائے دجلہ پار کر کے مدائن کے دوسرے شہروں تک پہنچ سکےں۔مگر انہیں کوئی کشتی نہیں مل سکی،معلوم ہوا کہ فارسی کشتیوں پر قابض ہو گئے ہیں،اور اپنے ساتھ دریا پار لیکر چلے گئے۔لہٰذا مسلمان ماہِ صفر المضفر ۶۱ ہجری تک بہر سیر میں رہے،اور دریا پار کرنے کی تدبیر کرنے لگے،اِس دوران دریائے دجلہ میں سیلاب آگیا۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے ایک خواب دیکھا کہ مسلمانوں کے گھوڑے دریا میں گھس گئے ہیں،اور دریا پار کر لیا،حالانکہ دریا میں سیلاب آیا ہو اتھا۔

دریا میں گھوڑے دوڑا دیئے

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے خواب دیکھنے کے بعد دریا پار کرنے کا مصمم ارادہ کر لیا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت سعد رضی اﷲ عنہ کو اطلاع ملی کہ کسریٰ یزد جرد مال و متاع کو مدائن سے حلوان لے جانے کا عزم کئے ہوئے ہے،اور اگر اُسے تین دن کے اندر نہیں پکڑا،تو ہاتھ سے نکل جائے گا،اور بات جاتی رہے گی۔حضرت سعد رضی اﷲ عنہ اپنا لشکر لیکر دجلہ کے کنارے آئے،اور خطاب فرمایا؛”اﷲ تعالیٰ کی حمد و ثناءاور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پر درود و سلام کے بعد فرمایا!بے شک تمہارے دشمن نے اِس دریا کے ذریعے تم سے اپنا بچاو¿ کر لیا ہے۔تم اِس کی موجودگی میں اُن کے پاس نہیں جاسکتے،اور وہ جب چاہیں تمہارے پاس آسکتے ہیں۔اور تمہاری ضروریات اُن کشتیوںمیں ہیں ،جو اُن کے پاس ہیں۔اور تمہارے پاس ایسی کوئی چیز نہیں ہے،جس کے کھونے کا تمہیں ڈر ہو۔قبل اِس کے کہ دنیا تمہارا گھیراو¿ کرے،تم اپنی پُر خلوص نیتوں کے ساتھ دشمن سے جہاد کرنے کے لئے سبقت کرو۔آگاہ ہو جاو¿!میں نے دریا پار کرنے کا عزم کر رکھا ہے۔تمام مسلمانوں نے ایک ساتھ کہا؛”آپ رضی اﷲ عنہ دریا پار کریں ،ہم بھی آپ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”کون ہے ؟جو دریا پار کر کے اُس پار جا کر فارسیوں کو پیچھے ہٹائے،اور مسلمانوں کے دریا پار کرنے کے لئے محفوظ مقام بنائے۔“

حضرت عاصم بن عمرو رضی اﷲ عنہ اور اُن کے ساتھیوں کی بہادری

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کی دعوت پر سب سے پہلے حضرت عاصم بن عمرو رضی اﷲ عنہ اور اُن کے ساٹھ (60)ساتھیوں نے لبیک کہا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت عامر بن عاصم رضی اﷲ عنہ اور تقریباً چھ سو مجاہدین نے اِس پر لبیک کہا۔اور حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے حضرت عاصم بن عمرو رضی اﷲ عنہ کو اُن کا سپہ سالار مقرر فرما دیا،اور وہ دریائے دجلہ کے کنارے کھڑے ہو گئے،اور فرمایا؛”اِس دریا میں داخل ہونے سے قبل کون میرے ساتھ تیار ہوتا ہے؟تاکہ ہم دوسری جانب سے دریا کے دہانے کا محفوظ کر لیں،اور پورا لشکر آرام سے دریا پار کرے۔“یہ سن کر ساٹھ(60) مجاہدین آگے بڑھے۔دریائے دجلہ کے دوسرے کنارے پر فارسیوں نے صف بندی کر رکھی تھی۔حضرت عاصم بن عمرو رضی اﷲ عنہ آگے بڑھے،اور قرآن پاک کی ایک آیت تلاوت فرمائی ،اور اپنا گھوڑا دریا میں ڈال دیا۔اور اُن کے ساٹھ ساتھیوں نے اُن کے پیچھے اپنے گھوڑے ڈال دیئے۔دریائے دجلہ کے دوسرے کنارے پر کھڑے فارسیوں کے منہ حیرت سے کھل گئے،اور وہ انتہائی شدید حیرت گھبراہٹ سے مسلمانوں کودریا میں داخل ہوتے دیکھ رہے تھے۔جب فارسیوں(ایرانیوں)نے مسلمانوں کے گھوڑوں کو دریا کے پانی پر تیرتے دیکھا ،تو انتہائی شدید حیرانی سے پکار اُٹھے؛”دیوانے!یہ لوگ دیوانے ہیں،اﷲ کی قسم!ہم انسانوں سے نہیں جناتوں سے جنگ کر رہے ہیں۔پھر انہوں نے گھڑ سواروں کو پانی میں بھیجا کہ وہ مسلمانوں کے ہر اول (مقدمة الجیش)دستے کو پانی سے باہر نکلنے نہ دیں۔حضرت عاصم بن عمرو رضی اﷲ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ وہ اپنے نیزے سیدھے کر لیں،اور فارسیوں کے گھوڑوں کی آنکھوں پر وار کریں۔مسلمانوں نے ایساہی کیا،اور اُن کے گھوڑوں کی آنکھیں پھوڑ دیں۔فارسیوں کے گھوڑے جب اندھے ہوئے تو پانی کے باہر بھاگے ،اور وہ انہیں روک بھی نہیں سکے۔اِس افرا تفری کا فائدہ اُٹھا کر حضرت عاصم بن عمرو رضی اﷲ عنہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ دوسرے کنارے پر پہنچ گئے۔اور دریا کے کنارے کھڑے ہو کر فارسیوں کو روکنے لگے ،تاکہ مسلمان دریا پار کرلیں۔

مسلمانوں کا گھوڑوں پر دریا پار کرنا

حضرت عاصم بن عمرو رضی اﷲ عنہ اپنے ساٹھ ساتھیوں کے ساتھ دریائے دجلہ کے اُس پار پہنچ گئے،اور فارسیوں سے مقابلہ کرنے لگے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت عاصم رضی اﷲ عنہ کے ساٹھ ساتھیوں کے پیچھے اُن کے چھ سو ساتھی بھی دریائے دجلہ کے اُس پار پہنچ گئے۔اور انہوں نے فارسیوں پر زبردست حملہ کر کے انہیں بہت پیچھے دھکیل دیا۔اُن کے پیچھے مسلمانوں کے دوسرے دستے نے دریا پار کیا۔انہوں نے پہلے دستے کا نام ”کتیبتہ الاہوال“رکھا،اور دوسرے دستے کا نام”کتیبتہ الخرسائ“ رکھا،جس کے سپہ سالار حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ تھے۔پھر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ تمام مسلمانوں کو لیکر دریا میں اُترے،اور بلند آواز سے پڑھا۔”نستعین باﷲ ونتوکل علیہ،حسبنا اﷲ ونعم الوکیل،ولا حول ولا قوة الا باﷲ العلی العظیم“تمام مسلمانوں نے بھی یہی پڑھا ،اور حضرت سعد رضی اﷲ عنہ کے ساتھ دریا میں اُتر گئے،اور ایک مسلمان بھی پیچھے نہیں رہا۔اور وہ دریائے دجلہ پر یو ںچل رہے تھے،جیسے وہ زمین کی سطح پر چل رہے ہوں۔گھڑ سواروں اور پیدل چلنے والوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ دریا کا پانی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔اور وہ سب پانی کے اوپر اِس طرح باتیں کرتے چل رہے تھے،جیسے زمین پر چل رہے ہیں۔کیونکہ انہیں امن و سکون حاصل تھا،اور وہ اﷲ تعالیٰ کے وعدے اور تائید و نصرت پر پختہ یقین اوراعتماد رکھتے تھے۔اور یہ اِس وجہ سے بھی کہ اُن کے سپہ سالار اُن دس جلیل القدر صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم میں سے تھے،کہ جنہیں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے دنیا میں ہی جنتی ہونے کی بشارت دی تھی۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ ”عشرہ¿ مبشرہ “میں سے ہیں۔اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت سعد رضی اﷲ عنہ کے لئے دعا کی تھی کہ” اے اﷲ اِن کی ہر دعا کو قبول فرما “۔اور آج حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے دعا کی تھی کہ ”اے اﷲ ہمیں بہ حفاظت دریا پار کرا دے۔“

اﷲتعالیٰ نے دریا کو مطیع کر دیا

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کے ساتھ مسلمان مجاہدین پانی پر چلتے ہوئے دریا پار کر رہے تھے۔علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے آج اپنے لشکر کی سلامتی اور فتح کی دعا کی ،اور انہیں دریا میں ڈال دیا۔پس اﷲ تعالیٰ نے راہ ِراست کی طرف انہیں ہدایت کی،اور انہیں بچا لیا،اور مسلمانوں کا ایک بھی آدمی ضائع نہیں ہوا۔ہاں ایک شخص جسے غرقدہ البارقی کہا جاتا تھا،اپنے سرخ گھوڑے پر سے گر پڑا تھا۔اور حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ نے اُس کی لگام پکڑ لی،اور اُس شخص کا ہاتھ پکڑ کر گھوڑے پر سوار کرا دیا۔اُس نے کہا؛”عورتیں حضرت قعقاع بن عمرورضی اﷲ عنہ جیسا جوان پیدا کرنے سے عاجز ہو چکی ہیں۔“اور مسلمانوں کے سامان سے کوئی چیز ضائع نہیں ہوئی،ہاں ایک شخص جسا نام مالک بن عامر تھا۔اُس کا لکڑی کا پیالہ ،جسکا چھلا کمزور تھا،گر پڑا۔پس موج نے اُسے اوپر اُٹھا لیا،اُس شخص نے دعا کی؛”اے اﷲ !مجھے اِن لوگوں کے درمیا ن ایسا نہ بنا ،جس کا سامان ضائع ہو گیا ہو۔“پس موج نے وہ پیالہ اُسے واپس کر دیا۔اور جب کسی کا گھوڑا تھک جاتا تھا،تو اﷲ تعالیٰ اُس کے لئے ایک جگہ مقرر کر دیتا تھا،اور وہ اُس پر کھڑے ہو کرآرام کر لیتا تھا۔اور گھوڑے پانی پر اِس طرح چل رہے تھے کہ صرف اُن کی کھروں کو ہی پانی لگا تھا۔یہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا معجزہ ہے،جسے اﷲ تعالیٰ نے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم پر ظاہر فرمایا ہے۔اِس سے پہلے اﷲ تعالیٰ نے حضرت علا بن حضرمی رضی اﷲ عنہ پر ظاہر فرمایا تھا،جس کا ذکر ہم پہلے کر چکے ہیں۔اور اُن کے لشکر کے مقابلے میں یہ لشکر کئی گُنا زیادہ ہے۔

اﷲ تعالیٰ کی تعریف

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کی زیر قیادت مسلمان اپنے گھوڑوں پر اور پیدل دریائے دجلہ پار کر رہے تھے۔علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت سلمان فارسی رضی اﷲ عنہ پانی پر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کے ساتھ چل رہے تھے۔حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اﷲ ہمارے لئے کافی ہے،وہ بہت اچھا کار ساز ہے۔اﷲ کی قسم! اﷲ تعالیٰ ضرور اپنے دوست کی مدد کرے گا،اور ضرور اﷲ اپنے دین کو غالب کرے گا۔اور ضرور اﷲ اپنے دشمن کو شکست دے گا۔ اگر لشکر میں کوئی نافرمانی یا گناہ ہوا ہو تو نیکیاں غالب آ جائیں گی۔“حضرت سلمان فارسی نے فرمایا؛”اﷲ کی قسم !ان کے لئے سمندروں کو خشکی کی طرح مطیع کر دیا گیا ہے۔اﷲ کی قسم!وہ ضرور اِس سے فوج در فوج باہر نکلیں گے،جیسے کہ فوج در فوج داخل ہو ئے ہیں۔“اور وہ لوگ حضرت سلمان فارسی رضی اﷲ عنہ کے فرمان کے مطابق اس سے باہر نکلے۔اور ان میں سے ایک شخص بھی غرق نہیں ہوا،اور نہ ہی انہوں نے کسی چیز کو کھویا۔

مدائن کی فتح

حضرت سعد بن ابی وقاص کی زیر قیادت اﷲ تعالیٰ کی مہربانی سے تمام مسلمانوں نے دریا پار لیا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔اور جب تمام مسلمان دریا سے نکل کر سطح زمین پر کھڑے ہو گئے،اور گھوڑے اپنی ایال جھاڑتے ہوئے اور ہنہناتے ہوئے باہر نکلے۔تو وہ فارسیوں کے پیچھے چل پڑے ،یہاں تک کہ ”مدائن “میں داخل ہو گئے،اور وہاں انہوں نے کسی کو نہیں پایا۔کسریٰ نے اپنے اہل و عیال اور جس قدر مال و متاع اور خزانے لے جا سکتا تھا،انہیں لیکر چلا گیا تھا۔اور جو نہیں لے جا سکا اُسے چھوڑ دیا۔بےشمار مویشی،کپڑے،سازو سامان ،برتن،تحائف اور تیل کے بے شمار ذخائر مسلمانوں کے ہاتھوں مال غنیمت کے طور پر آیا۔کسریٰ کے خزانے میں نو ارب دینار تھے۔اِن میں سے جو وہ لے جا سکا ،لے گیا،باقی وہیں چھوڑ دیا۔مسلمانوں کے ہاتھوں پانچ ارب دینار سے زیادہ مال غنیمت کے طور پر آئے۔مدائن میں سب سے پہلے ”کتیبتہ الاہوال“داخل ہوا، پھر ”کتیبتہ الخرسائ“داخل ہوا،اور انہوں نے ناکہ بندی کر لی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔کسریٰ شاہ یزد گرد نے بہر سیر کے مفتوح ہونے کے بعد اپنے شاہی خاندان کو ”حلوان“بھیج دیا تھا۔اِس کے بعد یزد گرد خود بھی روانہ ہو گیا،اور وہ حلوان میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ پہنچ گیا۔اُس نے مہران رازی اور نخیر جان کو اپنا نائب بنا دیا۔اُس کا خزانہ نہروان میں تھا۔اہل فارس اپنا بیش قیمتی اور ہلکا سامان جس قدر لے جاسکتے تھے،لے گئے۔باقی وہ سرکاری خزانہ ،کپڑے ،جواہرات،زیورات اور تیل و عطر وگیرہ اتنے چھوڑ گئے کہ جس کی قیمت کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔

قصر ابیض(سفید محل) کی فتح

جب مسلمان مدائن میں داخل ہوئے،تو اُسے خالی پایا،اور صرف قصر ابیض (سفید محل)میں کافی لوگ قلعہ بند تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔مدائن میں سب سے پہلے حضرت عاصم بن عمرو رضی اﷲ عنہ کا دستہ داخل ہوا ،پھر حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ کا دستہ داخل ہوا۔وہ مدائن کے گلی کوچوں میں گشت کرتے رہے،مگر انہیں کوئی آدمی نہیں ملا۔سوائے ”قصر ابیض“کے ،جس میں کچھ لوگ موجود تھے،اُن کا محاصرہ کر لیا گیا۔جب حضرت سعد رضی اﷲ عنہ اسلامی لشکر کے ساتھ آئے،تو انہوں نے حضرت سلمان فارسی رضی اﷲ عنہ کے ذریعے ان کے سامنے تین چیز اختیا رکرنے کا حکم دیا۔پہلی یہ کہ اسلام قبول کر لو ،ہمارے برابر ہو جاو¿ گے،دوسری یہ کہ ذمی بن جاو¿،اور جزیہ دینا قبول کرو۔تیسری یہ کہ جنگ کے لئے تیار ہو جاو¿۔انہوں نے ذمی بن کر جزیہ دینا قبول کر لیا۔ بعد میں اہل مدائن بھی آگئے ،اور ذمی بن کر جزیہ دینا منظور کر لیا۔

ملک عراق میں پہلا جمعہ

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی ا ﷲ عنہ ”قصر ابیض “کی فتح کے بعد اُس میں داخل ہوئے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت سعد رضی ا ﷲ عنہ نے قصر ابیض کو اپنا مسکن بنا لیا،اور اُس کے ایوان کو جائے نماز بنا لیا۔اور جب اُس میں داخل ہوئے تو قرآن پاک کی ایک آیت تلاوت فرمائی۔پھر آپ رضی اﷲ عنہ ایک اونچی جگہ کی طرف بڑھے،اور”صلوٰة الفتح“کی آٹھ رکعت نماز پڑھیں، اور آپ رضی اﷲ عنہ نے یہ ایک سلام سے پڑھیں۔اِس کے بعد حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے جمعہ کے روز ”نماز جمعہ“کا اعلان فرمایا۔اور ملک عراق میں قصر ابیض کے ایوان میں پہلا جمعہ پڑھا گیا۔اور یہ اِس وجہ سے پڑھا گیا کہ آپ رضی ا ﷲ عنہ نے مدائن کے قصر ابیض میں ٹھہرنے کی نیت کر لی تھی۔

کسریٰ کا تاج

مدائن کی فتح سے مسلمانوں کو بے شمار مال غنیمت حاصل ہوا،اتنا کہ مسلمان اُس کی قیمت کا اندازہ ہی نہیں کر سکتے تھے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کو مدائن میں اِس قدر مال غنیمت حاصل ہوا کہ نہ تو اِس کی قیمت لگائی جاسکتی تھی،اور کثرت و عظمت کی وجہ سے اس کی مد بھی شمار نہیں کی جاسکتی تھی۔قصر ابیض میں چونہ گچ کے مجسمے تھے۔حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے اِن میں سے ایک کی طرف دیکھا کہ وہ انگلی سے ایک طرف اشارہ کر رہا ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے وہاں کھدوایاتو وہاں پہلے کے کسراو¿ں میں سے کسی ایک کسریٰ کا خزانہ نکلا۔اُس خزانے میں ایسی ایسی چیزیں تھیں کہ مسلمانوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھیں۔اِس خزانے میں نفیس جواہر سے مرصع تاج بھی تھا،اور قالین بھی،اور اس کے برابر سونے،موتیوں اور قیمتی جواہرات سے بنا ہوا تھا۔اِس خزانے میں کسریٰ کے تمام ممالک کی تصویر تھی،یعنی اُس کے شہروںکی،نہروں کی،قلعوں کی،صوبوں کی،خزانوں کی،کھیتوں کی،اور درختوں کی تصویر موجود تھی۔اور جب کسریٰ تخت حکومت پر بیٹھا کرتا تھا ،اور اپنے تاج میں داخل ہو جاتا تھا۔یہ اِس لئے کہ وہ تاج بہت ہی وزنی تھا،اور وہ اُس تاج کو سونے کی زنجیروں کے ساتھ معلق رکھتا تھا،کیونکہ وہ اُس کے بوجھ کی وجہ سے اپنے سر پر نہیں اُٹھا سکتا تھا۔بلکہ وہ آ کر اُس کے نیچے بیٹھ جاتا تھا،پھر اپنا سر تاج کے اندر داخل کر لیتا تھا،اور سنہری زنجیریں اُسے اُٹھائے رکھتی تھیں،اور وہ اسے پہننے کی حالت میںبیٹھتا تھا۔پھر جب پردہ ہٹا دیا جاتا تھا،تو درباری،وزرائ،اور اُمراءکسریٰ کو سجدہ کرنے کے لئے گر پڑتے تھے۔اور وہ پیٹی ،کنگن ،تلوار،اور جواہرات سے مرصع قبا پہنتا تھا۔

مسلمان مجاہدین کا تقویٰ

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کے ساتھ جو لگ بھگ چوالیس ہزار (44,000) کا لشکر تھا،اُس کا ہر مجاہداﷲ کے لئے مخلص اور متقی تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب مسلمان مدائن میں مقیم ہوئے،اور انہوں نے مالِ غنیمت کو جمع کرنا شرو ع کیا۔تو ایک مسلمان مجاہد ایک ڈبا لے کر آیا،اور اُسے مال غنیمت کے افسر کے حوالے کر دیا۔جو مسلمان مجاہدین وہاں موجود تھے،انہوں نے کہا؛”ہم نے ایسی چیز نہیں دیکھی،اور ہماری لائی ہوئی کوئی چیز اِس کے ہم پلہ نہیں ہے،اور نہ ہی اِس کے قریب ہے۔“مال غنیمت کے افسر نے پوچھا؛”کیا تم نے اِس میں سے کوئی چیز نکالی ہے؟“وہ مسلمان مجاہد بولا؛”اگر اﷲ نہیں ہوتا،تو میں تمہارے پاس اِسے لیکر نہیں آتا۔“اِس پر لوگوں کو یہ خیال ہوا کہ یہ ضرور کوئی بہت جلیل القدر صحابی ہوں گے،اِسی لئے مال غنیمت کے افسر نے پوچھا؛”آپ کون ہیں؟“اُس مسلمان مجاہد نے کہا؛”نہیں،اﷲ کی قسم!میں اپنا نام آپ کو اور دوسروں کو نہیں بتاو¿ں گا،کیونکہ تم لوگ میری تعریف و تحسین کرو گے۔میں تو صرف اﷲ تعالیٰ کی ہی تعریف کروں گا،اور اُس کے ثواب پر راضی رہوں گا۔“جب حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کو اس کے بارے میں بتایا گیا،تو آپ رضی ا ﷲ عنہ نے فرمایا؛”اﷲ کی قسم!یہ لشکر امانت دار ،اﷲ کے لئے مخلص،اور متقی ہے۔“

بے شمار مال غنیمت

مدائن سے مسلمانوں کو بے شمار مال غنیمت ملا۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے حضرت عمرو بن مقرن کو مال غنیمت کا افسر مقرر کیا۔مال غنیمت بے اندازہ تھا۔ایک تو قصر ابیض سے خزانہ ملا ،اس کے علاوہ پانچ ارب دینارسے زیادہ کا کسریٰ کا خزانہ تھا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔مسلمانوں کو مدائن میں اتنے ایرانی قالین ملے کہ وہ اُسے اُٹھا نہیں سکتے تھے۔اور مسلمان بعض گھروں میں جاتے تو اُس گھر کو چھت تک اشرفیوں سے بھرا ہوا پاتے تھے۔اور بہت سا کافور مسلمانوں کو ملا،جسے انہوں نے نمک خیال کیا،اور اُسے اپنے آٹے میں ڈال کر پکاتے تو اُس کی کڑواہٹ محسوس کرتے تھے۔یہاں تک کہ انہیں یہ معلوم ہوا کہ یہ نمک نہیں کافور ہے۔حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے مال غنیمت کا خمس نکال کر باقی مال مجاہدین میں بانٹ دیا۔ہر گھڑ سوار کو بارہ ہزار درہم ملے،اور پورا لشکر گھڑسوار تھا۔کیونکہ مدائن میںگھوڑے اتنے زیادہ تھے کہ مسلمانوں میں سے کوئی بھی پیدل نہیں تھا۔حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے مدائن کے گھروں کو مسلمانوں میں تقسیم کر دیا،اور وہ اُن میں رہنے لگے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے قالینوں میں سے بھی خمس نکالا،اور مال غنیمت کا خمس اور کسریٰ کا لباس اور مدائن کی فتح کی خوش خبری اور مکمل تفصیل کے ساتھ مدینہ منورہ خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حضرت نشر بن خصاصیہ کے ہاتھوں بھیج دیا۔مدائن صفر المضفر ۶۱ ہجری میں فتح ہوا۔

کسریٰ کے کنگن

رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم جب ہجرت کے سفر پر رواں دواں تھے،تو حضرت سراقہ بن مالک بن جعثم رضی اﷲ عنہ نے انعام کے لالچ میں آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا تعاقب کیا تھا۔اور جب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی دعا سے ،اور اﷲ کے حکم سے اُن کا گھوڑا اپنے پیٹ تک زمین میں دھنس گیا تھا۔تو انہوں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے عرض کیا تھا کہ مجھ غریب پر رحم فرمائیں۔اِس پر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ تم غریب کہاں ہو،میں تو تمہارے ہاتھوں میں کسریٰ کے کنگن دیکھ رہا ہوں۔آج اُس واقعہ کے سولہ(16) سال بعد ملک عراق سے مدائن کی فتح کا مال غنیمت کا خمس آیا ہوا ہے،اور پورا مال غنیمت مسجد نبوی کے صحن میں رکھا ہوا ہے۔مدینہ منورہ کے مسلمان جمع ہیں ،اور مال غنیمت کو دیکھ دیکھ کر حیران ہو رہے ہیں۔خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ اِدھر اُدھر گھوم گھوم کرسامان کو اُلٹ پلٹ کررہے ہیں،ایسا لگتا ہے،جیسے وہ کچھ تلاش کر رہے ہوں۔لوگوں نے عرض کیا؛”امیر المومنین رضی اﷲ عنہ !کیا تلاش کر رہے ہیں؟“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”کسریٰ کے کنگن۔“کسی نے دو کنگن اُٹھا کر دیئے ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے کسریٰ کے کنگن ہاتھ میں لئے،اور حضرت سراقہ بن مالک بن جعثم رضی اﷲ عنہ کو بلایا۔اور اپنے ہاتھوں سے کسریٰ کے سونے کے کنگن پہنادیئے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر کئی اسناد بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے پاس کسریٰ کا لباس لاکر رکھا گیا،اور اُس وقت لوگوں میں حضرت سراقہ بن مالک بن جعثم رضی اﷲ عنہ موجود تھے۔راوی بیان کرتے ہیںکہ آپ رضی اﷲ عنہ نے کسریٰ بن ہرمز کے کنگن حضرت سراقہ بن مالک بن جعثم رضی اﷲ عنہ کو دیئے،اور انہوں نے پہن لئے۔جب آپ رضی ا ﷲ عنہ نے حضرت سراقہ رضی اﷲ عنہ کے ہاتھوں میں کسریٰ کے سونے کے کنگن دیکھے،تو فرمایا؛”الحمد ﷲ!تمام تعریف اُس اﷲ کے لئے ہے،جس نے کسریٰ بن ہرمز کے کنگن بنو مدلج کے ایک بدو حضرت سُراقہ بن مالک بن جعثم رضی اﷲ عنہ کو پہنائے۔“

سونا صرف حضرت سُراقہ رضی اﷲ عنہ کے لئے حلال ہے

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ نے حضرت سُراقہ بن مالک بن جعثم رضی اﷲ عنہ کو کسریٰ کے سونے کے کنگن پہنائے،تو کسی نے عرض کیا ؛”امیر المومنین رضی اﷲ عنہ !مَردوں کو سونا پہننا حرام ہے نا؟“ خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”بے شک !مَردوں کو سونا پہننا حرام ہے،لیکن حضرت سُراقہ رضی اﷲ عنہ کے لئے حلال ہے۔کیونکہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا ہے کہ میں تمہارے ہاتھوں میں کسریٰ کے کنگن دیکھ رہا ہوں۔“علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں۔پھر امام شافعی کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”میں نے اِن کنگنوں کو حضرت سُراقہ رضی اﷲ عنہ کو اِس لئے پہنایا ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت سُراقہ رضی اﷲ عنہ کے ہاتھوں کو دیکھ کر یہ فرمایا تھا کہ میں تجھے یوں دیکھ رہا ہوں کہ تیرے ہاتھوں میں کسریٰ کے کنگن پہنادیئے گئے ہیں۔“پھر حضرت امام شافعی نے آگے بیان کیاکہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت سُراقہ رضی اﷲ عنہ کو جب کسریٰ کے سونے کے کنگن پہنائے ،تو اُن سے فرمایا؛”اﷲ اکبر کہو۔“انہوں نے اﷲ اکبر کہا،تو خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”کہو!اُس اﷲ کا شکر ہے کہ جس نے ان کو کسریٰ سے چھینا،اور بنو مدلج کے ایک بدو سُراقہ بن مالک کو پہنایا۔“

خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کا عجز اور انکساری

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی طاقت اور قوت کا یہ عالم تھا کہ اُس وقت کی دو سب سے بڑی سوپر پاور سلطنت روم اور سلطنت فارس آپ رضی اﷲ عنہ کے سامنے گھٹنے ٹیک چکی تھیں۔اور آپ رضی اﷲ عنہ کی زیر قیادت مسلمان دنیا کی سب سے بڑی ” سوپر پاور“بن رہے تھے۔ لیکن حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے عجز اور انکساری کا یہ عالم تھاکہ اکثر اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں گریہ و زاری کرتے رہتے تھے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے ملک عراق سے کسریٰ کی قبا ،تلوار،پیٹی،شلوار،قمیص، تاج ،موزے اور کنگن حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے پاس بھیجے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کا جائزہ لیا تو سب سے زیادہ جسیم اور بڑی قامت والا حضرت سُراقہ بن مالک بن جعثم رضی اﷲ عنہ کو پایا،اور اُن سے فرمایا؛”اے سُراقہ رضی اﷲ عنہ!کھڑے ہو کر یہ قباءپہنو۔حضرت سُراقہ رضی اﷲ عنہ نے وہ قباءپہن لی،آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”پیٹھ پھیرو۔“انہوں نے پیٹھ پھیری،پھر فرمایا؛”آگے آو¿،آگے آو¿۔“وہ آگے آئے۔پھر خلیفۂ دوم رضی اﷲ عن نے فرمایا؛”آفرین ہے،بنو مدلج کے ایک بدو پرجو کسریٰ کی قبائ،شلوار،تلوار،پیٹی،تاج ،موزے اور کنگن پہنے ہوئے ہے۔اے سُراقہ بن مالک رضی اﷲعنہ!کبھی وہ دن بھی آئے گاکہ اگر اِس میں تمہارے جسم پر کسریٰ اور آل کسریٰ کے سامان میں سے کچھ بھی ہو تو یہ بات تمہارے اور تمہاری قوم کے لئے شرف کا باعث ہو گی۔اب اِسے اُتار دو۔“حضرت سُراقہ بن مالک رضی اﷲ عنہ نے اسے اُتار دیا۔اِس کے بعد حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اے اﷲ تعالیٰ!آپ نے اپنے نبی اور رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کو اِس سے روک دیا۔حالانکہ وہ صلی اﷲ علیہ وسلم آپ کو مجھ سے بلکہ اِس پوری کائنات سے زیادہ محبوب اور عزیز ہیں۔ اور آپ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو بھی اِس سے روک دیا۔حالانکہ وہ بھی آپ کو مجھ سے زیادہ محبوب اور عزیز ہیں۔اے اﷲ تعالیٰ!میں آپ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتا ہو ں کہ آپ نے یہ شرف مجھے عطا فرمایاہے۔(کہ میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے اُس فرمان کو پورا کر سکوں،جو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت سُراقہ بن مالک بن جعثم رضی اﷲ عنہ سے فرمایاتھا)پس میں آپ سے اِس بات کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں مال و دولت اور دنیا کے دھوکے میں مبتلا ہوجاو¿ں۔“پھر آپ رضی اﷲ عنہ رو پڑے،یہاں تک کہ وہاں موجود سب لوگ رو پڑے،اور اﷲ سے رحمت کی دعا مانگنے لگے۔پھر حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ نے حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ سے فرمایا؛”میں آپ رضی اﷲ عنہ کو قسم دیتا ہو کہ اِسے (کسریٰ کے لباس اور تاج وغیرہ)فروخت کر کے شام سے پہلے پہلے اِسے تقسیم کر دیں۔اِس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”افسوس کہ کسریٰ اِس کے ذریعے آخرت سے غافل ہو گیا تھا،اگر وہ آخرت کے لئے بھیجتا،جو بچ جاتا ،وہ اپنے لئے رکھتا ،تو اُس کے لئے فائدے مند ہوتا۔

کسریٰ کا قالین”بہارِ کسریٰ

مسلمانوں کو مدائن میں مال غنیمت کے طور پر کسریٰ کا قالین جسے ”بہارِ کسریٰ“کہا جاتا تھا،وہ بھی ملا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔یہ قالین ساٹھ مربع گز کا ایک مسلسل فرش تھا،اور ایک جریب کے برابر تھا۔اِس میں سلطنت ِ فارس کی سڑکوں،نہروںکے نقشے تھے۔اور اِن کے درمیان خانقاہیںتھیں،اِن کے اطراف سر سبز کھیت تھے،جن میں ریشم کے بنے ہوئے موسم بہار کی سبزیاں اور پودے لہلہا رہے تھے،اِن پودوں کی کلیاں اور پھول سونے اور چاندی کے تھے۔اِسی طرح اور بھی بہت سی تصاویر نقش تھیں۔اِس کا فرش سونے کا تھا،اور اِس پر بنے میوہ جات جواہرات کے تھے۔جب حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے مال غنیمت کی تقسیم کی،تو یہ قالین فالتو رہا،اور اس کی درست تقسیم نہیں ہو پا رہی تھی۔اُس وقت حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں سے فرمایا؛”اﷲ تعالیٰ نے تمہیں خوش حال کر دیا ہے۔اِس قالین کی تقسیم مشکل ہو گئی ہے،اِسے کوئی نہیں خرید سکتا۔اِس لئے میری یہ رائے ہے کہ تم خوشی سے اِسے امیر المومنین کی خدمت میں بھیج دو۔تاکہ وہ جیسا چاہیں ،اِس کے بارے میں کاروائی کریں۔“تمام مسلمان مجاہدین اِس پر راضی ہو گئے۔جب یہ قالین خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں آیا ،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو جمع کر کے اِس کے بارے میں مشورہ کیا۔ہر کوئی الگ الگ مشورہ دے رہا تھا۔حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے مشورہ دیا کہ اسے کاٹ کر مسلمانوں میں تقسیم کر دیا جائے۔خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ نے اِس مشورے کو قبول کیا،اور اُس قالین کو کاٹ کر مسلمانوں میں تقسیم کر دیا۔حضرت علی رضی اﷲ عنہ کے حصے میں جو ٹکڑا آیا تھا،اُسے آپ رضی اﷲ عنہ نے بیس ہزار درہم میں فروخت کردیا۔جب کہ وہ قالین کے بہترین ٹکڑوں میں سے نہیں تھا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

24 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ Khilafat e Rashida 2


24 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی 

قسط نمبر 24

جلولا کا محاصرہ، جنگ جلولاء فتح جلولاء کسریٰ کا فرار، حلوان کی فتح، مدائن کے برابر مال غنیمت، خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کا اُمت ِ مسلمہ کے لئے خوف، تعاقب کی ممانعت، جنگ تکریت، فتح تکریت، فتح موصل، فتح ماسبذان، فتح قرقیساء، 16 ہجری کے کچھ اہم واقعات، اسلامی تاریخ کی ابتداء (سن ھجری کا اجراء)، صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم سے مشورہ

جلولا کا محاصرہ

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ مدائن میں ہی مقیم ہو گئے۔اُدھر کسریٰ یزدگرد اپنی کاروائیاں کر رہا تھا،اور آپ رضی اﷲ عنہ اُس کے بارے میں مسلسل خبریں معلوم کر رہے تھے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔جب کسریٰ یزد گردبن شہر یار مدائن سے بھاگ کر حلوان کی طرف گیا،تو اُس نے راستے میں شہروں سے مدد گاروں،فوجوں اور جوانوں کو جمع کرنا شروع کر دیا۔اور بہت سے لوگ اور عجمیوں(فارسیوں)کا ایک لشکر ِجرّاراُس کے پاس اکٹھا ہو گیا۔اُس نے اُن سب پر مہران کو سپہ سالار مقرر کیا،اور کسریٰ حلوان چلا گیا۔اور جو فوج اُس نے اکٹھی کی تھی،اُسے اُس نے اپنے اور مسلمانوں کے درمیان ”جلولائ“میں ٹھہرایا،اور اُس کے گرد ایک عظیم خندق کھودی۔اور وہاں انہوں نے لشکر،جنگ کے سامان اور آلات ِحصار کے ساتھ قیام کیا۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی ا ﷲ عنہ نے خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو اس کے متعلق تفصیل لکھ کر بھیجی ،تو انہوں نے حضرت سعد رضی ا ﷲ عنہ کو حکم دیا کہ تم مدائن میں ہی قیام کرو۔اور اپنے بھتیجے حضرت ہاشم بن عتبہ کو ایک لشکر کا سپہ سالار بنا کر جلولاءکی طرف بھیجو۔اوراُس کے ہر او ل دستے(مقدمة الجیش) کا سپہ سالار حضرت قعقاع بن عمر رضی اﷲ عنہ کو ،اور میمنہ کا سپہ سالارحضرت سعد بن مالک کو ،میسرہ کا سپہ سالار اُن کے بھائی حضرت عُمر بن مالک کو،اور ساقہ کا سپہ سالار حضرت عمرو بن مرہ جہنی کو بنا کر بھیجو۔حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ¿ دوم کے حکم کی تعمیل کی،اور اپنے بھتیجے کے ساتھ بارہ ہزار کا ایک لشکر بھیجا۔جس میں سرکردہ انصار و مہاجرین صحابہ رضی اﷲ عنہم ،اور عرب کے بڑے بڑے سردار بھی تھے۔یہ صفر المضفر 16 ہجری کا واقعہ ہے۔حضرت ہاشم بن عتبہ اپنا لشکر لیکر مجوسیوں(فارسیوں)کے پاس پہنچ گئے،جو جلولاءمیں مقیم تھے،اور انہوں نے اپنے شہر کے اِرد گرد خندق کھود رکھی تھی۔حضرت ہاشم بن عتبہ نے اُن کا محاصرہ کر لیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں ۔جنگ جلولاءکی اصل وجہ یہ ہے کہ اہل عجم مدائن سے بھاگ کر جلولاءپہنچے۔یہاں سے اہل آذربائیجان،اہل باب،اہل جبال ،اور اہل فارس کے راستے الگ الگ ہو جاتے ہیں۔لہٰذا انہوں نے متفق ہو کر یہ کہا؛”اگر تم یہاں سے جدا ہو گئے،تو پھر کبھی اکٹھے نہیں ہو سکو گے۔کیونکہ یہ مقام ہمیں ایک دوسرے سے جدا کرتا ہے،اِس لئے ہم سب کو مل کر عربوں (مسلمانوں) کے خلاف جنگ کرنی چاہیئے۔اگر جنگ میں ہمیں فتح ہو تو یہی ہماری آرزو ہے، اور اگر شکست ہوئی تو ہم اپنا فرض ادا کر سکیں گے،اور دنیا کے سامنے معذرت پیش کر سکیں گے۔“یہ عہد انہوں نے آگ کو سامنے رکھ کر اُس کی قسم کھا کر کیا تھا۔(فارسی آگ کی پوجا کرتے تھے۔)یہ فیصلہ کر کے انہوں نے شہر کے اطراف خندق کھودی ،اور وہاں مہران رازی کی زیر قیادت اکٹھے ہو گئے۔کسریٰ یزد گرد حلوان چلا گیا،اور وہاں سے اُن کی امداد کرتا رہا۔مسلمانوں نے جلولا ءمیں دشمنوں کا محاصرہ کر لیا،اور خندق کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔اہل فارس نے محاصرہ کو طول دیا ،اور وہ صرف ضرورت کے وقت ہی باہر نکلتے تھے۔اُن میں فارسیوں (ایرانیوں) کے علاوہ دوسرے عجمی بھی تھے۔

جنگ جلولاء

مسلمانوں نے جلولاءکا محاصرہ سخت کردیا۔لیکن یہ محاصرہ کئی مہینے چلا،کیونکہ کسریٰ دشمنوں کو ہر قسم کی امداد مسلسل بھیج رہا تھا۔وہ لوگ شہر کے باہر نکلتے اور مسلمانوں سے مقابلہ کرتے ،اور جب ہارنے کی نوبت آتی تو شہر میں گھس کر دروازے بند کر لیتے تھے۔اور مسلمان بھی اُن پر مسلسل حملے کرتے رہتے تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔مسلمانوں نے جلولاءمیں اسی(۰۸)حملے کئے،اور ہر موقع پر اﷲ تعالیٰ انہیں کامیابی عطا فرماتا تھا،لیکن مکمل کامیابی ابھی تک نہیں ملی تھی۔دشمن مسلمانوں کا انتہائی خوف و دہشت سے مقابلہ کرتا تھا۔حضرت ہاشم بن عتبہ مسلمانوں سے فرماتے تھے”یہ وہ منزل ہے،جس کے بعد ایک اور منزل(آخرت)آئے گی۔“حضرت سعد رضی اﷲ عنہ انہیں ہر قسم کی امداد مدائن سے برابر بھیج رہے تھے۔آخر کار حضرت ہاشم بن عتبہ نے ایک فیصلہ کن حملہ کرنے کا فیصلہ کر لیا،اور مسلمانوں سے فرمایا؛”تم اﷲ کے لئے بہادری سے جنگ کرو،تمہیں ثواب بھی ملے گا،اور مال غنیمت بھی حاصل ہو گا۔تم اﷲ کے لئے کام کرو۔“اس کے بعد مسلمانوں نے حملہ کر دیا،جب جنگ شدت پر آئی ،تو اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد فرمائی۔ایسی آندھی بھیج دی ،جس سے فضا تاریک ہو گئی۔اور دشمنوں کے سامنے پیچھے ہٹنے کے سوا کوئی راستہ نہیں رہ گیا تھا۔ایسی صورت میں جب اُن کے سوار خندق میں گرنے لگے،تو انہوں نے اپنے قریب ایسا راستہ بنایا ،جہاں سے گھوڑے چڑھ کر شہر میں جاسکیں۔اِس طریقہ سے قلعہ بندی میں رخنہ پڑ گیا۔

فتح جلولاء

جلولاءمیں فضا تاریک تھی،اور فارسیوں نے واپسی کے لئے خندق پر اتنا راستہ بنا لیا تھا کہ ایک گھوڑا جاسکے۔انہوں نے یہ اِس لئے کیا کہ تاریکی کی وجہ سے اُن کے گھوڑے خندق میں گر رہے تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔مسلمانوں کو اِس بات کی خبر ہو گئی،اور انہوں نے کہا کہ ہم دوبارہ اُن پر حملہ کریں گے،اور یا تو اُن کے شہر میں گھس جائیں گے،یا پھر شہید ہو جائیں گے۔جب مسلمان دوبارہ حملہ کرنے کے لئے آئے ،تو اہل فارس نے خندق کے اِرد گرد وہے کی باڑھ لگا دی تھی،لیکن انہوں نے آمدو رفت کے لئے ایک راستہ چھوڑ رکھا تھا۔اور یہیں سے مسلمانوں نے اُن پر شدیددباو¿ ڈالا،فارسیوں نے بھی زبردست مزاحمت کی۔اور وہ ایسی بہادری سے لڑے کہ ”لیلة الحریر“کے سوا کسی اور جنگ میں اِس طرح نہیں لڑے تھے۔مگر یہ جنگ زیادہ اہم اور زیادہ مختصر تھی۔حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ اُس راستے سے جہاں سے انہوں نے حملہ کیا تھا،اُن کی خندق کے دروازے تک پہنچ گئے۔فوراًآپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے قریب کے مسلمانوں سے فرمایا کہ وہ یہ اعلان کریں۔انہوں نے بلند آواز سے مسلمانوں کو پکارا؛”اے مسلمانو!تمہارا سپہ سالار خندق میں داخل ہو گیا ہے،تم جلدی سے اُس کی طرف متوجہ ہو جاو¿“یہ سنتے ہی مسلمانوں نے اُس راستے پر ہلہ بول دیا،یہاں تک کہ وہ اُس جگہ پہنچ گئے،جہاں حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ تھے۔اب فارسی اور دوسرے عجمی سپاہی دائیں بائیں بھاگنے لگے،اور وہ خندق میں گر کر ہلاک ہونے لگے،اور لوہے کی باڑوں میں پھنس گئے۔مسلمانوں نے انتہائی اطمینان سے اُن کا قتل عام شروع کردیا،اور وہ لوگ بھاگ بھی نہیں سکے۔اُس دن فارسیوں اور دوسرے عجمیوں کے ایک لاکھ سے زیادہ آدمی قتل ہوئے۔اور پوری خندقیںاُن کی لاشوں سے پٹی پڑی تھیں۔

کسریٰ کا فرار

اﷲ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے مسلمانوں کو جلولا میں فتح عطا فرمائی۔اور مسلمانوں کو بے شمار مال غنیمت حاصل ہوا۔ایک لاکھ سے زیادہ دشمن جلولا میں قتل ہوئے،لیکن اُن کے علاوہ کافی دشمن بھاگنے میں کامیاب ہوگئے،اور اُن کا رخ حلوان کی طرف تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت ہاشم بن عتبہ نے حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ کو دشمنوں کا تعاقب کرنے کا حکم دیا۔وہ اُن کی تلاش میں خانقین تک گئے،وہاں انہوں نے مہران رازی کو گرفتار کر لیا۔انہوں نے خیرزان یا فیرزان کو بھی پکڑنا چاہا،لیکن وہ بھاگ کر پہاڑوں میں گھس گیا۔جب کسریٰ یزد گرد کو مسلمانوں کے آنے کی خبر ملی ،تو وہ حلوان سے نکل کر پہاڑوں کی طرف بھاگ گیا۔حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ حلوان آئے،اُن کے ساتھ مختلف قبائل کا لشکر تھا۔وہ وہیں خیمہ زن ہو گئے،تاکہ سواد،عراق اور پہاڑ کے درمیان برابر برابر کے فاصلے پر رہیں۔

حلوان کی فتح

حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ جب خانقین میں مہران رازی اور خیرزان یا فیرزان سے جنگ کر رہے تھے۔انہوں مہران کو گرفتا ر کر کے قتل کردیا ،اور خیرزان یا فیرزان پہاڑوں کے اُس پار بھاگ گیا۔اُسی وقت کسریٰ بھی حلوان سے نکل کر پہاڑوں کے پار ”رے“کی طرف بھاگ گیا،اور حلوان میں خسرو شنوم کو اپنا نائب بنا دیا تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب کسریٰ شاہ یزد گرد کو اہل جلولاءکی شکست کی اطلاع ملی،اور یہ بھی معلوم ہوا کہ مہران بھی مارا گیا ہے۔تو وہ حلوان سے نکل کر ”رے“کی طرف روانہ ہوا،اور حلوان میں ایک لشکر کا سپہ سالار خسرو شنوم کو بنا کر اور اپنا نائب بنا کر چھوڑ دیا۔حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ اُس کے مقابلے کے لئے روانہ ہوئے،اور جب وہ اپنے لشکر کے ساتھ حلوان سے ایک فرسخ کے فاصلے پر ”قصرِ شیرین“میں پہنچے ،تو خسرو شنوم اُن کے مقابلے کے لئے نکلا۔اور حلوان کا بڑا زمیندارزیلبی بھی لشکر لیکر آیا۔حضرت قعقاع رضی اﷲ عنہ نے اُن دونوں لشکروں سے مقابلہ کیا،جنگ میں زیلبی مارا گیا۔اور خسرو شنو بھاگ گیا،اور مسلمانوں نے حلوان پر قبضہ کر لیا۔حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ نے وہاں چند قبیلوں کو بسایا،اور اُن پر حضرت قباذ کو حاکم بنا دیا۔اور خود لشکر لیکر آگے بڑھ کر ملک عراق اور ملک ایران کے سرحدی پہاڑوں کے سامنے خیمہ زن ہو گئے۔

مدائن کے برابر مال غنیمت

مسلمانو کو جلولاءمیں بھی بہت زیادہ مال غنیمت حاصل ہوا،اور یہ لگ بھگ مدائن کے مال غنیمت کے برابر تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔مال غنیمت میں سونے یا چاندی کی بنی ہوئی اونٹنی ملی،جس کے گلے میں قیمتی ہار تھا۔اُس پر ایک مرد سوار تھا،جو سونے کا بنا ہوا تھا،اور اُس کے گلے میں قیمتی ہیروں کا ہار تھا۔اِس کے علاوہ اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو عجمیوں اور فارسیوںسے لگ بھگ سب مال غنیمت اور مویشی دلوائے،اور وہ بہت کم لے کربھاگ سکے تھے۔ اِس مال غنیمت کی تقسیم کے نگران حضرت سلمان بن ربیعہ تھے،اُنہی کے سُپرد مال کا جمع کرنا تھا،اور وہی اس کی تقسیم کے ذمہ دار بھی تھے انہیں عرب ”سلمان الخیل“بھی کہتے تھے۔ جلولاءکے مال غنیمت کی تقسیم میں ہر مسلمان کو نو ہزار درہم اور نو مویشی ملے۔اور جنگ جلولاءمیں ہر مسلمان کو اُسی قدر حصہ ملا،جس قدر مدائن میں تھا۔حضرت ہاشم بن عتبہ مال غنیمت کا خمس نکال کر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ لیکر واپس آئے۔ جنگ جلولاءمیں جو مال لوگوں میں تقسیم کیا گیا،وہ تین کروڑ درہم تھا،اور اُس کا خمس ساٹھ لاکھ تھا۔

خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کا اُمت ِ مسلمہ کے لئے خوف

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے جنگ جلولا ءکا مال غنیمت کا خمس اور فتح کی خوشخبری اور تمام حالات لکھ کر خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیجا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے مال غنیمت کا خمس قضائی اور ابو معزز کے ہاتھ بھیجا،اور اُس کا حساب زیاد بن ابو سفیان کے ہاتھوں بھیجا۔پورا مال غنیمت مسجد نبوی کے صحن میں ڈھیر کر دیا گیا،اور چادر سے ڈھک دیا گیا تھا۔خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے جب چادریںاُٹھا کر مال غنیمت میں یاقوت،زبر جد،اور جواہرات کو دیکھا ،تو آپ رضی اﷲ عنہ رونے لگے۔حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”یا امیر المومنین!آپ رضی اﷲ عنہ کیوں رو رہے ہیں؟اﷲ کی قسم !یہ تو خوشی اور شکر کا مقام ہے۔“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اﷲ کی قسم! مجھے اِس بات پر رونا آ رہا ہے کہ اﷲ تعالیٰ جس قوم کو یہ (مال) عطا کرتا ہے،تو اُن میں آپس میں بغض و حسد پیدا ہو جاتا ہے،اور اُن میں خانہ جنگی شروع ہو جاتی ہے۔“

تعاقب کی ممانعت

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے کسریٰ کے پہاڑوں کے پار بھاگ جانے اور فارسیوں کے پہاڑ کے پار کے علاقے کی پوری رپورٹ لکھ بھیجی،اور پہاڑوں کو پار کرکے فارسیوں اور کسریٰ کا تعاقب کرنے کی اجازت طلب کی۔علامہ محمد بن جری طبری لکھتے ہیں۔مسلمانوں نے جلولاءکی فتح کا حال حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو لکھا،اور یہ بھی لکھا کہ حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ حلوان میں خیمہ زن ہیں۔انہوں نے خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ سے اہل عجم کا تعاقب کرنے کی اجازت مانگی۔مگر انہوں یہ بات منظور نہیں کی،اور فرمایا؛”میں چاہتا ہوں کہ سواد ِ عراق اور (ایران کے) پہاڑ وں کے درمیان دیوار حائل ہوتی،تاکہ فارسی ہماری طرف نہ آتے،اور نہ ہم اُن کے علاقوں میں جاتے۔ہمارے لئے سواد ِ عراق کا دیہاتی علاقہ ہی کافی ہے،اور میں مال غنیمت حاصل کرنے کے مقابلے میں مسلمانوں کی سلامتی کو زیادہ ترجیح دیتا ہوں۔“اور مدائن اور اُس کے آس پاس کے علاقوں میں ایک لاکھ سے زیادہ کسان تھے،اُن کے بارے میں خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”کسانوں کو اُن کی سابقہ حالت پر بر قرار رکھو،اور اُنہیں کچھ نہ کہو،بلکہ مقررہ مقدار میں غلہ لے لیا کرو۔اور جو لوگ کسان نہیں ہیں،اُن کے بارے میں تمہاری مرضی پر منحصر ہے۔اور حالات کے مطابق تم اُن کے بارے میں فیصلے کر سکتے ہو۔“

جنگ تکریت

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی ا ﷲ عنہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو تکریت کے بارے میں تمام حالات لکھ کر بھیجے۔تکریت پر رومیوں کا قبضہ تھا،اور یہ سلطنت روم اور سلطنت فارس کا سرحدی شہر تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے خط لکھا کہ اہل موصل انطاق کی قیادت میںتکریت میں جمع ہو رہے ہیں،اور وہاں انہوں نے خندق کھود رکھی ہے۔حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ نے انہیں ہدایات دیں کہ ”تم حضرت عبد اﷲ بن معتم کو انطاق کے مقابلے کے لئے لشکر دیکر بھیجو۔اور اُس کے ہر اول دستے(مقدمة الجیش) کا سپہ سالار حضرت افکل بن عنزی کو،اور میمنہ کا سپہ سالار حضرت حارث بن حسان ذہلی کو،اور اس کے میسرہ پر حضرت فرات بن حیان کو،اور اِ س کے ساقہ پر حضرت ہانی بن قیس کو اور گھڑ سواروں پر حضرت عرطبہ بن ہر شمہ کو مقرر کرو۔“حضرت عبد اﷲ بن معتم پانچ ہزار کا لشکر لیکر مدائن سے تکریت کی طرف روانہ ہوئے۔یہ اُسی وقت کی بات ہے،جب حضرت ہاشم بن عتبہ بارہ ہزار کا لشکر لیکر جلولاءکی طرف روانہ ہوئے تھے۔حضرت عبد اﷲ بن معتم اپنے لشکر کو لیکر انطاق کے مقابلے پر پہنچ گئے۔اُس کے ساتھ رومی فوج،بنو تغلب،بنو زیاد،بنو نمر، اور بنو شہارجہ کے سپاہی تھے،انہوں نے خندق کھود رکھی تھی۔حضرت عبد اﷲ بن معتم نے اُن کا محاصرہ کر لیا۔چالیس دنوں میں انہوں نے چوبیس حملے کئے،یہ لوگ اہل جلولاءکی بہ نسبت زیادہ جلد باز تھے۔

فتح تکریت

حضرت عبد اﷲ بن معتم تکریت کا محاصرہ کئے ہوئے تھے۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔ 16 ہجری کے جمادی الاول یا جمادی الآخر میں تکریت فتح ہوا۔مر زبان تکریت نے فتح مدائن سے متنبہ ہو کر مسلمانوں کے مقابلہ میں اور سر زمین جزیرہ کو لشکر اسلام کی یلغار سے بچانے کی غرض سے جنگ کی تیاریاں شروع دیں تھیں۔رومیوں کو اپنے درد کا شریک بنا لیا تھا،اور ملک عرب کے چند قبائل بنو ایاد،بنو تغلب ،بنو نمر،اور بنو مشارجہ بھی اُن کے ساتھ مل گئے۔حضرت عبد اﷲ بن معتم نے چالیس دنوں تک محاصرہ جاری رکھا،اور چوبیس حملے کئے۔محاصرے کے دوران حضرت عبد اﷲ بن معتم نے ملک عرب کے قبائل کو ملا لیا۔جس سے انہیں مر زبان تکریت کے حالات معلوم ہوتے رہتے تھے۔آخر کا ر رومیوں نے اپنی کامیابی سے نااُمید ہو کر کشتیوں پر مال و اسباب بار کر کے دریائے دجلہ کے راستے بھاگ جانے کا قصد کیا۔عرب قبائل نے حضرت عبد اﷲ بن معتم کو اِس کی اطلاع دی،اور یہ کہلا بھیجا کہ اگر تم ہم کو امان دو،تو ہم عین جنگ کے وقت الگ ہو کر تم سے آملیں گے۔حضرت عبد اﷲ بن معتم نے پیام دیا کہ اگر تم اپنی بات کے سچے ہو تو اسلام قبول کر لو۔اُن سب نے یہ پیغام سن کر اسلام قبول کر لیا۔اور یہ طے ہو گیا کہ جب تم مسلمانوں کے لشکر کی تکبیر سننا،تو تم بھی نعرہ¿ تکبیر لگا کر دریائے دجلہ کی ناکہ بندی کر دینا۔حضرت عبد اﷲ بن معتم نے مقررہ وقت اور تاریخ کو حملہ کر دیا،قبائل عرب نے مسلمانوں کا نعرہ سن کر خود بھی نعرہ¿ تکبیر لگایا،اور دریائے دجلہ کی ناکہ بندی کر دی۔رومی اور فارسی دریا کی طرف سے نعرہ¿ تکبیر کی آواز سن کر یہ سمجھے کہ مسلمانوں نے دریا کی طرف سے بھی محاصرہ کر لیا ہے۔اِس خیال سے اُسی سمت بھاگے،جس طرف مسلمانوں کا لشکر تھا۔مسلمانوں نے ایک ساتھ ملکر زبردست حملہ کیا،رومی اور فارسی پیچھے ہٹے تو تکریت کے عربوں نے اُن پر حملہ کر دیا،اورسب کے سب قتل ہوگئے۔پورے بنو تغلب،بنو نمر ،بنو ایاد نے اسلام قبول کر لیاماور تکریت فتح ہو گیا۔

فتح موصل

تکریت فتح ہو جانے کے بعد حضرت عبد اﷲ بن معتم وہیں رک گئے،اور حضرت افکل بن عنزی کو موصل کی طرف لشکر دیکر بھیجا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔خلیفہ¿ دوم حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا تھا کہ اگر تکریت فتح ہو گیا ،تو حضرت عبد اﷲ بن معتم کو حکم دینا کہ وہ حضرت افکل بن عنزی کو ”حطین“(یہ دو قلعے ہیں،ایک دریائے دجلہ کے مشرقی کنارے پر اور دوسرا مغربی کنارے پر ہے۔ابن خلدون)کی طرف روانہ کریں۔اِسی حکم کے مطابق انہوں حضرت افکل کو بنو تغلب ،بنو ایاد، اور بنو نمر کے مجاہدین کے ساتھ روانہ کیا۔اِ قبائل کے سردارعتبہ بن وعل،ذولقرط،ابو وداعةبن ابی کرب،ابن ابی ذی سنیة،ابن حجیر ایادی ،اور بشر بن ابی حوط ساتھ میں تھے۔یہ سرداران آگے بڑھے ،اور مسلمانوں کا لشکر پہنچنے سے پہلے حطین پہنچ گئے۔انہوں نے قلعہ والوں سے بات چیت کی،اور وہ صلح پر راضی ہو گئے۔حضرت افکل بن عنزی جب پہنچے ،تو حطین والوں نے صلح کی پیش کس کی،جو انہوں نے قبول کر لی۔جن لوگوں نے صلح کر لی انہیں وہیں رہنے کا اجازت دے دی گئی،اور جنہوں نے صلح قبول نہیں کی،وہ بھاگ گئے۔حضرت عبد اﷲ بن معتم نے بھاگنے والوں کو بھی امان دینے کا اعلان کیا،تو وہ سب بھی واپس آگئے ،اور مطمئن ہو کر رہنے لگے۔کیونکہ وہ سب مسلمانوں کی ذمہ داری میں آگئے تھے۔

فتح ماسبذان

اسی سال 16 ہجری میں ماسبذان بھی فتح ہوا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب حضرت ہاشم بن عتبہ جلولاءسے مدائن واپس آئے۔اُس وقت حضرت سعد رضی اﷲ عنہ کو اطلاع ملی کہ آذین بن ہرمزان نے ایک بڑی فوج مسلمانوں سے مقابلے کے لئے جمع کر لی ہے،اور انہیں لیکر میدانی علاقے میں آگیا ہے۔انہوں نے اِس کی اطلاع حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو دی،تو انہوں نے حکم بھیجا کہ ”اُس کے مقابلے میں حضرت ضرار بن خطاب کو سپہ سالار بنا کر ایک لشکر دے کر اُس کی طرف روانہ کرو۔اس لشکر کا ہر اول (مقدمة الجیش)کا سپہ سالار حضرت ابن ہذیل اسدی کو،میمنہ کا سپہ سالار حضرت عبد اﷲ ن وہب کو،میسرہ کا سپہ سالار حضرت مضارب عجلی کو مقرر کرو۔“حضرت ضرار بن خطاب قبیلہ بنو مہارب بن فہر کے ہیں، لشکر لیکر روانہ ہوئے۔مقدمة الجیش کے سپہ سالار ابن ہذیل آگے بڑھے،اور مسلمان ماسبذان کے میدانی علاقے میں پہنچ گئے۔وہاں فریقین کا ”ہندف“کے مقام پرمقابلہ ہوا،اور جنگ ہوتی رہی۔ مسلمانوں نے دشمنوں کا بہت جلد صفایا کر دیا،حضرت ضرار بن خطاب نے آذین بن ہرمزان کو گرفتا رکر لیا کر کے قید کر لیا تھا۔جب اُس کے لشکر کو شکست ہوئی ،تو اُس کی بھی گردن اُ ڑا دی گئی۔پھر مسلمان تعاقب کرتے ہوئے سیروان تک پہنچ گئے،اور ماسبذان پر قبضہ کرلیا۔اس کے باشندے پہاڑوں کی طرف بھاگ گئے۔حضرت ضرار نے انہیں امان دینے کا اعلان کیا،تو وہ واپس آگئے۔حضرت ضرار بھی وہیں رہنے لگے۔

فتح قرقیساء

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ مدائن میں مقیم تھے،اور چاروں طرف مسلمانوں کے لشکر بھیج رہے تھے۔جلولاءاور تکریت کی فتح کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ کو اطلاع ملی کہ اہل الجزیرہ اپنی فوجوں کو اکٹھا کر رہے جمع کر رہے ہیں۔الجزیرہ سلطنت روم کا حصہ تھا،اور سلطنت فارس کی سرحد سے ملا ہوا تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب حضرت ہاشم بن عتبہ جلولاءسے واپس آئے ،تو اہل جزیرہ کی فوجیں اکٹھی ہو گئیں تھیں۔انہوں نے ہر قل کو مسلمانوں کے خلاف امداد دینے کا فیصلہ کیا،اور ایک لشکر اہل ہیئت کی طرف بھیجا۔حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے اِن واقعات کی اطلاع حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو دی ،تو انہوں حکم دیا ؛”حضرت عُمر بن مالک کو سپہ سالار بنا کر ایک لشکر انہیں دے کر بھیجو۔اس کے ہر اول (مقدمة الجیش)پر حضرت حارث بن یزید عامری کو سپہ سالار بناو¿،میمنہ پر حضرت ربعی بن عامر کو،اور میسرہ پر حضرت مالک بن حبیب کو سپہ سالارمقرر کرو۔حضرت عُمر بن مالک جب مسلمانوں کو لیکر پہنچے ،تو دشمنوں نے اپنے اطراف خندق کھود لی تھی۔جب محاصرہ طویل ہونے لگا،توحضرت عُمر بن مالک نے آدھے لشکر کووہیں چھوڑا،اور حضرت حارث بن یزید کو اپنا نائب بنایا۔اور محاصرہ جاری رکھنے کا حکم دیکر باقی آدھے لشکر کو لیکر قرقیساءکی طرف روانہ ہو گئے، اور اچانک وہاں پہنچ کر حملہ کردیا۔اہل قرقیساءکو اِس حملے کی اُمید نہیں تھی،اور اِس سے پہلے کہ وہ صحیح حالت سمجھ پاتے مسلمانوں نے قرقیساءفتح کرلیا تھا۔حضرت عُمر بن مالک نے حضرت حارث بن یزید کو فتح قرقیساءکے بعد لکھا کہ اہل ہیئت کو صلح کی تجویز پیش کرو،اگر وہ مان گئے ،تو صلح کر کے چھوڑ دینا۔اور اگر وہ صلح پر نہیں مانے ،تو اُن کی خندق کے سامنے تم بھی خندق کھود کروہی جمے رہو۔اہل ہیئت صلح پر راضی ہو گئے،اور مسلمانوں نے اُن کی حفاظت کی ذمہ داری لے لی۔

16 ہجری کے کچھ اہم واقعات

اِس سال 16 ہجری میںکئی اہم واقعات پیش آئے۔”بیت المقدس“اور ”مدائن “کی فتح کا تو ہم ذکر کر چکے ہیں۔اِس سال میں حضرت عبد اﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے صفیہ بنت عبید سے نکاح کیا،یہ مختار ثقفی کی بہن ہیں۔اِس سال سیدہ ماریہ قبطیہ رضی اﷲ عنہا کا انتقال ہوا ۔آپ رضی اﷲ عنہا کو یہ شرف حاصل ہے کہ اُم المومنین سیدہ خدیجہ رضی اﷲ عنہا کے علاوہ صرف سیدہ ماریہ قبطیہ رضی اﷲ عنہا ہی ہیں،جو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے بچے کی والدہ بنی ہیں۔خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی،اور جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔اِس سال خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو حج کرایا۔

اسلامی تاریخ کی ابتداء (سن ھجری کا اجراء)

اسی سال 16 ہجری میں اسلامی تاریخ ”سن ہجری“کا اجراء خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے کیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔اِس سال ماہ ِ ربیع الاول میں حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اسلامی تاریخ(سن ھجری) مقرر فرمائی۔حضرت ابن مسیب رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت علی المرتضیٰ رضی ا ﷲ عنہ کے مشورہ سے اپنے دور ِ خلافت کے ڈھائی سال بعد اسلامی تاریخ(سن ھجری)مقرر فرمائی،اور اِس سال کی تاریخ 16 ہجری تحریر فرمائی۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔ماہ ربیع الاول 16 ہجری میں حضرت عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ نے اسلامی تاریخ لکھی۔اور آپ رضی اﷲ عنہ اسلامی تاریخ لکھنے والے پہلے مسلمان ہیں۔

اسلامی تاریخ(سن ھجری جری ) شروع کرنے کی وجہ

اسلامی تاریخ کی ابتداءیعنی شروعات کرنے کی کئی وجوہات بیان کی جاتی ہیں۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔اسلامی تاریخ کی ابتداءکرنے کی وجہ یہ ہے کہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں ایک شخص کا تحریری معاہدہ پیش کیا گیا۔جو دوسرے شخص کے قرض کے متعلق تھا،جس کی ادائیگی کا وقت ماہ شعبان میں تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”کیا اِس سال کے ماہِ شعبان میں؟یا پچھلے سال کے ماہِ شعبان میں؟یا اگلے سال کے ماہِ شعبان میں؟“آپ رضی اﷲ عنہ نے اِس پریشانی کو سمجھ لیا۔اور اسلامی تاریخ کی ابتداءکے بارے میں غور و فکر کرنے لگے،کہ اگر مسلمانوں کی ایک سالانہ تاریخ نہیں ہو گی ،تو آگے چل کر مسلمانوں کو بہت سی تکالیف پیش آ سکتی ہیں۔اور اُن کے آپسی معاملات سلجھانے میں بھی پریشانیاں ہو سکتی ہیں۔

صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم سے مشورہ

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کے اِس اہم مسئلے کو حل کرنے کے لئے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کی مجلس شوریٰ بلائی،اور اُن کے سامنے اِس مسئلے کو رکھا۔بعض صحابہ رضی اﷲ عنہم نے مشورہ دیا کہ فارسیوں(ایرانیوں)کی طرح وقت مقرر کر لیں،جیسے وہ اپنے بادشاہوں کی تاریخ مقرر کرتے ہیں۔جب اُن کا کوئی بادشاہ مر جاتا ہے،تو وہ اُس کے بعد بننے والے بادشاہ کی حکمرانی سے وقت مقرر کرتے ہیں۔خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ نے اِسے پسند نہیں فرمایا۔بعض صحابہ رضی اﷲ عنہم نے مشورہ دیا کہ سکندر کے زمانے سے رومیوں کی تاریخ سے وقت مقررکر لو۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اسے بھی اِس کی طوالت کی وجہ سے پسند نہیں فرمایا۔بعض صحابہ رضی اﷲ عنہم نے مشورہ دیا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی پیدائش سے اسلامی تاریخ کی ابتداءکریں۔جیسے عیسائیوں(اُس وقت رومیوں)نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے عیسوی تاریخ کی ابتداءکی۔بعض صحابہ رضی اﷲ عنہم نے مشورہ دیا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے اعلان نبوت سے اسلامی تاریخ کی ابتداءکر لیں۔اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ اور کچھ صحابہ رضی اﷲ عنہم نے مشورہ دیا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی ہجرت سے اسلامی تاریخ کی ابتداءکی جائے۔کیونکہ یہ ہر ایک پر واضح ہے،اور بعثت اور پیدائش سے زیادہ واضح ہے۔خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اسے پسند فرمایا۔اور ہجرت سے ہی اسلامی تاریخ کی ابتداءکی۔اورماہِ محرم الحرام کو اسلامی سال کا پہلا مہینہ قرار دیا۔ حالانکہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ماہِ ربیع الاول میں ہجرت فرمائی۔لیکن ماہِ محرم الحرام کو سال کا پہلا مہینہ اِس لئے بنایا گیا کہ حج کے بعدیعنی ذی الحجہ کے بعد ہونے کی وجہ سے آسانی سے یاد رہے گا

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!

منگل، 1 اگست، 2023

25 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ Khilafat e Rashida 2


25 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی 

قسط نمبر 25

17 ھجری کی شروعات، کوفہ کی تعمیر کی ہدایت، کوفہ کی زمین کی دریافت، کوفہ شہر کی تعمیر، رومیوں اور اہل الجزیرہ والوں کا حمص پر حملہ، اہل الجزیرہ کا فرار،اور مسلمانوں کی فتح، الجزیرہ کی فتح، رقہ اور نصیبن کی فتح، الجزیرہ پر مسلمانوں کا قبضہ، حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ سے پوچھ گچھ کا حکم، قنسرین کے حاکم (گورنر)سے معزولی کا حکم، حضرت ابو عبیدہ کی حضرت خالد سے محبت، مدینۂ منورہ طلبی کا حکم، امیر المومنین رضی اﷲ عنہ سے ملاقات، اﷲ کامیابیاں عطا فرماتا ہے، طاعون کی وباء، طاعون ِ عمواس کی تاریخ میں اختلاف، نئے حکام(گورنروں) کا تقرر، عُمرہ اور مسجد الحرام کی توسیع

17 ھجری کی شروعات

آپ کی خدمت میں ہم 16 ہجری تک کے حالات پیش کر چکے ہیں۔جب  17 ہجری شروع ہوئی تو خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خلافت میں مملکت اسلامیہ بڑھتی جارہی تھی،اور خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کی ذمہ داریاں اور مصروفیات بڑھتی جا رہی تھیں۔اُس وقت مکہ مکرمہ کے گورنر (حاکم)حضرت عتاب بن اُسید تھے۔طائف کے گورنر (حاکم)حضرت حضرت عثمان بن ابی العاص تھے۔یمن کے گورنر(حاکم) حضرت لیلیٰ بن امیہ تھے۔یمامہ اور بحرین کے گورنر (حاکم)حضرت علاءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ تھے۔عمان کے گورنر (حاکم) حضرت حذیفہ بن محصن رضی اﷲ عنہ تھے۔ملک شام کے سب سے بڑے گورنر(حاکم)حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی ا ﷲ عنہ تھے۔اور باقی سب جیسے حضرت یزید بن ابو سفیان دمشق کے گورنر وغیرہ اُن کی نگرانی میں تھے۔ملک عراق کے سب سے بڑے گورنر(حاکم) حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ تھے۔اور باقی سب جیسے بصرہ کے گورنر حضرت مغیرہ بن شعبہ وغیرہ اُن کی نگرانی میں تھے۔

کوفہ کی تعمیر کی ہدایت

مدائن میں اور اُس کے آس پاس کے علاقے مسلمانوں کو راس نہیں آرہے تھے،اور وہ کمزوری اور بیماری کا شکار ہو رہے تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب جلولاءاور حلوان پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا،اور حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ اپنے ساتھی مجاہدین کے ساتھ حلوان میں مقیم ہو گئے۔اِسی دوران تکریت اور موصل بھی فتح ہو گئے،اور وہاں حضرت عبد اﷲ بن معتم اور حضرت افکل اپنے ساتھی مجاہدین کے ساتھ مقیم ہو گئے۔اور حضرت سعد رضی اﷲ عنہ مدائن میں مقیم رہے۔اس کے بعد اُن کے جو وفود مدینہ منورہ خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاوق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو کمزور اور بیمار دکھائی دیتے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اِس کمزوری کی وجہ پوچھی،تو انہوں نے بتایا کہ ”اُس علاقے کی آب و ہوا ہمارے لئے ناموافق ہے۔“یہ سن کر حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت سعد رضی اﷲ عنہ کو حکم لکھ کر بھیجا۔”عربوں کو بھی وہی علاقہ موافق آتا ہے،جو اُن کے اونٹوں کے موافق ہو۔اس لئے تم حضرت سلمان فارسی رضی اﷲ عنہ اور حضرت حذیفہ رضی اﷲ عنہ کو اچھے مقام کی تلاش میں بھیجو،یہ دونوں لشکر کے بہترین رہنما ہیں۔وہ دونوں ایسا خشک علاقہ دریافت کریں،جس کے اور مدینہ منورہ کے درمیان نہ کوئی سمندر ہو،اور نہ دریا ہو۔“

کوفہ کی زمین کی دریافت

خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کے حکم کے مطابق حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے حضرت سلمان فارسی ،اور حضرت حذیفہ رضی اﷲ عنہم کو بہترین زمین کی تلاش میں روانہ کیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت سلمان فارسی رضی اﷲ عنہ مدائن سے نکل کر انبارآئے،اوردریائے فرات کے مغربی علاقے میں گھومے،انہیں کوئی جگہ پسند نہیں آئی۔یہاں تک کہ وہ اُس جگہ پہنچے ،جہاں آج کوفہ ہے۔حضرت حذیفہ رضی اﷲ عنہ دریائے فرات کے مشرقی علاقے میں گھومتے رہے۔انہیں بھی کوئی جگہ پسند نہیں آئی ،یہاں تک کہ وہ بھی اُس جگہ پہنچے ،جہاں آج کوفہ ہے۔کوفہ اُس مقام کو کہتے ہیں،جہاں سُرخ ریت اور سنگ ریزے دونوں چیزیں ملی ہوئی ہوں۔دونوں کو یہ مقام بہت پسند آیا،اور دونوں حضرات رضی اﷲ عنہم نے اِس علاقے پر برکت اور رحمت کے لئے دعا کی۔

کوفہ شہر کی تعمیر

حضرت سلمان فارسی اور حضرت حذیفہ رضی اﷲ عنہم مدائن واپس آئے،اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کو کوفہ کے مقام سے مطلع کیا۔آپ رضی ا ﷲ عنہ نے حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ کو لکھا کہ تم جلولا اور حلوان کے لوگوں پر حضرت قباذ کو حاکم بناو¿،اور اپنے ساتھیوں کو لیکر میرے پاس آجاو¿۔انہوں حکم کی تعمیل کی،اورمدائن آگئے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت عبد اﷲ بن معتم کو بھی یہی حکم دیا،اور وہ بھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ مدائن آگئے۔اب حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے اپنے لشکر کے ساتھ مدائن سے کوفہ کی طرف کوچ کیا۔یہ ماہِ محرم الحرام کی سترہ 17 تاریخ 17 ہجری کا دن تھا۔کوفہ ”فتح مدائن کے ایک سال اور دومہینے بعد بسایا گیا۔یعنی حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے خلیفہ بننے کے تین سال اورآٹھ مہینے کے بعد کوفہ بسایا گیا۔حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے کوفہ بسانے کی شروعات مسجد سے کی۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت سعد رضی ا ﷲ عنہ نے کوفہ شہر کی حد بندی کا حکم دیا،اور ایک بہت ہی ماہر اور طاقتور تیر انداز کو بلایا۔اور چاروں طرف تیر چلانے کا حکم دیا،جہاں جا کر تیر گرا،وہاں تک احاطہ گھیر دیا،اور مسجد بنانے کا حکم دیا۔اور لوگوں کو اس کے آس پاس اپنے اپنے گھر بنانے کا حکم دیا۔اور جب سب لوگوں کے گھر بن گئے ،تو اُن کے اطراف کافی آگے سے ہر طرف ”شہر پناہ“کی فصیل بنوائی۔مسجد کی محراب کے سامنے ”بیت المال“اور اپنا گھر بنوایا۔پہلے تمام گھر کچے تھے،جو ایک سال کے دوران آگ لگنے سے جل گئے،تو خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اِس شرط پر پکے مکانات بنانے کی اجازت دی کہ وہ اسراف سے کام نہ لیں،اور حد سے تجاوز نہ کریں۔اِس میں سڑکیں چالیس گز کی،تیس گز کی،اور بیس گز کی بنائی گئیں۔اور سب سے باریک گلی سات گز کی تھی۔

رومیوں اور اہل الجزیرہ والوں کا حمص پر حملہ

حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ ملک شام میں ”حمص“میں قیام پذیر تھے،اور نہوں نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو قنسرین کا منتظم بنا دیا تھا۔الجزیرہ سلطنت ِ فارس اور سلطنت ِ روم کی سرحد پر واقع تھا،اور حمص کے قریب تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔اسی سال رومیوں نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ اور اُن کے مسلمان مجاہدین پر جو حمص میں تھے،حملہ کرنے کا ارادہ کیا۔اور انہوں نے اہل الجزیرہ سے خط وکتابت کر کے اپنے ساتھ ملالیا۔وہ دونوں لشکر حمص پر حملہ کرنے کے لئے روانہ ہوئے۔حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو اِس حملے کی اطلاع ملی ،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے آس پاس کے مجاہدین کو بلا لیا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ بھی قنسرین سے آگئے۔خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ ہر شہر میں زائد گھوڑے ہمیشہ تیار رکھتے تھے۔کوفہ میں بھی چارہزار زائد گھوڑے تیار تھے۔ اُنہیں جب رومیوں اور الجزیرہ والوں کے حملے کی خبر ملی ،تو انہوں نے فوراًحضرت سعد رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ تم حضرت قعقاع بن عمرو رضی ا ﷲ عنہ کو ایک لشکر دیکر فوراً حمص روانہ کرو،کیونکہ حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کا محاصرہ کر لیا گیا ہے۔اور حضرت سہیل بن عدی کو دوسرا لشکر دیکر الجزیرہ کی طرف روانہ کرو،وہ رقہ پہنچ کر الجزیرہ والوں کو روکیں،کیونکہ اہل الجزیرہ نے ہی رومیوں کو حمص پر حملہ کرنے کے لئے اُکسایاہے۔حضرت عبد اﷲ بن عتبان کو ”نصیبن“کی طرف روانہ کرو۔اس کے بعد یہ دونوں لشکر ”حران اوررہا“کی طرف جائیں۔ولید بن عتبہ کو الجزیرہ کے عرب قبائل بنو ربیعہ اور بنو تنوخ کی طرف روانہ کرو۔اور حضرت عیاض بن غنم رضی اﷲ عنہ کو بھی الجزیرہ کی طرف روانہ کرو۔اگر الجزیرہ والوں سے جنگ شروع ہو جائے ،تو سب کے سپہ سالار اعظم حضرت عیاض بن غنم رضی اﷲ عنہ ہوں گے۔

اہل الجزیرہ کا فرار،اور مسلمانوں کی فتح

حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کے پاس ملک شام کے تمام سپہ سالار جمع ہو گئے۔اور اُدھر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے حمص اور الجزیرہ کی طرف کئی لشکر روانہ کر دیئے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ بھی قنسرین سے آگئے،اور دوسری فوجی چھاونیوں سے بھی سپہ سالار اپنے لشکر کے ساتھ آگئے۔حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے تمام سپہ سالاروں سے مشورہ کیا کہ ہم باہر نکل کر مقابلہ کریں یا حضرت سعد رضی اﷲ عنہ کی طرف سے امدادی لشکر آنے تک قلعہ بند ہو جائیں؟حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے مشورہ دیا کہ میدان میں نکل کر مقابلہ کیا جائے،لیکن دوسرے سب سپہ سالاروں نے یہ مشورہ دیا کہ قلعہ بند ہو جائیں۔حضرت ابو عبیدہ رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے مشورے کو قبول نہیں کیا،اور قلعہ بند ہونے کا فیصلہ کیا۔اہل الجزیرہ جنہوں نے رومیوں کو حمص پر حملہ کرنے کے لئے اُکسایاتھا۔ جب انہیں اپنے ہم وطنوں کے ذریعے یہ معلوم ہوا کہ کوفہ سے کئی لشکر روانہ ہو چکے ہیں،اور یہ معلوم نہیں کہ وہ الجزیرہ کی طرف آرہے ہیں یا حمص کی طرف جارہے ہیں؟یہ خبر سن کر الجزیرہ والے اپنے شہروں میں واپس چلے گئے،اور رومی لشکر اکیلا رہ گیا۔حضرت ابو عبیدہ ن جراح رضی اﷲ عنہ نے جب یہ حالات دیکھے ،تو حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے مشورے پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا،اور لشکر لیکر میدان میں رومیوں کے مقابلے پر آگئے۔مسلمانوں نے زبردست حملہ کیا،اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ تو اپنے لشکر کے ساتھ بجلی بنے ہوئے تھے۔آخر کار اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی۔اور حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ فتح کے تین دن بعد حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کے پاس پہنچے۔ 

الجزیرہ کی فتح

مسلمانوں کو الجزیرہ والے بہت تکلیف دے رہے تھے،اِسی لئے مسلمان الجزیرہ کی طرف متوجہ ہوئے۔اور آخر کار اﷲ تعالیٰ نے الجزیرہ پر مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی۔الجزیرہ کب فتح ہوا؟اِس بارے میں مورخین اور علمائے کرام کی دو رائیں ہیں۔امام سیف کی روایت میں ہے کہ الجزیرہ ۷۱ ہجری میں فتح ہوا،اور امام محمد بن اسحاق کی روایت میں ہے کہ الجزیرہ ۹۱ ہجری میں فتح ہوا۔علامہ محمد بن جریر طبری نے دونوں روایات پیش کی ہیں۔ہم یہاںطوالت کی وجہ سے امام محمد بن اسحاق کی روایت نہیں پیش کرر ہے ہیں۔سیف کی روایت میں ہے کہ جب حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲعنہ نے لکھا کہ حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو حمص میں رومیوں اور الجزیرہ کے لوگوں کے خلاف مدد دینے کے لئے حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ کو چار ہزار کا لشکر دیکر بھیجا جائے ۔تو حضرت عیاض بن غنم رضی اﷲ عنہ بھی لشکر لیکر الجزیرہ کی طرف روانہ ہوئے۔اور دوسرے سپہ سالار بھی روانہ ہوئے،اِن میں سے حضرت سہیل بن عدی اور اُن کے لشکر دریائی راستے سے الجزیرہ کے علاقہ ”رقہ“میں پہنچ گئے۔

رقہ اور نصیبن کی فتح

الجزیرہ والوں نے مسلمانوں کو اپنی طرف متوجہ کر کے بہت بڑی غلطی کی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب الجزیرہ والوں نے سنا کہ مسلمان کوفہ سے روانہ ہو گئے ہیں،تو وہ حمص کو چھوڑ کر اپنے علاقے میں چلے گئے۔حضرت عیاض بن غنم رضی اﷲ عنہ نے وہاں پہنچ کر محاصرہ کر لیا۔آخر کار انہوں نے صلح کر لی،اِس کی وجہ یہ ہے کہ الجزیرہ والوں نے آپس میں مشورہ کیا۔کہ ہم ملک عراق اور ملک شام درمیان رہتے ہیں۔اِس لئے ہمیں اِن میں سے کسی ایک کے ساتھ جنگ میں شامل ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔اِسی لئے جب حضرت عیاض بن غنم رضی اﷲ عنہ الجزیرہ کے درمیانی مقام پر تھے،تو انہیں صلح کا پیغام دیا۔جو آپ رضی اﷲ عنہ نے قبول کیا۔مصالحت کے فرائض حضرت سہیل بن عدی نے انجام دیئے۔اور ”رقہ“مسلمانوں کے قبضہ میں آ گیا۔اِسی دوران حضرت عبد اﷲ بن عبد اﷲ بن عتبان دریائے دجلہ کے راستے سے موصل پہنچے ،اور وہاں سے ”نصیبن“لشکر لیکر پہنچے ،تو وہاں کے باشندوں نے بھی اہل رقہ کی طرح صلح کر لی۔

الجزیرہ پر مسلمانوں کا قبضہ

مسلمانوں نے آسانی سے رقہ اور نصیبن پر قبضہ کر لیا،اِس کے بعد جب آگے بڑھے ،تو باقی الجزیرہ کے لوگوں نے بھی مزاحمت نہیں کی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب اہل رقہ اور اہل نصیبن مطیع ہو گئے ،تو حضرت عیاض رضی اﷲ عنہ،حضرت سہیل،اور حضرت عبد اﷲکو لیکر ”حران“کی طرف بڑھے۔راستے میں پڑنے والے تمام علاقوں پر قبضہ کرتے گئے۔جب وہ حران پہنچے،تو وہاں کے لوگوں نے بھی صلح کرلی،اور جزیہ دینے کو تیار ہو گئے۔اور حضرت عیاض رضی اﷲ عنہ نے انہیں بھی اپنی ذمی رعایا بنا لیا۔اِس کے بعد آپ رضی ا ﷲ عنہ نے حضرت سہیل بن عدی اور حضرت عبد اﷲ بن عبد اﷲ کو ”رہا“کی طرف بھیجا ،تو وہاں کے باشندوں نے بھی صلح کرلی،اور ذمی بننا پسند کیا۔اِس طرح پورا ملک الجزیرہ آسانی سے فتح ہو گیا۔

حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ سے پوچھ گچھ کا حکم

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے پوری مملکت اسلامیہ میں ہر جگہ حاکم مقرر کر رکھے تھے۔او ر ہر ایک پر بہت سخت نظر رکھتے تھے۔علامہ محمد بن جری طبری لکھتے ہیں۔ ۷۱ ہجری میںحضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ ”حمص“کے حاکم تھے۔اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اُن کے ماتحت ”قنسرین“کے حاکم تھے۔دمشق کے حاکم حضرت یزید بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ تھے۔اُردن کے حاکم حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ تھے۔فلسطین کے حاکم حضرت علقمہ بن محرز تھے۔ابراءکے حاکم حضرت عمرو بن عبسہ تھے۔سواحل کے حاکم حضرت عبد اﷲ بن قیس تھے۔(طبری)ہر علاقہ پرخلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے ایک حاکم (گورنر)مقرر کر رکھا تھا۔تمام حاکموں (گورنروں)پر آپ رضی اﷲ عنہ بہت سختی سے نظر رکھتے تھے۔اور کسی بھی حاکم کی ذرا سی بھی غلطی پر سخت کاروائی کرتے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ کو حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی بہت فکر رہتی تھی،اِسی لئے اُن کی ہر خبر رکھتے تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ ۷۱ ہجری میں حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اور حضرت عیاض بن غنم رضی اﷲ عنہ نے جابیہ کے اُس طرف دشمن کے علاقے پر حملہ کیا،اور وہاں سے مال غنیمت حاصل کیا۔جب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ واپس قنسرین آئے،تو لوگوں کو یہ اطلاع ملی کہ اُن کے گروہ نے بہت مال حاصل کیا ہے۔یہ سن کر مختلف اطراف سے لوگ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے پاس امداد حاصل کرنے کے لئے آئے۔اِن میں حضرت اشعث بن قیس بھی تھے۔وہ قنسرین میں حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے پاس مدد لینے کے لئے آئے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت اشعث بن قیس کو دس ہزار درہم کی امداد دی۔خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کا کوئی عمل پوشیدہ نہیں تھا۔انہیں ملک عراق سے تحریری اطلاع ملی کہ کون کون (جنگی مہم کے لئے)روانہ ہوئے تھے۔اور ملک شام سے اطلاع ملی کہ کن کن لوگوں کو کتنے عطیے دیئے گئے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے قاصد کے ذریعے فوراً حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو حکم بھیجا کہ اِس بارے میں حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ سے پوچھ گچھ کریں۔

قنسرین کے حاکم (گورنر)سے معزولی کا حکم

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ اﷲ کے احکامات کے بارے میں بہت سخت تھے۔اور کسی بھی حاکم (عامل،گورنر) کی ذرا سی بھی کوتاہی برداشت نہیں کرتے تھے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے بارے میں جب تفصیل کا علم آپ رضی اﷲ عنہ کو ہوا ،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے ایک خط لکھ کر حضرت بلال رضی اﷲ عنہ(علامہ ابن کثیر نے قاصد کا نام حضرت بلال رضی اﷲ عنہ لکھا ہے) کو دیا۔اور حکم دیا کہ یہ لیکر حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کے پاس لے جاو¿،اور کہنا کہ اِس پر عمل کریں۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے قاصد کو بلوایا۔اور حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو یہ خط لکھا۔”وہ حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ عنہ کو کھڑا کر کے اُن کے عمامے سے باندھ دیں،اور اُن کی ٹوپی اُتار لیں۔تاکہ وہ صاف طور پر بتائیں کہ انہوں نے حضرت اشعث کو کہاں سے مدد دی؟اپنے مال میں سے دیا تھا ،یا مال غنیمت میں سے دیا تھا؟اگر وہ کہیں کہ مال غنیمت میں سے دیا تھا،تو سمجھو کہ انہوں نے خیانت کا اقرار کیا ہے۔اور اگر وہ یہ کہیں کہ انہوں نے اپنے مال میں سے دیا ہے،تو انہوں نے اسراف کیا ہے۔ہر حالت میں تم انہیں(قنسرین کی گورنری سے) معزول کر دو۔اور اُن کا کام تم اپنے ذمے لے لو۔“

حضرت ابو عبیدہ کی حضرت خالد سے محبت

حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کاخط لیکر حضرت بلال رضی اﷲ عنہ ملک شام حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے ،اور خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کا حکم نامہ دیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو ”قنسرین“سے ”حمص“بلایا۔جب وہ آئے تو انہوں نے مسلمانوں کو جمع کیا،اور خود منبر پر بیٹھ گئے۔قاصدنے کھڑے ہو کرپوچھا؛”اے خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ ! کیا تم نے اپنے مال سے دس ہزار کا عطیہ دیا،یا مال غنیمت میں سے دیا؟“انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا ،حالانکہ قاصد نے بار بار پوچھا۔حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ بھی خاموش تھے۔پھر حضرت بلال رضی اﷲ عنہ کھڑے ہوئے،اور فرمایا؛”امیر المومنین رضی اﷲ عنہ نے تمہارے بارے میں یہ حکم دیا ہے۔“اتنا فرما کر انہوں نے اُن کی ٹوپی اُتار لی،اور انہیں اُن کے ہی عمامے سے باندھ دیا،اور فرمایا؛”بتاو¿!کیا تم نے عطیہ اپنے مال سے دیا تھا،یا مال غنیمت سے دیا تھا؟“حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”میں اپنے مال میں سے دیا تھا۔“یہ سن کر انہوں نے اُن کا عمامہ کھول دیا،اور دوبارہ ٹوپی پہنائی،اور پھر اپنے ہاتھ سے اُن کا عمامہ باندھا،اور فرمایا؛”ہم اپنے حاکموں کا حکم سنیں گے،اور اطاعت کریں گے،اور اُن کی عزت و خدمت کریں گے۔“حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ حیران تھے کہ انہیں (قنسرین کے حاکم کے عہدے سے )معزول کر دیا گیا ہے یا وہ اُس پر بحال ہیں؟حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے اُن سے محبت کی وجہ سے انہیں اِس بات سے مطلع نہیں کیا۔

مدینۂ منورہ طلبی کا حکم

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ مدینۂ منورہ میں حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے آنے کا نتظار کر رہے تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے پاس حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ طویل عرصے تک نہیں آئے،تو انہیں خیال ہو ا کہ (معزولی کی خبر حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ عنہ سے چھپائی گئی ہے۔)لہٰذا انہوں نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو اپنے پاس آنے کا حکم تحریر کر کے بھیجا۔اِس موقع پرحضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ وہ تحریر لیکر حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے،اور فرمایا؛”اﷲ آپ رضی اﷲ عنہ کو اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے !آپ رضی اﷲ عنہ کا امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کا حکم چھپانے کا کیا مقصد تھا؟آپ رضی اﷲ عنہ نے وہ بات چھپائی جسے میں آج سے پہلے جاننا چاہتا تھا۔“حضرت ابو عبیدہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”میں نہیں چاہتا تھا کہ جب تک ممکن ہو،میں آپ رضی اﷲ عنہ کو رنجیدہ کروں۔کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ آپ رضی اﷲ عنہ کو اِس بات سے رنج ہو گا۔“

امیر المومنین رضی اﷲ عنہ سے ملاقات

حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اِس کے بعد امیر المومنین حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے حکم کے مطابق قنسرین کی گورنری دوسرے کے حوالے کی،اور مدینۂ منورہ روانہ ہوئے۔علامہ محمد بن جری طبری لکھتے ہیں۔اِس کے بعد حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ ”قنسرین“ گئے،اور اپنی رعایا کے سامنے الوداعی تقریر کی،اور انہیں الوداع کہا۔پھر وہاں سے روانہ ہو کر ”حمص“آئے اور وہاں بھی عوام سے الوداعی خطاب فرما کر انہیں بھی الوداع کہا۔پھر آپ رضی اﷲ عنہ مدینہ¿ منورہ روانہ ہوئے،اور خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے،اور شکایت کی کہ آپ رضی اﷲ عنہ نے میرے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اے خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ!تم نے بہت بڑے بڑے کارنامے انجام دیئے،اور کسی نے تمہارے جیسا کام نہیں کیا۔لیکن قومیں جو کام انجام دیتی ہیں،اُن کا حقیقی صانع اﷲ تعالیٰ ہے۔“اِس کے بعد خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”یہ دولت کہاں سے آئی ؟“حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا؛”امیر المومنین رضی اﷲ عنہ!مال غنیمت میں سے میرے مقررہ حصوں سے آئی ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ اپنے اطمینان کے لئے ساٹھ ہزار درہم سے زائد جو رقم ہو وہ آپ رضی اﷲ عنہ کی ہے۔“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اُن کا سامان کی قیمت لگائی تو بیس ہزار درہم زیادہ نکلی،جسے خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ ”بیت المال میں داخل کردی۔“پھر امیر المومنین رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اے خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ !اﷲ کی قسم!تم میرے نزدیک بہت شریف ہو،اور میں تمہیں بہت پسند کرتا ہوں۔آج کے بعد تمہیں مجھ سے کوئی شکایت نہیں ہو گی۔“ 

اﷲ کامیابیاں عطا فرماتا ہے

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے پوری مملکت ِ اسلامیہ کے حکام اور عوام کو لکھ کر بھیجا کہ کامیابیاں کسی خاص بندے کی وجہ سے نہیں حاصل ہوتی ہیں،بلکہ اﷲ تعالیٰ اپنے بندوں کو کامیابیاں عطا فرماتا ہے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے تما م شہر والوں کو تحریرفرمایا؛”میں نے حضرت خالدبن ولید رضی اﷲ عنہ کو ناراضگی یا بد دیانتی کی وجہ سے معزول نہیں کیا ہے۔بلکہ اِس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان اِن پر فریضةہو گئے تھے۔(چونکہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے سو(100)سے زیادہ جنگوں میں حصہ لیا ہے ،اور ہر جنگ میں فتح پائی ہے،اِسی لئے مسلمانوں کا حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ پر بہت زیادہ یقین اور اعتماد ہو گیا تھا۔اور یہ بہت نقصان دہ چیز ہے۔)اِس لئے مجھے اندیشہ ہوا کہ وہ اُن پر بے حد بھروسہ اور اعتماد نہ کریں،اور دھوکہ میں نہ آجائیں۔اِس لئے میں نے چاہا کہ انہیں حقیقت معلوم ہو جائے کہ اصل کارساز اﷲ تعالیٰ ہے۔(اور فتح اﷲ تعالیٰ عطا فرماتا ہے)اِس لئے انہیں کسی فتنے میں مبتلا نہیں ہونا چاہیئے۔“

طاعون کی وباء

17 ھجری میں ملک عراق اور ملک شام اور ملک مصر میں طاعون پھیلا۔(آج سے پچاس ،ساٹھ سال پہلے ہر سال کئی قسم کی بیماریاں پھیلتی تھیں۔اِن میں ہیضہ ،پیلگ،طاعون وغیرہ کافی مشہور ہیں۔ہم جس زمانے میں پیدا ہوئے،اس زمانے میں انسان نے اِن بیماریوں کا علاج نکال لیا ہے۔اور اِن بیمایوں پر قابو کر لیا ہے۔اِس لئے اب یہ وبائیں کبھی کبھی آتی ہیں۔)علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔طاعون کی وباءملک شام ،ملک مصر،اور ملک عراق میں پھیلی۔اور ملک مصر اور ملک عراق سے تو جلد ہی ختم ہو گئی،لیکن ملک شام میں کافی عرصے رہی۔اِس طاعون کی وجہ سے جو ماہِ محرم اور ماہِ صفر المضفر میں نازل ہوا تھا،اِن شہروں کے بہت سے لوگ مر گئے۔خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو اِس کی اطلاع دی گئی۔اور آپ رضی اﷲ عنہ ملک شام کے سفر پر روانہ ہوئے۔جب آپ رضی اﷲ عنہ ملک شام کے قریب پہنچے ،تو معلوم ہوا کہ یہاں پر یہ وباءبہت شدید ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم سے مشورہ فرمایا۔تو حضرت عبد الرحمن بن عوف اور دوسرے صحابہ رضی اﷲ عنہم نے بتایا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :”جب کسی سرزمین میں وباءہو تو وہاں نہ جاو¿۔اور جب کسی سرزمین میں یہ وباءنازل ہو جائے،اورتم وہاں موجود ہو،تو وہاں سے مت نکلو۔“اِس کے بعد آپ رضی ا ﷲعنہ وہاں سے واپس آگئے۔

طاعون ِ عمواس کی تاریخ میں اختلاف

طاعون ِ عمواس جو ملک عراق،ملک مصر اور ملک شام میں پھیلا تھا،اُس کی تاریخ کے بارے میں مورخین اور علمائے کرام میں اختلاف ہے۔لیکن ایک بات یہاں ذہن میں رکھیں کہ چونکہ اُس زمانے میں اسلامی تاریخ لکھنے کا رواج شروع نہیں ہوا تھا،اِسی لئے تاریخوں میں ہمیں اختلاف ملے گا۔اور خاص بات یہ ہے کہ یہ اختلاف دنوں کا،ہفتوں کا یا مہینے کانہیں ہے ،بلکہ سال کا ہے۔اِس کا مطلب یہ ہے کہ چونکہ اُسی وقت حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲعنہ نے اسلامی تاریخ کی ابتداءکی ہجرت سے کی تھی۔اور ہجرت کے سولہ سال بعد کی تھی،اور مملکت اسلامی اُس وقت بہت بڑی تھی۔اِس لئے تمام لوگوں تک اسلامی تاریخ کی تفصیل پہنچنے میں وقت لگا،اور راویوں نے جب واقعہ بیان کیا ،تو اُس میں اسلامی تاریخ کا حساب لگانے میں ایک سال آگے یا پیچھے ہوگیا۔جیسا کہ کچھ علمائے کرام کے مطابق طاعون عمواس ۷۱ ہجری میں آیا،اور کچھ علمائے کرام کے مطابق ۸۱ ہجری میں آیا۔لیکن مہینہ سب نے یہی بتایا کہ ماہِ محرم اور ماہِ صفر ہی بتایا۔اِس لئے یہ اختلاف کوئی اختلاف نہیں ہے۔

طاعون عمواس میں جلیل القدر صحابہ کا انتقال

طاعون عمواس میں بڑے بڑے جلیل القدر صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کا انتقال ہوا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔عمواس کے طاعون میں کی خبروں میں اختلاف ہےکہ یہ کون سے سن میں نمودار ہوا۔محمد بن اسحاق (صاحب المغازی) مسلمہ کی روایت بیان کرتے ہیں کہ پھر 18 ہجری شروع ہوا،اور اِس سال عمواس کا طاعون پھیلا۔جس میں بہت سے لوگ فنا ہوئے،خاص طور سے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ ،جو ملک شام میں مسلمانوں کے سپہ سالار ِ اعظم تھے۔اور حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ عنہ،حضرت یزید بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ،حضرت حارث بن ہشام رضی اﷲ عنہ،حضرت سہیل بن عمرو رضی اﷲ عنہ ،حضرت عتبہ بن سہیل رضی اﷲ عنہ وغیرہ کا انتقال اِس طاعون عمواس سے ہوا۔ابو معشر روایت کرتے ہیں کہ عمواس اور جابیہ کا طاعون 18 ہجری میں ہوا۔

نئے حکام(گورنروں) کا تقرر

ملک شام میں پھیلی طاعون کی وباءکے دوران خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو کسی کام کے لئے مدینہ منورہ بلایا،لیکن وہ ملک شام میںمسلمانوں کے ساتھ ڈٹے رہے ۔اور اُن کا اِس بیماری سے انتقال ہو گیا۔اُن کی جگہ حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ عنہ مسلمانوں کے گورنر بنے ،تو وہ بھی ملک شا م میںہی ڈٹے رہے۔اور اُن کا بھی اِسی بیماری سے انتقال ہوگیا۔اِسی دوران حضرت یزید بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ کا بھی اِسی بیماری سے انتقال ہو گیا۔اور جب اُن کی جگہ حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ گورنر بنے،تو انہوں نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ محفوظ علاقے میں چلے جائیں۔جب وبا ءختم ہوئی ،تو وہ سب واپس آگئے۔خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ نے ملک شام میں نئے حکام کا تقرر کیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیںکہ جب حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو حضرات ابو عبیدہ بن جراح اور حضرت یزید بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہم کے انتقال کی خبر ملی۔تو انہوں نے حضرت معاویہ بن ابو سفیان کو دمشق کا سپہ سالار بنایا،اور یہاں کے خراج کا نگران مقرر فرمایا۔اور حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ عنہ کو اردن کا سپہ سالار اور حاکم ِ خراج مقرر فرمایا۔

عُمرہ اور مسجد الحرام کی توسیع

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے 17 ہجری میں ماہِ رجب المرجب میں عُمرہ کیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے 17 ہجری میں عُمرہ کیا ،اور بقول امام واقدی مسجد الحرام کی توسیع کی۔آپ رضی اﷲ عنہ نے مکۂ مکرہ میں بیس دن قیام فرمایا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے خانہ¿ کعبہ کے آس پاس کے مکانات گرا کر اُس کے اطراف مسجد کی توسیع کی۔اور مکانات کے مالکوں کو قیمت ادا کی۔جن لوگوں نے قیمت لینے سے انکار کر دیا تھا،اُن کے پیسے بیت المال میں جمع کرا دیئے،اور اعلان کر دیا کہ جب چاہیں آکر قیمت لے سکتے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے ماہِ رجب المرجب میں عُمرہ ادا فرمایا تھا۔اور اُس وقت مدینہ¿ منورہ پر حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ عنہ کو اپنا نائب بنایا تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے حرم شریف کے چبوتروں کی از سر نو تعمیر کرنے کا حکم دیا۔اور اِس کام پر حضرت محرمہ بن نوفل ،حضرت ازہر بن عبد عوف،حضرت حویطب بن عبد العزیٰ اور حضرت سعید بن یربوع کو مقرر کیا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں